#1326
Sahih
Narrated 'Abdullah bin 'Umar:A man asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the prayer at night. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Prayer during the night should consist of pairs of rak'ahs, but if one of you fears the morning is near he should pray one rak'ah which will make his prayer an odd number for him
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز ( تہجد ) کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، جب تم میں سے کسی کو یہ ڈر ہو کہ صبح ہو جائے گی تو ایک رکعت اور پڑھ لے، یہ اس کی ساری رکعتوں کو جو اس نے پڑھی ہیں طاق ( وتر ) کر دے گی ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، : أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَلاَةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى " .
#1327
Hasan Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet's (ﷺ) recitation was loud enough for one who was in the inner chamber to hear it when he was in the house
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اتنی اونچی آواز سے ہوتی کہ آنگن میں رہنے والے کو سنائی دیتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ اپنے گھر میں ( نماز پڑھ رہے ) ہوتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى قَدْرِ مَا يَسْمَعُهُ مَنْ فِي الْحُجْرَةِ وَهُوَ فِي الْبَيْتِ .
#1328
Hasan
Narrated Abu Hurairah: The Prophet's (ﷺ) recitation at night was partly in a loud voice and partly in a low voice. Abu Dawud said: The name of Abu Khalid al-Walibi is Hurmuz
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کبھی بلند آواز سے ہوتی تھی اور کبھی دھیمی آواز سے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِاللَّيْلِ يَرْفَعُ طَوْرًا وَيَخْفِضُ طَوْرًا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : أَبُو خَالِدٍ الْوَالِبِيُّ اسْمُهُ هُرْمُزُ .
#1329
Sahih
Narrated AbuQatadah: The Prophet (ﷺ) went out at night and found AbuBakr praying in a low voice, and he passed Umar ibn al-Khattab who was raising his voice while praying. When they both met the Prophet (ﷺ) together, the Prophet (ﷺ) said: I passed by you, AbuBakr, when you were praying in a low voice. He replied: I made Him hear with Whom I was holding intimate converse, Messenger of Allah. He (the Prophet) said to Umar: I passed by you when you were praying in a loud voice. He replied: Messenger of Allah, I was awakening the drowsy and driving away the Devil. Al-Hasan added in his version: The Prophet (ﷺ) said: Raise your voice a little, AbuBakr, and he said to Umar: Lower your voice a little
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات باہر نکلے تو دیکھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے ہیں اور پست آواز سے قرآت کر رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر کے پاس سے گزرے اور وہ بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے، جب دونوں ( ابوبکر و عمر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! میں تمہارے پاس سے گزرا اور دیکھا کہ تم دھیمی آواز سے نماز پڑھ رہے ہو ، آپ نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں نے اس کو ( یعنی اللہ تعالیٰ کو ) سنا دیا ہے، جس سے میں سرگوشی کر رہا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تمہارے پاس سے گزرا تو تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے ، تو انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں سوتے کو جگاتا اور شیطان کو بھگاتا ہوں۔ حسن بن الصباح کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر! تم اپنی آواز تھوڑی بلند کر لو ، اور عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کر لو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، : أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ لَيْلَةً فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ - رضى الله عنه - يُصَلِّي يَخْفِضُ مِنْ صَوْتِهِ - قَالَ - وَمَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهُ - قَالَ - فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : " يَا أَبَا بَكْرٍ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ صَوْتَكَ " . قَالَ : قَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ وَقَالَ لِعُمَرَ : " مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَكَ " . قَالَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ . زَادَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ : فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : " يَا أَبَا بَكْرٍ ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا " . وَقَالَ لِعُمَرَ : " اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا " .
#1330
Hasan
This tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version dies not mention that the Prophet (ﷺ) said to Abu Bakr:Raise your voice a litte ; or he said to 'Umar: Lower your voice a little. But this version adds: (The Prophet said:) I heard you, Bilal, (reciting) ; you were reciting partly from this surah and partly from that surah. He said: This is all good speech ; Allah has combined one part with the other; The Prophet (ﷺ) said: All of you were correct
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی واقعہ مرفوعاً مروی ہے اس میں «فقال لأبي بكر: ارفع من صوتك شيئًا ولعمر اخفض شيئًا»کے جملہ کا ذکر نہیں اور یہ اضافہ ہے : اے بلال! میں نے تم کو سنا ہے کہ تم تھوڑا اس سورۃ سے پڑھتے ہو اور تھوڑا اس سورۃ سے ، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک پاکیزہ کلام ہے، اللہ بعض کو بعض کے ساتھ ملاتا ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب نے ٹھیک کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينِ بْنُ يَحْيَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذِهِ الْقِصَّةِ لَمْ يَذْكُرْ فَقَالَ لأَبِي بَكْرٍ : " ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا " . وَلِعُمَرَ : " اخْفِضْ شَيْئًا " . زَادَ : " وَقَدْ سَمِعْتُكَ يَا بِلاَلُ وَأَنْتَ تَقْرَأُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ وَمِنْ هَذِهِ السُّورَةِ " . قَالَ : كَلاَمٌ طَيِّبٌ يَجْمَعُ اللَّهُ تَعَالَى بَعْضَهُ إِلَى بَعْضٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : " كُلُّكُمْ قَدْ أَصَابَ " .
#1331
Sahih
Narrated 'Aishah: A man got up at night and recited the Qur'an in a loud voice. When the dawn came, the Messenger of Allah (ﷺ) said: May Allah have mercy on so-and-so who reminded me many verses that I had nearly forgotten. Abu Dawud said: Harun al-Nahwi transmitted from Hammad b. Salamah the Quranic verse of Surah Al-'Imran: "How many of the prophet fought (in Allah's way)" (3:)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص رات کی نماز ( تہجد ) کے لیے اٹھا، اس نے قرآت کی، قرآت میں اپنی آواز بلند کی تو جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ فلاں شخص پر رحم فرمائے، کتنی ایسی آیتیں تھیں جنہیں میں بھول چلا تھا، اس نے انہیں آج رات مجھے یاد دلا دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہارون نحوی نے حماد بن سلمہ سے سورۃ آل عمران کے سلسلہ میں روایت کی ہے کہ اللہ فلاں پر رحم کرے کہ اس نے مجھے اس سورۃ کے بعض ایسے الفاظ یاد دلا دیے جنہیں میں بھول چکا تھا اور وہ «وكأين من نبي» ( آل عمران: ۱۴۶ ) والی آیت ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها : أَنَّ رَجُلاً، قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَ فَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " يَرْحَمُ اللَّهُ فُلاَنًا، كَأَيِّنْ مِنْ آيَةٍ أَذْكَرَنِيهَا اللَّيْلَةَ كُنْتُ قَدْ أَسْقَطْتُهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ هَارُونُ النَّحْوِيُّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ فِي سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ فِي الْحُرُوفِ { وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ } .
#1332
Sahih
Narrated AbuSa'id al-Khudri: The Messenger of Allah (ﷺ) retired to the mosque. He heard them (the people) reciting the Qur'an in a loud voice. He removed the curtain and said: Lo! every one of you is calling his Lord quietly. One should not trouble the other and one should not raise the voice in recitation or in prayer over the voice of the other
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اعتکاف فرمایا، آپ نے لوگوں کو بلند آواز سے قرآت کرتے سنا تو پردہ ہٹایا اور فرمایا: لوگو! سنو، تم میں سے ہر ایک اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، تو کوئی کسی کو ایذا نہ پہنچائے اور نہ قرآت میں ( یا کہا نماز ) میں اپنی آواز کو دوسرے کی آواز سے بلند کرے ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ : اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ فَسَمِعَهُمْ يَجْهَرُونَ بِالْقِرَاءَةِ، فَكَشَفَ السِّتْرَ وَقَالَ : " أَلاَ إِنَّ كُلَّكُمْ مُنَاجٍ رَبَّهُ فَلاَ يُؤْذِيَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَلاَ يَرْفَعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْقِرَاءَةِ " . أَوْ قَالَ : " فِي الصَّلاَةِ " .
#1333
Sahih
Narrated Uqbah ibn Amir al-Juhani: The Prophet (ﷺ) said: One who recites the Qur'an in a loud voice is like one who gives alms openly; and one who recites the Qur'an quietly is one who gives alms secretly
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے اعلانیہ طور سے خیرات کرنے والا اور آہستہ قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے چپکے سے خیرات کرنے والا ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ " .
#1334
Sahih
Narrated 'Aishah:The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray ten rak'ahs during the night, and would observe the witr with one rak'ah, he then prayed two rak'ahs of the dawn prayer. Thus he prayed thirteen rak'ahs in all
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دس رکعتیں پڑھتے اور ایک رکعت وتر ادا کرتے اور دو رکعت فجر کی سنت پڑھتے، اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہوتیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ عَشْرَ رَكَعَاتٍ، وَيُوتِرُ بِسَجْدَةٍ، وَيَسْجُدُ سَجْدَتَىِ الْفَجْرِ، فَذَلِكَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً .
#1335
Sahih
Narrated 'Aishah, wife of Prophet (ﷺ):The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray eleven rak'ahs (at night, observing the witr with one rak'ahs). When he finished it (the prayer), he would lie down on his right side
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ان میں سے ایک رکعت وتر کی ہوتی تھی، جب آپ اس سے فارغ ہو جاتے تو داہنی کروٹ لیٹتے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْهَا اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ .
#1336
Sahih
Narrated 'Aishah:Between the time when the Messenger of Allah (ﷺ) finished the night prayer till the dawn broke, he used to pray eleven rak'ahs, uttering the salutation at the end of every two and observing the witr with a single one, and during that he would make a prostration about as long a one of you would take to recite fifty verses before raising his head. When the mu'adhdhin finished making the call for the dawn prayer, he stood up and prayed two short rak'ahs, then he lay down on his right side till the mu'adhdhin came to him
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فارغ ہو کر فجر کی پو پھوٹنے تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر کی پڑھتے، اپنے سجدوں میں اتنا ٹھہرتے کہ تم میں سے کوئی اتنی دیر میں سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤذن فجر کی پہلی اذان کہہ کر خاموش ہوتا تو آپ کھڑے ہوتے اور ہلکی سی دو رکعتیں پڑھتے، پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن ( بلانے کے لے ) آتا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَنَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ، - وَهَذَا لَفْظُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، - وَقَالَ نَصْرٌ : عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَالأَوْزَاعِيِّ، - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلاَةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَنْصَدِعَ الْفَجْرُ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ ثِنْتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، وَيَمْكُثُ فِي سُجُودِهِ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالأُولَى مِنْ صَلاَةِ الْفَجْرِ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ .
#1337
Sahih
This tradition has been transmitted by Ibn Shihab through a different chain of narrators to the same effect. This version adds:He would observe witr with a single rak'ah and make a prostration as long as you would take to recite fifty verses before raising his head. When the mu'adhdhin finished his call for the dawn prayer and the dawn became clear to him.... Then the narrator transmitted the rest of the tradition to the same effect. Some narrators added something more in their version
اس طریق سے بھی ابن شہاب زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ ایک رکعت وتر پڑھتے اور اتنی دیر تک سجدہ کرتے جتنی دیر میں تم میں سے کوئی پچاس آیتیں ( رکوع سے ) سر اٹھانے سے پہلے پڑھ لے، پھر جب مؤذن فجر کی اذان کہہ کر خاموش ہوتا اور فجر ظاہر ہو جاتی، آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی البتہ بعض کی روایتوں میں بعض پر کچھ اضافہ ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُمْ بِإِسْنَادِهِ، وَمَعْنَاهُ،، قَالَ : وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، وَيَسْجُدُ سَجْدَةً قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلاَةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ . وَسَاقَ مَعْنَاهُ . قَالَ : وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ .
#1338
Sahih
Narrated 'Aishah:The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray thirteen rak'ahs during the night, observing a witr out of that with five, he did not sit during the five except the last and then gave the salutation. Abu Dawud said: Ibn Numair reported it from Hisham recently
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو میں تیرہ رکعتیں پڑھتے اور انہیں پانچ رکعتوں سے طاق بنا دیتے، ان پانچ رکعتوں میں سوائے قعدہ اخیرہ کے کوئی قعدہ نہیں ہوتا پھر سلام پھیر دیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن نمیر نے ہشام سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِخَمْسٍ، لاَ يَجْلِسُ فِي شَىْءٍ مِنَ الْخَمْسِ حَتَّى يَجْلِسَ فِي الآخِرَةِ فَيُسَلِّمَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ، نَحْوَهُ .
#1339
Sahih
Narrated 'Aishah:The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray thirteen rak'ahs during the night ; he then offered two light rak'ahs of prayer when he heard the call to the dawn prayer
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے پھر جب فجر کی اذان سنتے تو ہلکی سی دو رکعتیں اور پڑھتے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ يُصَلِّي إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ .
#1340
Sahih
Narrated 'Aishah:The Prophet (ﷺ) used to pray thirteen rak'ahs during the night. He would offer eight rak'ahs observing the witr with one rak'ah. Then he prayed (the narrator Muslim said) two rak'ahs after witr prayer in sitting position. When he wished to bow, he stood up and bowed. He used to pray two rak'ahs between the call to the dawn prayer and the iqamah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ( پہلے ) آٹھ رکعتیں پڑھتے ( پھر ) ایک رکعت سے وتر کرتے، مسلم بن ابراہیم کی روایت میں «بعد الوتر» وتر کے بعد کے الفاظ بھی ہیں ( پھر موسیٰ اور مسلم ابن ابراہیم دونوں متفق ہیں کہ ) دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے، جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہو جاتے پھر رکوع کرتے اور دو رکعتیں فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان پڑھتے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، وَكَانَ يُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ يُصَلِّي - قَالَ مُسْلِمٌ : بَعْدَ الْوِتْرِ، ثُمَّ اتَّفَقَا - رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ، وَيُصَلِّي بَيْنَ أَذَانِ الْفَجْرِ وَالإِقَامَةِ رَكْعَتَيْنِ .
#1341
Sahih
Abu Salamah b. 'Abd al-Rahman asked 'Aishah, the wife of the Prophet (ﷺ):How did the Messenger of Allah (ﷺ) pray during Ramadhan ? She said: The Messenger of Allah (ﷺ) did not pray more than eleven rak'ahs during Ramadhan and other than Ramadhan. He would pray four rak'ahs. Do not ask about their elegance and length. He then would pray for rak'ahs. Do not ask about their alegance and length. Then he would pray three rak'ahs. 'Aishah said: I asked: Messenger of Allah, do you sleep before observing witr ? He replied: 'Aishah, my eyes sleep, but my heart does not sleep
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ( تہجد ) کیسے ہوتی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان یا غیر رمضان میں کبھی گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۱؎، آپ چار رکعتیں پڑھتے، ان رکعتوں کی خوبی اور لمبائی کو نہ پوچھو، پھر چار رکعتیں پڑھتے، ان کے بھی حسن اور لمبائی کو نہ پوچھو، پھر تین رکعتیں پڑھتے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا ۲؎ ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ : أَنَّهُ، سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ : مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلاَ فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً : يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاَثًا، قَالَتْ عَائِشَةُ - رضى الله عنها - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَىَّ تَنَامَانِ وَلاَ يَنَامُ قَلْبِي " .
#1342
Sahih
Narrated Sa'd bin Hisham: I divorced my wife. I then came to Medina to sell my land that was there so that I could buy arms and fight in battle. I met a group of the Companions of the Prophet (ﷺ). They said: Six persons of us intended to do so (i.e. divorce their wives and purchase weapons), but the Prophet (ﷺ) prohibited them. He said: For you in the Messenger of Allah there is an excellent model. I then came to Ibn 'Abbas and asked him about the witr observed by the Prophet (ﷺ). He said: I point to you a person who is most familiar with the witr observed by the Messenger of Allah (ﷺ). Go to 'Aishah. While going to her I asked Hakim b. Aflah to accompany me. He refused, but I adjured him. He, therefore, went along with me. We sought permission to enter upon 'Aishah. She said: Who is this ? He said: Hakim b. Aflah. She asked: Who is with you ? He replied: Sa'd b. Hisham. She said: Hisham son of 'Amir who was killed in the Battle of Uhud. I said: Yes. She said: What a good man 'Amir was! I said: Mother of faithful, tell me about the character of the Messenger of Allah (ﷺ). She asked: Do you not recite the Quran ? The character of Messenger of Allah (ﷺ) was the Qur'an. I asked: Tell me about his vigil and prayer at night. She replied: Do you not recite: "O thou folded in garments" (73:1). I said: Why not ? When the opening of this Surah was revealed, the Companions stood praying (most of the night) until their fett swelled, and the concluding verses were not revealed for twelve months from heaven. At last the concluding verses were revealed and the prayer at night became voluntary after it was obligatory. I said: Tell me about the witr of the Prophet (ﷺ). She replied: He used to pray eight rak'ahs, sitting only during the eighth of them. Then he would stand up and pray another rak'ahs. He would sit only after the eighth and the ninth rak'ahs. He would utter salutation only after the ninth rak'ah. He would then pray two rak'ahs sitting and that made eleven rak'ahs, O my son. But when he grew old and became fleshy he observed a witr of seven, sitting only in sixth and seventh rak'ahs, and would utter salutation only after the seventh rak'ah. He would then pray two rak'ahs sitting, and that made nine rak'ahs, O my son. The Messenger of Allah (ﷺ) would not pray through a whole night, or recite the whole Qur'an in a night or fast a complete month except in Ramadan. When he offered prayer, he would do that regularly. When he was overtaken by sleep at night, he would pray twelve rak'ahs. The narrator said: I came to Ibn 'Abbas and narrated all this to him. By Allah, this is really a tradition. Has I been on speaking terms with her, I would have come to her and heard it from her mouth. I said: If I knew that you were not on speaking terms with her, I would have never narrated it to you
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھر میں مدینہ آیا تاکہ اپنی ایک زمین بیچ دوں اور اس سے ہتھیار خرید لوں اور جہاد کروں، تو میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ سے ہوئی، ان لوگوں نے کہا: ہم میں سے چھ افراد نے ایسا ہی کرنے کا ارادہ کیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا: تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ، تو میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں پوچھا، آپ نے کہا: میں ایک ایسی ذات کی جانب تمہاری رہنمائی کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں لوگوں میں سب سے زیادہ جاننے والی ہے، تم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ۔ چنانچہ میں ان کے پاس چلا اور حکیم بن افلح سے بھی ساتھ چلنے کو کہا، انہوں نے انکار کیا تو میں نے ان کو قسم دلائی، چنانچہ وہ میرے ساتھ ہو لیے ( پھر ہم دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے ) ، ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، انہوں نے پوچھا: کون ہو؟ کہا: حکیم بن افلح، انہوں نے پوچھا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا: سعد بن ہشام، پوچھا: عامر کے بیٹے ہشام جو جنگ احد میں شہید ہوئے تھے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، وہ کہنے لگیں: عامر کیا ہی اچھے آدمی تھے، میں نے عرض کیا: ام المؤمنین مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا حال بیان کیجئے، انہوں نے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تھا، میں نے عرض کیا: آپ کی رات کی نماز ( تہجد ) کے بارے میں کچھ بیان کیجئیے، انہوں نے کہا: کیا تم سورۃ «يا أيها المزمل» نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا: جب اس سورۃ کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نماز کے لیے کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کے پیروں میں ورم آ گیا اور سورۃ کی آخری آیات آسمان میں بارہ ماہ تک رکی رہیں پھر نازل ہوئیں تو رات کی نماز نفل ہو گئی جب کہ وہ پہلے فرض تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں بیان کیجئیے، انہوں نے کہا: آپ آٹھ رکعتیں پڑھتے اور آٹھویں رکعت کے بعد پھر کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھتے، اس طرح آپ آٹھویں اور نویں رکعت ہی میں بیٹھتے اور آپ نویں رکعت کے بعد ہی سلام پھیرتے اس کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے، اس طرح یہ کل گیارہ رکعتیں ہوئیں، میرے بیٹے! پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن رسیدہ ہو گئے اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعتوں سے وتر کرنے لگے، اب صرف چھٹی اور ساتویں رکعت کے بعد بیٹھتے اور ساتویں میں سلام پھیرتے پھر بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے، اس طرح یہ کل نو رکعتیں ہوتیں، میرے بیٹے! اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی رات کو ( لگاتار ) صبح تک قیام ۱؎ نہیں کیا، اور نہ ہی کبھی ایک رات میں قرآن ختم کیا، اور نہ ہی رمضان کے علاوہ کبھی مہینہ بھر مکمل روزے رکھے، اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نماز پڑھتے تو اس پر مداومت فرماتے، اور جب رات کو آنکھوں میں نیند غالب آ جاتی تو دن میں بارہ رکعتیں ادا فرماتے۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں: میں ابن عباس کے پاس آیا اور ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! حدیث یہی ہے، اگر میں ان سے بات کرتا تو میں ان کے پاس جا کر خود ان کے ہی منہ سے بالمشافہہ یہ حدیث سنتا، میں نے ان سے کہا: اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ آپ ان سے بات نہیں کرتے ہیں تو میں آپ سے یہ حدیث بیان ہی نہیں کرتا۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ : طَلَّقْتُ امْرَأَتِي فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ لأَبِيعَ عَقَارًا كَانَ لِي بِهَا، فَأَشْتَرِيَ بِهِ السِّلاَحَ وَأَغْزُوَ، فَلَقِيتُ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا : قَدْ أَرَادَ نَفَرٌ مِنَّا سِتَّةٌ أَنْ يَفْعَلُوا ذَلِكَ فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ : " لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ " . فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ وِتْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ : أَدُلُّكَ عَلَى أَعْلَمِ النَّاسِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأْتِ عَائِشَةَ رضى الله عنها . فَأَتَيْتُهَا فَاسْتَتْبَعْتُ حَكِيمَ بْنَ أَفْلَحَ فَأَبَى فَنَاشَدْتُهُ فَانْطَلَقَ مَعِي، فَاسْتَأْذَنَّا عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ : مَنْ هَذَا قَالَ : حَكِيمُ بْنُ أَفْلَحَ . قَالَتْ : وَمَنْ مَعَكَ قَالَ : سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ . قَالَتْ : هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ الَّذِي قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَتْ : نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرًا . قَالَ قُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدِّثِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَتْ : أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ الْقُرْآنَ . قَالَ قُلْتُ : حَدِّثِينِي عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ قَالَتْ : أَلَسْتَ تَقْرَأُ { يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ } قَالَ قُلْتُ : بَلَى . قَالَتْ : فَإِنَّ أَوَّلَ هَذِهِ السُّورَةِ نَزَلَتْ، فَقَامَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ، وَحُبِسَ خَاتِمَتُهَا فِي السَّمَاءِ اثْنَىْ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ نَزَلَ آخِرُهَا فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ . قَالَ قُلْتُ : حَدِّثِينِي عَنْ وِتْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَتْ : كَانَ يُوتِرُ بِثَمَانِ رَكَعَاتٍ لاَ يَجْلِسُ إِلاَّ فِي الثَّامِنَةِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَةً أُخْرَى، لاَ يَجْلِسُ إِلاَّ فِي الثَّامِنَةِ وَالتَّاسِعَةِ، وَلاَ يُسَلِّمُ إِلاَّ فِي التَّاسِعَةِ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَىَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ لَمْ يَجْلِسْ إِلاَّ فِي السَّادِسَةِ وَالسَّابِعَةِ، وَلَمْ يُسَلِّمْ إِلاَّ فِي السَّابِعَةِ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَتِلْكَ هِيَ تِسْعُ رَكَعَاتٍ يَا بُنَىَّ، وَلَمْ يَقُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً يُتِمُّهَا إِلَى الصَّبَاحِ، وَلَمْ يَقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ قَطُّ، وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا يُتِمُّهُ غَيْرَ رَمَضَانَ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلاَةً دَاوَمَ عَلَيْهَا، وَكَانَ إِذَا غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ مِنَ اللَّيْلِ بِنَوْمٍ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ رَكْعَةً . قَالَ : فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ . فَقَالَ : هَذَا وَاللَّهِ هُوَ الْحَدِيثُ، وَلَوْ كُنْتُ أُكَلِّمُهَا لأَتَيْتُهَا حَتَّى أُشَافِهَهَا بِهِ مُشَافَهَةً . قَالَ قُلْتُ : لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ لاَ تُكَلِّمُهَا مَا حَدَّثْتُكَ .
#1343
Sahih
The above mentioned tradition has also been narrated by Qatadah through a different chain of narrators. This version adds:He (the Prophet( used to pray eight rak'ahs during which he did not sit except the eight rak'ahs. He would sit, make mention of Allah, supplicate Him and then utter the salutation so loudly that we could hear it. He would then pray two rak'ahs sitting after he had uttered the salutation. Then he would pray one rak'ah, and that made eleven rak'ahs, O my son. When the Messenger of Allah (ﷺ) grew old and became fleshy, he offered seven rak'ahs of witr, and then he would pray two rak'ahs sitting after he had uttered the salutation. The narrator narrated the tradition to the same effect till the end
اس طریق سے بھی قتادہ سے سابقہ سند سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعت پڑھتے تھے اور صرف آٹھویں رکعت ہی میں بیٹھتے تھے اور جب بیٹھتے تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے پھر دعا مانگتے پھر سلام ایسے پھیرتے کہ ہمیں بھی سنا دیتے، سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر ایک رکعت پڑھتے، اے میرے بیٹے! اس طرح یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر ادا کرتے ، پھر اسی مفہوم کی روایت لفظ «مشافهة» تک ذکر کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ قَالَ : يُصَلِّي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ لاَ يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلاَّ عِنْدَ الثَّامِنَةِ، فَيَجْلِسُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يَدْعُو، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَةً، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَىَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ، بِمَعْنَاهُ إِلَى مُشَافَهَةً .
#1344
Sahih
The above tradition has also been transmitted by Yahya b. Sa'id to the same effect. The version adds the words:"He uttered the salutation so loudly that we could hear it
اس سند سے بھی سعید نے یہی حدیث بیان کی ہے اس میں ہے: آپ اپنا سلام ہمیں سناتے جیسا کہ یحییٰ بن سعید نے کہا ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ : يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا كَمَا قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ .
#1345
Sahih
This tradition has also been transmitted by Sa'id through a different chain of narrators to the same effect. Ibn Bashshar narrated the tradition like that of Yahya b. Sa'id. His version has:He uttered the salutation in a way that we could hear it
اس سند سے بھی سعید نے یہی حدیث روایت کی ہے ابن بشار نے یحییٰ بن سعید کی طرح حدیث نقل کی مگر اس میں «ويسلم تسليمة يسمعنا» کے الفاظ ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ بِنَحْوِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ : وَيُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا .
#1346
Sahih
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Zurarah ibn Awfa said that Aisha was asked about the midnight prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). She said: He used to offer his night prayer in congregation and then return to his family (in his house) and pray four rak'ahs. Then he would go to his bed and sleep, but the water for his ablution was placed covered near his head and his tooth-stick was also kept there until Allah awakened him at night. He then used the tooth-stick, performed ablution perfectly then came to the place of prayer and would pray eight rak'ahs, in which he would recite Surah al-Fatihah, and a surah from the Qur'an as Allah willed. He would not sit during any of them but sit after the eighth rak'ah, and would not utter the salutation, but recite (the Qur'an) during the ninth rak'ah. Then he would sit and supplicate as long as Allah willed, and beg Him and devote his attention to Him; He would utter the salutation once in such a loud voice that the inmates of the house were almost awakened by his loud salutation. He would then recite Surah al-Fatihah while sitting, bow while sitting, and then recite the Qur'an during the second rak'ah, and would bow and prostrate while sitting. He would supplicate Allah as long as He willed, then utter the salutation and turn away. This amount of prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) continued till he put a weight. During that period he retrenched two rak'ahs from nine and began to pray six and seven rak'ahs standing and two rak'ahs sitting. This continued till he died
زرارہ بن اوفی سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز ( تہجد ) کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء جماعت کے ساتھ پڑھتے پھر اپنے گھر والوں کے پاس واپس آتے اور چار رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر جاتے اور سو جاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے آپ کے وضو کا پانی ڈھکا رکھا ہوتا اور مسواک رکھی ہوتی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ رات کو جب چاہتا آپ کو اٹھا دیتا تو آپ ( اٹھ کر ) مسواک کرتے اور پوری طرح سے وضو کرتے، پھر اپنی جائے نماز پر کھڑے ہوتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، ان میں سے ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور اس کے ساتھ قرآن کی کوئی سورۃ اور جو اللہ کو منظور ہوتا پڑھتے اور کسی رکعت کے بعد نہیں بیٹھتے یہاں تک کہ جب آٹھویں رکعت ہو جاتی تو قعدہ کرتے اور سلام نہیں پھیرتے بلکہ نویں رکعت پڑھتے پھر قعدہ کرتے، اور اللہ جو دعا آپ سے کروانا چاہتا، کرتے اور اس سے سوال کرتے اور اس کی طرف متوجہ ہوتے اور ایک سلام پھیرتے اس قدر بلند آواز سے کہ قریب ہوتا کہ گھر کے لوگ جاگ جائیں، پھر بیٹھ کر سورۃ فاتحہ کی قرآت کرتے اور رکوع بھی بیٹھ کر کرتے، پھر دوسری رکعت پڑھتے اور بیٹھے بیٹھے رکوع اور سجدہ کرتے، پھر اللہ جتنی دعا آپ سے کروانا چاہتا کرتے پھر سلام پھیرتے اور نماز سے فارغ ہو جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کا معمول یہی رہا، یہاں تک کہ آپ موٹے ہو گئے تو آپ نے نو میں سے دو رکعتیں کم کر دیں اور اسے چھ اور سات رکعتیں کر لیں اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے، وفات تک آپ کا یہی معمول رہا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ الدِّرْهَمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، : أَنَّ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - سُئِلَتْ عَنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقَالَتْ : كَانَ يُصَلِّي صَلاَةَ الْعِشَاءِ فِي جَمَاعَةٍ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ فَيَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ وَيَنَامُ وَطَهُورُهُ مُغَطًّى عِنْدَ رَأْسِهِ، وَسِوَاكُهُ مَوْضُوعٌ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ سَاعَتَهُ الَّتِي يَبْعَثُهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَتَسَوَّكُ وَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ إِلَى مُصَلاَّهُ فَيُصَلِّي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ يَقْرَأُ فِيهِنَّ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَمَا شَاءَ اللَّهُ، وَلاَ يَقْعُدُ فِي شَىْءٍ مِنْهَا حَتَّى يَقْعُدَ فِي الثَّامِنَةِ، وَلاَ يُسَلِّمُ، وَيَقْرَأُ فِي التَّاسِعَةِ، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَدْعُو بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَهُ، وَيَسْأَلُهُ وَيَرْغَبُ إِلَيْهِ وَيُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً شَدِيدَةً، يَكَادُ يُوقِظُ أَهْلَ الْبَيْتِ مِنْ شِدَّةِ تَسْلِيمِهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ بِأُمِّ الْكِتَابِ، وَيَرْكَعُ وَهُوَ قَاعِدٌ، ثُمَّ يَقْرَأُ الثَّانِيَةَ فَيَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَهُوَ قَاعِدٌ، ثُمَّ يَدْعُو مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ، ثُمَّ يُسَلِّمُ وَيَنْصَرِفُ، فَلَمْ تَزَلْ تِلْكَ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَّنَ فَنَقَصَ مِنَ التِّسْعِ ثِنْتَيْنِ، فَجَعَلَهَا إِلَى السِّتِّ وَالسَّبْعِ وَرَكْعَتَيْهِ وَهُوَ قَاعِدٌ حَتَّى قُبِضَ عَلَى ذَلِكَ صلى الله عليه وسلم .
#1347
Sahih
The above-mentioned tradition has also been narrated by Banu al-Hakim through a different chain of narrators. This version adds:He (the Prophet) would offer the night prayer and go to his bed. In this version there is no mention of praying four rak'ahs. The narrator then transmitted the rest of the tradition. This version further says: He would pray eight rak'ahs during which his recitation of the Qur'an, bowing and prostration were all equal. He would sit only after the eight rak'ah, and then stand up without uttering the salutation, and pray one rak'ah observing witr prayer and then give the salutation raising his voice so much so that we were about to awake. The narrator then transmitted the tradition to the same effect
یزید بن ہارون کہتے ہیں: ہمیں بہز بن حکیم نے خبر دی ہے پھر انہوں نے یہی حدیث اسی سند سے ذکر کی، اس میں ہے: آپ عشاء پڑھتے پھر اپنے بستر پر آتے، انہوں نے چار رکعت کا ذکر نہیں کیا ، آگے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: پھر آپ آٹھ رکعتیں پڑھتے اور ان میں قرآت، رکوع اور سجدہ میں برابری کرتے اور ان میں سے کسی میں نہیں بیٹھتے سوائے آٹھویں کے، اس میں بیٹھتے تھے پھر کھڑے ہو جاتے اور ان میں سلام نہیں پھیرتے پھر ایک رکعت پڑھ کر ان کو طاق کر دیتے پھر سلام پھیرتے اس میں اپنی آواز بلند کرتے یہاں تک کہ ہمیں بیدار کر دیتے ، پھر راوی نے اسی مفہوم کو بیان کیا۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ قَالَ : يُصَلِّي الْعِشَاءَ ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ، لَمْ يَذْكُرِ الأَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ : فَيُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَلاَ يَجْلِسُ فِي شَىْءٍ مِنْهُنَّ إِلاَّ فِي الثَّامِنَةِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ وَلاَ يُسَلِّمُ، فَيُصَلِّي رَكْعَةً يُوتِرُ بِهَا، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ حَتَّى يُوقِظَنَا، ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ .
#1348
Sahih
Zurarah b. Awfa said that 'Aishah was asked about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). She said:He used to lead the people in the 'Isha prayer and return to his family and pray four rak'ahs and go to his bed. The narrator then transmitted the tradition in full. This version does not mention the words: "During them (the rak'ahs) he equated all the recitation of the Qur'an, bowing and recitation." This also does not mention the words about the salutation: "Till he almost awakened us
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ( تہجد ) کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: آپ لوگوں کو عشاء پڑھاتے پھر اپنے گھر والوں کے پاس آ کر چار رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر آتے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں انہوں نے قرآت اور رکوع و سجدہ میں برابری کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ یہ ذکر کیا ہے کہ آپ اتنی بلند آواز سے سلام پھیرتے کہ ہم بیدار ہو جاتے۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ - عَنْ بَهْزٍ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، : أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ : كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُصَلِّي أَرْبَعًا، ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ : يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ . وَلَمْ يَذْكُرْ فِي التَّسْلِيمِ : حَتَّى يُوقِظَنَا .
#1349
Sahih
This tradition has also been transmitted by 'Aishah through a different chain of narrators. But the tradition narrated by Hammad b. Salamah is not equal to the tradition narrated by others
اس طریق سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے لیکن سند کے اعتبار سے یہ ان کی جید احادیث میں سے نہیں ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَيْسَ فِي تَمَامِ حَدِيثِهِمْ .
#1350
Hasan Sahih
Narrated 'Aishah:The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray thirteen rak'ahs during the night, observing the witr prayer with nine (or as she said). He used to pray two rak'ahs while sitting and pray two rak'ahs of the dawn prayer between the adhan and the iqamah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے، نو رکعتیں وتر کی ہوتیں، یا کچھ اسی طرح کہا اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے اور اذان و اقامت کے درمیان فجر کی دو رکعتیں پڑھتے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ بِسَبْعٍ أَوْ كَمَا قَالَتْ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَرَكْعَتَىِ الْفَجْرِ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ .