#2801
Sahih
It was narrated from ‘Abdullah concerning the Verse:“Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision,”[3:169] that he said: “We asked about that, and (the Prophet (ﷺ)) said: ‘Their souls are like green birds that fly wherever they wish in Paradise, then they come back to lamps suspended from the Throne. While they were like that, your Lord looked at them and said, “Ask me for whatever you want.” They said: “O Lord, what should we ask You for when we can fly wherever we wish in Paradise?” When they saw that they would not be left alone until they had asked for something, they said: “We ask You to return our souls to our bodies in the world so that we may fight for Your sake (again).” When He saw that they would not ask for anything but that, they were left alone.’”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون» کے بارے میں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہداء کی روحیں سبز چڑیوں کی شکل میں جنت میں جہاں چاہیں چلتی پھرتی ہیں، پھر شام کو عرش سے لٹکی ہوئی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، ایک بار کیا ہوا کہ روحیں اسی حال میں تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جھانکا پھر فرمانے لگا: تمہیں جو چاہیئے مانگو، روحوں نے کہا: ہم جنت میں جہاں چاہتی ہیں چلتی پھرتی ہیں، اس سے بڑھ کر کیا مانگیں؟ جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر مانگے خلاصی نہیں تو کہنے لگیں: ہمارا سوال یہ ہے کہ تو ہماری روحوں کو دنیاوی جسموں میں لوٹا دے کہ ہم پھر تیرے راستے میں قتل کئے جائیں، اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگ رہی ہیں تو چھوڑ دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فِي قَوْلِهِ {وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ} قَالَ أَمَا إِنَّا سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ " أَرْوَاحُهُمْ كَطَيْرٍ خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ فِي أَيِّهَا شَاءَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مُعَلَّقَةٍ بِالْعَرْشِ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذِ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلاَعَةً فَيَقُولُ سَلُونِي مَا شِئْتُمْ . قَالُوا رَبَّنَا وَمَاذَا نَسْأَلُكَ وَنَحْنُ نَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ فِي أَيِّهَا شِئْنَا فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لاَ يُتْرَكُونَ مِنْ أَنْ يَسْأَلُوا قَالُوا نَسْأَلُكَ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا إِلَى الدُّنْيَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ . فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُمْ لاَ يَسْأَلُونَ إِلاَّ ذَلِكَ تُرِكُوا " .
#2802
Hasan Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The martyr does not feel anything more when he is killed than one of you feels if he is pinched (by a bug).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہید کو قتل سے اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی کہ تمہیں چیونٹی کاٹنے سے ہوتی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَبِشْرُ بْنُ آدَمَ، قَالُوا حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مَسَّ الْقَتْلِ إِلاَّ كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مَسَّ الْقَرْصَةِ " .
#2803
Sahih
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Abdullah bin Jabir bin ‘Atik, from his father, that his grandfather fell sick and the Prophet (ﷺ) came to visit him. One of his family members said:“We hoped that when he died it would be as a martyr in the cause of Allah.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “In that case the martyrs of my nation would be few. Being killed in the cause of Allah is martyrdom; dying of the plague is martyrdom; when a pregnant woman dies in childbirth that is martyrdom; and dying of drowning, or burning, or of pleurisy, is martyrdom.”
جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ بیمار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پرسی ( عیادت ) کے لیے تشریف لائے، ان کے اہل خانہ میں سے کسی نے کہا: ہمیں تو یہ امید تھی کہ وہ اللہ کے راستے میں شہادت کی موت مریں گے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو میری امت کے شہداء کی تعداد بہت کم ہے! ( نہیں ایسی بات نہیں بلکہ ) اللہ کے راستے میں قتل ہونا شہادت ہے، مرض طاعون میں مر جانا شہادت ہے، عورت کا زچگی ( جننے کی حالت ) میں مر جانا شہادت ہے، ڈوب کر یا جل کر مر جانا شہادت ہے، نیز پسلی کے ورم میں مر جانا شہادت ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُهُ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْ أَهْلِهِ إِنْ كُنَّا لَنَرْجُو أَنْ تَكُونَ وَفَاتُهُ قَتْلَ شَهَادَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ وَالْمَطْعُونُ شَهَادَةٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهَادَةٌ - يَعْنِي الْحَامِلَ - وَالْغَرِقُ وَالْحَرِقُ وَالْمَجْنُوبُ - يَعْنِي ذَاتَ الْجَنْبِ - شَهَادَةٌ " .
#2804
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“What do you say among yourselves about the martyr?” They said: “The one who is killed in the cause of Allah.” He said: “In that case the martyrs among my nation would be few. Whoever is killed in the cause of Allah is a martyr; whoever dies in the cause of Allah is a martyr; whoever dies of a stomach disease is a martyr; and whoever dies of the plague is a martyr.” Another chain narrates with the addition of "and the drowned is a martyr
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم شہید کسے سمجھتے ہو ؟ لوگوں نے جواب دیا: اللہ کے راستے میں مارا جانا ( شہادت ہے ) فرمایا: تب تو میری امت میں بہت کم شہید ہوں گے ! ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ایسی بات نہیں بلکہ ) جو اللہ کے راستے میں مارا جائے وہ شہید ہے، جو اللہ کے راستے میں مر جائے وہ بھی شہید ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا بھی شہید ہے، طاعون کے مرض میں مرنے والا شہید ہے ۔ سہیل کہتے ہیں: مجھے عبیداللہ بن مقسم نے خبر دی وہ ابوصالح سے روایت کرتے ہیں، اس میں یہ لفظ زیادہ ہے: اور ڈوب کر مرنے والا بھی شہید ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " مَا تَقُولُونَ فِي الشَّهِيدِ فِيكُمْ " . قَالُوا الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قَالَ " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ " . قَالَ سُهَيْلٌ وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَزَادَ، فِيهِ " وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ " .
#2805
Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that the Prophet (ﷺ) entered Makkah on the day of the Conquest, with a helmet on his head
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن اس حال میں مکہ داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر خود تھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ .
#2806
Sahih
It was narrated from Sa’ib bin Yazid, if Allah wills, that the Prophet (ﷺ) wore two coats of mail on the Day of Uhud, one over the other
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے موقعہ پر اوپر نیچے دو زرہیں پہنیں۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى . أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ أَخَذَ دِرْعَيْنِ كَأَنَّهُ ظَاهَرَ بَيْنَهُمَا .
#2807
Sahih Isnaad
Sulaiman bin Habib said:“We entered upon Abu Umamah and he saw some silver ornaments on our swords. He got angry and said: ‘People conquered lands and their swords were not adorned with gold and silver, but with lead and iron and ‘Alabi.’”
سلیمان بن حبیب کہتے ہیں کہ ہم ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، تو وہ ہماری تلواروں میں چاندی کا کچھ زیور دیکھ کر غصہ ہو گئے، اور کہنے لگے: لوگوں ( صحابہ کرام ) نے بہت ساری فتوحات کیں، لیکن ان کی تلواروں کا زیور سونا چاندی نہ تھا، بلکہ سیسہ، لوہا اور علابی تھا۔ ابوالحسن قطان کہتے ہیں: علابی: اونٹ کا پٹھا ( چمڑا ) ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَبِي أُمَامَةَ فَرَأَى فِي سُيُوفِنَا شَيْئًا مِنْ حِلْيَةِ فِضَّةٍ فَغَضِبَ وَقَالَ لَقَدْ فَتَحَ الْفُتُوحَ قَوْمٌ مَا كَانَ حِلْيَةُ سُيُوفِهِمْ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَكِنِ الآنُكُ وَالْحَدِيدُ وَالْعَلاَبِيُّ . قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ الْعَلاَبِيُّ الْعَصَبُ .
#2808
Hasan Isnaad
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) acquired his sword Dhulfiqar, from the spoils of war on the Day of badr
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے دن اپنی ذوالفقار نامی تلوار ( علی رضی اللہ عنہ کو ) انعام میں دی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الصَّلْتِ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَنَفَّلَ سَيْفَهُ ذَا الْفِقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ .
#2809
Daif Isnaad
It was narrated that ‘Ali bin Abi Talib said:“When Mughirah bin Shu’bah fought alongside the Prophet (ﷺ) he would carry a spear, and when he would come back he would throw his spear down so that someone would pick it up and give it back to him.” ‘Ali said to him: “I will tell the Messenger of Allah (ﷺ) about that.” He (the Prophet (ﷺ)) said: “Do not do that, for it you do that it will not be picked up as a lost item to be returned.”
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کے لیے جاتے تو اپنے ساتھ برچھا لے جاتے، اور لوٹتے وقت اسے پھینک دیتے، انہیں دینے کے لیے کوئی اسے اٹھا لاتا، اس پر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کی یہ حرکت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور بتاؤں گا، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا نہ کریں، کیونکہ اگر آپ نے ایسا کیا تو گمشدہ چیز اٹھائی نہیں جائے گی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ كَانَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِذَا غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَمَلَ مَعَهُ رُمْحًا فَإِذَا رَجَعَ طَرَحَ رُمْحَهُ حَتَّى يُحْمَلَ لَهُ . فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ لأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ " لاَ تَفْعَلْ فَإِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ لَمْ تُرْفَعْ ضَالَّةٌ " .
#2810
Daif Isnaad
It was narrated that ‘Ali said:“The Messenger of Allah (ﷺ) had an Arabian bow in his hand, and he saw a man who had a Persian bow in his hand. He said: ‘What is this? Throw it away. You should use this and others like it, and Qana* spears. Perhaps Allah will support His religion thereby and enable you to conquer lands.’”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں میں ایک عربی کمان تھی، اور ایک شخص کے ہاتھ میں آپ نے فارسی کمان دیکھی تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ اسے پھینک دو، اور اس طرح کی رکھو، اور نیزے رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ان دونوں کے ذریعہ سے دین کو ترقی دے گا، اور تمہیں دوسرے ملکوں کو فتح کرنے پر قادر بنا دے گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ كَانَتْ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَوْسٌ عَرَبِيَّةٌ فَرَأَى رَجُلاً بِيَدِهِ قَوْسٌ فَارِسِيَّةٌ فَقَالَ " مَا هَذِهِ أَلْقِهَا وَعَلَيْكُمْ بِهَذِهِ وَأَشْبَاهِهَا وَرِمَاحِ الْقَنَا فَإِنَّهُمَا يَزِيدُ اللَّهُ بِهِمَا فِي الدِّينِ وَيُمَكِّنُ لَكُمْ فِي الْبِلاَدِ " .
#2811
Daif
It was narrated from ‘Uqbah bin ‘Amir Al-Juhani that the Prophet (ﷺ) said:“Allah will admit three people to Paradise by virtue of one arrow: The one who makes it, seeking reward by making it well; the one who shoots it; and the one who hands it to him.” And the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Shoot and ride, and if you shoot that is dearer to me than if you ride. All things that a Muslim man does for entertainment are in vain except for shooting arrows, training his horse and playing with his wife, for these are things that bring reward.”
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک تیر کے سبب اللہ تعالیٰ تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا: ثواب کی نیت سے اس کے بنانے والے کو، چلانے والے کو، اور ترکش سے نکال نکال کر دینے والے کو ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیر اندازی کرو، اور سواری کا فن سیکھو، میرے نزدیک تیر اندازی سیکھنا سواری کا فن سیکھنے سے بہتر ہے، مسلمان آدمی کا ہر کھیل باطل ہے سوائے تیر اندازی، گھوڑے کے سدھانے، اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنے کے، کیونکہ یہ تینوں کھیل سچے ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلاَّمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَزْرَقِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ لَيُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ الثَّلاَثَةَ الْجَنَّةَ صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ وَالرَّامِيَ بِهِ وَالْمُمِدَّ بِهِ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ارْمُوا وَارْكَبُوا وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا وَكُلُّ مَا يَلْهُو بِهِ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ بَاطِلٌ إِلاَّ رَمْيَهُ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ وَمُلاَعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ " .
#2812
Sahih
It was narrated that ‘Amr bin ‘Abasah said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Whoever shoots an arrow at the enemy and his arrow reaches the enemy, whether it hits him or not, that is equivalent to him freeing a slave.’”
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو دشمن کو تیر مارے، اور اس کا تیر دشمن تک پہنچے، ٹھیک لگے یا چوک جائے، تو اس کا ثواب ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ رَمَى الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ فَبَلَغَ سَهْمُهُ الْعَدُوَّ أَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ فَيَعْدِلُ رَقَبَةً " .
#2813
Sahih
It was narrated that ‘Uqbah bin ‘Amir Al-Juhani said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) reciting on the pulpit: ‘And make ready against them all you can of power.’[8:60] (And saying that) three times – ‘Power means shooting.”
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر آیت کریمہ: «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» ( سورۃ الانفال: ۶۰ ) دشمن کے لیے طاقت بھر تیاری کرو کو پڑھتے ہوئے سنا: ( اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ) آگاہ رہو! طاقت کا مطلب تیر اندازی ہی ہے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ " {وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ} أَلاَ وَإِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْىُ " ثَلاَثَ مَرَّاتٍ .
#2814
Sahih
It was narrated that ‘Uqbah bin ‘Amir Al-Juhani said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Whoever learns how to shoot (arrows) then abandons it, has disobeyed me.’”
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے تیر اندازی سیکھی پھر اسے چھوڑ دیا، تو اس نے میری نافرمانی کی ۱؎۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ نُعَيْمٍ الرُّعَيْنِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ نَهِيكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ تَعَلَّمَ الرَّمْىَ ثُمَّ تَرَكَهُ فَقَدْ عَصَانِي " .
#2815
Sahih
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Prophet (ﷺ) passed by some people who were shooting (arrows) and said: ‘Shoot, Banu Isma’il, for your father was an archer.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسماعیل کی اولاد! تیر اندازی کرو، تمہارے والد ( اسماعیل ) بڑے تیر انداز تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِنَفَرٍ يَرْمُونَ فَقَالَ " رَمْيًا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا " .
#2816
Hasan
It was narrated that Harith bin Hassan said:“I came to Al-Madinah and saw the Prophet (ﷺ) standing on the pulpit, and Bilal standing in front of him, with his sword by his side, and (I saw) a black flag. I said: ‘Who is this?’ He said: ‘This is ‘Amr bin ‘As, who has just come back from a campaign.’”
حارث بن حسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر کھڑے دیکھا، اور بلال رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے گلے میں تلوار ٹکائے ہوئے تھے، پھر اچانک ایک کالا بڑا جھنڈا دکھائی دیا، میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہیں جو ایک غزوہ سے واپس آئے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ، قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَائِمًا عَلَى الْمِنْبَرِ وَبِلاَلٌ قَائِمٌ بَيْنَ يَدَيْهِ مُتَقَلِّدٌ سَيْفًا وَإِذَا رَايَةٌ سَوْدَاءُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ .
#2817
Hasan
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Prophet (ﷺ) entered Makkah on the Day of the Conquest, and his standard was white
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کا جھنڈا سفید تھا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، وَعَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ .
#2818
Hasan
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the flag of the Messenger of Allah (ﷺ) was black, and his standard was white
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا جھنڈا کالا اور چھوٹا جھنڈا سفید تھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْوَاسِطِيُّ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَايَةَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ سَوْدَاءَ وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ .
#2819
Daif
It was narrated from Abu ‘Umar, the freed slave of Asma’, from Asma’ bint Abi Bakr, that she brought out a cloak edged with brocade and said:“The Prophet (ﷺ) used to wear this when he met the enemy.”
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ریشم کی گھنڈیاں لگا ہوا جبہ نکالا اور کہنے لگیں: دشمن سے مقابلہ کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہنتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِي عُمَرَ، - مَوْلَى أَسْمَاءَ - عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا أَخْرَجَتْ جُبَّةً مُزَرَّرَةً بِالدِّيبَاجِ فَقَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَلْبَسُ هَذِهِ إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ .
#2820
Sahih
It was narrated from ‘Umar that he used to forbid silk and brocade except that which was like that, then he gestured with his finger, then his second finger, then his third, then his fourth,* and said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to forbid that to us.”
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حریر اور دیباج ( ریشمی کپڑوں کے استعمال ) سے منع کرتے تھے مگر جو اتنا ہو، پھر انہوں نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا، پھر دوسری سے پھر تیسری سے پھر چوتھی سے، اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ہمیں منع فرمایا کرتے تھے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، إِلاَّ مَا كَانَ هَكَذَا ثُمَّ أَشَارَ بِإِصْبَعِهِ ثُمَّ الثَّانِيَةِ ثُمَّ الثَّالِثَةِ ثُمَّ الرَّابِعَةِ وَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَانَا عَنْهُ .
#2821
Sahih
Ja’far bin ‘Amr bin Huraith narrated that his father said:“It is as if I can see the Messenger of Allah (ﷺ), wearing a black turban, with its two ends hanging between his shoulders.”
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا ہوں آپ کے سر پر سیاہ عمامہ ( کالی پگڑی ) ہے جس کے دونوں کنارے آپ اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُسَاوِرٍ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ .
#2822
Sahih
It was narrated from Jabir that the Prophet (ﷺ) entered Makkah wearing a black turban
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ .
#2823
Very Daif
It was narrated that Kharijah bin Zaid said:“I saw a man asking my father about a man who goes out to fight and buys and sells and trades during his campaign. My father said to him: ‘We were with the Messenger of Allah (ﷺ) in Tabuk, and we bought and sold, and he saw us and did not forbid us (to do that).’”
خارجہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو اپنے والد سے اس شخص کے بارے میں سوال کرتے دیکھا، جو جہاد کرنے جائے اور وہاں خرید و فروخت کرے اور تجارت کرے، تو میرے والد نے اسے جواب دیا: ہم جنگ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ ہمیں خرید و فروخت کرتے دیکھتے لیکن منع نہ فرماتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، حَدَّثَنَا سُنَيْدُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيِّ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ عُرْوَةَ الْبَارِقِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَجُلاً سَأَلَ أَبِي عَنِ الرَّجُلِ، يَغْزُو فَيَشْتَرِي وَيَبِيعُ وَيَتَّجِرُ فِي غَزْوِهِ فَقَالَ لَهُ أَبِي كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِتَبُوكَ نَشْتَرِي وَنَبِيعُ وَهُوَ يَرَانَا وَلاَ يَنْهَانَا .
#2824
Daif
It was narrated from Sahl bin Mu’adh bin Anas, from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“For me to hive a good send-off to a warrior who is going to fight in the cause of Allah, and to guard his goods when he goes out in the morning or evening, is dearer to me than this world and everything in it.”
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے شخص کو صبح یا شام رخصت کروں، اور اسے سواری پر بٹھاؤں، یہ میرے نزدیک دنیا اور اس کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے ۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لأَنْ أُشَيِّعَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَكُفَّهُ عَلَى رَحْلِهِ غَدْوَةً أَوْ رَوْحَةً أَحَبُّ إِلَىَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
#2825
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) gave me a send-off and said: ‘I command you to Allah’s keeping, Whose trust is never lost.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رخصت کیا تو یہ دعا فرمائی: «أستودعك الله الذي لا تضيع ودائعه» میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ وَدَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ الَّذِي لاَ تَضِيعُ وَدَائِعُهُ " .