#5251
Sahih
Narrated Al-Abbas ibn AbdulMuttalib: Al-Abbas said to the Messenger of Allah (ﷺ): We wish to sweep out Zamzam, but in it there are some of these Jinnan, meaning small snakes; so the Messenger of Allah (ﷺ) ordered that they should be killed
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ہم زمزم کے آس پاس کی جگہ کو ( جھاڑو دے کر ) صاف ستھرا کر دینا چاہتے ہیں وہاں ان چھوٹے سانپوں میں سے کچھ رہتے ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مار ڈالنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُوسَى الطَّحَّانِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَكْنِسَ زَمْزَمَ وَإِنَّ فِيهَا مِنْ هَذِهِ الْجِنَّانِ - يَعْنِي الْحَيَّاتِ الصِّغَارَ - فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِقَتْلِهِنَّ .
#5252
Sahih
Ibn ‘Umar reported the Messenger of Allah(ﷺ) as saying:Kill snakes, kill those which have two streaks and those with small tails, for they obliterate the eyesight and cause miscarriage. Salim said: ‘Abd Allah(b. ‘Umar) used to kill every snake which he found. Abu Lubabah or Zaid b. al-Khattab saw him chasing a snake. He said: He(the Prophet) prohibited house-snakes
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سانپوں کو مار ڈالو، دو دھاریوں والوں کو بھی اور دم کٹے سانپوں کو بھی، کیونکہ یہ دونوں بینائی کو زائل کر دیتے اور حمل کو گرا دیتے ہیں ( زہر کی شدت سے ) ، سالم کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جس سانپ کو بھی پاتے مار ڈالتے، ایک بار ابولبابہ یا زید بن الخطاب نے ان کو ایک سانپ پر حملہ آور دیکھا تو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ وَيُسْقِطَانِ الْحَبَلَ " . قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا فَأَبْصَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ .
#5253
Sahih
Abu Lubabah said:The Messenger of Allah(ﷺ) prohibited killing the jinnan(small snakes) that are in the house, except the one which have two streaks and the one with small tail, for they obliterate the eyesight and cause miscarriage
ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو مارنے سے روکا ہے جو گھروں میں ہوتے ہیں مگر یہ کہ دو منہ والا ہو، یا دم کٹا ہو ( یہ دونوں بہت خطرناک ہیں ) کیونکہ یہ دونوں نگاہ کو اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ میں جو ( بچہ ) ہوتا ہے اسے گرا دیتے ہیں۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَخْطِفَانِ الْبَصَرَ وَيَطْرَحَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ .
#5254
Sahih Isnaad
Nafi said:After that, that is, after Abu Lubabah had mentioned him this tradition, Ibn ‘Umar found a snake in his house; he commanded regarding it and it was driven away to al-Baqi
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے لبابہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سننے کے بعد ایک سانپ اپنے گھر میں پایا، تو اسے ( باہر کرنے کا ) حکم دیا تو وہ بقیع کی طرف بھگا دیا گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، وَجَدَ بَعْدَ ذَلِكَ - يَعْنِي بَعْدَ مَا حَدَّثَهُ أَبُو لُبَابَةَ - حَيَّةً فِي دَارِهِ فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ يَعْنِي إِلَى الْبَقِيعِ .
#5255
Hasan Isnaad
The tradition mentioned above has also been transmitted by Nafi through a different chain of transmitters. In this version Nafi said:After that I saw it again in his house
اسامہ نے نافع سے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے نافع نے کہا: پھر اس کے بعد میں نے اسے ان کے گھر میں دیکھا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، عَنْ نَافِعٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ نَافِعٌ ثُمَّ رَأَيْتُهَا بَعْدُ فِي بَيْتِهِ .
#5256
Daif
Narrated AbuSa'id al-Khudri: Muhammad ibn AbuYahya said that his father told that he and his companion went to AbuSa'id al-Khudri to pay a sick visit to him. He said: Then we came out from him and met a companion of ours who wanted to go to him. We went ahead and sat in the mosque. He then came back and told us that he heard AbuSa'id al-Khudri say: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Some snakes are jinn; so when anyone sees one of them in his house, he should give it a warning three times. If it return (after that), he should kill it, for it is a devil
محمد بن ابو یحییٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ اور ان کے ایک ساتھی دونوں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے پھر وہاں سے واپس ہوئے تو اپنے ایک اور ساتھی سے ملے، وہ بھی ان کے پاس جانا چاہتے تھے ( وہ ان کے پاس چلے گئے ) اور ہم آ کر مسجد میں بیٹھ گئے پھر وہ ہمارے پاس ( مسجد ) میں آ گئے اور ہمیں بتایا کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بعض سانپ جن ہوتے ہیں جو اپنے گھر میں بعض زہریلے کیڑے ( سانپ وغیرہ ) دیکھے تو اسے تین مرتبہ تنبیہ کرے ( کہ دیکھ تو پھر نظر نہ آ، ورنہ تنگی و پریشانی سے دو چار ہو گا، اس تنبیہ کے بعد بھی ) پھر نظر آئے تو اسے قتل کر دے، کیونکہ وہ شیطان ہے ( جیسے شیطان شرارت سے باز نہیں آتا، ایسے ہی یہ بھی سمجھانے کا اثر نہیں لیتا، ایسی صورت میں اسے مار دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ) ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ، انْطَلَقَ هُوَ وَصَاحِبٌ لَهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ يَعُودَانِهِ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ فَلَقِينَا صَاحِبًا لَنَا وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِ فَأَقْبَلْنَا نَحْنُ فَجَلَسْنَا فِي الْمَسْجِدِ فَجَاءَ فَأَخْبَرَنَا أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْهَوَامَّ مِنَ الْجِنِّ فَمَنْ رَأَى فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فَلْيُحَرِّجْ عَلَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَإِنْ عَادَ فَلْيَقْتُلْهُ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ " .
#5257
Hasan Sahih
Abu al-Sa’ib said I went to visit Abu Sa’ld al-Khudri, and while I was sitting I heard a movement under under his couch. When I looked and found a snake there, I got up. Abu Sa’ld said:what is with you? I said : Here is a snake. He said : what do you want ? I said : I shall kill it. He then pointed to a room in his house in front of his room and said : My cousin (son of my uncle) was in this room. He asked his permission to go to his wife on the occasion of the battle of Troops (Ahzab), as he was recently married. The Messenger of Allah (May peace be upon him) gave him permission and ordered him to take his weapon with him. He came to his house and found his wife standing at the door of the house. When he pointed to her with the lance, she said; do not make haste till you see what has brought me out. He entered the house and found an ugly snake there. He pierced in the lance while it was quivering. He said : I do not know which of them died first, the man or the snake. His people then came to the Messenger of Allah (May peace be upon him) and said: supplicate Allah to restore our companion to life for us. He said : Ask forgiveness for your Companion. Then he said : In Medina a group of Jinn have embraced Islam, so when you see one of them, pronounce a waring to it three times and if it appears to you after that, kill it after three days
ابوسائب کہتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اسی دوران کہ میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان کی چارپائی کے نیچے مجھے کسی چیز کی سر سراہٹ محسوس ہوئی، میں نے ( جھانک کر ) دیکھا تو ( وہاں ) سانپ موجود تھا، میں اٹھ کھڑا ہوا، ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہوا تمہیں؟ ( کیوں کھڑے ہو گئے ) میں نے کہا: یہاں ایک سانپ ہے، انہوں نے کہا: تمہارا ارادہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میں اسے ماروں گا، تو انہوں نے اپنے گھر میں ایک کوٹھری کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میرا ایک چچا زاد بھائی اس گھر میں رہتا تھا، غزوہ احزاب کے موقع پر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اہل کے پاس جانے کی اجازت مانگی، اس کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اور حکم دیا کہ وہ اپنے ہتھیار کے ساتھ جائے، وہ اپنے گھر آیا تو اپنی بیوی کو کمرے کے دروازے پر کھڑا پایا، تو اس کی طرف نیزہ لہرایا ( چلو اندر چلو، یہاں کیسے کھڑی ہو ) بیوی نے کہا، جلدی نہ کرو، پہلے یہ دیکھو کہ کس چیز نے مجھے باہر آنے پر مجبور کیا، وہ کمرے میں داخل ہوا تو ایک خوفناک سانپ دیکھا تو اسے نیزہ گھونپ دیا، اور نیزے میں چبھوئے ہوئے اسے لے کر باہر آیا، وہ تڑپ رہا تھا، ابوسعید کہتے ہیں، تو میں نہیں جان سکا کہ کون پہلے مرا آدمی یا سانپ؟ ( گویا چبھو کر باہر لانے کے دوران سانپ نے اسے ڈس لیا تھا، یا وہ سانپ جن تھا اور جنوں نے انتقاماً اس کا گلا گھونٹ دیا تھا ) تو اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ ہمارے آدمی ( ساتھی ) کو لوٹا دے، ( زندہ کر دے ) آپ نے فرمایا: اپنے آدمی کے لیے مغفرت کی دعا کرو ( اب زندگی ملنے سے رہی ) پھر آپ نے فرمایا: مدینہ میں جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوئی ہے، تم ان میں سے جب کسی کو دیکھو ( سانپ وغیرہ موذی جانوروں کی صورت میں ) تو انہیں تین مرتبہ ڈراؤ کہ اب نہ نکلنا ورنہ مارے جاؤ گے، اس تنبیہ کے باوجود اگر وہ غائب نہ ہو اور تمہیں اس کا مار ڈالنا ہی مناسب معلوم ہو تو تین بار کی تنبیہ کے بعد اسے مار ڈالو ۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ صَيْفِيٍّ أَبِي سَعِيدٍ، مَوْلَى الأَنْصَارِ عَنْ أَبِي السَّائِبِ، قَالَ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ، عِنْدَهُ سَمِعْتُ تَحْتَ، سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَىْءٍ فَنَظَرْتُ فَإِذَا حَيَّةٌ فَقُمْتُ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ مَا لَكَ فَقُلْتُ حَيَّةٌ هَا هُنَا . قَالَ فَتُرِيدُ مَاذَا قُلْتُ أَقْتُلُهَا . فَأَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي دَارِهِ تِلْقَاءَ بَيْتِهِ فَقَالَ إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لِي كَانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الأَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ إِلَى أَهْلِهِ وَكَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ بِسِلاَحِهِ فَأَتَى دَارَهُ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً عَلَى بَابِ الْبَيْتِ فَأَشَارَ إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَقَالَتْ لاَ تَعْجَلْ حَتَّى تَنْظُرَ مَا أَخْرَجَنِي . فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَإِذَا حَيَّةٌ مُنْكَرَةٌ فَطَعَنَهَا بِالرُّمْحِ ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فِي الرُّمْحِ تَرْتَكِضُ قَالَ فَلاَ أَدْرِي أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الرَّجُلُ أَوِ الْحَيَّةُ فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ صَاحِبَنَا . فَقَالَ " اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ " . ثُمَّ قَالَ " إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ أَسْلَمُوا بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ أَحَدًا مِنْهُمْ فَحَذِّرُوهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ إِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدُ أَنْ تَقْتُلُوهُ فَاقْتُلُوهُ بَعْدَ الثَّلاَثِ " .
#5258
Hasan Sahih
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn 'Ajilan through a different chain of narrators briefly. This version has:He should give it a warning three times. If it appears to him after that, he should kill it, for it is a devil
اس سند سے ابن عجلان سے یہی حدیث مختصراً مروی ہے، اس میں ہے کہ اسے ( سانپ کو ) تین بار آگاہ کر دو، ( اگر جن وغیرہ ہو تو چلے جاؤ ) پھر اس کے بعد اگر وہ تمہیں نظر آئے تو اسے مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ مُخْتَصَرًا قَالَ " فَلْيُؤْذِنْهُ ثَلاَثًا فَإِنْ بَدَا لَهُ بَعْدُ فَلْيَقْتُلْهُ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ " .
#5259
Sahih
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Sa'id al-Khudri in a similar manner through a different chain of narrators. This version is more perfect. In this version he said :give it a warning for three days; if it appears to you after that, then kill it, for it is only a devil
ہشام بن زہرہ کے غلام ابوسائب نے خبر دی ہے کہ وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، پھر راوی نے اسی جیسی اور اس سے زیادہ کامل حدیث ذکر کی اس میں ہے: اسے تین دن تک آگاہ کرو اگر اس کے بعد بھی وہ تمہیں نظر آئے تو اسے مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَيْفِيٍّ، مَوْلَى ابْنِ أَفْلَحَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو السَّائِبِ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَأَتَمَّ مِنْهُ قَالَ " فَآذِنُوهُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " .
#5260
Daif
Narrated AbdurRahman Ibn AbuLayla: The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about the house-snakes. He said: When you see one of them in your dwelling, say: I adjure you by the covenant which Noah made with you, and I adjure you by the covenant which Solomon made with you not to harm us. Then if they come back, kill them
ابولیلیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھروں میں نکلنے والے سانپوں کے متعلق دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: جب تم ان میں سے کسی کو اپنے گھر میں دیکھو تو کہو: میں تمہیں وہ عہد یاد دلاتا ہوں جو تم سے نوح علیہ السلام نے لیا تھا، وہ عہد یاد دلاتا ہوں جو تم سے سلیمان علیہ السلام نے لیا تھا کہ تم ہمیں تکلیف نہیں پہنچاؤ گے اس یاددہانی کے باوجود اگر وہ دوبارہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالو ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ حَيَّاتِ الْبُيُوتِ فَقَالَ " إِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُنَّ شَيْئًا فِي مَسَاكِنِكُمْ فَقُولُوا أَنْشُدُكُنَّ الْعَهْدَ الَّذِي أَخَذَ عَلَيْكُنَّ نُوحٌ أَنْشُدُكُنَّ الْعَهْدَ الَّذِي أَخَذَ عَلَيْكُنَّ سُلَيْمَانُ أَنْ لاَ تُؤْذُونَا فَإِنْ عُدْنَ فَاقْتُلُوهُنَّ " .
#5261
Sahih Muquf
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: Kill all the snakes except the little white one which looks like a silver wand. Abu Dawud said: A man said to me: A white snake does not wind in its movement. If it is correct, that is a sign in it, if Allah wills
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سبھی سانپوں کو مارو سوائے اس سانپ کے جو سفید ہوتا ہے چاندی کی چھڑی کی طرح ( یعنی سفید سانپ کو نہ مارو ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: تو ایک آدمی نے مجھ سے کہا: جن اپنی چال میں مڑتا نہیں اگر وہ سیدھا چل رہا ہو تو یہی اس کی پہچان ہے، إن شاء اللہ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهَا إِلاَّ الْجَانَّ الأَبْيَضَ الَّذِي كَأَنَّهُ قَضِيبُ فِضَّةٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ فَقَالَ لِي إِنْسَانٌ الْجَانُّ لاَ يَنْعَرِجُ فِي مِشْيَتِهِ فَإِذَا كَانَ هَذَا صَحِيحًا كَانَتْ عَلاَمَةً فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ .
#5262
Sahih
‘Amir b. Sa’d, quoting his father, said :The Messenger of Allah (May peace be upon him) ordered a gecko to be killed, and calling it a noxious little creature
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے، اور اسے «فويسق» ( چھوٹا فاسق ) کہا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا .
#5263
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: If anyone kills a gecko with the first blow, such and such number of good deeds will be recorded for him, if he kills it with the second blow, such and such number of good deeds will be recorded for him less than the former; and if he kills it with the third blow, such and such number of good deeds will be recorded for him, less than the former
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے چھپکلی کو پہلے ہی وار میں قتل کر دیا اس کو اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی، اور جس نے دوسرے وار میں اسے قتل کیا اسے اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی، پہلے سے کم، اور جس نے تیسرے وار میں اسے ہلاک کیا اسے اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی دوسرے وار سے کم ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً أَدْنَى مِنَ الأَوَّلِ وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً أَدْنَى مِنَ الثَّانِيَةِ " .
#5264
Hasan
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: For the first blow seventy good deeds will be recorded
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے وار میں ستر نیکیاں ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ سُهَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، أَوْ أُخْتِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ سَبْعِينَ حَسَنَةً " .
#5265
Sahih
Abu hurairah reported the prophet (peace be upon him) as saying :A prophet got down beneath a tree and he was stung by an ant. He ordered regarding the baggage and it was removed from beneath it. He then ordered regarding it and it was burnt. Allah then revealed to him : why not (just) one ant?
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبیوں میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے اترے تو انہیں ایک چھوٹی چیونٹی نے کاٹ لیا، انہوں نے ( غصے میں آ کر ) سامان ہٹا لینے کا حکم دیا تو وہ اس کے نیچے سے ہٹا لیا گیا، پھر اس درخت میں آگ لگوا دی ( جس سے سب چیونٹیاں جل گئیں ) تو اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی کے ذریعہ تنبیہ فرمائی: تم نے ایک ہی چیونٹی کو ( جس نے تمہیں کاٹا تھا ) کیوں نہ سزا دی ( سب کو کیوں مار ڈالا؟ ) ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجَهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلاَّ نَمْلَةً وَاحِدَةً " .
#5266
Sahih
Abu Hurairah reported Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :An ant stung a prophet. He ordered a colony of ants to be burned. Allah revealed to him : because an ant stung you, you have perished a community which glorifies Me
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹیوں کی پوری بستی کو جلا ڈالنے کا حکم دے دیا، اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ انہیں تنبیہ فرمائی کہ ایک چیونٹی کے تجھے کاٹ لینے کے بدلے میں تو نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے والی پوری ایک جماعت کو ہلاک کر ڈالا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ نَمْلَةً قَرَصَتْ نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فِي أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الأُمَمِ تُسَبِّحُ " .
#5267
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) prohibited to kill four creatures: ants, bees, hoopoes, and sparrow-hawks
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں کے قتل سے روکا ہے چیونٹی، شہد کی مکھی، ہد ہد، لٹورا چڑیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ النَّمْلَةُ وَالنَّحْلَةُ وَالْهُدْهُدُ وَالصُّرَدُ .
#5268
Sahih
‘Abd al-Rahman b. ‘Abd Allah quoted his father as saying :When we were on a journey with the Messenger of Allah (ﷺ) and he had gone to releive himself, we saw a Hummarah with two young ones. We took the young ones. The Hummarah came and began to spread out its wings. Then the prophet (May peace be upon him) came and said : who has pained this young by the loss of her young? Give her young ones back to her. We also saw an ant-hill which we had burned. He asked? Who has burned this? We replied : we have. He said: it is not fitting that anyone but the lord of the fire should punish with fire
عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، ہم نے ایک چھوٹی چڑیا دیکھی اس کے دو بچے تھے، ہم نے اس کے دونوں بچے پکڑ لیے، تو وہ چڑیا آئی اور ( انہیں حاصل کرنے کے لیے ) تڑپنے لگی، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا: کس نے اس کے بچے لے کر اسے تکلیف پہنچائی ہے، اس کے بچے اسے واپس لوٹا دو ، آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جسے ہم نے جلا ڈالا تھا، آپ نے پوچھا: کس نے جلایا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے، آپ نے فرمایا: آگ کے پیدا کرنے والے کے سوا کسی کے لیے آگ کی سزا دینا مناسب نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ سَعْدٍ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ الْحَسَنُ بْنُ سَعْدٍ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ فَرَأَيْنَا حُمَّرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا فَجَاءَتِ الْحُمَّرَةُ فَجَعَلَتْ تُعَرِّشُ فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا " . وَرَأَى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا فَقَالَ " مَنْ حَرَّقَ هَذِهِ " . قُلْنَا نَحْنُ . قَالَ " إِنَّهُ لاَ يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلاَّ رَبُّ النَّارِ " .
#5269
Sahih
Narrated AbdurRahman ibn Uthman: When a physician consulted the Prophet (ﷺ) about putting frogs in medicine, he forbade him to kill them
عبدالرحمٰن بن عثمان سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مینڈک کو دوا میں استعمال کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارنے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ، أَنَّ طَبِيبًا، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ضِفْدَعٍ يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَتْلِهَا .
#5270
Sahih
‘Abd b. Mughaffal said :The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited throwing pebbles (in sport) saying : game is not caught by such means. Neither is an enemy injured, but it may sometimes put out an eye or break a tooth
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کھیل کود اور ہنسی مذاق میں ) ایک دوسرے کو کنکریاں مارنے سے منع فرمایا ہے، آپ نے فرمایا: نہ تو یہ کسی شکار کا شکار کرتی ہے، نہ کسی دشمن کو گھائل کرتی ہے۔ یہ تو صرف آنکھ پھوڑ سکتی ہے اور دانت توڑ سکتی ہے ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْخَذْفِ قَالَ " إِنَّهُ لاَ يَصِيدُ صَيْدًا وَلاَ يَنْكَأُ عَدُوًّا وَإِنَّمَا يَفْقَأُ الْعَيْنَ وَيَكْسِرُ السِّنَّ " .
#5271
Sahih
Narrated Umm Atiyyah al-Ansariyyah: A woman used to perform circumcision in Medina. The Prophet (ﷺ) said to her: Do not cut severely as that is better for a woman and more desirable for a husband. Abu Dawud said: It has been transmitted by 'Ubaid Allah b. 'Amr from 'Abd al-Malik to the same effect through a different chain. Abu Dawud said: It is not a strong tradition. It has been transmitted in mursal form (missing the link of the Companions) Abu Dawud said: Muhammad b. Hasan is obscure, and this tradition is weak
ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مدینہ میں ایک عورت عورتوں کا ختنہ کیا کرتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: نیچا کر ختنہ مت کرو بہت نیچے سے مت کاٹو کیونکہ یہ عورت کے لیے زیادہ لطف و لذت کی چیز ہے اور شوہر کے لیے زیادہ پسندیدہ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عبیداللہ بن عمرو سے مروی ہے انہوں نے عبدالملک سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے، وہ مرسلاً بھی روایت کی گئی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن حسان مجہول ہیں اور یہ حدیث ضعیف ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الأَشْجَعِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ، - قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ الْكُوفِيُّ - عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ امْرَأَةً، كَانَتْ تَخْتِنُ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُنْهِكِي فَإِنَّ ذَلِكَ أَحْظَى لِلْمَرْأَةِ وَأَحَبُّ إِلَى الْبَعْلِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رُوِيَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بِمَعْنَاهُ وَإِسْنَادِهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ وَقَدْ رُوِيَ مُرْسَلاً . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ مَجْهُولٌ وَهَذَا الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ .
#5272
Hasan
Narrated AbuUsayd al-Ansari: AbuUsayd heard the Messenger of Allah (ﷺ) say when he was coming out of the mosque, and men and women were mingled in the road: Draw back, for you must not walk in the middle of the road; keep to the sides of the road. Then women were keeping so close to the wall that their garments were rubbing against it
ابواسید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت فرماتے ہوئے سنا جب آپ مسجد سے باہر نکل رہے تھے اور لوگ راستے میں عورتوں میں مل جل گئے تھے، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: تم پیچھے ہٹ جاؤ، تمہارے لیے راستے کے درمیان سے چلنا ٹھیک نہیں، تمہارے لیے راستے کے کنارے کنارے چلنا مناسب ہے پھر تو ایسا ہو گیا کہ عورتیں دیوار سے چپک کر چلنے لگیں، یہاں تک کہ ان کے کپڑے ( دوپٹے وغیرہ ) دیوار میں پھنس جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَبِي عَمْرِو بْنِ حِمَاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ وَهُوَ خَارِجٌ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاخْتَلَطَ الرِّجَالُ مَعَ النِّسَاءِ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلنِّسَاءِ " اسْتَأْخِرْنَ فَإِنَّهُ لَيْسَ لَكُنَّ أَنْ تَحْقُقْنَ الطَّرِيقَ عَلَيْكُنَّ بِحَافَاتِ الطَّرِيقِ " . فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تَلْتَصِقُ بِالْجِدَارِ حَتَّى إِنَّ ثَوْبَهَا لَيَتَعَلَّقُ بِالْجِدَارِ مِنْ لُصُوقِهَا بِهِ .
#5273
Mawdu
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) prohibited that one, i.e. man, should walk between two women
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو دو عورتوں کے بیچ میں چلنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي صَالِحٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَمْشِيَ - يَعْنِي الرَّجُلَ - بَيْنَ الْمَرْأَتَيْنِ .
#5274
Sahih
Abu Hurairah reported the prophet (ﷺ) as saying:Allah most high says : “The son of Adam injures me by abusing time, whereas I am time. Authority is in my hand. I alternate the night and the day”. Ibn al-Sarh said: “on the authority of Ibn al-Musayyab instead of Sa’id’
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِيَ الأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ " . قَالَ ابْنُ السَّرْحِ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ مَكَانَ سَعِيدٍ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ .