العربية
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ - عَنْ بَهْزٍ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، : أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ : كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُصَلِّي أَرْبَعًا، ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ : يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ . وَلَمْ يَذْكُرْ فِي التَّسْلِيمِ : حَتَّى يُوقِظَنَا .
English
Zurarah b. Awfa said that 'Aishah was asked about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). She said:He used to lead the people in the 'Isha prayer and return to his family and pray four rak'ahs and go to his bed. The narrator then transmitted the tradition in full. This version does not mention the words: "During them (the rak'ahs) he equated all the recitation of the Qur'an, bowing and recitation." This also does not mention the words about the salutation: "Till he almost awakened us اردو
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ( تہجد ) کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: آپ لوگوں کو عشاء پڑھاتے پھر اپنے گھر والوں کے پاس آ کر چار رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر آتے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں انہوں نے قرآت اور رکوع و سجدہ میں برابری کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ یہ ذکر کیا ہے کہ آپ اتنی بلند آواز سے سلام پھیرتے کہ ہم بیدار ہو جاتے۔