#225
It is narrated on the authority of Abdullah b. Umar that the Apostle (may peace and blessings be upon him) observed on the occasion of the Farewell Pilgrimage Woe unto you distress unto you! Don't turn back as unbelievers after me by striking the necks of one another
محمد بن جعفر نے کہا : ہم سے شعبہ نے واقد بن محمد بن زید سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا ، وہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے تھے ، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا : ’’ تم پر افسوس ہوتا ہے ( یا فرمایا : تمہارے لیے تباہی ہو گی ) تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ " وَيْحَكُمْ - أَوْ قَالَ وَيْلَكُمْ - لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
#226
Harmala b. Yahya, Abdullah b. Wahb, Umar b. Muhammad, Ibn Umar narrated like the hadith reported by Shu'ba on the authority of Waqid
عبد اللہ بن وہب نے کہا : ہمیں عمر بن محمد نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے انہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح شعبہ نے واقد سے بیان کی ہے ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ وَاقِدٍ .
#227
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observed:Two (things) are found among men which are tantamount to unbelief: slandering one's lineage and lamentation on the dead
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ لوگوں میں دو باتیں ہیں ، وہ دونوں ان میں کفر ( کی بقیہ عادتیں ) ہیں : ( کسی کے ) نسب پر طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ " .
#228
It is narrated on the authority of Jarir that he heard (the Holy Prophet) saying, The slave who fled from his master committed an act of infidelity as long as he would not return to him. Mansur observed:By God, this hadith was narrated from the Apostle (may peace and blessings be upon him), but I do not like that this should be narrated on my authority here in Basra
منصور بن عبدالرحمٰن نے شعبی سےروایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں جریر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : ’’ جو غلام اپنے مالکوں سے بھاگ گیا ، اس نےکفر کا ارتکاب کیا یہاں تک کہ ان کی طرف لوٹ آئے ۔ ‘ ‘ ( نہ یہ کہ دوبارہ مسلمان ہو ۔ ) منصور نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ حدیث نبی اکرمﷺ سے روایت کی گئی ہے لیکن میں ناپسند کرتا ہوں کہ یہاں ( بصرہ میں ) مجھ سےیہ ( اس طرح مرفوعاً ) روایت کی جائے ۔ ( کیونکہ بصرہ کےخارجی اس سے مطلق کفر کا استدلال کریں گے ۔)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ " أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ مِنْ مَوَالِيهِ فَقَدْ كَفَرَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِمْ " . قَالَ مَنْصُورٌ قَدْ وَاللَّهِ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يُرْوَى عَنِّي هَا هُنَا بِالْبَصْرَةِ .
#229
It is narrated on the authority of Jarir that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observed:The slave who fled from his master, responsibility with regard to him was absolved
داؤد نے شعبی سے ، انہوں نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو غلام بھگوڑا ہو گیا تو اس ( کے تحفظ ) سے ( اسلامی معاشرے اور حکومت کی ) ذمہ داری ختم ہو گئی ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ " .
#230
Jarir b. Abdullah reported it from the Holy Prophet:When the slave runs away from his master, his prayer is not accepted
مغیرہ نے شعبی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کیا کرتے تھے : ’’ جب غلام بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ ‘ ‘ ( جس طرح حرام کھانے والے کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ كَانَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ " .
#231
It is narrated on the authority of Zaid b. Khalid al-Juhani:The Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) led the morning prayer at Hudaybiya. There were some marks of the rainfall during the night. At the conclusion of prayer he turned towards people and observed: Do you know what your Lord has said? They replied: Allah and His Messenger know best. Upon this he (the Holy Prophet) remarked: He (Allah) said: Some of My bondsmen entered the morning as My believers and some as unbelievers. He who said: We have had a rainfall due to the Blessing and Mercy of Allah, he is My believer and a disbeliever of stars, and who said: We have had a rainfall due to the rising of such and such (star) disbelieved Me and affirmed his faith in the stars
حضرت زید بن جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر رات کو ہونے والی بارش کے بعد ، ہمیں صبح کی نماز پڑھائی ۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ’’کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ ‘ ‘ انہوں نےجواب دیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( آج ) میرے بندوں میں سے کوئی مجھ پر ایمان لانےو الا اور ( کوئی میرےساتھ ) کفر کرنے والا ہو گیا ۔ جس نے یہ کہا ہے کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کےفضل اور رحمت سےبارش ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا اور ستارے کے ساتھ کفر کرنے والا ہے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے ( کےغروب و طلوع ہونے ) کی وجہ سے بارش ہوئی ہے تو وہ میرے ساتھ کفر کرنے والا اور ستارے پر ایمان رکھنے والا ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ السَّمَاءِ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ " . قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " قَالَ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ . فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا . فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ " .
#232
It is reported on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) said:Don't you know what your Lord said? He observed: I have never endowed My bondsmen with a favor, but a section amongst them disbelieved it and said: Stars, it was due to the stars
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نےحدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نےکہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے رب عز وجل نے کیا فرمایا ؟ اس نے فرمایا : جو نعمت بھی میں بندوں کو دیتا ہوں تو ان میں سے ایک گروہ ( سے تعلق رکھنے والے لوگ ) اس ( نعمت ) کے سبب سے کفرکرنے والےہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں : فلاں ستارے ( نے یہ نعمت دی ہے ) یا فلاں فلاں ستاروں کے سبب سے ( ملی ہے ۔ ) ‘ ‘
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَ الْمُرَادِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلَمْ تَرَوْا إِلَى مَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالَ مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلاَّ أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ . يَقُولُونَ الْكَوَاكِبُ وَبِالْكَوَاكِبِ " .
#233
It is reported on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessing be upon him) observed:Allah does not shower His blessings from the heaven that in the morning a group of men disbelieve it (to be a blessing from Allah). Allah sends down rain, but they (the disbelievers) say: Such and such star (is responsible for that)
محمد بن سلمہ مرادی نے اپنی سند سے اور عمرو بن سواد نے اپنی سند سے عمرو بن حارث سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ آسمان سے برکت ( بارش ) نازل نہیں کرتا مگر لوگوں کا ایک گروہ ، اس کے سبب سے کافر ہو جاتا ہے ، بارش اللہ تعالیٰ اتارتا ہے ( لیکن ) یہ لوگ کہتے ہیں : فلاں فلاں ستارے کے باعث ( اتری ہے ۔ ) ‘ ‘ اور مرادی کی روایت کے یہ ا لفاظ ہیں : ’’فلاں فلاں ستارے کے باعث ( اتری ہے ۔)
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ بَرَكَةٍ إِلاَّ أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنَ النَّاسِ بِهَا كَافِرِينَ يُنْزِلُ اللَّهُ الْغَيْثَ فَيَقُولُونَ الْكَوْكَبُ كَذَا وَكَذَا " وَفِي حَدِيثِ الْمُرَادِيِّ " بِكَوْكَبِ كَذَا وَكَذَا " .
#234
It is reported on the authority of Ibn 'Abbas that there was (once) a downpour during the life of the Apostle (may peace and blessings be upon him Upon this the Apostle (may peace and blessings be upon him) observed:Some people entered the morning with gratitude and some with ingratitude (to Allah). Those who entered with gratitude said: This is the blessing of Allah, and those who entered with ingratitude said: Such and such asterism was right. It was upon this that the verse was revealed: I swear by the setting of the stars to the end and make your provision that you should disbelieve it
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دور میں لوگوں کو بارش سے نوازا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ لوگوں میں سے کچھ شکر گزار ہو گئے ہیں اور کچھ کافر ( ناشکرے ) ، ( بعض ) لوگوں نے کہا : یہ اللہ کی رحمت ہے اور بعض نے کہا : فلاں فلاں نوء ( ایک ستارے کا غروب اور اس کے سبب سے دوسرے کی بلندی ) سچی نکلی ۔ ‘ ‘ ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی : ’’میں ستاروں کے گرنے کی جگہوں کی قسم کھاتا ہوں ۔ ‘ ‘ ( سے لے کر ) اس آیت تک : ’’ اور تم اپنا حصہ یہ رکھتے ہو کہ تم اس کی تکذیب کرتے ہو ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَصْبَحَ مِنَ النَّاسِ شَاكِرٌ وَمِنْهُمْ كَافِرٌ قَالُوا هَذِهِ رَحْمَةُ اللَّهِ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَقَدْ صَدَقَ نَوْءُ كَذَا وَكَذَا " . قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { فَلاَ أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ} حَتَّى بَلَغَ { وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ{}
#235
It is reported on the authority of Anas that the Messenger of Allah (may peace and blessings Be upon him) observed:The sign of a hypocrite is the hatred against the Ansar and the sign of a believer is the love for the Ansar
انس سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافق كی نشانی یہ ہے كہ انصار سے دشمنی ركھے اور مومن كی نشانی یہ ہے كہ انصار سے محبت ركھے .
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " آيَةُ الْمُنَافِقِ بُغْضُ الأَنْصَارِ وَآيَةُ الْمُؤْمِنِ حُبُّ الأَنْصَارِ " .
#236
It is narrated on the authority of Anas that the Apostle (may peace and blessings be upon him) said:The love of the Ansar is the sign of faith and hatred against them is the sign of dissemblance
خالد بن حارث نے کا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، انہوں نے عبد اللہ بن عبد اللہ سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’انصار سے محبت کرنا ایمان کی نشانی ہے او ران سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " حُبُّ الأَنْصَارِ آيَةُ الإِيمَانِ وَبُغْضُهُمْ آيَةُ النِّفَاقِ " .
#237
Al-Bara reported from the Messenger (may peace and blessing be upon him) that he remarked with regard to the Ansar:"None but the believer loves them, none but the hypocrite hates them. He who loves them loves Allah and he who hates them hates Allah." I (the narrator) said: Did you hear this hadith from al-Bara'? He said: He narrated it to me
شعبہ نے عدی بن ثابت سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ نے انصار کے بارے میں فرمایا : ’’ ان سے محبت نہیں کرتا مگر وہی جو مومن ہےاور ان سے بغض نہیں رکھتا مگر وہی جو منافق ہے ۔ جس سے ان سے محبت کی ، اللہ اس سے محبت کرتا ہے او رجس نے ان سے بغض رکھا اللہ اس سے بغض رکھتا ہے ۔ ‘ ‘ شعبہ نے کہا : میں عدی سے پوچھا : کیا تم نے یہ روایت براء رضی اللہ عنہ سے سنی ہے ؟ توانہوں نے جواب دیا : انہوں نے یہ حدیث مجھی کو سنائی تھی ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ فِي الأَنْصَارِ " لاَ يُحِبُّهُمْ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلاَ يُبْغِضُهُمْ إِلاَّ مُنَافِقٌ مَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللَّهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ " . قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لِعَدِيٍّ سَمِعْتَهُ مِنَ الْبَرَاءِ قَالَ إِيَّاىَ حَدَّثَ .
#238
It is reported on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) said:A person who believes in Allah and the Last Day never nurses a grudge against the Ansar
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کوئی ایسا آدمی انصار سے بغض نہیں رکھے گا جو اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُبْغِضُ الأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ " .
#239
It is narrated on the authority of Abu Sa'id Khudri that the Messenger of Allah observed:The person who believes in Allah and the Last Day never nurses a grudge against the Ansar
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کوئی شخص انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا جو اللہ تعالیٰ اورآخرت کےدن پر ایمان رکھتا ہو
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُبْغِضُ الأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ " .
#240
Zirr reported:'Ali observed: By Him Who split up the seed and created something living, the Apostle (may peace and blessings be upon him) gave me a promise that no one but a believer would love me, and none but a hypocrite would nurse grudge against me
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑ اور روح کو تخلیق کیا ! نبی امی ﷺنے مجھے بتا دیا تھا کہ ’’ میرے ساتھ مومن کے سوا کوئی محبت نہیں کرے گا اور منافق کے سوا کوئی بغض نہیں رکھے گا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَىَّ أَنْ لاَ يُحِبَّنِي إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلاَ يُبْغِضَنِي إِلاَّ مُنَافِقٌ .
#241
It is narrated on the authority of 'Abdullah b. Umar that the Messenger of Allah observed:O womenfolk, you should give charity and ask much forgiveness for I saw you in bulk amongst the dwellers of Hell. A wise lady among them said: Why is it, Messenger of Allah, that our folk is in bulk in Hell? Upon this the Prophet observed: You curse too much and are ungrateful to your spouses. I have seen none lacking in common sense and failing in religion but (at the same time) robbing the wisdom of the wise, besides you. Upon this the woman remarked: What is wrong with our common sense and with religion? He (the Holy Prophet) observed: Your lack of common sense (can be well judged from the fact) that the evidence of two women is equal to one man, that is a proof of the lack of common sense, and you spend some nights (and days) in which you do not offer prayer and in the month of Ramadan (during the days) you do not observe fast, that is a failing in religion
لیث نے ابن ہادلیثی سے خبر دی کہ عبد اللہ بن دینار نےحضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’اے عورتوں کی جماعت ! تم صدقہ کیا کرو ، اور زیادہ سے زیادہ استغفار کیا کرو ، کیونکہ میں نے دوزخیوں میں اکثریت تمہاری دیکھی ہے ۔ ‘ ‘ ان میں سے ایک دلیر اورسمجھ دار عورت نے کہا : اللہ کے رسول! ہمیں کیا ہے ، دوزخ میں جانے والوں کی اکثریت ہماری ( کیوں ) ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ تم لعنت بہت بھیجتی ہو اور خاوند کا کفران ( نعمت ) کرتی ہو ، میں نے عقل و دین میں کم ہونے کے باوجود ، عقل مند شخص پر غالب آنے میں تم سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا ۔ ‘ ‘ اس نے پوچھا؟ اے اللہ کے رسول ! عقل و دین میں کمی کیا ہے ؟ آپ نےفرمایا : ’’ عقل میں کمی یہ ہے کہ دوعورتوں کی شہادت ایک مرد کے برابر ہے ، یہ توہوئی عقل کی کمی اور وہ ( حیض کے دوران میں ) کئی راتیں ( اور دن ) گزارتی ہے کہ نماز نہیں پڑھتی اور رمضان میں بے روزہ رہتی ہے تویہ دین میں کمی ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَأَكْثِرْنَ الاِسْتِغْفَارَ فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ " . فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ جَزْلَةٌ وَمَا لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ . قَالَ " تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَمَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِذِي لُبٍّ مِنْكُنَّ " . قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ قَالَ " أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ تَعْدِلُ شَهَادَةَ رَجُلٍ فَهَذَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَتَمْكُثُ اللَّيَالِيَ مَا تُصَلِّي وَتُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ فَهَذَا نُقْصَانُ الدِّينِ " .
#242
This hadith has been narrated on the authority of Abu Tahir with this chain of transmitters
(لیث کے بجائے ) بکر بن مضر نے ابن ہاد سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
#243
A hadith like this as narrated by Ibn 'Umar has also been transmitted by Abu Sa'id al-Khudri
عیاض بن عبد اللہ نےحضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اورانہوں نے نبی اکرمﷺ سے اور ( سعید ) مقبری نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کی جس طرح حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے ۔ باب : 35 ۔ نماز چھوڑنے والے پر لفظ کفر کا اطلاق کرنا نمازاسلام کا رکن ہے ۔ اس کا ترک پچھلی احادیث میں ذکر کیے گئے متعدد گناہوں سے زیادہ سنگین ہے ۔ اس پر جس کفر کا اطلاق کیا گیا وہ ان کے کفر سے بڑا کفر ہے ، پھر بھی اس سے توبہ اور آیندہ نماز کی پابندی سے انسان اچھا مسلمان بن جاتا ہے ، اسے دوبارہ اسلام لانے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ جو نماز کا منکر ہے اسے ازسرنو اسلام لانے کی ضرورت ہے ۔
وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح
#244
It is narrated on the authority of Abu Huraira that when, the son of Adam recites the Ayat of Sajdah (prostration) and then falls down in prostration, the Satan goes into seclusion and weeps and says:Alas, and in the narration of Abu Kuraib the words are: Woe unto me, the son of Adam was commanded to prostrate, and he prostrated and Paradise was entitled to him and I was commanded to prostrate, but I refused and am doomed to Hell
حضرت ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہو ں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب ابن آدم سجدے کی آیت تلاوت کر کے سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتے ہوئے وہاں سے ہٹ جاتا ہے ، وہ کہتا ہے : ہائے اس کی ہلاکت ! ( اور ابوکریب کی روایت میں ہے ، ہائے میری ہلاکت! ) ابن آدم کو سجدے کا حکم ملا تو اس نے سجدہ کیا ، اس پر اسے جنت مل گئی اور مجھے سجدے کا حکم ملا تو میں نے انکار کیا ، سو میرے لیے آگ ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي يَقُولُ يَا وَيْلَهُ - وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ يَا وَيْلِي - أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ فَلِيَ النَّارُ " .
#245
A'mash narrated this hadith with the same chain of transmitters, with this change of words that he (the Satan) said:I disobeyed and I am doomed to Hell
وکیع نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ۔ فرق یہ ہے کہ وکیع نے ( فأبيت..... ’’ میں نے انکار کیا ‘ ‘ کے بجائے ) فعصيت فعلي النار ’’ میں نے نافرمانی کی تو میرے لیے جہنم ( مقدر ) ہوئی ‘ ‘ کہا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " فَعَصَيْتُ فَلِيَ النَّارُ " .
#246
It is narrated on the authority of Jabir that he heard the Apostle (may peace and blessings be upon him) saying. Verily between man and between polytheism and unbelief is the negligence of prayer
ابو سفیان سےروایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ بے شک آدمی اورشرک و کفر کے درمیان ( فاصلہ مٹانے والا عمل ) نماز کا ترک ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلاَةِ " .
#247
It is narrated on the authority of Abu Zubair that he heard Jabir b. 'Abdullah saying. I heard the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observing this:Between man and polytheism and unbelief is the abandonment of salat
ابو زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ آدمی اور شرک و کفر کے درمیان ( فاصلہ مٹانے والا عمل ) نماز چھوڑنا ہے ۔ ‘ ‘ ( اس روایت میں إن’’بےشک ‘ ‘ کا لفظ نہیں ، باقی وہی ہے ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلاَةِ " .
#248
منصور بن ابی مزاحم اور محمد بن جعفر بن زیاد نے کہا : ہمیں ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے حدیث سنائی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : کون ساعمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ اللہ عز وجل پر ایمان لانا ۔ ‘ ‘ پوچھا گیا : پھر اس کے بعد کون سا ؟ آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ۔ ‘ ‘ پوچھا گیا : پھر کو ن سا ؟ فرمایا : ’’حج مبرور ( ایسا حج جو سراسرنیکی اور تقوے پر مبنی اور مکمل ہو ۔ ) ‘ ‘ محمد بن جعفر کی روایت میں ’’ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ‘ ‘ کے الفاظ ہیں ۔
#249
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah was asked about the best of deeds. He observed: Belief in Allah. He (the inquirer) said: What next? He (the Holy Prophet) replied: Jihad (struggle to the utmost) in the cause of Allah. He (the inquirer) again said: What next? He (the Holy Prophet) replied: Pilgrimage accepted into the grace of the Lord. In the. tradition narrated on the authority of Muhammad b. Ja'far (the words are) that he (the Holy Prophet) said: Belief in Allah and His Messenger. Muhammad b. Rafi and 'Abd b. Humaid, 'Abdur-Razzaq and Ma'mar and Zuhri have narrated a hadith like this on the authority of the same chain of transmitters
ابراہیم بن سعد کے بجائے معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ " إِيمَانٌ بِاللَّهِ " . قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ " حَجٌّ مَبْرُورٌ " . وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ " . وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .