#2526
Hasan
It was narrated from that Safinah - Abu 'Abdur-Rahman-said :“Umm Salamah freed me but stipulated that I should serve the Prophet (ﷺ) as long he lived.”
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَعْتَقَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ وَاشْتَرَطَتْ عَلَىَّ أَنْ أَخْدُمَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَا عَاشَ .
#2527
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever frees his share of a slave or part of his share, must pay from his wealth if he has any wealth if he has any wealth (in order to buy the rest of the slave's freedom). If he does not have wealth, then the slave should be asked to work for the price (of his freedom), without that causing him too much hardship.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کسی ( مشترک ) غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دے، تو اس کی ذمہ داری ہے کہ اگر اس کے پاس مال ہو تو اپنے مال سے اس کو مکمل آزاد کرائے، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام سے باقی ماندہ قیمت کی ادائیگی کے لیے مزدوری کرائے، لیکن اس پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ أَوْ شِقْصًا فَعَلَيْهِ خَلاَصُهُ مِنْ مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ فِي قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " .
#2528
Sahih
It was narrated from Ibn`Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever frees his share of a slave, the price of the slave should be fairly evaluated, and he (the partner who initiated this process) should free him (in full, by giving the rest of his price to the other co-owners), if he has enough wealth to do so. Otherwise, he will have freed whatever he freed.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کر دے، تو کسی عادل شخص سے غلام کی قیمت لگوائی جائے گی، اور اس کے بقیہ شرکاء کے حصہ کی قیمت بھی اسے ادا کرنی ہو گی، بشرطیکہ اس کے پاس اس قدر مال ہو جتنی غلام کی قیمت ہے، اور اس طرح پورا غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا، لیکن اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو ایسی صورت میں بس اسی قدر غلام آزاد ہو گا جتنا اس نے آزاد کر دیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ أُقِيمَ عَلَيْهِ بِقِيمَةِ عَدْلٍ فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ إِنْ كَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلاَّ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ " .
#2529
Sahih
It was narrated from Ibn`Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever frees a slave who has some wealth, the slave's wealth belongs to him, unless the master stipulates that it will belong to him.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی ایسے غلام کو آزاد کرے جس کے پاس مال ہو، وہ مال غلام ہی کا ہو گا، سوائے اس کے کہ مالک غلام سے اس کے مال کی شرط لگا لے تو وہ مال مالک کا ہو گا ۔ ابن لہیعہ کی روایت میں ( شرط کے بجائے ) «إلا أن يستثنيه السيد» ہے ( سوائے اس کے کہ مالک مال کا استثناء کر لے ) ۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُ الْعَبْدِ لَهُ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ السَّيِّدُ مَالَهُ فَيَكُونَ لَهُ " . وَقَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ إِلاَّ أَنْ يَسْتَثْنِيَهُ السَّيِّدُ .
#2530
Daif
It was narrated from Ishaq bin Ibrahim, from his grandfather 'Umair, who was the freed slave of Ibn Mas'ud, that `Abdullah said to him:“O Umair, I have set you free in a good way. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Any man who frees a slave and does not say anything about his (the slave's) wealth, it belongs to him (the slave).' So tell me, how much wealth do you have?” Another chain reports a similar hadith
عمیر مولی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: عمیر! میں نے تمہیں خوشی خوشی آزاد کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو شخص ایک غلام آزاد کرے اور اس کے مال کا تذکرہ نہ کرے، تو وہ مال غلام کا ہو گا ، مجھے بتاؤ تمہارے پاس کیا مال ہے؟۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَدِّهِ، عُمَيْرٍ - وَهُوَ مَوْلَى ابْنِ مَسْعُودٍ - أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ لَهُ يَا عُمَيْرُ إِنِّي أُعْتِقُكَ عِتْقًا هَنِيئًا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ غُلاَمًا وَلَمْ يُسَمِّ مَالَهُ فَالْمَالُ لَهُ " . فَأَخْبِرْنِي مَا مَالُكَ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ لِجَدِّي فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
#2531
Daif
It was narrated from Maimunah bint Sa`d, the freed slave woman of the Prophet (ﷺ) that :the Messenger of Allah (ﷺ) was asked about illegitimate children. He said: “Two sandals in which I wage Jihad are better than freeing an illegitimate child.”
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ولد الزنا کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوتیوں کی ایسی جوڑی جسے پہن کر جہاد کروں، وہ ولد الزنا کو آزاد کرنے سے بہتر ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الضِّنِّيِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، - مَوْلاَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ وَلَدِ الزِّنَا فَقَالَ " نَعْلاَنِ أُجَاهِدُ فِيهِمَا خَيْرٌ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ الزِّنَا " .
#2532
Daif
It was narrated that :`Aishah had a male slave and a female slave who were married. She said: “O Messenger of Allah (ﷺ), I want to free them both.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If you free them, then start with the man before the woman.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک غلام اور ایک لونڈی میاں بیوی تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں ان دونوں کو آزاد کرنا چاہتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ان دونوں کو آزاد کرنا چاہتی ہو تو عورت سے پہلے مرد کو آزاد کرو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَ لَهَا غُلاَمٌ وَجَارِيَةٌ زَوْجٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُعْتِقَهُمَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ أَعْتَقْتِهِمَا فَابْدَئِي بِالرَّجُلِ قَبْلَ الْمَرْأَةِ " .
#2533
Sahih
It was narrated from Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif that:`Uthman bin 'Affan looked at them when they spoke of killing. He said: “Are they kill threatening to kill me? Why would they kill me? I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “It is not lawful to shed the blood of a Muslim except in one of three (cases): a man who commits adultery when he is a married person, then he should be stoned; a man who kills a soul not in retaliation for murder; and a man who apostatizes after becoming Muslim.' By Allah (SWT), I never committed adultery either during Ignorance days nor in Islam, and I have never killed a Muslim soul, and I have not apostatized since I became Muslim.”
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان ( بلوائیوں ) کو جھانک کر دیکھا، اور انہیں اپنے قتل کی باتیں کرتے سنا تو فرمایا: یہ لوگ مجھے قتل کی دھمکی دے رہے ہیں، آخر یہ میرا قتل کیوں کریں گے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: کسی مسلمان کا قتل تین باتوں میں سے کسی ایک کے بغیر حلال نہیں: ایک ایسا شخص جو شادی شدہ ہو اور زنا کا ارتکاب کرے، تو اسے رجم کیا جائے گا، دوسرا وہ شخص جو کسی مسلمان کو ناحق قتل کر دے، تیسرا وہ شخص جو اسلام قبول کرنے کے بعد اس سے پھر جائے ( مرتد ہو جائے ) ، اللہ کی قسم میں نے نہ کبھی جاہلیت میں زنا کیا، اور نہ اسلام میں، نہ میں نے کسی مسلمان کو قتل کیا، اور نہ ہی اسلام لانے کے بعد ارتداد کا شکار ہوا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ فَسَمِعَهُمْ وَهُمْ، يَذْكُرُونَ الْقَتْلَ فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيَتَوَاعَدُونِي بِالْقَتْلِ فَلِمَ يَقْتُلُونِي وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ فِي إِحْدَى ثَلاَثٍ رَجُلٌ زَنَى وَهُوَ مُحْصَنٌ فَرُجِمَ أَوْ رَجُلٌ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ رَجُلٌ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلاَمِهِ " . فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلاَ فِي إِسْلاَمٍ وَلاَ قَتَلْتُ نَفْسًا مُسْلِمَةً وَلاَ ارْتَدَدْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ .
#2534
Sahih
It was narrated from 'Abdullah, who is Ibn Mas`ud, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“It is not lawful to shed the blood of a Muslim who bears witness that none has the right to be worshiped but Allah (SWT), and that I am the Messenger of Allah (ﷺ), except in one of three cases: a soul for a soul; a married person who commits adultery, and one who leaves his religion and splits from the Jama`ah.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کا جو صرف اللہ کے معبود برحق ہونے، اور میرے اللہ کا رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو، خون کرنا حلال نہیں، البتہ تین باتوں میں سے کوئی ایک بات ہو تو حلال ہے: اگر اس نے کسی کی جان ناحق لی ہو، یا شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کا مرتکب ہوا ہو، یا اپنے دین ( اسلام ) کو چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو گیا ہو ( یعنی مرتد ہو گیا ہو ) ، ( تو ان تین صورتوں میں اس کا خون حلال ہے ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلاَّ أَحَدُ ثَلاَثَةِ نَفَرٍ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ " .
#2535
Sahih
It was narrated from Ibn`Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever changes his religion, execute him.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے دین ( اسلام ) کو بدل ڈالے اسے قتل کر دو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم (مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ ).
#2536
Hasan
It was narrated from Bahz bin Hakim, from his father, from his grandfather that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah (SWT) will not accept any good deed from a polytheist who committed polytheism after having become Muslim, until he leaves the polytheists and joins the Muslims.”
معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی ایسے مشرک کا کوئی عمل قبول نہیں کرے گا جو اسلام لانے کے بعد شرک کرے، الا یہ کہ وہ پھر مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں سے مل جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْ مُشْرِكٍ أَشْرَكَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ عَمَلاً حَتَّى يُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ " .
#2537
Hasan
It was narrated from Ibn `Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Carrying out one of the legal punishments prescribed by Allah (SWT) is better than if it were to rain for forty nights in the land of Allah (SWT), Glorified is He.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی ایک حد کا نافذ کرنا اللہ تعالیٰ کی زمین پر چالیس رات بارش ہونے سے بہتر ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ أَبِي شَجَرَةَ، كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنِ ابِنْ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِقَامَةُ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فِي بِلاَدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
#2538
Hasan
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“A legal punishment that is carried out in the land is better for the people of that land than if it were to rain for forty days.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی ایک حد جو دنیا میں نافذ ہو، اہل زمین کے لیے یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ چالیس دن تک بارش ہو ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يَزِيدَ، أَظُنُّهُ عَنْ جَرِيرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " حَدٌّ يُعْمَلُ بِهِ فِي الأَرْضِ خَيْرٌ لأَهْلِ الأَرْضِ مِنْ أَنْ يُمْطَرُوا أَرْبَعِينَ صَبَاحًا " .
#2539
Daif
It was narrated from Ibn`Abbas that the Messenger of Allah said:“Whoever denies a Verse of the Qur'an, it is permissible to strike his neck (i.e., execute him) Whoever says, Lailaha illallahu wahduhu la sharika lahu, wa anna Muhammadan `abduhu wa rasuluhu (None has the right to be worshiped but Allah (SWT) alone, and Muhammad (ﷺ) is His slave and Messenger), no one has any was of harming him, unless he (does something which) deserves a legal punishment, and it is carried out on him.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قرآن کی کسی آیت کا انکار کرے، اس کی گردن مارنا حلال ہے، اور جو یہ کہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اس پر زیادتی کرنے کا اب کوئی راستہ باقی نہیں، مگر جب وہ کوئی ایسا کام کر گزرے جس پر حد ہو تو اس پر حد جاری کی جائے گی ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ جَحَدَ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ فَقَدْ حَلَّ ضَرْبُ عُنُقِهِ وَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَلاَ سَبِيلَ لأَحَدٍ عَلَيْهِ إِلاَّ أَنْ يُصِيبَ حَدًّا فَيُقَامَ عَلَيْهِ " .
#2540
Hasan
It was narrated from `Ubadah bin Samit that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Carry out the legal punishments on relatives and strangers, and do not let the fear of blame stop you from carrying out the command of Allah (SWT).”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حدود کو نافذ کرو، خواہ کوئی قریبی ہو یا دور کا، اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ الْمَفْلُوجُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ الأَسْوَدِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْقَرِيبِ وَالْبَعِيدِ وَلاَ تَأْخُذْكُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لاَئِمٍ " .
#2541
Sahih
It was narrated that 'Abdul-Malik bin `Umair said:“I heard 'Atiyyah Al-Quradhi say: 'We were presented to the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Quraidhah. Those whose pubic hair had grown were killed, and those whose pubic hair had not yet grown were let go. I was one of those whose pubic hair had not yet grown, so I was let go.”
عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ غزوہ قریظہ کے دن ( جب بنی قریظہ کے تمام یہودی قتل کر دیئے گئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے تو جس کے زیر ناف بال اگ آئے تھے اسے قتل کر دیا گیا، اور جس کے نہیں اگے تھے اسے ( نابالغ سمجھ کر ) چھوڑ دیا گیا، میں ان لوگوں میں تھا جن کے بال نہیں اگے تھے تو مجھے چھوڑ دیا گیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، يَقُولُ عُرِضْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ خُلِّيَ سَبِيلُهُ فَكُنْتُ فِيمَنْ لَمْ يُنْبِتْ فَخُلِّيَ سَبِيلِي .
#2542
Sahih
It was narrated that 'Abdul-Malik bin 'Umair said:“I heard 'Atiyyah Al-Qurazi say: Here I am still among you,' ”
عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں کہ میں نے عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کو یہ بھی کہتے سنا: تو اب میں تمہارے درمیان ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، يَقُولُ فَهَا أَنَا ذَا، بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ .
#2543
Sahih
It was narrated that Ibn`Umar said:“I was presented to the Messenger of Allah (ﷺ) on the day of Uhud, when I was fourteen years old, but he did not permit me (to fight). I was presented to him on the Day of Khandaq when I was fifteen years old, and he permitted me (to fight).' ”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غزوہ احد کے دن پیش کیا گیا، اس وقت میری عمر چودہ سال کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( غزوہ میں شریک ہونے کی ) اجازت نہیں دی، لیکن جب مجھے آپ کے سامنے غزوہ خندق کے دن پیش کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی، اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔ نافع کہتے ہیں کہ یہ حدیث میں نے عمر بن عبدالعزیز سے ان کے عہد خلافت میں بیان کی تو انہوں نے کہا: یہی نابالغ اور بالغ کی حد ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَأَبُو أُسَامَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَلَمْ يُجِزْنِي وَعُرِضْتُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَنِي . قَالَ نَافِعٌ فَحَدَّثْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي خِلاَفَتِهِ فَقَالَ هَذَا فَصْلُ مَا بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ .
#2544
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever covers (the sin of) a Muslim, Allah will cover him (his sin) in this world and in the Hereafter.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ " .
#2545
Daif
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Ward off the legal punishments as much as you can.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم حدود کو دفع کرو، جہاں تک دفع کرنے کی گنجائش پاؤ ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ادْفَعُوا الْحُدُودَ مَا وَجَدْتُمْ لَهُ مَدْفَعًا " .
#2546
Sahih
It was narrated from Ibn `Abbas that the Prophet (ﷺ) said:“Whoever conceals the (hidden) fault of his Muslim brother, Allah (SWT) will conceal his faults on the Day of Resurrection. Whoever exposes the fault of his Muslim brother, Allah will expose his faults, until (so that) He shames him, due to it, in his (own) house.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا، اور جو اپنے مسلمان بھائی کا کوئی عیب فاش کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کا عیب فاش کرے گا، یہاں تک کہ وہ اسے اس کے گھر میں بھی ذلیل کرے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ كَشَفَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ كَشَفَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ حَتَّى يَفْضَحَهُ بِهَا فِي بَيْتِهِ " .
#2547
Sahih
It was narrated from 'Aishah :that Quraish became concerned about the case of the Makhzumi woman who had stolen, and they said: “Who will speak to the Messenger of Allah (ﷺ) concerning her?” They said: “Who would dare to do that other than Usamah bin Zaid, the beloved of the Messenger of Allah (ﷺ)?” So Usamah spoke to him, and the Messenger of Allah (ﷺ) said, “Are you interceding concerning one of the legal punishments of Allah (SWT)?“ Then he stood up and addressed (the people) and said: “O people! Those who came before you were only destroyed because when one of their nobles stole, they let him off, but when one of the weak people among them stole, they would carry out the punishment on him. By Allah, if Fatimah the daughter of Muhammad were to steal, I would cut off her hand.” (Sahih)(One of the narrators) Muhammad bin Rumh said: “I heard Laith bin Sa'd say: 'Allah(SWT) protected her (Fatimah) from stealing, and every Muslim should say this.'”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت کے معاملے میں جس نے چوری کی تھی، قریش کافی فکرمند ہوئے اور کہا: اس کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون گفتگو کرے گا؟ لوگوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے علاوہ کون اس کی جرات کر سکتا ہے؟ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اپنی اس روش کی بناء پر ہلاک ہوئے کہ جب کوئی اعلیٰ خاندان کا شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور حال شخص چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو میں اس کا ( بھی ) ہاتھ کاٹ دیتا ۔ محمد بن رمح ( راوی حدیث ) کہتے ہیں کہ میں نے لیث بن سعد کو کہتے سنا: اللہ تعالیٰ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چوری کرنے سے محفوظ رکھا اور ہر مسلمان کو ایسا ہی کہنا چاہیئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ قُرَيْشًا، أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالُوا وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلاَّ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ " . ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا " . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ قَدْ أَعَاذَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَسْرِقَ قَدْ أَعَاذَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَسْرِقَ وَكُلُّ مُسْلِمٍ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَقُولَ هَذَا .
#2548
Daif
It was narrated from 'Aishah bin Mas'ud bin Aswad, that her father said:“When the woman stole the Qatifah from the house of the Messenger of Allah (ﷺ), we regarded that as a serious matter. She was a woman from Quraish. So we came to the Prophet (ﷺ) and spoke to him, and said: 'We will ransom her for forty Uqiyyah.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Purification is better for her.” When we heard the Messenger of Allah (ﷺ) speak so kindly, we went to Usamah and said: 'Speak to the Messenger of Allah (ﷺ) .' When the Messenger of Allah (ﷺ) saw that, he stood up to speak and said: 'How much do you intercede with me concerning one of the legal punishments of Allah (SWT) that has befallen one of the female slaves of Allah (SWT)! By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, if Fatimah the daughter of the Messenger of Allah (ﷺ) were to do what she has done, Muhammad would cut off her hand.”
مسعود بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب اس عورت ( فاطمہ بنت اسود ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے چادر چرائی تو ہمیں اس کی بڑی فکر ہوئی، وہ قریشی عورت تھی، چنانچہ ہم گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا: ہم اس کے فدیہ میں چالیس اوقیہ ادا کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کا پاک کر دیا جانا اس کے حق میں بہتر ہے ، جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرم گفتگو سنی تو ( امیدیں لگائے ) اسامہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس کے سلسلے میں ) گفتگو کرو، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا ( کہ اسامہ سفارش کر رہے ہیں ) تو کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اور فرمایا: کیا بات ہے تم باربار مجھ سے اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟ جو اللہ کی ایک باندی پر ثابت ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر یہ چیز اللہ کے رسول کی بیٹی فاطمہ کے ساتھ پیش آتی، جو اس کے ساتھ پیش آئی ہے تو محمد اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَائِشَةَ بِنْتِ مَسْعُودِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهَا، قَالَ لَمَّا سَرَقَتِ الْمَرْأَةُ تِلْكَ الْقَطِيفَةَ مِنْ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْظَمْنَا ذَلِكَ وَكَانَتِ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ فَجِئْنَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نُكَلِّمُهُ وَقُلْنَا نَحْنُ نَفْدِيهَا بِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تُطَهَّرَ خَيْرٌ لَهَا " . فَلَمَّا سَمِعْنَا لِينَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَيْنَا أُسَامَةَ فَقُلْنَا كَلِّمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَلِكَ قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ " مَا إِكْثَارُكُمْ عَلَىَّ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَعَ عَلَى أَمَةٍ مِنْ إِمَاءِ اللَّهِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ نَزَلَتْ بِالَّذِي نَزَلَتْ بِهِ لَقَطَعَ مُحَمَّدٌ يَدَهَا " .
#2549
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah, Zaid bin Khalid and Shibl said:“We were with the Messenger of Allah (ﷺ) and a man came to him and said: 'I adjure you by Allah (SWT) to judge between us according to the Book of Allah (SWT).' His opponent, who was more knowledgeable than him, said: 'Judge between us according to the Book of Allah (SWT), but let me speak first.' He said: 'Speak.' He said: 'My son was a servant of this man, and he committed adultery with his wife, and I ransomed him for one hundred sheep and a servant. I asked some men of knowledge and I was told that my son should be given one hundred lashes and exiled for a year, and that the wife of this man should be stoned.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'By the One in Whose Hand is my soul, I will judge between you according to the Book of Allah (SWT). The one hundred sheep and the servant are to be returned to you and your son is to be given one hundred lashes and exiled for a year. Go tomorrow, O Unais, to the wife of this man and if she admits I then stone her.'”
ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا، اور بولا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، اللہ کی کتاب کے مطابق آپ ہمارا فیصلہ کر دیجئیے، اس کا فریق ( مقابل ) جو اس سے زیادہ سمجھ دار تھا، بولا: آپ ہمارا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق فرمائیے لیکن مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو اس نے بیان کیا کہ میرا بیٹا اس آدمی کے یہاں مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا، میں نے اس کی جانب سے سو بکریاں اور ایک نوکر فدیہ میں دے دیا ہے، پھر میں نے اہل علم میں سے کچھ لوگوں سے پوچھا، تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے بیٹے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور اس کی بیوی کے لیے رجم یعنی سنگساری کی سزا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے مطابق فیصلہ کروں گا، سو بکریاں اور خادم تم واپس لے لو، اور تمہارے بیٹے کے لیے سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور اے انیس! کل صبح تم اس کی عورت کے پاس جاؤ اور اگر وہ اقبال جرم کر لے تو اسے رجم کر دو ۱؎۔ حدیث کے راوی ہشام کہتے ہیں: انیس صبح کو اس کے ہاں پہنچے، اس نے اقبال جرم کیا، تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَشِبْلٍ، قَالُوا كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلاَّ قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ . فَقَالَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَائْذَنْ لِي حَتَّى أَقُولَ . قَالَ " قُلْ " . قَالَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ فَسَأَلْتُ رَجُلاً مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ الْمِائَةُ الشَّاةُ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا " . قَالَ هِشَامٌ فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا .
#2550
Sahih
It was narrated from `Ubadah bin Samit that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Learn from me. Allah (SWT) has ordained for them (women) another way. (If) a virgin (commits illegal sexual intercourse) with a virgin, (the punishment is) one hundred lashes and exile for one year. (If) a Thayyib (commits adultery) with a Thayyib (the punishment is) one hundred lashes and stoning.”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( دین کے احکام ) مجھ سے سیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ( جنہیں زنا کے جرم میں گھروں میں قید رکھنے کا حکم دیا گیا تھا، اور اللہ کے حکم کا انتظار کرنے کے لیے کہا گیا تھا ) راہ نکال دی ہے: کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو تو سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کرے ہو تو سو کوڑوں اور رجم کی سزا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خُذُوا عَنِّي خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلاً الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ سَنَةٍ وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ " .