#6551
Narrated Abu Huraira: The Prophet (ﷺ) said, "The width between the two shoulders of a Kafir (disbeliever) will be equal to the distance covered by a fast rider in three days
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم کو فصل بن موسیٰ نے خبر دی، کہا ہم کو فصیل نے خبر دی، انہیں حازم نے، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کافر کے دونوں شانوں کے درمیان تیز چلنے والے کے لیے تین دن کی مسافت کا فاصلہ ہو گا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا الْفُضَيْلُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ "مَا بَيْنَ مَنْكِبَىِ الْكَافِرِ مَسِيرَةُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْرِعِ".
#6552
Narrated Sahl bin Sa'd: Allah's Messenger (ﷺ) said, "In Paradise there is a tree so big that in its shade a rider may travel for one hundred years without being able to cross it
اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مغیرہ بن سلمہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں سوار سو سال تک چلنے کے بعد بھی اسے طے نہیں کر سکے گا۔“
وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ، لاَ يَقْطَعُهَا ".
#6553
Narrated Abu Sa'id: The Prophet (ﷺ) said: There is a tree in Paradise (so huge) that a fast (or a trained) rider may travel: for one hundred years without being able to cross it
ابوحازم نے بیان کیا کہ پھر میں نے یہ حدیث نعمان بن ابی عیاش سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت میں ایک درخت ہو گا جس کے سایہ میں عمدہ اور تیز رفتار گھوڑے پر سوار شخص سو سال تک چلتا رہے گا اور پھر بھی اسے طے نہ کر سکے گا۔“
قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ، فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ الْجَوَادَ الْمُضَمَّرَ السَّرِيعَ مِائَةَ عَامٍ، مَا يَقْطَعُهَا ".
#6554
Narrated Sahl bin Sa`d:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Seventy thousand or seven hundred thousand of my followers will enter Paradise. (Abu Hazim, the sub-narrator, is not sure as to which of the two numbers is correct.) They will be holding on to each other, the first will not entering the last one does, their faces like the moon on a full moon night
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ابوحازم بن دینار نے، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری امت میں ستر ہزار یا سات لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے۔“ راوی کو شک ہوا کہ سہل سے کون سی تعداد بیان ہوئی تھی، ” ( وہ جنت میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ) وہ ایک دوسرے کو تھامے ہوئے ہوں گے۔ ان کا پہلا ابھی اندر داخل نہ ہونے پائے گا کہ جب تک آخری بھی داخل نہ ہو جائے۔ ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَوْ سَبْعُمِائَةِ أَلْفٍ ـ لاَ يَدْرِي أَبُو حَازِمٍ أَيُّهُمَا قَالَ ـ مُتَمَاسِكُونَ، آخِذٌ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، لاَ يَدْخُلُ أَوَّلُهُمْ حَتَّى يَدْخُلَ آخِرُهُمْ، وُجُوهُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ".
#6555
Narrated Sahl:The Prophet (ﷺ) said, "The people of Paradise will see the Ghuraf (special abodes) in Paradise as you see a star in the sky
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد حازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت والے ( اپنے اوپر کے درجوں کے ) بالاخانوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے تم آسمان میں ستاروں کو دیکھتے ہو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ "إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ الْغُرَفَ فِي الْجَنَّةِ كَمَا تَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ فِي السَّمَاءِ".
#6556
Abu Sa`id added:"As you see a glittering star remaining in the eastern horizon and the western horizon
راوی (عبدالعزیز) نے بیان کیا کہ پھر میں نے یہ حدیث نعمان بن ابی عیاش سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے سنا اور اس میں وہ اس لفظ کا اضافہ کرتے تھے کہ ”جیسے تم مشرقی اور مغربی کناروں میں ڈوبتے ستاروں کو دیکھتے ہو۔“
قَالَ أَبِي فَحَدَّثْتُ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ، فَقَالَ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يُحَدِّثُ وَيَزِيدُ فِيهِ " كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الْغَارِبَ فِي الأُفُقِ الشَّرْقِيِّ وَالْغَرْبِيِّ ".
#6557
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will say to the person who will have the minimum punishment in the Fire on the Day of Resurrection, 'If you had things equal to whatever is on the earth, would you ransom yourself (from the punishment) with it?' He will reply, Yes. Allah will say, 'I asked you a much easier thing than this while you were in the backbone of Adam, that is, not to worship others besides Me, but you refused and insisted to worship others besides Me
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوعمران جونی نے بیان کیا، کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دوزخ کے سب سے کم عذاب پانے والے سے پوچھے گا اگر تمہیں روئے زمین کی ساری چیزیں میسر ہوں تو کیا تم ان کو فدیہ میں ( اس عذاب سے نجات پانے کے لیے ) دے دو گے، وہ کہے گا کہ ہاں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تم سے اس سے بھی سہل چیز کا اس وقت مطالبہ کیا تھا جب تم آدم علیہ السلام کی پیٹھ میں تھے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا لیکن تم نے ( توحید کا ) انکار کیا اور نہ مانا آخر شرک ہی کیا۔“
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى لأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الأَرْضِ مِنْ شَىْءٍ أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ. فَيَقُولُ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لاَ تُشْرِكَ بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلاَّ أَنْ تُشْرِكَ بِي ".
#6558
Narrated Hammad from `Amr from Jabir:The Prophet (ﷺ) said, "Some people will come out of the Fire through intercession looking like The Thaarir." I asked `Amr, "What is the Thaarir?" He said, Ad Dagh`Abis, and at that time he was toothless. Hammad added: I said to `Amr bin Dinar, "O Abu Muhammad! Did you hear Jabir bin `Abdullah saying, 'I heard the Prophet (ﷺ) saying: 'Some people will come out of the Fire through intercession?" He said, "Yes
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل سدوسی نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کچھ لوگ دوزخ سے شفاعت کے ذریعہ نکلیں گے گویا کہ «ثعارير» ہوں۔“ حماد کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا کہ «ثعارير» کیا چیز ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس سے مراد چھوٹی ککڑیاں ہیں اور ہوا یہ تھا کہ آخر عمر میں عمرو بن دینار کے دانت گر گئے تھے۔ حماد کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے کہا: اے ابومحمد! ( یہ عمرو بن دینار کی کنیت ہے ) کیا آپ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے یہ سنا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہاں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم سے شفاعت کے ذریعہ لوگ نکلیں گے؟ انہوں نے کہا ہاں بیشک سنا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ بِالشَّفَاعَةِ كَأَنَّهُمُ الثَّعَارِيرُ ". قُلْتُ مَا الثَّعَارِيرُ قَالَ الضَّغَابِيسُ. وَكَانَ قَدْ سَقَطَ فَمُهُ فَقُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَبَا مُحَمَّدٍ سَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَخْرُجُ بِالشَّفَاعَةِ مِنَ النَّارِ ". قَالَ نَعَمْ.
#6559
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, "Some people will come out of the Fire after they have received a touch of the Fire, changing their color, and they will enter Paradise, and the people of Paradise will name them 'Al- Jahannamiyin' the (Hell) Fire people
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک جماعت جہنم سے نکلے گی اس کے بعد کہ جہنم کی آگ نے ان کو جلا ڈالا ہو گا اور پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ اہل جنت ان کو «جهنميين» کے نام سے یاد کریں گے۔“
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بَعْدَ مَا مَسَّهُمْ مِنْهَا سَفْعٌ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، فَيُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَهَنَّمِيِّينَ ".
#6560
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "When the people of Paradise have entered Paradise, and the people of the Fire have entered the Fire, Allah will say. 'Take out (of the Fire) whoever has got faith equal to a mustard seed in his heart.' They will come out, and by that time they would have burnt and became like coal, and then they will be thrown into the river of Al-Hayyat (life) and they will spring up just as a seed grows on the bank of a rainwater stream." The Prophet (ﷺ) said, "Don't you see that the germinating seed comes out yellow and twisted?
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اہل جنت جنت میں اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہو چکیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو تو اسے دوزخ سے نکال لو۔ اس وقت ایسے لوگ نکالے جائیں گے اور وہ اس وقت جل کر کوئلے کی طرح ہو گئے ہوں گے۔ اس کے بعد انہیں ”نہر حیاۃ“ ( زندگی بخش دریا ) میں ڈالا جائے گا۔ اس وقت وہ اس طرح تروتازہ اور شگفتہ ہو جائیں گے جس طرح سیلاب کی جگہ پر کوڑے کرکٹ کا دانہ ( اسی رات یا دن میں ) اگ آتا ہے یا راوی نے کہا ( «حميل السيل» کے بجائے ) «حمية السيل» کہا ہے۔ یعنی جہاں سیلاب کا زور ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اس دانہ سے زرد رنگ کا لپٹا ہوا بارونق پودا اگتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ يَقُولُ اللَّهُ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ. فَيُخْرَجُونَ قَدِ امْتُحِشُوا وَعَادُوا حُمَمًا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ ـ أَوْ قَالَ ـ حَمِيَّةِ السَّيْلِ ". وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَلَمْ تَرَوْا أَنَّهَا تَنْبُتُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً ".
#6561
Narrated An-Nu`man:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "The person who will have the least punishment from amongst the Hell Fire people on the Day of Resurrection, will be a man under whose arch of the feet a smoldering ember will be placed so that his brain will boil because of it
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابواسحاق سبیعی سے سنا، کہا کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن عذاب کے اعتبار سے سب سے کم وہ شخص ہو گا جس کے دونوں قدموں کے نیچے آگے کا انگارہ رکھا جائے گا اور اس کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ "إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ تُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَةٌ يَغْلِي مِنْهَا دِمَاغُهُ".
#6562
Narrated An-Nu`man bin Bashir:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "The least punished person of the (Hell) Fire people on the Day of Resurrection will be a man under whose arch of the feet two smoldering embers will be placed, because of which his brain will boil just like Al-Mirjal (copper vessel) or a Qum-qum (narrow-necked vessel) is boiling with water
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن دوزخیوں میں عذاب کے اعتبار سے سب سے ہلکا عذاب پانے والا وہ شخص ہو گا جس کے دونوں پیروں کے نیچے دو انگارے رکھ دئیے جائیں گے جن کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا جس طرح ہانڈی اور کیتلی جوش کھاتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ عَلَى أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ، كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ وَالْقُمْقُمُ".
#6563
Narrated `Adi bin Hatim:The Prophet (ﷺ) mentioned the Fire and turned his face aside and asked for Allah's protection from it, and then again he mentioned the Fire and turned his face aside and asked for Allah's protection from it and said, "Protect yourselves from the Hell-Fire, even if with one half of a date, and he who cannot afford that, then (let him do so) by (saying) a good, pleasant word
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے خیثمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کا ذکر کیا اور روئے مبارک پھیر لیا اور اس سے پناہ مانگی۔ پھر جہنم کا ذکر کیا اور روئے مبارک پھیر لیا اور اس سے پناہ مانگی۔ اس کے بعد فرمایا کہ دوزخ سے بچو صدقہ دے کر خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعہ ہو سکے، جسے یہ بھی نہ ملے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہہ کر۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ النَّارَ فَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا، ثُمَّ ذَكَرَ النَّارَ فَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا، ثُمَّ قَالَ " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ".
#6564
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:I heard Allah's Messenger (ﷺ) when his uncle, Abu Talib had been mentioned in his presence, saying, "May be my intercession will help him (Abu Talib) on the Day of Resurrection so that he may be put in a shallow place in the Fire, with fire reaching his ankles and causing his brain to boil
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی حازم اور دراوردی نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ بن ہاد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن خباب نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کے چچا ابوطالب کا ذکر کیا گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ممکن ہے قیامت کے دن میری شفاعت ان کے کام آ جائے اور انہیں جہنم میں ٹخنوں تک رکھا جائے جس سے ان کا بھیجا کھولتا رہے گا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَالدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ " لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ، يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ، يَغْلِي مِنْهُ أُمُّ دِمَاغِهِ ".
#6565
Narrated Anas:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah will gather all the people on the Day of Resurrection and they will say, 'Let us request someone to intercede for us with our Lord so that He may relieve us from this place of ours.' Then they will go to Adam and say, 'You are the one whom Allah created with His Own Hands, and breathed in you of His soul, and ordered the angels to prostrate to you; so please intercede for us with our Lord.' Adam will reply, 'I am not fit for this undertaking, and will remember his sin, and will say, 'Go to Noah, the first Apostle sent by Allah' They will go to him and he will say, 'I am not fit for this undertaking', and will remember his sin and say, 'Go to Abraham whom Allah took as a Khalil. They will go to him (and request similarly). He will reply, 'I am not fit for this undertaking,' and will remember his sin and say, 'Go to Moses to whom Allah spoke directly.' They will go to Moses and he will say, 'I am not fit for this undertaking,' and will remember his sin and say, 'Go to Jesus.' They will go to him, and he will say, 'I am not fit for this undertaking, go to Muhammad as Allah has forgiven his past and future sins.' They will come to me and I will ask my Lord's permission, and when I see Him, I will fall down in prostration to Him, and He will leave me in that state as long as (He) Allah will, and then I will be addressed. 'Raise up your head (O Muhammad)! Ask, and your request will be granted, and say, and your saying will be listened to; intercede, and your intercession will be accepted.' Then I will raise my head, and I will glorify and praise my Lord with a saying(i.e. invocation) He will teach me, and then I will intercede, Allah will fix a limit for me (i.e., certain type of people for whom I may intercede), and I will take them out of the (Hell) Fire and let them enter Paradise. Then I will come back (to Allah) and fall in prostration, and will do the same for the third and fourth times till no-one remains in the (Hell) Fire except those whom the Qur'an has imprisoned therein." (The sub-narrator, Qatada used to say at that point, "...those upon whom eternity (in Hell) has been imposed.") (See Hadith No. 3, Vol)
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا۔ اس وقت لوگ کہیں گے کہ اگر ہم اپنے رب کے حضور میں کسی کی شفاعت لے جائیں تو نفع بخش ثابت ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے ہم اپنی اس حالت سے نجات پا جائیں۔ چنانچہ لوگ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے آپ ہی وہ بزرگ نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور آپ کے اندر اپنی چھپائی ہوئی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا، آپ ہمارے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کریں۔ وہ کہیں گے کہ میں تو اس لائق نہیں ہوں، پھر وہ اپنی لغزش یاد کریں گے اور کہیں گے کہ نوح کے پاس جاؤ، وہ سب سے پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بھیجا۔ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے لیکن وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں۔ وہ اپنی لغزش کا ذکر کریں گے اور کہیں کہ تم ابراہیم کے پاس جاؤ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیل بنایا تھا۔ لوگ ان کے پاس آئیں گے لیکن یہ بھی یہی کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں، اپنی خطا کا ذکر کریں گے اور کہیں گے کہ تم لوگ موسیٰ کے پاس جاؤ جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا۔ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے لیکن وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں، اپنی خطا کا ذکر کریں گے اور کہیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے، لیکن یہ بھی کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ کیونکہ ان کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف کر دئیے گئے ہیں۔ چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے۔ اس وقت میں اپنے رب سے ( شفاعت کی ) اجازت چاہوں گا اور سجدہ میں گر جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ جتنی دیر تک چاہے گا مجھے سجدہ میں رہنے دے گا۔ پھر کہا جائے گا کہ اپنا سر اٹھا لو، مانگو دیا جائے گا، کہو سنا جائے گا، شفاعت کرو، شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں اپنے رب کی اس وقت ایسی حمد بیان کروں گا کہ جو اللہ تعالیٰ مجھے سکھائے گا۔ پھر شفاعت کروں گا اور میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گی اور میں لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا اور اسی طرح سجدہ میں گر جاؤں گا، تیسری یا چوتھی مرتبہ جہنم میں صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں قرآن نے روکا ہے ( یعنی جن کے جہنم میں ہمیشہ رہنے کا ذکر قرآن میں صراحت کے ساتھ ہے ) قتادہ رحمہ اللہ اس موقع پر کہا کرتے کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جن پر جہنم میں ہمیشہ رہنا واجب ہو گیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُونَ لَوِ اسْتَشْفَعْنَا عَلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا. فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَمَرَ الْمَلاَئِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّنَا. فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ ـ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ وَيَقُولُ ـ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ. فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ ـ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ ـ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ الَّذِي اتَّخَذَهُ اللَّهُ خَلِيلاً. فَيَأْتُونَهُ، فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ ـ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ ـ ائْتُوا مُوسَى الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ، فَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ ـ ائْتُوا عِيسَى فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ، ائْتُوا مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم فَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ فَيَأْتُونِي فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، سَلْ تُعْطَهْ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ. فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِي، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، ثُمَّ أُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَقَعُ سَاجِدًا مِثْلَهُ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ حَتَّى مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلاَّ مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ ". وَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ عِنْدَ هَذَا أَىْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ.
#6566
Narrated `Imran bin Husain:The Prophet (ﷺ) said, "Some people will be taken out of the Fire through the intercession of Muhammad they will enter Paradise and will be called Al-Jahannamiyin (the Hell Fire people)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے حسن بن ذکوان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوحازم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک جماعت جہنم سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی شفاعت کی وجہ سے نکلے گی اور جنت میں داخل ہو گی جن کو «جهنميين .» کے نام سے پکارا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْن ٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، يُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ ".
#6567
Narrated Anas:Um (the mother of) Haritha came to Allah's Messenger (ﷺ) after Haritha had been martyred on the Day (of the battle) of Badr by an arrow thrown by an unknown person. She said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You know the position of Haritha in my heart (i.e. how dear to me he was), so if he is in Paradise, I will not weep for him, or otherwise, you will see what I will do." The Prophet (ﷺ) said, "Are you mad? Is there only one Paradise? There are many Paradises, and he is in the highest Paradise of Firdaus." The Prophet added, "A forenoon journey or an after noon journey in Allah's Cause is better than the whole world and whatever is in it; and a place equal to an arrow bow of anyone of you, or a place equal to a foot in Paradise is better than the whole world and whatever is in it; and if one of the women of Paradise looked at the earth, she would fill the whole space between them (the earth and the heaven) with light, and would fill whatever is in between them, with perfume, and the veil of her face is better than the whole world and whatever is in it
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ حارثہ بن سراقہ بن حارث رضی اللہ عنہ کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ حارثہ بدر کی لڑائی میں ایک نامعلوم تیر لگ جانے کی وجہ سے شہید ہو گئے تھے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے کہ حارثہ سے مجھے کتنی محبت تھی، اگر وہ جنت میں ہے تو اس پر میں نہیں روؤں گی، ورنہ آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بیوقوف ہوئی ہو، کیا کوئی جنت ایک ہی ہے، جنتیں تو بہت سی ہیں اور حارثہ ”فردوس اعلیٰ“ ( جنت کے اونچے درجے ) میں ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ حَارِثَةَ، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ هَلَكَ حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ، أَصَابَهُ غَرْبُ سَهْمٍ. فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْتَ مَوْقِعَ حَارِثَةَ مِنْ قَلْبِي، فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ لَمْ أَبْكِ عَلَيْهِ، وَإِلاَّ سَوْفَ تَرَى مَا أَصْنَعُ. فَقَالَ لَهَا " هَبِلْتِ، أَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ هِيَ إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ، وَإِنَّهُ فِي الْفِرْدَوْسِ الأَعْلَى ". (وَقَالَ :غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ أَوْ مَوْضِعُ قَدَمٍ مِنَ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى الأَرْضِ، لأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا، وَلَمَلأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا، وَلَنَصِيفُهَا ـ يَعْنِي الْخِمَارَ ـ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا).
#6568
Narrated Anas:Um (the mother of) Haritha came to Allah's Messenger (ﷺ) after Haritha had been martyred on the Day (of the battle) of Badr by an arrow thrown by an unknown person. She said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You know the position of Haritha in my heart (i.e. how dear to me he was), so if he is in Paradise, I will not weep for him, or otherwise, you will see what I will do." The Prophet (ﷺ) said, "Are you mad? Is there only one Paradise? There are many Paradises, and he is in the highest Paradise of Firdaus." The Prophet added, "A forenoon journey or an after noon journey in Allah's Cause is better than the whole world and whatever is in it; and a place equal to an arrow bow of anyone of you, or a place equal to a foot in Paradise is better than the whole world and whatever is in it; and if one of the women of Paradise looked at the earth, she would fill the whole space between them (the earth and the heaven) with light, and would fill whatever is in between them, with perfume, and the veil of her face is better than the whole world and whatever is in it
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ حارثہ بن سراقہ بن حارث رضی اللہ عنہ کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ حارثہ بدر کی لڑائی میں ایک نامعلوم تیر لگ جانے کی وجہ سے شہید ہو گئے تھے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے کہ حارثہ سے مجھے کتنی محبت تھی، اگر وہ جنت میں ہے تو اس پر میں نہیں روؤں گی، ورنہ آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بیوقوف ہوئی ہو، کیا کوئی جنت ایک ہی ہے، جنتیں تو بہت سی ہیں اور حارثہ ”فردوس اعلیٰ“ ( جنت کے اونچے درجے ) میں ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ حَارِثَةَ، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ هَلَكَ حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ، أَصَابَهُ غَرْبُ سَهْمٍ. فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْتَ مَوْقِعَ حَارِثَةَ مِنْ قَلْبِي، فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ لَمْ أَبْكِ عَلَيْهِ، وَإِلاَّ سَوْفَ تَرَى مَا أَصْنَعُ. فَقَالَ لَهَا " هَبِلْتِ، أَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ هِيَ إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ، وَإِنَّهُ فِي الْفِرْدَوْسِ الأَعْلَى ". (وَقَالَ :غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ أَوْ مَوْضِعُ قَدَمٍ مِنَ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى الأَرْضِ، لأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا، وَلَمَلأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا، وَلَنَصِيفُهَا ـ يَعْنِي الْخِمَارَ ـ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا).
#6569
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "None will enter Paradise but will be shown the place he would have occupied in the (Hell) Fire if he had rejected faith, so that he may be more thankful; and none will enter the (Hell) Fire but will be shown the place he would have occupied in Paradise if he had faith, so that may be a cause of sorrow for him
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت میں جو بھی داخل ہو گا اسے اس کا جہنم کا ٹھکانا بھی دکھایا جائے گا کہ اگر نافرمانی کی ہوتی ( تو وہاں اسے جگہ ملتی ) تاکہ وہ اور زیادہ شکر کرے اور جو بھی جہنم میں داخل ہو گا اسے اس کا جنت کا ٹھکانا بھی دکھایا جائے گا کہ اگر اچھے عمل کئے ہوتے ( تو وہاں جگہ ملتی ) تاکہ اس کے لیے حسرت و افسوس کا باعث ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَدْخُلُ أَحَدٌ الْجَنَّةَ إِلاَّ أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، لَوْ أَسَاءَ، لِيَزْدَادَ شُكْرًا، وَلاَ يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ إِلاَّ أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، لَوْ أَحْسَنَ، لِيَكُونَ عَلَيْهِ حَسْرَةً ".
#6570
Narrated Abu Huraira:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who will be the luckiest person who will gain your intercession on the Day of Resurrection?" The Prophet (ﷺ) said, "O Abu Huraira! I have thought that none will ask me about this Hadith before you, as I know your longing for the (learning of) Hadiths. The luckiest person who will have my intercession on the Day of Resurrection will be the one who said, 'None has the right to be worshipped but Allah,' sincerely from the bottom of his heart
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے عمرو نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ کی شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ کون حاصل کرے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوہریرہ! میرا بھی خیال تھا کہ یہ حدیث تم سے پہلے اور کوئی مجھ سے نہیں پوچھے گا، کیونکہ حدیث کے لینے کے لیے میں تمہاری بہت زیادہ حرص دیکھا کرتا ہوں۔ قیامت کے دن میری شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ اسے حاصل ہو گی جس نے کلمہ «لا إله إلا الله» خلوص دل سے کہا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ " لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْ لاَ يَسْأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَحَدٌ أَوَّلُ مِنْكَ، لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْحَدِيثِ، أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ. خَالِصًا مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ ".
#6571
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "I know the person who will be the last to come out of the (Hell) Fire, and the last to enter Paradise. He will be a man who will come out of the (Hell) Fire crawling, and Allah will say to him, 'Go and enter Paradise.' He will go to it, but he will imagine that it had been filled, and then he will return and say, 'O Lord, I have found it full.' Allah will say, 'Go and enter Paradise, and you will have what equals the world and ten times as much (or, you will have as much as ten times the like of the world).' On that, the man will say, 'Do you mock at me (or laugh at me) though You are the King?" I saw Allah's Messenger (ﷺ) (while saying that) smiling that his premolar teeth became visible. It is said that will be the lowest in degree amongst the people of Paradise
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے عبیدہ سلمانی نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ اہل جہنم میں سے کون سب سے آخر میں وہاں سے نکلے گا اور اہل جنت میں کون سب سے آخر میں اس میں داخل ہو گا۔ ایک شخص جہنم سے گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے نکلے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا کہ جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جنت کے پاس آئے گا لیکن اسے ایسا معلوم ہو گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔ چنانچہ وہ واپس آئے گا اور عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے جنت کو بھرا ہوا پایا، اللہ تعالیٰ پھر اس سے کہے گا کہ جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ پھر آئے گا لیکن اسے ایسا معلوم ہو گا کہ جنت بھری ہوئی ہے وہ واپس لوٹے گا اور عرض کرے گا کہ اے میرے رب! میں نے جنت کو بھرا ہوا پایا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ تمہیں دنیا اور اس سے دس گنا دیا جاتا ہے یا ( اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ) تمہیں دنیا کے دس گنا دیا جاتا ہے۔ وہ شخص کہے گا تو میرا مذاق بناتا ہے حالانکہ تو شہنشاہ ہے۔ میں نے دیکھا کہ اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے اور آپ کے آگے کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے اور کہا جاتا ہے کہ وہ جنت کا سب سے کم درجے والا شخص ہو گا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا، وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولاً رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ كَبْوًا، فَيَقُولُ اللَّهُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ. فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى، فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلأَى، فَيَقُولُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ. فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى. فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلأَى، فَيَقُولُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا. أَوْ إِنَّ لَكَ مِثْلَ عَشَرَةِ أَمْثَالِ الدُّنْيَا. فَيَقُولُ تَسْخَرُ مِنِّي، أَوْ تَضْحَكُ مِنِّي وَأَنْتَ الْمَلِكُ ". فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، وَكَانَ يُقَالُ ذَلِكَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً.
#6572
Narrated `Abbas:that he said to the Prophet (ﷺ) "Did you benefit Abu Talib with anything?
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن حارث بن نوفل نے بیان کیا اور ان سے عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آپ نے ابوطالب کو کوئی نفع پہنچایا؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَىْءٍ.
#6573
Narrated Abu Huraira:Some people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall we see our Lord on the Day of Resurrection?" He said, "Do you crowd and squeeze each other on looking at the sun when it is not hidden by clouds?" They replied, "No, Allah's Messenger (ﷺ)." He said, "Do you crowd and squeeze each other on looking at the moon when it is full and not hidden by clouds?" They replied, No, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "So you will see Him (your Lord) on the Day of Resurrection similarly Allah will gather all the people and say, 'Whoever used to worship anything should follow that thing. 'So, he who used to worship the sun, will follow it, and he who used to worship the moon will follow it, and he who used to worship false deities will follow them; and then only this nation (i.e., Muslims) will remain, including their hypocrites. Allah will come to them in a shape other than they know and will say, 'I am your Lord.' They will say, 'We seek refuge with Allah from you. This is our place; (we will not follow you) till our Lord comes to us, and when our Lord comes to us, we will recognize Him. Then Allah will come to then in a shape they know and will say, "I am your Lord.' They will say, '(No doubt) You are our Lord,' and they will follow Him. Then a bridge will be laid over the (Hell) Fire." Allah's Messenger (ﷺ) added, "I will be the first to cross it. And the invocation of the Apostles on that Day, will be 'Allahumma Sallim, Sallim (O Allah, save us, save us!),' and over that bridge there will be hooks Similar to the thorns of As Sa'dan (a thorny tree). Didn't you see the thorns of As-Sa'dan?" The companions said, "Yes, O Allah's Messenger (ﷺ)." He added, "So the hooks over that bridge will be like the thorns of As-Sa-dan except that their greatness in size is only known to Allah. These hooks will snatch the people according to their deeds. Some people will be ruined because of their evil deeds, and some will be cut into pieces and fall down in Hell, but will be saved afterwards, when Allah has finished the judgments among His slaves, and intends to take out of the Fire whoever He wishes to take out from among those who used to testify that none had the right to be worshipped but Allah. We will order the angels to take them out and the angels will know them by the mark of the traces of prostration (on their foreheads) for Allah banned the f ire to consume the traces of prostration on the body of Adam's son. So they will take them out, and by then they would have burnt (as coal), and then water, called Ma'ul Hayat (water of life) will be poured on them, and they will spring out like a seed springs out on the bank of a rainwater stream, and there will remain one man who will be facing the (Hell) Fire and will say, 'O Lord! It's (Hell's) vapor has Poisoned and smoked me and its flame has burnt me; please turn my face away from the Fire.' He will keep on invoking Allah till Allah says, 'Perhaps, if I give you what you want), you will ask for another thing?' The man will say, 'No, by Your Power, I will not ask You for anything else.' Then Allah will turn his face away from the Fire. The man will say after that, 'O Lord, bring me near the gate of Paradise.' Allah will say (to him), 'Didn't you promise not to ask for anything else? Woe to you, O son of Adam ! How treacherous you are!' The man will keep on invoking Allah till Allah will say, 'But if I give you that, you may ask me for something else.' The man will say, 'No, by Your Power. I will not ask for anything else.' He will give Allah his covenant and promise not to ask for anything else after that. So Allah will bring him near to the gate of Paradise, and when he sees what is in it, he will remain silent as long as Allah will, and then he will say, 'O Lord! Let me enter Paradise.' Allah will say, 'Didn't you promise that you would not ask Me for anything other than that? Woe to you, O son of Adam ! How treacherous you are!' On that, the man will say, 'O Lord! Do not make me the most wretched of Your creation,' and will keep on invoking Allah till Allah will smile and when Allah will smile because of him, then He will allow him to enter Paradise, and when he will enter Paradise, he will be addressed, 'Wish from so-and-so.' He will wish till all his wishes will be fulfilled, then Allah will say, All this (i.e. what you have wished for) and as much again therewith are for you.' " Abu Huraira added: That man will be the last of the people of Paradise to enter (Paradise)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ کو سعید اور عطا بن یزید نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری سند) اور مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے، کہا ہم کو معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عطا بن یزید لیثی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری ہوتی ہے جبکہ اس پر کوئی بادل ( ابر ) وغیرہ نہ ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا جب کوئی بادل نہ ہو تو تمہیں چودہویں رات کے چاند کو دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اللہ تعالیٰ کو اسی طرح قیامت کے دن دیکھو گے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا اور کہے گا کہ تم میں سے جو شخص جس چیز کی پوجا پاٹ کیا کرتا تھا وہ اسی کے پیچھے لگ جائے، چنانچہ جو لوگ سورج کی پرستش کیا کرتے تھے وہ اس کے پیچھے لگ جائیں گے اور جو لوگ چاند کی پوجا کرتے تھے وہ ان کے پیچھے ہو لیں گے۔ جو لوگ بتوں کی پرستش کرتے تھے وہ ان کے پیچھے لگ جائیں گے اور آخر میں یہ امت باقی رہ جائے گی اور اس میں منافقین کی جماعت بھی ہو گی، اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچانتے نہ ہوں گے اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ لوگ کہیں گے تجھ سے اللہ کی پناہ۔ ہم اپنی جگہ پر اس وقت تک رہیں گے جب تک کہ ہمارا پروردگار ہمارے سامنے نہ آئے۔ جب ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے ( کیونکہ وہ حشر میں ایک بار اس کو پہلے دیکھ چکے ہوں گے ) پھر حق تعالیٰ اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچانتے ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا ( آؤ میرے ساتھ ہو لو ) میں تمہارا رب ہوں! لوگ کہیں گے کہ تو ہمارا رب ہے، پھر اسی کے پیچھے ہو جائیں گے اور جہنم پر پل بنا دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو اس پل کو پار کروں گا اور اس دن رسولوں کی دعا یہ ہو گی کہ اے اللہ! مجھ کو سلامت رکھیو۔ اے اللہ! مجھ کو سلامت رکھیو اور وہاں سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکڑے ہوں گے۔ تم نے سعدان کے کانٹے دیکھے ہیں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا جی ہاں دیکھے ہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ پھر سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے البتہ اس کی لمبائی چوڑائی اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق اچک لیں گے اور اس طرح ان میں سے بعض تو اپنے عمل کی وجہ سے ہلاک ہو جائیں گے اور بعض کا عمل رائی کے دانے کے برابر ہو گا، پھر وہ نجات پا جائے گا۔ آخر جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہو جائے گا اور جہنم سے انہیں نکالنا چاہے گا جنہیں نکالنے کی اس کی مشیت ہو گی۔ یعنی وہ جنہوں نے کلمہ «لا إله إلا الله» کی گواہی دی ہو گی اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ وہ ایسے لوگوں کو جہنم سے نکالیں۔ فرشتے انہیں سجدوں کے نشانات سے پہچان لیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ ابن آدم کے جسم میں سجدوں کے نشان کو کھائے۔ چنانچہ فرشتے ان لوگوں کو نکالیں گے۔ یہ جل کر کوئلے ہو چکے ہوں گے پھر ان پر پانی چھڑکا جائے گا جسے «ماء الحياة» زندگی بخشنے والا پانی کہتے ہیں۔ اس وقت وہ اس طرح تروتازہ ہو جائیں گے جیسے سیلاب کے بعد زرخیز زمین میں دانہ اگ آتا ہے۔ ایک ایسا شخص باقی رہ جائے گا جس کا چہرہ جہنم کی طرف ہو گا اور وہ کہے گا اے میرے رب! اس کی بدبوں نے مجھے پریشان کر دیا ہے اور اس کی لپٹ نے مجھے جھلسا دیا ہے اور اس کی تیزی نے مجھے جلا ڈالا ہے، ذرا میرا منہ آگ کی طرف سے دوسری طرف پھیر دے۔ وہ اسی طرح اللہ سے دعا کرتا رہے گا۔ آخر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر میں تیرا یہ مطالبہ پورا کر دوں تو کہیں تو کوئی دوسری چیز مانگنی شروع نہ کر دے۔ وہ شخص عرض کرے گا نہیں، تیری عزت کی قسم! میں اس کے سوا کوئی دوسری چیز نہیں مانگوں گا۔ چنانچہ اس کا چہرہ جہنم کی طرف سے دوسری طرف پھیر دیا جائے گا۔ اب اس کے بعد وہ کہے گا۔ اے میرے رب! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دیجئیے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تو نے ابھی یقین نہیں دلایا تھا کہ اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں مانگے گا۔ افسوس! اے ابن آدم! تو بہت زیادہ وعدہ خلاف ہے۔ پھر وہ برابر اسی طرح دعا کرتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اگر میں تیری یہ دعا قبول کر لوں تو تو پھر اس کے علاوہ کچھ اور چیز مانگنے لگے گا۔ وہ شخص کہے گا نہیں، تیری عزت کی قسم! میں اس کے سوا اور کوئی چیز تجھ سے نہیں مانگوں گا اور وہ اللہ سے عہد و پیمان کرے گا کہ اس کے سوا اب کوئی اور چیز نہیں مانگے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا۔ جب وہ جنت کے اندر کی نعمتوں کو دیکھے گا تو جتنی دیر تک اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ شخص خاموش رہے گا، پھر کہے گا اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تو نے یہ یقین نہیں دلایا تھا کہ اب تو اس کے سوا کوئی چیز نہیں مانگے گا۔ اے ابن آدم! افسوس، تو کتنا وعدہ خلاف ہے۔ وہ شخص عرض کرے گا اے میرے رب! مجھے اپنی مخلوق کا سب سے بدبخت بندہ نہ بنا۔ وہ برابر دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہنس دے گا۔ جب اللہ ہنس دے گا تو اس شخص کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت مل جائے گی۔ جب وہ اندر چلا جائے گا تو اس سے کہا جائے گا کہ فلاں چیز کی خواہش کر چنانچہ وہ اس کی خواہش کرے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا کہ فلاں چیز کی خواہش کرو، چنانچہ وہ پھر خواہش کرے گا یہاں تک کہ اس کی خواہشات ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گا کہ تیری یہ ساری خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور اتنی ہی زیادہ نعمتیں اور دی جاتی ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسی سند سے کہا کہ یہ شخص جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا ہو گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، وَعَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أُنَاسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ " هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ، لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ ". قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " هَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ ". قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ، يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ فَيَقُولُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ، فَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ، وَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ، وَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ، وَتَبْقَى هَذِهِ الأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فِي غَيْرِ الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ. فَيَقُولُونَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا، فَإِذَا أَتَانَا رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ. فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا، فَيَتْبَعُونَهُ وَيُضْرَبُ جِسْرُ جَهَنَّمَ ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ، وَدُعَاءُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، وَبِهِ كَلاَلِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، أَمَا رَأَيْتُمْ شَوْكَ السَّعْدَانِ ". قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، غَيْرَ أَنَّهَا لاَ يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلاَّ اللَّهُ، فَتَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ، مِنْهُمُ الْمُوبَقُ، بِعَمَلِهِ وَمِنْهُمُ الْمُخَرْدَلُ، ثُمَّ يَنْجُو، حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ عِبَادِهِ، وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ النَّارِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ، مِمَّنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، أَمَرَ الْمَلاَئِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوهُمْ، فَيَعْرِفُونَهُمْ بِعَلاَمَةِ آثَارِ السُّجُودِ، وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ مِنِ ابْنِ آدَمَ أَثَرَ السُّجُودِ، فَيُخْرِجُونَهُمْ قَدِ امْتُحِشُوا، فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءٌ يُقَالُ لَهُ مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، وَيَبْقَى رَجُلٌ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا، فَاصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ فَلاَ يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ. فَيَقُولُ لَعَلَّكَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ. فَيَقُولُ لاَ وَعِزَّتِكَ لاَ أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ. فَيَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، ثُمَّ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ يَا رَبِّ قَرِّبْنِي إِلَى باب الْجَنَّةِ. فَيَقُولُ أَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لاَ تَسْأَلْنِي غَيْرَهُ، وَيْلَكَ ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ. فَلاَ يَزَالُ يَدْعُو. فَيَقُولُ لَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ. فَيَقُولُ لاَ وَعِزَّتِكَ لاَ أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ. فَيُعْطِي اللَّهَ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ أَنْ لاَ يَسْأَلَهُ غَيْرَهُ، فَيُقَرِّبُهُ إِلَى باب الْجَنَّةِ، فَإِذَا رَأَى مَا فِيهَا سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ. ثُمَّ يَقُولُ أَوَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لاَ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ، وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ لاَ تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ. فَلاَ يَزَالُ يَدْعُو حَتَّى يَضْحَكَ، فَإِذَا ضَحِكَ مِنْهُ أَذِنَ لَهُ بِالدُّخُولِ فِيهَا، فَإِذَا دَخَلَ فِيهَا قِيلَ تَمَنَّ مِنْ كَذَا. فَيَتَمَنَّى، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ تَمَنَّ مِنْ كَذَا. فَيَتَمَنَّى حَتَّى تَنْقَطِعَ بِهِ الأَمَانِيُّ فَيَقُولُ لَهُ هَذَا لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولاً.
#6574
Narrated 'Ata (while Abu Huraira was narrating (see previous hadith)):Abu Sa`id was sitting in the company of Abu Huraira and he did not deny anything of his narration till he reached his saying: "All this and as much again therewith are for you." Then Abu Sa`id said, "I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'This is for you and ten times as much.' " Abu Huraira said, "In my memory it is 'as much again therewith
عطاء نے بیان کیا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے ان کی کسی بات پر اعتراض نہیں کیا لیکن جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث کے اس ٹکڑے تک پہنچے کہ تمہاری یہ ساری خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور اتنی ہی اور زیادہ نعمتیں دی جاتی ہیں تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری یہ ساری خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور اس سے دس گنا اور زیادہ نعمتیں دی جاتی ہیں۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں میں نے یوں ہی سنا ہے، یہ سب چیزیں اور اتنی ہی اور۔
قَالَ عَطَاءٌ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، لاَ يُغَيِّرُ عَلَيْهِ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَوْلِهِ " هَذَا لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ ". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " هَذَا لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَفِظْتُ " مِثْلُهُ مَعَهُ ".
#6575
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "I am your predecessor at the Lake-Fount
مجھ سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے شقیق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں تم سے پہلے ہی حوض پر موجود رہوں گا۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " أَنَا فَرَطُكُمْ، عَلَى الْحَوْضِ ".