#5426
Narrated `Abdur-Rahman bin Abi Laila:We were sitting in the company of Hudhaifa who asked for water and a Magian brought him water. But when he placed the cup in his hand, he threw it at him and said, "Had I not forbidden him to do so more than once or twice?" He wanted to say, "I would not have done so," adding, "but I heard the Prophet saying, "Do not wear silk or Dibaja, and do not drink in silver or golden vessels, and do not eat in plates of such metals, for such things are for the unbelievers in this worldly life and for us in the Hereafter
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سیف بن ابی سلیمان نے، کہا کہ میں نے مجاہد سے سنا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ یہ لوگ حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھے۔ انہوں نے پانی مانگا تو ایک مجوسی نے ان کو پانی ( چاندی کے پیالے میں ) لا کر دیا۔ جب اس نے پیالہ ان کے ہاتھ میں دیا تو انہوں نے پیالہ کو اس پر پھینک کر مارا اور کہا اگر میں نے اسے بارہا اس سے منع نہ کیا ہوتا ( کہ چاندی سونے کے برتن میں مجھے کچھ نہ دیا کرو ) آگے وہ یہ فرمانا چاہتے تھے کہ تو میں اس سے یہ معاملہ نہ کرتا لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ریشم و دیبا نہ پہنو اور نہ سونے چاندی کے برتن میں کچھ پیو اور نہ ان کی پلیٹوں میں کچھ کھاؤ کیونکہ یہ چیزیں ان ( کفار کے لیے ) دنیا میں ہیں اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَاسْتَسْقَى فَسَقَاهُ مَجُوسِيٌّ. فَلَمَّا وَضَعَ الْقَدَحَ فِي يَدِهِ رَمَاهُ بِهِ وَقَالَ لَوْلاَ أَنِّي نَهَيْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلاَ مَرَّتَيْنِ. كَأَنَّهُ يَقُولُ لَمْ أَفْعَلْ هَذَا، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَلاَ الدِّيبَاجَ وَلاَ تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلاَ تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الآخِرَةِ ".
#5427
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The example of a Believer who recites the Qur'an, is that of a citron which smells good and tastes good; And the example of a Believer who does not recite the Qur'an, is that of a date which has no smell but tastes sweet; and the example of a hypocrite who recites the Qur'an, is that of an aromatic plant which smells good but tastes bitter; and the example of a hypocrite who does not recite the Qur'an, is that of a colocynth plant which has no smell and is bitter in taste
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو سنگترے جیسی ہے جس کی خوشبو بھی پاکیزہ ہے اور مزہ بھی پاکیزہ ہے اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی لیکن مزہ میٹھا ہوتا ہے اور منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، ریحانہ ( پھول ) جیسی ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے لیکن مزہ کڑوا ہوتا ہے اور جو منافق قرآن بھی نہیں پڑھتا اس کی مثال اندرائن جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی اور جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم "مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الأُتْرُجَّةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لاَ رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ، لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ ".
#5428
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said, "The superiority of `Aisha to other ladies is like the superiority of Tharid to other kinds of food
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ ".
#5429
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Traveling is a kind of torture, as it prevents one from sleeping and eating! So when one has finished his job, he should return quickly to his family
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے بیان کیا، ان سے سمی نے، ان سے صالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، جو انسان کو سونے اور کھانے سے روک دیتا ہے۔ پس جب کسی شخص کی سفری ضرورت حسب منشا پوری ہو جائے تو اسے جلد ہی گھر واپس آ جانا چاہیئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ، يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ، فَإِذَا قَضَى نَهْمَتَهُ مِنْ وَجْهِهِ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ ".
#5430
Narrated Qasim bin Muhammad:Three traditions have been established because of Barira: `Aisha intended to buy her and set her free, but Barira's masters said, "Her wala' will be for us." `Aisha mentioned that to Allah's Messenger (ﷺ) who said, "You could accept their condition if you wished, for the wala is for the one who manumits the slave." Barira was manumitted, then she was given the choice either to stay with her husband or leave him; One day Allah's Messenger (ﷺ) entered `Aisha's house while there was a cooking pot of food boiling on the fire. The Prophet (ﷺ) asked for lunch, and he was presented with bread and some extra food from the home-made Udm (e.g. soup). He asked, "Don't I see meat (being cooked)?" They said, "Yes, O Allah's Apostle! But it is the meat that has been given to Barira in charity and she has given it to us as a present." He said, "For Barira it is alms, but for us it is a present
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے، ان سے ربیعہ نے، انہوں نے قاسم بن محمد سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شریعت کی تین سنتیں قائم ہوئیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں ( ان کے مالکوں سے ) خرید کر آزاد کرنا چاہا تو ان کے مالکوں نے کہا کہ ولاء کا تعلق ہم سے ہی قائم ہو گا۔ ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ) میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم یہ شرط لگا بھی لو جب بھی ولاء اسی کے ساتھ قائم ہو گا جو آزاد کرے گا۔ پھر بیان کیا کہ بریرہ آزاد کی گئیں اور انہیں اختیار دیا گیا کہ اگر وہ چاہیں تو اپنے شوہر کے ساتھ رہیں یا ان سے الگ ہو جائیں اور تیسری بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے، چولھے پر ہانڈی پک رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہر کا کھانا طلب فرمایا تو روٹی اور گھر میں موجود سالن پیش کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا میں نے گوشت ( پکتے ہوئے ) نہیں دیکھا ہے؟ عرض کیا کہ دیکھا ہے یا رسول اللہ! لیکن وہ گوشت تو بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے، انہوں نے ہمیں ہدیہ کے طور پر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے لیے وہ صدقہ ہے لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاَثُ سُنَنٍ، أَرَادَتْ عَائِشَةُ أَنْ تَشْتَرِيَهَا فَتُعْتِقَهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا، وَلَنَا الْوَلاَءُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لَوْ شِئْتِ شَرَطْتِيهِ لَهُمْ، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". قَالَ وَأُعْتِقَتْ فَخُيِّرَتْ فِي أَنْ تَقِرَّ تَحْتَ زَوْجِهَا أَوْ تُفَارِقَهُ، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا بَيْتَ عَائِشَةَ وَعَلَى النَّارِ بُرْمَةٌ تَفُورُ، فَدَعَا بِالْغَدَاءِ فَأُتِيَ بِخُبْزٍ وَأُدْمٍ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ فَقَالَ " أَلَمْ أَرَ لَحْمًا ". قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنَّهُ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَأَهْدَتْهُ لَنَا. فَقَالَ" هُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهَا، وَهَدِيَّةٌ لَنَا ".
#5431
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) used to love sweet edible things and honey
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے، ان سے ہشام نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیز اور شہد پسند فرمایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ.
#5432
Narrated Abu Huraira:I used to accompany Allah's Messenger (ﷺ) to fill my stomach; and that was when I did not eat baked bread, nor wear silk. Neither a male nor a female slave used to serve me, and I used to bind stones over my belly and ask somebody to recite a Qur'anic Verse for me though I knew it, so that he might take me to his house and feed me. Ja`far bin Abi Talib was very kind to the poor, and he used to take us and feed us with what ever was available in his house, (and if nothing was available), he used to give us the empty (honey or butter) skin which we would tear and lick whatever was in it
ہم سے عبدالرحمٰن بن شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن ابی الفدیک نے خبر دی، انہیں ابن ابی ذئب نے، انہیں مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں پیٹ بھرنے کے بعد ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہا کرتا تھا۔ اس وقت میں روٹی نہیں کھاتا تھا۔ نہ ریشم پہنتا تھا، نہ فلاں اور فلانی میری خدمت کرتے تھے ( بھوک کی شدت کی وجہ سے بعض اوقات ) میں اپنے پیٹ پر کنکریاں لگا لیتا اور کبھی میں کسی سے کوئی آیت پڑھنے کے لیے کہتا حالانکہ وہ مجھے یاد ہوتی۔ مقصد صرف یہ ہوتا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائے اور کھانا کھلا دے اور مسکینوں کے لیے سب سے بہترین شخص جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے، ہمیں اپنے گھر ساتھ لے جاتے اور جو کچھ بھی گھر میں ہوتا کھلا دیتے تھے۔ کبھی تو ایسا ہوتا کہ گھی کا ڈبہ نکال کر لاتے اور اس میں کچھ نہ ہوتا۔ ہم اسے پھاڑ کر اس میں جو کچھ لگا ہوتا چاٹ لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الْفُدَيْكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنْتُ أَلْزَمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لِشِبَعِ بَطْنِي حِينَ لاَ آكُلُ الْخَمِيرَ، وَلاَ أَلْبَسُ الْحَرِيرَ، وَلاَ يَخْدُمُنِي فُلاَنٌ وَلاَ فُلاَنَةُ، وَأُلْصِقُ بَطْنِي بِالْحَصْبَاءِ، وَأَسْتَقْرِئُ الرَّجُلَ الآيَةَ وَهْىَ مَعِي كَىْ يَنْقَلِبَ بِي فَيُطْعِمَنِي، وَخَيْرُ النَّاسِ لِلْمَسَاكِينِ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، يَنْقَلِبُ بِنَا فَيُطْعِمُنَا مَا كَانَ فِي بَيْتِهِ، حَتَّى إِنْ كَانَ لَيُخْرِجُ إِلَيْنَا الْعُكَّةَ لَيْسَ فِيهَا شَىْءٌ، فَنَشْتَقُّهَا فَنَلْعَقُ مَا فِيهَا.
#5433
Narrated Anas:Allah's Messenger (ﷺ) went to (the house of) his slave tailor, and he was offered (a dish of) gourd of which he started eating. I have loved to eat gourd since I saw Allah's Messenger (ﷺ) eating it
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہر بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے، ان سے شمامہ بن انس نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک درزی غلام کے پاس تشریف لے گئے، پھر آپ کی خدمت میں ( پکا ہوا ) کدو پیش کیا گیا اور آپ اسے ( رغبت کے ساتھ ) کھانے لگے۔ اسی وقت سے میں بھی کدو پسند کرتا ہوں کیونکہ میں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى مَوْلًى لَهُ خَيَّاطًا، فَأُتِيَ بِدُبَّاءٍ، فَجَعَلَ يَأْكُلُهُ، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُهُ.
#5434
Narrated Abu Mas`ud Al-Ansari:There was a man called Abu Shu'aib, and he had a slave who was a butcher. He said (to his slave), "Prepare a meal to which I may invite Allah's Messenger (ﷺ) along with four other men." So he invited Allah's Messenger (ﷺ) and four other men, but another man followed them whereupon the Prophet (ﷺ) said, "You have invited me as one of five guests, but now another man has followed us. If you wish you can admit him, and if you wish you can refuse him." On that the host said, "But I admit him." Narrated Muhammad bin Isma`il: If guests are sitting at a dining table, they do not have the right to carry food from other tables to theirs, but they can pass on food from their own table to each other; otherwise they should leave it
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جماعت انصار میں ایک صاحب تھے جنہیں ابوشعیب کہا جاتا تھا۔ ان کے پاس ایک غلام تھا جو گوشت بیچتا تھا۔ ابوشعیب رضی اللہ عنہ نے ان غلام سے کہا کہ تم میری طرف سے کھانا تیار کر دو۔ میں چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کروں۔ چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار دوسرے آدمیوں کے ساتھ بلا کر لائے۔ ان کے ساتھ ایک صاحب بھی چلنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم پانچ آدمیوں کی تم نے دعوت کی ہے مگر یہ صاحب بھی ہمارے ساتھ آ گئے ہیں، اگر چاہو تو انہیں اجازت دو اور اگر چاہو منع کر دو۔ ابوشعیب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے انہیں بھی اجازت دے دی۔ محمد بن یوسف نے بیان کیا کہ میں نے محمد بن اسماعیل سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ جب لوگ دستر خوان پر بیٹھے ہوں تو انہیں اس کی اجازت نہیں ہے کہ ایک دستر خوان والے دوسرے دستر خوان والوں کو اپنے دستر خوان سے اٹھا کر کوئی چیز دیں۔ البتہ ایک ہی دستر خوان پر ان کے شرکاء کو اس میں سے کوئی چیز دینے نہ دینے کا اختیار ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ كَانَ مِنَ الأَنْصَارِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ، وَكَانَ لَهُ غُلاَمٌ لَحَّامٌ فَقَالَ اصْنَعْ لِي طَعَامًا أَدْعُو رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَامِسَ خَمْسَةٍ، فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَامِسَ خَمْسَةٍ، فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكَ دَعَوْتَنَا خَامِسَ خَمْسَةٍ وَهَذَا رَجُلٌ قَدْ تَبِعَنَا، فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ، وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ ". قَالَ بَلْ أَذِنْتُ لَهُ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيْلَ يَقُولُ إِذَا كَانَ الْقَوْمُ عَلَى الْمَائِدَةِ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يُنَاوِلُوا مِنْ مَائِدَةٍ إِلَى مَائِدَةٍ أُخْرَى وَلَكِنْ يُنَاوِلُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فِي تِلْكَ الْمَائِدَةِ أَوْ يَدَعُ
#5435
Narrated Anas:I was a young boy when I once was walking with Allah's Messenger (ﷺ) . Allah's Messenger (ﷺ) entered the house of his slave tailor and the latter brought a dish filled with food covered with pieces of gourd. Allah's Apostle started picking and eating the gourd. When I saw that, I started collecting and placing the gourd before him. Then the slave returned to his work. Anas added: I have kept on loving gourd since I saw Allah's Messenger (ﷺ) doing what he was doing
مجھ سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے نضر سے سنا، انہیں ابن عون نے خبر دی، کہا کہ مجھے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے خبر دی اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نوعمر تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک درزی غلام کے پاس تشریف لے گئے۔ وہ ایک پیالہ لایا جس میں کھانا تھا اور اوپر کدو کے قتلے تھے۔ آپ کدو تلاش کرنے لگے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب میں نے یہ دیکھا تو کدو کے قتلے آپ کے سامنے جمع کر کے رکھنے لگا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( پیالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھنے کے بعد ) غلام اپنے کام میں لگ گیا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اسی وقت سے میں کدو پسند کرنے لگا، جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل دیکھا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ النَّضْرَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ غُلاَمًا أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى غُلاَمٍ لَهُ خَيَّاطٍ، فَأَتَاهُ بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ وَعَلَيْهِ دُبَّاءٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ ـ قَالَ ـ فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ جَعَلْتُ أَجْمَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ـ قَالَ ـ فَأَقْبَلَ الْغُلاَمُ عَلَى عَمَلِهِ. قَالَ أَنَسٌ لاَ أَزَالُ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَنَعَ مَا صَنَعَ.
#5436
Narrated Anas bin Malik:A tailor invited the Prophet (ﷺ) to a meal which he had prepared, and I went along with the Prophet (ﷺ) . The tailor presented barley bread and soup containing gourd and cured meat. I saw the Prophet (ﷺ) picking the pieces of gourd from around the dish, and since then I have kept on liking gourd
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک بن انس نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا۔ میں بھی آپ کے ساتھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جَو کی روٹی اور شوربہ پیش کیا گیا۔ جس میں کدو اور خشک گوشت کے ٹکڑے تھے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں چاروں طرف کدو تلاش کر رہے تھے، اسی دن سے میں بھی کدو پسند کرنے لگا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، أَنَّ خَيَّاطًا، دَعَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، فَذَهَبْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَرَّبَ خُبْزَ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَىِ الْقَصْعَةِ، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ يَوْمِئِذٍ.
#5437
Narrated Anas:I saw the Prophet (ﷺ) being served with soup and containing gourd and cured meat, and I saw him picking and eating the pieces of gourd
ہم سے حکیم ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن انس نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شوربہ لایا گیا۔ اس میں کدو اور سوکھے گوشت کے ٹکڑے تھے، پھر میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کدو کے قتلے تلاش کر کر کے کھا رہے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، فَرَأَيْتُهُ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ يَأْكُلُهَا.
#5438
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) did not do that (i.e., forbade the storage of the meat of sacrifices for three days) except (he did so) so that the rich would feed the poor. But later we used to keep even trotters to cook, fifteen days later. The family of Muhammad did not eat wheat bread with meat or soup to their satisfaction for three successive days
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کبھی نہیں کیا کہ تین دن سے زیادہ گوشت قربانی والا رکھنے سے منع فرمایا ہو۔ صرف اس سال یہ حکم دیا تھا جس سال قحط کی وجہ سے لوگ فاقے میں مبتلا تھے۔ مقصد یہ تھا کہ جو لوگ غنی ہیں وہ گوشت محتاجوں کو کھلائیں ( اور جمع کر کے نہ رکھیں ) اور ہم تو بکری کے پائے محفوظ کر کے رکھ لیتے تھے اور پندرہ دن بعد تک ( کھاتے تھے ) اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی سالن کے ساتھ گیہوں کی روٹی تین دن تک برابر سیر ہو کر نہیں کھائی۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا فَعَلَهُ إِلاَّ فِي عَامٍ جَاعَ النَّاسُ، أَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ، وَإِنْ كُنَّا لَنَرْفَعُ الْكُرَاعَ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ، وَمَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مَنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ ثَلاَثًا.
#5439
Narrated Anas bin Malik:A tailor invited Allah's Messenger (ﷺ) to a meal which he had prepared. I went with Allah's Messenger (ﷺ) to that meal, and the tailor served the Prophet (ﷺ) with barley bread and soup of gourd and cured meat. I saw Allah's Messenger (ﷺ) picking the pieces of gourd from around the dish, and since then I have kept on liking gourd
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی جو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس دعوت میں گیا۔ انہوں نے آپ کی خدمت میں جَو کی روٹی اور شوربہ، جس میں کدو اور خشک کیا ہوا گوشت تھا، پیش کیا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیالہ میں چاروں طرف کدو تلاش کر رہے ہیں۔ اسی دن سے میں بھی کدو پسند کرنے لگا۔ شمامہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کدو کے قتلے ( تلاش کر کر کے ) اکٹھے کرنے لگا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَهُ ـ قَالَ أَنَسٌ ـ فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ، فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ ـ قَالَ أَنَسٌ ـ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوْلِ الصَّحْفَةِ، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ. وَقَالَ ثُمَامَةُ عَنْ أَنَسٍ، فَجَعَلْتُ أَجْمَعُ الدُّبَّاءَ بَيْنَ يَدَيْهِ.
#5440
Narrated `Abdullah bin Ja`far bin Abi Talib:I saw Allah's Messenger (ﷺ) eating fresh dates with snake cucumber
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تازہ کھجور ککڑی کے ساتھ کھاتے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ.
#5441
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) distributed dates among us, and my share was five dates, four of which were good, and one was a ,Hashafa, and I found the Hashafa the hardest for my teeth
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَنَا تَمْرًا فَأَصَابَنِي مِنْهُ خَمْسٌ أَرْبَعُ تَمَرَاتٍ وَحَشَفَةٌ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْحَشَفَةَ هِيَ أَشَدُّهُنَّ لِضِرْسِي.
#5442
Aishah (ra) said, "When Allah's Messenger (ﷺ) died, we had been satisfied by the two black things, i.e., dates and water
اور محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے منصور ابن صفیہ نے، ان سے ان کی والدہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور ہم پانی اور کھجور ہی سے ( اکثر دنوں میں ) پیٹ بھرتے رہے۔
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ، حَدَّثَتْنِي أُمِّي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ شَبِعْنَا مِنَ الأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ.
#5443
Narrated Jabir bin `Abdullah:There was a Jew in Medina who used to lend me money up to the season of plucking dates. (Jabir had a piece of land which was on the way to Ruma). That year the land was not promising, so the payment of the debt was delayed one year. The Jew came to me at the time of plucking, but gathered nothing from my land. I asked him to give me one year respite, but he refused. This news reached the Prophet (ﷺ) whereupon he said to his companions, "Let us go and ask the Jew for respite for Jabir." All of them came to me in my garden, and the Prophet (ﷺ) started speaking to the Jew, but he Jew said, "O Abu Qasim! I will not grant him respite." When the Prophet (ﷺ) saw the Jew's attitude, he stood up and walked all around the garden and came again and talked to the Jew, but the Jew refused his request. I got up and brought some ripe fresh dates and put it in front of the Prophet. He ate and then said to me, "Where is your hut, O Jabir?" I informed him, and he said, "Spread out a bed for me in it." I spread out a bed, and he entered and slept. When he woke up, I brought some dates to him again and he ate of it and then got up and talked to the Jew again, but the Jew again refused his request. Then the Prophet (ﷺ) got up for the second time amidst the palm trees loaded with fresh dates, and said, "O Jabir! Pluck dates to repay your debt." The Jew remained with me while I was plucking the dates, till I paid him all his right, yet there remained extra quantity of dates. So I went out and proceeded till I reached the Prophet and informed him of the good news, whereupon he said, "I testify that I am Allah's Messenger (ﷺ)
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مدینہ میں ایک یہودی تھا اور وہ مجھے قرض اس شرط پر دیا کرتا تھا کہ میری کھجوریں تیار ہونے کے وقت لے لے گا۔ جابر رضی اللہ عنہ کی ایک زمین بئررومہ کے راستہ میں تھی۔ ایک سال کھجور کے باغ میں پھل نہیں آئے۔ پھل چنے جانے کا جب وقت آیا تو وہ یہودی میرے پاس آیا لیکن میں نے تو باغ سے کچھ بھی نہیں توڑا تھا۔ اس لیے میں آئندہ سال کے لیے مہلت مانگنے لگا لیکن اس نے مہلت دینے سے انکار کیا۔ اس کی خبر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ چلو، یہودی سے جابر رضی اللہ عنہ کے لیے ہم مہلت مانگیں گے۔ چنانچہ یہ سب میرے باغ میں تشریف لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی سے گفتگو فرماتے رہے لیکن وہ یہی کہتا رہا کہ ابوالقاسم میں مہلت نہیں دے سکتا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ کھڑے ہو گئے اور کھجور کے باغ میں چاروں طرف پھرے پھر تشریف لائے اور اس سے گفتگو کی لیکن اس نے اب بھی انکار کیا پھر میں کھڑا ہوا اور تھوڑی سی تازہ کھجور لا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تناول فرمایا پھر فرمایا جابر! تمہاری جھونپڑی کہاں ہے؟ میں نے آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں میرے لیے کچھ فرش بچھا دو۔ میں نے بچھا دیا تو آپ داخل ہوئے اور آرام فرمایا پھر بیدار ہوئے تو میں ایک مٹھی اور کھجور لایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے بھی تناول فرمایا پھر آپ کھڑے ہوئے اور یہودی سے گفتگو فرمائی۔ اس نے اب بھی انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ باغ میں کھڑے ہوئے پھر فرمایا کہ جابر! جاؤ اب پھل توڑو اور قرض ادا کر دو۔ آپ کھجوروں کے توڑے جانے کی جگہ کھڑے ہو گئے اور میں نے باغ میں سے اتنی کھجوریں توڑ لیں جن سے میں نے قرض ادا کر دیا اور اس میں سے کھجوریں بچ بھی گئی پھر میں وہاں سے نکلا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خوشخبری سنائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اس حدیث میں جو «عروش» کا لفظ ہے «عروش» اور «عريش» عمارت کی چھت کو کہتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ( سورۃ الانعام میں لفظ ) «معروشات» سے مراد انگور وغیرہ کی ٹٹیاں ہیں۔ دوسری آیت ( سورۃ البقرہ ) «عروشها خاویة علی» یعنی اپنی چھتوں پر گرے ہوئے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رضى الله عنهما قَالَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ يَهُودِيٌّ وَكَانَ يُسْلِفُنِي فِي تَمْرِي إِلَى الْجِدَادِ، وَكَانَتْ لِجَابِرٍ الأَرْضُ الَّتِي بِطَرِيقِ رُومَةَ فَجَلَسَتْ، فَخَلاَ عَامًا فَجَاءَنِي الْيَهُودِيُّ عِنْدَ الْجَدَادِ، وَلَمْ أَجُدَّ مِنْهَا شَيْئًا، فَجَعَلْتُ أَسْتَنْظِرُهُ إِلَى قَابِلٍ فَيَأْبَى، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لأَصْحَابِهِ " امْشُوا نَسْتَنْظِرْ لِجَابِرٍ مِنَ الْيَهُودِيِّ ". فَجَاءُونِي فِي نَخْلِي فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُكَلِّمُ الْيَهُودِيَّ فَيَقُولُ أَبَا الْقَاسِمِ لاَ أُنْظِرُهُ. فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَامَ فَطَافَ فِي النَّخْلِ، ثُمَّ جَاءَهُ فَكَلَّمَهُ فَأَبَى فَقُمْتُ فَجِئْتُ بِقَلِيلِ رُطَبٍ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَكَلَ ثُمَّ قَالَ " أَيْنَ عَرِيشُكَ يَا جَابِرُ ". فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ " افْرُشْ لِي فِيهِ ". فَفَرَشْتُهُ فَدَخَلَ فَرَقَدَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَجِئْتُهُ بِقَبْضَةٍ أُخْرَى فَأَكَلَ مِنْهَا، ثُمَّ قَامَ فَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ فَأَبَى عَلَيْهِ فَقَامَ فِي الرِّطَابِ فِي النَّخْلِ الثَّانِيَةَ ثُمَّ قَالَ " يَا جَابِرُ جُدَّ وَاقْضِ ". فَوَقَفَ فِي الْجَدَادِ فَجَدَدْتُ مِنْهَا مَا قَضَيْتُهُ وَفَضَلَ مِنْهُ فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَبَشَّرْتُهُ فَقَالَ " أَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ". عُرُوشٌ وَعَرِيشٌ بِنَاءٌ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَعْرُوشَاتٍ مَا يُعَرَّشُ مِنْ الْكُرُومِ وَغَيْرِ ذَلِكَ يُقَالُ عُرُوشُهَا أَبْنِيَتُهَا
#5444
Narrated `Abdullah bin `Umar:While we were sitting with the Prophet, fresh dates were brought to him. The Prophet (ﷺ) said, "There is a tree among the trees which is as blessed as a Muslim" I thought that it was the date palm tree and intended to say, "It is the date-palm tree, O Allah's Messenger (ﷺ)!" but I looked behind to see that I was the tenth and youngest of ten men present there, so I kept quiet' Then the Prophet (ﷺ) said, "It is the datepalm tree
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے مجاہد نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کھجور کے درخت کا گابھہ لایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض درخت ایسے ہوتے ہیں جن کی برکت مسلمان کی برکت کی طرح ہوتی ہے۔ میں نے خیال کیا کہ آپ کا اشارہ کھجور کے درخت کی طرف ہے۔ میں نے سوچا کہ کہہ دوں کہ وہ درخت کھجور کا ہوتا ہے، یا رسول اللہ! لیکن پھر جو میں نے مڑ کر دیکھا تو مجلس میں میرے علاوہ نو آدمی اور تھے اور میں ان میں سب سے چھوٹا تھا۔ اس لیے میں خاموش رہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ درخت کھجور کا ہے۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جُلُوسٌ إِذْ أُتِيَ بِجُمَّارِ نَخْلَةٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ لَمَا بَرَكَتُهُ كَبَرَكَةِ الْمُسْلِمِ ". فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِي النَّخْلَةَ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. ثُمَّ الْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا عَاشِرُ عَشَرَةٍ أَنَا أَحْدَثُهُمْ فَسَكَتُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هِيَ النَّخْلَةُ ".
#5445
Narrated Sa`d:Allah's Messenger (ﷺ) said, "He who eats seven 'Ajwa dates every morning, will not be affected by poison or magic on the day he eats them
ہم سے جمعہ بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مروان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ہاشم بن ہاشم نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو عامر بن سعد نے خبر دی اور ان سے ان کے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ہر دن صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لیں، اسے اس دن نہ زہر نقصان پہنچا سکے گا اور نہ جادو۔
حَدَّثَنَا جُمْعَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، أَخْبَرَنَا عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَصَبَّحَ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرُّهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ سُمٌّ وَلاَ سِحْرٌ ".
#5446
Narrated Jabala bin Suhaim.:At the time of Ibn Az-Zubair, we were struck with famine, and he provided us with dates for our food. `Abdullah bin `Umar used to pass by us while we were eating, and say, "Do not eat two dates together at a time, for the Prophet (ﷺ) forbade the taking of two dates together at a time (in a gathering)." Ibn `Umar used to add, "Unless one takes the permission of one's companions
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جبلہ بن سحیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ( جب وہ حجاز کے خلیفہ تھے ) ایک سال قحط کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے راشن میں ہمیں کھانے کے لیے کھجوریں دیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس سے گزرتے اور ہم کھجور کھاتے ہوتے تو وہ فرماتے کہ دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر نہ کھاؤ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع کیا ہے۔ پھر فرمایا سوا اس صورت کے جب اس کو کھانے والا شخص اپنے ساتھی سے ( جو کھانے میں شریک ہے ) اس کی اجازت لے لے۔ شعبہ نے بیان کیا کہ اجازت والا ٹکڑا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، قَالَ أَصَابَنَا عَامُ سَنَةٍ مَعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَرَزَقَنَا تَمْرًا، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَمُرُّ بِنَا وَنَحْنُ نَأْكُلُ وَيَقُولُ لاَ تُقَارِنُوا فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْقِرَانِ. ثُمَّ يَقُولُ إِلاَّ أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ. قَالَ شُعْبَةُ الإِذْنُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ.
#5447
Narrated `Abdullah bin Ja`far:I saw the Prophet (ﷺ) eating fresh dates with snake cucumbers
مجھ سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کو ککڑی کے ساتھ کھاتے ہوئے دیکھا۔
حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ.
#5448
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "There is a tree among the trees which is similar to a Muslim (in goodness), and that is the date palm tree
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے زبید نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ درختوں میں ایک درخت مثل مسلمان کے ہے اور وہ کھجور کا درخت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ "مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةٌ تَكُونُ مِثْلَ الْمُسْلِمِ، وَهْىَ النَّخْلَةُ ".
#5449
Narrated `Abdullah bin Ja`far:I saw Allah's Messenger (ﷺ) eating fresh dates with snake cucumbers
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابراہیم بن سعد نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ککڑی کے ساتھ کھجور کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ.
#5450
Narrated Anas:My mother, Um Sulaim, took a Mudd of barley grain, ground it and made porridge from it, and pressed (over it), a butter skin she had with her. Then she sent me to the Prophet, and I reached him while he was sitting with his companions. I invited him, whereupon he said, "And those who are with me?' I returned and said, "He says, 'And those who are with me?" Abu Talha went out to him and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! It is just a meal prepared by Um Sulaim." The Prophet (ﷺ) entered and the food was brought to him. He said, "Let ten persons enter upon me." Those ten entered and ate their fill. Again he said, 'Let ten (more) enter upon me." Those ten entered and ate their fill. Then he said, "Let ten (more) enter upon me." He called forty persons in all Then Allah's Messenger (ﷺ) ate and got up. I started looking (at the food) to see if it decreased or not
سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے جعد ابوعثمان نے ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور (اس کی روایت حماد نے) ہشام سے بھی کی، ان سے محمد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور سنان ابوربیعہ سے (بھی کی) اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ان کی والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک مد جَو لیا اور ان سے پیس کر اس کا «خطيفة» ( آٹے کو دودھ میں ملا کر پکاتے ہیں ) پکایا اور ان کے پاس جو گھی کا ڈبہ تھا اس میں اس پر سے گھی نچوڑا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( بلانے کے لیے ) بھیجا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا تو آپ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے۔ میں نے آپ کو کھانا کھانے کے لیے بلایا۔ آپ نے دریافت فرمایا اور وہ لوگ بھی جو میرے ساتھ ہیں؟ چنانچہ میں واپس آیا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ جو میرے ساتھ موجود ہیں وہ بھی چلیں گے۔ اس پر ابوطلحہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ تو ایک چیز ہے جو ام سلیم نے آپ کے لیے پکائی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کھانا آپ کے پاس لایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دس آدمیوں کو میرے پاس اندر بلا لو۔ چنانچہ دس صحابہ داخل ہوئے اور کھانا پیٹ بھر کر کھایا پھر فرمایا دس آدمیوں کو میرے پاس اور بلا لو۔ یہ دس بھی اندر آئے اور پیٹ بھر کر کھایا پھر فرمایا اور دس آدمیوں کو بلا لو۔ اس طرح انہوں نے چالیس آدمیوں کا شمار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا پھر آپ کھڑے ہوئے تو میں دیکھنے لگا کہ کھانے میں سے کچھ بھی کم نہیں ہوا۔
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسٍ،. وَعَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ،. وَعَنْ سِنَانٍ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، أُمَّهُ عَمَدَتْ إِلَى مُدٍّ مِنْ شَعِيرٍ، جَشَّتْهُ وَجَعَلَتْ مِنْهُ خَطِيفَةً، وَعَصَرَتْ عُكَّةً عِنْدَهَا، ثُمَّ بَعَثَتْنِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ وَهْوَ فِي أَصْحَابِهِ فَدَعَوْتُهُ قَالَ " وَمَنْ مَعِي ". فَجِئْتُ فَقُلْتُ إِنَّهُ يَقُولُ، وَمَنْ مَعِي، فَخَرَجَ إِلَيْهِ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هُوَ شَىْءٌ صَنَعَتْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَدَخَلَ فَجِيءَ بِهِ وَقَالَ " أَدْخِلْ عَلَىَّ عَشَرَةً ". فَدَخَلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ قَالَ " أَدْخِلْ عَلَىَّ عَشَرَةً ". فَدَخَلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ قَالَ " أَدْخِلْ عَلَىَّ عَشَرَةً ". حَتَّى عَدَّ أَرْبَعِينَ، ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَامَ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ هَلْ نَقَصَ مِنْهَا شَىْءٌ.