#4825
It has been narrated by Salama b. al-Akwa' that he visited al-Hajjaj who said to him:O son of al-Akwa', you have turned apostate and have come to live again in the desert with the Bedouins (after your migration). He said: No, but the Messenger of Allah (ﷺ) has permitted me to live in the desert
یزید بن ابی عبید نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ حجاج کے پاس گئے ، اس نے کہا : ابن اکوع! کیا آپ واپس پچھلی روش پر لوٹ گئے ہیں ، بادیہ میں رہنے لگے ہیں؟ انہوں نے کہا : نہیں ( پچھلی روش پر نہیں لوٹا ) لیکن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بادیہ میں رہنے کی اجازت دی تھی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي، عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى الْحَجَّاجِ فَقَالَ يَا ابْنَ الأَكْوَعِ ارْتَدَدْتَ عَلَى عَقِبَيْكَ تَعَرَّبْتَ قَالَ لاَ وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَذِنَ لِي فِي الْبَدْوِ .
#4826
It has been reported on the authority of Mujashi' b. Mas'ud as-Sulami who said:I came to the Prophet (ﷺ) to offer him my pledge of migration. He said: The period of migration has expired (and those who wereto get the reward for this great act of devotion have got it). You may now give your pledge to serve the cause of Islam, to strive in the way of Allah and to follow the path of virtue
اسماعیل بن زکریا نے عاصم احول سے ، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے روایت کی ، کہا : مجھے حضرت مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہجرت کی بیعت کرنے والوں کا وقت گزر گیا ، البتہ اسلام ، جہاد اور خیر پر بیعت ( جائز ) ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ أَبُو جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، حَدَّثَنِي مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ " إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدْ مَضَتْ لأَهْلِهَا وَلَكِنْ عَلَى الإِسْلاَمِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ " .
#4827
It has been reported on the authority of Mujashi' b. Mas'ud who said:I brought my brother Abu Ma'bad to the Messenger of Allah (may peace he upon him) after the conquest of Mecca and said: Messenger of Allah, allow him to swear his pledge of migration at your hand. He said: The period of migration is over with those who had to do it (and now nobody can get this meritorious distinctions) I said: For what actions will you allow him to bind himself in oath? He said: (He can do so) for serving the cause of Islam, for fighting in the way of Allah and for fighting in the cause of virtue. Abd Uthman said: I met Abd Ma'bad and told him what I had heard from Mujashi'. He said: He has told the truth
علی بن مسہر نے عاصم سے ، انہوں نے ابوعثمان سے روایت کی ، کہا : مجھے مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ نے خبر دی ، کہا : میں اپنے بھائی ابومعبد کے ساتھ فتح ( مکہ ) کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! اس سے ہجرت پر بیعت لے لیجیے ، آپ نے فرمایا : "" ہجرت والوں کے ساتھ ہجرت ( کا مرحلہ ) گزر گیا ۔ "" میں نے عرض کی : پھر آپ کس بات پر اس سے بیعت لیں گے؟ آپ نے فرمایا : "" اسلام ، جہاد اور خیر پر ۔ "" ابو عثمان نے کہا : میری حضرت ابو معبد رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کو حضرت مجاشع رضی اللہ عنہ کی حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : اس نے سچ کہا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ، قَالَ جِئْتُ بِأَخِي أَبِي مَعْبَدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْهُ عَلَى الْهِجْرَةِ . قَالَ " قَدْ مَضَتِ الْهِجْرَةُ بِأَهْلِهَا " . قُلْتُ فَبِأَىِّ شَىْءٍ تُبَايِعُهُ قَالَ " عَلَى الإِسْلاَمِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ " . قَالَ أَبُو عُثْمَانَ فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ مُجَاشِعٍ فَقَالَ صَدَقَ .
#4828
Another version of the tradition transmitted on the authority of Asim has the same wording but does not mention the name of Abu Ma'bad
محمد بن فضیل نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، کہا : میں حضرت مجاشع رضی اللہ عنہ کے بھائی سے ملا ، انہوں نے کہا : اس نے سچ کہا ، ابومعبد رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ فَلَقِيتُ أَخَاهُ فَقَالَ صَدَقَ مُجَاشِعٌ . وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا مَعْبَدٍ .
#4829
It has been narrated on the authority of Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said on the day of the Conquest of Mecca:There is no Hijra now, but (only) Jihad (fighting for the cause of Islam) and sincerity of purpose (have great reward) ; when you are asked to set out (on an expedition undertaken for the cause of Islam) you should (readily) do so
جریر نے منصور سے ، انہوں نے مجاہد سے ، انہوں نے طاوس سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : فتح کے دن جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اب ہجرت نہیں ہے ، لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تم جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکلو ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ " لاَ هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا " .
#4830
The above tradition has been handed down through a different chain of transmitters
سفیان ، مفضل بن مُہلہل اور اسرائیل ، سب نے منصور سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَابْنُ، رَافِعٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُهَلْهِلٍ - ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، كُلُّهُمْ عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ .
#4831
A'isha reported that the Messenger of Allah (ﷺ) was asked about migration, whereupon he said:There is no migration after the Conquest (of Mecca), but Jihad and sincere intention. When you are asked to set out (for the cause of Islam), you should set out
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق سوال کیا گیا ، آپ نے فرمایا : " فتح ( مکہ ) کے بعد ہجرت نہیں ہے ، لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تم کو جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکلو ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي، ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ " لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا " .
#4832
It has been narrated on the authority of Abu Sa'id al-Khudari that a Bedouin asked the Messenger of Allah (ﷺ) about Migration. He replied:Do you talk of Hijra? The affair of Hijra is very difficult. But have you got camels? The bedouin said: Yes. He asked: Do you pay the poor-rate payable on their account? He replied: Yes. He (the Holy Prophet) said: Go on doing good deeds (across the seas), for surely God will not leave any of your deeds unrewarded
ولید بن مسلم نے کہا : ہمیں عبدلرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابن شہاب زہری نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے عطاء بن یزید لیثی نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ان سب کو حدیث سنائی ، کہا : ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق سوال کیا ۔ آپ نے فرمایا : " تم پر افسوس! ہجرت کا معاملہ تو بہت مشکل ہے ، کیا تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں؟ " اس نے کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : " کیا تم ان کی زکاۃ ادا کرتے ہو؟ اس نے کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : " پانیوں ( چشموں ، دریاؤں ، سمندروں وغیرہ ) کے پار ( رہتے ہوئے ) عمل کرتے رہو تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو ہرگز رائیگاں نہیں کرے گا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، بْنُ عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ " وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ لَشَدِيدٌ فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَهَلْ تُؤْتِي صَدَقَتَهَا " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا " .
#4833
This tradition has been handed down through a different chain of transmitter with the addition of the following words at the end:" Do you milk them on the day they arrive at the water? He replied: Yes
محمد بن یوسف نے اوزاعی سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی مگر انہوں نے کہا : " بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے عمل میں سے کسی چیز کو ضائع نہیں کرے گا " اور یہ اضافہ کیا ، آپ نے فرمایا : " جس دن اونٹنیاں پانی پینے کے لیے ( گھاٹ یا چشمے پر ) آتی ہیں تو کیا تم ( ضرورت مندوں ، مسکینوں ، مسافروں کو پلانے کے لیے ) ان کا دودھ دوہتے ہو؟ " اس نے کہا : ہاں ۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا " . وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ " فَهَلْ تَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا " . قَالَ نَعَمْ .
#4834
It has been narrated on the authority of 'A'isha, the wife of the Prophet (ﷺ). She said:When the believing women migrated (to Medina) and came to the Messenger of Allah (ﷺ), they would be tested in accordance with the following words of Allah. the Almighty and Exalted:" O Prophet, when believing women come to thee to take the oath of fealty to thee that they will not associate in worship anything with God, that they will not steal. that, they will not commit adultery..." to the end of the verse (lx. 62). Whoso from the believing women accepted these conditions and agreed to abide by them were considered to have offered themselves for swearing fealty. When they had (formally) declared their resolve to do so, the Messenger of Allah (may peace he upon him) would say to them: You may go. I have confirmed your fealty. By God, the hand of the Messenger of Allah (ﷺ) never touched the hand of a woman. He would take the oath of fealty from them by oral declaration. By God, the Messenger of Allah (ﷺ) never took any vow from women except that which God had ordered him to take, and his palm never touched the palm of a woman. When he had taken their vow, he would tell them that he had taken the oath from them orally
یونس بن یزید نے کہا : ابن شہاب نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : مسلمان عورتیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں تو اللہ کے اس فرمان کے مطابق ان کا امتحان لیا جاتا : "" اے نبی! جب آپ کے پاس مسلمان عورتیں آئیں ، آپ سے اس پر بیعت کریں کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں بنائیں گی ، نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی "" آیت کے آخر تک ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا : مومن عورتوں میں سے جو عورت ان باتوں کا اقرار کر لیتی ، وہ امتحان کے ذریعے سے اقرار کرتی ( مثلا : ان سے سوال کیا جاتا : کیا تم شرک نہیں کرو گی؟ تو اگر وہ کہتیں : نہیں کریں گی ، تو یہی ان کا اقرار ہوتا ، آیت کے آخری حصے تک اسی طرح امتحان اور اقرار ہوتا ۔ ) اور جب وہ ان باتوں کا اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے : "" جاؤ ، میں تم سے بیعت لے چکا ہوں ۔ "" اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں لگا بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ بات کر کے بیعت کرتے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان باتوں کے علاوہ کسی چیز کا عہد نہیں لیا جن کا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی کبھی کسی عورت کی ہتھیلی سے مَس نہیں ہوئی ، آپ جب ان سے بیعت لیتے تو زبانی فرما دیتے : "" میں نے تم سے بیعت لے لی ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، بْنُ يَزِيدَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَتِ الْمُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُمْتَحَنَّ بِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لاَ يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلاَ يَسْرِقْنَ وَلاَ يَزْنِينَ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ . قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالْمِحْنَةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَقْرَرْنَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِنَّ قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْطَلِقْنَ فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ " . وَلاَ وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ . غَيْرَ أَنَّهُ يُبَايِعُهُنَّ بِالْكَلاَمِ - قَالَتْ عَائِشَةُ - وَاللَّهِ مَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى النِّسَاءِ قَطُّ إِلاَّ بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَمَا مَسَّتْ كَفُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَفَّ امْرَأَةٍ قَطُّ وَكَانَ يَقُولُ لَهُنَّ إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ " قَدْ بَايَعْتُكُنَّ " . كَلاَمًا .
#4835
It has been narrated on the authority of 'Urwa that 'A'isha described to him the way the Prophet (ﷺ) took the oath of fealty from women. She said:The Messenger of Allah (ﷺ) never touched a woman with his hand. He would only take a vow from her and when he had taken the (verbal) vow, he would say: You may go. I have accepted your fealty
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں عورتوں کی بیعت کے متعلق بتایا ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی عورت کو اپنے ہاتھ سے نہیں چھوا ، البتہ آپ ان سے ( زبانی ) عہد لیتے تھے اور جب وہ عہد کر لیتیں تو آپ فرماتے : " جاؤ ، میں نے تم سے بیعت لے لی ۔
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَبُو الطَّاهِرِ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، هَارُونُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ عَنْ بَيْعَةِ النِّسَاءِ، قَالَتْ مَا مَسَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ امْرَأَةً قَطُّ إِلاَّ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا فَإِذَا أَخَذَ عَلَيْهَا فَأَعْطَتْهُ قَالَ " اذْهَبِي فَقَدْ بَايَعْتُكِ " .
#4836
It has been narrated on the authority of Abdullah b. 'Umar who said:We used to take oath to the Messenger of Allah (ﷺ) that we would listen to and obey his orders. He would tell us (to say in the oath): As far as it lies in my power
عبداللہ بن دینار نے بتایا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ہم سننے اور اطاعت کرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے اور آپ ہم سے فرماتے تھے : " ( کہو : ) جس کی مجھے استطاعت ہو گی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَيُّوبَ - قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ كُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يَقُولُ لَنَا " فِيمَا اسْتَطَعْتَ " .
#4837
It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar who said:The Messenger of Allah (ﷺ) inspected me on the battlefield on the Day of Uhud, and I was fourteen years old. He did not allow me (to take part in the fight). He inspected me on the Day of Khandaq-and I was fifteen yearsold, and he permitted me (to fight), Nafi' said: I came to 'Umar b. 'Abd al-'Aziz who was then Caliph, and narrated this tradition to him. He said: Surely, this is the demarcation between a minor and a major. So he wrote to his governors that they should pay subsistence allowance to one who was fifteen years old, but should treat those of lesser age among children
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ ( کے معاملے ) میں میرا معاینہ فرمایا ، اس وقت میری عمر چودہ سال تھی ، آپ نے مجھے ( جنگ میں شمولیت کی ) اجازت نہیں دی اور غزوہ خندق کے دن میرا معاینہ فرمایا جبکہ میں پندرہ برس کا تھا تو آپ نے مجھے اجازت دے دی ۔ نافع نے کہا : جس زمانے میں عمر بن عبدالعزیز خلیفہ تھے میں نے ان کے پاس جا کر یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا : یہ صغیر ( نابالغ ) اور کبیر ( بالغ ) کے درمیان حد ( فاصل ) ہے ، پھر انہوں نے اپنے عاملوں کو لکھ بھیجا کہ جو شخص پندرہ سال کا ہو اس کا ( پورا ) حصہ مقرر کریں اور جو اس سے کم کا ہو اس کو بچوں میں شمار کریں ۔ ( اس کے مطابق وظیفہ دیں ۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ عَرَضَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ فِي الْقِتَالِ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَلَمْ يُجِزْنِي وَعَرَضَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَنِي . قَالَ نَافِعٌ فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ فَحَدَّثْتُهُ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا لَحَدٌّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ . فَكَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ أَنْ يَفْرِضُوا لِمَنْ كَانَ ابْنَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَاجْعَلُوهُ فِي الْعِيَالِ .
#4838
This tradition has been handed down through a different chain Of transmitters with the following change in the wording:" I was fourteen years old and he thought me too young (to participate in the fight)
عبداللہ بن ادریس ، عبدالرحیم بن سلیمان اور عبدالوہاب ثقفی سن نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، مگر ان کی حدیث میں ہے : " اور جب میں چودہ سال کا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کم سن قرار دیا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ، سُلَيْمَانَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ، اللَّهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَاسْتَصْغَرَنِي .
#4839
It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar who said:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade that one should travel to the land of the enemy taking the Qur'an with him
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے ملک میں قرآن مجید کو ساتھ لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ .
#4840
It has been narrated on the authority of Abdullah b. Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) used to forbid that one should travel to the land of the enemy taking the Qur'an (with him) lest it should fall into the hands of the enemy
لیث نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس خوف کی بنا پر کہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے گا ، دشمن کی سرزمین میں قرآن مجید کو ساتھ لے کر سفر کرنے سے منع فرماتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ .
#4841
It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Do not take the Qur'an on a journey with you, for I am afraid lost it should fall into the hands of the enemy. Ayyub (one of the narrators in the chain of transmitters) said: The enemy may seize it and may quarrel with you over it
حماد نے ایوب سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قرآن کے ساتھ سفر نہ کرو ، کیونکہ مجھے اس بات پر اطمینان نہیں کہ وہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے گا ۔ "" ایوب نے کہا : قرآن مجید دشمن کے ہاتھ لگ گیا تو وہ قرآن مجید کے ذریعے سے ( اسے آڑ بنا کر ) تمہارے ساتھ مقابلہ کرے گا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُسَافِرُوا بِالْقُرْآنِ فَإِنِّي لاَ آمَنُ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ " . قَالَ أَيُّوبُ فَقَدْ نَالَهُ الْعَدُوُّ وَخَاصَمُوكُمْ بِهِ .
#4842
The above hadith has been narrated through several other chains with slight differences of wording
اسماعیل بن علیہ ، سفیان اور ثقفی سب نے ایوب سے حدیث بیان کی ، ایوب اور ضحاک بن عثمان نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ابن علیہ اور ثقفی کی حدیث میں ہے : "" مجھے خوف ہے "" اور سفیان اور ضحاک بن عثمان کی حدیث میں ہے : "" اس خوف سے کہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَالثَّقَفِيُّ، كُلُّهُمْ عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . فِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَالثَّقَفِيِّ " فَإِنِّي أَخَافُ " . وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَحَدِيثِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ " مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ " .
#4843
It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) had a race of the horses which had been especially prepared for the purpose from Hafya' to Thaniyyat al-Wada' (the latter being the winning post), and of those which had not been trained from Thaniyya to the mosque of Banu Zuraiq, and Ibn Umar was among those who took part in this race
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے گھوڑوں کی حفیاء کے مقام سے مسابقت ( دوڑ ) کروائی جنہیں ( عربی طریقے سے ) فالتو چربی زائل کر کے سبک اندام بنایا گیا تھا ۔ ان کی دوڑ ثنیۃ الوداع تک تھی اور جن کو سبک اندام نہ بنایا گیا تھا ان کی دوڑ ثنیہ سے مسجد بنی زُریق تک کرائی ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ ان میں شامل تھے جنہوں نے گھوڑے دوڑائے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَابَقَ بِالْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ فِيمَنْ سَابَقَ بِهَا .
#4844
This tradition has been handed down through several other chains of transmitters. One of the chaines has the addition of the following words from Abdullah b. 'Umar:" I came first in the race and my horse jumped into the mosque with me
یحییٰ بن یحییٰ ، محمد بن رمح اور قتیبہ بن سعید نے لیث بن سعد سے حدیث بیان کی ۔ خلف بن ہشام ، ابو ربیع اور ابو کامل نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے ایوب سے حدیث بیان کی ۔ زہیر نے کہا : ہمیں اسماعیل نے ایوب سے حدیث بیان کی ۔ عبداللہ بن نمیر ، ابو اسامہ اور یحییٰ قطان سب نے عبیداللہ سے روایت کی ۔ علی بن حجر ، احمد بن عبدہ اور ابن ابی عمر نے مجھے حدیث سنائی ، سب نے کہا : ہمیں سفیان نے اسماعیل بن امیہ سے حدیث سنائی ۔ ابن جریج نے کہا : مجھے موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی ۔ ابن وہب نے کہا : مجھے اسامہ بن زید نے خبر دی ۔ ان سب ( لیث بن سعد ، ایوب ، عبیداللہ ، اسماعیل بن امیہ ، موسیٰ بن عقبہ اور اسامہ بن زید ) نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مالک کی نافع سے روایت کردہ حدیث کے ہم معنی روایت کی ، حماد اور ابن علیہ کی ایوب سے روایت میں یہ اضافہ کیا : حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں اول آیا اور گھوڑا مجھ سمیت مسجد ( بنو زُریق ) سے آگے نکل گیا ۔ ( جہاں پہنچنا تھا ، تیز رفتاری کی بنا پر اس جگہ سے آگے نکل گیا ۔)
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، . وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَيُّوبَ مِنْ رِوَايَةِ حَمَّادٍ وَابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَجِئْتُ سَابِقًا فَطَفَّفَ بِي الْفَرَسُ الْمَسْجِدَ .
#4845
It has been narrated on the authority of Ibn Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:There will be great benefit in the forelock of the horses until the Day of judgment
حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں برکت ہے اور خوبی قیامت تک۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
#4846
The same tradition has been handed down through a different chain of transmitters
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ، رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ، اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ .
#4847
It has been narrated on the authority of Jarir b. Abdullah who said:I saw that the Messenger of Allah (ﷺ) was twisting the forelock of a horse with his fingers and he was saying: (A great) benefit. i. e. reward (for rearing them for Jihad) and spoils of war, has been tied to the forelocks of horses until the Day of Judgment
جریر بن عبداﷲ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے رسول اﷲؐ کو دیکھا آپ ایک گھوڑے کی پیشانی کے بال انگلی سے مل رہے تھے اور فرماتے تھے گھوڑوں کی پیشانیوں سے برکت بندھی ہوئی ہے قیامت تک یعنی ثواب او رغنیمت۔
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَصَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ، جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ، - قَالَ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، - حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلْوِي نَاصِيَةَ فَرَسٍ بِإِصْبَعِهِ وَهُوَ يَقُولُ " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الأَجْرُ وَالْغَنِيمَةُ " .
#4848
The above tradition has also been narrated on the authority of Yunus through a different chain of transmitters
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ، أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، كِلاَهُمَا عَنْ يُونُسَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#4849
The same tradition has been narrated on the authority of Urwat al-Bariqi who said that the Prophet (ﷺ) said:Great good is attached to the forelock of the horses until the Day of Judgment
عروہ بارقی سے روایت ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا برکت بندھی ہوئی ہے گھوڑوں کی پیشانیوں سے قیامت تک یعنی ثواب اور غنیمت۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ " .