#4800
It has been narrated on the authority of Umm Salama that the Messenger of Allah (ﷺ) said:In the near future there will be Amirs and you will like their good deeds and dislike their bad deeds. One who sees through their bad deeds (and tries to prevent their repetition by his band or through his speech), is absolved from blame, but one who hates their bad deeds (in the heart of his heart, being unable to prevent their recurrence by his hand or his tongue), is (also) fafe ( so far as God's wrath is concerned). But one who approves of their bad deeds and imitates them is spiritually ruined. People asked (the Holy Prophet): Shouldn't we fight against them? He replied: No, as long as they say their prayers
ہمام بن یحییٰ نے کہا : ہمیں قتادہ نے حسن سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ضبہ بن محصن سے ، انہوں نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جلد ہی ایسے حکمران ہوں گے کہ تم انہیں ( کچھ کاموں میں ) صحیح اور ( کچھ میں ) غلط پاؤ گے ۔ جس نے ( ان کی رہنمائی میں ) نیک کام کیے وہ بَری ٹھہرا اور جس نے ( ان کے غلط کاموں سے ) انکار کر دیا وہ بچ گیا لیکن جو ہر کام پر راضی ہوا اور ( ان کی ) پیروی کی ( وہ بَری ہوا نہ بچ سکا ۔ ) " صحابہ نے عرض کی : کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ آپ نے فرمایا : " نہیں ، جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں ( جنگ نہ کرو)
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سَتَكُونُ أُمَرَاءُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ " . قَالُوا أَفَلاَ نُقَاتِلُهُمْ قَالَ " لاَ مَا صَلَّوْا " .
#4801
It has been narrated (through a different chain of tmnamitters) on the authority of Umm Salama (wife of the Holy Prophet) that he said:Amirs will be appointed over you, and you will find them doing good as well as bad deeds. One who hates their bad deeds is absolved from blame. One who disapproves of their bad deeds is (also) safe (so far as Divine wrath is concerned). But one who approves of their bad deeds and imitates them (is doomed). People asked: Messenger of Allah, shouldn't we fight against them? He replied: No, as long as they say their prayer. (" Hating and disapproving" refers to liking and disliking from the heart)
ہشام دستوائی نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : ہمیں حسن نے ضبہ بن محصب عنزی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " تم پر ایسے امیر لگائے جائیں گے جن میں تم اچھائیاں بھی دیکھو گے اور برائیاں بھی ، جس نے ( برے کاموں کو ) ناپسند کیا ، وہ بری ہو گیا ، جس نے انکار کیا وہ بچ گیا ، مگر جس نے پسند کیا اور پیچھے لگا ( وہ بری ہوا نہ بچ سکا ۔ ) " صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ! کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں ، آپ نے فرمایا : " نہیں ، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں ۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد تھا جس نے دل سے ناپسند کیا اور دل سے برا جانا
وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، جَمِيعًا عَنْ مُعَاذٍ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي غَسَّانَ - حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيُّ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِنَّهُ يُسْتَعْمَلُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ فَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ نُقَاتِلُهُمْ قَالَ " لاَ مَا صَلَّوْا " . أَىْ مَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ وَأَنْكَرَ بِقَلْبِهِ .
#4802
Another version of the tradition narrated on the same authority attributes the same words to the Messenger of Allah (ﷺ) except that it replaces kariha with ankhara and vice versa
ماد بن زید نے کہا : ہمیں معلیٰ بن زیاد اور ہشام نے حسن سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ضبہ بن محصن سے ، انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سابقہ حدیث کی طرح ، البتہ اس حدیث میں یہ الفاظ ہیں : " جس نے انکار کیا ، وہ بری ہو گیا اور جس نے ناپسند کیا ، وہ بچ گیا
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ، زِيَادٍ وَهِشَامٌ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِنَحْوِ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " فَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ " .
#4803
Another version omits a portion at the end of the tradition-a portion which begins with man radiya wa taba and ends with the last word of the tradition
ابن مبارک نے ہشام سے ، انہوں نے حسن سے ، انہوں نے ضبہ بن محصن سے ، انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پھر اسی کے مانند بیان کیا ، سوائے ان الفاظ کے : " جس نے پسند کیا اور پیچھے لگا " یہ الفاظ بیان نہیں کیے
وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلاَّ قَوْلَهُ " وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ " . لَمْ يَذْكُرْهُ .
#4804
It has been narrated on the authority of 'Auf b. Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:The best of your rulers are those whom you love and who love you, who invoke God's blessings upon you and you invoke His blessings upon them. And the worst of your rulers are those whom you hate and who hate you and whom you curse and who curse you. It was asked (by those present): Shouldn't we overthrow them with the help of the sword? He said: No, as long as they establish prayer among you. If you then find anything detestable in them. You should hate their administration, but do not withdraw yourselves from their obedience
یزید بن یزید بن جابر نے رُزیق بن حیان سے ، انہوں نے مسلم بن قرظہ سے ، انہوں نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارے بہترین امام ( خلیفہ ) وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں ، تم ان کے لیے دعا کرو اور وہ تمہارے لیے دعا کریں اور تمہارے بدترین امام وہ ہیں جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں ، تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں ۔ " عرض کی گئی : اللہ کے رسول! کیا ہم ان کو تلوار کے زور سے پھینک ( ہٹا ) نہ دیں؟ آپ نے فرمایا : " نہیں ، جب تک کہ وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں اور جب تم اپنے حکمرانوں میں کوئی ایسی چیز دیکھو جسے تم ناپسند کرتے ہو تو اس کے عمل کو ناپسند کرو اور اس کی اطاعت سے دستکش نہ ہو
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ رُزَيْقِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ " . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ نُنَابِذُهُمْ بِالسَّيْفِ فَقَالَ " لاَ مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلاَةَ وَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْ وُلاَتِكُمْ شَيْئًا تَكْرَهُونَهُ فَاكْرَهُوا عَمَلَهُ وَلاَ تَنْزِعُوا يَدًا مِنْ طَاعَةٍ " .
#4805
It has been narrated on the authority of Auf b. Malik al-Ashja'i who said that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say:The best of your rulers are those whom you love and who love you, upon whom you invoke God's blessings and who invoke His blessing upon you. And the worst of your rulers are those whom you hate and who hate you, who curse you and whom you curse. (Those present) said: Shouldn't we overthrow them at this? He said: No, as long as they establish prayer among you. No, as long as they establish prayer among you. Mind you! One who has a governor appointed over him and he finds that the governor indulges in an act of disobedience to God, he should condemn the governor's act, in disobedience to God, but should not withdraw himself from his obedience. Ibn Jabir said: Ruzaiq narrated to me this hadith. I asked him: Abu Miqdam, have you heard it from Muslim b. Qaraza or did he describe it to you and he heard it from 'Auf (b. Malik) and he transmitted this tradition of Allah's Messenger (ﷺ)? Upon this Ruzaiq sat upon his knees and facing the Qibla said: By Allah, besides Whom there is no other God, I heard it from Muslim b. Qaraza and he said that te had heard it from Auf (b. Malik) and he said that he had heard it from the Messenger of Allah (ﷺ)
داود بن رُشید نے کہا : ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے بنو فزارہ کے آزاد کردہ غلام رزیق بن حیان نے خبر دی کہ انہوں نے عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کے چچا زاد مسلم بن قرظہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "" تمہارے بہترین امام ( حکمران ) وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں ، تم ان کے لیے دعا کرو اور وہ تمہارے لیے دعا کریں ۔ اور تمہارے بدترین امام وہ ہیں جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں اور تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں ۔ "" ( حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے ) کہا : صحابہ نے عرض کی : کیا ہم ایسے موقع پر ان کا ڈٹ کر مقابلہ نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" نہیں ، جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں ، نہیں ، جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں ، سن رکھو! جس پر کسی شخص کو حاکم بنایا گیا ، پھر اس نے اس حاکم کو اللہ کی کسی معصیت میں مبتلا دیکھا تو وہ اللہ کی اس معصیت کو برا جانے اور اس کی اطاعت سے ہرگز ہاتھ نہ کھینچے ۔ "" ابن جابر نے کہا : میں نے رزیق سے ، جب انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی ، پوچھا : ابو مقدام! میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ، واقعی انہوں نے یہ حدیث آپ کو بیان کی ، یا آپ نے مسلم بن قرظہ سے سنی جبکہ وہ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے عوف ( بن مالک ) رضی اللہ عنہ سے سنی اور وہ یہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا؟ کہا : تو وہ ( رزیق ) دو زانو بیٹھ گئے اور قبلے کی طرف منہ کر لیا اور کہا : اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں! میں نے یہ حدیث مسلم بن قرظہ سے سنی ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ، يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ أَخْبَرَنِي مَوْلَى بَنِي فَزَارَةَ، - وَهُوَ رُزَيْقُ بْنُ حَيَّانَ - أَنَّهُ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ، قَرَظَةَ ابْنَ عَمِّ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الأَشْجَعِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " خِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ " . قَالُوا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ " لاَ مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلاَةَ لاَ مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلاَةَ أَلاَ مَنْ وَلِيَ عَلَيْهِ وَالٍ فَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَلْيَكْرَهْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلاَ يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ " . قَالَ ابْنُ جَابِرٍ فَقُلْتُ - يَعْنِي لِرُزَيْقٍ - حِينَ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ آللَّهِ يَا أَبَا الْمِقْدَامِ لَحَدَّثَكَ بِهَذَا أَوْ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفًا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَقَالَ إِي وَاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ لَسَمِعْتُهُ مِنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#4806
The above hadith has been narrated through addtional chains of transmitters
اسحٰق بن موسیٰ انصاری نے کہا : ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن جابر نے اسی سند سے خبر دی اور کہا : بنو گزارہ کے آزاد کردہ غلام رزیق ۔ امام مسلم نے کہا : یہ حدیث معاویہ بن صالح نے بھی ربیعہ بن یزید سے روایت کی ، انہوں نے مسلم بن قرظہ سے ، انہوں نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ رُزَيْقٌ مَوْلَى بَنِي فَزَارَةَ . قَالَ مُسْلِمٌ وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
#4807
It has been narrated on the authority of Jabir who said:We were one thousand and four hundred on the Day of Hudaibiya. We swore fealty to hiin (the Holy Prophet) and 'Umar was holding the latter's hand (when he was sitting) under the tree (called) Samura (to administer the oath to the Companions). The narrator added: We took oath to the effect that we would not flee (from the battlefield if there was an encounter with the Meccans), but we did not take oath to fight to death
لیث نے ابوزبیر سے ، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : حدیبیہ کے دن ہم ایک ہزار چار سو تھے ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام رکھا تھا ۔ وہ ببول ( کیکر ) کا درخت تھا ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم نے اس بات پر آپ سے بیعت کی کہ ہم فرار نہ ہوں گے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر موت کی بیعت نہیں کی
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ . وَقَالَ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَلاَ نَفِرَّ . وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ
#4808
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Jabir who said:While swearing fealty to the Prophet (ﷺ) we did not take the oath to death but that we would not run away (from the battlefield)
سفیان نے ابوزبیر سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مر جانے پر بیعت نہیں کی ، ہم نے آپ سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہ ہوں گے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمَوْتِ إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لاَ نَفِرَّ .
#4809
It has been narrated on the authority of Abu Zubair who heard Jabir being questioned as to how many people were there on the Day of Hudaibiya. He replied:We were fourteen hundred. We swore fealty to him, and Umar was holding his hand while he was sitting under the tree (to administer the oath). The tree was a samura (a wild tree found in deserts). All of as took the oath of fealty at his hands except Jadd b. Qais al-Ansari who hid himself under the belly of his camel
محمد بن حاتم نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حجاج نے ابن جریج سے حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے پوچھا گیا تھا کہ حدیبیہ کے دن آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے کہا : ہم چودہ سو تھے ، ہم نے ایک درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ تھام رکھا تھا ، وہ ببول کا درخت تھا ، ہم سب نے آپ سے بیعت کی سوائے جد بن قیس انصاری کے ، ( اس نے آپ سے بیعت نہیں کی ) وہ اپنے اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ گیا
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، سَمِعَ جَابِرًا، يُسْأَلُ كَمْ كَانُوا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ كُنَّا أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ فَبَايَعْنَاهُ غَيْرَ جَدِّ ابْنِ قَيْسٍ الأَنْصَارِيِّ اخْتَبَأَ تَحْتَ بَطْنِ بَعِيرِهِ
#4810
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Abu Zubair who heard Jabir being questioned as to whether the Prophet (ﷺ) took the oath of fealty at Dhu'l-Hulaifa. He said:No! But he offered his prayers at that place, and he administered the oath of fealty nowhere except near the tree in (the plain oo Hudaibiya. Ibn Juraij said that he was informed by Abu Zabair who heard Jabir b. Abdullah say: The Prophet (ﷺ) prayed over the well at Hudaibiya (as a result of which its scanty water rose up and increased so as to be sufficient for the 1400 or 1500 men who had encamped at the place)
مجھے ابراہیم بن دینار نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سلیمان بن مجالد کے آزاد کردہ غلام حجاج بن محمد اعور نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے سوال کیا گیا تھا : کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں بیعت لی تھی؟ انہوں نے کہا : نہیں ، البتہ آپ نے وہاں نماز پڑھی تھی اور حدیبیہ کے درخت کے سوا آپ نے کسی اور درخت کے نیچے بیعت نہیں لی ۔ ابن جریج نے کہا : انہیں ابوزبیر نے یہ بتایا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ یہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے کنویں پر دعا کی تھی
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَعْوَرُ، مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ مُجَالِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يُسْأَلُ هَلْ بَايَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَقَالَ لاَ وَلَكِنْ صَلَّى بِهَا وَلَمْ يُبَايِعْ عِنْدَ شَجَرَةٍ إِلاَّ الشَّجَرَةَ الَّتِي بِالْحُدَيْبِيَةِ . قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى بِئْرِ الْحُدَيْبِيَةِ .
#4811
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Jabir who said:We were one thousand and four hundred on the Day of Hudaibiya when the Prophet (ﷺ) said to us: Today you are the best people on the earth. And Jabir said: If I had the eyesight, I could show you the place of the tree
عمرو نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : حدیبیہ کے دن ہم ایک ہزار چار سو تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : "" آج تم روئے زمین کے بہترین افراد ہو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر میں دیکھ سکتا تو میں تم کو اس درخت کی جگہ دکھاتا
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَحْمَدُ، بْنُ عَبْدَةَ - وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ قَالَ سَعِيدٌ وَإِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الأَرْضِ " . وَقَالَ جَابِرٌ لَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ لأَرَيْتُكُمْ مَوْضِعَ الشَّجَرَةِ
#4812
It has been narrated on the authority of Salim b. Abu al-Ja'd who said:I asked Jabir b. 'Abdullah about the number of the Companions (of the Prophet who took the oath of fealty under) the tree. He said: If we were a hundred thousand, it (i. e. the water in the well at Hudaibiya) would have sufficed us, but actually we were one thousand and five hundred
عمرو بن مرہ نے سالم بن ابی جعد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اصحاب شجرہ ( بیعت رضوان کرنے والوں کی تعداد ) کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے کہا : اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ ( پانی ) ہمیں کافی ہوتا لیکن ہم ( تقریبا ) ایک ہزار پانچ سو لوگ تھے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَصْحَابِ، الشَّجَرَةِ فَقَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةٍ .
#4813
It has been narrated on the authority of Jabir who said:If we had been a hundred thousand in number, it (the water) would have sufficed us, but actually we were fifteen hundred
حصین نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ ( پانی ) ہمیں کافی ہوتا لیکن ہم ( تقریبا ) پندرہ سو تھے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ح وَحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي الطَّحَّانَ - كِلاَهُمَا يَقُولُ عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً .
#4814
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Salim b. al-Ja'd who said:I asked Jabir: How many were you on the Day of Hudaibiya? He said: One thousand and four hundred
اعمش نے کہا : مجھے سالم بن ابی جعد نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے کہا : ایک ہزار چار سو ۔ ( یعنی بیعت کرنے والے)
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ قُلْتُ لِجَابِرٍ كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ .
#4815
It has been narrated on the authority of 'Abdullah b. Abu Aufa who said:The Companions of the Tree (i e. those who swore fealty under the tree) were one thousand and three hundred, and the people of Aslam tribe were one-eighth of the Muhajirs
عبیداللہ کے والد معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے عمرہ بن مرہ سے حدیث سنائی ، کہا : مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اصحاب شجرہ تیرہ سو تھے اور قبیلہ اسلم کے لوگ مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے ۔ ( انہوں نے یہ تعداد اندازے سے بتائی)
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، - يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ - حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى، قَالَ كَانَ أَصْحَابُ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلاَثَمِائَةٍ وَكَانَتْ أَسْلَمُ ثُمُنَ الْمُهَاجِرِينَ .
#4816
The same tradition has been handed down through a different chain of transmitters
ابوداود اور نضر بن شمیل نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#4817
It has been narrated on the authority of Ma'qil b. Yasar who aaid:I remember being present on the Day of the Tree, and the Prophet (ﷺ) was taking the oath of the people and I was holding a twig of the tree over his head. We were fourteen hundred (in number). We did not take oath to the death, but to the effect that we would not run away from the battlefield
خالد ( حذاء ) نے حکم بن عبداللہ بن اعرج سے ، انہوں نے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے بیعت رضوان کے دن اپنے آپ کو اس حالت میں دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لے رہے تھے اور میں نے اس درخت کی شاخوں میں سے ایک شاخ کو آپ کے سر انور سے اوپر اٹھا رکھا تھا ، ہم اس وقت چودہ سو تھے ۔ انہوں نے کہا : ہم نے ( اس موقع پر ) آپ سے موت پر بیعت نہیں کی تھی ، ہم نے یہ بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ الأَعْرَجِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ الشَّجَرَةِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُبَايِعُ النَّاسَ وَأَنَا رَافِعٌ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا عَنْ رَأْسِهِ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً قَالَ لَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ وَلَكِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لاَ نَفِرَّ .
#4818
This hadith has been narrated on the authority of Yunus with the same chain of transmitters
یونس نے اسی سند سے ، یعنی حکم بن عبداللہ سے روایت کی
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ
#4819
It has been narrated on the authority of Sa'id b. Musayyab who said:My father was one of those who swore fealty to the Messenger of Allah (ﷺ) near the tree. When we passed that way next year intending to perform the Hajj, the place of the tree was hidden to us. If you could point out clearly, you would (certainly) be knowing better. It has also been narrated on the authority of Sa'id b. Musayyib who learnt from his father that they were with the Messenger of Allah (ﷺ) in the year of the Tree (i. e. in the year of the fealty of God's pleasure sworn under the tree at Hudaibiya), but next year they forgot the spot of the tree
ابوعوانہ نے طارق سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی ، کہا : میرے والد بھی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی ، انہوں نے کہا : جب ہم اگلے سال حج کے لیے گئے تو ہمیں اس کی جگہ نہیں ملی ، اگر تم لوگوں کو وہ جگہ معلوم ہو گئی ہے تو تم لوگ زیادہ جاننے والے ہو ۔
وَحَدَّثَنَاهُ حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ كَانَ أَبِي مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ الشَّجَرَةِ . قَالَ فَانْطَلَقْنَا فِي قَابِلٍ حَاجِّينَ فَخَفِيَ عَلَيْنَا مَكَانُهَا فَإِنْ كَانَتْ تَبَيَّنَتْ لَكُمْ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ . وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، قَالَ وَقَرَأْتُهُ عَلَى نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الشَّجَرَةِ قَالَ فَنَسُوهَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ
#4820
It has been narrated on the authority of Sa'id b. Musayyab who said:My father was one of those who swore fealty to the Messenger of Allah (ﷺ) near the tree. When we passed that way next year intending to perform the Hajj, the place of the tree was hidden to us. If you could point out clearly, you would (certainly) be knowing better. It has also been narrated on the authority of Sa'id b. Musayyib who learnt from his father that they were with the Messenger of Allah (ﷺ) in the year of the Tree (i. e. in the year of the fealty of God's pleasure sworn under the tree at Hudaibiya), but next year they forgot the spot of the tree
ابوعوانہ نے طارق سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی ، کہا : میرے والد بھی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی ، انہوں نے کہا : جب ہم اگلے سال حج کے لیے گئے تو ہمیں اس کی جگہ نہیں ملی ، اگر تم لوگوں کو وہ جگہ معلوم ہو گئی ہے تو تم لوگ زیادہ جاننے والے ہو ۔
وَحَدَّثَنَاهُ حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ كَانَ أَبِي مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ الشَّجَرَةِ . قَالَ فَانْطَلَقْنَا فِي قَابِلٍ حَاجِّينَ فَخَفِيَ عَلَيْنَا مَكَانُهَا فَإِنْ كَانَتْ تَبَيَّنَتْ لَكُمْ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ . وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، قَالَ وَقَرَأْتُهُ عَلَى نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الشَّجَرَةِ قَالَ فَنَسُوهَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ
#4821
The tradition has been narrated on the authority of Sa'id b. Musayyib who learnt it from his father. The latter said:I had seen the tree. When I came to the spot afterwards, I could not recognise it
قتادہ نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : میں نے وہ درخت دیکھا تھا ، پھر میں اس کے بعد وہاں گیا تو میں اس درخت کو نہ پہچان سکا ۔
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ الشَّجَرَةَ ثُمَّ أَتَيْتُهَا بَعْدُ فَلَمْ أَعْرِفْهَا
#4822
It has been narrated on the authority of Yazid b. Abu Ubaid (the freed slave of Salama b. al-Akwa') who said:1 asked Salama as to what effect he had sworn fealty to the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Hudaibiya. He said: To the effect that we will die fighting
حاتم بن اسماعیل نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے مولیٰ یزید بن عبید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حدیبیہ کے دن تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کس چیز پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا : موت پر
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي، عُبَيْدٍ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ .
#4823
The above tradition has also been handed down through a different chain of transmitters
حماد بن مسعدہ نے کہا ہمیں یزید نے سلمہ رضی اللہ عنہ سےاسی کی مانند حدیث بیان کی ہے
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ سَلَمَةَ، بِمِثْلِهِ .
#4824
It has been narrated on the authority of Abdullah b. Zaid who said:A person came to him and said: Here is Ibn Hanzala who is making people swear allegiance to him. He (, Abdullah) asked: To what effect? He replied: To the effect that they will die for him. 'Abdullah said: I will never swear allegiance to this effect after the Messenger of Allah (ﷺ)
عباد بن تمیم نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ان کے پاس کوئی شخص آیا اور کہنے لگا : ابن حنظلہ لوگوں سے بیعت لے رہے ہیں؟ پوچھا : کس چیز پر؟ کہا : موت پر ۔ کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کے ساتھ اس بات پر بیعت نہیں کروں گا ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ، يَحْيَى عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ أَتَاهُ آتٍ فَقَالَ هَذَاكَ ابْنُ حَنْظَلَةَ يُبَايِعُ النَّاسَ فَقَالَ عَلَى مَاذَا قَالَ عَلَى الْمَوْتِ قَالَ لاَ أُبَايِعُ عَلَى هَذَا أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .