#2676
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“(The injuries caused by) a fire are without liability, and by falling into a well.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ بیکار ہے، اور کنواں بیکار ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " النَّارُ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ " .
#2677
Sahih
It was narrated from Sahl bin Abu Hathmah from the elders of his people that :'Abdullah bin Sahl and Muhayyishah set out for Khaibar because of some problem that had arisen. Someone came to Muhayyishah, and he told him that Abdullah bin Sahl had been killed and thrown into a pit or well in Khaibar. He came to the Jews and said: “By Allah, you killed him.” They said: “By Allah, we did not kill him.” Then he went back to his people and told them about that. Then he and his brother Huwayyisah, who was older than him, and 'Abdur-Rahman bin Sahl, came (to the Prophet (ﷺ)). Muhayyisah, who was the one who had been at Khaibar, went and he began to speak, but the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Let the elder speak first.” So Huwayyisah spoke, then Muhayyisah spoke. The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Either (the Jews) will pay the blood money for your companion, or war will be declared on them.” The Messenger of Allah (ﷺ) sent a letter to that effect (to the Jews) and they wrote back saying: “By Allah, we did not kill him.” The Messenger of Allah (ﷺ) said to Huwayyisah, Muhayyisah and Abdur-Rahman: “Will you swear an oath establishing your claim to the blood money of your companion?” They said: “No” He said: “Should the Jews swear an oath for you?” They said: “They are not Muslims.” So the Messenger of Allah (ﷺ) paid the blood money himself, and he sent one hundred she-camels to them and some of them entered the house. Sahl said: “A red she-camels from among them kicked me.”
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے بزرگوں سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما دونوں محتاجی کی وجہ سے جو ان کو لاحق تھی ( روزگار کی تلاش میں ) اس یہودی بستی خیبر کی طرف نکلے، محیصہ رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے ہیں، اور انہیں خیبر کے ایک گڑھے یا چشمے میں ڈال دیا گیا ہے، وہ یہودیوں کے پاس گئے، اور کہا: اللہ کی قسم، تم لوگوں نے ہی ان ( عبداللہ بن سہل ) کو قتل کیا ہے، وہ قسم کھا کر کہنے لگے کہ ہم نے ان کا قتل نہیں کیا ہے، اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ خیبر سے واپس اپنی قوم کے پاس پہنچے، اور ان سے اس کا ذکر کیا، پھر وہ، ان کے بڑے بھائی حویصہ، اور عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور محیصہ رضی اللہ عنہ جو کہ خیبر میں تھے بات کرنے بڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محیصہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بڑے کا لحاظ کرو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عمر میں بڑے سے تھی چنانچہ حویصہ رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی، اور اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ نے، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: یا تو یہود تمہارے آدمی کی دیت ادا کریں ورنہ اس کو اعلان جنگ سمجھیں اور یہود کو یہ بات لکھ کر بھیج دی، انہوں نے بھی جواب لکھ بھیجا کہ اللہ کی قسم، ہم نے ان کو قتل نہیں کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہم سے کہا: تم قسم کھا کر اپنے ساتھی کی دیت کے مستحق ہو سکتے ہو ، انہوں نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہود قسم کھا کر بری ہو جائیں گے وہ کہنے لگے: وہ تو مسلمان نہیں ہیں، ( کیا ان کی قسم کا اعتبار کیا جائے گا ) آخر کار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کی دیت ادا کی، اور ان کے لیے سو اونٹنیاں بھیجیں جنہیں ان کے گھر میں داخل کر دیا گیا۔ سہل رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک لال اونٹنی نے مجھے لات ماری۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي أَبُو لَيْلَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ رِجَالٍ، مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ أَنَّ عَبْدَ، اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَأُلْقِيَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ بِخَيْبَرَ فَأَتَى يَهُودَ فَقَالَ أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ . قَالُوا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ . ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُمْ ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ يَتَكَلَّمُ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمُحَيِّصَةَ " كَبِّرْ كَبِّرْ " . يُرِيدُ السِّنَّ فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ " . فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهِمْ فِي ذَلِكَ فَكَتَبُوا إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ " تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ " . قَالُوا لاَ . قَالَ " فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ " . قَالُوا لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عِنْدِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ فَقَالَ سَهْلٌ فَلَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ .
#2678
Sahih
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that :Huwayyisah and Muhayyisah , the sons of Mas'ud, and 'Abdullah and 'Abdur-Rahman the sons of Sahl, went out to search for food in Khaibar. 'Abdullah was attacked and killed, and mention of that was made to the Messenger of Allah (ﷺ). He said: “Will you swear an oath and establish your right to blood money?” They said: “O Messenger of Allah (ﷺ), how can we swear an oath when we did not witness anything?” He said: “Do you want the Jews to swear that they are innocent?” They said: “O Messenger of Allah (ﷺ), then they will kill us too.” So the Messenger of Allah (ﷺ) paid the blood money himself
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ و محیصہ رضی اللہ عنہما اور سہل کے دونوں بیٹے عبداللہ و عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما خیبر کی جانب تلاش رزق میں نکلے، عبداللہ پر ظلم ہوا، اور انہیں قتل کر دیا گیا، اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم کھاؤ اور ( دیت کے ) مستحق ہو جاؤ وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! جب ہم وہاں حاضر ہی نہیں تھے تو قسم کیوں کر کھائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہود ( قسم کھا کر ) تم سے بری ہو جائیں گے وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! تب تو وہ ہمیں مار ہی ڈالیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ حُوَيِّصَةَ، وَمُحَيِّصَةَ، ابْنَىْ مَسْعُودٍ وَعَبْدَ اللَّهِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ ابْنَىْ سَهْلٍ خَرَجُوا يَمْتَارُونَ بِخَيْبَرَ فَعُدِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقُتِلَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " تُقْسِمُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ " . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نُقْسِمُ وَلَمْ نَشْهَدْ قَالَ " فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا تَقْتُلُنَا . قَالَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عِنْدِهِ .
#2679
Hasan
It was narrated from Salamah bin Rawh bin Zinba', that :his grandfather came to the Prophet (ﷺ) and he had castrated a slave of his. The Prophet (ﷺ) manumitted the slave in compensation for having been mutilated
سلمہ بن روح بن زنباع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے اپنے غلام کو خصی کر دیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام کو مثلہ ( ناک کان یا کوئی عضو کاٹ دینا ) کئے جانے کی بناء پر آزاد کر دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ رَوْحِ بْنِ زِنْبَاعٍ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ خَصَى غُلاَمًا لَهُ فَأَعْتَقَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْمُثْلَةِ .
#2680
Hasan
Amr bin Shu'aib narrated from his father that his grandfather said:“A man came to the Prophet (ﷺ) screaming. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: 'What is the matter with you?' He said: 'My master saw me kissing a slave woman of his, so he cut off my penis.' The Prophet (ﷺ) said: 'Take me to the man.' He was sought but could not be found, so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Go, for you are free.' He said: 'Who will protect me, O Messenger of Allah (ﷺ)? What if my master enslaves me again?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Your protection will be (incumbent upon) every believer or Muslim.'”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چیختا ہوا آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا بات ہے ؟ وہ بولا: میرے مالک نے مجھے اپنی ایک لونڈی کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھ لیا، تو میرے اعضاء تناسل ہی کاٹ ڈالے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ جب اسے ڈھونڈا گیا تو وہ نہیں مل سکا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ تم آزاد ہو، غلام بولا: اللہ کے رسول! میری مدد کون کرے گا؟ یعنی اگر میرا مالک مجھے پھر غلام بنا لے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی صورت میں ہر مومن یا مسلمان پر تمہاری مدد لازم ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ الْمُرَجَّى السَّمَرْقَنْدِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ الصَّيْرَفِيُّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَارِخًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا لَكَ " . قَالَ سَيِّدِي رَآنِي أُقَبِّلُ جَارِيَةً لَهُ فَجَبَّ مَذَاكِيرِي . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَىَّ بِالرَّجُلِ " . فَطُلِبَ فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ " . قَالَ عَلَى مَنْ نُصْرَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَقُولُ أَرَأَيْتَ إِنِ اسْتَرَقَّنِي مَوْلاَىَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ أَوْ مُسْلِمٍ " .
#2681
Daif
Abdullah said that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The most decent of the people in killing are the people of faith.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل کے مسئلہ میں اہل ایمان سب سے زیادہ پاکیزہ اور بہتر ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ أَعَفِّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلَ الإِيمَانِ " .
#2682
Daif
It was narrated that 'Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The most decent people in killing are the people of faith.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل کے مسئلہ میں اہل ایمان سب سے پاکیزہ لوگ ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هُنَىِّ بْنِ نُوَيْرَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَعَفَّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الإِيمَانِ " .
#2683
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet (ﷺ) said:“The blood of every Muslims is equal, they are one hand against others. The asylum offered by the lowest of them in status applies to them (all), and the return is granted to the farthest of them.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے خون برابر ہیں، اور وہ اپنے مخالفوں کے لیے ایک ہاتھ کی طرح ہیں، ان میں سے ادنی شخص بھی کسی کو امان دے سکتا ہے، اور سب کو اس کی امان قبول کرنی ہو گی، اور ( لشکر میں ) سب سے دور والا شخص بھی مال غنیمت کا مستحق ہو گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ وَيُرَدُّ عَلَى أَقْصَاهُمْ " .
#2684
Sahih
It was narrated from Ma'qil bin Yasar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Muslims are one hand against others, and their blood is equal.”
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان اپنے علاوہ ( دوسرے مذہب ) والوں کے مقابلہ میں ایک ہاتھ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے خون برابر ہیں ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ عَبْدِ السَّلاَمِ بْنِ أَبِي الْجَنُوبِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ وَتَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ " .
#2685
Hasan Sahih
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The hand of the Muslims is over others, and their blood and wealth is equal in value. The (asylum granted by) the lowest of them applies to the Muslims, and the Muslims return (the spoils of war) to the farthest of them.”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کا ہاتھ اپنے علاوہ دوسری قوم والوں پر ہے ( یعنی ان سب سے لڑیں، آپس میں نہ لڑیں ) ان کے خون اور ان کے مال برابر ہیں، مسلمانوں کا ادنی شخص کسی کو پناہ دے سکتا ہے اور لشکر میں دور والا شخص بھی مال غنیمت کا مستحق ہو گا ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَدُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَيُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ وَيَرُدُّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَقْصَاهُمْ " .
#2686
Sahih
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever kills a Mu'ahid, will not smell the fragrance of Paradise, even though its fragrance may be detected from a distance of forty years.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی ذمی کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا " .
#2687
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“Whoever kills a Mu'ahid who has the protection of Allah and the protection of his Messenger, will not smell the fragrance of Paradise, even though its fragrance may be detected from a distance of Seventy years.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: جس نے کسی ایسے ذمی کو قتل کر دیا جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے پناہ دے رکھی ہو، تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَنَا ابْنُ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا " .
#2688
Sahih
It was narrated that Rifa'ah bin Shaddad Al-Qitbani said:“Were it not for a word that I heard from 'Amr bin Hamiq Khuza'i, I would have separated the head of Al-Mukhtar from his body. I heard him saying: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If a man trusts someone with his life then he kills him, he will carry a banner of treachery on the day of Resurrection.'”
رفاعہ بن شداد قتبانی کہتے ہیں کہ اگر وہ حدیث نہ ہوتی جو میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنی ہے تو میں مختار ثقفی کے سر اور جسم کے درمیان چلتا، میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو جان کی امان دی، پھر اس کو قتل کر دیا تو قیامت کے دن دغا بازی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ الْقِتْبَانِيِّ، قَالَ لَوْلاَ كَلِمَةٌ سَمِعْتُهَا مِنْ، عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ لَمَشَيْتُ فِيمَا بَيْنَ رَأْسِ الْمُخْتَارِ وَجَسَدِهِ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَمِنَ رَجُلاً عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ فَإِنَّهُ يَحْمِلُ لِوَاءَ غَدْرٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#2689
Daif
It was narrated that Rifa'ah said:“I entered upon Mukhtar in his palace and he said: 'Jibril has just left me.' Nothing stopped me from striking his neck (i.e, killing him) but a Hadith that I heard from Sulaiman bin Surad, according to which the Prophet (ﷺ) said: 'If a man trusts you with his life, then do not kill him.' That is what stopped me.”
رفاعہ کہتے ہیں کہ میں مختار ثقفی کے پاس اس کے محل میں گیا، تو اس نے کہا: جبرائیل ابھی ابھی میرے پاس سے گئے ہیں ۱؎، اس وقت اس کی گردن اڑا دینے سے صرف اس حدیث نے مجھے باز رکھا جو میں نے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے سنی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص تم سے جان کی امان میں ہو تو اسے قتل نہ کرو، تو اسی بات نے مجھے اس کو قتل کرنے سے روکا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبُو لَيْلَى، عَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ، عَنْ رِفَاعَةَ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ فِي قَصْرِهِ فَقَالَ قَامَ جِبْرَائِيلُ مِنْ عِنْدِي السَّاعَةَ . فَمَا مَنَعَنِي مِنْ ضَرْبِ عُنُقِهِ إِلاَّ حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِذَا أَمِنَكَ الرَّجُلُ عَلَى دَمِهِ فَلاَ تَقْتُلْهُ " . فَذَاكَ الَّذِي مَنَعَنِي مِنْهُ .
#2690
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:“A man killed (another) during the time of the Messenger of Allah (ﷺ) and was referred to the Prophet (ﷺ). He handed him over to the victim's next of kin, but the killer said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), by Allah I did not mean to kill him.' The Messenger of Allah (ﷺ) said to the next of kin, 'If he is telling the truth and you kill him, you will go to Hell.' So he let him go. He had been tied with a rope, and he went out dragging his rope, so he became known as Dhan-Nis'ah (the one with the rope)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قتل کر دیا تو اس کا مقدمہ آآپ کے پاس لایا گیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کو مقتول کے ولی کے حوالے کر دیا، قاتل نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، میرا اس کو قتل کرنے کا قطعاً ارادہ نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولی سے کہا: اگر یہ اپنی بات میں سچا ہے، اور تم نے اس کو قتل کر دیا تو تم جہنم میں جاؤ گے تو مقتول کے ولی نے اس کو چھوڑ دیا، قاتل پٹے سے بندھا ہوا تھا، وہ پٹا گھسیٹتا ہوا نکلا، اور اس کا نام ہی پٹے والا پڑ گیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَتَلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ فَقَالَ الْقَاتِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْوَلِيِّ " أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا ثُمَّ قَتَلْتَهُ دَخَلْتَ النَّارَ " . قَالَ فَخَلَّى سَبِيلَهُ . قَالَ وَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ فَسُمِّيَ ذَا النِّسْعَةِ .
#2691
Sahih
It was narrated that Anas bin Malik said:“A man brought the killer of his relative to the Messenger of Allah (ﷺ) and the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Pardon him,' but the refused. He said: 'Take the blood money,' but he refused. He said: 'Go and kill him, but then you will be like him.’ Someone caught up with him and reminded him that the Messenger of Allah (ﷺ) had said: 'Go and kill him, but then you will be like him.’ So he let him go. He said: So he was seen dragging his strap going to his family. He said: It seemed that he had tied him up. It's narrated that AbdurRahman bin AlQasim said "Then it is not (permissible) for anyone after the Prophet ﷺ to say 'Go and kill him, but then you will be like him
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے ولی کے قاتل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے معاف کر دو ، اس نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیت لے لو اس نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے قتل کر دو اور تم بھی اسی کی طرح ہو جاؤ ۱؎ چنانچہ اس سے مل کر کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جاؤ تم اس کو قتل کر دو تم بھی اس کے مثل ہو جاؤ تو اس نے اسے چھوڑ دیا، قاتل کو اپنے گھر والوں کی طرف اپنا پٹا گھسیٹتے ہوئے جاتے دیکھا گیا، گویا کہ مقتول کے وارث نے اسے باندھ رکھا تھا ۱؎۔ ابوعمیر اپنی حدیث میں کہتے ہیں: ابن شوذب نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے یہ قول نقل کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لئے «اقتله فإنك مثله» کہنا درست نہیں۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ اہل رملہ کی حدیث ہے، ان کے علاوہ کسی اور نے یہ روایت نہیں کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ، عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسُ وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ وَالْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلاَنِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَتَى رَجُلٌ بِقَاتِلِ وَلِيِّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اعْفُ " . فَأَبَى فَقَالَ " خُذْ أَرْشَكَ " . فَأَبَى . قَالَ " اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ " . قَالَ فَلُحِقَ بِهِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ قَالَ " اقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ " . فَخَلَّى سَبِيلَهُ . قَالَ فَرُئِيَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ ذَاهِبًا إِلَى أَهْلِهِ . قَالَ كَأَنَّهُ قَدْ كَانَ أَوْثَقَهُ . قَالَ أَبُو عُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ ابْنُ شَوْذَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، فَلَيْسَ لأَحَدٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَقُولَ " اقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ " . قَالَ ابْنُ مَاجَهْ هَذَا حَدِيثُ الرَّمْلِيِّينَ لَيْسَ إِلاَّ عِنْدَهُمْ .
#2692
Sahih
It was narrated that 'Ata bin Abu Maimunah said:“I only know it from Anas bin Malik who said: 'No case involving retaliation was referred to the Messenger of Allah (ﷺ) but he enjoined forgiveness.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قصاص کا کوئی مقدمہ آتا تو آپ اس کو معاف کر دینے کا حکم دیتے ( یعنی سفارش کرتے ) ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ لاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَا رُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَىْءٌ فِيهِ الْقِصَاصُ إِلاَّ أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ .
#2693
Daif
Abu Darda said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'There is no man who suffers some (injury) on his body and forgives (the perpetrator), but Allah (SWT) will raise him one degree in status thereby, or erase from him one sin.'My own ears heard it and my heart memorized it.”
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کوئی بھی شخص جس کے جسم کو صدمہ پہنچے پھر وہ ثواب کی نیت سے معاف کر دے، تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ معاف کر دیتا ہے، یہ میرے کانوں نے سنا اور دل نے یاد رکھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، قَالَ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ رَجُلٍ يُصَابُ بِشَىْءٍ مِنْ جَسَدِهِ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ إِلاَّ رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً أَوْ حَطَّ عَنْهُ بِهِ خَطِيئَةً " . سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ وَوَعَاهُ قَلْبِي .
#2694
Daif
Mu'adh bin Jabal, Abu Ubaidah bin Jararah, Ubadah bin Samit and Shaddad bin Aws narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“If a woman kills someone deliberately, she should not be killed until she delivers what is in her womb, if she is pregnant, and until the child's sponsorship is guaranteed. And if a woman commits illegal sex, she should not be stoned until she delivers what is in her womb and until her child's sponsorship is guaranteed.”
معاذ بن جبل، عبیدہ بن جراح، عبادہ بن صامت اور شداد بن اوس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت جب جان بوجھ کر قتل کا ارتکاب کرے اور وہ حاملہ ہو، تو اس وقت تک قتل نہیں کی جائے گی جب تک وہ بچہ کو جن نہ دے، اور کسی کو اس کا کفیل نہ بنا دے، اور اگر اس نے زنا کا ارتکاب کیا تو اس وقت تک رجم نہیں کی جائے گی جب تک وہ زچگی ( بچہ کی ولادت ) سے فارغ نہ ہو جائے، اور کسی کو اپنے بچے کا کفیل نہ بنا دے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنِ ابْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَىٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ وَشَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمَرْأَةُ إِذَا قَتَلَتْ عَمْدًا لاَ تُقْتَلُ حَتَّى تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا إِنْ كَانَتْ حَامِلاً وَحَتَّى تُكَفِّلَ وَلَدَهَا وَإِنْ زَنَتْ لَمْ تُرْجَمْ حَتَّى تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا وَحَتَّى تُكَفِّلَ وَلَدَهَا " .
#2695
Sahih
It was narrated that Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) did not leave behind a Dinar nor a Dirham, nor a sheep, nor a camel, and he did not make a will concerning anything.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی وفات کے وقت ) دینار، درہم، بکری اور اونٹ نہیں چھوڑے اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دِينَارًا وَلاَ دِرْهَمًا وَلاَ شَاةً وَلاَ بَعِيرًا وَلاَ أَوْصَى بِشَىْءٍ .
#2696
Sahih
It was narrated from Malik bin Mighwal that Talhah bin Musarrif said:“I said to Abdullah bin Abu Awfa: 'Did the Messenger of Allah (ﷺ) make a will concerning anything?' He said: 'No.' I said: 'How come he told the Muslims to make wills?' He said: 'He enjoined (them to adhere to) the book of Allah (SWT).” Malik said: “Talhah bin Musarrif said: 'Huzail bin Shurahbil said: “Abu Bakr was granted leadership according to the will of Allah's Messenger (ﷺ)?” (Rather) Abu Bakr wished that the found a covenant (in that regard) from Allah's Messenger (ﷺ), so he could fetter his nose with a (camel's) nose ring.”
طلحہ بن مصرف کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کی وصیت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، میں نے کہا: پھر کیوں کر مسلمانوں کو وصیت کا حکم دیا؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب ( قرآن ) پر چلنے کی وصیت فرمائی ۱؎۔ مالک کہتے ہیں: طلحہ بن مصرف کا بیان ہے کہ ہزیل بن شرحبیل نے کہا: بھلا ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم کے وصی پر حکومت کر سکتے تھے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تو یہ حال تھا کہ اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم پاتے تو تابع دار اونٹنی کی طرح اپنی ناک میں ( اطاعت کی ) نکیل ڈال لیتے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَىْءٍ قَالَ لاَ . قُلْتُ فَكَيْفَ أَمَرَ الْمُسْلِمِينَ بِالْوَصِيَّةِ قَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ . قَالَ مَالِكٌ وَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ قَالَ الْهُزَيْلُ بْنُ شُرَحْبِيلَ أَبُو بَكْرٍ كَانَ يَتَأَمَّرُ عَلَى وَصِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَدَّ أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ وَجَدَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَهْدًا فَخَزَمَ أَنْفَهُ بِخِزَامٍ .
#2697
Sahih
It was narrated that Anas bin Malik said:“What the Messenger of Allah (ﷺ) most enjoined when he was dying and breathing his last was: The prayer; and those whom your right hands possess.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب جب آپ کا سانس اٹک رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عام وصیت یہ تھی: لوگو! نماز اور غلام و لونڈی کا خیال رکھنا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَتْ عَامَّةُ وَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ وَهُوَ يُغَرْغِرُ بِنَفْسِهِ " الصَّلاَةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " .
#2698
Sahih
It was narrated that 'Ali bin Abu Talib said:“The last words of the Prophet (ﷺ) were: The prayer; and those whom your right hands prossess.”
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بات یہ تھی: نماز کا اور اپنے غلام و لونڈی کا خیال رکھنا ۱؎۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أُمِّ مُوسَى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ كَانَ آخِرُ كَلاَمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " الصَّلاَةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " .
#2699
Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Muslim man has no right to spend two nights, if he has something for which a will should be made, without having a written will with him.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کے پاس وصیت کرنے کے قابل کوئی چیز ہو، اسے یہ حق نہیں ہے کہ وہ دو راتیں بھی اس حال میں گزارے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يَبِيتَ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ شَىْءٌ يُوصِي فِيهِ إِلاَّ وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ " .
#2700
Daif
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The one who is deprived is the one who is deprived of a will.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محروم وہ ہے جو وصیت کرنے سے محروم رہے ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمَحْرُومُ مَنْ حُرِمَ وَصِيَّتَهُ " .