#2101
Sahih
Khansa’ daughter of Khidham al-Ansariyyah reports that when her father married her when she had previously been married and she disapproved of that she went to the Apostle of Allaah(ﷺ) and mentioned it to him. He (the Prophet) revoked her marriage
خنسا بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا اور وہ ثیبہ تھیں تو انہوں نے اسے ناپسند کیا چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ان کا نکاح رد کر دیا۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعٍ، ابْنَىْ يَزِيدَ الأَنْصَارِيَّيْنِ عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِدَامٍ الأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ أَبَاهَا، زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَرَدَّ نِكَاحَهَا .
#2102
Hasan
Narrated AbuHurayrah: AbuHind cupped the Prophet (ﷺ) in the middle of his head. The Prophet (ﷺ) said: Banu Bayadah, marry AbuHind (to your daughter), and ask him to marry (his daughter) to you. He said: The best thing by which you treat yourself is cupping
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوہند نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چندیا میں پچھنا لگایا تو آپ نے فرمایا: بنی بیاضہ کے لوگو! ابوہند سے تم ( اپنی بچیوں کی ) شادی کرو اور ( ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے ) تم انہیں نکاح کا پیغام دو ۱؎ ، اور فرمایا: تین چیزوں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں کسی چیز میں خیر ہے تو وہ پچھنا لگانا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَبَا هِنْدٍ، حَجَمَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي الْيَافُوخِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا بَنِي بَيَاضَةَ أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدٍ وَانْكِحُوا إِلَيْهِ " . قَالَ " وَإِنْ كَانَ فِي شَىْءٍ مِمَّا تَدَاوَوْنَ بِهِ خَيْرٌ فَالْحِجَامَةُ " .
#2103
Daif
Narrated Maymunah, daughter of Kardam: I went out along with my father during the hajj performed by the Messenger of Allah (ﷺ). I saw the Messenger of Allah (ﷺ). My father came near him; he was riding his she-camel. He stopped there and listened to him. He had a whip like the whip of the teachers. I heard the Bedouin and the people saying: Keep away from the whip. My father came up to him. He caught hold of his foot and acknowledged him (his Prophethood). He stopped and listened to him. He then said: I participated in the army of Athran (in the pre-Islamic days). The narrator, Ibn al-Muthanna, said: Army of Gathran. Tariq ibn al-Muraqqa' said: Who will give me a lance and get a reward? I asked: What is its reward? He replied: I shall marry him to my first daughter born to me. So I gave him my lance and then disappeared from him till I knew that a daughter was born to him and she came of age. I then came to him and said: Send my wife to me. He swore that he would not do that until I fixed a dower afresh other than that agreed between me and him, and I swore that I should not give him the dower other than that I had given him before. The Messenger of Allah (ﷺ) said: How old is she now? He said: She has grown old. He said: I think you should leave her. He said: This put awe and fear into me, and I looked at the Messenger of Allah (ﷺ). When he felt this in me, he said: You will not be sinful, nor will your companion be sinful. Abu Dawud said: Qatir means old age
سارہ بنت مقسم نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں اپنے والد کے ساتھ نکلی، میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچے، آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے تو وہ آپ کے پاس کھڑے ہو گئے، اور آپ کی باتیں سننے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معلموں کے درے کی طرح ایک درہ تھا، میں نے بدوؤں نیز دیگر لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ تھپتھپانے سے بچو، تھپتھپانے سے بچو تھپتھپانے سے بچو ۱؎۔ میرے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب جا کر آپ کا پیر پکڑ لیا اور آپ کے رسول ہونے کا اقرار کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہرے رہے اور آپ کی بات کو غور سے سنا، پھر کہا کہ میں لشکر عثران ( یہ جاہلیت کی جنگ ہے ) میں حاضر تھا، ( ابن مثنی کی روایت میں جیش عثران کے بجائے جیش غثران ہے ) تو طارق بن مرقع نے کہا: مجھے اس کے عوض میں نیزہ کون دیتا ہے؟ میں نے پوچھا: اس کا عوض کیا ہو گا؟ کہا: میری جو پہلی بیٹی ہو گی اس کے ساتھ اس کا نکاح کر دوں گا، چنانچہ میں نے اپنا نیزہ اسے دے دیا اور غائب ہو گیا، جب مجھے پتہ چلا کہ اس کی بیٹی ہو گئی اور جوان ہو گئی ہے تو میں اس کے پاس پہنچ گیا اور اس سے کہا کہ میری بیوی کو میرے ساتھ رخصت کرو تو وہ قسم کھا کر کہنے لگا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا، جب تک کہ میں اسے مہر جدید ادا نہ کر دوں اس عہد و پیمان کے علاوہ جو میرے اور اس کے درمیان ہوا تھا، میں نے بھی قسم کھا لی کہ جو میں اسے دے چکا ہوں اس کے علاوہ کوئی اور مہر نہیں دے سکتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اب وہ کن عورتوں کی عمر میں ہے ( یعنی اس کی عمر اس وقت کیا ہے ) ، اس نے کہا: وہ بڑھاپے کو پہنچ گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری رائے ہے کہ تم اسے جانے دو ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات نے مجھے گھبرا دیا میں آپ کی جانب دیکھنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری جب یہ حالت دیکھی تو فرمایا: ( گھبراؤ مت ) نہ تم گنہگار ہو گے اور نہ ہی تمہارا ساتھی ۲؎ گنہگار ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: روایت میں وارد لفظ «قتیر» کا مطلب بڑھاپا ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ الثَّقَفِيُّ، - مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ - حَدَّثَتْنِي سَارَّةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ مَيْمُونَةَ بِنْتَ كَرْدَمٍ، قَالَتْ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي فِي حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَنَا إِلَيْهِ أَبِي وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ فَوَقَفَ لَهُ وَاسْتَمَعَ مِنْهُ وَمَعَهُ دِرَّةٌ كَدِرَّةِ الْكُتَّابِ فَسَمِعْتُ الأَعْرَابَ وَالنَّاسَ وَهُمْ يَقُولُونَ الطَّبْطَبِيَّةَ الطَّبْطَبِيَّةَ الطَّبْطَبِيَّةَ فَدَنَا إِلَيْهِ أَبِي فَأَخَذَ بِقَدَمِهِ فَأَقَرَّ لَهُ وَوَقَفَ عَلَيْهِ وَاسْتَمَعَ مِنْهُ فَقَالَ إِنِّي حَضَرْتُ جَيْشَ عِثْرَانَ - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى جَيْشَ غِثْرَانَ - فَقَالَ طَارِقُ بْنُ الْمُرَقَّعِ مَنْ يُعْطِينِي رُمْحًا بِثَوَابِهِ قُلْتُ وَمَا ثَوَابُهُ قَالَ أُزَوِّجُهُ أَوَّلَ بِنْتٍ تَكُونُ لِي . فَأَعْطَيْتُهُ رُمْحِي ثُمَّ غِبْتُ عَنْهُ حَتَّى عَلِمْتُ أَنَّهُ قَدْ وُلِدَ لَهُ جَارِيَةٌ وَبَلَغَتْ ثُمَّ جِئْتُهُ فَقُلْتُ لَهُ أَهْلِي جَهِّزْهُنَّ إِلَىَّ . فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَفْعَلَ حَتَّى أُصْدِقَهُ صَدَاقًا جَدِيدًا غَيْرَ الَّذِي كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَحَلَفْتُ لاَ أُصْدِقُ غَيْرَ الَّذِي أَعْطَيْتُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَبِقَرْنِ أَىِّ النِّسَاءِ هِيَ الْيَوْمَ " . قَالَ قَدْ رَأَتِ الْقَتِيرَ . قَالَ " أَرَى أَنْ تَتْرُكَهَا " . قَالَ فَرَاعَنِي ذَلِكَ وَنَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ مِنِّي قَالَ " لاَ تَأْثَمُ وَلاَ يَأْثَمُ صَاحِبُكَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْقَتِيرُ الشَّيْبُ .
#2104
Daif
Ibrahim bin Maisarah reported from his maternal aunt who reported on the authority of a woman called Mussaddaqah (a truthful woman). She said “In pre Islamic days, when my father participated in a battle the feet of the people burnt due to intense heat. Thereupon a man said “Who gives me his shoes, I shall marry him to my first daughter born to me. My father took off his shoes and there them before him. A girl was thereafter born to him and came of age.” The narrator then mentioned a similar story. But he did not mention that she had grown old
ابراہیم بن میسرہ کی روایت ہے کہ ایک عورت جو نہایت سچی تھی، کہتی ہے: میرے والد زمانہ جاہلیت میں ایک غزوہ میں تھے کہ ( تپتی زمین سے ) لوگوں کے پیر جلنے لگے، ایک شخص بولا: کوئی ہے جو مجھے اپنی جوتیاں دیدے؟ اس کے عوض میں پہلی لڑکی جو میرے یہاں ہو گی اس سے اس کا نکاح کر دوں گا، میرے والد نے جوتیاں نکالیں اور اس کے سامنے ڈال دیں، اس کے یہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی اور پھر وہ بالغ ہو گئی، پھر اسی جیسا قصہ بیان کیا لیکن اس میں «قتیر» کا واقعہ مذکور نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، أَنَّ خَالَتَهُ، أَخْبَرَتْهُ عَنِ امْرَأَةٍ، قَالَتْ هِيَ مُصَدَّقَةٌ امْرَأَةُ صِدْقٍ قَالَتْ بَيْنَا أَبِي فِي غَزَاةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذْ رَمِضُوا فَقَالَ رَجُلٌ مَنْ يُعْطِينِي نَعْلَيْهِ وَأُنْكِحُهُ أَوَّلَ بِنْتٍ تُولَدُ لِي فَخَلَعَ أَبِي نَعْلَيْهِ فَأَلْقَاهُمَا إِلَيْهِ فَوُلِدَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَبَلَغَتْ وَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْقَتِيرِ .
#2105
Sahih
Abu Salamah said “I asked A’ishah about the dower given by the Apostle of Allaah(ﷺ). She said “It was twelve Uqiyahs and a nashsh”. I asked “What is nashsh?” She said it is half an uqiyah
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( کی ازواج مطہرات ) کے مہر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا ۱؎، میں نے کہا: نش کیا ہے؟ فرمایا: آدھا اوقیہ ۲؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - عَنْ صَدَاقِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ ثِنْتَا عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشٌّ . فَقُلْتُ وَمَا نَشٌّ قَالَتْ نِصْفُ أُوقِيَّةٍ .
#2106
Hasan Sahih
AbulAjfa' as-Sulami said:Umar (Allah be pleased with him) delivered a speech to us and said: Do not go to extremes in giving women their dower, for if it represented honour in this world and piety in Allah's sight, the one of you most entitled to do so would have been the Prophet (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) did not marry any of his wives or gave any of his daughters in marriage for more than twelve uqiyahs
ابوعجفاء سلمی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے، اللہ ان پر رحم کرے، ہمیں خطاب فرمایا اور کہا: خبردار! عورتوں کے مہر بڑھا چڑھا کر مت باندھو اس لیے کہ اگر یہ ( مہر کی زیادتی ) دنیا میں باعث شرف اور اللہ کے یہاں تقویٰ اور پرہیزگاری کا ذریعہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ حقدار تھے، آپ نے تو اپنی کسی بھی بیوی اور بیٹی کا بارہ اوقیہ ( چار سو اسی درہم ) سے زیادہ مہر نہیں رکھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ، قَالَ خَطَبَنَا عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَالَ أَلاَ لاَ تُغَالُوا بِصُدُقِ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ لَكَانَ أَوْلاَكُمْ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَا أَصْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَلاَ أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ أَكْثَرَ مِنْ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً .
#2107
Sahih
Urwah reported on the authority of Umm Habibah that she was married to Abdullah ibn Jahsh who died in Abyssinia, so the Negus married her to the Prophet (ﷺ) giving her on his behalf a dower of four thousand (dirhams). He sent her to the Messenger of Allah (ﷺ) with Shurahbil ibn Hasanah. AbuDawud said:Hasanah is his mother
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کہ وہ عبیداللہ بن حجش کے نکاح میں تھیں، حبشہ میں ان کا انتقال ہو گیا تو نجاشی ( شاہ حبشہ ) نے ان کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا، اور آپ کی جانب سے انہیں چار ہزار ( درہم ) مہر دے کر شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روانہ کر دیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حسنہ شرحبیل کی والدہ ۲؎ ہیں۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ فَمَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ فَزَوَّجَهَا النَّجَاشِيُّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَمْهَرَهَا عنه أَرْبَعَةَ آلاَفٍ وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَسَنَةُ هِيَ أُمُّهُ .
#2108
Daif
Az-Zuhri said:The Negus married Umm Habibah daughter of Abu Sufyan to the Messenger of Allah (ﷺ) for a dower of four thousand dirhams. He wrote it to the Messenger of Allah (ﷺ) who accepted it
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ نجاشی ( شاہ حبشہ ) نے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار ہزار درہم کے عوض کر دیا اور یہ بات آپ کو لکھ بھیجی تو آپ نے قبول فرما لیا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ النَّجَاشِيَّ، زَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى صَدَاقٍ أَرْبَعَةِ آلاَفِ دِرْهَمٍ وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَبِلَ .
#2109
Sahih
Narrated Anas:The Messenger of Allah (ﷺ) saw the trace of yellow on 'Abd al-Rahman b. 'Awf. The Prophet (ﷺ) said: What is this ? He replied: Messenger of Allah, I have married a woman. He asked: How much dower did you give her ? He said: A nawat weight of gold. He said: Hold a wedding feast, even if only with a sheep
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جسم پر زعفران کا اثر دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے، پوچھا: اسے کتنا مہر دیا ہے؟ جواب دیا: گٹھلی ( نواۃ ۱؎ ) کے برابر سونا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ کرو چاہے ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو ۲؎ ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَعَلَيْهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَهْيَمْ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً . قَالَ " مَا أَصْدَقْتَهَا " . قَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ . قَالَ " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
#2110
Daif
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone gives as a dower to his wife two handfuls of flour or dates he has made her lawful for him. AbuDawud said: This tradition has been narrated by Abdur Rahman ibn Mahdi, from Salih ibn Ruman, from Abu al-Zubayr on the authority of Jabir as his own statement (not going back to the Prophet). It has also been transmitted by AbuAsim from Salih ibn Ruman , from AbuzZubayr on the authority of Jabir who said: During the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) we used to contract temporary marriage for a handful of grain. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Ibn Juraij from Abu al-Zubair on the authority of Jabir similar to the one narrated by Abu 'Asim
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی عورت کو مہر میں مٹھی بھر ستو یا کھجور دیا تو اس نے ( اس عورت کو اپنے لیے ) حلال کر لیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالرحمٰن بن مہدی نے صالح بن رومان سے انہوں نے ابوزبیر سے انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے ابوعاصم نے صالح بن رومان سے، صالح نے ابو الزبیر سے، ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک مٹھی اناج دے کر متعہ کرتے تھے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ابو الزبیر سے انہوں نے جابر سے ابوعاصم کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جِبْرِيلَ الْبَغْدَادِيُّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمِ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَعْطَى فِي صَدَاقِ امْرَأَةٍ مِلْءَ كَفَّيْهِ سَوِيقًا أَوْ تَمْرًا فَقَدِ اسْتَحَلَّ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ صَالِحِ بْنِ رُومَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفًا وَرَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ رُومَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَسْتَمْتِعُ بِالْقُبْضَةِ مِنَ الطَّعَامِ عَلَى مَعْنَى الْمُتْعَةِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَلَى مَعْنَى أَبِي عَاصِمٍ .
#2111
Sahih
Narrated Sahl b. Sa'd al-Sa'idi :A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah, I have offered myself to you. When she stood for a long time, a man got up and said: Messenger of Allah, marry her to me if you have no need for her. The Messenger of Allah (ﷺ) asked: Have you anything to give her as dower ? He replied: I have nothing by this lower garment of mine. The Messenger of Allah (ﷺ) said: If you give your lower garment, you will sit while you have no lower garment. So look for something else. He said: I do not find anything. He said: Look for something, even though it should be an iron ring. The man sought it but found nothing. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do you know anything from the Qur'an ? He said: Yes, I know surah so and so, which he named. The Messenger of Allah (ﷺ) said: I have given you her in marriage for the part of the Qur'an which you know
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے، پھر وہ کافی دیر کھڑی رہی ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا ) تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! اگر آپ کو حاجت نہیں تو اس سے میرا نکاح کرا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اسے مہر میں ادا کرنے کے لیے کچھ ہے؟ وہ بولا: میرے اس تہبند کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اپنا ازار اسے ( مہر میں ) دے دو گے تو تمہارے پاس تو ازار بھی نہیں رہے گا، لہٰذا کوئی اور چیز تلاش کرو ، وہ بولا: اور تو کچھ بھی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تلاش کرو چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو ، تو اس نے تلاش کیا لیکن اسے کچھ نہ ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تجھے کچھ قرآن یاد ہے؟ کہنے لگا: ہاں فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، ان کا نام لے کر اس نے بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: جو کچھ تجھے قرآن یاد ہے اسی کے ( یاد کرانے کے ) بدلے میں نے اس کے ساتھ تیرا نکاح کر دیا ۱؎ ۔
حَدَّثَنِي الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ . فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلاً فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ " . فَقَالَ مَا عِنْدِي إِلاَّ إِزَارِي هَذَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكَ إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِزَارَكَ جَلَسْتَ وَلاَ إِزَارَ لَكَ فَالْتَمِسْ شَيْئًا " . قَالَ لاَ أَجِدُ شَيْئًا . قَالَ " فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ " . فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَهَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَىْءٌ " . قَالَ نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا . لِسُوَرٍ سَمَّاهَا . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " .
#2112
Daif
A tradition similar to the one narrated above has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version does not mention the lower garment and iron ring. He (the Prophet) said:How much do you memorize from Qur'an? He said: Surat al-Baqarah or the one that follows it. He said: Stand up and teach her twenty verses: she is your wife
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی واقعہ کی طرح مروی ہے لیکن اس میں تہبند اور انگوٹھی کا ذکر نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے قرآن میں سے کیا یاد ہے؟ جواب دیا: سورۃ البقرہ یا اس کے بعد والی سورت تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے بیس آیتیں سکھا دو اور وہ تمہاری بیوی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ عِسْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَحْوَ هَذِهِ الْقِصَّةِ لَمْ يَذْكُرِ الإِزَارَ وَالْخَاتَمَ فَقَالَ " مَا تَحْفَظُ مِنَ الْقُرْآنِ " . قَالَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ أَوِ الَّتِي تَلِيهَا . قَالَ " فَقُمْ فَعَلِّمْهَا عِشْرِينَ آيَةً وَهِيَ امْرَأَتُكَ " .
#2113
Daif
Makhul has also transmitted a tradition like the one narrated by Sahl (b. Sa'd al-Sa'idi). Makhul used to say:This is not lawful for anyone after the Messenger of Allah (ﷺ)
مکحول سے بھی سہل کی روایت کی طرح مروی ہے، مکحول کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لیے یہ درست نہیں۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، نَحْوَ خَبَرِ سَهْلٍ قَالَ وَكَانَ مَكْحُولٌ يَقُولُ لَيْسَ ذَلِكَ لأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#2114
Sahih
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: Masruq said on the authority of Abdullah ibn Mas'ud: Abdullah (ibn Mas'ud ) was asked about a man who had married a woman without cohabiting with her or fixing any dower for her till he died. Ibn Mas'ud said: She should receive the full dower (as given to women of her class), observe the waiting period ('Iddah), and have her share of inheritance. Thereupon Ma'qil ibn Sinan said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) giving the same decision regarding Birwa' daughter of Washiq (as the decision you have given)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں مروی ہے جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور پھر اس سے ہمبستری کرنے سے پہلے اور اس کا مہر متعین کرنے سے پہلے وہ انتقال کر گیا تو انہوں نے کہا: اس عورت کو پورا مہر ملے گا اور اس پر عدت لازم ہو گی اور اسے میراث سے حصہ ملے گا۔ اس پر معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے بروع بنت واشق کے سلسلے میں اسی کا فیصلہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ عَنْهَا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا الصَّدَاقَ فَقَالَ لَهَا الصَّدَاقُ كَامِلاً وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ . فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِهِ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ .
#2115
Daif
The aforesaid tradition has also been transmitted by 'Alqamah on the authority of 'Abd Allah. 'Uthman (b. Abi Shaibah) narrated a similar tradition
اس سند سے بھی عبداللہ سے مروی ہے عثمان نے اسی کے مثل روایت بیان کی۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَابْنُ، مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَاقَ، عُثْمَانُ مِثْلَهُ .
#2116
Sahih
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: Abdullah ibn Utbah ibn Mas'ud said: Abdullah ibn Mas'ud was informed of this story of a man. The people continued to visit him for a month or visited him many times (the narrator was not sure). He said: In this matter I hold the opinion that she should receive the type of dower given to women of her class with no diminution or excess, observe the waiting period ('iddah) and have her share of inheritance. If it is erroneous, that is from me and from Satan. Allah and His Apostle are free from its responsibility. Some people from Ashja' got up; among them were al-Jarrah and AbuSinan. They said: Ibn Mas'ud, we bear witness that the Messenger of Allah (ﷺ) gave a decision for us regarding Birwa', daughter of Washiq, to the same effect as the decision you have given. Her husband was Hilal ibn Murrah al-Ashja'i. Thereupon Abdullah ibn Mas'ud was very pleased when his decision agreed with the decision of the Messenger of Allah (ﷺ)
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کا یہی مسئلہ پیش کیا گیا، راوی کا بیان ہے کہ لوگوں کی اس سلسلہ میں مہینہ بھر یا کہا کئی بار آپ کے پاس آمدورفت رہی، انہوں نے کہا: اس سلسلے میں میرا فیصلہ یہی ہے کہ بلا کم و کاست اسے اپنی قوم کی عورتوں کی طرح مہر ملے گا، وہ میراث کی حقدار ہو گی اور اس پر عدت بھی ہو گی، اگر میرا فیصلہ درست ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے، اگر غلط ہے تو میری جانب سے اور شیطان کی طرف سے ہے، اللہ اور اللہ کے رسول اس سے بری ہیں، چنانچہ قبیلہ اشجع کے کچھ لوگ جن میں جراح و ابوسنان بھی تھے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ابن مسعود! ہم گواہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں بروع بنت واشق – جن کے شوہر ہلال بن مرہ اشجعی ہیں، کے سلسلہ میں ایسا ہی فیصلہ کیا تھا جو آپ نے کیا ہے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو جب ان کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے موافق ہو گیا تو بڑی خوشی ہوئی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلاَسٍ، وَأَبِي، حَسَّانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، أُتِيَ فِي رَجُلٍ بِهَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ شَهْرًا أَوْ قَالَ مَرَّاتٍ قَالَ فَإِنِّي أَقُولُ فِيهَا إِنَّ لَهَا صَدَاقًا كَصَدَاقِ نِسَائِهَا لاَ وَكْسَ وَلاَ شَطَطَ وَإِنَّ لَهَا الْمِيرَاثَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ فَإِنْ يَكُ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ بَرِيئَانِ . فَقَامَ نَاسٌ مِنْ أَشْجَعَ فِيهِمُ الْجَرَّاحُ وَأَبُو سِنَانٍ فَقَالُوا يَا ابْنَ مَسْعُودٍ نَحْنُ نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَاهَا فِينَا فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ وَإِنَّ زَوْجَهَا هِلاَلُ بْنُ مُرَّةَ الأَشْجَعِيُّ كَمَا قَضَيْتَ . قَالَ فَفَرِحَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَرَحًا شَدِيدًا حِينَ وَافَقَ قَضَاؤُهُ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#2117
Sahih
Narrated Uqbah ibn Amir: The Prophet (ﷺ) said to a man: Would you like me to marry you to so-and-so? He said: Yes. He also said to the woman: Would you like me to marry you to so-and-so? She said: Yes. He then married one to the other. The man had sexual intercourse with her, but he did not fix any dower for her, nor did he give anything to her. He was one of those who participated in the expedition to al-Hudaybiyyah. One part of the expedition to al-Hudaybiyyah had a share in Khaybar. When he was nearing his death, he said: The Messenger of Allah (ﷺ) married me to so-and-so, and I did not fix a dower for her, nor did I give anything to her. I call upon you as witness that I have given my share in Khaybar as her dower. So she took the share and sold it for one lakh (of dirhams). Abu Dawud said: The version of 'Umar b. al-Khattab added in the beginning of this tradition, and his version is more perfect. He reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: The best marriage is the one that is most easy. The Messenger of Allah (ﷺ) said to the man. The narrator then transmitted the rest of the tradition to the same effect. Abu Dawud said: I am afraid this tradition has been added later on, for the matter is otherwise
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ میں تمہارا نکاح فلاں عورت سے کر دوں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، پھر عورت سے کہا: کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ فلاں مرد سے تمہارا نکاح کر دوں؟ اس نے بھی جواب دیا: ہاں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کا نکاح کر دیا، اور آدمی نے اس سے صحبت کر لی لیکن نہ تو اس نے مہر متعین کیا اور نہ ہی اسے کوئی چیز دی، یہ شخص غزوہ حدیبیہ میں شریک تھا اور اسی بنا پر اسے خیبر سے حصہ ملتا تھا، جب اس کی وفات کا وقت ہوا تو کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت سے میرا نکاح کرایا تھا، لیکن میں نے نہ تو اس کا مہر مقرر کیا اور نہ اسے کچھ دیا، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنا خیبر سے ملنے والا حصہ اس کے مہر میں دے دیا، چنانچہ اس عورت نے وہ حصہ لے کر ایک لاکھ میں فروخت کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث کے شروع میں ان الفاظ کا اضافہ کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہتر نکاح وہ ہے جو سب سے آسان ہو اور ان کی حدیث سب سے زیادہ کامل ہے اور اس میں «إن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال للرجل» کے بجائے «قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم للرجل» ہے پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اندیشہ ہے کہ یہ حدیث الحاقی ہو کیونکہ معاملہ اس کے برعکس ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهْلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، - قَالَ مُحَمَّدٌ - حَدَّثَنَا أَبُو الأَصْبَغِ الْجَزَرِيُّ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِرَجُلٍ " أَتَرْضَى أَنْ أُزَوِّجَكَ فُلاَنَةَ " . قَالَ نَعَمْ . وَقَالَ لِلْمَرْأَةِ " أَتَرْضِينَ أَنْ أُزَوِّجَكِ فُلاَنًا " . قَالَتْ نَعَمْ . فَزَوَّجَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَدَخَلَ بِهَا الرَّجُلُ وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يُعْطِهَا شَيْئًا وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ وَكَانَ مَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ لَهُ سَهْمٌ بِخَيْبَرَ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَوَّجَنِي فُلاَنَةَ وَلَمْ أَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ أُعْطِهَا شَيْئًا وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَعْطَيْتُهَا مِنْ صَدَاقِهَا سَهْمِي بِخَيْبَرَ فَأَخَذَتْ سَهْمًا فَبَاعَتْهُ بِمِائَةِ أَلْفٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَزَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - وَحَدِيثُهُ أَتَمُّ - فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ " . وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلرَّجُلِ ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ يُخَافُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْحَدِيثُ مُلْزَقًا لأَنَّ الأَمْرَ عَلَى غَيْرِ هَذَا .
#2118
Sahih
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Messenger of Allah (ﷺ) taught us the address in case of some need: Praise be to Allah from Whom we ask help and pardon, and in Whom we take refuge from the evils within ourselves. He whom Allah guides has no one who can lead him astray, and he whom He leads astray has no one to guide him. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is His servant and Apostle. "You who believe,...fear Allah by Whom you ask your mutual rights, and reverence the wombs. Allah has been watching you." ..."you who believe, fear Allah as He should be feared, and die only as Muslims" ...."you who believe, fear Allah as He should be feared, and die only as Muslims"....."you who believe, fear Allah and say what is true. He will make your deeds sound, and forgive your sins. He who obeys Allah and His Apostle has achieved a mighty success." The narrator, Muhammad ibn Sulayman, did mention the word "inna" (verily)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجت اس طرح سکھایا: «إن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ به من شرور أنفسنا من يهد الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا» اے ایمان والو! اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے ( سورۃ النساء: ۱ ) «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مسلمان ہی رہ کر مرو ( سورۃ آل عمران: ۱۰۲ ) ۔ «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا قولا سديدا * يصلح لكم أعمالكم ويغفر لكم ذنوبكم ومن يطع الله ورسوله فقد فاز فوزا عظيما» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور نپی تلی بات کہو اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی ( سورۃ الاحزاب: ۷۱، ۷۰ ) ، محمد بن سلیمان کی روایت میں «إن» نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي خُطْبَةِ الْحَاجَةِ فِي النِّكَاحِ وَغَيْرِهِ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ - الْمَعْنَى - حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ وَأَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خُطْبَةَ الْحَاجَةِ " إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا { اتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا } { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ } { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا * يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا } . لَمْ يَقُلْ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ إِنَّ .
#2119
Daif
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: When the Messenger of Allah (ﷺ) recited the tashahhud....He then narrated the same tradition. In this version after the word "and His Apostle" he added the words: "He has sent him in truth as a bearer of glad tidings and a warner before the Hour. He who obeys Allah and His Prophet is on the right path, and he who disobeys them does not harm anyone except himself, and he does not harm Allah to the least
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ پڑھتے، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی لیکن اس میں «ورسوله» کے بعد یہ الفاظ زائد ہیں: «أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدى الساعة من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما فإنه لا يضر إلا نفسه ولا يضر الله شيئا» اللہ نے آپ کو حق کے ساتھ قیامت سے پہلے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمابرداری کرے گا، وہ ہدایت پا چکا، اور جو ان کی نافرمانی کرے گا تو وہ اللہ کا کچھ نہ بگاڑے گا بلکہ اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچائے گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا تَشَهَّدَ ذَكَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ بَعْدَ قَوْلِهِ " وَرَسُولُهُ " . " أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَإِنَّهُ لاَ يَضُرُّ إِلاَّ نَفْسَهُ وَلاَ يَضُرُّ اللَّهَ شَيْئًا " .
#2120
Daif
Narrated Isma'il bin Ibrahim:On the authority of a man from Banu Sulaim: I asked the Prophet (ﷺ) to marry Umamah daughter of 'Abd al-Muttalib to me. So he married her to me without reciting the tashahhud (i.e. the sermon for marriage)
بنی سلیم کے ایک شخص کہتے ہیں میں نے امامہ بنت عبدالمطلب سے نکاح کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا تو آپ نے بغیر خطبہ پڑھے ان سے میرا نکاح کر دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَلاَءِ ابْنِ أَخِي، شُعَيْبٍ الرَّازِيِّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ خَطَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أُمَامَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَنْكَحَنِي مِنْ غَيْرِ أَنْ يَتَشَهَّدَ .
#2121
Sahih
Narrated 'Aishah:The Messenger of Allah (ﷺ) married me when I was seven years old. The narrator Sulaiman said: or Six years. He had intercourse with me when I was nine years old
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی، اس وقت سات سال کی تھی ( سلیمان کی روایت میں ہے: چھ سال کی تھی ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے ( شب زفاف منائی ) اس وقت میں نو برس کی تھی۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا بِنْتُ سَبْعٍ - قَالَ سُلَيْمَانُ أَوْ سِتٍّ - وَدَخَلَ بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعٍ .
#2122
Sahih
Abd al-Malik b. Abi Bakr reported from his father on the authority of Umm Salamah:When the Messenger of Allah (ﷺ) married Umm Salamah, he stayed with her three night, and said: Your people (i.e. clan) are not being humbled for you in my estimation. If you wish I shall stay with you seven nights; and if I stay with you seven nights, I shall stay with my other wives seven nights
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین رات رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے اپنے خاندان کے لیے بے عزتی مت تصور کرنا، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات رات رہ سکتا ہوں لیکن پھر اپنی اور بیویوں کے پاس بھی سات سات رات رہوں گا ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ " لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي " .
#2123
Sahih
Narrated Anas bin Malik:When the Messenger of Allah (ﷺ) married Safiyyah, he stayed with her three nights. The narrator 'Uthman added: She was non virgin (previously married). He said: This tradition has been narrated to me by Hushaim, reported by Humaid, and transmitted by Anas
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین رات گزاری، اور وہ ثیبہ تھیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَفِيَّةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاَثًا . زَادَ عُثْمَانُ وَكَانَتْ ثَيِّبًا . وَقَالَ حَدَّثَنِي هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ أَخْبَرَنَا أَنَسٌ .
#2124
Sahih
Narrated Anas b. Malik :When a man who has a wife married a virgin he should stay with her seven nights ; if he marries to a woman who has been previously married he should stay with her three nights. (The narrator said:) If I say that he (Anas) narrated this tradition from the Prophet (ﷺ) I shall be true. But he said: The Sunnah is so-and-so
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب کوئی ثیبہ کے رہتے ہوئے کنواری سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات رات رہے، اور جب ثیبہ سے شادی کرے تو اس کے پاس تین رات رہے۔ راوی کا بیان ہے کہ اگر میں یہ کہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے تو سچ ہے لیکن انہوں نے کہا کہ سنت اسی طرح ہے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، وَإِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا . وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاَثًا . وَلَوْ قُلْتُ إِنَّهُ رَفَعَهُ لَصَدَقْتُ وَلَكِنَّهُ قَالَ السُّنَّةُ كَذَلِكَ .
#2125
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: When Ali married Fatimah, the Prophet (ﷺ) said to him: Give her something. He said: I have nothing with me. He said: Where is your Hutamiyyah (coat of mail)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے کہا: اسے کچھ دے دو ، انہوں نے کہا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہاری حطمی زرہ۱؎ کہاں ہے؟ ۲؎۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعْطِهَا شَيْئًا " . قَالَ مَا عِنْدِي شَىْءٌ . قَالَ " أَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ " .