#5226
Hasan Sahih
Narrated AbuDharr: The Prophet (ﷺ) addressed me, saying: O AbuDharr! I replied: At thy service and at thy pleasure, Messenger of Allah! may I be ransom for thee
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو پکارا: اے ابوذر! میں نے کہا: میں حاضر ہوں حکم فرمائیے اللہ کے رسول! میں آپ پر فدا ہوں۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حَمَّادٍ، - يَعْنِيَانِ ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ - عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا ذَرٍّ " . فَقُلْتُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا فِدَاؤُكَ .
#5227
Daif Isnaad
Narrated Imran ibn Husayn: In the pre-Islamic period we used to say: "May Allah make the eye happy for you," and "Good morning" but when Islam came, we were forbidden to say that. AbdurRazzaq said on the authority of Ma'mar: It is disapproved that a man should say: "May Allah make the eye happy for you," but there is no harm in saying: "May Allah make your eye happy
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم زمانہ جاہلیت میں کہا کرتے تھے: «أنعم الله بك عينا وأنعم صباحا» اللہ تمہاری آنکھ ٹھنڈی رکھے اور صبح خوشگوار بنائے لیکن جب اسلام آیا تو ہمیں اس طرح کہنے سے روک دیا گیا۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ معمر کہتے ہیں:«أنعم الله بك عينا» کہنا مکروہ ہے اور «أنعم الله عينك» کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، قَالَ كُنَّا نَقُولُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْعَمَ اللَّهُ بِكَ عَيْنًا وَأَنْعِمْ صَبَاحًا فَلَمَّا كَانَ الإِسْلاَمُ نُهِينَا عَنْ ذَلِكَ . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ مَعْمَرٌ يُكْرَهُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ أَنْعَمَ اللَّهُ بِكَ عَيْنًا وَلاَ بَأْسَ أَنْ يَقُولَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَيْنَكَ .
#5228
Sahih
Abu Qatadah said:The Prophet (ﷺ) was on journey. The people became thirsty, and they went quickly. I guarded the Messenger of Allah(ﷺ) on that night. He said: May Allah guard you for the reason you have guarded His Prophet
عبداللہ بن رباح انصاری کہتے ہیں کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے، لوگ پیاسے ہوئے تو جلدباز لوگ آگے نکل گئے، لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اس رات رہا ( آپ کو چھوڑ کر نہ گیا ) تو آپ نے فرمایا: اللہ تیری حفاظت فرمائے جس طرح تو نے اس کے نبی کی حفاظت کی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ فَعَطِشُوا فَانْطَلَقَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَلَزِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَقَالَ " حَفِظَكَ اللَّهُ بِمَا حَفِظْتَ بِهِ نَبِيَّهُ " .
#5229
Sahih
Narrated Mu'awiyah: AbuMijlaz said: Mu'awiyah went out to Ibn az-Zubayr and Ibn Amir. Ibn Amir got up and Ibn az-Zubayr remained sitting. Mu'awiyah said to Ibn Amir: Sit down, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Let him who likes people to stand up before him prepare his place in Hell
ابومجلز کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ ابن زبیر اور ابن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو ابن عامر کھڑے ہو گئے اور ابن زبیر بیٹھے رہے، معاویہ نے ابن عامر سے کہا: بیٹھ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو یہ چاہے کہ لوگ اس کے سامنے ( با ادب ) کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم کو بنا لے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ وَابْنِ عَامِرٍ فَقَامَ ابْنُ عَامِرٍ وَجَلَسَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لاِبْنِ عَامِرٍ اجْلِسْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَمْثُلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
#5230
Daif
Narrated AbuUmamah: The Messenger of Allah (ﷺ) came out to us leaning on a stick. We stood up to show respect to him. He said: Do not stand up as foreigners do for showing respect to one another
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ایک چھڑی کا سہارا لیے ہوئے تشریف لائے تو ہم سب کھڑے ہو گئے، آپ نے فرمایا: عجمیوں کی طرح ایک دوسرے کے احترام میں کھڑے نہ ہوا کرو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي الْعَنْبَسِ، عَنْ أَبِي الْعَدَبَّسِ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَوَكِّئًا عَلَى عَصًا فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ " لاَ تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ الأَعَاجِمُ يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا " .
#5231
Hasan
Narrated A man: Ghalib said: When we were sitting at al-Hasan's door, a man came along. He said: My father told me on the authority of my grandfather, saying: My father sent me to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Go to him and give him a greeting. So I went to him and said: My father sends you a greeting. He said: Upon you and upon your father be peace
غالب کہتے ہیں کہ ہم حسن کے دروازے پر بیٹھے تھے اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میرے باپ نے میرے دادا سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا: آپ کے پاس جاؤ اور آپ کو میرا سلام کہو میں آپ کے پاس گیا اور عرض کیا: میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں، آپ نے فرمایا: تم پر اور تمہارے والد پر بھی سلام ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ غَالِبٍ، قَالَ إِنَّا لَجُلُوسٌ بِبَابِ الْحَسَنِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ بَعَثَنِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ائْتِهِ فَأَقْرِئْهُ السَّلاَمَ . قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ إِنَّ أَبِي يُقْرِئُكَ السَّلاَمَ . فَقَالَ " عَلَيْكَ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلاَمُ " .
#5232
Sahih
‘A’ishah told that the Prophet(ﷺ) said to her:Gabriel gives you a greeting. Replying she said: Upon him be peace and grace of Allah
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جبرائیل تجھے سلام کہتے ہیں، تو انہوں نے کہا: «وعليه السلام ورحمة الله» ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، رضى الله عنها حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهَا " إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ " . فَقَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ .
#5233
Hasan
Narrated AbuAbdurRahman al-Fihri: I was present with the Messenger of Allah at the battle of Hunayn. We travelled on a hot day when the heat was extreme. We halted under the shade of a tree. When the sun passed the meridian, I put on my coat of mail and rode on my horse. I came to the Messenger of Allah (ﷺ) who was in a tent. I said: Peace, Allah's mercy and His blessings be upon you! The time of departure has come. He said: Yes. He then said: Rise, Bilal. He jumped out from beneath a gum-acacia tree and its shade was like that of a bird. He said: I am at your service and at your pleasure, and I make myself a sacrifice for you. He said: Put the saddle on the horse for me. He then took out a saddle, both sides of which were stuffed with palm-leaves; it showed no arrogance and pride. So he rode and we also rode. He then mentioned the rest of the tradition. Abu Dawud said: Abu 'Abd al-Rahman al-Fihri did not transmit any tradition except this one. This is a tradition of an expert transmitted by Hammad b. Salamah
ابوعبدالرحمٰن فہری کہتے ہیں کہ میں غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھا، ہم سخت گرمی کے دن میں چلے، پھر ایک درخت کے سایہ میں اترے، جب سورج ڈھل گیا تو میں نے اپنی زرہ پہنی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ اپنے خیمہ میں تھے، میں نے کہا: «السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله وبركاته» کوچ کا وقت ہو چکا ہے، آپ نے فرمایا: ہاں، پھر آپ نے فرمایا: اے بلال! اٹھو، یہ سنتے ہی بلال ایک درخت کے نیچے سے اچھل کر نکلے ان کا سایہ گویا چڑے کے سایہ جیسا تھا ۱؎ انہوں نے کہا: «لبيك وسعديك وأنا فداؤك» میں حاضر ہوں، حکم فرمائیے، میں آپ پر فدا ہوں آپ نے فرمایا: میرے گھوڑے پر زین کس دو تو انہوں نے زین اٹھایا جس کے دونوں کنارے خرما کے پوست کے تھے، نہ ان میں تکبر کی کوئی بات تھی نہ غرور کی ۲؎ پھر آپ سوار ہوئے اور ہم بھی سوار ہوئے ( اور چل پڑے ) پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن فہری سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی حدیث مروی نہیں ہے اور یہ ایک عمدہ اور قابل قدر حدیث ہے جسے حماد بن سلمہ نے بیان کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هَمَّامٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيَّ، قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُنَيْنًا فَسِرْنَا فِي يَوْمٍ قَائِظٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلِّ الشَّجَرَةِ فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ لَبِسْتُ لأْمَتِي وَرَكِبْتُ فَرَسِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي فُسْطَاطِهِ فَقُلْتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ قَدْ حَانَ الرَّوَاحُ فَقَالَ " أَجَلْ " . ثُمَّ قَالَ " يَا بِلاَلُ قُمْ " . فَثَارَ مِنْ تَحْتِ سَمُرَةٍ كَأَنَّ ظِلَّهُ ظِلُّ طَائِرٍ فَقَالَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَأَنَا فِدَاؤُكَ . فَقَالَ " أَسْرِجْ لِي الْفَرَسَ " . فَأَخْرَجَ سَرْجًا دَفَّتَاهُ مِنْ لِيفٍ لَيْسَ فِيهِ أَشَرٌ وَلاَ بَطَرٌ فَرَكِبَ وَرَكِبْنَا . وَسَاقَ الْحَدِيثَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيُّ لَيْسَ لَهُ إِلاَّ هَذَا الْحَدِيثُ وَهُوَ حَدِيثٌ نَبِيلٌ جَاءَ بِهِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ .
#5234
Daif
Narrated Ibn Kinanah b. Abbas ibn Mirdas: The Messenger of Allah (ﷺ) laughed AbuBakr or Umar said to him: May Allah make your teeth laugh! He then mentioned the tradition
مرداس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ یا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے «أضحك الله سنك» اللہ آپ کو ہمیشہ ہنستا رکھے کہا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ، وَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيِّ، وَأَنَا لِحَدِيثِ، عِيسَى أَضْبَطُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ السَّرِيِّ، - يَعْنِي السُّلَمِيَّ - حَدَّثَنَا ابْنُ كِنَانَةَ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ أَوْ عُمَرُ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
#5235
Sahih
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Messenger of Allah (ﷺ) came upon us when my mother and I were plastering a wall of mine. He asked: What is this, Abdullah ? I replied: It is something I am repairing. He said! The matter is quicker for you than that
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اور میری ماں اپنی ایک دیوار پر مٹی پوت رہے تھے، آپ نے فرمایا: عبداللہ! یہ کیا ہو رہا ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ مرمت ( سرمت ) کر رہا ہوں، آپ نے فرمایا: معاملہ تو اس سے بھی زیادہ تیزی پر ہے ( یعنی موت اس سے بھی قریب آتی جا رہی ہے، اعمال میں جو کمیاں ہیں ان کی اصلاح و درستگی کی بھی فکر کرو ) ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أُطَيِّنُ حَائِطًا لِي أَنَا وَأُمِّي فَقَالَ " مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ " . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَىْءٌ أُصْلِحُهُ فَقَالَ " الأَمْرُ أَسْرَعُ مِنْ ذَاكَ " .
#5236
Sahih
The tradition mentioned above has also been transmitted by al-A’mash through a different chain of narrators. This version has:The Messenger of Allah(ﷺ) came upon me when we were repairing our cottage that was broken. He asked: What is this? We replied: This cottage of ours has broken and we are repairing it. The Messenger of Allah(ﷺ) said: I see that the command is quicker than that
اس سند سے بھی اعمش سے (ان کی سابقہ سند سے) یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے ہم اپنے جھونپڑے کو درست کر رہے تھے جو گرنے کے قریب ہو گیا تھا، آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: ہمارا یک بوسیدہ جھونپڑا ہے ہم اس کو درست کر رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مگر میں تو معاملہ ( موت ) کو اس سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھتا دیکھ رہا ہوں ( زندگی میں جو خامیاں رہ گئی ہیں ان کی اصلاح کی بھی کوشش کرو ) ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادٌ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا قَالَ مَرَّ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نُعَالِجُ خُصًّا لَنَا وَهَى فَقَالَ " مَا هَذَا " . فَقُلْنَا خُصٌّ لَنَا وَهَى فَنَحْنُ نُصْلِحُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَرَى الأَمْرَ إِلاَّ أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ " .
#5237
Daif
Narrated Anas ibn Malik: The Messenger of Allah (ﷺ) came out, and on seeing a high-domed building, he said: What is it? His companions replied to him: It belongs to so and so, one of the Ansar. He said: he said nothing but kept the matter in mind. When its owner came and gave him a greeting among the people, he turned away from him. When he had done this several times, the man realised that he was the cause of the anger and the rebuff. So he complained about it to his companions, saying: I swear by Allah that I cannot understand the Messenger of Allah (ﷺ). They said: He went out and saw your domed building. So the man returned to it and demolished it, levelling it to the ground. One day the Messenger of Allah (ﷺ) came out and did not see it. He asked: What has happened to the domed building? They replied: Its owner complained to us about your rebuff, and when we informed him about it, he demolished it. He said: Every building is a misfortune for its owner, except what cannot, except what cannot, meaning except that which is essential
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ( راہ میں ) ایک اونچا قبہ دیکھا تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ تو آپ کے اصحاب نے بتایا کہ یہ فلاں انصاری کا مکان ہے، آپ یہ سن کر چپ ہو رہے اور بات دل میں رکھ لی، پھر جب صاحب مکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کیا تو آپ نے اس سے اعراض کیا ( نہ اس کی طرف متوجہ ہوئے نہ اسے جواب دیا ) ایسا کئی بار ہوا، یہاں تک کہ اسے معلوم ہو گیا کہ آپ اس سے ناراض ہیں اور اس سے اعراض فرما رہے ہیں تو اس نے اپنے دوستوں سے اس بات کی شکایت کی اور کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و برتاؤ میں تبدیلی محسوس کرتا ہوں، تو لوگوں نے بتایا کہ: آپ ایک روز باہر نکلے تھے اور تیرا قبہ ( مکان ) دیکھا تھا ( شاید اسی مکان کو دیکھ کر آپ ناراض ہوئے ہوں ) یہ سن کر وہ واپس اپنے مکان پر آیا، اور اسے ڈھا دیا، حتیٰ کہ اسے ( توڑ تاڑ کر ) زمین کے برابر کر دیا، پھر ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور اس مکان کو نہ دیکھا تو فرمایا: وہ مکان کیا ہوا، لوگوں نے عرض کیا: مالک مکان نے ہم سے آپ کی اس سے بے التفاتی کی شکایت کی، ہم نے اسے بتا دیا، تو اس نے اسے گرا دیا، آپ نے فرمایا: سن لو ہر مکان اپنے مالک کے لیے وبال ہے، سوائے اس مکان کے جس کے بغیر چارہ و گزارہ نہ ہو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الأَسَدِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ فَرَأَى قُبَّةً مُشْرِفَةً فَقَالَ " مَا هَذِهِ " . قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ هَذِهِ لِفُلاَنٍ - رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ - . قَالَ فَسَكَتَ وَحَمَلَهَا فِي نَفْسِهِ حَتَّى إِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسَلِّمُ عَلَيْهِ فِي النَّاسِ أَعْرَضَ عَنْهُ صَنَعَ ذَلِكَ مِرَارًا حَتَّى عَرَفَ الرَّجُلُ الْغَضَبَ فِيهِ وَالإِعْرَاضَ عَنْهُ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لأُنْكِرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالُوا خَرَجَ فَرَأَى قُبَّتَكَ . قَالَ فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى قُبَّتِهِ فَهَدَمَهَا حَتَّى سَوَّاهَا بِالأَرْضِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَرَهَا قَالَ " مَا فَعَلَتِ الْقُبَّةُ " . قَالُوا شَكَا إِلَيْنَا صَاحِبُهَا إِعْرَاضَكَ عَنْهُ فَأَخْبَرْنَاهُ فَهَدَمَهَا فَقَالَ " أَمَا إِنَّ كُلَّ بِنَاءٍ وَبَالٌ عَلَى صَاحِبِهِ إِلاَّ مَا لاَ إِلاَّ مَا لاَ " . يَعْنِي مَا لاَ بُدَّ مِنْهُ .
#5238
Sahih Isnaad
Narrated Dukayn ibn Sa'id al-Muzani: We came to the Prophet (ﷺ) and asked him for some corn. He said: Go, Umar, and give them. He ascended with us a room upstairs, took a key from his apartment and opened it
دکین بن سعید مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے غلہ مانگا تو آپ نے فرمایا: عمر! جاؤ اور انہیں دے دو، تو وہ ہمیں ایک بالاخانے پر لے کر چڑھے، پھر اپنے کمرے سے چابی لی اور اسے کھولا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ أَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْنَاهُ الطَّعَامَ فَقَالَ " يَا عُمَرُ اذْهَبْ فَأَعْطِهِمْ " . فَارْتَقَى بِنَا إِلَى عِلِّيَّةٍ فَأَخَذَ الْمِفْتَاحَ مِنْ حُجْزَتِهِ فَفَتَحَ .
#5239
Sahih
Narrated Abdullah ibn Habashi: The Prophet (ﷺ) said: If anyone cuts the lote-tree, Allah brings him headlong into Hell. Abu Dawud was asked about the meaning of this tradition. He said: This is a brief tradition. It means that if anyone cuts uselessly, unjustly and without any right a lote-tree under the shade of which travellers and beasts take shelter, Allah will bring him into Hell headlong
عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( بلا ضرورت ) بیری کا درخت کاٹے گا ۱؎ اللہ اسے سر کے بل جہنم میں گرا دے گا ۔ ابوداؤد سے اس حدیث کا معنی و مفہوم پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ: یہ حدیث مختصر ہے، پوری حدیث اس طرح ہے کہ کوئی بیری کا درخت چٹیل میدان میں ہو جس کے نیچے آ کر مسافر اور جانور سایہ حاصل کرتے ہوں اور کوئی شخص آ کر بلا سبب بلا ضرورت ناحق کاٹ دے ( تو مسافروں اور چوپایوں کو تکلیف پہنچانے کے باعث وہ مستحق عذاب ہے ) اللہ ایسے شخص کو سر کے بل جہنم میں جھونک دے گا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً صَوَّبَ اللَّهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ " . سُئِلَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ هَذَا الْحَدِيثُ مُخْتَصَرٌ يَعْنِي مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً فِي فَلاَةٍ يَسْتَظِلُّ بِهَا ابْنُ السَّبِيلِ وَالْبَهَائِمُ عَبَثًا وَظُلْمًا بِغَيْرِ حَقٍّ يَكُونُ لَهُ فِيهَا صَوَّبَ اللَّهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ .
#5240
Daif
A similar report (as previous) was narrated from a man from Thaqif, from 'Urwah bin Az-Zubair, who attributed the Hadith to the Prophet (ﷺ)
عروہ بن زبیر نے اس حدیث کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، وَسَلَمَةُ، - يَعْنِي ابْنَ شَبِيبٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ ثَقِيفٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
#5241
Daif
Narrated Hassan ibn Ibrahim: I asked Hisham ibn Urwah about the cutting of a lote-tree when he was leaning against the house of Urwah. He said: Do you not see these doors and leaves? These were made of the lote-tree of Urwah which Urwah used to cut from his hand? He said: There is no harm in it. Humayd's version adds: You have brought an innovation, O Iraqi! He said: The innovation is from you. I heard someone say at Mecca: The Messenger of Allah (ﷺ) cursed him who cuts a lote-tree. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect
حسان بن ابراہیم کہتے ہیں میں نے ہشام بن عروہ سے جو عروہ کے محل سے ٹیک لگائے ہوئے تھے بیر کے درخت کاٹنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: کیا تم ان دروازوں اور چوکھٹوں کو دیکھ رہے ہو، یہ سب عروہ کے بیر کے درختوں کے بنے ہوئے ہیں، عروہ انہیں اپنی زمین سے کاٹ کر لائے تھے، اور کہا: ان کے کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حمید نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ہشام نے کہا: اے عراقی ( بھائی ) یہی بدعت تم لے کر آئے ہو، میں نے کہا کہ یہ بدعت تو آپ لوگوں ہی کی طرف کی ہے، میں نے مکہ میں کسی کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیر کا درخت کاٹنے والے پر لعنت بھیجی ہے، پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ سَأَلْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ عَنْ قَطْعِ السِّدْرِ، وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى قَصْرِ عُرْوَةَ فَقَالَ أَتَرَى هَذِهِ الأَبْوَابَ وَالْمَصَارِيعَ إِنَّمَا هِيَ مِنْ سِدْرِ عُرْوَةَ كَانَ عُرْوَةُ يَقْطَعُهُ مِنْ أَرْضِهِ وَقَالَ لاَ بَأْسَ بِهِ . زَادَ حُمَيْدٌ فَقَالَ هِيَ يَا عِرَاقِيُّ جِئْتَنِي بِبِدْعَةٍ قَالَ قُلْتُ إِنَّمَا الْبِدْعَةُ مِنْ قِبَلِكُمْ سَمِعْتُ مَنْ يَقُولُ بِمَكَّةَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ قَطَعَ السِّدْرَ . ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ .
#5242
Sahih
Narrated Abu Buraydah: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: A human being has three hundred and sixty joints for each of which he must give alms. The people asked him: Who is capable of doing this ? He replied: It may be mucus in the mosque which you bury, and something which you remove from the road; but if you do not find such, two rak'ahs in the forenoon will be sufficient for you
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: انسان کے جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں اور انسان کو چاہیئے کہ ہر جوڑ کی طرف سے کچھ نہ کچھ صدقہ دے، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! اتنی طاقت کس کو ہے؟ آپ نے فرمایا: مسجد میں تھوک اور رینٹ کو چھپا دینا اور ( موذی ) چیز کو راستے سے ہٹا دینا بھی صدقہ ہے، اور اگر ایسا اتفاق نہ ہو تو چاشت کی دو رکعتیں ہی تمہارے لیے کافی ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " فِي الإِنْسَانِ ثَلاَثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ مَفْصِلاً فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْ كُلِّ مَفْصِلٍ مِنْهُ بِصَدَقَةٍ " . قَالُوا وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ " النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ تَدْفِنُهَا وَالشَّىْءُ تُنَحِّيهِ عَنِ الطَّرِيقِ فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَرَكْعَتَا الضُّحَى تُجْزِئُكَ " .
#5243
Sahih
Narrated AbuDharr: The Prophet (ﷺ) said: In the morning alms are due from every bone in man's fingers and toes. Salutation to everyone he meets is alms; enjoining good is alms; forbidding what is disreputable is alms; removing what is harmful from the road is alms; having sexual intercourse with his wife is alms. The people asked: He fulfils his desire, Messenger of Allah; is it alms? He replied: Tell me if he fulfilled his desire where he had no right, would he commit a sin ? He then said: Two rak'ahs which one prays in the forenoon serve instead of all that. Abu Dawud said: Hammad did not mention enjoining good and forbidding what is disreputable
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح ہوتے ہی صدقہ عائد ہو جاتا ہے، تو اس کا اپنے ملاقاتی سے سلام کر لینا بھی صدقہ ہے، اس کا معروف ( اچھی بات ) کا حکم کرنا بھی صدقہ ہے اور منکر ( بری بات ) سے روکنا بھی صدقہ ہے، اس کا راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانا بھی صدقہ ہے، اور اس کا اپنی بیوی سے ہمبستری بھی صدقہ ہے لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو اس سے اپنی شہوت پوری کرتا ہے، پھر بھی صدقہ ہو گا؟ ( یعنی اس پر اسے ثواب کیونکر ہو گا ) تو آپ نے فرمایا: کیا خیال ہے تمہارا اگر وہ اپنی خواہش ( بیوی کے بجائے ) کسی اور کے ساتھ پوری کرتا تو گنہگار ہوتا یا نہیں؟ ( جب وہ غلط کاری کرنے پر گنہگار ہوتا تو صحیح جگہ استعمال کرنے پر اسے ثواب بھی ہو گا ) اس کے بعد آپ نے فرمایا: اشراق کی دو رکعتیں ان تمام کی طرف سے کافی ہو جائیں گی ( یعنی صدقہ بن جائیں گی ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد نے اپنی روایت میں امر و نہی ( کے صدقہ ہونے ) کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ، - وَهَذَا لَفْظُهُ وَهُوَ أَتَمُّ - عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلاَمَى مِنِ ابْنِ آدَمَ صَدَقَةٌ تَسْلِيمُهُ عَلَى مَنْ لَقِيَ صَدَقَةٌ وَأَمْرُهُ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيُهُ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَإِمَاطَتُهُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ وَبُضْعَتُهُ أَهْلَهُ صَدَقَةٌ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ يَأْتِي شَهْوَتَهُ وَتَكُونُ لَهُ صَدَقَةٌ قَالَ " أَرَأَيْتَ لَوْ وَضَعَهَا فِي غَيْرِ حَقِّهَا أَكَانَ يَأْثَمُ " . قَالَ " وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ رَكْعَتَانِ مِنَ الضُّحَى " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يَذْكُرْ حَمَّادٌ الأَمْرَ وَالنَّهْىَ .
#5244
Daif
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Dharr through a different chain of narrators. In this version the transmitter mentioned the Prophet(ﷺ) in the middle of the tradition
ابوالاسود الدیلی نے ابوذر سے یہی حدیث روایت کی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اس کے وسط میں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَذَكَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي وَسْطِهِ .
#5245
Hasan Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: A man never did a good deed but removed a thorny branch from the road; it was either in the tree and someone cut it and threw it on the road, or it was lying in it, he removed it. Allah accepted this good deed of his and brought him into Paradise
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص نے جس نے کبھی کوئی بھلا کام نہیں کیا تھا کانٹے کی ایک ڈالی راستے پر سے ہٹا دی، یا تو وہ ڈالی درخت پر ( جھکی ہوئی ) تھی ( آنے جانے والوں کے سروں سے ٹکراتی تھی ) اس نے اسے کاٹ کر الگ ڈال دیا، یا اسے کسی نے راستے پر ڈال دیا تھا اور اس نے اسے ہٹا دیا تو اللہ اس کے اس کام سے خوش ہوا اور اسے جنت میں داخل کر دیا ۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " نَزَعَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ غُصْنَ شَوْكٍ عَنِ الطَّرِيقِ إِمَّا كَانَ فِي شَجَرَةٍ فَقَطَعَهُ وَأَلْقَاهُ وَإِمَّا كَانَ مَوْضُوعًا فَأَمَاطَهُ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ بِهَا فَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ " .
#5246
Sahih
Salim quoting his father(Ibn ‘Umar) said( sometimes he traced back to the Prophet(ﷺ):Do not leave a fire burning in your houses while you are asleep
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کبھی اسے موقوفاً روایت کرتے ہیں اور کبھی اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں کہ جب سونے لگو تو آگ گھر میں موجود نہ رہنے دو ( بجھا کر سوؤ ) ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، رِوَايَةً وَقَالَ مَرَّةً يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ " .
#5247
Sahih
Ibn ‘Abbas said:A mouse came dragging a wick and dropped before the Messenger of Allah(ﷺ) on the mat on which he was sitting with the result that it burned a hole in it about the size of dirham. He (the prophet) said: When you go to sleep, extinguish your lamps, for the devil guides a creature like this to do thus and sets you on fire
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک چوہیا آئی اور چراغ کی بتی کو پکڑ کر کھینچتی ہوئی لائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس چٹائی پر ڈال دیا جس پر آپ بیٹھے تھے اور درہم کے برابر جگہ جلا دی، ( یہ دیکھ کر ) آپ نے فرمایا: جب سونے لگو تو اپنے چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطان چوہیا جیسی چیزوں کو ایسی باتیں سجھاتا ہے تو وہ تم کو جلا دیتی ہے ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّمَّارُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَتْ فَأْرَةٌ فَأَخَذَتْ تَجُرُّ الْفَتِيلَةَ فَجَاءَتْ بِهَا فَأَلْقَتْهَا بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْخُمْرَةِ الَّتِي كَانَ قَاعِدًا عَلَيْهَا فَأَحْرَقَتْ مِنْهَا مِثْلَ مَوْضِعِ الدِّرْهَمِ فَقَالَ " إِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدُلُّ مِثْلَ هَذِهِ عَلَى هَذَا فَتَحْرِقَكُمْ " .
#5248
Hasan Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: We have not made peace with them since we fought with them, so he who leaves any of them alone through fear does not belong to us
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سے ہماری سانپوں سے لڑائی شروع ہوئی ہے ہم نے کبھی ان سے صلح نہیں کی ( سانپ ہمیشہ سے انسان کا دشمن رہا ہے، اس کا پالنا اور پوسنا کبھی درست نہیں ) جو شخص کسی بھی سانپ کو ڈر کر مارنے سے چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ وَمَنْ تَرَكَ شَيْئًا مِنْهُنَّ خِيفَةً فَلَيْسَ مِنَّا " .
#5249
Sahih
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Prophet (ﷺ) said: Kill all the snakes, and he who fears their revenge does not belong to me
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سانپ کوئی بھی ہو اسے مار ڈالو اور جو کوئی ان کے انتقام کے ڈر سے نہ مارے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ السُّكَّرِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهُنَّ فَمَنْ خَافَ ثَأْرَهُنَّ فَلَيْسَ مِنِّي " .
#5250
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: He who leaves the snakes along through fear of their pursuit, does not belong to us. We have not made peace with them since we have fought with them
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سانپوں کو ان کے انتقام کے ڈر سے چھوڑ دے یعنی انہیں نہ مارے وہ ہم میں سے نہیں ہے، جب سے ہماری ان سے لڑائی چھڑی ہے ہم نے ان سے کبھی بھی صلح نہیں کی ہے ( وہ ہمیشہ سے موذی رہے ہیں اور موذی کا قتل ضروری ہے ) ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ فِيمَا أُرَى إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَرَكَ الْحَيَّاتِ مَخَافَةَ طَلَبِهِنَّ فَلَيْسَ مِنَّا مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ " .