#5451
Narrated `Abdul `Aziz:It was said to Anas "What did you hear the Prophet (ﷺ) saying about garlic?" Anas replied, "Whoever has eaten (garlic) should not approach our mosque
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز نے بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لہسن کے بارے میں کچھ کہتے نہیں سنا۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ( لہسن ) کھائے تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ قِيلَ لأَنَسٍ مَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي الثُّومِ فَقَالَ " مَنْ أَكَلَ فَلاَ يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ".
#5452
Narrated Jabir bin `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever has eaten garlic or onion should keep away from us (or should keep away from our mosque)
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوصفوان عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عطاء نے بیان کیا کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے لہسن یا پیاز کھائی ہو تو اسے چاہئے کہ ہم سے دور رہے، یا یہ فرمایا کہ ہماری مسجد سے دور رہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ زَعَمَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلاً فَلْيَعْتَزِلْنَا، أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا ".
#5453
Narrated Jabir bin `Abdullah:We were with Allah's Messenger (ﷺ) collecting Al-Kabath at Mar-Az-Zahran. The Prophet (ﷺ) said, "Collect the black ones, for they are better." Somebody said, (O Allah's Messenger (ﷺ)!) Have you ever shepherded sheep?" He said, "There has been no prophet but has shepherded them
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا انہیں ابوسلمہ نے خبر دی، کہا کہ مجھے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام مرالظہران پر تھے، ہم پیلو توڑ رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو خوب کالا ہو وہ توڑو کیونکہ وہ زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ نے بکریاں چرائی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَرِّ الظَّهْرَانِ نَجْنِي الْكَبَاثَ فَقَالَ " عَلَيْكُمْ بِالأَسْوَدِ مِنْهُ، فَإِنَّهُ أَيْطَبُ ". فَقَالَ أَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ قَالَ " نَعَمْ، وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ رَعَاهَا ".
#5454
Narrated Suwaid bin An Nu`man:We went out with Allah's Messenger (ﷺ) to Khaibar, and when we reached As-Sahba', the Prophet (ﷺ) asked for food, and he was offered nothing but Sawiq. We ate, and then Allah's Messenger (ﷺ) stood up for the prayer. He rinsed his mouth with water, and we too, rinsed our mouths
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے سنا، انہوں نے بشیر بن یسار سے، ان سے سوید بن نعمان نے، کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر روانہ ہوئے۔ جب ہم مقام صہبا پر پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب فرمایا۔ کھانے میں ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی، پھر ہم نے کھانا کھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کلی کر کے نماز کے لیے کھڑے ہو گئے، ہم نے بھی کلی کی۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَيْبَرَ، فَلَمَّا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ دَعَا بِطَعَامٍ فَمَا أُتِيَ إِلاَّ بِسَوِيقٍ، فَأَكَلْنَا فَقَامَ إِلَى الصَّلاَةِ، فَتَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا.
#5455
Narrated Suwaid:We went out with Allah's Messenger (ﷺ) to Khaibar. and when we reached As-Sahba', which (Yahya says) is one day' journey from Khaibar, the Prophet (ﷺ) asked for food, and he was offered nothing but Sawiq which we chewed and ate. Then the Prophet (ﷺ) asked for water and rinsed his mouth, and we too, rinsed our mouths along with him. He then led us in the Maghrib prayer without performing ablution again
یحییٰ نے بیان کیا کہ میں نے بشیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا ہم سے سوید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے جب ہم مقام صہبا پر پہنچے۔ یحییٰ نے کہا کہ یہ جگہ خیبر سے ایک منزل کی دوری پر ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب فرمایا لیکن ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی۔ ہم نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا پھر آپ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور نیا وضو نہیں کیا اور سفیان نے کہا گویا کہ تم یہ حدیث یحییٰ ہی سے سن رہے ہو۔
قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ بُشَيْرًا، يَقُولُ حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَيْبَرَ، فَلَمَّا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ ـ قَالَ يَحْيَى وَهْىَ مِنْ خَيْبَرَ عَلَى رَوْحَةٍ ـ دَعَا بِطَعَامٍ فَمَا أُتِيَ إِلاَّ بِسَوِيقٍ، فَلُكْنَاهُ فَأَكَلْنَا مَعَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. وَقَالَ سُفْيَانُ كَأَنَّكَ تَسْمَعُهُ مِنْ يَحْيَى.
#5456
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) said, 'When you eat, do not wipe your hands till you have licked it, or had it licked by somebody else
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عطاء نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص کھانا کھائے تو ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے ہاتھ نہ پونچھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا ".
#5457
Narrated Sa`id bin Al-Harith:that he asked Jabir bin `Abdullah about performing ablution after taking a cooked meal. He replied, "It is not essential," and added, "We never used to get such kind of food during the lifetime of the Prophet except rarely; and if at all we got such a dish, we did not have any handkerchiefs to wipe our hands with except the palms of our hands, our forearms and our feet. We would perform the prayer thereafter with-out performing new ablution
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے، ان سے سعید بن الحارث نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ سعید بن الحارث نے جابر رضی اللہ عنہ سے ایسی چیز کے ( کھانے کے بعد ) جو آگ پر رکھی ہو وضو کے متعلق پوچھا ( کہ کیا ایسی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ ) تو انہوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہمیں اس طرح کا کھانا ( جو پکا ہوا ہوتا ) بہت کم میسر آتا تھا اور اگر میسر آ بھی جاتا تھا تو سوا ہماری ہتھیلیوں بازوؤں اور پاؤں کے کوئی رومال نہیں ہوتا تھا ( اور ہم انہیں سے اپنے ہاتھ صاف کر کے ) نماز پڑھ لیتے تھے اور وضو۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ سَأَلَهُ عَنِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، فَقَالَ لاَ قَدْ كُنَّا زَمَانَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لاَ نَجِدُ مِثْلَ ذَلِكَ مِنَ الطَّعَامِ إِلاَّ قَلِيلاً، فَإِذَا نَحْنُ وَجَدْنَاهُ لَمْ يَكُنْ لَنَا مَنَادِيلُ، إِلاَّ أَكُفَّنَا وَسَوَاعِدَنَا وَأَقْدَامَنَا، ثُمَّ نُصَلِّي وَلاَ نَتَوَضَّأُ.
#5458
Narrated Abu Umama:Whenever the dining sheet of the Prophet (ﷺ) was taken away (i.e., whenever he finished his meal), he used to say: "Al-hamdu li l-lah kathiran taiyiban mubarakan fihi ghaira makfiy wala muWada` wala mustaghna'anhu Rabbuna
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ثور نے، ان سے خالد بن معدان نے اور ان سے ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے جب کھانا اٹھایا جاتا تو آپ یہ دعا پڑھتے «الحمد لله كثيرا طيبا مباركا فيه، غير مكفي، ولا مودع ولا مستغنى عنه، ربنا» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے، بہت زیادہ پاکیزہ برکت والی، ہم اس کھانے کا حق پوری طرح ادا نہ کر سکے اور یہ ہمیشہ کے لیے رخصت نہیں کیا گیا ہے ( اور یہ اس لیے کہا تاکہ ) اس سے ہم کو بےپرواہی کا خیال نہ ہو، اے ہمارے رب!۔“
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا رَفَعَ مَائِدَتَهُ قَالَ " الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلاَ مُوَدَّعٍ وَلاَ مُسْتَغْنًى عَنْهُ، رَبَّنَا ".
#5459
Narrated Abu Umama:Whenever the Prophet (ﷺ) finished his meals (or when his dining sheet was taken away), he used to say. "Praise be to Allah Who has satisfied our needs and quenched our thirst. Your favor cannot by compensated or denied." Once he said, upraise be to You, O our Lord! Your favor cannot be compensated, nor can be left, nor can be dispensed with, O our Lord
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ثور بن یزید نے بیان کیا، ان سے خالد بن معدان نے اور ان سے ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے سے فارغ ہوتے اور ایک مرتبہ بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دستر خوان اٹھاتے یہ دعا پڑھتے «الحمد لله الذي كفانا وأروانا، غير مكفي، ولا مكفور، وقال مرة الحمد لله ربنا، غير مكفي، ولا مودع، ولا مستغنى، ربنا .» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہماری کفایت کی اور ہمیں سیراب کیا۔ ہم اس کھانے کا حق پوری طرح ادا نہ کر سکے ورنہ ہم اس نعمت کے منکر نہیں ہیں۔ اور ایک مرتبہ فرمایا ”تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں اے ہمارے رب! اس کا حق ادا نہیں کر سکے اور نہ یہ ہمیشہ کے لیے رخصت کیا گیا ہے۔ ( یہ اس لیے کہا تاکہ ) اس سے ہم کو بے نیازی کا خیال نہ ہو۔ اے ہمارے رب!“۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ ـ وَقَالَ مَرَّةً إِذَا رَفَعَ مَائِدَتَهُ ـ قَالَ " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانَا وَأَرْوَانَا، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلاَ مَكْفُورٍ ـ وَقَالَ مَرَّةً الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّنَا، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلاَ مُوَدَّعٍ ـ وَلاَ مُسْتَغْنًى، رَبَّنَا ".
#5460
Narrated .Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "When your servant brings your food to you, if you do not ask him to join you, then at least ask him to take one or two handfuls, for he has suffered from its heat (while cooking it) and has taken pains to cook it nicely
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد نے، وہ زیاد کے صاحبزادے ہیں، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں کسی شخص کا خادم اس کا کھانا لائے تو اگر وہ اسے اپنے ساتھ نہیں بٹھا سکتا تو کم از کم ایک یا دو لقمہ اس کھانے میں سے اسے کھلا دے ( کیونکہ ) اس نے ( پکاتے وقت ) اس کی گرمی اور تیاری کی مشقت برداشت کی ہے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ ـ هُوَ ابْنُ زِيَادٍ ـ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَتَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ، فَإِنْ لَمْ يُجْلِسْهُ مَعَهُ فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ، أَوْ لُقْمَةً أَوْ لُقْمَتَيْنِ، فَإِنَّهُ وَلِيَ حَرَّهُ وَعِلاَجَهُ ".
#5461
Narrated Abu Mas`ud Al-Ansari:There was an Ansari man nicknamed, Abu Shu'aib, who had a slave who was a butcher. He came to the Prophet (ﷺ) while he was sitting with his companions and noticed the signs of hunger on the face of the Prophet (ﷺ) . So he went to his butcher slave and said, "Prepare for me a meal sufficient for five persons so that I may invite the Prophet (ﷺ) along with four other men." He had the meal prepared for him and invited him. A (sixth) man followed them. The Prophet (ﷺ) said, "O Abu Shu'aib! Another man has followed us. If you wish, you may invite him; and if you wish, you may refuse him." Abu Shu'aib said, "No, I will admit him
ہم سے عبداللہ بن ابی اسود نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق نے، اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ جماعت انصار کے ایک صحابی ابوشعیب رضی اللہ عنہ کے نام سے مشہور تھے۔ ان کے پاس ایک غلام تھا جو گوشت بیچا کرتا تھا۔ وہ صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے فاقہ کا اندازہ لگا لیا۔ چنانچہ وہ اپنے گوشت فروش غلام کے پاس گئے اور کہا کہ میرے لیے پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کر دو۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار دوسرے آدمیوں کے ساتھ دعوت دوں گا۔ غلام نے کھانا تیار کر دیا۔ اس کے بعد ابوشعیب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے اور آپ کو کھانے کی دعوت دی۔ ان کے ساتھ ایک اور صاحب بھی چلنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوشعیب! یہ صاحب بھی ہمارے ساتھ آ گئے ہیں، اگر تم چاہو تو انہیں بھی اجازت دے دو اور اگر چاہو تو چھوڑ دو۔ انہوں نے عرض کیا نہیں بلکہ میں انہیں بھی اجازت دیتا ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُكْنَى أَبَا شُعَيْبٍ، وَكَانَ لَهُ غُلاَمٌ لَحَّامٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي أَصْحَابِهِ، فَعَرَفَ الْجُوعَ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَهَبَ إِلَى غُلاَمِهِ اللَّحَّامِ فَقَالَ اصْنَعْ لِي طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً، لَعَلِّي أَدْعُو النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَامِسَ خَمْسَةٍ. فَصَنَعَ لَهُ طُعَيِّمًا، ثُمَّ أَتَاهُ فَدَعَاهُ، فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا شُعَيْبٍ إِنَّ رَجُلاً تَبِعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ، وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ ". قَالَ لاَ بَلْ أَذِنْتُ لَهُ.
#5462
Narrated `Amr bin Umaiyya:That he saw Allah's Messenger (ﷺ) cutting a piece of mutton from its shoulder part he was carrying in his hand. When he was called for prayer, he put it down and the knife with which he was cutting it. Then he stood up and offered the prayer without performing new ablution
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے اور لیث نے بیان کیا، کہا انہوں نے کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں جعفر بن عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد عمرو بن امیہ نے خبر دی کہ انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے بکری کے شانے کا گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر آپ کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ گوشت اور چھری جس سے آپ کاٹ رہے تھے، چھوڑ کر کھڑے ہو گئے اور نماز پڑھائی اور اس نماز کے لیے نیا وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ،. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ، عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فِي يَدِهِ، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلاَةِ فَأَلْقَاهَا وَالسِّكِّينَ الَّتِي كَانَ يَحْتَزُّ بِهَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
#5463
Narrated Anas bin Malik: The Prophet (ﷺ) said, If supper is served and the Iqama for (Isha) prayer is proclaimed, start with you supper first
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رات کا کھانا سامنے رکھ دیا گیا ہو اور نماز بھی کھڑی ہو گئی ہو تو پہلے کھانا کھاؤ۔ اور ایوب سے روایت ہے، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے مطابق۔
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ ".
#5464
Narrated Nafi: Once Ibn Umar was taking his supper while he was listening to the recitation of (Quran by) the Imam (in the Isha prayer)
اور ایوب سے روایت ہے، ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رات کا کھانا کھایا اور اس وقت آپ امام کی قرآت سن رہے تھے۔
وَعَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ. وَعَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ تَعَشَّى مَرَّةً وَهْوَ يَسْمَعُ قِرَاءَةَ الإِمَامِ.
#5465
Narrated Aisha:The Prophet (ﷺ) said, "If the Iqama for (`Isha') prayer is proclaimed and supper is served, take your supper first
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کھڑی ہو چکے اور رات کا کھانا بھی سامنے ہو تو کھانا کھاؤ۔ وہیب اور یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ہشام نے کہ جب رات کا کھانا رکھا جا چکے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَحَضَرَ الْعَشَاءُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ ". قَالَ وُهَيْبٌ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ " إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ ".
#5466
Narrated Anas:I know (about) the Hijab (the order of veiling of women) more than anybody else. Ubai bin Ka`b used to ask me about it. Allah's Messenger (ﷺ) became the bridegroom of Zainab bint Jahsh whom he married at Medina. After the sun had risen high in the sky, the Prophet (ﷺ) invited the people to a meal. Allah's Apostle remained sitting and some people remained sitting with him after the other guests had left. Then Allah's Messenger (ﷺ) got up and went away, and I too, followed him till he reached the door of `Aisha's room. Then he thought that the people must have left the place by then, so he returned and I also returned with him. Behold, the people were still sitting at their places. So he went back again for the second time, and I went along with him too. When we reached the door of `Aisha's room, he returned and I also returned with him to see that the people had left. Thereupon the Prophet (ﷺ) hung a curtain between me and him and the Verse regarding the order for (veiling of women) Hijab was revealed
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں پردہ کے حکم کے بارے میں زیادہ جانتا ہوں۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کا موقع تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح مدینہ منورہ میں کیا تھا۔ دن چڑھنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی کھانے کی دعوت کی تھی۔ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ بعض اور صحابہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت تک دوسرے لوگ ( کھانے سے فارغ ہو کر ) جا چکے تھے۔ آخر آپ بھی کھڑے ہو گئے اور چلتے رہے۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلتا رہا۔ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے پر پہنچے پھر آپ نے خیال کیا کہ وہ لوگ ( بھی جو کھانے کے بعد گھر بیٹھے رہ گئے تھے ) جا چکے ہوں گے ( اس لیے آپ واپس تشریف لائے ) میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا لیکن وہ لوگ اب بھی اسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ پھر واپس آ گئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ دوبارہ واپس آیا۔ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ پر پہنچے پھر آپ وہاں سے واپس ہوئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ اب وہ لوگ جا چکے تھے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے درمیان پردہ لٹکایا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَنَسًا، قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ، بِالْحِجَابِ كَانَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ، أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَرُوسًا بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ، فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَ مَا قَامَ الْقَوْمُ، حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَشَى وَمَشَيْتُ مَعَهُ، حَتَّى بَلَغَ باب حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا فَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَكَانَهُمْ، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ الثَّانِيَةَ، حَتَّى بَلَغَ باب حُجْرَةِ عَائِشَةَ فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَإِذَا هُمْ قَامُوا، فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سِتْرًا، وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ.
#5467
Narrated Abu Musa:A son was born to me and I took him to the Prophet (ﷺ) who named him Ibrahim, did Tahnik for him with a date, invoked Allah to bless him and returned him to me. (The narrator added: That was Abu Musa's eldest son)
مجھ سے اسحاق بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا تو میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور کھجور کو اپنے دندان مبارک سے نرم کر کے اسے چٹایا اور اس کے لیے برکت کی دعا کی پھر مجھے دے دیا۔ یہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے سب سے بڑے لڑکے تھے۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ، فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ، وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ وَدَفَعَهُ إِلَىَّ، وَكَانَ أَكْبَرَ وَلَدِ أَبِي مُوسَى.
#5468
Narrated `Aisha:A boy was brought to the Prophet (ﷺ) to do Tahnik for him, but the boy urinated on him, whereupon the Prophet had water poured on the place of urine
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نو مولود بچہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی تحنیک کر دیں اس بچہ نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا، آپ نے اس پر پانی بہا دیا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِصَبِيٍّ يُحَنِّكُهُ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَأَتْبَعَهُ الْمَاءَ.
#5469
Narrated Asma' bint Abu Bakr:I conceived `Abdullah bin Az-Zubair at Mecca and went out (of Mecca) while I was about to give birth. I came to Medina and encamped at Quba', and gave birth at Quba'. Then I brought the child to Allah's Messenger (ﷺ) and placed it (on his lap). He asked for a date, chewed it, and put his saliva in the mouth of the child. So the first thing to enter its stomach was the saliva of Allah's Messenger (ﷺ). Then he did its Tahnik with a date, and invoked Allah to bless him. It was the first child born in the Islamic era, therefore they (Muslims) were very happy with its birth, for it had been said to them that the Jews had bewitched them, and so they would not produce any offspring
ہم سے اسحاق بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما مکہ میں ان کے پیٹ میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں ( جب ہجرت کے لیے ) نکلی تو وقت ولادت قریب تھا۔ مدینہ منورہ پہنچ کر میں نے پہلی منزل قباء میں کی اور یہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پیدا ہو گئے، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بچہ کو لے کر حاضر ہوئی اور اسے آپ کی گود میں رکھ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور طلب فرمائی اور اسے چبایا اور بچہ کے منہ میں اپنا تھوک ڈال دیا۔ چنانچہ پہلی چیز جو اس بچہ کے پیٹ میں گئی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوک مبارک تھا پھر آپ نے کھجور سے تحنیک کی اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ یہ سب سے پہلا بچہ اسلام میں ( ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں ) پیدا ہوا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس سے بہت خوش ہوئے کیونکہ یہ افواہ پھیلائی جا رہی تھی کہ یہودیوں نے تم ( مسلمانوں ) پر جادو کر دیا ہے۔ اس لیے تمہارے یہاں اب کوئی بچہ پیدا نہیں ہو گا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ قَالَتْ فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ قُبَاءً فَوَلَدْتُ بِقُبَاءٍ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ، ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا، ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ فَكَانَ أَوَّلَ شَىْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ حَنَّكَهُ بِالتَّمْرَةِ، ثُمَّ دَعَا لَهُ فَبَرَّكَ عَلَيْهِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الإِسْلاَمِ، فَفَرِحُوا بِهِ فَرَحًا شَدِيدًا، لأَنَّهُمْ قِيلَ لَهُمْ إِنَّ الْيَهُودَ قَدْ سَحَرَتْكُمْ فَلاَ يُولَدُ لَكُمْ.
#5470
Narrated Anas: As above
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ،.
#5471
Narrated Salman bin 'Amri Ad-Dabbi, the Prophet (ﷺ) said, 'Aqiqa is to be offered for a (newly born) boy
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ (صحابی) نے بیان کیا کہ بچہ کا عقیقہ کرنا چاہیئے۔ اور حجاج بن منہال نے کہا۔ ان سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ایوب سختیانی، قتادہ، ہشام بن حسان اور حبیب بن شہید ان چاروں نے خبر دی، انہیں محمد بن سیرین نے اور انہیں سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور کئی لوگوں نے بیان کیا، ان سے عاصم بن سلیمان اور ہشام بن حسان نے، ان سے حفصہ بنت سیرین نے، ان سے رباب بنت صلیع نے، ان سے سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ نے اور انہوں نے مرفوعاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس کی روایت یزید بن ابراہیم تستری نے کی، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ نے اپنا قول موقوفاً ( غیر مرفوع ) ذکر کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ مَعَ الْغُلاَمِ عَقِيقَةٌ. وَقَالَ حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ وَقَتَادَةُ وَهِشَامٌ وَحَبِيبٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
#5472
Narrated Salman bin 'Amir Ad-Dabbi:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "'Aqiqa is to be offered for a (newly born) boy, so slaughter (an animal) for him, and relieve him of his suffering." Narrated Habib bin Ash-Shahid: Ibn Seereen told me to ask Al-Hassan from whom he had heard the narration of 'Aqiqa. I asked him and he said, "From Samura bin Jundab
اور اصبغ بن فرج نے بیان کیا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں جریر بن حازم نے، انہیں ایوب سختیانی نے، انہیں محمد بن سیرین نے کہ ہم سے سلمان بن عامر الضبی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لڑکے کے ساتھ اس کا عقیقہ لگا ہوا ہے اس لیے اس کی طرف سے جانور ذبح کرو اور اس سے بال دور کرو ( سر منڈا دو یا ختنہ کرو ) ۔
وَقَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَاصِمٍ، وَهِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ قَوْلَهُ. وَقَالَ أَصْبَغُ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ حَدَّثَنَا سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَعَ الْغُلاَمِ عَقِيقَةٌ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الأَذَى ". حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، قَالَ أَمَرَنِي ابْنُ سِيرِينَ أَنْ أَسْأَلَ الْحَسَنَ، مِمَّنْ سَمِعَ حَدِيثَ الْعَقِيقَةِ، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مِنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ.
#5473
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Neither Fara' nor 'Atira (is permissible):" Al-Fara' nor 'Atira (is permissible):" Al- Fara' was the first offspring (of camels or sheep) which the pagans used to offer (as a sacrifice) to their idols. And Al-`Atira was (a sheep which was to be slaughtered) during the month of Rajab
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے خبر دی، انہیں ابن مسیب نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اسلام میں ) «فرع» اور «عتيرة» نہیں ہیں۔ «فرع» ( اونٹنی کے ) سب سے پہلے بچہ کو کہتے تھے جسے ( جاہلیت میں ) لوگ اپنے بتوں کے لیے ذبح کرتے تھے اور «عتيرة» کو رجب میں ذبح کیا جاتا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ فَرَعَ وَلاَ عَتِيرَةَ ". وَالْفَرَعُ أَوَّلُ النِّتَاجِ، كَانُوا يَذْبَحُونَهُ لَطِوَاغِيتِهِمْ، وَالْعَتِيرَةُ فِي رَجَبٍ.
#5474
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Neither Fara' nor 'Atira) is permissible)." Al-Fara' was the first offspring (they got of camels or sheep) which they (pagans) used to offer (as a sacrifice) to their idols. 'Atira was (a sheep which used to be slaughtered) during the month of Rajab
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «فرع» اور «عتيرة» ( اسلام میں ) نہیں ہیں۔ بیان کیا کہ «فرع» سب سے پہلے بچہ کو کہتے تھے جو ان کے یہاں ( اونٹنی سے ) پیدا ہوتا تھا، اسے وہ اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے اور «عتيرة» وہ قربانی جسے وہ رجب میں کرتے تھے ( اور اس کی کھال درخت پر ڈال دیتے ) ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ فَرَعَ وَلاَ عَتِيرَةَ ". قَالَ وَالْفَرَعَ أَوَّلُ نِتَاجٍ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ، كَانُوا يَذْبَحُونَهُ لِطَوَاغِيتِهِمْ، وَالْعَتِيرَةُ فِي رَجَبٍ.
#5475
Narrated Adi bin Hatim:I asked the Prophet (ﷺ) about the game killed by a Mi'rad (i.e. a sharp-edged piece of wood or a piece of wood provided with a sharp piece of iron used for hunting). He said, "If the game is killed with its sharp edge, eat of it, but if it is killed with its shaft, with a hit by its broad side then the game is (unlawful to eat) for it has been beaten to death." I asked him about the game killed by a trained hound. He said, "If the hound catches the game for you, eat of it, for killing the game by the hound, is like its slaughtering. But if you see with your hound or hounds another dog, and you are afraid that it might have shared in hunting the game with your hound and killed it, then you should not eat of it, because you have mentioned Allah's name on (sending) your hound only, but you have not mentioned it on some other hound
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا بن ابی زائدہ نے بیان کیا، ان سے عامر شعبی نے، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پر کے تیر یا لکڑی یا گز سے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اگر اس کی نوک شکار کو لگ جائے تو کھا لو لیکن اگر اس کی عرض کی طرف سے شکار کو لگے تو وہ نہ کھاؤ کیونکہ وہ «موقوذة» ہے اور میں نے آپ سے کتے کے شکار کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ جسے وہ تمہارے لیے رکھے ( یعنی وہ خود نہ کھائے ) اسے کھا لو کیونکہ کتے کا شکار کو پکڑ لینا یہ بھی ذبح کرنا ہے اور اگر تم اپنے کتے یا کتوں کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاؤ اور تمہیں اندیشہ ہو کہ تمہارے کتے نے شکار اس دوسرے کے ساتھ پکڑا ہو گا اور کتا شکار کو مار چکا ہو تو ایسا شکار نہ کھاؤ کیونکہ تم نے اللہ کا نام ( بسم اللہ پڑھ کر ) اپنے کتے پر لیا تھا دوسرے کتے پر نہیں لیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ قَالَ " مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْهُ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهْوَ وَقِيذٌ ". وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ فَقَالَ " مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ، فَإِنَّ أَخْذَ الْكَلْبِ ذَكَاةٌ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ كَلْبِكَ أَوْ كِلاَبِكَ كَلْبًا غَيْرَهُ فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ أَخَذَهُ مَعَهُ، وَقَدْ قَتَلَهُ، فَلاَ تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ ".