#3976
Daif
Narrated Anas ibn Malik: The Messenger of Allah (ﷺ) read the verse: "eye for eye" (al-'aynu bil-'ayn)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: «والعين بالعين» ( رفع کے ساتھ ) پڑھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم { وَالْعَيْنُ بِالْعَيْنِ } .
#3977
Daif
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) read the verse: "We ordained therein for them: Life for life and eye for eye (an-nafsa bin-nafsi wal-'aynu bil-'ayn)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «وكتبنا عليهم فيها أن النفس بالنفس والعين بالعين» اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ہے ( سورۃ المائدہ: ۴۵ ) ( عین کے رفع کے ساتھ ) پڑھا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ { وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنُ بِالْعَيْنِ } .
#3978
Hasan
Narrated Abdullah ibn Umar: Atiyyah ibn Sa'd al-Awfi said: I recited to Abdullah ibn Umar the verse: "It is Allah Who created you in a state of (helplessness) weakness (min da'f)." He said: (Read) min du'f. I recited it to the Messenger of Allah (ﷺ) as you recited it to me, and he gripped me as I gripped you
عطیہ بن سعد عوفی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے: «الله الذي خلقكم من ضعف» اللہ وہی ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا ( سورۃ الروم: ۵۴ ) ( ضاد کے زبر کے ساتھ ) پڑھا تو انہوں نے کہا «مِنْ ضُعْفٍ» ( ضاد کے پیش کے ساتھ ) ہے میں نے بھی اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھا تھا جیسے تم نے پڑھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گرفت فرمائی جیسے میں نے تمہاری گرفت کی ہے۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ الْعَوْفِيِّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ { اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ } فَقَالَ { مِنْ ضُعْفٍ } قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا قَرَأْتَهَا عَلَىَّ فَأَخَذَ عَلَىَّ كَمَا أَخَذْتُ عَلَيْكَ .
#3979
Hasan
Narrated AbuSa'id al-Khudri: The Prophet (ﷺ) read the verse mentioned above, "min du'f
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «مِنْ ضُعْفٍ» روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَقِيلٍ - عَنْ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم { مِنْ ضُعْفٍ } .
#3980
Hasan Sahih
Narrated Ubayy b. Ka'b:"Say, in the bounty of Allah, and in His mercy- in that let you rejoice
عبدالرحمٰن بن ابزی کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے «بفضل الله وبرحمته فبذلك فلتفرحوا» لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہیئے ( سورۃ یونس: ۵۸ ) پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ( تاء کے ساتھ ) ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَسْلَمَ الْمِنْقَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ قَالَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ { بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا } . قَالَ أَبُو دَاوُدَ بِالتَّاءِ .
#3981
Hasan Sahih
(Narrated Ibn Abzi: Ubayy ibn Ka'b) said: The Prophet (ﷺ) read the verse: "Say: In the bounty of Allah and in His mercy--in that let you rejoice: that is better than the wealth you hoard
ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بفضل الله وبرحمته فبذلك فليفرحواء هو خير مما تجمعون» پڑھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الأَجْلَحِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَىٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ { بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا تَجْمَعُونَ } .
#3982
Sahih
Narrated Asma' daughter of Yazid: She heard the Prophet (ﷺ) read the verse: "He acted unrighteously." (innahu 'amila ghayra salih)
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «إنه عمل غير صالح» ( بصیغہ ماضی ) یعنی: اس نے ناسائشہ کام کیا ( سورۃ ہود: ۴۶ ) پڑھتے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ { إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ } .
#3983
Sahih
Narrated Umm Salamah, Ummul Mu'minin: Shahr ibn Hawshab said: I asked Umm Salamah: How did the Messenger of Allah (ﷺ) read this verse: "For his conduct is unrighteous (innahu 'amalun ghayru salih". She replied: He read it: "He acted unrighteously" (innahu 'amila ghayra salih). Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Harun al-Nahwi and Musa b. Khalaf from Thabit as reported by the narrator 'Abd al-Aziz
شہر بن حوشب کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آیت کریمہ «إنه عمل غير صالح» کیسے پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ اسے «إنه عمل غير صالح» ( فعل ماضی کے ساتھ ) پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے ہارون نحوی اور موسیٰ بن خلف نے ثابت سے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے عبدالعزیز نے کہا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ - حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ { إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ } فَقَالَتْ قَرَأَهَا { إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ } قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ هَارُونُ النَّحْوِيُّ وَمُوسَى بْنُ خَلَفٍ عَنْ ثَابِتٍ كَمَا قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ .
#3984
Sahih
Narrated Ubayy ibn Ka'b:: When the Messenger of Allah (ﷺ) prayed, he began with himself and said: May the mercy of Allah be upon us and upon Moses. If he had patience, he would have seen marvels from his Companion. But he said: "(Moses) said: If ever I ask thee about anything after this, keep me not in they company: then wouldst thou have received (full) excuse from my side". Hamzah lengthened it
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا فرماتے تو پہلے اپنی ذات سے شروعات کرتے یوں کہتے: اللہ کی رحمت ہو ہم پر اور موسیٰ پر اگر وہ صبر کرتے تو اپنے ساتھی ( خضر ) کی طرف سے عجیب عجیب چیزیں دیکھتے، لیکن انہوں نے تو کہہ دیا «إن سألتك عن شىء بعدها فلا تصاحبني قد بلغت من لدني» اگر اب اس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا یقیناً آپ میری طرف سے حد عذر کو پہنچ چکے ( سورۃ الکہف: ۷۶ ) ۔ حمزہ نے «لدنی» کے نون کو کھینچ کر بتایا کہ آپ یوں پڑھا کرتے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَعَا بَدَأَ بِنَفْسِهِ وَقَالَ " رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى مُوسَى لَوْ صَبَرَ لَرَأَى مِنْ صَاحِبِهِ الْعَجَبَ وَلَكِنَّهُ قَالَ { إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَىْءٍ بَعْدَهَا فَلاَ تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِي } " . طَوَّلَهَا حَمْزَةُ .
#3985
Daif
Narrated Ubayy ibn Ka'b: The Prophet (ﷺ) read the Qur'anic verse: "Thou hast received (full) excuse from me (min ladunni)" and put tashdid (doubling of consonants) on nun (n)
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «قد بلغت من لدني» ( نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا ) اور انہوں نے اسے مشدّد پڑھ کے بتایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَارِيَةِ الْعَبْدِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَرَأَهَا { قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي } وَثَقَّلَهَا .
#3986
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: Ubayy ibn Ka'b made me read the following verse as the Messenger of Allah (ﷺ) made him read: "in a spring of murky water" (fi 'aynin hami'atin) with short vowel a after h
مصدع ابویحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے مجھے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے «في عين حمئة» دلدل کے چشمہ میں ( سورۃ الکہف: ۸۶ ) تخفیف کے ساتھ پڑھایا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخفف پڑھایا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، عَنْ مِصْدَعٍ أَبِي يَحْيَى، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ أَقْرَأَنِي أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ كَمَا أَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم { فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ } مُخَفَّفَةً .
#3987
Daif
Narrated AbuSa'id al-Khudri: The Prophet (ﷺ) said: A man from the Illiyyun will look downwards at the people of Paradise and Paradise will be glittering as if it were a brilliant star. He (the narrator) said: In this way the word durri (brilliant) occurs in this tradition, i.e. the letter dal (d) has short vowel u and it has no hamzah ('). AbuBakr and Umar will be of them and will have some additional blessings
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علیین والوں میں سے ایک شخص جنتیوں کو جھانکے گا تو جنت اس کے چہرے کی وجہ سے چمک اٹھے گی گویا وہ موتی سا جھلملاتا ہوا ستارہ ہے ۔ راوی کہتے ہیں: اسی طرح «دري» دال کے پیش اور یا کی تشدید کے ساتھ حدیث وارد ہے دال کے زیر اور ہمزہ کے ساتھ نہیں اور آپ نے فرمایا ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما بھی انہیں میں سے ہیں بلکہ وہ دونوں ان سے بھی بہتر ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو النَّمَرِيَّ - أَخْبَرَنَا هَارُونُ، أَخْبَرَنِي أَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ عِلِّيِّينَ لَيُشْرِفُ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ فَتُضِيءُ الْجَنَّةُ لِوَجْهِهِ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ " . قَالَ وَهَكَذَا جَاءَ الْحَدِيثُ " دُرِّيٌّ " . مَرْفُوعَةُ الدَّالِ لاَ تُهْمَزُ " وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَمِنْهُمْ وَأَنْعَمَا " .
#3988
Hasan Sahih
Narrated Farwah ibn Musayk al-Ghutayfi: I came to the Prophet (ﷺ). He then narrated the rest of the tradition. A man from the people said: "Messenger of Allah! tell us about Saba'; what is it: land or woman? He replied: It is neither land nor woman; it is a man to whom ten children of the Arabs were born: six of them lived in the Yemen and four lived in Syria. The narrator Uthman said al-Ghatafani instead of al-Ghutayfi. He said: It has been transmitted to us by al-Hasan ibn al-Hakam an-Nakha'i
فروہ بن مسیک غطیفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اس میں ہے تو ہم میں ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! سبا کے متعلق مجھے بتائیے کہ وہ کیا ہے؟ کسی کا نام ہے یا کوئی عورت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نہ کوئی سر زمین ہے نہ عورت ہے بلکہ ایک شخص کا نام ہے جس کے دس عرب لڑکے ہوئے جس میں سے چھ نے یمن میں رہائش اختیار کر لی اور چار نے شام میں ۱؎ ۔ عثمان نے غطیفی کے بجائے غطفانی کہا ہے اور «حدثني الحسن بن الحكم النخعي» کے بجائے «حدثنا الحسن بن الحكم النخعي» کہا ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ النَّخَعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو سَبْرَةَ النَّخَعِيُّ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْغُطَيْفِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا عَنْ سَبَإٍ مَا هُوَ أَرْضٌ أَمِ امْرَأَةٌ فَقَالَ " لَيْسَ بِأَرْضٍ وَلاَ امْرَأَةٍ وَلَكِنَّهُ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَةً مِنَ الْعَرَبِ فَتَيَامَنَ سِتَّةٌ وَتَشَاءَمَ أَرْبَعَةٌ " . قَالَ عُثْمَانُ الْغَطَفَانِيِّ مَكَانَ الْغُطَيْفِيِّ وَقَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ النَّخَعِيُّ .
#3989
Sahih
Narrated Abu Hurairah:The Prophet (ﷺ) as saying - the narrator Isma'il transmitted it from Abu Hurairah, and mentioned the tradition about the coming down of revelation-: "So far (is this the case) that when terror is removed from their hearts
اس سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی حدیث ۱؎ روایت کی اس کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے قول«حتى إذا فزع عن قلوبهم» یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے ( سورۃ سبا: ۲۳ ) ۲؎ سے یہی مراد ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - قَالَ إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً - فَذَكَرَ حَدِيثَ الْوَحْىِ قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى { حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ } .
#3990
Daif Isnaad
Narrated Umm Salamah, wife of the Prophet (ﷺ): The reading of the following verse by the Prophet (ﷺ) goes: "Nay, but there came to thee (ja'atki) my signs, and thou didst reject them (fakadhdhabti biha) ; thou wast haughty (wastakbarti) and became one of those who reject Faith (wa kunti). Abu Dawud said: This is a mursal tradition, i.e. the link of the Companion has been omitted, for the narrator al-Rabi' did not meet Umm Salamah
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت «بلى قد جاءتك آياتي فكذبت بها واستكبرت وكنت من الكافرين» ہاں بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچ چکی تھیں جنہیں تو نے جھٹلایا اور غرور و تکبر کیا اور تو تھا ہی کافروں میں سے ( سورۃ الزمر: ۵۹ ) ۱؎ ( واحد مونث حاضر کے صیغہ کے ساتھ ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، ربیع نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ، يَذْكُرُ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم { بَلَى قَدْ جَاءَتْكِ آيَاتِي فَكَذَّبْتِ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتِ وَكُنْتِ مِنَ الْكَافِرِينَ } قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا مُرْسَلٌ الرَّبِيعُ لَمْ يُدْرِكْ أُمَّ سَلَمَةَ .
#3991
Sahih Isnaad
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) read: "(There is for him) Rest and satisfaction" (faruhun wa rayhan)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «فروح وريحان» تو عیش و آرام ہے ( سورۃ الواقعہ: ۸۹ ) ۱؎ ( راء کے پیش کے ساتھ ) پڑھتے ہوئے سنا۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى النَّحْوِيُّ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله تعالى عنها - قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَؤُهَا { فَرُوحٌ وَرَيْحَانٌ } .
#3992
Sahih
Safwan b. Ya'la quoting his father said:I heard the Prophet (ﷺ) read on the pulpit the verse: "They will cry: O Malik." Abu Dawud said: That is, without shortening the name (Malik)
یعلیٰ بن امیہ۔ منیہ۔ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر «ونادوا يا مالك» اور پکار پکار کہیں گے اے مالک! ( سورۃ الزخرف: ۷۷ ) پڑھتے سنا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی بغیر ترخیم کے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، - قَالَ ابْنُ حَنْبَلٍ لَمْ أَفْهَمْهُ جَيِّدًا - عَنْ صَفْوَانَ، - قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ ابْنِ يَعْلَى - عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ يَقْرَأُ { وَنَادَوْا يَا مَالِكُ } . قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي بِلاَ تَرْخِيمٍ .
#3993
Sahih
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Messenger of Allah (ﷺ) made me read the verse "It is I who give (all) sustenance, Lord of power, steadfast (for ever)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «إني أنا الرزاق ذو القوة المتين» ۱؎ پڑھایا ہے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم { إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ } .
#3994
Sahih
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Prophet (ﷺ) used to read the verse "Is there any that will receive admonition (muddakir)? " that is with doubling of consonant [(dal)(d)]. Abu Dawud said: The word muddakir may be pronounced as mim (m) with a short vowel u. (dal)(d) with a short vowel and kaf (k) with a short vowel i
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «فهل من مدكر» تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ( سورۃ الذاریات: ۵۸ ) ( یعنی دال کو مشدد ) پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «مُدَّكِّرٍ» میم کے ضمہ دال کے فتحہ اور کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَؤُهَا { فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ } يَعْنِي مُثَقَّلاً . قَالَ أَبُو دَاوُدَ مَضْمُومَةَ الْمِيمِ مَفْتُوحَةَ الدَّالِ مَكْسُورَةَ الْكَافِ .
#3995
Daif Isnaad
Narrated Jabir ibn Abdullah: I saw the Prophet (ﷺ) reading the verse; "does he think that his wealth would make him last for ever?
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «يحسب أن ماله أخلده» ۱؎ پڑھتے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ { يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ }
#3996
Daif Isnaad
Narrated Abu Qilabah:That the Prophet (ﷺ) made a man read the verse: "For, that day His chastisement will be such as none (else) can be chastised. And his bonds will be such as none (other) can be bound. Abu Dawud said: According to some (scholars), there is a narrator between the narrator Khalid and Abu Qilabah
ابوقلابہ ایک ایسے شخص سے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا ہے روایت کرتے ہیں ( کہ یہ آیت کریمہ اس طرح ہے ) «فيومئذ لا يعذب عذابه أحد * ولا يوثق وثاقه أحد» ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے خالد اور ابوقلابہ کے درمیان ایک مزید واسطہ داخل کیا ہے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَمَّنْ أَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم { فَيَوْمَئِذٍ لاَ يُعَذَّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ * وَلاَ يُوثَقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ } . قَالَ أَبُو دَاوُدَ بَعْضُهُمْ أَدْخَلَ بَيْنَ خَالِدٍ وَأَبِي قِلاَبَةَ رَجُلاً .
#3997
Daif Isnaad
Narrated Abu Qilabah: A man whom the Prophet (ﷺ) made the following verse read informed me, or he was informed by a man whom a man made the following verse read through a man whom the Prophet (ﷺ) made the following verse read: "For, that day His chastisement will be such as none (else) can be inflicted (la yu'adhdhabu) Abu Dawud said: 'Asim, al-A'mash, Talhah b. Musarrif, Abu Ja'far Yazid b. al-Qa'qa', Shaibah b. Nassah, Nafi' b. 'Abd al-Rahman, 'Abd Allah b. Kathir al-Dari, Abu 'Amr b. al-'Ala', Hamzat al-Zayyat, 'Abd al-Rahman al-A'raj, Qatadah, al-Hasan al-Basri, Mujahid, Hamid al=A'raj, Abd Allah b. 'Abbas and 'Abd al-Rahman b. Abi Bakr recited: "For,that day His chastisement will be such as none (else) can inflict (la ya'adhdhibu), and His bonds will be such as none (other) can bind (wa la yathiqu), except the verse mentioned in this tradition from the Prophet (ﷺ). It has een read yu'adhdhabu with short vowel a in passive voice
ابوقلابہ کہتے ہیں: مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا ہے یا جسے ایک ایسے شخص نے پڑھایا ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا یا ہے کہ «فيومئذ لا يعذب» ( مجہول کے صیغہ کے ساتھ ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم، اعمش، طلحہ بن مصرف، ابوجعفر یزید بن قعقاع، شیبہ بن نصاح، نافع بن عبدالرحمٰن، عبداللہ بن کثیر داری، ابوعمرو بن علاء، حمزہ زیات، عبدالرحمٰن اعرج، قتادہ، حسن بصری، مجاہد، حمید اعرج، عبداللہ بن عباس اور عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے «لا يعذب ولا يوثق» صیغہ معروف کے ساتھ پڑھا ہے مگر مرفوع روایت میں «يعذب» ( ذال کے فتحہ کے ساتھ ) ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ أَنْبَأَنِي مَنْ، أَقْرَأَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَوْ مَنْ أَقْرَأَهُ مَنْ أَقْرَأَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم { فَيَوْمَئِذٍ لاَ يُعَذَّبُ } . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَرَأَ عَاصِمٌ وَالأَعْمَشُ وَطَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ وَأَبُو جَعْفَرٍ يَزِيدُ بْنُ الْقَعْقَاعِ وَشَيْبَةُ بْنُ نَصَّاحٍ وَنَافِعُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ الدَّارِيُّ وَأَبُو عَمْرِو بْنِ الْعَلاَءِ وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ وَقَتَادَةُ وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ وَمُجَاهِدٌ وَحُمَيْدٌ الأَعْرَجُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ { لاَ يُعَذِّبُ } { وَلاَ يُوثِقُ } إِلاَّ الْحَدِيثَ الْمَرْفُوعَ فَإِنَّهُ { يُعَذَّبُ } بِالْفَتْحِ .
#3998
Daif Isnaad
Narrated AbuSa'id al-Khudri: The Messenger of Allah (ﷺ) related a tradition in which he mentioned the words "Jibril and Mikal" and he pronounced them "Jibra'ila wa Mika'ila." Abu Dawud said: Khalaf said: I did not put the pen aside from writing letters (huruf) for forty years: nothing tired me (or made me incapable of writing), even Jibril and Mika'il did not tire me
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث بیان فرمائی جس میں جبرائیل و میکال کا ذکر تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائل و میکائل پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خلف کا بیان ہے میں چالیس سال سے برابر لکھ رہا ہوں لیکن جبرائل و میکائل لکھنے میں مجھے جتنی دشواری ہوئی ہے کسی اور چیز میں نہیں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي عُبَيْدَةَ، حَدَّثَهُمْ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثًا ذَكَرَ فِيهِ " جِبْرِيلَ وَمِيكَالَ " . فَقَرَأَ { جِبْرَائِلَ وَمِيكَائِلَ } . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ خَلَفٌ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً لَمْ أَرْفَعِ الْقَلَمَ عَنْ كِتَابَةِ الْحُرُوفِ مَا أَعْيَانِي شَىْءٌ مَا أَعْيَانِي جِبْرَائِلُ وَمِيكَائِلُ .
#3999
Daif
Narrated AbuSa'id al-Khudri: The Messenger of Allah (ﷺ) mentioned the name of the one who will sound the trumpet (sahib as-sur) and said: On his right will be Jibra'il and on his left will be Mika'il
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرشتہ کا ذکر کیا جو صور لیے کھڑا ہے تو فرمایا: اس کے داہنی جانب جبرائل ہیں اور بائیں جانب میکائل ہیں ۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، قَالَ ذُكِرَ كَيْفَ قِرَاءَةُ جِبْرَائِلَ وَمِيكَائِلَ عِنْدَ الأَعْمَشِ فَحَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَاحِبَ الصُّورِ فَقَالَ " عَنْ يَمِينِهِ جِبْرَائِلُ وَعَنْ يَسَارِهِ مِيكَائِلُ " .
#4000
Daif Isnaad
Narrated Ibn al-Musayyab: The Prophet (ﷺ), AbuBakr, Umar and Uthman used to read "maliki yawmid-din (master of the Day of Judgment)". The first to read maliki yawmid-din was Marwan. Abu Dawud said: This is sounder that the tradition which transmitted by al-Zuhri from Anas, and al-Zuhri from Salim, from his father (Ibn 'Umar)
عبدالرزاق کہتے ہیں ہمیں معمر نے زہری کے واسطہ سے خبر دی ہے اور معمر نے کبھی کبھی زہری کے بجائے ابن مسیب کا ذکر کیا ہے، وہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر و عمر اور عثمان «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھتے تھے اور «مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ» سب سے پہلے مروان نے پڑھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل سند زہری کی حدیث سے جو انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نیز زہری کی اس حدیث سے جو سالم سے مروی ہے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ مَعْمَرٌ وَرُبَّمَا ذَكَرَ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ يَقْرَءُونَ { مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ } وَأَوَّلُ مَنْ قَرَأَهَا { مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ } مَرْوَانُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ وَالزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ .