#4876
Sahih
Narrated Sa'id ibn Zayd: The Prophet (ﷺ) said: The most prevalent kind of usury is going to lengths in talking unjustly against a Muslim's honour
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑی زیادتی یہ ہے کہ آدمی ناحق کسی مسلمان کی بے عزتی کرے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا نَوْفَلُ بْنُ مُسَاحِقٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ مِنْ أَرْبَى الرِّبَا الاِسْتِطَالَةَ فِي عِرْضِ الْمُسْلِمِ بِغَيْرِ حَقٍّ " .
#4877
Daif
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: The gravest sin is going to lengths in talking unjustly against a Muslim's honour, and it is a major sin to abuse twice for abusing once
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی ناحق کسی مسلمان کی بے عزتی میں زبان دراز کرے، اور یہ بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ ایک گالی کے بدلے دو گالیاں دی جائیں ۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ اسْتِطَالَةَ الْمَرْءِ فِي عِرْضِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ وَمِنَ الْكَبَائِرِ السَّبَّتَانِ بِالسَّبَّةِ " .
#4878
Sahih
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) said: When I was taken up to heaven I passed by people who had nails of copper and were scratching their faces and their breasts. I said: Who are these people, Gabriel? He replied: They are those who were given to back biting and who aspersed people's honour. Abu Dawud said: Yahya b. 'Uthman has also transmitted it from Baqiyyah, there is no mention of Anas in it
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مجھے معراج کرائی گئی، تو میرا گزر ایسے لوگوں پر سے ہوا، جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے ( غیبت کرتے ) اور ان کی بے عزتی کرتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے اسے یحییٰ بن عثمان نے بیان کیا ہے اور بقیہ سے روایت کر رہے تھے، اس میں انس موجود نہیں ہیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، وَأَبُو الْمُغِيرَةِ، قَالاَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَمَّا عُرِجَ بِي مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ يَخْمِشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُمْ فَقُلْتُ مَنْ هَؤُلاَءِ يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ عَنْ بَقِيَّةَ لَيْسَ فِيهِ أَنَسٌ .
#4879
Daif
This tradition has also been transmitted by ‘Isa b. Abi ‘Isa al-sailahini from Abu al-Mughirah, as Ibn al-musaffa said
ابومغیرہ سے بھی اسی طرح مروی ہے جیسا کہ ابن مصفیٰ نے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى السَّيْلَحِينِيُّ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ، كَمَا قَالَ ابْنُ الْمُصَفَّى .
#4880
Hasan Sahih
Narrated AbuBarzah al-Aslami: The Prophet (ﷺ) said: O community of people, who believed by their tongue, and belief did not enter their hearts, do not back-bite Muslims, and do not search for their faults, for if anyone searches for their faults, Allah will search for his fault, and if Allah searches for the fault of anyone, He disgraces him in his house
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اپنی زبان سے اور حال یہ ہے کہ ایمان اس کے دل میں داخل نہیں ہوا ہے مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کے عیوب کے پیچھے نہ پڑو، اس لیے کہ جو ان کے عیوب کے پیچھے پڑے گا، اللہ اس کے عیب کے پیچھے پڑے گا، اور اللہ جس کے عیب کے پیچھے پڑے گا، اسے اسی کے گھر میں ذلیل و رسوا کر دے گا ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الإِيمَانُ قَلْبَهُ لاَ تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ وَلاَ تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ فَإِنَّهُ مَنِ اتَّبَعَ عَوْرَاتِهِمْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي بَيْتِهِ " .
#4881
Sahih
Narrated Al-Mustawrid: The Prophet (ﷺ) said: If anyone eats once at the cost of a Muslim's honour, Allah will give him a like amount of Jahannam to eat; if anyone clothes himself with a garment at the cost of a Muslim's honour, Allah will clothe him with like amount of Jahannam; and if anyone puts himself in a position of reputation and show Allah will disgrace him with a place of reputation and show on the Day of Resurrection
مستورد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کا عیب بیان کر کے ایک نوالا کھائے گا تو اس کو اللہ اتنا ہی جہنم سے کھلائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کا عیب بیان کر کے ایک کپڑا پہنے گا تو اللہ اسے اسی جیسا لباس جہنم میں پہنائے گا، اور جو شخص کسی شخص کو شہرت اور ریا کے مقام پر پہنچائے گا تو قیامت کے دن اللہ اسے خوب شہرت اور ریا کے مقام پر پہنچا دے گا ( یعنی اس کی ایسی رسوائی ہو گی کہ سارے لوگوں میں اس کا چرچا ہو گا ) ۔
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَقَّاصِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَكَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْلَةً فَإِنَّ اللَّهَ يُطْعِمُهُ مِثْلَهَا مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنْ كُسِيَ ثَوْبًا بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَكْسُوهُ مِثْلَهُ مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُومُ بِهِ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#4882
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :Everything of a Muslim is sacred to a Muslim : his property, honour and blood. It is enough evil for any man to despise his brother Muslim
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی ہر چیز اس کا مال، اس کی عزت اور اس کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے، اور آدمی میں اتنی سی برائی ہونا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ مَالُهُ وَعِرْضُهُ وَدَمُهُ حَسْبُ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ " .
#4883
Hasan
Narrated Mu'adh ibn Anas: The Prophet (ﷺ) said: If anyone guards a believer from a hypocrite, Allah will send an angel who will guard his flesh on the Day of Resurrection from the fire of Jahannam; but if anyone attacks a Muslim saying something by which he wishes to disgrace him, he will be restrained by Allah on the bridge over Jahannam till he is acquitted of what he said
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مومن کی عزت و آبرو کی کسی منافق سے حفاظت کرے گا تو اللہ ایک فرشتہ بھیجے گا جو قیامت کے دن اس کے گوشت کو جہنم کی آگ سے بچائے گا اور جو شخص کسی مسلمان پر تہمت لگائے گا، اس سے اس کا مقصد اسے مطعون کرنا ہو تو اللہ اسے جہنم کے پل پر روکے رکھے گا یہاں تک کہ جو اس نے جو کچھ کہا ہے اس سے نکل جائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ بْنِ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَمَى مُؤْمِنًا مِنْ مُنَافِقٍ " . أُرَاهُ قَالَ " بَعَثَ اللَّهُ مَلَكًا يَحْمِي لَحْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ وَمَنْ رَمَى مُسْلِمًا بِشَىْءٍ يُرِيدُ شَيْنَهُ بِهِ حَبَسَهُ اللَّهُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ " .
#4884
Daif
Narrated Jabir ibn Abdullah ; AbuTalhah ibn Sahl al-Ansari: The Prophet (ﷺ) said: No (Muslim) man will desert a man who is a Muslim in a place where his respect may be violated and his honour aspersed without Allah deserting him in a place here he wishes his help; and no (Muslim) man who will help a Muslim in a place where his honour may be aspersed and his respect violated without Allah helping him in a place where he wishes his help. Yahya said: 'Ubaid Allah b. 'Abd Allah b. 'Umar and 'Uqbah b. Shaddad transmitted it to me. Abu Dawud said: This yahya b. Sulaim is the son of Zaid, the freed slave of the Prophet (ﷺ), and Isma'il b. Bashir is the freed slave of Banu Maghalah. Sometimes the name of 'Utbah b. Shaddad is mentioned instead of 'Uqbah
جابربن عبداللہ اور ابوطلحہ بن سہل انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان شخص کو کسی ایسی جگہ میں ذلیل کرے گا، جہاں اس کی بے عزتی کی جائے اس کی عزت میں کمی آئے تو اللہ اسے ایسی جگہ ذلیل کرے گا، جہاں وہ اس کی مدد چاہے گا، اور جو کسی مسلمان کی ایسی جگہ میں مدد کرے گا جہاں اس کی عزت میں کمی آ رہی ہو اور اس کی آبرو جا رہی ہو تو اللہ اس کی ایسی جگہ پر مدد کرے گا، جہاں پر اس کو اللہ کی مدد محبوب ہو گی ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ إِسْمَاعِيلَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبَا، طَلْحَةَ بْنَ سَهْلٍ الأَنْصَارِيَّ يَقُولاَنِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنِ امْرِئٍ يَخْذُلُ امْرَأً مُسْلِمًا فِي مَوْضِعٍ تُنْتَهَكُ فِيهِ حُرْمَتُهُ وَيُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ إِلاَّ خَذَلَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ وَمَا مِنِ امْرِئٍ يَنْصُرُ مُسْلِمًا فِي مَوْضِعٍ يُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ وَيُنْتَهَكُ فِيهِ مِنْ حُرْمَتِهِ إِلاَّ نَصَرَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ نُصْرَتَهُ " . قَالَ يَحْيَى وَحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَعُقْبَةُ بْنُ شَدَّادٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ هَذَا هُوَ ابْنُ زَيْدٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ بَشِيرٍ مَوْلَى بَنِي مَغَالَةَ وَقَدْ قِيلَ عُتْبَةُ بْنُ شَدَّادٍ مَوْضِعَ عُقْبَةَ .
#4885
Daif
Narrated Jundub: A desert Arab came and making his camel kneel and tethering it, entered the mosque and prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ). When The Messenger of Allah (ﷺ) had given the salutation, he went to his riding beast and, after untethering and riding it, he called out: O Allah, show mercy to me and to Muhammad and associate no one else in Thy mercy to us. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: Do you think that he or his camel is farther astray? Did you not listen to what he said? They replied: Certainly
ابوعبداللہ جشمی کہتے ہیں کہ ہم سے جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک اعرابی آیا اس نے اپنی سواری بٹھائی پھر اسے باندھا، اس کے بعد وہ مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے سلام پھیرا تو وہ اپنی سواری کے پاس آیا، اسے اس نے کھولا پھر اس پر سوار ہوا اور پکار کر کہا: اے اللہ! مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے اس رحم میں کسی اور کو شامل نہ کر ( یعنی کسی اور پر رحم نہ فرما ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کیا کہتے ہو؟ یہ زیادہ نادان ہے یا اس کا اونٹ؟ کیا تم نے وہ نہیں سنا جو اس نے کہا؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں ضرور سنا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، مِنْ كِتَابِهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجُشَمِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا جُنْدُبٌ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ عَقَلَهَا ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى رَاحِلَتَهُ فَأَطْلَقَهَا ثُمَّ رَكِبَ ثُمَّ نَادَى اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلاَ تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ أَلَمْ تَسْمَعُوا إِلَى مَا قَالَ " . قَالُوا بَلَى .
#4886
Sahih Maqtu
Narrated Qatadah: Is one of you helpless to be like AbuDaygham or Damdam (Ibn Ubayd is doubtful) who would say when morning came: O Allah, I gave my honour as alms to Thy servants?
قتادہ کہتے ہیں کیا تم میں سے کوئی شخص ابوضیغم یا ضمضم کی طرح ہونے سے عاجز ہے، وہ جب صبح کرتے تو کہتے: اے اللہ میں نے اپنی عزت و آبرو کو تیرے بندوں پر صدقہ کر دیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ أَيَعْجَزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ، مِثْلَ أَبِي ضَيْغَمٍ - أَوْ ضَمْضَمٍ شَكَّ ابْنُ عُبَيْدٍ - كَانَ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِعِرْضِي عَلَى عِبَادِكَ .
#4887
Daif
‘Abd al-Rahman b. ‘Ajlan reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :Is one of you unable to be like Abu Damdam? The people asked: who is Abu Damdam? He replied : A man of old before you. He then mentioned the rest of tradition to the tradition to the same effect. This version has : who would say (in the morning) : My honors is for the one who reviles me. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Hashim bin al-Qasim from Muhammad b. 'Adb Allah al-'Ammi from Thabit on the authority of Anas from Prophet (ﷺ) to the same effect. Abu Dawud said: The tradition of Hammad (i.e. 'Abd al-Rahman's version) is sounder
عبدالرحمٰن بن عجلان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ابوضمضم کی طرح ہو لوگوں نے عرض کیا: ابوضمضم کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم سے پہلے کے لوگوں میں ایک شخص تھا پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، البتہ اس میں ( «عرضي على عبادك» ) کے بجائے ( «عرضي لمن شتمني» ) ( میری آبرو اس شخص کے لیے صدقہ ہے جو مجھے برا بھلا کہے ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہاشم بن قاسم نے روایت کیا وہ اسے محمد بن عبداللہ العمی سے، اور وہ ثابت سے روایت کرتے ہیں، ثابت کہتے ہیں: ہم سے انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَجْلاَنَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيَعْجَزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ أَبِي ضَمْضَمٍ " . قَالُوا وَمَنْ أَبُو ضَمْضَمٍ قَالَ " رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ مِنْ قَبْلِكُمْ " . بِمَعْنَاهُ قَالَ " عِرْضِي لِمَنْ شَتَمَنِي " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَمِّيِّ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدِيثُ حَمَّادٍ أَصَحُّ .
#4888
Sahih
Narrated Mu'awiyah: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If you search for the faults of the people, you will corrupt them, or will nearly corrupt them. AbudDarda' said: These are the words which Mu'awiyah himself from the Messenger of Allah (ﷺ), and Allah benefited him by them
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم لوگوں کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑو گے، تو تم ان میں بگاڑ پیدا کر دو گے، یا قریب ہے کہ ان میں اور بگاڑ پیدا کر دو ۱؎۔ ابو الدرداء کہتے ہیں: یہ وہ کلمہ ہے جسے معاویہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور اللہ نے انہیں اس سے فائدہ پہنچایا ہے۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ، وَابْنُ، عَوْفٍ - وَهَذَا لَفْظُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّكَ إِنِ اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ النَّاسِ أَفْسَدْتَهُمْ أَوْ كِدْتَ أَنْ تُفْسِدَهُمْ " . فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةٌ سَمِعَهَا مُعَاوِيَةُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَفَعَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِهَا .
#4889
Sahih
Narrated Miqdam ibn Ma'dikarib ; AbuUmamah: The Prophet (ﷺ) said: When a ruler seeks to make imputations against the people, he corrupts them
جبیر بن نفیر، کثیر بن مرہ، عمرو بن اسود، مقدام بن معد یکرب اور ابوامامہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حاکم جب لوگوں کے معاملات میں بدگمانی اور تہمت پر عمل کرے گا تو انہیں بگاڑ دے گا ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، وَكَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، وَعَمْرِو بْنِ الأَسْوَدِ، وَالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، وَأَبِي، أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الأَمِيرَ إِذَا ابْتَغَى الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ " .
#4890
Sahih Isnaad
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: Zayd ibn Wahb said: A man was brought to Ibn Mas'ud. He was told: This is so and so, and wine was dropping from his beard. Abdullah thereupon said: We have been prohibited to seek out (faults). If anything becomes manifest to us, we shall seize it
زید بن وہب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس کسی آدمی کو لایا گیا اور کہا گیا: یہ فلاں شخص ہے جس کی داڑھی سے شراب ٹپکتی ہے تو عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) نے کہا: ہمیں ٹوہ میں پڑنے سے روکا گیا ہے، ہاں البتہ اگر کوئی چیز ہمارے سامنے کھل کر آئے تو ہم اسے پکڑیں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ أُتِيَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقِيلَ هَذَا فُلاَنٌ تَقْطُرُ لِحْيَتُهُ خَمْرًا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّا قَدْ نُهِينَا عَنِ التَّجَسُّسِ وَلَكِنْ إِنْ يَظْهَرْ لَنَا شَىْءٌ نَأْخُذْ بِهِ .
#4891
Daif
Narrated Uqbah ibn Amir: The Prophet (ﷺ) said: He who sees something which should be kept hidden and conceals it will be like one who has brought to life a girl buried alive
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کا کوئی عیب دیکھے پھر اس کی پردہ پوشی کرے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے کسی زندہ دفنائی گئی لڑکی کو نئی زندگی بخشی ہو ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً " .
#4892
Daif
Narrated Uqbah ibn Amir: AbulHaytham quoted Dukhayn, the scribe of Uqbah ibn Amir, saying: We had some neighbours who used to drink wine. I forbade them, but they did not stop. I then said to Uqbah ibn Amir: These neighbours of ours drink wine, and I tried to prevent them but they did not stop, and I am going to call the police about them. He said: Leave them. I again came to Uqbah ibn Amir and said: Our neighbours have refused to refrain from drinking wine, and I am going to call the police for them. He said: Woe to thee! Leave them alone. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: he then mentioned the tradition to the same effect as recorded above on the authority of the narrator Muslim. Abu Dawud said: In this version Hashim b. al-Qasim said on the authority of Laith: Do not do it, but preach them and threaten them
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے منشی (سکریٹری) دخین کہتے ہیں کہ ہمارے کچھ پڑوسی شراب پیتے تھے، میں نے انہیں منع کیا تو وہ باز نہیں آئے، چنانچہ میں نے عقبہ بن عامر سے کہا کہ ہمارے یہ پڑوسی شراب پیتے ہیں، ہم نے انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہیں آئے، لہٰذا اب میں ان کے لیے پولیس کو بلاؤں گا، تو انہوں نے کہا: انہیں چھوڑ دو، پھر میں دوبارہ عقبہ کے پاس لوٹ کر آیا اور میں نے ان سے کہا: میرے پڑوسیوں نے شراب پینے سے باز آنے سے انکار کر دیا ہے، اور اب میں ان کے لیے پولیس بلانے والا ہوں، انہوں نے کہا: تمہارا برا ہو، انہیں چھوڑ دو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے … پھر انہوں نے مسلم جیسی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہاشم بن قاسم نے کہا کہ اس حدیث میں لیث سے اس طرح روایت ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہا: ایسا نہ کرو بلکہ انہیں نصیحت کرو اور انہیں دھمکاؤ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَشِيطٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْهَيْثَمِ، يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ دُخَيْنًا، كَاتِبَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ كَانَ لَنَا جِيرَانٌ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ فَنَهَيْتُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا فَقُلْتُ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ إِنَّ جِيرَانَنَا هَؤُلاَءِ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَإِنِّي نَهَيْتُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا فَأَنَا دَاعٍ لَهُمُ الشُّرَطَ . فَقَالَ دَعْهُمْ . ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى عُقْبَةَ مَرَّةً أُخْرَى فَقُلْتُ إِنَّ جِيرَانَنَا قَدْ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنْ شُرْبِ الْخَمْرِ وَأَنَا دَاعٍ لَهُمُ الشُّرَطَ . قَالَ وَيْحَكَ دَعْهُمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُسْلِمٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ لَيْثٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ لاَ تَفْعَلْ وَلَكِنْ عِظْهُمْ وَتَهَدَّدْهُمْ .
#4893
Sahih
‘Abd Allah b. Umar reported the prophet (May peace be upon him) as saying :A Muslim is a Muslim’s brother: he does not wrong him or abandon him. If anyone cares for his brother’s need, Allah will care for his need ; if anyone removes a Muslim’s anxiety, Allah will remove from him, on account of it, one of the anxieties of the Day of resurrection ; and if anyone conceals a Muslim’s fault, Allah will conceal his fault on the Day of resurrection
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ ( خود ) اس پر ظلم کرتا ہے، اور نہ اسے ( کسی ظالم ) کے حوالہ کرتا ہے، جو شخص اپنے بھائی کی کوئی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کی تکمیل میں لگا رہتا ہے، اور جو کسی مسلمان کی کوئی مصیبت دور کرے گا، تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مصائب و مشکلات میں سے اس سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا، اور جو کوئی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ فَإِنَّ اللَّهَ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#4894
Sahih
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:when two men abuse one another, what they say is laid to the charge of the one who began it, so long as the one who is wronged does not go over the score
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باہم گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ کہتے ہیں اس کا گناہ اس شخص پر ہو گا جس نے ابتداء کی ہو گی جب تک کہ مظلوم اس سے تجاوز نہ کرے ( اگر وہ تجاوز کر جائے تو زیادتی و تجاوز کا گناہ اس پر ہو گا ) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالاَ فَعَلَى الْبَادِي مِنْهُمَا مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ " .
#4895
Sahih
Narrated Iyad ibn Himar (al-Mujashi'i): The Prophet (ﷺ) said: Allah has revealed to me that you must be humble, so that no one oppresses another and boasts over another
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے مجھ کو وحی کی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر فخر کرے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَىَّ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لاَ يَبْغِيَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ وَلاَ يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ " .
#4896
Hasan
Narrated Sa'id ibn al-Musayyab: While the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting with some of his companions, a man reviled AbuBakr and insulted him. But AbuBakr remained silent. He insulted him twice, but AbuBakr controlled himself. He insulted him thrice and AbuBakr took revenge on him. Then the Messenger of Allah (ﷺ) got up when AbuBakr took revenge. AbuBakr said: Were you angry with me, Messenger of Allah? The Messenger of Allah (ﷺ) replied: An angel came down from Heaven and he was rejecting what he had said to you. When you took revenge, a devil came down. I was not going to sit when the devil came down
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ بھی تھے کہ اسی دوران ایک شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ سے الجھ پڑا اور آپ کو ایذاء پہنچائی تو آپ اس پر خاموش رہے، اس نے دوسری بار ایذاء دی، ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بار بھی چپ رہے پھر اس نے تیسری بار بھی ایذاء دی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے بدلہ لے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ بدلہ لینے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھ سے ناراض ہو گئے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا تھا، وہ ان باتوں میں اس کے قول کی تکذیب کر رہا تھا، لیکن جب تم نے بدلہ لے لیا تو شیطان آ پڑا پھر جب شیطان آ پڑا ہو تو میں بیٹھنے والا نہیں ۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُحَرَّرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ وَقَعَ رَجُلٌ بِأَبِي بَكْرٍ فَآذَاهُ فَصَمَتَ عنه أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ آذَاهُ الثَّانِيَةَ فَصَمَتَ عَنْهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ آذَاهُ الثَّالِثَةَ فَانْتَصَرَ مِنْهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ انْتَصَرَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَوَجَدْتَ عَلَىَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَزَلَ مَلَكٌ مِنَ السَّمَاءِ يُكَذِّبُهُ بِمَا قَالَ لَكَ فَلَمَّا انْتَصَرْتَ وَقَعَ الشَّيْطَانُ فَلَمْ أَكُنْ لأَجْلِسَ إِذْ وَقَعَ الشَّيْطَانُ " .
#4897
Hasan
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version has:A man was reviling Abu Bakr. He then mentioned the rest of the tradition in a similar manner. Abu Dawud said: Similarly, it has been transmitted by Safwan b. ‘Isa, from Ibn ‘Affan, as Sufyan said
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالی دے رہا تھا، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے صفوان بن عیسیٰ نے ابن عجلان سے روایت کیا ہے جیسا کہ سفیان نے کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، كَانَ يَسُبُّ أَبَا بَكْرٍ وَسَاقَ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، كَمَا قَالَ سُفْيَانُ .
#4898
Daif Isnaad
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Ibn Awn said: I asked about the meaning of intisar (revenge) in the Qur'anic verse: "But indeed if any do help and defend themselves (intasara) after a wrong (done) to them, against them there is no cause of blame." Then Ali ibn Zayd ibn Jad'an told me on the authority of Umm Muhammad, the wife of his father. Ibn Awn said: It was believed that she used to go to the Mother of the Faithful (i.e. Aisha). She said: The Mother of the Faithful said: The Messenger of Allah (ﷺ) came upon me while Zaynab, daughter of Jahsh, was with us. He began to do something with his hand. I signalled to him until I made him understand about her. So he stopped. Zaynab came on and began to abuse Aisha. She tried to prevent her but she did not stop. So he (the Prophet) said to Aisha: Abuse her. So she abused her and dominated her. Zaynab then went to Ali and said: Aisha abused you and did (such and such). Then Fatimah came (to the Prophet) and he said to her: She is the favourite of your father, by the Lord of the Ka'bah! She then returned and said to them: I said to him such and such, and he said to me such and such. Then Ali came to the Prophet (ﷺ) and spoke to him about that
ابن عون کہتے ہیں آیت کریمہ «ولمن انتصر بعد ظلمه فأولئك ما عليهم من سبيل» اور جو لوگ اپنے مظلوم ہونے کے بعد ( برابر کا ) بدلہ لے لیں تو ایسے لوگوں پر الزام کا کوئی راستہ نہیں ( سورۃ الشوریٰ: ۴۱ ) میں بدلہ لینے کا جو ذکر ہے اس کے متعلق میں پوچھ رہا تھا تو مجھ سے علی بن زید بن جدعان نے بیان کیا، وہ اپنی سوتیلی ماں ام محمد سے روایت کر رہے تھے، ( ابن عون کہتے ہیں: لوگ کہتے ہیں کہ وہ ( ام محمد ) ام المؤمنین ۱؎ کے پاس جایا کرتی تھیں ) ام محمد کہتی ہیں: ام المؤمنین نے کہا: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، ہمارے پاس زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا تھیں آپ اپنے ہاتھ سے مجھے کچھ چھیڑنے لگے ( جیسے میاں بیوی میں ہوتا ہے ) تو میں نے ہاتھ کے اشارہ سے آپ کو بتا دیا کہ زینب بنت حجش بیٹھی ہوئی ہیں، تو آپ رک گئے اتنے میں زینب آ کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے الجھ گئیں اور انہیں برا بھلا کہنے لگیں، تو آپ نے انہیں اس سے منع فرمایا لیکن وہ نہ مانیں، تو آپ نے ام المؤمنین عائشہ سے فرمایا: تم بھی انہیں کہو ، تو انہوں نے بھی کہا اور وہ ان پر غالب آ گئیں، تو ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا، علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں، اور ان سے کہا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے تمہیں یعنی بنو ہاشم کو گالیاں دیں ہیں ( کیونکہ ام زینب ہاشمیہ تھیں ) پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی شکایت کرنے ) آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قسم ہے کعبہ کے رب کی وہ ( یعنی عائشہ ) تمہارے والد کی چہیتی ہیں تو وہ لوٹ گئیں اور بنو ہاشم کے لوگوں سے جا کر انہوں نے کہا: میں نے آپ سے ایسا اور ایسا کہا تو آپ نے مجھے ایسا اور ایسا فرمایا، اور علی رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ سے اس سلسلے میں گفتگو کی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، - الْمَعْنَى وَاحِدٌ - قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ كُنْتُ أَسْأَلُ عَنْ الاِنْتِصَارِ، { وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ } فَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ امْرَأَةِ أَبِيهِ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَزَعَمُوا أَنَّهَا كَانَتْ تَدْخُلُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَنَا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ فَجَعَلَ يَصْنَعُ شَيْئًا بِيَدِهِ فَقُلْتُ بِيَدِهِ حَتَّى فَطَنْتُهُ لَهَا فَأَمْسَكَ وَأَقْبَلَتْ زَيْنَبُ تَقْحَمُ لِعَائِشَةَ رضى الله عنها فَنَهَاهَا فَأَبَتْ أَنْ تَنْتَهِيَ فَقَالَ لِعَائِشَةَ " سُبِّيهَا " فَسَبَّتْهَا فَغَلَبَتْهَا فَانْطَلَقَتْ زَيْنَبُ إِلَى عَلِيٍّ رضى الله عنه فَقَالَتْ إِنَّ عَائِشَةَ رضى الله عنها وَقَعَتْ بِكُمْ وَفَعَلَتْ . فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ فَقَالَ لَهَا " إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " . فَانْصَرَفَتْ فَقَالَتْ لَهُمْ إِنِّي قُلْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ لِي كَذَا وَكَذَا . قَالَ وَجَاءَ عَلِيٌّ رضى الله عنه إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَكَلَّمَهُ فِي ذَلِكَ .
#4899
Sahih
A’ishah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :When your companion dies, leave him and do not revile him
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارا ساتھی ( یعنی مسلمان جس کے ساتھ تم رہتے سہتے ہو ) مر جائے تو اسے چھوڑ دو ۱؎ اس کے عیوب نہ بیان کرو۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ لاَ تَقَعُوا فِيهِ " .
#4900
Daif
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet (ﷺ) said: Make a mention of the virtues of your dead, and refrain from (mentioning) their evils
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَنَسٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ وَكُفُّوا عَنْ مَسَاوِيهِمْ " .