#1201
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) used to pray Witr while riding his mount
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر وتر پڑھ لیتے تھے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الأَسْفَاطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ .
#1202
Hasan Sahih
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said to Abu Bakr: ‘When do you pray Witr?’ He said: ‘At the beginning of the night, after ‘Isha’.’ He said: ‘And you, O ‘Umar?’ He said: ‘At the end of the night.’ The Prophet (ﷺ) said: ‘As for you, O Abu Bakr, you have seized the trustworthy handhold (i.e., you want to be on the safe side), and as for you, O ‘Umar, you have seized strength (i.e., you are confident that you have the resolve to get up and pray Witr).’” Another chain with similar meaning
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم وتر کب پڑھتے ہو؟ کہا: شروع رات میں عشاء کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اے عمر! انہوں نے کہا: رات کے اخیر حصے میں، تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! تم نے مضبوط کڑا پکڑا ہے ( یقینی طریقہ اختیار کیا ) اور اے عمر! تم نے قوت والا کام پکڑا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ تَوْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لأَبِي بَكْرٍ " أَىَّ حِينٍ تُوتِرُ " قَالَ أَوَّلَ اللَّيْلِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ . قَالَ " فَأَنْتَ يَا عُمَرُ " . فَقَالَ آخِرَ اللَّيْلِ . فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَأَخَذْتَ بِالْوُثْقَى وَأَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ فَأَخَذْتَ بِالْقُوَّةِ " . حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ تَوْبَةَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ لأَبِي بَكْرٍ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
#1203
Sahih
It was narrated that ‘Abdullah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) prayed, and he added or omitted something.” (One of the narrators) Ibrahim said: “The confusion stems from me (i.e., he was not sure which it was).” “It was said to him: ‘O Messenger of Allah! Has something been added to the prayer?’ He said: ‘I am only human, I forget just as you forget. If anyone forgets, let him perform two prostrations when he is sitting (at the end).’ Then the Prophet (ﷺ) turned and prostrated twice.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، آپ نے کچھ زیادہ یا کچھ کم کر دیا، ( ابراہیم نخعی نے کہا یہ وہم میری جانب سے ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا نماز میں کچھ زیادتی کر دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی انسان ہی ہوں، جیسے تم بھولتے ہوں ویسے میں بھی بھولتا ہوں، لہٰذا جب کوئی شخص بھول جائے تو بیٹھ کر دو سجدے کرے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی جانب گھوم گئے، اور دو سجدے کئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَزَادَ أَوْ نَقَصَ - قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَالْوَهْمُ مِنِّي - فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ قَالَ " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ. أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ. فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " . ثُمَّ تَحَوَّلَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ .
#1204
Sahih
‘Iyad narrated that he asked Abu Sa’eed Al-Khudri:“One of us prays and he does not know how many (Rak’ah) he has prayed.” He said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘When anyone of you prays and does not know how many he has prayed, let him perform two prostrations while he is sitting.’”
عیاض نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کوئی شخص نماز ادا کرتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں ادا کر لیں؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے، اور اسے یاد نہ رہے کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنِي عِيَاضٌ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقَالَ أَحَدُنَا يُصَلِّي فَلاَ يَدْرِي كَمْ صَلَّى . فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
#1205
Sahih
It was narrated that ‘Abdullah said:“(Once) the Prophet (ﷺ) prayed Zuhr with five Rak’ah, and it was said to him: ‘Has something been added to the prayer?’ He said: ‘What is that?’ They told him, and he turned back towards the Qiblah and performed two prostrations.”
عیاض نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پانچ رکعت پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ آپ سے کہا گیا ( کہ آپ نے پانچ رکعت پڑھی ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں موڑا، اور سہو کے دو سجدے کئے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الظُّهْرَ خَمْسًا. فَقِيلَ لَهُ: أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ؟ قَالَ " وَمَا ذَاكَ؟ " . فَقِيلَ لَهُ . فَثَنَى رِجْلَهُ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ .
#1206
Sahih
It was narrated from Ibn Buhainah:“The Prophet (ﷺ) offered prayer, I think it was the ‘Asr, and in the second Rak’ah he stood up before he sat. Before he said the Salam, he prostrated twice.”
ابن بحینہ (عبداللہ بن مالک) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھائی، میرا خیال ہے کہ وہ ظہر کی نماز تھی، جب آپ دوسری رکعت میں تھے تو تشہد کیے بغیر ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہو گئے، پھر جب آپ آخری تشہد میں بیٹھے تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلَّى صَلاَةً أَظُنُّ أَنَّهَا الظُّهْرُ (العَصْرُ) فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّانِيَةِ قَامَ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ .
#1207
Sahih
It was narrated from ‘Abdur-Rahman Al-A’raj that Ibn Buhainah told him that the Prophet (ﷺ) stood up in the second Rak’ah of Zuhr and forgot to sit. When he had finished his prayer, and before he said the Salam, he performed the two prostrations for forgetfulness (Sahw) and said the Salam
عبدالرحمٰن اعرج سے روایت ہے کہ ابن بحینہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی دوسری رکعت پڑھ کر ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہو گئے، اور تشہد بھول گئے، یہاں تک کہ جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے، اور صرف سلام پھیرنا باقی رہ گیا، تو سہو کے دو سجدے کئے، اور سلام پھیرا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَابْنُ، فُضَيْلٍ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، أَنَّ ابْنَ بُحَيْنَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَامَ فِي ثِنْتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ نَسِيَ الْجُلُوسَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلاَتِهِ إِلاَّ أَنْ يُسَلِّمَ سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ وَسَلَّمَ .
#1208
Sahih
It was narrated that Mughirah bin Shu’bah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘If anyone of you stands after two Rak’ah, if he has not yet stood up fully, let him sit down again, but if he has stood up fully, then let him not sit down, and let him perform two prostrations for forgetfulness (Sahw).’”
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص دو رکعت کے بعد کھڑا ہو جائے لیکن ابھی پورے طور پہ کھڑا نہ ہوا ہو تو بیٹھ جائے، اور اگر پورے طور پہ کھڑا ہو گیا ہو تو نہ بیٹھے، اور آخر میں سہو کے دو سجدے کرے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ فَلَمْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ فَإِذَا اسْتَتَمَّ قَائِمًا فَلاَ يَجْلِسْ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ " .
#1209
Sahih
It was narrated that ‘Abdur-Rahman bin ‘Awf said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘If anyone of you is uncertain as to whether he has prayed one or two Rak’ah, let him assume it is one. If he is uncertain as to whether he has prayed two or three, let him assume it is two. If he is uncertain as to whether he has prayed three or four, let him assume it is three. Then let him complete what is left of his prayer, so that the doubt will be about what is more. Then let him prostrate twice while he is sitting, before the Taslim (saying the Salam).’”
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب کوئی شخص شک کرے کہ دو رکعت پڑھی ہے یا ایک، تو ایک کو اختیار کرے، ( کیونکہ وہ یقینی ہے ) اور جب دو اور تین رکعت میں شک کرے تو دو کو اختیار کرے، اور جب تین یا چار میں شک کرے تو تین کو اختیار کرے، پھر باقی نماز پوری کرے، تاکہ وہم زیادتی میں ہو کمی میں نہ ہو، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الرَّقِّيُّ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلاَنِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الثِّنْتَيْنِ وَالْوَاحِدَةِ فَلْيَجْعَلْهَا وَاحِدَةً وَإِذَا شَكَّ فِي الثِّنْتَيْنِ وَالثَّلاَثِ فَلْيَجْعَلْهَا ثِنْتَيْنِ وَإِذَا شَكَّ فِي الثَّلاَثِ وَالأَرْبَعِ فَلْيَجْعَلْهَا ثَلاَثًا ثُمَّ لْيُتِمَّ مَا بَقِيَ مِنْ صَلاَتِهِ حَتَّى يَكُونَ الْوَهْمُ فِي الزِّيَادَةِ ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ " .
#1210
Hasan Sahih
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘If anyone of you is uncertain about his prayer, let him put aside uncertainty and act upon that which is certain. When he has made sure his prayer is complete, then let him prostrate twice. Then if his prayer was complete, that (extra) Rak’ah will be counted as voluntary, and if his prayer was lacking, that Rak’ah will complete his prayer, and the two prostrations will rub the Satan’s nose in the dust.’”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی نماز میں شبہ کرے تو شبہ کو ختم کر کے یقین پر بنا کرے، اور جب نماز کے مکمل ہو جانے کا یقین ہو جائے تو دو سجدے کرے، اگر اس کی نماز پوری تھی تو جو رکعت زائد پڑھی وہ نفل ہو جائے گی، اور اگر ناقص تھی تو یہ رکعت نماز کو پوری کر دے گی، اور یہ دونوں سجدے شیطان کی تذلیل و تحقیر کے لیے ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ فَلْيُلْغِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ فَإِذَا اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ فَإِنْ كَانَتْ صَلاَتُهُ تَامَّةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةً وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ لِتَمَامِ صَلاَتِهِ وَكَانَتِ السَّجْدَتَانِ رَغْمَ أَنْفِ الشَّيْطَانِ " .
#1211
Sahih
It was narrated that ‘Abdullah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) offered prayer, and I am not sure whether he did something extra or omitted something. He asked, and we told him, so he turned to face the Qiblah and prostrated twice, then he said the Salam. Then he turned to face us and said: ‘If any new command has been revealed concerning the prayer, I would certainly have told you. But I am only human and I forget and you forget. If I forget, then remind me. And if anyone of you is uncertain about the prayer, let him do what is closest to what is correct, then complete the prayer, say the Salam and prostrate twice.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی، ہمیں یاد نہیں کہ آپ نے اس میں کچھ بیشی کر دی یا کمی کر دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس کے بارے میں پوچھا تو ہم نے آپ سے اسے بیان کیا، آپ نے اپنا پاؤں موڑا اور قبلہ کی جانب رخ کیا، اور دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا، پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوتا تو میں تمہیں ضرور باخبر کرتا، میں تو ایک انسان ہوں، میں بھولتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو، لہٰذا جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو، اور تم میں سے جو بھی نماز میں شک کرے تو سوچے، اور جو صحیح کے قریب تر معلوم ہو اسی کے حساب سے نماز پوری کر کے سلام پھیرے، اور دو سجدے کرے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ شُعْبَةُ كَتَبَ إِلَىَّ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ قَالَ أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلاَةً لاَ يَدْرِي أَزَادَ أَوْ نَقَصَ . فَسَأَلَ فَحَدَّثْنَاهُ فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ " لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ لأَنْبَأْتُكُمُوهُ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي وَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي الصَّلاَةِ فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِكَ مِنَ الصَّوَابِ فَيُتِمَّ عَلَيْهِ وَيُسَلِّمَ وَيَسْجُدَ سَجْدَتَيْنِ " .
#1212
Sahih
It was narrated that ‘Abdullah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘If anyone of you is uncertain about his prayer, let him try to do what is correct then let him prostrate twice.’” Tanafisi said: "This is the basic rule, and no one is able to reject it
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نماز میں شک کرے، تو سوچ کر صحیح کو معلوم کرے، پھر دو سجدے کرے ۔ طنافسی کہتے ہیں: یہی اصل ہے جس کو کوئی شخص رد نہیں کر سکتا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاَةِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " . قَالَ الطَّنَافِسِيُّ هَذَا الأَصْلُ وَلاَ يَقْدِرُ أَحَدٌ يَرُدُّهُ .
#1213
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) forgot and said the Taslim after two Rak’ah. A man who was called Dhul-Yadain said to him:‘O Messenger of Allah, has the prayer been shortened or did you forget?’ He said: ‘It has not been shortened and I did not forget.’ He said: ‘But you prayed two Rak’ah.’ He said: ‘Is what Dhul-Yadain says true?’ They said: ‘Yes.’ So he went forward and performed two Rak’ah and said the Salam, then he prostrated twice for prostrations of forgetfulness
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول کر دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، تو ذوالیدین نامی ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: نہ تو نماز کم ہوئی ہے نہ ہی میں بھولا ہوں ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کہا: تب تو آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا حقیقت وہی ہے جو ذوالیدین کہتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ آگے بڑھے اور دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے کئے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سَهَا فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقَصُرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ؟ قَالَ " مَا قَصُرَتْ وَمَا نَسِيتُ " . قَالَ إِنَّكَ صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ . قَالَ " أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " . قَالُوا نَعَمْ . فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ. ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ .
#1214
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) led us in one of the afternoon prayers, and he prayed two Rak’ah, then he said the Salam. Then he stood up and went to a piece of wood in the mosque, and leaned against it. Those who were in a hurry left the mosque, saying that the prayer had been shortened. Among the people were Abu Bakr and ‘Umar, but they dared not say anything. Among the people there was also a man with long hands who was called Dhul- Yadain. He said: ‘O Messenger of Allah, has the prayer been shortened or did you forget?’ He said: ‘It has not been shortened and I did not forget.’ He said: ‘But you prayed two Rak’ah.’ He said: ‘Is what Dhul- Yadain says true?’ They said: ‘Yes.’ So he went forward and performed two Rak’ah and said the Salam, then he prostrated twice, and then he said the Salam again.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء ( یعنی زوال کے بعد کی دو نمازوں ظہر یا عصر ) میں سے کوئی نماز دو ہی رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے، جلد باز لوگ تو یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم ہو گئی، مقتدیوں میں ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کہنے کی ہمت نہ کر سکے، لوگوں میں ذوالیدین نامی ایک لمبے ہاتھوں والے آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ تو وہ کم ہوئی، نہ میں بھولا ہوں تو انہوں نے کہا: آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ایسا ہی ہے جیسا کہ ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟ ، تو لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِحْدَى صَلاَتَىِ الْعَشِيِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ كَانَتْ فِي الْمَسْجِدِ يَسْتَنِدُ إِلَيْهَا فَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ يَقُولُونَ قَصُرَتِ الصَّلاَةُ . وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَهَابَاهُ أَنْ يَقُولاَ لَهُ شَيْئًا وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ طَوِيلُ الْيَدَيْنِ يُسَمَّى ذَا الْيَدَيْنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقَصُرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ " لَمْ تَقْصُرْ وَلَمْ أَنْسَ " . قَالَ فَإِنَّمَا صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ . فَقَالَ " أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ .
#1215
Sahih
It was narrated that ‘Imran bin Husain said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said the Salam after three Rak’ah for ‘Asr, then he stood up and went into the apartment. Khirbaq, a man with big hands, stood up and called out: ‘O Messenger of Allah! Has the prayer been shortened?’ He came out angrily, dragging his lower garment, and asked about it, and was told (what had happened). So he performed the Rak’ah that he had omitted, then he said the Salam, then he prostrated twice and said the Salam again.”
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر میں تین ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر اٹھے اور حجرہ میں تشریف لے گئے، تو لمبے ہاتھوں والے خرباق ( رضی اللہ عنہ ) کھڑے ہوئے اور پکارا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ کی حالت میں اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے نکلے، اور لوگوں سے پوچھا، تو اس کے بارے میں آپ کو خبر دی گئی، تو آپ نے چھوٹی ہوئی ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي ثَلاَثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَةَ فَقَامَ الْخِرْبَاقُ رَجُلٌ بَسِيطُ الْيَدَيْنِ فَنَادَى يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقَصُرَتِ الصَّلاَةُ؟ فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ إِزَارَهُ. فَسَأَلَ، فَأُخْبِرَ. فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَ الَّتِي كَانَ تَرَكَ. ثُمَّ سَلَّمَ. ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ. ثُمَّ سَلَّمَ .
#1216
Hasan Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“The Satan comes to any one of you while he is praying and comes between him and his soul, until he does not know whether he as added something or omitted something. If that happens, then he should prostrate twice before the Salam, then he should say the Salam.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان تم میں سے کسی کے پاس نماز کی حالت میں آتا ہے، اور انسان اور اس کے دل کے درمیان داخل ہو کر وسوسے ڈالتا ہے، یہاں تک کہ آدمی نہیں جان پاتا کہ اس نے زیادہ پڑھی یا کم پڑھی، جب ایسا ہو تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے، پھر سلام پھیرے ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فِي صَلاَتِهِ، فَيَدْخُلُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نَفْسِهِ حَتَّى لاَ يَدْرِي زَادَ أَوْ نَقَصَ. فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ. ثُمَّ يُسَلِّمْ " .
#1217
Hasan Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“The Satan comes between the son of Adam and his soul, and he does not know how many Rak’ah he has prayed. If a person notices that, then let him prostrate twice before he says the Salam.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان انسان اور اس کے دل کے درمیان داخل ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی؟ جب ایسا ہو تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ بَيْنَ ابْنِ آدَمَ وَبَيْنَ نَفْسِهِ فَلاَ يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ " .
#1218
Sahih
It was narrated from ‘Alqamah that Ibn Mas’ud prostrated twice for the prostrations of forgetfulness after the Salam, and he mentioned that the Prophet (ﷺ) did that.”
علقمہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کئے، اور بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلاَمِ وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَعَلَ ذَلِكَ .
#1219
Hasan
It was narrated that Thawban said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘For every mistake there are two prostrations, after saying the Salam.’”
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ہر سہو میں سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَة��، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ سَالِمٍ الْعَنْسِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " فِي كُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ " .
#1220
Hasan Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Prophet (ﷺ) came out to pray and said the Takbir, then he gestured to them to wait. He went and took a bath, and his head was dripping with water while he led them in prayer. When he finished he said: ‘I came out to you in a state of sexual impurity, and I forgot until I had started to pray.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نکلے اور آپ نے «الله أكبر» کہا، پھر لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں، لوگ ٹھہرے رہے، پھر آپ گھر گئے اور غسل کر کے آئے، آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میں تمہارے پاس جنابت کی حالت میں نکل آیا تھا، اور غسل کرنا بھول گیا تھا یہاں تک کہ نماز کے لیے کھڑا ہو گیا ۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى التَّيْمِيُّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلَى الصَّلاَةِ وَكَبَّرَ ثُمَّ أَشَارَ إِلَيْهِمْ فَمَكَثُوا ثُمَّ انْطَلَقَ فَاغْتَسَلَ وَكَانَ رَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً فَصَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " إِنِّي خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ جُنُبًا. وَإِنِّي نَسِيتُ حَتَّى قُمْتُ فِي الصَّلاَةِ " .
#1221
Daif
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever vomits, has a nosebleed, belches, or emits prostatic fluid, should stop praying; perform ablution, then resume his prayer, and while he is in that state he should not speak.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے نماز میں قے، نکسیر، منہ بھر کر پانی یا مذی آ جائے تو وہ لوٹ جائے، وضو کرے پھر اپنی نماز پر بنا کرے، لیکن اس دوران کسی سے کلام نہ کرے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ أَصَابَهُ قَىْءٌ أَوْ رُعَافٌ أَوْ قَلَسٌ أَوْ مَذْىٌ، فَلْيَنْصَرِفْ، فَلْيَتَوَضَّأْ. ثُمَّ لْيَبْنِ عَلَى صَلاَتِهِ، وَهُوَ فِي ذَلِكَ لاَ يَتَكَلَّمُ " .
#1222
Sahih
It was narrated from ‘Aishah that the Prophet (ﷺ) said:“When anyone of you performs prayer and commits Hadath, (passing wind) let him take hold of his nose, then leave.” Another chain with similar wording
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی شخص کو نماز میں حدث ہو جائے، تو اپنی ناک پکڑ لے اور چلا جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عَبِيدَةَ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَأَحْدَثَ، فَلْيُمْسِكْ عَلَى أَنْفِهِ، ثُمَّ لْيَنْصَرِفْ " . حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ .
#1223
Sahih
It was narrated that ‘Imran bin Husain said:“I suffered from Nasur* and I asked the Prophet (ﷺ) about prayer. He said: ‘Perform prayer standing; if you cannot, then sitting; and if you cannot then while lying on your side.’”
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے ناسور ۱؎ کی بیماری تھی، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو، اور اگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ كَانَ بِي النَّاصُورُ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الصَّلاَةِ فَقَالَ " صَلِّ قَائِمًا. فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا. فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ، فَعَلَى جَنْبٍ " .
#1224
Daif
It was narrated that Wa’il bin Hujr said:“I saw the Prophet (ﷺ) performing prayer while sitting on his right side when he was sick.”
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے دائیں پہلو پر بیٹھ کر نماز پڑھی، اس وقت آپ بیمار تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلَّى جَالِسًا عَلَى يَمِينِهِ وَهُوَ وَجِعٌ .
#1225
Sahih
It was narrated that Umm Salamah said:‘By the One Who took his soul (i.e., the soul of the Prophet (ﷺ)), he did not die until he offered most of his prayers sitting down. And the dearest of the actions to him was the righteous action that the person does regularly, even if it were a little.”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کو قبض کیا، آپ وفات سے پہلے اکثر بیٹھ کر نمازیں پڑھا کرتے تھے، اور آپ کو وہ نیک عمل انتہائی محبوب اور پسندیدہ تھا جس پر بندہ ہمیشگی اختیار کرے، خواہ وہ تھوڑا ہی ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ وَالَّذِي ذَهَبَ بِنَفْسِهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَا مَاتَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلاَتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ وَكَانَ أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَيْهِ الْعَمَلَ الصَّالِحَ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا .