#2801
Sahih
Narrated Al-Bara' ibn Azib: A maternal uncle of mine called AbuBurdah sacrificed before the prayer (for 'Id). The Messenger of Allah (ﷺ) said: Your goat is meant for flesh. He said: Messenger of Allah, I have a domestic kid with me. He said: Sacrifice it, but it is not valid for any man other than you
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے ابوبردہ نامی ایک ماموں نے نماز سے پہلے قربانی کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ تمہاری بکری گوشت کی بکری ہوئی ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس بکریوں میں سے ایک پلی ہوئی جذعہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی کو ذبح کر ڈالو، لیکن تمہارے سوا اور کسی کے لیے ایسا کرنا درست نہیں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ ضَحَّى خَالٌ لِي يُقَالُ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدِي دَاجِنًا جَذَعَةً مِنَ الْمَعْزِ فَقَالَ " اذْبَحْهَا وَلاَ تَصْلُحُ لِغَيْرِكَ " .
#2802
Daif
Narrated Ubayd ibn Firuz: I asked al-Bara' ibn Azib: What should be avoided in sacrificial animals? He said: The Messenger of Allah (ﷺ) stood among us, and my fingers are smaller than his fingers, and my fingertips are smaller than his fingertips. He said (pointing with his fingers): Four (types of animals) should be avoided in sacrifice: A One-eyed animal which has obviously lost the sight of one eye, a sick animal which is obviously sick, a lame animal which obviously limps and an animal with a broken leg with no marrow. I also detest an animal which has defective teeth. He said: Leave what you detest, but do not make it illegal for anyone. Abu Dawud said: (By a lean animal mean) and animal which has no marrow
عبید بن فیروز کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ: کون سا جانور قربانی میں درست نہیں ہے؟ تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، میری انگلیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے چھوٹی ہیں اور میری پوریں آپ کی پوروں سے چھوٹی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار انگلیوں سے اشارہ کیا اور فرمایا: چار طرح کے جانور قربانی کے لائق نہیں ہیں، ایک کانا جس کا کانا پن بالکل ظاہر ہو، دوسرے بیمار جس کی بیماری بالکل ظاہر ہو، تیسرے لنگڑا جس کا لنگڑا پن بالکل واضح ہو، اور چوتھے دبلا بوڑھا کمزور جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو ، میں نے کہا: مجھے قربانی کے لیے وہ جانور بھی برا لگتا ہے جس کے دانت میں نقص ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تمہیں ناپسند ہو اس کو چھوڑ دو لیکن کسی اور پر اس کو حرام نہ کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ( «لا تنقى» کا مطلب یہ ہے کہ ) اس کی ہڈی میں گودا نہ ہو۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ، قَالَ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ مَا لاَ يَجُوزُ فِي الأَضَاحِي فَقَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصَابِعِي أَقْصَرُ مِنْ أَصَابِعِهِ وَأَنَامِلِي أَقْصَرُ مِنْ أَنَامِلِهِ فَقَالَ " أَرْبَعٌ لاَ تَجُوزُ فِي الأَضَاحِي الْعَوْرَاءُ بَيِّنٌ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ بَيِّنٌ مَرَضُهَا وَالْعَرْجَاءُ بَيِّنٌ ظَلْعُهَا وَالْكَسِيرُ الَّتِي لاَ تَنْقَى " . قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي السِّنِّ نَقْصٌ . قَالَ " مَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ وَلاَ تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَيْسَ لَهَا مُخٌّ .
#2803
Daif
Narrated Yazid Dhu Misr : I came to Utbah ibn AbdusSulami and said: AbulWalid, I went out seeking sacrificial animals. I did not find anything which attracted me except an animal whose teeth have fallen. So I abominated it. What do you say (about it)? He said: Why did you not bring it to me? He said: Glory be to Allah: Is if lawful for you and not lawful for me? He said: Yes, you doubt and I do not doubt. The Messenger of Allah (ﷺ) has forbidden an animal whose ear has been uprooted so much so that its hole appears (outwardly), and an animal whose horn has broken from the root, and an animal which has totally lost the sight of its eye, and an animal which is so thin and weak that it cannot go with the herd, and an animal with a broken leg
یزید ذومصر کہتے ہیں کہ میں عتبہ بن عبد سلمی کے پاس آیا اور ان سے کہا: ابوالولید! میں قربانی کے لیے جانور ڈھونڈھنے کے لیے نکلا تو مجھے سوائے ایک بکری کے جس کا ایک دانت گر چکا ہے کوئی جانور پسند نہ آیا، تو میں نے اسے لینا اچھا نہیں سمجھا، اب آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس کو تم میرے لیے کیوں نہیں لے آئے، میں نے کہا: سبحان اللہ! آپ کے لیے درست ہے اور میرے لیے درست نہیں، انہوں نے کہا: ہاں تم کو شک ہے مجھے شک نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بس «مصفرة والمستأصلة والبخقاء والمشيعة» ، اور «كسراء» سے منع کیا ہے، «مصفرة» وہ ہے جس کا کان اتنا کٹا ہو کہ کان کا سوراخ کھل گیا ہو، «مستأصلة» وہ ہے جس کی سینگ جڑ سے اکھڑ گئی ہو، «بخقاء» وہ ہے جس کی آنکھ کی بینائی جاتی رہے اور آنکھ باقی ہو، اور «مشيعة» وہ ہے جو لاغری اور ضعف کی وجہ سے بکریوں کے ساتھ نہ چل پاتی ہو بلکہ پیچھے رہ جاتی ہو، «كسراء» وہ ہے جس کا ہاتھ پاؤں ٹوٹ گیا ہو، ( لہٰذا ان کے علاوہ باقی سب جانور درست ہیں، پھر شک کیوں کرتے ہو ) ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنَا ح، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، - الْمَعْنَى - عَنْ ثَوْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو حُمَيْدٍ الرُّعَيْنِيُّ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ، ذُو مِصْرٍ قَالَ أَتَيْتُ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ فَقُلْتُ يَا أَبَا الْوَلِيدِ إِنِّي خَرَجْتُ أَلْتَمِسُ الضَّحَايَا فَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا يُعْجِبُنِي غَيْرَ ثَرْمَاءَ فَكَرِهْتُهَا فَمَا تَقُولُ قَالَ أَفَلاَ جِئْتَنِي بِهَا . قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ تَجُوزُ عَنْكَ وَلاَ تَجُوزُ عَنِّي قَالَ نَعَمْ إِنَّكَ تَشُكُّ وَلاَ أَشُكُّ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُصْفَرَّةِ وَالْمُسْتَأْصَلَةِ وَالْبَخْقَاءِ وَالْمُشَيَّعَةِ وَالْكَسْرَاءِ فَالْمُصْفَرَّةُ الَّتِي تُسْتَأْصَلُ أُذُنُهَا حَتَّى يَبْدُوَ سِمَاخُهَا وَالْمُسْتَأْصَلَةُ الَّتِي اسْتُؤْصِلَ قَرْنُهَا مِنْ أَصْلِهِ وَالْبَخْقَاءُ الَّتِي تَبْخَقُ عَيْنُهَا وَالْمُشَيَّعَةُ الَّتِي لاَ تَتْبَعُ الْغَنَمَ عَجْفًا وَضَعْفًا وَالْكَسْرَاءُ الْكَسِيرَةُ .
#2804
Daif
Narrated Ali ibn AbuTalib: The Messenger of Allah (ﷺ) enjoined upon us to pay great attention to the eye and both ears, and not to sacrifice a one-eyed animal, and an animal with a slit which leaves something hanging at the front or back of the ear, or with a lengthwise slit with a perforation in the ear. I asked AbuIshaq: Did he mention an animal with broken horns and uprooted ears? He said: No. I said: 'What is the Muqabalah ?' He replied: 'It has been cut from the back of its ear.' I said: 'What about the Sharqa'? He replied: 'The ear has been split.' I said: 'What about the Kharqa'? He replied: 'A hole is made (in its ears) as a distinguishing mark
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان خوب دیکھ لیں ( کہ اس میں ایسا نقص نہ ہو جس کی وجہ سے قربانی درست نہ ہو ) اور کانے جانور کی قربانی نہ کریں، اور نہ «مقابلة» کی، نہ «مدابرة» کی، نہ«خرقاء» کی اور نہ «شرقاء» کی۔ زہیر کہتے ہیں: میں نے ابواسحاق سے پوچھا: کیا «عضباء» کا بھی ذکر کیا؟ تو انہوں نے کہا: نہیں ( «عضباء» اس بکری کو کہتے ہیں جس کے کان کٹے ہوں اور سینگ ٹوٹے ہوں ) ۔ میں نے پوچھا «مقابلة» کے کیا معنی ہیں؟ کہا: جس کا کان اگلی طرف سے کٹا ہو، پھر میں نے کہا: «مدابرة» کے کیا معنی ہیں؟ کہا: جس کے کان پچھلی طرف سے کٹے ہوں، میں نے کہا:«خرقاء» کیا ہے؟ کہا: جس کے کان پھٹے ہوں ( گولائی میں ) میں نے کہا: «شرقاء» کیا ہے؟ کہا: جس بکری کے کان لمبائی میں چرے ہوئے ہوں ( نشان کے لیے ) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، - وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ - عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالأُذُنَيْنِ وَلاَ نُضَحِّيَ بِعَوْرَاءَ وَلاَ مُقَابَلَةٍ وَلاَ مُدَابَرَةٍ وَلاَ خَرْقَاءَ وَلاَ شَرْقَاءَ . قَالَ زُهَيْرٌ فَقُلْتُ لأَبِي إِسْحَاقَ أَذَكَرَ عَضْبَاءَ قَالَ لاَ . قُلْتُ فَمَا الْمُقَابَلَةُ قَالَ يُقْطَعُ طَرَفُ الأُذُنِ . قُلْتُ فَمَا الْمُدَابَرَةُ قَالَ يُقْطَعُ مِنْ مُؤَخَّرِ الأُذُنِ . قُلْتُ فَمَا الشَّرْقَاءُ قَالَ تُشَقُّ الأُذُنُ . قُلْتُ فَمَا الْخَرْقَاءُ قَالَ تُخْرَقُ أُذُنُهَا لِلسِّمَةِ .
#2805
Daif
Narrated Ali ibn AbuTalib: The Prophet (ﷺ) prohibited to sacrifice an animal with a slit ear and broken horn. Abu Dawud said: The narrator Jurayy (b. Kulaib) is Sadusi, and belongs to Basrah. No one narrated traditions from him except Qatadah
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «عضباء» ( یعنی سینگ ٹوٹے کان کٹے جانور ) کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتَوَائِيُّ، وَيُقَالُ، لَهُ هِشَامُ بْنُ سَنْبَرٍ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جُرَىِّ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُضَحَّى بِعَضْبَاءِ الأُذُنِ وَالْقَرْنِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ جُرَىٌّ سَدُوسِيٌّ بَصْرِيٌّ لَمْ يُحَدِّثْ عَنْهُ إِلاَّ قَتَادَةُ .
#2806
Maqtu
Narrated Qatadah:I asked Sa'id b. al-Musayyab: What is meant by animal with a slit ear and broken horn ? He replied: Half and more than half
قتادہ کہتے ہیں میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا: «اعضب» ( یا «عضباء» ) کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ( جس کی سینگ یا کان ) آدھا یا آدھے سے زیادہ ٹوٹا یا کٹا ہوا ہو۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مَا الأَعْضَبُ قَالَ النِّصْفُ فَمَا فَوْقَهُ .
#2807
Sahih
Narrated Jabir bin ‘Abdullah :We performed tamattu' during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ), sacrificed a cow for seven and a camel for seven people. We shared them
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حج تمتع کرتے تو گائے سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کرتے تھے، اور اونٹ بھی سات آدمیوں کی طرف سے، ہم سب اس میں شریک ہو جاتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نَتَمَتَّعُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَذْبَحُ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْجَزُورَ عَنْ سَبْعَةٍ نَشْتَرِكُ فِيهَا .
#2808
Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet (ﷺ) said: A cow serves for seven, and a camel serves for seven
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گائے سات کی طرف سے کفایت کرتی ہے اور اونٹ بھی سات کی طرف سے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْجَزُورُ عَنْ سَبْعَةٍ " .
#2809
Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: We sacrificed along with the Messenger of Allah (ﷺ) at al-Hudaybiyyah a camel for seven and a cow for seven people
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات آدمیوں کی طرف سے اونٹ نحر کئے، اور گائے بھی سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کی۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ .
#2810
Sahih
Narrated Jabir ibn Abdullah: I witnessed sacrificing along with the Messenger of Allah (ﷺ) at the place of prayer. When he finished his sermon, he descended from his pulpit, and a ram was brought to him. The Messenger of Allah (ﷺ) slaughtered it with his hand, and said: In the name of Allah, Allah, is Most Great. This is from me and from those who did not sacrifice from my community
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں عید الاضحی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید گاہ میں موجود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے چکے تو منبر سے اترے اور آپ کے پاس ایک مینڈھا لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: «بسم الله والله أكبر هذا عني وعمن لم يضح من أمتي» اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے، یہ میری طرف سے اور میری امت کے ہر اس شخص کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی ہے ۱؎ کہہ کر اسے اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي الإِسْكَنْدَرَانِيَّ - عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الأَضْحَى بِالْمُصَلَّى فَلَمَّا قَضَى خُطْبَتَهُ نَزَلَ مِنْ مِنْبَرِهِ وَأُتِيَ بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ وَقَالَ " بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي " .
#2811
Hasan Sahih
Narrated Ibn 'Umar:The Prophet (ﷺ) used to slaughter his sacrificial animal at the place of prayer. Ibn 'Umar used to do so
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قربانی عید گاہ میں ذبح کرتے تھے۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَنَّ أَبَا أُسَامَةَ، حَدَّثَهُمْ عَنْ أُسَامَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَذْبَحُ أُضْحِيَتَهُ بِالْمُصَلَّى وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ .
#2812
Sahih
Narrated 'Aishah:Some people of desert came at the time of sacrifice in the time of Apostle of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said: Store up for three days and give the rest as sadaqah (alms). After than the people said to the Messenger of Allah (ﷺ): Messenger of Allah, the people used to benefit from their sacrifices, take and dissolve fat from them, and make water-bags (from their skins). The Messenger of Allah (ﷺ) said: What is that ? or whatever he said: They said: Messenger of Allah (ﷺ), you have prohibited to preserve the meat of sacrifice after three days. The Messenger of Allah (ﷺ) said: I prohibited you due to a body of people who came to you. Now eat, give it as sadaqah (alms), and store up
عمرہ بنت عبدالرحمٰن کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قربانی کے موقع پر ( مدینہ میں ) کچھ دیہاتی آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین روز تک کا گوشت رکھ لو، جو باقی بچے صدقہ کر دو ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو اس کے بعد جب پھر قربانی کا موقع آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! لوگ اس سے پہلے اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے، ان کی چربی محفوظ رکھتے تھے، ان کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بات کیا ہے؟ یا ایسے ہی کچھ کہا، تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع فرما دیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس وقت اس لیے منع کر دیا تھا کہ کچھ دیہاتی تمہارے پاس آ گئے تھے ( اور انہیں بھی کچھ نہ کچھ کھانے کے لیے ملنا چاہیئے تھا ) ، اب قربانی کے گوشت کھاؤ، صدقہ کرو، اور رکھ چھوڑو ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ دَفَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الأَضْحَى فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ادَّخِرُوا الثُّلُثَ وَتَصَدَّقُوا بِمَا بَقِيَ " . قَالَتْ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ كَانَ النَّاسُ يَنْتَفِعُونَ مِنْ ضَحَايَاهُمْ وَيَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدْكَ وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الأَسْقِيَةَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَمَا ذَاكَ " . أَوْ كَمَا قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَهَيْتَ عَنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلاَثٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ عَلَيْكُمْ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا " .
#2813
Sahih
Narrated Nubayshah: The Prophet (ﷺ) said: We forbade you to eat their meat for more than three days in order that you might have abundance; now Allah has produced abundance, so you may eat, store up and seek reward. Beware, these days are days of eating, drinking and remembrance of Allah, Most High
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے تم لوگوں کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے اس واسطے منع کیا تھا کہ وہ تم سب کو پہنچ جائے، اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے تو کھاؤ اور بچا ( بھی ) رکھو اور ( صدقہ دے کر ) ثواب ( بھی ) کماؤ، سن لو! یہ دن کھانے، پینے اور اللہ عزوجل کی یاد ( شکر گزاری ) کے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّا كُنَّا نَهَيْنَاكُمْ عَنْ لُحُومِهَا أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلاَثٍ لِكَىْ تَسَعَكُمْ فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَاتَّجِرُوا أَلاَ وَإِنَّ هَذِهِ الأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
#2814
Sahih
Narrated Thawban:The Messenger of Allah (ﷺ) sacrificed during a journey and then said: Thawban, mend the meat of this goat. I then kept on supplying its meat until we reached Medina
ہشام بن زید کہتے ہیں کہ میں انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے پاس گیا، تو وہاں چند نوجوانوں یا لڑکوں کو دیکھا کہ وہ سب ایک مرغی کو باندھ کر اسے تیر کا نشانہ بنا رہے ہیں تو انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " يَا ثَوْبَانُ أَصْلِحْ لَنَا لَحْمَ هَذِهِ الشَّاةِ " . قَالَ فَمَا زِلْتُ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ .
#2815
Sahih
Narrated Shaddad b. Aws:There are two characteristics that I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Allah has decreed that everything should be done in a good way, so when you kill use a good method. The version of the narrators other than Muslim says: "So kill in a good manner." And when you slaughter, you should use a good method, for one of you should sharpen his knife, and give the animal as little pain as possible
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سفر میں ) قربانی کی اور کہا: ثوبان! اس بکری کا گوشت ہمارے لیے درست کرو ( بناؤ ) ، ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں برابر وہی گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلاتا رہا یہاں تک کہ ہم مدینہ آ گئے۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ خَصْلَتَانِ سَمِعْتُهُمَا مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا " . قَالَ غَيْرُ مُسْلِمٍ يَقُولُ " فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ " .
#2816
Sahih
Narrated Hisham b. Zaid:I entered upon al-Hakam b. Ayyub along with Anas. He saw some youths or boys who had set up a hen and shooting at it. Anas said: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade to kill an animal in confinement
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ایک یہ کہ: اللہ نے ہر چیز کو اچھے ڈھنگ سے کرنے کو فرض کیا ہے لہٰذا جب تم ( قصاص یا حد کے طور پر کسی کو ) قتل کرو تو اچھے ڈھنگ سے کرو ( یعنی اگر خون کے بدلے خون کرو تو جلد ہی فراغت حاصل کر لو تڑپا تڑپا کر مت مارو ) ، ( اور مسلم بن ابراہیم کے سوا دوسروں کی روایت میں ہے ) تو اچھے ڈھنگ سے قتل کرو، اور جب کسی جانور کو ذبح کرنا چاہو تو اچھی طرح ذبح کرو اور چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ عَلَى الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ فَرَأَى فِتْيَانًا أَوْ غِلْمَانًا قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا فَقَالَ أَنَسٌ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ .
#2817
Hasan
Narrated Ibn 'Abbas:The verse: "So eat of (meats) on which Allah's name hath been pronounced" and the verse: "Eat not of (meats) on which Allah's name hath not been pronounced" were abrogated, meaning an exception was made therein by the verse: "The food of the people of the Book is lawful unto you and yours is lawful unto them
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ «فكلوا مما ذكر اسم الله عليه» سو جس جانور پر اللہ کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ ( سورۃ الانعام: ۱۱۸ ) «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ( سورۃ الانعام: ۱۲۱ ) تو یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے، اس میں سے اہل کتاب کے ذبیحے مستثنیٰ ہو گئے ہیں ( یعنی ان کے ذبیحے درست ہیں ) ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وطَعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم وطعامكم حل لهم» اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے ( سورۃ المائدہ: ۵ ) ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ { فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ } { وَلاَ تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ } فَنُسِخَ وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ { وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ } .
#2818
Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: explaining the verse "But the evil ones ever inspire their friend to contend with you" They used to say: Do not eat which Allah killed, but eat which you slaughtered. So Allah revealed the verse: "Eat not of (meats) on which Allah's name hath not been pronounced"...to the end of the verse
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے جو یہ فرمایا ہے: «وإن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم» اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں ( سورۃ المائدہ: ۱۲۱ ) تو اس کا شان نزول یہ ہے کہ لوگ کہتے تھے: جسے اللہ نے ذبح کیا ( یعنی اپنی موت مر گیا ) اس کو نہ کھاؤ، اور جسے تم نے ذبح کیا اس کو کھاؤ، تب اللہ نے یہ آیت اتاری «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» ان جانوروں کو نہ کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ( سورۃ الانعام: ۱۲۱ ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ { وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ } يَقُولُونَ مَا ذَبَحَ اللَّهُ فَلاَ تَأْكُلُوا وَمَا ذَبَحْتُمْ أَنْتُمْ فَكُلُوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ } .
#2819
Munkar
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Jews came to the Prophet (ﷺ) and said: We eat which we kill but we do not eat which Allah kills? So Allah revealed: "Eat not of (meats) on which Allah's name hath not been pronounced." to the end of the verse
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم اس جانور کو کھاتے ہیں جسے ہم ماریں اور جسے اللہ مارے اسے ہم نہیں کھاتے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَتِ الْيَهُودُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا نَأْكُلُ مِمَّا قَتَلْنَا وَلاَ نَأْكُلُ مِمَّا قَتَلَ اللَّهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ { وَلاَ تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ } إِلَى آخِرِ الآيَةِ .
#2820
Hasan Sahih
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade to eat (the meat of animals) slaughtered by the bedouins for vainglory and pride. Abu Dawud said: The narrator Ghundar narrated this tradition as a saying of Ibn 'Abbas (and not of the Prophet)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کے کھانے سے منع فرمایا ہے جنہیں اعرابی تفاخر کے طور پر کاٹتے ہیں ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوریحانہ کا نام عبداللہ بن مطر تھا، اور راوی غندر نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف کر دیا ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ مُعَاقَرَةِ الأَعْرَابِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ اسْمُ أَبِي رَيْحَانَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَطَرٍ وَغُنْدَرٌ أَوْقَفَهُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ .
#2821
Sahih
Narrated Rafi' b. Khadij:I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah, we shall meet the enemy tomorrow and we have no knives with us. May we kill with a sharp-edged white stone (flint) and with splinter of a staff ? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Hasten in slaughtering it. When Allah's name is mentioned you may eat what is killed by anything which causes the blood to flow except tooth and claw. I shall tell you about it. The tooth is a bone, and the claw is the knife of Abyssinians. Some people hastened and went forward, they made haste and got booty, while the Messenger of Allah (ﷺ) was in the rear and they setup cooking pots. The Messenger of Allah (ﷺ) passed by over the cooking pots. He ordered to turn them over. He then divided (the spoils of war) between them, and gave them a camel for ten goats in equation. One of the camels of the people ran away, and they had no horses with them at that time. A man shot an arrow at it, and Allah prevented it from escaping. The Prophet (ﷺ) said: Among animals (i.e. camels) there are some which bolt like wild animals ; so when any of them does so, do with it like this
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کل دشمنوں سے مقابلہ کرنے والے ہیں، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں کیا ہم سفید ( دھار دار ) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے ( بانس کی کھپچی ) سے ذبح کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جلدی کر لو ۱؎ جو چیز کہ خون بہا دے اور اللہ کا نام اس پر لیا جائے تو اسے کھاؤ ہاں وہ دانت اور ناخن سے ذبح نہ ہو، عنقریب میں تم کو اس کی وجہ بتاتا ہوں، دانت سے تو اس لیے نہیں کہ دانت ایک ہڈی ہے، اور ناخن سے اس لیے نہیں کہ وہ جبشیوں کی چھریاں ہیں ، اور کچھ جلد باز لوگ آگے بڑھ گئے، انہوں نے جلدی کی، اور کچھ مال غنیمت حاصل کر لیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پیچھے چل رہے تھے تو ان لوگوں نے دیگیں چڑھا دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دیگوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے انہیں پلٹ دینے کا حکم دیا، چنانچہ وہ پلٹ دی گئیں، اور ان کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مال غنیمت ) تقسیم کیا تو ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا، ایک اونٹ ان اونٹوں میں سے بھاگ نکلا اس وقت لوگوں کے پاس گھوڑے نہ تھے ( کہ گھوڑا دوڑا کر اسے پکڑ لیتے ) چنانچہ ایک شخص نے اسے تیر مارا تو اللہ نے اسے روک دیا ( یعنی وہ چوٹ کھا کر گر گیا اور آگے نہ بڑھ سکا ) اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان چوپایوں میں بھی بدکنے والے جانور ہوتے ہیں جیسے وحشی جانور بدکتے ہیں تو جو کوئی ان جانوروں میں سے ایسا کرے تو تم بھی اس کے ساتھ ایسا ہی کرو ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْمَرْوَةِ وَشِقَّةِ الْعَصَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرِنْ أَوْ أَعْجِلْ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلُوا مَا لَمْ يَكُنْ سِنًّا أَوْ ظُفْرًا وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفْرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ " . وَتَقَدَّمَ بِهِ سَرَعَانٌ مِنَ النَّاسِ فَتَعَجَّلُوا فَأَصَابُوا مِنَ الْغَنَائِمِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي آخِرِ النَّاسِ فَنَصَبُوا قُدُورًا فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْقُدُورِ فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ وَقَسَمَ بَيْنَهُمْ فَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ وَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْ إِبِلِ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ خَيْلٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا فَعَلَ مِنْهَا هَذَا فَافْعَلُوا بِهِ مِثْلَ هَذَا " .
#2822
Sahih
Narrated Muhammad ibn Safwan or Safwan ibn Muhammad: I hunted two hares and slaughtered them with a flint. I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about them. He permitted me to eat them
محمد بن صفوان یا صفوان بن محمد کہتے ہیں میں نے دو خرگوش شکار کئے اور انہیں ایک سفید ( دھار دار ) پتھر سے ذبح کیا، پھر ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے مجھے ان کے کھانے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ عَبْدَ الْوَاحِدِ بْنَ زِيَادٍ، وَحَمَّادًا، حَدَّثَاهُمْ - الْمَعْنَى، وَاحِدٌ، - عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ، أَوْ صَفْوَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ اصَّدْتُ أَرْنَبَيْنِ فَذَبَحْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْهُمَا فَأَمَرَنِي بِأَكْلِهِمَا .
#2823
Sahih
Narrated Ata' ibn Yasar: A man of Banu Harith was pasturing a pregnant she-camel in one of the ravines of Uhud, (he saw that) it was about to die; he could find nothing to slaughter it; he took a stake and stabbed it in the upper part of its breast until he made its blood flow. He then came to the Prophet (ﷺ) and informed him about that, and he ordered him to eat it
بنو حارثہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ وہ احد پہاڑ کے دروں میں سے ایک درے پر اونٹنی چرا رہا تھا، تو وہ مرنے لگی، اسے کوئی ایسی چیز نہ ملی کہ جس سے اسے نحر کر دے، تو ایک کھوٹی لے کر اونٹنی کے سینہ میں چبھو دی یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ نے اسے اس کے کھانے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّهُ كَانَ يَرْعَى لِقْحَةً بِشِعْبٍ مِنْ شِعَابِ أُحُدٍ فَأَخَذَهَا الْمَوْتُ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يَنْحَرُهَا بِهِ فَأَخَذَ وَتَدًا فَوَجَأَ بِهِ فِي لَبَّتِهَا حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهَا ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا .
#2824
Sahih
Narrated Adi ibn Hatim: I said: Messenger of Allah, tell me when one of us catches game and has no knife; may he slaughter with a flint and a splinter of stick. He said: Cause the blood to flow with whatever you like and mention Allah's name
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کسی کو کوئی شکار مل جائے اور اس کے پاس چھری نہ ہو تو کیا وہ سفید ( دھار دار ) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے سے ( اس شکار کو ) ذبح کر لے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بسم اللہ اکبر کہہ کر ( اللہ کا نام لے کر ) جس چیز سے چاہے خون بہا دو ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُرِّيِّ بْنِ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ أَحَدُنَا أَصَابَ صَيْدًا وَلَيْسَ مَعَهُ سِكِّينٌ أَيَذْبَحُ بِالْمَرْوَةِ وَشِقَّةِ الْعَصَا فَقَالَ " أَمْرِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
#2825
Daif
Narrated AbulUshara': AbulUshara' reported on the authority of his father: He asked: Messenger of Allah, is the slaughtering to be done only in the upper part of the breast and the throat? The Messenger of Allah (ﷺ) replied: If you pierced its thigh, it would serve you. Abu Dawud said: This is the way suitable for slaughtering an animal which has fallen into a well or runs loose
ابوالعشراء اسامہ کے والد مالک بن قہطم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ذبح سینے اور حلق ہی میں ہوتا ہے اور کہیں نہیں ہوتا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کے ران میں نیزہ مار دو تو وہ بھی کافی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ «متردی» ۱؎ اور «متوحش» ۲؎ کے ذبح کا طریقہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلاَّ مِنَ اللَّبَّةِ أَوِ الْحَلْقِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لأَجْزَأَ عَنْكَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا لاَ يَصْلُحُ إِلاَّ فِي الْمُتَرَدِّيَةِ وَالْمُتَوَحِّشِ .