#101
Sahih
It was narrated that Anas said:"It was said: 'O Messenger of Allah, which of the people is most beloved to you?' He said: "Aishah.' It was asked, 'And among men?' He said: 'Her father
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ ، عرض کیا گیا: مردوں میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے والد ( ابوبکر ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ " عَائِشَةُ " . قِيلَ مِنَ الرِّجَالِ قَالَ " أَبُوهَا " .
#102
Sahih
It was narrated that 'Abdullah bin Shaqiq said:"I said to 'Aishah: 'Which of the (Prophet's) Companions was most beloved to him?' She said: 'Abu Bakr.' I said: 'Then which of them?' She said: ''Umar.' I said: 'Then which of them?' She said: 'Abu 'Ubaidah
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں آپ کو سب سے زیادہ کون محبوب تھا؟ کہا: ابوبکر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ کہا: عمر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ کہا: ابوعبیدہ ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَىُّ أَصْحَابِهِ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ قَالَتْ أَبُو بَكْرٍ . قُلْتُ ثُمَّ أَيُّهُمْ قَالَتْ عُمَرُ . قُلْتُ ثُمَّ أَيُّهُمْ قَالَتْ أَبُو عُبَيْدَةَ .
#103
Very Daif
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"When 'Umar became Muslim, Jibril came down and said: 'O Muhammed! The people of heaven are rejoicing because of 'Umar's Islam
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور کہا: اے محمد! عمر کے قبول اسلام سے آسمان والے بہت ہی خوش ہوئے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ الْحَوْشَبِيُّ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ نَزَلَ جِبْرِيلُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ لَقَدِ اسْتَبْشَرَ أَهْلُ السَّمَاءِ بِإِسْلاَمِ عُمَرَ .
#104
Daif
It was narrted that Ubayy bin Ka'b said:"The Messenger of Allah said: 'The first person with whom Allah will shake hands will be 'Umar, (and he is) the first person to be greeted with the Salam, and the first person who will be taken by the hand and admitted into Paradise
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حق تعالیٰ سب سے پہلے قیامت کے دن عمر سے مصافحہ کریں گے، اور سب سے پہلے انہیں سے سلام کریں گے، اور سب سے پہلے ان کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کریں گے ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ عَطَاءٍ الْمَدِينِيُّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُهُ الْحَقُّ عُمَرُ وَأَوَّلُ مَنْ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ وَأَوَّلُ مَنْ يَأْخُذُ بِيَدِهِ فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ " .
#105
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah said: 'O Allah! Strengthen Islam with 'Umar bin Khattab in particular
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اسلام کو خاص طور سے عمر بن خطاب کے ذریعہ عزت و طاقت عطا فرما ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو عُبَيْدٍ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْمَاجِشُونِ، حَدَّثَنِي الزَّنْجِيُّ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اللَّهُمَّ أَعِزَّ الإِسْلاَمَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً " .
#106
Sahih
It was narrated that 'Abdullah bin Salimah said:"I heard 'Ali say: 'The best of people after the Messenger of Allah is Abu Bakr, and the best of people after Abu Bakr is 'Umar
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر ابوبکر ہیں، اور ان کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر عمر ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَبُو بَكْرٍ وَخَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ .
#107
Sahih
Abu Hurairah said:"We were sitting with the Prophet and he said: 'While I was sleeping I saw myself in Paradise (in a dream), and I saw a woman performing ablution beside a palace. I asked: "Whose palace is this?" She said: "'Umar's." I remembered his protective jealousy, so I turned away and left.'" Abu Hurairah said: ''Umar wept and said: 'May my father and mother be sacrificed for you, O Messenger of Allah! Would I feel any protective jealousy against you?
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، آپ نے فرمایا: اس اثنا میں کہ میں سویا ہوا تھا، میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا، پھر اچانک میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ ایک محل کے کنارے وضو کر رہی ہے، میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ اس عورت نے کہا: عمر کا ( مجھے عمر کی غیرت یاد آ گئی تو میں پیٹھ پھیر کر واپس ہو گیا ) ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا میں آپ سے غیرت کروں گا؟ ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ فَقَالَتْ لِعُمَرَ . فَذَكَرْتَ غَيْرَتَهُ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَبَكَى عُمَرُ فَقَالَ أَعَلَيْكَ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَارُ
#108
Sahih
It was narrated that Abu Dharr said:"I heard the Messenger of Allah say: 'Allah has placed the truth on the tongue of 'Umar, and he speaks with that (truth)
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان پر حق رکھ دیا ہے، وہ حق ہی بولتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ " .
#109
Daif
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah said: "Every Prophet will have a friend in Paradise, and my friend there will be 'Uthman bin 'Affan
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ( ساتھی ) ہے، اور میرے رفیق ( ساتھی ) اس میں عثمان بن عفان ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَرَفِيقِي فِيهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ " .
#110
Daif
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet met 'Uthman at the door of the mosque and said: "O 'Uthman! Jibril has told me that Allah married you to Umm Kulthum for a dowry like that of Ruqayyah, provided that you treat her as you treated Ruqayyah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان رضی اللہ عنہ سے مسجد کے دروازے پر ملے، اور فرمایا: عثمان! یہ جبرائیل ہیں انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی شادی ام کلثوم سے رقیہ کے مہر مثل پر کر دی ہے، اس شرط پر کہ تم ان کو بھی اسی خوبی سے رکھو جس طرح اسے ( رقیہ کو ) رکھتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَقِيَ عُثْمَانَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ " يَا عُثْمَانُ هَذَا جِبْرِيلُ أَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ قَدْ زَوَّجَكَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِمِثْلِ صَدَاقِ رُقَيَّةَ عَلَى مِثْلِ صُحْبَتِهَا " .
#111
Sahih
It was narrated that Ka'b bin 'Ujrah said:"The Messenger of Allah mentioned a Fitnah (tribulation) that had drawn nigh. Then a man passed by with his head covered. The Messenger of Allah said: 'On that day, this man will be following right guidance.' I leapt up and took hold of 'Uthman's arms, then I turned to face the Messenger of Allah and said: 'This man?' He said: 'This man
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر کیا کہ وہ جلد ظاہر ہو گا، اسی درمیان ایک شخص اپنا سر منہ چھپائے ہوئے گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص ان دنوں ہدایت پر ہو گا ، کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں تیزی سے اٹھا، اور عثمان رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھے پکڑ لیے، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب رخ کر کے کہا: کیا یہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہی ہیں ( جو ہدایت پر ہوں گے ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ رَأْسُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى " . فَوَثَبْتُ فَأَخَذْتُ بِضَبْعَىْ عُثْمَانَ ثُمَّ اسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقُلْتُ هَذَا قَالَ " هَذَا " .
#112
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:The Messenger of Allah said: "O 'Uthman, if Allah places you in authority over this matter (as the caliph) some day and the hypocrites want to rid you of the garment with which Allah has clothed you (i.e., the position of caliph), do not take it off." He said that three times. (One of the narrators) Nu'man said: "I said to 'Aishah: 'What kept you from telling the people that?' She said: 'I was made to forget it
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عثمان! اگر اللہ تعالیٰ کبھی تمہیں اس امر یعنی خلافت کا والی بنائے، اور منافقین تمہاری وہ قمیص اتارنا چاہیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں پہنائی ہے، تو اسے مت اتارنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی۔ نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: پھر آپ نے یہ بات لوگوں کو بتائی کیوں نہیں؟ تو وہ بولیں: میں اسے بھلا دی گئی تھی ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَا عُثْمَانُ إِنْ وَلاَّكَ اللَّهُ هَذَا الأَمْرَ يَوْمًا فَأَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ أَنْ تَخْلَعَ قَمِيصَكَ الَّذِي قَمَّصَكَ اللَّهُ فَلاَ تَخْلَعْهُ " . يَقُولُ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ . قَالَ النُّعْمَانُ فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا مَنَعَكِ أَنْ تُعْلِمِي النَّاسَ بِهَذَا قَالَتْ أُنْسِيتُهُ وَاللَّهِ .
#113
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"When he was ill, the Messenger of Allah said: 'I would like to have some of my Companions with me.' We said: 'O Messenger of Allah! Shall we call Abu Bakr for you?' But he remained silent. We said: 'Shall we call 'Umar for you?' But he remained silent. We said: 'Shall we call 'Uthman for you?' He said: 'Yes.' So 'Uthman came and he spoke to him in private. The Prophet started to speak to him and 'Uthman's expression changed." Qais said: "Abu Sahlah, the freed slave of 'Uthman, narrated to me that on the Day of the House, 'Uthman bin 'Affan said: 'The Messenger of Allah told me what would come to pass and now I am coming to that day.'"In his narration of the Hadith, 'Ali (one of the narrators) said (that he said): "And I am going to bear it with patience." Qais said: "They used to think that that was the Day of the House
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: میری خواہش یہ ہے کہ میرے پاس میرے صحابہ میں سے کوئی ہوتا ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ابوبکر کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عمر کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عثمان کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، تو وہ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے تنہائی میں باتیں کرنے لگے، اور عثمان رضی اللہ عنہ کا چہرہ بدلتا رہا۔ قیس کہتے ہیں: مجھ سے عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام ابوسہلۃ نے بیان کیا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے جس دن ان پر حملہ کیا گیا کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جو عہد لیا تھا میں اسی کی طرف جا رہا ہوں۔ علی بن محمد نے اپنی حدیث میں: «وأنا صابر عليه» کہا ہے، یعنی: میں اس پر صبر کرنے والا ہوں۔ قیس بن ابی حازم کہتے ہیں: اس کے بعد سب لوگوں کا خیال تھا کہ اس گفتگو سے یہی دن مراد تھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي مَرَضِهِ " وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي بَعْضَ أَصْحَابِي " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ فَسَكَتَ قُلْنَا أَلاَ نَدْعُو لَكَ عُمَرَ فَسَكَتَ قُلْنَا أَلاَ نَدْعُو لَكَ عُثْمَانَ قَالَ " نَعَمْ " . فَجَاءَ عُثْمَانُ فَخَلاَ بِهِ فَجَعَلَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُكَلِّمُهُ وَوَجْهُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ . قَالَ قَيْسٌ فَحَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ يَوْمَ الدَّارِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَهِدَ إِلَىَّ عَهْدًا وَأَنَا صَائِرٌ إِلَيْهِ . وَقَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ وَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ . قَالَ قَيْسٌ فَكَانُوا يُرَوْنَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ .
#114
Sahih
It was narrated that 'Ali said:"The Unlettered Prophet informed me (saying) that none but a believer would love me and none but a hypocrite would hate me
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی امّی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا، مجھ سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ عَهِدَ إِلَىَّ النَّبِيُّ الأُمِّيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ لاَ يُحِبُّنِي إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلاَ يُبْغِضُنِي إِلاَّ مُنَافِقٌ .
#115
Sahih
Sa'd bin Abu Waqqas narrated from his father that:The Prophet said to 'Ali: "Would it not please you to be to me as Harun was to Musa?
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ تم میری طرف سے ایسے ہی رہو جیسے ہارون موسیٰ کی طرف سے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ قَالَ لِعَلِيٍّ " أَلاَ تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى " .
#116
Sahih
It was narrated that Bara' bin 'Azib said:"We returned with the Messenger of Allah from his Hajj that he had performed, and we stopped at some point on the road. He commanded that prayer should be performed in congregation, then he took the hand of 'Ali and said: 'Am I not dearer to the believers than their own selves?' They said: 'Yes indeed.' He said: 'Am I not dearer to every believer than his own self?' They said: 'Yes indeed.' He said: 'This man is the friend of those whose master I am.' O Allah, take as friends those who take him as a friend, and take as enemies those who take him as an enemy
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر آئے، آپ نے راستے میں ایک جگہ نزول فرمایا اور عرض کیا:«الصلاة جامعة»، یعنی سب کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا، پھر علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: کیا میں مومنوں کی جانوں کا مومنوں سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں ہر مومن کا اس کی جان سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ( علی ) دوست ہیں اس کے جس کا میں دوست ہوں، اے اللہ! جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ، جو علی سے عداوت رکھے تو اس سے عداوت رکھ ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أَخَبَرَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّ فَنَزَلَ فِي الطَّرِيقِ فَأَمَرَ الصَّلاَةَ جَامِعَةً فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ " أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ " . قَالُوا بَلَى . قَالَ " أَلَسْتُ أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ " . قَالُوا بَلَى . قَالَ " فَهَذَا وَلِيُّ مَنْ أَنَا مَوْلاَهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاَهُ اللَّهُمَّ عَادِ مَنْ عَادَاهُ " .
#117
Hasan
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Abu laila said:"Abu Laila used to travel with 'Ali, and he used to wear summer clothes in winter and winter clothes in summer. We said: 'Why don't you ask him (about that)?' He said: "The Messenger of Allah sent for me and my eyes were sore, on the Day of Khaibar. I said: 'O Messenger of Allah, my eyes are sore.' He put some spittle into my eyes, then he said: 'O Allah, take heat and cold away from him.' I never felt hot or cold again after that day. He (the Prophet) said: 'I will send a man who loves Allah and His Messenger, and whom Allah and His Messenger love, and he is not one who flees from the battlefield.' The people craned their necks to see, and he sent for 'Ali and gave it (the banner) to him
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں ابولیلیٰ رات میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کیا کرتے تھے، اور علی رضی اللہ عنہ گرمی کے کپڑے جاڑے میں اور جاڑے کے کپڑے گرمی میں پہنا کرتے تھے، ہم نے ابولیلیٰ سے کہا: کاش آپ ان سے اس کا سبب پوچھتے تو بہتر ہوتا، پوچھنے پر علی رضی اللہ عنہ نے ( جواباً ) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غزوہ خیبر کے موقع پر اپنے پاس بلا بھیجا، اس وقت میری آنکھ دکھ رہی تھی، اور ( حاضر خدمت ہو کر ) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری آنکھیں آئی ہوئی ہیں، میں مبتلا ہوں، آپ نے میری آنکھوں میں لعاب دہن لگایا، پھر دعا فرمائی: اے اللہ اس سے سردی اور گرمی کو دور رکھ ۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس دن کے بعد سے آج تک میں نے سردی اور گرمی کو محسوس ہی نہیں کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایسے آدمی کو ( جہاد کا قائد بنا کر ) بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں، اور وہ میدان جنگ سے بھاگنے والا نہیں ہے ۔ لوگ ایسے شخص کو دیکھنے کے لیے گردنیں اونچی کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا، اور جنگ کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں دے دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ كَانَ أَبُو لَيْلَى يَسْمُرُ مَعَ عَلِيٍّ فَكَانَ يَلْبَسُ ثِيَابَ الصَّيْفِ فِي الشِّتَاءِ وَثِيَابَ الشِّتَاءِ فِي الصَّيْفِ فَقُلْنَا لَوْ سَأَلْتَهُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَعَثَ إِلَىَّ وَأَنَا أَرْمَدُ الْعَيْنِ يَوْمَ خَيْبَرَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرْمَدُ الْعَيْنِ . فَتَفَلَ فِي عَيْنِي ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ " . قَالَ فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلاَ بَرْدًا بَعْدَ يَوْمِئِذٍ . وَقَالَ " لأَبْعَثَنَّ رَجُلاً يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ لَيْسَ بِفَرَّارٍ " . فَتَشَوَّفَ لَهَا النَّاسُ فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ .
#118
Sahih
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah said: 'Hasan and Husain will be the leaders of the youth of Paradise, and their father is better than them
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن و حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور ان کے والد ان سے بہتر ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا " .
#119
Hasan
It was narrated that Hubshi bin Junadah said:"I heard the Messenger of Allah say: ''Ali is part of me and I am part of him, and no one will represent me except 'Ali
حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: علی مجھ سے ہیں، اور میں ان سے ہوں، اور میری طرف سے اس پیغام کو سوائے علی کے کوئی اور پہنچا نہیں سکتا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، قَالُوا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَلاَ يُؤَدِّي عَنِّي إِلاَّ عَلِيٌّ " .
#120
Daif
It was narrated that 'Abbad bin 'Abdullah said:"'Ali said: 'I am the slave of Allah and the brother of His Messenger. I am the greatest teller of the truth (Siddiq Akbar), and no one will say this after me except a liar. I prayed seven years before the people
عباد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھائی ہوں، اور میں صدیق اکبر ہوں، میرے بعد اس فضیلت کا دعویٰ جھوٹا شخص ہی کرے گا، میں نے سب لوگوں سے سات برس پہلے نماز پڑھی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا الْعَلاَءُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ، وَأَخُو، رَسُولِهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَنَا الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ، لاَ يَقُولُهَا بَعْدِي إِلاَّ كَذَّابٌ صَلَّيْتُ قَبْلَ النَّاسِ لِسَبْعِ سِنِينَ .
#121
Sahih
It was narrated that Sa`d bin Waqqas said:"Mu`awiyah came on one of his pilgrimages and Sa`d entered upon him. They mentioned `Ali, and Mu`awiyah criticized him. Sa`d became angry and said: 'Are you saying this of a man of whom I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "If I am a person's close friend, `Ali is also his close friend." And I heard him say: "You are to me like Harun was to Musa, except that there will be no Prophet after me." And I heard him say: "I will give the banner today to a man who loves Allah and His Messenger
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ایک سفر حج میں آئے تو سعد رضی اللہ عنہ ان کے پاس ملنے آئے، لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کو نامناسب الفاظ سے یاد کیا، اس پر سعد رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے اور بولے: آپ ایسا اس شخص کی شان میں کہتے ہیں جس کے بارے میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس کا مولیٰ میں ہوں، علی اس کے مولیٰ ہیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے یہ بھی سنا: تم ( یعنی علی ) میرے لیے ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ، نیز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آج میں لڑائی کا جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ، - وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ - عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ فِي بَعْضِ حَجَّاتِهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدٌ فَذَكَرُوا عَلِيًّا فَنَالَ مِنْهُ فَغَضِبَ سَعْدٌ وَقَالَ تَقُولُ هَذَا لِرَجُلٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " مَنْ كُنْتُ مَوْلاَهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاَهُ " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلاَّ أَنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلاً يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
#122
Sahih
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah said on the Day of Quraizah: 'Who will bring us news of the people?' Zubair said: 'I will.' The Prophet said: 'Who will bring us news of the people?' Zubair said: 'I will,' three times. Every Prophet has a Hawari (sincere supporter or disciple) and my Hawari is Zubair
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ قریظہ پر حملے کے دن فرمایا: کون ہے جو میرے پاس قوم ( یعنی یہود بنی قریظہ ) کی خبر لائے؟، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میرے پاس قوم کی خبر لائے؟ ، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، یہ سوال و جواب تین بار ہوا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے حواری ( خاص مددگار ) ہوتے ہیں، اور میرے حواری ( خاص مددگار ) زبیر ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمَ قُرَيْظَةَ " مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ " . فَقَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا . فَقَالَ " مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ " . قَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا . ثَلاَثًا فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ " .
#123
Sahih
It was narrated that Zubair said:"The Messenger of Allah named his parents together for me on the Day of Uhud
زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد ۱؎ کے دن میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کو جمع کیا ۲؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ .
#124
Sahih
It was narrated from Hisham bin 'Urwah that his father said:''Aishah said to me: 'O 'Urwah, your two fathers were of those who answered (the Call of) Allah and the Messenger (Muhammed) after being wounded," (they were) Abu Bakr and Zubair
عروہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عروہ! تمہارے نانا ( ابوبکر ) اور والد ( زبیر ) ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما أصابهم القرح» جن لوگوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا ( سورة آل عمران: 172 ) ، یعنی ابوبکر اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَهَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ يَا عُرْوَةُ كَانَ أَبَوَاكَ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ أَبُو بَكْرٍ وَالزُّبَيْرُ .
#125
Sahih
It was narrated from Jabir that:Talhah passed by the Prophet and he said: "A martyr walking upon the face of the earth
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شہید ہیں جو روئے زمین پر چل رہے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ طَلْحَةَ، مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " شَهِيدٌ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ " .