#2076
Sahih
Narrated Ali ibn AbuTalib: (The narrator Isma'il said: I think ash-Sha'bi attributed this tradition to the Prophet) The Prophet (ﷺ) said: Curse be upon the one who marries a divorced woman with the intention of making her lawful for her former husband and upon the one for whom she is made lawful
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حلالہ کرنے والے اور کرانے والے دونوں پر اللہ نے لعنت کی ہے۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه - قَالَ إِسْمَاعِيلُ وَأُرَاهُ قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ " .
#2077
Sahih
The aforesaid tradition has also been transmitted by ‘Ali through a different chain of narrators from the Prophet (ﷺ) to the same effect
حارث الاعور رضی اللہ عنہ ایک صحابی رسول سے روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْحَارِثِ الأَعْوَرِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَرَأَيْنَا أَنَّهُ عَلِيٌّ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ .
#2078
Hasan
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: If any slave marries without the permission of his masters, he is a fornicator
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے وہ زانی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَهَذَا لَفْظُ إِسْنَادِهِ - وَكِلاَهُمَا عَنْ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَهُوَ عَاهِرٌ " .
#2079
Daif
Ibn ‘Umar reported the Prophet (ﷺ) as saying “If a slave marries without the permission of his master, his marriage is null and void. Abu Dawud said “This tradition is weak. This is mauquf(does not go back to the Prophet). This is the statement of the Ibn ‘Umar himself
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف، اور موقوف ہے، یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا نَكَحَ الْعَبْدُ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوْلاَهُ فَنِكَاحُهُ بَاطِلٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ وَهُوَ مَوْقُوفٌ وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ رضى الله عنهما .
#2080
Sahih
Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “ A man should not seek the hand of a woman in marriage when his brother has already sought her hand.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ " .
#2081
Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) said: One of you must not ask a woman in marriage when his brother has done so already, and one of you must not sell (his own goods) when his brother has already sold (his goods) except with his permission
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی نہ تو اپنے بھائی کے نکاح کے پیغام پر پیغام دے اور نہ اس کے سودے پر سودا کرے البتہ اس کی اجازت سے درست ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَخْطُبُ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلاَ يَبِيعُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ إِلاَّ بِإِذْنِهِ " .
#2082
Hasan
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: When one of you asked a woman in marriage, if he is able to look at what will induce him to marry her, he should do so. He (Jabir) said: I asked a girl in marriage, I used to look at her secretly, until I looked at what induced me to marry her. I, therefore, married her
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی عورت کو پیغام نکاح دے تو ہو سکے تو وہ اس چیز کو دیکھ لے جو اسے اس سے نکاح کی طرف راغب کر رہی ہے ۱؎ ۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے ایک لڑکی کو پیغام دیا تو میں اسے چھپ چھپ کر دیکھتا تھا یہاں تک کہ میں نے وہ بات دیکھ ہی لی جس نے مجھے اس کے نکاح کی طرف راغب کیا تھا، میں نے اس سے شادی کر لی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ - عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحِهَا فَلْيَفْعَلْ " . قَالَ فَخَطَبْتُ جَارِيَةً فَكُنْتُ أَتَخَبَّأُ لَهَا حَتَّى رَأَيْتُ مِنْهَا مَا دَعَانِي إِلَى نِكَاحِهَا وَتَزَوُّجِهَا فَتَزَوَّجْتُهَا .
#2083
Sahih
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) said: The marriage of a woman who marries without the consent of her guardians is void. (He said these words) three times. If there is cohabitation, she gets her dower for the intercourse her husband has had. If there is a dispute, the sultan (man in authority) is the guardian of one who has none
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین بار فرمایا، ( پھر فرمایا ) اگر اس مرد نے ایسی عورت سے جماع کر لیا تو اس جماع کے عوض عورت کے لیے اس کا مہر ہے اور اگر ولی اختلاف کریں ۱؎ تو بادشاہ اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو ۲؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ " . ثَلاَثَ مَرَّاتٍ " فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَالْمَهْرُ لَهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا فَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لاَ وَلِيَّ لَهُ " .
#2084
Daif
This tradition has also been transmitted by A’ishah through a different chain of narrators from the Prophet (ﷺ) to the same effect. Abu Dawud said “Ja’far did not hear any tradition from Al Zuhri. Al Zuhri gave him his writing.”
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
حَدَّثَنِي الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ جَعْفَرٍ، - يَعْنِي ابْنَ رَبِيعَةَ - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ جَعْفَرٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الزُّهْرِيِّ كَتَبَ إِلَيْهِ .
#2085
Sahih
Narrated Abu Musa: The Prophet (ﷺ) said: There is no marriage without the permission of a guardian. Abu Dawud said: The narrator Yunus also transmitted on the authority of Abu Burdah, and Isra'il narrated from Abu Ishaq on the authority of Abu Burdah
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، عَنْ يُونُسَ، وَإِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هُوَ يُونُسُ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ وَإِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ .
#2086
Sahih
Ibn Az-Zubayr reported on the authority of Umm Habibah that she was the wife of Ibn Jahsh, but he died, He was among those who migrated to Abyssinia. Negus then married her to the Messenger of Allah (ﷺ)
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ابن حجش کے نکاح میں تھیں، ان کا انتقال ہو گیا اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے سر زمین حبشہ کی جانب ہجرت کی تھی تو نجاشی (شاہ حبش) نے ان کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا، اور وہ انہیں لوگوں کے پاس (ملک حبش ہی میں) تھیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ ابْنِ جَحْشٍ فَهَلَكَ عَنْهَا - وَكَانَ فِيمَنْ هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ - فَزَوَّجَهَا النَّجَاشِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ عِنْدَهُمْ .
#2087
Sahih
Ma’qil bin Yasar said:I had a sister and I was asked to give her in marriage. My cousin came to me and I married her to him. He then divorced her one revocable divorce. He abandoned her till her waiting period passed. When I was asked to give her in marriage, he again came to me and asked her in marriage. Thereupon I said to him “No, by Allah, I will never marry her to you. Then the following verse was revealed about my case: “And when ye have divorced women and they reach their term, place not difficulties in the way of their marrying their husbands.” So I expiated for my oath, and married her off to him
معقل بن یسار کہتے ہیں کہ میری ایک بہن تھی جس کے نکاح کا پیغام میرے پاس آیا، اتنے میں میرے چچا زاد بھائی آ گئے تو میں نے اس کا نکاح ان سے کر دیا، پھر انہوں نے اسے ایک طلاق رجعی دے دی اور اسے چھوڑے رکھا یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہو گئی، پھر جب اس کے لیے میرے پاس ایک اور نکاح کا پیغام آ گیا تو وہی پھر پیغام دینے آ گئے، میں نے کہا: اللہ کی قسم میں کبھی بھی ان سے اس کا نکاح نہیں کروں گا، تو میرے ہی متعلق یہ آیت نازل ہوئی: «وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن» اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو تم انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو ( سورۃ البقرہ: ۲۳۲ ) راوی کا بیان ہے کہ میں نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دیا، اور ان سے اس کا نکاح کر دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ كَانَتْ لِي أُخْتٌ تُخْطَبُ إِلَىَّ فَأَتَانِي ابْنُ عَمٍّ لِي فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ ثُمَّ طَلَّقَهَا طَلاَقًا لَهُ رَجْعَةٌ ثُمَّ تَرَكَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَلَمَّا خُطِبَتْ إِلَىَّ أَتَانِي يَخْطُبُهَا فَقُلْتُ لاَ وَاللَّهِ لاَ أُنْكِحُهَا أَبَدًا . قَالَ فَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ } الآيَةَ . قَالَ فَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ .
#2088
Daif
Narrated Samurah: The Prophet (ﷺ) said: Any woman who is married by two guardians (to two different men) belongs to the first woman who is married by two guardians (to two different men) belongs to the first of them and anything sold by a man to two persons belongs to the first of them
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت کا نکاح دو ولی کر دیں تو وہ اس کی ہو گی جس سے پہلے نکاح ہوا ہے اور جس شخص نے ایک ہی چیز کو دو آدمیوں سے فروخت کر دیا تو وہ اس کی ہے جس سے پہلے بیچی گئی ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - الْمَعْنَى - عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلأَوَّلِ مِنْهُمَا وَأَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلأَوَّلِ مِنْهُمَا " .
#2089
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: About the Qur'anic verse: "It is not lawful for you forcibly to inherit the woman (of your deceased kinsmen), nor (that) ye should put constraint upon them. When a man died, his relatives had more right to his wife then her own guardian. If any one of them wanted to marry her, he did so; or they married her (to some other person), and if they did not want to marry her, they did so. So this verse was revealed about the matter
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت کریمہ: «لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن» تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم عورتوں کے بھی زبردستی وارث بن بیٹھو اور نہ ہی تم انہیں نکاح سے اس لیے روک رکھو کہ جو تم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں کچھ لے لو ( سورۃ البقرہ: ۱۹ ) کی تفسیر کے سلسلہ میں مروی ہے کہ جب آدمی کا انتقال ہو جاتا تو اس ( آدمی ) کے اولیا یہ سمجھتے تھے کہ اس عورت کے ہم زیادہ حقدار ہیں بہ نسبت اس کے ولی کے، اگر وہ چاہتے تو اس کا نکاح کر دیتے اور اگر نہ چاہتے تو نہیں کرتے، چنانچہ اسی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - قَالَ الشَّيْبَانِيُّ وَذَكَرَهُ عَطَاءٌ أَبُو الْحَسَنِ السُّوَائِيُّ وَلاَ أَظُنُّهُ إِلاَّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - فِي هَذِهِ الآيَةِ { لاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ } قَالَ كَانَ الرَّجُلُ إِذَا مَاتَ كَانَ أَوْلِيَاؤُهُ أَحَقَّ بِامْرَأَتِهِ مِنْ وَلِيِّ نَفْسِهَا إِنْ شَاءَ بَعْضُهُمْ زَوَّجَهَا أَوْ زَوَّجُوهَا وَإِنْ شَاءُوا لَمْ يُزَوِّجُوهَا فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي ذَلِكَ .
#2090
Hasan Sahih
Ibn ‘Abbas explained the Qur’anic verse It is not lawful for you forcibly to inherit the woman (of your deceased kinsmen) nor (that) ye should put constraint upon them that ye may take away a part of that which ye have given them, unless they be guilty of flagrant lewdness and said “This means that a man used to inherit a relative woman. He prevented her from marriage till she died or returned her dower to her. Hence, Allaah prohibited that practice
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة» اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو تم انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو ( سورۃ البقرہ: ۲۳۲ ) کے متعلق مروی ہے کہ ایسا ہوتا تھا کہ آدمی اپنی کسی قرابت دار عورت کا وارث ہوتا تو اسے دوسرے سے نکاح سے روکے رکھتا یہاں تک کہ وہ یا تو مر جاتی یا اسے اپنا مہر دے دیتی تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں حکم نازل فرما کر ایسا کرنے سے منع کر دیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ { لاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلاَّ أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ } وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَرِثُ امْرَأَةَ ذِي قَرَابَتِهِ فَيَعْضُلُهَا حَتَّى تَمُوتَ أَوْ تَرُدَّ إِلَيْهِ صَدَاقَهَا فَأَحْكَمَ اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ .
#2091
Sahih
The aforesaid tradition has also been transmitted by Al Dahhak to the same effect through a different chain of narrators. This version has Allaah prohibited that (practice)
ضحاک سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: تو اللہ تعالیٰ نے اس کی نصیحت فرمائی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَبُّويَةَ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، مَوْلَى عُمَرَ عَنِ الضَّحَّاكِ، بِمَعْنَاهُ قَالَ فَوَعَظَ اللَّهُ ذَلِكَ .
#2092
Sahih
Abu Hurairah reported the Prophet(ﷺ) as saying “ A woman who has been previously married should not be married until her permission is asked nor should a virgin be married without her permission. “They (the people) asked “What is her permission, Apostle of Allaah(ﷺ)? He replied “it is by her keeping silence.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیر کنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے پوچھ نہ لیا جائے، اور نہ ہی کنواری عورت کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے کیا جائے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اس کی اجازت یہ ہے کہ ) وہ خاموش رہے ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ وَلاَ الْبِكْرُ إِلاَّ بِإِذْنِهَا " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا إِذْنُهَا قَالَ " أَنْ تَسْكُتَ " .
#2093
Hasan Sahih
Narrated Abu Hurairah: The Prophet (ﷺ) said: An orphan virgin girl should be consulted about herself; if she says nothing that indicates her permission, but if she refuses, the authority of the guardian cannot be exercised against her will. The full information rest with the tradition narrated by Yazid. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted in a similar way by Abu Khalid Sulaiman b. Hayyan and Mu'adh b. Mu'adh on the authority of Muhammad b. 'Amr
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یتیم لڑکی سے اس کے نکاح کے لیے اجازت لی جائے گی، اگر وہ خاموشی اختیار کرے تو یہی اس کی اجازت ہے اور اگر انکار کر دے تو اس پر زبردستی نہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - الْمَعْنَى - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا وَإِنْ أَبَتْ فَلاَ جَوَازَ عَلَيْهَا " . وَالإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو خَالِدٍ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ وَمُعَاذٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو .
#2094
Shadh
The aforesaid tradition has also been transmitted through a different chain of narrators by Muhammad bin ‘Amr. This version adds “If she weeps or keeps silence”. The narrator added the word “weeps”. Abu Dawud said:The word "weeps" is not guarded. This is a misunderstanding of the tradition on the part of the narrator Ibn Idris or Muhammad b. al-'Ata. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Abu 'Amr Dhakwan on the authority of 'Aishah who said: A virgin is ashamed of speaking, Messenger of Allah. He said: Her silence is her acceptance
اس سند سے بھی محمد بن عمرو سے اسی طریق سے یہی حدیث یوں مروی ہے اس میں «فإن بكت أو سكتت» اگر وہ رو پڑے یا چپ رہے یعنی «بكت» ( رو پڑے ) کا اضافہ ہے، ابوداؤد کہتے ہیں «بكت» ( رو پڑے ) کی زیادتی محفوظ نہیں ہے یہ حدیث میں وہم ہے اور یہ وہم ابن ادریس کی طرف سے ہے یا محمد بن علاء کی طرف سے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوعمرو ذکوان نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اس میں ہے انہوں نے کہا اللہ کے رسول! باکرہ تو بولنے سے شرمائے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ زَادَ فِيهِ قَالَ " فَإِنْ بَكَتْ أَوْ سَكَتَتْ " . زَادَ " بَكَتْ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَيْسَ " بَكَتْ " . بِمَحْفُوظٍ وَهُوَ وَهَمٌ فِي الْحَدِيثِ الْوَهَمُ مِنِ ابْنِ إِدْرِيسَ أَوْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلاَءِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ أَبُو عَمْرٍو ذَكْوَانُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي أَنْ تَتَكَلَّمَ . قَالَ " سُكَاتُهَا إِقْرَارُهَا " .
#2095
Daif
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) said: Consult women about (the marriage of) their daughters
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ لو ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي الثِّقَةُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " آمِرُوا النِّسَاءَ فِي بَنَاتِهِنَّ " .
#2096
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: A virgin came to the Prophet (ﷺ) and mentioned that her father had married her against her will, so the Prophet (ﷺ) allowed her to exercise her choice
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر کر دیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ جَارِيَةً، بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم .
#2097
Daif
The above tradition has been transmitted by ‘Ikrimah from the Prophet (ﷺ). Abu Dawud said “He (Muhammad bin ‘Ubaid) did not mention the name of Ibn ‘Abbas in the chain of this tradition. The people have also narrated it mursal (without the mention of the name of Ibn ‘Abbas) in a similar way. Its transmission in the mursal form is well known
اس سند سے عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں ہے، اس روایت کا اسی طرح لوگوں کا مرسلاً روایت کرنا ہی معروف ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ النَّاسُ مُرْسَلاً مَعْرُوفٌ .
#2098
Sahih
Ibn ‘Abbas reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “A woman without a husband has more right to her person than her guardian and a virgin’s permission must be asked, her permission being her silence. These are the words of Al Qa’nabi
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثیبہ ۱؎ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالاَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " . وَهَذَا لَفْظُ الْقَعْنَبِيِّ .
#2099
Sahih
The above tradition has been transmitted by ‘Abd Allaah bin Al Fadl through his chain of narrators and with different meaning. The version goes “A woman without a husband has more right to her person than her guardian and the father of a virgin should ask her permission about herself.” Abu Dawud said “ The word “her father” is not guarded
عبداللہ بن فضل سے بھی اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثیبہ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کا باپ پوچھے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «أبوها» کا لفظ محفوظ نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ " الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ " أَبُوهَا " . لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ .
#2100
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: A guardian has no concern with a woman previously married and has no husband, and an orphan girl (i.e. virgin) must be consulted, her silence being her acceptance
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کا ثیبہ عورت پر کچھ اختیار نہیں، اور یتیم لڑکی سے پوچھا جائے گا اس کی خاموشی ہی اس کا اقرار ہے ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا " .