#2701
Daif
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever dies leaving a will, he dies on the right path and Sunnah, and he dies with piety and witness, and he dies forgiven.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص وصیت کر کے مرا، وہ راہ ( راہ راست ) پر اور سنت کے مطابق مرا، نیز پرہیزگاری اور شہادت پر اس کا خاتمہ ہوا، اس کی مغفرت ہو گی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ مَاتَ عَلَى وَصِيَّةٍ مَاتَ عَلَى سَبِيلٍ وَسُنَّةٍ وَمَاتَ عَلَى تُقًى وَشَهَادَةٍ وَمَاتَ مَغْفُورًا لَهُ " .
#2702
Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet (ﷺ) said:“The Muslim man has no right to spend two nights, if he has something for which will should be made, without having a written will with him.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے لیے یہ بات مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں بھی اس طرح گزارے کہ اس کی وصیت لکھی ہوئی اس کے پاس نہ ہو، جب کہ اس کے پاس وصیت کرنے کے لائق کوئی چیز ہو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عَوْفٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ شَىْءٌ يُوصِي بِهِ إِلاَّ وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ " .
#2703
Daif
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever tries to avoid giving the inheritance to his heirs, Allah (SWT) will deprive him of his inheritance in Paradise on the Day of Resurrection.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کو میراث دلانے سے بھاگے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے جنت کی میراث نہ دے گا ۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ فَرَّ مِنْ مِيرَاثِ وَارِثِهِ قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#2704
Daif
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“A man may do the deeds of the people of goodness for seventy years, then when he makes his will, he is unjust in his will, so he ends (his life) with evil deeds and enters Hell. And a man may do the people of evil for seventy years, then he is just in his will, so he ends (his life) with good deeds and enters Paradise.”Abu Hurairah said: “Recite, if you wish: “These are the limits (set by) Allah (STW) up to His saying: 'a disgraceful torment'”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی ستر سال تک نیک عمل کرتا رہتا ہے، پھر وصیت کے وقت اپنی وصیت میں ظلم کرتا ہے، تو اس کا خاتمہ برے عمل پر ہوتا ہے اور جہنم میں جاتا ہے، اسی طرح آدمی ستر سال تک برے اعمال کا ارتکاب کرتا رہتا ہے لیکن اپنی وصیت میں انصاف کرتا ہے، اس کا خاتمہ بالخیر ہوتا ہے، اور جنت میں جاتا ہے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم چاہو تو اس آیت کریمہ: «تلك حدود الله» ( سورۃ النساء: ۱۳- ۱۴ ) کو پڑھو یعنی یہ حدود اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتیوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے، اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکلے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْخَيْرِ سَبْعِينَ سَنَةً فَإِذَا أَوْصَى حَافَ فِي وَصِيَّتِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِشَرِّ عَمَلِهِ فَيَدْخُلُ النَّارَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الشَّرِّ سَبْعِينَ سَنَةً فَيَعْدِلُ فِي وَصِيَّتِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِخَيْرِ عَمَلِهِ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ} إِلَى قَوْلِهِ {عَذَابٌ مُهِينٌ}
#2705
Daif
It was narrated from Mu'awiyah bin Qurrah, from his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever makes a will as death approaches, and his will is in accordance with the book of Allah (SWT) it will be an expiation for whatever he did not pay of his Zakah during his lifetime.”
قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے موت کے وقت اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے موافق وصیت کی تو یہ وصیت اس کی اس زکاۃ کا کفارہ ہو جائے گی جو اس نے اپنی زندگی میں ادا نہ کی ہو گی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ أَبِي حَلْبَسٍ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ أَبِي خُلَيْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ فَأَوْصَى وَكَانَتْ وَصِيَّتُهُ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا تَرَكَ مِنْ زَكَاتِهِ فِي حَيَاتِهِ " .
#2706
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:“A man came to the Prophet (ﷺ) and said: “O Messenger of Allah (ﷺ), tell me, which of the people has most right to my good companionship?' He said: 'Yes, by your father, you will certainly be told.' He said: 'Your mother,' He said: 'Then who?' He said: Then your mother.' He said: 'Then who?' He said: Then your mother.' He said: 'Then who?' He said: Then your father.' He said: 'Tell me, O Messenger of Allah (ﷺ) about my wealth- how should I give in charity?' He said: 'Yes, by Allah (SWT) you will certainly be told. You should give in charity when you are still healthy and greedy for wealth, hoping for a long life and fearing poverty. Do not tarry until your soul reaches here and you say: “My wealth of for so-and-so,” and “My wealth of for so-and-so,” and it will be for them even though you dislike that.'”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بتائیے کہ لوگوں میں کس کے ساتھ حسن سلوک کا حق مجھ پر زیادہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تمہارے والد کی قسم، تمہیں بتایا جائے گا، ( سب سے زیادہ حقدار ) تمہاری ماں ہے ، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہوسلم نے فرمایا: پھر تمہاری ماں ہے ، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بھی تمہاری ماں ہے ، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تمہارا باپ کہا: مجھے بتائیے کہ میں اپنا مال کس طرح صدقہ کروں؟ آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اللہ کی قسم! یہ بھی تمہیں بتایا جائے گا، صدقہ اس حال میں کرو کہ تم تندرست ہو، مال کی حرص ہو، زندہ رہنے کی امید ہو، فقر و فاقہ کا اندیشہ ہو، ایسا نہ کرو کہ تمہاری سانس یہاں آ جائے ( تم مرنے لگو ) تو اس وقت کہو: میرا یہ مال فلاں کے لیے اور یہ مال فلاں کے لیے ہے، اب تو یہ مال ورثاء کا ہے گرچہ تم نہ چاہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، وَابْنِ، شُبْرُمَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَبِّئْنِي بِأَحَقِّ النَّاسِ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ فَقَالَ " نَعَمْ وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّ أُمُّكَ " . قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " ثُمَّ أُمُّكَ " . قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " ثُمَّ أُمُّكَ " . قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " ثُمَّ أَبُوكَ " . قَالَ نَبِّئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنْ مَالِي كَيْفَ أَتَصَدَّقُ فِيهِ قَالَ " نَعَمْ وَاللَّهِ لَتُنَبَّأَنَّ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَأْمُلُ الْعَيْشَ وَتَخَافُ الْفَقْرَ وَلاَ تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ نَفْسُكَ هَاهُنَا قُلْتَ مَالِي لِفُلاَنٍ وَمَالِي لِفُلاَنٍ وَهُوَ لَهُمْ وَإِنْ كَرِهْتَ " .
#2707
Hasan
It was narrated that Busr bin Jahhash Al-Quraishi that :the Prophet (ﷺ) spat in his palm then pointed to it with his index finger and said: “Allah (SWT) says: 'Do you think you can escape from My punishment, O son of Adam, when I have created you from something like this? When your soul reaches here' - and (the Prophet (ﷺ)) pointed to his throat - 'You say: I give charity.' But it is too late for charity?”
بسر بن جحاش قرشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پر لعاب مبارک ڈالا، اور اس پر شہادت کی انگلی رکھ کر فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! تم مجھے کس طرح عاجز کرتے ہو، حالانکہ میں نے تمہیں اسی جیسی چیز ( منی ) سے پیدا کیا ہے پھر جب تمہاری سانس یہاں پہنچ جاتی ہے، آپ نے اپنے حلق کی جانب اشارہ فرمایا تو کہتا ہے کہ میں صدقہ کرتا ہوں، اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا ؟ ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ، قَالَ بَزَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي كَفِّهِ ثُمَّ وَضَعَ أَصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ وَقَالَ " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّى تُعْجِزُنِي ابْنَ آدَمَ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ فَإِذَا بَلَغَتْ نَفْسُكَ هَذِهِ - وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ - قُلْتَ أَتَصَدَّقُ وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ " .
#2708
Sahih
It was narrated from 'Amir bin Sa'd that his father said:“I became sick during the year of the Conquest, and was at death's door. The Messenger of Allah (ﷺ) came to visit me and I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), I have a great deal of wealth and no one will inherit from me apart from my daughter. Can I give two thirds of my wealth in charity?' He said: 'No.' I said: 'Then half?' He said: 'No.' I said: 'One third?' He said: One third and one third is a lot. If you leave your heirs rich that is better than leaving them destitute and begging from people.”
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال ایسا بیمار ہوا کہ موت کے کنارے پہنچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت ( بیمار پرسی ) کے لیے تشریف لائے، تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت سارا مال ہے، اور ایک بیٹی کے علاوہ کوئی وارث نہیں ہے، تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: نہیں ، میں نے کہا: پھر آدھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، میں نے کہا: تو ایک تہائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تہائی، حالانکہ یہ بھی زیادہ ہی ہے ، تمہارا اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ کر جانا، انہیں محتاج چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، وَسَهْلٌ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مَرِضْتُ عَامَ الْفَتْحِ حَتَّى أَشْفَيْتُ عَلَى الْمَوْتِ فَعَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ أَىْ رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالاً كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلاَّ ابْنَتِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَىْ مَالِي قَالَ " لاَ " . قُلْتُ فَالشَّطْرُ قَالَ " لاَ " . قُلْتُ فَالثُّلُثُ قَالَ " الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَتْرُكَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ " .
#2709
Hasan
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah (SWT) has been charitable with you over the disposal of one third of your wealth at the time of your death, so that you may be able to add to the record of your good deeds.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہاری وفات کے وقت تم پر تہائی مال کا صدقہ کیا ہے، ( یعنی وصیت کی اجازت دی ہے ) تاکہ تمہارے نیک اعمال میں اضافہ ہو ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ تَصَدَّقَ عَلَيْكُمْ عِنْدَ وَفَاتِكُمْ بِثُلُثِ أَمْوَالِكُمْ زِيَادَةً لَكُمْ فِي أَعْمَالِكُمْ " .
#2710
Daif
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“(Allah says) O son of Adam! I have given you two things which you do not deserve (except by mercy of Allah (SWT)): I allow you to dispose of a share of your wealth when you are on your deathbed, in order to cleanse and purify you, and my slaves pray for you after your life is over.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! میں نے دو ایسی چیزیں عنایت کیں جن میں سے ایک پر بھی تمہارا حق نہیں تھا، میں جس وقت تمہاری سانس روکوں اس وقت تمہیں مال کے ایک حصہ ( یعنی تہائی مال کے صدقہ کرنے ) کا اختیار دیا، تاکہ اس کے ذریعے سے میں تمہیں پاک کروں اور تمہارا تزکیہ کروں، دوسری چیز تمہارے مرنے کے بعد میرے بندوں کا تم پر نماز ( جنازہ ) پڑھنا ۔
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا مُبَارَكُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا ابْنَ آدَمَ اثْنَتَانِ لَمْ تَكُنْ لَكَ وَاحِدَةٌ مِنْهُمَا جَعَلْتُ لَكَ نَصِيبًا مِنْ مَالِكَ حِينَ أَخَذْتُ بِكَظَمِكَ لأُطَهِّرَكَ بِهِ وَأُزَكِّيَكَ وَصَلاَةُ عِبَادِي عَلَيْكَ بَعْدَ انْقِضَاءِ أَجَلِكَ " .
#2711
Sahih
It was narrated that Ibn Abbas said:“I would like the people to reduce (the will) from one third to one quarter, because the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'One third is a lot.'”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری تمنا ہے کہ لوگ تہائی مال کے بجائے چوتھائی مال میں وصیت کریں، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک تہائی حصہ بھی بڑا ہے یا زیادہ ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ وَدِدْتُ أَنَّ النَّاسَ، غَضُّوا مِنَ الثُّلُثِ إِلَى الرُّبُعِ لأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الثُّلُثُ كَبِيرٌ - أَوْ كَثِيرٌ - " .
#2712
Sahih
It was narrated from 'Amr bin Kharijah:“The Prophet (ﷺ) addressed them when he was on his camel. His camel was chewing its cud and its saliva was dripping between my shoulders. He said: 'Allah (SWT) has allocated for each heir his share of the inheritance, so it is not permissible (to make) a bequest for an heir. The child belong to the bed and the adulterer gets the stone. Whoever claims to belong to someone other than his father, or (a freed slave) who claims that his Wala is for other than his Mavali, upon him will be the curse of Allah, the angels and all the people, and no charge nor equitable exchange will be accepted from him.” Or he said: “No equitable exchange nor change.”
عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس حال میں خطبہ دیا کہ آپ اپنی سواری ( اونٹنی ) پر تھے، وہ جگالی کر رہی تھی، اور اس کا لعاب میرے مونڈھوں کے درمیان بہہ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر وارث کے لیے میراث کا حصہ متعین کر دیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر اس کی ولادت ہوئی، اور زنا کرنے والے کے لیے پتھر ہے، جو شخص اپنے باپ دادا کے علاوہ دوسرے کی طرف نسبت کا دعویٰ کرے یا ( غلام ) اپنے مالک کے علاوہ دوسرے شخص کو مالک بنائے، تو اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا نفل قبول ہو گا، نہ فرض یا یوں کہا کہ نہ فرض قبول ہو گا نہ نفل ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَطَبَهُمْ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَإِنَّ رَاحِلَتَهُ لَتَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَإِنَّ لُغَامَهَا لَيَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَىَّ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ لِكُلِّ وَارِثٍ نَصِيبَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ فَلاَ يَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ " . أَوْ قَالَ " عَدْلٌ وَلاَ صَرْفٌ " .
#2713
Sahih
Shurahbil bin Muslim Al-Khawlani narrated from Abu Umamah Al-Bahili that the heard :the Messenger of Allah (ﷺ) say in his sermon, during the year of the Farewell pilgrimage: “Allah (SWT) has given each person who has rights his rights, and there is no bequest for in heir.”
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ حجۃ الوداع کے سال اپنے خطبہ میں فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ نے ( میت کے ترکہ میں ) ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلاَنِيُّ، سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حِجَّةِ الْوَدَاعِ " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلاَ وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ " .
#2714
Sahih
It was narrated that Anas bin Malik said:“I was under the she-camel of the Messenger of Allah (ﷺ) and its saliva was dripping between my shoulders, and I heard him say: 'Allah (SWT) has given each person who has rights his rights, but there is no bequest for an heir.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے نیچے کھڑا تھا، اس کا لعاب میرے اوپر بہہ رہا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ نے ( میت کے ترکہ میں ) ہر ایک حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، تو سنو! کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ إِنِّي لَتَحْتَ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسِيلُ عَلَىَّ لُعَابُهَا فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ أَلاَ لاَ وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ " .
#2715
Hasan
It was narrated that 'Ali said:“The Messenger of Allah (ﷺ) ruled that the debts should be paid off before the execution of the will. You recite: '(The distribution in all cases is) after the payment of legacies he may have bequeathed or debts.' The sons of one mother (from the same father) inherit from one another, but not the sons from different mothers (but the same father).”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت سے پہلے قرض ( کی ادائیگی ) کا فیصلہ فرمایا، حالانکہ تم اس کو قرآن میں پڑھتے ہو: «من بعد وصية يوصي بها أو دين» یہ حصے اس وصیت ( کی تکمیل ) کے بعد ہیں جو مرنے والا کر گیا ہو، یا ادائے قرض کے بعد ( سورۃ النساء: ۱۱ ) ۱؎ اور حقیقی بھائی وارث ہوں گے، علاتی نہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ وَأَنْتُمْ تَقْرَءُونَهَا {مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ } وَإِنَّ أَعْيَانَ بَنِي الأُمِّ لَيَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلاَّتِ .
#2716
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that a man asked the Messenger of Allah (ﷺ):“My father died and left behind wealth, but he did not make a will. Will it expiate for him if I give charity on his behalf?” He said: “Yes.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے اور وہ مال چھوڑ گئے ہیں، انہوں نے وصیت نہیں کی ہے، کیا اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کر دوں تو ان کے گناہ معاف ہو جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالاً وَلَمْ يُوصِ فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهُ قَالَ " نَعَمْ " .
#2717
Sahih
It was narrated from Aishah that a man came to the Prophet (ﷺ) and said:“My mother died unexpectedly and she had not made a will. I think that if she could have spoken, she would have given in charity. Will she have a reward if I give in charity on her behalf, and will I have a reward?” He said: “Yes.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، اور اس نے عرض کیا: میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا، اور وہ وصیت نہیں کر سکیں، میرا خیال ہے کہ اگر وہ بات چیت کر پاتیں تو صدقہ ضرور کرتیں، تو کیا اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کروں تو انہیں اور مجھے اس کا ثواب ملے گا یا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ( ملے گا ) ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَلَمْ تُوصِ وَإِنِّي أَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ لَتَصَدَّقَتْ فَلَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا وَلِيَ أَجْرٌ فَقَالَ " نَعَمْ " .
#2718
Hasan Sahih
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib from his father, that his a grandfather said:“A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'I do not have anything and I have no wealth, but I have an orphan (under my care) who has wealth.” He said: “Eat from the wealth of your orphan, without being extravagant or use it for trade.” He (narrator) said: “And I think he said: 'Do not preserve your wealth using his instead.'”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، اور اس نے عرض کیا: میرے پاس کچھ بھی نہیں اور نہ مال ہی ہے، البتہ میری پرورش میں ایک یتیم ہے جس کے پاس مال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یتیم کے مال میں سے فضول خرچی کئے اور بغیر اپنے لیے پونجی بنائے کھاؤ میرا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا مال بچانے کے لیے اس کا مال اپنے مصرف میں نہ خرچ کرو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لاَ أَجِدُ شَيْئًا وَلَيْسَ لِي مَالٌ وَلِي يَتِيمٌ لَهُ مَالٌ قَالَ " كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ وَلاَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً " . قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ " وَلاَ تَقِي مَالَكَ بِمَالِهِ " .
#2719
Daif
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“O Abu Hurairah. Learn about the inheritance and teach it, for it is half of knowledge, but it will be forgotten. This is the first thing that will be taken away from my nation.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! علم فرائض سیکھو اور سکھاؤ، اس لیے کہ وہ علم کا آدھا حصہ ہے، وہ بھلا دیا جائے گا، اور سب سے پہلے یہی علم میری امت سے اٹھایا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْعَطَّافِ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهَا فَإِنَّهُ نِصْفُ الْعِلْمِ وَهُوَ يُنْسَى وَهُوَ أَوَّلُ شَىْءٍ يُنْتَزَعُ مِنْ أُمَّتِي " .
#2720
Hasan
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said:“The wife of Sa’d bin Rabi’ came with the two daughters of Sa’d to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah, these are the two daughters of Sa’d. He was killed with you on the day of Uhud, and their paternal uncle has taken all that their father left behind, and a woman is only married for her wealth.’ The Prophet (ﷺ) remained silent until the Verse of inheritance was revealed to him. Then the Messenger of Allah (ﷺ) called the brother of Sa’d bin Rabi’ and said: ‘Give the two daughters of Sa’d two thirds of his wealth, and give his wife on eighth, and take what is left.’”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیوی ان کی دونوں بیٹیوں کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دونوں سعد کی بیٹیاں ہیں، جو آپ کے ساتھ غزوہ احد میں تھے اور شہید ہو گئے، ان کے چچا نے ان کی ساری میراث پر قبضہ کر لیا ( اب ان بچیوں کی شادی کا معاملہ ہے ) اور عورت سے مال کے بغیر کوئی شادی نہیں کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ میراث والی آیت نازل ہوئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے بھائی کو طلب کیا اور فرمایا: سعد کی دونوں بیٹیوں کو ان کے مال کا دو تہائی حصہ اور ان کی بیوی کو آٹھواں حصہ دے دو، پھر جو بچے وہ تم لے لو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ بِابْنَتَىْ سَعْدٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدٍ قُتِلَ مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ جَمِيعَ مَا تَرَكَ أَبُوهُمَا وَإِنَّ الْمَرْأَةَ لاَ تُنْكَحُ إِلاَّ عَلَى مَالِهَا . فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أُنْزِلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَقَالَ " أَعْطِ ابْنَتَىْ سَعْدٍ ثُلُثَىْ مَالِهِ وَأَعْطِ امْرَأَتَهُ الثُّمُنَ وَخُذْ أَنْتَ مَا بَقِيَ " .
#2721
Sahih
It was narrated that Huzail bin Shurahbil said:“A man came to Abu Musa Al-Ash’ari and Salman bin Rabi’ah Al-Bahili and asked them about (the shares of) a daughter, a son’s daughter, a sister through one’s father and mother. They said: ‘The daughter gets one half, and what is left goes to the sister. Go to Ibn Mas’ud, for he will concur with what we say.’ So the man went to Ibn Mas’ud, and told him what they had said. ‘Abdullah said: ‘I will go astray and will not be guided (if I say that I agree); but I will judge as the Messenger of Allah (ﷺ) judged. The daughter gets one half, and the son’s daughter gets one- sixth. That makes two thirds. And what is left goes to the sister.’”
ہذیل بن شرحبیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی ابوموسیٰ اشعری اور سلمان بن ربیعہ باہلی رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اور ان سے اس نے بیٹی، پوتی اور حقیقی بہن کے ( حصہ کے ) بارے میں پوچھا، تو ان دونوں نے کہا: آدھا بیٹی کے لیے ہے، اور جو باقی بچے وہ بہن کے لیے ہے، لیکن تم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، اور ان سے بھی معلوم کر لو، وہ بھی ہماری تائید کریں گے، وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے بھی مسئلہ معلوم کیا، نیز بتایا کہ ابوموسیٰ اشعری، اور سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہما نے یہ بات بتائی ہے، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں ایسا حکم دوں تو گمراہ ہو گیا، اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ رہا، لیکن میں وہ فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، بیٹی کے لیے آدھا، اور پوتی کے لیے چھٹا حصہ ہے، اس طرح دو تہائی پورے ہو جائیں، اور جو ایک تہائی بچا وہ بہن کے لیے ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الأَوْدِيِّ، عَنِ الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ الْبَاهِلِيِّ فَسَأَلَهُمَا عَنِ ابْنَةٍ وَابْنَةِ ابْنٍ وَأُخْتٍ، لأَبٍ وَأُمٍّ فَقَالاَ لِلاِبْنَةِ النِّصْفُ وَمَا بَقِيَ فَلِلأُخْتِ وَائْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَيُتَابِعُنَا . فَأَتَى الرَّجُلُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلَهُ وَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالاَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ وَلَكِنِّي سَأَقْضِي بِمَا قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلاِبْنَةِ النِّصْفُ وَلاِبْنَةِ الاِبْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلأُخْتِ .
#2722
Sahih
It was narrated that Ma’qil bin Yasar Al-Muzani said:“I heard the Prophet (ﷺ) when a case was brought to him which involved the share of a grandfather. He gave him one third, or one sixth.”
معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ کے پاس ترکے کا ایک ایسا مقدمہ لایا گیا جس میں دادا بھی ( وراثت کا حقدار ) تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک تہائی یا چھٹا حصہ دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِفَرِيضَةٍ فِيهَا جَدٌّ فَأَعْطَاهُ ثُلُثًا أَوْ سُدُسًا .
#2723
Sahih
It was narrated that Ma’qil bin Yasar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) ruled concerning a grandfather who was among us, that he should receive one sixth.”
معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے خاندان کے ایک دادا کے لیے چھٹے حصہ کا فیصلہ فرمایا۔
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي جَدٍّ كَانَ فِينَا بِالسُّدُسِ .
#2724
Daif
It was narrated that Ibn Dhu’aib said:“A grandmother came to Abu Bakr Siddiq and asked him for her inheritance. Abu Bakr said to her: ‘You have nothing according to the Book of Allah, and I don’t know of anything for you according to the Book of Allah, and I don’t know of anything for you according to the Sunnah of the Messenger of Allah (ﷺ). Go back until I ask the people.’ So he asked the people and Al-Mughirah bin Shu’bah said: ‘I was present with the Messenger of Allah (ﷺ) and he gave her (the grandmother) one sixth.’ Abu Bakr said: ‘Is there anyone else with you (who will corroborate what you say)?’ Muhammad bin Maslamah Al-Ansari stood up and said something like what Mughirah bin Shu’bah had said. So Abu Bakr applied it in her case.”
قبیصہ بن ذویب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نانی ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا حصہ مانگنے آئی، تو آپ نے اس سے کہا: کتاب اللہ ( قرآن ) میں تمہارے حصے کا کوئی ذکر نہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی مجھے تمہارا کوئی حصہ معلوم نہیں، تم لوٹ جاؤ یہاں تک کہ میں لوگوں سے اس سلسلے میں معلومات حاصل کر لوں، آپ نے لوگوں سے پوچھا، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھٹا حصہ دلایا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی تھا؟ تو محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اور وہی بات بتائی جو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بتائی تھی، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کو نافذ کر دیا۔ پھر دوسری عورت جو دادی تھی عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا حصہ مانگنے آئی، تو آپ نے کہا: کتاب اللہ ( قرآن ) میں تمہارا کوئی حصہ نہیں، اور جو فیصلہ پیشتر ہو چکا ہے وہ تمہارے لیے نہیں، بلکہ نانی کے لیے ہوا، اور میں از خود فرائض میں کچھ بڑھا بھی نہیں سکتا، وہی چھٹا حصہ ہے اگر دادی اور نانی دونوں ہوں تو دونوں اس چھٹے حصے کو آدھا آدھا تقسیم کر لیں، اور دونوں میں سے ایک ہو تو وہ چھٹا حصہ پورا لے لے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خَرَشَةَ، عَنِ ابْنِ ذُؤَيْبٍ، قَالَ جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَىْءٌ وَمَا عَلِمْتُ لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ . فَسَأَلَ النَّاسَ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهَا السُّدُسَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَأَنْفَذَهُ لَهَا أَبُو بَكْرٍ . ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الأُخْرَى مِنْ قِبَلِ الأَبِ إِلَى عُمَرَ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا فَقَالَ مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَىْءٌ وَمَا كَانَ الْقَضَاءُ الَّذِي قُضِيَ بِهِ إِلاَّ لِغَيْرِكِ وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِي الْفَرَائِضِ شَيْئًا وَلَكِنْ هُوَ ذَاكِ السُّدُسُ فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فِيهِ فَهُوَ بَيْنَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا .
#2725
Daif Isnaad
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) gave a grandmother one sixth of the inheritance
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دادی و نانی کو چھٹے حصے کا وارث بنایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَّثَ جَدَّةً سُدُسًا .