#2501
Very Daif
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no preemption for a partner when his co-partner has beaten him to it (in another deal before), not for a minor nor one who is absent.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شریک کو شریک پر اس وقت شفعہ نہیں رہتا ہے، جب وہ خریداری میں اس سے سبقت کر جائے، اسی طرح نہ کم سن ( نابالغ ) کے لیے شفعہ ہے، اور نہ غائب کے لیے ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ شُفْعَةَ لِشَرِيكٍ عَلَى شَرِيكٍ إِذَا سَبَقَهُ بِالشِّرَاءِ وَلاَ لِصَغِيرٍ وَلاَ لِغَائِبٍ " .
#2502
Sahih
It was narrated from Mutarrif bin 'Abdullah bin Shikhkhir that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The lost animal of the Muslim may lead to the burning flame of Hell.' ”
عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا شعلہ ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ " .
#2503
Daif
It was narrated that Mundhir bin Jarir said:“I was with my father in Bawazij and the cows came back in the evening. He saw a cow did not recognize it. He said: 'What is this?' He said: 'A cow that joined the herd.' And he issued orders that it be driven away until it disappeared from view. Then he said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “No one gives refuge to a stray animal but one who is also astray.”
منذر بن جریر کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ بوازیج میں تھا کہ گایوں کا ریوڑ نکلا، تو آپ نے ان میں ایک اجنبی قسم کی گائے دیکھی تو پوچھا: یہ گائے کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: کسی اور کی گائے ہے، جو ہماری گایوں کے ساتھ آ گئی ہے، انہوں نے حکم دیا، اور وہ ہانک کر نکال دی گئی یہاں تک کہ وہ نظر سے اوجھل ہو گئی، پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: گمشدہ چیز کو وہی اپنے پاس رکھتا ہے جو گمراہ ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ، خَالُ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي بِالْبَوَازِيجِ فَرَاحَتِ الْبَقَرُ فَرَأَى بَقَرَةً أَنْكَرَهَا فَقَالَ مَا هَذِهِ قَالُوا بَقَرَةٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ . قَالَ فَأَمَرَ بِهَا فَطُرِدَتْ حَتَّى تَوَارَتْ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يُئْوِي الضَّالَّةَ إِلاَّ ضَالٌّ " .
#2504
Sahih
It was narrated from Zaid bin Khalid that the Prophet (ﷺ) was asked about a lost camel. :He turned red, and he said: “What does it have to do with you? It has its feet and its water supply, it can go and drink water and eat from the trees until its owner finds it.” And he was asked about lost sheep, and he said: “Take it, for it will be for you or for your brother or for the wolf.” And he was asked about lost property and he said: “Remember the features of its leather bag and strap, and announce it for one year, then if someone claims it, describing it to you with those features (give it to him), otherwise incorporate it into your own wealth.”
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ غضب ناک ہو گئے، اور غصے سے آپ کے رخسار مبارک سرخ ہو گئے اور فرمایا: تم کو اس سے کیا سروکار، اس کے ساتھ اس کا جوتا اور مشکیزہ ہے، وہ خود پانی پر جا سکتا ہے اور درخت سے کھا سکتا ہے، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لیتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ بکری کے بارے پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے لو اس لیے کہ وہ یا تو تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیئے کی ۱؎ پھر آپ سے گری پڑی چیز کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان لو، اور ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو، ۲؎ اگر اس کی شناخت پہچان ہو جائے تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے اپنے مال میں شامل کر لو ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْعَلاَءِ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، فَلَقِيتُ رَبِيعَةَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ سُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ فَغَضِبَ وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ وَقَالَ " مَالَكَ وَلَهَا مَعَهَا الْحِذَاءُ وَالسِّقَاءُ تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا " . وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ فَقَالَ " خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " . وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ " اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنِ اعْتُرِفَتْ وَإِلاَّ فَاخْلِطْهَا بِمَالِكَ " .
#2505
Sahih
It was narrated from 'Iyad bin Himar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever finds lost property, let him ask one or two men of good character to witness it, then he should not alter it nor conceal it. If its owner comes along, then he has more right to it, otherwise it belongs to Allah (SWT), Who gives it to whomsoever He wills.”
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو کوئی گری پڑی چیز ملے تو وہ ایک یا دو معتبر شخص کو اس پر گواہ بنا لے، پھر وہ نہ اس میں تبدیلی کرے اور نہ چھپائے، اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے، ورنہ وہ اللہ کا مال ہے جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوَىْ عَدْلٍ ثُمَّ لاَ يُغَيِّرْهُ وَلاَ يَكْتُمْ فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا وَإِلاَّ فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ " .
#2506
Sahih
It was narrated that Suwaid bin Ghafalah said:“I went out with Zaid bin Suhan and Salman bin Rabi'ah, and when we were at `Udhaib, I found a whip. They said to me: 'Throw it away,' but I refused. When we came to Al-Madinah I went to Ubayy bin Ka'b and told him about that. He said: 'You did the right thing. I found one hundred dinar that had been lost at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and I asked him about it. He said, “Announce it for a year.” So I Announced it, and I did not find anyone who recognized it. He said: “Remember the features of its bag and strap, and how many it contains, then announce it for a year. If someone comes who describes it with those features, (give it to him), otherwise it is like your own property.”
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ میں زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے ساتھ نکلا، جب ہم عذیب پہنچے تو میں نے وہاں ایک کوڑا پڑا ہوا پایا، ان دونوں نے مجھ سے کہا: اس کو اسی جگہ ڈال دو، لیکن میں نے ان کا کہا نہ مانا، پھر جب ہم مدینہ پہنچے، تو میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے اس کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا: تم نے ٹھیک کیا، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سو دینار پڑے پائے تھے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سال بھر تک اس کے مالک کا پتہ کرتے رہو ، میں پتا کرتا رہا، لیکن کسی کو نہ پایا جو انہیں پہچانتا ہو، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا تھیلا، بندھن اور اس کی تعداد یاد رکھو، پھر سال بھر اس کے مالک کا پتا کرتے رہو، اگر اس کا جا ننے والا آ جائے تو خیر، ورنہ وہ تمہارے مال کی طرح ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعُذَيْبِ الْتَقَطْتُ سَوْطًا فَقَالاَ لِي أَلْقِهِ . فَأَبَيْتُ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْتُ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ أَصَبْتَ الْتَقَطْتُ مِائَةَ دِينَارٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ " عَرِّفْهَا سَنَةً " . فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَعْرِفُهَا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ " عَرِّفْهَا " . فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَعْرِفُهَا . فَقَالَ " اعْرِفْ وِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ مَنْ يَعْرِفُهَا وَإِلاَّ فَهِيَ كَسَبِيلِ مَالِكَ " .
#2507
Sahih
It was narrated from Zaid bin Khalid Al-Juhani that the Messenger of Allah (ﷺ) was asked about lost property. :He said: “Announce it for a year, then if someone describes it with its features, return it to him. If no one claims it, then remember the features of its leather bag and strap, and consume it (use it). Then if its owner comes along, give it to him.”
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سال بھر اس کے مالک کا پتہ کرتے رہو، اگر کوئی اس کی ( پہچان ) کر لے تو اسے دے دو، ورنہ اس کی تھیلی اور اس کا بندھن یاد رکھو، پھر اس کو اپنے کھانے میں استعمال کر لو، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے ادا کر دو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ " عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنِ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّهَا فَإِنْ لَمْ تُعْرَفْ فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِعَاءَهَا ثُمَّ كُلْهَا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ " .
#2508
Daif
It was narrated from Miqdad bin 'Amr:That he went out one day to Al-Baqi', which is the graveyard, to relieve himself. People used to go out to relieve themselves only every two or three days, and their faces was like that of a camel (because of hunger and rough food). Then he entered a ruin and while he was squatting to relieve himself, he saw a rat bringing a Dinar out of a hole, then it went in and brought out another, until it had brought out seventeen Dinars. Then it brought out a piece of red rag.Miqdad said: “I picked up the rag and found another Dinar inside it, thus completing eighteen Dinar. I took them out and brought them to the Messenger of Allah (ﷺ), and told him what had happened. I said, 'Take its Sadaqah (charity), O Messenger of Allah (ﷺ).' He said: 'Take them back, for no Sadaqah is due on them. May Allah (SWT) bless them for you.' Then he said: 'Perhaps you put your hand in the hole?' I said: 'No, by the One Who has honored you with the truth.”
مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن وہ بقیع کے قبرستان کی طرف قضائے حاجت کے لیے نکلے، ان دنوں لوگ قضائے حاجت کے لیے دو دو تین تین دن بعد ہی جایا کرتے تھے، اور مینگنیاں نکالتے تھے، خیر وہ ایک ویرانے میں گئے اور قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہی تھے کہ اتنے میں ایک چوہے پر نظر پڑی جس نے سوراخ میں سے ایک دینار نکالا، پھر وہ اندر گھس گیا، اور پھر ایک دینار اور نکالا یہاں تک کہ اس نے سترہ دینار نکالے، پھر ایک سرخ کپڑے کے ٹکڑے کا کنارہ نکالا۔ مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے وہ ٹکڑا کھینچا تو اس میں ایک دینار اور ملا اس طرح کل اٹھارہ دینار پورے ہو گئے، انہیں لے کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اور آپ کو پورا واقعہ بتایا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اس کی زکاۃ لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لے جاؤ، اس میں زکاۃ نہیں، اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں برکت دے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تم نے سوراخ میں اپنا ہاتھ ڈالا؟ میں نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کی حق سے عزت فرمائی ۔ راوی کہتے ہیں: ان دیناروں میں اتنی برکت ہوئی کہ ان کی وفات تک آخری دینار ختم نہیں ہوا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي، قُرَيْبَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أُمَّهَا، كَرِيمَةَ بِنْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو أَخْبَرَتْهَا عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْبَقِيعِ وَهُوَ الْمَقْبُرَةُ لِحَاجَتِهِ وَكَانَ النَّاسُ لاَ يَذْهَبُ أَحَدُهُمْ فِي حَاجَتِهِ إِلاَّ فِي الْيَوْمَيْنِ وَالثَّلاَثَةِ فَإِنَّمَا يَبْعَرُ كَمَا تَبْعَرُ الإِبِلُ ثُمَّ دَخَلَ خَرِبَةً فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ لِحَاجَتِهِ إِذْ رَأَى جُرَذًا أَخْرَجَ مِنْ جُحْرٍ دِينَارًا ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ آخَرَ حَتَّى أَخْرَجَ سَبْعَةَ عَشَرَ دِينَارًا ثُمَّ أَخْرَجَ طَرَفَ خِرْقَةٍ حَمْرَاءَ . قَالَ الْمِقْدَادُ فَسَلَلْتُ الْخِرْقَةَ فَوَجَدْتُ فِيهَا دِينَارًا فَتَمَّتْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ دِينَارًا فَخَرَجْتُ بِهَا حَتَّى أَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَهَا فَقُلْتُ خُذْ صَدَقَتَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " ارْجِعْ بِهَا لاَ صَدَقَةَ فِيهَا بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا " . ثُمَّ قَالَ " لَعَلَّكَ أَتْبَعْتَ يَدَكَ فِي الْجُحْرِ " . قُلْتُ لاَ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ . قَالَ فَلَمْ يَفْنَ آخِرُهَا حَتَّى مَاتَ .
#2509
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“One fifth is due on buried treasure.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رکاز» میں پانچواں حصہ ( بیت المال کا ) ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
#2510
Sahih
It was narrated from Ibn`Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“One fifth is due on buried treasure.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رکاز» میں پانچواں حصہ ( بیت المال کا ) ہے ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيىٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
#2511
Sahih
Sulaiman bin Hayyan said:“I heard my father narrate from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said: 'Among those who came before you there was a man who bought some property and found therein a jar of gold. He said: “I bought land from you, but I did not buy the gold from you.” The man said: “Rather I sold you the land with whatever is in it.” They referred their case to (a third) man who said: “Do you have children?” One of them said: “I have a boy.” The other said: “I have a girl.” He said: “Marry the boy to the girl, and let them spend on themselves from it and give in charity.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص نے ایک زمین خریدی، اس میں اسے سونے کا ایک مٹکا ملا، خریدار بائع ( بیچنے والے ) سے کہنے لگا: میں نے تو تم سے زمین خریدی ہے سونا نہیں خریدا، اور بائع کہہ رہا تھا: میں نے زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب تمہارے ہاتھ بیچا ہے، الغرض دونوں ایک شخص کے پاس معاملہ لے گئے، اس نے پوچھا: تم دونوں کا کوئی بچہ ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: ہاں میرے پاس ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا: میرے پاس ایک لڑکی ہے، تو اس شخص نے کہا: تم دونوں اس لڑکے کی شادی اس لڑکی سے کر دو، اور چاہیئے کہ اس سونے کو وہی دونوں اپنے اوپر خرچ کریں، اور اس میں سے صدقہ بھی دیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ اشْتَرَى عَقَارًا فَوَجَدَ فِيهَا جَرَّةً مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الأَرْضَ وَلَمْ أَشْتَرِ مِنْكَ الذَّهَبَ . فَقَالَ الرَّجُلُ إِنَّمَا بِعْتُكَ الأَرْضَ بِمَا فِيهَا . فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ فَقَالَ أَلَكُمَا وَلَدٌ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِي غُلاَمٌ . وَقَالَ الآخَرُ لِي جَارِيَةٌ . قَالَ فَأَنْكِحَا الْغُلاَمَ الْجَارِيَةَ وَلْيُنْفِقَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا مِنْهُ وَلْيَتَصَدَّقَا " .
#2512
Sahih
It was narrated from Jabir that:the Messenger of Allah (ﷺ) sold a Mudabbar
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام بیچا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ذصلى الله عليه وسلم بَاعَ الْمُدَبَّرَ .
#2513
Sahih Hadith
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:“A man among us promised freedom to a slave after his death, and he did not have any property other than him (this slave). So the Prophet (ﷺ) sold him, and Ibn (Nahham), a man from Banu 'Adi, bought him.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص نے غلام کو مدبر بنا دیا، اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہ تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیچ دیا، اور قبیلہ بنی عدی کے شخص ابن نحام نے اسے خریدا۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَبَّرَ رَجُلٌ مِنَّا غُلاَمًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَبَاعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاشْتَرَاهُ ابْنُ النَّحَّامِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَدِيٍّ .
#2514
Mawdu
It was narrated from Ibn`Umar that the Prophet (ﷺ) said:“The Mudabbar is part of the one third of the estate.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدبر غلام میت کے تہائی مال میں سے شمار ہو گا ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے عثمان یعنی ابن ابی شیبہ کو کہتے سنا کہ یہ روایت یعنی «المدبر من الثلث» کی حدیث صحیح نہیں ہے۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ظَبْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُدَبَّرُ مِنَ الثُّلُثِ " . قَالَ ابْنُ مَاجَهْ سَمِعْتُ عُثْمَانَ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي شَيْبَةَ - يَقُولُ هَذَا خَطَأٌ يَعْنِي حَدِيثَ " الْمُدَبَّرُ مِنَ الثُّلُثِ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لَيْسَ لَهُ أَصْلٌ .
#2515
Daif
It was narrated from Ibn`Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Any man whose slave won an bears him a child, she will be free after he dies.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لونڈی اپنے مالک کا بچہ جنے، تو وہ مالک کے مر جانے کے بعد آزاد ہو جائے گی ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا رَجُلٍ وَلَدَتْ أَمَتُهُ مِنْهُ فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ " .
#2516
Daif
It was narrated that Ibn`Abbas said:“Mention was made of the mother of Ibrahim in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ), and he said: 'Her son set her free.'”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کی ماں کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بچے ( ابراہیم ) نے اسے آزاد کر دیا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي النَّهْشَلِيَّ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ذُكِرَتْ أُمُّ إِبْرَاهِيمَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ " أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا " .
#2517
Sahih
Jabir bin `Abdullah was heard to say:“We used to sell our slave women and the mothers of our children (Umahat Awaldina) when the Prophet (ﷺ) was still living among us, and we did not see anything wrong with that.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ اپنی لونڈیاں اور «امہات الاولاد» بیچا کرتے تھے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان زندہ تھے، اور ہم اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ كُنَّا نَبِيعُ سَرَارِينَا وَأُمَّهَاتِ أَوْلاَدِنَا وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِينَا حَىٌّ لاَ نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا .
#2518
Hasan
Abu Hurairah (ra) said that the Messenger of Allah (ﷺ) said "Three who's support is a right upon Allah:the warrior in the path of Allah, the mukatab seeking to fulfill (his manumission debt), and the one getting married seeking chastity
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن میں سے ہر ایک کی مدد کرنا اللہ پر حق ہے، ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کی راہ کا غازی ہو، دوسرے وہ مکاتب جو بدل کتابت ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تیسرا وہ شخص جو پاک دامن رہنے کے ارادے سے نکاح کرے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ثَلاَثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الأَدَاءَ وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ التَّعَفُّفَ " .
#2519
Hasan
It was narrated from `Amr bin Shu'aib , from his father, from his grandfather that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Any slave who has made a contract to buy his freedom for one hundread Uqiyyah and pays it all except ten Uqiyyah; he is still a slave.” (One Uqiyyah is equal to 40 Dirham)
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس غلام سے سو اوقیہ پر مکاتبت کی گئی ہو، اور وہ سوائے دس اوقیہ کے باقی تمام ادا کر دے، تو وہ غلام ہی رہے گا ( جب تک پورا ادا نہ کر دے ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا عَبْدٍ كُوتِبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلاَّ عَشْرَ أُوقِيَّاتٍ فَهُوَ رَقِيقٌ " .
#2520
Daif
It was narrated from Umm Salamah that the Prophet (ﷺ) said:“If anyone of you (women) has a Mukatab, and he has enough (wealth) to pay off (his contact of manumission), she must veil herself from him.”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی کے پاس مکاتب غلام ہو، اور اس کے پاس اس قدر مال ہو گیا ہو کہ وہ اپنا بدل کتابت ادا کر سکے، تو تم لوگوں کو اس سے پردہ کرنا چاہیئے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ، - مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ - عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِذَا كَانَ لإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ وَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ " .
#2521
Sahih
It was narrated from Hisham bin 'Urwah, from his father, about 'Aishah the wife of the Prophet (ﷺ) - :that Barirah came to her when she was came to her when she was Muktabah, and her masters had written a contract of manumission for nine Uqiyyah. She (`Aishah) said: “If your masters wish I will pay them that in one sum, and the right of inheritance will belong to me.” He said: “So she went to her masters and told them about that, but they insisted that the right of inheritance should belong to them. `Aishah mentioned that to the Prophet (ﷺ) and he said: 'Do it.' Then the Prophet (ﷺ) stood up and addressed the people. He praised and glorified Allah (SWT), then he said: 'What is the matter with some people who stipulated conditions that are not in the Book of Allah (SWT)? Every conditions that is not in the Book of Allah (SWT) is invalid, even if there are one hundred conditions. The Book of Allah(SWT) is more deserving of being followed and the conditions of Allah (SWT) are more binding. And the Wala belongs to the one who manumits (the slave).”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں جو مکاتب ( لونڈی ) تھیں، ان کے مالکوں نے نو اوقیہ پر ان سے مکاتبت کی تھی، عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اگر تمہارے مالک چاہیں تو تمہارا بدل مکاتبت میں ایک ہی بار ادا کروں، مگر تمہاری ولاء ( میراث ) میری ہو گی، چنانچہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس آئیں، اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے یہ ( پیش کش ) اس شرط پر منظور کر لی کہ ولاء ( میراث ) کا حق خود ان کو ملے گا، اس کا تذکرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا کام کر ڈالو ، اور پھر آپ نے کھڑے ہو کر لوگوں میں خطبہ دیا، اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کر کے فرمایا: آخر لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں ہیں، اور ہر وہ شرط جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہ ہو باطل ہے، اگرچہ ایسی سو شرطیں ہوں، اللہ کی کتاب سب سے زیادہ حقدار اور اللہ تعالیٰ کی شرط سب سے زیادہ قوی ہے، ولاء اسی کا حق ہے جو ( مکاتب کی طرف سے مال ادا کر کے ) اسے آزاد کرے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْهَا وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ قَدْ كَاتَبَهَا أَهْلُهَا عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فَقَالَتْ لَهَا إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ عَدَدْتُ لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَكَانَ الْوَلاَءُ لِي قَالَ فَأَتَتْ أَهْلَهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُمْ فَأَبَوْا إِلاَّ أَنْ تَشْتَرِطَ الْوَلاَءَ لَهُمْ فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " افْعَلِي " . قَالَتْ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ وَالْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
#2522
Sahih
It was narrated that Shurahbil bin Simt said:I said to Ka'b bin Murrah, tell us a Hadith from the Messenger of Allah (ﷺ), but be careful. He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Whoever frees a Muslim man, he will be his ransom from the Fire; each of his bones will suffice (as a ransom) for each of his bones. Whoever frees two Muslim women, they will be his ransom from the Fire; each of their two bones will suffice (as a ransom) for each of his bones.”
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ میں نے کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: کعب بن مرہ! ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کریں، اور احتیاط سے کام لیں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرے گا تو وہ اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ ہو گا، اس کی ہر ہڈی اس کی ہر ہڈی کا فدیہ بنے گی، اور جو شخص دو مسلمان لونڈیوں کو آزاد کرے گا تو یہ دونوں اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ بنیں گی، ان کی دو ہڈیاں اس کی ایک ہڈی کے برابر ہوں گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، قَالَ قُلْتُ لِكَعْبٍ يَا كَعْبَ بْنَ مُرَّةَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاحْذَرْ . قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا كَانَ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ يُجْزِئُ بِكُلِّ عَظْمٍ مِنْهُ عَظْمٌ مِنْهُ وَمَنْ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ كَانَتَا فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ يُجْزِئُ بِكُلِّ عَظْمَيْنِ مِنْهُمَا عَظْمٌ مِنْهُ " .
#2523
Sahih
It was narrated that Abu Dharr said:“I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), which slave is best?' He said: ‘The one who is most precious to his master and most valuable in price.' ”
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا غلام آزاد کرنا سب سے زیادہ بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مالکوں کو سب سے زیادہ پسند ہو، اور جو قیمت کے اعتبار سے سب سے مہنگا ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ قَالَ " أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَغْلاَهَا ثَمَنًا " .
#2524
Sahih
It was narrated from Samurah bin Jundub that the Prophet (ﷺ) said:“Whoever becomes the master of a Mahram relative (with whom marriage is not lawful), he becomes free.”
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی محرم رشتے دار کا مالک بن جائے تو وہ آزاد ہے ۔
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَاصِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ " .
#2525
Sahih
It was narrated from Ibn`Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever becomes the master of a Mahram relative, he becomes free.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی محرم رشتے دار کا مالک ہو جائے تو وہ آزاد ہے ۔
حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ الأَنْمَاطِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ " .