#2226
Sahih
Narrated Thawban: The Prophet (ﷺ) said: If any woman asks her husband for divorce without some strong reason, the odour of Paradise will be forbidden to her
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو اسے طلاق لینے پر مجبور کرے طلاق کا مطالبہ کیا تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلاَقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ " .
#2227
Sahih
Amrah, daughter of 'Abd al-Rahman ibn Sa'd ibn Zurarah, reported on the authority of Habibah, daughter of Sahl al-Ansariyyah:She (Habibah) was the wife of Thabit ibn Qays ibn Shimmas. The Messenger of Allah (ﷺ) came out one morning and found Habibah by his door. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Who is this? She replied: I am Habibah, daughter of Sahl. He asked: What is your case? She replied: I and Thabit ibn Qays, referring to her husband, cannot live together. When Thabit ibn Qays came, the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: This is Habibah, daughter of Sahl, and she has mentioned (about you) what Allah wished to mention. Habibah said: Messenger of Allah, all that he gave me is with me. The Messenger of Allah (ﷺ) said to Thabit ibn Qays: Take it from her. So he took it from her, and she lived among her people (relatives)
حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، ایک بار کیا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھنے کے لیے نکلے تو آپ نے حبیبہ بنت سہل کو اندھیرے میں اپنے دروازے پر پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کون ہے؟ بولیں: میں حبیبہ بنت سہل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ وہ اپنے شوہر ثابت بن قیس کے متعلق بولیں کہ میرا ان کے ساتھ گزارا نہیں ہو سکتا، پھر جب ثابت بن قیس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ حبیبہ بنت سہل ہیں انہوں نے مجھ سے بہت سی باتیں جنہیں اللہ نے چاہا ذکر کی ہیں ، حبیبہ کہنے لگیں: اللہ کے رسول! انہوں نے جو کچھ مجھے ( مہر وغیرہ ) دیا تھا وہ سب میرے پاس ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس سے کہا: اس ( مال ) میں سے لے لو ، تو انہوں نے اس میں سے لے لیا اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس بیٹھی رہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابِهِ فِي الْغَلَسِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ هَذِهِ " . فَقَالَتْ أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ . قَالَ " مَا شَأْنُكِ " . قَالَتْ لاَ أَنَا وَلاَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ . لِزَوْجِهَا فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ " . وَذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ وَقَالَتْ حَبِيبَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ " خُذْ مِنْهَا " . فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ هِيَ فِي أَهْلِهَا .
#2228
Sahih
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Habibah daughter of Sahl was the wife of Thabit ibn Qays Shimmas He beat her and broke some of her part. So she came to the Prophet (ﷺ) after morning, and complained to him against her husband. The Prophet (ﷺ) called on Thabit ibn Qays and said (to him): Take a part of her property and separate yourself from her. He asked: Is that right, Messenger of Allah? He said: Yes. He said: I have given her two gardens of mine as a dower, and they are already in her possession. The Prophet (ﷺ) said: Take them and separate yourself from her
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں تو ان کو ان کے شوہر نے اتنا مارا کہ کوئی عضو ٹوٹ گیا، وہ فجر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے ان کی شکایت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کو بلوایا، اور کہا کہ تم اس سے کچھ مال لے کر اس سے الگ ہو جاؤ، ثابت نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ایسا کرنا درست ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، وہ بولے، میں نے اسے دو باغ مہر میں دیئے ہیں یہ ابھی بھی اس کے پاس موجود ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں لے لو اور اس سے جدا ہو جاؤ ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو السَّدُوسِيُّ الْمَدِينِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ، كَانَتْ عِنْدَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ فَضَرَبَهَا فَكَسَرَ بَعْضَهَا فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ الصُّبْحِ فَاشْتَكَتْهُ إِلَيْهِ فَدَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثَابِتًا فَقَالَ " خُذْ بَعْضَ مَالِهَا وَفَارِقْهَا " . فَقَالَ وَيَصْلُحُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ فَإِنِّي أَصْدَقْتُهَا حَدِيقَتَيْنِ وَهُمَا بِيَدِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " خُذْهُمَا فَفَارِقْهَا " . فَفَعَلَ .
#2229
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: The wife of Thabit ibn Qays separated herself from him for a compensation. The Prophet (ﷺ) made her waiting period a menstrual course. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by 'Abd al-Razzaq from Ma'mar from 'Amr b. Muslim from 'Ikrimah from the Prophet (ﷺ) in a mursal form (i.e. missing the link of the Companion)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے ان سے خلع کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی عدت ایک حیض مقرر فرمائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عبدالرزاق نے معمر سے معمر نے عمرو بن مسلم سے عمرو نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةَ، ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ اخْتَلَعَتْ مِنْهُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِدَّتَهَا حَيْضَةً . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً .
#2230
Sahih Muquf
Ibn ‘Umar said “The waiting period of a woman who separates herself from her husband for compensation is a menstrual period.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ خلع کرانے والی عورت کی عدت ایک حیض ہے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ عِدَّةُ الْمُخْتَلِعَةِ حَيْضَةٌ .
#2231
Sahih
Ibn ‘Abbas said “Mughith was a slave.” He said “Apostle of Allaah (ﷺ) make intercession for me to her (Barirah)”. The Apostle of Allaah (ﷺ) said “O Barirah fear Allaah. He is your husband and father of your child”. She said “Apostle of Allaah (ﷺ) do you command me for that? He said No, I am only interceding. Then tears were falling down on his (her husband’s) cheeks. The Apostle of Allaah (ﷺ) said to ‘Abbas “Are you not surprised with the love of Mughith for Barirah and her hatred for him.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مغیث رضی اللہ عنہ ایک غلام تھے وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! اس سے میری سفارش کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بریرہ! اللہ سے ڈرو، وہ تمہارا شوہر ہے اور تمہارے لڑکے کا باپ ہے کہنے لگیں: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے ایسا کرنے کا حکم فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ میں تو سفارشی ہوں مغیث کے آنسو گالوں پر بہہ رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو مغیث کی بریرہ کے تئیں محبت اور بریرہ کی مغیث کے تئیں نفرت سے تعجب نہیں ہو رہا ہے؟ ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مُغِيثًا، كَانَ عَبْدًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْفَعْ لِي إِلَيْهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا بَرِيرَةُ اتَّقِي اللَّهَ فَإِنَّهُ زَوْجُكِ وَأَبُو وَلَدِكِ " . فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْمُرُنِي بِذَلِكَ قَالَ " لاَ إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ " . فَكَانَ دُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى خَدِّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْعَبَّاسِ " أَلاَ تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَبُغْضِهَا إِيَّاهُ " .
#2232
Sahih
Ibn ‘Abbas said “The husband of Barirah was a black slave called Mughith. The Prophet (ﷺ) gave her choice and commanded her to observe the waiting period.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ایک کالے کلوٹے غلام تھے جن کا نام مغیث رضی اللہ عنہ تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( مغیث کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا ) اختیار دیا اور ( نہ رہنے کی صورت میں ) انہیں عدت گزارنے کا حکم فرمایا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ زَوْجَ، بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُسَمَّى مُغِيثًا فَخَيَّرَهَا - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ .
#2233
Sahih
While relating the tradition about Barirah A’ishah said “her husband was a slave, so the Prophet(ﷺ) gave her choice. She chose herself. Had he been a free man, he would not given her choice.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے بریرہ کے قصہ میں روایت ہے کہ اس کا شوہر غلام تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو ( آزاد ہونے کے بعد ) اختیار دے دیا تو انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کیا، اگر وہ آزاد ہوتا تو آپ اسے ( بریرہ کو ) اختیار نہ دیتے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي قِصَّةِ بَرِيرَةَ قَالَتْ كَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا .
#2234
Sahih
A’ishah said “The Prophet (ﷺ) gave her choice. Her husband was a slave.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دیا اس کا شوہر غلام تھا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَالْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بَرِيرَةَ، خَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا .
#2235
Sahih
A’ishah said “Barirah’s husband was a free man when she was emancipated. She was given choice. She said “I do not like to remain with him. I have such and such (grievances)”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جس وقت بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد ہوئی اس وقت اس کا شوہر آزاد ۱؎ تھا، اسے اختیار دیا گیا، تو اس نے کہا کہ اگر مجھے اتنا اتنا مال بھی مل جائے تب بھی میں اس کے ساتھ رہنا پسند نہ کروں گی۔
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ زَوْجَ، بَرِيرَةَ كَانَ حُرًّا حِينَ أُعْتِقَتْ وَأَنَّهَا خُيِّرَتْ فَقَالَتْ مَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ مَعَهُ وَإِنَّ لِي كَذَا وَكَذَا .
#2236
Daif
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Barirah was emancipated, and she was the wife of Mughith, a slave of Aal AbuAhmad. The Messenger of Allah (ﷺ) gave her choice, and said to her: If he has intercourse with you, then there is no choice for you
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد کی گئی اس وقت وہ آل ابواحمد کے غلام مغیث رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا اور اس سے کہا: اگر اس نے تجھ سے صحبت کر لی تو پھر تجھے اختیار حاصل نہیں رہے گا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، وَعَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بَرِيرَةَ، أُعْتِقَتْ وَهِيَ عِنْدَ مُغِيثٍ - عَبْدٍ لآلِ أَبِي أَحْمَدَ - فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ لَهَا " إِنْ قَرِبَكِ فَلاَ خِيَارَ لَكِ " .
#2237
Daif
Al-Qasim said:Aisha intended to set free two slaves of her who were spouses. She, therefore, asked the Prophet (ﷺ) about this matter. He commanded to begin with the man before the woman. The narrator Nasr said: Abu 'Ali al-Hanafi reported it to me on the authority of Ubaydullah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے لونڈی غلام کے ایک جوڑے کو آزاد کرنا چاہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے حکم دیا کہ وہ عورت سے پہلے مرد کو آزاد کریں۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ، مَمْلُوكَيْنِ لَهَا زَوْجٌ قَالَ فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَبْدَأَ بِالرَّجُلِ قَبْلَ الْمَرْأَةِ . قَالَ نَصْرٌ أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ .
#2238
Daif
Narrated Abdullah ibn Abbas: A man came after embracing Islam during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). Afterwards his wife came after embracing Islam. He said: Messenger of Allah, she embraced Islam along with me; so restore her to me
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا پھر اس کے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آ گئی، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ میرے ساتھ ہی مسلمان ہوئی ہے تو آپ اسے میرے پاس لوٹا دیجئیے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ مُسْلِمًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ جَاءَتِ امْرَأَتُهُ مُسْلِمَةً بَعْدَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ أَسْلَمَتْ مَعِي . فَرَدَّهَا عَلَيْهِ .
#2239
Daif
Narrated Abdullah ibn Abbas: A woman embraced Islam during the time of the Messenger of Allah (ﷺ); she then married. Her (former) husband then came to the Prophet (ﷺ) and said: Messenger of Allah, I have already embraced Islam, and she had the knowledge about my Islam. The Messenger of Allah (ﷺ) took her away from her latter husband and restored her to her former husband
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت مسلمان ہو گئی اور اس نے نکاح بھی کر لیا، اس کے بعد اس کا شوہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں اسلام لے آیا تھا اور اسے میرے اسلام لانے کا علم تھا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شوہر سے اسے چھین کر اس کے پہلے شوہر کو لوٹا دیا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَزَوَّجَتْ فَجَاءَ زَوْجُهَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَسْلَمْتُ وَعَلِمَتْ بِإِسْلاَمِي فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ زَوْجِهَا الآخَرِ وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الأَوَّلِ .
#2240
Hasan
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) restored his daughter Zaynab to Abul'As on the basis of the previous marriage, and he did not do anything afresh. Muhammad b. 'Amr said in his version: After six years. Al-Hasan b. 'Ali said: After two years
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص کے پاس پہلے نکاح پر واپس بھیج دیا اور نئے سرے سے کوئی نکاح نہیں پڑھایا۔ محمد بن عمرو کی روایت میں ہے چھ سال کے بعد ایسا کیا اور حسن بن علی نے کہا: دو سال کے بعد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ، ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - الْمَعْنَى - كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِي بِالنِّكَاحِ الأَوَّلِ لَمْ يُحْدِثْ شَيْئًا . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو فِي حَدِيثِهِ بَعْدَ سِتِّ سِنِينَ وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ بَعْدَ سَنَتَيْنِ .
#2241
Sahih
Narrated Al-Harith ibn Qays al-Asadi: I embraced Islam while I had eight wives. So I mentioned it to the Prophet (ﷺ). The Prophet (said) said: Select four of them. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated to us by Ahmad b. Ibrahim from Hushaim. He said: Qais b. al-Harith instead of al-Harith b. Qais. Ahmad b. Ibrahim said: This is correct, i.e. Qais b. al-Harith
حارث بن قیس اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اسلام قبول کیا، میرے پاس آٹھ بیویاں تھیں تو میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے چار کا انتخاب کر لو ( اور باقی کو طلاق دے دو ) ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُمَيْضَةَ بْنِ الشَّمَرْدَلِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ، - قَالَ مُسَدَّدٌ ابْنِ عُمَيْرَةَ . وَقَالَ وَهْبٌ الأَسَدِيِّ - قَالَ أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي ثَمَانُ نِسْوَةٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَا بِهِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ قَيْسُ بْنُ الْحَارِثِ مَكَانَ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ هَذَا الصَّوَابُ . يَعْنِي قَيْسَ بْنَ الْحَارِثِ .
#2242
Sahih
The tradition mentioned above has also been transmitted by Qais bin Al Harith through a different chain of narrators to the same effect
اس سند سے بھی قیس بن حارث رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَاضِي الْكُوفَةِ عَنْ عِيسَى بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُمَيْضَةَ بْنِ الشَّمَرْدَلِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَارِثِ، بِمَعْنَاهُ .
#2243
Hasan
Al-Dahhak b. Firuz reported on the authority of his father:I said: Messenger of Allah, I have embraced Islam and two sisters are my wives. He said: Divorce any one of them you wish
فیروز رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ . قَالَ " طَلِّقْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ " .
#2244
Sahih
Abd al-Hamid ibn Ja'far reported from his father on the authority of his grandfather Rafi' ibn Sinan that he (Rafi' ibn Sinan) embraced Islam and his wife refused to embrace Islam. She came to the Prophet (ﷺ) and said:My daughter; she is weaned or about to wean. Rafi' said: My daughter. The Prophet (ﷺ) said to him: Be seated on a side. And he said to her: Be seated on a side. He then seated the girl between them, and said to them: Call her. The girl inclined to her mother. The Prophet (ﷺ) said: O Allah! guide her. The daughter then inclined to her father, and he took her
رافع بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا، لیکن ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا، اور آپ کے پاس آ کر کہنے لگی: بیٹی میری ہے ( اسے میں اپنے پاس رکھوں گی ) اس کا دودھ چھوٹ چکا تھا، یا چھوٹنے والا تھا، اور رافع نے کہا کہ بیٹی میری ہے ( اسے میں اپنے پاس رکھوں گا ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رافع کو ایک طرف اور عورت کو دوسری طرف بیٹھنے کے لیے فرمایا، اور بچی کو درمیان میں بٹھا دیا، پھر دونوں کو اپنی اپنی جانب بلانے کے لیے کہا بچی ماں کی طرف مائل ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اسے ہدایت دے ، چنانچہ بچی اپنے باپ کی طرف مائل ہو گئی تو انہوں نے اسے لے لیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، رَافِعِ بْنِ سِنَانٍ أَنَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتِ ابْنَتِي وَهِيَ فَطِيمٌ أَوْ شِبْهُهُ وَقَالَ رَافِعٌ ابْنَتِي . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْعُدْ نَاحِيَةً " . وَقَالَ لَهَا " اقْعُدِي نَاحِيَةً " . قَالَ وَأَقْعَدَ الصَّبِيَّةَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ قَالَ " ادْعُوَاهَا " . فَمَالَتِ الصَّبِيَّةُ إِلَى أُمِّهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ اهْدِهَا " . فَمَالَتِ الصَّبِيَّةُ إِلَى أَبِيهَا فَأَخَذَهَا .
#2245
Sahih
Sahl bin Sa’ad Al Sa’idi said that ‘Uwaimir bin Ashqar Al Ajilani came to ‘Asim bin Adl and said to him “Asim tell me about a man who finds a man along with his wife. Should he kill him and then be killed by you, or how should he act? Ask the Apostle of Allaah(ﷺ) ‘Asim, for me about it. ‘Asim then asked the Apostle of Allaah(ﷺ) about it. The Apostle of Allaah(ﷺ) disliked the question and denounced it. What ‘Asim heard from the Apostle of Allaah(ﷺ) fell heavy on him. When ‘Asim returned to his family ‘Uwaimr came to him and asked ‘Asim “What did the Apostle of Allaah(ﷺ) say to you”? Asim replied “You did not do good to me”. The Apostle of Allaah(ﷺ) disliked the question that I asked him. Thereupon ‘Uwaimir said “I swear by Allaah, I shall not leave until I ask him about it. So, ‘Uwaimir came to the Apostle of Allaah(ﷺ) while he was sitting in the midst of the people.” He said “Apostle of Allaah(ﷺ) tell me about a man who finds a man along with his wife. Should he kill him and then be killed by you, or how should he act?” The Apostle of Allaah(ﷺ) said “A revelation has been sent down about you and your wife so go away and bring her. Sahl said “So we cursed one another while I was along with the people who were with the Apostle of Allaah(ﷺ). Then when they finished, ‘Umamir said “I shall have lied against her, Apostle of Allaah(ﷺ) if I keep her. He pronounced her divorce three times before the Apostle of Allaah(ﷺ)commanded him (to do so). Ibn Shihab said “Then this became the method of invoking curses.”
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عویمر بن اشقر عجلانی، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے آ کر کہنے لگے: عاصم! ذرا بتاؤ، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی ( اجنبی ) شخص کو پا لے تو کیا وہ اسے قتل کر دے پھر اس کے بدلے میں تم اسے بھی قتل کر دو گے، یا وہ کیا کرے؟ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھو، چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بغیر ضرورت ) اس طرح کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور اس کی اس قدر برائی کی کہ عاصم رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات گراں گزری، جب عاصم رضی اللہ عنہ گھر لوٹے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس آ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا؟ تو عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے تم سے کوئی بھلائی نہیں ملی جس مسئلہ کے بارے میں، میں نے سوال کیا اسے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھ کر رہوں گا، وہ سیدھے آپ کے پاس پہنچ گئے اس وقت آپ لوگوں کے بیچ تشریف فرما تھے، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! بتائیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ ( اجنبی ) آدمی کو پا لے تو کیا وہ اسے قتل کر دے پھر آپ لوگ اسے اس کے بدلے میں قتل کر دیں گے، یا وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اور تمہاری بیوی کے متعلق قرآن نازل ہوا ہے لہٰذا اسے لے کر آؤ ، سہل کا بیان ہے کہ ان دونوں نے لعان ۱؎ کیا، اس وقت میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب وہ ( لعان سے ) فارغ ہو گئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اسے اپنے پاس رکھوں تو ( گویا ) میں نے جھوٹ کہا ہے چنانچہ عویمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اسے تین طلاق دے دی۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: تو یہی ( ان دونوں ) لعان کرنے والوں کا طریقہ بن گیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ الْعَجْلاَنِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ فَقَالَ لَهُ يَا عَاصِمُ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ . فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ لَهُ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمٌ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا . فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لاَ أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا . فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ قُرْآنٌ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا " . قَالَ سَهْلٌ فَتَلاَعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا . فَطَلَّقَهَا عُوَيْمِرٌ ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانَتْ تِلْكَ سُنَّةَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ .
#2246
Hasan
‘Abbas bin Sahl reported on the authority of his father “The Prophet (ﷺ) said to ‘Asim bin ‘Adl. Keep the woman with you till she begets the child
سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بچے کی ولادت تک عورت کو اپنے پاس روکے رکھو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِعَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ " أَمْسِكِ الْمَرْأَةَ عِنْدَكَ حَتَّى تَلِدَ " .
#2247
Sahih
Sahl bin Sa’d Al Sa’idi said “I attended the invoking of the curses with the Messenger of Allah (ﷺ) when I was fifteen. He then narrated the rest of the tradition. In this version he said “She then came out pregnant and the child was ascribed to its mother
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ان دونوں کے لعان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود رہا اور میں پندرہ سال کا تھا، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی لیکن اس میں اتنا اضافہ کیا کہ پھر وہ عورت حاملہ نکلی چنانچہ لڑکے کو اس کی ماں کی جانب منسوب کر کے پکارا جاتا تھا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ حَضَرْتُ لِعَانَهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً . وَسَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ ثُمَّ خَرَجَتْ حَامِلاً فَكَانَ الْوَلَدُ يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ .
#2248
Sahih
Sahl bin Sa’ad reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying - in the tradition of spouses who invoked curses to each other “Look if she bears a child which has very black eyes, large buttocks, I cannot but imagine that he (i.e., ‘Uwaimir) has spoken the truth. But, if she bears a reddish child like the lizard with red spots (waharah), I cannot imagine that ‘Uwaimir has lied against her. She gave birth to a child (like that described the Prophet (ﷺ) ) in a detestable manner
لعان والی حدیث میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس عورت پر نظر رکھو اگر بچہ سیاہ آنکھوں والا، بڑی سرینوں والا ہو تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ اس ( شوہر ) نے سچ کہا ہے، اور اگر سرخ رنگ گیرو کی طرح ہو تو میں سمجھتا ہوں کی وہ جھوٹا ہے ، چنانچہ اس کا بچہ ناپسندیدہ صفت پر پیدا ہوا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِي خَبَرِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبْصِرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الأَلْيَتَيْنِ فَلاَ أُرَاهُ إِلاَّ قَدْ صَدَقَ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلاَ أُرَاهُ إِلاَّ كَاذِبًا " . قَالَ فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ .
#2249
Sahih
The tradition mentioned above has also been transmitted by Sahl bin Sa’d Al Sa’idi through a different chain of narrators. This version adds the child was attributed to its mother
اس سند سے بھی سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: تو اسے یعنی لڑکے کو اس کی ماں کی جانب منسوب کر کے پکارا جاتا تھا۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، بِهَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَكَانَ يُدْعَى - يَعْنِي الْوَلَدَ - لأُمِّهِ .
#2250
Sahih
The tradition mentioned above has also been transmitted by Sahl bin Sa’d Al Sa’idi through a different chain of narrators. This version has “He divorced her three times before the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) implemented it and what is done before the Prophet (ﷺ) is sunnah(model behavior of the Prophet). Sahl said “I attended this before the Messenger of Allah(ﷺ). Afterwards the sunnah about those who invoked curses on each other was established that they (the spouses) were separated from each other and they would never be united.”
اس سند سے بھی سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: انہوں ( عاصم بن عدی ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اسے تین طلاق دے دی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نافذ فرما دیا، اور جو کام آپ کی موجودگی میں کیا گیا ہو وہ سنت ہے۔ سہل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت میں موجود تھا، اس کے بعد لعان کرنے والے مرد اور عورت کے سلسلہ میں طریقہ ہی یہ ہو گیا کہ انہیں جدا کر دیا جائے، اور وہ دونوں پھر کبھی اکٹھے نہ ہوں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيِّ، وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِي هَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَطَلَّقَهَا ثَلاَثَ تَطْلِيقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْفَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ مَا صُنِعَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سُنَّةً . قَالَ سَهْلٌ حَضَرْتُ هَذَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَضَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِي الْمُتَلاَعِنَيْنِ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ لاَ يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا .