#2201
Sahih
‘Umar bin Al Khattab reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “Actions are to be judged only by intentions and a man will have only what he intended. When one’s emigration is to Allaah and His Apostle, his emigration is to Allaah and His Apostle but his emigration is to a worldly end at which he aims or to a woman whom he marries , his emigration is to that for which he emigrated
علقمہ بن وقاص لیثی کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی چنانچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو اسی کی ہجرت اللہ اور رسول کے لیے مانی جائے گی، اور جس نے دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی غرض سے ہجرت کی ہو گی تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ " .
#2202
Sahih
‘Abd Allah bin Ka’b reported “I heard Ka’ab bin Malik. He then narrated his story about the battle of Tabuk.(Narrating the story) he added “When forty out of fifty days passed”, the messenger of the Apostle of Allaah(ﷺ) came and said “The Apostle of Allaah(ﷺ) has commanded you to keep away from your wife. He said “So, I (Ka’b bin Malik)” said “Should I divorce her or what should I do? He said “No, but only keep away from her and do not go near her”. So, I said to my wife “Go to your people and live with them until Allaah, the exalted makes a decision in this matter.”
عبداللہ بن کعب بن مالک (جو کہ اپنے والد کعب رضی اللہ عنہ کے نابینا ہو جانے کے بعد ان کے قائد تھے) کہتے ہیں کہ میں نے ( اپنے والد ) کعب بن مالک سے سنا، پھر انہوں نے جنگ تبوک والا اپنا قصہ سنایا اس میں انہوں نے بیان کیا کہ جب پچاس دنوں میں سے چالیس دن گزر گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد آیا اور کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے علیحدہ رہو، میں نے پوچھا: کیا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں بلکہ اس سے علیحدہ رہو اس کے قریب نہ جاؤ، چنانچہ میں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا: تم اپنے میکے چلی جاؤ ۱؎ اور جب تک اللہ تعالیٰ اس معاملہ کا فیصلہ نہ فرما دے وہیں رہنا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، - وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ - قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍفَسَاقَ قِصَّتَهُ فِي تَبُوكَ قَالَ حَتَّى إِذَا مَضَتْ أَرْبَعُونَ مِنَ الْخَمْسِينَ إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْتِي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ . قَالَ فَقُلْتُ أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ قَالَ لاَ بَلِ اعْتَزِلْهَا فَلاَ تَقْرَبَنَّهَا . فَقُلْتُ لاِمْرَأَتِي الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ فِي هَذَا الأَمْرِ .
#2203
Sahih
A’ishah said The Apostle of Allaah(ﷺ) gave us our choice and we chose him so that was not reckoned anything (i.e., divorce)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( اپنے عقد میں رہنے یا نہ رہنے کا ) اختیار دیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو اختیار کیا، پھر آپ نے اسے کچھ بھی شمار نہیں کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَعُدَّ ذَلِكَ شَيْئًا .
#2204
Daif
Hammad ibn Zayd said:I asked Ayyub: Do you know anyone who narrates the tradition narrated by Al-Hasan about uttering the words (addressing wife). "Your matter is in your hand"? He replied: No, except something similar transmitted by Qatadah from Kathir, the client of Samurah, from AbuSalamah on the authority of AbuHurayrah from the Prophet (ﷺ). Ayyub said: Kathir then came to us; so I asked him (about this matter). He replied: I never narrated it. I mentioned it to Qatadah who said: Yes (he narrated it) but he forgot
حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب سے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ کسی اور نے بھی «أمرك بيدك» کے سلسلہ میں وہی بات کہی ہے جو حسن نے کہی تو انہوں نے کہا: نہیں، مگر وہی روایت ہے جسے ہم سے قتادہ نے بیان کیا، قتادہ نے کثیر مولی ابن سبرہ سے کثیر نے ابوسلمہ سے ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ ایوب کہتے ہیں: تو کثیر ہمارے پاس آئے تو میں نے ان سے دریافت کیا، وہ بولے: میں نے تو کبھی یہ حدیث بیان نہیں کی، پھر میں نے قتادہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: ہاں کیوں نہیں انہوں نے اسے بیان کیا تھا لیکن وہ بھول گئے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لأَيُّوبَ هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ بِقَوْلِ الْحَسَنِ فِي أَمْرُكِ بِيَدِكِ . قَالَ لاَ إِلاَّ شَىْءٌ حَدَّثَنَاهُ قَتَادَةُ عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى ابْنِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ قَالَ أَيُّوبُ فَقَدِمَ عَلَيْنَا كَثِيرٌ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مَا حَدَّثْتُ بِهَذَا قَطُّ فَذَكَرْتُهُ لِقَتَادَةَ فَقَالَ بَلَى وَلَكِنَّهُ نَسِيَ .
#2205
Sahih Maqtu
Qatadah reported on the authority of Al Hasan the uttering of the words “Your matter is in your hand” amounts to three pronouncements of divorce
حسن سے «أمرك بيدك» کے سلسلہ میں مروی ہے کہ اس سے تین طلاق واقع ہو گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي أَمْرُكِ بِيَدِكِ . قَالَ ثَلاَثٌ .
#2206
Daif
Nafi' bun Ujair bin Abd Yazid bin Ruknah reported Ruknah bin ‘Abd Yazid divorced his wife Suhaimah absolutely. The Prophet (ﷺ) was informed about this matter. He said to him (the Prophet) I swear by Allaah that I meant it to be only a single utterance of divorce. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “I swear by Allaah that I meant it to be only a single divorce. The Apostle of Allaah(ﷺ) restored her to him, Then he divorced her the second time in the time of ‘Umar and the third time of ‘Uthman. Abu Dawud said “This tradition contains the words of Ibrahim in its beginning and the words of Ibn Al Sarh in the end
نافع بن عجیر بن عبد یزید بن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی سہیمہ کو طلاق بتہ ۱؎ ( قطعی طلاق ) دے دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی اور کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی تم نے صرف ایک کی نیت کی تھی؟ رکانہ نے کہا: قسم اللہ کی میں نے صرف ایک کی نیت کی تھی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی انہیں واپس لوٹا دی، پھر انہوں نے اسے دوسری طلاق عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں دی اور تیسری عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْكَلْبِيُّ أَبُو ثَوْرٍ، - فِي آخَرِينَ - قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي، مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ وَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلاَّ وَاحِدَةً . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ وَاحِدَةً " . فَقَالَ رُكَانَةُ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلاَّ وَاحِدَةً . فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَوَّلُهُ لَفْظُ إِبْرَاهِيمَ وَآخِرُهُ لَفْظُ ابْنِ السَّرْحِ .
#2207
Daif
The tradition mentioned above has also been transmitted by Rukanah bin Yazid from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators
اس سند سے بھی رکانہ بن عبد یزید سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُمْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنِي عَمِّي، مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ عَنِ ابْنِ السَّائِبِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ، عَنْ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ .
#2208
Daif
Ali b. Yazid b. Rukanah reported on the authority of his father from his grandfather that he (Rukanah) divorced his wife absolutely; so he came to the Messenger of Allah (ﷺ). He asked (him):What did you intend? He said: A single utterance of divorce. He said: Do you swear by Allah? He replied: I swear by Allah. He said: It stands as you intended. Abu Dawud said: This tradition is sounder than that of Ibn Juraij that Rukanah divorced his wife by three pronouncements, for they are the members of his family and they are more aware for him. The tradition of Ibn Juraij has been narrated by some children of Abu Rafi' from 'Ikrimah on the authority of Ibn 'Abbas
رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے پوچھا: تم نے کیا نیت کی تھی؟ انہوں نے کہا: ایک کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا تم نے ارادہ کیا ہے وہی ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت ابن جریج والی روایت سے زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تھی کیونکہ یہ روایت ان کے اہل خانہ کی بیان کردہ ہے اور وہ حقیقت حال سے زیادہ واقف ہیں اور ابن جریج والی روایت بعض بنی رافع ( جو ایک مجہول ہے ) سے منقول ہے جسے وہ عکرمہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، ( دیکھئیے حدیث نمبر:)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا أَرَدْتَ " . قَالَ وَاحِدَةً . قَالَ " آللَّهِ " . قَالَ آللَّهِ . قَالَ " هُوَ عَلَى مَا أَرَدْتَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَّ رُكَانَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا لأَنَّهُمْ أَهْلُ بَيْتِهِ وَهُمْ أَعْلَمُ بِهِ وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ رَوَاهُ عَنْ بَعْضِ بَنِي أَبِي رَافِعٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
#2209
Sahih
Abu Hurairah reported the Prophet (ﷺ) as saying “Allah has ignored for my community what comes to their mind, so long as they do not act or pronounce words to that effect.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے ان چیزوں کو معاف کر دیا ہے جنہیں وہ زبان پر نہ لائے یا ان پر عمل نہ کرے، اور ان چیزوں کو بھی جو اس کے دل میں گزرے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لأُمَّتِي عَمَّا لَمْ تَتَكَلَّمْ بِهِ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ وَبِمَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا " .
#2210
Daif
Narrated Tamimah al-Hujayni: A man said to his wife: O my younger sister! The Messenger of Allah (ﷺ)said: Is she your sister? He (the Prophet disliked it and prohibited saying so)
ابوتمیمہ ہجیمی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اے چھوٹی بہن! کہہ کر پکارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ تیری بہن ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند فرمایا اور اس سے منع کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، وَخَالِدٌ الطَّحَّانُ، - الْمَعْنَى - كُلُّهُمْ عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ لاِمْرَأَتِهِ يَا أُخَيَّةُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُخْتُكَ هِيَ " . فَكَرِهَ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْهُ .
#2211
Daif
Abu Tamimah reported from a man of his tribe “The Prophet (ﷺ) heard a man say his wife “O my younger sister! So he prohibited him (addressing his wife in this manner) Abu Dawud said “This tradition has also been transmitted by ‘Abd Al Aziz bin Al Mukhtar from Khalid from Abu ‘Uthman from Abu Thamimah from the Prophet (ﷺ). This has also been narrated by Shu’bah from Khalid from a man on the authority of Abu Thamimah from the Prophet (ﷺ)
ابو تمیمہ سے روایت ہے، وہ اپنی قوم کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنی بیوی کو اے چھوٹی بہن! کہہ کر پکارتے ہوئے سنا تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالعزیز بن مختار نے خالد سے خالد نے ابوعثمان سے اور ابوعثمان نے ابو تمیمہ سے اور ابوتمیمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، نیز اسے شعبہ نے خالد سے خالد نے ایک شخص سے اس نے ابو تمیمہ سے اور ابو تمیمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ، - يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ - عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ قَوْمِهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ رَجُلاً، يَقُولُ لاِمْرَأَتِهِ " يَا أُخَيَّةُ " . فَنَهَاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#2212
Sahih
Abu Hurairah reported the Prophet(ﷺ) as saying Abraham(peace be upon him) never told a lie except on three occasions twice for the sake of Allaah. Allaah quoted his words (in the Qur’an) “I am indeed sick” and “Nay, this was done by - this is their biggest one”. Once he was passing through the land of a tyrant (king). He stayed there in a place. People went to the tyrant and informed him saying “A man has come down here; he has a most beautiful woman with him.” So he sent for him (Abraham) and asked about her. He said she is my sister. When he returned to her, he said “he asked me about you and I informed him that you were my sister. Today there is no believer except me and you. You are my sister in the Book of Allaah (i.e., sister in faith). So do not belie me before him. The narrator then narrated the rest of the tradition. Abu Dawud said “A similar tradition has also been narrated by Shu’aib bin Abi Hamza from Abi Al Zinad from Al A’raj on the authority of Abu Hurairah from the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین جھوٹ بولے ۱؎ جن میں سے دو اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے تھے، پہلا جب انہوں نے کہا کہ میں بیمار ہوں ۲؎، دوسرا جب انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا: بلکہ یہ تو ان کے اس بڑے کی کارستانی ہے، تیسرا اس موقعہ پر جب کہ وہ ایک سرکش بادشاہ کے ملک سے گزر رہے تھے ایک مقام پر انہوں نے قیام فرمایا تو اس سرکش تک یہ بات پہنچی، اور اسے بتایا گیا کہ یہاں ایک شخص ٹھہرا ہوا ہے اور اس کے ساتھ ایک انتہائی خوبصورت عورت ہے، چنانچہ اس نے ابراہیم علیہ السلام کو بلوایا اور عورت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا: یہ تو میری بہن ہے ، جب وہ لوٹ کر بیوی کے پاس آئے تو انہوں نے بتایا کہ اس نے مجھ سے تمہارے بارے میں دریافت کیا تو میں نے اسے یہ بتایا ہے کہ تم میری بہن ہو کیونکہ آج میرے اور تمہارے علاوہ کوئی بھی مسلمان نہیں ہے لہٰذا تم میری دینی بہن ہو، تو تم اس کے پاس جا کر مجھے جھٹلا نہ دینا ، اور پھر پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعیب بن ابی حمزہ نے ابوالزناد سے ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " أَنَّ إِبْرَاهِيمَ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَكْذِبْ قَطُّ إِلاَّ ثَلاَثًا ثِنْتَانِ فِي ذَاتِ اللَّهِ تَعَالَى قَوْلُهُ { إِنِّي سَقِيمٌ } وَقَوْلُهُ { بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا } وَبَيْنَمَا هُوَ يَسِيرُ فِي أَرْضِ جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ إِذْ نَزَلَ مَنْزِلاً فَأُتِيَ الْجَبَّارُ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ نَزَلَ هَا هُنَا رَجُلٌ مَعَهُ امْرَأَةٌ هِيَ أَحْسَنُ النَّاسِ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ عَنْهَا فَقَالَ إِنَّهَا أُخْتِي . فَلَمَّا رَجَعَ إِلَيْهَا قَالَ إِنَّ هَذَا سَأَلَنِي عَنْكِ فَأَنْبَأْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي وَإِنَّهُ لَيْسَ الْيَوْمَ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ وَإِنَّكِ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلاَ تُكَذِّبِينِي عِنْدَهُ " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذَا الْخَبَرَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
#2213
Hasan
Narrated Salamah ibn Sakhr al-Bayadi: I was a man who was more given than others to sexual intercourse with women. When the month of Ramadan came, I feared lest I should have intercourse with my wife, and this evil should remain with me till the morning. So I made my wife like my mother's back to me till the end of Ramadan. But one night when she was waiting upon me, something of her was revealed. Suddenly I jumped upon her. When the morning came I went to my people and informed them about this matter. I said: Go along with me to the Messenger of Allah (ﷺ). They said: No, by Allah. So I went to the Prophet (peace be upon him and informed him of the matter. He said: Have you really committed it, Salamah? I said: I committed it twice, Messenger of Allah. I am content with the Commandment of Allah, the Exalted; so take a decision about me according to what Allah has shown you. He said: Free a slave. I said: By Him Who sent you with truth, I do not possess a neck other than this: and I struck the surface of my neck. He said: Then fast two consecutive months. I said: Whatever I suffered is due to fasting. He said: Feed sixty poor people with a wasq of dates. I said: By Him Who sent you with truth, we passed the night hungry; there was no food in our house. He said: Then go to the collector of sadaqah of Banu Zurayq; he must give it to you. Then feed sixty poor people with a wasq of dates; and you and your family eat the remaining dates. Then I came back to my people, and said (to them): I found with you poverty and bad opinion; and I found with the Prophet (ﷺ) prosperity and good opinion. He has commanded me to give alms to you. Ibn al-Ala' added: Ibn Idris said: Bayadah is a sub-clan of Banu Zurayq
سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ لوگوں کے مقابلے میں میں کچھ زیادہ ہی عورتوں کا شوقین تھا، جب ماہ رمضان آیا تو مجھے ڈر ہوا کہ اپنی بیوی کے ساتھ کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھوں جس کی برائی صبح تک پیچھا نہ چھوڑے چنانچہ میں نے ماہ رمضان کے ختم ہونے تک کے لیے اس سے ظہار کر لیا۔ ایک رات کی بات ہے وہ میری خدمت کر رہی تھی کہ اچانک اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر آ گیا تو میں اس سے صحبت کئے بغیر نہیں رہ سکا، پھر جب میں نے صبح کی تو میں اپنی قوم کے پاس آیا اور انہیں سارا ماجرا سنایا، نیز ان سے درخواست کی کہ وہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں، وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم یہ نہیں ہو سکتا تو میں خود ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری بات بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلمہ! تم نے ایسا کیا؟ میں نے جواب دیا: ہاں اللہ کے رسول، مجھ سے یہ حرکت ہو گئی، دو بار اس طرح کہا، میں اللہ کا حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں، تو آپ میرے بارے میں حکم کیجئے جو اللہ آپ کو سجھائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک گردن آزاد کرو ، میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اس کے علاوہ میرے پاس کوئی گردن نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھو ، میں نے کہا: میں تو روزے ہی کے سبب اس صورت حال سے دوچار ہوا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ ، میں نے جواب دیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہم دونوں تو رات بھی بھوکے سوئے، ہمارے پاس کھانا ہی نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی زریق کے صدقے والے کے پاس جاؤ، وہ تمہیں اسے دے دیں گے اور ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور جو بچے اسے تم خود کھا لینا، اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دینا ، اس کے بعد میں نے اپنی قوم کے پاس آ کر کہا: مجھے تمہارے پاس تنگی اور غلط رائے ملی جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گنجائش اور اچھی رائے ملی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یا میرے لیے تمہارے صدقے کا حکم فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، - قَالَ ابْنُ الْعَلاَءِ ابْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ عَيَّاشٍ - عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ، - قَالَ ابْنُ الْعَلاَءِ الْبَيَاضِيِّ - قَالَ كُنْتُ امْرَأً أُصِيبُ مِنَ النِّسَاءِ مَا لاَ يُصِيبُ غَيْرِي فَلَمَّا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ خِفْتُ أَنْ أُصِيبَ مِنَ امْرَأَتِي شَيْئًا يُتَابَعُ بِي حَتَّى أُصْبِحَ فَظَاهَرْتُ مِنْهَا حَتَّى يَنْسَلِخَ شَهْرُ رَمَضَانَ فَبَيْنَمَا هِيَ تَخْدُمُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذْ تَكَشَّفَ لِي مِنْهَا شَىْءٌ فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ نَزَوْتُ عَلَيْهَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ خَرَجْتُ إِلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمُ الْخَبَرَ وَقُلْتُ امْشُوا مَعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالُوا لاَ وَاللَّهِ . فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ " أَنْتَ بِذَاكَ يَا سَلَمَةُ " . قُلْتُ أَنَا بِذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ وَأَنَا صَابِرٌ لأَمْرِ اللَّهِ فَاحْكُمْ فِيَّ مَا أَرَاكَ اللَّهُ قَالَ " حَرِّرْ رَقَبَةً " . قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَمْلِكُ رَقَبَةً غَيْرَهَا وَضَرَبْتُ صَفْحَةَ رَقَبَتِي قَالَ " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " . قَالَ وَهَلْ أُصِبْتُ الَّذِي أُصِبْتُ إِلاَّ مِنَ الصِّيَامِ قَالَ " فَأَطْعِمْ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ سِتِّينَ مِسْكِينًا " . قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا وَحْشَيْنِ مَا لَنَا طَعَامٌ قَالَ " فَانْطَلِقْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَكُلْ أَنْتَ وَعِيَالُكَ بَقِيَّتَهَا " . فَرَجَعْتُ إِلَى قَوْمِي فَقُلْتُ وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ وَسُوءَ الرَّأْىِ وَوَجَدْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم السَّعَةَ وَحُسْنَ الرَّأْىِ وَقَدْ أَمَرَنِي - أَوْ أَمَرَ لِي - بِصَدَقَتِكُمْ زَادَ ابْنُ الْعَلاَءِ قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ بَيَاضَةُ بَطْنٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ .
#2214
Hasan
Narrated Khuwaylah, daughter of Malik ibn Tha'labah: My husband, Aws ibn as-Samit, pronounced the words: You are like my mother. So I came to the Messenger of Allah (ﷺ), complaining to him about my husband. The Messenger of Allah (ﷺ) disputed with me and said: Remain dutiful to Allah; he is your cousin. I continued (complaining) until the Qur'anic verse came down: "Certainly has Allah heard the speech of the one who argues with you, [O Muhammad], concerning her husband..." [58:1] till the prescription of expiation. He then said: He should set free a slave. She said: He cannot afford it. He said: He should fast for two consecutive months. She said: Messenger of Allah, he is an old man; he cannot keep fasts. He said: He should feed sixty poor people. She said: He has nothing which he may give in alms. At that moment an araq (i.e. date-basket holding fifteen or sixteen sa's) was brought to him. I said: I shall help him with another date-basked ('araq). He said: You have done well. Go and feed sixty poor people on his behalf, and return to your cousin. The narrator said: An araq holds sixty sa's of dates. Abu Dawud said: She atoned on his behalf without seeking his permission. Abu Dawud said: This man (Aws b. al-Samit) is the brother of 'Ubadah b. al-Samit
خویلہ بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر اوس بن صامت نے مجھ سے ظہار کر لیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں آپ سے شکایت کر رہی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ان کے بارے میں جھگڑ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اللہ سے ڈر، وہ تیرا چچا زاد بھائی ہے ، میں وہاں سے ہٹی بھی نہ تھی کہ یہ آیت نازل ہوئی: «قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها» اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی گفتگو سن لی ہے جو آپ سے اپنے شوہر کے متعلق جھگڑ رہی تھی ( سورۃ المجادلہ: ۱ ) ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک گردن آزاد کریں ، کہنے لگیں: ان کے پاس نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ دو مہینے کے پے در پے روزے رکھیں ، کہنے لگیں: اللہ کے رسول! وہ بوڑھے کھوسٹ ہیں انہیں روزے کی طاقت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں ، کہنے لگیں: ان کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ کہتی ہیں: اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کی ایک زنبیل آ گئی، میں نے کہا: اللہ کے رسول ( آپ یہ دے دیجئیے ) ایک اور زنبیل میں دے دوں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک ہی کہا ہے، لے جاؤ اور ان کی جانب سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو، اور اپنے چچا زاد بھائی ( یعنی شوہر ) کے پاس لوٹ جاؤ ۔ راوی کا بیان ہے کہ زنبیل ساٹھ صاع کی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کہ اس عورت نے اپنے شوہر سے مشورہ کئے بغیر اس کی جانب سے کفارہ ادا کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عبادہ بن صامت کے بھائی ہیں۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ، عَنْ خُوَيْلَةَ بِنْتِ مَالِكِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قَالَتْ ظَاهَرَ مِنِّي زَوْجِي أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَشْكُو إِلَيْهِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُجَادِلُنِي فِيهِ وَيَقُولُ " اتَّقِي اللَّهَ فَإِنَّهُ ابْنُ عَمِّكِ " . فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ { قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا } إِلَى الْفَرْضِ فَقَالَ " يُعْتِقُ رَقَبَةً " . قَالَتْ لاَ يَجِدُ قَالَ " فَيَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " . قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَا بِهِ مِنْ صِيَامٍ . قَالَ " فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " . قَالَتْ مَا عِنْدَهُ مِنْ شَىْءٍ يَتَصَدَّقُ بِهِ قَالَتْ فَأُتِيَ سَاعَتَئِذٍ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنِّي أُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ . قَالَ " قَدْ أَحْسَنْتِ اذْهَبِي فَأَطْعِمِي بِهَا عَنْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَارْجِعِي إِلَى ابْنِ عَمِّكِ " . قَالَ وَالْعَرَقُ سِتُّونَ صَاعًا قَالَ أَبُو دَاوُدَ فِي هَذَا إِنَّهَا كَفَّرَتْ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْتَأْمِرَهُ . وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا أَخُو عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ .
#2215
Hasan
A similar tradition has been transmitted by Ibn Ishaq with a different chain of narrators. But in this version he said ‘Araq is a date-basket holding thirty sa’s. Abu Dawud said “This version is sounder than that of Yahya bin Adam.”
اس سند سے بھی ابن اسحاق سے اسی طرح کی روایت منقول ہے لیکن اس میں ہے کہ «عرق» ایسی زنبیل ہے جس میں تیس صاع کے بقدر کھجور آتی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث یحییٰ بن آدم کی روایت کے مقابلے میں زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الأَصْبَغِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ وَالْعَرَقُ مِكْتَلٌ يَسَعُ ثَلاَثِينَ صَاعًا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ آدَمَ .
#2216
Sahih
Another version transmitted by Abu Salamah bin ‘Abd Al Rahman has ‘Araq is a date-basket holding fifteen sa’s
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ «عرق» سے مراد ایسی زنبیل ہے جس میں پندرہ صاع کھجوریں آ جائیں ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ يَعْنِي بِالْعَرَقِ زَنْبِيلاً يَأْخُذُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا .
#2217
Hasan
The tradition mentioned above has been transmitted by Sulaiman bin Yasar. This version has “Then some dates were brought to the Apostle of Allaah(ﷺ) and he gave it him. They measured about fifteen sa’s “. He said “Give them in alms”. He said “Is there anyone needier than I and my family. Apostle of Allaah(ﷺ)?” The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Eat them, you and your family.”
لیمان بن یسار سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں آئیں تو آپ نے وہ انہیں دے دیں، وہ تقریباً پندرہ صاع تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں صدقہ کر دو ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھ سے اور میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی ضرورت مند نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اور تمہارے گھر والے ہی انہیں کھا لو ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، بِهَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِتَمْرٍ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا قَالَ " تَصَدَّقْ بِهَذَا " . قَالَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي وَمِنْ أَهْلِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُكَ " .
#2218
Sahih
Abu Dawud said “I recited to Muhammad bin Wazir Al Misri and said to him Bishr bin Bakr narrated it to you and Al Auza’i narrated it to us. And he said “At’a narrated it to us on the authority of Aus brother of ‘Ubadah bin Al Samit. The Prophet (ﷺ) gave him fifteen sa’s of wheat to feed sixty poor people. Abu Dawud said At’a did not meet Aws (bin Al Samit) who was one of the people of Badr and died in the early days of Islam. This version is therefore, mursal (i.e., a successor narrated it directly from the Prophet (ﷺ), the link of the Companions is missing). This has been narrated by Al Auza’i from At’a from Aus
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پندرہ صاع جو دی تاکہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عطا نے اوس کو نہیں پایا ہے اور وہ بدری صحابی ہیں ان کا انتقال بہت پہلے ہو گیا تھا، لہٰذا یہ حدیث مرسل ہے، اور لوگوں نے اسے اوزاعی سے اوزاعی نے عطاء سے روایت کیا اس میں «عن أوس» کے بجائے «أوسا» ہے۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَرَأْتُ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ وَزِيرٍ الْمِصْرِيِّ قُلْتُ لَهُ حَدَّثَكُمْ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ أَوْسٍ، أَخِي عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ إِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَعَطَاءٌ لَمْ يُدْرِكْ أَوْسًا وَهُوَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ قَدِيمُ الْمَوْتِ وَالْحَدِيثُ مُرْسَلٌ وَإِنَّمَا رَوَوْهُ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ أَوْسًا .
#2219
Sahih
Narrated Hisham b. 'Urwah: Khawlah was the wife of Aws ibn as-Samit; he was a man immensely given to sexual intercourse. When his desire for intercourse was intensified, he made his wife like his mother's back. So Allah, the Exalted, sent down Qur'anic verses relating to expiation for zihar
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ جمیلہ رضی اللہ عنہا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، اور وہ عورتوں کے دیوانے تھے جب ان کی دیوانگی بڑھ جاتی تو وہ اپنی عورت سے ظہار کر لیتے، اللہ تعالیٰ نے انہیں کے متعلق ظہار کے کفارے کا حکم نازل فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ جَمِيلَةَ، كَانَتْ تَحْتَ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ وَكَانَ رَجُلاً بِهِ لَمَمٌ فَكَانَ إِذَا اشْتَدَّ لَمَمُهُ ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ كَفَّارَةَ الظِّهَارِ .
#2220
Sahih
A similar tradition has been transmitted by A’ishah through a different chain of narrators
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی کے مثل مروی ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، مِثْلَهُ .
#2221
Sahih
Narrated Ikrimah: A man made his wife like the back of his mother. He then had intercourse with her before he atoned for it. He came to the Prophet (ﷺ) and informed him of this matter. He asked (him): What moved you to the action you have committed? He replied: I saw the whiteness of her shins in moon light. He said: Keep away from her until you expiate for your deed
عکرمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی وہ اس سے صحبت کر بیٹھا چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس فعل پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: چاندنی رات میں میں نے اس کی پنڈلی کی سفیدی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اس سے اس وقت تک الگ رہو جب تک کہ تم اپنی طرف سے کفارہ ادا نہ کر دو ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ رَجُلاً، ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ ثُمَّ وَاقَعَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ " مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ " . قَالَ رَأَيْتُ بَيَاضَ سَاقَيْهَا فِي الْقَمَرِ . قَالَ " فَاعْتَزِلْهَا حَتَّى تُكَفِّرَ عَنْكَ " .
#2222
Sahih
‘Ikrimah said “A man made his wife like the back of his mother. When he saw the illumination of her shin in the moonlight, he had intercourse with her. He came to the Prophet (ﷺ). He ordered him to atone for it
عکرمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر اس نے چاندنی میں اس کی پنڈلی کی چمک دیکھی، تو اس سے صحبت کر بیٹھا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اسے کفارہ ادا کرنے کا حکم فرمایا۔
حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ رَجُلاً، ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ فَرَأَى بَرِيقَ سَاقِهَا فِي الْقَمَرِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّرَ .
#2223
Sahih
A similar tradition has been transmitted by Ibn ‘Abbas from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators. This version does not mention the word “shin”
اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اسی طرح روایت ہے لیکن اس میں پنڈلی کا ذکر نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرِ السَّاقَ .
#2224
Sahih
A tradition similar to that of Sufyan has been transmitted by ‘Ikrimah from the Prophet(ﷺ) through a different chain of narrators
اس سند سے بھی عکرمہ سے سے سفیان کی حدیث ( نمبر: ۲۲۲۱ ) کی طرح روایت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنِي مُحَدِّثٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِ سُفْيَانَ .
#2225
Sahih
Abu Dawud said “I heard Muhammad bin Isa narrating this tradition who said Mu’tamar narrated it to us. And he (Mu’tamar) said “ I heard Al Hakam bin Aban narrating this tradition. He did not mention the name of Ibn ‘Abbas. Abu Dawud said “Al Hussain bin Huraith wrote to me saying “Al Fadl bin Musa narrated from Ibn ‘Abbas to the same effect from the Prophet(ﷺ)
ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن عیسیٰ کو اسے بیان کرتے سنا ہے، وہ کہتے ہیں ہم سے معتمر نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: میں نے حکم بن ابان کو یہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ اسے عکرمہ سے روایت کر رہے تھے اس میں انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے حسین بن حریث نے لکھا وہ کہتے ہیں کہ مجھے فضل بن موسیٰ نے خبر دی ہے وہ معمر سے وہ حکم بن ابان سے وہ عکرمہ سے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عِيسَى، يُحَدِّثُ بِهِ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ أَبَانَ، يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ عَنْ عِكْرِمَةَقَالَ أَبُو دَاوُدَ كَتَبَ إِلَىَّ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، بِمَعْنَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .