#4400
A'isha reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The hand of a thief should not be cut off but for a quarter of a dinar and upwards
ابن شہاب نے عروہ اور عمرہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " ( سونے کے ) دینار کے چوتھے حصے یا اس سے زیادہ ( کی چوری ) کے سوا چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَحَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، - وَاللَّفْظُ لِلْوَلِيدِ وَحَرْمَلَةَ - قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ إِلاَّ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " .
#4401
A'isha reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: The hand (of a thief) should not be cut off but for a quarter of a dinar and what is above that
سلیمان بن یسار نے عمرہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ بیان کر رہی تھیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کے سوا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، - وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ وَأَحْمَدَ - قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ، تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تُقْطَعُ الْيَدُ إِلاَّ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَمَا فَوْقَهُ " .
#4402
A'isha reported that she heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying:The hand of the thief may not be cut off but for a quarter of a dinar and upwards
عبدالعزیز بن محمد نے یزید بن عبداللہ بن ہاد سے ، انہوں نے ابوبکر بن محمد سے ، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کے سوا چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ الْهَادِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ إِلاَّ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " .
#4403
A hadith like this has been narrated on the authority of Yazid b. 'Abdullah b. al-Had with the same chain of transmitters
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے عبداللہ بن جعفر نے یزید بن عبداللہ بن ہاد سے ( باقی ماندہ ) اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْعَقَدِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، - مِنْ وَلَدِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#4404
A'isha reported that during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) the hand of the thief was not cut off for less than the price of a shield, iron coat or armour and both of them are valuable
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا : حمید بن عبدالرحمان رؤاسی نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چور کا ہاتھ ڈھال سے کم مالیت میں نہیں کاٹا گیا ، وہ چمڑے کی ڈھال ہو یا لوہے کی ، یہ دونوں اچھی خاصی قیمت والی تھیں ۔ ( معمولی چیز میں نہیں کاٹا)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمْ تُقْطَعْ يَدُ سَارِقٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَقَلَّ مِنْ ثَمَنِ الْمِجَنِّ حَجَفَةٍ أَوْ تُرْسٍ وَكِلاَهُمَا ذُو ثَمَنٍ .
#4405
This hadith has been narrated on the authority of Hisham through another chain of transmitters, and in the hadith narrated by 'Abd al-Rahim and Abu Usama (the words are):" That (the shield) was valuable those days
عبدہ بن سلیمان ، حمید بن عبدالرحمٰن ، عبدالرحیم بن سلیمان اور ابواسامہ سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ابن نمیر کی حمید سے بیان کردہ روایت کی طرح حدیث بیان کی ۔ اور عبدالرحیم اور ابواسامہ کی حدیث میں ہے : ان دنوں وہ ( ڈھال ) قیمتی چیز تھی
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، الرُّؤَاسِيِّ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحِيمِ وَأَبِي أُسَامَةَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ ذُو ثَمَنٍ .
#4406
Ibn 'Umar reported that Allah's Messenger (may peace upon him) cut off the hand of a thief (in case of the theft) of a shield the price of which was three dirhams
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چور کا ہاتھ ایک ڈھال ( کی چوری ) میں کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَطَعَ سَارِقًا فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلاَثَةُ دَرَاهِمَ .
#4407
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Umar through some other chains of transmitters but with a slight variation of words
لیث بن سعد ، عبیداللہ ( بن عمر بن حفص العمری ) ، ایوب سختیانی ، ایوب بن موسیٰ ، اسماعیل بن امیہ ، موسیٰ بن عقبہ ، حنظلہ بن ابی سفیان جمحی ، عبیداللہ بن عمر ( عمری ) مالک بن انس اور اسامہ بن زید لیثی تک ان کے شاگردوں کی مختلف سندیں ہیں ۔ ان کے بعد ان سب نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ، امام مالک سے یحییٰ کی حدیث کے مانند روایت کی ، البتہ ان میں سے بعض نے اس کی قیمت کہا اور بعض نے تین درہم کا ثمن ( معنی وہی ہے)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ الْمُثَنَّى قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَهُوَ الْقَطَّانُ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، وَأَيُّوبَ، بْنِ مُوسَى وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ح. وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيِّ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَأُسَامَةَ، بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ غَيْرَ أَنَّ بَعْضَهُمْ قَالَ قِيمَتُهُ وَبَعْضُهُمْ قَالَ ثَمَنُهُ ثَلاَثَةُ دَرَاهِمَ .
#4408
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Let there be the curse of Allah upon the thief who steals an egg and his hand is cut off, and steals a rope and his hand is cut off
ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ چور پر لعنت کرے ، وہ انڈہ چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کٹتا ہے اور رسی چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کٹتا ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ " .
#4409
This hadith is narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters with a slight variation of words
عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ وہ کہتے ہیں : " وہ خواہ رسی چرائے ، خواہ انڈہ چرائے
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، كُلُّهُمْ عَنْ عِيسَى، بْنِ يُونُسَ عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ " إِنْ سَرَقَ حَبْلاً وَإِنْ سَرَقَ بَيْضَةً " .
#4410
A'isha reported that the Quraish had been anxious about the Makhzumi woman who had committed theft, and said:Who will speak to Allah's Messenger (ﷺ) about her? They said: Who dare it, but Usama, the loved one of Allah's Messenger (ﷺ)? So Usama spoke to him. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Do you intercede regarding one of the punishments prescribed by Allah? He then stood up and addressed (people) saying: O people, those who have gone before you were destroyed, because if any one of high rank committed theft amongst them, they spared him; and it anyone of low rank committed theft, they inflicted the prescribed punishment upon him. By Allah, if Fatima, daughter of Muhammad, were to steal, I would have her hand cut off. In the hadith transmitted on the authority of Ibn Rumh (the words are):" Verily those before you perished
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا : ہمیں لیث نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ قریش کو ایک مخزومی عورت ، جس نے چوری کی تھی ، کے معاملے نے فکر مند کر دیا ، انہوں نے کہا : اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون بات کرے گا؟ کہنے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ ہی اس کی جراءت کر سکتے ہیں؟ چنانچہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے گفتگو کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا تم حدود اللہ میں سے ایک حد ( کو ساقط کرنے ) کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟ "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ، خطبہ دیا اور فرمایا : "" اے لوگو! تم سے پہلے لوگوں کو اسی چیز نے تباہ کر ڈالا کہ جب ان کا کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان میں سے کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے ۔ اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا ۔ "" ابن رمح کی حدیث میں : "" تم سے پہلے لوگ تباہ ہو گئے "" کے الفاظ ہیں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنَ عَائِشَةَ، أَنَّ قُرَيْشًا، أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلاَّ أُسَامَةُ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ " . ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ فَقَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا " . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ رُمْحٍ " إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ " .
#4411
A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), reported that the Quraish were concerned about the woman who had committed theft during the lifetime of Allah's Apostle (ﷺ), in the expedition of Victory (of Mecca). They said:Who would speak to Allah's Messenger (ﷺ) about her? They (again) said: Who can dare do this but Usama b. Zaid, the loved one of Allah's Messenger (ﷺ)? She was brought to Allah's Messenger (ﷺ) and Usama b. Zaid spoke about her to him (interceded on her behalf). The color of the face of Allah's Messenger (ﷺ) changed, and he said: Do you intercede in one of the prescribed punishments of Allah? He (Usama) said: 'Messenger of Allah, seek forgiveness for me.' When it was dusk. Allah's Messenger (ﷺ) stood up and gave an address. He (first) glorified Allah as He deserves, and then said: Now to our topic. This (injustice) destroyed those before you that when any one of (high) rank committed theft among them, they spared him, and when any weak one among them committed theft, they inflicted the prescribed punishment upon him. By Him in Whose Hand is my life, even if Fatima daughter of Muhammad were to commit theft, I would have cut off her hand. He (the Holy Prophet) then commanded about that woman who had committed theft, and her hand was cut off. `A'isha (further) said: Hers was a good repentance, and she later on married and used to come to me after that, and I conveyed her needs (and problems) to Allah's Messenger (ﷺ)
یونس بن یزید نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ قریش کو اس عورت کے معاملے نے فکر مند کیا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ، غزوہ فتح مکہ ( کے دنوں ) میں چوری کی تھی ۔ انہوں نے کہا : اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون بات کرے گا؟ ( کچھ ) لوگوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ہی اس کی جراءت کر سکتے ہیں ۔ وہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی گئی تو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں بات کی ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور فرمایا : "" کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟ "" تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ کے رسول! میرے لئے مغفرت طلب کیجیے ۔ جب شام کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ، خطبہ دیا ، اللہ کے شایانِ شان اس کی ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : "" امام بعد! تم سے پہلے لوگوں کو اسی چیز نے ہلاک کر ڈالا کہ جب ان میں سے کوئی معزز انسان چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کر دیتے اور میں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو اس کا ( بھی ) ہاتھ کاٹ دیتا ۔ "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا جس نے چوری کی تھی تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔ یونس نے کہا : ابن شہاب نے کہا : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اس کے بعد اس کی توبہ ( اللہ کی طرف توجہ بہت ) اچھی ( ہو گئی ) اور اس نے شادی کر لی اور اس کے بعد وہ میرے پاس آتی تھی تو میں اس کی ضرورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرتی تھی ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ - قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ، وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ فَقَالُوا مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلاَّ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَلَّمَهُ فِيهَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ " . فَقَالَ لَهُ أُسَامَةُ اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَلَمَّا كَانَ الْعَشِيُّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاخْتَطَبَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَإِنِّي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا " . ثُمَّ أَمَرَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقُطِعَتْ يَدُهَا . قَالَ يُونُسُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا بَعْدُ وَتَزَوَّجَتْ وَكَانَتْ تَأْتِينِي بَعْدَ ذَلِكَ فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#4412
A'isha reported that a woman from the tribe of Makhzum used to borrow things (from people) and then denied (having taken them). Allah's Apostle (ﷺ) commanded her hand to be cut off. Her relatives came to Usama b. Zaid and spoke to him (requesting him to intercede on her behalf). He spoke to Allah's Messenger (ﷺ) about her. The rest of the hadith is the same
معمر نے زہری سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بنو مخزوم کی ایک عورت عاریتا سامان لیتی تھی اور پھر اس کا انکار کر دیا کرتی تھی ، ( پھر اس نے چوری کر ڈالی ) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ۔ اس پر اس کے گھر والے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے بات کی تو انہوں نے اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی ، پھر لیث اور یونس کی حدیث کی طرح بیان کیا
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَتِ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُقْطَعَ يَدُهَا فَأَتَى أَهْلُهَا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَكَلَّمُوهُ فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَيُونُسَ .
#4413
Jaibir reported that a woman from the tribe of Makhzum committed theft. She was brought to Allah's Apostle (ﷺ) and she sought refuge (intercession) from Umm Salama, the wife of Allah's Apostle (ﷺ). Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said:By Allah, even if she were Fatima, I would have her hand cut off. And thus her hand was cut off
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی ، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی پناہ لی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر فاطمہ ( بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ) ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا ۔ " چنانچہ اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَعَاذَتْ بِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَاللَّهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعْتُ يَدَهَا " . فَقُطِعَتْ .
#4414
Ubada b. as-Samit reported:Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Receive (teaching) from me, receive (teaching) from me. Allah has ordained a way for those (women). When an unmarried male commits adultery with an unmarried female (they should receive) one hundred lashes and banishment for one year. And in case of married male committing adultery with a married female, they shall receive one hundred lashes and be stoned to death
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا : ہشیم نے ہمیں منصور سے خبر دی ، انہوں نے حسن سے ، انہوں نے حطان بن عبداللہ رقاشی سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھ سے سیکھ لو ، مجھ سے سیکھ لو ، مجھ سے سیکھ لو ( جس طرح اللہ نے فرمایا تھا : " یا اللہ ان کے لیے کوئی راہ نکالے ۔ " ( النساء : 15 : 4 ) اللہ نے ان کے لیے راہ نکالی ہے ، کنوارا ، کنواری سے ( زنا کرے ) تو ( ہر ایک کے لیے ) سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور شادی شدہ سے زنا کرے تو ( ہر ایک کے لیے ) سو کوڑے اور رجم ہے
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حِطَّانَ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خُذُوا عَنِّي خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلاً الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْىُ سَنَةٍ وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ " .
#4415
The above hadith is likewise narrated through another chain of transmitters
عمرو الناقد نے کہا : ہمیں ہشیم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں منصور نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#4416
Ubada b. as-Samit reported that whenever Allah's Apostle (ﷺ) received revelation, he felt its rigour and the complexion of his face changed. One day revelation descended upon him, he felt the same rigour. When it was over and he felt relief, he said:Take from me. Verily Allah has ordained a way for them (the women who commit fornication),: (When) a married man (commits adultery) with a married woman, and an unmarried male with an unmarried woman, then in case of married (persons) there is (a punishment) of one hundred lashes and then stoning (to death). And in case of unmarried persons, (the punishment) is one hundred lashes and exile for one year
سعید نے قتادہ سے ، انہوں نے حسن سے ، انہوں نے حِطان بن عبداللہ رقاشی سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل کی جاتی تو آپ پر اس کی وجہ سے تکلیف ( کی کیفیت ) طاری ہو جاتی تھی اور آپ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو جاتا تھا ، کہا : ایک دن آپ پر وحی نازل کی گئی تو آپ اسی کیفیت سے دوچار ہوئے ، جب آپ سے یہ کیفیت دور ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھ سے سیکھ لو ، اللہ نے ان ( عورتوں ) کے لیے راہ نکال دی ہے ، شادی شدہ ، شادی شدہ سے ( زنا کرے ) اور کنوارا ، کنواری سے ( یا کنوارا شادی شدہ سے تو ) شادی شدہ کے لیے ( سزا ) سو کوڑے ، پھر پتھروں سے رجم کرنا ہے اور کنوارے کے لیے سو کوڑے پھر ایک سال کی جلا وطنی ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ كُرِبَ لِذَلِكَ وَتَرَبَّدَ لَهُ وَجْهُهُ - قَالَ - فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَلُقِيَ كَذَلِكَ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ " خُذُوا عَنِّي فَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلاً الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ الثَّيِّبُ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ رَجْمٌ بِالْحِجَارَةِ وَالْبِكْرُ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ نَفْىُ سَنَةٍ " .
#4417
This hadith has been reported on the authority of Qatada with the same chain of transmitters except with this variation that the unmarried is to be lashed and exiled, and the married one is to be lashed and stoned. There is neither any mention of one year nor that of one hundred
شعبہ اور ہشام نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، البتہ ان دونوں کی حدیث میں ہے : " کنوارے کو کوڑے لگائے جائیں گے اور جلا وطن کیا جائے گا اور شادی شدہ کو کوڑے لگائے جائیں گے اور رجم کیا جائے گا ۔ " ان دونوں نے ( جلا وطنی کے لیے ) ایک سال اور ( کوڑوں کے لیے ) ایک سو کا تذکرہ نہیں کیا
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي كِلاَهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِهِمَا " الْبِكْرُ يُجْلَدُ وَيُنْفَى وَالثَّيِّبُ يُجْلَدُ وَيُرْجَمُ " . لاَ يَذْكُرَانِ سَنَةً وَلاَ مِائَةً
#4418
Abdullah b. 'Abbas reported that 'Umar b. Khattab sat on the pulpit of Allah's Messenger (ﷺ) and said:Verily Allah sent Muhammad (ﷺ) with truth and He sent down the Book upon him, and the verse of stoning was included in what was sent down to him. We recited it, retained it in our memory and understood it. Allah's Messenger (ﷺ) awarded the punishment of stoning to death (to the married adulterer and adulteress) and, after him, we also awarded the punishment of stoning, I am afraid that with the lapse of time, the people (may forget it) and may say: We do not find the punishment of stoning in the Book of Allah, and thus go astray by abandoning this duty prescribed by Allah. Stoning is a duty laid down in Allah's Book for married men and women who commit adultery when proof is established, or it there is pregnancy, or a confession
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا ، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر تشریف فرما تھے : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی ، اللہ نے آپ پر جو نازل کیا اس میں رجم کی آیت بھی تھی ، ہم نے اسے پڑھا ، یاد کیا اور سمجھا ، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رجم کی سزا دی اور آپ نے بعد ہم نے بھی رجم کی سزا دی ، مجھے ڈر ہے کہ لوگوں پر ایک لمبا زمانہ گزر جائے گا تو کوئی کہنے والا کہے گا : ہم اللہ کی کتاب میں رجم ( کا حکم ) نہیں پاتے ، تو وہ لوگ ایسے فرض کو چھوڑنے سے گمراہ ہو جائیں گے جسے اللہ نے نازل کیا ہے اور بلاشبہ اللہ کی کتاب میں رجم ( کا حکم ) عورتوں اور مردوں میں سے ہر ایک پرجس نے زنا کیا ، جب وہ شادی شدہ ہو ، برحق ہے ۔ ( یہ سزا اس وقت دی جائے گی ، ) جب شہادت قائم ہو جائے یا حمل ٹھہر جائے یا ( زانی کی طرف سے ) اعتراف ہو
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ جَالِسٌ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَكَانَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ قَرَأْنَاهَا وَوَعَيْنَاهَا وَعَقَلْنَاهَا فَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ فَأَخْشَى إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ مَا نَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ وَإِنَّ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أَحْصَنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ الْحَبَلُ أَوْ الاِعْتِرَافُ .
#4419
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters
سفیان نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
#4420
Abu Huraira reported that a person from amongst the Muslims came to Allah's Messenger (ﷺ) while he was in the mosque. He called him saying:Allah's Messenger. I have committed adultery. He (the Holy Prophet) turned away from him, He (again) came round facing him and said to him: Allah's Messenger, I have committed adultery. He (the Holy Prophet) turned away until he did that four times, and as he testified four times against his own self, Allah's Messenger (ﷺ) called him and said: Are you mad? He said: No. He (again) said: Are you married? He said: Yes. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Take him and stone him
عقیل ( بن خالد اموی ) نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان بن عوف اور سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : مسلمانوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ مسجد میں تشریف فرما تھے ، اس نے آپ کو آواز دی اور کہا : اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا ، وہ گھوم کر ایک طرف سے آپ کے سامنے آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے ۔ آپ نے ( پھر ) اس سے منہ پھر لیا حتی کہ اس نے آپ کے سامنے یہی کلمات چار مرتبہ دہرائے ۔ جب اس نے اپنے خلاف چار گواہیاں دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور پوچھا : "" کیا تمہیں جنون ہے؟ "" اس نے کہا : نہیں ۔ آپ نے پوچھا : "" کیا تم نے شادی کی ہے؟ "" اس نے کہا : جی ہاں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اسے لے جاؤ اور رجم کرو ۔ "" ابن شہاب نے کہا : مجھے اس آدمی نے بتایا جس نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی تھی ، وہ کہہ رہے تھے : میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اسے رجم کیا ، ہم نے اسے جنازہ گاہ میں رجم کیا تھا ، جب پتھروں نے اس کی برداشت ختم کر دی تو وہ بھاگ نکلا ، ہم نے اسے سیاہ پتھروں والی زمین میں جا لیا اور رجم کر دیا
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ أَتَى رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّى تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى ثَنَى ذَلِكَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَبِكَ جُنُونٌ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَهَلْ أَحْصَنْتَ " . قَالَ نَعَمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ " .
#4421
Ibn Shihab (one of the narrators) said:One who had heard Jabir b. 'Abdullah saying this informed me thus: I was one of those who stoned him. We stoned him at the place of prayer (either that of 'Id or a funeral). When the stones hurt him, he ran away. We caught him in the Harra and stoned him (to death)
عبدالرحمان بن خالد بن مسافر نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي مَنْ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ فَكُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ هَرَبَ فَأَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ فَرَجَمْنَاهُ .
#4422
This hadith has been narrated through another chain of transmitters
شعیب نے بھی شہری سے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور ان دونوں ( عبدالرحمان بن خالد بن مسافر اور شعیب ) کی حدیث میں ہے : ابن شہاب نے کہا : مجھے اس شخص نے بتایا جس نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ اسی طرح جیسے عقیل نے حدیث بیان کی
وَرَوَاهُ اللَّيْثُ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ . وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَيْضًا وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ كَمَا ذَكَرَ عُقَيْلٌ .
#4423
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira through other chains of transmitters
یونس ، معمر اور ابن جریج سب نے زہری سے ، انہوں نے ابوسلمہ سے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی جس طرح عقیل نے زہری سے ، انہوں نے سعید ( بن مسیب ) اور ابوسلمہ ( بن عبدالرحمان بن عوف ) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَابْنُ، جُرَيْجٍ كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . نَحْوَ رِوَايَةِ عُقَيْلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
#4424
Jabir b. Samura reported:As he was being brought to Allah's Apostle (ﷺ) I saw Ma'iz b. Malik-a short-statured person with strong sinews, having no cloak around him. He bore witness against his own self four times that he had committed adultery, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Perhaps (you kissed her or embraced her). He said: No. by God, one deviating (from the path of virtue) has committed adultery. He then got him stoned (to death), and then delivered the address: Behold, as we set out for Jihad in the cause of Allah, one of you lagged behind and shrieked like the bleating of a male goat, and gave a small quantity of milk. By Allah, in case I get hold of him, I shall certainly punish him
ابو عوانہ نے سماک بن حرب سے ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے ماعز بن مالک کو ، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیے گئے ، دیکھا ، وہ چھوٹے قد کے مضبوط پٹھوں والے آدمی تھے ، ان پر کوئی چادر نہیں تھی ۔ انہوں نے اپنے خلاف چار مرتبہ گواہی دی کہ انہوں نے زنا کیا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شاید تم نے ( کچھ اور مثلا : بوس و کنار کیا ہو گا؟ ) " انہوں نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم! اِس بدبخت نے زنا ( ہی ) کیا ہے ۔ کہا : آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا ، پھر خطبہ دیا اور فرمایا : " سنو ، جب ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو ان لوگوں میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے ، وہ نسل کشی کے بکرے کی طرح جوش سے آوازیں نکالتا ہے اور ( عورتوں کو آمادہ کرنے کے لیے ) معمولی چیز پیش کرتا ہے ۔ سنو! اللہ کی قسم! اگر اُس نے مجھے ان میں سے کسی ایک کو ( ثبوت سمیت ) میرے قابو میں دیا تو میں اس کو عبرتناک سزا دوں گا
وَحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ، حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ رَأَيْتُ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ حِينَ جِيءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ قَصِيرٌ أَعْضَلُ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ أَنَّهُ زَنَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَلَعَلَّكَ " . قَالَ لاَ وَاللَّهِ إِنَّهُ قَدْ زَنَى الأَخِرُ - قَالَ - فَرَجَمَهُ ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ " أَلاَ كُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَلَفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ أَحَدُهُمُ الْكُثْبَةَ أَمَا وَاللَّهِ إِنْ يُمْكِنِّي مِنْ أَحَدِهِمْ لأُنَكِّلَنَّهُ عَنْهُ " .