#2826
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) would dispatch troops, he would say to the leader: ‘I commend to Allah’s keeping your religious commitment, your dignity and the end of your deeds.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تو جانے والے کے لیے اس طرح دعا کرتے، «أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك» میں تیرے دین، تیری امانت، اور تیرے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مِحْصَنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَشْخَصَ السَّرَايَا يَقُولُ لِلشَّاخِصِ " أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ " .
#2827
Very Daif
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said to Aktham bin Al-Jawn Al-Khuza’i:“O Aktham! Fight alongside people other than your own, it will improve your attitude and make you generous to your companions. O Aktham, the best number of companions is four, the best number of troops on an expedition is four hundred, the best number of an army is four thousand, and twelve thousand will never be overpowered because of their small number.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثم بن جون خزاعی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اکثم! اپنی قوم کے علاوہ دوسرے لوگوں کے ہمراہ جہاد کرو، تمہارے اخلاق اچھے ہو جائیں گے، اور تمہارے ساتھیوں میں تمہاری عزت ہو گی، اکثم! چار ساتھی بہتر ہیں، بہترین دستہ چار سو سپاہیوں کا ہے، اور بہترین لشکر چار ہزار کا ہے، نیز بارہ ہزار کا لشکر کبھی کم تعداد کی وجہ سے مغلوب نہیں ہو گا ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْعَامِلِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَكْثَمَ بْنِ الْجَوْنِ الْخُزَاعِيِّ " يَا أَكْثَمُ اغْزُ مَعَ غَيْرِ قَوْمِكَ يَحْسُنْ خُلُقُكَ وَتَكْرُمْ عَلَى رُفَقَائِكَ يَا أَكْثَمُ خَيْرُ الرُّفَقَاءِ أَرْبَعَةٌ وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُمِائَةٍ وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلاَفٍ وَلَنْ يُغْلَبَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ " .
#2828
Sahih
It was narrated that Bara’ bin ‘Azib said:“We were talking about how, on the Day of Badr, the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) numbered three hundred ten and something, the same number as the Companions of (Talut) who crossed the river with him, and no one crossed the river with him but a believer.”
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم برابر گفتگو کرتے رہتے تھے کہ غزوہ بدر میں صحابہ کی تعداد تین سو دس سے کچھ اوپر تھی، اور یہی تعداد طالوت کے ان ساتھیوں کی بھی تھی جنہوں نے ان کے ساتھ نہر پار کی ( یاد رہے کہ ) ان کے ساتھ صرف اسی شخص نے نہر پار کی تھی جو ایمان والا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَصْحَابَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانُوا يَوْمَ بَدْرٍ ثَلاَثَمِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ عَلَى عِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ مَنْ جَازَ مَعَهُ النَّهَرَ وَمَا جَازَ مَعَهُ إِلاَّ مُؤْمِنٌ .
#2829
Daif Isnaad
It was narrated that Lahi’ah bin ‘Uqbah said:“I heard Abul-Ward, the Companion of the Messenger of Allah (ﷺ), say: ‘Beware of the troop which, when it meets (the enemy) it flees, and when it takes spoils of war, it steals from it.’”
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوالورد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس فوجی دستے میں شرکت سے بچو جس کی دشمن سے مڈبھیڑ ہو تو وہ بھاگ کھڑا ہو، اور اگر مال غنیمت حاصل ہو تو اس میں خیانت کرے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْوَرْدِ، صَاحِبَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ إِيَّاكُمْ وَالسَّرِيَّةَ الَّتِي إِنْ لَقِيَتْ فَرَّتْ وَإِنْ غَنِمَتْ غَلَّتْ .
#2830
Hasan
It was narrated from Qabisah bin Hulb that his father said:“I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the food of the Christians and he said: ‘Do not have any doubt about food, (thereby) following the way of the Christians in that.’”
ہلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم سے نصاریٰ کے کھانے کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کھانے سے متعلق تمہارے دل میں وسوسہ نہ آنا چاہیئے، ورنہ یہ نصاریٰ کی مشابہت ہو جائے گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ طَعَامِ النَّصَارَى فَقَالَ " لاَ يَخْتَلِجَنَّ فِي صَدْرِكَ طَعَامٌ ضَارَعْتَ فِيهِ نَصْرَانِيَّةً " .
#2831
Sahih
‘Urwah bin Ruwaim Al-Lakhmi narrated that Abu Tha’labah Al-Khushani – whom he said he met and spoke with – said:“I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and asked him: ‘O Messenger of Allah! Can we cook in the vessels of the idolaters?’ He said: ‘Do not cook in them.’ I said: ‘What if we need them and cannot find anything else?’ He said: ‘Wash them well, then cook and eat.’”
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو میں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم مشرکین کی ہانڈیوں میں کھانا پکا سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں نہ پکاؤ میں نے کہا: اگر اس کی ضرورت پیش آ جائے اور ہمارے لیے کوئی چارہ کار ہی نہ ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تم انہیں اچھی طرح دھو لو، پھر پکاؤ اور کھاؤ ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو فَرْوَةَ، يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ، رُوَيْمٍ اللَّخْمِيُّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، - قَالَ وَلَقِيَهُ وَكَلَّمَهُ - قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُدُورُ الْمُشْرِكِينَ نَطْبُخُ فِيهَا قَالَ " لاَ تَطْبُخُوا فِيهَا " . قُلْتُ فَإِنِ احْتَجْنَا إِلَيْهَا فَلَمْ نَجِدْ مِنْهَا بُدًّا قَالَ " فَارْحَضُوهَا رَحْضًا حَسَنًا ثُمَّ اطْبُخُوا وَكُلُوا " .
#2832
Sahih
It was narrated from ‘Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘We do not seek the help of the polytheist.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے ۔ علی بن محمد نے اپنی روایت میں عبداللہ بن یزید یا زید کہا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ نِيَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّا لاَ نَسْتَعِينُ بِمُشْرِكٍ " . قَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَوْ زَيْدٍ .
#2833
Sahih Mutawatir
It was narrated from ‘Aishah that the Prophet (ﷺ) said:“War is deceit.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگ دھوکہ ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْحَرْبُ خُدْعَةٌ " .
#2834
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) said:“War is deceit.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگ دھوکہ ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَطَرِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْحَرْبُ خُدْعَةٌ " .
#2835
Sahih
It was narrated that Qais bin ‘Ubaid said:“I heard Abu Dharr swearing that these verses were revealed concerning those six people on the Day of Badr: ‘These two opponents (believers and disbelievers) dispute with each other about their Lord.”[22:19] to the words “Verily, Allah does what he wills.’[22:14] (that is) Hamzah bin ‘Abdul-Muttalib, ‘Ali bin Abi Talib, ‘Ubaidah bin Al-Harith, ‘Utbah bin Rabi’ah, Shaibah bin Rabi’ah and Al-Walid bin ‘Utbah. They argued with one another on the Day of Badr.”
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو قسم کھا کر کہتے سنا کہ آیت کریمہ: «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ( سورۃ الحج: ۱۹ ) یہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہیں اپنے رب کے بارے میں انہوں نے جھگڑا کیا سے «إن الله يفعل ما يريد» ( سورۃ الحج: ۲۴ ) تک، ان چھ لوگوں کے بارے میں اتری جو بدر کے دن باہم لڑے، حمزہ بن عبدالمطلب، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما مسلمانوں کی طرف سے، اور عبیدہ بن حارث، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کافروں کی طرف سے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، وَحَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ، - قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ هُوَ يَحْيَى بْنُ الأَسْوَدِ - عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يُقْسِمُ لَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَاتُ فِي هَؤُلاَءِ الرَّهْطِ السِّتَّةِ يَوْمَ بَدْرٍ {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ} إِلَى قَوْلِهِ: { إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ} فِي حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ اخْتَصَمُوا فِي الْحُجَجِ يَوْمَ بَدْرٍ .
#2836
Sahih Isnaad
It was narrated from Iyas bin Salamah bin Akwa’ that his father said:“I fought a man and killed him, and the Messenger of Allah (ﷺ) awarded me his spoils.”
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو مقابلہ کے لیے للکارا، اور اسے قتل کر ڈالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے چھینا ہوا سامان بطور انعام مجھے ہی دے دیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ، وَعِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ بَارَزْتُ رَجُلاً فَقَتَلْتُهُ فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَلَبَهُ .
#2837
Sahih
It was narrated from Abu Muhammad, the freed slave of Abu Qatadah (from Abu Qatadah) that the Messenger of Allah (ﷺ) awarded him the spoils of a man whom he killed on the Day of Hunain
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کے موقعہ پر ان کے ہاتھ سے قتل کیے گئے شخص کا سامان انہیں کو دے دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَفَّلَهُ سَلَبَ قَتِيلٍ قَتَلَهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ .
#2838
Sahih
It was narrated from the son of Samurah bin Jundub that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever kills, the spoils are his.’”
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( کسی کافر ) کو قتل کرے، تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کو ملے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ ابْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَتَلَ فَلَهُ السَّلَبُ " .
#2839
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“Sa’b bin Jaththamah said: ‘The Prophet (ﷺ) was asked about the polytheists who are attacked at night, and their women and children are killed.’ He said: ‘They are from among them.’”
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ مشرکین کی آبادی پر شبخون مارتے ( رات میں حملہ کرتے ) وقت عورتیں اور بچے بھی قتل ہو جائیں گے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی انہیں میں سے ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ، قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَهْلِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُبَيَّتُونَ فَيُصَابُ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ قَالَ " هُمْ مِنْهُمْ " .
#2840
Hasan
It was narrated from Iyas bin Salamah bin Awka’, that his father said:“We attacked Hawazin, with Abu Bakr, during the time of the Prophet (ﷺ), and we arrived at an oasis belonging to Bani Fazarah during the last part of the night. We attacked at dawn, raiding the people of the oasis, and killed them, nine or seven households.”
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قبیلہ ہوازن سے جہاد کیا، چنانچہ ہم بنی فزارہ کے چشمہ کے پاس آئے اور ہم نے وہیں پر پڑاؤ ڈالا، جب صبح کا وقت ہوا، تو ہم نے ان پر حملہ کر دیا، پھر ہم چشمہ والوں کے پاس آئے ان پر بھی شبخون مارا، اور ان کے نو یا سات گھروں کے لوگوں کو قتل کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ هَوَازِنَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْنَا مَاءً لِبَنِي فَزَارَةَ فَعَرَّسْنَا حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ الصُّبْحُ شَنَنَّاهَا عَلَيْهِمْ غَارَةً فَأَتَيْنَا أَهْلَ مَاءٍ فَبَيَّتْنَاهُمْ فَقَتَلْنَاهُمْ تِسْعَةً أَوْ سَبْعَةَ أَبْيَاتٍ .
#2841
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (ﷺ) saw a woman who had been killed on the road, and he forbade killing women and children
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں ایک عورت کو دیکھا جسے قتل کر دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى امْرَأَةً مَقْتُولَةً فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ .
#2842
Hasan Sahih
It was narrated that Hanzalah Al-Katib said:“We went out to fight alongside the Messenger of Allah (ﷺ), and we passed by a slain woman whom the people had gathered around. They parted (to let the Prophet (ﷺ) through) and he said: ‘This (woman) was not one of those who were fighting.’ Then he said to a man: ‘Go to Khalid bin Walid and tell him that the Messenger of Allah (ﷺ) commands you: “Do not kill any children or women, or any (farm) laborer.’” Another chain reports a similar hadith
حنظلہ الکاتب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ ( جنگ ) میں شریک تھے، ہمارا گزر ایک مقتول عورت کے پاس سے ہوا، وہاں لوگ اکٹھے ہو گئے تھے، ( آپ کو دیکھ کر ) لوگوں نے آپ کے لیے جگہ خالی کر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو لڑنے والوں میں نہ تھی ( پھر اسے کیوں مار ڈالا گیا ) اس کے بعد ایک شخص سے کہا: خالد بن ولید کے پاس جاؤ، اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دے رہے ہیں کہ عورتوں، بچوں، مزدوروں اور خادموں کو ہرگز قتل نہ کرنا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْمُرَقَّعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَرَرْنَا عَلَى امْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ قَدِ اجْتَمَعَ عَلَيْهَا النَّاسُ فَأَفْرَجُوا لَهُ فَقَالَ (مَا كَانَتْ هَذِهِ تُقَاتِلُ فِيمَنْ يُقَاتِلُ) . ثُمَّ قَالَ لِرَجُلٍ (انْطَلِقْ إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَقُلْ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكَ يَقُولُ لاَ تَقْتُلَنَّ ذُرِّيَّةً وَلاَ عَسِيفًا). حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْمُرَقَّعِ، عَنْ جَدِّهِ، رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ يُخْطِئُ الثَّوْرِيُّ فِيهِ.
#2843
Daif
It was narrated that Usamah bin Said said:“The Messenger of Allah (ﷺ) sent me to a village called Ubna, and said: “Go to Ubna in the morning and burn it.’”
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ابنیٰ نامی بستی کی جانب بھیجا اور فرمایا: ابنیٰ میں صبح کے وقت جاؤ، اور اسے آگ لگا دو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى قَرْيَةٍ يُقَالُ لَهَا أُبْنَى فَقَالَ " ائْتِ أُبْنَى صَبَاحًا ثُمَّ حَرِّقْ " .
#2844
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) burned the palm trees of Banu Nadir, and cut down Buwairah (the name of their garden). Then Allah revealed the words:“What you (O Muslims) cut down of the palm trees (of the enemy), or you left them standing...” [59:]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو نضیر کے کھجور کا باغ جلا دیا، اور کاٹ ڈالا، اس باغ کا نام بویرہ تھا، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا: «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة» یعنی تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے یا جنہیں تم نے ان کی جڑوں پہ باقی رہنے دیا یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا، اور اس لیے بھی کہ فاسقوں کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے ( سورۃ الحشر: ۵ ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ . وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً } الآيَةَ .
#2845
Sahih
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (ﷺ) burned the palm trees of Banu Nadir and cut them down. Concerning that, their poet said: “It is easy for the elite of Banu Luai – To burn Al-Buwairah in a Frightening manner.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو نضیر کے کھجور کے درخت جلا دئیے اور انہیں کاٹ دیا، اسی سے متعلق ایک شاعر کہتا ہے: «فهان على سراة بني لؤي حريق بالبويرة مستطير» بنی لؤی کے سرداروں کے لیے آسان ہوا، بویرہ میں آگ لگانا جو ہر طرف پھیلتی جا رہی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ . وَفِيهِ يَقُولُ شَاعِرُهُمْ فَهَانَ عَلَى سَرَاةِ بَنِي لُؤَىٍّ حَرِيقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُسْتَطِيرُ
#2846
Hasan
It was narrated from Ayas bin Salamah bin Akwa’ that his father said:“We attacked, Hawazin at the time of the Messenger of Allah (ﷺ) with Aby Bakr. He awarded me a slave girl from Banu Fazarah, among the most beautiful of the Arabs, who was wearing an animal skin of hers. I did not divest her of her clothing until I reached Al-Madinah. Then the Prophet (ﷺ) met me in the marketplace, and said: ‘By Alla, give her to me.’ So I gave her to him, and he sent her as a ransom for some of the Muslim prisoners who were in Makkah.”
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قبیلہ ہوازن سے جنگ کی، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنی فزارہ سے حاصل کی ہوئی ایک لونڈی مجھے بطور نفل ( انعام ) دی، وہ عرب کے خوبصورت ترین لوگوں میں سے تھی، اور پوستین پہنے ہوئی تھی، میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں کھولا تھا کہ مدینہ آیا، بازار میں میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی شان، تمہارا باپ بھی کیا خوب آدمی تھا! یہ لونڈی مجھے دے دو، میں نے وہ آپ کو ہبہ کر دی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لونڈی ان مسلمانوں کے عوض فدیہ میں دے دی جو مکہ میں تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ هَوَازِنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَفَّلَنِي جَارِيَةً مِنْ بَنِي فَزَارَةَ مِنْ أَجْمَلِ الْعَرَبِ عَلَيْهَا قِشْعٌ لَهَا فَمَا كَشَفْتُ لَهَا عَنْ ثَوْبٍ حَتَّى أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي السُّوقِ فَقَالَ " لِلَّهِ أَبُوكَ هَبْهَا لِي " . فَوَهَبْتُهَا لَهُ فَبَعَثَ بِهَا فَفَادَى بِهَا أُسَارَى مِنْ أُسَارَى الْمُسْلِمِينَ كَانُوا بِمَكَّةَ .
#2847
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Umar said that a horse of his went out and the enemy captured it. Then the Muslims defeated them and it was returned to him. (That was) during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). He said:“And a slave of his absconded and joined up with the Romans, then the Muslims defeated them, and Khalid bin Walid returned him to me, after the death of the Messenger of Allah (ﷺ).”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان کا ایک گھوڑا چلا گیا، اور اسے دشمن نے پکڑ لیا، پھر مسلمان ان پر غالب آ گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں وہ انہیں لوٹایا گیا، ان کا ایک غلام بھی بھاگ گیا، اور روم ( کے نصاریٰ ) سے جا ملا، پھر مسلمان ان پر غالب آ گئے، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کو واپس کر دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ ذَهَبَتْ فَرَسٌ لَهُ فَأَخَذَهَا الْعَدُوُّ فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ فَرُدَّ عَلَيْهِ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ وَأَبَقَ عَبْدٌ لَهُ فَلَحِقَ بِالرُّومِ فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#2848
Daif
It was narrated that Zaid bin Khalid Al-Juhani said:“A man from (the tribe of) Ashja’ died in Khaibar, and the Prophet (ﷺ) said: ‘Offer the funeral prayer for your companion.’ The people found that strange.* When he saw that, he said: ‘Your companion stole from the spoils of war (when fighting) in the cause of Allah.’”
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ اشبحع کے ایک شخص کا خیبر میں انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز ( جنازہ ) پڑھ لو، لوگوں کو اس پر تعجب ہوا اور ان کے چہروں کے رنگ اڑ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ صورت حال دیکھی تو فرمایا: تمہارے ساتھی نے اللہ کے راستے میں ( حاصل شدہ مال غنیمت میں ) خیانت کی ہے ۔ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر لوگوں نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو کیا دیکھتے ہیں کہ یہود کے مونگوں میں سے کچھ مونگے جو کہ دو درہم کے برابر تھے اس کے سامان میں موجود تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ بِخَيْبَرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " . فَأَنْكَرَ النَّاسُ ذَلِكَ وَتَغَيَّرَتْ لَهُ وُجُوهُهُمْ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ " إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قَالَ زَيْدٌ فَالْتَمَسُوا فِي مَتَاعِهِ فَإِذَا خَرَزَاتٌ مِنْ خَرَزِ يَهُودَ مَا تُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ .
#2849
Sahih
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said:“There was a man called Kirkah in charge of the goods of the Prophet (ﷺ), who died. The Prophet (ﷺ) said: ‘He is in Hell.’ They went and looked, and found him wearing a garment or a cloak that he had stolen from the spoils of war.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کی نگہبانی پر کرکرہ نامی ایک شخص تھا، اس کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں ہے ، لوگ اس کا سامان دیکھنے لگے تو اس میں ایک کملی یا عباء ملی جو اس نے مال غنیمت میں سے چرا لی تھی۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ كَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ كِرْكِرَةُ . فَمَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هُوَ فِي النَّارِ " . فَذَهَبُوا يَنْظُرُونَ فَوَجَدُوا عَلَيْهِ كِسَاءً أَوْ عَبَاءَةً قَدْ غَلَّهَا .
#2850
Hasan Sahih
It was narrated that ‘Ubadah bin Samit said:“The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer on the Day of Hunain, beside a camel that was part of the spoils of war. Then he took something from the camel, and extracted from it a hair, which he placed between two of his fingers. Then he said: ‘O people, this is part of your spoils of war. Hand over a needle and thread and anything greater than that or less than that. For stealing from the spoils of war will be a source of shame for those who do it, and ignominy and Fire, on the Day of Resurrection.’”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنگ حنین کے دن مال غنیمت کے ایک اونٹ کے پہلو میں نماز پڑھائی، نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ میں سے کوئی چیز لی جیسے اونٹ کا بال اور اسے اپنی انگلیوں سے پکڑا پھر فرمایا: لوگو! یہ بھی تمہارے مال غنیمت کا حصہ ہے، لہٰذا دھاگہ سوئی نیز اس سے چھوٹی اور بڑی چیز بھی جمع کر دو کیونکہ مال غنیمت میں خیانت ( چوری ) کرنے والے کے لیے قیامت کے دن باعث عار ( ندامت ) و شنار ( عیب ) اور باعث نار ( عذاب ) ہو گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عِيسَى بْنِ سِنَانٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ إِلَى جَنْبِ بَعِيرٍ مِنَ الْمَقَاسِمِ ثُمَّ تَنَاوَلَ شَيْئًا مِنَ الْبَعِيرِ فَأَخَذَ مِنْهُ قَرَدَةً - يَعْنِي وَبَرَةً - فَجَعَلَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ ثُمَّ قَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا مِنْ غَنَائِمِكُمْ أَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ فَمَا دُونَ ذَلِكَ فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشَنَارٌ وَنَارٌ " .