#4901
Sahih
Narrated AbuHurayrah: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: There were two men among Banu Isra'il, who were striving for the same goal. One of them would commit sin and the other would strive to do his best in the world. The man who exerted himself in worship continued to see the other in sin. He would say: Refrain from it. One day he found him in sin and said to him: Refrain from it. He said: Leave me alone with my Lord. Have you been sent as a watchman over me? He said: I swear by Allah, Allah will not forgive you, nor will he admit you to Paradise. Then their souls were taken back (by Allah), and they met together with the Lord of the worlds. He (Allah) said to this man who had striven hard in worship; Had you knowledge about Me or had you power over that which I had in My hand? He said to the man who sinned: Go and enter Paradise by My mercy. He said about the other: Take him to Hell. AbuHurayrah said: By Him in Whose hand my soul is, he spoke a word by which this world and the next world of his were destroyed
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بنی اسرائیل میں دو شخص برابر کے تھے، ان میں سے ایک تو گناہ کے کاموں میں لگا رہتا تھا اور دوسرا عبادت میں کوشاں رہتا تھا، عبادت گزار دوسرے کو برابر گناہ میں لگا رہتا دیکھتا تو اس سے کہتا: باز رہ، ایک دفعہ اس نے اسے گناہ کرتے پایا تو اس سے کہا: باز رہ اس نے کہا: قسم ہے میرے رب کی تو مجھے چھوڑ دے ( اپنا کام کرو ) کیا تم میرا نگہبان بنا کر بھیجے گئے ہو؟ تو اس نے کہا: اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں بخشے گا یا تمہیں جنت میں داخل نہیں کرے گا، پھر ان کی روحیں قبض کر لی گئیں تو وہ دونوں رب العالمین کے پاس اکٹھا ہوئے، اللہ نے اس عبادت گزار سے کہا: تو مجھے جانتا تھا، یا تو اس پر قادر تھا، جو میرے دست قدرت میں ہے؟ اور گنہگار سے کہا: جا اور میری رحمت سے جنت میں داخل ہو جا، اور دوسرے کے متعلق کہا: اسے جہنم میں لے جاؤ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی بات کہی جس نے اس کی دنیا اور آخرت خراب کر دی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " كَانَ رَجُلاَنِ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ مُتَآخِيَيْنِ فَكَانَ أَحَدُهُمَا يُذْنِبُ وَالآخَرُ مُجْتَهِدٌ فِي الْعِبَادَةِ فَكَانَ لاَ يَزَالُ الْمُجْتَهِدُ يَرَى الآخَرَ عَلَى الذَّنْبِ فَيَقُولُ أَقْصِرْ . فَوَجَدَهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ فَقَالَ لَهُ أَقْصِرْ فَقَالَ خَلِّنِي وَرَبِّي أَبُعِثْتَ عَلَىَّ رَقِيبًا فَقَالَ وَاللَّهِ لاَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَوْ لاَ يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ . فَقُبِضَ أَرْوَاحُهُمَا فَاجْتَمَعَا عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَقَالَ لِهَذَا الْمُجْتَهِدِ أَكُنْتَ بِي عَالِمًا أَوْ كُنْتَ عَلَى مَا فِي يَدِي قَادِرًا وَقَالَ لِلْمُذْنِبِ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي وَقَالَ لِلآخَرِ اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ .
#4902
Sahih
Narrated AbuBakrah: The Prophet (ﷺ) said: There is no sin more fitted to have punishment meted out by Allah to its perpetrator in advance in this world along with what He stores up for him in the next world than oppression and severing ties of relationship
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظلم و بغاوت اور قطع رحمی ( رشتہ ناتا توڑنے ) جیسا کوئی اور گناہ نہیں ہے، جو اس لائق ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب کو اسی دنیا میں سزا دے باوجود اس کے کہ اس کی سزا اس نے آخرت میں رکھ چھوڑی ہو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ تَعَالَى لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا - مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الآخِرَةِ - مِثْلُ الْبَغْىِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ " .
#4903
Daif
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: Avoid envy, for envy devours good deeds just as fire devours fuel or (he said) "grass
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ حسد سے بچو، اس لیے کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا لیتا ہے، جیسے آگ ایندھن کو کھا لیتی ہے یا کہا گھاس کو ( کھا لیتی ہے ) ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، - يَعْنِي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عَمْرٍو - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ " . أَوْ قَالَ " الْعُشْبَ " .
#4904
Daif
Narrated Anas ibn Malik: Sahl ibn AbuUmamah said that he and his father (AbuUmamah) visited Anas ibn Malik at Medina during the time (rule) of Umar ibn AbdulAziz when he (Anas ibn Malik) was the governor of Medina. He was praying a very short prayer as if it were the prayer of a traveller or near it. When he gave a greeting, my father said: May Allah have mercy on you! Tell me about this prayer: Is it obligatory or supererogatory? He said: It is obligatory; it is the prayer performed by the Messenger of Allah (ﷺ). I did not make a mistake except in one thing that I forgot. He said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to say: Do not impose austerities on yourselves so that austerities will be imposed on you, for people have imposed austerities on themselves and Allah imposed austerities on them. Their survivors are to be found in cells and monasteries. (Then he quoted:) "Monasticism, they invented it; we did not prescribe it for them." Next day he went out in the morning and said: will you not go out for a ride, so that you may see something and take a lesson from it? He said: Yes. Then all of them rode away and reached a land whose inhabitants had perished, passed away and died. The roofs of the town had fallen in. He asked: Do you know this land? I said: Who acquainted me with it and its inhabitants? (Anas said:) This is the land of the people whom oppression and envy destroyed. Envy extinguishes the light of good deeds, and oppression confirms or falsifies it. The eye commits fornication, and the palm of the hand, the foot, body, tongue and private part of the body confirm it or deny it
سہل بن ابی امامہ کا بیان ہے کہ وہ اور ان کے والد عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں جب وہ مدینے کے گورنر تھے، مدینے میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو دیکھا، وہ ہلکی یا مختصر نماز پڑھ رہے ہیں، جیسے وہ مسافر کی نماز ہو یا اس سے قریب تر کوئی نماز، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میرے والد نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، آپ بتائیے کہ یہ فرض نماز تھی یا آپ کوئی نفلی نماز پڑھ رہے تھے تو انہوں نے کہا: یہ فرض نماز تھی، اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، اور جب بھی مجھ سے کوئی غلطی ہوتی ہے، میں اس کے بدلے سجدہ سہو کر لیتا ہوں، پھر کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اپنی جانوں پر سختی نہ کرو ۲؎ کہ تم پر سختی کی جائے۳؎ اس لیے کہ کچھ لوگوں نے اپنے اوپر سختی کی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی کر دی تو ایسے ہی لوگوں کے باقی ماندہ لوگ گرجا گھروں میں ہیں انہوں نے رہبانیت کی شروعات کی جو کہ ہم نے ان پر فرض نہیں کی تھی پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی تو کہا: کیا تم سواری نہیں کرتے یعنی سفر نہیں کرتے کہ دیکھو اور نصیحت حاصل کرو، انہوں نے کہا: ہاں ( کرتے ہیں ) پھر وہ سب سوار ہوئے تو جب وہ اچانک کچھ ایسے گھروں کے پاس پہنچے، جہاں کے لوگ ہلاک اور فنا ہو کر ختم ہو چکے تھے، اور گھر چھتوں کے بل گرے ہوئے تھے، تو انہوں نے کہا: کیا تم ان گھروں کو پہنچانتے ہو؟ میں نے کہا: مجھے کس نے ان کے اور ان کے لوگوں کے بارے میں بتایا؟ ( یعنی میں نہیں جانتا ) تو انس نے کہا: یہ ان لوگوں کے گھر ہیں جنہیں ان کے ظلم اور حسد نے ہلاک کر دیا، بیشک حسد نیکیوں کے نور کو گل کر دیتا ہے اور ظلم اس کی تصدیق کرتا ہے یا تکذیب اور آنکھ زنا کرتی ہے اور ہتھیلی، قدم جسم اور زبان بھی اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الْعَمْيَاءِ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، دَخَلَ هُوَ وَأَبُوهُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِالْمَدِينَةِ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي صَلاَةً خَفِيفَةً دَقِيقَةً كَأَنَّهَا صَلاَةُ مُسَافِرٍ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ أَبِي يَرْحَمُكَ اللَّهُ أَرَأَيْتَ هَذِهِ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ أَوْ شَىْءٌ تَنَفَّلْتَهُ قَالَ إِنَّهَا الْمَكْتُوبَةُ وَإِنَّهَا لَصَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا أَخْطَأْتُ إِلاَّ شَيْئًا سَهَوْتُ عَنْهُ - فَقَالَ - إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " لاَ تُشَدِّدُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَيُشَدَّدَ عَلَيْكُمْ فَإِنَّ قَوْمًا شَدَّدُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ فَشَدَّدَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَتِلْكَ بَقَايَاهُمْ فِي الصَّوَامِعِ وَالدِّيَارِ { رَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ } " . ثُمَّ غَدَا مِنَ الْغَدِ فَقَالَ أَلاَ تَرْكَبُ لِتَنْظُرَ وَلِتَعْتَبِرَ قَالَ نَعَمْ فَرَكِبُوا جَمِيعًا فَإِذَا هُمْ بِدِيَارٍ بَادَ أَهْلُهَا وَانْقَضَوْا وَفَنَوْا خَاوِيَةً عَلَى عُرُوشِهَا فَقَالَ " أَتَعْرِفُ هَذِهِ الدِّيَارَ " . فَقُلْتُ مَا أَعْرَفَنِي بِهَا وَبِأَهْلِهَا هَذِهِ دِيَارُ قَوْمٍ أَهْلَكَهُمُ الْبَغْىُ وَالْحَسَدُ إِنَّ الْحَسَدَ يُطْفِئُ نُورَ الْحَسَنَاتِ وَالْبَغْىُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ وَالْعَيْنُ تَزْنِي وَالْكَفُّ وَالْقَدَمُ وَالْجَسَدُ وَاللِّسَانُ وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ .
#4905
Hasan
Abu al-Darda’ reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :when a man cures anything, the curse goes up to heaven and the gates of heaven are locked against it. Then it comes down to the earth and its gates are locked against it. Then it goes right and left, and if it finds no place of entrance it returns to the thing which was cursed, and if it finds no place of entrance it returns to the thing which was cursed, and if it deserves what was said (it enters it), otherwise it returns to the one who uttered it. Abu Dawud said : Marwan b. Muhammad said: He is Rabah b. al-Walid who heard from him (nimran). He (Marwan b. Muhammad) said: Yahya b. Hussain was confused in it
ام الدرداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ابو الدرداء کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے، تو یہ لعنت آسمان پر چڑھتی ہے، تو آسمان کے دروازے اس کے سامنے بند ہو جاتے ہیں پھر وہ اتر کر زمین پر آتی ہے، تو اس کے دروازے بھی بند ہو جاتے ہیں پھر وہ دائیں بائیں گھومتی ہے، پھر جب اسے کوئی راستہ نہیں ملتا تو وہ اس کی طرف پلٹ آتی ہے جس پر لعنت کی گئی تھی، اب اگر وہ اس کا مستحق ہوتا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ وہ کہنے والے کی طرف ہی پلٹ آتی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ، قَالَ سَمِعْتُ نِمْرَانَ، يَذْكُرُ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا لَعَنَ شَيْئًا صَعِدَتِ اللَّعْنَةُ إِلَى السَّمَاءِ فَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ دُونَهَا ثُمَّ تَهِبْطُ إِلَى الأَرْضِ فَتُغْلَقُ أَبْوَابُهَا دُونَهَا ثُمَّ تَأْخُذُ يَمِينًا وَشِمَالاً فَإِذَا لَمْ تَجِدْ مَسَاغًا رَجَعَتْ إِلَى الَّذِي لُعِنَ فَإِنْ كَانَ لِذَلِكَ أَهْلاً وَإِلاَّ رَجَعَتْ إِلَى قَائِلِهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ رَبَاحُ بْنُ الْوَلِيدِ سَمِعَ مِنْهُ وَذَكَرَ أَنَّ يَحْيَى بْنَ حَسَّانَ وَهِمَ فِيهِ .
#4906
Hasan
Narrated Samurah ibn Jundub: The Prophet (ﷺ) said: Do not invoke Allah's curse, Allah's anger, or Hell
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی لعنت یا اللہ کا غضب یا جہنم کی لعنت کسی پر نہ کیا کرو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَلاَعَنُوا بِلَعْنَةِ اللَّهِ وَلاَ بِغَضَبِ اللَّهِ وَلاَ بِالنَّارِ " .
#4907
Sahih
Abu al-Darda’ said :I heard the Messenger of Allah (May peace be upon him) say: Men given to cursing will not be witnesses or intercessors
ام الدرداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ابوالدرداء کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: لعنت کرنے والے نہ سفارشی ہو سکتے ہیں اور نہ گواہ ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ أُمَّ الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَكُونُ اللَّعَّانُونَ شُفَعَاءَ وَلاَ شُهَدَاءَ " .
#4908
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: A man cursed the wind. The narrator Muslim's version has: The wind snatched away a man's cloak during the time of the Prophet (ﷺ) and he cursed it. The Prophet (ﷺ) said: Do not curse it, for it is under command, and if anyone curses a thing undeservedly, the curse returns upon him
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ہوا پر لعنت کی ( مسلم کی روایت میں اس طرح ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا نے ایک شخص کی چادر اڑا دی، تو اس نے اس پر لعنت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر لعنت نہ کرو، اس لیے کہ وہ تابعدار ہے، اور اس لیے کہ جو کوئی ایسی چیز کی لعنت کرے جس کا وہ اہل نہ ہو تو وہ لعنت اسی کی طرف لوٹ آتی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، ح وَحَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، - قَالَ زَيْدٌ - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، لَعَنَ الرِّيحَ - وَقَالَ مُسْلِمٌ إِنَّ رَجُلاً نَازَعَتْهُ الرِّيحُ رِدَاءَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَعَنَهَا - فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَلْعَنْهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ وَإِنَّهُ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ " .
#4909
Daif
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Something of her was stolen, and she began to curse him (i.e. the thief). The Messenger of Allah (ﷺ) said to her: Do not lessen his sin
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کی کوئی چیز چوری ہو گئی، تو وہ اس پر بد دعا کرنے لگیں، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ( چور ) سے عذاب کو ہلکا نہ کر ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائ��شَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ سُرِقَ لَهَا شَىْءٌ فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَيْهِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُسَبِّخِي عَنْهُ " .
#4910
Sahih
Anas b. Malik reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:Do not hate each other; do not envy each other; do not desert each other; and be the servants of Allah as brethren. It is not allowed for a Muslim to keep apart from his brother for more than three days
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے کو پیٹھ نہ دکھاؤ ( یعنی ملاقات ترک نہ کرو ) اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو، اور کسی مسلمان کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ملنا جلنا چھوڑے رکھے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَبَاغَضُوا وَلاَ تَحَاسَدُوا وَلاَ تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلاَ يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ " .
#4911
Sahih
Abu Ayyub al-Ansari reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :it is not allowable for a Muslim to keep apart from his brother for more than three days. When they meet, this turns away from him, and that turns away from him. The better of the two is the one who initiates in salutation
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے کہ وہ دونوں ملیں تو یہ منہ پھیر لے، اور وہ منہ پھیر لے، اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلاَمِ " .
#4912
Daif
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: It is not allowable for a believer to keep from a believer for more than three days. If three days pass, he should meet him and give him a salutation, and if he replies to it they will both have shared in the reward; but if he does not reply he will bear his sin (according to Ahmad's version) and the one who gives the salutation will have come forth from the sin of keeping apart
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مومن کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مومن کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے، اگر اس پر تین دن گزر جائیں تو وہ اس سے ملے اور اس کو سلام کرے، اب اگر وہ سلام کا جواب دیتا ہے، تو وہ دونوں اجر میں شریک ہیں اور اگر وہ جواب نہیں دیتا تو وہ گنہگار ہوا، اور سلام کرنے والا قطع تعلق کے گناہ سے نکل گیا ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ السَّرْخَسِيُّ، أَنَّ أَبَا عَامِرٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَهْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلاَثٍ فَإِنْ مَرَّتْ بِهِ ثَلاَثٌ فَلْيَلْقَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ فَإِنْ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ فَقَدِ اشْتَرَكَا فِي الأَجْرِ وَإِنْ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاءَ بِالإِثْمِ " . زَادَ أَحْمَدُ " وَخَرَجَ الْمُسَلِّمُ مِنَ الْهِجْرَةِ " .
#4913
Hasan
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) said: It is not right for a Muslim to keep apart from another Muslim for more than three days. Then when he meets him and gives three salutations, receiving during that time no response, the other bears his sin
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے تو جب وہ ( تین دن کے بعد ) اس سے ملے اسے تین مرتبہ سلام کرے، اور وہ ایک بار بھی سلام کا جواب نہ دے تو وہ اپنا گناہ لے کر لوٹے گا ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُنِيبِ، - يَعْنِي الْمَدَنِيَّ - قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَكُونُ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلاَثَةٍ فَإِذَا لَقِيَهُ سَلَّمَ عَلَيْهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ كُلُّ ذَلِكَ لاَ يَرُدُّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاءَ بِإِثْمِهِ " .
#4914
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: It is not allowable for a Muslim to keep apart from his brother for more than three days, for one who does so and dies will enter Hell
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے، لہٰذا جو تین سے زیادہ چھوڑے رکھے پھر وہ ( بغیر توبہ کے اسی حال میں ) مر جائے تو وہ جہنم میں داخل ہو گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاَثٍ فَمَنْ هَجَرَ فَوْقَ ثَلاَثٍ فَمَاتَ دَخَلَ النَّارَ " .
#4915
Sahih
Narrated AbuKhirash as-Sulami: AbuKhirash heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If one keeps apart from his brother for a year, it is like shedding his blood
ابو خراش سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے اپنے بھائی سے ایک سال تک قطع تعلق رکھا تو یہ اس کے خون بہانے کی طرح ہے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي خِرَاشٍ السُّلَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ هَجَرَ أَخَاهُ سَنَةً فَهُوَ كَسَفْكِ دَمِهِ " .
#4916
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:The gates of Paradise are opened on Mondays and Thursdays, and forgiveness is granted to every man who does not associate anything with Allah, except for a man between whom and his brother there is rancor. Command will be given that they should be given respite till they conciliate. Abu Dawud said: The Prophet (ﷺ) kept apart from some of his wives for forty days, and Ibn 'Umar kept apart from his son till he died. Abu Dawud said: If keeping apart is meant for the sake of Allah, then it has no concern with it. 'Umar bin 'Abd al-'Aziz covered his face from a man
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دوشنبہ اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں پھر ان دنوں میں ہر اس بندے کی مغفرت کی جاتی ہے، جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتا البتہ اس بندے کی نہیں جس کے درمیان اور اس کے بھائی کے درمیان دشمنی اور رقابت ہو، پھر کہا جاتا ہے: ان دونوں ( کی مغفرت ) کو ابھی رہنے دو جب تک کہ یہ صلح نہ کر لیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض ازواج مطہرات کو چالیس دن تک چھوڑے رکھا، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک بیٹے سے بات چیت بند رکھی یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ قطع کلامی اگر اللہ کے لیے ہو ۱؎ تو اس میں کوئی حرج نہیں اور عمر بن عبدالعزیز نے ایک شخص سے اپنا چہرہ ڈھانک لیا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ كُلَّ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ فَيُغْفَرُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمَيْنِ لِكُلِّ عَبْدٍ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلاَّ مَنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ فَيُقَالُ أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم هَجَرَ بَعْضَ نِسَائِهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَابْنُ عُمَرَ هَجَرَ ابْنًا لَهُ إِلَى أَنْ مَاتَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ إِذَا كَانَتِ الْهِجْرَةُ لِلَّهِ فَلَيْسَ مِنْ هَذَا بِشَىْءٍ وَإِنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ غَطَّى وَجْهَهُ عَنْ رَجُلٍ .
#4917
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:Avoid suspicion for suspicion is the most lying form of talk. Do not be inquisitive about one another, or spy on one another
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظن و گمان کے پیچھے پڑنے سے بچو یا بدگمانی سے بچو، اس لیے کہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے، نہ ٹوہ میں پڑو اور نہ جاسوسی کرو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلاَ تَحَسَّسُوا وَلاَ تَجَسَّسُوا " .
#4918
Hasan
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: The believer is the believer's mirror, and the believer is the believer's brother who guards him against loss and protects him when he is absent
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن مومن کا آئینہ ہے، اور مومن مومن کا بھائی ہے، وہ اس کی جائیداد کی نگرانی کرتا اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی حفاظت کرتا ہے ۔
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ يَكُفُّ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ وَيَحُوطُهُ مِنْ وَرَائِهِ " .
#4919
Sahih
Narrated AbudDarda': The Prophet (ﷺ) said: Shall I not inform you of something more excellent in degree than fasting, prayer and almsgiving (sadaqah)? The people replied: Yes, Prophet of Allah! He said: It is putting things right between people, spoiling them is the shaver (destructive)
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو درجے میں روزے، نماز اور زکاۃ سے بڑھ کر ہے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ نے فرمایا: آپس میں میل جول کرا دینا، اور آپس کی لڑائی اور پھوٹ تو سر مونڈنے والی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ وَالصَّلاَةِ وَالصَّدَقَةِ " . قَالُوا بَلَى . قَالَ " إِصْلاَحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ الْحَالِقَةُ " .
#4920
Sahih
Humaid b. 'Abd al-Rahman quoted his mother as saying:The Prophet (ﷺ) said: He who forged in order to put things right between two persons did not lie. The version by Ahmad ibn Muhammad and Musaddad has: The liar is not the one who puts things right between people, saying what is good and increasing good
ام حمید بن عبدالرحمٰن (ام کلثوم) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے جھوٹ نہیں بولا جس نے دو آدمیوں میں صلح کرانے کے لیے کوئی بات خود سے بنا کر کہی۔ احمد بن محمد اور مسدد کی روایت میں ہے، وہ جھوٹا نہیں ہے: جس نے لوگوں میں صلح کرائی اور کوئی اچھی بات کہی یا کوئی اچھی بات پہنچائی ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبُّويَةَ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَمْ يَكْذِبْ مَنْ نَمَى بَيْنَ اثْنَيْنِ لِيُصْلِحَ " . وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُسَدَّدٌ " لَيْسَ بِالْكَاذِبِ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ خَيْرًا أَوْ نَمَى خَيْرًا " .
#4921
Sahih
Umm Kulthum, daughter of ‘Uqbah, said:I did not hear the Messenger of Allah (ﷺ) making a concession for anything people say falsely except in three matters. The Messenger of Allah (ﷺ) would say: I do not count as a liar a man who puts things right between people, saying a word by which he intends only putting things right, and a man who says something in war, and a man who says something to his wife, or a wife who says something to her husband
ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بات میں جھوٹ بولنے کی اجازت دیتے نہیں سنا، سوائے تین باتوں کے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: میں اسے جھوٹا شمار نہیں کرتا، ایک یہ کہ کوئی لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور کوئی بات بنا کر کہے، اور اس کا مقصد اس سے صرف صلح کرانی ہو، دوسرے یہ کہ ایک شخص جنگ میں کوئی بات بنا کر کہے، تیسرے یہ کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کوئی بات بنا کر کہے اور بیوی اپنے شوہر سے کوئی بات بنا کر کہے۔
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجِيزِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ، عَنْ نَافِعٍ، - يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ - عَنِ ابْنِ الْهَادِ، أَنَّ عَبْدَ الْوَهَّابِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ، قَالَتْ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرَخِّصُ فِي شَىْءٍ مِنَ الْكَذِبِ إِلاَّ فِي ثَلاَثٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ أَعُدُّهُ كَاذِبًا الرَّجُلُ يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ يَقُولُ الْقَوْلَ وَلاَ يُرِيدُ بِهِ إِلاَّ الإِصْلاَحَ وَالرَّجُلُ يَقُولُ فِي الْحَرْبِ وَالرَّجُلُ يُحَدِّثُ امْرَأَتَهُ وَالْمَرْأَةُ تُحَدِّثُ زَوْجَهَا " .
#4922
Sahih
Al-Ruhayyi’, daughter of Mu’awwidh b. ‘Afra’, said :The Messenger of Allah (May peace be upon him) came and visited me in the morning when I had been conducted to my husband, and sat on my bedding as you are sitting beside me. Some little girls of ours began to play the tambourine and eulogise those of my ancestors who were killed in the battle of Badr, and then one of them said: And among us is a Prophet who knows what will happen tomorrow. He said : Stop this and say what you were saying
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس اس صبح آئے، جس رات میرا شب زفاف ہوا تھا تو آپ میرے بستر پر ایسے بیٹھ گئے جیسے تم ( خالد بن ذکوان ) بیٹھے ہو، پھر ( انصار کی ) کچھ بچیاں اپنے دف بجانے لگیں اور اپنے غزوہ بدر کی شہید ہونے والے آباء و اجداد کا اوصاف ذکر کرنے لگیں یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا: اور ہمارے بیچ ایک ایسا نبی ہے جو کل ہونے والی باتوں کو بھی جانتا ہے، تو آپ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو اور وہی کہو جو تم پہلے کہہ رہی تھیں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ عَلَىَّ صَبِيحَةَ بُنِيَ بِي فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ يَضْرِبْنَ بِدُفٍّ لَهُنَّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ إِلَى أَنْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ وَفِينَا نَبِيُّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ . فَقَالَ " دَعِي هَذِهِ وَقُولِي الَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ " .
#4923
Sahih Isnaad
Narrated Anas ibn Malik: When the Messenger of Allah (ﷺ) came to Medina, the Abyssinians played for his coming out of joy; they played with spears
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے آئے تو حبشی آپ کی آمد پر خوش ہو کر خوب کھیلے اور اپنی برچھیاں لے کر کھیلے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ لَعِبَتِ الْحَبَشَةُ لِقُدُومِهِ فَرَحًا بِذَلِكَ لَعِبُوا بِحِرَابِهِمْ .
#4924
Sahih
Narrated Abdullah ibn Umar: Nafi' said: Ibn Umar heard a pipe, put his fingers in his ears and went away from the road. He said to me: Are you hearing anything? I said: No. He said: He then took his fingers out of his ears and said: I was with the Prophet (ﷺ), and he heard like this and he did like this. AbuAli al-Lu'lu said: I heard AbuDawud say: This is a rejected tradition
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک باجے کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں اور راستے سے دور ہو گئے اور مجھ سے کہا: اے نافع! کیا تمہیں کچھ سنائی دے رہا ہے میں نے کہا: نہیں، تو آپ نے اپنی انگلیاں کانوں سے نکالیں، اور فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس جیسی آواز سنی تو آپ نے بھی اسی طرح کیا۔ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا: یہ حدیث منکر ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ، مِزْمَارًا - قَالَ - فَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ وَنَأَى عَنِ الطَّرِيقِ وَقَالَ لِي يَا نَافِعُ هَلْ تَسْمَعُ شَيْئًا قَالَ فَقُلْتُ لاَ . قَالَ فَرَفَعَ أُصْبُعَيْهِ مِنْ أُذُنَيْهِ وَقَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعَ مِثْلَ هَذَا فَصَنَعَ مِثْلَ هَذَا . قَالَ أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ يَقُولُ هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ .
#4925
Hasan Sahih Isnaad
Nafi said :I was sitting behind Ibn ‘Umar on the mount when he passed a shepherd who was blowing a pipe. He then mentioned the rest of the tradition in a similar manner. Abu Dawud said : Between Mut’im and Nafi the name of a narrator Sulaiman b. Musa has been inserted
نافع کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے سوار تھا، کہ ان کا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا جو بانسری بجا رہا تھا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ، قَالَ كُنْتُ رِدْفَ ابْنِ عُمَرَ إِذْ مَرَّ بِرَاعٍ يَزْمُرُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أُدْخِلَ بَيْنَ مُطْعِمٍ وَنَافِعٍ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى .