#5525
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) entered (my apartment) and I had hung (on the door of my apartment) a thin curtain having pictures on it. The colour of his face underwent a change. He then took hold of that curtain and tore it and then said:The most grievous torfnent for the people on the Day of Resurrection would be for those who try to imitate Allah in the act of creation
ابراہیم بن سعد نے زہری سے ، انہوں نے قاسم بن محمد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے ایک موٹے سے کپڑے کا پردہ لٹکایا ہوا تھا ، اس پر تصویر تھی تو آپ کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا ۔ پھر آپ نے پردہ کو پکڑا اور پھاڑ دیا ، پھر فرمایا؛ " قیامت کے دن شدید ترین عذاب میں پڑے ہوئے لوگوں میں سے وہ ( بھی ) ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ( جاندار ) اشیاء کے جیسی ( مشابہ ) بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ، بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مُتَسَتِّرَةٌ بِقِرَامٍ فِيهِ صُورَةٌ فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ تَنَاوَلَ السِّتْرَ فَهَتَكَهُ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ " .
#5526
This hadith has been narrated on the authority of A'isha through another chain of transmitters but with a slight variation of wording (and the variation is that the narrator is reported to have said):He (the Holy Prophet) inclined towards that curtain and tore it with his hand
یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے قاسم بن محمد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے انھیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ، ( آگے اسی طرح ) جس طرح ابراہیم بن سعد کی حدیث ہے ، البتہ انھوں نے کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس ( پردے ) کی طرف لپکے اور اپنے ہاتھ سے اس کو پھاڑ دیا ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا . بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ أَهْوَى إِلَى الْقِرَامِ فَهَتَكَهُ بِيَدِهِ .
#5527
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
سفیان بن عینیہ اور معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ان دونوں کی حدیث میں ہے : " لوگوں میں سے شدید ترین عذاب میں پڑے ہوئے ( وہ لوگ ہوں گے ) " انھوں نے " میں سے " کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
حَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَفِي حَدِيثِهِمَا " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا " . لَمْ يَذْكُرَا مِنْ .
#5528
A'isha reported:Allah's Messenger (ﷺ) visited me. and I had a shelf with a thin cloth curtain hangin. over it and on which there were portraits. No sooner did he see it than he tore it and the colour of his face underwent a change and he said: A'isha, the most grievous torment from the Hand of Allah on the Day of Resurrection would be for those who imitate (Allah) in the act of His creation. A'isha said: We tore it into pieces and made a cushion or two cushions out of that
ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، وہ کہہ رہی تھیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے اپنے طاق پر موٹا ساکپڑے کا پردہ لٹکایا ہوا تھا جس میں تصویریں تھیں ۔ جب آپ نے اس کے پردے کو دیکھا تو اس کو پھاڑ ڈالاآپ کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپ نے فرمایا؛ "" عائشہ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے شدید عذاب کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی مشابہت کریں گے ۔ "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ہم نے اس پردے کو کاٹ دیااور اس سے ایک یا دو تکیے بنا لیے ( ایک یا دو کے بارے میں شک راوی کی طرف سے ہے ۔)
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، تَقُولُ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ سَتَرْتُ سَهْوَةً لِي بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ فَلَمَّا رَآهُ هَتَكَهُ وَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَقَالَ " يَا عَائِشَةُ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَطَعْنَاهُ فَجَعَلْنَا مِنْهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِ .
#5529
A'isha reported she had a cloth havinc, pictures upon it and it was hanging upon the shelf and Allah's Messenger (ﷺ) said:Take it (away) from me (from my sight), so I removed it and made cushions from that
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے قاسم سے سنا ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کررہے تھے کہ ان کے پاس ا یک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں ، وہ طاق پر لٹکا ہوا تھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف رخ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس کو مجھ سے ہٹا دو ۔ " تو میں نے اس کو ہٹا دیا اور اسکے تکیے بنالیے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهُ كَانَ لَهَا ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ مَمْدُودٌ إِلَى سَهْوَةٍ فَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَيْهِ فَقَالَ " أَخِّرِيهِ عَنِّي " . قَالَتْ فَأَخَّرْتُهُ فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ .
#5530
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters
سعید بن عامر اور ابو عامر عقدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبْرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
#5531
A'isha reported:Allah's Apostle (ﷺ) visited me when I had screened (my door) with a carpet having pictures on it. He removed it and we made cushions out of that
وکیع نے سفیان سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن قاسم سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، اور میں نے ایک بچھانے والے کپڑے کا پردہ بنایا ہواتھا ، اس میں تصویریں تھیں ، آپ نے اس کو ہٹوادیا اور میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَىَّ وَقَدْ سَتَرْتُ نَمَطًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَنَحَّاهُ فَاتَّخَذْتُ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ .
#5532
A'isha, the wife of Allah's Messenger (ﷺ), reported that she had hung a curtain which had pictures upon it. Allah's Messenger (ﷺ) entered (the room) and he pulled it. A'isha said:I then tore it and prepared two cushions out of that. A person who was then in that company and whose name was Rabi'a b. 'Ata, the freed slave of Banu Zuhra, asked: Did you hear Abu Mabammad making a mention of A'isha having stated that Allah's Messenger (ﷺ) used to recline upon them? lbn al-Qasim said: No, but I heard Qasim b. Muhammad saying so
بکیر نے کہا : عبدالرحمان بن قاسم نے انھیں حدیث بیان کی ، انھیں ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے ایک پردہ لٹکا رکھاتھا جس میں تصاویر تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے تو آپ نے اس پردے کو اتار دیا ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں اس کو کاٹ کر دو تکیے بنالیے ، ( جب یہ حدیث بیان کی جارہی تھی ) تواس مجلس میں ایک شخص نے ، جو ربیعہ بن عطاء کہلاتے تھے ، بنو زہری کے مولیٰ تھے ، کہا : کیا آپ نے ابو محمد ( قاسم بن محمد ) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں ( تکیوں ) کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے؟تو ( عبدالرحمان ) ابن قاسم نے کہا : نہیں ، اس نے کہا : لیکن میں نے یقیناً ( ان سے ) یہ بات سنی تھی ۔ ان کی مراد ( ان کےوالد ) قاسم بن محمد سے تھی ۔
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا نَصَبَتْ سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَزَعَهُ قَالَتْ فَقَطَعْتُهُ وِسَادَتَيْنِ . فَقَالَ رَجُلٌ فِي الْمَجْلِسِ حِينَئِذٍ يُقَالُ لَهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَطَاءٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ أَفَمَا سَمِعْتَ أَبَا مُحَمَّدٍ يَذْكُرُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْتَفِقُ عَلَيْهِمَا قَالَ ابْنُ الْقَاسِمِ لاَ . قَالَ لَكِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ . يُرِيدُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ .
#5533
A'isha reported that she bought a carpet which had pictures on it. When Allah's Messenger (ﷺ) saw that, he stayed at the door and did not get in. I perceived or I was made to perceive upon his face signs of disgust. She said:Allah's Messenger, I offer repentance to Allah and His Messenger. (but tell me) what is the sin that I have committed. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: What is this carpet? She said: I bought it for you so that you might sit on it and take rest. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: The owners of these pictures would be tormented and they would be asked to bring to life what they tried to create. He then said: Angels do not enter the house in which there is a picture
اما مالک رحمۃ اللہ علیہ نے نافع سے ، انھوں نے قاسم بن محمد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ انھوں نے ایک ( چھوٹا سا بیٹھنے کے لئے ) گدا خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( گدے ) کو دیکھا تو آ پ دروازے پر ٹھہر گئے اور اندر داخل نہ ہوئے ، میں نے آپ کے چہر ے پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس کیے ، ( یا کہا : ) آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کی آثار محسوس ہوئے ، تو انھوں ) ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں ( سچے دل سے ) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے توبہ کرتی ہوں ۔ میں نے کیاگناہ کیا ہے؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ گدا کیسا ہے؟ " انھوں نے کہا : میں نے یہ آپ کے لئے خرید اہے ۔ تا کہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان تصویروں ( کےبنانے ) والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائےگا اوران سے کہا جائے گا : تم نے جو ( صورتیں ) تخلیق کی ہیں ، ان کو زندہ کرو ۔ " پھر فرمایا؛ " جس گھر میں تصویریں ہوں ان میں فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرَقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفْتُ أَوْ فَعُرِفَتْ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَمَاذَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ " . فَقَالَتِ اشْتَرَيْتُهَا لَكَ تَقْعُدُ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدُهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " . ثُمَّ قَالَ " إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لاَ تَدْخُلُهُ الْمَلاَئِكَةُ " .
#5534
This hadith has been narrated on the authority of A'isha through another chain of transmitters also. Some of the other ahadith narrated through other chains of transmitters are more complete and there is an addition in them (transmitted through other chains of transmitters). In the hadith transmitted on the authority of the nephew of Majishun she (A'isha) is reported to have said:I took it and prepared two cushions out of that and he (the Holy Prophet) used to recline against them in the house
قتیبہ اور ابن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی ، اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں ثقفی نے خبر دی ، کہا : ہمیں ایوب نے حدیث بیان کی ، عبدالوارث بن عبدالصمد نےکہا : ہمیں میرے والد نے میرے دادا کے واسطے سے ایوب سے حدیث بیان کی ، ہارون بن سعید ایلی نے کہا : ہمیں ابن وہب نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے اسامہ بن زید نے خبر دی ، ابو بکر اسحاق نے کہا : ہمیں ابو سلمہ خزاعی نے حدیث بیا ن کی ، کہا : ہمیں ماجثون کے بھتیجے عبدالعزیز نے عبیداللہ بن عمر سے خبر دی ، ان سب ( لیث بن سعد ، ایوب ، اسامہ بن زید اور عبیداللہ بن عمر ) نے نافع سے ، انھوں نے قاسم سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یہ حدیث روایت کی ، ان میں سے بعض کی حدیث بعض کی نسبت زیادہ مکمل ہے اور ( ابو سلمہ خزاعی نے ) ابن ماجثون کے بھتیجے سے روایت کردہ حدیث میں یہ اضافہ کیا : انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے فرمایا : میں نے اس گدے کو لے کر اس کے دو تکیے بنا لیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں ان کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ، وَابْنُ، رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَخِي، الْمَاجِشُونِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَبَعْضُهُمْ أَتَمُّ حَدِيثًا لَهُ مِنْ بَعْضٍ . وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَخِي الْمَاجِشُونِ قَالَتْ فَأَخَذْتُهُ فَجَعَلْتُهُ مِرْفَقَتَيْنِ فَكَانَ يَرْتَفِقُ بِهِمَا فِي الْبَيْتِ .
#5535
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) having said:Those who paint pictures would be punished on the Day of Resurrection and it would be said to them: Breathe soul into what you have created
عبید اللہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں خبر دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جو لو گ تصویریں بنا تے ہیں انھیں قیامت کے دن عذاب دیا جا ئے گا ، ان سے کہا جا ئے گا جن کو تم نے تخلیق کیا ( اب ان کو زندہ کرو ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الَّذِينَ يَصْنَعُونَ الصُّوَرَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " .
#5536
Ibn 'Umar reported a hadith like this through another chain of transmitters
ایو ب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ، اسی حدیث کے مانند روایت کی ، جس طرح عبید اللہ نے نافع سے ، انھوں نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ، كُلُّهُمْ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#5537
Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Verity the most grievously tormented people on the Day of Resurrection would be the painters of pictures. Ashajj (one of the narrators) in the hadith narrated by him did not make mention of the word" verity
عثمان بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، ابو سعید اشج نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ابو ضحیٰ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مسروق سے انھوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " یقیناً قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب میں ( گرفتار تصویر بنانے والے ہو ں گے ۔ " اشج نے یقیناً " ( کا لفظ ) بیان نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، الأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ " . وَلَمْ يَذْكُرِ الأَشَجُّ إِنَّ .
#5538
This hadith has been reported on the authority of Abu Mu`awiya through another chain of transmitters (and the words are):"Verily, the most grievously tormented people amongst the denizens of Hell on the Day of Resurrection would be the painters of pictures." The rest of the hadith is the same
یحییٰ بن یحییٰ ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب سب نے ابو معاویہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی ، ( ابو معاویہ اور سفیان ) دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ابو معاویہ سے یحییٰ اور ابو کریب روایت میں ہے ، " قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب پانے والوں میں سے تصویر بنا نے والے ہیں ۔ " اور سفیان کی حدیث وکیع کی حدیث کی طرح ہے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَى وَأَبِي كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، " إِنَّ مِنْ أَشَدِّ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابًا الْمُصَوِّرُونَ " . وَحَدِيثُ سُفْيَانَ كَحَدِيثِ وَكِيعٍ .
#5539
Muslim b. Subaih reported:I was with Masriuq in the house which had the portrayals of Mary (hadrat Maryan). Thereupon Masriuq said: These are portraits of Kisra. I said: No, these are of Mary. Masruq said: I heard Abdullah b, Mas'ud as saying Allah's Messenger (ﷺ) had said: The most grievously tormented people on the Day of Resurrection would be the painters of pictures. (Muslim said): I read this before Nasr b. 'Ali at-Jahdami and he read it before other narrators, the last one being Ibn Sa'id b Abl at Hasan that a person came to Ibn 'Abbas and said: I am the person who paints pictures; give me a religious verdict about them. He (Ibn 'Abbas) said to him: Come near me (still further). He came near him so much so that he placed his hand upon his head and said: I am going to narrate to yor what I heard from Allah's Messenger (ﷺ). I heard him say: All the painters who make pictures would be in the fire of Hell. The soul will be breathed in every picture prepared by him and it shall punish him in the Hell, and he (Ibn 'Abbas) said: If you have to do it at all, then paint the pictures of trees and lifeless things; and Nasr b. 'Ali confirmed it
منصور نے مسلم بن صبیح ( ابو ضحیٰ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں مسروق کے ساتھ ایک مکا ن میں تھا جس میں حضرت مریم علیہ السلام کی تصاویر تھیں ( یا مجسمے تھے ) مسروق نے کہا : یہ کسریٰ کی تصاویر ہیں ؟ میں نے کہا : نہیں یہ مریم علیہ السلام کی تصاویرہیں ۔ مسروق نے کہا : میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب تصویریں ( یا مجسمے ) بنا نے والوں کو ہو گا ۔
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ مَسْرُوقٍ فِي بَيْتٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ مَرْيَمَ . فَقَالَ مَسْرُوقٌ هَذَا تَمَاثِيلُ كِسْرَى . فَقُلْتُ لاَ هَذَا تَمَاثِيلُ مَرْيَمَ . فَقَالَ مَسْرُوقٌ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ " . قَالَ مُسْلِمٌ قَرَأْتُ عَلَى نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ فَأَفْتِنِي فِيهَا . فَقَالَ لَهُ ادْنُ مِنِّي . فَدَنَا مِنْهُ ثُمَّ قَالَ ادْنُ مِنِّي . فَدَنَا حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ قَالَ أُنَبِّئُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يَجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسًا فَتُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ " . وَقَالَ إِنْ كُنْتَ لاَ بُدَّ فَاعِلاً فَاصْنَعِ الشَّجَرَ وَمَا لاَ نَفْسَ لَهُ . فَأَقَرَّ بِهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ .
#5540
Muslim b. Subaih reported:I was with Masriuq in the house which had the portrayals of Mary (hadrat Maryan). Thereupon Masriuq said: These are portraits of Kisra. I said: No, these are of Mary. Masruq said: I heard Abdullah b, Mas'ud as saying Allah's Messenger (ﷺ) had said: The most grievously tormented people on the Day of Resurrection would be the painters of pictures. (Muslim said): I read this before Nasr b. 'Ali at-Jahdami and he read it before other narrators, the last one being Ibn Sa'id b Abl at Hasan that a person came to Ibn 'Abbas and said: I am the person who paints pictures; give me a religious verdict about them. He (Ibn 'Abbas) said to him: Come near me (still further). He came near him so much so that he placed his hand upon his head and said: I am going to narrate to yor what I heard from Allah's Messenger (ﷺ). I heard him say: All the painters who make pictures would be in the fire of Hell. The soul will be breathed in every picture prepared by him and it shall punish him in the Hell, and he (Ibn 'Abbas) said: If you have to do it at all, then paint the pictures of trees and lifeless things; and Nasr b. 'Ali confirmed it
منصور نے مسلم بن صبیح ( ابو ضحیٰ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں مسروق کے ساتھ ایک مکا ن میں تھا جس میں حضرت مریم علیہ السلام کی تصاویر تھیں ( یا مجسمے تھے ) مسروق نے کہا : یہ کسریٰ کی تصاویر ہیں ؟ میں نے کہا : نہیں یہ مریم علیہ السلام کی تصاویرہیں ۔ مسروق نے کہا : میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب تصویریں ( یا مجسمے ) بنا نے والوں کو ہو گا ۔
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ مَسْرُوقٍ فِي بَيْتٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ مَرْيَمَ . فَقَالَ مَسْرُوقٌ هَذَا تَمَاثِيلُ كِسْرَى . فَقُلْتُ لاَ هَذَا تَمَاثِيلُ مَرْيَمَ . فَقَالَ مَسْرُوقٌ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ " . قَالَ مُسْلِمٌ قَرَأْتُ عَلَى نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ فَأَفْتِنِي فِيهَا . فَقَالَ لَهُ ادْنُ مِنِّي . فَدَنَا مِنْهُ ثُمَّ قَالَ ادْنُ مِنِّي . فَدَنَا حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ قَالَ أُنَبِّئُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يَجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسًا فَتُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ " . وَقَالَ إِنْ كُنْتَ لاَ بُدَّ فَاعِلاً فَاصْنَعِ الشَّجَرَ وَمَا لاَ نَفْسَ لَهُ . فَأَقَرَّ بِهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ .
#5541
#5542
#5543
#5544
#5545
#5546
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Angels do not accompany the travellers who have with them a dog and a bell
بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں سہیل نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ( رحمت کے ) فرشتے ( سفرکے ) ان رفیقوں کے ساتھ نہیں چلتے جن کے درمیان کتا ہواور نہ ( ان کے ساتھ جن کے پاس ) گھنٹی ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَصْحَبُ الْمَلاَئِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ وَلاَ جَرَسٌ " .
#5547
This hadith has been reported on the authority of Suhail with the same chain of transmitters
جریر اور عبد العزیز دراوردی دونوں نے سہل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - كِلاَهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
#5548
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The bell is the musical instrument of the Satan
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " گھنٹی شیطان کی بانسری ہے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْجَرَسُ مَزَامِيرُ الشَّيْطَانِ " .
#5549
Abu Bashir Ansari reported that he had had (the opportunity of accompanying Allah's Messenger (ﷺ) in some of his journeys. Allah's Messenger (ﷺ) sent one of his messengers 'Abdullah b Abi Bakr said:I think he said (these words) when the people were at the places of rest: No necklace of strings be left on the necks of the camels or the necklace kept unbroken. Imam Malik said: To my mind (this practice) of wearing necklace round the necks of camels or animals was because of the fact that they (wanted to save them) from the influence of the evil eye
امام مالک نے عبد اللہ بن ابی بکر سے ، انھوں نے عباد بن تمیم سے روایت کی کہ حضرت ابو بشیر انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاصد کو بھیجا ۔ عبد اللہ ابو بکر نے کہا : میرا گمان ہے کہ انھوں نے کہا : لو گ اپنی اپنی سونے کی جگہ میں پہنچ چکے تھے ۔ ( اور حکم دیا ) : "" کسیاونٹ کی گردن میں تانت ( کمان کے دونوں سرے جوڑے نے والی مضبوط باریک چمڑے کی ڈوری ) کا ہا ر ۔ یا کو ئی بھی ہار ۔ نہ چھوڑ اجا ئے مگر اسے کاٹ دیا جا ئے ۔ "" امام مالک نے فرما یا : "" میراخیال ہے کہ یہ ( ہار ) نظر بد سے بچانے کے لیے ( گلے میں ڈالے جا تے ) تھے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ، بْنِ تَمِيمٍ أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ - قَالَ - فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَسُولاً - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ وَالنَّاسُ فِي مَبِيتِهِمْ - " لاَ يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلاَدَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلاَدَةٌ إِلاَّ قُطِعَتْ " . قَالَ مَالِكٌ أُرَى ذَلِكَ مِنَ الْعَيْنِ .