#6526
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) stood up among us and addressed (saying) "You will be gathered, barefooted, naked, and uncircumcised (as Allah says): 'As We began the first creation, We shall repeat it..' (21.104) And the first human being to be dressed on the Day of Resurrection will be (the Prophet) Abraham Al-Khalil. Then will be brought some men of my followers who will be taken towards the left (i.e., to the Fire), and I will say: 'O Lord! My companions whereupon Allah will say: You do not know what they did after you left them. I will then say as the pious slave, Jesus said, And I was witness over them while I dwelt amongst them..........(up to) ...the All-Wise.' (5.117-118). The narrator added: Then it will be said that those people (relegated from Islam, that is) kept on turning on their heels (deserted Islam)
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ بن نعمان نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا ”تم لوگ قیامت کے دن اس حال میں جمع کئے جاؤ گے کہ ننگے پاؤں اور ننگے جسم ہو گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «كما بدأنا أول خلق نعيده» کہ ”جس طرح ہم نے شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح لوٹا دیں گے۔“ اور تمام مخلوقات میں سب سے پہلے جسے کپڑا پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے اور میری امت کے بہت سے لوگ لائے جائیں گے جن کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں ہوں گے۔ میں اس پر کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی نئی بدعات نکالی تھیں۔ اس وقت میں بھی وہی کہوں گا جو نیک بندے ( عیسیٰ علیہ السلام ) نے کہا «وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم» کہ ”یا اللہ! میں جب تک ان میں موجود رہا اس وقت تک میں ان پر گواہ تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ فرشتے ( مجھ سے ) کہیں گے کہ یہ لوگ ہمیشہ اپنی ایڑیوں کے بل پھرتے ہی رہے ( مرتد ہوتے رہے ) ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَامَ فِينَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَقَالَ " إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً {كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ} الآيَةَ، وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلاَئِقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ، وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ. فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُصَيْحَابِي. فَيَقُولُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ. فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ {وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ} إِلَى قَوْلِهِ {الْحَكِيمُ} قَالَ فَيُقَالُ إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ ".
#6527
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The people will be gathered barefooted, naked, and uncircumcised." I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Will the men and the women look at each other?" He said, "The situation will be too hard for them to pay attention to that
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن ابی صغیرہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی ملکیہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے قاسم بن محمد بن ابی بکر نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم ننگے پاؤں، ننگے جسم، بلا ختنہ کے اٹھائے جاؤ گے۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس پر میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! تو کیا مرد عورتیں ایک دوسرے کو دیکھتے ہوں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت معاملہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہو گا، اس کا خیال بھی کوئی نہیں کر سکے گا۔
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تُحْشَرُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً " قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ. فَقَالَ " الأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يُهِمَّهُمْ ذَاكِ ".
#6528
Narrated `Abdullah:While we were in the company of the Prophet (ﷺ) in a tent he said, ''Would it please you to be one fourth of the people of Paradise?" We said, "Yes." He said, "Would It please you to be one-third of the people of Paradise?" We said, "Yes." He said, "Would it please you to be half of the people of Paradise?" We said, "Yes." Thereupon he said, "I hope that you will be one half of the people of Paradise, for none will enter Paradise but a Muslim soul, and you people, in comparison to the people who associate others in worship with Allah, are like a white hair on the skin of a black ox, or a black hair on the skin of a red ox
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمہ میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا ایک چوتھائی رہو؟ ہم نے کہا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا تم ایک تہائی رہو؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا تم نصف رہو؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم لوگ ( امت مسلمہ ) اہل جنت کا حصہ ہو گے اور ایسا اس لیے ہو گا کہ جنت میں فرمانبردار نفس کے علاوہ اور کوئی داخل نہ ہو گا اور تم لوگ شرک کرنے والوں کے درمیان ( تعداد میں ) اس طرح ہو گے جیسے سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہوتے ہیں یا جیسے سرخ کے جسم پر ایک سیاہ بال ہو۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي قُبَّةٍ فَقَالَ " أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ". قُلْنَا نَعَمْ. قَالَ " تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ". قُلْنَا نَعَمْ. قَالَ " أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ". قُلْنَا نَعَمْ. قَالَ " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لاَ يَدْخُلُهَا إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَمَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ إِلاَّ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَحْمَرِ ".
#6529
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The first man to be called on the Day of Resurrection will be Adam who will be shown his offspring, and it will be said to them, 'This is your father, Adam.' Adam will say (responding to the call), 'Labbaik and Sa`daik' Then Allah will say (to Adam), 'Take out of your offspring, the people of Hell.' Adam will say, 'O Lord, how many should I take out?' Allah will say, 'Take out ninety-nine out of every hundred." They (the Prophet's companions) said, "O Allah's Apostle! If ninety-nine out of every one hundred of us are taken away, what will remain out of us?" He said, "My followers in comparison to the other nations are like a white hair on a black ox
ہم سے اسماعیل بن اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے ثور نے، ان سے ابوالغیث نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو پکارا جائے گا۔ پھر ان کی نسل ان کو دیکھے گی تو کہا جائے گا کہ یہ تمہارے بزرگ دادا آدم ہیں۔ ( پکارنے پر ) وہ کہیں گے کہ لبیک و سعدیک۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اپنی نسل میں سے دوزخ کا حصہ نکال لو۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے اے پروردگار! کتنوں کو نکالوں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا فیصد ( ننانوے فیصد دوزخی ایک جنتی ) ۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب ہم میں سو میں ننانوے نکال دئیے جائیں تو پھر باقی کیا رہ جائیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام امتوں میں میری امت اتنی ہی تعداد میں ہو گی جیسے سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ آدَمُ، فَتَرَاءَى ذُرِّيَّتُهُ فَيُقَالُ هَذَا أَبُوكُمْ آدَمُ. فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ. فَيَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ جَهَنَّمَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ. فَيَقُولُ يَا رَبِّ كَمْ أُخْرِجُ فَيَقُولُ أَخْرِجْ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ ". فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا أُخِذَ مِنَّا مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، فَمَاذَا يَبْقَى مِنَّا قَالَ " إِنَّ أُمَّتِي فِي الأُمَمِ كَالشَّعَرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الأَسْوَدِ ".
#6530
Narrated Abu Sa`id:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will say, 'O Adam!. Adam will reply, 'Labbaik and Sa`daik (I respond to Your Calls, I am obedient to Your orders), wal Khair fi Yadaik (and all the good is in Your Hands)!' Then Allah will say (to Adam), Bring out the people of the Fire.' Adam will say, 'What (how many) are the people of the Fire?' Allah will say, 'Out of every thousand (take out) nine hundred and ninety-nine (persons).' At that time children will become hoary-headed and every pregnant female will drop her load (have an abortion) and you will see the people as if they were drunk, yet not drunk; But Allah's punishment will be very severe." That news distressed the companions of the Prophet (ﷺ) too much, and they said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who amongst us will be that man (the lucky one out of one-thousand who will be saved from the Fire)?" He said, "Have the good news that one-thousand will be from Gog and Magog, and the one (to be saved will be) from you." The Prophet (ﷺ) added, "By Him in Whose Hand my soul is, I Hope that you (Muslims) will be one third of the people of Paradise." On that, we glorified and praised Allah and said, "Allahu Akbar." The Prophet (ﷺ) then said, "By Him in Whose Hand my soul is, I hope that you will be one half of the people of Paradise, as your (Muslims) example in comparison to the other people (non-Muslims), is like that of a white hair on the skin of a black ox, or a round hairless spot on the foreleg of a donkey
مجھ سے یوسف بن موسیٰ قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے آدم! آدم علیہ السلام کہیں گے حاضر ہوں فرماں بردار ہوں اور ہر بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے انہیں نکال لو۔ آدم علیہ السلام پوچھیں گے جہنم میں ڈالے جانے والے لوگ کتنے ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہی وہ وقت ہو گا جب بچے غم سے بوڑھے ہو جائیں گے اور حاملہ عورتیں اپنا حمل گرا دیں گی اور تم لوگوں کو نشہ کی حالت میں دیکھو گے، حالانکہ وہ واقعی نشہ کی حالت میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہو گا۔ صحابہ کو یہ بات بہت سخت معلوم ہوئی تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر ہم میں سے وہ ( خوش نصیب ) شخص کون ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں خوشخبری ہو، ایک ہزار یاجوج ماجوج کی قوم سے ہوں گے۔ اور تم میں سے وہ ایک جنتی ہو گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم لوگ اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو گے۔ راوی نے بیان کیا کہ ہم نے اس پر اللہ کی حمد بیان کی اور اس کی تکبیر کہی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے امید ہے کہ آدھا حصہ اہل جنت کا تم لوگ ہو گے۔ تمہاری مثال دوسری امتوں کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے کسی سیاہ بیل کے جسم پر سفید بالوں کی ( معمولی تعداد ) ہوتی ہے یا وہ سفید داغ جو گدھے کے آگے کے پاؤں پر ہوتا ہے۔
حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَقُولُ اللَّهُ يَا آدَمُ. فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ. قَالَ يَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ. قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ. فَذَاكَ حِينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ، وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا، وَتَرَى النَّاسَ سَكْرَى وَمَا هُمْ بِسَكْرَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ ". فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا يَا رَسُولُ اللَّهِ أَيُّنَا الرَّجُلُ قَالَ " أَبْشِرُوا، فَإِنَّ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفٌ وَمِنْكُمْ رَجُلٌ ـ ثُمَّ قَالَ ـ وَالَّذِي نَفْسِي فِي يَدِهِ إِنِّي لأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ". قَالَ فَحَمِدْنَا اللَّهَ وَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي فِي يَدِهِ إِنِّي لأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، إِنَّ مَثَلَكُمْ فِي الأُمَمِ كَمَثَلِ الشَّعَرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ أَوِ الرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ ".
#6531
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said (regarding the Verse), "A Day when all mankind will stand before the Lord of the Worlds,' (that day) they will stand, drowned in their sweat up to the middle of their ears
ہم سے اسماعیل بن ابان نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «يوم يقوم الناس لرب العالمين» کی تفسیر میں فرمایا کہ تم میں سے ہر کوئی سارے جہانوں کے پروردگار کے آگے کھڑا ہو گا اس حال میں کہ اس کا پسینہ کانوں کی لو تک پہنچا ہوا ہو گا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. {يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ} قَالَ " يَقُومُ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ ".
#6532
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The people will sweat so profusely on the Day of Resurrection that their sweat will sink seventy cubits deep into the earth, and it will rise up till it reaches the people's mouths and ears
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے ثور بن زید نے بیان کیا، ان سے ابوالغیث نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن لوگ پسینے میں شرابور ہو جائیں گے اور حالت یہ ہو جائے گی کہ تم میں سے ہر کسی کا پسینہ زمین پر ستر ہاتھ تک پھیل جائے گا اور منہ تک پہنچ کر کانوں کو چھونے لگے گا۔“
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَعْرَقُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَذْهَبَ عَرَقُهُمْ فِي الأَرْضِ سَبْعِينَ ذِرَاعًا، وَيُلْجِمُهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ آذَانَهُمْ ".
#6533
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "The cases which will be decided first (on the Day of Resurrection) will be the cases of blood-shedding
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے شقیق نے بیان کیا، کہا میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے پہلے جس چیز کا فیصلہ لوگوں کے درمیان ہو گا وہ ناحق خون کے بدلہ کا ہو گا۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ بِالدِّمَاءِ ".
#6534
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever has wronged his brother, should ask for his pardon (before his death), as (in the Hereafter) there will be neither a Dinar nor a Dirham. (He should secure pardon in this life) before some of his good deeds are taken and paid to his brother, or, if he has done no good deeds, some of the bad deeds of his brother are taken to be loaded on him (in the Hereafter)
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کیا ہو تو اسے چاہئے کہ اس سے ( اس دنیا میں ) معاف کرا لے۔ اس لیے کہ آخرت میں روپے پیسے نہیں ہوں گے۔ اس سے پہلے ( معاف کرا لے ) کہ اس کے بھائی کے لیے اس کی نیکیوں میں سے حق دلایا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو اس ( مظلوم ) بھائی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔“
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ لأَخِيهِ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهَا، فَإِنَّهُ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلاَ دِرْهَمٌ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُؤْخَذَ لأَخِيهِ مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ أَخِيهِ، فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ".
#6535
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The believers, after being saved from the (Hell) Fire, will be stopped at a bridge between Paradise and Hell and mutual retaliation will be established among them regarding wrongs they have committed in the world against one another. After they are cleansed and purified (through the retaliation), they will be admitted into Paradise; and by Him in Whose Hand Muhammad's soul is, everyone of them will know his dwelling in Paradise better than he knew his dwelling in this world
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا اس آیت کے بارے میں «ونزعنا ما في صدورهم من غل» کہا کہ ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے ابوالمتوکل ناجی نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومنین جہنم سے چھٹکارا پا جائیں گے لیکن دوزخ و جنت کے درمیان ایک پل پر انہیں روک لیا جائے گا اور پھر ایک کے دوسرے پر ان مظالم کا بدلہ لیا جائے گا جو دنیا میں ان کے درمیان آپس میں ہوئے تھے اور جب کانٹ چھانٹ کر لی جائے گی اور صفائی ہو جائے گی تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت ملے گی۔ پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! جنتیوں میں سے ہر کوئی جنت میں اپنے گھر کو دنیا کے اپنے گھر کے مقابلہ میں زیادہ بہتر طریقے پر پہچان لے گا۔“
حَدَّثَنِي الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ} قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ، فَيُحْبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيُقَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ، مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا، حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لأَحَدُهُمْ أَهْدَى بِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ مِنْهُ بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا ".
#6536
Narrated Ibn Abi Mulaika:`Aisha said, "The Prophet (ﷺ) said, 'Anybody whose account (record) is questioned will surely be punished.' I said, 'Doesn't Allah say: 'He surely will receive an easy reckoning?' (84.8) The Prophet (ﷺ) replied. 'This means only the presentation of the account."' Narrated `Aisha: The Prophet (ﷺ) said (as above)
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے عثمان بن اسود نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کے حساب میں کھود کرید کی گئی اس کو ضرور عذاب ہو گا۔“ وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں ہے «فسوف يحاسب حسابا يسيرا» ”پھر عنقریب ان سے ہلکا حساب لیا جائے گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے مراد صرف پیشی ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ ". قَالَتْ قُلْتُ أَلَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى {فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا}. قَالَ " ذَلِكِ الْعَرْضُ ". حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ. وَتَابَعَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمٍ وَأَيُّوبُ وَصَالِحُ بْنُ رُسْتُمٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
#6537
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ), said, "None will be called to account on the Day of Resurrection, but will be ruined." I said "O Allah's Messenger (ﷺ)! Hasn't Allah said: 'Then as for him who will be given his record in his right hand, he surely will receive an easy reckoning? (84.7-8) -- Allah's Messenger (ﷺ) said, "That (Verse) means only the presentation of the accounts, but anybody whose account (record) is questioned on the Day of Resurrection, will surely be punished
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن ابوصغیرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص سے بھی قیامت کے دن حساب لیا گیا پس وہ ہلاک ہوا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے خود نہیں فرمایا ہے «فأما من أوتي كتابه بيمينه * فسوف يحاسب حسابا يسيرا» کہ ”پس جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو عنقریب اس سے ایک آسان حساب لیا جائے گا۔“ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو صرف پیشی ہو گی۔ ( اللہ رب العزت کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ) قیامت کے دن جس کے بھی حساب میں کھود کرید کی گئی اس کو عذاب یقینی ہو گا۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلاَّ هَلَكَ ". فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ * فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا ذَلِكِ الْعَرْضُ، وَلَيْسَ أَحَدٌ يُنَاقَشُ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلاَّ عُذِّبَ ".
#6538
Narrated Anas bin Malik:Allah's Prophet used to say, "A disbeliever will be brought on the Day of Resurrection and will be asked. "Suppose you had as much gold as to fill the earth, would you offer it to ransom yourself?" He will reply, "Yes." Then it will be said to him, "You were asked for something easier than that (to join none in worship with Allah (i.e. to accept Islam, but you refused)
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن معمر نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ قیامت کے دن کافر کو لایا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر زمین بھر کر تمہارے پاس سونا ہو تو کیا سب کو ( اپنی نجات کے لیے ) فدیہ میں دے دو گے؟ وہ کہے گا کہ ہاں، تو اس وقت اس سے کہا جائے گا کہ تم سے اس سے بہت آسان چیز کا ( دنیا میں ) مطالبہ کیا گیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " يُجَاءُ بِالْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الأَرْضِ ذَهَبًا أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ. فَيُقَالُ لَهُ قَدْ كُنْتَ سُئِلْتَ مَا هُوَ أَيْسَرُ مِنْ ذَلِكَ ".
#6539
Narrated `Adi bin Hatim:The Prophet (ﷺ) said, "There will be none among you but will be talked to by Allah on the Day of Resurrection, without there being an interpreter between him and Him (Allah) . He will look and see nothing ahead of him, and then he will look (again for the second time) in front of him, and the (Hell) Fire will confront him. So, whoever among you can save himself from the Fire, should do so even with one half of a date (to give in charity)
مجھ سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خیثمہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں ہر ہر فرد سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس طرح کلام کرے گا کہ اللہ کے اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا۔ پھر وہ دیکھے گا تو اس کے آگے کوئی چیز نظر نہیں آئے گی۔ پھر وہ اپنے سامنے دیکھے گا اور اس کے سامنے آگ ہو گی۔ پس تم میں سے جو شخص بھی چاہے کہ وہ آگ سے بچے تو وہ اللہ کی راہ میں خیر خیرات کرتا رہے، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ ہی ممکن ہو۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي خَيْثَمَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَسَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَيْسَ بَيْنَ اللَّهِ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ، ثُمَّ يَنْظُرُ فَلاَ يَرَى شَيْئًا قُدَّامَهُ، ثُمَّ يَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ".
#6540
Narrated `Adi bin Hatim:The Prophet (ﷺ) said, "Protect yourself from the Fire." He then turned his face aside (as if he were looking at it) and said again, "Protect yourself from the Fire," and then turned his face aside (as if he were looking at it), and he said so for the third time till we thought he was looking at it. He then said, "Protect yourselves from the Fire, even if with one half of a date and he who hasn't got even this, (should do so) by (saying) a good, pleasant word
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم سے بچو، پھر آپ نے چہرہ پھیر لیا، پھر فرمایا کہ جہنم سے بچو اور پھر اس کے بعد چہرہ مبارک پھیر لیا، پھر فرمایا جہنم سے بچو۔ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ ہم نے اس سے یہ خیال کیا کہ آپ جہنم دیکھ رہے ہیں۔ پھر فرمایا کہ جہنم سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعہ ہو سکے اور جسے یہ بھی نہ ملے تو اسے ( لوگوں میں ) کسی اچھی بات کہنے کے ذریعہ سے ہی ( جہنم سے ) بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
قَالَ الأَعْمَشُ حَدَّثَنِي عَمْرٌو، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اتَّقُوا النَّارَ ". ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ، ثُمَّ قَالَ " اتَّقُوا النَّارَ ". ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ ثَلاَثًا، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ".
#6541
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) said, "The people were displayed in front of me and I saw one prophet passing by with a large group of his followers, and another prophet passing by with only a small group of people, and another prophet passing by with only ten (persons), and another prophet passing by with only five (persons), and another prophet passed by alone. And then I looked and saw a large multitude of people, so I asked Gabriel, "Are these people my followers?' He said, 'No, but look towards the horizon.' I looked and saw a very large multitude of people. Gabriel said. 'Those are your followers, and those are seventy thousand (persons) in front of them who will neither have any reckoning of their accounts nor will receive any punishment.' I asked, 'Why?' He said, 'For they used not to treat themselves with branding (cauterization) nor with Ruqya (get oneself treated by the recitation of some Verses of the Qur'an) and not to see evil omen in things, and they used to put their trust (only) in their Lord." On hearing that, 'Ukasha bin Mihsan got up and said (to the Prophet), "Invoke Allah to make me one of them." The Prophet (ﷺ) said, "O Allah, make him one of them." Then another man got up and said (to the Prophet), "Invoke Allah to make me one of them." The Prophet (ﷺ) said, 'Ukasha has preceded you
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے، کہا ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا (دوسری سند) اور مجھ سے اسید بن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا کہ میں سعید بن جبیر کی خدمت میں موجود تھا اس وقت انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں کسی نبی کے ساتھ پوری امت گزری، کسی نبی کے ساتھ چند آدمی گزرے، کسی نبی کے ساتھ دس آدمی گزرے، کسی نبی کے ساتھ پانچ آدمی گزرے اور کوئی نبی تنہا گزرا۔ پھر میں نے دیکھا تو انسانوں کی ایک بہت بڑی جماعت دور سے نظر آئی۔ میں نے جبرائیل سے پوچھا کیا یہ میری امت ہے؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ افق کی طرف دیکھو۔ میں نے دیکھا تو ایک بہت زبردست جماعت دکھائی دی۔ فرمایا کہ یہ ہے آپ کی امت اور یہ جو آگے آگے ستر ہزار کی تعداد ہے ان لوگوں سے حساب نہ لیا جائے گا اور نہ ان پر عذاب ہو گا۔ میں نے پوچھا: ایسا کیوں ہو گا؟ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ داغ نہیں لگواتے تھے۔ دم جھاڑ نہیں کرواتے تھے، شگون نہیں لیتے تھے، اپنے رب پر بھروسہ کرتے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ اٹھ کر بڑھے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان لوگوں میں کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ! انہیں بھی ان میں سے کر دے۔ اس کے بعد ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ میرے لیے بھی دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکاشہ اس میں تم سے آگے بڑھ گئے۔
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ،. وَحَدَّثَنِي أَسِيدُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عُرِضَتْ عَلَىَّ الأُمَمُ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ الأُمَّةُ، وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ النَّفَرُ، وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ الْعَشَرَةُ، وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ الْخَمْسَةُ، وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ وَحْدَهُ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ كَثِيرٌ قُلْتُ يَا جِبْرِيلُ هَؤُلاَءِ أُمَّتِي قَالَ لاَ وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ. فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ كَثِيرٌ. قَالَ هَؤُلاَءِ أُمَّتُكَ، وَهَؤُلاَءِ سَبْعُونَ أَلْفًا قُدَّامَهُمْ، لاَ حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلاَ عَذَابَ. قُلْتُ وَلِمَ قَالَ كَانُوا لاَ يَكْتَوُونَ، وَلاَ يَسْتَرْقُونَ، وَلاَ يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ". فَقَامَ إِلَيْهِ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ". ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ قَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ ".
#6542
Narrated Abu Huraira:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "From my followers there will enter Paradise a crowd, seventy thousand in number, whose faces will glitter as the moon does when it is full." On hearing that, 'Ukasha bin Mihsan Al-Asdi got up, lifting his covering sheet, and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah that He may make me one of them." The Prophet (ﷺ) said, "O Allah, make him one of them." Another man from the Ansar got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to make me one of them. "The Prophet (ﷺ) said (to him), "'Ukasha has preceded you
ہم سے معاذ بن اسد مروزی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس بن یزید نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کی ایک جماعت جنت میں داخل ہو گی جس کی تعداد ستر ہزار ہو گی۔ ان کے چہرے اس طرح روشن ہوں گے جیسے چودہویں رات کا چاند روشن ہوتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اپنی دھاری دار کملی جو ان کے جسم پر تھی، اٹھاتے ہوئے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! انہیں بھی ان میں سے کر دے۔ اس کے بعد ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ هُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا، تُضِيءُ وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ". وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الأَسَدِيُّ يَرْفَعُ نَمِرَةً عَلَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ". ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَقَالَ " سَبَقَكَ عُكَّاشَةُ ".
#6543
Narrated Sahl bin Sa`d:The Prophet (ﷺ) said, "Seventy-thousand or seven-hundred thousand of my followers (the narrator is in doubt as to the correct number) will enter Paradise holding each other till the first and the last of them enter Paradise at the same time, and their faces will have a glitter like that of the moon at night when it is full
ہم سے سعید بن ابومریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت میں میری امت کے ستر ہزار یا سات لاکھ ( راوی کو ان میں سے کسی ایک تعداد میں شک تھا ) آدمی اس طرح داخل ہوں گے کہ بعض بعض کو پکڑے ہوئے ہوں گے اور اس طرح ان میں کے اگلے پچھلے سب جنت میں داخل ہو جائیں گے اور ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا أَوْ سَبْعُمِائَةِ أَلْفٍ ـ شَكَّ فِي أَحَدِهِمَا ـ مُتَمَاسِكِينَ، آخِذٌ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ، حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلُهُمْ وَآخِرُهُمُ الْجَنَّةَ، وَوُجُوهُهُمْ عَلَى ضَوْءِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ".
#6544
Narrated Ibn `Umar:The Prophet; said, "The people of Paradise will enter Paradise, and the people of the (Hell) Fire will enter the (Hell) Fire: then a call-maker will get up (and make an announcement) among them, 'O the people of the (Hell) Fire! No death anymore ! And O people of Paradise! No death (anymore) but Eternity
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، کہا ہم سے نافع نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اہل جنت جنت میں اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو ایک آواز دینے والا ان کے درمیان کھڑا ہو کر پکارے گا کہ اے جہنم والو! اب تمہیں موت نہیں آئے گی اور اے جنت والو! تمہیں بھی موت نہیں آئے گی بلکہ ہمیشہ یہیں رہنا ہو گا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، ثُمَّ يَقُومُ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ يَا أَهْلَ النَّارِ لاَ مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ الْجَنَّةِ لاَ مَوْتَ، خُلُودٌ ".
#6545
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, " It will be said to the people of Paradise, 'O people of Paradise! Eternity (for you) and no death,' and to the people of the Fire, 'O people of the Fire, eternity (for you) and no death
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اہل جنت سے کہا جائے گا کہ اے اہل جنت! ہمیشہ ( تمہیں یہیں ) رہنا ہے، تمہیں موت نہیں آئے گی اور اہل دوزخ سے کہا جائے گا کہ اے دوزخ والو! ہمیشہ ( تم کو یہیں ) رہنا ہے، تم کو موت نہیں آئے گی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يُقَالُ لأَهْلِ الْجَنَّةِ خُلُودٌ لاَ مَوْتَ. وَلأَهْلِ النَّارِ يَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ لاَ مَوْتَ ".
#6546
Narrated `Imran:The Prophet (ﷺ) said, "I looked into paradise and saw that the majority of its people were the poor, and I looked into the Fire and found that the majority of its people were women
ہم سے عثمان بن ہثیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف بن ابی جمیلہ نے بیان کیا، ان سے ابورجاء عمران عطاردی نے، ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو وہاں رہنے والے اکثر غریب لوگ تھے اور میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا ( شب معراج میں ) تو وہاں عورتیں تھیں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ ".
#6547
Narrated Usama:The Prophet (ﷺ) said, "I stood at the gate of Paradise and saw that the majority of the people who had entered it were poor people, while the rich were forbidden (to enter along with the poor, because they were waiting the reckoning of their accounts), but the people of the Fire had been ordered to be driven to the Fire. And I stood at the gate of the Fire and found that the majority of the people entering it were women
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، انہیں ابوعثمان نہدی نے، انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو وہاں اکثر داخل ہونے والے محتاج لوگ تھے اور محنت مزدوری کرنے والے تھے اور مالدار لوگ ایک طرف روکے گئے ہیں، ان کا حساب لینے کے لیے باقی ہے اور جو لوگ دوزخی تھے وہ تو دوزخ کے لیے بھیج دئیے گئے اور میں نے جہنم کے دروازے پر کھڑے ہو کر دیکھا تو اس میں اکثر داخل ہونے والی عورتیں تھیں۔“
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قُمْتُ عَلَى باب الْجَنَّةِ فَكَانَ عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا الْمَسَاكِينَ، وَأَصْحَابُ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ، غَيْرَ أَنَّ أَصْحَابَ النَّارِ قَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ، وَقُمْتُ عَلَى باب النَّارِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا النِّسَاءُ ".
#6548
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "When the people of Paradise have entered Paradise and the people of the Fire have entered the Fire, death will be brought and will be placed between the Fire and Paradise, and then it will be slaughtered, and a call will be made (that), 'O people of Paradise, no more death ! O people of the Fire, no more death ! ' So the people of Paradise will have happiness added to their previous happiness, and the people of the Fire will have sorrow added to their previous sorrow
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو عمر بن محمد بن زید نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اہل جنت جنت میں چلے جائیں گے اور اہل دوزخ دوزخ میں چلے جائیں گے تو موت کو لایا جائے گا اور اسے جنت اور دوزخ کے درمیان رکھ کر ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ اے جنت والو! تمہیں اب موت نہیں آئے گی اور اے دوزخ والو! تمہیں بھی اب موت نہیں آئے گی۔ اس بات سے جنتی اور زیادہ خوش ہو جائیں گے اور جہنمی اور زیادہ غمگین ہو جائیں گے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ، وَأَهْلُ النَّارِ إِلَى النَّارِ، جِيءَ بِالْمَوْتِ حَتَّى يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحُ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ لاَ مَوْتَ، يَا أَهْلَ النَّارِ لاَ مَوْتَ، فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ. وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ ".
#6549
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah will say to the people of Paradise, 'O the people of Paradise!' They will say, 'Labbaik, O our Lord, and Sa`daik!' Allah will say, 'Are you pleased?" They will say, 'Why should we not be pleased since You have given us what You have not given to anyone of Your creation?' Allah will say, 'I will give you something better than that.' They will reply, 'O our Lord! And what is better than that?' Allah will say, 'I will bestow My pleasure and contentment upon you so that I will never be angry with you after for-ever
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو امام مالک بن انس نے خبر دی، انہیں زید بن اسلم نے، انہیں عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا کہ اے جنت والو! جنتی جواب دیں گے ہم حاضر ہیں اے ہمارے پروردگار! تیری سعادت حاصل کرنے کے لیے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا اب تم لوگ خوش ہوئے؟ وہ کہیں گے اب بھی بھلا ہم راضی نہ ہوں گے کیونکہ اب تو، تو نے ہمیں وہ سب کچھ دے دیا جو اپنی مخلوق کے کسی آدمی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں تمہیں اس سے بھی بہتر چیز دوں گا۔ جنتی کہیں گے اے رب! اس سے بہتر اور کیا چیز ہو گی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب میں تمہارے لیے اپنی رضا مندی کو ہمیشہ کے لیے دائمی کر دوں گا یعنی اس کے بعد کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ. يَقُولُونَ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ. فَيَقُولُ هَلْ رَضِيتُمْ فَيَقُولُونَ وَمَا لَنَا لاَ نَرْضَى وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ. فَيَقُولُ أَنَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ. قَالُوا يَا رَبِّ وَأَىُّ شَىْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ فَيَقُولُ أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي فَلاَ أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا ".
#6550
Narrated Anas: Haritha was martyred on the day (of the battle) of Badr while he was young. His mother came to the Prophet (ﷺ) saying, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You know the relation of Haritha to me (how fond of him I was); so, if he is in Paradise, I will remain patient and wish for Allah's reward, but if he is not there, then you will see what I will do." The Prophet (ﷺ) replied, "May Allah be merciful upon you! Have you gone mad? (Do you think) it is one Paradise? There are many Paradises and he is in the (most superior) Paradise of Al-Firdaus
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق ابراہیم بن محمد نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شہید ہو گئے۔ وہ اس وقت نوعمر تھے تو ان کی والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے کہ حارثہ سے مجھے کتنی محبت تھی، ( آپ مجھے بتائیں ) اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کر لوں گی اور صبر پر ثواب کی امیدوار رہوں گی اور اگر کوئی اور بات ہے تو آپ دیکھیں گے کہ میں اس کے لیے کیا کرتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس کیا تم پاگل ہو گئی ہو؟ جنت ایک ہی نہیں ہے، بہت سی جنتیں ہیں اور وہ ( حارثہ ) جنت الفردوس میں ہے۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ أُصِيبَ حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ وَهْوَ غُلاَمٌ، فَجَاءَتْ أُمُّهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَرَفْتَ مَنْزِلَةَ حَارِثَةَ مِنِّي، فَإِنْ يَكُ فِي الْجَنَّةِ أَصْبِرْ وَأَحْتَسِبْ، وَإِنْ تَكُنِ الأُخْرَى تَرَى مَا أَصْنَعُ. فَقَالَ " وَيْحَكِ ـ أَوَهَبِلْتِ ـ أَوَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ هِيَ جِنَانٌ كَثِيرَةٌ، وَإِنَّهُ لَفِي جَنَّةِ الْفِرْدَوْسِ ".