#4801
Sahih
Harithah b. Wahab reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying :neither the Jawwaz nor the Jazari will enter paradise. He said that the Jawwaz is the one who is coarse and uncivil
حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جواظ» جنت میں نہ داخل ہو گا اور نہ «جعظری»جنت میں داخل ہو گا ۱؎۔ راوی کہتے ہیں «جواظ» کے معنی بدخلق اور سخت دل کے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ، ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْجَوَّاظُ وَلاَ الْجَعْظَرِيُّ " . قَالَ وَالْجَوَّاظُ الْغَلِيظُ الْفَظُّ .
#4802
Sahih
Anas said:The she-camel of the Messenger of Allah (ﷺ) called al-Adba’ had not been outstripped by another, but an A`rabi (a nomadic Arab) came on a young riding camel of his and it outstripped it. That distressed the companions of the Messenger of Allah (ﷺ), but he said: It is Allah’s right that nothing should become exalted in the world but he lowers it
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی ) عضباء مقابلے میں کبھی پیچھے نہیں رہی تھی ( ایک بار ) ایک اعرابی اپنے ایک نوعمر اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اور اس نے اس سے مقابلہ کیا تو اعرابی اس سے آگے نکل گیا تو ایسا لگا کہ یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر گراں گزری ہے تو آپ نے فرمایا: اللہ کا یہ دستور ہے کہ جو چیز بھی اوپر اٹھے اسے نیچا کر دے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَتِ الْعَضْبَاءُ لاَ تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ فَسَابَقَهَا فَسَبَقَهَا الأَعْرَابِيُّ فَكَأَنَّ ذَلِكَ شَقَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لاَ يَرْفَعَ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا إِلاَّ وَضَعَهُ " .
#4803
Sahih
Narrating this story Anas reported the Prophet (ﷺ) as saying:It is Allah’s right that nothing should become exalted in the world but he lowers it
اس سند سے بھی انس رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ دنیا کی جو بھی چیز بہت اوپر اٹھے تو اسے نیچا کر دے ۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لاَ يَرْتَفِعَ شَىْءٌ مِنَ الدُّنْيَا إِلاَّ وَضَعَهُ " .
#4804
Sahih
Hammam said :A man came and praised ‘Uthman in his face, al-Miqdad b. Al-Aswad took dust and threw it on his face, saying : The Apostle of Allah (ﷺ) said : When you see those who are given to praising people, throw dust in their faces
ہمام کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف انہی کے سامنے کرنے لگا، تو مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے مٹی لی اور اس کے چہرے پہ ڈال دی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب تم تعریف کرنے والوں سے ملو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ فَأَثْنَى عَلَى عُثْمَانَ فِي وَجْهِهِ فَأَخَذَ الْمِقْدَادُ بْنُ الأَسْوَدِ تُرَابًا فَحَثَا فِي وَجْهِهِ وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا لَقِيتُمُ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ " .
#4805
Sahih
Abu Bakrah said that when a man praised another man in his face in the presence of the Prophet (ﷺ) said :You have beheaded your friend (saying it three times). He then said : One who cannot help expressing praise of his companion, should say : I consider him such and such (as he intends to say), but I do not declare him pure with Allah
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کی تعریف کی، تو آپ نے اس سے فرمایا: تم نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی اسے آپ نے تین بار کہا، پھر فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنے ساتھی کی مدح و تعریف کرنی ہی پڑ جائے تو یوں کہے: میں اسے ایسے ہی سمجھ رہا ہوں، لیکن میں اللہ کے بالمقابل اس کا تزکیہ نہیں کرتا ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، أَثْنَى عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ " قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ " . ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ " إِذَا مَدَحَ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ لاَ مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ إِنِّي أَحْسِبُهُ كَمَا يُرِيدُ أَنْ يَقُولَ وَلاَ أُزَكِّيهِ عَلَى اللَّهِ " .
#4806
Sahih
Narrated Abdullah ibn ash-Shikhkhir: I went with a deputation of Banu Amir to the apostle of Allah (ﷺ), and we said: You are our lord (sayyid). To this he replied: The lord is Allah, the Blessed and Exalted. Then we said: And the one of us most endowed with excellence and superiority. To this he replied: Say what you have to say, or part of what you have to say, and do not let the devil make you his agents
مطرف کے والد عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں بنی عامر کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، تو ہم نے عرض کیا: آپ ہمارے سید، آپ نے فرمایا: سید تو اللہ تعالیٰ ہے ۱؎ ہم نے عرض کیا: اور آپ ہم سب میں درجے میں افضل ہیں اور دوستوں کو نوازنے اور دشمنوں پر فائق ہونے میں سب سے عظیم ہیں، آپ نے فرمایا: جو کہتے ہو کہو، یا اس میں سے کچھ کہو، ( البتہ ) شیطان تمہیں میرے سلسلے میں جری نہ کر دے ( کہ تم ایسے کلمات کہہ بیٹھو جو میرے لیے زیبا نہ ہو ) ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ - حَدَّثَنَا أَبُو مَسْلَمَةَ، سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ قَالَ أَبِي انْطَلَقْتُ فِي وَفْدِ بَنِي عَامِرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا أَنْتَ سَيِّدُنَا . فَقَالَ " السَّيِّدُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " . قُلْنَا وَأَفْضَلُنَا فَضْلاً وَأَعْظَمُنَا طَوْلاً . فَقَالَ " قُولُوا بِقَوْلِكُمْ أَوْ بَعْضِ قَوْلِكُمْ وَلاَ يَسْتَجْرِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ " .
#4807
Sahih
Abd Allah b. Mughaffal reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying :Allah is gentle, likes gentleness, and gives for gentleness what he does not give for harshness
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ رفیق ہے، رفق اور نرمی پسند کرتا ہے، اور اس پر وہ دیتا ہے، جو سختی پر نہیں دیتا ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يُونُسَ، وَحُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيُعْطِي عَلَيْهِ مَا لاَ يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ " .
#4808
Sahih
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Al-Miqdam ibn Shurayh, quoting his father, said: I asked Aisha about living in the desert. She said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to go to the desert to these rivulets. Once he intended to go to the desert and he sent to me a she-camel from the camel of sadaqah which had not been used for riding so far. He said to me: Aisha! show gentleness, for if gentleness is found in anything, it beautifies it and when it is taken out from anything it damages it. Ibn al-Sabbah said in his version: Muharramah means a mount which has not been used for riding
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دیہات ( بادیہ ) جانے، وہاں قیام کرنے کے بارے میں پوچھا ( کہ کیسا ہے ) آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان نالوں کی طرف دیہات ( بادیہ ) جایا کرتے تھے، ایک بار آپ نے باہر دیہات ( بادیہ ) جانے کا ارادہ کیا تو میرے پاس زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹنی بھیجی، جس پر سواری نہیں کی گئی تھی، اور مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! نرمی کرو، اس لیے کہ جس چیز میں نرمی ہوتی ہے، اسے زینت دیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکل جاتی ہے، اسے عیب دار بنا دیتی ہے۔ ابن الصباح اپنی حدیث میں کہتے ہیں: «محرمۃ» سے مراد وہ اونٹنی ہے جس پر سواری نہ کی گئی ہو۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ قَالُوا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْبَدَاوَةِ، فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَبْدُو إِلَى هَذِهِ التِّلاَعِ وَإِنَّهُ أَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً فَأَرْسَلَ إِلَىَّ نَاقَةً مُحَرَّمَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَقَالَ لِي " يَا عَائِشَةُ ارْفُقِي فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُنْ فِي شَىْءٍ قَطُّ إِلاَّ زَانَهُ وَلاَ نُزِعَ مِنْ شَىْءٍ قَطُّ إِلاَّ شَانَهُ " . قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ فِي حَدِيثِهِ مُحَرَّمَةٌ يَعْنِي لَمْ تُرْكَبْ .
#4809
Sahih
Narrated Jarir: The Prophet (ﷺ) said: He who is deprived of gentleness is deprived of good
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو رفق ( نرمی ) سے محروم کر دیا جاتا ہے وہ تمام خیر سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ كُلَّهُ " .
#4810
Sahih
Narrated Sa'd: The Prophet (ﷺ) said: There is hesitation in everything except in the actions of the next world
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تاخیر اور آہستگی ہر چیز میں ( بہتر ) ہے، سوائے آخرت کے عمل کے ۱؎۔ اعمش کہتے ہیں میں یہی جانتا ہوں کہ یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے یعنی مرفوع ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، - قَالَ الأَعْمَشُ وَقَدْ سَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ الأَعْمَشُ - وَلاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " التُّؤَدَةُ فِي كُلِّ شَىْءٍ إِلاَّ فِي عَمَلِ الآخِرَةِ " .
#4811
Sahih
Narrated Abu Hurayrah: The Prophet (ﷺ) said: He who does not thank the people is not thankful to Allah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا اللہ کا ( بھی ) شکر ادا نہیں کرتا ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لاَ يَشْكُرُ النَّاسَ " .
#4812
Sahih
Narrated Anas ibn Malik: The Immigrants (Muhajirun) said: Messenger of Allah! the Helpers (Ansar) got the entire reward. He said: no, so long as you pray to Allah for them and praise them
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مہاجرین نے کہا: اللہ کے رسول! سارا اجر تو انصار لے گئے، آپ نے فرمایا: نہیں ( ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم اجر سے محروم رہو ) جب تک تم اللہ سے ان کے لیے دعا کرتے رہو گے اور ان کی تعریف کرتے رہو گے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ الْمُهَاجِرِينَ، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَتِ الأَنْصَارُ بِالأَجْرِ كُلِّهِ . قَالَ " لاَ مَا دَعَوْتُمُ اللَّهَ لَهُمْ وَأَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ " .
#4813
Hasan
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: If someone is given something, he should give a return for it provided he can afford; if he cannot afford, he should praise him. He who praises him for it, thanks him, and he who conceals it is ungrateful to him. Abu Dawud said: It has been transmitted by Yahya b. Ayyub, from `Umarah b. Ghaziyyah, from Sharahbil on the authority of Jabir. Abu Dawud said: In the chain of this tradition `Umarah b. Ghaziyyah said: A man from my tribe said. The man referred by him is Sharahbil. It is likely that they disliked him and, therefore, they did not name him
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو کوئی چیز دی جائے پھر وہ بھی ( دینے کے لیے کچھ ) پا جائے تو چاہیئے کہ اس کا بدلہ دے، اور اگر بدلہ کے لیے کچھ نہ پائے تو اس کی تعریف کرے، اس لیے کہ جس نے اس کی تعریف کی تو گویا اس نے اس کا شکر ادا کر دیا، اور جس نے چھپایا ( احسان کو ) تو اس نے اس کی ناشکری کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یحییٰ بن ایوب نے عمارہ بن غزیہ سے، انہوں نے شرحبیل سے اور انہوں نے جابر سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سند میں «رجل من قومی» سے مراد شرحبیل ہیں، گویا وہ انہیں ناپسند کرتے تھے، اس لیے ان کا نام نہیں لیا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ، مِنْ قَوْمِي عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أُعْطِيَ عَطَاءً فَوَجَدَ فَلْيَجْزِ بِهِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُثْنِ بِهِ فَمَنْ أَثْنَى بِهِ فَقَدْ شَكَرَهُ وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ شُرَحْبِيلَ عَنْ جَابِرٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ شُرَحْبِيلُ يَعْنِي رَجُلاً مِنْ قَوْمِي كَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ فَلَمْ يُسَمُّوهُ .
#4814
Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: If someone is donated something, and he mentions it, he thanks for it, and if he conceals it, he is ungrateful for it
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو کوئی چیز ملے اور وہ اس کا تذکرہ کرے تو اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے اسے چھپایا تو اس نے ناشکری کی ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَبْلَى بَلاَءً فَذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ وَإِنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ " .
#4815
Sahih
Abu Sa`id al-Khudri reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying :Avoid sitting in the roads. The people said: Apostle of Allah! We must have meeting places in which to converse. The apostle of Allah (ﷺ) said: If you insist on meeting, give the road its due. They asked: What is the due of roads, Apostle of Allah? He replied: Lowering the eyes, removing anything offensive, returning salutation, commanding what is reputable and forbidding what is disreputable
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے بچو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں اپنی مجالس سے مفر نہیں ہم ان میں ( ضروری امور پر ) گفتگو کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: پھر اگر تم نہیں مانتے تو راستے کا حق ادا کرو لوگوں نے عرض کیا: راستے کا حق کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: نگاہ نیچی رکھنا، ایذاء نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ زَيْدٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ - عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ " . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بُدٌّ لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ أَبَيْتُمْ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ " . قَالُوا وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الأَذَى وَرَدُّ السَّلاَمِ وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْىُ عَنِ الْمُنْكَرِ " .
#4816
Hasan Sahih
Abu Hurairah reported the Prophet (ﷺ) as saying on the same occasion:And guiding the people on their way
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مرفوعاً مروی ہے اس میں یہ بھی ہے آپ نے فرمایا: اور ( بھولے بھٹکوں کو ) راستہ بتانا ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ " وَإِرْشَادُ السَّبِيلِ " .
#4817
Sahih
Narrated Umar ibn al-Khattab: The Prophet (ﷺ) said: the same occasion: Help the oppressed (sorrowful) and guide those who have lost their way
ابن حجیر عدوی کہتے ہیں کہ میں نے اس قصے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: اور تم آفت زدہ لوگوں کی مدد کرو اور بھٹکے ہووں کو راستہ بتاؤ ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى النَّيْسَابُورِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرٍ الْعَدَوِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ " وَتُغِيثُوا الْمَلْهُوفَ وَتَهْدُوا الضَّالَّ " .
#4818
Sahih
Narrated Anas ibn Malik: A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah: I have some need with you. He said to her: Mother of so and so, sit in the corner of any street you wish and I shall sit with you. So she sat and the Messenger of Allah (ﷺ) also sat with her till she fulfilled her need. The narrator Ibn 'Isa did not mention "till she fulfilled her need." And Kathir said: from Humaid on the authority of Anas
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور بولی: اللہ کے رسول! مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے، آپ نے اس سے فرمایا: اے فلاں کی ماں! جہاں چاہو گلی کے کسی کونے میں بیٹھ جاؤ، یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آ کر ملوں چنانچہ وہ بیٹھ گئی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے آ کر ملے، یہاں تک کہ اس نے آپ سے اپنی ضرورت کی بات کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - قَالَ ابْنُ عِيسَى قَالَ - حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً . فَقَالَ لَهَا " يَا أُمَّ فُلاَنٍ اجْلِسِي فِي أَىِّ نَوَاحِي السِّكَكِ شِئْتِ حَتَّى أَجْلِسَ إِلَيْكِ " . قَالَ فَجَلَسَتْ فَجَلَسَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهَا حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا . وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ عِيسَى حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا . وَقَالَ كَثِيرٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ .
#4819
Sahih
Anas reported this tradition to the same effect through a different chain of narrators. This version adds:A woman who had something (feebleness) in her mind
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت تھی جس کی عقل میں کچھ فتور تھا پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ امْرَأَةً، كَانَ فِي عَقْلِهَا شَىْءٌ بِمَعْنَاهُ .
#4820
Sahih
Narrated AbuSa'id al-Khudri: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: The best places to sit are those which provide most room. Abu Dawud said: The name of 'Abd al-Rahman b. Abi 'Amr is 'Abd al-Rahman b. 'Amr b. Abi 'Umrat al-Ansari
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مجالس میں بہتر وہ ہے جو زیادہ کشادہ ہو ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " خَيْرُ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيُّ .
#4821
Sahih
Narrated AbuHurayrah: AbulQasim (ﷺ) said: When one of you is in the sun (Shams)--Makhlad's version has "fay'"--and the shadow withdraws from him so that he is partly in sun and partly in shade, he should get up
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی دھوپ میں ہو ( مخلد کی روایت ) سایہ میں ہو، پھر سایہ اس سے سمٹ گیا ہو اس طرح کہ اس کا کچھ حصہ دھوپ میں آ جائے اور کچھ سایہ میں رہے تو چاہیئے کہ وہ اٹھ جائے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الشَّمْسِ " . وَقَالَ مَخْلَدٌ " فِي الْفَىْءِ " . " فَقَلَصَ عَنْهُ الظِّلُّ وَصَارَ بَعْضُهُ فِي الشَّمْسِ وَبَعْضُهُ فِي الظِّلِّ فَلْيَقُمْ " .
#4822
Sahih
Qais quoted his father as saying that he (his father) came when the Messenger of Allah (ﷺ) was addressing. He stood in the sun. He ordered him (to shift) and he shifted to the shade
ابوحازم البجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو وہ دھوپ میں کھڑے ہو گئے، اس کے بعد ( آپ نے انہیں سایہ میں آنے کے لیے کہا ) تو وہ سائے میں آ گئے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَقَامَ فِي الشَّمْسِ فَأَمَرَ بِهِ فَحُوِّلَ إِلَى الظِّلِّ .
#4823
Sahih
Jabir b. Samurah said:the Messenger of Allah (ﷺ) entered the mosque, and saw them (his companions) in separate groups. He said: How is it that I see you in separate groups?
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور لوگ حلقے بنا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تم لوگوں کو الگ الگ گروہوں میں دیکھ رہا ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ حَدَّثَنِي الْمُسَيَّبُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْجِدَ وَهُمْ حِلَقٌ فَقَالَ " مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ " .
#4824
Sahih
Al-A`mash said:It seems he liked collective gathering
اعمش سے بھی یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں ہے گویا کہ آپ اجتماعیت کو پسند فرماتے تھے ۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا قَالَ كَأَنَّهُ يُحِبُّ الْجَمَاعَةَ .
#4825
Sahih
Narrated Jabir ibn Samurah: When we came to the Prophet (ﷺ), each one would sit down where there was room
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے، تو ہم میں سے جس کو جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ، وَهَنَّادٌ، أَنَّ شَرِيكًا، أَخْبَرَهُمْ عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي .