#701
Sahih
Narrated Abu Juhaim : The Messenger of Allah(ﷺ) as saying: "If one who passes in front of a man who is praying knew the responsibility he incurs, he would prefer to stand still for forty. . . rather than pass in front of him. Abu al-Nadr said: I do not know whether he said forty days, or months, or years." Abu Dawud: Sufyan al-Thawri said: If a man passes proudly in front of me while I am praying, I shall stop him, and if a weak man passes, I shall not stop him
بسر بن سعید کہتے ہیں کہ زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے انہیں ابوجہیم رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مصلی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں کیا سنا ہے؟ تو ابوجہیم رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اگر مصلی کے سامنے سے گزرنے والا یہ جان لے کہ اس پر کس قدر گناہ ہے، تو اس کو مصلی کے سامنے گزرنے سے چالیس ( دن یا مہینے یا سال تک ) وہیں کھڑا رہنا بہتر لگتا ۔ ابونضر کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے چالیس دن کہا یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ " . قَالَ أَبُو النَّضْرِ لاَ أَدْرِي قَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً .
#702
Sahih
Hafs reported that the Messenger of Allah(ﷺ) as saying, and the other version of this tradition transmitted through a different chain has:Abu Dharr said (and not the Prophet): If there is not anything like the back of a saddle in front of a man who is praying, then a donkey, a black dog, and a woman cut off his prayer. I asked him: Why has the black dog been specified, distinguishing it from a red, a yellow and a white dog? He replied: My nephew, I also asked the Messenger of Allah(ﷺ) the same question as you asked me. He said: The black dog is a devil
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (حفص کی روایت میں ہے) ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا جب آدمی کے سامنے کجاوہ کے اگلے حصہ کی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو، تو گدھے، کالے کتے اور عورت کے گزر جانے سے اس کی نماز ٹوٹ جائے گی ۱؎۔ میں نے عرض کیا: سرخ، زرد یا سفید رنگ کے کتے کے مقابلے میں کالے کتے کی کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہے ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ مُطَهَّرٍ، وَابْنُ، كَثِيرٍ - الْمَعْنَى - أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، - قَالَ حَفْصٌ - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالاَ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ " يَقْطَعُ صَلاَةَ الرَّجُلِ - إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ قِيدُ آخِرَةِ الرَّحْلِ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ وَالْمَرْأَةُ " . فَقُلْتُ مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَحْمَرِ مِنَ الأَصْفَرِ مِنَ الأَبْيَضِ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ " الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ " .
#703
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: Qatadah said: I heard Jabir ibn Zayd who reported on the authority of Ibn Abbas; and Shu'bah reported the Prophet (ﷺ) as saying: A menstruating woman and a dog cut off the prayer. Abu Dawud said: Sa'id, Hisham and Hammam narrated this tradition from Qatadah on the authority of Jabir b. Zaid as a statement of Ibn 'Abbas
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں (شعبہ نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے) : نماز حائضہ عورت اور کتا ( مصلی کے سامنے گزرنے ) سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید، ہشام اور ہمام نے قتادہ سے، قتادہ نے جابر بن زید سے، جابر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً یعنی ان کا اپنا قول نقل کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رَفَعَهُ شُعْبَةُ - قَالَ " يَقْطَعُ الصَّلاَةَ الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ وَالْكَلْبُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَفَهُ سَعِيدٌ وَهِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ .
#704
Daif
Narrated Abdullah ibn Abbas: Ikrimah reported on the authority of Ibn Abbas, saying: I think the Messenger of Allah (ﷺ) said: When one of you prays without a sutrah, a dog, an ass, a pig, a Jew, a Magian, and a woman cut off his prayer, but it will suffice if they pass in front of him at a distance of over a stone's throw. Abu Dawud said: There is something about this tradition in my heart. I used to discuss it with Ibrahim and others. I did not find anyone who narrated it from Hisham and knew it. I did not know anyone who reported it from Hisham and knew it. I did not know anyone who related it from Hisham. I think the confusion is on the part of Ibn Abi Saminah that is, Muhammad b. Isma'il al-Basri, the freed slave of Banu Hisham. In this tradition the mention of words "a Magian" is rejected; the mention of the words "at a stone's throw" and "a pig" is rejected. Abu Dawud said: I did not hear this tradition except from Muhammad b. Isma'il b. Samurrah and I think he was mistaken because he used to narrate to us from his memory
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں، عکرمہ کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: جب تم میں سے کوئی شخص بغیر سترہ کے نماز پڑھے تو اس کی نماز کتا، گدھا، سور، یہودی، مجوسی اور عورت کے گزرنے سے باطل ہو جاتی ہے، البتہ اگر یہ ایک پتھر کی مار کی دوری سے گزریں تو نماز ہو جائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کے سلسلے میں میرے دل میں کچھ کھٹک اور شبہ ہے، میں اس حدیث کے متعلق ابراہیم اور دوسرے لوگوں سے مذاکرہ کرتا یعنی پوچھتا تھا کہ کیا معاذ کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث ہشام سے روایت کی ہے، تو کسی نے مجھے اس کا جواب نہیں دیا اور کسی کو نہیں معلوم تھا کہ اسے ہشام سے کسی اور نے بھی روایت کیا ہے یا نہیں، اور نہ ہی میں نے کسی کو اسے ہشام سے روایت کرتے دیکھا ( سوائے معاذ کے ) ، میرا خیال ہے کہ یہ ابن ابی سمینہ ( یعنی بنی ہاشم کے آزاد کردہ غلام محمد بن اسماعیل بصریٰ ) کا وہم ہے، اس میں مجوسی کا ذکر منکر ہے، اور اس میں پتھر کی مار کی دوری، اور خنزیر کا ذکر ہے، اس میں بھی نکارت ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث محمد بن اسماعیل بن سمینہ کے علاوہ کسی اور سے نہیں سنی، اور میرا خیال ہے کہ انہیں وہم ہوا ہے، کیونکہ وہ ہم سے اپنے حافظے سے حدیثیں بیان کیا کرتے تھے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَحْسَبُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى غَيْرِ سُتْرَةٍ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلاَتَهُ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْخِنْزِيرُ وَالْيَهُودِيُّ وَالْمَجُوسِيُّ وَالْمَرْأَةُ وَيُجْزِئُ عَنْهُ إِذَا مَرُّوا بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ فِي نَفْسِي مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ شَىْءٌ كُنْتُ أُذَاكِرُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرَهُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا جَاءَ بِهِ عَنْ هِشَامٍ وَلاَ يَعْرِفُهُ وَلَمْ أَرَ أَحَدًا يُحَدِّثُ بِهِ عَنْ هِشَامٍ وَأَحْسَبُ الْوَهَمَ مِنَ ابْنِ أَبِي سَمِينَةَ - يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبَصْرِيَّ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ - وَالْمُنْكَرُ فِيهِ ذِكْرُ الْمَجُوسِيِّ وَفِيهِ " عَلَى قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ " . وَذِكْرُ الْخِنْزِيرِ وَفِيهِ نَكَارَةٌ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَمْ أَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلاَّ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَأَحْسَبُهُ وَهِمَ لأَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُنَا مِنْ حِفْظِهِ .
#705
Daif
Yazid b. Namran said:I saw a crippled man at Tabuk. He (the man) said: I passed riding a donkey in front of the Prophet(ﷺ) who was praying. He said (cursing him): O Allah, cut off his walking. Thenceforth I could not walk
یزید بن نمران کہتے ہیں کہ میں نے تبوک میں ایک اپاہج کو دیکھا، اس نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گدھے پر سوار ہو کر گزرا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کی چال کاٹ دے ، تو میں اس دن کے بعد سے گدھے پر سوار ہو کر چل نہیں سکا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَوْلًى، لِيَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ، قَالَ رَأَيْتُ رَجُلاً بِتَبُوكَ مُقْعَدًا فَقَالَ مَرَرْتُ بَيْنَ يَدَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَ " اللَّهُمَّ اقْطَعْ أَثَرَهُ " . فَمَا مَشَيْتُ عَلَيْهَا بَعْدُ .
#706
Daif
This tradition as also been reported by Sa’id through the same chain of narrators and to the same effect. He added:He cut off our prayer, may Allah cut off his walking. Abu Dawud said: This version narrated by Mushir on the authority of Sa’id has: He cut off our prayer
سعید سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ہماری نماز کاٹ دی، اللہ اس کی چال کاٹ دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابومسہر نے بھی سعید سے روایت کیا ہے، جس میں صرف اتنا ہے: اس نے ہماری نماز کاٹ دی ۔
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ يَعْنِي الْمَذْحِجِيَّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ زَادَ فَقَالَ " قَطَعَ صَلاَتَنَا قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ أَبُو مُسْهِرٍ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ فِيهِ " قَطَعَ صَلاَتَنَا " .
#707
Daif
Sa’id b. Ghazwan reported on the authority of his father that he made his stay at Tabuk(during his journey) for performing Hajj. All of a sudden he saw a crippled man and asked him about his condition. He said:I relate to you a tradition, but do not narrate it to anyone so long as I am alive: The Messenger of Allah (ﷺ) encamped at Tabuk near a date-palm and he said: This is our qiblah (direction for praying). He then offered prayer facing it. I came running, when I was a boy, until I passed the place between him and the tree. He said (cursing): He cut off our prayer, may Allah cut off his walking. I could not, therefore, stand upon them(feet) till today
غزوان کہتے ہیں کہ وہ حج کو جاتے ہوئے تبوک میں اترے، انہیں ایک اپاہج آدمی نظر آیا، انہوں نے اس سے اس کا حال پوچھا، تو اس آدمی نے غزوان سے کہا کہ میں تم سے ایک حدیث بیان کروں گا، بشرطیکہ تم اس حدیث کو کسی سے اس وقت تک بیان نہ کرنا جب تک تم یہ سننا کہ میں زندہ ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں ایک درخت کی آڑ میں اترے اور فرمایا: یہ ہمارا قبلہ ہے ، پھر آپ نے اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنی شروع کی، میں ایک لڑکا تھا، دوڑتا ہوا آیا یہاں تک کہ آپ کے اور درخت کے بیچ سے ہو کر گزر گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ہماری نماز کاٹ دی، اللہ اس کا قدم کاٹ دے ، چنانچہ اس روز سے آج تک میں اس پر کھڑا نہ ہو سکا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ح حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ نَزَلَ بِتَبُوكَ وَهُوَ حَاجٌّ فَإِذَا رَجُلٌ مُقْعَدٌ فَسَأَلَهُ عَنْ أَمْرِهِ فَقَالَ لَهُ سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا فَلاَ تُحَدِّثْ بِهِ مَا سَمِعْتَ أَنِّي حَىٌّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَزَلَ بِتَبُوكَ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ " هَذِهِ قِبْلَتُنَا " . ثُمَّ صَلَّى إِلَيْهَا فَأَقْبَلْتُ وَأَنَا غُلاَمٌ أَسْعَى حَتَّى مَرَرْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا فَقَالَ " قَطَعَ صَلاَتَنَا قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ " . فَمَا قُمْتُ عَلَيْهَا إِلَى يَوْمِي هَذَا .
#708
Hasan Sahih
‘Amr b. Shu’aib reported from his father on the authority of his grand-father:We came down from the mountain pass of Adhaakhir in the company of the Messenger of Allah (ﷺ). The time of prayer came and he prayed facing a direction of prayer, and we were (standing) behind him. Then a kid came and passed in front of him. He kept on stopping it until he brought his stomach near the wall (to detain it), and at last it passed behind him, or as Musaddad said
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اذاخر ۱؎ کی گھاٹی میں اترے تو نماز کا وقت ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیوار کو قبلہ بنا کر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اور ہم آپ کے پیچھے تھے، اتنے میں بکری کا ایک بچہ آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرنے لگا، تو آپ اسے دفع کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کا پیٹ دیوار میں چپک گیا، وہ سامنے سے نہ جا سکے، آخر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے ہو کر چلا گیا، مسدد نے اسی کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ هَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ ثَنِيَّةِ أَذَاخِرَ فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ - يَعْنِي - فَصَلَّى إِلَى جِدَارٍ فَاتَّخَذَهُ قِبْلَةً وَنَحْنُ خَلْفَهُ فَجَاءَتْ بَهْمَةٌ تَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَا زَالَ يُدَارِئُهَا حَتَّى لَصِقَ بَطْنُهُ بِالْجِدَارِ وَمَرَّتْ مِنْ وَرَائِهِ . أَوْ كَمَا قَالَ مُسَدَّدٌ .
#709
Sahih
Ibn ‘Abbas said:The Prophet (ﷺ) was (once) praying. A kid went passing in front of him and he kept on stopping it
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا، تو آپ اسے دور کرنے لگے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي فَذَهَبَ جَدْىٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَتَّقِيهِ .
#710
Sahih
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: I was sleeping in front of the Prophet (ﷺ) with my legs between him and the qiblah. Shu'bah said: I think she said: I was menstruating. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-Zuhri, 'Ata, Abu Bakr b. Hafs, Hisham b. 'Urwah, 'Irak b. Malik, Abu al-Aswad and Tamim b. Salamah; all transmitted from 'Urwah on the authority of 'Aishah. Ibrahim narrated from al-Aswad on the authority of 'Aishah. Abu al-Duha narrated from Masruq on the authority of 'Aishah. Al-Qasim b. Muhammad and Abu Salamah narrated it from 'Aisha. All these narrators did not mention the words "And I was menstruating
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے بیچ میں ہوتی تھی، شعبہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا: اور میں حائضہ ہوتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زہری، عطاء، ابوبکر بن حفص، ہشام بن عروہ، عراک بن مالک، ابواسود اور تمیم بن سلمہ سبھوں نے عروہ سے، عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، اور ابراہیم نے اسود سے، اسود نے عائشہ سے، اور ابوالضحیٰ نے مسروق سے، مسروق نے عائشہ سے، اور قاسم بن محمد اور ابوسلمہ نے عائشہ سے روایت کیا ہے، البتہ ان لوگوں نے «وأنا حائض» اور میں حائضہ ہوتی تھی کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ بَيْنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ - قَالَ شُعْبَةُ أَحْسَبُهَا قَالَتْ - وَأَنَا حَائِضٌ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ وَعَطَاءٌ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ وَعِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ وَأَبُو الأَسْوَدِ وَتَمِيمُ بْنُ سَلَمَةَ كُلُّهُمْ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَإِبْرَاهِيمُ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ وَأَبُو الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ لَمْ يَذْكُرُوا " وَأَنَا حَائِضٌ " .
#711
Sahih
‘Urwah reported on the authority of ‘A’ishah:The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray at night and she (‘A’ishah) would lie between him and the qiblah, sleeping on the bed on which he would sleep. When he wanted to offer the witr prayer, he awakened her and she offered the witr prayer
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رات کی نماز پڑھتے اور وہ آپ کے اور قبلے کے بیچ میں اس بچھونے پر لیٹی رہتیں جس پر آپ سوتے تھے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو انہیں جگاتے تو وہ بھی وتر پڑھتیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي صَلاَتَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ رَاقِدَةً عَلَى الْفِرَاشِ الَّذِي يَرْقُدُ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَهَا فَأَوْتَرَتْ .
#712
Sahih
‘A’ishah said:I used to sleep with my legs in front of the Messenger of Allah (ﷺ) when he would offer his prayer at night (i.e. tahajjud prayer offered towards the end of the night.). When he prostrated himself he struck my legs, and I drew them up and he then prostrated
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ تم لوگوں نے بہت برا کیا کہ ہم عورتوں کو گدھے اور کتے کے برابر ٹھہرا دیا، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے عرض میں لیٹی رہتی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو میرا پاؤں دبا دیتے، میں اسے سمیٹ لیتی پھر آپ سجدہ کرتے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْحِمَارِ وَالْكَلْبِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلِي فَضَمَمْتُهَا إِلَىَّ ثُمَّ يَسْجُدُ .
#713
Sahih
It was reported from Abu An-Nadr, from Abu Salama bin 'Abdur Rahman, from 'Aishah, that she said:"I used to be asleep while my legs would be in the front of the Messenger of Allah (ﷺ) while he was praying during the night. When he wanted to prostrate, he would prod my feet, so I would pull them up, and he would prostrate
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سوئی رہتی تھی، میرے دونوں پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوتے اور آپ رات میں نماز پڑھ رہے ہوتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرنا چاہتے تو میرے دونوں پاؤں کو مارتے تو میں انہیں سمیٹ لیتی پھر آپ سجدہ کرتے۔
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أَكُونُ نَائِمَةً وَرِجْلاَىَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ ضَرَبَ رِجْلَىَّ فَقَبَضْتُهُمَا فَسَجَدَ .
#714
Hasan Sahih
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: I used to sleep lying between the Messenger of Allah (ﷺ) and the qiblah. The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray when I (was lying) in front of him. When he wanted to offer the witr prayer - added by the narrator Uthman - he pinched me - then the narrators are agreed - and said: Set aside
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سمت میں لیٹی رہتی، آپ نماز پڑھتے اور میں آپ کے آگے ہوتی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنا چاہتے ( عثمان کی روایت میں یہ اضافہ ہے: تو آپ مجھے اشارہ کرتے ، پھر عثمان اور قعنبی دونوں روایت میں متفق ہیں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: سرک جاؤ ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ح قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ وَهَذَا لَفْظُهُ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أَنَامُ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ، فِي قِبْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَمَامَهُ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ . زَادَ عُثْمَانُ غَمَزَنِي ثُمَّ اتَّفَقَا فَقَالَ " تَنَحَّىْ " .
#715
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: I came riding a donkey. Another version has: Ibn Abbas said: When I was near the age of the puberty I came riding a she-ass and found the Messenger of Allah (ﷺ) leading the people in prayer at Mina. I passed in front of a part of the row (of worshippers), and dismounting left my she-ass for grazing in the pasture, and I joined the row, and no one objected to that. Abu Dawud said: These are the words of al-Qa'nabi, and are complete. Malik said: I take it as permissible at the time when the iqamah for prayer is pronounced
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا، ان دنوں میں بالغ ہونے کے قریب ہو چکا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے، میں صف کے بعض حصے کے آگے سے گزرا، پھر اترا تو گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، اور صف میں شریک ہو گیا، تو کسی نے مجھ پر نکیر نہیں کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ قعنبی کے الفاظ ہیں اور یہ زیادہ کامل ہیں۔ مالک کہتے ہیں: جب نماز کھڑی ہو جائے تو میں اس میں گنجائش سمجھتا ہوں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جِئْتُ عَلَى حِمَارٍ ح وَحَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ، قَدْ نَاهَزْتُ الاِحْتِلاَمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَىْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ أَحَدٌ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا لَفْظُ الْقَعْنَبِيِّ وَهُوَ أَتَمُّ . قَالَ مَالِكٌ وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ وَاسِعًا إِذَا قَامَتِ الصَّلاَةُ .
#716
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: AbusSahba' said: We discussed the things that cut off the prayer according to Ibn Abbas. He said: I and a boy from Banu AbdulMuttalib came riding a donkey, and the Messenger of Allah (ﷺ) was leading the people in prayer. He dismounted and I also dismounted. I left the donkey in front of the row (of the worshippers). He (the Prophet) did not pay attention to that. Then two girls from Banu AbdulMuttalib came and joined the row in the middle, but he paid no attention to that
ابوصہباء کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ان چیزوں کا تذکرہ کیا جو نماز کو توڑ دیتی ہیں، تو انہوں نے کہا: میں اور بنی عبدالمطلب کا ایک لڑکا دونوں ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، ہم دونوں اترے اور گدھے کو صف کے آگے چھوڑ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ پرواہ نہ کی، اور بنی عبدالمطلب کی دو لڑکیاں آئیں، وہ آ کر صف کے درمیان داخل ہو گئیں تو آپ نے اس کی بھی کچھ پرواہ نہ کی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ، قَالَ تَذَاكَرْنَا مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ جِئْتُ أَنَا وَغُلاَمٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حِمَارٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فَنَزَلَ وَنَزَلْتُ وَتَرَكْنَا الْحِمَارَ أَمَامَ الصَّفِّ فَمَا بَالاَهُ وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَدَخَلَتَا بَيْنَ الصَّفِّ فَمَا بَالَى ذَلِكَ .
#717
Sahih
The above mentioned narration has also been narrated by Mansur through a different chain of narrators. This version has:Then two girls from Banu ‘Abd al-Muttalib came fighting together. He caught them. ‘Uthman (a narrator) said: He separated them. And Dawud (another narrator) said: He pulled away from the other, but he paid no attention to that
منصور سے یہی حدیث اس سند سے بھی مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: بنی عبدالمطلب کی دو لڑکیاں لڑتی ہوئی آئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو پکڑ لیا، عثمان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑ کر دونوں کو جدا کر دیا۔ اور داود بن مخراق کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کو دوسرے سے جدا کر دیا، اور اس کی کچھ پرواہ نہ کی۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَدَاوُدُ بْنُ مِخْرَاقٍ الْفِرْيَابِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ قَالَ فَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اقْتَتَلَتَا فَأَخَذَهُمَا - قَالَ عُثْمَانُ فَفَرَّعَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ دَاوُدُ - فَنَزَعَ إِحْدَاهُمَا مِنَ الأُخْرَى فَمَا بَالَى ذَلِكَ .
#718
Daif
Narrated Al-Fadl ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) came to us accompanied by Abbas when we were in open country belonging to us. He prayed in a desert with no sutrah in front of him, and a she-ass and a bitch of ours were playing in front of him, but he paid no attention to that
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک صحرا میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ کے ساتھ عباس رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحرا ( کھلی جگہ ) میں نماز پڑھی، اس حال میں کہ آپ کے سامنے سترہ نہ تھا، اور ہماری گدھی اور کتیا دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھیل رہی تھیں، لیکن آپ نے اس کی کچھ پرواہ نہ کی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ فِي بَادِيَةٍ لَنَا وَمَعَهُ عَبَّاسٌ فَصَلَّى فِي صَحْرَاءَ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ سُتْرَةٌ وَحِمَارَةٌ لَنَا وَكَلْبَةٌ تَعْبَثَانِ بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَا بَالَى ذَلِكَ .
#719
Daif
Narrated AbuSa'id al-Khudri: The Prophet (ﷺ) said: Nothing interrupt prayer, but repulse as much as you can anyone who passes in front of you, for he is just a devil
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، اور جہاں تک ہو سکے گزرنے والے کو دفع کرو، کیونکہ وہ شیطان ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَقْطَعُ الصَّلاَةَ شَىْءٌ وَادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " .
#720
Daif
Abu al-Waddak said:A youth from the Quraish passed in front of Abu Sa’id al-Khudri who was praying. He repulsed him. He returned again. He then repulsed him for the third time. When he finished the prayer, he said: Nothing cuts off prayer; but the Messenger of Allah (ﷺ) said: Repulse as much as you can, for he is just a devil. Abu Dawud said: If two traditions of the prophet(ﷺ) conflict, the practice of the Companions after him should be taken into consideration
ابوالوداک کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ قریش کا ایک نوجوان ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے اسے دھکیل دیا، وہ پھر آیا، انہوں نے اسے پھر دھکیل دیا، اس طرح تین بار ہوا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے کہا: نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جہاں تک ہو سکے تم دفع کرو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی دو حدیثوں میں تعارض ہو، تو وہ عمل دیکھا جائے گا جو آپ کے صحابہ کرام نے آپ کے بعد کیا ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَدَّاكِ، قَالَ مَرَّ شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ بَيْنَ يَدَىْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَهُوَ يُصَلِّي فَدَفَعَهُ ثُمَّ عَادَ فَدَفَعَهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنَّ الصَّلاَةَ لاَ يَقْطَعُهَا شَىْءٌ وَلَكِنْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ إِذَا تَنَازَعَ الْخَبَرَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نُظِرَ إِلَى مَا عَمِلَ بِهِ أَصْحَابُهُ مِنْ بَعْدِهِ .
#721
Sahih
Salim reported on the authority of his father (Ibn ‘Umar):I saw the Messenger of Allah(ﷺ) that when he began prayer, he used to raise his hands opposite his shoulders, and he did so when he bowed, and raised his head after bowing. Sufyan(a narrator) once said: “When he raised his head:; and after he used to say: “When he raised his head after bowing. He would not raise (his hands) between the two prostrations
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، یہاں تک کہ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل لے جاتے، اور جب رکوع کرنے کا ارادہ کرتے ( تو بھی اسی طرح کرتے ) ، اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کے بعد بھی۔ سفیان نے ( اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کے بعد بھی کے بجائے ) ایک مرتبہ یوں نقل کیا: اور جب آپ اپنا سر اٹھاتے ، اور زیادہ تر سفیان نے: رکوع سے اپنا سر اٹھانے کے بعد کے الفاظ ہی کی روایت کی ہے، اور آپ دونوں سجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاَةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ - وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ . وَأَكْثَرُ مَا كَانَ يَقُولُ وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ - وَلاَ يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ .
#722
Sahih
‘Abd Allah b. Umar said:The Messenger of Allah (ﷺ) used to raise his hands opposite his shoulders when he began prayer, then he uttered takbir (Allah is most great) in the same condition, and then he bowed. And when he raised his back (head) after bowing he raised them opposite his shoulders, and said: “Allah listens to him who praises Him.” But he did not raise his hand when he prostrated himself; he rather raised them when he uttered the takbir (Allah is most great) before bowing until his prayer is finished
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) ، یہاں تک کہ وہ آپ کے دونوں کندھوں کے مقابل ہو جاتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «الله أكبر» کہتے، اور وہ دونوں ہاتھ اسی طرح ہوتے، پھر رکوع کرتے، پھر جب رکوع سے اپنی پیٹھ اٹھانے کا ارادہ کرتے تو بھی ان دونوں کو اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) یہاں تک کہ وہ آپ کے کندھوں کے بالمقابل ہو جاتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «سمع الله لمن حمده» کہتے، اور سجدے میں اپنے دونوں ہاتھ نہ اٹھاتے، اور رکوع سے پہلے ہر تکبیر کے وقت دونوں ہاتھ اٹھاتے، یہاں تک کہ آپ کی نماز پوری ہو جاتی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ وَهُمَا كَذَلِكَ فَيَرْكَعُ ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ صُلْبَهُ رَفَعَهُمَا حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَلاَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي السُّجُودِ وَيَرْفَعُهُمَا فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ يُكَبِّرُهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ حَتَّى تَنْقَضِيَ صَلاَتُهُ .
#723
Sahih
‘Abd al-Jabbar b. Wa’il (b.Hujr) said:I was a small boy and I did not understand the prayer of my father. So Wa’Il b. ‘Alqamah reported Wa’il b. Hujr as saying: I offered prayer along with the Messenger of Allah (ﷺ). He used to raise his hands when he pronounced the takbir (Allah is most great), then pulled his garment around him, then placed his right hand on his left, and entered his hands in his garment. When he was about to bow he took his hands out of his garment, and then raised them. And when he raised his head after bowing, he raised his hands. He then prostrated himself and placed his face (forehead on the ground) between his hands. And when he raised his head after prostration, he also raised his hands until he finished his prayer. Muhammad (a narrator) said: I mentioned it to al-Hasan b. Abu al-Hasan who said: This is how the Messenger of Allah(ﷺ) offered prayer; some did it and others abandoned it. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Hammam from ibn Juhadah, but he did not mention the raising of hands after he raised his head at the end of the prostration
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے تکبیر ( تحریمہ ) کہی تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑا، اور انہیں اپنے کپڑے میں داخل کر لیا، جب آپ نے رکوع کا ارادہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھ ( چادر سے ) نکالے پھر رفع یدین کیا، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھانے کا ارادہ کیا تو رفع یدین کیا، پھر سجدہ کیا اور اپنی پیشانی کو دونوں ہتھیلیوں کے بیچ میں رکھا، اور جب سجدے سے اپنا سر اٹھایا تو رفع یدین ۱؎ کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے۔ محمد کہتے ہیں: میں نے حسن بصری سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، کرنے والوں نے ایسا ہی کیا اور چھوڑنے والوں نے اسے چھوڑ دیا۔ أبوداود کہتے ہیں: اس حدیث کو ہمام نے بھی ابن جحادہ سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے سجدے سے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ كُنْتُ غُلاَمًا لاَ أَعْقِلُ صَلاَةَ أَبِي قَالَ فَحَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ أَبِي وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ - قَالَ - ثُمَّ الْتَحَفَ ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ وَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي ثَوْبِهِ قَالَ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ سَجَدَ وَوَضَعَ وَجْهَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ أَيْضًا رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلاَتِهِ . قَالَ مُحَمَّدٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ فَقَالَ هِيَ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَلَهُ مَنْ فَعَلَهُ وَتَرَكَهُ مَنْ تَرَكَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هَمَّامٌ عَنِ ابْنِ جُحَادَةَ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ مَعَ الرَّفْعِ مِنَ السُّجُودِ .
#724
Daif
Wa’il b.Hujr said:He saw that when the Prophet(ﷺ) stood up to pray he raised his hands till they were in front of his shoulders and placed his thumbs opposite his ears; then he uttered the Takbir (Allah is most great)
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین کیا یہاں تک کہ آپ کے دونوں ہاتھ دونوں مونڈھوں کے بالمقابل ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں انگوٹھے دونوں کانوں کے بالمقابل ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَبْصَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا بِحِيَالِ مَنْكِبَيْهِ وَحَاذَى بِإِبْهَامَيْهِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ .
#725
Sahih
Wa’il b.Hujr said that he saw the Messenger of Allah(ﷺ) raise his hands when he uttered the takbir (Allah is most great)
عبدالجبار بن وائل کہتے ہیں: مجھ سے میرے گھر والوں نے بیان کیا کہ میرے والد نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکبیر کے ساتھ اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ، حَدَّثَنِي أَهْلُ، بَيْتِي عَنْ أَبِي أَنَّهُ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ، رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ التَّكْبِيرَةِ .