#76
Sahih
Abdullah bin Mas'ud said:"The Messenger of Allah (ﷺ), the true and truly inspired one, told us that: 'The creation of one of you is put together in his mother's womb for forty days, then it becomes a clot for a similar length of time, then it becomes a chewed lump of flesh for a similar length of time. Then Allah sends the angel to him and commands him to write down four things. He says: "Write down his deeds, his life span, his provision, and whether he is doomed (destined for Hell) or blessed (destined for Paradise)." By the One in Whose Hand is my soul! One of you may do the deeds of the people of Paradise until there is no more than a forearm's length between him and it, then the decree overtakes him and he does the deeds of the people of Hell until there is no more than a forearm's length between him and it, then the decree overtakes him and he does the deeds of the people of Paradise until he enters therein
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو صادق و مصدوق ( یعنی جو خود سچے ہیں اور سچے مانے گئے ہیں ) نے بیان کیا کہ پیدائش اس طرح ہے کہ تم میں سے ہر ایک کا نطفہ خلقت ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع رکھا جاتا ہے، پھر وہ چالیس دن تک جما ہوا خون رہتا ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کا ٹکڑا ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس چار باتوں کا حکم دے کر ایک فرشتہ بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس فرشتہ سے کہتا ہے: اس کا عمل، اس کی مدت عمر، اس کا رزق، اور اس کا بدبخت یا نیک بخت ہونا لکھو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی جنت والوں کا عمل کر رہا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس پر اس کا مقدر غالب آ جاتا ہے ( یعنی لکھی ہوئی تقدیر غالب آ جاتی ہے ) ، اور وہ جہنم والوں کا عمل کر بیٹھتا ہے، اور اس میں داخل ہو جاتا ہے، اور تم میں سے کوئی جہنم والوں کا عمل کر رہا ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، کہ اس پر لکھی ہوئی تقدیر غالب آ جاتی ہے، اور وہ جنت والوں کا عمل کرنے لگتا ہے، اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ قَالَ " يُجْمَعُ خَلْقُ أَحَدِكُمْ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ إِلَيْهِ الْمَلَكَ فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ فَيَقُولُ اكْتُبْ عَمَلَهُ وَأَجَلَهُ وَرِزْقَهُ وَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ . فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلاَّ ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلاَّ ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا " .
#77
Sahih
It was narrated that Ibn Dailami said:"I was confused about this Divine Decree (Qadar), and I was afraid lest that adversely affect my religion and my affairs. So I went to Ubayy bin Ka'b and said: 'O Abu Mundhir! I am confused about the Divine Decree, and I fear for my religion and my affairs, so tell me something about that through which Allah may benefit me.' He said: 'If Allah were to punish the inhabitants of His heavens and of his earth, He would do so and He would not be unjust towards them. And if He were to have mercy on them, His mercy would be better for them than their own deeds. If you had the equivalent of Mount Uhud which you spent in the cause of Allah, that would not be accepted from you until you believed in the Divine Decree and you know that whatever has befallen you, could not have passed you by; and whatever has passed you by, could not have befallen you; and that if you were to die believing anything other than this, you would enter Hell. And it will not harm you to go to my brother, 'Abdullah bin Mas'ud, and ask him (about this).' So I went to 'Abdullah and asked him , and he said something similar to what Ubayy had said, and he told me: 'It will not harm you to go to Hudhaifah.' So I went to Hudhaifah and asked him, and he said something similar to what they had said. And he told me: 'Go to Zaid bin Thabit and ask him.' So I went to Zaid bun Thabit and asked him, and he said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "If Allah were to punish the inhabitants of His heavens and of His earth, he would do so and He would not be unjust towards them. And if He were to have mercy on them, His mercy would be better for them than their own deeds. If you had the equivalent of Mount Uhud which you spent in the cause of Allah, that would not be accepted from you until you believed in the Divine Decree and you know that whatever has befallen you, could not have passed you by; and whatever has passed you by, could not have befallen you; and that if you were to die believing anything other than this, you would enter Hell
عبداللہ بن فیروز دیلمی کہتے ہیں کہ میرے دل میں اس تقدیر کے سلسلے میں کچھ شبہات پیدا ہوئے، اور مجھے ڈر لاحق ہوا کہ کہیں یہ شبہات میرے دین اور میرے معاملے کو خراب نہ کر دیں، چنانچہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور عرض کیا: ابوالمنذر! میرے دل میں اس تقدیر کے سلسلے میں کچھ شبہات وارد ہوئے ہیں، مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرا دین اور میرا معاملہ خراب نہ ہو جائے، لہٰذا آپ اس سلسلہ میں مجھ سے کچھ بیان کریں تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے کچھ فائدہ پہنچائے، انہوں نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان و زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو انہیں عذاب دے سکتا ہے، اور وہ ظالم نہیں ہو گا، اور اگر ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے حق میں ان کے اعمال سے زیادہ بہتر ہے، اور اگر تمہارے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو ( یا کہا: احد پہاڑ کے برابر مال ہو ) اور تم اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دو، تو یہ اس وقت تک قبول نہیں ہو گا جب تک کہ تم تقدیر پہ ایمان نہ لاؤ، تم یہ یقین رکھو کہ جو ( خیر و شر ) تمہیں پہنچا وہ تم سے چوکنے والا نہ تھا، اور جو تمہیں نہیں پہنچا وہ تمہیں پہنچنے والا نہیں تھا ۱؎، اور اگر تم اس اعتقاد کے علاوہ پر مرے تو جہنم میں داخل ہو گے، اور کوئی حرج نہیں کہ تم میرے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو، عبداللہ بن فیروز دیلمی کہتے ہیں: میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے پوچھا، تو انہوں نے بھی وہی بتایا جو ابی رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا، اور مجھ سے کہا: کوئی مضائقہ نہیں کہ تم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ۔ چنانچہ میں حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی وہی بتایا جو ان دونوں ( ابی بن کعب اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے بتایا تھا، اور انہوں نے کہا: تم زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے بھی پوچھ لو۔ چنانچہ میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے بھی پوچھا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان و زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو انہیں عذاب دے سکتا ہے، اور وہ ظالم نہیں ہو گا، اور اگر ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے حق میں ان کے اعمال سے بہتر ہے، اور اگر تمہارے پاس احد کے برابر سونا یا احد پہاڑ کے برابر سونا ہو، اور تم اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو وہ اس وقت تک تمہاری جانب سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول نہ ہو گا جب تک کہ تم پوری تقدیر پہ کلی طور پر ایمان نہ لاؤ، اور تم یہ یقین رکھو کہ جو ( خیر و شر ) تمہیں پہنچا ہے تم سے چوکنے والا نہ تھا، اور جو تم سے چوک گیا وہ تمہیں پہنچنے والا نہیں تھا، اور اگر تم اس عقیدہ کے علاوہ پر مرے تو جہنم میں داخل ہو گے ۲؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سِنَانٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ خَالِدٍ الْحِمْصِيِّ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ وَقَعَ فِي نَفْسِي شَىْءٌ مِنْ هَذَا الْقَدَرِ خَشِيتُ أَنْ يُفْسِدَ عَلَىَّ دِينِي وَأَمْرِي فَأَتَيْتُ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ فَقَلْتُ أَبَا الْمُنْذِرِ إِنَّهُ قَدْ وَقَعَ فِي قَلْبِي شَىْءٌ مِنْ هَذَا الْقَدَرِ فَخَشِيتُ عَلَى دِينِي وَأَمْرِي فَحَدِّثْنِي مِنْ ذَلِكَ بِشَىْءٍ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ . فَقَالَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ وَلَوْ رَحِمَهُمْ لَكَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ . وَلَوْ كَانَ لَكَ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ ذَهَبًا أَوْ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ تُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا قُبِلَ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ . فَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ . وَأَنَّكَ إِنْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا دَخَلْتَ النَّارَ وَلاَ عَلَيْكَ أَنْ تَأْتِيَ أَخِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَتَسْأَلَهُ . فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ فَسَأَلْتُهُ فَذَكَرَ مِثْلَ مَا قَالَ أُبَىٌّ وَقَالَ لِي وَلاَ عَلَيْكَ أَنْ تَأْتِيَ حُذَيْفَةَ . فَأَتَيْتُ حُذَيْفَةَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالاَ وَقَالَ ائْتِ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَاسْأَلْهُ . فَأَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " لَوْ أَنَّ اللَّهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ وَلَوْ رَحِمَهُمْ لَكَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ وَلَوْ كَانَ لَكَ مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا أَوْ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ ذَهَبًا تُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا قَبِلَهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ فَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ وَأَنَّكَ إِنْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا دَخَلْتَ النَّارَ " .
#78
Sahih
It was narrated that 'Ali said:"We were sitting with the Prophet (ﷺ) and he had a stick in his hand. He scratched in the ground with it, then raised his head and said: 'There is no one among you but his place in Paradise or Hell has already been decreed.' He was asked: 'O Messenger of Allah, should we not then rely upon that?' He said: 'No, strive and do not rely upon that, for it will be made easy for each person to do that for which he was created.' Then he recited: "As for him who gives (in charity) and keeps his duty to Allah and fears Him, and believes in Al-Husna. We will make smooth for him the path of ease (goodness). But he who is a greedy miser and thinks himself self-sufficient. And denies Al-Husna. We will make smooth for him the path for evil
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زمین کو کریدا، پھر اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: جنت و جہنم میں ہر شخص کا ٹھکانہ لکھ دیا گیا ہے ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اس پر بھروسہ نہ کر لیں ( اور عمل چھوڑ دیں ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، عمل کرو، اور صرف لکھی تقدیر پر بھروسہ نہ کر کے بیٹھو، اس لیے کہ ہر ایک کو اسی عمل کی توفیق دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «فأما من أعطى واتقى وصدق بالحسنى فسنيسره لليسرى وأما من بخل واستغنى وكذب بالحسنى فسنيسره للعسرى»، یعنی: جس نے اللہ کی راہ میں دیا اپنے رب سے ڈرا، اور اچھی بات کی تصدیق کرتا رہا، تو ہم بھی اس پر سہولت کا راستہ آسان کر دیں گے، لیکن جس نے بخیلی کی، لاپرواہی برتی اور اچھی بات کو جھٹلایا تو ہم بھی اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے ( سورة الليل: 5-10 ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَبِيَدِهِ عُودٌ فَنَكَتَ فِي الأَرْضِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ " . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ نَتَّكِلُ قَالَ " لاَ اعْمَلُوا وَلاَ تَتَّكِلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " . ثُمَّ قَرَأَ {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى * وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى * فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى * وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى * وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى * فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى} .
#79
Hasan
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The strong believer is better and more beloved to Allah than the weak believer, although both are good. Strive for that which will benefit you, seek the help of Allah, and do not feel helpless. If anything befalls you, do not say, "if only I had done such and such" rather say "Qaddara Allahu wa ma sha'a fa'ala (Allah has decreed and whatever he wills, He does)." For (saying) 'If' opens (the door) to the deeds of Satan
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طاقتور مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور پیارا ہے ۱؎، دونوں میں سے ہر ایک میں خیر ہے، ہر اس چیز کی حرص کرو جو تمہیں نفع دے، اور اللہ سے مدد طلب کرو، دل ہار کر نہ بیٹھ جاؤ، اگر تمہیں کوئی نقصان پہنچے تو یہ نہ کہو: کاش کہ میں نے ایسا ویسا کیا ہوتا تو ایسا ہوتا، بلکہ یہ کہو: جو اللہ نے مقدر کیا تھا اور جو اس نے چاہا کیا، اس لیے کہ اگر مگر شیطان کے عمل کے لیے راستہ کھول دیتا ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلاَ تَعْجِزْ فَإِنْ أَصَابَكَ شَىْءٌ فَلاَ تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا . وَلَكِنْ قُلْ قَدَّرَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ فَإِنَّ " لَوْ " تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ " .
#80
Sahih
It was narrated that 'Amr bin Dinar heard Tawus say:"I heard Abu Hurairah narrating that the Prophet (ﷺ) said: 'Adam and Musa debated, and Musa said to him: "O Adam, you are our father but have deprived us and caused us to be expelled from Paradise because of your sin." Adam said to him: "O Musa, Allah chose you to speak with, and he wrote the Tawrah for you with His own Hand. Are you blaming me for something which Allah decreed for me forty years before He created me?" Thus Adam won the argument with Musa, thus Adam won the argument with Musa
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدم و موسیٰ علیہا السلام میں مناظرہ ہوا، موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں، آپ نے ہمیں ناکام و نامراد بنا دیا، اور اپنے گناہ کے سبب ہمیں جنت سے نکال دیا، تو آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: اے موسیٰ! اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنی ہم کلامی کے لیے منتخب کیا، اور تمہارے لیے اپنے ہاتھ سے تورات لکھی، کیا تم مجھ کو ایک ایسے عمل پر ملامت کرتے ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا! ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: چنانچہ آدم موسیٰ پر غالب آ گئے، آدم موسیٰ پر غالب آ گئے، آدم موسیٰ پر غالب آ گئے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ طَاوُسًا، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى فَقَالَ لَهُ مُوسَى يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ بِذَنْبِكَ . فَقَالَ لَهُ آدَمُ يَا مُوسَى اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلاَمِهِ وَخَطَّ لَكَ التَّوْرَاةَ بِيَدِهِ أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَىَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى " . ثَلاَثًا .
#81
Sahih
It was narrated that 'Ali said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'No slave truly believes until he believes in four things: in Allah alone with no partner; that I am the Messenger of Allah; in the resurrection after death; and in the Divine Decree (Qadar)
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص چار چیزوں پر ایمان لائے بغیر مومن نہیں ہو سکتا: اللہ واحد پر جس کا کوئی شریک نہیں، میرے اللہ کے رسول ہونے پر، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر، اور تقدیر پر ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ بِاللَّهِ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَبِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْقَدَرِ " .
#82
Sahih
It was narrated that 'Aishah the Mother of the Believers said:"The Messenger of Allah (ﷺ) was called to the funeral of a child from among the Ansar. I said: 'O Messenger of Allah, glad tidings for him! He is one of the little birds of Paradise, who never did evil or reached the age of doing evil (i.e, the age of accountability).' He said: 'It may not be so, O 'Aishah! For Allah created people for Paradise, He created them for it when they were still in their father's loins, And He has created people for Hell, He created them for it when they were still in their fathers' loins
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک بچے کے جنازے میں بلائے گئے، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس بچہ کے لیے مبارک باد ہو، وہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، نہ تو اس نے کوئی برائی کی اور نہ ہی برائی کرنے کا وقت پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ بات یوں نہیں ہے، بلکہ اللہ نے جنت کے لیے کچھ لوگوں کو پیدا کیا جب کہ وہ ابھی اپنے والد کی پشت میں تھے، اور جہنم کے لیے کچھ لوگوں کو پیدا کیا جب کہ وہ ابھی اپنے والد کی پشت میں تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمَّتِهِ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلَى جِنَازَةِ غُلاَمٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلِ السُّوءَ وَلَمْ يُدْرِكْهُ . قَالَ " أَوَ غَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلاً خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلاَبِ آبَائِهِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلاً خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلاَبِ آبَائِهِمْ " .
#83
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The idolators and Quraish came and disputed with the Prophet (ﷺ) concerning the Divine Decree. Then the following verse was revealed: 'The Day they will be dragged on their faces into the Fire (it will be said to them): "Taste you the touch of Hell!" Verily We have created all things with Qadar. (Divine Decree)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ مشرکین قریش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے تقدیر کے سلسلے میں جھگڑنے لگے، تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:«يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» یعنی: جس دن وہ اپنے منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے، اور ان سے کہا جائے گا: جہنم کی آگ لگنے کے مزے چکھو، بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے پر پیدا کیا ہے ( سورۃ القمر: ۴۹ ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ يُخَاصِمُونَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الْقَدَرِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ * إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ } .
#84
Daif
Abdullah bin Abi Mulaikah narrated that his father entered upon `A'ishah and said something to her about the Divine Decree:She said: "I heard The Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever says anything about the Divine decree will be questioned about that on the Day of Resurrection, and whoever does not say anything about it will not be questioned about it.'" Another chain with similar wording
عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے تقدیر کے سلسلے میں کچھ ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو تقدیر کے سلسلے میں ذرا بھی بحث کرے گا اس سے قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال کیا جائے گا، اور جو اس سلسلہ میں کچھ نہ کہے تو اس سے سوال نہیں ہو گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ لَهَا شَيْئًا مِنَ الْقَدَرِ فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " مَنْ تَكَلَّمَ فِي شَىْءٍ مِنَ الْقَدَرِ سُئِلَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ لَمْ يُسْأَلْ عَنْهُ " . قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَاهُ خَازِمُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شَيْبَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
#85
Hasan Sahih
Amr in Shu'aib narrated from his father that his grandfather said:"The Messenger of Allah (ﷺ) came out to his Companions when they were disputing about the Divine Decree, and it was as if pomegranate seeds had burst on his face (i.e. turned red) because of anger. He said: 'Have you been commanded to do this, or were you created for this purpose? You are using one part of the Qur'an against another part, and this is what led to the doom of the nations who came before you.'" 'Abdullah bin 'Amr said: "I was never happy to have missed a gathering with the Messenger of Allah (ﷺ) as I was to have missed that gathering
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس آئے، وہ لوگ اس وقت تقدیر کے بارے میں بحث کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سخت غصہ کی وجہ سے سرخ ہو گیا، گویا کہ آپ کے چہرے پر انار کے دانے نچوڑ دیئے گئے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے، یا تم اسی لیے پیدا کیے گئے ہو؟ تم قرآن کے بعض حصہ کو بعض حصہ سے ٹکرا رہے ہو، اسی وجہ سے تم سے پہلی امتیں ہلاک ہوئی ہیں ۱؎۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا بیان ہے: میں نے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے غیر حاضر ہونے کی ایسی خواہش اپنے جی میں نہیں کی جیسی اس مجلس سے غیر حاضر رہنے کی خواہش کی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَخْتَصِمُونَ فِي الْقَدَرِ فَكَأَنَّمَا يُفْقَأُ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ مِنَ الْغَضَبِ فَقَالَ " بِهَذَا أُمِرْتُمْ أَوْ لِهَذَا خُلِقْتُمْ تَضْرِبُونَ الْقُرْآنَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ . بِهَذَا هَلَكَتِ الأُمَمُ قَبْلَكُمْ " . قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو مَا غَبَطْتُ نَفْسِي بِمَجْلِسٍ تَخَلَّفْتُ فِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَا غَبَطْتُ نَفْسِي بِذَلِكَ الْمَجْلِسِ وَتَخَلُّفِي عَنْهُ.
#86
Daif
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There is no 'Adwa (contagion), no Tiyarah (evil omen) and no Hamah.' A Bedouin man stood up and said: 'O Messenger of Allah, what do you think about a camel that suffers from mange and then all other camels get mange?' He said: 'That is because of the Divine Decree. How else did the first one get mange?'" Note: The majority of scholars interpret this to mean that these things in and of themselves do not transmit or cause harm through supernatural or hidden means but that Allah is ultimately in control and any fearful superstition around these is false
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں چھوا چھوت کی بیماری، بدفالی اور الو سے بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، ایک دیہاتی شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! بتائیے اونٹ کو ( کھجلی ) ہوتی ہے، اور پھر اس سے تمام اونٹوں کو کھجلی ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی تقدیر ہے، اگر ایسا نہیں تو پہلے اونٹ کو کس نے اس میں مبتلا کیا؟ ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَلاَ هَامَةَ " . فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الْبَعِيرَ يَكُونُ بِهِ الْجَرَبُ فَيُجْرِبُ الإِبِلَ كُلَّهَا قَالَ " ذَلِكُمُ الْقَدَرُ فَمَنْ أَجْرَبَ الأَوَّلَ " .
#87
Very Daif
Sha'bi said:"When 'Adi bin Hatim came to Kufah, we came to him with a delegation of the Fuqaha of Kufah and said to him: 'Tell us of something that you heard from the Messenger of Allah (ﷺ).' He said: 'I came to the Prophet (ﷺ) and he said: "O 'Adi bin Hatim, enter Islam and you will be safe." I said, "What is Islam?" He said: "To testify to La ilaha illallah (none has the right to be worshipped but Allah) and that I am the Messenger of Allah, and to believe in all the Divine Decrees, the good of them and the bad of them, the sweet of them and the bitter of them
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں کہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ جب کوفہ آئے تو ہم اہل کوفہ کے چند فقہاء کے ساتھ ان کے پاس گئے، اور ہم نے ان سے کہا: آپ ہم سے کوئی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو وہ کہنے لگے: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے فرمایا: اے عدی بن حاتم! اسلام لے آؤ، سلامت رہو گے ، میں نے پوچھا: اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور ساری تقدیر پر ایمان لاؤ، چاہے اچھی ہو، بری ہو، میٹھی ہو، کڑوی ہو ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الْجَرَّارُ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى بْنِ أَبِي الْمُسَاوِرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ الْكُوفَةَ أَتَيْنَاهُ فِي نَفَرٍ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الْكُوفَةِ . فَقُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . فَقَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ أَسْلِمْ تَسْلَمْ " . قُلْتُ وَمَا الإِسْلاَمُ فَقَالَ " تَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَتُؤْمِنُ بِالأَقْدَارِ كُلِّهَا خَيْرِهَا وَشَرِّهَا حُلْوِهَا وَمُرِّهَا " .
#88
Sahih
It was narrated that Abu Musa Al-Ash'ari said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The likeness of the heart is that of a feather blown about by the wind in the desert
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دل کی مثال اس پر کی طرح ہے جسے ہوائیں میدان میں الٹ پلٹ کرتی رہتی ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَثَلُ الْقَلْبِ مَثَلُ الرِّيشَةِ تُقَلِّبُهَا الرِّيَاحُ بِفَلاَةٍ " .
#89
Sahih
It was narrated that Jabir said:"A man from among the Ansar came to the Prophet (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), I have a slave girl. Should I do 'Azl (coitus interruptus) with her?' He said 'Whatever is decreed for her shall come to her." He (the Ansari) came to him later on and said: "The slave girl has become pregnant." The Prophet (ﷺ) said: "Nothing is decreed for a person but it will surely come to pass
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انصار کا ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک لونڈی ہے میں اس سے عزل کرتا ہوں ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس کے مقدر میں ہو گا وہ اس کے پاس آ کر رہے گا ، کچھ دنوں کے بعد وہ آدمی حاضر ہوا اور کہا: لونڈی حاملہ ہو گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا خَالِي، يَعْلَى عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي جَارِيَةً أَعْزِلُ عَنْهَا قَالَ " سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " . فَأَتَاهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ قَدْ حَمَلَتِ الْجَارِيَةُ . فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا قُدِّرَ لِنَفْسٍ شَىْءٌ إِلاَّ هِيَ كَائِنَةٌ " .
#90
Hasan
It was narrated that Thawban said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Nothing extends one's life span but righteousness, nothing averts the Divine Decree but supplication, and nothing deprives a man of provision but the sin that he commits
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر کو نیکی کے سوا کوئی چیز نہیں بڑھاتی ۱؎، اور تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز نہیں بدلتی ہے ۲؎، اور آدمی گناہوں کے ارتکاب کے سبب رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ يَزِيدُ فِي الْعُمْرِ إِلاَّ الْبِرُّ وَلاَ يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلاَّ الدُّعَاءُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ لِلْخَطِيئَةِ يَعْمَلُهَا " .
#91
Sahih
It was narrated that Suraqah bin Ju'shum said:"I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), is one's deed in that which has already dried of the Pen and what has passed of the Divine Decree, or is it in the future?' He said: 'No, it is in that which he already dried of the Pen and what has passed of the Divine Decree, and each person is facilitated for what he has been created
سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ اعمال جو انسان سے صادر ہوتے ہیں آیا اس تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو لکھ کر قلم خشک ہو چکا ہے، اور جو جاری ہو چکی ہے؟ یا ایسے امر کے مطابق ہوتے ہیں جو آگے ہونے والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسی تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو قلم لکھ کر خشک ہو چکا ہے، اور جو جاری ہو چکی ہے، اور پھر ایک شخص کے لیے اس کی تقدیر کے مطابق وہی کام آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْعَمَلُ فِيمَا جَفَّ بِهِ الْقَلَمُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ أَوْ فِي أَمْرٍ مُسْتَقْبَلٍ قَالَ " بَلْ فِيمَا جَفَّ بِهِ الْقَلَمُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ وَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " .
#92
Hasan
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The Magicians of this Ummah are those who deny the decrees of Allah. If they fall sick, do not visit them; if they die, do not attend their funerals; and if you meet them, do not greet them with Salam
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی تقدیر کے جھٹلانے والے ہیں، اگر وہ بیمار پڑ جائیں تو تم ان کی عیادت نہ کرو، اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک نہ ہو، اور اگر ان سے ملو تو انہیں سلام نہ کرو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ مَجُوسَ هَذِهِ الأُمَّةِ الْمُكَذِّبُونَ بِأَقْدَارِ اللَّهِ إِنْ مَرِضُوا فَلاَ تَعُودُوهُمْ وَإِنْ مَاتُوا فَلاَ تَشْهَدُوهُمْ وَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ فَلاَ تُسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ " .
#93
Sahih
It was narrated that 'Abdullah said:"The Messenger of Allah said: 'I have no need of the friendship of any Khalil (close friend) but if I were to have taken anyone as a close friend, I would have taken Abu Bakr as a close friend, but your companion is the close friend of Allah,'" (One of the narrators) Waki' said: (by the phrase 'your companion'), he was referring to himself
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگاہ رہو! میں ہر خلیل ( جگری دوست ) کی دلی دوستی سے بری ہوں، اور اگر میں کسی کو خلیل ( جگری دوست ) بناتا تو ابوبکر کو بناتا، بیشک تمہارا یہ ساتھی اللہ کا خلیل ( مخلص دوست ہے ) ۱؎۔ وکیع کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھی سے اپنے آپ کو مراد لیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَلاَ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خُلَّتِهِ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلاً إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ " . قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي نَفْسَهُ .
#94
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'The wealth of none of you has benefited me as much as the wealth of Abu Bakr.'" Abu Bakr wept and said: 'O Messenger of Allah, I and my wealth are only for you, O Messenger of Allah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے کسی بھی مال نے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال نے فائدہ پہنچایا ۔ ابوہریرہ کہتے ہیں: یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور کہا: اللہ کے رسول! میں اور میرا مال سب صرف آپ ہی کا ہے، اے اللہ کے رسول! ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ " . قَالَ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ هَلْ أَنَا وَمَالِي إِلاَّ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ
#95
Sahih
It was narrated that 'Ali said:"The Messenger of Allah said: 'Abu Bakr and 'Umar are the leaders of the mature people of Paradise, and the first and the last, except for the Prophets and Messengers, but do not tell them about that, O 'Ali, as long as they are still alive
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکرو عمر نبیوں اور رسولوں کے علاوہ جملہ اولین و آخرین میں سے ادھیڑ عمر والے جنتیوں کے سردار ہوں گے، علی! جب تک وہ دونوں زندہ رہیں انہیں یہ بات نہ بتانا ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ إِلاَّ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ لاَ تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ مَا دَامَا حَيَّيْنِ " .
#96
Sahih
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"The Messenger of Allah said: 'The people of the highest degrees of Paradise will be seen by those beneath them as a rising star is seen on the horizon. Abu Bakr and 'Umar will be among them, and how blessed they are
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلند درجے والوں کو ( جنت میں ) نیچے درجہ والے دیکھیں گے جس طرح چمکتا ہوا ستارہ آسمان کی بلندیوں میں دیکھا جاتا ہے، اور ابوبکرو عمر بھی انہیں میں سے ہیں، اور ان میں سب سے فائق و برتر ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى يَرَاهُمْ مَنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ كَمَا يُرَى الْكَوْكَبُ الطَّالِعُ فِي الأُفُقِ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا " .
#97
Sahih
It was narrated that Hudhaifah bin Yaman said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I do not know how long I will stay among you, so follow the example of these two after I am gone,' and he pointed to Abu Bakr and `Umar
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ کب تک میں تمہارے درمیان رہوں، پس میرے بعد ان دونوں کی پیروی کرنا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کی جانب اشارہ کیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مَوْلًى، لِرِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنِّي لاَ أَدْرِي قَدْرَ بَقَائِي فِيكُمْ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي " . وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ .
#98
Sahih
It was narrated that Ibn Abi Mulaikah said:"I heard Ibn 'Abbas say: 'When 'Umar was placed on his bed (i.e., his bier), the people around him gathered around him, praying and invoking blessings upon him,' or he said, 'praising him and invoking blessings upon him before (the bier) was lifted up, and I was among them. No one alarmed me except a man who crowded against me and seized me by the shoulder. I turned and saw that it was 'Ali bin Abu Talib. He prayed for mercy for 'Umar, then he said: "You have not left behind anyone who it is more beloved to me to meet Allah with the like of his deeds than yourself. By Allah, I think that Allah will most certainly unite you with your two companions, and that is because I often heard the Messenger of Allah saying: 'Abu Bakr, 'Umar and I went; Abu Bakr, 'Umar and I came in; Abu Bakr, 'Umar and I went out.' So I think that Allah will most certainly join you to your two companions
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کو ( وفات کے بعد ) ان کی چارپائی پہ لٹایا گیا تو لوگوں نے انہیں گھیر لیا، اور دعا کرنے لگے، یا کہا: تعریف کرنے لگے، اور جنازہ اٹھائے جانے سے پہلے دعا کرنے لگے، میں بھی انہیں میں تھا، تو مجھے صرف اس شخص نے خوف زدہ کیا جو لوگوں کو دھکا دے کر میرے پاس آیا، اور میرا کندھا پکڑ لیا، میں متوجہ ہوا تو دیکھا کہ وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے کہا: اللہ عمر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے، پھر بولے: میں نے کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑا جس کا عمل آپ کے عمل سے زیادہ مجھے عزیز و پیارا ہو کہ میں اس عمل کو لے کر اللہ سے ملوں، اور قسم ہے اللہ کی! میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم و ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ رکھے گا، اس وجہ سے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر فرماتے ہوئے سنتا تھا: میں اور ابوبکرو عمر گئے، میں اور ابوبکرو عمر داخل ہوئے، میں اور ابوبکرو عمر نکلے ، لہٰذا میں آپ کے ان باتوں کی وجہ سے یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ( جنت میں ) رکھے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ لَمَّا وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيرِهِ اكْتَنَفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ - أَوْ قَالَ يُثْنُونَ وَيُصَلُّونَ - عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ فَلَمْ يَرُعْنِي إِلاَّ رَجُلٌ قَدْ زَحَمَنِي وَأَخَذَ بِمَنْكِبِي فَالْتَفَتُّ فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ ثُمَّ قَالَ مَا خَلَّفْتُ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَىَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لأَظُنُّ لَيَجْعَلَنَّكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَعَ صَاحِبَيْكَ وَذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ أَكْثَرُ أَنْ أَسْمَعَ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " ذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ " . فَكُنْتُ أَظُنُّ لَيَجْعَلَنَّكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ .
#99
Daif
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah came out standing between Abu Bakr and 'Umar and said: 'Thus will I be resurrected
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکرو عمر کے درمیان نکلے، اور فرمایا: ہم اسی طرح قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ " هَكَذَا نُبْعَثُ " .
#100
Sahih
It was narrated from 'Awn bin Abi Juhaifah that his father said:"The Messenger of Allah said: 'Abu Bakr and 'Umar are the leaders of the mature people of Paradise, the first and the last, except for the Prophets and the Messengers
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکرو عمر انبیاء و رسل کے علاوہ جملہ اولین و آخرین میں جنت کے ادھیڑ لوگوں کے سردار ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ، صَالِحُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ إِلاَّ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ " .