1
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ إِنَّآ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦٓ أَنْ أَنذِرْ قَوْمَكَ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ
Indeed, We sent Noah to his people, [saying], "Warn your people before there comes to them a painful punishment."
ہم نے نوحؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ پیشتر اس کے کہ ان پر درد دینے والا عذاب واقع ہو اپنی قوم کو ہدایت کردو
ما نوح را به سوی قومش فرستادیم و گفتیم: «قوم خود را انذار کن پیش از آنکه عذاب دردناک به سراغشان آید!»
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
(In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ أَنْ أَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ - قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ - أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ - يَغْفِرْ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۚ إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ ۖ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
(1. Verily, We sent Nuh to his people (saying): "Warn your people before there comes to them a painful torment.")(2. He said: "O my people! Verily, I am a plain warner to you,")(3. "That you should worship Allah, and have Taqwa of Him, and obey me,")(4. "He will forgive you of your sins and respite you to an appointed term. Verily, the term of Allah when it comes, cannot be delayed, if you but know.")
Nuh's Invitation to His People
Allah says concerning Nuh that He sent him to his people commanding him to warn them of the punishment of Allah before it befell them. He was to tell them that if they would repent and turn to Allah, then the punishment would be lifted from them. Due to this Allah says,
أَنْ أَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ - قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ
("Warn your people before there comes to them a painful torment." He said: "O my people! Verily, I am a plain warner to you.") meaning, clarity of the warning, making the matter apparent and clear.
أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ
(That you should worship Allah, and have Taqwa of Him,) meaning, 'abandon those things that He has forbidden and avoid that which He has declared to be sinful.'
وَأَطِيعُونِ
(and obey me,) 'In that which I command you to do and that which I forbid you from.'
يَغْفِرْ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ
(He will forgive you of your sins) meaning, 'if you do what I command you to do and you believe in what I have been sent with to you, then Allah will forgive you for your sins.'
وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى
(and respite you to an appointed term.) meaning, 'He will extend your life span and protect you from the torment that He would have made befall you if you did not stay away from His prohibitions.' This Ayah is used as proof by those who say that obedience (to Allah), righteousness and maintaining the family ties truly increase the life span of a person. This is like that which has been reported in the Hadith,
صِلَةُ الرَّحِمِ تَزِيدُ فِي الْعُمُرِ
(Maintaining the family ties increases the life span.) Concerning Allah's statement,
إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ ۖ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
(Verily, the term of Allah when it comes, cannot be delayed, if you but know.) means, hasten to the obedience (of Allah) before the coming of His vengeance. For verily, if He commands that to happen, it cannot be repulsed or prevented. For He is the Great One Who compels everything, and He is the Almighty Whose might all of creation succumbs to. Tafsir Ibn Kathir
عذاب سے پہلے نوح ؑ کا قوم سے خطاب اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے حضرت نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول ﷺ بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ عذاب کے آنے سے پہلے اپنی قوم کو ہوشیار کردو اگر وہ توبہ کرلیں گے اور اللہ کی طرف جھکنے لگیں گے تو اللہ کا عذاب ان سے اٹھ جائے گا، حضرت نوح ؑ نے اللہ کا پیغام اپنی امت کو پہنچا دیا اور صاف کہہ دیا کہ دیکھو میں کھلے لفظوں میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں، میں صاف صاف کہہ رہا ہوں کہ اللہ کی عبادت اس کا ڈر اور میری اطاعت لازمی چیزیں ہیں جو کام رب نے تم پر حرام کئے ہیں ان سے بچو گناہ کے کاموں سے الگ تھلگ رہو جو میں کہوں بجا لاؤ جس سے روکوں رک جاؤ میری رسالت کی تصدیق کرو تو اللہ تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا، آیت (يَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَاۗءَ لَا يُؤَخَّرُ ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ) 71۔ نوح :4) میں لفظ (من) یہاں زائد ہے، اثبات کے موقعہ پر بھی کبھی لفظ (من) زائد آجاتا ہے جیسے عرب کے مقولے (قد کان من مطر) میں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ معنی میں عن کے ہو بلکہ ابن جریر تو اسی کو پسند فرماتے ہیں اور یہ قول بھی ہے کہ من تبعیض کے لئے ہے یعنی تمہارے کچھ گناہ معاف فرما دے گا یعنی وہ گناہ جن پر سزا کا وعدہ ہے اور وہ بڑے بڑے گناہ ہیں، اگر تم نے یہ تینوں کام کئے تو وہ معاف ہوجائیں گے اور جس عذاب کے ذریعے وہ تمہیں اب تمہاری ان خطاؤں اور غلط کاریوں کی وجہ سے برباد کرنے والا ہے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور تمہاری عمریں بڑھا دے گا، اس آیت سے یہ استدلال بھی کیا گیا ہے کہ اطاعت اللہ اور نیک سلوک اور صلہ رحمی سے حقیقتاً عمر بڑھ جاتی ہے، حدیث میں یہ بھی ہے کہ صلہ رحمی عمر بڑھاتی ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ نیک اعمال اس سے پہلے کرلو کہ اللہ کا عذاب آجائے اس لئے جب وہ آجاتا ہے پھر نہ اسے کوئی ہٹا سکتا ہے نہ روک سکتا ہے، اس بڑے کی بڑائی نے ہر چیز کو پست کر رکھا ہے اس کی عزت و عظمت کے سامنے تمام مخلوق پست ہے۔ Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ نُوحٍ
وَهِيَ مَكِّيَّةٌ.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ نُوحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهُ أَرْسَلَهُ إِلَى قَوْمِهِ آمِرًا لَهُ أَنْ يُنْذِرَهُمْ بَأْسَ اللَّهِ قَبْلَ حُلُولِهِ بِهِمْ، فَإِنْ تَابُوا وَأَنَابُوا رَفْعَ عَنْهُمْ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَنْ أَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ﴾ أَيْ: بَيِّنُ النِّذَارَةِ، ظَاهِرُ الْأَمْرِ وَاضِحُهُ.
﴿أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ﴾ أَيِ: اتْرُكُوا مَحَارِمَهُ وَاجْتَنِبُوا مَآثِمَهُ ﴿وَأَطِيعُونِ﴾ فِيمَا آمُرُكُمْ بِهِ وَأَنْهَاكُمْ عَنْهُ.
﴿يَغْفِرْ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ﴾ أَيْ: إِذَا فَعَلْتُمْ مَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ وَصَدَّقْتُمْ مَا أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَيْكُمْ، غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ.
وَ " مِنْ " هَاهُنَا قِيلَ: إِنَّهَا زَائِدَةٌ. وَلَكِنَّ الْقَوْلَ بِزِيَادَتِهَا فِي الْإِثْبَاتِ قَلِيلٌ. وَمِنْهُ قَوْلُ بَعْضِ الْعَرَبِ: "قَدْ كَانَ مِنْ مَطَرٍ". وَقِيلَ: إِنَّهَا بِمَعْنَى "عَنْ" تَقْدِيرُهُ: يَصْفَحُ لَكُمْ عَنْ ذُنُوبِكُمْ وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ [[تفسير الطبري (٢٩/٥٧) .]] وَقِيلَ: إِنَّهَا لِلتَّبْعِيضِ، أَيْ يَغْفِرُ لَكُمُ الذُّنُوبَ الْعِظَامَ الَّتِي وَعَدَكُمْ عَلَى ارْتِكَابِكُمْ إِيَّاهَا الِانْتِقَامَ.
﴿وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى﴾ أَيْ: يَمُدُّ فِي أَعْمَارِكُمْ وَيَدْرَأُ عَنْكُمُ الْعَذَابَ الَّذِي إِنْ لَمْ تَنْزَجِرُوا عَمَّا نَهَاكُمْ عَنْهُ، أَوْقَعَهُ بِكُمْ. [[في أ: "أو يعذبكم".]]
وَقَدْ يَسْتَدِلُّ بِهَذِهِ الْآيَةِ مَنْ يَقُولُ: إِنَّ الطَّاعَةَ وَالْبِرَّ وَصِلَةَ الرَّحِمِ، يُزَادُ بِهَا فِي الْعُمْرِ حَقِيقَةً؛ كَمَا وَرَدَ بِهِ الْحَدِيثُ: "صِلَةُ الرَّحِمِ تَزِيدُ فِي الْعُمْرِ".
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: بَادِرُوا بِالطَّاعَةِ قَبْلَ حُلُولِ النِّقْمَةِ، فَإِنَّهُ إِذَا أَمَرَ [اللَّهُ] [[زيادة من أ.]] تَعَالَى بِكَوْنِ ذَلِكَ لَا يُرَدُّ وَلَا يُمَانَعُ، فَإِنَّهُ الْعَظِيمُ الَّذِي قَهَرَ كُلَّ شَيْءٍ، الْعَزِيزُ الَّذِي دَانَتْ لِعِزَّتِهِ جَمِيعُ الْمَخْلُوقَاتِ.