#4776
Hasan
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: Good way, dignified good bearing and moderation are the twenty-fifth part of Prophecy
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راست روی، خوش خلقی اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْهَدْىَ الصَّالِحَ وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ وَالاِقْتِصَادَ جُزْءٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
#4777
Hasan
Narrated Mu'adh ibn Anas: The Messenger of Allah (ﷺ) said: If anyone suppresses anger when he is in a position to give vent to it, Allah, the Exalted, will call him on the Day of Resurrection over the heads of all creatures, and ask him to choose any of the bright and large eyed maidens he wishes. Abu Dawud said: The name of the transmitter Abu Marhum is 'Abd al-Rahman b. Maimun
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنا غصہ پی لیا حالانکہ وہ اسے نافذ کرنے پر قادر تھا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سب لوگوں کے سامنے بلائے گا یہاں تک کہ اسے اللہ تعالیٰ اختیار دے گا کہ وہ بڑی آنکھ والی حوروں میں سے جسے چاہے چن لے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ - عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَظَمَ غَيْظًا - وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُنْفِذَهُ - دَعَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رُءُوسِ الْخَلاَئِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ اللَّهُ مِنَ الْحُورِ مَا شَاءَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ اسْمُ أَبِي مَرْحُومٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْمُونٍ .
#4778
Daif
Suwaid b. Wahb quoted a son of a Companion of the Prophet (ﷺ) who said his father reported the Messenger of Allah (ﷺ) said:He then mentioned a similar tradition described above. This version has: Allah will fill his heart with security and faith. He did not mention the words "Allah will call him". This version further adds: He who gives up wearing beautiful garments when he is able to do so (out of humility, as Bishr's version has) will be clothed by Allah with the robe of honour, and he who marries for Allah's sake will be crowned by Allah with the crown of Kingdom
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے فرزندوں میں سے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا، آپ نے فرمایا: اللہ اسے امن اور ایمان سے بھر دے گا اور اس میں یہ واقعہ مذکور نہیں کہ اللہ اسے بلائے گا، البتہ اتنا اضافہ ہے، اور جو خوب ( تواضع و فروتنی میں ) صورتی کا لباس پہننا ترک کر دے، حالانکہ وہ اس کی قدرت رکھتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے عزت کا جوڑا پہنائے گا، اور جو اللہ کی خاطر شادی کرائے گا ۱؎ تو اللہ اسے بادشاہت کا تاج پہنائے گا ۔
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - عَنْ بِشْرٍ، - يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَبْنَاءِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَبِيهِ قَالَ - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ قَالَ " مَلأَهُ اللَّهُ أَمْنًا وَإِيمَانًا " . لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ " دَعَاهُ اللَّهُ " . زَادَ " وَمَنْ تَرَكَ لُبْسَ ثَوْبِ جَمَالٍ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ " . قَالَ بِشْرٌ أَحْسِبُهُ قَالَ " تَوَاضُعًا كَسَاهُ اللَّهُ حُلَّةَ الْكَرَامَةِ وَمَنْ زَوَّجَ لِلَّهِ تَعَالَى تَوَّجَهُ اللَّهُ تَاجَ الْمُلْكِ " .
#4779
Sahih
Abd Allah (b. Mas`ud) reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:Whom do you consider a wrestler among you? The people replied: (the man) whom the men cannot defeat in wrestling. He said: No, it is he who controls himself when he is angry
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ پہلوان کس کو شمار کرتے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا: اس کو جسے لوگ پچھاڑ نہ سکیں، آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا تَعُدُّونَ الصُّرَعَةَ فِيكُمْ " . قَالُوا الَّذِي لاَ يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ . قَالَ " لاَ وَلَكِنَّهُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " .
#4780
Daif
Narrated Mu'adh ibn Jabal: Two men reviled each other in the presence of the Prophet (ﷺ) and one of them became excessively angry so much so that I thought that his nose will break up on account of excess of anger. The Prophet (ﷺ) said: I know a phrase which, if he repeated, he could get rid of this angry feeling. They asked: What is it, Messenger of Allah? He replied: He should say: I seek refuge in Thee from the accursed devil. Mu'adh then began to ask him to do so, but he refused and persisted in quarrelling, and began to enhance his anger
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گالی گلوج کی تو ان میں سے ایک کو بہت شدید غصہ آیا یہاں تک کہ مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ مارے غصے کے اس کی ناک پھٹ جائے گی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر وہ اسے کہہ دے تو جو غصہ وہ اپنے اندر پا رہا ہے دور ہو جائے گا عرض کیا: کیا ہے وہ؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: وہ کہے «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم» اے اللہ! میں شیطان مردود سے تیری پناہ مانگتا ہوں تو معاذ اسے اس کا حکم دینے لگے، لیکن اس نے انکار کیا، اور لڑنے لگا، اس کا غصہ مزید شدید ہوتا چلا گیا۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ اسْتَبَّ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَغَضِبَ أَحَدُهُمَا غَضَبًا شَدِيدًا حَتَّى خُيِّلَ إِلَىَّ أَنَّ أَنْفَهُ يَتَمَزَّعُ مِنْ شِدَّةِ غَضَبِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُهُ مِنَ الْغَضَبِ " . فَقَالَ مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " . قَالَ فَجَعَلَ مُعَاذٌ يَأْمُرُهُ فَأَبَى وَمَحِكَ وَجَعَلَ يَزْدَادُ غَضَبًا .
#4781
Sahih
Sulaiman b. Surad said:Two men reviled each other in the presence of the Prophet (ﷺ). Then the eyes of one of them became red and his jugular veins swelled. The Apostle of Allah (ﷺ) said: I know a phrase by repeating which the man could get rid of the angry feelings: I seek refuge in Allah from the accursed devil. The man said: Do you see insanity in me
سلیمان بن صرد کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گالی گلوج کی تو ان میں سے ایک کی آنکھیں سرخ ہو گئیں، اور رگیں پھول گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر وہ اسے کہہ دے تو جو غصہ وہ اپنے اندر پا رہا ہے دور ہو جائے گا، وہ کلمہ «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» ، تو اس آدمی نے کہا: کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے جنون ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدَ، قَالَ اسْتَبَّ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا تَحْمَرُّ عَيْنَاهُ وَتَنْتَفِخُ أَوْدَاجُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَعْرِفُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا هَذَا لَذَهَبَ عَنْهُ الَّذِي يَجِدُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " . فَقَالَ الرَّجُلُ هَلْ تَرَى بِي مِنْ جُنُونٍ
#4782
Sahih
Narrated AbuDharr: The Messenger of Allah (ﷺ) said to us: When one of you becomes angry while standing, he should sit down. If the anger leaves him, well and good; otherwise he should lie down
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو چاہیئے کہ بیٹھ جائے، اب اگر اس کا غصہ رفع ہو جائے ( تو بہتر ہے ) ورنہ پھر لیٹ جائے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَنَا " إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ قَائِمٌ فَلْيَجْلِسْ فَإِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ وَإِلاَّ فَلْيَضْطَجِعْ " .
#4783
Sahih
Bakr said:The Prophet (ﷺ) sent Mu`adh for some of his work. He then transmitted the rest of the tradition mentioned above. Abu Dawud said: This tradition is sounder of the two traditions
بکر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر کو بھیجا آگے یہی حدیث مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: دونوں حدیثوں میں یہ زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ بَكْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ أَبَا ذَرٍّ بِهَذَا الْحَدِيثِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا أَصَحُّ الْحَدِيثَيْنِ .
#4784
Daif
Narrated Atiyyah as-Sa'di: AbuWa'il al-Qass said: We entered upon Urwah ibn Muhammad ibn as-Sa'di. A man spoke to him and made him angry. So he stood and performed ablution; he then returned and performed ablution, and said: My father told me on the authority of my grandfather Atiyyah who reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Anger comes from the devil, the devil was created of fire, and fire is extinguished only with water; so when one of you becomes angry, he should perform ablution
ابووائل قاص کہتے ہیں کہ ہم عروہ بن محمد بن سعدی کے پاس داخل ہوئے، ان سے ایک شخص نے گفتگو کی تو انہیں غصہ کر دیا، وہ کھڑے ہوئے اور وضو کیا، پھر لوٹے اور وہ وضو کئے ہوئے تھے، اور بولے: میرے والد نے مجھ سے بیان کیا وہ میرے دادا عطیہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غصہ شیطان کے سبب ہوتا ہے، اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے، اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے، لہٰذا تم میں سے کسی کو جب غصہ آئے تو وضو کر لے ۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو وَائِلٍ الْقَاصُّ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ السَّعْدِيِّ فَكَلَّمَهُ رَجُلٌ فَأَغْضَبَهُ فَقَامَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَجَعَ وَقَدْ تَوَضَّأَ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَطِيَّةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَإِنَّ الشَّيْطَانَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ وَإِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ فَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ " .
#4785
Sahih
A’ishah said:the Messenger of Allah (ﷺ) was never given his choice between two things without taking the easier(or lesser) of them provided it involved no sin, for if it did, no one kept farther away from it than he. And the Messenger of Allah (ﷺ) never took revenge on his own behalf for anything unless something Allah had forbidden has been transgressed, in which event he took revenge for it for Allah’s sake
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں جب بھی اختیار کا حکم دیا گیا تو آپ نے اس میں آسان تر کو منتخب کیا، جب تک کہ وہ گناہ نہ ہو، اور اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ لوگوں میں سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے ہوتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاطر کبھی انتقام نہیں لیا، اس صورت کے علاوہ کہ اللہ تعالیٰ کی حرمت کو پامال کیا جاتا ہو تو آپ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس سے بدلہ لیتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّهَا قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَمْرَيْنِ إِلاَّ اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِنَفْسِهِ إِلاَّ أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ تَعَالَى فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ بِهَا .
#4786
Sahih
A’isha said:the Messenger of Allah (saws ) never struck a servant or a woman
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی کسی خادم کو مارا، اور نہ کبھی کسی عورت کو۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها، قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَادِمًا وَلاَ امْرَأَةً قَطُّ .
#4787
Sahih
Explaining the Qur’anic verse “Hold to forgiveness”, `Abd Allah b. Al-Zubair said:The Prophet of Allah (ﷺ) was commanded to hold to forgiveness from the conduct of the people
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے اللہ کے فرمان «خذ العفو» عفو کو اختیار کرو کی تفسیر کے سلسلے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ لوگوں کے اخلاق میں سے عفو کو اختیار کریں۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ - فِي قَوْلِهِ { خُذِ الْعَفْوَ } قَالَ أُمِرَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْخُذَ الْعَفْوَ مِنْ أَخْلاَقِ النَّاسِ .
#4788
Sahih
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: When the Prophet (ﷺ) was informed of anything of a certain man, he would not say: What is the matter with so and so that he says? But he would say: What is the matter with the people that they say such and such?
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی شخص کے بارے میں کوئی بری بات پہنچتی تو آپ یوں نہ فرماتے: فلاں کو کیا ہوا کہ وہ ایسا کہتا ہے؟ بلکہ یوں فرماتے: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسا اور ایسا کہتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ، - يَعْنِي الْحِمَّانِيَّ - حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا بَلَغَهُ عَنِ الرَّجُلِ الشَّىْءُ لَمْ يَقُلْ مَا بَالُ فُلاَنٍ يَقُولُ وَلَكِنْ يَقُولُ " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا " .
#4789
Daif
Narrated Anas ibn Malik: A man who had the mark of yellowness on him came to the Messenger of Allah (ﷺ). The apostle of Allah (ﷺ) rarely mentioned anything of a man which he disliked before him. When he went out, he said: Would that you asked him to wash it from him. Abu Dawud said: Salam is not 'Alawi (from the descendants of 'Ali). He used to foretell events by stars. He bore witness before 'Abi b. Arafat to the visibility of moon, but he did not accept his witness
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس پر زردی کا نشان تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یہ تھا کہ آپ بہت کم کسی ایسے شخص کے روبرو ہوتے، جس کے چہرے پر کوئی ایسی چیز ہوتی جسے آپ ناپسند کرتے تو جب وہ نکل گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش تم لوگ اس سے کہتے کہ وہ اسے اپنے سے دھو ڈالے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سلم علوی ( یعنی اولاد علی میں سے ) نہیں تھا بلکہ وہ ستارے دیکھا کرتا تھا ۱؎ اور اس نے عدی بن ارطاۃ کے پاس چاند دیکھنے کی گواہی دی تو انہوں نے اس کی گواہی قبول نہیں کی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ - وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَلَّمَا يُوَاجِهُ رَجُلاً فِي وَجْهِهِ بِشَىْءٍ يَكْرَهُهُ - فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ " لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَغْسِلَ ذَا عَنْهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَلْمٌ لَيْسَ هُوَ عَلَوِيًّا كَانَ يُبْصِرُ فِي النُّجُومِ وَشَهِدَ عِنْدَ عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلاَلِ فَلَمْ يُجِزْ شَهَادَتَهُ .
#4790
Hasan
Narrated AbuSalamah ; AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: The believer is simple and generous, but the profligate is deceitful and ignoble
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن بھولا بھالا اور شریف ہوتا ہے اور فاجر فسادی اور کمینہ ہوتا ہے ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَاهُ جَمِيعًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ وَالْفَاجِرُ خِبٌّ لَئِيمٌ " .
#4791
Sahih
A’isha said :A man asked permission to see the Prophet (ﷺ), and he said: He is a bad son of the tribe, or: He is a bad member of the tribe. He then said : Give him permission. Then when he entered, he spoke to him leniently. `A’isha asked : Apostle of Allah! You spoke to him leniently while you said about him what you said! He replied: The one who will have the worst position in Allah’s estimation on the Day of Resurrection will be the one whom people left alone for fear of his ribaldry
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اندر آنے کی ) اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: اپنے خاندان کا لڑکا یا خاندان کا آدمی برا شخص ہے پھر فرمایا: اسے اجازت دے دو، جب وہ اندر آ گیا تو آپ نے اس سے نرمی سے گفتگو کی، اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اس سے نرم گفتگو کی حالانکہ آپ اس کے متعلق ایسی ایسی باتیں کہہ چکے تھے، آپ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے برا شخص اللہ کے نزدیک قیامت کے دن وہ ہو گا جس سے لوگوں نے اس کی فحش کلامی سے بچنے کے لیے علیحدگی اختیار کر لی ہو یا اسے چھوڑ دیا ہو ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ " . أَوْ " بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ " . ثُمَّ قَالَ " ائْذَنُوا لَهُ " . فَلَمَّا دَخَلَ أَلاَنَ لَهُ الْقَوْلَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ وَقَدْ قُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ . قَالَ " إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ وَدَعَهُ - أَوْ تَرَكَهُ - النَّاسُ لاِتِّقَاءِ فُحْشِهِ " .
#4792
Hasan Sahih
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: A man asked permission to see the Prophet (ﷺ), and the Prophet (ﷺ) said: He is a bad member of the tribe. When he entered, the Messenger of Allah (ﷺ) treated in a frank and friendly way and spoke to him. When he departed , I said: Messenger of Allah! When he asked permission, you said: He is a bad member of the tribe, but when he entered, you treated him in a frank and friendly way. The Messenger of Allah replied: Aisha! Allah does not like the one who is unseemly and lewd in his language
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: اپنے کنبے کا برا شخص ہے جب وہ اندر آ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کشادہ دلی سے ملے اور اس سے باتیں کیں، جب وہ نکل کر چلا گیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب اس نے اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: اپنے کنبے کا برا شخص ہے، اور جب وہ اندر آ گیا تو آپ اس سے کشادہ دلی سے ملے آپ نے فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ کو فحش گو اور منہ پھٹ شخص پسند نہیں ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَجُلاً، اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ " . فَلَمَّا دَخَلَ انْبَسَطَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَلَّمَهُ فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمَّا اسْتَأْذَنَ قُلْتَ " بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ " . فَلَمَّا دَخَلَ انْبَسَطْتَ إِلَيْهِ . فَقَالَ " يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ " .
#4793
Daif Isnaad
The tradition mentioned above has been transmitted by `A’isha through a different chain of narrators. This version has:the Prophet (ﷺ) said: `A’isha! There are some bad people who are respected for fear of their tongues
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی واقعہ مروی ہے، وہ کہتی ہیں آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! لوگوں میں سب سے بدترین لوگ وہ ہیں وہ جن کا احترام و تکریم ان کی زبانوں سے بچنے کے لیے کیا جائے ۔
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَتْ فَقَالَ تَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم " يَا عَائِشَةُ إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ الَّذِينَ يُكْرَمُونَ اتِّقَاءَ أَلْسِنَتِهِمْ " .
#4794
Hasan
Narrated Anas ibn Malik: I never said that when any man brought his mouth to the ear of the Messenger of Allah (ﷺ) and he withdrew his head until the man himself withdrew his head, and I never saw that when any man took him by his hand and he withdrew his hand, until the man himself withdrew his hand
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان پر منہ رکھا ہو ( کچھ کہنے کے لیے ) تو آپ نے اپنا سر ہٹا لیا ہو یہاں تک کہ خود وہی شخص نہ ہٹا لے، اور میں نے ایسا بھی کوئی شخص نہیں دیکھا، جس نے آپ کا ہاتھ پکڑا ہو، تو آپ نے اس سے ہاتھ چھڑا لیا ہو، یہاں تک کہ خود اس شخص نے آپ کا ہاتھ نہ چھوڑ دیا ہو۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ، أَخْبَرَنَا مُبَارَكٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مَا رَأَيْتُ رَجُلاً الْتَقَمَ أُذُنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيُنَحِّي رَأْسَهُ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يُنَحِّي رَأْسَهُ وَمَا رَأَيْتُ رَجُلاً أَخَذَ بِيَدِهِ فَتَرَكَ يَدَهُ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يَدَعُ يَدَهُ .
#4795
Sahih
Abd Allah b. ‘Umar said:The Prophet (ﷺ) passed by a man of the Ansar when he was giving his brother a warning against modesty. The Apostle of Allah (ﷺ) said : Leave him alone, for modesty is a part of faith
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک شخص پر سے گزرے، وہ اپنے بھائی کو شرم و حیاء کرنے پر ڈانٹ رہا تھا ( اور سمجھا رہا تھا کہ زیادہ شرم کرنا اچھی بات نہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اس کے حال پر چھوڑ دو، شرم تو ایمان کا ایک حصہ ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الإِيمَانِ " .
#4796
Sahih
Abu Qatadah said :We were sitting with `Imran b. Hussain and Bushair b. Ka`b was also there. `Imran b. Hussain reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Modesty is good altogether, or he said: Modesty is altogether good. Bushair b. Ka`b said : We find in some books that there is a modesty which produces peace and dignified bearing, and there is a modesty which produces weakness. `Imran b. Hussain repeated the same words. So `Imran became angry so much so that his eyes became red, and he said : Don’t you see that I am transmitting a tradition from the Messenger of Allah (ﷺ) and you are mentioning something from your books? He (Qatadah) said : We said : Abu Nujaid, it is sufficient
ابوقتادہ کہتے ہیں ہم عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے اور وہاں بشیر بن کعب بھی تھے تو عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: حیاء خیر ہے پورا کا پورا، یا کہا حیاء پورا کا پورا خیر ہے،، اس پر بشیر بن کعب نے کہا: ہم بعض کتابوں میں لکھا پاتے ہیں کہ حیاء میں سے کچھ تو سکینہ اور وقار ہے، اور کچھ ضعف و ناتوانی، یہ سن کر عمران نے حدیث دہرائی تو بشیر نے پھر اپنی بات دہرائی تو عمران رضی اللہ عنہ غصہ ہو گئے یہاں تک کہ ان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں، اور بولے: میں تم سے حدیث رسول اللہ بیان کر رہا ہوں، اور تم اپنی کتابوں کے بارے میں مجھ سے بیان کرتے ہو۔ ابوقتادہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے ابونجید ( عمران کی کنیت ہے ) چھوڑئیے جانے دیجئیے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ كُنَّا مَعَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَثَمَّ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ فَحَدَّثَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ " . أَوْ قَالَ " الْحَيَاءُ كُلُّهُ خَيْرٌ " . فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ إِنَّا نَجِدُ فِي بَعْضِ الْكُتُبِ أَنَّ مِنْهُ سَكِينَةً وَوَقَارًا وَمِنْهُ ضَعْفًا . فَأَعَادَ عِمْرَانُ الْحَدِيثَ وَأَعَادَ بُشَيْرٌ الْكَلاَمَ قَالَ فَغَضِبَ عِمْرَانُ حَتَّى احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ وَقَالَ أَلاَ أَرَانِي أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتُحَدِّثُنِي عَنْ كُتُبِكَ . قَالَ قُلْنَا يَا أَبَا نُجَيْدٍ إِيهٍ إِيهٍ .
#4797
Sahih
Abu Mas`ud reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying :One of the things people have learnt from the words of the earliest prophecy is : If you have no shame, do what you like
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سابقہ نبوتوں کے کلام میں سے باقی ماندہ چیزیں جو لوگوں کو ملی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب تمہیں شرم نہ ہو تو جو چاہو کرو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلاَمِ النُّبُوَّةِ الأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ " .
#4798
Sahih
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) said: By his good character a believer will attain the degree of one who prays during the night and fasts during the day
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مومن اپنی خوش اخلاقی سے روزے دار اور رات کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي الإِسْكَنْدَرَانِيَّ - عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَحِمَهَا اللَّهُ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ " .
#4799
Sahih
Narrated AbudDarda': The Prophet (ﷺ) said: There is nothing heavier than good character put in the scale of a believer on the Day of Resurrection. Abu al-Walid said: I heard 'Ata al-Kaikharani say: Abu Dawud said: His name is 'Ata b. Ya'qub. He is the maternal uncle of Ibrahim b. Nafi'. He is called Kaikharani or Kukharani
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( قیامت کے دن ) میزان میں خوش خلقی سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہو گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ عَطَاءٍ الْكَيْخَارَانِيِّ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ شَىْءٍ أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ " . قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً الْكَيْخَارَانِيَّ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ عَطَاءُ بْنُ يَعْقُوبَ وَهُوَ خَالُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ يُقَالُ كَيْخَارَانِيٌّ وَكَوْخَارَانِيٌّ .
#4800
Hasan
Narrated AbuUmamah: The Prophet (ﷺ) said: I guarantee a house in the surroundings of Paradise for a man who avoids quarrelling even if he were in the right, a house in the middle of Paradise for a man who avoids lying even if he were joking, and a house in the upper part of Paradise for a man who made his character good
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس شخص کے لیے جنت کے اندر ایک گھر کا ضامن ہوں جو لڑائی جھگڑا ترک کر دے، اگرچہ وہ حق پر ہو، اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے اگرچہ وہ ہنسی مذاق ہی میں ہو، اور جنت کی بلندی میں ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو خوش خلق ہو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو الْجَمَاهِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو كَعْبٍ، أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّعْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَإِنْ كَانَ مَازِحًا وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ " .