1
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ وَيْلٌۭ لِّلْمُطَفِّفِينَ
Woe to those who give less [than due],
ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے
وای بر کمفروشان!
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ - الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ - وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ - أَلَا يَظُنُّ أُولَٰئِكَ أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَ - لِيَوْمٍ عَظِيمٍ - يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ
(1. Woe to Al-Mutaffifin.)(2. Those who, when they have to receive by measure from men, demand full measure,)(3. And when they have to give by measure or weight to men, give less than due.)(4. Do they not think that they will be resurrected,)(5. On a Great Day?)(6. The Day when (all) mankind will stand before the Lord of all that exists?)
Increasing and decreasing in the Measure and Weight will be a Cause for Regret and Loss
An-Nasa'i and Ibn Majah both recorded from Ibn 'Abbas that he said, "When the Prophet ﷺ came to Al-Madinah, the people of Al-Madinah were the most terrible people in giving measurement (i.e., they used to cheat). Thus, Allah revealed,
وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ
(Woe to Al-Mutaffifin.) After this, they began to give good measure." The meaning of the word Tatfif here is to be stingy with measurement and weight, either by increasing it if it is due from the others, or decreasing it if it is a debt. Thus, Allah explains that the Mutaffifin those whom He has promised loss and destruction, whom are meant by "Woe" - are
الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ
(Those who, when they have to receive by measure from men,) meaning, from among the people.
يَسْتَوْفُونَ
(demand full measure,) meaning, they take their right by demanding full measure and extra as well.
وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ
(And when they have to give by measure or weight to (other) men, give less than due.) meaning, they decrease.
Verily, Allah commanded that the measure and weight should be given in full. He says in another Ayah,
وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا
(And give full measure when you measure, and weigh with a balance that is straight. That is good and better in the end.)(17:35) Allah also says,
وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا
(And give full measure and full weight with justice. We burden not any person, but with that which he can bear.)(6:152) and He says,
وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ
(And observe the weight with equity and do not make the balance deficient.)(55:9)
Allah destroyed the people of Shu'ayb and wiped them out because of their cheating in weights and measurements.
Threatening the Mutaffifin with standing before the Lord of all that exists
Then Allah says as a threat to them,
أَلَا يَظُنُّ أُولَٰئِكَ أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَ - لِيَوْمٍ عَظِيمٍ
(Do they not think that they will be resurrected, on a Great Day?) meaning, do these people not fear the resurrection and standing before He Who knows the hidden matters and the innermost secrets, on a Day that contains great horror and tremendous fright? Whoever loses on this Day will be made to enter into a blazing fire. Then Allah says,
يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ
(The Day when (all) mankind will stand before the Lord of all that exists?) meaning, they will stand barefooted, naked and uncircumcised at a station that will be difficult, hard, and distressful for the criminals. They will be covered by the command from Allah, and it will be that, which the strength and the senses will not be able to bare.
Imam Malik reported from Nafi' who reported from Ibn 'Umar that the Prophet ﷺ said,
يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ، حَتّٰى يَغِيبَ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ
(This will be the Day that mankind will stand before the Lord of all that exists, until one of them will sink up to the middle of his ears in sweat.) Al-Bukhari recorded this Hadith from Malik and 'Abdullah bin 'Awn, both of whom reported it from Nafi'. Muslim also recorded it from two routes.
Another Hadith: Imam Ahmad recorded from Al-Miqdad, who was Ibn Al-Aswad Al-Kindi, that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أُدْنِيَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْعِبَادِ حَتّٰى تَكُونَ قَدْرَ مِيلٍ أَوْ مِيلَيْنِ - قال - فَتَصْهَرُهُمُ الشَّمْسُ فَيَكُونُونَ فِي الْعَرَقِ كَقَدْرِ أَعْمَالِهِمْ، مِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى عَقِبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى حَقْوَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ إِلْجَامًا
(On the Day of Judgement, the sun will draw near the servants until it is a mile or two away from them. Then the sun will burn them, and they will be submersed in sweat based upon the amount of their deeds. From among them there will be those whose sweat will come up to their two heels. From among them there will be those whose sweat will come up to their two knees. From among them there will be those whose sweat will come up to their groins. From among them there will be those who will be bridled in sweat (up to their necks).)
This Hadith was recorded by Muslim and At-Tirmidhi.
In Sunan Abu Dawud it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ used to seek refuge with Allah from the hardship of standing on the Day of Judgement. It has been reported from Ibn Mas'ud that they will be standing for forty years with their heads raised toward the sky. No one will speak to them, and the righteous and wicked among them will all be bridled in sweat. It has been reported from Ibn 'Umar that they will be standing for one hundred years. Both of these statements have been recorded by Ibn Jarir. In the Sunans of Abu Dawud, An-Nasa'i, and Ibn Majah, it is recorded from 'A'ishah that the Messenger of Allah ﷺ used to begin his late night prayer by declaring Allah's greatness ten times, praising Allah ten times, glorifying Allah ten times, and seeking Allah's forgiveness ten times. Then he would say,
اللْهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي
(O Allah! Forgive me, guide me, provide for me, and protect me.) Then he would seek refuge from the hardship of the standing on the Day of Judgement. Tafsir Ibn Kathir
ناپ تول میں کمی کے تنائج نسائی اور ابن ماجہ میں ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اس وقت اہل مدینہ ناپ تول کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ جب یہ آیت اتری پھر انہوں نے ناپ تول بہت درست کرلیا ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت ہلال بن طلق نے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا کہ مکہ مدینے والے بہت ہی عمدہ ناپ تول رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ کیوں نہ رکھتے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت (وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ ۙ) 83۔ المطففین :1) ہے۔ پس تطفیف سے مراد ناپ تول کی کمی ہے خواہ اس صورت میں کہ اوروں سے لیتے وقت زیادہ لے لیا اور دیتے وقت کم دیا۔ اسی لیے انہیں دھمکایا کہ یہ نقصان اٹھانے والے ہیں کہ جب اپنا حق لیں تو پورا لیں بلکہ زیادہ لے لیں اور دوسروں کو دینے بیٹھیں تو کم دیں۔ ٹھیک یہ ہے کہ کالو اور وزنو کو متعدی مانیں اور ھُم کو محلا منصوب کہیں گو بعض نے اسے ضمیر موکد مانا ہے۔ جو کالو اور وزنو کی پوشیدہ ضمیر کی تاکید کے لیے ہے اور مفعول محذوف مانا ہے جس پر دلالت کلام موجود ہے دونوں طرح مطلب قریب قریب ایک ہی ہے۔ قرآن کریم نے ناپ تول درست کرنے کا حکم اس آیت میں بھی دیا ہے۔ آیت (وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا 35) 17۔ الإسراء :35) یعنی جب ناپو تو ناپ پورا کرو اور وزن سیدھے ترازو سے تول کردیا کرو۔ اور جگہ حکم ہے۔ آیت (وَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَان بالْقِسْطِ ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا01502ۙ) 6۔ الانعام :152) ناپ تول انصاف کے ساتھ برابر کردیا کرو، ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور جگہ فرمایا آیت (وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ ) 55۔ الرحمن :9) یعنی تول کو قائم رکھو اور میزان کو گھٹاؤ نہیں۔ حضرت شعیب ؑ کی قوم کو اسی بدعادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے غارت و برباد کردیا یہاں بھی اللہ تعالیٰ ڈرا رہا ہے۔ کہ لوگوں کے حق مارنے والے کیا قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے جس دن یہ اس ذات پاک کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے۔ جس پر نہ کوئی پوشیدہ بات پوشیدہ ہے نہ ظاہر، وہ دن بھی نہایت ہولناک و خطرناک ہوگا۔ بڑی گھبراہٹ اور پریشانی والا دن ہوگا، اس دن یہ نقصان رساں لوگ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے وہ جگہ بھی نہایت تنگ و تاریک ہوگی اور میدان آفات و بلیات سے پر ہوگا اور وہ مصائب نازل ہو رہے ہوں گے کہ دل پریشان ہوں گے حواس بگڑے ہوئے ہوں گے ہوش جاتا رہے گا صحیح حدیث میں ہے کہ آدھے آدھے کانوں تک پسینہ پہنچ گیا ہوگا۔ (موطا مالک) مسند احمد کی حدیث میں ہے اس دن رحمان عز و جل کی عظمت کے سامنے سب کھڑے کپکپا رہے ہوں گے اور حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن بندوں سے سورج اس قدر قریب ہوجائے گا کہ ایک یا دو نیزے کے برابر اونچا ہوگا اور سخت تیز ہوگا ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق اپنے پسینے میں غرق ہوگا بعض کی ایڑیوں تک پسینہ ہوگا بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک بعض کو تو ان کا پسینہ لگام بنا ہوا ہوگا اور حدیث میں ہے دھوپ اس قدر تیز ہوگی کہ کھوپڑی بھنا اٹھے گی اور اس طرح اس میں جوش اٹھنے لگے گا جس طرح ہنڈیا میں ابال آتا ہے اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ کر بتایا کہ اس طرح پسینہ کی لگام چڑھی ہوئی ہوگی پھر آپ نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ بعض بالکل ڈوبے ہوئے ہوں گے اور حدیث میں ہے ستر سال تک بغیر بولے چالے کھڑے رہیں گے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین سو سال تک کھڑے رہیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چالیس ہزارسال تک کھڑے رہیں گے اور دس ہزار سال میں فیصلہ کیا جائے گا صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بشیر غفاری ؓ سے فرمایا تو کیا کرے گا جس دن لوگ اللہ رب العالمین کے سامنے تین سو سال تک کھڑے رہیں گے نہ تو کوئی خبر آسمان سے آئیگی نہ کوئی حکم کیا جائیگا حضرت بشیر کہنے لگے اللہ ہی مددگار ہے آپ نے فرمایا سنو جب بستر پر جاؤ تو اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کی تکلیفوں اور حساب کی برائی سے پناہ مانگ لیا کرو۔ سنن ابو داؤد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ قیامت کے دن کے کھڑے ہونے کی جگہ کی تنگی سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ چالیس سال تک لوگ اونچا سر کیے کھڑے رہیں گے کوئی بولے گا نہیں نیک و بد کو پسینے کی لگام میں چڑھی ہوئی ہوں گی۔ ابن عمر فرماتے ہیں سو سال تک کھڑے رہیں گے (ابن جریر) ابو داؤد، نسائی ابن ماجہ میں ہے کہ حضور ﷺ جب رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز شروع کرتے تو دس مرتبہ اللہ اکبر کہتے، دس مرتبہ الحمد اللہ کہتے، دس مرتبہ سبحان اللہ کہتے، دس مرتبہ استغفر اللہ کہتے۔ پھر کہتے دعا (اللھم اغفرلی واھدنی وارزقنی وعافنی) اے اللہ مجھے بخش مجھے ہدایت دے مجھے روزیاں دے اور عافیت عنایت فرما پھر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کے مقام کی تنگی سے پناہ مانگتے۔ Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُطَفِّفِينَ
وَهِيَ مَدَنِيَّةٌ.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
قَالَ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقَيْلٍ -زَادَ ابْنُ مَاجَهْ: وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ-قَالَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَزِيدَ-هُوَ ابْنُ أَبِي سَعِيدٍ النَّحْوِيِّ، مَوْلَى قُرَيْشٍ-عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ نَبِيِّ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ كَانُوا مِنْ أَخْبَثِ النَّاسِ كَيْلًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ﴾ فحسنَّوا الكيلَ بَعْدَ ذَلِكَ [[سنن النسائي الكبرى برقم (١١٦٥٤) وسنن ابن ماجة برقم (٢٢٢٣) .]] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرّة، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ طَلْقٍ قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَقُلْتُ: مَنْ أَحْسَنُ النَّاسِ هَيْئَةً وَأَوْفَاهُ كَيْلًا؟ أَهْلُ مَكَّةَ أَوِ الْمَدِينَةِ؟ قَالَ: حَقٌّ لَهُمْ، أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ يَقُولُ: ﴿وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ﴾
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ ضِرَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمُكْتِبِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ لَيُوَفُّونَ الْكَيْلَ. قَالَ: وَمَا يَمْنَعُهُمْ أَنْ يُوَفُّوا الْكَيْلَ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ﴾ حَتَّى بَلَغَ: ﴿يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [[تفسير الطبري (٣٠/٥٨) .]] .
فَالْمُرَادُ بِالتَّطْفِيفِ هَاهُنَا: البَخْس فِي الْمِكْيَالِ وَالْمِيزَانِ، إِمَّا بِالِازْدِيَادِ إِنِ اقْتَضَى مِنَ النَّاسِ، وَإِمَّا بِالنُّقْصَانِ إِنْ قَضَاهم. وَلِهَذَا فَسَّرَ تَعَالَى الْمُطَفِّفِينَ الَّذِينَ وَعَدَهُمْ بالخَسَار والهَلاك وَهُوَ الْوَيْلُ، بِقَوْلِهِ: ﴿الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ﴾ أَيْ: مِنَ النَّاسِ ﴿يَسْتَوْفُونَ﴾ أَيْ: يَأْخُذُونَ حَقَّهُمْ بِالْوَافِي وَالزَّائِدِ، ﴿وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ﴾ أَيْ: يَنْقِصُونَ. وَالْأَحْسَنُ أَنْ يُجْعَلَ "كَالُوا" وَ "وَزَنِوا" مُتَعَدِّيًا، وَيَكُونُ هُمْ فِي مَحَلِّ نَصْبٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَجْعَلُهَا ضَمِيرًا مُؤَكِّدًا لِلْمُسْتَتِرِ فِي قَوْلِهِ: "كَالُوا" وَ "وَزَنُوا"، وَيُحْذَفُ الْمَفْعُولُ لِدَلَالَةِ الْكَلَامِ عليه، وكلاهما متقارب.
وَقَدْ أَمَرَ اللَّهُ-تَعَالَى-بِالْوَفَاءِ فِي الْكَيْلِ وَالْمِيزَانِ، فَقَالَ: ﴿وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٣٥] ، وَقَالَ: ﴿وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا﴾ [الْأَنْعَامِ: ١٥٢] ، وَقَالَ: ﴿وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ﴾ [الرَّحْمَنِ: ٩] . وَأَهْلَكَ اللَّهُ قَوْمَ شُعَيْبٍ ودَمَّرهم عَلَى مَا كَانُوا يَبْخَسُونَ النَّاسَ فِي الْمِكْيَالِ وَالْمِيزَانِ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى مُتَوَعِّدًا لَهُمْ: ﴿أَلا يَظُنُّ أُولَئِكَ أَنَّهُمْ مَبْعُوثُونَ لِيَوْمٍ عَظِيمٍ﴾ ؟ أَيْ: أَمَا يخافُ أُولَئِكَ مِنَ الْبَعْثِ وَالْقِيَامِ بَيْنَ يَدَي مَنْ يَعْلَمُ السَّرَائِرَ وَالضَّمَائِرَ، فِي يَوْمٍ عَظِيمِ الْهَوْلِ، كَثِيرِ الْفَزَعِ، جَلِيلِ الْخَطْبِ، مَنْ خَسِرَ فِيهِ أُدْخِلَ نَارًا حَامِيَةً؟
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ أَيْ: يَقُومُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرلا فِي مَوْقِفٍ صَعْبٍ حَرج ضَيِّقٍ ضنَك عَلَى الْمُجْرِمِ، وَيَغْشَاهُمْ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ-مَا تَعْجزُ الْقُوَى وَالْحَوَاسُّ عَنْهُ.
قَالَ الْإِمَامُ مَالِكٌ: عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: " ﴿يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ حَتَّى يَغِيبَ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ".
رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ، كِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ، بِهِ [[صحيح البخاري برقم (٢٨٦٢،٦٥٣١) .]] . وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنَ الطَّرِيقَيْنِ أَيْضًا. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ صَالِحٌ [وَثَابِتُ بْنُ كَيْسَانَ] [[زيادة من أ.]] وَأَيُّوبُ بْنُ يَحْيَى، وَعَبْدُ اللَّهِ وَعُبَيْدُ اللَّهِ ابْنَا عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، بِهِ [[صحيح مسلم برقم (٢٨٦٢) .]] .
وَلَفْظُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يَقُولُ::" ﴿يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ لعظَمة الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى إِنَّ العرقَ ليُلجِمُ الرجالَ إِلَى أَنْصَافِ آذَانِهِمْ" [[المسند (٢/٣١) .]] .
حَدِيثٌ آخَرُ: قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنِي الْمِقْدَادُ-يَعْنِي ابْنَ الْأَسْوَدِ الْكِنْدِيَّ-قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِذَا كَانَ يومُ الْقِيَامَةِ أدنِيَت الشَّمْسُ مِنَ الْعِبَادِ، حَتَّى تَكُونَ قيدَ مِيلٍ أَوْ مِيلَيْنِ، قَالَ: فَتُصْهِرُهُمُ الشَّمْسُ، فَيَكُونُونَ فِي العَرق كقَدْر أَعْمَالِهِمْ، مِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى عَقِبيه، وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى حَقْوَيه، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ إِلْجَامًا".
رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ-وَالتِّرْمِذِيُّ، عَنْ سُوَيْدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ-كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، بِهِ [[المسند (٦/٣) وصحيح مسلم برقم (٢٨٦٤) وسنن الترمذي يرقم (٢٤٢١) .]] .
حَدِيثٌ آخَرُ: قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّار، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عن معاوية ابن صَالِحٍ: أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "تَدْنُو الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى قَدْرِ مِيلٍ، وَيُزَادُ فِي حَرِّهَا كَذَا وَكَذَا، تَغْلِي مِنْهَا الْهَوَامُّ كَمَا تَغْلِي الْقُدُورُ، يُعرَقون فِيهَا عَلَى قَدْرِ خَطَايَاهُمْ، مِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى سَاقَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى وَسَطِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ". انْفَرَدَ بِهِ أَحْمَدُ [[المسند (٥/٢٥٤) .]] .
حَدِيثٌ آخَرُ: قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَسَنٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، حَدَّثَنَا أَبُو عُشَّانة حَي بْنُ يُؤمِنُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: سمعتُ رَسُولَ ﷺ يَقُولُ: "تَدْنُو الشَّمْسُ مِنَ الْأَرْضِ فَيَعْرَقُ النَّاسُ، فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَبْلُغُ عَرَقُهُ عَقِبيه، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ العَجُز، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْخَاصِرَةَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ مَنْكِبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ وَسَطَ فِيهِ-وَأَشَارَ بِيَدِهِ فَأَلْجَمَهَا فَاهُ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يُشِيرُ هَكَذَا-وَمِنْهُمْ مَنْ يُغَطِّيهِ عَرَقُهُ". وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِشَارَةً. انْفَرَدَ بِهِ أَحْمَدُ [[المسند (٤/١٥٧) .]] .
وَفِي حَدِيثٍ: أَنَّهُمْ يَقُومُونَ سَبْعِينَ سَنَةً لَا يَتَكَلَّمُونَ. وَقِيلَ: يَقُومُونَ ثَلَاثُمِائَةِ سَنَةٍ. وَقِيلَ: يَقُومُونَ أَرْبَعِينَ أَلْفَ سَنَةٍ. وَيُقْضَى بَيْنَهُمْ فِي مِقْدَارِ عَشْرَةِ [[في أ: "عدة".]] آلَافِ سَنَةٍ، كَمَا فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيرة مَرْفُوعًا: "فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ" [[صحيح مسلم برقم (٩٨٧) .]] .
وَقَدْ قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو عَوْنِ الزِّيَادَيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَجْلان، سَمِعْتُ أَبَا يَزِيدَ الْمَدَنِيَّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ [[في م: "عن أبي هريرة مرفوعا".]] قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ [[في م، أ: "قال رسول الله".]] ﷺ لِبَشِيرِ [[في أ: "لبشر".]] الْغِفَارِيِّ: "كَيْفَ أَنْتَ صَانِعٌ فِي يَوْمٍ يَقُومُ النَّاسُ فِيهِ ثَلَاثُمِائَةَ سَنَةٍ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ، مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا، لَا يَأْتِيهِمْ فِيهِ خَبَرٌ مِنَ السَّمَاءِ وَلَا يُؤْمَرُ فِيهِ بِأَمْرٍ؟ ". قَالَ بَشِيرٌ: الْمُسْتَعَانُ اللَّهُ. قَالَ: "فَإِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ كَرْب يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَسُوءِ الْحِسَابِ".
وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ السَّلَامِ، بِهِ [[تفسير الطبري (٣٠/٥٩) .]] .
وَفِي سُنَنِ أَبِي دَاوُدَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كان يَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ [[سنن أبي داود برقم (٧٦٦) من حديث عائشة رضي الله عنها.]] .
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: يَقُومُونَ أَرْبَعِينَ سَنَةً رَافِعِي رُءُوسِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ، لَا يُكَلِّمُهُمْ أَحَدٌ، قَدْ أَلْجَمَ الْعَرَقُ بَرّهم وَفَاجِرَهُمْ.
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: يَقُومُونَ مِائَةَ سَنَةٍ. رَوَاهُمَا ابْنُ جَرِيرٍ [[تفسير الطبري (٣٠/٥٩) .]] .
وَفِي سُنَنِ أَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِيِّ وَابْنِ مَاجَهْ، مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ
صالح، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ الْحَوَارِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَفْتَتِحُ قِيَامَ اللَّيْلِ: يَكَبِّرُ عَشْرًا، وَيَحْمَدُ عَشْرًا، وَيُسَبِّحُ عَشْرًا، وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا، وَيَقُولُ: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي". وَيَتَعَوَّذُ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ القيامة [[سنن أبي داود برقم (٧٦٦) وسنن النسائي (٣/٢٠٨) وسنن ابن ماجة برقم (١٣٥٦) .]] .