#3951
Sahih Maqtu
Qatadah reported 'Umar b. al-Khattab (ra) as saying:If anyone gets possession of a relative who is within the prohibited degrees, that person becomes free
حسن کہتے ہیں جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو ( وہ ملکیت میں آتے ہی ) آزاد ہو جائے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ .
#3952
Sahih Maqtu
A similar tradition has also been transmitted by Jabir b. Zaid and al-Hasan through a different chain of narrators. Abu Dawud said:The narrator sa'id retained te tradition more carefully than Hammad
جابر بن زید اور حسن سے بھی اسی کے ہم مثل مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: سعید حماد ( حماد بن سلمہ ) سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَالْحَسَنِ، مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَعِيدٌ أَحْفَظُ مِنْ حَمَّادٍ .
#3953
Daif Isnaad
Narrated Sulamah bint Ma'qil al-Qasiyyah: My uncle brought me (to Medina) in the pre-Islamic days. He sold me to al-Hubab ibn Amr, brother of AbulYusr ibn Amr. I bore a child, AbdurRahman ibn al-Hubab, to him and he (al-Hubab) then died. Thereupon his wife said: I swear by Allah, now you will be sold (as a repayment) for his loan. So I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah! I am a woman of Banu Kharijah Qays ibn Aylan. My uncle had brought me to Medina in pre-Islamic days. He sold me to al-Hubab ibn Amr, brother of AbulYusr ibn Amr. I bore AbdurRahman ibn al-Hubab to him. His wife said: I swear by Allah, you will be sold for his loan. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Who is the guardian of al-Hubab? He was told: His brother, AbulYusr ibn Amr. He then sent for him and said: Set her free; when you hear that some slaves have been brought to me, came to me, and I shall compensate you for her. She said: They set me free, and when some slaves were brought to the Messenger of Allah (ﷺ), he gave them a slave in compensation for me
بنی خارجہ قیس عیلان کی ایک خاتون سلامہ بنت معقل کہتی ہیں کہ جاہلیت میں مجھے میرے چچا لے کر آئے اور ابوالیسر بن عمرو کے بھائی حباب بن عمرو کے ہاتھ بیچ دیا، ان سے عبدالرحمٰن بن حباب پیدا ہوئے، پھر وہ مر گئے تو ان کی بیوی کہنے لگی: قسم اللہ کی اب تو ان کے قرضہ میں بیچی جائے گی، یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بنی خارجہ قیس عیلان کی ایک خاتون ہوں، جاہلیت میں میرے چچا مدینہ لے کر آئے اور ابوالیسر بن عمرو کے بھائی حباب بن عمرو کے ہاتھ مجھے بیچ دیا ان سے میرے بطن سے عبدالرحمٰن بن حباب پیدا ہوئے، اب ان کی بیوی کہتی ہے: قسم اللہ کی تو ان کے قرض میں بیچی جائے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: حباب کا وارث کون ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: ان کے بھائی ابوالیسر بن عمرو ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہلا بھیجا کہ اسے ( سلامہ کو ) آزاد کر دو، اور جب تم سنو کہ میرے پاس غلام اور لونڈی آئے ہیں تو میرے پاس آنا، میں تمہیں اس کا عوض دوں گا، سلامہ کہتی ہیں: یہ سنا تو ان لوگوں نے مجھے آزاد کر دیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام اور لونڈی آئے تو آپ نے میرے عوض میں انہیں ایک غلام دے دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ خَطَّابِ بْنِ صَالِحٍ، مَوْلَى الأَنْصَارِيِّ عَنْ أُمِّهِ، عَنْ سَلاَمَةَ بِنْتِ مَعْقِلٍ، - امْرَأَةٍ مِنْ خَارِجَةِ قَيْسِ عَيْلاَنَ - قَالَتْ قَدِمَ بِي عَمِّي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَبَاعَنِي مِنَ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي أَبِي الْيَسَرِ بْنِ عَمْرٍو فَوَلَدْتُ لَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحُبَابِ ثُمَّ هَلَكَ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ الآنَ وَاللَّهِ تُبَاعِينَ فِي دَيْنِهِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ مِنْ خَارِجَةِ قَيْسِ عَيْلاَنَ قَدِمَ بِي عَمِّي الْمَدِينَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَبَاعَنِي مِنَ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي أَبِي الْيَسَرِ بْنِ عَمْرٍو فَوَلَدْتُ لَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحُبَابِ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ الآنَ وَاللَّهِ تُبَاعِينَ فِي دَيْنِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ وَلِيُّ الْحُبَابِ " . قِيلَ أَخُوهُ أَبُو الْيَسَرِ بْنُ عَمْرٍو فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَقَالَ " أَعْتِقُوهَا فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَقِيقٍ قَدِمَ عَلَىَّ فَأْتُونِي أُعَوِّضْكُمْ مِنْهَا " . قَالَتْ فَأَعْتَقُونِي وَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَقِيقٌ فَعَوَّضَهُمْ مِنِّي غُلاَمًا .
#3954
Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: We sold slave-mothers during the time of the Messenger of Allah (ﷺ) and of AbuBakr. When Umar was in power, he forbade us and we stopped
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ام ولد ۱؎ کو بیچا کرتے تھے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو انہوں نے ہمیں اس کے بیچنے سے روک دیا چنانچہ ہم رک گئے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بِعْنَا أُمَّهَاتِ الأَوْلاَدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ نَهَانَا فَانْتَهَيْنَا .
#3955
Sahih
Jabir b. 'Abd Allah said:A man declared that his slave would be free after his death, but he had no other property. So the Prophet (ﷺ) ordered (to sell him). He was then sold for seven hundred or nine hundred (dirhams)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کر دیا اور اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیچنے کا حکم دیا تو وہ سات سویا نو سو میں بیچا گیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلاً، أَعْتَقَ غُلاَمًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَبِيعَ بِسَبْعِمِائَةٍ أَوْ بِتِسْعِمِائَةٍ .
#3956
Sahih Hadith
The tradition mentioned above also has been transmitted by Jabir b. 'Abd Allah through a different chain of narrators. This version added:The Prophet (ﷺ) said: You are more entitled to his price, and Allah has no need of it
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ مجھ سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے یہی روایت بیان کی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس غلام کی قیمت کے زیادہ حقدار تم ہو اور اللہ اس سے بےپرواہ ہے ( یعنی اگر آزاد ہوتا تو اللہ زیادہ خوش ہوتا پر وہ بے نیاز ہے، اور بندہ محتاج ہے ) ۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، بِهَذَا زَادَ وَقَالَ - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - " أَنْتَ أَحَقُّ بِثَمَنِهِ وَاللَّهُ أَغْنَى عَنْهُ " .
#3957
Sahih
Jabir said:A man of the Ansar called Abu Madhkur declared that his slave called Ya'qub would be free after his death, but he had no other property. So the Messenger of Allah (ﷺ) called him and said: Who will buy him ? Nu'aim b. 'Abd Allah b. al-Nahham bought him for eight hundred dirhams. When he handed them over to him, he (Prophet) said: If any of you is poor, he should begin from himself ; if anything is left over, give it to your family; if anything is left over, give it to your relatives ; if anything is left over (when they received something), then here and here
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک ابومذکور نامی انصاری نے اپنے یعقوب نامی ایک غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کر دیا، اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: اسے کون خریدتا ہے؟ چنانچہ نعیم بن عبداللہ بن نحام نے آٹھ سو درہم میں اسے خرید لیا تو آپ نے اسے انصاری کو دے دیا اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی محتاج ہو تو اسے اپنی ذات سے شروع کرنا چاہیئے، پھر جو اپنے سے بچ رہے تو اسے اپنے بال بچوں پر صرف کرے پھر اگر ان سے بچ رہے تو اپنے قرابت داروں پر خرچ کرے یا فرمایا: اپنے ذی رحم رشتہ داروں پر خرچ کرے اور اگر ان سے بھی بچ رہے تو یہاں وہاں خرچ کرے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَذْكُورٍ أَعْتَقَ غُلاَمًا لَهُ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ عَنْ دُبُرٍ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَنْ يَشْتَرِيهِ " . فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النَّحَّامِ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ فَإِنْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ فَعَلَى عِيَالِهِ فَإِنْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ فَعَلَى ذِي قَرَابَتِهِ " . أَوْ قَالَ " عَلَى ذِي رَحِمِهِ فَإِنْ كَانَ فَضْلاً فَهَا هُنَا وَهَا هُنَا " .
#3958
Sahih
Imran b. Hussain said:A man who had no other property emancipated six slaves of his at the time of the death. When the Prophet (ﷺ) was informed about it, he spoke severely of him. He then called them, divided them into three sections, cast lots among them, and emancipated two and kept four in slavery
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اسے سخت سست کہا پھر انہیں بلایا اور ان کے تین حصے کئے: پھر ان میں قرعہ اندازی کی پھر ان میں سے دو کو ( جن کے نام قرعہ میں نکلے ) آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ قَوْلاً شَدِيدًا ثُمَّ دَعَاهُمْ فَجَزَّأَهُمْ ثَلاَثَةَ أَجْزَاءٍ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً .
#3959
Sahih
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Qilabah through a different chain of narrators on the authority of 'Imran b. Husain to the same effect. But in this version he did not mention "He spoke severely of them
اس سند سے بھی ابوقلابہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اور اس میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سخت سست کہا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ - حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَلَمْ يَقُلْ فَقَالَ لَهُ قَوْلاً شَدِيدًا .
#3960
Sahih Isnaad
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Qilabah from Abu Zaid through a different chain of narrators to the same effect:A man of the Ansar ... The Prophet (ﷺ) said: Had I been present before his burial, he would not have been buried in a Muslim cemetry
ابوزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے … آگے انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اس میں یہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اس کے دفن کئے جانے سے پہلے موجود ہوتا تو وہ مسلمانوں کے قبرستان میں نہ دفنایا جاتا ۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، - هُوَ الطَّحَّانُ - عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - " لَوْ شَهِدْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُدْفَنَ لَمْ يُدْفَنْ فِي مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ " .
#3961
Sahih
Imran b. Husain said:A man emancipated six slaved at the time of his death and he had no other property. The Prophet (ﷺ) was informed about it. He cast lots among them, emancipated two and retained four in slavery
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ کے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا پھر یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی پھر دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی باقی رکھا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً .
#3962
Sahih
Abd Allah b. 'Umar reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:If anyone emancipates a slave who has property, the property of the slave belongs to him except that the master makes a stipulation
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی غلام کو آزاد کرے اور اس کے پاس مال ہو تو غلام کا مال آزاد کرنے والے کا ہے اِلا یہ کہ مالک اس کو غلام کو دیدے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُ الْعَبْدِ لَهُ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَهُ السَّيِّدُ " .
#3963
Sahih
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: The child of adultery is worst of the three. Abu Hurairah said: That I give a flog in the path of Allah (as a charity) is dearer to me than emancipating a child of adultery
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زنا کا بچہ تینوں میں سب سے برا ہے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی راہ میں ایک کوڑا دینا میرے نزدیک ولد الزنا کو آزاد کرنے سے بہتر ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلاَثَةِ " . وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لأَنْ أُمَتِّعَ بِسَوْطٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ وَلَدَ زِنْيَةٍ .
#3964
Daif
Narrated Wathilah ibn al-Asqa: Al-Arif ibn ad-Daylami said: We went to Wathilah ibn al-Asqa and said to him: Tell us a tradition which has not addition or omission. He became angry and replied: One of you recites when his copy of a Qur'an is hung up in his house, and he makes additions and omissions. We said: All we mean is a tradition you have heard from the Messenger of Allah (ﷺ). He said: We went to the Prophet (ﷺ) about a friend of ours who deserved. Hell for murder. He said: Emancipate a slave on his behalf; Allah will set free from Hell a member of the body for every member of his
غریف بن دیلمی کہتے ہیں ہم واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہم نے ان سے کہا: آپ ہم سے کوئی حدیث بیان کیجئے جس میں کوئی زیادتی و کمی نہ ہو، تو وہ ناراض ہو گئے اور بولے: تم میں سے کوئی قرآن پڑھتا ہے اور اس کے گھر میں مصحف لٹک رہا ہے تو وہ اس میں کمی و زیادتی کرتا ہے، ہم نے کہا: ہمارا مقصد یہ ہے کہ آپ ہم سے ایسی حدیث بیان کریں جسے آپ نے ( براہ راست ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کا مسئلہ لے کر آئے جس نے قتل کا ارتکاب کر کے اپنے اوپر جہنم کو واجب کر لیا تھا، آپ نے فرمایا: اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ہرہر جوڑ کے بدلہ اس کا ہر جوڑ جہنم سے آزاد کر دے گا ۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنِ الْغَرِيفِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ أَتَيْنَا وَاثِلَةَ بْنَ الأَسْقَعِ فَقُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا حَدِيثًا، لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ وَلاَ نُقْصَانٌ فَغَضِبَ وَقَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَقْرَأُ وَمُصْحَفُهُ مُعَلَّقٌ فِي بَيْتِهِ فَيَزِيدُ وَيَنْقُصُ . قُلْنَا إِنَّمَا أَرَدْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَاحِبٍ لَنَا أَوْجَبَ - يَعْنِي - النَّارَ بِالْقَتْلِ فَقَالَ " أَعْتِقُوا عَنْهُ يُعْتِقِ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ " .
#3965
Sahih
Narrated AbuNajih as-Sulami: Along with the Messenger of Allah (ﷺ) we besieged the palace of at-Ta'if. The narrator, Mutadh, said: I heard my father (sometimes) say: "Palace of at-Ta'if," and (sometimes) "Fort of at-Ta'if," which are the same. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: he who causes an arrow to hit its mark in Allah's cause will have it counted as a degree for him (in Paradise). He then transmitted the rest of the tradition. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If a Muslim man emancipates a Muslim man, Allah, the Exalted, will make every bone of his protection for every bone of his emancipator from Hell; and if a Muslim woman emancipates a Muslim woman, Allah will make every bone of hers protection for every bone of her emancipator from Hell on the Day of Resurrection
ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طائف کے محل کا محاصرہ کیا۔ معاذ کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کو طائف کا محل اور طائف کا قلعہ دونوں کہتے سنا ہے۔ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے اللہ کی راہ میں تیر مارا تو اس کے لیے ایک درجہ ہے پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: جس مسلمان مرد نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہڈی کے لیے اس کے آزاد کردہ شخص کی ہر ہڈی کو جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا، اور جس عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہڈی کے لیے اس کے آزاد کردہ عورت کی ہر ہڈی کو جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَصْرِ الطَّائِفِ - قَالَ مُعَاذٌ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ بِقَصْرِ الطَّائِفِ بِحِصْنِ الطَّائِفِ كُلُّ ذَلِكَ - فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَهُ دَرَجَةٌ " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلاً مُسْلِمًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهِ مِنَ النَّارِ وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهَا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
#3966
Sahih
Amr ibn Abasah, said that Marrah ibn Ka'b said:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If anyone emancipates a Muslim slave, that will be his ransom from Jahannam
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ انہوں نے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہم سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے ( براہ راست ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے کسی مسلمان گردن کو آزاد کیا تو وہ دوزخ سے اس کا فدیہ ہو گا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ حَدِّثْنَا حَدِيثًا، سَمِعْتَهُ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً كَانَتْ فِدَاءَهُ مِنَ النَّارِ " .
#3967
Sahih
The tradition mentioned above has also been transmitted by Mu'adh through a different chain of narrators. After mentioning the words "If any Muslim emancipates a Muslim slave... and if a woman emancipates a Muslim woman, this version adds:"If a man emancipates two Muslim women, they will be deliverance from Hell fire; two bones of their will be emancipation for each of his bone." Abu Dawud said: Salim did not hear (traditions) from Shurahbil. Shurahbil died at Siffin
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ انہوں نے کعب بن مرہ یا مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، پھر راوی نے آپ کے فرمان: «وأيما امرئ أعتق مسلما وأيما امرأة أعتقت امرأة مسلمة» تک معاذ جیسی روایت بیان کی، اور یہ اضافہ کیا: جو مرد کسی دو مسلمان عورت کو آزاد کرے تو وہ دونوں اسے جہنم سے چھڑا دیں گی، ان دونوں کی دو ہڈیاں اس کی ایک ایک ہڈی کے قائم مقام ہوں گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سالم نے شرحبیل سے نہیں سنا ہے ( اس لیے یہ حدیث منقطع ہے ) شرحبیل کی وفات صفین میں ہوئی ہے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، أَنَّهُ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ أَوْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ حَدِّثْنَا حَدِيثًا، سَمِعْتَهُ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ مَعْنَى مُعَاذٍ إِلَى قَوْلِهِ " وَأَيُّمَا امْرِئٍ أَعْتَقَ مُسْلِمًا وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً " . زَادَ " وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ إِلاَّ كَانَتَا فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ يُجْزَى مَكَانَ كُلِّ عَظْمَيْنِ مِنْهُمَا عَظْمٌ مِنْ عِظَامِهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَالِمٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ شُرَحْبِيلَ مَاتَ شُرَحْبِيلُ بِصِفِّينَ .
#3968
Daif
Narrated AbudDarda': The Prophet (ﷺ) said: the similitude of a man who emancipates a slave at the time of his death is like that of a man who gives a present after satisfying his appetite
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مرتے وقت غلام آزاد کرے تو اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی آسودہ ہو جانے کے بعد ہدیہ دے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ " .
#3969
Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) read the Qur'anic verse, "And take ye the Station of Abraham as a place of prayer
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» اور مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنا لو۔۔۔ ( سورۃ البقرہ: ۱۲۴ ) ( امر کے صیغہ کے ساتھ بکسر خاء ) پڑھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ { وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى }
#3970
Sahih
Narrated A'ishah:A man got up (for prayer) at night, he read the Qur'an and raised his voice in reading. When the morning came, the Messenger of Allah (ﷺ) said: May Allah have mercy on so-and-so! Last night he reminded me a number of verses which I was about to forget
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رات میں قیام کیا اور ( نماز میں ) بلند آواز سے قرآت کی، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ فلاں پر رحم کرے کتنی آیتیں جنہیں میں بھول چلا تھا ۱؎ اس نے آج رات مجھے یاد دلا دیں ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَجُلاً، قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَ فَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَرْحَمُ اللَّهُ فُلاَنًا كَائِنٌ مِنْ آيَةٍ أَذْكَرَنِيهَا اللَّيْلَةَ كُنْتُ قَدْ أَسْقَطْتُهَا " .
#3971
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: The verse "And no Prophet could (ever) be false to his trust" was revealed about a red velvet. When it was found missing on the day of Badr, some people said; Perhaps the Messenger of Allah (ﷺ) has taken it. So Allah, the Exalted, sent down "And no prophet could (ever) be false to his trust" to the end of the verse. Abu Dawud said: In the word yaghulla the letter ya has a short vowel a
مقسم مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ آیت: «وما كان لنبي أن يغل» نبی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خیانت کرے۔۔۔ ( سورۃ آل عمران: ۱۶۱ ) ایک سرخ چادر کے متعلق نازل ہوئی جو بدر کے دن گم ہو گئی تھی تو کچھ لوگوں نے کہا: شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا ہو تب اللہ تعالیٰ نے: «وما كان لنبي أن يغل» نازل کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «يغل» یا کے فتحہ کے ساتھ ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، حَدَّثَنَا مِقْسَمٌ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضى الله عنهما نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ } فِي قَطِيفَةٍ حَمْرَاءَ فُقِدَتْ يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ } إِلَى آخِرِ الآيَةِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَغُلَّ مَفْتُوحَةُ الْيَاءِ .
#3972
Sahih
Anas b. Malik reported that Messenger of Allah (ﷺ) as saying:O Allah, I seek refuge in Thee from niggardliness and old age
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخیلی اور بڑھاپے سے۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْهَرَمِ " .
#3973
Sahih
Narrated Laqit ibn Sabirah: I came in the deputation of Banu al-Muntafiq to the Messenger of Allah (ﷺ). He then narrated the rest of the tradition. The Prophet (ﷺ) said: la tahsibanna (do not think) and did not say: la tahsabanna (do not think)
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بنی منتفق کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا، یا بنی منتفق کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا پھر انہوں نے حدیث بیان کی کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «لا تحسبن» ( سین کے زیر کے ساتھ ) پڑھا اور «لا تحسبن» ( سین کو زبر کے ساتھ ) نہیں پڑھا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ قَالَ كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ - أَوْ فِي وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - " لاَ تَحْسِبَنَّ " . وَلَمْ يَقُلْ لاَ تَحْسَبَنَّ .
#3974
Sahih
Narrated Ibn 'Abbas:The Muslims met a man with some sheep of his. He said: Peace be upon you. But they killed him and took those few sheep. Thereupon the following Qur'anic verse was revealed: "...And say to anyone who offers you a salutation: Thou art none of believer, coveting the perishable good of this life." meaning these few sheep
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں مسلمان ایک شخص سے ملے جو اپنی بکریوں کے چھوٹے سے ریوڑ میں تھا اس نے السلام علیکم کہا پھر بھی مسلمانوں نے اسے قتل کر دیا اور وہ ریوڑ لے لیا تو یہ آیت کریمہ: «ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمنا تبتغون عرض الحياة الدنيا» جو شخص تمہیں سلام کہے اسے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے تم لوگ دنیاوی زندگی کا ساز و سامان یعنی ان بکریوں کو چاہتے ہو ( سورۃ النساء: ۹۴ ) نازل ہوئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَحِقَ الْمُسْلِمُونَ رَجُلاً فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ فَنَزَلَتْ { وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا } تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ .
#3975
Hasan Sahih
Narrated Zayd ibn Thabit: The Prophet (ﷺ) used to read: "Not equal are those believers who sit (at home) and receive no hurt (ghayru ulid-darari) but the narrator Sa'id did not say the words "used to read
زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» کے بعد «غير أولي الضرر» پڑھتے تھے۔ اور سعید بن منصور نے اپنی روایت میں «كان يقرأ» نہیں کہا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، - وَهُوَ أَشْبَعُ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ { غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ } وَلَمْ يَقُلْ سَعِيدٌ كَانَ يَقْرَأُ .