#726
Sahih
Narrated Wa'il ibn Hujr: I purposely looked at the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ), how he offered it. The Messenger of Allah (ﷺ) stood up, faced the direction of the qiblah and uttered the takbir (Allah is most great) and then raised his hands in front of his ears, then placed his right hand on his left (catching each other). When he was about to bow, he raised them in the same manner. He then placed his hands on his knees. When he raised his head after bowing, he raised them in the like manner. When he prostrated himself he placed his forehead between his hands. He then sat down and spread his left foot and placed his left hand on his left thigh, and kept his right elbow aloof from his right thigh. He closed his two fingers and made a circle (with the fingers). I (Asim ibn Kulayb) saw him (Bishr ibn al-Mufaddal) say in this manner. Bishr made the circle with the thumb and the middle finger and pointed with the forefinger
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دیکھوں گا کہ آپ کس طرح نماز ادا کرتے ہیں؟ ( میں نے دیکھا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ اکبر کہا، پھر دونوں ہاتھوں کو اٹھایا یہاں تک کہ وہ دونوں کانوں کے بالمقابل ہو گئے، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ کو پکڑا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کا ارادہ کیا تو بھی اسی طرح ہاتھوں کو اٹھایا، پھر دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے، پھر رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی انہیں اسی طرح اٹھایا، پھر جب سجدہ کیا تو اپنے سر کو اپنے دونوں ہاتھوں کے بیچ اس جگہ پہ رکھا، پھر بیٹھے تو اپنا بایاں پیر بچھایا، اور بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھا، اور اپنی داہنی کہنی کو داہنی ران سے جدا رکھا اور دونوں انگلیوں ( خنصر، بنصر ) کو بند کر لیا اور دائرہ بنا لیا ( یعنی بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے ) ۔ بشر بن مفضل بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے شیخ عاصم بن کلیب کو دیکھا وہ اسی طرح کرتے تھے، اور بشر نے انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کا دائرہ بنایا اور انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ قُلْتُ لأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ يُصَلِّي قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ رَأْسَهُ بِذَلِكَ الْمَنْزِلِ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً وَرَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا . وَحَلَّقَ بِشْرٌ الإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ .
#727
Sahih
The above tradition has been transmitted by ‘Asim b. Kulaib through a different chain of narrators and to the same effect. This version has:“He then placed his right hand on the back of his left palm and his wrist and forearm.” This also adds: “I then came back afterwards in a season when it was severe cold. I saw the people putting on heavy clothes moving their hands under the clothes (i.e. raised their hands before and after bowing).”
عاصم بن کلیب نے اس سند سے بھی اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، اس میں یہ ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہتھیلی کی پشت پہنچے اور کلائی پر رکھا، اس میں یہ بھی ہے کہ پھر میں سخت سردی کے زمانہ میں آیا تو میں نے لوگوں کو بہت زیادہ کپڑے پہنے ہوئے دیکھا، ان کے ہاتھ کپڑوں کے اندر ہلتے تھے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ فِيهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ وَقَالَ فِيهِ ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ شَدِيدٌ فَرَأَيْتُ النَّاسَ عَلَيْهِمْ جُلُّ الثِّيَابِ تَحَرَّكُ أَيْدِيهِمْ تَحْتَ الثِّيَابِ .
#728
Sahih
Narrated Wa'il ibn Hujr: I witnessed the Prophet (ﷺ) raise his hands in front of his ears when he began to pray. I then came back and saw them (the people) raising their hands up to their chest when they began to pray. They wore long caps and blankets
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جس وقت آپ نے نماز شروع کی اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے بالمقابل اٹھایا، پھر میں (ایک زمانہ کے بعد) لوگوں کے پاس آیا تو میں نے انہیں دیکھا کہ وہ نماز شروع کرتے وقت اپنے ہاتھ اپنے سینوں تک اٹھاتے اور حال یہ ہوتا میں سردی کے موسم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ نماز میں ( سردی کی وجہ سے ) اپنے کپڑوں کے اندر ہی رفع یدین کرتے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حِينَ افْتَتَحَ الصَّلاَةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِيَالَ أُذُنَيْهِ - قَالَ - ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَى صُدُورِهُمْ فِي افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ وَعَلَيْهِمْ بَرَانِسُ وَأَكْسِيَةٌ .
#729
Sahih
Wa’il b. Hujr said:I came to the Prophet(ﷺ) during winter; I saw his companions raise their hands in their clothes in prayer
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں سردی کے موسم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ نماز میں ( سردی کی وجہ سے ) اپنے کپڑوں کے اندر ہی رفع یدین کرتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي الشِّتَاءِ فَرَأَيْتُ أَصْحَابَهُ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي ثِيَابِهِمْ فِي الصَّلاَةِ .
#730
Sahih
Abu Humaid al-Sa’idi once told a company of ten of the companions of the Messenger of Allah (ﷺ) ; Abu Qatadah was one of them:I am one among you who is more informed of the way the Messenger of Allah (ﷺ) prayed. They said: Why, By Allah, you did not follow him more than us, nor did you remain in his company longer than us? He said: Yes. They said: Then describe (how the Prophet prayed). He said: When the Messenger of Allah (ﷺ) stood up to pray, he raised his hands so as to bring them opposite his shoulders, and uttered the takbir (Allah is the most great), until every bone rested in its place properly: then re recited (some verses from the Quran); then he uttered the takbir (Allah is most great), raising his hands so as to bring them opposite his shoulders; then he bowed; placing the palms of his hands on his knees and keeping himself straight, neither raising nor lowering his head; then raised his head saying: “Allah listens to him who praise Him”; then raised his hands so as to bring them exactly opposite to his shoulders; then uttered: “Allah is most great”; then lowered himself to the ground (in prostration), keeping his arms away from his sides; then raised his head, bent his left foot and sat on it, and opened the toes when he prostrated: then he uttered: “Allah is most great”; then raised his head, bent his left foot and sat on it so that every bone returned to its place properly; then he did the same in the second (rak’ah). At the end of the two Rak’ahs he stood up and uttered the takbir (Allah is most great), raising his hands so as to bring them opposite to his shoulders; then he bowed, placing the palms of his hands on his knees and keeping himself straight, neither raising or lowering his head: then raised his head saying: “Allah listens to him who praises Him”; then raised his hands so as to bring them exactly opposite his shoulders; then uttered: “Allah is most great”; then lowered himself to the ground (in prostration), keeping his arms away from his sides; then raised his head, bent his left foot and sat on it, and opened the toes when he prostrated himself; then he prostrated; then uttered: “Allah is most great”; then raised his head, bent his left foot and sat on it so that every bone returned to its place properly; then he did the same in the second (rak’ah). At the end of two rak’ahs he stood up and uttered the takbir (Allah is most great), raising his hands so as to bring them opposite to his shoulders in the way he had uttered the Takbir (Allah is most great) at the beginning of the prayer; then he did that in the remainder of his prayer; and after prostration which if followed by the taslim (salutation) he out his left foot and sat on his left hip. They said: You have spoken the truth. This is how he(peace be upon him) used to pray
عبدالحمید بن جعفر کہتے ہیں کہ مجھے محمد بن عمرو بن عطاء نے خبر دی ہے کہ میں نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ کرام کے درمیان جن میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے کہتے سنا: میں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: وہ کیسے؟ اللہ کی قسم آپ ہم سے زیادہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے تھے، نہ ہم سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں آئے تھے۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں یہ ٹھیک ہے ( لیکن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز زیادہ یاد ہے ) اس پر لوگوں نے کہا: ( اگر آپ زیادہ جانتے ہیں ) تو پیش کیجئیے۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، پھر تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر سیدھی ہو جاتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآت کرتے، پھر «الله أكبر» کہتے، اور دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے مقابل کر لیتے، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، اور رکوع میں پیٹھ اور سر سیدھا رکھتے، سر کو نہ زیادہ جھکاتے اور نہ ہی پیٹھ سے بلند رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور «سمع الله لمن حمده» کہتے، پھر اپنا دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ سیدھا ہو کر انہیں اپنے دونوں کندھوں کے مقابل کرتے پھر «الله أكبر» کہتے، پھر زمین کی طرف جھکتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں پہلووں سے جدا رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور اپنے بائیں پیر کو موڑتے اور اس پر بیٹھتے اور جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں پیر کی انگلیوں کو نرم رکھتے اور ( دوسرا ) سجدہ کرتے پھر «الله أكبر» کہتے اور ( دوسرے سجدہ سے ) اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر واپس آ جاتی، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے پھر جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو «الله أكبر» کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل لے جاتے جس طرح کہ نماز شروع کرنے کے وقت «الله أكبر» کہا تھا، پھر اپنی بقیہ نماز میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب اس سجدہ سے فارغ ہوتے جس میں سلام پھیرنا ہوتا، تو اپنے بائیں پیر کو اپنے داہنے پیر کے نیچے سے نکال کر اپنی بائیں سرین پر بیٹھتے ( پھر سلام پھیرتے ) ۔ اس پر ان لوگوں نے کہا: آپ نے سچ کہا، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ قَالَ - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ أَبُو قَتَادَةَ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالُوا فَلِمَ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ بِأَكْثَرِنَا لَهُ تَبَعًا وَلاَ أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً . قَالَ بَلَى . قَالُوا فَاعْرِضْ . قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يُكَبِّرُ حَتَّى يَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلاً ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلاَ يَصُبُّ رَأْسَهُ وَلاَ يُقْنِعُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " . ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلاً ثُمَّ يَقُولُ " اللَّهُ أَكْبَرُ " . ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الأَرْضِ فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ وَيَسْجُدُ ثُمَّ يَقُولُ " اللَّهُ أَكْبَرُ " . وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ ثُمَّ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلاَتِهِ حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ . قَالُوا صَدَقْتَ هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي صلى الله عليه وسلم .
#731
Sahih
‘Amr al-Amiri said:I (once) attended the meeting of the companions of the Messenger of Allah(ﷺ). They began to discuss his prayer. Abu Humaid then narrated a part of the same tradition and said: When he bowed he clutched his knees with his palms, and he opened his fingers; then he bent his back without raising his upwards, and did not turn his face (on any side). When he sat at the end of two rak’ahs he sat on the sole of his left foot and raised the right, and after the fourth he placed his left hip on the ground and spread out both his feet one side
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک مجلس میں تھا، ان لوگوں نے آپس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا، تو ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا …، پھر راوی نے اسی حدیث کا بعض حصہ ذکر کیا، اور کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو اپنی تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ۱۱۸۹۷ ) ( صحیح ) ( «ولا صافح بخدہ» کا جملہ صحیح نہیں ہے)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَبِيبٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْعَامِرِيِّ، قَالَ كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَذَاكَرُوا صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ وَقَالَ فَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ كَفَّيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ غَيْرَ مُقْنِعٍ رَأْسَهُ وَلاَ صَافِحٍ بِخَدِّهِ وَقَالَ فَإِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلَى بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى فَإِذَا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَفْضَى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى إِلَى الأَرْضِ وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَةٍ .
#732
Sahih
The above mentioned tradition has also been reported by Muhammad b. ‘Amr b. ‘Ata’ through a different chain of narrators. This version adds:“When he prostrated himself he neither placed his arms on the ground nor closed them; putting forward his fingers towards the qiblah.”
اس سند سے بھی محمد بن عمرو بن عطاء سے اسی طرح مروی ہے، اس میں ہے جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھتے، نہ ہی انہیں بچھاتے اور نہ ہی انہیں سمیٹے رکھتے، اور اپنی انگلیوں کے کناروں سے قبلہ کا استقبال کرتے ۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ، وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، نَحْوَ هَذَا قَالَ فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلاَ قَابِضِهِمَا وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ الْقِبْلَةَ .
#733
Daif
Abbas or ‘Ayyash b. Sahl as-Sa’idi said that he was present in a meeting which was attended by his father who was one of the companions of the Prophet(ﷺ), Abu Hurairah, Abu Humaid al-Sa’idi and Abu Usaid. He narrated the same tradition with a slight addition or deletion. He said:He then raised his head after bowing and uttered:”Allah listens to him who praises Him, to Thee, our Lord, be the praise,” and raised his hands. He then uttered: “Allah is most great”; then he prostrated himself and rested on his palms, knees, and the end of his toes while prostrating: then he uttered the Takbir (Allah is most great), and sat down on his hips and raised his other foot; then he uttered the takbir and prostrated himself; then he uttered takbir and stood up, but did not sit on his hips. He (the narrator) then narrated the rest of the tradition. He further said: Then he sat down at the end of two rak’ahs; when he was about to stand after two rak’ahs, he uttered the takbir; then he offered the last two rak’ahs of the prayer. The narrator did not mention about his sitting on the hips spreading out his feet
عباس بن سہل ساعدی یا عیاش بن سہل ساعدی کہتے ہیں کہ وہ ایک مجلس میں تھے، جس میں ان کے والد بھی تھے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے، مجلس میں ابوہریرہ، ابو حمید ساعدی، اور ابواسید رضی اللہ عنہم بھی تھے، پھر انہوں نے یہی حدیث کچھ کمی و زیادتی کے ساتھ روایت کی، اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور «سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد» کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر «الله اكبر» کہا اور سجدے میں گئے اور سجدے کی حالت میں اپنی دونوں ہتھیلیوں، گھٹنوں اور اپنے دونوں قدموں کے اگلے حصہ پر جمے رہے، پھر «الله اكبر» کہہ کر بیٹھے تو تورک کیا ( یعنی سرین پر بیٹھے ) اور اپنے دوسرے قدم کو کھڑا رکھا، پھر «الله اكبر» کہا اور سجدہ کیا، پھر «الله اكبر» کہا اور ( سجدہ سے اٹھ کر ) کھڑے ہو گئے، اور سرین پر نہیں بیٹھے ۔ پھر راوی عباس رضی اللہ عنہ نے ( آخر تک ) حدیث بیان کی اور کہا: پھر آپ دونوں رکعتوں کے بعد بیٹھے، یہاں تک کہ جب ( تیسری رکعت کے لیے ) اٹھنے کا قصد کیا تو «الله اكبر» کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے، پھر بعد والی دونوں رکعتیں ادا کیں۔ اور راوی ( عیسیٰ بن عبداللہ ) نے تشہد میں تورک کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَحَدِ بَنِي مَالِكٍ عَنْ عَبَّاسٍ، - أَوْ عَيَّاشِ - بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَبُوهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَفِي الْمَجْلِسِ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ وَأَبُو أُسَيْدٍ بِهَذَا الْخَبَرِ يَزِيدُ أَوْ يَنْقُصُ قَالَ فِيهِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ - يَعْنِي مِنَ الرُّكُوعِ - فَقَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ " . وَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ " . فَسَجَدَ فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ ثُمَّ كَبَّرَ فَجَلَسَ فَتَوَرَّكَ وَنَصَبَ قَدَمَهُ الأُخْرَى ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ لِلْقِيَامِ قَامَ بِتَكْبِيرَةٍ ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ وَلَمْ يَذْكُرِ التَّوَرُّكَ فِي التَّشَهُّدِ .
#734
Sahih
‘Abbas b. Sahl. Said:Abu Humaid, Abu Usaid, Sahl. B Sa’d and Muhammad b. Maslamah (once) got together and discussed how the Messenger of Allah(ﷺ) used to offer his prayer. Abu Humaid said: I am more informed than any of you regarding the prayer offered by the Messenger of Allah (ﷺ). Then he mentioned a part of it, and said: He then bowed and placed his hands upon his knees as if he caught hold of them; and bent them, keeping (his arms) away from his sides. He them prostrated himself and placed his nose and forehead (on the ground); and kept his arms away from his side, and placed his palms (on the ground opposite his shoulders; he then raised his head that every bone returned to its proper place; (he then prostrated twice) until he finished this prostrations). Then he sat down and spread out his left foot, putting forward the front of his right foot towards the qiblah placing the palm of his right hand on his right knee, and the palm of his left hand on his left knee, and he pointed with his finger. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Ibn al-Mubarak from Fulaih who heard ‘Abbas . Sahl narrating it; but I do not remember it. I think he made the mention of ‘Isa b. ‘Abd Allah who heard ‘Abbas b. Sahl saying: I accompanied Abu Humaid al-Sa’idi
عباس بن سہل بیان کرتے ہیں کہ ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے اور آپس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا تو ابوحمید نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تم لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، پھر انہوں نے اس کے بعض حصے کا ذکر کیا اور کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو دونوں ہاتھ دونوں گھٹنے پر رکھا گویا آپ ان کو پکڑے ہوئے ہیں اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کمان کی تانت کی طرح کیا اور انہیں اپنے دونوں پہلووں سے جدا رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنی ناک اور پیشانی زمین پر جمائی اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنی دونوں بغلوں سے جدا رکھا اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل رکھیں، پھر اپنا سر اٹھایا یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آئی ( آپ نے ایسے ہی کیا ) یہاں تک کہ دوسری رکعت کے دونوں سجدوں سے فارغ ہو گئے پھر بیٹھے تو اپنا بایاں پیر بچھا لیا اور داہنے پیر کی انگلیاں قبلہ رخ کیں اور دائیں گھٹنے پر داہنی اور بائیں گھٹنے پر بائیں ہتھیلی رکھی اور اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عتبہ بن ابوحکیم نے عبداللہ بن عیسٰی سے انہوں نے عباس بن سہل سے روایت کیا ہے، اور اس میں تورک کا ذکر نہیں کیا ہے، اور اسے فلیح کی حدیث کی طرح ( بغیر تورک کے ) ذکر کیا ہے، اور حسن بن حر نے فلیح بن سلیمان اور عتبہ کی حدیث میں مذکور بیٹھک کی طرح ذکر کیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنِي فُلَيْحٌ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ وَأَبُو أُسَيْدٍ وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَذَكَرُوا صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا قَالَ ثُمَّ رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَأَنَّهُ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَتَجَافَى عَنْ جَنْبَيْهِ قَالَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَمْكَنَ أَنْفَهُ وَجَبْهَتَهُ وَنَحَّى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَى عَلَى قِبْلَتِهِ وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى وَكَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ لَمْ يَذْكُرِ التَّوَرُّكَ وَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ فُلَيْحٍ وَذَكَرَ الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ نَحْوَ جِلْسَةِ حَدِيثِ فُلَيْحٍ وَعُتْبَةَ .
#735
Daif
Abu Humaid reported to the same effect. He said:When he (the Prophet) prostrated he kept his thighs wide and did not let his belly touch the thighs. Abu Dawud says that Ibn Mubarak narrated this hadith from ‘Abbas b. Sahl, which he did not remember well. It is thought that he has mentioned ‘Isa b. ‘Abd Allah, ‘Abbas b. Sahl and Abu Humaid al-Sa’idi
جناب عباس بن سہل ساعدی نے سیدنا ابوحمید ؓ سے یہ حدیث روایت کی اور کہا کہ جب سجدہ کیا تو اپنی رانوں کو کشادہ رکھا اور پیٹ کو رانوں سے نہ لگایا۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا: اور اس حدیث کو ابن مبارک نے روایت کیا تو کہا: «أخبرنا فليح سمعت عباس بن سهل يحدث» مگر میں اس کو یاد نہیں رکھ سکا، پس اس نے مجھے یہ حدیث بیان کی، میرا (ابن مبارک کا) خیال ہے کہ انہوں نے اپنے شیخ کا نام عیٰسی بن عبداللہ بتایا اور انہوں نے عباس بن سہل سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ میں ابو حمید ساعدی کے پاس حاضر تھا، اور یہ حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ وَإِذَا سَجَدَ فَرَّجَ بَيْنَ فَخِذَيْهِ غَيْرَ حَامِلٍ بَطْنَهُ عَلَى شَىْءٍ مِنْ فَخِذَيْهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا فُلَيْحٌ سَمِعْتُ عَبَّاسَ بْنَ سَهْلٍ يُحَدِّثُ فَلَمْ أَحْفَظْهُ فَحَدَّثَنِيهِ أُرَاهُ ذَكَرَ عِيسَى بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ قَالَ حَضَرْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ .
#736
Daif
Wa’il b. Hujr reported in this tradition from the Prophet(ﷺ):When he prostrated, his knees touched the ground before his palms touched it; when he prostrated himself, he placed his forehead on the ground between his palms, and kept his armpits away from his sides. Hajjaj reported from Hammam and Shaqiq narrated a similar tradition to us from ‘Asim b. Kulaib on the authority of his father from the Prophet(ﷺ). And another version narrated by one of them has-and I think in all probability that this version has been narrated by Muhammad b. Juhadah-when he got up (after prostration), he got up with his knees and gave his weight on his thighs
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو آپ کے دونوں گھٹنے آپ کی ہتھیلیوں سے پہلے زمین پر پڑے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے تو اپنی پیشانی کو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان رکھا، اور اپنی دونوں بغلوں سے علیحدہ رکھا ۔ حجاج کہتے ہیں: ہمام نے کہا: مجھ سے شقیق نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: مجھ سے عاصم بن کلیب نے بیان کیا، عاصم نے اپنے والد کلیب سے، کلیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کی حدیث میں، اور غالب گمان یہی ہے کہ محمد بن حجادہ کی حدیث میں یوں ہے: جب آپ سجدے سے اٹھے تو اپنے دونوں گھٹنوں پر اٹھے اور اپنی ران پر ٹیک لگایا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فَلَمَّا سَجَدَ وَقَعَتَا رُكْبَتَاهُ إِلَى الأَرْضِ قَبْلَ أَنْ تَقَعَ كَفَّاهُ - قَالَ - فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ جَبْهَتَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ وَجَافَى عَنْ إِبْطَيْهِ . قَالَ حَجَّاجٌ وَقَالَ هَمَّامٌ وَحَدَّثَنَا شَقِيقٌ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ هَذَا وَفِي حَدِيثِ أَحَدِهِمَا - وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ - وَإِذَا نَهَضَ نَهَضَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَاعْتَمَدَ عَلَى فَخِذَيْهِ .
#737
Daif
Narrated Wa'il ibn Hujr: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) raising his thumbs in prayer up to the lobes of his ears
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں اپنے دونوں انگوٹھے اپنے دونوں کانوں کی لو تک اٹھاتے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْفَعُ إِبْهَامَيْهِ فِي الصَّلاَةِ إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ .
#738
Daif
Narrated AbuHurayrah: When the Messenger of Allah (ﷺ) uttered the takbir (Allah is most great) for prayer (in the beginning), he raised his hands opposite to his shoulders; and when he bowed, he did like that; and when he raised his head to prostrate, he did like that; and when he got up at the end of two rak'ahs, he did like that
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کرتے، اور جب رکوع کرتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب رکوع سے سجدے میں جانے کے لیے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب دو رکعت پڑھ کر ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوتے تو بھی اسی طرح کرتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا كَبَّرَ لِلصَّلاَةِ جَعَلَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ لِلسُّجُودِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ .
#739
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: Maymun al-Makki said: that he saw Abdullah ibn az-Zubayr leading in prayer. He pointed with his hands (i.e. raised his hands opposite to the shoulders) when he stood up, when he bowed and when he prostrated, and when he got up after prostration, he pointed with his hands (i.e. raised his hands). The I went to Ibn Abbas and said (to him) I saw Ibn az-Zubayr praying that I never saw anyone praying. I then told him about the pointing with his hands (raising his hands). He said: If you like to see the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) follower the prayer as offered by Abdullah ibn az-Zubayr
قتیبہ بن سعید اپنی سند سے میمون مکی سے راوی ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اشارے کرتے تھے (یعنی رفع یدین کرتے تھے)۔ جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے، جب رکوع کرتے، جب سجدہ کرتے اور جب قیام کے لیے اٹھتے اور قیام کرتے تو اپنے ہاتھوں سے اشارے کرتے تھے۔ چنانچہ میں سیدنا ابن عباس ؓ کے پاس گیا اور انہیں کہا کہ میں نے ابن زبیر کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے کہ ان کی طرح کسی اور کو نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا اور انہیں ان اشاروں (رفع یدین) کی تفصیل بتائی تو سیدنا ابن عباس ؓ نے جواباً کہا: اگر تم رسول اللہ ﷺ کی نماز دیکھنا پسند کرتے ہو، تو سیدنا عبداللہ بن زبیر ؓ کی نماز کی اقتداء کرو۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ مَيْمُونٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَصَلَّى بِهِمْ يُشِيرُ بِكَفَّيْهِ حِينَ يَقُومُ وَحِينَ يَرْكَعُ وَحِينَ يَسْجُدُ وَحِينَ يَنْهَضُ لِلْقِيَامِ فَيَقُومُ فَيُشِيرُ بِيَدَيْهِ فَانْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ إِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى صَلاَةً لَمْ أَرَ أَحَدًا يُصَلِّيهَا فَوَصَفْتُ لَهُ هَذِهِ الإِشَارَةَ فَقَالَ إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاقْتَدِ بِصَلاَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ .
#740
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: Nadr ibn Kathir as-Sa'di said: Abdullah ibn Tawus prayed at my side in the mosque of al-Khayf. When he made the first prostration, he raised his head after it and raised his hands opposite to his face. This came as something strange for me. I, therefore, said it to Wuhayb ibn Khalid. Then Wuhayb ibn Khalid said to him: You are doing a thing that I did not see anyone do. Ibn Tawus then replied: I saw my father doing it, and my father said: I saw Ibn Abbas doing it. I do not know but he said: The Prophet (ﷺ) used to do it
نضر بن کثیر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن طاؤس نے مسجد خیف میں میرے بغل میں نماز پڑھی، جب آپ نے پہلا سجدہ کیا، اور اس سے اپنا سر اٹھایا تو اپنے چہرے کے بالمقابل انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تو مجھے یہ عجیب سا لگا، چنانچہ میں نے وہیب بن خالد سے اس کا تذکرہ کیا تو وہیب نے عبداللہ بن طاؤس سے کہا: آپ ایک ایسا کام کر رہے ہیں جسے میں نے کسی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا؟ ! تو عبداللہ بن طاؤس نے کہا: میں نے اپنے والد کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ایسا کرتے دیکھا، اور ان کے متعلق بھی مجھے یہی معلوم ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ كَثِيرٍ، - يَعْنِي السَّعْدِيَّ - قَالَ صَلَّى إِلَى جَنْبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَكَانَ إِذَا سَجَدَ السَّجْدَةَ الأُولَى فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْهَا رَفَعَ يَدَيْهِ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ فَقُلْتُ لِوُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ فَقَالَ لَهُ وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ تَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُ فَقَالَ ابْنُ طَاوُسٍ رَأَيْتُ أَبِي يَصْنَعُهُ وَقَالَ أَبِي رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَصْنَعُهُ وَلاَ أَعْلَمُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُهُ .
#741
Sahih
Nafi’ said on the authority of Ibn ‘Umar that when he began prayer, he uttered the takbir( Allah is most great) and raised his hands; and when he bowed( he raised his hands); and when he said:“Allah listens to him who praises Him,” (he raised his hands); and when he stood up at the end of two rak’ahs, he raised his hands. He (Ibn ‘Umar) traced that back to the Messenger of Allah (ﷺ). Abu Dawud said: What is correct is that the tradition reported by Ibn ‘Umar does not go back to the Prophet (may peace beupon him). Abu Dawud said: The narrator Baqiyyah reported the first part of this tradition from ‘Ubaid Allah and traced it back to the Prophet (ﷺ); and the narrator al-Thaqafi reported it from ‘Ubaid Allah as a statement of Ibn ‘Umar himself(not from the Porphet). In this version he said: When he stood at the end of two rak’ahs he raised them up to his breasts. And this is the correct version. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted as a statement of Ibn ‘Umar (and not of the Prophet) by al-Laith b. Sa’d, Malik, Ayyub, and Ibn Juraij; and this has been narrated as a statement of the Prophet (ﷺ) by Hammad b. Salamah alone on the authority of Ayyub. Ayyub and Malik did not mention his raising of hands when he stood after two prostrations, but al-Laith mentioned it in his version. Ibn Juraij said in this version: I asked Nafi’: Did Ibn ‘Umar raise (his hands) higher for the first time? He said: No, I said: Point out to me. He then pointed to the breasts or lower than that
سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ جب نماز شروع کرتے تو «الله اكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور (ایسے ہی) جب رکوع کو جاتے اور جب (رکوع سے اٹھتے اور) «سمع الله لمن حمده» کہتے۔ اور جب دو رکعتوں سے (تیسری کے لیے) اٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے۔ اور وہ اپنا یہ عمل رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا: صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا ابن عمر ؓ کا قول ہے، مرفوع حدیث نہیں۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا: اور بقیہ نے اس حدیث کا پہلا حصہ عبیداللہ سے بیان کیا تو اسے مرفوع ذکر کیا (بغیر اس کے کہ آپ نے دو رکعتوں سے اٹھ کر رفع یدین کیا) مگر عبدالوہاب ثقفی نے عبیداللہ سے روایت کیا تو اسے سیدنا ابن عمر ؓ پر موقوف کیا اور اس میں کہا: جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو اپنے ہاتھوں کو اپنی چھاتیوں تک اٹھاتے۔ اور یہی صحیح ہے۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا کہ اسے لیث بن سعد، مالک، ایوب اور ابن جریج نے موقوف ہی روایت کیا ہے۔ صرف حماد بن سلمہ نے بواسطہ ایوب مرفوع بیان کیا۔ ایوب اور مالک نے دو سجدوں (یعنی رکعتوں) سے اٹھ کر رفع یدین کا ذکر نہیں کیا، صرف لیث نے ذکر کیا ہے۔ ابن جریج نے اس میں کہا کہ میں نے نافع سے پوچھا: کیا سیدنا ابن عمر ؓ پہلی بار رفع یدین میں اپنے ہاتھ زیادہ اونچے اٹھاتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، سب میں برابر ہی اٹھاتے تھے۔ میں نے کہا: مجھے کر کے دکھاؤ، تو انہوں نے چھاتیوں تک اٹھائے یا اس سے ذرا کم ہی۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَيَرْفَعُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الصَّحِيحُ قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ وَلَيْسَ بِمَرْفُوعٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى بَقِيَّةُ أَوَّلَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأَسْنَدَهُ وَرَوَاهُ الثَّقَفِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَوْقَفَهُ عَلَى اب��نِ عُمَرَ وَقَالَ فِيهِ وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ يَرْفَعُهُمَا إِلَى ثَدْيَيْهِ وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ . قال أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَمَالِكٌ وَأَيُّوبُ وَابْنُ جُرَيْجٍ مَوْقُوفًا وَأَسْنَدَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَحْدَهُ عَنْ أَيُّوبَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَيُّوبُ وَمَالِكٌ الرَّفْعَ إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ وَذَكَرَهُ اللَّيْثُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ فِيهِ قُلْتُ لِنَافِعٍ أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَجْعَلُ الأُولَى أَرْفَعَهُنَّ قَالَ لاَ سَوَاءً . قُلْتُ أَشِرْ لِي . فَأَشَارَ إِلَى الثَّدْيَيْنِ أَوْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ .
#742
Sahih
Nafi’ said:When ‘Abd Allah b. ‘Umar began his prayer, he raised his hands opposite to his shoulders; and when he raised his head after bowing, he raised them lower than that. Abu Dawud said: So as far as I know, no one narrated the words “he raised them lower that that” except Malik
نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس سے کم اٹھاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جہاں تک مجھے معلوم ہے مالک کے علاوہ کسی نے «رفعهما دون ذلك» ( انہیں یعنی ہاتھوں کو اس سے کم یعنی مونڈھے سے نیچے اٹھاتے ) کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلاَةَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا دُونَ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يَذْكُرْ رَفْعَهُمَا دُونَ ذَلِكَ . أَحَدٌ غَيْرَ مَالِكٍ فِيمَا أَعْلَمُ .
#743
Sahih
Ibn ‘Umar said:When the Messenger of Allah (ﷺ) stood at the end of two rak’ahs, he uttered the takbir (Allah is most great) and raised his hands
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعتیں پڑھ کر ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوتے، تو«الله اكبر» کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ .
#744
Hasan Sahih
Narrated Ali ibn AbuTalib: When the Messenger of Allah (ﷺ) stood for offering the obligatory prayer, he uttered the takbir (Allah is most great) and raised his hands opposite to his shoulders; and he did like that when he finished recitation (of the Qur'an) and was about to bow; and he did like that when he rose after bowing; and he did not raise his hands in his prayer while he was in his sitting position. When he stood up from his prostrations (at the end of two rak'ahs), he raised his hands likewise and uttered the takbir (Allah is most great) and raised his hands so as to bring them up to his shoulders, as he uttered the takbir in the beginning of the prayer
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے اور جب اپنی قرآت پوری کر چکتے اور رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو بھی اسی طرح کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) اور جب رکوع سے اٹھتے تو بھی اسی طرح کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھنے کی حالت میں کبھی بھی نماز میں اپنے دونوں ہاتھ نہیں اٹھاتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر ( تیسری ) کے لیے اٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) اور «الله اكبر» کہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جس وقت انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کی تو کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کر لیتے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت «الله اكبر» کہتے وقت کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، - رضى الله عنه - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ وَلاَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَىْءٍ مِنْ صَلاَتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ وَكَبَّرَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ فِي حَدِيثِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ حِينَ وَصَفَ صَلاَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ .
#745
Sahih
Malik b. al-Huwairith said:I saw the Prophet (ﷺ) raise his hands when he uttered the takbir (Allah is most great), when he bowed and when he raised his head after bowing until he brought them to the lobes of his ears
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے جب آپ تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہتے جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کانوں کی لو تک لے جاتے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ حَتَّى يَبْلُغَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ .
#746
Sahih
Narrated AbuHurayrah: If I were in front of the Prophet (ﷺ), I would see his armpits. Ibn Mu'adh added that Lahiq said: Do you not see, AbuHurayrah could not stand in front of the Prophet (ﷺ) while he was praying. Musa added: When he uttered the takbir, he raised his hands
بشیر بن نہیک کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ہوتا تو ( رفع یدین کرتے وقت ) آپ کی بغل دیکھ لیتا۔ عبیداللہ بن معاذ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ لاحق ( ابومجلز ) کہتے ہیں: کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ نماز میں تھے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نہیں ہو سکتے تھے، ابوداؤد کے شیخ موسیٰ بن مروان رقی نے یہ اضافہ کیا یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تو رفع یدین کرتے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْمَعْنَى - عَنْ عِمْرَانَ، عَنْ لاَحِقٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَوْ كُنْتُ قُدَّامَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَرَأَيْتُ إِبْطَيْهِ . زَادَ ابْنُ مُعَاذٍ قَالَ يَقُولُ لاَحِقٌ أَلاَ تَرَى أَنَّهُ فِي الصَّلاَةِ وَلاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَكُونَ قُدَّامَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَزَادَ مُوسَى يَعْنِي إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ .
#747
Sahih
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Messenger of Allah (ﷺ) taught us how to pray. He then uttered the takbir (Allah is most great) and raised his hands; when he bowed, he joined his hands and placed them between his knees. When this (report) reached Sa'd, he said: My brother said truly. We used to do this; then we were later on commanded to do this, that is, to place the hands on the knees
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی تو آپ نے تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہی اور رفع یدین کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو دونوں ہاتھ ملا کر آپ نے انہیں اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں رکھ لیا، جب یہ خبر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: سچ کہا میرے بھائی ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے، پہلے ہم ایسا ہی کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا یعنی دونوں ہاتھوں سے دونوں گھٹنوں کے پکڑنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّلاَةَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا فَقَالَ صَدَقَ أَخِي قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا يَعْنِي الإِمْسَاكَ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ .
#748
Sahih
It was reported from Alqamah who said:Abdullah ibn Mas'ud said: Should I not pray for you the way the Messenger of Allah (ﷺ) prayed? So he prayed, raising his hands only once. Abu Dawud said: This is a summarized version of a longer narration and it is not authentic with this wording
علقمہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟ علقمہ کہتے ہیں: پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی، تو رفع یدین صرف ایک بار ( نماز شروع کرتے وقت ) کیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ایک طویل حدیث سے ماخوذ ایک مختصر ٹکڑا ہے، اور یہ حدیث اس لفظ کے ساتھ صحیح نہیں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، - يَعْنِي ابْنَ كُلَيْبٍ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَلاَ أُصَلِّي بِكُمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلاَّ مَرَّةً . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا مُخْتَصَرٌ مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَلَيْسَ هُوَ بِصَحِيحٍ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ .
#749
Daif
This tradition has also been transmitted by Sufyan through a different chain of narrators. This version has:He raised his hands once in the beginning. Some narrated: (raised his hands) once only
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کے قریب تک اٹھاتے تھے پھر دوبارہ ایسا نہیں کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، وَخَالِدُ بْنُ عَمْرٍو، وَأَبُو حُذَيْفَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا قَالَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَرَّةً وَاحِدَةً .
#750
Daif
Narrated Al-Bara' ibn Azib: When the Messenger of Allah (ﷺ) began prayer, he raised his hands up to his ears, then he did not repeat
اس طریق سے بھی یزید سے شریک ہی کی حدیث کی طرح حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے «ثم لا يعود» ( پھر ایسا نہیں کرتے تھے ) کا لفظ نہیں کہا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: اس کے بعد ہم سے یزید نے کوفہ میں «ثم لا يعود» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو ہشیم، خالد اور ابن ادریس نے یزید سے روایت کیا ہے، ان لوگوں نے «ثم لا يعود» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ أُذُنَيْهِ ثُمَّ لاَ يَعُودُ .