1
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ هَلْ أَتَىٰ عَلَى ٱلْإِنسَٰنِ حِينٌۭ مِّنَ ٱلدَّهْرِ لَمْ يَكُن شَيْـًۭٔا مَّذْكُورًا
Has there [not] come upon man a period of time when he was not a thing [even] mentioned?
بےشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھی
آیا زمانی طولانی بر انسان گذشت که چیز قابل ذکری نبود؟!
Tafsir Ibn Kathir
The Recitation of Surat As-Sajdah and Al-Insan in the Morning Prayer on Friday
It has been mentioned previously that it is recorded in Sahih Muslim from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah ﷺ used to recite in the Morning prayer on Friday:
الم - تَنْزِيلُ
(Alif Lam Mim. The revelation...)(32:1-2) and;
هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنْسَانِ
(Has there not been over man...)(76)
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا - إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا - إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا
(1. Has there not been over man a period of time, when he was not a thing worth mentioning?)(2. Verily, We have created man from Nutfah Amshaj, in order to try him, so, We made him hearer and seer.)(3. Verily, We guided him to the way, whether he be grateful or ungrateful.)
Allah created Man after He did not exist
Allah informs that He brought man into existence after he was not even a thing worth mentioning, due to his lowliness and weakness. Allah says,
هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا
(Has there not been over man a period of time, when he was not a thing worth mentioning?) Then Allah explains this by saying,
إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجٍ
(Verily, We have created man from Nutfah Amshaj,) meaning, mixed. The words Mashaj and Mashij mean something that is mixed together. Ibn 'Abbas said concerning Allah's statement,
مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجٍ
(from Nutfah Amshaj,) "This means the fluid of the man and the fluid of the woman when they meet and mix." Then man changes after this from stage to stage, condition to condition and color to color. 'Ikrimah, Mujahid, Al-Hasan and Ar-Rabi' bin Anas all made statements similar to this. They said, "Amshaj is the mixing of the man's fluid with the woman's fluid." Concerning Allah's statement,
نَبْتَلِيهِ
(in order to try him,) means, 'We test him.' It is similar to Allah's statement,
لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا
(That He may test you which of you is best in deed.)(67:2) Then Allah says,
فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا
(so, We made him hearer and seer.) meaning, 'We gave him the faculties of hearing and sight so that he would be able to use them for obedience and disobedience.'
Allah guided Him to the Path, so Man is either Grateful or Ungrateful
Allah says,
إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ
(Verily, We guided to him the way,) meaning, 'We explained it to him, made it clear to him and showed it to him.' This is as Allah says,
وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَاهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمَىٰ عَلَى الْهُدَىٰ
(And as for Thamud, We guided them but they preferred blindness to guidance.)(41:17) Allah also said,
وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ
(And We guided him to the two ways.)(90:10) meaning, 'We explained to him the path of good and the path of evil.' This is the statement of 'Ikrimah, 'Atiyah, Ibn Zayd and Mujahid from what is well-known from him and the majority. Allah then says,
إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا
(Whether he be grateful or ungrateful.) This is his decree. Thus, with this he is either wretched or happy. This is like what has been recorded by Muslim in a Hadith from Abu Malik Al-Ash'ari. He said that the Messenger of Allah ﷺ said,
كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ، فَمُوبِقُهَا أَوْ مُعْتِقُهَا
(All of mankind wakes up in the morning the merchant of his own soul. So he either imprisons it or sets it free. ) Tafsir Ibn Kathir
اے انسان اپنے فرائض پہچان اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے ہوا پانی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے، اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے ؟ پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کرسکو۔ ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا سیدھا راستہ اس پر کھول دیا، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 17ۚ) 41۔ فصلت :17) یعنی ثمودیوں کو ہم نے ہدایت کی لیکن انہوں نے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دی اور جگہ ہے آیت (وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ 10ۚ) 90۔ البلد :10) ہم نے انسان کو دونوں راہیں دکھا دیں، یعنی بھلائی برائی کی، اس آیت کی تفسیر میں مجاہد ابو صالح ضحاک اور سدی سے مروی ہے کہ اسے ہم نے راہ دکھائی یعنی ماں کے پیٹ سے باہر آنے کی، لیکن یہ قول غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اور جمہور سے یہی منقول ہے شاکراً اور کفوراً کا نصب حال کی وجہ سے ذوالحال لا کی ضمیر ہے جو آیت (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) 76۔ الإنسان :3) میں ہے، یعنی وہ اس حالت میں یا تو شقی ہے یا سعید ہے، جیسے صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر شخص صبح کے وقت اپنے نفس کی خریدوفروخت کرتا ہے یا تو اسے ہلاک کردیتا ہے یا آزاد کرا لیتا ہے، مسند احمد میں ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے آپ نے فرمایا اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے حضرت کعب نے کہا یا رسول اللہ ﷺ وہ کیا ہے ؟ فرمایا وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے نہ میرے طریقوں پر چلیں گے پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آسکتے اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے اے کعب روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب اللہ کا سبب ہے یا فرمایا کہ دلیل نجات ہے۔ اے کعب وہ گوشت پوست جنت میں نہیں جاسکتا وہ حرام سے پلا ہو وہ تو جہنم میں ہی جانے کے قابل ہے، اے کعب لوگ ہر صبح اپنے نفس کی خریدو فروخت کرتے ہیں کوئی تو اسے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر گذرتا ہے، سورة روم کی آیت (فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 30ڎ) 30۔ الروم :30) کی تفسیر میں حضرت جابر کی روایت سے حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی گذر چکا ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ زبان چلنے لگتی ہے پھر یا تو شکر گذار بنتا ہے یا ناشکرا، مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ جو نکلنے والا نکلتا ہے اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں ایک فرشتے کے ہاتھ میں دوسرا شیطان کے ہاتھ میں پس اگر وہ اس کام کے لئے نکلا جو اللہ کی مرضی کا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لئے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور یہ واپسی تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہی رہتا ہے اور اگر اللہ کی ناراضگی کے کام کے لئے نکلا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لگائے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور واپسی تک یہ شیطانی جھنڈے تلے رہتا ہے۔ Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْإِنْسَانِ
وَهِيَ مَكِّيَّةٌ.
قَدْ تَقَدَّمَ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " الم تَنزيلُ " السَّجْدَةَ، وَ " هَلْ أَتَى عَلَى الإنْسَانِ " [[تقدم حديث أبي هريرة عند تفسير أول سورة السجدة وخرجناه هناك، أما حديث ابن عباس فلم يتقدم، وهو في صحيح مسلم برقم (٨٧٩) .]]
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ: أَخْبَرَنَا ابْنُ زَيْدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَرَأَ هَذِهِ السُّورَةَ: " هَلْ أَتَى عَلَى الإنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ " وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ أَسْوَدُ، فَلَمَّا بَلَغَ صِفَةَ الْجِنَانِ، زَفَرَ زَفْرَةً فَخَرَجَتْ نَفْسَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَخْرَجَ نَفْسَ [[في أ: "روح".]] صَاحِبِكُمْ -أَوْ قَالَ: أَخِيكُمْ-الشوقُ إِلَى الْجَنَّةِ". مُرْسَلٌ غَرِيبٌ [[وقد جاء موصولا، فرواه الطبراني في المعجم الأوسط برقم (٤٧٧٤) "مجمع البحرين" من طريق عُفَيْفُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عن عطاء، عن ابن عمر: أن رجلا من الحبشة، فذكر قصة طويلة وفيها: أن نزلت هذه السورة وهو عند الرسول فقال: يا رسول الله، هل ترى عيني في الجنة مثل ما ترى عينك؟ فقال النبي: "نعم" فبكى الحبشى حتى فاضت نفسه. وقال الطبراني: "لا يروى عن ابن عمر إلا بهذا الإسناد، تفرد به عفيف". وسيأتي الحديث عند آخر السورة من رواية الطبراني.]] .
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْإِنْسَانِ أَنَّهُ أَوْجَدَهُ بَعْدَ أَنْ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا يُذْكَرُ [[في أ: "مذكورًا".]] لِحَقَارَتِهِ وَضَعْفِهِ، فَقَالَ: ﴿هَلْ أَتَى عَلَى الإنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا﴾ ؟
ثُمَّ بَيْنَ ذَلِكَ فَقَالَ: ﴿إِنَّا خَلَقْنَا الإنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجٍ﴾ أَيْ: أَخْلَاطٍ. وَالْمَشْجُ وَالْمَشِيجُ: الشَّيْءُ الخَليط [[في م: "المختلط".]] ، بَعْضُهُ فِي بَعْضٍ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجٍ﴾ يَعْنِي: مَاءَ الرَّجُلِ وَمَاءَ الْمَرْأَةِ إِذَا اجْتَمَعَا وَاخْتَلَطَا، ثُمَّ يَنْتَقِلُ بَعْدُ مِنْ طَوْرٍ إِلَى طَوْرٍ، وَحَالٍ إِلَى حَالٍ، وَلَوْنٍ إِلَى لَوْنٍ. وَهَكَذَا قَالَ عِكْرِمَةُ، وَمُجَاهِدٌ، وَالْحَسَنُ، وَالرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ: الْأَمْشَاجُ: هُوَ اخْتِلَاطُ ماء الرجل بماء المرأة.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿نَبْتَلِيهِ﴾ أَيْ: نَخْتَبِرُهُ، كَقَوْلِهِ: ﴿لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلا﴾ [الْمُلْكِ: ٢] . ﴿فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا﴾ أَيْ: جَعَلَنَا لَهُ سَمْعًا وَبَصَرًا يَتَمَكَّنُ بِهِمَا مِنَ الطَّاعَةِ وَالْمَعْصِيَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ﴾ أَيْ: بَيَّنَّاهُ لَهُ وَوَضَّحْنَاهُ وَبَصَّرْنَاهُ بِهِ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَاهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمَى عَلَى الْهُدَى﴾ [فُصِّلَتْ: ١٧] ، وَكَقَوْلِهِ: ﴿وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ﴾ [الْبَلَدِ: ١٠] ، أَيْ: بَيَّنَّا لَهُ طَرِيقَ الْخَيْرِ وَطَرِيقَ الشَّرِّ. وَهَذَا قَوْلُ عِكْرِمَةَ، وَعَطِيَّةَ، وَابْنِ زَيْدٍ، وَمُجَاهِدٍ -فِي الْمَشْهُورِ عَنْهُ-وَالْجُمْهُورِ.
ورُوي عَنْ مُجَاهِدٍ، وَأَبِي صَالِحٍ، وَالضَّحَّاكِ، وَالسُّدِّيِّ أَنَّهُمْ قَالُوا فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ﴾ يَعْنِي خُرُوجَهُ مِنَ الرَّحِمِ. وَهَذَا قَوْلٌ غَرِيبٌ، وَالصَّحِيحُ الْمَشْهُورُ الْأَوَّلُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا﴾ مَنْصُوبٌ عَلَى الْحَالِ مِنْ "الْهَاءِ" فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ﴾ تَقْدِيرُهُ: فَهُوَ فِي ذَلِكَ إِمَّا شَقِيٌّ وَإِمَّا سَعِيدٌ، كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الَّذِي رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "كُلُّ النَّاسِ يَغْدو، فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمَوْبِقُهَا أَوْ مُعْتقها" [[صحيح مسلم برقم (٢٢٣) .]] . وَتَقَدَّمَ فِي سورة "الروم" عند قوله: ﴿فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا﴾ [الرُّومِ: ٣٠] مِنْ رِوَايَةِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعربَ عَنْهُ لِسَانُهُ، فَإِذَا أَعْرَبَ عَنْهُ لِسَانُهُ، فَإِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا".
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيرة، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ إِلَّا بِبَابِهِ رَايَتَانِ: رايةٌ بِيَدِ مَلَك، وَرَايَةٌ بِيَدِ شَيطان، فَإِنْ خَرَجَ لِمَا يُحِبّ اللهُ اتبعَه المَلَك بِرَايَتِهِ، فَلَمْ يَزَلْ تَحْتَ رَايَةِ الْمَلَكِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ. وَإِنْ خَرَجَ لِمَا يُسخط اللَّهَ اتَّبَعَهُ الشَّيْطَانُ بِرَايَتِهِ، فَلَمْ يَزَلْ تَحْتَ رَايَةِ الشَّيْطَانِ، حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ" [[المسند (٢/٣٢٣) .]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَر، عَنِ ابْنِ خُثَيم، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجرَة: "أَعَاذَكَ اللَّهُ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ". قَالَ: وَمَا إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ؟ قَالَ: "أُمَرَاءٌ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِي، لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يستَنّونَ بِسُنَّتِي، فَمَنْ صَدّقهم بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَأُولَئِكَ لَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ، وَلَا يَردُون عَلَى حَوْضِي. وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنهم عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَأُولَئِكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ، وَسَيَرِدُونَ عَلَى حَوْضِي. يَا كَعْبَ بْنَ عُجرَة، الصَّوْمُ جَنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ، وَالصَّلَاةُ قُرْبَانٌ -أَوْ قَالَ: بُرْهَانٌ-يَا كعبَ بنَ عجرَة، إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْت، النَّارُ أَوْلَى بِهِ. يَا كَعْبُ، النَّاسُ غَاديان، فمبتاعُ نفسَه فَمُعْتِقُهَا، وَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمَوْبِقُهَا".
وَرَوَاهُ عَنْ عَفّان، عَنْ وُهَيب [[في أ: "عن وهب".]] ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، بِهِ [[المسند (٣/٣٢١) .]] .