#250
Abu Dharr reported:I said: Messenger of Allah, which of the deeds is the best? He (the Holy Prophet) replied: Belief in Allah and Jihad in His cause. I again asked: Who is the slave whose emancipation is the best? He (the Holy Prophet) replied: One who is valuable for his master and whose price is high. I said: If I can't afford to do it? He (the Holy Prophet) replied: Help an artisan or make anything for the unskilled (labourer). I (Abu Dharr) said: Messenger of Allah, you see that I am helpless in doing some of these deeds. He (the Holy Prophet) replied: Desist from doing mischief to the people. That is the charity of your person on your behalf
ہشام بن عروہ نے اپنے والد ( عروہ ) سے ، انہوں نے ابو مراوح لیثی سے اور انہون نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا ، میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! کو ن سا عمل افضل ہے ؟ آپﷺ : ’’ اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا ۔ ‘ ‘ کہا : میں ( پھر ) پوچھا : کون سی گردن ( آزادکرنا ) افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ جو اس کے مالکوں کی نظر میں زیادہ نفیس اور زیادہ قیمتی ہو ۔ ‘ ‘ کہا : میں نے پوچھا : اگر میں یہ کام نہ کر سکوں تو ؟ آپ نے فرمایا : ’’ کسی کاریگر کی مدد کرو یا کسی اناڑی کا کام ( خود ) کر دو ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! آپ غور فرمائیں اگر میں ایسے کسی کام کی طاقت نہ رکھتا ہوں تو؟ آپ نے فرمایا : ’’ لوگوں سے اپنا شر روک لو ( انہیں تکلیف نہ پہنچاؤ ) یہ تمہاری طرف سے خود تمہارے لیے صدقہ ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ح وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ " الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ " . قَالَ قُلْتُ أَىُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ قَالَ " أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا " . قَالَ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ قَالَ " تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ " . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ قَالَ " تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ " .
#251
Muhammad b. Abu Rafi' narrated the hadith on the authority of Abu Dharr with a slight difference
(ہشام کے بجائے ) عروہ بن زبیر کے آزاد کردہ غلام حبیب نے سابقہ سند سے یہی روایت بیان کی ، فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے ( تعین صانعاکسی کاریگر کے بجائے ( فتعین الصانع ( الف لام کےساتھ ) کہا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَبِيبٍ، مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " فَتُعِينُ الصَّانِعَ أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ " .
#252
It is narrated on the authority of 'Abdullah b. Mas'ud that he observed. I asked the Messenger of Allah (ﷺ) which deed was the best. He (the Holy Prophet) replied:Prayer at its appointed hour. I (again) said: Then what? He (the Holy Prophet) replied: Kindness to the parents. I (again) said: Then what? He replied: Earnest endeavour (Jihad) in the cause of Allah. And I would have not ceased asking more questions but out of regard (for his feelings)
(ابو اسحاق سلیمان بن فیروز کوفی ) شیبانی نے ولید بن عیزار سے ، انہوں نے سعد بن ایاس ابو عمرو شیبانی سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ سے پوچھا : کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا ۔ ‘ ‘ میں پوچھا : اس کے بعد کون ؟ فرمایا : ’’ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : ’’ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔ ‘ ‘ میں نے مزید پوچھنا صرف اس لیے چھوڑ دیا کہ آپ پر گراں نہ گزرے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ " الصَّلاَةُ لِوَقْتِهَا " . قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ " بِرُّ الْوَالِدَيْنِ " . قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . فَمَا تَرَكْتُ أَسْتَزِيدُهُ إِلاَّ إِرْعَاءً عَلَيْهِ .
#253
Abdullah b. Mas'ud reported:I said: Messenger of Allah, which of the deeds (takes one) nearer to Paradise? He (the Holy Prophet) replied: Prayer at its proper time, I said: What next, Messenger of Allah? He replied: Kindness to the parents. I said: What next? He replied: Jihad in the cause of Allah
ابو یعفور ( عبد الرحمان بن عبید بن نسطانس ) نے ولید بن عیزار کے حوالے سے ابو عمرو شیبانی سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کے نبی !کون سا عمل جنت سے زیادہ قریب ( کردیتا ) ہے ؟ فرمایا : ’’نمازیں اپنے اپنے اوقات پر پڑھنا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : اے اللہ کے نبی ! اور کیا ؟ فرمایا : ’’ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : اے اللہ کے نبی ! اور کیا ؟ فرمایا : ’’ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَىُّ الأَعْمَالِ أَقْرَبُ إِلَى الْجَنَّةِ قَالَ " الصَّلاَةُ عَلَى مَوَاقِيتِهَا " . قُلْتُ وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ " بِرُّ الْوَالِدَيْنِ " . قُلْتُ وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
#254
It was heard from Abu 'Amr Shaibani that, pointing towards the house of Abdullah, he said:The owner of this house told me that he asked the Messenger of Allah (ﷺ): Which of the deeds are liked by Allah? He (the Holy Prophet) observed: Prayer at its proper time. I (again) said: What next? He replied: Then goodness to the parents. I (again) said: What then? He replied: Then Jihad in the cause of Allah. He ('Abdullah) said: This is what I was told (by the Holy Prophet). Had I questioned further, he would have made additions for me
عبید اللہ کے والد معاذ بن معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے ولید بن عیزار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابو عمرو شیبانی کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے اس گھر کے مالک نے حدیث سنائی ( اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا ) انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : اللہ کو کون سا عمل زیادہ پسند ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : ’’ پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : پھر کون سا؟فرمایا : ’’ پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔ ‘ ‘ ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ نے مجھے یہ باتیں بتائیں اور اگر میں مزید سوال کرتا تو آ پ مجھے مزید بتاتے ۔)
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، قَالَ حَدَّثَنِي صَاحِبُ، هَذِهِ الدَّارِ - وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ - قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ " الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا " . قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ " ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ " . قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ " ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " قَالَ حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي .
#255
This hadith has been transmitted by Muhammad b. Bashshar, Muhammad b. Ja'far Shu'ba with this chain of narrators, with the addition that he pointed towards the house of 'Abdullah, but he did not mention his name for us
شعبہ سے ان کے ایک شاگر د محمد بن جعفر نے اسی سند سے یہی روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا : ابو عمرو شیبانی نے عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا لیکن ہمارے سامنے ان کانام نہ لیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ . وَزَادَ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ وَمَا سَمَّاهُ لَنَا .
#256
It is reported on the authority of 'Abdullah that the Messenger of Allah observed:The best of' the deeds or deed is the (observance of) prayer at its proper time and kindness to the parents
ابو عمرو شیبانی سے ان کے ایک شاگرد حسن بن عبید اللہ نے یہی روایت بیان کی کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرمﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’سب سے افضل اعمال ( یاعمل ) وقت پر نماز پڑھنا اور والدین سے حسن سلوک کرنا ہیں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَفْضَلُ الأَعْمَالِ - أَوِ الْعَمَلِ - الصَّلاَةُ لِوَقْتِهَا وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ " .
#257
Abdullah reported:I asked the Messenger of Allah (ﷺ): Which sin is the gravest in the eye of Allah? He (the Holy Prophet) replied: That you associate a partner with Allah (despite the fact) that He has created you. He (the reporter) said: I told him (the, Holy Prophet): Verily it is indeed grave. He (the reporter) said: I asked him what the next (gravest sin) was. He (the Holy Prophet) replied: That you kill your child out of fear that he shall join you in food. He (the reporter) said: I asked (him) what the next (gravest sin) was. He (the Holy Prophet) observed: Then (the next gravest sin) is that you commit adultery with the wife of your neighbour
منصور نے ابو وائل سے ، انہوں نے عمروبن شرحبیل سےاور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : ’’اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بناؤ جبکہ تمہیں اسی ( اللہ ) نے پیدا کیا ہے ۔ ‘ ‘ میں نے عرض کی : واقعی یہ بہت بڑا ( گناہ ) ہے ، کہا : میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : ’’یہ کہ تم اس ڈر سے اپنے بچے کو قتل کرو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا ۔ ‘ ‘ کہا : میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : ’’ پھر یہ کہ اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَقَالَ، عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ " . قَالَ قُلْتُ لَهُ إِنَّ ذَلِكَ لَعَظِيمٌ . قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ " ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ " . قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ " ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ " .
#258
It is narrated on the authority of Abdullah b. Mas'ud that a man said:Messenger of Allah, which offence is the most grievous in the eye of Allah? He (the Holy Prophet) replied: That you associate a partner with Allah (despite the fact) that He created you. He (the man) said: What next? He (the Holy Prophet) replied: That you kill your child out of fear that he would join you in food. He (the inquirer) said (again): What next? He (the Holy Prophet) replied: That you commit adultery with the wife of your neighbour. And the Almighty and Exalted Lord testified it (with this verse): All those who call not unto another god along with Allah, and slay not any soul which Allah has forbidden, except in the cause of justice, nor commit fornication, and he who does this shall meet a requital of sin (xxv)
(منصور کے بجائے ) اعمش نے ابو وائل سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک آدمی نے پوچھا : اے اللہ کے رسول !اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ یہ کہ م اللہ کے ساتھ کوئی شریک ( بنا کر ) پکارو ، حالانکہ اسی ( اللہ ) نے تمہیں پیدا کیا ہے ۔ ‘ ‘ اس نے پوچھا : پھر کون سا؟فرمایا : ’’ یہ کہ تم اپنے بچے کو اس ڈر سے قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا ۔ ‘ ‘ اس نے پوچھا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا : ’’ یہ کہ تم اپنی پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو ۔ ‘ ‘ اللہ تعالیٰ نے اس ( بات ) کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی : ’’ جو لوگ اللہ کےساتھ کسی اور کو معبود ( بنا کر ) نہیں پکارتے اور کسی جان کو جسے ( قتل کرنا ) اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے ، حق کے بغیر قتل نیہں کرتے اور جو زنا نہیں کرتے ( وہی رحمٰن کے مومن بندےہیں ۔ ) اور جو ان ( کاموں ) کا ارتکاب کرے گا ، وہ سخت گنا ہ ( کی سزا ) سے دو چار ہو گا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ " أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ " . قَالَ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ " أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ " . قَالَ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ " أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَهَا { وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا}
#259
It is narrated on the authority of 'Abdur-Rahman b. Abu Bakra that his father said:We were in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) that he observed: Should I not inform you about the most grievous of the grave sins? (The Holy Prophet) repeated it three times, and then said: Associating anyone with Allah, disobedience to parents, false testimony or false utterance. The Prophet was reclining, then he sat up, and he repeated it so many times that we wished that he should become silent
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ نے فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہوں کی خبر نہ دوں ؟ ( آپ نے یہ تین بار کہا ) پھر فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا ( یافرمایا : جھوٹ بولنا ) ‘ ‘ رسول اللہﷺ ( پہلے ) ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ، پھر آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور اس بات کو دہراتے رہے حتی کہ ہم نے ( دل میں ) کہا : کاش! آپ مزید نہ دہرائیں ۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ - ثَلاَثًا - الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ " . وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَمَازَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ .
#260
Anas narrated from the Apostle (ﷺ) about the major sins. He (the Holy Prophet) observed:Associating anyone with Allah, disobedience to parents, killing a person and false utterance
خالد بن حارث نے کہا : ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نےکہا : ہمیں عبید اللہ بن ابی بکر نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نےنبی ﷺ سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں خبر دی ، آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، کسی جان کو ( ناحق ) قتل کرنا اور جھوٹ بولنا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْكَبَائِرِ قَالَ " الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَقَوْلُ الزُّورِ " .
#261
Ubaidullah b. Abu Bakr said:I heard Anas b. Malik saying: The Messenger of Allah (ﷺ) talked about the major sins, or he was asked about the major sins. Upon this he observed: Associating anyone with Allah, killing of a person, disobedience to parents. He (the Prophet further) said: Should I not inform you about the gravest of the major sins, and (in this connection) observed: False utterance or false testimony. Shu'ba said. It was most probably" false testimony
محمد بن جعفر نے کہا : ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھ سے عبید اللہ بن ابی بکر نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے بڑے گناہوں کا تذکرہ فرمایا ( یاآپ سے بڑے گناہوں کے بارے میں سوال کیا گیا ) تو آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، کسی کو ناحق قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا ۔ ‘ ‘ ( پھر ) آپ نے فرمایا : ’’ کیا تمہیں کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں ؟ ‘ ‘ فرمایا : ’’جھوٹ بولنا ( یا فرمایا : جھوٹی گواہی دینا ) ‘ ‘ شعبہ کاقول ہے : میرا ظن غالب یہ ہے کہ وہ ’’ جھوٹی گواہی ‘ ‘ ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْكَبَائِرَ - أَوْ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ - فَقَالَ " الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ " . وَقَالَ " أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ " . قَالَ " قَوْلُ الزُّورِ " . أَوْ قَالَ " شَهَادَةُ الزُّورِ " . قَالَ شُعْبَةُ وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ شَهَادَةُ الزُّورِ .
#262
It is reported on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:Avoid the seven noxious things. It was said (by the hearers): What are they, Messenger of Allah? He (the Holy Prophet) replied: Associating anything with Allah, magic, killing of one whom God has declared inviolate without a just cause, consuming the property of an orphan, and consuming of usury, turning back when the army advances, and slandering chaste women who are believers, but unwary
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ سات تباہ کن گناہوں سے بچو ۔ ‘ ‘ پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں ؟ فرمایا : ’’ اللہ کے ساتھ شرک ، جادو ، جس جان کا قتل اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے اسے ناحق قتل کرنا ، یتیم کا مال کھانا ، سود کھانا ، لڑائی کے دن دشمن کو پشت دکھانا ( بھاگ جانا ) اور پاک دامن ، بے خبر مومن عورتوں پر الزام تراشی کرنا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ " . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ قَالَ " الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ وَأَكْلُ الرِّبَا وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلاَتِ الْمُؤْمِنَاتِ " .
#263
It is narrated on the authority of 'Abdullah b. Amr b. al-'As that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:Abusing one's parents is one of the major sins. They (the hearers) said: Messenger of Allah, does a man abuse his parents too? He (the Holy Prophet) replied: Yes, one abuses the father of another man, who in turn abuses his father. One abuses his mother and he in turn abuses his (the former's) mother
(یزید بن عبد اللہ ) ابن ہاد نے سعد بن ابراہیم سے ، انہوں نے حمید بن عبد الرحمان سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ آدمی کا اپنےوالدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے ۔ ‘ ‘ ( صحابہ ) کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو گالی دیتا ہے ؟ فرمایا : ’’ہاں! انسان کسی کے باپ کوگالی دیتا ہے تو وہ ا س کے باپ کو گالی دیتا ہے ۔ جب یہ کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتاہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ " نَعَمْ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ " .
#264
This hadith has also been transmitted on the authority of Sa'd b. Ibrahim with this chain of narrators
شعبہ اور سفیان نے بھی سعد بن ابراہیم سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ہے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#265
It Is narrated on the authority of Abdullah b. Mas'ud that the Messenger of Allah (ﷺ), observed:He who has in his heart the weight of a mustard seed of pride shall not enter Paradise. A person (amongst his hearers) said: Verily a person loves that his dress should be fine, and his shoes should be fine. He (the Holy Prophet) remarked: Verily, Allah is Graceful and He loves Grace. Pride is disdaining the truth (out of self-conceit) and contempt for the people
یحییٰ بن حماد نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابان بن تغلب سے حدیث سنائی ، انہوں نے فضیل بن عمرو فقیمی سے ، انہوں نے ابراہیم نخعی سے ، انہوں نے علقمہ سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریمﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’ جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا ، وہ جنت میں داخل نہ ہو گا ۔ ‘ ‘ ایک آدمی نے کہا : انسان چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کے جوتے اچھے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اللہ خود جمیل ہے ، وہ جمال کو پسند فرماتا ہے ۔ تکبر ، حق کو قبول نہ کرنا اورلوگوں کو حقیر سمجھنا ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ، - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، - أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ فُضَيْلٍ الْفُقَيْمِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ " . قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً . قَالَ " إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ " .
#266
It is narrated on the authority of 'Abdullah b. Mas'ud that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:None shall enter the Fire (of Hell) who has in his heart the weight of a mustard seed of Iman and none shall enter Paradise who has in his heart the weight of a mustard seed of pride
اعمش نے ابراہیم نخعی سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کوئی انسان جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر میں ایمان ہے ، آگ میں داخل نہ ہو گا اور کوئی انسان جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہے ، جنت میں داخل نہ ہو گا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، - قَالَ مِنْجَابٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ وَلاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرِيَاءَ " .
#267
It is narrated on the authority of 'Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:He who has in his heart the weight of a mustard seed of pride shall not enter Paradise
(یحییٰ کے بجائے ) شعبہ کے ایک اور شاگرد ابو داؤد نے سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ایسا شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ " .
#268
It is narrated on the authority of Abdullah b. Mas'ud that Waki told (him) that the Messenger of Allah had observed and Ibn Numair asserted:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: He who dies associating anything with Allah would enter the Fire (of Hell). 'Abdullah b. Mas'ud said: I say that he who died without associating anything with Allah entered Paradise
عبد اللہ بن نمیر اور وکیع نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( وکیع نے کہا : عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نےکہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اور عبد اللہ بن نمیر نے کہا : عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ) آپ فرما رہے تھے : ’’جو شخص اس حالت میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتا تھا ، وہ آگ میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘ اور میں ( عبد اللہ ) نے کہا : جو اس حالت میں مرا کہ وہ اللہ کے شرک نہ کرتا تھا ، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ وَكِيعٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ " . وَقُلْتُ أَنَا وَمَنْ مَاتَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ .
#269
It is narrated on the authority of Jabir that a man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said:Messenger of Allah, what are the two things quite unavoidable? He replied: He who dies without associating anyone with Allah would (necessarily) enter Paradise and he who dies associating anything with Allah would enter the (Fire of) Hell
ابو سفیان نےحضرت جاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا : اے اللہ کے رسول ! واجب کرنے والی دو باتیں کون سی ہیں ؟ آپ نے جواب دیا : ’’ جو کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہوا مرا ، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو ٹھہراتے ہوئے مرا ، و ہ دوزخ میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘ یعنی توحید جنت کو واجب کر دیتی ہے اور شرک دوزخ کو ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُوجِبَتَانِ فَقَالَ " مَنْ مَاتَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ " .
#270
It is narrated on the authority of Jabir b. Abdullah:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: He who met Allah without associating anything with Allah entered Paradise and he who met Him associating (anything) with Him entered Fire
ابو ایوب غیلانی سلیمان بن عبید اللہ او رحجاج بن شاعر نے کہا : ہمیں عبد الملک بن عمرو نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں قرہ نے ابو زبیر کے واسطے سے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ جو کوئی اس حالت میں اللہ سے ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا ، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ سے اس حالت میں ملا کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتا تھا ، وہ آگ میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘ ابو ایوب کی حدیث کے الفاظ میں : ابوزبیر نے ( حدثنا جابر’’ جابر نے ہمیں حدیث سنائی ‘ ‘ کے بجائے ) عن جابر ’’جابرسے روایت ہے ‘ ‘ کے الفاظ سے حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلاَنِيُّ، سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَقِيَهُ يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ النَّارِ " . قَالَ أَبُو أَيُّوبَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ .
#271
The same hadith has been narrated by Ishaq b. Mansur on the authority of Jabir with another chain of transmitters
(قرہ کے بجائے ) ہشام نے ابوزبیر کے واسطے سے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سنائی : بے شک اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ...... ( آگے ) سابقہ روایت کے مانند ہے ۔
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ، - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ بِمِثْلِهِ .
#272
I heard Abu Dharr narrating it from the Apostle (ﷺ) that he observed:Gabriel came to me and gave me the tidings: Verily he who died amongst your Ummah without associating anything with Allah would enter Paradise. I (the narrator) said: Even if he committed adultery and theft. He (the Holy Prophet) said: (Yes), even if he committed adultery and theft
معرور بن سوید نےکہا : میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو نبی ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ میرے پاس جبرئیل آئے اور مجھے خوش خبری دی کہ آپ کی امت کا جو فرد اس حالت میں مرے گا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ، وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ ‘ ‘ میں ( ابو ذر ) نے کہا : چاہے اس نے زنا کیاہو اور چوری کی ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " أَتَانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ " . قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ . قَالَ " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ " .
#273
Abu Dharr reported,:I came to the Apostle (may peace be upon him ) and he was asleep with a white mantle over him. I again came, he was still asleep, I came again and he had awakened. I sat by his side and (the Holy Prophet) observed: There is none among the bondsmen who affirmed his faith in La illaha ill-Allah there is no God but Allah) and died in this state and did not enter Paradise. I (Abu Dharr) said: Even if he committed adultery and theft? He (the Holy Prophet) replied: (Yes) even though he committed adultery and theft. I (again said): Even if he committed adultery and theft? He replied: (Yes) even though he committed adultery and theft. (Th Holy Prophet repeated it three times) and said for the fourth time: In defiance of Abu Dharr. Abu Dharr then went out and he repeated (these words): In defiance of Abu Dharr
ابو اسود دیلی نے بیان کیا کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے اس سے حدیث بیان کی کہ میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ایک سفید کپڑا اوڑھے ہوئے سو رہے تھے ۔ میں پھر حاضر خدمت ہوا تو ( ابھی ) آپ سو رہے تھے ، میں پھر ( تیسری دفعہ ) آیا تو آپ بیدار ہو چکے تھے ۔ میں آپ کے پاس بیٹھ گیا ، آپ نے فرمایا : ’’ کوئی بندہ نہیں جس نے لا إله إلا الله کہا اور پھر اسی پر مرا مگر وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : اگرچہ اس نے زنا کیا ہواور چوری کی ہو ۔ ‘ ‘ آپ نے جواب دیا : ’’اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ۔ ‘ ‘ میں نے پھر کہا : اگرچہ اس نے زنا کیا ہواور چوری کی ہو ؟ آپ نے فرمایا : ’’اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کا ارتکاب کیا ہو ۔ ‘ ‘ آپ نے تین دفعہ یہی جواب دیا ، پھر چوتھی مرتبہ آپ نے فرمایا : ’’چاہے ابو ذر کی ناک خاک آلود ہو ۔ ‘ ‘ ابو اسود نے کہا : ابو ذر ( آپ کی مجلس سے ) نکلے تو کہتے جاتے تھے : چاہے ابو ذر کی ناک خاک آلود ہو ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ نَائِمٌ عَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ " مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ إِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ " . قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ " . ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ " عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ " قَالَ فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ .
#274
It is narrated on the authority of Miqdad b. Aswad that he said. Messenger of Allah, you just see (here is a point):If I encountered a person amongst the infidels (in the battlefield) and he attacked me and struck me and cut off one of my hands with the sword. Then he (in order to protect himself from me) took shelter of a tree and said: I become Muslim for Allah's sake. Messenger of Allah, can I kill him after he had uttered this? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do not kill him. I (the narrator) said: Messenger of Allah, he cut off my hand and uttered this after amputating it; should I then kill him? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Don't kill him, for I you kill him, verily he would be in a position where you had been before killing him and verily you would be in a position where he had been before uttering (kalima)
ليث نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے روایت کی کہ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے عبید اللہ بن عدی بن خیار کو خبر دی کہ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! مجھے بتائیے کہ اگرکافروں میں سے کسی شخص سے میرا سامنا ہو ، وہ مجھے سے جنگ کرے اور میرے ایک ہاتھ تلوار کی ضرب لگائے اور اسے کاٹ ڈالے ، پھر مجھ سے بچاؤ کے لیے کسی درخت کی آڑ لے اور کہے : میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کر لیا تو اے اللہ کے رسول ! کیا یہ کلمہ کہنے کے بعد میں اسے قتل کردوں ؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’اسے قتل نہ کرو ۔ ‘ ‘ انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ ک ےرسول ! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا اور اسے کاٹ ڈالنے کے بعد یہ کلمہ کہے تو کیا میں اسے قتل کر دوں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اسے قتل نہ کرو ۔ اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو وہ تمہارے اس مقام پر ہو گا جس پر تم اسے قتل کرنے سےپہلے تھے اور تم اس جگہ ہو گے جہاں وہ کلمہ کہنے سے پہلے تھا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، - وَاللَّفْظُ مُتَقَارِبٌ - أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلاً مِنَ الْكُفَّارِ فَقَاتَلَنِي فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَىَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا . ثُمَّ لاَذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ فَقَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ . أَفَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقْتُلْهُ " . قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ قَطَعَ يَدِي ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَ أَنْ قَطَعَهَا أَفَأَقْتُلُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقْتُلْهُ فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ " .