#1226
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“The Prophet (ﷺ) used to recite Qur’an sitting down, then when he wanted to bow he would stand up for as long as it takes a person to recite forty Verses.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( نفل نماز میں ) بیٹھ کر قراءت کرتے تھے، جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اتنی دیر کے لیے کھڑے ہو جاتے جتنی دیر میں کوئی شخص چالیس آیتیں پڑھ لیتا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ إِنْسَانٌ أَرْبَعِينَ آيَةً .
#1227
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“I did not see the Messenger of Allah (ﷺ) offer any of the night prayers in any way other than standing, until he became old. Then he started to pray sitting down until, when there were thirty or forty Verses left of his recitation, he would stand up and recite them, and prostrate.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ رات کی نماز کھڑے ہو کر پڑھتے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ آپ بوڑھے ہو گئے تو بیٹھ کر پڑھنے لگے، جب آپ کی قراءت سے چالیس یا تیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہو کر ان کو پڑھتے ( پھر رکوع ) اور سجدے کرتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُصَلِّي فِي شَىْءٍ مِنْ صَلاَةِ اللَّيْلِ إِلاَّ قَائِمًا حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ فَجَعَلَ يُصَلِّي جَالِسًا حَتَّى إِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ قِرَاءَتِهِ أَرْبَعُونَ آيَةً أَوْ ثَلاَثُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا وَسَجَدَ .
#1228
Sahih
It was narrated that ‘Abdullah bin Shaqiq Al-‘Uqaili said:“I asked ‘Aishah about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) at night. She said: ‘He used to pray for a long time at night standing up, and for a long time at night sitting down. If he prayed standing, he would bow standing, and if he prayed sitting, he would bow sitting.’”
عبداللہ بن شقیق عقیلی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے، اور کبھی دیر تک بیٹھ کر نماز پڑھتے، جب آپ کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع کھڑے ہو کر کرتے، اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِاللَّيْلِ فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّي لَيْلاً طَوِيلاً قَائِمًا وَلَيْلاً طَوِيلاً قَاعِدًا فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا .
#1229
Sahih
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Prophet (ﷺ) passed by him when he was praying sitting down. He said:“The prayer of one who sits down is equivalent to half of the prayer of one who stands.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اس وقت وہ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے مقابلے میں ( ثواب میں ) آدھی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُصَلِّي جَالِسًا فَقَالَ " صَلاَةُ الْجَالِسِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلاَةِ الْقَائِمِ " .
#1230
Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) went out and saw some people praying while sitting down. He said:“The prayer of one who sits down is equivalent to half of the prayer of one who stands.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو کچھ لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے مقابلے میں ( ثواب میں ) آدھی ہے ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خَرَجَ فَرَأَى أُنَاسًا يُصَلُّونَ قُعُودًا فَقَالَ " صَلاَةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلاَةِ الْقَائِمِ " .
#1231
Sahih
It was narrated from ‘Imran bin Husain that he asked the Messenger of Allah (ﷺ) about a man who prays sitting down. He said, “Whoever performs prayer standing up, that is better. Whoever performs prayer sitting down will have half the reward of one who prays standing. And whoever performs prayer lying down will have half the reward of one who prays sitting.”
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کھڑے ہو کر نماز پڑھے وہ زیادہ بہتر ہے، اور جو بیٹھ کر نماز پڑھے تو اسے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھا ثواب ہے، اور جو شخص لیٹ کر نماز پڑھے تو اسے بیٹھ کر پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھا ثواب ہے ۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الرَّجُلِ يُصَلِّي قَاعِدًا قَالَ " مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ. وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ. وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ " .
#1232
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) fell ill with the sickness that would be his last” – (One of the narrators) Abu Mu’awiyah said: “When he was overcome by sickness” – “Bilal came to tell him that it was time for prayer. He said, ‘Tell Abu Bakr to lead the people in prayer.’ We said: ‘O Messenger of Allah! Abu Bakr is a tender-hearted man, and when he takes your place he will weep and not be able to do it. Why do you not tell ‘Umar to lead the people in prayer?’ He said: ‘Tell Abu Bakr to lead the people in prayer; you are (like) the female companions of Yusuf.’” She said: “So we sent word to Abu Bakr, and he led the people in prayer. Then the Messenger of Allah (ﷺ) began to feel a little better, so he came out to the prayer, supported by two men with his feet making lines along the ground. When Abu Bakr realized that he was there, he wanted to step back, but the Prophet (ﷺ) gestured to him to stay where he was. Then (the two men) brought him to sit beside Abu Bakr, and Abu Bakr was following the lead of the Prophet (ﷺ) and the people were following Abu Bakr.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں مبتلا ہوئے ( ابومعاویہ نے کہا: جب آپ مرض کی گرانی میں مبتلا ہوئے ) تو بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے، اور نماز نہ پڑھا سکیں گے، لہٰذا اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، ( تو بہتر ہو ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف ( علیہ السلام ) کے ساتھ والیوں جیسی ہو ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں کے سہارے نماز کے لیے نکلے، اور آپ کے پاؤں زمین پہ گھسٹ رہے تھے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی آہٹ محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو ان دونوں آدمیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں پہلو میں بیٹھا دیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ - وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ لَمَّا ثَقُلَ - جَاءَ بِلاَلٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاَةِ فَقَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ - تَعْنِي رَقِيقٌ - وَمَتَى مَا يَقُومُ مُقَامَكَ يَبْكِي فَلاَ يَسْتَطِيعُ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ . فَقَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرِ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ " . قَالَتْ فَأَرْسَلْنَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلاَهُ تَخُطَّانِ فِي الأَرْضِ فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَى إِلَيْهِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ مَكَانَكَ . قَالَ فَجَاءَ حَتَّى أَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ .
#1233
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) told Abu Bakr to lead the people in prayer when he was sick, and Abu Bakr used to lead them in prayer. Then the Messenger of Allah (ﷺ) began to feel a little better, so he came out, and saw Abu Bakr leading the people in prayer. When Abu Bakr saw him, he stepped back, but the Messenger of Allah (ﷺ) gestured to him to stay where he was. Then the Messenger of Allah (ﷺ) sat beside Abu Bakr. Abu Bakr was following the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ), and the people were following the prayer of Abu Bakr.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، وہ لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو باہر نکلے، اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا: اپنی جگہ رہو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر کے برابر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خِفَّةً فَخَرَجَ وَإِذَا أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْخَرَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَىْ كَمَا أَنْتَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حِذَاءَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ .
#1234
Sahih
It was narrated that Salim bin ‘Ubaid said:“The Messenger of Allah (ﷺ) fainted when he was sick, then he woke up and said: ‘Has the time for prayer come?’ They said: ‘Yes.’ He said: ‘Tell Bilal to call the Adhan, and tell Abu Bakr to lead the people in prayer.’ Then he fainted, then he woke up and said: ‘Has the time for prayer come?’ They said: ‘Yes.’ He said: ‘Tell Bilal to call the Adhan, and tell Abu Bakr to lead the people in prayer.’ Then he fainted, then he woke up and said: ‘Has the time for prayer come?’ They said: ‘Yes.’ He said: ‘Tell Bilal to call the Adhan, and tell Abu Bakr to lead the people in prayer.’ ‘Aishah said: ‘My father is a tender-hearted man, and if he stands in that place he will weep and will not be able to do it. If you told someone else to do it (that would be better).’ Then he fainted, then woke up and said: ‘Tell Bilal to call the Adhan, and tell Abu Bakr to lead the people in prayer. You are (like) the female companions of Yusuf.’ So Bilal was told to call the Adhan and he did so, and Abu Bakr was told to lead the people in prayer, and he did so. Then the Messenger of Allah (ﷺ) felt a little better, and he said: ‘Find me someone I can lean on.’ Barirah and another man came, and he leaned on them. When Abu Bakr saw him, he started to step back, but (the Prophet (ﷺ)) gestured him to stay where he was. Then the Messenger of Allah (ﷺ) came and sat beside Abu Bakr, until Abu Bakr finished praying. Then the Messenger of Allah (ﷺ) passed away.”
سالم بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض الموت میں بے ہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش میں آئے، تو آپ نے پوچھا: کیا نماز کا وقت ہو گیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا نماز کا وقت ہو گیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش آیا، تو فرمایا: کیا نماز کا وقت ہو گیا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے والد نرم دل آدمی ہیں، جب اس جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے، نماز نہ پڑھا سکیں گے، اگر آپ ان کے علاوہ کسی اور کو حکم دیتے ( تو بہتر ہوتا ) ! پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر ہوش آیا، تو فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان کہیں، اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف ( علیہ السلام ) کے ساتھ والیوں جیسی ہو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا، تو انہوں نے اذان دی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو فرمایا: دیکھو کسی کو لاؤ جس پر میں ٹیک دے کر ( مسجد جا سکوں ) بریرہ رضی اللہ عنہا اور ایک شخص آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر ٹیک لگایا، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی نماز پوری کی، پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے، نصر بن علی کے علاوہ کسی اور نے اس کو روایت نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، مِنْ كِتَابِهِ فِي بَيْتِهِ قَالَ سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ أَنْبَأَنَا عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي مَرَضِهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ " أَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ " . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ " مُرُوا بِلاَلاً فَلْيُؤَذِّنْ وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ - أَوْ لِلنَّاسِ - " . ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ فَقَالَ " أَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ " . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ " مُرُوا بِلاَلاً فَلْيُؤَذِّنْ وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ فَقَالَ " أَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ " . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ " مُرُوا بِلاَلاً فَلْيُؤَذِّنْ وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ فَإِذَا قَامَ ذَلِكَ الْمُقَامَ يَبْكِي لاَ يَسْتَطِيعُ فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ . ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ فَقَالَ " مُرُوا بِلاَلاً فَلْيُؤَذِّنْ وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ أَوْ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ " . قَالَ فَأُمِرَ بِلاَلٌ فَأَذَّنَ وَأُمِرَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَجَدَ خِفَّةً فَقَالَ " انْظُرُوا لِي مَنْ أَتَّكِئُ عَلَيْهِ " . فَجَاءَتْ بَرِيرَةُ وَرَجُلٌ آخَرُ فَاتَّكَأَ عَلَيْهِمَا فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَنْكُصَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنِ اثْبُتْ مَكَانَكَ ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى قَضَى أَبُو بَكْرٍ صَلاَتَهُ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قُبِضَ . قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ غَيْرُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ .
#1235
Hasan
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) fell ill with what would be his final illness, he was in the house of ‘Aishah. He said: ‘Call ‘Ali for me.’ ‘Aishah said: ‘O Messenger of Allah, should we call Abu Bakr for you?’ He said: ‘Call him.’ Hafsah said: ‘O Messenger of Allah, should we call ‘Umar for you?’ He said: ‘Call him.’ Ummul-Fadl said: ‘O Messenger of Allah, should we call Al-‘Abbas for you?’ He said: ‘Yes.’ When they had gathered, the Messenger of Allah (ﷺ) lifted his head, looked and fell silent. ‘Umar said: ‘Get up and leave the Messenger of Allah (ﷺ).’ Then Bilal came to tell him that the time for prayer had come, and he said: ‘Tell Abu Bakr to lead the people in prayer.’ ‘Aishah said: ‘O Messenger of Allah, Abu Bakr is a soft and tender-hearted man, and if he does not see you, he will weep and the people will weep with him. If you tell ‘Umar to lead the people in prayer (that would be better).’ Abu Bakr went out and led the people in prayer, then the Messenger of Allah (ﷺ) felt a little better, so he came out, supported by two men, with his feet making lines along the ground. When the people saw him, they said: ‘Subhan-Allah,’ to alert Abu Bakr. He wanted to step back, but the Prophet (ﷺ) gestured him to stay where he was. Then the Messenger of Allah (ﷺ) came and sat on his right. Abu Bakr stood up and he was following the lead of the Prophet (ﷺ), and the people were following the lead of Abu Bakr. Ibn ‘Abbas said; ‘And the Messenger of Allah (ﷺ) started to recite from where Abu Bakr had reached.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلمل اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی وفات ہوئی، اس وقت آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی ( رضی اللہ عنہ ) کو بلاؤ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا دیں؟ آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: انہیں بلاؤ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا دیں؟ آپ نے فرمایا: بلا دو ، ام الفضل نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم عباس کو بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں جب سب لوگ جمع ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھا کر ان لوگوں کی طرف دیکھا، اور خاموش رہے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ جاؤ ۱؎، پھر بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی ہیں، پڑھنے میں ان کی زبان رک جاتی ہے، اور جب آپ کو نہ دیکھیں گے تو رونے لگیں گے، اور لوگ بھی رونا شروع کر دیں گے، لہٰذا اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ( تو بہتر ہو ) ، لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نکلے، اور انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں پر ٹیک دے کر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے، جب لوگوں نے آپ کو آتے دیکھا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو «سبحان الله» کہا، وہ پیچھے ہٹنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دائیں جانب بیٹھ گئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے رہے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت وہاں سے شروع کی جہاں تک ابوبکر رضی اللہ عنہ پہنچے تھے ۲؎۔ وکیع نے کہا: یہی سنت ہے، راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی مرض میں انتقال ہو گیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ كَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ . فَقَالَ " ادْعُوا لِي عَلِيًّا " . قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ قَالَ " ادْعُوهُ " . قَالَتْ حَفْصَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَدْعُو لَكَ عُمَرَ قَالَ " ادْعُوهُ " . قَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَدْعُو لَكَ الْعَبَّاسَ قَالَ " نَعَمْ " . فَلَمَّا اجْتَمَعُوا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَأْسَهُ فَنَظَرَ فَسَكَتَ فَقَالَ عُمَرُ قُومُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . ثُمَّ جَاءَ بِلاَلٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاَةِ فَقَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ حَصِرٌ وَمَتَى لاَ يَرَاكَ يَبْكِي وَالنَّاسُ يَبْكُونَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ . فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلاَهُ تَخُطَّانِ فِي الأَرْضِ فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ سَبَّحُوا بِأَبِي بَكْرٍ فَذَهَبَ لِيَسْتَأْخِرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَىْ مَكَانَكَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِهِ وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنَ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَيْثُ كَانَ بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ . قَالَ وَكِيعٌ وَكَذَا السُّنَّةُ . قَالَ فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ .
#1236
Sahih
Hamzah bin Mughirah bin Shu’bah narrated that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) lagged behind (on a journey) and we reached the people when ‘Abdur Rahman bin ‘Awf had already led them in one Rak’ah of the prayer. When he realized that the Prophet (ﷺ) was there, he wanted to step back, but the Prophet (ﷺ) gestured to him that he should complete the prayer. He said: ‘You have done well, do the same in the future.’”
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک سفر میں ) پیچھے رہ گئے، اور ہم اس وقت لوگوں کے پاس پہنچے جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ انہیں ایک رکعت پڑھا چکے تھے، جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز مکمل کرنے کا اشارہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا، ایسے ہی کیا کرو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَكْعَةً فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُتِمَّ الصَّلاَةَ قَالَ " وَقَدْ أَحْسَنْتَ كَذَلِكَ فَافْعَلْ " .
#1237
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) fell ill and some of his Companions came to visit him. The Messenger of Allah (ﷺ) performed prayer while sitting down, and they prayed behind him standing up. He gestured them to sit down, and when he finished he said: ‘The Imam is appointed to be followed. When he bows, then bow; when he stands up again, then stand up, and if he prays sitting down then pray sitting down.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، تو آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کچھ لوگ آپ کی عیادت کے لیے اندر آئے، آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی اپنا سر اٹھاؤ، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُونَهُ فَصَلَّى النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ جَالِسًا فَصَلَّوْا بِصَلاَتِهِ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ. فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا. وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا. وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا " .
#1238
Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that the Prophet (ﷺ) fell from his horse and he suffered some lacerations on his right side. We went to visit him and the time for prayer came. He led us in prayer sitting down, and we prayed behind him sitting down. When he finished the prayer he said:“The Imam is appointed to be followed. When he says Allahu Akbar, then say Allahu Akbar; when he bows, then bow; when he says Sami’ Allahu liman hamidah, then say Rabbana wa lakal-hamd; when he prostrates then prostrate; and if he prays sitting down then pray sitting down.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے، تو آپ کے دائیں جانب خراش آ گئی، ہم آپ کی عیادت کے لیے گئے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور ہم نے آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ «الله أكبر» کہے، تو تم بھی «الله أكبر» کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب «سمع الله لمن حمده» کہے، تو تم لوگ «ربنا ولك الحمد» کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم سب لوگ سجدہ کرو، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب لوگ بیٹھ کر نماز پڑھو ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صُرِعَ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ فَدَخَلْنَا نَعُودُهُ وَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا وَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِينَ " .
#1239
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The Imam is appointed to be followed. When he says Allahu Akbar, then say Allahu Akbar; when he bows, then bow; when he says Sami’ Allahu liman hamidah, then say Rabbana wa lakal-hamd; when he prostrates then prostrate; if he prays standing, then pray standing, and if he prays sitting down then pray sitting down.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ «الله أكبر» کہے، تو تم بھی «الله أكبر» کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم بھی «ربنا ولك الحمد» کہو، اور اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور اگر بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا " .
#1240
Sahih
It was narrated that Jabir said:“The Messenger of Allah (ﷺ) fell ill, and we prayed behind him while he was sitting down, and Abu Bakr was saying the Takbir so that the people could hear them. He turned to us and saw us standing, so he gestured to us to sit down. When he had said the Salam, he said: ‘You were about to do the action of the Persians and Romans, who remain standing while their kings are seated. Do not do that. Follow the lead of your Imam; if he prays standing, then pray standing, and if he prays sitting down, then pray sitting down.’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ بیٹھے ہوئے تھے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہہ رہے تھے تاکہ لوگ سن لیں، آپ ہماری جانب متوجہ ہوئے تو ہمیں کھڑے دیکھ کر ہماری جانب اشارہ کیا، ہم بیٹھ گئے، پھر ہم نے آپ کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: اس وقت تم فارس اور روم والوں کی طرح کرنے والے تھے کہ وہ لوگ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، اور بادشاہ بیٹھے رہتے ہیں، لہٰذا تم ایسا نہ کرو، اپنے اماموں کی اقتداء کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائیں تو کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور اگر بیٹھ کر نماز پڑھائیں تو بیٹھ کر نماز پڑھو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا فَصَلَّيْنَا بِصَلاَتِهِ قُعُودًا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ " إِنْ كِدْتُمْ أَنْ تَفْعَلُوا فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ فَلاَ تَفْعَلُوا ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا " .
#1241
Sahih
Sa’d bin Tariq said:“I said to my father: ‘O my father! You prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ) and behind Abu Bakr, ‘Umar and ‘Uthman, and behind ‘Ali here in Kufah for about five years. Did they recite Qunut in Fajr?’ He said: ‘O my son! That is an innovation.’”
ابومالک سعد بن طارق اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا: ابا جان! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر ابوبکرو عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے اور کوفہ میں تقریباً پانچ سال تک علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ہے، تو کیا وہ لوگ نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: بیٹے یہ نئی بات ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ قَالَ قُلْتُ لأَبِي يَا أَبَتِ إِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ هَا هُنَا بِالْكُوفَةِ، نَحْوًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ. فَكَانُوا يَقْنُتُونَ فِي الْفَجْرِ؟ فَقَالَ: أَىْ بُنَىَّ مُحْدَثٌ .
#1242
Mawdu
It was narrated that Umm Salamah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) was forbidden to recite Qunut in Fajr.”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے سے منع کر دیا گیا۔
حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ بَكْرٍ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى، زُنْبُورٌ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْقُنُوتِ فِي الْفَجْرِ .
#1243
Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite Qunut in the Subh prayer, and he used to supplicate in it against one of the Arab tribes for a month, then he stopped doing so
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھتے رہے، اور عرب کے ایک قبیلہ ( قبیلہ مضر پر ) ایک مہینہ تک بد دعا کرتے رہے، پھر اسے آپ نے ترک کر دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَقْنُتُ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ. يَدْعُو عَلَى حَىٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، شَهْرًا. ثُمَّ تَرَكَ .
#1244
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) raised his head from Ruku’ in the Subh prayer, he said: ‘O Allah, save Al-Walid bin Walid, Salamah bin Hisham and ‘Ayyash bin Abu Rabi’ah, and the oppressed in Makkah. O Allah, tighten Your grip on Mudar, and send them years of famine like the famine of Yusuf.”
(ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے: «اللهم أنج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام وعياش بن أبي ربيعة والمستضعفين بمكة اللهم اشدد وطأتك على مضر واجعلها عليهم سنين كسني يوسف» اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ کے کمزور حال مسلمانوں کو نجات دیدے، اے اللہ! تو اپنی پکڑ قبیلہ مضر پر سخت کر دے، اور یوسف علیہ السلام کے عہد کے قحط کے سالوں کی طرح ان پر بھی قحط مسلط کر دے ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَأْسَهُ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ قَالَ " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ. اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " .
#1245
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) commanded killing the two black ones during prayer; the scorpion and the snake
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دو کالوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا: سانپ کو اور بچھو کو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمَرَ بِقَتْلِ الأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلاَةِ الْعَقْرَبِ وَالْحَيَّةِ .
#1246
Sahih
It was narrated that ‘Aishah said:“The Prophet (ﷺ) was stung by a scorpion while he was performing prayer, and he said: ‘May Allah curse the scorpion, for it does not spare anyone, whether he is praying or not. Kill them whether you are in Ihram or not.’” In Al-Hill (outside the sacred precincts of Makkah) or Al-Haram (the sacred precincts or Makkah)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بچھو نے نماز میں ڈنک مار دیا، نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ بچھو پر لعنت کرے کہ وہ نمازی و غیر نمازی کسی کو نہیں چھوڑتا، اسے حرم اور حرم سے باہر، ہر جگہ میں مار ڈالو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الدَّهَّانُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَدَغَتِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَقْرَبٌ وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ " لَعَنَ اللَّهُ الْعَقْرَبَ مَا تَدَعُ الْمُصَلِّيَ وَغَيْرَ الْمُصَلِّي اقْتُلُوهَا فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ " .
#1247
Daif
It was narrated from Ibn Abu Rafi’, from his father, from his grandfather, that the Prophet (ﷺ) killed a scorpion while he was praying
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی حالت میں ایک بچھو کو مار ڈالا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، حَدَّثَنَا مَنْدَلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَتَلَ عَقْرَبًا وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ .
#1248
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade two prayers:prayer after the Fajr until the sun has risen, and prayer after ‘Asr until the sun has set
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو نمازوں سے منع فرمایا، ایک فجر کے بعد نماز پڑھنے سے سورج نکلنے تک، دوسرے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے سورج ڈوب جانے تک ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْ صَلاَتَيْنِ عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ .
#1249
Sahih
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Prophet (ﷺ) said:“There is no prayer after the ‘Asr until the sun has set, and there is no prayer after the Fajr until the sun has risen.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے اور نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج نکل آئے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى التَّيْمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ صَلاَةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلاَ صَلاَةَ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
#1250
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“Good men among whom was ‘Umar bin Khattab, and the best of them in my view is ‘Umar, testified before me that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘There is no prayer after Fajr until the sun has risen, and there is no prayer after the ‘Asr until the sun has set.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے پاس کئی اچھے لوگوں نے گواہی دی، ان میں میرے نزدیک سب زیادہ اچھے شخص عمر رضی اللہ عنہ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ أَنَّ رَ سُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ صَلاَةَ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلاَ صَلاَةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ " .