#4425
Jabir b. Samura reported that there was brought to Allah's Messenger (ﷺ) a short-statured person with thick uncombed hair, muscular body, having a mantle around him and he had committed adultery. He turned him away twice and then made pronouncement about him and he was stoned. Then Allah's Messenger (ﷺ) said:We set out for Jihad in the cause of Allah and one of you lagged behind and shrieked like the bleating of a male goat and one of then (goats' gave a small quantity of milk. In case Allah gives me power over one of them, I will punish him (in such a way that it may have a deterrent effect upon others). In another narration transmitted on the authority of Sa'id b Jubair (the words are), that He (the Holy Prophet) turned him away four times
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھوٹے قد ، پراگندہ بالوں اور مضبوط پٹھوں والا ایک شخص لایا گیا ، اس ( کے جسم ) پر ایک تہبند تھا اور اس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا ، آپ نے اسے دوبارہ لوٹایا ، پھر اسے ( رجم کرنے کا ) حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خطبہ دیتے ہوئے ) فرمایا : "" ہم جب بھی اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو تم لوگوں میں سے کوئی شخص پیچھے رہ جاتا ہے ، وہ نسل کشی کے بکرے کی طرح جوش سے آوازیں نکالتا ہے اور عورتوں میں سے کسی کو ( آمادہ کرنے کے لیے ) معمولی سی چیز پیش کرتا ہے ۔ بلاشبہ اللہ جب بھی مجھے ان میں سے کسی ایک پر قابو دے گا تو میں لازما اسے ( لوگوں کے لیے ) عبرت بنا دوں گا ، یا عبرتناک سزا دوں گا کہا : میں نے یہ حدیث سعید بن جبیر کو بیان کی تو انہوں نے کہا : آپ نے اسے چار بار واپس کیا تھا
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ قَصِيرٍ أَشْعَثَ ذِي عَضَلاَتٍ عَلَيْهِ إِزَارٌ وَقَدْ زَنَى فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَخَلَّفَ أَحَدُكُمْ يَنِبُّ نَبِيبَ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ إِنَّ اللَّهَ لاَ يُمْكِنِّي مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلاَّ جَعَلْتُهُ نَكَالاً " . أَوْ نَكَّلْتُهُ . قَالَ فَحَدَّثْتُهُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ فَقَالَ إِنَّهُ رَدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ .
#4426
This hadith has been narrated on the authority of Jabir b. Samura through another chain of transmitters with the difference that along with the mentioning (of the fact) that he (the Holy Prophet) turned him away twice, or thrice
شبابہ اور ابوعامر عقدی دونوں نے شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سماک سے ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن جعفر کی حدیث کی طرح روایت کی اور شبابہ نے اس بات میں ان کی موافقت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبار لوٹایا ۔ اور ابوعامر کی حدیث میں ہے : آپ نے اسے دو یا تین بار واپس کیا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ وَوَافَقَهُ شَبَابَةُ عَلَى قَوْلِهِ فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ . وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَامِرٍ فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا .
#4427
Ibn Abbas reported that Allah's Apostle (ﷺ) said to Ma'iz b. Malik:Is it true what has reached me about you? He said: What has reached you about me? He said: It has reached me that you have committed (adultery) with the slave-girl of so and so? He said: Yes. He (the narrator) said: He testified four times. He (the Holy Prophet) then made pronouncement about him and he was stoned (to death)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( چار بار واپس کرنے اور اس کے اصرار کے بعد ) ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا : " کیا وہ بات سچ ہے جو مجھے تمہارے بارے میں پہنچی ہے؟ " انہوں نے کہا : میرے بارے میں آپ کو کیا بات پہنچی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے فلاں خاندان کی لونڈی سے زنا کیا ہے ۔ " انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ کہا : تو انہوں نے ( اپنے خلاف ) چار گواہیاں دیں ، پھر آپ نے ان ( کو رجم کرنے ) کے بارے میں حکم دیا تو انہیں رجم کر دیا گیا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ " أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ " . قَالَ وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي قَالَ " بَلَغَنِي أَنَّكَ وَقَعْتَ بِجَارِيَةِ آلِ فُلاَنٍ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ . ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ .
#4428
Abu Sa'id reported that a person belonging to the clan of Aslam, who was called Ma, iz b. Malik, came to Allah's Messenger (ﷺ) and said:I have committed immorality (adultery), so inflict punishment upon me. Allah's Apostle (ﷺ) turned him away again and again. He then asked his people (about the state of his mind). They said: We do not know of any ailment of his except that he has committed something about which he thinks that he would not be able to relieve himself of its burden but with the Hadd being imposed upon him. He (Ma'iz) came back to Allah's Apostle (ﷺ) and he commanded us to stone him. We took him to the Baqi' al-Gharqad (the graveyard of Medina). We neither tied him nor dug any ditch for him. We attacked him with bones, with clods and pebbles. He ran away and we ran after him until he came upon the ston ground (al-Harra) and stopped there and we stoned him with heavy stones of the Harra until he became motionless (lie died). He (the Holy Prophet) then addressed (us) in the evening saying Whenever we set forth on an expedition in the cause of Allah, some one of those connected with us shrieked (under the pressure of sexual lust) as the bleating of a male goat. It is essential that if a person having committed such a deed is brought to me, I should punish him. He neither begged forgiveness for him nor cursed him
عبدالاعلیٰ نے کہا : ہمیں داود نے ابونضرہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اسلم قبیلے کا ایک آدمی ، جسے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : مجھ سے بدکاری ہو گئی ہے ، مجھ پر اس کی حد نافذ کیجئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کئی بار واپس کیا ۔ کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قوم سے پوچھا تو انہوں نے کہا : ہم ان کی کسی برائی کو نہیں جانتے ، مگر ان سے کوئی بات سرزد ضرور ہوئی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں اس کیفیت سے ، اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں نکال سکتی کہ ان پر حد قائم کر دی جائے ۔ کہا : اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پھر واپس آئے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ انہیں رجم کر دیں ۔ کہا : ہم انہیں بقیع الغرقد کی طرف لے کر گئے ۔ کہا : نہ ہم نے انہیں باندھا ، نہ ان کے لیے گڑھا کھودا ۔ کہا : ہم نے انہیں ہڈیوں ، مٹی کے ڈھیلوں اور ٹھیکروں سے مارا ۔ کہا : وہ بھاگ نکلے تو ہم بھی ان کے پیچھے بھاگے حتی کہ وہ حرہ ( سیاہ پتھروں والی زمین ) کے ایک کنارے پر آئے اور ہمارے سامنے جم کر کھڑے ہو گئے ، پھر ہم نے انہیں حرہ کی چٹانوں کے ٹکڑوں ، یعنی ( بڑے بڑے ) پتھروں سے مارا حتی کہ وہ بے جان ہو گئے ، کہا : پھر شام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : " جب بھی ہم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے نکلتے ہیں کوئی آدمی پیچھے ہمارے اہل و عیال کے درمیان رہ جاتا ہے اور بکرے کی طرح جوش میں آوازیں نکالتا ہے ، مجھ پر لازم ہے کہ میرے پاس کوئی ایسا آدمی نہیں لایا جائے گا جس نے ایسا کیو ہو گا مگر میں اسے عبرتناک سزا دوں گا ۔ " کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خطبے کے دوران میں ) نہ ان کے لیے استغفار کیا ، نہ انہیں برا بھلا کہا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي، سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي أَصَبْتُ فَاحِشَةً فَأَقِمْهُ عَلَىَّ . فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِرَارًا قَالَ ثُمَّ سَأَلَ قَوْمَهُ فَقَالُوا مَا نَعْلَمُ بِهِ بَأْسًا إِلاَّ أَنَّهُ أَصَابَ شَيْئًا يَرَى أَنَّهُ لاَ يُخْرِجُهُ مِنْهُ إِلاَّ أَنْ يُقَامَ فِيهِ الْحَدُّ - قَالَ - فَرَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَنَا أَنْ نَرْجُمَهُ - قَالَ - فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ - قَالَ - فَمَا أَوْثَقْنَاهُ وَلاَ حَفَرْنَا لَهُ - قَالَ - فَرَمَيْنَاهُ بِالْعَظْمِ وَالْمَدَرِ وَالْخَزَفِ - قَالَ - فَاشْتَدَّ فَاشْتَدَدْنَا خَلْفَهُ حَتَّى أَتَى عُرْضَ الْحَرَّةِ فَانْتَصَبَ لَنَا فَرَمَيْنَاهُ بِجَلاَمِيدِ الْحَرَّةِ - يَعْنِي الْحِجَارَةَ - حَتَّى سَكَتَ - قَالَ - ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطِيبًا مِنَ الْعَشِيِّ فَقَالَ " أَوَكُلَّمَا انْطَلَقْنَا غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَخَلَّفَ رَجُلٌ فِي عِيَالِنَا لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ عَلَىَّ أَنْ لاَ أُوتَى بِرَجُلٍ فَعَلَ ذَلِكَ إِلاَّ نَكَّلْتُ بِهِ " . قَالَ فَمَا اسْتَغْفَرَ لَهُ وَلاَ سَبَّهُ .
#4429
Dawud narrated the hadith with the same chain of transmitters (and the words are):Allah's Apostle (ﷺ) stood tip (to address the audience) in the evening and praised Allah, glorified Him and then said: What about the people, that as we set out on an expedition, one of you remained behind us and he shrieked like the bleating of a male goat? But he did not mention (these words): People connected with us
یزید بن زریع نے کہا : ہمیں داود نے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی اور انہوں نے حدیث میں کہا : شام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اللہ کی حمد اور ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " اما بعد! لوگوں کا کیا حال ہے؟ جب ہم جہاد کے لیے جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی شخص پیچھے رہ جاتا ہے ، وہ نسل کشی کے بکرے کی طرح آوازیں نکالتا ہے ۔ ۔ " انہوں ( یزید بن زریع ) نے " ہمارے اہل و عیال میں " کے الفاظ نہیں کہے
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَ مَعْنَاهُ . وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْعَشِيِّ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ إِذَا غَزَوْنَا يَتَخَلَّفُ أَحَدُهُمْ عَنَّا لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ " . وَلَمْ يَقُلْ " فِي عِيَالِنَا " .
#4430
This hadith has been narrated on the authority of Dawud with the same chain of transmitters but with this variation that in the hadith narrated by Sufyan (the words are):" He made a confession of having committed adultery, thrice
یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ اور سفیان دونوں نے داود سے اسی سند کے ساتھ اس حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا ، البتہ سفیان کی حدیث میں ہے : اس نے تین بار زنا کا اعتراف کیا ۔ ( چوتھی بار کے اعتراف پر اسے سزا سنائی گئی)
وَحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنْ دَاوُدَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ . غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَى ثَلاَثَ مَرَّاتٍ .
#4431
Sulaiman b. Buraida reported on the authority of his father that Ma, iz b. Malik came to Allah's Apostle (ﷺ) and said to him:Messenger of Allah, purify me, whereupon he said: Woe be upon you, go back, ask forgiveness of Allah and turn to Him in repentance. He (the narrator) said that he went back not far, then came and said: Allah's Messenger, purify me. whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Woe be upon you, go back and ask forgiveness of Allah and turn to Him in repentance. He (the narrator) said that he went back not far, when he came and said: Allah's Messenger, purify me. Allah's Apostle (ﷺ) said as he had said before. When it was the fourth time, Allah's Messenger (may, peace be upon him) said: From what am I to purify you? He said: From adultery, Allah's Messenger (ﷺ) asked if he had been mad. He was informed that he was not mad. He said: Has he drunk wine? A person stood up and smelt his breath but noticed no smell of wine. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Have you committed adultery? He said: Yes. He made pronouncement about him and he was stoned to death. The people had been (divided) into two groups about him (Ma'iz). One of them said: He has been undone for his sins had encompassed him, whereas another said: There is no repentance more excellent than the repentance of Ma'iz, for he came to Allah's Apostle (ﷺ) and placing his hand in his (in the Holy Prophet's) hand said: Kill me with stones. (This controversy about Ma'iz) remained for two or three days. Then came Allah's Messenger (ﷺ) to them (his Companions) as they were sitting. He greeted them with salutation and then sat down and said: Ask forgiveness for Ma'iz b. Malik. They said: May Allah forgive Ma'iz b. Malik. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: He (Ma'iz) has made such a repentance that if that were to be divided among a people, it would have been enough for all of them. He (the narrator) said: Then a woman of Ghamid, a branch of Azd, came to him and said: Messenger of of Allah, purify me, whereupon he said: Woe be upon you; go back and beg forgiveness from Allah and turn to Him in repentance. She said: I find that you intend to send me back as you sent back Ma'iz. b. Malik. He (the Holy, Prophet) said: What has happened to you? She said that she had become pregnant as a result of fornication. He (the Holy Prophet) said: Is it you (who has done that)? She said: Yes. He (the Holy Prophet) said to her: (You will not be punished) until you deliver what is there in your womb. One of the Ansar became responsible for her until she was delivered (of the child). He (that Ansari) came to Allah's Apostle (ﷺ) and said the woman of Ghamid has given birth to a child. He (the Holy Prophet) said: In that case we shall not stone her and so leave her infant with none to suckle him. One of the Ansar got up and said: Allah's Apostle, let the responsibility of his suckling be upon me. She was then stoned to death
سلیمان بن بریدہ نے اپنے والد ( بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ماعز بن مالک ( اسلمی ) رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم پر افسوس! جاؤ ، اللہ سے استغفار کرو اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو ۔ "" کہا : وہ لوٹ کر تھوڑی دور تک گئے ، پھر واپس آئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم پر افسوس! جاؤ ، اللہ سے استغفار کرو اور اس کی طرف رجوع کرو ۔ "" کہا : وہ لوٹ کر تھوڑی دور تک گئے ، پھر آئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پھر ) اسی طرح فرمایا حتی کہ جب چوتھی بارر ( یہی بات ) ہوئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : "" میں تمہیں کس چیز سے پاک کروں؟ "" انہوں نے کہا : زنا سے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" کیا اسے جنون ہے؟ "" تو آپ کو بتایا گیا کہ یہ مجنون نہیں ہے ۔ تو آپ نے پوچھا : "" کیا اس نے شراب پی ہے؟ "" اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس کا منہ سونگھا تو اسے اس سے شراب کی بو نہ آئی ۔ کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" کیا تم نے زنا کیا ہے؟ "" انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ( یہیں آپ نے اس سے اس واقعے کی تصدیق چاہی جو آپ تک پہنچا تھا ) پھر آپ نے ان ( کو رجم کرنے ) کے بارے میں حکم دیا ، چنانچہ انہیں رجم کر دیا گیا ۔ بعد ازاں ان کے حوالے سے لوگوں کے دو گروہ بن گئے ، کچھ کہنے والے یہ کہتے : وہ تباہ و برباد ہو گیا ، اس کے گناہ نے اسے گھیر لیا ۔ اور کچھ کہنے والے یہ کہتے : ماعز کی توبہ سے افضل کوئی توبہ نہیں ( ہو سکتی ) کہ وہ ( خود ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا ، پھر کہا : مجھے پتھروں سے مار ڈالیے ۔ کہا : دو یا تین دن وہ ( اختلاف کی ) اسی کیفیت میں رہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، وہ سب بیٹحے ہوئے تھے ، آپ نے سلام کہا ، پھر بیٹھ گئے اور فرمایا : "" ماعز بن مالک کے لیے بخشش مانگو ۔ "" کہا : تو لوگوں نے کہا : اللہ ماعز بن مالک کو معاف فرمائے! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بلاشبہ انہوں نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ایک امت میں بانٹ دی جائے تو ان سب کو کافی ہو جائے ۔ "" کہا : پھر آپ کے پاس ازد قبیلے کی شاخ غامد کی ایک عورت آئی اور کہنے لگی : اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے ۔ تو آپ نے فرمایا : "" تم پر افسوس! لوٹ جاؤ ، اللہ سے بخشش مانگو اور اس کی طرف رجوع کرو ۔ "" اس نے کہا : میرا خیال ہے آپ مجھے بھی بار بار لوٹانا چاہتے ہیں جیسے ماعز بن مالک کو لوٹایا تھا ۔ آپ نے پوچھا : "" وہ کیا بات ہے ( جس میں تم تطہیر چاہتی ہو؟ ) "" اس نے کہا : وہ زنا کی وجہ سے حاملہ ہے ۔ تو آپ نے ( تاکیدا ) پوچھا : کیا تم خود؟ "" اس نے جواب دیا : جی ہاں ، تو آپ نے اسے فرمایا : "" ( جاؤ ) یہاں تک کہ جو تمہارے پیٹ میں ہے اسے جنم دے دو ۔ "" کہا : تو انصار کے ایک آدمی نے اس کی کفالت کی حتی کہ اس نے بچے کو جنم دیا ۔ کہا : تو وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ور کہنے لگا : غامدی عورت نے بچے کو جنم دے دیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تب ہم ( ابھی ) اسے رجم نہیں کریں گے اور اس کے بچے کو کم سنی میں ( اس طرح ) نہیں چھوڑیں گے کہ کوئی اسے دودھ پلانے والا نہ ہو ۔ "" پھر انصار کا ایک آدمی کھڑا ہوا ور کہا : اے اللہ کے نبی! اس کی رضاعت میرے ذمے ہے ۔ کہا : تو آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دے دیا
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ - عَنْ غَيْلاَنَ، - وَهُوَ ابْنُ جَامِعٍ الْمُحَارِبِيُّ - عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي . فَقَالَ " وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ " . قَالَ فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ " . قَالَ فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فِيمَ أُطَهِّرُكَ " . فَقَالَ مِنَ الزِّنَى . فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبِهِ جُنُونٌ " . فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ . فَقَالَ " أَشَرِبَ خَمْرًا " . فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْكَهَهُ فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَزَنَيْتَ " . فَقَالَ نَعَمْ . فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَكَانَ النَّاسُ فِيهِ فِرْقَتَيْنِ قَائِلٌ يَقُولُ لَقَدْ هَلَكَ لَقَدْ أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ وَقَائِلٌ يَقُولُ مَا تَوْبَةٌ أَفْضَلَ مِنْ تَوْبَةِ مَاعِزٍ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَوَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَالَ اقْتُلْنِي بِالْحِجَارَةِ - قَالَ - فَلَبِثُوا بِذَلِكَ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُمْ جُلُوسٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ " اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ " . قَالَ فَقَالُوا غَفَرَ اللَّهُ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ . - قَالَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهُمْ " . قَالَ ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ مِنَ الأَزْدِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي . فَقَالَ " وَيْحَكِ ارْجِعِي فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ " . فَقَالَتْ أَرَاكَ تُرِيدُ أَنْ تُرَدِّدَنِي كَمَا رَدَّدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ . قَالَ " وَمَا ذَاكِ " . قَالَتْ إِنَّهَا حُبْلَى مِنَ الزِّنَا . فَقَالَ " آنْتِ " . قَالَتْ نَعَمْ . فَقَالَ لَهَا " حَتَّى تَضَعِي مَا فِي بَطْنِكِ " . قَالَ فَكَفَلَهَا رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ حَتَّى وَضَعَتْ قَالَ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ قَدْ وَضَعَتِ الْغَامِدِيَّةُ . فَقَالَ " إِذًا لاَ نَرْجُمَهَا وَنَدَعَ وَلَدَهَا صَغِيرًا لَيْسَ لَهُ مَنْ يُرْضِعُهُ " . فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ إِلَىَّ رَضَاعُهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ . قَالَ فَرَجَمَهَا .
#4432
Abdullah b. Buraida reported on the authority of his father that Ma'iz b. Malik al-Aslami came to Allah's Messenger (ﷺ) and said:Allah's Messenger, I have wronged myself; I have committed adultery and I earnestly desire that you should purify me. He turned him away. On the following day, he (Ma'iz) again came to him and said: Allah's Messenger, I have committed adultery. Allah's Messenger (ﷺ) turned him away for the second time, and sent him to his people saying: Do you know if there is anything wrong with his mind. They denied of any such thing in him and said: We do not know him but as a wise good man among us, so far as we can judge. He (Ma'iz) came for the third time, and he (the Holy Prophet) sent him as he had done before. He asked about him and they informed him that there was nothing wrong with him or with his mind. When it was the fourth time, a ditch was dug for him and he (the Holy Prophet) pronounced judg- ment about him and he wis stoned. He (the narrator) said: There came to him (the Holy Prophet) a woman from Ghamid and said: Allah's Messenger, I have committed adultery, so purify me. He (the Holy Prophet) turned her away. On the following day she said: Allah's Messenger, Why do you turn me away? Perhaps, you turn me away as you turned away Ma'iz. By Allah, I have become pregnant. He said: Well, if you insist upon it, then go away until you give birth to (the child). When she was delivered she came with the child (wrapped) in a rag and said: Here is the child whom I have given birth to. He said: Go away and suckle him until you wean him. When she had weaned him, she came to him (the Holy Prophet) with the child who was holding a piece of bread in his hand. She said: Allah's Apostle, here is he as I have weaned him and he eats food. He (the Holy Prophet) entrusted the child to one of the Muslims and then pronounced punishment. And she was put in a ditch up to her chest and he commanded people and they stoned her. Khalid b Walid came forward with a stone which he flung at her head and there spurted blood on the face of Khalid and so he abused her. Allah's Apostle (ﷺ) heard his (Khalid's) curse that he had huried upon her. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Khalid, be gentle. By Him in Whose Hand is my life, she has made such a repentance that even if a wrongful tax-collector were to repent, he would have been forgiven. Then giving command regarding her, he prayed over her and she was buried
بُشیر بن مہاجر نے حدیث بیان کی ، کہا : عبداللہ بن بریدہ نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی کہ ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ، میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے ( گناہ کی آلودگی سے ) پاک کر دیں ۔ آپ نے انہیں واپس بھیج دیا ، جب اگلا دن ہوا ، وہ آپ کے پاس آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے ۔ تو آپ نے دوسری بار انہیں واپس بھیج دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قوم کی طرف پیغام بھیجا اور پوچھا : "" کیا تم جانتے ہو کہ ان کی عقل میں کوئی خرابی ہے ، ( ان کے عمل میں ) تمہیں کوئی چیز غلط لگتی ہے؟ "" تو انہوں نے جواب دیا : ہمارے علم میں تو یہ پوری عقل والے ہیں ، جہاں تک ہمارا خیال ہے ۔ یہ ہمارے صالح افراد میں سے ہیں ۔ وہ آپ کے پاس تیسری بات آئے تو آپ نے پھر ان کی طرف ( اسی طرح ) پیغام بھیجا اور ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ان میں اور ان کی عقل میں کوئی خرابی نہیں ہے ، جب چوتھی بار ایسا ہوا تو آپ نے ان کے لیے ایک گڑھا کھدوایا ، پھر ان ( کو رجم کرنے ) کے بارے میں حکم دیا تو انہیں رجم کر دیا گیا ۔ کہا : اس کے بعد غامد قبیلے کی عورت آئی اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے ، مجھے پاک کیجئے ۔ آپ نے اسے واپس بھیج دیا ، جب اگلا دن ہوا ، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول! آپ مجھے واپس کیوں بھیجتے ہیں؟ شاید آپ مجھے بھی اسی طرح واپس بھیجنا چاہتے ہیں جیسے ماعز کو بھیجا تھا ، اللہ کی قسم! میں حمل سے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : "" اگر نہیں ( مانتی ہو ) تو جاؤ حتی کہ تم بچے کو جنم دے دو ۔ "" کہا : جب اس نے اسے جنم دیا تو بچے کو ایک بوسیدہ کپڑے کے ٹکڑے میں لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا : یہ ہے ، میں نے اس کو جنم دے دیا ہے ۔ آپ نے فرمایا : "" جاؤ ، اسے دودھ پلاؤ حتی کہ تم اس کا دودھ چھڑا دو ۔ "" جب اس نے اس کا دودھ چھڑا دیا تو بچے کو لے کر آپ کے پاس حاضر ہوئی ، اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا ، اس نے کہا : اے اللہ کے نبی! میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے اور اس نے کھانا بھی کھا لیا ہے ۔ ( ابھی اس کی مدت رضاعت باقی تھی ۔ ایک انصاری نے اس کی ذمہ داری اٹھا لی ) تو آپ نے بچہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی ( اس انصاری ) کے حوالے کیا ، پھر اس کے لیے ( گڑھا کھودنے کا ) حکم دیا تو سینے تک اس کے لیے گڑھا کھودا گیا اور آپ نے لوگوں کو حکم دیا تو انہوں نے اسے رجم کر دیا ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک پتھر لے کر آگے بڑھے اور اس کے سر پر مارا ، خون کا فوارہ پھوٹ کر حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے چہرے پر پڑا تو انہوں نے اسے برا بھلا کہا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے برا بھلا کہنے کو سن لیا تو آپ نے فرمایا : "" خالد! ٹھہر جاؤ ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ناجائز محصول لینے والا ( جو ظلما لاتعداد انسانوں کا حق کھاتا ہے ) ایسی توبہ کرے تو اسے بھی معاف کر دیا جائے ۔ "" پھر آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور اسے دفن کر دیا گیا
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ الأَسْلَمِيَّ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَزَنَيْتُ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي . فَرَدَّهُ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ . فَرَدَّهُ الثَّانِيَةَ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ " أَتَعْلَمُونَ بِعَقْلِهِ بَأْسًا تُنْكِرُونَ مِنْهُ شَيْئًا " . فَقَالُوا مَا نَعْلَمُهُ إِلاَّ وَفِيَّ الْعَقْلِ مِنْ صَالِحِينَا فِيمَا نُرَى فَأَتَاهُ الثَّالِثَةَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ أَيْضًا فَسَأَلَ عَنْهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُ لاَ بَأْسَ بِهِ وَلاَ بِعَقْلِهِ فَلَمَّا كَانَ الرَّابِعَةَ حَفَرَ لَهُ حُفْرَةً ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ . قَالَ فَجَاءَتِ الْغَامِدِيَّةُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ فَطَهِّرْنِي . وَإِنَّهُ رَدَّهَا فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ تَرُدُّنِي لَعَلَّكَ أَنْ تَرُدَّنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزًا فَوَاللَّهِ إِنِّي لَحُبْلَى . قَالَ " إِمَّا لاَ فَاذْهَبِي حَتَّى تَلِدِي " . فَلَمَّا وَلَدَتْ أَتَتْهُ بِالصَّبِيِّ فِي خِرْقَةٍ قَالَتْ هَذَا قَدْ وَلَدْتُهُ . قَالَ " اذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ " . فَلَمَّا فَطَمَتْهُ أَتَتْهُ بِالصَّبِيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةُ خُبْزٍ فَقَالَتْ هَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ فَطَمْتُهُ وَقَدْ أَكَلَ الطَّعَامَ . فَدَفَعَ الصَّبِيَّ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا إِلَى صَدْرِهَا وَأَمَرَ النَّاسَ فَرَجَمُوهَا فَيُقْبِلُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِحَجَرٍ فَرَمَى رَأْسَهَا فَتَنَضَّحَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِ خَالِدٍ فَسَبَّهَا فَسَمِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَبَّهُ إِيَّاهَا فَقَالَ " مَهْلاً يَا خَالِدُ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ " . ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ .
#4433
Imran b. Husain reported that a woman from Juhaina came to Allah's Apostle (ﷺ) and she had become pregnant because of adultery. She said:Allah's Apostle, I have done something for which (prescribed punishment) must be imposed upon me, so impose that. Allah's Apostle (ﷺ) called her master and said: Treat her well, and when she delivers bring her to me. He did accordingly. Then Allah's Apostle (ﷺ) pronounced judgment about her and her clothes were tied around her and then he commanded and she was stoned to death. He then prayed over her (dead body). Thereupon Umar said to him: Allah's Apostle, you offer prayer for her, whereas she had committed adultery! Thereupon he said: She has made such a repentance that if it were to be divided among seventy men of Medina, it would be enough. Have you found any repentance better than this that she sacr ficed her life for Allah, the Majestic?
ہشام نے مجھے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابوقلابہ نے حدیث بیان کی کہ انہیں ابومہلب نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، وہ زنا سے حاملہ تھی ، اس نے کہا : اللہ کے رسول! میں ( شرعی ) حد کی مستحق ہو گئی ہوں ، آپ وہ حد مجھ پر نافذ فرمائیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلوایا اور فرمایا : " اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، جب یہ بچے کو جنم دے تو اسے میرے پاس لے آنا ۔ " اس نے ایسا ہی کیا ۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کے کپڑے اس پر کس کر باندھ دیے گئے ، پھر آپ نے حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا ، پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کی : اللہ کے نبی! آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے حالانکہ اس نے زنا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا : " اس نے یقینا ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ کے ستر گھروں کے درمیان تقسیم کر دی جائے تو ان کے لیے بھی کافی ہو جائے گی ۔ اور کیا تم نے اس سے بہتر ( کوئی ) توبہ دیکھی ہے کہ اس نے اللہ ( کو راضی کرنے ) کے لیے اپنی جان قربان کر دی ہے
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ، مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلاَبَةَ، أَنَّ أَبَا الْمُهَلَّبِ، حَدَّثَهُ عَنْ عِمْرَانَ، بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ حُبْلَى مِنَ الزِّنَى فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَىَّ فَدَعَا نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلِيَّهَا فَقَالَ " أَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ فَائْتِنِي بِهَا " . فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِهَا نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ تُصَلِّي عَلَيْهَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَقَدْ زَنَتْ فَقَالَ " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ وَهَلْ وَجَدْتَ تَوْبَةً أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ تَعَالَى " .
#4434
This hadith has been transmitted on the authority of Yahya b. Abu Kathir
ابان عطار نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#4435
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters
لیث نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ان دونوں نے کہا : بادیہ نشینوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول! میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ، آپ میرے لیے اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کریں ۔ ( اس کے ) مخالف فریق نے کہا : اور وہ اس سے زیادہ سمجھ دار تھا ، جی ہاں ، ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کی رو سے فیصلہ کیجیے اور مجھے ( کچھ کہنے کی ) اجازت دیجیے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کہو ۔ "" اس نے کہا : میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا ، اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا اور مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے پر رجم ( کی سزا ) ہے ، چنانچہ میں نے اس کی طرف سے ایک سو بکریاں اور ایک لونڈی بطور فدیہ دی ، اور اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ میرے بیٹے پر ( تو ) ایک سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور رجم اس کی عورت پر ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا ، لونڈی اور بکریاں تجھے واپس ملیں گی ، تمہارے بیٹے پر ایک سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے ۔ اُنیس! ( انس بن ضحاک اسلمی رضی اللہ عنہ مراد ہیں ۔ عورت انہی کے قبیلے سے تھی ) اس ( دوسرے آدمی ) کی عورت کے ہاں جاؤ ، اگر وہ اعتراف کرے تو اسے رجم کر دو ۔ "" کہا : وہ اس کے ہاں گئے تو اس نے اعتراف کر لیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( کو رجم کرنے ) کا حکم دیا ، چنانچہ اسے رجم کر دیا گیا
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ، بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَهُ .
#4436
یونس ، صالح اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی
#4437
Abdullah b. 'Umar reported that a Jew and a Jewess were brought to Allah's Messenger (ﷺ) who had committed adultery. Allah's Messenger (ﷺ) came to the Jews and said:What do you find in Torah for one who commits adultery? They said: We darken their faces and make them ride on the donkey with their faces turned to the opposite direction (and their backs touching each other), and then they are taken round (the city). He said: Bring Torah if you are truthful. They brought it and recited it until when they came to the verse pertaining to stoning, the person who was reading placed his hand on the verse pertaining to stoning, and read (only that which was) between his hands and what was subsequent to that. Abdullah b. Salim who was at that time with the Messenger of Allah (ﷺ) said: Command him (the reciter) to lift his hand. He lifted it and there was, underneath that, the verse pertaining to stoning. Allah's Messenger (ﷺ) pronounced judgment about both of them and they were stoned. Abdullah b. 'Umar said: I was one of those who stoned them, and I saw him (the Jew) protecting her (the Jewess) with his body
عبیداللہ نے ہمیں نافع سے خبر دی ، کہا : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لایا گیا جنہوں نے زنا کیا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے حتی کہ یہود کے پاس آئے اور پوچھا : "" تم تو رات میں اس آدمی کے بارے میں کیا سزا پاتے ہو جس نے زنا کیا ہو؟ "" انہوں نے کہا : ہم ان دونوں کا منہ کالا کرتے ہیں ، انہیں ( گدھے پر ) سوار کرتے ہیں ، ان دونوں کے چہرے مخالف سمت میں کر دیتے ہیں اور انہیں ( گلیوں بازاروں میں ) پھرایا جاتا ہے ۔ آپ نے فرمایا : "" اگر تم سچے ہو ، تو رات لے آؤ ۔ "" وہ اسے لائے اور پڑھنے لگے حتی کہ جب رجم کی آیت کے نزدیک پہنچے تو اس نوجوان نے ، جو پڑھ رہا تھا ، اپنا ہاتھ رجم کی آیت پر رکھا اور وہ حصہ پڑھ دیا جو آگے تھا اور جو پیچھے تھا ۔ اس پر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کی ، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے ، آپ اسے حکم دیجیے کہ اپنا ہاتھ اٹھائے ۔ اس نے ہاتھ اٹھایا تو اس نے نیچے رجم کی آیت ( موجود ) تھی ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں ( کو رجم کرنے ) کا حکم صادر فرمایا تو انہیں رجم کر دیا گیا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے انہیں رجم کیا ، میں نے اس آدمی کو دیکھا وہ اپنے ( جسم کے ) ذریعے سے اس عورت کو بچا رہا تھا
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِيَهُودِيٍّ وَيَهُودِيَّةٍ قَدْ زَنَيَا فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى جَاءَ يَهُودَ فَقَالَ " مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ عَلَى مَنْ زَنَى " . قَالُوا نُسَوِّدُ وُجُوهَهُمَا وَنُحَمِّلُهُمَا وَنُخَالِفُ بَيْنَ وُجُوهِهِمَا وَيُطَافُ بِهِمَا . قَالَ " فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ " . فَجَاءُوا بِهَا فَقَرَءُوهَا حَتَّى إِذَا مَرُّوا بِآيَةِ الرَّجْمِ وَضَعَ الْفَتَى الَّذِي يَقْرَأُ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ وَقَرَأَ مَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا وَرَاءَهَا فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ وَهْوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُرْهُ فَلْيَرْفَعْ يَدَهُ فَرَفَعَهَا فَإِذَا تَحْتَهَا آيَةُ الرَّجْمِ فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُجِمَا . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُمَا فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَقِيهَا مِنَ الْحِجَارَةِ بِنَفْسِهِ .
#4438
Ibn Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) stoned to death the Jews, both male and female, who had committed adultery. The Jews brought them to Allah's Messenger (may peace he upon him). The rest of the hadith is the same
ابن علیہ نے ہمیں ایوب سے خبر دی ، نیز عبداللہ بن وہب نے کہا : مجھے اہل علم میں سے بہت سے آدمیوں نے جن میں امام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ بھی شامل ہیں ، خبر دی کہ انہیں نافع نے بتایا ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا ( کی حد ) میں دو یہودیوں ، ایک مرد اور ایک عورت کو ، جنہوں نے زنا کیا تھا ، رجم کرایا ۔ یہود انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ۔ ۔ آگے اسی ( سابقہ حدیث کی ) طرح حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي رِجَالٌ، مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُمْ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجَمَ فِي الزِّنَى يَهُودِيَّيْنِ رَجُلاً وَامْرَأَةً زَنَيَا فَأَتَتِ الْيَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِهِمَا . وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ .
#4439
Ibn 'Umar reported that the Jews brought to Allah's Messenger (ﷺ) a man and a woman who had committed adultery. The rest of the hadith is the same
موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ یہود اپنے ایک مرد اور ایک عورت کو ، جنہوں نے زنا کیا تھا ، لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ ۔ آگے نافع سے عبیداللہ کی روایت کردہ حدیث کی طرح بیان کیا
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ، عُمَرَ أَنَّ الْيَهُودَ، جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ مِنْهُمْ وَامْرَأَةٍ قَدْ زَنَيَا . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ .
#4440
Al-Bara' b. 'Azib reported:There happened to pass by Allah's Apostle (ﷺ) a Jew blackened and lashed. Allah's Apostle (ﷺ) called them (the Jews) and said: Is this the punishment that you find in your Book (Torah) as a prescribed punishment for adultery? They said: Yes. He (the Holy Prophet) called one of the scholars amongst them and said: I ask you in the name of Allah Who sent down the Torah on Moses if that is the prescribed punishment for adultery that you find in your Book. He said: No. Had you not asked me in the name of Allah, I would not have given you this information. We find stoning to death (as punishment prescribed in the Torah). But this (crime) became quite common amongst our aristocratic class. So when we caught hold of any rich person (indulging in this offence) we spared him, but when we caught hold of a helpless person we imposed the prescribed punishment upon him. We then said: Let us argree (on a punishment) which we can inflict both upon the rich and the poor. So We decided to blacken the face with coal and flog as a substitute punishment for stoning. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: O Allah, I am the first to revive Thy command when they had made it dead. He then commanded and he (the offender) was stoned to death. Allah, the Majestic and Glorious, sent down (this verse):" O Messenger, (the behaviour of) those who vie with one another in denying the truth should not grieve you..." up to" is vouchsafed unto you, accept it" (v. 41) 2176 It was said (by the Jews): Go to Muhammad; it he commands you to blacken the face and award flogging (as punishment for adultery), then accept it, but it he gives verdict for stoning, then avoid it. It was (then) that Allah, the Majestic and Great, sent down (these verses):" And they who do not judge in accordance with what Allah has revealed are, indeed, deniers of the truth" (v. 44) ;" And they who do not judge in accordance with what Allah has revealed-they, they indeed are the wrongdoers" (v. 45) ;" And they who do not judge in accordance with what God has revealed-they are the iniquitous (v. 47). (All these verses) were revealed in connection with the non-believers
ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک یہودی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے گزارا گیا جس کا منہ کالا کیا ہوا تھا اسے کوڑے لگائے گئے تھے ، آپ نے انہیں ( ان کے عالموں کو ) بلایا اور پوچھا : " کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد اسی طرح پاتے ہو؟ " انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ ( بعد ازاں آپ کے حکم سے تورات منگوائی گئی ۔ انہوں نے آیت رجم چھپا لی ، وہ ظاہر ہو گئی ۔ اس کے بعد ) آپ نے ان کے علماء میں سے ایک آدمی کو بلایا اور فرمایا : " میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی! کیا تم لوگ اپنی کتاب میں زانی کی حد اسی طرح پاتے ہو؟ " اس نے جواب دیا : نہیں ، اور اگر آپ مجھے یہ قسم نہ دیتے تو میں آپ کو نہ بتاتا ۔ ( ہم کتاب مین ) رجم ( کی سزا لکھی ہوئی ) پاتے ہیں ۔ لیکن ہمارے اشراف میں زنا بہت بڑھ گیا ۔ ( اس وجہ سے ) ہم جب کسی معزز کو پکڑتے تھے تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کسی کمزور کو پکڑتے تو اس پر حد نافذ کر دیتے تھے ۔ ہم نے ( آپس میں ) کہا : آؤ! کسی ایسی چیز ( سزا ) پر جمع ہو جائیں جسے ہم معزز اور معمولی آدمی ( دونوں ) پر لاگو کر سکیں ، تو ہم نے رجم کے بجائے منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے ( کی سزا ) بنا لی ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ! میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا جبکہ انہوں نے اسے مردہ کر دیا تھا ۔ " پھر آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا ۔ اس پر اللہ عزوجل نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : " اے رسول! آپ ان لوگوں کے پیچھے نہ کڑھیے جو تیزی سے کفر میں داخل ہوتے ہیں ۔ ۔ " اس فرمان تک : " اگر تمہیں یہی حکم دیا جائے تو قبول کر لینا ۔ " ( النائدہ : 41 : 5 ) ( ان کو مشورہ دینے والا ) کہتا تھا : محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ ، اگر وہ تمہیں ( یہی ) منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے کا حکم دیں تو قبول کر لینا اور اگر رجم کا فتویٰ دیں تو احتراز کرنا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : " اور جو لوگ اس ( حکم ) کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ کافر ہیں ۔ " ( المائدہ : 44 : 5 ) " اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ ظالم ہیں ۔ " ( المائدۃ؛ 45 : 5 ) " اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے اتارا ہے تو وہی لوگ فاسق ہیں ۔ " ( المائدہ : 47 : 5 ) یہ ساری آیات کفار کے بارے میں ہیں
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِيَهُودِيٍّ مُحَمَّمًا مَجْلُودًا فَدَعَاهُمْ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " هَكَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِكُمْ " . قَالُوا نَعَمْ . فَدَعَا رَجُلاً مِنْ عُلَمَائِهِمْ فَقَالَ " أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى أَهَكَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِكُمْ " . قَالَ لاَ وَلَوْلاَ أَنَّكَ نَشَدْتَنِي بِهَذَا لَمْ أُخْبِرْكَ نَجِدُهُ الرَّجْمَ وَلَكِنَّهُ كَثُرَ فِي أَشْرَافِنَا فَكُنَّا إِذَا أَخَذْنَا الشَّرِيفَ تَرَكْنَاهُ وَإِذَا أَخَذْنَا الضَّعِيفَ أَقَمْنَا عَلَيْهِ الْحَدَّ قُلْنَا تَعَالَوْا فَلْنَجْتَمِعْ عَلَى شَىْءٍ نُقِيمُهُ عَلَى الشَّرِيفِ وَالْوَضِيعِ فَجَعَلْنَا التَّحْمِيمَ وَالْجَلْدَ مَكَانَ الرَّجْمِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا أَمْرَكَ إِذْ أَمَاتُوهُ " . فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لاَ يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ} إِلَى قَوْلِهِ { إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ} يَقُولُ ائْتُوا مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم فَإِنْ أَمَرَكُمْ بِالتَّحْمِيمِ وَالْجَلْدِ فَخُذُوهُ وَإِنْ أَفْتَاكُمْ بِالرَّجْمِ فَاحْذَرُوا . فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ} فِي الْكُفَّارِ كُلُّهَا .
#4441
This hadith has been narrated on the authority of A'mash up to the words:" Allah's Apostle (ﷺ) pronounced judgment and he was stoned (to death)" And he mentioned nothing subsequent to that pertaining to the revelation of verses
وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ اس قول تک ، اسی طرح حدیث بیان کی : " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا ۔ " انہوں نے اس کے بعد کا ، آیات کے نازل ہونے والا حصہ بیان نہیں کیا
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَهُ إِلَى قَوْلِهِ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرُجِمَ . وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ نُزُولِ الآيَةِ .
#4442
Jabir b. 'Abdullah reported that Allah's Apostle (ﷺ) stoned (to death) a person from Banu Aslam, and a Jew and his wife
حجاج بن محمد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہون نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک مرد اور یہود کے ایک مرد اور اس کی ( آشنا ) عورت کو رجم کروایا
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ رَجَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً مِنْ أَسْلَمَ وَرَجُلاً مِنَ الْيَهُودِ وَامْرَأَتَهُ .
#4443
This hadith has been transmitted on the authority of Juraij with a slight variation of words
رَوح بن عبادہ نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے ( اور اس کی عورت کے بجائے صرف " اور عورت " کہا)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ . غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَامْرَأَةً .
#4444
Abu Ishaq Shaibani said:I asked 'Abdullah b. Abu Aufi if Allah's Messenger (ﷺ) awarded (the punishment) of stoning (to death). He said: Yes. I said: After Sura al-Nur was revealed or before that? He said: I do not know
ابواسحاق شیبانی سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ کہا : میں نے پوچھا : سورہ نور نازل کیے جانے کے بعد یا اس سے پہلے؟ انہوں نے کہا : میں نہیں جانتا
وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ح. وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ أَبِي، إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى هَلْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ . قَالَ قُلْتُ بَعْدَ مَا أُنْزِلَتْ سُورَةُ النُّورِ أَمْ قَبْلَهَا قَالَ لاَ أَدْرِي .
#4445
Abu Huraira reported that he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When the slave-woman of any of you commits adultery and this (offence of hers) becomes clear, she should be flogged (as the prescribed) punishment, but hurl no reproach at her. If she commits adultery again, she should (again be punished) by flogging, but hurl no reproach upon her. If she commits fornication for the third time and it becomes clear, then he should sell her, even if only for a rope of hair
لیث نے سعید بن ابی سعید سے ، انہوں نے اپنے والد سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اور اس کا زنا ( کسی دلیل سے ) واضح ( ثابت ) ہو جائے تو وہ ( مالک ) اس پر حد لگائے اور اسے ملامت نہ کرتا رہے ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اس کو حد لگائے اور اسے ملامت نہ کرتا رہے ، پھر اگر وہ تیسری بار زنا کرے اور اس کا زنا واضھ ہو جائے تو اسے فروخت کر دے ، چاہے بالوں کی ایک رسی ہی کے عوض کیوں نہ بِکے
وَحَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلاَ يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلاَ يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتِ الثَّالِثَةَ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ " .
#4446
This hadith his been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters with a slight variation of words
ایوب بن موسیٰ ، عبیداللہ بن عمر ، اسامہ بن زید اور محمد بن اسحاق سب نے سعید مقبری سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، البتہ ابن اسحاق نے اپنی حدیث میں کہا : سعید نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لونڈی کو ، جب وہ تین بار زنا کرے ، کوڑے لگانے کی بات روایت کی ، ( آگے فرمایا ) " پھر چوتھی بار اسے فروخت کر دے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ، بْنُ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ قَالَ فِي حَدِيثِهِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي جَلْدِ الأَمَةِ إِذَا زَنَتْ ثَلاَثًا " ثُمَّ لْيَبِعْهَا فِي الرَّابِعَةِ " .
#4447
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) was asked about the slave-woman who committed adultery and was not protected (married). He said:If she commits adultery, then flog her and if she commits adultery again, then flog her and then sell her even for a rope. Ibn Shihab said: I do not know whether he said this (his statement pertaining to the sale of slave-woman) at the third or the fourth time. Ibn Shihab said that the word dafir (used in the text) means rope
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے کہا : ہمیں مالک نے حدیث سنائی ، اور یحییٰ بن یحییٰ نے ۔ ۔ حدیث کے الفاظ انہی کے ہیں ۔ ۔ کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی ، انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لونڈی کے بارے میں پوچھا گیا ، جب وہ زنا کرے اور شادی شدہ نہ ہو ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ ، پھر اگر زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ ، پھر اسے فروخت کر دو ، چاہے ایک گندھی ہوئی رسی کے عوض کیوں نہ ہو ۔ "" ابن شہاب نے کہا : میں نہیں جانتا یہ ( بیچتے کا حکم ) تیسری بار کے بعد ہے یا چوتھی بار کے بعد ۔ قعنبی نے اپنی روایت میں کہا : ابن شہاب نے کہا : اور ضفیر سے مراد رسی ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الأَمَةِ إِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصِنْ قَالَ " إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ لاَ أَدْرِي أَبَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ . وَقَالَ الْقَعْنَبِيُّ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَالضَّفِيرُ الْحَبْلُ .
#4448
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira and Zaid b. Khalid al-Jubani, but in this no merition is made of the words of Ibn Shihab that dafir means rope
ابن وہب نے کہا : میں نے امام مالک سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : مجھے ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لونڈی کے بارے میں پوچھا گیا ۔ ۔ جس طرح ان دونوں کی حدیث ہے ۔ ۔ اور انہوں نے ابن شہاب کے قول : " ضفیر سے مراد رسی ہے " کا تذکرہ نہیں کیا
وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الأَمَةِ . بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ ابْنِ شِهَابٍ وَالضَّفِيرُ الْحَبْلُ .
#4449
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira and Zaid b. Khalid al-Juhani in the same way as transmitted by Malik with this (difference) tnat there is a doubt whether her sale (that of the slave-girl committing adultery) was mentioned after the third or the fourth time
صالح اور معمر دونوں ن زہری سے ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت خالد بن جہنی رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، جس طرح امام مالک کی حدیث ہے ۔ اور اس کی بیع تیسری بار ہے یا چوتھی بار ، اس میں شک دونوں کی حدیث میں ہے
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ، اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ وَالشَّكُّ فِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا فِي بَيْعِهَا فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ .