بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ الٓمٓصٓ
Alif, Lam, Meem, Sad.
المص
المص
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
المص - كِتَابٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُن فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ - اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ
(1. Alif-Lam-Mim-Şad.)(2. (This is the) Book (the Qur'an) sent down unto you, so let not your breast be narrow therefrom, that you warn thereby; and a reminder unto the believers.)(3. Follow what has been sent down unto you from your Lord, and follow not any Awliya' (protectors), besides Him (Allah). Little do you remember!)
We mentioned before the explanation of the letters [such as, Alif-Lam, that are in the beginning of some Surahs in the Qur'an].
كِتَابٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ
((This is the) Book (the Qur'an) sent down unto you (O Muhammad)), from your Lord,
فَلَا يَكُن فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ
(so let not your breast be narrow therefrom,) meaning, having doubt about it according to Mujahid, Qatadah and As-Suddi. It was also said that the meaning here is: 'do not hesitate to convey the Qur'an and warn with it,'
فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ
(Therefore be patient as did the Messengers of strong will)[46:35]. Allah said here,
لِتُنذِرَ بِهِ
(that you warn thereby) meaning, 'We sent down the Qur'an so that you may warn the disbelievers with it,'
وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ
(and a reminder unto the believers). Allah then said to the world,
اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ
(Follow what has been sent down unto you from your Lord) meaning, follow and imitate the unlettered Prophet ﷺ, who brought you a Book that was revealed for you, from the Lord and master of everything.
وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ
(and follow not any Awliya', besides Him (Allah)) meaning, do not disregard what the Messenger ﷺ brought you and follow something else, for in this case, you will be deviating from Allah's judgment to the decision of someone else. Allah's statement,
قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ
(Little do you remember!) is similar to,
وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly)[12:103], and;
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(And if you obey most of those on the earth, they will mislead you far away from Allah's path)[6:116], and,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him)[12:106].
Tafsir Ibn Kathir
اس سورت کی ابتداء میں جو حروف ہیں، ان کے متعلق جو کچھ بیان ہمیں کرنا تھا، اسے تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں مع اختلاف علماء کے ہم لکھ آئے ہیں۔ ابن عباس سے اس کے معنی میں مروی ہے کہ اس سے مراد حدیث (انا اللہ افضل) ہے یعنی میں اللہ ہوں میں تفصیل وار بیان فرما رہا ہوں، سعید بن جبیر سے بھی یہ مروی ہے، یہ کتاب قرآن کریم تیری جانب تیرے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اسمیں کوئی شک نہ کرنا، دل تنگ نہ ہونا، اس کے پہنچانے میں کسی سے نہ ڈرنا، نہ کسی کا لحاظ کرنا، بلکہ سابقہ اولوالعزم پیغمبروں کی طرح صبرو استقامت کے ساتھ کلام اللہ کی تبلیغ مخلوق الٰہی میں کرنا، اس کا نزول اس لئے ہوا ہے کہ تو کافروں کو ڈرا کر ہوشیار اور چوکنا کر دے، یہ قرآن مومنوں کیلئے نصیحت و عبرت وعظ و پند ہے۔ اس کے بعد تمام دنیا کو حکم ہوتا ہے کہ اس نبی امی کی پوری پیروی کرو، اس کے قدم بہ قدم چلو، یہ تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہے، کلام اللہ تمہارے پاس لایا ہے وہ اللہ تم سب کا خالق مالک ہے اور تمام جان داروں کا رب ہے، خبردار ہرگز ہرگز نبی سے ہٹ کر دوسرے کی تابعداری نہ کرانا ورنہ حکم عدولی پر سزا ملے گی، افسوس تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ گو تم چاہو لیکن اکثر لوگ اپنی بےایمانی پر اڑے ہی رہیں گے۔ اور آیت میں ہے (وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ 116) 6۔ الانعام) یعنی " اگر تو انسانوں کی کثرت کی طرف جھک جائے گا تو وہ تجھے بہکا کر ہی چین لیں گے "۔ سورة یوسف میں فرمان ہے " اکثر لوگ اللہ کو مانتے ہوئے بھی شرک سے باز نہیں رہتے۔ "
Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
قَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ فِي أَوَّلِ "سُورَةِ الْبَقَرَةِ" عَلَى مَا يَتَعَلَّقُ بِالْحُرُوفِ وَبَسْطُهُ، وَاخْتِلَافُ النَّاسِ فِيهِ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيع، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شَرِيك، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿المص﴾ أَنَا اللَّهُ أَفْصِلُ وَكَذَا قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَير.
[قَوْلُهُ] [[زيادة من د.]] ﴿كِتَابٌ أُنزلَ إِلَيْكَ﴾ أَيْ: هَذَا كِتَابٌ أُنْزِلَ إِلَيْكَ، أَيْ: مِنْ رَبِّكَ، ﴿فَلا يَكُنْ فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِنْهُ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ، [وَعَطَاءٌ] [[زيادة من م.]] وَقَتَادَةُ والسُّدِّي: شَكٌّ مِنْهُ.
وَقِيلَ: لَا تَتَحَرَّجْ بِهِ فِي إِبْلَاغِهِ وَالْإِنْذَارِ بِهِ [وَاصْبِرْ] [[زيادة من ك، م، أ.]] كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لِتُنْذِرَ بِهِ﴾ أَيْ: أُنْزِلَ إِلَيْكَ لِتُنْذِرَ بِهِ الْكَافِرِينَ، ﴿وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ﴾ .
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى مُخَاطِبًا لِلْعَالَمِ: ﴿اتَّبِعُوا مَا أُنزلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ أَيِ: اقْتَفُوا آثَارَ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي جَاءَكُمْ بِكِتَابٍ أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكِهِ، ﴿وَلا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ﴾ أَيْ: لَا تَخْرُجُوا عَمَّا جَاءَكُمْ بِهِ الرَّسُولُ إِلَى غَيْرِهِ، فَتَكُونُوا قَدْ عَدَلْتُمْ عَنْ حُكْمِ اللَّهِ إِلَى حُكْمِ غَيْرِهِ.
﴿قَلِيلا مَا تَذَكَّرُونَ﴾ كَقَوْلِهِ: ﴿وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ﴾ [يُوسُفَ: ١٠٣] . وَقَوْلِهِ: ﴿وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الأرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [الْأَنْعَامِ: ١١٦] وَقَوْلِهِ: ﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلا وَهُمْ مُشْرِكُونَ﴾ [يُوسُفَ: ١٠٦] .
كِتَٰبٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُن فِى صَدْرِكَ حَرَجٌۭ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِۦ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ
[This is] a Book revealed to you, [O Muhammad] - so let there not be in your breast distress therefrom - that you may warn thereby and as a reminder to the believers.
(اے محمدﷺ) یہ کتاب (جو) تم پر نازل ہوئی ہے۔ اس سے تمہیں تنگ دل نہیں ہونا چاہیئے، (یہ نازل) اس لیے (ہوئی ہے) کہ تم اس کے ذریعے سے (لوگوں) کو ڈر سناؤ اور (یہ) ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے
این کتابی است که بر تو نازل شده؛ و نباید از ناحیه آن، ناراحتی در سینه داشته باشی! تا به وسیله آن، (مردم را از عواقب سوء عقاید و اعمال نادرستشان) بیم دهی؛ و تذکّری است برای مؤمنان.
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
المص - كِتَابٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُن فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ - اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ
(1. Alif-Lam-Mim-Şad.)(2. (This is the) Book (the Qur'an) sent down unto you, so let not your breast be narrow therefrom, that you warn thereby; and a reminder unto the believers.)(3. Follow what has been sent down unto you from your Lord, and follow not any Awliya' (protectors), besides Him (Allah). Little do you remember!)
We mentioned before the explanation of the letters [such as, Alif-Lam, that are in the beginning of some Surahs in the Qur'an].
كِتَابٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ
((This is the) Book (the Qur'an) sent down unto you (O Muhammad)), from your Lord,
فَلَا يَكُن فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ
(so let not your breast be narrow therefrom,) meaning, having doubt about it according to Mujahid, Qatadah and As-Suddi. It was also said that the meaning here is: 'do not hesitate to convey the Qur'an and warn with it,'
فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ
(Therefore be patient as did the Messengers of strong will)[46:35]. Allah said here,
لِتُنذِرَ بِهِ
(that you warn thereby) meaning, 'We sent down the Qur'an so that you may warn the disbelievers with it,'
وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ
(and a reminder unto the believers). Allah then said to the world,
اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ
(Follow what has been sent down unto you from your Lord) meaning, follow and imitate the unlettered Prophet ﷺ, who brought you a Book that was revealed for you, from the Lord and master of everything.
وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ
(and follow not any Awliya', besides Him (Allah)) meaning, do not disregard what the Messenger ﷺ brought you and follow something else, for in this case, you will be deviating from Allah's judgment to the decision of someone else. Allah's statement,
قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ
(Little do you remember!) is similar to,
وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly)[12:103], and;
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(And if you obey most of those on the earth, they will mislead you far away from Allah's path)[6:116], and,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him)[12:106].
Tafsir Ibn Kathir
اس سورت کی ابتداء میں جو حروف ہیں، ان کے متعلق جو کچھ بیان ہمیں کرنا تھا، اسے تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں مع اختلاف علماء کے ہم لکھ آئے ہیں۔ ابن عباس سے اس کے معنی میں مروی ہے کہ اس سے مراد حدیث (انا اللہ افضل) ہے یعنی میں اللہ ہوں میں تفصیل وار بیان فرما رہا ہوں، سعید بن جبیر سے بھی یہ مروی ہے، یہ کتاب قرآن کریم تیری جانب تیرے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اسمیں کوئی شک نہ کرنا، دل تنگ نہ ہونا، اس کے پہنچانے میں کسی سے نہ ڈرنا، نہ کسی کا لحاظ کرنا، بلکہ سابقہ اولوالعزم پیغمبروں کی طرح صبرو استقامت کے ساتھ کلام اللہ کی تبلیغ مخلوق الٰہی میں کرنا، اس کا نزول اس لئے ہوا ہے کہ تو کافروں کو ڈرا کر ہوشیار اور چوکنا کر دے، یہ قرآن مومنوں کیلئے نصیحت و عبرت وعظ و پند ہے۔ اس کے بعد تمام دنیا کو حکم ہوتا ہے کہ اس نبی امی کی پوری پیروی کرو، اس کے قدم بہ قدم چلو، یہ تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہے، کلام اللہ تمہارے پاس لایا ہے وہ اللہ تم سب کا خالق مالک ہے اور تمام جان داروں کا رب ہے، خبردار ہرگز ہرگز نبی سے ہٹ کر دوسرے کی تابعداری نہ کرانا ورنہ حکم عدولی پر سزا ملے گی، افسوس تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ گو تم چاہو لیکن اکثر لوگ اپنی بےایمانی پر اڑے ہی رہیں گے۔ اور آیت میں ہے (وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ 116) 6۔ الانعام) یعنی " اگر تو انسانوں کی کثرت کی طرف جھک جائے گا تو وہ تجھے بہکا کر ہی چین لیں گے "۔ سورة یوسف میں فرمان ہے " اکثر لوگ اللہ کو مانتے ہوئے بھی شرک سے باز نہیں رہتے۔ "
Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
قَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ فِي أَوَّلِ "سُورَةِ الْبَقَرَةِ" عَلَى مَا يَتَعَلَّقُ بِالْحُرُوفِ وَبَسْطُهُ، وَاخْتِلَافُ النَّاسِ فِيهِ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيع، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شَرِيك، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿المص﴾ أَنَا اللَّهُ أَفْصِلُ وَكَذَا قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَير.
[قَوْلُهُ] [[زيادة من د.]] ﴿كِتَابٌ أُنزلَ إِلَيْكَ﴾ أَيْ: هَذَا كِتَابٌ أُنْزِلَ إِلَيْكَ، أَيْ: مِنْ رَبِّكَ، ﴿فَلا يَكُنْ فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِنْهُ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ، [وَعَطَاءٌ] [[زيادة من م.]] وَقَتَادَةُ والسُّدِّي: شَكٌّ مِنْهُ.
وَقِيلَ: لَا تَتَحَرَّجْ بِهِ فِي إِبْلَاغِهِ وَالْإِنْذَارِ بِهِ [وَاصْبِرْ] [[زيادة من ك، م، أ.]] كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لِتُنْذِرَ بِهِ﴾ أَيْ: أُنْزِلَ إِلَيْكَ لِتُنْذِرَ بِهِ الْكَافِرِينَ، ﴿وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ﴾ .
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى مُخَاطِبًا لِلْعَالَمِ: ﴿اتَّبِعُوا مَا أُنزلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ أَيِ: اقْتَفُوا آثَارَ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي جَاءَكُمْ بِكِتَابٍ أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكِهِ، ﴿وَلا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ﴾ أَيْ: لَا تَخْرُجُوا عَمَّا جَاءَكُمْ بِهِ الرَّسُولُ إِلَى غَيْرِهِ، فَتَكُونُوا قَدْ عَدَلْتُمْ عَنْ حُكْمِ اللَّهِ إِلَى حُكْمِ غَيْرِهِ.
﴿قَلِيلا مَا تَذَكَّرُونَ﴾ كَقَوْلِهِ: ﴿وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ﴾ [يُوسُفَ: ١٠٣] . وَقَوْلِهِ: ﴿وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الأرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [الْأَنْعَامِ: ١١٦] وَقَوْلِهِ: ﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلا وَهُمْ مُشْرِكُونَ﴾ [يُوسُفَ: ١٠٦] .
ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ ۗ قَلِيلًۭا مَّا تَذَكَّرُونَ
Follow, [O mankind], what has been revealed to you from your Lord and do not follow other than Him any allies. Little do you remember.
(لوگو) جو (کتاب) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو (اور) تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو
از چیزی که از طرف پروردگارتان بر شما نازل شده، پیروی کنید! و از اولیا و معبودهای دیگر جز او، پیروی نکنید! اما کمتر متذکّر میشوید!
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
المص - كِتَابٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُن فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ - اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ
(1. Alif-Lam-Mim-Şad.)(2. (This is the) Book (the Qur'an) sent down unto you, so let not your breast be narrow therefrom, that you warn thereby; and a reminder unto the believers.)(3. Follow what has been sent down unto you from your Lord, and follow not any Awliya' (protectors), besides Him (Allah). Little do you remember!)
We mentioned before the explanation of the letters [such as, Alif-Lam, that are in the beginning of some Surahs in the Qur'an].
كِتَابٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ
((This is the) Book (the Qur'an) sent down unto you (O Muhammad)), from your Lord,
فَلَا يَكُن فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ
(so let not your breast be narrow therefrom,) meaning, having doubt about it according to Mujahid, Qatadah and As-Suddi. It was also said that the meaning here is: 'do not hesitate to convey the Qur'an and warn with it,'
فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ
(Therefore be patient as did the Messengers of strong will)[46:35]. Allah said here,
لِتُنذِرَ بِهِ
(that you warn thereby) meaning, 'We sent down the Qur'an so that you may warn the disbelievers with it,'
وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ
(and a reminder unto the believers). Allah then said to the world,
اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ
(Follow what has been sent down unto you from your Lord) meaning, follow and imitate the unlettered Prophet ﷺ, who brought you a Book that was revealed for you, from the Lord and master of everything.
وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ
(and follow not any Awliya', besides Him (Allah)) meaning, do not disregard what the Messenger ﷺ brought you and follow something else, for in this case, you will be deviating from Allah's judgment to the decision of someone else. Allah's statement,
قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ
(Little do you remember!) is similar to,
وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly)[12:103], and;
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(And if you obey most of those on the earth, they will mislead you far away from Allah's path)[6:116], and,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him)[12:106].
Tafsir Ibn Kathir
اس سورت کی ابتداء میں جو حروف ہیں، ان کے متعلق جو کچھ بیان ہمیں کرنا تھا، اسے تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں مع اختلاف علماء کے ہم لکھ آئے ہیں۔ ابن عباس سے اس کے معنی میں مروی ہے کہ اس سے مراد حدیث (انا اللہ افضل) ہے یعنی میں اللہ ہوں میں تفصیل وار بیان فرما رہا ہوں، سعید بن جبیر سے بھی یہ مروی ہے، یہ کتاب قرآن کریم تیری جانب تیرے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اسمیں کوئی شک نہ کرنا، دل تنگ نہ ہونا، اس کے پہنچانے میں کسی سے نہ ڈرنا، نہ کسی کا لحاظ کرنا، بلکہ سابقہ اولوالعزم پیغمبروں کی طرح صبرو استقامت کے ساتھ کلام اللہ کی تبلیغ مخلوق الٰہی میں کرنا، اس کا نزول اس لئے ہوا ہے کہ تو کافروں کو ڈرا کر ہوشیار اور چوکنا کر دے، یہ قرآن مومنوں کیلئے نصیحت و عبرت وعظ و پند ہے۔ اس کے بعد تمام دنیا کو حکم ہوتا ہے کہ اس نبی امی کی پوری پیروی کرو، اس کے قدم بہ قدم چلو، یہ تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہے، کلام اللہ تمہارے پاس لایا ہے وہ اللہ تم سب کا خالق مالک ہے اور تمام جان داروں کا رب ہے، خبردار ہرگز ہرگز نبی سے ہٹ کر دوسرے کی تابعداری نہ کرانا ورنہ حکم عدولی پر سزا ملے گی، افسوس تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ گو تم چاہو لیکن اکثر لوگ اپنی بےایمانی پر اڑے ہی رہیں گے۔ اور آیت میں ہے (وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ 116) 6۔ الانعام) یعنی " اگر تو انسانوں کی کثرت کی طرف جھک جائے گا تو وہ تجھے بہکا کر ہی چین لیں گے "۔ سورة یوسف میں فرمان ہے " اکثر لوگ اللہ کو مانتے ہوئے بھی شرک سے باز نہیں رہتے۔ "
Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
قَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ فِي أَوَّلِ "سُورَةِ الْبَقَرَةِ" عَلَى مَا يَتَعَلَّقُ بِالْحُرُوفِ وَبَسْطُهُ، وَاخْتِلَافُ النَّاسِ فِيهِ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيع، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شَرِيك، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿المص﴾ أَنَا اللَّهُ أَفْصِلُ وَكَذَا قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَير.
[قَوْلُهُ] [[زيادة من د.]] ﴿كِتَابٌ أُنزلَ إِلَيْكَ﴾ أَيْ: هَذَا كِتَابٌ أُنْزِلَ إِلَيْكَ، أَيْ: مِنْ رَبِّكَ، ﴿فَلا يَكُنْ فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِنْهُ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ، [وَعَطَاءٌ] [[زيادة من م.]] وَقَتَادَةُ والسُّدِّي: شَكٌّ مِنْهُ.
وَقِيلَ: لَا تَتَحَرَّجْ بِهِ فِي إِبْلَاغِهِ وَالْإِنْذَارِ بِهِ [وَاصْبِرْ] [[زيادة من ك، م، أ.]] كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لِتُنْذِرَ بِهِ﴾ أَيْ: أُنْزِلَ إِلَيْكَ لِتُنْذِرَ بِهِ الْكَافِرِينَ، ﴿وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ﴾ .
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى مُخَاطِبًا لِلْعَالَمِ: ﴿اتَّبِعُوا مَا أُنزلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ أَيِ: اقْتَفُوا آثَارَ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي جَاءَكُمْ بِكِتَابٍ أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكِهِ، ﴿وَلا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ﴾ أَيْ: لَا تَخْرُجُوا عَمَّا جَاءَكُمْ بِهِ الرَّسُولُ إِلَى غَيْرِهِ، فَتَكُونُوا قَدْ عَدَلْتُمْ عَنْ حُكْمِ اللَّهِ إِلَى حُكْمِ غَيْرِهِ.
﴿قَلِيلا مَا تَذَكَّرُونَ﴾ كَقَوْلِهِ: ﴿وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ﴾ [يُوسُفَ: ١٠٣] . وَقَوْلِهِ: ﴿وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الأرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [الْأَنْعَامِ: ١١٦] وَقَوْلِهِ: ﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلا وَهُمْ مُشْرِكُونَ﴾ [يُوسُفَ: ١٠٦] .
وَكَم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَٰهَا فَجَآءَهَا بَأْسُنَا بَيَٰتًا أَوْ هُمْ قَآئِلُونَ
And how many cities have We destroyed, and Our punishment came to them at night or while they were sleeping at noon.
اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں جن پر ہمارا عذاب (یا تو رات کو) آتا تھا جبکہ وہ سوتے تھے یا (دن کو) جب وہ قیلولہ (یعنی دوپہر کو آرام) کرتے تھے
چه بسیار شهرها و آبادیها که آنها را (بر اثر گناه فراوانشان) هلاک کردیم! و عذاب ما شبهنگام، یا در روز هنگامی که استراحت کرده بودند، به سراغشان آمد.
Tafsir Ibn Kathir
And a great number of towns We destroyed. Our torment came upon them by night or while they were taking their midday nap (4)No cry did they utter when Our torment came upon them but this: "Verily, we were wrongdoers. (5)Then surely, We shall question those (people) to whom it was sent and verily, We shall question the Messengers (6)Then surely, We shall narrate unto them (their whole story) with knowledge, and indeed We have not been absent (7)
Nations that were destroyed
Allah said,
وَكَم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا
(And a great number of towns We destroyed.) for defying Our Messengers and rejecting them. This behavior led them to earn disgrace in this life, which led them to disgrace in the Hereafter. Allah said in other Ayat,
وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
(And indeed (many) Messengers before you were mocked at, but their scoffers were surrounded by the very thing that they used to mock at)[6:10], and
فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ
(And many a township did We destroy while they were given to wrongdoing, so that it lie in ruins (up to this day), and (many) a deserted well and lofty castle!)[22:45], and,
وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَا فَتِلْكَ مَسَاكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَن مِّن بَعْدِهِمْ إِلَّا قَلِيلًا وَكُنَّا نَحْنُ الْوَارِثِينَ
(And how many a town have We destroyed, which was thankless for its means of livelihood And those are their dwellings, which have not been inhabited after them except a little. And verily, We have been the heirs)[28:58]. Allah's saying,
فَجَاءَهَا بَأْسُنَا بَيَاتًا أَوْ هُمْ قَائِلُونَ
(Our torment came upon them by night or while they were taking their midday nap.) means, Allah's command, torment and vengeance came over them at night or while taking a nap in the middle of the day. Both of these times are periods of rest and leisure or heedlessness and amusement. Allah also said
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ - أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ
(Did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment by night while they were asleep? Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing?)[7:97-98] and,
أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَىٰ تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(Do then those who devise evil plots feel secure that Allah will not sink them into the earth, or that the torment will not seize them from directions they perceive not? Or that He may catch them in the midst of their going to and from, so that there be no escape for them? Or that He may catch them with gradual wastage. Truly, Your Lord is indeed full of kindness, Most Merciful?)[16:45-47]. Allah's saying;
فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا إِلَّا أَن قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
(No cry did they utter when Our torment came upon them but this: "Verily, we were wrongdoers.")
This means, when the torment came to them, their cry was that they admitted their sins and that they deserved to be punished. Allah said in a similar Ayah,
وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً
(How many a town given to wrongdoing, have We destroyed)[21:11], until,
خَامِدِينَ
(Extinct)[21:15]. Allah's saying.
فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ
(Then surely, We shall question those (people) to whom it (the Book) was sent) is similar to the Ayat,
وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِينَ
(And (remember) the Day (Allah) will call them, and say: "What answer gave you to the Messengers?")[28:65], and,
يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ
(On the Day when Allah will gather the Messengers together and say to them: "What was the response you received?" They will say: "We have no knowledge, verily, only You are the Knower of all that is unseen.")[5:109].
Allah will question the nations, on the Day of Resurrection, how they responded to His Messengers and the Messages He sent them with. He will also question the Messengers if they conveyed His Messages. So, 'Ali bin Abi Talhah reported from Ibn 'Abbas, who said commenting on the Ayah:
فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ
(Then surely, We shall question those (people) to whom it (the Book) was sent and verily, We shall question the Messengers.) He said; "About what they conveyed." Ibn 'Abbas commented on Allah's statement,
فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِم بِعِلْمٍ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ
(Then surely, We shall narrate unto them (their whole story) with knowledge, and indeed We have not been absent.) "The Book will be brought forth on the Day of Resurrection and it will speak, disclosing what they used to do."
وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ
(and indeed We have not been absent) meaning, On the Day of Resurrection, Allah will inform His servants about what they said and did, whether substantial or minor. Certainly, He witnesses to everything, nothing escapes His observation, and He is never unaware of anything. Rather, He has perfect knowledge of what the eyes are deluded by and what the hearts conceal,
وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ
(Not a leaf falls, but He knows it. There is not a grain in the darkness of the earth nor anything fresh or dry, but is written in a Clear Record.)[6:59]
Tafsir Ibn Kathir
سابقہ باغیوں کی بستیوں کے کھنڈرات باعث عبرت ہیں ان لوگوں کو جو ہمارے رسولوں کی مخالفت کرتے تھے انہیں جھٹلاتے تھے تم سے پہلے ہم ہلاک کرچکے ہیں۔ دنیا اور آخرت کی ذلت ان پر برس پڑی، جیسے فرمان ہے تجھ سے اگلے رسولوں سے بھی مذاق کیا گیا، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ مذاق نے انہیں تہو بالا کردیا، ایک اور آیت میں ہے، بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے غارت کردیا جو اب تک الٹی پڑی ہیں اور جگہ ارشاد ہے بہت سے اتراتے ہوئے لوگوں کے شہر ہم نے ویران کردیئے دیکھ لو کہ اب تک ان کے کھنڈرات تمہارے سامنے ہیں جو بہت کم آباد ہوئے۔ حقیقتاً وارث ومالک ہم ہی ہیں ایسے ظالموں کے پاس ہمارے عذاب اچانک آگئے اور وہ اپنی غفلتوں اور عیاشیوں میں مشغول تھے کہیں دن کو دوپہر کے آرام کے وقت، کہیں رات کے سونے کے وقت، چناچہ ایک آیت میں ہے (افامن اھل القری ان یاتیھم باسنا بیاتا وھم نائمون اوامن اھل القری ان یاتیھم باسنا ضحی وھم یلعبون) یعنی لوگ اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان کے سوتے ہوئے راتوں رات اچانک ہمارا عذاب آجائے ؟ یا انہیں ڈر نہیں کہ دن دیہاڑے دوپہر کو ان کے آرام کے وقت ان پر ہمارا عذاب آجائیں ؟ اور آیت میں ہے کہ مکاریوں کی وجہ سے ہماری نافرمانیاں کرنے والے اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے ؟ یا ان کے پاس عذاب الٰہی اس طرح آجائے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے یا اللہ انہیں ان کی بیخبر ی میں آرام کی گھڑیوں میں ہی پکڑ لے کوئی نہیں جو اللہ کو عاجز کرسکے، یہ تو رب کی رحمت ورافت ہے جو گنہگار زمین پر چلتے پھرتے ہیں، عذاب رب آجانے کے بعد تو یہ خود اپنی زبانوں سے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیں گے لیکن اس وقت کیا نفع ؟ اسی مضمون کو آیت (وکم قصمنا) میں بیان فرمایا ہے ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ بندوں کے عذر ختم نہیں کردیتا انہیں عذاب نہیں کرتا، عبدالملک سے جب یہ حدیث میں آیا ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ بندوں کے عذر ختم نہیں کردیتا انہیں عذاب نہیں کرتا تو آپ نے یہ آیت (فما کان دعوھم) الخ، پڑھ سنائی پھر فرمایا امتوں سے بھی، ان کے رسولوں سے بھی یعنی سب سے قیامت کے دن سوال ہوگا، جیسے فرمان ہے (وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ 65) 28۔ القصص) یعنی اس دن ندا کی جائے گی اور دریافت کیا جائے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا ؟ اس آیت میں امتوں سے سوال کیا جانا بیان کیا گیا ہے اور آیت میں ہے (يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ ۭ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا ۭاِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ 109) 5۔ المآئدہ) ، رسولوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا ؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں غیب کا جاننے والا تو ہی ہے پس امت سے رسولوں کی قبولیت کی بابت اور رسولوں سے تبلیغ کی بابت قیامت کے دن سوال ہوگا، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے ہر ایک با اختیار ہے اور اپنے زیر اختیار لوگوں کی بابت اس سے سوال کیا جانے والا ہے۔ بادشاہ سے اسکی رعایا کا ہر آدمی سے اس کی اہل و عیال کا، ہر عورت سے اس کے خاوند کے گھر کا، ہر غلام سے اس کے آقا کے مال کا سوال ہوگا۔ راوی حدیث حضرت طاؤس نے اس حدیث کو بیان فرما کر پھر آیت کی تلاوت کی۔ اس زیادتی کے بغیر یہ حدیث بخاری و مسلم کی نکالی ہوئی بھی ہے اور زیادتی ابن مردویہ نے نقل کی ہے، قیامت کے دن اعمال نامے رکھے جائیں گے اور سارے اعمال ظاہر ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی جائے گی۔ اللہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ نہ وہ کسی چیز سے غافل ہے۔ آنکھوں کی خیانت سے سینوں کی چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا ہے۔ ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے۔ زمین کی اندھیریوں میں جو دانہ ہوتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے۔ تر و خشک چیز اس کے پاس کھلی کتاب میں موجود ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا﴾ أَيْ: بِمُخَالَفَةِ رُسُلِنَا وَتَكْذِيبِهِمْ، فَأَعْقَبَهُمْ ذَلِكَ خِزْيُ الدُّنْيَا مَوْصُولًا بذُلِّ الْآخِرَةِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ﴾ [الْأَنْعَامِ: ١٠] . وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَكَأَيِّنْ [[في أ: "وكأين".]] مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَشِيدٍ﴾ [الحج: ٤٥] .
وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَا فَتِلْكَ مَسَاكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِنْ بَعْدِهِمْ إِلا قَلِيلا وَكُنَّا نَحْنُ الْوَارِثِينَ﴾ [الْقَصَصِ: ٥٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَجَاءَهَا بَأْسُنَا بَيَاتًا أَوْ هُمْ قَائِلُونَ﴾ أَيْ: فَكَانَ مِنْهُمْ مَنْ جَاءَهُ أَمْرُ اللَّهِ وَبَأْسُهُ وَنِقْمَتُهُ ﴿بَيَاتًا﴾ أَيْ: لَيْلًا ﴿أَوْ هُمْ قَائِلُونَ﴾ مِنَ الْقَيْلُولَةِ، وَهِيَ: الِاسْتِرَاحَةُ وَسَطَ النَّهَارِ. وَكِلَا الْوَقْتَيْنِ وَقْتُ غَفْلة ولَهْو [[في ك: "لهو وغفلة".]] كَمَا قَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] ﴿أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُون * أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٩٧، ٩٨] . وَقَالَ: ﴿أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الأرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ * أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِين * أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾ [النَّحْلِ: ٤٥-٤٧] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا إِلا أَنْ قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ أَيْ: فَمَا كَانَ قَوْلُهُمْ عِنْدَ مَجِيءِ الْعَذَابِ إِلَّا أَنِ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ، وَأَنَّهُمْ حَقِيقُونَ بِهَذَا. كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً [وَأَنْشَأَْ بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ * فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا إِذَا هُمْ مِنْهَا يَرْكُضُونَ * لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَى مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ. قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ * فَمَا زَالَتْ تِلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّى جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا] خَامِدِين﴾ [[زيادة من ك، د، أ، وفي هـ "إلى قوله".]] [الْأَنْبِيَاءِ: ١١-١٥] .
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: فِي هَذِهِ الْآيَةِ الدَّلَالَةُ الْوَاضِحَةُ عَلَى صِحَّةِ مَا جَاءَتْ بِهِ الرِّوَايَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنْ قَوْلِهِ: "مَا هَلَكَ قَوْمٌ حَتَّى يُعْذِروا مِنْ أَنْفُسِهِمْ"، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ ابْنُ حُمَيْد، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي سِنان، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرة الزَّرَّادِ قَالَ: قَالَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَا هَلَكَ قَوْمٌ حَتَّى يُعْذِروا مِنْ أَنْفُسِهِمْ". قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ: كَيْفَ يَكُونُ ذَاكَ؟ قَالَ: فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا إِلا أَنْ قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ [[تفسير الطبري (١٢/٣٠٤) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ﴾ الْآيَةَ، كَقَوْلِهِ [تَعَالَى] [[زيادة من ك، م، أ.]] ﴿وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِينَ﴾ [الْقَصَصِ: ٦٥] وَقَوْلِهِ: ﴿يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ﴾ [الْمَائِدَةِ: ١٠٩] فالرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَسْأَلُ الْأُمَمَ عَمَّا أَجَابُوا رُسُلَهُ فِيمَا أَرْسَلَهُمْ بِهِ، وَيَسْأَلُ الرُّسُلَ أَيْضًا عَنْ إِبْلَاغِ [[في ك، م: "بلاغ".]] رِسَالَاتِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ﴾ قَالَ: يَسْأَلُ اللَّهُ النَّاسَ عَمَّا أَجَابُوا الْمُرْسَلِينَ، وَيَسْأَلُ الْمُرْسَلِينَ عَمَّا بَلَّغُوا.
وَقَالَ ابْنُ مَرْدُويه: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الكنْدي، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ لَيْث، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فالإمام يُسْأل عن الرجل [[في ك: "عن رعيته".]] وَالرَّجُلُ يُسْأَلُ عَنْ أَهْلِهِ [[في أ: "أهل بيته".]] وَالْمَرْأَةُ تُسْأَلُ عَنْ بَيْتِ زَوْجِهَا، وَالْعَبْدُ يُسْأَلُ عَنْ مَالِ سَيِّدِهِ". قَالَ اللَّيْثُ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، مِثْلَهُ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ﴾ [[وفي إسناده عبد الرحمن بن محمد المحاربي، قال ابن معين: يروى المناكير عن المجهولين، ولكن روي من وجه آخر عن نافع عن ابن عمر وفي الصحيحين.]] .
وَهَذَا الْحَدِيثُ مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ بِدُونِ هَذِهِ الزِّيَادَةِ [[صحيح البخاري برقم (٥١٨٨) وصحيح مسلم برقم (١٨٢٩) .]]
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ﴿فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِمْ بِعِلْمٍ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ﴾ يُوضَعُ الْكِتَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ، ﴿وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ﴾ يَعْنِي: أَنَّهُ تَعَالَى يُخْبِرُ عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِمَا قَالُوا وَبِمَا عَمِلُوا، مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَجَلِيلٍ وحَقِير؛ لِأَنَّهُ تَعَالَى شَهِيدٌ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، لَا يَغِيبُ عَنْهُ شَيْءٌ، وَلَا يَغْفَلُ عَنْ شَيْءٍ، بَلْ هُوَ الْعَالِمُ بِخَائِنَةِ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ، ﴿وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلا يَعْلَمُهَا وَلا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الأرْضِ وَلا رَطْبٍ وَلا يَابِسٍ إِلا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ﴾ [الْأَنْعَامِ: ٥٩] .
فَمَا كَانَ دَعْوَىٰهُمْ إِذْ جَآءَهُم بَأْسُنَآ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ
And their declaration when Our punishment came to them was only that they said, "Indeed, we were wrongdoers!"
تو جس وقت ان پر عذاب آتا تھا ان کے منہ سے یہی نکلتا تھا کہ (ہائے) ہم (ہائے) ہم (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہے
و در آن موقع که عذاب ما به سراغ آنها آمد، سخنی نداشتند جز اینکه گفتند: «ما ظالم بودیم!» (ولی این اعتراف به گناه، دیگر دیر شده بود؛ و سودی به حالشان نداشت.)
Tafsir Ibn Kathir
And a great number of towns We destroyed. Our torment came upon them by night or while they were taking their midday nap (4)No cry did they utter when Our torment came upon them but this: "Verily, we were wrongdoers. (5)Then surely, We shall question those (people) to whom it was sent and verily, We shall question the Messengers (6)Then surely, We shall narrate unto them (their whole story) with knowledge, and indeed We have not been absent (7)
Nations that were destroyed
Allah said,
وَكَم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا
(And a great number of towns We destroyed.) for defying Our Messengers and rejecting them. This behavior led them to earn disgrace in this life, which led them to disgrace in the Hereafter. Allah said in other Ayat,
وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
(And indeed (many) Messengers before you were mocked at, but their scoffers were surrounded by the very thing that they used to mock at)[6:10], and
فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ
(And many a township did We destroy while they were given to wrongdoing, so that it lie in ruins (up to this day), and (many) a deserted well and lofty castle!)[22:45], and,
وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَا فَتِلْكَ مَسَاكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَن مِّن بَعْدِهِمْ إِلَّا قَلِيلًا وَكُنَّا نَحْنُ الْوَارِثِينَ
(And how many a town have We destroyed, which was thankless for its means of livelihood And those are their dwellings, which have not been inhabited after them except a little. And verily, We have been the heirs)[28:58]. Allah's saying,
فَجَاءَهَا بَأْسُنَا بَيَاتًا أَوْ هُمْ قَائِلُونَ
(Our torment came upon them by night or while they were taking their midday nap.) means, Allah's command, torment and vengeance came over them at night or while taking a nap in the middle of the day. Both of these times are periods of rest and leisure or heedlessness and amusement. Allah also said
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ - أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ
(Did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment by night while they were asleep? Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing?)[7:97-98] and,
أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَىٰ تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(Do then those who devise evil plots feel secure that Allah will not sink them into the earth, or that the torment will not seize them from directions they perceive not? Or that He may catch them in the midst of their going to and from, so that there be no escape for them? Or that He may catch them with gradual wastage. Truly, Your Lord is indeed full of kindness, Most Merciful?)[16:45-47]. Allah's saying;
فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا إِلَّا أَن قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
(No cry did they utter when Our torment came upon them but this: "Verily, we were wrongdoers.")
This means, when the torment came to them, their cry was that they admitted their sins and that they deserved to be punished. Allah said in a similar Ayah,
وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً
(How many a town given to wrongdoing, have We destroyed)[21:11], until,
خَامِدِينَ
(Extinct)[21:15]. Allah's saying.
فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ
(Then surely, We shall question those (people) to whom it (the Book) was sent) is similar to the Ayat,
وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِينَ
(And (remember) the Day (Allah) will call them, and say: "What answer gave you to the Messengers?")[28:65], and,
يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ
(On the Day when Allah will gather the Messengers together and say to them: "What was the response you received?" They will say: "We have no knowledge, verily, only You are the Knower of all that is unseen.")[5:109].
Allah will question the nations, on the Day of Resurrection, how they responded to His Messengers and the Messages He sent them with. He will also question the Messengers if they conveyed His Messages. So, 'Ali bin Abi Talhah reported from Ibn 'Abbas, who said commenting on the Ayah:
فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ
(Then surely, We shall question those (people) to whom it (the Book) was sent and verily, We shall question the Messengers.) He said; "About what they conveyed." Ibn 'Abbas commented on Allah's statement,
فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِم بِعِلْمٍ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ
(Then surely, We shall narrate unto them (their whole story) with knowledge, and indeed We have not been absent.) "The Book will be brought forth on the Day of Resurrection and it will speak, disclosing what they used to do."
وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ
(and indeed We have not been absent) meaning, On the Day of Resurrection, Allah will inform His servants about what they said and did, whether substantial or minor. Certainly, He witnesses to everything, nothing escapes His observation, and He is never unaware of anything. Rather, He has perfect knowledge of what the eyes are deluded by and what the hearts conceal,
وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ
(Not a leaf falls, but He knows it. There is not a grain in the darkness of the earth nor anything fresh or dry, but is written in a Clear Record.)[6:59]
Tafsir Ibn Kathir
سابقہ باغیوں کی بستیوں کے کھنڈرات باعث عبرت ہیں ان لوگوں کو جو ہمارے رسولوں کی مخالفت کرتے تھے انہیں جھٹلاتے تھے تم سے پہلے ہم ہلاک کرچکے ہیں۔ دنیا اور آخرت کی ذلت ان پر برس پڑی، جیسے فرمان ہے تجھ سے اگلے رسولوں سے بھی مذاق کیا گیا، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ مذاق نے انہیں تہو بالا کردیا، ایک اور آیت میں ہے، بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے غارت کردیا جو اب تک الٹی پڑی ہیں اور جگہ ارشاد ہے بہت سے اتراتے ہوئے لوگوں کے شہر ہم نے ویران کردیئے دیکھ لو کہ اب تک ان کے کھنڈرات تمہارے سامنے ہیں جو بہت کم آباد ہوئے۔ حقیقتاً وارث ومالک ہم ہی ہیں ایسے ظالموں کے پاس ہمارے عذاب اچانک آگئے اور وہ اپنی غفلتوں اور عیاشیوں میں مشغول تھے کہیں دن کو دوپہر کے آرام کے وقت، کہیں رات کے سونے کے وقت، چناچہ ایک آیت میں ہے (افامن اھل القری ان یاتیھم باسنا بیاتا وھم نائمون اوامن اھل القری ان یاتیھم باسنا ضحی وھم یلعبون) یعنی لوگ اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان کے سوتے ہوئے راتوں رات اچانک ہمارا عذاب آجائے ؟ یا انہیں ڈر نہیں کہ دن دیہاڑے دوپہر کو ان کے آرام کے وقت ان پر ہمارا عذاب آجائیں ؟ اور آیت میں ہے کہ مکاریوں کی وجہ سے ہماری نافرمانیاں کرنے والے اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے ؟ یا ان کے پاس عذاب الٰہی اس طرح آجائے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے یا اللہ انہیں ان کی بیخبر ی میں آرام کی گھڑیوں میں ہی پکڑ لے کوئی نہیں جو اللہ کو عاجز کرسکے، یہ تو رب کی رحمت ورافت ہے جو گنہگار زمین پر چلتے پھرتے ہیں، عذاب رب آجانے کے بعد تو یہ خود اپنی زبانوں سے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیں گے لیکن اس وقت کیا نفع ؟ اسی مضمون کو آیت (وکم قصمنا) میں بیان فرمایا ہے ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ بندوں کے عذر ختم نہیں کردیتا انہیں عذاب نہیں کرتا، عبدالملک سے جب یہ حدیث میں آیا ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ بندوں کے عذر ختم نہیں کردیتا انہیں عذاب نہیں کرتا تو آپ نے یہ آیت (فما کان دعوھم) الخ، پڑھ سنائی پھر فرمایا امتوں سے بھی، ان کے رسولوں سے بھی یعنی سب سے قیامت کے دن سوال ہوگا، جیسے فرمان ہے (وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ 65) 28۔ القصص) یعنی اس دن ندا کی جائے گی اور دریافت کیا جائے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا ؟ اس آیت میں امتوں سے سوال کیا جانا بیان کیا گیا ہے اور آیت میں ہے (يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ ۭ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا ۭاِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ 109) 5۔ المآئدہ) ، رسولوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا ؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں غیب کا جاننے والا تو ہی ہے پس امت سے رسولوں کی قبولیت کی بابت اور رسولوں سے تبلیغ کی بابت قیامت کے دن سوال ہوگا، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے ہر ایک با اختیار ہے اور اپنے زیر اختیار لوگوں کی بابت اس سے سوال کیا جانے والا ہے۔ بادشاہ سے اسکی رعایا کا ہر آدمی سے اس کی اہل و عیال کا، ہر عورت سے اس کے خاوند کے گھر کا، ہر غلام سے اس کے آقا کے مال کا سوال ہوگا۔ راوی حدیث حضرت طاؤس نے اس حدیث کو بیان فرما کر پھر آیت کی تلاوت کی۔ اس زیادتی کے بغیر یہ حدیث بخاری و مسلم کی نکالی ہوئی بھی ہے اور زیادتی ابن مردویہ نے نقل کی ہے، قیامت کے دن اعمال نامے رکھے جائیں گے اور سارے اعمال ظاہر ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی جائے گی۔ اللہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ نہ وہ کسی چیز سے غافل ہے۔ آنکھوں کی خیانت سے سینوں کی چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا ہے۔ ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے۔ زمین کی اندھیریوں میں جو دانہ ہوتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے۔ تر و خشک چیز اس کے پاس کھلی کتاب میں موجود ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا﴾ أَيْ: بِمُخَالَفَةِ رُسُلِنَا وَتَكْذِيبِهِمْ، فَأَعْقَبَهُمْ ذَلِكَ خِزْيُ الدُّنْيَا مَوْصُولًا بذُلِّ الْآخِرَةِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ﴾ [الْأَنْعَامِ: ١٠] . وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَكَأَيِّنْ [[في أ: "وكأين".]] مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَشِيدٍ﴾ [الحج: ٤٥] .
وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَا فَتِلْكَ مَسَاكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِنْ بَعْدِهِمْ إِلا قَلِيلا وَكُنَّا نَحْنُ الْوَارِثِينَ﴾ [الْقَصَصِ: ٥٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَجَاءَهَا بَأْسُنَا بَيَاتًا أَوْ هُمْ قَائِلُونَ﴾ أَيْ: فَكَانَ مِنْهُمْ مَنْ جَاءَهُ أَمْرُ اللَّهِ وَبَأْسُهُ وَنِقْمَتُهُ ﴿بَيَاتًا﴾ أَيْ: لَيْلًا ﴿أَوْ هُمْ قَائِلُونَ﴾ مِنَ الْقَيْلُولَةِ، وَهِيَ: الِاسْتِرَاحَةُ وَسَطَ النَّهَارِ. وَكِلَا الْوَقْتَيْنِ وَقْتُ غَفْلة ولَهْو [[في ك: "لهو وغفلة".]] كَمَا قَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] ﴿أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُون * أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٩٧، ٩٨] . وَقَالَ: ﴿أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الأرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ * أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِين * أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾ [النَّحْلِ: ٤٥-٤٧] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا إِلا أَنْ قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ أَيْ: فَمَا كَانَ قَوْلُهُمْ عِنْدَ مَجِيءِ الْعَذَابِ إِلَّا أَنِ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ، وَأَنَّهُمْ حَقِيقُونَ بِهَذَا. كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً [وَأَنْشَأَْ بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ * فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا إِذَا هُمْ مِنْهَا يَرْكُضُونَ * لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَى مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ. قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ * فَمَا زَالَتْ تِلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّى جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا] خَامِدِين﴾ [[زيادة من ك، د، أ، وفي هـ "إلى قوله".]] [الْأَنْبِيَاءِ: ١١-١٥] .
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: فِي هَذِهِ الْآيَةِ الدَّلَالَةُ الْوَاضِحَةُ عَلَى صِحَّةِ مَا جَاءَتْ بِهِ الرِّوَايَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنْ قَوْلِهِ: "مَا هَلَكَ قَوْمٌ حَتَّى يُعْذِروا مِنْ أَنْفُسِهِمْ"، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ ابْنُ حُمَيْد، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي سِنان، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرة الزَّرَّادِ قَالَ: قَالَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَا هَلَكَ قَوْمٌ حَتَّى يُعْذِروا مِنْ أَنْفُسِهِمْ". قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ: كَيْفَ يَكُونُ ذَاكَ؟ قَالَ: فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا إِلا أَنْ قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ [[تفسير الطبري (١٢/٣٠٤) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ﴾ الْآيَةَ، كَقَوْلِهِ [تَعَالَى] [[زيادة من ك، م، أ.]] ﴿وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِينَ﴾ [الْقَصَصِ: ٦٥] وَقَوْلِهِ: ﴿يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ﴾ [الْمَائِدَةِ: ١٠٩] فالرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَسْأَلُ الْأُمَمَ عَمَّا أَجَابُوا رُسُلَهُ فِيمَا أَرْسَلَهُمْ بِهِ، وَيَسْأَلُ الرُّسُلَ أَيْضًا عَنْ إِبْلَاغِ [[في ك، م: "بلاغ".]] رِسَالَاتِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ﴾ قَالَ: يَسْأَلُ اللَّهُ النَّاسَ عَمَّا أَجَابُوا الْمُرْسَلِينَ، وَيَسْأَلُ الْمُرْسَلِينَ عَمَّا بَلَّغُوا.
وَقَالَ ابْنُ مَرْدُويه: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الكنْدي، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ لَيْث، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فالإمام يُسْأل عن الرجل [[في ك: "عن رعيته".]] وَالرَّجُلُ يُسْأَلُ عَنْ أَهْلِهِ [[في أ: "أهل بيته".]] وَالْمَرْأَةُ تُسْأَلُ عَنْ بَيْتِ زَوْجِهَا، وَالْعَبْدُ يُسْأَلُ عَنْ مَالِ سَيِّدِهِ". قَالَ اللَّيْثُ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، مِثْلَهُ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ﴾ [[وفي إسناده عبد الرحمن بن محمد المحاربي، قال ابن معين: يروى المناكير عن المجهولين، ولكن روي من وجه آخر عن نافع عن ابن عمر وفي الصحيحين.]] .
وَهَذَا الْحَدِيثُ مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ بِدُونِ هَذِهِ الزِّيَادَةِ [[صحيح البخاري برقم (٥١٨٨) وصحيح مسلم برقم (١٨٢٩) .]]
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ﴿فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِمْ بِعِلْمٍ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ﴾ يُوضَعُ الْكِتَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ، ﴿وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ﴾ يَعْنِي: أَنَّهُ تَعَالَى يُخْبِرُ عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِمَا قَالُوا وَبِمَا عَمِلُوا، مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَجَلِيلٍ وحَقِير؛ لِأَنَّهُ تَعَالَى شَهِيدٌ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، لَا يَغِيبُ عَنْهُ شَيْءٌ، وَلَا يَغْفَلُ عَنْ شَيْءٍ، بَلْ هُوَ الْعَالِمُ بِخَائِنَةِ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ، ﴿وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلا يَعْلَمُهَا وَلا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الأرْضِ وَلا رَطْبٍ وَلا يَابِسٍ إِلا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ﴾ [الْأَنْعَامِ: ٥٩] .
فَلَنَسْـَٔلَنَّ ٱلَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْـَٔلَنَّ ٱلْمُرْسَلِينَ
Then We will surely question those to whom [a message] was sent, and We will surely question the messengers.
تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے بھی پرسش کریں گے اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے
به یقین، (هم) از کسانی که پیامبران به سوی آنها فرستاده شدند سؤال خواهیم کرد؛ (و هم) از پیامبران سؤال میکنیم!
Tafsir Ibn Kathir
And a great number of towns We destroyed. Our torment came upon them by night or while they were taking their midday nap (4)No cry did they utter when Our torment came upon them but this: "Verily, we were wrongdoers. (5)Then surely, We shall question those (people) to whom it was sent and verily, We shall question the Messengers (6)Then surely, We shall narrate unto them (their whole story) with knowledge, and indeed We have not been absent (7)
Nations that were destroyed
Allah said,
وَكَم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا
(And a great number of towns We destroyed.) for defying Our Messengers and rejecting them. This behavior led them to earn disgrace in this life, which led them to disgrace in the Hereafter. Allah said in other Ayat,
وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
(And indeed (many) Messengers before you were mocked at, but their scoffers were surrounded by the very thing that they used to mock at)[6:10], and
فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ
(And many a township did We destroy while they were given to wrongdoing, so that it lie in ruins (up to this day), and (many) a deserted well and lofty castle!)[22:45], and,
وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَا فَتِلْكَ مَسَاكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَن مِّن بَعْدِهِمْ إِلَّا قَلِيلًا وَكُنَّا نَحْنُ الْوَارِثِينَ
(And how many a town have We destroyed, which was thankless for its means of livelihood And those are their dwellings, which have not been inhabited after them except a little. And verily, We have been the heirs)[28:58]. Allah's saying,
فَجَاءَهَا بَأْسُنَا بَيَاتًا أَوْ هُمْ قَائِلُونَ
(Our torment came upon them by night or while they were taking their midday nap.) means, Allah's command, torment and vengeance came over them at night or while taking a nap in the middle of the day. Both of these times are periods of rest and leisure or heedlessness and amusement. Allah also said
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ - أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ
(Did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment by night while they were asleep? Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing?)[7:97-98] and,
أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَىٰ تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(Do then those who devise evil plots feel secure that Allah will not sink them into the earth, or that the torment will not seize them from directions they perceive not? Or that He may catch them in the midst of their going to and from, so that there be no escape for them? Or that He may catch them with gradual wastage. Truly, Your Lord is indeed full of kindness, Most Merciful?)[16:45-47]. Allah's saying;
فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا إِلَّا أَن قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
(No cry did they utter when Our torment came upon them but this: "Verily, we were wrongdoers.")
This means, when the torment came to them, their cry was that they admitted their sins and that they deserved to be punished. Allah said in a similar Ayah,
وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً
(How many a town given to wrongdoing, have We destroyed)[21:11], until,
خَامِدِينَ
(Extinct)[21:15]. Allah's saying.
فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ
(Then surely, We shall question those (people) to whom it (the Book) was sent) is similar to the Ayat,
وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِينَ
(And (remember) the Day (Allah) will call them, and say: "What answer gave you to the Messengers?")[28:65], and,
يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ
(On the Day when Allah will gather the Messengers together and say to them: "What was the response you received?" They will say: "We have no knowledge, verily, only You are the Knower of all that is unseen.")[5:109].
Allah will question the nations, on the Day of Resurrection, how they responded to His Messengers and the Messages He sent them with. He will also question the Messengers if they conveyed His Messages. So, 'Ali bin Abi Talhah reported from Ibn 'Abbas, who said commenting on the Ayah:
فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ
(Then surely, We shall question those (people) to whom it (the Book) was sent and verily, We shall question the Messengers.) He said; "About what they conveyed." Ibn 'Abbas commented on Allah's statement,
فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِم بِعِلْمٍ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ
(Then surely, We shall narrate unto them (their whole story) with knowledge, and indeed We have not been absent.) "The Book will be brought forth on the Day of Resurrection and it will speak, disclosing what they used to do."
وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ
(and indeed We have not been absent) meaning, On the Day of Resurrection, Allah will inform His servants about what they said and did, whether substantial or minor. Certainly, He witnesses to everything, nothing escapes His observation, and He is never unaware of anything. Rather, He has perfect knowledge of what the eyes are deluded by and what the hearts conceal,
وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ
(Not a leaf falls, but He knows it. There is not a grain in the darkness of the earth nor anything fresh or dry, but is written in a Clear Record.)[6:59]
Tafsir Ibn Kathir
سابقہ باغیوں کی بستیوں کے کھنڈرات باعث عبرت ہیں ان لوگوں کو جو ہمارے رسولوں کی مخالفت کرتے تھے انہیں جھٹلاتے تھے تم سے پہلے ہم ہلاک کرچکے ہیں۔ دنیا اور آخرت کی ذلت ان پر برس پڑی، جیسے فرمان ہے تجھ سے اگلے رسولوں سے بھی مذاق کیا گیا، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ مذاق نے انہیں تہو بالا کردیا، ایک اور آیت میں ہے، بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے غارت کردیا جو اب تک الٹی پڑی ہیں اور جگہ ارشاد ہے بہت سے اتراتے ہوئے لوگوں کے شہر ہم نے ویران کردیئے دیکھ لو کہ اب تک ان کے کھنڈرات تمہارے سامنے ہیں جو بہت کم آباد ہوئے۔ حقیقتاً وارث ومالک ہم ہی ہیں ایسے ظالموں کے پاس ہمارے عذاب اچانک آگئے اور وہ اپنی غفلتوں اور عیاشیوں میں مشغول تھے کہیں دن کو دوپہر کے آرام کے وقت، کہیں رات کے سونے کے وقت، چناچہ ایک آیت میں ہے (افامن اھل القری ان یاتیھم باسنا بیاتا وھم نائمون اوامن اھل القری ان یاتیھم باسنا ضحی وھم یلعبون) یعنی لوگ اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان کے سوتے ہوئے راتوں رات اچانک ہمارا عذاب آجائے ؟ یا انہیں ڈر نہیں کہ دن دیہاڑے دوپہر کو ان کے آرام کے وقت ان پر ہمارا عذاب آجائیں ؟ اور آیت میں ہے کہ مکاریوں کی وجہ سے ہماری نافرمانیاں کرنے والے اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے ؟ یا ان کے پاس عذاب الٰہی اس طرح آجائے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے یا اللہ انہیں ان کی بیخبر ی میں آرام کی گھڑیوں میں ہی پکڑ لے کوئی نہیں جو اللہ کو عاجز کرسکے، یہ تو رب کی رحمت ورافت ہے جو گنہگار زمین پر چلتے پھرتے ہیں، عذاب رب آجانے کے بعد تو یہ خود اپنی زبانوں سے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیں گے لیکن اس وقت کیا نفع ؟ اسی مضمون کو آیت (وکم قصمنا) میں بیان فرمایا ہے ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ بندوں کے عذر ختم نہیں کردیتا انہیں عذاب نہیں کرتا، عبدالملک سے جب یہ حدیث میں آیا ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ بندوں کے عذر ختم نہیں کردیتا انہیں عذاب نہیں کرتا تو آپ نے یہ آیت (فما کان دعوھم) الخ، پڑھ سنائی پھر فرمایا امتوں سے بھی، ان کے رسولوں سے بھی یعنی سب سے قیامت کے دن سوال ہوگا، جیسے فرمان ہے (وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ 65) 28۔ القصص) یعنی اس دن ندا کی جائے گی اور دریافت کیا جائے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا ؟ اس آیت میں امتوں سے سوال کیا جانا بیان کیا گیا ہے اور آیت میں ہے (يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ ۭ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا ۭاِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ 109) 5۔ المآئدہ) ، رسولوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا ؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں غیب کا جاننے والا تو ہی ہے پس امت سے رسولوں کی قبولیت کی بابت اور رسولوں سے تبلیغ کی بابت قیامت کے دن سوال ہوگا، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے ہر ایک با اختیار ہے اور اپنے زیر اختیار لوگوں کی بابت اس سے سوال کیا جانے والا ہے۔ بادشاہ سے اسکی رعایا کا ہر آدمی سے اس کی اہل و عیال کا، ہر عورت سے اس کے خاوند کے گھر کا، ہر غلام سے اس کے آقا کے مال کا سوال ہوگا۔ راوی حدیث حضرت طاؤس نے اس حدیث کو بیان فرما کر پھر آیت کی تلاوت کی۔ اس زیادتی کے بغیر یہ حدیث بخاری و مسلم کی نکالی ہوئی بھی ہے اور زیادتی ابن مردویہ نے نقل کی ہے، قیامت کے دن اعمال نامے رکھے جائیں گے اور سارے اعمال ظاہر ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی جائے گی۔ اللہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ نہ وہ کسی چیز سے غافل ہے۔ آنکھوں کی خیانت سے سینوں کی چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا ہے۔ ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے۔ زمین کی اندھیریوں میں جو دانہ ہوتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے۔ تر و خشک چیز اس کے پاس کھلی کتاب میں موجود ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا﴾ أَيْ: بِمُخَالَفَةِ رُسُلِنَا وَتَكْذِيبِهِمْ، فَأَعْقَبَهُمْ ذَلِكَ خِزْيُ الدُّنْيَا مَوْصُولًا بذُلِّ الْآخِرَةِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ﴾ [الْأَنْعَامِ: ١٠] . وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَكَأَيِّنْ [[في أ: "وكأين".]] مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَشِيدٍ﴾ [الحج: ٤٥] .
وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَا فَتِلْكَ مَسَاكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِنْ بَعْدِهِمْ إِلا قَلِيلا وَكُنَّا نَحْنُ الْوَارِثِينَ﴾ [الْقَصَصِ: ٥٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَجَاءَهَا بَأْسُنَا بَيَاتًا أَوْ هُمْ قَائِلُونَ﴾ أَيْ: فَكَانَ مِنْهُمْ مَنْ جَاءَهُ أَمْرُ اللَّهِ وَبَأْسُهُ وَنِقْمَتُهُ ﴿بَيَاتًا﴾ أَيْ: لَيْلًا ﴿أَوْ هُمْ قَائِلُونَ﴾ مِنَ الْقَيْلُولَةِ، وَهِيَ: الِاسْتِرَاحَةُ وَسَطَ النَّهَارِ. وَكِلَا الْوَقْتَيْنِ وَقْتُ غَفْلة ولَهْو [[في ك: "لهو وغفلة".]] كَمَا قَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] ﴿أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُون * أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٩٧، ٩٨] . وَقَالَ: ﴿أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الأرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ * أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِين * أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾ [النَّحْلِ: ٤٥-٤٧] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا إِلا أَنْ قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ أَيْ: فَمَا كَانَ قَوْلُهُمْ عِنْدَ مَجِيءِ الْعَذَابِ إِلَّا أَنِ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ، وَأَنَّهُمْ حَقِيقُونَ بِهَذَا. كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً [وَأَنْشَأَْ بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ * فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا إِذَا هُمْ مِنْهَا يَرْكُضُونَ * لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَى مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ. قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ * فَمَا زَالَتْ تِلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّى جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا] خَامِدِين﴾ [[زيادة من ك، د، أ، وفي هـ "إلى قوله".]] [الْأَنْبِيَاءِ: ١١-١٥] .
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: فِي هَذِهِ الْآيَةِ الدَّلَالَةُ الْوَاضِحَةُ عَلَى صِحَّةِ مَا جَاءَتْ بِهِ الرِّوَايَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنْ قَوْلِهِ: "مَا هَلَكَ قَوْمٌ حَتَّى يُعْذِروا مِنْ أَنْفُسِهِمْ"، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ ابْنُ حُمَيْد، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي سِنان، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرة الزَّرَّادِ قَالَ: قَالَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَا هَلَكَ قَوْمٌ حَتَّى يُعْذِروا مِنْ أَنْفُسِهِمْ". قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ: كَيْفَ يَكُونُ ذَاكَ؟ قَالَ: فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا إِلا أَنْ قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ [[تفسير الطبري (١٢/٣٠٤) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ﴾ الْآيَةَ، كَقَوْلِهِ [تَعَالَى] [[زيادة من ك، م، أ.]] ﴿وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِينَ﴾ [الْقَصَصِ: ٦٥] وَقَوْلِهِ: ﴿يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ﴾ [الْمَائِدَةِ: ١٠٩] فالرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَسْأَلُ الْأُمَمَ عَمَّا أَجَابُوا رُسُلَهُ فِيمَا أَرْسَلَهُمْ بِهِ، وَيَسْأَلُ الرُّسُلَ أَيْضًا عَنْ إِبْلَاغِ [[في ك، م: "بلاغ".]] رِسَالَاتِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ﴾ قَالَ: يَسْأَلُ اللَّهُ النَّاسَ عَمَّا أَجَابُوا الْمُرْسَلِينَ، وَيَسْأَلُ الْمُرْسَلِينَ عَمَّا بَلَّغُوا.
وَقَالَ ابْنُ مَرْدُويه: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الكنْدي، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ لَيْث، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فالإمام يُسْأل عن الرجل [[في ك: "عن رعيته".]] وَالرَّجُلُ يُسْأَلُ عَنْ أَهْلِهِ [[في أ: "أهل بيته".]] وَالْمَرْأَةُ تُسْأَلُ عَنْ بَيْتِ زَوْجِهَا، وَالْعَبْدُ يُسْأَلُ عَنْ مَالِ سَيِّدِهِ". قَالَ اللَّيْثُ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، مِثْلَهُ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ﴾ [[وفي إسناده عبد الرحمن بن محمد المحاربي، قال ابن معين: يروى المناكير عن المجهولين، ولكن روي من وجه آخر عن نافع عن ابن عمر وفي الصحيحين.]] .
وَهَذَا الْحَدِيثُ مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ بِدُونِ هَذِهِ الزِّيَادَةِ [[صحيح البخاري برقم (٥١٨٨) وصحيح مسلم برقم (١٨٢٩) .]]
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ﴿فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِمْ بِعِلْمٍ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ﴾ يُوضَعُ الْكِتَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ، ﴿وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ﴾ يَعْنِي: أَنَّهُ تَعَالَى يُخْبِرُ عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِمَا قَالُوا وَبِمَا عَمِلُوا، مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَجَلِيلٍ وحَقِير؛ لِأَنَّهُ تَعَالَى شَهِيدٌ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، لَا يَغِيبُ عَنْهُ شَيْءٌ، وَلَا يَغْفَلُ عَنْ شَيْءٍ، بَلْ هُوَ الْعَالِمُ بِخَائِنَةِ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ، ﴿وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلا يَعْلَمُهَا وَلا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الأرْضِ وَلا رَطْبٍ وَلا يَابِسٍ إِلا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ﴾ [الْأَنْعَامِ: ٥٩] .
فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِم بِعِلْمٍۢ ۖ وَمَا كُنَّا غَآئِبِينَ
Then We will surely relate [their deeds] to them with knowledge, and We were not [at all] absent.
پھر اپنے علم سے ان کے حالات بیان کریں گے اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے
و مسلماً (اعمالشان را) با علم (خود) برای آنان شرح خواهیم داد؛ و ما هرگز غایب نبودیم (بلکه همه جا حاضر و ناظر اعمال بندگان هستیم)!
Tafsir Ibn Kathir
And a great number of towns We destroyed. Our torment came upon them by night or while they were taking their midday nap (4)No cry did they utter when Our torment came upon them but this: "Verily, we were wrongdoers. (5)Then surely, We shall question those (people) to whom it was sent and verily, We shall question the Messengers (6)Then surely, We shall narrate unto them (their whole story) with knowledge, and indeed We have not been absent (7)
Nations that were destroyed
Allah said,
وَكَم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا
(And a great number of towns We destroyed.) for defying Our Messengers and rejecting them. This behavior led them to earn disgrace in this life, which led them to disgrace in the Hereafter. Allah said in other Ayat,
وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
(And indeed (many) Messengers before you were mocked at, but their scoffers were surrounded by the very thing that they used to mock at)[6:10], and
فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ
(And many a township did We destroy while they were given to wrongdoing, so that it lie in ruins (up to this day), and (many) a deserted well and lofty castle!)[22:45], and,
وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَا فَتِلْكَ مَسَاكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَن مِّن بَعْدِهِمْ إِلَّا قَلِيلًا وَكُنَّا نَحْنُ الْوَارِثِينَ
(And how many a town have We destroyed, which was thankless for its means of livelihood And those are their dwellings, which have not been inhabited after them except a little. And verily, We have been the heirs)[28:58]. Allah's saying,
فَجَاءَهَا بَأْسُنَا بَيَاتًا أَوْ هُمْ قَائِلُونَ
(Our torment came upon them by night or while they were taking their midday nap.) means, Allah's command, torment and vengeance came over them at night or while taking a nap in the middle of the day. Both of these times are periods of rest and leisure or heedlessness and amusement. Allah also said
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ - أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ
(Did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment by night while they were asleep? Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing?)[7:97-98] and,
أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَىٰ تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(Do then those who devise evil plots feel secure that Allah will not sink them into the earth, or that the torment will not seize them from directions they perceive not? Or that He may catch them in the midst of their going to and from, so that there be no escape for them? Or that He may catch them with gradual wastage. Truly, Your Lord is indeed full of kindness, Most Merciful?)[16:45-47]. Allah's saying;
فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا إِلَّا أَن قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
(No cry did they utter when Our torment came upon them but this: "Verily, we were wrongdoers.")
This means, when the torment came to them, their cry was that they admitted their sins and that they deserved to be punished. Allah said in a similar Ayah,
وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً
(How many a town given to wrongdoing, have We destroyed)[21:11], until,
خَامِدِينَ
(Extinct)[21:15]. Allah's saying.
فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ
(Then surely, We shall question those (people) to whom it (the Book) was sent) is similar to the Ayat,
وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِينَ
(And (remember) the Day (Allah) will call them, and say: "What answer gave you to the Messengers?")[28:65], and,
يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ
(On the Day when Allah will gather the Messengers together and say to them: "What was the response you received?" They will say: "We have no knowledge, verily, only You are the Knower of all that is unseen.")[5:109].
Allah will question the nations, on the Day of Resurrection, how they responded to His Messengers and the Messages He sent them with. He will also question the Messengers if they conveyed His Messages. So, 'Ali bin Abi Talhah reported from Ibn 'Abbas, who said commenting on the Ayah:
فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ
(Then surely, We shall question those (people) to whom it (the Book) was sent and verily, We shall question the Messengers.) He said; "About what they conveyed." Ibn 'Abbas commented on Allah's statement,
فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِم بِعِلْمٍ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ
(Then surely, We shall narrate unto them (their whole story) with knowledge, and indeed We have not been absent.) "The Book will be brought forth on the Day of Resurrection and it will speak, disclosing what they used to do."
وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ
(and indeed We have not been absent) meaning, On the Day of Resurrection, Allah will inform His servants about what they said and did, whether substantial or minor. Certainly, He witnesses to everything, nothing escapes His observation, and He is never unaware of anything. Rather, He has perfect knowledge of what the eyes are deluded by and what the hearts conceal,
وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ
(Not a leaf falls, but He knows it. There is not a grain in the darkness of the earth nor anything fresh or dry, but is written in a Clear Record.)[6:59]
Tafsir Ibn Kathir
سابقہ باغیوں کی بستیوں کے کھنڈرات باعث عبرت ہیں ان لوگوں کو جو ہمارے رسولوں کی مخالفت کرتے تھے انہیں جھٹلاتے تھے تم سے پہلے ہم ہلاک کرچکے ہیں۔ دنیا اور آخرت کی ذلت ان پر برس پڑی، جیسے فرمان ہے تجھ سے اگلے رسولوں سے بھی مذاق کیا گیا، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ مذاق نے انہیں تہو بالا کردیا، ایک اور آیت میں ہے، بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے غارت کردیا جو اب تک الٹی پڑی ہیں اور جگہ ارشاد ہے بہت سے اتراتے ہوئے لوگوں کے شہر ہم نے ویران کردیئے دیکھ لو کہ اب تک ان کے کھنڈرات تمہارے سامنے ہیں جو بہت کم آباد ہوئے۔ حقیقتاً وارث ومالک ہم ہی ہیں ایسے ظالموں کے پاس ہمارے عذاب اچانک آگئے اور وہ اپنی غفلتوں اور عیاشیوں میں مشغول تھے کہیں دن کو دوپہر کے آرام کے وقت، کہیں رات کے سونے کے وقت، چناچہ ایک آیت میں ہے (افامن اھل القری ان یاتیھم باسنا بیاتا وھم نائمون اوامن اھل القری ان یاتیھم باسنا ضحی وھم یلعبون) یعنی لوگ اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان کے سوتے ہوئے راتوں رات اچانک ہمارا عذاب آجائے ؟ یا انہیں ڈر نہیں کہ دن دیہاڑے دوپہر کو ان کے آرام کے وقت ان پر ہمارا عذاب آجائیں ؟ اور آیت میں ہے کہ مکاریوں کی وجہ سے ہماری نافرمانیاں کرنے والے اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے ؟ یا ان کے پاس عذاب الٰہی اس طرح آجائے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے یا اللہ انہیں ان کی بیخبر ی میں آرام کی گھڑیوں میں ہی پکڑ لے کوئی نہیں جو اللہ کو عاجز کرسکے، یہ تو رب کی رحمت ورافت ہے جو گنہگار زمین پر چلتے پھرتے ہیں، عذاب رب آجانے کے بعد تو یہ خود اپنی زبانوں سے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیں گے لیکن اس وقت کیا نفع ؟ اسی مضمون کو آیت (وکم قصمنا) میں بیان فرمایا ہے ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ بندوں کے عذر ختم نہیں کردیتا انہیں عذاب نہیں کرتا، عبدالملک سے جب یہ حدیث میں آیا ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ بندوں کے عذر ختم نہیں کردیتا انہیں عذاب نہیں کرتا تو آپ نے یہ آیت (فما کان دعوھم) الخ، پڑھ سنائی پھر فرمایا امتوں سے بھی، ان کے رسولوں سے بھی یعنی سب سے قیامت کے دن سوال ہوگا، جیسے فرمان ہے (وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ 65) 28۔ القصص) یعنی اس دن ندا کی جائے گی اور دریافت کیا جائے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا ؟ اس آیت میں امتوں سے سوال کیا جانا بیان کیا گیا ہے اور آیت میں ہے (يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ ۭ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا ۭاِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ 109) 5۔ المآئدہ) ، رسولوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا ؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں غیب کا جاننے والا تو ہی ہے پس امت سے رسولوں کی قبولیت کی بابت اور رسولوں سے تبلیغ کی بابت قیامت کے دن سوال ہوگا، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے ہر ایک با اختیار ہے اور اپنے زیر اختیار لوگوں کی بابت اس سے سوال کیا جانے والا ہے۔ بادشاہ سے اسکی رعایا کا ہر آدمی سے اس کی اہل و عیال کا، ہر عورت سے اس کے خاوند کے گھر کا، ہر غلام سے اس کے آقا کے مال کا سوال ہوگا۔ راوی حدیث حضرت طاؤس نے اس حدیث کو بیان فرما کر پھر آیت کی تلاوت کی۔ اس زیادتی کے بغیر یہ حدیث بخاری و مسلم کی نکالی ہوئی بھی ہے اور زیادتی ابن مردویہ نے نقل کی ہے، قیامت کے دن اعمال نامے رکھے جائیں گے اور سارے اعمال ظاہر ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی جائے گی۔ اللہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ نہ وہ کسی چیز سے غافل ہے۔ آنکھوں کی خیانت سے سینوں کی چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا ہے۔ ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے۔ زمین کی اندھیریوں میں جو دانہ ہوتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے۔ تر و خشک چیز اس کے پاس کھلی کتاب میں موجود ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا﴾ أَيْ: بِمُخَالَفَةِ رُسُلِنَا وَتَكْذِيبِهِمْ، فَأَعْقَبَهُمْ ذَلِكَ خِزْيُ الدُّنْيَا مَوْصُولًا بذُلِّ الْآخِرَةِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ﴾ [الْأَنْعَامِ: ١٠] . وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَكَأَيِّنْ [[في أ: "وكأين".]] مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَشِيدٍ﴾ [الحج: ٤٥] .
وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَا فَتِلْكَ مَسَاكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِنْ بَعْدِهِمْ إِلا قَلِيلا وَكُنَّا نَحْنُ الْوَارِثِينَ﴾ [الْقَصَصِ: ٥٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَجَاءَهَا بَأْسُنَا بَيَاتًا أَوْ هُمْ قَائِلُونَ﴾ أَيْ: فَكَانَ مِنْهُمْ مَنْ جَاءَهُ أَمْرُ اللَّهِ وَبَأْسُهُ وَنِقْمَتُهُ ﴿بَيَاتًا﴾ أَيْ: لَيْلًا ﴿أَوْ هُمْ قَائِلُونَ﴾ مِنَ الْقَيْلُولَةِ، وَهِيَ: الِاسْتِرَاحَةُ وَسَطَ النَّهَارِ. وَكِلَا الْوَقْتَيْنِ وَقْتُ غَفْلة ولَهْو [[في ك: "لهو وغفلة".]] كَمَا قَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] ﴿أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُون * أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٩٧، ٩٨] . وَقَالَ: ﴿أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الأرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ * أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِين * أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾ [النَّحْلِ: ٤٥-٤٧] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا إِلا أَنْ قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ أَيْ: فَمَا كَانَ قَوْلُهُمْ عِنْدَ مَجِيءِ الْعَذَابِ إِلَّا أَنِ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ، وَأَنَّهُمْ حَقِيقُونَ بِهَذَا. كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً [وَأَنْشَأَْ بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ * فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا إِذَا هُمْ مِنْهَا يَرْكُضُونَ * لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَى مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ. قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ * فَمَا زَالَتْ تِلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّى جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا] خَامِدِين﴾ [[زيادة من ك، د، أ، وفي هـ "إلى قوله".]] [الْأَنْبِيَاءِ: ١١-١٥] .
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: فِي هَذِهِ الْآيَةِ الدَّلَالَةُ الْوَاضِحَةُ عَلَى صِحَّةِ مَا جَاءَتْ بِهِ الرِّوَايَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنْ قَوْلِهِ: "مَا هَلَكَ قَوْمٌ حَتَّى يُعْذِروا مِنْ أَنْفُسِهِمْ"، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ ابْنُ حُمَيْد، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي سِنان، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرة الزَّرَّادِ قَالَ: قَالَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَا هَلَكَ قَوْمٌ حَتَّى يُعْذِروا مِنْ أَنْفُسِهِمْ". قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ: كَيْفَ يَكُونُ ذَاكَ؟ قَالَ: فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا إِلا أَنْ قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ [[تفسير الطبري (١٢/٣٠٤) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ﴾ الْآيَةَ، كَقَوْلِهِ [تَعَالَى] [[زيادة من ك، م، أ.]] ﴿وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِينَ﴾ [الْقَصَصِ: ٦٥] وَقَوْلِهِ: ﴿يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ﴾ [الْمَائِدَةِ: ١٠٩] فالرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَسْأَلُ الْأُمَمَ عَمَّا أَجَابُوا رُسُلَهُ فِيمَا أَرْسَلَهُمْ بِهِ، وَيَسْأَلُ الرُّسُلَ أَيْضًا عَنْ إِبْلَاغِ [[في ك، م: "بلاغ".]] رِسَالَاتِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ﴾ قَالَ: يَسْأَلُ اللَّهُ النَّاسَ عَمَّا أَجَابُوا الْمُرْسَلِينَ، وَيَسْأَلُ الْمُرْسَلِينَ عَمَّا بَلَّغُوا.
وَقَالَ ابْنُ مَرْدُويه: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الكنْدي، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ لَيْث، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فالإمام يُسْأل عن الرجل [[في ك: "عن رعيته".]] وَالرَّجُلُ يُسْأَلُ عَنْ أَهْلِهِ [[في أ: "أهل بيته".]] وَالْمَرْأَةُ تُسْأَلُ عَنْ بَيْتِ زَوْجِهَا، وَالْعَبْدُ يُسْأَلُ عَنْ مَالِ سَيِّدِهِ". قَالَ اللَّيْثُ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، مِثْلَهُ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ﴾ [[وفي إسناده عبد الرحمن بن محمد المحاربي، قال ابن معين: يروى المناكير عن المجهولين، ولكن روي من وجه آخر عن نافع عن ابن عمر وفي الصحيحين.]] .
وَهَذَا الْحَدِيثُ مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ بِدُونِ هَذِهِ الزِّيَادَةِ [[صحيح البخاري برقم (٥١٨٨) وصحيح مسلم برقم (١٨٢٩) .]]
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ﴿فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِمْ بِعِلْمٍ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ﴾ يُوضَعُ الْكِتَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ، ﴿وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ﴾ يَعْنِي: أَنَّهُ تَعَالَى يُخْبِرُ عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِمَا قَالُوا وَبِمَا عَمِلُوا، مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَجَلِيلٍ وحَقِير؛ لِأَنَّهُ تَعَالَى شَهِيدٌ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، لَا يَغِيبُ عَنْهُ شَيْءٌ، وَلَا يَغْفَلُ عَنْ شَيْءٍ، بَلْ هُوَ الْعَالِمُ بِخَائِنَةِ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ، ﴿وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلا يَعْلَمُهَا وَلا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الأرْضِ وَلا رَطْبٍ وَلا يَابِسٍ إِلا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ﴾ [الْأَنْعَامِ: ٥٩] .
وَٱلْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ ٱلْحَقُّ ۚ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ
And the weighing [of deeds] that Day will be the truth. So those whose scales are heavy - it is they who will be the successful.
اور اس روز (اعمال کا) تلنا برحق ہے تو جن لوگوں کے (عملوں کے) وزن بھاری ہوں گے وہ تو نجات پانے والے ہیں
وزن کردن (اعمال، و سنجش ارزش آنها) در آن روز، حقّ است! کسانی که میزانهای (عمل) آنها سنگین است، همان رستگارانند!
Tafsir Ibn Kathir
And the weighing on that Day will be the true (weighing). So, as for those whose scale (of good deeds) will be heavy, they will be the successful (by entering Paradise)(8)And as for those whose scale will be light, they are those who will lose themselves for their wrongful behavior with Our Ayat (9)
The Meaning of weighing the Deeds
Allah said,
وَالْوَزْنُ
(And the weighing), of deeds on the Day of Resurrection,
الْحَقُّ
(will be the true (weighing)), for Allah will not wrong anyone. Allah said in other Ayat,
وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ
(And We shall set up the Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything. And if there be the weight of a mustard seed, We will bring it. And Sufficient are We to take account.)[21:47],
إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا
(Surely, Allah wrongs not even the weight of a speck of dust, but if there is any good (done), He doubles it, and gives from Him a great reward.)[4:40],
فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ - فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ - وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ - فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ - وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ - نَارٌ حَامِيَةٌ
(Then as for him whose scale (of good deeds) will be heavy. He will live a pleasant life (in Paradise). But as for him whose scale (of good deeds) will be light. He will have his home in Hawiyah (pit, Hell). And what will make you know what it is? (It is) a fiercely blazing Fire!)[101:6-11] and,
فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ - فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ - وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ
(Then, when the Trumpet is blown, there will be no kinship among them that Day, nor will they ask of one another. Then, those whose scales (of good deeds) are heavy, they are the successful. And those whose scales (of good deeds) are light, they are those who lose themselves, in Hell will they abide)[23:101-103].
As for what will be placed on the Balance on the Day of Resurrection, it has been said that the deeds will be placed on it, even though they are not material objects. Allah will give these deeds physical weight on the Day of Resurrection. Al-Baghawi said that this was reported from Ibn 'Abbas. It is recorded in the Sahih that Al-Baqarah (chapter 2) and Āl-'Imrān (chapter 3) will come on the Day of Resurrection in the shape of two clouds, or two objects that provide shade, or two lined groups of birds. It is also recorded in the Sahih that the Qur'an will come to its companion (who used to recite and preserve it) in the shape of a pale-faced young man. He will ask (the young man), "Who are you?" He will reply, "I am the Qur'an, who made you stay up sleeplessly at night and caused you thirst in the day. " The Hadith that Al-Bara' narrated about the questioning in the grave states,
فَيَأْتِي الْمُؤْمِنَ شَابٌّ حَسَنُ اللَّوْنِ طَيِّبُ الرِّيحِ فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ
(A young man with fair color and good scent will come to the believer, who will ask, 'Who are you?' He will reply, 'I am your good deeds').
The Prophet ﷺ mentioned the opposite in the case of the disbeliever and the hypocrite.
It was also said that the Book of Records that contains the deeds will be weighed. A Hadith states that a man will be brought forth and ninety-nine scrolls containing errors and sins will be placed on one side of the balance each as long as the sight can reach. He will then be brought a card on which 'La ilaha illallah' will be written. He will say, "O Lord! What would this card weigh against these scrolls?" Allah will say, "You will not be wronged." So the card will be placed on the other side of the Balance, and as the Messenger of Allah ﷺ said,
فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ
(Behold! The (ninety-nine) scrolls will go up, as the card becomes heavier.)
At-Tirmidhi recorded similar wording for this Hadith and said that it is authentic. It was also said that the person who performed the deed will be weighed. A Hadith states,
يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالرَّجُلِ السَّمِينِ فَلَا يَزِنُ عِنْدَ اللهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ
(On the Day of Resurrection, a fat man will be brought forth, but he will not weigh with Allah equal to the wing of a mosquito). He then recited the Ayah,
فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا
(And on the Day of Resurrection, We shall assign no weight for them)[18:105]. Also, the Prophet ﷺ said about 'Abdullah bin Mas'ud,
أَتَعْجَبُونَ مِنْ دِقَّةِ سَاقَيْهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُمَا فِي الْمِيزَانِ أَثْقَلُ مِنْ أُحُدٍ
(Do you wonder at the thinness of his legs? By He in Whose Hand is my soul! They are heavier on the Balance than (Mount) Uhud.)
It is also possible to combine the meanings of these Ayat and Hadiths by stating that all this will truly occur, for sometimes the deeds will be weighed, sometimes the scrolls where they are recorded will be weighed, and sometimes those who performed the deeds will be weighed. Allah knows best.
Tafsir Ibn Kathir
میزان اور اعمال کا دین قیامت کے دن نیکی بدی انصاف و عدل کے ساتھ تولی جانے کی، اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت (ونضع الموازین القسط لیوم القیامتہ) الخ، قیامت کے دن ہم عدل کی ترازو رکھیں گے، کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا، رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب لینے میں کافی ہیں اور آیت میں ہے " اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، وہ نیکی کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ سورة قارعہ میں فرمایا جس کا نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگیا اسے عیش و نشاط کی زندگی ملی اور جس کا نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوگیا اس کا ٹھکانا (ہاویہ) ہے جو بھڑکتی ہوئی آگ کے خزانے کا نام ہے اور آیت میں ہے (فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ 101) 23۔ المؤمنون) یعنی نفحہ پھونک دیا جائے گا سارے رشتے ناتے اور نسب حسب ٹوٹ جائیں گے، کوئی کسی کا پر سان حال نہ ہوگا۔ اگر تول میں نیک اعمال بڑھ گئے تو فلاح پالی ورنہ خسارے کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔ فصل کوئی تو کہتا ہے کہ خود اعمال تو لے جائیں گے کوئی کہتا ہے نامہ اعمال تو لے جائیں گے۔ کوئی کہتا ہے خود عمل کرنے والے تو لے جائیں گے۔ ان تینوں قولوں کو اس طرح جمع کرنا بھی ممکن ہے کہ ہم کہیں یہ سب صحیح ہیں کبھی عمال تو لے جائیں گے کبھی نامہ اعمال کبھی خود اعمال کرنے والے واللہ اعلم۔ ان تینوں باتوں کی دلیلیں بھی موجود ہیں۔ پہلے قول کا مطلب یہ ہے کہ اعمال گو ایک بےجسم چیز ہیں لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں جسم عطا فرمائے گا جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے سورة بقرہ اور سورة آل عمران قیامت کے دن دو سائبانوں کی یا دو ابر کی یا پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے دو جھنڈ کی صورت میں آئیں گی اور حدیث میں ہے کہ قرآن اپنے قاری اور عامل کے پاس ایک نوجوان خوش شکل نورانی چہرے والے کی صورت میں آئے گا یہ اسے دیکھ کر پوچھے گا کہ تو کون ہے ؟ یہ کہے گا میں قرآن ہوں جو تجھے راتوں کی نیند نہیں سونے دیتا تھا اور دنوں میں پانی پینے سے روکتا تھا۔ حضرت براء والی حدیث میں جس میں قبر کے سوال جواب کا ذکر ہے اس میں یہ بھی فرمان ہے کہ مومن کے پاس ایک نوجوان خوبصورت خوشبودار آئے گا یہ اس سے پوچھے گا کہ تو کون ہے ؟ وہ جواب دے گا کہ میں تیرا نیک عمل ہوں اور کافر و منافق کے پاس اس کے برخلاف شخص کے آنے کا بیان ہے یہ تو تھیں پہلے قول کی دلیلیں۔ دوسرے قول کی دلیلیں یہ ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص کے سامنے اس کے گناہوں کے ننانوے دفتر پھیلائے جائیں گے جس میں سے ہر ایک اتنا بڑا ہوگا جتنا دور تک نظر پہنچے۔ پھر ایک پرچہ نیکی کا لایا جائے گا جس پر (لا الہ الا اللہ) ہوگا۔ یہ کہے گا یا اللہ یہ اتنا سا پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اس سے بےخطر رہ کہ تجھ پر ظلم کیا جائے، اب وہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلہ میں نیکی کے پلڑے میں رکھا جائے گا تو وہ سب دفتر اونچے ہوجائیں گے اور یہ سب سے زیادہ وزن دار اور بھاری ہوجائیں گے (ترمذی) تیسرا قول بھی دلیل رکھتا ہے حدیث میں ہے ایک بہت موٹا تازہ گنہگار انسان اللہ کے سامنے لایا جائے گا لیکن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی وزن اللہ کے پاس اس کا نہ ہوگا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَلِقَاۗىِٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا 105) 18۔ الكهف) ہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہ کریں گے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی تعریف میں جو حدیثیں ہیں ان میں ہے کہ حضور نے فرمایا ان کی پتلی پنڈلیوں پہ نہ جانا اللہ کی قسم اللہ کے نزدیک یہ احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزن دار ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يقول [تبارك و] [[زيادة من أ.]] تعالى: ﴿وَالْوَزْن﴾ أَيْ: لِلْأَعْمَالِ [[في ك: "الأعمال".]] يَوْمَ الْقِيَامَةِ ﴿الْحَق﴾ أَيْ: لَا يَظْلِمُ تَعَالَى أَحَدًا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ: ٤٧] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [النِّسَاءِ: ٤٠] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ * وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ * وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ * نَارٌ حَامِيَةٌ﴾ [الْقَارِعَةِ: ٦-١١] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلا يَتَسَاءَلُونَ * فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ * وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ﴾ [الْمُؤْمِنُونَ: ١٠١ -١٠٣] .
فَصْلٌ:
وَالَّذِي يُوضَعُ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ [[في ك: "يوم القيامة في الميزان".]] قِيلَ: الْأَعْمَالُ وَإِنْ كَانَتْ أَعْرَاضًا، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقْلِبُهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْسَامًا.
قَالَ الْبَغَوِيُّ: يُرْوَى هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[معالم التنزيل للبغوي (٣/٢١٥) .]] كَمَا جَاءَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَنَّ "الْبَقَرَةَ" وَ "آلَ عِمْرَانَ" يَأْتِيَانِ [[في أ: "تأتيان".]] يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ -أَوْ: غيَايَتان -أَوْ فِرْقَان مِنْ طَيْرٍ صَوَافّ. مِنْ ذَلِكَ فِي الصَّحِيحِ قِصَّةُ الْقُرْآنِ وَأَنَّهُ يَأْتِي صَاحِبَهُ فِي صُورَةِ شَابٍّ شَاحِبِ اللَّون، فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا الْقُرْآنُ الَّذِي أَسْهَرْتُ لَيْلَكَ وَأَظْمَأْتُ نَهَارَكَ [[ورواه أحمد في مسنده (٥/٣٤٨) وابن ماجه في السنن برقم (٣٧٨١) من طريق بشير بن المهاجر، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ بْنِ الْحُصَيْبِ، رضي الله عنه، مرفوعا]] وَفِي حَدِيثِ الْبَرَاءِ، فِي قِصَّةِ سُؤَالِ الْقَبْرِ: "فَيَأْتِي الْمُؤْمِنَ شابٌّ حَسَنُ اللَّوْنِ طَيِّبُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ" [[رواه أحمد في مسنده (٥/٢٨٧) .]] وَذَكَرَ عَكْسَهُ فِي شَأْنِ الْكَافِرِ وَالْمُنَافِقِ.
وَقِيلَ: يُوزَنُ كِتَابُ الْأَعْمَالِ، كَمَا جَاءَ فِي حَدِيثِ الْبِطَاقَةِ، فِي الرَّجُلِ الَّذِي يُؤْتَى بِهِ وَيُوضَعُ لَهُ فِي كِفَّة تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ سِجِلًّا كُلُّ سِجِلّ مَدّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يُؤْتَى بِتِلْكَ الْبِطَاقَةِ فِيهَا: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، وَمَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ؟ فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّكَ لَا تُظلَم. فَتُوضَعُ تِلْكَ الْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "فَطاشَت السِّجِلَّاتُ، وثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ".
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِنَحْوٍ مِنْ هَذَا [[سنن الترمذي برقم (٢٦٣٩) ورواه ابن ماجة في السنن برقم (٢٦٣٩) والحاكم في المستدرك (١/٥٢٩) مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص، وقال الحاكم: "صحيح الإسناد على شرطهما ولم يخرجاه" ووافقه الذهبي،]] وَصَحَّحَهُ.
وَقِيلَ: يُوزَنُ صَاحِبُ الْعَمَلِ، كَمَا فِي الْحَدِيثِ: "يُؤتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالرَّجُلِ السَّمِين، فَلَا يَزِن عِنْدَ اللَّهِ جَنَاح بَعُوضَة" [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٤٧٢٩) بنحوه من حديث أبي هريرة، رضي الله عنه.]] ثُمَّ قَرَأَ: ﴿فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا﴾ [الْكَهْفِ: ١٠٥] .
وَفِي مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَتَعْجَبُونَ مِنْ دِقَّة ساقَيْهِ، فَوَالَّذِي [[في د، م: "والذي".]] نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُمَا فِي الْمِيزَانِ أَثْقَلُ مِنْ أُحُدٍ" [[رواه أحمد في مسنده (١/٤٢٠) .]]
وَقَدْ يُمْكِنُ الْجَمْعُ بَيْنَ هَذِهِ الْآثَارِ بِأَنْ يَكُونَ ذَلِكَ كُلُّهُ صَحِيحًا، فَتَارَةً [[في ك: "وتارة".]] تُوزَنُ الْأَعْمَالُ، وَتَارَةً تُوزَنُ مَحَالُّهَا، وَتَارَةً يُوزَنُ فَاعِلُهَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَمَنْ خَفَّتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُم بِمَا كَانُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا يَظْلِمُونَ
And those whose scales are light - they are the ones who will lose themselves for what injustice they were doing toward Our verses.
اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اس لیے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بےانصافی کرتے تھے
و کسانی که میزانهای (عمل) آنها سبک است، افرادی هستند که سرمایه وجود خود را، بخاطر ظلم و ستمی که نسبت به آیات ما میکردند، از دست دادهاند.
Tafsir Ibn Kathir
And the weighing on that Day will be the true (weighing). So, as for those whose scale (of good deeds) will be heavy, they will be the successful (by entering Paradise)(8)And as for those whose scale will be light, they are those who will lose themselves for their wrongful behavior with Our Ayat (9)
The Meaning of weighing the Deeds
Allah said,
وَالْوَزْنُ
(And the weighing), of deeds on the Day of Resurrection,
الْحَقُّ
(will be the true (weighing)), for Allah will not wrong anyone. Allah said in other Ayat,
وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ
(And We shall set up the Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything. And if there be the weight of a mustard seed, We will bring it. And Sufficient are We to take account.)[21:47],
إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا
(Surely, Allah wrongs not even the weight of a speck of dust, but if there is any good (done), He doubles it, and gives from Him a great reward.)[4:40],
فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ - فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ - وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ - فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ - وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ - نَارٌ حَامِيَةٌ
(Then as for him whose scale (of good deeds) will be heavy. He will live a pleasant life (in Paradise). But as for him whose scale (of good deeds) will be light. He will have his home in Hawiyah (pit, Hell). And what will make you know what it is? (It is) a fiercely blazing Fire!)[101:6-11] and,
فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ - فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ - وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ
(Then, when the Trumpet is blown, there will be no kinship among them that Day, nor will they ask of one another. Then, those whose scales (of good deeds) are heavy, they are the successful. And those whose scales (of good deeds) are light, they are those who lose themselves, in Hell will they abide)[23:101-103].
As for what will be placed on the Balance on the Day of Resurrection, it has been said that the deeds will be placed on it, even though they are not material objects. Allah will give these deeds physical weight on the Day of Resurrection. Al-Baghawi said that this was reported from Ibn 'Abbas. It is recorded in the Sahih that Al-Baqarah (chapter 2) and Āl-'Imrān (chapter 3) will come on the Day of Resurrection in the shape of two clouds, or two objects that provide shade, or two lined groups of birds. It is also recorded in the Sahih that the Qur'an will come to its companion (who used to recite and preserve it) in the shape of a pale-faced young man. He will ask (the young man), "Who are you?" He will reply, "I am the Qur'an, who made you stay up sleeplessly at night and caused you thirst in the day. " The Hadith that Al-Bara' narrated about the questioning in the grave states,
فَيَأْتِي الْمُؤْمِنَ شَابٌّ حَسَنُ اللَّوْنِ طَيِّبُ الرِّيحِ فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ
(A young man with fair color and good scent will come to the believer, who will ask, 'Who are you?' He will reply, 'I am your good deeds').
The Prophet ﷺ mentioned the opposite in the case of the disbeliever and the hypocrite.
It was also said that the Book of Records that contains the deeds will be weighed. A Hadith states that a man will be brought forth and ninety-nine scrolls containing errors and sins will be placed on one side of the balance each as long as the sight can reach. He will then be brought a card on which 'La ilaha illallah' will be written. He will say, "O Lord! What would this card weigh against these scrolls?" Allah will say, "You will not be wronged." So the card will be placed on the other side of the Balance, and as the Messenger of Allah ﷺ said,
فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ
(Behold! The (ninety-nine) scrolls will go up, as the card becomes heavier.)
At-Tirmidhi recorded similar wording for this Hadith and said that it is authentic. It was also said that the person who performed the deed will be weighed. A Hadith states,
يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالرَّجُلِ السَّمِينِ فَلَا يَزِنُ عِنْدَ اللهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ
(On the Day of Resurrection, a fat man will be brought forth, but he will not weigh with Allah equal to the wing of a mosquito). He then recited the Ayah,
فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا
(And on the Day of Resurrection, We shall assign no weight for them)[18:105]. Also, the Prophet ﷺ said about 'Abdullah bin Mas'ud,
أَتَعْجَبُونَ مِنْ دِقَّةِ سَاقَيْهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُمَا فِي الْمِيزَانِ أَثْقَلُ مِنْ أُحُدٍ
(Do you wonder at the thinness of his legs? By He in Whose Hand is my soul! They are heavier on the Balance than (Mount) Uhud.)
It is also possible to combine the meanings of these Ayat and Hadiths by stating that all this will truly occur, for sometimes the deeds will be weighed, sometimes the scrolls where they are recorded will be weighed, and sometimes those who performed the deeds will be weighed. Allah knows best.
Tafsir Ibn Kathir
میزان اور اعمال کا دین قیامت کے دن نیکی بدی انصاف و عدل کے ساتھ تولی جانے کی، اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت (ونضع الموازین القسط لیوم القیامتہ) الخ، قیامت کے دن ہم عدل کی ترازو رکھیں گے، کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا، رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب لینے میں کافی ہیں اور آیت میں ہے " اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، وہ نیکی کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ سورة قارعہ میں فرمایا جس کا نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگیا اسے عیش و نشاط کی زندگی ملی اور جس کا نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوگیا اس کا ٹھکانا (ہاویہ) ہے جو بھڑکتی ہوئی آگ کے خزانے کا نام ہے اور آیت میں ہے (فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ 101) 23۔ المؤمنون) یعنی نفحہ پھونک دیا جائے گا سارے رشتے ناتے اور نسب حسب ٹوٹ جائیں گے، کوئی کسی کا پر سان حال نہ ہوگا۔ اگر تول میں نیک اعمال بڑھ گئے تو فلاح پالی ورنہ خسارے کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔ فصل کوئی تو کہتا ہے کہ خود اعمال تو لے جائیں گے کوئی کہتا ہے نامہ اعمال تو لے جائیں گے۔ کوئی کہتا ہے خود عمل کرنے والے تو لے جائیں گے۔ ان تینوں قولوں کو اس طرح جمع کرنا بھی ممکن ہے کہ ہم کہیں یہ سب صحیح ہیں کبھی عمال تو لے جائیں گے کبھی نامہ اعمال کبھی خود اعمال کرنے والے واللہ اعلم۔ ان تینوں باتوں کی دلیلیں بھی موجود ہیں۔ پہلے قول کا مطلب یہ ہے کہ اعمال گو ایک بےجسم چیز ہیں لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں جسم عطا فرمائے گا جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے سورة بقرہ اور سورة آل عمران قیامت کے دن دو سائبانوں کی یا دو ابر کی یا پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے دو جھنڈ کی صورت میں آئیں گی اور حدیث میں ہے کہ قرآن اپنے قاری اور عامل کے پاس ایک نوجوان خوش شکل نورانی چہرے والے کی صورت میں آئے گا یہ اسے دیکھ کر پوچھے گا کہ تو کون ہے ؟ یہ کہے گا میں قرآن ہوں جو تجھے راتوں کی نیند نہیں سونے دیتا تھا اور دنوں میں پانی پینے سے روکتا تھا۔ حضرت براء والی حدیث میں جس میں قبر کے سوال جواب کا ذکر ہے اس میں یہ بھی فرمان ہے کہ مومن کے پاس ایک نوجوان خوبصورت خوشبودار آئے گا یہ اس سے پوچھے گا کہ تو کون ہے ؟ وہ جواب دے گا کہ میں تیرا نیک عمل ہوں اور کافر و منافق کے پاس اس کے برخلاف شخص کے آنے کا بیان ہے یہ تو تھیں پہلے قول کی دلیلیں۔ دوسرے قول کی دلیلیں یہ ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص کے سامنے اس کے گناہوں کے ننانوے دفتر پھیلائے جائیں گے جس میں سے ہر ایک اتنا بڑا ہوگا جتنا دور تک نظر پہنچے۔ پھر ایک پرچہ نیکی کا لایا جائے گا جس پر (لا الہ الا اللہ) ہوگا۔ یہ کہے گا یا اللہ یہ اتنا سا پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اس سے بےخطر رہ کہ تجھ پر ظلم کیا جائے، اب وہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلہ میں نیکی کے پلڑے میں رکھا جائے گا تو وہ سب دفتر اونچے ہوجائیں گے اور یہ سب سے زیادہ وزن دار اور بھاری ہوجائیں گے (ترمذی) تیسرا قول بھی دلیل رکھتا ہے حدیث میں ہے ایک بہت موٹا تازہ گنہگار انسان اللہ کے سامنے لایا جائے گا لیکن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی وزن اللہ کے پاس اس کا نہ ہوگا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَلِقَاۗىِٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا 105) 18۔ الكهف) ہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہ کریں گے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی تعریف میں جو حدیثیں ہیں ان میں ہے کہ حضور نے فرمایا ان کی پتلی پنڈلیوں پہ نہ جانا اللہ کی قسم اللہ کے نزدیک یہ احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزن دار ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يقول [تبارك و] [[زيادة من أ.]] تعالى: ﴿وَالْوَزْن﴾ أَيْ: لِلْأَعْمَالِ [[في ك: "الأعمال".]] يَوْمَ الْقِيَامَةِ ﴿الْحَق﴾ أَيْ: لَا يَظْلِمُ تَعَالَى أَحَدًا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ: ٤٧] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [النِّسَاءِ: ٤٠] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ * وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ * وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ * نَارٌ حَامِيَةٌ﴾ [الْقَارِعَةِ: ٦-١١] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلا يَتَسَاءَلُونَ * فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ * وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ﴾ [الْمُؤْمِنُونَ: ١٠١ -١٠٣] .
فَصْلٌ:
وَالَّذِي يُوضَعُ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ [[في ك: "يوم القيامة في الميزان".]] قِيلَ: الْأَعْمَالُ وَإِنْ كَانَتْ أَعْرَاضًا، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقْلِبُهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْسَامًا.
قَالَ الْبَغَوِيُّ: يُرْوَى هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[معالم التنزيل للبغوي (٣/٢١٥) .]] كَمَا جَاءَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَنَّ "الْبَقَرَةَ" وَ "آلَ عِمْرَانَ" يَأْتِيَانِ [[في أ: "تأتيان".]] يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ -أَوْ: غيَايَتان -أَوْ فِرْقَان مِنْ طَيْرٍ صَوَافّ. مِنْ ذَلِكَ فِي الصَّحِيحِ قِصَّةُ الْقُرْآنِ وَأَنَّهُ يَأْتِي صَاحِبَهُ فِي صُورَةِ شَابٍّ شَاحِبِ اللَّون، فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا الْقُرْآنُ الَّذِي أَسْهَرْتُ لَيْلَكَ وَأَظْمَأْتُ نَهَارَكَ [[ورواه أحمد في مسنده (٥/٣٤٨) وابن ماجه في السنن برقم (٣٧٨١) من طريق بشير بن المهاجر، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ بْنِ الْحُصَيْبِ، رضي الله عنه، مرفوعا]] وَفِي حَدِيثِ الْبَرَاءِ، فِي قِصَّةِ سُؤَالِ الْقَبْرِ: "فَيَأْتِي الْمُؤْمِنَ شابٌّ حَسَنُ اللَّوْنِ طَيِّبُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ" [[رواه أحمد في مسنده (٥/٢٨٧) .]] وَذَكَرَ عَكْسَهُ فِي شَأْنِ الْكَافِرِ وَالْمُنَافِقِ.
وَقِيلَ: يُوزَنُ كِتَابُ الْأَعْمَالِ، كَمَا جَاءَ فِي حَدِيثِ الْبِطَاقَةِ، فِي الرَّجُلِ الَّذِي يُؤْتَى بِهِ وَيُوضَعُ لَهُ فِي كِفَّة تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ سِجِلًّا كُلُّ سِجِلّ مَدّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يُؤْتَى بِتِلْكَ الْبِطَاقَةِ فِيهَا: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، وَمَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ؟ فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّكَ لَا تُظلَم. فَتُوضَعُ تِلْكَ الْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "فَطاشَت السِّجِلَّاتُ، وثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ".
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِنَحْوٍ مِنْ هَذَا [[سنن الترمذي برقم (٢٦٣٩) ورواه ابن ماجة في السنن برقم (٢٦٣٩) والحاكم في المستدرك (١/٥٢٩) مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص، وقال الحاكم: "صحيح الإسناد على شرطهما ولم يخرجاه" ووافقه الذهبي،]] وَصَحَّحَهُ.
وَقِيلَ: يُوزَنُ صَاحِبُ الْعَمَلِ، كَمَا فِي الْحَدِيثِ: "يُؤتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالرَّجُلِ السَّمِين، فَلَا يَزِن عِنْدَ اللَّهِ جَنَاح بَعُوضَة" [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٤٧٢٩) بنحوه من حديث أبي هريرة، رضي الله عنه.]] ثُمَّ قَرَأَ: ﴿فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا﴾ [الْكَهْفِ: ١٠٥] .
وَفِي مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَتَعْجَبُونَ مِنْ دِقَّة ساقَيْهِ، فَوَالَّذِي [[في د، م: "والذي".]] نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُمَا فِي الْمِيزَانِ أَثْقَلُ مِنْ أُحُدٍ" [[رواه أحمد في مسنده (١/٤٢٠) .]]
وَقَدْ يُمْكِنُ الْجَمْعُ بَيْنَ هَذِهِ الْآثَارِ بِأَنْ يَكُونَ ذَلِكَ كُلُّهُ صَحِيحًا، فَتَارَةً [[في ك: "وتارة".]] تُوزَنُ الْأَعْمَالُ، وَتَارَةً تُوزَنُ مَحَالُّهَا، وَتَارَةً يُوزَنُ فَاعِلُهَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَلَقَدْ مَكَّنَّٰكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَٰيِشَ ۗ قَلِيلًۭا مَّا تَشْكُرُونَ
And We have certainly established you upon the earth and made for you therein ways of livelihood. Little are you grateful.
اور ہم ہی نے زمین میں تمہارا ٹھکانہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے سامان معشیت پیدا کئے۔ (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو
ما تسلّط و مالکیّت و حکومت بر زمین را برای شما قرار دادیم؛ و انواع وسایل زندگی را برای شما فراهم ساختیم؛ اما کمتر شکرگزاری میکنید!
Tafsir Ibn Kathir
And surely, We gave you authority on the earth and appointed for you therein livelihoods. Little thanks do you give (10)
All Bounties in the Heavens and Earth are for the Benefit of Mankind
Allah reminds of His favor on His servants in that He made the earth a fixed place for dwelling, placed firm mountains and rivers on it and made homes and allowed them to utilize its benefits. Allah made the clouds work for them (bringing rain) so that they may produce their sustenance from them. He also created the ways and means of earnings, commercial activities and other professions. Yet, most of them give liltle thanks for this. Allah said in another Ayah,
وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ الْإِنسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ
(And if you count the blessings of Allah,never will you be able to count them. Verily, man is indeed a wrongdoer, an ingrate.)[14:34]
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ کے احسانات اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ اس نے زمین اپنے بندوں کے رہنے سہنے کیلئے بنائی۔ اس میں مضبوط پہاڑ گاڑ دیئے کہ ہلے جلے نہیں اس میں چشمے جاری کئے اس میں منزلیں اور گھر بنانے کی طاقت انسان کو عطا فرمائی اور بہت سے نفع کی چیزیں اس لئے پیدائش فرمائیں۔ ابر مقرر کر کے اس میں سے پانی برسا کر ان کے لئے کھیت اور باغات پیدا کئے۔ تلاش معاش کے وسائل مہیا فرمائے۔ تجارت اور کمائی کے طریقے سکھا دیئے۔ باوجود اس کے اکثر لوگ پوری شکر گذاری نہیں کرتے ایک آیت میں فرمان ہے (وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 18) 16۔ النحل) یعنی اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے بیٹھو تو یہ بھی تمہارے بس کی بات نہیں۔ لیکن انسان بڑا ہی ناانصاف اور ناشکرا ہے معایش تو جمہور کی قرأت ہے لیکن عبدالرحمن بن ہرمز اعرج معایش پڑھتے ہیں اور ٹھیک وہی ہے جس پر اکثریت ہے اس لئے کہ (معایش) جمع ہے (معیشتہ) کی۔ اس کا باب (عاش یعیش عیشا) ہے (معیشتہ) کی اصل (معیشتہ) ہے۔ کسر ہے پر تقلیل تھا نقل کر کے ماقیل کو دیا (معیشتہ) ہوگیا لیکن جمع کے وقت پھر کسر ہے پر آگیا کیونکہ اب ثقل نہ رہا پس مفاعل کے وزن پر (معایش) ہوگیا کیونکہ اس کلمہ میں یا اصلی ہے۔ بخلاف مدائین، صہائف اور بصائر کے جو مدینہ، صحیفہ اور بصیرہ کی جمع ہے باب مدن صحف اور ابصر سے ان میں چونکہ یا زائد ہے اس لئے ہمزہ دی جاتی ہے اور مفاعل کے وزن پر جمع آتی ہے۔ واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُمْتَنًّا عَلَى عَبِيدِهِ [[في م: "عباده".]] فِيمَا مَكَّنَ لَهُمْ مِنْ أَنَّهُ جَعَل الْأَرْضَ قَرَارًا، وَجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ وَأَنْهَارًا، وَجَعَلَ لَهُمْ فِيهَا مَنَازِلَ وَبُيُوتًا، وَأَبَاحَ مَنَافِعَهَا، وسَخَّر لَهُمُ السَّحَابَ لِإِخْرَاجِ أَرْزَاقِهِمْ مِنْهَا، وَجَعَلَ لَهُمْ فِيهَا مَعَايِشَ، أَيْ: مَكَاسِبَ وَأَسْبَابًا يَتَّجِرُونَ فِيهَا، وَيَتَسَبَّبُونَ أَنْوَاعَ الْأَسْبَابِ، وَأَكْثَرُهُمْ مَعَ هَذَا قَلِيلُ الشُّكْرِ عَلَى ذَلِكَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ الإنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ﴾ [إِبْرَاهِيمَ: ٣٤] .
وَقَدْ قَرَأَ الْجَمِيعُ: ﴿مَعَايِش﴾ بِلَا هَمْزٍ، إِلَّا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُز الْأَعْرَجَ فَإِنَّهُ هَمَزَهَا. وَالصَّوَابُ الَّذِي عَلَيْهِ الْأَكْثَرُونَ بِلَا هَمْزٍ؛ لِأَنَّ مَعَايِشَ جَمْعُ مَعِيشَةٍ، مِنْ عَاشَ يَعِيشُ عَيْشًا، وَمَعِيشَةٌ أَصْلُهَا "مَعْيِشَة" فَاسْتُثْقِلَتِ الْكَسْرَةُ عَلَى الْيَاءِ، فَنُقِلَتْ إِلَى الْعَيْنِ فَصَارَتْ مَعِيشة، فَلَمَّا جُمِعَتْ رَجَعَتِ الْحَرَكَةُ إِلَى الْيَاءِ لِزَوَالِ الِاسْتِثْقَالِ، فَقِيلَ: مَعَايِشُ. وَوَزْنُهُ مَفَاعِلُ؛ لِأَنَّ الْيَاءَ أَصْلِيَّةٌ فِي الكلمة. بخلاف مدائن وَصَحَائِفَ وَبَصَائِرَ، جَمْعِ مَدِينَةٍ وَصَحِيفَةٍ وَبَصِيرَةٍ مِنْ: مَدَنَ وَصَحَفَ وَأَبْصَرَ، فَإِنَّ الْيَاءَ فِيهَا زَائِدَةٌ، وَلِهَذَا تُجْمَعُ عَلَى فَعَائِلَ، وَتُهْمَزُ لِذَلِكَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَلَقَدْ خَلَقْنَٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَٰٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا۟ لِءَادَمَ فَسَجَدُوٓا۟ إِلَّآ إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ ٱلسَّٰجِدِينَ
And We have certainly created you, [O Mankind], and given you [human] form. Then We said to the angels, "Prostrate to Adam"; so they prostrated, except for Iblees. He was not of those who prostrated.
اور ہم ہی نے تم کو (ابتدا میں مٹی سے) پیدا کیا پھر تمہاری صورت شکل بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا آدم کے آگے سجدہ کرو تو (سب نے) سجدہ کیا لیکن ابلیس کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں (شامل) نہ ہوا
ما شما را آفریدیم؛ سپس صورت بندی کردیم؛ بعد به فرشتگان گفتیم: «برای آدم خضوع کنید!» آنها همه سجده کردند؛ جز ابلیس که از سجدهکنندگان نبود.
Tafsir Ibn Kathir
And surely, We created you and then gave you shape; then We told the angels, "Prostrate yourselves to Adam," and they prostrated, except Iblis (Shaytan), he refused to be of those who prostrated (11)
Prostration of the Angels to Adam and Shaytan's Arrogance
Allah informs the Children of Adam about the honor of their father and the enmity of Shaytan, who still has envy for them and for their father Adam. So they should beware of him and not follow in his footsteps. Allah said,
وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا
(And surely, We created you and then gave you shape; then We told the angels, "Prostrate yourselves to Adam," and they prostrated,) This is like His saying,
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ - فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ
(And (remember) when your Lord said to the angels: "I am going to create a man from dried (sounding) clay of altered mud. So, when I have fashioned him completely and breathed into him the soul (which I created for him), then fall (you) down prostrating yourselves unto him.")[15:28-29].
After Allah created Adam with His Hands from dried clay of altered mud and made him in the shape of a human being, He blew life into him and ordered the angels to prostrate before him, honoring Allah's glory and magnificence. The angels all heard, obeyed and prostrated, but Iblis did not prostrate. We explained this subject in the beginning of Surat Al-Baqarah.
Therefore, the Ayah (7:11) refers to Adam, although Allah used the plural in this case, because Adam is the father of all mankind. Similarly, Allah said to the Children of Israel who lived during the time of the Prophet ﷺ,
وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ
(And We shaded you with clouds and sent down on you manna and the quail,)[2:57]
This refers to their forefathers who lived during the time of Moses. But, since that was a favor given to the forefathers, and they are their very source, then the offspring have also been favored by it. This is not the case in:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ
(And indeed We created man out of an extract of clay (water and earth.))[23:12]
For this merely means that Adam was created from clay. His children were created from Nutfah (mixed male and female sexual discharge). This last Ayah is thus talking about the origin of mankind, not that they were all created from clay, and Allah knows best.
Tafsir Ibn Kathir
ابلیس، آدم ؑ اور نسل آدم انسان کے شرف کو اس طرح بیان فرماتا ہے کہ تمہارے باپ آدم کو میں نے خود ہی بنایا اور ابلیس کی عداوت کو بیان فرما رہا ہے کہ اس نے تمہارے باپ آدام کا حسد کیا۔ ہمارے فرمان سے سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر اس نے نافرمانی کی پس تمہیں چاہئے کہ دشمن کو دشمن سمجھو اور اس کے داؤ پیچ سے ہوشیار رہو اسی واقعہ کا ذکر آیت (وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنِّىْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ 28) 15۔ الحجر) میں بھی ہے۔ حضرت آدم کو پروردگار نے اپنے ہاتھ سے مٹی سے بنایا انسانی صورت عطا فرمائی پھر اپنے پاس سے اس میں روح پھونکی پھر اپنی شان کی جلالت منوانے کیلئے فرشتوں کو حکم دیا کہ ان کے سامنے جھک جاؤ سب نے سنتے ہی اطاعت کی لیکن ابلیس نہ مانا اس واقعہ کو سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار لکھ آئے ہیں۔ اس آیت کا بھی یہی مطلب ہے اور اسی کو امام ابن جریر ؒ نے بھی پسند فرمایا ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ انسان اپنے باپ کی پیٹھ میں پیدا کیا جاتا ہے اور اپنی ماں کے پیٹ میں صورت دیا جاتا ہے اور بعض سلف نے بھی لکھا ہے کہ اس آیت میں مراد اولاد آدم ہے۔ ضحاک کا قول ہے کہ آدم کو پیدا کیا پھر اس کی اولاد کی صورت بنائی۔ لیکن یہ سب اقوال غور طلب ہیں کیونکہ آیت میں اس کے بعد ہی فرشتوں کے سجدے کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ سجدہ حضرت آدام ؑ کے لئے ہی ہوا تھا۔ جمع کے صیغہ سے اس کا بیان اس لئے ہوا کہ حضرت آدم تمام انسانوں کے باپ ہیں آیت (وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى ۭ كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ ۭ وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ يَظْلِمُوْنَ 57) 2۔ البقرة) اسی کی نظیر ہے یہاں خطاب ان بنی اسرائیل سے ہے جو حضور کے زمانے میں موجود تھے اور دراصل ابر کا سایہ ان کے سابقوں پر ہوا تھا جو حضرت موسیٰ کے زمانے میں تھے نہ کہ ان پر، لیکن چونکہ ان کے اکابر پر سایہ کرنا ایسا احسان تھا کہ ان کو بھی اس کا شکر گذار ہونا چاہئے تھا اس لئے انہی کو خطاب کر کے اپنی وہ نعمت یاد دلائی۔ یہاں یہ بات واضح ہے اس کے بالکل برعکس آیت (وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْن 12) 23۔ المؤمنون) ہے کہ مراد آدم ہیں کیونکہ صرف وہی مٹی سے بنائے گئے ان کی کل اولاد نطفے سے پیدا ہوئی اور یہی صحیح ہے کیونکہ مراد جنس انان ہے نہ کہ معین۔ واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
يُنَبِّهُ تَعَالَى بَنِي آدَمَ فِي هَذَا الْمَقَامِ عَلَى شَرَفِ أَبِيهِمْ آدَمَ، وَيُبَيِّنُ لَهُمْ عَدَاوَةَ عَدُوِّهِمْ إِبْلِيسَ، وَمَا هُوَ مُنْطَوٍ عَلَيْهِ مِنَ الْحَسَدِ لَهُمْ وَلِأَبِيهِمْ آدَمَ، لِيَحْذَرُوهُ وَلَا يَتَّبِعُوا طَرَائِقَهُ، فَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلائِكَةِ اسْجُدُوا لآدَمَ [فَسَجَدُوا] ﴾ [[زيادة من ك.]] وَهَذَا كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ [فَسَجَدَ الْمَلائِكَةُ] ﴾ [[زيادة من م.]] الْآيَةَ [الْحِجْرِ: ٢٨ -٣٠] ، وَذَلِكَ أَنَّهُ تَعَالَى لَمَّا خَلَقَ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِيَدِهِ مِنْ طِينٍ لَازِبٍ، وَصَوَّرَهُ بَشَرًا [سَوِيًّا] [[زيادة من ك، م، أ.]] وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ بِالسُّجُودِ لَهُ تَعْظِيمًا لِشَأْنِ الرَّبِّ تَعَالَى وَجَلَالِهِ، فَسَمِعُوا كُلُّهُمْ وَأَطَاعُوا، إِلَّا إِبْلِيسَ لَمْ يَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ. وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَى إِبْلِيسَ فِي أَوَّلِ تَفْسِيرِ "سُورَةِ الْبَقَرَةِ".
وَهَذَا الَّذِي قَرَّرْنَاهُ هُوَ اخْتِيَارُ ابْنِ جَرِيرٍ: أَنَّ الْمُرَادَ بِذَلِكَ كُلِّهِ آدَمُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
وَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ المِنْهَال بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ﴾ قَالَ: خُلِقوا فِي أَصْلَابِ الرِّجَالِ، وصُوِّروا فِي أَرْحَامِ النِّسَاءِ.
رَوَاهُ الْحَاكِمُ، وَقَالَ: صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [[المستدرك (٢/٣١٩) .]]
وَنَقَلَهُ ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ بَعْضِ السَّلَفِ أَيْضًا: أَنَّ الْمُرَادَ بِخَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمِ: الذُّرِّيَّةُ.
وَقَالَ الرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ، والسُّدي، وَقَتَادَةُ، وَالضَّحَّاكُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ﴾ أَيْ: خَلَقْنَا آدَمَ ثُمَّ صَوَّرْنَا الذُّرِّيَّةَ.
وَهَذَا فِيهِ نَظَرٌ؛ لِأَنَّهُ قَالَ بَعْدَهُ: ﴿ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلائِكَةِ اسْجُدُوا لآدَمَ﴾ فَدَلَّ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِذَلِكَ آدَمُ، وَإِنَّمَا قِيلَ ذَلِكَ بِالْجَمْعِ لِأَنَّهُ أَبُو الْبَشَرِ، كَمَا يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى لِبَنِي إِسْرَائِيلَ الَّذِينَ كَانُوا فِي زَمَنِ الرَّسُولِ ﷺ: ﴿وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنزلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى﴾ [الْبَقَرَةِ: ٥٧] وَالْمُرَادُ: آبَاؤُهُمُ الَّذِينَ كَانُوا فِي زَمَنِ مُوسَى [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] وَلَكِنْ لَمَّا كَانَ ذَلِكَ مِنَّةً عَلَى الْآبَاءِ الَّذِينَ هُمْ أصلٌ صَارَ كَأَنَّهُ وَاقِعٌ عَلَى الْأَبْنَاءِ. وَهَذَا بِخِلَافِ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإنْسَانَ مِنْ سُلالَةٍ مِنْ طِينٍ [ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ] ﴾ [[زيادة من م، أ، وفي هـ: "الآية".]] [الْمُؤْمِنُونَ: ١٢ -١٣] فَإِنَّ الْمُرَادَ مِنْهُ آدَمُ الْمَخْلُوقُ مِنَ السُّلَالَةِ [[في ك، م: "من سلالة من طين".]] وَذُرِّيَّتُهُ مخلوقون من نُطْفَةٍ، وَصَحَّ هَذَا لِأَنَّ الْمُرَادَ مِنْ [[في ك، م، أ: "في".]] خَلَقْنَا الإنسان الجنس، لا معينا، والله أعلم.
قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ ۖ قَالَ أَنَا۠ خَيْرٌۭ مِّنْهُ خَلَقْتَنِى مِن نَّارٍۢ وَخَلَقْتَهُۥ مِن طِينٍۢ
[Allah] said, "What prevented you from prostrating when I commanded you?" [Satan] said, "I am better than him. You created me from fire and created him from clay."
(خدا نے) فرمایا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا۔ اس نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں۔ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے بنایا ہے
(خداوند به او) فرمود: «در آن هنگام که به تو فرمان دادم، چه چیز تو را مانع شد که سجده کنی؟» گفت: «من از او بهترم؛ مرا از آتش آفریدهای و او را از گل!»
Tafsir Ibn Kathir
(Allah) said: "What prevented you (O Iblis) that you did not prostrate, when I commanded you?" Iblis said: "I am better than him (Adam), You created me from fire, and him You created from clay.") Allah sai (12)
مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ
(What prevented you (O Iblis) that you did not prostrate)[7: 12] meaning, what stopped and hindered you from prostrating after I ordered you to do so, according to Ibn Jarir. This meaning is sound, and Allah knows best. Iblis, may Allah curse him, said,
أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ
(I am better than him (Adam)), and this excuse is worse than the crime itself! Shaytan said that he did not obey Allah because he who is better cannot prostrate to he who is less. Shaytan, may Allah curse him, meant that he is better than Adam, "So how can You order me to prostrate before him?" Shaytan said that he is better than Adam because he was created from fire while, "You created him from clay, and fire is better." The cursed one looked at the origin of creation not at the honor bestowed, that is, Allah creating Adam with His Hand and blowing life into him. Shaytan made a false comparison when confronted by Allah's command,
فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ
("Then you fall down prostrate to him")[38:72].
Therefore, Shaytan alone contradicted the angels, because he refused to prostrate. He, thus, became 'Ablasa' from the mercy, meaning, lost hope in acquiring Allah's mercy. He committed this error, may Allah curse him, due to his false comparison. His claim that the fire is more honored than mud was also false, because mud has the qualities of wisdom, forbearance, patience and assurance, mud is where plants grow, flourish, increase, and provide good. To the contrary, fire has the qualities of burning, recklessness and hastiness. Therefore, the origin of creation directed Shaytan to failure, while the origin of Adam led him to return to Allah with repentance, humbleness, obedience and submission to His command, admitting his error and seeking Allah's forgiveness and pardon for it.
Muslim recorded that 'Aishah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَ إِبْلِيسُ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَكُم
(The angels were created from light, Shaytan from a smokeless flame of fire, while Adam was created from what was described to you).
Iblis was the First to use Qiyas (Analogical Comparison)
Ibn Jarir recorded that Al-Hasan commented on Shaytan's statement,
خَلَقْتَنِى مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ
("You created me from fire, and him You created from clay.")
"Iblis used Qiyas [analogy], and he was the first one to do so." This statement has an authentic chain of narration. Ibn Jarir recorded that Ibn Sirin said, "The first to use Qiyas was Iblis, and would the sun and moon be worshipped if it was not for Qiyas?" This statement also has an authentic chain of narration.
Tafsir Ibn Kathir
عذر گناہ بدتر از گناہ (الا تسجد) میں لا بقول بعض نحویوں کے زائد ہے اور بعض کے نزدیک انکار کی تاکید کیلئے ہے۔ جیسے کہ شاعر کے قول ما ان رایت ولا سمعت بمثلہ میں ما نافیہ پر ان نفی کے لئے صرف تاکیداً داخل ہوا ہے اسی طرح یہاں بھی ہے کہ پہلے آیت (لم یکن من الساجدین) ہے پھر (ما منعک الا تسجد) ہے امام ابن جریر ؒ ان دونوں قولوں کو بیان کر کے انہیں رد کرتے ہیں اور فرماتے ہیں (منعک) ایک دوسرے فعل مقدر کا متضمن ہے تو تقریر عبارت یوں ہوئی (ما احوجک والزمک وا ضطرک الا تسجد اذا مرتک) یعنی تجھے کس چیز نے بےبس محتاج اور ملزم کردیا کہ تو سجدہ نہ کرے ؟ وغیرہ۔ یہ قول بہت ہی قوی ہے اور بہت عمدہ ہے۔ واللہ اعلم۔ ابلیس نے جو وجہ بتائی سچ تو یہ ہے کہ وہ عذر گناہ بدتر از گناہ کی مصداق ہے۔ گویا وہ اطاعت سے اس لئے باز رہتا ہے کہ اس کے نزدیک فاضل کو مفضول کے سامنے سجدہ کئے جانے کا حکم ہی نہیں دیا جاسکتا۔ تو وہ ملعون کہہ رہا ہے کہ میں اس سے بہتر ہوں پھر مجھے اس کے سامنے جھکنے کا حکم کیوں ہو رہا ہے ؟ پھر بہتر ہونے کے ثبوت میں کہتا ہے کہ میں آگ سے بنا یہ مٹی سے۔ ملعون اصل عنصر کو دیکھتا ہے اور اس فضیلت کو بھول جاتا ہے کہ مٹی والے کہ اللہ عزوجل نے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے اور اپنی روح پھونکی ہے۔ پاس اس وجہ سے کہ اس نے فرمان الٰہی کے مقابلے میں قیاس فاسد سے کام لیا اور سجدے سے رک گیا اللہ کی رحمتوں سے دور کردیا گیا اور تمام نعمتوں سے محروم ہوگیا۔ اس ملعون نے اپنے قیاس اور اپنے دعوے میں بھی خطا کی۔ مٹی کے اوصاف ہیں، نرم ہونا، حامل مشقت ہونا، دوسروں کا بوجھ سہانا، چیزوں کو اگانا، بڑھانا، پرورش کرنا، اصلاح کرنا وغیرہ اور آگ کی صفت ہے جلدی کرنا، جلا دینا، بےچینی پھیلانا، پھونک دینا، اسی وجہ سے ابلیس اپنے گناہ پر اڑ گیا اور حضرت آدم نے اپنے گناہ کی معذرت کی، اس سے توبہ کی اور اللہ کی طرف رجوع کیا۔ رب کے احکام کو تسلیم کیا، اپنے گناہ کا اقرار کیا، رب سے معافی چاہی، بخشش کے طالب ہوئے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں، ابلیس آگ کے شعلے سے اور انسان اس چیز سے جو تمہاے سامنے بیان کردی گئی ہے یعنی مٹی سے (مسلم) ایک اور روایت میں ہے فرشتے نور عرش سے جنت آگ سے۔ ایک غیر صحیح حدیث میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ حور عین زعفران سے بنائی گئی ہیں۔ امام حسن فرماتے ہیں ابلیس نے یہ کام کیا اور یہی پہلا شخص ہے جس نے قیاس کا دروازہ کھولا۔ اس کی اسناد صحیح ہے۔ حضرت امام ابن سیرین رحمتہ اللہ فرماتے ہیں سب سے پہلے قیاس کرنے والا ابلیس ہے۔ یاد رکھو سورج چاند کی پرستش اسی کی بدولت شروع ہوئی ہے۔ اس کی اسناد بھی صحیح ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ بَعْضُ النُّحَاةِ فِي تَوْجِيهِ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿مَا [مَنَعَكَ] [[زيادة من أ.]] أَلا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ﴾ لَا هَاهُنَا زَائِدَةٌ.
وَقَالَ بَعْضُهُمْ: زِيدَتْ لِتَأْكِيدِ الْجَحْدِ، كَقَوْلِ الشَّاعِرِ:
مَا إِنْ رأيتُ وَلَا سمعتُ بِمِثْلِهِ
فَأَدْخَلَ "إِنْ" وَهِيَ لِلنَّفْيِ، عَلَى "مَا" النَّافِيَةِ؛ لِتَأْكِيدِ النَّفْيِ، قَالُوا: وَكَذَلِكَ هَاهُنَا: ﴿مَا مَنَعَكَ أَلا تَسْجُدَ﴾ مَعَ تَقَدُّمِ قَوْلِهِ: ﴿لَمْ يَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ﴾
حَكَاهُمَا ابْنُ جَرِيرٍ [[تفسير الطبري (١٢/٣٢٤) .]] وَرَدَّهُمَا، وَاخْتَارَ أَنَّ "مَنَعَكَ" تَضَمَّنَ مَعْنَى فِعْلٍ آخَرَ تَقْدِيرُهُ: مَا أَحْوَجَكَ وَأَلْزَمَكَ وَاضْطَرَّكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ، وَنَحْوُ ذَلِكَ. وَهَذَا الْقَوْلُ قَوِيٌّ حَسَنٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَوْلُ إِبْلِيسَ لَعَنَهُ اللَّهُ: ﴿أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ﴾ مِنَ الْعُذْرِ الَّذِي هُوَ أَكْبَرُ مِنَ الذَّنْبِ، كَأَنَّهُ امْتَنَعَ مِنَ الطَّاعَةِ لِأَنَّهُ لَا يُؤْمَرُ الْفَاضِلُ بِالسُّجُودِ لِلْمَفْضُولِ، يَعْنِي لَعَنَهُ اللَّهُ: وَأَنَا خَيْرٌ مِنْهُ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي بِالسُّجُودِ لَهُ؟ ثُمَّ بَيَّنَ أَنَّهُ خَيْرٌ مِنْهُ، بِأَنَّهُ خُلِقَ مِنْ نَارٍ، وَالنَّارُ أَشْرَفُ مِمَّا خَلَقْتَهُ مِنْهُ، وَهُوَ الطِّينُ، فَنَظَرَ اللَّعِينُ إِلَى أَصْلِ الْعُنْصُرِ، وَلَمْ يَنْظُرْ إِلَى التَّشْرِيفِ الْعَظِيمِ، وَهُوَ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى خَلَقَ آدَمَ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ، وَقَاسَ قِيَاسًا فَاسِدًا فِي مُقَابَلَةِ نَصِّ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ﴾ [ص:٧٢] فَشَذَّ مِنْ بَيْنِ الْمَلَائِكَةِ بتَرْك السُّجُودِ؛ فَلِهَذَا [[في م: "ولهذا".]] أَبْلَسَ مِنَ الرَّحْمَةِ، أَيْ: أَيِسَ مِنَ الرَّحْمَةِ، فَأَخْطَأَ قَبَّحه اللَّهُ فِي قِيَاسِهِ وَدَعْوَاهُ أَنَّ النَّارَ أَشْرَفُ مِنَ الطِّينِ أَيْضًا، فَإِنَّ الطِّينَ مِنْ شَأْنِهِ الرَّزَانَةُ وَالْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ وَالتَّثَبُّتُ، وَالطِّينُ مَحَلُّ النَّبَاتِ وَالنُّمُوِّ وَالزِّيَادَةِ وَالْإِصْلَاحِ. وَالنَّارُ مِنْ شَأْنِهَا الْإِحْرَاقُ وَالطَّيْشُ وَالسُّرْعَةُ؛ وَلِهَذَا خَانَ إِبْلِيسَ عُنْصُرُهُ، وَنَفَعَ آدَمَ عُنْصُرُهُ فِي الرُّجُوعِ وَالْإِنَابَةِ وَالِاسْتِكَانَةِ وَالِانْقِيَادِ وَالِاسْتِسْلَامِ لِأَمْرِ اللَّهِ، وَالِاعْتِرَافِ وَطَلَبِ التَّوْبَةِ وَالْمَغْفِرَةِ.
وَفِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "خُلِقَت الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ، وخُلقَ إِبْلِيسُ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ" هَكَذَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ [[صحيح مسلم برقم (٢٩٩٦) .]] .
وَقَالَ ابْنُ مَرْدُوَيه: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، حدثنا نُعَيم ابن حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَر، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَة، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "خَلَقَ اللَّهُ الْمَلَائِكَةَ مِنْ نُورِ الْعَرْشِ، وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ [مَارِجٍ مِنْ] [[زيادة من أ.]] نَارٍ، وَخُلِقَ آدم مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ". قُلْتُ لِنُعَيْمِ بْنِ حَمَّادٍ: أَيْنَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ؟ قَالَ: بِالْيَمَنِ [[رواه عبد الرزاق في المصنف برقم (٢٠٩٠٤) .]] وَفِي بَعْضِ أَلْفَاظِ هَذَا الْحَدِيثِ فِي غَيْرِ الصَّحِيحِ: "وَخُلِقَتِ الْحُورُ الْعِينُ مِنَ الزَّعْفَرَانِ" [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (٨/٢٣٧) مِنْ طَرِيقِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أبي أمامة، رضي الله عنه، وفي إسناده عبيد الله بن زحر، قال ابن حبان في المجروحين: "يروى الموضوعات عن الأثبات، وإذا روى عن علي بن يزيد أتى بالطامات، وإذا اجتمع في إسناد خبر عبيد الله، وعلي بن يزيد، والقاسم أبو عبد الرحمن، لم يكن ذلك الخبر إلا مما عملته أيديهم".]] .
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ شَوْذَب، عَنْ مَطَرٍ الوَرَّاق، عَنِ الْحَسَنِ فِي قَوْلِهِ: ﴿خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ﴾ قَالَ: قَاسَ إِبْلِيسُ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ قَاسَ. إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ.
وَقَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ [[في أ: "الطائي".]] عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ قَاسَ إِبْلِيسُ، وَمَا عُبِدت الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ إِلَّا بِالْمَقَايِيسِ [[تفسير الطبري (١٢/٣٢٨) .]] إِسْنَادٌ صَحِيحٌ أَيْضًا.
قَالَ فَٱهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَٱخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ ٱلصَّٰغِرِينَ
[Allah] said, "Descend from Paradise, for it is not for you to be arrogant therein. So get out; indeed, you are of the debased.
فرمایا تو (بہشت سے) اتر جا تجھے شایاں نہیں کہ یہاں غرور کرے پس نکل جا۔ تو ذلیل ہے
گفت: «از آن (مقام و مرتبهات) فرود آی! تو حقّ نداری در آن (مقام و مرتبه) تکبّر کنی! بیرون رو، که تو از افراد پست و کوچکی!
Tafsir Ibn Kathir
(Allah) said: "(O Iblis) get down from this (Paradise), it is not for you to be arrogant here. Get out, for you are of those humiliated and disgraced. (13)(Iblis) said: "Allow me respite till the Day they are raised up (the Day of Resurrection). (14)(Allah) said: "You are of those respited.") Allah ordered Ibli (15)
فَاهْبِطْ مِنْهَا
(Get down from this) "because you defied My command and disobeyed Me. Get out, it is not for you to be arrogant here," in Paradise, according to the scholars of Tafsir. It could also refer to particular status which he held in the utmost highs. Allah said to Iblis,
فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ
(Get out, for you are of those humiliated and disgraced.) as just recompense for his ill intentions, by giving him the opposite of what he intended (arrogance). This is when the cursed one remembered and asked for respite until the Day of Judgment,
فَأَنظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ - قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ
(Then allow me respite till the Day they are raised up. (Allah) said: "Then you are of those respited.")[15:36-37]
Allah gave Shaytan what he asked for out of His wisdom, being His decision and decree, that is never prevented or resisted. Surely, none can avert His decision, and He is swift in reckoning.
Tafsir Ibn Kathir
نافرمانی کی سزا ابلیس کو اسی وقت حکم ملا کہ میری نافرمانی اور میری اطاعت سے رکنے کے باعث اب تو یہاں جنت میں نہیں رہ سکتا، یہاں سے اتر جا کیونکہ یہ جگہ تکبر کرنے کی نہیں۔ بعض نے کہا ہے (فیھا) کی ضمیر کا مرجع منزلت ہے یعنی جن ملکوت اعلی میں تو ہے اس مرتبے میں کوئی سرکش رہ نہیں سکتا۔ جا یہاں سے چلا جا تو اپنی سرکشی کے بدلے ذلیل و خوار ہستیوں میں شامل کردیا گیا۔ تیری ضد اور ہٹ کی یہی سزا ہے۔ اب لعین گھبرایا اور اللہ سے مہلت چاہنے لگا کہ مجھے قیامت تک کی ڈھیل دی جائے۔ چونکہ جناب باری جل جلالہ کی اس میں مصلحتیں اور حکمتیں تھیں بھلے بروں کو دنیا میں ظاہر کرنا تھا اور اپنی حجت پوری کرنا تھی اس ملعون کی اس درخواست کو منظور فرما لیا۔ اس حکام پر کسی کی حکومت نہیں، اس کے سامنے بولنے کی کسی کو مجال نہیں، کوئی نہیں جو اس کے ارادے کو ٹال سکے، کوئی نہیں جو اس کے حکم کو بدل سکے۔ وہ سریع الحساب ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخَاطِبًا لِإِبْلِيسَ بِأَمْرٍ قَدَرِيٍّ كَوْنِيٍّ: ﴿فَاهْبِطْ مِنْهَا﴾ أَيْ: بِسَبَبِ عِصْيَانِكَ لِأَمْرِي، وَخُرُوجِكَ عَنْ طَاعَتِي، فَمَا يَكُونُ لَكَ أَنْ تَتَكَبَّرَ فِيهَا.
قَالَ كَثِيرٌ مِنَ الْمُفَسِّرِينَ: الضَّمِيرُ عَائِدٌ إِلَى الْجَنَّةِ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ عَائِدًا إِلَى الْمَنْزِلَةِ الَّتِي هُوَ فِيهَا فِي الْمَلَكُوتِ الْأَعْلَى.
﴿فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ﴾ أَيِ: الذَّلِيلِينَ الْحَقِيرِينَ، مُعَامَلَةً لَهُ بِنَقِيضِ قَصْدِهِ، مُكَافَأَةً لِمُرَادِهِ بِضِدِّهِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ اسْتَدْرَكَ اللَّعِينُ وَسَأَلَ النَّظْرَةَ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ، قَالَ: ﴿أَنْظِرْنِي [[في ك، م: "فأنظرني" وهو خطأ.]] إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِين﴾ أَجَابَهُ تَعَالَى إِلَى مَا سَأَلَ، لِمَا لَهُ فِي ذَلِكَ مِنَ الْحِكْمَةِ وَالْإِرَادَةِ وَالْمَشِيئَةِ الَّتِي لَا تُخَالَفُ وَلَا تُمَانَعُ، وَلَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ، وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ.
قَالَ أَنظِرْنِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
[Satan] said, "Reprieve me until the Day they are resurrected."
اس نے کہا کہ مجھے اس دن تک مہلت عطا فرما جس دن لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے
گفت: «مرا تا روزی که (مردم) برانگیخته میشوند مهلت ده (و زنده بگذار!)»
Tafsir Ibn Kathir
(Allah) said: "(O Iblis) get down from this (Paradise), it is not for you to be arrogant here. Get out, for you are of those humiliated and disgraced. (13)(Iblis) said: "Allow me respite till the Day they are raised up (the Day of Resurrection). (14)(Allah) said: "You are of those respited.") Allah ordered Ibli (15)
فَاهْبِطْ مِنْهَا
(Get down from this) "because you defied My command and disobeyed Me. Get out, it is not for you to be arrogant here," in Paradise, according to the scholars of Tafsir. It could also refer to particular status which he held in the utmost highs. Allah said to Iblis,
فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ
(Get out, for you are of those humiliated and disgraced.) as just recompense for his ill intentions, by giving him the opposite of what he intended (arrogance). This is when the cursed one remembered and asked for respite until the Day of Judgment,
فَأَنظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ - قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ
(Then allow me respite till the Day they are raised up. (Allah) said: "Then you are of those respited.")[15:36-37]
Allah gave Shaytan what he asked for out of His wisdom, being His decision and decree, that is never prevented or resisted. Surely, none can avert His decision, and He is swift in reckoning.
Tafsir Ibn Kathir
نافرمانی کی سزا ابلیس کو اسی وقت حکم ملا کہ میری نافرمانی اور میری اطاعت سے رکنے کے باعث اب تو یہاں جنت میں نہیں رہ سکتا، یہاں سے اتر جا کیونکہ یہ جگہ تکبر کرنے کی نہیں۔ بعض نے کہا ہے (فیھا) کی ضمیر کا مرجع منزلت ہے یعنی جن ملکوت اعلی میں تو ہے اس مرتبے میں کوئی سرکش رہ نہیں سکتا۔ جا یہاں سے چلا جا تو اپنی سرکشی کے بدلے ذلیل و خوار ہستیوں میں شامل کردیا گیا۔ تیری ضد اور ہٹ کی یہی سزا ہے۔ اب لعین گھبرایا اور اللہ سے مہلت چاہنے لگا کہ مجھے قیامت تک کی ڈھیل دی جائے۔ چونکہ جناب باری جل جلالہ کی اس میں مصلحتیں اور حکمتیں تھیں بھلے بروں کو دنیا میں ظاہر کرنا تھا اور اپنی حجت پوری کرنا تھی اس ملعون کی اس درخواست کو منظور فرما لیا۔ اس حکام پر کسی کی حکومت نہیں، اس کے سامنے بولنے کی کسی کو مجال نہیں، کوئی نہیں جو اس کے ارادے کو ٹال سکے، کوئی نہیں جو اس کے حکم کو بدل سکے۔ وہ سریع الحساب ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخَاطِبًا لِإِبْلِيسَ بِأَمْرٍ قَدَرِيٍّ كَوْنِيٍّ: ﴿فَاهْبِطْ مِنْهَا﴾ أَيْ: بِسَبَبِ عِصْيَانِكَ لِأَمْرِي، وَخُرُوجِكَ عَنْ طَاعَتِي، فَمَا يَكُونُ لَكَ أَنْ تَتَكَبَّرَ فِيهَا.
قَالَ كَثِيرٌ مِنَ الْمُفَسِّرِينَ: الضَّمِيرُ عَائِدٌ إِلَى الْجَنَّةِ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ عَائِدًا إِلَى الْمَنْزِلَةِ الَّتِي هُوَ فِيهَا فِي الْمَلَكُوتِ الْأَعْلَى.
﴿فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ﴾ أَيِ: الذَّلِيلِينَ الْحَقِيرِينَ، مُعَامَلَةً لَهُ بِنَقِيضِ قَصْدِهِ، مُكَافَأَةً لِمُرَادِهِ بِضِدِّهِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ اسْتَدْرَكَ اللَّعِينُ وَسَأَلَ النَّظْرَةَ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ، قَالَ: ﴿أَنْظِرْنِي [[في ك، م: "فأنظرني" وهو خطأ.]] إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِين﴾ أَجَابَهُ تَعَالَى إِلَى مَا سَأَلَ، لِمَا لَهُ فِي ذَلِكَ مِنَ الْحِكْمَةِ وَالْإِرَادَةِ وَالْمَشِيئَةِ الَّتِي لَا تُخَالَفُ وَلَا تُمَانَعُ، وَلَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ، وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ.
قَالَ إِنَّكَ مِنَ ٱلْمُنظَرِينَ
[Allah] said, "Indeed, you are of those reprieved."
فرمایا (اچھا) تجھ کو مہلت دی جاتی ہے
فرمود: «تو از مهلت داده شدگانی!»
Tafsir Ibn Kathir
(Allah) said: "(O Iblis) get down from this (Paradise), it is not for you to be arrogant here. Get out, for you are of those humiliated and disgraced. (13)(Iblis) said: "Allow me respite till the Day they are raised up (the Day of Resurrection). (14)(Allah) said: "You are of those respited.") Allah ordered Ibli (15)
فَاهْبِطْ مِنْهَا
(Get down from this) "because you defied My command and disobeyed Me. Get out, it is not for you to be arrogant here," in Paradise, according to the scholars of Tafsir. It could also refer to particular status which he held in the utmost highs. Allah said to Iblis,
فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ
(Get out, for you are of those humiliated and disgraced.) as just recompense for his ill intentions, by giving him the opposite of what he intended (arrogance). This is when the cursed one remembered and asked for respite until the Day of Judgment,
فَأَنظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ - قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ
(Then allow me respite till the Day they are raised up. (Allah) said: "Then you are of those respited.")[15:36-37]
Allah gave Shaytan what he asked for out of His wisdom, being His decision and decree, that is never prevented or resisted. Surely, none can avert His decision, and He is swift in reckoning.
Tafsir Ibn Kathir
نافرمانی کی سزا ابلیس کو اسی وقت حکم ملا کہ میری نافرمانی اور میری اطاعت سے رکنے کے باعث اب تو یہاں جنت میں نہیں رہ سکتا، یہاں سے اتر جا کیونکہ یہ جگہ تکبر کرنے کی نہیں۔ بعض نے کہا ہے (فیھا) کی ضمیر کا مرجع منزلت ہے یعنی جن ملکوت اعلی میں تو ہے اس مرتبے میں کوئی سرکش رہ نہیں سکتا۔ جا یہاں سے چلا جا تو اپنی سرکشی کے بدلے ذلیل و خوار ہستیوں میں شامل کردیا گیا۔ تیری ضد اور ہٹ کی یہی سزا ہے۔ اب لعین گھبرایا اور اللہ سے مہلت چاہنے لگا کہ مجھے قیامت تک کی ڈھیل دی جائے۔ چونکہ جناب باری جل جلالہ کی اس میں مصلحتیں اور حکمتیں تھیں بھلے بروں کو دنیا میں ظاہر کرنا تھا اور اپنی حجت پوری کرنا تھی اس ملعون کی اس درخواست کو منظور فرما لیا۔ اس حکام پر کسی کی حکومت نہیں، اس کے سامنے بولنے کی کسی کو مجال نہیں، کوئی نہیں جو اس کے ارادے کو ٹال سکے، کوئی نہیں جو اس کے حکم کو بدل سکے۔ وہ سریع الحساب ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخَاطِبًا لِإِبْلِيسَ بِأَمْرٍ قَدَرِيٍّ كَوْنِيٍّ: ﴿فَاهْبِطْ مِنْهَا﴾ أَيْ: بِسَبَبِ عِصْيَانِكَ لِأَمْرِي، وَخُرُوجِكَ عَنْ طَاعَتِي، فَمَا يَكُونُ لَكَ أَنْ تَتَكَبَّرَ فِيهَا.
قَالَ كَثِيرٌ مِنَ الْمُفَسِّرِينَ: الضَّمِيرُ عَائِدٌ إِلَى الْجَنَّةِ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ عَائِدًا إِلَى الْمَنْزِلَةِ الَّتِي هُوَ فِيهَا فِي الْمَلَكُوتِ الْأَعْلَى.
﴿فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ﴾ أَيِ: الذَّلِيلِينَ الْحَقِيرِينَ، مُعَامَلَةً لَهُ بِنَقِيضِ قَصْدِهِ، مُكَافَأَةً لِمُرَادِهِ بِضِدِّهِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ اسْتَدْرَكَ اللَّعِينُ وَسَأَلَ النَّظْرَةَ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ، قَالَ: ﴿أَنْظِرْنِي [[في ك، م: "فأنظرني" وهو خطأ.]] إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِين﴾ أَجَابَهُ تَعَالَى إِلَى مَا سَأَلَ، لِمَا لَهُ فِي ذَلِكَ مِنَ الْحِكْمَةِ وَالْإِرَادَةِ وَالْمَشِيئَةِ الَّتِي لَا تُخَالَفُ وَلَا تُمَانَعُ، وَلَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ، وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ.
قَالَ فَبِمَآ أَغْوَيْتَنِى لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَٰطَكَ ٱلْمُسْتَقِيمَ
[Satan] said, "Because You have put me in error, I will surely sit in wait for them on Your straight path.
(پھر) شیطان نے کہا مجھے تو تُو نے ملعون کیا ہی ہے میں بھی تیرے سیدھے رستے پر ان (کو گمراہ کرنے) کے لیے بیٹھوں گا
گفت: «اکنون که مرا گمراه ساختی، من بر سر راه مستقیم تو، در برابر آنها کمین می کنم!
Tafsir Ibn Kathir
(Iblis) said: "Because You have 'Aghwaytni', surely, I will sit in wait against them (human beings) on Your straight pat (16)"Then I will come to them from before them and behind them, from their right and from their left, and You will not find most of them to be thankful. (17)
Allah said that after He gave respite to Shaytan,
إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
(till the Day they are raised up (resurrected)) and Iblis was sure that he got what he wanted, he went on in defiance and rebellion. He said,
فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ
("Because You have 'Aghwaytani', surely, I will sit in wait against them (human beings) on Your straight path.") meaning, as You have sent me astray. Ibn 'Abbas said that 'Aghwaytani' means, "Misguided me." Others said, "As You caused my ruin, I will sit in wait for Your servants whom You will create from the offspring of the one you expelled me for." He went on,
صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ
(Your straight path), the path of truth and the way of safety. I (Iblis) will misguide them from this path so that they do not worship You Alone, because You sent me astray. Mujahid said that the 'straight path', refers to the truth. Imam Ahmad recorded that Saburah bin Abi Al-Fakih said that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
إِنَّ الشَّيْطَانَ قَعَدَ لِابْنِ آدَمَ بِطُرُقِهِ، فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: أَتُسْلِمُ وَتَذَرُ دِينَكَ وَدِينَ آبَائِكَ؟ قَالَ: فَعَصَاهُ وَأَسْلَمَ
قال:
قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ: أَتُهَاجِرُ وَتَدَعُ أَرْضَكَ وَسَمَاءَكَ؟ وَإِنَّمَا مَثَلُ الْمُهَاجِرِ كَالْفَرَسِ فِي الطِّوَلِ، فَعَصَاهُ وَهَاجَرَ، ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْجِهَادِ وَهُوَ جِهَادُ النَّفْسِ وَالْمَالِ، فَقَالَ: تُقَاتِلُ فَتُقْتَلُ فَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ وَيُقْسَمُ الْمَالُ، قاَلَ: فَعَصَاهُ وَجَاهَدَ
وقال رسول الله صلّى الله عليه وسلّم:
فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَمَاتَ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَإِنْ قُتِلَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَإِنْ غَرِقَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ وَقَصَتْهُ دَابَّةٌ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ
(Shaytan sat in wait for the Son of Adam in all his paths. He sat in the path of Islam, saying, 'Would you embrace Islam and abandon your religion and the religion of your forefathers?' However, the Son of Adam disobeyed Shaytan and embraced Islam. So Shaytan sat in the path of Hijrah (migration in the cause of Allah), saying, 'Would you migrate and leave your land and sky?' But the parable of the Muhajir is that of a horse in his stamina So, he disobeyed Shaytan and migrated. So Shaytan sat in the path of Jihad, against one's self and with his wealth, saying, 'If you fight, you will be killed, your wife will be married and your wealth divided.' So he disobeyed him and performed Jihad. Therefore, whoever among them (Children of Adam) does this and dies, it will be a promise from Allah that He admits him into Paradise. If he is killed, it will be a promise from Allah that He admits him into Paradise. If he drowns, it will be a promise from Allah that He admits him into Paradise. If the animal breaks his neck, it will be a promise from Allah that He admits him into Paradise.)
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas commented on:
ثُمَّ لَآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ
(Then I will come to them from before them) Raising doubts in them concerning their Hereafter,
وَمِنْ خَلْفِهِمْ
(and (from) behind them), making them more eager for this life,
وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ
(from their right), causing them confusion in the religion,
وَعَن شَمَائِلِهِمْ
(and from their left) luring them to commit sins."
This is meant to cover all paths of good and evil. Shaytan discourages the people from the path of good and lures them to the path of evil. Al-Hakam bin Abban said that 'Ikrimah narrated from Ibn 'Abbas concerning the Ayah,
ثُمَّ لَآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَائِلِهِمْ
(Then I will come to them from before them and behind them, from their right and from their left,)
"He did not say that he will come from above them, because the mercy descends from above." 'Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas said,
وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ
(and You will not find most of them to be thankful.) "means, those who single Him out [in worship]." When Shaytan said this, it was a guess and an assumption on his part. Yet, the truth turned out to be the same, for Allah said,
وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ - وَمَا كَانَ لَهُ عَلَيْهِم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يُؤْمِنُ بِالْآخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِي شَكٍّ وَرَبُّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ
(And indeed Iblis (Shaytan) did prove true his thought about them, and they followed him, all except a group of true believers. And he had no authority over them, except that We might test him who believes in the Hereafter, from him who is in doubt about it. And your Lord is Watchful over everything.)[34:20-21].
This is why there is a Hadith that encourages seeking refuge with Allah from the lures of Shaytan from all directions. Imam Ahmad narrated that 'Abdullah bin 'Umar said, "The Messenger of Allah ﷺ used to often recite this supplication in the morning and when the night falls,
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي وَأَعُوذُ بِعَظَمتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي
(O Allah! I ask You for well-being in this life and the Hereafter. O Allah! I ask You for pardon and well-being in my religion, life, family and wealth. O Allah! Cover my errors and reassure me in times of difficulty. O Allah! Protect me from before me, from behind me, from my right, from my left and from above me. I seek refuge with Your greatness from being killed from below me.)"
Waki' commented (about being killed from below), "This refers to earthquakes." Abu Dawud, An-Nasa'i, Ibn Majah, Ibn Hibban and Al-Hakim collected this Hadith, and Al-Hakim said, "Its chain is Sahih. "
Tafsir Ibn Kathir
ابلیس کا طریقہ واردات اس کی اپنی زبانی ابلیس نے جب عہد الٰہی لے لیا تو اب بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگا کہ جیسے تو نے میری راہ ماری میں بھی اس کی اولاد کی راہ ماروں گا اور حق و نجات کے سیدھے راستے سے انہیں روکوں گا تیری توحید سے بہکا کر تیری عبادت سے سب کو ہٹا دوں گا۔ بعض نحوی کہتے ہیں کہ فبما میں با قسم کے لئے ہے یعنی مجھے قسم ہے میں اپنی بربادی کے مقابلہ میں اس کی اولاد کو برباد کر کے رہوں گا۔ عون بن عبداللہ کہتے ہیں میں مکہ کے راستے پر بیٹھ جاؤں گا لیکن صحیح یہی ہے کہ نیکی کے ہر راستے پر۔ چناچہ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ شیطان ابن آدم کی تمام راہوں میں بیٹھتا ہے وہ اسلام کی راہ میں رکاوٹ بننے کیلئے اسلام لانے والے کے دل میں وسوسے پیدا کرتا ہے کہ تو اپنے اور اپنے باپ دادا کے دین کو کیوں چھوڑتا ہے۔ اللہ کو اگر بہتری منظور ہوتی ہے تو وہ اس کی باتوں میں نہیں آتا اور اسلام قبول کرلیتا ہے۔ ہجرت کی راہ سے روکنے کیلئے اڑے آتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ تو اپنے وطن کو کیوں چھوڑتا ہے ؟ اپنی زمین و آسمان سے الگ ہوتا ہے ؟ غربت و بےکسی کی زندگی اختیار کرتا ہے ؟ لیکن مسلمان اس کے بہکاوے میں نہیں آتا اور ہجرت کر گذرتا ہے۔ پھر جہاد کی روک کے لئے آتا ہے اور جہاد مال سے ہے اور جان سے۔ اس سے کہتا ہے کہ تو کیوں جہاد میں جاتا ہے ؟ وہاں قتل کردیا جائے گا، پھر تیری بیوی دوسرے کے نکاح میں چلی جائے گی، تیرا مال اوروں کے قبضے میں چلا جائے گا لیکن مسلمان اس کی نہیں مانتا اور جہاد میں قدم رکھ دیتا ہے پس ایسے لوگوں کا اللہ پر حق ہے کہ وہ انہیں جنت میں لے جائے گو وہ جانور سے گر کر ہی مرجائیں۔ اس دوسری آیت کی تفسیر میں ابن عباس کا قول ہے کہ آگے سے آنے کا مطلب آخرت کے معاملہ میں شک و شبہ میں پیدا کرنا ہے۔ دوسرے جملے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی رغبتیں دلاؤں گا دائیں طرف سے آنا امر دین کو مشکوک کرنا ہے بائیں طرف سے آنا گناہوں کو لذیذ بنانا ہے شیطانوں کا یہی کام ہے ایک اور روایت میں ہے کہ شیطان کہتا ہے میں ان کی دنیا و آخرت، نیکیاں بھلائیاں سب تباہ کردینے کی کوشش میں رہوں گا اور برائیوں کی طرف ان کی رہبری کروں گا وہ سامنے سے آ کر کہتا ہے کہ جنت دوزخ قیامت کوئی چیز نہیں۔ وہ پشت کی جانب سے آ کر کہتا ہے دیکھ دنیا کس قدر زینت دار ہے وہ دائیں سے آ کر کہتا ہے خبردار نیکی کی راہ بہت کٹھن ہے۔ وہ بائیں سے آ کر کہتا ہے دیکھ گناہ کس قدر لذیذ ہیں پس ہر طرفے آ کر ہر طرح بہکاتا ہے ہاں یہ اللہ کا کرم ہے کہ وہ اوپر کی طرف سے نہیں آسکتا۔ اللہ کے بندے کے درمیان حائل ہو کر رحمت الٰہی کو روک نہیں بن سکتا۔ پس سامنے یعنی دنیا اور پیجھے یعنی آخرت اور دائیں یعنی اس طرح کی دیکھیں اور بائیں یعنی اس طرح نہ دیکھ سکیں یہ اقوال سب ٹھیک ہیں۔ امام ابن جریر ؒ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تمام خیر کے کاموں سے روکتا ہے اور سر کے تمام کام سمجھا جاتا ہے، اوپر کی سمت کا نام آیت میں نہیں وہ سمت رحمت رب کے آنے کیلئے خالی ہے اور وہاں شیطان کی روک نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اکثروں کو تو شاکر نہیں پائے گا یعنی موحد۔ ابلیس کو یہ وہم ہی وہم تھا لیکن نکلا مطابق واقعہ۔ جیسے فرمان ہے آیت (ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ) الخ، یعنی ابلیس نے اپنا گمان پورا کر دکھایا سوائے مومنوں کی پاکباز جماعت کے اور لوگ اس کے مطیع بن گئے حالانکہ شیطان کی کچھ حکومت تو ان پر نہ تھی مگر ہاں ہم صحیح طور سے ایمان رکھنے والوں کو اور شکی لوگوں کو الگ الگ کردینا چاہتے تھے۔ تیرا رب ہر حیز کا حافظ ہے۔ مسند بزار کی ایک حسن حدیث میں ہر طرف سے پناہ مانگنے کی ایک دعا آئی ہے۔ الفاظ یہ ہیں دعا (اللھم انی اسأالک العفو والعفتہ فی دینی و دنیای و اھلی و مالی اللھم استر عورانی وامن روعانی واحفظنی من بین یدی ومن خلقی وعن یمینی وعن شمالی و من فوقی واعوذ بک اللھم ان افتال من تحتی) مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ ہر صبح شام اس دعا کو پڑھتے تھے دعا (اللھم انی اسألک العافیتہ فی الدین والاخرۃ) اس کے بعد کی دعا کے کچھ فرق سے تقریباً وہی الفاظ ہیں جو اوپر مذکور ہوئے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُ لَمَّا أُنْظِرَ إِبْلِيسُ ﴿إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ﴾ [[في م: "الدين" وهو خطأ.]] وَاسْتَوْثَقَ إِبْلِيسُ بِذَلِكَ، أَخَذَ فِي الْمُعَانَدَةِ وَالتَّمَرُّدِ، فَقَالَ: ﴿فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لأقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ أَيْ: كَمَا أَغْوَيْتَنِي.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَمَا أَضْلَلْتَنِي. وَقَالَ غَيْرُهُ: كَمَا أَهْلَكْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لِعِبَادِكَ -الَّذِينَ تخلقهم من ذُرِّيَّةِ هَذَا الَّذِي أَبْعَدْتَنِي بِسَبَبِهِ -عَلَى ﴿صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ أَيْ: طَرِيقَ الْحَقِّ وَسَبِيلَ النَّجَاةِ، وَلَأُضِلَّنَّهُمْ [[في أ: "أفلأضلنهم".]] عَنْهَا لِئَلَّا يَعْبُدُوكَ وَلَا يُوَحِّدُوكَ بِسَبَبِ إِضْلَالِكَ إِيَّايَ.
وَقَالَ بَعْضُ النُّحَاةِ: الْبَاءُ هَاهُنَا قَسَمِيَّةٌ، كَأَنَّهُ يَقُولُ: فَبِإِغْوَائِكَ إِيَّايَ لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ.
قَالَ مُجَاهِدٌ: ﴿صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ يَعْنِي: الْحَقَّ.
وَقَالَ مُحَمَّدُ [[في أ: "مجاهد".]] بْنُ سُوقَةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: يَعْنِي طَرِيقَ مَكَّةَ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَالصَّحِيحُ أَنَّ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ أَعَمُّ مِنْ ذَلِكَ [كُلِّهِ] [[زيادة من ك.]] .
قُلْتُ: لِمَا رَوَى الْإِمَامُ أَحْمَدُ:
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيل-يَعْنِي الثَّقَفِيَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَقِيلٍ -حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الجَعْد عَنْ سَبْرَة بْنِ أَبِي فَاكِه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يَقُولُ: "إِنَّ الشَّيْطَانَ قَعَدَ لِابْنِ آدَمَ بِطُرُقِهِ، فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: أَتُسْلِمُ وَتَذَرُ دِينَكَ وَدِينَ آبَائِكَ؟ ". قَالَ: "فَعَصَاهُ وَأَسْلَمَ". قَالَ: "وَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ [[في د: "في طريق".]] الْهِجْرَةِ فَقَالَ: أَتُهَاجِرُ وَتَدَعُ [[في د، ك، م، أ: "وتذر".]] أَرْضَكَ وَسَمَاءَكَ، وَإِنَّمَا مَثَلُ الْمُهَاجِرِ كَالْفَرَسِ فِي الطّوَل؟ فَعَصَاهُ وَهَاجَرَ، ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ [[في د: "في طريق".]] الْجِهَادِ، وَهُوَ جِهَادُ النَّفْسِ وَالْمَالِ، فَقَالَ: تُقَاتِلُ فَتُقْتَلُ، فَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ وَيُقَسَّمُ الْمَالُ؟ ". قَالَ: "فَعَصَاهُ، فَجَاهَدَ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ [[في د: "منهم ذلك".]] فَمَاتَ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ قُتِلَ كَانَ [[في ك: "وإن قتل كان"، وفي م: "وإن كان قتل".]] حَقًّا عَلَى اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَإِنْ غَرِقَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ [[في م: "وإن".]] وَقَصته دَابَّةٌ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَدْخُلَهُ الْجَنَّةَ" [[المسند (٣/٤٨٣) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿ثمَُ لآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ [وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وِعَنْ شَمَائِلِهِمْ وَلا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ] ﴾ [[زيادة من أ، وفي هـ: "الآية".]] قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿ثُمَّ لآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ﴾ أُشَكِّكُهُمْ فِي آخِرَتِهِمْ، ﴿وَمِنْ خَلْفِهِمْ﴾ أُرَغِّبُهُمْ فِي دُنْيَاهُمْ ﴿وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ﴾ أشبَه عَلَيْهِمْ أَمْرَ دِينِهِمْ ﴿وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ﴾ أُشَهِّي لَهُمُ الْمَعَاصِي.
وَقَالَ [عَلِيُّ] [[زيادة من أ.]] بْنُ طَلْحَةَ -فِي رِوَايَةٍ -والعَوْفي، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَمَّا ﴿مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ﴾ فَمِنْ قِبَلِ دُنْيَاهُمْ، وَأَمَّا ﴿مِنْ خَلْفِهِمْ﴾ فَأَمْرُ آخِرَتِهِمْ، وَأَمَّا ﴿عَنْ أَيْمَانِهِمْ﴾ فَمِنْ قِبَل حَسَنَاتِهِمْ، وَأَمَّا ﴿عَنْ شَمَائِلِهِمْ﴾ فَمِنْ قِبَلِ سَيِّئَاتِهِمْ.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَة، عَنْ قَتَادَةَ: أَتَاهُمْ ﴿مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ﴾ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ [[في ك: "أن".]] لَا بعث ولا جَنَّةَ وَلَا نَارَ ﴿وَمِنْ خَلْفِهِمْ﴾ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا فزيَّنها لَهُمْ وَدَعَاهُمْ إِلَيْهَا وَ ﴿عَنْ أَيْمَانِهِم﴾ مِنْ قِبَلِ حَسَنَاتِهِمْ بَطَّاهم [[في أ: "بطأهم".]] عَنْهَا ﴿وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ﴾ زَيَّنَ لَهُمُ السَّيِّئَاتِ وَالْمَعَاصِيَ، وَدَعَاهُمْ إِلَيْهَا، وَأَمَرَهُمْ بِهَا. أَتَاكَ يَا ابْنَ آدَمَ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَأْتِكَ مِنْ فَوْقِكَ، لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَحُولَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ رَحْمَةِ اللَّهِ.
وَكَذَا رُوي عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعي، وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ [[في م، أ: "عيينة".]] وَالسُّدِّيِّ، وَابْنِ جَرِيرٍ [[في د، ك، م: "جريج".]] إِلَّا أَنَّهُمْ قَالُوا: ﴿مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ﴾ الدُّنْيَا ﴿وَمِنْ خَلْفِهِمْ﴾ الْآخِرَةُ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: "مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ": حَيْثُ يُبْصِرُونَ، "وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ": حَيْثُ لَا يُبْصِرُونَ.
وَاخْتَارَ ابْنُ جَرِيرٍ أَنَّ الْمُرَادَ جَمِيعُ طُرُقِ الْخَيْرِ وَالشَّرِّ، فَالْخَيْرُ يَصُدُّهُمْ عَنْهُ، وَالشَّرُّ يُحببه [[في د، ك، م، أ:"يحسنه".]] لَهُمْ.
وَقَالَ الْحَكَمُ بْنُ أَبَانٍ، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿ثمَُ لآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وِعَنْ شَمَائِلِهِمْ﴾ وَلَمْ يَقِلْ: مِنْ فَوْقِهِمْ؛ لِأَنَّ الرَّحْمَةَ تَنْزِلُ مِنْ فَوْقِهِمْ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَلا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ﴾ قَالَ: مُوَحِّدِينَ.
وَقَوْلُ إِبْلِيسَ هَذَا إِنَّمَا هُوَ ظَنٌّ مِنْهُ وَتَوَهُّمٌ، وَقَدْ وَافَقَ فِي هَذَا الْوَاقِعَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلا فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ * وَمَا كَانَ لَهُ عَلَيْهِمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلا لِنَعْلَمَ مَنْ يُؤْمِنُ بِالآخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِي شَكٍّ وَرَبُّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ﴾ [سَبَأٍ: ٢٠، ٢١] .
وَلِهَذَا وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ الِاسْتِعَاذَةُ مِنْ تَسَلُّطِ الشَّيْطَانِ عَلَى الْإِنْسَانِ مِنْ جِهَاتِهِ كُلِّهَا، كَمَا قَالَ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ الْبَزَّارُ فِي مُسْنَدِهِ:
حَدَّثَنَا نَصْر بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُجَمِّع، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّاب، عَنِ ابْنِ جُبَيْر بْنِ مُطْعِم -يَعْنِي نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ -عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ -وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ -يَعْنِي السِّجِسْتَانِيَّ -حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ -عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ -عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ، وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتي، وَآمِنْ رَوْعَتِي [[في د، ك: "اللهم استر عوراتي وآمن روعاتي".]] وَاحْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدِي وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي وعن شمالي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِكَ [[في د: "بعظمتك".]] اللَّهُمَّ أَنْ أُغْتَال مِنْ تَحْتِي". تَفَرَّدَ بِهِ الْبَزَّارُ [[مسند البزار برقم (٣١٩٦) "كشف الأستار" وقال الهيثمي في المجمع (١٠/١٧٥) : "فيه يونس بن خباب وهو ضعيف"]] وَحَسَّنَهُ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا وَكِيع، حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنِي جُبَير بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ابن جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ يَدْعُ هَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ [[في أ: "أسألك العفو والعافية".]] فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوَرَاتِي، وَآمِنْ رَوْعاتي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي وعن شمالي، ومن فَوْقِي، وأعوذ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي". قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي الْخَسْفَ.
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَابْنُ حِبَّان، وَالْحَاكِمُ مِنْ حَدِيثِ عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، بِهِ [[المسند (٢/٢٥) وسنن أبي داود برقم (٥٠٧٤) وسنن النسائي (٨/٢٨٢) وسنن ابن ماجة برقم (٣٨٧١) وصحيح ابن حبان (٢/١٥٥) "الإحسان" والمستدرك (١/٥١٧) .]] وَقَالَ الْحَاكِمُ: صَحِيحُ الْإِسْنَادِ.
ثُمَّ لَءَاتِيَنَّهُم مِّنۢ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَٰنِهِمْ وَعَن شَمَآئِلِهِمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَٰكِرِينَ
Then I will come to them from before them and from behind them and on their right and on their left, and You will not find most of them grateful [to You]."
پھر ان کے آگے سے اور پیچھے سے دائیں سے اور بائیں سے (غرض ہر طرف سے) آؤں گا (اور ان کی راہ ماروں گا) اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا
سپس از پیش رو و از پشت سر، و از طرف راست و از طرف چپ آنها، به سراغشان میروم؛ و بیشتر آنها را شکرگزار نخواهی یافت!»
Tafsir Ibn Kathir
(Iblis) said: "Because You have 'Aghwaytni', surely, I will sit in wait against them (human beings) on Your straight pat (16)"Then I will come to them from before them and behind them, from their right and from their left, and You will not find most of them to be thankful. (17)
Allah said that after He gave respite to Shaytan,
إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
(till the Day they are raised up (resurrected)) and Iblis was sure that he got what he wanted, he went on in defiance and rebellion. He said,
فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ
("Because You have 'Aghwaytani', surely, I will sit in wait against them (human beings) on Your straight path.") meaning, as You have sent me astray. Ibn 'Abbas said that 'Aghwaytani' means, "Misguided me." Others said, "As You caused my ruin, I will sit in wait for Your servants whom You will create from the offspring of the one you expelled me for." He went on,
صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ
(Your straight path), the path of truth and the way of safety. I (Iblis) will misguide them from this path so that they do not worship You Alone, because You sent me astray. Mujahid said that the 'straight path', refers to the truth. Imam Ahmad recorded that Saburah bin Abi Al-Fakih said that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
إِنَّ الشَّيْطَانَ قَعَدَ لِابْنِ آدَمَ بِطُرُقِهِ، فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: أَتُسْلِمُ وَتَذَرُ دِينَكَ وَدِينَ آبَائِكَ؟ قَالَ: فَعَصَاهُ وَأَسْلَمَ
قال:
قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ: أَتُهَاجِرُ وَتَدَعُ أَرْضَكَ وَسَمَاءَكَ؟ وَإِنَّمَا مَثَلُ الْمُهَاجِرِ كَالْفَرَسِ فِي الطِّوَلِ، فَعَصَاهُ وَهَاجَرَ، ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْجِهَادِ وَهُوَ جِهَادُ النَّفْسِ وَالْمَالِ، فَقَالَ: تُقَاتِلُ فَتُقْتَلُ فَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ وَيُقْسَمُ الْمَالُ، قاَلَ: فَعَصَاهُ وَجَاهَدَ
وقال رسول الله صلّى الله عليه وسلّم:
فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَمَاتَ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَإِنْ قُتِلَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَإِنْ غَرِقَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ وَقَصَتْهُ دَابَّةٌ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ
(Shaytan sat in wait for the Son of Adam in all his paths. He sat in the path of Islam, saying, 'Would you embrace Islam and abandon your religion and the religion of your forefathers?' However, the Son of Adam disobeyed Shaytan and embraced Islam. So Shaytan sat in the path of Hijrah (migration in the cause of Allah), saying, 'Would you migrate and leave your land and sky?' But the parable of the Muhajir is that of a horse in his stamina So, he disobeyed Shaytan and migrated. So Shaytan sat in the path of Jihad, against one's self and with his wealth, saying, 'If you fight, you will be killed, your wife will be married and your wealth divided.' So he disobeyed him and performed Jihad. Therefore, whoever among them (Children of Adam) does this and dies, it will be a promise from Allah that He admits him into Paradise. If he is killed, it will be a promise from Allah that He admits him into Paradise. If he drowns, it will be a promise from Allah that He admits him into Paradise. If the animal breaks his neck, it will be a promise from Allah that He admits him into Paradise.)
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas commented on:
ثُمَّ لَآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ
(Then I will come to them from before them) Raising doubts in them concerning their Hereafter,
وَمِنْ خَلْفِهِمْ
(and (from) behind them), making them more eager for this life,
وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ
(from their right), causing them confusion in the religion,
وَعَن شَمَائِلِهِمْ
(and from their left) luring them to commit sins."
This is meant to cover all paths of good and evil. Shaytan discourages the people from the path of good and lures them to the path of evil. Al-Hakam bin Abban said that 'Ikrimah narrated from Ibn 'Abbas concerning the Ayah,
ثُمَّ لَآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَائِلِهِمْ
(Then I will come to them from before them and behind them, from their right and from their left,)
"He did not say that he will come from above them, because the mercy descends from above." 'Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas said,
وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ
(and You will not find most of them to be thankful.) "means, those who single Him out [in worship]." When Shaytan said this, it was a guess and an assumption on his part. Yet, the truth turned out to be the same, for Allah said,
وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ - وَمَا كَانَ لَهُ عَلَيْهِم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يُؤْمِنُ بِالْآخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِي شَكٍّ وَرَبُّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ
(And indeed Iblis (Shaytan) did prove true his thought about them, and they followed him, all except a group of true believers. And he had no authority over them, except that We might test him who believes in the Hereafter, from him who is in doubt about it. And your Lord is Watchful over everything.)[34:20-21].
This is why there is a Hadith that encourages seeking refuge with Allah from the lures of Shaytan from all directions. Imam Ahmad narrated that 'Abdullah bin 'Umar said, "The Messenger of Allah ﷺ used to often recite this supplication in the morning and when the night falls,
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي وَأَعُوذُ بِعَظَمتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي
(O Allah! I ask You for well-being in this life and the Hereafter. O Allah! I ask You for pardon and well-being in my religion, life, family and wealth. O Allah! Cover my errors and reassure me in times of difficulty. O Allah! Protect me from before me, from behind me, from my right, from my left and from above me. I seek refuge with Your greatness from being killed from below me.)"
Waki' commented (about being killed from below), "This refers to earthquakes." Abu Dawud, An-Nasa'i, Ibn Majah, Ibn Hibban and Al-Hakim collected this Hadith, and Al-Hakim said, "Its chain is Sahih. "
Tafsir Ibn Kathir
ابلیس کا طریقہ واردات اس کی اپنی زبانی ابلیس نے جب عہد الٰہی لے لیا تو اب بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگا کہ جیسے تو نے میری راہ ماری میں بھی اس کی اولاد کی راہ ماروں گا اور حق و نجات کے سیدھے راستے سے انہیں روکوں گا تیری توحید سے بہکا کر تیری عبادت سے سب کو ہٹا دوں گا۔ بعض نحوی کہتے ہیں کہ فبما میں با قسم کے لئے ہے یعنی مجھے قسم ہے میں اپنی بربادی کے مقابلہ میں اس کی اولاد کو برباد کر کے رہوں گا۔ عون بن عبداللہ کہتے ہیں میں مکہ کے راستے پر بیٹھ جاؤں گا لیکن صحیح یہی ہے کہ نیکی کے ہر راستے پر۔ چناچہ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ شیطان ابن آدم کی تمام راہوں میں بیٹھتا ہے وہ اسلام کی راہ میں رکاوٹ بننے کیلئے اسلام لانے والے کے دل میں وسوسے پیدا کرتا ہے کہ تو اپنے اور اپنے باپ دادا کے دین کو کیوں چھوڑتا ہے۔ اللہ کو اگر بہتری منظور ہوتی ہے تو وہ اس کی باتوں میں نہیں آتا اور اسلام قبول کرلیتا ہے۔ ہجرت کی راہ سے روکنے کیلئے اڑے آتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ تو اپنے وطن کو کیوں چھوڑتا ہے ؟ اپنی زمین و آسمان سے الگ ہوتا ہے ؟ غربت و بےکسی کی زندگی اختیار کرتا ہے ؟ لیکن مسلمان اس کے بہکاوے میں نہیں آتا اور ہجرت کر گذرتا ہے۔ پھر جہاد کی روک کے لئے آتا ہے اور جہاد مال سے ہے اور جان سے۔ اس سے کہتا ہے کہ تو کیوں جہاد میں جاتا ہے ؟ وہاں قتل کردیا جائے گا، پھر تیری بیوی دوسرے کے نکاح میں چلی جائے گی، تیرا مال اوروں کے قبضے میں چلا جائے گا لیکن مسلمان اس کی نہیں مانتا اور جہاد میں قدم رکھ دیتا ہے پس ایسے لوگوں کا اللہ پر حق ہے کہ وہ انہیں جنت میں لے جائے گو وہ جانور سے گر کر ہی مرجائیں۔ اس دوسری آیت کی تفسیر میں ابن عباس کا قول ہے کہ آگے سے آنے کا مطلب آخرت کے معاملہ میں شک و شبہ میں پیدا کرنا ہے۔ دوسرے جملے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی رغبتیں دلاؤں گا دائیں طرف سے آنا امر دین کو مشکوک کرنا ہے بائیں طرف سے آنا گناہوں کو لذیذ بنانا ہے شیطانوں کا یہی کام ہے ایک اور روایت میں ہے کہ شیطان کہتا ہے میں ان کی دنیا و آخرت، نیکیاں بھلائیاں سب تباہ کردینے کی کوشش میں رہوں گا اور برائیوں کی طرف ان کی رہبری کروں گا وہ سامنے سے آ کر کہتا ہے کہ جنت دوزخ قیامت کوئی چیز نہیں۔ وہ پشت کی جانب سے آ کر کہتا ہے دیکھ دنیا کس قدر زینت دار ہے وہ دائیں سے آ کر کہتا ہے خبردار نیکی کی راہ بہت کٹھن ہے۔ وہ بائیں سے آ کر کہتا ہے دیکھ گناہ کس قدر لذیذ ہیں پس ہر طرفے آ کر ہر طرح بہکاتا ہے ہاں یہ اللہ کا کرم ہے کہ وہ اوپر کی طرف سے نہیں آسکتا۔ اللہ کے بندے کے درمیان حائل ہو کر رحمت الٰہی کو روک نہیں بن سکتا۔ پس سامنے یعنی دنیا اور پیجھے یعنی آخرت اور دائیں یعنی اس طرح کی دیکھیں اور بائیں یعنی اس طرح نہ دیکھ سکیں یہ اقوال سب ٹھیک ہیں۔ امام ابن جریر ؒ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تمام خیر کے کاموں سے روکتا ہے اور سر کے تمام کام سمجھا جاتا ہے، اوپر کی سمت کا نام آیت میں نہیں وہ سمت رحمت رب کے آنے کیلئے خالی ہے اور وہاں شیطان کی روک نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اکثروں کو تو شاکر نہیں پائے گا یعنی موحد۔ ابلیس کو یہ وہم ہی وہم تھا لیکن نکلا مطابق واقعہ۔ جیسے فرمان ہے آیت (ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ) الخ، یعنی ابلیس نے اپنا گمان پورا کر دکھایا سوائے مومنوں کی پاکباز جماعت کے اور لوگ اس کے مطیع بن گئے حالانکہ شیطان کی کچھ حکومت تو ان پر نہ تھی مگر ہاں ہم صحیح طور سے ایمان رکھنے والوں کو اور شکی لوگوں کو الگ الگ کردینا چاہتے تھے۔ تیرا رب ہر حیز کا حافظ ہے۔ مسند بزار کی ایک حسن حدیث میں ہر طرف سے پناہ مانگنے کی ایک دعا آئی ہے۔ الفاظ یہ ہیں دعا (اللھم انی اسأالک العفو والعفتہ فی دینی و دنیای و اھلی و مالی اللھم استر عورانی وامن روعانی واحفظنی من بین یدی ومن خلقی وعن یمینی وعن شمالی و من فوقی واعوذ بک اللھم ان افتال من تحتی) مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ ہر صبح شام اس دعا کو پڑھتے تھے دعا (اللھم انی اسألک العافیتہ فی الدین والاخرۃ) اس کے بعد کی دعا کے کچھ فرق سے تقریباً وہی الفاظ ہیں جو اوپر مذکور ہوئے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُ لَمَّا أُنْظِرَ إِبْلِيسُ ﴿إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ﴾ [[في م: "الدين" وهو خطأ.]] وَاسْتَوْثَقَ إِبْلِيسُ بِذَلِكَ، أَخَذَ فِي الْمُعَانَدَةِ وَالتَّمَرُّدِ، فَقَالَ: ﴿فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لأقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ أَيْ: كَمَا أَغْوَيْتَنِي.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَمَا أَضْلَلْتَنِي. وَقَالَ غَيْرُهُ: كَمَا أَهْلَكْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لِعِبَادِكَ -الَّذِينَ تخلقهم من ذُرِّيَّةِ هَذَا الَّذِي أَبْعَدْتَنِي بِسَبَبِهِ -عَلَى ﴿صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ أَيْ: طَرِيقَ الْحَقِّ وَسَبِيلَ النَّجَاةِ، وَلَأُضِلَّنَّهُمْ [[في أ: "أفلأضلنهم".]] عَنْهَا لِئَلَّا يَعْبُدُوكَ وَلَا يُوَحِّدُوكَ بِسَبَبِ إِضْلَالِكَ إِيَّايَ.
وَقَالَ بَعْضُ النُّحَاةِ: الْبَاءُ هَاهُنَا قَسَمِيَّةٌ، كَأَنَّهُ يَقُولُ: فَبِإِغْوَائِكَ إِيَّايَ لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ.
قَالَ مُجَاهِدٌ: ﴿صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ يَعْنِي: الْحَقَّ.
وَقَالَ مُحَمَّدُ [[في أ: "مجاهد".]] بْنُ سُوقَةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: يَعْنِي طَرِيقَ مَكَّةَ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَالصَّحِيحُ أَنَّ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ أَعَمُّ مِنْ ذَلِكَ [كُلِّهِ] [[زيادة من ك.]] .
قُلْتُ: لِمَا رَوَى الْإِمَامُ أَحْمَدُ:
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيل-يَعْنِي الثَّقَفِيَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَقِيلٍ -حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الجَعْد عَنْ سَبْرَة بْنِ أَبِي فَاكِه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يَقُولُ: "إِنَّ الشَّيْطَانَ قَعَدَ لِابْنِ آدَمَ بِطُرُقِهِ، فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: أَتُسْلِمُ وَتَذَرُ دِينَكَ وَدِينَ آبَائِكَ؟ ". قَالَ: "فَعَصَاهُ وَأَسْلَمَ". قَالَ: "وَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ [[في د: "في طريق".]] الْهِجْرَةِ فَقَالَ: أَتُهَاجِرُ وَتَدَعُ [[في د، ك، م، أ: "وتذر".]] أَرْضَكَ وَسَمَاءَكَ، وَإِنَّمَا مَثَلُ الْمُهَاجِرِ كَالْفَرَسِ فِي الطّوَل؟ فَعَصَاهُ وَهَاجَرَ، ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ [[في د: "في طريق".]] الْجِهَادِ، وَهُوَ جِهَادُ النَّفْسِ وَالْمَالِ، فَقَالَ: تُقَاتِلُ فَتُقْتَلُ، فَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ وَيُقَسَّمُ الْمَالُ؟ ". قَالَ: "فَعَصَاهُ، فَجَاهَدَ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ [[في د: "منهم ذلك".]] فَمَاتَ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ قُتِلَ كَانَ [[في ك: "وإن قتل كان"، وفي م: "وإن كان قتل".]] حَقًّا عَلَى اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَإِنْ غَرِقَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ [[في م: "وإن".]] وَقَصته دَابَّةٌ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَدْخُلَهُ الْجَنَّةَ" [[المسند (٣/٤٨٣) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿ثمَُ لآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ [وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وِعَنْ شَمَائِلِهِمْ وَلا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ] ﴾ [[زيادة من أ، وفي هـ: "الآية".]] قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿ثُمَّ لآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ﴾ أُشَكِّكُهُمْ فِي آخِرَتِهِمْ، ﴿وَمِنْ خَلْفِهِمْ﴾ أُرَغِّبُهُمْ فِي دُنْيَاهُمْ ﴿وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ﴾ أشبَه عَلَيْهِمْ أَمْرَ دِينِهِمْ ﴿وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ﴾ أُشَهِّي لَهُمُ الْمَعَاصِي.
وَقَالَ [عَلِيُّ] [[زيادة من أ.]] بْنُ طَلْحَةَ -فِي رِوَايَةٍ -والعَوْفي، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَمَّا ﴿مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ﴾ فَمِنْ قِبَلِ دُنْيَاهُمْ، وَأَمَّا ﴿مِنْ خَلْفِهِمْ﴾ فَأَمْرُ آخِرَتِهِمْ، وَأَمَّا ﴿عَنْ أَيْمَانِهِمْ﴾ فَمِنْ قِبَل حَسَنَاتِهِمْ، وَأَمَّا ﴿عَنْ شَمَائِلِهِمْ﴾ فَمِنْ قِبَلِ سَيِّئَاتِهِمْ.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَة، عَنْ قَتَادَةَ: أَتَاهُمْ ﴿مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ﴾ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ [[في ك: "أن".]] لَا بعث ولا جَنَّةَ وَلَا نَارَ ﴿وَمِنْ خَلْفِهِمْ﴾ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا فزيَّنها لَهُمْ وَدَعَاهُمْ إِلَيْهَا وَ ﴿عَنْ أَيْمَانِهِم﴾ مِنْ قِبَلِ حَسَنَاتِهِمْ بَطَّاهم [[في أ: "بطأهم".]] عَنْهَا ﴿وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ﴾ زَيَّنَ لَهُمُ السَّيِّئَاتِ وَالْمَعَاصِيَ، وَدَعَاهُمْ إِلَيْهَا، وَأَمَرَهُمْ بِهَا. أَتَاكَ يَا ابْنَ آدَمَ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَأْتِكَ مِنْ فَوْقِكَ، لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَحُولَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ رَحْمَةِ اللَّهِ.
وَكَذَا رُوي عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعي، وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ [[في م، أ: "عيينة".]] وَالسُّدِّيِّ، وَابْنِ جَرِيرٍ [[في د، ك، م: "جريج".]] إِلَّا أَنَّهُمْ قَالُوا: ﴿مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ﴾ الدُّنْيَا ﴿وَمِنْ خَلْفِهِمْ﴾ الْآخِرَةُ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: "مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ": حَيْثُ يُبْصِرُونَ، "وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ": حَيْثُ لَا يُبْصِرُونَ.
وَاخْتَارَ ابْنُ جَرِيرٍ أَنَّ الْمُرَادَ جَمِيعُ طُرُقِ الْخَيْرِ وَالشَّرِّ، فَالْخَيْرُ يَصُدُّهُمْ عَنْهُ، وَالشَّرُّ يُحببه [[في د، ك، م، أ:"يحسنه".]] لَهُمْ.
وَقَالَ الْحَكَمُ بْنُ أَبَانٍ، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿ثمَُ لآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وِعَنْ شَمَائِلِهِمْ﴾ وَلَمْ يَقِلْ: مِنْ فَوْقِهِمْ؛ لِأَنَّ الرَّحْمَةَ تَنْزِلُ مِنْ فَوْقِهِمْ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَلا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ﴾ قَالَ: مُوَحِّدِينَ.
وَقَوْلُ إِبْلِيسَ هَذَا إِنَّمَا هُوَ ظَنٌّ مِنْهُ وَتَوَهُّمٌ، وَقَدْ وَافَقَ فِي هَذَا الْوَاقِعَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلا فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ * وَمَا كَانَ لَهُ عَلَيْهِمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلا لِنَعْلَمَ مَنْ يُؤْمِنُ بِالآخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِي شَكٍّ وَرَبُّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ﴾ [سَبَأٍ: ٢٠، ٢١] .
وَلِهَذَا وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ الِاسْتِعَاذَةُ مِنْ تَسَلُّطِ الشَّيْطَانِ عَلَى الْإِنْسَانِ مِنْ جِهَاتِهِ كُلِّهَا، كَمَا قَالَ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ الْبَزَّارُ فِي مُسْنَدِهِ:
حَدَّثَنَا نَصْر بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُجَمِّع، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّاب، عَنِ ابْنِ جُبَيْر بْنِ مُطْعِم -يَعْنِي نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ -عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ -وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ -يَعْنِي السِّجِسْتَانِيَّ -حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ -عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ -عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ، وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتي، وَآمِنْ رَوْعَتِي [[في د، ك: "اللهم استر عوراتي وآمن روعاتي".]] وَاحْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدِي وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي وعن شمالي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِكَ [[في د: "بعظمتك".]] اللَّهُمَّ أَنْ أُغْتَال مِنْ تَحْتِي". تَفَرَّدَ بِهِ الْبَزَّارُ [[مسند البزار برقم (٣١٩٦) "كشف الأستار" وقال الهيثمي في المجمع (١٠/١٧٥) : "فيه يونس بن خباب وهو ضعيف"]] وَحَسَّنَهُ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا وَكِيع، حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنِي جُبَير بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ابن جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ يَدْعُ هَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ [[في أ: "أسألك العفو والعافية".]] فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوَرَاتِي، وَآمِنْ رَوْعاتي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي وعن شمالي، ومن فَوْقِي، وأعوذ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي". قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي الْخَسْفَ.
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَابْنُ حِبَّان، وَالْحَاكِمُ مِنْ حَدِيثِ عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، بِهِ [[المسند (٢/٢٥) وسنن أبي داود برقم (٥٠٧٤) وسنن النسائي (٨/٢٨٢) وسنن ابن ماجة برقم (٣٨٧١) وصحيح ابن حبان (٢/١٥٥) "الإحسان" والمستدرك (١/٥١٧) .]] وَقَالَ الْحَاكِمُ: صَحِيحُ الْإِسْنَادِ.
قَالَ ٱخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًۭا مَّدْحُورًۭا ۖ لَّمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمْ أَجْمَعِينَ
[Allah] said, "Get out of Paradise, reproached and expelled. Whoever follows you among them - I will surely fill Hell with you, all together."
(خدا نے) فرمایا، نکل جا۔ یہاں سے پاجی۔ مردود جو لوگ ان میں سے تیری پیروی کریں گے میں (ان کو اور تجھ کو جہنم میں ڈال کر) تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا
فرمود: «از آن (مقام)، با ننگ و عار و خواری، بیرون رو! و سوگند یاد میکنم که هر کس از آنها از تو پیروی کند، جهنم را از شما همگی پر میکنم!
Tafsir Ibn Kathir
(Allah) said (to Iblis): "Get out from this (Paradise), Madh'uman Madhura. Whoever of them (mankind) will follow you, then surely, I will fill Hell with you all. (18)
Allah emphasized His cursing, expelling, banishing and turning Shaytan away from the uppermost heights, saying;
Ibn Jarir said, "As for Madh'um, it is disgraced." And he said, "Madhur is the distanced, that is, he is banished and expelled." 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "We do not know of any who is Madh'uh and Madhmum except for one." Sufyan Ath-Thawri narrated from Abu Ishaq from At-Tamimi from Ibn 'Abbas,
اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًا مَّدْحُورًا
(Get out from this (Paradise), Madh'uman Madhura) "despised." 'Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas commented on,
اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًا مَّدْحُورًا
(Get out from this (Paradise), 'Madh'ūman Madhūra')[7:18]
"Belittled and despised", while As-Suddi commented, "Hateful and expelled." Qatadah commented, "Cursed and despised", while Mujahid said, "Expelled and banished." Ar-Rabi' bin Anas said that 'Madh'um' means banished, while, 'Madhura' means belittled. Allah said,
لَّمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمْ أَجْمَعِينَ
(Whoever of them (mankind) will follow you, then surely, I will fill Hell with you all.) This is similar to
قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُورًا - وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُم بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِم بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدْهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا - إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) an ample recompense. And gradually delude those whom you can among them with your voice, make assaults on them with your cavalry and your infantry, share with them wealth and children, and make promises to them." But Shaytan promises them nothing but deceit. "Verily, My servants – you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.")[17:63-65]
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ کے نافرمان جہنم کا دیندھن ہیں اس پر اللہ کی لعنت نازل ہوئی ہے، رحمت سے دور کردیا جاتا ہے۔ فرشتوں کی جماعت سے الگ کردیا جاتا ہے۔ عیب دار کر کے اتار دیا جاتا ہے، لفظ مذوم ماخوذ ہے ذام اور ذیم سے، یہ لفظ بہ نسبت لفظ ذم کے زیادہ مبالغے والا ہے، پس اس کے معنی عیب دار کے ہوئے اور مدحور کے معنی دور کئے ہوئے کے ہیں مقصد دونوں سے ایک ہی ہے۔ پس یہ ذلیل ہو کر اللہ کے غضب میں مبتلا ہو کر نیچے اتار دیا گیا۔ اللہ کی لعنت اس پر نازل ہوئی اور نکال دیا گیا اور فرمایا گیا کہ تو اور تیرے ماننے والے سب کے سب جہنم کا ایندھن ہیں جیسے اور آیت میں ہے (فان جھنم جزأکم) الخ، تمہاری سب کی سزا جہنم ہے تو جس طرح چاہ انہیں بہکا لیکن اس سے مایوس ہوجا کہ میرے خاص بندے تیرے وسوسوں میں آجائیں ان کا وکیل میں آپ ہوں۔
Tafsir Ibn Kathir
أَكَّدَ تَعَالَى عَلَيْهِ اللَّعْنَةَ [[في د، ك، م، أ: "أكد تعالى عليه اللعنة".]] وَالطَّرْدَ وَالْإِبْعَادَ وَالنَّفْيَ عَنْ مَحَلِّ الْمَلَأِ الْأَعْلَى بِقَوْلِهِ: ﴿اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًا مَدْحُورًا﴾
قال ابن جرير: أما "المذؤوُم" فَهُوَ الْمَعِيبُ، وَالذَّأْمُ غَيْرُ مشدَّد: الْعَيْبُ. يُقَالُ: "ذَأَمَهُ يَذْأَمُهُ ذَأْمًا فَهُوَ مَذْءُومٌ". وَيَتْرُكُونَ الْهَمْزَ فَيَقُولُونَ: "ذمْته أَذِيمُهُ ذَيْمًا وذَاما، وَالذَّامُّ وَالذَّيْمُ أَبْلَغُ فِي الْعَيْبِ مِنَ الذَّمِّ".
قَالَ: "وَالْمَدْحُورُ": المُقْصَى. وَهُوَ الْمُبْعَدُ الْمَطْرُودُ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: مَا نَعْرِفُ [[في ك: "ما يعرف".]] الْمَذْءُومَ" وَ "الْمَذْمُومَ" إِلَّا وَاحِدًا.
وَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ التَّمِيمِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًا مَدْحُورًا﴾ قَالَ: مَقِيتًا.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: صَغِيرًا مَقِيتًا. وَقَالَ السُّدِّيُّ: مَقِيتًا مَطْرُودًا. وَقَالَ قَتَادَةُ: لَعِينًا مَقِيتًا. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: مَنْفِيًّا مطرودًا. وقال الربيع بن أنس: مذؤوما: مَنْفِيًّا، وَالْمَدْحُورُ: الْمُصَغَّرُ [[في د: "الصغير".]] .
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ أَجْمَعِينَ﴾ كَقَوْلِهِ ﴿قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا * وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِي الأمْوَالِ وَالأولادِ وَعِدْهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلا غُرُورًا * إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلا﴾ [الإسراء: ٦٣ -٦٥] .
وَيَٰٓـَٔادَمُ ٱسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ ٱلْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ
And "O Adam, dwell, you and your wife, in Paradise and eat from wherever you will but do not approach this tree, lest you be among the wrongdoers."
اور ہم نے آدم (سے کہا کہ) تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو سہو اور جہاں سے چاہو (اور جو چاہو) نوش جان کرو مگر اس درخت کے پاس نہ جاؤ ورنہ گنہگار ہو جاؤ گے
و ای آدم! تو و همسرت در بهشت ساکن شوید! و از هر جا که خواستید، بخورید! امّا به این درخت نزدیک نشوید، که از ستمکاران خواهید بود!»
Tafsir Ibn Kathir
"And O Adam! Dwell you and your wife in Paradise, and eat thereof as you both wish, but approach not this tree otherwise you both will be of the wrongdoers (19)Then Shaytan whispered suggestions to them both in order to uncover that which was hidden from them of their private parts (before); he said: "Your Lord did not forbid you this tree save you should become angels or become of the immortals. (20)And he 'Qāsamahuma': "Verily, I am one of the sincere well-wishers for you both. (21)
Shaytan's Deceit with Adam and Hawwa' and Their eating from the Forbidden Tree
Allah states that He allowed Adam and his wife to dwell in Paradise and to eat from all of its fruits, except one tree. We have already discussed this in Surat Al-Baqarah. Thus, Shaytan envied them and plotted deceitfully, whispering and suggesting treachery. He wished to rid them of the various favors and nice clothes that they were enjoying.
وَقَالَ
(He (Shaytan) said) uttering lies and falsehood,
مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ
("Your Lord did not forbid you this tree save you should become angels...") meaning, so that you do not become angels or dwell here for eternity. Surely, if you eat from this tree, you will attain both, he said. In another Ayah,
قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلَىٰ
(Shaytan whispered to him, saying: "O Adam! Shall I lead you to the Tree of Eternity and to a kingdom that will never waste away?")[20:120]. Here, the wording is similar, so it means, 'so that you do not become angels' as in;
يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّوا
((Thus) does Allah make clear to you (His Law) lest you go astray.)[4:176] meaning, so that you do not go astray, and,
وَأَلْقَىٰ فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ
(And He has affixed into the earth mountains standing firm, lest it should shake with you;)[16:15] that is, so that the earth does not shake with you.
وَقَاسَمَهُمَا
(And he 'Qāsamahuma'), swore to them both by Allah, saying,
إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ
("Verily, I am one of the sincere well-wishers for you both.") for I was here before you and thus have better knowledge of this place.
It is a fact that the believer in Allah might sometimes become the victim of deceit. Qatadah commented on this Ayah, "Shaytan swore by Allah, saying, 'I was created before you, and I have better knowledge than you. Therefore, follow me and I will direct you.'"
Tafsir Ibn Kathir
پہلا امتحان اور اسی میں لغزش اور اس کا انجام ابلیس کو نکال کر حضرت آدم و حوا کو جنت میں پہنچا دیا گیا اور بجز ایک درخت کے انہیں ساری جنت کی چیزیں کھانے کی رخصت دے دی گئی۔ اس کا تفصیلی بیان سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے۔ شیطان کو اس سے بڑا ہی حسد ہوا، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر لعین جل گیا اور ٹھان لی کہ جس طرح سے ہو انہیں بہکا کر اللہ کے خلاف کر دوں۔ چناچہ جھوٹ افتراء باندھ کر ان سے کہنے لگا کہ دیکھو یہ درخت وہ ہے جس کے کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے اور ہمیشہ کی زندگی اسی جنت میں پاؤ گے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ابلیس نے کہا میں تمہیں ایک درخت کا پتہ دیتا ہوں جس سے تمہیں بقاء اور ہمیشگی والا ملک مل جائے گا۔ یہاں ہے کہ ان سے کہا تمہیں اس درخت سے صرف اس لئے روکا گیا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ۔ جیسے فرمان ہے آیت (یبین اللہ لکم ان تضلوا) مطلب یہ ہے کہ (لئلا تضلوا) اور آیت میں ہے (ان تمیدبکم) یہاں بھی یہی مطلب ہے۔ (ملکین) کی دوسری قرأت (ملکین) بھی ہے لیکن جمہور کی قرأت لام کے زبر کے ساتھ ہے۔ پھر اپنا اعتبار جمانے کیلئے قسمیں کھانے لگا کہ دیکھو میری بات کو سچ مانو میں تمہارا خیر خواہ ہوں تم سے پہلے سے ہی یہاں رہتا ہوں ہر ایک چیز کے خواص سے واقف ہوں تم اسے کھالو بس پھر یہیں رہو گے بلکہ فرشتے بن جاؤ گے قاسم باب مفاعلہ سے ہے اور اس کی خاصیت طرفین کی مشارکت ہے لیکن یہاں یہ خاصیت نہیں ہے۔ ایسے اشعار بھی ہیں جہاں قاسم آیا ہے اور صرف ایک طرف کے لئے۔ اس قسم کی وجہ سے اس خبیث کے بہکاوے میں حضرت آدم آگئے۔ سچ ہے مومن اس وقت دھوکا کھا جاتا ہے جب کوئی ناپاک انسان اللہ کو بیچ میں دیتا ہے۔ چناچہ سلف کا قول ہے کہ ہم اللہ کے نام کے بعد اپنے ہتھیار ڈال دیا کرتے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَذْكُرُ تَعَالَى أَنَّهُ أَبَاحَ لِآدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَلِزَوْجَتِهِ [حَوَّاءَ] [[زيادة من أ.]] الْجَنَّةَ أَنْ يَأْكُلَا مِنْهَا مِنْ جَمِيعِ ثِمَارِهَا إِلَّا شَجَرَةً وَاحِدَةً. وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَى ذَلِكَ فِي "سُورَةِ الْبَقَرَةِ"، فَعِنْدَ ذَلِكَ حَسَدَهُمَا الشَّيْطَانُ، وَسَعَى فِي الْمَكْرِ وَالْخَدِيعَةِ وَالْوَسْوَسَةِ ليُسلبا [[في د: "ليسلبهما".]] مَا هُمَا فِيهِ مِنَ النِّعْمَةِ وَاللِّبَاسِ الْحَسَنِ، وَقَالَ كَذِبًا وَافْتِرَاءً: مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ أَكْلِ [[في د، ك: "هذه".]] الشَّجَرَةِ إِلَّا لِتَكُونَا مَلَكَيْنِ أَيْ: لِئَلَّا تَكُونَا مَلَكَيْنِ، أَوْ خَالِدَيْنِ هَاهُنَا وَلَوْ أَنَّكُمَا أَكَلْتُمَا مِنْهَا لَحَصَلَ لَكُمَا ذَلِكُمَا [[في أ: "ذلك".]] كَقَوْلِهِ: ﴿قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَا يَبْلَى﴾ [طه: ١٢٠] أَيْ: لِئَلَّا تَكُونَا مَلَكَيْنِ، كَقَوْلِهِ: ﴿يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا﴾ [النِّسَاءِ: ١٧٦] أَيْ: لِئَلَّا تَضِلُّوا، ﴿وَأَلْقَى فِي الأرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ﴾ [النَّحْلِ: ١٥] أَيْ: لِئَلَّا تَمِيدَ بِكُمْ.
وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَيَحْيَى بْنُ أبي كثير يقرآن: ﴿إِلا أَنْ تَكُونَا مَلَكَيْنِ﴾ بِكَسْرِ اللَّامِ. وَقَرَأَهُ الْجُمْهُورُ بِفَتْحِهَا.
﴿وَقَاسَمَهُمَا﴾ أَيْ: حَلَفَ لَهُمَا بِاللَّهِ: ﴿إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ﴾ فَإِنِّي مِنْ قَبْلكما هَاهُنَا، وَأَعْلَمُ بِهَذَا الْمَكَانِ، وَهَذَا مِنْ بَابِ الْمُفَاعَلَةِ وَالْمُرَادُ أَحَدُ الطَّرَفَيْنِ، كَمَا قَالَ خَالِدُ بْنُ زُهَيْرٍ، ابْنُ عَمِّ أَبِي ذُؤَيْبٍ:
وقاسَمَها بِاللَّهِ جَهْدا لأنتمُ ... أَلَذُّ مِنَ السَّلْوَى إِذْ مَا نُشُورُهَا [[البيت في تفسير الطبري (١٢/٣٥٠) وعزاه المحقق لأشعار الهذليين (١/١٥٨) .]]
أَيْ: حَلَفَ لَهُمَا بِاللَّهِ [عَلَى ذَلِكَ] [[زيادة من د، ك، م، أ.]] حَتَّى خَدَعَهُمَا، وَقَدْ يُخْدَعُ الْمُؤْمِنُ بِاللَّهِ، فَقَالَ: إِنِّي خُلقت قَبْلَكُمَا، وَأَنَا أَعْلَمُ مِنْكُمَا، فَاتَّبِعَانِي أُرْشِدُكُمَا. وَكَانَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُ: "مَنْ خَادَعَنَا بِاللَّهِ خُدعنا لَهُ".
فَوَسْوَسَ لَهُمَا ٱلشَّيْطَٰنُ لِيُبْدِىَ لَهُمَا مَا وُۥرِىَ عَنْهُمَا مِن سَوْءَٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَىٰكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةِ إِلَّآ أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ ٱلْخَٰلِدِينَ
But Satan whispered to them to make apparent to them that which was concealed from them of their private parts. He said, "Your Lord did not forbid you this tree except that you become angels or become of the immortal."
تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ ان کی ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے کہ کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو
سپس شیطان آن دو را وسوسه کرد، تا آنچه را از اندامشان پنهان بود، آشکار سازد؛ و گفت: «پروردگارتان شما را از این درخت نهی نکرده مگر بخاطر اینکه (اگر از آن بخورید،) فرشته خواهید شد، یا جاودانه (در بهشت) خواهید ماند!»
Tafsir Ibn Kathir
"And O Adam! Dwell you and your wife in Paradise, and eat thereof as you both wish, but approach not this tree otherwise you both will be of the wrongdoers (19)Then Shaytan whispered suggestions to them both in order to uncover that which was hidden from them of their private parts (before); he said: "Your Lord did not forbid you this tree save you should become angels or become of the immortals. (20)And he 'Qāsamahuma': "Verily, I am one of the sincere well-wishers for you both. (21)
Shaytan's Deceit with Adam and Hawwa' and Their eating from the Forbidden Tree
Allah states that He allowed Adam and his wife to dwell in Paradise and to eat from all of its fruits, except one tree. We have already discussed this in Surat Al-Baqarah. Thus, Shaytan envied them and plotted deceitfully, whispering and suggesting treachery. He wished to rid them of the various favors and nice clothes that they were enjoying.
وَقَالَ
(He (Shaytan) said) uttering lies and falsehood,
مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ
("Your Lord did not forbid you this tree save you should become angels...") meaning, so that you do not become angels or dwell here for eternity. Surely, if you eat from this tree, you will attain both, he said. In another Ayah,
قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلَىٰ
(Shaytan whispered to him, saying: "O Adam! Shall I lead you to the Tree of Eternity and to a kingdom that will never waste away?")[20:120]. Here, the wording is similar, so it means, 'so that you do not become angels' as in;
يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّوا
((Thus) does Allah make clear to you (His Law) lest you go astray.)[4:176] meaning, so that you do not go astray, and,
وَأَلْقَىٰ فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ
(And He has affixed into the earth mountains standing firm, lest it should shake with you;)[16:15] that is, so that the earth does not shake with you.
وَقَاسَمَهُمَا
(And he 'Qāsamahuma'), swore to them both by Allah, saying,
إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ
("Verily, I am one of the sincere well-wishers for you both.") for I was here before you and thus have better knowledge of this place.
It is a fact that the believer in Allah might sometimes become the victim of deceit. Qatadah commented on this Ayah, "Shaytan swore by Allah, saying, 'I was created before you, and I have better knowledge than you. Therefore, follow me and I will direct you.'"
Tafsir Ibn Kathir
پہلا امتحان اور اسی میں لغزش اور اس کا انجام ابلیس کو نکال کر حضرت آدم و حوا کو جنت میں پہنچا دیا گیا اور بجز ایک درخت کے انہیں ساری جنت کی چیزیں کھانے کی رخصت دے دی گئی۔ اس کا تفصیلی بیان سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے۔ شیطان کو اس سے بڑا ہی حسد ہوا، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر لعین جل گیا اور ٹھان لی کہ جس طرح سے ہو انہیں بہکا کر اللہ کے خلاف کر دوں۔ چناچہ جھوٹ افتراء باندھ کر ان سے کہنے لگا کہ دیکھو یہ درخت وہ ہے جس کے کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے اور ہمیشہ کی زندگی اسی جنت میں پاؤ گے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ابلیس نے کہا میں تمہیں ایک درخت کا پتہ دیتا ہوں جس سے تمہیں بقاء اور ہمیشگی والا ملک مل جائے گا۔ یہاں ہے کہ ان سے کہا تمہیں اس درخت سے صرف اس لئے روکا گیا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ۔ جیسے فرمان ہے آیت (یبین اللہ لکم ان تضلوا) مطلب یہ ہے کہ (لئلا تضلوا) اور آیت میں ہے (ان تمیدبکم) یہاں بھی یہی مطلب ہے۔ (ملکین) کی دوسری قرأت (ملکین) بھی ہے لیکن جمہور کی قرأت لام کے زبر کے ساتھ ہے۔ پھر اپنا اعتبار جمانے کیلئے قسمیں کھانے لگا کہ دیکھو میری بات کو سچ مانو میں تمہارا خیر خواہ ہوں تم سے پہلے سے ہی یہاں رہتا ہوں ہر ایک چیز کے خواص سے واقف ہوں تم اسے کھالو بس پھر یہیں رہو گے بلکہ فرشتے بن جاؤ گے قاسم باب مفاعلہ سے ہے اور اس کی خاصیت طرفین کی مشارکت ہے لیکن یہاں یہ خاصیت نہیں ہے۔ ایسے اشعار بھی ہیں جہاں قاسم آیا ہے اور صرف ایک طرف کے لئے۔ اس قسم کی وجہ سے اس خبیث کے بہکاوے میں حضرت آدم آگئے۔ سچ ہے مومن اس وقت دھوکا کھا جاتا ہے جب کوئی ناپاک انسان اللہ کو بیچ میں دیتا ہے۔ چناچہ سلف کا قول ہے کہ ہم اللہ کے نام کے بعد اپنے ہتھیار ڈال دیا کرتے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَذْكُرُ تَعَالَى أَنَّهُ أَبَاحَ لِآدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَلِزَوْجَتِهِ [حَوَّاءَ] [[زيادة من أ.]] الْجَنَّةَ أَنْ يَأْكُلَا مِنْهَا مِنْ جَمِيعِ ثِمَارِهَا إِلَّا شَجَرَةً وَاحِدَةً. وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَى ذَلِكَ فِي "سُورَةِ الْبَقَرَةِ"، فَعِنْدَ ذَلِكَ حَسَدَهُمَا الشَّيْطَانُ، وَسَعَى فِي الْمَكْرِ وَالْخَدِيعَةِ وَالْوَسْوَسَةِ ليُسلبا [[في د: "ليسلبهما".]] مَا هُمَا فِيهِ مِنَ النِّعْمَةِ وَاللِّبَاسِ الْحَسَنِ، وَقَالَ كَذِبًا وَافْتِرَاءً: مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ أَكْلِ [[في د، ك: "هذه".]] الشَّجَرَةِ إِلَّا لِتَكُونَا مَلَكَيْنِ أَيْ: لِئَلَّا تَكُونَا مَلَكَيْنِ، أَوْ خَالِدَيْنِ هَاهُنَا وَلَوْ أَنَّكُمَا أَكَلْتُمَا مِنْهَا لَحَصَلَ لَكُمَا ذَلِكُمَا [[في أ: "ذلك".]] كَقَوْلِهِ: ﴿قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَا يَبْلَى﴾ [طه: ١٢٠] أَيْ: لِئَلَّا تَكُونَا مَلَكَيْنِ، كَقَوْلِهِ: ﴿يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا﴾ [النِّسَاءِ: ١٧٦] أَيْ: لِئَلَّا تَضِلُّوا، ﴿وَأَلْقَى فِي الأرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ﴾ [النَّحْلِ: ١٥] أَيْ: لِئَلَّا تَمِيدَ بِكُمْ.
وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَيَحْيَى بْنُ أبي كثير يقرآن: ﴿إِلا أَنْ تَكُونَا مَلَكَيْنِ﴾ بِكَسْرِ اللَّامِ. وَقَرَأَهُ الْجُمْهُورُ بِفَتْحِهَا.
﴿وَقَاسَمَهُمَا﴾ أَيْ: حَلَفَ لَهُمَا بِاللَّهِ: ﴿إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ﴾ فَإِنِّي مِنْ قَبْلكما هَاهُنَا، وَأَعْلَمُ بِهَذَا الْمَكَانِ، وَهَذَا مِنْ بَابِ الْمُفَاعَلَةِ وَالْمُرَادُ أَحَدُ الطَّرَفَيْنِ، كَمَا قَالَ خَالِدُ بْنُ زُهَيْرٍ، ابْنُ عَمِّ أَبِي ذُؤَيْبٍ:
وقاسَمَها بِاللَّهِ جَهْدا لأنتمُ ... أَلَذُّ مِنَ السَّلْوَى إِذْ مَا نُشُورُهَا [[البيت في تفسير الطبري (١٢/٣٥٠) وعزاه المحقق لأشعار الهذليين (١/١٥٨) .]]
أَيْ: حَلَفَ لَهُمَا بِاللَّهِ [عَلَى ذَلِكَ] [[زيادة من د، ك، م، أ.]] حَتَّى خَدَعَهُمَا، وَقَدْ يُخْدَعُ الْمُؤْمِنُ بِاللَّهِ، فَقَالَ: إِنِّي خُلقت قَبْلَكُمَا، وَأَنَا أَعْلَمُ مِنْكُمَا، فَاتَّبِعَانِي أُرْشِدُكُمَا. وَكَانَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُ: "مَنْ خَادَعَنَا بِاللَّهِ خُدعنا لَهُ".
وَقَاسَمَهُمَآ إِنِّى لَكُمَا لَمِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ
And he swore [by Allah] to them, "Indeed, I am to you from among the sincere advisors."
اور ان سے قسم کھا کر کہا میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں
و برای آنها سوگند یاد کرد که من برای شما از خیرخواهانم.
Tafsir Ibn Kathir
"And O Adam! Dwell you and your wife in Paradise, and eat thereof as you both wish, but approach not this tree otherwise you both will be of the wrongdoers (19)Then Shaytan whispered suggestions to them both in order to uncover that which was hidden from them of their private parts (before); he said: "Your Lord did not forbid you this tree save you should become angels or become of the immortals. (20)And he 'Qāsamahuma': "Verily, I am one of the sincere well-wishers for you both. (21)
Shaytan's Deceit with Adam and Hawwa' and Their eating from the Forbidden Tree
Allah states that He allowed Adam and his wife to dwell in Paradise and to eat from all of its fruits, except one tree. We have already discussed this in Surat Al-Baqarah. Thus, Shaytan envied them and plotted deceitfully, whispering and suggesting treachery. He wished to rid them of the various favors and nice clothes that they were enjoying.
وَقَالَ
(He (Shaytan) said) uttering lies and falsehood,
مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ
("Your Lord did not forbid you this tree save you should become angels...") meaning, so that you do not become angels or dwell here for eternity. Surely, if you eat from this tree, you will attain both, he said. In another Ayah,
قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلَىٰ
(Shaytan whispered to him, saying: "O Adam! Shall I lead you to the Tree of Eternity and to a kingdom that will never waste away?")[20:120]. Here, the wording is similar, so it means, 'so that you do not become angels' as in;
يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّوا
((Thus) does Allah make clear to you (His Law) lest you go astray.)[4:176] meaning, so that you do not go astray, and,
وَأَلْقَىٰ فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ
(And He has affixed into the earth mountains standing firm, lest it should shake with you;)[16:15] that is, so that the earth does not shake with you.
وَقَاسَمَهُمَا
(And he 'Qāsamahuma'), swore to them both by Allah, saying,
إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ
("Verily, I am one of the sincere well-wishers for you both.") for I was here before you and thus have better knowledge of this place.
It is a fact that the believer in Allah might sometimes become the victim of deceit. Qatadah commented on this Ayah, "Shaytan swore by Allah, saying, 'I was created before you, and I have better knowledge than you. Therefore, follow me and I will direct you.'"
Tafsir Ibn Kathir
پہلا امتحان اور اسی میں لغزش اور اس کا انجام ابلیس کو نکال کر حضرت آدم و حوا کو جنت میں پہنچا دیا گیا اور بجز ایک درخت کے انہیں ساری جنت کی چیزیں کھانے کی رخصت دے دی گئی۔ اس کا تفصیلی بیان سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے۔ شیطان کو اس سے بڑا ہی حسد ہوا، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر لعین جل گیا اور ٹھان لی کہ جس طرح سے ہو انہیں بہکا کر اللہ کے خلاف کر دوں۔ چناچہ جھوٹ افتراء باندھ کر ان سے کہنے لگا کہ دیکھو یہ درخت وہ ہے جس کے کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے اور ہمیشہ کی زندگی اسی جنت میں پاؤ گے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ابلیس نے کہا میں تمہیں ایک درخت کا پتہ دیتا ہوں جس سے تمہیں بقاء اور ہمیشگی والا ملک مل جائے گا۔ یہاں ہے کہ ان سے کہا تمہیں اس درخت سے صرف اس لئے روکا گیا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ۔ جیسے فرمان ہے آیت (یبین اللہ لکم ان تضلوا) مطلب یہ ہے کہ (لئلا تضلوا) اور آیت میں ہے (ان تمیدبکم) یہاں بھی یہی مطلب ہے۔ (ملکین) کی دوسری قرأت (ملکین) بھی ہے لیکن جمہور کی قرأت لام کے زبر کے ساتھ ہے۔ پھر اپنا اعتبار جمانے کیلئے قسمیں کھانے لگا کہ دیکھو میری بات کو سچ مانو میں تمہارا خیر خواہ ہوں تم سے پہلے سے ہی یہاں رہتا ہوں ہر ایک چیز کے خواص سے واقف ہوں تم اسے کھالو بس پھر یہیں رہو گے بلکہ فرشتے بن جاؤ گے قاسم باب مفاعلہ سے ہے اور اس کی خاصیت طرفین کی مشارکت ہے لیکن یہاں یہ خاصیت نہیں ہے۔ ایسے اشعار بھی ہیں جہاں قاسم آیا ہے اور صرف ایک طرف کے لئے۔ اس قسم کی وجہ سے اس خبیث کے بہکاوے میں حضرت آدم آگئے۔ سچ ہے مومن اس وقت دھوکا کھا جاتا ہے جب کوئی ناپاک انسان اللہ کو بیچ میں دیتا ہے۔ چناچہ سلف کا قول ہے کہ ہم اللہ کے نام کے بعد اپنے ہتھیار ڈال دیا کرتے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَذْكُرُ تَعَالَى أَنَّهُ أَبَاحَ لِآدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَلِزَوْجَتِهِ [حَوَّاءَ] [[زيادة من أ.]] الْجَنَّةَ أَنْ يَأْكُلَا مِنْهَا مِنْ جَمِيعِ ثِمَارِهَا إِلَّا شَجَرَةً وَاحِدَةً. وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَى ذَلِكَ فِي "سُورَةِ الْبَقَرَةِ"، فَعِنْدَ ذَلِكَ حَسَدَهُمَا الشَّيْطَانُ، وَسَعَى فِي الْمَكْرِ وَالْخَدِيعَةِ وَالْوَسْوَسَةِ ليُسلبا [[في د: "ليسلبهما".]] مَا هُمَا فِيهِ مِنَ النِّعْمَةِ وَاللِّبَاسِ الْحَسَنِ، وَقَالَ كَذِبًا وَافْتِرَاءً: مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ أَكْلِ [[في د، ك: "هذه".]] الشَّجَرَةِ إِلَّا لِتَكُونَا مَلَكَيْنِ أَيْ: لِئَلَّا تَكُونَا مَلَكَيْنِ، أَوْ خَالِدَيْنِ هَاهُنَا وَلَوْ أَنَّكُمَا أَكَلْتُمَا مِنْهَا لَحَصَلَ لَكُمَا ذَلِكُمَا [[في أ: "ذلك".]] كَقَوْلِهِ: ﴿قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَا يَبْلَى﴾ [طه: ١٢٠] أَيْ: لِئَلَّا تَكُونَا مَلَكَيْنِ، كَقَوْلِهِ: ﴿يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا﴾ [النِّسَاءِ: ١٧٦] أَيْ: لِئَلَّا تَضِلُّوا، ﴿وَأَلْقَى فِي الأرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ﴾ [النَّحْلِ: ١٥] أَيْ: لِئَلَّا تَمِيدَ بِكُمْ.
وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَيَحْيَى بْنُ أبي كثير يقرآن: ﴿إِلا أَنْ تَكُونَا مَلَكَيْنِ﴾ بِكَسْرِ اللَّامِ. وَقَرَأَهُ الْجُمْهُورُ بِفَتْحِهَا.
﴿وَقَاسَمَهُمَا﴾ أَيْ: حَلَفَ لَهُمَا بِاللَّهِ: ﴿إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ﴾ فَإِنِّي مِنْ قَبْلكما هَاهُنَا، وَأَعْلَمُ بِهَذَا الْمَكَانِ، وَهَذَا مِنْ بَابِ الْمُفَاعَلَةِ وَالْمُرَادُ أَحَدُ الطَّرَفَيْنِ، كَمَا قَالَ خَالِدُ بْنُ زُهَيْرٍ، ابْنُ عَمِّ أَبِي ذُؤَيْبٍ:
وقاسَمَها بِاللَّهِ جَهْدا لأنتمُ ... أَلَذُّ مِنَ السَّلْوَى إِذْ مَا نُشُورُهَا [[البيت في تفسير الطبري (١٢/٣٥٠) وعزاه المحقق لأشعار الهذليين (١/١٥٨) .]]
أَيْ: حَلَفَ لَهُمَا بِاللَّهِ [عَلَى ذَلِكَ] [[زيادة من د، ك، م، أ.]] حَتَّى خَدَعَهُمَا، وَقَدْ يُخْدَعُ الْمُؤْمِنُ بِاللَّهِ، فَقَالَ: إِنِّي خُلقت قَبْلَكُمَا، وَأَنَا أَعْلَمُ مِنْكُمَا، فَاتَّبِعَانِي أُرْشِدُكُمَا. وَكَانَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُ: "مَنْ خَادَعَنَا بِاللَّهِ خُدعنا لَهُ".
فَدَلَّىٰهُمَا بِغُرُورٍۢ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا ٱلشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْءَٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ ٱلْجَنَّةِ ۖ وَنَادَىٰهُمَا رَبُّهُمَآ أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا ٱلشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَآ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ
So he made them fall, through deception. And when they tasted of the tree, their private parts became apparent to them, and they began to fasten together over themselves from the leaves of Paradise. And their Lord called to them, "Did I not forbid you from that tree and tell you that Satan is to you a clear enemy?"
غرض (مردود نے) دھوکہ دے کر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھا لیا تو ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے اور (ستر چھپانے لگے) تب ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے
و به این ترتیب، آنها را با فریب (از مقامشان) فرودآورد. و هنگامی که از آن درخت چشیدند، اندامشان [= عورتشان] بر آنها آشکار شد؛ و شروع کردند به قرار دادن برگهای (درختان) بهشتی بر خود، تا آن را بپوشانند. و پروردگارشان آنها را نداد داد که: «آیا شما را از آن درخت نهی نکردم؟! و نگفتم که شیطان برای شما دشمن آشکاری است؟!»
Tafsir Ibn Kathir
So he misled them with deception. Then when they tasted of the tree, that which was hidden from them of their shame (private parts) became manifest to them and they began to cover themselves with the leaves of Paradise. And their Lord called out to them (saying): "Did I not forbid you that tree and tell you: Verily, Shaytan is an open enemy unto you? (22)They said: "Our Lord! We have wronged ourselves. If You forgive us not, and bestow not upon us Your mercy, we shall certainly be of the losers. (23)
Ubayy bin Ka'b said, "Adam was a tall man, about the height of a palm tree, and he had thick hair on his head. When he committed the error that he committed, his private part appeared to him while before, he did not see it. So he started running in fright through Paradise, but a tree in Paradise took him by the head. He said to it, 'Release me,' but it said, 'No, I will not release you.' So his Lord called him, 'O Adam! Do you run away from Me?' He said, 'O Lord! I felt ashamed before You.'" Ibn Jarir and Ibn Marduwyah collected this statement using several chains of narration from Al-Hasan from Ubayy bin Ka'b who narrated it from the Prophet ﷺ. However, relating the Hadith to Ubayy is more correct.
Ibn 'Abbas commented on the Ayah,
وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ
(And they began to cover themselves with the leaves of Paradise.) "Using fig leaves." This statement has an authentic chain of narration leading to Ibn 'Abbas. Mujahid said that they began to cover themselves with the leaves of Paradise, "Making them as a dress (or garment)." Commenting on Allah's statement,
يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا
(Stripping them of their raiment)[7:27] Wahb bin Munabbih said, "The private parts of Adam and Hawwa' had a light covering them which prevented them from seeing the private parts of each other. When they ate from the tree, their private parts appeared to them." Ibn Jarir reported this statement with an authentic chain of narration.
Abdur-Razzaq reported from Qatadah, "Adam said, 'O Lord! What if I repented and sought forgiveness?' Allah said, 'Then, I will admit you into Paradise.' As for Shaytan, he did not ask for forgiveness, but for respite. Each one of them was given what he asked for." Ad-Dahhak bin Muzahim commented,
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
("Our Lord! We have wronged ourselves. If You forgive us not, and bestow not upon us Your mercy, we shall certainly be of the losers.") "These are the words that Adam received from his Lord."
Tafsir Ibn Kathir
لغزش کے بعد کیا ہوا ؟ ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں " حضرت آدم ؑ کا قد مثل درخت کھجور کے بہت لمبا تھا اور سر پر بہت لمبے لمبے بال تھے، درخت کھانے سے پہلے انہیں اپنی شرمگاہ کا علم بھی نہ تھا نظر ہی نہ پڑی تھی۔ لیکن اس خطا کے ہوتے ہی وہ ظاہر ہوگئی، بھاگنے لگے تو بال ایک درخت میں الجھ گئے، کہنے لگے اے درخت مجھے چھوڑ دے درخت سے جواب ملا کہ ناممکن ہے، اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی کہ اے آدم مجھ سے بھاگ رہا ہے ؟ کہنے لگے یا اللہ شرمندگی ہے، شرمسار ہوں، گو یہ روایت مرفوع بھی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح موقوف ہونا ہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں، درخت کا پھل کھالیا اور چھپانے کی چیز ظاہر ہوگئی، جنت کے پتوں سے چھپانے لگے، ایک کو ایک پر چپکا نے لگے، حضرت آدم مارے غیرت کے ادھر ادھر بھاگنے لگے لیکن ایک درخت کے ساتھ الجھ کر رہ گئے اللہ تعالیٰ نے ندا دی کہ آدم مجھ سے بھاگتا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں یا اللہ مگر شرماتا ہوں۔ جناب باری نے فرمایا آدم جو کچھ میں نے تجھے دے رکھا تھا کیا وہ تجھے کافی نہ تھا ؟ آپ نے جواب دیا بیشک کافی تھا لیکن یا اللہ مجھے یہ علم نہ تھا کہ کوئی تیرا نام لے کر تیری قسم کھا کر جھوٹ کہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اب تو میری نافرمانی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور تکلیفیں اٹھانا ہوں گی۔ چناچہ جنت سے دونوں کو اتار دیا گیا، اب اس کشادگی کے بعد کی یہ تنگی ان پر بہت گراں گذری کھانے پینے کو ترس گئے، پھر انہیں لوہے کی صنعت سکھائی گئی، کھیتی کا کام بتایا گیا، آپ نے زمین صاف کی دانے بوئے، وہ آگے بڑھے، بالیں نکلیں، دانے پکے، پھر توڑے گئے، پھر پیسے آگئے، آٹا گندھا، پھر روٹی تیار ہوئی، پھر کھائی جب جا کر بھوک کی تکلیف سے نجات پائی۔ تین کے پتوں سے اپنا آگا پیچھا چھپاتے پھرتے تھے جو مثل کپڑے کے تھے، وہ نورانی پردے جن سے ایک دوسرے سے یہ اعضا چھپے ہوئے تھے، نافرمانی ہوتے ہی ہٹ گئے اور وہ نظر آنے لگے، حضرت آدم اسی وقت اللہ کی طرف رغبت کرنے لگے توبہ استغفار کی طرف جھک پڑے، بخلاف ابلیس کے کہ اس نے سزا کا نام سنتے ہی اپنے ابلیسی ہتھیار یعنی ہمیشہ کی زندگی وغیرہ طلب کی۔ اللہ نے دونوں کی دعا سنی اور دونوں کی طلب کردہ چیزیں عنایت فرمائی۔ مروی ہے کہ حضرت آدم نے جب درخت کھالیا اسی وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کی سزا یہ ہے کہ حمل کی حالت میں بھی تکلیف میں رہیں گی بچہ ہونے کے وقت بھی تکلیف اٹھائیں گی، یہ سنتے ہی حضرت جواء نے نوحہ شروع کیا، حکم ہوا کہ یہی تجھ پر اور تیری اولاد پر لکھ دیا گیا۔ حضرت آدم نے جناب باری میں عرض کی اور اللہ نے انہیں دعا سکھائی، انہوں نے دعا کی جو قبول ہوئی۔ قصور معاف فرما دیا گیا فالحمد اللہ !
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَة، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ آدَمُ رَجُلًا طُوَالا كَأَنَّهُ نَخْلَةٌ سَحُوق، كَثِيرُ شَعْرِ الرَّأْسِ. فَلَمَّا وَقَعَ بِمَا وَقَعَ بِهِ مِنَ الْخَطِيئَةِ، بَدَتْ لَهُ عَوْرَتُهُ عِنْدَ ذَلِكَ، وَكَانَ لَا يَرَاهَا. فَانْطَلَقَ هَارِبًا فِي الْجَنَّةِ فَتَعَلَّقَتْ بِرَأْسِهِ شَجَرَةٌ مِنْ شَجَرِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ لَهَا: أَرْسِلِينِي. فَقَالَتْ: إِنِّي غَيْرُ مُرْسِلَتِكَ. فَنَادَاهُ رَبُّهُ، عَزَّ وَجَلَّ: يَا آدَمُ، أَمِنِّي تَفِرُّ؟ قَالَ: رَبِّ إِنِّي اسْتَحْيَيْتُكَ. [[تفسير الطبري (١٢/٣٥٤) .]]
وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، وَابْنُ مَرْدُويه مِنْ طُرُق، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، وَالْمَوْقُوفُ أَصَحُّ إِسْنَادًا. [[تفسير الطبري (١٢/٣٥٢) ورواه الحاكم في المستدرك (١/٣٤٥) من طريق يزيد بن الهاد، عن الحسن، عن أبي بن كعب بنحوه، وقال: "هذا لا يعلل حديث يونس بن عبيد، فإنه أعرف بحديث الحسن من أهل المدينة ومصر، والله أعلم" يقصد الحاكم ما أخرجه في المستدرك (١/٣٤٤) من طريق يونس بن عبيد، عن الحسن، عن عتي، عن أبي بن كعب بنحوه، فإنه قد علله في آخره بأنه قد روى عن الحسن، عن أبي دون ذكر عتي. ورواه عبد الرزاق في المصنف (٣/٤٠٠) ، عن ابن جريج حدثت عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فَذَكَرَهُ بنحوه]]
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عِمَارَةَ، عَنِ المِنْهَال بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جبير، عن ابن عباس قال: كانت الشَّجَرَةُ الَّتِي نَهَى اللَّهُ عَنْهَا آدَمَ وَزَوْجَتَهُ، السُّنْبُلَةَ. فَلَمَّا أَكَلَا مِنْهَا بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا، وَكَانَ الَّذِي وَارَى عَنْهُمَا مِنْ سَوْآتِهِمَا أَظْفَارَهُمَا، وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ وَرقَ التِّينِ، يَلْزَقَانِ بَعْضَهُ إِلَى بَعْضٍ. فَانْطَلَقَ آدَمُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مُوَلِّيًا فِي الْجَنَّةِ، فَعَلِقَتْ بِرَأْسِهِ شَجَرَةٌ مِنَ الْجَنَّةِ، فَنَادَاهُ: يَا آدَمُ، أَمِنِّي تَفِرُّ؟ قَالَ: لَا وَلَكِنِّي اسْتَحْيَيْتُكَ يَا رَبِّ. قَالَ: أَمَا كَانَ لَكَ فِيمَا مَنَحْتُكَ مِنَ الْجَنَّةِ وَأَبَحْتُكَ مِنْهَا مَنْدُوحَةً، عَمَّا حَرَّمْتُ عَلَيْكَ. قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ وَعِزَّتِكَ مَا حَسِبْتُ أَنَّ أَحَدًا يَحْلِفُ بِكَ كَاذِبًا. قَالَ: وَهُوَ قَوْلُهُ، عَزَّ وَجَلَّ [[في د، م: "قول الله"، وفي ك: "قوله تعالى".]] ﴿وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ﴾ قَالَ: فَبِعِزَّتِي لَأُهْبِطَنَّكَ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ لَا تَنَالُ الْعَيْشَ إِلَّا كَدا. قَالَ: فَأُهْبِطَ مِنَ الْجَنَّةِ، وَكَانَا يَأْكُلَانِ مِنْهَا رَغَدًا، فَأُهْبِطَ إِلَى غَيْرِ رَغَدٍ مِنْ طَعَامٍ وَشَرَابٍ، فعُلّم صَنْعَةَ الْحَدِيدِ، وَأُمِرَ بِالْحَرْثِ، فَحَرَثَ وَزَرَعَ ثُمَّ سَقَى، حَتَّى إِذَا بَلَغَ حَصَدَ، ثُمَّ دَاسَهُ، ثُمَّ ذَرّاه، ثُمَّ طَحَنَهُ، ثُمَّ عَجَنَهُ، ثُمَّ خَبَزَهُ، ثُمَّ أَكَلَهُ، فَلَمْ يَبْلُغْهُ حَتَّى بَلَغَ مِنْهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْلُغَ [[ورواه الطبري في تفسيره (١٢/٣٥٢) من طريق عَبْدِ الرَّزَّاقِ بِهِ.]] وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ﴾ قَالَ: وَرَقُ التِّينِ. صَحِيحٌ إِلَيْهِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: جَعَلَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ كَهَيْئَةِ الثَّوْبِ.
وَقَالَ وَهْب بْنُ مُنَبِّه فِي قَوْلِهِ: ﴿يَنزعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا﴾ قَالَ: كَانَ لِبَاسُ آدَمَ وَحَوَّاءَ نُورًا عَلَى فُرُوجِهِمَا، لَا يَرَى هَذَا عَوْرَةَ هَذِهِ، وَلَا هَذِهِ عَوْرَةَ هَذَا. فَلَمَّا أَكَلَا مِنَ الشَّجَرَةِ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا. رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ إِلَيْهِ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَخْبَرَنَا مَعْمَر، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ آدَمُ: أَيْ رَبِّ، أَرَأَيْتَ إِنْ تُبْتُ وَاسْتَغْفَرْتُ؟ قَالَ: إِذًا أُدْخِلُكَ الْجَنَّةَ. وَأَمَّا إِبْلِيسُ فَلَمْ يَسْأَلْهُ التَّوْبَةَ، وَسَأَلَهُ النَّظْرَةَ، فَأُعْطِيَ كل واحد منهما الذي سأله.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، حَدَّثَنَا عَبَّاد بْنُ العَوَّام، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَكَلَ آدَمُ مِنَ الشَّجَرَةِ قِيلَ لَهُ: لِمَ أَكَلْتَ مِنَ الشَّجَرَةِ الَّتِي نَهَيْتُكَ عَنْهَا. قَالَ: حَوَّاءُ. أَمَرَتْنِي. قَالَ: فَإِنِّي قَدْ أَعْقَبْتُهَا أَنْ لَا تَحْمِلَ إِلَّا كَرْها، وَلَا تَضَعَ إِلَّا كَرْها. قَالَ: فرنَّت عِنْدَ ذَلِكَ حَوَّاءُ. فَقِيلَ لَهَا: الرَّنَّةُ عَلَيْكِ وَعَلَى وَلَدِكِ [[تفسير الطبري (١٢/٣٥٦) .]]
وَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِم فِي قَوْلِهِ: ﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ هِيَ الْكَلِمَاتُ الَّتِي تَلَقَّاهَا آدَمُ مِنْ رَبِّهِ [عَزَّ وَجَلَّ] [[زيادة من أ.]]
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ
They said, "Our Lord, we have wronged ourselves, and if You do not forgive us and have mercy upon us, we will surely be among the losers."
دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے
گفتند: «پروردگارا! ما به خویشتن ستم کردیم! و اگر ما را نبخشی و بر ما رحم نکنی، از زیانکاران خواهیم بود!»
Tafsir Ibn Kathir
So he misled them with deception. Then when they tasted of the tree, that which was hidden from them of their shame (private parts) became manifest to them and they began to cover themselves with the leaves of Paradise. And their Lord called out to them (saying): "Did I not forbid you that tree and tell you: Verily, Shaytan is an open enemy unto you? (22)They said: "Our Lord! We have wronged ourselves. If You forgive us not, and bestow not upon us Your mercy, we shall certainly be of the losers. (23)
Ubayy bin Ka'b said, "Adam was a tall man, about the height of a palm tree, and he had thick hair on his head. When he committed the error that he committed, his private part appeared to him while before, he did not see it. So he started running in fright through Paradise, but a tree in Paradise took him by the head. He said to it, 'Release me,' but it said, 'No, I will not release you.' So his Lord called him, 'O Adam! Do you run away from Me?' He said, 'O Lord! I felt ashamed before You.'" Ibn Jarir and Ibn Marduwyah collected this statement using several chains of narration from Al-Hasan from Ubayy bin Ka'b who narrated it from the Prophet ﷺ. However, relating the Hadith to Ubayy is more correct.
Ibn 'Abbas commented on the Ayah,
وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ
(And they began to cover themselves with the leaves of Paradise.) "Using fig leaves." This statement has an authentic chain of narration leading to Ibn 'Abbas. Mujahid said that they began to cover themselves with the leaves of Paradise, "Making them as a dress (or garment)." Commenting on Allah's statement,
يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا
(Stripping them of their raiment)[7:27] Wahb bin Munabbih said, "The private parts of Adam and Hawwa' had a light covering them which prevented them from seeing the private parts of each other. When they ate from the tree, their private parts appeared to them." Ibn Jarir reported this statement with an authentic chain of narration.
Abdur-Razzaq reported from Qatadah, "Adam said, 'O Lord! What if I repented and sought forgiveness?' Allah said, 'Then, I will admit you into Paradise.' As for Shaytan, he did not ask for forgiveness, but for respite. Each one of them was given what he asked for." Ad-Dahhak bin Muzahim commented,
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
("Our Lord! We have wronged ourselves. If You forgive us not, and bestow not upon us Your mercy, we shall certainly be of the losers.") "These are the words that Adam received from his Lord."
Tafsir Ibn Kathir
لغزش کے بعد کیا ہوا ؟ ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں " حضرت آدم ؑ کا قد مثل درخت کھجور کے بہت لمبا تھا اور سر پر بہت لمبے لمبے بال تھے، درخت کھانے سے پہلے انہیں اپنی شرمگاہ کا علم بھی نہ تھا نظر ہی نہ پڑی تھی۔ لیکن اس خطا کے ہوتے ہی وہ ظاہر ہوگئی، بھاگنے لگے تو بال ایک درخت میں الجھ گئے، کہنے لگے اے درخت مجھے چھوڑ دے درخت سے جواب ملا کہ ناممکن ہے، اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی کہ اے آدم مجھ سے بھاگ رہا ہے ؟ کہنے لگے یا اللہ شرمندگی ہے، شرمسار ہوں، گو یہ روایت مرفوع بھی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح موقوف ہونا ہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں، درخت کا پھل کھالیا اور چھپانے کی چیز ظاہر ہوگئی، جنت کے پتوں سے چھپانے لگے، ایک کو ایک پر چپکا نے لگے، حضرت آدم مارے غیرت کے ادھر ادھر بھاگنے لگے لیکن ایک درخت کے ساتھ الجھ کر رہ گئے اللہ تعالیٰ نے ندا دی کہ آدم مجھ سے بھاگتا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں یا اللہ مگر شرماتا ہوں۔ جناب باری نے فرمایا آدم جو کچھ میں نے تجھے دے رکھا تھا کیا وہ تجھے کافی نہ تھا ؟ آپ نے جواب دیا بیشک کافی تھا لیکن یا اللہ مجھے یہ علم نہ تھا کہ کوئی تیرا نام لے کر تیری قسم کھا کر جھوٹ کہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اب تو میری نافرمانی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور تکلیفیں اٹھانا ہوں گی۔ چناچہ جنت سے دونوں کو اتار دیا گیا، اب اس کشادگی کے بعد کی یہ تنگی ان پر بہت گراں گذری کھانے پینے کو ترس گئے، پھر انہیں لوہے کی صنعت سکھائی گئی، کھیتی کا کام بتایا گیا، آپ نے زمین صاف کی دانے بوئے، وہ آگے بڑھے، بالیں نکلیں، دانے پکے، پھر توڑے گئے، پھر پیسے آگئے، آٹا گندھا، پھر روٹی تیار ہوئی، پھر کھائی جب جا کر بھوک کی تکلیف سے نجات پائی۔ تین کے پتوں سے اپنا آگا پیچھا چھپاتے پھرتے تھے جو مثل کپڑے کے تھے، وہ نورانی پردے جن سے ایک دوسرے سے یہ اعضا چھپے ہوئے تھے، نافرمانی ہوتے ہی ہٹ گئے اور وہ نظر آنے لگے، حضرت آدم اسی وقت اللہ کی طرف رغبت کرنے لگے توبہ استغفار کی طرف جھک پڑے، بخلاف ابلیس کے کہ اس نے سزا کا نام سنتے ہی اپنے ابلیسی ہتھیار یعنی ہمیشہ کی زندگی وغیرہ طلب کی۔ اللہ نے دونوں کی دعا سنی اور دونوں کی طلب کردہ چیزیں عنایت فرمائی۔ مروی ہے کہ حضرت آدم نے جب درخت کھالیا اسی وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کی سزا یہ ہے کہ حمل کی حالت میں بھی تکلیف میں رہیں گی بچہ ہونے کے وقت بھی تکلیف اٹھائیں گی، یہ سنتے ہی حضرت جواء نے نوحہ شروع کیا، حکم ہوا کہ یہی تجھ پر اور تیری اولاد پر لکھ دیا گیا۔ حضرت آدم نے جناب باری میں عرض کی اور اللہ نے انہیں دعا سکھائی، انہوں نے دعا کی جو قبول ہوئی۔ قصور معاف فرما دیا گیا فالحمد اللہ !
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَة، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ آدَمُ رَجُلًا طُوَالا كَأَنَّهُ نَخْلَةٌ سَحُوق، كَثِيرُ شَعْرِ الرَّأْسِ. فَلَمَّا وَقَعَ بِمَا وَقَعَ بِهِ مِنَ الْخَطِيئَةِ، بَدَتْ لَهُ عَوْرَتُهُ عِنْدَ ذَلِكَ، وَكَانَ لَا يَرَاهَا. فَانْطَلَقَ هَارِبًا فِي الْجَنَّةِ فَتَعَلَّقَتْ بِرَأْسِهِ شَجَرَةٌ مِنْ شَجَرِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ لَهَا: أَرْسِلِينِي. فَقَالَتْ: إِنِّي غَيْرُ مُرْسِلَتِكَ. فَنَادَاهُ رَبُّهُ، عَزَّ وَجَلَّ: يَا آدَمُ، أَمِنِّي تَفِرُّ؟ قَالَ: رَبِّ إِنِّي اسْتَحْيَيْتُكَ. [[تفسير الطبري (١٢/٣٥٤) .]]
وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، وَابْنُ مَرْدُويه مِنْ طُرُق، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، وَالْمَوْقُوفُ أَصَحُّ إِسْنَادًا. [[تفسير الطبري (١٢/٣٥٢) ورواه الحاكم في المستدرك (١/٣٤٥) من طريق يزيد بن الهاد، عن الحسن، عن أبي بن كعب بنحوه، وقال: "هذا لا يعلل حديث يونس بن عبيد، فإنه أعرف بحديث الحسن من أهل المدينة ومصر، والله أعلم" يقصد الحاكم ما أخرجه في المستدرك (١/٣٤٤) من طريق يونس بن عبيد، عن الحسن، عن عتي، عن أبي بن كعب بنحوه، فإنه قد علله في آخره بأنه قد روى عن الحسن، عن أبي دون ذكر عتي. ورواه عبد الرزاق في المصنف (٣/٤٠٠) ، عن ابن جريج حدثت عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فَذَكَرَهُ بنحوه]]
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عِمَارَةَ، عَنِ المِنْهَال بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جبير، عن ابن عباس قال: كانت الشَّجَرَةُ الَّتِي نَهَى اللَّهُ عَنْهَا آدَمَ وَزَوْجَتَهُ، السُّنْبُلَةَ. فَلَمَّا أَكَلَا مِنْهَا بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا، وَكَانَ الَّذِي وَارَى عَنْهُمَا مِنْ سَوْآتِهِمَا أَظْفَارَهُمَا، وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ وَرقَ التِّينِ، يَلْزَقَانِ بَعْضَهُ إِلَى بَعْضٍ. فَانْطَلَقَ آدَمُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مُوَلِّيًا فِي الْجَنَّةِ، فَعَلِقَتْ بِرَأْسِهِ شَجَرَةٌ مِنَ الْجَنَّةِ، فَنَادَاهُ: يَا آدَمُ، أَمِنِّي تَفِرُّ؟ قَالَ: لَا وَلَكِنِّي اسْتَحْيَيْتُكَ يَا رَبِّ. قَالَ: أَمَا كَانَ لَكَ فِيمَا مَنَحْتُكَ مِنَ الْجَنَّةِ وَأَبَحْتُكَ مِنْهَا مَنْدُوحَةً، عَمَّا حَرَّمْتُ عَلَيْكَ. قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ وَعِزَّتِكَ مَا حَسِبْتُ أَنَّ أَحَدًا يَحْلِفُ بِكَ كَاذِبًا. قَالَ: وَهُوَ قَوْلُهُ، عَزَّ وَجَلَّ [[في د، م: "قول الله"، وفي ك: "قوله تعالى".]] ﴿وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ﴾ قَالَ: فَبِعِزَّتِي لَأُهْبِطَنَّكَ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ لَا تَنَالُ الْعَيْشَ إِلَّا كَدا. قَالَ: فَأُهْبِطَ مِنَ الْجَنَّةِ، وَكَانَا يَأْكُلَانِ مِنْهَا رَغَدًا، فَأُهْبِطَ إِلَى غَيْرِ رَغَدٍ مِنْ طَعَامٍ وَشَرَابٍ، فعُلّم صَنْعَةَ الْحَدِيدِ، وَأُمِرَ بِالْحَرْثِ، فَحَرَثَ وَزَرَعَ ثُمَّ سَقَى، حَتَّى إِذَا بَلَغَ حَصَدَ، ثُمَّ دَاسَهُ، ثُمَّ ذَرّاه، ثُمَّ طَحَنَهُ، ثُمَّ عَجَنَهُ، ثُمَّ خَبَزَهُ، ثُمَّ أَكَلَهُ، فَلَمْ يَبْلُغْهُ حَتَّى بَلَغَ مِنْهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْلُغَ [[ورواه الطبري في تفسيره (١٢/٣٥٢) من طريق عَبْدِ الرَّزَّاقِ بِهِ.]] وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ﴾ قَالَ: وَرَقُ التِّينِ. صَحِيحٌ إِلَيْهِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: جَعَلَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ كَهَيْئَةِ الثَّوْبِ.
وَقَالَ وَهْب بْنُ مُنَبِّه فِي قَوْلِهِ: ﴿يَنزعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا﴾ قَالَ: كَانَ لِبَاسُ آدَمَ وَحَوَّاءَ نُورًا عَلَى فُرُوجِهِمَا، لَا يَرَى هَذَا عَوْرَةَ هَذِهِ، وَلَا هَذِهِ عَوْرَةَ هَذَا. فَلَمَّا أَكَلَا مِنَ الشَّجَرَةِ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا. رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ إِلَيْهِ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَخْبَرَنَا مَعْمَر، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ آدَمُ: أَيْ رَبِّ، أَرَأَيْتَ إِنْ تُبْتُ وَاسْتَغْفَرْتُ؟ قَالَ: إِذًا أُدْخِلُكَ الْجَنَّةَ. وَأَمَّا إِبْلِيسُ فَلَمْ يَسْأَلْهُ التَّوْبَةَ، وَسَأَلَهُ النَّظْرَةَ، فَأُعْطِيَ كل واحد منهما الذي سأله.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، حَدَّثَنَا عَبَّاد بْنُ العَوَّام، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَكَلَ آدَمُ مِنَ الشَّجَرَةِ قِيلَ لَهُ: لِمَ أَكَلْتَ مِنَ الشَّجَرَةِ الَّتِي نَهَيْتُكَ عَنْهَا. قَالَ: حَوَّاءُ. أَمَرَتْنِي. قَالَ: فَإِنِّي قَدْ أَعْقَبْتُهَا أَنْ لَا تَحْمِلَ إِلَّا كَرْها، وَلَا تَضَعَ إِلَّا كَرْها. قَالَ: فرنَّت عِنْدَ ذَلِكَ حَوَّاءُ. فَقِيلَ لَهَا: الرَّنَّةُ عَلَيْكِ وَعَلَى وَلَدِكِ [[تفسير الطبري (١٢/٣٥٦) .]]
وَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِم فِي قَوْلِهِ: ﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ هِيَ الْكَلِمَاتُ الَّتِي تَلَقَّاهَا آدَمُ مِنْ رَبِّهِ [عَزَّ وَجَلَّ] [[زيادة من أ.]]
قَالَ ٱهْبِطُوا۟ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۭ ۖ وَلَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّۭ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينٍۢ
[Allah] said, "Descend, being to one another enemies. And for you on the earth is a place of settlement and enjoyment for a time."
(خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانہ اور (زندگی کا) سامان (کر دیا گیا) ہے
فرمود: «(از مقام خویش،) فرود آیید، در حالی که بعضی از شما نسبت به بعض دیگر، دشمن خواهید بود! (شیطان دشمن شماست، و شما دشمن او!) و برای شما در زمین، قرارگاه و وسیله بهرهگیری تا زمان معینی خواهد بود.»
Tafsir Ibn Kathir
(Allah) said: "Get down, one of you an enemy to the other. On earth will be a dwelling place for you and an enjoyment for a time. (24)He said: "Therein you shall live, and therein you shall die, and from it you shall be brought out (resurrected). (25)
Sending Them All Down to Earth
It was said that,
اهْبِطُوا
(Get down), was addressed to Adam, Hawwa', Iblis and the snake. Some scholars did not mention the snake, and Allah knows best. The enmity is primarily between Adam and Iblis, and Hawwa' follows Adam in this regard. Allah said in Surah Ta Ha,
اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعًا
("Get you down (from the Paradise to the earth), both of you, together...")[20:123].
If the story about the snake is true, then it is a follower of Iblis. Some scholars mentioned the location on earth they were sent down, but these accounts are taken from the Israelite tales, and only Allah knows if they are true. If having known these areas was useful for the people in matters of religion or life, Allah would have mentioned them in His Book, and His Messenger ﷺ would have mentioned them too. Allah's statement,
وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ
(On earth will be a dwelling place for you and an enjoyment for a time.) means, on earth you will have dwellings and known, designated, appointed terms that have been recorded by the Pen, counted by Predestination and written in the First Record.
قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ
(He (Allah) said: "Therein you shall live, and therein you shall die, and from it you shall be brought out (resurrected).")
This Ayah is similar to Allah's other statement,
مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَىٰ
(Thereof (the earth) We created you, and into it We shall return you, and from it We shall bring you out once again.)[20:55].
Allah states that He has made the earth a dwelling place for the Children of Adam, for the remainder of this earthly life. On it, they will live, die and be buried in their graves; and from it, they will be resurrected for the Day of Resurrection. On that Day, Allah will gather the first and last of creatures and reward or punish each according to his or her deeds.
Tafsir Ibn Kathir
سفر ارضی کے بارے میں یہودی روایات بعض کہتے ہیں یہ خطاب حضرت آدم، حضرت حوا، شیطان ملعون اور سانپ کو ہے۔ بعض سانپ کا ذکر نہیں کرتے۔ یہ ظاہر ہے کہ اصل مقصد حضرت آدم ہیں اور شیطان ملعون۔ جیسے سورة طہ میں ہے آیت (اھبطا منھا جمیعا) حوا حضرت آدم کے تابع تھیں اور سانپ کا ذکر اگر صحت تک پہنچ جائے تو وہ ابلیس کے حکم میں آگیا۔ مفسرین نے بہت سے اقوال ذکر کئے ہیں کہ آدم کہاں اترے، شیطان کہاں پھینکا گیا وغیرہ۔ لیکن دراصل ان کا مخرج بنی اسرائیل کی روایتیں ہیں اور ان کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس جگہ کے جان لینے سے کوئی فائدہ نہیں اگر ہوتا تو ان کا بیان قرآن میں یا حدیث میں ضرور ہوتا، کہہ دیا گیا کہ اب تمہارے قرار کی جگہ زمین ہے وہیں تم اپنی مقررہ زندگی کے دن پورے کرو گے جیسے کہ ہماری پہلی کتاب لوح محفوظ میں اول سے ہی لکھا ہوا موجود ہے۔ اسی زمین پر جیو گے اور مرنے کے بعد بھی اسی میں دبائے جاؤ گے اور پھر حشر و نشر بھی اسی میں ہوگا۔ جیسے فرمان ہے آیت (منھا خلقناکم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری) پس اولاد آدم کے جینے کی جگہ بھی یہی اور مرنے کی جگہ بھی یہی، قبریں بھی اسی میں اور قیامت کے دن اٹھیں گے بھی اسی سے، پھر بدلہ دیئے جائیں گے۔
Tafsir Ibn Kathir
قِيلَ: الْمُرَادُ بِالْخِطَابِ فِي ﴿اهْبِطُوا﴾ آدَمُ، وَحَوَّاءُ، وَإِبْلِيسُ، وَالْحَيَّةُ. وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الْحَيَّةَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَالْعُمْدَةُ فِي الْعَدَاوَةِ آدَمُ وَإِبْلِيسُ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى فِي سُورَةِ "طه" قَالَ: ﴿اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعًا﴾ [الْآيَةَ: ١٢٣] وَحَوَّاءُ تَبَعٌ لِآدَمَ. وَالْحَيَّةُ -إِنْ كَانَ ذِكْرُهَا صَحِيحًا -فَهِيَ تَبَعٌ لِإِبْلِيسَ.
وَقَدْ ذَكَرَ الْمُفَسِّرُونَ الْأَمَاكِنَ الَّتِي هَبَطَ فِيهَا كُلٌّ مِنْهُمْ، وَيَرْجِعُ حَاصِلُ تِلْكَ الْأَخْبَارِ إِلَى الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِصِحَّتِهَا. وَلَوْ كَانَ فِي تَعْيِينِ تِلْكَ الْبِقَاعِ فَائِدَةٌ تَعُودُ عَلَى الْمُكَلَّفِينَ فِي أَمْرِ دِينِهِمْ، أَوْ دُنْيَاهُمْ، لَذَكَرَهَا اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ أَوْ رَسُولُهُ [[في ك: "ورسوله".]] ﷺ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَكُمْ فِي الأرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ﴾ أَيْ: قَرَارٌ وَأَعْمَارٌ مَضْرُوبَةٌ إِلَى آجَالٍ مَعْلُومَةٍ، قَدْ جَرَى بِهَا الْقَلَمُ، وَأَحْصَاهَا الْقَدَرُ، وَسُطِّرَتْ فِي الْكِتَابِ الْأَوَّلِ. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ﴿مُسْتَقَرٌّ﴾ الْقُبُورُ. وَعَنْهُ: وَجْهُ الْأَرْضِ وَتَحْتَهَا. رَوَاهُمَا ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى﴾ [طه: ٥٥] يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُ يَجْعَلُ [[في ك، م: "جعل".]] الْأَرْضَ دَارًا لِبَنِي آدَمَ مُدَّةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، فِيهَا مَحْيَاهُمْ وَفِيهَا مَمَاتُهُمْ وَقُبُورُهُمْ، وَمِنْهَا نُشُورُهُمْ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ [[في ك، م، أ: "المعاد".]] الَّذِي يَجْمَعُ اللَّهُ فِيهِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ، وَيُجَازِي كُلًّا بِعَمَلِهِ.
قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ
He said, "Therein you will live, and therein you will die, and from it you will be brought forth."
(یعنی) فرمایا کہ اسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے (قیامت کو زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے
فرمود: «در آن [= زمین] زنده میشوید؛ و در آن میمیرید؛ و (در رستاخیز) از آن خارج خواهید شد.»
Tafsir Ibn Kathir
(Allah) said: "Get down, one of you an enemy to the other. On earth will be a dwelling place for you and an enjoyment for a time. (24)He said: "Therein you shall live, and therein you shall die, and from it you shall be brought out (resurrected). (25)
Sending Them All Down to Earth
It was said that,
اهْبِطُوا
(Get down), was addressed to Adam, Hawwa', Iblis and the snake. Some scholars did not mention the snake, and Allah knows best. The enmity is primarily between Adam and Iblis, and Hawwa' follows Adam in this regard. Allah said in Surah Ta Ha,
اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعًا
("Get you down (from the Paradise to the earth), both of you, together...")[20:123].
If the story about the snake is true, then it is a follower of Iblis. Some scholars mentioned the location on earth they were sent down, but these accounts are taken from the Israelite tales, and only Allah knows if they are true. If having known these areas was useful for the people in matters of religion or life, Allah would have mentioned them in His Book, and His Messenger ﷺ would have mentioned them too. Allah's statement,
وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ
(On earth will be a dwelling place for you and an enjoyment for a time.) means, on earth you will have dwellings and known, designated, appointed terms that have been recorded by the Pen, counted by Predestination and written in the First Record.
قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ
(He (Allah) said: "Therein you shall live, and therein you shall die, and from it you shall be brought out (resurrected).")
This Ayah is similar to Allah's other statement,
مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَىٰ
(Thereof (the earth) We created you, and into it We shall return you, and from it We shall bring you out once again.)[20:55].
Allah states that He has made the earth a dwelling place for the Children of Adam, for the remainder of this earthly life. On it, they will live, die and be buried in their graves; and from it, they will be resurrected for the Day of Resurrection. On that Day, Allah will gather the first and last of creatures and reward or punish each according to his or her deeds.
Tafsir Ibn Kathir
سفر ارضی کے بارے میں یہودی روایات بعض کہتے ہیں یہ خطاب حضرت آدم، حضرت حوا، شیطان ملعون اور سانپ کو ہے۔ بعض سانپ کا ذکر نہیں کرتے۔ یہ ظاہر ہے کہ اصل مقصد حضرت آدم ہیں اور شیطان ملعون۔ جیسے سورة طہ میں ہے آیت (اھبطا منھا جمیعا) حوا حضرت آدم کے تابع تھیں اور سانپ کا ذکر اگر صحت تک پہنچ جائے تو وہ ابلیس کے حکم میں آگیا۔ مفسرین نے بہت سے اقوال ذکر کئے ہیں کہ آدم کہاں اترے، شیطان کہاں پھینکا گیا وغیرہ۔ لیکن دراصل ان کا مخرج بنی اسرائیل کی روایتیں ہیں اور ان کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس جگہ کے جان لینے سے کوئی فائدہ نہیں اگر ہوتا تو ان کا بیان قرآن میں یا حدیث میں ضرور ہوتا، کہہ دیا گیا کہ اب تمہارے قرار کی جگہ زمین ہے وہیں تم اپنی مقررہ زندگی کے دن پورے کرو گے جیسے کہ ہماری پہلی کتاب لوح محفوظ میں اول سے ہی لکھا ہوا موجود ہے۔ اسی زمین پر جیو گے اور مرنے کے بعد بھی اسی میں دبائے جاؤ گے اور پھر حشر و نشر بھی اسی میں ہوگا۔ جیسے فرمان ہے آیت (منھا خلقناکم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری) پس اولاد آدم کے جینے کی جگہ بھی یہی اور مرنے کی جگہ بھی یہی، قبریں بھی اسی میں اور قیامت کے دن اٹھیں گے بھی اسی سے، پھر بدلہ دیئے جائیں گے۔
Tafsir Ibn Kathir
قِيلَ: الْمُرَادُ بِالْخِطَابِ فِي ﴿اهْبِطُوا﴾ آدَمُ، وَحَوَّاءُ، وَإِبْلِيسُ، وَالْحَيَّةُ. وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الْحَيَّةَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَالْعُمْدَةُ فِي الْعَدَاوَةِ آدَمُ وَإِبْلِيسُ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى فِي سُورَةِ "طه" قَالَ: ﴿اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعًا﴾ [الْآيَةَ: ١٢٣] وَحَوَّاءُ تَبَعٌ لِآدَمَ. وَالْحَيَّةُ -إِنْ كَانَ ذِكْرُهَا صَحِيحًا -فَهِيَ تَبَعٌ لِإِبْلِيسَ.
وَقَدْ ذَكَرَ الْمُفَسِّرُونَ الْأَمَاكِنَ الَّتِي هَبَطَ فِيهَا كُلٌّ مِنْهُمْ، وَيَرْجِعُ حَاصِلُ تِلْكَ الْأَخْبَارِ إِلَى الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِصِحَّتِهَا. وَلَوْ كَانَ فِي تَعْيِينِ تِلْكَ الْبِقَاعِ فَائِدَةٌ تَعُودُ عَلَى الْمُكَلَّفِينَ فِي أَمْرِ دِينِهِمْ، أَوْ دُنْيَاهُمْ، لَذَكَرَهَا اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ أَوْ رَسُولُهُ [[في ك: "ورسوله".]] ﷺ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَكُمْ فِي الأرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ﴾ أَيْ: قَرَارٌ وَأَعْمَارٌ مَضْرُوبَةٌ إِلَى آجَالٍ مَعْلُومَةٍ، قَدْ جَرَى بِهَا الْقَلَمُ، وَأَحْصَاهَا الْقَدَرُ، وَسُطِّرَتْ فِي الْكِتَابِ الْأَوَّلِ. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ﴿مُسْتَقَرٌّ﴾ الْقُبُورُ. وَعَنْهُ: وَجْهُ الْأَرْضِ وَتَحْتَهَا. رَوَاهُمَا ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى﴾ [طه: ٥٥] يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُ يَجْعَلُ [[في ك، م: "جعل".]] الْأَرْضَ دَارًا لِبَنِي آدَمَ مُدَّةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، فِيهَا مَحْيَاهُمْ وَفِيهَا مَمَاتُهُمْ وَقُبُورُهُمْ، وَمِنْهَا نُشُورُهُمْ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ [[في ك، م، أ: "المعاد".]] الَّذِي يَجْمَعُ اللَّهُ فِيهِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ، وَيُجَازِي كُلًّا بِعَمَلِهِ.
يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًۭا يُوَٰرِى سَوْءَٰتِكُمْ وَرِيشًۭا ۖ وَلِبَاسُ ٱلتَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌۭ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ
O children of Adam, We have bestowed upon you clothing to conceal your private parts and as adornment. But the clothing of righteousness - that is best. That is from the signs of Allah that perhaps they will remember.
اے نبی آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت (دے) اور (جو) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصحیت پکڑ یں
ای فرزندان آدم! لباسی برای شما فرستادیم که اندام شما را میپوشاند و مایه زینت شماست؛ اما لباس پرهیزگاری بهتر است! اینها (همه) از آیات خداست، تا متذکّر (نعمتهای او) شوند!
Tafsir Ibn Kathir
O Children of Adam! We have bestowed Libas (raiment) upon you to cover yourselves with, and as Rish (adornment); and the Libas (raiment) of Taqwa, that is better. Such are among the Ayat of Allah, that they may remember (26)
Bestowing Raiment and Adornment on Mankind
Allah reminds His servants that He has given them Libas and Rish. Libas refers to the clothes that are used to cover the private parts, while Rish refers to the outer adornments used for purposes of beautification. Therefore, the first type is essential while the second type is complimentary. Ibn Jarir said that Rish includes furniture and outer clothes. 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam commented on the Ayah,
وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ
(and the Libas (raiment) of Taqwa...) "When one fears Allah, Allah covers his errors. Hence the 'Libas of Taqwa' (that the Ayah mentions)."
Tafsir Ibn Kathir
لباس اور داڑھی جمال و جلال یہاں اللہ تعالیٰ اپنا احسان یاد دلاتا ہے کہ اس نے لباس اتارا اور ریش بھی۔ لباس تو وہ ہے جس سے انسان اپنا ستر چھپائے اور ریش وہ ہے جو بطور زینت رونق اور جمال کے پہنا جائے۔ اول تو ضروریات زندگی سے ہے اور ثانی زیادتی ہے۔ ریش کے معنی مال کے بھی ہیں اور ظاہری پوشاک کے بھی ہیں اور جمال و خوش لباسی کے بھی ہیں۔ حضرت ابو امامہ ؓ نے نیا کرتہ پہنتے ہوئے جبکہ گلے تک وہ پہن لیا فرمایا دعا (الحمد اللہ الذی کسانی ما اواری بہ عورتی و اتجمل بہ فی حیاتی) پھر فرمانے لگے میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے سنا ہے فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے جو شخص نیا کپڑا پہنے اور اس کے گلے تک پہنچتے ہی یہ دعا پڑھے پھر پرانا کپڑا راہ للہ دے دے تو وہ اللہ کے ذمہ میں، اللہ کی پناہ میں اور اللہ کی حفاظت میں آجاتا ہے زندگی میں بھی اور بعد از مرگ بھی (ترمذی ابن ماجہ وغیرہ) مسند احمد میں ہے حضرت علی نے ایک نوجوان سے ایک کرتہ تین درہم کو خریدا اور اسے پہنا جب پہنچوں اور ٹخنوں تک پہنچا تو آپ نے یہ دعا پڑھی (الحمد اللہ الذی رزقنی من ریاش ما اتجمل بہ فی الناس واواری بہ عورتی) یہ دعا سن کر آپ سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ نے اسے رسول ﷺ سے سنا ہے کہ آپ اسے کپڑا پہننے کے وقت پڑھتے تھے یا آپ از خود اسے پڑھ رہے ہیں ؟ فرمایا میں نے اسے حضور سے سنا ہے لباس التقوی کی دوسری قرأت لباس التقوی سین کے زبر سے بھی ہے۔ رفع سے پڑھنے والے اسے مبتدا کہتے ہیں اور اس کے بعد کا جملہ اس کی خبر ہے عکرمہ فرماتے ہیں اس سے مراد قیامت کے دن پرہیزگاروں کو جو لباس عطا ہوگا وہ ہے۔ ابن جریج کا قول ہے لباس تقوی ایمان ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں عمل صالح ہے اور اسی سے ہنس مکھ ہوتا ہے، عروہ کہتے ہیں مراد اس سے مشیت ربانی ہے۔ عبدالرحمن کہتے ہیں اللہ کے ڈر سے اپنی ستر پوشی کرنا لباس تقویٰ ہے۔ یہ کل اقوال آپس میں ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ مراد یہ سب کچھ ہے اور یہ سب چیزیں ملی جلی اور باہم یک دیگر قریب قریب ہیں۔ ایک ضعیف سند والی روایت میں حضرت حسن سے مرقوم ہے کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان ؓ کو منبر نبوی پر کھلی گھنڈیوں کا کرتا پہنے ہوئے کھڑا دیکھا اس وقت آپ کتوں کے مار ڈالنے اور کبوتر بازی کی ممانعت کا حکم دے رہے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا لوگو اللہ سے ڈرو خصوصاً اپنی پوشیدگیوں میں اور چپکے چپکے کانا پھوسی کرنے میں۔ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ قسم کھا کر بیان فرماتے تھے کہ جو شخص جس کام کو پوشیدہ سے پوشیدہ کرے گا اللہ تعالیٰ اسی کی چادر اس پر علانیہ ڈال دے گا اگر نیک ہے تو نیک اور اگر بد ہے تو بد۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی اور فرمایا اس سے مراد خوش خلقی ہے۔ ہاں صحیح حدیث میں صرف اتنا مروی ہے کہ حضرت عثمان نے جمعہ کے دن منبر پر کتوں کے قتل کرنے اور کبوتروں کے ذبح کرنے کا حکم دیا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَمْتَنُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى عِبَادِهِ بِمَا جَعَلَ لَهُمْ مِنَ اللباس والريش فاللباس [[في ك: "واللباس".]] المذكور هاهنا لستر العورات -وهي السوآت [[في ك: "الشهوات".]] وَالرِّيَاشُ وَالرِّيشُ: هُوَ مَا يُتَجَمَّلُ بِهِ ظَاهِرًا، فَالْأَوَّلُ مِنَ الضَّرُورِيَّاتِ، وَالرِّيشُ مِنَ التَّكَمُّلَاتِ وَالزِّيَادَاتِ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: "الرِّيَاشُ" فِي كَلَامِ الْعَرَبِ: الْأَثَاثُ، وَمَا ظَهَرَ مِنَ الثِّيَابِ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ -وَحَكَاهُ الْبُخَارِيُّ -عَنْهُ: الرِّيَاشُ: الْمَالُ. وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وعُرْوَة بْنُ الزُّبَيْرِ، والسُّدِّي وَالضَّحَّاكُ [[في ك، م، أ: "والضحاك: الرياش: المال".]]
وَقَالَ العَوْفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: "الرِّيَاشُ" اللِّبَاسُ، وَالْعَيْشُ، وَالنَّعِيمُ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: "الرِّيَاشُ": الْجَمَالُ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا أصْبَغُ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ الشَّامِيِّ قَالَ: لَبِسَ أَبُو أُمَامَةَ ثَوْبًا جَدِيدًا، فَلَمَّا بَلَغَ تَرْقُوَتَه قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي، وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي. ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنِ اسْتَجَدَّ ثَوْبًا فَلَبِسَهُ [[في م: "يلبسه".]] فَقَالَ حِينَ يَبْلُغُ تَرْقُوَتَهُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي، وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي [[في أ: "في الناس".]] ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي خَلُقَ أَوْ: أَلْقَى فَتَصَدَّقَ بِهِ، كَانَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ، وَفِي جِوَارِ اللَّهِ، وَفِي كَنَفِ اللَّهِ حَيًّا وَمَيِّتًا، [حَيًّا وَمَيِّتًا، حَيًّا وَمَيِّتًا] " [[زيادة من أ.]] .
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، مِنْ رِوَايَةِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنْ أَصْبَغَ -هُوَ ابْنُ زَيْدٍ الْجُهَنِيُّ [[المسند (١/٤٤) وسنن الترمذي برقم (٣٥٦٠) وسنن ابن ماجة برقم (٣٥٥٧) .]] -وَقَدْ وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِين وَغَيْرُهُ، وَشَيْخُهُ "أَبُو الْعَلَاءِ الشَّامِيُّ" لَا يُعْرَفُ إِلَّا بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَكِنْ لَمْ يُخَرِّجْهُ أَحَدٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ التَّمَّارُ، عَنْ أَبِي مَطَرٍ؛ أَنَّهُ رَأَى عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَتَى غُلَامًا حَدَثًا، فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ، وَلَبِسَهُ إِلَى مَا بَيْنَ الرُّسْغَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، يَقُولُ وَلَبِسَهُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي. فَقِيلَ: هَذَا شَيْءٌ تَرْوِيهِ عَنْ نَفْسِكَ أَوْ عَنْ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ؟ قَالَ: هَذَا شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ عِنْدَ الْكِسْوَةِ: "الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي [[في أ: "كساني".]] مِنَ الرِّيَاشِ [[في م: "من اللباس".]] مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي " [[المسند (١/١٥٧) قال الهيثمي في المجمع (٥/١١٩) : "فيه مختار بن نافع وهو ضعيف".]]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ﴾ قَرَأَ بَعْضُهُمْ: "ولباسَ التَّقْوَى"، بِالنَّصْبِ. وَقَرَأَ الْآخَرُونَ بِالرَّفْعِ عَلَى الِابْتِدَاءِ، ﴿ذَلِكَ خَيْرٌ﴾ خَبَرُهُ.
وَاخْتَلَفَ الْمُفَسِّرُونَ فِي مَعْنَاهُ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ: يُقَالُ: هُوَ مَا يَلْبَسُهُ الْمُتَّقُونَ يَوْمَ القيامة. رواه ابن أبي حاتم.
وَقَالَ زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ، والسُّدِّي، وَقَتَادَةُ، وَابْنُ جُريْج: ﴿وَلِبَاسُ التَّقْوَى﴾ الْإِيمَانُ.
وَقَالَ العَوْفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: ﴿وَلِبَاسُ التَّقْوَى﴾ ] [[زيادة من ك، أ.]] الْعَمَلُ الصَّالِحُ.
وَقَالَ زِيَادُ [[في أ: "الديال".]] بْنُ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: هُوَ السَّمْتُ الْحَسَنُ فِي الْوَجْهِ.
وَعَنْ عُرْوَة بْنِ الزُّبَيْرِ: ﴿لِبَاسُ التَّقْوَى﴾ خَشْيَةُ اللَّهِ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: ﴿لِبَاسُ التَّقْوَى﴾ يَتَّقِي اللَّهَ، فَيُوَارِي عَوْرَتَهُ، فَذَاكَ لِبَاسُ التَّقْوَى.
وَكُلُّ هَذِهِ مُتَقَارِبَةٌ، وَيُؤَيِّدُ ذَلِكَ الْحَدِيثُ الَّذِي رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ حَيْثُ قَالَ:
حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ عَلَيْهِ قَمِيصٌ قُوهي مَحْلُولُ الزِّرِّ، وَسَمِعْتُهُ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَيَنْهَى عَنِ اللَّعِبِ بِالْحَمَامِ. ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ السَّرَائِرِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا عَمِلَ أَحَدٌ قَطُّ سِرًّا إِلَّا أَلْبَسُهُ اللَّهُ رِدَاءً عَلَانِيَةً، إِنْ خَيْرًا فَخَيْرٌ وَإِنْ شَرًّا فَشَرٌّ". ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: "وَرِيَاشًا" وَلَمْ يَقْرَأْ: وَرِيشًا - ﴿وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ﴾ قَالَ: "السَّمْتُ الْحَسَنُ".
هَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ مِنْ رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ [[تفسير الطبري (١٢/٣٦٧)]] وَفِيهِ ضَعْفٌ. وَقَدْ رَوَى الْأَئِمَّةُ: الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَالْبُخَارِيُّ فِي كِتَابِ "الْأَدَبِ" مِنْ طُرُقٍ صَحِيحَةٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ؛ أَنَّهُ سَمِعَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلَابِ وَذَبْحِ الْحَمَامِ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ.
وَأَمَّا الْمَرْفُوعُ مِنْهُ [[في م: "عنه".]] فَقَدْ رَوَى الْحَافِظُ أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ فِي مُعْجَمِهِ الْكَبِيرِ لَهُ شَاهِدًا [[في ك، م: شاهدا آخر".]] مِنْ وجه آخر، حيث قال: حدثنا.... [[[مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ آدَمَ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيِّ، عَنْ سَلَمَةَ ابن كُهَيْلٍ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "ما أسر عبد سَرِيرَةً إِلَّا أَلْبَسُهُ اللَّهُ رِدَاءَهَا إِنْ خَيْرًا فخير، وإن شرا فشر"] .
المعجم الكبير (٢/١٧١) وقال الهيثمي في المجمع (١٠/٢٢٥) : "فيه حامد بن آدم وهو كذاب" والعرزمي تركه الأئمة.
تنبيه: في جميع النسخ لم يذكر هذا الحديث الذي سقته ها هنا، وموضعه بياض عدة أسطر، وقد تعرفت على أن هذا الحديث هو مقصود الحافظ ابن كثير، أني رأيته ساق أثر عثمان السابق ثم ساق بعده هذا الحديث بإسناد الطبراني، كما سيأتي في سورة الفتح آية: ٢٩، فرأيت إثباته في الحاشية.]]
يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ كَمَآ أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ ٱلْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْءَٰتِهِمَآ ۗ إِنَّهُۥ يَرَىٰكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُۥ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۗ إِنَّا جَعَلْنَا ٱلشَّيَٰطِينَ أَوْلِيَآءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ
O children of Adam, let not Satan tempt you as he removed your parents from Paradise, stripping them of their clothing to show them their private parts. Indeed, he sees you, he and his tribe, from where you do not see them. Indeed, We have made the devils allies to those who do not believe.
اے نبی آدم (دیکھنا کہیں) شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو (بہکا کر) بہشت سے نکلوا دیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروا دیئے تاکہ ان کے ستر ان کو کھول کر دکھا دے۔ وہ اور اس کے بھائی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے رہے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطانوں کو انہیں لوگوں کا رفیق کار بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے
ای فرزندان آدم! شیطان شما را نفریبد، آن گونه که پدر و مادر شما را از بهشت بیرون کرد، و لباسشان را از تنشان بیرون ساخت تا عورتشان را به آنها نشان دهد! چه اینکه او و همکارانش شما را میبینند از جایی که شما آنها را نمیبینید؛ (امّا بدانید) ما شیاطین را اولیای کسانی قرار دادیم که ایمان نمیآورند!
Tafsir Ibn Kathir
O Children of Adam! Let not Shaytan deceive you, as he got your parents out of Paradise, stripping them of their raiment, to show them their private parts. Verily, he and his tribe see you from where you cannot see them. Verily, We made the Shayatin friends of those who believe not (27)
Warning against the Lures of Shaytan
Allah warns the Children of Adam against Iblis and his followers, by explaining about his ancient enmity for the father of mankind, Adam peace be upon him. Iblis plotted to have Adam expelled from Paradise, which is the dwelling of comfort, to the dwelling of hardship and fatigue (this life) and caused him to have his private part uncovered, after it had been hidden from him. This, indeed, is indicative of deep hatred (from Shaytan towards Adam and mankind). Allah said in a similar Ayah,
أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلًا
(Will you then take him (Iblis) and his offspring as protectors and helpers rather than Me, while they are enemies to you? What an evil is the exchange for the wrongdoers.)[18:50].
Tafsir Ibn Kathir
ابلیس سے بچنے کی تاکید تمام انسانوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ ہوشیار کر رہا ہے کہ دیکھو ابلیس کی مکاریوں سے بچتے رہنا وہ تمہارا بڑا ہی دشمن ہے دیکھو اسی نے تمہارے باپ آدم کو دار سرور سے نکالا اور اس مصیبت کے قید خانے میں ڈالا ان کی پردہ دری کی۔ پس تمہیں اس کے ہتھکنڈوں سے بچنا چاہئے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ ۭ بِئْسَ للظّٰلِمِيْنَ بَدَلً 50) 18۔ الكهف) یعنی کیا تم ابلیس اور اس کی قوم کو اپنا دوست بناتے ہو ؟ مجھے چھوڑ کر ؟ حالانکہ وہ تو تمہارا دشمن ہے ظالموں کا بہت ہی برا بدلہ ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُحَذِّرًا بَنِي آدَمَ مِنْ إِبْلِيسَ وَقَبِيلِهِ، وَمُبَيِّنًا لَهُمْ عَدَاوَتَهُ الْقَدِيمَةَ لِأَبِي الْبَشَرِ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي سَعْيِهِ فِي إِخْرَاجِهِ مِنَ الْجَنَّةِ الَّتِي هِيَ دَارُ النَّعِيمِ، إِلَى دَارِ التَّعَبِ وَالْعَنَاءِ، وَالتَّسَبُّبِ فِي هَتْكِ عَوْرَتِهِ بَعْدَمَا كَانَتْ مَسْتُورَةً عَنْهُ، وَمَا هَذَا إِلَّا عَنْ عَدَاوَةٍ أَكِيدَةٍ، وَهَذَا كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلا﴾ [الْكَهْفِ: ٥٠]
وَإِذَا فَعَلُوا۟ فَٰحِشَةًۭ قَالُوا۟ وَجَدْنَا عَلَيْهَآ ءَابَآءَنَا وَٱللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا ۗ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِٱلْفَحْشَآءِ ۖ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
And when they commit an immorality, they say, "We found our fathers doing it, and Allah has ordered us to do it." Say, "Indeed, Allah does not order immorality. Do you say about Allah that which you do not know?"
اور جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور خدا نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو خدا بےحیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔ بھلا تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں
و هنگامی که کار زشتی انجام میدهند میگویند: «پدران خود را بر این عمل یافتیم؛ و خداوند ما را به آن دستور داده است!» بگو: «خداوند (هرگز) به کار زشت فرمان نمیدهد! آیا چیزی به خدا نسبت میدهید که نمیدانید؟!»
Tafsir Ibn Kathir
And when they commit a 'Fāḥishah', they say: "We found our fathers doing it, and Allah has commanded it for us." Say: "Nay, Allah never commands 'Fāḥishah'. Do you say about Allah what you know not (28)Say: "My Lord has commanded justice and that you should face Him only, in every Masjid and invoke Him only, making your religion sincere to Him. As He brought you (into being) in the beginning, so shall you be brought into being again. (29)A group He has guided, and a group deserved to be in error; (because) surely, they took the Shayatin as supporters instead of Allah, and think that they are guided (30)
Disbelievers commit Sins and claim that Allah commanded Them to do so!
Mujahid said, "The idolators used to go around the House (Ka'bah) in Tawaf while naked, saying, 'We perform Tawaf as our mothers gave birth to us.' The woman would cover her sexual organ with something saying, 'Today, some or all of it will appear, but whatever appears from it, I do not allow it (it is not for adultery or for men to enjoy looking at!).'" Allah sent down the Ayah,
وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا
(And when they commit a 'Fāḥishah' (sin), they say: "We found our fathers doing it, and Allah has commanded it for us.")[7:28]
I say, the Arabs, with the exception of the Quraysh, used to perform Tawaf naked. They claimed they would not make Tawaf while wearing the clothes that they disobeyed Allah in. As for the Quraysh, known as Al-Hums, they used to perform Tawaf in their regular clothes. Whoever among the Arabs borrowed a garment from one of Al-Hums, he would wear it while in Tawaf. And whoever wore a new garment, would discard it and none would wear it after him on completion of Tawaf. Those who did not have a new garment, or were not given one by Al-Hums, then they would perform Tawaf while naked. Even women would go around in Tawaf while naked, and one of them would cover her sexual organ with something and proclaim, "Today, a part or all of it will appear, but whatever appears from it I do not allow it." Women used to perform Tawaf while naked usually at night. This was a practice that the idolators invented on their own, following only their forefathers in this regard. They falsely claimed that what their forefathers did was in fact following the order and legislation of Allah. Allah then refuted them, Allah said,
وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا
(And when they commit a 'Fāḥishah', they say: "We found our fathers doing it, and Allah has commanded it for us.")
Allah does not order Fahsha', but orders Justice and Sincerity
Allah replied to this false claim,
قُلْ
(Say), O Muhammad, to those who claimed this,
إِنَّ اللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ
("Nay, Allah never commands Fahsha'...") meaning, the practice you indulge in is a despicable sin, and Allah does not command such a thing.
أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
("Do you say about Allah what you know not?") that is, do you attribute to Allah statements that you are not certain are true? Allah said next,
قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ
(Say: "My Lord has commanded justice, (fairness and honesty)"),
وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
("And that you should face Him only, in every Masjid, and invoke Him only making your religion sincere to Him...")
This Ayah means, Allah commands you to be straightforward in worshipping Him, by following the Messengers who were supported with miracles and obeying what they conveyed from Allah and the Law that they brought. He also commands sincerity in worshipping Him, for He, Exalted He is, does not accept a good deed until it satisfies these two conditions: being correct and in conformity with His Law, and being free of Shirk.
The Meaning of being brought into Being in the Beginning and brought back again
Allah's saying
كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ
(As He brought you in the beginning, so shall you be brought into being again)[7:29]. Until;
الضَّلَالَةُ
(error.) There is some difference over the meaning of:
كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ
(As He brought you in the beginning, so shall you be brought into being again.)
Ibn Abi Najih said that Mujahid said that it means, "He will bring you back to life after you die." Al-Hasan Al-Basri commented, "As He made you begin in this life, He will bring you back to life on the Day of Resurrection." Qatadah commented on:
كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ
(As He brought you in the beginning, so shall you be brought into being again.)
"He started their creation after they were nothing, and they perished later on, and He shall bring them back again." 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "As He created you in the beginning, He will bring you back in the end." This last explanation was preferred by Abu Ja'far Ibn Jarir and he supported it with what he reported from Ibn 'Abbas, "The Messenger of Allah ﷺ stood up and gave us a speech, saying,
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ إِلَى اللهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا
كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ
(O people! You will be gathered to Allah while barefooted, naked and uncircumcised, (As We began the first creation, We shall repeat it. (It is) a promise binding upon Us. Truly, We shall do it)). [21:104] This Hadith was collected in the Two Sahihs.
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas commented on the Ayah,
كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ - فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلَالَةُ
(As He brought you in the beginning, so shall you be brought into being again. A group He has guided, and a group deserved to be in error;)
"Allah, the Exalted, began the creation of the Sons of Adam, some believers and some disbelievers, just as He said,
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ
(He it is Who created you, then some of you are disbelievers and some of you are believers)[64:2].
He will then return them on the Day of Resurrection as He started them, some believers and some disbelievers. I say, what supports this meaning, is the Hadith from Ibn Mas'ud that Al-Bukhari recorded, (that the Prophet ﷺ said:)
فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا بَاعٌ أَوْ ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا بَاعٌ أَوْ ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ
(By He, other than Whom there is no god, one of you might perform the deeds of the people of Paradise until only the length of an arm or a forearm would separate him from it. However, that which was written in the Book takes precedence, and he commits the work of the people of the Fire and thus enters it. And one of you might perform the deeds of the people of the Fire until only the length of an arm or a forearm separates between him and the Fire. However, that which was written in the Book takes precedence, and he performs the work of the people of Paradise and thus enters Paradise.)
We should combine this meaning – if it is held to be the correct meaning for the Ayah – with Allah's statement:
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا
(So set you your face towards the religion, Hanifan. Allah's Fitrah with which He has created mankind)[30:30], and what is recorded in the Two Sahihs from Abu Hurayrah who said that the Messenger of Allah ﷺ said:
كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ
(Every child is born upon the Fitrah, it is only his parents who turn him into a Jew, a Christian or a Zoroastrian.) Muslim recorded that 'Iyad bin Himar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
يَقُولُ اللهُ تَعَالـى: إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ، فَجَاءَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِم
(Allah said, 'I created My servants Hunafa' (monotheists), but the devils came to them and deviated them from their religion.)
The collective meaning here is, Allah created His creatures so that some of them later turn believers and some turn disbelievers. Allah has originally created all of His servants able to recognize Him, to single Him out in worship, and know that there is no deity worthy of worship except Him. He also took their covenant to fulfill the implications of this knowledge, which He placed in their consciousness and souls. He has decided that some of them will be miserable and some will be happy,
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ
(He it is Who created you, then some of you are disbelievers and some of you are believers)[64:2]. Also, a Hadith states,
كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا
(All people go out in the morning and sell themselves, and some of them free themselves while some others destroy themselves.)
Allah's decree will certainly come to pass in His creation. Verily, He it is
وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَىٰ
(Who has measured (everything); and then guided)[87:3], and,
الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ
(He Who gave to each thing its form and nature, then guided it aright)[20:50]. And in the Two Sahihs:
فَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ
(As for those among you who are among the people of happiness, they will be facilitated to perform the deeds of the people of happiness. As for those who are among the miserable, they will be facilitated to commit the deeds of the miserable). This is why Allah said here,
فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلَالَةُ
(A group He has guided, and a group deserved to be in error;) Allah then explained why,
إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ اللَّهِ
(because) surely, they took the Shayatin as supporters instead of Allah).
Ibn Jarir said, "This is one of the clearest arguments proving the mistake of those who claim that Allah does not punish anyone for disobedient acts he commits of deviations he believes in until after knowledge of what is correct reaches him, then he were to obstinately avoid it anyway. If this were true, then there would be no difference between the deviations of the misguided group - their belief that they are guided - and the group that is in fact guided. Yet Allah has differentiated between the two in this noble Ayah, doing so in both name and judgement."
Tafsir Ibn Kathir
جہالت اور طواف کعبہ مشرکین ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جیسے ہم پیدا ہوئے ہیں اسی حالت میں طواف کریں گے۔ عورتیں بھی آگے کوئی چمڑے کا ٹکڑا یا کوئی چیز رکھ لیتی تھیں اور کہتی تھیں۔ الیوم یبدو بعضہ اوکلہ وما بدا منہ فلا احلہ آج اس کا تھوڑا سا حصہ ظاہر ہوجائے گا اور جتنا بھی ظاہر ہو میں اسے اس کے لئے جائز نہیں رکھتی۔ اس پر آیت (واذا فعلوا) الخ، نازل ہوئی ہے۔ یہ دستور تھا کہ قریش کے سوا تمام عرب بیت اللہ شریف کا طواف اپنے پہنے ہوئے کپڑوں میں نہیں کرتے تھے سمجھتے تھے کہ یہ کپڑے جنہیں پہن کر اللہ کی نافرمانیاں کی ہیں اس قابل نہیں رہے کہ انہیں پہنے ہوئے طواف کرسکیں ہاں قریش جو اپنے تئیں حمس کہتے تھے اپنے کپڑوں میں بھی طواف کرتے تھے اور جن لوگوں کو قریش کپڑے بطور ادھار دیں وہ بھی ان کے دیئے ہوئے کپڑے پہن کر طواف کرسکتا تھا یا وہ شخص کپڑے پہنے طواف کرسکتا تھا جس کے پاس نئے کپڑے ہوں۔ پھر طواف کے بعد ہی انہیں اتار ڈالتا تھا اب یہ کسی کی ملکیت نہیں ہوسکتے تھے۔ پس جس کے پاس نیا کپڑا نہ ہو اور حمس بھی اس کو اپنا کپڑا نہ دے تو اسے ضروری تھا کہ وہ ننگا ہو کر طواف کرے۔ خواہ عورت ہو خواہ مرد عورت اپنے آگے کے عضو پر ذرا سی کوئی چیز رکھ لیتی اور وہ کہتی جس کا بیان اوپر گذرا لیکن عموماً عورتیں رات کے وقت طواف کرتی تھیں یہ بدعت انہوں نے از خود گھڑ لی تھی اس فعل کی دلیل سوائے باپ دادا کی تقلید کے اور ان کے پاس کچھ نہ تھی لیکن اپنی خوش فہمی اور نیک ظنی سے کہ دیتے تھے کہ اللہ کا بھی یہی حکم ہے۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر یہ فرمودہ رب نہ ہوتا تو ہمارے بزرگ اس طرح نہ کرتے۔ اس لئے حکم ہوتا ہے کہ اے نبی آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی کے کاموں کا حکم نہیں کرتا۔ ایک تو برا کام کرتے ہوں دوسرے جھوٹ موٹ اس کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہو یہ چوری اور سینہ زوری ہے۔ کہہ دے کہ رب العالمین کا حکم تو عدل و انصاف کا ہے، استقامت اور دیانت داری کا ہے، برائیوں اور گندے کاموں کے چھوڑنے کا ہے، عبادات ٹھیک طور پر بجا لانے کا ہے جو اللہ کے سچے رسولوں کے طریقہ کے مطابق ہوں، جن کی سچائی ان کے زبردست معجزوں سے اللہ نے ثابت کردی ہے، ان کی لائی ہوئی شریعت پر اخلاص کے ساتھ عمل کرتے ہوں۔ جب تک اخلاص اور پیغمبر کی تابعداری کسی کام میں نہ ہو اللہ کے ہاں وہ مقبول نہیں ہوتا۔ اس نے جس طرح تمہیں اول اول پیدا کیا ہے اسی طرح وہ دوبارہ بھی لوٹائے گا، دنیا میں بھی اسی نے پیدا کیا، آخرت کے دن بھی وہی قبروں سے دوبارہ پیدا کرے گا، پہلے تم کچھ نہ تھے اس نے تمہیں بنایا۔ اب مرنے کے بعد پھر بھی وہ تمہیں زندہ کر دے گا۔ جیسے اس نے شروع میں تمہاری ابتداء کی تھی اس طرح پھر سے تمہارا اعادہ کرے گا چناچہ حدیث میں بھی ہے رسول اللہ ﷺ نے ایک وعظ میں فرمایا لوگو تم اللہ کے سامنے ننگے پیروں ننگے بدنوں بےختنہ جمع کئے جاؤ گے جیسے کہ ہم نے تمہیں پیدائش میں کیا تھا اسی کو پھر دوہرائیں گے یہ ہمارا وعدہ ہے اور ہم اسے کر کے ہی رہنے والے ہیں۔ یہ روایت بخاری و مسلم میں بھی نکالی گئی ہے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جیسے ہم نے لکھ دیا ہے ویسے ہی تم ہوؤ گے۔ ایک روایت میں ہے جیسے تمہارے اعمال تھے ویسے ہی تم ہوؤ گے یہ بھی معنی ہیں کہ جس کی ابتداء میں بدبختی لکھ دی ہے وہ بدبختی اور بداعمالی تھے ویسے ہی تم ہوؤ گے یہ بھی معنی ہیں کہ جس کی ابتداء میں بدبختی لکھ دی ہے وہ بدبختی اور بداعمالی کی طرف ہی لوٹے گا گو درمیان میں نیک ہوگیا اور جس کی تقدیر میں شروع سے ہی نیکی اور سعادت لکھ دی گئی ہے وہ انجام کار نیک ہی ہوگا گو اس سے کسی وقت برائی کے اعمال بھی سرزد ہوجائیں۔ جیسے کہ فرعون کے زمانے کے جادوگر کہ ساری عمر سیاہ کاریوں اور کفر میں کٹی لیکن آخر وقت مسلمان اولیاء ہو کر مرے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ اللہ تم میں سے ہر ایک کو ہدایت پر یا گمراہی پر پیدا کرچکا ہے ایسے ہی ہو کر تم ماں کے بطن سے نکلو گے۔ یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کی پیدائش مومن و کافر ہونے کی حالت میں کی جیسے فرمان ہے آیت (ھو الذی خلقکم فمنکم کافر و منکم مومن) پھر انہیں اسی طرح قیامت کے دن لوٹائے گا یعنی مومن و کافر کے گروہوں میں۔ اسی قول کی تائید صحیح بخاری شریف کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں حضور فرماتے ہیں اس کی قسم جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں کہ تم میں سے ایک شخص جنتیوں کے اعمال کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک بام بھر کا یا ہاتھ بھر کا فرق رہ جاتا ہے پھر اس پر لکھا ہوا سبقت کرجاتا ہے اور دوزخیوں کے اعمال شروع کردیتا ہے اور اسی میں داخل ہوجاتا ہے اور کوئی جہنمیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ جہنم سے ایک ہاتھ یا ایک بام دور رہ جاتا ہے کہ تقدیر کا لکھا آگے آجاتا ہے اور وہ جنتیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے اور جنت نشین ہوجاتا ہے، دوسری روایت بھی اسی طرح کی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ اس کے وہ کام لوگوں کی نظروں میں جہنم اور جنت کے ہوتے ہیں۔ اعمال کا دارو مدار خاتمے پر ہے اور حدیث میں ہے ہر نفس اسی پر اٹھایا جائے گا جس پر تھا (مسلم) ایک اور روایت میں ہے جس پر مرا۔ اگر اس آیت سے مرد یہی لی جائے تو اسمیں اس کے بعد فرمان آیت (فاقم وجھک) میں اور بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں اور صحیح مسلم کی حدیث جس میں فرمان باری ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و حنیف پیدا کیا پھر شیطان نے ان کے دین سے انہیں بہکا دیا، اس میں کوئی جمع کی وجہ ہونی چاہیے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے انہیں دوسرے حال میں مومن و کافر ہونے کیلئے پیدا کیا۔ گو پہلے حال میں تمام مخلوق کو اپنی معرفت و توحید پر پیدا کیا تھا کہ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ جیسے کہ اس نے ان سے روز میثاق میں عہد بھی لیا تھا اور اسی وعدے کو ان کی جبلت گھتی میں رکھ دیا تھا اس کے باوجود اس نے مقدمہ کیا تھا کہ ان میں سے بعض شقی اور بدبخت ہوں گے اور بعض سعید اور نیک بخت ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے اسی نے تمہیں پیدا کیا پھر تم میں سے بعض کافر ہیں اور بعض مومن اور حدیث میں ہے ہر شخص صبح کرتا ہے پھر اپنے نفس کی خرید فروخت کرتا ہے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اسے آزاد کرا لیتے ہیں کچھ ایسے ہیں جو اسے ہلاک کر بیٹھتے ہیں۔ اللہ کی تقدیر، اللہ کی مخلوق میں جاری ہے، اسی نے مقدر کیا اسی نے ہدایت کی، اسی نے ہر ایک کو اس کی پیدائش دی پھر رہنمائی کی۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ جو لوگ سعادت والوں میں سے ہیں ان پر نیکوں کے کام آسان ہوں گے اور جو شقاوت والے ہیں ان پر بدیاں آسان ہوں گی۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے اس فرقے نے راہ پائی اور ایک فرقے پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ پھر اس کی وجہ بیان فرمائی کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنا لیا ہے، اس آیت سے اس مذہب کی تردید ہوتی ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو کسی معصیت کے عمل پر یا کسی گمراہی کے عقیدے پر عذاب نہیں کرتا تاوقتیکہ اس کے پاس صحیح چیز صاف آجائے اور پھر وہ اپنی برائی پر ضد اور عناد سے جما رہے۔ کیونکہ اگر یہ مذہب صحیح ہوتا تو جو لوگ گمراہ ہیں لیکن اپنے تئیں ہدایت پر سمجھتے ہیں اور جو واقعی ہدایت پر ہیں ان میں کوئی فرق نہ ہونا چاہئے تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میں فرق کیا ان کے نام میں بھی اور ان کے احکام میں بھی۔ آیت آپ کے سامنے موجود ہے پڑھ لیجئے۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ مُجَاهِدٌ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ عُرَاةً، يَقُولُونَ: نَطُوفُ كَمَا وَلَدَتْنَا أُمَّهَاتُنَا. فَتَضَعُ الْمَرْأَةُ عَلَى فَرْجِهَا النِّسْعَةَ، أَوِ الشَّيْءَ وَتَقُولُ:
الْيَوْمَ يبدُو بعضُه أَوْ كُلُّهُ ... وَمَا بَدا مِنْهُ فَلَا أحلّهُ ...
فَأَنْزَلَ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من ك.]] ﴿وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا﴾ الْآيَةَ. [[تفسير الطبري (١٢/٣٧٧) .]]
قُلْتُ: كَانَتِ الْعَرَبُ -مَا عَدَا قُرَيْشًا -لَا يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ فِي ثِيَابِهِمُ الَّتِي لَبِسُوهَا، يَتَأَوَّلُونَ فِي ذَلِكَ أَنَّهُمْ لَا يَطُوفُونَ فِي ثِيَابٍ عَصَوُا اللَّهَ فِيهَا، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ -وَهُمُ الحُمْس -يَطُوفُونَ فِي ثِيَابِهِمْ، وَمَنْ أَعَارَهُ أَحْمَسِيٌّ ثَوْبًا طَافَ فِيهِ، وَمِنْ مَعَهُ ثَوْبٌ جَدِيدٌ طَافٍ فِيهِ ثُمَّ يُلْقِيهِ فَلَا يَتَمَلَّكُهُ أَحَدٌ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ ثَوْبًا جَدِيدًا وَلَا أَعَارَهُ أَحْمَسِيٌّ ثَوْبًا، طَافَ عُرْيَانًا. وَرُبَّمَا كَانَتِ امْرَأَةً فَتَطُوفُ عُرْيَانَةً، فَتَجْعَلُ عَلَى فَرْجِهَا شَيْئًا يَسْتُرُهُ بَعْضُ الشيء وتقول:
اليوم يبدُو بعضُه أو كله ... وَمَا بدَا مِنْهُ فَلَا أحلّهُ ...
[[البيت منسوب لضباعة بنت عامر بن قرط، وله قصة ذكرها ابن حبيب البغدادي في المنمق (ص٢٧٠)]]
وَأَكْثَرُ مَا كَانَ النِّسَاءُ يَطُفْنَ [عُرَاةً] [[زيادة من ك، م.]] بِاللَّيْلِ، وَكَانَ هَذَا شَيْئًا قَدِ ابْتَدَعُوهُ مِنْ تِلْقَاءِ أَنْفُسِهِمْ، وَاتَّبَعُوا فِيهِ آبَاءَهُمْ وَيَعْتَقِدُونَ أَنَّ فِعْلَ آبَائِهِمْ مُسْتَنِدٌ إِلَى أَمْرٍ مِنَ اللَّهِ وَشَرْعٍ، فَأَنْكَرَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِمْ ذَلِكَ، فَقَالَ: ﴿وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا﴾ فَقَالَ تَعَالَى رَدًّا عَلَيْهِمْ: ﴿قُلْ﴾ أَيْ: قُلْ يَا مُحَمَّدُ لِمَنِ ادَّعَى ذَلِكَ: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ﴾ أَيْ: هَذَا الَّذِي تَصْنَعُونَهُ فَاحِشَةٌ مُنْكَرَةٌ، وَاللَّهُ لَا يَأْمُرُ بِمِثْلِ ذَلِكَ ﴿أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: أَتُسْنِدُونَ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْأَقْوَالِ مَا لَا تَعْلَمُونَ صِحَّتَهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ﴾ أَيْ: بِالْعَدْلِ وَالِاسْتِقَامَةِ، ﴿وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾
أَيْ: أَمَرَكُمْ بِالِاسْتِقَامَةِ فِي عِبَادَتِهِ فِي مَحَالِّهَا، وَهِيَ مُتَابَعَةُ الْمُرْسَلِينَ الْمُؤَيَّدِينَ بِالْمُعْجِزَاتِ فِيمَا أَخْبَرُوا بِهِ عَنِ اللَّهِ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] وَمَا جَاءُوا بِهِ [عَنْهُ] [[زيادة من ك.]] مِنَ الشَّرَائِعِ، وَبِالْإِخْلَاصِ لَهُ فِي عِبَادَتِهِ، فَإِنَّهُ تَعَالَى لَا يَتَقَبَّلُ الْعَمَلَ حَتَّى يَجْمَعَ هَذَيْنَ الرُّكْنَيْنِ: أَنْ يَكُونَ صَوَابًا مُوَافِقًا لِلشَّرِيعَةِ، وَأَنْ يَكُونَ خَالِصًا مِنَ الشِّرْكِ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُون. [فَرِيقًا هَدَى وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ] [[زيادة من ك، أوفي هـ: "إلى قوله".]] الضَّلالَة﴾ [[زيادة من أ.]] -اخْتُلِفَ فِي مَعْنَى [قَوْلِهِ تَعَالَى] ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ فَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ يُحْيِيكُمْ بَعْدَ مَوْتِكُمْ.
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: كَمَا بَدَأَكُمْ فِي الدُّنْيَا، كَذَلِكَ تَعُودُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحْيَاءً.
وَقَالَ قَتَادَةُ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ قَالَ: بَدَأَ فَخَلَقَهُمْ وَلَمْ يَكُونُوا شَيْئًا، ثُمَّ ذَهَبُوا، ثُمَّ يُعِيدُهُمْ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: كَمَا بَدَأَكُمْ أَوَّلًا كَذَلِكَ يُعِيدُكُمْ آخِرًا.
وَاخْتَارَ هَذَا الْقَوْلَ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ، وَأَيَّدَهُ بِمَا رَوَاهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَشُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، كِلَاهُمَا عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِمَوْعِظَةٍ فَقَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ [[في أ: "محشورون".]] إِلَى اللَّهِ حُفَاة عُرَاة غُرْلا ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ: ١٠٤] .
وَهَذَا الْحَدِيثُ مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَفِي حَدِيثِ الْبُخَارِيِّ -أَيْضًا -مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ بِهِ. [[تفسير الطبري (١٢/٣٨٦) وصحيح البخاري برقم (٤٦٢٥) وصحيح مسلم برقم (٢٨٦٠) .]]
وَقَالَ وقَاء بْنُ إِيَاسٍ أَبُو يَزِيدَ، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ قَالَ: يُبْعَثُ الْمُسْلِمُ مُسْلِمًا، وَالْكَافِرُ كَافِرًا.
وَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ رُدُّوا إِلَى عِلْمِهِ فِيهِمْ.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ كَمَّا كَتَبَ عَلَيْكُمْ تَكُونُونَ -وَفِي رِوَايَةٍ: كَمَا كُنْتُمْ تَكُونُونَ عَلَيْهِ تَكُونُونَ.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ القُرَظِي فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ مَنِ ابْتَدَأَ اللَّهُ خَلْقَهُ عَلَى الشَّقَاوَةِ صَارَ إِلَى مَا ابْتُدِئَ عَلَيْهِ خَلْقُهُ، وَإِنْ عَمِلَ بِأَعْمَالِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، كَمَا أَنَّ إِبْلِيسَ عَمِلَ بِأَعْمَالِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، ثُمَّ صَارَ إِلَى مَا ابْتُدِئَ عَلَيْهِ خَلْقُهُ. وَمَنِ ابتُدئ خَلْقُهُ عَلَى السَّعَادَةِ، صار إلى ما ابتدئ خلقه عليه، إن عَمِلَ بِأَعْمَالِ أَهَّلِ الشَّقَاءِ، كَمَا أَنَّ السَّحَرَةَ عَمِلَتْ [[في أ: "عملوا".]] بِأَعْمَالِ أَهْلِ الشَّقَاءِ، ثُمَّ صَارُوا إِلَى ما ابتدئوا عليه.
وَقَالَ السُّدِّي: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ. فَرِيقًا هَدَى وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلالَةُ﴾ يَقُولُ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ، فَرِيقٌ مُهْتَدُونَ وَفَرِيقٌ ضُلَّالٌ، كَذَلِكَ تَعُودُونَ وَتُخْرَجُونَ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عباس قَوْلُهُ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ فَرِيقًا هَدَى وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلالَةُ﴾ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَدَأَ خَلْقَ ابْنِ آدَمَ مُؤْمِنًا وَكَافِرًا، كَمَا قَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَمِنْكُمْ مُؤْمِنٌ﴾ [التَّغَابُنِ: ٢] ثُمَّ يُعِيدُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَمَا بَدَأَهُمْ [[في ك، أ: "بدأ خلقهم".]] مُؤْمِنًا وَكَافِرًا.
قُلْتُ: وَيَتَأَيَّدُ هَذَا الْقَوْلُ بِحَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ " فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا بَاعٌ -أَوْ: ذِرَاعٌ -فَيَسْبِقُ [[في ك: "ويسبق".]] عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، فَيَدْخُلَهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا بَاعٌ -أَوْ: ذِرَاعٌ -فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ" [[صحيح البخاري برقم (٣٢٠٨) .]]
وَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ البَغَوي: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الجَعْد، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّان، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ الْعَبْدَ لِيَعْمَلُ -فِيمَا يَرَى النَّاسُ -بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ. وَإِنَّهُ لِيَعْمَلُ -فِيمَا يَرَى النَّاسُ -بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ" [[ورواه البغوي في تفسيره (٣/٢٢٤) من طريق عبد الرحمن بن أبي شريح، عن أبي القاسم البغوي به.]]
هَذَا قِطْعَةٌ مِنْ حَدِيثٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرَّف الْمَدَنِيِّ، فِي قِصَّةِ "قُزْمان" يَوْمَ أُحُدٍ [[صحيح البخاري برقم (٦٦٠٧، ٦٤٩٣) .]]
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "تُبْعَثُ كُلُّ نَفْسٍ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ".
وَهَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهِ. وَلَفْظُهُ: "يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ" [[تفسير الطبري (١٢/٣٨٤) وصحيح مسلم برقم (٢٨٧٨) وسنن ابن ماجة برقم (٤٢٣٠) .]]
قُلْتُ: وَلَا بُدَّ مِنَ الْجَمْعِ بَيْنَ هَذَا الْقَوْلِ -إِنْ كَانَ هُوَ الْمُرَادَ مِنَ الْآيَةِ -وَبَيْنَ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا﴾ [الرُّومِ: ٣٠] وَمَا جَاءَ فِي الصَّحِيحَيْنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدانه ويُنَصِّرانه ويُمَجِّسانه" [[صحيح البخاري برقم (١٣٨٥) وصحيح مسلم برقم (٢٦٥٨) .]] وَفِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِياض بْنِ حمَار [[في أ: "حماد".]] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاء، فَجَاءَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دينهم" الحديث. ووجه الْجَمْعِ عَلَى هَذَا أَنَّهُ تَعَالَى خَلَقَهُمْ لِيَكُونَ مِنْهُمْ مُؤْمِنٌ وَكَافِرٌ، فِي ثَانِي الْحَالِ، وَإِنْ كَانَ قَدْ فَطَرَ الْخَلْقَ كُلَّهُمْ عَلَى مَعْرِفَتِهِ وَتَوْحِيدِهِ، وَالْعِلْمِ بِأَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، كَمَا أَخَذَ عَلَيْهِمْ بِذَلِكَ الْمِيثَاقَ، وَجَعَلَهُ فِي غَرَائِزِهِمْ وَفِطَرِهِمْ، وَمَعَ هَذَا قَدَّرَ أَنَّ [[في ك: "أن يكون".]] مِنْهُمْ شَقِيًّا وَمِنْهُمْ سَعِيدًا: ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَمِنْكُمْ مُؤْمِنٌ﴾ [التَّغَابُنِ: ٢] وَفِي الْحَدِيثِ: "كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو، فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فمُعْتِقُهَا، أَوْ مُوبِقها" [[قطعة من حديث رواه مسلم في صحيحه برقم (٢٢٣) من حديث أبي مالك الأشعري.]] وَقَدَرُ اللَّهِ نَافِذٌ فِي بَرَيَّتِهِ، فَإِنَّهُ هُوَ ﴿الَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى﴾ [الْأَعْلَى: ٣] وَ ﴿الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى﴾ [طه: ٥٠] وَفِي الصَّحِيحَيْنِ: "فَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ"؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَرِيقًا هَدَى وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلالَةُ﴾ ثُمَّ عَلَّلَ ذَلِكَ فَقَالَ: ﴿إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ اللَّهِ [وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ] ﴾ [[زيادة من د، ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]]
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَهَذَا مِنْ أَبِينِ الدَّلَالَةِ عَلَى خَطَأِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ أَحَدًا عَلَى مَعْصِيَةٍ رَكِبَهَا أَوْ ضَلَالَةٍ اعْتَقَدَهَا، إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهَا بَعْدَ عِلْمٍ مِنْهُ بِصَوَابِ وَجْهِهَا، فَيَرْكَبَهَا عِنَادًا مِنْهُ لِرَبِّهِ فِيهَا؛ لِأَنَّ ذَلِكَ لَوْ كَانَ كَذَلِكَ، لَمْ يَكُنْ بَيْنَ فَرِيقِ الضَّلَالَةِ الَّذِي ضَلَّ وَهُوَ يَحْسَبُ أَنَّهُ هَادٍ، وَفَرِيقِ الْهُدَى، فَرْقٌ. وَقَدْ فَرَّقَ اللَّهُ تَعَالَى بَيْنَ أَسْمَائِهِمَا وَأَحْكَامِهِمَا في هذه الآية [الكريمة] [[زيادة من ك، أ.]]
قُلْ أَمَرَ رَبِّى بِٱلْقِسْطِ ۖ وَأَقِيمُوا۟ وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍۢ وَٱدْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ ۚ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ
Say, [O Muhammad], "My Lord has ordered justice and that you maintain yourselves [in worship of Him] at every place [or time] of prostration, and invoke Him, sincere to Him in religion." Just as He originated you, you will return [to life] -
کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا (قبلے کی طرف) رخ کیا کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو ابتداء میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا ہوگے
بگو: «پروردگارم امر به عدالت کرده است؛ و توجّه خویش را در هر مسجد (و به هنگام عبادت) به سوی او کنید! و او را بخوانید، در حالی که دین (خود) را برای او خالص گردانید! (و بدانید) همان گونه که در آغاز شما را آفرید، (بار دیگر در رستاخیز) بازمیگردید!
Tafsir Ibn Kathir
And when they commit a 'Fāḥishah', they say: "We found our fathers doing it, and Allah has commanded it for us." Say: "Nay, Allah never commands 'Fāḥishah'. Do you say about Allah what you know not (28)Say: "My Lord has commanded justice and that you should face Him only, in every Masjid and invoke Him only, making your religion sincere to Him. As He brought you (into being) in the beginning, so shall you be brought into being again. (29)A group He has guided, and a group deserved to be in error; (because) surely, they took the Shayatin as supporters instead of Allah, and think that they are guided (30)
Disbelievers commit Sins and claim that Allah commanded Them to do so!
Mujahid said, "The idolators used to go around the House (Ka'bah) in Tawaf while naked, saying, 'We perform Tawaf as our mothers gave birth to us.' The woman would cover her sexual organ with something saying, 'Today, some or all of it will appear, but whatever appears from it, I do not allow it (it is not for adultery or for men to enjoy looking at!).'" Allah sent down the Ayah,
وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا
(And when they commit a 'Fāḥishah' (sin), they say: "We found our fathers doing it, and Allah has commanded it for us.")[7:28]
I say, the Arabs, with the exception of the Quraysh, used to perform Tawaf naked. They claimed they would not make Tawaf while wearing the clothes that they disobeyed Allah in. As for the Quraysh, known as Al-Hums, they used to perform Tawaf in their regular clothes. Whoever among the Arabs borrowed a garment from one of Al-Hums, he would wear it while in Tawaf. And whoever wore a new garment, would discard it and none would wear it after him on completion of Tawaf. Those who did not have a new garment, or were not given one by Al-Hums, then they would perform Tawaf while naked. Even women would go around in Tawaf while naked, and one of them would cover her sexual organ with something and proclaim, "Today, a part or all of it will appear, but whatever appears from it I do not allow it." Women used to perform Tawaf while naked usually at night. This was a practice that the idolators invented on their own, following only their forefathers in this regard. They falsely claimed that what their forefathers did was in fact following the order and legislation of Allah. Allah then refuted them, Allah said,
وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا
(And when they commit a 'Fāḥishah', they say: "We found our fathers doing it, and Allah has commanded it for us.")
Allah does not order Fahsha', but orders Justice and Sincerity
Allah replied to this false claim,
قُلْ
(Say), O Muhammad, to those who claimed this,
إِنَّ اللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ
("Nay, Allah never commands Fahsha'...") meaning, the practice you indulge in is a despicable sin, and Allah does not command such a thing.
أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
("Do you say about Allah what you know not?") that is, do you attribute to Allah statements that you are not certain are true? Allah said next,
قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ
(Say: "My Lord has commanded justice, (fairness and honesty)"),
وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
("And that you should face Him only, in every Masjid, and invoke Him only making your religion sincere to Him...")
This Ayah means, Allah commands you to be straightforward in worshipping Him, by following the Messengers who were supported with miracles and obeying what they conveyed from Allah and the Law that they brought. He also commands sincerity in worshipping Him, for He, Exalted He is, does not accept a good deed until it satisfies these two conditions: being correct and in conformity with His Law, and being free of Shirk.
The Meaning of being brought into Being in the Beginning and brought back again
Allah's saying
كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ
(As He brought you in the beginning, so shall you be brought into being again)[7:29]. Until;
الضَّلَالَةُ
(error.) There is some difference over the meaning of:
كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ
(As He brought you in the beginning, so shall you be brought into being again.)
Ibn Abi Najih said that Mujahid said that it means, "He will bring you back to life after you die." Al-Hasan Al-Basri commented, "As He made you begin in this life, He will bring you back to life on the Day of Resurrection." Qatadah commented on:
كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ
(As He brought you in the beginning, so shall you be brought into being again.)
"He started their creation after they were nothing, and they perished later on, and He shall bring them back again." 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "As He created you in the beginning, He will bring you back in the end." This last explanation was preferred by Abu Ja'far Ibn Jarir and he supported it with what he reported from Ibn 'Abbas, "The Messenger of Allah ﷺ stood up and gave us a speech, saying,
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ إِلَى اللهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا
كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ
(O people! You will be gathered to Allah while barefooted, naked and uncircumcised, (As We began the first creation, We shall repeat it. (It is) a promise binding upon Us. Truly, We shall do it)). [21:104] This Hadith was collected in the Two Sahihs.
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas commented on the Ayah,
كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ - فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلَالَةُ
(As He brought you in the beginning, so shall you be brought into being again. A group He has guided, and a group deserved to be in error;)
"Allah, the Exalted, began the creation of the Sons of Adam, some believers and some disbelievers, just as He said,
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ
(He it is Who created you, then some of you are disbelievers and some of you are believers)[64:2].
He will then return them on the Day of Resurrection as He started them, some believers and some disbelievers. I say, what supports this meaning, is the Hadith from Ibn Mas'ud that Al-Bukhari recorded, (that the Prophet ﷺ said:)
فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا بَاعٌ أَوْ ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا بَاعٌ أَوْ ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ
(By He, other than Whom there is no god, one of you might perform the deeds of the people of Paradise until only the length of an arm or a forearm would separate him from it. However, that which was written in the Book takes precedence, and he commits the work of the people of the Fire and thus enters it. And one of you might perform the deeds of the people of the Fire until only the length of an arm or a forearm separates between him and the Fire. However, that which was written in the Book takes precedence, and he performs the work of the people of Paradise and thus enters Paradise.)
We should combine this meaning – if it is held to be the correct meaning for the Ayah – with Allah's statement:
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا
(So set you your face towards the religion, Hanifan. Allah's Fitrah with which He has created mankind)[30:30], and what is recorded in the Two Sahihs from Abu Hurayrah who said that the Messenger of Allah ﷺ said:
كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ
(Every child is born upon the Fitrah, it is only his parents who turn him into a Jew, a Christian or a Zoroastrian.) Muslim recorded that 'Iyad bin Himar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
يَقُولُ اللهُ تَعَالـى: إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ، فَجَاءَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِم
(Allah said, 'I created My servants Hunafa' (monotheists), but the devils came to them and deviated them from their religion.)
The collective meaning here is, Allah created His creatures so that some of them later turn believers and some turn disbelievers. Allah has originally created all of His servants able to recognize Him, to single Him out in worship, and know that there is no deity worthy of worship except Him. He also took their covenant to fulfill the implications of this knowledge, which He placed in their consciousness and souls. He has decided that some of them will be miserable and some will be happy,
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ
(He it is Who created you, then some of you are disbelievers and some of you are believers)[64:2]. Also, a Hadith states,
كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا
(All people go out in the morning and sell themselves, and some of them free themselves while some others destroy themselves.)
Allah's decree will certainly come to pass in His creation. Verily, He it is
وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَىٰ
(Who has measured (everything); and then guided)[87:3], and,
الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ
(He Who gave to each thing its form and nature, then guided it aright)[20:50]. And in the Two Sahihs:
فَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ
(As for those among you who are among the people of happiness, they will be facilitated to perform the deeds of the people of happiness. As for those who are among the miserable, they will be facilitated to commit the deeds of the miserable). This is why Allah said here,
فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلَالَةُ
(A group He has guided, and a group deserved to be in error;) Allah then explained why,
إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ اللَّهِ
(because) surely, they took the Shayatin as supporters instead of Allah).
Ibn Jarir said, "This is one of the clearest arguments proving the mistake of those who claim that Allah does not punish anyone for disobedient acts he commits of deviations he believes in until after knowledge of what is correct reaches him, then he were to obstinately avoid it anyway. If this were true, then there would be no difference between the deviations of the misguided group - their belief that they are guided - and the group that is in fact guided. Yet Allah has differentiated between the two in this noble Ayah, doing so in both name and judgement."
Tafsir Ibn Kathir
جہالت اور طواف کعبہ مشرکین ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جیسے ہم پیدا ہوئے ہیں اسی حالت میں طواف کریں گے۔ عورتیں بھی آگے کوئی چمڑے کا ٹکڑا یا کوئی چیز رکھ لیتی تھیں اور کہتی تھیں۔ الیوم یبدو بعضہ اوکلہ وما بدا منہ فلا احلہ آج اس کا تھوڑا سا حصہ ظاہر ہوجائے گا اور جتنا بھی ظاہر ہو میں اسے اس کے لئے جائز نہیں رکھتی۔ اس پر آیت (واذا فعلوا) الخ، نازل ہوئی ہے۔ یہ دستور تھا کہ قریش کے سوا تمام عرب بیت اللہ شریف کا طواف اپنے پہنے ہوئے کپڑوں میں نہیں کرتے تھے سمجھتے تھے کہ یہ کپڑے جنہیں پہن کر اللہ کی نافرمانیاں کی ہیں اس قابل نہیں رہے کہ انہیں پہنے ہوئے طواف کرسکیں ہاں قریش جو اپنے تئیں حمس کہتے تھے اپنے کپڑوں میں بھی طواف کرتے تھے اور جن لوگوں کو قریش کپڑے بطور ادھار دیں وہ بھی ان کے دیئے ہوئے کپڑے پہن کر طواف کرسکتا تھا یا وہ شخص کپڑے پہنے طواف کرسکتا تھا جس کے پاس نئے کپڑے ہوں۔ پھر طواف کے بعد ہی انہیں اتار ڈالتا تھا اب یہ کسی کی ملکیت نہیں ہوسکتے تھے۔ پس جس کے پاس نیا کپڑا نہ ہو اور حمس بھی اس کو اپنا کپڑا نہ دے تو اسے ضروری تھا کہ وہ ننگا ہو کر طواف کرے۔ خواہ عورت ہو خواہ مرد عورت اپنے آگے کے عضو پر ذرا سی کوئی چیز رکھ لیتی اور وہ کہتی جس کا بیان اوپر گذرا لیکن عموماً عورتیں رات کے وقت طواف کرتی تھیں یہ بدعت انہوں نے از خود گھڑ لی تھی اس فعل کی دلیل سوائے باپ دادا کی تقلید کے اور ان کے پاس کچھ نہ تھی لیکن اپنی خوش فہمی اور نیک ظنی سے کہ دیتے تھے کہ اللہ کا بھی یہی حکم ہے۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر یہ فرمودہ رب نہ ہوتا تو ہمارے بزرگ اس طرح نہ کرتے۔ اس لئے حکم ہوتا ہے کہ اے نبی آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی کے کاموں کا حکم نہیں کرتا۔ ایک تو برا کام کرتے ہوں دوسرے جھوٹ موٹ اس کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہو یہ چوری اور سینہ زوری ہے۔ کہہ دے کہ رب العالمین کا حکم تو عدل و انصاف کا ہے، استقامت اور دیانت داری کا ہے، برائیوں اور گندے کاموں کے چھوڑنے کا ہے، عبادات ٹھیک طور پر بجا لانے کا ہے جو اللہ کے سچے رسولوں کے طریقہ کے مطابق ہوں، جن کی سچائی ان کے زبردست معجزوں سے اللہ نے ثابت کردی ہے، ان کی لائی ہوئی شریعت پر اخلاص کے ساتھ عمل کرتے ہوں۔ جب تک اخلاص اور پیغمبر کی تابعداری کسی کام میں نہ ہو اللہ کے ہاں وہ مقبول نہیں ہوتا۔ اس نے جس طرح تمہیں اول اول پیدا کیا ہے اسی طرح وہ دوبارہ بھی لوٹائے گا، دنیا میں بھی اسی نے پیدا کیا، آخرت کے دن بھی وہی قبروں سے دوبارہ پیدا کرے گا، پہلے تم کچھ نہ تھے اس نے تمہیں بنایا۔ اب مرنے کے بعد پھر بھی وہ تمہیں زندہ کر دے گا۔ جیسے اس نے شروع میں تمہاری ابتداء کی تھی اس طرح پھر سے تمہارا اعادہ کرے گا چناچہ حدیث میں بھی ہے رسول اللہ ﷺ نے ایک وعظ میں فرمایا لوگو تم اللہ کے سامنے ننگے پیروں ننگے بدنوں بےختنہ جمع کئے جاؤ گے جیسے کہ ہم نے تمہیں پیدائش میں کیا تھا اسی کو پھر دوہرائیں گے یہ ہمارا وعدہ ہے اور ہم اسے کر کے ہی رہنے والے ہیں۔ یہ روایت بخاری و مسلم میں بھی نکالی گئی ہے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جیسے ہم نے لکھ دیا ہے ویسے ہی تم ہوؤ گے۔ ایک روایت میں ہے جیسے تمہارے اعمال تھے ویسے ہی تم ہوؤ گے یہ بھی معنی ہیں کہ جس کی ابتداء میں بدبختی لکھ دی ہے وہ بدبختی اور بداعمالی تھے ویسے ہی تم ہوؤ گے یہ بھی معنی ہیں کہ جس کی ابتداء میں بدبختی لکھ دی ہے وہ بدبختی اور بداعمالی کی طرف ہی لوٹے گا گو درمیان میں نیک ہوگیا اور جس کی تقدیر میں شروع سے ہی نیکی اور سعادت لکھ دی گئی ہے وہ انجام کار نیک ہی ہوگا گو اس سے کسی وقت برائی کے اعمال بھی سرزد ہوجائیں۔ جیسے کہ فرعون کے زمانے کے جادوگر کہ ساری عمر سیاہ کاریوں اور کفر میں کٹی لیکن آخر وقت مسلمان اولیاء ہو کر مرے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ اللہ تم میں سے ہر ایک کو ہدایت پر یا گمراہی پر پیدا کرچکا ہے ایسے ہی ہو کر تم ماں کے بطن سے نکلو گے۔ یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کی پیدائش مومن و کافر ہونے کی حالت میں کی جیسے فرمان ہے آیت (ھو الذی خلقکم فمنکم کافر و منکم مومن) پھر انہیں اسی طرح قیامت کے دن لوٹائے گا یعنی مومن و کافر کے گروہوں میں۔ اسی قول کی تائید صحیح بخاری شریف کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں حضور فرماتے ہیں اس کی قسم جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں کہ تم میں سے ایک شخص جنتیوں کے اعمال کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک بام بھر کا یا ہاتھ بھر کا فرق رہ جاتا ہے پھر اس پر لکھا ہوا سبقت کرجاتا ہے اور دوزخیوں کے اعمال شروع کردیتا ہے اور اسی میں داخل ہوجاتا ہے اور کوئی جہنمیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ جہنم سے ایک ہاتھ یا ایک بام دور رہ جاتا ہے کہ تقدیر کا لکھا آگے آجاتا ہے اور وہ جنتیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے اور جنت نشین ہوجاتا ہے، دوسری روایت بھی اسی طرح کی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ اس کے وہ کام لوگوں کی نظروں میں جہنم اور جنت کے ہوتے ہیں۔ اعمال کا دارو مدار خاتمے پر ہے اور حدیث میں ہے ہر نفس اسی پر اٹھایا جائے گا جس پر تھا (مسلم) ایک اور روایت میں ہے جس پر مرا۔ اگر اس آیت سے مرد یہی لی جائے تو اسمیں اس کے بعد فرمان آیت (فاقم وجھک) میں اور بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں اور صحیح مسلم کی حدیث جس میں فرمان باری ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و حنیف پیدا کیا پھر شیطان نے ان کے دین سے انہیں بہکا دیا، اس میں کوئی جمع کی وجہ ہونی چاہیے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے انہیں دوسرے حال میں مومن و کافر ہونے کیلئے پیدا کیا۔ گو پہلے حال میں تمام مخلوق کو اپنی معرفت و توحید پر پیدا کیا تھا کہ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ جیسے کہ اس نے ان سے روز میثاق میں عہد بھی لیا تھا اور اسی وعدے کو ان کی جبلت گھتی میں رکھ دیا تھا اس کے باوجود اس نے مقدمہ کیا تھا کہ ان میں سے بعض شقی اور بدبخت ہوں گے اور بعض سعید اور نیک بخت ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے اسی نے تمہیں پیدا کیا پھر تم میں سے بعض کافر ہیں اور بعض مومن اور حدیث میں ہے ہر شخص صبح کرتا ہے پھر اپنے نفس کی خرید فروخت کرتا ہے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اسے آزاد کرا لیتے ہیں کچھ ایسے ہیں جو اسے ہلاک کر بیٹھتے ہیں۔ اللہ کی تقدیر، اللہ کی مخلوق میں جاری ہے، اسی نے مقدر کیا اسی نے ہدایت کی، اسی نے ہر ایک کو اس کی پیدائش دی پھر رہنمائی کی۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ جو لوگ سعادت والوں میں سے ہیں ان پر نیکوں کے کام آسان ہوں گے اور جو شقاوت والے ہیں ان پر بدیاں آسان ہوں گی۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے اس فرقے نے راہ پائی اور ایک فرقے پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ پھر اس کی وجہ بیان فرمائی کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنا لیا ہے، اس آیت سے اس مذہب کی تردید ہوتی ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو کسی معصیت کے عمل پر یا کسی گمراہی کے عقیدے پر عذاب نہیں کرتا تاوقتیکہ اس کے پاس صحیح چیز صاف آجائے اور پھر وہ اپنی برائی پر ضد اور عناد سے جما رہے۔ کیونکہ اگر یہ مذہب صحیح ہوتا تو جو لوگ گمراہ ہیں لیکن اپنے تئیں ہدایت پر سمجھتے ہیں اور جو واقعی ہدایت پر ہیں ان میں کوئی فرق نہ ہونا چاہئے تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میں فرق کیا ان کے نام میں بھی اور ان کے احکام میں بھی۔ آیت آپ کے سامنے موجود ہے پڑھ لیجئے۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ مُجَاهِدٌ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ عُرَاةً، يَقُولُونَ: نَطُوفُ كَمَا وَلَدَتْنَا أُمَّهَاتُنَا. فَتَضَعُ الْمَرْأَةُ عَلَى فَرْجِهَا النِّسْعَةَ، أَوِ الشَّيْءَ وَتَقُولُ:
الْيَوْمَ يبدُو بعضُه أَوْ كُلُّهُ ... وَمَا بَدا مِنْهُ فَلَا أحلّهُ ...
فَأَنْزَلَ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من ك.]] ﴿وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا﴾ الْآيَةَ. [[تفسير الطبري (١٢/٣٧٧) .]]
قُلْتُ: كَانَتِ الْعَرَبُ -مَا عَدَا قُرَيْشًا -لَا يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ فِي ثِيَابِهِمُ الَّتِي لَبِسُوهَا، يَتَأَوَّلُونَ فِي ذَلِكَ أَنَّهُمْ لَا يَطُوفُونَ فِي ثِيَابٍ عَصَوُا اللَّهَ فِيهَا، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ -وَهُمُ الحُمْس -يَطُوفُونَ فِي ثِيَابِهِمْ، وَمَنْ أَعَارَهُ أَحْمَسِيٌّ ثَوْبًا طَافَ فِيهِ، وَمِنْ مَعَهُ ثَوْبٌ جَدِيدٌ طَافٍ فِيهِ ثُمَّ يُلْقِيهِ فَلَا يَتَمَلَّكُهُ أَحَدٌ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ ثَوْبًا جَدِيدًا وَلَا أَعَارَهُ أَحْمَسِيٌّ ثَوْبًا، طَافَ عُرْيَانًا. وَرُبَّمَا كَانَتِ امْرَأَةً فَتَطُوفُ عُرْيَانَةً، فَتَجْعَلُ عَلَى فَرْجِهَا شَيْئًا يَسْتُرُهُ بَعْضُ الشيء وتقول:
اليوم يبدُو بعضُه أو كله ... وَمَا بدَا مِنْهُ فَلَا أحلّهُ ...
[[البيت منسوب لضباعة بنت عامر بن قرط، وله قصة ذكرها ابن حبيب البغدادي في المنمق (ص٢٧٠)]]
وَأَكْثَرُ مَا كَانَ النِّسَاءُ يَطُفْنَ [عُرَاةً] [[زيادة من ك، م.]] بِاللَّيْلِ، وَكَانَ هَذَا شَيْئًا قَدِ ابْتَدَعُوهُ مِنْ تِلْقَاءِ أَنْفُسِهِمْ، وَاتَّبَعُوا فِيهِ آبَاءَهُمْ وَيَعْتَقِدُونَ أَنَّ فِعْلَ آبَائِهِمْ مُسْتَنِدٌ إِلَى أَمْرٍ مِنَ اللَّهِ وَشَرْعٍ، فَأَنْكَرَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِمْ ذَلِكَ، فَقَالَ: ﴿وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا﴾ فَقَالَ تَعَالَى رَدًّا عَلَيْهِمْ: ﴿قُلْ﴾ أَيْ: قُلْ يَا مُحَمَّدُ لِمَنِ ادَّعَى ذَلِكَ: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ﴾ أَيْ: هَذَا الَّذِي تَصْنَعُونَهُ فَاحِشَةٌ مُنْكَرَةٌ، وَاللَّهُ لَا يَأْمُرُ بِمِثْلِ ذَلِكَ ﴿أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: أَتُسْنِدُونَ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْأَقْوَالِ مَا لَا تَعْلَمُونَ صِحَّتَهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ﴾ أَيْ: بِالْعَدْلِ وَالِاسْتِقَامَةِ، ﴿وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾
أَيْ: أَمَرَكُمْ بِالِاسْتِقَامَةِ فِي عِبَادَتِهِ فِي مَحَالِّهَا، وَهِيَ مُتَابَعَةُ الْمُرْسَلِينَ الْمُؤَيَّدِينَ بِالْمُعْجِزَاتِ فِيمَا أَخْبَرُوا بِهِ عَنِ اللَّهِ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] وَمَا جَاءُوا بِهِ [عَنْهُ] [[زيادة من ك.]] مِنَ الشَّرَائِعِ، وَبِالْإِخْلَاصِ لَهُ فِي عِبَادَتِهِ، فَإِنَّهُ تَعَالَى لَا يَتَقَبَّلُ الْعَمَلَ حَتَّى يَجْمَعَ هَذَيْنَ الرُّكْنَيْنِ: أَنْ يَكُونَ صَوَابًا مُوَافِقًا لِلشَّرِيعَةِ، وَأَنْ يَكُونَ خَالِصًا مِنَ الشِّرْكِ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُون. [فَرِيقًا هَدَى وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ] [[زيادة من ك، أوفي هـ: "إلى قوله".]] الضَّلالَة﴾ [[زيادة من أ.]] -اخْتُلِفَ فِي مَعْنَى [قَوْلِهِ تَعَالَى] ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ فَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ يُحْيِيكُمْ بَعْدَ مَوْتِكُمْ.
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: كَمَا بَدَأَكُمْ فِي الدُّنْيَا، كَذَلِكَ تَعُودُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحْيَاءً.
وَقَالَ قَتَادَةُ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ قَالَ: بَدَأَ فَخَلَقَهُمْ وَلَمْ يَكُونُوا شَيْئًا، ثُمَّ ذَهَبُوا، ثُمَّ يُعِيدُهُمْ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: كَمَا بَدَأَكُمْ أَوَّلًا كَذَلِكَ يُعِيدُكُمْ آخِرًا.
وَاخْتَارَ هَذَا الْقَوْلَ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ، وَأَيَّدَهُ بِمَا رَوَاهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَشُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، كِلَاهُمَا عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِمَوْعِظَةٍ فَقَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ [[في أ: "محشورون".]] إِلَى اللَّهِ حُفَاة عُرَاة غُرْلا ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ: ١٠٤] .
وَهَذَا الْحَدِيثُ مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَفِي حَدِيثِ الْبُخَارِيِّ -أَيْضًا -مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ بِهِ. [[تفسير الطبري (١٢/٣٨٦) وصحيح البخاري برقم (٤٦٢٥) وصحيح مسلم برقم (٢٨٦٠) .]]
وَقَالَ وقَاء بْنُ إِيَاسٍ أَبُو يَزِيدَ، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ قَالَ: يُبْعَثُ الْمُسْلِمُ مُسْلِمًا، وَالْكَافِرُ كَافِرًا.
وَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ رُدُّوا إِلَى عِلْمِهِ فِيهِمْ.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ كَمَّا كَتَبَ عَلَيْكُمْ تَكُونُونَ -وَفِي رِوَايَةٍ: كَمَا كُنْتُمْ تَكُونُونَ عَلَيْهِ تَكُونُونَ.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ القُرَظِي فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ مَنِ ابْتَدَأَ اللَّهُ خَلْقَهُ عَلَى الشَّقَاوَةِ صَارَ إِلَى مَا ابْتُدِئَ عَلَيْهِ خَلْقُهُ، وَإِنْ عَمِلَ بِأَعْمَالِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، كَمَا أَنَّ إِبْلِيسَ عَمِلَ بِأَعْمَالِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، ثُمَّ صَارَ إِلَى مَا ابْتُدِئَ عَلَيْهِ خَلْقُهُ. وَمَنِ ابتُدئ خَلْقُهُ عَلَى السَّعَادَةِ، صار إلى ما ابتدئ خلقه عليه، إن عَمِلَ بِأَعْمَالِ أَهَّلِ الشَّقَاءِ، كَمَا أَنَّ السَّحَرَةَ عَمِلَتْ [[في أ: "عملوا".]] بِأَعْمَالِ أَهْلِ الشَّقَاءِ، ثُمَّ صَارُوا إِلَى ما ابتدئوا عليه.
وَقَالَ السُّدِّي: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ. فَرِيقًا هَدَى وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلالَةُ﴾ يَقُولُ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ، فَرِيقٌ مُهْتَدُونَ وَفَرِيقٌ ضُلَّالٌ، كَذَلِكَ تَعُودُونَ وَتُخْرَجُونَ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عباس قَوْلُهُ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ فَرِيقًا هَدَى وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلالَةُ﴾ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَدَأَ خَلْقَ ابْنِ آدَمَ مُؤْمِنًا وَكَافِرًا، كَمَا قَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَمِنْكُمْ مُؤْمِنٌ﴾ [التَّغَابُنِ: ٢] ثُمَّ يُعِيدُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَمَا بَدَأَهُمْ [[في ك، أ: "بدأ خلقهم".]] مُؤْمِنًا وَكَافِرًا.
قُلْتُ: وَيَتَأَيَّدُ هَذَا الْقَوْلُ بِحَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ " فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا بَاعٌ -أَوْ: ذِرَاعٌ -فَيَسْبِقُ [[في ك: "ويسبق".]] عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، فَيَدْخُلَهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا بَاعٌ -أَوْ: ذِرَاعٌ -فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ" [[صحيح البخاري برقم (٣٢٠٨) .]]
وَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ البَغَوي: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الجَعْد، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّان، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ الْعَبْدَ لِيَعْمَلُ -فِيمَا يَرَى النَّاسُ -بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ. وَإِنَّهُ لِيَعْمَلُ -فِيمَا يَرَى النَّاسُ -بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ" [[ورواه البغوي في تفسيره (٣/٢٢٤) من طريق عبد الرحمن بن أبي شريح، عن أبي القاسم البغوي به.]]
هَذَا قِطْعَةٌ مِنْ حَدِيثٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرَّف الْمَدَنِيِّ، فِي قِصَّةِ "قُزْمان" يَوْمَ أُحُدٍ [[صحيح البخاري برقم (٦٦٠٧، ٦٤٩٣) .]]
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "تُبْعَثُ كُلُّ نَفْسٍ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ".
وَهَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهِ. وَلَفْظُهُ: "يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ" [[تفسير الطبري (١٢/٣٨٤) وصحيح مسلم برقم (٢٨٧٨) وسنن ابن ماجة برقم (٤٢٣٠) .]]
قُلْتُ: وَلَا بُدَّ مِنَ الْجَمْعِ بَيْنَ هَذَا الْقَوْلِ -إِنْ كَانَ هُوَ الْمُرَادَ مِنَ الْآيَةِ -وَبَيْنَ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا﴾ [الرُّومِ: ٣٠] وَمَا جَاءَ فِي الصَّحِيحَيْنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدانه ويُنَصِّرانه ويُمَجِّسانه" [[صحيح البخاري برقم (١٣٨٥) وصحيح مسلم برقم (٢٦٥٨) .]] وَفِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِياض بْنِ حمَار [[في أ: "حماد".]] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاء، فَجَاءَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دينهم" الحديث. ووجه الْجَمْعِ عَلَى هَذَا أَنَّهُ تَعَالَى خَلَقَهُمْ لِيَكُونَ مِنْهُمْ مُؤْمِنٌ وَكَافِرٌ، فِي ثَانِي الْحَالِ، وَإِنْ كَانَ قَدْ فَطَرَ الْخَلْقَ كُلَّهُمْ عَلَى مَعْرِفَتِهِ وَتَوْحِيدِهِ، وَالْعِلْمِ بِأَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، كَمَا أَخَذَ عَلَيْهِمْ بِذَلِكَ الْمِيثَاقَ، وَجَعَلَهُ فِي غَرَائِزِهِمْ وَفِطَرِهِمْ، وَمَعَ هَذَا قَدَّرَ أَنَّ [[في ك: "أن يكون".]] مِنْهُمْ شَقِيًّا وَمِنْهُمْ سَعِيدًا: ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَمِنْكُمْ مُؤْمِنٌ﴾ [التَّغَابُنِ: ٢] وَفِي الْحَدِيثِ: "كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو، فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فمُعْتِقُهَا، أَوْ مُوبِقها" [[قطعة من حديث رواه مسلم في صحيحه برقم (٢٢٣) من حديث أبي مالك الأشعري.]] وَقَدَرُ اللَّهِ نَافِذٌ فِي بَرَيَّتِهِ، فَإِنَّهُ هُوَ ﴿الَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى﴾ [الْأَعْلَى: ٣] وَ ﴿الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى﴾ [طه: ٥٠] وَفِي الصَّحِيحَيْنِ: "فَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ"؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَرِيقًا هَدَى وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلالَةُ﴾ ثُمَّ عَلَّلَ ذَلِكَ فَقَالَ: ﴿إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ اللَّهِ [وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ] ﴾ [[زيادة من د، ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]]
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَهَذَا مِنْ أَبِينِ الدَّلَالَةِ عَلَى خَطَأِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ أَحَدًا عَلَى مَعْصِيَةٍ رَكِبَهَا أَوْ ضَلَالَةٍ اعْتَقَدَهَا، إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهَا بَعْدَ عِلْمٍ مِنْهُ بِصَوَابِ وَجْهِهَا، فَيَرْكَبَهَا عِنَادًا مِنْهُ لِرَبِّهِ فِيهَا؛ لِأَنَّ ذَلِكَ لَوْ كَانَ كَذَلِكَ، لَمْ يَكُنْ بَيْنَ فَرِيقِ الضَّلَالَةِ الَّذِي ضَلَّ وَهُوَ يَحْسَبُ أَنَّهُ هَادٍ، وَفَرِيقِ الْهُدَى، فَرْقٌ. وَقَدْ فَرَّقَ اللَّهُ تَعَالَى بَيْنَ أَسْمَائِهِمَا وَأَحْكَامِهِمَا في هذه الآية [الكريمة] [[زيادة من ك، أ.]]
فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلضَّلَٰلَةُ ۗ إِنَّهُمُ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلشَّيَٰطِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ
A group [of you] He guided, and a group deserved [to be in] error. Indeed, they had taken the devils as allies instead of Allah while they thought that they were guided.
ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں
جمعی را هدایت کرده؛ و جمعی (که شایستگی نداشتهاند،) گمراهی بر آنها مسلّم شده است. آنها (کسانی هستند که) شیاطین را به جای خداوند، اولیای خود انتخاب کردند؛ و گمان میکنند هدایت یافتهاند!
Tafsir Ibn Kathir
And when they commit a 'Fāḥishah', they say: "We found our fathers doing it, and Allah has commanded it for us." Say: "Nay, Allah never commands 'Fāḥishah'. Do you say about Allah what you know not (28)Say: "My Lord has commanded justice and that you should face Him only, in every Masjid and invoke Him only, making your religion sincere to Him. As He brought you (into being) in the beginning, so shall you be brought into being again. (29)A group He has guided, and a group deserved to be in error; (because) surely, they took the Shayatin as supporters instead of Allah, and think that they are guided (30)
Disbelievers commit Sins and claim that Allah commanded Them to do so!
Mujahid said, "The idolators used to go around the House (Ka'bah) in Tawaf while naked, saying, 'We perform Tawaf as our mothers gave birth to us.' The woman would cover her sexual organ with something saying, 'Today, some or all of it will appear, but whatever appears from it, I do not allow it (it is not for adultery or for men to enjoy looking at!).'" Allah sent down the Ayah,
وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا
(And when they commit a 'Fāḥishah' (sin), they say: "We found our fathers doing it, and Allah has commanded it for us.")[7:28]
I say, the Arabs, with the exception of the Quraysh, used to perform Tawaf naked. They claimed they would not make Tawaf while wearing the clothes that they disobeyed Allah in. As for the Quraysh, known as Al-Hums, they used to perform Tawaf in their regular clothes. Whoever among the Arabs borrowed a garment from one of Al-Hums, he would wear it while in Tawaf. And whoever wore a new garment, would discard it and none would wear it after him on completion of Tawaf. Those who did not have a new garment, or were not given one by Al-Hums, then they would perform Tawaf while naked. Even women would go around in Tawaf while naked, and one of them would cover her sexual organ with something and proclaim, "Today, a part or all of it will appear, but whatever appears from it I do not allow it." Women used to perform Tawaf while naked usually at night. This was a practice that the idolators invented on their own, following only their forefathers in this regard. They falsely claimed that what their forefathers did was in fact following the order and legislation of Allah. Allah then refuted them, Allah said,
وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا
(And when they commit a 'Fāḥishah', they say: "We found our fathers doing it, and Allah has commanded it for us.")
Allah does not order Fahsha', but orders Justice and Sincerity
Allah replied to this false claim,
قُلْ
(Say), O Muhammad, to those who claimed this,
إِنَّ اللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ
("Nay, Allah never commands Fahsha'...") meaning, the practice you indulge in is a despicable sin, and Allah does not command such a thing.
أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
("Do you say about Allah what you know not?") that is, do you attribute to Allah statements that you are not certain are true? Allah said next,
قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ
(Say: "My Lord has commanded justice, (fairness and honesty)"),
وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
("And that you should face Him only, in every Masjid, and invoke Him only making your religion sincere to Him...")
This Ayah means, Allah commands you to be straightforward in worshipping Him, by following the Messengers who were supported with miracles and obeying what they conveyed from Allah and the Law that they brought. He also commands sincerity in worshipping Him, for He, Exalted He is, does not accept a good deed until it satisfies these two conditions: being correct and in conformity with His Law, and being free of Shirk.
The Meaning of being brought into Being in the Beginning and brought back again
Allah's saying
كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ
(As He brought you in the beginning, so shall you be brought into being again)[7:29]. Until;
الضَّلَالَةُ
(error.) There is some difference over the meaning of:
كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ
(As He brought you in the beginning, so shall you be brought into being again.)
Ibn Abi Najih said that Mujahid said that it means, "He will bring you back to life after you die." Al-Hasan Al-Basri commented, "As He made you begin in this life, He will bring you back to life on the Day of Resurrection." Qatadah commented on:
كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ
(As He brought you in the beginning, so shall you be brought into being again.)
"He started their creation after they were nothing, and they perished later on, and He shall bring them back again." 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "As He created you in the beginning, He will bring you back in the end." This last explanation was preferred by Abu Ja'far Ibn Jarir and he supported it with what he reported from Ibn 'Abbas, "The Messenger of Allah ﷺ stood up and gave us a speech, saying,
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ إِلَى اللهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا
كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ
(O people! You will be gathered to Allah while barefooted, naked and uncircumcised, (As We began the first creation, We shall repeat it. (It is) a promise binding upon Us. Truly, We shall do it)). [21:104] This Hadith was collected in the Two Sahihs.
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas commented on the Ayah,
كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ - فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلَالَةُ
(As He brought you in the beginning, so shall you be brought into being again. A group He has guided, and a group deserved to be in error;)
"Allah, the Exalted, began the creation of the Sons of Adam, some believers and some disbelievers, just as He said,
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ
(He it is Who created you, then some of you are disbelievers and some of you are believers)[64:2].
He will then return them on the Day of Resurrection as He started them, some believers and some disbelievers. I say, what supports this meaning, is the Hadith from Ibn Mas'ud that Al-Bukhari recorded, (that the Prophet ﷺ said:)
فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا بَاعٌ أَوْ ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا بَاعٌ أَوْ ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ
(By He, other than Whom there is no god, one of you might perform the deeds of the people of Paradise until only the length of an arm or a forearm would separate him from it. However, that which was written in the Book takes precedence, and he commits the work of the people of the Fire and thus enters it. And one of you might perform the deeds of the people of the Fire until only the length of an arm or a forearm separates between him and the Fire. However, that which was written in the Book takes precedence, and he performs the work of the people of Paradise and thus enters Paradise.)
We should combine this meaning – if it is held to be the correct meaning for the Ayah – with Allah's statement:
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا
(So set you your face towards the religion, Hanifan. Allah's Fitrah with which He has created mankind)[30:30], and what is recorded in the Two Sahihs from Abu Hurayrah who said that the Messenger of Allah ﷺ said:
كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ
(Every child is born upon the Fitrah, it is only his parents who turn him into a Jew, a Christian or a Zoroastrian.) Muslim recorded that 'Iyad bin Himar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
يَقُولُ اللهُ تَعَالـى: إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ، فَجَاءَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِم
(Allah said, 'I created My servants Hunafa' (monotheists), but the devils came to them and deviated them from their religion.)
The collective meaning here is, Allah created His creatures so that some of them later turn believers and some turn disbelievers. Allah has originally created all of His servants able to recognize Him, to single Him out in worship, and know that there is no deity worthy of worship except Him. He also took their covenant to fulfill the implications of this knowledge, which He placed in their consciousness and souls. He has decided that some of them will be miserable and some will be happy,
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ
(He it is Who created you, then some of you are disbelievers and some of you are believers)[64:2]. Also, a Hadith states,
كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا
(All people go out in the morning and sell themselves, and some of them free themselves while some others destroy themselves.)
Allah's decree will certainly come to pass in His creation. Verily, He it is
وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَىٰ
(Who has measured (everything); and then guided)[87:3], and,
الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ
(He Who gave to each thing its form and nature, then guided it aright)[20:50]. And in the Two Sahihs:
فَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ
(As for those among you who are among the people of happiness, they will be facilitated to perform the deeds of the people of happiness. As for those who are among the miserable, they will be facilitated to commit the deeds of the miserable). This is why Allah said here,
فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلَالَةُ
(A group He has guided, and a group deserved to be in error;) Allah then explained why,
إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ اللَّهِ
(because) surely, they took the Shayatin as supporters instead of Allah).
Ibn Jarir said, "This is one of the clearest arguments proving the mistake of those who claim that Allah does not punish anyone for disobedient acts he commits of deviations he believes in until after knowledge of what is correct reaches him, then he were to obstinately avoid it anyway. If this were true, then there would be no difference between the deviations of the misguided group - their belief that they are guided - and the group that is in fact guided. Yet Allah has differentiated between the two in this noble Ayah, doing so in both name and judgement."
Tafsir Ibn Kathir
جہالت اور طواف کعبہ مشرکین ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جیسے ہم پیدا ہوئے ہیں اسی حالت میں طواف کریں گے۔ عورتیں بھی آگے کوئی چمڑے کا ٹکڑا یا کوئی چیز رکھ لیتی تھیں اور کہتی تھیں۔ الیوم یبدو بعضہ اوکلہ وما بدا منہ فلا احلہ آج اس کا تھوڑا سا حصہ ظاہر ہوجائے گا اور جتنا بھی ظاہر ہو میں اسے اس کے لئے جائز نہیں رکھتی۔ اس پر آیت (واذا فعلوا) الخ، نازل ہوئی ہے۔ یہ دستور تھا کہ قریش کے سوا تمام عرب بیت اللہ شریف کا طواف اپنے پہنے ہوئے کپڑوں میں نہیں کرتے تھے سمجھتے تھے کہ یہ کپڑے جنہیں پہن کر اللہ کی نافرمانیاں کی ہیں اس قابل نہیں رہے کہ انہیں پہنے ہوئے طواف کرسکیں ہاں قریش جو اپنے تئیں حمس کہتے تھے اپنے کپڑوں میں بھی طواف کرتے تھے اور جن لوگوں کو قریش کپڑے بطور ادھار دیں وہ بھی ان کے دیئے ہوئے کپڑے پہن کر طواف کرسکتا تھا یا وہ شخص کپڑے پہنے طواف کرسکتا تھا جس کے پاس نئے کپڑے ہوں۔ پھر طواف کے بعد ہی انہیں اتار ڈالتا تھا اب یہ کسی کی ملکیت نہیں ہوسکتے تھے۔ پس جس کے پاس نیا کپڑا نہ ہو اور حمس بھی اس کو اپنا کپڑا نہ دے تو اسے ضروری تھا کہ وہ ننگا ہو کر طواف کرے۔ خواہ عورت ہو خواہ مرد عورت اپنے آگے کے عضو پر ذرا سی کوئی چیز رکھ لیتی اور وہ کہتی جس کا بیان اوپر گذرا لیکن عموماً عورتیں رات کے وقت طواف کرتی تھیں یہ بدعت انہوں نے از خود گھڑ لی تھی اس فعل کی دلیل سوائے باپ دادا کی تقلید کے اور ان کے پاس کچھ نہ تھی لیکن اپنی خوش فہمی اور نیک ظنی سے کہ دیتے تھے کہ اللہ کا بھی یہی حکم ہے۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر یہ فرمودہ رب نہ ہوتا تو ہمارے بزرگ اس طرح نہ کرتے۔ اس لئے حکم ہوتا ہے کہ اے نبی آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی کے کاموں کا حکم نہیں کرتا۔ ایک تو برا کام کرتے ہوں دوسرے جھوٹ موٹ اس کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہو یہ چوری اور سینہ زوری ہے۔ کہہ دے کہ رب العالمین کا حکم تو عدل و انصاف کا ہے، استقامت اور دیانت داری کا ہے، برائیوں اور گندے کاموں کے چھوڑنے کا ہے، عبادات ٹھیک طور پر بجا لانے کا ہے جو اللہ کے سچے رسولوں کے طریقہ کے مطابق ہوں، جن کی سچائی ان کے زبردست معجزوں سے اللہ نے ثابت کردی ہے، ان کی لائی ہوئی شریعت پر اخلاص کے ساتھ عمل کرتے ہوں۔ جب تک اخلاص اور پیغمبر کی تابعداری کسی کام میں نہ ہو اللہ کے ہاں وہ مقبول نہیں ہوتا۔ اس نے جس طرح تمہیں اول اول پیدا کیا ہے اسی طرح وہ دوبارہ بھی لوٹائے گا، دنیا میں بھی اسی نے پیدا کیا، آخرت کے دن بھی وہی قبروں سے دوبارہ پیدا کرے گا، پہلے تم کچھ نہ تھے اس نے تمہیں بنایا۔ اب مرنے کے بعد پھر بھی وہ تمہیں زندہ کر دے گا۔ جیسے اس نے شروع میں تمہاری ابتداء کی تھی اس طرح پھر سے تمہارا اعادہ کرے گا چناچہ حدیث میں بھی ہے رسول اللہ ﷺ نے ایک وعظ میں فرمایا لوگو تم اللہ کے سامنے ننگے پیروں ننگے بدنوں بےختنہ جمع کئے جاؤ گے جیسے کہ ہم نے تمہیں پیدائش میں کیا تھا اسی کو پھر دوہرائیں گے یہ ہمارا وعدہ ہے اور ہم اسے کر کے ہی رہنے والے ہیں۔ یہ روایت بخاری و مسلم میں بھی نکالی گئی ہے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جیسے ہم نے لکھ دیا ہے ویسے ہی تم ہوؤ گے۔ ایک روایت میں ہے جیسے تمہارے اعمال تھے ویسے ہی تم ہوؤ گے یہ بھی معنی ہیں کہ جس کی ابتداء میں بدبختی لکھ دی ہے وہ بدبختی اور بداعمالی تھے ویسے ہی تم ہوؤ گے یہ بھی معنی ہیں کہ جس کی ابتداء میں بدبختی لکھ دی ہے وہ بدبختی اور بداعمالی کی طرف ہی لوٹے گا گو درمیان میں نیک ہوگیا اور جس کی تقدیر میں شروع سے ہی نیکی اور سعادت لکھ دی گئی ہے وہ انجام کار نیک ہی ہوگا گو اس سے کسی وقت برائی کے اعمال بھی سرزد ہوجائیں۔ جیسے کہ فرعون کے زمانے کے جادوگر کہ ساری عمر سیاہ کاریوں اور کفر میں کٹی لیکن آخر وقت مسلمان اولیاء ہو کر مرے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ اللہ تم میں سے ہر ایک کو ہدایت پر یا گمراہی پر پیدا کرچکا ہے ایسے ہی ہو کر تم ماں کے بطن سے نکلو گے۔ یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کی پیدائش مومن و کافر ہونے کی حالت میں کی جیسے فرمان ہے آیت (ھو الذی خلقکم فمنکم کافر و منکم مومن) پھر انہیں اسی طرح قیامت کے دن لوٹائے گا یعنی مومن و کافر کے گروہوں میں۔ اسی قول کی تائید صحیح بخاری شریف کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں حضور فرماتے ہیں اس کی قسم جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں کہ تم میں سے ایک شخص جنتیوں کے اعمال کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک بام بھر کا یا ہاتھ بھر کا فرق رہ جاتا ہے پھر اس پر لکھا ہوا سبقت کرجاتا ہے اور دوزخیوں کے اعمال شروع کردیتا ہے اور اسی میں داخل ہوجاتا ہے اور کوئی جہنمیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ جہنم سے ایک ہاتھ یا ایک بام دور رہ جاتا ہے کہ تقدیر کا لکھا آگے آجاتا ہے اور وہ جنتیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے اور جنت نشین ہوجاتا ہے، دوسری روایت بھی اسی طرح کی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ اس کے وہ کام لوگوں کی نظروں میں جہنم اور جنت کے ہوتے ہیں۔ اعمال کا دارو مدار خاتمے پر ہے اور حدیث میں ہے ہر نفس اسی پر اٹھایا جائے گا جس پر تھا (مسلم) ایک اور روایت میں ہے جس پر مرا۔ اگر اس آیت سے مرد یہی لی جائے تو اسمیں اس کے بعد فرمان آیت (فاقم وجھک) میں اور بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں اور صحیح مسلم کی حدیث جس میں فرمان باری ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و حنیف پیدا کیا پھر شیطان نے ان کے دین سے انہیں بہکا دیا، اس میں کوئی جمع کی وجہ ہونی چاہیے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے انہیں دوسرے حال میں مومن و کافر ہونے کیلئے پیدا کیا۔ گو پہلے حال میں تمام مخلوق کو اپنی معرفت و توحید پر پیدا کیا تھا کہ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ جیسے کہ اس نے ان سے روز میثاق میں عہد بھی لیا تھا اور اسی وعدے کو ان کی جبلت گھتی میں رکھ دیا تھا اس کے باوجود اس نے مقدمہ کیا تھا کہ ان میں سے بعض شقی اور بدبخت ہوں گے اور بعض سعید اور نیک بخت ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے اسی نے تمہیں پیدا کیا پھر تم میں سے بعض کافر ہیں اور بعض مومن اور حدیث میں ہے ہر شخص صبح کرتا ہے پھر اپنے نفس کی خرید فروخت کرتا ہے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اسے آزاد کرا لیتے ہیں کچھ ایسے ہیں جو اسے ہلاک کر بیٹھتے ہیں۔ اللہ کی تقدیر، اللہ کی مخلوق میں جاری ہے، اسی نے مقدر کیا اسی نے ہدایت کی، اسی نے ہر ایک کو اس کی پیدائش دی پھر رہنمائی کی۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ جو لوگ سعادت والوں میں سے ہیں ان پر نیکوں کے کام آسان ہوں گے اور جو شقاوت والے ہیں ان پر بدیاں آسان ہوں گی۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے اس فرقے نے راہ پائی اور ایک فرقے پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ پھر اس کی وجہ بیان فرمائی کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنا لیا ہے، اس آیت سے اس مذہب کی تردید ہوتی ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو کسی معصیت کے عمل پر یا کسی گمراہی کے عقیدے پر عذاب نہیں کرتا تاوقتیکہ اس کے پاس صحیح چیز صاف آجائے اور پھر وہ اپنی برائی پر ضد اور عناد سے جما رہے۔ کیونکہ اگر یہ مذہب صحیح ہوتا تو جو لوگ گمراہ ہیں لیکن اپنے تئیں ہدایت پر سمجھتے ہیں اور جو واقعی ہدایت پر ہیں ان میں کوئی فرق نہ ہونا چاہئے تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میں فرق کیا ان کے نام میں بھی اور ان کے احکام میں بھی۔ آیت آپ کے سامنے موجود ہے پڑھ لیجئے۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ مُجَاهِدٌ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ عُرَاةً، يَقُولُونَ: نَطُوفُ كَمَا وَلَدَتْنَا أُمَّهَاتُنَا. فَتَضَعُ الْمَرْأَةُ عَلَى فَرْجِهَا النِّسْعَةَ، أَوِ الشَّيْءَ وَتَقُولُ:
الْيَوْمَ يبدُو بعضُه أَوْ كُلُّهُ ... وَمَا بَدا مِنْهُ فَلَا أحلّهُ ...
فَأَنْزَلَ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من ك.]] ﴿وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا﴾ الْآيَةَ. [[تفسير الطبري (١٢/٣٧٧) .]]
قُلْتُ: كَانَتِ الْعَرَبُ -مَا عَدَا قُرَيْشًا -لَا يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ فِي ثِيَابِهِمُ الَّتِي لَبِسُوهَا، يَتَأَوَّلُونَ فِي ذَلِكَ أَنَّهُمْ لَا يَطُوفُونَ فِي ثِيَابٍ عَصَوُا اللَّهَ فِيهَا، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ -وَهُمُ الحُمْس -يَطُوفُونَ فِي ثِيَابِهِمْ، وَمَنْ أَعَارَهُ أَحْمَسِيٌّ ثَوْبًا طَافَ فِيهِ، وَمِنْ مَعَهُ ثَوْبٌ جَدِيدٌ طَافٍ فِيهِ ثُمَّ يُلْقِيهِ فَلَا يَتَمَلَّكُهُ أَحَدٌ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ ثَوْبًا جَدِيدًا وَلَا أَعَارَهُ أَحْمَسِيٌّ ثَوْبًا، طَافَ عُرْيَانًا. وَرُبَّمَا كَانَتِ امْرَأَةً فَتَطُوفُ عُرْيَانَةً، فَتَجْعَلُ عَلَى فَرْجِهَا شَيْئًا يَسْتُرُهُ بَعْضُ الشيء وتقول:
اليوم يبدُو بعضُه أو كله ... وَمَا بدَا مِنْهُ فَلَا أحلّهُ ...
[[البيت منسوب لضباعة بنت عامر بن قرط، وله قصة ذكرها ابن حبيب البغدادي في المنمق (ص٢٧٠)]]
وَأَكْثَرُ مَا كَانَ النِّسَاءُ يَطُفْنَ [عُرَاةً] [[زيادة من ك، م.]] بِاللَّيْلِ، وَكَانَ هَذَا شَيْئًا قَدِ ابْتَدَعُوهُ مِنْ تِلْقَاءِ أَنْفُسِهِمْ، وَاتَّبَعُوا فِيهِ آبَاءَهُمْ وَيَعْتَقِدُونَ أَنَّ فِعْلَ آبَائِهِمْ مُسْتَنِدٌ إِلَى أَمْرٍ مِنَ اللَّهِ وَشَرْعٍ، فَأَنْكَرَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِمْ ذَلِكَ، فَقَالَ: ﴿وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا﴾ فَقَالَ تَعَالَى رَدًّا عَلَيْهِمْ: ﴿قُلْ﴾ أَيْ: قُلْ يَا مُحَمَّدُ لِمَنِ ادَّعَى ذَلِكَ: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ﴾ أَيْ: هَذَا الَّذِي تَصْنَعُونَهُ فَاحِشَةٌ مُنْكَرَةٌ، وَاللَّهُ لَا يَأْمُرُ بِمِثْلِ ذَلِكَ ﴿أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: أَتُسْنِدُونَ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْأَقْوَالِ مَا لَا تَعْلَمُونَ صِحَّتَهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ﴾ أَيْ: بِالْعَدْلِ وَالِاسْتِقَامَةِ، ﴿وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾
أَيْ: أَمَرَكُمْ بِالِاسْتِقَامَةِ فِي عِبَادَتِهِ فِي مَحَالِّهَا، وَهِيَ مُتَابَعَةُ الْمُرْسَلِينَ الْمُؤَيَّدِينَ بِالْمُعْجِزَاتِ فِيمَا أَخْبَرُوا بِهِ عَنِ اللَّهِ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] وَمَا جَاءُوا بِهِ [عَنْهُ] [[زيادة من ك.]] مِنَ الشَّرَائِعِ، وَبِالْإِخْلَاصِ لَهُ فِي عِبَادَتِهِ، فَإِنَّهُ تَعَالَى لَا يَتَقَبَّلُ الْعَمَلَ حَتَّى يَجْمَعَ هَذَيْنَ الرُّكْنَيْنِ: أَنْ يَكُونَ صَوَابًا مُوَافِقًا لِلشَّرِيعَةِ، وَأَنْ يَكُونَ خَالِصًا مِنَ الشِّرْكِ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُون. [فَرِيقًا هَدَى وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ] [[زيادة من ك، أوفي هـ: "إلى قوله".]] الضَّلالَة﴾ [[زيادة من أ.]] -اخْتُلِفَ فِي مَعْنَى [قَوْلِهِ تَعَالَى] ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ فَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ يُحْيِيكُمْ بَعْدَ مَوْتِكُمْ.
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: كَمَا بَدَأَكُمْ فِي الدُّنْيَا، كَذَلِكَ تَعُودُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحْيَاءً.
وَقَالَ قَتَادَةُ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ قَالَ: بَدَأَ فَخَلَقَهُمْ وَلَمْ يَكُونُوا شَيْئًا، ثُمَّ ذَهَبُوا، ثُمَّ يُعِيدُهُمْ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: كَمَا بَدَأَكُمْ أَوَّلًا كَذَلِكَ يُعِيدُكُمْ آخِرًا.
وَاخْتَارَ هَذَا الْقَوْلَ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ، وَأَيَّدَهُ بِمَا رَوَاهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَشُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، كِلَاهُمَا عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِمَوْعِظَةٍ فَقَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ [[في أ: "محشورون".]] إِلَى اللَّهِ حُفَاة عُرَاة غُرْلا ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ: ١٠٤] .
وَهَذَا الْحَدِيثُ مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَفِي حَدِيثِ الْبُخَارِيِّ -أَيْضًا -مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ بِهِ. [[تفسير الطبري (١٢/٣٨٦) وصحيح البخاري برقم (٤٦٢٥) وصحيح مسلم برقم (٢٨٦٠) .]]
وَقَالَ وقَاء بْنُ إِيَاسٍ أَبُو يَزِيدَ، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ قَالَ: يُبْعَثُ الْمُسْلِمُ مُسْلِمًا، وَالْكَافِرُ كَافِرًا.
وَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ رُدُّوا إِلَى عِلْمِهِ فِيهِمْ.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ كَمَّا كَتَبَ عَلَيْكُمْ تَكُونُونَ -وَفِي رِوَايَةٍ: كَمَا كُنْتُمْ تَكُونُونَ عَلَيْهِ تَكُونُونَ.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ القُرَظِي فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ مَنِ ابْتَدَأَ اللَّهُ خَلْقَهُ عَلَى الشَّقَاوَةِ صَارَ إِلَى مَا ابْتُدِئَ عَلَيْهِ خَلْقُهُ، وَإِنْ عَمِلَ بِأَعْمَالِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، كَمَا أَنَّ إِبْلِيسَ عَمِلَ بِأَعْمَالِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، ثُمَّ صَارَ إِلَى مَا ابْتُدِئَ عَلَيْهِ خَلْقُهُ. وَمَنِ ابتُدئ خَلْقُهُ عَلَى السَّعَادَةِ، صار إلى ما ابتدئ خلقه عليه، إن عَمِلَ بِأَعْمَالِ أَهَّلِ الشَّقَاءِ، كَمَا أَنَّ السَّحَرَةَ عَمِلَتْ [[في أ: "عملوا".]] بِأَعْمَالِ أَهْلِ الشَّقَاءِ، ثُمَّ صَارُوا إِلَى ما ابتدئوا عليه.
وَقَالَ السُّدِّي: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ. فَرِيقًا هَدَى وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلالَةُ﴾ يَقُولُ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ﴾ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ، فَرِيقٌ مُهْتَدُونَ وَفَرِيقٌ ضُلَّالٌ، كَذَلِكَ تَعُودُونَ وَتُخْرَجُونَ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عباس قَوْلُهُ: ﴿كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ فَرِيقًا هَدَى وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلالَةُ﴾ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَدَأَ خَلْقَ ابْنِ آدَمَ مُؤْمِنًا وَكَافِرًا، كَمَا قَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَمِنْكُمْ مُؤْمِنٌ﴾ [التَّغَابُنِ: ٢] ثُمَّ يُعِيدُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَمَا بَدَأَهُمْ [[في ك، أ: "بدأ خلقهم".]] مُؤْمِنًا وَكَافِرًا.
قُلْتُ: وَيَتَأَيَّدُ هَذَا الْقَوْلُ بِحَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ " فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا بَاعٌ -أَوْ: ذِرَاعٌ -فَيَسْبِقُ [[في ك: "ويسبق".]] عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، فَيَدْخُلَهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا بَاعٌ -أَوْ: ذِرَاعٌ -فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ" [[صحيح البخاري برقم (٣٢٠٨) .]]
وَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ البَغَوي: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الجَعْد، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّان، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ الْعَبْدَ لِيَعْمَلُ -فِيمَا يَرَى النَّاسُ -بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ. وَإِنَّهُ لِيَعْمَلُ -فِيمَا يَرَى النَّاسُ -بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ" [[ورواه البغوي في تفسيره (٣/٢٢٤) من طريق عبد الرحمن بن أبي شريح، عن أبي القاسم البغوي به.]]
هَذَا قِطْعَةٌ مِنْ حَدِيثٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرَّف الْمَدَنِيِّ، فِي قِصَّةِ "قُزْمان" يَوْمَ أُحُدٍ [[صحيح البخاري برقم (٦٦٠٧، ٦٤٩٣) .]]
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "تُبْعَثُ كُلُّ نَفْسٍ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ".
وَهَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهِ. وَلَفْظُهُ: "يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ" [[تفسير الطبري (١٢/٣٨٤) وصحيح مسلم برقم (٢٨٧٨) وسنن ابن ماجة برقم (٤٢٣٠) .]]
قُلْتُ: وَلَا بُدَّ مِنَ الْجَمْعِ بَيْنَ هَذَا الْقَوْلِ -إِنْ كَانَ هُوَ الْمُرَادَ مِنَ الْآيَةِ -وَبَيْنَ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا﴾ [الرُّومِ: ٣٠] وَمَا جَاءَ فِي الصَّحِيحَيْنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدانه ويُنَصِّرانه ويُمَجِّسانه" [[صحيح البخاري برقم (١٣٨٥) وصحيح مسلم برقم (٢٦٥٨) .]] وَفِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِياض بْنِ حمَار [[في أ: "حماد".]] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاء، فَجَاءَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دينهم" الحديث. ووجه الْجَمْعِ عَلَى هَذَا أَنَّهُ تَعَالَى خَلَقَهُمْ لِيَكُونَ مِنْهُمْ مُؤْمِنٌ وَكَافِرٌ، فِي ثَانِي الْحَالِ، وَإِنْ كَانَ قَدْ فَطَرَ الْخَلْقَ كُلَّهُمْ عَلَى مَعْرِفَتِهِ وَتَوْحِيدِهِ، وَالْعِلْمِ بِأَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، كَمَا أَخَذَ عَلَيْهِمْ بِذَلِكَ الْمِيثَاقَ، وَجَعَلَهُ فِي غَرَائِزِهِمْ وَفِطَرِهِمْ، وَمَعَ هَذَا قَدَّرَ أَنَّ [[في ك: "أن يكون".]] مِنْهُمْ شَقِيًّا وَمِنْهُمْ سَعِيدًا: ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَمِنْكُمْ مُؤْمِنٌ﴾ [التَّغَابُنِ: ٢] وَفِي الْحَدِيثِ: "كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو، فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فمُعْتِقُهَا، أَوْ مُوبِقها" [[قطعة من حديث رواه مسلم في صحيحه برقم (٢٢٣) من حديث أبي مالك الأشعري.]] وَقَدَرُ اللَّهِ نَافِذٌ فِي بَرَيَّتِهِ، فَإِنَّهُ هُوَ ﴿الَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى﴾ [الْأَعْلَى: ٣] وَ ﴿الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى﴾ [طه: ٥٠] وَفِي الصَّحِيحَيْنِ: "فَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ"؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَرِيقًا هَدَى وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلالَةُ﴾ ثُمَّ عَلَّلَ ذَلِكَ فَقَالَ: ﴿إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ اللَّهِ [وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ] ﴾ [[زيادة من د، ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]]
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَهَذَا مِنْ أَبِينِ الدَّلَالَةِ عَلَى خَطَأِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ أَحَدًا عَلَى مَعْصِيَةٍ رَكِبَهَا أَوْ ضَلَالَةٍ اعْتَقَدَهَا، إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهَا بَعْدَ عِلْمٍ مِنْهُ بِصَوَابِ وَجْهِهَا، فَيَرْكَبَهَا عِنَادًا مِنْهُ لِرَبِّهِ فِيهَا؛ لِأَنَّ ذَلِكَ لَوْ كَانَ كَذَلِكَ، لَمْ يَكُنْ بَيْنَ فَرِيقِ الضَّلَالَةِ الَّذِي ضَلَّ وَهُوَ يَحْسَبُ أَنَّهُ هَادٍ، وَفَرِيقِ الْهُدَى، فَرْقٌ. وَقَدْ فَرَّقَ اللَّهُ تَعَالَى بَيْنَ أَسْمَائِهِمَا وَأَحْكَامِهِمَا في هذه الآية [الكريمة] [[زيادة من ك، أ.]]
۞ يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ خُذُوا۟ زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍۢ وَكُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ وَلَا تُسْرِفُوٓا۟ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْرِفِينَ
O children of Adam, take your adornment at every masjid, and eat and drink, but be not excessive. Indeed, He likes not those who commit excess.
اے نبی آدم! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزّین کیا کرو اور کھاؤ اور پیؤ اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا
ای فرزندان آدم! زینت خود را به هنگام رفتن به مسجد، با خود بردارید! و (از نعمتهای الهی) بخورید و بیاشامید، ولی اسراف نکنید که خداوند مسرفان را دوست نمیدارد!
Tafsir Ibn Kathir
O Children of Adam! Take your adornment to every Masjid, and eat and drink, but waste not by extravagance, certainly He (Allah) likes not the wasteful (31)
Allah commands taking Adornment when going to the Masjid
This honorable Ayah refutes the idolators' practice of performing Tawaf around the Sacred House while naked. Muslim, An-Nasa'i and Ibn Jarir, (the following wording is that of Ibn Jarir) recorded that Shu'bah said that Salamah bin Kuhayl said that Muslim Al-Batin said that Sa'id bin Jubayr said that Ibn 'Abbas said, "The idolators used to go around the House while naked, both men and women, men in the day and women by night. The woman would say, "Today, a part or all of it will be unveiled, but whatever is exposed of it, I do not allow." Allah said in reply,
خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ
(Take your adornment to every Masjid,) Al-'Awfi said that Ibn 'Abbas commented on:
خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ
(Take your adornment to every Masjid)
"There were people who used to perform Tawaf around the House while naked, and Allah ordered them to take adornment, meaning, wear clean, proper clothes that cover the private parts. people were commanded to wear their best clothes when performing every prayer." Mujahid, 'Ata', Ibrahim An-Nakha'i, Sa'id bin Jubayr, Qatadah, As-Suddi, Ad-Dahhak and Malik narrated a similar saying from Az-Zuhri, and from several of the Salaf. They said that this Ayah was revealed about the idolators who used to perform Tawaf around the House while naked.
This Ayah (7:31), as well as the Sunnah, encourage wearing the best clothes when praying, especially for Friday and 'Id prayers. It is also recommended [for men] to wear perfume for prayer, because it is adornment, and to use Siwak for it is part of what completes adornment.
The best color for clothes is white, for Imam Ahmad narrated that Ibn 'Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ وَإِنَّ خَيْرَ أَكْحَالِكُمُ الْإثْمَدُ فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ
(Wear white clothes, for it is among your best clothes, and also wrap your dead with it. And Ithmid (antimony) is among the best of your Kuhl, for it clears the sight and helps the hair grow.)
This Hadith has a sound chain of narration, consisting of narrators who conform to the conditions and guidelines of Imam Muslim. Abu Dawud, At-Tirmidhi and Ibn Majah also recorded it, and At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih."
Prohibiting Extravagance
Allah said,
وَكُلُوا وَاشْرَبُوا
(And eat and drink..). Al-Bukhari said that Ibn 'Abbas said, "Eat what you wish and wear what you wish, as long as you avoid two things: extravagance and arrogance." Ibn Jarir said that Muhammad bin 'Abdul-A'la narrated to us that Muhammad bin Thawr narrated to us from Ma'mar from Ibn Tawus from his father who said that Ibn 'Abbas said, "Allah has allowed eating and drinking, as long as it does not contain extravagance or arrogance." This chain is Sahih. Imam Ahmad recorded that Al-Miqdam bin Ma'dikarib Al-Kindi said that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
مَا مَلَأَ ابْنُ آدَمَ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنِهِ بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أَكَلَاتٍ يُقِمْنَ صُلْبَهُ فَإِنْ كَانَ فَاعِلًا لَا مَحَالَةَ فَثُلُثٌ طَعَامٌ وَثُلُثٌ شَرَابٌ وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ
(The Son of Adam will not fill a pot worse for himself than his stomach. It is enough for the Son of Adam to eat a few bites that strengthens his spine. If he likes to have more, then let him fill a third with food, a third with drink and leave a third for his breathing.)
An-Nasa'i and At-Tirmidhi collected this Hadith, At-Tirmidhi said, "Hasan" or "Hasan Sahih" according to another manuscript.
'Ata' Al-Khurasani said that Ibn 'Abbas commented on the Ayah,
وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ
(And eat and drink but waste not by extravagance, certainly He (Allah) likes not the wasteful.)
"With food and drink." Ibn Jarir commented on Allah's statement,
إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ
(Certainly He (Allah) likes not the wasteful.)
"Allah the Exalted says that He does not like those who trespass the limits on an allowed matter or a prohibited matter, those who go to the extreme over what He has allowed, allow what He has prohibited, or prohibit what He has allowed. But, He likes that what He has allowed be considered as such (without extravagance) and what He has prohibited be considered as such. This is the justice that He has commanded."
Tafsir Ibn Kathir
برہنہ ہو کر طواف ممنوع قرار دے دیا گیا اس آیت میں مشرکین کا رد ہے وہ ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے جیسے کہ پہلے گذرا۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ ننگے مرد دن کو طواف کرتے اور ننگی عورتیں رات کو، اس وقت عورتیں کہا کرتی تھیں کہ آج اس کے خاص جسم کا کل حصہ یا کچھ حصہ گو ظاہر ہو لیکن کسی کو وہ اس کا دیکھنا جائز نہیں کرتیں۔ پس اس کے برخلاف مسلمانوں کو حکم ہوتا ہے کہ اپنا لباس پہن کر مسجدوں میں جاؤ، اللہ تعالیٰ زینت کے لینے کو حکم دیتا ہے اور زینت سے مراد لباس ہے اور لباس وہ ہے جو اعضاء مخصوصہ کو چھپالے اور جو اس کے سوا ہو مثلاً اچھا کپڑا وغیرہ۔ ایک حدیث میں ہے کہ یہ آیت جوتیوں سمیت نماز پڑھنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن ہے یہ غور طلب اور اس کی صحت میں بھی کلام ہے واللہ اعلم۔ یہ آیت اور جو کچھ اس کے معنی میں سنت میں وارد ہے اس سے نماز کے وقت زینت کرنا مستحب ثابت ہوتا ہے۔ خصوصاً جمعہ کے دن اور عید کے دن اور خوشبو لگانا بھی مسنون طریقہ ہے اس لئے کہ وہ زینت میں سے ہی ہے اور مسواک کرنا بھی۔ کیونکہ وہ بھی زینت کو پورا کرنے میں داخل ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سب سے افضل لباس سفید کپڑا ہے۔ جیسے کہ مسند احمد کی صحیح حدیث میں ہے حضور فرماتے ہیں سفید کپڑے پہنو وہ تمہارے تمام کپڑوں سے افضل ہیں اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن دو۔ سب سرموں میں بہتر سرمہ اثمد ہے وہ نگاہ کو تیز کرتا ہے اور بالوں کو اگاتا ہے۔ سنن کی ایک اور حدیث میں ہے سفید کپڑوں کو ضروری جانو اور انہیں پہنو وہ بہت اچھے اور بہت پاک صاف ہیں انہی میں اپنے مردوں کو کفن دو۔ طبرانی میں مروی ہے کہ حضرت تمیم داری نے ایک چادر ایک ہزار کو خریدی تھی نمازوں کے وقت اسے پہن لیا کرتے تھے۔ اس کے بعد آدھی آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام طب کو اور حکمت کو جمع کردیا ارشاد ہے کھاؤ پیو لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔ ابن عباس کا قول ہے جو چاہ کھا جو چاہ پی لیکن دو باتوں سے بچ اسراف اور تکبر۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کھاؤ پیو پہنو اور پڑھو لیکن صدقہ بھی کرتے رہو اور تکبر اور اسراف سے بچتے رہو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ اپنی نعمت کا اثر اپنے بندے کے جسم پر دیکھے۔ آپ فرماتے ہیں کھاؤ اور پہنو اور صدقہ کرو اور اسراف سے اور خود نمائی سے رکو، فرماتے ہیں انسان اپنے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرتا۔ انسان کو چند لقمے جس سے اس کی پیٹھ سیدھی رہے کافی ہیں اگر یہ بس میں نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ اپنے پیٹ کے تین حصے کرلے ایک کھانے کیلئے ایک پانی کیلئے ایک سانس کیلئے۔ فرماتے ہیں یہ بھی اسراف ہے کہ تو جو چاہے کھائے۔ لیکن حدیث غریب ہے۔ مشرکین جہاں ننگے ہو کر طواف کرتے تھے وہاں زمانہ حج میں چربی کو بھی اپنے اوپر حرام جانتے تھے اللہ نے دونوں باتوں کے خلاف حکم نازل فرمایا یہ بھی اسراف ہے کہ اللہ کے حلال کردہ کھانے کو حرام کرلیا جائے۔ اللہ کی دی ہوئی حلال روزی بیشک انسان کھائے پئے۔ حرام چیز کا کھانا بھی اسراف ہے اللہ کی مقرر کردہ حرام حلال کی حدوں سے گزر نہ جاؤ۔ نہ حرام کو حلال کرو نہ حلال کو حرام کہو۔ ہر ایک حکم کو اسی کی جگہ پر رکھو ورنہ مسرف اور دشمن رب بن جاؤ گے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الْآيَةُ الْكَرِيمَةُ ردٌّ عَلَى الْمُشْرِكِينَ فِيمَا كَانُوا يَعْتَمِدُونَهُ مِنَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ عُراة، كَمَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ جَرِيرٍ [[في أ: "ابن ماجة".]] -وَاللَّفْظُ لَهُ -مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْل، عَنْ مُسْلِمٍ البَطِين، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانُوا يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ عُرَاةً، الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ: الرِّجَالُ بِالنَّهَارِ، وَالنِّسَاءُ بِاللَّيْلِ. وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تَقُولُ:
اليومَ يبدُو بعضُه أَوْ كُلّه ... وَمَا بَدَا مِنْه فَلَا أحِلّهُ ...
فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ [[صحيح مسلم برقم (٣٠٢٨) وسنن النسائي (٥/٢٣٣) وتفسير الطبري (١٢/٣٩٠) .]]
وَقَالَ العَوْفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] ﴿خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ الْآيَةَ، قَالَ: كَانَ رِجَالٌ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ عُرَاةً، فَأَمَرَهُمُ اللَّهُ بِالزِّينَةِ -وَالزِّينَةُ: اللِّبَاسُ، وَهُوَ مَا يُوَارِي السَّوْأَةَ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنْ جَيّد البزِّ وَالْمَتَاعِ -فَأُمِرُوا أَنْ يَأْخُذُوا زِينَتَهُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ.
وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَعَطَاءٌ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخعي، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْر، وَقَتَادَةُ، والسُّدِّي، والضحاك، وَمَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَئِمَّةِ السَّلَفِ فِي تَفْسِيرِهَا: أَنَّهَا أُنْزِلَتْ فِي طَوَائِفِ الْمُشْرِكِينَ بِالْبَيْتِ عُرَاةً.
وَقَدْ رَوَى الْحَافِظُ بْنُ مَرْدُويه، مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ وَالْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوعًا؛ أَنَّهَا أُنْزِلَتْ [[في أ: "نزلت".]] فِي الصَّلَاةِ فِي النِّعَالِ. وَلَكِنْ فِي صِحَّتِهِ نَظَرٌ [[ورواه العقيلي في الضعفاء الكبير (٣/١٤٣) من طريق عباد بن جويرية، عن الأوزاعي، عن قتادة به. وعباد بن جويرية قال فيه الإمام أحمد: "كذاب أفاك".
ورواه الخطيب في تاريخ بغداد (١٤/٢٨٧) من طريق يعقوب، الدعاء عن يحيى بن عبد الله الدمشقي، عن الأوزاعي به.
ويعقوب وشيخه لا يعرفان.]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَلِهَذِهِ الْآيَةِ، وَمَا وَرَدَ فِي مَعْنَاهَا مِنَ السُّنَّةِ، يُسْتَحَبُّ التَّجَمُّلُ عِنْدَ الصَّلَاةِ، وَلَا سِيَّمَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَوْمَ الْعِيدِ، وَالطِّيبُ لِأَنَّهُ مِنَ الزِّينَةِ، وَالسِّوَاكُ لِأَنَّهُ مِنْ تَمَامِ ذَلِكَ، وَمِنْ أَفْضَلِ الثِّيَابِ [[في د، ك، م، أ: "اللباس".]] الْبَيَاضُ، كَمَا قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيم، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ، فَإِنَّهَا مِنْ خير ثيابكم، وكَفِّنوا فيها موتاكم، وإن خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الإثْمِد، فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ".
هَذَا حَدِيثٌ جَيِّدُ الْإِسْنَادِ، رِجَالُهُ [[في م: "رجاله كلهم ثقات".]] عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ. وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيم، بِهِ [[المسند (١/٢٤٧) وسنن أبي داود برقم (٤٠٦١) وسنن الترمذي برقم (٩٤٤) وسنن ابن ماجة برقم (١٤٧٢) .]] وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ صَحِيحٌ.
وَلِلْإِمَامِ أَحْمَدَ أَيْضًا، وَأَهْلِ السُّنَنِ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ، عَنْ سَمُرَة بْنِ جُنْدَب قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "عَلَيْكُمْ بِالثِّيَابِ الْبَيَاضِ فَالْبَسُوهَا؛ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ" [[المسند (٥/٧) وسنن النسائي (٨/٢٠٥) .]]
وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بِسَنَدٍ [[في م: "بإسناد".]] صَحِيحٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ: أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ اشْتَرَى رِدَاءً بِأَلْفٍ، فَكَانَ يُصَلِّي فِيهِ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا [وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] الْآيَةَ. قَالَ بَعْضُ السَّلَفِ: جَمَعَ اللَّهُ الطِّبَّ كُلَّهُ فِي نِصْفِ آيَةٍ: ﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلا تُسْرِفُوا﴾
وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُلْ مَا شِئْتَ، وَالْبَسْ مَا شِئْتَ، مَا أَخْطَأَتْكَ خَصْلَتَانِ: سرَف ومَخِيلة.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْر، عَنْ مَعْمَر، عَنِ
ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَحَلَّ اللَّهُ الْأَكْلَ وَالشُّرْبَ، مَا لَمْ يَكُنْ سرَفًا أو مَخِيلة. إسناده صَحِيحٌ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا بَهْز، حَدَّثَنَا هَمّام، عَنْ قَتَادَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْب، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "كُلُوا وَاشْرَبُوا وَالْبَسُوا وَتَصَدَّقُوا، فِي غَيْرِ مَخِيلة وَلَا سرَف، فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يَرَى [[في ك: "ترى".]] نِعْمَتَهُ عَلَى عَبْدِهِ" [[المسند (٢/١٨٢) .]]
وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "كُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَالْبَسُوا فِي غَيْرِ إِسْرَافٍ وَلَا مَخِيلة" [[سنن النسائي (٥/٧٩) وسنن ابن ماجة برقم (٣٦٠٥) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ الكِناني، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ [[في أ: "الطائي قال".]] سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بن معد يكرب الْكِنْدِيَّ [[في ك: "العبدي".]] قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "مَا مَلَأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنِهِ، حَسْبُ ابْنِ آدَمَ أَكَلَاتٌ يُقِمْنَ صُلبه، فَإِنْ كَانَ فَاعِلًا لَا مَحَالَةَ، فَثُلْثٌ طعامٌ، وَثُلُثٌ شرابٌ، وَثُلُثٌ لِنَفَسَهِ".
وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ، مِنْ طُرُقٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ، بِهِ [[المسند (٤/١٣٢) النسائي في السنن الكبرى برقم (٦٧٦٨) وسنن الترمذي برقم (٢٣٨٠) .]] وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ -وَفِي نُسْخَةٍ: حَسَنٌ صَحِيحٌ.
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ فِي مُسْنَدِهِ: حَدَّثَنَا سُوَيْد بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ [[في جميع النسخ: "سويد بن عبد العزيز" وصوابه: "سويد بن سعيد" كما في مسند أبي يعلى وكتب الرجال.]] حَدَّثَنَا بَقِيَّة، عَنْ يُوسُفَ ابْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوان، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ مِنْ السَّرف أَنْ تَأْكُلَ كُلَّ مَا اشْتَهَيْتَ".
وَرَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ فِي الْأَفْرَادِ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ تَفَرَّدَ بِهِ بَقِيَّةُ. [[مسند أبي يعلى (٥/١٥٤) وأطراف الغرائب والأفراد لابن القيسراني (ق٧٢) ورواه ابن ماجة في السنن برقم (٣٣٥٢) من طريق سويد بن سعيد به. وقال البوصيري في الزوائد (٣/٩٥) : "هذا إسناد ضعيف" وهو مسلسل بالعلل.]]
وَقَالَ السُّدِّي: كَانَ الَّذِينَ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ عُرَاةً، يُحَرِّمُونَ عَلَيْهِمُ الودَكَ مَا أَقَامُوا فِي الْمَوْسِمِ؛ فَقَالَ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من م.]] لَهُمْ: ﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا [وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ "الآية".]] يَقُولُ: لَا تُسْرِفُوا فِي التَّحْرِيمِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: أَمَرَهُمْ أَنْ يَأْكُلُوا وَيَشْرَبُوا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللَّهُ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: ﴿وَلا تُسْرِفُوا﴾ يَقُولُ: وَلَا تَأْكُلُوا حَرَامًا، ذَلِكَ الْإِسْرَافُ.
وَقَالَ عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ: ﴿وَكُلُوا [[في م: "كلوا".]] وَاشْرَبُوا وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ﴾
فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ﴾ يَقُولُ اللَّهُ: إِنَّ اللَّهَ [تَعَالَى] [[زيادة من ك.]] لَا يُحِبُّ الْمُتَعَدِّينَ [[في ك، م: "المعتدين".]] حَدَّه فِي حَلَالٍ أَوْ حَرَامٍ، الْغَالِينَ فِيمَا أَحَلَّ أَوْ حَرّم، بِإِحْلَالِ الْحَرَامِ وَبِتَحْرِيمِ الْحَلَالِ، وَلَكِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يُحَلَّلَ مَا أَحَلَّ، وَيُحَرَّمَ مَا حَرَّمَ، وَذَلِكَ الْعَدْلُ الَّذِي أَمَرَ بِهِ.
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِىٓ أَخْرَجَ لِعِبَادِهِۦ وَٱلطَّيِّبَٰتِ مِنَ ٱلرِّزْقِ ۚ قُلْ هِىَ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا خَالِصَةًۭ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ
Say, "Who has forbidden the adornment of Allah which He has produced for His servants and the good [lawful] things of provision?" Say, "They are for those who believe during the worldly life [but] exclusively for them on the Day of Resurrection." Thus do We detail the verses for a people who know.
پوچھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے (پینے) کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن خاص ان ہی کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے
بگو: «چه کسی زینتهای الهی را که برای بندگان خود آفریده، و روزیهای پاکیزه را حرام کرده است؟!» بگو: «اینها در زندگی دنیا، برای کسانی است که ایمان آوردهاند؛ (اگر چه دیگران نیز با آنها مشارکت دارند؛ ولی) در قیامت، خالص (برای مؤمنان) خواهد بود.» این گونه آیات (خود) را برای کسانی که آگاهند، شرح میدهیم!
Tafsir Ibn Kathir
Say: "Who has forbidden the adornment with clothes given by Allah, which He has produced for His servants, and At-Tayyibat (good things) of sustenance?" Say: "They are, in the life of this world, for those who believe, (and) exclusively for them (believers) on the Day of Resurrection." Thus We explain the Ayat in detail for people who have knowledge (32)
Allah refutes those who prohibit any type of food, drink or clothes according to their own understanding, without relying on what Allah has legislated.
قُلْ
(Say) O Muhammad, to the idolators who prohibit some things out of false opinion and fabrication,
مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ
(Who has forbidden the adornment with clothes given by Allah, which He has produced for His servants) meaning, these things were created for those who believe in Allah and worship Him in this life, even though the disbelievers share in these bounties in this life. In the Hereafter, the believers will have all this to themselves and none of the disbelievers will have a share in it, for Paradise is prohibited for the disbelievers.
Tafsir Ibn Kathir
آخر کار مومن ہی اللہ کی رحمت کا سزا وار ٹھہرا کھانے پینے پہننے کی ان بعض چیزوں کو بغیر اللہ کے فرمائے حرام کرلینے والوں کی تردید ہو رہی ہے اور انہیں ان کے فعل سے روکا جا رہا ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ پر ایمان رکھنے والوں اور اس کی عبادت کرنے والون کے لئے ہی تیار ہوئی ہیں گو دنیا میں ان کے ساتھ اور لوگ بھی شریک ہیں لیکن پھر قیامت کے دن یہ الگ کردیئے جائیں گے اور صرف مومن ہی اللہ کی نعمتوں سے نوازے جائیں گے۔ ابن عباس راوی ہیں کہ مشرک ننگے ہو کے اللہ کے گھر کا طواف کرتے تھے سیٹیاں اور تالیاں بجاتے جاتے تھے پس آیتیں اتریں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى رَدًّا عَلَى مَنْ حَرَّم شَيْئًا مِنَ الْمَآكِلِ أَوِ الْمَشَارِبِ، وَالْمَلَابِسِ، مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِهِ، مِنْ غَيْرِ شَرْعٍ مِنَ اللَّهِ: ﴿قُلْ﴾ يَا مُحَمَّدُ، لِهَؤُلَاءِ الْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ يُحَرِّمُونَ مَا يُحَرِّمُونَ بِآرَائِهِمُ الْفَاسِدَةِ وَابْتِدَاعِهِمْ: ﴿مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ [وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] الْآيَةَ، أَيْ: هِيَ مَخْلُوقَةٌ لِمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَعَبَدَهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَإِنْ شَرَكَهُمْ فِيهَا الْكُفَّارُ حِسًّا [[في ك: "حبا".]] فِي الدُّنْيَا، فَهِيَ لَهُمْ خَاصَّةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يَشْرَكهم فِيهَا أَحَدٌ مِنَ الْكُفَّارِ، فَإِنَّ الْجَنَّةَ مُحَرَّمَةٌ عَلَى الْكَافِرِينَ.
قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ: حَدَّثَنَا أَبُو حُصَين مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا يَحْيَى الحِمَّاني، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ القُمِّي، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ،
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قال: كَانَتْ قُرَيْشٌ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ وَهُمْ عُرَاةٌ، يُصَفِّرُونَ ويُصفِّقون. فَأَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ﴾ فَأُمِرُوا بِالثِّيَابِ. [[المعجم الكبير (١٢/١٣) ، وقال الهيثمي في المجمع (٧/٢٣) : "فيه يحيى الحماني وهو ضعيف".]]
قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّىَ ٱلْفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَٱلْإِثْمَ وَٱلْبَغْىَ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا۟ بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ سُلْطَٰنًۭا وَأَن تَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
Say, "My Lord has only forbidden immoralities - what is apparent of them and what is concealed - and sin, and oppression without right, and that you associate with Allah that for which He has not sent down authority, and that you say about Allah that which you do not know."
کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بےحیائی کی باتوں کو ظاہر ہوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے۔ اور اس کو بھی کہ تم کسی کو خدا کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس کو بھی کہ خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں
بگو: «خداوند، تنها اعمال زشت را، چه آشکار باشد چه پنهان، حرام کرده است؛ و (همچنین) گناه و ستم بناحق را؛ و اینکه چیزی را که خداوند دلیلی برای آن نازل نکرده، شریک او قرار دهید؛ و به خدا مطلبی نسبت دهید که نمیدانید.»
Tafsir Ibn Kathir
Say: "(But) the things that my Lord has indeed forbidden are the Fawahish (immoral deeds) whether committed openly or secretly, and Ithm, and transgression without right, and joining partners with Allah for which He has given no authority, and saying things about Allah of which you have no knowledge. (33)
Fāḥishah', Sin, Transgression, Shirk and Lying about Allah are prohibited
Imam Ahmad recorded that 'Abdullah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
لَا أَحَدَ أَغْيَرُ مِنَ اللهِ فَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللهِ
(None is more jealous than Allah, and this is why He prohibited Fawahish, committed openly or in secret. And none likes praise more than Allah).
This was also recorded in the Two Sahihs. In the explanation of Surat Al-An'am, we explained the 'Fāḥishah' that is committed openly and in secret. Allah said next,
وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ
(and 'Ithm', and transgression without right,)[7:33].
As-Suddi commented, "Al-Ithm means, 'disobedience'. As for unrighteous oppression, it occurs when you transgress against people without justification." Mujahid said, "Ithm includes all types of disobedience. Allah said that the oppressor commits oppression against himself." Therefore, the meaning of, Ithm is the sin that one commits against himself, while 'oppression' pertains to transgression against other people, and Allah prohibited both. Allah's statement,
وَأَن تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا
(and joining partners with Allah for which He has given no authority,) prohibits calling partners with Allah in worship.
وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
(and saying things about Allah of which you have no knowledge.) such as lies and inventions, like claiming that Allah has a son, and other evil creeds that you – O idolators – have no knowledge of. This is similar to His saying:
فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ
(So shun the abomination (worshipping) of the idols)[22:30].
Tafsir Ibn Kathir
بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ سے زیادہ غیرت والا کوئی نہیں۔ سورة انعام میں چھپی کھلی بےحیائیوں کے متعلق پوری تفسیر گذر چکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر گناہ کو حرام کردیا ہے اور ناحق ظلم وتعدی، سرکشی اور غرور کو بھی اس نے حرام کیا ہے پس اثم سے مراد ہر وہ گناہ ہے جو انسان آپ کرے اور بغی سے مراد وہ گناہ ہے جس میں دوسرے کا نقصان کرے یا اس کی حق تلفی کرے۔ اسی طرح رب کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا بھی حرام ہے اور ذات حق پر بہتان باندھنا بھی۔ مثلاً اس کی اولاد بتانا وغیرہ۔ خلاف واقعہ باتیں بھی جہالت کی باتیں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (فاجتنبوا الرجس من الا وثان) الخ، بتوں کی نجاست سے بچو، الخ۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَا أَحَدَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ، فَلِذَلِكَ حَرَّم الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَر مِنْهَا وَمَا بَطن، وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ".
أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ، مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ مهْران الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ [[المسند (١/٣٨١) ، وصحيح البخاري برقم (٤٦٣٤) ، وصحيح مسلم برقم (٢٧٦٠) .]] وَتَقَدَّمَ الْكَلَامُ فِي سُورَةِ الْأَنْعَامِ عَلَى مَا يَتَعَلَّقُ بِالْفَوَاحِشِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالإثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ﴾ قَالَ السُّدِّي: أَمَّا الْإِثْمُ فَالْمَعْصِيَةُ، وَالْبَغْيُ أَنْ تَبْغِيَ عَلَى النَّاسِ بِغَيْرِ الْحَقِّ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الْإِثْمُ الْمَعَاصِي كُلُّهَا، وَأَخْبَرَ أَنَّ الْبَاغِيَ بَغْيُهُ كَائِنٌ عَلَى نَفْسِهِ.
وَحَاصِلُ مَا فُسّر [[في أ: "فسرا".]] بِهِ الْإِثْمُ أَنَّهُ الْخَطَايَا الْمُتَعَلِّقَةُ بِالْفَاعِلِ نَفْسِهِ، وَالْبَغْيُ هُوَ التَّعَدِّي إِلَى النَّاسِ، فَحَرَّمَ اللَّهُ هَذَا وَهَذَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنزلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: تَجْعَلُوا لَهُ شَرِيكًا فِي عِبَادَتِهِ، وَأَنْ تَقُولُوا عَلَيْهِ [[في ك: "على الله".]] مِنَ الِافْتِرَاءِ وَالْكَذِبِ مِنْ دَعْوَى أَنَّ لَهُ وَلَدًا وَنَحْوَ ذَلِكَ، مِمَّا لَا عِلْمَ لَكُمْ بِهِ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأوْثَانِ [وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ * حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] الْآيَةَ [الْحَجِّ: ٣٠، ٣١] .
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌۭ ۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةًۭ ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
And for every nation is a [specified] term. So when their time has come, they will not remain behind an hour, nor will they precede [it].
اور ہر ایک فرقے کے لیے (موت کا) ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ آ جاتا ہے تو نہ تو ایک گھڑی دیر کرسکتے ہیں نہ جلدی
برای هر قوم و جمعیّتی، زمان و سرآمد (معیّنی) است؛ و هنگامی که سرآمد آنها فرا رسد، نه ساعتی از آن تأخیر میکنند، و نه بر آن پیشی میگیرند.
Tafsir Ibn Kathir
And every Ummah has its appointed term; when their term comes, neither can they delay it nor can they advance it an hour (or a moment)(34)O Children of Adam! If there come to you Messengers from among you, reciting to you My Ayat, then whosoever has Taqwa and becomes righteous, on them shall be no fear nor shall they grieve (35)But those who reject Our Ayat and treat them with arrogance, they are the dwellers of the Fire, they will abide therein forever (36)
Allah said,
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ
(And every Ummah has), meaning, each generation and nation,
أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ
(its appointed term; when their term comes) which they were destined for,
لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
(neither can they delay it nor can they advance it an hour (or a moment)).
Allah then warned the Children of Adam that He sent to them Messengers who conveyed to them His Ayat. Allah also conveyed good news, as well as warning,
فَمَنِ اتَّقَىٰ وَأَصْلَحَ
(then whosoever has Taqwa and becomes righteous) by abandoning the prohibitions and performing acts of obedience,
فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ - وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا
(on them shall be no fear nor shall they grieve. But those who reject Our Ayat and treat them with arrogance,) meaning, their hearts denied the Ayat and they were too arrogant to abide by them,
أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
(they are the dwellers of the Fire, they will abide therein forever.) without end to their dwelling in it.
Tafsir Ibn Kathir
موت کی ساعت طے شدہ ہے۔ اور اٹل ہے ہر زمانے اور ہر زمانے والوں کے لئے اللہ کی طرف سے انتہائی مدت مقرر ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ ناممکن ہے کہ اس سے ایک منٹ کی تاخیر ہو یا ایک لمحے کی جلدی ہو۔ انسانوں کو ڈراتا ہے کہ جب وہ رسولوں سے ڈرانا اور رغبت دلانا سنیں تو بدکاریوں کو ترک کردیں اور اللہ کی اطاعت کی طرف جھک جائیں۔ جب وہ یہ کریں گے تو وہ ہر کھٹکے، ہر ڈر سے، ہر خوف اور ناامیدی سے محفوظ ہوجائیں گے اور اگر اس کے خلاف کیا نہ دل سے مانا نہ عمل کیا تو وہ دوزخ میں جائیں گے اور وہیں پڑے جھلستے رہیں گے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ﴾ أَيْ: قَرْنٍ وَجِيلٍ ﴿أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ﴾ أَيْ: مِيقَاتُهُمُ الْمُقَدَّرُ لَهُمْ ﴿لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً﴾ عَنْ ذَلِكَ [[في أ: "أي من ذلك".]] ﴿وَلا يَسْتَقْدِمُونَ﴾
ثُمَّ أَنْذَرَ تَعَالَى بَنِي آدَمَ بِأَنَّهُ سَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ رُسُلًا يَقُصُّونَ عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ، وبَشر وَحَذَّرَ فَقَالَ: ﴿فَمَن اتَّقَى وَأَصْلَحَ﴾ أَيْ: تَرَكَ الْمُحَرَّمَاتِ وَفَعَلَ الطَّاعَاتِ ﴿فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ * وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا﴾ أَيْ: كَذَّبَتْ بِهَا قُلُوبُهُمْ، وَاسْتَكْبَرُوا عَنِ الْعَمَلِ بِهَا ﴿أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ أَيْ: مَاكِثُونَ فِيهَا مُكْثًا مُخَلَّدًا.
يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌۭ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِى ۙ فَمَنِ ٱتَّقَىٰ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
O children of Adam, if there come to you messengers from among you relating to you My verses, then whoever fears Allah and reforms - there will be no fear concerning them, nor will they grieve.
اے نبی آدم! (ہم تم کو یہ نصیحت ہمیشہ کرتے رہے ہیں کہ) جب ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں (تو ان پر ایمان لایا کرو) کہ جو شخص (ان پر ایمان لا کر خدا سے) ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
ای فرزندان آدم! اگر رسولانی از خود شما به سراغتان بیایند که آیات مرا برای شما بازگو کنند، (از آنها پیروی کنید؛) کسانی که پرهیزگاری پیشه کنند و عمل صالح انجام دهند (و در اصلاح خویش و دیگران بکوشند)، نه ترسی بر آنهاست و نه غمناک می شوند.
Tafsir Ibn Kathir
And every Ummah has its appointed term; when their term comes, neither can they delay it nor can they advance it an hour (or a moment)(34)O Children of Adam! If there come to you Messengers from among you, reciting to you My Ayat, then whosoever has Taqwa and becomes righteous, on them shall be no fear nor shall they grieve (35)But those who reject Our Ayat and treat them with arrogance, they are the dwellers of the Fire, they will abide therein forever (36)
Allah said,
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ
(And every Ummah has), meaning, each generation and nation,
أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ
(its appointed term; when their term comes) which they were destined for,
لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
(neither can they delay it nor can they advance it an hour (or a moment)).
Allah then warned the Children of Adam that He sent to them Messengers who conveyed to them His Ayat. Allah also conveyed good news, as well as warning,
فَمَنِ اتَّقَىٰ وَأَصْلَحَ
(then whosoever has Taqwa and becomes righteous) by abandoning the prohibitions and performing acts of obedience,
فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ - وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا
(on them shall be no fear nor shall they grieve. But those who reject Our Ayat and treat them with arrogance,) meaning, their hearts denied the Ayat and they were too arrogant to abide by them,
أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
(they are the dwellers of the Fire, they will abide therein forever.) without end to their dwelling in it.
Tafsir Ibn Kathir
موت کی ساعت طے شدہ ہے۔ اور اٹل ہے ہر زمانے اور ہر زمانے والوں کے لئے اللہ کی طرف سے انتہائی مدت مقرر ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ ناممکن ہے کہ اس سے ایک منٹ کی تاخیر ہو یا ایک لمحے کی جلدی ہو۔ انسانوں کو ڈراتا ہے کہ جب وہ رسولوں سے ڈرانا اور رغبت دلانا سنیں تو بدکاریوں کو ترک کردیں اور اللہ کی اطاعت کی طرف جھک جائیں۔ جب وہ یہ کریں گے تو وہ ہر کھٹکے، ہر ڈر سے، ہر خوف اور ناامیدی سے محفوظ ہوجائیں گے اور اگر اس کے خلاف کیا نہ دل سے مانا نہ عمل کیا تو وہ دوزخ میں جائیں گے اور وہیں پڑے جھلستے رہیں گے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ﴾ أَيْ: قَرْنٍ وَجِيلٍ ﴿أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ﴾ أَيْ: مِيقَاتُهُمُ الْمُقَدَّرُ لَهُمْ ﴿لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً﴾ عَنْ ذَلِكَ [[في أ: "أي من ذلك".]] ﴿وَلا يَسْتَقْدِمُونَ﴾
ثُمَّ أَنْذَرَ تَعَالَى بَنِي آدَمَ بِأَنَّهُ سَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ رُسُلًا يَقُصُّونَ عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ، وبَشر وَحَذَّرَ فَقَالَ: ﴿فَمَن اتَّقَى وَأَصْلَحَ﴾ أَيْ: تَرَكَ الْمُحَرَّمَاتِ وَفَعَلَ الطَّاعَاتِ ﴿فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ * وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا﴾ أَيْ: كَذَّبَتْ بِهَا قُلُوبُهُمْ، وَاسْتَكْبَرُوا عَنِ الْعَمَلِ بِهَا ﴿أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ أَيْ: مَاكِثُونَ فِيهَا مُكْثًا مُخَلَّدًا.
وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱسْتَكْبَرُوا۟ عَنْهَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ
But the ones who deny Our verses and are arrogant toward them - those are the companions of the Fire; they will abide therein eternally.
اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی وہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے
و آنها که آیات ما را تکذیب کنند، و در برابر آن تکبّر ورزند، اهل دوزخند؛ جاودانه در آن خواهند ماند.
Tafsir Ibn Kathir
And every Ummah has its appointed term; when their term comes, neither can they delay it nor can they advance it an hour (or a moment)(34)O Children of Adam! If there come to you Messengers from among you, reciting to you My Ayat, then whosoever has Taqwa and becomes righteous, on them shall be no fear nor shall they grieve (35)But those who reject Our Ayat and treat them with arrogance, they are the dwellers of the Fire, they will abide therein forever (36)
Allah said,
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ
(And every Ummah has), meaning, each generation and nation,
أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ
(its appointed term; when their term comes) which they were destined for,
لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
(neither can they delay it nor can they advance it an hour (or a moment)).
Allah then warned the Children of Adam that He sent to them Messengers who conveyed to them His Ayat. Allah also conveyed good news, as well as warning,
فَمَنِ اتَّقَىٰ وَأَصْلَحَ
(then whosoever has Taqwa and becomes righteous) by abandoning the prohibitions and performing acts of obedience,
فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ - وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا
(on them shall be no fear nor shall they grieve. But those who reject Our Ayat and treat them with arrogance,) meaning, their hearts denied the Ayat and they were too arrogant to abide by them,
أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
(they are the dwellers of the Fire, they will abide therein forever.) without end to their dwelling in it.
Tafsir Ibn Kathir
موت کی ساعت طے شدہ ہے۔ اور اٹل ہے ہر زمانے اور ہر زمانے والوں کے لئے اللہ کی طرف سے انتہائی مدت مقرر ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ ناممکن ہے کہ اس سے ایک منٹ کی تاخیر ہو یا ایک لمحے کی جلدی ہو۔ انسانوں کو ڈراتا ہے کہ جب وہ رسولوں سے ڈرانا اور رغبت دلانا سنیں تو بدکاریوں کو ترک کردیں اور اللہ کی اطاعت کی طرف جھک جائیں۔ جب وہ یہ کریں گے تو وہ ہر کھٹکے، ہر ڈر سے، ہر خوف اور ناامیدی سے محفوظ ہوجائیں گے اور اگر اس کے خلاف کیا نہ دل سے مانا نہ عمل کیا تو وہ دوزخ میں جائیں گے اور وہیں پڑے جھلستے رہیں گے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ﴾ أَيْ: قَرْنٍ وَجِيلٍ ﴿أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ﴾ أَيْ: مِيقَاتُهُمُ الْمُقَدَّرُ لَهُمْ ﴿لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً﴾ عَنْ ذَلِكَ [[في أ: "أي من ذلك".]] ﴿وَلا يَسْتَقْدِمُونَ﴾
ثُمَّ أَنْذَرَ تَعَالَى بَنِي آدَمَ بِأَنَّهُ سَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ رُسُلًا يَقُصُّونَ عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ، وبَشر وَحَذَّرَ فَقَالَ: ﴿فَمَن اتَّقَى وَأَصْلَحَ﴾ أَيْ: تَرَكَ الْمُحَرَّمَاتِ وَفَعَلَ الطَّاعَاتِ ﴿فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ * وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا﴾ أَيْ: كَذَّبَتْ بِهَا قُلُوبُهُمْ، وَاسْتَكْبَرُوا عَنِ الْعَمَلِ بِهَا ﴿أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ أَيْ: مَاكِثُونَ فِيهَا مُكْثًا مُخَلَّدًا.
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيبُهُم مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ قَالُوٓا۟ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۖ قَالُوا۟ ضَلُّوا۟ عَنَّا وَشَهِدُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ كَٰفِرِينَ
And who is more unjust than one who invents about Allah a lie or denies His verses? Those will attain their portion of the decree until when Our messengers come to them to take them in death, they will say, "Where are those you used to invoke besides Allah?" They will say, "They have departed from us," and will bear witness against themselves that they were disbelievers.
تو اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ ان کو ان کے نصیب کا لکھا ملتا ہی رہے گا یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جان نکالنے آئیں گے تو کہیں گے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ (اب) کہاں ہیں؟ وہ کہیں گے (معلوم نہیں) کہ وہ ہم سے (کہاں) غائب ہوگئے اور اقرار کریں گے کہ بےشک وہ کافر تھے
چه کسی ستمکارتر است از آنها که بر خدا دروغ میبندند، یا آیات او را تکذیب می کنند؟! آنها نصیبشان را از آنچه مقدّر شده (از نعمتها و مواهب این جهان) میبرند؛ تا زمانی که فرستادگان ما [= فرشتگان قبض ارواح] به سراغشان روند و جانشان را بگیرند؛ از آنها میپرسند: «کجایند معبودهایی که غیر از خدا میخواندید؟! (چرا به یاری شما نمیآیند؟!)» میگویند: «آنها (همه) گم شدند (و از ما دور گشتند!)» و بر ضدّ خود گواهی میدهند که کافر بودند!
Tafsir Ibn Kathir
Who is more unjust than one who invents a lie against Allah or rejects His Ayat? For such their appointed portion will reach them from the Book (of Decrees) until Our messengers (the angel of death and his assistants) come to them to take their souls, they (the angels) will say: "Where are those whom you used to invoke and worship besides Allah," they will reply, "They have vanished and deserted us." And they will bear witness against themselves, that they were disbelievers (37)
Idolators enjoy Their destined Share in This Life, but will lose Their Supporters upon Death
Allah said,
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ
(Who is more unjust than one who invents a lie against Allah or rejects His Ayat?) meaning, none is more unjust than whoever invents a lie about Allah or rejects the Ayat that He has revealed. Muhammad bin Ka'b Al-Qurazi said that,
أُولَٰئِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيبُهُم مِّنَ الْكِتَابِ
(For such their appointed portion will reach them from the Book) refers to each person's deeds, alloted provisions and age. Similar was said by Ar-Rabi' bin Anas and 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. Allah said in similar statements,
إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ - مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ
(Verily, those who invent a lie against Allah, will never be successful. (A brief) enjoyment in this world! And then unto Us will be their return, then We shall make them taste the severest torment because they used to disbelieve.)[10:69-70] and,
وَمَن كَفَرَ فَلَا يَحْزُنكَ كُفْرُهُ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ - نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا
(And whoever disbelieves, let not his disbelief grieve you. To Us is their return, and We shall inform them what they have done. Verily, Allah is the All-Knower of what is in the breasts (of men). We let them enjoy for a little while.)[31:23-24].
Allah said next,
حَتَّىٰ إِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ
(until when Our messengers come to them to take their souls.) Allah states that when death comes to the idolators and the angels come to capture their souls to take them to Hellfire, the angels horrify them, saying, "Where are the so-called partners (of Allah) whom you used to call in the life of this world, invoking and worshipping them instead of Allah? Call them so that they save you from what you are suffering." However, the idolators will reply,
ضَلُّوا عَنَّا
("They have vanished and deserted us") meaning, we have lost them and thus, we do not hope in their benefit or aid,
وَشَهِدُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ
(And they will bear witness against themselves) they will admit and proclaim against themselves,
أَنَّهُمْ كَانُوا كَافِرِينَ
(that they were disbelievers.)
Tafsir Ibn Kathir
اللہ پر بہتان لگانے والا سب سے بڑا ظالم ہے واقعہ یہ ہے کہ سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھے اور وہ بھی جو اللہ کے کلام کی آیتوں کو جھوٹا سمجھے۔ انہیں ان کا مقدر ملے گا اس کے معنی ایک تو یہ ہیں کہ انہیں سزا ہوگی، ان کے منہ کالے ہوں گے، ان کے اعمال کا بدلہ مل کر رہے گا۔ اللہ کے وعدے وعید پورے ہو کر رہیں گے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ ان کی عمر، عمل، رزق جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے وہ دنیا میں تو ملے گا۔ یہ قول قوی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس کے بعد کا جملہ اس کی تائید کرتا ہے۔ اسی مطلب کی آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 116) 16۔ النحل) ہے کہ اللہ پر جھوٹ باتیں گھڑ لینے والے فلاح کو نہیں پاتے، گو دنیا میں کچھ فائدہ اٹھا لیں لیکن آخر کار ہمارے سامنے ہی پیش ہوں گے، اس وقت ان کے کفر کے بدلے ہم انہیں سخت سزا دیں گے۔ ایک آیت میں ہے کافروں کے کفر سے تو غمگین نہ ہو، ان کا لوٹنا ہماری جانب ہی ہوگا، پھر ہم فرمایا کہ ان کی روحوں کو قبض کرنے کیلئے ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے آتے ہیں تو ان کو بطور طنز کہتے ہیں کہ اب اپنے معبودوں کو کیوں نہیں پکارتے کہ وہ تمہیں اس عذاب سے بچا لیں۔ آج وہ کہاں ہیں ؟ تو یہ نہایت حسرت سے جواب دیتے ہیں کہ افسوس وہ تو کھوئے گئے، ہمیں ان سے اب کسی نفع کی امید نہیں رہی پس اپنے کفر کا آپ ہی اقرار کر کے مرتے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] ﴿فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ﴾ أَيْ: لَا أَحَدَ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى الْكَذِبَ عَلَى اللَّهِ، أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِ اللَّهِ الْمُنَزَّلَةِ.
﴿أُولَئِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيبُهُمْ مِنَ الْكِتَابِ﴾ اخْتَلَفَ الْمُفَسِّرُونَ فِي مَعْنَاهُ، فَقَالَ العَوْفي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: يَنَالُهُمْ مَا كُتِبَ عَلَيْهِمْ، وَكُتِبَ لِمَنْ يَفْتَرِي عَلَى اللَّهِ أَنَّ وَجْهَهُ مُسْوَدٌّ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عباس يَقُولُ: نَصِيبُهُمْ مِنَ الْأَعْمَالِ، مَنْ عَمِل خَيْرًا جُزِي به، وَمِنْ عَمِلَ شَرًّا جُزِي بِهِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: مَا وُعِدُوا فِيهِ مِنْ خَيْرٍ وَشَرٍّ.
وَكَذَا قَالَ قَتَادَةُ، وَالضَّحَّاكُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ. وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ: ﴿أُولَئِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيبُهُمْ مِنَ الْكِتَابِ﴾ قَالَ: عَمَلُهُ وَرِزْقُهُ وَعُمُرُهُ.
وَكَذَا قَالَ الرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ. وَهَذَا الْقَوْلُ قَوِيٌّ فِي الْمَعْنَى، وَالسِّيَاقُ يَدُلُّ عَلَيْهِ، وَهُوَ قَوْلُهُ: ﴿حَتَّى إِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ﴾ وَيَصِيرُ الْمَعْنَى فِي هَذِهِ الْآيَةِ كَمَا فِي قَوْلِهِ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ* مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ﴾ [يُونُسَ: ٦٩، ٧٠] وَقَوْلُهُ ﴿وَمَنْ كَفَرَ فَلا يَحْزُنْكَ كُفْرُهُ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ * نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلا [ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ] ﴾ [[زيادة من د، ك، م، أ.]] [لُقْمَانَ: ٢٣، ٢٤] .
* *
وَقَوْلُهُ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] ﴿حَتَّى إِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ [قَالُوا أَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ] ﴾ [[زيادة من أ.]] الْآيَةَ: يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّ الْمَلَائِكَةَ إِذَا تَوَفَّتِ الْمُشْرِكِينَ تُفْزِعُهُمْ [[في أ: "تقرعهم".]] عِنْدَ الْمَوْتِ وقَبْض أَرْوَاحِهِمْ إِلَى النَّارِ، يَقُولُونَ لَهُمْ [[في د: "قائلين لهم".]] أَيْنَ الَّذِينَ كُنْتُمْ تُشْرِكُونَ بِهِمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَتَدْعُونَهُمْ وَتَعْبُدُونَهُمْ مَنْ دُونِ اللَّهِ؟ ادْعُوهُمْ يُخَلِّصُوكُمْ [[في أ: "يخلصونكم".]] مِمَّا أَنْتُمْ فِيهِ. قَالُوا: ﴿ضَلُّوا عَنَّا﴾ أَيْ: ذَهَبُوا عَنَّا فَلَا نَرْجُو نَفْعَهُمْ، وَلَا خَيْرَهُمْ. ﴿وَشَهِدُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ﴾ أَيْ: أَقَرُّوا وَاعْتَرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ ﴿أَنَّهُمْ كَانُوا كَافِرِينَ﴾ .
قَالَ ٱدْخُلُوا۟ فِىٓ أُمَمٍۢ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ فِى ٱلنَّارِ ۖ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌۭ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا ٱدَّارَكُوا۟ فِيهَا جَمِيعًۭا قَالَتْ أُخْرَىٰهُمْ لِأُولَىٰهُمْ رَبَّنَا هَٰٓؤُلَآءِ أَضَلُّونَا فَـَٔاتِهِمْ عَذَابًۭا ضِعْفًۭا مِّنَ ٱلنَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّۢ ضِعْفٌۭ وَلَٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ
[Allah] will say, "Enter among nations which had passed on before you of jinn and mankind into the Fire." Every time a nation enters, it will curse its sister until, when they have all overtaken one another therein, the last of them will say about the first of them "Our Lord, these had misled us, so give them a double punishment of the Fire. He will say, "For each is double, but you do not know."
تو خدا فرمائے گا کہ جنّوں اور انسانوں کی جو جماعتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں ان کے ساتھ تم بھی داخل جہنم ہو جاؤ۔ جب ایک جماعت (وہاں) جا داخل ہو گئی تو اپنی (مذہبی) بہن (یعنی اپنے جیسی دوسری جماعت) پر لعنت کرے گی۔ یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہو جائیں گے تو پچھلی جماعت پہلی کی نسبت کہے گی کہ اے پروردگار! ان ہی لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تو ان کو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔ خدا فرمائے گا کہ (تم) سب کو دگنا (عذاب دیا جائے گا) مگر تم نہیں جانتے
(خداوند به آنها) میگوید: «در صفّ گروههای مشابه خود از جنّ و انس در آتش وارد شوید!» هر زمان که گروهی وارد میشوند، گروه دیگر را لعن میکنند؛ تا همگی با ذلّت در آن قرار گیرند. (در این هنگام) گروه پیروان درباره پیشوایان خود میگویند: «خداوندا! اینها بودند که ما را گمراه ساختند؛ پس کیفر آنها را از آتش دو برابر کن! (کیفری برای گمراهیشان، و کیفری بخاطر گمراه ساختن ما.)» میفرماید: «برای هر کدام (از شما) عذاب مضاعف است؛ ولی نمیدانید! (چرا که پیروان اگر گرد پیشوایان گمراه را نگرفته بودند، قدرتی بر اغوای مردم نداشتند.)»
Tafsir Ibn Kathir
(Allah) will say: "Enter you in the company of nations who passed away before you, of men and Jinn, into the Fire." Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before) until they are all together in the Fire. The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not. (38)The first of them will say to the last of them: "You were not better than us, so taste the torment for what you used to earn. (39)
People of the Fire will dispute and curse Each Other
Allah mentioned what He will say to those who associate others with Him,invent lies about Him,and reject His Ayat,
ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ
(Enter you in the company of nations), who are your likes and similar to you in conduct,
قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم
(Who passed away before you) from the earlier disbelieving nations,
مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ فِي النَّارِ
(Of men and Jinn, into the Fire.) Allah said next,
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before))
Al-Khalil (Prophet Ibrahim), peace be upon him, said,
ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ
("But on the Day of Resurrection, you shall deny each other)[29:25]. Also, Allah said,
إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ - وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ
(When those who were followed declare themselves innocent of those who followed (them), and they see the torment, then all their relations will be cut off from them. And those who followed will say: "If only we had one more chance to return (to the worldly life), we would declare ourselves as innocent from them as they have declared themselves as innocent from us." Thus Allah will show them their deeds as regrets for them. And they will never get out of the Fire)[2:166-167].
Allah's statement,
حَتَّىٰ إِذَا ادَّارَكُوا فِيهَا جَمِيعًا
(until they are all together in the Fire) means, they are all gathered in the Fire,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ
(The last of them will say to the first of them) that is, the nation of followers that enter last will say this to the first nations to enter. This is because the earlier nations were worse criminals than those who followed them, and this is why they entered the Fire first. For this reason, their followers will complain against them to Allah, because they were the ones who misguided them from the correct path, saying,
رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ
("Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire.") multiply their share of the torment. Allah said in another instance,
يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا - وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا - رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ
(On the Day when their faces will be turned over in the Fire, they will say: "Oh! Would that we had obeyed Allah and obeyed the Messenger." And they will say: "Our Lord! Verily, we obeyed our chiefs and our great ones, and they misled us from the (right) way. Our Lord! Give them a double torment.")[33:66-68]. Allah said in reply,
قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ
(He will say: "For each one there is double (torment)..."),
We did what you asked, and recompensed each according to their deeds.' Allah said in another Ayah,
الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا
(Those who disbelieved and hinder (men) from the path of Allah, for them We will add torment)[16:88]. Furthermore, Allah said,
وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَّعَ أَثْقَالِهِمْ
(And verily, they shall bear their own loads, and other loads besides their own)[29:13] and,
وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ
(And also (some thing) of the burdens of those whom they misled without knowledge)[16:25].
وَقَالَتْ أُولَاهُمْ لِأُخْرَاهُمْ
(The first of them will say to the last of them) meaning, the followed will say to the followers,
فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ
("You were not better than us...") meaning, you were led astray as we were led astray, according to As-Suddi.
فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ
("So taste the torment for what you used to earn.")
Allah again described the condition of the idolators during the gathering (of Resurrection), when He said;
قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ - وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(And those who were arrogant will say to those who were deemed weak: "Did we keep you back from guidance after it come to you? Nay, but you were criminals." Those who were deemed weak will say to those who were arrogant: "Nay, but it was your plotting by night and day, when you ordered us to disbelieve in Allah and set up rivals to Him!" And each of them (parties) will conceal their own regrets, when they behold the torment. And We shall put iron collars round the necks of those who disbelieved. Are they requited aught except what they used to do?)[34:32-33]
Tafsir Ibn Kathir
کفار کی گردنوں میں طوق اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مشرکوں کو جو اللہ پر افتراء باندھتے تھے، اس کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے، فرمائے گا کہ تم بھی اپنے جیسوں کے ساتھ جو تم سے پہلے گذر چکے ہیں خواہ وہ جنات میں سے ہوں خواہ انسانوں میں سے جہنم میں جاؤ۔ (فی النار یا تو فی امم) کا بدل ہے یا (فی امم) میں (فی) معنی میں (مع) کے ہے۔ ہر گروہ اپنے ساتھ کے اپنے جیسے گروہ پر لعنت کرے گا جیسے کہ خلیل اللہ ؑ نے فرمایا ہے کہ تم ایک دوسرے سے اس روز کفر کرو گے اور آیت میں ہے (اذ تبرا) یعنی وہ ایسا برا وقت ہوگا کہ گرو اپنے چیلوں سے دست بردار ہوجائیں گے، عذابوں کو دیکھتے ہی آپس کے سارے تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔ مرید لوگ اس وقت کہیں گے کہ اگر ہمیں بھی یہاں سے پھر واپس دنیا میں جانا مل جائے تو جیسے یہ لوگ آج ہم سے بیزار ہوگئے ہیں ہم بھی ان سے بالکل ہی دست بردار ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ اسی طرح ان کے کرتوت ان کے سامنے لائے گا جو ان کیلئے سر تا سر موجب حسرت ہوں گے اور یہ دوزخ سے کبھی آزاد نہ ہوں گے۔ یہاں فرماتا ہے کہ جب یہ سارے کے سارے جہنم میں جا چکیں گے تو پچھلے یعنی تابعدار مرید اور تقلید کرنے والے اگلوں سے یعنی جن کی وہ مانتے رہے ان کی بابت اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے اس سے ظاہر ہے کہ یہ گمراہ کرنے والے ان سے پہلے ہی جہنم میں موجود ہوں کیونکہ ان کا گناہ بھی بڑھا ہوا تھا کہیں گے کہ یا اللہ انہیں دگنا عذاب کر چناچہ اور آیت میں ہے (يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُوْلُوْنَ يٰلَيْتَنَآ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلَ 66) 33۔ الأحزاب) جبکہ ان کے چہرے آتش جہنم میں ادھر سے ادھر جھلسے جاتے ہوں گے۔ اس وقت حسرت و افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ کاش کہ ہم اللہ رسول کے مطیع ہوتے۔ یا اللہ ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی تابعداری کی جنہوں نے ہمیں گمراہ کردیا۔ یا اللہ انہیں دگنا عذاب کر۔ انہیں جواب ملا کہ ہر ایک کیلئے دگنا ہے۔ یعنی ہر ایک کو اس کی برائیوں کا پورا پورا بدلہ مل چکا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يُفْسِدُوْن 88) 16۔ النحل) جنہوں نے کفر کیا اور راہ رب سے روکا ان کا ہم عذاب اور زیادہ کریں گے اور آیت میں ہے آیت (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ 13) 29۔ العنکبوت) یعنی اپنے بوجھ کے ساتھ ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور آیت میں ہے ان کے بوجھ ان پر لادے جائیں گے جن کو انہوں نے بےعلمی سے گمراہ کیا۔ اب وہ جن کی مانی جاتی رہی اپنے ماننے والوں سے کہیں گے کہ جیسے ہم گمراہ تھے تم بھی گمراہ ہوئے اب اپنے کرتوت کا بدلہ اٹھاؤ اور آیت میں ہے ولو تری اذالظالمون موقوفون عندربھم کاش کہ تو دیکھتا جب کہ یہ گنہگار اللہ کے سامنے کھڑے ہوئے ہوں گے ایک دوسرے پر الزام رکھ رہے ہوں گے۔ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا ؟ وہ تو تمہارے سامنے کھلی ہوئی موجود تھی بات یہ ہے کہ تم خود ہی گنہگار بد کردار تھے۔ یہ پھر کہیں گے کہ نہیں نہیں تمہاری دن رات کی چالاکیوں نے اور تمہاری اس تعلیم نے (کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک ٹھہرائیں) ہمیں گم کردہ راہ بنادیا۔ بات یہ ہے کہ سب کے سب اس وقت سخت نادم ہوں گے لیکن ندامت کو دبانے کی کوشش میں ہوں گے۔ کفار کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ ضرور دیا جائے گا نہ کم نہ زیادہ (پورا پورا)
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَمَّا يَقُولُهُ لِهَؤُلَاءِ الْمُشْرِكِينَ بِهِ، الْمُفْتَرِينَ عَلَيْهِ الْمُكَذِّبِينَ بِآيَاتِهِ: ﴿ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ﴾ أَيْ: مِنْ أَشْكَالِكُمْ وَعَلَى صِفَاتِكُمْ، ﴿قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ﴾ أَيْ: مِنَ الْأُمَمِ السَّالِفَةِ الْكَافِرَةِ، ﴿مِنَ الْجِنِّ وَالإنْسِ فِي النَّارِ﴾ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ بَدَلًا مِنْ قَوْلِهِ: ﴿فِي أُمَمٍ﴾ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ ﴿فِي أُمَمٍ﴾ أَيْ: مَعَ أُمَمٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا﴾ كَمَا قَالَ الخليل، عليه السلام: ﴿ثُمّ [[في د، ك، م: "ويوم".]] َ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ [وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] الْآيَةَ [الْعَنْكَبُوتِ:٢٥] . وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الأسْبَابُ * وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ﴾ [البقرة:١٦٦، ١٦٧] .
* *
وَقَوْلُهُ [تَعَالَى] [[زيادة من م.]] ﴿حَتَّى إِذَا ادَّارَكُوا فِيهَا جَمِيعًا﴾ أَيِ: اجْتَمَعُوا فِيهَا كُلُّهُمْ، ﴿قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لأولاهُمْ﴾ أَيْ: أُخْرَاهُمْ دُخُولًا -وَهُمُ الْأَتْبَاعُ -لِأُولَاهُمْ -وَهُمُ الْمَتْبُوعُونَ -لِأَنَّهُمْ أَشَدُّ جُرْمًا مِنْ أَتْبَاعِهِمْ، فَدَخَلُوا قَبْلَهُمْ، فَيَشْكُوهُمُ [[في أ: "فيشكونهم".]] الْأَتْبَاعُ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛ لِأَنَّهُمْ هُمُ الَّذِينَ أَضَلُّوهُمْ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيِلِ، فَيَقُولُونَ: ﴿رَبَّنَا هَؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ﴾ أَيْ: أَضْعِفْ عَلَيْهِمُ الْعُقُوبَةَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولا * وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلا * رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ [وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [الْأَحْزَابِ:٦٦-٦٨]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: قَدْ فَعَلْنَا ذَلِكَ وَجَازَيْنَا كُلًّا بِحَسْبِهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا [فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [النَّحْلِ:٨٨] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالا مَعَ أَثْقَالِهِمْ [وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ [[زيادة من أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [الْعَنْكَبُوتِ:١٣] وَقَالَ: ﴿وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ [أَلا سَاءَ مَا يَزِرُونَ [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [النَّحْلِ:٢٥]
﴿وَقَالَتْ أُولاهُمْ لأخْرَاهُمْ﴾ أَيْ: قَالَ الْمَتْبُوعُونَ لِلْأَتْبَاعِ: ﴿فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ﴾ قَالَ السُّدِّيُّ: فَقَدْ ضَلَلْتُمْ كَمَا ضَلَلْنَا.
﴿فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُونَ﴾ وَهَذَا الْحَالُ كَمَا أَخْبَرَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ فِي حَالِ مَحْشَرِهِمْ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ * قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَى بَعْدَ إِذْ جَاءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُجْرِمِينَ * وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَنْ نَكْفُرَ بِاللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَنْدَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الأغْلالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [سَبَأٍ:٣١-٣٣]
وَقَالَتْ أُولَىٰهُمْ لِأُخْرَىٰهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍۢ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ
And the first of them will say to the last of them, "Then you had not any favor over us, so taste the punishment for what you used to earn."
اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی کہ تم کو ہم پر کچھ بھی فضیلت نہ ہوئی تو جو (عمل) تم کیا کرتے تھے اس کے بدلے میں عذاب کے مزے چکھو
و پیشوایان آنها به پیروان خود میگویند: «شما امتیازی بر ما نداشتید؛ پس بچشید عذاب (الهی) را در برابر آنچه انجام میدادید!
Tafsir Ibn Kathir
(Allah) will say: "Enter you in the company of nations who passed away before you, of men and Jinn, into the Fire." Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before) until they are all together in the Fire. The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not. (38)The first of them will say to the last of them: "You were not better than us, so taste the torment for what you used to earn. (39)
People of the Fire will dispute and curse Each Other
Allah mentioned what He will say to those who associate others with Him,invent lies about Him,and reject His Ayat,
ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ
(Enter you in the company of nations), who are your likes and similar to you in conduct,
قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم
(Who passed away before you) from the earlier disbelieving nations,
مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ فِي النَّارِ
(Of men and Jinn, into the Fire.) Allah said next,
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before))
Al-Khalil (Prophet Ibrahim), peace be upon him, said,
ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ
("But on the Day of Resurrection, you shall deny each other)[29:25]. Also, Allah said,
إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ - وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ
(When those who were followed declare themselves innocent of those who followed (them), and they see the torment, then all their relations will be cut off from them. And those who followed will say: "If only we had one more chance to return (to the worldly life), we would declare ourselves as innocent from them as they have declared themselves as innocent from us." Thus Allah will show them their deeds as regrets for them. And they will never get out of the Fire)[2:166-167].
Allah's statement,
حَتَّىٰ إِذَا ادَّارَكُوا فِيهَا جَمِيعًا
(until they are all together in the Fire) means, they are all gathered in the Fire,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ
(The last of them will say to the first of them) that is, the nation of followers that enter last will say this to the first nations to enter. This is because the earlier nations were worse criminals than those who followed them, and this is why they entered the Fire first. For this reason, their followers will complain against them to Allah, because they were the ones who misguided them from the correct path, saying,
رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ
("Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire.") multiply their share of the torment. Allah said in another instance,
يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا - وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا - رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ
(On the Day when their faces will be turned over in the Fire, they will say: "Oh! Would that we had obeyed Allah and obeyed the Messenger." And they will say: "Our Lord! Verily, we obeyed our chiefs and our great ones, and they misled us from the (right) way. Our Lord! Give them a double torment.")[33:66-68]. Allah said in reply,
قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ
(He will say: "For each one there is double (torment)..."),
We did what you asked, and recompensed each according to their deeds.' Allah said in another Ayah,
الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا
(Those who disbelieved and hinder (men) from the path of Allah, for them We will add torment)[16:88]. Furthermore, Allah said,
وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَّعَ أَثْقَالِهِمْ
(And verily, they shall bear their own loads, and other loads besides their own)[29:13] and,
وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ
(And also (some thing) of the burdens of those whom they misled without knowledge)[16:25].
وَقَالَتْ أُولَاهُمْ لِأُخْرَاهُمْ
(The first of them will say to the last of them) meaning, the followed will say to the followers,
فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ
("You were not better than us...") meaning, you were led astray as we were led astray, according to As-Suddi.
فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ
("So taste the torment for what you used to earn.")
Allah again described the condition of the idolators during the gathering (of Resurrection), when He said;
قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ - وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(And those who were arrogant will say to those who were deemed weak: "Did we keep you back from guidance after it come to you? Nay, but you were criminals." Those who were deemed weak will say to those who were arrogant: "Nay, but it was your plotting by night and day, when you ordered us to disbelieve in Allah and set up rivals to Him!" And each of them (parties) will conceal their own regrets, when they behold the torment. And We shall put iron collars round the necks of those who disbelieved. Are they requited aught except what they used to do?)[34:32-33]
Tafsir Ibn Kathir
کفار کی گردنوں میں طوق اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مشرکوں کو جو اللہ پر افتراء باندھتے تھے، اس کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے، فرمائے گا کہ تم بھی اپنے جیسوں کے ساتھ جو تم سے پہلے گذر چکے ہیں خواہ وہ جنات میں سے ہوں خواہ انسانوں میں سے جہنم میں جاؤ۔ (فی النار یا تو فی امم) کا بدل ہے یا (فی امم) میں (فی) معنی میں (مع) کے ہے۔ ہر گروہ اپنے ساتھ کے اپنے جیسے گروہ پر لعنت کرے گا جیسے کہ خلیل اللہ ؑ نے فرمایا ہے کہ تم ایک دوسرے سے اس روز کفر کرو گے اور آیت میں ہے (اذ تبرا) یعنی وہ ایسا برا وقت ہوگا کہ گرو اپنے چیلوں سے دست بردار ہوجائیں گے، عذابوں کو دیکھتے ہی آپس کے سارے تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔ مرید لوگ اس وقت کہیں گے کہ اگر ہمیں بھی یہاں سے پھر واپس دنیا میں جانا مل جائے تو جیسے یہ لوگ آج ہم سے بیزار ہوگئے ہیں ہم بھی ان سے بالکل ہی دست بردار ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ اسی طرح ان کے کرتوت ان کے سامنے لائے گا جو ان کیلئے سر تا سر موجب حسرت ہوں گے اور یہ دوزخ سے کبھی آزاد نہ ہوں گے۔ یہاں فرماتا ہے کہ جب یہ سارے کے سارے جہنم میں جا چکیں گے تو پچھلے یعنی تابعدار مرید اور تقلید کرنے والے اگلوں سے یعنی جن کی وہ مانتے رہے ان کی بابت اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے اس سے ظاہر ہے کہ یہ گمراہ کرنے والے ان سے پہلے ہی جہنم میں موجود ہوں کیونکہ ان کا گناہ بھی بڑھا ہوا تھا کہیں گے کہ یا اللہ انہیں دگنا عذاب کر چناچہ اور آیت میں ہے (يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُوْلُوْنَ يٰلَيْتَنَآ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلَ 66) 33۔ الأحزاب) جبکہ ان کے چہرے آتش جہنم میں ادھر سے ادھر جھلسے جاتے ہوں گے۔ اس وقت حسرت و افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ کاش کہ ہم اللہ رسول کے مطیع ہوتے۔ یا اللہ ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی تابعداری کی جنہوں نے ہمیں گمراہ کردیا۔ یا اللہ انہیں دگنا عذاب کر۔ انہیں جواب ملا کہ ہر ایک کیلئے دگنا ہے۔ یعنی ہر ایک کو اس کی برائیوں کا پورا پورا بدلہ مل چکا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يُفْسِدُوْن 88) 16۔ النحل) جنہوں نے کفر کیا اور راہ رب سے روکا ان کا ہم عذاب اور زیادہ کریں گے اور آیت میں ہے آیت (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ 13) 29۔ العنکبوت) یعنی اپنے بوجھ کے ساتھ ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور آیت میں ہے ان کے بوجھ ان پر لادے جائیں گے جن کو انہوں نے بےعلمی سے گمراہ کیا۔ اب وہ جن کی مانی جاتی رہی اپنے ماننے والوں سے کہیں گے کہ جیسے ہم گمراہ تھے تم بھی گمراہ ہوئے اب اپنے کرتوت کا بدلہ اٹھاؤ اور آیت میں ہے ولو تری اذالظالمون موقوفون عندربھم کاش کہ تو دیکھتا جب کہ یہ گنہگار اللہ کے سامنے کھڑے ہوئے ہوں گے ایک دوسرے پر الزام رکھ رہے ہوں گے۔ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا ؟ وہ تو تمہارے سامنے کھلی ہوئی موجود تھی بات یہ ہے کہ تم خود ہی گنہگار بد کردار تھے۔ یہ پھر کہیں گے کہ نہیں نہیں تمہاری دن رات کی چالاکیوں نے اور تمہاری اس تعلیم نے (کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک ٹھہرائیں) ہمیں گم کردہ راہ بنادیا۔ بات یہ ہے کہ سب کے سب اس وقت سخت نادم ہوں گے لیکن ندامت کو دبانے کی کوشش میں ہوں گے۔ کفار کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ ضرور دیا جائے گا نہ کم نہ زیادہ (پورا پورا)
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَمَّا يَقُولُهُ لِهَؤُلَاءِ الْمُشْرِكِينَ بِهِ، الْمُفْتَرِينَ عَلَيْهِ الْمُكَذِّبِينَ بِآيَاتِهِ: ﴿ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ﴾ أَيْ: مِنْ أَشْكَالِكُمْ وَعَلَى صِفَاتِكُمْ، ﴿قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ﴾ أَيْ: مِنَ الْأُمَمِ السَّالِفَةِ الْكَافِرَةِ، ﴿مِنَ الْجِنِّ وَالإنْسِ فِي النَّارِ﴾ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ بَدَلًا مِنْ قَوْلِهِ: ﴿فِي أُمَمٍ﴾ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ ﴿فِي أُمَمٍ﴾ أَيْ: مَعَ أُمَمٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا﴾ كَمَا قَالَ الخليل، عليه السلام: ﴿ثُمّ [[في د، ك، م: "ويوم".]] َ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ [وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] الْآيَةَ [الْعَنْكَبُوتِ:٢٥] . وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الأسْبَابُ * وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ﴾ [البقرة:١٦٦، ١٦٧] .
* *
وَقَوْلُهُ [تَعَالَى] [[زيادة من م.]] ﴿حَتَّى إِذَا ادَّارَكُوا فِيهَا جَمِيعًا﴾ أَيِ: اجْتَمَعُوا فِيهَا كُلُّهُمْ، ﴿قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لأولاهُمْ﴾ أَيْ: أُخْرَاهُمْ دُخُولًا -وَهُمُ الْأَتْبَاعُ -لِأُولَاهُمْ -وَهُمُ الْمَتْبُوعُونَ -لِأَنَّهُمْ أَشَدُّ جُرْمًا مِنْ أَتْبَاعِهِمْ، فَدَخَلُوا قَبْلَهُمْ، فَيَشْكُوهُمُ [[في أ: "فيشكونهم".]] الْأَتْبَاعُ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛ لِأَنَّهُمْ هُمُ الَّذِينَ أَضَلُّوهُمْ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيِلِ، فَيَقُولُونَ: ﴿رَبَّنَا هَؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ﴾ أَيْ: أَضْعِفْ عَلَيْهِمُ الْعُقُوبَةَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولا * وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلا * رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ [وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [الْأَحْزَابِ:٦٦-٦٨]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: قَدْ فَعَلْنَا ذَلِكَ وَجَازَيْنَا كُلًّا بِحَسْبِهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا [فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [النَّحْلِ:٨٨] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالا مَعَ أَثْقَالِهِمْ [وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ [[زيادة من أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [الْعَنْكَبُوتِ:١٣] وَقَالَ: ﴿وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ [أَلا سَاءَ مَا يَزِرُونَ [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [النَّحْلِ:٢٥]
﴿وَقَالَتْ أُولاهُمْ لأخْرَاهُمْ﴾ أَيْ: قَالَ الْمَتْبُوعُونَ لِلْأَتْبَاعِ: ﴿فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ﴾ قَالَ السُّدِّيُّ: فَقَدْ ضَلَلْتُمْ كَمَا ضَلَلْنَا.
﴿فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُونَ﴾ وَهَذَا الْحَالُ كَمَا أَخْبَرَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ فِي حَالِ مَحْشَرِهِمْ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ * قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَى بَعْدَ إِذْ جَاءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُجْرِمِينَ * وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَنْ نَكْفُرَ بِاللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَنْدَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الأغْلالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [سَبَأٍ:٣١-٣٣]
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱسْتَكْبَرُوا۟ عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَٰبُ ٱلسَّمَآءِ وَلَا يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ ٱلْجَمَلُ فِى سَمِّ ٱلْخِيَاطِ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُجْرِمِينَ
Indeed, those who deny Our verses and are arrogant toward them - the gates of Heaven will not be opened for them, nor will they enter Paradise until a camel enters into the eye of a needle. And thus do We recompense the criminals.
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے۔ یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ نکل جائے اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
کسانی که آیات ما را تکذیب کردند، و در برابر آن تکبّر ورزیدند، (هرگز) درهای آسمان به رویشان گشوده نمیشود؛ و (هیچ گاه) داخل بهشت نخواهند شد مگر اینکه شتر از سوراخ سوزن بگذرد! این گونه، گنهکاران را جزا میدهیم!
Tafsir Ibn Kathir
Verily, those who belie Our Ayat and treat them with arrogance, for them the gates of the heavens will not be opened, and they will not enter Paradise until the Jamal goes through the eye of the needle. Thus do We recompense the criminals (40)Theirs will be Mihad from the Fire, and over them Ghawash. Thus do We recompense the wrongdoers (41)
Doors of Heaven shall not open for Those Who deny Allah's Ayat, and They shall never enter Paradise
Allah said,
لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ
(for them the gates of the heavens will not be opened,) meaning, their good deeds and supplication will not ascend through it, according to Mujahid, Sa'id bin Jubayr and Ibn 'Abbas, as Al-'Awfi and 'Ali bin Abi Talhah reported from him. Ath-Thawri narrated that, Layth said that 'Ata' narrated this from Ibn 'Abbas. It was also said that the meaning here is that the doors of the heavens will not be opened for the disbelievers' souls, according to Ad-Dahhak who reported this from Ibn 'Abbas. As-Suddi and several others mentioned this meaning. What further supports this meaning, is the report from Ibn Jarir that Al-Bara' said that the Messenger of Allah mentioned capturing the soul of the 'Fajir' (wicked sinner or disbeliever), and that his or her soul will be ascended to heaven. The Prophet ﷺ said,
فَيَصْعَدُونَ بِهَا، فَلَا تَمُرُّ عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا مَا هَذِهِ الرُّوحُ الْخَبِيثَةُ؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانٌ بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُدْعَى بِهَا فِي الدُّنْيَا، حَتَّى يَنْتَهَوا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيَسْتَفْتَحُونَ بَابَهَا لَهُ فَلَا يَفْتَحُ لَهُ
(So they (angels) ascend it and it will not pass by a gathering of the angels, but they will ask, who's wicked soul is this' They will reply, 'The soul of so-and-so,' calling him by the worst names he was called in this life. When they reach the (lower) heaven, they will ask that its door be opened for the soul, but it will not be opened for it.)
The Prophet ﷺ then recited,
لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ
(For them the gates of heaven will not be opened).
This is a part of a long Hadith which was also recorded by Abu Dawud, An-Nasa'i and Ibn Majah.
Ibn Jurayj commented on the Ayah,
لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ
(for them the gates of heaven will not be opened,) "(The gates of heaven) will not be opened for their deeds or souls." This explanation combines the two meanings we gave above, and Allah knows best. Allah's statement,
وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ
(and they will not enter Paradise until the Jamal goes through the eye of the needle.) refers to the male camel. Ibn Mas'ud said it is a male camel from the she camel. In another narration it refers to the spouse of the she camel. Mujahid and 'Ikrimah said that Ibn 'Abbas used to recite this Ayah this way, "Until the Jummal goes through the eye of the needle", whereas 'Jummal' is a thick rope. Allah's statement,
لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ
(Theirs will be Mihad from the Fire) means, beds, while;
وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ
(and over them Ghawash), means, coverings, according to Muhammad bin Ka'b Al-Qurazi. Similar was said by Ad-Dahhak bin Muzahim and As-Suddi. Allah said next,
وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
(Thus do We recompense the wrongdoers.)
Tafsir Ibn Kathir
بدکاروں کی روحیں دھتکاری جاتی ہیں کافروں کے نہ تو نیک اعمال اللہ کی طرف چڑھیں، نہ ان کی دعائیں قبول ہوں، نہ ان کی روحوں کے لئے آسمان کے دروازے کھلیں۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ جب بدکاروں کی روحیں قبض کی جاتی ہیں اور فرشتے انہیں لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں تو فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گذرتے ہیں وہ کہتے ہیں یہ خبیث روح کس کی ہے ؟ یہ اس کا بد سے بد نام لے کر بتاتے ہیں کہ فلاں کی۔ یہاں تک کہ یہ اسے آسمان کے دروازے تک پہنچاتے ہیں لیکن ان کے لئے دروازہ کھولا نہیں جاتا۔ پھر حضور ﷺ نے آیت (لا تفتح لھم ابو اب السماء) پڑھی یہ بہت لمبی حدیث ہے جو سنن میں موجود ہے۔ مسند احمد میں یہ حدیث پوری یوں ہے حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں ایک انصاری کے جنازے میں موجود ہے۔ مسند احمد میں یہ حدیث پوری یوں ہے حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں ایک انصاری کے جنازے میں ہم حضور کے ساتھ تھے جب قبرستان پہنچے تو قبر تیار ہونے میں کچھ دیر تھی سب بیٹھ گئے ہم اس طرح خاموش اور با ادب تھے کہ گویا ہمارے سروں پر پرند ہیں۔ آپ کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا جسے آپ زمین پر پھرا رہے تھے تھوڑی دیر میں آپ نے سر اٹھا کردو بار یا تین بار ہم سے فرمایا کہ عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو، پھر فرمایا مومن جب دنیا کی آخری اور آخرت کی پہلی گھڑی میں ہوتا ہے اس کے پاس آسمان سے نورانی چہروں والے فرشتے آتے ہیں گویا کہ ان کا منہ آفتاب ہے ان کے ساتھ جنت کا کفن اور جنت کی خوشبو ہوتی ہے وہ آ کر مرنے والے مومن کے پاس بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں اے اطمینان والی روح اللہ کی مغفرت اور رضامندی کی طرف چل یہ سنتے ہی وہ روح اس طرح بدن سے نکل جاتی ہے جیسے مشک کے منہ سے پانی کا قطرہ ٹپک جائے۔ اسی وقت ایک پلک جھپکنے کے برابر کی دیر میں وہ جنتی فرشتے اس پاک روح کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں اور جنتی کفن اور جنتی خوشبو میں رکھ لیتے ہیں اس میں ایسی عمدہ اور بہترین خوشبو نکلتی ہے کہ کبھی دنیا والوں نے نہ سونگھی ہو۔ اب یہ اسے لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں فرشتوں کی جو جماعت انہیں ملتی ہے وہ پوچھتی ہے کہ یہ پاک روح کس کی ہے ؟ یہ اس کا بہتر سے بہتر جو نام دنیا میں مشہور تھا وہ لے کر کہتے ہیں فلاں کی۔ یہاں تک کہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں دروازہ کھلوا کر اوپر چڑھ جاتے ہیں یہاں سے اس کے ساتھ اسے دوسرے آسمان تک پہنچانے کے لئے فرشتوں کی اور بڑی جماعت ہوجاتی ہے اس طرح ساتویں آسمان تک پہنچتے ہیں اللہ عزوجل فرماتا ہے اس میرے بندے کی کتاب (علیین) میں رکھ کر اور اسے زمین کی طرف لوٹا دو میں نے انہیں اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا۔ پس وہ روح لوٹا دی جاتی ہے وہیں اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے میرا دین اسلام ہے۔ پھر پوچھتے ہیں کہ وہ شخص جو تم میں بھیجے گئے کون تھے وہ کہتا ہے وہ رسول اللہ تھے ﷺ۔ فرشتے اس سے دریافت کرتے ہیں کہ تجھے کیسے معلوم ہوا ؟ جواب دیتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اس پر ایمان لایا اور اسے سچا مانا۔ وہیں آسمان سے ایک منادی ندا کرتا ہے کہ میرا بندہ سچا ہے اس کیلئے جنت کا فرش بچھا دو۔ اسے جنتی لباس پہنا دو اور اس کیلئے جنت کا دروازہ کھول دو۔ پس اس کے پاس جنت کی تروتازگی اس کی خوشبو اور وہاں کی حوا آتی رہتی ہے اور اسکی قبر کشادہ کردی جاتی ہے۔ جہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے اسے کشادگی ہی کشادگی نظر آتی ہے اس کے پاس ایک نہایت حسین وجمیل شخص لباس فاخرہ پہنے ہوئے خوشبو لگائے ہوئے آتا ہے اور اس سے کہتا ہے خوش ہوجا یہی وہ دن ہے جس کا تجھے وعدہ دیا جاتا تھا ان سے پوچھتا ہے تو کون ہے ؟ تیرے چہرے سے بھلائی پائی جاتی ہے وہ جواب دیتا ہے کہ میں تیرا نیک عمل ہوں۔ اب تو مومن آرزو کرنے لگتا ہے کہ اللہ کرے قیامت آج ہی قائم ہوجائے تاکہ میں جنت میں پہنچ کر اپنے مال اور اپنے اہل و عیال کو پالوں اور کافر کی جب دنیا کی آخر گھڑی آتی ہے تو اس کے پاس سیاہ چہرے والے فرشتے آسمان سے آتے ہیں ان کے ساتھ ٹاٹ ہوتا ہے اس کی نگاہ تک اسے یہی نظر آتے ہیں پھر ملک الموت آ کر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں اے خبیث روح اللہ کی ناراضگی اور اس کے غضب کی طرف چل یہ سن کر وہ روح بدن میں چھپنے لگتی ہے جسے ملک الموت جبراً گھسیٹ کر نکالتے ہیں اسی وقت وہ فرشتے ان کے ہاتھ سے ایک آنکھ جھپکنے میں لے لیتے ہیں اور اس جہنمی ٹاٹ میں لپیٹ لیتے ہیں اور اس سے نہایت ہی سڑی ہوئی بدبو نکلتی ہے یہ اسے لے کر چڑھنے لگتے ہیں فرشتوں کا جو گروہ ملتا ہے اس سے پوچھتا ہے کہ یہ ناپاک روح کس کی ہے ؟ یہ اس کی روح جس کا بدترین نام دنیا میں تھا انہیں بتاتے ہیں پھر آسمان کا دروازہ اس کیلئے کھلوانا چاہتے ہیں مگر کھولا نہیں جاتا پھر رسول اللہ ﷺ نے قرآن کریم کی یہ آیت (لا تفتح) الخ، تلاوت فرمائی۔ جناب باری عزوجل کا ارشاد ہوتا ہے اس کی کتاب (سجین) میں سب سے نیچے کی زمین میں رکھو پھر اس کی روح وہاں سے پھینک دی جاتی ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (ومن یشرک باللہ فکانما خر من السماء فتخطفہ الطیر او تھوی بہ الریح فی مکان سحیق) یعنی جس نے اللہ کے ساتھ شریک یا گویا وہ آسمان سے گرپڑا پس اسے یا تو پرند اچک لے جائیں گے یا ہوائیں کسی دور دراز کی ڈراؤنی ویران جگہ پر پھینک دیں گی۔ اب اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے۔ اور اس کے پاس وہ فرشتے پہنچتے ہیں اسے اٹھا کر بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں تیرا رب کون ہے ؟ یہ کہتا ہے ہائے ہائے مجھے خبر نہیں۔ پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے ؟ جواب دیتا ہے افسوس مجھے اس کی بھی خبر نہیں۔ پوچھتے ہیں بتا اس شخص کی بابت تو کیا کہتا ہے جو تم میں بھیجے گئے تھے ؟ یہ کہتا ہے آہ میں اس کا جواب بھی نہیں جانتا۔ اسی وقت آسمان سے ندا ہوتی ہے کہ میرے اس غلام نے غلط کہا اس کیلئے جہنم کی آگ بچھا دو اور جہنم کا دروازہ اس کی قبر کی طرف کھول دو وہاں سے اسے گرمی اور آگ کے جھونکے آنے لگتے ہیں اس کی قبر اس پر تنگ ہوجاتی ہے یہاں تک کہ ادھر کی پسلیاں ادھر اور ادھر کی ادھر ہوجاتی ہیں، اس کے پاس ایک شخص نہایت مکروہ اور ڈراؤنی صورت والا برے کپڑے پہنے بری بدبو والا آتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ اب اپنی برائیوں کا مزہ چکھ اسی دن کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا یہ پوچھتا ہے تو کون ہے ؟ تیرے تو چہرے سے وحشت اور برائی ٹپک رہی ہے ؟ یہ جواب دیتا ہے کہ میں تیرا خبیث عمل ہوں۔ یہ کہتا ہے یا اللہ قیامت قائم نہ ہو۔ اسی روایت کی دوسری سند میں ہے کہ مومن کی روح کو دیکھ کر آسمان و زمین کے تمام فرشتے دعائے مغفرت و رحمت کرتے ہیں اس کیلئے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور ہر دورازے کے فرشتوں کی تمنا ہوتی ہے کہ اللہ کرے یہ روح ہماری طرف سے آسمان پر چڑھے اس میں یہ بھی ہے کہ کافر کی قبر میں اندھا بہرا گونگا فرشتہ مقرر ہوجاتا ہے جس کے ہاتھ میں ایک گرج ہوتا ہے کہ اگر اسے کسی بڑے پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی ہوجائے پھر اسے جیسا وہ تھا اللہ تعالیٰ کردیتا ہے۔ فرشتہ دوبارہ اسے گرج مارتا ہے جس سے یہ چیخنے چلانے لگتا ہے جسے انسان اور جنات کے سوا تمام مخلوق سنتی ہے ابن جریر میں ہے کہ نیک صالح شخص سے فرشتے کہتے ہیں اسے مطمئن نفس جو طیب جسم میں تھا تو تعریفوں والا بن کر نکل اور جنت کی خوشبو اور نسیم جنت کی طرف چل۔ اس اللہ کے پاس چل جو تجھ پر غصے نہیں ہے۔ فرماتے ہیں کہ جب اس روح کو لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں دروازہ کھلواتے ہیں تو پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے، یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو وہ اسے مرحبا کہہ کر وہی کہتے ہیں یہاں تک کہ یہ اس آسمان میں پہنچتے ہیں جہاں اللہ ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ برے شخص سے وہ کہتے ہیں اے خبیث نفس ! جو خبیث جسم میں تھا تو برا بن کر نکل اور تیز کھولتے ہوئے پانی اور لہو پیپ اور اسی قسم کے مختلف عذابوں کی طرف چل۔ اس کے نکلنے تک فرشتے اسے یہی سناتے رہتے ہیں۔ پر اسے لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے ؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو آسمان کے فرشتے کہتے ہیں اس خبیث کو مرحبا نہ کہو۔ یہ تھی بھی خبیث جسم میں بد بن کر لوٹ جا۔ اس کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے اور آسمان و زمین کے درمیان چھوڑ دی جاتی ہے پھر قبر کی طرف لوٹ آتی ہے۔ امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ نہ ان کے اعمال چڑھیں نہ ان کی روحیں اس سے دونوں قول مل جاتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ اس کے بعد کے جملے میں جمہور کی قرأت تو جمل ہے جس کے معنی نر اونٹ کے ہیں۔ لیکن ایک قرأت میں جمل ہے اس کے معنی بڑے پہاڑ کے ہیں۔ مطلب بہ ہر دو صورت ایک ہی ہے کہ نہ اونٹ سوئی کے ناکے سے گذر سکے نہ پہاڑ، اسی طرح کافر جنت میں نہیں جاسکتا ان کا اوڑھنا بچھونا آگ ہے ظالموں کی یہی سزا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
قَوْلُهُ: ﴿لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ﴾ قِيلَ: الْمُرَادُ: لَا يُرْفَعُ لَهُمْ مِنْهَا عَمَلٌ صَالِحٌ وَلَا دُعَاءٌ.
قَالَهُ مُجَاهِدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ. وَرَوَاهُ العَوْفي وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ ليْث، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
وَقِيلَ: الْمُرَادُ: لَا تُفْتَحُ لِأَرْوَاحِهِمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ.
رَوَاهُ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَقَالَهُ السُّدِّي وَغَيْرُ وَاحِدٍ، وَيُؤَيِّدُهُ مَا قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ المِنْهَال -هُوَ ابْنُ عَمْرٍو -عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ ذَكَرَ قَبْض رُوحِ الْفَاجِرِ، وَأَنَّهُ يُصْعَد بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، قَالَ: "فَيَصْعَدُونَ بِهَا، فَلَا تَمُرُّ عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذِهِ الرُّوحُ الْخَبِيثَةُ؟ فَيَقُولُونَ: فَلَانٌ، بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُدْعَى بِهَا فِي الدُّنْيَا، حَتَّى يَنْتَهُوا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيَسْتَفْتِحُونَ بَابَهَا لَهُ فَلَا يُفْتَحُ لَهُ". ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ﴿لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ [وَلا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] الْآيَةَ.
هَكَذَا رَوَاهُ، وَهُوَ قِطْعَةٌ مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، مِنْ طُرُقٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، بِهِ [[تفسير الطبري (١٢/٤٢٤) ، وسنن أبي داود برقم (٤٧٥٣) ، وسنن النسائي (٤/٧٨) ، وسنن ابن ماجة برقم (١٥٤٨) .]] وَقَدْ رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بِطُولِهِ فَقَالَ:
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مِنْهَال بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من ك، أ.]] قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ ولَمَّا يُلْحَد. فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ، وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ فِي الْأَرْضِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: "اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ". مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: "إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا، وَإِقْبَالٍ إِلَى الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ مِنَ السَّمَاءِ بِيضُ الْوُجُوهِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الشَّمْسُ، مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ، وحَنُوط مِنْ حَنُوط الْجَنَّةِ، حَتَّى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ بَصَرِهِ. ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ، حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ [[في ك، م: "المطمئنة".]] اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ".
قَالَ: "فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنْ فِي السِّقَاءِ، فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعوها [[في ك: "يدعها".]] فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ، حَتَّى يَأْخُذُوهَا فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ، وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ. وَيَخْرُجَ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ. فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلَا يَمُرُّونَ -يَعْنِي-بِهَا عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذَا الرُّوحُ الطَّيِّبُ؟ فَيَقُولُونَ: فَلَانٌ بن فُلَانٍ، بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّونَهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا، حَتَّى يَنْتَهُوا بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَسْتَفْتِحُونَ لَهُ، فَيُفْتَحُ لَهُ، فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا، حَتَّى يَنْتَهِيَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِليِّين، وَأَعِيدُوهُ إِلَى الْأَرْضِ، فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ، وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا أخرجهم تارة أخرى".
قَالَ: "فَتُعَادُ رُوحُهُ، فَيَأْتِيهِ مَلَكان فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ. فَيَقُولَانِ لَهُ مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِي الْإِسْلَامُ. فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ. فَيَقُولَانِ لَهُ: وَمَا عِلْمُكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ. فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: أَنْ صَدَقَ عَبْدِي، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ". "فَيَأْتِيهِ [[في ك، م، أ: "قال: فيأتيه".]] مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا، وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدّ بَصَرِهِ".
قَالَ: "وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ، حَسَنُ الثِّيَابِ، طَيِّبُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يسُرك، هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ. فَيَقُولُ لَهُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالْخَيْرِ. فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ. فَيَقُولُ: رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ، رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ، حَتَّى أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي".
قَالَ: "وَإِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ، إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ [[في م: "إذا كان في انقطاع عن الآخرة وإقبال من الدنيا".]] نَزَلَ إِلَيْهِ مِنَ السَّمَاءِ مَلَائِكَةٌ سُودُ الْوُجُوهِ مَعَهُمُ [[في م: "معهم السياط".]] الْمُسُوحُ، فَيَجْلِسُونَ مِنْهُ مَدّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ، اخْرُجِي إِلَى سُخْطِ اللَّهِ وَغَضَبٍ". قَالَ: "فَتُفَرّق فِي جَسَدِهِ، فَيَنْتَزِعُهَا كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُّود مِنَ الصُّوفِ الْمَبْلُولِ، فَيَأْخُذُهَا، فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوها فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَجْعَلُوهَا فِي تِلْكَ الْمُسُوحِ، وَيَخْرُجَ مِنْهَا كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ. فَيَصْعَدُونَ بِهَا، فَلَا يَمُرُّونَ بِهَا عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذَا الرُّوحُ الْخَبِيثُ؟ فَيَقُولُونَ: فَلَانٌ ابْنُ فُلَانٍ، بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمَّى بِهَا فِي الدُّنْيَا، حَتَّى يَنْتَهِيَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَسْتَفْتِحَ لَهُ، فَلَا يُفْتَحَ [[في م، أ: "فلا يفتح له".]] ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ﴿لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ﴾ فَيَقُولَ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى. فَتُطْرَحَ رُوحُهُ طَرْحًا". ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ﴾ [الْحَجِّ:٣١]
"فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ. وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ! لَا أَدْرِي. فَيَقُولَانِ [[في م، أ: "فيقولان له".]] مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ! لَا أَدْرِي فَيَقُولَانِ [[في م، أ: "فيقولان له".]] مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ! لَا أَدْرِي. فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: أَنْ كَذَبَ، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ. فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرّها وَسُمُومِهَا، ويُضيق عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ، وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ، قَبِيحُ الثِّيَابِ، مُنْتِنُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُوؤُكَ؛ هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ فَيَقُولُ: مَنْ [[في م: "ومن".]] أَنْتَ؟ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالشَّرِّ. فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ. فَيَقُولُ: رَبِّ لَا تقم الساعة" [[المسند (٤/٢٨٧) .]] وَقَالَ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَر، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّاب، عَنِ المِنْهال بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِلَى جِنَازَةٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
وَفِيهِ: "حَتَّى إِذَا خَرَجَ رُوحُهُ صَلَّى عَلَيْهِ كل ملك من السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ، وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ، أَنْ يَعْرُجَ بِرُوحِهِ مَنْ قِبَلِهِمْ".
وَفِي آخِرِهِ: "ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهُ أَعْمَى أَصَمُّ أَبْكَمُ، فِي يَدِهِ مَرْزَبَّة لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ كَانَ تُرَابًا، فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً فَيَصِيرُ تُرَابًا، ثُمَّ يُعِيدُهُ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ، كَمَا كَانَ، فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً أُخْرَى فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ". قَالَ الْبَرَاءُ: "ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنَ النَّارِ، وَيُمَهَّدُ لَهُ فَرْشٌ مِنَ النَّارِ" [[المسند (٤/٢٩٥) .]]
وَفِي الْحَدِيثِ الذِي رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ وَابْنُ جَرِيرٍ -وَاللَّفْظُ لَهُ -مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَار، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "الْمَيِّتُ تَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، اخْرُجِي حَمِيدة، وَأَبْشِرِي برَوْح وَرَيْحَانٍ، وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَيَقُولُونَ ذَلِكَ حَتَّى يُعْرج بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيُسْتَفْتَحُ لَهَا، فَيَقُولُونَ: مَنْ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: فَلَانٌ. فَيُقَالُ: مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، ادْخُلِي حَمِيدَةً، وَأَبْشِرِي برَوْح وَرَيْحَانٍ، وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَيُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ. وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السَّوْء قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، اخْرُجِي ذَمِيمَةً، وَأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وغَسّاق، وَآخَرَ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ، فَيَقُولُونَ ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ، ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُسْتَفْتَحُ لَهَا، فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: فَلَانٌ. فَيَقُولُونَ: لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، ارْجِعِي ذَمِيمَةً، فَإِنَّهُ لَمْ تُفْتَحْ [[في ك: "يفتح".]] لَكِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَتُرْسَلُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَتَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ" [[المسند (٢/٣٦٤) وسنن النسائي الكبرى برقم (١١٤٤٢) وسنن ابن ماجة برقم (٤٢٦٢) وتفسير الطبري (١٢/٤٢٤) .]]
وَقَدْ قَالَ ابْنُ جُرَيج فِي قَوْلِهِ: ﴿لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ﴾ قَالَ: لَا تُفَتَّحُ لِأَعْمَالِهِمْ، وَلَا لِأَرْوَاحِهِمْ.
وَهَذَا فِيهِ جَمْعٌ بَيْنَ الْقَوْلَيْنِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ﴾ هَكَذَا قَرَأَهُ [[في د، ك، م: "فسره".]] الْجُمْهُورُ، وَفَسَّرُوهُ بِأَنَّهُ الْبَعِيرُ. قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: هُوَ الْجَمَلُ ابْنُ النَّاقَةِ. وَفِي رِوَايَةٍ: زَوْجُ النَّاقَةِ. وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: حَتَّى يُدْخَلَ الْبَعِيرُ فِي خُرْق الْإِبْرَةِ. وَكَذَا قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ، وَالضَّحَّاكُ. وَكَذَا رَوَى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، والعَوْفي عَنِ ابْنِ عباس.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ، وَعِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُ كَانَ يَقْرَؤُهَا: " [حَتَّى] [[زيادة من ك، م، أ.]] يَلِجَ الجُمَّل فِي سَمِّ الْخِيَاطِ" بِضَمِّ الْجِيمِ، وَتَشْدِيدِ الْمِيمِ، يَعْنِي: الْحَبْلُ الْغَلِيظُ فِي خُرْمِ الْإِبْرَةِ.
وَهَذَا اخْتِيَارُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ. وَفِي رِوَايَةٍ أَنَّهُ قَرَأَ: "حَتَّى يَلِجَ الجُمَّل" يَعْنِي: قُلُوس السُّفُنِ، وَهِيَ الْحِبَالُ الْغِلَاظُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ [وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ] ﴾ [[زيادة من، م، أ.]] قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ القُرَظِي: ﴿لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ﴾ قَالَ: الْفَرْشُ، ﴿وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ﴾ قَالَ: اللحُفُ.
وَكَذَا قَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ مُزاحِم، والسُّدِّي، ﴿وَكَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾
لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌۭ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍۢ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّٰلِمِينَ
They will have from Hell a bed and over them coverings [of fire]. And thus do We recompense the wrongdoers.
ایسے لوگوں کے لیے (نیچے) بچھونا بھی (آتش) جہنم کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی (اسی کا) اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
برای آنها بستری از (آتش) دوزخ، و روی آنها پوششهایی (از آن) است؛ و اینچنین ظالمان را جزا میدهیم!
Tafsir Ibn Kathir
Verily, those who belie Our Ayat and treat them with arrogance, for them the gates of the heavens will not be opened, and they will not enter Paradise until the Jamal goes through the eye of the needle. Thus do We recompense the criminals (40)Theirs will be Mihad from the Fire, and over them Ghawash. Thus do We recompense the wrongdoers (41)
Doors of Heaven shall not open for Those Who deny Allah's Ayat, and They shall never enter Paradise
Allah said,
لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ
(for them the gates of the heavens will not be opened,) meaning, their good deeds and supplication will not ascend through it, according to Mujahid, Sa'id bin Jubayr and Ibn 'Abbas, as Al-'Awfi and 'Ali bin Abi Talhah reported from him. Ath-Thawri narrated that, Layth said that 'Ata' narrated this from Ibn 'Abbas. It was also said that the meaning here is that the doors of the heavens will not be opened for the disbelievers' souls, according to Ad-Dahhak who reported this from Ibn 'Abbas. As-Suddi and several others mentioned this meaning. What further supports this meaning, is the report from Ibn Jarir that Al-Bara' said that the Messenger of Allah mentioned capturing the soul of the 'Fajir' (wicked sinner or disbeliever), and that his or her soul will be ascended to heaven. The Prophet ﷺ said,
فَيَصْعَدُونَ بِهَا، فَلَا تَمُرُّ عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا مَا هَذِهِ الرُّوحُ الْخَبِيثَةُ؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانٌ بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُدْعَى بِهَا فِي الدُّنْيَا، حَتَّى يَنْتَهَوا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيَسْتَفْتَحُونَ بَابَهَا لَهُ فَلَا يَفْتَحُ لَهُ
(So they (angels) ascend it and it will not pass by a gathering of the angels, but they will ask, who's wicked soul is this' They will reply, 'The soul of so-and-so,' calling him by the worst names he was called in this life. When they reach the (lower) heaven, they will ask that its door be opened for the soul, but it will not be opened for it.)
The Prophet ﷺ then recited,
لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ
(For them the gates of heaven will not be opened).
This is a part of a long Hadith which was also recorded by Abu Dawud, An-Nasa'i and Ibn Majah.
Ibn Jurayj commented on the Ayah,
لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ
(for them the gates of heaven will not be opened,) "(The gates of heaven) will not be opened for their deeds or souls." This explanation combines the two meanings we gave above, and Allah knows best. Allah's statement,
وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ
(and they will not enter Paradise until the Jamal goes through the eye of the needle.) refers to the male camel. Ibn Mas'ud said it is a male camel from the she camel. In another narration it refers to the spouse of the she camel. Mujahid and 'Ikrimah said that Ibn 'Abbas used to recite this Ayah this way, "Until the Jummal goes through the eye of the needle", whereas 'Jummal' is a thick rope. Allah's statement,
لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ
(Theirs will be Mihad from the Fire) means, beds, while;
وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ
(and over them Ghawash), means, coverings, according to Muhammad bin Ka'b Al-Qurazi. Similar was said by Ad-Dahhak bin Muzahim and As-Suddi. Allah said next,
وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
(Thus do We recompense the wrongdoers.)
Tafsir Ibn Kathir
بدکاروں کی روحیں دھتکاری جاتی ہیں کافروں کے نہ تو نیک اعمال اللہ کی طرف چڑھیں، نہ ان کی دعائیں قبول ہوں، نہ ان کی روحوں کے لئے آسمان کے دروازے کھلیں۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ جب بدکاروں کی روحیں قبض کی جاتی ہیں اور فرشتے انہیں لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں تو فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گذرتے ہیں وہ کہتے ہیں یہ خبیث روح کس کی ہے ؟ یہ اس کا بد سے بد نام لے کر بتاتے ہیں کہ فلاں کی۔ یہاں تک کہ یہ اسے آسمان کے دروازے تک پہنچاتے ہیں لیکن ان کے لئے دروازہ کھولا نہیں جاتا۔ پھر حضور ﷺ نے آیت (لا تفتح لھم ابو اب السماء) پڑھی یہ بہت لمبی حدیث ہے جو سنن میں موجود ہے۔ مسند احمد میں یہ حدیث پوری یوں ہے حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں ایک انصاری کے جنازے میں موجود ہے۔ مسند احمد میں یہ حدیث پوری یوں ہے حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں ایک انصاری کے جنازے میں ہم حضور کے ساتھ تھے جب قبرستان پہنچے تو قبر تیار ہونے میں کچھ دیر تھی سب بیٹھ گئے ہم اس طرح خاموش اور با ادب تھے کہ گویا ہمارے سروں پر پرند ہیں۔ آپ کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا جسے آپ زمین پر پھرا رہے تھے تھوڑی دیر میں آپ نے سر اٹھا کردو بار یا تین بار ہم سے فرمایا کہ عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو، پھر فرمایا مومن جب دنیا کی آخری اور آخرت کی پہلی گھڑی میں ہوتا ہے اس کے پاس آسمان سے نورانی چہروں والے فرشتے آتے ہیں گویا کہ ان کا منہ آفتاب ہے ان کے ساتھ جنت کا کفن اور جنت کی خوشبو ہوتی ہے وہ آ کر مرنے والے مومن کے پاس بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں اے اطمینان والی روح اللہ کی مغفرت اور رضامندی کی طرف چل یہ سنتے ہی وہ روح اس طرح بدن سے نکل جاتی ہے جیسے مشک کے منہ سے پانی کا قطرہ ٹپک جائے۔ اسی وقت ایک پلک جھپکنے کے برابر کی دیر میں وہ جنتی فرشتے اس پاک روح کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں اور جنتی کفن اور جنتی خوشبو میں رکھ لیتے ہیں اس میں ایسی عمدہ اور بہترین خوشبو نکلتی ہے کہ کبھی دنیا والوں نے نہ سونگھی ہو۔ اب یہ اسے لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں فرشتوں کی جو جماعت انہیں ملتی ہے وہ پوچھتی ہے کہ یہ پاک روح کس کی ہے ؟ یہ اس کا بہتر سے بہتر جو نام دنیا میں مشہور تھا وہ لے کر کہتے ہیں فلاں کی۔ یہاں تک کہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں دروازہ کھلوا کر اوپر چڑھ جاتے ہیں یہاں سے اس کے ساتھ اسے دوسرے آسمان تک پہنچانے کے لئے فرشتوں کی اور بڑی جماعت ہوجاتی ہے اس طرح ساتویں آسمان تک پہنچتے ہیں اللہ عزوجل فرماتا ہے اس میرے بندے کی کتاب (علیین) میں رکھ کر اور اسے زمین کی طرف لوٹا دو میں نے انہیں اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا۔ پس وہ روح لوٹا دی جاتی ہے وہیں اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے میرا دین اسلام ہے۔ پھر پوچھتے ہیں کہ وہ شخص جو تم میں بھیجے گئے کون تھے وہ کہتا ہے وہ رسول اللہ تھے ﷺ۔ فرشتے اس سے دریافت کرتے ہیں کہ تجھے کیسے معلوم ہوا ؟ جواب دیتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اس پر ایمان لایا اور اسے سچا مانا۔ وہیں آسمان سے ایک منادی ندا کرتا ہے کہ میرا بندہ سچا ہے اس کیلئے جنت کا فرش بچھا دو۔ اسے جنتی لباس پہنا دو اور اس کیلئے جنت کا دروازہ کھول دو۔ پس اس کے پاس جنت کی تروتازگی اس کی خوشبو اور وہاں کی حوا آتی رہتی ہے اور اسکی قبر کشادہ کردی جاتی ہے۔ جہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے اسے کشادگی ہی کشادگی نظر آتی ہے اس کے پاس ایک نہایت حسین وجمیل شخص لباس فاخرہ پہنے ہوئے خوشبو لگائے ہوئے آتا ہے اور اس سے کہتا ہے خوش ہوجا یہی وہ دن ہے جس کا تجھے وعدہ دیا جاتا تھا ان سے پوچھتا ہے تو کون ہے ؟ تیرے چہرے سے بھلائی پائی جاتی ہے وہ جواب دیتا ہے کہ میں تیرا نیک عمل ہوں۔ اب تو مومن آرزو کرنے لگتا ہے کہ اللہ کرے قیامت آج ہی قائم ہوجائے تاکہ میں جنت میں پہنچ کر اپنے مال اور اپنے اہل و عیال کو پالوں اور کافر کی جب دنیا کی آخر گھڑی آتی ہے تو اس کے پاس سیاہ چہرے والے فرشتے آسمان سے آتے ہیں ان کے ساتھ ٹاٹ ہوتا ہے اس کی نگاہ تک اسے یہی نظر آتے ہیں پھر ملک الموت آ کر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں اے خبیث روح اللہ کی ناراضگی اور اس کے غضب کی طرف چل یہ سن کر وہ روح بدن میں چھپنے لگتی ہے جسے ملک الموت جبراً گھسیٹ کر نکالتے ہیں اسی وقت وہ فرشتے ان کے ہاتھ سے ایک آنکھ جھپکنے میں لے لیتے ہیں اور اس جہنمی ٹاٹ میں لپیٹ لیتے ہیں اور اس سے نہایت ہی سڑی ہوئی بدبو نکلتی ہے یہ اسے لے کر چڑھنے لگتے ہیں فرشتوں کا جو گروہ ملتا ہے اس سے پوچھتا ہے کہ یہ ناپاک روح کس کی ہے ؟ یہ اس کی روح جس کا بدترین نام دنیا میں تھا انہیں بتاتے ہیں پھر آسمان کا دروازہ اس کیلئے کھلوانا چاہتے ہیں مگر کھولا نہیں جاتا پھر رسول اللہ ﷺ نے قرآن کریم کی یہ آیت (لا تفتح) الخ، تلاوت فرمائی۔ جناب باری عزوجل کا ارشاد ہوتا ہے اس کی کتاب (سجین) میں سب سے نیچے کی زمین میں رکھو پھر اس کی روح وہاں سے پھینک دی جاتی ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (ومن یشرک باللہ فکانما خر من السماء فتخطفہ الطیر او تھوی بہ الریح فی مکان سحیق) یعنی جس نے اللہ کے ساتھ شریک یا گویا وہ آسمان سے گرپڑا پس اسے یا تو پرند اچک لے جائیں گے یا ہوائیں کسی دور دراز کی ڈراؤنی ویران جگہ پر پھینک دیں گی۔ اب اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے۔ اور اس کے پاس وہ فرشتے پہنچتے ہیں اسے اٹھا کر بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں تیرا رب کون ہے ؟ یہ کہتا ہے ہائے ہائے مجھے خبر نہیں۔ پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے ؟ جواب دیتا ہے افسوس مجھے اس کی بھی خبر نہیں۔ پوچھتے ہیں بتا اس شخص کی بابت تو کیا کہتا ہے جو تم میں بھیجے گئے تھے ؟ یہ کہتا ہے آہ میں اس کا جواب بھی نہیں جانتا۔ اسی وقت آسمان سے ندا ہوتی ہے کہ میرے اس غلام نے غلط کہا اس کیلئے جہنم کی آگ بچھا دو اور جہنم کا دروازہ اس کی قبر کی طرف کھول دو وہاں سے اسے گرمی اور آگ کے جھونکے آنے لگتے ہیں اس کی قبر اس پر تنگ ہوجاتی ہے یہاں تک کہ ادھر کی پسلیاں ادھر اور ادھر کی ادھر ہوجاتی ہیں، اس کے پاس ایک شخص نہایت مکروہ اور ڈراؤنی صورت والا برے کپڑے پہنے بری بدبو والا آتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ اب اپنی برائیوں کا مزہ چکھ اسی دن کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا یہ پوچھتا ہے تو کون ہے ؟ تیرے تو چہرے سے وحشت اور برائی ٹپک رہی ہے ؟ یہ جواب دیتا ہے کہ میں تیرا خبیث عمل ہوں۔ یہ کہتا ہے یا اللہ قیامت قائم نہ ہو۔ اسی روایت کی دوسری سند میں ہے کہ مومن کی روح کو دیکھ کر آسمان و زمین کے تمام فرشتے دعائے مغفرت و رحمت کرتے ہیں اس کیلئے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور ہر دورازے کے فرشتوں کی تمنا ہوتی ہے کہ اللہ کرے یہ روح ہماری طرف سے آسمان پر چڑھے اس میں یہ بھی ہے کہ کافر کی قبر میں اندھا بہرا گونگا فرشتہ مقرر ہوجاتا ہے جس کے ہاتھ میں ایک گرج ہوتا ہے کہ اگر اسے کسی بڑے پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی ہوجائے پھر اسے جیسا وہ تھا اللہ تعالیٰ کردیتا ہے۔ فرشتہ دوبارہ اسے گرج مارتا ہے جس سے یہ چیخنے چلانے لگتا ہے جسے انسان اور جنات کے سوا تمام مخلوق سنتی ہے ابن جریر میں ہے کہ نیک صالح شخص سے فرشتے کہتے ہیں اسے مطمئن نفس جو طیب جسم میں تھا تو تعریفوں والا بن کر نکل اور جنت کی خوشبو اور نسیم جنت کی طرف چل۔ اس اللہ کے پاس چل جو تجھ پر غصے نہیں ہے۔ فرماتے ہیں کہ جب اس روح کو لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں دروازہ کھلواتے ہیں تو پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے، یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو وہ اسے مرحبا کہہ کر وہی کہتے ہیں یہاں تک کہ یہ اس آسمان میں پہنچتے ہیں جہاں اللہ ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ برے شخص سے وہ کہتے ہیں اے خبیث نفس ! جو خبیث جسم میں تھا تو برا بن کر نکل اور تیز کھولتے ہوئے پانی اور لہو پیپ اور اسی قسم کے مختلف عذابوں کی طرف چل۔ اس کے نکلنے تک فرشتے اسے یہی سناتے رہتے ہیں۔ پر اسے لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے ؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو آسمان کے فرشتے کہتے ہیں اس خبیث کو مرحبا نہ کہو۔ یہ تھی بھی خبیث جسم میں بد بن کر لوٹ جا۔ اس کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے اور آسمان و زمین کے درمیان چھوڑ دی جاتی ہے پھر قبر کی طرف لوٹ آتی ہے۔ امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ نہ ان کے اعمال چڑھیں نہ ان کی روحیں اس سے دونوں قول مل جاتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ اس کے بعد کے جملے میں جمہور کی قرأت تو جمل ہے جس کے معنی نر اونٹ کے ہیں۔ لیکن ایک قرأت میں جمل ہے اس کے معنی بڑے پہاڑ کے ہیں۔ مطلب بہ ہر دو صورت ایک ہی ہے کہ نہ اونٹ سوئی کے ناکے سے گذر سکے نہ پہاڑ، اسی طرح کافر جنت میں نہیں جاسکتا ان کا اوڑھنا بچھونا آگ ہے ظالموں کی یہی سزا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
قَوْلُهُ: ﴿لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ﴾ قِيلَ: الْمُرَادُ: لَا يُرْفَعُ لَهُمْ مِنْهَا عَمَلٌ صَالِحٌ وَلَا دُعَاءٌ.
قَالَهُ مُجَاهِدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ. وَرَوَاهُ العَوْفي وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ ليْث، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
وَقِيلَ: الْمُرَادُ: لَا تُفْتَحُ لِأَرْوَاحِهِمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ.
رَوَاهُ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَقَالَهُ السُّدِّي وَغَيْرُ وَاحِدٍ، وَيُؤَيِّدُهُ مَا قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ المِنْهَال -هُوَ ابْنُ عَمْرٍو -عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ ذَكَرَ قَبْض رُوحِ الْفَاجِرِ، وَأَنَّهُ يُصْعَد بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، قَالَ: "فَيَصْعَدُونَ بِهَا، فَلَا تَمُرُّ عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذِهِ الرُّوحُ الْخَبِيثَةُ؟ فَيَقُولُونَ: فَلَانٌ، بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُدْعَى بِهَا فِي الدُّنْيَا، حَتَّى يَنْتَهُوا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيَسْتَفْتِحُونَ بَابَهَا لَهُ فَلَا يُفْتَحُ لَهُ". ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ﴿لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ [وَلا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] الْآيَةَ.
هَكَذَا رَوَاهُ، وَهُوَ قِطْعَةٌ مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، مِنْ طُرُقٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، بِهِ [[تفسير الطبري (١٢/٤٢٤) ، وسنن أبي داود برقم (٤٧٥٣) ، وسنن النسائي (٤/٧٨) ، وسنن ابن ماجة برقم (١٥٤٨) .]] وَقَدْ رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بِطُولِهِ فَقَالَ:
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مِنْهَال بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من ك، أ.]] قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ ولَمَّا يُلْحَد. فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ، وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ فِي الْأَرْضِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: "اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ". مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: "إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا، وَإِقْبَالٍ إِلَى الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ مِنَ السَّمَاءِ بِيضُ الْوُجُوهِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الشَّمْسُ، مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ، وحَنُوط مِنْ حَنُوط الْجَنَّةِ، حَتَّى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ بَصَرِهِ. ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ، حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ [[في ك، م: "المطمئنة".]] اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ".
قَالَ: "فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنْ فِي السِّقَاءِ، فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعوها [[في ك: "يدعها".]] فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ، حَتَّى يَأْخُذُوهَا فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ، وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ. وَيَخْرُجَ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ. فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلَا يَمُرُّونَ -يَعْنِي-بِهَا عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذَا الرُّوحُ الطَّيِّبُ؟ فَيَقُولُونَ: فَلَانٌ بن فُلَانٍ، بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّونَهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا، حَتَّى يَنْتَهُوا بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَسْتَفْتِحُونَ لَهُ، فَيُفْتَحُ لَهُ، فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا، حَتَّى يَنْتَهِيَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِليِّين، وَأَعِيدُوهُ إِلَى الْأَرْضِ، فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ، وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا أخرجهم تارة أخرى".
قَالَ: "فَتُعَادُ رُوحُهُ، فَيَأْتِيهِ مَلَكان فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ. فَيَقُولَانِ لَهُ مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِي الْإِسْلَامُ. فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ. فَيَقُولَانِ لَهُ: وَمَا عِلْمُكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ. فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: أَنْ صَدَقَ عَبْدِي، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ". "فَيَأْتِيهِ [[في ك، م، أ: "قال: فيأتيه".]] مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا، وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدّ بَصَرِهِ".
قَالَ: "وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ، حَسَنُ الثِّيَابِ، طَيِّبُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يسُرك، هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ. فَيَقُولُ لَهُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالْخَيْرِ. فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ. فَيَقُولُ: رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ، رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ، حَتَّى أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي".
قَالَ: "وَإِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ، إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ [[في م: "إذا كان في انقطاع عن الآخرة وإقبال من الدنيا".]] نَزَلَ إِلَيْهِ مِنَ السَّمَاءِ مَلَائِكَةٌ سُودُ الْوُجُوهِ مَعَهُمُ [[في م: "معهم السياط".]] الْمُسُوحُ، فَيَجْلِسُونَ مِنْهُ مَدّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ، اخْرُجِي إِلَى سُخْطِ اللَّهِ وَغَضَبٍ". قَالَ: "فَتُفَرّق فِي جَسَدِهِ، فَيَنْتَزِعُهَا كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُّود مِنَ الصُّوفِ الْمَبْلُولِ، فَيَأْخُذُهَا، فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوها فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَجْعَلُوهَا فِي تِلْكَ الْمُسُوحِ، وَيَخْرُجَ مِنْهَا كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ. فَيَصْعَدُونَ بِهَا، فَلَا يَمُرُّونَ بِهَا عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذَا الرُّوحُ الْخَبِيثُ؟ فَيَقُولُونَ: فَلَانٌ ابْنُ فُلَانٍ، بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمَّى بِهَا فِي الدُّنْيَا، حَتَّى يَنْتَهِيَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَسْتَفْتِحَ لَهُ، فَلَا يُفْتَحَ [[في م، أ: "فلا يفتح له".]] ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ﴿لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ﴾ فَيَقُولَ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى. فَتُطْرَحَ رُوحُهُ طَرْحًا". ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ﴾ [الْحَجِّ:٣١]
"فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ. وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ! لَا أَدْرِي. فَيَقُولَانِ [[في م، أ: "فيقولان له".]] مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ! لَا أَدْرِي فَيَقُولَانِ [[في م، أ: "فيقولان له".]] مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ! لَا أَدْرِي. فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: أَنْ كَذَبَ، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ. فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرّها وَسُمُومِهَا، ويُضيق عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ، وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ، قَبِيحُ الثِّيَابِ، مُنْتِنُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُوؤُكَ؛ هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ فَيَقُولُ: مَنْ [[في م: "ومن".]] أَنْتَ؟ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالشَّرِّ. فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ. فَيَقُولُ: رَبِّ لَا تقم الساعة" [[المسند (٤/٢٨٧) .]] وَقَالَ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَر، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّاب، عَنِ المِنْهال بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِلَى جِنَازَةٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
وَفِيهِ: "حَتَّى إِذَا خَرَجَ رُوحُهُ صَلَّى عَلَيْهِ كل ملك من السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ، وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ، أَنْ يَعْرُجَ بِرُوحِهِ مَنْ قِبَلِهِمْ".
وَفِي آخِرِهِ: "ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهُ أَعْمَى أَصَمُّ أَبْكَمُ، فِي يَدِهِ مَرْزَبَّة لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ كَانَ تُرَابًا، فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً فَيَصِيرُ تُرَابًا، ثُمَّ يُعِيدُهُ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ، كَمَا كَانَ، فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً أُخْرَى فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ". قَالَ الْبَرَاءُ: "ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنَ النَّارِ، وَيُمَهَّدُ لَهُ فَرْشٌ مِنَ النَّارِ" [[المسند (٤/٢٩٥) .]]
وَفِي الْحَدِيثِ الذِي رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ وَابْنُ جَرِيرٍ -وَاللَّفْظُ لَهُ -مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَار، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "الْمَيِّتُ تَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، اخْرُجِي حَمِيدة، وَأَبْشِرِي برَوْح وَرَيْحَانٍ، وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَيَقُولُونَ ذَلِكَ حَتَّى يُعْرج بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيُسْتَفْتَحُ لَهَا، فَيَقُولُونَ: مَنْ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: فَلَانٌ. فَيُقَالُ: مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، ادْخُلِي حَمِيدَةً، وَأَبْشِرِي برَوْح وَرَيْحَانٍ، وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَيُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ. وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السَّوْء قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، اخْرُجِي ذَمِيمَةً، وَأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وغَسّاق، وَآخَرَ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ، فَيَقُولُونَ ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ، ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُسْتَفْتَحُ لَهَا، فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: فَلَانٌ. فَيَقُولُونَ: لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، ارْجِعِي ذَمِيمَةً، فَإِنَّهُ لَمْ تُفْتَحْ [[في ك: "يفتح".]] لَكِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَتُرْسَلُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَتَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ" [[المسند (٢/٣٦٤) وسنن النسائي الكبرى برقم (١١٤٤٢) وسنن ابن ماجة برقم (٤٢٦٢) وتفسير الطبري (١٢/٤٢٤) .]]
وَقَدْ قَالَ ابْنُ جُرَيج فِي قَوْلِهِ: ﴿لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ﴾ قَالَ: لَا تُفَتَّحُ لِأَعْمَالِهِمْ، وَلَا لِأَرْوَاحِهِمْ.
وَهَذَا فِيهِ جَمْعٌ بَيْنَ الْقَوْلَيْنِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ﴾ هَكَذَا قَرَأَهُ [[في د، ك، م: "فسره".]] الْجُمْهُورُ، وَفَسَّرُوهُ بِأَنَّهُ الْبَعِيرُ. قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: هُوَ الْجَمَلُ ابْنُ النَّاقَةِ. وَفِي رِوَايَةٍ: زَوْجُ النَّاقَةِ. وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: حَتَّى يُدْخَلَ الْبَعِيرُ فِي خُرْق الْإِبْرَةِ. وَكَذَا قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ، وَالضَّحَّاكُ. وَكَذَا رَوَى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، والعَوْفي عَنِ ابْنِ عباس.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ، وَعِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُ كَانَ يَقْرَؤُهَا: " [حَتَّى] [[زيادة من ك، م، أ.]] يَلِجَ الجُمَّل فِي سَمِّ الْخِيَاطِ" بِضَمِّ الْجِيمِ، وَتَشْدِيدِ الْمِيمِ، يَعْنِي: الْحَبْلُ الْغَلِيظُ فِي خُرْمِ الْإِبْرَةِ.
وَهَذَا اخْتِيَارُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ. وَفِي رِوَايَةٍ أَنَّهُ قَرَأَ: "حَتَّى يَلِجَ الجُمَّل" يَعْنِي: قُلُوس السُّفُنِ، وَهِيَ الْحِبَالُ الْغِلَاظُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ [وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ] ﴾ [[زيادة من، م، أ.]] قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ القُرَظِي: ﴿لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ﴾ قَالَ: الْفَرْشُ، ﴿وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ﴾ قَالَ: اللحُفُ.
وَكَذَا قَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ مُزاحِم، والسُّدِّي، ﴿وَكَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ
But those who believed and did righteous deeds - We charge no soul except [within] its capacity. Those are the companions of Paradise; they will abide therein eternally.
اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ہم (عملوں کے لیے) کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ اہل بہشت ہیں (کہ) اس میں ہمیشہ رہیں گے
و کسانی که ایمان آورده و اعمال صالح انجام دادهاند -البته هیچ کس را جز به اندازه تواناییش تکلیف نمیکنیم- آنها اهل بهشتند؛ و جاودانه در آن خواهند ماند.
Tafsir Ibn Kathir
But those who believed, and worked righteousness – We burden not any person beyond his scope – such are the dwellers of Paradise. They will abide therein (42)And We shall remove from their breasts any Ghill; rivers flowing under them, and they will say: "All the praises and thanks be to Allah, Who has guided us to this, and never could we have found guidance, were it not that Allah had guided us! Indeed, the Messengers of our Lord did come with the truth." And it will be cried out to them: "This is the Paradise which you have inherited for what you used to do. (43)
Destination of Righteous Believers
After Allah mentioned the condition of the miserable ones, He then mentioned the condition of the happy ones, saying,
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
(But those who believed, and worked righteousness)
Their hearts have believed and they performed good deeds with their limbs and senses, as compared to those who disbelieved in the Ayat of Allah and were arrogant with them. Allah also said that embracing faith and implementing it are easy, when He said,
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ - وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ
(But those who believed, and worked righteousness – We burden not any person beyond his scope – such are the dwellers of Paradise. They will abide therein. And We shall remove from their breasts any Ghill;) meaning, envy and hatred. Al-Bukhari recorded that Abu Sa'id Al-Khudri said that the Messenger of Allah ﷺ said,
إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ حُبِسُوا عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَاقْتُصَّ لَهُمْ مَظَالِمَ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ أَحَدَهُمْ بِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ أَدَلُّ مِنْهُ بِمَسْكَنِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا
(After the believers are saved from entering the Fire, they will be kept in wait by a bridge between Paradise and Hellfire. Then, transgression that occurred between them in the life of this world will be judged. Until, when they are purified and cleansed, they will be given permission to enter Paradise. By He in Whose Hand is my soul! One of them will be able to find his dwelling in Paradise more so than he did in the life of this world.) As-Suddi said about Allah's statement,
وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ
(And We shall remove from their breasts any Ghill; rivers flowing under them,)
"When the people of Paradise are taken to it, they will find a tree close to its door, and two springs from under the trunk of that tree. They will drink from one of them, and all hatred will be removed from their hearts, for it is the cleansing drink. They will take a bath in the other, and the brightness of delight will radiate from their faces. Ever after, they will never have messy hair or become dirty."
An-Nasa'i and Ibn Marduwyah (this being his wording) recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
كُلُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، فَيَقُولُ: لَوْلَا أَنَّ اللهَ هَدَانِي، فَيَكُونُ لَهُ شُكْرًا، وَكُلُّ أَهْلِ النَّارِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ: لَوْ أَنَّ اللهَ هَدَانِي، فَيَكُونُ لَهُ حَسْرَةً
(Each of the people of Paradise will see his seat in the Fire and he will say, 'Had not Allah guided me! And this will cause him to be grateful. Each of the people of the Fire will see his seat in Paradise, and he will say, 'Might that Allah had guided me!' So it will be a cause of anguish for him.)
This is why when the believers are awarded seats in Paradise that belonged to the people of the Fire, they will be told, "This is the Paradise that you inherited because of what you used to do. " This means, because of your good deeds, you earned Allah's mercy and thus entered Paradise and took your designated dwellings in it, comparable to your deeds. This is the proper meaning here, for it is recorded in the Two Sahihs that the Prophet ﷺ said,
وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَدَكُمْ لَنْ يُدْخِلَهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ
(And know that the good deeds of one of you will not admit him into Paradise.) They said, "Not even you, O Allah's Messenger?" He said,
وَلَا أَنَا إِلّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ
(Not even I, unless Allah grants it to me out of His mercy and favor.)
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل انسانی بس میں ہے ! اوپر گنہگاروں کا ذکر ہوا یہاں اب نیک بختوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ جن کے دل میں ایمان ہے اور جو اپنے جسم سے قرآن و حدیث کے مطابق کام کرتے ہیں بخلاف بدکاروں کے کہ وہ دل میں کفر رکھتے ہیں اور عمل سے دور بھاگتے ہیں۔ پھر فرمان ہے کہ ایمان اور نیکیاں انسان کے بس میں ہیں اللہ کے احکام انسانی طاقت سے زیادہ نہیں ہیں۔ ایسے لوگ جنتی ہیں اور ہمیشہ جنت میں ہی رہیں گے۔ ان کے دلوں میں سے آپس کی کدورتیں حد بغض دور کردیئے جائیں گے۔ چناچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ مومن آگ سے چھٹکارا حاصل کر کے جنت و دوزخ کے درمیان ایک ہی پل پر روک دیئے جائیں گے وہاں ان کے آپس کے مظالم کا بدلہ ہوجائے گا اور پاک ہو کر جنت میں جانے کی اجازت پائیں گے۔ واللہ وہ لوگ اپنے اپنے درجوں کو اور مکانوں کو اس طرح پہچان لیں گے جیسے دنیا میں جان لیتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ سدی ؒ سے مروی ہے کہ اہل جنت دروازہ جنت پر ایک درخت دیکھیں گے جس کی جڑوں کے پاس سے دو نہریں بہ رہی ہوں گی یہ ان میں سے ایک کا پانی پئیں گے جس سے دلوں کی کدورتیں دھل جائیں گی یہ شراب طہور ہے پھر دوسری نہر میں غسل کریں گے جس سے چہروں پر تروتازگی آجائے گی پھر نہ تو بال بکھریں نہ سرمہ لگانے اور سنگھار کرنے کی ضرورت پڑے۔ حضرت علی بن ابو طالب ؓ سے بھی اسی جیسا قول مروی ہے جو آیت (وَسِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا ۭ حَتّىٰٓ اِذَا جَاۗءُوْهَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَـــتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِيْنَ 73) 39۔ الزمر) کی تفسیر میں آئے گا ان شاء اللہ۔ آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ انشاء اللہ میں اور عثمان اور طلحہ اور زبیر ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے دل اللہ تعالیٰ صاف کر دے گا۔ فرماتے ہیں کہ ہم اہل بدر کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر جنتی کو اپنا جہنم کا ٹھکانا دکھایا جائے گا تاکہ وہ اور بھی شکر کرے اور وہ کہے گا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ہدایت عنایت فرمائی اور ہر جہنمی کو اس کا جنت کا ٹھکانا دکھایا جائے گا تاکہ اس کی حسرت بڑھے اس وقت وہ کہے گا کاش کہ میں بھی راہ یافتہ ہوتا۔ پھر جنتیوں کو جنت کی جگہیں دے دی جائیں گی اور ایک منادی ندا کرے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کے تم بہ سبب اپنی نیکیوں کے وارث بنا دیئے گئے یعنی تمہارے اعمال کی وجہ سے تمہیں رحمت رب ملی اور رحمت رب سے تم داخل جنت ہوئے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضور نے فرمایا یاد رکھو ! تم میں سے کوئی بھی صرف اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں نہیں جاسکتا لوگوں نے پوچھا آپ بھی نہیں ؟ فرمایا ہاں میں بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت و فضل میں ڈھانپ لے۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى حَالَ الْأَشْقِيَاءِ [[في أ: "ما للأشقياء".]] عَطَفَ بِذِكْرِ حَالِ السُّعَدَاءِ، فَقَالَ: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ أَيْ: آمَنَتْ قُلُوبُهُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ بِجَوَارِحِهِمْ، ضِدُّ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ، وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا.
وَيُنَبِّهُ [[في م، أ: "ونبه".]] تَعَالَى عَلَى أَنَّ الْإِيمَانَ وَالْعَمَلَ بِهِ سَهْلٌ؛ لِأَنَّهُ تَعَالَى قَالَ: ﴿لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ. وَنزعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ﴾ أَيْ: مِنْ حَسَدٍ وَبَغْضَاءَ، كَمَا جَاءَ فِي الصَّحِيحِ لِلْبُخَارِيِّ، مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي المتوكِّل النَّاجِي، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ حُبِسوا عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَاقْتَصَّ لَهُمْ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا، حَتَّى إِذَا هُذبوا وَنُقُّوا، أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ؛ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ أَحَدَهُمْ بِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ أَدُلُّ مِنْهُ بِمَسْكَنِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا" [[صحيح البخاري برقم (٢٤٤٠) .]]
وَقَالَ السُّدِّي فِي قَوْلِهِ: ﴿وَنزعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الأنْهَارُ﴾ الْآيَةَ: إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ إِذَا سَبَقُوا إِلَى الْجَنَّةِ فَبَلَغُوا، وَجَدُوا عِنْدَ بَابِهَا شَجَرَةً فِي أَصْلِ سَاقِهَا عَيْنَانِ، فَشَرِبُوا [[في م: "فيشربون".]] مِنْ إِحْدَاهُمَا، فَيُنْزَعُ مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ، فَهُوَ "الشَّرَابُ الطَّهُورُ"، وَاغْتَسَلُوا مِنَ الْأُخْرَى، فَجَرَتْ عَلَيْهِمْ "نَضْرَةُ النَّعِيمِ" فَلَمْ يَشْعَثُوا وَلَمْ يَشْحَبُوا بَعْدَهَا أَبَدًا.
وَقَدْ رَوَى أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ [[في ك، م، أ: "هذا".]] كَمَا سَيَأْتِي فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا﴾ [الزُّمَرِ: ٧٣] إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَبِهِ الثِّقَةُ وَعَلَيْهِ التُّكْلَانُ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: قَالَ عَلِيٌّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا وَعُثْمَانُ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِمْ: ﴿وَنزعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ﴾ رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: قَالَ عَلِيٌّ: فِينَا وَاللَّهِ أَهْلَ بَدْرٍ نَزَلَتْ: ﴿وَنزعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ﴾ [[تفسير عبد الرزاق (١/٢١٧) .]]
وَرَوَى النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَرْدُويه -وَاللَّفْظُ لَهُ -مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "كُلُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ فَيَقُولُ: لَوْلَا أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي، فَيَكُونُ لَهُ شُكْرًا. وَكُلُّ أَهْلِ النَّارِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ: لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي فَيَكُونُ لَهُ حَسْرَةً" [[سنن النسائي الكبرى كما في تحفة الأشراف للمزي برقم (١٢٤٩٢) ورواه أحمد في مسنده (٢/٥١٢) والحاكم في المستدرك (٢/٤٣٥) من طريق أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ بِهِ، وَقَالَ: "صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يخرجاه" ووافقه الذهبي.]]
وَلِهَذَا لَمَا أُورِثُوا مَقَاعِدَ أَهْلِ النَّارِ مِنَ الْجَنَّةِ نُودُوا: ﴿أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ أَيْ: بِسَبَبِ أَعْمَالِكُمْ نَالَتْكُمُ الرَّحْمَةُ فَدَخَلْتُمُ الْجَنَّةَ، وَتَبَوَّأْتُمْ مَنَازِلَكُمْ بِحَسَبِ أَعْمَالِكُمْ. وَإِنَّمَا وَجَبَ الْحَمْلُ عَلَى هَذَا لِمَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: "وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَدَكُمْ [[في أ: "أحدا".]] لَنْ يُدْخِلَهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ". قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي الله برحمة منه وفضل" [[صحيح البخاري برقم (٦٤٦٣) وصحيح مسلم برقم (٢٨١٦) من حديث أبي هريرة، رضي الله عنه.]]
وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمُ ٱلْأَنْهَٰرُ ۖ وَقَالُوا۟ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى هَدَىٰنَا لِهَٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِىَ لَوْلَآ أَنْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ ۖ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِٱلْحَقِّ ۖ وَنُودُوٓا۟ أَن تِلْكُمُ ٱلْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
And We will have removed whatever is within their breasts of resentment, [while] flowing beneath them are rivers. And they will say, "Praise to Allah, who has guided us to this; and we would never have been guided if Allah had not guided us. Certainly the messengers of our Lord had come with the truth." And they will be called, "This is Paradise, which you have been made to inherit for what you used to do."
اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ہم سب نکال ڈالیں گے۔ ان کے محلوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہم کو یہاں کا راستہ دکھایا اور اگر خدا ہم کو رستہ نہ دکھاتا تو ہم رستہ نہ پا سکتے۔ بےشک ہمارا پروردگار کے رسول حق بات لے کر آئے تھے اور (اس روز) منادی کر دی جائے گی کہ تم ان اعمال کے صلے میں جو دنیا میں کرتے تھے اس بہشت کے وارث بنا دیئے گئے ہو
و آنچه در دلها از کینه و حسد دارند، برمیکنیم (تا در صفا و صمیمیّت با هم زندگی کنند)؛ و از زیر (قصرها و درختان) آنها، نهرها جریان دارد؛ میگویند: «ستایش مخصوص خداوندی است که ما را به این (همه نعمتها) رهنمون شد؛ و اگر خدا ما را هدایت نکرده بود، ما (به اینها) راه نمییافتیم! مسلّماً فرستادگان پروردگار ما حق را آوردند!» و (در این هنگام) به آنان ندا داده میشود که: «این بهشت را در برابر اعمالی که انجام میدادید، به ارث بردید!»
Tafsir Ibn Kathir
But those who believed, and worked righteousness – We burden not any person beyond his scope – such are the dwellers of Paradise. They will abide therein (42)And We shall remove from their breasts any Ghill; rivers flowing under them, and they will say: "All the praises and thanks be to Allah, Who has guided us to this, and never could we have found guidance, were it not that Allah had guided us! Indeed, the Messengers of our Lord did come with the truth." And it will be cried out to them: "This is the Paradise which you have inherited for what you used to do. (43)
Destination of Righteous Believers
After Allah mentioned the condition of the miserable ones, He then mentioned the condition of the happy ones, saying,
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
(But those who believed, and worked righteousness)
Their hearts have believed and they performed good deeds with their limbs and senses, as compared to those who disbelieved in the Ayat of Allah and were arrogant with them. Allah also said that embracing faith and implementing it are easy, when He said,
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ - وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ
(But those who believed, and worked righteousness – We burden not any person beyond his scope – such are the dwellers of Paradise. They will abide therein. And We shall remove from their breasts any Ghill;) meaning, envy and hatred. Al-Bukhari recorded that Abu Sa'id Al-Khudri said that the Messenger of Allah ﷺ said,
إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ حُبِسُوا عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَاقْتُصَّ لَهُمْ مَظَالِمَ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ أَحَدَهُمْ بِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ أَدَلُّ مِنْهُ بِمَسْكَنِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا
(After the believers are saved from entering the Fire, they will be kept in wait by a bridge between Paradise and Hellfire. Then, transgression that occurred between them in the life of this world will be judged. Until, when they are purified and cleansed, they will be given permission to enter Paradise. By He in Whose Hand is my soul! One of them will be able to find his dwelling in Paradise more so than he did in the life of this world.) As-Suddi said about Allah's statement,
وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ
(And We shall remove from their breasts any Ghill; rivers flowing under them,)
"When the people of Paradise are taken to it, they will find a tree close to its door, and two springs from under the trunk of that tree. They will drink from one of them, and all hatred will be removed from their hearts, for it is the cleansing drink. They will take a bath in the other, and the brightness of delight will radiate from their faces. Ever after, they will never have messy hair or become dirty."
An-Nasa'i and Ibn Marduwyah (this being his wording) recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
كُلُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، فَيَقُولُ: لَوْلَا أَنَّ اللهَ هَدَانِي، فَيَكُونُ لَهُ شُكْرًا، وَكُلُّ أَهْلِ النَّارِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ: لَوْ أَنَّ اللهَ هَدَانِي، فَيَكُونُ لَهُ حَسْرَةً
(Each of the people of Paradise will see his seat in the Fire and he will say, 'Had not Allah guided me! And this will cause him to be grateful. Each of the people of the Fire will see his seat in Paradise, and he will say, 'Might that Allah had guided me!' So it will be a cause of anguish for him.)
This is why when the believers are awarded seats in Paradise that belonged to the people of the Fire, they will be told, "This is the Paradise that you inherited because of what you used to do. " This means, because of your good deeds, you earned Allah's mercy and thus entered Paradise and took your designated dwellings in it, comparable to your deeds. This is the proper meaning here, for it is recorded in the Two Sahihs that the Prophet ﷺ said,
وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَدَكُمْ لَنْ يُدْخِلَهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ
(And know that the good deeds of one of you will not admit him into Paradise.) They said, "Not even you, O Allah's Messenger?" He said,
وَلَا أَنَا إِلّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ
(Not even I, unless Allah grants it to me out of His mercy and favor.)
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل انسانی بس میں ہے ! اوپر گنہگاروں کا ذکر ہوا یہاں اب نیک بختوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ جن کے دل میں ایمان ہے اور جو اپنے جسم سے قرآن و حدیث کے مطابق کام کرتے ہیں بخلاف بدکاروں کے کہ وہ دل میں کفر رکھتے ہیں اور عمل سے دور بھاگتے ہیں۔ پھر فرمان ہے کہ ایمان اور نیکیاں انسان کے بس میں ہیں اللہ کے احکام انسانی طاقت سے زیادہ نہیں ہیں۔ ایسے لوگ جنتی ہیں اور ہمیشہ جنت میں ہی رہیں گے۔ ان کے دلوں میں سے آپس کی کدورتیں حد بغض دور کردیئے جائیں گے۔ چناچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ مومن آگ سے چھٹکارا حاصل کر کے جنت و دوزخ کے درمیان ایک ہی پل پر روک دیئے جائیں گے وہاں ان کے آپس کے مظالم کا بدلہ ہوجائے گا اور پاک ہو کر جنت میں جانے کی اجازت پائیں گے۔ واللہ وہ لوگ اپنے اپنے درجوں کو اور مکانوں کو اس طرح پہچان لیں گے جیسے دنیا میں جان لیتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ سدی ؒ سے مروی ہے کہ اہل جنت دروازہ جنت پر ایک درخت دیکھیں گے جس کی جڑوں کے پاس سے دو نہریں بہ رہی ہوں گی یہ ان میں سے ایک کا پانی پئیں گے جس سے دلوں کی کدورتیں دھل جائیں گی یہ شراب طہور ہے پھر دوسری نہر میں غسل کریں گے جس سے چہروں پر تروتازگی آجائے گی پھر نہ تو بال بکھریں نہ سرمہ لگانے اور سنگھار کرنے کی ضرورت پڑے۔ حضرت علی بن ابو طالب ؓ سے بھی اسی جیسا قول مروی ہے جو آیت (وَسِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا ۭ حَتّىٰٓ اِذَا جَاۗءُوْهَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَـــتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِيْنَ 73) 39۔ الزمر) کی تفسیر میں آئے گا ان شاء اللہ۔ آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ انشاء اللہ میں اور عثمان اور طلحہ اور زبیر ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے دل اللہ تعالیٰ صاف کر دے گا۔ فرماتے ہیں کہ ہم اہل بدر کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر جنتی کو اپنا جہنم کا ٹھکانا دکھایا جائے گا تاکہ وہ اور بھی شکر کرے اور وہ کہے گا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ہدایت عنایت فرمائی اور ہر جہنمی کو اس کا جنت کا ٹھکانا دکھایا جائے گا تاکہ اس کی حسرت بڑھے اس وقت وہ کہے گا کاش کہ میں بھی راہ یافتہ ہوتا۔ پھر جنتیوں کو جنت کی جگہیں دے دی جائیں گی اور ایک منادی ندا کرے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کے تم بہ سبب اپنی نیکیوں کے وارث بنا دیئے گئے یعنی تمہارے اعمال کی وجہ سے تمہیں رحمت رب ملی اور رحمت رب سے تم داخل جنت ہوئے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضور نے فرمایا یاد رکھو ! تم میں سے کوئی بھی صرف اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں نہیں جاسکتا لوگوں نے پوچھا آپ بھی نہیں ؟ فرمایا ہاں میں بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت و فضل میں ڈھانپ لے۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى حَالَ الْأَشْقِيَاءِ [[في أ: "ما للأشقياء".]] عَطَفَ بِذِكْرِ حَالِ السُّعَدَاءِ، فَقَالَ: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ أَيْ: آمَنَتْ قُلُوبُهُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ بِجَوَارِحِهِمْ، ضِدُّ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ، وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا.
وَيُنَبِّهُ [[في م، أ: "ونبه".]] تَعَالَى عَلَى أَنَّ الْإِيمَانَ وَالْعَمَلَ بِهِ سَهْلٌ؛ لِأَنَّهُ تَعَالَى قَالَ: ﴿لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ. وَنزعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ﴾ أَيْ: مِنْ حَسَدٍ وَبَغْضَاءَ، كَمَا جَاءَ فِي الصَّحِيحِ لِلْبُخَارِيِّ، مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي المتوكِّل النَّاجِي، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ حُبِسوا عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَاقْتَصَّ لَهُمْ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا، حَتَّى إِذَا هُذبوا وَنُقُّوا، أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ؛ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ أَحَدَهُمْ بِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ أَدُلُّ مِنْهُ بِمَسْكَنِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا" [[صحيح البخاري برقم (٢٤٤٠) .]]
وَقَالَ السُّدِّي فِي قَوْلِهِ: ﴿وَنزعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الأنْهَارُ﴾ الْآيَةَ: إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ إِذَا سَبَقُوا إِلَى الْجَنَّةِ فَبَلَغُوا، وَجَدُوا عِنْدَ بَابِهَا شَجَرَةً فِي أَصْلِ سَاقِهَا عَيْنَانِ، فَشَرِبُوا [[في م: "فيشربون".]] مِنْ إِحْدَاهُمَا، فَيُنْزَعُ مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ، فَهُوَ "الشَّرَابُ الطَّهُورُ"، وَاغْتَسَلُوا مِنَ الْأُخْرَى، فَجَرَتْ عَلَيْهِمْ "نَضْرَةُ النَّعِيمِ" فَلَمْ يَشْعَثُوا وَلَمْ يَشْحَبُوا بَعْدَهَا أَبَدًا.
وَقَدْ رَوَى أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ [[في ك، م، أ: "هذا".]] كَمَا سَيَأْتِي فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا﴾ [الزُّمَرِ: ٧٣] إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَبِهِ الثِّقَةُ وَعَلَيْهِ التُّكْلَانُ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: قَالَ عَلِيٌّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا وَعُثْمَانُ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِمْ: ﴿وَنزعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ﴾ رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: قَالَ عَلِيٌّ: فِينَا وَاللَّهِ أَهْلَ بَدْرٍ نَزَلَتْ: ﴿وَنزعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ﴾ [[تفسير عبد الرزاق (١/٢١٧) .]]
وَرَوَى النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَرْدُويه -وَاللَّفْظُ لَهُ -مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "كُلُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ فَيَقُولُ: لَوْلَا أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي، فَيَكُونُ لَهُ شُكْرًا. وَكُلُّ أَهْلِ النَّارِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ: لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي فَيَكُونُ لَهُ حَسْرَةً" [[سنن النسائي الكبرى كما في تحفة الأشراف للمزي برقم (١٢٤٩٢) ورواه أحمد في مسنده (٢/٥١٢) والحاكم في المستدرك (٢/٤٣٥) من طريق أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ بِهِ، وَقَالَ: "صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يخرجاه" ووافقه الذهبي.]]
وَلِهَذَا لَمَا أُورِثُوا مَقَاعِدَ أَهْلِ النَّارِ مِنَ الْجَنَّةِ نُودُوا: ﴿أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ أَيْ: بِسَبَبِ أَعْمَالِكُمْ نَالَتْكُمُ الرَّحْمَةُ فَدَخَلْتُمُ الْجَنَّةَ، وَتَبَوَّأْتُمْ مَنَازِلَكُمْ بِحَسَبِ أَعْمَالِكُمْ. وَإِنَّمَا وَجَبَ الْحَمْلُ عَلَى هَذَا لِمَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: "وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَدَكُمْ [[في أ: "أحدا".]] لَنْ يُدْخِلَهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ". قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي الله برحمة منه وفضل" [[صحيح البخاري برقم (٦٤٦٣) وصحيح مسلم برقم (٢٨١٦) من حديث أبي هريرة، رضي الله عنه.]]
وَنَادَىٰٓ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ أَصْحَٰبَ ٱلنَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّۭا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّۭا ۖ قَالُوا۟ نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلظَّٰلِمِينَ
And the companions of Paradise will call out to the companions of the Fire, "We have already found what our Lord promised us to be true. Have you found what your Lord promised to be true?" They will say, "Yes." Then an announcer will announce among them, "The curse of Allah shall be upon the wrongdoers."
اور اہل بہشت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ جو وعدہ ہمارے پروردگار نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچا پالیا۔ بھلا جو وعدہ تمہارے پروردگار نے تم سے کیا تھا تم نے بھی اسے سچا پایا؟ وہ کہیں گے ہاں تو (اس وقت) ان میں ایک پکارنے والا پکارے گا کہ بےانصافوں پر خدا کی لعنت
و بهشتیان دوزخیان را صدا میزنند که: «آنچه را پروردگارمان به ما وعده داده بود، همه را حق یافتیم؛ آیا شما هم آنچه را پروردگارتان به شما وعده داده بود حق یافتید؟!» گفتند: «بله!» در این هنگام، ندادهندهای در میان آنها ندا میدهد که: «لعنت خدا بر ستمگران باد!
Tafsir Ibn Kathir
And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)?" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers. (44)Those who hindered (men) from the path of Allah, and would seek to make it crooked, and they were disbelievers in the Hereafter (45)
People of Hellfire will feel Anguish upon Anguish
Allah mentioned how the people of the Fire will be addressed, chastised and admonished when they take their places in the Fire,
قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُوا نَعَمْ
("We (dwellers of Paradise) have indeed found true what our Lord had promised us; have you (dwellers of Hell) also found true what your Lord promised (warned)?" They shall say: "Yes.")
In Surat As-Saffat, Allah mentioned the one who had a disbelieving companion,
فَاطَّلَعَ فَرَآهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ - قَالَ تَاللَّهِ إِن كِدتَّ لَتُرْدِينِ - وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّي لَكُنتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ - أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ - إِلَّا مَوْتَتَنَا الْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
(So he looked down and saw him in the midst of the Fire. He said: "By Allah! You have nearly ruined me. Had it not been for the grace of my Lord, I would certainly have been among those brought forth (to Hell)." (The dwellers of Paradise will say!) "Are we then not to die (any more)? Except our first death, and we shall not be punished?")[37:55-59].
Allah will punish the disbeliever for the claims he used to utter in this life. The angels will also admonish the disbelievers, saying,
هَٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ - أَفَسِحْرٌ هَٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ - اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(This is the Fire which you used to belie. Is this magic or do you not see? Taste you therein its heat and whether you are patient of it or impatient of it, it is all the same. You are only being requited for what you used to do)[52:14-16].
The Messenger of Allah ﷺ admonished the inhabitants of the well at Badr:
يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَيَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَيَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ - وَسَمَّى رُؤُوسَهُمْ - هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا
(O Abu Jahl bin Hisham! O 'Utbah bin Rabi'ah! O Shaybah bin Rabi'ah (and he called their leaders by name)! Have you found what your Lord promised to be true (the Fire)? I certainly found what my Lord has promised me to be true (victory).)
'Umar said, "O Allah's Messenger! Do you address a people who have become rotten carrion?" He ﷺ said,
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا
(By He in Whose Hand is my soul! You do not hear what I am saying better than they do, but they cannot reply.) Allah's statement,
فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ
(Then a crier will proclaim between them) will herald and announce,
أَن لَّعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
(The curse of Allah is on the wrongdoers) meaning, the curse will reside with the wrongdoers. Allah then described them by saying,
الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا
(Those who hindered (men) from the path of Allah, and would seek to make it crooked) meaning, they hindered the people from following Allah's path, His Law, and what the Prophets brought. They sought to make Allah's path appear crooked and winding, so that no one would follow it. Allah said,
وَهُم بِالْآخِرَةِ كَافِرُونَ
(and they were disbelievers in the Hereafter)
They disbelieved in the Meeting with Allah in the Hereafter, They used to deny this will ever occur, not accepting it nor believing in it. This is why they used to discount the seriousness of the evil deeds and statements that they committed, because they did not fear any reckoning or punishment. Therefore, they were and are indeed the worst people in statement and action.
Tafsir Ibn Kathir
جنتیوں اور دوزخیوں میں مکالمہ جنتی جب جنت میں جا کر امن چین سے بیٹھ جائیں گے تو دوزخیوں کو شرمندہ کرنے کیلئے ان سے دریافت فرمائیں گے کہ ہم نے تو اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے کئے گئے تھے صحیح پایا تم اپنی کہو۔ ان یہاں پر منسرہ ہے قول محذوف کا اور قد تحقیق کیلئے ہے۔ اس کے جواب میں مشرکین ندامت سے کہیں گے کہ ہاں ہم نے بھی اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے تھے ٹھیک پایا۔ جیسا سورة صافات میں فرمان ہے کہ اہل جنت میں سے ایک کہے گا کہ میرا ایک ساتھی تھا جو مجھ سے تعجب کے ساتھ سوال کیا کرتا تھا کہ کیا تو بھی ان لوگوں میں سے ہے جو قیامت کے قائل ہیں ؟ کیا جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے اور ہڈیاں ہو کر رہ جائیں گے کیا واقعہ ہی ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے ؟ اور ہمیں بدلے دیئے جائیں گے ؟ یہ کہہ کر وہ اوپر سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے اس ساتھی کو بیچ جہنم میں پائے گا کہے گا قسم اللہ کی تو تو مجھے بھی تباہ کرنے ہی کو تھا اگر میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو میں بھی آج گرفتار عذاب ہوتا۔ اب بتاؤ دنیا میں جو کہا کرتا تھا کیا سچا تھا کہ ہم مر کر جینے والے اور بدلہ بھگتنے والے ہی نہیں ؟ اس وقت فرشتے کہیں گے یہی وہ جہنم ہے جسے تم جھوٹا مان رہے تھے اب بتاؤ کیا یہ جادو ہے ؟ یا تمہاری آنکھیں نہیں ہیں ؟ اب یہاں پڑے جلتے بھنتے رہو صبر اور بےصبری دونوں نتیجے کے اعتبار سے تمہارے لئے یکساں ہے۔ تمہیں اپنے کئے کا بدلہ پانا ہی ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے کفار قریش کے ان مقتولوں کو جو بدر میں کام آئے تھے اور جن کی لاشیں ایک کھائی میں تھیں ڈانٹا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ اے ابو جہل بن ہشام، اے عتبہ بن ربیعہ، اے شیبہ بن ربیعہ اور دوسرے سرداروں کا بھی نام لیا اور فرمایا کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ؟ میں نے تو اپنے رب کے وہ وعدے دیکھ لئے جو اس نے مجھ سے کئے تھے۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ ! آپ ان سے باتیں کر رہے ہیں جو مر کر مردار ہوگئے ؟ تو آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میری بات کو تم بھی ان سے زیادہ نہیں سن رہے لیکن وہ جواب نہیں دے سکتے۔ پھر فرماتا ہے کہ اسی وقت ایک منادی ندا کر کے معلوم کرا دے گا کہ ظالموں پر رب کی ابدی لعنت واقع ہوچکی۔ جو لوگوں کو راہ حق اور شریعت ہدیٰ سے روکتے تھے اور چاہتے تھے کہ اللہ کی شریعت ٹیڑھی کردیں تاکہ اس پر کوئی عمل نہ کرے۔ آخرت پر بھی انہیں یقین نہ تھا اللہ کی ملاقات کو نہیں مانتے تھے اسی لئے بےپرواہی سے برائیاں کرتے تھے۔ حساب کا ڈر نہ تھا اس لئے سب سے زیادہ بد زبان اور بد اعمال تھے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى بِمَا يُخَاطِبُ أَهْلُ الْجَنَّةِ أَهْلَ النَّارِ إِذَا اسْتَقَرُّوا فِي مَنَازِلِهِمْ، وَذَلِكَ عَلَى وَجْهِ التَّقْرِيعِ وَالتَّوْبِيخِ: ﴿أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا [فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا] ﴾ [[زيادة من ك، م.]] أَنْ" هَاهُنَا مفسِّرة لِلْقَوْلِ الْمَحْذُوفِ، وَ"قَدْ" لِلتَّحْقِيقِ، أَيْ: قَالُوا لَهُمْ: ﴿قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُوا نَعَمْ﴾ كَمَا أَخْبَرَ تَعَالَى فِي سُورَةِ "الصَّافَّاتِ" عَنِ الَّذِي كَانَ لَهُ قَرِينٌ مِنَ الْكُفَّارِ: ﴿فَاطَّلَعَ فَرَآهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ * قَالَ تَاللَّهِ إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ * وَلَوْلا نِعْمَةُ رَبِّي لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ * أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ * إِلا مَوْتَتَنَا الأولَى وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ﴾ [الآيات:٥٥-٥٩] أَيْ: يُنْكِرُ عَلَيْهِ مَقَالَتَهُ الَّتِي يَقُولُهَا فِي الدُّنْيَا، وَيُقَرِّعُهُ بِمَا صَارَ إِلَيْهِ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ، وَكَذَا [[في م: "وكذلك".]] تُقَرِّعُهُمُ الْمَلَائِكَةُ يَقُولُونَ لَهُمْ: ﴿هَذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُونَ * أَفَسِحْرٌ هَذَا أَمْ أَنْتُمْ لَا تُبْصِرُونَ * اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ [الطُّورِ:١٤-١٦] وَكَذَلِكَ قَرَّعَ رسولُ اللَّهِ ﷺ قَتْلَى الْقَلِيبِ يَوْمَ بَدْرٍ، فَنَادَى: "يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَيَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ -وَسَمَّى رُءُوسَهُمْ-: هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا". وَقَالَ [[في ك، م: "فقال".]] عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُخَاطِبُ قَوْمًا قَدْ جَيفوا؟ فَقَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ، وَلَكِنْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا". [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٣٩٨٠) ومسلم في صحيحه برقم (٩٣٢) من حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ﴾ أَيْ: أَعْلَمَ مُعْلِمٌ وَنَادَى مُنَاد: ﴿أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: مُسْتَقِرَّةٌ عَلَيْهِمْ.
ثُمَّ وَصَفَهُمْ بِقَوْلِهِ: ﴿الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا﴾ أَيْ: يَصُدُّونَ النَّاسَ عَنِ اتِّبَاعِ سَبِيلِ اللَّهِ وَشَرْعِهِ وَمَا جَاءَتْ بِهِ الْأَنْبِيَاءُ، وَيَبْغُونَ أَنْ تَكُونَ السَّبِيلُ مُعْوَجَّةً غَيْرَ مُسْتَقِيمَةٍ، حَتَّى لَا يَتَّبِعَهَا أَحَدٌ. ﴿وَهُمْ بِالآخِرَةِ كَافِرُونَ﴾ أَيْ: وَهُمْ بِلِقَاءِ اللَّهِ فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ كَافِرُونَ، أَيْ: جَاحِدُونَ مُكَذِّبُونَ بِذَلِكَ لَا يُصَدِّقُونَهُ وَلَا يُؤْمِنُونَ بِهِ. فَلِهَذَا لَا يُبَالُونَ بِمَا يَأْتُونَ مِنْ مُنْكَرٍ مِنَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ؛ لِأَنَّهُمْ لَا يَخَافُونَ حِسَابًا عَلَيْهِ، وَلَا عِقَابًا، فَهُمْ شَرُّ النَّاسِ أَعْمَالًا وَأَقْوَالًا.
ٱلَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًۭا وَهُم بِٱلْءَاخِرَةِ كَٰفِرُونَ
Who averted [people] from the way of Allah and sought to make it [seem] deviant while they were, concerning the Hereafter, disbelievers.
جو خدا کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے اور آخرت سے انکار کرتے تھے
همانها که (مردم را) از راه خدا بازمیدارند، و (با القای شبهات) میخواهند آن را کج و معوج نشان دهند؛ و آنها به آخرت کافرند!»
Tafsir Ibn Kathir
And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)?" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers. (44)Those who hindered (men) from the path of Allah, and would seek to make it crooked, and they were disbelievers in the Hereafter (45)
People of Hellfire will feel Anguish upon Anguish
Allah mentioned how the people of the Fire will be addressed, chastised and admonished when they take their places in the Fire,
قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُوا نَعَمْ
("We (dwellers of Paradise) have indeed found true what our Lord had promised us; have you (dwellers of Hell) also found true what your Lord promised (warned)?" They shall say: "Yes.")
In Surat As-Saffat, Allah mentioned the one who had a disbelieving companion,
فَاطَّلَعَ فَرَآهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ - قَالَ تَاللَّهِ إِن كِدتَّ لَتُرْدِينِ - وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّي لَكُنتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ - أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ - إِلَّا مَوْتَتَنَا الْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
(So he looked down and saw him in the midst of the Fire. He said: "By Allah! You have nearly ruined me. Had it not been for the grace of my Lord, I would certainly have been among those brought forth (to Hell)." (The dwellers of Paradise will say!) "Are we then not to die (any more)? Except our first death, and we shall not be punished?")[37:55-59].
Allah will punish the disbeliever for the claims he used to utter in this life. The angels will also admonish the disbelievers, saying,
هَٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ - أَفَسِحْرٌ هَٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ - اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(This is the Fire which you used to belie. Is this magic or do you not see? Taste you therein its heat and whether you are patient of it or impatient of it, it is all the same. You are only being requited for what you used to do)[52:14-16].
The Messenger of Allah ﷺ admonished the inhabitants of the well at Badr:
يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَيَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَيَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ - وَسَمَّى رُؤُوسَهُمْ - هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا
(O Abu Jahl bin Hisham! O 'Utbah bin Rabi'ah! O Shaybah bin Rabi'ah (and he called their leaders by name)! Have you found what your Lord promised to be true (the Fire)? I certainly found what my Lord has promised me to be true (victory).)
'Umar said, "O Allah's Messenger! Do you address a people who have become rotten carrion?" He ﷺ said,
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا
(By He in Whose Hand is my soul! You do not hear what I am saying better than they do, but they cannot reply.) Allah's statement,
فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ
(Then a crier will proclaim between them) will herald and announce,
أَن لَّعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
(The curse of Allah is on the wrongdoers) meaning, the curse will reside with the wrongdoers. Allah then described them by saying,
الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا
(Those who hindered (men) from the path of Allah, and would seek to make it crooked) meaning, they hindered the people from following Allah's path, His Law, and what the Prophets brought. They sought to make Allah's path appear crooked and winding, so that no one would follow it. Allah said,
وَهُم بِالْآخِرَةِ كَافِرُونَ
(and they were disbelievers in the Hereafter)
They disbelieved in the Meeting with Allah in the Hereafter, They used to deny this will ever occur, not accepting it nor believing in it. This is why they used to discount the seriousness of the evil deeds and statements that they committed, because they did not fear any reckoning or punishment. Therefore, they were and are indeed the worst people in statement and action.
Tafsir Ibn Kathir
جنتیوں اور دوزخیوں میں مکالمہ جنتی جب جنت میں جا کر امن چین سے بیٹھ جائیں گے تو دوزخیوں کو شرمندہ کرنے کیلئے ان سے دریافت فرمائیں گے کہ ہم نے تو اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے کئے گئے تھے صحیح پایا تم اپنی کہو۔ ان یہاں پر منسرہ ہے قول محذوف کا اور قد تحقیق کیلئے ہے۔ اس کے جواب میں مشرکین ندامت سے کہیں گے کہ ہاں ہم نے بھی اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے تھے ٹھیک پایا۔ جیسا سورة صافات میں فرمان ہے کہ اہل جنت میں سے ایک کہے گا کہ میرا ایک ساتھی تھا جو مجھ سے تعجب کے ساتھ سوال کیا کرتا تھا کہ کیا تو بھی ان لوگوں میں سے ہے جو قیامت کے قائل ہیں ؟ کیا جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے اور ہڈیاں ہو کر رہ جائیں گے کیا واقعہ ہی ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے ؟ اور ہمیں بدلے دیئے جائیں گے ؟ یہ کہہ کر وہ اوپر سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے اس ساتھی کو بیچ جہنم میں پائے گا کہے گا قسم اللہ کی تو تو مجھے بھی تباہ کرنے ہی کو تھا اگر میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو میں بھی آج گرفتار عذاب ہوتا۔ اب بتاؤ دنیا میں جو کہا کرتا تھا کیا سچا تھا کہ ہم مر کر جینے والے اور بدلہ بھگتنے والے ہی نہیں ؟ اس وقت فرشتے کہیں گے یہی وہ جہنم ہے جسے تم جھوٹا مان رہے تھے اب بتاؤ کیا یہ جادو ہے ؟ یا تمہاری آنکھیں نہیں ہیں ؟ اب یہاں پڑے جلتے بھنتے رہو صبر اور بےصبری دونوں نتیجے کے اعتبار سے تمہارے لئے یکساں ہے۔ تمہیں اپنے کئے کا بدلہ پانا ہی ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے کفار قریش کے ان مقتولوں کو جو بدر میں کام آئے تھے اور جن کی لاشیں ایک کھائی میں تھیں ڈانٹا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ اے ابو جہل بن ہشام، اے عتبہ بن ربیعہ، اے شیبہ بن ربیعہ اور دوسرے سرداروں کا بھی نام لیا اور فرمایا کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ؟ میں نے تو اپنے رب کے وہ وعدے دیکھ لئے جو اس نے مجھ سے کئے تھے۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ ! آپ ان سے باتیں کر رہے ہیں جو مر کر مردار ہوگئے ؟ تو آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میری بات کو تم بھی ان سے زیادہ نہیں سن رہے لیکن وہ جواب نہیں دے سکتے۔ پھر فرماتا ہے کہ اسی وقت ایک منادی ندا کر کے معلوم کرا دے گا کہ ظالموں پر رب کی ابدی لعنت واقع ہوچکی۔ جو لوگوں کو راہ حق اور شریعت ہدیٰ سے روکتے تھے اور چاہتے تھے کہ اللہ کی شریعت ٹیڑھی کردیں تاکہ اس پر کوئی عمل نہ کرے۔ آخرت پر بھی انہیں یقین نہ تھا اللہ کی ملاقات کو نہیں مانتے تھے اسی لئے بےپرواہی سے برائیاں کرتے تھے۔ حساب کا ڈر نہ تھا اس لئے سب سے زیادہ بد زبان اور بد اعمال تھے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى بِمَا يُخَاطِبُ أَهْلُ الْجَنَّةِ أَهْلَ النَّارِ إِذَا اسْتَقَرُّوا فِي مَنَازِلِهِمْ، وَذَلِكَ عَلَى وَجْهِ التَّقْرِيعِ وَالتَّوْبِيخِ: ﴿أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا [فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا] ﴾ [[زيادة من ك، م.]] أَنْ" هَاهُنَا مفسِّرة لِلْقَوْلِ الْمَحْذُوفِ، وَ"قَدْ" لِلتَّحْقِيقِ، أَيْ: قَالُوا لَهُمْ: ﴿قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُوا نَعَمْ﴾ كَمَا أَخْبَرَ تَعَالَى فِي سُورَةِ "الصَّافَّاتِ" عَنِ الَّذِي كَانَ لَهُ قَرِينٌ مِنَ الْكُفَّارِ: ﴿فَاطَّلَعَ فَرَآهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ * قَالَ تَاللَّهِ إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ * وَلَوْلا نِعْمَةُ رَبِّي لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ * أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ * إِلا مَوْتَتَنَا الأولَى وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ﴾ [الآيات:٥٥-٥٩] أَيْ: يُنْكِرُ عَلَيْهِ مَقَالَتَهُ الَّتِي يَقُولُهَا فِي الدُّنْيَا، وَيُقَرِّعُهُ بِمَا صَارَ إِلَيْهِ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ، وَكَذَا [[في م: "وكذلك".]] تُقَرِّعُهُمُ الْمَلَائِكَةُ يَقُولُونَ لَهُمْ: ﴿هَذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُونَ * أَفَسِحْرٌ هَذَا أَمْ أَنْتُمْ لَا تُبْصِرُونَ * اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ [الطُّورِ:١٤-١٦] وَكَذَلِكَ قَرَّعَ رسولُ اللَّهِ ﷺ قَتْلَى الْقَلِيبِ يَوْمَ بَدْرٍ، فَنَادَى: "يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَيَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ -وَسَمَّى رُءُوسَهُمْ-: هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا". وَقَالَ [[في ك، م: "فقال".]] عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُخَاطِبُ قَوْمًا قَدْ جَيفوا؟ فَقَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ، وَلَكِنْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا". [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٣٩٨٠) ومسلم في صحيحه برقم (٩٣٢) من حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ﴾ أَيْ: أَعْلَمَ مُعْلِمٌ وَنَادَى مُنَاد: ﴿أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: مُسْتَقِرَّةٌ عَلَيْهِمْ.
ثُمَّ وَصَفَهُمْ بِقَوْلِهِ: ﴿الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا﴾ أَيْ: يَصُدُّونَ النَّاسَ عَنِ اتِّبَاعِ سَبِيلِ اللَّهِ وَشَرْعِهِ وَمَا جَاءَتْ بِهِ الْأَنْبِيَاءُ، وَيَبْغُونَ أَنْ تَكُونَ السَّبِيلُ مُعْوَجَّةً غَيْرَ مُسْتَقِيمَةٍ، حَتَّى لَا يَتَّبِعَهَا أَحَدٌ. ﴿وَهُمْ بِالآخِرَةِ كَافِرُونَ﴾ أَيْ: وَهُمْ بِلِقَاءِ اللَّهِ فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ كَافِرُونَ، أَيْ: جَاحِدُونَ مُكَذِّبُونَ بِذَلِكَ لَا يُصَدِّقُونَهُ وَلَا يُؤْمِنُونَ بِهِ. فَلِهَذَا لَا يُبَالُونَ بِمَا يَأْتُونَ مِنْ مُنْكَرٍ مِنَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ؛ لِأَنَّهُمْ لَا يَخَافُونَ حِسَابًا عَلَيْهِ، وَلَا عِقَابًا، فَهُمْ شَرُّ النَّاسِ أَعْمَالًا وَأَقْوَالًا.
وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌۭ ۚ وَعَلَى ٱلْأَعْرَافِ رِجَالٌۭ يَعْرِفُونَ كُلًّۢا بِسِيمَىٰهُمْ ۚ وَنَادَوْا۟ أَصْحَٰبَ ٱلْجَنَّةِ أَن سَلَٰمٌ عَلَيْكُمْ ۚ لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ
And between them will be a partition, and on [its] elevations are men who recognize all by their mark. And they call out to the companions of Paradise, "Peace be upon you." They have not [yet] entered it, but they long intensely.
ان دونوں (یعنی بہشت اور دوزخ) کے درمیان (اعراف نام) ایک دیوار ہو گی اور اعراف پر کچھ آدمی ہوں گے جو سب کو ان کی صورتوں سے پہچان لیں گے۔ تو وہ اہل بہشت کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ لوگ بھی بہشت میں داخل تو نہیں ہوں گے مگر امید رکھتے ہوں گے
و در میان آن دو [= بهشتیان و دوزخیان]، حجابی است؛ و بر «اعراف» مردانی هستند که هر یک از آن دو را از چهرهشان میشناسند؛ و به بهشتیان صدا میزنند که: «درود بر شما باد!» امّا داخل بهشت نمیشوند، در حالی که امید آن را دارند.
Tafsir Ibn Kathir
And between them will be a (barrier) screen and on Al-A'raf will be men, who would recognize all, by their marks. And they will call out to the dwellers of Paradise, "Peace be on you" and at that time they will not yet have entered it (Paradise), but they will hope to enter (it)(46)And when their eyes will be turned towards the dwellers of the Fire, they will say: "Our Lord! Place us not with the people who are wrongdoers. (47)
The People of Al-A'raf
After Allah mentioned that the people of Paradise will address the people of the Fire, He stated that there is a barrier between Paradise and the Fire, which prevents the people of the Fire from reaching Paradise. Ibn Jarir said, "It is the wall that Allah described,
فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍ لَّهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِن قِبَلِهِ الْعَذَابُ
(So a wall will be put up between them, with a gate therein. Inside it will be mercy, and outside it will be torment.)[57:13] It is also about Al-A'raf that Allah said,
وَعَلَى الْأَعْرَافِ رِجَالٌ
(and on Al-A'raf will be men)." Ibn Jarir recorded that As-Suddi said about Allah's statement,
وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ
(And between them will be a screen) "It is the wall, it is Al-A'raf." Mujahid said, "Al-A'raf is a barrier between Paradise and the Fire, a wall that has a gate."
Ibn Jarir said, "Al-A'raf is plural for 'Urf, where every elevated piece of land is known as 'Urf to the Arabs."
As-Suddi said, "Al-A'raf is so named because its residents recognize (Ya'rifun) the people. Al-A'raf's residents are those whose good and bad deeds are equal, as Hudhayfah, Ibn 'Abbas, Ibn Mas'ud and several of the Salaf and later generations said." Ibn Jarir recorded that Hudhayfah was asked about the people of Al-A'raf and he said, "A people whose good and bad deeds are equal. Their evil deeds prevented them from qualifying to enter Paradise, and their good deeds qualified them to avoid the Fire. Therefore, they are stopped there on the wall until Allah judges them."
Ma'mar said that Al-Hasan recited this Ayah,
لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ
(and at that time they will not yet have entered it (Paradise), but they will hope to enter (it).)
Then he said, "By Allah! Allah did not put this hope in their hearts, except for an honor that He intends to bestow on them." Qatadah said; "Those who hope are those among you whom Allah informed of their places." Allah said next,
وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
(And when their eyes will be turned towards the dwellers of the Fire, they will say: "Our Lord! Place us not with the people who are wrongdoers.")
Ad-Dahhak reported that Ibn 'Abbas said, "When the people of Al-A'raf look at the people of the Fire and recognize them, they will supplicate, 'O Lord! Do not place us with the people who are wrongdoers.'"
Tafsir Ibn Kathir
جنت اور جہنم میں دیوار و حجاب جنتیوں اور دوزخیوں کی بات بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ جنت دوزخ کے درمیان ایک اور حجاب حد فاصل اور دیوار ہے کہ دوزخیوں کو جنت سے فاصلے پر رکھے اسی دیوار کا ذکر آیت (فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ ۭ بَاطِنُهٗ فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَاب 13) 57۔ الحدید) ، میں ہے یعنی ان کے درمیان ایک دیوار ہائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہے۔ اس کے اندر رحمت ہے اور باہر عذاب ہے۔ اسی کا نام (اعراف) ہے۔ (اعراف) (عرف) کی جمع ہے ہر اونچی زمین کو عرب میں عرفہ کہتے ہیں اسی لئے مرغ کے سر کی کلنگ کو بھی عرب میں (عرف الدیک) کہا جاتا ہے کیونکہ اونچی جگہ ہوتا ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ ایک اونچی جگہ ہے جنت دوزخ کے درمیان جہاں کچھ لوگ روک دیئے جائیں گے۔ سدی فرماتے ہیں اس کا نام اعراف اس لئے رکھا گیا ہے کہ یہاں کے لوگ اور لوگوں کو جانتے پہچانتے ہیں۔ یہاں کون لوگ ہوں گے ؟ اس میں بہت سے اقوال ہیں سب کا حاصل یہ ہے کہ وہ یہ لوگ ہوں گے جن کے گناہ اور نیکیاں برباد ہوں گی بعض سلف سے بھی یہی منقول ہے۔ حضرت حذیفہ حضرت ابن عباس حضرت ابن مسعود وغیرہ نے یہی فرمایا ہے۔ یہی بعد والے مفسرین کا قول ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے لیکن سنداً وہ حدیث غریب ہے اور سند سے مروی ہے کہ حضور سے جب ان لوگوں کی بابت جن کی نیکیاں بدیاں برابر ہوں اور جو اعراف والے ہیں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ وہ نافرمان لوگ ہیں جو اپنے باپ کی اجازت بغیر پھر اللہ کی راہ میں قتل کردیئے گئے اور روایت میں ہے کہ یہ لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے اور اپنے والدین کے نافرمان تھے تو جنت میں جانے سے باپ کی نافرمانی نے روک دیا اور جہنم میں جانے سے شہادت نے روک دیا۔ ابن ماجہ وغیرہ میں بھی یہ روایتیں ہیں۔ اب اللہ ہی کو ان کی صحت کا علم ہے بہت ممکن ہے کہ یہ موقوف روایتیں ہوں۔ بہر صورت ان سے اصحاب اعراف کا حال معلوم ہو رہا ہے۔ حضرت حذیفہ سے جب ان کی بابت سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں بدیاں برابر برابر تھیں۔ برائیوں کی وجہ سے جنت میں نہ جاسکے اور نیکیوں کی وجہ سے جہنم سے بچ گئے پس یہاں آڑ میں روک دیئے جائیں گے یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ ان کے بارے میں سرزد ہو اور آیت میں آپ سے مروی ہے کہ یہ دوزخیوں کو دیکھ دیکھ کر ڈر رہے ہوں گے اور اللہ سے نجات طلب کر رہے ہوں گے کہ ناگاہ انکا رب ان کی طرف دیکھے گا اور فرمائے گا جاؤ جنت میں داخل ہوجاؤ میں نے تمہیں بخشا۔ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں قیامت کے دن لوگوں کا حساب ہوگا ایک نیکی بھی اگر برائیوں سے بڑھ گئی تو داخل جنت ہوگا اور ایک برائی بھی اگر نیکیوں سے زیادہ ہوگئی تو دوزخ میں جائے گا پھر آپ نے آیت (فمن ثقلت موازینہ) سے دو آیتوں تک تلاوت کیں اور فرمایا ایک رائی کے دانے کے برابر کی کمی زیادتی ہے میزان کا پلڑا ہلکا بھاری ہوجاتا ہے اور جن کی نیکیاں بدیاں برابر برابر ہوئیں یہ اعراف والے ہیں یہ ٹھہرا لئے جائیں گے اور جنتی دوزخی مشہور ہوجائیں گے یہ جب جنت کو دیکھیں گے تو اہل جنت پر سلام کریں گے اور جب جہنم کو دیکھیں گے تو اللہ سے پناہ طلب کریں گے۔ نیک لوگوں کو نور ملے گا جو ان کے آگے اور ان کے داہنے موجود رہے گا ہر انسان کو وہ مرد ہوں خواہ عورتیں ہوں ایک نور ملے گا لیکن پل صراط پر منافقوں کا نور چھین لیا جائے گا اس وقت سچے مومن اللہ سے اپنے نور کے باقی رہنے کی دعائیں کریں گے۔ اعراف والوں کا نور چھینا نہیں جائے گا وہ ان کے آگے آگے موجود ہوگا انہیں جنت میں جانے کی طمع ہوگی، لوگوں ایک نیکی دس گنی کر کے لکھی جاتی ہے اور برائی اتنی ہی لکھی جاتی ہے جتنی ہو، افسوس ان پر جن کی اکائیاں دہائیوں پر غالب آجائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ اعراف ایک دیوار ہے جو جنت دوزخ کے درمیان ہے اصحاب اعراف وہیں ہوں گے۔ جب انہیں عافیت دینے کا اللہ کا ارادہ ہوگا تو حکم ملے گا انہیں ہر حیات کی طرف لے جاؤ اس کے دونوں کناروں پر سونے کے خیمے ہوں گے جو موتیوں سے مرصع ہوں گے اس کی مٹی مشک خالص ہوگی اس میں غوطہ لگاتے ہی ان کی رنگتیں نکھر جائیں گی اور ان کی گردنوں پر ایک سفید چمکیلا نشان ہوجائے گا جس سے وہ پہچان لئے جائیں یہ اللہ کے سامنے لائے جائیں گے اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو چاہو مانگو یہ مانگیں گے یہاں تک کہ ان کی تمام تمنائیں اللہ تعالیٰ پوری کر دے گا پھر فرمائے گا ان جیسی ستر گنا اور نعمتیں بھی میں نے تمہیں دیں۔ پھر یہ جنت میں جائیں گے، وہ علامت ان پر موجود ہوگی جنت میں ان کا نام مساکین اہل جنت ہوگا، یہی روایت حضرت مجاہد کے اپنے قول سے بھی مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ ایک حسن سند کی مرسل حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ سے اعراف والوں کی نسبت دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ان کا فیصلہ سب سے آخر میں ہوگا، رب العالمین جب اپنے بندوں کے فیصلے کرچکے گا تو ان سے فرمائے گا کہ تم لوگوں کو تمہاری نیکیوں نے دوزخ سے تو محفوظ کرلیا لیکن تم جنت میں جانے کے حقدار ثابت نہیں ہوئے اب تم کو میں اپنی طرف سے آزاد کرتا ہوں جاؤ جنت میں رہو سہو اور جہاں چاہو کھاؤ پیو، یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ زنا کی اولاد ہیں۔ ابن عساکر میں فرمان نبی ہے کہ مومن جنوں کو ثواب ہے اور ان میں سے جو برے ہیں انہیں عذاب بھی ہوگا، ہم نے ان کے ثواب اور ان کے ایمانداروں کے بابت حضور سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا وہ اعراف میں ہوں گے جنت میں میری امت کے ساتھ نہ ہوں گے ہم نے پوچھا یا رسول اللہ اعراف کیا ہے ؟ فرمایا جنت کا ایک باغ جہاں نہریں جاری ہیں اور پھل پک رہے ہیں (بیہقی) حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ صالح دینار فقہاء علما لوگ ہوں گے ابو مجاز فرماتے ہیں یہ فرشتے ہیں جنت دوزخ والوں کو جانتے ہیں پھر آپ نے ان آیتوں کے تلاوت کی اور فرمایا سب جنتی جنت میں جانے لگیں گے تو کہا جائے گا کہ تم امن وامان کے ساتھ بےخوف و خطر ہو کر جنت میں جاؤ۔ اس کی سند گو ٹھیک ہے لیکن یہ قول بہت غریب ہے کیونکہ روانی عبارت بھی اس کے خلاف ہے اور جمہور کا قول ہی مقدم ہے کیونکہ آیت کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہے۔ حضرت مجاہد کا قول بھی جو اوپر بیان ہوا غرابت سے خالی نہیں واللہ اعلم۔ قرطبی ؒ نے اس میں بارہ قول نقل کئے ہیں۔ صلحاء، انبیاء، ملائیکہ وغیرہ۔ یہ جنتیوں کو ان کے چہرے کی رونق اور سفیدی سے اور دوزخیوں کو ان کے چہرے کی سیاہی سے پہچان لیں گے یہ یہاں اسی لئے ہیں کہ ہر ایک کا امتیاز کرلیں اور سب کو پہچان لیں یہ جنتیوں سے سلام کریں گے جنتیوں کو دیکھ دیکھ کر اللہ کی پناہ چائیں گے اور طمع رکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں بھی بہشت بریں میں پہنچا دے یہ طمع ان کے دل میں اللہ نے اسی لئے ڈالا ہے کہ اس کا ارادہ انہیں جنت میں لے جانے کا ہوچکا ہے۔ جب وہ اہل دوزخ کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پروردگار ہمیں ظالموں میں سے نہ کر۔ جب کوئی جماعت جہنم میں پہنچائی جاتی ہے تو یہ اپنے بچاؤ کی دعائیں کرنے لگتے ہیں جہنم سے ان کے چہرے کوئلے جیسے ہوجائیں گے لیکن جب جنت والوں کو دیکھیں گے تو یہ چیز چہروں سے دور ہوجائے گی جنتیوں کے چہروں کی پہچان نورانیت ہوگی اور دوزخیوں کے چہروں پر سیاہی اور آنکھوں میں بھینگا پن ہوگا۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى مُخَاطَبَةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ مَعَ أَهْلِ النَّارِ، نَبَّه أَنَّ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ حِجَابًا، وَهُوَ الْحَاجِزُ الْمَانِعُ مِنْ وُصُولِ أَهْلِ النَّارِ إِلَى الْجَنَّةِ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَهُوَ السُّورُ الَّذِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ﴾ [الْحَدِيدِ:١٣] وَهُوَ الْأَعْرَافُ الَّذِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَعَلَى الأعْرَافِ رِجَالٌ﴾
ثُمَّ رَوَى بِإِسْنَادِهِ عَنِ السُّدِّيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ [تَعَالَى] [[زيادة من ك.]] ﴿وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ﴾ وَهُوَ "السُّورُ"، وهو "الأعراف".
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الْأَعْرَافُ: حِجَابٌ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، سُورٌ لَهُ بَابٌ. قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَالْأَعْرَافُ جَمْعُ "عُرْف"، وَكُلُّ مُرْتَفَعٍ مِنَ الْأَرْضِ عِنْدَ الْعَرَبِ يُسَمَّى "عُرْفًا"، وَإِنَّمَا قِيلَ لِعُرْفِ الدِّيكِ عُرْفًا لِارْتِفَاعِهِ.
وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيع، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيد اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: الْأَعْرَافُ هُوَ الشَّيْءُ الْمُشْرِفُ.
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: الْأَعْرَافُ: سُورٌ كعُرْف الدِّيكِ.
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: الْأَعْرَافُ، تَلٌّ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، حُبِسَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الذُّنُوبِ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ. وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: هُوَ سُورٌ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ. وَكَذَلِكَ قَالَ الضَّحَّاكُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَاءِ التَّفْسِيرِ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: إِنَّمَا سُمِّيَ "الْأَعْرَافُ" أَعْرَافًا؛ لِأَنَّ أَصْحَابَهُ يَعْرِفُونَ النَّاسَ.
وَاخْتَلَفَتْ عِبَارَاتُ الْمُفَسِّرِينَ فِي أَصْحَابِ الْأَعْرَافِ مَنْ هُمْ، وَكُلُّهَا قَرِيبَةٌ تَرْجِعُ إِلَى مَعْنًى وَاحِدٍ، وَهُوَ أَنَّهُمْ قَوْمٌ اسْتَوَتْ حَسَنَاتُهُمْ وَسَيِّئَاتُهُمْ. نَصَّ عَلَيْهِ حُذَيْفَةُ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَابْنُ مَسْعُودٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ السَّلَفِ وَالْخَلَفِ، رَحِمَهُمُ اللَّهُ. وَقَدْ جَاءَ فِي حَدِيثٍ مَرْفُوعٍ رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرِ بْنُ مَرْدُوَيه:
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، حَدَّثَنَا شَيْخٌ لَنَا يُقَالُ لَهُ: أَبُو عَبَّادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَمَّنِ اسْتَوَتْ حَسَنَاتُهُ وَسَيِّئَاتُهُ، فَقَالَ: "أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْأَعْرَافِ، لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ".
وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ [[ورواه أبو الشيخ وابن عساكر في تاريخه كما في الدر المنثور (٣/٤٦٣) .]] وَرَوَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الْحُسَامِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ أَصْحَابِ الْأَعْرَافِ، فَقَالَ: "إِنَّهُمْ قَوْمٌ خَرَجُوا عُصَاةً بِغَيْرِ إِذَنْ آبَائِهِمْ، فَقُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ" [[ورواه أبو الشيخ كما في الدر المنثور (٣/٤٦٥) ، وسعيد بن سلمة ضعفه النسائي وخرج له مسلم في صحيحه.]]
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَر، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ شِبْل، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُزَنِيِّ [[وقع في النسخ "يحيى بن عبد الرحمن المزني" وفي تفسير الطبري "محمد بن عبد الرحمن المزني" وفي مسند الحارث ومساوئ الأخلاق "عمر بن عبد الرحمن المزني" ولم أجد من ترجم له إلا أن ابن أبي حاتم قال في الجرح والتعديل في ترجمة يحيى بن شبل أنه روى عن "عمر بن عبد الرحمن المزني".]] عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ "أَصْحَابِ الْأَعْرَافِ" فَقَالَ: "هُمْ نَاسٌ [[في أ: "قوم".]] قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِمَعْصِيَةِ آبَائِهِمْ، فَمَنَعَهُمْ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ مَعْصِيَةُ آبَائِهِمْ وَمَنَعَهُمُ النَّارَ [[في أ: "من دخول النار".]] قَتْلُهُمْ في سبيل الله".
هَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ مَرْدُوَيه، وَابْنُ جَرِيرٍ، وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ طُرُقٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ بِهِ [[تفسير الطبري (١٢/٤٥٨) ، ورواه الحارث بن أبي أسامة في مسنده برقم (٧١١) "بغية الباحث".
والخرائطي في مساوئ الأخلاق برقم (٢٥٢) كلاهما من طريق أبي معشر به.
وأبو معشر هو نجيح بن عبد الرحمن قال البخاري: منكر الحديث.]] وَكَذَلِكَ [[في ك، م: "وكذا".]] رَوَاهُ ابنُ مَاجَهْ مَرْفُوعًا، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ [[لم أجدهما في سنن ابن ماجة، وإنما رواهما ابن مردوية في تفسيره كما في الدر المنثور (٣/٤٦٥) ، وحديث أبي سعيد رواه أيضا الطبراني في المعجم الأوسط برقم (٣٣٢٢) "مجمع البحرين" من طريق عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أبيه، عن عطاء، عن أبي سعيد الخدري به. وقال الهيثمي في المجمع (٧/٢٣) : "فيه محمد بن مخلد الرعيني وهو ضعيف".
قلت: وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعِيفُ أيضا.]] [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِصِحَّةِ هَذِهِ الْأَخْبَارِ الْمَرْفُوعَةِ وَقُصَارَاهَا أَنْ تَكُونَ مَوْقُوفَةً وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى مَا ذُكِرَ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا هُشَيْم، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ؛ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَصْحَابِ الْأَعْرَافِ، قَالَ: فَقَالَ: هُمْ قَوْمٌ اسْتَوَتْ حَسَنَاتُهُمْ وَسَيِّئَاتُهُمْ، فَقَعَدَتْ بِهِمْ سَيِّئَاتُهُمْ عَنِ الْجَنَّةِ، وخلَّفت بِهِمْ حَسَنَاتُهُمْ عَنِ النَّارِ. قَالَ: فَوَقَفُوا هُنَاكَ [[في ك، م: "هنالك".]] عَلَى السُّوَرِ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِيهِمْ. [[تفسير الطبري (١٢/٤٥٣) .]]
وَقَدْ رَوَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَبْسَطَ [[في م: "بأبسط".]] مِنْ هَذَا فَقَالَ:
حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَيد، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: قَالَ الشَّعْبِيُّ: أَرْسَلَ إِلَيَّ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ -وَعِنْدَهُ أَبُو الزِّنَادِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوان مَوْلَى قُرَيْشٍ -وَإِذَا هُمَا قَدْ ذَكَرَا مِنْ أَصْحَابِ الْأَعْرَافِ ذِكْرًا لَيْسَ كَمَا ذَكَرَا، فَقُلْتُ لَهُمَا: إِنْ شِئْتُمَا أَنْبَأْتُكُمَا بِمَا ذَكَرَ حُذَيْفَةُ، فَقَالَا هَاتِ. فَقُلْتُ: إِنَّ حُذَيْفَةَ ذَكَرَ أَصْحَابَ الْأَعْرَافِ فَقَالَ: هُمْ قَوْمٌ تَجَاوَزَتْ بِهِمْ حَسَنَاتُهُمُ النَّارَ، وَقَعَدَتْ بِهِمْ سَيِّئَاتُهُمْ عَنِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا صُرفت أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا: ﴿رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ فَبَيْنَا [[في أ: "فبينما".]] هُمْ كَذَلِكَ، اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ فَقَالَ لَهُمُ: اذْهَبُوا فَادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ. [[تفسير الطبري (١٢/٤٥٢) .]]
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَهُوَ يُحَدِّثُ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ يُحَاسَبُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ كَانَتْ حَسَنَاتُهُ أَكْثَرَ مِنْ سَيِّئَاتِهِ بِوَاحِدَةٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ كَانَتْ سَيِّئَاتُهُ أَكْثَرَ مِنْ حَسَنَاتِهِ بِوَاحِدَةٍ دَخَلَ النَّارَ. ثُمَّ قَرَأَ قَوْلَ اللَّهِ: ﴿فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ [فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ * وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ: "الآيتين".]] ] ﴾ [الْمُؤْمِنُونَ:١٠٢، ١٠٣] ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الْمِيزَانَ يَخِفُّ بِمِثْقَالِ حَبَّةٍ وَيَرْجَحُ، قَالَ: وَمَنِ اسْتَوَتْ حَسَنَاتُهُ وَسَيِّئَاتُهُ كان من أَصْحَابِ الْأَعْرَافِ، فَوَقَفُوا عَلَى الصِّرَاطِ، ثُمَّ عَرَفُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ وَأَهْلَ النَّارِ، فَإِذَا نَظَرُوا إِلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ نَادَوْا: سَلَامٌ عَلَيْكُمْ، وَإِذَا صَرَفُوا أَبْصَارَهُمْ إِلَى يَسَارِهِمْ نَظَرُوا أَصْحَابَ النَّارِ قَالُوا: ﴿رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ مَنَازِلِهِمْ. قَالَ: فَأَمَّا أَصْحَابُ الْحَسَنَاتِ، فَإِنَّهُمْ يُعْطَوْنَ نُورًا فَيَمْشُونَ بِهِ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ، وَيُعْطَى كُلُّ عَبْدٍ يَوْمَئِذٍ نُورًا، وَكُلُّ أُمَّةٍ نُورًا، فَإِذَا أَتَوْا عَلَى الصِّرَاطِ سَلَبَ اللَّهُ نُورَ كُلِّ مُنَافِقٍ وَمُنَافِقَةٍ. فَلَمَّا رَأَى أَهْلُ الْجَنَّةِ مَا لَقِيَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا: ﴿رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا﴾ [التَّحْرِيمِ:٨] . وَأَمَّا أَصْحَابُ الْأَعْرَافِ، فَإِنَّ النُّورَ كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ فَلَمْ يُنْزَعْ، فَهُنَالِكَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ﴾ فَكَانَ الطَّمَعُ دُخُولًا. قَالَ: وَقَالَ [[في د: "فقال".]] ابْنُ مَسْعُودٍ: عَلَى أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا عَمِلَ حَسَنَةً كُتِبَ لَهُ بِهَا عَشْرٌ، وَإِذَا عَمِلَ سَيِّئَةً لَمْ تُكْتَبْ إِلَّا وَاحِدَةً. ثُمَّ يَقُولُ: هَلَكَ مَنْ غَلَبَتْ وَاحِدَتُهُ أَعْشَارَهُ.
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ [[تفسير الطبري (١٢/٤٥٤) .]] وَقَالَ أَيْضًا:
حَدَّثَنِي ابْنُ وَكِيع وَابْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: "الْأَعْرَافُ": السُّورُ الَّذِي بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَأَصْحَابُ الْأَعْرَافِ بِذَلِكَ الْمَكَانِ، حَتَّى إِذَا بَدَأَ اللَّهُ أَنْ يُعَافِيَهُمْ، انْطُلِق بِهِمْ إِلَى نَهْرٍ يُقَالُ لَهُ: "الْحَيَاةُ"، حَافَّتَاهُ قَصَبُ الذَّهَبِ، مُكَلَّلٌ بِاللُّؤْلُؤِ، تُرَابُهُ الْمِسْكُ، فَأُلْقُوا [[في م: "فألقي".]] فِيهِ حَتَّى تَصْلُحَ أَلْوَانُهُمْ، وَتَبْدُوَ فِي نُحُورِهِمْ بَيْضَاءَ يُعْرَفُونَ بِهَا، حَتَّى إِذَا صَلَحَتْ أَلْوَانُهُمْ أَتَى بِهِمُ الرَّحْمَنُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَالَ: تَمَنَّوْا مَا شِئْتُمْ فَيَتَمَنَّوْنَ، حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ أُمْنِيَّتُهُمْ قَالَ لَهُمْ: لَكُمُ الَّذِي تَمَنَّيْتُمْ وَمِثْلُهُ سَبْعُونَ ضِعْفًا. فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَفِي نُحُورِهِمْ شَامَةٌ بَيْضَاءُ يُعْرَفُونَ بِهَا، يُسَمَّوْنَ مَسَاكِينَ أَهْلِ الْجَنَّةِ.
وَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ جَرِيرٍ، بِهِ. وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، مِنْ قَوْلِهِ [[تفسيرالطبري (١٢/٤٥٥) .]] وَهَذَا أَصَحُّ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ وَالضَّحَّاكِ وَغَيْرِ وَاحِدٍ.
وَقَالَ سُنَيْد بْنُ دَاوُدَ: حَدَّثَنِي جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَة عَنْ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ أَصْحَابِ الْأَعْرَافِ قَالَ [[في م: "فقال".]] هُمْ آخِرُ مَنْ يُفْصَلُ بَيْنَهُمْ مِنَ الْعِبَادِ، فَإِذَا فَرَغَ رَبُّ الْعَالَمِينَ مِنْ فَصْلِهِ [[في ك، م: "فصل".]] بَيْنَ الْعِبَادِ قَالَ: أَنْتُمْ قَوْمٌ أَخْرَجَتْكُمْ حَسَنَاتُكُمْ مِنَ النَّارِ، وَلَمْ تَدْخُلُوا [[في م: "يدخلوا".]] الْجَنَّةَ، فَأَنْتُمْ عُتَقَائِي، فَارْعَوْا مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْتُمْ". وَهَذَا مرسل حسن [[ورواه الطبري (١٢/٤٦١) عن القاسم، عن سنيد بإسناده به.]] وَرَوَى الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ "الْوَلِيدِ بْنِ مُوسَى"، عَنْ مُنَبِّهِ بْنِ عُثْمَانَ [[فِي النسخ "شيبة بن عثمان" والتصويب من تاريخ دمشق والبعث للبيهقي.]] عَنْ عُرْوَة بْنِ رُوَيْم، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عليه وَسَلَّمَ؛ أَنَّ مُؤْمِنِي الْجِنِّ لَهُمْ ثَوَابٌ وَعَلَيْهِمْ عِقَابٌ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ثَوَابِهِمْ [[في النسخ: "عن ثوابهم وعن مؤمنيهم" والمثبت من الدر المنثور ٣/٨٨. مستفاد من هامش ط الشعب.]] فَقَالَ: "عَلَى الْأَعْرَافِ، وَلَيْسُوا فِي الْجَنَّةِ مَعَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ﷺ. فَسَأَلْنَاهُ: وَمَا الْأَعْرَافُ؟ فَقَالَ: "حَائِطُ الْجَنَّةِ تَجْرِي فِيهَا الْأَنْهَارُ، وَتَنْبُتُ فِيهِ الْأَشْجَارُ وَالثِّمَارُ".
رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ، عَنِ ابْنِ بِشْرَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيِّ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُوسَى، بِهِ [[تاريخ دمشق (١٧/٩١٠) "القسم المخطوط" والبعث للبيهقي برقم (١١٧) ورجاله ثقات.]]
وَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ خُصَيف، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: أَصْحَابُ الْأَعْرَافِ قَوْمٌ صَالِحُونَ فُقَهَاءُ عُلَمَاءُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّة، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلز فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ وَعَلَى الأعْرَافِ رِجَالٌ يَعْرِفُونَ كُلا بِسِيمَاهُمْ﴾ قَالَ: هُمْ رِجَالٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، يَعْرِفُونَ أَهْلَ الْجَنَّةِ وَأَهْلَ النَّارِ، قَالَ: ﴿وَنَادَوْا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ سَلامٌ عَلَيْكُمْ لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ * وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ * وَنَادَى أَصْحَابُ الأعْرَافِ رِجَالا﴾ فِي النَّارِ ﴿يَعْرِفُونَهُمْ بِسِيمَاهُمْ قَالُوا مَا أَغْنَى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ * أَهَؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ﴾ قَالَ: فَهَذَا حِينَ دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ: ﴿ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ﴾ .
وَهَذَا صَحِيحٌ إِلَى أَبِي مِجْلَزٍ لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ أَحَدِ التَّابِعِينَ، وَهُوَ غَرِيبٌ مِنْ قَوْلِهِ وَخِلَافُ الظَّاهِرِ مِنَ السِّيَاقِ: وَقَوْلُ الْجُمْهُورِ مُقَدَّمٌ عَلَى قَوْلِهِ، بِدَلَالَةِ الْآيَةِ عَلَى مَا ذَهَبُوا إِلَيْهِ. وَكَذَا قَوْلُ مُجَاهِدٍ: إِنَّهُمْ قَوْمٌ صَالِحُونَ عُلَمَاءُ فُقَهَاءُ [[في ك، م، أ: "فقهاء علماء".]] فِيهِ غَرَابَةٌ أَيْضًا. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَدْ حَكَى الْقُرْطُبِيُّ وَغَيْرُهُ فِيهِمُ اثْنَيْ عَشْرَ قَوْلًا مِنْهَا: أَنَّهُمْ شَهِدُوا أَنَّهُمْ صُلَحَاءُ تَفَرَّعُوا مِنْ فَرْعِ الْآخِرَةِ، دَخَلُوا [[في م: "وجعلوا"، وفي أ: "وخلق".]] يَطَّلِعُونَ عَلَى أَخْبَارِ النَّاسِ. وَقِيلَ: هُمْ أَنْبِيَاءُ. وَقِيلَ: مَلَائِكَةٌ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿يَعْرِفُونَ كُلا بِسِيمَاهُمْ﴾ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عباس قال: يَعْرِفُونَ أَهْلَ الْجَنَّةِ بِبَيَاضِ الْوُجُوهِ، وَأَهْلَ النَّارِ بِسَوَادِ الْوُجُوهِ. وَكَذَا رَوَى الضَّحَّاكُ، عَنْهُ.
وَقَالَ العَوْفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[في ك، م: "عن ابن عباس قال".]] أَنْزَلَهُمُ اللَّهُ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ، لِيَعْرِفُوا مَنْ فِي الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَلِيَعْرِفُوا أَهْلَ النَّارِ بِسَوَادِ الْوُجُوهِ، وَيَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ أَنْ يَجْعَلَهُمْ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ. وَهُمْ فِي ذَلِكَ يُحَيُّونَ أَهْلَ الْجَنَّةِ بِالسَّلَامِ، لَمْ يَدْخُلُوهَا، وَهُمْ يَطْمَعُونَ أَنْ يَدْخُلُوهَا، وَهُمْ دَاخِلُوهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَالضَّحَّاكُ، وَالسُّدِّيُّ، وَالْحَسَنُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.
وَقَالَ مَعْمَر، عَنِ الْحَسَنِ: إِنَّهُ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ﴾ قَالَ: وَاللَّهِ مَا جَعَلَ ذَلِكَ الطَّمَعَ فِي قُلُوبِهِمْ، إِلَّا لِكَرَامَةٍ يُرِيدُهَا بِهِمْ.
وَقَالَ قَتَادَةُ [قَدْ] [[زيادة من م، أ.]] أَنْبَأَكُمُ اللَّهُ بِمَكَانِهِمْ مِنَ الطَّمَعِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ قَالَ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ أَصْحَابَ الْأَعْرَافِ إِذَا نَظَرُوا إِلَى أَهْلِ النَّارِ وَعَرَفُوهُمْ [[في ك، م، أ: "عرفوهم".]] قَالُوا: ﴿رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾
وَقَالَ السُّدِّي: وَإِذَا مَرُّوا بِهِمْ -يَعْنِي بِأَصْحَابِ الْأَعْرَافِ -بِزُمْرَةٍ يُذهب بِهَا إِلَى النَّارِ قَالُوا: ﴿رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾
وَقَالَ عِكْرِمَةُ: تُحَدَّدُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ، فَإِذَا رَأَوْا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ ذَهَبَ ذَلِكَ عَنْهُمْ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ﴾ فَرَأَوْا وُجُوهَهُمْ مُسْوَدَّةً، وَأَعْيُنَهُمْ مُزْرَقَّةً، ﴿قَالُوا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾
۞ وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَٰرُهُمْ تِلْقَآءَ أَصْحَٰبِ ٱلنَّارِ قَالُوا۟ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ
And when their eyes are turned toward the companions of the Fire, they say, "Our Lord, do not place us with the wrongdoing people."
اور جب ان کی نگاہیں پلٹ کر اہل دوزخ کی طرف جائیں گی تو عرض کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کیجیو
و هنگامی که چشمشان به دوزخیان میافتد میگویند: «پروردگارا! ما را با گروه ستمگران قرار مده!»
Tafsir Ibn Kathir
And between them will be a (barrier) screen and on Al-A'raf will be men, who would recognize all, by their marks. And they will call out to the dwellers of Paradise, "Peace be on you" and at that time they will not yet have entered it (Paradise), but they will hope to enter (it)(46)And when their eyes will be turned towards the dwellers of the Fire, they will say: "Our Lord! Place us not with the people who are wrongdoers. (47)
The People of Al-A'raf
After Allah mentioned that the people of Paradise will address the people of the Fire, He stated that there is a barrier between Paradise and the Fire, which prevents the people of the Fire from reaching Paradise. Ibn Jarir said, "It is the wall that Allah described,
فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍ لَّهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِن قِبَلِهِ الْعَذَابُ
(So a wall will be put up between them, with a gate therein. Inside it will be mercy, and outside it will be torment.)[57:13] It is also about Al-A'raf that Allah said,
وَعَلَى الْأَعْرَافِ رِجَالٌ
(and on Al-A'raf will be men)." Ibn Jarir recorded that As-Suddi said about Allah's statement,
وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ
(And between them will be a screen) "It is the wall, it is Al-A'raf." Mujahid said, "Al-A'raf is a barrier between Paradise and the Fire, a wall that has a gate."
Ibn Jarir said, "Al-A'raf is plural for 'Urf, where every elevated piece of land is known as 'Urf to the Arabs."
As-Suddi said, "Al-A'raf is so named because its residents recognize (Ya'rifun) the people. Al-A'raf's residents are those whose good and bad deeds are equal, as Hudhayfah, Ibn 'Abbas, Ibn Mas'ud and several of the Salaf and later generations said." Ibn Jarir recorded that Hudhayfah was asked about the people of Al-A'raf and he said, "A people whose good and bad deeds are equal. Their evil deeds prevented them from qualifying to enter Paradise, and their good deeds qualified them to avoid the Fire. Therefore, they are stopped there on the wall until Allah judges them."
Ma'mar said that Al-Hasan recited this Ayah,
لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ
(and at that time they will not yet have entered it (Paradise), but they will hope to enter (it).)
Then he said, "By Allah! Allah did not put this hope in their hearts, except for an honor that He intends to bestow on them." Qatadah said; "Those who hope are those among you whom Allah informed of their places." Allah said next,
وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
(And when their eyes will be turned towards the dwellers of the Fire, they will say: "Our Lord! Place us not with the people who are wrongdoers.")
Ad-Dahhak reported that Ibn 'Abbas said, "When the people of Al-A'raf look at the people of the Fire and recognize them, they will supplicate, 'O Lord! Do not place us with the people who are wrongdoers.'"
Tafsir Ibn Kathir
جنت اور جہنم میں دیوار و حجاب جنتیوں اور دوزخیوں کی بات بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ جنت دوزخ کے درمیان ایک اور حجاب حد فاصل اور دیوار ہے کہ دوزخیوں کو جنت سے فاصلے پر رکھے اسی دیوار کا ذکر آیت (فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ ۭ بَاطِنُهٗ فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَاب 13) 57۔ الحدید) ، میں ہے یعنی ان کے درمیان ایک دیوار ہائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہے۔ اس کے اندر رحمت ہے اور باہر عذاب ہے۔ اسی کا نام (اعراف) ہے۔ (اعراف) (عرف) کی جمع ہے ہر اونچی زمین کو عرب میں عرفہ کہتے ہیں اسی لئے مرغ کے سر کی کلنگ کو بھی عرب میں (عرف الدیک) کہا جاتا ہے کیونکہ اونچی جگہ ہوتا ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ ایک اونچی جگہ ہے جنت دوزخ کے درمیان جہاں کچھ لوگ روک دیئے جائیں گے۔ سدی فرماتے ہیں اس کا نام اعراف اس لئے رکھا گیا ہے کہ یہاں کے لوگ اور لوگوں کو جانتے پہچانتے ہیں۔ یہاں کون لوگ ہوں گے ؟ اس میں بہت سے اقوال ہیں سب کا حاصل یہ ہے کہ وہ یہ لوگ ہوں گے جن کے گناہ اور نیکیاں برباد ہوں گی بعض سلف سے بھی یہی منقول ہے۔ حضرت حذیفہ حضرت ابن عباس حضرت ابن مسعود وغیرہ نے یہی فرمایا ہے۔ یہی بعد والے مفسرین کا قول ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے لیکن سنداً وہ حدیث غریب ہے اور سند سے مروی ہے کہ حضور سے جب ان لوگوں کی بابت جن کی نیکیاں بدیاں برابر ہوں اور جو اعراف والے ہیں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ وہ نافرمان لوگ ہیں جو اپنے باپ کی اجازت بغیر پھر اللہ کی راہ میں قتل کردیئے گئے اور روایت میں ہے کہ یہ لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے اور اپنے والدین کے نافرمان تھے تو جنت میں جانے سے باپ کی نافرمانی نے روک دیا اور جہنم میں جانے سے شہادت نے روک دیا۔ ابن ماجہ وغیرہ میں بھی یہ روایتیں ہیں۔ اب اللہ ہی کو ان کی صحت کا علم ہے بہت ممکن ہے کہ یہ موقوف روایتیں ہوں۔ بہر صورت ان سے اصحاب اعراف کا حال معلوم ہو رہا ہے۔ حضرت حذیفہ سے جب ان کی بابت سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں بدیاں برابر برابر تھیں۔ برائیوں کی وجہ سے جنت میں نہ جاسکے اور نیکیوں کی وجہ سے جہنم سے بچ گئے پس یہاں آڑ میں روک دیئے جائیں گے یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ ان کے بارے میں سرزد ہو اور آیت میں آپ سے مروی ہے کہ یہ دوزخیوں کو دیکھ دیکھ کر ڈر رہے ہوں گے اور اللہ سے نجات طلب کر رہے ہوں گے کہ ناگاہ انکا رب ان کی طرف دیکھے گا اور فرمائے گا جاؤ جنت میں داخل ہوجاؤ میں نے تمہیں بخشا۔ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں قیامت کے دن لوگوں کا حساب ہوگا ایک نیکی بھی اگر برائیوں سے بڑھ گئی تو داخل جنت ہوگا اور ایک برائی بھی اگر نیکیوں سے زیادہ ہوگئی تو دوزخ میں جائے گا پھر آپ نے آیت (فمن ثقلت موازینہ) سے دو آیتوں تک تلاوت کیں اور فرمایا ایک رائی کے دانے کے برابر کی کمی زیادتی ہے میزان کا پلڑا ہلکا بھاری ہوجاتا ہے اور جن کی نیکیاں بدیاں برابر برابر ہوئیں یہ اعراف والے ہیں یہ ٹھہرا لئے جائیں گے اور جنتی دوزخی مشہور ہوجائیں گے یہ جب جنت کو دیکھیں گے تو اہل جنت پر سلام کریں گے اور جب جہنم کو دیکھیں گے تو اللہ سے پناہ طلب کریں گے۔ نیک لوگوں کو نور ملے گا جو ان کے آگے اور ان کے داہنے موجود رہے گا ہر انسان کو وہ مرد ہوں خواہ عورتیں ہوں ایک نور ملے گا لیکن پل صراط پر منافقوں کا نور چھین لیا جائے گا اس وقت سچے مومن اللہ سے اپنے نور کے باقی رہنے کی دعائیں کریں گے۔ اعراف والوں کا نور چھینا نہیں جائے گا وہ ان کے آگے آگے موجود ہوگا انہیں جنت میں جانے کی طمع ہوگی، لوگوں ایک نیکی دس گنی کر کے لکھی جاتی ہے اور برائی اتنی ہی لکھی جاتی ہے جتنی ہو، افسوس ان پر جن کی اکائیاں دہائیوں پر غالب آجائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ اعراف ایک دیوار ہے جو جنت دوزخ کے درمیان ہے اصحاب اعراف وہیں ہوں گے۔ جب انہیں عافیت دینے کا اللہ کا ارادہ ہوگا تو حکم ملے گا انہیں ہر حیات کی طرف لے جاؤ اس کے دونوں کناروں پر سونے کے خیمے ہوں گے جو موتیوں سے مرصع ہوں گے اس کی مٹی مشک خالص ہوگی اس میں غوطہ لگاتے ہی ان کی رنگتیں نکھر جائیں گی اور ان کی گردنوں پر ایک سفید چمکیلا نشان ہوجائے گا جس سے وہ پہچان لئے جائیں یہ اللہ کے سامنے لائے جائیں گے اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو چاہو مانگو یہ مانگیں گے یہاں تک کہ ان کی تمام تمنائیں اللہ تعالیٰ پوری کر دے گا پھر فرمائے گا ان جیسی ستر گنا اور نعمتیں بھی میں نے تمہیں دیں۔ پھر یہ جنت میں جائیں گے، وہ علامت ان پر موجود ہوگی جنت میں ان کا نام مساکین اہل جنت ہوگا، یہی روایت حضرت مجاہد کے اپنے قول سے بھی مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ ایک حسن سند کی مرسل حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ سے اعراف والوں کی نسبت دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ان کا فیصلہ سب سے آخر میں ہوگا، رب العالمین جب اپنے بندوں کے فیصلے کرچکے گا تو ان سے فرمائے گا کہ تم لوگوں کو تمہاری نیکیوں نے دوزخ سے تو محفوظ کرلیا لیکن تم جنت میں جانے کے حقدار ثابت نہیں ہوئے اب تم کو میں اپنی طرف سے آزاد کرتا ہوں جاؤ جنت میں رہو سہو اور جہاں چاہو کھاؤ پیو، یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ زنا کی اولاد ہیں۔ ابن عساکر میں فرمان نبی ہے کہ مومن جنوں کو ثواب ہے اور ان میں سے جو برے ہیں انہیں عذاب بھی ہوگا، ہم نے ان کے ثواب اور ان کے ایمانداروں کے بابت حضور سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا وہ اعراف میں ہوں گے جنت میں میری امت کے ساتھ نہ ہوں گے ہم نے پوچھا یا رسول اللہ اعراف کیا ہے ؟ فرمایا جنت کا ایک باغ جہاں نہریں جاری ہیں اور پھل پک رہے ہیں (بیہقی) حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ صالح دینار فقہاء علما لوگ ہوں گے ابو مجاز فرماتے ہیں یہ فرشتے ہیں جنت دوزخ والوں کو جانتے ہیں پھر آپ نے ان آیتوں کے تلاوت کی اور فرمایا سب جنتی جنت میں جانے لگیں گے تو کہا جائے گا کہ تم امن وامان کے ساتھ بےخوف و خطر ہو کر جنت میں جاؤ۔ اس کی سند گو ٹھیک ہے لیکن یہ قول بہت غریب ہے کیونکہ روانی عبارت بھی اس کے خلاف ہے اور جمہور کا قول ہی مقدم ہے کیونکہ آیت کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہے۔ حضرت مجاہد کا قول بھی جو اوپر بیان ہوا غرابت سے خالی نہیں واللہ اعلم۔ قرطبی ؒ نے اس میں بارہ قول نقل کئے ہیں۔ صلحاء، انبیاء، ملائیکہ وغیرہ۔ یہ جنتیوں کو ان کے چہرے کی رونق اور سفیدی سے اور دوزخیوں کو ان کے چہرے کی سیاہی سے پہچان لیں گے یہ یہاں اسی لئے ہیں کہ ہر ایک کا امتیاز کرلیں اور سب کو پہچان لیں یہ جنتیوں سے سلام کریں گے جنتیوں کو دیکھ دیکھ کر اللہ کی پناہ چائیں گے اور طمع رکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں بھی بہشت بریں میں پہنچا دے یہ طمع ان کے دل میں اللہ نے اسی لئے ڈالا ہے کہ اس کا ارادہ انہیں جنت میں لے جانے کا ہوچکا ہے۔ جب وہ اہل دوزخ کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پروردگار ہمیں ظالموں میں سے نہ کر۔ جب کوئی جماعت جہنم میں پہنچائی جاتی ہے تو یہ اپنے بچاؤ کی دعائیں کرنے لگتے ہیں جہنم سے ان کے چہرے کوئلے جیسے ہوجائیں گے لیکن جب جنت والوں کو دیکھیں گے تو یہ چیز چہروں سے دور ہوجائے گی جنتیوں کے چہروں کی پہچان نورانیت ہوگی اور دوزخیوں کے چہروں پر سیاہی اور آنکھوں میں بھینگا پن ہوگا۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى مُخَاطَبَةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ مَعَ أَهْلِ النَّارِ، نَبَّه أَنَّ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ حِجَابًا، وَهُوَ الْحَاجِزُ الْمَانِعُ مِنْ وُصُولِ أَهْلِ النَّارِ إِلَى الْجَنَّةِ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَهُوَ السُّورُ الَّذِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ﴾ [الْحَدِيدِ:١٣] وَهُوَ الْأَعْرَافُ الَّذِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَعَلَى الأعْرَافِ رِجَالٌ﴾
ثُمَّ رَوَى بِإِسْنَادِهِ عَنِ السُّدِّيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ [تَعَالَى] [[زيادة من ك.]] ﴿وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ﴾ وَهُوَ "السُّورُ"، وهو "الأعراف".
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الْأَعْرَافُ: حِجَابٌ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، سُورٌ لَهُ بَابٌ. قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَالْأَعْرَافُ جَمْعُ "عُرْف"، وَكُلُّ مُرْتَفَعٍ مِنَ الْأَرْضِ عِنْدَ الْعَرَبِ يُسَمَّى "عُرْفًا"، وَإِنَّمَا قِيلَ لِعُرْفِ الدِّيكِ عُرْفًا لِارْتِفَاعِهِ.
وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيع، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيد اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: الْأَعْرَافُ هُوَ الشَّيْءُ الْمُشْرِفُ.
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: الْأَعْرَافُ: سُورٌ كعُرْف الدِّيكِ.
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: الْأَعْرَافُ، تَلٌّ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، حُبِسَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الذُّنُوبِ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ. وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: هُوَ سُورٌ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ. وَكَذَلِكَ قَالَ الضَّحَّاكُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَاءِ التَّفْسِيرِ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: إِنَّمَا سُمِّيَ "الْأَعْرَافُ" أَعْرَافًا؛ لِأَنَّ أَصْحَابَهُ يَعْرِفُونَ النَّاسَ.
وَاخْتَلَفَتْ عِبَارَاتُ الْمُفَسِّرِينَ فِي أَصْحَابِ الْأَعْرَافِ مَنْ هُمْ، وَكُلُّهَا قَرِيبَةٌ تَرْجِعُ إِلَى مَعْنًى وَاحِدٍ، وَهُوَ أَنَّهُمْ قَوْمٌ اسْتَوَتْ حَسَنَاتُهُمْ وَسَيِّئَاتُهُمْ. نَصَّ عَلَيْهِ حُذَيْفَةُ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَابْنُ مَسْعُودٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ السَّلَفِ وَالْخَلَفِ، رَحِمَهُمُ اللَّهُ. وَقَدْ جَاءَ فِي حَدِيثٍ مَرْفُوعٍ رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرِ بْنُ مَرْدُوَيه:
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، حَدَّثَنَا شَيْخٌ لَنَا يُقَالُ لَهُ: أَبُو عَبَّادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَمَّنِ اسْتَوَتْ حَسَنَاتُهُ وَسَيِّئَاتُهُ، فَقَالَ: "أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْأَعْرَافِ، لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ".
وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ [[ورواه أبو الشيخ وابن عساكر في تاريخه كما في الدر المنثور (٣/٤٦٣) .]] وَرَوَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الْحُسَامِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ أَصْحَابِ الْأَعْرَافِ، فَقَالَ: "إِنَّهُمْ قَوْمٌ خَرَجُوا عُصَاةً بِغَيْرِ إِذَنْ آبَائِهِمْ، فَقُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ" [[ورواه أبو الشيخ كما في الدر المنثور (٣/٤٦٥) ، وسعيد بن سلمة ضعفه النسائي وخرج له مسلم في صحيحه.]]
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَر، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ شِبْل، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُزَنِيِّ [[وقع في النسخ "يحيى بن عبد الرحمن المزني" وفي تفسير الطبري "محمد بن عبد الرحمن المزني" وفي مسند الحارث ومساوئ الأخلاق "عمر بن عبد الرحمن المزني" ولم أجد من ترجم له إلا أن ابن أبي حاتم قال في الجرح والتعديل في ترجمة يحيى بن شبل أنه روى عن "عمر بن عبد الرحمن المزني".]] عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ "أَصْحَابِ الْأَعْرَافِ" فَقَالَ: "هُمْ نَاسٌ [[في أ: "قوم".]] قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِمَعْصِيَةِ آبَائِهِمْ، فَمَنَعَهُمْ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ مَعْصِيَةُ آبَائِهِمْ وَمَنَعَهُمُ النَّارَ [[في أ: "من دخول النار".]] قَتْلُهُمْ في سبيل الله".
هَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ مَرْدُوَيه، وَابْنُ جَرِيرٍ، وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ طُرُقٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ بِهِ [[تفسير الطبري (١٢/٤٥٨) ، ورواه الحارث بن أبي أسامة في مسنده برقم (٧١١) "بغية الباحث".
والخرائطي في مساوئ الأخلاق برقم (٢٥٢) كلاهما من طريق أبي معشر به.
وأبو معشر هو نجيح بن عبد الرحمن قال البخاري: منكر الحديث.]] وَكَذَلِكَ [[في ك، م: "وكذا".]] رَوَاهُ ابنُ مَاجَهْ مَرْفُوعًا، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ [[لم أجدهما في سنن ابن ماجة، وإنما رواهما ابن مردوية في تفسيره كما في الدر المنثور (٣/٤٦٥) ، وحديث أبي سعيد رواه أيضا الطبراني في المعجم الأوسط برقم (٣٣٢٢) "مجمع البحرين" من طريق عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أبيه، عن عطاء، عن أبي سعيد الخدري به. وقال الهيثمي في المجمع (٧/٢٣) : "فيه محمد بن مخلد الرعيني وهو ضعيف".
قلت: وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعِيفُ أيضا.]] [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِصِحَّةِ هَذِهِ الْأَخْبَارِ الْمَرْفُوعَةِ وَقُصَارَاهَا أَنْ تَكُونَ مَوْقُوفَةً وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى مَا ذُكِرَ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا هُشَيْم، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ؛ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَصْحَابِ الْأَعْرَافِ، قَالَ: فَقَالَ: هُمْ قَوْمٌ اسْتَوَتْ حَسَنَاتُهُمْ وَسَيِّئَاتُهُمْ، فَقَعَدَتْ بِهِمْ سَيِّئَاتُهُمْ عَنِ الْجَنَّةِ، وخلَّفت بِهِمْ حَسَنَاتُهُمْ عَنِ النَّارِ. قَالَ: فَوَقَفُوا هُنَاكَ [[في ك، م: "هنالك".]] عَلَى السُّوَرِ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِيهِمْ. [[تفسير الطبري (١٢/٤٥٣) .]]
وَقَدْ رَوَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَبْسَطَ [[في م: "بأبسط".]] مِنْ هَذَا فَقَالَ:
حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَيد، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: قَالَ الشَّعْبِيُّ: أَرْسَلَ إِلَيَّ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ -وَعِنْدَهُ أَبُو الزِّنَادِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوان مَوْلَى قُرَيْشٍ -وَإِذَا هُمَا قَدْ ذَكَرَا مِنْ أَصْحَابِ الْأَعْرَافِ ذِكْرًا لَيْسَ كَمَا ذَكَرَا، فَقُلْتُ لَهُمَا: إِنْ شِئْتُمَا أَنْبَأْتُكُمَا بِمَا ذَكَرَ حُذَيْفَةُ، فَقَالَا هَاتِ. فَقُلْتُ: إِنَّ حُذَيْفَةَ ذَكَرَ أَصْحَابَ الْأَعْرَافِ فَقَالَ: هُمْ قَوْمٌ تَجَاوَزَتْ بِهِمْ حَسَنَاتُهُمُ النَّارَ، وَقَعَدَتْ بِهِمْ سَيِّئَاتُهُمْ عَنِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا صُرفت أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا: ﴿رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ فَبَيْنَا [[في أ: "فبينما".]] هُمْ كَذَلِكَ، اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ فَقَالَ لَهُمُ: اذْهَبُوا فَادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ. [[تفسير الطبري (١٢/٤٥٢) .]]
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَهُوَ يُحَدِّثُ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ يُحَاسَبُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ كَانَتْ حَسَنَاتُهُ أَكْثَرَ مِنْ سَيِّئَاتِهِ بِوَاحِدَةٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ كَانَتْ سَيِّئَاتُهُ أَكْثَرَ مِنْ حَسَنَاتِهِ بِوَاحِدَةٍ دَخَلَ النَّارَ. ثُمَّ قَرَأَ قَوْلَ اللَّهِ: ﴿فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ [فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ * وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ: "الآيتين".]] ] ﴾ [الْمُؤْمِنُونَ:١٠٢، ١٠٣] ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الْمِيزَانَ يَخِفُّ بِمِثْقَالِ حَبَّةٍ وَيَرْجَحُ، قَالَ: وَمَنِ اسْتَوَتْ حَسَنَاتُهُ وَسَيِّئَاتُهُ كان من أَصْحَابِ الْأَعْرَافِ، فَوَقَفُوا عَلَى الصِّرَاطِ، ثُمَّ عَرَفُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ وَأَهْلَ النَّارِ، فَإِذَا نَظَرُوا إِلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ نَادَوْا: سَلَامٌ عَلَيْكُمْ، وَإِذَا صَرَفُوا أَبْصَارَهُمْ إِلَى يَسَارِهِمْ نَظَرُوا أَصْحَابَ النَّارِ قَالُوا: ﴿رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ مَنَازِلِهِمْ. قَالَ: فَأَمَّا أَصْحَابُ الْحَسَنَاتِ، فَإِنَّهُمْ يُعْطَوْنَ نُورًا فَيَمْشُونَ بِهِ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ، وَيُعْطَى كُلُّ عَبْدٍ يَوْمَئِذٍ نُورًا، وَكُلُّ أُمَّةٍ نُورًا، فَإِذَا أَتَوْا عَلَى الصِّرَاطِ سَلَبَ اللَّهُ نُورَ كُلِّ مُنَافِقٍ وَمُنَافِقَةٍ. فَلَمَّا رَأَى أَهْلُ الْجَنَّةِ مَا لَقِيَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا: ﴿رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا﴾ [التَّحْرِيمِ:٨] . وَأَمَّا أَصْحَابُ الْأَعْرَافِ، فَإِنَّ النُّورَ كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ فَلَمْ يُنْزَعْ، فَهُنَالِكَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ﴾ فَكَانَ الطَّمَعُ دُخُولًا. قَالَ: وَقَالَ [[في د: "فقال".]] ابْنُ مَسْعُودٍ: عَلَى أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا عَمِلَ حَسَنَةً كُتِبَ لَهُ بِهَا عَشْرٌ، وَإِذَا عَمِلَ سَيِّئَةً لَمْ تُكْتَبْ إِلَّا وَاحِدَةً. ثُمَّ يَقُولُ: هَلَكَ مَنْ غَلَبَتْ وَاحِدَتُهُ أَعْشَارَهُ.
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ [[تفسير الطبري (١٢/٤٥٤) .]] وَقَالَ أَيْضًا:
حَدَّثَنِي ابْنُ وَكِيع وَابْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: "الْأَعْرَافُ": السُّورُ الَّذِي بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَأَصْحَابُ الْأَعْرَافِ بِذَلِكَ الْمَكَانِ، حَتَّى إِذَا بَدَأَ اللَّهُ أَنْ يُعَافِيَهُمْ، انْطُلِق بِهِمْ إِلَى نَهْرٍ يُقَالُ لَهُ: "الْحَيَاةُ"، حَافَّتَاهُ قَصَبُ الذَّهَبِ، مُكَلَّلٌ بِاللُّؤْلُؤِ، تُرَابُهُ الْمِسْكُ، فَأُلْقُوا [[في م: "فألقي".]] فِيهِ حَتَّى تَصْلُحَ أَلْوَانُهُمْ، وَتَبْدُوَ فِي نُحُورِهِمْ بَيْضَاءَ يُعْرَفُونَ بِهَا، حَتَّى إِذَا صَلَحَتْ أَلْوَانُهُمْ أَتَى بِهِمُ الرَّحْمَنُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَالَ: تَمَنَّوْا مَا شِئْتُمْ فَيَتَمَنَّوْنَ، حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ أُمْنِيَّتُهُمْ قَالَ لَهُمْ: لَكُمُ الَّذِي تَمَنَّيْتُمْ وَمِثْلُهُ سَبْعُونَ ضِعْفًا. فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَفِي نُحُورِهِمْ شَامَةٌ بَيْضَاءُ يُعْرَفُونَ بِهَا، يُسَمَّوْنَ مَسَاكِينَ أَهْلِ الْجَنَّةِ.
وَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ جَرِيرٍ، بِهِ. وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، مِنْ قَوْلِهِ [[تفسيرالطبري (١٢/٤٥٥) .]] وَهَذَا أَصَحُّ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ وَالضَّحَّاكِ وَغَيْرِ وَاحِدٍ.
وَقَالَ سُنَيْد بْنُ دَاوُدَ: حَدَّثَنِي جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَة عَنْ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ أَصْحَابِ الْأَعْرَافِ قَالَ [[في م: "فقال".]] هُمْ آخِرُ مَنْ يُفْصَلُ بَيْنَهُمْ مِنَ الْعِبَادِ، فَإِذَا فَرَغَ رَبُّ الْعَالَمِينَ مِنْ فَصْلِهِ [[في ك، م: "فصل".]] بَيْنَ الْعِبَادِ قَالَ: أَنْتُمْ قَوْمٌ أَخْرَجَتْكُمْ حَسَنَاتُكُمْ مِنَ النَّارِ، وَلَمْ تَدْخُلُوا [[في م: "يدخلوا".]] الْجَنَّةَ، فَأَنْتُمْ عُتَقَائِي، فَارْعَوْا مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْتُمْ". وَهَذَا مرسل حسن [[ورواه الطبري (١٢/٤٦١) عن القاسم، عن سنيد بإسناده به.]] وَرَوَى الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ "الْوَلِيدِ بْنِ مُوسَى"، عَنْ مُنَبِّهِ بْنِ عُثْمَانَ [[فِي النسخ "شيبة بن عثمان" والتصويب من تاريخ دمشق والبعث للبيهقي.]] عَنْ عُرْوَة بْنِ رُوَيْم، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عليه وَسَلَّمَ؛ أَنَّ مُؤْمِنِي الْجِنِّ لَهُمْ ثَوَابٌ وَعَلَيْهِمْ عِقَابٌ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ثَوَابِهِمْ [[في النسخ: "عن ثوابهم وعن مؤمنيهم" والمثبت من الدر المنثور ٣/٨٨. مستفاد من هامش ط الشعب.]] فَقَالَ: "عَلَى الْأَعْرَافِ، وَلَيْسُوا فِي الْجَنَّةِ مَعَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ﷺ. فَسَأَلْنَاهُ: وَمَا الْأَعْرَافُ؟ فَقَالَ: "حَائِطُ الْجَنَّةِ تَجْرِي فِيهَا الْأَنْهَارُ، وَتَنْبُتُ فِيهِ الْأَشْجَارُ وَالثِّمَارُ".
رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ، عَنِ ابْنِ بِشْرَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيِّ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُوسَى، بِهِ [[تاريخ دمشق (١٧/٩١٠) "القسم المخطوط" والبعث للبيهقي برقم (١١٧) ورجاله ثقات.]]
وَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ خُصَيف، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: أَصْحَابُ الْأَعْرَافِ قَوْمٌ صَالِحُونَ فُقَهَاءُ عُلَمَاءُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّة، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلز فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ وَعَلَى الأعْرَافِ رِجَالٌ يَعْرِفُونَ كُلا بِسِيمَاهُمْ﴾ قَالَ: هُمْ رِجَالٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، يَعْرِفُونَ أَهْلَ الْجَنَّةِ وَأَهْلَ النَّارِ، قَالَ: ﴿وَنَادَوْا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ سَلامٌ عَلَيْكُمْ لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ * وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ * وَنَادَى أَصْحَابُ الأعْرَافِ رِجَالا﴾ فِي النَّارِ ﴿يَعْرِفُونَهُمْ بِسِيمَاهُمْ قَالُوا مَا أَغْنَى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ * أَهَؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ﴾ قَالَ: فَهَذَا حِينَ دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ: ﴿ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ﴾ .
وَهَذَا صَحِيحٌ إِلَى أَبِي مِجْلَزٍ لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ أَحَدِ التَّابِعِينَ، وَهُوَ غَرِيبٌ مِنْ قَوْلِهِ وَخِلَافُ الظَّاهِرِ مِنَ السِّيَاقِ: وَقَوْلُ الْجُمْهُورِ مُقَدَّمٌ عَلَى قَوْلِهِ، بِدَلَالَةِ الْآيَةِ عَلَى مَا ذَهَبُوا إِلَيْهِ. وَكَذَا قَوْلُ مُجَاهِدٍ: إِنَّهُمْ قَوْمٌ صَالِحُونَ عُلَمَاءُ فُقَهَاءُ [[في ك، م، أ: "فقهاء علماء".]] فِيهِ غَرَابَةٌ أَيْضًا. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَدْ حَكَى الْقُرْطُبِيُّ وَغَيْرُهُ فِيهِمُ اثْنَيْ عَشْرَ قَوْلًا مِنْهَا: أَنَّهُمْ شَهِدُوا أَنَّهُمْ صُلَحَاءُ تَفَرَّعُوا مِنْ فَرْعِ الْآخِرَةِ، دَخَلُوا [[في م: "وجعلوا"، وفي أ: "وخلق".]] يَطَّلِعُونَ عَلَى أَخْبَارِ النَّاسِ. وَقِيلَ: هُمْ أَنْبِيَاءُ. وَقِيلَ: مَلَائِكَةٌ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿يَعْرِفُونَ كُلا بِسِيمَاهُمْ﴾ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عباس قال: يَعْرِفُونَ أَهْلَ الْجَنَّةِ بِبَيَاضِ الْوُجُوهِ، وَأَهْلَ النَّارِ بِسَوَادِ الْوُجُوهِ. وَكَذَا رَوَى الضَّحَّاكُ، عَنْهُ.
وَقَالَ العَوْفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[في ك، م: "عن ابن عباس قال".]] أَنْزَلَهُمُ اللَّهُ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ، لِيَعْرِفُوا مَنْ فِي الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَلِيَعْرِفُوا أَهْلَ النَّارِ بِسَوَادِ الْوُجُوهِ، وَيَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ أَنْ يَجْعَلَهُمْ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ. وَهُمْ فِي ذَلِكَ يُحَيُّونَ أَهْلَ الْجَنَّةِ بِالسَّلَامِ، لَمْ يَدْخُلُوهَا، وَهُمْ يَطْمَعُونَ أَنْ يَدْخُلُوهَا، وَهُمْ دَاخِلُوهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَالضَّحَّاكُ، وَالسُّدِّيُّ، وَالْحَسَنُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.
وَقَالَ مَعْمَر، عَنِ الْحَسَنِ: إِنَّهُ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ﴾ قَالَ: وَاللَّهِ مَا جَعَلَ ذَلِكَ الطَّمَعَ فِي قُلُوبِهِمْ، إِلَّا لِكَرَامَةٍ يُرِيدُهَا بِهِمْ.
وَقَالَ قَتَادَةُ [قَدْ] [[زيادة من م، أ.]] أَنْبَأَكُمُ اللَّهُ بِمَكَانِهِمْ مِنَ الطَّمَعِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ قَالَ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ أَصْحَابَ الْأَعْرَافِ إِذَا نَظَرُوا إِلَى أَهْلِ النَّارِ وَعَرَفُوهُمْ [[في ك، م، أ: "عرفوهم".]] قَالُوا: ﴿رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾
وَقَالَ السُّدِّي: وَإِذَا مَرُّوا بِهِمْ -يَعْنِي بِأَصْحَابِ الْأَعْرَافِ -بِزُمْرَةٍ يُذهب بِهَا إِلَى النَّارِ قَالُوا: ﴿رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾
وَقَالَ عِكْرِمَةُ: تُحَدَّدُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ، فَإِذَا رَأَوْا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ ذَهَبَ ذَلِكَ عَنْهُمْ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ﴾ فَرَأَوْا وُجُوهَهُمْ مُسْوَدَّةً، وَأَعْيُنَهُمْ مُزْرَقَّةً، ﴿قَالُوا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾
وَنَادَىٰٓ أَصْحَٰبُ ٱلْأَعْرَافِ رِجَالًۭا يَعْرِفُونَهُم بِسِيمَىٰهُمْ قَالُوا۟ مَآ أَغْنَىٰ عَنكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ
And the companions of the Elevations will call to men [within Hell] whom they recognize by their mark, saying, "Of no avail to you was your gathering and [the fact] that you were arrogant."
اور اہل اعراف (کافر) لوگوں کو جنہیں ان کی صورتوں سے شناخت کرتے ہوں گے پکاریں گے اور کہیں گے (کہ آج) نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کچھ کام آئی اور نہ تمہارا تکبّر (ہی سودمند ہوا)
و اصحاب اعراف، مردانی (از دوزخیان را) که از سیمایشان آنها را میشناسند، صدا میزنند و میگویند: «(دیدید که) گردآوری شما (از مال و ثروت و آن و فرزند) و تکبّرهای شما، به حالتان سودی نداد!»
Tafsir Ibn Kathir
And the men on Al-A'raf will call unto the men whom they would recognize by their marks, saying: "Of what benefit to you was your gathering, and your arrogance? (48)"Are they those, of whom you swore that Allah would never show them mercy? (Behold! It has been said to them): 'Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.' (49)
Allah states that the people of Al-A'raf will admonish some of the chiefs of the idolators whom they recognize by their marks in the Fire, saying,
مَا أَغْنَىٰ عَنكُمْ جَمْعُكُمْ
("Of what benefit to you was your gathering...") meaning, your great numbers,
وَمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ
("...and your arrogance?") This Ayah means, your great numbers and wealth did not save you from Allah's torment. Rather, you are dwelling in His torment and punishment. 'Ali bin Abi Talhah reported from Ibn 'Abbas,
أَهَٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ
(Are they those, of whom you swore that Allah would never show them mercy?) refers to the people of Al-A'raf who will be told when Allah decrees:
ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ
((Behold! It has been said to them): "Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.")
Tafsir Ibn Kathir
کفر کے ستون اور ان کا حشر کفر کے جن ستونوں کو، کافروں کے جن سرداروں کو اعراف والے ان کے چہروں سے پہچان لیں گے انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر کے پوچھیں گے کہ آج تمہاری کثرت جمعیت کہاں گئی ؟ اس نے تو تمہیں مطلقاً فائدہ نہ پہنچایا۔ آج وہ تمہاری اکڑفوں کیا ہوئی تم تو بری طرح عذابوں میں جکڑ دیئے گئے۔ ان کے بعد ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں فرمایا جائے گا کہ بد بختو انہی کی نسبت تم کہا کرتے تھے کہ اللہ انہیں کوئی راحت نہیں دے گا۔ اے اعراف والو میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ جاؤ بہ آرام بےکھٹکے جنت میں جاؤ۔ حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ اعراف والوں کے اعمال صالحہ اس قابل نہ نکلے کہ انہیں جنت میں پہنچائیں لیکن اتنی برائیاں بھی ان کی نہ تھیں کہ دوزخ میں جائیں تو یہ اعراف پر ہی روک دیئے گئے، لوگوں کو ان کے اندازے سے پہچانتے ہوں گے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کرچکے گا شفاعت کی اجازت دے گا لوگ حضرت آدم ؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے آدم آپ ہمارے باپ ہیں ہماری شفاعت اللہ تعالیٰ کی جانب میں کیجئے۔ آپ جواب دیں گے کہ کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میرے سوا کسی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہوا، اپنی روح اس میں پھونکی ہو، اپنی رحمت اس پر اپنے غضب سے پہلے پہنچائی ہو، اپنے فرشتوں سے اسے سجدہ کرایا ہو ؟ سب جواب دیں گے کہ نہیں ایسا کوئی آپ کے سوا نہیں۔ آپ فرمائیں گے میں اس کی حقیقت سے بیخبر ہوں میں تمہاری شفاعت نہیں کرسکتا ہوں تم میرے لڑکے ابراہیم کے پاس جاؤ۔ اب سب لوگ حضرت ابراہیم ؑ کے پاس پہنچیں گے اور ان سے شفاعت کرنے کی درخواست کریں گے۔ آپ جواب دیں گے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میرے سوا اور کوئی خلیل اللہ ہوا ہو ؟ یا اللہ کے بارے میں اس کی قوم نے آگ میں پھینکا ہو ؟ سب کہیں گے نہیں آپ کے سوا اور کوئی نہیں، فرمائیں گے مجھے اس کی حقیقت معلوم نہیں میں تمہاری درخواست شفاعت نہیں لے جاسکتا تم میرے لڑکے موسیٰ کے پاس جاؤ۔ حضرت موسیٰ ؑ جواب دیں گے کہ بتاؤ میرے سوا اللہ نے کسی کو اپنا کلیم بنایا، اپنی سرگوشیوں کے لئے نزدیکی عطا فرمائی ؟ جواب دیں گے کہ نہیں۔ فرمائیں گے میں اس کی حقیقت سے بیخبر ہوں میں تمہاری سفارش کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ہاں تم حضرت عیسیٰ کے پاس جاؤ۔ لوگ حضرت عیسیٰ ؑ کے پاس آئیں گے ان سے شفاعت طلبی کا تقاضا کریں گے یہ جواب دیں گے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میرے سوا کسی کو اللہ نے بغیر باپ کے پیدا کیا ہو ؟ جواب ملے گا کہ نہیں۔ پوچھیں گے جانتے ہو کہ کوئی مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بحکم الہی میرے سوا اچھا کرتا ہو یا کوئی مردہ کو بحکم الہی زندہ کردیتا ہو ؟ کہیں گے کہ کوئی نہیں۔ فرمائیں گے کہ میں تو آج اپنے نفس کے بچاؤ میں ہوں، میں اس کی حقیقت سے بیخبر ہوں۔ مجھ میں اتنی طاقت کہاں کہ تمہاری سفارش کرسکوں، ہاں تم سب کے سب حضرت محمد ﷺ کے پاس جاؤ۔ چناچہ سب لوگ میرے پاس آئیں گے میں اپنا سینہ ٹھونک کر کہوں گا کہ ہاں ہاں میں اسی لئے موجود ہوں، پھر میں چل کر اللہ کے عرش کے سامنے ٹھہر جاؤں گا۔ اپنے رب عزوجل کے پاس پہنچ جاؤں گا اور ایسی ایسی اس کی تعریفیں بیان کروں گا کہ کسی سننے والے نے کبھی نہ سنی ہوں۔ پھر سجدے میں گر پڑوں گا پھر مجھ سے فرمایا جائے گا کہ اے محمد ﷺ اپنا سر اٹھاؤ۔ مانگو دیا جائے گا۔ شفاعت کرو، قبول کی جائے گی۔ پس میں اپنا سر اٹھا کر کہوں گا میرے رب میری امت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ سب تیری ہی ہے۔ پھر تو ہر ہر پیغمبر اور ہر ایک فرشتہ رشک کرنے لگے گا۔ یہی مقام مقام محمود ہے۔ پھر میں ان سب کو لے کر جنت کی طرف آؤں گا۔ جنت کا دروازہ کھلواؤں گا اور وہ میرے لئے اور ان کیلئے کھول دیا جائے گا پھر انہیں ایک نہر کی طرف لے جائیں گے جس کا نام نہر الحیوان ہے اس کے دونوں کناروں پر سونے کے محل ہیں جو یاقوت سے جڑاؤ کئے گئے ہیں اس میں غسل کریں گے جس سے جنتی رنگ اور جنتی خوشبو ان میں پیدا ہوجائے گی اور چمکتے ہوئے ستاروں جیسے وہ نورانی ہوجائیں گے ہاں ان کے سینوں پر سفید نشان باقی رہ جائیں گے جس سے وہ پہچانے جائیں گے انہیں مساکین اہل جنت کہا جائے گا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى مُخْبِرًا [[في ك، م، أ: "إخبارا".]] عَنْ تَقْرِيعِ أَهْلِ الْأَعْرَافِ لِرِجَالٍ مِنْ صَنَادِيدِ الْمُشْرِكِينَ وَقَادَتِهِمْ، يَعْرِفُونَهُمْ فِي النَّارِ بِسِيمَاهُمْ: ﴿مَا أَغْنَى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ﴾ أَيْ: كَثْرَتُكُمْ، ﴿وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ﴾ أَيْ: لَا يَنْفَعُكُمْ [[في أ: "يمنعكم".]] كَثْرَتُكُمْ وَلَا جُمُوعُكُمْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، بَلْ صِرْتُمْ إِلَى مَا صِرْتُمْ فِيهِ [[في ك، م: "إلى ما أنتم فيه".]] مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ. ﴿أَهَؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ﴾ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: يَعْنِي: أَصْحَابَ الْأَعْرَافِ ﴿ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ﴾
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَمِّي، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿قَالُوا مَا أَغْنَى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ [وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ] ﴾ [[زيادة من د، ك، م، أ.]] الْآيَةَ، قَالَ: فَلَمَّا قَالُوا لَهُمُ الَّذِي قَضَى اللَّهُ أَنْ يَقُولُوا -يَعْنِي أَصْحَابَ الْأَعْرَافِ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ-قَالَ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] لِأَهْلِ التَّكَبُّرِ وَالْأَمْوَالِ: ﴿أَهَؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ﴾
وَقَالَ [[في ك، م: "فقال".]] حُذَيْفَةُ: إِنَّ أَصْحَابَ الْأَعْرَافِ قَوْمٌ تَكَافَأَتْ أَعْمَالُهُمْ، فَقَصَّرَتْ بِهِمْ حَسَنَاتُهُمْ عن الجنة، وَقَصَّرَتْ بِهِمْ سَيِّئَاتُهُمْ عَنِ النَّارِ، فجُعلوا عَلَى الْأَعْرَافِ، يَعْرِفُونَ النَّاسَ بِسِيمَاهُمْ، فَلَمَّا قَضَى اللَّهُ بَيْنَ الْعِبَادِ أُذِنَ لَهُمْ فِي طَلَبِ الشَّفَاعَةِ، فَأَتَوْا آدَمَ فَقَالُوا: يَا آدَمُ، أَنْتَ أَبُونَا، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ. فَقَالَ: هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ أَحَدًا خَلَقَهُ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ، وَسَبَقَتْ رَحْمَتُهُ إِلَيْهِ غضبَه، وَسَجَدَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ غَيْرِي؟ فَيَقُولُونَ: لَا. [قَالَ] [[زيادة من ك، م.]] فَيَقُولُ: مَا عَلِمْتُ كُنْهَهُ، مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَشْفَعَ لَكُمْ، وَلَكِنِ ائْتُوا ابْنِي إِبْرَاهِيمَ. فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ ﷺ [[في أ: "عليه الصلاة والسلام".]] فَيَسْأَلُونَهُ أَنْ يَشْفَعَ لَهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ، فَيَقُولُ: [هَلْ] [[زيادة من أ.]] تَعْلَمُونَ مِنْ أَحَدٍ اتَّخَذَهُ اللَّهُ خَلِيلًا؟ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ أَحَدًا أَحْرَقَهُ قَوْمُهُ بِالنَّارِ فِي اللَّهِ غَيْرِي؟ فَيَقُولُونَ: لَا. فَيَقُولُ: مَا عَلِمْتُ كُنْهَهُ، مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَشْفَعَ لَكُمْ. وَلَكِنِ ائْتُوا ابْنِي مُوسَى. فَيَأْتُونَ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، [فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ] [[زيادة من أ.]] فَيَقُولُ: هَلْ تَعْلَمُونَ مِنْ أَحَدٍ كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا وَقَرَبَّهُ نَجِيًّا غَيْرِي؟ فَيَقُولُونَ: لَا فَيَقُولُ: مَا عَلِمْتُ كُنْهَهُ، مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَشْفَعَ لَكُمْ، وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى. فَيَأْتُونَهُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَيَقُولُونَ لَهُ: اشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ. فَيَقُولُ: هَلْ تَعْلَمُونَ أَحَدًا خَلَقَهُ اللَّهُ مِنْ غَيْرِ أَبٍ غَيْرِي؟ فَيَقُولُونَ: لَا. فَيَقُولُ: هَلْ تَعْلَمُونَ مِنْ أَحَدٍ كَانَ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَيُحْيِي الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللَّهِ غَيْرِي؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَا. فَيَقُولُ: أَنَا حَجِيجُ نَفْسِي. مَا عَلِمْتُ كُنْهَهُ، مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَشْفَعَ لَكُمْ. وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا ﷺ فَيَأْتُونَنِي [[في ك، م: "فيأتوني".]] فَأَضْرِبُ بِيَدِي عَلَى صَدْرِي، ثُمَّ أَقُولُ: أَنَا لَهَا. ثُمَّ أَمْشِي حَتَّى أَقِفَ بَيْنَ يَدَيِ الْعَرْشِ، فَآتِي رَبِّي، عَزَّ وَجَلَّ، فَيَفْتَحُ لِي مِنَ الثَّنَاءِ مَا لَمْ يَسْمَعِ السَّامِعُونَ بِمِثْلِهِ قَطُّ، ثُمَّ أَسْجُدُ فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَسَلْ تُعطه، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ. فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَقُولُ: رَبِّي أُمَّتِي. فَيَقُولُ: هُمْ لَكَ. فَلَا يَبْقَى نَبِيٌّ مُرْسَلٌ، وَلَا مَلَكٌ مُقَرَّبٌ، إِلَّا غَبَطَنِي بِذَلِكَ الْمَقَامِ، وَهُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ. فَآتِي بِهِمُ الْجَنَّةَ، فَأَسْتَفْتِحُ فَيُفْتَحُ لِي وَلَهُمْ، فَيُذْهَبُ بِهِمْ إِلَى نَهْرٍ يُقَالُ لَهُ: نَهْرُ الْحَيَوَانِ، حَافَّتَاهُ قَصَبٌ مُكَلَّلٌ بِاللُّؤْلُؤِ، تُرَابُهُ الْمِسْكُ، وَحَصْبَاؤُهُ الْيَاقُوتُ. فَيَغْتَسِلُونَ مِنْهُ، فَتَعُودُ إِلَيْهِمْ أَلْوَانُ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَرِيحُ [أَهْلِ الْجَنَّةِ] [[زيادة من ك، م، أ.]] فَيَصِيرُونَ كَأَنَّهُمُ الْكَوَاكِبُ الدُّرِّيَّةُ، وَيَبْقَى فِي صُدُورِهِمْ شَامَاتٌ بِيضٌ يُعْرَفُونَ بِهَا، يُقَالُ لَهُمْ: مَسَاكِينُ أَهْلِ الْجَنَّةِ" [[رواه الطبري في تفسيره (١٢/٤٦٩) .]]
أَهَٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ ٱللَّهُ بِرَحْمَةٍ ۚ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَآ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ
[Allah will say], "Are these the ones whom you [inhabitants of Hell] swore that Allah would never offer them mercy? Enter Paradise, [O People of the Elevations]. No fear will there be concerning you, nor will you grieve."
(پھر مومنوں کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے) کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ خدا اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا (تو مومنو) تم بہشت میں داخل ہو جاؤ تمہیں کچھ خوف نہیں اور نہ تم کو کچھ رنج واندوہ ہوگا
آیا اینها [= این واماندگان بر اعراف] همانان نیستند که سوگند یاد کردید رحمت خدا هرگز شامل حالشان نخواهد شد؟! (ولی خداوند بخاطر ایمان و بعضی اعمال خیرشان، آنها را بخشید؛ هم اکنون به آنها گفته میشود:) داخل بهشت شوید، که نه ترسی دارید و نه غمناک میشوید!
Tafsir Ibn Kathir
And the men on Al-A'raf will call unto the men whom they would recognize by their marks, saying: "Of what benefit to you was your gathering, and your arrogance? (48)"Are they those, of whom you swore that Allah would never show them mercy? (Behold! It has been said to them): 'Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.' (49)
Allah states that the people of Al-A'raf will admonish some of the chiefs of the idolators whom they recognize by their marks in the Fire, saying,
مَا أَغْنَىٰ عَنكُمْ جَمْعُكُمْ
("Of what benefit to you was your gathering...") meaning, your great numbers,
وَمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ
("...and your arrogance?") This Ayah means, your great numbers and wealth did not save you from Allah's torment. Rather, you are dwelling in His torment and punishment. 'Ali bin Abi Talhah reported from Ibn 'Abbas,
أَهَٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ
(Are they those, of whom you swore that Allah would never show them mercy?) refers to the people of Al-A'raf who will be told when Allah decrees:
ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ
((Behold! It has been said to them): "Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.")
Tafsir Ibn Kathir
کفر کے ستون اور ان کا حشر کفر کے جن ستونوں کو، کافروں کے جن سرداروں کو اعراف والے ان کے چہروں سے پہچان لیں گے انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر کے پوچھیں گے کہ آج تمہاری کثرت جمعیت کہاں گئی ؟ اس نے تو تمہیں مطلقاً فائدہ نہ پہنچایا۔ آج وہ تمہاری اکڑفوں کیا ہوئی تم تو بری طرح عذابوں میں جکڑ دیئے گئے۔ ان کے بعد ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں فرمایا جائے گا کہ بد بختو انہی کی نسبت تم کہا کرتے تھے کہ اللہ انہیں کوئی راحت نہیں دے گا۔ اے اعراف والو میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ جاؤ بہ آرام بےکھٹکے جنت میں جاؤ۔ حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ اعراف والوں کے اعمال صالحہ اس قابل نہ نکلے کہ انہیں جنت میں پہنچائیں لیکن اتنی برائیاں بھی ان کی نہ تھیں کہ دوزخ میں جائیں تو یہ اعراف پر ہی روک دیئے گئے، لوگوں کو ان کے اندازے سے پہچانتے ہوں گے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کرچکے گا شفاعت کی اجازت دے گا لوگ حضرت آدم ؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے آدم آپ ہمارے باپ ہیں ہماری شفاعت اللہ تعالیٰ کی جانب میں کیجئے۔ آپ جواب دیں گے کہ کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میرے سوا کسی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہوا، اپنی روح اس میں پھونکی ہو، اپنی رحمت اس پر اپنے غضب سے پہلے پہنچائی ہو، اپنے فرشتوں سے اسے سجدہ کرایا ہو ؟ سب جواب دیں گے کہ نہیں ایسا کوئی آپ کے سوا نہیں۔ آپ فرمائیں گے میں اس کی حقیقت سے بیخبر ہوں میں تمہاری شفاعت نہیں کرسکتا ہوں تم میرے لڑکے ابراہیم کے پاس جاؤ۔ اب سب لوگ حضرت ابراہیم ؑ کے پاس پہنچیں گے اور ان سے شفاعت کرنے کی درخواست کریں گے۔ آپ جواب دیں گے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میرے سوا اور کوئی خلیل اللہ ہوا ہو ؟ یا اللہ کے بارے میں اس کی قوم نے آگ میں پھینکا ہو ؟ سب کہیں گے نہیں آپ کے سوا اور کوئی نہیں، فرمائیں گے مجھے اس کی حقیقت معلوم نہیں میں تمہاری درخواست شفاعت نہیں لے جاسکتا تم میرے لڑکے موسیٰ کے پاس جاؤ۔ حضرت موسیٰ ؑ جواب دیں گے کہ بتاؤ میرے سوا اللہ نے کسی کو اپنا کلیم بنایا، اپنی سرگوشیوں کے لئے نزدیکی عطا فرمائی ؟ جواب دیں گے کہ نہیں۔ فرمائیں گے میں اس کی حقیقت سے بیخبر ہوں میں تمہاری سفارش کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ہاں تم حضرت عیسیٰ کے پاس جاؤ۔ لوگ حضرت عیسیٰ ؑ کے پاس آئیں گے ان سے شفاعت طلبی کا تقاضا کریں گے یہ جواب دیں گے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میرے سوا کسی کو اللہ نے بغیر باپ کے پیدا کیا ہو ؟ جواب ملے گا کہ نہیں۔ پوچھیں گے جانتے ہو کہ کوئی مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بحکم الہی میرے سوا اچھا کرتا ہو یا کوئی مردہ کو بحکم الہی زندہ کردیتا ہو ؟ کہیں گے کہ کوئی نہیں۔ فرمائیں گے کہ میں تو آج اپنے نفس کے بچاؤ میں ہوں، میں اس کی حقیقت سے بیخبر ہوں۔ مجھ میں اتنی طاقت کہاں کہ تمہاری سفارش کرسکوں، ہاں تم سب کے سب حضرت محمد ﷺ کے پاس جاؤ۔ چناچہ سب لوگ میرے پاس آئیں گے میں اپنا سینہ ٹھونک کر کہوں گا کہ ہاں ہاں میں اسی لئے موجود ہوں، پھر میں چل کر اللہ کے عرش کے سامنے ٹھہر جاؤں گا۔ اپنے رب عزوجل کے پاس پہنچ جاؤں گا اور ایسی ایسی اس کی تعریفیں بیان کروں گا کہ کسی سننے والے نے کبھی نہ سنی ہوں۔ پھر سجدے میں گر پڑوں گا پھر مجھ سے فرمایا جائے گا کہ اے محمد ﷺ اپنا سر اٹھاؤ۔ مانگو دیا جائے گا۔ شفاعت کرو، قبول کی جائے گی۔ پس میں اپنا سر اٹھا کر کہوں گا میرے رب میری امت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ سب تیری ہی ہے۔ پھر تو ہر ہر پیغمبر اور ہر ایک فرشتہ رشک کرنے لگے گا۔ یہی مقام مقام محمود ہے۔ پھر میں ان سب کو لے کر جنت کی طرف آؤں گا۔ جنت کا دروازہ کھلواؤں گا اور وہ میرے لئے اور ان کیلئے کھول دیا جائے گا پھر انہیں ایک نہر کی طرف لے جائیں گے جس کا نام نہر الحیوان ہے اس کے دونوں کناروں پر سونے کے محل ہیں جو یاقوت سے جڑاؤ کئے گئے ہیں اس میں غسل کریں گے جس سے جنتی رنگ اور جنتی خوشبو ان میں پیدا ہوجائے گی اور چمکتے ہوئے ستاروں جیسے وہ نورانی ہوجائیں گے ہاں ان کے سینوں پر سفید نشان باقی رہ جائیں گے جس سے وہ پہچانے جائیں گے انہیں مساکین اہل جنت کہا جائے گا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى مُخْبِرًا [[في ك، م، أ: "إخبارا".]] عَنْ تَقْرِيعِ أَهْلِ الْأَعْرَافِ لِرِجَالٍ مِنْ صَنَادِيدِ الْمُشْرِكِينَ وَقَادَتِهِمْ، يَعْرِفُونَهُمْ فِي النَّارِ بِسِيمَاهُمْ: ﴿مَا أَغْنَى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ﴾ أَيْ: كَثْرَتُكُمْ، ﴿وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ﴾ أَيْ: لَا يَنْفَعُكُمْ [[في أ: "يمنعكم".]] كَثْرَتُكُمْ وَلَا جُمُوعُكُمْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، بَلْ صِرْتُمْ إِلَى مَا صِرْتُمْ فِيهِ [[في ك، م: "إلى ما أنتم فيه".]] مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ. ﴿أَهَؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ﴾ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: يَعْنِي: أَصْحَابَ الْأَعْرَافِ ﴿ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ﴾
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَمِّي، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿قَالُوا مَا أَغْنَى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ [وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ] ﴾ [[زيادة من د، ك، م، أ.]] الْآيَةَ، قَالَ: فَلَمَّا قَالُوا لَهُمُ الَّذِي قَضَى اللَّهُ أَنْ يَقُولُوا -يَعْنِي أَصْحَابَ الْأَعْرَافِ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ-قَالَ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] لِأَهْلِ التَّكَبُّرِ وَالْأَمْوَالِ: ﴿أَهَؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ﴾
وَقَالَ [[في ك، م: "فقال".]] حُذَيْفَةُ: إِنَّ أَصْحَابَ الْأَعْرَافِ قَوْمٌ تَكَافَأَتْ أَعْمَالُهُمْ، فَقَصَّرَتْ بِهِمْ حَسَنَاتُهُمْ عن الجنة، وَقَصَّرَتْ بِهِمْ سَيِّئَاتُهُمْ عَنِ النَّارِ، فجُعلوا عَلَى الْأَعْرَافِ، يَعْرِفُونَ النَّاسَ بِسِيمَاهُمْ، فَلَمَّا قَضَى اللَّهُ بَيْنَ الْعِبَادِ أُذِنَ لَهُمْ فِي طَلَبِ الشَّفَاعَةِ، فَأَتَوْا آدَمَ فَقَالُوا: يَا آدَمُ، أَنْتَ أَبُونَا، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ. فَقَالَ: هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ أَحَدًا خَلَقَهُ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ، وَسَبَقَتْ رَحْمَتُهُ إِلَيْهِ غضبَه، وَسَجَدَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ غَيْرِي؟ فَيَقُولُونَ: لَا. [قَالَ] [[زيادة من ك، م.]] فَيَقُولُ: مَا عَلِمْتُ كُنْهَهُ، مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَشْفَعَ لَكُمْ، وَلَكِنِ ائْتُوا ابْنِي إِبْرَاهِيمَ. فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ ﷺ [[في أ: "عليه الصلاة والسلام".]] فَيَسْأَلُونَهُ أَنْ يَشْفَعَ لَهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ، فَيَقُولُ: [هَلْ] [[زيادة من أ.]] تَعْلَمُونَ مِنْ أَحَدٍ اتَّخَذَهُ اللَّهُ خَلِيلًا؟ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ أَحَدًا أَحْرَقَهُ قَوْمُهُ بِالنَّارِ فِي اللَّهِ غَيْرِي؟ فَيَقُولُونَ: لَا. فَيَقُولُ: مَا عَلِمْتُ كُنْهَهُ، مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَشْفَعَ لَكُمْ. وَلَكِنِ ائْتُوا ابْنِي مُوسَى. فَيَأْتُونَ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، [فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ] [[زيادة من أ.]] فَيَقُولُ: هَلْ تَعْلَمُونَ مِنْ أَحَدٍ كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا وَقَرَبَّهُ نَجِيًّا غَيْرِي؟ فَيَقُولُونَ: لَا فَيَقُولُ: مَا عَلِمْتُ كُنْهَهُ، مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَشْفَعَ لَكُمْ، وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى. فَيَأْتُونَهُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَيَقُولُونَ لَهُ: اشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ. فَيَقُولُ: هَلْ تَعْلَمُونَ أَحَدًا خَلَقَهُ اللَّهُ مِنْ غَيْرِ أَبٍ غَيْرِي؟ فَيَقُولُونَ: لَا. فَيَقُولُ: هَلْ تَعْلَمُونَ مِنْ أَحَدٍ كَانَ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَيُحْيِي الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللَّهِ غَيْرِي؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَا. فَيَقُولُ: أَنَا حَجِيجُ نَفْسِي. مَا عَلِمْتُ كُنْهَهُ، مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَشْفَعَ لَكُمْ. وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا ﷺ فَيَأْتُونَنِي [[في ك، م: "فيأتوني".]] فَأَضْرِبُ بِيَدِي عَلَى صَدْرِي، ثُمَّ أَقُولُ: أَنَا لَهَا. ثُمَّ أَمْشِي حَتَّى أَقِفَ بَيْنَ يَدَيِ الْعَرْشِ، فَآتِي رَبِّي، عَزَّ وَجَلَّ، فَيَفْتَحُ لِي مِنَ الثَّنَاءِ مَا لَمْ يَسْمَعِ السَّامِعُونَ بِمِثْلِهِ قَطُّ، ثُمَّ أَسْجُدُ فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَسَلْ تُعطه، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ. فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَقُولُ: رَبِّي أُمَّتِي. فَيَقُولُ: هُمْ لَكَ. فَلَا يَبْقَى نَبِيٌّ مُرْسَلٌ، وَلَا مَلَكٌ مُقَرَّبٌ، إِلَّا غَبَطَنِي بِذَلِكَ الْمَقَامِ، وَهُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ. فَآتِي بِهِمُ الْجَنَّةَ، فَأَسْتَفْتِحُ فَيُفْتَحُ لِي وَلَهُمْ، فَيُذْهَبُ بِهِمْ إِلَى نَهْرٍ يُقَالُ لَهُ: نَهْرُ الْحَيَوَانِ، حَافَّتَاهُ قَصَبٌ مُكَلَّلٌ بِاللُّؤْلُؤِ، تُرَابُهُ الْمِسْكُ، وَحَصْبَاؤُهُ الْيَاقُوتُ. فَيَغْتَسِلُونَ مِنْهُ، فَتَعُودُ إِلَيْهِمْ أَلْوَانُ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَرِيحُ [أَهْلِ الْجَنَّةِ] [[زيادة من ك، م، أ.]] فَيَصِيرُونَ كَأَنَّهُمُ الْكَوَاكِبُ الدُّرِّيَّةُ، وَيَبْقَى فِي صُدُورِهِمْ شَامَاتٌ بِيضٌ يُعْرَفُونَ بِهَا، يُقَالُ لَهُمْ: مَسَاكِينُ أَهْلِ الْجَنَّةِ" [[رواه الطبري في تفسيره (١٢/٤٦٩) .]]
وَنَادَىٰٓ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ أَصْحَٰبَ ٱلْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا۟ عَلَيْنَا مِنَ ٱلْمَآءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ ۚ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ
And the companions of the Fire will call to the companions of Paradise, "Pour upon us some water or from whatever Allah has provided you." They will say, "Indeed, Allah has forbidden them both to the disbelievers."
اور وہ دوزخی بہشتیوں سے (گڑگڑا کر) کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ یا جو رزق خدا نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ان میں سے (کچھ ہمیں بھی دو) وہ جواب دیں گے کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کافروں پر حرام کر دیا ہے
و دوزخیان، بهشتیان را صدا میزنند که: «(محبّت کنید) و مقداری آب، یا از آنچه خدا به شما روزی داده، به ما ببخشید!» آنها (در پاسخ) میگویند: «خداوند اینها را بر کافران حرام کرده است!»
Tafsir Ibn Kathir
And the dwellers of the Fire will call to the dwellers of Paradise: "Pour on us some water or anything that Allah has provided you with." They will say: "Both (water and provision) Allah has forbidden for the disbelievers (50)"Who took their religion as amusement and play, and the life of the world deceived them." So this Day We shall forget them as they forgot their meeting of this Day, and as they used to reject Our Ayat (51)
The Favors of paradise are Prohibited for the People of the Fire
Allah emphasizes the disgrace of the people of the Fire. They will ask the people of Paradise for some of their drink and food, but they will not be given any of that. As-Suddi said,
وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ
(And the dwellers of the Fire will call to the dwellers of Paradise: "Pour on us some water or anything that Allah has provided you with.")
"That is food". Ath-Thawri said that 'Uthman Ath-Thaqafi said that Sa'id bin Jubayr commented on this Ayah, "One of them will call his father or brother, 'I have been burned, so pour some water on me.' The believers will be asked to reply, and they will reply,
إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ
("Both Allah has forbidden to the disbelievers.")" 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that,
إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ
("Both Allah has forbidden to the disbelievers.") "Refers to the food and drink of Paradise."
Allah describes the disbelievers by what they used to do in this life, taking the religion as amusement and play, and being deceived by this life and its adornment, rather than working for the Hereafter as Allah commanded,
فَالْيَوْمَ نَنسَاهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَٰذَا
(So this Day We shall forget them as they forgot their meeting of this Day) meaning, Allah will treat them as if He has forgotten them. Certainly, nothing escapes Allah's perfect watch and He never forgets anything. Allah said in another Ayah,
فِي كِتَابٍ لَّا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنسَى
(In a Record. My Lord neither errs nor forgets)[20:52]
Allah said – that He will forget them on that Day – as just recompense for them, because,
نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ
(They have forgotten Allah, so He has forgotten them)[9:67]
كَذَٰلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَٰلِكَ الْيَوْمَ تُنسَىٰ
(Like this: Our Ayat came unto you, but you disregarded them, and so this Day, you will be neglected)[20:126] and,
وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا
(And it will be said: "This Day We will forget you as you forgot the meeting of this Day of yours.")[45:34] Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas commented on,
فَالْيَوْمَ نَنسَاهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَٰذَا
(So this Day We shall forget them as they forgot their meeting of this Day)
"Allah will forget the good about them, but not their evil." And 'Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas said, "We shall forsake them as they have forsaken the meeting of this Day of theirs." Mujahid said, "We shall leave them in the Fire."
As-Suddi said, "We shall leave them from any mercy, just as they left any action on behalf of the meeting on this Day of theirs."
It is recorded in the Sahih that Allah will say to the servant on the Day of Resurrection:
أَلَمْ أُزَوِّجْكَ؟ أَلَمْ أُكْرِمْكَ؟ أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيَقُولُ: أَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ؟ فَيَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى: فَالْيَوْمَ أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي
("Have I not gotten you married? Have I not honored you? Have I not made horses and camels subservient for you and allowed you to become a leader and a master?" He will say, "Yes." Allah will say, "Did you think that you will meet Me?" He will say, "No." Allah the Exalted will say, 'Then this Day, I will forget you as you have forgotten Me.")
Tafsir Ibn Kathir
جیسی کرنی ویسی بھرنی دوزخیوں کی ذلت و خواری اور ان کا بھیک مانگنا اور ڈانٹ دیا جانا بیان ہو رہا ہے کہ وہ جنتیوں سے پانی یا کھانا مانگیں گے۔ اپنے نزدیک کے رشتے کنبے والے جیسے باپ بیٹے بھائی بہن وغیرہ سے کہیں گے کہ ہم جل بھن رہے ہیں، بھوکے پیاسے ہیں، ہمیں ایک گھونٹ پانی یا ایک لقمہ کھانا دے دو۔ وہ بحکم الٰہی انہیں جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ کفار پر حرام ہے۔ ابن عباس سے سوال ہوتا ہے کہ کس چیز کا صدقہ افضل ہے ؟ فرمایا حضور کا ارشاد ہے کہ سب سے افضل خیرات پانی ہے۔ دیکھو جہنمی اہل جنت سے اسی کا سوال کریں گے مروی ہے کہ جب ابو طالب موت کی بیماری میں مبتلا ہوا تو قریشیوں نے اس سے کہا کسی کو بھیج کر اپنے بھتیجے سے کہلواؤ کہ وہ تمہارے پاس جنتی انگور کا ایک خوشہ بھجوا دے تاکہ تیری بیماری جاتی رہے۔ جس وقت قاصد حضور کے پاس آتا ہے حضرت ابوبکر صدیق ؓ آپ کے پاس موجود تھے۔ سنتے ہی فرمانے لگے اللہ نے جنت کی کھانے پینے کی چیزیں کافروں پر حرام کردی ہیں۔ پھر ان کی بد کرداری بیان فرمائی کہ یہ لوگ دین حق کو ایک ہنسی کھیل سمجھے ہوئے تھے دنیا کی زینت اور اس کے بناؤ چناؤ میں ہی عمر بھر مشغول رہے۔ یہ چونکہ اس دن کو بھول بسر گئے تھے اس کے بدلے ہم بھی ان کے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے جو کسی بھول جانے والے کا معاملہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ بھولنے سے پاک ہے اس کے علم سے کوئی چیز نکل نہیں سکتی۔ فرماتا ہے آیت (لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَلَا يَنْسَى 52ۡ) 20۔ طه :52) نہ وہ بہکے نہ بھولے۔ یہاں جو فرمایا یہ صرف مقابلہ کیلئے ہے جیسے فرمان ہے آیت (نسو اللہ فنسیھم) اور جیسے دوسری آیت میں ہے (قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا ۚ وَكَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى01206) 20۔ طه :126) فرمان ہے (الْيَوْمَ نَنْسٰـىكُمْ كَمَا نَسِيْتُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا وَمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ 34) 45۔ الجاثية :34) تیرے پاس ہماری نشانیاں آئی تھیں جنہیں تو بھلا بیٹھا تھا اسی طرح آج تجھے بھی بھلا دیا جائے گا وغیرہ۔ پس یہ بھلائیوں سے بالقصد بھلا دیئے جائیں گے۔ ہاں برائیاں اور عذاب برابر ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلایا ہم نے انہیں آگ میں چھوڑا رحمت سے دور کیا جیسے یہ عمل سے دور تھے۔ صحیح حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے فرمائے گا کیا میں نے تجھے بیوی بچے نہیں دیئے تھے ؟ کیا عزت آبرو نہیں دی تھی ؟ کیا گھوڑے اور اونٹ تیرے مطیع نہیں کئے تھے ؟ اور کیا تجھے قسم قسم کی راحتوں میں آزاد نہیں رکھا تھا ؟ بندہ جواب دے گا کہ ہاں پروردگار بیشک تو نے ایسا ہی کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا پھر کیا تو میری ملاقات پر ایمان رکھتا تھا ؟ وہ جواب دے گا کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا پس میں بھی آج تجھے ایسا ہی بھول جاؤں گا جیسے تو مجھے بھول گیا تھا۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ ذِلَّةِ أَهْلِ النَّارِ وَسُؤَالِهِمْ أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ شَرَابِهِمْ وَطَعَامِهِمْ، وَأَنَّهُمْ لَا يُجَابُونَ إِلَى ذَلِكَ.
قَالَ السُّدِّي: ﴿وَنَادَى أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ﴾
يَعْنِي: الطَّعَامَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: يَسْتَطْعِمُونَهُمْ وَيَسْتَسْقُونَهُمْ.
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ: يُنَادِي الرَّجُلُ أَبَاهُ أَوْ أَخَاهُ فَيَقُولُ: قَدِ احْتَرَقْتُ، أَفِضْ [[في د: "فأفض".]] عَلَيَّ مِنَ الْمَاءِ. فَيُقَالُ لَهُمْ: أَجِيبُوهُمْ. فَيَقُولُونَ: ﴿إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ﴾
وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلُهُ [سَوَاءً] [[زيادة من أ.]]
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: ﴿إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ﴾ يَعْنِي: طَعَامَ الْجَنَّةِ وَشَرَابَهَا.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الصفَّار فِي دَارِ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ -أَوْ: سُئِلَ -: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ الْمَاءُ، أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَى أَهْلِ النَّارِ لَمَّا اسْتَغَاثُوا بِأَهْلِ الْجَنَّةِ قَالُوا: ﴿أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ﴾ [[ورواه البيهقي في شعب الإيمان برقم (٣٣٨٠) والذهبي في ميزان الاعتدال (٤/٢٢٤) من طريق موسى بن المغيرة به.
وقال الذهبي: "موسى بن المغيرة مجهول، وشيخه أبو موسى الصفار لا يعرف".]]
وَقَالَ أَيْضًا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ: لَمَّا مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ قَالُوا لَهُ: لَوْ أرسلتَ إِلَى ابْنِ أَخِيكَ هَذَا، فَيُرْسِلَ إِلَيْكَ بِعُنْقُودٍ مِنَ الْجَنَّةِ [[في د، ك، م، أ: "جنته".]] لَعَلَّهُ أَنْ يَشْفِيَكَ بِهِ. فَجَاءَهُ الرَّسُولُ وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ [[ورواه ابن أبي شيبة كما في الدر المنثور للسيوطي (٣/٤٦٩) .]]
ثُمَّ وَصَفَ تَعَالَى الْكَافِرِينَ بِمَا كَانُوا يَعْتَمِدُونَهُ فِي الدُّنْيَا مِنَ اتِّخَاذِهِمُ الدِّينَ لَهْوًا وَلَعِبًا، وَاغْتِرَارِهِمْ بِالدُّنْيَا وَزِينَتِهَا وَزُخْرُفِهَا عَمَّا أُمِرُوا بِهِ مِنَ الْعَمَلِ لِلدَّارِ الْآخِرَةِ.
قَوْلُهُ [[في م: "وقوله".]] ﴿فَالْيَوْمَ نَنْسَاهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَذَا﴾ أَيْ: نُعَامِلُهُمْ مُعَامَلَةَ مَنْ نَسيهم؛ لِأَنَّهُ تَعَالَى لَا يَشِذُّ عَنْ [[في أ: "من".]] عِلْمِهِ شَيْءٌ وَلَا يَنْسَاهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فِي كِتَابٍ لَا يَضِلُّ رَبِّي وَلا يَنْسَى﴾ [طه:٥٢]
وَإِنَّمَا قَالَ تَعَالَى هَذَا مِنْ بَابِ الْمُقَابَلَةِ، كَمَا قَالَ: ﴿نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ﴾ [التَّوْبَةِ:٦٧] وَقَالَ: ﴿كَذَلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنْسَى﴾ [طه:١٢٦] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنْسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا﴾ [الْجَاثِيَةِ:٣٤]
وَقَالَ العَوْفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي [قَوْلِهِ] [[زيادة من أ.]] ﴿فَالْيَوْمَ نَنْسَاهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَذَا﴾ قَالَ: نَسِيَهُمُ اللَّهُ مِنَ الْخَيْرِ، وَلَمْ يَنْسَهُمْ مِنَ الشَّرِّ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَتْرُكُهُمْ، كَمَا تَرَكُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَذَا. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: نَتْرُكُهُمْ فِي النَّارِ. وَقَالَ السُّدِّي: نَتْرُكُهُمْ مِنَ الرَّحْمَةِ، كَمَا تَرَكُوا أَنْ يَعْمَلُوا لِلِقَاءِ يَوْمِهِمْ هَذَا.
وَفِي الصَّحِيحِ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: "أَلَمْ أُزَوِّجْكَ؟ أَلَمْ أُكْرِمْكَ؟ أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ، وأذَرْك تَرْأَسُ وتَرْبَع؟ فَيَقُولُ: بَلَى. فَيَقُولُ: أَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ؟ فَيَقُولُ: لَا. فَيَقُولُ اللَّهُ: فاليوم أنساك كما نسيتني" [[ورواه ابن أبي شيبة كما في الدر المنثور للسيوطي (٣/٤٦٩) .]]
ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ دِينَهُمْ لَهْوًۭا وَلَعِبًۭا وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۚ فَٱلْيَوْمَ نَنسَىٰهُمْ كَمَا نَسُوا۟ لِقَآءَ يَوْمِهِمْ هَٰذَا وَمَا كَانُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا يَجْحَدُونَ
Who took their religion as distraction and amusement and whom the worldly life deluded." So today We will forget them just as they forgot the meeting of this Day of theirs and for having rejected Our verses.
جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے۔ اسی طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے
همانها که دین و آیین خود را سرگرمی و بازیچه گرفتند؛ و زندگی دنیا آنان را مغرور ساخت؛ امروز ما آنها را فراموش میکنیم، همان گونه که لقای چنین روزی را فراموش کردند و آیات ما را انکار نمودند.
Tafsir Ibn Kathir
And the dwellers of the Fire will call to the dwellers of Paradise: "Pour on us some water or anything that Allah has provided you with." They will say: "Both (water and provision) Allah has forbidden for the disbelievers (50)"Who took their religion as amusement and play, and the life of the world deceived them." So this Day We shall forget them as they forgot their meeting of this Day, and as they used to reject Our Ayat (51)
The Favors of paradise are Prohibited for the People of the Fire
Allah emphasizes the disgrace of the people of the Fire. They will ask the people of Paradise for some of their drink and food, but they will not be given any of that. As-Suddi said,
وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ
(And the dwellers of the Fire will call to the dwellers of Paradise: "Pour on us some water or anything that Allah has provided you with.")
"That is food". Ath-Thawri said that 'Uthman Ath-Thaqafi said that Sa'id bin Jubayr commented on this Ayah, "One of them will call his father or brother, 'I have been burned, so pour some water on me.' The believers will be asked to reply, and they will reply,
إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ
("Both Allah has forbidden to the disbelievers.")" 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that,
إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ
("Both Allah has forbidden to the disbelievers.") "Refers to the food and drink of Paradise."
Allah describes the disbelievers by what they used to do in this life, taking the religion as amusement and play, and being deceived by this life and its adornment, rather than working for the Hereafter as Allah commanded,
فَالْيَوْمَ نَنسَاهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَٰذَا
(So this Day We shall forget them as they forgot their meeting of this Day) meaning, Allah will treat them as if He has forgotten them. Certainly, nothing escapes Allah's perfect watch and He never forgets anything. Allah said in another Ayah,
فِي كِتَابٍ لَّا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنسَى
(In a Record. My Lord neither errs nor forgets)[20:52]
Allah said – that He will forget them on that Day – as just recompense for them, because,
نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ
(They have forgotten Allah, so He has forgotten them)[9:67]
كَذَٰلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَٰلِكَ الْيَوْمَ تُنسَىٰ
(Like this: Our Ayat came unto you, but you disregarded them, and so this Day, you will be neglected)[20:126] and,
وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا
(And it will be said: "This Day We will forget you as you forgot the meeting of this Day of yours.")[45:34] Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas commented on,
فَالْيَوْمَ نَنسَاهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَٰذَا
(So this Day We shall forget them as they forgot their meeting of this Day)
"Allah will forget the good about them, but not their evil." And 'Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas said, "We shall forsake them as they have forsaken the meeting of this Day of theirs." Mujahid said, "We shall leave them in the Fire."
As-Suddi said, "We shall leave them from any mercy, just as they left any action on behalf of the meeting on this Day of theirs."
It is recorded in the Sahih that Allah will say to the servant on the Day of Resurrection:
أَلَمْ أُزَوِّجْكَ؟ أَلَمْ أُكْرِمْكَ؟ أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيَقُولُ: أَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ؟ فَيَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى: فَالْيَوْمَ أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي
("Have I not gotten you married? Have I not honored you? Have I not made horses and camels subservient for you and allowed you to become a leader and a master?" He will say, "Yes." Allah will say, "Did you think that you will meet Me?" He will say, "No." Allah the Exalted will say, 'Then this Day, I will forget you as you have forgotten Me.")
Tafsir Ibn Kathir
جیسی کرنی ویسی بھرنی دوزخیوں کی ذلت و خواری اور ان کا بھیک مانگنا اور ڈانٹ دیا جانا بیان ہو رہا ہے کہ وہ جنتیوں سے پانی یا کھانا مانگیں گے۔ اپنے نزدیک کے رشتے کنبے والے جیسے باپ بیٹے بھائی بہن وغیرہ سے کہیں گے کہ ہم جل بھن رہے ہیں، بھوکے پیاسے ہیں، ہمیں ایک گھونٹ پانی یا ایک لقمہ کھانا دے دو۔ وہ بحکم الٰہی انہیں جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ کفار پر حرام ہے۔ ابن عباس سے سوال ہوتا ہے کہ کس چیز کا صدقہ افضل ہے ؟ فرمایا حضور کا ارشاد ہے کہ سب سے افضل خیرات پانی ہے۔ دیکھو جہنمی اہل جنت سے اسی کا سوال کریں گے مروی ہے کہ جب ابو طالب موت کی بیماری میں مبتلا ہوا تو قریشیوں نے اس سے کہا کسی کو بھیج کر اپنے بھتیجے سے کہلواؤ کہ وہ تمہارے پاس جنتی انگور کا ایک خوشہ بھجوا دے تاکہ تیری بیماری جاتی رہے۔ جس وقت قاصد حضور کے پاس آتا ہے حضرت ابوبکر صدیق ؓ آپ کے پاس موجود تھے۔ سنتے ہی فرمانے لگے اللہ نے جنت کی کھانے پینے کی چیزیں کافروں پر حرام کردی ہیں۔ پھر ان کی بد کرداری بیان فرمائی کہ یہ لوگ دین حق کو ایک ہنسی کھیل سمجھے ہوئے تھے دنیا کی زینت اور اس کے بناؤ چناؤ میں ہی عمر بھر مشغول رہے۔ یہ چونکہ اس دن کو بھول بسر گئے تھے اس کے بدلے ہم بھی ان کے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے جو کسی بھول جانے والے کا معاملہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ بھولنے سے پاک ہے اس کے علم سے کوئی چیز نکل نہیں سکتی۔ فرماتا ہے آیت (لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَلَا يَنْسَى 52ۡ) 20۔ طه :52) نہ وہ بہکے نہ بھولے۔ یہاں جو فرمایا یہ صرف مقابلہ کیلئے ہے جیسے فرمان ہے آیت (نسو اللہ فنسیھم) اور جیسے دوسری آیت میں ہے (قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا ۚ وَكَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى01206) 20۔ طه :126) فرمان ہے (الْيَوْمَ نَنْسٰـىكُمْ كَمَا نَسِيْتُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا وَمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ 34) 45۔ الجاثية :34) تیرے پاس ہماری نشانیاں آئی تھیں جنہیں تو بھلا بیٹھا تھا اسی طرح آج تجھے بھی بھلا دیا جائے گا وغیرہ۔ پس یہ بھلائیوں سے بالقصد بھلا دیئے جائیں گے۔ ہاں برائیاں اور عذاب برابر ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلایا ہم نے انہیں آگ میں چھوڑا رحمت سے دور کیا جیسے یہ عمل سے دور تھے۔ صحیح حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے فرمائے گا کیا میں نے تجھے بیوی بچے نہیں دیئے تھے ؟ کیا عزت آبرو نہیں دی تھی ؟ کیا گھوڑے اور اونٹ تیرے مطیع نہیں کئے تھے ؟ اور کیا تجھے قسم قسم کی راحتوں میں آزاد نہیں رکھا تھا ؟ بندہ جواب دے گا کہ ہاں پروردگار بیشک تو نے ایسا ہی کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا پھر کیا تو میری ملاقات پر ایمان رکھتا تھا ؟ وہ جواب دے گا کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا پس میں بھی آج تجھے ایسا ہی بھول جاؤں گا جیسے تو مجھے بھول گیا تھا۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ ذِلَّةِ أَهْلِ النَّارِ وَسُؤَالِهِمْ أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ شَرَابِهِمْ وَطَعَامِهِمْ، وَأَنَّهُمْ لَا يُجَابُونَ إِلَى ذَلِكَ.
قَالَ السُّدِّي: ﴿وَنَادَى أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ﴾
يَعْنِي: الطَّعَامَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: يَسْتَطْعِمُونَهُمْ وَيَسْتَسْقُونَهُمْ.
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ: يُنَادِي الرَّجُلُ أَبَاهُ أَوْ أَخَاهُ فَيَقُولُ: قَدِ احْتَرَقْتُ، أَفِضْ [[في د: "فأفض".]] عَلَيَّ مِنَ الْمَاءِ. فَيُقَالُ لَهُمْ: أَجِيبُوهُمْ. فَيَقُولُونَ: ﴿إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ﴾
وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلُهُ [سَوَاءً] [[زيادة من أ.]]
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: ﴿إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ﴾ يَعْنِي: طَعَامَ الْجَنَّةِ وَشَرَابَهَا.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الصفَّار فِي دَارِ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ -أَوْ: سُئِلَ -: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ الْمَاءُ، أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَى أَهْلِ النَّارِ لَمَّا اسْتَغَاثُوا بِأَهْلِ الْجَنَّةِ قَالُوا: ﴿أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ﴾ [[ورواه البيهقي في شعب الإيمان برقم (٣٣٨٠) والذهبي في ميزان الاعتدال (٤/٢٢٤) من طريق موسى بن المغيرة به.
وقال الذهبي: "موسى بن المغيرة مجهول، وشيخه أبو موسى الصفار لا يعرف".]]
وَقَالَ أَيْضًا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ: لَمَّا مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ قَالُوا لَهُ: لَوْ أرسلتَ إِلَى ابْنِ أَخِيكَ هَذَا، فَيُرْسِلَ إِلَيْكَ بِعُنْقُودٍ مِنَ الْجَنَّةِ [[في د، ك، م، أ: "جنته".]] لَعَلَّهُ أَنْ يَشْفِيَكَ بِهِ. فَجَاءَهُ الرَّسُولُ وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ [[ورواه ابن أبي شيبة كما في الدر المنثور للسيوطي (٣/٤٦٩) .]]
ثُمَّ وَصَفَ تَعَالَى الْكَافِرِينَ بِمَا كَانُوا يَعْتَمِدُونَهُ فِي الدُّنْيَا مِنَ اتِّخَاذِهِمُ الدِّينَ لَهْوًا وَلَعِبًا، وَاغْتِرَارِهِمْ بِالدُّنْيَا وَزِينَتِهَا وَزُخْرُفِهَا عَمَّا أُمِرُوا بِهِ مِنَ الْعَمَلِ لِلدَّارِ الْآخِرَةِ.
قَوْلُهُ [[في م: "وقوله".]] ﴿فَالْيَوْمَ نَنْسَاهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَذَا﴾ أَيْ: نُعَامِلُهُمْ مُعَامَلَةَ مَنْ نَسيهم؛ لِأَنَّهُ تَعَالَى لَا يَشِذُّ عَنْ [[في أ: "من".]] عِلْمِهِ شَيْءٌ وَلَا يَنْسَاهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فِي كِتَابٍ لَا يَضِلُّ رَبِّي وَلا يَنْسَى﴾ [طه:٥٢]
وَإِنَّمَا قَالَ تَعَالَى هَذَا مِنْ بَابِ الْمُقَابَلَةِ، كَمَا قَالَ: ﴿نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ﴾ [التَّوْبَةِ:٦٧] وَقَالَ: ﴿كَذَلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنْسَى﴾ [طه:١٢٦] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنْسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا﴾ [الْجَاثِيَةِ:٣٤]
وَقَالَ العَوْفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي [قَوْلِهِ] [[زيادة من أ.]] ﴿فَالْيَوْمَ نَنْسَاهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَذَا﴾ قَالَ: نَسِيَهُمُ اللَّهُ مِنَ الْخَيْرِ، وَلَمْ يَنْسَهُمْ مِنَ الشَّرِّ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَتْرُكُهُمْ، كَمَا تَرَكُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَذَا. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: نَتْرُكُهُمْ فِي النَّارِ. وَقَالَ السُّدِّي: نَتْرُكُهُمْ مِنَ الرَّحْمَةِ، كَمَا تَرَكُوا أَنْ يَعْمَلُوا لِلِقَاءِ يَوْمِهِمْ هَذَا.
وَفِي الصَّحِيحِ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: "أَلَمْ أُزَوِّجْكَ؟ أَلَمْ أُكْرِمْكَ؟ أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ، وأذَرْك تَرْأَسُ وتَرْبَع؟ فَيَقُولُ: بَلَى. فَيَقُولُ: أَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ؟ فَيَقُولُ: لَا. فَيَقُولُ اللَّهُ: فاليوم أنساك كما نسيتني" [[ورواه ابن أبي شيبة كما في الدر المنثور للسيوطي (٣/٤٦٩) .]]
وَلَقَدْ جِئْنَٰهُم بِكِتَٰبٍۢ فَصَّلْنَٰهُ عَلَىٰ عِلْمٍ هُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ
And We had certainly brought them a Book which We detailed by knowledge - as guidance and mercy to a people who believe.
اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچا دی ہے جس کو علم ودانش کے ساتھ کھول کھول کر بیان کر دیا ہے (اور) وہ مومن لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
ما کتابی برای آنها آوردیم که (اسرار و رموز) آن را با آگاهی شرح دادیم؛ (کتابی) که مایه هدایت و رحمت برای جمعیّتی است که ایمان میآورند.
Tafsir Ibn Kathir
Certainly, We have brought to them a Book (the Qur'an) which We have explained in detail with knowledge, a guidance and a mercy to a people who believe (52)Await they just for the final fulfillment of the event? On the Day the event is finally fulfilled, those who neglected it before will say: "Verily, the Messengers of our Lord did come with the truth, now are there any intercessors for us that they might intercede on our behalf? Or could we be sent back (to the first life of the world) so that we might do (good) deeds other than those (evil) deeds which we used to do?" Verily, they have lost themselves and that which they used to fabricate has gone away from them (53)
The Idolators have no Excuse
Allah states that He has left no excuse for the idolators, for He has sent to them the Book that the Messenger ﷺ came with, and which is explained in detail,
كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ
((This is) a Book, the Ayat whereof are perfected (in every sphere of knowledge), and then explained in detail )[11:1] Allah said next,
فَصَّلْنَاهُ عَلَىٰ عِلْمٍ
(We have explained in detail with knowledge) meaning, 'We have perfect knowledge of what We explained in it'. Allah said in another Ayah,
أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ
(He has sent it down with His Knowledge,)[4:166]
The meaning here is that after Allah mentioned the loss the idolators end up with in the Hereafter, He stated that He has indeed sent Prophets and revealed Books in this life, thus leaving no excuse for them. Allah also said;
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا
(And We never punish until We have sent a Messenger (to give warning).)[17:15] This is why Allah said here,
هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُ
(Await they just for the final fulfillment of the event) in reference to what they were promised of torment, punishment, the Fire; or Paradise, according to Mujahid and several others.
يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلُهُ
(On the Day the event is finally fulfilled,) on the Day of Resurrection, according to Ibn 'Abbas,
يَقُولُ الَّذِينَ نَسُوهُ مِن قَبْلُ
(those who neglected it before will say) those who ignored it in this life and neglected abiding by its implications will say,
قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُوا لَنَا
("Verily, the Messengers of our Lord did come with the truth, now are there any intercessors for us that they might intercede on our behalf?") so that we are saved from what we ended up in.
أَوْ نُرَدُّ
("Or could we be sent back"), to the first life,
فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ
("So that we might do (good) deeds other than those (evil) deeds which we used to do?"). This part of the Ayah is similar to Allah's statement,
وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!" Nay, it has become manifest to them what they had been concealing before. But if they were returned (to the world), they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars)[6:27-28] Allah said here,
قَدْ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ
(Verily, they have lost themselves and that which they used to fabricate has gone away from them.) meaning, they destroyed themselves by entering the Fire for eternity,
وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ
(And that which they used to fabricate has gone away from them.)
What they used to worship instead of Allah abandoned them and will not intercede on their behalf, aid them or save them from their fate.
Tafsir Ibn Kathir
آخری حقیقت جنت اور دوزخ کا مشاہدہ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے کل عذر ختم کردیئے تھے اپنے رسولوں کی معرفت اپنی کتاب بھیجی جو مفصل اور واضح تھی۔ جیسے فرمان ہے آیت (الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ ۙ) 11۔ ھود :1) ، اس قرآن کی آیتیں مضبوط اور تفصیل وار ہیں۔ اس کی جو تفصیل ہے وہ بھی علم پر ہے جیسے فرمان ہے آیت (انزلہ بعلمہ) اسے اپنے علم کے ساتھ اتارا ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں یہ آیت اسی آیت پر جاتی ہے جس میں فرمان ہے آیت (كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ) 7۔ الاعراف :2) ، یہ کتاب تیری طرف نازل فرمائی گئی ہے پس اس سے تیرے سینے میں کوئی حرج نہ ہونا چاہئے۔ یہاں فرمایا آیت (ولقد جئناہم بکتاب) الخ، لیکن یہ محل نظر ہے اس لئے کہ فاصلہ بہت ہے اور یہ قول بےدلیل ہے درحقیقت جب ان کے اس خسارے کا ذکر ہوا جو انہیں آخرت میں ہوگا تو بیان فرمایا کہ دنیا میں ہی ہم نے تو اپنا پیغام پہنچا دیا تھا رسول بھی کتاب بھی۔ جیسے ارشاد ہے کہ جب تک ہم رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا۔ انہیں تو اب جنت دوزخ کے اپنے سامنے آنے کا انتظار ہے۔ یا یہ مطلب کہ اس کی حقیقت یکے بعد دیگرے روشن ہوتی رہے گی یہاں تک کہ آخری حقیقت یعنی جنت دوزخ ہی سامنے آجائیں گی اور ہر ایک اپنے لائق مقام میں پہنچ جائے گا قیامت والے دن یہ واقعات رونما ہوجائیں گے اب جو سن رہے ہیں اس وقت دیکھ لیں گے اس وقت اسے فراموش کر کے بیٹھ رہنے والے عمل سے کورے لوگ مان لیں گے کہ بیشک اللہ کے انبیاء سچے تھے رب کی کتابیں برحق تھیں کاش اب کوئی ہمارا سفارشی کھڑا ہو اور ہمیں اس ہلاکت سے نجات دلائے یا ایسا ہو کہ ہم پھر سے دنیا کی طرف لوٹا دیئے جائیں تو جو کام کئے تھے اب ان کے خلاف کریں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27) 6۔ الانعام :27) کاش کہ ہم پھر دنیا میں لوٹائے جاتے، اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور مومن بن جاتے۔ اس سے پہلے جو وہ چھپا رہے تھے اب ظاہر ہوگیا حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ دوبارہ دنیا میں بھیجے بھی جائیں تو جس چیز سے روکے جائیں گے وہی دوبارہ کریں گے اور جھوٹے ثابت ہوں۔ انہوں نے آپ ہی اپنا برا کیا اللہ کے سوا اوروں سے امیدیں رکھتے رہے آج سب باطل ہوگئیں نہ کوئی ان کا سفارشی نہ حمایتی۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ إِعْذَارِهِ إِلَى الْمُشْرِكِينَ بِإِرْسَالِ الرَّسُولِ إِلَيْهِمْ بِالْكِتَابِ الَّذِي جَاءَ بِهِ الرَّسُولُ، وَأَنَّهُ كِتَابٌ مُفَصَّلٌ مُبِينٌ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿الر كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ [مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ] ﴾ [[زيادة من ك، م.]] الْآيَةَ [هُودٍ:١] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَصَّلْنَاهُ عَلَى عِلْمٍ﴾ [[في ك: "علم للعالمين" وهو خطأ.]] أَيْ: عَلَى عِلْمٍ مِنَّا بِمَا فَصَّلْنَاهُ بِهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَنزلَهُ بِعِلْمِهِ﴾ [النِّسَاءِ:١٦٦]
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَهَذِهِ الْآيَةُ مَرْدُودَةٌ عَلَى قَوْلِهِ: ﴿كِتَابٌ أُنزلَ إِلَيْكَ فَلا يَكُنْ فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِنْهُ [لِتُنْذِرَ بِهِ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ [[زيادة من ك، م، وفي هـ "الآية".]] ] ﴾ [الْأَعْرَافِ:٢] ﴿وَلَقَدْ جِئْنَاهُمْ بِكِتَابٍ [فَصَّلْنَاهُ عَلَى عِلْمٍ] ﴾ [[زيادة من ك، م.]] الْآيَةَ.
وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ فِيهِ نَظَرٌ، فَإِنَّهُ قَدْ طَالَ الْفَصْلُ، وَلَا دَلِيلَ عَلَى ذَلِكَ، وَإِنَّمَا لَمَّا أَخْبَرَ عَمَّا صَارُوا إِلَيْهِ مِنَ الْخَسَارِ فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ، ذَكَرَ أَنَّهُ قَدْ أَزَاحَ عِلَلَهُمْ فِي الدَّارِ الدُّنْيَا، بِإِرْسَالِ الرُّسُلِ، وَإِنْزَالِ الْكُتُبِ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولا﴾ [الْإِسْرَاءِ:١٥] ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿هَلْ يَنْظُرُونَ إِلا تَأْوِيلَهُ﴾ أَيْ: مَا وُعِدَ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ. قَالَهُ مُجَاهِدٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
وَقَالَ مَالِكٌ: ثَوَابَهُ. وَقَالَ الرَّبِيعُ: لَا يَزَالُ يَجِيءُ تَأْوِيلُهُ أَمْرٌ، حَتَّى يَتِمَّ يَوْمَ الْحِسَابِ، حَتَّى يَدْخُلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، فَيَتِمُّ تَأْوِيلُهُ يَوْمَئِذٍ.
﴿يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلُهُ﴾ أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ - ﴿يَقُولُ الَّذِينَ نَسُوهُ مِنْ قَبْلُ﴾ أَيْ: تَرَكُوا الْعَمَلَ بِهِ، وَتَنَاسَوْهُ فِي الدَّارِ الدُّنْيَا: ﴿قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ فَهَلْ لَنَا مِنْ شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُوا لَنَا﴾ أي: في خَلَاصِنَا مِمَّا نَحْنُ فِيهِ، ﴿أَوْ نُرَدُّ﴾ إِلَى الدَّارِ الدُّنْيَا ﴿فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ﴾ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ * بَلْ بَدَا لَهُمْ مَا كَانُوا يُخْفُونَ مِنْ قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ﴾ [الْأَنْعَامِ:٢٧، ٢٨] كَمَا قَالَ هَاهُنَا: ﴿قَدْ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ﴾ أَيْ: [قَدْ] [[زيادة من م.]] خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ بِدُخُولِهِمُ النَّارَ وَخُلُودِهِمْ فِيهِ، ﴿وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ﴾ أَيْ: ذَهَبَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَلَا يَنْصُرُونَهُمْ، وَلَا يَشْفَعُونَ لَهُمْ [[في ك، م: "فيهم".]] وَلَا يُنْقِذُونَهُمْ مِمَّا هُمْ فِيهِ.
هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُۥ ۚ يَوْمَ يَأْتِى تَأْوِيلُهُۥ يَقُولُ ٱلَّذِينَ نَسُوهُ مِن قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِٱلْحَقِّ فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُوا۟ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ ٱلَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ ۚ قَدْ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ
Do they await except its result? The Day its result comes those who had ignored it before will say, "The messengers of our Lord had come with the truth, so are there [now] any intercessors to intercede for us or could we be sent back to do other than we used to do?" They will have lost themselves, and lost from them is what they used to invent.
کیا یہ لوگ اس کے وعدہٴ عذاب کے منتظر ہیں۔ جس دن وہ وعدہ آجائے گا تو جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہوں گے وہ بول اٹھیں گے کہ بےشک ہمارے پروردگار کے رسول حق لے کر آئے تھے۔ بھلا (آج) ہمارا کوئی سفارشی ہیں کہ ہماری سفارش کریں یا ہم (دنیا میں) پھر لوٹا دیئے جائیں کہ جو عمل (بد) ہم (پہلے) کرتے تھے (وہ نہ کریں بلکہ) ان کے سوا اور (نیک) عمل کریں۔ بےشک ان لوگوں نے اپنا نقصان کیا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے سب جاتا رہا
آیا آنها جز انتظار تأویل آیات (و فرا رسیدن تهدیدهای الهی) دارند؟ آن روز که تأویل آنها فرا رسد، (کار از کار گذشته، و پشیمانی سودی ندارد؛ و) کسانی که قبلاً آن را فراموش کرده بودند میگویند: «فرستادگان پروردگار ما، حق را آوردند؛ آیا (امروز) شفیعانی برای ما وجود دارند که برای ما شفاعت کنند؟ یا (به ما اجازه داده شود به دنیا) بازگردیم، و اعمالی غیر از آنچه انجام میدادیم، انجام دهیم؟!» (ولی) آنها سرمایه وجود خود را از دست دادهاند؛ و معبودهایی را که به دروغ ساخته بودند، همگی از نظرشان: گم میشوند. (نه راه بازگشتی دارند، و نه شفیعانی!)
Tafsir Ibn Kathir
Certainly, We have brought to them a Book (the Qur'an) which We have explained in detail with knowledge, a guidance and a mercy to a people who believe (52)Await they just for the final fulfillment of the event? On the Day the event is finally fulfilled, those who neglected it before will say: "Verily, the Messengers of our Lord did come with the truth, now are there any intercessors for us that they might intercede on our behalf? Or could we be sent back (to the first life of the world) so that we might do (good) deeds other than those (evil) deeds which we used to do?" Verily, they have lost themselves and that which they used to fabricate has gone away from them (53)
The Idolators have no Excuse
Allah states that He has left no excuse for the idolators, for He has sent to them the Book that the Messenger ﷺ came with, and which is explained in detail,
كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ
((This is) a Book, the Ayat whereof are perfected (in every sphere of knowledge), and then explained in detail )[11:1] Allah said next,
فَصَّلْنَاهُ عَلَىٰ عِلْمٍ
(We have explained in detail with knowledge) meaning, 'We have perfect knowledge of what We explained in it'. Allah said in another Ayah,
أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ
(He has sent it down with His Knowledge,)[4:166]
The meaning here is that after Allah mentioned the loss the idolators end up with in the Hereafter, He stated that He has indeed sent Prophets and revealed Books in this life, thus leaving no excuse for them. Allah also said;
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا
(And We never punish until We have sent a Messenger (to give warning).)[17:15] This is why Allah said here,
هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُ
(Await they just for the final fulfillment of the event) in reference to what they were promised of torment, punishment, the Fire; or Paradise, according to Mujahid and several others.
يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلُهُ
(On the Day the event is finally fulfilled,) on the Day of Resurrection, according to Ibn 'Abbas,
يَقُولُ الَّذِينَ نَسُوهُ مِن قَبْلُ
(those who neglected it before will say) those who ignored it in this life and neglected abiding by its implications will say,
قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُوا لَنَا
("Verily, the Messengers of our Lord did come with the truth, now are there any intercessors for us that they might intercede on our behalf?") so that we are saved from what we ended up in.
أَوْ نُرَدُّ
("Or could we be sent back"), to the first life,
فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ
("So that we might do (good) deeds other than those (evil) deeds which we used to do?"). This part of the Ayah is similar to Allah's statement,
وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!" Nay, it has become manifest to them what they had been concealing before. But if they were returned (to the world), they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars)[6:27-28] Allah said here,
قَدْ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ
(Verily, they have lost themselves and that which they used to fabricate has gone away from them.) meaning, they destroyed themselves by entering the Fire for eternity,
وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ
(And that which they used to fabricate has gone away from them.)
What they used to worship instead of Allah abandoned them and will not intercede on their behalf, aid them or save them from their fate.
Tafsir Ibn Kathir
آخری حقیقت جنت اور دوزخ کا مشاہدہ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے کل عذر ختم کردیئے تھے اپنے رسولوں کی معرفت اپنی کتاب بھیجی جو مفصل اور واضح تھی۔ جیسے فرمان ہے آیت (الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ ۙ) 11۔ ھود :1) ، اس قرآن کی آیتیں مضبوط اور تفصیل وار ہیں۔ اس کی جو تفصیل ہے وہ بھی علم پر ہے جیسے فرمان ہے آیت (انزلہ بعلمہ) اسے اپنے علم کے ساتھ اتارا ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں یہ آیت اسی آیت پر جاتی ہے جس میں فرمان ہے آیت (كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ) 7۔ الاعراف :2) ، یہ کتاب تیری طرف نازل فرمائی گئی ہے پس اس سے تیرے سینے میں کوئی حرج نہ ہونا چاہئے۔ یہاں فرمایا آیت (ولقد جئناہم بکتاب) الخ، لیکن یہ محل نظر ہے اس لئے کہ فاصلہ بہت ہے اور یہ قول بےدلیل ہے درحقیقت جب ان کے اس خسارے کا ذکر ہوا جو انہیں آخرت میں ہوگا تو بیان فرمایا کہ دنیا میں ہی ہم نے تو اپنا پیغام پہنچا دیا تھا رسول بھی کتاب بھی۔ جیسے ارشاد ہے کہ جب تک ہم رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا۔ انہیں تو اب جنت دوزخ کے اپنے سامنے آنے کا انتظار ہے۔ یا یہ مطلب کہ اس کی حقیقت یکے بعد دیگرے روشن ہوتی رہے گی یہاں تک کہ آخری حقیقت یعنی جنت دوزخ ہی سامنے آجائیں گی اور ہر ایک اپنے لائق مقام میں پہنچ جائے گا قیامت والے دن یہ واقعات رونما ہوجائیں گے اب جو سن رہے ہیں اس وقت دیکھ لیں گے اس وقت اسے فراموش کر کے بیٹھ رہنے والے عمل سے کورے لوگ مان لیں گے کہ بیشک اللہ کے انبیاء سچے تھے رب کی کتابیں برحق تھیں کاش اب کوئی ہمارا سفارشی کھڑا ہو اور ہمیں اس ہلاکت سے نجات دلائے یا ایسا ہو کہ ہم پھر سے دنیا کی طرف لوٹا دیئے جائیں تو جو کام کئے تھے اب ان کے خلاف کریں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27) 6۔ الانعام :27) کاش کہ ہم پھر دنیا میں لوٹائے جاتے، اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور مومن بن جاتے۔ اس سے پہلے جو وہ چھپا رہے تھے اب ظاہر ہوگیا حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ دوبارہ دنیا میں بھیجے بھی جائیں تو جس چیز سے روکے جائیں گے وہی دوبارہ کریں گے اور جھوٹے ثابت ہوں۔ انہوں نے آپ ہی اپنا برا کیا اللہ کے سوا اوروں سے امیدیں رکھتے رہے آج سب باطل ہوگئیں نہ کوئی ان کا سفارشی نہ حمایتی۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ إِعْذَارِهِ إِلَى الْمُشْرِكِينَ بِإِرْسَالِ الرَّسُولِ إِلَيْهِمْ بِالْكِتَابِ الَّذِي جَاءَ بِهِ الرَّسُولُ، وَأَنَّهُ كِتَابٌ مُفَصَّلٌ مُبِينٌ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿الر كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ [مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ] ﴾ [[زيادة من ك، م.]] الْآيَةَ [هُودٍ:١] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَصَّلْنَاهُ عَلَى عِلْمٍ﴾ [[في ك: "علم للعالمين" وهو خطأ.]] أَيْ: عَلَى عِلْمٍ مِنَّا بِمَا فَصَّلْنَاهُ بِهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَنزلَهُ بِعِلْمِهِ﴾ [النِّسَاءِ:١٦٦]
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَهَذِهِ الْآيَةُ مَرْدُودَةٌ عَلَى قَوْلِهِ: ﴿كِتَابٌ أُنزلَ إِلَيْكَ فَلا يَكُنْ فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِنْهُ [لِتُنْذِرَ بِهِ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ [[زيادة من ك، م، وفي هـ "الآية".]] ] ﴾ [الْأَعْرَافِ:٢] ﴿وَلَقَدْ جِئْنَاهُمْ بِكِتَابٍ [فَصَّلْنَاهُ عَلَى عِلْمٍ] ﴾ [[زيادة من ك، م.]] الْآيَةَ.
وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ فِيهِ نَظَرٌ، فَإِنَّهُ قَدْ طَالَ الْفَصْلُ، وَلَا دَلِيلَ عَلَى ذَلِكَ، وَإِنَّمَا لَمَّا أَخْبَرَ عَمَّا صَارُوا إِلَيْهِ مِنَ الْخَسَارِ فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ، ذَكَرَ أَنَّهُ قَدْ أَزَاحَ عِلَلَهُمْ فِي الدَّارِ الدُّنْيَا، بِإِرْسَالِ الرُّسُلِ، وَإِنْزَالِ الْكُتُبِ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولا﴾ [الْإِسْرَاءِ:١٥] ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿هَلْ يَنْظُرُونَ إِلا تَأْوِيلَهُ﴾ أَيْ: مَا وُعِدَ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ. قَالَهُ مُجَاهِدٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
وَقَالَ مَالِكٌ: ثَوَابَهُ. وَقَالَ الرَّبِيعُ: لَا يَزَالُ يَجِيءُ تَأْوِيلُهُ أَمْرٌ، حَتَّى يَتِمَّ يَوْمَ الْحِسَابِ، حَتَّى يَدْخُلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، فَيَتِمُّ تَأْوِيلُهُ يَوْمَئِذٍ.
﴿يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلُهُ﴾ أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ - ﴿يَقُولُ الَّذِينَ نَسُوهُ مِنْ قَبْلُ﴾ أَيْ: تَرَكُوا الْعَمَلَ بِهِ، وَتَنَاسَوْهُ فِي الدَّارِ الدُّنْيَا: ﴿قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ فَهَلْ لَنَا مِنْ شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُوا لَنَا﴾ أي: في خَلَاصِنَا مِمَّا نَحْنُ فِيهِ، ﴿أَوْ نُرَدُّ﴾ إِلَى الدَّارِ الدُّنْيَا ﴿فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ﴾ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ * بَلْ بَدَا لَهُمْ مَا كَانُوا يُخْفُونَ مِنْ قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ﴾ [الْأَنْعَامِ:٢٧، ٢٨] كَمَا قَالَ هَاهُنَا: ﴿قَدْ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ﴾ أَيْ: [قَدْ] [[زيادة من م.]] خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ بِدُخُولِهِمُ النَّارَ وَخُلُودِهِمْ فِيهِ، ﴿وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ﴾ أَيْ: ذَهَبَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَلَا يَنْصُرُونَهُمْ، وَلَا يَشْفَعُونَ لَهُمْ [[في ك، م: "فيهم".]] وَلَا يُنْقِذُونَهُمْ مِمَّا هُمْ فِيهِ.
إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ يُغْشِى ٱلَّيْلَ ٱلنَّهَارَ يَطْلُبُهُۥ حَثِيثًۭا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٰتٍۭ بِأَمْرِهِۦٓ ۗ أَلَا لَهُ ٱلْخَلْقُ وَٱلْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَٰلَمِينَ
Indeed, your Lord is Allah, who created the heavens and earth in six days and then established Himself above the Throne. He covers the night with the day, [another night] chasing it rapidly; and [He created] the sun, the moon, and the stars, subjected by His command. Unquestionably, His is the creation and the command; blessed is Allah, Lord of the worlds.
کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا چلا آتا ہے۔ اور اسی نے سورج اور چاند ستاروں کو پیدا کیا سب اس کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی (اسی کا ہے) ۔ یہ خدا رب العالمین بڑی برکت والا ہے
پروردگار شما، خداوندی است که آسمانها و زمین را در شش روز [= شش دوران] آفرید؛ سپس به تدبیر جهان هستی پرداخت؛ با (پرده تاریک) شب، روز را می پوشاند؛ و شب به دنبال روز، به سرعت در حرکت است؛ و خورشید و ماه و ستارگان را آفرید، که مسخّر فرمان او هستند. آگاه باشید که آفرینش و تدبیر (جهان)، از آن او (و به فرمان او) ست! پر برکت (و زوالناپذیر) است خداوندی که پروردگار جهانیان است!
Tafsir Ibn Kathir
Indeed, your Lord is Allah, Who created the heavens and the earth in Six Days, and then He rose over (Istawa) the Throne. He brings the night as a cover over the day, seeking it rapidly, and (He created) the sun, the moon, the stars subjected to His command. Surely, His is the creation and commandment. Blessed is Allah, the Lord of all that exists (54)
The Universe was created in Six Days
Allah states that He created the universe, the heavens and earth and all that is in, on and between them in six days, as He has stated in several Ayat in the Qur'an. These six days are: Sunday, Monday, Tuesday, Wednesday, Thursday and Friday. On Friday, the entire creation was assembled and on that day, Adam was created. There is a difference of opinion whether these days were the same as our standard days as suddenly comes to the mind, or each day constitutes one thousand years, as reported from Mujahid, Imam Ahmad bin Hanbal, and from Ibn 'Abbas according to Ad-Dahhak's narration from him. As for Saturday, no creation took place in it since it is the seventh day of (of the week). The word 'As-Sabt' means stoppage, or break.
Imam Ahmad recorded Abu Hurayrah saying: 'Allah's Messenger ﷺ told me:
خَلَقَ اللهُ، (عَزَّ وَجَلَّ)، التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ، وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الْاثْنَيْنِ، وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَخَلَقَ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْم الْجُمُعَةِ، فِي آخِرِ الْخَلْقِ، فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ، فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ
(Allah created the dust on Saturday, and He created the mountains on Sunday, and He created the trees on Monday, and He created the unpleasant things on Tuesday and He created the light on Wednesday and He spread the creatures through out it on Thursday and He created Adam after 'Asr on Friday. He was the last created during the last hour of Friday, between 'Asr and the night.)
Meaning of Istawa
As for Allah's statement,
ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ
(and then He rose over (Istawa) the Throne) the people had several conflicting opinions over its meaning. However, we follow the way that our righteous predecessors took in this regard, such as Malik, Al-Awza'i, Ath-Thawri, Al-Layth bin Sa'd, Ash-Shafi'i, Ahmad, Ishaq bin Rahwayh and the rest of the scholars of Islam, in past and present times. Surely, we accept the apparent meaning of, Al-Istawa, without discussing its true essence, equating it (with the attributes of the creation), or altering or denying it (in any way or form). We also believe that the meaning that comes to those who equate Allah with the creation is to be rejected, for nothing is similar to Allah,
لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
(There is nothing like Him, and He is the All-Hearer, the All-Seer.)[42:11]
Indeed, we assert and affirm what the Imams said, such as Nu'aym bin Hammad Al-Khuza'i, the teacher of Imam Al-Bukhari, who said, "Whoever likens Allah with His creation, will have committed Kufr. Whoever denies what Allah has described Himself with, will have committed Kufr. Certainly, there is no resemblance (of Allah with the creation) in what Allah and His Messenger ﷺ have described Him with. Whoever attests to Allah's attributes that the plain Ayat and authentic Hadiths have mentioned, in the manner that suits Allah's majesty, all the while rejecting all shortcomings from Him, will have taken the path of guidance."
The Day and the Night are among the Signs of Allah
Allah said,
يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا
(He brings the night as a cover over the day, seeking it rapidly,) meaning, the darkness goes away with the light, and the light goes away with the darkness. Each of them seeks the other rapidly, and does not come late, for when this vanishes, the other comes, and vice versa. Allah also said;
وَآيَةٌ لَّهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ - وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ - وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ - لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ
(And a sign for them is the night. We withdraw therefrom the day, and behold, they are in darkness. And the sun runs on its fixed course for a term (appointed). That is the decree of the All-Mighty, the All-Knowing. And the moon, We have measured for it mansions (to traverse) till it returns like the old dried curved date stalk. It is not for the sun to overtake the moon, nor does the night outstrip the day. They all float, each in an orbit.)[36:37-40] Allah's statement,
وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ
(Nor does the night outstrip the day)[36:40] means, the night follows the day in succession and does not come later or earlier than it should be. This is why Allah said here,
يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ
(seeking it rapidly, and (He created) the sun, the moon, the stars subjected to His command.) meaning, all are under His command, will and dominion. Allah alerted us afterwards,
أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ
(Surely, His is the creation and commandment) the dominion and the decision. Allah said next,
تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ
(Blessed is Allah, the Lord of the all that exists!) which is similar to the Ayah,
تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا
(Blessed be He Who has placed in the heaven big stars)[25:61] Abu Ad-Darda' said a supplication, that was also attributed to the Prophet ﷺ,
اللَّهُمَّ لَكَ الْمُلْكُ كُلُّـهُ وَلَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ وَإِلَيْكَ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ، أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ
(O Allah! Yours is all the kingdom, all the praise, and Yours is the ownership of all affairs. I ask You for all types of good and seek refuge with You from all types of evil.)
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بہت سی آیتوں میں یہ بیان ہوا ہے کہ آسمان و زمین اور کل مخلوق اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں بنائی ہے یعنی اتوار سے جمعہ تک۔ جمعہ کے دن ساری مخلوق پیدا ہوچکی۔ اسی دن حضرت آدم پیدا ہوئے یا تو یہ دن دنیا کے معمولی دنوں کے برابر ہی تھے جیسے کہ آیت کے ظاہری الفاظ سے فی الفور سمجھا جاتا ہے یا ہر دن ایک ہزار سال کا تھا جیسے کہ حضرت مجاہد کا قول ہے اور حضرت امام احمد بن حنبل کا فرمان ہے اور بروایت ضحاک ابن عباس کا قول ہے۔ ہفتہ کے دن کوئی مخلوق پیدا نہیں ہوئی۔ اسی لئے اس کا نام عربی میں (یوم السبت) ہے (سبت) کے معنی قطع کرنے ختم کرنے کے ہیں۔ ہاں مسند احمد نسائی اور صحیح مسلم میں جو حدیث ہے کہ اللہ نے مٹی کو ہفتہ کے دن پیدا کیا اور پہاڑوں کو اتوار کے دن اور درختوں کو پیر کے دن اور برائیوں کو منگل کے دن اور نور کو بدھ کے دن اور جانوروں کو جمعرات کے دن اور آدم کو جمعہ کے دن عصر کے بعد دن کی آخری گھڑی میں عصر سے لے کر مغرب تک۔ حضور نے حضرت ابوہریرہ کا ہاتھ پکڑ کر یہ گنوایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سات دن تک پیدائش کا سلسلہ جاری رہا حالانکہ قرآن میں موجود ہے کہ چھ دن میں پیدائش ختم ہوئی۔ اسی وجہ سے امام بخاری ؒ وغیرہ زبردست حفاظ حدیث نے اس حدیث پر کلام کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ عبارت حضرت ابوہریرہ نے کعب احبار سے لی ہے فرمان رسول نہیں ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ وہ اپنے عرش پر مستوی ہوا۔ اس پر لوگوں نے بہت کچھ چہ میگوئیاں کی ہیں۔ جنہیں تفصیل سے بیان کرنے کی یہ جگہ نہیں۔ مناسب یہی ہے کہ اس مقام میں سلف صالحین کی روش اختیار کی جائے۔ جیسے امام مالک، امام اوزاعی، امام ثوری، امام لیث، امام شافعی، امام احمد، امام اسحاق بن راہویہ وغیرہ وغیرہ ائمہ سلف وخلف رحمہم اللہ۔ ان سب بزرگان دین کا مذہب یہی تھا کہ جیسی یہ آیت ہے اسی طرح اسے رکھا جائے بغیر کیفیت کے، بغیر تشبیہ کے اور بغیر مہمل چھوڑنے کے، ہاں مشبہین کے ذہنوں میں جو چیز آرہی ہے اس سے اللہ تعالیٰ پاک اور بہت دور ہے اللہ کے مشابہ اس کی مخلوق میں سے کوئی نہیں۔ فرمان ہے آیت (لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ 11 ) 42۔ الشوری:11) اس کے مثل کوئی نہیں اور وہ سننے دیکھنے والا ہے۔ بلکہ حقیقت یہی ہے جو ائمہ کرام رحمتہ اللہ علیہم نے فرمائی ہے انہی میں سے حضرت نعیم بن حماد خزاعی ؒ ہیں۔ آپ حضرات امام بخاری کے استاد ہیں فرماتے ہیں جو شخص اللہ کو مخلوق سے تشبیہ دے وہ کافر ہے اور جو شخص اللہ کے اس وصف سے انکار کرے جو اس نے اپنی ذات پاک کیلئے بیان فرمایا ہے وہ بھی کافر ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے اور رسول اللہ ﷺ نے جو اوصاف ذات باری تعالیٰ جل شانہ کے بیان فرمائے ہیں ان میں ہرگز تشبیہ نہیں۔ پس صحیح ہدایت کے راستے پر وہی ہے جو آثار صحیحہ اور اخبار صریحہ سے جو اوصاف رب العزت وحدہ لاشریک لہ کے ثابت ہیں انہیں اسی طرح جانے جو اللہ کی جلالت شان کے شیان ہے اور ہر عیب و نقصان سے اپنے رب کو پاک اور مبرا و منزہ سمجھے۔ پھر فرمان ہے کہ رات کا اندھیرا دن کے اجالے سے اور دن کا اجالا رات کے اندھیرے سے دور ہوجاتا ہے، ہر ایک دوسرے کے پیچھے لپکا چلا آتا ہے یہ گیا وہ آیا وہ گیا یہ آیا۔ جیسے فرمایا آیت (وایتہ لھم الیل) الخ، ان کے سمجھنے کیلئے ہماری ایک نشانی رات ہے کہ اس میں سے ہم دن کو نکالتے ہیں جس سے یہ اندھیرے میں آجاتے ہیں۔ سورج اپنے ٹھکانے کی طرف برابر جا رہا ہے یہ ہے اندازہ اللہ کا مقرر کیا ہوا جو غالب اور باعلم ہے۔ ہم نے چاند کی بھی منزلیں ٹھہرا دی ہیں یہاں تک کہ وہ کھجور کی پرانی ٹہنی جیسا ہو کر رہ جاتا ہے۔ نہ آفتاب ماہتاب سے آگے نکل سکتا ہے نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے۔ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں تیرتے پھرتے ہیں۔ رات دن میں کوئی فاصلہ نہیں ایک کا جانا ہی دوسرے کا آجانا ہے ہر ایک دوسرے کے برابر پیچھے ہے آیت (والشمس والقمر والنجوم) کو بعض نے پیش سے بھی پڑھا ہے۔ معنی مطلب دونوں صورتوں میں قریب قریب برابر ہے۔ یہ سب اللہ کے زیر فرمان، اس کے ماتحت اور اس کے ارادے میں ہیں۔ ملک اور تصرف اسی کا ہے۔ وہ برکتوں والا اور تمام جہان کا پالنے والا ہے۔ فرمان ہے آیت (تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا 61) 25۔ الفرقان :61) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جس کسی نے کسی نیک پر اللہ کی حمد نہ کی بلکہ اپنے نفس کو سراہا اس نے کفر کیا اور اس کے اعمال غارت ہوئے اور جس نے یہ عقیدہ رکھا کہ اللہ نے کچھ اختیارات اپنے بندوں کو بھی دیئے ہیں اس نے اس کے ساتھ کفر کیا جو اللہ نے اپنے نبیوں پر نازل فرمایا ہے کیونکہ اس کا فرمان ہے آیت (اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ۭ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ 54) 7۔ الاعراف :54) (ابن جریر) ایک مرفوع دعا رسول ﷺ کی یہ بھی مروی ہے کہ آپ فرماتے تھے دعا (اللھم لک الملک کلہ ولک الحمد کلہ والیک یرجع الامر کلہ اسألک من الخیر کلہ واعوذ بک من الشر کلہ) یا اللہ سارا ملک تیرا ہی ہے سب حمد تیرے لئے ہی ہے سب کام تیری ہی طرف لوٹتے ہیں میں تجھ سے تمام بھلائیاں طلب کرتا ہوں اور ساری برائیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى بِأَنَّهُ خَلَقَ هَذَا الْعَالَمَ: سَمَاوَاتِهِ وَأَرْضَهُ، وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ، كَمَا أَخْبَرَ بِذَلِكَ فِي غَيْرِ مَا آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، وَالسِّتَّةُ الْأَيَّامُ هِيَ: الْأَحَدُ، وَالِاثْنَيْنُ، وَالثُّلَاثَاءُ، وَالْأَرْبِعَاءُ، وَالْخَمِيسُ، وَالْجُمُعَةُ -وَفِيهِ اجْتَمَعَ الْخَلْقُ كُلُّهُ، وَفِيهِ خُلِقَ آدَمُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ. وَاخْتَلَفُوا فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ: هَلْ كَلُّ يَوْمٍ مِنْهَا كَهَذِهِ الْأَيَّامِ كَمَا هُوَ الْمُتَبَادَرُ إِلَى الْأَذْهَانِ [[في م: "الفهم".]] ؟ أَوْ كُلُّ يَوْمٍ كَأَلْفِ سَنَةٍ، كَمَا نَصَّ عَلَى ذَلِكَ مُجَاهِدٌ، وَالْإِمَامُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيُرْوَى ذَلِكَ مِنْ رِوَايَةِ الضَّحَّاكِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؟ فَأَمَّا يَوْمُ السَّبْتَ فَلَمْ يَقَعْ فِيهِ خَلْقٌ؛ لِأَنَّهُ الْيَوْمُ السَّابِعُ، وَمِنْهُ سُمِّيَ السَّبْتُ، وَهُوَ الْقَطْعُ.
فَأَمَّا الْحَدِيثِ الَّذِي رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ حَيْثُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْج، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّة، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ -مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ -عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِيَدِي فَقَالَ: "خَلَقَ اللَّهُ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَخَلْقَ الْجِبَالَ فِيهَا يَوْمَ الْأَحَدِ، وَخَلْقَ الشَّجَرَ فِيهَا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَخَلَقَ آدَمَ بَعْدَ الْعَصْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ آخِرَ الْخَلْقِ، فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ".
فَقَدْ رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي صَحِيحِهِ وَالنَّسَائِيُّ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ حَجَّاجٍ -وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ -عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهِ [[المسند (١/٣٢٧) وصحيح مسلم برقم (٢٧٨٩) وسنن النسائي الكبرى برقم (١١٠١٠) .]] وَفِيهِ اسْتِيعَابُ الْأَيَّامِ السَّبْعَةِ، وَاللَّهُ تَعَالَى قَدْ قَالَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ؛ وَلِهَذَا تَكَلَّمَ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَجَعَلُوهُ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ، لَيْسَ مَرْفُوعًا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَأَمَّا قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ﴾ فَلِلنَّاسِ فِي هَذَا الْمَقَامِ مَقَالَاتٌ كَثِيرَةٌ جِدًّا، لَيْسَ هَذَا مَوْضِعَ بَسْطِهَا، وَإِنَّمَا يُسلك فِي هَذَا الْمَقَامِ مَذْهَبُ السَّلَفِ الصَّالِحِ: مَالِكٌ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، والثوري، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ وَغَيْرُهُمْ، مِنْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ قَدِيمًا وَحَدِيثًا، وَهُوَ إِمْرَارُهَا كَمَا جَاءَتْ مِنْ غَيْرِ تَكْيِيفٍ وَلَا تَشْبِيهٍ وَلَا تَعْطِيلٍ. وَالظَّاهِرُ الْمُتَبَادَرُ إِلَى أَذْهَانِ الْمُشَبِّهِينَ مَنْفِيٌّ عَنِ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُشْبِهُهُ شَيْءٌ مِنْ خَلْقِهِ، وَ ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ [الشُّورَى:١١] بَلِ الْأَمْرُ كَمَا قَالَ الْأَئِمَّةُ -مِنْهُمْ نُعَيْم بْنُ حَمَّادٍ الْخُزَاعِيُّ شَيْخُ الْبُخَارِيِّ -: "مَنْ شَبَّهَ اللَّهَ بِخَلْقِهِ فَقَدْ كَفَرَ، وَمَنْ جَحَدَ مَا وَصَفَ اللَّهُ بِهِ نَفْسَهُ فَقَدْ كَفَرَ". وَلَيْسَ فِيمَا وَصَفَ اللَّهُ بِهِ نَفْسَهُ وَلَا رَسُولَهُ تَشْبِيهٌ، فَمَنْ أَثْبَتَ لِلَّهِ تَعَالَى مَا وَرَدَتْ بِهِ الْآيَاتُ الصَّرِيحَةُ وَالْأَخْبَارُ الصَّحِيحَةُ، عَلَى الْوَجْهِ الَّذِي يَلِيقُ بِجَلَالِ اللَّهِ تَعَالَى، وَنَفَى عَنِ اللَّهِ تَعَالَى النَّقَائِصَ، فَقَدْ سَلَكَ سَبِيلَ الْهُدَى.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا﴾ أَيْ: يَذْهَبُ ظَلَامُ هَذَا بِضِيَاءِ هَذَا، وَضِيَاءُ هَذَا بِظَلَامِ هَذَا، وَكُلٌّ مِنْهُمَا يَطْلُبُ الْآخَرَ طَلَبًا حَثِيثًا، أَيْ: سَرِيعًا لَا يَتَأَخَّرُ عَنْهُ، بَلْ إِذَا ذَهَبَ هَذَا جَاءَ هَذَا، وَإِذَا جَاءَ هَذَا ذَهَبَ هَذَا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَآيَةٌ لَهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُمْ مُظْلِمُونَ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ * وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ * لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ﴾ [يس:٣٧-٤٠] فَقَوْلُهُ: ﴿وَلا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ﴾ أَيْ: لَا يَفُوتُهُ بِوَقْتٍ يَتَأَخَّرُ عَنْهُ، بَلْ هُوَ فِي أَثَرِهِ لَا وَاسِطَةَ بَيْنَهُمَا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ﴾ -مِنْهُمْ مَنْ نَصَبَ، وَمِنْهُمْ مَنْ رَفَعَ، وَكِلَاهُمَا قَرِيبُ الْمَعْنَى، أَيِ: الْجَمِيعُ تَحْتَ قَهْرِهِ وَتَسْخِيرِهِ وَمَشِيئَتِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ منَبِّها: ﴿أَلا لَهُ الْخَلْقُ وَالأمْرُ﴾ ؟ أَيْ: لَهُ الْمُلْكُ وَالتَّصَرُّفُ، ﴿تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ﴾ كَمَا قَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من ك.]] ﴿تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا [وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُنِيرًا] ﴾ [[زيادة من م، أ، وفي هـ: "الآية".]] [الْفُرْقَانِ: ٦١] .
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا بَقِيِّة بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الشَّامِيِّ، عَنْ أَبِيهِ -وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ -قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "من لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ عَلَى مَا عَمِلَ مِنْ عَمَلٍ صَالِحٍ، وَحَمِدَ نَفْسَهُ، فَقَدْ كَفَرَ وَحَبِطَ عَمَلُهُ. وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ اللَّهَ جَعَلَ لِلْعِبَادِ مِنَ الْأَمْرِ شَيْئًا، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى أَنْبِيَائِهِ؛ لِقَوْلِهِ: ﴿أَلا لَهُ الْخَلْقُ وَالأمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ﴾ [[تفسير الطبري (١٢/٤٨٤) .]]
وَفِي الدُّعَاءِ الْمَأْثُورِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ -وَرَوِيَ مَرْفُوعًا -: "اللَّهُمَّ لَكَ الْمُلْكُ كُلُّهُ، وَلَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ، وَإِلَيْكَ يَرْجِعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ، أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ" [[سبق الكلام على هذا الأثر، وذكر وجوه رفعه عند الآية: ٢ من سورة الفاتحة.]]
ٱدْعُوا۟ رَبَّكُمْ تَضَرُّعًۭا وَخُفْيَةً ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ
Call upon your Lord in humility and privately; indeed, He does not like transgressors.
(لوگو) اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
پروردگار خود را (آشکارا) از روی تضرّع، و در پنهانی، بخوانید! (و از تجاوز، دست بردارید که) او متجاوزان را دوست نمیدارد!
Tafsir Ibn Kathir
Invoke your Lord Tadarru'an and Khufyah. He likes not the aggressors (55)And do not do mischief on the earth, after it has been set in order, and invoke Him with fear and hope. Surely, Allah's mercy is (ever) near unto the good-doers (56)
Encouraging supplicating to Allah
Allah commands His servants to supplicate to Him, for this will ensure their welfare in this life and the Hereafter. Allah said,
ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً
(Invoke your Lord Tadarru'an and Khufyah) meaning, in humbleness and humility. Allah said in a similar Ayah,
وَاذْكُر رَّبَّكَ فِي نَفْسِكَ
(And remember your Lord within yourself)[7:205] It is recorded in the Two Sahihs that Abu Musa Al-Ash'ari said, "The people raised their voices with supplications but the Messenger of Allah ﷺ said,
أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَ سَمِيعٌ قَرِيبٌ
(O people! Take it easy on yourselves. Verily, you are not calling one who is deaf or absent, rather, the One you are calling is All-Hearer, Near (to His servants by His knowledge).) Ibn Jarir said that,
تَضَرُّعًا
('Tadarru'an'), means obeying Him in humility and humbleness,
وَخُفْيَةً
(and 'Khufyah'), with the humbleness in your hearts and certainty of His Oneness and Lordship not supplicating loudly to show off.
Forbidding Aggression in Supplications
It was reported that 'Ata' Al-Khurasani narrated from Ibn 'Abbas, who said about Allah's statement,
إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
(He likes not the aggressors) "In the Du'a' and otherwise." Abu Mijlaz commented on,
إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
(He likes not the aggressors), "Such (aggression) as asking to reach the grade of the Prophets." Imam Ahmad narrated that Abu Ni'amah said that 'Abdullah bin Mughaffal heard his son supplicating, "O Allah! I ask you for the white castle on the right side of Paradise, if I enter it." So 'Abdullah said, "O my son! Ask Allah for Paradise and seek refuge with Him from the Fire, for I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
يَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ وَالطَّهُورِ
(There will come some people who transgress in supplication and purification)"
Ibn Majah and Abu Dawud recorded this Hadith with a good chain that there is no harm in, and Allah knows best.
The Prohibition of causing Mischief in the Land
Allah said next,
وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا
(And do not do mischief on the earth, after it has been set in order)[5:56].
Allah prohibits causing mischief on the earth, especially after it has been set in order. When the affairs are in order and then mischief occurs, it will cause maximum harm to the people; thus Allah forbids causing mischief and ordained worshipping Him, supplicating to Him, begging Him and being humble to Him. Allah said,
وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا
(and invoke Him with fear and hope) fearing what He has of severe torment and hoping in what He has of tremendous reward. Allah then said,
إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ
(Surely, Allah's mercy is (ever) near unto the good-doers) meaning, His mercy is for the good-doers who obey His commands and avoid what He prohibited. Allah said in another Ayah,
وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ
(And My mercy envelopes all things. That (mercy) I shall ordain for those who who have Taqwa.)[7:156].
Matar Al-Warraq said, "Earn Allah's promise by obeying Him, for He ordained that His mercy is near to the good-doers. " Ibn Abi Hatim collected this statement.
Tafsir Ibn Kathir
انسان دعا مانگے قبول ہوگی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعا کی ہدایت کرتا ہے جس میں ان کی دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔ فرماتا ہے کہ اپنے پروردگار کو عاجزی، مسکینی اور آہستگی سے پکارو جیسے فرمان ہے آیت (واذکر ربک فی نفسک) الخ، اپنے رب کو اپنے نفس میں یاد کر۔ بخاری و مسلم میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے دعا میں اپنی آوازیں بہت بلند کردیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو اپنی جانوں پر رحم کرو تم کسی بہرے کو یا غائب کو نہیں پکار رہے جسے تم پکار رہے ہو وہ بہت سننے والا اور بہت نزدیک ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ پوشیدگی مراد ہے، امام ابن جریر فرماتے ہیں (تضرعا) کے معنی ذلت مسکینی اور اطاعت گذاری کے ہیں اور (خفیتہ) کے معنی دلوں کے خشوع خضوع سے، یقین کی صحت سے، اس کی وحدانیت اور ربوبیت کا اس کے اور اپنے درمیان یقین رکھتے ہوئے پکارو نہ کہ ریا کاری کے ساتھ بہت بلند آواز سے۔ حضرت حسن ؒ سے مروی ہے کہ لوگ حافظ قرآن ہوتے تھے اور کسی کو معلوم بھی نہیں ہوتا تھا، لوگ بہت بڑے فقیہہ ہوجاتے تھے اور کوئی جانتا بھی نہ تھا لوگ لمبی لمبی نمازیں اپنے گھروں میں پڑھتے تھے اور مہمانوں کو بھی پتہ نہ چلتا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جہاں تک ان کے بس میں ہوتا تھا اپنی کسی نیکی کو لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے۔ پوری کوشش سے دعائیں کرتے تھے لیکن اس طرح جیسے کوئی سرگوشی کر رہا ہو یہ نہیں کہ چیخیں چلائیں۔ یہی فرمان رب ہے کہ اپنے رب کو عاجزی اور آہستگی سے پکارو۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک نیک بندے کا ذکر کیا جس سے وہ خوش تھا کہ اس نے اپنے رب کو خفیہ طور پر پکارا۔ امام ابن جریج فرماتے ہیں دعا میں بلند آواز، ندا اور چیخنے کو مکروہ سمجھا جاتا تھا بلکہ گریہ وزاری اور آہستگی کا حکم دیا جاتا تھا۔ ابن عباس فرماتے ہیں دعا وغیرہ میں حد سے گذر جانے والون کو اللہ دوست نہیں رکھتا۔ ابو مجاز کہتے ہیں مثلاً اپنے لئے نبی بن جانے کی دعا کرنا وغیرہ۔ حضرت سعد نے سنا کہ ان کا لڑکا اپنی دعا میں کہہ رہا ہے کہ اے اللہ میں تجھ سے جنت اور اس کی نعمتیں اور اس کے ریشم و حریر وغیرہ وغیرہ طلب کرتا ہوں اور جہنم، اس کی زنجیروں اور اس کے طوق وغیرہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ تو آپ نے فرمایا تو نے اللہ سے بہت سی بھلائیاں طلب کیں اور بہت سی برائیوں سے پناہ چاہی، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ عنقریب کچھ لوگ ہوں گے جو دعا میں حد سے گذر جایا کریں گے۔ ایک سند سے مروی ہے کہ وہ دعا مانگنے میں اور وضو کرنے میں حد سے نکل جائیں گے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا تجھے اپنی دعا میں یہی کہنا کافی ہے کہ اے اللہ میں تجھ سے جنت اور جنت سے قریب کرنے والے قول و فعل کی توفیق طلب کرتا ہوں اور جہنم اور اس سے نزدیک کرنے والے قول و فعل سے تیری پناہ چاہتا ہوں (ابو داؤد) ابن ماجہ وغیرہ میں ہے ان کے صاحبزادے اپنی دعا میں یہ کہہ رہے تھے کہ یا اللہ جنت میں داخل ہونے کے بعد جنت کی دائیں جانب کا سفید رنگ کا عالیشان محل میں تجھ سے طلب کرتا ہوں۔ پھر زمین پر امن وامان کے بعد فساد کرنے کو منع فرما رہا ہے کیونکہ اس وقت کا فساد خصوصیت سے زیادہ برائیاں پیدا کرتا ہے۔ پس اللہ اسے حرام قرار دیتا ہے اور اپنی عبادت کرنے کا، دعا کرنے کا، مسکینی اور عاجزی کرنے کا حکم دیتا ہے کہ اللہ کو اس کے عذابوں سے ڈر کر اور اس کی نعمتوں کے امیدوار بن کر پکارو۔ اللہ کی رحمت نیکو کاروں کے سروں پر منڈلا رہی ہے۔ جو اس کے احکام بجا لاتے ہیں اس کے منع کردہ کاموں سے باز رہتے ہیں جیسے فرمایا آیت (وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۭ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ01506ۚ) 7۔ الاعراف :156) یوں تو میری رحمت تمام چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے لیکن میں اسے مخصوص کر دونگا پرہیزگار لوگوں کے لئے۔ چونکہ رحمت ثواب کی ضامن ہوتی ہے اس لئے قریب کہا قریبتہ نہ کہا یا اس لئے کہ وہ اللہ کی طرف مضاف ہے۔ انہوں نے اللہ کے وعدوں کا سہارا لیا۔ اللہ نے اپنا فیصلہ کردیا کہ اس کی رحمت بالکل قریب ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
أرشد [سبحانه و] [[زيادة من أ.]] تعالى عِبَادَهُ إِلَى دُعَائِهِ، الَّذِي هُوَ صَلَاحُهُمْ فِي دنياهم وأخراهم، فقال تعالى: ﴿ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً﴾ [قِيلَ] [[زيادة من ك، م، د، أ.]] مَعْنَاهُ: تَذَلُّلًا وَاسْتِكَانَةً، وَ ﴿خُفْيَة﴾ كَمَا قَالَ: ﴿وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ [تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالآصَالِ وَلا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [الْأَعْرَافِ:٢٠٥] وَفِي الصَّحِيحَيْنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] قَالَ: رَفَعَ النَّاسُ أَصْوَاتَهُمْ بِالدُّعَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَيُّهَا النَّاسُ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ؛ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أصمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ [[في م، ك،: "سميعا قريبا"، وفي د: "قريبا سميعا".]] [[صحيح البخاري برقم (٤٢٠٥) ، وصحيح مسلم برقم (٢٧٠٤)]] الْحَدِيثَ.
وَقَالَ ابْنُ جُرَيْج، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً﴾ قَالَ: السِّرُّ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: ﴿تَضَرُّعًا﴾ تَذَلُّلًا وَاسْتِكَانَةً لِطَاعَتِهِ. ﴿وَخُفْيَة﴾ يَقُولُ: بِخُشُوعِ قُلُوبِكُمْ، وَصِحَّةِ الْيَقِينِ بِوَحْدَانِيَّتِهِ وَرُبُوبِيَّتِهِ فِيمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ، لَا جِهَارًا وَمُرَاءَاةً.
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْمُبَارَكِ بْنِ فُضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: إنْ كانَ الرَّجُلُ لَقَدْ جَمَعَ الْقُرْآنَ، وَمَا يَشْعُرُ بِهِ النَّاسُ. وَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَقَدْ فقُه [[في أ: "لفقه".]] الْفِقْهَ الْكَثِيرَ، وَمَا يَشْعُرُ بِهِ النَّاسُ. وَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُصَلِّيَ الصَّلَاةَ الطَّوِيلَةَ فِي بَيْتِهِ وَعِنْدَهُ الزُّوَّر وَمَا يَشْعُرُونَ بِهِ. وَلَقَدْ أَدْرَكْنَا أَقْوَامًا مَا كَانَ عَلَى الْأَرْضِ مِنْ عَمَلٍ يَقْدِرُونَ أَنْ يَعْمَلُوهُ فِي السِّرِّ، فَيَكُونُ عَلَانِيَةً أَبَدًا. وَلَقَدْ كَانَ الْمُسْلِمُونَ يَجْتَهِدُونَ فِي الدُّعَاءِ، وَمَا يُسمع لَهُمْ صَوْتٌ، إِنْ كَانَ إِلَّا هَمْسًا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَبِّهِمْ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: ﴿ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً [إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ] ﴾ [[زيادة من ك.]] وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ ذَكَرَ عَبْدًا صَالِحًا رَضِي فِعْلَهُ فَقَالَ: ﴿إِذْ نَادَى رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا﴾ [مَرْيَمَ:٣]
وَقَالَ ابْنُ جُرَيْج: يُكْرَهُ رَفْعُ الصَّوْتِ وَالنِّدَاءُ والصياحُ فِي الدُّعَاءِ، وَيُؤْمَرُ بِالتَّضَرُّعِ وَالِاسْتِكَانَةِ، ثُمَّ رُوِيَ عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾ فِي الدُّعَاءِ وَلَا فِي غَيْرِهِ.
وَقَالَ أَبُو مِجْلِز: ﴿إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾ لَا يُسْأَلُ [[في د: "تسأل".]] مَنَازِلَ الْأَنْبِيَاءِ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عن زياد ابن مِخْراق، سَمِعْتُ أَبَا نَعَامَةَ [[في م، ك، أ: "أبا عباية".]] عَنْ مَوْلًى لِسَعْدٍ؛ أَنَّ سَعْدًا سَمِعَ ابْنًا لَهُ يَدْعُو وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ، إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَنَعِيمَهَا وَإِسْتَبْرَقَهَا وَنَحْوًا مِنْ هَذَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَسَلَاسِلِهَا وَأَغْلَالِهَا. فَقَالَ: لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ خَيْرًا كَثِيرًا، وَتَعَوَّذْتَ بِاللَّهِ مِنْ شَرٍّ كَثِيرٍ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يَقُولُ: "إِنَّهُ سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ". وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً [إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] وَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَقُولَ: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ" [[المسند (١/١٧٢) .]]
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ أَبِي نَعَامة، عَنِ ابْنٍ لِسَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، فَذَكَرَهُ [[سنن أبي داود برقم (١٤٨٠) .]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عفَّان، حَدَّثَنَا حَمَّاد بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَعَامة: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ [[في أ: "معقل".]] سَمِعَ ابْنَهُ يَقُولُ: اللَّهُمَّ، إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلْتُهَا. فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَعُذْ بِهِ مِنَ النَّارِ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يقول: "يَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ والطَّهُور".
وَهَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَفَّانَ بِهِ. وَأَخْرَجَهُ أَبُو داود، عن موسى ابن إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَعَامة [[المسند (٥/٥٥) ، وسنن ابن ماجة برقم (٣٨٦٤) ، وسنن أبي داود برقم (٩٦) .]] -وَاسْمُهُ: قيس ابن عَبَايَةَ الْحَنَفِيُّ الْبَصْرِيُّ -وَهُوَ إِسْنَادٌ حَسَنٌ لَا بَأْسَ بِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَلا تُفْسِدُوا فِي الأرْضِ بَعْدَ إِصْلاحِهَا﴾ يَنْهَى تَعَالَى عَنِ الْإِفْسَادِ فِي الْأَرْضِ، وَمَا أَضَرَّهُ بَعْدَ الْإِصْلَاحِ! فَإِنَّهُ إِذَا كَانَتِ الْأُمُورُ مَاشِيَةً عَلَى السَّدَادِ، ثُمَّ وَقَعَ الْإِفْسَادُ بَعْدَ ذَلِكَ، كَانَ أَضَرَّ مَا يَكُونُ عَلَى الْعِبَادِ. فَنَهَى [اللَّهُ] [[زيادة من أ.]] تَعَالَى عَنْ ذَلِكَ، وَأَمَرَ بِعِبَادَتِهِ وَدُعَائِهِ وَالتَّضَرُّعِ إِلَيْهِ وَالتَّذَلُّلِ لَدَيْهِ، فَقَالَ: ﴿وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا﴾ أَيْ: خَوْفًا مِمَّا عِنْدَهُ مِنْ وَبِيلِ الْعِقَابِ، وَطَمَعًا فِيمَا عِنْدَهُ مِنْ جَزِيلِ الثَّوَابِ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿إِنَّ رَحْمَةَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ﴾ أَيْ: إِنَّ رَحْمَتَهُ مُرْصَدة لِلْمُحْسِنِينَ، الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ أَوَامِرَهُ وَيَتْرُكُونَ زَوَاجِرَهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ. [وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ. الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الأمِّيَّ] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] [الْأَعْرَافِ: ١٥٦، ١٥٧] .
وَقَالَ: ﴿قَرِيبٌ﴾ وَلَمْ يَقُلْ: "قَرِيبَةٌ"؛ لِأَنَّهُ ضَمَّنَ الرَّحْمَةَ مَعْنَى الثَّوَابِ، أَوْ لِأَنَّهَا مُضَافَةٌ إِلَى اللَّهِ، فَلِهَذَا قَالَ: قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ.
وَقَالَ مَطَرٌ الْوَرَّاقُ: تَنَجَّزوا مَوْعُودَ [[في أ: "فتنجزوا بوعد".]] اللَّهِ بِطَاعَتِهِ، فَإِنَّهُ قَضَى أَنَّ رَحْمَتَهُ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ، رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَلَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَٰحِهَا وَٱدْعُوهُ خَوْفًۭا وَطَمَعًا ۚ إِنَّ رَحْمَتَ ٱللَّهِ قَرِيبٌۭ مِّنَ ٱلْمُحْسِنِينَ
And cause not corruption upon the earth after its reformation. And invoke Him in fear and aspiration. Indeed, the mercy of Allah is near to the doers of good.
اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور خدا سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے
و در زمین پس از اصلاح آن فساد نکنید، و او را با بیم و امید بخوانید! (بیم از مسؤولیتها، و امید به رحمتش. و نیکی کنید) زیرا رحمت خدا به نیکوکاران نزدیک است!
Tafsir Ibn Kathir
Invoke your Lord Tadarru'an and Khufyah. He likes not the aggressors (55)And do not do mischief on the earth, after it has been set in order, and invoke Him with fear and hope. Surely, Allah's mercy is (ever) near unto the good-doers (56)
Encouraging supplicating to Allah
Allah commands His servants to supplicate to Him, for this will ensure their welfare in this life and the Hereafter. Allah said,
ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً
(Invoke your Lord Tadarru'an and Khufyah) meaning, in humbleness and humility. Allah said in a similar Ayah,
وَاذْكُر رَّبَّكَ فِي نَفْسِكَ
(And remember your Lord within yourself)[7:205] It is recorded in the Two Sahihs that Abu Musa Al-Ash'ari said, "The people raised their voices with supplications but the Messenger of Allah ﷺ said,
أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَ سَمِيعٌ قَرِيبٌ
(O people! Take it easy on yourselves. Verily, you are not calling one who is deaf or absent, rather, the One you are calling is All-Hearer, Near (to His servants by His knowledge).) Ibn Jarir said that,
تَضَرُّعًا
('Tadarru'an'), means obeying Him in humility and humbleness,
وَخُفْيَةً
(and 'Khufyah'), with the humbleness in your hearts and certainty of His Oneness and Lordship not supplicating loudly to show off.
Forbidding Aggression in Supplications
It was reported that 'Ata' Al-Khurasani narrated from Ibn 'Abbas, who said about Allah's statement,
إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
(He likes not the aggressors) "In the Du'a' and otherwise." Abu Mijlaz commented on,
إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
(He likes not the aggressors), "Such (aggression) as asking to reach the grade of the Prophets." Imam Ahmad narrated that Abu Ni'amah said that 'Abdullah bin Mughaffal heard his son supplicating, "O Allah! I ask you for the white castle on the right side of Paradise, if I enter it." So 'Abdullah said, "O my son! Ask Allah for Paradise and seek refuge with Him from the Fire, for I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
يَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ وَالطَّهُورِ
(There will come some people who transgress in supplication and purification)"
Ibn Majah and Abu Dawud recorded this Hadith with a good chain that there is no harm in, and Allah knows best.
The Prohibition of causing Mischief in the Land
Allah said next,
وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا
(And do not do mischief on the earth, after it has been set in order)[5:56].
Allah prohibits causing mischief on the earth, especially after it has been set in order. When the affairs are in order and then mischief occurs, it will cause maximum harm to the people; thus Allah forbids causing mischief and ordained worshipping Him, supplicating to Him, begging Him and being humble to Him. Allah said,
وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا
(and invoke Him with fear and hope) fearing what He has of severe torment and hoping in what He has of tremendous reward. Allah then said,
إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ
(Surely, Allah's mercy is (ever) near unto the good-doers) meaning, His mercy is for the good-doers who obey His commands and avoid what He prohibited. Allah said in another Ayah,
وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ
(And My mercy envelopes all things. That (mercy) I shall ordain for those who who have Taqwa.)[7:156].
Matar Al-Warraq said, "Earn Allah's promise by obeying Him, for He ordained that His mercy is near to the good-doers. " Ibn Abi Hatim collected this statement.
Tafsir Ibn Kathir
انسان دعا مانگے قبول ہوگی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعا کی ہدایت کرتا ہے جس میں ان کی دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔ فرماتا ہے کہ اپنے پروردگار کو عاجزی، مسکینی اور آہستگی سے پکارو جیسے فرمان ہے آیت (واذکر ربک فی نفسک) الخ، اپنے رب کو اپنے نفس میں یاد کر۔ بخاری و مسلم میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے دعا میں اپنی آوازیں بہت بلند کردیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو اپنی جانوں پر رحم کرو تم کسی بہرے کو یا غائب کو نہیں پکار رہے جسے تم پکار رہے ہو وہ بہت سننے والا اور بہت نزدیک ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ پوشیدگی مراد ہے، امام ابن جریر فرماتے ہیں (تضرعا) کے معنی ذلت مسکینی اور اطاعت گذاری کے ہیں اور (خفیتہ) کے معنی دلوں کے خشوع خضوع سے، یقین کی صحت سے، اس کی وحدانیت اور ربوبیت کا اس کے اور اپنے درمیان یقین رکھتے ہوئے پکارو نہ کہ ریا کاری کے ساتھ بہت بلند آواز سے۔ حضرت حسن ؒ سے مروی ہے کہ لوگ حافظ قرآن ہوتے تھے اور کسی کو معلوم بھی نہیں ہوتا تھا، لوگ بہت بڑے فقیہہ ہوجاتے تھے اور کوئی جانتا بھی نہ تھا لوگ لمبی لمبی نمازیں اپنے گھروں میں پڑھتے تھے اور مہمانوں کو بھی پتہ نہ چلتا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جہاں تک ان کے بس میں ہوتا تھا اپنی کسی نیکی کو لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے۔ پوری کوشش سے دعائیں کرتے تھے لیکن اس طرح جیسے کوئی سرگوشی کر رہا ہو یہ نہیں کہ چیخیں چلائیں۔ یہی فرمان رب ہے کہ اپنے رب کو عاجزی اور آہستگی سے پکارو۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک نیک بندے کا ذکر کیا جس سے وہ خوش تھا کہ اس نے اپنے رب کو خفیہ طور پر پکارا۔ امام ابن جریج فرماتے ہیں دعا میں بلند آواز، ندا اور چیخنے کو مکروہ سمجھا جاتا تھا بلکہ گریہ وزاری اور آہستگی کا حکم دیا جاتا تھا۔ ابن عباس فرماتے ہیں دعا وغیرہ میں حد سے گذر جانے والون کو اللہ دوست نہیں رکھتا۔ ابو مجاز کہتے ہیں مثلاً اپنے لئے نبی بن جانے کی دعا کرنا وغیرہ۔ حضرت سعد نے سنا کہ ان کا لڑکا اپنی دعا میں کہہ رہا ہے کہ اے اللہ میں تجھ سے جنت اور اس کی نعمتیں اور اس کے ریشم و حریر وغیرہ وغیرہ طلب کرتا ہوں اور جہنم، اس کی زنجیروں اور اس کے طوق وغیرہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ تو آپ نے فرمایا تو نے اللہ سے بہت سی بھلائیاں طلب کیں اور بہت سی برائیوں سے پناہ چاہی، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ عنقریب کچھ لوگ ہوں گے جو دعا میں حد سے گذر جایا کریں گے۔ ایک سند سے مروی ہے کہ وہ دعا مانگنے میں اور وضو کرنے میں حد سے نکل جائیں گے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا تجھے اپنی دعا میں یہی کہنا کافی ہے کہ اے اللہ میں تجھ سے جنت اور جنت سے قریب کرنے والے قول و فعل کی توفیق طلب کرتا ہوں اور جہنم اور اس سے نزدیک کرنے والے قول و فعل سے تیری پناہ چاہتا ہوں (ابو داؤد) ابن ماجہ وغیرہ میں ہے ان کے صاحبزادے اپنی دعا میں یہ کہہ رہے تھے کہ یا اللہ جنت میں داخل ہونے کے بعد جنت کی دائیں جانب کا سفید رنگ کا عالیشان محل میں تجھ سے طلب کرتا ہوں۔ پھر زمین پر امن وامان کے بعد فساد کرنے کو منع فرما رہا ہے کیونکہ اس وقت کا فساد خصوصیت سے زیادہ برائیاں پیدا کرتا ہے۔ پس اللہ اسے حرام قرار دیتا ہے اور اپنی عبادت کرنے کا، دعا کرنے کا، مسکینی اور عاجزی کرنے کا حکم دیتا ہے کہ اللہ کو اس کے عذابوں سے ڈر کر اور اس کی نعمتوں کے امیدوار بن کر پکارو۔ اللہ کی رحمت نیکو کاروں کے سروں پر منڈلا رہی ہے۔ جو اس کے احکام بجا لاتے ہیں اس کے منع کردہ کاموں سے باز رہتے ہیں جیسے فرمایا آیت (وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۭ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ01506ۚ) 7۔ الاعراف :156) یوں تو میری رحمت تمام چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے لیکن میں اسے مخصوص کر دونگا پرہیزگار لوگوں کے لئے۔ چونکہ رحمت ثواب کی ضامن ہوتی ہے اس لئے قریب کہا قریبتہ نہ کہا یا اس لئے کہ وہ اللہ کی طرف مضاف ہے۔ انہوں نے اللہ کے وعدوں کا سہارا لیا۔ اللہ نے اپنا فیصلہ کردیا کہ اس کی رحمت بالکل قریب ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
أرشد [سبحانه و] [[زيادة من أ.]] تعالى عِبَادَهُ إِلَى دُعَائِهِ، الَّذِي هُوَ صَلَاحُهُمْ فِي دنياهم وأخراهم، فقال تعالى: ﴿ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً﴾ [قِيلَ] [[زيادة من ك، م، د، أ.]] مَعْنَاهُ: تَذَلُّلًا وَاسْتِكَانَةً، وَ ﴿خُفْيَة﴾ كَمَا قَالَ: ﴿وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ [تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالآصَالِ وَلا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [الْأَعْرَافِ:٢٠٥] وَفِي الصَّحِيحَيْنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] قَالَ: رَفَعَ النَّاسُ أَصْوَاتَهُمْ بِالدُّعَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَيُّهَا النَّاسُ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ؛ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أصمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ [[في م، ك،: "سميعا قريبا"، وفي د: "قريبا سميعا".]] [[صحيح البخاري برقم (٤٢٠٥) ، وصحيح مسلم برقم (٢٧٠٤)]] الْحَدِيثَ.
وَقَالَ ابْنُ جُرَيْج، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً﴾ قَالَ: السِّرُّ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: ﴿تَضَرُّعًا﴾ تَذَلُّلًا وَاسْتِكَانَةً لِطَاعَتِهِ. ﴿وَخُفْيَة﴾ يَقُولُ: بِخُشُوعِ قُلُوبِكُمْ، وَصِحَّةِ الْيَقِينِ بِوَحْدَانِيَّتِهِ وَرُبُوبِيَّتِهِ فِيمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ، لَا جِهَارًا وَمُرَاءَاةً.
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْمُبَارَكِ بْنِ فُضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: إنْ كانَ الرَّجُلُ لَقَدْ جَمَعَ الْقُرْآنَ، وَمَا يَشْعُرُ بِهِ النَّاسُ. وَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَقَدْ فقُه [[في أ: "لفقه".]] الْفِقْهَ الْكَثِيرَ، وَمَا يَشْعُرُ بِهِ النَّاسُ. وَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُصَلِّيَ الصَّلَاةَ الطَّوِيلَةَ فِي بَيْتِهِ وَعِنْدَهُ الزُّوَّر وَمَا يَشْعُرُونَ بِهِ. وَلَقَدْ أَدْرَكْنَا أَقْوَامًا مَا كَانَ عَلَى الْأَرْضِ مِنْ عَمَلٍ يَقْدِرُونَ أَنْ يَعْمَلُوهُ فِي السِّرِّ، فَيَكُونُ عَلَانِيَةً أَبَدًا. وَلَقَدْ كَانَ الْمُسْلِمُونَ يَجْتَهِدُونَ فِي الدُّعَاءِ، وَمَا يُسمع لَهُمْ صَوْتٌ، إِنْ كَانَ إِلَّا هَمْسًا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَبِّهِمْ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: ﴿ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً [إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ] ﴾ [[زيادة من ك.]] وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ ذَكَرَ عَبْدًا صَالِحًا رَضِي فِعْلَهُ فَقَالَ: ﴿إِذْ نَادَى رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا﴾ [مَرْيَمَ:٣]
وَقَالَ ابْنُ جُرَيْج: يُكْرَهُ رَفْعُ الصَّوْتِ وَالنِّدَاءُ والصياحُ فِي الدُّعَاءِ، وَيُؤْمَرُ بِالتَّضَرُّعِ وَالِاسْتِكَانَةِ، ثُمَّ رُوِيَ عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾ فِي الدُّعَاءِ وَلَا فِي غَيْرِهِ.
وَقَالَ أَبُو مِجْلِز: ﴿إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾ لَا يُسْأَلُ [[في د: "تسأل".]] مَنَازِلَ الْأَنْبِيَاءِ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عن زياد ابن مِخْراق، سَمِعْتُ أَبَا نَعَامَةَ [[في م، ك، أ: "أبا عباية".]] عَنْ مَوْلًى لِسَعْدٍ؛ أَنَّ سَعْدًا سَمِعَ ابْنًا لَهُ يَدْعُو وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ، إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَنَعِيمَهَا وَإِسْتَبْرَقَهَا وَنَحْوًا مِنْ هَذَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَسَلَاسِلِهَا وَأَغْلَالِهَا. فَقَالَ: لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ خَيْرًا كَثِيرًا، وَتَعَوَّذْتَ بِاللَّهِ مِنْ شَرٍّ كَثِيرٍ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يَقُولُ: "إِنَّهُ سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ". وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً [إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] وَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَقُولَ: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ" [[المسند (١/١٧٢) .]]
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ أَبِي نَعَامة، عَنِ ابْنٍ لِسَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، فَذَكَرَهُ [[سنن أبي داود برقم (١٤٨٠) .]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عفَّان، حَدَّثَنَا حَمَّاد بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَعَامة: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ [[في أ: "معقل".]] سَمِعَ ابْنَهُ يَقُولُ: اللَّهُمَّ، إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلْتُهَا. فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَعُذْ بِهِ مِنَ النَّارِ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يقول: "يَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ والطَّهُور".
وَهَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَفَّانَ بِهِ. وَأَخْرَجَهُ أَبُو داود، عن موسى ابن إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَعَامة [[المسند (٥/٥٥) ، وسنن ابن ماجة برقم (٣٨٦٤) ، وسنن أبي داود برقم (٩٦) .]] -وَاسْمُهُ: قيس ابن عَبَايَةَ الْحَنَفِيُّ الْبَصْرِيُّ -وَهُوَ إِسْنَادٌ حَسَنٌ لَا بَأْسَ بِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَلا تُفْسِدُوا فِي الأرْضِ بَعْدَ إِصْلاحِهَا﴾ يَنْهَى تَعَالَى عَنِ الْإِفْسَادِ فِي الْأَرْضِ، وَمَا أَضَرَّهُ بَعْدَ الْإِصْلَاحِ! فَإِنَّهُ إِذَا كَانَتِ الْأُمُورُ مَاشِيَةً عَلَى السَّدَادِ، ثُمَّ وَقَعَ الْإِفْسَادُ بَعْدَ ذَلِكَ، كَانَ أَضَرَّ مَا يَكُونُ عَلَى الْعِبَادِ. فَنَهَى [اللَّهُ] [[زيادة من أ.]] تَعَالَى عَنْ ذَلِكَ، وَأَمَرَ بِعِبَادَتِهِ وَدُعَائِهِ وَالتَّضَرُّعِ إِلَيْهِ وَالتَّذَلُّلِ لَدَيْهِ، فَقَالَ: ﴿وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا﴾ أَيْ: خَوْفًا مِمَّا عِنْدَهُ مِنْ وَبِيلِ الْعِقَابِ، وَطَمَعًا فِيمَا عِنْدَهُ مِنْ جَزِيلِ الثَّوَابِ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿إِنَّ رَحْمَةَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ﴾ أَيْ: إِنَّ رَحْمَتَهُ مُرْصَدة لِلْمُحْسِنِينَ، الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ أَوَامِرَهُ وَيَتْرُكُونَ زَوَاجِرَهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ. [وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ. الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الأمِّيَّ] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] [الْأَعْرَافِ: ١٥٦، ١٥٧] .
وَقَالَ: ﴿قَرِيبٌ﴾ وَلَمْ يَقُلْ: "قَرِيبَةٌ"؛ لِأَنَّهُ ضَمَّنَ الرَّحْمَةَ مَعْنَى الثَّوَابِ، أَوْ لِأَنَّهَا مُضَافَةٌ إِلَى اللَّهِ، فَلِهَذَا قَالَ: قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ.
وَقَالَ مَطَرٌ الْوَرَّاقُ: تَنَجَّزوا مَوْعُودَ [[في أ: "فتنجزوا بوعد".]] اللَّهِ بِطَاعَتِهِ، فَإِنَّهُ قَضَى أَنَّ رَحْمَتَهُ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ، رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَهُوَ ٱلَّذِى يُرْسِلُ ٱلرِّيَٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَىْ رَحْمَتِهِۦ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَقَلَّتْ سَحَابًۭا ثِقَالًۭا سُقْنَٰهُ لِبَلَدٍۢ مَّيِّتٍۢ فَأَنزَلْنَا بِهِ ٱلْمَآءَ فَأَخْرَجْنَا بِهِۦ مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ ۚ كَذَٰلِكَ نُخْرِجُ ٱلْمَوْتَىٰ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
And it is He who sends the winds as good tidings before His mercy until, when they have carried heavy rainclouds, We drive them to a dead land and We send down rain therein and bring forth thereby [some] of all the fruits. Thus will We bring forth the dead; perhaps you may be reminded.
اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت (یعنی مینھ) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری (بنا کر) بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بھاری بھاری بادلوں کو اٹھا لاتی ہے تو ہم اس کو ایک مری ہوئی بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر بادل سے مینھ برساتے ہیں۔ پھر مینھ سے ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو (زمین سے) زندہ کرکے باہر نکال لیں گے۔ (یہ آیات اس لیے بیان کی جاتی ہیں) تاکہ تم نصیحت پکڑو
او کسی است که بادها را بشارت دهنده در پیشاپیش (باران) رحمتش میفرستد؛ تا ابرهای سنگینبار را (بر دوش) کشند؛ (سپس) ما آنها را به سوی زمینهای مرده میفرستیم؛ و به وسیله آنها، آب (حیاتبخش) را نازل میکنیم؛ و با آن، از هرگونه میوهای (از خاک تیره) بیرون میآوریم؛ این گونه (که زمینهای مرده را زنده کردیم،) مردگان را (نیز در قیامت) زنده میکنیم، شاید (با توجه به این مثال) متذکّر شوید!
Tafsir Ibn Kathir
And it is He Who sends the winds as heralds of glad tidings, going before His mercy (rain). Till when they have carried a heavy-laden cloud, We drive it to a land that is dead, then We cause water (rain) to descend thereon. Then We produce every kind of fruit therewith. Similarly, We shall raise up the dead, so that you may remember or take heed (57)The vegetation of a good land comes forth (easily) by the permission of its Lord; and that which is bad, brings forth nothing but (a little) with difficulty. Thus do We explain variously the Ayat for a people who give thanks (58)
Among Allah's Signs, He sends down the Rain and brings forth the Produce
After Allah stated that He created the heavens and earth and that He is the Owner and Possessor of the affairs Who makes things subservient (for mankind), He ordained that He be invoked in Du'a', for He is able to do all things. Allah also stated that He is the Sustainer and He resurrects the dead on the Day of Resurrection. Here, Allah said that He sends the wind that spreads the clouds that are laden with rain. Allah said in another Ayah,
وَمِنْ آيَاتِهِ أَن يُرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرَاتٍ
(And among His signs is this, that He sends the winds with glad tidings)[30:46]. Allah's statement,
بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ
(going before His mercy) means, before the rain. Allah also said;
وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنشُرُ رَحْمَتَهُ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ
(And He it is Who sends down the rain after they have despaired, and spreads His mercy. And He is Al-Wali (the Guardian), Al-Hamid (the praiseworthy)[42:28] and,
فَانظُرْ إِلَىٰ آثَارِ رَحْمَتِ اللَّهِ كَيْفَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ ذَٰلِكَ لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(Look then at the results of Allah's mercy, how He revives the earth after its death. Verily, that [is the one Who] shall indeed raise the dead, and He is able to do all things)[30:50]. Allah said next,
حَتَّىٰ إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا
(Till when they have carried a heavy-laden cloud) when the wind carries clouds that are heavy with rain, and this is why these clouds are heavy, close to the earth, and their color is dark. Allah's statement,
سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ
(We drive it to a land that is dead) that is, a dry land that does not have any vegetation. This Ayah is similar to another Ayah,
وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا
(And a sign for them is the dead land. We give it life)[36:33]. This is why Allah said here,
فَأَخْرَجْنَا بِهِ مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ كَذَٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتَىٰ
(Then We produce every kind of fruit therewith. Similarly, We shall raise up the dead.) meaning, just as We bring life to dead land, We shall raise up the dead on the Day of Resurrection, after they have disintegrated. Allah will send down rain from the sky and the rain will pour on the earth for forty days. The corpses will then be brought up in their graves, just as the seeds become grow in the ground (on receiving rain). Allah often mentions this similarity in the Qur'an when He gives the example of what will happen on the Day of Resurrection, and bringing life to dead land,
لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
(so that you may remember or take heed.) Allah's statement,
وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ
(The vegetation of a good land comes forth (easily) by the permission of its Lord;) meaning, the good land produces its vegetation rapidly and proficiently. Allah said in another Ayah (about Maryam, mother of 'Isa, peace be upon him);
وَأَنبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا
(He made her grow in a good manner.)[3:37] The Ayah continues,
وَالَّذِي خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًا
(and that which is bad, brings forth nothing but with difficulty.) Mujahid, and others such as As-Sibakh, etc. also said this.
Al-Bukhari recorded that Abu Musa said that the Messenger of Allah ﷺ said,
مَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ مِنَ الْعِلْمِ وَالْهُدَى كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيرِ أَصَابَ أَرْضًا فَكَانَتْ مِنْهَا نَقِيَّةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ فَنَفَعَ اللهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوا وَسَقَوْا وَزَرَعُوا وَأَصَابَ مِنْهَا طَائِفَةً أُخْرَى إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللهِ وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ
(The parable of the guidance and knowledge with which Allah has sent me is that of an abundant rain falling on a land, some of which was fertile soil that absorbed rain water and brought forth vegetation and grass in abundance. And another portion of it was hard and held the rain water; and Allah benefited the people with it, they utilized it for drinking, making their animals drink from it, and for irrigation of the land for cultivation. And a portion of it was barren which could neither hold the water nor bring forth vegetation. The first is the example of the person who comprehends Allah's religion and gets benefit which Allah sent me with, by learnign and teaching others. The last example is that of a person who does not care for it and does not accept the guidance Allah sent me with.)
Tafsir Ibn Kathir
تمام مظاہر قدرت اس کی شان کے مظہر ہیں اوپر بیان ہوا کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے۔ سب پر قبضہ رکھنے والا، حاکم، تدبیر کرنے والا، مطیع اور فرمانبردار رکھنے والا اللہ ہی ہے۔ پھر دعائیں کرنے کا حکم دیا کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اب یہاں بیان ہو رہا ہے کہ رزاق بھی وہی ہے اور قیامت کے دن مردوں کو زندہ کردینے والا بھی وہی ہے۔ پس فرمایا کہ بارش سے پہلے بھینی بھینی خوش گوار ہوائیں وہی چلاتا ہے (بشرا) کی دوسری قرأت مبشرات بھی ہے۔ رحمت سے مراد یہاں بارش ہے جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ ۭ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ 28) 42۔ الشوری:28) وہ ہے جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد بارش اتارتا ہے اور اپنی رحمت کی ریل پیل کردیتا ہے وہ والی ہے اور قابل تعریف۔ ایک اور آیت میں ہے رحمت رب کے آثار دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو وہ جلا دیتا ہے وہی مردہ انسانوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بادل جو پانی کی وجہ سے بوجھل ہو رہے ہیں انہیں یہ ہوائیں اٹھالے چلتی ہیں یہ زمین سے بہت قریب ہوتے ہیں اور سیاہ ہوتے ہیں۔ چناچہ حضرت زید بن عمرو بن نفیل ؒ کے شعروں میں ہے میں اس کا مطیع ہوں جس کے اطاعت گذار میٹھے اور صاف پانی کے بھرے ہوئے بادل ہیں اور جس کے تابع فرمان بھاری بوجھل پہاڑوں والی زمین ہے۔ پھر ہم ان بادلوں کو مردہ زمین کی طرف لے چلتے ہیں جس میں کوئی سبزہ نہیں خشک اور بنجر ہے جیسے آیت (وایتہ لھم الارض) میں بیان ہوا ہے پھر اس سے پانی برسا کر اسی غیر آباد زمین کو سرسبز بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو زندہ کردیں گے حالانکہ وہ بوسیدہ ہڈیاں اور پھر ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں مل گئے ہوں گے۔ قیامت کے دن ان پر اللہ عزوجل بارش برسائے گا چالیس دن تک برابر برستی رہے گی جس سے جسم قبروں میں اگنے لگیں گے جیسے دانہ زمین پر اگتا ہے۔ یہ بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ قیامت کی مثال بارش کی پیداوار سے دی جاتی ہے۔ پھر فرمایا یہ تمہاری نصیحت کے لئے ہے۔ اچھی زمین میں سے پیداوار عمدہ بھی نکلتی ہے اور جلدی بھی جیسے فرمان ہے آیت (وانبتھا نباتا حسنا) اور جو زمین خراب ہے جیسے سنگلاخ زمین شور زمین وغیرہ اس کی پیداوار بھی ویسی ہی ہوتی ہے۔ یہی مثال مومن و کافر کی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جس علم و ہدایت کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے زمین پر بہت زیادہ بارش ہوئی زمین کے ایک صاف عمدہ ٹکڑے تھے ان پر بھی وہ پانی برسا لیکن نہ تو وہاں رکا نہ وہاں کچھ اگا۔ یہی مثال اس کی ہے جس نے دین حق کی سمجھ پیدا کی اور میری بعثت سے اس نے فائدہ اٹھایا خود سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے سر ہی نہ اٹھایا اور اللہ کی وہ ہدایت ہی نہ لی جو میری معرفت بھیجی گئی (مسلم و نسائی)
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى أَنَّهُ خالق [[في أ: "خلق".]] السموات وَالْأَرْضِ، وَأَنَّهُ الْمُتَصَرِّفُ الْحَاكِمُ المدبِّر المسخِّر، وَأَرْشَدَ إِلَى دُعَائِهِ؛ لِأَنَّهُ عَلَى مَا يَشَاءُ قَادِرٌ -نَبَّهَ تَعَالَى عَلَى أَنَّهُ الرَّزَّاقُ، وَأَنَّهُ يُعِيدُ الْمَوْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ: " وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ نشْرًا " أَيْ: نَاشِرَةً بَيْنَ يَدَيِ السَّحَابِ الْحَامِلِ لِلْمَطَرِ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَرَأَ ﴿بُشْرًا﴾ كَقَوْلِهِ ﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ يُرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرَاتٍ﴾ [الرُّومِ:٤٦]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ﴾ أَيْ: بَيْنَ يَدَيِ الْمَطَرِ، كَمَا قَالَ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يُنزلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ﴾ [الشُّورَى:٢٨] وَقَالَ ﴿فَانْظُرْ إِلَى أَثَر رَحْمَةِ اللَّهِ كَيْفَ يُحْيِي الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ ذَلِكَ لَمُحْيِي الْمَوْتَى وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ [الرُّومِ:٥٠] [[في أ: "آثار".]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿حَتَّى إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالا﴾ أَيْ: حَمَلَتِ الرِّيَاحُ سَحَابًا ثِقَالًا أَيْ: مِنْ كَثْرَةِ مَا فِيهَا مِنَ الْمَاءِ، تَكُونُ ثَقِيلَةً قَرِيبَةً مِنَ الْأَرْضِ مُدْلَهِمَّةً، كَمَا قَالَ زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ.
وأسلمتُ وجْهِي لمنْ أسْلَمَتْ ... لَهُ المُزْنُ تَحْمل عَذْبا زُلالا ...
وأسلَمْتُ وَجْهي لِمَنْ أسلَمَتْ ... لَهُ الْأَرْضُ تحملُ صَخرًا ثِقَالًا [[البيتين في السيرة النبوية لابن هشام (١/٢٣١) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَيِّتٍ﴾ أَيْ: إِلَى أَرْضٍ مَيِّتَةٍ، مُجْدِبَةٍ [[في أ: "ميتة أي مجدبة".]] لَا نَبَاتَ فِيهَا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَآيَةٌ لَهُمُ الأرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا [وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ [[زيادة من ك، م، أ، وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [يس:٣٣] ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَأَخْرَجْنَا بِهِ مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ كَذَلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتَى﴾ أَيْ: كَمَا أَحْيَيْنَا هَذِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا، كَذَلِكَ نُحْيِي الْأَجْسَادَ بَعْدَ صَيْرُورَتِهَا رَمِيمًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُنَزِّلُ اللَّهُ، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى، مَاءً مِنَ السَّمَاءِ، فَتُمْطِرُ الْأَرْضَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَتَنْبُتُ مِنْهُ الْأَجْسَادُ فِي قُبُورِهَا كَمَا يَنْبُتُ الْحَبُّ فِي الْأَرْضِ. وَهَذَا الْمَعْنَى كَثِيرٌ فِي الْقُرْآنِ، يَضْرِبُ اللَّهُ مَثَلًا لِلْقِيَامَةِ بِإِحْيَاءِ الْأَرْضِ بَعْدَ مَوْتِهَا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ﴾ أَيْ: وَالْأَرْضُ الطَّيِّبَةُ يَخْرُجُ نَبَاتُهَا سَرِيعًا حَسَنًا، كَمَا قَالَ: ﴿فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا﴾ [آلِ عِمْرَانَ:٣٧]
﴿وَالَّذِي خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلا نَكِدًا﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ وَغَيْرُهُ: كَالسِّبَاخِ وَنَحْوِهَا.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْآيَةِ: هذا مثل ضربه الله للمؤمن والكافر.
وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ [[في أ: "ابن أبي أسامة" وهو خطأ.]] عَنْ بُرَيد [[في أ: "يزيد".]] بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ، كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيرِ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَتْ مِنْهَا نَقِيَّةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ، فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ. وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبَ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ، فَنَفَعَ اللَّهُ بِهَا النَّاسَ، فَشَرِبُوا وَسَقَوْا وَزَرَعُوا. وَأَصَابَ مِنْهَا طَائِفَةً أُخْرَى، إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تَنْبُتُ [[في ك، د، م، أ: "ولا تنبت كلأ".]] فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُه فِي دِينِ اللَّهِ وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ، فَعَلم وَعَلَّم، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا. وَلَمْ يَقْبَل هُدَى اللَّهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ".
رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ مِنْ طُرُقٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ حَمَّادِ بْنِ أُسَامَةَ، بِهِ [[صحيح البخاري برقم (٧٩) ، وصحيح مسلم برقم (٢٢٨٢) ، وسنن النسائي الكبرى برقم (٥٨٤٣) .]]
وَٱلْبَلَدُ ٱلطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُۥ بِإِذْنِ رَبِّهِۦ ۖ وَٱلَّذِى خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًۭا ۚ كَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَشْكُرُونَ
And the good land - its vegetation emerges by permission of its Lord; but that which is bad - nothing emerges except sparsely, with difficulty. Thus do We diversify the signs for a people who are grateful.
جو زمین پاکیزہ (ہے) اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے (نفیس ہی) نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں جو کچھ ہے ناقص ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم آیتوں کو شکرگزار لوگوں کے لئے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں
سرزمین پاکیزه) و شیرین)، گیاهش به فرمان پروردگار میروید؛ امّا سرزمینهای بد طینت (و شورهزار)، جز گیاه ناچیز و بیارزش، از آن نمیروید؛ این گونه آیات (خود) را برای آنها که شکرگزارند، بیان میکنیم!
Tafsir Ibn Kathir
And it is He Who sends the winds as heralds of glad tidings, going before His mercy (rain). Till when they have carried a heavy-laden cloud, We drive it to a land that is dead, then We cause water (rain) to descend thereon. Then We produce every kind of fruit therewith. Similarly, We shall raise up the dead, so that you may remember or take heed (57)The vegetation of a good land comes forth (easily) by the permission of its Lord; and that which is bad, brings forth nothing but (a little) with difficulty. Thus do We explain variously the Ayat for a people who give thanks (58)
Among Allah's Signs, He sends down the Rain and brings forth the Produce
After Allah stated that He created the heavens and earth and that He is the Owner and Possessor of the affairs Who makes things subservient (for mankind), He ordained that He be invoked in Du'a', for He is able to do all things. Allah also stated that He is the Sustainer and He resurrects the dead on the Day of Resurrection. Here, Allah said that He sends the wind that spreads the clouds that are laden with rain. Allah said in another Ayah,
وَمِنْ آيَاتِهِ أَن يُرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرَاتٍ
(And among His signs is this, that He sends the winds with glad tidings)[30:46]. Allah's statement,
بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ
(going before His mercy) means, before the rain. Allah also said;
وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنشُرُ رَحْمَتَهُ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ
(And He it is Who sends down the rain after they have despaired, and spreads His mercy. And He is Al-Wali (the Guardian), Al-Hamid (the praiseworthy)[42:28] and,
فَانظُرْ إِلَىٰ آثَارِ رَحْمَتِ اللَّهِ كَيْفَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ ذَٰلِكَ لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(Look then at the results of Allah's mercy, how He revives the earth after its death. Verily, that [is the one Who] shall indeed raise the dead, and He is able to do all things)[30:50]. Allah said next,
حَتَّىٰ إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا
(Till when they have carried a heavy-laden cloud) when the wind carries clouds that are heavy with rain, and this is why these clouds are heavy, close to the earth, and their color is dark. Allah's statement,
سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ
(We drive it to a land that is dead) that is, a dry land that does not have any vegetation. This Ayah is similar to another Ayah,
وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا
(And a sign for them is the dead land. We give it life)[36:33]. This is why Allah said here,
فَأَخْرَجْنَا بِهِ مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ كَذَٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتَىٰ
(Then We produce every kind of fruit therewith. Similarly, We shall raise up the dead.) meaning, just as We bring life to dead land, We shall raise up the dead on the Day of Resurrection, after they have disintegrated. Allah will send down rain from the sky and the rain will pour on the earth for forty days. The corpses will then be brought up in their graves, just as the seeds become grow in the ground (on receiving rain). Allah often mentions this similarity in the Qur'an when He gives the example of what will happen on the Day of Resurrection, and bringing life to dead land,
لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
(so that you may remember or take heed.) Allah's statement,
وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ
(The vegetation of a good land comes forth (easily) by the permission of its Lord;) meaning, the good land produces its vegetation rapidly and proficiently. Allah said in another Ayah (about Maryam, mother of 'Isa, peace be upon him);
وَأَنبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا
(He made her grow in a good manner.)[3:37] The Ayah continues,
وَالَّذِي خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًا
(and that which is bad, brings forth nothing but with difficulty.) Mujahid, and others such as As-Sibakh, etc. also said this.
Al-Bukhari recorded that Abu Musa said that the Messenger of Allah ﷺ said,
مَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ مِنَ الْعِلْمِ وَالْهُدَى كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيرِ أَصَابَ أَرْضًا فَكَانَتْ مِنْهَا نَقِيَّةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ فَنَفَعَ اللهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوا وَسَقَوْا وَزَرَعُوا وَأَصَابَ مِنْهَا طَائِفَةً أُخْرَى إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللهِ وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ
(The parable of the guidance and knowledge with which Allah has sent me is that of an abundant rain falling on a land, some of which was fertile soil that absorbed rain water and brought forth vegetation and grass in abundance. And another portion of it was hard and held the rain water; and Allah benefited the people with it, they utilized it for drinking, making their animals drink from it, and for irrigation of the land for cultivation. And a portion of it was barren which could neither hold the water nor bring forth vegetation. The first is the example of the person who comprehends Allah's religion and gets benefit which Allah sent me with, by learnign and teaching others. The last example is that of a person who does not care for it and does not accept the guidance Allah sent me with.)
Tafsir Ibn Kathir
تمام مظاہر قدرت اس کی شان کے مظہر ہیں اوپر بیان ہوا کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے۔ سب پر قبضہ رکھنے والا، حاکم، تدبیر کرنے والا، مطیع اور فرمانبردار رکھنے والا اللہ ہی ہے۔ پھر دعائیں کرنے کا حکم دیا کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اب یہاں بیان ہو رہا ہے کہ رزاق بھی وہی ہے اور قیامت کے دن مردوں کو زندہ کردینے والا بھی وہی ہے۔ پس فرمایا کہ بارش سے پہلے بھینی بھینی خوش گوار ہوائیں وہی چلاتا ہے (بشرا) کی دوسری قرأت مبشرات بھی ہے۔ رحمت سے مراد یہاں بارش ہے جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ ۭ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ 28) 42۔ الشوری:28) وہ ہے جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد بارش اتارتا ہے اور اپنی رحمت کی ریل پیل کردیتا ہے وہ والی ہے اور قابل تعریف۔ ایک اور آیت میں ہے رحمت رب کے آثار دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو وہ جلا دیتا ہے وہی مردہ انسانوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بادل جو پانی کی وجہ سے بوجھل ہو رہے ہیں انہیں یہ ہوائیں اٹھالے چلتی ہیں یہ زمین سے بہت قریب ہوتے ہیں اور سیاہ ہوتے ہیں۔ چناچہ حضرت زید بن عمرو بن نفیل ؒ کے شعروں میں ہے میں اس کا مطیع ہوں جس کے اطاعت گذار میٹھے اور صاف پانی کے بھرے ہوئے بادل ہیں اور جس کے تابع فرمان بھاری بوجھل پہاڑوں والی زمین ہے۔ پھر ہم ان بادلوں کو مردہ زمین کی طرف لے چلتے ہیں جس میں کوئی سبزہ نہیں خشک اور بنجر ہے جیسے آیت (وایتہ لھم الارض) میں بیان ہوا ہے پھر اس سے پانی برسا کر اسی غیر آباد زمین کو سرسبز بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو زندہ کردیں گے حالانکہ وہ بوسیدہ ہڈیاں اور پھر ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں مل گئے ہوں گے۔ قیامت کے دن ان پر اللہ عزوجل بارش برسائے گا چالیس دن تک برابر برستی رہے گی جس سے جسم قبروں میں اگنے لگیں گے جیسے دانہ زمین پر اگتا ہے۔ یہ بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ قیامت کی مثال بارش کی پیداوار سے دی جاتی ہے۔ پھر فرمایا یہ تمہاری نصیحت کے لئے ہے۔ اچھی زمین میں سے پیداوار عمدہ بھی نکلتی ہے اور جلدی بھی جیسے فرمان ہے آیت (وانبتھا نباتا حسنا) اور جو زمین خراب ہے جیسے سنگلاخ زمین شور زمین وغیرہ اس کی پیداوار بھی ویسی ہی ہوتی ہے۔ یہی مثال مومن و کافر کی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جس علم و ہدایت کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے زمین پر بہت زیادہ بارش ہوئی زمین کے ایک صاف عمدہ ٹکڑے تھے ان پر بھی وہ پانی برسا لیکن نہ تو وہاں رکا نہ وہاں کچھ اگا۔ یہی مثال اس کی ہے جس نے دین حق کی سمجھ پیدا کی اور میری بعثت سے اس نے فائدہ اٹھایا خود سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے سر ہی نہ اٹھایا اور اللہ کی وہ ہدایت ہی نہ لی جو میری معرفت بھیجی گئی (مسلم و نسائی)
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى أَنَّهُ خالق [[في أ: "خلق".]] السموات وَالْأَرْضِ، وَأَنَّهُ الْمُتَصَرِّفُ الْحَاكِمُ المدبِّر المسخِّر، وَأَرْشَدَ إِلَى دُعَائِهِ؛ لِأَنَّهُ عَلَى مَا يَشَاءُ قَادِرٌ -نَبَّهَ تَعَالَى عَلَى أَنَّهُ الرَّزَّاقُ، وَأَنَّهُ يُعِيدُ الْمَوْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ: " وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ نشْرًا " أَيْ: نَاشِرَةً بَيْنَ يَدَيِ السَّحَابِ الْحَامِلِ لِلْمَطَرِ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَرَأَ ﴿بُشْرًا﴾ كَقَوْلِهِ ﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ يُرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرَاتٍ﴾ [الرُّومِ:٤٦]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ﴾ أَيْ: بَيْنَ يَدَيِ الْمَطَرِ، كَمَا قَالَ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يُنزلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ﴾ [الشُّورَى:٢٨] وَقَالَ ﴿فَانْظُرْ إِلَى أَثَر رَحْمَةِ اللَّهِ كَيْفَ يُحْيِي الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ ذَلِكَ لَمُحْيِي الْمَوْتَى وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ [الرُّومِ:٥٠] [[في أ: "آثار".]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿حَتَّى إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالا﴾ أَيْ: حَمَلَتِ الرِّيَاحُ سَحَابًا ثِقَالًا أَيْ: مِنْ كَثْرَةِ مَا فِيهَا مِنَ الْمَاءِ، تَكُونُ ثَقِيلَةً قَرِيبَةً مِنَ الْأَرْضِ مُدْلَهِمَّةً، كَمَا قَالَ زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ.
وأسلمتُ وجْهِي لمنْ أسْلَمَتْ ... لَهُ المُزْنُ تَحْمل عَذْبا زُلالا ...
وأسلَمْتُ وَجْهي لِمَنْ أسلَمَتْ ... لَهُ الْأَرْضُ تحملُ صَخرًا ثِقَالًا [[البيتين في السيرة النبوية لابن هشام (١/٢٣١) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَيِّتٍ﴾ أَيْ: إِلَى أَرْضٍ مَيِّتَةٍ، مُجْدِبَةٍ [[في أ: "ميتة أي مجدبة".]] لَا نَبَاتَ فِيهَا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَآيَةٌ لَهُمُ الأرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا [وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ [[زيادة من ك، م، أ، وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [يس:٣٣] ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَأَخْرَجْنَا بِهِ مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ كَذَلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتَى﴾ أَيْ: كَمَا أَحْيَيْنَا هَذِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا، كَذَلِكَ نُحْيِي الْأَجْسَادَ بَعْدَ صَيْرُورَتِهَا رَمِيمًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُنَزِّلُ اللَّهُ، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى، مَاءً مِنَ السَّمَاءِ، فَتُمْطِرُ الْأَرْضَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَتَنْبُتُ مِنْهُ الْأَجْسَادُ فِي قُبُورِهَا كَمَا يَنْبُتُ الْحَبُّ فِي الْأَرْضِ. وَهَذَا الْمَعْنَى كَثِيرٌ فِي الْقُرْآنِ، يَضْرِبُ اللَّهُ مَثَلًا لِلْقِيَامَةِ بِإِحْيَاءِ الْأَرْضِ بَعْدَ مَوْتِهَا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ﴾ أَيْ: وَالْأَرْضُ الطَّيِّبَةُ يَخْرُجُ نَبَاتُهَا سَرِيعًا حَسَنًا، كَمَا قَالَ: ﴿فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا﴾ [آلِ عِمْرَانَ:٣٧]
﴿وَالَّذِي خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلا نَكِدًا﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ وَغَيْرُهُ: كَالسِّبَاخِ وَنَحْوِهَا.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْآيَةِ: هذا مثل ضربه الله للمؤمن والكافر.
وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ [[في أ: "ابن أبي أسامة" وهو خطأ.]] عَنْ بُرَيد [[في أ: "يزيد".]] بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ، كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيرِ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَتْ مِنْهَا نَقِيَّةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ، فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ. وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبَ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ، فَنَفَعَ اللَّهُ بِهَا النَّاسَ، فَشَرِبُوا وَسَقَوْا وَزَرَعُوا. وَأَصَابَ مِنْهَا طَائِفَةً أُخْرَى، إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تَنْبُتُ [[في ك، د، م، أ: "ولا تنبت كلأ".]] فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُه فِي دِينِ اللَّهِ وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ، فَعَلم وَعَلَّم، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا. وَلَمْ يَقْبَل هُدَى اللَّهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ".
رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ مِنْ طُرُقٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ حَمَّادِ بْنِ أُسَامَةَ، بِهِ [[صحيح البخاري برقم (٧٩) ، وصحيح مسلم برقم (٢٢٨٢) ، وسنن النسائي الكبرى برقم (٥٨٤٣) .]]
لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦ فَقَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥٓ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ
We had certainly sent Noah to his people, and he said, "O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. Indeed, I fear for you the punishment of a tremendous Day.
ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے (ان سے کہا) اے میری برادری کے لوگو خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا (بہت ہی) ڈر ہے
ما نوح را به سوی قومش فرستادیم؛ او به آنان گفت: «ای قوم من! (تنها) خداوند یگانه را پرستش کنید، که معبودی جز او برای شما نیست! (و اگر غیر او را عبادت کنید،) من بر شما از عذاب روز بزرگی میترسم!»
Tafsir Ibn Kathir
Indeed, We sent Nuh to his people and he said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Certainly, I fear for you the torment of a Great Day! (59)The leaders of his people said: "Verily, we see you in plain error. (60)[Nuh] said: "O my people! There is no error in me, but I am a Messenger from the Lord of all that exists (61)I convey unto you the Messages of my Lord and give sincere advice to you. And I know from Allah what you know not. (62)
The Story of Nuh and His People
After Allah mentioned the story of Adam in the beginning of this Surah, He started mentioning the stories of the Prophets, the first then the latter of them. Allah mentioned the story of Nuh, because he was the first Messenger Allah sent to the people of the earth after Adam. His name was Nuh bin Lamak bin Matushalakh bin Khanukh. And Khanukh was, as they claim, the Prophet Idris. And Idris was the first person to write letters using pen, and he was the son of Barad bin Mahlil, bin Qanin bin Yanish bin Shith bin Adam, upon them all be peace. This lineage is mentioned by Muhammad bin Ishaq and other Imams who document lineage.
Abdullah bin 'Abbas and several other scholars of Tafsir said that the first idol worship began when some righteous people died and their people built places of worship over their graves. They made images of them so that they could remember their righteousness and devotion, and thus, imitate them. When time passed, they made statues of them and later on worshipped these idols, naming them after the righteous people: Wadd, Suwa', Yaghuth, Ya'uq and Nasr. After this practice became popular, Allah sent Nuh as a Messenger, all thanks are due to Him. Nuh commanded his people to worship Allah alone without partners, saying,
يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
("O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Certainly, I fear for you the torment of a Great Day!") the torment of the Day of Resurrection, if you meet Allah while associating others with Him.
قَالَ الْمَلَأُ مِن قَوْمِهِ
(The leaders of his people said) meaning, the general public, chiefs, commanders and great ones of his people said,
إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
("Verily, we see you in plain error") because of your calling us to abandon the worship of these idols that we found our forefathers worshipping.
This, indeed, is the attitude of evil people, for they consider the righteous people to be following misguidance. Allah said in other Ayat,
وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَٰؤُلَاءِ لَضَالُّونَ
(And when they saw them, they said: "Verily, these have indeed gone astray!")[83:32] and,
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُونَا إِلَيْهِ وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُوا بِهِ فَسَيَقُولُونَ هَٰذَا إِفْكٌ قَدِيمٌ
(And those who disbelieve say of those who believe: "Had it been a good thing, they (the weak and poor) would not have preceded us thereto!" And when they have not let themselves be guided by it (this Qur'an), they say: "This is an ancient lie!")[46:11] There are several other Ayat on this subject.
قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلَالَةٌ وَلَٰكِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ
([Nuh] said: "O my people! There is no error in me, but I am a Messenger from the Lord of all that exists!") meaning, there is nothing wrong with me, but I am a Messenger from the Lord of all that exists, Lord and King of all things,
أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
("I convey unto you the Messages of my Lord and give sincere advice to you. And I know from Allah what you know not.")
This is the attribute of a Messenger, that he conveys using plain, yet eloquent words, offers sincere advice and is knowledgeable about Allah; indeed, no other people can compete with the Prophets in this regard. In his Sahih, Muslim recorded that the Messenger of Allah ﷺ said to his Companions on the Day of 'Arafah, when their gathering was as large as it ever was,
أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَسْؤُولُونَ عَنِّي فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟
(O people! You will be asked about me, so what will you say?)
They said, "We testify that you have conveyed and delivered (the Message) and offered sincere advice." So he kept raising his finger to the sky and lowering it towards them, saying,
اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَد
(O Allah! Bear witness, O Allah! Bear witness.)
Tafsir Ibn Kathir
پھر تذکرہ انبیاء چونکہ سورت کے شروع میں حضرت آدم ؑ کا قصہ بیان ہوا تھا پھر اس کے متعلقات بیان ہوئے اور اس کے متصل اور بیانات فرما کر اب پھر اور انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات کے بیان کا آغاز ہوا اور پے در پے ان کے بیانات ہوئے سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کا ذکر ہوا کیونکہ آدم ؑ کے بعد سب سے پہلے پیغمبر اہل زمین کی طرف آپ ہی آئے تھے۔ آپ نوح بن ملک بن مقوشلخ بن اخنوخ (یعنی ادریس ؑ یہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا) بن برد بن مہلیل بن قنین بن یانشن بن شیث بن آدم ؑ۔ ائمہ نسب جیسے امام محمد بن اسحاق وغیرہ نے آپ کا نسب نامہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں حضرت نوح جیسا کوئی اور نبی امت کی طرف سے ستایا نہیں گیا۔ ہاں انبیاء قتل ضرور کئے گئے۔ انہیں نوح اسی لئے کہا گیا کہ یہ اپنے نفس کا رونا بہت روتے تھے۔ حضرت آدم اور حضرت نوح کے درمیان دس زمانے تھے جو اسلام پر گذرے تھے۔ اصنام پرستی کا رواج اسی طرح شروع ہوا کہ جب اولیاء اللہ فوت ہوگئے تو ان کی قوم نے ان کی قبروں پر مسجدیں بنالیں اور ان میں ان بزرگوں کی تصویریں بنالیں تاکہ ان کا حال اور ان کی عبادت کا نقشہ سامنے رہے اور اپنے آپ کو ان جیسا بنانے کی کوشش کریں لیکن کچھ زمانے کے بعد ان تصویروں کے مجسمے بنا لئے کچھ اور زمانے کے بعد انہی بتوں کو پوجا کرنے لگے اور ان کے نام انہی اولیاء اللہ کے ناموں پر رکھ لئے۔ ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر وغیرہ۔ جب بت پرستی کا رواج ہوگیا، اللہ نے اپنے رسول حضرت نوح کو بھیجا آپ نے انہیں اللہ واحد کی عبادت کی تلقین کی اور کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں قیامت کے دن تمہیں عذاب نہ ہو۔ قوم نوح کے بڑوں نے، ان کے سرداروں نے اور ان کے چودھریوں نے حضرت نوح کو جواب دیا کہ تم تو بہک گئے ہو ہمیں اپنے باپ دادا کے دین سے ہٹا رہے ہو۔ ہر بد شخص نیک لوگوں کو گمراہ سمجھا کرتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ جب یہ بدکار ان نیک کاروں کو دیکھتے ہیں کہتے ہیں کہ یہ تو بہکے ہوئے ہیں۔ کہا کرتے تھے کہ اگر یہ دین اچھا ہوتا تو ان سے پہلے ہم نہ مان لیتے ؟ یہ تو بات ہی غلط اور جھوٹ ہے۔ حضرت نوح نبی ؑ نے جواب دیا کہ میں بہکا ہوا نہیں ہوں بلکہ میں اللہ کا رسول ہوں تمہیں پیغام رب پہنچا رہا ہوں۔ تمہارا خیر خواہ ہوں اور اللہ کی وہ باتیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے۔ ہر رسول مبلغ، فصیح، بلیغ، ناصح، خیر خواہ اور عالم باللہ ہوتا ہے۔ ان صفات میں اور کوئی ان کی ہمسری اور برابری نہیں کرسکتا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفے کے دن اپنے اصحاب سے فرمایا جبکہ وہ بہت بڑی تعداد میں بہت زیادہ تھے کہ اے لوگو تم میری بابت اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے ؟ سب نے کہا ہم کہیں گے کہ آپ نے تبلیغ کردی تھی اور حق رسالت ادا کردیا تھا اور پوری خیر خواہی کی تھی پس آپ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر نیچے زمین کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یا اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو شاہد رہ، یا اللہ تو گواہ رہ۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى قِصَّةَ آدَمَ فِي أَوَّلِ السُّورَةِ، وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ وَمَا يَتَّصِلُ بِهِ، وَفَرَغَ مِنْهُ، شَرَعَ تَعَالَى فِي ذِكْرِ قِصَصِ الْأَنْبِيَاءِ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، الْأَوَّلِ فالأولَ، فَابْتَدَأَ بِذِكْرِ نُوحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّهُ أَوَّلُ رَسُولٍ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ بَعْدَ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهُوَ: نُوحُ بْنُ لَامِكَ بْنِ مُتَوَشْلِحَ بْنِ خَنُوخ -وَهُوَ إِدْرِيسُ [النَّبِيُّ] [[زيادة من أ.]] عَلَيْهِ السَّلَامُ -فِيمَا، يَزْعُمُونَ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ خَطَّ بِالْقَلَمِ -ابْنُ بَرْدَ بْنِ مُهَلْيِلِ بْنِ قَنِينَ بْنِ يَانِشَ بْنِ شِيثَ بْنِ آدَمَ، عَلَيْهِ [[في أ: "عليهم".]] السَّلَامُ.
هَكَذَا نَسَبَهُ [مُحَمَّدُ] [[زيادة من ك، م، أ.]] بْنُ إِسْحَاقَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَئِمَّةِ النَّسَبِ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: وَلَمْ يَلْقَ نَبِيٌّ مِنْ قَوْمِهِ مِنَ الْأَذَى مِثْلَ نُوحٍ إِلَّا نَبِيٌّ قُتِلَ.
وَقَالَ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ: إِنَّمَا سُمِّيَ نُوحًا لِكَثْرَةِ مَا نَاحَ عَلَى نَفْسِهِ.
وَقَدْ كَانَ بَيْنَ آدَمَ إِلَى زَمَنِ نُوحٍ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، عَشَرَةُ قُرُونٍ، كُلُّهُمْ عَلَى الإسلام [قاله عبد الله ابن عَبَّاسٍ] [[زيادة من م، أ.]]
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَاءِ التَّفْسِيرِ: وَكَانَ أَوَّلُ مَا عُبِدَتِ الْأَصْنَامُ، أَنَّ قَوْمًا صَالِحِينَ مَاتُوا، فَبَنَى قَوْمُهُمْ عَلَيْهِمْ مساجدَ وَصَوَّرُوا صُوَرَ أُولَئِكَ فِيهَا، لِيَتَذَكَّرُوا حَالَهُمْ وَعِبَادَتَهُمْ، فَيَتَشَبَّهُوا بِهِمْ. فَلَمَّا طَالَ الزَّمَانُ، جَعَلُوا تِلْكَ الصُّوَرَ أَجْسَادًا عَلَى تِلْكَ الصُّوَرِ. فَلَمَّا تَمَادَى الزَّمَانُ عَبَدُوا تِلْكَ الْأَصْنَامَ وَسَمَّوْهَا بِأَسْمَاءِ أُولَئِكَ الصَّالِحِينَ "وَدًّا وَسُوَاعًا ويَغُوث وَيَعُوق وَنَسْرَا". فَلَمَّا تَفَاقَمَ الْأَمْرُ بَعَثَ اللَّهُ، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى -وَلَهُ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ -رَسُولَهُ نُوحًا يأمرهم بعبادة الله وحده لا شريك لَهُ، فَقَالَ: ﴿يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ﴾ أَيْ: مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ إنْ [[في د: "إذا".]] لَقِيتُمُ اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُشْرِكُونَ بِهِ ﴿قَالَ الْمَلأ مِنْ قَوْمِهِ﴾ أَيِ: الْجُمْهُورُ وَالسَّادَةُ وَالْقَادَةُ وَالْكُبَرَاءُ مِنْهُمْ: ﴿إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلالٍ مُبِينٍ﴾ أَيْ: فِي دَعْوَتِكَ إِيَّانَا إِلَى تَرْكِ عِبَادَةِ هَذِهِ الْأَصْنَامِ الَّتِي وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا. وَهَكَذَا حَالُ الْفُجَّارِ إِنَّمَا يَرَوْنَ الْأَبْرَارَ فِي ضَلَالَةٍ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَؤُلاءِ لَضَالُّونَ﴾ [الْمُطَفِّفِينَ:٣٢] ، ﴿وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا لَوْ كَانَ خَيْرًا مَا سَبَقُونَا إِلَيْهِ وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُوا بِهِ فَسَيَقُولُونَ هَذَا إِفْكٌ قَدِيمٌ﴾ [الْأَحْقَافِ:١١] إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْآيَاتِ.
﴿قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلالَةٌ وَلَكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ أَيْ: مَا أَنَا ضَالٌّ، وَلَكِنْ أَنَا رَسُولٌ [[في أ: "ولكني رسول".]] مِنْ رَبِّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكِهِ، ﴿أُبَلِّغُكُمْ رِسَالاتِ رَبِّي وَأَنْصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ وَهَذَا شَأْنُ الرَّسُولِ، أَنْ يَكُونَ بَلِيغًا فَصِيحًا نَاصِحًا بِاللَّهِ، لَا يُدْرِكُهُمْ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ فِي هَذِهِ الصِّفَاتِ، كَمَا جَاءَ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ لِأَصْحَابِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَهُمْ أَوْفَرُ مَا كَانُوا وَأَكْثَرُ جَمْعًا: "أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ مَسْئُولُونَ عَنِّي، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟ " قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ، فَجَعَلَ يَرْفَعُ إِصْبَعَهُ إِلَى السَّمَاءِ وينكتُها عَلَيْهِمْ وَيَقُولُ: "اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ [[جاءت "اللهم اشهد" في "أ" ثلاث مرات.]] [[صحيح مسلم برقم (١٢١٨) من حديث جابر، رضي الله عنه.]]
قَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِهِۦٓ إِنَّا لَنَرَىٰكَ فِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍۢ
Said the eminent among his people, "Indeed, we see you in clear error."
تو جو ان کی قوم میں سردار تھے وہ کہنے لگے کہ ہم تمہیں صریح گمراہی میں (مبتلا) دیکھتے ہیں
(ولی) اشراف قومش به او گفتند: «ما تو را در گمراهی آشکاری میبینیم!»
Tafsir Ibn Kathir
Indeed, We sent Nuh to his people and he said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Certainly, I fear for you the torment of a Great Day! (59)The leaders of his people said: "Verily, we see you in plain error. (60)[Nuh] said: "O my people! There is no error in me, but I am a Messenger from the Lord of all that exists (61)I convey unto you the Messages of my Lord and give sincere advice to you. And I know from Allah what you know not. (62)
The Story of Nuh and His People
After Allah mentioned the story of Adam in the beginning of this Surah, He started mentioning the stories of the Prophets, the first then the latter of them. Allah mentioned the story of Nuh, because he was the first Messenger Allah sent to the people of the earth after Adam. His name was Nuh bin Lamak bin Matushalakh bin Khanukh. And Khanukh was, as they claim, the Prophet Idris. And Idris was the first person to write letters using pen, and he was the son of Barad bin Mahlil, bin Qanin bin Yanish bin Shith bin Adam, upon them all be peace. This lineage is mentioned by Muhammad bin Ishaq and other Imams who document lineage.
Abdullah bin 'Abbas and several other scholars of Tafsir said that the first idol worship began when some righteous people died and their people built places of worship over their graves. They made images of them so that they could remember their righteousness and devotion, and thus, imitate them. When time passed, they made statues of them and later on worshipped these idols, naming them after the righteous people: Wadd, Suwa', Yaghuth, Ya'uq and Nasr. After this practice became popular, Allah sent Nuh as a Messenger, all thanks are due to Him. Nuh commanded his people to worship Allah alone without partners, saying,
يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
("O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Certainly, I fear for you the torment of a Great Day!") the torment of the Day of Resurrection, if you meet Allah while associating others with Him.
قَالَ الْمَلَأُ مِن قَوْمِهِ
(The leaders of his people said) meaning, the general public, chiefs, commanders and great ones of his people said,
إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
("Verily, we see you in plain error") because of your calling us to abandon the worship of these idols that we found our forefathers worshipping.
This, indeed, is the attitude of evil people, for they consider the righteous people to be following misguidance. Allah said in other Ayat,
وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَٰؤُلَاءِ لَضَالُّونَ
(And when they saw them, they said: "Verily, these have indeed gone astray!")[83:32] and,
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُونَا إِلَيْهِ وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُوا بِهِ فَسَيَقُولُونَ هَٰذَا إِفْكٌ قَدِيمٌ
(And those who disbelieve say of those who believe: "Had it been a good thing, they (the weak and poor) would not have preceded us thereto!" And when they have not let themselves be guided by it (this Qur'an), they say: "This is an ancient lie!")[46:11] There are several other Ayat on this subject.
قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلَالَةٌ وَلَٰكِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ
([Nuh] said: "O my people! There is no error in me, but I am a Messenger from the Lord of all that exists!") meaning, there is nothing wrong with me, but I am a Messenger from the Lord of all that exists, Lord and King of all things,
أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
("I convey unto you the Messages of my Lord and give sincere advice to you. And I know from Allah what you know not.")
This is the attribute of a Messenger, that he conveys using plain, yet eloquent words, offers sincere advice and is knowledgeable about Allah; indeed, no other people can compete with the Prophets in this regard. In his Sahih, Muslim recorded that the Messenger of Allah ﷺ said to his Companions on the Day of 'Arafah, when their gathering was as large as it ever was,
أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَسْؤُولُونَ عَنِّي فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟
(O people! You will be asked about me, so what will you say?)
They said, "We testify that you have conveyed and delivered (the Message) and offered sincere advice." So he kept raising his finger to the sky and lowering it towards them, saying,
اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَد
(O Allah! Bear witness, O Allah! Bear witness.)
Tafsir Ibn Kathir
پھر تذکرہ انبیاء چونکہ سورت کے شروع میں حضرت آدم ؑ کا قصہ بیان ہوا تھا پھر اس کے متعلقات بیان ہوئے اور اس کے متصل اور بیانات فرما کر اب پھر اور انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات کے بیان کا آغاز ہوا اور پے در پے ان کے بیانات ہوئے سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کا ذکر ہوا کیونکہ آدم ؑ کے بعد سب سے پہلے پیغمبر اہل زمین کی طرف آپ ہی آئے تھے۔ آپ نوح بن ملک بن مقوشلخ بن اخنوخ (یعنی ادریس ؑ یہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا) بن برد بن مہلیل بن قنین بن یانشن بن شیث بن آدم ؑ۔ ائمہ نسب جیسے امام محمد بن اسحاق وغیرہ نے آپ کا نسب نامہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں حضرت نوح جیسا کوئی اور نبی امت کی طرف سے ستایا نہیں گیا۔ ہاں انبیاء قتل ضرور کئے گئے۔ انہیں نوح اسی لئے کہا گیا کہ یہ اپنے نفس کا رونا بہت روتے تھے۔ حضرت آدم اور حضرت نوح کے درمیان دس زمانے تھے جو اسلام پر گذرے تھے۔ اصنام پرستی کا رواج اسی طرح شروع ہوا کہ جب اولیاء اللہ فوت ہوگئے تو ان کی قوم نے ان کی قبروں پر مسجدیں بنالیں اور ان میں ان بزرگوں کی تصویریں بنالیں تاکہ ان کا حال اور ان کی عبادت کا نقشہ سامنے رہے اور اپنے آپ کو ان جیسا بنانے کی کوشش کریں لیکن کچھ زمانے کے بعد ان تصویروں کے مجسمے بنا لئے کچھ اور زمانے کے بعد انہی بتوں کو پوجا کرنے لگے اور ان کے نام انہی اولیاء اللہ کے ناموں پر رکھ لئے۔ ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر وغیرہ۔ جب بت پرستی کا رواج ہوگیا، اللہ نے اپنے رسول حضرت نوح کو بھیجا آپ نے انہیں اللہ واحد کی عبادت کی تلقین کی اور کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں قیامت کے دن تمہیں عذاب نہ ہو۔ قوم نوح کے بڑوں نے، ان کے سرداروں نے اور ان کے چودھریوں نے حضرت نوح کو جواب دیا کہ تم تو بہک گئے ہو ہمیں اپنے باپ دادا کے دین سے ہٹا رہے ہو۔ ہر بد شخص نیک لوگوں کو گمراہ سمجھا کرتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ جب یہ بدکار ان نیک کاروں کو دیکھتے ہیں کہتے ہیں کہ یہ تو بہکے ہوئے ہیں۔ کہا کرتے تھے کہ اگر یہ دین اچھا ہوتا تو ان سے پہلے ہم نہ مان لیتے ؟ یہ تو بات ہی غلط اور جھوٹ ہے۔ حضرت نوح نبی ؑ نے جواب دیا کہ میں بہکا ہوا نہیں ہوں بلکہ میں اللہ کا رسول ہوں تمہیں پیغام رب پہنچا رہا ہوں۔ تمہارا خیر خواہ ہوں اور اللہ کی وہ باتیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے۔ ہر رسول مبلغ، فصیح، بلیغ، ناصح، خیر خواہ اور عالم باللہ ہوتا ہے۔ ان صفات میں اور کوئی ان کی ہمسری اور برابری نہیں کرسکتا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفے کے دن اپنے اصحاب سے فرمایا جبکہ وہ بہت بڑی تعداد میں بہت زیادہ تھے کہ اے لوگو تم میری بابت اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے ؟ سب نے کہا ہم کہیں گے کہ آپ نے تبلیغ کردی تھی اور حق رسالت ادا کردیا تھا اور پوری خیر خواہی کی تھی پس آپ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر نیچے زمین کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یا اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو شاہد رہ، یا اللہ تو گواہ رہ۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى قِصَّةَ آدَمَ فِي أَوَّلِ السُّورَةِ، وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ وَمَا يَتَّصِلُ بِهِ، وَفَرَغَ مِنْهُ، شَرَعَ تَعَالَى فِي ذِكْرِ قِصَصِ الْأَنْبِيَاءِ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، الْأَوَّلِ فالأولَ، فَابْتَدَأَ بِذِكْرِ نُوحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّهُ أَوَّلُ رَسُولٍ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ بَعْدَ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهُوَ: نُوحُ بْنُ لَامِكَ بْنِ مُتَوَشْلِحَ بْنِ خَنُوخ -وَهُوَ إِدْرِيسُ [النَّبِيُّ] [[زيادة من أ.]] عَلَيْهِ السَّلَامُ -فِيمَا، يَزْعُمُونَ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ خَطَّ بِالْقَلَمِ -ابْنُ بَرْدَ بْنِ مُهَلْيِلِ بْنِ قَنِينَ بْنِ يَانِشَ بْنِ شِيثَ بْنِ آدَمَ، عَلَيْهِ [[في أ: "عليهم".]] السَّلَامُ.
هَكَذَا نَسَبَهُ [مُحَمَّدُ] [[زيادة من ك، م، أ.]] بْنُ إِسْحَاقَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَئِمَّةِ النَّسَبِ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: وَلَمْ يَلْقَ نَبِيٌّ مِنْ قَوْمِهِ مِنَ الْأَذَى مِثْلَ نُوحٍ إِلَّا نَبِيٌّ قُتِلَ.
وَقَالَ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ: إِنَّمَا سُمِّيَ نُوحًا لِكَثْرَةِ مَا نَاحَ عَلَى نَفْسِهِ.
وَقَدْ كَانَ بَيْنَ آدَمَ إِلَى زَمَنِ نُوحٍ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، عَشَرَةُ قُرُونٍ، كُلُّهُمْ عَلَى الإسلام [قاله عبد الله ابن عَبَّاسٍ] [[زيادة من م، أ.]]
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَاءِ التَّفْسِيرِ: وَكَانَ أَوَّلُ مَا عُبِدَتِ الْأَصْنَامُ، أَنَّ قَوْمًا صَالِحِينَ مَاتُوا، فَبَنَى قَوْمُهُمْ عَلَيْهِمْ مساجدَ وَصَوَّرُوا صُوَرَ أُولَئِكَ فِيهَا، لِيَتَذَكَّرُوا حَالَهُمْ وَعِبَادَتَهُمْ، فَيَتَشَبَّهُوا بِهِمْ. فَلَمَّا طَالَ الزَّمَانُ، جَعَلُوا تِلْكَ الصُّوَرَ أَجْسَادًا عَلَى تِلْكَ الصُّوَرِ. فَلَمَّا تَمَادَى الزَّمَانُ عَبَدُوا تِلْكَ الْأَصْنَامَ وَسَمَّوْهَا بِأَسْمَاءِ أُولَئِكَ الصَّالِحِينَ "وَدًّا وَسُوَاعًا ويَغُوث وَيَعُوق وَنَسْرَا". فَلَمَّا تَفَاقَمَ الْأَمْرُ بَعَثَ اللَّهُ، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى -وَلَهُ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ -رَسُولَهُ نُوحًا يأمرهم بعبادة الله وحده لا شريك لَهُ، فَقَالَ: ﴿يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ﴾ أَيْ: مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ إنْ [[في د: "إذا".]] لَقِيتُمُ اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُشْرِكُونَ بِهِ ﴿قَالَ الْمَلأ مِنْ قَوْمِهِ﴾ أَيِ: الْجُمْهُورُ وَالسَّادَةُ وَالْقَادَةُ وَالْكُبَرَاءُ مِنْهُمْ: ﴿إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلالٍ مُبِينٍ﴾ أَيْ: فِي دَعْوَتِكَ إِيَّانَا إِلَى تَرْكِ عِبَادَةِ هَذِهِ الْأَصْنَامِ الَّتِي وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا. وَهَكَذَا حَالُ الْفُجَّارِ إِنَّمَا يَرَوْنَ الْأَبْرَارَ فِي ضَلَالَةٍ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَؤُلاءِ لَضَالُّونَ﴾ [الْمُطَفِّفِينَ:٣٢] ، ﴿وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا لَوْ كَانَ خَيْرًا مَا سَبَقُونَا إِلَيْهِ وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُوا بِهِ فَسَيَقُولُونَ هَذَا إِفْكٌ قَدِيمٌ﴾ [الْأَحْقَافِ:١١] إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْآيَاتِ.
﴿قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلالَةٌ وَلَكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ أَيْ: مَا أَنَا ضَالٌّ، وَلَكِنْ أَنَا رَسُولٌ [[في أ: "ولكني رسول".]] مِنْ رَبِّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكِهِ، ﴿أُبَلِّغُكُمْ رِسَالاتِ رَبِّي وَأَنْصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ وَهَذَا شَأْنُ الرَّسُولِ، أَنْ يَكُونَ بَلِيغًا فَصِيحًا نَاصِحًا بِاللَّهِ، لَا يُدْرِكُهُمْ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ فِي هَذِهِ الصِّفَاتِ، كَمَا جَاءَ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ لِأَصْحَابِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَهُمْ أَوْفَرُ مَا كَانُوا وَأَكْثَرُ جَمْعًا: "أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ مَسْئُولُونَ عَنِّي، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟ " قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ، فَجَعَلَ يَرْفَعُ إِصْبَعَهُ إِلَى السَّمَاءِ وينكتُها عَلَيْهِمْ وَيَقُولُ: "اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ [[جاءت "اللهم اشهد" في "أ" ثلاث مرات.]] [[صحيح مسلم برقم (١٢١٨) من حديث جابر، رضي الله عنه.]]
قَالَ يَٰقَوْمِ لَيْسَ بِى ضَلَٰلَةٌۭ وَلَٰكِنِّى رَسُولٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
[Noah] said, "O my people, there is not error in me, but I am a messenger from the Lord of the worlds."
انہوں نے کہا اے قوم مجھ میں کسی طرح کی گمراہی نہیں ہے بلکہ میں پروردگار عالم کا پیغمبر ہوں
گفت: «ای قوم من! هیچ گونه گمراهی در من نیست؛ ولی من فرستادهای از جانب پروردگار جهانیانم!
Tafsir Ibn Kathir
Indeed, We sent Nuh to his people and he said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Certainly, I fear for you the torment of a Great Day! (59)The leaders of his people said: "Verily, we see you in plain error. (60)[Nuh] said: "O my people! There is no error in me, but I am a Messenger from the Lord of all that exists (61)I convey unto you the Messages of my Lord and give sincere advice to you. And I know from Allah what you know not. (62)
The Story of Nuh and His People
After Allah mentioned the story of Adam in the beginning of this Surah, He started mentioning the stories of the Prophets, the first then the latter of them. Allah mentioned the story of Nuh, because he was the first Messenger Allah sent to the people of the earth after Adam. His name was Nuh bin Lamak bin Matushalakh bin Khanukh. And Khanukh was, as they claim, the Prophet Idris. And Idris was the first person to write letters using pen, and he was the son of Barad bin Mahlil, bin Qanin bin Yanish bin Shith bin Adam, upon them all be peace. This lineage is mentioned by Muhammad bin Ishaq and other Imams who document lineage.
Abdullah bin 'Abbas and several other scholars of Tafsir said that the first idol worship began when some righteous people died and their people built places of worship over their graves. They made images of them so that they could remember their righteousness and devotion, and thus, imitate them. When time passed, they made statues of them and later on worshipped these idols, naming them after the righteous people: Wadd, Suwa', Yaghuth, Ya'uq and Nasr. After this practice became popular, Allah sent Nuh as a Messenger, all thanks are due to Him. Nuh commanded his people to worship Allah alone without partners, saying,
يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
("O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Certainly, I fear for you the torment of a Great Day!") the torment of the Day of Resurrection, if you meet Allah while associating others with Him.
قَالَ الْمَلَأُ مِن قَوْمِهِ
(The leaders of his people said) meaning, the general public, chiefs, commanders and great ones of his people said,
إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
("Verily, we see you in plain error") because of your calling us to abandon the worship of these idols that we found our forefathers worshipping.
This, indeed, is the attitude of evil people, for they consider the righteous people to be following misguidance. Allah said in other Ayat,
وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَٰؤُلَاءِ لَضَالُّونَ
(And when they saw them, they said: "Verily, these have indeed gone astray!")[83:32] and,
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُونَا إِلَيْهِ وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُوا بِهِ فَسَيَقُولُونَ هَٰذَا إِفْكٌ قَدِيمٌ
(And those who disbelieve say of those who believe: "Had it been a good thing, they (the weak and poor) would not have preceded us thereto!" And when they have not let themselves be guided by it (this Qur'an), they say: "This is an ancient lie!")[46:11] There are several other Ayat on this subject.
قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلَالَةٌ وَلَٰكِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ
([Nuh] said: "O my people! There is no error in me, but I am a Messenger from the Lord of all that exists!") meaning, there is nothing wrong with me, but I am a Messenger from the Lord of all that exists, Lord and King of all things,
أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
("I convey unto you the Messages of my Lord and give sincere advice to you. And I know from Allah what you know not.")
This is the attribute of a Messenger, that he conveys using plain, yet eloquent words, offers sincere advice and is knowledgeable about Allah; indeed, no other people can compete with the Prophets in this regard. In his Sahih, Muslim recorded that the Messenger of Allah ﷺ said to his Companions on the Day of 'Arafah, when their gathering was as large as it ever was,
أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَسْؤُولُونَ عَنِّي فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟
(O people! You will be asked about me, so what will you say?)
They said, "We testify that you have conveyed and delivered (the Message) and offered sincere advice." So he kept raising his finger to the sky and lowering it towards them, saying,
اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَد
(O Allah! Bear witness, O Allah! Bear witness.)
Tafsir Ibn Kathir
پھر تذکرہ انبیاء چونکہ سورت کے شروع میں حضرت آدم ؑ کا قصہ بیان ہوا تھا پھر اس کے متعلقات بیان ہوئے اور اس کے متصل اور بیانات فرما کر اب پھر اور انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات کے بیان کا آغاز ہوا اور پے در پے ان کے بیانات ہوئے سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کا ذکر ہوا کیونکہ آدم ؑ کے بعد سب سے پہلے پیغمبر اہل زمین کی طرف آپ ہی آئے تھے۔ آپ نوح بن ملک بن مقوشلخ بن اخنوخ (یعنی ادریس ؑ یہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا) بن برد بن مہلیل بن قنین بن یانشن بن شیث بن آدم ؑ۔ ائمہ نسب جیسے امام محمد بن اسحاق وغیرہ نے آپ کا نسب نامہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں حضرت نوح جیسا کوئی اور نبی امت کی طرف سے ستایا نہیں گیا۔ ہاں انبیاء قتل ضرور کئے گئے۔ انہیں نوح اسی لئے کہا گیا کہ یہ اپنے نفس کا رونا بہت روتے تھے۔ حضرت آدم اور حضرت نوح کے درمیان دس زمانے تھے جو اسلام پر گذرے تھے۔ اصنام پرستی کا رواج اسی طرح شروع ہوا کہ جب اولیاء اللہ فوت ہوگئے تو ان کی قوم نے ان کی قبروں پر مسجدیں بنالیں اور ان میں ان بزرگوں کی تصویریں بنالیں تاکہ ان کا حال اور ان کی عبادت کا نقشہ سامنے رہے اور اپنے آپ کو ان جیسا بنانے کی کوشش کریں لیکن کچھ زمانے کے بعد ان تصویروں کے مجسمے بنا لئے کچھ اور زمانے کے بعد انہی بتوں کو پوجا کرنے لگے اور ان کے نام انہی اولیاء اللہ کے ناموں پر رکھ لئے۔ ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر وغیرہ۔ جب بت پرستی کا رواج ہوگیا، اللہ نے اپنے رسول حضرت نوح کو بھیجا آپ نے انہیں اللہ واحد کی عبادت کی تلقین کی اور کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں قیامت کے دن تمہیں عذاب نہ ہو۔ قوم نوح کے بڑوں نے، ان کے سرداروں نے اور ان کے چودھریوں نے حضرت نوح کو جواب دیا کہ تم تو بہک گئے ہو ہمیں اپنے باپ دادا کے دین سے ہٹا رہے ہو۔ ہر بد شخص نیک لوگوں کو گمراہ سمجھا کرتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ جب یہ بدکار ان نیک کاروں کو دیکھتے ہیں کہتے ہیں کہ یہ تو بہکے ہوئے ہیں۔ کہا کرتے تھے کہ اگر یہ دین اچھا ہوتا تو ان سے پہلے ہم نہ مان لیتے ؟ یہ تو بات ہی غلط اور جھوٹ ہے۔ حضرت نوح نبی ؑ نے جواب دیا کہ میں بہکا ہوا نہیں ہوں بلکہ میں اللہ کا رسول ہوں تمہیں پیغام رب پہنچا رہا ہوں۔ تمہارا خیر خواہ ہوں اور اللہ کی وہ باتیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے۔ ہر رسول مبلغ، فصیح، بلیغ، ناصح، خیر خواہ اور عالم باللہ ہوتا ہے۔ ان صفات میں اور کوئی ان کی ہمسری اور برابری نہیں کرسکتا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفے کے دن اپنے اصحاب سے فرمایا جبکہ وہ بہت بڑی تعداد میں بہت زیادہ تھے کہ اے لوگو تم میری بابت اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے ؟ سب نے کہا ہم کہیں گے کہ آپ نے تبلیغ کردی تھی اور حق رسالت ادا کردیا تھا اور پوری خیر خواہی کی تھی پس آپ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر نیچے زمین کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یا اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو شاہد رہ، یا اللہ تو گواہ رہ۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى قِصَّةَ آدَمَ فِي أَوَّلِ السُّورَةِ، وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ وَمَا يَتَّصِلُ بِهِ، وَفَرَغَ مِنْهُ، شَرَعَ تَعَالَى فِي ذِكْرِ قِصَصِ الْأَنْبِيَاءِ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، الْأَوَّلِ فالأولَ، فَابْتَدَأَ بِذِكْرِ نُوحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّهُ أَوَّلُ رَسُولٍ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ بَعْدَ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهُوَ: نُوحُ بْنُ لَامِكَ بْنِ مُتَوَشْلِحَ بْنِ خَنُوخ -وَهُوَ إِدْرِيسُ [النَّبِيُّ] [[زيادة من أ.]] عَلَيْهِ السَّلَامُ -فِيمَا، يَزْعُمُونَ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ خَطَّ بِالْقَلَمِ -ابْنُ بَرْدَ بْنِ مُهَلْيِلِ بْنِ قَنِينَ بْنِ يَانِشَ بْنِ شِيثَ بْنِ آدَمَ، عَلَيْهِ [[في أ: "عليهم".]] السَّلَامُ.
هَكَذَا نَسَبَهُ [مُحَمَّدُ] [[زيادة من ك، م، أ.]] بْنُ إِسْحَاقَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَئِمَّةِ النَّسَبِ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: وَلَمْ يَلْقَ نَبِيٌّ مِنْ قَوْمِهِ مِنَ الْأَذَى مِثْلَ نُوحٍ إِلَّا نَبِيٌّ قُتِلَ.
وَقَالَ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ: إِنَّمَا سُمِّيَ نُوحًا لِكَثْرَةِ مَا نَاحَ عَلَى نَفْسِهِ.
وَقَدْ كَانَ بَيْنَ آدَمَ إِلَى زَمَنِ نُوحٍ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، عَشَرَةُ قُرُونٍ، كُلُّهُمْ عَلَى الإسلام [قاله عبد الله ابن عَبَّاسٍ] [[زيادة من م، أ.]]
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَاءِ التَّفْسِيرِ: وَكَانَ أَوَّلُ مَا عُبِدَتِ الْأَصْنَامُ، أَنَّ قَوْمًا صَالِحِينَ مَاتُوا، فَبَنَى قَوْمُهُمْ عَلَيْهِمْ مساجدَ وَصَوَّرُوا صُوَرَ أُولَئِكَ فِيهَا، لِيَتَذَكَّرُوا حَالَهُمْ وَعِبَادَتَهُمْ، فَيَتَشَبَّهُوا بِهِمْ. فَلَمَّا طَالَ الزَّمَانُ، جَعَلُوا تِلْكَ الصُّوَرَ أَجْسَادًا عَلَى تِلْكَ الصُّوَرِ. فَلَمَّا تَمَادَى الزَّمَانُ عَبَدُوا تِلْكَ الْأَصْنَامَ وَسَمَّوْهَا بِأَسْمَاءِ أُولَئِكَ الصَّالِحِينَ "وَدًّا وَسُوَاعًا ويَغُوث وَيَعُوق وَنَسْرَا". فَلَمَّا تَفَاقَمَ الْأَمْرُ بَعَثَ اللَّهُ، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى -وَلَهُ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ -رَسُولَهُ نُوحًا يأمرهم بعبادة الله وحده لا شريك لَهُ، فَقَالَ: ﴿يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ﴾ أَيْ: مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ إنْ [[في د: "إذا".]] لَقِيتُمُ اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُشْرِكُونَ بِهِ ﴿قَالَ الْمَلأ مِنْ قَوْمِهِ﴾ أَيِ: الْجُمْهُورُ وَالسَّادَةُ وَالْقَادَةُ وَالْكُبَرَاءُ مِنْهُمْ: ﴿إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلالٍ مُبِينٍ﴾ أَيْ: فِي دَعْوَتِكَ إِيَّانَا إِلَى تَرْكِ عِبَادَةِ هَذِهِ الْأَصْنَامِ الَّتِي وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا. وَهَكَذَا حَالُ الْفُجَّارِ إِنَّمَا يَرَوْنَ الْأَبْرَارَ فِي ضَلَالَةٍ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَؤُلاءِ لَضَالُّونَ﴾ [الْمُطَفِّفِينَ:٣٢] ، ﴿وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا لَوْ كَانَ خَيْرًا مَا سَبَقُونَا إِلَيْهِ وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُوا بِهِ فَسَيَقُولُونَ هَذَا إِفْكٌ قَدِيمٌ﴾ [الْأَحْقَافِ:١١] إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْآيَاتِ.
﴿قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلالَةٌ وَلَكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ أَيْ: مَا أَنَا ضَالٌّ، وَلَكِنْ أَنَا رَسُولٌ [[في أ: "ولكني رسول".]] مِنْ رَبِّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكِهِ، ﴿أُبَلِّغُكُمْ رِسَالاتِ رَبِّي وَأَنْصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ وَهَذَا شَأْنُ الرَّسُولِ، أَنْ يَكُونَ بَلِيغًا فَصِيحًا نَاصِحًا بِاللَّهِ، لَا يُدْرِكُهُمْ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ فِي هَذِهِ الصِّفَاتِ، كَمَا جَاءَ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ لِأَصْحَابِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَهُمْ أَوْفَرُ مَا كَانُوا وَأَكْثَرُ جَمْعًا: "أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ مَسْئُولُونَ عَنِّي، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟ " قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ، فَجَعَلَ يَرْفَعُ إِصْبَعَهُ إِلَى السَّمَاءِ وينكتُها عَلَيْهِمْ وَيَقُولُ: "اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ [[جاءت "اللهم اشهد" في "أ" ثلاث مرات.]] [[صحيح مسلم برقم (١٢١٨) من حديث جابر، رضي الله عنه.]]
أُبَلِّغُكُمْ رِسَٰلَٰتِ رَبِّى وَأَنصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
I convey to you the messages of my Lord and advise you; and I know from Allah what you do not know.
تمہیں اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیرخواہی کرتا ہوں اور مجھ کو خدا کی طرف سے ایسی باتیں معلوم ہیں جن سے تم بےخبر ہو
رسالتهای پروردگارم را به شما ابلاغ میکنم؛ و خیرخواه شما هستم؛ و از خداوند چیزهایی میدانم که شما نمیدانید.
Tafsir Ibn Kathir
Indeed, We sent Nuh to his people and he said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Certainly, I fear for you the torment of a Great Day! (59)The leaders of his people said: "Verily, we see you in plain error. (60)[Nuh] said: "O my people! There is no error in me, but I am a Messenger from the Lord of all that exists (61)I convey unto you the Messages of my Lord and give sincere advice to you. And I know from Allah what you know not. (62)
The Story of Nuh and His People
After Allah mentioned the story of Adam in the beginning of this Surah, He started mentioning the stories of the Prophets, the first then the latter of them. Allah mentioned the story of Nuh, because he was the first Messenger Allah sent to the people of the earth after Adam. His name was Nuh bin Lamak bin Matushalakh bin Khanukh. And Khanukh was, as they claim, the Prophet Idris. And Idris was the first person to write letters using pen, and he was the son of Barad bin Mahlil, bin Qanin bin Yanish bin Shith bin Adam, upon them all be peace. This lineage is mentioned by Muhammad bin Ishaq and other Imams who document lineage.
Abdullah bin 'Abbas and several other scholars of Tafsir said that the first idol worship began when some righteous people died and their people built places of worship over their graves. They made images of them so that they could remember their righteousness and devotion, and thus, imitate them. When time passed, they made statues of them and later on worshipped these idols, naming them after the righteous people: Wadd, Suwa', Yaghuth, Ya'uq and Nasr. After this practice became popular, Allah sent Nuh as a Messenger, all thanks are due to Him. Nuh commanded his people to worship Allah alone without partners, saying,
يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
("O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Certainly, I fear for you the torment of a Great Day!") the torment of the Day of Resurrection, if you meet Allah while associating others with Him.
قَالَ الْمَلَأُ مِن قَوْمِهِ
(The leaders of his people said) meaning, the general public, chiefs, commanders and great ones of his people said,
إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
("Verily, we see you in plain error") because of your calling us to abandon the worship of these idols that we found our forefathers worshipping.
This, indeed, is the attitude of evil people, for they consider the righteous people to be following misguidance. Allah said in other Ayat,
وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَٰؤُلَاءِ لَضَالُّونَ
(And when they saw them, they said: "Verily, these have indeed gone astray!")[83:32] and,
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُونَا إِلَيْهِ وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُوا بِهِ فَسَيَقُولُونَ هَٰذَا إِفْكٌ قَدِيمٌ
(And those who disbelieve say of those who believe: "Had it been a good thing, they (the weak and poor) would not have preceded us thereto!" And when they have not let themselves be guided by it (this Qur'an), they say: "This is an ancient lie!")[46:11] There are several other Ayat on this subject.
قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلَالَةٌ وَلَٰكِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ
([Nuh] said: "O my people! There is no error in me, but I am a Messenger from the Lord of all that exists!") meaning, there is nothing wrong with me, but I am a Messenger from the Lord of all that exists, Lord and King of all things,
أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
("I convey unto you the Messages of my Lord and give sincere advice to you. And I know from Allah what you know not.")
This is the attribute of a Messenger, that he conveys using plain, yet eloquent words, offers sincere advice and is knowledgeable about Allah; indeed, no other people can compete with the Prophets in this regard. In his Sahih, Muslim recorded that the Messenger of Allah ﷺ said to his Companions on the Day of 'Arafah, when their gathering was as large as it ever was,
أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَسْؤُولُونَ عَنِّي فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟
(O people! You will be asked about me, so what will you say?)
They said, "We testify that you have conveyed and delivered (the Message) and offered sincere advice." So he kept raising his finger to the sky and lowering it towards them, saying,
اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَد
(O Allah! Bear witness, O Allah! Bear witness.)
Tafsir Ibn Kathir
پھر تذکرہ انبیاء چونکہ سورت کے شروع میں حضرت آدم ؑ کا قصہ بیان ہوا تھا پھر اس کے متعلقات بیان ہوئے اور اس کے متصل اور بیانات فرما کر اب پھر اور انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات کے بیان کا آغاز ہوا اور پے در پے ان کے بیانات ہوئے سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کا ذکر ہوا کیونکہ آدم ؑ کے بعد سب سے پہلے پیغمبر اہل زمین کی طرف آپ ہی آئے تھے۔ آپ نوح بن ملک بن مقوشلخ بن اخنوخ (یعنی ادریس ؑ یہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا) بن برد بن مہلیل بن قنین بن یانشن بن شیث بن آدم ؑ۔ ائمہ نسب جیسے امام محمد بن اسحاق وغیرہ نے آپ کا نسب نامہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں حضرت نوح جیسا کوئی اور نبی امت کی طرف سے ستایا نہیں گیا۔ ہاں انبیاء قتل ضرور کئے گئے۔ انہیں نوح اسی لئے کہا گیا کہ یہ اپنے نفس کا رونا بہت روتے تھے۔ حضرت آدم اور حضرت نوح کے درمیان دس زمانے تھے جو اسلام پر گذرے تھے۔ اصنام پرستی کا رواج اسی طرح شروع ہوا کہ جب اولیاء اللہ فوت ہوگئے تو ان کی قوم نے ان کی قبروں پر مسجدیں بنالیں اور ان میں ان بزرگوں کی تصویریں بنالیں تاکہ ان کا حال اور ان کی عبادت کا نقشہ سامنے رہے اور اپنے آپ کو ان جیسا بنانے کی کوشش کریں لیکن کچھ زمانے کے بعد ان تصویروں کے مجسمے بنا لئے کچھ اور زمانے کے بعد انہی بتوں کو پوجا کرنے لگے اور ان کے نام انہی اولیاء اللہ کے ناموں پر رکھ لئے۔ ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر وغیرہ۔ جب بت پرستی کا رواج ہوگیا، اللہ نے اپنے رسول حضرت نوح کو بھیجا آپ نے انہیں اللہ واحد کی عبادت کی تلقین کی اور کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں قیامت کے دن تمہیں عذاب نہ ہو۔ قوم نوح کے بڑوں نے، ان کے سرداروں نے اور ان کے چودھریوں نے حضرت نوح کو جواب دیا کہ تم تو بہک گئے ہو ہمیں اپنے باپ دادا کے دین سے ہٹا رہے ہو۔ ہر بد شخص نیک لوگوں کو گمراہ سمجھا کرتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ جب یہ بدکار ان نیک کاروں کو دیکھتے ہیں کہتے ہیں کہ یہ تو بہکے ہوئے ہیں۔ کہا کرتے تھے کہ اگر یہ دین اچھا ہوتا تو ان سے پہلے ہم نہ مان لیتے ؟ یہ تو بات ہی غلط اور جھوٹ ہے۔ حضرت نوح نبی ؑ نے جواب دیا کہ میں بہکا ہوا نہیں ہوں بلکہ میں اللہ کا رسول ہوں تمہیں پیغام رب پہنچا رہا ہوں۔ تمہارا خیر خواہ ہوں اور اللہ کی وہ باتیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے۔ ہر رسول مبلغ، فصیح، بلیغ، ناصح، خیر خواہ اور عالم باللہ ہوتا ہے۔ ان صفات میں اور کوئی ان کی ہمسری اور برابری نہیں کرسکتا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفے کے دن اپنے اصحاب سے فرمایا جبکہ وہ بہت بڑی تعداد میں بہت زیادہ تھے کہ اے لوگو تم میری بابت اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے ؟ سب نے کہا ہم کہیں گے کہ آپ نے تبلیغ کردی تھی اور حق رسالت ادا کردیا تھا اور پوری خیر خواہی کی تھی پس آپ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر نیچے زمین کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یا اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو شاہد رہ، یا اللہ تو گواہ رہ۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى قِصَّةَ آدَمَ فِي أَوَّلِ السُّورَةِ، وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ وَمَا يَتَّصِلُ بِهِ، وَفَرَغَ مِنْهُ، شَرَعَ تَعَالَى فِي ذِكْرِ قِصَصِ الْأَنْبِيَاءِ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، الْأَوَّلِ فالأولَ، فَابْتَدَأَ بِذِكْرِ نُوحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّهُ أَوَّلُ رَسُولٍ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ بَعْدَ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهُوَ: نُوحُ بْنُ لَامِكَ بْنِ مُتَوَشْلِحَ بْنِ خَنُوخ -وَهُوَ إِدْرِيسُ [النَّبِيُّ] [[زيادة من أ.]] عَلَيْهِ السَّلَامُ -فِيمَا، يَزْعُمُونَ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ خَطَّ بِالْقَلَمِ -ابْنُ بَرْدَ بْنِ مُهَلْيِلِ بْنِ قَنِينَ بْنِ يَانِشَ بْنِ شِيثَ بْنِ آدَمَ، عَلَيْهِ [[في أ: "عليهم".]] السَّلَامُ.
هَكَذَا نَسَبَهُ [مُحَمَّدُ] [[زيادة من ك، م، أ.]] بْنُ إِسْحَاقَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَئِمَّةِ النَّسَبِ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: وَلَمْ يَلْقَ نَبِيٌّ مِنْ قَوْمِهِ مِنَ الْأَذَى مِثْلَ نُوحٍ إِلَّا نَبِيٌّ قُتِلَ.
وَقَالَ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ: إِنَّمَا سُمِّيَ نُوحًا لِكَثْرَةِ مَا نَاحَ عَلَى نَفْسِهِ.
وَقَدْ كَانَ بَيْنَ آدَمَ إِلَى زَمَنِ نُوحٍ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، عَشَرَةُ قُرُونٍ، كُلُّهُمْ عَلَى الإسلام [قاله عبد الله ابن عَبَّاسٍ] [[زيادة من م، أ.]]
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَاءِ التَّفْسِيرِ: وَكَانَ أَوَّلُ مَا عُبِدَتِ الْأَصْنَامُ، أَنَّ قَوْمًا صَالِحِينَ مَاتُوا، فَبَنَى قَوْمُهُمْ عَلَيْهِمْ مساجدَ وَصَوَّرُوا صُوَرَ أُولَئِكَ فِيهَا، لِيَتَذَكَّرُوا حَالَهُمْ وَعِبَادَتَهُمْ، فَيَتَشَبَّهُوا بِهِمْ. فَلَمَّا طَالَ الزَّمَانُ، جَعَلُوا تِلْكَ الصُّوَرَ أَجْسَادًا عَلَى تِلْكَ الصُّوَرِ. فَلَمَّا تَمَادَى الزَّمَانُ عَبَدُوا تِلْكَ الْأَصْنَامَ وَسَمَّوْهَا بِأَسْمَاءِ أُولَئِكَ الصَّالِحِينَ "وَدًّا وَسُوَاعًا ويَغُوث وَيَعُوق وَنَسْرَا". فَلَمَّا تَفَاقَمَ الْأَمْرُ بَعَثَ اللَّهُ، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى -وَلَهُ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ -رَسُولَهُ نُوحًا يأمرهم بعبادة الله وحده لا شريك لَهُ، فَقَالَ: ﴿يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ﴾ أَيْ: مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ إنْ [[في د: "إذا".]] لَقِيتُمُ اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُشْرِكُونَ بِهِ ﴿قَالَ الْمَلأ مِنْ قَوْمِهِ﴾ أَيِ: الْجُمْهُورُ وَالسَّادَةُ وَالْقَادَةُ وَالْكُبَرَاءُ مِنْهُمْ: ﴿إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلالٍ مُبِينٍ﴾ أَيْ: فِي دَعْوَتِكَ إِيَّانَا إِلَى تَرْكِ عِبَادَةِ هَذِهِ الْأَصْنَامِ الَّتِي وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا. وَهَكَذَا حَالُ الْفُجَّارِ إِنَّمَا يَرَوْنَ الْأَبْرَارَ فِي ضَلَالَةٍ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَؤُلاءِ لَضَالُّونَ﴾ [الْمُطَفِّفِينَ:٣٢] ، ﴿وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا لَوْ كَانَ خَيْرًا مَا سَبَقُونَا إِلَيْهِ وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُوا بِهِ فَسَيَقُولُونَ هَذَا إِفْكٌ قَدِيمٌ﴾ [الْأَحْقَافِ:١١] إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْآيَاتِ.
﴿قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلالَةٌ وَلَكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ أَيْ: مَا أَنَا ضَالٌّ، وَلَكِنْ أَنَا رَسُولٌ [[في أ: "ولكني رسول".]] مِنْ رَبِّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكِهِ، ﴿أُبَلِّغُكُمْ رِسَالاتِ رَبِّي وَأَنْصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ وَهَذَا شَأْنُ الرَّسُولِ، أَنْ يَكُونَ بَلِيغًا فَصِيحًا نَاصِحًا بِاللَّهِ، لَا يُدْرِكُهُمْ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ فِي هَذِهِ الصِّفَاتِ، كَمَا جَاءَ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ لِأَصْحَابِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَهُمْ أَوْفَرُ مَا كَانُوا وَأَكْثَرُ جَمْعًا: "أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ مَسْئُولُونَ عَنِّي، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟ " قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ، فَجَعَلَ يَرْفَعُ إِصْبَعَهُ إِلَى السَّمَاءِ وينكتُها عَلَيْهِمْ وَيَقُولُ: "اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ [[جاءت "اللهم اشهد" في "أ" ثلاث مرات.]] [[صحيح مسلم برقم (١٢١٨) من حديث جابر، رضي الله عنه.]]
أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَآءَكُمْ ذِكْرٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍۢ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوا۟ وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
Then do you wonder that there has come to you a reminder from your Lord through a man from among you, that he may warn you and that you may fear Allah so you might receive mercy."
کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے
آیا تعجّب کردهاید که دستور آگاه کننده پروردگارتان به وسیله مردی از میان شما به شما برسد، تا (از عواقب اعمال خلاف) بیمتان دهد، و (در پرتو این دستور،) پرهیزگاری پیشه کنید و شاید مشمول رحمت (الهی) گردید؟!
Tafsir Ibn Kathir
"Do you wonder that there has come to you a Reminder from your Lord through a man from among you, that he may warn you, so that you may fear Allah and that you may receive (His) mercy? (63)But they belied him, so We saved him and those along with him in the Fulk, and We drowned those who belied Our Ayat. They were indeed a blind people (64)
Allah said that Nuh proclaimed to his people,
أَوَعَجِبْتُمْ
("Do you wonder..."), do not wonder because of this. Surely, it is not strange that Allah sends down revelation to a man among you as mercy, kindness and compassion for you, so that he warns you that you may avoid Allah's torment by associating none with Him,
وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
("and that you may receive (His) mercy.") Allah said,
فَكَذَّبُوهُ
(But they belied him) but they insisted on rejecting and opposing him, and only a few of them believed in him, as Allah stated in another Ayah. Allah said next,
فَأَنجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ
(So We saved him and those along with him in the Fulk) the ark,
وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا
(And We drowned those who belied Our Ayat.) Allah said in another Ayah,
مِّمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُم مِّن دُونِ اللَّهِ أَنصَارًا
(Because of their sins they were drowned, then they were admitted into the Fire. And they found none to help them instead of Allah.)[71:25] Allah said,
إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا عَمِينَ
(They were indeed a blind people.) meaning, blind from the Truth, unable to recognize it or find their way to it. Here, Allah said that He has taken revenge from His enemies and saved His Messenger ﷺ and those who believed in him, while destroying their disbelieving enemies. Allah said in a another Ayah,
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers)[40:51].
This is Allah's Sunnah (way) with His servants, in this life and the Hereafter, that the good end, victory and triumph is for those who fear Him. For example, Allah destroyed the people of Nuh, and saved Nuh and his believing followers. Ibn Wahb said that he was told that Ibn 'Abbas said that eighty men were saved with Nuh in the ship, one of them was Jurhum, who spoke Arabic. Ibn Abi Hatim collected this statement, which was also narrated with a continuous chain of narration from Ibn 'Abbas.
Tafsir Ibn Kathir
نوح ؑ پر کیا گزری ؟ حضرت نوح ؑ اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ تم اس بات کو انوکھا اور تعجب والا نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے کسی انسان پر اپنی وحی نازل فرمائے اور اسے اپنی پیغمبری سے ممتاز کر دے تاکہ وہ تمہیں ہو شیار کر دے پھر تم شرک و کفر سے الگ ہو کر عذاب الٰہی سے نجات پالو اور تم پر گونا گوں رحمتیں نازل ہوں۔ حضرت نوح ؑ کی ان دلیلوں اور وعظوں نے ان سنگدلوں پر کوئی اثر نہ کیا یہ انہیں جھٹلاتے رہے مخالفت سے باز نہ آئے ایمان قبول نہ کیا صرف چند لوگ سنور گئے۔ پس ہم نے ان نیک لوگوں کو اپنے نبی کے ساتھ کشتی میں بٹھا کر طوفان سے نجات دی اور باقی لوگوں کو تہ آب غرق کردیا۔ جیسے سورة نوح میں فرمایا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کے باعث غرق کردیئے گئے پھر دوزخ میں ڈال دیئے گئے اور کوئی ایسا نہیں تھا جو ان کی کسی قسم کی مدد کرتا۔ یہ لوگ حق سے آنکھیں بند کئے ہوئے تھے، نابینا ہوگئے تھے، راہ حق انہیں آخر تک سجھائی نہ دی۔ پس اللہ نے اپنے نبی کو اپنے دوستوں کو نجات دی۔ اپنے اور ان کے دشمنوں کو تہ آب برباد کردیا۔ جیسے اس کا وعدہ ہے کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی ضرور مدد فرمایا کرتے ہیں۔ دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی وہ ان کی امداد کرتا ہے ان پرہیزگاروں کیلئے ہی عافیت ہے۔ انجام کار غالب اور مظفر و منصور یہی رہتے ہیں جیسے کہ نوح ؑ آخر کار غالب رہے اور کفار ناکام و نامراد ہوئے۔ یہ لوگ تنگ پکڑ میں آگئے اور غارت کر دئے گئے۔ صرف اللہ کے رسول ﷺ کے اسی آدمیوں نے نجات پائی ان ہی میں ایک صاحب جرہم نامی تھے جن کی زبان عربی تھی۔ ابن ابی حاتم میں یہ روایت حضرت ابن عباس سے متصلاً مروی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى إِخْبَارًا عَنْ نُوحٍ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] أَنَّهُ قَالَ لِقَوْمِهِ: ﴿أَوَعَجِبْتُمْ [أَنْ جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ، وفي هـ: "الآية".]] أَيْ لَا تَعْجَبُوا مِنْ هَذَا، فَإِنَّ هَذَا لَيْسَ يعجَب أَنْ يُوحِيَ اللَّهُ إِلَى رَجُلٍ مِنْكُمْ، رَحْمَةً بِكُمْ ولطفا وإحسانا إليكم، لإنذركم وَلِتَتَّقُوا نِقْمَةَ اللَّهِ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ، ﴿وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾
قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَكَذَّبُوهُ﴾ أَيْ: فَتَمَادَوْا [[في د: "تمادوا".]] عَلَى تَكْذِيبِهِ وَمُخَالَفَتِهِ، وَمَا آمَنُ مَعَهُ مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ، كَمَا نَصَّ عَلَيْهِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، ﴿فَأَنْجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ﴾ وَهِيَ السَّفِينَةُ، كَمَا قَالَ: ﴿فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ﴾ [الْعَنْكَبُوتِ:١٥] ﴿وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا﴾ كَمَا قَالَ: ﴿مِمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْصَارًا﴾ [نُوحٍ:٢٥]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا عَمِينَ﴾ أَيْ: عَنِ الْحَقِّ، لَا يُبْصِرُونَهُ وَلَا يَهْتَدُونَ لَهُ.
فَبَيَّنَ تَعَالَى فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ أَنَّهُ انْتَقَمَ لِأَوْلِيَائِهِ مِنْ أَعْدَائِهِ، وأنجى رسوله والمؤمنين، وأهلك أعداءهم مِنَ الْكَافِرِينَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا [وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الأشْهَادُ * يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ] وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ [[زيادة من ك، م، أ، وفي هـ: الآية إلى قوله".]] ﴾ [غَافِرَ:٥١، ٥٢]
وَهَذِهِ سُنَّةُ اللَّهِ فِي عِبَادِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، أَنَّ الْعَاقِبَةَ [[في أ: "أن العاقبة فيها.]] لِلْمُتَّقِينَ وَالظَّفَرَ وَالْغَلَبَ لَهُمْ، كَمَا أهلك قوم نوح [عليه االسلام] [[زيادة من أ.]] بِالْغَرَقِ وَنَجَّى نُوحًا وَأَصْحَابَهُ الْمُؤْمِنِينَ.
قَالَ مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: كَانَ قَوْمُ نُوحٍ قَدْ ضَاقَ بِهِمُ السَّهْلُ وَالْجَبَلُ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: مَا عَذَّبَ اللَّهُ قَوْمَ نُوحٍ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] إِلَّا وَالْأَرْضُ مَلْأَى بِهِمْ، وَلَيْسَ بُقْعَةٌ مِنَ الْأَرْضِ إِلَّا وَلَهَا مَالِكٌ وَحَائِزٌ.
وَقَالَ ابْنُ وَهْب: بَلَغَنِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُ نَجَا مَعَ نُوحٍ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] فِي السَّفِينَةِ ثَمَانُونَ رَجُلًا أَحَدُهُمْ "جُرْهم"، وَكَانَ لِسَانُهُ عَرَبِيًّا.
رَوَاهُنَّ [[في م، د، أ: "رواه".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ. وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْأَثَرُ الْأَخِيرُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُتَّصِلًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
فَكَذَّبُوهُ فَأَنجَيْنَٰهُ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ فِى ٱلْفُلْكِ وَأَغْرَقْنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمًا عَمِينَ
But they denied him, so We saved him and those who were with him in the ship. And We drowned those who denied Our signs. Indeed, they were a blind people.
مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی۔ تو ہم نے نوح کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کو تو بچا لیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا انہیں غرق کر دیا۔ کچھ شک نہیں کہ وہ اندھے لوگ تھے
امّا سرانجام او را تکذیب کردند؛ و ما او و کسانی را که با وی در کشتی بودند، رهایی بخشیدیم؛ و کسانی که آیات ما را تکذیب کردند، غرق کردیم؛ چه اینکه آنها گروهی نابینا (و کوردل) بودند.
Tafsir Ibn Kathir
"Do you wonder that there has come to you a Reminder from your Lord through a man from among you, that he may warn you, so that you may fear Allah and that you may receive (His) mercy? (63)But they belied him, so We saved him and those along with him in the Fulk, and We drowned those who belied Our Ayat. They were indeed a blind people (64)
Allah said that Nuh proclaimed to his people,
أَوَعَجِبْتُمْ
("Do you wonder..."), do not wonder because of this. Surely, it is not strange that Allah sends down revelation to a man among you as mercy, kindness and compassion for you, so that he warns you that you may avoid Allah's torment by associating none with Him,
وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
("and that you may receive (His) mercy.") Allah said,
فَكَذَّبُوهُ
(But they belied him) but they insisted on rejecting and opposing him, and only a few of them believed in him, as Allah stated in another Ayah. Allah said next,
فَأَنجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ
(So We saved him and those along with him in the Fulk) the ark,
وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا
(And We drowned those who belied Our Ayat.) Allah said in another Ayah,
مِّمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُم مِّن دُونِ اللَّهِ أَنصَارًا
(Because of their sins they were drowned, then they were admitted into the Fire. And they found none to help them instead of Allah.)[71:25] Allah said,
إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا عَمِينَ
(They were indeed a blind people.) meaning, blind from the Truth, unable to recognize it or find their way to it. Here, Allah said that He has taken revenge from His enemies and saved His Messenger ﷺ and those who believed in him, while destroying their disbelieving enemies. Allah said in a another Ayah,
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers)[40:51].
This is Allah's Sunnah (way) with His servants, in this life and the Hereafter, that the good end, victory and triumph is for those who fear Him. For example, Allah destroyed the people of Nuh, and saved Nuh and his believing followers. Ibn Wahb said that he was told that Ibn 'Abbas said that eighty men were saved with Nuh in the ship, one of them was Jurhum, who spoke Arabic. Ibn Abi Hatim collected this statement, which was also narrated with a continuous chain of narration from Ibn 'Abbas.
Tafsir Ibn Kathir
نوح ؑ پر کیا گزری ؟ حضرت نوح ؑ اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ تم اس بات کو انوکھا اور تعجب والا نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے کسی انسان پر اپنی وحی نازل فرمائے اور اسے اپنی پیغمبری سے ممتاز کر دے تاکہ وہ تمہیں ہو شیار کر دے پھر تم شرک و کفر سے الگ ہو کر عذاب الٰہی سے نجات پالو اور تم پر گونا گوں رحمتیں نازل ہوں۔ حضرت نوح ؑ کی ان دلیلوں اور وعظوں نے ان سنگدلوں پر کوئی اثر نہ کیا یہ انہیں جھٹلاتے رہے مخالفت سے باز نہ آئے ایمان قبول نہ کیا صرف چند لوگ سنور گئے۔ پس ہم نے ان نیک لوگوں کو اپنے نبی کے ساتھ کشتی میں بٹھا کر طوفان سے نجات دی اور باقی لوگوں کو تہ آب غرق کردیا۔ جیسے سورة نوح میں فرمایا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کے باعث غرق کردیئے گئے پھر دوزخ میں ڈال دیئے گئے اور کوئی ایسا نہیں تھا جو ان کی کسی قسم کی مدد کرتا۔ یہ لوگ حق سے آنکھیں بند کئے ہوئے تھے، نابینا ہوگئے تھے، راہ حق انہیں آخر تک سجھائی نہ دی۔ پس اللہ نے اپنے نبی کو اپنے دوستوں کو نجات دی۔ اپنے اور ان کے دشمنوں کو تہ آب برباد کردیا۔ جیسے اس کا وعدہ ہے کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی ضرور مدد فرمایا کرتے ہیں۔ دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی وہ ان کی امداد کرتا ہے ان پرہیزگاروں کیلئے ہی عافیت ہے۔ انجام کار غالب اور مظفر و منصور یہی رہتے ہیں جیسے کہ نوح ؑ آخر کار غالب رہے اور کفار ناکام و نامراد ہوئے۔ یہ لوگ تنگ پکڑ میں آگئے اور غارت کر دئے گئے۔ صرف اللہ کے رسول ﷺ کے اسی آدمیوں نے نجات پائی ان ہی میں ایک صاحب جرہم نامی تھے جن کی زبان عربی تھی۔ ابن ابی حاتم میں یہ روایت حضرت ابن عباس سے متصلاً مروی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى إِخْبَارًا عَنْ نُوحٍ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] أَنَّهُ قَالَ لِقَوْمِهِ: ﴿أَوَعَجِبْتُمْ [أَنْ جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ، وفي هـ: "الآية".]] أَيْ لَا تَعْجَبُوا مِنْ هَذَا، فَإِنَّ هَذَا لَيْسَ يعجَب أَنْ يُوحِيَ اللَّهُ إِلَى رَجُلٍ مِنْكُمْ، رَحْمَةً بِكُمْ ولطفا وإحسانا إليكم، لإنذركم وَلِتَتَّقُوا نِقْمَةَ اللَّهِ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ، ﴿وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾
قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَكَذَّبُوهُ﴾ أَيْ: فَتَمَادَوْا [[في د: "تمادوا".]] عَلَى تَكْذِيبِهِ وَمُخَالَفَتِهِ، وَمَا آمَنُ مَعَهُ مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ، كَمَا نَصَّ عَلَيْهِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، ﴿فَأَنْجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ﴾ وَهِيَ السَّفِينَةُ، كَمَا قَالَ: ﴿فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ﴾ [الْعَنْكَبُوتِ:١٥] ﴿وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا﴾ كَمَا قَالَ: ﴿مِمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْصَارًا﴾ [نُوحٍ:٢٥]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا عَمِينَ﴾ أَيْ: عَنِ الْحَقِّ، لَا يُبْصِرُونَهُ وَلَا يَهْتَدُونَ لَهُ.
فَبَيَّنَ تَعَالَى فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ أَنَّهُ انْتَقَمَ لِأَوْلِيَائِهِ مِنْ أَعْدَائِهِ، وأنجى رسوله والمؤمنين، وأهلك أعداءهم مِنَ الْكَافِرِينَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا [وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الأشْهَادُ * يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ] وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ [[زيادة من ك، م، أ، وفي هـ: الآية إلى قوله".]] ﴾ [غَافِرَ:٥١، ٥٢]
وَهَذِهِ سُنَّةُ اللَّهِ فِي عِبَادِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، أَنَّ الْعَاقِبَةَ [[في أ: "أن العاقبة فيها.]] لِلْمُتَّقِينَ وَالظَّفَرَ وَالْغَلَبَ لَهُمْ، كَمَا أهلك قوم نوح [عليه االسلام] [[زيادة من أ.]] بِالْغَرَقِ وَنَجَّى نُوحًا وَأَصْحَابَهُ الْمُؤْمِنِينَ.
قَالَ مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: كَانَ قَوْمُ نُوحٍ قَدْ ضَاقَ بِهِمُ السَّهْلُ وَالْجَبَلُ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: مَا عَذَّبَ اللَّهُ قَوْمَ نُوحٍ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] إِلَّا وَالْأَرْضُ مَلْأَى بِهِمْ، وَلَيْسَ بُقْعَةٌ مِنَ الْأَرْضِ إِلَّا وَلَهَا مَالِكٌ وَحَائِزٌ.
وَقَالَ ابْنُ وَهْب: بَلَغَنِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُ نَجَا مَعَ نُوحٍ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] فِي السَّفِينَةِ ثَمَانُونَ رَجُلًا أَحَدُهُمْ "جُرْهم"، وَكَانَ لِسَانُهُ عَرَبِيًّا.
رَوَاهُنَّ [[في م، د، أ: "رواه".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ. وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْأَثَرُ الْأَخِيرُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُتَّصِلًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
۞ وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًۭا ۗ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥٓ ۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ
And to the 'Aad [We sent] their brother Hud. He said, "O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. Then will you not fear Him?"
اور (اسی طرح) قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھائیو خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں؟
و به سوی قوم عاد، برادرشان «هود» را (فرستادیم)؛ گفت: «ای قوم من! (تنها) خدا را پرستش کنید، که جز او معبودی برای شما نیست! آیا پرهیزگاری پیشه نمیکنید؟!»
Tafsir Ibn Kathir
And to 'Ad (the people, We sent) their brother Hud. He said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Will you then not have Taqwa? (65)The leaders of those who disbelieved among his people said: "Verily, we see you in foolishness, and verily, we think you are one of the liars. (66)(Hud) said: "O my people! There is no foolishness in me, but (I am) a Messenger from the Lord of all that exists (67)"I convey unto you the Messages of my Lord, and I am a trustworthy adviser (or well-wisher) for you (68)"Do you wonder that there has come to you a Reminder (and an advice) from your Lord through a man from among you to warn you? And remember that He made you successors (generations after generations) after the people of Nuh and increased you amply in stature. So remember the graces (bestowed upon you) from Allah so that you may be successful. (69)
The Story of Hud, Peace be upon Him, and the Lineage of the People of 'Ad
Allah says, just as We sent Nuh to his people, similarly, to the 'Ad people, We sent Hud one of their own brethren. Muhammad bin Ishaq said that the tribe of 'Ad were the descendants of 'Ad, son of Iram, son of 'Aws, son of Sam, son of Nuh. I say, these are indeed the ancient people of 'Ad whom Allah mentioned, the children of 'Ad, son of Iram who were living in the deserts with lofty pillars or statues. Allah said,
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ
(Have you not seen how your Lord dealt with 'Ad (people). Of Iram like (lofty) pillars. The like of which were not created in the land?)[89:6-8] because of their might and strength. Allah said in another instance,
فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ
(As for 'Ad, they were arrogant in the land without right, and they said: "Who is mightier than us in strength?" See they not that Allah Who created them was mightier in strength than them. And they used to deny Our Ayat!)[41:15].
The Land of 'Ad
The people of 'Ad lived in Yemen, in the area of Ahqaf, which means sand mounds. Muhammad bin Ishaq narrated that Abu At-Tufayl 'Amir bin Wathilah said that he heard 'Ali (bin Abi Talib) saying to a man from Hadramawt (in Yemen), "Have you seen a red sand mound, where there are a lot of Arak and Lote trees in the area of so-and-so in Hadramawt? Have you seen it?" He said, "Yes, O Commander of the faithful! By Allah, you described it as if you have seen it before." 'Ali said, 'I have not seen it, but it was described to me." The man asked, "What about it, O Commander of the faithful?" 'Ali said, "There is the grave of Hud, peace be upon him, in its vicinity." Ibn Jarir recorded this statement, which gives the benefit of indicating that 'Ad used to live in Yemen, since Prophet Hud was buried there. Prophet Hud was among the noble men and chiefs of 'Ad, for Allah chose the Messengers from among the best, most honorable families and tribes. Hud's people were mighty and strong, but their hearts were mighty and hard, for they were among the most denying of Truth among the nations. Prophet Hud called 'Ad to worship Allah alone without partners, and to obey and fear Him.
Debate between Hud and his People
قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ
(The leaders of those who disbelieved among his people said...) meaning, the general public, chiefs, masters and commanders of his people said,
إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ
("Verily, we see you in foolishness, and verily, we think you are one of the liars") meaning, you are misguided because you call us to abandon worshipping the idols in order to worship Allah Alone. Similarly, the chiefs of Quraysh wondered at the call to worship One God, saying,
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا
("Has he (Muhammad) made the gods (all) into One God?")[38:5].
قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ وَلَٰكِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ
((Hud) said: "O my people! There is no foolishness in me, but (I am) a Messenger from the Lord of all that exists!")
Hud said, I am not as you claim. Rather, I brought you the Truth from Allah, Who created everything, and He is the Lord and King of all things,
أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ
("I convey unto you the Messages of my Lord, and I am a trustworthy adviser for you.")
These, indeed, are the qualities of the Prophets: conveying, sincerity and honesty,
أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ
("Do you wonder that there has come to you a Reminder from your Lord through a man from among you to warn you?")
Prophet Hud said, do not wonder because Allah sent a Messenger to you from among yourselves to warn you about Allah's Days (His torment) and meeting with Him. Rather than wondering, you should thank Allah for this bounty.
وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ
("And remember that He made you successors (generations after generations) after the people of Nuh...") meaning, remember Allah's favor on you in that He made you among the offspring of Nuh, because of whose supplication Allah destroyed the people of the earth after they defied and opposed him.
وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً
("and increased you amply in stature.") making you taller than other people. Similarly, Allah said in the description of Talut (Saul),
وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ
(And has increased him abundantly in knowledge and stature.)[2:247] Hud continued,
فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّهِ
("So remember the graces (bestowed upon you) from Allah.") in reference to Allah's favors and blessings
لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
("so that you may be successful.")
Tafsir Ibn Kathir
ہود ؑ اور ان کا رویہ !فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف حضرت نوح کو ہم نے بھیجا تھا قوم عاد کی طرف حضرت ہود ؑ کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔ فرمان ہے آیت (الم تر کف فعل ربک بعاد ارم ذات العماد التی لم یخلق مثلھا فی البلاد) یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا ؟ جو بلند قامت تھے دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ یہ لوگ بڑے قوی طاقتور اور لانبے چوڑے قد کے تھے جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے ؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقینا ان سے زیادہ طاقت والا ہے۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے ان کے شہر یمن میں احقاف تھے، یہ ریتلے پہاڑ تھے۔ حضرت علی نے حضرت موت کے ایک شخص سے کہا کہ تو نے ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہوگا جس میں سرخ رنگ کی راکھ جیسی مٹی ہے اس کے آس پاس پیلو اور بیری کے درخت بکثرت ہیں وہ ٹیلہ فلاں جگہ حضرموت میں ہے اس نے کہا امیر المومنین آپ تو اس طرح کے نشان بتا رہے ہیں گویا آپ نے بچشم خود دیکھا ہے آپ نے فرمایا نہیں دیکھا تو نہیں لیکن ہاں مجھ تک حدیث پہنچی ہے کہ وہیں حضرت ہود ؑ کی قبر ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں اسی لئے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے اس لئے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کو بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہوگیا ہے ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی عبادت کی دعوت کیوں دی ؟ حضرت ہود نے انہیں جواب دیا کہ مجھ میں تو بیوقوفی کی بفضلہ کوئی بات نہیں۔ میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانتداری کا نمونہ بننا۔ تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈراوے۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا۔ تمہیں باقی رکھا اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل، مضبوط اور طاقتور کردیا۔ یہی نعمت حضرت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی۔ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کرسکو۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: وَكَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى قَوْمِ نُوحٍ نُوحًا، كَذَلِكَ أَرْسَلْنَا إِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: هُمْ [مِنْ] [[زيادة من م.]] وَلَدِ عَادِ بْنِ إِرَمَ بْنِ عَوْصَ بْنِ سَامَ بْنِ نُوحٍ.
قُلْتُ: وَهَؤُلَاءِ هُمْ عَادٌ الْأُولَى، الَّذِينَ ذَكَرَهُمُ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] وَهُمْ أَوْلَادُ عَادِ بْنِ إِرَمَ الَّذِينَ كَانُوا يَأْوُونَ إِلَى العَمَد فِي الْبَرِّ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ * إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ * الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلادِ﴾ [الْفَجْرِ:٦-٨] وَذَلِكَ لِشِدَّةِ بَأْسِهِمْ وَقُوَّتِهِمْ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الأرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ﴾ [فُصِّلَتْ:١٥] .
وَقَدْ كَانَتْ مَسَاكِنُهُمْ باليمن بالأحقاف، وهي جبال الرمل.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] يَقُولُ لِرَجُلٍ مِنْ حَضْرَمَوْتَ: هَلْ رَأَيْتَ كَثِيبًا أَحْمَرَ تُخَالِطُهُ مَدَرَة حَمْرَاءُ ذَا أرَاكٍ وسدْر كَثِيرٍ بِنَاحِيَةِ كَذَا وَكَذَا مِنْ أَرْضِ حَضْرَمَوْتَ، هَلْ رَأَيْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَنْعَتُهُ نعتَ رَجُلٍ قَدْ رَآهُ. قَالَ: لَا وَلَكِنِّي قَدْ حدِّثتُ عَنْهُ. فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: وَمَا شَأْنُهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: فِيهِ قبرُ هُودٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ [[تفسير الطبري (١٢/٥٠٧) .]] وَهَذَا فِيهِ فَائِدَةٌ أَنَّ مَسَاكِنَهُمْ كَانَتْ بِالْيَمَنِ، وَأَنَّ هُودًا، عَلَيْهِ السَّلَامُ، دُفِنَ هُنَاكَ، وَقَدْ كَانَ مِنْ أَشْرَفِ [[في م، ك: "أشراف".]] قَوْمِهِ نَسَبًا؛ لِأَنَّ الرُّسُلَ [صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ] [[زيادة من أ.]] إِنَّمَا يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ مِنْ أَفْضَلِ الْقَبَائِلِ وَأَشْرَفِهِمْ، وَلَكِنْ كَانَ قَوْمُهُ كَمَا شُدّد خَلْقُهُمْ شُدِّد عَلَى قُلُوبِهِمْ، وَكَانُوا مِنْ أَشَدِّ الْأُمَمِ تَكْذِيبًا لِلْحَقِّ؛ وَلِهَذَا دَعَاهُمْ هُودٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَإِلَى طَاعَتِهِ وَتَقْوَاهُ.
﴿قَالَ الْمَلأ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ﴾ -وَالْمَلَأُ هُمَ: الْجُمْهُورُ وَالسَّادَةُ وَالْقَادَةُ مِنْهُمْ -: ﴿إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ﴾ أَيْ: فِي ضَلَالَةٍ حَيْثُ دَعَوْتَنَا إِلَى تَرْكِ عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ، وَالْإِقْبَالِ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ [لَا شَرِيكَ لَهُ] [[زيادة من ك.]] كَمَا تَعَجَّبَ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ مِنَ الدَّعْوَةِ إِلَى إِلَهٍ وَاحِدٍ ﴿فَقَالُوا﴾ ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا [إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ [[زيادة من ك، م. وفي هـ: "الآية"]] ] ﴾ [ص: ٥] .
﴿قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ وَلَكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ أي: ليست كَمَا تَزْعُمُونَ، بَلْ جِئْتُكُمْ بِالْحَقِّ مِنَ اللَّهِ الَّذِي خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ، فَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكُهُ ﴿أُبَلِّغُكُمْ رِسَالاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ﴾ وَهَذِهِ الصِّفَاتُ الَّتِي يَتَّصِفُ بِهَا الرُّسُلُ الْبَلَاغَةُ وَالنُّصْحُ وَالْأَمَانَةُ.
﴿أَوَعَجِبْتُمْ أَنْ جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ﴾ أَيْ: لَا تَعْجَبُوا أَنْ بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ أَيَّامَ اللَّهِ وَلِقَاءَهُ، بَلِ احْمَدُوا اللَّهَ عَلَى ذَاكُمْ، ﴿وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ﴾ أَيْ: وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَكُمْ مِنْ ذُرِّيَّةِ نُوحٍ، الَّذِي أَهْلَكَ اللَّهُ أَهْلَ الْأَرْضِ بِدَعْوَتِهِ، لَمَّا خَالَفُوهُ وَكَذَّبُوهُ، ﴿وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً﴾ أَيْ: زَادَ طُولَكُمْ عَلَى النَّاسِ بَسْطَةً، أَيْ: جَعَلَكُمْ أَطْوَلَ مِنْ أَبْنَاءِ جِنْسِكُمْ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: فِي قِصَّةِ طَالُوتَ: ﴿وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ﴾ [الْبَقَرَةِ:٢٤٧] ﴿فَاذْكُرُوا آلاءَ اللَّهِ﴾ أَيْ: نِعَمَهُ ومنَنه عَلَيْكُمْ ﴿لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ [وَآلَاءُ جمع ألى وقيل: إلى] [[زيادة من ك، م.]]
قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦٓ إِنَّا لَنَرَىٰكَ فِى سَفَاهَةٍۢ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ ٱلْكَٰذِبِينَ
Said the eminent ones who disbelieved among his people, "Indeed, we see you in foolishness, and indeed, we think you are of the liars."
تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں
اشراف کافر قوم او گفتند: «ما تو را در سفاهت (و نادانی و سبک مغزی) میبینیم، و ما مسلّماً تو را از دروغگویان میدانیم!»
Tafsir Ibn Kathir
And to 'Ad (the people, We sent) their brother Hud. He said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Will you then not have Taqwa? (65)The leaders of those who disbelieved among his people said: "Verily, we see you in foolishness, and verily, we think you are one of the liars. (66)(Hud) said: "O my people! There is no foolishness in me, but (I am) a Messenger from the Lord of all that exists (67)"I convey unto you the Messages of my Lord, and I am a trustworthy adviser (or well-wisher) for you (68)"Do you wonder that there has come to you a Reminder (and an advice) from your Lord through a man from among you to warn you? And remember that He made you successors (generations after generations) after the people of Nuh and increased you amply in stature. So remember the graces (bestowed upon you) from Allah so that you may be successful. (69)
The Story of Hud, Peace be upon Him, and the Lineage of the People of 'Ad
Allah says, just as We sent Nuh to his people, similarly, to the 'Ad people, We sent Hud one of their own brethren. Muhammad bin Ishaq said that the tribe of 'Ad were the descendants of 'Ad, son of Iram, son of 'Aws, son of Sam, son of Nuh. I say, these are indeed the ancient people of 'Ad whom Allah mentioned, the children of 'Ad, son of Iram who were living in the deserts with lofty pillars or statues. Allah said,
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ
(Have you not seen how your Lord dealt with 'Ad (people). Of Iram like (lofty) pillars. The like of which were not created in the land?)[89:6-8] because of their might and strength. Allah said in another instance,
فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ
(As for 'Ad, they were arrogant in the land without right, and they said: "Who is mightier than us in strength?" See they not that Allah Who created them was mightier in strength than them. And they used to deny Our Ayat!)[41:15].
The Land of 'Ad
The people of 'Ad lived in Yemen, in the area of Ahqaf, which means sand mounds. Muhammad bin Ishaq narrated that Abu At-Tufayl 'Amir bin Wathilah said that he heard 'Ali (bin Abi Talib) saying to a man from Hadramawt (in Yemen), "Have you seen a red sand mound, where there are a lot of Arak and Lote trees in the area of so-and-so in Hadramawt? Have you seen it?" He said, "Yes, O Commander of the faithful! By Allah, you described it as if you have seen it before." 'Ali said, 'I have not seen it, but it was described to me." The man asked, "What about it, O Commander of the faithful?" 'Ali said, "There is the grave of Hud, peace be upon him, in its vicinity." Ibn Jarir recorded this statement, which gives the benefit of indicating that 'Ad used to live in Yemen, since Prophet Hud was buried there. Prophet Hud was among the noble men and chiefs of 'Ad, for Allah chose the Messengers from among the best, most honorable families and tribes. Hud's people were mighty and strong, but their hearts were mighty and hard, for they were among the most denying of Truth among the nations. Prophet Hud called 'Ad to worship Allah alone without partners, and to obey and fear Him.
Debate between Hud and his People
قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ
(The leaders of those who disbelieved among his people said...) meaning, the general public, chiefs, masters and commanders of his people said,
إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ
("Verily, we see you in foolishness, and verily, we think you are one of the liars") meaning, you are misguided because you call us to abandon worshipping the idols in order to worship Allah Alone. Similarly, the chiefs of Quraysh wondered at the call to worship One God, saying,
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا
("Has he (Muhammad) made the gods (all) into One God?")[38:5].
قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ وَلَٰكِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ
((Hud) said: "O my people! There is no foolishness in me, but (I am) a Messenger from the Lord of all that exists!")
Hud said, I am not as you claim. Rather, I brought you the Truth from Allah, Who created everything, and He is the Lord and King of all things,
أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ
("I convey unto you the Messages of my Lord, and I am a trustworthy adviser for you.")
These, indeed, are the qualities of the Prophets: conveying, sincerity and honesty,
أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ
("Do you wonder that there has come to you a Reminder from your Lord through a man from among you to warn you?")
Prophet Hud said, do not wonder because Allah sent a Messenger to you from among yourselves to warn you about Allah's Days (His torment) and meeting with Him. Rather than wondering, you should thank Allah for this bounty.
وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ
("And remember that He made you successors (generations after generations) after the people of Nuh...") meaning, remember Allah's favor on you in that He made you among the offspring of Nuh, because of whose supplication Allah destroyed the people of the earth after they defied and opposed him.
وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً
("and increased you amply in stature.") making you taller than other people. Similarly, Allah said in the description of Talut (Saul),
وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ
(And has increased him abundantly in knowledge and stature.)[2:247] Hud continued,
فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّهِ
("So remember the graces (bestowed upon you) from Allah.") in reference to Allah's favors and blessings
لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
("so that you may be successful.")
Tafsir Ibn Kathir
ہود ؑ اور ان کا رویہ !فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف حضرت نوح کو ہم نے بھیجا تھا قوم عاد کی طرف حضرت ہود ؑ کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔ فرمان ہے آیت (الم تر کف فعل ربک بعاد ارم ذات العماد التی لم یخلق مثلھا فی البلاد) یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا ؟ جو بلند قامت تھے دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ یہ لوگ بڑے قوی طاقتور اور لانبے چوڑے قد کے تھے جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے ؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقینا ان سے زیادہ طاقت والا ہے۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے ان کے شہر یمن میں احقاف تھے، یہ ریتلے پہاڑ تھے۔ حضرت علی نے حضرت موت کے ایک شخص سے کہا کہ تو نے ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہوگا جس میں سرخ رنگ کی راکھ جیسی مٹی ہے اس کے آس پاس پیلو اور بیری کے درخت بکثرت ہیں وہ ٹیلہ فلاں جگہ حضرموت میں ہے اس نے کہا امیر المومنین آپ تو اس طرح کے نشان بتا رہے ہیں گویا آپ نے بچشم خود دیکھا ہے آپ نے فرمایا نہیں دیکھا تو نہیں لیکن ہاں مجھ تک حدیث پہنچی ہے کہ وہیں حضرت ہود ؑ کی قبر ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں اسی لئے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے اس لئے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کو بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہوگیا ہے ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی عبادت کی دعوت کیوں دی ؟ حضرت ہود نے انہیں جواب دیا کہ مجھ میں تو بیوقوفی کی بفضلہ کوئی بات نہیں۔ میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانتداری کا نمونہ بننا۔ تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈراوے۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا۔ تمہیں باقی رکھا اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل، مضبوط اور طاقتور کردیا۔ یہی نعمت حضرت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی۔ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کرسکو۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: وَكَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى قَوْمِ نُوحٍ نُوحًا، كَذَلِكَ أَرْسَلْنَا إِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: هُمْ [مِنْ] [[زيادة من م.]] وَلَدِ عَادِ بْنِ إِرَمَ بْنِ عَوْصَ بْنِ سَامَ بْنِ نُوحٍ.
قُلْتُ: وَهَؤُلَاءِ هُمْ عَادٌ الْأُولَى، الَّذِينَ ذَكَرَهُمُ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] وَهُمْ أَوْلَادُ عَادِ بْنِ إِرَمَ الَّذِينَ كَانُوا يَأْوُونَ إِلَى العَمَد فِي الْبَرِّ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ * إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ * الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلادِ﴾ [الْفَجْرِ:٦-٨] وَذَلِكَ لِشِدَّةِ بَأْسِهِمْ وَقُوَّتِهِمْ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الأرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ﴾ [فُصِّلَتْ:١٥] .
وَقَدْ كَانَتْ مَسَاكِنُهُمْ باليمن بالأحقاف، وهي جبال الرمل.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] يَقُولُ لِرَجُلٍ مِنْ حَضْرَمَوْتَ: هَلْ رَأَيْتَ كَثِيبًا أَحْمَرَ تُخَالِطُهُ مَدَرَة حَمْرَاءُ ذَا أرَاكٍ وسدْر كَثِيرٍ بِنَاحِيَةِ كَذَا وَكَذَا مِنْ أَرْضِ حَضْرَمَوْتَ، هَلْ رَأَيْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَنْعَتُهُ نعتَ رَجُلٍ قَدْ رَآهُ. قَالَ: لَا وَلَكِنِّي قَدْ حدِّثتُ عَنْهُ. فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: وَمَا شَأْنُهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: فِيهِ قبرُ هُودٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ [[تفسير الطبري (١٢/٥٠٧) .]] وَهَذَا فِيهِ فَائِدَةٌ أَنَّ مَسَاكِنَهُمْ كَانَتْ بِالْيَمَنِ، وَأَنَّ هُودًا، عَلَيْهِ السَّلَامُ، دُفِنَ هُنَاكَ، وَقَدْ كَانَ مِنْ أَشْرَفِ [[في م، ك: "أشراف".]] قَوْمِهِ نَسَبًا؛ لِأَنَّ الرُّسُلَ [صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ] [[زيادة من أ.]] إِنَّمَا يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ مِنْ أَفْضَلِ الْقَبَائِلِ وَأَشْرَفِهِمْ، وَلَكِنْ كَانَ قَوْمُهُ كَمَا شُدّد خَلْقُهُمْ شُدِّد عَلَى قُلُوبِهِمْ، وَكَانُوا مِنْ أَشَدِّ الْأُمَمِ تَكْذِيبًا لِلْحَقِّ؛ وَلِهَذَا دَعَاهُمْ هُودٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَإِلَى طَاعَتِهِ وَتَقْوَاهُ.
﴿قَالَ الْمَلأ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ﴾ -وَالْمَلَأُ هُمَ: الْجُمْهُورُ وَالسَّادَةُ وَالْقَادَةُ مِنْهُمْ -: ﴿إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ﴾ أَيْ: فِي ضَلَالَةٍ حَيْثُ دَعَوْتَنَا إِلَى تَرْكِ عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ، وَالْإِقْبَالِ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ [لَا شَرِيكَ لَهُ] [[زيادة من ك.]] كَمَا تَعَجَّبَ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ مِنَ الدَّعْوَةِ إِلَى إِلَهٍ وَاحِدٍ ﴿فَقَالُوا﴾ ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا [إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ [[زيادة من ك، م. وفي هـ: "الآية"]] ] ﴾ [ص: ٥] .
﴿قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ وَلَكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ أي: ليست كَمَا تَزْعُمُونَ، بَلْ جِئْتُكُمْ بِالْحَقِّ مِنَ اللَّهِ الَّذِي خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ، فَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكُهُ ﴿أُبَلِّغُكُمْ رِسَالاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ﴾ وَهَذِهِ الصِّفَاتُ الَّتِي يَتَّصِفُ بِهَا الرُّسُلُ الْبَلَاغَةُ وَالنُّصْحُ وَالْأَمَانَةُ.
﴿أَوَعَجِبْتُمْ أَنْ جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ﴾ أَيْ: لَا تَعْجَبُوا أَنْ بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ أَيَّامَ اللَّهِ وَلِقَاءَهُ، بَلِ احْمَدُوا اللَّهَ عَلَى ذَاكُمْ، ﴿وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ﴾ أَيْ: وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَكُمْ مِنْ ذُرِّيَّةِ نُوحٍ، الَّذِي أَهْلَكَ اللَّهُ أَهْلَ الْأَرْضِ بِدَعْوَتِهِ، لَمَّا خَالَفُوهُ وَكَذَّبُوهُ، ﴿وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً﴾ أَيْ: زَادَ طُولَكُمْ عَلَى النَّاسِ بَسْطَةً، أَيْ: جَعَلَكُمْ أَطْوَلَ مِنْ أَبْنَاءِ جِنْسِكُمْ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: فِي قِصَّةِ طَالُوتَ: ﴿وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ﴾ [الْبَقَرَةِ:٢٤٧] ﴿فَاذْكُرُوا آلاءَ اللَّهِ﴾ أَيْ: نِعَمَهُ ومنَنه عَلَيْكُمْ ﴿لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ [وَآلَاءُ جمع ألى وقيل: إلى] [[زيادة من ك، م.]]
قَالَ يَٰقَوْمِ لَيْسَ بِى سَفَاهَةٌۭ وَلَٰكِنِّى رَسُولٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
[Hud] said, "O my people, there is not foolishness in me, but I am a messenger from the Lord of the worlds."
انہوں نے کہا کہ بھائیو مجھ میں حماقت کی کوئی بات نہیں ہے بلکہ میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں
گرفت: «ای قوم من! هیچ گونه سفاهتی در من نیست؛ ولی فرستادهای از طرف پروردگار جهانیانم.
Tafsir Ibn Kathir
And to 'Ad (the people, We sent) their brother Hud. He said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Will you then not have Taqwa? (65)The leaders of those who disbelieved among his people said: "Verily, we see you in foolishness, and verily, we think you are one of the liars. (66)(Hud) said: "O my people! There is no foolishness in me, but (I am) a Messenger from the Lord of all that exists (67)"I convey unto you the Messages of my Lord, and I am a trustworthy adviser (or well-wisher) for you (68)"Do you wonder that there has come to you a Reminder (and an advice) from your Lord through a man from among you to warn you? And remember that He made you successors (generations after generations) after the people of Nuh and increased you amply in stature. So remember the graces (bestowed upon you) from Allah so that you may be successful. (69)
The Story of Hud, Peace be upon Him, and the Lineage of the People of 'Ad
Allah says, just as We sent Nuh to his people, similarly, to the 'Ad people, We sent Hud one of their own brethren. Muhammad bin Ishaq said that the tribe of 'Ad were the descendants of 'Ad, son of Iram, son of 'Aws, son of Sam, son of Nuh. I say, these are indeed the ancient people of 'Ad whom Allah mentioned, the children of 'Ad, son of Iram who were living in the deserts with lofty pillars or statues. Allah said,
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ
(Have you not seen how your Lord dealt with 'Ad (people). Of Iram like (lofty) pillars. The like of which were not created in the land?)[89:6-8] because of their might and strength. Allah said in another instance,
فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ
(As for 'Ad, they were arrogant in the land without right, and they said: "Who is mightier than us in strength?" See they not that Allah Who created them was mightier in strength than them. And they used to deny Our Ayat!)[41:15].
The Land of 'Ad
The people of 'Ad lived in Yemen, in the area of Ahqaf, which means sand mounds. Muhammad bin Ishaq narrated that Abu At-Tufayl 'Amir bin Wathilah said that he heard 'Ali (bin Abi Talib) saying to a man from Hadramawt (in Yemen), "Have you seen a red sand mound, where there are a lot of Arak and Lote trees in the area of so-and-so in Hadramawt? Have you seen it?" He said, "Yes, O Commander of the faithful! By Allah, you described it as if you have seen it before." 'Ali said, 'I have not seen it, but it was described to me." The man asked, "What about it, O Commander of the faithful?" 'Ali said, "There is the grave of Hud, peace be upon him, in its vicinity." Ibn Jarir recorded this statement, which gives the benefit of indicating that 'Ad used to live in Yemen, since Prophet Hud was buried there. Prophet Hud was among the noble men and chiefs of 'Ad, for Allah chose the Messengers from among the best, most honorable families and tribes. Hud's people were mighty and strong, but their hearts were mighty and hard, for they were among the most denying of Truth among the nations. Prophet Hud called 'Ad to worship Allah alone without partners, and to obey and fear Him.
Debate between Hud and his People
قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ
(The leaders of those who disbelieved among his people said...) meaning, the general public, chiefs, masters and commanders of his people said,
إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ
("Verily, we see you in foolishness, and verily, we think you are one of the liars") meaning, you are misguided because you call us to abandon worshipping the idols in order to worship Allah Alone. Similarly, the chiefs of Quraysh wondered at the call to worship One God, saying,
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا
("Has he (Muhammad) made the gods (all) into One God?")[38:5].
قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ وَلَٰكِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ
((Hud) said: "O my people! There is no foolishness in me, but (I am) a Messenger from the Lord of all that exists!")
Hud said, I am not as you claim. Rather, I brought you the Truth from Allah, Who created everything, and He is the Lord and King of all things,
أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ
("I convey unto you the Messages of my Lord, and I am a trustworthy adviser for you.")
These, indeed, are the qualities of the Prophets: conveying, sincerity and honesty,
أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ
("Do you wonder that there has come to you a Reminder from your Lord through a man from among you to warn you?")
Prophet Hud said, do not wonder because Allah sent a Messenger to you from among yourselves to warn you about Allah's Days (His torment) and meeting with Him. Rather than wondering, you should thank Allah for this bounty.
وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ
("And remember that He made you successors (generations after generations) after the people of Nuh...") meaning, remember Allah's favor on you in that He made you among the offspring of Nuh, because of whose supplication Allah destroyed the people of the earth after they defied and opposed him.
وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً
("and increased you amply in stature.") making you taller than other people. Similarly, Allah said in the description of Talut (Saul),
وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ
(And has increased him abundantly in knowledge and stature.)[2:247] Hud continued,
فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّهِ
("So remember the graces (bestowed upon you) from Allah.") in reference to Allah's favors and blessings
لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
("so that you may be successful.")
Tafsir Ibn Kathir
ہود ؑ اور ان کا رویہ !فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف حضرت نوح کو ہم نے بھیجا تھا قوم عاد کی طرف حضرت ہود ؑ کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔ فرمان ہے آیت (الم تر کف فعل ربک بعاد ارم ذات العماد التی لم یخلق مثلھا فی البلاد) یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا ؟ جو بلند قامت تھے دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ یہ لوگ بڑے قوی طاقتور اور لانبے چوڑے قد کے تھے جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے ؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقینا ان سے زیادہ طاقت والا ہے۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے ان کے شہر یمن میں احقاف تھے، یہ ریتلے پہاڑ تھے۔ حضرت علی نے حضرت موت کے ایک شخص سے کہا کہ تو نے ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہوگا جس میں سرخ رنگ کی راکھ جیسی مٹی ہے اس کے آس پاس پیلو اور بیری کے درخت بکثرت ہیں وہ ٹیلہ فلاں جگہ حضرموت میں ہے اس نے کہا امیر المومنین آپ تو اس طرح کے نشان بتا رہے ہیں گویا آپ نے بچشم خود دیکھا ہے آپ نے فرمایا نہیں دیکھا تو نہیں لیکن ہاں مجھ تک حدیث پہنچی ہے کہ وہیں حضرت ہود ؑ کی قبر ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں اسی لئے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے اس لئے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کو بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہوگیا ہے ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی عبادت کی دعوت کیوں دی ؟ حضرت ہود نے انہیں جواب دیا کہ مجھ میں تو بیوقوفی کی بفضلہ کوئی بات نہیں۔ میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانتداری کا نمونہ بننا۔ تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈراوے۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا۔ تمہیں باقی رکھا اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل، مضبوط اور طاقتور کردیا۔ یہی نعمت حضرت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی۔ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کرسکو۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: وَكَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى قَوْمِ نُوحٍ نُوحًا، كَذَلِكَ أَرْسَلْنَا إِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: هُمْ [مِنْ] [[زيادة من م.]] وَلَدِ عَادِ بْنِ إِرَمَ بْنِ عَوْصَ بْنِ سَامَ بْنِ نُوحٍ.
قُلْتُ: وَهَؤُلَاءِ هُمْ عَادٌ الْأُولَى، الَّذِينَ ذَكَرَهُمُ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] وَهُمْ أَوْلَادُ عَادِ بْنِ إِرَمَ الَّذِينَ كَانُوا يَأْوُونَ إِلَى العَمَد فِي الْبَرِّ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ * إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ * الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلادِ﴾ [الْفَجْرِ:٦-٨] وَذَلِكَ لِشِدَّةِ بَأْسِهِمْ وَقُوَّتِهِمْ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الأرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ﴾ [فُصِّلَتْ:١٥] .
وَقَدْ كَانَتْ مَسَاكِنُهُمْ باليمن بالأحقاف، وهي جبال الرمل.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] يَقُولُ لِرَجُلٍ مِنْ حَضْرَمَوْتَ: هَلْ رَأَيْتَ كَثِيبًا أَحْمَرَ تُخَالِطُهُ مَدَرَة حَمْرَاءُ ذَا أرَاكٍ وسدْر كَثِيرٍ بِنَاحِيَةِ كَذَا وَكَذَا مِنْ أَرْضِ حَضْرَمَوْتَ، هَلْ رَأَيْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَنْعَتُهُ نعتَ رَجُلٍ قَدْ رَآهُ. قَالَ: لَا وَلَكِنِّي قَدْ حدِّثتُ عَنْهُ. فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: وَمَا شَأْنُهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: فِيهِ قبرُ هُودٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ [[تفسير الطبري (١٢/٥٠٧) .]] وَهَذَا فِيهِ فَائِدَةٌ أَنَّ مَسَاكِنَهُمْ كَانَتْ بِالْيَمَنِ، وَأَنَّ هُودًا، عَلَيْهِ السَّلَامُ، دُفِنَ هُنَاكَ، وَقَدْ كَانَ مِنْ أَشْرَفِ [[في م، ك: "أشراف".]] قَوْمِهِ نَسَبًا؛ لِأَنَّ الرُّسُلَ [صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ] [[زيادة من أ.]] إِنَّمَا يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ مِنْ أَفْضَلِ الْقَبَائِلِ وَأَشْرَفِهِمْ، وَلَكِنْ كَانَ قَوْمُهُ كَمَا شُدّد خَلْقُهُمْ شُدِّد عَلَى قُلُوبِهِمْ، وَكَانُوا مِنْ أَشَدِّ الْأُمَمِ تَكْذِيبًا لِلْحَقِّ؛ وَلِهَذَا دَعَاهُمْ هُودٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَإِلَى طَاعَتِهِ وَتَقْوَاهُ.
﴿قَالَ الْمَلأ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ﴾ -وَالْمَلَأُ هُمَ: الْجُمْهُورُ وَالسَّادَةُ وَالْقَادَةُ مِنْهُمْ -: ﴿إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ﴾ أَيْ: فِي ضَلَالَةٍ حَيْثُ دَعَوْتَنَا إِلَى تَرْكِ عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ، وَالْإِقْبَالِ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ [لَا شَرِيكَ لَهُ] [[زيادة من ك.]] كَمَا تَعَجَّبَ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ مِنَ الدَّعْوَةِ إِلَى إِلَهٍ وَاحِدٍ ﴿فَقَالُوا﴾ ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا [إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ [[زيادة من ك، م. وفي هـ: "الآية"]] ] ﴾ [ص: ٥] .
﴿قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ وَلَكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ أي: ليست كَمَا تَزْعُمُونَ، بَلْ جِئْتُكُمْ بِالْحَقِّ مِنَ اللَّهِ الَّذِي خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ، فَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكُهُ ﴿أُبَلِّغُكُمْ رِسَالاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ﴾ وَهَذِهِ الصِّفَاتُ الَّتِي يَتَّصِفُ بِهَا الرُّسُلُ الْبَلَاغَةُ وَالنُّصْحُ وَالْأَمَانَةُ.
﴿أَوَعَجِبْتُمْ أَنْ جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ﴾ أَيْ: لَا تَعْجَبُوا أَنْ بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ أَيَّامَ اللَّهِ وَلِقَاءَهُ، بَلِ احْمَدُوا اللَّهَ عَلَى ذَاكُمْ، ﴿وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ﴾ أَيْ: وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَكُمْ مِنْ ذُرِّيَّةِ نُوحٍ، الَّذِي أَهْلَكَ اللَّهُ أَهْلَ الْأَرْضِ بِدَعْوَتِهِ، لَمَّا خَالَفُوهُ وَكَذَّبُوهُ، ﴿وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً﴾ أَيْ: زَادَ طُولَكُمْ عَلَى النَّاسِ بَسْطَةً، أَيْ: جَعَلَكُمْ أَطْوَلَ مِنْ أَبْنَاءِ جِنْسِكُمْ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: فِي قِصَّةِ طَالُوتَ: ﴿وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ﴾ [الْبَقَرَةِ:٢٤٧] ﴿فَاذْكُرُوا آلاءَ اللَّهِ﴾ أَيْ: نِعَمَهُ ومنَنه عَلَيْكُمْ ﴿لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ [وَآلَاءُ جمع ألى وقيل: إلى] [[زيادة من ك، م.]]
أُبَلِّغُكُمْ رِسَٰلَٰتِ رَبِّى وَأَنَا۠ لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ
I convey to you the messages of my Lord, and I am to you a trustworthy adviser.
میں تمہیں خدا کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا امانت دار خیرخواہ ہوں
رسالتهای پروردگارم را به شما ابلاغ میکنم؛ و من خیرخواه امینی برای شما هستم.
Tafsir Ibn Kathir
And to 'Ad (the people, We sent) their brother Hud. He said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Will you then not have Taqwa? (65)The leaders of those who disbelieved among his people said: "Verily, we see you in foolishness, and verily, we think you are one of the liars. (66)(Hud) said: "O my people! There is no foolishness in me, but (I am) a Messenger from the Lord of all that exists (67)"I convey unto you the Messages of my Lord, and I am a trustworthy adviser (or well-wisher) for you (68)"Do you wonder that there has come to you a Reminder (and an advice) from your Lord through a man from among you to warn you? And remember that He made you successors (generations after generations) after the people of Nuh and increased you amply in stature. So remember the graces (bestowed upon you) from Allah so that you may be successful. (69)
The Story of Hud, Peace be upon Him, and the Lineage of the People of 'Ad
Allah says, just as We sent Nuh to his people, similarly, to the 'Ad people, We sent Hud one of their own brethren. Muhammad bin Ishaq said that the tribe of 'Ad were the descendants of 'Ad, son of Iram, son of 'Aws, son of Sam, son of Nuh. I say, these are indeed the ancient people of 'Ad whom Allah mentioned, the children of 'Ad, son of Iram who were living in the deserts with lofty pillars or statues. Allah said,
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ
(Have you not seen how your Lord dealt with 'Ad (people). Of Iram like (lofty) pillars. The like of which were not created in the land?)[89:6-8] because of their might and strength. Allah said in another instance,
فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ
(As for 'Ad, they were arrogant in the land without right, and they said: "Who is mightier than us in strength?" See they not that Allah Who created them was mightier in strength than them. And they used to deny Our Ayat!)[41:15].
The Land of 'Ad
The people of 'Ad lived in Yemen, in the area of Ahqaf, which means sand mounds. Muhammad bin Ishaq narrated that Abu At-Tufayl 'Amir bin Wathilah said that he heard 'Ali (bin Abi Talib) saying to a man from Hadramawt (in Yemen), "Have you seen a red sand mound, where there are a lot of Arak and Lote trees in the area of so-and-so in Hadramawt? Have you seen it?" He said, "Yes, O Commander of the faithful! By Allah, you described it as if you have seen it before." 'Ali said, 'I have not seen it, but it was described to me." The man asked, "What about it, O Commander of the faithful?" 'Ali said, "There is the grave of Hud, peace be upon him, in its vicinity." Ibn Jarir recorded this statement, which gives the benefit of indicating that 'Ad used to live in Yemen, since Prophet Hud was buried there. Prophet Hud was among the noble men and chiefs of 'Ad, for Allah chose the Messengers from among the best, most honorable families and tribes. Hud's people were mighty and strong, but their hearts were mighty and hard, for they were among the most denying of Truth among the nations. Prophet Hud called 'Ad to worship Allah alone without partners, and to obey and fear Him.
Debate between Hud and his People
قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ
(The leaders of those who disbelieved among his people said...) meaning, the general public, chiefs, masters and commanders of his people said,
إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ
("Verily, we see you in foolishness, and verily, we think you are one of the liars") meaning, you are misguided because you call us to abandon worshipping the idols in order to worship Allah Alone. Similarly, the chiefs of Quraysh wondered at the call to worship One God, saying,
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا
("Has he (Muhammad) made the gods (all) into One God?")[38:5].
قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ وَلَٰكِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ
((Hud) said: "O my people! There is no foolishness in me, but (I am) a Messenger from the Lord of all that exists!")
Hud said, I am not as you claim. Rather, I brought you the Truth from Allah, Who created everything, and He is the Lord and King of all things,
أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ
("I convey unto you the Messages of my Lord, and I am a trustworthy adviser for you.")
These, indeed, are the qualities of the Prophets: conveying, sincerity and honesty,
أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ
("Do you wonder that there has come to you a Reminder from your Lord through a man from among you to warn you?")
Prophet Hud said, do not wonder because Allah sent a Messenger to you from among yourselves to warn you about Allah's Days (His torment) and meeting with Him. Rather than wondering, you should thank Allah for this bounty.
وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ
("And remember that He made you successors (generations after generations) after the people of Nuh...") meaning, remember Allah's favor on you in that He made you among the offspring of Nuh, because of whose supplication Allah destroyed the people of the earth after they defied and opposed him.
وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً
("and increased you amply in stature.") making you taller than other people. Similarly, Allah said in the description of Talut (Saul),
وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ
(And has increased him abundantly in knowledge and stature.)[2:247] Hud continued,
فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّهِ
("So remember the graces (bestowed upon you) from Allah.") in reference to Allah's favors and blessings
لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
("so that you may be successful.")
Tafsir Ibn Kathir
ہود ؑ اور ان کا رویہ !فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف حضرت نوح کو ہم نے بھیجا تھا قوم عاد کی طرف حضرت ہود ؑ کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔ فرمان ہے آیت (الم تر کف فعل ربک بعاد ارم ذات العماد التی لم یخلق مثلھا فی البلاد) یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا ؟ جو بلند قامت تھے دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ یہ لوگ بڑے قوی طاقتور اور لانبے چوڑے قد کے تھے جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے ؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقینا ان سے زیادہ طاقت والا ہے۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے ان کے شہر یمن میں احقاف تھے، یہ ریتلے پہاڑ تھے۔ حضرت علی نے حضرت موت کے ایک شخص سے کہا کہ تو نے ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہوگا جس میں سرخ رنگ کی راکھ جیسی مٹی ہے اس کے آس پاس پیلو اور بیری کے درخت بکثرت ہیں وہ ٹیلہ فلاں جگہ حضرموت میں ہے اس نے کہا امیر المومنین آپ تو اس طرح کے نشان بتا رہے ہیں گویا آپ نے بچشم خود دیکھا ہے آپ نے فرمایا نہیں دیکھا تو نہیں لیکن ہاں مجھ تک حدیث پہنچی ہے کہ وہیں حضرت ہود ؑ کی قبر ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں اسی لئے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے اس لئے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کو بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہوگیا ہے ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی عبادت کی دعوت کیوں دی ؟ حضرت ہود نے انہیں جواب دیا کہ مجھ میں تو بیوقوفی کی بفضلہ کوئی بات نہیں۔ میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانتداری کا نمونہ بننا۔ تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈراوے۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا۔ تمہیں باقی رکھا اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل، مضبوط اور طاقتور کردیا۔ یہی نعمت حضرت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی۔ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کرسکو۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: وَكَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى قَوْمِ نُوحٍ نُوحًا، كَذَلِكَ أَرْسَلْنَا إِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: هُمْ [مِنْ] [[زيادة من م.]] وَلَدِ عَادِ بْنِ إِرَمَ بْنِ عَوْصَ بْنِ سَامَ بْنِ نُوحٍ.
قُلْتُ: وَهَؤُلَاءِ هُمْ عَادٌ الْأُولَى، الَّذِينَ ذَكَرَهُمُ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] وَهُمْ أَوْلَادُ عَادِ بْنِ إِرَمَ الَّذِينَ كَانُوا يَأْوُونَ إِلَى العَمَد فِي الْبَرِّ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ * إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ * الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلادِ﴾ [الْفَجْرِ:٦-٨] وَذَلِكَ لِشِدَّةِ بَأْسِهِمْ وَقُوَّتِهِمْ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الأرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ﴾ [فُصِّلَتْ:١٥] .
وَقَدْ كَانَتْ مَسَاكِنُهُمْ باليمن بالأحقاف، وهي جبال الرمل.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] يَقُولُ لِرَجُلٍ مِنْ حَضْرَمَوْتَ: هَلْ رَأَيْتَ كَثِيبًا أَحْمَرَ تُخَالِطُهُ مَدَرَة حَمْرَاءُ ذَا أرَاكٍ وسدْر كَثِيرٍ بِنَاحِيَةِ كَذَا وَكَذَا مِنْ أَرْضِ حَضْرَمَوْتَ، هَلْ رَأَيْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَنْعَتُهُ نعتَ رَجُلٍ قَدْ رَآهُ. قَالَ: لَا وَلَكِنِّي قَدْ حدِّثتُ عَنْهُ. فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: وَمَا شَأْنُهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: فِيهِ قبرُ هُودٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ [[تفسير الطبري (١٢/٥٠٧) .]] وَهَذَا فِيهِ فَائِدَةٌ أَنَّ مَسَاكِنَهُمْ كَانَتْ بِالْيَمَنِ، وَأَنَّ هُودًا، عَلَيْهِ السَّلَامُ، دُفِنَ هُنَاكَ، وَقَدْ كَانَ مِنْ أَشْرَفِ [[في م، ك: "أشراف".]] قَوْمِهِ نَسَبًا؛ لِأَنَّ الرُّسُلَ [صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ] [[زيادة من أ.]] إِنَّمَا يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ مِنْ أَفْضَلِ الْقَبَائِلِ وَأَشْرَفِهِمْ، وَلَكِنْ كَانَ قَوْمُهُ كَمَا شُدّد خَلْقُهُمْ شُدِّد عَلَى قُلُوبِهِمْ، وَكَانُوا مِنْ أَشَدِّ الْأُمَمِ تَكْذِيبًا لِلْحَقِّ؛ وَلِهَذَا دَعَاهُمْ هُودٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَإِلَى طَاعَتِهِ وَتَقْوَاهُ.
﴿قَالَ الْمَلأ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ﴾ -وَالْمَلَأُ هُمَ: الْجُمْهُورُ وَالسَّادَةُ وَالْقَادَةُ مِنْهُمْ -: ﴿إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ﴾ أَيْ: فِي ضَلَالَةٍ حَيْثُ دَعَوْتَنَا إِلَى تَرْكِ عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ، وَالْإِقْبَالِ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ [لَا شَرِيكَ لَهُ] [[زيادة من ك.]] كَمَا تَعَجَّبَ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ مِنَ الدَّعْوَةِ إِلَى إِلَهٍ وَاحِدٍ ﴿فَقَالُوا﴾ ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا [إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ [[زيادة من ك، م. وفي هـ: "الآية"]] ] ﴾ [ص: ٥] .
﴿قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ وَلَكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ أي: ليست كَمَا تَزْعُمُونَ، بَلْ جِئْتُكُمْ بِالْحَقِّ مِنَ اللَّهِ الَّذِي خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ، فَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكُهُ ﴿أُبَلِّغُكُمْ رِسَالاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ﴾ وَهَذِهِ الصِّفَاتُ الَّتِي يَتَّصِفُ بِهَا الرُّسُلُ الْبَلَاغَةُ وَالنُّصْحُ وَالْأَمَانَةُ.
﴿أَوَعَجِبْتُمْ أَنْ جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ﴾ أَيْ: لَا تَعْجَبُوا أَنْ بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ أَيَّامَ اللَّهِ وَلِقَاءَهُ، بَلِ احْمَدُوا اللَّهَ عَلَى ذَاكُمْ، ﴿وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ﴾ أَيْ: وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَكُمْ مِنْ ذُرِّيَّةِ نُوحٍ، الَّذِي أَهْلَكَ اللَّهُ أَهْلَ الْأَرْضِ بِدَعْوَتِهِ، لَمَّا خَالَفُوهُ وَكَذَّبُوهُ، ﴿وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً﴾ أَيْ: زَادَ طُولَكُمْ عَلَى النَّاسِ بَسْطَةً، أَيْ: جَعَلَكُمْ أَطْوَلَ مِنْ أَبْنَاءِ جِنْسِكُمْ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: فِي قِصَّةِ طَالُوتَ: ﴿وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ﴾ [الْبَقَرَةِ:٢٤٧] ﴿فَاذْكُرُوا آلاءَ اللَّهِ﴾ أَيْ: نِعَمَهُ ومنَنه عَلَيْكُمْ ﴿لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ [وَآلَاءُ جمع ألى وقيل: إلى] [[زيادة من ك، م.]]
أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَآءَكُمْ ذِكْرٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍۢ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ ۚ وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍۢ وَزَادَكُمْ فِى ٱلْخَلْقِ بَصْۜطَةًۭ ۖ فَٱذْكُرُوٓا۟ ءَالَآءَ ٱللَّهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
Then do you wonder that there has come to you a reminder from your Lord through a man from among you, that he may warn you? And remember when He made you successors after the people of Noah and increased you in stature extensively. So remember the favors of Allah that you might succeed.
کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو تو کرو جب اس نے تم کو قوم نوح کے بعد سردار بنایا۔ اور تم کو پھیلاؤ زیادہ دیا۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو۔ تاکہ نجات حاصل کرو
آیا تعجّب کردهاید که دستور آگاه کننده پروردگارتان به وسیله مردی از میان شما به شما برسد تا (از مجازات الهی) بیمتان دهد؟! و به یاد آورید هنگامی که شما را جانشینان قوم نوح قرار داد؛ و شما را از جهت خلقت (جسمانی) گسترش (و قدرت) داد؛ پس نعمتهای خدا را به یاد آورید، شاید رستگار شوید!»
Tafsir Ibn Kathir
And to 'Ad (the people, We sent) their brother Hud. He said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Will you then not have Taqwa? (65)The leaders of those who disbelieved among his people said: "Verily, we see you in foolishness, and verily, we think you are one of the liars. (66)(Hud) said: "O my people! There is no foolishness in me, but (I am) a Messenger from the Lord of all that exists (67)"I convey unto you the Messages of my Lord, and I am a trustworthy adviser (or well-wisher) for you (68)"Do you wonder that there has come to you a Reminder (and an advice) from your Lord through a man from among you to warn you? And remember that He made you successors (generations after generations) after the people of Nuh and increased you amply in stature. So remember the graces (bestowed upon you) from Allah so that you may be successful. (69)
The Story of Hud, Peace be upon Him, and the Lineage of the People of 'Ad
Allah says, just as We sent Nuh to his people, similarly, to the 'Ad people, We sent Hud one of their own brethren. Muhammad bin Ishaq said that the tribe of 'Ad were the descendants of 'Ad, son of Iram, son of 'Aws, son of Sam, son of Nuh. I say, these are indeed the ancient people of 'Ad whom Allah mentioned, the children of 'Ad, son of Iram who were living in the deserts with lofty pillars or statues. Allah said,
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ
(Have you not seen how your Lord dealt with 'Ad (people). Of Iram like (lofty) pillars. The like of which were not created in the land?)[89:6-8] because of their might and strength. Allah said in another instance,
فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ
(As for 'Ad, they were arrogant in the land without right, and they said: "Who is mightier than us in strength?" See they not that Allah Who created them was mightier in strength than them. And they used to deny Our Ayat!)[41:15].
The Land of 'Ad
The people of 'Ad lived in Yemen, in the area of Ahqaf, which means sand mounds. Muhammad bin Ishaq narrated that Abu At-Tufayl 'Amir bin Wathilah said that he heard 'Ali (bin Abi Talib) saying to a man from Hadramawt (in Yemen), "Have you seen a red sand mound, where there are a lot of Arak and Lote trees in the area of so-and-so in Hadramawt? Have you seen it?" He said, "Yes, O Commander of the faithful! By Allah, you described it as if you have seen it before." 'Ali said, 'I have not seen it, but it was described to me." The man asked, "What about it, O Commander of the faithful?" 'Ali said, "There is the grave of Hud, peace be upon him, in its vicinity." Ibn Jarir recorded this statement, which gives the benefit of indicating that 'Ad used to live in Yemen, since Prophet Hud was buried there. Prophet Hud was among the noble men and chiefs of 'Ad, for Allah chose the Messengers from among the best, most honorable families and tribes. Hud's people were mighty and strong, but their hearts were mighty and hard, for they were among the most denying of Truth among the nations. Prophet Hud called 'Ad to worship Allah alone without partners, and to obey and fear Him.
Debate between Hud and his People
قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ
(The leaders of those who disbelieved among his people said...) meaning, the general public, chiefs, masters and commanders of his people said,
إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ
("Verily, we see you in foolishness, and verily, we think you are one of the liars") meaning, you are misguided because you call us to abandon worshipping the idols in order to worship Allah Alone. Similarly, the chiefs of Quraysh wondered at the call to worship One God, saying,
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا
("Has he (Muhammad) made the gods (all) into One God?")[38:5].
قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ وَلَٰكِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ
((Hud) said: "O my people! There is no foolishness in me, but (I am) a Messenger from the Lord of all that exists!")
Hud said, I am not as you claim. Rather, I brought you the Truth from Allah, Who created everything, and He is the Lord and King of all things,
أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ
("I convey unto you the Messages of my Lord, and I am a trustworthy adviser for you.")
These, indeed, are the qualities of the Prophets: conveying, sincerity and honesty,
أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ
("Do you wonder that there has come to you a Reminder from your Lord through a man from among you to warn you?")
Prophet Hud said, do not wonder because Allah sent a Messenger to you from among yourselves to warn you about Allah's Days (His torment) and meeting with Him. Rather than wondering, you should thank Allah for this bounty.
وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ
("And remember that He made you successors (generations after generations) after the people of Nuh...") meaning, remember Allah's favor on you in that He made you among the offspring of Nuh, because of whose supplication Allah destroyed the people of the earth after they defied and opposed him.
وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً
("and increased you amply in stature.") making you taller than other people. Similarly, Allah said in the description of Talut (Saul),
وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ
(And has increased him abundantly in knowledge and stature.)[2:247] Hud continued,
فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّهِ
("So remember the graces (bestowed upon you) from Allah.") in reference to Allah's favors and blessings
لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
("so that you may be successful.")
Tafsir Ibn Kathir
ہود ؑ اور ان کا رویہ !فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف حضرت نوح کو ہم نے بھیجا تھا قوم عاد کی طرف حضرت ہود ؑ کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔ فرمان ہے آیت (الم تر کف فعل ربک بعاد ارم ذات العماد التی لم یخلق مثلھا فی البلاد) یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا ؟ جو بلند قامت تھے دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ یہ لوگ بڑے قوی طاقتور اور لانبے چوڑے قد کے تھے جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے ؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقینا ان سے زیادہ طاقت والا ہے۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے ان کے شہر یمن میں احقاف تھے، یہ ریتلے پہاڑ تھے۔ حضرت علی نے حضرت موت کے ایک شخص سے کہا کہ تو نے ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہوگا جس میں سرخ رنگ کی راکھ جیسی مٹی ہے اس کے آس پاس پیلو اور بیری کے درخت بکثرت ہیں وہ ٹیلہ فلاں جگہ حضرموت میں ہے اس نے کہا امیر المومنین آپ تو اس طرح کے نشان بتا رہے ہیں گویا آپ نے بچشم خود دیکھا ہے آپ نے فرمایا نہیں دیکھا تو نہیں لیکن ہاں مجھ تک حدیث پہنچی ہے کہ وہیں حضرت ہود ؑ کی قبر ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں اسی لئے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے اس لئے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کو بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہوگیا ہے ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی عبادت کی دعوت کیوں دی ؟ حضرت ہود نے انہیں جواب دیا کہ مجھ میں تو بیوقوفی کی بفضلہ کوئی بات نہیں۔ میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانتداری کا نمونہ بننا۔ تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈراوے۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا۔ تمہیں باقی رکھا اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل، مضبوط اور طاقتور کردیا۔ یہی نعمت حضرت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی۔ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کرسکو۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: وَكَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى قَوْمِ نُوحٍ نُوحًا، كَذَلِكَ أَرْسَلْنَا إِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: هُمْ [مِنْ] [[زيادة من م.]] وَلَدِ عَادِ بْنِ إِرَمَ بْنِ عَوْصَ بْنِ سَامَ بْنِ نُوحٍ.
قُلْتُ: وَهَؤُلَاءِ هُمْ عَادٌ الْأُولَى، الَّذِينَ ذَكَرَهُمُ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] وَهُمْ أَوْلَادُ عَادِ بْنِ إِرَمَ الَّذِينَ كَانُوا يَأْوُونَ إِلَى العَمَد فِي الْبَرِّ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ * إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ * الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلادِ﴾ [الْفَجْرِ:٦-٨] وَذَلِكَ لِشِدَّةِ بَأْسِهِمْ وَقُوَّتِهِمْ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الأرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ﴾ [فُصِّلَتْ:١٥] .
وَقَدْ كَانَتْ مَسَاكِنُهُمْ باليمن بالأحقاف، وهي جبال الرمل.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] يَقُولُ لِرَجُلٍ مِنْ حَضْرَمَوْتَ: هَلْ رَأَيْتَ كَثِيبًا أَحْمَرَ تُخَالِطُهُ مَدَرَة حَمْرَاءُ ذَا أرَاكٍ وسدْر كَثِيرٍ بِنَاحِيَةِ كَذَا وَكَذَا مِنْ أَرْضِ حَضْرَمَوْتَ، هَلْ رَأَيْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَنْعَتُهُ نعتَ رَجُلٍ قَدْ رَآهُ. قَالَ: لَا وَلَكِنِّي قَدْ حدِّثتُ عَنْهُ. فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: وَمَا شَأْنُهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: فِيهِ قبرُ هُودٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ [[تفسير الطبري (١٢/٥٠٧) .]] وَهَذَا فِيهِ فَائِدَةٌ أَنَّ مَسَاكِنَهُمْ كَانَتْ بِالْيَمَنِ، وَأَنَّ هُودًا، عَلَيْهِ السَّلَامُ، دُفِنَ هُنَاكَ، وَقَدْ كَانَ مِنْ أَشْرَفِ [[في م، ك: "أشراف".]] قَوْمِهِ نَسَبًا؛ لِأَنَّ الرُّسُلَ [صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ] [[زيادة من أ.]] إِنَّمَا يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ مِنْ أَفْضَلِ الْقَبَائِلِ وَأَشْرَفِهِمْ، وَلَكِنْ كَانَ قَوْمُهُ كَمَا شُدّد خَلْقُهُمْ شُدِّد عَلَى قُلُوبِهِمْ، وَكَانُوا مِنْ أَشَدِّ الْأُمَمِ تَكْذِيبًا لِلْحَقِّ؛ وَلِهَذَا دَعَاهُمْ هُودٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَإِلَى طَاعَتِهِ وَتَقْوَاهُ.
﴿قَالَ الْمَلأ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ﴾ -وَالْمَلَأُ هُمَ: الْجُمْهُورُ وَالسَّادَةُ وَالْقَادَةُ مِنْهُمْ -: ﴿إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ﴾ أَيْ: فِي ضَلَالَةٍ حَيْثُ دَعَوْتَنَا إِلَى تَرْكِ عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ، وَالْإِقْبَالِ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ [لَا شَرِيكَ لَهُ] [[زيادة من ك.]] كَمَا تَعَجَّبَ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ مِنَ الدَّعْوَةِ إِلَى إِلَهٍ وَاحِدٍ ﴿فَقَالُوا﴾ ﴿أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا [إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ [[زيادة من ك، م. وفي هـ: "الآية"]] ] ﴾ [ص: ٥] .
﴿قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ وَلَكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ أي: ليست كَمَا تَزْعُمُونَ، بَلْ جِئْتُكُمْ بِالْحَقِّ مِنَ اللَّهِ الَّذِي خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ، فَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكُهُ ﴿أُبَلِّغُكُمْ رِسَالاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ﴾ وَهَذِهِ الصِّفَاتُ الَّتِي يَتَّصِفُ بِهَا الرُّسُلُ الْبَلَاغَةُ وَالنُّصْحُ وَالْأَمَانَةُ.
﴿أَوَعَجِبْتُمْ أَنْ جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ﴾ أَيْ: لَا تَعْجَبُوا أَنْ بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ أَيَّامَ اللَّهِ وَلِقَاءَهُ، بَلِ احْمَدُوا اللَّهَ عَلَى ذَاكُمْ، ﴿وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ﴾ أَيْ: وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَكُمْ مِنْ ذُرِّيَّةِ نُوحٍ، الَّذِي أَهْلَكَ اللَّهُ أَهْلَ الْأَرْضِ بِدَعْوَتِهِ، لَمَّا خَالَفُوهُ وَكَذَّبُوهُ، ﴿وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً﴾ أَيْ: زَادَ طُولَكُمْ عَلَى النَّاسِ بَسْطَةً، أَيْ: جَعَلَكُمْ أَطْوَلَ مِنْ أَبْنَاءِ جِنْسِكُمْ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: فِي قِصَّةِ طَالُوتَ: ﴿وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ﴾ [الْبَقَرَةِ:٢٤٧] ﴿فَاذْكُرُوا آلاءَ اللَّهِ﴾ أَيْ: نِعَمَهُ ومنَنه عَلَيْكُمْ ﴿لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ [وَآلَاءُ جمع ألى وقيل: إلى] [[زيادة من ك، م.]]
قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ ٱللَّهَ وَحْدَهُۥ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا ۖ فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ
They said, "Have you come to us that we should worship Allah alone and leave what our fathers have worshipped? Then bring us what you promise us, if you should be of the truthful."
وہ کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا ہی کی عبادت کریں۔ اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں ان کو چھوڑ دیں؟ تو اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے لے آؤ
گفتند: «آیا به سراغ ما آمدهای که تنها خدای یگانه را بپرستیم، و آنچه را پدران ما میپرستند، رها کنیم؟! پس اگر راست میگوئی آنچه را (از بلا و عذاب الهی) به ما وعده میدهی، بیاور»!
Tafsir Ibn Kathir
They said: "You have come to us that we should worship Allah Alone and forsake that which our fathers used to worship. So bring us that wherewith you have threatened us if you are of the truthful. (70)(Hud) said: "Rijs (torment) and wrath have already fallen on you from your Lord. Dispute you with me over names which you have named – you and your fathers – with no authority from Allah? Then wait, I am with you among those who wait. (71)So We saved him and those who were with him out of mercy from Us, and We severed the roots of those who belied Our Ayat; and they were not believers (72)
Allah mentions the rebellion, defiance and stubbornness of Hud's people, and their opposition to him, peace be upon him,
قَالُوا أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ
(They said: "You have come to us that we should worship Allah Alone?") Later on, the disbelievers of Quraysh said,
وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(And (remember) when they said: "O Allah! If this (the Qur'an) is indeed the truth (revealed) from You, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment.")[8:32]
Muhammad bin Ishaq said that the people of Hud used to worship several idols, such as Suda', Samud and Al-Haba'. This is why Hud, peace be upon him, said to them,
قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ
("Rijs and wrath have already fallen on you from your Lord.") you deserve 'Rijs' from your Lord because of what you said. Ibn 'Abbas said that, 'Rijs', means scorn and anger.
أَتُجَادِلُونَنِي فِي أَسْمَاءٍ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم
("Dispute you with me over names which you have named – you and your fathers")[7:71].
Hud said, do you dispute with me over these idols that you and your fathers made gods, even though they do not bring harm or benefit; did Allah give you authority or proof allowing you to worship them? Hud further said,
مَّا نَزَّلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ فَانتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِينَ
("with no authority from Allah? Then wait, I am with you among those who wait.") this is a threat and warning from the Messenger to his people.
The End of 'Ad
So Allah said;
فَأَنجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَمَا كَانُوا مُؤْمِنِينَ
(So We saved him and those who were with him out of mercy from Us, and We severed the roots of those who belied Our Ayat; and they were not believers.)
Allah mentioned several times in the Qur'an, the way the people of 'Ad were destroyed stating that He sent a barren wind that destroyed everything it passed by. Allah said in another Ayah,
وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ - سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ - فَهَلْ تَرَىٰ لَهُم مِّن بَاقِيَةٍ
(And as for 'Ad, they were destroyed by a furious violent wind! They were subjected to it for seven nights and eight days in succession, so that you could see men lying overthrown (destroyed), as if they were hollow trunks of date palms! Do you see any remnants of them?)[69:6-8]
When 'Ad rebelled and transgressed, Allah destroyed them with a strong wind that carried them, one by one, up in the air and brought each one of them down on his head, thus smashing his head and severing it from its body. This is why Allah said,
كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ
(as if they were hollow trunks of date palms!)[69:7]
Muhammad bin Ishaq said that 'Ad used to live in Yemen between Oman and Hadramawt. They also spread throughout the land and defeated various peoples, because of the strength that Allah gave them. They used to worship idols instead of Allah, and Allah sent to them Prophet Hud, peace be upon him. He was from their most common lineage and was the best among them in status. Hud commanded them to worship Allah Alone and associate none with him. He also ordered them to stop committing injustice against the people. But they rejected him and ignored his call. They said, 'Who is stronger than us?' Some of them, however, followed Hud, although they were few and had to conceal their faith. When 'Ad defied the command of Allah, rejected His Prophet, committed mischief in the earth, became arrogant and built high palaces on every high place – without real benefit to them – Hud spoke to them, saying,
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ - وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ - وَإِذَا بَطَشْتُم بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ - فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
("Do you build high palaces on every high place, while you do not live in them? And do you get for yourselves palaces (fine buildings) as if you will live therein forever. And when you seize (somebody), seize you (him) as tyrants? Have Taqwa of Allah, and obey me.")[26:128-131] However,
قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ - إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ
(They said: "O Hud! No evidence have you brought us, and we shall not leave our gods for your (mere) saying! And we are not believers in you. All that we say is that some of our gods have seized you with evil.") meaning, madness,
قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ - إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(He said: "I call Allah to witness, and bear you witness that I am free from that which you associate with Him. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on the straight path (the truth).")[11:53-56]."
Story of the Emissary of 'Ad
Imam Ahmad recorded that Al-Harith Al-Bakri said: "I went to the Messenger of Allah ﷺ to complain to him about Al-'Ala bin Al-Hadrami. When I passed by the area of Ar-Rabdhah, I found an old woman from Bani Tamim who was alone in that area. She said to me, "O servant of Allah! I need to reach the Messenger of Allah ﷺ to ask him for some of my needs, will you take me to him?" So I took her along with me to Al-Madinah and found the Masjid full of people. I also found a black flag raised high, while Bilal was holding a sword before the Messenger of Allah ﷺ. I asked, "What is the matter with the people?" They said, "The Prophet ﷺ intends to send 'Amr bin Al-'As (on a military expedition) somewhere." So I sat down. When the Prophet ﷺ went to his house, I asked for permission to see him, and he gave me permission. I entered and greeted him. He said, "Was there a dispute between you and Bani Tamim?" I said, "Yes. And we had been victorious over them. I passed by an old woman from Bani Tamim, who was alone, and she asked me to bring her to you, and she is at the door". So he allowed her in and I said, "O Allah's Messenger! What if you make a barrier between us and (the tribe of) Bani Tamim, such as Ad-Dahna' (Desert)?" The old woman became angry and opposed me. So I said, "My example is the example of a sheep that carried its own destruction. I carried this woman and did not know that she was an opponent. I seek refuge with Allah and His Messenger that I become like the emissary of 'Ad.' So the Prophet ﷺ asked me about the emissary of 'Ad, having better knowledge in it, but he liked to hear the story again. I said, "Once, 'Ad suffered from a famine and they sent an emissary [to get relief], whose name was Qayl. Qayl passed by Mu'awiyah bin Bakr and stayed with him for a month. Mu'awiyah supplied him with alcoholic drinks, and two female singers were singing for him. When a month ended, Qayl went to the mountains of Muhrah and said, 'O Allah! You know that I did not come here to cure an ill person or to ransom a prisoner. O Allah! Give 'Ad water as You used to.' So black clouds came and he was called, 'Choose which one of them you wish (to go to 'Ad)!' So he pointed to one of the black clouds and he heard someone proclaiming from it, 'Take it, as ashes that will leave none in 'Ad.' And it has been conveyed to me that the wind sent to them was no more than what would pass through this ring of mine, but it destroyed them." Abu Wa'il said, "That is true. When a man or a woman would send an emissary, they would tell him, 'Do not be like the emissary of 'Ad (bringing disaster and utter destruction to them instead of relief).," Imam Ahmad collected this story in the Musnad. At-Tirmidhi recorded similar wording for it, as did An-Nasa'i and Ibn Majah.
Tafsir Ibn Kathir
قوم عاد کا باغیانہ رویہ قوم عاد کی سرکشی، تکبر، ضد اور عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے حضرت ہود ؑ سے کہا کہ کیا آپ کی تشریف آوری کا مقصد یہی ہے کہ ہم اللہ واحد کے پرستار بن جائیں اور باپ دادوں کے پرانے معبودوں سے روگردانی کرلیں ؟ سنو اگر یہی مقصود ہے تو اسکا پورا ہونا محال ہے۔ ہم تیار ہیں اگر تم سچے ہو تو اپنے اللہ سے ہمارے لئے عذاب طلب کرو۔ یہی کفار مکہ نے کہا تھا کہنے لگے کہ یا اللہ محمد کا کہا حق ہے اور وہ واقعی تیرا کلام ہے اور ہم نہیں مانتے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور سخت المناک عذاب ہمیں کر۔ قوم عاد کے بتوں کے نام یہ ہیں صمد۔ صمودھبا۔ ان کی اس ڈھٹائی کے مقابلے میں اللہ کا عذاب اور اس کا غضب ثابت ہوگیا۔ رجس سے مراد رجز یعنی عذاب ہے ناراضی اور غصے کے معنی یہی ہیں۔ پھر فرمایا کہ تم ان بتوں کی بابت مجھ سے جھگڑ رہے ہو جن کے نام بھی تم نے خود رکھے ہیں یا تمہارے بڑوں نے۔ اور خواہ مخواہ بےوجہ انہیں معبود سمجھ بیٹھے ہو یہ پتھر کے ٹکڑے محض بےضرر اور بےنفع ہیں۔ نہ اللہ نے ان کی عبادت کی کوئی دلیل اتاری ہے۔ ہاں اگر تم مقابلے پر اتر ہی آئے ہو تو منتظر رہو میں بھی منتظر ہوں ابھی معلوم ہوجائے گا کہ مقبول بارگاہ رب کون ہے اور مردود بارگاہ کون ہے ؟ کون مستحق عذاب ہے اور کون قابل ثواب ہے ؟ آخر ہم نے اپنے نبی کو اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو نجات دی اور کافروں کی جڑیں کاٹ دیں۔ قرآن کریم کے کئی مقامات پر جناب باری عزوجل نے ان کی تباہی کی صورت بیان فرمائی ہے کہ ان پر خیر سے خالی، تند اور تیز ہوائیں بھیجی گئیں جس نے انہیں اور ان کی تمام چیزوں کو غارت اور برباد کردیا۔ عاد لوگ بڑے زنا ٹے کی سخت آندھی سے ہلاک کردیئے گئے جو ان پر برابر سات رات اور آٹھ دن چلتی رہی۔ سارے کے سارے اس طرح ہوگئے جیسے کھجور کے درختوں کے تنے الگ ہوں اور شاخیں الگ ہوں۔ دیکھ لے ان میں سے ایک بھی اب نظر آ رہا ہے ؟ ان کی سرکشی کی سزا میں سرکش ہوا ان پر مسلط کردی گئی جو ان میں سے ایک ایک کو اٹھا کر آسمان کی بلندی کی طرف لے جاتی اور وہاں سے گراتی جس سے سر الگ ہوجاتا دھڑ الگ گر جاتا۔ یہ لوگ یمن کے ملک میں، عمان اور حضرموت میں رہتے تھے، ادھر ادھر نکلتے اور لوگوں کو مار پیٹ کی جبراً و قہراً ان کے ملک و مال پر غاصبانہ قبضہ کرلیتے۔ سارے کے سارے بت پرست تھے۔ حضرت ہود جو ان کے شریف خاندانی شخص تھے ان کے پاس رب کی رسالت لے کر آئے، اللہ کی توحید کا حکم دیا، شرک سے روکا لوگوں پر ظلم کرنے کی برائی سمجھائی لیکن انہوں نے اس نصیحت کو قبول نہ کیا۔ مقابلے پر تن گئے اور اپنی قوت سے حق کو دبانے لگے۔ گو بعض لوگ ایمان لائے تھے لیکن وہ بھی بیچارے جان کے خوف سے پوشیدہ رکھے ہوئے تھے۔ باقی لوگ بد ستور اپنی بےایمانی اور ناانصافی پر جمے رہے، خواہ مخواہ فوقیت ظاہر کرنے لگے، بیکار عمارتیں بناتے اور پھولے نہ سماتے۔ ان سب کاموں کو اللہ کے رسول ناپسند فرماتے، انہیں روکتے، تقوے کی، اطاعت کی ہدایت کرتے لیکن یہ کبھی تو انہیں بےدلیل بتاتے، کبھی انہیں مجنوں کہتے۔ آپ اپنی برات ظاہر کرتے اور ان سے صاف فرماتے کہ مجھے تمہاری قوت طاقت کا مطلقاً خوف نہیں جاؤ تم سے جو ہو سکے کرلو۔ میرا بھروسہ اللہ پر ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی بھروسے کے لائق نہ عبادت کے قابل ساری مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لا چار ہے۔ سچی راہ اللہ کی راہ ہے۔ آخر جب یہ اپنی برائیوں سے باز نہ آئے تو ان پر بارش نہ برسائی گئی تین سال تک قحط سالی رہی۔ عاجز ہوگئے تنگ آگئے آخر یہ سوچا کہ چند آدمیوں کو بیت اللہ شریف بھیجیں وہ وہاں جا کر اللہ سے دعائیں کریں۔ یہی ان کا دستور تھا کہ جب کسی مصیبت میں پھنس جاتے تو وہاں وفد بھیجتے اس وقت ان کا قبیلہ عمالیق حرم شریف میں بھی رہتا تھا یہ لوگ عملیق بن آدم بن سام بن نوح کی نسل میں سے تھے ان کا سردار اس زمانے میں معاویہ بن بکر تھا۔ اس کی ماں قوم عاد سے تھی جس کا نام جاہدہ بنت خبیری تھا عادیوں نے اپنے ہاں سے ستر شخصوں کو منتخب کر کے بطور وفد مکہ شریف کو روانہ کیا۔ یہاں آ کر یہ معاویہ کے مہمان بنے۔ پر تکلف دعوتوں کے اڑانے، شراب خوری کرنے اور معاویہ کی دو لونڈیوں کا گانا سننے میں اس بےخودی سے مشغول ہوگئے کہ کامل ایک مہینہ گذر گیا۔ انہیں اپنے کام کی طرف مطلق توجہ نہ ہوئی۔ معاویہ ان کی یہ روش دیکھ کر اور اپنی قوم کی بری حالت سامنے رکھ کر بہت کڑھتا تھا لیکن یہ مہمان نوازی کے خلاف تھا کہ خود ان سے کہتا کہ جاؤ۔ اس لئے اس نے کچھ اشعار لکھے اور ان ہی دونوں کنیزوں کو یاد کرائے کہ وہ یہی گا کر انہیں سنائیں۔ ان شعروں کا مضمون یہ تھا کہ اے لوگو جو قوم کی طرف سے اللہ سے دعائیں کرنے کے لئے بھیجے گئے ہو کہ اللہ عادیوں پر بارش برسائے جو آج قہط سالی کی وجہ سے تباہ ہوگئے ہیں بھوکے پیاسے مر رہے ہیں بڈھے بچے مرد عورتیں تباہ حال پھر رہے ہیں یہاں تک کہ بولنا چالنا ان پر دو بھر ہوگیا ہے۔ جنگلی جانور ان کی آبادیوں میں پھر رہے ہیں کیونکہ کسی آدمی میں اتنی قوت کہاں کہ وہ تیر چلا سکے۔ لیکن افسوس کہ تم یہاں اپنے من مانے مشغلوں میں منہمک ہوگئے اور بےفائدہ وقت ضائع کرنے لگے۔ تم سے زیادہ برا وفد دنیا میں کوئی نہ ہوگا یاد رکھو اگر اب بھی تم نے مستعدی سے قومی خدمت نہ کی تو تم برباد اور غارت ہوجاؤ گے۔ یہ سن کر ان کے کان کھڑے ہوئے یہ حرم میں گئے اور دعائیں مانگنا شروع کیں اللہ تعالیٰ نے تین بادل ان کے سامنے پیش کئے ایک سفید ایک سیاہ ایک سرخ اور ایک آواز آئی کہ ان میں سے ایک اختیار کرلو اس نے سیاہ بادل پسند کیا آوز آئی کہ تو نے سیاہ پسند کیا جو عادیوں میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑے گا نہ باپ کو نہ بیٹے کو سب کو غارت کر دے گا سوائے بنو لویزیہ کے۔ یہ بنو لویزیہ بھی عادیوں کا ایک قبیلہ تھا جو مکہ میں مقیم تھے ان پر وہ عذاب نہیں آئے تھے یہی باقی رہے اور انہی میں سے عاد اخری ہوئے۔ اس وفد کے سردار نے سیاہ بادل پسند کیا تھا جو اسی وقت عادیوں کی طرف چلا۔ اس شخص کا نام قیل بن غز تھا۔ جب یہ بادل عادیوں کے میدان میں پہنچا جس کا نام مغیث تھا تو اسے دیکھ وہ لوگ خوشیاں منانے لگے کہ اس ابر سے پانی ضرور برسے گا حالانکہ یہ وہ تھا جس کی یہ لوگ نبی کے مقابلہ میں جلدی مچا رہے تھے جس میں المناک عذاب تھا جو تمام چیزوں کو فنا کردینے والا تھا۔ سب سے پہلے اس عذاب الوہی کو ایک عورت نے دیکھا جس کا نام ممید تھا یہ چیخ مار کر بیہوش ہوگئی۔ جب ہوش آئی تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تو نے کیا دیکھا ؟ اس نے کہا آگ کا بگولہ جو بصورت ہوا تھا جسے فرشتے گھسیٹے لئے چلے آتے تھے۔ برابر سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ آگ والی ہوا ان پر چلتی رہی اور عذاب کا بادل ان پر برستا رہا۔ تمام عادیوں کا ستیاناس ہوگیا۔ حضرت ہود ؑ اور آپ کے مومن ساتھی ایک باغیچے میں چلے گئے وہاں اللہ نے انہیں محفوظ رکھا وہی ہوا ٹھنڈی اور بھینی بھینی ہو کر ان کے جسموں کو لگتی رہی جس سے روح کو تازگی اور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچتی رہی۔ ہاں عادیوں پر اس ہوا نے سنگباری شروع کردی، ان کے دماغ پھٹ گئے۔ آخر انہیں اٹھا اٹھا کر دے پٹخا سر الگ ہوگئے دھڑ الگ جا پڑے یہ ہوا سوار کو سواری سمیت ادھر اٹھا لیتی تھی اور بہت اونچے لے جا کر اسے اوندھا دے پٹختی تھی۔ یہ سیاق بہت غریب ہے اور اس میں بہت سے فوائد ہیں۔ عذاب الٰہی کے آجانے سے حضرت ہود کو اور مومنوں کو نجات مل گئی رحمت حق ان کے شامل حال رہی اور باقی کفار اس بدترین سزا میں گرفتار ہوئے۔ مسند احمد میں ہے حضرت حارث بکری ؓ فرماتے ہیں میں اپنے ہاں سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں علا بن حضرمی کی شکایت لے کر چلا جب میں ربذہ میں پہنچا تو بنو تمیم کی ایک بڑھیا لا چار ہو کر بیٹھی ہوئی ملی۔ مجھ سے کہنے لگی اے اللہ کے بندے مجھے سرکار رسالت مآب میں پہنچنا ہے۔ کیا تو میرے ساتھ اتنا سلوک کرے گا کہ مجھے دربار رسالت میں پہنچا دے ؟ میں نے کہا آؤ چناچہ میں نے اسے اپنے اونٹ پر بٹھا لیا اور مدینے پہنچا دیکھا کہ مسجد لوگوں سے بھری ہوئی ہے سیاہ جھنڈے لہرا رہے ہیں اور حضرت بلال ؓ آنحضرت ﷺ کے سامنے تلوار لٹکائے کھڑے ہیں میں نے پوچھا کیا بات ہے ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ حضرت عمرو بن عاص ؓ کی ماتحتی میں کہیں لشکر بھیجنے والے ہیں۔ میں تھوری دیر بیٹھا رہا اتنے میں حضور ﷺ اپنی منزل میں تشریف لے گئے۔ میں آپ کے پیچھے ہی گیا۔ اجازت طلب کی اجازت ملی جب میں نے اندر جا کر سلام کیا تو آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا کیا تم میں اور بنو تمیم میں کچھ چشمک ہے ؟ میں نے کہا حضور اس کے ذمہ دار وہی ہیں۔ میں اب حاضر خدمت ہو رہا تھا تو راستے میں قبیلہ تمیم کی ایک بڑھیا عورت مل گئی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی اس نے مجھ سے درخواست کی اور میں اسے اپنی سواری پر بٹھا کر یہاں لایا ہوں وہ دروازے پر بیٹھی ہوئی ہے۔ آپ نے اسے بھی اندر آنے کی اجازت دی۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کر دیجئے۔ اس پر بڑھیا تیز ہو کر بولی اگر آپ نے ایسا کردیا تو پھر آپ کے ہاں کے بےبس کہاں پناہ لیں گے ؟ میں نے کہا سبحان اللہ ! تیری اور میری تو وہی مثل ہوئی کہ بکری اپنی موت کو آپ اٹھا کرلے گئی، میں نے ہی تجھے یہاں پہنچایا، مجھے اس کے انجام کی کیا خبر تھی ؟ اللہ نہ کرے کہ میں بھی عادی قبیلے کے وفد کی طرح ہوجاؤں۔ تو حضور نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ بئی عادیوں کے وفد کا قصہ کیا ہے ؟ باوجود یہ کہ آپ کو مجھ سے زیادہ اس کا علم تھا لیکن یہ سمجھ کر کہ اس وقت آپ باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے قصہ شروع کردیا کہ حضور جس وقت عادیوں میں قحط سالی نمودار ہوئی تو انہوں نے قیل نامی ایک شخص کو بطور اپنے قاصد کے بیت اللہ شریف دعا وغیرہ کرنے کیلئے بھیجا۔ یہ معاویہ بن بکر کے ہاں آ کر مہمان بنا۔ یہاں شراب و کباب اور راگ رنگ میں ایسا مشغول ہوا کہ مہینے بھر تک جام لنڈھاتا رہا اور معاویہ کی دو لونڈیوں کے گانے سنتا رہا ان کا نام جرادہ تھا۔ مہینے بھر کے بعد مہرہ کے پہاڑوں پر گیا اور اللہ سے دعا مانگنے لگا کہ باری تعالیٰ میں کسی بیمار کی دوا کے لئے یا کسی قیدی کے فدیئے کے لئے نہیں آیا یا اللہ عادیوں کو تو وہ پلا جو پلایا کرتا تھا اتنے میں وہ دیکھتا ہے کہ چند سیاہ رنگ کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہیں ان میں سے ایک غیبی صدا آئی کہ ان میں سے جو تجھے پسند ہو قبول کرلے۔ اس نے سخت سیاہ بادل کو اختیار کیا اسی وقت دوسری آواز آئی کہ لے لے خاک راکھ جو عادیوں میں سے ایک کو بھی نہ چھوڑے۔ عادیوں پر ہوا کے خزانے میں سے صرف بقدر انگوٹھی کے حلقے کے ہوا چھوڑی گئی تھی جس نے سب کو غارت اور تہ وبالا کردیا۔ ابو وائل کہتے ہیں۔ یہ واقعہ سارے عرب میں ضرب المثل ہوگیا تھا جب لوگ کسی کو بطور وفد کے بھتیجے تھے تو کہہ دیا کرتے تھے کہ عادیوں کے وفد کی طرح نہ ہوجانا۔ اسی طرح مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے سنن کی اور کتابوں میں بھی یہ واقعہ موجود ہے۔ واللہ اعلم
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ تَمَرُّدِهِمْ وَطُغْيَانِهِمْ وَعِنَادِهِمْ وَإِنْكَارِهِمْ عَلَى هُودٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿قَالُوا أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ [وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ] ﴾ [[زيادة من ك، م، وفي هـ: الآية".]] كَمَا قَالَ الْكُفَّارُ مِنْ قُرَيْشٍ: ﴿وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ [الْأَنْفَالِ:٣٢]
وَقَدْ ذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُ: أَنَّهُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ أَصْنَامًا، فَصَنَمٌ يُقَالُ لَهُ: صُدَاء، وَآخَرُ يُقَالُ لَهُ: صمُود، وَآخَرُ يُقَالُ لَهُ: الْهَبَاءُ [[انظر: تفسير الطبري (١٢/٥٠٧) .]]
وَلِهَذَا قَالَ هُودٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ﴾ أَيْ: قَدْ وَجَبَ عَلَيْكُمْ بِمَقَالَتِكُمْ هَذِهِ مِنْ رَبِّكُمْ رِجْسٌ [وَغَضَبٌ] [[زيادة من م.]] قِيلَ: هُوَ مَقْلُوبٌ مِنْ رِجْزٍ. وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: مَعْنَاهُ السخَط وَالْغَضَبُ.
﴿أَتُجَادِلُونَنِي فِي أَسْمَاءٍ سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ﴾ أَيْ: أَتُحَاجُّونِي [[في م، د: "أتجادلونني".]] فِي هَذِهِ الْأَصْنَامِ الَّتِي سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ آلِهَةً، وَهِيَ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَا جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ عَلَى عِبَادَتِهَا حُجَّةً وَلَا دَلِيلًا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿مَا نزلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ فَانْتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ﴾
وَهَذَا تَهْدِيدٌ وَوَعِيدٌ مِنَ الرَّسُولِ لِقَوْمِهِ؛ وَلِهَذَا عَقَّبَ بُقُولِهِ: ﴿فَأَنْجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَمَا كَانُوا مُؤْمِنِينَ﴾
وَقَدْ ذَكَرَ اللَّهُ، سُبْحَانَهُ، صِفَةَ إِهْلَاكِهِمْ فِي أَمَاكِنَ أُخَرَ مِنَ الْقُرْآنِ، بِأَنَّهُ أَرْسَلَ عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ، مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيمِ، كَمَا قَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ * سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ * فَهَلْ تَرَى لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ﴾ [الْحَاقَّةُ:٦-٨] لَمَّا تَمَرَّدُوا وَعَتَوْا أَهْلَكَهُمُ اللَّهُ بِرِيحٍ عَاتِيَةٍ، فَكَانَتْ تَحْمِلُ الرَّجُلَ مِنْهُمْ فَتَرْفَعُهُ فِي الْهَوَاءِ ثُمَّ تُنَكِّسُهُ عَلَى أُمِّ رَأْسِهِ فتثلغُ رَأْسَهُ حَتَّى تُبينه من بين جُثَّتِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ﴾
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: كَانُوا يَسْكُنُونَ بِالْيَمَنِ مِنْ [[في م، ك: "بين".]] عَمَّانَ وَحَضْرَمَوْتَ، وَكَانُوا مَعَ ذَلِكَ قَدْ فَشَوْا فِي الْأَرْضِ وَقَهَرُوا أَهْلَهَا، بِفَضْلِ قُوَّتِهِمُ الَّتِي آتَاهُمُ اللَّهُ، وَكَانُوا أَصْحَابَ أَوْثَانٍ يَعْبُدُونَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ، فَبَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِمْ هُودًا، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهُوَ مِنْ أَوْسَطِهِمْ نَسَبًا، وَأَفْضَلِهِمْ مَوْضِعًا، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ وَلَا يَجْعَلُوا مَعَهُ إِلَهًا غَيْرَهُ، وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْ ظُلْمِ النَّاسِ، فَأَبَوْا عَلَيْهِ وَكَذَّبُوهُ، وَقَالُوا: مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً؟ وَاتَّبَعَهُ مِنْهُمْ نَاسٌ، وَهُمْ يَسِيرٌ مُكْتَتِمُونَ بِإِيمَانِهِمْ، فَلَمَّا عَتَتْ عَادٌ عَلَى اللَّهِ وَكَذَّبُوا نَبِيَّهُ، وَأَكْثَرُوا فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ وَتَجَبَّرُوا، وَبَنَوْا بِكُلِّ رَيْعٍ آيَةً عَبَثًا بِغَيْرِ نَفْعٍ، كَلَّمَهُمْ هُودٌ فَقَالَ: ﴿أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ * وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ * وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ * فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ﴾ [الشُّعَرَاءِ:١٢٨-١٣١] ﴿قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ. إِنْ نَقُولُ إِلا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ﴾ أَيْ: بِجُنُونٍ ﴿قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ * مِنْ دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُونِ * إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [هُودٍ:٥٣-٥٦]
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: فَلَمَّا أَبَوْا إِلَّا الْكُفْرَ بِهِ، أَمْسَكَ اللَّهُ عَنْهُمُ الْقَطْرَ [[في م: "القطر عنهم".]] ثَلَاثَ سِنِينَ، فِيمَا يَزْعُمُونَ، حَتَّى جَهَدَهُمْ ذَلِكَ، قَالَ: وَكَانَ النَّاسُ إِذَا جَهَدَهُمْ أَمْرٌ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ، فَطَلَبُوا مِنَ اللَّهِ الْفَرَجَ فِيهِ، إِنَّمَا يَطْلُبُونَهُ بحُرْمة وَمَكَانِ بَيْتِهِ، وَكَانَ مَعْرُوفًا عِنْدَ المِلَل [[في ك، م: " عند أهل ذلك الزمان"]] وَبِهِ الْعَمَالِيقُ مُقِيمُونَ، وَهُمْ مِنْ سُلَالَةِ عِمْلِيقَ بْنِ لاوَذَ بْنِ سَامَ بْنِ نُوحٍ، وَكَانَ سَيِّدُهُمْ إِذْ ذَاكَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: "مُعَاوِيَةُ بْنُ بَكْرٍ"، وَكَانَتْ لَهُ أُمٌّ [[في م: "وكانت أمه".]] مِنْ قَوْمِ عَادٍ، وَاسْمُهَا كَلْهَدَةُ [[في ك، م: "جلهدة".]] ابْنَةُ الْخَيْبَرِيِّ، قَالَ: فَبَعَثَتْ عَادٌ وَفْدًا قَرِيبًا مِنْ سَبْعِينَ رَجُلًا إِلَى الْحَرَمِ، لِيَسْتَسْقُوا لَهُمْ عِنْدَ الْحَرَمِ، فَمَرُّوا بِمُعَاوِيَةَ بْنِ بَكْرٍ بِظَاهِرِ مَكَّةَ فَنَزَلُوا عَلَيْهِ، فَأَقَامُوا عِنْدَهُ شَهْرًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَتُغَنِّيهُمُ الْجَرَادَتَانِ -قَيْنَتَانِ لِمُعَاوِيَةَ -وَكَانُوا قَدْ وَصَلُوا إِلَيْهِ فِي شَهْرٍ، فَلَمَّا طَالَ مُقَامُهُمْ عِنْدَهُ وَأَخَذَتْهُ شَفَقَةٌ عَلَى قَوْمِهِ، وَاسْتَحْيَا مِنْهُمْ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِالِانْصِرَافِ، عَمِلَ شِعْرًا يَعْرِضُ لَهُمْ بِالِانْصِرَافِ، وَأَمَرَ الْقَيْنَتَيْنِ أَنْ تُغَنِّيَاهُمْ بِهِ، فَقَالَ:
أَلَا يَا قَيْلُ وَيْحَكَ قُْم فَهَيْنم ... لَعَلَّ اللَّهَ يُصْبحُنَا غَمَاما ...
فَيَسْقي أرضَ عادٍ إِنَّ عَادًا ... قَد امْسَوا لَا يُبِينُونَ الكَلاما ...
مِنَ الْعَطَشِ الشَّدِيدِ فَلَيْسَ نَرجُو ... بِهِ الشيخَ الكبيرَ وَلَا الغُلاما ...
وَقَْد كانَت نساؤهُم بخيرٍ ... فَقَدْ أَمْسَتْ [[في أ: "فأصبحت".]] نِسَاؤهم عَيَامى
وَإِنَّ الوحشَ تأتيهمْ جِهارا ... وَلَا تَخْشَى لعاديَ سِهَاما ...
وَأَنْتُمْ هاهُنَا فِيمَا اشتَهَيْتُمْ ... نهارَكُمُ وَلَيْلَكُمُ التَّمَامَا ...
فقُبّحَ وَفُْدكم مِنْ وَفْدِ قَوْمٍ ... ولا لُقُّوا التحيَّةَ والسَّلاما ...
قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ تَنَبَّهَ الْقَوْمُ لِمَا جَاءُوا لَهُ، فَنَهَضُوا إِلَى الْحَرَمِ، وَدَعَوْا لِقَوْمِهِمْ فَدَعَا دَاعِيهِمْ، وَهُوَ: "قَيْلُ بْنُ عَنْزٍ" فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابَاتٍ ثَلَاثًا: بَيْضَاءَ، وَسَوْدَاءَ، وَحَمْرَاءَ، ثُمَّ نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: "اخْتَرْ لِنَفْسِكَ -أَوْ: -لِقَوْمِكَ مِنْ هَذَا السَّحَابِ"، فَقَالَ: "اخْتَرْتُ هَذِهِ السَّحَابَةَ السَّوْدَاءَ، فَإِنَّهَا أَكْثَرُ السَّحَابِ مَاءً" فَنَادَاهُ مُنَادٍ: اخْتَرْتَ رَمادا رِمْدَدًا، لَا تُبْقِي مِنْ عَادٍ أَحَدًا، لَا وَالِدًا تَتْرُكُ وَلَا وَلَدًا، إِلَّا جَعَلَتْهُ هَمدا، إِلَّا بَنِي اللَّوْذِيَّةِ الْمُهَنَّدَا [[في م: "المهدي".]] قَالَ: وَبَنُو اللَّوْذِيَّةِ: بَطْنٌ مِنْ عَادٍ مُقِيمُونَ [[في ك، م، أ: "مقيمين".]] بِمَكَّةَ، فَلَمْ يُصِبْهُمْ مَا أَصَابَ قَوْمَهُمْ -قَالَ: وَهُمْ مَنْ بَقِيَ مِنْ أَنْسَالِهِمْ [[في أ: "أنسابهم".]] وَذَرَارِيهِمْ [[في ك، م: "ذرياتهم".]] عَادٌ الْآخِرَةُ -قَالَ: وَسَاقَ اللَّهُ السَّحَابَةَ السَّوْدَاءَ، فِيمَا يَذْكُرُونَ، الَّتِي اخْتَارَهَا "قَيْلُ بْنُ عَنْزٍ" بِمَا فِيهَا مِنَ النِّقْمَةِ إِلَى عَادٍ، حَتَّى تَخْرُجَ عَلَيْهِمْ مِنْ وَادٍ يُقَالُ لَهُ: "الْمُغِيثُ"، فَلَمَّا رَأَوْهَا اسْتَبْشَرُوا، وَقَالُوا: ﴿هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا﴾ يَقُولُ: ﴿بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ * تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ بِأَمْرِ رَبِّهَا﴾ [الْأَحْقَافِ:٢٤، ٢٥] أَيْ: تُهْلِكُ كُلَّ شَيْءٍ مَرّت [[في ك، م: "أمرت".]] بِهِ، فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ أَبْصَرَ مَا فِيهَا وَعَرَفَ أَنَّهَا رِيحٌ، فِيمَا يَذْكُرُونَ، امْرَأَةً مِنْ عَادٍ يُقَالُ لَهَا: مَهْدد [[في ك، م، أ: "مهد".]] فَلَمَّا تَبَيَّنَتْ مَا فِيهَا صَاحَتْ، ثُمَّ صُعِقت. فَلَمَّا أَفَاقَتْ قَالُوا: مَا رَأَيْتِ يَا مَهْدد [[في ك، م، أ: "مهد".]] ؟ قَالَتْ [[في ك، م: "فقالت".]] رِيحًا فِيهَا شُهُب النَّارِ، أَمَامَهَا رِجَالٌ يَقُودُونَهَا. فَسَخَّرَهَا اللَّهُ عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا، كَمَا قَالَ اللَّهُ. وَ "الْحُسُومُ": الدَّائِمَةُ -فَلَمْ تَدَعْ مِنْ عَادَ أَحَدًا إِلَّا هَلَكَ وَاعْتَزَلَ هُود، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِيمَا ذُكِرَ لِي، وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي حَظِيرَةٍ، مَا يُصِيبُهُ وَمَنْ مَعَهُ إِلَّا مَا تَلِينُ عَلَيْهِ الْجُلُودُ، وتلْتذ الْأَنْفُسُ، وَإِنَّهَا لَتَمُرُّ عَلَى عَادٍ بِالطَّعْنِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَتَدْمَغُهُمْ بِالْحِجَارَةِ.
وَذَكَرَ تَمَامَ الْقِصَّةِ بِطُولِهَا، وَهُوَ سِيَاقٌ غَرِيبٌ [[تفسير الطبري (١٢/٥٠٧) .]] فِيهِ فَوَائِدُ كَثِيرَةٌ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَنَجَّيْنَاهُمْ مِنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ﴾ [هُودٍ:٥٨]
وَقَدْ وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ الَّذِي رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ قَرِيبٌ مِمَّا أَوْرَدَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ.
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُنْذِرِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّحْوِيُّ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُود، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ الْحَارِثِ الْبَكْرِيِّ قَالَ: خَرَجْتُ أَشْكُو الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَمَرَرْتُ بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا عَجُوزٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ مُنْقَطِعٌ بِهَا، فَقَالَتْ لِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَاجَةً، فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغِي إِلَيْهِ؟ قَالَ: فَحَمَلْتُهَا فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَإِذَا الْمَسْجِدُ غَاصٌّ بِأَهْلِهِ، وَإِذَا رَايَةٌ سَوْدَاءُ تَخْفِقُ، وَإِذَا بِلَالٌ مُتَقَلِّدٌ بِسَيْفٍ [[في أ: "السيف".]] بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ؟ فَقَالُوا: يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَجْهًا. قَالَ: فَجَلَسْتُ، فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ -أَوْ قَالَ: رَحْلَهُ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ، فَأَذِنَ لِي، فَدَخَلْتُ فَسَلَّمْتُ، قَالَ: هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ تَمِيمٍ [[في أ: "وبين بني تميم".]] شَيْءٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَكَانَتْ لَنَا الدّبَرة عَلَيْهِمْ، وَمَرَرْتُ بِعَجُوزٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ مُنْقَطِعٍ بِهَا، فَسَأَلَتْنِي أَنْ أَحْمِلَهَا إِلَيْكَ، وَهَا هِيَ بِالْبَابِ. فَأَذِنَ لَهَا، فَدَخَلَتْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ رَأَيْتَ [[في أ: "أرأيت".]] أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ تَمِيمٍ حَاجِزًا، فَاجْعَلِ الدَّهْنَاءَ. فَحَمِيَتِ الْعَجُوزُ وَاسْتَوْفَزَتْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِلَى أَيْنَ يُضْطَرُّ مُضطَرُك [[في أ: "مطهرك".]] ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ مَثَلِي مَثَلُ مَا قَالَ الْأَوَّلُ: "معْزَى حَمَلت حَتْفَهَا"، حَمَلْتُ هَذِهِ وَلَا أَشْعُرُ أَنَّهَا كَانَتْ لِي خَصْمًا، أُعُوذُ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ [[في ك، م: "ورسوله".]] أَنْ أَكُونَ كَوَافِدِ عَادٍ! قَالَ: هِيهْ، وَمَا وَافِدُ عَادٍ؟ -وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ، وَلَكِنْ يَسْتَطْعِمُهُ -قُلْتُ: إِنْ عَادًا قُحطوا فَبَعَثُوا وَافِدًا لَهُمْ يُقَالُ لَهُ: "قَيْلُ"، فَمَرَّ بِمُعَاوِيَةَ بْنِ بَكْرٍ، فَأَقَامَ عِنْدَهُ شَهْرًا يَسْقِيهِ الْخَمْرَ وَتُغَنِّيهِ جَارِيَتَانِ، يُقَالُ لَهُمَا: "الْجَرَادَتَانِ"، فَلَمَّا مَضَى [[في د: "قضى".]] الشَّهْرُ خَرَجَ إِلَى جِبَالِ مَهْرة، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَجِئْ إِلَى مَرِيضٍ فَأُدَاوِيهِ، وَلَا إِلَى أَسِيرٍ فَأُفَادِيهِ. اللَّهُمَّ اسْقِ عَادًا مَا كُنْتَ تَسْقِيهِ، فَمَرَّتْ بِهِ سَحَّابَاتٌ سُودُ، فَنُودِيَ: مِنْهَا "اخْتَرْ". فَأَوْمَأَ إِلَى سَحَابَةٍ مِنْهَا سَوْدَاءَ، فَنُودِيَ مِنْهَا: "خُذْهَا رَمَادًا رِمْدِدا، لَا تُبْقِي مِنْ عَادٍ أَحَدًا". قَالَ: فَمَا بَلَغَنِي أَنَّهُ بُعث عَلَيْهِمْ مِنَ الرِّيحِ إِلَّا قَدْرُ [[في ك، م: "كقدر".]] مَا يَجْرِي فِي خَاتَمِي هَذَا، حَتَّى، هَلَكُوا -قَالَ أَبُو وَائِلٍ: وَصَدَقَ -قَالَ: وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ وَالرَّجُلُ إِذَا بَعَثُوا وَافِدًا لَهُمْ قَالُوا: "لَا تَكُنْ كَوَافِدِ عَادٍ".
هَكَذَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي الْمُسْنَدِ، وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنِ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، بِهِ [[المسند (٣/٤٨٢) ، وسنن الترمذي برقم (٣٢٧٤) .]] نَحْوَهُ: وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ سَلَّامِ بْنِ أَبِي الْمُنْذِرِ. عَنْ عَاصِمٍ -وَهُوَ ابْنُ بَهْدَلة -وَمِنْ طَرِيقِهِ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ أَيْضًا، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ الْبَكْرِيِّ، بِهِ. وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي كُرَيْب عَنْ زَيْدِ بْنِ حُبَاب، بِهِ. وَوَقَعَ عِنْدَهُ: "عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْبَكْرِيِّ" فَذَكَرَهُ، وَرَوَاهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْبَكْرِيِّ، فَذَكَرَهُ [[سنن النسائي الكبرى كما في تحفة الأشراف وسنن ابن ماجة برقم (٣٨١٦) وتفسير الطبري (١٢/٥١٣، ٥١٦) .]] وَلَمْ أَرَ فِي النُّسْخَةِ "أَبَا وَائِلٍ"، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ رِجْسٌۭ وَغَضَبٌ ۖ أَتُجَٰدِلُونَنِى فِىٓ أَسْمَآءٍۢ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّا نَزَّلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَٰنٍۢ ۚ فَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُم مِّنَ ٱلْمُنتَظِرِينَ
[Hud] said, "Already have defilement and anger fallen upon you from your Lord. Do you dispute with me concerning [mere] names you have named them, you and your fathers, for which Allah has not sent down any authority? Then wait; indeed, I am with you among those who wait."
ہود نے کہا تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب کا (نازل ہونا) مقرر ہو چکا ہے۔ کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (اپنی طرف سے) رکھ لئے ہیں۔ جن کی خدا نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ تو تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
گفت: «پلیدی و غضب پروردگارتان، شما را فرا گرفته است! آیا با من در مورد نامهایی مجادله میکنید که شما و پدرانتان 0بعنوان معبود و خدا، بر بتها) گذاردهاید، در حالی که خداوند هیچ دلیلی درباره آن نازل نکرده است؟! پس شما منتظر باشید، من هم با شما انتظار میکشم! (شما انتظار شکست من، و من انتظار عذاب الهی برای شما!)»
Tafsir Ibn Kathir
They said: "You have come to us that we should worship Allah Alone and forsake that which our fathers used to worship. So bring us that wherewith you have threatened us if you are of the truthful. (70)(Hud) said: "Rijs (torment) and wrath have already fallen on you from your Lord. Dispute you with me over names which you have named – you and your fathers – with no authority from Allah? Then wait, I am with you among those who wait. (71)So We saved him and those who were with him out of mercy from Us, and We severed the roots of those who belied Our Ayat; and they were not believers (72)
Allah mentions the rebellion, defiance and stubbornness of Hud's people, and their opposition to him, peace be upon him,
قَالُوا أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ
(They said: "You have come to us that we should worship Allah Alone?") Later on, the disbelievers of Quraysh said,
وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(And (remember) when they said: "O Allah! If this (the Qur'an) is indeed the truth (revealed) from You, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment.")[8:32]
Muhammad bin Ishaq said that the people of Hud used to worship several idols, such as Suda', Samud and Al-Haba'. This is why Hud, peace be upon him, said to them,
قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ
("Rijs and wrath have already fallen on you from your Lord.") you deserve 'Rijs' from your Lord because of what you said. Ibn 'Abbas said that, 'Rijs', means scorn and anger.
أَتُجَادِلُونَنِي فِي أَسْمَاءٍ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم
("Dispute you with me over names which you have named – you and your fathers")[7:71].
Hud said, do you dispute with me over these idols that you and your fathers made gods, even though they do not bring harm or benefit; did Allah give you authority or proof allowing you to worship them? Hud further said,
مَّا نَزَّلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ فَانتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِينَ
("with no authority from Allah? Then wait, I am with you among those who wait.") this is a threat and warning from the Messenger to his people.
The End of 'Ad
So Allah said;
فَأَنجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَمَا كَانُوا مُؤْمِنِينَ
(So We saved him and those who were with him out of mercy from Us, and We severed the roots of those who belied Our Ayat; and they were not believers.)
Allah mentioned several times in the Qur'an, the way the people of 'Ad were destroyed stating that He sent a barren wind that destroyed everything it passed by. Allah said in another Ayah,
وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ - سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ - فَهَلْ تَرَىٰ لَهُم مِّن بَاقِيَةٍ
(And as for 'Ad, they were destroyed by a furious violent wind! They were subjected to it for seven nights and eight days in succession, so that you could see men lying overthrown (destroyed), as if they were hollow trunks of date palms! Do you see any remnants of them?)[69:6-8]
When 'Ad rebelled and transgressed, Allah destroyed them with a strong wind that carried them, one by one, up in the air and brought each one of them down on his head, thus smashing his head and severing it from its body. This is why Allah said,
كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ
(as if they were hollow trunks of date palms!)[69:7]
Muhammad bin Ishaq said that 'Ad used to live in Yemen between Oman and Hadramawt. They also spread throughout the land and defeated various peoples, because of the strength that Allah gave them. They used to worship idols instead of Allah, and Allah sent to them Prophet Hud, peace be upon him. He was from their most common lineage and was the best among them in status. Hud commanded them to worship Allah Alone and associate none with him. He also ordered them to stop committing injustice against the people. But they rejected him and ignored his call. They said, 'Who is stronger than us?' Some of them, however, followed Hud, although they were few and had to conceal their faith. When 'Ad defied the command of Allah, rejected His Prophet, committed mischief in the earth, became arrogant and built high palaces on every high place – without real benefit to them – Hud spoke to them, saying,
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ - وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ - وَإِذَا بَطَشْتُم بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ - فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
("Do you build high palaces on every high place, while you do not live in them? And do you get for yourselves palaces (fine buildings) as if you will live therein forever. And when you seize (somebody), seize you (him) as tyrants? Have Taqwa of Allah, and obey me.")[26:128-131] However,
قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ - إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ
(They said: "O Hud! No evidence have you brought us, and we shall not leave our gods for your (mere) saying! And we are not believers in you. All that we say is that some of our gods have seized you with evil.") meaning, madness,
قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ - إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(He said: "I call Allah to witness, and bear you witness that I am free from that which you associate with Him. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on the straight path (the truth).")[11:53-56]."
Story of the Emissary of 'Ad
Imam Ahmad recorded that Al-Harith Al-Bakri said: "I went to the Messenger of Allah ﷺ to complain to him about Al-'Ala bin Al-Hadrami. When I passed by the area of Ar-Rabdhah, I found an old woman from Bani Tamim who was alone in that area. She said to me, "O servant of Allah! I need to reach the Messenger of Allah ﷺ to ask him for some of my needs, will you take me to him?" So I took her along with me to Al-Madinah and found the Masjid full of people. I also found a black flag raised high, while Bilal was holding a sword before the Messenger of Allah ﷺ. I asked, "What is the matter with the people?" They said, "The Prophet ﷺ intends to send 'Amr bin Al-'As (on a military expedition) somewhere." So I sat down. When the Prophet ﷺ went to his house, I asked for permission to see him, and he gave me permission. I entered and greeted him. He said, "Was there a dispute between you and Bani Tamim?" I said, "Yes. And we had been victorious over them. I passed by an old woman from Bani Tamim, who was alone, and she asked me to bring her to you, and she is at the door". So he allowed her in and I said, "O Allah's Messenger! What if you make a barrier between us and (the tribe of) Bani Tamim, such as Ad-Dahna' (Desert)?" The old woman became angry and opposed me. So I said, "My example is the example of a sheep that carried its own destruction. I carried this woman and did not know that she was an opponent. I seek refuge with Allah and His Messenger that I become like the emissary of 'Ad.' So the Prophet ﷺ asked me about the emissary of 'Ad, having better knowledge in it, but he liked to hear the story again. I said, "Once, 'Ad suffered from a famine and they sent an emissary [to get relief], whose name was Qayl. Qayl passed by Mu'awiyah bin Bakr and stayed with him for a month. Mu'awiyah supplied him with alcoholic drinks, and two female singers were singing for him. When a month ended, Qayl went to the mountains of Muhrah and said, 'O Allah! You know that I did not come here to cure an ill person or to ransom a prisoner. O Allah! Give 'Ad water as You used to.' So black clouds came and he was called, 'Choose which one of them you wish (to go to 'Ad)!' So he pointed to one of the black clouds and he heard someone proclaiming from it, 'Take it, as ashes that will leave none in 'Ad.' And it has been conveyed to me that the wind sent to them was no more than what would pass through this ring of mine, but it destroyed them." Abu Wa'il said, "That is true. When a man or a woman would send an emissary, they would tell him, 'Do not be like the emissary of 'Ad (bringing disaster and utter destruction to them instead of relief).," Imam Ahmad collected this story in the Musnad. At-Tirmidhi recorded similar wording for it, as did An-Nasa'i and Ibn Majah.
Tafsir Ibn Kathir
قوم عاد کا باغیانہ رویہ قوم عاد کی سرکشی، تکبر، ضد اور عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے حضرت ہود ؑ سے کہا کہ کیا آپ کی تشریف آوری کا مقصد یہی ہے کہ ہم اللہ واحد کے پرستار بن جائیں اور باپ دادوں کے پرانے معبودوں سے روگردانی کرلیں ؟ سنو اگر یہی مقصود ہے تو اسکا پورا ہونا محال ہے۔ ہم تیار ہیں اگر تم سچے ہو تو اپنے اللہ سے ہمارے لئے عذاب طلب کرو۔ یہی کفار مکہ نے کہا تھا کہنے لگے کہ یا اللہ محمد کا کہا حق ہے اور وہ واقعی تیرا کلام ہے اور ہم نہیں مانتے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور سخت المناک عذاب ہمیں کر۔ قوم عاد کے بتوں کے نام یہ ہیں صمد۔ صمودھبا۔ ان کی اس ڈھٹائی کے مقابلے میں اللہ کا عذاب اور اس کا غضب ثابت ہوگیا۔ رجس سے مراد رجز یعنی عذاب ہے ناراضی اور غصے کے معنی یہی ہیں۔ پھر فرمایا کہ تم ان بتوں کی بابت مجھ سے جھگڑ رہے ہو جن کے نام بھی تم نے خود رکھے ہیں یا تمہارے بڑوں نے۔ اور خواہ مخواہ بےوجہ انہیں معبود سمجھ بیٹھے ہو یہ پتھر کے ٹکڑے محض بےضرر اور بےنفع ہیں۔ نہ اللہ نے ان کی عبادت کی کوئی دلیل اتاری ہے۔ ہاں اگر تم مقابلے پر اتر ہی آئے ہو تو منتظر رہو میں بھی منتظر ہوں ابھی معلوم ہوجائے گا کہ مقبول بارگاہ رب کون ہے اور مردود بارگاہ کون ہے ؟ کون مستحق عذاب ہے اور کون قابل ثواب ہے ؟ آخر ہم نے اپنے نبی کو اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو نجات دی اور کافروں کی جڑیں کاٹ دیں۔ قرآن کریم کے کئی مقامات پر جناب باری عزوجل نے ان کی تباہی کی صورت بیان فرمائی ہے کہ ان پر خیر سے خالی، تند اور تیز ہوائیں بھیجی گئیں جس نے انہیں اور ان کی تمام چیزوں کو غارت اور برباد کردیا۔ عاد لوگ بڑے زنا ٹے کی سخت آندھی سے ہلاک کردیئے گئے جو ان پر برابر سات رات اور آٹھ دن چلتی رہی۔ سارے کے سارے اس طرح ہوگئے جیسے کھجور کے درختوں کے تنے الگ ہوں اور شاخیں الگ ہوں۔ دیکھ لے ان میں سے ایک بھی اب نظر آ رہا ہے ؟ ان کی سرکشی کی سزا میں سرکش ہوا ان پر مسلط کردی گئی جو ان میں سے ایک ایک کو اٹھا کر آسمان کی بلندی کی طرف لے جاتی اور وہاں سے گراتی جس سے سر الگ ہوجاتا دھڑ الگ گر جاتا۔ یہ لوگ یمن کے ملک میں، عمان اور حضرموت میں رہتے تھے، ادھر ادھر نکلتے اور لوگوں کو مار پیٹ کی جبراً و قہراً ان کے ملک و مال پر غاصبانہ قبضہ کرلیتے۔ سارے کے سارے بت پرست تھے۔ حضرت ہود جو ان کے شریف خاندانی شخص تھے ان کے پاس رب کی رسالت لے کر آئے، اللہ کی توحید کا حکم دیا، شرک سے روکا لوگوں پر ظلم کرنے کی برائی سمجھائی لیکن انہوں نے اس نصیحت کو قبول نہ کیا۔ مقابلے پر تن گئے اور اپنی قوت سے حق کو دبانے لگے۔ گو بعض لوگ ایمان لائے تھے لیکن وہ بھی بیچارے جان کے خوف سے پوشیدہ رکھے ہوئے تھے۔ باقی لوگ بد ستور اپنی بےایمانی اور ناانصافی پر جمے رہے، خواہ مخواہ فوقیت ظاہر کرنے لگے، بیکار عمارتیں بناتے اور پھولے نہ سماتے۔ ان سب کاموں کو اللہ کے رسول ناپسند فرماتے، انہیں روکتے، تقوے کی، اطاعت کی ہدایت کرتے لیکن یہ کبھی تو انہیں بےدلیل بتاتے، کبھی انہیں مجنوں کہتے۔ آپ اپنی برات ظاہر کرتے اور ان سے صاف فرماتے کہ مجھے تمہاری قوت طاقت کا مطلقاً خوف نہیں جاؤ تم سے جو ہو سکے کرلو۔ میرا بھروسہ اللہ پر ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی بھروسے کے لائق نہ عبادت کے قابل ساری مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لا چار ہے۔ سچی راہ اللہ کی راہ ہے۔ آخر جب یہ اپنی برائیوں سے باز نہ آئے تو ان پر بارش نہ برسائی گئی تین سال تک قحط سالی رہی۔ عاجز ہوگئے تنگ آگئے آخر یہ سوچا کہ چند آدمیوں کو بیت اللہ شریف بھیجیں وہ وہاں جا کر اللہ سے دعائیں کریں۔ یہی ان کا دستور تھا کہ جب کسی مصیبت میں پھنس جاتے تو وہاں وفد بھیجتے اس وقت ان کا قبیلہ عمالیق حرم شریف میں بھی رہتا تھا یہ لوگ عملیق بن آدم بن سام بن نوح کی نسل میں سے تھے ان کا سردار اس زمانے میں معاویہ بن بکر تھا۔ اس کی ماں قوم عاد سے تھی جس کا نام جاہدہ بنت خبیری تھا عادیوں نے اپنے ہاں سے ستر شخصوں کو منتخب کر کے بطور وفد مکہ شریف کو روانہ کیا۔ یہاں آ کر یہ معاویہ کے مہمان بنے۔ پر تکلف دعوتوں کے اڑانے، شراب خوری کرنے اور معاویہ کی دو لونڈیوں کا گانا سننے میں اس بےخودی سے مشغول ہوگئے کہ کامل ایک مہینہ گذر گیا۔ انہیں اپنے کام کی طرف مطلق توجہ نہ ہوئی۔ معاویہ ان کی یہ روش دیکھ کر اور اپنی قوم کی بری حالت سامنے رکھ کر بہت کڑھتا تھا لیکن یہ مہمان نوازی کے خلاف تھا کہ خود ان سے کہتا کہ جاؤ۔ اس لئے اس نے کچھ اشعار لکھے اور ان ہی دونوں کنیزوں کو یاد کرائے کہ وہ یہی گا کر انہیں سنائیں۔ ان شعروں کا مضمون یہ تھا کہ اے لوگو جو قوم کی طرف سے اللہ سے دعائیں کرنے کے لئے بھیجے گئے ہو کہ اللہ عادیوں پر بارش برسائے جو آج قہط سالی کی وجہ سے تباہ ہوگئے ہیں بھوکے پیاسے مر رہے ہیں بڈھے بچے مرد عورتیں تباہ حال پھر رہے ہیں یہاں تک کہ بولنا چالنا ان پر دو بھر ہوگیا ہے۔ جنگلی جانور ان کی آبادیوں میں پھر رہے ہیں کیونکہ کسی آدمی میں اتنی قوت کہاں کہ وہ تیر چلا سکے۔ لیکن افسوس کہ تم یہاں اپنے من مانے مشغلوں میں منہمک ہوگئے اور بےفائدہ وقت ضائع کرنے لگے۔ تم سے زیادہ برا وفد دنیا میں کوئی نہ ہوگا یاد رکھو اگر اب بھی تم نے مستعدی سے قومی خدمت نہ کی تو تم برباد اور غارت ہوجاؤ گے۔ یہ سن کر ان کے کان کھڑے ہوئے یہ حرم میں گئے اور دعائیں مانگنا شروع کیں اللہ تعالیٰ نے تین بادل ان کے سامنے پیش کئے ایک سفید ایک سیاہ ایک سرخ اور ایک آواز آئی کہ ان میں سے ایک اختیار کرلو اس نے سیاہ بادل پسند کیا آوز آئی کہ تو نے سیاہ پسند کیا جو عادیوں میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑے گا نہ باپ کو نہ بیٹے کو سب کو غارت کر دے گا سوائے بنو لویزیہ کے۔ یہ بنو لویزیہ بھی عادیوں کا ایک قبیلہ تھا جو مکہ میں مقیم تھے ان پر وہ عذاب نہیں آئے تھے یہی باقی رہے اور انہی میں سے عاد اخری ہوئے۔ اس وفد کے سردار نے سیاہ بادل پسند کیا تھا جو اسی وقت عادیوں کی طرف چلا۔ اس شخص کا نام قیل بن غز تھا۔ جب یہ بادل عادیوں کے میدان میں پہنچا جس کا نام مغیث تھا تو اسے دیکھ وہ لوگ خوشیاں منانے لگے کہ اس ابر سے پانی ضرور برسے گا حالانکہ یہ وہ تھا جس کی یہ لوگ نبی کے مقابلہ میں جلدی مچا رہے تھے جس میں المناک عذاب تھا جو تمام چیزوں کو فنا کردینے والا تھا۔ سب سے پہلے اس عذاب الوہی کو ایک عورت نے دیکھا جس کا نام ممید تھا یہ چیخ مار کر بیہوش ہوگئی۔ جب ہوش آئی تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تو نے کیا دیکھا ؟ اس نے کہا آگ کا بگولہ جو بصورت ہوا تھا جسے فرشتے گھسیٹے لئے چلے آتے تھے۔ برابر سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ آگ والی ہوا ان پر چلتی رہی اور عذاب کا بادل ان پر برستا رہا۔ تمام عادیوں کا ستیاناس ہوگیا۔ حضرت ہود ؑ اور آپ کے مومن ساتھی ایک باغیچے میں چلے گئے وہاں اللہ نے انہیں محفوظ رکھا وہی ہوا ٹھنڈی اور بھینی بھینی ہو کر ان کے جسموں کو لگتی رہی جس سے روح کو تازگی اور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچتی رہی۔ ہاں عادیوں پر اس ہوا نے سنگباری شروع کردی، ان کے دماغ پھٹ گئے۔ آخر انہیں اٹھا اٹھا کر دے پٹخا سر الگ ہوگئے دھڑ الگ جا پڑے یہ ہوا سوار کو سواری سمیت ادھر اٹھا لیتی تھی اور بہت اونچے لے جا کر اسے اوندھا دے پٹختی تھی۔ یہ سیاق بہت غریب ہے اور اس میں بہت سے فوائد ہیں۔ عذاب الٰہی کے آجانے سے حضرت ہود کو اور مومنوں کو نجات مل گئی رحمت حق ان کے شامل حال رہی اور باقی کفار اس بدترین سزا میں گرفتار ہوئے۔ مسند احمد میں ہے حضرت حارث بکری ؓ فرماتے ہیں میں اپنے ہاں سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں علا بن حضرمی کی شکایت لے کر چلا جب میں ربذہ میں پہنچا تو بنو تمیم کی ایک بڑھیا لا چار ہو کر بیٹھی ہوئی ملی۔ مجھ سے کہنے لگی اے اللہ کے بندے مجھے سرکار رسالت مآب میں پہنچنا ہے۔ کیا تو میرے ساتھ اتنا سلوک کرے گا کہ مجھے دربار رسالت میں پہنچا دے ؟ میں نے کہا آؤ چناچہ میں نے اسے اپنے اونٹ پر بٹھا لیا اور مدینے پہنچا دیکھا کہ مسجد لوگوں سے بھری ہوئی ہے سیاہ جھنڈے لہرا رہے ہیں اور حضرت بلال ؓ آنحضرت ﷺ کے سامنے تلوار لٹکائے کھڑے ہیں میں نے پوچھا کیا بات ہے ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ حضرت عمرو بن عاص ؓ کی ماتحتی میں کہیں لشکر بھیجنے والے ہیں۔ میں تھوری دیر بیٹھا رہا اتنے میں حضور ﷺ اپنی منزل میں تشریف لے گئے۔ میں آپ کے پیچھے ہی گیا۔ اجازت طلب کی اجازت ملی جب میں نے اندر جا کر سلام کیا تو آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا کیا تم میں اور بنو تمیم میں کچھ چشمک ہے ؟ میں نے کہا حضور اس کے ذمہ دار وہی ہیں۔ میں اب حاضر خدمت ہو رہا تھا تو راستے میں قبیلہ تمیم کی ایک بڑھیا عورت مل گئی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی اس نے مجھ سے درخواست کی اور میں اسے اپنی سواری پر بٹھا کر یہاں لایا ہوں وہ دروازے پر بیٹھی ہوئی ہے۔ آپ نے اسے بھی اندر آنے کی اجازت دی۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کر دیجئے۔ اس پر بڑھیا تیز ہو کر بولی اگر آپ نے ایسا کردیا تو پھر آپ کے ہاں کے بےبس کہاں پناہ لیں گے ؟ میں نے کہا سبحان اللہ ! تیری اور میری تو وہی مثل ہوئی کہ بکری اپنی موت کو آپ اٹھا کرلے گئی، میں نے ہی تجھے یہاں پہنچایا، مجھے اس کے انجام کی کیا خبر تھی ؟ اللہ نہ کرے کہ میں بھی عادی قبیلے کے وفد کی طرح ہوجاؤں۔ تو حضور نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ بئی عادیوں کے وفد کا قصہ کیا ہے ؟ باوجود یہ کہ آپ کو مجھ سے زیادہ اس کا علم تھا لیکن یہ سمجھ کر کہ اس وقت آپ باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے قصہ شروع کردیا کہ حضور جس وقت عادیوں میں قحط سالی نمودار ہوئی تو انہوں نے قیل نامی ایک شخص کو بطور اپنے قاصد کے بیت اللہ شریف دعا وغیرہ کرنے کیلئے بھیجا۔ یہ معاویہ بن بکر کے ہاں آ کر مہمان بنا۔ یہاں شراب و کباب اور راگ رنگ میں ایسا مشغول ہوا کہ مہینے بھر تک جام لنڈھاتا رہا اور معاویہ کی دو لونڈیوں کے گانے سنتا رہا ان کا نام جرادہ تھا۔ مہینے بھر کے بعد مہرہ کے پہاڑوں پر گیا اور اللہ سے دعا مانگنے لگا کہ باری تعالیٰ میں کسی بیمار کی دوا کے لئے یا کسی قیدی کے فدیئے کے لئے نہیں آیا یا اللہ عادیوں کو تو وہ پلا جو پلایا کرتا تھا اتنے میں وہ دیکھتا ہے کہ چند سیاہ رنگ کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہیں ان میں سے ایک غیبی صدا آئی کہ ان میں سے جو تجھے پسند ہو قبول کرلے۔ اس نے سخت سیاہ بادل کو اختیار کیا اسی وقت دوسری آواز آئی کہ لے لے خاک راکھ جو عادیوں میں سے ایک کو بھی نہ چھوڑے۔ عادیوں پر ہوا کے خزانے میں سے صرف بقدر انگوٹھی کے حلقے کے ہوا چھوڑی گئی تھی جس نے سب کو غارت اور تہ وبالا کردیا۔ ابو وائل کہتے ہیں۔ یہ واقعہ سارے عرب میں ضرب المثل ہوگیا تھا جب لوگ کسی کو بطور وفد کے بھتیجے تھے تو کہہ دیا کرتے تھے کہ عادیوں کے وفد کی طرح نہ ہوجانا۔ اسی طرح مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے سنن کی اور کتابوں میں بھی یہ واقعہ موجود ہے۔ واللہ اعلم
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ تَمَرُّدِهِمْ وَطُغْيَانِهِمْ وَعِنَادِهِمْ وَإِنْكَارِهِمْ عَلَى هُودٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿قَالُوا أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ [وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ] ﴾ [[زيادة من ك، م، وفي هـ: الآية".]] كَمَا قَالَ الْكُفَّارُ مِنْ قُرَيْشٍ: ﴿وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ [الْأَنْفَالِ:٣٢]
وَقَدْ ذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُ: أَنَّهُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ أَصْنَامًا، فَصَنَمٌ يُقَالُ لَهُ: صُدَاء، وَآخَرُ يُقَالُ لَهُ: صمُود، وَآخَرُ يُقَالُ لَهُ: الْهَبَاءُ [[انظر: تفسير الطبري (١٢/٥٠٧) .]]
وَلِهَذَا قَالَ هُودٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ﴾ أَيْ: قَدْ وَجَبَ عَلَيْكُمْ بِمَقَالَتِكُمْ هَذِهِ مِنْ رَبِّكُمْ رِجْسٌ [وَغَضَبٌ] [[زيادة من م.]] قِيلَ: هُوَ مَقْلُوبٌ مِنْ رِجْزٍ. وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: مَعْنَاهُ السخَط وَالْغَضَبُ.
﴿أَتُجَادِلُونَنِي فِي أَسْمَاءٍ سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ﴾ أَيْ: أَتُحَاجُّونِي [[في م، د: "أتجادلونني".]] فِي هَذِهِ الْأَصْنَامِ الَّتِي سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ آلِهَةً، وَهِيَ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَا جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ عَلَى عِبَادَتِهَا حُجَّةً وَلَا دَلِيلًا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿مَا نزلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ فَانْتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ﴾
وَهَذَا تَهْدِيدٌ وَوَعِيدٌ مِنَ الرَّسُولِ لِقَوْمِهِ؛ وَلِهَذَا عَقَّبَ بُقُولِهِ: ﴿فَأَنْجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَمَا كَانُوا مُؤْمِنِينَ﴾
وَقَدْ ذَكَرَ اللَّهُ، سُبْحَانَهُ، صِفَةَ إِهْلَاكِهِمْ فِي أَمَاكِنَ أُخَرَ مِنَ الْقُرْآنِ، بِأَنَّهُ أَرْسَلَ عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ، مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيمِ، كَمَا قَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ * سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ * فَهَلْ تَرَى لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ﴾ [الْحَاقَّةُ:٦-٨] لَمَّا تَمَرَّدُوا وَعَتَوْا أَهْلَكَهُمُ اللَّهُ بِرِيحٍ عَاتِيَةٍ، فَكَانَتْ تَحْمِلُ الرَّجُلَ مِنْهُمْ فَتَرْفَعُهُ فِي الْهَوَاءِ ثُمَّ تُنَكِّسُهُ عَلَى أُمِّ رَأْسِهِ فتثلغُ رَأْسَهُ حَتَّى تُبينه من بين جُثَّتِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ﴾
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: كَانُوا يَسْكُنُونَ بِالْيَمَنِ مِنْ [[في م، ك: "بين".]] عَمَّانَ وَحَضْرَمَوْتَ، وَكَانُوا مَعَ ذَلِكَ قَدْ فَشَوْا فِي الْأَرْضِ وَقَهَرُوا أَهْلَهَا، بِفَضْلِ قُوَّتِهِمُ الَّتِي آتَاهُمُ اللَّهُ، وَكَانُوا أَصْحَابَ أَوْثَانٍ يَعْبُدُونَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ، فَبَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِمْ هُودًا، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهُوَ مِنْ أَوْسَطِهِمْ نَسَبًا، وَأَفْضَلِهِمْ مَوْضِعًا، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ وَلَا يَجْعَلُوا مَعَهُ إِلَهًا غَيْرَهُ، وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْ ظُلْمِ النَّاسِ، فَأَبَوْا عَلَيْهِ وَكَذَّبُوهُ، وَقَالُوا: مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً؟ وَاتَّبَعَهُ مِنْهُمْ نَاسٌ، وَهُمْ يَسِيرٌ مُكْتَتِمُونَ بِإِيمَانِهِمْ، فَلَمَّا عَتَتْ عَادٌ عَلَى اللَّهِ وَكَذَّبُوا نَبِيَّهُ، وَأَكْثَرُوا فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ وَتَجَبَّرُوا، وَبَنَوْا بِكُلِّ رَيْعٍ آيَةً عَبَثًا بِغَيْرِ نَفْعٍ، كَلَّمَهُمْ هُودٌ فَقَالَ: ﴿أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ * وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ * وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ * فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ﴾ [الشُّعَرَاءِ:١٢٨-١٣١] ﴿قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ. إِنْ نَقُولُ إِلا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ﴾ أَيْ: بِجُنُونٍ ﴿قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ * مِنْ دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُونِ * إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [هُودٍ:٥٣-٥٦]
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: فَلَمَّا أَبَوْا إِلَّا الْكُفْرَ بِهِ، أَمْسَكَ اللَّهُ عَنْهُمُ الْقَطْرَ [[في م: "القطر عنهم".]] ثَلَاثَ سِنِينَ، فِيمَا يَزْعُمُونَ، حَتَّى جَهَدَهُمْ ذَلِكَ، قَالَ: وَكَانَ النَّاسُ إِذَا جَهَدَهُمْ أَمْرٌ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ، فَطَلَبُوا مِنَ اللَّهِ الْفَرَجَ فِيهِ، إِنَّمَا يَطْلُبُونَهُ بحُرْمة وَمَكَانِ بَيْتِهِ، وَكَانَ مَعْرُوفًا عِنْدَ المِلَل [[في ك، م: " عند أهل ذلك الزمان"]] وَبِهِ الْعَمَالِيقُ مُقِيمُونَ، وَهُمْ مِنْ سُلَالَةِ عِمْلِيقَ بْنِ لاوَذَ بْنِ سَامَ بْنِ نُوحٍ، وَكَانَ سَيِّدُهُمْ إِذْ ذَاكَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: "مُعَاوِيَةُ بْنُ بَكْرٍ"، وَكَانَتْ لَهُ أُمٌّ [[في م: "وكانت أمه".]] مِنْ قَوْمِ عَادٍ، وَاسْمُهَا كَلْهَدَةُ [[في ك، م: "جلهدة".]] ابْنَةُ الْخَيْبَرِيِّ، قَالَ: فَبَعَثَتْ عَادٌ وَفْدًا قَرِيبًا مِنْ سَبْعِينَ رَجُلًا إِلَى الْحَرَمِ، لِيَسْتَسْقُوا لَهُمْ عِنْدَ الْحَرَمِ، فَمَرُّوا بِمُعَاوِيَةَ بْنِ بَكْرٍ بِظَاهِرِ مَكَّةَ فَنَزَلُوا عَلَيْهِ، فَأَقَامُوا عِنْدَهُ شَهْرًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَتُغَنِّيهُمُ الْجَرَادَتَانِ -قَيْنَتَانِ لِمُعَاوِيَةَ -وَكَانُوا قَدْ وَصَلُوا إِلَيْهِ فِي شَهْرٍ، فَلَمَّا طَالَ مُقَامُهُمْ عِنْدَهُ وَأَخَذَتْهُ شَفَقَةٌ عَلَى قَوْمِهِ، وَاسْتَحْيَا مِنْهُمْ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِالِانْصِرَافِ، عَمِلَ شِعْرًا يَعْرِضُ لَهُمْ بِالِانْصِرَافِ، وَأَمَرَ الْقَيْنَتَيْنِ أَنْ تُغَنِّيَاهُمْ بِهِ، فَقَالَ:
أَلَا يَا قَيْلُ وَيْحَكَ قُْم فَهَيْنم ... لَعَلَّ اللَّهَ يُصْبحُنَا غَمَاما ...
فَيَسْقي أرضَ عادٍ إِنَّ عَادًا ... قَد امْسَوا لَا يُبِينُونَ الكَلاما ...
مِنَ الْعَطَشِ الشَّدِيدِ فَلَيْسَ نَرجُو ... بِهِ الشيخَ الكبيرَ وَلَا الغُلاما ...
وَقَْد كانَت نساؤهُم بخيرٍ ... فَقَدْ أَمْسَتْ [[في أ: "فأصبحت".]] نِسَاؤهم عَيَامى
وَإِنَّ الوحشَ تأتيهمْ جِهارا ... وَلَا تَخْشَى لعاديَ سِهَاما ...
وَأَنْتُمْ هاهُنَا فِيمَا اشتَهَيْتُمْ ... نهارَكُمُ وَلَيْلَكُمُ التَّمَامَا ...
فقُبّحَ وَفُْدكم مِنْ وَفْدِ قَوْمٍ ... ولا لُقُّوا التحيَّةَ والسَّلاما ...
قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ تَنَبَّهَ الْقَوْمُ لِمَا جَاءُوا لَهُ، فَنَهَضُوا إِلَى الْحَرَمِ، وَدَعَوْا لِقَوْمِهِمْ فَدَعَا دَاعِيهِمْ، وَهُوَ: "قَيْلُ بْنُ عَنْزٍ" فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابَاتٍ ثَلَاثًا: بَيْضَاءَ، وَسَوْدَاءَ، وَحَمْرَاءَ، ثُمَّ نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: "اخْتَرْ لِنَفْسِكَ -أَوْ: -لِقَوْمِكَ مِنْ هَذَا السَّحَابِ"، فَقَالَ: "اخْتَرْتُ هَذِهِ السَّحَابَةَ السَّوْدَاءَ، فَإِنَّهَا أَكْثَرُ السَّحَابِ مَاءً" فَنَادَاهُ مُنَادٍ: اخْتَرْتَ رَمادا رِمْدَدًا، لَا تُبْقِي مِنْ عَادٍ أَحَدًا، لَا وَالِدًا تَتْرُكُ وَلَا وَلَدًا، إِلَّا جَعَلَتْهُ هَمدا، إِلَّا بَنِي اللَّوْذِيَّةِ الْمُهَنَّدَا [[في م: "المهدي".]] قَالَ: وَبَنُو اللَّوْذِيَّةِ: بَطْنٌ مِنْ عَادٍ مُقِيمُونَ [[في ك، م، أ: "مقيمين".]] بِمَكَّةَ، فَلَمْ يُصِبْهُمْ مَا أَصَابَ قَوْمَهُمْ -قَالَ: وَهُمْ مَنْ بَقِيَ مِنْ أَنْسَالِهِمْ [[في أ: "أنسابهم".]] وَذَرَارِيهِمْ [[في ك، م: "ذرياتهم".]] عَادٌ الْآخِرَةُ -قَالَ: وَسَاقَ اللَّهُ السَّحَابَةَ السَّوْدَاءَ، فِيمَا يَذْكُرُونَ، الَّتِي اخْتَارَهَا "قَيْلُ بْنُ عَنْزٍ" بِمَا فِيهَا مِنَ النِّقْمَةِ إِلَى عَادٍ، حَتَّى تَخْرُجَ عَلَيْهِمْ مِنْ وَادٍ يُقَالُ لَهُ: "الْمُغِيثُ"، فَلَمَّا رَأَوْهَا اسْتَبْشَرُوا، وَقَالُوا: ﴿هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا﴾ يَقُولُ: ﴿بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ * تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ بِأَمْرِ رَبِّهَا﴾ [الْأَحْقَافِ:٢٤، ٢٥] أَيْ: تُهْلِكُ كُلَّ شَيْءٍ مَرّت [[في ك، م: "أمرت".]] بِهِ، فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ أَبْصَرَ مَا فِيهَا وَعَرَفَ أَنَّهَا رِيحٌ، فِيمَا يَذْكُرُونَ، امْرَأَةً مِنْ عَادٍ يُقَالُ لَهَا: مَهْدد [[في ك، م، أ: "مهد".]] فَلَمَّا تَبَيَّنَتْ مَا فِيهَا صَاحَتْ، ثُمَّ صُعِقت. فَلَمَّا أَفَاقَتْ قَالُوا: مَا رَأَيْتِ يَا مَهْدد [[في ك، م، أ: "مهد".]] ؟ قَالَتْ [[في ك، م: "فقالت".]] رِيحًا فِيهَا شُهُب النَّارِ، أَمَامَهَا رِجَالٌ يَقُودُونَهَا. فَسَخَّرَهَا اللَّهُ عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا، كَمَا قَالَ اللَّهُ. وَ "الْحُسُومُ": الدَّائِمَةُ -فَلَمْ تَدَعْ مِنْ عَادَ أَحَدًا إِلَّا هَلَكَ وَاعْتَزَلَ هُود، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِيمَا ذُكِرَ لِي، وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي حَظِيرَةٍ، مَا يُصِيبُهُ وَمَنْ مَعَهُ إِلَّا مَا تَلِينُ عَلَيْهِ الْجُلُودُ، وتلْتذ الْأَنْفُسُ، وَإِنَّهَا لَتَمُرُّ عَلَى عَادٍ بِالطَّعْنِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَتَدْمَغُهُمْ بِالْحِجَارَةِ.
وَذَكَرَ تَمَامَ الْقِصَّةِ بِطُولِهَا، وَهُوَ سِيَاقٌ غَرِيبٌ [[تفسير الطبري (١٢/٥٠٧) .]] فِيهِ فَوَائِدُ كَثِيرَةٌ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَنَجَّيْنَاهُمْ مِنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ﴾ [هُودٍ:٥٨]
وَقَدْ وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ الَّذِي رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ قَرِيبٌ مِمَّا أَوْرَدَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ.
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُنْذِرِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّحْوِيُّ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُود، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ الْحَارِثِ الْبَكْرِيِّ قَالَ: خَرَجْتُ أَشْكُو الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَمَرَرْتُ بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا عَجُوزٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ مُنْقَطِعٌ بِهَا، فَقَالَتْ لِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَاجَةً، فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغِي إِلَيْهِ؟ قَالَ: فَحَمَلْتُهَا فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَإِذَا الْمَسْجِدُ غَاصٌّ بِأَهْلِهِ، وَإِذَا رَايَةٌ سَوْدَاءُ تَخْفِقُ، وَإِذَا بِلَالٌ مُتَقَلِّدٌ بِسَيْفٍ [[في أ: "السيف".]] بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ؟ فَقَالُوا: يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَجْهًا. قَالَ: فَجَلَسْتُ، فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ -أَوْ قَالَ: رَحْلَهُ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ، فَأَذِنَ لِي، فَدَخَلْتُ فَسَلَّمْتُ، قَالَ: هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ تَمِيمٍ [[في أ: "وبين بني تميم".]] شَيْءٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَكَانَتْ لَنَا الدّبَرة عَلَيْهِمْ، وَمَرَرْتُ بِعَجُوزٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ مُنْقَطِعٍ بِهَا، فَسَأَلَتْنِي أَنْ أَحْمِلَهَا إِلَيْكَ، وَهَا هِيَ بِالْبَابِ. فَأَذِنَ لَهَا، فَدَخَلَتْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ رَأَيْتَ [[في أ: "أرأيت".]] أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ تَمِيمٍ حَاجِزًا، فَاجْعَلِ الدَّهْنَاءَ. فَحَمِيَتِ الْعَجُوزُ وَاسْتَوْفَزَتْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِلَى أَيْنَ يُضْطَرُّ مُضطَرُك [[في أ: "مطهرك".]] ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ مَثَلِي مَثَلُ مَا قَالَ الْأَوَّلُ: "معْزَى حَمَلت حَتْفَهَا"، حَمَلْتُ هَذِهِ وَلَا أَشْعُرُ أَنَّهَا كَانَتْ لِي خَصْمًا، أُعُوذُ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ [[في ك، م: "ورسوله".]] أَنْ أَكُونَ كَوَافِدِ عَادٍ! قَالَ: هِيهْ، وَمَا وَافِدُ عَادٍ؟ -وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ، وَلَكِنْ يَسْتَطْعِمُهُ -قُلْتُ: إِنْ عَادًا قُحطوا فَبَعَثُوا وَافِدًا لَهُمْ يُقَالُ لَهُ: "قَيْلُ"، فَمَرَّ بِمُعَاوِيَةَ بْنِ بَكْرٍ، فَأَقَامَ عِنْدَهُ شَهْرًا يَسْقِيهِ الْخَمْرَ وَتُغَنِّيهِ جَارِيَتَانِ، يُقَالُ لَهُمَا: "الْجَرَادَتَانِ"، فَلَمَّا مَضَى [[في د: "قضى".]] الشَّهْرُ خَرَجَ إِلَى جِبَالِ مَهْرة، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَجِئْ إِلَى مَرِيضٍ فَأُدَاوِيهِ، وَلَا إِلَى أَسِيرٍ فَأُفَادِيهِ. اللَّهُمَّ اسْقِ عَادًا مَا كُنْتَ تَسْقِيهِ، فَمَرَّتْ بِهِ سَحَّابَاتٌ سُودُ، فَنُودِيَ: مِنْهَا "اخْتَرْ". فَأَوْمَأَ إِلَى سَحَابَةٍ مِنْهَا سَوْدَاءَ، فَنُودِيَ مِنْهَا: "خُذْهَا رَمَادًا رِمْدِدا، لَا تُبْقِي مِنْ عَادٍ أَحَدًا". قَالَ: فَمَا بَلَغَنِي أَنَّهُ بُعث عَلَيْهِمْ مِنَ الرِّيحِ إِلَّا قَدْرُ [[في ك، م: "كقدر".]] مَا يَجْرِي فِي خَاتَمِي هَذَا، حَتَّى، هَلَكُوا -قَالَ أَبُو وَائِلٍ: وَصَدَقَ -قَالَ: وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ وَالرَّجُلُ إِذَا بَعَثُوا وَافِدًا لَهُمْ قَالُوا: "لَا تَكُنْ كَوَافِدِ عَادٍ".
هَكَذَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي الْمُسْنَدِ، وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنِ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، بِهِ [[المسند (٣/٤٨٢) ، وسنن الترمذي برقم (٣٢٧٤) .]] نَحْوَهُ: وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ سَلَّامِ بْنِ أَبِي الْمُنْذِرِ. عَنْ عَاصِمٍ -وَهُوَ ابْنُ بَهْدَلة -وَمِنْ طَرِيقِهِ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ أَيْضًا، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ الْبَكْرِيِّ، بِهِ. وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي كُرَيْب عَنْ زَيْدِ بْنِ حُبَاب، بِهِ. وَوَقَعَ عِنْدَهُ: "عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْبَكْرِيِّ" فَذَكَرَهُ، وَرَوَاهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْبَكْرِيِّ، فَذَكَرَهُ [[سنن النسائي الكبرى كما في تحفة الأشراف وسنن ابن ماجة برقم (٣٨١٦) وتفسير الطبري (١٢/٥١٣، ٥١٦) .]] وَلَمْ أَرَ فِي النُّسْخَةِ "أَبَا وَائِلٍ"، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
فَأَنجَيْنَٰهُ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍۢ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا ۖ وَمَا كَانُوا۟ مُؤْمِنِينَ
So We saved him and those with him by mercy from Us. And We eliminated those who denied Our signs, and they were not [at all] believers.
پھر ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے ان کو نجات بخشی اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان لانے والے تھے ہی نہیں
سرانجام، او و کسانی را که با او بودند، برحمت خود نجات بخشیدیم؛ و ریشه کسانی که آیات ما را تکذیب کردند و ایمان نیاوردند، قطع کردیم!
Tafsir Ibn Kathir
They said: "You have come to us that we should worship Allah Alone and forsake that which our fathers used to worship. So bring us that wherewith you have threatened us if you are of the truthful. (70)(Hud) said: "Rijs (torment) and wrath have already fallen on you from your Lord. Dispute you with me over names which you have named – you and your fathers – with no authority from Allah? Then wait, I am with you among those who wait. (71)So We saved him and those who were with him out of mercy from Us, and We severed the roots of those who belied Our Ayat; and they were not believers (72)
Allah mentions the rebellion, defiance and stubbornness of Hud's people, and their opposition to him, peace be upon him,
قَالُوا أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ
(They said: "You have come to us that we should worship Allah Alone?") Later on, the disbelievers of Quraysh said,
وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(And (remember) when they said: "O Allah! If this (the Qur'an) is indeed the truth (revealed) from You, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment.")[8:32]
Muhammad bin Ishaq said that the people of Hud used to worship several idols, such as Suda', Samud and Al-Haba'. This is why Hud, peace be upon him, said to them,
قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ
("Rijs and wrath have already fallen on you from your Lord.") you deserve 'Rijs' from your Lord because of what you said. Ibn 'Abbas said that, 'Rijs', means scorn and anger.
أَتُجَادِلُونَنِي فِي أَسْمَاءٍ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم
("Dispute you with me over names which you have named – you and your fathers")[7:71].
Hud said, do you dispute with me over these idols that you and your fathers made gods, even though they do not bring harm or benefit; did Allah give you authority or proof allowing you to worship them? Hud further said,
مَّا نَزَّلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ فَانتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِينَ
("with no authority from Allah? Then wait, I am with you among those who wait.") this is a threat and warning from the Messenger to his people.
The End of 'Ad
So Allah said;
فَأَنجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَمَا كَانُوا مُؤْمِنِينَ
(So We saved him and those who were with him out of mercy from Us, and We severed the roots of those who belied Our Ayat; and they were not believers.)
Allah mentioned several times in the Qur'an, the way the people of 'Ad were destroyed stating that He sent a barren wind that destroyed everything it passed by. Allah said in another Ayah,
وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ - سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ - فَهَلْ تَرَىٰ لَهُم مِّن بَاقِيَةٍ
(And as for 'Ad, they were destroyed by a furious violent wind! They were subjected to it for seven nights and eight days in succession, so that you could see men lying overthrown (destroyed), as if they were hollow trunks of date palms! Do you see any remnants of them?)[69:6-8]
When 'Ad rebelled and transgressed, Allah destroyed them with a strong wind that carried them, one by one, up in the air and brought each one of them down on his head, thus smashing his head and severing it from its body. This is why Allah said,
كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ
(as if they were hollow trunks of date palms!)[69:7]
Muhammad bin Ishaq said that 'Ad used to live in Yemen between Oman and Hadramawt. They also spread throughout the land and defeated various peoples, because of the strength that Allah gave them. They used to worship idols instead of Allah, and Allah sent to them Prophet Hud, peace be upon him. He was from their most common lineage and was the best among them in status. Hud commanded them to worship Allah Alone and associate none with him. He also ordered them to stop committing injustice against the people. But they rejected him and ignored his call. They said, 'Who is stronger than us?' Some of them, however, followed Hud, although they were few and had to conceal their faith. When 'Ad defied the command of Allah, rejected His Prophet, committed mischief in the earth, became arrogant and built high palaces on every high place – without real benefit to them – Hud spoke to them, saying,
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ - وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ - وَإِذَا بَطَشْتُم بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ - فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
("Do you build high palaces on every high place, while you do not live in them? And do you get for yourselves palaces (fine buildings) as if you will live therein forever. And when you seize (somebody), seize you (him) as tyrants? Have Taqwa of Allah, and obey me.")[26:128-131] However,
قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ - إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ
(They said: "O Hud! No evidence have you brought us, and we shall not leave our gods for your (mere) saying! And we are not believers in you. All that we say is that some of our gods have seized you with evil.") meaning, madness,
قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ - إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(He said: "I call Allah to witness, and bear you witness that I am free from that which you associate with Him. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on the straight path (the truth).")[11:53-56]."
Story of the Emissary of 'Ad
Imam Ahmad recorded that Al-Harith Al-Bakri said: "I went to the Messenger of Allah ﷺ to complain to him about Al-'Ala bin Al-Hadrami. When I passed by the area of Ar-Rabdhah, I found an old woman from Bani Tamim who was alone in that area. She said to me, "O servant of Allah! I need to reach the Messenger of Allah ﷺ to ask him for some of my needs, will you take me to him?" So I took her along with me to Al-Madinah and found the Masjid full of people. I also found a black flag raised high, while Bilal was holding a sword before the Messenger of Allah ﷺ. I asked, "What is the matter with the people?" They said, "The Prophet ﷺ intends to send 'Amr bin Al-'As (on a military expedition) somewhere." So I sat down. When the Prophet ﷺ went to his house, I asked for permission to see him, and he gave me permission. I entered and greeted him. He said, "Was there a dispute between you and Bani Tamim?" I said, "Yes. And we had been victorious over them. I passed by an old woman from Bani Tamim, who was alone, and she asked me to bring her to you, and she is at the door". So he allowed her in and I said, "O Allah's Messenger! What if you make a barrier between us and (the tribe of) Bani Tamim, such as Ad-Dahna' (Desert)?" The old woman became angry and opposed me. So I said, "My example is the example of a sheep that carried its own destruction. I carried this woman and did not know that she was an opponent. I seek refuge with Allah and His Messenger that I become like the emissary of 'Ad.' So the Prophet ﷺ asked me about the emissary of 'Ad, having better knowledge in it, but he liked to hear the story again. I said, "Once, 'Ad suffered from a famine and they sent an emissary [to get relief], whose name was Qayl. Qayl passed by Mu'awiyah bin Bakr and stayed with him for a month. Mu'awiyah supplied him with alcoholic drinks, and two female singers were singing for him. When a month ended, Qayl went to the mountains of Muhrah and said, 'O Allah! You know that I did not come here to cure an ill person or to ransom a prisoner. O Allah! Give 'Ad water as You used to.' So black clouds came and he was called, 'Choose which one of them you wish (to go to 'Ad)!' So he pointed to one of the black clouds and he heard someone proclaiming from it, 'Take it, as ashes that will leave none in 'Ad.' And it has been conveyed to me that the wind sent to them was no more than what would pass through this ring of mine, but it destroyed them." Abu Wa'il said, "That is true. When a man or a woman would send an emissary, they would tell him, 'Do not be like the emissary of 'Ad (bringing disaster and utter destruction to them instead of relief).," Imam Ahmad collected this story in the Musnad. At-Tirmidhi recorded similar wording for it, as did An-Nasa'i and Ibn Majah.
Tafsir Ibn Kathir
قوم عاد کا باغیانہ رویہ قوم عاد کی سرکشی، تکبر، ضد اور عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے حضرت ہود ؑ سے کہا کہ کیا آپ کی تشریف آوری کا مقصد یہی ہے کہ ہم اللہ واحد کے پرستار بن جائیں اور باپ دادوں کے پرانے معبودوں سے روگردانی کرلیں ؟ سنو اگر یہی مقصود ہے تو اسکا پورا ہونا محال ہے۔ ہم تیار ہیں اگر تم سچے ہو تو اپنے اللہ سے ہمارے لئے عذاب طلب کرو۔ یہی کفار مکہ نے کہا تھا کہنے لگے کہ یا اللہ محمد کا کہا حق ہے اور وہ واقعی تیرا کلام ہے اور ہم نہیں مانتے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور سخت المناک عذاب ہمیں کر۔ قوم عاد کے بتوں کے نام یہ ہیں صمد۔ صمودھبا۔ ان کی اس ڈھٹائی کے مقابلے میں اللہ کا عذاب اور اس کا غضب ثابت ہوگیا۔ رجس سے مراد رجز یعنی عذاب ہے ناراضی اور غصے کے معنی یہی ہیں۔ پھر فرمایا کہ تم ان بتوں کی بابت مجھ سے جھگڑ رہے ہو جن کے نام بھی تم نے خود رکھے ہیں یا تمہارے بڑوں نے۔ اور خواہ مخواہ بےوجہ انہیں معبود سمجھ بیٹھے ہو یہ پتھر کے ٹکڑے محض بےضرر اور بےنفع ہیں۔ نہ اللہ نے ان کی عبادت کی کوئی دلیل اتاری ہے۔ ہاں اگر تم مقابلے پر اتر ہی آئے ہو تو منتظر رہو میں بھی منتظر ہوں ابھی معلوم ہوجائے گا کہ مقبول بارگاہ رب کون ہے اور مردود بارگاہ کون ہے ؟ کون مستحق عذاب ہے اور کون قابل ثواب ہے ؟ آخر ہم نے اپنے نبی کو اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو نجات دی اور کافروں کی جڑیں کاٹ دیں۔ قرآن کریم کے کئی مقامات پر جناب باری عزوجل نے ان کی تباہی کی صورت بیان فرمائی ہے کہ ان پر خیر سے خالی، تند اور تیز ہوائیں بھیجی گئیں جس نے انہیں اور ان کی تمام چیزوں کو غارت اور برباد کردیا۔ عاد لوگ بڑے زنا ٹے کی سخت آندھی سے ہلاک کردیئے گئے جو ان پر برابر سات رات اور آٹھ دن چلتی رہی۔ سارے کے سارے اس طرح ہوگئے جیسے کھجور کے درختوں کے تنے الگ ہوں اور شاخیں الگ ہوں۔ دیکھ لے ان میں سے ایک بھی اب نظر آ رہا ہے ؟ ان کی سرکشی کی سزا میں سرکش ہوا ان پر مسلط کردی گئی جو ان میں سے ایک ایک کو اٹھا کر آسمان کی بلندی کی طرف لے جاتی اور وہاں سے گراتی جس سے سر الگ ہوجاتا دھڑ الگ گر جاتا۔ یہ لوگ یمن کے ملک میں، عمان اور حضرموت میں رہتے تھے، ادھر ادھر نکلتے اور لوگوں کو مار پیٹ کی جبراً و قہراً ان کے ملک و مال پر غاصبانہ قبضہ کرلیتے۔ سارے کے سارے بت پرست تھے۔ حضرت ہود جو ان کے شریف خاندانی شخص تھے ان کے پاس رب کی رسالت لے کر آئے، اللہ کی توحید کا حکم دیا، شرک سے روکا لوگوں پر ظلم کرنے کی برائی سمجھائی لیکن انہوں نے اس نصیحت کو قبول نہ کیا۔ مقابلے پر تن گئے اور اپنی قوت سے حق کو دبانے لگے۔ گو بعض لوگ ایمان لائے تھے لیکن وہ بھی بیچارے جان کے خوف سے پوشیدہ رکھے ہوئے تھے۔ باقی لوگ بد ستور اپنی بےایمانی اور ناانصافی پر جمے رہے، خواہ مخواہ فوقیت ظاہر کرنے لگے، بیکار عمارتیں بناتے اور پھولے نہ سماتے۔ ان سب کاموں کو اللہ کے رسول ناپسند فرماتے، انہیں روکتے، تقوے کی، اطاعت کی ہدایت کرتے لیکن یہ کبھی تو انہیں بےدلیل بتاتے، کبھی انہیں مجنوں کہتے۔ آپ اپنی برات ظاہر کرتے اور ان سے صاف فرماتے کہ مجھے تمہاری قوت طاقت کا مطلقاً خوف نہیں جاؤ تم سے جو ہو سکے کرلو۔ میرا بھروسہ اللہ پر ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی بھروسے کے لائق نہ عبادت کے قابل ساری مخلوق اس کے سامنے عاجز پست اور لا چار ہے۔ سچی راہ اللہ کی راہ ہے۔ آخر جب یہ اپنی برائیوں سے باز نہ آئے تو ان پر بارش نہ برسائی گئی تین سال تک قحط سالی رہی۔ عاجز ہوگئے تنگ آگئے آخر یہ سوچا کہ چند آدمیوں کو بیت اللہ شریف بھیجیں وہ وہاں جا کر اللہ سے دعائیں کریں۔ یہی ان کا دستور تھا کہ جب کسی مصیبت میں پھنس جاتے تو وہاں وفد بھیجتے اس وقت ان کا قبیلہ عمالیق حرم شریف میں بھی رہتا تھا یہ لوگ عملیق بن آدم بن سام بن نوح کی نسل میں سے تھے ان کا سردار اس زمانے میں معاویہ بن بکر تھا۔ اس کی ماں قوم عاد سے تھی جس کا نام جاہدہ بنت خبیری تھا عادیوں نے اپنے ہاں سے ستر شخصوں کو منتخب کر کے بطور وفد مکہ شریف کو روانہ کیا۔ یہاں آ کر یہ معاویہ کے مہمان بنے۔ پر تکلف دعوتوں کے اڑانے، شراب خوری کرنے اور معاویہ کی دو لونڈیوں کا گانا سننے میں اس بےخودی سے مشغول ہوگئے کہ کامل ایک مہینہ گذر گیا۔ انہیں اپنے کام کی طرف مطلق توجہ نہ ہوئی۔ معاویہ ان کی یہ روش دیکھ کر اور اپنی قوم کی بری حالت سامنے رکھ کر بہت کڑھتا تھا لیکن یہ مہمان نوازی کے خلاف تھا کہ خود ان سے کہتا کہ جاؤ۔ اس لئے اس نے کچھ اشعار لکھے اور ان ہی دونوں کنیزوں کو یاد کرائے کہ وہ یہی گا کر انہیں سنائیں۔ ان شعروں کا مضمون یہ تھا کہ اے لوگو جو قوم کی طرف سے اللہ سے دعائیں کرنے کے لئے بھیجے گئے ہو کہ اللہ عادیوں پر بارش برسائے جو آج قہط سالی کی وجہ سے تباہ ہوگئے ہیں بھوکے پیاسے مر رہے ہیں بڈھے بچے مرد عورتیں تباہ حال پھر رہے ہیں یہاں تک کہ بولنا چالنا ان پر دو بھر ہوگیا ہے۔ جنگلی جانور ان کی آبادیوں میں پھر رہے ہیں کیونکہ کسی آدمی میں اتنی قوت کہاں کہ وہ تیر چلا سکے۔ لیکن افسوس کہ تم یہاں اپنے من مانے مشغلوں میں منہمک ہوگئے اور بےفائدہ وقت ضائع کرنے لگے۔ تم سے زیادہ برا وفد دنیا میں کوئی نہ ہوگا یاد رکھو اگر اب بھی تم نے مستعدی سے قومی خدمت نہ کی تو تم برباد اور غارت ہوجاؤ گے۔ یہ سن کر ان کے کان کھڑے ہوئے یہ حرم میں گئے اور دعائیں مانگنا شروع کیں اللہ تعالیٰ نے تین بادل ان کے سامنے پیش کئے ایک سفید ایک سیاہ ایک سرخ اور ایک آواز آئی کہ ان میں سے ایک اختیار کرلو اس نے سیاہ بادل پسند کیا آوز آئی کہ تو نے سیاہ پسند کیا جو عادیوں میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑے گا نہ باپ کو نہ بیٹے کو سب کو غارت کر دے گا سوائے بنو لویزیہ کے۔ یہ بنو لویزیہ بھی عادیوں کا ایک قبیلہ تھا جو مکہ میں مقیم تھے ان پر وہ عذاب نہیں آئے تھے یہی باقی رہے اور انہی میں سے عاد اخری ہوئے۔ اس وفد کے سردار نے سیاہ بادل پسند کیا تھا جو اسی وقت عادیوں کی طرف چلا۔ اس شخص کا نام قیل بن غز تھا۔ جب یہ بادل عادیوں کے میدان میں پہنچا جس کا نام مغیث تھا تو اسے دیکھ وہ لوگ خوشیاں منانے لگے کہ اس ابر سے پانی ضرور برسے گا حالانکہ یہ وہ تھا جس کی یہ لوگ نبی کے مقابلہ میں جلدی مچا رہے تھے جس میں المناک عذاب تھا جو تمام چیزوں کو فنا کردینے والا تھا۔ سب سے پہلے اس عذاب الوہی کو ایک عورت نے دیکھا جس کا نام ممید تھا یہ چیخ مار کر بیہوش ہوگئی۔ جب ہوش آئی تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تو نے کیا دیکھا ؟ اس نے کہا آگ کا بگولہ جو بصورت ہوا تھا جسے فرشتے گھسیٹے لئے چلے آتے تھے۔ برابر سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ آگ والی ہوا ان پر چلتی رہی اور عذاب کا بادل ان پر برستا رہا۔ تمام عادیوں کا ستیاناس ہوگیا۔ حضرت ہود ؑ اور آپ کے مومن ساتھی ایک باغیچے میں چلے گئے وہاں اللہ نے انہیں محفوظ رکھا وہی ہوا ٹھنڈی اور بھینی بھینی ہو کر ان کے جسموں کو لگتی رہی جس سے روح کو تازگی اور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچتی رہی۔ ہاں عادیوں پر اس ہوا نے سنگباری شروع کردی، ان کے دماغ پھٹ گئے۔ آخر انہیں اٹھا اٹھا کر دے پٹخا سر الگ ہوگئے دھڑ الگ جا پڑے یہ ہوا سوار کو سواری سمیت ادھر اٹھا لیتی تھی اور بہت اونچے لے جا کر اسے اوندھا دے پٹختی تھی۔ یہ سیاق بہت غریب ہے اور اس میں بہت سے فوائد ہیں۔ عذاب الٰہی کے آجانے سے حضرت ہود کو اور مومنوں کو نجات مل گئی رحمت حق ان کے شامل حال رہی اور باقی کفار اس بدترین سزا میں گرفتار ہوئے۔ مسند احمد میں ہے حضرت حارث بکری ؓ فرماتے ہیں میں اپنے ہاں سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں علا بن حضرمی کی شکایت لے کر چلا جب میں ربذہ میں پہنچا تو بنو تمیم کی ایک بڑھیا لا چار ہو کر بیٹھی ہوئی ملی۔ مجھ سے کہنے لگی اے اللہ کے بندے مجھے سرکار رسالت مآب میں پہنچنا ہے۔ کیا تو میرے ساتھ اتنا سلوک کرے گا کہ مجھے دربار رسالت میں پہنچا دے ؟ میں نے کہا آؤ چناچہ میں نے اسے اپنے اونٹ پر بٹھا لیا اور مدینے پہنچا دیکھا کہ مسجد لوگوں سے بھری ہوئی ہے سیاہ جھنڈے لہرا رہے ہیں اور حضرت بلال ؓ آنحضرت ﷺ کے سامنے تلوار لٹکائے کھڑے ہیں میں نے پوچھا کیا بات ہے ؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ حضرت عمرو بن عاص ؓ کی ماتحتی میں کہیں لشکر بھیجنے والے ہیں۔ میں تھوری دیر بیٹھا رہا اتنے میں حضور ﷺ اپنی منزل میں تشریف لے گئے۔ میں آپ کے پیچھے ہی گیا۔ اجازت طلب کی اجازت ملی جب میں نے اندر جا کر سلام کیا تو آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا کیا تم میں اور بنو تمیم میں کچھ چشمک ہے ؟ میں نے کہا حضور اس کے ذمہ دار وہی ہیں۔ میں اب حاضر خدمت ہو رہا تھا تو راستے میں قبیلہ تمیم کی ایک بڑھیا عورت مل گئی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی اس نے مجھ سے درخواست کی اور میں اسے اپنی سواری پر بٹھا کر یہاں لایا ہوں وہ دروازے پر بیٹھی ہوئی ہے۔ آپ نے اسے بھی اندر آنے کی اجازت دی۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کر دیجئے۔ اس پر بڑھیا تیز ہو کر بولی اگر آپ نے ایسا کردیا تو پھر آپ کے ہاں کے بےبس کہاں پناہ لیں گے ؟ میں نے کہا سبحان اللہ ! تیری اور میری تو وہی مثل ہوئی کہ بکری اپنی موت کو آپ اٹھا کرلے گئی، میں نے ہی تجھے یہاں پہنچایا، مجھے اس کے انجام کی کیا خبر تھی ؟ اللہ نہ کرے کہ میں بھی عادی قبیلے کے وفد کی طرح ہوجاؤں۔ تو حضور نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ بئی عادیوں کے وفد کا قصہ کیا ہے ؟ باوجود یہ کہ آپ کو مجھ سے زیادہ اس کا علم تھا لیکن یہ سمجھ کر کہ اس وقت آپ باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے قصہ شروع کردیا کہ حضور جس وقت عادیوں میں قحط سالی نمودار ہوئی تو انہوں نے قیل نامی ایک شخص کو بطور اپنے قاصد کے بیت اللہ شریف دعا وغیرہ کرنے کیلئے بھیجا۔ یہ معاویہ بن بکر کے ہاں آ کر مہمان بنا۔ یہاں شراب و کباب اور راگ رنگ میں ایسا مشغول ہوا کہ مہینے بھر تک جام لنڈھاتا رہا اور معاویہ کی دو لونڈیوں کے گانے سنتا رہا ان کا نام جرادہ تھا۔ مہینے بھر کے بعد مہرہ کے پہاڑوں پر گیا اور اللہ سے دعا مانگنے لگا کہ باری تعالیٰ میں کسی بیمار کی دوا کے لئے یا کسی قیدی کے فدیئے کے لئے نہیں آیا یا اللہ عادیوں کو تو وہ پلا جو پلایا کرتا تھا اتنے میں وہ دیکھتا ہے کہ چند سیاہ رنگ کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہیں ان میں سے ایک غیبی صدا آئی کہ ان میں سے جو تجھے پسند ہو قبول کرلے۔ اس نے سخت سیاہ بادل کو اختیار کیا اسی وقت دوسری آواز آئی کہ لے لے خاک راکھ جو عادیوں میں سے ایک کو بھی نہ چھوڑے۔ عادیوں پر ہوا کے خزانے میں سے صرف بقدر انگوٹھی کے حلقے کے ہوا چھوڑی گئی تھی جس نے سب کو غارت اور تہ وبالا کردیا۔ ابو وائل کہتے ہیں۔ یہ واقعہ سارے عرب میں ضرب المثل ہوگیا تھا جب لوگ کسی کو بطور وفد کے بھتیجے تھے تو کہہ دیا کرتے تھے کہ عادیوں کے وفد کی طرح نہ ہوجانا۔ اسی طرح مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے سنن کی اور کتابوں میں بھی یہ واقعہ موجود ہے۔ واللہ اعلم
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ تَمَرُّدِهِمْ وَطُغْيَانِهِمْ وَعِنَادِهِمْ وَإِنْكَارِهِمْ عَلَى هُودٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿قَالُوا أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ [وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ] ﴾ [[زيادة من ك، م، وفي هـ: الآية".]] كَمَا قَالَ الْكُفَّارُ مِنْ قُرَيْشٍ: ﴿وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ [الْأَنْفَالِ:٣٢]
وَقَدْ ذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُ: أَنَّهُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ أَصْنَامًا، فَصَنَمٌ يُقَالُ لَهُ: صُدَاء، وَآخَرُ يُقَالُ لَهُ: صمُود، وَآخَرُ يُقَالُ لَهُ: الْهَبَاءُ [[انظر: تفسير الطبري (١٢/٥٠٧) .]]
وَلِهَذَا قَالَ هُودٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ﴾ أَيْ: قَدْ وَجَبَ عَلَيْكُمْ بِمَقَالَتِكُمْ هَذِهِ مِنْ رَبِّكُمْ رِجْسٌ [وَغَضَبٌ] [[زيادة من م.]] قِيلَ: هُوَ مَقْلُوبٌ مِنْ رِجْزٍ. وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: مَعْنَاهُ السخَط وَالْغَضَبُ.
﴿أَتُجَادِلُونَنِي فِي أَسْمَاءٍ سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ﴾ أَيْ: أَتُحَاجُّونِي [[في م، د: "أتجادلونني".]] فِي هَذِهِ الْأَصْنَامِ الَّتِي سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ آلِهَةً، وَهِيَ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَا جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ عَلَى عِبَادَتِهَا حُجَّةً وَلَا دَلِيلًا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿مَا نزلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ فَانْتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ﴾
وَهَذَا تَهْدِيدٌ وَوَعِيدٌ مِنَ الرَّسُولِ لِقَوْمِهِ؛ وَلِهَذَا عَقَّبَ بُقُولِهِ: ﴿فَأَنْجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَمَا كَانُوا مُؤْمِنِينَ﴾
وَقَدْ ذَكَرَ اللَّهُ، سُبْحَانَهُ، صِفَةَ إِهْلَاكِهِمْ فِي أَمَاكِنَ أُخَرَ مِنَ الْقُرْآنِ، بِأَنَّهُ أَرْسَلَ عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ، مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيمِ، كَمَا قَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ * سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ * فَهَلْ تَرَى لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ﴾ [الْحَاقَّةُ:٦-٨] لَمَّا تَمَرَّدُوا وَعَتَوْا أَهْلَكَهُمُ اللَّهُ بِرِيحٍ عَاتِيَةٍ، فَكَانَتْ تَحْمِلُ الرَّجُلَ مِنْهُمْ فَتَرْفَعُهُ فِي الْهَوَاءِ ثُمَّ تُنَكِّسُهُ عَلَى أُمِّ رَأْسِهِ فتثلغُ رَأْسَهُ حَتَّى تُبينه من بين جُثَّتِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ﴾
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: كَانُوا يَسْكُنُونَ بِالْيَمَنِ مِنْ [[في م، ك: "بين".]] عَمَّانَ وَحَضْرَمَوْتَ، وَكَانُوا مَعَ ذَلِكَ قَدْ فَشَوْا فِي الْأَرْضِ وَقَهَرُوا أَهْلَهَا، بِفَضْلِ قُوَّتِهِمُ الَّتِي آتَاهُمُ اللَّهُ، وَكَانُوا أَصْحَابَ أَوْثَانٍ يَعْبُدُونَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ، فَبَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِمْ هُودًا، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهُوَ مِنْ أَوْسَطِهِمْ نَسَبًا، وَأَفْضَلِهِمْ مَوْضِعًا، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ وَلَا يَجْعَلُوا مَعَهُ إِلَهًا غَيْرَهُ، وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْ ظُلْمِ النَّاسِ، فَأَبَوْا عَلَيْهِ وَكَذَّبُوهُ، وَقَالُوا: مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً؟ وَاتَّبَعَهُ مِنْهُمْ نَاسٌ، وَهُمْ يَسِيرٌ مُكْتَتِمُونَ بِإِيمَانِهِمْ، فَلَمَّا عَتَتْ عَادٌ عَلَى اللَّهِ وَكَذَّبُوا نَبِيَّهُ، وَأَكْثَرُوا فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ وَتَجَبَّرُوا، وَبَنَوْا بِكُلِّ رَيْعٍ آيَةً عَبَثًا بِغَيْرِ نَفْعٍ، كَلَّمَهُمْ هُودٌ فَقَالَ: ﴿أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ * وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ * وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ * فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ﴾ [الشُّعَرَاءِ:١٢٨-١٣١] ﴿قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ. إِنْ نَقُولُ إِلا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ﴾ أَيْ: بِجُنُونٍ ﴿قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ * مِنْ دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُونِ * إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [هُودٍ:٥٣-٥٦]
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: فَلَمَّا أَبَوْا إِلَّا الْكُفْرَ بِهِ، أَمْسَكَ اللَّهُ عَنْهُمُ الْقَطْرَ [[في م: "القطر عنهم".]] ثَلَاثَ سِنِينَ، فِيمَا يَزْعُمُونَ، حَتَّى جَهَدَهُمْ ذَلِكَ، قَالَ: وَكَانَ النَّاسُ إِذَا جَهَدَهُمْ أَمْرٌ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ، فَطَلَبُوا مِنَ اللَّهِ الْفَرَجَ فِيهِ، إِنَّمَا يَطْلُبُونَهُ بحُرْمة وَمَكَانِ بَيْتِهِ، وَكَانَ مَعْرُوفًا عِنْدَ المِلَل [[في ك، م: " عند أهل ذلك الزمان"]] وَبِهِ الْعَمَالِيقُ مُقِيمُونَ، وَهُمْ مِنْ سُلَالَةِ عِمْلِيقَ بْنِ لاوَذَ بْنِ سَامَ بْنِ نُوحٍ، وَكَانَ سَيِّدُهُمْ إِذْ ذَاكَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: "مُعَاوِيَةُ بْنُ بَكْرٍ"، وَكَانَتْ لَهُ أُمٌّ [[في م: "وكانت أمه".]] مِنْ قَوْمِ عَادٍ، وَاسْمُهَا كَلْهَدَةُ [[في ك، م: "جلهدة".]] ابْنَةُ الْخَيْبَرِيِّ، قَالَ: فَبَعَثَتْ عَادٌ وَفْدًا قَرِيبًا مِنْ سَبْعِينَ رَجُلًا إِلَى الْحَرَمِ، لِيَسْتَسْقُوا لَهُمْ عِنْدَ الْحَرَمِ، فَمَرُّوا بِمُعَاوِيَةَ بْنِ بَكْرٍ بِظَاهِرِ مَكَّةَ فَنَزَلُوا عَلَيْهِ، فَأَقَامُوا عِنْدَهُ شَهْرًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَتُغَنِّيهُمُ الْجَرَادَتَانِ -قَيْنَتَانِ لِمُعَاوِيَةَ -وَكَانُوا قَدْ وَصَلُوا إِلَيْهِ فِي شَهْرٍ، فَلَمَّا طَالَ مُقَامُهُمْ عِنْدَهُ وَأَخَذَتْهُ شَفَقَةٌ عَلَى قَوْمِهِ، وَاسْتَحْيَا مِنْهُمْ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِالِانْصِرَافِ، عَمِلَ شِعْرًا يَعْرِضُ لَهُمْ بِالِانْصِرَافِ، وَأَمَرَ الْقَيْنَتَيْنِ أَنْ تُغَنِّيَاهُمْ بِهِ، فَقَالَ:
أَلَا يَا قَيْلُ وَيْحَكَ قُْم فَهَيْنم ... لَعَلَّ اللَّهَ يُصْبحُنَا غَمَاما ...
فَيَسْقي أرضَ عادٍ إِنَّ عَادًا ... قَد امْسَوا لَا يُبِينُونَ الكَلاما ...
مِنَ الْعَطَشِ الشَّدِيدِ فَلَيْسَ نَرجُو ... بِهِ الشيخَ الكبيرَ وَلَا الغُلاما ...
وَقَْد كانَت نساؤهُم بخيرٍ ... فَقَدْ أَمْسَتْ [[في أ: "فأصبحت".]] نِسَاؤهم عَيَامى
وَإِنَّ الوحشَ تأتيهمْ جِهارا ... وَلَا تَخْشَى لعاديَ سِهَاما ...
وَأَنْتُمْ هاهُنَا فِيمَا اشتَهَيْتُمْ ... نهارَكُمُ وَلَيْلَكُمُ التَّمَامَا ...
فقُبّحَ وَفُْدكم مِنْ وَفْدِ قَوْمٍ ... ولا لُقُّوا التحيَّةَ والسَّلاما ...
قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ تَنَبَّهَ الْقَوْمُ لِمَا جَاءُوا لَهُ، فَنَهَضُوا إِلَى الْحَرَمِ، وَدَعَوْا لِقَوْمِهِمْ فَدَعَا دَاعِيهِمْ، وَهُوَ: "قَيْلُ بْنُ عَنْزٍ" فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابَاتٍ ثَلَاثًا: بَيْضَاءَ، وَسَوْدَاءَ، وَحَمْرَاءَ، ثُمَّ نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: "اخْتَرْ لِنَفْسِكَ -أَوْ: -لِقَوْمِكَ مِنْ هَذَا السَّحَابِ"، فَقَالَ: "اخْتَرْتُ هَذِهِ السَّحَابَةَ السَّوْدَاءَ، فَإِنَّهَا أَكْثَرُ السَّحَابِ مَاءً" فَنَادَاهُ مُنَادٍ: اخْتَرْتَ رَمادا رِمْدَدًا، لَا تُبْقِي مِنْ عَادٍ أَحَدًا، لَا وَالِدًا تَتْرُكُ وَلَا وَلَدًا، إِلَّا جَعَلَتْهُ هَمدا، إِلَّا بَنِي اللَّوْذِيَّةِ الْمُهَنَّدَا [[في م: "المهدي".]] قَالَ: وَبَنُو اللَّوْذِيَّةِ: بَطْنٌ مِنْ عَادٍ مُقِيمُونَ [[في ك، م، أ: "مقيمين".]] بِمَكَّةَ، فَلَمْ يُصِبْهُمْ مَا أَصَابَ قَوْمَهُمْ -قَالَ: وَهُمْ مَنْ بَقِيَ مِنْ أَنْسَالِهِمْ [[في أ: "أنسابهم".]] وَذَرَارِيهِمْ [[في ك، م: "ذرياتهم".]] عَادٌ الْآخِرَةُ -قَالَ: وَسَاقَ اللَّهُ السَّحَابَةَ السَّوْدَاءَ، فِيمَا يَذْكُرُونَ، الَّتِي اخْتَارَهَا "قَيْلُ بْنُ عَنْزٍ" بِمَا فِيهَا مِنَ النِّقْمَةِ إِلَى عَادٍ، حَتَّى تَخْرُجَ عَلَيْهِمْ مِنْ وَادٍ يُقَالُ لَهُ: "الْمُغِيثُ"، فَلَمَّا رَأَوْهَا اسْتَبْشَرُوا، وَقَالُوا: ﴿هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا﴾ يَقُولُ: ﴿بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ * تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ بِأَمْرِ رَبِّهَا﴾ [الْأَحْقَافِ:٢٤، ٢٥] أَيْ: تُهْلِكُ كُلَّ شَيْءٍ مَرّت [[في ك، م: "أمرت".]] بِهِ، فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ أَبْصَرَ مَا فِيهَا وَعَرَفَ أَنَّهَا رِيحٌ، فِيمَا يَذْكُرُونَ، امْرَأَةً مِنْ عَادٍ يُقَالُ لَهَا: مَهْدد [[في ك، م، أ: "مهد".]] فَلَمَّا تَبَيَّنَتْ مَا فِيهَا صَاحَتْ، ثُمَّ صُعِقت. فَلَمَّا أَفَاقَتْ قَالُوا: مَا رَأَيْتِ يَا مَهْدد [[في ك، م، أ: "مهد".]] ؟ قَالَتْ [[في ك، م: "فقالت".]] رِيحًا فِيهَا شُهُب النَّارِ، أَمَامَهَا رِجَالٌ يَقُودُونَهَا. فَسَخَّرَهَا اللَّهُ عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا، كَمَا قَالَ اللَّهُ. وَ "الْحُسُومُ": الدَّائِمَةُ -فَلَمْ تَدَعْ مِنْ عَادَ أَحَدًا إِلَّا هَلَكَ وَاعْتَزَلَ هُود، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِيمَا ذُكِرَ لِي، وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي حَظِيرَةٍ، مَا يُصِيبُهُ وَمَنْ مَعَهُ إِلَّا مَا تَلِينُ عَلَيْهِ الْجُلُودُ، وتلْتذ الْأَنْفُسُ، وَإِنَّهَا لَتَمُرُّ عَلَى عَادٍ بِالطَّعْنِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَتَدْمَغُهُمْ بِالْحِجَارَةِ.
وَذَكَرَ تَمَامَ الْقِصَّةِ بِطُولِهَا، وَهُوَ سِيَاقٌ غَرِيبٌ [[تفسير الطبري (١٢/٥٠٧) .]] فِيهِ فَوَائِدُ كَثِيرَةٌ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَنَجَّيْنَاهُمْ مِنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ﴾ [هُودٍ:٥٨]
وَقَدْ وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ الَّذِي رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ قَرِيبٌ مِمَّا أَوْرَدَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ.
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُنْذِرِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّحْوِيُّ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُود، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ الْحَارِثِ الْبَكْرِيِّ قَالَ: خَرَجْتُ أَشْكُو الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَمَرَرْتُ بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا عَجُوزٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ مُنْقَطِعٌ بِهَا، فَقَالَتْ لِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَاجَةً، فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغِي إِلَيْهِ؟ قَالَ: فَحَمَلْتُهَا فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَإِذَا الْمَسْجِدُ غَاصٌّ بِأَهْلِهِ، وَإِذَا رَايَةٌ سَوْدَاءُ تَخْفِقُ، وَإِذَا بِلَالٌ مُتَقَلِّدٌ بِسَيْفٍ [[في أ: "السيف".]] بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ؟ فَقَالُوا: يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَجْهًا. قَالَ: فَجَلَسْتُ، فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ -أَوْ قَالَ: رَحْلَهُ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ، فَأَذِنَ لِي، فَدَخَلْتُ فَسَلَّمْتُ، قَالَ: هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ تَمِيمٍ [[في أ: "وبين بني تميم".]] شَيْءٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَكَانَتْ لَنَا الدّبَرة عَلَيْهِمْ، وَمَرَرْتُ بِعَجُوزٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ مُنْقَطِعٍ بِهَا، فَسَأَلَتْنِي أَنْ أَحْمِلَهَا إِلَيْكَ، وَهَا هِيَ بِالْبَابِ. فَأَذِنَ لَهَا، فَدَخَلَتْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ رَأَيْتَ [[في أ: "أرأيت".]] أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ تَمِيمٍ حَاجِزًا، فَاجْعَلِ الدَّهْنَاءَ. فَحَمِيَتِ الْعَجُوزُ وَاسْتَوْفَزَتْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِلَى أَيْنَ يُضْطَرُّ مُضطَرُك [[في أ: "مطهرك".]] ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ مَثَلِي مَثَلُ مَا قَالَ الْأَوَّلُ: "معْزَى حَمَلت حَتْفَهَا"، حَمَلْتُ هَذِهِ وَلَا أَشْعُرُ أَنَّهَا كَانَتْ لِي خَصْمًا، أُعُوذُ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ [[في ك، م: "ورسوله".]] أَنْ أَكُونَ كَوَافِدِ عَادٍ! قَالَ: هِيهْ، وَمَا وَافِدُ عَادٍ؟ -وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ، وَلَكِنْ يَسْتَطْعِمُهُ -قُلْتُ: إِنْ عَادًا قُحطوا فَبَعَثُوا وَافِدًا لَهُمْ يُقَالُ لَهُ: "قَيْلُ"، فَمَرَّ بِمُعَاوِيَةَ بْنِ بَكْرٍ، فَأَقَامَ عِنْدَهُ شَهْرًا يَسْقِيهِ الْخَمْرَ وَتُغَنِّيهِ جَارِيَتَانِ، يُقَالُ لَهُمَا: "الْجَرَادَتَانِ"، فَلَمَّا مَضَى [[في د: "قضى".]] الشَّهْرُ خَرَجَ إِلَى جِبَالِ مَهْرة، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَجِئْ إِلَى مَرِيضٍ فَأُدَاوِيهِ، وَلَا إِلَى أَسِيرٍ فَأُفَادِيهِ. اللَّهُمَّ اسْقِ عَادًا مَا كُنْتَ تَسْقِيهِ، فَمَرَّتْ بِهِ سَحَّابَاتٌ سُودُ، فَنُودِيَ: مِنْهَا "اخْتَرْ". فَأَوْمَأَ إِلَى سَحَابَةٍ مِنْهَا سَوْدَاءَ، فَنُودِيَ مِنْهَا: "خُذْهَا رَمَادًا رِمْدِدا، لَا تُبْقِي مِنْ عَادٍ أَحَدًا". قَالَ: فَمَا بَلَغَنِي أَنَّهُ بُعث عَلَيْهِمْ مِنَ الرِّيحِ إِلَّا قَدْرُ [[في ك، م: "كقدر".]] مَا يَجْرِي فِي خَاتَمِي هَذَا، حَتَّى، هَلَكُوا -قَالَ أَبُو وَائِلٍ: وَصَدَقَ -قَالَ: وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ وَالرَّجُلُ إِذَا بَعَثُوا وَافِدًا لَهُمْ قَالُوا: "لَا تَكُنْ كَوَافِدِ عَادٍ".
هَكَذَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي الْمُسْنَدِ، وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنِ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، بِهِ [[المسند (٣/٤٨٢) ، وسنن الترمذي برقم (٣٢٧٤) .]] نَحْوَهُ: وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ سَلَّامِ بْنِ أَبِي الْمُنْذِرِ. عَنْ عَاصِمٍ -وَهُوَ ابْنُ بَهْدَلة -وَمِنْ طَرِيقِهِ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ أَيْضًا، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ الْبَكْرِيِّ، بِهِ. وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي كُرَيْب عَنْ زَيْدِ بْنِ حُبَاب، بِهِ. وَوَقَعَ عِنْدَهُ: "عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْبَكْرِيِّ" فَذَكَرَهُ، وَرَوَاهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْبَكْرِيِّ، فَذَكَرَهُ [[سنن النسائي الكبرى كما في تحفة الأشراف وسنن ابن ماجة برقم (٣٨١٦) وتفسير الطبري (١٢/٥١٣، ٥١٦) .]] وَلَمْ أَرَ فِي النُّسْخَةِ "أَبَا وَائِلٍ"، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَٰلِحًۭا ۗ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ قَدْ جَآءَتْكُم بَيِّنَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمْ ءَايَةًۭ ۖ فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِىٓ أَرْضِ ٱللَّهِ ۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٍۢ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ
And to the Thamud [We sent] their brother Salih. He said, "O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. There has come to you clear evidence from your Lord. This is the she-camel of Allah [sent] to you as a sign. So leave her to eat within Allah 's land and do not touch her with harm, lest there seize you a painful punishment.
اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ (تو) صالح نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک معجزہ آ چکا ہے۔ (یعنی) یہی خدا کی اونٹنی تمہارے لیے معجزہ ہے۔ تو اسے (آزاد) چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا۔ ورنہ عذابِ الیم میں تمہیں پکڑ لے گا
و به سوی (قوم) ثمود، برادرشان صالح را (فرستادیم)؛ گفت: «ای قوم من! (تنها) خدا را بپرستید، که جز او، معبودی برای شما نیست! دلیل روشنی از طرف پروردگارتان برای شما آمده: این «ناقه» الهی برای شما معجزهای است؛ او را به حال خود واگذارید که در زمین خدا (از علفهای بیابان) بخورد! و آن را آزار نرسانید، که عذاب دردناکی شما را خواهد گرفت!
Tafsir Ibn Kathir
And to Thamud (people, We sent) their brother Salih. He said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Indeed there has come to you a clear sign from your Lord. This she-camel of Allah is a sign unto you; so you leave her to graze in Allah's earth, and touch her not with harm, lest a painful torment should seize you (73)And remember when He made you successors (generations) after 'Ad and gave you habitations in the land, you build for yourselves palaces in plains, and carve out homes in the mountains. So remember the graces (bestowed upon you) from Allah, and do not go about making mischief on the earth (74)The leaders of those who were arrogant among his people said to those who were counted weak – to such of them as believed: "Know you that Salih is one sent from his Lord." They said: "We indeed believe in that with which he has been sent. (75)Those who were arrogant said: "Verily, we disbelieve in that which you believe in. (76)So they killed the she-camel and insolently defied the commandment of their Lord, and said: "O Salih! Bring about your threats if you are indeed one of the Messengers (of Allah). (77)So the earthquake seized them, and they lay (dead), prostrate in their homes (78)
Thamud: Their Land and Their Lineage
Scholars of Tafsir and genealogy say that (the tribe of Thamud descended from) Thamud bin 'Athir bin Iram bin Sam bin Nuh, and he is brother of Jadis son of 'Athir, similarly the tribe of Tasm, and they were from the ancient Arabs, Al-'Aribah, before the time of Ibrahim, Thamud came after 'Ad. They dwelled between the area of the Hijaz (Western Arabia) and Ash-Sham (Greater Syria). The Messenger of Allah ﷺ passed by the area and ruins of Thamud when he went to Tabuk (in northern Arabia) during the ninth year of Hijrah.
Imam Ahmad recorded that Ibn 'Umar said, "When the Messenger of Allah ﷺ went to the area of Al-Hijr in Tabuk with the people, he camped near the homes of Thamud, in Al-Hijr and the people brought water from the wells that Thamud used before. They used that water to make dough and placed the pots (on fire) for cooking. However, the Prophet ﷺ commanded them to spill the contents of the pots and to give the dough to their camels. He then marched forth with them from that area to another area, near the well that the camel (as will follow) used to drink from. He forbade the Companions from entering the area where people were tormented, saying,
إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِم
(I fear that what befell them might befall you as well. Therefore, do not enter on them.)"
Ahmad narrated that 'Abdullah bin 'Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said while in the Hijr area,
لَا تَدْخُلُوا عَلَى هؤُلَاءِ الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلَ مَا أَصَابَهُم
(Do not enter on these who were tormented, unless you do so while crying. If you are not crying, then do not enter on them, so that what befell them does not befall you, as well.) The basis of this Hadith is mentioned in Two Sahihs.
The Story of Prophet Salih and Thamud
Allah said,
وَإِلَىٰ ثَمُودَ
(And to Thamud), meaning, to the tribe of Thamud, We sent their brother Salih,
قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ
(He said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him.")
All Allah's Messengers called to the worship of Allah alone without partners. Allah said in other Ayat,
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ
(And We did not send any Messenger before you but We revealed to him (saying): "None has the right to be worshipped but I, so worship Me.")[21:25] and,
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ
(And verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah (Alone), and avoid Taghut (all false deities)")[16:36].
Thamud asked that a Camel appear from a Stone, and it did
Prophet Salih said,
قَدْ جَاءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ هَٰذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً
("Indeed there has come to you a clear sign from your Lord. This she-camel of Allah is a sign unto you;")
meaning, a miracle has come to you from Allah testifying to the truth of what I came to you with.
Salih's people asked him to produce a miracle and suggested a certain solid rock that they chose, which stood lonely in the area of Hijr, and which was called Al-Katibah. They asked him to bring a pregnant camel out of that stone. Salih took their covenant and promises that if Allah answers their challenge, they would believe and follow him. When they gave him their oaths and promises to that, Salih started praying and invoked Allah (to produce that miracle). All of a sudden, the stone moved and broke apart, producing a she-camel with thick wool. It was pregnant and its fetus was visibly moving in its belly, exactly as Salih's people asked. This is when their chief, Jundu' bin 'Amr, and several who followed him believed. The rest of the noblemen of Thamud wanted to believe as well, but Dhu'ab bin 'Amr bin Labid, Al-Habbab, who tended their idols, and Rabbab bin Sum'ar bin Jilhis stopped them. One of the cousins of Jundu' bin 'Amr, whose name was Shihab bin Khalifah bin Mikhlat bin Labid bin Jawwas, was one of the leaders of Thamud, and he also wanted to accept the message. However, the chiefs whom we mentioned prevented him, and he conceded to their promptings.
The camel remained in Thamud, as well as, its offspring after she delivered it before them. The camel used to drink from its well on one day and leave the well for Thamud the next day. They also used to drink its milk, for on the days she drank water, they used to milk her and fill their containers from its milk. Allah said in other Ayat,
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ
(And inform them that the water is to be shared between (her and) them, each one's right to drink being established (by turns))[54:28] and,
هَٰذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(Here is a she-camel: it has a right to drink (water), and you have a right to drink (water)(each) on a day, known)[26:155]
The camel used to graze in some of their valleys, going through a pass and coming out through another pass. She did that so as to be able to move easily, because she used to drink a lot of water. She was a tremendous animal that had a strikingly beautiful appearance. When she used to pass by their cattle, the cattle would be afraid of her. When this matter continued for a long time and Thamud's rejection of Salih became intense, they intended to kill her so that they could take the water for themselves every day. It was said that all of them (the disbelievers of Thamud) conspired to kill the camel. Qatadah said that he was told that, "The designated killer of the camel approached them all, including women in their rooms and children, and found out that all of them agreed to kill her." This fact is apparent from the wording of the Ayat,
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا
(Then they denied him and they killed it. So their Lord destroyed them because of their sin, and made them equal in destruction!)[91:14], and,
وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا
(And We sent the she-camel to Thamud as a clear sign, but they did her wrong.)[17:59] Allah said here,
فَعَقَرُوا النَّاقَةَ
(So they killed the she-camel)
Therefore, these Ayat stated that the entire tribe shared in agreeing to this crime, and Allah knows best.
Thamud kills the She-Camel
Imam Abu Ja'far Ibn Jarir and other scholars of Tafsir said that the reason behind killing the camel was that a disbelieving old woman among them named Umm Ghanm 'Unayzah, the daughter of Ghanm bin Mijlaz, had the severest enmity among Thamud towards Salih, peace be upon him. She had beautiful daughters and she was wealthy, and Dhu'ab bin 'Amr, one of the leaders of Thamud, was her husband.
There was another noblewoman whose name was Saduf bint Al-Muhayya bin Dahr bin Al-Muhayya, who was of noble family, wealthy and beautiful. She was married to a Muslim man from Thamud, but she left him. These two women offered a prize for those who swore to them that they would kill the camel. Once, Saduf summoned a man called Al-Habbab and offered herself to him if he would kill the camel, but he refused. So she called a cousin of hers whose name was Musaddi' bin Mihraj bin Al-Muhayya, and he agreed. As for 'Unayzah bint Ghanm, she called Qudar bin Salif bin Jundu', a short person with red-blue skin, a bastard, according to them. Qudar was not the son of his claimed father, Salif, but the son of another man called, Suhyad. However, he was born on Salif's bed (and thus named after him). 'Unayzah said to Qudar, "I will give you any of my daughters you wish, if you kill the camel." Qudar bin Salif and Musaddi' bin Mihraj went along and recruited several mischievous persons from Thamud to kill the camel. Seven more from Thamud agreed, and the group became nine, as Allah described, when He said,
وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ
(And there were in the city nine men, who made mischief in the land, and would not reform.)[27:48]
These nine men were chiefs of their people, and they lured the entire tribe into agreeing to kill the camel. So they waited until the camel left the water well, where Qudar waited beside a rock on its path, while Musaddi' waited at another rock. When the camel passed by Musaddi' he shot an arrow at her and the arrow pierced her leg. At that time, 'Unayzah came out and ordered her daughter, who was among the most beautiful women, to uncover her face for Qudar, encouraging Qudar to swing his sword, hitting the camel on her knee. So she fell to the ground and screamed once to warn her offspring. Qudar stabbed her in her neck and slaughtered her. Her offspring went up a high rock and screamed. 'Abdur-Razzaq recorded from Ma'mar that someone reported from Al-Hasan Al-Basari that the offspring said, "O my Lord! Where is my mother?" It was said that her offspring screamed thrice and entered a rock and vanished in it, or, they followed it and killed it together with its mother. Allah knows best. When they finished the camel off and the news reached Prophet Salih, he came to them while they were gathered. When he saw the camel, he cried and proclaimed,
تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ
("Enjoy yourselves in your homes for three days.")[11:65]
The Wicked Ones Plot to Kill Prophet Salih, But the Torment descended on Them
The nine wicked persons killed the camel on a Wednesday, and that night, they conspired to kill Salih. They said, "If he is truthful, we should finish him before we are finished. If he is a liar, we will make him follow his camel."
قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ - وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
(They said: "Swear one to another by Allah that we shall make a secret night attack on him and his household, and thereafter we will surely say to his near relatives: 'We witnessed not the destruction of his household, and verily, we are telling the truth.'" So they plotted a plot, and We planned a plan, while they perceived not.)[27:49-50]
When they conspired to kill Salih and gathered at night to carry out their plot, Allah, to Whom belongs all might and Who protects His Messengers, rained down stones that smashed the heads of these nine people before the rest of the tribe. On Thursday, the first of the three days of respite, the people woke up and their faces were pale (yellow), just as Prophet Salih had promised them. On the second day of respite, Friday, they woke up and found their faces had turned red. On the third day of the respite, Saturday, they woke up with their faces black. On Sunday, they wore the fragrance of Hanut [the perfume for enshrouding the dead before burial] and awaited Allah's torment and revenge, we seek refuge with Allah from it. They did not know what will be done to them or how and from where the torment would come. When the sun rose, the Sayhah (loud cry) came from the sky and a severe tremor overtook them from below; the souls were captured and the bodies became lifeless, all in an hour.
فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
(And they lay (dead), prostrate in their homes.)
They became dead and lifeless and none among them, whether young, old, male or female, escaped the torment.
The scholars of Tafsir said that none from the offspring of Thamud remained, except Prophet Salih and those who believed in him. A disbelieving man called Abu Righal was in the Sacred Area at the time and the torment that befell his people did not touch him. When he went out of the Sacred Area one day, a stone fell from the sky and killed him. 'Abdur-Razzaq narrated that Ma'mar said that Isma'il bin Umayyah said that the Prophet ﷺ passed by the gravesite of Abu Righal and asked the Companions if they knew whose grave it was. They said, "Allah and His Messenger know better." He said,
أَتَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟
قالوا الله ورسوله أعلم، قال
هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ رَجُلٍ مِنْ ثَمُودَ كَانَ فِي حَرَمِ اللهِ فَمَنَعَهُ حَرَمُ اللهِ عَذَابَ اللهِ، فَلَمَّا خَرَجَ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَومهُ فَدُفِنَ هَاهُنَا وَدُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَنَزَلَ الْقَوْمُ فَابْتَدَرُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ فَبَحَثُوا عَنْهُ فَاسْتَخْرَجُوا الْغُصْنَ
(This is the grave of Abu Righal, a man from Thamud. He was in the Sacred Area of Allah and this fact saved him from receiving Allah's torment. When he went out of the Sacred Area, what befell his people also befell him. He was buried here along with a branch made from gold.)
So the people used their swords and looked for the golden branch and found it. 'Abdur-Razzaq narrated that Ma'mar said that Az-Zuhri said that Abu Righal is the father of the tribe of Thaqif.
Tafsir Ibn Kathir
ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح۔ یہ بھائی تھا جد بس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ009ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گذرے تھے۔ مسند احمد میں ہے کہ جب حضور ﷺ تبوک کے میدان میں اترے لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں کو کھلا دیئے جائیں۔ پھر فرمایا یہاں سے کوچ کرو اور اس کنوئیں کے پاس ٹھہرو جس سے حضرت صالح کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور فرمایا آئندہ عذاب والی بستیوں میں پڑاؤ نہ کیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی عذاب کے شکار تم بھی بن جاؤ۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کی بستیوں سے روتے اور ڈرتے ہوئے گذرو کہ مبادا وہی عذاب تم پر آجائیں جو ان پر آئے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ غزوہ تبوک میں لوگ بہ عجلت ہجر کے لوگوں کے گھروں کی طرف لپکے۔ آپ نے اسی وقت یہ آواز بلند کرنے کہا حدیث (الصلوۃ جامعتہ) جب لوگ جمع ہوگئے تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے گھروں میں کیوں گھسے جا رہے ہو جن پر غضب الٰہی نازل ہوا۔ راوی حدیث ابو کبشہ فرماتے ہیں رسول اللہ کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا۔ میں نے یہ سن کر عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم تو صرف تعجب کے طور پر انہیں دیکھنے چلے گئے تھے آپ نے فرمایا میں تمہیں اس سے بھی تعجب خیز چیز بتارہا ہوں تم میں سے ہی ایک شخص ہے جو تمہیں وہ چیز بتارہا ہے جو گذر چکیں اور وہ خبریں دے رہا ہے جو تمہارے سامنے ہیں اور جو تمہارے بعد ہونے والی ہیں پس تم ٹھیک ٹھاک رہو اور سیدھے چلے جاؤ تمہیں عذاب کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں یاد رکھو ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی جانوں سے کسی چیز کو دفع نہ کرسکیں گے۔ حضرت ابو کبشہ کا نام عمر بن سعد ہے اور کہا گیا ہے کہ عامر بن سعد ہے واللہ اعلم۔ ایک روایت میں ہے کہ ہجر کی بستی کے پاس آتے ہی حضور ﷺ نے فرمایا معجزے نہ طلب کرو دیکھو قوم صالح نے معجزہ طلب کیا جو ظاہر ہوا یعنی اونٹنی جو اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے جاتی تھی لیکن ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتاب کی اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی تھی اور ایک دن یہ سب اس کا دودھ پیتے تھے اس اونٹنی کو مار ڈالنے پر ان پر ایک چیخ آئی اور یہ جتنے بھی تھے سب کے سب ڈھیر ہوگئے۔ بجز اس ایک شخص کے جو حرم شریف میں تھا لوگوں نے پوچھا اس کا نام کیا تھا ؟ فرمایا ابو غال یہ بھی جب حد حرم سے باہر آیا تو اسے بھی وہی عذاب ہوا۔ یہ حدیث صحاح ستہ میں تو نہیں لیکن ہے مسلم شریف کی شرط پر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ثمودی قبیلے کی طرف سے ان کے بھائی حضرت صالح ؑ کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ تمام نبیوں کی طرح آپ نے بھی اپنی امت کو سب سے پہلے توحید الٰہی سکھائی کہ فقط اس کی عبادت کریں اس کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے جتنے بھی رسول آئے سب کی طرف یہی وحی کی جاتی رہی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، صرف میری ہی عبادت کرو اور ارشاد ہے ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت سے بچو۔ حضرت صالح فرماتے ہیں لوگوں تمہارے پاس دلیل الٰہی آچکی جس میں میری سچائی ظاہر ہے۔ ان لوگوں نے حضرت صالح سے یہ معجزہ طلب کیا تھا کہ ایک سنگلاخ چٹان جو ان کی بستی کے ایک کنارے پڑی تھی جس کا نام کاتبہ تھا اس سے آپ ایک اونٹنی نکلایں جو گابھن ہو (دودھ دینے والی اونٹنی جو دس ماہ کی حاملہ ہو) حضرت صالح نے ان سے فرمایا کہ اگر ایسا ہوجائے تو تم ایمان قبول کر لوگے ؟ انہوں نے پختہ وعدے کئے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ حضرت صالح ؑ نے نماز پڑھی دعا کی ان سب کے دیکھتے ہی چٹان نے ہلنا شروع کیا اور چٹخ گئی اس کے بیچ سے ایک اونٹنی نمودار ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی ان کے سردار جندع بن عمرو نے تو اسلام قبول کرلیا اور اس کے ساتھیوں نے بھی۔ باقی جو اور سردار تھے وہ ایمان لانے کیلئے تیار تھے مگر ذواب بن عمرو بن لبید نے اور حباب نے جو بتوں کا مجاور تھا اور رباب بن ہمر بن جلمس وغیرہ نے انہیں روک دیا۔ حضرت جندع کا بھتیجا شہاب نامی تھا یہ ثمودیوں کا بڑا عالم فاضل اور شریف شخص تھا اس نے بھی ایمان لانے کا ارادہ کرلیا تھا لیکن انہی بدبختوں نے اسے بھی روکا جس پر ایک مومن ثمودی مہوش بن غنمہ نے کہا کہ آل عمرو نے شہاب کو دین حق کی دعوت دی قریب تھا کہ وہ مشرف باسلام ہوجائے اور اگر ہوجاتا تو اس کی عزت سیوا ہوجاتی مگر بدبختوں نے اسے روک دیا اور نیکی سے ہٹا کر بدی پر لگا دیا۔ اس حاملہ اونٹنی کو اس وقت بچہ ہوا ایک مدت تک دونوں ان میں رہے۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی۔ اس دن اس قدر دودھ دیتی کہ یہ لوگ اپنے سب برتن بھر لیتے جیسے قرآن میں ہے آیت (وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاۗءَ قِسْمَةٌۢ بَيْنَهُمْ ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ 28) 54۔ القمر :28) ، اور آیت میں ہے (قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ01505ۚ) 26۔ الشعراء :155) یہ ہے اونٹنی اس کے اور تمہارے پانی پینے کے دن تقسیم شدہ اور مقررہ ہیں۔ یہ اونٹنی ثمودیوں کی بستی حجر کے اردگرد چرتی چگتی تھی ایک راہ جاتی دوسری راہ آتی یہ بہت ہی موٹی تازی اور ہیبت والی اونٹنی تھی جس راہ سے گذرتی سب جانور ادھر ادھر ہوجاتے۔ کچھ زمانہ گذرنے کے بعد ان اوباشوں نے ارادہ کیا کہ اس کو مار ڈالیں تاکہ ہر دن ان کے جانور برابر پانی پی سکیں ان اوباشوں کے ارادوں پر سب نے اتفاق کیا یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور انہیں شہ دی کہ ہاں اس پاپ کو کاٹ دو۔ اس اونٹنی کو مار ڈالو۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے آیت (فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا001فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا 14۽) 91۔ الشمس :14) ، قوم صالح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کے بدلے ان پر ہلاکت نازل فرمائی اور ان سب کو یکساں کردیا۔ ایک اور آیت میں ہے کہ ہم نے ثمودیوں کو اونٹنی دی جو ان کے لئے پوری سمجھ بوجھ کی چیز تھی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا یہاں بھی فرمایا کہ انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ پس اس فعل کی اسناد سارے ہی قبیلے کی طرف ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے سب اس امر پر متفق تھے۔ امام ابن جریر وغیرہ کا فرمان ہے کہ اس کے قتل کی وجہ یہ ہوئی کہ عنیزہ بنت عنم بن مجلز جو ایک بڑھیا کافرہ تھی اور حضرت صالح سے بڑی دشمنی رکھتی تھی اس کی لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں اور تھی بھی یہ عورت مالدار۔ اس کے خاوند کا نام ذواب بن عمرو تھا جو ثمودیوں کا ایک سردار تھا یہ بھی کافر تھا۔ اسی طرح ایک اور عورت تھی جس کا نام صدقہ بنت محیا بن زہیر بن مختار تھا۔ یہ بھی حسن کے علاوہ مال اور حسب نسب میں بڑھی ہوئی تھی اس کے خاوند مسلمان ہوگئے تھے ؓ۔ اس سرکش عورت نے ان کو چھوڑ دیا۔ اب یہ دونوں عورتیں لوگوں کو اکساتی تھیں کہ کوئی آمادہ ہوجائے اور حضرت صالح ؑ کی اونٹنی کو قتل کر دے، صدقہ نامی عورت نے ایک شخص حباب کو بلایا اور اس سے کہا کہ میں تیرے گھر آجاؤں گی اگر تو اس اونٹنی کو قتل کر دے لیکن اس نے انکار کردیا، اس پر اس نے مصدع بن مہرج بن محیا کو بلایا جو اس کے چچا کا لڑکا تھا اور اسے بھی اسی بات پر آمادہ کیا۔ یہ خبیث اس کے حسن و جمال کا مفتوں تھا اس برائی پر آمادہ ہوگیا۔ ادھر عنیزہ نے قدار بن سالف بن جذع کو بلا کر اس سے کہا کہ میری ان خوبصورت نوجوان لڑکیوں میں سے جسے تو پسند کرے اسے میں تجھے دے دو گی اسی شرط پر کہ تو اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ ڈال۔ یہ خبیث بھی آمادہ ہوگیا یہ تھا بھی زنا کاری کا بچہ، سالف کی اولاد میں نہ تھا، جیسان نامی ایک شخص سے اس کی بدکار ماں نے زنا کاری کی تھی اسی سے یہ پیدا ہوا تھا اب دونوں چلے اور اہل ثمود اور دوسرے شریروں کو بھی اس پر آمادہ کیا چناچہ سات شخص اور بھی اس پر آمادہ ہوگئے اور یہ نو فسادی شخص اس بد ارادے پر تل گئے جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ 48) 27۔ النمل :48) اس شہر میں نو شخص تھے جن میں اصلاح کا مادہ ہی نہ تھا سراسر فسادی ہی تھے۔ چونکہ یہ لوگ قوم کے سردار تھے ان کے کہنے سننے سے تمام کفار بھی اس پر راضی ہوگئے اور اونٹنی کے واپس آنے کا راستے میں یہ دونوں شریر اپنی اپنی کمین گاہوں میں بیٹھ گئے جب اونٹنی نکلی تو پہلے مصدع نے اسے تیر مارا جو اس کی ران کی ہڈی میں پیوت ہوگیا اسی وقت عنیزہ نے اپنی خوبصورت لڑکی کو کھلے منہ قدار کے پاس بھیجا اس نے کہا قدار کیا دیکھتے ہو اٹھو اور اس کا کام تمام کردو۔ یہ اس کا منہ دیکھتے ہی دوڑا اور اس کے دونوں پچھلے پاؤں کاٹ دیئے اونٹنی چکرا کر گری اور ایک آواز نکلالی جس سے اس کا بچہ ہوشیار ہوگیا اور اس راستے کو چھوڑ کر پہاڑی پر چلا گیا یہاں قدار نے اونٹنی کا گلا کاٹ دیا اور وہ مرگئی اس کا بچہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیا اور تین مربتہ بلبلایا۔ حسن بصری فرماتے ہیں اس نے اللہ کے سامنے اپنی ماں کے قتل کی فریاد کی پھر جس چٹان سے نکلا تھا اسی میں سما گیا۔ یہ روایت بھی ہے کہ اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ ہی ذبح کردیا گیا تھا۔ واللہ اعلم۔ حضرت صالح ؑ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ گھبرائے ہوئے موقعہ پر پہنچے دیکھا کہ اونٹنی بےجان پڑی ہے آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا بس اب تین دن میں تم ہلاک کردیئے جاؤ گے، ہوا بھی یہی۔ بدھ کے دن ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اور چونکہ کوئی عذاب نہ آیا اس لئے اترا گئے اور ان مفسدوں نے ارادہ کرلیا کہ آج شام کو صالح کو بھی مار ڈالو اگر واقعی ہم ہلاک ہونے والے ہی ہیں تو پھر یہ کیوں بچا رہے ؟ اور اگر ہم پر عذاب نہیں آتا تو بھی آؤ روز روز کے اس جھنجھٹ سے پاک ہوجائیں۔ چناچہ قرآن کریم کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے مل کر مشورہ کیا اور پھر قسمیں کھا کر اقرار کیا کہ رات کو صالح کے گھر پر چھاپہ مارو اور اسے اور اس کے گھرانے کو تہ تیغ کرو اور صاف انکار کردو کہ ہمیں کیا خبر کہ کس نے مارا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے ان کے اس مکر کے مقابل ہم نے بھی مکر کیا اور یہ ہمارے مکر سے بالکل بیخبر رہے اب انجام دیکھ لو کہ کیا ہوا ؟ رات کو یہ اپنی بدنیتی سے حضرت صالح کے گھر کی طرف چلے آپ کا گھر پہاڑی کی بلندی پر تھا ابھی یہ اوپر چڑھ ہی رہے تھے جو اوپر سے ایک چٹان پتھر کی لڑھکتی ہوئی آئی اور سب کو ہی پیس ڈالا۔ ان کا تو یہ حشر ہوا ادھر جمعرات کے دن تمام ثمودیوں کے چہرے زرد پڑگئے جمعہ کے دن ان کے چہرے آگ جیسے سرخ ہوگئے اور ہفتے کے دن جو مہلت کا آخری دن تھا ان کے منہ سیاہ ہوگئے تین دن جب گذر گئے تو چوتھا دن اتوار صبح ہی صبح سورج کے روشن ہوتے ہی اوپر آسمان سے سخت کڑاکا ہوا جس کی ہولناک دہشت انگیز چنگھاڑنے ان کے کلیجے پھاڑ دیئے ساتھ ہی نیچے سے زبردست زلزلہ آیا ایک ہی ساعت میں ایک ساتھ ہی ان سب کا ڈھیر ہوگیا، مردوں سے مکانات، بازار، گلی، کوچے بھر گئے۔ مرد، عورت، بچے، بوڑھے اول سے آخر تک سارے کے سارے تباہ ہوگئے شان رب دیکھئے کہ اس واقعہ کی خبر دنیا کو پہنچانے کے لئے ایک کافرہ عورت بچا دی گئی، یہ بھی بڑی خبیثہ تھی حضرت صالح ؑ کی عداوت کی آگ سے بھری ہوئی تھی اسکی دونوں ٹانگیں نہیں تھیں لیکن ادھر عذاب آیا ادھر اس کے پاؤں کھل گئے اپنی بستی سے سرپٹ بھاگی اور تیز دوڑتی ہوئی دوسرے شہر میں پہنچی اور وہاں جا کر ان سب کے سامنے سارا واقعہ بیان کر ہی چکنے کے بعد ان سے پانی مانگا۔ ابھی پوری پیاس بھی نہ بجھی تھی کہ عذاب الٰہی آپڑا اور وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ ہاں ابو دغال نامی ایک شخص اور بچ گیا تھا یہ یہاں نہ تھا حرم کی پاک زمین میں تھا لیکن کچھ دنوں کے بعد جب یہ اپنے کسی کام کی غرض سے حد حرم سے باہر آیا اسی وقت آسمان سے پتھر آیا اور اسے بھی جہنم واصل کیا ثمودیوں میں سے سوائے حضرت صالح اور انکے مومن صحابہ کے اور کوئی بھی نہ بچا، ابو رغال کا واقعہ اس سے پہلے حدیث سے بیان ہوچکا ہے قبیلہ ثقیف جو طائف میں ہے مذکور ہے کہ یہ اسی کی نسل سے ہیں۔ عبدالرزاق میں ہے کہ اس کی قبر کے پاس سے رسول کریم ﷺ جب گذرے تو فرمایا جانتے ہو یہ کس کی قبر ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا یہ ابو دغال کی قبر ہے۔ یہ ایک ثمودی شخص تھا اپنی قوم کے عذاب کے وقت یہ حرم میں تھا اس وجہ سے عذاب الٰہی سے بچ رہا لیکن حرم شریف سے نکلا تو اسی وقت اپنی قوم کے عذاب سے یہ بھی ہلاک ہوا اور یہیں دفن کیا گیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی لکڑی بھی دفنا دی گئی۔ چناچہ لوگوں نے اس گڑھے کو کھود کر اس میں سے وہ لکڑی نکال لی اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا ثقیف قبیلہ اسی کی اولاد ہے۔ ایک مرسل حدیث میں بھی یہ ذکر موجود ہے، یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا اس کے ساتھ سونے کی شاخ دفن کردی گئی تھی یہی نشان اس کی قبر کا ہے اگر تم اسے کھودو تو وہ شاخ ضرور نکل آئے گی چناچہ بعض لوگوں نے اسے کھودا اور وہ شاخ نکال لی۔ ابو داؤد میں بھی یہ روایت ہے اور حسن عزیز ہے لیکن میں کہتا ہوں اس حدیث کے وصل کا صرف ایک طریقہ بحیر بن ابی بحیر کا ہے اور یہ صرف اسی حدیث کے ساتھ معروف ہے اور بقول حضرت امام یحییٰ بن معین سوائے اسماعیل بن ابی امیہ کے اسے اس سے اور کسی نے روایت نہیں کیا احتمال ہے کہ کہیں اس حدیث کے مرفوع کرنے میں خطاء نہ ہو یہ عبداللہ بن عمرو ہی کا قول ہو اور پھر اس صورت میں یہ بھی ممکنات سے ہے کہ انہوں نے اسے ان دو دفتروں سے لے لیا ہو جو انہیں جنگ یرموک میں ملے تھے۔ میرے استاد شیخ ابو الحجاج اس روایت کو پہلے تو حسن عزیز کہتے تھے لیکن جب میں نے ان کے سامنے یہ حجت پیش کی تو آپ نے فرمایا بیشک ان امور کا اس میں احتمال ہے۔ واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ عُلَمَاءُ التَّفْسِيرِ وَالنَّسَبِ: ثَمُودُ بْنُ عَاثِرَ بْنِ إِرَمَ بْنِ سَامَ بْنِ نُوحٍ، وَهُوَ أَخُو جَديس بْنِ عَاثِرَ، وَكَذَلِكَ قَبِيلَةُ طَسْم، كُلُّ هَؤُلَاءِ كَانُوا أَحْيَاءً مِنَ الْعَرَبِ الْعَارِبَةِ قَبْلَ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَكَانَتْ ثَمُودُ بَعْدَ عَادٍ، وَمَسَاكِنُهُمْ مَشْهُورَةٌ فِيمَا بَيْنَ الْحِجَازِ وَالشَّامِ إِلَى وَادِي الْقُرَى وَمَا حَوْلَهُ، وَقَدْ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى قُرَاهُمْ وَمَسَاكِنِهِمْ، وَهُوَ ذَاهِبٌ إِلَى تَبُوكَ سَنَةَ تِسْعٍ.
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا صَخْر بْنُ جُوَيرية، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالنَّاسِ عَلَى تَبُوكَ، نَزَلَ بِهِمُ [[في أ: "بهم على".]] الْحِجْرَ عِنْدَ بُيُوتِ ثَمُودَ، فَاسْتَسْقَى النَّاسُ مِنَ الْآبَارِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا ثَمُودُ، فَعَجَنُوا مِنْهَا وَنَصَبُوا مِنْهَا الْقُدُورَ. فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ فَأَهْرَقُوا الْقُدُورَ، وَعَلَفُوا العجينَ الإبلَ، ثُمَّ ارْتَحَلَ بِهِمْ حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ عَلَى الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا النَّاقَةُ، وَنَهَاهُمْ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ عُذِّبُوا وَقَالَ: "إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ" [[المسند (٢/١١٧) .]]
وَقَالَ [الْإِمَامُ] [[زيادة من أ.]] أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ بِالْحِجْرِ: "لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ المعذَّبين إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مثلُ مَا أَصَابَهُمْ" [[المسند (٢/٧٤) .]]
وَأَصْلُ هَذَا الْحَدِيثِ مُخَرَّج فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ [[صحيح البخاري برقم (٣٣٨١) ، وصحيح مسلم برقم (٢٩٨) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَوْسَطَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَة الْأَنْمَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى أَهْلِ الْحِجْرِ، يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رسولَ اللَّهِ ﷺ، فَنَادَى فِي النَّاسِ: "الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ". قَالَ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وهو مُمْسِكٌ بِعِيرَهُ [[في د، م: "بعنزة".]] وَهُوَ يَقُولُ: "مَا تَدْخُلُونَ عَلَى قَوْمٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ". فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ: نعجبُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "أَفَلَا أُنْبِئُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ: رَجُلٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ، وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ، فَاسْتَقِيمُوا وسَدِّدوا، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا، وَسَيَأْتِي قَوْمٌ لَا يَدْفَعُونَ عَنْ أَنْفُسِهِمْ شَيْئًا" [[المسند (٤/٢٣١) ، وقال الهيثمي في المجمع (٦/١٩٤) : "فيه عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي وقد اختلط".]]
لَمْ يُخْرِجْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ السُّنَنِ [[في م: "الكتب"، وفي ك، أ: "الكتب الستة".]] وَأَبُو كَبْشَةَ اسْمُهُ: عُمَرُ [[في ك، م: "عمرو".]] بْنُ سَعْدٍ، وَيُقَالُ: عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ: حَدَّثَنَا مَعْمَر، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْم، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالْحِجْرِ قَالَ: "لَا تَسْأَلُوا الْآيَاتِ، فَقَدْ سَأَلَهَا قَوْمُ صَالِحٍ فَكَانَتْ -يَعْنِي النَّاقَةَ -تَرِدُ مِنْ هَذَا الفَجّ، وتَصْدُر مِنْ هَذَا الْفَجِّ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَعَقَرُوهَا، وَكَانَتْ تَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمًا وَيَشْرَبُونَ لَبَنَهَا يَوْمًا، فَعَقَرُوهَا، فَأَخَذَتْهُمْ صَيْحَةٌ، أهمد [[في د: "أخمد".]] الله مَنْ تحت أَدِيمِ السَّمَاءِ مِنْهُمْ، إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ". فَقَالُوا: مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "أَبُو رِغال. فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ" [[المسند (٣/٢٩٦) وقال الهيثمي في المجمع (٦/١٩٤) : "رجال أحمد رجال الصحيح".]]
وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْكُتُبِ السِّتَّةِ، وَهُوَ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ.
فَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا﴾ أَيْ: وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى قَبِيلَةِ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا، ﴿قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ﴾ جَمِيعُ الرُّسُلِ يَدْعُونَ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٢٥] وَقَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من م.]] ﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولا أَنِ اُعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾ [النَّحْلِ:٣٦] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَدْ جَاءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ هَذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً﴾ أَيْ: قَدْ جَاءَتْكُمْ حُجَّةٌ مِنَ اللَّهِ عَلَى صِدْقِ مَا جِئْتُكُمْ بِهِ. وَكَانُوا هُمُ الَّذِينَ سَأَلُوا صَالِحًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ بِآيَةٍ، وَاقْتَرَحُوا عَلَيْهِ أَنْ تَخْرُجَ لَهُمْ مِنْ صَخْرَةٍ صمَاء عَيّنوها بِأَنْفُسِهِمْ، وَهِيَ صَخْرَةٌ مُنْفَرِدَةٌ فِي نَاحِيَةِ الحِجْر، يُقَالُ لَهَا: الكَاتبة، فَطَلَبُوا مِنْهُ [[في م: "منها".]] أَنْ يُخْرِجَ لَهُمْ مِنْهَا نَاقَةً عُشَراء تَمْخَضُ، فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ صَالِحٌ الْعُهُودَ وَالْمَوَاثِيقَ لَئِنْ أَجَابَهُمُ اللَّهُ إِلَى سُؤَالِهِمْ وَأَجَابَهُمْ إِلَى طُلْبتهم لَيُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَيَتْبَعُنَّهُ؟ فَلَمَّا أَعْطَوْهُ عَلَى ذَلِكَ عُهُودَهُمْ وَمَوَاثِيقَهُمْ، قَامَ صَالِحٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِلَى صِلَاتِهِ وَدَعَا اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ، فَتَحَرَّكَتْ تِلْكَ الصَّخْرَةُ ثُمَّ انْصَدَعَتْ عَنْ نَاقَةٍ جَوْفاء وَبْرَاء يَتَحَرَّكُ جَنِينُهَا بَيْنَ جَنْبَيْهَا، كَمَا سَأَلُوا، فَعِنْدَ ذَلِكَ آمَنَ رَئِيسُ الْقَوْمِ وَهُوَ: "جُندَع بْنُ عَمْرٍو" وَمَنْ كَانَ مَعَهُ عَلَى أَمْرِهِ [[في أ: "على دينه".]] وَأَرَادَ بَقِيَّةُ أَشْرَافِ ثَمُودَ أَنْ يُؤْمِنُوا فَصَدَّهُمْ "ذُؤاب بْنُ عَمْرِو بْنِ لَبِيدٍ" "وَالْحُبَابُ" صَاحِبُ أَوْثَانِهِمْ، وَرَبَابُ بْنُ صَمْعَرَ بْنِ جَلْهَسَ، وكان ل"جندع بْنِ عَمْرٍو" ابْنُ عَمٍّ يُقَالُ لَهُ: "شِهَابُ بْنُ خَلِيفَةَ بْنِ مُحَلَّاةَ بْنِ لَبِيدِ بْنِ حَرَاسٍ"، وَكَانَ مِنْ أَشْرَافِ ثَمُودَ وَأَفَاضِلِهَا، فَأَرَادَ أَنْ يُسْلِمَ أَيْضًا فَنَهَاهُ أُولَئِكَ الرَّهْطُ، فَأَطَاعَهُمْ، فَقَالَ فِي ذَلِكَ رَجُلٌ مِنْ مُؤْمِنِي ثَمُودَ، يُقَالُ لَهُ مِهُوَسُ [[في ك، م، أ: "مهوش".]] بْنُ عَنْمَةَ بْنِ الدُّمَيْلِ، رَحِمَهُ اللَّهُ:
وَكَانَتْ عُصْبةٌ مِنْ آلِ عَمْرو ... إِلَى دِينِ النَّبِيِّ دَعَوا شِهَابا ...
عَزيزَ ثَمُودَ كُلَّهمُ جَمِيعًا ... فَهَمّ بِأَنْ يُجِيبَ فَلَوْ [[في م: "ولو".]] أَجَابَا ...
لأصبحَ صالحٌ فِينَا عَزيزًا ... وَمَا عَدَلوا بِصَاحِبِهِمْ ذُؤابا ...
وَلَكِنَّ الغُوَاة مِنْ آلِ حُجْرٍ ... تَوَلَّوْا بَعْدَ رُشْدهم ذِئَابَا ...
فَأَقَامَتِ النَّاقَةُ وَفَصِيلُهَا بَعْدَ مَا وَضَعَتْهُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ مُدَّةً، تَشْرَبُ مَاءَ بِئْرِهَا يَوْمًا، وَتَدَعُهُ لَهُمْ يَوْمًا، وَكَانُوا يَشْرَبُونَ لَبَنَهَا يَوْمَ [[في أ: "بيوم".]] شُرْبِهَا، يَحْتَلِبُونَهَا فَيَمْلَئُونَ مَا شَاءُوا مِنْ أَوْعِيَتِهِمْ وَأَوَانِيهِمْ، كَمَا قَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ﴾ [الْقَمَرِ:٢٨] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿هَذِهِ نَاقَةٌ لَهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ﴾ [الشُّعَرَاءِ:١٥٥] وكانت تسرح في بعض تلك الأودية تَرِدُ مِنْ فَجّ وَتَصْدُرُ مِنْ غَيْرِهِ لِيَسَعَهَا؛ لأنها كانت تتضلَّع عن الْمَاءِ، وَكَانَتْ -عَلَى مَا ذُكِرَ -خَلْقًا هَائِلًا وَمَنْظَرًا رَائِعًا، إِذَا مَرَّتْ بِأَنْعَامِهِمْ نَفَرَتْ مِنْهَا. فَلَمَّا طَالَ عَلَيْهِمْ وَاشْتَدَّ تَكْذِيبُهُمْ لِصَالِحٍ النَّبِيِّ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَزَمُوا عَلَى قَتْلِهَا، لِيَسْتَأْثِرُوا بِالْمَاءِ كُلَّ يَوْمٍ، فَيُقَالُ: إِنَّهُمُ اتَّفَقُوا كُلُّهُمْ عَلَى قَتْلِهَا [[تفسير الطبري (١٢/٥٢٩) .]]
قَالَ قَتَادَةُ: بَلَغَنِي أَنَّ الَّذِي قَتَلَ النَّاقَةَ طَافَ عَلَيْهِمْ كُلِّهِمْ، أَنَّهُمْ رَاضُونَ بِقَتْلِهَا حَتَّى عَلَى النِّسَاءِ فِي خُدُورِهِنَّ، وَعَلَى الصِّبْيَانِ [أَيْضًا] [[زيادة من أ.]]
قُلْتُ: وَهَذَا هُوَ الظَّاهِرُ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: ﴿فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّاهَا﴾ [الشَّمْسِ:١٤] وَقَالَ: ﴿وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا﴾ [الْإِسْرَاءِ:٥٩] وَقَالَ: ﴿فَعَقَرُوا النَّاقَةَ﴾ فَأَسْنَدَ ذَلِكَ عَلَى مَجْمُوعِ الْقَبِيلَةِ، فَدَلَّ عَلَى رِضَا جَمِيعِهِمْ بِذَلِكَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَذَكَرَ الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ، وَغَيْرُهُ مِنْ عُلَمَاءِ التَّفْسِيرِ فِي سَبَبِ قَتْلِ النَّاقَةِ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا: "عُنَيْزَةُ ابْنَةُ غَنْمِ بْنِ مِجْلِز" وَتُكَنَّى أُمَّ غَنَمْ [[في ك، م: "أم عثمان".]] كَانَتْ عَجُوزًا كَافِرَةً، وَكَانَتْ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِصَالِحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَكَانَتْ لَهَا بَنَاتٌ حِسَانٌ وَمَالٌ جَزِيلٌ، وَكَانَ زَوْجُهَا ذُؤاب بْنُ عَمْرٍو أَحَدَ رُؤَسَاءِ ثَمُودَ، وَامْرَأَةً أُخْرَى يُقَالُ لَهَا: "صُدُوفُ بِنْتُ الْمُحَيَّا بْنِ دَهْرِ [[في أ: "زهير".]] بْنِ الْمُحَيَّا" ذَاتِ حَسَبٍ وَمَالٍ وَجِمَالٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ مِنْ ثَمُودَ، فَفَارَقَتْهُ، فَكَانَتَا تَجْعَلَانِ لِمَنِ الْتَزَمَ لَهُمَا بِقَتْلِ النَّاقَةِ، فَدَعَتْ "صُدُوفُ" رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: "الْحُبَابُ" وَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا إِنْ هُوَ عَقَرَ النَّاقَةَ، فَأَبَى عَلَيْهَا. فَدَعَتِ ابْنَ عَمٍّ لَهَا يُقَالُ لَهُ: "مِصْدَعُ بْنُ مِهْرَجِ بْنِ الْمُحَيَّا"، فَأَجَابَهَا إِلَى ذَلِكَ -وَدَعَتْ "عُنَيْزَةُ بِنْتُ غَنْمٍ" قِدَارَ بْنَ سَالِفِ بْنَ جُنْدَع [[في أ: "جذع".]] وَكَانَ رَجُلًا أَحْمَرَ أَزْرَقَ قَصِيرًا، يَزْعُمُونَ أَنَّهُ كَانَ وَلَدَ زَنية، وَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ مِنْ أَبِيهِ الَّذِي يُنْسَبُ إِلَيْهِ، وَهُوَ سَالِفٌ، وَإِنَّمَا هُوَ [[في أ: "كان".]] مِنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: "صِهْيَادٌ" [[في م: "صبيان"، وفي ك: "ضبيان".]] وَلَكِنْ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ "سَالِفٍ"، وَقَالَتْ لَهُ: أُعْطِيكَ أَيَّ بَنَاتِي شئتَ عَلَى أَنْ تَعْقِرَ [[في ك، م: "يعقر".]] النَّاقَةَ! فَعِنْدَ ذَلِكَ، انْطَلَقَ "قِدَارُ بْنُ سَالِفٍ" "وَمِصْدَعُ بْنُ مِهْرَجٍ"، فَاسْتَفَزَّا غُواة مِنْ ثَمُودَ، فَاتَّبَعَهُمَا سَبْعَةُ نَفَرٍ، فَصَارُوا تِسْعَةَ رَهْطٍ، وَهُمُ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الأرْضِ وَلا يُصْلِحُونَ﴾ [النَّمْلِ:٤٨] وَكَانُوا رُؤَسَاءَ فِي قَوْمِهِمْ، فَاسْتَمَالُوا الْقَبِيلَةَ الْكَافِرَةَ بِكَمَالِهَا، فَطَاوَعَتْهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَانْطَلَقُوا فَرَصَدُوا النَّاقَةَ حِينَ صَدَرَتْ عَنِ الْمَاءِ، وَقَدْ كَمَنَ لَهَا "قِدَارٌ" فِي أَصْلِ صَخْرَةٍ عَلَى طَرِيقِهَا، وَكَمِنَ لَهَا "مِصْدَعٌ" فِي أَصْلِ أُخْرَى، فَمَرَّتْ عَلَى "مِصْدَعٍ" فَرَمَاهَا بِسَهْمٍ، فَانْتَظَمَ بِهِ عضَلَة سَاقِهَا وَخَرَجَتْ "أُمُّ غَنَمْ عُنَيْزَةُ"، وَأَمَرَتِ ابْنَتَهَا وَكَانَتْ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْهًا، فَسَفَرَتْ عَنْ وَجْهِهَا لِقِدَارٍ وَذَمَّرَتْهُ فَشَدَّ عَلَى النَّاقَةِ بِالسَّيْفِ، فكسفَ [[في ك، م، د: "فكشف"، وفي أ: "فكشف عن".]] عُرْقُوبَهَا، فَخَرَّتْ سَاقِطَةً إِلَى الْأَرْضِ، وَرَغَتْ رَغاة وَاحِدَةً تُحَذِّرُ سَقْبَها، ثُمَّ طَعَنَ فِي لَبَّتها فَنَحَرَهَا، وَانْطَلَقَ سَقْبَها -وَهُوَ فَصِيلُهَا -حَتَّى أَتَى جَبَلًا مَنِيعًا، فَصَعَدَ أَعْلَى صَخْرَةٍ فِيهِ وَرَغَا -فَرَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَر، عَمَّنْ سَمِعَ الحسن البصري أنه قال: يَا رَبِّ أَيْنَ أُمِّي؟ وَيُقَالُ: إِنَّهُ رَغَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. وَإِنَّهُ دَخَلَ فِي صَخْرَةٍ فَغَابَ فِيهَا، وَيُقَالُ: بَلِ اتَّبَعُوهُ فَعَقَرُوهُ مَعَ أُمِّهِ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ [[تفسير الطبري (١٢/٥٣٦) .]]
فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ وَفَرَغُوا مِنْ عَقْرِ النَّاقَةِ، بَلَغَ الْخَبَرُ صَالِحًا، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَجَاءَهُمْ وَهُمْ مُجْتَمِعُونَ، فَلَمَّا رَأَى النَّاقَةَ بَكَى وَقَالَ: ﴿تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ [ذَلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ [[زيادة من ك، م، وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [هُودٍ:٦٥] وَكَانَ قَتْلُهُمُ النَّاقَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، فَلَمَّا أَمْسَى أُولَئِكَ التِّسْعَةُ الرَّهْطُ عَزَمُوا عَلَى قَتْلِ صَالِحٍ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ك، م.]] وَقَالُوا: إِنْ كَانَ صَادِقًا عَجَّلناه قَبْلَنَا، وَإِنْ كَانَ كَاذِبًا أَلْحَقْنَاهُ بِنَاقَتِهِ! ﴿قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ. وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ * فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَاهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ * فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُوا﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] الْآيَةَ. [النَّمْلِ:٤٩-٥٢]
فَلَمَّا عَزَمُوا على ذلك، وتواطؤوا عَلَيْهِ، وَجَاءُوا مِنَ اللَّيْلِ لِيَفْتِكُوا بِنَبِيِّ اللَّهِ صَالِحٍ، أَرْسَلَ اللَّهُ، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى، وَلَهُ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ، عَلَيْهِمْ حِجَارَةً فرضَختهم سَلَفًا وَتَعْجِيلًا قَبْلَ قَوْمِهِمْ، وَأَصْبَحَ ثَمُودُ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَهُوَ الْيَوْمُ الْأَوَّلُ مِنْ أَيَّامِ النَّظرة، وَوُجُوهُهُمْ مُصْفَرَّةٌ كَمَا وَعَدَهُمْ صَالِحٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَصْبَحُوا فِي الْيَوْمِ الثَّانِي مِنْ أَيَّامِ التَّأْجِيلِ، وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، وَوُجُوهُهُمْ مُحَمَّرَةٌ، وَأَصْبَحُوا [[في م: "واجتمعوا".]] فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ مِنْ أَيَّامِ الْمَتَاعِ [[في ك: "التمتع".]] وَهُوَ يَوْمُ السَّبْتِ، وَوُجُوهُهُمْ مُسَوَّدَةٌ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا مِنْ يَوْمِ الْأَحَدِ وَقَدْ تحَنَّطوا وَقَعَدُوا يَنْتَظِرُونَ نِقْمَةَ اللَّهِ وَعَذَابَهُ، عِيَاذًا بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ، لَا يَدْرُونَ مَاذَا يُفْعَلُ بِهِمْ، ولا كيف يأتيهم العذاب؟ و [قد] [[زيادة من م.]] أَشْرَقَتِ الشَّمْسُ، جَاءَتْهُمْ صَيْحَةٌ مِنَ السَّمَاءِ ورَجْفة شَدِيدَةٌ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، فَفَاضَتِ الْأَرْوَاحُ وَزَهَقَتِ النُّفُوسُ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ ﴿فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ﴾ أَيْ: صَرْعَى لَا أَرْوَاحَ فِيهِمْ، وَلَمْ يُفْلِتْ مِنْهُمْ أَحَدٌ، لَا صَغِيرٌ وَلَا كَبِيرٌ، لَا ذَكَرٌ وَلَا أُنْثَى -قَالُوا: إِلَّا جَارِيَةً كانت مقعدة -واسمها "كلبة بنة السّلْق"، وَيُقَالُ لَهَا: "الزُّرَيْقَةُ" [[في م: "الذريعة".]] -وَكَانَتْ كَافِرَةً شَدِيدَةَ الْعَدَاوَةِ لِصَالِحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَلَمَّا رَأَتْ مَا رَأَتْ مِنَ الْعَذَابِ، أُطلِقَت رِجْلَاهَا، فَقَامَتْ تَسْعَى كَأَسْرَعِ شَيْءٍ، فَأَتَتْ حَيًّا مِنَ الْأَحْيَاءِ فَأَخْبَرَتْهُمْ بِمَا رَأَتْ وَمَا حَلَّ بِقَوْمِهَا، ثُمَّ اسْتَسْقَتْهُمْ مِنَ الْمَاءِ، فَلَمَّا شَرِبَتْ، مَاتَتْ.
قَالَ عُلَمَاءُ التَّفْسِيرِ: وَلَمْ يَبْقَ مِنْ ذُرِّيَّةِ ثَمُودَ أَحَدٌ، سِوَى صَالِحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَمَنِ اتَّبَعَهُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، إِلَّا أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: "أَبُو رِغال"، كَانَ لَمَّا وَقَعَتِ النِّقْمَةُ بِقَوْمِهِ مقيما فِي الْحَرَمِ، فَلَمْ يَصِبْهُ شَيْءٌ، فَلَمَّا خَرَجَ فِي بَعْضِ الْأَيَّامِ إِلَى الْحِلِّ، جَاءَهُ حَجَرٌ مِنَ السَّمَاءِ فَقَتَلَهُ.
وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ الْقِصَّةِ حَدِيثُ "جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ" فِي ذَلِكَ، وَذَكَرُوا أَنَّ أَبَا رِغَالٍ هَذَا هُوَ والد ثَقِيفٍ" الَّذِينَ كَانُوا يَسْكُنُونَ الطَّائِفَ [[انظر: "الكلام على أبي رغال، وترجيح أنه كان دليل أبرهة في تفسير سورة النساء آية: ٤.]]
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: قَالَ مَعْمَر: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ؛ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَرَّ بِقَبْرِ أَبِي رِغَالٍ فَقَالَ: "أَتُدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ " فَقَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ، رَجُلٍ مِنْ ثَمُودَ، كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ، فَمَنَعَهُ حرمُ اللَّهِ عَذَابَ اللَّهِ. فَلَمَّا خَرَجَ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ، فَدُفِنَ هَاهُنَا، وَدُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَنَزَلَ الْقَوْمُ فَابْتَدَرُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ، فَبَحَثُوا عَنْهُ، فَاسْتَخْرَجُوا الْغُصْنَ".
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَبُو رِغَالٍ: أَبُو ثَقِيفٍ [[المصنف برقم (٢٠٩٨٩) ، وتفسير عبد الرزاق (١/١١٩، ٢٢٠) .]]
هَذَا مُرْسَلٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ مُتَّصِلًا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، كَمَا قَالَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ بُجَير بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ، حِينَ خَرَجْنَا مَعَهُ إِلَى الطَّائِفِ، فَمَرَرْنَا بِقَبْرٍ فَقَالَ: "هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ، وَهُوَ أَبُو ثَقِيفٍ، وَكَانَ مِنْ ثَمُودَ، وَكَانَ بِهَذَا الْحَرَمِ فَدَفَعَ [[في ك: "يدفع".]] عَنْهُ، فَلَمَّا خَرَجَ [مِنْهُ] [[زيادة من ك، م.]] أَصَابَتْهُ النِّقْمَةُ الَّتِي أَصَابَتْ قَوْمَهُ بِهَذَا الْمَكَانِ، فَدُفِنَ فِيهِ. وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ دُفِنَ مَعَهُ غصن من ذهب، إن أنتم نبشم عَنْهُ أَصَبْتُمُوهُ [مَعَهُ] [[زيادة من أ.]] فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ [[في أ: "القوم".]] فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهُ الْغُصْنَ".
وَهَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِهِ [[سنن أبي داود برقم (٣٠٨٨) .]]
قَالَ شَيْخُنَا أَبُو الْحَجَّاجِ الْمِزِيُّ: وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ عَزِيزٌ [[في أ: "غريب".]] [[تهذيب الكمال (٤/١١) .]]
قُلْتُ: تَفَرَّدَ بِوَصْلِهِ "بُجَيْر بْنُ أَبِي بُجَيْرٍ" هَذَا، وَهُوَ شَيْخٌ لَا يُعْرَفُ إلا بهذا الحديث. قال يحيى ابن مَعِينٍ: وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرَ إِسْمَاعِيلِ بْنِ أُمَيَّةَ.
قُلْتُ: وَعَلَى هَذَا، فَيُخْشَى أَنْ يَكُونَ وَهِمَ فِي رَفْعِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَإِنَّمَا يَكُونُ مِنْ كَلَامِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، مِمَّا أَخَذَهُ مِنَ الزَّامِلَتَيْنِ.
قَالَ شَيْخُنَا أَبُو الْحَجَّاجِ، بَعْدَ أَنْ عَرَضْتُ عَلَيْهِ ذَلِكَ: وَهَذَا مُحْتَمَلٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى:
وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعْدِ عَادٍۢ وَبَوَّأَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُهُولِهَا قُصُورًۭا وَتَنْحِتُونَ ٱلْجِبَالَ بُيُوتًۭا ۖ فَٱذْكُرُوٓا۟ ءَالَآءَ ٱللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
And remember when He made you successors after the 'Aad and settled you in the land, [and] you take for yourselves palaces from its plains and carve from the mountains, homes. Then remember the favors of Allah and do not commit abuse on the earth, spreading corruption."
اور یاد تو کرو جب اس نے تم کو قوم عاد کے بعد سردار بنایا اور زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین سے (مٹی لے لے کر) محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو
و به خاطر بیاورید که شما را جانشینان قوم «عاد» قرار داد، و در زمین مستقر ساخت، که در دشتهایش، قصرها برای خود بنا میکنید؛ و در کوهها، برای خود خانهها می تراشید! بنابر این، نعمتهای خدا را متذکر شوید! و در زمین، به فساد نکوشید!»
Tafsir Ibn Kathir
And to Thamud (people, We sent) their brother Salih. He said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Indeed there has come to you a clear sign from your Lord. This she-camel of Allah is a sign unto you; so you leave her to graze in Allah's earth, and touch her not with harm, lest a painful torment should seize you (73)And remember when He made you successors (generations) after 'Ad and gave you habitations in the land, you build for yourselves palaces in plains, and carve out homes in the mountains. So remember the graces (bestowed upon you) from Allah, and do not go about making mischief on the earth (74)The leaders of those who were arrogant among his people said to those who were counted weak – to such of them as believed: "Know you that Salih is one sent from his Lord." They said: "We indeed believe in that with which he has been sent. (75)Those who were arrogant said: "Verily, we disbelieve in that which you believe in. (76)So they killed the she-camel and insolently defied the commandment of their Lord, and said: "O Salih! Bring about your threats if you are indeed one of the Messengers (of Allah). (77)So the earthquake seized them, and they lay (dead), prostrate in their homes (78)
Thamud: Their Land and Their Lineage
Scholars of Tafsir and genealogy say that (the tribe of Thamud descended from) Thamud bin 'Athir bin Iram bin Sam bin Nuh, and he is brother of Jadis son of 'Athir, similarly the tribe of Tasm, and they were from the ancient Arabs, Al-'Aribah, before the time of Ibrahim, Thamud came after 'Ad. They dwelled between the area of the Hijaz (Western Arabia) and Ash-Sham (Greater Syria). The Messenger of Allah ﷺ passed by the area and ruins of Thamud when he went to Tabuk (in northern Arabia) during the ninth year of Hijrah.
Imam Ahmad recorded that Ibn 'Umar said, "When the Messenger of Allah ﷺ went to the area of Al-Hijr in Tabuk with the people, he camped near the homes of Thamud, in Al-Hijr and the people brought water from the wells that Thamud used before. They used that water to make dough and placed the pots (on fire) for cooking. However, the Prophet ﷺ commanded them to spill the contents of the pots and to give the dough to their camels. He then marched forth with them from that area to another area, near the well that the camel (as will follow) used to drink from. He forbade the Companions from entering the area where people were tormented, saying,
إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِم
(I fear that what befell them might befall you as well. Therefore, do not enter on them.)"
Ahmad narrated that 'Abdullah bin 'Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said while in the Hijr area,
لَا تَدْخُلُوا عَلَى هؤُلَاءِ الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلَ مَا أَصَابَهُم
(Do not enter on these who were tormented, unless you do so while crying. If you are not crying, then do not enter on them, so that what befell them does not befall you, as well.) The basis of this Hadith is mentioned in Two Sahihs.
The Story of Prophet Salih and Thamud
Allah said,
وَإِلَىٰ ثَمُودَ
(And to Thamud), meaning, to the tribe of Thamud, We sent their brother Salih,
قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ
(He said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him.")
All Allah's Messengers called to the worship of Allah alone without partners. Allah said in other Ayat,
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ
(And We did not send any Messenger before you but We revealed to him (saying): "None has the right to be worshipped but I, so worship Me.")[21:25] and,
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ
(And verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah (Alone), and avoid Taghut (all false deities)")[16:36].
Thamud asked that a Camel appear from a Stone, and it did
Prophet Salih said,
قَدْ جَاءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ هَٰذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً
("Indeed there has come to you a clear sign from your Lord. This she-camel of Allah is a sign unto you;")
meaning, a miracle has come to you from Allah testifying to the truth of what I came to you with.
Salih's people asked him to produce a miracle and suggested a certain solid rock that they chose, which stood lonely in the area of Hijr, and which was called Al-Katibah. They asked him to bring a pregnant camel out of that stone. Salih took their covenant and promises that if Allah answers their challenge, they would believe and follow him. When they gave him their oaths and promises to that, Salih started praying and invoked Allah (to produce that miracle). All of a sudden, the stone moved and broke apart, producing a she-camel with thick wool. It was pregnant and its fetus was visibly moving in its belly, exactly as Salih's people asked. This is when their chief, Jundu' bin 'Amr, and several who followed him believed. The rest of the noblemen of Thamud wanted to believe as well, but Dhu'ab bin 'Amr bin Labid, Al-Habbab, who tended their idols, and Rabbab bin Sum'ar bin Jilhis stopped them. One of the cousins of Jundu' bin 'Amr, whose name was Shihab bin Khalifah bin Mikhlat bin Labid bin Jawwas, was one of the leaders of Thamud, and he also wanted to accept the message. However, the chiefs whom we mentioned prevented him, and he conceded to their promptings.
The camel remained in Thamud, as well as, its offspring after she delivered it before them. The camel used to drink from its well on one day and leave the well for Thamud the next day. They also used to drink its milk, for on the days she drank water, they used to milk her and fill their containers from its milk. Allah said in other Ayat,
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ
(And inform them that the water is to be shared between (her and) them, each one's right to drink being established (by turns))[54:28] and,
هَٰذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(Here is a she-camel: it has a right to drink (water), and you have a right to drink (water)(each) on a day, known)[26:155]
The camel used to graze in some of their valleys, going through a pass and coming out through another pass. She did that so as to be able to move easily, because she used to drink a lot of water. She was a tremendous animal that had a strikingly beautiful appearance. When she used to pass by their cattle, the cattle would be afraid of her. When this matter continued for a long time and Thamud's rejection of Salih became intense, they intended to kill her so that they could take the water for themselves every day. It was said that all of them (the disbelievers of Thamud) conspired to kill the camel. Qatadah said that he was told that, "The designated killer of the camel approached them all, including women in their rooms and children, and found out that all of them agreed to kill her." This fact is apparent from the wording of the Ayat,
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا
(Then they denied him and they killed it. So their Lord destroyed them because of their sin, and made them equal in destruction!)[91:14], and,
وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا
(And We sent the she-camel to Thamud as a clear sign, but they did her wrong.)[17:59] Allah said here,
فَعَقَرُوا النَّاقَةَ
(So they killed the she-camel)
Therefore, these Ayat stated that the entire tribe shared in agreeing to this crime, and Allah knows best.
Thamud kills the She-Camel
Imam Abu Ja'far Ibn Jarir and other scholars of Tafsir said that the reason behind killing the camel was that a disbelieving old woman among them named Umm Ghanm 'Unayzah, the daughter of Ghanm bin Mijlaz, had the severest enmity among Thamud towards Salih, peace be upon him. She had beautiful daughters and she was wealthy, and Dhu'ab bin 'Amr, one of the leaders of Thamud, was her husband.
There was another noblewoman whose name was Saduf bint Al-Muhayya bin Dahr bin Al-Muhayya, who was of noble family, wealthy and beautiful. She was married to a Muslim man from Thamud, but she left him. These two women offered a prize for those who swore to them that they would kill the camel. Once, Saduf summoned a man called Al-Habbab and offered herself to him if he would kill the camel, but he refused. So she called a cousin of hers whose name was Musaddi' bin Mihraj bin Al-Muhayya, and he agreed. As for 'Unayzah bint Ghanm, she called Qudar bin Salif bin Jundu', a short person with red-blue skin, a bastard, according to them. Qudar was not the son of his claimed father, Salif, but the son of another man called, Suhyad. However, he was born on Salif's bed (and thus named after him). 'Unayzah said to Qudar, "I will give you any of my daughters you wish, if you kill the camel." Qudar bin Salif and Musaddi' bin Mihraj went along and recruited several mischievous persons from Thamud to kill the camel. Seven more from Thamud agreed, and the group became nine, as Allah described, when He said,
وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ
(And there were in the city nine men, who made mischief in the land, and would not reform.)[27:48]
These nine men were chiefs of their people, and they lured the entire tribe into agreeing to kill the camel. So they waited until the camel left the water well, where Qudar waited beside a rock on its path, while Musaddi' waited at another rock. When the camel passed by Musaddi' he shot an arrow at her and the arrow pierced her leg. At that time, 'Unayzah came out and ordered her daughter, who was among the most beautiful women, to uncover her face for Qudar, encouraging Qudar to swing his sword, hitting the camel on her knee. So she fell to the ground and screamed once to warn her offspring. Qudar stabbed her in her neck and slaughtered her. Her offspring went up a high rock and screamed. 'Abdur-Razzaq recorded from Ma'mar that someone reported from Al-Hasan Al-Basari that the offspring said, "O my Lord! Where is my mother?" It was said that her offspring screamed thrice and entered a rock and vanished in it, or, they followed it and killed it together with its mother. Allah knows best. When they finished the camel off and the news reached Prophet Salih, he came to them while they were gathered. When he saw the camel, he cried and proclaimed,
تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ
("Enjoy yourselves in your homes for three days.")[11:65]
The Wicked Ones Plot to Kill Prophet Salih, But the Torment descended on Them
The nine wicked persons killed the camel on a Wednesday, and that night, they conspired to kill Salih. They said, "If he is truthful, we should finish him before we are finished. If he is a liar, we will make him follow his camel."
قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ - وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
(They said: "Swear one to another by Allah that we shall make a secret night attack on him and his household, and thereafter we will surely say to his near relatives: 'We witnessed not the destruction of his household, and verily, we are telling the truth.'" So they plotted a plot, and We planned a plan, while they perceived not.)[27:49-50]
When they conspired to kill Salih and gathered at night to carry out their plot, Allah, to Whom belongs all might and Who protects His Messengers, rained down stones that smashed the heads of these nine people before the rest of the tribe. On Thursday, the first of the three days of respite, the people woke up and their faces were pale (yellow), just as Prophet Salih had promised them. On the second day of respite, Friday, they woke up and found their faces had turned red. On the third day of the respite, Saturday, they woke up with their faces black. On Sunday, they wore the fragrance of Hanut [the perfume for enshrouding the dead before burial] and awaited Allah's torment and revenge, we seek refuge with Allah from it. They did not know what will be done to them or how and from where the torment would come. When the sun rose, the Sayhah (loud cry) came from the sky and a severe tremor overtook them from below; the souls were captured and the bodies became lifeless, all in an hour.
فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
(And they lay (dead), prostrate in their homes.)
They became dead and lifeless and none among them, whether young, old, male or female, escaped the torment.
The scholars of Tafsir said that none from the offspring of Thamud remained, except Prophet Salih and those who believed in him. A disbelieving man called Abu Righal was in the Sacred Area at the time and the torment that befell his people did not touch him. When he went out of the Sacred Area one day, a stone fell from the sky and killed him. 'Abdur-Razzaq narrated that Ma'mar said that Isma'il bin Umayyah said that the Prophet ﷺ passed by the gravesite of Abu Righal and asked the Companions if they knew whose grave it was. They said, "Allah and His Messenger know better." He said,
أَتَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟
قالوا الله ورسوله أعلم، قال
هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ رَجُلٍ مِنْ ثَمُودَ كَانَ فِي حَرَمِ اللهِ فَمَنَعَهُ حَرَمُ اللهِ عَذَابَ اللهِ، فَلَمَّا خَرَجَ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَومهُ فَدُفِنَ هَاهُنَا وَدُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَنَزَلَ الْقَوْمُ فَابْتَدَرُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ فَبَحَثُوا عَنْهُ فَاسْتَخْرَجُوا الْغُصْنَ
(This is the grave of Abu Righal, a man from Thamud. He was in the Sacred Area of Allah and this fact saved him from receiving Allah's torment. When he went out of the Sacred Area, what befell his people also befell him. He was buried here along with a branch made from gold.)
So the people used their swords and looked for the golden branch and found it. 'Abdur-Razzaq narrated that Ma'mar said that Az-Zuhri said that Abu Righal is the father of the tribe of Thaqif.
Tafsir Ibn Kathir
ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح۔ یہ بھائی تھا جد بس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ009ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گذرے تھے۔ مسند احمد میں ہے کہ جب حضور ﷺ تبوک کے میدان میں اترے لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں کو کھلا دیئے جائیں۔ پھر فرمایا یہاں سے کوچ کرو اور اس کنوئیں کے پاس ٹھہرو جس سے حضرت صالح کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور فرمایا آئندہ عذاب والی بستیوں میں پڑاؤ نہ کیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی عذاب کے شکار تم بھی بن جاؤ۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کی بستیوں سے روتے اور ڈرتے ہوئے گذرو کہ مبادا وہی عذاب تم پر آجائیں جو ان پر آئے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ غزوہ تبوک میں لوگ بہ عجلت ہجر کے لوگوں کے گھروں کی طرف لپکے۔ آپ نے اسی وقت یہ آواز بلند کرنے کہا حدیث (الصلوۃ جامعتہ) جب لوگ جمع ہوگئے تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے گھروں میں کیوں گھسے جا رہے ہو جن پر غضب الٰہی نازل ہوا۔ راوی حدیث ابو کبشہ فرماتے ہیں رسول اللہ کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا۔ میں نے یہ سن کر عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم تو صرف تعجب کے طور پر انہیں دیکھنے چلے گئے تھے آپ نے فرمایا میں تمہیں اس سے بھی تعجب خیز چیز بتارہا ہوں تم میں سے ہی ایک شخص ہے جو تمہیں وہ چیز بتارہا ہے جو گذر چکیں اور وہ خبریں دے رہا ہے جو تمہارے سامنے ہیں اور جو تمہارے بعد ہونے والی ہیں پس تم ٹھیک ٹھاک رہو اور سیدھے چلے جاؤ تمہیں عذاب کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں یاد رکھو ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی جانوں سے کسی چیز کو دفع نہ کرسکیں گے۔ حضرت ابو کبشہ کا نام عمر بن سعد ہے اور کہا گیا ہے کہ عامر بن سعد ہے واللہ اعلم۔ ایک روایت میں ہے کہ ہجر کی بستی کے پاس آتے ہی حضور ﷺ نے فرمایا معجزے نہ طلب کرو دیکھو قوم صالح نے معجزہ طلب کیا جو ظاہر ہوا یعنی اونٹنی جو اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے جاتی تھی لیکن ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتاب کی اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی تھی اور ایک دن یہ سب اس کا دودھ پیتے تھے اس اونٹنی کو مار ڈالنے پر ان پر ایک چیخ آئی اور یہ جتنے بھی تھے سب کے سب ڈھیر ہوگئے۔ بجز اس ایک شخص کے جو حرم شریف میں تھا لوگوں نے پوچھا اس کا نام کیا تھا ؟ فرمایا ابو غال یہ بھی جب حد حرم سے باہر آیا تو اسے بھی وہی عذاب ہوا۔ یہ حدیث صحاح ستہ میں تو نہیں لیکن ہے مسلم شریف کی شرط پر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ثمودی قبیلے کی طرف سے ان کے بھائی حضرت صالح ؑ کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ تمام نبیوں کی طرح آپ نے بھی اپنی امت کو سب سے پہلے توحید الٰہی سکھائی کہ فقط اس کی عبادت کریں اس کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے جتنے بھی رسول آئے سب کی طرف یہی وحی کی جاتی رہی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، صرف میری ہی عبادت کرو اور ارشاد ہے ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت سے بچو۔ حضرت صالح فرماتے ہیں لوگوں تمہارے پاس دلیل الٰہی آچکی جس میں میری سچائی ظاہر ہے۔ ان لوگوں نے حضرت صالح سے یہ معجزہ طلب کیا تھا کہ ایک سنگلاخ چٹان جو ان کی بستی کے ایک کنارے پڑی تھی جس کا نام کاتبہ تھا اس سے آپ ایک اونٹنی نکلایں جو گابھن ہو (دودھ دینے والی اونٹنی جو دس ماہ کی حاملہ ہو) حضرت صالح نے ان سے فرمایا کہ اگر ایسا ہوجائے تو تم ایمان قبول کر لوگے ؟ انہوں نے پختہ وعدے کئے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ حضرت صالح ؑ نے نماز پڑھی دعا کی ان سب کے دیکھتے ہی چٹان نے ہلنا شروع کیا اور چٹخ گئی اس کے بیچ سے ایک اونٹنی نمودار ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی ان کے سردار جندع بن عمرو نے تو اسلام قبول کرلیا اور اس کے ساتھیوں نے بھی۔ باقی جو اور سردار تھے وہ ایمان لانے کیلئے تیار تھے مگر ذواب بن عمرو بن لبید نے اور حباب نے جو بتوں کا مجاور تھا اور رباب بن ہمر بن جلمس وغیرہ نے انہیں روک دیا۔ حضرت جندع کا بھتیجا شہاب نامی تھا یہ ثمودیوں کا بڑا عالم فاضل اور شریف شخص تھا اس نے بھی ایمان لانے کا ارادہ کرلیا تھا لیکن انہی بدبختوں نے اسے بھی روکا جس پر ایک مومن ثمودی مہوش بن غنمہ نے کہا کہ آل عمرو نے شہاب کو دین حق کی دعوت دی قریب تھا کہ وہ مشرف باسلام ہوجائے اور اگر ہوجاتا تو اس کی عزت سیوا ہوجاتی مگر بدبختوں نے اسے روک دیا اور نیکی سے ہٹا کر بدی پر لگا دیا۔ اس حاملہ اونٹنی کو اس وقت بچہ ہوا ایک مدت تک دونوں ان میں رہے۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی۔ اس دن اس قدر دودھ دیتی کہ یہ لوگ اپنے سب برتن بھر لیتے جیسے قرآن میں ہے آیت (وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاۗءَ قِسْمَةٌۢ بَيْنَهُمْ ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ 28) 54۔ القمر :28) ، اور آیت میں ہے (قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ01505ۚ) 26۔ الشعراء :155) یہ ہے اونٹنی اس کے اور تمہارے پانی پینے کے دن تقسیم شدہ اور مقررہ ہیں۔ یہ اونٹنی ثمودیوں کی بستی حجر کے اردگرد چرتی چگتی تھی ایک راہ جاتی دوسری راہ آتی یہ بہت ہی موٹی تازی اور ہیبت والی اونٹنی تھی جس راہ سے گذرتی سب جانور ادھر ادھر ہوجاتے۔ کچھ زمانہ گذرنے کے بعد ان اوباشوں نے ارادہ کیا کہ اس کو مار ڈالیں تاکہ ہر دن ان کے جانور برابر پانی پی سکیں ان اوباشوں کے ارادوں پر سب نے اتفاق کیا یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور انہیں شہ دی کہ ہاں اس پاپ کو کاٹ دو۔ اس اونٹنی کو مار ڈالو۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے آیت (فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا001فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا 14۽) 91۔ الشمس :14) ، قوم صالح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کے بدلے ان پر ہلاکت نازل فرمائی اور ان سب کو یکساں کردیا۔ ایک اور آیت میں ہے کہ ہم نے ثمودیوں کو اونٹنی دی جو ان کے لئے پوری سمجھ بوجھ کی چیز تھی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا یہاں بھی فرمایا کہ انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ پس اس فعل کی اسناد سارے ہی قبیلے کی طرف ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے سب اس امر پر متفق تھے۔ امام ابن جریر وغیرہ کا فرمان ہے کہ اس کے قتل کی وجہ یہ ہوئی کہ عنیزہ بنت عنم بن مجلز جو ایک بڑھیا کافرہ تھی اور حضرت صالح سے بڑی دشمنی رکھتی تھی اس کی لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں اور تھی بھی یہ عورت مالدار۔ اس کے خاوند کا نام ذواب بن عمرو تھا جو ثمودیوں کا ایک سردار تھا یہ بھی کافر تھا۔ اسی طرح ایک اور عورت تھی جس کا نام صدقہ بنت محیا بن زہیر بن مختار تھا۔ یہ بھی حسن کے علاوہ مال اور حسب نسب میں بڑھی ہوئی تھی اس کے خاوند مسلمان ہوگئے تھے ؓ۔ اس سرکش عورت نے ان کو چھوڑ دیا۔ اب یہ دونوں عورتیں لوگوں کو اکساتی تھیں کہ کوئی آمادہ ہوجائے اور حضرت صالح ؑ کی اونٹنی کو قتل کر دے، صدقہ نامی عورت نے ایک شخص حباب کو بلایا اور اس سے کہا کہ میں تیرے گھر آجاؤں گی اگر تو اس اونٹنی کو قتل کر دے لیکن اس نے انکار کردیا، اس پر اس نے مصدع بن مہرج بن محیا کو بلایا جو اس کے چچا کا لڑکا تھا اور اسے بھی اسی بات پر آمادہ کیا۔ یہ خبیث اس کے حسن و جمال کا مفتوں تھا اس برائی پر آمادہ ہوگیا۔ ادھر عنیزہ نے قدار بن سالف بن جذع کو بلا کر اس سے کہا کہ میری ان خوبصورت نوجوان لڑکیوں میں سے جسے تو پسند کرے اسے میں تجھے دے دو گی اسی شرط پر کہ تو اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ ڈال۔ یہ خبیث بھی آمادہ ہوگیا یہ تھا بھی زنا کاری کا بچہ، سالف کی اولاد میں نہ تھا، جیسان نامی ایک شخص سے اس کی بدکار ماں نے زنا کاری کی تھی اسی سے یہ پیدا ہوا تھا اب دونوں چلے اور اہل ثمود اور دوسرے شریروں کو بھی اس پر آمادہ کیا چناچہ سات شخص اور بھی اس پر آمادہ ہوگئے اور یہ نو فسادی شخص اس بد ارادے پر تل گئے جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ 48) 27۔ النمل :48) اس شہر میں نو شخص تھے جن میں اصلاح کا مادہ ہی نہ تھا سراسر فسادی ہی تھے۔ چونکہ یہ لوگ قوم کے سردار تھے ان کے کہنے سننے سے تمام کفار بھی اس پر راضی ہوگئے اور اونٹنی کے واپس آنے کا راستے میں یہ دونوں شریر اپنی اپنی کمین گاہوں میں بیٹھ گئے جب اونٹنی نکلی تو پہلے مصدع نے اسے تیر مارا جو اس کی ران کی ہڈی میں پیوت ہوگیا اسی وقت عنیزہ نے اپنی خوبصورت لڑکی کو کھلے منہ قدار کے پاس بھیجا اس نے کہا قدار کیا دیکھتے ہو اٹھو اور اس کا کام تمام کردو۔ یہ اس کا منہ دیکھتے ہی دوڑا اور اس کے دونوں پچھلے پاؤں کاٹ دیئے اونٹنی چکرا کر گری اور ایک آواز نکلالی جس سے اس کا بچہ ہوشیار ہوگیا اور اس راستے کو چھوڑ کر پہاڑی پر چلا گیا یہاں قدار نے اونٹنی کا گلا کاٹ دیا اور وہ مرگئی اس کا بچہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیا اور تین مربتہ بلبلایا۔ حسن بصری فرماتے ہیں اس نے اللہ کے سامنے اپنی ماں کے قتل کی فریاد کی پھر جس چٹان سے نکلا تھا اسی میں سما گیا۔ یہ روایت بھی ہے کہ اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ ہی ذبح کردیا گیا تھا۔ واللہ اعلم۔ حضرت صالح ؑ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ گھبرائے ہوئے موقعہ پر پہنچے دیکھا کہ اونٹنی بےجان پڑی ہے آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا بس اب تین دن میں تم ہلاک کردیئے جاؤ گے، ہوا بھی یہی۔ بدھ کے دن ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اور چونکہ کوئی عذاب نہ آیا اس لئے اترا گئے اور ان مفسدوں نے ارادہ کرلیا کہ آج شام کو صالح کو بھی مار ڈالو اگر واقعی ہم ہلاک ہونے والے ہی ہیں تو پھر یہ کیوں بچا رہے ؟ اور اگر ہم پر عذاب نہیں آتا تو بھی آؤ روز روز کے اس جھنجھٹ سے پاک ہوجائیں۔ چناچہ قرآن کریم کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے مل کر مشورہ کیا اور پھر قسمیں کھا کر اقرار کیا کہ رات کو صالح کے گھر پر چھاپہ مارو اور اسے اور اس کے گھرانے کو تہ تیغ کرو اور صاف انکار کردو کہ ہمیں کیا خبر کہ کس نے مارا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے ان کے اس مکر کے مقابل ہم نے بھی مکر کیا اور یہ ہمارے مکر سے بالکل بیخبر رہے اب انجام دیکھ لو کہ کیا ہوا ؟ رات کو یہ اپنی بدنیتی سے حضرت صالح کے گھر کی طرف چلے آپ کا گھر پہاڑی کی بلندی پر تھا ابھی یہ اوپر چڑھ ہی رہے تھے جو اوپر سے ایک چٹان پتھر کی لڑھکتی ہوئی آئی اور سب کو ہی پیس ڈالا۔ ان کا تو یہ حشر ہوا ادھر جمعرات کے دن تمام ثمودیوں کے چہرے زرد پڑگئے جمعہ کے دن ان کے چہرے آگ جیسے سرخ ہوگئے اور ہفتے کے دن جو مہلت کا آخری دن تھا ان کے منہ سیاہ ہوگئے تین دن جب گذر گئے تو چوتھا دن اتوار صبح ہی صبح سورج کے روشن ہوتے ہی اوپر آسمان سے سخت کڑاکا ہوا جس کی ہولناک دہشت انگیز چنگھاڑنے ان کے کلیجے پھاڑ دیئے ساتھ ہی نیچے سے زبردست زلزلہ آیا ایک ہی ساعت میں ایک ساتھ ہی ان سب کا ڈھیر ہوگیا، مردوں سے مکانات، بازار، گلی، کوچے بھر گئے۔ مرد، عورت، بچے، بوڑھے اول سے آخر تک سارے کے سارے تباہ ہوگئے شان رب دیکھئے کہ اس واقعہ کی خبر دنیا کو پہنچانے کے لئے ایک کافرہ عورت بچا دی گئی، یہ بھی بڑی خبیثہ تھی حضرت صالح ؑ کی عداوت کی آگ سے بھری ہوئی تھی اسکی دونوں ٹانگیں نہیں تھیں لیکن ادھر عذاب آیا ادھر اس کے پاؤں کھل گئے اپنی بستی سے سرپٹ بھاگی اور تیز دوڑتی ہوئی دوسرے شہر میں پہنچی اور وہاں جا کر ان سب کے سامنے سارا واقعہ بیان کر ہی چکنے کے بعد ان سے پانی مانگا۔ ابھی پوری پیاس بھی نہ بجھی تھی کہ عذاب الٰہی آپڑا اور وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ ہاں ابو دغال نامی ایک شخص اور بچ گیا تھا یہ یہاں نہ تھا حرم کی پاک زمین میں تھا لیکن کچھ دنوں کے بعد جب یہ اپنے کسی کام کی غرض سے حد حرم سے باہر آیا اسی وقت آسمان سے پتھر آیا اور اسے بھی جہنم واصل کیا ثمودیوں میں سے سوائے حضرت صالح اور انکے مومن صحابہ کے اور کوئی بھی نہ بچا، ابو رغال کا واقعہ اس سے پہلے حدیث سے بیان ہوچکا ہے قبیلہ ثقیف جو طائف میں ہے مذکور ہے کہ یہ اسی کی نسل سے ہیں۔ عبدالرزاق میں ہے کہ اس کی قبر کے پاس سے رسول کریم ﷺ جب گذرے تو فرمایا جانتے ہو یہ کس کی قبر ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا یہ ابو دغال کی قبر ہے۔ یہ ایک ثمودی شخص تھا اپنی قوم کے عذاب کے وقت یہ حرم میں تھا اس وجہ سے عذاب الٰہی سے بچ رہا لیکن حرم شریف سے نکلا تو اسی وقت اپنی قوم کے عذاب سے یہ بھی ہلاک ہوا اور یہیں دفن کیا گیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی لکڑی بھی دفنا دی گئی۔ چناچہ لوگوں نے اس گڑھے کو کھود کر اس میں سے وہ لکڑی نکال لی اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا ثقیف قبیلہ اسی کی اولاد ہے۔ ایک مرسل حدیث میں بھی یہ ذکر موجود ہے، یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا اس کے ساتھ سونے کی شاخ دفن کردی گئی تھی یہی نشان اس کی قبر کا ہے اگر تم اسے کھودو تو وہ شاخ ضرور نکل آئے گی چناچہ بعض لوگوں نے اسے کھودا اور وہ شاخ نکال لی۔ ابو داؤد میں بھی یہ روایت ہے اور حسن عزیز ہے لیکن میں کہتا ہوں اس حدیث کے وصل کا صرف ایک طریقہ بحیر بن ابی بحیر کا ہے اور یہ صرف اسی حدیث کے ساتھ معروف ہے اور بقول حضرت امام یحییٰ بن معین سوائے اسماعیل بن ابی امیہ کے اسے اس سے اور کسی نے روایت نہیں کیا احتمال ہے کہ کہیں اس حدیث کے مرفوع کرنے میں خطاء نہ ہو یہ عبداللہ بن عمرو ہی کا قول ہو اور پھر اس صورت میں یہ بھی ممکنات سے ہے کہ انہوں نے اسے ان دو دفتروں سے لے لیا ہو جو انہیں جنگ یرموک میں ملے تھے۔ میرے استاد شیخ ابو الحجاج اس روایت کو پہلے تو حسن عزیز کہتے تھے لیکن جب میں نے ان کے سامنے یہ حجت پیش کی تو آپ نے فرمایا بیشک ان امور کا اس میں احتمال ہے۔ واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ عُلَمَاءُ التَّفْسِيرِ وَالنَّسَبِ: ثَمُودُ بْنُ عَاثِرَ بْنِ إِرَمَ بْنِ سَامَ بْنِ نُوحٍ، وَهُوَ أَخُو جَديس بْنِ عَاثِرَ، وَكَذَلِكَ قَبِيلَةُ طَسْم، كُلُّ هَؤُلَاءِ كَانُوا أَحْيَاءً مِنَ الْعَرَبِ الْعَارِبَةِ قَبْلَ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَكَانَتْ ثَمُودُ بَعْدَ عَادٍ، وَمَسَاكِنُهُمْ مَشْهُورَةٌ فِيمَا بَيْنَ الْحِجَازِ وَالشَّامِ إِلَى وَادِي الْقُرَى وَمَا حَوْلَهُ، وَقَدْ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى قُرَاهُمْ وَمَسَاكِنِهِمْ، وَهُوَ ذَاهِبٌ إِلَى تَبُوكَ سَنَةَ تِسْعٍ.
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا صَخْر بْنُ جُوَيرية، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالنَّاسِ عَلَى تَبُوكَ، نَزَلَ بِهِمُ [[في أ: "بهم على".]] الْحِجْرَ عِنْدَ بُيُوتِ ثَمُودَ، فَاسْتَسْقَى النَّاسُ مِنَ الْآبَارِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا ثَمُودُ، فَعَجَنُوا مِنْهَا وَنَصَبُوا مِنْهَا الْقُدُورَ. فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ فَأَهْرَقُوا الْقُدُورَ، وَعَلَفُوا العجينَ الإبلَ، ثُمَّ ارْتَحَلَ بِهِمْ حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ عَلَى الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا النَّاقَةُ، وَنَهَاهُمْ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ عُذِّبُوا وَقَالَ: "إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ" [[المسند (٢/١١٧) .]]
وَقَالَ [الْإِمَامُ] [[زيادة من أ.]] أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ بِالْحِجْرِ: "لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ المعذَّبين إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مثلُ مَا أَصَابَهُمْ" [[المسند (٢/٧٤) .]]
وَأَصْلُ هَذَا الْحَدِيثِ مُخَرَّج فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ [[صحيح البخاري برقم (٣٣٨١) ، وصحيح مسلم برقم (٢٩٨) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَوْسَطَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَة الْأَنْمَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى أَهْلِ الْحِجْرِ، يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رسولَ اللَّهِ ﷺ، فَنَادَى فِي النَّاسِ: "الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ". قَالَ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وهو مُمْسِكٌ بِعِيرَهُ [[في د، م: "بعنزة".]] وَهُوَ يَقُولُ: "مَا تَدْخُلُونَ عَلَى قَوْمٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ". فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ: نعجبُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "أَفَلَا أُنْبِئُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ: رَجُلٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ، وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ، فَاسْتَقِيمُوا وسَدِّدوا، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا، وَسَيَأْتِي قَوْمٌ لَا يَدْفَعُونَ عَنْ أَنْفُسِهِمْ شَيْئًا" [[المسند (٤/٢٣١) ، وقال الهيثمي في المجمع (٦/١٩٤) : "فيه عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي وقد اختلط".]]
لَمْ يُخْرِجْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ السُّنَنِ [[في م: "الكتب"، وفي ك، أ: "الكتب الستة".]] وَأَبُو كَبْشَةَ اسْمُهُ: عُمَرُ [[في ك، م: "عمرو".]] بْنُ سَعْدٍ، وَيُقَالُ: عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ: حَدَّثَنَا مَعْمَر، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْم، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالْحِجْرِ قَالَ: "لَا تَسْأَلُوا الْآيَاتِ، فَقَدْ سَأَلَهَا قَوْمُ صَالِحٍ فَكَانَتْ -يَعْنِي النَّاقَةَ -تَرِدُ مِنْ هَذَا الفَجّ، وتَصْدُر مِنْ هَذَا الْفَجِّ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَعَقَرُوهَا، وَكَانَتْ تَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمًا وَيَشْرَبُونَ لَبَنَهَا يَوْمًا، فَعَقَرُوهَا، فَأَخَذَتْهُمْ صَيْحَةٌ، أهمد [[في د: "أخمد".]] الله مَنْ تحت أَدِيمِ السَّمَاءِ مِنْهُمْ، إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ". فَقَالُوا: مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "أَبُو رِغال. فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ" [[المسند (٣/٢٩٦) وقال الهيثمي في المجمع (٦/١٩٤) : "رجال أحمد رجال الصحيح".]]
وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْكُتُبِ السِّتَّةِ، وَهُوَ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ.
فَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا﴾ أَيْ: وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى قَبِيلَةِ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا، ﴿قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ﴾ جَمِيعُ الرُّسُلِ يَدْعُونَ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٢٥] وَقَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من م.]] ﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولا أَنِ اُعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾ [النَّحْلِ:٣٦] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَدْ جَاءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ هَذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً﴾ أَيْ: قَدْ جَاءَتْكُمْ حُجَّةٌ مِنَ اللَّهِ عَلَى صِدْقِ مَا جِئْتُكُمْ بِهِ. وَكَانُوا هُمُ الَّذِينَ سَأَلُوا صَالِحًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ بِآيَةٍ، وَاقْتَرَحُوا عَلَيْهِ أَنْ تَخْرُجَ لَهُمْ مِنْ صَخْرَةٍ صمَاء عَيّنوها بِأَنْفُسِهِمْ، وَهِيَ صَخْرَةٌ مُنْفَرِدَةٌ فِي نَاحِيَةِ الحِجْر، يُقَالُ لَهَا: الكَاتبة، فَطَلَبُوا مِنْهُ [[في م: "منها".]] أَنْ يُخْرِجَ لَهُمْ مِنْهَا نَاقَةً عُشَراء تَمْخَضُ، فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ صَالِحٌ الْعُهُودَ وَالْمَوَاثِيقَ لَئِنْ أَجَابَهُمُ اللَّهُ إِلَى سُؤَالِهِمْ وَأَجَابَهُمْ إِلَى طُلْبتهم لَيُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَيَتْبَعُنَّهُ؟ فَلَمَّا أَعْطَوْهُ عَلَى ذَلِكَ عُهُودَهُمْ وَمَوَاثِيقَهُمْ، قَامَ صَالِحٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِلَى صِلَاتِهِ وَدَعَا اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ، فَتَحَرَّكَتْ تِلْكَ الصَّخْرَةُ ثُمَّ انْصَدَعَتْ عَنْ نَاقَةٍ جَوْفاء وَبْرَاء يَتَحَرَّكُ جَنِينُهَا بَيْنَ جَنْبَيْهَا، كَمَا سَأَلُوا، فَعِنْدَ ذَلِكَ آمَنَ رَئِيسُ الْقَوْمِ وَهُوَ: "جُندَع بْنُ عَمْرٍو" وَمَنْ كَانَ مَعَهُ عَلَى أَمْرِهِ [[في أ: "على دينه".]] وَأَرَادَ بَقِيَّةُ أَشْرَافِ ثَمُودَ أَنْ يُؤْمِنُوا فَصَدَّهُمْ "ذُؤاب بْنُ عَمْرِو بْنِ لَبِيدٍ" "وَالْحُبَابُ" صَاحِبُ أَوْثَانِهِمْ، وَرَبَابُ بْنُ صَمْعَرَ بْنِ جَلْهَسَ، وكان ل"جندع بْنِ عَمْرٍو" ابْنُ عَمٍّ يُقَالُ لَهُ: "شِهَابُ بْنُ خَلِيفَةَ بْنِ مُحَلَّاةَ بْنِ لَبِيدِ بْنِ حَرَاسٍ"، وَكَانَ مِنْ أَشْرَافِ ثَمُودَ وَأَفَاضِلِهَا، فَأَرَادَ أَنْ يُسْلِمَ أَيْضًا فَنَهَاهُ أُولَئِكَ الرَّهْطُ، فَأَطَاعَهُمْ، فَقَالَ فِي ذَلِكَ رَجُلٌ مِنْ مُؤْمِنِي ثَمُودَ، يُقَالُ لَهُ مِهُوَسُ [[في ك، م، أ: "مهوش".]] بْنُ عَنْمَةَ بْنِ الدُّمَيْلِ، رَحِمَهُ اللَّهُ:
وَكَانَتْ عُصْبةٌ مِنْ آلِ عَمْرو ... إِلَى دِينِ النَّبِيِّ دَعَوا شِهَابا ...
عَزيزَ ثَمُودَ كُلَّهمُ جَمِيعًا ... فَهَمّ بِأَنْ يُجِيبَ فَلَوْ [[في م: "ولو".]] أَجَابَا ...
لأصبحَ صالحٌ فِينَا عَزيزًا ... وَمَا عَدَلوا بِصَاحِبِهِمْ ذُؤابا ...
وَلَكِنَّ الغُوَاة مِنْ آلِ حُجْرٍ ... تَوَلَّوْا بَعْدَ رُشْدهم ذِئَابَا ...
فَأَقَامَتِ النَّاقَةُ وَفَصِيلُهَا بَعْدَ مَا وَضَعَتْهُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ مُدَّةً، تَشْرَبُ مَاءَ بِئْرِهَا يَوْمًا، وَتَدَعُهُ لَهُمْ يَوْمًا، وَكَانُوا يَشْرَبُونَ لَبَنَهَا يَوْمَ [[في أ: "بيوم".]] شُرْبِهَا، يَحْتَلِبُونَهَا فَيَمْلَئُونَ مَا شَاءُوا مِنْ أَوْعِيَتِهِمْ وَأَوَانِيهِمْ، كَمَا قَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ﴾ [الْقَمَرِ:٢٨] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿هَذِهِ نَاقَةٌ لَهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ﴾ [الشُّعَرَاءِ:١٥٥] وكانت تسرح في بعض تلك الأودية تَرِدُ مِنْ فَجّ وَتَصْدُرُ مِنْ غَيْرِهِ لِيَسَعَهَا؛ لأنها كانت تتضلَّع عن الْمَاءِ، وَكَانَتْ -عَلَى مَا ذُكِرَ -خَلْقًا هَائِلًا وَمَنْظَرًا رَائِعًا، إِذَا مَرَّتْ بِأَنْعَامِهِمْ نَفَرَتْ مِنْهَا. فَلَمَّا طَالَ عَلَيْهِمْ وَاشْتَدَّ تَكْذِيبُهُمْ لِصَالِحٍ النَّبِيِّ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَزَمُوا عَلَى قَتْلِهَا، لِيَسْتَأْثِرُوا بِالْمَاءِ كُلَّ يَوْمٍ، فَيُقَالُ: إِنَّهُمُ اتَّفَقُوا كُلُّهُمْ عَلَى قَتْلِهَا [[تفسير الطبري (١٢/٥٢٩) .]]
قَالَ قَتَادَةُ: بَلَغَنِي أَنَّ الَّذِي قَتَلَ النَّاقَةَ طَافَ عَلَيْهِمْ كُلِّهِمْ، أَنَّهُمْ رَاضُونَ بِقَتْلِهَا حَتَّى عَلَى النِّسَاءِ فِي خُدُورِهِنَّ، وَعَلَى الصِّبْيَانِ [أَيْضًا] [[زيادة من أ.]]
قُلْتُ: وَهَذَا هُوَ الظَّاهِرُ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: ﴿فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّاهَا﴾ [الشَّمْسِ:١٤] وَقَالَ: ﴿وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا﴾ [الْإِسْرَاءِ:٥٩] وَقَالَ: ﴿فَعَقَرُوا النَّاقَةَ﴾ فَأَسْنَدَ ذَلِكَ عَلَى مَجْمُوعِ الْقَبِيلَةِ، فَدَلَّ عَلَى رِضَا جَمِيعِهِمْ بِذَلِكَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَذَكَرَ الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ، وَغَيْرُهُ مِنْ عُلَمَاءِ التَّفْسِيرِ فِي سَبَبِ قَتْلِ النَّاقَةِ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا: "عُنَيْزَةُ ابْنَةُ غَنْمِ بْنِ مِجْلِز" وَتُكَنَّى أُمَّ غَنَمْ [[في ك، م: "أم عثمان".]] كَانَتْ عَجُوزًا كَافِرَةً، وَكَانَتْ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِصَالِحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَكَانَتْ لَهَا بَنَاتٌ حِسَانٌ وَمَالٌ جَزِيلٌ، وَكَانَ زَوْجُهَا ذُؤاب بْنُ عَمْرٍو أَحَدَ رُؤَسَاءِ ثَمُودَ، وَامْرَأَةً أُخْرَى يُقَالُ لَهَا: "صُدُوفُ بِنْتُ الْمُحَيَّا بْنِ دَهْرِ [[في أ: "زهير".]] بْنِ الْمُحَيَّا" ذَاتِ حَسَبٍ وَمَالٍ وَجِمَالٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ مِنْ ثَمُودَ، فَفَارَقَتْهُ، فَكَانَتَا تَجْعَلَانِ لِمَنِ الْتَزَمَ لَهُمَا بِقَتْلِ النَّاقَةِ، فَدَعَتْ "صُدُوفُ" رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: "الْحُبَابُ" وَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا إِنْ هُوَ عَقَرَ النَّاقَةَ، فَأَبَى عَلَيْهَا. فَدَعَتِ ابْنَ عَمٍّ لَهَا يُقَالُ لَهُ: "مِصْدَعُ بْنُ مِهْرَجِ بْنِ الْمُحَيَّا"، فَأَجَابَهَا إِلَى ذَلِكَ -وَدَعَتْ "عُنَيْزَةُ بِنْتُ غَنْمٍ" قِدَارَ بْنَ سَالِفِ بْنَ جُنْدَع [[في أ: "جذع".]] وَكَانَ رَجُلًا أَحْمَرَ أَزْرَقَ قَصِيرًا، يَزْعُمُونَ أَنَّهُ كَانَ وَلَدَ زَنية، وَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ مِنْ أَبِيهِ الَّذِي يُنْسَبُ إِلَيْهِ، وَهُوَ سَالِفٌ، وَإِنَّمَا هُوَ [[في أ: "كان".]] مِنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: "صِهْيَادٌ" [[في م: "صبيان"، وفي ك: "ضبيان".]] وَلَكِنْ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ "سَالِفٍ"، وَقَالَتْ لَهُ: أُعْطِيكَ أَيَّ بَنَاتِي شئتَ عَلَى أَنْ تَعْقِرَ [[في ك، م: "يعقر".]] النَّاقَةَ! فَعِنْدَ ذَلِكَ، انْطَلَقَ "قِدَارُ بْنُ سَالِفٍ" "وَمِصْدَعُ بْنُ مِهْرَجٍ"، فَاسْتَفَزَّا غُواة مِنْ ثَمُودَ، فَاتَّبَعَهُمَا سَبْعَةُ نَفَرٍ، فَصَارُوا تِسْعَةَ رَهْطٍ، وَهُمُ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الأرْضِ وَلا يُصْلِحُونَ﴾ [النَّمْلِ:٤٨] وَكَانُوا رُؤَسَاءَ فِي قَوْمِهِمْ، فَاسْتَمَالُوا الْقَبِيلَةَ الْكَافِرَةَ بِكَمَالِهَا، فَطَاوَعَتْهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَانْطَلَقُوا فَرَصَدُوا النَّاقَةَ حِينَ صَدَرَتْ عَنِ الْمَاءِ، وَقَدْ كَمَنَ لَهَا "قِدَارٌ" فِي أَصْلِ صَخْرَةٍ عَلَى طَرِيقِهَا، وَكَمِنَ لَهَا "مِصْدَعٌ" فِي أَصْلِ أُخْرَى، فَمَرَّتْ عَلَى "مِصْدَعٍ" فَرَمَاهَا بِسَهْمٍ، فَانْتَظَمَ بِهِ عضَلَة سَاقِهَا وَخَرَجَتْ "أُمُّ غَنَمْ عُنَيْزَةُ"، وَأَمَرَتِ ابْنَتَهَا وَكَانَتْ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْهًا، فَسَفَرَتْ عَنْ وَجْهِهَا لِقِدَارٍ وَذَمَّرَتْهُ فَشَدَّ عَلَى النَّاقَةِ بِالسَّيْفِ، فكسفَ [[في ك، م، د: "فكشف"، وفي أ: "فكشف عن".]] عُرْقُوبَهَا، فَخَرَّتْ سَاقِطَةً إِلَى الْأَرْضِ، وَرَغَتْ رَغاة وَاحِدَةً تُحَذِّرُ سَقْبَها، ثُمَّ طَعَنَ فِي لَبَّتها فَنَحَرَهَا، وَانْطَلَقَ سَقْبَها -وَهُوَ فَصِيلُهَا -حَتَّى أَتَى جَبَلًا مَنِيعًا، فَصَعَدَ أَعْلَى صَخْرَةٍ فِيهِ وَرَغَا -فَرَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَر، عَمَّنْ سَمِعَ الحسن البصري أنه قال: يَا رَبِّ أَيْنَ أُمِّي؟ وَيُقَالُ: إِنَّهُ رَغَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. وَإِنَّهُ دَخَلَ فِي صَخْرَةٍ فَغَابَ فِيهَا، وَيُقَالُ: بَلِ اتَّبَعُوهُ فَعَقَرُوهُ مَعَ أُمِّهِ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ [[تفسير الطبري (١٢/٥٣٦) .]]
فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ وَفَرَغُوا مِنْ عَقْرِ النَّاقَةِ، بَلَغَ الْخَبَرُ صَالِحًا، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَجَاءَهُمْ وَهُمْ مُجْتَمِعُونَ، فَلَمَّا رَأَى النَّاقَةَ بَكَى وَقَالَ: ﴿تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ [ذَلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ [[زيادة من ك، م، وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [هُودٍ:٦٥] وَكَانَ قَتْلُهُمُ النَّاقَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، فَلَمَّا أَمْسَى أُولَئِكَ التِّسْعَةُ الرَّهْطُ عَزَمُوا عَلَى قَتْلِ صَالِحٍ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ك، م.]] وَقَالُوا: إِنْ كَانَ صَادِقًا عَجَّلناه قَبْلَنَا، وَإِنْ كَانَ كَاذِبًا أَلْحَقْنَاهُ بِنَاقَتِهِ! ﴿قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ. وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ * فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَاهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ * فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُوا﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] الْآيَةَ. [النَّمْلِ:٤٩-٥٢]
فَلَمَّا عَزَمُوا على ذلك، وتواطؤوا عَلَيْهِ، وَجَاءُوا مِنَ اللَّيْلِ لِيَفْتِكُوا بِنَبِيِّ اللَّهِ صَالِحٍ، أَرْسَلَ اللَّهُ، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى، وَلَهُ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ، عَلَيْهِمْ حِجَارَةً فرضَختهم سَلَفًا وَتَعْجِيلًا قَبْلَ قَوْمِهِمْ، وَأَصْبَحَ ثَمُودُ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَهُوَ الْيَوْمُ الْأَوَّلُ مِنْ أَيَّامِ النَّظرة، وَوُجُوهُهُمْ مُصْفَرَّةٌ كَمَا وَعَدَهُمْ صَالِحٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَصْبَحُوا فِي الْيَوْمِ الثَّانِي مِنْ أَيَّامِ التَّأْجِيلِ، وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، وَوُجُوهُهُمْ مُحَمَّرَةٌ، وَأَصْبَحُوا [[في م: "واجتمعوا".]] فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ مِنْ أَيَّامِ الْمَتَاعِ [[في ك: "التمتع".]] وَهُوَ يَوْمُ السَّبْتِ، وَوُجُوهُهُمْ مُسَوَّدَةٌ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا مِنْ يَوْمِ الْأَحَدِ وَقَدْ تحَنَّطوا وَقَعَدُوا يَنْتَظِرُونَ نِقْمَةَ اللَّهِ وَعَذَابَهُ، عِيَاذًا بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ، لَا يَدْرُونَ مَاذَا يُفْعَلُ بِهِمْ، ولا كيف يأتيهم العذاب؟ و [قد] [[زيادة من م.]] أَشْرَقَتِ الشَّمْسُ، جَاءَتْهُمْ صَيْحَةٌ مِنَ السَّمَاءِ ورَجْفة شَدِيدَةٌ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، فَفَاضَتِ الْأَرْوَاحُ وَزَهَقَتِ النُّفُوسُ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ ﴿فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ﴾ أَيْ: صَرْعَى لَا أَرْوَاحَ فِيهِمْ، وَلَمْ يُفْلِتْ مِنْهُمْ أَحَدٌ، لَا صَغِيرٌ وَلَا كَبِيرٌ، لَا ذَكَرٌ وَلَا أُنْثَى -قَالُوا: إِلَّا جَارِيَةً كانت مقعدة -واسمها "كلبة بنة السّلْق"، وَيُقَالُ لَهَا: "الزُّرَيْقَةُ" [[في م: "الذريعة".]] -وَكَانَتْ كَافِرَةً شَدِيدَةَ الْعَدَاوَةِ لِصَالِحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَلَمَّا رَأَتْ مَا رَأَتْ مِنَ الْعَذَابِ، أُطلِقَت رِجْلَاهَا، فَقَامَتْ تَسْعَى كَأَسْرَعِ شَيْءٍ، فَأَتَتْ حَيًّا مِنَ الْأَحْيَاءِ فَأَخْبَرَتْهُمْ بِمَا رَأَتْ وَمَا حَلَّ بِقَوْمِهَا، ثُمَّ اسْتَسْقَتْهُمْ مِنَ الْمَاءِ، فَلَمَّا شَرِبَتْ، مَاتَتْ.
قَالَ عُلَمَاءُ التَّفْسِيرِ: وَلَمْ يَبْقَ مِنْ ذُرِّيَّةِ ثَمُودَ أَحَدٌ، سِوَى صَالِحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَمَنِ اتَّبَعَهُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، إِلَّا أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: "أَبُو رِغال"، كَانَ لَمَّا وَقَعَتِ النِّقْمَةُ بِقَوْمِهِ مقيما فِي الْحَرَمِ، فَلَمْ يَصِبْهُ شَيْءٌ، فَلَمَّا خَرَجَ فِي بَعْضِ الْأَيَّامِ إِلَى الْحِلِّ، جَاءَهُ حَجَرٌ مِنَ السَّمَاءِ فَقَتَلَهُ.
وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ الْقِصَّةِ حَدِيثُ "جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ" فِي ذَلِكَ، وَذَكَرُوا أَنَّ أَبَا رِغَالٍ هَذَا هُوَ والد ثَقِيفٍ" الَّذِينَ كَانُوا يَسْكُنُونَ الطَّائِفَ [[انظر: "الكلام على أبي رغال، وترجيح أنه كان دليل أبرهة في تفسير سورة النساء آية: ٤.]]
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: قَالَ مَعْمَر: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ؛ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَرَّ بِقَبْرِ أَبِي رِغَالٍ فَقَالَ: "أَتُدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ " فَقَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ، رَجُلٍ مِنْ ثَمُودَ، كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ، فَمَنَعَهُ حرمُ اللَّهِ عَذَابَ اللَّهِ. فَلَمَّا خَرَجَ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ، فَدُفِنَ هَاهُنَا، وَدُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَنَزَلَ الْقَوْمُ فَابْتَدَرُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ، فَبَحَثُوا عَنْهُ، فَاسْتَخْرَجُوا الْغُصْنَ".
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَبُو رِغَالٍ: أَبُو ثَقِيفٍ [[المصنف برقم (٢٠٩٨٩) ، وتفسير عبد الرزاق (١/١١٩، ٢٢٠) .]]
هَذَا مُرْسَلٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ مُتَّصِلًا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، كَمَا قَالَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ بُجَير بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ، حِينَ خَرَجْنَا مَعَهُ إِلَى الطَّائِفِ، فَمَرَرْنَا بِقَبْرٍ فَقَالَ: "هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ، وَهُوَ أَبُو ثَقِيفٍ، وَكَانَ مِنْ ثَمُودَ، وَكَانَ بِهَذَا الْحَرَمِ فَدَفَعَ [[في ك: "يدفع".]] عَنْهُ، فَلَمَّا خَرَجَ [مِنْهُ] [[زيادة من ك، م.]] أَصَابَتْهُ النِّقْمَةُ الَّتِي أَصَابَتْ قَوْمَهُ بِهَذَا الْمَكَانِ، فَدُفِنَ فِيهِ. وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ دُفِنَ مَعَهُ غصن من ذهب، إن أنتم نبشم عَنْهُ أَصَبْتُمُوهُ [مَعَهُ] [[زيادة من أ.]] فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ [[في أ: "القوم".]] فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهُ الْغُصْنَ".
وَهَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِهِ [[سنن أبي داود برقم (٣٠٨٨) .]]
قَالَ شَيْخُنَا أَبُو الْحَجَّاجِ الْمِزِيُّ: وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ عَزِيزٌ [[في أ: "غريب".]] [[تهذيب الكمال (٤/١١) .]]
قُلْتُ: تَفَرَّدَ بِوَصْلِهِ "بُجَيْر بْنُ أَبِي بُجَيْرٍ" هَذَا، وَهُوَ شَيْخٌ لَا يُعْرَفُ إلا بهذا الحديث. قال يحيى ابن مَعِينٍ: وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرَ إِسْمَاعِيلِ بْنِ أُمَيَّةَ.
قُلْتُ: وَعَلَى هَذَا، فَيُخْشَى أَنْ يَكُونَ وَهِمَ فِي رَفْعِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَإِنَّمَا يَكُونُ مِنْ كَلَامِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، مِمَّا أَخَذَهُ مِنَ الزَّامِلَتَيْنِ.
قَالَ شَيْخُنَا أَبُو الْحَجَّاجِ، بَعْدَ أَنْ عَرَضْتُ عَلَيْهِ ذَلِكَ: وَهَذَا مُحْتَمَلٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى:
قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لِلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ لِمَنْ ءَامَنَ مِنْهُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَٰلِحًۭا مُّرْسَلٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۚ قَالُوٓا۟ إِنَّا بِمَآ أُرْسِلَ بِهِۦ مُؤْمِنُونَ
Said the eminent ones who were arrogant among his people to those who were oppressed - to those who believed among them, "Do you [actually] know that Salih is sent from his Lord?" They said, "Indeed we, in that with which he was sent, are believers."
تو ان کی قوم میں سردار لوگ جو غرور رکھتے تھے غریب لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہنے لگے بھلا تم یقین کرتے ہو کہ صالح اپنے پروردگار کی طرف بھیجے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں جو چیز دے کر وہ بھیجے گئے ہیں ہم اس پر بلاشبہ ایمان رکھتے ہیں
(ولی) اشراف متکبر قوم او، به مستضعفانی که ایمان آورده بودند، گفتند: «آیا (براستی) شما یقین دارید که صالح از طرف پروردگارش فرستاده شده است؟!» آنها گفتند: «ما به آنچه او بدان مأموریت یافته، ایمان آوردهایم.»
Tafsir Ibn Kathir
And to Thamud (people, We sent) their brother Salih. He said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Indeed there has come to you a clear sign from your Lord. This she-camel of Allah is a sign unto you; so you leave her to graze in Allah's earth, and touch her not with harm, lest a painful torment should seize you (73)And remember when He made you successors (generations) after 'Ad and gave you habitations in the land, you build for yourselves palaces in plains, and carve out homes in the mountains. So remember the graces (bestowed upon you) from Allah, and do not go about making mischief on the earth (74)The leaders of those who were arrogant among his people said to those who were counted weak – to such of them as believed: "Know you that Salih is one sent from his Lord." They said: "We indeed believe in that with which he has been sent. (75)Those who were arrogant said: "Verily, we disbelieve in that which you believe in. (76)So they killed the she-camel and insolently defied the commandment of their Lord, and said: "O Salih! Bring about your threats if you are indeed one of the Messengers (of Allah). (77)So the earthquake seized them, and they lay (dead), prostrate in their homes (78)
Thamud: Their Land and Their Lineage
Scholars of Tafsir and genealogy say that (the tribe of Thamud descended from) Thamud bin 'Athir bin Iram bin Sam bin Nuh, and he is brother of Jadis son of 'Athir, similarly the tribe of Tasm, and they were from the ancient Arabs, Al-'Aribah, before the time of Ibrahim, Thamud came after 'Ad. They dwelled between the area of the Hijaz (Western Arabia) and Ash-Sham (Greater Syria). The Messenger of Allah ﷺ passed by the area and ruins of Thamud when he went to Tabuk (in northern Arabia) during the ninth year of Hijrah.
Imam Ahmad recorded that Ibn 'Umar said, "When the Messenger of Allah ﷺ went to the area of Al-Hijr in Tabuk with the people, he camped near the homes of Thamud, in Al-Hijr and the people brought water from the wells that Thamud used before. They used that water to make dough and placed the pots (on fire) for cooking. However, the Prophet ﷺ commanded them to spill the contents of the pots and to give the dough to their camels. He then marched forth with them from that area to another area, near the well that the camel (as will follow) used to drink from. He forbade the Companions from entering the area where people were tormented, saying,
إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِم
(I fear that what befell them might befall you as well. Therefore, do not enter on them.)"
Ahmad narrated that 'Abdullah bin 'Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said while in the Hijr area,
لَا تَدْخُلُوا عَلَى هؤُلَاءِ الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلَ مَا أَصَابَهُم
(Do not enter on these who were tormented, unless you do so while crying. If you are not crying, then do not enter on them, so that what befell them does not befall you, as well.) The basis of this Hadith is mentioned in Two Sahihs.
The Story of Prophet Salih and Thamud
Allah said,
وَإِلَىٰ ثَمُودَ
(And to Thamud), meaning, to the tribe of Thamud, We sent their brother Salih,
قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ
(He said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him.")
All Allah's Messengers called to the worship of Allah alone without partners. Allah said in other Ayat,
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ
(And We did not send any Messenger before you but We revealed to him (saying): "None has the right to be worshipped but I, so worship Me.")[21:25] and,
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ
(And verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah (Alone), and avoid Taghut (all false deities)")[16:36].
Thamud asked that a Camel appear from a Stone, and it did
Prophet Salih said,
قَدْ جَاءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ هَٰذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً
("Indeed there has come to you a clear sign from your Lord. This she-camel of Allah is a sign unto you;")
meaning, a miracle has come to you from Allah testifying to the truth of what I came to you with.
Salih's people asked him to produce a miracle and suggested a certain solid rock that they chose, which stood lonely in the area of Hijr, and which was called Al-Katibah. They asked him to bring a pregnant camel out of that stone. Salih took their covenant and promises that if Allah answers their challenge, they would believe and follow him. When they gave him their oaths and promises to that, Salih started praying and invoked Allah (to produce that miracle). All of a sudden, the stone moved and broke apart, producing a she-camel with thick wool. It was pregnant and its fetus was visibly moving in its belly, exactly as Salih's people asked. This is when their chief, Jundu' bin 'Amr, and several who followed him believed. The rest of the noblemen of Thamud wanted to believe as well, but Dhu'ab bin 'Amr bin Labid, Al-Habbab, who tended their idols, and Rabbab bin Sum'ar bin Jilhis stopped them. One of the cousins of Jundu' bin 'Amr, whose name was Shihab bin Khalifah bin Mikhlat bin Labid bin Jawwas, was one of the leaders of Thamud, and he also wanted to accept the message. However, the chiefs whom we mentioned prevented him, and he conceded to their promptings.
The camel remained in Thamud, as well as, its offspring after she delivered it before them. The camel used to drink from its well on one day and leave the well for Thamud the next day. They also used to drink its milk, for on the days she drank water, they used to milk her and fill their containers from its milk. Allah said in other Ayat,
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ
(And inform them that the water is to be shared between (her and) them, each one's right to drink being established (by turns))[54:28] and,
هَٰذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(Here is a she-camel: it has a right to drink (water), and you have a right to drink (water)(each) on a day, known)[26:155]
The camel used to graze in some of their valleys, going through a pass and coming out through another pass. She did that so as to be able to move easily, because she used to drink a lot of water. She was a tremendous animal that had a strikingly beautiful appearance. When she used to pass by their cattle, the cattle would be afraid of her. When this matter continued for a long time and Thamud's rejection of Salih became intense, they intended to kill her so that they could take the water for themselves every day. It was said that all of them (the disbelievers of Thamud) conspired to kill the camel. Qatadah said that he was told that, "The designated killer of the camel approached them all, including women in their rooms and children, and found out that all of them agreed to kill her." This fact is apparent from the wording of the Ayat,
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا
(Then they denied him and they killed it. So their Lord destroyed them because of their sin, and made them equal in destruction!)[91:14], and,
وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا
(And We sent the she-camel to Thamud as a clear sign, but they did her wrong.)[17:59] Allah said here,
فَعَقَرُوا النَّاقَةَ
(So they killed the she-camel)
Therefore, these Ayat stated that the entire tribe shared in agreeing to this crime, and Allah knows best.
Thamud kills the She-Camel
Imam Abu Ja'far Ibn Jarir and other scholars of Tafsir said that the reason behind killing the camel was that a disbelieving old woman among them named Umm Ghanm 'Unayzah, the daughter of Ghanm bin Mijlaz, had the severest enmity among Thamud towards Salih, peace be upon him. She had beautiful daughters and she was wealthy, and Dhu'ab bin 'Amr, one of the leaders of Thamud, was her husband.
There was another noblewoman whose name was Saduf bint Al-Muhayya bin Dahr bin Al-Muhayya, who was of noble family, wealthy and beautiful. She was married to a Muslim man from Thamud, but she left him. These two women offered a prize for those who swore to them that they would kill the camel. Once, Saduf summoned a man called Al-Habbab and offered herself to him if he would kill the camel, but he refused. So she called a cousin of hers whose name was Musaddi' bin Mihraj bin Al-Muhayya, and he agreed. As for 'Unayzah bint Ghanm, she called Qudar bin Salif bin Jundu', a short person with red-blue skin, a bastard, according to them. Qudar was not the son of his claimed father, Salif, but the son of another man called, Suhyad. However, he was born on Salif's bed (and thus named after him). 'Unayzah said to Qudar, "I will give you any of my daughters you wish, if you kill the camel." Qudar bin Salif and Musaddi' bin Mihraj went along and recruited several mischievous persons from Thamud to kill the camel. Seven more from Thamud agreed, and the group became nine, as Allah described, when He said,
وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ
(And there were in the city nine men, who made mischief in the land, and would not reform.)[27:48]
These nine men were chiefs of their people, and they lured the entire tribe into agreeing to kill the camel. So they waited until the camel left the water well, where Qudar waited beside a rock on its path, while Musaddi' waited at another rock. When the camel passed by Musaddi' he shot an arrow at her and the arrow pierced her leg. At that time, 'Unayzah came out and ordered her daughter, who was among the most beautiful women, to uncover her face for Qudar, encouraging Qudar to swing his sword, hitting the camel on her knee. So she fell to the ground and screamed once to warn her offspring. Qudar stabbed her in her neck and slaughtered her. Her offspring went up a high rock and screamed. 'Abdur-Razzaq recorded from Ma'mar that someone reported from Al-Hasan Al-Basari that the offspring said, "O my Lord! Where is my mother?" It was said that her offspring screamed thrice and entered a rock and vanished in it, or, they followed it and killed it together with its mother. Allah knows best. When they finished the camel off and the news reached Prophet Salih, he came to them while they were gathered. When he saw the camel, he cried and proclaimed,
تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ
("Enjoy yourselves in your homes for three days.")[11:65]
The Wicked Ones Plot to Kill Prophet Salih, But the Torment descended on Them
The nine wicked persons killed the camel on a Wednesday, and that night, they conspired to kill Salih. They said, "If he is truthful, we should finish him before we are finished. If he is a liar, we will make him follow his camel."
قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ - وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
(They said: "Swear one to another by Allah that we shall make a secret night attack on him and his household, and thereafter we will surely say to his near relatives: 'We witnessed not the destruction of his household, and verily, we are telling the truth.'" So they plotted a plot, and We planned a plan, while they perceived not.)[27:49-50]
When they conspired to kill Salih and gathered at night to carry out their plot, Allah, to Whom belongs all might and Who protects His Messengers, rained down stones that smashed the heads of these nine people before the rest of the tribe. On Thursday, the first of the three days of respite, the people woke up and their faces were pale (yellow), just as Prophet Salih had promised them. On the second day of respite, Friday, they woke up and found their faces had turned red. On the third day of the respite, Saturday, they woke up with their faces black. On Sunday, they wore the fragrance of Hanut [the perfume for enshrouding the dead before burial] and awaited Allah's torment and revenge, we seek refuge with Allah from it. They did not know what will be done to them or how and from where the torment would come. When the sun rose, the Sayhah (loud cry) came from the sky and a severe tremor overtook them from below; the souls were captured and the bodies became lifeless, all in an hour.
فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
(And they lay (dead), prostrate in their homes.)
They became dead and lifeless and none among them, whether young, old, male or female, escaped the torment.
The scholars of Tafsir said that none from the offspring of Thamud remained, except Prophet Salih and those who believed in him. A disbelieving man called Abu Righal was in the Sacred Area at the time and the torment that befell his people did not touch him. When he went out of the Sacred Area one day, a stone fell from the sky and killed him. 'Abdur-Razzaq narrated that Ma'mar said that Isma'il bin Umayyah said that the Prophet ﷺ passed by the gravesite of Abu Righal and asked the Companions if they knew whose grave it was. They said, "Allah and His Messenger know better." He said,
أَتَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟
قالوا الله ورسوله أعلم، قال
هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ رَجُلٍ مِنْ ثَمُودَ كَانَ فِي حَرَمِ اللهِ فَمَنَعَهُ حَرَمُ اللهِ عَذَابَ اللهِ، فَلَمَّا خَرَجَ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَومهُ فَدُفِنَ هَاهُنَا وَدُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَنَزَلَ الْقَوْمُ فَابْتَدَرُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ فَبَحَثُوا عَنْهُ فَاسْتَخْرَجُوا الْغُصْنَ
(This is the grave of Abu Righal, a man from Thamud. He was in the Sacred Area of Allah and this fact saved him from receiving Allah's torment. When he went out of the Sacred Area, what befell his people also befell him. He was buried here along with a branch made from gold.)
So the people used their swords and looked for the golden branch and found it. 'Abdur-Razzaq narrated that Ma'mar said that Az-Zuhri said that Abu Righal is the father of the tribe of Thaqif.
Tafsir Ibn Kathir
ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح۔ یہ بھائی تھا جد بس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ009ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گذرے تھے۔ مسند احمد میں ہے کہ جب حضور ﷺ تبوک کے میدان میں اترے لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں کو کھلا دیئے جائیں۔ پھر فرمایا یہاں سے کوچ کرو اور اس کنوئیں کے پاس ٹھہرو جس سے حضرت صالح کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور فرمایا آئندہ عذاب والی بستیوں میں پڑاؤ نہ کیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی عذاب کے شکار تم بھی بن جاؤ۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کی بستیوں سے روتے اور ڈرتے ہوئے گذرو کہ مبادا وہی عذاب تم پر آجائیں جو ان پر آئے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ غزوہ تبوک میں لوگ بہ عجلت ہجر کے لوگوں کے گھروں کی طرف لپکے۔ آپ نے اسی وقت یہ آواز بلند کرنے کہا حدیث (الصلوۃ جامعتہ) جب لوگ جمع ہوگئے تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے گھروں میں کیوں گھسے جا رہے ہو جن پر غضب الٰہی نازل ہوا۔ راوی حدیث ابو کبشہ فرماتے ہیں رسول اللہ کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا۔ میں نے یہ سن کر عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم تو صرف تعجب کے طور پر انہیں دیکھنے چلے گئے تھے آپ نے فرمایا میں تمہیں اس سے بھی تعجب خیز چیز بتارہا ہوں تم میں سے ہی ایک شخص ہے جو تمہیں وہ چیز بتارہا ہے جو گذر چکیں اور وہ خبریں دے رہا ہے جو تمہارے سامنے ہیں اور جو تمہارے بعد ہونے والی ہیں پس تم ٹھیک ٹھاک رہو اور سیدھے چلے جاؤ تمہیں عذاب کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں یاد رکھو ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی جانوں سے کسی چیز کو دفع نہ کرسکیں گے۔ حضرت ابو کبشہ کا نام عمر بن سعد ہے اور کہا گیا ہے کہ عامر بن سعد ہے واللہ اعلم۔ ایک روایت میں ہے کہ ہجر کی بستی کے پاس آتے ہی حضور ﷺ نے فرمایا معجزے نہ طلب کرو دیکھو قوم صالح نے معجزہ طلب کیا جو ظاہر ہوا یعنی اونٹنی جو اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے جاتی تھی لیکن ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتاب کی اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی تھی اور ایک دن یہ سب اس کا دودھ پیتے تھے اس اونٹنی کو مار ڈالنے پر ان پر ایک چیخ آئی اور یہ جتنے بھی تھے سب کے سب ڈھیر ہوگئے۔ بجز اس ایک شخص کے جو حرم شریف میں تھا لوگوں نے پوچھا اس کا نام کیا تھا ؟ فرمایا ابو غال یہ بھی جب حد حرم سے باہر آیا تو اسے بھی وہی عذاب ہوا۔ یہ حدیث صحاح ستہ میں تو نہیں لیکن ہے مسلم شریف کی شرط پر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ثمودی قبیلے کی طرف سے ان کے بھائی حضرت صالح ؑ کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ تمام نبیوں کی طرح آپ نے بھی اپنی امت کو سب سے پہلے توحید الٰہی سکھائی کہ فقط اس کی عبادت کریں اس کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے جتنے بھی رسول آئے سب کی طرف یہی وحی کی جاتی رہی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، صرف میری ہی عبادت کرو اور ارشاد ہے ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت سے بچو۔ حضرت صالح فرماتے ہیں لوگوں تمہارے پاس دلیل الٰہی آچکی جس میں میری سچائی ظاہر ہے۔ ان لوگوں نے حضرت صالح سے یہ معجزہ طلب کیا تھا کہ ایک سنگلاخ چٹان جو ان کی بستی کے ایک کنارے پڑی تھی جس کا نام کاتبہ تھا اس سے آپ ایک اونٹنی نکلایں جو گابھن ہو (دودھ دینے والی اونٹنی جو دس ماہ کی حاملہ ہو) حضرت صالح نے ان سے فرمایا کہ اگر ایسا ہوجائے تو تم ایمان قبول کر لوگے ؟ انہوں نے پختہ وعدے کئے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ حضرت صالح ؑ نے نماز پڑھی دعا کی ان سب کے دیکھتے ہی چٹان نے ہلنا شروع کیا اور چٹخ گئی اس کے بیچ سے ایک اونٹنی نمودار ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی ان کے سردار جندع بن عمرو نے تو اسلام قبول کرلیا اور اس کے ساتھیوں نے بھی۔ باقی جو اور سردار تھے وہ ایمان لانے کیلئے تیار تھے مگر ذواب بن عمرو بن لبید نے اور حباب نے جو بتوں کا مجاور تھا اور رباب بن ہمر بن جلمس وغیرہ نے انہیں روک دیا۔ حضرت جندع کا بھتیجا شہاب نامی تھا یہ ثمودیوں کا بڑا عالم فاضل اور شریف شخص تھا اس نے بھی ایمان لانے کا ارادہ کرلیا تھا لیکن انہی بدبختوں نے اسے بھی روکا جس پر ایک مومن ثمودی مہوش بن غنمہ نے کہا کہ آل عمرو نے شہاب کو دین حق کی دعوت دی قریب تھا کہ وہ مشرف باسلام ہوجائے اور اگر ہوجاتا تو اس کی عزت سیوا ہوجاتی مگر بدبختوں نے اسے روک دیا اور نیکی سے ہٹا کر بدی پر لگا دیا۔ اس حاملہ اونٹنی کو اس وقت بچہ ہوا ایک مدت تک دونوں ان میں رہے۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی۔ اس دن اس قدر دودھ دیتی کہ یہ لوگ اپنے سب برتن بھر لیتے جیسے قرآن میں ہے آیت (وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاۗءَ قِسْمَةٌۢ بَيْنَهُمْ ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ 28) 54۔ القمر :28) ، اور آیت میں ہے (قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ01505ۚ) 26۔ الشعراء :155) یہ ہے اونٹنی اس کے اور تمہارے پانی پینے کے دن تقسیم شدہ اور مقررہ ہیں۔ یہ اونٹنی ثمودیوں کی بستی حجر کے اردگرد چرتی چگتی تھی ایک راہ جاتی دوسری راہ آتی یہ بہت ہی موٹی تازی اور ہیبت والی اونٹنی تھی جس راہ سے گذرتی سب جانور ادھر ادھر ہوجاتے۔ کچھ زمانہ گذرنے کے بعد ان اوباشوں نے ارادہ کیا کہ اس کو مار ڈالیں تاکہ ہر دن ان کے جانور برابر پانی پی سکیں ان اوباشوں کے ارادوں پر سب نے اتفاق کیا یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور انہیں شہ دی کہ ہاں اس پاپ کو کاٹ دو۔ اس اونٹنی کو مار ڈالو۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے آیت (فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا001فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا 14۽) 91۔ الشمس :14) ، قوم صالح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کے بدلے ان پر ہلاکت نازل فرمائی اور ان سب کو یکساں کردیا۔ ایک اور آیت میں ہے کہ ہم نے ثمودیوں کو اونٹنی دی جو ان کے لئے پوری سمجھ بوجھ کی چیز تھی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا یہاں بھی فرمایا کہ انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ پس اس فعل کی اسناد سارے ہی قبیلے کی طرف ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے سب اس امر پر متفق تھے۔ امام ابن جریر وغیرہ کا فرمان ہے کہ اس کے قتل کی وجہ یہ ہوئی کہ عنیزہ بنت عنم بن مجلز جو ایک بڑھیا کافرہ تھی اور حضرت صالح سے بڑی دشمنی رکھتی تھی اس کی لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں اور تھی بھی یہ عورت مالدار۔ اس کے خاوند کا نام ذواب بن عمرو تھا جو ثمودیوں کا ایک سردار تھا یہ بھی کافر تھا۔ اسی طرح ایک اور عورت تھی جس کا نام صدقہ بنت محیا بن زہیر بن مختار تھا۔ یہ بھی حسن کے علاوہ مال اور حسب نسب میں بڑھی ہوئی تھی اس کے خاوند مسلمان ہوگئے تھے ؓ۔ اس سرکش عورت نے ان کو چھوڑ دیا۔ اب یہ دونوں عورتیں لوگوں کو اکساتی تھیں کہ کوئی آمادہ ہوجائے اور حضرت صالح ؑ کی اونٹنی کو قتل کر دے، صدقہ نامی عورت نے ایک شخص حباب کو بلایا اور اس سے کہا کہ میں تیرے گھر آجاؤں گی اگر تو اس اونٹنی کو قتل کر دے لیکن اس نے انکار کردیا، اس پر اس نے مصدع بن مہرج بن محیا کو بلایا جو اس کے چچا کا لڑکا تھا اور اسے بھی اسی بات پر آمادہ کیا۔ یہ خبیث اس کے حسن و جمال کا مفتوں تھا اس برائی پر آمادہ ہوگیا۔ ادھر عنیزہ نے قدار بن سالف بن جذع کو بلا کر اس سے کہا کہ میری ان خوبصورت نوجوان لڑکیوں میں سے جسے تو پسند کرے اسے میں تجھے دے دو گی اسی شرط پر کہ تو اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ ڈال۔ یہ خبیث بھی آمادہ ہوگیا یہ تھا بھی زنا کاری کا بچہ، سالف کی اولاد میں نہ تھا، جیسان نامی ایک شخص سے اس کی بدکار ماں نے زنا کاری کی تھی اسی سے یہ پیدا ہوا تھا اب دونوں چلے اور اہل ثمود اور دوسرے شریروں کو بھی اس پر آمادہ کیا چناچہ سات شخص اور بھی اس پر آمادہ ہوگئے اور یہ نو فسادی شخص اس بد ارادے پر تل گئے جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ 48) 27۔ النمل :48) اس شہر میں نو شخص تھے جن میں اصلاح کا مادہ ہی نہ تھا سراسر فسادی ہی تھے۔ چونکہ یہ لوگ قوم کے سردار تھے ان کے کہنے سننے سے تمام کفار بھی اس پر راضی ہوگئے اور اونٹنی کے واپس آنے کا راستے میں یہ دونوں شریر اپنی اپنی کمین گاہوں میں بیٹھ گئے جب اونٹنی نکلی تو پہلے مصدع نے اسے تیر مارا جو اس کی ران کی ہڈی میں پیوت ہوگیا اسی وقت عنیزہ نے اپنی خوبصورت لڑکی کو کھلے منہ قدار کے پاس بھیجا اس نے کہا قدار کیا دیکھتے ہو اٹھو اور اس کا کام تمام کردو۔ یہ اس کا منہ دیکھتے ہی دوڑا اور اس کے دونوں پچھلے پاؤں کاٹ دیئے اونٹنی چکرا کر گری اور ایک آواز نکلالی جس سے اس کا بچہ ہوشیار ہوگیا اور اس راستے کو چھوڑ کر پہاڑی پر چلا گیا یہاں قدار نے اونٹنی کا گلا کاٹ دیا اور وہ مرگئی اس کا بچہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیا اور تین مربتہ بلبلایا۔ حسن بصری فرماتے ہیں اس نے اللہ کے سامنے اپنی ماں کے قتل کی فریاد کی پھر جس چٹان سے نکلا تھا اسی میں سما گیا۔ یہ روایت بھی ہے کہ اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ ہی ذبح کردیا گیا تھا۔ واللہ اعلم۔ حضرت صالح ؑ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ گھبرائے ہوئے موقعہ پر پہنچے دیکھا کہ اونٹنی بےجان پڑی ہے آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا بس اب تین دن میں تم ہلاک کردیئے جاؤ گے، ہوا بھی یہی۔ بدھ کے دن ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اور چونکہ کوئی عذاب نہ آیا اس لئے اترا گئے اور ان مفسدوں نے ارادہ کرلیا کہ آج شام کو صالح کو بھی مار ڈالو اگر واقعی ہم ہلاک ہونے والے ہی ہیں تو پھر یہ کیوں بچا رہے ؟ اور اگر ہم پر عذاب نہیں آتا تو بھی آؤ روز روز کے اس جھنجھٹ سے پاک ہوجائیں۔ چناچہ قرآن کریم کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے مل کر مشورہ کیا اور پھر قسمیں کھا کر اقرار کیا کہ رات کو صالح کے گھر پر چھاپہ مارو اور اسے اور اس کے گھرانے کو تہ تیغ کرو اور صاف انکار کردو کہ ہمیں کیا خبر کہ کس نے مارا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے ان کے اس مکر کے مقابل ہم نے بھی مکر کیا اور یہ ہمارے مکر سے بالکل بیخبر رہے اب انجام دیکھ لو کہ کیا ہوا ؟ رات کو یہ اپنی بدنیتی سے حضرت صالح کے گھر کی طرف چلے آپ کا گھر پہاڑی کی بلندی پر تھا ابھی یہ اوپر چڑھ ہی رہے تھے جو اوپر سے ایک چٹان پتھر کی لڑھکتی ہوئی آئی اور سب کو ہی پیس ڈالا۔ ان کا تو یہ حشر ہوا ادھر جمعرات کے دن تمام ثمودیوں کے چہرے زرد پڑگئے جمعہ کے دن ان کے چہرے آگ جیسے سرخ ہوگئے اور ہفتے کے دن جو مہلت کا آخری دن تھا ان کے منہ سیاہ ہوگئے تین دن جب گذر گئے تو چوتھا دن اتوار صبح ہی صبح سورج کے روشن ہوتے ہی اوپر آسمان سے سخت کڑاکا ہوا جس کی ہولناک دہشت انگیز چنگھاڑنے ان کے کلیجے پھاڑ دیئے ساتھ ہی نیچے سے زبردست زلزلہ آیا ایک ہی ساعت میں ایک ساتھ ہی ان سب کا ڈھیر ہوگیا، مردوں سے مکانات، بازار، گلی، کوچے بھر گئے۔ مرد، عورت، بچے، بوڑھے اول سے آخر تک سارے کے سارے تباہ ہوگئے شان رب دیکھئے کہ اس واقعہ کی خبر دنیا کو پہنچانے کے لئے ایک کافرہ عورت بچا دی گئی، یہ بھی بڑی خبیثہ تھی حضرت صالح ؑ کی عداوت کی آگ سے بھری ہوئی تھی اسکی دونوں ٹانگیں نہیں تھیں لیکن ادھر عذاب آیا ادھر اس کے پاؤں کھل گئے اپنی بستی سے سرپٹ بھاگی اور تیز دوڑتی ہوئی دوسرے شہر میں پہنچی اور وہاں جا کر ان سب کے سامنے سارا واقعہ بیان کر ہی چکنے کے بعد ان سے پانی مانگا۔ ابھی پوری پیاس بھی نہ بجھی تھی کہ عذاب الٰہی آپڑا اور وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ ہاں ابو دغال نامی ایک شخص اور بچ گیا تھا یہ یہاں نہ تھا حرم کی پاک زمین میں تھا لیکن کچھ دنوں کے بعد جب یہ اپنے کسی کام کی غرض سے حد حرم سے باہر آیا اسی وقت آسمان سے پتھر آیا اور اسے بھی جہنم واصل کیا ثمودیوں میں سے سوائے حضرت صالح اور انکے مومن صحابہ کے اور کوئی بھی نہ بچا، ابو رغال کا واقعہ اس سے پہلے حدیث سے بیان ہوچکا ہے قبیلہ ثقیف جو طائف میں ہے مذکور ہے کہ یہ اسی کی نسل سے ہیں۔ عبدالرزاق میں ہے کہ اس کی قبر کے پاس سے رسول کریم ﷺ جب گذرے تو فرمایا جانتے ہو یہ کس کی قبر ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا یہ ابو دغال کی قبر ہے۔ یہ ایک ثمودی شخص تھا اپنی قوم کے عذاب کے وقت یہ حرم میں تھا اس وجہ سے عذاب الٰہی سے بچ رہا لیکن حرم شریف سے نکلا تو اسی وقت اپنی قوم کے عذاب سے یہ بھی ہلاک ہوا اور یہیں دفن کیا گیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی لکڑی بھی دفنا دی گئی۔ چناچہ لوگوں نے اس گڑھے کو کھود کر اس میں سے وہ لکڑی نکال لی اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا ثقیف قبیلہ اسی کی اولاد ہے۔ ایک مرسل حدیث میں بھی یہ ذکر موجود ہے، یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا اس کے ساتھ سونے کی شاخ دفن کردی گئی تھی یہی نشان اس کی قبر کا ہے اگر تم اسے کھودو تو وہ شاخ ضرور نکل آئے گی چناچہ بعض لوگوں نے اسے کھودا اور وہ شاخ نکال لی۔ ابو داؤد میں بھی یہ روایت ہے اور حسن عزیز ہے لیکن میں کہتا ہوں اس حدیث کے وصل کا صرف ایک طریقہ بحیر بن ابی بحیر کا ہے اور یہ صرف اسی حدیث کے ساتھ معروف ہے اور بقول حضرت امام یحییٰ بن معین سوائے اسماعیل بن ابی امیہ کے اسے اس سے اور کسی نے روایت نہیں کیا احتمال ہے کہ کہیں اس حدیث کے مرفوع کرنے میں خطاء نہ ہو یہ عبداللہ بن عمرو ہی کا قول ہو اور پھر اس صورت میں یہ بھی ممکنات سے ہے کہ انہوں نے اسے ان دو دفتروں سے لے لیا ہو جو انہیں جنگ یرموک میں ملے تھے۔ میرے استاد شیخ ابو الحجاج اس روایت کو پہلے تو حسن عزیز کہتے تھے لیکن جب میں نے ان کے سامنے یہ حجت پیش کی تو آپ نے فرمایا بیشک ان امور کا اس میں احتمال ہے۔ واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ عُلَمَاءُ التَّفْسِيرِ وَالنَّسَبِ: ثَمُودُ بْنُ عَاثِرَ بْنِ إِرَمَ بْنِ سَامَ بْنِ نُوحٍ، وَهُوَ أَخُو جَديس بْنِ عَاثِرَ، وَكَذَلِكَ قَبِيلَةُ طَسْم، كُلُّ هَؤُلَاءِ كَانُوا أَحْيَاءً مِنَ الْعَرَبِ الْعَارِبَةِ قَبْلَ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَكَانَتْ ثَمُودُ بَعْدَ عَادٍ، وَمَسَاكِنُهُمْ مَشْهُورَةٌ فِيمَا بَيْنَ الْحِجَازِ وَالشَّامِ إِلَى وَادِي الْقُرَى وَمَا حَوْلَهُ، وَقَدْ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى قُرَاهُمْ وَمَسَاكِنِهِمْ، وَهُوَ ذَاهِبٌ إِلَى تَبُوكَ سَنَةَ تِسْعٍ.
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا صَخْر بْنُ جُوَيرية، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالنَّاسِ عَلَى تَبُوكَ، نَزَلَ بِهِمُ [[في أ: "بهم على".]] الْحِجْرَ عِنْدَ بُيُوتِ ثَمُودَ، فَاسْتَسْقَى النَّاسُ مِنَ الْآبَارِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا ثَمُودُ، فَعَجَنُوا مِنْهَا وَنَصَبُوا مِنْهَا الْقُدُورَ. فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ فَأَهْرَقُوا الْقُدُورَ، وَعَلَفُوا العجينَ الإبلَ، ثُمَّ ارْتَحَلَ بِهِمْ حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ عَلَى الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا النَّاقَةُ، وَنَهَاهُمْ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ عُذِّبُوا وَقَالَ: "إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ" [[المسند (٢/١١٧) .]]
وَقَالَ [الْإِمَامُ] [[زيادة من أ.]] أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ بِالْحِجْرِ: "لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ المعذَّبين إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مثلُ مَا أَصَابَهُمْ" [[المسند (٢/٧٤) .]]
وَأَصْلُ هَذَا الْحَدِيثِ مُخَرَّج فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ [[صحيح البخاري برقم (٣٣٨١) ، وصحيح مسلم برقم (٢٩٨) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَوْسَطَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَة الْأَنْمَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى أَهْلِ الْحِجْرِ، يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رسولَ اللَّهِ ﷺ، فَنَادَى فِي النَّاسِ: "الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ". قَالَ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وهو مُمْسِكٌ بِعِيرَهُ [[في د، م: "بعنزة".]] وَهُوَ يَقُولُ: "مَا تَدْخُلُونَ عَلَى قَوْمٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ". فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ: نعجبُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "أَفَلَا أُنْبِئُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ: رَجُلٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ، وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ، فَاسْتَقِيمُوا وسَدِّدوا، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا، وَسَيَأْتِي قَوْمٌ لَا يَدْفَعُونَ عَنْ أَنْفُسِهِمْ شَيْئًا" [[المسند (٤/٢٣١) ، وقال الهيثمي في المجمع (٦/١٩٤) : "فيه عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي وقد اختلط".]]
لَمْ يُخْرِجْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ السُّنَنِ [[في م: "الكتب"، وفي ك، أ: "الكتب الستة".]] وَأَبُو كَبْشَةَ اسْمُهُ: عُمَرُ [[في ك، م: "عمرو".]] بْنُ سَعْدٍ، وَيُقَالُ: عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ: حَدَّثَنَا مَعْمَر، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْم، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالْحِجْرِ قَالَ: "لَا تَسْأَلُوا الْآيَاتِ، فَقَدْ سَأَلَهَا قَوْمُ صَالِحٍ فَكَانَتْ -يَعْنِي النَّاقَةَ -تَرِدُ مِنْ هَذَا الفَجّ، وتَصْدُر مِنْ هَذَا الْفَجِّ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَعَقَرُوهَا، وَكَانَتْ تَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمًا وَيَشْرَبُونَ لَبَنَهَا يَوْمًا، فَعَقَرُوهَا، فَأَخَذَتْهُمْ صَيْحَةٌ، أهمد [[في د: "أخمد".]] الله مَنْ تحت أَدِيمِ السَّمَاءِ مِنْهُمْ، إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ". فَقَالُوا: مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "أَبُو رِغال. فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ" [[المسند (٣/٢٩٦) وقال الهيثمي في المجمع (٦/١٩٤) : "رجال أحمد رجال الصحيح".]]
وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْكُتُبِ السِّتَّةِ، وَهُوَ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ.
فَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا﴾ أَيْ: وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى قَبِيلَةِ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا، ﴿قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ﴾ جَمِيعُ الرُّسُلِ يَدْعُونَ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٢٥] وَقَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من م.]] ﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولا أَنِ اُعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾ [النَّحْلِ:٣٦] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَدْ جَاءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ هَذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً﴾ أَيْ: قَدْ جَاءَتْكُمْ حُجَّةٌ مِنَ اللَّهِ عَلَى صِدْقِ مَا جِئْتُكُمْ بِهِ. وَكَانُوا هُمُ الَّذِينَ سَأَلُوا صَالِحًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ بِآيَةٍ، وَاقْتَرَحُوا عَلَيْهِ أَنْ تَخْرُجَ لَهُمْ مِنْ صَخْرَةٍ صمَاء عَيّنوها بِأَنْفُسِهِمْ، وَهِيَ صَخْرَةٌ مُنْفَرِدَةٌ فِي نَاحِيَةِ الحِجْر، يُقَالُ لَهَا: الكَاتبة، فَطَلَبُوا مِنْهُ [[في م: "منها".]] أَنْ يُخْرِجَ لَهُمْ مِنْهَا نَاقَةً عُشَراء تَمْخَضُ، فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ صَالِحٌ الْعُهُودَ وَالْمَوَاثِيقَ لَئِنْ أَجَابَهُمُ اللَّهُ إِلَى سُؤَالِهِمْ وَأَجَابَهُمْ إِلَى طُلْبتهم لَيُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَيَتْبَعُنَّهُ؟ فَلَمَّا أَعْطَوْهُ عَلَى ذَلِكَ عُهُودَهُمْ وَمَوَاثِيقَهُمْ، قَامَ صَالِحٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِلَى صِلَاتِهِ وَدَعَا اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ، فَتَحَرَّكَتْ تِلْكَ الصَّخْرَةُ ثُمَّ انْصَدَعَتْ عَنْ نَاقَةٍ جَوْفاء وَبْرَاء يَتَحَرَّكُ جَنِينُهَا بَيْنَ جَنْبَيْهَا، كَمَا سَأَلُوا، فَعِنْدَ ذَلِكَ آمَنَ رَئِيسُ الْقَوْمِ وَهُوَ: "جُندَع بْنُ عَمْرٍو" وَمَنْ كَانَ مَعَهُ عَلَى أَمْرِهِ [[في أ: "على دينه".]] وَأَرَادَ بَقِيَّةُ أَشْرَافِ ثَمُودَ أَنْ يُؤْمِنُوا فَصَدَّهُمْ "ذُؤاب بْنُ عَمْرِو بْنِ لَبِيدٍ" "وَالْحُبَابُ" صَاحِبُ أَوْثَانِهِمْ، وَرَبَابُ بْنُ صَمْعَرَ بْنِ جَلْهَسَ، وكان ل"جندع بْنِ عَمْرٍو" ابْنُ عَمٍّ يُقَالُ لَهُ: "شِهَابُ بْنُ خَلِيفَةَ بْنِ مُحَلَّاةَ بْنِ لَبِيدِ بْنِ حَرَاسٍ"، وَكَانَ مِنْ أَشْرَافِ ثَمُودَ وَأَفَاضِلِهَا، فَأَرَادَ أَنْ يُسْلِمَ أَيْضًا فَنَهَاهُ أُولَئِكَ الرَّهْطُ، فَأَطَاعَهُمْ، فَقَالَ فِي ذَلِكَ رَجُلٌ مِنْ مُؤْمِنِي ثَمُودَ، يُقَالُ لَهُ مِهُوَسُ [[في ك، م، أ: "مهوش".]] بْنُ عَنْمَةَ بْنِ الدُّمَيْلِ، رَحِمَهُ اللَّهُ:
وَكَانَتْ عُصْبةٌ مِنْ آلِ عَمْرو ... إِلَى دِينِ النَّبِيِّ دَعَوا شِهَابا ...
عَزيزَ ثَمُودَ كُلَّهمُ جَمِيعًا ... فَهَمّ بِأَنْ يُجِيبَ فَلَوْ [[في م: "ولو".]] أَجَابَا ...
لأصبحَ صالحٌ فِينَا عَزيزًا ... وَمَا عَدَلوا بِصَاحِبِهِمْ ذُؤابا ...
وَلَكِنَّ الغُوَاة مِنْ آلِ حُجْرٍ ... تَوَلَّوْا بَعْدَ رُشْدهم ذِئَابَا ...
فَأَقَامَتِ النَّاقَةُ وَفَصِيلُهَا بَعْدَ مَا وَضَعَتْهُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ مُدَّةً، تَشْرَبُ مَاءَ بِئْرِهَا يَوْمًا، وَتَدَعُهُ لَهُمْ يَوْمًا، وَكَانُوا يَشْرَبُونَ لَبَنَهَا يَوْمَ [[في أ: "بيوم".]] شُرْبِهَا، يَحْتَلِبُونَهَا فَيَمْلَئُونَ مَا شَاءُوا مِنْ أَوْعِيَتِهِمْ وَأَوَانِيهِمْ، كَمَا قَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ﴾ [الْقَمَرِ:٢٨] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿هَذِهِ نَاقَةٌ لَهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ﴾ [الشُّعَرَاءِ:١٥٥] وكانت تسرح في بعض تلك الأودية تَرِدُ مِنْ فَجّ وَتَصْدُرُ مِنْ غَيْرِهِ لِيَسَعَهَا؛ لأنها كانت تتضلَّع عن الْمَاءِ، وَكَانَتْ -عَلَى مَا ذُكِرَ -خَلْقًا هَائِلًا وَمَنْظَرًا رَائِعًا، إِذَا مَرَّتْ بِأَنْعَامِهِمْ نَفَرَتْ مِنْهَا. فَلَمَّا طَالَ عَلَيْهِمْ وَاشْتَدَّ تَكْذِيبُهُمْ لِصَالِحٍ النَّبِيِّ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَزَمُوا عَلَى قَتْلِهَا، لِيَسْتَأْثِرُوا بِالْمَاءِ كُلَّ يَوْمٍ، فَيُقَالُ: إِنَّهُمُ اتَّفَقُوا كُلُّهُمْ عَلَى قَتْلِهَا [[تفسير الطبري (١٢/٥٢٩) .]]
قَالَ قَتَادَةُ: بَلَغَنِي أَنَّ الَّذِي قَتَلَ النَّاقَةَ طَافَ عَلَيْهِمْ كُلِّهِمْ، أَنَّهُمْ رَاضُونَ بِقَتْلِهَا حَتَّى عَلَى النِّسَاءِ فِي خُدُورِهِنَّ، وَعَلَى الصِّبْيَانِ [أَيْضًا] [[زيادة من أ.]]
قُلْتُ: وَهَذَا هُوَ الظَّاهِرُ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: ﴿فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّاهَا﴾ [الشَّمْسِ:١٤] وَقَالَ: ﴿وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا﴾ [الْإِسْرَاءِ:٥٩] وَقَالَ: ﴿فَعَقَرُوا النَّاقَةَ﴾ فَأَسْنَدَ ذَلِكَ عَلَى مَجْمُوعِ الْقَبِيلَةِ، فَدَلَّ عَلَى رِضَا جَمِيعِهِمْ بِذَلِكَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَذَكَرَ الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ، وَغَيْرُهُ مِنْ عُلَمَاءِ التَّفْسِيرِ فِي سَبَبِ قَتْلِ النَّاقَةِ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا: "عُنَيْزَةُ ابْنَةُ غَنْمِ بْنِ مِجْلِز" وَتُكَنَّى أُمَّ غَنَمْ [[في ك، م: "أم عثمان".]] كَانَتْ عَجُوزًا كَافِرَةً، وَكَانَتْ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِصَالِحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَكَانَتْ لَهَا بَنَاتٌ حِسَانٌ وَمَالٌ جَزِيلٌ، وَكَانَ زَوْجُهَا ذُؤاب بْنُ عَمْرٍو أَحَدَ رُؤَسَاءِ ثَمُودَ، وَامْرَأَةً أُخْرَى يُقَالُ لَهَا: "صُدُوفُ بِنْتُ الْمُحَيَّا بْنِ دَهْرِ [[في أ: "زهير".]] بْنِ الْمُحَيَّا" ذَاتِ حَسَبٍ وَمَالٍ وَجِمَالٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ مِنْ ثَمُودَ، فَفَارَقَتْهُ، فَكَانَتَا تَجْعَلَانِ لِمَنِ الْتَزَمَ لَهُمَا بِقَتْلِ النَّاقَةِ، فَدَعَتْ "صُدُوفُ" رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: "الْحُبَابُ" وَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا إِنْ هُوَ عَقَرَ النَّاقَةَ، فَأَبَى عَلَيْهَا. فَدَعَتِ ابْنَ عَمٍّ لَهَا يُقَالُ لَهُ: "مِصْدَعُ بْنُ مِهْرَجِ بْنِ الْمُحَيَّا"، فَأَجَابَهَا إِلَى ذَلِكَ -وَدَعَتْ "عُنَيْزَةُ بِنْتُ غَنْمٍ" قِدَارَ بْنَ سَالِفِ بْنَ جُنْدَع [[في أ: "جذع".]] وَكَانَ رَجُلًا أَحْمَرَ أَزْرَقَ قَصِيرًا، يَزْعُمُونَ أَنَّهُ كَانَ وَلَدَ زَنية، وَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ مِنْ أَبِيهِ الَّذِي يُنْسَبُ إِلَيْهِ، وَهُوَ سَالِفٌ، وَإِنَّمَا هُوَ [[في أ: "كان".]] مِنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: "صِهْيَادٌ" [[في م: "صبيان"، وفي ك: "ضبيان".]] وَلَكِنْ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ "سَالِفٍ"، وَقَالَتْ لَهُ: أُعْطِيكَ أَيَّ بَنَاتِي شئتَ عَلَى أَنْ تَعْقِرَ [[في ك، م: "يعقر".]] النَّاقَةَ! فَعِنْدَ ذَلِكَ، انْطَلَقَ "قِدَارُ بْنُ سَالِفٍ" "وَمِصْدَعُ بْنُ مِهْرَجٍ"، فَاسْتَفَزَّا غُواة مِنْ ثَمُودَ، فَاتَّبَعَهُمَا سَبْعَةُ نَفَرٍ، فَصَارُوا تِسْعَةَ رَهْطٍ، وَهُمُ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الأرْضِ وَلا يُصْلِحُونَ﴾ [النَّمْلِ:٤٨] وَكَانُوا رُؤَسَاءَ فِي قَوْمِهِمْ، فَاسْتَمَالُوا الْقَبِيلَةَ الْكَافِرَةَ بِكَمَالِهَا، فَطَاوَعَتْهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَانْطَلَقُوا فَرَصَدُوا النَّاقَةَ حِينَ صَدَرَتْ عَنِ الْمَاءِ، وَقَدْ كَمَنَ لَهَا "قِدَارٌ" فِي أَصْلِ صَخْرَةٍ عَلَى طَرِيقِهَا، وَكَمِنَ لَهَا "مِصْدَعٌ" فِي أَصْلِ أُخْرَى، فَمَرَّتْ عَلَى "مِصْدَعٍ" فَرَمَاهَا بِسَهْمٍ، فَانْتَظَمَ بِهِ عضَلَة سَاقِهَا وَخَرَجَتْ "أُمُّ غَنَمْ عُنَيْزَةُ"، وَأَمَرَتِ ابْنَتَهَا وَكَانَتْ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْهًا، فَسَفَرَتْ عَنْ وَجْهِهَا لِقِدَارٍ وَذَمَّرَتْهُ فَشَدَّ عَلَى النَّاقَةِ بِالسَّيْفِ، فكسفَ [[في ك، م، د: "فكشف"، وفي أ: "فكشف عن".]] عُرْقُوبَهَا، فَخَرَّتْ سَاقِطَةً إِلَى الْأَرْضِ، وَرَغَتْ رَغاة وَاحِدَةً تُحَذِّرُ سَقْبَها، ثُمَّ طَعَنَ فِي لَبَّتها فَنَحَرَهَا، وَانْطَلَقَ سَقْبَها -وَهُوَ فَصِيلُهَا -حَتَّى أَتَى جَبَلًا مَنِيعًا، فَصَعَدَ أَعْلَى صَخْرَةٍ فِيهِ وَرَغَا -فَرَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَر، عَمَّنْ سَمِعَ الحسن البصري أنه قال: يَا رَبِّ أَيْنَ أُمِّي؟ وَيُقَالُ: إِنَّهُ رَغَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. وَإِنَّهُ دَخَلَ فِي صَخْرَةٍ فَغَابَ فِيهَا، وَيُقَالُ: بَلِ اتَّبَعُوهُ فَعَقَرُوهُ مَعَ أُمِّهِ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ [[تفسير الطبري (١٢/٥٣٦) .]]
فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ وَفَرَغُوا مِنْ عَقْرِ النَّاقَةِ، بَلَغَ الْخَبَرُ صَالِحًا، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَجَاءَهُمْ وَهُمْ مُجْتَمِعُونَ، فَلَمَّا رَأَى النَّاقَةَ بَكَى وَقَالَ: ﴿تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ [ذَلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ [[زيادة من ك، م، وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [هُودٍ:٦٥] وَكَانَ قَتْلُهُمُ النَّاقَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، فَلَمَّا أَمْسَى أُولَئِكَ التِّسْعَةُ الرَّهْطُ عَزَمُوا عَلَى قَتْلِ صَالِحٍ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ك، م.]] وَقَالُوا: إِنْ كَانَ صَادِقًا عَجَّلناه قَبْلَنَا، وَإِنْ كَانَ كَاذِبًا أَلْحَقْنَاهُ بِنَاقَتِهِ! ﴿قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ. وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ * فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَاهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ * فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُوا﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] الْآيَةَ. [النَّمْلِ:٤٩-٥٢]
فَلَمَّا عَزَمُوا على ذلك، وتواطؤوا عَلَيْهِ، وَجَاءُوا مِنَ اللَّيْلِ لِيَفْتِكُوا بِنَبِيِّ اللَّهِ صَالِحٍ، أَرْسَلَ اللَّهُ، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى، وَلَهُ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ، عَلَيْهِمْ حِجَارَةً فرضَختهم سَلَفًا وَتَعْجِيلًا قَبْلَ قَوْمِهِمْ، وَأَصْبَحَ ثَمُودُ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَهُوَ الْيَوْمُ الْأَوَّلُ مِنْ أَيَّامِ النَّظرة، وَوُجُوهُهُمْ مُصْفَرَّةٌ كَمَا وَعَدَهُمْ صَالِحٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَصْبَحُوا فِي الْيَوْمِ الثَّانِي مِنْ أَيَّامِ التَّأْجِيلِ، وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، وَوُجُوهُهُمْ مُحَمَّرَةٌ، وَأَصْبَحُوا [[في م: "واجتمعوا".]] فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ مِنْ أَيَّامِ الْمَتَاعِ [[في ك: "التمتع".]] وَهُوَ يَوْمُ السَّبْتِ، وَوُجُوهُهُمْ مُسَوَّدَةٌ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا مِنْ يَوْمِ الْأَحَدِ وَقَدْ تحَنَّطوا وَقَعَدُوا يَنْتَظِرُونَ نِقْمَةَ اللَّهِ وَعَذَابَهُ، عِيَاذًا بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ، لَا يَدْرُونَ مَاذَا يُفْعَلُ بِهِمْ، ولا كيف يأتيهم العذاب؟ و [قد] [[زيادة من م.]] أَشْرَقَتِ الشَّمْسُ، جَاءَتْهُمْ صَيْحَةٌ مِنَ السَّمَاءِ ورَجْفة شَدِيدَةٌ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، فَفَاضَتِ الْأَرْوَاحُ وَزَهَقَتِ النُّفُوسُ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ ﴿فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ﴾ أَيْ: صَرْعَى لَا أَرْوَاحَ فِيهِمْ، وَلَمْ يُفْلِتْ مِنْهُمْ أَحَدٌ، لَا صَغِيرٌ وَلَا كَبِيرٌ، لَا ذَكَرٌ وَلَا أُنْثَى -قَالُوا: إِلَّا جَارِيَةً كانت مقعدة -واسمها "كلبة بنة السّلْق"، وَيُقَالُ لَهَا: "الزُّرَيْقَةُ" [[في م: "الذريعة".]] -وَكَانَتْ كَافِرَةً شَدِيدَةَ الْعَدَاوَةِ لِصَالِحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَلَمَّا رَأَتْ مَا رَأَتْ مِنَ الْعَذَابِ، أُطلِقَت رِجْلَاهَا، فَقَامَتْ تَسْعَى كَأَسْرَعِ شَيْءٍ، فَأَتَتْ حَيًّا مِنَ الْأَحْيَاءِ فَأَخْبَرَتْهُمْ بِمَا رَأَتْ وَمَا حَلَّ بِقَوْمِهَا، ثُمَّ اسْتَسْقَتْهُمْ مِنَ الْمَاءِ، فَلَمَّا شَرِبَتْ، مَاتَتْ.
قَالَ عُلَمَاءُ التَّفْسِيرِ: وَلَمْ يَبْقَ مِنْ ذُرِّيَّةِ ثَمُودَ أَحَدٌ، سِوَى صَالِحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَمَنِ اتَّبَعَهُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، إِلَّا أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: "أَبُو رِغال"، كَانَ لَمَّا وَقَعَتِ النِّقْمَةُ بِقَوْمِهِ مقيما فِي الْحَرَمِ، فَلَمْ يَصِبْهُ شَيْءٌ، فَلَمَّا خَرَجَ فِي بَعْضِ الْأَيَّامِ إِلَى الْحِلِّ، جَاءَهُ حَجَرٌ مِنَ السَّمَاءِ فَقَتَلَهُ.
وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ الْقِصَّةِ حَدِيثُ "جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ" فِي ذَلِكَ، وَذَكَرُوا أَنَّ أَبَا رِغَالٍ هَذَا هُوَ والد ثَقِيفٍ" الَّذِينَ كَانُوا يَسْكُنُونَ الطَّائِفَ [[انظر: "الكلام على أبي رغال، وترجيح أنه كان دليل أبرهة في تفسير سورة النساء آية: ٤.]]
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: قَالَ مَعْمَر: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ؛ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَرَّ بِقَبْرِ أَبِي رِغَالٍ فَقَالَ: "أَتُدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ " فَقَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ، رَجُلٍ مِنْ ثَمُودَ، كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ، فَمَنَعَهُ حرمُ اللَّهِ عَذَابَ اللَّهِ. فَلَمَّا خَرَجَ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ، فَدُفِنَ هَاهُنَا، وَدُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَنَزَلَ الْقَوْمُ فَابْتَدَرُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ، فَبَحَثُوا عَنْهُ، فَاسْتَخْرَجُوا الْغُصْنَ".
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَبُو رِغَالٍ: أَبُو ثَقِيفٍ [[المصنف برقم (٢٠٩٨٩) ، وتفسير عبد الرزاق (١/١١٩، ٢٢٠) .]]
هَذَا مُرْسَلٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ مُتَّصِلًا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، كَمَا قَالَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ بُجَير بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ، حِينَ خَرَجْنَا مَعَهُ إِلَى الطَّائِفِ، فَمَرَرْنَا بِقَبْرٍ فَقَالَ: "هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ، وَهُوَ أَبُو ثَقِيفٍ، وَكَانَ مِنْ ثَمُودَ، وَكَانَ بِهَذَا الْحَرَمِ فَدَفَعَ [[في ك: "يدفع".]] عَنْهُ، فَلَمَّا خَرَجَ [مِنْهُ] [[زيادة من ك، م.]] أَصَابَتْهُ النِّقْمَةُ الَّتِي أَصَابَتْ قَوْمَهُ بِهَذَا الْمَكَانِ، فَدُفِنَ فِيهِ. وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ دُفِنَ مَعَهُ غصن من ذهب، إن أنتم نبشم عَنْهُ أَصَبْتُمُوهُ [مَعَهُ] [[زيادة من أ.]] فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ [[في أ: "القوم".]] فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهُ الْغُصْنَ".
وَهَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِهِ [[سنن أبي داود برقم (٣٠٨٨) .]]
قَالَ شَيْخُنَا أَبُو الْحَجَّاجِ الْمِزِيُّ: وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ عَزِيزٌ [[في أ: "غريب".]] [[تهذيب الكمال (٤/١١) .]]
قُلْتُ: تَفَرَّدَ بِوَصْلِهِ "بُجَيْر بْنُ أَبِي بُجَيْرٍ" هَذَا، وَهُوَ شَيْخٌ لَا يُعْرَفُ إلا بهذا الحديث. قال يحيى ابن مَعِينٍ: وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرَ إِسْمَاعِيلِ بْنِ أُمَيَّةَ.
قُلْتُ: وَعَلَى هَذَا، فَيُخْشَى أَنْ يَكُونَ وَهِمَ فِي رَفْعِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَإِنَّمَا يَكُونُ مِنْ كَلَامِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، مِمَّا أَخَذَهُ مِنَ الزَّامِلَتَيْنِ.
قَالَ شَيْخُنَا أَبُو الْحَجَّاجِ، بَعْدَ أَنْ عَرَضْتُ عَلَيْهِ ذَلِكَ: وَهَذَا مُحْتَمَلٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى:
قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا بِٱلَّذِىٓ ءَامَنتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ
Said those who were arrogant, "Indeed we, in that which you have believed, are disbelievers."
تو (سرداران) مغرور کہنے لگے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم تو اس کو نہیں مانتے
متکبران گفتند: «(ولی) ما به آنچه شما به آن ایمان آوردهاید، کافریم!»
Tafsir Ibn Kathir
And to Thamud (people, We sent) their brother Salih. He said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Indeed there has come to you a clear sign from your Lord. This she-camel of Allah is a sign unto you; so you leave her to graze in Allah's earth, and touch her not with harm, lest a painful torment should seize you (73)And remember when He made you successors (generations) after 'Ad and gave you habitations in the land, you build for yourselves palaces in plains, and carve out homes in the mountains. So remember the graces (bestowed upon you) from Allah, and do not go about making mischief on the earth (74)The leaders of those who were arrogant among his people said to those who were counted weak – to such of them as believed: "Know you that Salih is one sent from his Lord." They said: "We indeed believe in that with which he has been sent. (75)Those who were arrogant said: "Verily, we disbelieve in that which you believe in. (76)So they killed the she-camel and insolently defied the commandment of their Lord, and said: "O Salih! Bring about your threats if you are indeed one of the Messengers (of Allah). (77)So the earthquake seized them, and they lay (dead), prostrate in their homes (78)
Thamud: Their Land and Their Lineage
Scholars of Tafsir and genealogy say that (the tribe of Thamud descended from) Thamud bin 'Athir bin Iram bin Sam bin Nuh, and he is brother of Jadis son of 'Athir, similarly the tribe of Tasm, and they were from the ancient Arabs, Al-'Aribah, before the time of Ibrahim, Thamud came after 'Ad. They dwelled between the area of the Hijaz (Western Arabia) and Ash-Sham (Greater Syria). The Messenger of Allah ﷺ passed by the area and ruins of Thamud when he went to Tabuk (in northern Arabia) during the ninth year of Hijrah.
Imam Ahmad recorded that Ibn 'Umar said, "When the Messenger of Allah ﷺ went to the area of Al-Hijr in Tabuk with the people, he camped near the homes of Thamud, in Al-Hijr and the people brought water from the wells that Thamud used before. They used that water to make dough and placed the pots (on fire) for cooking. However, the Prophet ﷺ commanded them to spill the contents of the pots and to give the dough to their camels. He then marched forth with them from that area to another area, near the well that the camel (as will follow) used to drink from. He forbade the Companions from entering the area where people were tormented, saying,
إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِم
(I fear that what befell them might befall you as well. Therefore, do not enter on them.)"
Ahmad narrated that 'Abdullah bin 'Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said while in the Hijr area,
لَا تَدْخُلُوا عَلَى هؤُلَاءِ الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلَ مَا أَصَابَهُم
(Do not enter on these who were tormented, unless you do so while crying. If you are not crying, then do not enter on them, so that what befell them does not befall you, as well.) The basis of this Hadith is mentioned in Two Sahihs.
The Story of Prophet Salih and Thamud
Allah said,
وَإِلَىٰ ثَمُودَ
(And to Thamud), meaning, to the tribe of Thamud, We sent their brother Salih,
قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ
(He said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him.")
All Allah's Messengers called to the worship of Allah alone without partners. Allah said in other Ayat,
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ
(And We did not send any Messenger before you but We revealed to him (saying): "None has the right to be worshipped but I, so worship Me.")[21:25] and,
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ
(And verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah (Alone), and avoid Taghut (all false deities)")[16:36].
Thamud asked that a Camel appear from a Stone, and it did
Prophet Salih said,
قَدْ جَاءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ هَٰذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً
("Indeed there has come to you a clear sign from your Lord. This she-camel of Allah is a sign unto you;")
meaning, a miracle has come to you from Allah testifying to the truth of what I came to you with.
Salih's people asked him to produce a miracle and suggested a certain solid rock that they chose, which stood lonely in the area of Hijr, and which was called Al-Katibah. They asked him to bring a pregnant camel out of that stone. Salih took their covenant and promises that if Allah answers their challenge, they would believe and follow him. When they gave him their oaths and promises to that, Salih started praying and invoked Allah (to produce that miracle). All of a sudden, the stone moved and broke apart, producing a she-camel with thick wool. It was pregnant and its fetus was visibly moving in its belly, exactly as Salih's people asked. This is when their chief, Jundu' bin 'Amr, and several who followed him believed. The rest of the noblemen of Thamud wanted to believe as well, but Dhu'ab bin 'Amr bin Labid, Al-Habbab, who tended their idols, and Rabbab bin Sum'ar bin Jilhis stopped them. One of the cousins of Jundu' bin 'Amr, whose name was Shihab bin Khalifah bin Mikhlat bin Labid bin Jawwas, was one of the leaders of Thamud, and he also wanted to accept the message. However, the chiefs whom we mentioned prevented him, and he conceded to their promptings.
The camel remained in Thamud, as well as, its offspring after she delivered it before them. The camel used to drink from its well on one day and leave the well for Thamud the next day. They also used to drink its milk, for on the days she drank water, they used to milk her and fill their containers from its milk. Allah said in other Ayat,
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ
(And inform them that the water is to be shared between (her and) them, each one's right to drink being established (by turns))[54:28] and,
هَٰذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(Here is a she-camel: it has a right to drink (water), and you have a right to drink (water)(each) on a day, known)[26:155]
The camel used to graze in some of their valleys, going through a pass and coming out through another pass. She did that so as to be able to move easily, because she used to drink a lot of water. She was a tremendous animal that had a strikingly beautiful appearance. When she used to pass by their cattle, the cattle would be afraid of her. When this matter continued for a long time and Thamud's rejection of Salih became intense, they intended to kill her so that they could take the water for themselves every day. It was said that all of them (the disbelievers of Thamud) conspired to kill the camel. Qatadah said that he was told that, "The designated killer of the camel approached them all, including women in their rooms and children, and found out that all of them agreed to kill her." This fact is apparent from the wording of the Ayat,
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا
(Then they denied him and they killed it. So their Lord destroyed them because of their sin, and made them equal in destruction!)[91:14], and,
وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا
(And We sent the she-camel to Thamud as a clear sign, but they did her wrong.)[17:59] Allah said here,
فَعَقَرُوا النَّاقَةَ
(So they killed the she-camel)
Therefore, these Ayat stated that the entire tribe shared in agreeing to this crime, and Allah knows best.
Thamud kills the She-Camel
Imam Abu Ja'far Ibn Jarir and other scholars of Tafsir said that the reason behind killing the camel was that a disbelieving old woman among them named Umm Ghanm 'Unayzah, the daughter of Ghanm bin Mijlaz, had the severest enmity among Thamud towards Salih, peace be upon him. She had beautiful daughters and she was wealthy, and Dhu'ab bin 'Amr, one of the leaders of Thamud, was her husband.
There was another noblewoman whose name was Saduf bint Al-Muhayya bin Dahr bin Al-Muhayya, who was of noble family, wealthy and beautiful. She was married to a Muslim man from Thamud, but she left him. These two women offered a prize for those who swore to them that they would kill the camel. Once, Saduf summoned a man called Al-Habbab and offered herself to him if he would kill the camel, but he refused. So she called a cousin of hers whose name was Musaddi' bin Mihraj bin Al-Muhayya, and he agreed. As for 'Unayzah bint Ghanm, she called Qudar bin Salif bin Jundu', a short person with red-blue skin, a bastard, according to them. Qudar was not the son of his claimed father, Salif, but the son of another man called, Suhyad. However, he was born on Salif's bed (and thus named after him). 'Unayzah said to Qudar, "I will give you any of my daughters you wish, if you kill the camel." Qudar bin Salif and Musaddi' bin Mihraj went along and recruited several mischievous persons from Thamud to kill the camel. Seven more from Thamud agreed, and the group became nine, as Allah described, when He said,
وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ
(And there were in the city nine men, who made mischief in the land, and would not reform.)[27:48]
These nine men were chiefs of their people, and they lured the entire tribe into agreeing to kill the camel. So they waited until the camel left the water well, where Qudar waited beside a rock on its path, while Musaddi' waited at another rock. When the camel passed by Musaddi' he shot an arrow at her and the arrow pierced her leg. At that time, 'Unayzah came out and ordered her daughter, who was among the most beautiful women, to uncover her face for Qudar, encouraging Qudar to swing his sword, hitting the camel on her knee. So she fell to the ground and screamed once to warn her offspring. Qudar stabbed her in her neck and slaughtered her. Her offspring went up a high rock and screamed. 'Abdur-Razzaq recorded from Ma'mar that someone reported from Al-Hasan Al-Basari that the offspring said, "O my Lord! Where is my mother?" It was said that her offspring screamed thrice and entered a rock and vanished in it, or, they followed it and killed it together with its mother. Allah knows best. When they finished the camel off and the news reached Prophet Salih, he came to them while they were gathered. When he saw the camel, he cried and proclaimed,
تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ
("Enjoy yourselves in your homes for three days.")[11:65]
The Wicked Ones Plot to Kill Prophet Salih, But the Torment descended on Them
The nine wicked persons killed the camel on a Wednesday, and that night, they conspired to kill Salih. They said, "If he is truthful, we should finish him before we are finished. If he is a liar, we will make him follow his camel."
قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ - وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
(They said: "Swear one to another by Allah that we shall make a secret night attack on him and his household, and thereafter we will surely say to his near relatives: 'We witnessed not the destruction of his household, and verily, we are telling the truth.'" So they plotted a plot, and We planned a plan, while they perceived not.)[27:49-50]
When they conspired to kill Salih and gathered at night to carry out their plot, Allah, to Whom belongs all might and Who protects His Messengers, rained down stones that smashed the heads of these nine people before the rest of the tribe. On Thursday, the first of the three days of respite, the people woke up and their faces were pale (yellow), just as Prophet Salih had promised them. On the second day of respite, Friday, they woke up and found their faces had turned red. On the third day of the respite, Saturday, they woke up with their faces black. On Sunday, they wore the fragrance of Hanut [the perfume for enshrouding the dead before burial] and awaited Allah's torment and revenge, we seek refuge with Allah from it. They did not know what will be done to them or how and from where the torment would come. When the sun rose, the Sayhah (loud cry) came from the sky and a severe tremor overtook them from below; the souls were captured and the bodies became lifeless, all in an hour.
فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
(And they lay (dead), prostrate in their homes.)
They became dead and lifeless and none among them, whether young, old, male or female, escaped the torment.
The scholars of Tafsir said that none from the offspring of Thamud remained, except Prophet Salih and those who believed in him. A disbelieving man called Abu Righal was in the Sacred Area at the time and the torment that befell his people did not touch him. When he went out of the Sacred Area one day, a stone fell from the sky and killed him. 'Abdur-Razzaq narrated that Ma'mar said that Isma'il bin Umayyah said that the Prophet ﷺ passed by the gravesite of Abu Righal and asked the Companions if they knew whose grave it was. They said, "Allah and His Messenger know better." He said,
أَتَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟
قالوا الله ورسوله أعلم، قال
هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ رَجُلٍ مِنْ ثَمُودَ كَانَ فِي حَرَمِ اللهِ فَمَنَعَهُ حَرَمُ اللهِ عَذَابَ اللهِ، فَلَمَّا خَرَجَ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَومهُ فَدُفِنَ هَاهُنَا وَدُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَنَزَلَ الْقَوْمُ فَابْتَدَرُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ فَبَحَثُوا عَنْهُ فَاسْتَخْرَجُوا الْغُصْنَ
(This is the grave of Abu Righal, a man from Thamud. He was in the Sacred Area of Allah and this fact saved him from receiving Allah's torment. When he went out of the Sacred Area, what befell his people also befell him. He was buried here along with a branch made from gold.)
So the people used their swords and looked for the golden branch and found it. 'Abdur-Razzaq narrated that Ma'mar said that Az-Zuhri said that Abu Righal is the father of the tribe of Thaqif.
Tafsir Ibn Kathir
ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح۔ یہ بھائی تھا جد بس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ009ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گذرے تھے۔ مسند احمد میں ہے کہ جب حضور ﷺ تبوک کے میدان میں اترے لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں کو کھلا دیئے جائیں۔ پھر فرمایا یہاں سے کوچ کرو اور اس کنوئیں کے پاس ٹھہرو جس سے حضرت صالح کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور فرمایا آئندہ عذاب والی بستیوں میں پڑاؤ نہ کیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی عذاب کے شکار تم بھی بن جاؤ۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کی بستیوں سے روتے اور ڈرتے ہوئے گذرو کہ مبادا وہی عذاب تم پر آجائیں جو ان پر آئے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ غزوہ تبوک میں لوگ بہ عجلت ہجر کے لوگوں کے گھروں کی طرف لپکے۔ آپ نے اسی وقت یہ آواز بلند کرنے کہا حدیث (الصلوۃ جامعتہ) جب لوگ جمع ہوگئے تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے گھروں میں کیوں گھسے جا رہے ہو جن پر غضب الٰہی نازل ہوا۔ راوی حدیث ابو کبشہ فرماتے ہیں رسول اللہ کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا۔ میں نے یہ سن کر عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم تو صرف تعجب کے طور پر انہیں دیکھنے چلے گئے تھے آپ نے فرمایا میں تمہیں اس سے بھی تعجب خیز چیز بتارہا ہوں تم میں سے ہی ایک شخص ہے جو تمہیں وہ چیز بتارہا ہے جو گذر چکیں اور وہ خبریں دے رہا ہے جو تمہارے سامنے ہیں اور جو تمہارے بعد ہونے والی ہیں پس تم ٹھیک ٹھاک رہو اور سیدھے چلے جاؤ تمہیں عذاب کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں یاد رکھو ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی جانوں سے کسی چیز کو دفع نہ کرسکیں گے۔ حضرت ابو کبشہ کا نام عمر بن سعد ہے اور کہا گیا ہے کہ عامر بن سعد ہے واللہ اعلم۔ ایک روایت میں ہے کہ ہجر کی بستی کے پاس آتے ہی حضور ﷺ نے فرمایا معجزے نہ طلب کرو دیکھو قوم صالح نے معجزہ طلب کیا جو ظاہر ہوا یعنی اونٹنی جو اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے جاتی تھی لیکن ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتاب کی اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی تھی اور ایک دن یہ سب اس کا دودھ پیتے تھے اس اونٹنی کو مار ڈالنے پر ان پر ایک چیخ آئی اور یہ جتنے بھی تھے سب کے سب ڈھیر ہوگئے۔ بجز اس ایک شخص کے جو حرم شریف میں تھا لوگوں نے پوچھا اس کا نام کیا تھا ؟ فرمایا ابو غال یہ بھی جب حد حرم سے باہر آیا تو اسے بھی وہی عذاب ہوا۔ یہ حدیث صحاح ستہ میں تو نہیں لیکن ہے مسلم شریف کی شرط پر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ثمودی قبیلے کی طرف سے ان کے بھائی حضرت صالح ؑ کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ تمام نبیوں کی طرح آپ نے بھی اپنی امت کو سب سے پہلے توحید الٰہی سکھائی کہ فقط اس کی عبادت کریں اس کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے جتنے بھی رسول آئے سب کی طرف یہی وحی کی جاتی رہی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، صرف میری ہی عبادت کرو اور ارشاد ہے ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت سے بچو۔ حضرت صالح فرماتے ہیں لوگوں تمہارے پاس دلیل الٰہی آچکی جس میں میری سچائی ظاہر ہے۔ ان لوگوں نے حضرت صالح سے یہ معجزہ طلب کیا تھا کہ ایک سنگلاخ چٹان جو ان کی بستی کے ایک کنارے پڑی تھی جس کا نام کاتبہ تھا اس سے آپ ایک اونٹنی نکلایں جو گابھن ہو (دودھ دینے والی اونٹنی جو دس ماہ کی حاملہ ہو) حضرت صالح نے ان سے فرمایا کہ اگر ایسا ہوجائے تو تم ایمان قبول کر لوگے ؟ انہوں نے پختہ وعدے کئے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ حضرت صالح ؑ نے نماز پڑھی دعا کی ان سب کے دیکھتے ہی چٹان نے ہلنا شروع کیا اور چٹخ گئی اس کے بیچ سے ایک اونٹنی نمودار ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی ان کے سردار جندع بن عمرو نے تو اسلام قبول کرلیا اور اس کے ساتھیوں نے بھی۔ باقی جو اور سردار تھے وہ ایمان لانے کیلئے تیار تھے مگر ذواب بن عمرو بن لبید نے اور حباب نے جو بتوں کا مجاور تھا اور رباب بن ہمر بن جلمس وغیرہ نے انہیں روک دیا۔ حضرت جندع کا بھتیجا شہاب نامی تھا یہ ثمودیوں کا بڑا عالم فاضل اور شریف شخص تھا اس نے بھی ایمان لانے کا ارادہ کرلیا تھا لیکن انہی بدبختوں نے اسے بھی روکا جس پر ایک مومن ثمودی مہوش بن غنمہ نے کہا کہ آل عمرو نے شہاب کو دین حق کی دعوت دی قریب تھا کہ وہ مشرف باسلام ہوجائے اور اگر ہوجاتا تو اس کی عزت سیوا ہوجاتی مگر بدبختوں نے اسے روک دیا اور نیکی سے ہٹا کر بدی پر لگا دیا۔ اس حاملہ اونٹنی کو اس وقت بچہ ہوا ایک مدت تک دونوں ان میں رہے۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی۔ اس دن اس قدر دودھ دیتی کہ یہ لوگ اپنے سب برتن بھر لیتے جیسے قرآن میں ہے آیت (وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاۗءَ قِسْمَةٌۢ بَيْنَهُمْ ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ 28) 54۔ القمر :28) ، اور آیت میں ہے (قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ01505ۚ) 26۔ الشعراء :155) یہ ہے اونٹنی اس کے اور تمہارے پانی پینے کے دن تقسیم شدہ اور مقررہ ہیں۔ یہ اونٹنی ثمودیوں کی بستی حجر کے اردگرد چرتی چگتی تھی ایک راہ جاتی دوسری راہ آتی یہ بہت ہی موٹی تازی اور ہیبت والی اونٹنی تھی جس راہ سے گذرتی سب جانور ادھر ادھر ہوجاتے۔ کچھ زمانہ گذرنے کے بعد ان اوباشوں نے ارادہ کیا کہ اس کو مار ڈالیں تاکہ ہر دن ان کے جانور برابر پانی پی سکیں ان اوباشوں کے ارادوں پر سب نے اتفاق کیا یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور انہیں شہ دی کہ ہاں اس پاپ کو کاٹ دو۔ اس اونٹنی کو مار ڈالو۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے آیت (فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا001فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا 14۽) 91۔ الشمس :14) ، قوم صالح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کے بدلے ان پر ہلاکت نازل فرمائی اور ان سب کو یکساں کردیا۔ ایک اور آیت میں ہے کہ ہم نے ثمودیوں کو اونٹنی دی جو ان کے لئے پوری سمجھ بوجھ کی چیز تھی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا یہاں بھی فرمایا کہ انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ پس اس فعل کی اسناد سارے ہی قبیلے کی طرف ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے سب اس امر پر متفق تھے۔ امام ابن جریر وغیرہ کا فرمان ہے کہ اس کے قتل کی وجہ یہ ہوئی کہ عنیزہ بنت عنم بن مجلز جو ایک بڑھیا کافرہ تھی اور حضرت صالح سے بڑی دشمنی رکھتی تھی اس کی لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں اور تھی بھی یہ عورت مالدار۔ اس کے خاوند کا نام ذواب بن عمرو تھا جو ثمودیوں کا ایک سردار تھا یہ بھی کافر تھا۔ اسی طرح ایک اور عورت تھی جس کا نام صدقہ بنت محیا بن زہیر بن مختار تھا۔ یہ بھی حسن کے علاوہ مال اور حسب نسب میں بڑھی ہوئی تھی اس کے خاوند مسلمان ہوگئے تھے ؓ۔ اس سرکش عورت نے ان کو چھوڑ دیا۔ اب یہ دونوں عورتیں لوگوں کو اکساتی تھیں کہ کوئی آمادہ ہوجائے اور حضرت صالح ؑ کی اونٹنی کو قتل کر دے، صدقہ نامی عورت نے ایک شخص حباب کو بلایا اور اس سے کہا کہ میں تیرے گھر آجاؤں گی اگر تو اس اونٹنی کو قتل کر دے لیکن اس نے انکار کردیا، اس پر اس نے مصدع بن مہرج بن محیا کو بلایا جو اس کے چچا کا لڑکا تھا اور اسے بھی اسی بات پر آمادہ کیا۔ یہ خبیث اس کے حسن و جمال کا مفتوں تھا اس برائی پر آمادہ ہوگیا۔ ادھر عنیزہ نے قدار بن سالف بن جذع کو بلا کر اس سے کہا کہ میری ان خوبصورت نوجوان لڑکیوں میں سے جسے تو پسند کرے اسے میں تجھے دے دو گی اسی شرط پر کہ تو اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ ڈال۔ یہ خبیث بھی آمادہ ہوگیا یہ تھا بھی زنا کاری کا بچہ، سالف کی اولاد میں نہ تھا، جیسان نامی ایک شخص سے اس کی بدکار ماں نے زنا کاری کی تھی اسی سے یہ پیدا ہوا تھا اب دونوں چلے اور اہل ثمود اور دوسرے شریروں کو بھی اس پر آمادہ کیا چناچہ سات شخص اور بھی اس پر آمادہ ہوگئے اور یہ نو فسادی شخص اس بد ارادے پر تل گئے جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ 48) 27۔ النمل :48) اس شہر میں نو شخص تھے جن میں اصلاح کا مادہ ہی نہ تھا سراسر فسادی ہی تھے۔ چونکہ یہ لوگ قوم کے سردار تھے ان کے کہنے سننے سے تمام کفار بھی اس پر راضی ہوگئے اور اونٹنی کے واپس آنے کا راستے میں یہ دونوں شریر اپنی اپنی کمین گاہوں میں بیٹھ گئے جب اونٹنی نکلی تو پہلے مصدع نے اسے تیر مارا جو اس کی ران کی ہڈی میں پیوت ہوگیا اسی وقت عنیزہ نے اپنی خوبصورت لڑکی کو کھلے منہ قدار کے پاس بھیجا اس نے کہا قدار کیا دیکھتے ہو اٹھو اور اس کا کام تمام کردو۔ یہ اس کا منہ دیکھتے ہی دوڑا اور اس کے دونوں پچھلے پاؤں کاٹ دیئے اونٹنی چکرا کر گری اور ایک آواز نکلالی جس سے اس کا بچہ ہوشیار ہوگیا اور اس راستے کو چھوڑ کر پہاڑی پر چلا گیا یہاں قدار نے اونٹنی کا گلا کاٹ دیا اور وہ مرگئی اس کا بچہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیا اور تین مربتہ بلبلایا۔ حسن بصری فرماتے ہیں اس نے اللہ کے سامنے اپنی ماں کے قتل کی فریاد کی پھر جس چٹان سے نکلا تھا اسی میں سما گیا۔ یہ روایت بھی ہے کہ اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ ہی ذبح کردیا گیا تھا۔ واللہ اعلم۔ حضرت صالح ؑ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ گھبرائے ہوئے موقعہ پر پہنچے دیکھا کہ اونٹنی بےجان پڑی ہے آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا بس اب تین دن میں تم ہلاک کردیئے جاؤ گے، ہوا بھی یہی۔ بدھ کے دن ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اور چونکہ کوئی عذاب نہ آیا اس لئے اترا گئے اور ان مفسدوں نے ارادہ کرلیا کہ آج شام کو صالح کو بھی مار ڈالو اگر واقعی ہم ہلاک ہونے والے ہی ہیں تو پھر یہ کیوں بچا رہے ؟ اور اگر ہم پر عذاب نہیں آتا تو بھی آؤ روز روز کے اس جھنجھٹ سے پاک ہوجائیں۔ چناچہ قرآن کریم کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے مل کر مشورہ کیا اور پھر قسمیں کھا کر اقرار کیا کہ رات کو صالح کے گھر پر چھاپہ مارو اور اسے اور اس کے گھرانے کو تہ تیغ کرو اور صاف انکار کردو کہ ہمیں کیا خبر کہ کس نے مارا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے ان کے اس مکر کے مقابل ہم نے بھی مکر کیا اور یہ ہمارے مکر سے بالکل بیخبر رہے اب انجام دیکھ لو کہ کیا ہوا ؟ رات کو یہ اپنی بدنیتی سے حضرت صالح کے گھر کی طرف چلے آپ کا گھر پہاڑی کی بلندی پر تھا ابھی یہ اوپر چڑھ ہی رہے تھے جو اوپر سے ایک چٹان پتھر کی لڑھکتی ہوئی آئی اور سب کو ہی پیس ڈالا۔ ان کا تو یہ حشر ہوا ادھر جمعرات کے دن تمام ثمودیوں کے چہرے زرد پڑگئے جمعہ کے دن ان کے چہرے آگ جیسے سرخ ہوگئے اور ہفتے کے دن جو مہلت کا آخری دن تھا ان کے منہ سیاہ ہوگئے تین دن جب گذر گئے تو چوتھا دن اتوار صبح ہی صبح سورج کے روشن ہوتے ہی اوپر آسمان سے سخت کڑاکا ہوا جس کی ہولناک دہشت انگیز چنگھاڑنے ان کے کلیجے پھاڑ دیئے ساتھ ہی نیچے سے زبردست زلزلہ آیا ایک ہی ساعت میں ایک ساتھ ہی ان سب کا ڈھیر ہوگیا، مردوں سے مکانات، بازار، گلی، کوچے بھر گئے۔ مرد، عورت، بچے، بوڑھے اول سے آخر تک سارے کے سارے تباہ ہوگئے شان رب دیکھئے کہ اس واقعہ کی خبر دنیا کو پہنچانے کے لئے ایک کافرہ عورت بچا دی گئی، یہ بھی بڑی خبیثہ تھی حضرت صالح ؑ کی عداوت کی آگ سے بھری ہوئی تھی اسکی دونوں ٹانگیں نہیں تھیں لیکن ادھر عذاب آیا ادھر اس کے پاؤں کھل گئے اپنی بستی سے سرپٹ بھاگی اور تیز دوڑتی ہوئی دوسرے شہر میں پہنچی اور وہاں جا کر ان سب کے سامنے سارا واقعہ بیان کر ہی چکنے کے بعد ان سے پانی مانگا۔ ابھی پوری پیاس بھی نہ بجھی تھی کہ عذاب الٰہی آپڑا اور وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ ہاں ابو دغال نامی ایک شخص اور بچ گیا تھا یہ یہاں نہ تھا حرم کی پاک زمین میں تھا لیکن کچھ دنوں کے بعد جب یہ اپنے کسی کام کی غرض سے حد حرم سے باہر آیا اسی وقت آسمان سے پتھر آیا اور اسے بھی جہنم واصل کیا ثمودیوں میں سے سوائے حضرت صالح اور انکے مومن صحابہ کے اور کوئی بھی نہ بچا، ابو رغال کا واقعہ اس سے پہلے حدیث سے بیان ہوچکا ہے قبیلہ ثقیف جو طائف میں ہے مذکور ہے کہ یہ اسی کی نسل سے ہیں۔ عبدالرزاق میں ہے کہ اس کی قبر کے پاس سے رسول کریم ﷺ جب گذرے تو فرمایا جانتے ہو یہ کس کی قبر ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا یہ ابو دغال کی قبر ہے۔ یہ ایک ثمودی شخص تھا اپنی قوم کے عذاب کے وقت یہ حرم میں تھا اس وجہ سے عذاب الٰہی سے بچ رہا لیکن حرم شریف سے نکلا تو اسی وقت اپنی قوم کے عذاب سے یہ بھی ہلاک ہوا اور یہیں دفن کیا گیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی لکڑی بھی دفنا دی گئی۔ چناچہ لوگوں نے اس گڑھے کو کھود کر اس میں سے وہ لکڑی نکال لی اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا ثقیف قبیلہ اسی کی اولاد ہے۔ ایک مرسل حدیث میں بھی یہ ذکر موجود ہے، یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا اس کے ساتھ سونے کی شاخ دفن کردی گئی تھی یہی نشان اس کی قبر کا ہے اگر تم اسے کھودو تو وہ شاخ ضرور نکل آئے گی چناچہ بعض لوگوں نے اسے کھودا اور وہ شاخ نکال لی۔ ابو داؤد میں بھی یہ روایت ہے اور حسن عزیز ہے لیکن میں کہتا ہوں اس حدیث کے وصل کا صرف ایک طریقہ بحیر بن ابی بحیر کا ہے اور یہ صرف اسی حدیث کے ساتھ معروف ہے اور بقول حضرت امام یحییٰ بن معین سوائے اسماعیل بن ابی امیہ کے اسے اس سے اور کسی نے روایت نہیں کیا احتمال ہے کہ کہیں اس حدیث کے مرفوع کرنے میں خطاء نہ ہو یہ عبداللہ بن عمرو ہی کا قول ہو اور پھر اس صورت میں یہ بھی ممکنات سے ہے کہ انہوں نے اسے ان دو دفتروں سے لے لیا ہو جو انہیں جنگ یرموک میں ملے تھے۔ میرے استاد شیخ ابو الحجاج اس روایت کو پہلے تو حسن عزیز کہتے تھے لیکن جب میں نے ان کے سامنے یہ حجت پیش کی تو آپ نے فرمایا بیشک ان امور کا اس میں احتمال ہے۔ واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ عُلَمَاءُ التَّفْسِيرِ وَالنَّسَبِ: ثَمُودُ بْنُ عَاثِرَ بْنِ إِرَمَ بْنِ سَامَ بْنِ نُوحٍ، وَهُوَ أَخُو جَديس بْنِ عَاثِرَ، وَكَذَلِكَ قَبِيلَةُ طَسْم، كُلُّ هَؤُلَاءِ كَانُوا أَحْيَاءً مِنَ الْعَرَبِ الْعَارِبَةِ قَبْلَ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَكَانَتْ ثَمُودُ بَعْدَ عَادٍ، وَمَسَاكِنُهُمْ مَشْهُورَةٌ فِيمَا بَيْنَ الْحِجَازِ وَالشَّامِ إِلَى وَادِي الْقُرَى وَمَا حَوْلَهُ، وَقَدْ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى قُرَاهُمْ وَمَسَاكِنِهِمْ، وَهُوَ ذَاهِبٌ إِلَى تَبُوكَ سَنَةَ تِسْعٍ.
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا صَخْر بْنُ جُوَيرية، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالنَّاسِ عَلَى تَبُوكَ، نَزَلَ بِهِمُ [[في أ: "بهم على".]] الْحِجْرَ عِنْدَ بُيُوتِ ثَمُودَ، فَاسْتَسْقَى النَّاسُ مِنَ الْآبَارِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا ثَمُودُ، فَعَجَنُوا مِنْهَا وَنَصَبُوا مِنْهَا الْقُدُورَ. فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ فَأَهْرَقُوا الْقُدُورَ، وَعَلَفُوا العجينَ الإبلَ، ثُمَّ ارْتَحَلَ بِهِمْ حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ عَلَى الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا النَّاقَةُ، وَنَهَاهُمْ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ عُذِّبُوا وَقَالَ: "إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ" [[المسند (٢/١١٧) .]]
وَقَالَ [الْإِمَامُ] [[زيادة من أ.]] أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ بِالْحِجْرِ: "لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ المعذَّبين إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مثلُ مَا أَصَابَهُمْ" [[المسند (٢/٧٤) .]]
وَأَصْلُ هَذَا الْحَدِيثِ مُخَرَّج فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ [[صحيح البخاري برقم (٣٣٨١) ، وصحيح مسلم برقم (٢٩٨) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَوْسَطَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَة الْأَنْمَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى أَهْلِ الْحِجْرِ، يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رسولَ اللَّهِ ﷺ، فَنَادَى فِي النَّاسِ: "الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ". قَالَ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وهو مُمْسِكٌ بِعِيرَهُ [[في د، م: "بعنزة".]] وَهُوَ يَقُولُ: "مَا تَدْخُلُونَ عَلَى قَوْمٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ". فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ: نعجبُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "أَفَلَا أُنْبِئُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ: رَجُلٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ، وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ، فَاسْتَقِيمُوا وسَدِّدوا، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا، وَسَيَأْتِي قَوْمٌ لَا يَدْفَعُونَ عَنْ أَنْفُسِهِمْ شَيْئًا" [[المسند (٤/٢٣١) ، وقال الهيثمي في المجمع (٦/١٩٤) : "فيه عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي وقد اختلط".]]
لَمْ يُخْرِجْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ السُّنَنِ [[في م: "الكتب"، وفي ك، أ: "الكتب الستة".]] وَأَبُو كَبْشَةَ اسْمُهُ: عُمَرُ [[في ك، م: "عمرو".]] بْنُ سَعْدٍ، وَيُقَالُ: عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ: حَدَّثَنَا مَعْمَر، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْم، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالْحِجْرِ قَالَ: "لَا تَسْأَلُوا الْآيَاتِ، فَقَدْ سَأَلَهَا قَوْمُ صَالِحٍ فَكَانَتْ -يَعْنِي النَّاقَةَ -تَرِدُ مِنْ هَذَا الفَجّ، وتَصْدُر مِنْ هَذَا الْفَجِّ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَعَقَرُوهَا، وَكَانَتْ تَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمًا وَيَشْرَبُونَ لَبَنَهَا يَوْمًا، فَعَقَرُوهَا، فَأَخَذَتْهُمْ صَيْحَةٌ، أهمد [[في د: "أخمد".]] الله مَنْ تحت أَدِيمِ السَّمَاءِ مِنْهُمْ، إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ". فَقَالُوا: مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "أَبُو رِغال. فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ" [[المسند (٣/٢٩٦) وقال الهيثمي في المجمع (٦/١٩٤) : "رجال أحمد رجال الصحيح".]]
وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْكُتُبِ السِّتَّةِ، وَهُوَ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ.
فَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا﴾ أَيْ: وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى قَبِيلَةِ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا، ﴿قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ﴾ جَمِيعُ الرُّسُلِ يَدْعُونَ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٢٥] وَقَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من م.]] ﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولا أَنِ اُعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾ [النَّحْلِ:٣٦] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَدْ جَاءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ هَذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً﴾ أَيْ: قَدْ جَاءَتْكُمْ حُجَّةٌ مِنَ اللَّهِ عَلَى صِدْقِ مَا جِئْتُكُمْ بِهِ. وَكَانُوا هُمُ الَّذِينَ سَأَلُوا صَالِحًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ بِآيَةٍ، وَاقْتَرَحُوا عَلَيْهِ أَنْ تَخْرُجَ لَهُمْ مِنْ صَخْرَةٍ صمَاء عَيّنوها بِأَنْفُسِهِمْ، وَهِيَ صَخْرَةٌ مُنْفَرِدَةٌ فِي نَاحِيَةِ الحِجْر، يُقَالُ لَهَا: الكَاتبة، فَطَلَبُوا مِنْهُ [[في م: "منها".]] أَنْ يُخْرِجَ لَهُمْ مِنْهَا نَاقَةً عُشَراء تَمْخَضُ، فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ صَالِحٌ الْعُهُودَ وَالْمَوَاثِيقَ لَئِنْ أَجَابَهُمُ اللَّهُ إِلَى سُؤَالِهِمْ وَأَجَابَهُمْ إِلَى طُلْبتهم لَيُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَيَتْبَعُنَّهُ؟ فَلَمَّا أَعْطَوْهُ عَلَى ذَلِكَ عُهُودَهُمْ وَمَوَاثِيقَهُمْ، قَامَ صَالِحٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِلَى صِلَاتِهِ وَدَعَا اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ، فَتَحَرَّكَتْ تِلْكَ الصَّخْرَةُ ثُمَّ انْصَدَعَتْ عَنْ نَاقَةٍ جَوْفاء وَبْرَاء يَتَحَرَّكُ جَنِينُهَا بَيْنَ جَنْبَيْهَا، كَمَا سَأَلُوا، فَعِنْدَ ذَلِكَ آمَنَ رَئِيسُ الْقَوْمِ وَهُوَ: "جُندَع بْنُ عَمْرٍو" وَمَنْ كَانَ مَعَهُ عَلَى أَمْرِهِ [[في أ: "على دينه".]] وَأَرَادَ بَقِيَّةُ أَشْرَافِ ثَمُودَ أَنْ يُؤْمِنُوا فَصَدَّهُمْ "ذُؤاب بْنُ عَمْرِو بْنِ لَبِيدٍ" "وَالْحُبَابُ" صَاحِبُ أَوْثَانِهِمْ، وَرَبَابُ بْنُ صَمْعَرَ بْنِ جَلْهَسَ، وكان ل"جندع بْنِ عَمْرٍو" ابْنُ عَمٍّ يُقَالُ لَهُ: "شِهَابُ بْنُ خَلِيفَةَ بْنِ مُحَلَّاةَ بْنِ لَبِيدِ بْنِ حَرَاسٍ"، وَكَانَ مِنْ أَشْرَافِ ثَمُودَ وَأَفَاضِلِهَا، فَأَرَادَ أَنْ يُسْلِمَ أَيْضًا فَنَهَاهُ أُولَئِكَ الرَّهْطُ، فَأَطَاعَهُمْ، فَقَالَ فِي ذَلِكَ رَجُلٌ مِنْ مُؤْمِنِي ثَمُودَ، يُقَالُ لَهُ مِهُوَسُ [[في ك، م، أ: "مهوش".]] بْنُ عَنْمَةَ بْنِ الدُّمَيْلِ، رَحِمَهُ اللَّهُ:
وَكَانَتْ عُصْبةٌ مِنْ آلِ عَمْرو ... إِلَى دِينِ النَّبِيِّ دَعَوا شِهَابا ...
عَزيزَ ثَمُودَ كُلَّهمُ جَمِيعًا ... فَهَمّ بِأَنْ يُجِيبَ فَلَوْ [[في م: "ولو".]] أَجَابَا ...
لأصبحَ صالحٌ فِينَا عَزيزًا ... وَمَا عَدَلوا بِصَاحِبِهِمْ ذُؤابا ...
وَلَكِنَّ الغُوَاة مِنْ آلِ حُجْرٍ ... تَوَلَّوْا بَعْدَ رُشْدهم ذِئَابَا ...
فَأَقَامَتِ النَّاقَةُ وَفَصِيلُهَا بَعْدَ مَا وَضَعَتْهُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ مُدَّةً، تَشْرَبُ مَاءَ بِئْرِهَا يَوْمًا، وَتَدَعُهُ لَهُمْ يَوْمًا، وَكَانُوا يَشْرَبُونَ لَبَنَهَا يَوْمَ [[في أ: "بيوم".]] شُرْبِهَا، يَحْتَلِبُونَهَا فَيَمْلَئُونَ مَا شَاءُوا مِنْ أَوْعِيَتِهِمْ وَأَوَانِيهِمْ، كَمَا قَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ﴾ [الْقَمَرِ:٢٨] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿هَذِهِ نَاقَةٌ لَهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ﴾ [الشُّعَرَاءِ:١٥٥] وكانت تسرح في بعض تلك الأودية تَرِدُ مِنْ فَجّ وَتَصْدُرُ مِنْ غَيْرِهِ لِيَسَعَهَا؛ لأنها كانت تتضلَّع عن الْمَاءِ، وَكَانَتْ -عَلَى مَا ذُكِرَ -خَلْقًا هَائِلًا وَمَنْظَرًا رَائِعًا، إِذَا مَرَّتْ بِأَنْعَامِهِمْ نَفَرَتْ مِنْهَا. فَلَمَّا طَالَ عَلَيْهِمْ وَاشْتَدَّ تَكْذِيبُهُمْ لِصَالِحٍ النَّبِيِّ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَزَمُوا عَلَى قَتْلِهَا، لِيَسْتَأْثِرُوا بِالْمَاءِ كُلَّ يَوْمٍ، فَيُقَالُ: إِنَّهُمُ اتَّفَقُوا كُلُّهُمْ عَلَى قَتْلِهَا [[تفسير الطبري (١٢/٥٢٩) .]]
قَالَ قَتَادَةُ: بَلَغَنِي أَنَّ الَّذِي قَتَلَ النَّاقَةَ طَافَ عَلَيْهِمْ كُلِّهِمْ، أَنَّهُمْ رَاضُونَ بِقَتْلِهَا حَتَّى عَلَى النِّسَاءِ فِي خُدُورِهِنَّ، وَعَلَى الصِّبْيَانِ [أَيْضًا] [[زيادة من أ.]]
قُلْتُ: وَهَذَا هُوَ الظَّاهِرُ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: ﴿فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّاهَا﴾ [الشَّمْسِ:١٤] وَقَالَ: ﴿وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا﴾ [الْإِسْرَاءِ:٥٩] وَقَالَ: ﴿فَعَقَرُوا النَّاقَةَ﴾ فَأَسْنَدَ ذَلِكَ عَلَى مَجْمُوعِ الْقَبِيلَةِ، فَدَلَّ عَلَى رِضَا جَمِيعِهِمْ بِذَلِكَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَذَكَرَ الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ، وَغَيْرُهُ مِنْ عُلَمَاءِ التَّفْسِيرِ فِي سَبَبِ قَتْلِ النَّاقَةِ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا: "عُنَيْزَةُ ابْنَةُ غَنْمِ بْنِ مِجْلِز" وَتُكَنَّى أُمَّ غَنَمْ [[في ك، م: "أم عثمان".]] كَانَتْ عَجُوزًا كَافِرَةً، وَكَانَتْ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِصَالِحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَكَانَتْ لَهَا بَنَاتٌ حِسَانٌ وَمَالٌ جَزِيلٌ، وَكَانَ زَوْجُهَا ذُؤاب بْنُ عَمْرٍو أَحَدَ رُؤَسَاءِ ثَمُودَ، وَامْرَأَةً أُخْرَى يُقَالُ لَهَا: "صُدُوفُ بِنْتُ الْمُحَيَّا بْنِ دَهْرِ [[في أ: "زهير".]] بْنِ الْمُحَيَّا" ذَاتِ حَسَبٍ وَمَالٍ وَجِمَالٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ مِنْ ثَمُودَ، فَفَارَقَتْهُ، فَكَانَتَا تَجْعَلَانِ لِمَنِ الْتَزَمَ لَهُمَا بِقَتْلِ النَّاقَةِ، فَدَعَتْ "صُدُوفُ" رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: "الْحُبَابُ" وَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا إِنْ هُوَ عَقَرَ النَّاقَةَ، فَأَبَى عَلَيْهَا. فَدَعَتِ ابْنَ عَمٍّ لَهَا يُقَالُ لَهُ: "مِصْدَعُ بْنُ مِهْرَجِ بْنِ الْمُحَيَّا"، فَأَجَابَهَا إِلَى ذَلِكَ -وَدَعَتْ "عُنَيْزَةُ بِنْتُ غَنْمٍ" قِدَارَ بْنَ سَالِفِ بْنَ جُنْدَع [[في أ: "جذع".]] وَكَانَ رَجُلًا أَحْمَرَ أَزْرَقَ قَصِيرًا، يَزْعُمُونَ أَنَّهُ كَانَ وَلَدَ زَنية، وَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ مِنْ أَبِيهِ الَّذِي يُنْسَبُ إِلَيْهِ، وَهُوَ سَالِفٌ، وَإِنَّمَا هُوَ [[في أ: "كان".]] مِنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: "صِهْيَادٌ" [[في م: "صبيان"، وفي ك: "ضبيان".]] وَلَكِنْ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ "سَالِفٍ"، وَقَالَتْ لَهُ: أُعْطِيكَ أَيَّ بَنَاتِي شئتَ عَلَى أَنْ تَعْقِرَ [[في ك، م: "يعقر".]] النَّاقَةَ! فَعِنْدَ ذَلِكَ، انْطَلَقَ "قِدَارُ بْنُ سَالِفٍ" "وَمِصْدَعُ بْنُ مِهْرَجٍ"، فَاسْتَفَزَّا غُواة مِنْ ثَمُودَ، فَاتَّبَعَهُمَا سَبْعَةُ نَفَرٍ، فَصَارُوا تِسْعَةَ رَهْطٍ، وَهُمُ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الأرْضِ وَلا يُصْلِحُونَ﴾ [النَّمْلِ:٤٨] وَكَانُوا رُؤَسَاءَ فِي قَوْمِهِمْ، فَاسْتَمَالُوا الْقَبِيلَةَ الْكَافِرَةَ بِكَمَالِهَا، فَطَاوَعَتْهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَانْطَلَقُوا فَرَصَدُوا النَّاقَةَ حِينَ صَدَرَتْ عَنِ الْمَاءِ، وَقَدْ كَمَنَ لَهَا "قِدَارٌ" فِي أَصْلِ صَخْرَةٍ عَلَى طَرِيقِهَا، وَكَمِنَ لَهَا "مِصْدَعٌ" فِي أَصْلِ أُخْرَى، فَمَرَّتْ عَلَى "مِصْدَعٍ" فَرَمَاهَا بِسَهْمٍ، فَانْتَظَمَ بِهِ عضَلَة سَاقِهَا وَخَرَجَتْ "أُمُّ غَنَمْ عُنَيْزَةُ"، وَأَمَرَتِ ابْنَتَهَا وَكَانَتْ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْهًا، فَسَفَرَتْ عَنْ وَجْهِهَا لِقِدَارٍ وَذَمَّرَتْهُ فَشَدَّ عَلَى النَّاقَةِ بِالسَّيْفِ، فكسفَ [[في ك، م، د: "فكشف"، وفي أ: "فكشف عن".]] عُرْقُوبَهَا، فَخَرَّتْ سَاقِطَةً إِلَى الْأَرْضِ، وَرَغَتْ رَغاة وَاحِدَةً تُحَذِّرُ سَقْبَها، ثُمَّ طَعَنَ فِي لَبَّتها فَنَحَرَهَا، وَانْطَلَقَ سَقْبَها -وَهُوَ فَصِيلُهَا -حَتَّى أَتَى جَبَلًا مَنِيعًا، فَصَعَدَ أَعْلَى صَخْرَةٍ فِيهِ وَرَغَا -فَرَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَر، عَمَّنْ سَمِعَ الحسن البصري أنه قال: يَا رَبِّ أَيْنَ أُمِّي؟ وَيُقَالُ: إِنَّهُ رَغَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. وَإِنَّهُ دَخَلَ فِي صَخْرَةٍ فَغَابَ فِيهَا، وَيُقَالُ: بَلِ اتَّبَعُوهُ فَعَقَرُوهُ مَعَ أُمِّهِ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ [[تفسير الطبري (١٢/٥٣٦) .]]
فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ وَفَرَغُوا مِنْ عَقْرِ النَّاقَةِ، بَلَغَ الْخَبَرُ صَالِحًا، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَجَاءَهُمْ وَهُمْ مُجْتَمِعُونَ، فَلَمَّا رَأَى النَّاقَةَ بَكَى وَقَالَ: ﴿تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ [ذَلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ [[زيادة من ك، م، وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [هُودٍ:٦٥] وَكَانَ قَتْلُهُمُ النَّاقَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، فَلَمَّا أَمْسَى أُولَئِكَ التِّسْعَةُ الرَّهْطُ عَزَمُوا عَلَى قَتْلِ صَالِحٍ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ك، م.]] وَقَالُوا: إِنْ كَانَ صَادِقًا عَجَّلناه قَبْلَنَا، وَإِنْ كَانَ كَاذِبًا أَلْحَقْنَاهُ بِنَاقَتِهِ! ﴿قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ. وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ * فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَاهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ * فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُوا﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] الْآيَةَ. [النَّمْلِ:٤٩-٥٢]
فَلَمَّا عَزَمُوا على ذلك، وتواطؤوا عَلَيْهِ، وَجَاءُوا مِنَ اللَّيْلِ لِيَفْتِكُوا بِنَبِيِّ اللَّهِ صَالِحٍ، أَرْسَلَ اللَّهُ، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى، وَلَهُ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ، عَلَيْهِمْ حِجَارَةً فرضَختهم سَلَفًا وَتَعْجِيلًا قَبْلَ قَوْمِهِمْ، وَأَصْبَحَ ثَمُودُ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَهُوَ الْيَوْمُ الْأَوَّلُ مِنْ أَيَّامِ النَّظرة، وَوُجُوهُهُمْ مُصْفَرَّةٌ كَمَا وَعَدَهُمْ صَالِحٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَصْبَحُوا فِي الْيَوْمِ الثَّانِي مِنْ أَيَّامِ التَّأْجِيلِ، وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، وَوُجُوهُهُمْ مُحَمَّرَةٌ، وَأَصْبَحُوا [[في م: "واجتمعوا".]] فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ مِنْ أَيَّامِ الْمَتَاعِ [[في ك: "التمتع".]] وَهُوَ يَوْمُ السَّبْتِ، وَوُجُوهُهُمْ مُسَوَّدَةٌ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا مِنْ يَوْمِ الْأَحَدِ وَقَدْ تحَنَّطوا وَقَعَدُوا يَنْتَظِرُونَ نِقْمَةَ اللَّهِ وَعَذَابَهُ، عِيَاذًا بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ، لَا يَدْرُونَ مَاذَا يُفْعَلُ بِهِمْ، ولا كيف يأتيهم العذاب؟ و [قد] [[زيادة من م.]] أَشْرَقَتِ الشَّمْسُ، جَاءَتْهُمْ صَيْحَةٌ مِنَ السَّمَاءِ ورَجْفة شَدِيدَةٌ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، فَفَاضَتِ الْأَرْوَاحُ وَزَهَقَتِ النُّفُوسُ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ ﴿فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ﴾ أَيْ: صَرْعَى لَا أَرْوَاحَ فِيهِمْ، وَلَمْ يُفْلِتْ مِنْهُمْ أَحَدٌ، لَا صَغِيرٌ وَلَا كَبِيرٌ، لَا ذَكَرٌ وَلَا أُنْثَى -قَالُوا: إِلَّا جَارِيَةً كانت مقعدة -واسمها "كلبة بنة السّلْق"، وَيُقَالُ لَهَا: "الزُّرَيْقَةُ" [[في م: "الذريعة".]] -وَكَانَتْ كَافِرَةً شَدِيدَةَ الْعَدَاوَةِ لِصَالِحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَلَمَّا رَأَتْ مَا رَأَتْ مِنَ الْعَذَابِ، أُطلِقَت رِجْلَاهَا، فَقَامَتْ تَسْعَى كَأَسْرَعِ شَيْءٍ، فَأَتَتْ حَيًّا مِنَ الْأَحْيَاءِ فَأَخْبَرَتْهُمْ بِمَا رَأَتْ وَمَا حَلَّ بِقَوْمِهَا، ثُمَّ اسْتَسْقَتْهُمْ مِنَ الْمَاءِ، فَلَمَّا شَرِبَتْ، مَاتَتْ.
قَالَ عُلَمَاءُ التَّفْسِيرِ: وَلَمْ يَبْقَ مِنْ ذُرِّيَّةِ ثَمُودَ أَحَدٌ، سِوَى صَالِحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَمَنِ اتَّبَعَهُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، إِلَّا أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: "أَبُو رِغال"، كَانَ لَمَّا وَقَعَتِ النِّقْمَةُ بِقَوْمِهِ مقيما فِي الْحَرَمِ، فَلَمْ يَصِبْهُ شَيْءٌ، فَلَمَّا خَرَجَ فِي بَعْضِ الْأَيَّامِ إِلَى الْحِلِّ، جَاءَهُ حَجَرٌ مِنَ السَّمَاءِ فَقَتَلَهُ.
وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ الْقِصَّةِ حَدِيثُ "جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ" فِي ذَلِكَ، وَذَكَرُوا أَنَّ أَبَا رِغَالٍ هَذَا هُوَ والد ثَقِيفٍ" الَّذِينَ كَانُوا يَسْكُنُونَ الطَّائِفَ [[انظر: "الكلام على أبي رغال، وترجيح أنه كان دليل أبرهة في تفسير سورة النساء آية: ٤.]]
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: قَالَ مَعْمَر: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ؛ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَرَّ بِقَبْرِ أَبِي رِغَالٍ فَقَالَ: "أَتُدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ " فَقَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ، رَجُلٍ مِنْ ثَمُودَ، كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ، فَمَنَعَهُ حرمُ اللَّهِ عَذَابَ اللَّهِ. فَلَمَّا خَرَجَ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ، فَدُفِنَ هَاهُنَا، وَدُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَنَزَلَ الْقَوْمُ فَابْتَدَرُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ، فَبَحَثُوا عَنْهُ، فَاسْتَخْرَجُوا الْغُصْنَ".
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَبُو رِغَالٍ: أَبُو ثَقِيفٍ [[المصنف برقم (٢٠٩٨٩) ، وتفسير عبد الرزاق (١/١١٩، ٢٢٠) .]]
هَذَا مُرْسَلٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ مُتَّصِلًا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، كَمَا قَالَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ بُجَير بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ، حِينَ خَرَجْنَا مَعَهُ إِلَى الطَّائِفِ، فَمَرَرْنَا بِقَبْرٍ فَقَالَ: "هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ، وَهُوَ أَبُو ثَقِيفٍ، وَكَانَ مِنْ ثَمُودَ، وَكَانَ بِهَذَا الْحَرَمِ فَدَفَعَ [[في ك: "يدفع".]] عَنْهُ، فَلَمَّا خَرَجَ [مِنْهُ] [[زيادة من ك، م.]] أَصَابَتْهُ النِّقْمَةُ الَّتِي أَصَابَتْ قَوْمَهُ بِهَذَا الْمَكَانِ، فَدُفِنَ فِيهِ. وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ دُفِنَ مَعَهُ غصن من ذهب، إن أنتم نبشم عَنْهُ أَصَبْتُمُوهُ [مَعَهُ] [[زيادة من أ.]] فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ [[في أ: "القوم".]] فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهُ الْغُصْنَ".
وَهَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِهِ [[سنن أبي داود برقم (٣٠٨٨) .]]
قَالَ شَيْخُنَا أَبُو الْحَجَّاجِ الْمِزِيُّ: وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ عَزِيزٌ [[في أ: "غريب".]] [[تهذيب الكمال (٤/١١) .]]
قُلْتُ: تَفَرَّدَ بِوَصْلِهِ "بُجَيْر بْنُ أَبِي بُجَيْرٍ" هَذَا، وَهُوَ شَيْخٌ لَا يُعْرَفُ إلا بهذا الحديث. قال يحيى ابن مَعِينٍ: وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرَ إِسْمَاعِيلِ بْنِ أُمَيَّةَ.
قُلْتُ: وَعَلَى هَذَا، فَيُخْشَى أَنْ يَكُونَ وَهِمَ فِي رَفْعِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَإِنَّمَا يَكُونُ مِنْ كَلَامِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، مِمَّا أَخَذَهُ مِنَ الزَّامِلَتَيْنِ.
قَالَ شَيْخُنَا أَبُو الْحَجَّاجِ، بَعْدَ أَنْ عَرَضْتُ عَلَيْهِ ذَلِكَ: وَهَذَا مُحْتَمَلٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى:
فَعَقَرُوا۟ ٱلنَّاقَةَ وَعَتَوْا۟ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ وَقَالُوا۟ يَٰصَٰلِحُ ٱئْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ
So they hamstrung the she-camel and were insolent toward the command of their Lord and said, "O Salih, bring us what you promise us, if you should be of the messengers."
آخر انہوں نے اونٹی (کی کونچوں) کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح! جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے تھے اگر تم (خدا کے) پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ
سپس «ناقه» را پی کردند، و از فرمان پروردگارشان سرپیچیدند؛ و گفتند: «ای صالح! اگر تو از فرستادگان (خدا) هستی، آنچه ما را با آن تهدید میکنی، بیاور!»
Tafsir Ibn Kathir
And to Thamud (people, We sent) their brother Salih. He said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Indeed there has come to you a clear sign from your Lord. This she-camel of Allah is a sign unto you; so you leave her to graze in Allah's earth, and touch her not with harm, lest a painful torment should seize you (73)And remember when He made you successors (generations) after 'Ad and gave you habitations in the land, you build for yourselves palaces in plains, and carve out homes in the mountains. So remember the graces (bestowed upon you) from Allah, and do not go about making mischief on the earth (74)The leaders of those who were arrogant among his people said to those who were counted weak – to such of them as believed: "Know you that Salih is one sent from his Lord." They said: "We indeed believe in that with which he has been sent. (75)Those who were arrogant said: "Verily, we disbelieve in that which you believe in. (76)So they killed the she-camel and insolently defied the commandment of their Lord, and said: "O Salih! Bring about your threats if you are indeed one of the Messengers (of Allah). (77)So the earthquake seized them, and they lay (dead), prostrate in their homes (78)
Thamud: Their Land and Their Lineage
Scholars of Tafsir and genealogy say that (the tribe of Thamud descended from) Thamud bin 'Athir bin Iram bin Sam bin Nuh, and he is brother of Jadis son of 'Athir, similarly the tribe of Tasm, and they were from the ancient Arabs, Al-'Aribah, before the time of Ibrahim, Thamud came after 'Ad. They dwelled between the area of the Hijaz (Western Arabia) and Ash-Sham (Greater Syria). The Messenger of Allah ﷺ passed by the area and ruins of Thamud when he went to Tabuk (in northern Arabia) during the ninth year of Hijrah.
Imam Ahmad recorded that Ibn 'Umar said, "When the Messenger of Allah ﷺ went to the area of Al-Hijr in Tabuk with the people, he camped near the homes of Thamud, in Al-Hijr and the people brought water from the wells that Thamud used before. They used that water to make dough and placed the pots (on fire) for cooking. However, the Prophet ﷺ commanded them to spill the contents of the pots and to give the dough to their camels. He then marched forth with them from that area to another area, near the well that the camel (as will follow) used to drink from. He forbade the Companions from entering the area where people were tormented, saying,
إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِم
(I fear that what befell them might befall you as well. Therefore, do not enter on them.)"
Ahmad narrated that 'Abdullah bin 'Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said while in the Hijr area,
لَا تَدْخُلُوا عَلَى هؤُلَاءِ الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلَ مَا أَصَابَهُم
(Do not enter on these who were tormented, unless you do so while crying. If you are not crying, then do not enter on them, so that what befell them does not befall you, as well.) The basis of this Hadith is mentioned in Two Sahihs.
The Story of Prophet Salih and Thamud
Allah said,
وَإِلَىٰ ثَمُودَ
(And to Thamud), meaning, to the tribe of Thamud, We sent their brother Salih,
قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ
(He said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him.")
All Allah's Messengers called to the worship of Allah alone without partners. Allah said in other Ayat,
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ
(And We did not send any Messenger before you but We revealed to him (saying): "None has the right to be worshipped but I, so worship Me.")[21:25] and,
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ
(And verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah (Alone), and avoid Taghut (all false deities)")[16:36].
Thamud asked that a Camel appear from a Stone, and it did
Prophet Salih said,
قَدْ جَاءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ هَٰذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً
("Indeed there has come to you a clear sign from your Lord. This she-camel of Allah is a sign unto you;")
meaning, a miracle has come to you from Allah testifying to the truth of what I came to you with.
Salih's people asked him to produce a miracle and suggested a certain solid rock that they chose, which stood lonely in the area of Hijr, and which was called Al-Katibah. They asked him to bring a pregnant camel out of that stone. Salih took their covenant and promises that if Allah answers their challenge, they would believe and follow him. When they gave him their oaths and promises to that, Salih started praying and invoked Allah (to produce that miracle). All of a sudden, the stone moved and broke apart, producing a she-camel with thick wool. It was pregnant and its fetus was visibly moving in its belly, exactly as Salih's people asked. This is when their chief, Jundu' bin 'Amr, and several who followed him believed. The rest of the noblemen of Thamud wanted to believe as well, but Dhu'ab bin 'Amr bin Labid, Al-Habbab, who tended their idols, and Rabbab bin Sum'ar bin Jilhis stopped them. One of the cousins of Jundu' bin 'Amr, whose name was Shihab bin Khalifah bin Mikhlat bin Labid bin Jawwas, was one of the leaders of Thamud, and he also wanted to accept the message. However, the chiefs whom we mentioned prevented him, and he conceded to their promptings.
The camel remained in Thamud, as well as, its offspring after she delivered it before them. The camel used to drink from its well on one day and leave the well for Thamud the next day. They also used to drink its milk, for on the days she drank water, they used to milk her and fill their containers from its milk. Allah said in other Ayat,
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ
(And inform them that the water is to be shared between (her and) them, each one's right to drink being established (by turns))[54:28] and,
هَٰذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(Here is a she-camel: it has a right to drink (water), and you have a right to drink (water)(each) on a day, known)[26:155]
The camel used to graze in some of their valleys, going through a pass and coming out through another pass. She did that so as to be able to move easily, because she used to drink a lot of water. She was a tremendous animal that had a strikingly beautiful appearance. When she used to pass by their cattle, the cattle would be afraid of her. When this matter continued for a long time and Thamud's rejection of Salih became intense, they intended to kill her so that they could take the water for themselves every day. It was said that all of them (the disbelievers of Thamud) conspired to kill the camel. Qatadah said that he was told that, "The designated killer of the camel approached them all, including women in their rooms and children, and found out that all of them agreed to kill her." This fact is apparent from the wording of the Ayat,
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا
(Then they denied him and they killed it. So their Lord destroyed them because of their sin, and made them equal in destruction!)[91:14], and,
وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا
(And We sent the she-camel to Thamud as a clear sign, but they did her wrong.)[17:59] Allah said here,
فَعَقَرُوا النَّاقَةَ
(So they killed the she-camel)
Therefore, these Ayat stated that the entire tribe shared in agreeing to this crime, and Allah knows best.
Thamud kills the She-Camel
Imam Abu Ja'far Ibn Jarir and other scholars of Tafsir said that the reason behind killing the camel was that a disbelieving old woman among them named Umm Ghanm 'Unayzah, the daughter of Ghanm bin Mijlaz, had the severest enmity among Thamud towards Salih, peace be upon him. She had beautiful daughters and she was wealthy, and Dhu'ab bin 'Amr, one of the leaders of Thamud, was her husband.
There was another noblewoman whose name was Saduf bint Al-Muhayya bin Dahr bin Al-Muhayya, who was of noble family, wealthy and beautiful. She was married to a Muslim man from Thamud, but she left him. These two women offered a prize for those who swore to them that they would kill the camel. Once, Saduf summoned a man called Al-Habbab and offered herself to him if he would kill the camel, but he refused. So she called a cousin of hers whose name was Musaddi' bin Mihraj bin Al-Muhayya, and he agreed. As for 'Unayzah bint Ghanm, she called Qudar bin Salif bin Jundu', a short person with red-blue skin, a bastard, according to them. Qudar was not the son of his claimed father, Salif, but the son of another man called, Suhyad. However, he was born on Salif's bed (and thus named after him). 'Unayzah said to Qudar, "I will give you any of my daughters you wish, if you kill the camel." Qudar bin Salif and Musaddi' bin Mihraj went along and recruited several mischievous persons from Thamud to kill the camel. Seven more from Thamud agreed, and the group became nine, as Allah described, when He said,
وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ
(And there were in the city nine men, who made mischief in the land, and would not reform.)[27:48]
These nine men were chiefs of their people, and they lured the entire tribe into agreeing to kill the camel. So they waited until the camel left the water well, where Qudar waited beside a rock on its path, while Musaddi' waited at another rock. When the camel passed by Musaddi' he shot an arrow at her and the arrow pierced her leg. At that time, 'Unayzah came out and ordered her daughter, who was among the most beautiful women, to uncover her face for Qudar, encouraging Qudar to swing his sword, hitting the camel on her knee. So she fell to the ground and screamed once to warn her offspring. Qudar stabbed her in her neck and slaughtered her. Her offspring went up a high rock and screamed. 'Abdur-Razzaq recorded from Ma'mar that someone reported from Al-Hasan Al-Basari that the offspring said, "O my Lord! Where is my mother?" It was said that her offspring screamed thrice and entered a rock and vanished in it, or, they followed it and killed it together with its mother. Allah knows best. When they finished the camel off and the news reached Prophet Salih, he came to them while they were gathered. When he saw the camel, he cried and proclaimed,
تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ
("Enjoy yourselves in your homes for three days.")[11:65]
The Wicked Ones Plot to Kill Prophet Salih, But the Torment descended on Them
The nine wicked persons killed the camel on a Wednesday, and that night, they conspired to kill Salih. They said, "If he is truthful, we should finish him before we are finished. If he is a liar, we will make him follow his camel."
قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ - وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
(They said: "Swear one to another by Allah that we shall make a secret night attack on him and his household, and thereafter we will surely say to his near relatives: 'We witnessed not the destruction of his household, and verily, we are telling the truth.'" So they plotted a plot, and We planned a plan, while they perceived not.)[27:49-50]
When they conspired to kill Salih and gathered at night to carry out their plot, Allah, to Whom belongs all might and Who protects His Messengers, rained down stones that smashed the heads of these nine people before the rest of the tribe. On Thursday, the first of the three days of respite, the people woke up and their faces were pale (yellow), just as Prophet Salih had promised them. On the second day of respite, Friday, they woke up and found their faces had turned red. On the third day of the respite, Saturday, they woke up with their faces black. On Sunday, they wore the fragrance of Hanut [the perfume for enshrouding the dead before burial] and awaited Allah's torment and revenge, we seek refuge with Allah from it. They did not know what will be done to them or how and from where the torment would come. When the sun rose, the Sayhah (loud cry) came from the sky and a severe tremor overtook them from below; the souls were captured and the bodies became lifeless, all in an hour.
فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
(And they lay (dead), prostrate in their homes.)
They became dead and lifeless and none among them, whether young, old, male or female, escaped the torment.
The scholars of Tafsir said that none from the offspring of Thamud remained, except Prophet Salih and those who believed in him. A disbelieving man called Abu Righal was in the Sacred Area at the time and the torment that befell his people did not touch him. When he went out of the Sacred Area one day, a stone fell from the sky and killed him. 'Abdur-Razzaq narrated that Ma'mar said that Isma'il bin Umayyah said that the Prophet ﷺ passed by the gravesite of Abu Righal and asked the Companions if they knew whose grave it was. They said, "Allah and His Messenger know better." He said,
أَتَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟
قالوا الله ورسوله أعلم، قال
هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ رَجُلٍ مِنْ ثَمُودَ كَانَ فِي حَرَمِ اللهِ فَمَنَعَهُ حَرَمُ اللهِ عَذَابَ اللهِ، فَلَمَّا خَرَجَ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَومهُ فَدُفِنَ هَاهُنَا وَدُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَنَزَلَ الْقَوْمُ فَابْتَدَرُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ فَبَحَثُوا عَنْهُ فَاسْتَخْرَجُوا الْغُصْنَ
(This is the grave of Abu Righal, a man from Thamud. He was in the Sacred Area of Allah and this fact saved him from receiving Allah's torment. When he went out of the Sacred Area, what befell his people also befell him. He was buried here along with a branch made from gold.)
So the people used their swords and looked for the golden branch and found it. 'Abdur-Razzaq narrated that Ma'mar said that Az-Zuhri said that Abu Righal is the father of the tribe of Thaqif.
Tafsir Ibn Kathir
ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح۔ یہ بھائی تھا جد بس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ009ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گذرے تھے۔ مسند احمد میں ہے کہ جب حضور ﷺ تبوک کے میدان میں اترے لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں کو کھلا دیئے جائیں۔ پھر فرمایا یہاں سے کوچ کرو اور اس کنوئیں کے پاس ٹھہرو جس سے حضرت صالح کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور فرمایا آئندہ عذاب والی بستیوں میں پڑاؤ نہ کیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی عذاب کے شکار تم بھی بن جاؤ۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کی بستیوں سے روتے اور ڈرتے ہوئے گذرو کہ مبادا وہی عذاب تم پر آجائیں جو ان پر آئے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ غزوہ تبوک میں لوگ بہ عجلت ہجر کے لوگوں کے گھروں کی طرف لپکے۔ آپ نے اسی وقت یہ آواز بلند کرنے کہا حدیث (الصلوۃ جامعتہ) جب لوگ جمع ہوگئے تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے گھروں میں کیوں گھسے جا رہے ہو جن پر غضب الٰہی نازل ہوا۔ راوی حدیث ابو کبشہ فرماتے ہیں رسول اللہ کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا۔ میں نے یہ سن کر عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم تو صرف تعجب کے طور پر انہیں دیکھنے چلے گئے تھے آپ نے فرمایا میں تمہیں اس سے بھی تعجب خیز چیز بتارہا ہوں تم میں سے ہی ایک شخص ہے جو تمہیں وہ چیز بتارہا ہے جو گذر چکیں اور وہ خبریں دے رہا ہے جو تمہارے سامنے ہیں اور جو تمہارے بعد ہونے والی ہیں پس تم ٹھیک ٹھاک رہو اور سیدھے چلے جاؤ تمہیں عذاب کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں یاد رکھو ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی جانوں سے کسی چیز کو دفع نہ کرسکیں گے۔ حضرت ابو کبشہ کا نام عمر بن سعد ہے اور کہا گیا ہے کہ عامر بن سعد ہے واللہ اعلم۔ ایک روایت میں ہے کہ ہجر کی بستی کے پاس آتے ہی حضور ﷺ نے فرمایا معجزے نہ طلب کرو دیکھو قوم صالح نے معجزہ طلب کیا جو ظاہر ہوا یعنی اونٹنی جو اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے جاتی تھی لیکن ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتاب کی اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی تھی اور ایک دن یہ سب اس کا دودھ پیتے تھے اس اونٹنی کو مار ڈالنے پر ان پر ایک چیخ آئی اور یہ جتنے بھی تھے سب کے سب ڈھیر ہوگئے۔ بجز اس ایک شخص کے جو حرم شریف میں تھا لوگوں نے پوچھا اس کا نام کیا تھا ؟ فرمایا ابو غال یہ بھی جب حد حرم سے باہر آیا تو اسے بھی وہی عذاب ہوا۔ یہ حدیث صحاح ستہ میں تو نہیں لیکن ہے مسلم شریف کی شرط پر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ثمودی قبیلے کی طرف سے ان کے بھائی حضرت صالح ؑ کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ تمام نبیوں کی طرح آپ نے بھی اپنی امت کو سب سے پہلے توحید الٰہی سکھائی کہ فقط اس کی عبادت کریں اس کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے جتنے بھی رسول آئے سب کی طرف یہی وحی کی جاتی رہی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، صرف میری ہی عبادت کرو اور ارشاد ہے ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت سے بچو۔ حضرت صالح فرماتے ہیں لوگوں تمہارے پاس دلیل الٰہی آچکی جس میں میری سچائی ظاہر ہے۔ ان لوگوں نے حضرت صالح سے یہ معجزہ طلب کیا تھا کہ ایک سنگلاخ چٹان جو ان کی بستی کے ایک کنارے پڑی تھی جس کا نام کاتبہ تھا اس سے آپ ایک اونٹنی نکلایں جو گابھن ہو (دودھ دینے والی اونٹنی جو دس ماہ کی حاملہ ہو) حضرت صالح نے ان سے فرمایا کہ اگر ایسا ہوجائے تو تم ایمان قبول کر لوگے ؟ انہوں نے پختہ وعدے کئے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ حضرت صالح ؑ نے نماز پڑھی دعا کی ان سب کے دیکھتے ہی چٹان نے ہلنا شروع کیا اور چٹخ گئی اس کے بیچ سے ایک اونٹنی نمودار ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی ان کے سردار جندع بن عمرو نے تو اسلام قبول کرلیا اور اس کے ساتھیوں نے بھی۔ باقی جو اور سردار تھے وہ ایمان لانے کیلئے تیار تھے مگر ذواب بن عمرو بن لبید نے اور حباب نے جو بتوں کا مجاور تھا اور رباب بن ہمر بن جلمس وغیرہ نے انہیں روک دیا۔ حضرت جندع کا بھتیجا شہاب نامی تھا یہ ثمودیوں کا بڑا عالم فاضل اور شریف شخص تھا اس نے بھی ایمان لانے کا ارادہ کرلیا تھا لیکن انہی بدبختوں نے اسے بھی روکا جس پر ایک مومن ثمودی مہوش بن غنمہ نے کہا کہ آل عمرو نے شہاب کو دین حق کی دعوت دی قریب تھا کہ وہ مشرف باسلام ہوجائے اور اگر ہوجاتا تو اس کی عزت سیوا ہوجاتی مگر بدبختوں نے اسے روک دیا اور نیکی سے ہٹا کر بدی پر لگا دیا۔ اس حاملہ اونٹنی کو اس وقت بچہ ہوا ایک مدت تک دونوں ان میں رہے۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی۔ اس دن اس قدر دودھ دیتی کہ یہ لوگ اپنے سب برتن بھر لیتے جیسے قرآن میں ہے آیت (وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاۗءَ قِسْمَةٌۢ بَيْنَهُمْ ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ 28) 54۔ القمر :28) ، اور آیت میں ہے (قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ01505ۚ) 26۔ الشعراء :155) یہ ہے اونٹنی اس کے اور تمہارے پانی پینے کے دن تقسیم شدہ اور مقررہ ہیں۔ یہ اونٹنی ثمودیوں کی بستی حجر کے اردگرد چرتی چگتی تھی ایک راہ جاتی دوسری راہ آتی یہ بہت ہی موٹی تازی اور ہیبت والی اونٹنی تھی جس راہ سے گذرتی سب جانور ادھر ادھر ہوجاتے۔ کچھ زمانہ گذرنے کے بعد ان اوباشوں نے ارادہ کیا کہ اس کو مار ڈالیں تاکہ ہر دن ان کے جانور برابر پانی پی سکیں ان اوباشوں کے ارادوں پر سب نے اتفاق کیا یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور انہیں شہ دی کہ ہاں اس پاپ کو کاٹ دو۔ اس اونٹنی کو مار ڈالو۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے آیت (فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا001فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا 14۽) 91۔ الشمس :14) ، قوم صالح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کے بدلے ان پر ہلاکت نازل فرمائی اور ان سب کو یکساں کردیا۔ ایک اور آیت میں ہے کہ ہم نے ثمودیوں کو اونٹنی دی جو ان کے لئے پوری سمجھ بوجھ کی چیز تھی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا یہاں بھی فرمایا کہ انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ پس اس فعل کی اسناد سارے ہی قبیلے کی طرف ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے سب اس امر پر متفق تھے۔ امام ابن جریر وغیرہ کا فرمان ہے کہ اس کے قتل کی وجہ یہ ہوئی کہ عنیزہ بنت عنم بن مجلز جو ایک بڑھیا کافرہ تھی اور حضرت صالح سے بڑی دشمنی رکھتی تھی اس کی لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں اور تھی بھی یہ عورت مالدار۔ اس کے خاوند کا نام ذواب بن عمرو تھا جو ثمودیوں کا ایک سردار تھا یہ بھی کافر تھا۔ اسی طرح ایک اور عورت تھی جس کا نام صدقہ بنت محیا بن زہیر بن مختار تھا۔ یہ بھی حسن کے علاوہ مال اور حسب نسب میں بڑھی ہوئی تھی اس کے خاوند مسلمان ہوگئے تھے ؓ۔ اس سرکش عورت نے ان کو چھوڑ دیا۔ اب یہ دونوں عورتیں لوگوں کو اکساتی تھیں کہ کوئی آمادہ ہوجائے اور حضرت صالح ؑ کی اونٹنی کو قتل کر دے، صدقہ نامی عورت نے ایک شخص حباب کو بلایا اور اس سے کہا کہ میں تیرے گھر آجاؤں گی اگر تو اس اونٹنی کو قتل کر دے لیکن اس نے انکار کردیا، اس پر اس نے مصدع بن مہرج بن محیا کو بلایا جو اس کے چچا کا لڑکا تھا اور اسے بھی اسی بات پر آمادہ کیا۔ یہ خبیث اس کے حسن و جمال کا مفتوں تھا اس برائی پر آمادہ ہوگیا۔ ادھر عنیزہ نے قدار بن سالف بن جذع کو بلا کر اس سے کہا کہ میری ان خوبصورت نوجوان لڑکیوں میں سے جسے تو پسند کرے اسے میں تجھے دے دو گی اسی شرط پر کہ تو اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ ڈال۔ یہ خبیث بھی آمادہ ہوگیا یہ تھا بھی زنا کاری کا بچہ، سالف کی اولاد میں نہ تھا، جیسان نامی ایک شخص سے اس کی بدکار ماں نے زنا کاری کی تھی اسی سے یہ پیدا ہوا تھا اب دونوں چلے اور اہل ثمود اور دوسرے شریروں کو بھی اس پر آمادہ کیا چناچہ سات شخص اور بھی اس پر آمادہ ہوگئے اور یہ نو فسادی شخص اس بد ارادے پر تل گئے جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ 48) 27۔ النمل :48) اس شہر میں نو شخص تھے جن میں اصلاح کا مادہ ہی نہ تھا سراسر فسادی ہی تھے۔ چونکہ یہ لوگ قوم کے سردار تھے ان کے کہنے سننے سے تمام کفار بھی اس پر راضی ہوگئے اور اونٹنی کے واپس آنے کا راستے میں یہ دونوں شریر اپنی اپنی کمین گاہوں میں بیٹھ گئے جب اونٹنی نکلی تو پہلے مصدع نے اسے تیر مارا جو اس کی ران کی ہڈی میں پیوت ہوگیا اسی وقت عنیزہ نے اپنی خوبصورت لڑکی کو کھلے منہ قدار کے پاس بھیجا اس نے کہا قدار کیا دیکھتے ہو اٹھو اور اس کا کام تمام کردو۔ یہ اس کا منہ دیکھتے ہی دوڑا اور اس کے دونوں پچھلے پاؤں کاٹ دیئے اونٹنی چکرا کر گری اور ایک آواز نکلالی جس سے اس کا بچہ ہوشیار ہوگیا اور اس راستے کو چھوڑ کر پہاڑی پر چلا گیا یہاں قدار نے اونٹنی کا گلا کاٹ دیا اور وہ مرگئی اس کا بچہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیا اور تین مربتہ بلبلایا۔ حسن بصری فرماتے ہیں اس نے اللہ کے سامنے اپنی ماں کے قتل کی فریاد کی پھر جس چٹان سے نکلا تھا اسی میں سما گیا۔ یہ روایت بھی ہے کہ اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ ہی ذبح کردیا گیا تھا۔ واللہ اعلم۔ حضرت صالح ؑ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ گھبرائے ہوئے موقعہ پر پہنچے دیکھا کہ اونٹنی بےجان پڑی ہے آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا بس اب تین دن میں تم ہلاک کردیئے جاؤ گے، ہوا بھی یہی۔ بدھ کے دن ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اور چونکہ کوئی عذاب نہ آیا اس لئے اترا گئے اور ان مفسدوں نے ارادہ کرلیا کہ آج شام کو صالح کو بھی مار ڈالو اگر واقعی ہم ہلاک ہونے والے ہی ہیں تو پھر یہ کیوں بچا رہے ؟ اور اگر ہم پر عذاب نہیں آتا تو بھی آؤ روز روز کے اس جھنجھٹ سے پاک ہوجائیں۔ چناچہ قرآن کریم کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے مل کر مشورہ کیا اور پھر قسمیں کھا کر اقرار کیا کہ رات کو صالح کے گھر پر چھاپہ مارو اور اسے اور اس کے گھرانے کو تہ تیغ کرو اور صاف انکار کردو کہ ہمیں کیا خبر کہ کس نے مارا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے ان کے اس مکر کے مقابل ہم نے بھی مکر کیا اور یہ ہمارے مکر سے بالکل بیخبر رہے اب انجام دیکھ لو کہ کیا ہوا ؟ رات کو یہ اپنی بدنیتی سے حضرت صالح کے گھر کی طرف چلے آپ کا گھر پہاڑی کی بلندی پر تھا ابھی یہ اوپر چڑھ ہی رہے تھے جو اوپر سے ایک چٹان پتھر کی لڑھکتی ہوئی آئی اور سب کو ہی پیس ڈالا۔ ان کا تو یہ حشر ہوا ادھر جمعرات کے دن تمام ثمودیوں کے چہرے زرد پڑگئے جمعہ کے دن ان کے چہرے آگ جیسے سرخ ہوگئے اور ہفتے کے دن جو مہلت کا آخری دن تھا ان کے منہ سیاہ ہوگئے تین دن جب گذر گئے تو چوتھا دن اتوار صبح ہی صبح سورج کے روشن ہوتے ہی اوپر آسمان سے سخت کڑاکا ہوا جس کی ہولناک دہشت انگیز چنگھاڑنے ان کے کلیجے پھاڑ دیئے ساتھ ہی نیچے سے زبردست زلزلہ آیا ایک ہی ساعت میں ایک ساتھ ہی ان سب کا ڈھیر ہوگیا، مردوں سے مکانات، بازار، گلی، کوچے بھر گئے۔ مرد، عورت، بچے، بوڑھے اول سے آخر تک سارے کے سارے تباہ ہوگئے شان رب دیکھئے کہ اس واقعہ کی خبر دنیا کو پہنچانے کے لئے ایک کافرہ عورت بچا دی گئی، یہ بھی بڑی خبیثہ تھی حضرت صالح ؑ کی عداوت کی آگ سے بھری ہوئی تھی اسکی دونوں ٹانگیں نہیں تھیں لیکن ادھر عذاب آیا ادھر اس کے پاؤں کھل گئے اپنی بستی سے سرپٹ بھاگی اور تیز دوڑتی ہوئی دوسرے شہر میں پہنچی اور وہاں جا کر ان سب کے سامنے سارا واقعہ بیان کر ہی چکنے کے بعد ان سے پانی مانگا۔ ابھی پوری پیاس بھی نہ بجھی تھی کہ عذاب الٰہی آپڑا اور وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ ہاں ابو دغال نامی ایک شخص اور بچ گیا تھا یہ یہاں نہ تھا حرم کی پاک زمین میں تھا لیکن کچھ دنوں کے بعد جب یہ اپنے کسی کام کی غرض سے حد حرم سے باہر آیا اسی وقت آسمان سے پتھر آیا اور اسے بھی جہنم واصل کیا ثمودیوں میں سے سوائے حضرت صالح اور انکے مومن صحابہ کے اور کوئی بھی نہ بچا، ابو رغال کا واقعہ اس سے پہلے حدیث سے بیان ہوچکا ہے قبیلہ ثقیف جو طائف میں ہے مذکور ہے کہ یہ اسی کی نسل سے ہیں۔ عبدالرزاق میں ہے کہ اس کی قبر کے پاس سے رسول کریم ﷺ جب گذرے تو فرمایا جانتے ہو یہ کس کی قبر ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا یہ ابو دغال کی قبر ہے۔ یہ ایک ثمودی شخص تھا اپنی قوم کے عذاب کے وقت یہ حرم میں تھا اس وجہ سے عذاب الٰہی سے بچ رہا لیکن حرم شریف سے نکلا تو اسی وقت اپنی قوم کے عذاب سے یہ بھی ہلاک ہوا اور یہیں دفن کیا گیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی لکڑی بھی دفنا دی گئی۔ چناچہ لوگوں نے اس گڑھے کو کھود کر اس میں سے وہ لکڑی نکال لی اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا ثقیف قبیلہ اسی کی اولاد ہے۔ ایک مرسل حدیث میں بھی یہ ذکر موجود ہے، یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا اس کے ساتھ سونے کی شاخ دفن کردی گئی تھی یہی نشان اس کی قبر کا ہے اگر تم اسے کھودو تو وہ شاخ ضرور نکل آئے گی چناچہ بعض لوگوں نے اسے کھودا اور وہ شاخ نکال لی۔ ابو داؤد میں بھی یہ روایت ہے اور حسن عزیز ہے لیکن میں کہتا ہوں اس حدیث کے وصل کا صرف ایک طریقہ بحیر بن ابی بحیر کا ہے اور یہ صرف اسی حدیث کے ساتھ معروف ہے اور بقول حضرت امام یحییٰ بن معین سوائے اسماعیل بن ابی امیہ کے اسے اس سے اور کسی نے روایت نہیں کیا احتمال ہے کہ کہیں اس حدیث کے مرفوع کرنے میں خطاء نہ ہو یہ عبداللہ بن عمرو ہی کا قول ہو اور پھر اس صورت میں یہ بھی ممکنات سے ہے کہ انہوں نے اسے ان دو دفتروں سے لے لیا ہو جو انہیں جنگ یرموک میں ملے تھے۔ میرے استاد شیخ ابو الحجاج اس روایت کو پہلے تو حسن عزیز کہتے تھے لیکن جب میں نے ان کے سامنے یہ حجت پیش کی تو آپ نے فرمایا بیشک ان امور کا اس میں احتمال ہے۔ واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ عُلَمَاءُ التَّفْسِيرِ وَالنَّسَبِ: ثَمُودُ بْنُ عَاثِرَ بْنِ إِرَمَ بْنِ سَامَ بْنِ نُوحٍ، وَهُوَ أَخُو جَديس بْنِ عَاثِرَ، وَكَذَلِكَ قَبِيلَةُ طَسْم، كُلُّ هَؤُلَاءِ كَانُوا أَحْيَاءً مِنَ الْعَرَبِ الْعَارِبَةِ قَبْلَ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَكَانَتْ ثَمُودُ بَعْدَ عَادٍ، وَمَسَاكِنُهُمْ مَشْهُورَةٌ فِيمَا بَيْنَ الْحِجَازِ وَالشَّامِ إِلَى وَادِي الْقُرَى وَمَا حَوْلَهُ، وَقَدْ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى قُرَاهُمْ وَمَسَاكِنِهِمْ، وَهُوَ ذَاهِبٌ إِلَى تَبُوكَ سَنَةَ تِسْعٍ.
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا صَخْر بْنُ جُوَيرية، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالنَّاسِ عَلَى تَبُوكَ، نَزَلَ بِهِمُ [[في أ: "بهم على".]] الْحِجْرَ عِنْدَ بُيُوتِ ثَمُودَ، فَاسْتَسْقَى النَّاسُ مِنَ الْآبَارِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا ثَمُودُ، فَعَجَنُوا مِنْهَا وَنَصَبُوا مِنْهَا الْقُدُورَ. فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ فَأَهْرَقُوا الْقُدُورَ، وَعَلَفُوا العجينَ الإبلَ، ثُمَّ ارْتَحَلَ بِهِمْ حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ عَلَى الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا النَّاقَةُ، وَنَهَاهُمْ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ عُذِّبُوا وَقَالَ: "إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ" [[المسند (٢/١١٧) .]]
وَقَالَ [الْإِمَامُ] [[زيادة من أ.]] أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ بِالْحِجْرِ: "لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ المعذَّبين إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مثلُ مَا أَصَابَهُمْ" [[المسند (٢/٧٤) .]]
وَأَصْلُ هَذَا الْحَدِيثِ مُخَرَّج فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ [[صحيح البخاري برقم (٣٣٨١) ، وصحيح مسلم برقم (٢٩٨) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَوْسَطَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَة الْأَنْمَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى أَهْلِ الْحِجْرِ، يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رسولَ اللَّهِ ﷺ، فَنَادَى فِي النَّاسِ: "الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ". قَالَ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وهو مُمْسِكٌ بِعِيرَهُ [[في د، م: "بعنزة".]] وَهُوَ يَقُولُ: "مَا تَدْخُلُونَ عَلَى قَوْمٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ". فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ: نعجبُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "أَفَلَا أُنْبِئُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ: رَجُلٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ، وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ، فَاسْتَقِيمُوا وسَدِّدوا، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا، وَسَيَأْتِي قَوْمٌ لَا يَدْفَعُونَ عَنْ أَنْفُسِهِمْ شَيْئًا" [[المسند (٤/٢٣١) ، وقال الهيثمي في المجمع (٦/١٩٤) : "فيه عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي وقد اختلط".]]
لَمْ يُخْرِجْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ السُّنَنِ [[في م: "الكتب"، وفي ك، أ: "الكتب الستة".]] وَأَبُو كَبْشَةَ اسْمُهُ: عُمَرُ [[في ك، م: "عمرو".]] بْنُ سَعْدٍ، وَيُقَالُ: عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ: حَدَّثَنَا مَعْمَر، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْم، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالْحِجْرِ قَالَ: "لَا تَسْأَلُوا الْآيَاتِ، فَقَدْ سَأَلَهَا قَوْمُ صَالِحٍ فَكَانَتْ -يَعْنِي النَّاقَةَ -تَرِدُ مِنْ هَذَا الفَجّ، وتَصْدُر مِنْ هَذَا الْفَجِّ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَعَقَرُوهَا، وَكَانَتْ تَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمًا وَيَشْرَبُونَ لَبَنَهَا يَوْمًا، فَعَقَرُوهَا، فَأَخَذَتْهُمْ صَيْحَةٌ، أهمد [[في د: "أخمد".]] الله مَنْ تحت أَدِيمِ السَّمَاءِ مِنْهُمْ، إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ". فَقَالُوا: مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "أَبُو رِغال. فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ" [[المسند (٣/٢٩٦) وقال الهيثمي في المجمع (٦/١٩٤) : "رجال أحمد رجال الصحيح".]]
وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْكُتُبِ السِّتَّةِ، وَهُوَ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ.
فَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا﴾ أَيْ: وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى قَبِيلَةِ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا، ﴿قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ﴾ جَمِيعُ الرُّسُلِ يَدْعُونَ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٢٥] وَقَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من م.]] ﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولا أَنِ اُعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾ [النَّحْلِ:٣٦] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَدْ جَاءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ هَذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً﴾ أَيْ: قَدْ جَاءَتْكُمْ حُجَّةٌ مِنَ اللَّهِ عَلَى صِدْقِ مَا جِئْتُكُمْ بِهِ. وَكَانُوا هُمُ الَّذِينَ سَأَلُوا صَالِحًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ بِآيَةٍ، وَاقْتَرَحُوا عَلَيْهِ أَنْ تَخْرُجَ لَهُمْ مِنْ صَخْرَةٍ صمَاء عَيّنوها بِأَنْفُسِهِمْ، وَهِيَ صَخْرَةٌ مُنْفَرِدَةٌ فِي نَاحِيَةِ الحِجْر، يُقَالُ لَهَا: الكَاتبة، فَطَلَبُوا مِنْهُ [[في م: "منها".]] أَنْ يُخْرِجَ لَهُمْ مِنْهَا نَاقَةً عُشَراء تَمْخَضُ، فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ صَالِحٌ الْعُهُودَ وَالْمَوَاثِيقَ لَئِنْ أَجَابَهُمُ اللَّهُ إِلَى سُؤَالِهِمْ وَأَجَابَهُمْ إِلَى طُلْبتهم لَيُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَيَتْبَعُنَّهُ؟ فَلَمَّا أَعْطَوْهُ عَلَى ذَلِكَ عُهُودَهُمْ وَمَوَاثِيقَهُمْ، قَامَ صَالِحٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِلَى صِلَاتِهِ وَدَعَا اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ، فَتَحَرَّكَتْ تِلْكَ الصَّخْرَةُ ثُمَّ انْصَدَعَتْ عَنْ نَاقَةٍ جَوْفاء وَبْرَاء يَتَحَرَّكُ جَنِينُهَا بَيْنَ جَنْبَيْهَا، كَمَا سَأَلُوا، فَعِنْدَ ذَلِكَ آمَنَ رَئِيسُ الْقَوْمِ وَهُوَ: "جُندَع بْنُ عَمْرٍو" وَمَنْ كَانَ مَعَهُ عَلَى أَمْرِهِ [[في أ: "على دينه".]] وَأَرَادَ بَقِيَّةُ أَشْرَافِ ثَمُودَ أَنْ يُؤْمِنُوا فَصَدَّهُمْ "ذُؤاب بْنُ عَمْرِو بْنِ لَبِيدٍ" "وَالْحُبَابُ" صَاحِبُ أَوْثَانِهِمْ، وَرَبَابُ بْنُ صَمْعَرَ بْنِ جَلْهَسَ، وكان ل"جندع بْنِ عَمْرٍو" ابْنُ عَمٍّ يُقَالُ لَهُ: "شِهَابُ بْنُ خَلِيفَةَ بْنِ مُحَلَّاةَ بْنِ لَبِيدِ بْنِ حَرَاسٍ"، وَكَانَ مِنْ أَشْرَافِ ثَمُودَ وَأَفَاضِلِهَا، فَأَرَادَ أَنْ يُسْلِمَ أَيْضًا فَنَهَاهُ أُولَئِكَ الرَّهْطُ، فَأَطَاعَهُمْ، فَقَالَ فِي ذَلِكَ رَجُلٌ مِنْ مُؤْمِنِي ثَمُودَ، يُقَالُ لَهُ مِهُوَسُ [[في ك، م، أ: "مهوش".]] بْنُ عَنْمَةَ بْنِ الدُّمَيْلِ، رَحِمَهُ اللَّهُ:
وَكَانَتْ عُصْبةٌ مِنْ آلِ عَمْرو ... إِلَى دِينِ النَّبِيِّ دَعَوا شِهَابا ...
عَزيزَ ثَمُودَ كُلَّهمُ جَمِيعًا ... فَهَمّ بِأَنْ يُجِيبَ فَلَوْ [[في م: "ولو".]] أَجَابَا ...
لأصبحَ صالحٌ فِينَا عَزيزًا ... وَمَا عَدَلوا بِصَاحِبِهِمْ ذُؤابا ...
وَلَكِنَّ الغُوَاة مِنْ آلِ حُجْرٍ ... تَوَلَّوْا بَعْدَ رُشْدهم ذِئَابَا ...
فَأَقَامَتِ النَّاقَةُ وَفَصِيلُهَا بَعْدَ مَا وَضَعَتْهُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ مُدَّةً، تَشْرَبُ مَاءَ بِئْرِهَا يَوْمًا، وَتَدَعُهُ لَهُمْ يَوْمًا، وَكَانُوا يَشْرَبُونَ لَبَنَهَا يَوْمَ [[في أ: "بيوم".]] شُرْبِهَا، يَحْتَلِبُونَهَا فَيَمْلَئُونَ مَا شَاءُوا مِنْ أَوْعِيَتِهِمْ وَأَوَانِيهِمْ، كَمَا قَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ﴾ [الْقَمَرِ:٢٨] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿هَذِهِ نَاقَةٌ لَهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ﴾ [الشُّعَرَاءِ:١٥٥] وكانت تسرح في بعض تلك الأودية تَرِدُ مِنْ فَجّ وَتَصْدُرُ مِنْ غَيْرِهِ لِيَسَعَهَا؛ لأنها كانت تتضلَّع عن الْمَاءِ، وَكَانَتْ -عَلَى مَا ذُكِرَ -خَلْقًا هَائِلًا وَمَنْظَرًا رَائِعًا، إِذَا مَرَّتْ بِأَنْعَامِهِمْ نَفَرَتْ مِنْهَا. فَلَمَّا طَالَ عَلَيْهِمْ وَاشْتَدَّ تَكْذِيبُهُمْ لِصَالِحٍ النَّبِيِّ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَزَمُوا عَلَى قَتْلِهَا، لِيَسْتَأْثِرُوا بِالْمَاءِ كُلَّ يَوْمٍ، فَيُقَالُ: إِنَّهُمُ اتَّفَقُوا كُلُّهُمْ عَلَى قَتْلِهَا [[تفسير الطبري (١٢/٥٢٩) .]]
قَالَ قَتَادَةُ: بَلَغَنِي أَنَّ الَّذِي قَتَلَ النَّاقَةَ طَافَ عَلَيْهِمْ كُلِّهِمْ، أَنَّهُمْ رَاضُونَ بِقَتْلِهَا حَتَّى عَلَى النِّسَاءِ فِي خُدُورِهِنَّ، وَعَلَى الصِّبْيَانِ [أَيْضًا] [[زيادة من أ.]]
قُلْتُ: وَهَذَا هُوَ الظَّاهِرُ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: ﴿فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّاهَا﴾ [الشَّمْسِ:١٤] وَقَالَ: ﴿وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا﴾ [الْإِسْرَاءِ:٥٩] وَقَالَ: ﴿فَعَقَرُوا النَّاقَةَ﴾ فَأَسْنَدَ ذَلِكَ عَلَى مَجْمُوعِ الْقَبِيلَةِ، فَدَلَّ عَلَى رِضَا جَمِيعِهِمْ بِذَلِكَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَذَكَرَ الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ، وَغَيْرُهُ مِنْ عُلَمَاءِ التَّفْسِيرِ فِي سَبَبِ قَتْلِ النَّاقَةِ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا: "عُنَيْزَةُ ابْنَةُ غَنْمِ بْنِ مِجْلِز" وَتُكَنَّى أُمَّ غَنَمْ [[في ك، م: "أم عثمان".]] كَانَتْ عَجُوزًا كَافِرَةً، وَكَانَتْ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِصَالِحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَكَانَتْ لَهَا بَنَاتٌ حِسَانٌ وَمَالٌ جَزِيلٌ، وَكَانَ زَوْجُهَا ذُؤاب بْنُ عَمْرٍو أَحَدَ رُؤَسَاءِ ثَمُودَ، وَامْرَأَةً أُخْرَى يُقَالُ لَهَا: "صُدُوفُ بِنْتُ الْمُحَيَّا بْنِ دَهْرِ [[في أ: "زهير".]] بْنِ الْمُحَيَّا" ذَاتِ حَسَبٍ وَمَالٍ وَجِمَالٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ مِنْ ثَمُودَ، فَفَارَقَتْهُ، فَكَانَتَا تَجْعَلَانِ لِمَنِ الْتَزَمَ لَهُمَا بِقَتْلِ النَّاقَةِ، فَدَعَتْ "صُدُوفُ" رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: "الْحُبَابُ" وَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا إِنْ هُوَ عَقَرَ النَّاقَةَ، فَأَبَى عَلَيْهَا. فَدَعَتِ ابْنَ عَمٍّ لَهَا يُقَالُ لَهُ: "مِصْدَعُ بْنُ مِهْرَجِ بْنِ الْمُحَيَّا"، فَأَجَابَهَا إِلَى ذَلِكَ -وَدَعَتْ "عُنَيْزَةُ بِنْتُ غَنْمٍ" قِدَارَ بْنَ سَالِفِ بْنَ جُنْدَع [[في أ: "جذع".]] وَكَانَ رَجُلًا أَحْمَرَ أَزْرَقَ قَصِيرًا، يَزْعُمُونَ أَنَّهُ كَانَ وَلَدَ زَنية، وَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ مِنْ أَبِيهِ الَّذِي يُنْسَبُ إِلَيْهِ، وَهُوَ سَالِفٌ، وَإِنَّمَا هُوَ [[في أ: "كان".]] مِنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: "صِهْيَادٌ" [[في م: "صبيان"، وفي ك: "ضبيان".]] وَلَكِنْ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ "سَالِفٍ"، وَقَالَتْ لَهُ: أُعْطِيكَ أَيَّ بَنَاتِي شئتَ عَلَى أَنْ تَعْقِرَ [[في ك، م: "يعقر".]] النَّاقَةَ! فَعِنْدَ ذَلِكَ، انْطَلَقَ "قِدَارُ بْنُ سَالِفٍ" "وَمِصْدَعُ بْنُ مِهْرَجٍ"، فَاسْتَفَزَّا غُواة مِنْ ثَمُودَ، فَاتَّبَعَهُمَا سَبْعَةُ نَفَرٍ، فَصَارُوا تِسْعَةَ رَهْطٍ، وَهُمُ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الأرْضِ وَلا يُصْلِحُونَ﴾ [النَّمْلِ:٤٨] وَكَانُوا رُؤَسَاءَ فِي قَوْمِهِمْ، فَاسْتَمَالُوا الْقَبِيلَةَ الْكَافِرَةَ بِكَمَالِهَا، فَطَاوَعَتْهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَانْطَلَقُوا فَرَصَدُوا النَّاقَةَ حِينَ صَدَرَتْ عَنِ الْمَاءِ، وَقَدْ كَمَنَ لَهَا "قِدَارٌ" فِي أَصْلِ صَخْرَةٍ عَلَى طَرِيقِهَا، وَكَمِنَ لَهَا "مِصْدَعٌ" فِي أَصْلِ أُخْرَى، فَمَرَّتْ عَلَى "مِصْدَعٍ" فَرَمَاهَا بِسَهْمٍ، فَانْتَظَمَ بِهِ عضَلَة سَاقِهَا وَخَرَجَتْ "أُمُّ غَنَمْ عُنَيْزَةُ"، وَأَمَرَتِ ابْنَتَهَا وَكَانَتْ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْهًا، فَسَفَرَتْ عَنْ وَجْهِهَا لِقِدَارٍ وَذَمَّرَتْهُ فَشَدَّ عَلَى النَّاقَةِ بِالسَّيْفِ، فكسفَ [[في ك، م، د: "فكشف"، وفي أ: "فكشف عن".]] عُرْقُوبَهَا، فَخَرَّتْ سَاقِطَةً إِلَى الْأَرْضِ، وَرَغَتْ رَغاة وَاحِدَةً تُحَذِّرُ سَقْبَها، ثُمَّ طَعَنَ فِي لَبَّتها فَنَحَرَهَا، وَانْطَلَقَ سَقْبَها -وَهُوَ فَصِيلُهَا -حَتَّى أَتَى جَبَلًا مَنِيعًا، فَصَعَدَ أَعْلَى صَخْرَةٍ فِيهِ وَرَغَا -فَرَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَر، عَمَّنْ سَمِعَ الحسن البصري أنه قال: يَا رَبِّ أَيْنَ أُمِّي؟ وَيُقَالُ: إِنَّهُ رَغَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. وَإِنَّهُ دَخَلَ فِي صَخْرَةٍ فَغَابَ فِيهَا، وَيُقَالُ: بَلِ اتَّبَعُوهُ فَعَقَرُوهُ مَعَ أُمِّهِ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ [[تفسير الطبري (١٢/٥٣٦) .]]
فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ وَفَرَغُوا مِنْ عَقْرِ النَّاقَةِ، بَلَغَ الْخَبَرُ صَالِحًا، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَجَاءَهُمْ وَهُمْ مُجْتَمِعُونَ، فَلَمَّا رَأَى النَّاقَةَ بَكَى وَقَالَ: ﴿تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ [ذَلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ [[زيادة من ك، م، وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [هُودٍ:٦٥] وَكَانَ قَتْلُهُمُ النَّاقَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، فَلَمَّا أَمْسَى أُولَئِكَ التِّسْعَةُ الرَّهْطُ عَزَمُوا عَلَى قَتْلِ صَالِحٍ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ك، م.]] وَقَالُوا: إِنْ كَانَ صَادِقًا عَجَّلناه قَبْلَنَا، وَإِنْ كَانَ كَاذِبًا أَلْحَقْنَاهُ بِنَاقَتِهِ! ﴿قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ. وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ * فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَاهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ * فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُوا﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] الْآيَةَ. [النَّمْلِ:٤٩-٥٢]
فَلَمَّا عَزَمُوا على ذلك، وتواطؤوا عَلَيْهِ، وَجَاءُوا مِنَ اللَّيْلِ لِيَفْتِكُوا بِنَبِيِّ اللَّهِ صَالِحٍ، أَرْسَلَ اللَّهُ، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى، وَلَهُ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ، عَلَيْهِمْ حِجَارَةً فرضَختهم سَلَفًا وَتَعْجِيلًا قَبْلَ قَوْمِهِمْ، وَأَصْبَحَ ثَمُودُ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَهُوَ الْيَوْمُ الْأَوَّلُ مِنْ أَيَّامِ النَّظرة، وَوُجُوهُهُمْ مُصْفَرَّةٌ كَمَا وَعَدَهُمْ صَالِحٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَصْبَحُوا فِي الْيَوْمِ الثَّانِي مِنْ أَيَّامِ التَّأْجِيلِ، وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، وَوُجُوهُهُمْ مُحَمَّرَةٌ، وَأَصْبَحُوا [[في م: "واجتمعوا".]] فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ مِنْ أَيَّامِ الْمَتَاعِ [[في ك: "التمتع".]] وَهُوَ يَوْمُ السَّبْتِ، وَوُجُوهُهُمْ مُسَوَّدَةٌ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا مِنْ يَوْمِ الْأَحَدِ وَقَدْ تحَنَّطوا وَقَعَدُوا يَنْتَظِرُونَ نِقْمَةَ اللَّهِ وَعَذَابَهُ، عِيَاذًا بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ، لَا يَدْرُونَ مَاذَا يُفْعَلُ بِهِمْ، ولا كيف يأتيهم العذاب؟ و [قد] [[زيادة من م.]] أَشْرَقَتِ الشَّمْسُ، جَاءَتْهُمْ صَيْحَةٌ مِنَ السَّمَاءِ ورَجْفة شَدِيدَةٌ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، فَفَاضَتِ الْأَرْوَاحُ وَزَهَقَتِ النُّفُوسُ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ ﴿فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ﴾ أَيْ: صَرْعَى لَا أَرْوَاحَ فِيهِمْ، وَلَمْ يُفْلِتْ مِنْهُمْ أَحَدٌ، لَا صَغِيرٌ وَلَا كَبِيرٌ، لَا ذَكَرٌ وَلَا أُنْثَى -قَالُوا: إِلَّا جَارِيَةً كانت مقعدة -واسمها "كلبة بنة السّلْق"، وَيُقَالُ لَهَا: "الزُّرَيْقَةُ" [[في م: "الذريعة".]] -وَكَانَتْ كَافِرَةً شَدِيدَةَ الْعَدَاوَةِ لِصَالِحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَلَمَّا رَأَتْ مَا رَأَتْ مِنَ الْعَذَابِ، أُطلِقَت رِجْلَاهَا، فَقَامَتْ تَسْعَى كَأَسْرَعِ شَيْءٍ، فَأَتَتْ حَيًّا مِنَ الْأَحْيَاءِ فَأَخْبَرَتْهُمْ بِمَا رَأَتْ وَمَا حَلَّ بِقَوْمِهَا، ثُمَّ اسْتَسْقَتْهُمْ مِنَ الْمَاءِ، فَلَمَّا شَرِبَتْ، مَاتَتْ.
قَالَ عُلَمَاءُ التَّفْسِيرِ: وَلَمْ يَبْقَ مِنْ ذُرِّيَّةِ ثَمُودَ أَحَدٌ، سِوَى صَالِحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَمَنِ اتَّبَعَهُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، إِلَّا أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: "أَبُو رِغال"، كَانَ لَمَّا وَقَعَتِ النِّقْمَةُ بِقَوْمِهِ مقيما فِي الْحَرَمِ، فَلَمْ يَصِبْهُ شَيْءٌ، فَلَمَّا خَرَجَ فِي بَعْضِ الْأَيَّامِ إِلَى الْحِلِّ، جَاءَهُ حَجَرٌ مِنَ السَّمَاءِ فَقَتَلَهُ.
وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ الْقِصَّةِ حَدِيثُ "جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ" فِي ذَلِكَ، وَذَكَرُوا أَنَّ أَبَا رِغَالٍ هَذَا هُوَ والد ثَقِيفٍ" الَّذِينَ كَانُوا يَسْكُنُونَ الطَّائِفَ [[انظر: "الكلام على أبي رغال، وترجيح أنه كان دليل أبرهة في تفسير سورة النساء آية: ٤.]]
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: قَالَ مَعْمَر: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ؛ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَرَّ بِقَبْرِ أَبِي رِغَالٍ فَقَالَ: "أَتُدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ " فَقَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ، رَجُلٍ مِنْ ثَمُودَ، كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ، فَمَنَعَهُ حرمُ اللَّهِ عَذَابَ اللَّهِ. فَلَمَّا خَرَجَ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ، فَدُفِنَ هَاهُنَا، وَدُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَنَزَلَ الْقَوْمُ فَابْتَدَرُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ، فَبَحَثُوا عَنْهُ، فَاسْتَخْرَجُوا الْغُصْنَ".
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَبُو رِغَالٍ: أَبُو ثَقِيفٍ [[المصنف برقم (٢٠٩٨٩) ، وتفسير عبد الرزاق (١/١١٩، ٢٢٠) .]]
هَذَا مُرْسَلٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ مُتَّصِلًا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، كَمَا قَالَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ بُجَير بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ، حِينَ خَرَجْنَا مَعَهُ إِلَى الطَّائِفِ، فَمَرَرْنَا بِقَبْرٍ فَقَالَ: "هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ، وَهُوَ أَبُو ثَقِيفٍ، وَكَانَ مِنْ ثَمُودَ، وَكَانَ بِهَذَا الْحَرَمِ فَدَفَعَ [[في ك: "يدفع".]] عَنْهُ، فَلَمَّا خَرَجَ [مِنْهُ] [[زيادة من ك، م.]] أَصَابَتْهُ النِّقْمَةُ الَّتِي أَصَابَتْ قَوْمَهُ بِهَذَا الْمَكَانِ، فَدُفِنَ فِيهِ. وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ دُفِنَ مَعَهُ غصن من ذهب، إن أنتم نبشم عَنْهُ أَصَبْتُمُوهُ [مَعَهُ] [[زيادة من أ.]] فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ [[في أ: "القوم".]] فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهُ الْغُصْنَ".
وَهَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِهِ [[سنن أبي داود برقم (٣٠٨٨) .]]
قَالَ شَيْخُنَا أَبُو الْحَجَّاجِ الْمِزِيُّ: وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ عَزِيزٌ [[في أ: "غريب".]] [[تهذيب الكمال (٤/١١) .]]
قُلْتُ: تَفَرَّدَ بِوَصْلِهِ "بُجَيْر بْنُ أَبِي بُجَيْرٍ" هَذَا، وَهُوَ شَيْخٌ لَا يُعْرَفُ إلا بهذا الحديث. قال يحيى ابن مَعِينٍ: وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرَ إِسْمَاعِيلِ بْنِ أُمَيَّةَ.
قُلْتُ: وَعَلَى هَذَا، فَيُخْشَى أَنْ يَكُونَ وَهِمَ فِي رَفْعِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَإِنَّمَا يَكُونُ مِنْ كَلَامِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، مِمَّا أَخَذَهُ مِنَ الزَّامِلَتَيْنِ.
قَالَ شَيْخُنَا أَبُو الْحَجَّاجِ، بَعْدَ أَنْ عَرَضْتُ عَلَيْهِ ذَلِكَ: وَهَذَا مُحْتَمَلٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى:
فَأَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دَارِهِمْ جَٰثِمِينَ
So the earthquake seized them, and they became within their home [corpses] fallen prone.
تو ان کو بھونچال نے آ پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے
سرانجام زمین لرزه آنها را فرا گرفت؛ و صبحگاهان، (تنها) جسم بیجانشان در خانههاشان باقی مانده بود.
Tafsir Ibn Kathir
And to Thamud (people, We sent) their brother Salih. He said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Indeed there has come to you a clear sign from your Lord. This she-camel of Allah is a sign unto you; so you leave her to graze in Allah's earth, and touch her not with harm, lest a painful torment should seize you (73)And remember when He made you successors (generations) after 'Ad and gave you habitations in the land, you build for yourselves palaces in plains, and carve out homes in the mountains. So remember the graces (bestowed upon you) from Allah, and do not go about making mischief on the earth (74)The leaders of those who were arrogant among his people said to those who were counted weak – to such of them as believed: "Know you that Salih is one sent from his Lord." They said: "We indeed believe in that with which he has been sent. (75)Those who were arrogant said: "Verily, we disbelieve in that which you believe in. (76)So they killed the she-camel and insolently defied the commandment of their Lord, and said: "O Salih! Bring about your threats if you are indeed one of the Messengers (of Allah). (77)So the earthquake seized them, and they lay (dead), prostrate in their homes (78)
Thamud: Their Land and Their Lineage
Scholars of Tafsir and genealogy say that (the tribe of Thamud descended from) Thamud bin 'Athir bin Iram bin Sam bin Nuh, and he is brother of Jadis son of 'Athir, similarly the tribe of Tasm, and they were from the ancient Arabs, Al-'Aribah, before the time of Ibrahim, Thamud came after 'Ad. They dwelled between the area of the Hijaz (Western Arabia) and Ash-Sham (Greater Syria). The Messenger of Allah ﷺ passed by the area and ruins of Thamud when he went to Tabuk (in northern Arabia) during the ninth year of Hijrah.
Imam Ahmad recorded that Ibn 'Umar said, "When the Messenger of Allah ﷺ went to the area of Al-Hijr in Tabuk with the people, he camped near the homes of Thamud, in Al-Hijr and the people brought water from the wells that Thamud used before. They used that water to make dough and placed the pots (on fire) for cooking. However, the Prophet ﷺ commanded them to spill the contents of the pots and to give the dough to their camels. He then marched forth with them from that area to another area, near the well that the camel (as will follow) used to drink from. He forbade the Companions from entering the area where people were tormented, saying,
إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِم
(I fear that what befell them might befall you as well. Therefore, do not enter on them.)"
Ahmad narrated that 'Abdullah bin 'Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said while in the Hijr area,
لَا تَدْخُلُوا عَلَى هؤُلَاءِ الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلَ مَا أَصَابَهُم
(Do not enter on these who were tormented, unless you do so while crying. If you are not crying, then do not enter on them, so that what befell them does not befall you, as well.) The basis of this Hadith is mentioned in Two Sahihs.
The Story of Prophet Salih and Thamud
Allah said,
وَإِلَىٰ ثَمُودَ
(And to Thamud), meaning, to the tribe of Thamud, We sent their brother Salih,
قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ
(He said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him.")
All Allah's Messengers called to the worship of Allah alone without partners. Allah said in other Ayat,
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ
(And We did not send any Messenger before you but We revealed to him (saying): "None has the right to be worshipped but I, so worship Me.")[21:25] and,
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ
(And verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah (Alone), and avoid Taghut (all false deities)")[16:36].
Thamud asked that a Camel appear from a Stone, and it did
Prophet Salih said,
قَدْ جَاءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ هَٰذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً
("Indeed there has come to you a clear sign from your Lord. This she-camel of Allah is a sign unto you;")
meaning, a miracle has come to you from Allah testifying to the truth of what I came to you with.
Salih's people asked him to produce a miracle and suggested a certain solid rock that they chose, which stood lonely in the area of Hijr, and which was called Al-Katibah. They asked him to bring a pregnant camel out of that stone. Salih took their covenant and promises that if Allah answers their challenge, they would believe and follow him. When they gave him their oaths and promises to that, Salih started praying and invoked Allah (to produce that miracle). All of a sudden, the stone moved and broke apart, producing a she-camel with thick wool. It was pregnant and its fetus was visibly moving in its belly, exactly as Salih's people asked. This is when their chief, Jundu' bin 'Amr, and several who followed him believed. The rest of the noblemen of Thamud wanted to believe as well, but Dhu'ab bin 'Amr bin Labid, Al-Habbab, who tended their idols, and Rabbab bin Sum'ar bin Jilhis stopped them. One of the cousins of Jundu' bin 'Amr, whose name was Shihab bin Khalifah bin Mikhlat bin Labid bin Jawwas, was one of the leaders of Thamud, and he also wanted to accept the message. However, the chiefs whom we mentioned prevented him, and he conceded to their promptings.
The camel remained in Thamud, as well as, its offspring after she delivered it before them. The camel used to drink from its well on one day and leave the well for Thamud the next day. They also used to drink its milk, for on the days she drank water, they used to milk her and fill their containers from its milk. Allah said in other Ayat,
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ
(And inform them that the water is to be shared between (her and) them, each one's right to drink being established (by turns))[54:28] and,
هَٰذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(Here is a she-camel: it has a right to drink (water), and you have a right to drink (water)(each) on a day, known)[26:155]
The camel used to graze in some of their valleys, going through a pass and coming out through another pass. She did that so as to be able to move easily, because she used to drink a lot of water. She was a tremendous animal that had a strikingly beautiful appearance. When she used to pass by their cattle, the cattle would be afraid of her. When this matter continued for a long time and Thamud's rejection of Salih became intense, they intended to kill her so that they could take the water for themselves every day. It was said that all of them (the disbelievers of Thamud) conspired to kill the camel. Qatadah said that he was told that, "The designated killer of the camel approached them all, including women in their rooms and children, and found out that all of them agreed to kill her." This fact is apparent from the wording of the Ayat,
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا
(Then they denied him and they killed it. So their Lord destroyed them because of their sin, and made them equal in destruction!)[91:14], and,
وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا
(And We sent the she-camel to Thamud as a clear sign, but they did her wrong.)[17:59] Allah said here,
فَعَقَرُوا النَّاقَةَ
(So they killed the she-camel)
Therefore, these Ayat stated that the entire tribe shared in agreeing to this crime, and Allah knows best.
Thamud kills the She-Camel
Imam Abu Ja'far Ibn Jarir and other scholars of Tafsir said that the reason behind killing the camel was that a disbelieving old woman among them named Umm Ghanm 'Unayzah, the daughter of Ghanm bin Mijlaz, had the severest enmity among Thamud towards Salih, peace be upon him. She had beautiful daughters and she was wealthy, and Dhu'ab bin 'Amr, one of the leaders of Thamud, was her husband.
There was another noblewoman whose name was Saduf bint Al-Muhayya bin Dahr bin Al-Muhayya, who was of noble family, wealthy and beautiful. She was married to a Muslim man from Thamud, but she left him. These two women offered a prize for those who swore to them that they would kill the camel. Once, Saduf summoned a man called Al-Habbab and offered herself to him if he would kill the camel, but he refused. So she called a cousin of hers whose name was Musaddi' bin Mihraj bin Al-Muhayya, and he agreed. As for 'Unayzah bint Ghanm, she called Qudar bin Salif bin Jundu', a short person with red-blue skin, a bastard, according to them. Qudar was not the son of his claimed father, Salif, but the son of another man called, Suhyad. However, he was born on Salif's bed (and thus named after him). 'Unayzah said to Qudar, "I will give you any of my daughters you wish, if you kill the camel." Qudar bin Salif and Musaddi' bin Mihraj went along and recruited several mischievous persons from Thamud to kill the camel. Seven more from Thamud agreed, and the group became nine, as Allah described, when He said,
وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ
(And there were in the city nine men, who made mischief in the land, and would not reform.)[27:48]
These nine men were chiefs of their people, and they lured the entire tribe into agreeing to kill the camel. So they waited until the camel left the water well, where Qudar waited beside a rock on its path, while Musaddi' waited at another rock. When the camel passed by Musaddi' he shot an arrow at her and the arrow pierced her leg. At that time, 'Unayzah came out and ordered her daughter, who was among the most beautiful women, to uncover her face for Qudar, encouraging Qudar to swing his sword, hitting the camel on her knee. So she fell to the ground and screamed once to warn her offspring. Qudar stabbed her in her neck and slaughtered her. Her offspring went up a high rock and screamed. 'Abdur-Razzaq recorded from Ma'mar that someone reported from Al-Hasan Al-Basari that the offspring said, "O my Lord! Where is my mother?" It was said that her offspring screamed thrice and entered a rock and vanished in it, or, they followed it and killed it together with its mother. Allah knows best. When they finished the camel off and the news reached Prophet Salih, he came to them while they were gathered. When he saw the camel, he cried and proclaimed,
تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ
("Enjoy yourselves in your homes for three days.")[11:65]
The Wicked Ones Plot to Kill Prophet Salih, But the Torment descended on Them
The nine wicked persons killed the camel on a Wednesday, and that night, they conspired to kill Salih. They said, "If he is truthful, we should finish him before we are finished. If he is a liar, we will make him follow his camel."
قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ - وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
(They said: "Swear one to another by Allah that we shall make a secret night attack on him and his household, and thereafter we will surely say to his near relatives: 'We witnessed not the destruction of his household, and verily, we are telling the truth.'" So they plotted a plot, and We planned a plan, while they perceived not.)[27:49-50]
When they conspired to kill Salih and gathered at night to carry out their plot, Allah, to Whom belongs all might and Who protects His Messengers, rained down stones that smashed the heads of these nine people before the rest of the tribe. On Thursday, the first of the three days of respite, the people woke up and their faces were pale (yellow), just as Prophet Salih had promised them. On the second day of respite, Friday, they woke up and found their faces had turned red. On the third day of the respite, Saturday, they woke up with their faces black. On Sunday, they wore the fragrance of Hanut [the perfume for enshrouding the dead before burial] and awaited Allah's torment and revenge, we seek refuge with Allah from it. They did not know what will be done to them or how and from where the torment would come. When the sun rose, the Sayhah (loud cry) came from the sky and a severe tremor overtook them from below; the souls were captured and the bodies became lifeless, all in an hour.
فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
(And they lay (dead), prostrate in their homes.)
They became dead and lifeless and none among them, whether young, old, male or female, escaped the torment.
The scholars of Tafsir said that none from the offspring of Thamud remained, except Prophet Salih and those who believed in him. A disbelieving man called Abu Righal was in the Sacred Area at the time and the torment that befell his people did not touch him. When he went out of the Sacred Area one day, a stone fell from the sky and killed him. 'Abdur-Razzaq narrated that Ma'mar said that Isma'il bin Umayyah said that the Prophet ﷺ passed by the gravesite of Abu Righal and asked the Companions if they knew whose grave it was. They said, "Allah and His Messenger know better." He said,
أَتَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟
قالوا الله ورسوله أعلم، قال
هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ رَجُلٍ مِنْ ثَمُودَ كَانَ فِي حَرَمِ اللهِ فَمَنَعَهُ حَرَمُ اللهِ عَذَابَ اللهِ، فَلَمَّا خَرَجَ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَومهُ فَدُفِنَ هَاهُنَا وَدُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَنَزَلَ الْقَوْمُ فَابْتَدَرُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ فَبَحَثُوا عَنْهُ فَاسْتَخْرَجُوا الْغُصْنَ
(This is the grave of Abu Righal, a man from Thamud. He was in the Sacred Area of Allah and this fact saved him from receiving Allah's torment. When he went out of the Sacred Area, what befell his people also befell him. He was buried here along with a branch made from gold.)
So the people used their swords and looked for the golden branch and found it. 'Abdur-Razzaq narrated that Ma'mar said that Az-Zuhri said that Abu Righal is the father of the tribe of Thaqif.
Tafsir Ibn Kathir
ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح۔ یہ بھائی تھا جد بس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ009ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گذرے تھے۔ مسند احمد میں ہے کہ جب حضور ﷺ تبوک کے میدان میں اترے لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں کو کھلا دیئے جائیں۔ پھر فرمایا یہاں سے کوچ کرو اور اس کنوئیں کے پاس ٹھہرو جس سے حضرت صالح کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور فرمایا آئندہ عذاب والی بستیوں میں پڑاؤ نہ کیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی عذاب کے شکار تم بھی بن جاؤ۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کی بستیوں سے روتے اور ڈرتے ہوئے گذرو کہ مبادا وہی عذاب تم پر آجائیں جو ان پر آئے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ غزوہ تبوک میں لوگ بہ عجلت ہجر کے لوگوں کے گھروں کی طرف لپکے۔ آپ نے اسی وقت یہ آواز بلند کرنے کہا حدیث (الصلوۃ جامعتہ) جب لوگ جمع ہوگئے تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے گھروں میں کیوں گھسے جا رہے ہو جن پر غضب الٰہی نازل ہوا۔ راوی حدیث ابو کبشہ فرماتے ہیں رسول اللہ کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا۔ میں نے یہ سن کر عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم تو صرف تعجب کے طور پر انہیں دیکھنے چلے گئے تھے آپ نے فرمایا میں تمہیں اس سے بھی تعجب خیز چیز بتارہا ہوں تم میں سے ہی ایک شخص ہے جو تمہیں وہ چیز بتارہا ہے جو گذر چکیں اور وہ خبریں دے رہا ہے جو تمہارے سامنے ہیں اور جو تمہارے بعد ہونے والی ہیں پس تم ٹھیک ٹھاک رہو اور سیدھے چلے جاؤ تمہیں عذاب کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں یاد رکھو ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی جانوں سے کسی چیز کو دفع نہ کرسکیں گے۔ حضرت ابو کبشہ کا نام عمر بن سعد ہے اور کہا گیا ہے کہ عامر بن سعد ہے واللہ اعلم۔ ایک روایت میں ہے کہ ہجر کی بستی کے پاس آتے ہی حضور ﷺ نے فرمایا معجزے نہ طلب کرو دیکھو قوم صالح نے معجزہ طلب کیا جو ظاہر ہوا یعنی اونٹنی جو اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے جاتی تھی لیکن ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتاب کی اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی تھی اور ایک دن یہ سب اس کا دودھ پیتے تھے اس اونٹنی کو مار ڈالنے پر ان پر ایک چیخ آئی اور یہ جتنے بھی تھے سب کے سب ڈھیر ہوگئے۔ بجز اس ایک شخص کے جو حرم شریف میں تھا لوگوں نے پوچھا اس کا نام کیا تھا ؟ فرمایا ابو غال یہ بھی جب حد حرم سے باہر آیا تو اسے بھی وہی عذاب ہوا۔ یہ حدیث صحاح ستہ میں تو نہیں لیکن ہے مسلم شریف کی شرط پر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ثمودی قبیلے کی طرف سے ان کے بھائی حضرت صالح ؑ کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ تمام نبیوں کی طرح آپ نے بھی اپنی امت کو سب سے پہلے توحید الٰہی سکھائی کہ فقط اس کی عبادت کریں اس کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے جتنے بھی رسول آئے سب کی طرف یہی وحی کی جاتی رہی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، صرف میری ہی عبادت کرو اور ارشاد ہے ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت سے بچو۔ حضرت صالح فرماتے ہیں لوگوں تمہارے پاس دلیل الٰہی آچکی جس میں میری سچائی ظاہر ہے۔ ان لوگوں نے حضرت صالح سے یہ معجزہ طلب کیا تھا کہ ایک سنگلاخ چٹان جو ان کی بستی کے ایک کنارے پڑی تھی جس کا نام کاتبہ تھا اس سے آپ ایک اونٹنی نکلایں جو گابھن ہو (دودھ دینے والی اونٹنی جو دس ماہ کی حاملہ ہو) حضرت صالح نے ان سے فرمایا کہ اگر ایسا ہوجائے تو تم ایمان قبول کر لوگے ؟ انہوں نے پختہ وعدے کئے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ حضرت صالح ؑ نے نماز پڑھی دعا کی ان سب کے دیکھتے ہی چٹان نے ہلنا شروع کیا اور چٹخ گئی اس کے بیچ سے ایک اونٹنی نمودار ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی ان کے سردار جندع بن عمرو نے تو اسلام قبول کرلیا اور اس کے ساتھیوں نے بھی۔ باقی جو اور سردار تھے وہ ایمان لانے کیلئے تیار تھے مگر ذواب بن عمرو بن لبید نے اور حباب نے جو بتوں کا مجاور تھا اور رباب بن ہمر بن جلمس وغیرہ نے انہیں روک دیا۔ حضرت جندع کا بھتیجا شہاب نامی تھا یہ ثمودیوں کا بڑا عالم فاضل اور شریف شخص تھا اس نے بھی ایمان لانے کا ارادہ کرلیا تھا لیکن انہی بدبختوں نے اسے بھی روکا جس پر ایک مومن ثمودی مہوش بن غنمہ نے کہا کہ آل عمرو نے شہاب کو دین حق کی دعوت دی قریب تھا کہ وہ مشرف باسلام ہوجائے اور اگر ہوجاتا تو اس کی عزت سیوا ہوجاتی مگر بدبختوں نے اسے روک دیا اور نیکی سے ہٹا کر بدی پر لگا دیا۔ اس حاملہ اونٹنی کو اس وقت بچہ ہوا ایک مدت تک دونوں ان میں رہے۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی۔ اس دن اس قدر دودھ دیتی کہ یہ لوگ اپنے سب برتن بھر لیتے جیسے قرآن میں ہے آیت (وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاۗءَ قِسْمَةٌۢ بَيْنَهُمْ ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ 28) 54۔ القمر :28) ، اور آیت میں ہے (قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ01505ۚ) 26۔ الشعراء :155) یہ ہے اونٹنی اس کے اور تمہارے پانی پینے کے دن تقسیم شدہ اور مقررہ ہیں۔ یہ اونٹنی ثمودیوں کی بستی حجر کے اردگرد چرتی چگتی تھی ایک راہ جاتی دوسری راہ آتی یہ بہت ہی موٹی تازی اور ہیبت والی اونٹنی تھی جس راہ سے گذرتی سب جانور ادھر ادھر ہوجاتے۔ کچھ زمانہ گذرنے کے بعد ان اوباشوں نے ارادہ کیا کہ اس کو مار ڈالیں تاکہ ہر دن ان کے جانور برابر پانی پی سکیں ان اوباشوں کے ارادوں پر سب نے اتفاق کیا یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور انہیں شہ دی کہ ہاں اس پاپ کو کاٹ دو۔ اس اونٹنی کو مار ڈالو۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے آیت (فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا001فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا 14۽) 91۔ الشمس :14) ، قوم صالح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کے بدلے ان پر ہلاکت نازل فرمائی اور ان سب کو یکساں کردیا۔ ایک اور آیت میں ہے کہ ہم نے ثمودیوں کو اونٹنی دی جو ان کے لئے پوری سمجھ بوجھ کی چیز تھی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا یہاں بھی فرمایا کہ انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ پس اس فعل کی اسناد سارے ہی قبیلے کی طرف ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے سب اس امر پر متفق تھے۔ امام ابن جریر وغیرہ کا فرمان ہے کہ اس کے قتل کی وجہ یہ ہوئی کہ عنیزہ بنت عنم بن مجلز جو ایک بڑھیا کافرہ تھی اور حضرت صالح سے بڑی دشمنی رکھتی تھی اس کی لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں اور تھی بھی یہ عورت مالدار۔ اس کے خاوند کا نام ذواب بن عمرو تھا جو ثمودیوں کا ایک سردار تھا یہ بھی کافر تھا۔ اسی طرح ایک اور عورت تھی جس کا نام صدقہ بنت محیا بن زہیر بن مختار تھا۔ یہ بھی حسن کے علاوہ مال اور حسب نسب میں بڑھی ہوئی تھی اس کے خاوند مسلمان ہوگئے تھے ؓ۔ اس سرکش عورت نے ان کو چھوڑ دیا۔ اب یہ دونوں عورتیں لوگوں کو اکساتی تھیں کہ کوئی آمادہ ہوجائے اور حضرت صالح ؑ کی اونٹنی کو قتل کر دے، صدقہ نامی عورت نے ایک شخص حباب کو بلایا اور اس سے کہا کہ میں تیرے گھر آجاؤں گی اگر تو اس اونٹنی کو قتل کر دے لیکن اس نے انکار کردیا، اس پر اس نے مصدع بن مہرج بن محیا کو بلایا جو اس کے چچا کا لڑکا تھا اور اسے بھی اسی بات پر آمادہ کیا۔ یہ خبیث اس کے حسن و جمال کا مفتوں تھا اس برائی پر آمادہ ہوگیا۔ ادھر عنیزہ نے قدار بن سالف بن جذع کو بلا کر اس سے کہا کہ میری ان خوبصورت نوجوان لڑکیوں میں سے جسے تو پسند کرے اسے میں تجھے دے دو گی اسی شرط پر کہ تو اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ ڈال۔ یہ خبیث بھی آمادہ ہوگیا یہ تھا بھی زنا کاری کا بچہ، سالف کی اولاد میں نہ تھا، جیسان نامی ایک شخص سے اس کی بدکار ماں نے زنا کاری کی تھی اسی سے یہ پیدا ہوا تھا اب دونوں چلے اور اہل ثمود اور دوسرے شریروں کو بھی اس پر آمادہ کیا چناچہ سات شخص اور بھی اس پر آمادہ ہوگئے اور یہ نو فسادی شخص اس بد ارادے پر تل گئے جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ 48) 27۔ النمل :48) اس شہر میں نو شخص تھے جن میں اصلاح کا مادہ ہی نہ تھا سراسر فسادی ہی تھے۔ چونکہ یہ لوگ قوم کے سردار تھے ان کے کہنے سننے سے تمام کفار بھی اس پر راضی ہوگئے اور اونٹنی کے واپس آنے کا راستے میں یہ دونوں شریر اپنی اپنی کمین گاہوں میں بیٹھ گئے جب اونٹنی نکلی تو پہلے مصدع نے اسے تیر مارا جو اس کی ران کی ہڈی میں پیوت ہوگیا اسی وقت عنیزہ نے اپنی خوبصورت لڑکی کو کھلے منہ قدار کے پاس بھیجا اس نے کہا قدار کیا دیکھتے ہو اٹھو اور اس کا کام تمام کردو۔ یہ اس کا منہ دیکھتے ہی دوڑا اور اس کے دونوں پچھلے پاؤں کاٹ دیئے اونٹنی چکرا کر گری اور ایک آواز نکلالی جس سے اس کا بچہ ہوشیار ہوگیا اور اس راستے کو چھوڑ کر پہاڑی پر چلا گیا یہاں قدار نے اونٹنی کا گلا کاٹ دیا اور وہ مرگئی اس کا بچہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیا اور تین مربتہ بلبلایا۔ حسن بصری فرماتے ہیں اس نے اللہ کے سامنے اپنی ماں کے قتل کی فریاد کی پھر جس چٹان سے نکلا تھا اسی میں سما گیا۔ یہ روایت بھی ہے کہ اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ ہی ذبح کردیا گیا تھا۔ واللہ اعلم۔ حضرت صالح ؑ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ گھبرائے ہوئے موقعہ پر پہنچے دیکھا کہ اونٹنی بےجان پڑی ہے آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا بس اب تین دن میں تم ہلاک کردیئے جاؤ گے، ہوا بھی یہی۔ بدھ کے دن ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اور چونکہ کوئی عذاب نہ آیا اس لئے اترا گئے اور ان مفسدوں نے ارادہ کرلیا کہ آج شام کو صالح کو بھی مار ڈالو اگر واقعی ہم ہلاک ہونے والے ہی ہیں تو پھر یہ کیوں بچا رہے ؟ اور اگر ہم پر عذاب نہیں آتا تو بھی آؤ روز روز کے اس جھنجھٹ سے پاک ہوجائیں۔ چناچہ قرآن کریم کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے مل کر مشورہ کیا اور پھر قسمیں کھا کر اقرار کیا کہ رات کو صالح کے گھر پر چھاپہ مارو اور اسے اور اس کے گھرانے کو تہ تیغ کرو اور صاف انکار کردو کہ ہمیں کیا خبر کہ کس نے مارا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے ان کے اس مکر کے مقابل ہم نے بھی مکر کیا اور یہ ہمارے مکر سے بالکل بیخبر رہے اب انجام دیکھ لو کہ کیا ہوا ؟ رات کو یہ اپنی بدنیتی سے حضرت صالح کے گھر کی طرف چلے آپ کا گھر پہاڑی کی بلندی پر تھا ابھی یہ اوپر چڑھ ہی رہے تھے جو اوپر سے ایک چٹان پتھر کی لڑھکتی ہوئی آئی اور سب کو ہی پیس ڈالا۔ ان کا تو یہ حشر ہوا ادھر جمعرات کے دن تمام ثمودیوں کے چہرے زرد پڑگئے جمعہ کے دن ان کے چہرے آگ جیسے سرخ ہوگئے اور ہفتے کے دن جو مہلت کا آخری دن تھا ان کے منہ سیاہ ہوگئے تین دن جب گذر گئے تو چوتھا دن اتوار صبح ہی صبح سورج کے روشن ہوتے ہی اوپر آسمان سے سخت کڑاکا ہوا جس کی ہولناک دہشت انگیز چنگھاڑنے ان کے کلیجے پھاڑ دیئے ساتھ ہی نیچے سے زبردست زلزلہ آیا ایک ہی ساعت میں ایک ساتھ ہی ان سب کا ڈھیر ہوگیا، مردوں سے مکانات، بازار، گلی، کوچے بھر گئے۔ مرد، عورت، بچے، بوڑھے اول سے آخر تک سارے کے سارے تباہ ہوگئے شان رب دیکھئے کہ اس واقعہ کی خبر دنیا کو پہنچانے کے لئے ایک کافرہ عورت بچا دی گئی، یہ بھی بڑی خبیثہ تھی حضرت صالح ؑ کی عداوت کی آگ سے بھری ہوئی تھی اسکی دونوں ٹانگیں نہیں تھیں لیکن ادھر عذاب آیا ادھر اس کے پاؤں کھل گئے اپنی بستی سے سرپٹ بھاگی اور تیز دوڑتی ہوئی دوسرے شہر میں پہنچی اور وہاں جا کر ان سب کے سامنے سارا واقعہ بیان کر ہی چکنے کے بعد ان سے پانی مانگا۔ ابھی پوری پیاس بھی نہ بجھی تھی کہ عذاب الٰہی آپڑا اور وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ ہاں ابو دغال نامی ایک شخص اور بچ گیا تھا یہ یہاں نہ تھا حرم کی پاک زمین میں تھا لیکن کچھ دنوں کے بعد جب یہ اپنے کسی کام کی غرض سے حد حرم سے باہر آیا اسی وقت آسمان سے پتھر آیا اور اسے بھی جہنم واصل کیا ثمودیوں میں سے سوائے حضرت صالح اور انکے مومن صحابہ کے اور کوئی بھی نہ بچا، ابو رغال کا واقعہ اس سے پہلے حدیث سے بیان ہوچکا ہے قبیلہ ثقیف جو طائف میں ہے مذکور ہے کہ یہ اسی کی نسل سے ہیں۔ عبدالرزاق میں ہے کہ اس کی قبر کے پاس سے رسول کریم ﷺ جب گذرے تو فرمایا جانتے ہو یہ کس کی قبر ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا یہ ابو دغال کی قبر ہے۔ یہ ایک ثمودی شخص تھا اپنی قوم کے عذاب کے وقت یہ حرم میں تھا اس وجہ سے عذاب الٰہی سے بچ رہا لیکن حرم شریف سے نکلا تو اسی وقت اپنی قوم کے عذاب سے یہ بھی ہلاک ہوا اور یہیں دفن کیا گیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی لکڑی بھی دفنا دی گئی۔ چناچہ لوگوں نے اس گڑھے کو کھود کر اس میں سے وہ لکڑی نکال لی اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا ثقیف قبیلہ اسی کی اولاد ہے۔ ایک مرسل حدیث میں بھی یہ ذکر موجود ہے، یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا اس کے ساتھ سونے کی شاخ دفن کردی گئی تھی یہی نشان اس کی قبر کا ہے اگر تم اسے کھودو تو وہ شاخ ضرور نکل آئے گی چناچہ بعض لوگوں نے اسے کھودا اور وہ شاخ نکال لی۔ ابو داؤد میں بھی یہ روایت ہے اور حسن عزیز ہے لیکن میں کہتا ہوں اس حدیث کے وصل کا صرف ایک طریقہ بحیر بن ابی بحیر کا ہے اور یہ صرف اسی حدیث کے ساتھ معروف ہے اور بقول حضرت امام یحییٰ بن معین سوائے اسماعیل بن ابی امیہ کے اسے اس سے اور کسی نے روایت نہیں کیا احتمال ہے کہ کہیں اس حدیث کے مرفوع کرنے میں خطاء نہ ہو یہ عبداللہ بن عمرو ہی کا قول ہو اور پھر اس صورت میں یہ بھی ممکنات سے ہے کہ انہوں نے اسے ان دو دفتروں سے لے لیا ہو جو انہیں جنگ یرموک میں ملے تھے۔ میرے استاد شیخ ابو الحجاج اس روایت کو پہلے تو حسن عزیز کہتے تھے لیکن جب میں نے ان کے سامنے یہ حجت پیش کی تو آپ نے فرمایا بیشک ان امور کا اس میں احتمال ہے۔ واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ عُلَمَاءُ التَّفْسِيرِ وَالنَّسَبِ: ثَمُودُ بْنُ عَاثِرَ بْنِ إِرَمَ بْنِ سَامَ بْنِ نُوحٍ، وَهُوَ أَخُو جَديس بْنِ عَاثِرَ، وَكَذَلِكَ قَبِيلَةُ طَسْم، كُلُّ هَؤُلَاءِ كَانُوا أَحْيَاءً مِنَ الْعَرَبِ الْعَارِبَةِ قَبْلَ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَكَانَتْ ثَمُودُ بَعْدَ عَادٍ، وَمَسَاكِنُهُمْ مَشْهُورَةٌ فِيمَا بَيْنَ الْحِجَازِ وَالشَّامِ إِلَى وَادِي الْقُرَى وَمَا حَوْلَهُ، وَقَدْ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى قُرَاهُمْ وَمَسَاكِنِهِمْ، وَهُوَ ذَاهِبٌ إِلَى تَبُوكَ سَنَةَ تِسْعٍ.
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا صَخْر بْنُ جُوَيرية، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالنَّاسِ عَلَى تَبُوكَ، نَزَلَ بِهِمُ [[في أ: "بهم على".]] الْحِجْرَ عِنْدَ بُيُوتِ ثَمُودَ، فَاسْتَسْقَى النَّاسُ مِنَ الْآبَارِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا ثَمُودُ، فَعَجَنُوا مِنْهَا وَنَصَبُوا مِنْهَا الْقُدُورَ. فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ فَأَهْرَقُوا الْقُدُورَ، وَعَلَفُوا العجينَ الإبلَ، ثُمَّ ارْتَحَلَ بِهِمْ حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ عَلَى الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا النَّاقَةُ، وَنَهَاهُمْ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ عُذِّبُوا وَقَالَ: "إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ" [[المسند (٢/١١٧) .]]
وَقَالَ [الْإِمَامُ] [[زيادة من أ.]] أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ بِالْحِجْرِ: "لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ المعذَّبين إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مثلُ مَا أَصَابَهُمْ" [[المسند (٢/٧٤) .]]
وَأَصْلُ هَذَا الْحَدِيثِ مُخَرَّج فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ [[صحيح البخاري برقم (٣٣٨١) ، وصحيح مسلم برقم (٢٩٨) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَوْسَطَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَة الْأَنْمَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى أَهْلِ الْحِجْرِ، يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رسولَ اللَّهِ ﷺ، فَنَادَى فِي النَّاسِ: "الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ". قَالَ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وهو مُمْسِكٌ بِعِيرَهُ [[في د، م: "بعنزة".]] وَهُوَ يَقُولُ: "مَا تَدْخُلُونَ عَلَى قَوْمٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ". فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ: نعجبُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "أَفَلَا أُنْبِئُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ: رَجُلٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ، وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ، فَاسْتَقِيمُوا وسَدِّدوا، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا، وَسَيَأْتِي قَوْمٌ لَا يَدْفَعُونَ عَنْ أَنْفُسِهِمْ شَيْئًا" [[المسند (٤/٢٣١) ، وقال الهيثمي في المجمع (٦/١٩٤) : "فيه عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي وقد اختلط".]]
لَمْ يُخْرِجْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ السُّنَنِ [[في م: "الكتب"، وفي ك، أ: "الكتب الستة".]] وَأَبُو كَبْشَةَ اسْمُهُ: عُمَرُ [[في ك، م: "عمرو".]] بْنُ سَعْدٍ، وَيُقَالُ: عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ: حَدَّثَنَا مَعْمَر، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْم، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالْحِجْرِ قَالَ: "لَا تَسْأَلُوا الْآيَاتِ، فَقَدْ سَأَلَهَا قَوْمُ صَالِحٍ فَكَانَتْ -يَعْنِي النَّاقَةَ -تَرِدُ مِنْ هَذَا الفَجّ، وتَصْدُر مِنْ هَذَا الْفَجِّ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَعَقَرُوهَا، وَكَانَتْ تَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمًا وَيَشْرَبُونَ لَبَنَهَا يَوْمًا، فَعَقَرُوهَا، فَأَخَذَتْهُمْ صَيْحَةٌ، أهمد [[في د: "أخمد".]] الله مَنْ تحت أَدِيمِ السَّمَاءِ مِنْهُمْ، إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ". فَقَالُوا: مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "أَبُو رِغال. فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ" [[المسند (٣/٢٩٦) وقال الهيثمي في المجمع (٦/١٩٤) : "رجال أحمد رجال الصحيح".]]
وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْكُتُبِ السِّتَّةِ، وَهُوَ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ.
فَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا﴾ أَيْ: وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى قَبِيلَةِ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا، ﴿قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ﴾ جَمِيعُ الرُّسُلِ يَدْعُونَ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٢٥] وَقَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من م.]] ﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولا أَنِ اُعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾ [النَّحْلِ:٣٦] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَدْ جَاءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ هَذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً﴾ أَيْ: قَدْ جَاءَتْكُمْ حُجَّةٌ مِنَ اللَّهِ عَلَى صِدْقِ مَا جِئْتُكُمْ بِهِ. وَكَانُوا هُمُ الَّذِينَ سَأَلُوا صَالِحًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ بِآيَةٍ، وَاقْتَرَحُوا عَلَيْهِ أَنْ تَخْرُجَ لَهُمْ مِنْ صَخْرَةٍ صمَاء عَيّنوها بِأَنْفُسِهِمْ، وَهِيَ صَخْرَةٌ مُنْفَرِدَةٌ فِي نَاحِيَةِ الحِجْر، يُقَالُ لَهَا: الكَاتبة، فَطَلَبُوا مِنْهُ [[في م: "منها".]] أَنْ يُخْرِجَ لَهُمْ مِنْهَا نَاقَةً عُشَراء تَمْخَضُ، فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ صَالِحٌ الْعُهُودَ وَالْمَوَاثِيقَ لَئِنْ أَجَابَهُمُ اللَّهُ إِلَى سُؤَالِهِمْ وَأَجَابَهُمْ إِلَى طُلْبتهم لَيُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَيَتْبَعُنَّهُ؟ فَلَمَّا أَعْطَوْهُ عَلَى ذَلِكَ عُهُودَهُمْ وَمَوَاثِيقَهُمْ، قَامَ صَالِحٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِلَى صِلَاتِهِ وَدَعَا اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ، فَتَحَرَّكَتْ تِلْكَ الصَّخْرَةُ ثُمَّ انْصَدَعَتْ عَنْ نَاقَةٍ جَوْفاء وَبْرَاء يَتَحَرَّكُ جَنِينُهَا بَيْنَ جَنْبَيْهَا، كَمَا سَأَلُوا، فَعِنْدَ ذَلِكَ آمَنَ رَئِيسُ الْقَوْمِ وَهُوَ: "جُندَع بْنُ عَمْرٍو" وَمَنْ كَانَ مَعَهُ عَلَى أَمْرِهِ [[في أ: "على دينه".]] وَأَرَادَ بَقِيَّةُ أَشْرَافِ ثَمُودَ أَنْ يُؤْمِنُوا فَصَدَّهُمْ "ذُؤاب بْنُ عَمْرِو بْنِ لَبِيدٍ" "وَالْحُبَابُ" صَاحِبُ أَوْثَانِهِمْ، وَرَبَابُ بْنُ صَمْعَرَ بْنِ جَلْهَسَ، وكان ل"جندع بْنِ عَمْرٍو" ابْنُ عَمٍّ يُقَالُ لَهُ: "شِهَابُ بْنُ خَلِيفَةَ بْنِ مُحَلَّاةَ بْنِ لَبِيدِ بْنِ حَرَاسٍ"، وَكَانَ مِنْ أَشْرَافِ ثَمُودَ وَأَفَاضِلِهَا، فَأَرَادَ أَنْ يُسْلِمَ أَيْضًا فَنَهَاهُ أُولَئِكَ الرَّهْطُ، فَأَطَاعَهُمْ، فَقَالَ فِي ذَلِكَ رَجُلٌ مِنْ مُؤْمِنِي ثَمُودَ، يُقَالُ لَهُ مِهُوَسُ [[في ك، م، أ: "مهوش".]] بْنُ عَنْمَةَ بْنِ الدُّمَيْلِ، رَحِمَهُ اللَّهُ:
وَكَانَتْ عُصْبةٌ مِنْ آلِ عَمْرو ... إِلَى دِينِ النَّبِيِّ دَعَوا شِهَابا ...
عَزيزَ ثَمُودَ كُلَّهمُ جَمِيعًا ... فَهَمّ بِأَنْ يُجِيبَ فَلَوْ [[في م: "ولو".]] أَجَابَا ...
لأصبحَ صالحٌ فِينَا عَزيزًا ... وَمَا عَدَلوا بِصَاحِبِهِمْ ذُؤابا ...
وَلَكِنَّ الغُوَاة مِنْ آلِ حُجْرٍ ... تَوَلَّوْا بَعْدَ رُشْدهم ذِئَابَا ...
فَأَقَامَتِ النَّاقَةُ وَفَصِيلُهَا بَعْدَ مَا وَضَعَتْهُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ مُدَّةً، تَشْرَبُ مَاءَ بِئْرِهَا يَوْمًا، وَتَدَعُهُ لَهُمْ يَوْمًا، وَكَانُوا يَشْرَبُونَ لَبَنَهَا يَوْمَ [[في أ: "بيوم".]] شُرْبِهَا، يَحْتَلِبُونَهَا فَيَمْلَئُونَ مَا شَاءُوا مِنْ أَوْعِيَتِهِمْ وَأَوَانِيهِمْ، كَمَا قَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ﴾ [الْقَمَرِ:٢٨] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿هَذِهِ نَاقَةٌ لَهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ﴾ [الشُّعَرَاءِ:١٥٥] وكانت تسرح في بعض تلك الأودية تَرِدُ مِنْ فَجّ وَتَصْدُرُ مِنْ غَيْرِهِ لِيَسَعَهَا؛ لأنها كانت تتضلَّع عن الْمَاءِ، وَكَانَتْ -عَلَى مَا ذُكِرَ -خَلْقًا هَائِلًا وَمَنْظَرًا رَائِعًا، إِذَا مَرَّتْ بِأَنْعَامِهِمْ نَفَرَتْ مِنْهَا. فَلَمَّا طَالَ عَلَيْهِمْ وَاشْتَدَّ تَكْذِيبُهُمْ لِصَالِحٍ النَّبِيِّ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَزَمُوا عَلَى قَتْلِهَا، لِيَسْتَأْثِرُوا بِالْمَاءِ كُلَّ يَوْمٍ، فَيُقَالُ: إِنَّهُمُ اتَّفَقُوا كُلُّهُمْ عَلَى قَتْلِهَا [[تفسير الطبري (١٢/٥٢٩) .]]
قَالَ قَتَادَةُ: بَلَغَنِي أَنَّ الَّذِي قَتَلَ النَّاقَةَ طَافَ عَلَيْهِمْ كُلِّهِمْ، أَنَّهُمْ رَاضُونَ بِقَتْلِهَا حَتَّى عَلَى النِّسَاءِ فِي خُدُورِهِنَّ، وَعَلَى الصِّبْيَانِ [أَيْضًا] [[زيادة من أ.]]
قُلْتُ: وَهَذَا هُوَ الظَّاهِرُ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: ﴿فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّاهَا﴾ [الشَّمْسِ:١٤] وَقَالَ: ﴿وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا﴾ [الْإِسْرَاءِ:٥٩] وَقَالَ: ﴿فَعَقَرُوا النَّاقَةَ﴾ فَأَسْنَدَ ذَلِكَ عَلَى مَجْمُوعِ الْقَبِيلَةِ، فَدَلَّ عَلَى رِضَا جَمِيعِهِمْ بِذَلِكَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَذَكَرَ الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ، وَغَيْرُهُ مِنْ عُلَمَاءِ التَّفْسِيرِ فِي سَبَبِ قَتْلِ النَّاقَةِ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا: "عُنَيْزَةُ ابْنَةُ غَنْمِ بْنِ مِجْلِز" وَتُكَنَّى أُمَّ غَنَمْ [[في ك، م: "أم عثمان".]] كَانَتْ عَجُوزًا كَافِرَةً، وَكَانَتْ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِصَالِحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَكَانَتْ لَهَا بَنَاتٌ حِسَانٌ وَمَالٌ جَزِيلٌ، وَكَانَ زَوْجُهَا ذُؤاب بْنُ عَمْرٍو أَحَدَ رُؤَسَاءِ ثَمُودَ، وَامْرَأَةً أُخْرَى يُقَالُ لَهَا: "صُدُوفُ بِنْتُ الْمُحَيَّا بْنِ دَهْرِ [[في أ: "زهير".]] بْنِ الْمُحَيَّا" ذَاتِ حَسَبٍ وَمَالٍ وَجِمَالٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ مِنْ ثَمُودَ، فَفَارَقَتْهُ، فَكَانَتَا تَجْعَلَانِ لِمَنِ الْتَزَمَ لَهُمَا بِقَتْلِ النَّاقَةِ، فَدَعَتْ "صُدُوفُ" رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: "الْحُبَابُ" وَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا إِنْ هُوَ عَقَرَ النَّاقَةَ، فَأَبَى عَلَيْهَا. فَدَعَتِ ابْنَ عَمٍّ لَهَا يُقَالُ لَهُ: "مِصْدَعُ بْنُ مِهْرَجِ بْنِ الْمُحَيَّا"، فَأَجَابَهَا إِلَى ذَلِكَ -وَدَعَتْ "عُنَيْزَةُ بِنْتُ غَنْمٍ" قِدَارَ بْنَ سَالِفِ بْنَ جُنْدَع [[في أ: "جذع".]] وَكَانَ رَجُلًا أَحْمَرَ أَزْرَقَ قَصِيرًا، يَزْعُمُونَ أَنَّهُ كَانَ وَلَدَ زَنية، وَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ مِنْ أَبِيهِ الَّذِي يُنْسَبُ إِلَيْهِ، وَهُوَ سَالِفٌ، وَإِنَّمَا هُوَ [[في أ: "كان".]] مِنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: "صِهْيَادٌ" [[في م: "صبيان"، وفي ك: "ضبيان".]] وَلَكِنْ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ "سَالِفٍ"، وَقَالَتْ لَهُ: أُعْطِيكَ أَيَّ بَنَاتِي شئتَ عَلَى أَنْ تَعْقِرَ [[في ك، م: "يعقر".]] النَّاقَةَ! فَعِنْدَ ذَلِكَ، انْطَلَقَ "قِدَارُ بْنُ سَالِفٍ" "وَمِصْدَعُ بْنُ مِهْرَجٍ"، فَاسْتَفَزَّا غُواة مِنْ ثَمُودَ، فَاتَّبَعَهُمَا سَبْعَةُ نَفَرٍ، فَصَارُوا تِسْعَةَ رَهْطٍ، وَهُمُ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الأرْضِ وَلا يُصْلِحُونَ﴾ [النَّمْلِ:٤٨] وَكَانُوا رُؤَسَاءَ فِي قَوْمِهِمْ، فَاسْتَمَالُوا الْقَبِيلَةَ الْكَافِرَةَ بِكَمَالِهَا، فَطَاوَعَتْهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَانْطَلَقُوا فَرَصَدُوا النَّاقَةَ حِينَ صَدَرَتْ عَنِ الْمَاءِ، وَقَدْ كَمَنَ لَهَا "قِدَارٌ" فِي أَصْلِ صَخْرَةٍ عَلَى طَرِيقِهَا، وَكَمِنَ لَهَا "مِصْدَعٌ" فِي أَصْلِ أُخْرَى، فَمَرَّتْ عَلَى "مِصْدَعٍ" فَرَمَاهَا بِسَهْمٍ، فَانْتَظَمَ بِهِ عضَلَة سَاقِهَا وَخَرَجَتْ "أُمُّ غَنَمْ عُنَيْزَةُ"، وَأَمَرَتِ ابْنَتَهَا وَكَانَتْ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْهًا، فَسَفَرَتْ عَنْ وَجْهِهَا لِقِدَارٍ وَذَمَّرَتْهُ فَشَدَّ عَلَى النَّاقَةِ بِالسَّيْفِ، فكسفَ [[في ك، م، د: "فكشف"، وفي أ: "فكشف عن".]] عُرْقُوبَهَا، فَخَرَّتْ سَاقِطَةً إِلَى الْأَرْضِ، وَرَغَتْ رَغاة وَاحِدَةً تُحَذِّرُ سَقْبَها، ثُمَّ طَعَنَ فِي لَبَّتها فَنَحَرَهَا، وَانْطَلَقَ سَقْبَها -وَهُوَ فَصِيلُهَا -حَتَّى أَتَى جَبَلًا مَنِيعًا، فَصَعَدَ أَعْلَى صَخْرَةٍ فِيهِ وَرَغَا -فَرَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَر، عَمَّنْ سَمِعَ الحسن البصري أنه قال: يَا رَبِّ أَيْنَ أُمِّي؟ وَيُقَالُ: إِنَّهُ رَغَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. وَإِنَّهُ دَخَلَ فِي صَخْرَةٍ فَغَابَ فِيهَا، وَيُقَالُ: بَلِ اتَّبَعُوهُ فَعَقَرُوهُ مَعَ أُمِّهِ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ [[تفسير الطبري (١٢/٥٣٦) .]]
فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ وَفَرَغُوا مِنْ عَقْرِ النَّاقَةِ، بَلَغَ الْخَبَرُ صَالِحًا، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَجَاءَهُمْ وَهُمْ مُجْتَمِعُونَ، فَلَمَّا رَأَى النَّاقَةَ بَكَى وَقَالَ: ﴿تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ [ذَلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ [[زيادة من ك، م، وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [هُودٍ:٦٥] وَكَانَ قَتْلُهُمُ النَّاقَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، فَلَمَّا أَمْسَى أُولَئِكَ التِّسْعَةُ الرَّهْطُ عَزَمُوا عَلَى قَتْلِ صَالِحٍ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ك، م.]] وَقَالُوا: إِنْ كَانَ صَادِقًا عَجَّلناه قَبْلَنَا، وَإِنْ كَانَ كَاذِبًا أَلْحَقْنَاهُ بِنَاقَتِهِ! ﴿قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ. وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ * فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَاهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ * فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُوا﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] الْآيَةَ. [النَّمْلِ:٤٩-٥٢]
فَلَمَّا عَزَمُوا على ذلك، وتواطؤوا عَلَيْهِ، وَجَاءُوا مِنَ اللَّيْلِ لِيَفْتِكُوا بِنَبِيِّ اللَّهِ صَالِحٍ، أَرْسَلَ اللَّهُ، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى، وَلَهُ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ، عَلَيْهِمْ حِجَارَةً فرضَختهم سَلَفًا وَتَعْجِيلًا قَبْلَ قَوْمِهِمْ، وَأَصْبَحَ ثَمُودُ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَهُوَ الْيَوْمُ الْأَوَّلُ مِنْ أَيَّامِ النَّظرة، وَوُجُوهُهُمْ مُصْفَرَّةٌ كَمَا وَعَدَهُمْ صَالِحٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَصْبَحُوا فِي الْيَوْمِ الثَّانِي مِنْ أَيَّامِ التَّأْجِيلِ، وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، وَوُجُوهُهُمْ مُحَمَّرَةٌ، وَأَصْبَحُوا [[في م: "واجتمعوا".]] فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ مِنْ أَيَّامِ الْمَتَاعِ [[في ك: "التمتع".]] وَهُوَ يَوْمُ السَّبْتِ، وَوُجُوهُهُمْ مُسَوَّدَةٌ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا مِنْ يَوْمِ الْأَحَدِ وَقَدْ تحَنَّطوا وَقَعَدُوا يَنْتَظِرُونَ نِقْمَةَ اللَّهِ وَعَذَابَهُ، عِيَاذًا بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ، لَا يَدْرُونَ مَاذَا يُفْعَلُ بِهِمْ، ولا كيف يأتيهم العذاب؟ و [قد] [[زيادة من م.]] أَشْرَقَتِ الشَّمْسُ، جَاءَتْهُمْ صَيْحَةٌ مِنَ السَّمَاءِ ورَجْفة شَدِيدَةٌ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، فَفَاضَتِ الْأَرْوَاحُ وَزَهَقَتِ النُّفُوسُ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ ﴿فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ﴾ أَيْ: صَرْعَى لَا أَرْوَاحَ فِيهِمْ، وَلَمْ يُفْلِتْ مِنْهُمْ أَحَدٌ، لَا صَغِيرٌ وَلَا كَبِيرٌ، لَا ذَكَرٌ وَلَا أُنْثَى -قَالُوا: إِلَّا جَارِيَةً كانت مقعدة -واسمها "كلبة بنة السّلْق"، وَيُقَالُ لَهَا: "الزُّرَيْقَةُ" [[في م: "الذريعة".]] -وَكَانَتْ كَافِرَةً شَدِيدَةَ الْعَدَاوَةِ لِصَالِحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَلَمَّا رَأَتْ مَا رَأَتْ مِنَ الْعَذَابِ، أُطلِقَت رِجْلَاهَا، فَقَامَتْ تَسْعَى كَأَسْرَعِ شَيْءٍ، فَأَتَتْ حَيًّا مِنَ الْأَحْيَاءِ فَأَخْبَرَتْهُمْ بِمَا رَأَتْ وَمَا حَلَّ بِقَوْمِهَا، ثُمَّ اسْتَسْقَتْهُمْ مِنَ الْمَاءِ، فَلَمَّا شَرِبَتْ، مَاتَتْ.
قَالَ عُلَمَاءُ التَّفْسِيرِ: وَلَمْ يَبْقَ مِنْ ذُرِّيَّةِ ثَمُودَ أَحَدٌ، سِوَى صَالِحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَمَنِ اتَّبَعَهُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، إِلَّا أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: "أَبُو رِغال"، كَانَ لَمَّا وَقَعَتِ النِّقْمَةُ بِقَوْمِهِ مقيما فِي الْحَرَمِ، فَلَمْ يَصِبْهُ شَيْءٌ، فَلَمَّا خَرَجَ فِي بَعْضِ الْأَيَّامِ إِلَى الْحِلِّ، جَاءَهُ حَجَرٌ مِنَ السَّمَاءِ فَقَتَلَهُ.
وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ الْقِصَّةِ حَدِيثُ "جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ" فِي ذَلِكَ، وَذَكَرُوا أَنَّ أَبَا رِغَالٍ هَذَا هُوَ والد ثَقِيفٍ" الَّذِينَ كَانُوا يَسْكُنُونَ الطَّائِفَ [[انظر: "الكلام على أبي رغال، وترجيح أنه كان دليل أبرهة في تفسير سورة النساء آية: ٤.]]
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: قَالَ مَعْمَر: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ؛ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَرَّ بِقَبْرِ أَبِي رِغَالٍ فَقَالَ: "أَتُدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ " فَقَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ، رَجُلٍ مِنْ ثَمُودَ، كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ، فَمَنَعَهُ حرمُ اللَّهِ عَذَابَ اللَّهِ. فَلَمَّا خَرَجَ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ، فَدُفِنَ هَاهُنَا، وَدُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَنَزَلَ الْقَوْمُ فَابْتَدَرُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ، فَبَحَثُوا عَنْهُ، فَاسْتَخْرَجُوا الْغُصْنَ".
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَبُو رِغَالٍ: أَبُو ثَقِيفٍ [[المصنف برقم (٢٠٩٨٩) ، وتفسير عبد الرزاق (١/١١٩، ٢٢٠) .]]
هَذَا مُرْسَلٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ مُتَّصِلًا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، كَمَا قَالَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ بُجَير بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ، حِينَ خَرَجْنَا مَعَهُ إِلَى الطَّائِفِ، فَمَرَرْنَا بِقَبْرٍ فَقَالَ: "هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ، وَهُوَ أَبُو ثَقِيفٍ، وَكَانَ مِنْ ثَمُودَ، وَكَانَ بِهَذَا الْحَرَمِ فَدَفَعَ [[في ك: "يدفع".]] عَنْهُ، فَلَمَّا خَرَجَ [مِنْهُ] [[زيادة من ك، م.]] أَصَابَتْهُ النِّقْمَةُ الَّتِي أَصَابَتْ قَوْمَهُ بِهَذَا الْمَكَانِ، فَدُفِنَ فِيهِ. وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ دُفِنَ مَعَهُ غصن من ذهب، إن أنتم نبشم عَنْهُ أَصَبْتُمُوهُ [مَعَهُ] [[زيادة من أ.]] فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ [[في أ: "القوم".]] فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهُ الْغُصْنَ".
وَهَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِهِ [[سنن أبي داود برقم (٣٠٨٨) .]]
قَالَ شَيْخُنَا أَبُو الْحَجَّاجِ الْمِزِيُّ: وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ عَزِيزٌ [[في أ: "غريب".]] [[تهذيب الكمال (٤/١١) .]]
قُلْتُ: تَفَرَّدَ بِوَصْلِهِ "بُجَيْر بْنُ أَبِي بُجَيْرٍ" هَذَا، وَهُوَ شَيْخٌ لَا يُعْرَفُ إلا بهذا الحديث. قال يحيى ابن مَعِينٍ: وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرَ إِسْمَاعِيلِ بْنِ أُمَيَّةَ.
قُلْتُ: وَعَلَى هَذَا، فَيُخْشَى أَنْ يَكُونَ وَهِمَ فِي رَفْعِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَإِنَّمَا يَكُونُ مِنْ كَلَامِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، مِمَّا أَخَذَهُ مِنَ الزَّامِلَتَيْنِ.
قَالَ شَيْخُنَا أَبُو الْحَجَّاجِ، بَعْدَ أَنْ عَرَضْتُ عَلَيْهِ ذَلِكَ: وَهَذَا مُحْتَمَلٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى:
فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَٰقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّى وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُحِبُّونَ ٱلنَّٰصِحِينَ
And he turned away from them and said, "O my people, I had certainly conveyed to you the message of my Lord and advised you, but you do not like advisors."
پھر صالح ان سے (ناامید ہو کر) پھرے اور کہا کہ میری قوم! میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی مگر تم (ایسے ہو کہ) خیر خواہوں کو دوست ہی نہیں رکھتے
(صالح) از آنها روی برتافت؛ و گفت: «ای قوم! من رسالت پروردگارم را به شما ابلاغ کردم، و شرط خیرخواهی را انجام دادم، ولی (چه کنم که) شما خیرخواهان را دوست ندارید!»
Tafsir Ibn Kathir
Then he [Salih] turned from them, and said: "O my people! I have indeed conveyed to you the Message of my Lord, and have given you good advice, but you like not good advisers. (79)
These are the words of admonishment that Salih conveyed to his people after Allah destroyed them for defying Him, rebelling against Him, refusing to accept the truth, avoiding guidance, and preferring misguidance instead. Salih said these words of admonishment and criticism to them after they perished, and they heard him (as a miracle for Prophet Salih from Allah). Similarly, it is recorded in the Two Sahihs that after the Messenger of Allah ﷺ defeated the disbelievers in the battle of Badr, he remained in that area for three days, and then rode his camel, which was prepared for him during the latter part of the night. He went on until he stood by the well of Badr (where the corpses of the disbelievers were thrown) and said,
يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ يَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ يَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَيَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا،؟ فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا
(O Abu Jahl bin Hisham! O 'Utbah bin Rabi'ah! O Shaybah bin Rabi'ah! Did you find what your Lord has promised you (of torment) to be true, for I found what my Lord promised me (of victory) to be true.) 'Umar said to him, "O Allah's Messenger! Why do you speak to a people who have rotted?" He ﷺ said,
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لَا يـُجِيبُونَ
(By He in Whose Hand is my soul! You do not hear what I am saying better than they, but they cannot reply.)
Similarly, Prophet Salih, peace be upon him, said to his people,
لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ
("I have indeed conveyed to you the Message of my Lord, and have given you good advice,") but you did not benefit from it because you do not like the Truth and do not follow those who give you sincere advice,
وَلَٰكِن لَّا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ
("but you like not good advisers.")
Tafsir Ibn Kathir
صالح ؑ ہلاکت کے اسباب کی نشاندہی کرتے ہیں قوم کی ہلاکت دیکھ کر افسوس حسرت اور آخری ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر پیغمبر حق حضرت صالح ؑ فرماتے ہیں کہ نہ تمہیں رب کی رسالت نے فائدہ پہنچایا نہ میری خیر خواہی ٹھکانے لگی تم اپنی بےسمجھی سے دوست کو دشمن سمجھ بیٹھے اور آخر اس روز بد کو دعوت دے لی چناچہ حضرت محمد ﷺ بھی جب بدری کفار پر غالب آئے وہیں تین دن تک ٹھہرے رہے پھر رات کے آخری وقت اونٹنی پر زین کس کر آپ تشریف لے چلے اور جب اس گھاٹی کے پاس پہنچے جہاں ان کافروں کی لاشیں ڈالی گئی تھیں تو آپ ٹھہر گئے اور فرمانے لگے اے ابو جہل، اے عتبہ، اے شیبہ، اے فلاں، اے فلاں، بتاؤ رب کے وعدے تم نے درست پائے ؟ میں نے تو اپنے رب کے فرمان کی صداقت اپنی آنکھوں دیکھ لی۔ حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ آپ ان جسموں سے باتیں کر رہے ہیں جو مردار ہوگئے ؟ آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں جو کچھ ان سے کہہ رہا ہوں اسے یہ تم سے زیادہ سن رہے ہیں لیکن جواب کی طاقت نہیں۔ سیرت کی کتابوں میں ہے کہ آپ نے فرمایا تم نے میرا خاندان ہونے کے باوجود میرے ساتھ وہ برائی کی کہ کسی خاندان نے اپنے پیغمبر کے ساتھ نہ کی۔ تم نے میرے ہم قبیلہ ہونے کے باوجود مجھے جھٹلایا اور دوسرے لوگوں نے مجھے سچا سمجھا۔ تم نے رشتہ داری کے باوجود مجھے دیس نکالا دیا اور دوسروں نے مجھے اپنے ہاں جگہ دی۔ افسوس تم اپنے ہو کر مجھ سے برسر جنگ رہے اور دوسروں نے میری امداد کی۔ پس تم اپنے نبی کے بدترین قبیلے ہو۔ یہی حضرت صالح ؑ اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ میں نے تو ہمدردی کی انتہا کردی اللہ کے پیغام کی تبلیغ میں تمہاری خیر خواہی میں کوئی کوتاہی نہیں کی لیکن آہ نہ تم نے اس سے کوئی فائدہ اٹھایا نہ حق کی پیروی کی نہ اپنے خیر خواہ کی مانی۔ بلکہ اسے اپنا دشمن سمجھ بعض مفسرین کا قول ہے کہ ہر نبی جب دیکھتا کہ اب میری امت پر عام عذاب آنے والا ہے انہیں چھوڑ کر نکل کھڑا ہوتا ہے اور حرم مکہ میں پناہ لیتا۔ واللہ اعلم۔ مسند احمد میں ہے کہ حج کے موقعہ پر جب رسول کریم ﷺ وادی عسفان پہنچے تو حضرت صدیق اکبر ؓ سے دریافت فرمایا کہ یہ کونسی وادی ہے ؟ آپ نے جواب دیا وادی عسفان فرمایا میرے سامنے سے حضرت ہود اور حضرت صالح (علیہما السلام) ابھی ابھی گذرے اونٹنیوں پر سوار تھے جن کی نکیلیں کھجور کے پتوں کی تھیں کمبلوں کے تہ بند بندھے ہوئے اور موٹی چادریں اوڑھے ہوئے تھے۔ لبیک پکارتے ہوئے بیت اللہ شریف کی طرف تشریف لے جا رہے تھے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ صحاح ستہ میں نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا تَقْرِيعٌ مِنْ صَالِحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لِقَوْمِهِ، لَمَّا أَهْلَكَهُمُ اللَّهُ بِمُخَالَفَتِهِمْ إياه، وتمردهم على الله، وَإِبَائِهِمْ عَنْ قَبُولِ الْحَقِّ، وَإِعْرَاضِهِمْ عَنِ الْهُدَى إِلَى العَمى -قَالَ لَهُمْ صَالِحٌ ذَلِكَ بَعْدَ هَلَاكِهِمْ تَقْرِيعًا وَتَوْبِيخًا وَهُمْ يَسْمَعُونَ ذَلِكَ، كَمَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، أَقَامَ هُنَاكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فشُدّت بَعْدَ ثَلَاثٍ مِنْ آخَرِ اللَّيْلِ فَرَكِبَهَا [[في ك: "ثم ركبها".]] ثُمَّ سَارَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى الْقَلِيبِ، قَلِيبِ بَدْرٍ، فَجَعَلَ يَقُولُ: "يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، يَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، يَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ: هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا". فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تُكَلّم مِنْ أَقْوَامٍ قَدْ جُيِّفُوا؟ فَقَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ، وَلَكِنْ لَا يُجِيبُونَ".
وَفِي السِّيرَةِ أَنَّهُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ [[في أ: "صلى الله عليه وسلم".]] قَالَ لَهُمْ: "بِئْسَ عَشِيرَةُ النَّبِيِّ كُنْتُمْ لِنَبِيِّكُمْ، كَذَّبْتُمُونِي وَصَدَقَنِي النَّاسُ، وَأَخْرَجْتُمُونِي وَآوَانِي النَّاسُ، وَقَاتَلْتُمُونِي وَنَصَرَنِي النَّاسُ، فَبِئْسَ عَشِيرَةُ النَّبِيِّ كُنْتُمْ لِنَبِيِّكُمْ". [[السيرة النبوية لابن هشام (١/٦٣٩) .]]
وَهَكَذَا صَالِحٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ لِقَوْمِهِ: ﴿لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ﴾ أَيْ: فَلَمْ تَنْتَفِعُوا بِذَلِكَ، لِأَنَّكُمْ لَا تُحِبُّونَ [[في أ: "تتبعون".]] الْحَقَّ وَلَا تَتَّبِعُونَ نَاصِحًا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَلَكِنْ لَا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ﴾
وَقَدْ ذَكَرَ بَعْضُ الْمُفَسِّرِينَ أَنَّ كُلَّ نَبِيٍّ هَلَكَتْ أُمَّتُهُ، كَانَ يَذْهَبُ فَيُقِيمُ فِي الْحَرَمِ، حَرَمِ مَكَّةَ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَدْ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا وَكِيع، حَدَّثَنَا زَمْعَة بْنُ صَالِحٍ، عَنِ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِوَادِي عُسْفان حِينَ حَجّ قال: "يا أبا بكر، أيّ وادي هَذَا؟ " قَالَ: هَذَا وَادِي عُسْفَان. قَالَ: "لَقَدْ مَرَّ بِهِ هُودٌ وَصَالِحٌ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، عَلَى بَكَرات حُمْر خُطُمها اللِّيفُ، أزُرُهم العبَاء، وَأَرْدِيَتُهُمُ النِّمَارُ، يُلَبُّونَ يَحُجُّونَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ".
هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، لَمْ يُخْرِجْهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ [[المسند (١/٢٣٢) وقال الهيثمي في المجمع (٣/٢٢٠) : "فيه زمعة بن صالح وفيه كلام وقد وثق".]]
وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ أَتَأْتُونَ ٱلْفَٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍۢ مِّنَ ٱلْعَٰلَمِينَ
And [We had sent] Lot when he said to his people, "Do you commit such immorality as no one has preceded you with from among the worlds?
اور اسی طرح جب ہم نے لوط کو (پیغمبر بنا کر بھیجا تو) اس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے اہل عالم میں سے کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا
و (به خاطر آورید) لوط را، هنگامی که به قوم خود گفت: «آیا عمل بسیار زشتی را انجام میدهید که هیچیک از جهانیان، پیش از شما انجام نداده است؟!
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Lut, when he said to his people: "Do you commit lewdness such as none preceding you has committed in all of the nations (80)"Verily, you practice your lusts on men instead of women. Nay, but you are a people transgressing beyond bounds. (81)
Allah said, We sent,
وَ
(And)
لُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ
(Lut, when he said to his people..) Lut (Lot) is the son of Haran the son of Azar (Terah), and he was the nephew of Ibrahim, peace be upon them both. Lut had believed in Ibrahim and migrated with him to the Sham area. Allah then sent Lut to the people of Sadum (Sodom) and the surrounding villages, to call them to Allah, enjoin righteousness and forbid them from their evil practices, their sin, and wickedness. It this area, they did things that none of the children of Adam or any other creatures ever did before them. They used to have sexual intercourse with males instead of females. This evil practice was not known among the Children of Adam before, nor did it even cross their minds, so they were unfamiliar with it before the people of Sodom invented it, may Allah's curse be on them. 'Amr bin Dinar conmented on;
مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ
("...as none preceding you has committed in all of the nations.")
"Never before the people of Lut did a male have sex with another male." This is why Lut said to them,
أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ - إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّن دُونِ النِّسَاءِ
("Do you commit lewdness such as none preceding you has committed in all of the nations? Verily, you practice your lusts on men instead of women.") meaning, you left women whom Allah created for you and instead had sex with men? Indeed, this behavior is evil and ignorant because you have placed things in their improper places. Lut, peace be upon him, said to them:
هَٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ
("these (the girls of the nation) are my daughters (to marry lawfully), if you must act (so).")[15:71]
So he reminded them of their women, and they replied that they do not desire women!
قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ
(They said: "Surely, you know that we have neither any desire nor need of your daughters, and indeed you know well what we want!" )[11:79] meaning, you know that we have no desire for women and you know what we desire with your guests.
Tafsir Ibn Kathir
لوط ؑ کی بدنصیب قوم فرمان ہے کہ حضرت لوط ؑ کو بھی ہم نے ان کی قوم کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا تو ان کے واقعہ کو بھی یاد کر، حضرت لوط ؑ ہاران بن آزر کے بیٹے تھے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے آپ ہی کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا تھا اور آپ ہی کے ساتھ شام کی طرف ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا نبی بنا کر سدوم نامی بستی کی طرف بھیجا آپ نے انہیں اور آس پاس کے لوگوں کو اللہ کی توحید اور اپنی اطاعت کی طرف بلایا نیکیوں کے کرنے برائیوں کو چھوڑنے کا حکم دیا۔ جن میں ایک برائی اغلام بازی تھی جو ان سے پہلے دنیا سے مفقود تھی۔ اس بدکاری کے موجد یہی ملعون لوگ تھے۔ عمرو بن دینار یہی فرماتے ہیں۔ جامع دمشق کے بانی خلیفہ ولید بن عبدالملک کہتے ہیں اگر یہ خبر قرآن میں نہ ہوتی تو میں تو اس بات کو کبھی نہ مانتا کہ مرد مرد سے حاجت روائی کرلے اسی لئے حضرت لوط ؑ نے ان حرام کاروں سے فرمایا کہ تم سے پہلے تو یہ ناپاک اور خبیث فعل کسی نے نہیں کیا۔ عورتوں کو جو اس کام کیلئے تھیں چھوڑ کر تم مردوں پر ریجھ رہے ہو ؟ اس سے بڑھ کر اسراف اور جہالت اور کیا ہوگی ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ آپ نے فرمایا یہ ہیں میری بچیاں یعنی تمہاری قوم کی عورتیں۔ لیکن انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں ان کی چاہت نہیں۔ ہم تو تمہارے ان مہمان لڑکوں کے خواہاں ہیں مفسرین فرماتے ہیں جس طرح مرد مردوں میں مشغول تھے عورتیں عورتوں میں پھنسی ہوئی تھیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَ﴾ قَدْ أَرْسَلْنَا ﴿لُوطًا﴾ أَوْ تَقْدِيرُهُ: ﴿وَ﴾ اذْكُرْ ﴿َلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ﴾
وَلُوطٌ هُوَ ابْنُ هَارَانَ بْنِ آزَرَ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ، عَلَيْهِمَا [[في ك، أ: "عليه".]] السَّلَامُ، وَكَانَ قَدْ آمَنَ مَعَ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهَاجَرَ مَعَهُ إِلَى أَرْضِ الشَّامِ، فَبَعَثَهُ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] إِلَى أهل "سَدُوم" وما حَوْلَهَا مِنَ الْقُرَى، يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، وَيَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَمَّا كَانُوا يَرْتَكِبُونَهُ مِنَ الْمَآثِمِ وَالْمَحَارِمِ وَالْفَوَاحِشِ الَّتِي اخْتَرَعُوهَا، لَمْ يَسْبِقْهُمْ بِهَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي آدَمَ وَلَا غَيْرِهِمْ، وَهُوَ إِتْيَانُ الذُّكُورِ. وَهَذَا شَيْءٌ لَمْ يَكُنْ بَنُو آدَمَ تَعْهَدُهُ وَلَا تَأْلَفُهُ، وَلَا يَخْطُرُ بِبَالِهِمْ، حَتَّى صَنَعَ ذَلِكَ أَهْلُ "سَدُوم" عَلَيْهِمْ لِعَائِنُ اللَّهِ.
قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: قَوْلُهُ: ﴿مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ﴾ قَالَ: مَا نَزَا ذَكَر عَلَى ذَكَر، حَتَّى كَانَ قَوْمُ لُوطٍ.
وَقَالَ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْخَلِيفَةُ الْأُمَوِيُّ، بَانِي جَامِعِ دِمَشْقَ: لَوْلَا أَنَّ اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ، قَصَّ عَلَيْنَا خَبَرَ لُوطٍ، مَا ظَنَنْتُ أَنَّ ذَكَرًا يَعْلُو ذَكَرًا.
وَلِهَذَا قَالَ لَهُمْ لُوطٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ * إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِنْ دُونِ النِّسَاءِ﴾ أَيْ: عَدَلْتُمْ [[في د، م: "أعدلتم".]] عَنِ النِّسَاءِ، وَمَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْهُنَّ إِلَى الرِّجَالِ، وَهَذَا إِسْرَافٌ مِنْكُمْ وَجَهْلٌ؛ لِأَنَّهُ وَضْعُ الشَّيْءِ فِي غَيْرِ مَحِلِّهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ لَهُمْ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿ [قَالَ] [[زيادة من أ.]] هَؤُلاءِ بَنَاتِي إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ﴾ [الْحِجْرِ:٧١] فَأَرْشَدَهُمْ إِلَى نِسَائِهِمْ، فَاعْتَذَرُوا إِلَيْهِ بِأَنَّهُمْ لَا يَشْتَهُونَهُنَّ، ﴿قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ﴾ [هُودٍ:٧٩] أَيْ: لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا أرَبَ لَنَا فِي النِّسَاءِ، وَلَا إِرَادَةَ، وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مُرَادَنَا مِنْ أَضْيَافِكَ.
وَذَكَرَ الْمُفَسِّرُونَ أَنَّ الرِّجَالَ كَانُوا قَدِ اسْتَغْنَى [[في ك، م: "اغتني".]] بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ، وَكَذَلِكَ نِسَاؤُهُمْ كُنَّ قَدِ اسْتَغْنَى [[في ك: "استغنين".]] بَعْضُهُنَّ بِبَعْضٍ أَيْضًا.
إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهْوَةًۭ مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِ ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌۭ مُّسْرِفُونَ
Indeed, you approach men with desire, instead of women. Rather, you are a transgressing people."
یعنی خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو
آیا شما از روی شهوت به سراغ مردان میروید، نه زنان؟! شما گروه اسرافکار (و منحرفی) هستید!
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Lut, when he said to his people: "Do you commit lewdness such as none preceding you has committed in all of the nations (80)"Verily, you practice your lusts on men instead of women. Nay, but you are a people transgressing beyond bounds. (81)
Allah said, We sent,
وَ
(And)
لُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ
(Lut, when he said to his people..) Lut (Lot) is the son of Haran the son of Azar (Terah), and he was the nephew of Ibrahim, peace be upon them both. Lut had believed in Ibrahim and migrated with him to the Sham area. Allah then sent Lut to the people of Sadum (Sodom) and the surrounding villages, to call them to Allah, enjoin righteousness and forbid them from their evil practices, their sin, and wickedness. It this area, they did things that none of the children of Adam or any other creatures ever did before them. They used to have sexual intercourse with males instead of females. This evil practice was not known among the Children of Adam before, nor did it even cross their minds, so they were unfamiliar with it before the people of Sodom invented it, may Allah's curse be on them. 'Amr bin Dinar conmented on;
مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ
("...as none preceding you has committed in all of the nations.")
"Never before the people of Lut did a male have sex with another male." This is why Lut said to them,
أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ - إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّن دُونِ النِّسَاءِ
("Do you commit lewdness such as none preceding you has committed in all of the nations? Verily, you practice your lusts on men instead of women.") meaning, you left women whom Allah created for you and instead had sex with men? Indeed, this behavior is evil and ignorant because you have placed things in their improper places. Lut, peace be upon him, said to them:
هَٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ
("these (the girls of the nation) are my daughters (to marry lawfully), if you must act (so).")[15:71]
So he reminded them of their women, and they replied that they do not desire women!
قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ
(They said: "Surely, you know that we have neither any desire nor need of your daughters, and indeed you know well what we want!" )[11:79] meaning, you know that we have no desire for women and you know what we desire with your guests.
Tafsir Ibn Kathir
لوط ؑ کی بدنصیب قوم فرمان ہے کہ حضرت لوط ؑ کو بھی ہم نے ان کی قوم کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا تو ان کے واقعہ کو بھی یاد کر، حضرت لوط ؑ ہاران بن آزر کے بیٹے تھے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے آپ ہی کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا تھا اور آپ ہی کے ساتھ شام کی طرف ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا نبی بنا کر سدوم نامی بستی کی طرف بھیجا آپ نے انہیں اور آس پاس کے لوگوں کو اللہ کی توحید اور اپنی اطاعت کی طرف بلایا نیکیوں کے کرنے برائیوں کو چھوڑنے کا حکم دیا۔ جن میں ایک برائی اغلام بازی تھی جو ان سے پہلے دنیا سے مفقود تھی۔ اس بدکاری کے موجد یہی ملعون لوگ تھے۔ عمرو بن دینار یہی فرماتے ہیں۔ جامع دمشق کے بانی خلیفہ ولید بن عبدالملک کہتے ہیں اگر یہ خبر قرآن میں نہ ہوتی تو میں تو اس بات کو کبھی نہ مانتا کہ مرد مرد سے حاجت روائی کرلے اسی لئے حضرت لوط ؑ نے ان حرام کاروں سے فرمایا کہ تم سے پہلے تو یہ ناپاک اور خبیث فعل کسی نے نہیں کیا۔ عورتوں کو جو اس کام کیلئے تھیں چھوڑ کر تم مردوں پر ریجھ رہے ہو ؟ اس سے بڑھ کر اسراف اور جہالت اور کیا ہوگی ؟ چناچہ اور آیت میں ہے کہ آپ نے فرمایا یہ ہیں میری بچیاں یعنی تمہاری قوم کی عورتیں۔ لیکن انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں ان کی چاہت نہیں۔ ہم تو تمہارے ان مہمان لڑکوں کے خواہاں ہیں مفسرین فرماتے ہیں جس طرح مرد مردوں میں مشغول تھے عورتیں عورتوں میں پھنسی ہوئی تھیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَ﴾ قَدْ أَرْسَلْنَا ﴿لُوطًا﴾ أَوْ تَقْدِيرُهُ: ﴿وَ﴾ اذْكُرْ ﴿َلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ﴾
وَلُوطٌ هُوَ ابْنُ هَارَانَ بْنِ آزَرَ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ، عَلَيْهِمَا [[في ك، أ: "عليه".]] السَّلَامُ، وَكَانَ قَدْ آمَنَ مَعَ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهَاجَرَ مَعَهُ إِلَى أَرْضِ الشَّامِ، فَبَعَثَهُ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] إِلَى أهل "سَدُوم" وما حَوْلَهَا مِنَ الْقُرَى، يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، وَيَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَمَّا كَانُوا يَرْتَكِبُونَهُ مِنَ الْمَآثِمِ وَالْمَحَارِمِ وَالْفَوَاحِشِ الَّتِي اخْتَرَعُوهَا، لَمْ يَسْبِقْهُمْ بِهَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي آدَمَ وَلَا غَيْرِهِمْ، وَهُوَ إِتْيَانُ الذُّكُورِ. وَهَذَا شَيْءٌ لَمْ يَكُنْ بَنُو آدَمَ تَعْهَدُهُ وَلَا تَأْلَفُهُ، وَلَا يَخْطُرُ بِبَالِهِمْ، حَتَّى صَنَعَ ذَلِكَ أَهْلُ "سَدُوم" عَلَيْهِمْ لِعَائِنُ اللَّهِ.
قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: قَوْلُهُ: ﴿مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ﴾ قَالَ: مَا نَزَا ذَكَر عَلَى ذَكَر، حَتَّى كَانَ قَوْمُ لُوطٍ.
وَقَالَ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْخَلِيفَةُ الْأُمَوِيُّ، بَانِي جَامِعِ دِمَشْقَ: لَوْلَا أَنَّ اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ، قَصَّ عَلَيْنَا خَبَرَ لُوطٍ، مَا ظَنَنْتُ أَنَّ ذَكَرًا يَعْلُو ذَكَرًا.
وَلِهَذَا قَالَ لَهُمْ لُوطٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ * إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِنْ دُونِ النِّسَاءِ﴾ أَيْ: عَدَلْتُمْ [[في د، م: "أعدلتم".]] عَنِ النِّسَاءِ، وَمَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْهُنَّ إِلَى الرِّجَالِ، وَهَذَا إِسْرَافٌ مِنْكُمْ وَجَهْلٌ؛ لِأَنَّهُ وَضْعُ الشَّيْءِ فِي غَيْرِ مَحِلِّهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ لَهُمْ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿ [قَالَ] [[زيادة من أ.]] هَؤُلاءِ بَنَاتِي إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ﴾ [الْحِجْرِ:٧١] فَأَرْشَدَهُمْ إِلَى نِسَائِهِمْ، فَاعْتَذَرُوا إِلَيْهِ بِأَنَّهُمْ لَا يَشْتَهُونَهُنَّ، ﴿قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ﴾ [هُودٍ:٧٩] أَيْ: لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا أرَبَ لَنَا فِي النِّسَاءِ، وَلَا إِرَادَةَ، وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مُرَادَنَا مِنْ أَضْيَافِكَ.
وَذَكَرَ الْمُفَسِّرُونَ أَنَّ الرِّجَالَ كَانُوا قَدِ اسْتَغْنَى [[في ك، م: "اغتني".]] بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ، وَكَذَلِكَ نِسَاؤُهُمْ كُنَّ قَدِ اسْتَغْنَى [[في ك: "استغنين".]] بَعْضُهُنَّ بِبَعْضٍ أَيْضًا.
وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ أَخْرِجُوهُم مِّن قَرْيَتِكُمْ ۖ إِنَّهُمْ أُنَاسٌۭ يَتَطَهَّرُونَ
But the answer of his people was only that they said, "Evict them from your city! Indeed, they are men who keep themselves pure."
تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا اور بولے تو یہ بولے کہ ان لوگوں (یعنی لوط اور اس کے گھر والوں) کو اپنے گاؤں سے نکال دو (کہ) یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں
ولی پاسخ قومش چیزی جز این نبود که گفتند: «اینها را از شهر و دیار خود بیرون کنید، که اینها مردمی هستند که پاکدامنی را میطلبند (و با ما همصدا نیستند!)»
Tafsir Ibn Kathir
And the answer of his people was only that they said: "Drive them out of your town, these are indeed men who want to be pure (from sins)! (82)
So they answered Prophet Lut by trying to expel and banish him from their village, along with those who believed with him. Allah indeed removed Prophet Lut safely from among them, and He destroyed them in their land in disgrace and humiliation. They said (about Lut and the believers):
إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ
("These are indeed men who want to be pure (from sins)!")
Qatadah commented, "They shamed them (Lut and the believers) with what is not a shame at all." Mujahid commented, "(Lut's people said about Lut and the believers,) They are a people who want to be pure from men's anuses and women's anuses!" Similar was narrated from Ibn 'Abbas.
Tafsir Ibn Kathir
قوم لوط پر بھی نبی کی نصیحت کار گر نہ ہوئی بلکہ الٹا دشمنی کرنے لگے اور دیس نکال دینے پر تل گئے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مع ایمانداروں کے وہاں سے صحیح سالم بجا لیا اور تمام بستی والوں کو ذلت و پستی کے ساتھ تباہ و غارت کردیا، ان کا یہ کہنا کہ یہ بڑے پاکباز لوگ ہیں بطور طعنے کے تھا اور یہ بھی مطلب تھا کہ یہ اس کام سے جو ہم کرتے ہیں دور ہیں پھر ان کا ہم میں کیا کام ؟ مجاہد اور ابن عباس کا یہی قول ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
أَيْ: مَا أَجَابُوا لُوطًا إِلَّا أَنْ هَموا بِإِخْرَاجِهِ وَنَفْيِهِ وَمَنْ مَعَهُ [مِنَ الْمُؤْمِنِينَ] [[زيادة من أ.]] مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ، فَأَخْرَجَهُ اللَّهُ تَعَالَى سَالِمًا، وَأَهْلَكَهُمْ فِي أَرْضِهِمْ صَاغِرِينَ مُهَانِينَ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ﴾ قَالَ قَتَادَةُ، عَابُوهُمْ بِغَيْرِ عَيْبٍ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: ﴿إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ﴾ مِنْ أَدْبَارِ الرِّجَالِ وَأَدْبَارِ النِّسَاءِ. ورُوي مِثْلُهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا.
فَأَنجَيْنَٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَٰبِرِينَ
So We saved him and his family, except for his wife; she was of those who remained [with the evildoers].
تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیا مگر ان کی بی بی (نہ بچی) کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں تھی
(چون کار به اینجا رسید،) ما او و خاندانش را رهایی بخشیدیم؛ جز همسرش، که از بازماندگان (در شهر) بود.
Tafsir Ibn Kathir
Then We saved him and his family, except his wife; she was of the Ghabirin (those who lagged behind)(83)And We rained down on them a rain (of stones). Then see what was the end of the criminals (84)
Allah says, We saved Lut and his family, for only his household believed in him.
Allah said in another Ayah,
فَأَخْرَجْنَا مَن كَانَ فِيهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ
(So We brought out from therein the believers. But We found not there any household of the Muslims except one [of Lut and his daughters])[51:35-36].
Only his wife (from his family) did not believe, remaining on the religion of her people. She used to conspire with them against Lut and inform them of who came to visit him, using certain signals that they agreed on. This is why when Lut was commanded to leave by night with his family, he was ordered not to inform his wife or take her with him. Some said that she followed them, and when the torment struck her people, she looked back and suffered the same punishment as them. However, it appears that she did not leave the town and that Lut did not tell her that they would depart. So she remained with her people, as apparent from Allah's statement,
إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ
(except his wife; she was of the Ghabirin) meaning, of those who remained, or they say: of those who were destroyed, and this is the more obvious explanation. Allah's statement,
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا
(And We rained down on them a rain) is explained by His other statement,
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنضُودٍ - مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ
(And rained on them stones of baked clay, in a well-arranged manner one after another. Marked from your Lord; and they are not ever far from the wrongdoers.)[11:82-83]. Allah said here,
فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ
(Then see what was the end of the criminals.)
This Ayah means: 'See, O Muhammad, the end of those who dared to disobey Allah and reject His Messengers.'
Imam Ahmad, Abu Dawud, At-Tirmidhi, Ibn Majah, all recorded a Hadith [from] Ibn 'Abbas who said that Allah's Messenger ﷺ said;
مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُول بِهِ
(Whoever is found doing the act of the people of Lut, then kill them; the doer and the one it is done to.)
Tafsir Ibn Kathir
لوطی تباہ ہوگئے حضرت لوط اور ان کا گھرانا اللہ کے ان عذابوں سے بچ گیا جو لوطیوں پر نازل ہوئے بجز آپ کے گھرانے کے اور کوئی آپ پر ایمان نہ لایا جیسے فرمان رب ہے آیت (فما وجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین) یعنی وہاں جتنے مومن تھے ہم نے سب کو نکال دیا۔ لیکن بجز ایک گھر والوں کے وہاں ہم نے کسی مسلمان کو پایا ہی نہیں۔ بلکہ خاندان لوط میں سے بھی خود حضرت لوط ؑ کی بیوی ہلاک ہوئی کیونکہ یہ بدنصیب کافرہ ہی تھی بلکہ قوم کے کافروں کی طرف دار تھی اگر کوئی مہمان آتا تو اشاروں سے قوم کو خبر پہنچا دیتی اسی لئے حضرت لوط سے کہہ دیا گیا تھا کہ اسے اپنے ساتھ نہ لے جانا بلکہ اسے خبر بھی نہ کرنا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ساتھ تو چلی تھی لیکن جب قوم پر عذاب آیا تو اس کے دل میں ان کی محبت آگئی اور رحم کی نگاہ سے انہیں دیکھنے لگی وہیں اسی وقت وہی عذاب اس بدنصیب پر بھی آگیا لیکن زیادہ ظاہر قول پہلا ہی ہے یعنی نہ اسے حضرت لوط نے عذاب کی خبر کی نہ اسے اپنے ساتھ لے گئے یہ یہیں باقی رہ گئی اور پھر ہلاک ہوگئی۔ (غابرین) کے معنی بھی باقی رہ جانے والے ہیں۔ جن بزرگوں نے اس کے معنی ہلاک ہونے والے کئے ہیں وہ بطور لزوم کے ہیں۔ کیونکہ جو باقی تھے وہ ہلاک ہونے والے ہی تھے۔ حضرت لوط ؑ اور ان کے مسلمان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے شہر سے نکلتے ہی عذاب الٰہی ان پر بارش کی طرح برس پڑا وہ بارش پتھروں اور ڈھیلوں کی تھی جو ہر ایک پر بالخصوص نشان زدہ اسی کیلئے آسمان سے گر رہے تھے۔ گو اللہ کے عذاب کو بےانصاف لوگ دور سمجھ رہے ہوں لیکن حقیقتاً ایسا نہیں۔ اے پیغمبر آپ خود دیکھ لیجئے کہ اللہ کی نافرمایوں اور رسول اللہ کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے ؟ امام ابو حنفیہ فرماتے ہیں لوطی فعل کرنے والے کو اونچی دیوار سے گرا دیا جائے پھر اوپر سے پتھراؤ کر کے اسے مار ڈالنا چاہیے کیونکہ لوطیوں کو اللہ کی طرف سے یہی سزا دی گئی اور علماء کرام کا فرمان ہے کہ اسے رجم کردیا جائے خواہ وہ شادی شدہ ہو یا بےشادی ہو۔ امام شافعی کے دو قول میں سے ایک یہی ہے۔ اس کی دلیل مسند احمد، ابو داؤد و ترمذی اور ابن ماجہ کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم لوطی فعل کرتے پاؤ اسے اور اس کے نیچے والے دونوں کو قتل کردو۔ علماء کی ایک جماعت کا قول ہے کہ یہ بھی مثل زنا کاری کے ہے شادی شدہ ہوں تو رجم ورنہ سو کوڑے۔ امام شافعی کا دوسرا قول بھی یہی ہے۔ عورتوں سے اس قسم کی حرکت کرنا بھی چھوٹی لواطت ہے اور بہ اجماع امت حرام ہے۔ بجز ایک شاذ قول کے اور بہت سی احادیث میں اس کی حرمت موجود ہے اسکا پورا بیان سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: فَأَنْجَيْنَا لُوطًا وَأَهْلَهُ، وَلَمْ يُؤْمِنْ بِهِ أَحَدٌ مِنْهُمْ سِوَى أَهْلِ بيته فقط، كما قال تعالى: ﴿فَأَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ * فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾ [الذريات:٣٥، ٣٦] إِلَّا امْرَأَتَهُ فَإِنَّهَا لَمْ تُؤْمِنْ بِهِ، بَلْ كَانَتْ عَلَى دِينِ قَوْمِهَا، تُمَالِئُهُمْ عَلَيْهِ وتُعْلمهم بِمَنْ يَقْدم عَلَيْهِ مِنْ ضِيفَانِهِ بِإِشَارَاتٍ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُمْ؛ وَلِهَذَا لَمَّا أُمِرَ لُوطٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنْ يُسْري بِأَهْلِهِ أُمِرَ أَلَّا يُعْلِمَ امْرَأَتَهُ وَلَا يُخْرِجَهَا مِنَ الْبَلَدِ. وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: بَلِ اتَّبَعَتْهُمْ، فَلَمَّا جَاءَ العذابُ الْتَفَتَتْ هِيَ فَأَصَابَهَا مَا أَصَابَهُمْ. وَالْأَظْهَرُ أَنَّهَا لَمْ تَخْرُجْ مِنَ الْبَلَدِ، وَلَا أَعْلَمَهَا لُوطٌ، بَلْ بَقِيَتْ مَعَهُمْ؛ وَلِهَذَا قَالَ هَاهُنَا: ﴿إِلا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ﴾ أَيْ: الْبَاقِينَ. وَمِنْهُمْ مَنْ فَسَّرَ ذَلِكَ ﴿مِنَ الْغَابِرِينَ﴾ [مَنَ] [[زيادة من ك، م.]] الْهَالِكِينَ، وَهُوَ تَفْسِيرٌ بِاللَّازِمِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَطَرًا﴾ مُفَسَّرٌ بِقَوْلِهِ: ﴿وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ﴾ [هُودٍ ٨٢، ٨٣] وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ﴾ أَيِ: انْظُرْ -يَا مُحَمَّدُ -كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَنْ تَجَهْرَمَ عَلَى مَعَاصِي اللَّهِ وَكَذَّبَ رُسُلَهُ [[في ك: "برسله".]]
وَقَدْ ذَهَبَ الْإِمَامُ أَبُو حَنِيفَةَ، رَحِمَهُ اللَّهُ، إِلَى أَنَّ اللَّائِطَ يُلْقَى مِنْ شَاهِقٍ، وَيُتْبَعُ بِالْحِجَارَةِ كَمَا فُعِلَ بِقَوْمِ لُوطٍ.
وَذَهَبَ آخَرُونَ مِنَ الْعُلَمَاءِ إِلَى أَنَّهُ يُرْجَمُ سَوَاءً كَانَ مُحْصَنًا أَوْ غَيْرَ مُحْصَنٍ. وَهُوَ أَحَدُ قَوْلَيِ الشَّافِعِيِّ، رَحِمَهُ اللَّهُ، وَالْحُجَّةُ مَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، مِنْ حَدِيثِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرو [[في أ: "عمرو بن سلمة".]] عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعَمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ" [[المسند (١/٣٠٠) وسنن أبي داود برقم (٤٤٦٢) وسنن الترمذي برقم (١٤٥٥) وسنن ابن ماجة برقم (٢٥٦١) .]]
وَقَالَ آخَرُونَ: هُوَ كَالزَّانِي، فَإِنْ كَانَ مُحْصَنًا رُجِمَ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُحْصَنًا جُلِدَ مِائَةَ جِلْدَةٍ. وَهُوَ الْقَوْلُ الْآخَرُ لِلشَّافِعِيِّ.
وَأَمَّا إِتْيَانُ النِّسَاءِ فِي الْأَدْبَارِ، فَهُوَ اللُّوطِيَّةُ الصُّغْرَى، وَهُوَ حَرَامٌ بِإِجْمَاعِ الْعُلَمَاءِ، إِلَّا قَوْلًا [وَاحِدًا] [[زيادة من ك.]] شَاذًا لِبَعْضِ السَّلَفِ، وَقَدْ وَرَدَ فِي النَّهْيِ عَنْهُ أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهَا فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ [[الآية: ٢٢٣.]]
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًۭا ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُجْرِمِينَ
And We rained upon them a rain [of stones]. Then see how was the end of the criminals.
اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینھ برسایا۔ سو دیکھ لو کہ گنہگاروں کا کیسا انجام ہوا
و (سپس چنان) بارانی (از سنگ) بر آنها فرستادیم؛ (که آنها را در هم کوبید و نابود ساخت.) پس بنگر سرانجام کار مجرمان چه شد!
Tafsir Ibn Kathir
Then We saved him and his family, except his wife; she was of the Ghabirin (those who lagged behind)(83)And We rained down on them a rain (of stones). Then see what was the end of the criminals (84)
Allah says, We saved Lut and his family, for only his household believed in him.
Allah said in another Ayah,
فَأَخْرَجْنَا مَن كَانَ فِيهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ
(So We brought out from therein the believers. But We found not there any household of the Muslims except one [of Lut and his daughters])[51:35-36].
Only his wife (from his family) did not believe, remaining on the religion of her people. She used to conspire with them against Lut and inform them of who came to visit him, using certain signals that they agreed on. This is why when Lut was commanded to leave by night with his family, he was ordered not to inform his wife or take her with him. Some said that she followed them, and when the torment struck her people, she looked back and suffered the same punishment as them. However, it appears that she did not leave the town and that Lut did not tell her that they would depart. So she remained with her people, as apparent from Allah's statement,
إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ
(except his wife; she was of the Ghabirin) meaning, of those who remained, or they say: of those who were destroyed, and this is the more obvious explanation. Allah's statement,
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا
(And We rained down on them a rain) is explained by His other statement,
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنضُودٍ - مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ
(And rained on them stones of baked clay, in a well-arranged manner one after another. Marked from your Lord; and they are not ever far from the wrongdoers.)[11:82-83]. Allah said here,
فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ
(Then see what was the end of the criminals.)
This Ayah means: 'See, O Muhammad, the end of those who dared to disobey Allah and reject His Messengers.'
Imam Ahmad, Abu Dawud, At-Tirmidhi, Ibn Majah, all recorded a Hadith [from] Ibn 'Abbas who said that Allah's Messenger ﷺ said;
مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُول بِهِ
(Whoever is found doing the act of the people of Lut, then kill them; the doer and the one it is done to.)
Tafsir Ibn Kathir
لوطی تباہ ہوگئے حضرت لوط اور ان کا گھرانا اللہ کے ان عذابوں سے بچ گیا جو لوطیوں پر نازل ہوئے بجز آپ کے گھرانے کے اور کوئی آپ پر ایمان نہ لایا جیسے فرمان رب ہے آیت (فما وجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین) یعنی وہاں جتنے مومن تھے ہم نے سب کو نکال دیا۔ لیکن بجز ایک گھر والوں کے وہاں ہم نے کسی مسلمان کو پایا ہی نہیں۔ بلکہ خاندان لوط میں سے بھی خود حضرت لوط ؑ کی بیوی ہلاک ہوئی کیونکہ یہ بدنصیب کافرہ ہی تھی بلکہ قوم کے کافروں کی طرف دار تھی اگر کوئی مہمان آتا تو اشاروں سے قوم کو خبر پہنچا دیتی اسی لئے حضرت لوط سے کہہ دیا گیا تھا کہ اسے اپنے ساتھ نہ لے جانا بلکہ اسے خبر بھی نہ کرنا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ساتھ تو چلی تھی لیکن جب قوم پر عذاب آیا تو اس کے دل میں ان کی محبت آگئی اور رحم کی نگاہ سے انہیں دیکھنے لگی وہیں اسی وقت وہی عذاب اس بدنصیب پر بھی آگیا لیکن زیادہ ظاہر قول پہلا ہی ہے یعنی نہ اسے حضرت لوط نے عذاب کی خبر کی نہ اسے اپنے ساتھ لے گئے یہ یہیں باقی رہ گئی اور پھر ہلاک ہوگئی۔ (غابرین) کے معنی بھی باقی رہ جانے والے ہیں۔ جن بزرگوں نے اس کے معنی ہلاک ہونے والے کئے ہیں وہ بطور لزوم کے ہیں۔ کیونکہ جو باقی تھے وہ ہلاک ہونے والے ہی تھے۔ حضرت لوط ؑ اور ان کے مسلمان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے شہر سے نکلتے ہی عذاب الٰہی ان پر بارش کی طرح برس پڑا وہ بارش پتھروں اور ڈھیلوں کی تھی جو ہر ایک پر بالخصوص نشان زدہ اسی کیلئے آسمان سے گر رہے تھے۔ گو اللہ کے عذاب کو بےانصاف لوگ دور سمجھ رہے ہوں لیکن حقیقتاً ایسا نہیں۔ اے پیغمبر آپ خود دیکھ لیجئے کہ اللہ کی نافرمایوں اور رسول اللہ کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے ؟ امام ابو حنفیہ فرماتے ہیں لوطی فعل کرنے والے کو اونچی دیوار سے گرا دیا جائے پھر اوپر سے پتھراؤ کر کے اسے مار ڈالنا چاہیے کیونکہ لوطیوں کو اللہ کی طرف سے یہی سزا دی گئی اور علماء کرام کا فرمان ہے کہ اسے رجم کردیا جائے خواہ وہ شادی شدہ ہو یا بےشادی ہو۔ امام شافعی کے دو قول میں سے ایک یہی ہے۔ اس کی دلیل مسند احمد، ابو داؤد و ترمذی اور ابن ماجہ کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم لوطی فعل کرتے پاؤ اسے اور اس کے نیچے والے دونوں کو قتل کردو۔ علماء کی ایک جماعت کا قول ہے کہ یہ بھی مثل زنا کاری کے ہے شادی شدہ ہوں تو رجم ورنہ سو کوڑے۔ امام شافعی کا دوسرا قول بھی یہی ہے۔ عورتوں سے اس قسم کی حرکت کرنا بھی چھوٹی لواطت ہے اور بہ اجماع امت حرام ہے۔ بجز ایک شاذ قول کے اور بہت سی احادیث میں اس کی حرمت موجود ہے اسکا پورا بیان سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: فَأَنْجَيْنَا لُوطًا وَأَهْلَهُ، وَلَمْ يُؤْمِنْ بِهِ أَحَدٌ مِنْهُمْ سِوَى أَهْلِ بيته فقط، كما قال تعالى: ﴿فَأَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ * فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾ [الذريات:٣٥، ٣٦] إِلَّا امْرَأَتَهُ فَإِنَّهَا لَمْ تُؤْمِنْ بِهِ، بَلْ كَانَتْ عَلَى دِينِ قَوْمِهَا، تُمَالِئُهُمْ عَلَيْهِ وتُعْلمهم بِمَنْ يَقْدم عَلَيْهِ مِنْ ضِيفَانِهِ بِإِشَارَاتٍ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُمْ؛ وَلِهَذَا لَمَّا أُمِرَ لُوطٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنْ يُسْري بِأَهْلِهِ أُمِرَ أَلَّا يُعْلِمَ امْرَأَتَهُ وَلَا يُخْرِجَهَا مِنَ الْبَلَدِ. وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: بَلِ اتَّبَعَتْهُمْ، فَلَمَّا جَاءَ العذابُ الْتَفَتَتْ هِيَ فَأَصَابَهَا مَا أَصَابَهُمْ. وَالْأَظْهَرُ أَنَّهَا لَمْ تَخْرُجْ مِنَ الْبَلَدِ، وَلَا أَعْلَمَهَا لُوطٌ، بَلْ بَقِيَتْ مَعَهُمْ؛ وَلِهَذَا قَالَ هَاهُنَا: ﴿إِلا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ﴾ أَيْ: الْبَاقِينَ. وَمِنْهُمْ مَنْ فَسَّرَ ذَلِكَ ﴿مِنَ الْغَابِرِينَ﴾ [مَنَ] [[زيادة من ك، م.]] الْهَالِكِينَ، وَهُوَ تَفْسِيرٌ بِاللَّازِمِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَطَرًا﴾ مُفَسَّرٌ بِقَوْلِهِ: ﴿وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ﴾ [هُودٍ ٨٢، ٨٣] وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ﴾ أَيِ: انْظُرْ -يَا مُحَمَّدُ -كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَنْ تَجَهْرَمَ عَلَى مَعَاصِي اللَّهِ وَكَذَّبَ رُسُلَهُ [[في ك: "برسله".]]
وَقَدْ ذَهَبَ الْإِمَامُ أَبُو حَنِيفَةَ، رَحِمَهُ اللَّهُ، إِلَى أَنَّ اللَّائِطَ يُلْقَى مِنْ شَاهِقٍ، وَيُتْبَعُ بِالْحِجَارَةِ كَمَا فُعِلَ بِقَوْمِ لُوطٍ.
وَذَهَبَ آخَرُونَ مِنَ الْعُلَمَاءِ إِلَى أَنَّهُ يُرْجَمُ سَوَاءً كَانَ مُحْصَنًا أَوْ غَيْرَ مُحْصَنٍ. وَهُوَ أَحَدُ قَوْلَيِ الشَّافِعِيِّ، رَحِمَهُ اللَّهُ، وَالْحُجَّةُ مَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، مِنْ حَدِيثِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرو [[في أ: "عمرو بن سلمة".]] عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعَمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ" [[المسند (١/٣٠٠) وسنن أبي داود برقم (٤٤٦٢) وسنن الترمذي برقم (١٤٥٥) وسنن ابن ماجة برقم (٢٥٦١) .]]
وَقَالَ آخَرُونَ: هُوَ كَالزَّانِي، فَإِنْ كَانَ مُحْصَنًا رُجِمَ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُحْصَنًا جُلِدَ مِائَةَ جِلْدَةٍ. وَهُوَ الْقَوْلُ الْآخَرُ لِلشَّافِعِيِّ.
وَأَمَّا إِتْيَانُ النِّسَاءِ فِي الْأَدْبَارِ، فَهُوَ اللُّوطِيَّةُ الصُّغْرَى، وَهُوَ حَرَامٌ بِإِجْمَاعِ الْعُلَمَاءِ، إِلَّا قَوْلًا [وَاحِدًا] [[زيادة من ك.]] شَاذًا لِبَعْضِ السَّلَفِ، وَقَدْ وَرَدَ فِي النَّهْيِ عَنْهُ أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهَا فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ [[الآية: ٢٢٣.]]
وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًۭا ۗ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ قَدْ جَآءَتْكُم بَيِّنَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ فَأَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ وَٱلْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَٰحِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
And to [the people of] Madyan [We sent] their brother Shu'ayb. He said, "O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. There has come to you clear evidence from your Lord. So fulfill the measure and weight and do not deprive people of their due and cause not corruption upon the earth after its reformation. That is better for you, if you should be believers.
اور مَدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ (تو) انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی آچکی ہے تو تم ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے
و به سوی مدین، برادرشان شعیب را (فرستادیم)؛ گفت: «ای قوم من! خدا را بپرستید، که جز او معبودی ندارید! دلیل روشنی از طرف پروردگارتان برای شما آمده است؛ بنابر این، حق پیمانه و وزن را ادا کنید! و از اموال مردم چیزی نکاهید! و در روی زمین، بعد از آنکه (در پرتو ایمان و دعوت انبیاء) اصلاح شده است، فساد نکنید! این برای شما بهتر است اگر با ایمان هستید!
Tafsir Ibn Kathir
And to (the people of) Madyan, (We sent) their brother Shu'ayb. He said: "O my people! Worship Allah! You have no other God but Him. Verily, a clear proof (sign) from your Lord has come unto you; so give full measure and full weight and wrong not men in their things, and do not do mischief on the earth after it has been set in order, that will be better for you, if you are believers (85)
Story of Shu'ayb, upon him be Peace, and the Land of Madyan
Muhammad bin Ishaq said, "They (the people of Madyan) are the descendents of Madyan, son of Midyan, son of Ibrahim. Shu'ayb was the son of Mikil bin Yashjur. And in the Syrian language, his name was Yathrun (Jethro)". I (Ibn Kathir) say, Madyan was the name of the tribe and also a city that is close to Ma'an on route to the Hijaz (from Ash-Sham). Allah said in another Ayah,
وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُونَ
(And when he arrived at the water (a well) of Madyan he found there a group of men watering (their flocks).)[28:23]
They are also the people of Al-Aykah (the Woods), as we will mention later on, Allah willing, and our trust is in Him.
قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ
(He said: "O my people! Worship Allah! You have no other God but Him") and this is the call of all Messengers,
قَدْ جَاءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ
("Verily, a clear proof (sign) from your Lord has come unto you;") meaning, 'Allah has presented the proof and evidences of the truth of what I brought you.' He then advised them and commanded them to give full measure and full weight and not to wrong men in their dealings, meaning, to refrain from cheating people in buying and selling. They used to treacherously avoid giving full weight and measure. Allah said in other Ayat,
وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ
(Woe to Al-Mutaffifin (those who give less in measure and weight)...)[83:1] until He said,
لِرَبِّ الْعَالَمِينَ
(before the Lord of all that exists?)[83:6]. These Ayat contain a stern warning and sure promise that we ask Allah to save us from. Shu'ayb was called 'Speaker of the Prophets', because of his eloquent words and eloquent advice, and Allah stated that Shu'ayb said:
Tafsir Ibn Kathir
خطیب الانبیاء شعیب علیہ اسلام مشہور مؤرخ حضرت امام محمد بن اسحاق ؒ فرماتے ہیں یہ لوگ مدین بن ابراہیم کی نسل سے ہیں۔ حضرت شعیب میکیل بن نیشجر کے لڑکے تھے ان کا نام سریانی زبان میں یژون تھا۔ یہ یاد رہے کہ قبیلے کا نام بھی مدین تھا اور اس بستی کا نام بھی یہی تھا یہ شہر معان سے ہوتے ہوئے حجاز جانے والے کے راستے میں آتا ہے۔ آیت قرآن ولما و رد ماء مدین میں شہر مدین کے کنویں کا ذکر موجود ہے اس سے مراد ایکہ والے ہیں جیسا کہ انشاء اللہ بیان کریں گے۔ آپ نے بھی تمام رسولوں کی طرح انہیں توحید کی اور شرک سے بچنے کی دعوت دی اور فرمایا کہ اللہ کی طرف سے میری نبوت کی دلیلیں تمہارے سامنے آچکی ہیں۔ خالق کا حق بتا کر پھر مخلوق کے حق کی ادائیگی کی طرف رہبری کی اور فرمایا کہ ناپ تول میں کمی کی عادت چھوڑو لوگوں کے حقوق نہ مارو۔ کہو کچھ اور کرو کچھ یہ خیانت ہے فرمان ہے آیت (ویل للمطففین) ان ناپ تول میں کمی کرنے والوں کیلئے (ویل) ہے۔ اللہ اس بدخصلت سے ہر ایک کو بچائے۔ پھر حضرت شعیب ؑ کا اور وعظ بیان ہوتا ہے۔ آپ کو بہ سبب فضاحت عبارت اور عمدگی وعظ کے خطیب الانبیاء کہا جاتا تھا۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: هُمْ مِنْ سُلَالَةِ "مَدْيَنَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ". وَشُعَيْبٌ هُوَ ابْنُ مِيكِيلَ بْنِ يَشْجُرَ قَالَ: وَاسْمُهُ بِالسُّرْيَانِيَّةِ: "يَثْرُونُ".
قُلْتُ: وَتُطْلَقُ مَدِينُ عَلَى الْقَبِيلَةِ، وَعَلَى الْمَدِينَةِ، وَهِيَ الَّتِي بِقُرْبِ "مَعَان" مِنْ طَرِيقِ الْحِجَازِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِنَ النَّاسِ يَسْقُونَ﴾ [الْقَصَصِ:٢٣] وَهُمْ أَصْحَابُ الْأَيْكَةِ، كَمَا سَنَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَبِهِ الثِّقَةُ.
﴿قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ﴾ هَذِهِ دَعْوَةُ الرُّسُلِ كُلِّهِمْ، ﴿قَدْ جَاءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ أَيْ: قَدْ أَقَامَ اللَّهُ الْحُجَجَ وَالْبَيِّنَاتِ عَلَى صِدْقِ مَا جِئْتُكُمْ بِهِ. ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي مُعَامَلَتِهِمُ النَّاسَ بِأَنْ يُوفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ، وَلَا يَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ، أَيْ: لَا يَخُونُوا النَّاسَ فِي أَمْوَالِهِمْ وَيَأْخُذُوهَا عَلَى وَجْهِ الْبَخْسِ، وَهُوَ نَقْصُ الْمِكْيَالِ وَالْمِيزَانِ خفْية وَتَدْلِيسًا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ * [الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ * وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ * أَلا يَظُنُّ أُولَئِكَ أَنَّهُمْ مَبْعُوثُونَ * لِيَوْمٍ عَظِيمٍ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ] [[زيادة من ك، م، وفي هـ: "إلى قوله".]] لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [الْمُطَفِّفِينَ:١-٦] وَهَذَا تَهْدِيدٌ شَدِيدٌ، وَوَعِيدٌ أَكِيدٌ، نَسْأَلُ اللَّهَ الْعَافِيَةَ مِنْهُ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى إِخْبَارًا عَنْ شُعَيْبٍ، الَّذِي يُقَالُ [[في م: "قال".]] لَهُ: "خَطِيبُ الْأَنْبِيَاءِ"، لِفَصَاحَةِ عِبَارَتِهِ، وَجَزَالَةِ مَوْعِظَتِهِ.
وَلَا تَقْعُدُوا۟ بِكُلِّ صِرَٰطٍۢ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ مَنْ ءَامَنَ بِهِۦ وَتَبْغُونَهَا عِوَجًۭا ۚ وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ كُنتُمْ قَلِيلًۭا فَكَثَّرَكُمْ ۖ وَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُفْسِدِينَ
And do not sit on every path, threatening and averting from the way of Allah those who believe in Him, seeking to make it [seem] deviant. And remember when you were few and He increased you. And see how was the end of the corrupters.
اور ہر رستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص خدا پر ایمان نہیں لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور راہ خدا سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو اور (اس وقت کو) یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر کر دیا اور دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا
و بر سر هر راه ننشینید که (مردم با ایمان را) تهدید کنید و مؤمنان را از راه خدا باز دارید، و با (القای شبهات،) آن را کج و معوج نشان دهید! و به خاطر بیاورید زمانی را که اندک بودید، و او شما را فزونی داد! و بنگرید سرانجام مفسدان چگونه بود!
Tafsir Ibn Kathir
"And sit not on every road, threatening, and hindering from the path of Allah those who believe in Him, and seeking to make it crooked. And remember when you were but few, and He multiplied you. And see what was the end of the mischief-makers (86)"And if there is a party of you who believes in that with which I have been sent and a party who does not believe, so be patient until Allah judges between us, and He is the best of judges. (87)
Prophet Shu'ayb forbade his people from setting up blockades on the roads, saying,
وَلَا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ
("And sit not on every road, threatening,") threatening people with death if they do not give up their money, as they were bandits, according to As-Suddi. Ibn 'Abbas, Mujahid and several others commented:
وَلَا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ
("And sit not on every road, threatening.") the believers who come to Shu'ayb to follow him." The first meaning is better, because Prophet Shu'ayb first said to them,
بِكُلِّ صِرَاطٍ
("on every road...") He then mentioned the second meaning,
وَتَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِهِ وَتَبْغُونَهَا عِوَجًا
("and hindering from the path of Allah those who believe in Him, and seeking to make it crooked.") meaning, you seek to make the path of Allah crooked and deviated,
وَاذْكُرُوا إِذْ كُنتُمْ قَلِيلًا فَكَثَّرَكُمْ
("And remember when you were but few, and He multiplied you.") meaning, you were weak because you were few. But you later on became mighty because of your large numbers. Therefore, remember Allah's favor.
وَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ
("And see what was the end of the mischief-makers.") from the previous nations and earlier generations. See the torment and punishment they suffered, because they disobeyed Allah and rejected His Messengers. Shu'ayb continued;
وَإِن كَانَ طَائِفَةٌ مِّنكُمْ آمَنُوا بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ وَطَائِفَةٌ لَّمْ يُؤْمِنُوا
("And if there is a party of you who believes in that with which I have been sent and a party who does not believe,") that is, if you divided concerning me,
فَاصْبِرُوا
("so be patient") that is, then wait and see,
حَتَّىٰ يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا
("until Allah judges between us,"), and you,
وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ
("and He is the best of judges.") Surely, Allah will award the best end to those who fear and obey Him and He will destroy the disbelievers.
Tafsir Ibn Kathir
قوم شعیب کی بداعمالیاں فرماتے ہیں کہ مسافروں کے راستے میں دہشت گردی نہ پھیلاؤ۔ ڈاکہ نہ ڈالو اور انہیں ڈرا دھمکا کر ان کا مال زبردستی نہ چھینو۔ میرے پاس ہدایت حاصل کرنے کیلئے جو آنا چاہتا ہے اسے خوفزدہ کر کے روک دیتے ہو۔ ایمانداروں کو اللہ کی راہ پر چلنے میں روڑے اٹکاتے ہو۔ راہ حق کو ٹیڑھا کردینا چاہتے ہو ان تمام برائیوں سے بچو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے بلکہ زیادہ ظاہر ہے کہ ہر راستے پر نہ بیٹھنے کی ہدایت سے تو قتل و غارت سے روک کے لئے ہو جو ان کی عادت تھی اور پھر راہ حق سے مومنوں کو نہ روکنے کی ہدایت پھر کی ہو۔ تم اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ گنتی میں قوت میں تم کچھ نہ تھے بہت ہی کم تھے اس نے اپنی مہربانی سے تمہاری تعداد بڑھا دی اور تمہیں زور آور کردیا رب کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرو۔ عبرت کی آنکھوں سے ان کا انجام دیکھ لو جو تم سے پہلے ابھی ابھی گذرے ہیں جن کے ظلم و جبر کی وجہ سے جن کی بد امنی اور فساد کی وجہ سے رب کے عذاب ان پر ٹوٹ پڑے۔ وہ اللہ کی نافرمانیوں میں رسولوں کے جھٹلانے میں مشغول رہے دلیر بن گئے جس کے بدلے اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوئی۔ آج ان کی ایک آنکھ جھپکتی ہوئی باقی نہیں رہی نیست ونابود ہوگئے مر مٹ گئے۔ دیکھو میں تمہیں صاف بےلاگ ایک بات بتادوں تم میں سے ایک گروہ مجھ پر ایمان لا چکا ہے اور ایک گروہ نے میرا انکار اور بری طرح مجھ سے کفر کیا ہے۔ اب تم خود دیکھ لو گے کہ مدد ربانی کس کا ساتھ دیتی ہے اور اللہ کی نظروں سے کون گر جاتا ہے ؟ تم رب کے فیصلے کے منتظر رہو۔ وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے اچھا اور سچا فیصلہ کرنے والا ہے۔ تم خود دیکھ لو کہ اللہ والے با مراد ہوں گے اور دشمنان اللہ ناشاد ہوں گے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَنْهَاهُمْ شُعَيْبٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَنْ قَطْعِ الطَّرِيقِ الْحِسِّيِّ وَالْمَعْنَوِيِّ، بِقَوْلِهِ: ﴿وَلا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ﴾ أَيْ: تُوعِدُونَ النَّاسَ بِالْقَتْلِ إِنْ لَمْ يُعْطُوكُمْ أَمْوَالَهُمْ. قَالَ السُّدِّيُّ وَغَيْرُهُ: كَانُوا عَشَّارِينَ. وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] وَمُجَاهِدٍ وَغَيْرِ وَاحِدٍ: ﴿وَلا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ﴾ أَيْ: تَتَوَعَّدُونَ الْمُؤْمِنِينَ الْآتِينَ إِلى شُعَيْبٍ لِيَتَّبِعُوهُ. وَالْأَوَّلُ أَظْهَرُ؛ لِأَنَّهُ قَالَ: ﴿بِكُلِّ صِرَاطٍ﴾ وَهِيَ الطُّرُقُ، وَهَذَا الثَّانِي هُوَ قَوْلُهُ: ﴿وَتَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِهِ وَتَبْغُونَهَا عِوَجًا﴾ أَيْ: وَتَوَدُّونَ أَنْ تَكُونَ سَبِيلُ اللَّهِ عِوَجًا مَائِلَةً. ﴿وَاذْكُرُوا إِذْ كُنْتُمْ قَلِيلا فَكَثَّرَكُمْ﴾ أَيْ: كُنْتُمْ مُسْتَضْعَفِينَ لِقِلَّتِكُمْ فَصِرْتُمْ أَعِزَّةً لِكَثْرَةِ عَدَدكم، فَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ فِي ذَلِكَ، ﴿وَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ﴾ أَيْ: مِنَ الْأُمَمِ الْخَالِيَةِ وَالْقُرُونِ الْمَاضِيَةِ، مَا حَلَّ بِهِمْ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ بِاجْتِرَائِهِمْ عَلَى مَعَاصِي اللَّهِ وَتَكْذِيبِ [[في أ: "وتكذيبهم".]] رُسُلِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ كَانَ طَائِفَةٌ مِنْكُمْ آمَنُوا بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ وَطَائِفَةٌ لَمْ يُؤْمِنُوا﴾ أَيْ: [قَدِ] [[زيادة من د، ك، م.]] اخْتَلَفْتُمْ عَلَيَّ ﴿فَاصْبِرُوا﴾ أَيِ: انْتَظَرُوا ﴿حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا﴾ أَيْ: يَفْصِلُ، ﴿وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ﴾ فَإِنَّهُ سَيَجْعَلُ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ، وَالدَّمَارَ عَلَى الْكَافِرِينَ.
وَإِن كَانَ طَآئِفَةٌۭ مِّنكُمْ ءَامَنُوا۟ بِٱلَّذِىٓ أُرْسِلْتُ بِهِۦ وَطَآئِفَةٌۭ لَّمْ يُؤْمِنُوا۟ فَٱصْبِرُوا۟ حَتَّىٰ يَحْكُمَ ٱللَّهُ بَيْنَنَا ۚ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَٰكِمِينَ
And if there should be a group among you who has believed in that with which I have been sent and a group that has not believed, then be patient until Allah judges between us. And He is the best of judges."
اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی ہے۔ اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی۔ تو صبر کیے رہو یہاں تک کہ خدا ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
و اگر گروهی از شما به آنچه من به آن فرستاده شدهام ایمان آوردهاند، و گروهی ایمان نیاوردهاند، صبر کنید تا خداوند میان ما داوری کند، که او بهترین داوران است!
Tafsir Ibn Kathir
"And sit not on every road, threatening, and hindering from the path of Allah those who believe in Him, and seeking to make it crooked. And remember when you were but few, and He multiplied you. And see what was the end of the mischief-makers (86)"And if there is a party of you who believes in that with which I have been sent and a party who does not believe, so be patient until Allah judges between us, and He is the best of judges. (87)
Prophet Shu'ayb forbade his people from setting up blockades on the roads, saying,
وَلَا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ
("And sit not on every road, threatening,") threatening people with death if they do not give up their money, as they were bandits, according to As-Suddi. Ibn 'Abbas, Mujahid and several others commented:
وَلَا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ
("And sit not on every road, threatening.") the believers who come to Shu'ayb to follow him." The first meaning is better, because Prophet Shu'ayb first said to them,
بِكُلِّ صِرَاطٍ
("on every road...") He then mentioned the second meaning,
وَتَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِهِ وَتَبْغُونَهَا عِوَجًا
("and hindering from the path of Allah those who believe in Him, and seeking to make it crooked.") meaning, you seek to make the path of Allah crooked and deviated,
وَاذْكُرُوا إِذْ كُنتُمْ قَلِيلًا فَكَثَّرَكُمْ
("And remember when you were but few, and He multiplied you.") meaning, you were weak because you were few. But you later on became mighty because of your large numbers. Therefore, remember Allah's favor.
وَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ
("And see what was the end of the mischief-makers.") from the previous nations and earlier generations. See the torment and punishment they suffered, because they disobeyed Allah and rejected His Messengers. Shu'ayb continued;
وَإِن كَانَ طَائِفَةٌ مِّنكُمْ آمَنُوا بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ وَطَائِفَةٌ لَّمْ يُؤْمِنُوا
("And if there is a party of you who believes in that with which I have been sent and a party who does not believe,") that is, if you divided concerning me,
فَاصْبِرُوا
("so be patient") that is, then wait and see,
حَتَّىٰ يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا
("until Allah judges between us,"), and you,
وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ
("and He is the best of judges.") Surely, Allah will award the best end to those who fear and obey Him and He will destroy the disbelievers.
Tafsir Ibn Kathir
قوم شعیب کی بداعمالیاں فرماتے ہیں کہ مسافروں کے راستے میں دہشت گردی نہ پھیلاؤ۔ ڈاکہ نہ ڈالو اور انہیں ڈرا دھمکا کر ان کا مال زبردستی نہ چھینو۔ میرے پاس ہدایت حاصل کرنے کیلئے جو آنا چاہتا ہے اسے خوفزدہ کر کے روک دیتے ہو۔ ایمانداروں کو اللہ کی راہ پر چلنے میں روڑے اٹکاتے ہو۔ راہ حق کو ٹیڑھا کردینا چاہتے ہو ان تمام برائیوں سے بچو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے بلکہ زیادہ ظاہر ہے کہ ہر راستے پر نہ بیٹھنے کی ہدایت سے تو قتل و غارت سے روک کے لئے ہو جو ان کی عادت تھی اور پھر راہ حق سے مومنوں کو نہ روکنے کی ہدایت پھر کی ہو۔ تم اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ گنتی میں قوت میں تم کچھ نہ تھے بہت ہی کم تھے اس نے اپنی مہربانی سے تمہاری تعداد بڑھا دی اور تمہیں زور آور کردیا رب کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرو۔ عبرت کی آنکھوں سے ان کا انجام دیکھ لو جو تم سے پہلے ابھی ابھی گذرے ہیں جن کے ظلم و جبر کی وجہ سے جن کی بد امنی اور فساد کی وجہ سے رب کے عذاب ان پر ٹوٹ پڑے۔ وہ اللہ کی نافرمانیوں میں رسولوں کے جھٹلانے میں مشغول رہے دلیر بن گئے جس کے بدلے اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوئی۔ آج ان کی ایک آنکھ جھپکتی ہوئی باقی نہیں رہی نیست ونابود ہوگئے مر مٹ گئے۔ دیکھو میں تمہیں صاف بےلاگ ایک بات بتادوں تم میں سے ایک گروہ مجھ پر ایمان لا چکا ہے اور ایک گروہ نے میرا انکار اور بری طرح مجھ سے کفر کیا ہے۔ اب تم خود دیکھ لو گے کہ مدد ربانی کس کا ساتھ دیتی ہے اور اللہ کی نظروں سے کون گر جاتا ہے ؟ تم رب کے فیصلے کے منتظر رہو۔ وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے اچھا اور سچا فیصلہ کرنے والا ہے۔ تم خود دیکھ لو کہ اللہ والے با مراد ہوں گے اور دشمنان اللہ ناشاد ہوں گے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَنْهَاهُمْ شُعَيْبٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَنْ قَطْعِ الطَّرِيقِ الْحِسِّيِّ وَالْمَعْنَوِيِّ، بِقَوْلِهِ: ﴿وَلا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ﴾ أَيْ: تُوعِدُونَ النَّاسَ بِالْقَتْلِ إِنْ لَمْ يُعْطُوكُمْ أَمْوَالَهُمْ. قَالَ السُّدِّيُّ وَغَيْرُهُ: كَانُوا عَشَّارِينَ. وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] وَمُجَاهِدٍ وَغَيْرِ وَاحِدٍ: ﴿وَلا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ﴾ أَيْ: تَتَوَعَّدُونَ الْمُؤْمِنِينَ الْآتِينَ إِلى شُعَيْبٍ لِيَتَّبِعُوهُ. وَالْأَوَّلُ أَظْهَرُ؛ لِأَنَّهُ قَالَ: ﴿بِكُلِّ صِرَاطٍ﴾ وَهِيَ الطُّرُقُ، وَهَذَا الثَّانِي هُوَ قَوْلُهُ: ﴿وَتَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِهِ وَتَبْغُونَهَا عِوَجًا﴾ أَيْ: وَتَوَدُّونَ أَنْ تَكُونَ سَبِيلُ اللَّهِ عِوَجًا مَائِلَةً. ﴿وَاذْكُرُوا إِذْ كُنْتُمْ قَلِيلا فَكَثَّرَكُمْ﴾ أَيْ: كُنْتُمْ مُسْتَضْعَفِينَ لِقِلَّتِكُمْ فَصِرْتُمْ أَعِزَّةً لِكَثْرَةِ عَدَدكم، فَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ فِي ذَلِكَ، ﴿وَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ﴾ أَيْ: مِنَ الْأُمَمِ الْخَالِيَةِ وَالْقُرُونِ الْمَاضِيَةِ، مَا حَلَّ بِهِمْ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ بِاجْتِرَائِهِمْ عَلَى مَعَاصِي اللَّهِ وَتَكْذِيبِ [[في أ: "وتكذيبهم".]] رُسُلِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ كَانَ طَائِفَةٌ مِنْكُمْ آمَنُوا بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ وَطَائِفَةٌ لَمْ يُؤْمِنُوا﴾ أَيْ: [قَدِ] [[زيادة من د، ك، م.]] اخْتَلَفْتُمْ عَلَيَّ ﴿فَاصْبِرُوا﴾ أَيِ: انْتَظَرُوا ﴿حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا﴾ أَيْ: يَفْصِلُ، ﴿وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ﴾ فَإِنَّهُ سَيَجْعَلُ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ، وَالدَّمَارَ عَلَى الْكَافِرِينَ.
۞ قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لَنُخْرِجَنَّكَ يَٰشُعَيْبُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِى مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَٰرِهِينَ
Said the eminent ones who were arrogant among his people, "We will surely evict you, O Shu'ayb, and those who have believed with you from our city, or you must return to our religion." He said, "Even if we were unwilling?"
(تو) ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے، وہ کہنے لگے کہ شعیب! (یا تو) ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں، ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ انہوں نے کہا خواہ ہم (تمہارے دین سے) بیزار ہی ہوں (تو بھی؟)
اشراف زورمند و متکبّر از قوم او گفتند: «ای شعیب! به یقین، تو و کسانی را که به تو ایمان آوردهاند، از شهر و دیار خود بیرون خواهیم کرد، یا به آیین ما بازگردید!» کفت: «آیا (میخواهید ما را بازگردانید) اگر چه مایل نباشیم؟!
Tafsir Ibn Kathir
The chiefs of those who were arrogant among his people said: "We shall certainly drive you out, O Shu'ayb and those who have believed with you from our town, or else you (all) shall return to our religion." He said: "Even though we hate it? (88)"We should have invented a lie against Allah if we returned to your religion, after Allah has rescued us from it. And it is not for us to return to it unless Allah, our Lord, should will. Our Lord comprehends all things in His knowledge. In Allah (Alone) we put our trust. Our Lord! Judge between us and our people in truth, for You are the best of those who give judgment. (89)
Allah describes the way the disbelievers answered His Prophet Shu'ayb and those who believed in him,by threatening them with expulsion from their village,or with forceful reversion to the disbeliever's religion.
The chiefs spoke the words mentioned here to the Messenger Shu'ayb, but intended it for those who followed his religion too. The statement,
أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ
("Even though we hate it?"), means, would you force us to do that, even though we hate what you are calling us to? Certainly if we revert to your religion and accept your ways, we will have uttered a tremendous lie against Allah by calling partners as rivals to Him,
وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّنَا
(And it is not for us to return to it unless Allah, our Lord, should will.)
This part of the Ayah refers all matters to Allah's will, and certainly, He has perfect knowledge of all matters and His observation encompasses all things,
عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا
(In Allah (Alone) we put our trust.), concerning all our affairs, what we practice of them and what we ignore,
رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ
(Our Lord! Judge between us and our people in truth) judge between us and our people and give us victory over them,
وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ
(for You are the best of those who give judgment) and You are the Most Just Who never wrongs any in His judgment.
Tafsir Ibn Kathir
شعیب ؑ کی قوم نے اپنی بربادی کو آواز دی حضرت شعیب ؑ کی قوم نے آپ کی تمام نصیحتیں سن کر جو جواب دیا اس کا ذکر کیا جا رہا ہے ہوا یہ کہ دلیلوں سے ہار کر یہ لوگ اپنی قوت جتانے پر اتر آئے اور کہنے لگے اب تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہم دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیتے ہیں یا تو جلا وطنی قبول کر یا ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ جس پر آپ نے فرمایا کہ ہم تو دل سے تمہارے ان مشرکانہ کاموں سے بیزار ہیں۔ انہیں سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ پھر تمہارے اس دباؤ اور اس خواہش کے کیا معنی ؟ اگر اللہ کرے ہم پھر سے تمہارے کفر میں شامل ہوجائیں تو ہم سے بڑھ کر گناہگار کون ہوگا ؟ اس کے تو صاف معنی یہ ہیں کہ ہم نے دو گھڑی پہلے محض ایک ڈھونگ رچایا تھا۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان باندھ کر نبوت کا دعوی کیا تھا۔ خیال فرمائیے کہ اس جواب میں اللہ کے نبی ؑ نے ایمان داروں کو مرتد ہونے سے کس طرح دھمکایا ہے ؟ لیکن چونکہ انسان کمزور ہے۔ نہ معلوم کس کا دل کیسا ہے اور آگے چل کر کیا ظاہر ہونے والا ہے ؟ اس لئے فرمایا کہ اللہ کے ہاتھ سب کچھ ہے اگر وہی کسی کے خیالات الٹ دے تو میرا زور نہیں۔ ہر چیز کے آغاز انجام کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ ہمارا توکل اور بھروسہ اپنے تمام کاموں میں صرف اسی کی ذات پاک پر ہے۔ اے اللہ تو ہم میں اور ہماری قوم میں فیصلہ فرما ہماری مدد فرما تو سب حاکموں کا حاکم ہے، سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، عادل ہے، ظالم نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا إِخْبَارٌ مِنَ اللَّهِ [تَعَالَى] [[زيادة من ك، م.]] عَمَّا وَاجَهَتْ بِهِ الْكُفَّارُ نَبِيَّ اللَّهِ شُعَيْبًا وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، فِي [[في ك، م، أ: "من".]] تَوَعُّدِهِمْ إِيَّاهُ وَمِنْ مَعَهُ بِالنَّفْيِ مِنَ الْقَرْيَةِ، أَوِ الْإِكْرَاهِ عَلَى الرُّجُوعِ فِي مِلَّتهم وَالدُّخُولِ مَعَهُمْ فِيمَا هُمْ فِيهِ. وَهَذَا خِطَابٌ مَعَ الرَّسُولِ وَالْمُرَادُ أَتْبَاعُهُ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ عَلَى الْمِلَّةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ﴾ يَقُولُ: أَوَ أَنْتُمْ فَاعِلُونَ ذَلِكَ وَلَوْ كُنَّا [[في ك، م، أ: "وإن كنا".]] كَارِهِينَ مَا تَدْعُونَا إِلَيْهِ؟ فَإِنَّا إِنْ رَجَعْنَا إِلَى مِلَّتِكُمْ وَدَخَلْنَا مَعَكُمْ فِيمَا أَنْتُمْ فِيهِ، فَقَدْ أَعْظَمْنَا الفِرْية عَلَى اللَّهِ فِي جَعْلِ الشُّرَكَاءِ مَعَهُ أَنْدَادًا. وَهَذَا تَعْبِيرٌ مِنْهُ عَنِ أَتْبَاعِهِ. ﴿وَمَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَعُودَ فِيهَا إِلا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّنَا﴾ وَهَذَا رَدٌّ إِلَى الْمَشِيئَةِ، فَإِنَّهُ يَعْلَمُ كُلَّ شَيْءٍ، وَقَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا، ﴿عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا﴾ أَيْ: فِي أُمُورِنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ ﴿رَبَّنَا افْتَحْ [[في ك، م: "احكم".]] بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ﴾ أَيِ: افْصِلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا، وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ، ﴿وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ﴾ أَيْ: خَيْرُ الْحَاكِمِينَ، فَإِنَّكَ الْعَادِلُ الَّذِي لَا يَجُورُ أَبَدًا.
قَدِ ٱفْتَرَيْنَا عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِى مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّىٰنَا ٱللَّهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَآ أَن نَّعُودَ فِيهَآ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا ٱفْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِٱلْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ ٱلْفَٰتِحِينَ
We would have invented against Allah a lie if we returned to your religion after Allah had saved us from it. And it is not for us to return to it except that Allah, our Lord, should will. Our Lord has encompassed all things in knowledge. Upon Allah we have relied. Our Lord, decide between us and our people in truth, and You are the best of those who give decision."
اگر ہم اس کے بعد کہ خدا ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بےشک ہم نے خدا پر جھوٹ افتراء باندھا۔ اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو (ہم مجبور ہیں) ۔ ہمارے پروردگار کا علم ہر چیز پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ہمارا خدا ہی پر بھروسہ ہے۔ اے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
اگر ما به آیین شما بازگردیم، بعد از آنکه خدا ما را از آن نجات بخشیده، به خدا دروغ بستهایم؛ و شایسته نیست که ما به آن بازگردیم مگر اینکه خدایی که پروردگار ماست بخواهد؛ علم پروردگار ما، به همه چیز احاطه دارد. تنها بر خدا توکل کردهایم. پروردگارا! میان ما و قوم ما بحق داوری کن، که تو بهترین داورانی!»
Tafsir Ibn Kathir
The chiefs of those who were arrogant among his people said: "We shall certainly drive you out, O Shu'ayb and those who have believed with you from our town, or else you (all) shall return to our religion." He said: "Even though we hate it? (88)"We should have invented a lie against Allah if we returned to your religion, after Allah has rescued us from it. And it is not for us to return to it unless Allah, our Lord, should will. Our Lord comprehends all things in His knowledge. In Allah (Alone) we put our trust. Our Lord! Judge between us and our people in truth, for You are the best of those who give judgment. (89)
Allah describes the way the disbelievers answered His Prophet Shu'ayb and those who believed in him,by threatening them with expulsion from their village,or with forceful reversion to the disbeliever's religion.
The chiefs spoke the words mentioned here to the Messenger Shu'ayb, but intended it for those who followed his religion too. The statement,
أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ
("Even though we hate it?"), means, would you force us to do that, even though we hate what you are calling us to? Certainly if we revert to your religion and accept your ways, we will have uttered a tremendous lie against Allah by calling partners as rivals to Him,
وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّنَا
(And it is not for us to return to it unless Allah, our Lord, should will.)
This part of the Ayah refers all matters to Allah's will, and certainly, He has perfect knowledge of all matters and His observation encompasses all things,
عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا
(In Allah (Alone) we put our trust.), concerning all our affairs, what we practice of them and what we ignore,
رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ
(Our Lord! Judge between us and our people in truth) judge between us and our people and give us victory over them,
وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ
(for You are the best of those who give judgment) and You are the Most Just Who never wrongs any in His judgment.
Tafsir Ibn Kathir
شعیب ؑ کی قوم نے اپنی بربادی کو آواز دی حضرت شعیب ؑ کی قوم نے آپ کی تمام نصیحتیں سن کر جو جواب دیا اس کا ذکر کیا جا رہا ہے ہوا یہ کہ دلیلوں سے ہار کر یہ لوگ اپنی قوت جتانے پر اتر آئے اور کہنے لگے اب تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہم دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیتے ہیں یا تو جلا وطنی قبول کر یا ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ جس پر آپ نے فرمایا کہ ہم تو دل سے تمہارے ان مشرکانہ کاموں سے بیزار ہیں۔ انہیں سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ پھر تمہارے اس دباؤ اور اس خواہش کے کیا معنی ؟ اگر اللہ کرے ہم پھر سے تمہارے کفر میں شامل ہوجائیں تو ہم سے بڑھ کر گناہگار کون ہوگا ؟ اس کے تو صاف معنی یہ ہیں کہ ہم نے دو گھڑی پہلے محض ایک ڈھونگ رچایا تھا۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان باندھ کر نبوت کا دعوی کیا تھا۔ خیال فرمائیے کہ اس جواب میں اللہ کے نبی ؑ نے ایمان داروں کو مرتد ہونے سے کس طرح دھمکایا ہے ؟ لیکن چونکہ انسان کمزور ہے۔ نہ معلوم کس کا دل کیسا ہے اور آگے چل کر کیا ظاہر ہونے والا ہے ؟ اس لئے فرمایا کہ اللہ کے ہاتھ سب کچھ ہے اگر وہی کسی کے خیالات الٹ دے تو میرا زور نہیں۔ ہر چیز کے آغاز انجام کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ ہمارا توکل اور بھروسہ اپنے تمام کاموں میں صرف اسی کی ذات پاک پر ہے۔ اے اللہ تو ہم میں اور ہماری قوم میں فیصلہ فرما ہماری مدد فرما تو سب حاکموں کا حاکم ہے، سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، عادل ہے، ظالم نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا إِخْبَارٌ مِنَ اللَّهِ [تَعَالَى] [[زيادة من ك، م.]] عَمَّا وَاجَهَتْ بِهِ الْكُفَّارُ نَبِيَّ اللَّهِ شُعَيْبًا وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، فِي [[في ك، م، أ: "من".]] تَوَعُّدِهِمْ إِيَّاهُ وَمِنْ مَعَهُ بِالنَّفْيِ مِنَ الْقَرْيَةِ، أَوِ الْإِكْرَاهِ عَلَى الرُّجُوعِ فِي مِلَّتهم وَالدُّخُولِ مَعَهُمْ فِيمَا هُمْ فِيهِ. وَهَذَا خِطَابٌ مَعَ الرَّسُولِ وَالْمُرَادُ أَتْبَاعُهُ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ عَلَى الْمِلَّةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ﴾ يَقُولُ: أَوَ أَنْتُمْ فَاعِلُونَ ذَلِكَ وَلَوْ كُنَّا [[في ك، م، أ: "وإن كنا".]] كَارِهِينَ مَا تَدْعُونَا إِلَيْهِ؟ فَإِنَّا إِنْ رَجَعْنَا إِلَى مِلَّتِكُمْ وَدَخَلْنَا مَعَكُمْ فِيمَا أَنْتُمْ فِيهِ، فَقَدْ أَعْظَمْنَا الفِرْية عَلَى اللَّهِ فِي جَعْلِ الشُّرَكَاءِ مَعَهُ أَنْدَادًا. وَهَذَا تَعْبِيرٌ مِنْهُ عَنِ أَتْبَاعِهِ. ﴿وَمَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَعُودَ فِيهَا إِلا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّنَا﴾ وَهَذَا رَدٌّ إِلَى الْمَشِيئَةِ، فَإِنَّهُ يَعْلَمُ كُلَّ شَيْءٍ، وَقَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا، ﴿عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا﴾ أَيْ: فِي أُمُورِنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ ﴿رَبَّنَا افْتَحْ [[في ك، م: "احكم".]] بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ﴾ أَيِ: افْصِلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا، وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ، ﴿وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ﴾ أَيْ: خَيْرُ الْحَاكِمِينَ، فَإِنَّكَ الْعَادِلُ الَّذِي لَا يَجُورُ أَبَدًا.
وَقَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لَئِنِ ٱتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًۭا لَّخَٰسِرُونَ
Said the eminent ones who disbelieved among his people, "If you should follow Shu'ayb, indeed, you would then be losers."
اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے، کہنے لگے (بھائیو) اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بےشک تم خسارے میں پڑگئے
اشراف زورمند از قوم او که کافر شده بودند گفتند: «اگر از شعیب پیروی کنید، شما هم زیانکار خواهید شد!»
Tafsir Ibn Kathir
The chiefs of those who disbelieved among his people said (to their people): "If you follow Shu'ayb, be sure then you will be the losers! (90)So the earthquake seized them and they lay (dead), prostrate in their homes (91)Those who belied Shu'ayb, became as if they had never dwelt there (in their homes). Those who belied Shu'ayb, they were the losers (92)
Allah describes the enormity of disbelief, rebellion, transgression and misguidance (of Shu'ayb's people) and the defiance of truth encrypted in their hearts. They vowed, saying,
لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًا لَّخَاسِرُونَ
("If you follow Shu'ayb, be sure then you will be the losers!") Allah answered them,
فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
(So the earthquake seized them and they lay (dead), prostrate in their homes)
Allah said that the earthquake shook them, as punishment for threatening to expel Shu'ayb and his followers. Allah mentioned their end again in Suah Hud,
وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ
(And when Our commandment came, We saved Shu'ayb and those who believed with him by a mercy from Us. And the Sayhah (loud cry) seized the wrongdoers, and they lay (dead) prostrate in their homes.)[11:94]
This Ayah mentions the Sayhah (cry) that struck them after they mocked Shu'ayb, saying,
أَصَلَاتُكَ تَأْمُرُكَ
(Does your Salah (prayer) command you...)[11:87] so it was befitting to mention here the cry that made them silence. In Surat Ash-Shu'ara', Allah said,
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(But they belied him, so the torment of the Day of Shadow (a gloomy cloud) seized them. Indeed that was the torment of a Great Day)[26:189] because they challenged Shu'ayb,
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَاءِ
("So cause a piece of the heaven to fall on us, if you are of the truthful!")[26:187].
Therefore, Allah stated that each of these forms of punishment struck them on the Day of the Shadow. First,
فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ
(So the torment of the Day of Shadow (a gloomy cloud) seized them)[26:189] when a gloomy cloud came over them (containing) fire, flames and a tremendous light. Next, a cry from the sky descended on them and a tremor shook them from beneath. Consequently, their souls were captured, their lives were taken and their bodies became idle,
فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
(and they lay (dead), prostrate in their homes). Allah said next,
كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا فِيهَا
(They became as if they had never dwelt there) meaning, after the torment seized them, it looked as if they never dwelled in the land from which they wanted to expel their Messenger Shu'ayb and his followers. Here, Allah refuted their earlier statement,
الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ
(Those who belied Shu'ayb, they were the losers.)
Tafsir Ibn Kathir
قوم شعیب کا شوق تباہی پورا ہوا اس قوم کی سرکشی بد باطنی ملاحظہ ہو کر مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانے کیلئے انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ شعیب ؑ کی اطاعت تمہیں غارت کر دے گی بڑے نقصان میں اتر جاؤ گے۔ ان مومنوں کے دلوں کو ڈرانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمانی عذاب بصورت زلزلہ زمین سے آیا اور انہیں سچ مچ لرزادیا اور غارت و برباد ہو کر خود ہی نقصان میں پھنس گئے۔ یہاں اس طرح بیان ہوا۔ سورة ہود میں بیان ہے کہ آسمانی کڑاکے کی آواز سے یہ ہلاک کئے گئے۔ وہاں بیان ہے کہ انہوں نے اپنے وطن سے نکل جانے کی دھمکی ایمان داروں کو دی تھی تو آسمانی ڈانٹ کی آواز نے ان کی آواز پست کردی اور ہمیشہ کیلئے یہ خاموش کردیئے گئے۔ سورة شعراء میں بیان ہے کہ بادل ان پر سے عذاب بن کر برسا۔ کیونکہ وہیں ذکر ہے کہ خود انہوں نے اپنے نبی سے کہا تھا کہ اگر سجے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرادو۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ تینوں عذاب ان پر ایک ساتھ آئے۔ ادھر ابر اٹھا جس سے شعلہ باری ہونے لگی، آگ برسنے لگی۔ ادھر تند اور سخت کڑاکے کی آواز آئی، ادھر زمین پر زلزلہ آیا۔ نیچے اوپر کے عذابوں سے دیکھتے ہی دیکھتے تہ وبالا کردیئے گئے، اپنی اپنی جگہ ڈھیر ہوگئے یا وہ وقت تھا کہ یہاں سے مومنوں کو نکالنا چاہتے تھے یا یہ وقت ہے کہ یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ کسی وقت یہاں یہ لوگ آباد بھی تھے یا مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ تم نقصان میں اترو گے یا یہ ہے کہ خود برباد ہوگئے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ شِدَّةِ كُفْرِ قَوْمِ شُعَيْبٍ وَتَمَرُّدِهِمْ وَعُتُوِّهِمْ، وَمَا هُمْ فِيهِ مِنَ الضَّلَالِ، وَمَا جُبِلَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُهُمْ مِنَ الْمُخَالَفَةِ لِلْحَقِّ، وَلِهَذَا أَقْسَمُوا وَقَالُوا [[في ك، م: "فقالوا".]] ﴿لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًا لَخَاسِرُونَ﴾ فَلِهَذَا عَقَّبَ ذَلِكَ بِقَوْلِهِ: ﴿فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ﴾ أَخْبَرَ تَعَالَى هَاهُنَا أَنَّهُمْ أَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ كَمَا [[في ك، م، أ: "لما".]] أَرَجَفُوا شُعَيْبًا وَأَصْحَابَهُ وَتَوَعَّدُوهُمْ بِالْجَلَاءِ، كَمَا أَخْبَرَ عَنْهُمْ فِي سُورَةِ "هُودٍ" فَقَالَ: ﴿وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ﴾ [هُودٍ:٩٤] وَالْمُنَاسَبَةُ فِي ذَلِكَ -وَاللَّهُ أَعْلَمُ -أَنَّهُمْ لَمَّا تَهَكَّمُوا بِنَبِيِّ اللَّهِ شُعَيْبٍ فِي قَوْلِهِمْ: ﴿أَصَلاتُكَ تَأْمُرُكَ أَنْ نَتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَنْ نَفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ إِنَّكَ لأنْتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ﴾ [هُودٍ: ٨٧] فَجَاءَتِ الصَّيْحَةُ فَأَسْكَتَتْهُمْ.
وَقَالَ تَعَالَى إِخْبَارًا عَنْهُمْ فِي سُورَةِ الشُّعَرَاءِ: ﴿فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ﴾ [الشُّعَرَاءِ:١٨٩] وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِأَنَّهُمْ [[في ك: "إلا أنهم".]] قَالُوا لَهُ فِي سِيَاقِ الْقِصَّةِ: ﴿فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ [إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ [[زيادة من ك، م. وفي هـ:"الآية".]] ] ﴾ [الشُّعَرَاءِ:١٨٧] فَأَخْبَرَ أَنَّهُ [[في م: "أنهم".]] أَصَابَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ، وَقَدِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ كُلُّهُ: أَصَابَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ،" وَهِيَ سَحَابَةٌ أَظَلَّتْهُمْ فِيهَا شَرَرٌ مِنْ نَارٍ ولَهَب [[في ك، م: "لهيب".]] ووهَج عَظِيمٍ، ثُمَّ جَاءَتْهُمْ صَيْحَةٌ مِنَ السَّمَاءِ وَرَجْفَةٌ مِنَ الْأَرْضِ شَدِيدَةٌ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، فَزَهَقَتِ الْأَرْوَاحُ، وَفَاضَتِ النُّفُوسُ وَخَمَدَتِ الْأَجْسَادُ، ﴿فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ﴾
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿كَأَنْ لَمْ يَغْنَوْا فِيهَا﴾ أَيْ: كَأَنَّهُمْ لَمَّا أَصَابَتْهُمُ النِّقْمَةُ لَمْ يُقِيمُوا بِدِيَارِهِمُ الَّتِي أَرَادُوا إِجْلَاءَ الرَّسُولِ وَصَحْبِهِ مِنْهَا.
ثُمَّ قَالَ مُقَابِلًا لِقِيلِهِمْ: ﴿الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ﴾
فَأَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دَارِهِمْ جَٰثِمِينَ
So the earthquake seized them, and they became within their home [corpses] fallen prone.
تو ان کو بھونچال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے
سپس زمین لرزه آنها را فرا گرفت؛ و صبحگاهان بصورت اجسادی بیجان در خانههاشان مانده بودند.
Tafsir Ibn Kathir
The chiefs of those who disbelieved among his people said (to their people): "If you follow Shu'ayb, be sure then you will be the losers! (90)So the earthquake seized them and they lay (dead), prostrate in their homes (91)Those who belied Shu'ayb, became as if they had never dwelt there (in their homes). Those who belied Shu'ayb, they were the losers (92)
Allah describes the enormity of disbelief, rebellion, transgression and misguidance (of Shu'ayb's people) and the defiance of truth encrypted in their hearts. They vowed, saying,
لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًا لَّخَاسِرُونَ
("If you follow Shu'ayb, be sure then you will be the losers!") Allah answered them,
فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
(So the earthquake seized them and they lay (dead), prostrate in their homes)
Allah said that the earthquake shook them, as punishment for threatening to expel Shu'ayb and his followers. Allah mentioned their end again in Suah Hud,
وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ
(And when Our commandment came, We saved Shu'ayb and those who believed with him by a mercy from Us. And the Sayhah (loud cry) seized the wrongdoers, and they lay (dead) prostrate in their homes.)[11:94]
This Ayah mentions the Sayhah (cry) that struck them after they mocked Shu'ayb, saying,
أَصَلَاتُكَ تَأْمُرُكَ
(Does your Salah (prayer) command you...)[11:87] so it was befitting to mention here the cry that made them silence. In Surat Ash-Shu'ara', Allah said,
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(But they belied him, so the torment of the Day of Shadow (a gloomy cloud) seized them. Indeed that was the torment of a Great Day)[26:189] because they challenged Shu'ayb,
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَاءِ
("So cause a piece of the heaven to fall on us, if you are of the truthful!")[26:187].
Therefore, Allah stated that each of these forms of punishment struck them on the Day of the Shadow. First,
فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ
(So the torment of the Day of Shadow (a gloomy cloud) seized them)[26:189] when a gloomy cloud came over them (containing) fire, flames and a tremendous light. Next, a cry from the sky descended on them and a tremor shook them from beneath. Consequently, their souls were captured, their lives were taken and their bodies became idle,
فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
(and they lay (dead), prostrate in their homes). Allah said next,
كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا فِيهَا
(They became as if they had never dwelt there) meaning, after the torment seized them, it looked as if they never dwelled in the land from which they wanted to expel their Messenger Shu'ayb and his followers. Here, Allah refuted their earlier statement,
الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ
(Those who belied Shu'ayb, they were the losers.)
Tafsir Ibn Kathir
قوم شعیب کا شوق تباہی پورا ہوا اس قوم کی سرکشی بد باطنی ملاحظہ ہو کر مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانے کیلئے انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ شعیب ؑ کی اطاعت تمہیں غارت کر دے گی بڑے نقصان میں اتر جاؤ گے۔ ان مومنوں کے دلوں کو ڈرانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمانی عذاب بصورت زلزلہ زمین سے آیا اور انہیں سچ مچ لرزادیا اور غارت و برباد ہو کر خود ہی نقصان میں پھنس گئے۔ یہاں اس طرح بیان ہوا۔ سورة ہود میں بیان ہے کہ آسمانی کڑاکے کی آواز سے یہ ہلاک کئے گئے۔ وہاں بیان ہے کہ انہوں نے اپنے وطن سے نکل جانے کی دھمکی ایمان داروں کو دی تھی تو آسمانی ڈانٹ کی آواز نے ان کی آواز پست کردی اور ہمیشہ کیلئے یہ خاموش کردیئے گئے۔ سورة شعراء میں بیان ہے کہ بادل ان پر سے عذاب بن کر برسا۔ کیونکہ وہیں ذکر ہے کہ خود انہوں نے اپنے نبی سے کہا تھا کہ اگر سجے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرادو۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ تینوں عذاب ان پر ایک ساتھ آئے۔ ادھر ابر اٹھا جس سے شعلہ باری ہونے لگی، آگ برسنے لگی۔ ادھر تند اور سخت کڑاکے کی آواز آئی، ادھر زمین پر زلزلہ آیا۔ نیچے اوپر کے عذابوں سے دیکھتے ہی دیکھتے تہ وبالا کردیئے گئے، اپنی اپنی جگہ ڈھیر ہوگئے یا وہ وقت تھا کہ یہاں سے مومنوں کو نکالنا چاہتے تھے یا یہ وقت ہے کہ یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ کسی وقت یہاں یہ لوگ آباد بھی تھے یا مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ تم نقصان میں اترو گے یا یہ ہے کہ خود برباد ہوگئے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ شِدَّةِ كُفْرِ قَوْمِ شُعَيْبٍ وَتَمَرُّدِهِمْ وَعُتُوِّهِمْ، وَمَا هُمْ فِيهِ مِنَ الضَّلَالِ، وَمَا جُبِلَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُهُمْ مِنَ الْمُخَالَفَةِ لِلْحَقِّ، وَلِهَذَا أَقْسَمُوا وَقَالُوا [[في ك، م: "فقالوا".]] ﴿لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًا لَخَاسِرُونَ﴾ فَلِهَذَا عَقَّبَ ذَلِكَ بِقَوْلِهِ: ﴿فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ﴾ أَخْبَرَ تَعَالَى هَاهُنَا أَنَّهُمْ أَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ كَمَا [[في ك، م، أ: "لما".]] أَرَجَفُوا شُعَيْبًا وَأَصْحَابَهُ وَتَوَعَّدُوهُمْ بِالْجَلَاءِ، كَمَا أَخْبَرَ عَنْهُمْ فِي سُورَةِ "هُودٍ" فَقَالَ: ﴿وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ﴾ [هُودٍ:٩٤] وَالْمُنَاسَبَةُ فِي ذَلِكَ -وَاللَّهُ أَعْلَمُ -أَنَّهُمْ لَمَّا تَهَكَّمُوا بِنَبِيِّ اللَّهِ شُعَيْبٍ فِي قَوْلِهِمْ: ﴿أَصَلاتُكَ تَأْمُرُكَ أَنْ نَتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَنْ نَفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ إِنَّكَ لأنْتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ﴾ [هُودٍ: ٨٧] فَجَاءَتِ الصَّيْحَةُ فَأَسْكَتَتْهُمْ.
وَقَالَ تَعَالَى إِخْبَارًا عَنْهُمْ فِي سُورَةِ الشُّعَرَاءِ: ﴿فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ﴾ [الشُّعَرَاءِ:١٨٩] وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِأَنَّهُمْ [[في ك: "إلا أنهم".]] قَالُوا لَهُ فِي سِيَاقِ الْقِصَّةِ: ﴿فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ [إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ [[زيادة من ك، م. وفي هـ:"الآية".]] ] ﴾ [الشُّعَرَاءِ:١٨٧] فَأَخْبَرَ أَنَّهُ [[في م: "أنهم".]] أَصَابَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ، وَقَدِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ كُلُّهُ: أَصَابَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ،" وَهِيَ سَحَابَةٌ أَظَلَّتْهُمْ فِيهَا شَرَرٌ مِنْ نَارٍ ولَهَب [[في ك، م: "لهيب".]] ووهَج عَظِيمٍ، ثُمَّ جَاءَتْهُمْ صَيْحَةٌ مِنَ السَّمَاءِ وَرَجْفَةٌ مِنَ الْأَرْضِ شَدِيدَةٌ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، فَزَهَقَتِ الْأَرْوَاحُ، وَفَاضَتِ النُّفُوسُ وَخَمَدَتِ الْأَجْسَادُ، ﴿فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ﴾
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿كَأَنْ لَمْ يَغْنَوْا فِيهَا﴾ أَيْ: كَأَنَّهُمْ لَمَّا أَصَابَتْهُمُ النِّقْمَةُ لَمْ يُقِيمُوا بِدِيَارِهِمُ الَّتِي أَرَادُوا إِجْلَاءَ الرَّسُولِ وَصَحْبِهِ مِنْهَا.
ثُمَّ قَالَ مُقَابِلًا لِقِيلِهِمْ: ﴿الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ﴾
ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ شُعَيْبًۭا كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا۟ فِيهَا ۚ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ شُعَيْبًۭا كَانُوا۟ هُمُ ٱلْخَٰسِرِينَ
Those who denied Shu'ayb - it was as though they had never resided there. Those who denied Shu'ayb - it was they who were the losers.
(یہ لوگ) جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی ایسے برباد ہوئے تھے کہ گویا وہ ان میں کبھی آباد ہی نہیں ہوئے تھے (غرض) جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے
آنها که شعیب را تکذیب کردند، (آنچنان نابود شدند که) گویا هرگز در آن (خانهها) سکونت نداشتند! آنها که شعیب را تکذیب کردند، زیانکار بودند!
Tafsir Ibn Kathir
The chiefs of those who disbelieved among his people said (to their people): "If you follow Shu'ayb, be sure then you will be the losers! (90)So the earthquake seized them and they lay (dead), prostrate in their homes (91)Those who belied Shu'ayb, became as if they had never dwelt there (in their homes). Those who belied Shu'ayb, they were the losers (92)
Allah describes the enormity of disbelief, rebellion, transgression and misguidance (of Shu'ayb's people) and the defiance of truth encrypted in their hearts. They vowed, saying,
لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًا لَّخَاسِرُونَ
("If you follow Shu'ayb, be sure then you will be the losers!") Allah answered them,
فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
(So the earthquake seized them and they lay (dead), prostrate in their homes)
Allah said that the earthquake shook them, as punishment for threatening to expel Shu'ayb and his followers. Allah mentioned their end again in Suah Hud,
وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ
(And when Our commandment came, We saved Shu'ayb and those who believed with him by a mercy from Us. And the Sayhah (loud cry) seized the wrongdoers, and they lay (dead) prostrate in their homes.)[11:94]
This Ayah mentions the Sayhah (cry) that struck them after they mocked Shu'ayb, saying,
أَصَلَاتُكَ تَأْمُرُكَ
(Does your Salah (prayer) command you...)[11:87] so it was befitting to mention here the cry that made them silence. In Surat Ash-Shu'ara', Allah said,
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(But they belied him, so the torment of the Day of Shadow (a gloomy cloud) seized them. Indeed that was the torment of a Great Day)[26:189] because they challenged Shu'ayb,
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَاءِ
("So cause a piece of the heaven to fall on us, if you are of the truthful!")[26:187].
Therefore, Allah stated that each of these forms of punishment struck them on the Day of the Shadow. First,
فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ
(So the torment of the Day of Shadow (a gloomy cloud) seized them)[26:189] when a gloomy cloud came over them (containing) fire, flames and a tremendous light. Next, a cry from the sky descended on them and a tremor shook them from beneath. Consequently, their souls were captured, their lives were taken and their bodies became idle,
فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
(and they lay (dead), prostrate in their homes). Allah said next,
كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا فِيهَا
(They became as if they had never dwelt there) meaning, after the torment seized them, it looked as if they never dwelled in the land from which they wanted to expel their Messenger Shu'ayb and his followers. Here, Allah refuted their earlier statement,
الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ
(Those who belied Shu'ayb, they were the losers.)
Tafsir Ibn Kathir
قوم شعیب کا شوق تباہی پورا ہوا اس قوم کی سرکشی بد باطنی ملاحظہ ہو کر مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانے کیلئے انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ شعیب ؑ کی اطاعت تمہیں غارت کر دے گی بڑے نقصان میں اتر جاؤ گے۔ ان مومنوں کے دلوں کو ڈرانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمانی عذاب بصورت زلزلہ زمین سے آیا اور انہیں سچ مچ لرزادیا اور غارت و برباد ہو کر خود ہی نقصان میں پھنس گئے۔ یہاں اس طرح بیان ہوا۔ سورة ہود میں بیان ہے کہ آسمانی کڑاکے کی آواز سے یہ ہلاک کئے گئے۔ وہاں بیان ہے کہ انہوں نے اپنے وطن سے نکل جانے کی دھمکی ایمان داروں کو دی تھی تو آسمانی ڈانٹ کی آواز نے ان کی آواز پست کردی اور ہمیشہ کیلئے یہ خاموش کردیئے گئے۔ سورة شعراء میں بیان ہے کہ بادل ان پر سے عذاب بن کر برسا۔ کیونکہ وہیں ذکر ہے کہ خود انہوں نے اپنے نبی سے کہا تھا کہ اگر سجے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرادو۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ تینوں عذاب ان پر ایک ساتھ آئے۔ ادھر ابر اٹھا جس سے شعلہ باری ہونے لگی، آگ برسنے لگی۔ ادھر تند اور سخت کڑاکے کی آواز آئی، ادھر زمین پر زلزلہ آیا۔ نیچے اوپر کے عذابوں سے دیکھتے ہی دیکھتے تہ وبالا کردیئے گئے، اپنی اپنی جگہ ڈھیر ہوگئے یا وہ وقت تھا کہ یہاں سے مومنوں کو نکالنا چاہتے تھے یا یہ وقت ہے کہ یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ کسی وقت یہاں یہ لوگ آباد بھی تھے یا مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ تم نقصان میں اترو گے یا یہ ہے کہ خود برباد ہوگئے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ شِدَّةِ كُفْرِ قَوْمِ شُعَيْبٍ وَتَمَرُّدِهِمْ وَعُتُوِّهِمْ، وَمَا هُمْ فِيهِ مِنَ الضَّلَالِ، وَمَا جُبِلَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُهُمْ مِنَ الْمُخَالَفَةِ لِلْحَقِّ، وَلِهَذَا أَقْسَمُوا وَقَالُوا [[في ك، م: "فقالوا".]] ﴿لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًا لَخَاسِرُونَ﴾ فَلِهَذَا عَقَّبَ ذَلِكَ بِقَوْلِهِ: ﴿فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ﴾ أَخْبَرَ تَعَالَى هَاهُنَا أَنَّهُمْ أَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ كَمَا [[في ك، م، أ: "لما".]] أَرَجَفُوا شُعَيْبًا وَأَصْحَابَهُ وَتَوَعَّدُوهُمْ بِالْجَلَاءِ، كَمَا أَخْبَرَ عَنْهُمْ فِي سُورَةِ "هُودٍ" فَقَالَ: ﴿وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ﴾ [هُودٍ:٩٤] وَالْمُنَاسَبَةُ فِي ذَلِكَ -وَاللَّهُ أَعْلَمُ -أَنَّهُمْ لَمَّا تَهَكَّمُوا بِنَبِيِّ اللَّهِ شُعَيْبٍ فِي قَوْلِهِمْ: ﴿أَصَلاتُكَ تَأْمُرُكَ أَنْ نَتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَنْ نَفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ إِنَّكَ لأنْتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ﴾ [هُودٍ: ٨٧] فَجَاءَتِ الصَّيْحَةُ فَأَسْكَتَتْهُمْ.
وَقَالَ تَعَالَى إِخْبَارًا عَنْهُمْ فِي سُورَةِ الشُّعَرَاءِ: ﴿فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ﴾ [الشُّعَرَاءِ:١٨٩] وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِأَنَّهُمْ [[في ك: "إلا أنهم".]] قَالُوا لَهُ فِي سِيَاقِ الْقِصَّةِ: ﴿فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ [إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ [[زيادة من ك، م. وفي هـ:"الآية".]] ] ﴾ [الشُّعَرَاءِ:١٨٧] فَأَخْبَرَ أَنَّهُ [[في م: "أنهم".]] أَصَابَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ، وَقَدِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ كُلُّهُ: أَصَابَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ،" وَهِيَ سَحَابَةٌ أَظَلَّتْهُمْ فِيهَا شَرَرٌ مِنْ نَارٍ ولَهَب [[في ك، م: "لهيب".]] ووهَج عَظِيمٍ، ثُمَّ جَاءَتْهُمْ صَيْحَةٌ مِنَ السَّمَاءِ وَرَجْفَةٌ مِنَ الْأَرْضِ شَدِيدَةٌ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، فَزَهَقَتِ الْأَرْوَاحُ، وَفَاضَتِ النُّفُوسُ وَخَمَدَتِ الْأَجْسَادُ، ﴿فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ﴾
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿كَأَنْ لَمْ يَغْنَوْا فِيهَا﴾ أَيْ: كَأَنَّهُمْ لَمَّا أَصَابَتْهُمُ النِّقْمَةُ لَمْ يُقِيمُوا بِدِيَارِهِمُ الَّتِي أَرَادُوا إِجْلَاءَ الرَّسُولِ وَصَحْبِهِ مِنْهَا.
ثُمَّ قَالَ مُقَابِلًا لِقِيلِهِمْ: ﴿الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ﴾
فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَٰقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَٰلَٰتِ رَبِّى وَنَصَحْتُ لَكُمْ ۖ فَكَيْفَ ءَاسَىٰ عَلَىٰ قَوْمٍۢ كَٰفِرِينَ
And he turned away from them and said, "O my people, I had certainly conveyed to you the messages of my Lord and advised you, so how could I grieve for a disbelieving people?"
تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیو میں نے تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور تمہاری خیرخواہی کی تھی۔ تو میں کافروں پر (عذاب نازل ہونے سے) رنج وغم کیوں کروں
سپس از آنان روی برتافت و گفت: «ای قوم من! من رسالتهای پروردگارم را به شما ابلاغ کردم و برای شما خیرخواهی نمودم؛ با این حال، چگونه بر حال قوم بیایمان تأسف بخورم؟!»
Tafsir Ibn Kathir
Then he (Shu'ayb) turned from them and said: "O my people! I have indeed conveyed my Lord's Messages unto you and I have given you good advice. Then how can I grieve over people who are disbelievers. (93)
Prophet Shu'ayb, peace be upon him, turned away from his people after the torment, punishment and destruction struck them, admonishing and censuring them by saying to them,
يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ
("O my people! I have indeed conveyed my Lord's Messages unto you and I have given you good advice.")
Shu'ayb said, I have conveyed to you what I was sent with, so I will not feel any sorrow for you since you disbelieved in what I brought you,
فَكَيْفَ آسَىٰ عَلَىٰ قَوْمٍ كَافِرِينَ
("Then how can I grieve over pepple who are disbelievers?")
Tafsir Ibn Kathir
قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آچکنے کے بعد حضرت شعیب ؑ وہاں سے چلے اور بطور ڈانٹ ڈپٹ کے فرمایا کہ میں سبکدوش ہوچکا ہوں۔ اللہ کا پیغام سنا چکا، سمجھا بجھا چکا، غم خواری ہمدردی کرچکا۔ لیکن تم کافر کے کافر ہی رہے اب مجھے کیا پڑی کہ تمہارے افسوس میں اپنی جان ہلکان کروں ؟
Tafsir Ibn Kathir
أَيْ: فَتَوَلَّى عَنْهُمْ "شُعَيْبٌ" عَلَيْهِ السَّلَامُ بَعْدَ مَا أَصَابَهُمْ مَا أَصَابَهُمْ مِنَ الْعَذَابِ وَالنِّقْمَةِ وَالنَّكَالِ، وَقَالَ مُقَرِّعًا لَهُمْ وَمُوَبِّخًا: ﴿يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالاتِ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ﴾ أَيْ: قَدْ أديتُ إِلَيْكُمْ مَا أُرْسِلْت بِهِ، فَلَا أسفة عليكم وقد كفرتم بما جئتم بِهِ، وَلِهَذَا [[في د: "فلهذا".]] قَالَ: ﴿فَكَيْفَ آسَى عَلَى قَوْمٍ كَافِرِينَ﴾ ؟.
وَمَآ أَرْسَلْنَا فِى قَرْيَةٍۢ مِّن نَّبِىٍّ إِلَّآ أَخَذْنَآ أَهْلَهَا بِٱلْبَأْسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ
And We sent to no city a prophet [who was denied] except that We seized its people with poverty and hardship that they might humble themselves [to Allah].
اور ہم نے کسی شہر میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے رہنے والوں کو (جو ایمان نہ لائے) دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی اور زاری کریں
و ما در هیچ شهر و آبادی پیامبری نفرستادیم مگر اینکه اهل آن را به ناراحتیها و خسارتها گرفتار ساختیم؛ شاید (به خود آیند، و به سوی خدا) بازگردند و تضرع کنند!
Tafsir Ibn Kathir
And We sent no Prophet unto any town (and they denied him), but We seized its people with Ba'sā' and Ḍarrā', so that they might humble themselves (to Allah)(94)Then We changed the evil for the good, until they 'Afaw (increased), and said: "Our fathers were touched with evil and with good." So We seized them all of a sudden while they were unaware (95)
Afflictions that struck Earlier Nations
Allah mentions the Ba'sā' and Ḍarrā' that struck the earlier nations to whom He sent Prophets. Ba'sā', refers to the physical sicknesses and ailments that they suffered, while Ḍarrā', refers to the poverty and humiliation that they experienced,
لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ
(so that they might humble themselves) supplicate, humble themselves and invoke Allah, that He might remove the afflictions that they suffered from. This Ayah indicates that Allah sent down severe afflictions to them so that they might invoke Him, but they did not do what He ordered them. Therefore, He changed the affliction into prosperity to test them,
ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ
(Then We changed the evil for the good,)
Therefore, Allah changed the hardship into prosperity, disease and sickness into health and well-being, and poverty into richness in provision, so that they might be thankful to Allah for this, but they did none of that. Allah's statement,
حَتَّىٰ عَفَوا
(until they 'Afaw) refers to increase in numbers, wealth and offspring. Allah said next,
وَّقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ فَأَخَذْنَاهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
(...and they said: "Our fathers were touched with evil and with good." So We seized them all of a sudden while they were unaware.)
He tested them with this (afflictions) and that (ease and abundance) so that they may humble themselves and repent to Him. However, they failed both tests, for neither this nor that compelled them to change their ways. They said, "We suffered Ba'sā' and Ḍarrā', but prosperity came afterwards, just as like our forefathers in earlier times." "Therefore," they said, "it is a cycle where we sometimes suffer a hardship and at other times, we enjoy a bounty."
However, they did not comprehend Allah's wisdom, nor the fact that He is testing them in both cases. To the contrary, the believers are grateful to Allah in good times and practice patience in hard times. In the Sahih, there is a Hadith that says;
عَجَبًا لِلْمُؤْمِنِ لَا يَقْضِي اللهُ لَهُ قَضَاءً إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ
(The matter of the believer is amazing, for nothing that Allah decrees for him, but it is better for him. If a Ḍarrā' (harm) strikes him, he is patient, and this is better for him, if he is given Sarra' (prosperity), he thanks (Allah) for it and this is better for him.)
The believer, therefore, is aware of the test behind the afflictions whether it may be prosperity or adversity that Allah sends to him, as well as the blessings. Similarly, in another Hadith,
لَايَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنْ ذُنُوبِهِ، وَالْمُنَافِق مِثْله كَمَثَلِ الْحِمَارِ لَا يَدْرِي فِيمَ رَبَطَهُ أَهْلُهُ وَلَا فِيمَ أَرْسَلُوهُ
(The believer will continue to be tested by afflictions until he ends up pure from sin. And the parable of the hypocrite is that of a donkey, it does not know why its owners tied it or released it.) Allah said next,
فَأَخَذْنَاهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
(So We seized them all of a sudden while they were unaware.) meaning, We struck them with punishment all of a sudden, while they were unaware. A Hadith describes sudden death,
مَوْتُ الْفَجْأَةِ رَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِ وَأَخْذَةُ أَسَفٍ لِلْكَافِرِ
(Sudden death is a mercy for the believer, but a sorrowful punishment for the disbeliever.)
Tafsir Ibn Kathir
ادوارماضی اگلی امتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے رسول آئے اور ان کے انکار پر وہ امتیں مختلف بلاؤں میں مبتلا کی گئیں مثلاً بیماریاں، فقیری، مفلسی، تنگی۔ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اکڑنا چھوڑ دیں اور اس کے سامنے جھک جائیں۔ مصیبتوں کے ٹالنے کی دعائیں کریں اور اس کے رسول کی مان لیں۔ لیکن انہوں نے اس موقعہ کو ہاتھ سے نکال دیا باوجود بری حالت ہونے کے دل کا کفر نہ ٹوتا، اپنی ضد سے نہ ہٹے تو ہم نے دوسری طرح پھر ایک موقہ دیا۔ سختی کو نرمی سے، برائی کو بھلائی سے، بیماری کو تندرستی سے، فقیری کو امیری سے بدل دیا تاکہ شکر کریں اور ہماری حکمرانی کے قائل ہوجائیں لیکن انہوں نے اس موقعہ سے بھی فائدہ نہ اٹھایا، جیسے جیسے بڑھے ویسے ویسے کفر میں پھنسے، بد مستی میں اور بڑھے اور مغرور ہوگئے اور کہنے لگے کہ یہ زمانہ کے اتفاقات ہیں۔ پہلے سے یہی ہوتا چلا آیا ہے کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں بڑی۔ زمانہ ہمیشہ ایک حالت پر نہیں رہتا، الغرض اتفاق پر محمول کر کے معمولی سی بات سمجھ کر دونوں موقع ٹال دیئے۔ ایمان والے دونوں حالتوں میں عبرت پکڑتے ہیں۔ مصیبت پر صبر، راحت پر شکر ان کا شیوہ ہوتا ہے، بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مومن پر تعجب ہے اس کی دونوں حالتیں انجام کے لحاظ سے اس کیلئے بہتر ہوتی ہیں۔ یہ دکھ پر صبر کرتا ہے، انجام بہتر ہوتا ہے، سکھ پر شکر کرتا ہے، نیکیاں پاتا ہے، پس مومن رنج و راحت دونوں میں اپنی آزمائش کو سمجھ لیتا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے بلاؤں کی وجہ سے مومن کے گناہ بالکل دور ہوجاتے ہیں اور وہ پاک صاف ہوجاتا ہے۔ ہاں منافق کی مثال گدھے جیسی ہے جسے نہیں معلوم کہ کیوں باندھا گیا اور کیوں کھولا گیا ؟ (اوکمال قال) پس ان لوگوں کو اس کے بعد اللہ کے عذاب نے اچانک آپکڑا یہ محض بیخبر تھے اپنی خرمستیوں میں لگے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اچانک موت مومن کے لئے رحمت ہے اور کافروں کے لئے حسرت ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَمَّا اخْتَبَرَ بِهِ الْأُمَمَ الْمَاضِيَةَ، الَّذِينَ أَرْسَلَ إِلَيْهِمُ الْأَنْبِيَاءَ بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ، يَعْنِي ﴿بالْبَأْسَاءِ﴾ مَا يُصِيبُهُمْ فِي أَبْدَانِهِمْ مِنْ أَمْرَاضٍ وَأَسْقَامٍ. ﴿وَالضَّرَّاءِ﴾ مَا يُصِيبُهُمْ مِنْ فَقْرٍ وَحَاجَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ، ﴿لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ﴾ أَيْ: يَدْعُونَ وَيَخْشَعُونَ وَيَبْتَهِلُونَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى فِي كَشْفِ مَا نَزَلَ بِهِمْ.
وَتَقْدِيرُ الْكَلَامِ: أَنَّهُ ابْتَلَاهُمْ بِالشِّدَّةِ لِيَتَضَرَّعُوا، فَمَا فَعَلُوا شَيْئًا مِنَ الَّذِي أَرَادَ اللَّهُ مِنْهُمْ، فَقَلَبَ الْحَالَ إِلَى الرَّخَاءِ لِيَخْتَبِرَهُمْ فِيهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ﴾ أَيْ: حولَّنا الحال من شدة إِلَى رَخَاءٍ، وَمِنْ مَرَضٍ وَسَقَمٍ إِلَى صِحَّةٍ وَعَافِيَةٍ، وَمِنْ فَقْرٍ إِلَى غِنًى، لِيَشْكُرُوا عَلَى ذَلِكَ، فَمَا فَعَلُوا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿حَتَّى عَفَوْا﴾ أَيْ: كَثُرُوا وَكَثُرَتْ أَمْوَالُهُمْ وَأَوْلَادُهُمْ، يُقَالُ: عَفَا الشَّيْءُ إِذَا كَثُرَ، ﴿وَقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ فَأَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴾ يَقُولُ تَعَالَى: ابْتَلَاهُمْ [[في د: "ابتليناهم".]] بِهَذَا وَهَذَا [[في أ: "بهذا وبهذا".]] لِيَتَضَرَّعُوا ويُنيبوا إِلَى اللَّهِ، فَمَا نَجَع فِيهِمْ لَا هَذَا وَلَا هَذَا، وَلَا انْتَهَوْا بِهَذَا وَلَا بِهَذَا [[في م: "ولا هذا".]] بَلْ قَالُوا: قَدْ مَسَّنَا مِنَ الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ، ثُمَّ بَعْدَهُ مِنَ الرَّخَاءِ مِثْلُ مَا أَصَابَ آبَاءَنَا فِي قَدِيمِ الدَّهْرِ، وَإِنَّمَا هُوَ الدَّهْرُ تَارَاتٌ وَتَارَاتٌ، وَلَمْ يَتَفَطَّنُوا لِأَمْرِ اللَّهِ فِيهِمْ، وَلَا اسْتَشْعَرُوا ابْتِلَاءَ اللَّهِ لَهُمْ فِي الْحَالَيْنِ. وَهَذَا بِخِلَافِ حَالِ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَشْكُرُونَ اللَّهَ عَلَى السَّرَّاءِ، وَيَصْبِرُونَ عَلَى الضَّرَّاءِ، كَمَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ: "عَجَبًا لِلْمُؤْمِنِ، لَا يَقْضِي اللَّهُ لَهُ قَضَاءً إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ سَراء شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاء صَبَر فَكَانَ خَيْرًا لَهُ" [[صحيح مسلم برقم (٢٩٩٩) من حديث صهيب بن سنان، رضي الله عنه، ولم أجده في صحيح البخاري بهذا اللفظ.]] فَالْمُؤْمِنُ مَنْ يَتَفَطَّنُ لِمَا ابْتَلَاهُ اللَّهُ بِهِ مِنَ السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ [[في ك، م: "من الضراء والسراء".]] ؛ وَلِهَذَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ: "لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيِّا [[في ك، "حتى يخرج من الدنيا نقيا".]] مِنْ ذُنُوبِهِ، وَالْمُنَافِقُ مَثَلُهُ كَمَثَلِ الْحِمَارِ، لَا يَدْرِي فِيمَ رَبَطَهُ أَهْلُهُ، وَلَا فِيمَ أَرْسَلُوهُ"، أَوْ كَمَا قَالَ. وَلِهَذَا عَقَّبَ هَذِهِ الصِّفَةَ بِقَوْلِهِ: ﴿فَأَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴾ أَيْ: أَخَذْنَاهُمْ بِالْعُقُوبَةِ بَغْتَةً، أَيْ: عَلَى بَغْتَةٍ مِنْهُمْ، وَعَدَمِ شُعُورٍ مِنْهُمْ، أَيْ: أَخَذْنَاهُمْ فَجْأَةً [[في ك: "بغتة".]] كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ: "مَوْتُ الْفَجْأَةِ رَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِ وَأَخْذَةُ أَسَفٍ للكافر". [[جاء من حديث عائشة وعبيد بن خالد السلمي وأنس بن مالك، رضي الله عنه.
فأما حديث عائشة: فأخرجه الطبراني في المعجم الأوسط برقم (١٢٠٧) "مجمع البحرين"، وابن الجوزي في العلل المتناهية (٢/٨٩٤) من طريق صالح بن موسى، عن عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طلحة، عن عائشة بلفظ: "موت الفجأة تخفيف على المؤمن وسخط على الكافر" وفيه صالح بن موسى وهو متروك.
وأما حديث عبيد بن خالد: فرواه أحمد في المسند (٣/٤٢٤) وأبو داود في السنن برقم (٣١١٠) من طريق شعبة، عن منصور، عن تميم بن سلمة أو سعد بن عبيدة، عن عبيد بن خالد بلفظ: "موت الفجأة أخذة أسف"
وأما حديث أنس: فرواه ابن الجوزي في العلل المتناهية (٢/٨٩٣) من طريق محمد بن مقاتل، عن جعفر بن هارون، عن سمعان ابن المهدي، عن أنس بلفظ: "موت الفجأة رحمة للمؤمنين وعذاب للكافرين" قال ابن الجوزي: "سمعان مجهول منكر الحديث".]]
ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ ٱلسَّيِّئَةِ ٱلْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوا۟ وَّقَالُوا۟ قَدْ مَسَّ ءَابَآءَنَا ٱلضَّرَّآءُ وَٱلسَّرَّآءُ فَأَخَذْنَٰهُم بَغْتَةًۭ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
Then We exchanged in place of the bad [condition], good, until they increased [and prospered] and said, "Our fathers [also] were touched with hardship and ease." So We seized them suddenly while they did not perceive.
پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ (مال واولاد میں) زیادہ ہوگئے تو کہنے لگے کہ اس طرح کا رنج وراحت ہمارے بڑوں کو بھی پہنچتا رہا ہے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑلیا اور وہ (اپنے حال میں) بےخبر تھے
سپس (هنگامی که این هشدارها در آنان اثر نگذاشت)، نیکی (و فراوانی نعمت و رفاه) را به جای بدی (و ناراحتی و گرفتاری) قرار دادیم؛ آنچنان که فزونی گرفتند، (و همهگونه نعمت و برکت یافتند، و مغرور شدند،) و گفتند: «(تنها ما نبودیم که گرفتار این مشکلات شدیم؛) به پدران ما نیز ناراحتیهای جسمی و مالی رسید.» چون چنین شد، آنها را ناگهان (به سبب اعمالشان) گرفتیم (و مجازات کردیم)، در حالی که نمیفهمیدند.
Tafsir Ibn Kathir
And We sent no Prophet unto any town (and they denied him), but We seized its people with Ba'sā' and Ḍarrā', so that they might humble themselves (to Allah)(94)Then We changed the evil for the good, until they 'Afaw (increased), and said: "Our fathers were touched with evil and with good." So We seized them all of a sudden while they were unaware (95)
Afflictions that struck Earlier Nations
Allah mentions the Ba'sā' and Ḍarrā' that struck the earlier nations to whom He sent Prophets. Ba'sā', refers to the physical sicknesses and ailments that they suffered, while Ḍarrā', refers to the poverty and humiliation that they experienced,
لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ
(so that they might humble themselves) supplicate, humble themselves and invoke Allah, that He might remove the afflictions that they suffered from. This Ayah indicates that Allah sent down severe afflictions to them so that they might invoke Him, but they did not do what He ordered them. Therefore, He changed the affliction into prosperity to test them,
ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ
(Then We changed the evil for the good,)
Therefore, Allah changed the hardship into prosperity, disease and sickness into health and well-being, and poverty into richness in provision, so that they might be thankful to Allah for this, but they did none of that. Allah's statement,
حَتَّىٰ عَفَوا
(until they 'Afaw) refers to increase in numbers, wealth and offspring. Allah said next,
وَّقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ فَأَخَذْنَاهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
(...and they said: "Our fathers were touched with evil and with good." So We seized them all of a sudden while they were unaware.)
He tested them with this (afflictions) and that (ease and abundance) so that they may humble themselves and repent to Him. However, they failed both tests, for neither this nor that compelled them to change their ways. They said, "We suffered Ba'sā' and Ḍarrā', but prosperity came afterwards, just as like our forefathers in earlier times." "Therefore," they said, "it is a cycle where we sometimes suffer a hardship and at other times, we enjoy a bounty."
However, they did not comprehend Allah's wisdom, nor the fact that He is testing them in both cases. To the contrary, the believers are grateful to Allah in good times and practice patience in hard times. In the Sahih, there is a Hadith that says;
عَجَبًا لِلْمُؤْمِنِ لَا يَقْضِي اللهُ لَهُ قَضَاءً إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ
(The matter of the believer is amazing, for nothing that Allah decrees for him, but it is better for him. If a Ḍarrā' (harm) strikes him, he is patient, and this is better for him, if he is given Sarra' (prosperity), he thanks (Allah) for it and this is better for him.)
The believer, therefore, is aware of the test behind the afflictions whether it may be prosperity or adversity that Allah sends to him, as well as the blessings. Similarly, in another Hadith,
لَايَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنْ ذُنُوبِهِ، وَالْمُنَافِق مِثْله كَمَثَلِ الْحِمَارِ لَا يَدْرِي فِيمَ رَبَطَهُ أَهْلُهُ وَلَا فِيمَ أَرْسَلُوهُ
(The believer will continue to be tested by afflictions until he ends up pure from sin. And the parable of the hypocrite is that of a donkey, it does not know why its owners tied it or released it.) Allah said next,
فَأَخَذْنَاهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
(So We seized them all of a sudden while they were unaware.) meaning, We struck them with punishment all of a sudden, while they were unaware. A Hadith describes sudden death,
مَوْتُ الْفَجْأَةِ رَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِ وَأَخْذَةُ أَسَفٍ لِلْكَافِرِ
(Sudden death is a mercy for the believer, but a sorrowful punishment for the disbeliever.)
Tafsir Ibn Kathir
ادوارماضی اگلی امتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے رسول آئے اور ان کے انکار پر وہ امتیں مختلف بلاؤں میں مبتلا کی گئیں مثلاً بیماریاں، فقیری، مفلسی، تنگی۔ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اکڑنا چھوڑ دیں اور اس کے سامنے جھک جائیں۔ مصیبتوں کے ٹالنے کی دعائیں کریں اور اس کے رسول کی مان لیں۔ لیکن انہوں نے اس موقعہ کو ہاتھ سے نکال دیا باوجود بری حالت ہونے کے دل کا کفر نہ ٹوتا، اپنی ضد سے نہ ہٹے تو ہم نے دوسری طرح پھر ایک موقہ دیا۔ سختی کو نرمی سے، برائی کو بھلائی سے، بیماری کو تندرستی سے، فقیری کو امیری سے بدل دیا تاکہ شکر کریں اور ہماری حکمرانی کے قائل ہوجائیں لیکن انہوں نے اس موقعہ سے بھی فائدہ نہ اٹھایا، جیسے جیسے بڑھے ویسے ویسے کفر میں پھنسے، بد مستی میں اور بڑھے اور مغرور ہوگئے اور کہنے لگے کہ یہ زمانہ کے اتفاقات ہیں۔ پہلے سے یہی ہوتا چلا آیا ہے کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں بڑی۔ زمانہ ہمیشہ ایک حالت پر نہیں رہتا، الغرض اتفاق پر محمول کر کے معمولی سی بات سمجھ کر دونوں موقع ٹال دیئے۔ ایمان والے دونوں حالتوں میں عبرت پکڑتے ہیں۔ مصیبت پر صبر، راحت پر شکر ان کا شیوہ ہوتا ہے، بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مومن پر تعجب ہے اس کی دونوں حالتیں انجام کے لحاظ سے اس کیلئے بہتر ہوتی ہیں۔ یہ دکھ پر صبر کرتا ہے، انجام بہتر ہوتا ہے، سکھ پر شکر کرتا ہے، نیکیاں پاتا ہے، پس مومن رنج و راحت دونوں میں اپنی آزمائش کو سمجھ لیتا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے بلاؤں کی وجہ سے مومن کے گناہ بالکل دور ہوجاتے ہیں اور وہ پاک صاف ہوجاتا ہے۔ ہاں منافق کی مثال گدھے جیسی ہے جسے نہیں معلوم کہ کیوں باندھا گیا اور کیوں کھولا گیا ؟ (اوکمال قال) پس ان لوگوں کو اس کے بعد اللہ کے عذاب نے اچانک آپکڑا یہ محض بیخبر تھے اپنی خرمستیوں میں لگے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اچانک موت مومن کے لئے رحمت ہے اور کافروں کے لئے حسرت ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَمَّا اخْتَبَرَ بِهِ الْأُمَمَ الْمَاضِيَةَ، الَّذِينَ أَرْسَلَ إِلَيْهِمُ الْأَنْبِيَاءَ بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ، يَعْنِي ﴿بالْبَأْسَاءِ﴾ مَا يُصِيبُهُمْ فِي أَبْدَانِهِمْ مِنْ أَمْرَاضٍ وَأَسْقَامٍ. ﴿وَالضَّرَّاءِ﴾ مَا يُصِيبُهُمْ مِنْ فَقْرٍ وَحَاجَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ، ﴿لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ﴾ أَيْ: يَدْعُونَ وَيَخْشَعُونَ وَيَبْتَهِلُونَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى فِي كَشْفِ مَا نَزَلَ بِهِمْ.
وَتَقْدِيرُ الْكَلَامِ: أَنَّهُ ابْتَلَاهُمْ بِالشِّدَّةِ لِيَتَضَرَّعُوا، فَمَا فَعَلُوا شَيْئًا مِنَ الَّذِي أَرَادَ اللَّهُ مِنْهُمْ، فَقَلَبَ الْحَالَ إِلَى الرَّخَاءِ لِيَخْتَبِرَهُمْ فِيهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ﴾ أَيْ: حولَّنا الحال من شدة إِلَى رَخَاءٍ، وَمِنْ مَرَضٍ وَسَقَمٍ إِلَى صِحَّةٍ وَعَافِيَةٍ، وَمِنْ فَقْرٍ إِلَى غِنًى، لِيَشْكُرُوا عَلَى ذَلِكَ، فَمَا فَعَلُوا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿حَتَّى عَفَوْا﴾ أَيْ: كَثُرُوا وَكَثُرَتْ أَمْوَالُهُمْ وَأَوْلَادُهُمْ، يُقَالُ: عَفَا الشَّيْءُ إِذَا كَثُرَ، ﴿وَقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ فَأَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴾ يَقُولُ تَعَالَى: ابْتَلَاهُمْ [[في د: "ابتليناهم".]] بِهَذَا وَهَذَا [[في أ: "بهذا وبهذا".]] لِيَتَضَرَّعُوا ويُنيبوا إِلَى اللَّهِ، فَمَا نَجَع فِيهِمْ لَا هَذَا وَلَا هَذَا، وَلَا انْتَهَوْا بِهَذَا وَلَا بِهَذَا [[في م: "ولا هذا".]] بَلْ قَالُوا: قَدْ مَسَّنَا مِنَ الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ، ثُمَّ بَعْدَهُ مِنَ الرَّخَاءِ مِثْلُ مَا أَصَابَ آبَاءَنَا فِي قَدِيمِ الدَّهْرِ، وَإِنَّمَا هُوَ الدَّهْرُ تَارَاتٌ وَتَارَاتٌ، وَلَمْ يَتَفَطَّنُوا لِأَمْرِ اللَّهِ فِيهِمْ، وَلَا اسْتَشْعَرُوا ابْتِلَاءَ اللَّهِ لَهُمْ فِي الْحَالَيْنِ. وَهَذَا بِخِلَافِ حَالِ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَشْكُرُونَ اللَّهَ عَلَى السَّرَّاءِ، وَيَصْبِرُونَ عَلَى الضَّرَّاءِ، كَمَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ: "عَجَبًا لِلْمُؤْمِنِ، لَا يَقْضِي اللَّهُ لَهُ قَضَاءً إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ سَراء شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاء صَبَر فَكَانَ خَيْرًا لَهُ" [[صحيح مسلم برقم (٢٩٩٩) من حديث صهيب بن سنان، رضي الله عنه، ولم أجده في صحيح البخاري بهذا اللفظ.]] فَالْمُؤْمِنُ مَنْ يَتَفَطَّنُ لِمَا ابْتَلَاهُ اللَّهُ بِهِ مِنَ السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ [[في ك، م: "من الضراء والسراء".]] ؛ وَلِهَذَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ: "لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيِّا [[في ك، "حتى يخرج من الدنيا نقيا".]] مِنْ ذُنُوبِهِ، وَالْمُنَافِقُ مَثَلُهُ كَمَثَلِ الْحِمَارِ، لَا يَدْرِي فِيمَ رَبَطَهُ أَهْلُهُ، وَلَا فِيمَ أَرْسَلُوهُ"، أَوْ كَمَا قَالَ. وَلِهَذَا عَقَّبَ هَذِهِ الصِّفَةَ بِقَوْلِهِ: ﴿فَأَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴾ أَيْ: أَخَذْنَاهُمْ بِالْعُقُوبَةِ بَغْتَةً، أَيْ: عَلَى بَغْتَةٍ مِنْهُمْ، وَعَدَمِ شُعُورٍ مِنْهُمْ، أَيْ: أَخَذْنَاهُمْ فَجْأَةً [[في ك: "بغتة".]] كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ: "مَوْتُ الْفَجْأَةِ رَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِ وَأَخْذَةُ أَسَفٍ للكافر". [[جاء من حديث عائشة وعبيد بن خالد السلمي وأنس بن مالك، رضي الله عنه.
فأما حديث عائشة: فأخرجه الطبراني في المعجم الأوسط برقم (١٢٠٧) "مجمع البحرين"، وابن الجوزي في العلل المتناهية (٢/٨٩٤) من طريق صالح بن موسى، عن عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طلحة، عن عائشة بلفظ: "موت الفجأة تخفيف على المؤمن وسخط على الكافر" وفيه صالح بن موسى وهو متروك.
وأما حديث عبيد بن خالد: فرواه أحمد في المسند (٣/٤٢٤) وأبو داود في السنن برقم (٣١١٠) من طريق شعبة، عن منصور، عن تميم بن سلمة أو سعد بن عبيدة، عن عبيد بن خالد بلفظ: "موت الفجأة أخذة أسف"
وأما حديث أنس: فرواه ابن الجوزي في العلل المتناهية (٢/٨٩٣) من طريق محمد بن مقاتل، عن جعفر بن هارون، عن سمعان ابن المهدي، عن أنس بلفظ: "موت الفجأة رحمة للمؤمنين وعذاب للكافرين" قال ابن الجوزي: "سمعان مجهول منكر الحديث".]]
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ ٱلْقُرَىٰٓ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّقَوْا۟ لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَٰتٍۢ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ وَلَٰكِن كَذَّبُوا۟ فَأَخَذْنَٰهُم بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ
And if only the people of the cities had believed and feared Allah, We would have opened upon them blessings from the heaven and the earth; but they denied [the messengers], so We seized them for what they were earning."
اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہوجاتے۔ تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات (کے دروازے) کھول دیتے مگر انہوں نے تو تکذیب کی۔ سو ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑ لیا
و اگر اهل شهرها و آبادیها، ایمان میآوردند و تقوا پیشه میکردند، برکات آسمان و زمین را بر آنها میگشودیم؛ ولی (آنها حق را) تکذیب کردند؛ ما هم آنان را به کیفر اعمالشان مجازات کردیم.
Tafsir Ibn Kathir
And if the people of the towns had believed and had Taqwa, certainly, We should have opened for them blessings from the heaven and the earth, but they belied (the Messengers). So We took them (with punishment) for what they used to earn (96)Did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment by night while they were asleep (97)Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing (98)Did they then feel secure against Allah's plan? None feels secure from Allah's plan except the people who are the losers (99)
Blessings come with Faith, while Kufr brings Torment
Allah mentions here the little faith of the people of the towns to whom He sent Messengers. In another instance, Allah said,
فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ
(Was there any town (community) that believed (after seeing the punishment), and its faith (at that moment) saved it (from the punishment)? Except the people of Yunus; when they believed, We removed from them the torment of disgrace in the life of the (present) world, and permitted them to enjoy for a while.)[10:98]
This Ayah indicates that no city believed in its entirety, except the city of Prophet Yunus, for they all believed after they were stricken by punishment. Allah said (about Prophet Yunus),
وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ - فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ
(And We sent him to a hundred thousand (people) or even more. And they believed; so We gave them enjoyment for a while.)[37:147-148] Allah said in another Ayah,
وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ
(And We did not send a warner to a township....)[34:34] Allah said here,
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا
(And if the people of the towns had believed and had Taqwa...) meaning their hearts had faith in what the Messenger brought them, believed and obeyed him, and had Taqwa by performing the acts of obedience and abstaining from the prohibitions,
لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
(We should have opened for them blessings from the heaven and the earth,) in reference to the rain that falls from the sky and the vegetation of the earth. Allah said,
وَلَٰكِن كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
(but they belied (the Messengers). So We took them (with punishment) for what they used to earn.)
They denied their Messengers, so that We punished them and sent destruction on them as a result of the sins and wickedness that they earned. Allah then said, while warning and threatening against defying His orders and daring to commit His prohibitions,
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ
(Did the people of the towns then feel secure),meaning the disbelievers among them,
أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا
(that should come to them our punishment), Our torment and punishing example,
بَيَاتًا
('Bayātan') during the night,
وَهُمْ نَائِمُونَ - أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ
(while they were asleep? Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing?) while they are busy in their affairs and unaware.
أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ
(Did they then feel secure against Allah's plan?) His torment, vengeance, and His power to destroy them while they are inattentive and heedless,
فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ
(None feels secure from Allah's plan except the people who are the losers.)
Al-Hasan Al-Basri said, "The believer performs the acts of worship, all the while feeling fear, in fright and anxiety. The Fajir (wicked sinner, or disbeliever) commits the acts of disobedience while feeling safe (from Allah's torment)!"
Tafsir Ibn Kathir
عوام کی فطرت لوگوں سے عام طور پر جو غلطی ہو رہی ہے اس کا ذکر ہے کہ عموماً ایمان سے اور نیک کاموں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ صرف حضرت یونس ؑ کی پوری بستی ایمان لائی تھی اور وہ بھی اس وقت جبکہ عذابوں کو دیکھ لیا اور یہ بھی صرف ان کے ساتھ ہی ہوا کہ آئے ہوئے عذاب واپس کردیئے گئے اور دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچ گئے یہ لوگ ایک لاکھ بلکہ زائد تھے۔ اپنی پوری عمر تک پہنچے اور دنیوی فائدے بھی حاصل کرتے رہے تو فرماتا ہے کہ اگر نبیوں کے آنے پر ان کے امتی صدق دل سے ان کی تابعداری کرتے، برائیوں سے رک جاتے اور نیکیاں کرنے لگتے تو ہم ان پر کشادہ طور پر بارشیں برساتے اور زمین سے پیداوار اگاتے۔ لیکن انہوں نے رسولوں کی نہ مانی بلکہ انہیں جھوٹا سمجھا اور روبرو جھوٹا کہا۔ برائیوں سے حرام کاریوں سے ایک انچ نہ ہٹے، اس وجہ سے تباہ کردیے گئے۔ کیا کافروں کو اس بات کا خوف نہیں کہ راتوں رات ان کی بیخبر ی میں ان کے سوتے ہوئے عذاب الٰہی آجائے اور یہ سوئے کے سوئے رہ جائیں ؟ کیا انہیں ڈر نہیں لگتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دن دہاڑے ان کے کھیل کود اور غفلت کی حالت میں اللہ جل جلالہ کا عذاب آجائے ؟ اللہ کے عذابوں سے، اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے، اس کی بےپایاں قدرت کے اندازے سے غافل وہی ہوتے ہیں جو اپنے آپ بربادی کی طرف بڑھے چلے جاتے ہوں۔ امام حسن بصری ؒ کا قول ہے کہ مومن نیکیاں کرتا ہے اور پھر ڈرتا رہتا ہے اور فاسق فاجر شخص برائیاں کرتا ہے اور بےخوف رہتا ہے۔ نتیجے میں مومن امن پاتا ہے اور فاجر پیس دیا جاتا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ قِلَّةِ إِيمَانِ أَهْلِ الْقُرَى الَّذِينَ أَرْسَلَ فِيهِمُ الرُّسُلَ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى [[في ك، م، أ: "كما قال تعالى".]] ﴿فَلَوْلا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ﴾ [يونس:٩٨] أَيْ: مَا آمَنَتْ قَرْيَةٌ بِتَمَامِهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ، فَإِنَّهُمْ آمَنُوا، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا عَايَنُوا الْعَذَابَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَى مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ * فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ﴾ [الصَّافَّاتِ:١٤٧، ١٤٨] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَذِيرٍ [إِلا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُمْ بِهِ كَافِرُونَ [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [سَبَأٍ:٣٤]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا﴾ أَيْ: آمَنَتْ قُلُوبُهُمْ بِمَا جَاءَتْهُمْ بِهِ الرُّسُلُ، وَصَدَّقَتْ بِهِ وَاتَّبَعَتْهُ، وَاتَّقَوْا بِفِعْلِ الطَّاعَاتِ وَتَرْكِ الْمُحَرَّمَاتِ، ﴿لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالأرْضِ﴾ أَيْ: قَطْرَ السَّمَاءِ وَنَبَاتَ الْأَرْضِ. قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ أَيْ: وَلَكِنْ كَذَّبُوا رُسُلَهُمْ، فَعَاقَبْنَاهُمْ بِالْهَلَاكِ عَلَى مَا كَسَبُوا مِنَ الْمَآثِمِ وَالْمَحَارِمِ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى مُخَوِّفًا وَمُحَذِّرًا مِنْ مُخَالَفَةِ أَوَامِرِهِ، وَالتَّجَرُّؤِ عَلَى زَوَاجِرِهِ: ﴿أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى﴾ أَيِ: الْكَافِرَةِ ﴿أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا﴾ أَيْ: عَذَابُنَا وَنَكَالُنَا، ﴿بَيَاتًا﴾ أَيْ: لَيْلًا ﴿وَهُمْ نَائِمُونَ * أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ﴾ أَيْ: فِي حَالِ شُغْلِهِمْ وَغَفْلَتِهِمْ، ﴿أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ﴾ أَيْ: بَأْسَهُ وَنِقْمَتَهُ وَقُدْرَتَهُ عَلَيْهِمْ وَأَخْذَهُ إِيَّاهُمْ فِي حَالِ سَهْوِهِمْ وَغَفْلَتِهِمْ ﴿فَلا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ﴾ ؛ وَلِهَذَا قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، رَحِمَهُ اللَّهُ: الْمُؤْمِنُ يَعْمَلُ بِالطَّاعَاتِ وَهُوَ مُشْفِق وَجِل خَائِفٌ، وَالْفَاجِرُ يَعْمَلُ بِالْمَعَاصِي وَهُوَ آمِنٌ.
أَفَأَمِنَ أَهْلُ ٱلْقُرَىٰٓ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَٰتًۭا وَهُمْ نَآئِمُونَ
Then, did the people of the cities feel secure from Our punishment coming to them at night while they were asleep?
کیا بستیوں کے رہنے والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو واقع ہو اور وہ (بےخبر) سو رہے ہوں
آیا اهل این آبادیها، از این ایمنند که عذاب ما شبانه به سراغ آنها بیاید در حالی که در خواب باشند؟!
Tafsir Ibn Kathir
And if the people of the towns had believed and had Taqwa, certainly, We should have opened for them blessings from the heaven and the earth, but they belied (the Messengers). So We took them (with punishment) for what they used to earn (96)Did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment by night while they were asleep (97)Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing (98)Did they then feel secure against Allah's plan? None feels secure from Allah's plan except the people who are the losers (99)
Blessings come with Faith, while Kufr brings Torment
Allah mentions here the little faith of the people of the towns to whom He sent Messengers. In another instance, Allah said,
فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ
(Was there any town (community) that believed (after seeing the punishment), and its faith (at that moment) saved it (from the punishment)? Except the people of Yunus; when they believed, We removed from them the torment of disgrace in the life of the (present) world, and permitted them to enjoy for a while.)[10:98]
This Ayah indicates that no city believed in its entirety, except the city of Prophet Yunus, for they all believed after they were stricken by punishment. Allah said (about Prophet Yunus),
وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ - فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ
(And We sent him to a hundred thousand (people) or even more. And they believed; so We gave them enjoyment for a while.)[37:147-148] Allah said in another Ayah,
وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ
(And We did not send a warner to a township....)[34:34] Allah said here,
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا
(And if the people of the towns had believed and had Taqwa...) meaning their hearts had faith in what the Messenger brought them, believed and obeyed him, and had Taqwa by performing the acts of obedience and abstaining from the prohibitions,
لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
(We should have opened for them blessings from the heaven and the earth,) in reference to the rain that falls from the sky and the vegetation of the earth. Allah said,
وَلَٰكِن كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
(but they belied (the Messengers). So We took them (with punishment) for what they used to earn.)
They denied their Messengers, so that We punished them and sent destruction on them as a result of the sins and wickedness that they earned. Allah then said, while warning and threatening against defying His orders and daring to commit His prohibitions,
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ
(Did the people of the towns then feel secure),meaning the disbelievers among them,
أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا
(that should come to them our punishment), Our torment and punishing example,
بَيَاتًا
('Bayātan') during the night,
وَهُمْ نَائِمُونَ - أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ
(while they were asleep? Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing?) while they are busy in their affairs and unaware.
أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ
(Did they then feel secure against Allah's plan?) His torment, vengeance, and His power to destroy them while they are inattentive and heedless,
فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ
(None feels secure from Allah's plan except the people who are the losers.)
Al-Hasan Al-Basri said, "The believer performs the acts of worship, all the while feeling fear, in fright and anxiety. The Fajir (wicked sinner, or disbeliever) commits the acts of disobedience while feeling safe (from Allah's torment)!"
Tafsir Ibn Kathir
عوام کی فطرت لوگوں سے عام طور پر جو غلطی ہو رہی ہے اس کا ذکر ہے کہ عموماً ایمان سے اور نیک کاموں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ صرف حضرت یونس ؑ کی پوری بستی ایمان لائی تھی اور وہ بھی اس وقت جبکہ عذابوں کو دیکھ لیا اور یہ بھی صرف ان کے ساتھ ہی ہوا کہ آئے ہوئے عذاب واپس کردیئے گئے اور دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچ گئے یہ لوگ ایک لاکھ بلکہ زائد تھے۔ اپنی پوری عمر تک پہنچے اور دنیوی فائدے بھی حاصل کرتے رہے تو فرماتا ہے کہ اگر نبیوں کے آنے پر ان کے امتی صدق دل سے ان کی تابعداری کرتے، برائیوں سے رک جاتے اور نیکیاں کرنے لگتے تو ہم ان پر کشادہ طور پر بارشیں برساتے اور زمین سے پیداوار اگاتے۔ لیکن انہوں نے رسولوں کی نہ مانی بلکہ انہیں جھوٹا سمجھا اور روبرو جھوٹا کہا۔ برائیوں سے حرام کاریوں سے ایک انچ نہ ہٹے، اس وجہ سے تباہ کردیے گئے۔ کیا کافروں کو اس بات کا خوف نہیں کہ راتوں رات ان کی بیخبر ی میں ان کے سوتے ہوئے عذاب الٰہی آجائے اور یہ سوئے کے سوئے رہ جائیں ؟ کیا انہیں ڈر نہیں لگتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دن دہاڑے ان کے کھیل کود اور غفلت کی حالت میں اللہ جل جلالہ کا عذاب آجائے ؟ اللہ کے عذابوں سے، اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے، اس کی بےپایاں قدرت کے اندازے سے غافل وہی ہوتے ہیں جو اپنے آپ بربادی کی طرف بڑھے چلے جاتے ہوں۔ امام حسن بصری ؒ کا قول ہے کہ مومن نیکیاں کرتا ہے اور پھر ڈرتا رہتا ہے اور فاسق فاجر شخص برائیاں کرتا ہے اور بےخوف رہتا ہے۔ نتیجے میں مومن امن پاتا ہے اور فاجر پیس دیا جاتا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ قِلَّةِ إِيمَانِ أَهْلِ الْقُرَى الَّذِينَ أَرْسَلَ فِيهِمُ الرُّسُلَ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى [[في ك، م، أ: "كما قال تعالى".]] ﴿فَلَوْلا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ﴾ [يونس:٩٨] أَيْ: مَا آمَنَتْ قَرْيَةٌ بِتَمَامِهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ، فَإِنَّهُمْ آمَنُوا، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا عَايَنُوا الْعَذَابَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَى مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ * فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ﴾ [الصَّافَّاتِ:١٤٧، ١٤٨] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَذِيرٍ [إِلا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُمْ بِهِ كَافِرُونَ [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [سَبَأٍ:٣٤]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا﴾ أَيْ: آمَنَتْ قُلُوبُهُمْ بِمَا جَاءَتْهُمْ بِهِ الرُّسُلُ، وَصَدَّقَتْ بِهِ وَاتَّبَعَتْهُ، وَاتَّقَوْا بِفِعْلِ الطَّاعَاتِ وَتَرْكِ الْمُحَرَّمَاتِ، ﴿لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالأرْضِ﴾ أَيْ: قَطْرَ السَّمَاءِ وَنَبَاتَ الْأَرْضِ. قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ أَيْ: وَلَكِنْ كَذَّبُوا رُسُلَهُمْ، فَعَاقَبْنَاهُمْ بِالْهَلَاكِ عَلَى مَا كَسَبُوا مِنَ الْمَآثِمِ وَالْمَحَارِمِ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى مُخَوِّفًا وَمُحَذِّرًا مِنْ مُخَالَفَةِ أَوَامِرِهِ، وَالتَّجَرُّؤِ عَلَى زَوَاجِرِهِ: ﴿أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى﴾ أَيِ: الْكَافِرَةِ ﴿أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا﴾ أَيْ: عَذَابُنَا وَنَكَالُنَا، ﴿بَيَاتًا﴾ أَيْ: لَيْلًا ﴿وَهُمْ نَائِمُونَ * أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ﴾ أَيْ: فِي حَالِ شُغْلِهِمْ وَغَفْلَتِهِمْ، ﴿أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ﴾ أَيْ: بَأْسَهُ وَنِقْمَتَهُ وَقُدْرَتَهُ عَلَيْهِمْ وَأَخْذَهُ إِيَّاهُمْ فِي حَالِ سَهْوِهِمْ وَغَفْلَتِهِمْ ﴿فَلا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ﴾ ؛ وَلِهَذَا قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، رَحِمَهُ اللَّهُ: الْمُؤْمِنُ يَعْمَلُ بِالطَّاعَاتِ وَهُوَ مُشْفِق وَجِل خَائِفٌ، وَالْفَاجِرُ يَعْمَلُ بِالْمَعَاصِي وَهُوَ آمِنٌ.
أَوَأَمِنَ أَهْلُ ٱلْقُرَىٰٓ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًۭى وَهُمْ يَلْعَبُونَ
Or did the people of the cities feel secure from Our punishment coming to them in the morning while they were at play?
اور کیا اہلِ شہر اس سے نڈر ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ نازل ہو اور وہ کھیل رہے ہوں
آیا اهل این آبادیها، از این ایمنند که عذاب ما هنگام روز به سراغشان بیاید در حالی که سرگرم بازی هستند؟!
Tafsir Ibn Kathir
And if the people of the towns had believed and had Taqwa, certainly, We should have opened for them blessings from the heaven and the earth, but they belied (the Messengers). So We took them (with punishment) for what they used to earn (96)Did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment by night while they were asleep (97)Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing (98)Did they then feel secure against Allah's plan? None feels secure from Allah's plan except the people who are the losers (99)
Blessings come with Faith, while Kufr brings Torment
Allah mentions here the little faith of the people of the towns to whom He sent Messengers. In another instance, Allah said,
فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ
(Was there any town (community) that believed (after seeing the punishment), and its faith (at that moment) saved it (from the punishment)? Except the people of Yunus; when they believed, We removed from them the torment of disgrace in the life of the (present) world, and permitted them to enjoy for a while.)[10:98]
This Ayah indicates that no city believed in its entirety, except the city of Prophet Yunus, for they all believed after they were stricken by punishment. Allah said (about Prophet Yunus),
وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ - فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ
(And We sent him to a hundred thousand (people) or even more. And they believed; so We gave them enjoyment for a while.)[37:147-148] Allah said in another Ayah,
وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ
(And We did not send a warner to a township....)[34:34] Allah said here,
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا
(And if the people of the towns had believed and had Taqwa...) meaning their hearts had faith in what the Messenger brought them, believed and obeyed him, and had Taqwa by performing the acts of obedience and abstaining from the prohibitions,
لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
(We should have opened for them blessings from the heaven and the earth,) in reference to the rain that falls from the sky and the vegetation of the earth. Allah said,
وَلَٰكِن كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
(but they belied (the Messengers). So We took them (with punishment) for what they used to earn.)
They denied their Messengers, so that We punished them and sent destruction on them as a result of the sins and wickedness that they earned. Allah then said, while warning and threatening against defying His orders and daring to commit His prohibitions,
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ
(Did the people of the towns then feel secure),meaning the disbelievers among them,
أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا
(that should come to them our punishment), Our torment and punishing example,
بَيَاتًا
('Bayātan') during the night,
وَهُمْ نَائِمُونَ - أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ
(while they were asleep? Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing?) while they are busy in their affairs and unaware.
أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ
(Did they then feel secure against Allah's plan?) His torment, vengeance, and His power to destroy them while they are inattentive and heedless,
فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ
(None feels secure from Allah's plan except the people who are the losers.)
Al-Hasan Al-Basri said, "The believer performs the acts of worship, all the while feeling fear, in fright and anxiety. The Fajir (wicked sinner, or disbeliever) commits the acts of disobedience while feeling safe (from Allah's torment)!"
Tafsir Ibn Kathir
عوام کی فطرت لوگوں سے عام طور پر جو غلطی ہو رہی ہے اس کا ذکر ہے کہ عموماً ایمان سے اور نیک کاموں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ صرف حضرت یونس ؑ کی پوری بستی ایمان لائی تھی اور وہ بھی اس وقت جبکہ عذابوں کو دیکھ لیا اور یہ بھی صرف ان کے ساتھ ہی ہوا کہ آئے ہوئے عذاب واپس کردیئے گئے اور دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچ گئے یہ لوگ ایک لاکھ بلکہ زائد تھے۔ اپنی پوری عمر تک پہنچے اور دنیوی فائدے بھی حاصل کرتے رہے تو فرماتا ہے کہ اگر نبیوں کے آنے پر ان کے امتی صدق دل سے ان کی تابعداری کرتے، برائیوں سے رک جاتے اور نیکیاں کرنے لگتے تو ہم ان پر کشادہ طور پر بارشیں برساتے اور زمین سے پیداوار اگاتے۔ لیکن انہوں نے رسولوں کی نہ مانی بلکہ انہیں جھوٹا سمجھا اور روبرو جھوٹا کہا۔ برائیوں سے حرام کاریوں سے ایک انچ نہ ہٹے، اس وجہ سے تباہ کردیے گئے۔ کیا کافروں کو اس بات کا خوف نہیں کہ راتوں رات ان کی بیخبر ی میں ان کے سوتے ہوئے عذاب الٰہی آجائے اور یہ سوئے کے سوئے رہ جائیں ؟ کیا انہیں ڈر نہیں لگتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دن دہاڑے ان کے کھیل کود اور غفلت کی حالت میں اللہ جل جلالہ کا عذاب آجائے ؟ اللہ کے عذابوں سے، اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے، اس کی بےپایاں قدرت کے اندازے سے غافل وہی ہوتے ہیں جو اپنے آپ بربادی کی طرف بڑھے چلے جاتے ہوں۔ امام حسن بصری ؒ کا قول ہے کہ مومن نیکیاں کرتا ہے اور پھر ڈرتا رہتا ہے اور فاسق فاجر شخص برائیاں کرتا ہے اور بےخوف رہتا ہے۔ نتیجے میں مومن امن پاتا ہے اور فاجر پیس دیا جاتا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ قِلَّةِ إِيمَانِ أَهْلِ الْقُرَى الَّذِينَ أَرْسَلَ فِيهِمُ الرُّسُلَ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى [[في ك، م، أ: "كما قال تعالى".]] ﴿فَلَوْلا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ﴾ [يونس:٩٨] أَيْ: مَا آمَنَتْ قَرْيَةٌ بِتَمَامِهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ، فَإِنَّهُمْ آمَنُوا، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا عَايَنُوا الْعَذَابَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَى مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ * فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ﴾ [الصَّافَّاتِ:١٤٧، ١٤٨] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَذِيرٍ [إِلا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُمْ بِهِ كَافِرُونَ [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [سَبَأٍ:٣٤]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا﴾ أَيْ: آمَنَتْ قُلُوبُهُمْ بِمَا جَاءَتْهُمْ بِهِ الرُّسُلُ، وَصَدَّقَتْ بِهِ وَاتَّبَعَتْهُ، وَاتَّقَوْا بِفِعْلِ الطَّاعَاتِ وَتَرْكِ الْمُحَرَّمَاتِ، ﴿لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالأرْضِ﴾ أَيْ: قَطْرَ السَّمَاءِ وَنَبَاتَ الْأَرْضِ. قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ أَيْ: وَلَكِنْ كَذَّبُوا رُسُلَهُمْ، فَعَاقَبْنَاهُمْ بِالْهَلَاكِ عَلَى مَا كَسَبُوا مِنَ الْمَآثِمِ وَالْمَحَارِمِ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى مُخَوِّفًا وَمُحَذِّرًا مِنْ مُخَالَفَةِ أَوَامِرِهِ، وَالتَّجَرُّؤِ عَلَى زَوَاجِرِهِ: ﴿أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى﴾ أَيِ: الْكَافِرَةِ ﴿أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا﴾ أَيْ: عَذَابُنَا وَنَكَالُنَا، ﴿بَيَاتًا﴾ أَيْ: لَيْلًا ﴿وَهُمْ نَائِمُونَ * أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ﴾ أَيْ: فِي حَالِ شُغْلِهِمْ وَغَفْلَتِهِمْ، ﴿أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ﴾ أَيْ: بَأْسَهُ وَنِقْمَتَهُ وَقُدْرَتَهُ عَلَيْهِمْ وَأَخْذَهُ إِيَّاهُمْ فِي حَالِ سَهْوِهِمْ وَغَفْلَتِهِمْ ﴿فَلا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ﴾ ؛ وَلِهَذَا قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، رَحِمَهُ اللَّهُ: الْمُؤْمِنُ يَعْمَلُ بِالطَّاعَاتِ وَهُوَ مُشْفِق وَجِل خَائِفٌ، وَالْفَاجِرُ يَعْمَلُ بِالْمَعَاصِي وَهُوَ آمِنٌ.
أَفَأَمِنُوا۟ مَكْرَ ٱللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْخَٰسِرُونَ
Then did they feel secure from the plan of Allah? But no one feels secure from the plan of Allah except the losing people.
کیا یہ لوگ خدا کے داؤ کا ڈر نہیں رکھتے (سن لو کہ) خدا کے داؤ سے وہی لوگ نڈر ہوتے ہیں جو خسارہ پانے والے ہیں
آیا آنها خود را از مکر الهی در امان میدانند؟! در حالی که جز زیانکاران، خود را از مکر (و مجازات) خدا ایمن نمیدانند!
Tafsir Ibn Kathir
And if the people of the towns had believed and had Taqwa, certainly, We should have opened for them blessings from the heaven and the earth, but they belied (the Messengers). So We took them (with punishment) for what they used to earn (96)Did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment by night while they were asleep (97)Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing (98)Did they then feel secure against Allah's plan? None feels secure from Allah's plan except the people who are the losers (99)
Blessings come with Faith, while Kufr brings Torment
Allah mentions here the little faith of the people of the towns to whom He sent Messengers. In another instance, Allah said,
فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ
(Was there any town (community) that believed (after seeing the punishment), and its faith (at that moment) saved it (from the punishment)? Except the people of Yunus; when they believed, We removed from them the torment of disgrace in the life of the (present) world, and permitted them to enjoy for a while.)[10:98]
This Ayah indicates that no city believed in its entirety, except the city of Prophet Yunus, for they all believed after they were stricken by punishment. Allah said (about Prophet Yunus),
وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ - فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ
(And We sent him to a hundred thousand (people) or even more. And they believed; so We gave them enjoyment for a while.)[37:147-148] Allah said in another Ayah,
وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ
(And We did not send a warner to a township....)[34:34] Allah said here,
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا
(And if the people of the towns had believed and had Taqwa...) meaning their hearts had faith in what the Messenger brought them, believed and obeyed him, and had Taqwa by performing the acts of obedience and abstaining from the prohibitions,
لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
(We should have opened for them blessings from the heaven and the earth,) in reference to the rain that falls from the sky and the vegetation of the earth. Allah said,
وَلَٰكِن كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
(but they belied (the Messengers). So We took them (with punishment) for what they used to earn.)
They denied their Messengers, so that We punished them and sent destruction on them as a result of the sins and wickedness that they earned. Allah then said, while warning and threatening against defying His orders and daring to commit His prohibitions,
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ
(Did the people of the towns then feel secure),meaning the disbelievers among them,
أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا
(that should come to them our punishment), Our torment and punishing example,
بَيَاتًا
('Bayātan') during the night,
وَهُمْ نَائِمُونَ - أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ
(while they were asleep? Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing?) while they are busy in their affairs and unaware.
أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ
(Did they then feel secure against Allah's plan?) His torment, vengeance, and His power to destroy them while they are inattentive and heedless,
فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ
(None feels secure from Allah's plan except the people who are the losers.)
Al-Hasan Al-Basri said, "The believer performs the acts of worship, all the while feeling fear, in fright and anxiety. The Fajir (wicked sinner, or disbeliever) commits the acts of disobedience while feeling safe (from Allah's torment)!"
Tafsir Ibn Kathir
عوام کی فطرت لوگوں سے عام طور پر جو غلطی ہو رہی ہے اس کا ذکر ہے کہ عموماً ایمان سے اور نیک کاموں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ صرف حضرت یونس ؑ کی پوری بستی ایمان لائی تھی اور وہ بھی اس وقت جبکہ عذابوں کو دیکھ لیا اور یہ بھی صرف ان کے ساتھ ہی ہوا کہ آئے ہوئے عذاب واپس کردیئے گئے اور دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچ گئے یہ لوگ ایک لاکھ بلکہ زائد تھے۔ اپنی پوری عمر تک پہنچے اور دنیوی فائدے بھی حاصل کرتے رہے تو فرماتا ہے کہ اگر نبیوں کے آنے پر ان کے امتی صدق دل سے ان کی تابعداری کرتے، برائیوں سے رک جاتے اور نیکیاں کرنے لگتے تو ہم ان پر کشادہ طور پر بارشیں برساتے اور زمین سے پیداوار اگاتے۔ لیکن انہوں نے رسولوں کی نہ مانی بلکہ انہیں جھوٹا سمجھا اور روبرو جھوٹا کہا۔ برائیوں سے حرام کاریوں سے ایک انچ نہ ہٹے، اس وجہ سے تباہ کردیے گئے۔ کیا کافروں کو اس بات کا خوف نہیں کہ راتوں رات ان کی بیخبر ی میں ان کے سوتے ہوئے عذاب الٰہی آجائے اور یہ سوئے کے سوئے رہ جائیں ؟ کیا انہیں ڈر نہیں لگتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دن دہاڑے ان کے کھیل کود اور غفلت کی حالت میں اللہ جل جلالہ کا عذاب آجائے ؟ اللہ کے عذابوں سے، اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے، اس کی بےپایاں قدرت کے اندازے سے غافل وہی ہوتے ہیں جو اپنے آپ بربادی کی طرف بڑھے چلے جاتے ہوں۔ امام حسن بصری ؒ کا قول ہے کہ مومن نیکیاں کرتا ہے اور پھر ڈرتا رہتا ہے اور فاسق فاجر شخص برائیاں کرتا ہے اور بےخوف رہتا ہے۔ نتیجے میں مومن امن پاتا ہے اور فاجر پیس دیا جاتا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ قِلَّةِ إِيمَانِ أَهْلِ الْقُرَى الَّذِينَ أَرْسَلَ فِيهِمُ الرُّسُلَ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى [[في ك، م، أ: "كما قال تعالى".]] ﴿فَلَوْلا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ﴾ [يونس:٩٨] أَيْ: مَا آمَنَتْ قَرْيَةٌ بِتَمَامِهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ، فَإِنَّهُمْ آمَنُوا، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا عَايَنُوا الْعَذَابَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَى مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ * فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ﴾ [الصَّافَّاتِ:١٤٧، ١٤٨] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَذِيرٍ [إِلا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُمْ بِهِ كَافِرُونَ [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [سَبَأٍ:٣٤]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا﴾ أَيْ: آمَنَتْ قُلُوبُهُمْ بِمَا جَاءَتْهُمْ بِهِ الرُّسُلُ، وَصَدَّقَتْ بِهِ وَاتَّبَعَتْهُ، وَاتَّقَوْا بِفِعْلِ الطَّاعَاتِ وَتَرْكِ الْمُحَرَّمَاتِ، ﴿لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالأرْضِ﴾ أَيْ: قَطْرَ السَّمَاءِ وَنَبَاتَ الْأَرْضِ. قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ أَيْ: وَلَكِنْ كَذَّبُوا رُسُلَهُمْ، فَعَاقَبْنَاهُمْ بِالْهَلَاكِ عَلَى مَا كَسَبُوا مِنَ الْمَآثِمِ وَالْمَحَارِمِ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى مُخَوِّفًا وَمُحَذِّرًا مِنْ مُخَالَفَةِ أَوَامِرِهِ، وَالتَّجَرُّؤِ عَلَى زَوَاجِرِهِ: ﴿أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى﴾ أَيِ: الْكَافِرَةِ ﴿أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا﴾ أَيْ: عَذَابُنَا وَنَكَالُنَا، ﴿بَيَاتًا﴾ أَيْ: لَيْلًا ﴿وَهُمْ نَائِمُونَ * أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ﴾ أَيْ: فِي حَالِ شُغْلِهِمْ وَغَفْلَتِهِمْ، ﴿أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ﴾ أَيْ: بَأْسَهُ وَنِقْمَتَهُ وَقُدْرَتَهُ عَلَيْهِمْ وَأَخْذَهُ إِيَّاهُمْ فِي حَالِ سَهْوِهِمْ وَغَفْلَتِهِمْ ﴿فَلا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ﴾ ؛ وَلِهَذَا قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، رَحِمَهُ اللَّهُ: الْمُؤْمِنُ يَعْمَلُ بِالطَّاعَاتِ وَهُوَ مُشْفِق وَجِل خَائِفٌ، وَالْفَاجِرُ يَعْمَلُ بِالْمَعَاصِي وَهُوَ آمِنٌ.
أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ ٱلْأَرْضَ مِنۢ بَعْدِ أَهْلِهَآ أَن لَّوْ نَشَآءُ أَصَبْنَٰهُم بِذُنُوبِهِمْ ۚ وَنَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ
Has it not become clear to those who inherited the earth after its [previous] people that if We willed, We could afflict them for their sins? But We seal over their hearts so they do not hear.
کیا ان لوگوں کو جو اہلِ زمین کے (مرجانے کے) بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں، یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں۔ اور ان کے دلوں پر مہر لگادیں کہ کچھ سن ہی نہ سکیں
آیا کسانی که وارث روی زمین بعد از صاحبان آن میشوند، عبرت نمیگیرند که اگر بخواهیم، آنها را نیز به گناهانشان هلاک میکنیم، و بر دلهایشان مهر مینهیم تا (صدای حق را) نشنوند؟!
Tafsir Ibn Kathir
Is it not a guidance for those who inherit the earth from its previons inhabitants that had We willed, We would have punished them for their sins. And We seal up their hearts so that they hear not (100)
Ibn 'Abbas commented on Allah's statement,
أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ الْأَرْضَ مِن بَعْدِ أَهْلِهَا
(Is it not a guidance for those who inherit the earth from its previous inhabitants...)
"(Allah says,) did We not make clear to them that had We willed, We would have punished them because of their sins?" Mujahid and several others said similarly. Abu Ja'far bin Jarir At-Tabari explained this Ayah, "Allah says, 'Did We not make clear to those who succeeded on the earth after destroying the previous nations who used to dwell in that land. Then they followed their own ways, and behaved as they did and were unruly with their Lord. [Did We not make clear to them] that,
أَن لَّوْ نَشَاءُ أَصَبْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ
(that had We willed, We would have punished them for their sins.) by bringing them the same end that was decreed for those before them,
وَنَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ
(And We seal up their hearts), We place a cover over their heart,
فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ
(so that they hear not), words of advice or reminding?'" I say that similarly, Allah said,
أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِي مَسَاكِنِهِمْ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّأُولِي النُّهَىٰ
(Is it not a guidance for them: how many generations We have destroyed before them, in whose dwellings they walk? Verily, in this are signs indeed for men of understanding.)[20:128]
أَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِي مَسَاكِنِهِمْ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ أَفَلَا يَسْمَعُونَ
(Is it not a guidance for them: how many generations We have destroyed before them in whose dwellings they do walk about? Verily, therein indeed are signs. Would they not then listen)[32:26] and,
أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍ - وَسَكَنتُمْ فِي مَسَاكِنِ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ
(Had you not sworn aforetime that you would not leave (the world for the Hereafter). And you dwelt in the dwellings of men who wronged themselves)[14:44-45] Also, Allah said,
وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُم مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا
(And how many a generation before them have We destroyed! Can you find a single one of them or hear even a whisper of them?)[19:98] meaning, do you see any of them or hear their voices There are many other Ayat that testify that Allah's torment strikes His enemies, while His bounty reaches His faithful believers.
Thereafter comes Allah's statement, and He is the Most Truthful, the Lord of all that exists,
Tafsir Ibn Kathir
گناہوں میں ڈوبے لوگ ؟ ارشاد ہے کہ ایک گروہ نے ہمارا مقابلہ کیا اور ہم نے انہیں تاخت و تاراج کیا۔ دوسرا گروہ ان کے قائم مقام ہوا تو کیا اس پر بھی یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ اگر وہ بداعمالیاں کریں گے تو اپنے سے اگلوں کی طرح کھو دیئے جائیں گے جیسے فرمان ہے آیت (اَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ يَمْشُوْنَ فِيْ مَسٰكِنِهِمْ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى01208) 20۔ طه :128) یعنی کیا انہیں اب تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی آباد بستیاں اجاڑ کر رکھ دیں جن کے مکانوں میں اب یہ رہتے سہتے ہیں۔ اگر یہ عقل مند ہوتے تو ان کے لئے بہت سی عبرتیں تھیں اور اس بیان کے بعد کی آیت میں ہے کہ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ کیا یہ سن نہیں رہے ؟ ایک آیت میں فرمایا تم اس سے پہلے پورے یقین سے کہتے تھے کہ تمہیں زوال آنے کا ہی نہیں حالانکہ تم جن کے گھروں میں تھے وہ خود بھی اپنے مظالم کے سبب تباہ کردیئے گئے تھے۔ خالی گھر رہ گئے۔ ایک اور آیت میں ہے آیت (وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِءْيًا 74) 19۔ مریم :74) ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کردیں نہ ان میں سے اب کوئی نظر آئے نہ کسی کی آواز سنائی دے اور آیت میں ہے کہ وہ لوگ تو ان سے زیادہ مست تھے، مال دار تھے، عیش و عشرت میں تھے، راحت و آرام میں تھے، اوپر سے ابر برستا تھا نیچے سے چشمے بہتے تھے لیکن گناہوں میں ڈوبے رہے کہ آخر تہس نہس ہوگئے اور دوسرے لوگ ان کے قائم مقام آئے۔ عادیوں کی ہلاکت کا بیان فرما کر ارشاد ہوا کہ ایسے عذاب اچانک آگئے کہ ان کے وجود کی دھجیاں اڑ گئیں، کھنڈر کھڑے رہ گئے اور کسی چیز کا نام و نشان نہ بچا۔ مجرموں کا یہی حال ہوتا ہے۔ حالانکہ دنیوی وجاہت بھی ان کے پاس تھی آنکھ، کان، ھاتھ سب تھا لیکن اللہ جل شانہ کی باتوں کا تمسخر کرنے پر اور ان کے انکار پر جب عذاب آیا تو حیران و ششدر رہ گئے، نہ عقل آئی نہ اسباب بچے۔ اپنے آس پاس کی ویران بستیاں دیکھ کر عبرت حاصل کرو۔ اگلوں نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کس طرح برباد ہوئے ؟ تم تو ابھی تک ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے۔ تم سے پہلے کے منکروں پر میرے عذاب آئے انہیں غور سے سنو۔ ظالموں کی بستیاں میں نے الٹ دیں اور ان کے محلات کھنڈر بنا دیئے۔ زمین میں چل پھر کر، آنکھیں کھول کر، کان لگا کر ذرا عبرت حاصل کرو۔ جس کی آنکھیں نہ ہوں وہی اندھا نہیں بلکہ سچ مچ اندھا وہ ہے جس کی دلی آنکھیں بیکار ہوں۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی مذاق اڑائے گئے لیکن نتیجہ یہی ہوا کہ ایسے مذاق کرنے والوں کا نشان مٹ گیا۔ ایسے گھیرے آگئے کہ ایک بھی نہ بچا۔ اللہ تعالیٰ کی باتیں سچی ہیں، اس کے وعدے اٹل ہیں وہ ضرور اپنے دوستوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو نیچا دکھاتا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ: ﴿أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ الأرْضَ مِنْ بَعْدِ أَهْلِهَا﴾ أَوَ لَمْ نُبَيًن، [وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ وَالسُّدِّيُّ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: أَوَ لَمْ نُبَيِّنْ] [[زيادة من ك، م، أ.]] لَهُمْ أَنْ لَوْ نَشَاءُ أَصَبْنَاهُمْ بِذُنُوبِهِمْ.
وَقَالَ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ فِي تَفْسِيرِهَا: يقول [[في م: "بقوله".]] تعالى: أو لم نبيِّن لِلَّذِينِ يُسْتَخْلَفُونَ فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِ إِهْلَاكِ آخَرِينَ قَبْلَهُمْ كَانُوا أَهْلَهَا، فَسَارُوا سِيرَتَهُمْ، وَعَمِلُوا أَعْمَالَهُمْ، وَعَتَوْا عَلَى رَبِّهِمْ: ﴿أَنْ لَوْ نَشَاءُ أَصَبْنَاهُمْ بِذُنُوبِهِمْ﴾ يَقُولُ: أَنْ لَوْ نَشَاءُ فَعَلْنَا بِهِمْ كَمَا فَعَلْنَا بِمَنْ قَبْلِهِمْ، ﴿وَنَطْبَعُ عَلَى قُلُوبِهِمْ﴾ يَقُولُ: وَنَخْتِمُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ﴿فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ﴾ مَوْعِظَةً وَلَا تَذْكِيرًا.
قُلْتُ: وَهَكَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِي مَسَاكِنِهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لأولِي النُّهَى﴾ [طه:١٢٨] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿أَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِي مَسَاكِنِهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ أَفَلا يَسْمَعُونَ﴾ [السَّجْدَةِ:٢٩] وَقَالَ ﴿أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُمْ مِنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِنْ زَوَالٍ. وَسَكَنْتُمْ فِي مَسَاكِنِ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ [وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الأمْثَالَ] [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ﴾ [إِبْرَاهِيمَ:٤٤، ٤٥] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا﴾ [مريم:٩٨] أَيْ: هَلْ تَرَى لَهُمْ شَخْصًا أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ صَوْتًا؟ وَقَالَ تَعَالَى: ﴿أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ مَكَّنَّاهُمْ فِي الأرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَكُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَاءَ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا وَجَعَلْنَا الأنْهَارَ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمْ فَأَهْلَكْنَاهُمْ بِذُنُوبِهِمْ وَأَنْشَأْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْنًا آخَرِينَ﴾ [الْأَنْعَامِ:٦] وَقَالَ تَعَالَى بَعْدَ ذِكْرِهِ إِهْلَاكَ عَادٍ: ﴿فَأَصْبَحُوا لَا يُرَى إِلا مَسَاكِنُهُمْ كَذَلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ. وَلَقَدْ مَكَّنَّاهُمْ فِيمَا إِنْ مَكَّنَّاكُمْ فِيهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَأَبْصَارًا وَأَفْئِدَةً فَمَا أَغْنَى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلا أَبْصَارُهُمْ وَلا أَفْئِدَتُهُمْ مِنْ شَيْءٍ إِذْ كَانُوا يَجْحَدُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ. وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِنَ الْقُرَى وَصَرَّفْنَا الآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ [الْأَحْقَافِ:٢٥-٢٧] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَكَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَمَا بَلَغُوا مِعْشَارَ مَا آتَيْنَاهُمْ فَكَذَّبُوا رُسُلِي فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ﴾ [سَبَأٍ:٤٥] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ﴾ [الْمُلْكِ:١٨] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَشِيدٍ. أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الأبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ﴾ [الْحَجِّ:٤٥، ٤٦] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ﴾ [الْأَنْعَامِ:١٠] إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْآيَاتِ الدَّالَّةِ عَلَى حُلُولِ نِقَمِهِ بِأَعْدَائِهِ، وَحُصُولِ نِعَمِهِ لِأَوْلِيَائِهِ؛ وَلِهَذَا عَقَّبَ ذَلِكَ بِقَوْلِهِ، وَهُوَ أَصْدَقُ الْقَائِلِينَ وَرَبُّ الْعَالَمِينَ:
تِلْكَ ٱلْقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنۢبَآئِهَا ۚ وَلَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ بِمَا كَذَّبُوا۟ مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلْكَٰفِرِينَ
Those cities - We relate to you, [O Muhammad], some of their news. And certainly did their messengers come to them with clear proofs, but they were not to believe in that which they had denied before. Thus does Allah seal over the hearts of the disbelievers.
یہ بستیاں ہیں جن کے کچھ حالات ہم تم کو سناتے ہیں۔ اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ ایسے نہیں تھے کہ جس چیز کو پہلے جھٹلا چکے ہوں اسے مان لیں اسی طرح خدا کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے
اینها، شهرها و آبادیهایی است که قسمتی از اخبار آن را برای تو شرح میدهیم؛ پیامبرانشان دلایل روشن برای آنان آوردند؛ (ولی آنها چنان لجوج بودند که) به آنچه قبلاً تکذیب کرده بودند، ایمان نمیآوردند! اینگونه خداوند بر دلهای کافران مهر مینهد (و بر اثر لجاجت و ادامه گناه، حس تشخیصشان را سلب میکند)!
Tafsir Ibn Kathir
Those were the towns whose story We relate unto you. And there came indeed to them their Messengers with clear proofs, but they were not such who would believe in what they rejected before. Thus Allah does seal up the hearts of the disbelievers (101)And most of them We found not true to their covenant, but most of them We found indeed rebellious (102)
After narrating the stories of the people of Prophets Nuh, Hud, Salih, Lut and Shu'ayb, destroying the disbelievers, saving the believers, warning these nations by explaining the truth to them with the evidence sent in the words of His Messengers, may Allah's peace and blessings be on them all, Allah said;
تِلْكَ الْقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيْكَ
(Those were the towns that We relate to you) O Muhammad,
مِنْ أَنبَائِهَا
(their story), and news,
وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ
(And there came indeed to them their Messengers with clear proofs,) and evidences of the truth of what they brought them. Allah said in other Ayah,
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا
(And We never punish until We have sent a Messenger (to give warning).)[17:15], and,
ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْقُرَىٰ نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ - وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَٰكِن ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ
(That is some of the news of the towns which We relate unto you; of them, some are standing, and some have been reaped. We wronged them not, but they wronged themselves.)[11:100-101] Allah said
فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِن قَبْلُ
(but they were not such who would believe in what they had rejected before.) meaning they would not have later on believed in what the Messengers brought them, because they denied the truth when it first came to them (although they recognized it), according to the Tafsir of Ibn 'Atiyyah. This explanation is sound, and is supported by Allah's statement,
وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ - وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(And what will make you perceive that if it came, they will not believe? And We shall turn their hearts and their eyes away (from guidance), as they refused to believe therein for the first time.)[6:109-110]
This is why Allah said here,
كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْكَافِرِينَ - وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم
(Thus Allah does seal up the hearts of the disbelievers. And most of them We found not...) meaning, We did not find most of the previous nations,
مِّنْ عَهْدٍ وَإِن وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ
(true to their covenant, but most of them We found to indeed be rebellious.)
This Ayah means, We found most of them to be rebellious, deviating away from obedience and compliance.
The covenant mentioned here is the Fitrah that Allah instilled in them while still in their fathers' loins, and taking their covenant, that He is their Lord, King, and that there is no deity worthy of worship except Him,. They affirmed this covenant and testified against themselves to this fact. However, they defied this covenant, threw it behind their backs and worshipped others besides Allah, having no proof or plea, nor support from rationality or by divine law. Surely, the pure Fitrah defies these actions, while all the honorable Messengers, from beginning to end, forbade them. Muslim collected the Hadith,
يَقُولُ اللهُ تَعَالَى إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ فَجَاءَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُم
(Allah said, "I created My servants Hunafa' (monotheists), but the devils came to them and deviated them from their religion and prohibited them what I allowed them.")
It is recorded in the Two Sahihs,
كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ
(Every child is born upon the Fitrah, it is only his parents who turn him into a Jew, a Christian or a Zoroastrian.)
Tafsir Ibn Kathir
عہد شکن لوگوں کی طے شدہ سزا پہلے قوم نوح، ہود، صالح، لوط اور قوم شعیب کا بیان گذر چکا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ ان سب کے پاس ہمارے رسول حق لے کر پہنچے، معجزے دکھائے، سمجھایا، بجھایا، دلیلیں دیں لیکن وہ نہ مانے اور اپنی بد عادتوں سے باز نہ آئے۔ جس کی پاداش میں ہلاک ہوگئے، صرف ماننے والے بچ گئے۔ اللہ کا طریقہ اسی طرح جاری ہے کہ جب تک رسول نہ آجائیں، خبردار نہ کردیئے جائیں عذاب نہیں دیئے جاتے، ہم ظالم نہیں لیکن جبکہ لوگ خود ظلم پر کمر کس لیں تو پھر ہمارے عذاب انہیں آ پکڑتے ہیں۔ ان سب نے جن چیزوں کا انکار کردیا تھا ان پر باوجود دلیلیں دیکھ لینے کے بھی ایمان نہ لائے۔ آیت (بما کذبوا) میں " ب " سببیہ ہے جیسے آیت (واذا سمعوا) کے پارے کے آخر میں فرمایا ہے کہ تم کیا جانو ؟ یہ لوگ تو معجزے آنے پر بھی ایمان نہ لائیں گے، ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے جیسے کہ یہ اس قرآن پر پہلی بار ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں بھٹکتے ہوئے جھوڑ دیں گے، یہاں بھی فرمان ہے کہ کفار کے دلوں پر اسی طرح ہم مہریں لگا دیا کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر بد عہد ہیں بلکہ عموماً فاسق ہیں۔ یہ عہد وہ ہے جو روز ازل میں لیا گیا اور اسی پر پیدا کئے گئے اسی فطرت اور جبلت میں رکھا گیا اسی کی تاکید انبیاء (علیہم السلام) کرتے کرتے رہے۔ لیکن انہوں نے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا یا مطلق پروا نہ کی اور اس عہد کے خلاف غیر اللہ کی پرستش شروع کردی۔ اللہ کو مالک خالق اور لائق عبادت مان کر آئے تھے لیکن یہاں اس کے سراسر خلاف کرنے لگے اور بےدلیل، خلاف عقل و نقل، خلاف فطرت اور خلاف شرع، اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت میں لگ گئے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد اور یکطرفہ پیدا کیا لیکن شیطان نے آ کر انہیں بہکا دیا اور میری حلال کردہ چیزین ان پر حرام کردیں۔ بخاری و مسلم میں ہے ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اسے اس کے ماں باپ یہودی نصرانی مجوسی بنا لیتے ہیں۔ خود قرآن کریم میں ہے ہم نے تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے تھے سب کی طرف یہی وحی کی تھی کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اے دنیا کے لوگو تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو۔ اور آیت میں ہے تو اپنے سے پہلے کے رسولوں سے دریافت کرلو کیا ہم نے اپنے سوا اور معبود ان کے لئے مقرر کئے تھے ؟ اور فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلٰلَةُ ۭ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ 36) 16۔ النحل :36) ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ لوگو صرف اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ اس جملے کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ چونکہ پہلے ہی سے اللہ کے علم میں یہ بات مقرر ہوگئی تھی کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا۔ یہی ہو کر رہا کہ باوجود دلائل سامنے آجانے کے ایمان نہ لائے۔ میثاق والے دن گو یہ ایمان قبول کر بیٹھے لیکن ان کے دلوں کی حالت اللہ جل شانہ کو معلوم تھی کہ ان کا ایمان جبراً اور ناخوشی سے ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ یہ اگر دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تو پھر بھی وہی کام نئے سرے سے کرنے لگیں گے جن سے انہیں روکا گیا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا قَصَّ تَعَالَى عَلَى نَبِيِّهِ ﷺ خَبَرَ قَوْمِ نُوحٍ، وَهُودٍ، وَصَالِحٍ، وَلُوطٍ، وَشُعَيْبٍ [عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] وَمَا كَانَ مِنْ إِهْلَاكِهِ الْكَافِرِينَ وَإِنْجَائِهِ الْمُؤْمِنِينَ، وَأَنَّهُ تَعَالَى أَعْذَرَ إِلَيْهِمْ بِأَنْ بَيَّنَ لَهُمُ الْحَقَّ بِالْحُجَجِ عَلَى أَلْسِنَةِ الرُّسُلِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ، قَالَ تَعَالَى: ﴿تِلْكَ الْقُرَى نَقُصُّ عَلَيْكَ﴾ أَيْ: يَا مُحَمَّدُ ﴿مِنْ أَنْبَائِهَا﴾ أَيْ: مِنْ أَخْبَارِهَا، ﴿وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ﴾ أَيْ: بِالْحُجَجِ عَلَى صِدْقِهِمْ فِيمَا أَخْبَرُوهُمْ بِهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولا﴾ [الْإِسْرَاءِ:١٥] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ﴾ [هُودٍ:١٠١، ١٠٢]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِنْ قَبْلُ﴾ الْبَاءُ سَبَبِيَّةٌ، أَيْ: فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا جَاءَتْهُمْ بِهِ الرُّسُلُ بِسَبَبِ تَكْذِيبِهِمْ بِالْحَقِّ أَوَّلَ مَا وَرَدَ عَلَيْهِمْ. حَكَاهُ ابْنُ عَطِيَّةَ، رَحِمَهُ اللَّهُ، وَهُوَ مُتَّجَهٌ حَسَنٌ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ * وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ [فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُون] [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] َ﴾ [الأنعام:١١٠، ١١١] ؛ وَلِهَذَا قَالَ هُنَا: ﴿كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِ الْكَافِرِينَ * وَمَا وَجَدْنَا لأكْثَرِهِمْ﴾ أَيْ: لِأَكْثَرِ الْأُمَمِ الْمَاضِيَةِ ﴿مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ﴾ أَيْ: وَلَقَدْ وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ فَاسِقِينَ خَارِجِينَ عَنِ الطَّاعَةِ وَالِامْتِثَالِ. وَالْعَهْدُ الَّذِي أَخَذَهُ [عَلَيْهِمْ] [[زيادة من م.]] هُوَ مَا جَبَلَهُمْ عَلَيْهِ وَفَطَرَهُمْ عَلَيْهِ، وَأَخَذَ عَلَيْهِمْ فِي الْأَصْلَابِ أَنَّهُ رَبُّهُمْ وَمَلِيكُهُمْ، وَأَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَأَقَرُّوا بِذَلِكَ، وَشَهِدُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِهِ، فَخَالَفُوهُ وَتَرَكُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ، وَعَبَدُوا مَعَ اللَّهِ غَيْرَهُ بِلَا دَلِيلٍ وَلَا حُجَّةٍ، لَا مِنْ عَقْلٍ وَلَا شَرْعٍ، وَفِي الْفِطَرِ السَّلِيمَةِ خِلَافُ ذَلِكَ، وَجَاءَتِ الرُّسُلُ الْكِرَامُ مِنْ أَوَّلِهِمْ إِلَى آخِرِهِمْ بِالنَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ، كَمَا جَاءَ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: "إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاء، فَجَاءَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وحَرّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أحللتُ لَهُمْ". وَفِي الصَّحِيحَيْنِ: "كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ" الْحَدِيثَ. وَقَالَ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ الْعَزِيزِ: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٢٥] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ﴾ [الزُّخْرُفِ:٤٥] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولا أَنِ اُعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾ [النَّحْلِ:٣٦] إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْآيَاتِ.
وَقَدْ قِيلَ فِي تَفْسِيرِ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِنْ قَبْلُ﴾ مَا رَوَى [[في أ: "فقال".]] أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبيّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِنْ قَبْلُ﴾ قَالَ: كَانَ فِي عِلْمِهِ تَعَالَى يَوْمَ أَقَرُّوا لَهُ بِالْمِيثَاقِ، أَيْ: فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا لِعِلْمِ اللَّهِ مِنْهُمْ ذَلِكَ، وَكَذَا قَالَ الرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ، وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ﴿فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِنْ قَبْلُ﴾ قَالَ: ذَلِكَ يَوْمَ أَخَذَ مِنْهُمُ الْمِيثَاقَ فَآمَنُوا كَرْهًا.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِنْ قَبْلُ﴾ هَذَا كَقَوْلِهِ: ﴿وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا [لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ] [[زيادة من ك، أ. وفي هـ: "الآية".]] ﴾ [الْأَنْعَامِ:٢٨]
وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍۢ ۖ وَإِن وَجَدْنَآ أَكْثَرَهُمْ لَفَٰسِقِينَ
And We did not find for most of them any covenant; but indeed, We found most of them defiantly disobedient.
اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں (عہد کا نباہ) نہیں دیکھا۔ اور ان میں اکثروں کو (دیکھا تو) بدکار ہی دیکھا
و بیشتر آنها را بر سر پیمان خود نیافتیم؛ (بلکه) اکثر آنها را فاسق و گنهکار یافتیم!
Tafsir Ibn Kathir
Those were the towns whose story We relate unto you. And there came indeed to them their Messengers with clear proofs, but they were not such who would believe in what they rejected before. Thus Allah does seal up the hearts of the disbelievers (101)And most of them We found not true to their covenant, but most of them We found indeed rebellious (102)
After narrating the stories of the people of Prophets Nuh, Hud, Salih, Lut and Shu'ayb, destroying the disbelievers, saving the believers, warning these nations by explaining the truth to them with the evidence sent in the words of His Messengers, may Allah's peace and blessings be on them all, Allah said;
تِلْكَ الْقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيْكَ
(Those were the towns that We relate to you) O Muhammad,
مِنْ أَنبَائِهَا
(their story), and news,
وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ
(And there came indeed to them their Messengers with clear proofs,) and evidences of the truth of what they brought them. Allah said in other Ayah,
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا
(And We never punish until We have sent a Messenger (to give warning).)[17:15], and,
ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْقُرَىٰ نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ - وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَٰكِن ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ
(That is some of the news of the towns which We relate unto you; of them, some are standing, and some have been reaped. We wronged them not, but they wronged themselves.)[11:100-101] Allah said
فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِن قَبْلُ
(but they were not such who would believe in what they had rejected before.) meaning they would not have later on believed in what the Messengers brought them, because they denied the truth when it first came to them (although they recognized it), according to the Tafsir of Ibn 'Atiyyah. This explanation is sound, and is supported by Allah's statement,
وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ - وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(And what will make you perceive that if it came, they will not believe? And We shall turn their hearts and their eyes away (from guidance), as they refused to believe therein for the first time.)[6:109-110]
This is why Allah said here,
كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْكَافِرِينَ - وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم
(Thus Allah does seal up the hearts of the disbelievers. And most of them We found not...) meaning, We did not find most of the previous nations,
مِّنْ عَهْدٍ وَإِن وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ
(true to their covenant, but most of them We found to indeed be rebellious.)
This Ayah means, We found most of them to be rebellious, deviating away from obedience and compliance.
The covenant mentioned here is the Fitrah that Allah instilled in them while still in their fathers' loins, and taking their covenant, that He is their Lord, King, and that there is no deity worthy of worship except Him,. They affirmed this covenant and testified against themselves to this fact. However, they defied this covenant, threw it behind their backs and worshipped others besides Allah, having no proof or plea, nor support from rationality or by divine law. Surely, the pure Fitrah defies these actions, while all the honorable Messengers, from beginning to end, forbade them. Muslim collected the Hadith,
يَقُولُ اللهُ تَعَالَى إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ فَجَاءَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُم
(Allah said, "I created My servants Hunafa' (monotheists), but the devils came to them and deviated them from their religion and prohibited them what I allowed them.")
It is recorded in the Two Sahihs,
كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ
(Every child is born upon the Fitrah, it is only his parents who turn him into a Jew, a Christian or a Zoroastrian.)
Tafsir Ibn Kathir
عہد شکن لوگوں کی طے شدہ سزا پہلے قوم نوح، ہود، صالح، لوط اور قوم شعیب کا بیان گذر چکا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ ان سب کے پاس ہمارے رسول حق لے کر پہنچے، معجزے دکھائے، سمجھایا، بجھایا، دلیلیں دیں لیکن وہ نہ مانے اور اپنی بد عادتوں سے باز نہ آئے۔ جس کی پاداش میں ہلاک ہوگئے، صرف ماننے والے بچ گئے۔ اللہ کا طریقہ اسی طرح جاری ہے کہ جب تک رسول نہ آجائیں، خبردار نہ کردیئے جائیں عذاب نہیں دیئے جاتے، ہم ظالم نہیں لیکن جبکہ لوگ خود ظلم پر کمر کس لیں تو پھر ہمارے عذاب انہیں آ پکڑتے ہیں۔ ان سب نے جن چیزوں کا انکار کردیا تھا ان پر باوجود دلیلیں دیکھ لینے کے بھی ایمان نہ لائے۔ آیت (بما کذبوا) میں " ب " سببیہ ہے جیسے آیت (واذا سمعوا) کے پارے کے آخر میں فرمایا ہے کہ تم کیا جانو ؟ یہ لوگ تو معجزے آنے پر بھی ایمان نہ لائیں گے، ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے جیسے کہ یہ اس قرآن پر پہلی بار ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں بھٹکتے ہوئے جھوڑ دیں گے، یہاں بھی فرمان ہے کہ کفار کے دلوں پر اسی طرح ہم مہریں لگا دیا کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر بد عہد ہیں بلکہ عموماً فاسق ہیں۔ یہ عہد وہ ہے جو روز ازل میں لیا گیا اور اسی پر پیدا کئے گئے اسی فطرت اور جبلت میں رکھا گیا اسی کی تاکید انبیاء (علیہم السلام) کرتے کرتے رہے۔ لیکن انہوں نے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا یا مطلق پروا نہ کی اور اس عہد کے خلاف غیر اللہ کی پرستش شروع کردی۔ اللہ کو مالک خالق اور لائق عبادت مان کر آئے تھے لیکن یہاں اس کے سراسر خلاف کرنے لگے اور بےدلیل، خلاف عقل و نقل، خلاف فطرت اور خلاف شرع، اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت میں لگ گئے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد اور یکطرفہ پیدا کیا لیکن شیطان نے آ کر انہیں بہکا دیا اور میری حلال کردہ چیزین ان پر حرام کردیں۔ بخاری و مسلم میں ہے ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اسے اس کے ماں باپ یہودی نصرانی مجوسی بنا لیتے ہیں۔ خود قرآن کریم میں ہے ہم نے تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے تھے سب کی طرف یہی وحی کی تھی کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اے دنیا کے لوگو تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو۔ اور آیت میں ہے تو اپنے سے پہلے کے رسولوں سے دریافت کرلو کیا ہم نے اپنے سوا اور معبود ان کے لئے مقرر کئے تھے ؟ اور فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلٰلَةُ ۭ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ 36) 16۔ النحل :36) ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ لوگو صرف اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ اس جملے کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ چونکہ پہلے ہی سے اللہ کے علم میں یہ بات مقرر ہوگئی تھی کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا۔ یہی ہو کر رہا کہ باوجود دلائل سامنے آجانے کے ایمان نہ لائے۔ میثاق والے دن گو یہ ایمان قبول کر بیٹھے لیکن ان کے دلوں کی حالت اللہ جل شانہ کو معلوم تھی کہ ان کا ایمان جبراً اور ناخوشی سے ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ یہ اگر دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تو پھر بھی وہی کام نئے سرے سے کرنے لگیں گے جن سے انہیں روکا گیا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا قَصَّ تَعَالَى عَلَى نَبِيِّهِ ﷺ خَبَرَ قَوْمِ نُوحٍ، وَهُودٍ، وَصَالِحٍ، وَلُوطٍ، وَشُعَيْبٍ [عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] وَمَا كَانَ مِنْ إِهْلَاكِهِ الْكَافِرِينَ وَإِنْجَائِهِ الْمُؤْمِنِينَ، وَأَنَّهُ تَعَالَى أَعْذَرَ إِلَيْهِمْ بِأَنْ بَيَّنَ لَهُمُ الْحَقَّ بِالْحُجَجِ عَلَى أَلْسِنَةِ الرُّسُلِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ، قَالَ تَعَالَى: ﴿تِلْكَ الْقُرَى نَقُصُّ عَلَيْكَ﴾ أَيْ: يَا مُحَمَّدُ ﴿مِنْ أَنْبَائِهَا﴾ أَيْ: مِنْ أَخْبَارِهَا، ﴿وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ﴾ أَيْ: بِالْحُجَجِ عَلَى صِدْقِهِمْ فِيمَا أَخْبَرُوهُمْ بِهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولا﴾ [الْإِسْرَاءِ:١٥] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ﴾ [هُودٍ:١٠١، ١٠٢]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِنْ قَبْلُ﴾ الْبَاءُ سَبَبِيَّةٌ، أَيْ: فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا جَاءَتْهُمْ بِهِ الرُّسُلُ بِسَبَبِ تَكْذِيبِهِمْ بِالْحَقِّ أَوَّلَ مَا وَرَدَ عَلَيْهِمْ. حَكَاهُ ابْنُ عَطِيَّةَ، رَحِمَهُ اللَّهُ، وَهُوَ مُتَّجَهٌ حَسَنٌ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ * وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ [فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُون] [[زيادة من ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] َ﴾ [الأنعام:١١٠، ١١١] ؛ وَلِهَذَا قَالَ هُنَا: ﴿كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِ الْكَافِرِينَ * وَمَا وَجَدْنَا لأكْثَرِهِمْ﴾ أَيْ: لِأَكْثَرِ الْأُمَمِ الْمَاضِيَةِ ﴿مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ﴾ أَيْ: وَلَقَدْ وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ فَاسِقِينَ خَارِجِينَ عَنِ الطَّاعَةِ وَالِامْتِثَالِ. وَالْعَهْدُ الَّذِي أَخَذَهُ [عَلَيْهِمْ] [[زيادة من م.]] هُوَ مَا جَبَلَهُمْ عَلَيْهِ وَفَطَرَهُمْ عَلَيْهِ، وَأَخَذَ عَلَيْهِمْ فِي الْأَصْلَابِ أَنَّهُ رَبُّهُمْ وَمَلِيكُهُمْ، وَأَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَأَقَرُّوا بِذَلِكَ، وَشَهِدُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِهِ، فَخَالَفُوهُ وَتَرَكُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ، وَعَبَدُوا مَعَ اللَّهِ غَيْرَهُ بِلَا دَلِيلٍ وَلَا حُجَّةٍ، لَا مِنْ عَقْلٍ وَلَا شَرْعٍ، وَفِي الْفِطَرِ السَّلِيمَةِ خِلَافُ ذَلِكَ، وَجَاءَتِ الرُّسُلُ الْكِرَامُ مِنْ أَوَّلِهِمْ إِلَى آخِرِهِمْ بِالنَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ، كَمَا جَاءَ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: "إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاء، فَجَاءَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وحَرّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أحللتُ لَهُمْ". وَفِي الصَّحِيحَيْنِ: "كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ" الْحَدِيثَ. وَقَالَ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ الْعَزِيزِ: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٢٥] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ﴾ [الزُّخْرُفِ:٤٥] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولا أَنِ اُعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾ [النَّحْلِ:٣٦] إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْآيَاتِ.
وَقَدْ قِيلَ فِي تَفْسِيرِ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِنْ قَبْلُ﴾ مَا رَوَى [[في أ: "فقال".]] أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبيّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِنْ قَبْلُ﴾ قَالَ: كَانَ فِي عِلْمِهِ تَعَالَى يَوْمَ أَقَرُّوا لَهُ بِالْمِيثَاقِ، أَيْ: فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا لِعِلْمِ اللَّهِ مِنْهُمْ ذَلِكَ، وَكَذَا قَالَ الرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ، وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ﴿فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِنْ قَبْلُ﴾ قَالَ: ذَلِكَ يَوْمَ أَخَذَ مِنْهُمُ الْمِيثَاقَ فَآمَنُوا كَرْهًا.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِنْ قَبْلُ﴾ هَذَا كَقَوْلِهِ: ﴿وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا [لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ] [[زيادة من ك، أ. وفي هـ: "الآية".]] ﴾ [الْأَنْعَامِ:٢٨]
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِم مُّوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ فَظَلَمُوا۟ بِهَا ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُفْسِدِينَ
Then We sent after them Moses with Our signs to Pharaoh and his establishment, but they were unjust toward them. So see how was the end of the corrupters.
پھر ان (پیغمبروں) کے بعد ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت کے پاس بھیجا تو انہوں نے ان کے ساتھ کفر کیا۔ سو دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیا ہوا
سپس بدنبال آنها [= پیامبران پیشین] موسی را با آیات خویش به سوی فرعون و اطرافیان او فرستادیم؛ اما آنها (با عدم پذیرش)، به آن (آیات) ظلم کردند. ببین عاقبت مفسدان چگونه بود!
Tafsir Ibn Kathir
Then after them We sent Musa with Our signs to Fir'awn and his chiefs, but they wrongfully rejected them. So see how was the end of the mischief-maker (103)
Story of Prophet Musa, upon him be Peace, and Fir'awn
Allah said,
ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِم
(Then after them We sent), after the Messengers whom We mentioned, such as Nuh, Hud, Salih Lut and Shu'ayb (may Allah's peace and blessings be on them and the rest of Allah's Prophets), We sent,
مُّوسَىٰ بِآيَاتِنَا
(Musa with Our signs) proofs and clear evidences, to Fir'awn, who was ruler of Egypt during the time of Musa,
وَمَلَئِهِ
(and his chiefs) the people of Fir'awn,
فَظَلَمُوا بِهَا
(but they wrongfully rejected them), they denied and disbelieved in the signs, out of injustice and stubbornness on their part. Allah said about them in another Ayah,
وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ
(And they belied them (those Ayat) wrongfully and arrogantly, though they were themselves convinced thereof. So see what was the end of the evildoers.)[27:14]
The Ayah says, 'those who hindered from the path of Allah and belied in His Messengers, look how We punished them, We caused them to drown, all of them, while Musa and his people were watching.' Public drowning added disgrace to the punishment that Fir'awn and his people suffered, while adding comfort to the hearts of Allah's party, Musa and those people who believed in him.
Tafsir Ibn Kathir
نابکار لوگوں کا تذکرہ۔ انبیاء اور مومنین پر نظر کرم جن رسولون کا ذکر گذر چکا ہے یعنی نوح، ہود، صالح، لوط، شعیب صلوات اللہ وسلامہ علیھم وعلی سائر الانبیاء اجمعین کے بعد ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کو اپنی دلیلیں عطا فرما کر بادشاہ مصر (فرعون) اور اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ لیکن انہوں نے بھی جھٹلایا اور ظلم و زیادتی کی اور صاف انکار کردیا حالانکہ ان کے دلوں میں یقین گھر کرچکا تھا۔ اب آپ دیکھ لو کہ اللہ کی راہ سے رکنے والوں اور اس کے رسولوں کا انکار کرنے والوں کا کیا انجام ہوا ؟ وہ مع اپنی قوم کے ڈبو دیئے گئے اور پھر لطف یہ ہے کہ مومنوں کے سامنے بےکسی کی پکڑ میں پکڑ لئے گئے تاکہ ان کے دل ٹھنڈے ہوں اور عبرت ہو۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ﴾ أَيِ: الرُّسُلَ الْمُتَقَدِّمَ ذِكْرُهُمْ، كَنُوحٍ، وَهُودٍ، وَصَالِحٍ، وَلُوطٍ، وَشُعَيْبٍ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمْ وَعَلَى سَائِرِ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ أَجْمَعِينَ. ﴿مُوسَى بِآيَاتِنَا﴾ أَيْ: بِحُجَجِنَا وَدَلَائِلِنَا الْبَيِّنَةِ إِلَى ﴿فِرْعَوْنَ﴾ وَهُوَ مَلِكُ مِصْرَ فِي زَمَنِ مُوسَى، ﴿وَمَلَئِهِ﴾ أَيْ: قَوْمِهِ، ﴿فَظَلَمُوا بِهَا﴾ أَيْ: جَحَدُوا وَكَفَرُوا بِهَا ظُلْمًا مِنْهُمْ وَعِنَادًا، كَقَوْلِهِ تَعَالَى [[في ك، م، أ: "كما قال تعالى".]] ﴿وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ﴾ [النمل:١٤] أَيِ: الَّذِينَ صَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَكَذَّبُوا رُسُلَهُ، أَيِ: انْظُرْ -يَا مُحَمَّدُ -كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ، وَأَغْرَقْنَاهُمْ عَنْ آخِرِهِمْ، بِمَرْأًى مِنْ مُوسَى وَقَوْمِهِ. وَهَذَا أَبْلَغُ فِي النَّكَالِ بِفِرْعَوْنِ وَقَوْمِهِ، وَأَشْفَى لِقُلُوبِ أَوْلِيَاءِ اللَّهِ -مُوسَى وَقَوْمِهِ -مِنَ المؤمنين به [[في أ: "وقومه المؤمنين".]] .
وَقَالَ مُوسَىٰ يَٰفِرْعَوْنُ إِنِّى رَسُولٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
And Moses said, "O Pharaoh, I am a messenger from the Lord of the worlds
اور موسیٰ نے کہا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں
و موسی گفت: «ای فرعون! من فرستادهای از سوی پروردگار جهانیانم.
Tafsir Ibn Kathir
And Musa said: "O Fir'awn! Verily, I am a Messenger from the Lord of all that exists. (104)"Proper it is for me that I say nothing concerning Allah but the truth. Indeed I have come unto you from your Lord with a clear proof. So let the Children of Israel depart along with me. (105)[Fir'awn] said: "If you have come with a sign, show it forth, if you are one of those who tell the truth. (106)
Allah mentions a debate that took place between Musa and Fir'awn, and Musa's refuting Fir'awn with the unequivocal proof and clear miracles, in the presence of Fir'awn and his people, the Copts of Egypt. Allah said,
وَقَالَ مُوسَىٰ يَا فِرْعَوْنُ إِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ
(And Musa said: "O Fir'awn! Verily, I am a Messenger from the Lord of all that exists".) meaning Musa said, 'the one Who sent me is the Creator, Lord and King of all things,'
حَقِيقٌ عَلَىٰ أَن لَّا أَقُولَ عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ
("Proper it is for me that I say nothing concerning Allah but the truth.")
It is incumbent and a duty for me to convey only the Truth from Him, because of what I know of His might and power.'
قَدْ جِئْتُكُم بِبَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ
("Indeed I have come unto you from your Lord with a clear proof.")
I brought unequivocal evidence that Allah gave me to prove that I am conveying the truth to you,'
فَأَرْسِلْ مَعِيَ بَنِي إِسْرَائِيلَ
("So let the Children of Israel depart along with me.") means, release them from your slavery and subjugation. Let them worship your Lord and their Lord. They are from the offspring of an honorable Prophet, Isra'il, who is Ya'qub son of Ishaq son of Ibrahim, the Khalil (intimate friend) of Allah.
قَالَ إِن كُنتَ جِئْتَ بِآيَةٍ فَأْتِ بِهَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
([Fir'awn] said: "If you have come with a sign, show it forth, if you are one of those who tell the truth.")
Fir'awn said, 'I will not believe in what you have said nor entertain your request'. Therefore, he said, 'if you have proof, then produce it for us to see, so that we know if your claim is true.'
Tafsir Ibn Kathir
موسیٰ ؑ اور فرعون حضرت موسیٰ ؑ کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم نے فرمایا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا رسول ہوں۔ جو تمام عالم کا خالق ومالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں " ب " اور " علی " یہ متعاقب ہوا کرتے ہیں جیسے رمیت بالقوس اور رمیت علی القوس وغیرہ۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں حقیقی کے معنی حریض کے ہیں۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ مجھ پر واجب اور حق ہے کہ اللہ ذوالمنین کا نام لے کر وہی خبر دوں جو حق و صداقت والی ہو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی عظمت سے واقف ہوں۔ میں اپنی صداقت کی الٰہی دلیل بھی ساتھ ہی لایا ہوں۔ تو قوم بنی اسرائیل کو اپنے مظام سے آزاد کر دے، انہیں اپنی زبردستی کی غلامی سے نکال دے، انہیں ان کے رب کی عبادت کرنے دے، یہ ایک زبردست بزرگ پیغمبر کی نسل سے ہیں یعنی حضرت یعقوب بن اسحاق بن حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اولاد ہیں۔ فرعون نے کہا میں تجھے سچا نہیں سمجھتا نہ تیری طلب پوری کروں گا اور اگر تو اپنے دعوے میں واقعہ ہی سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کر۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ مُنَاظَرَةِ مُوسَى لِفِرْعَوْنَ، وَإِلْجَامِهِ إِيَّاهُ بِالْحُجَّةِ، وَإِظْهَارِهِ الْآيَاتِ الْبَيِّنَاتِ بِحَضْرَةِ فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ مِنْ قِبْطِ مِصْرَ، فَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَقَالَ مُوسَى يَا فِرْعَوْنُ إِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ أَيْ: أَرْسَلَنِي الَّذِي هُوَ خالقُ كُلِّ شَيْءٍ وَرَبُّهُ وَمَلِيكُهُ.
﴿حَقِيقٌ عَلَى أَنْ لَا أَقُولَ عَلَى اللَّهِ إِلا الْحَقَّ﴾ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَعْنَاهُ: حَقِيقٌ بِأَنْ لَا أَقُولَ عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ، أَيْ: جَدِيرٌ بِذَلِكَ وَحَرِيٌّ بِهِ.
وَقَالُوا وَ"الْبَاءُ" وَ"عَلَى" يَتَعَاقَبَانِ، فَيُقَالُ [[في م: "يقال"، وفي أ: "فيقول".]] رَمَيْتُ بِالْقَوْسِ" وَ"عَلَى الْقَوْسِ"، وَ"جَاءَ عَلَى حَالٍ حَسَنَةٍ" وَ "بِحَالٍ حَسَنَةٍ".
وَقَالَ بَعْضُ الْمُفَسِّرِينَ: مَعْنَاهُ: حَرِيصٌ عَلَى أَلَّا أَقُولَ عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ.
وَقَرَأَ آخَرُونَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: ﴿حَقِيقٌ عَلَيّ﴾ بِمَعْنَى: وَاجِبٌ وَحَقٌّ عَلَيّ ذَلِكَ أَلَّا أُخْبِرَ عَنْهُ إِلَّا بِمَا هُوَ حَقٌّ وَصِدْقٌ، لِمَا أَعْلَمُ مِنْ عِزِّ جَلَالِهِ وَعَظِيمِ سُلْطَانِهِ.
﴿قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ أَيْ: بِحُجَّةٍ قَاطِعَةٍ مِنَ اللَّهِ، أَعْطَانِيهَا دَلِيلًا عَلَى صِدْقِي فِيمَا [[في د: "ما".]] جِئْتُكُمْ بِهِ، ﴿فَأَرْسِلْ مَعِيَ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ أَيْ: أَطْلِقْهُمْ مِنْ أسْرك وَقَهْرِكَ، وَدَعْهُمْ وَعِبَادَةَ رَبِّكَ وَرَبِّهِمْ؛ فَإِنَّهُمْ مِنْ سُلَالَةِ نَبِيٍّ كَرِيمٍ إِسْرَائِيلَ، وَهُوَ: يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ [عَلَيْهِمْ صَلَوَاتُ الرَّحْمَنِ] [[زيادة من أ.]]
﴿قَالَ إِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِآيَةٍ فَأْتِ بِهَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ أَيْ: قَالَ فِرْعَوْنُ: لَسْتُ بِمُصَدِّقِكَ فِيمَا قُلْتَ، وَلَا بِمُطِيعِكَ فِيمَا طَلَبْتَ، فَإِنْ كَانَتْ مَعَكَ حُجَّةٌ فَأَظْهِرْهَا لِنَرَاهَا، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فِيمَا ادَّعَيْتَ.
حَقِيقٌ عَلَىٰٓ أَن لَّآ أَقُولَ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْحَقَّ ۚ قَدْ جِئْتُكُم بِبَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَرْسِلْ مَعِىَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ
[Who is] obligated not to say about Allah except the truth. I have come to you with clear evidence from your Lord, so send with me the Children of Israel."
مجھ پر واجب ہے کہ خدا کی طرف سے جو کچھ کہوں سچ ہی کہوں۔ میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ سو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے کی رخصت دے دیجیے
سزاوار است که بر خدا جز حق نگویم. من دلیل روشنی از پروردگارتان برای شما آوردهام؛ پس بنی اسرائیل را با من بفرست!»
Tafsir Ibn Kathir
And Musa said: "O Fir'awn! Verily, I am a Messenger from the Lord of all that exists. (104)"Proper it is for me that I say nothing concerning Allah but the truth. Indeed I have come unto you from your Lord with a clear proof. So let the Children of Israel depart along with me. (105)[Fir'awn] said: "If you have come with a sign, show it forth, if you are one of those who tell the truth. (106)
Allah mentions a debate that took place between Musa and Fir'awn, and Musa's refuting Fir'awn with the unequivocal proof and clear miracles, in the presence of Fir'awn and his people, the Copts of Egypt. Allah said,
وَقَالَ مُوسَىٰ يَا فِرْعَوْنُ إِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ
(And Musa said: "O Fir'awn! Verily, I am a Messenger from the Lord of all that exists".) meaning Musa said, 'the one Who sent me is the Creator, Lord and King of all things,'
حَقِيقٌ عَلَىٰ أَن لَّا أَقُولَ عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ
("Proper it is for me that I say nothing concerning Allah but the truth.")
It is incumbent and a duty for me to convey only the Truth from Him, because of what I know of His might and power.'
قَدْ جِئْتُكُم بِبَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ
("Indeed I have come unto you from your Lord with a clear proof.")
I brought unequivocal evidence that Allah gave me to prove that I am conveying the truth to you,'
فَأَرْسِلْ مَعِيَ بَنِي إِسْرَائِيلَ
("So let the Children of Israel depart along with me.") means, release them from your slavery and subjugation. Let them worship your Lord and their Lord. They are from the offspring of an honorable Prophet, Isra'il, who is Ya'qub son of Ishaq son of Ibrahim, the Khalil (intimate friend) of Allah.
قَالَ إِن كُنتَ جِئْتَ بِآيَةٍ فَأْتِ بِهَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
([Fir'awn] said: "If you have come with a sign, show it forth, if you are one of those who tell the truth.")
Fir'awn said, 'I will not believe in what you have said nor entertain your request'. Therefore, he said, 'if you have proof, then produce it for us to see, so that we know if your claim is true.'
Tafsir Ibn Kathir
موسیٰ ؑ اور فرعون حضرت موسیٰ ؑ کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم نے فرمایا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا رسول ہوں۔ جو تمام عالم کا خالق ومالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں " ب " اور " علی " یہ متعاقب ہوا کرتے ہیں جیسے رمیت بالقوس اور رمیت علی القوس وغیرہ۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں حقیقی کے معنی حریض کے ہیں۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ مجھ پر واجب اور حق ہے کہ اللہ ذوالمنین کا نام لے کر وہی خبر دوں جو حق و صداقت والی ہو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی عظمت سے واقف ہوں۔ میں اپنی صداقت کی الٰہی دلیل بھی ساتھ ہی لایا ہوں۔ تو قوم بنی اسرائیل کو اپنے مظام سے آزاد کر دے، انہیں اپنی زبردستی کی غلامی سے نکال دے، انہیں ان کے رب کی عبادت کرنے دے، یہ ایک زبردست بزرگ پیغمبر کی نسل سے ہیں یعنی حضرت یعقوب بن اسحاق بن حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اولاد ہیں۔ فرعون نے کہا میں تجھے سچا نہیں سمجھتا نہ تیری طلب پوری کروں گا اور اگر تو اپنے دعوے میں واقعہ ہی سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کر۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ مُنَاظَرَةِ مُوسَى لِفِرْعَوْنَ، وَإِلْجَامِهِ إِيَّاهُ بِالْحُجَّةِ، وَإِظْهَارِهِ الْآيَاتِ الْبَيِّنَاتِ بِحَضْرَةِ فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ مِنْ قِبْطِ مِصْرَ، فَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَقَالَ مُوسَى يَا فِرْعَوْنُ إِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ أَيْ: أَرْسَلَنِي الَّذِي هُوَ خالقُ كُلِّ شَيْءٍ وَرَبُّهُ وَمَلِيكُهُ.
﴿حَقِيقٌ عَلَى أَنْ لَا أَقُولَ عَلَى اللَّهِ إِلا الْحَقَّ﴾ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَعْنَاهُ: حَقِيقٌ بِأَنْ لَا أَقُولَ عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ، أَيْ: جَدِيرٌ بِذَلِكَ وَحَرِيٌّ بِهِ.
وَقَالُوا وَ"الْبَاءُ" وَ"عَلَى" يَتَعَاقَبَانِ، فَيُقَالُ [[في م: "يقال"، وفي أ: "فيقول".]] رَمَيْتُ بِالْقَوْسِ" وَ"عَلَى الْقَوْسِ"، وَ"جَاءَ عَلَى حَالٍ حَسَنَةٍ" وَ "بِحَالٍ حَسَنَةٍ".
وَقَالَ بَعْضُ الْمُفَسِّرِينَ: مَعْنَاهُ: حَرِيصٌ عَلَى أَلَّا أَقُولَ عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ.
وَقَرَأَ آخَرُونَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: ﴿حَقِيقٌ عَلَيّ﴾ بِمَعْنَى: وَاجِبٌ وَحَقٌّ عَلَيّ ذَلِكَ أَلَّا أُخْبِرَ عَنْهُ إِلَّا بِمَا هُوَ حَقٌّ وَصِدْقٌ، لِمَا أَعْلَمُ مِنْ عِزِّ جَلَالِهِ وَعَظِيمِ سُلْطَانِهِ.
﴿قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ أَيْ: بِحُجَّةٍ قَاطِعَةٍ مِنَ اللَّهِ، أَعْطَانِيهَا دَلِيلًا عَلَى صِدْقِي فِيمَا [[في د: "ما".]] جِئْتُكُمْ بِهِ، ﴿فَأَرْسِلْ مَعِيَ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ أَيْ: أَطْلِقْهُمْ مِنْ أسْرك وَقَهْرِكَ، وَدَعْهُمْ وَعِبَادَةَ رَبِّكَ وَرَبِّهِمْ؛ فَإِنَّهُمْ مِنْ سُلَالَةِ نَبِيٍّ كَرِيمٍ إِسْرَائِيلَ، وَهُوَ: يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ [عَلَيْهِمْ صَلَوَاتُ الرَّحْمَنِ] [[زيادة من أ.]]
﴿قَالَ إِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِآيَةٍ فَأْتِ بِهَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ أَيْ: قَالَ فِرْعَوْنُ: لَسْتُ بِمُصَدِّقِكَ فِيمَا قُلْتَ، وَلَا بِمُطِيعِكَ فِيمَا طَلَبْتَ، فَإِنْ كَانَتْ مَعَكَ حُجَّةٌ فَأَظْهِرْهَا لِنَرَاهَا، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فِيمَا ادَّعَيْتَ.
قَالَ إِن كُنتَ جِئْتَ بِـَٔايَةٍۢ فَأْتِ بِهَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ
[Pharaoh] said, "If you have come with a sign, then bring it forth, if you should be of the truthful."
فرعون نے کہا اگر تم نشانی لے کر آئے ہو تو اگر سچے ہو تو لاؤ (دکھاؤ)
(فرعون) گفت: «اگر نشانهای آوردهای، نشان بده اگر از راستگویانی!»
Tafsir Ibn Kathir
And Musa said: "O Fir'awn! Verily, I am a Messenger from the Lord of all that exists. (104)"Proper it is for me that I say nothing concerning Allah but the truth. Indeed I have come unto you from your Lord with a clear proof. So let the Children of Israel depart along with me. (105)[Fir'awn] said: "If you have come with a sign, show it forth, if you are one of those who tell the truth. (106)
Allah mentions a debate that took place between Musa and Fir'awn, and Musa's refuting Fir'awn with the unequivocal proof and clear miracles, in the presence of Fir'awn and his people, the Copts of Egypt. Allah said,
وَقَالَ مُوسَىٰ يَا فِرْعَوْنُ إِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ
(And Musa said: "O Fir'awn! Verily, I am a Messenger from the Lord of all that exists".) meaning Musa said, 'the one Who sent me is the Creator, Lord and King of all things,'
حَقِيقٌ عَلَىٰ أَن لَّا أَقُولَ عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ
("Proper it is for me that I say nothing concerning Allah but the truth.")
It is incumbent and a duty for me to convey only the Truth from Him, because of what I know of His might and power.'
قَدْ جِئْتُكُم بِبَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ
("Indeed I have come unto you from your Lord with a clear proof.")
I brought unequivocal evidence that Allah gave me to prove that I am conveying the truth to you,'
فَأَرْسِلْ مَعِيَ بَنِي إِسْرَائِيلَ
("So let the Children of Israel depart along with me.") means, release them from your slavery and subjugation. Let them worship your Lord and their Lord. They are from the offspring of an honorable Prophet, Isra'il, who is Ya'qub son of Ishaq son of Ibrahim, the Khalil (intimate friend) of Allah.
قَالَ إِن كُنتَ جِئْتَ بِآيَةٍ فَأْتِ بِهَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
([Fir'awn] said: "If you have come with a sign, show it forth, if you are one of those who tell the truth.")
Fir'awn said, 'I will not believe in what you have said nor entertain your request'. Therefore, he said, 'if you have proof, then produce it for us to see, so that we know if your claim is true.'
Tafsir Ibn Kathir
موسیٰ ؑ اور فرعون حضرت موسیٰ ؑ کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم نے فرمایا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا رسول ہوں۔ جو تمام عالم کا خالق ومالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں " ب " اور " علی " یہ متعاقب ہوا کرتے ہیں جیسے رمیت بالقوس اور رمیت علی القوس وغیرہ۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں حقیقی کے معنی حریض کے ہیں۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ مجھ پر واجب اور حق ہے کہ اللہ ذوالمنین کا نام لے کر وہی خبر دوں جو حق و صداقت والی ہو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی عظمت سے واقف ہوں۔ میں اپنی صداقت کی الٰہی دلیل بھی ساتھ ہی لایا ہوں۔ تو قوم بنی اسرائیل کو اپنے مظام سے آزاد کر دے، انہیں اپنی زبردستی کی غلامی سے نکال دے، انہیں ان کے رب کی عبادت کرنے دے، یہ ایک زبردست بزرگ پیغمبر کی نسل سے ہیں یعنی حضرت یعقوب بن اسحاق بن حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اولاد ہیں۔ فرعون نے کہا میں تجھے سچا نہیں سمجھتا نہ تیری طلب پوری کروں گا اور اگر تو اپنے دعوے میں واقعہ ہی سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کر۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ مُنَاظَرَةِ مُوسَى لِفِرْعَوْنَ، وَإِلْجَامِهِ إِيَّاهُ بِالْحُجَّةِ، وَإِظْهَارِهِ الْآيَاتِ الْبَيِّنَاتِ بِحَضْرَةِ فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ مِنْ قِبْطِ مِصْرَ، فَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَقَالَ مُوسَى يَا فِرْعَوْنُ إِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ أَيْ: أَرْسَلَنِي الَّذِي هُوَ خالقُ كُلِّ شَيْءٍ وَرَبُّهُ وَمَلِيكُهُ.
﴿حَقِيقٌ عَلَى أَنْ لَا أَقُولَ عَلَى اللَّهِ إِلا الْحَقَّ﴾ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَعْنَاهُ: حَقِيقٌ بِأَنْ لَا أَقُولَ عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ، أَيْ: جَدِيرٌ بِذَلِكَ وَحَرِيٌّ بِهِ.
وَقَالُوا وَ"الْبَاءُ" وَ"عَلَى" يَتَعَاقَبَانِ، فَيُقَالُ [[في م: "يقال"، وفي أ: "فيقول".]] رَمَيْتُ بِالْقَوْسِ" وَ"عَلَى الْقَوْسِ"، وَ"جَاءَ عَلَى حَالٍ حَسَنَةٍ" وَ "بِحَالٍ حَسَنَةٍ".
وَقَالَ بَعْضُ الْمُفَسِّرِينَ: مَعْنَاهُ: حَرِيصٌ عَلَى أَلَّا أَقُولَ عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ.
وَقَرَأَ آخَرُونَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: ﴿حَقِيقٌ عَلَيّ﴾ بِمَعْنَى: وَاجِبٌ وَحَقٌّ عَلَيّ ذَلِكَ أَلَّا أُخْبِرَ عَنْهُ إِلَّا بِمَا هُوَ حَقٌّ وَصِدْقٌ، لِمَا أَعْلَمُ مِنْ عِزِّ جَلَالِهِ وَعَظِيمِ سُلْطَانِهِ.
﴿قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ أَيْ: بِحُجَّةٍ قَاطِعَةٍ مِنَ اللَّهِ، أَعْطَانِيهَا دَلِيلًا عَلَى صِدْقِي فِيمَا [[في د: "ما".]] جِئْتُكُمْ بِهِ، ﴿فَأَرْسِلْ مَعِيَ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ أَيْ: أَطْلِقْهُمْ مِنْ أسْرك وَقَهْرِكَ، وَدَعْهُمْ وَعِبَادَةَ رَبِّكَ وَرَبِّهِمْ؛ فَإِنَّهُمْ مِنْ سُلَالَةِ نَبِيٍّ كَرِيمٍ إِسْرَائِيلَ، وَهُوَ: يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ [عَلَيْهِمْ صَلَوَاتُ الرَّحْمَنِ] [[زيادة من أ.]]
﴿قَالَ إِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِآيَةٍ فَأْتِ بِهَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ أَيْ: قَالَ فِرْعَوْنُ: لَسْتُ بِمُصَدِّقِكَ فِيمَا قُلْتَ، وَلَا بِمُطِيعِكَ فِيمَا طَلَبْتَ، فَإِنْ كَانَتْ مَعَكَ حُجَّةٌ فَأَظْهِرْهَا لِنَرَاهَا، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فِيمَا ادَّعَيْتَ.
فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌۭ مُّبِينٌۭ
So Moses threw his staff, and suddenly it was a serpent, manifest.
موسیٰ نے اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دی تو وہ اسی وقت صریح اژدھا (ہوگیا)
(موسی) عصای خود را افکند؛ ناگهان اژدهای آشکاری شد!
Tafsir Ibn Kathir
Then [Musa] threw his staff and behold! it was a [Thu'ban] serpent, manifest (107)And he drew out his hand, and behold! it was white (with radiance) for the beholders (108)
'Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas commented on Allah's statement,
ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ
(a [Thu'ban] serpent, manifest), refers to "The male snake." As-Suddi and Ad-Dahhak said similarly. A report from Ibn 'Abbas said,
فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ
"(Then (Musa) threw his staff), and it turned into a huge snake that opened its mouth and rushed towards Fir'awn. When Fir'awn saw the snake rushing towards him, he jumped from his throne and cried to Musa for help, so that Musa would remove the snake from his way. Musa did that." As-Suddi commented,
فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ
(and behold! It was a [Thu'ban] serpent, manifest!)
"This [Thu'ban] refers to male snakes. The snake opened its mouth and headed towards Fir'awn to swallow him, placing its lower jaw on the ground and its upper jaw reaching the (top of the) wall of the palace. When Fir'awn saw the snake, he was frightened, so he jumped and wet himself and he never wet himself before this incident. He cried, 'O Musa! Take it away and I will believe in you and release the Children of Israel to you.' So Musa, peace be on him, took it, and it became a staff again."
وَنَزَعَ يَدَهُ فَإِذَا هِيَ بَيْضَاءُ لِلنَّاظِرِينَ
(And he drew out his hand, and behold! it was white (with radiance) for the beholders.)
Musa took his hand out of his cloak after he inserted his hand in it and it was shining, not because of leprosy or sickness. Allah said in another Ayah,
وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ
(And put your hand into your bosom, it will come forth white without hurt.)[27:12]
Ibn 'Abbas said, "without hurt', means, 'not because of leprosy'. Musa inserted his hand again in his sleeve and it returned back to its normal color." Mujahid and several others said similarly.
Tafsir Ibn Kathir
عصائے موسیٰ اور فرعون آپ نے فرعون کی اس طلب پر اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دی جو بہت بڑا سانپ بن گئی اور منہ پھاڑے فرعون کی طرف لپکی، وہ مارے خوف کے تخت پر سے کود گیا اور فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ اللہ کے لئے اسے روک، اس نے اس قدر اپنا منہ کھولا تھا کہ نیچے کا جبڑا تو زمین پر تھا اور اوپر کا جبڑا محل کی بلندی پر۔ خوف کے مارے فرعون کی ہوا نکل گئی اور چیخنے لگا کہ موسیٰ اسے روک لے، میں ایمان لاتا ہوں اور اقرار کرتا ہوں کہ بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ کر دونگا۔ حضرت موسیٰ نے اسی وقت اس پر ہاتھ رکھا اور اسی وقت لکڑی جیسی لکڑی بن گیا۔ حضرت وہب فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کو دیھکتے ہی فرعون کہنے لگا میں تجھے پہچانتا ہوں۔ آپ نے فرمایا یقینا اس نے کہا تو نے بچپن ہمارے گھر کے ٹکڑوں پر ہی تو گذارا ہے۔ اس کا جواب حضرت موسیٰ دے ہی رہے تھے کہ اس نے کہا اسے گرفتار کرلو۔ آپ نے جھٹ سے اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی جس نے سانپ بن کر ان پر حملہ کردیا اس بد حواسی میں ایک دوسرے کو کچلتے اور قتل کرتے ہوئے وہ سب کے سب بھاگے چناچہ پچیس ہزار آدمی اسی ہنگامے میں ایک دوسرے کے ہاتھوں مارے گئے اور فرعون سیدھا اپنے گھر میں گھس گیا لیکن اس واقعہ کے بیان کی سند میں غرابت ہے واللہ اعلم۔ اسی طرح دوسرا معجزہ آپ نے یہ ظاہر کیا کہ اپنا ہاتھ اپنی چادر میں ڈال کر نکالا تو بغیر اس کے کہ کوئی روگ یا برص یا داغ ہو وہ سفید چمکتا ہوا بن کر نکل آیا جسے ہر ایک نے دیکھا پھر ہاتھ اندر کیا تو جیسا تھا ویسا ہی ہوگیا۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿ثُعْبَانٌ مُبِينٌ﴾ الْحَيَّةُ الذَّكَرُ. وَكَذَا قَالَ السدي، والضحاك.
وَفِي حَدِيثِ "الفُتُون"، مِنْ رِوَايَةِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ عَنِ الأصْبَغ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ [[في ك، م، أ: "حدثني".]] سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ﴿فَأَلْقَى عَصَاهُ﴾ فَتَحَوَّلَتْ حَيَّةً عَظِيمَةً فَاغِرَةً فَاهَا، مُسْرِعَةً إِلَى فِرْعَوْنَ، فَلَمَّا رَآهَا فِرْعَوْنُ أَنَّهَا قَاصِدَةٌ إِلَيْهِ، اقْتَحَمَ عَنْ سَرِيرِهِ، وَاسْتَغَاثَ بِمُوسَى أَنْ يَكُفَّهَا [عَنْهُ] [[زيادة من ك، م، أ.]] فَفَعَلَ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: تَحَوَّلَتْ حَيَّةً عَظِيمَةً مِثْلَ الْمَدِينَةِ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُبِينٌ﴾ وَالثُّعْبَانُ: الذَّكَرُ مِنَ الْحَيَّاتِ، فَاتِحَةً فَاهَا، وَاضِعَةً لِحْيها، الْأَسْفَلَ فِي الْأَرْضِ، وَالْآخَرَ عَلَى سُورِ الْقَصْرِ، ثُمَّ تَوَجَّهَتْ نَحْوَ فِرْعَوْنَ لِتَأْخُذَهُ. فَلَمَّا رَآهَا ذُعِرَ مِنْهَا، وَوَثَبَ وَأَحْدَثَ، وَلَمْ يَكُنْ يُحْدث قَبْلَ ذَلِكَ، وَصَاحَ: يَا مُوسَى، خُذْهَا وَأَنَا أُومِنْ بِكَ، وَأُرْسِلْ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَأَخَذَهَا مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَعَادَتْ عَصًا.
وَرَوِيَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوُ هَذَا.
وَقَالَ وَهْب بْنُ مُنَبِّه: لَمَّا دَخَلَ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ، قَالَ لَهُ فِرْعَوْنُ: أَعْرِفُكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ﴿أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدًا﴾ [الشُّعَرَاءِ:١٨] ؟ قَالَ: فَرَدَّ إِلَيْهِ مُوسَى الَّذِي رَدَّ، فَقَالَ فِرْعَوْنُ: خُذُوهُ، فَبَادَرَهُ مُوسَى ﴿فَأَلْقَى عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُبِينٌ﴾ فَحَمَلَتْ عَلَى النَّاسِ فَانْهَزَمُوا مِنْهَا، فَمَاتَ مِنْهُمْ خَمْسَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفًا، قَتَلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، وَقَامَ فِرْعَوْنُ مُنْهَزِمًا حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ.
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، وَالْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي كِتَابِهِ "الزُّهْدِ"، وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ. وَفِيهِ غَرَابَةٌ فِي سِيَاقِهِ [[تفسير الطبري (١٣/١٦) ، والزهد للإمام أحمد برقم (٣٤١) .]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَنزعَ يَدَهُ فَإِذَا هِيَ بَيْضَاءُ لِلنَّاظِرِينَ﴾ أَيْ: نَزَعَ يَدَهُ: أَخْرَجَهَا مِنْ دِرْعِهِ بَعْدَ مَا أَدْخَلَهَا فِيهِ فَخَرَجَتْ بَيْضَاءُ تَتَلَأْلَأُ مِنْ غَيْرِ بَرَص وَلَا مَرَضٍ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ﴾ [النَّمْلِ:١٢] [[بعدها في د، ك، م، أ: "آية أخرى".]]
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي حَدِيثِ الْفُتُونِ: [أَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ جَيْبِهِ فَرَآهَا بَيْضَاءَ] [[زيادة من أ.]] ﴿مِنْ غَيْرِ سُوءٍ﴾ يَعْنِي: مِنْ غَيْرِ بَرَصٍ، ثُمَّ أَعَادَهَا إِلَى كُمِّهِ، فَعَادَتْ إِلَى لَوْنِهَا الْأَوَّلِ. وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
وَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّٰظِرِينَ
And he drew out his hand; thereupon it was white [with radiance] for the observers.
اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کی نگاہوں میں سفید براق (تھا)
و دست خود را (از گریبان) بیرون آورد؛ سفید (و درخشان) برای بینندگان بود!
Tafsir Ibn Kathir
Then [Musa] threw his staff and behold! it was a [Thu'ban] serpent, manifest (107)And he drew out his hand, and behold! it was white (with radiance) for the beholders (108)
'Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas commented on Allah's statement,
ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ
(a [Thu'ban] serpent, manifest), refers to "The male snake." As-Suddi and Ad-Dahhak said similarly. A report from Ibn 'Abbas said,
فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ
"(Then (Musa) threw his staff), and it turned into a huge snake that opened its mouth and rushed towards Fir'awn. When Fir'awn saw the snake rushing towards him, he jumped from his throne and cried to Musa for help, so that Musa would remove the snake from his way. Musa did that." As-Suddi commented,
فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ
(and behold! It was a [Thu'ban] serpent, manifest!)
"This [Thu'ban] refers to male snakes. The snake opened its mouth and headed towards Fir'awn to swallow him, placing its lower jaw on the ground and its upper jaw reaching the (top of the) wall of the palace. When Fir'awn saw the snake, he was frightened, so he jumped and wet himself and he never wet himself before this incident. He cried, 'O Musa! Take it away and I will believe in you and release the Children of Israel to you.' So Musa, peace be on him, took it, and it became a staff again."
وَنَزَعَ يَدَهُ فَإِذَا هِيَ بَيْضَاءُ لِلنَّاظِرِينَ
(And he drew out his hand, and behold! it was white (with radiance) for the beholders.)
Musa took his hand out of his cloak after he inserted his hand in it and it was shining, not because of leprosy or sickness. Allah said in another Ayah,
وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ
(And put your hand into your bosom, it will come forth white without hurt.)[27:12]
Ibn 'Abbas said, "without hurt', means, 'not because of leprosy'. Musa inserted his hand again in his sleeve and it returned back to its normal color." Mujahid and several others said similarly.
Tafsir Ibn Kathir
عصائے موسیٰ اور فرعون آپ نے فرعون کی اس طلب پر اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دی جو بہت بڑا سانپ بن گئی اور منہ پھاڑے فرعون کی طرف لپکی، وہ مارے خوف کے تخت پر سے کود گیا اور فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ اللہ کے لئے اسے روک، اس نے اس قدر اپنا منہ کھولا تھا کہ نیچے کا جبڑا تو زمین پر تھا اور اوپر کا جبڑا محل کی بلندی پر۔ خوف کے مارے فرعون کی ہوا نکل گئی اور چیخنے لگا کہ موسیٰ اسے روک لے، میں ایمان لاتا ہوں اور اقرار کرتا ہوں کہ بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ کر دونگا۔ حضرت موسیٰ نے اسی وقت اس پر ہاتھ رکھا اور اسی وقت لکڑی جیسی لکڑی بن گیا۔ حضرت وہب فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کو دیھکتے ہی فرعون کہنے لگا میں تجھے پہچانتا ہوں۔ آپ نے فرمایا یقینا اس نے کہا تو نے بچپن ہمارے گھر کے ٹکڑوں پر ہی تو گذارا ہے۔ اس کا جواب حضرت موسیٰ دے ہی رہے تھے کہ اس نے کہا اسے گرفتار کرلو۔ آپ نے جھٹ سے اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی جس نے سانپ بن کر ان پر حملہ کردیا اس بد حواسی میں ایک دوسرے کو کچلتے اور قتل کرتے ہوئے وہ سب کے سب بھاگے چناچہ پچیس ہزار آدمی اسی ہنگامے میں ایک دوسرے کے ہاتھوں مارے گئے اور فرعون سیدھا اپنے گھر میں گھس گیا لیکن اس واقعہ کے بیان کی سند میں غرابت ہے واللہ اعلم۔ اسی طرح دوسرا معجزہ آپ نے یہ ظاہر کیا کہ اپنا ہاتھ اپنی چادر میں ڈال کر نکالا تو بغیر اس کے کہ کوئی روگ یا برص یا داغ ہو وہ سفید چمکتا ہوا بن کر نکل آیا جسے ہر ایک نے دیکھا پھر ہاتھ اندر کیا تو جیسا تھا ویسا ہی ہوگیا۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿ثُعْبَانٌ مُبِينٌ﴾ الْحَيَّةُ الذَّكَرُ. وَكَذَا قَالَ السدي، والضحاك.
وَفِي حَدِيثِ "الفُتُون"، مِنْ رِوَايَةِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ عَنِ الأصْبَغ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ [[في ك، م، أ: "حدثني".]] سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ﴿فَأَلْقَى عَصَاهُ﴾ فَتَحَوَّلَتْ حَيَّةً عَظِيمَةً فَاغِرَةً فَاهَا، مُسْرِعَةً إِلَى فِرْعَوْنَ، فَلَمَّا رَآهَا فِرْعَوْنُ أَنَّهَا قَاصِدَةٌ إِلَيْهِ، اقْتَحَمَ عَنْ سَرِيرِهِ، وَاسْتَغَاثَ بِمُوسَى أَنْ يَكُفَّهَا [عَنْهُ] [[زيادة من ك، م، أ.]] فَفَعَلَ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: تَحَوَّلَتْ حَيَّةً عَظِيمَةً مِثْلَ الْمَدِينَةِ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُبِينٌ﴾ وَالثُّعْبَانُ: الذَّكَرُ مِنَ الْحَيَّاتِ، فَاتِحَةً فَاهَا، وَاضِعَةً لِحْيها، الْأَسْفَلَ فِي الْأَرْضِ، وَالْآخَرَ عَلَى سُورِ الْقَصْرِ، ثُمَّ تَوَجَّهَتْ نَحْوَ فِرْعَوْنَ لِتَأْخُذَهُ. فَلَمَّا رَآهَا ذُعِرَ مِنْهَا، وَوَثَبَ وَأَحْدَثَ، وَلَمْ يَكُنْ يُحْدث قَبْلَ ذَلِكَ، وَصَاحَ: يَا مُوسَى، خُذْهَا وَأَنَا أُومِنْ بِكَ، وَأُرْسِلْ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَأَخَذَهَا مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَعَادَتْ عَصًا.
وَرَوِيَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوُ هَذَا.
وَقَالَ وَهْب بْنُ مُنَبِّه: لَمَّا دَخَلَ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ، قَالَ لَهُ فِرْعَوْنُ: أَعْرِفُكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ﴿أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدًا﴾ [الشُّعَرَاءِ:١٨] ؟ قَالَ: فَرَدَّ إِلَيْهِ مُوسَى الَّذِي رَدَّ، فَقَالَ فِرْعَوْنُ: خُذُوهُ، فَبَادَرَهُ مُوسَى ﴿فَأَلْقَى عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُبِينٌ﴾ فَحَمَلَتْ عَلَى النَّاسِ فَانْهَزَمُوا مِنْهَا، فَمَاتَ مِنْهُمْ خَمْسَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفًا، قَتَلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، وَقَامَ فِرْعَوْنُ مُنْهَزِمًا حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ.
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، وَالْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي كِتَابِهِ "الزُّهْدِ"، وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ. وَفِيهِ غَرَابَةٌ فِي سِيَاقِهِ [[تفسير الطبري (١٣/١٦) ، والزهد للإمام أحمد برقم (٣٤١) .]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَنزعَ يَدَهُ فَإِذَا هِيَ بَيْضَاءُ لِلنَّاظِرِينَ﴾ أَيْ: نَزَعَ يَدَهُ: أَخْرَجَهَا مِنْ دِرْعِهِ بَعْدَ مَا أَدْخَلَهَا فِيهِ فَخَرَجَتْ بَيْضَاءُ تَتَلَأْلَأُ مِنْ غَيْرِ بَرَص وَلَا مَرَضٍ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ﴾ [النَّمْلِ:١٢] [[بعدها في د، ك، م، أ: "آية أخرى".]]
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي حَدِيثِ الْفُتُونِ: [أَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ جَيْبِهِ فَرَآهَا بَيْضَاءَ] [[زيادة من أ.]] ﴿مِنْ غَيْرِ سُوءٍ﴾ يَعْنِي: مِنْ غَيْرِ بَرَصٍ، ثُمَّ أَعَادَهَا إِلَى كُمِّهِ، فَعَادَتْ إِلَى لَوْنِهَا الْأَوَّلِ. وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
قَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ إِنَّ هَٰذَا لَسَٰحِرٌ عَلِيمٌۭ
Said the eminent among the people of Pharaoh, "Indeed, this is a learned magician
تو قوم فرعون میں جو سردار تھے وہ کہنے لگے کہ یہ بڑا علامہ جادوگر ہے
اطرافیان فرعون گفتند: «بیشک، این ساحری ماهر و دانا است!
Tafsir Ibn Kathir
The chiefs of the people of Fir'awn said: "This is indeed a well-versed sorcerer. (109)"He wants to get you out of your land, so what do you advise? (110)
Fir'awn's People say that Musa is a Magician!
The chiefs and noblemen of the people of Fir'awn agreed with Fir'awn's statement about Musa. After Fir'awn felt safe and returned to his throne, he said to the chiefs of his people,
إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ عَلِيمٌ
(This is indeed a well-versed sorcerer) and they agreed. They held counsel to decide what they should do about Musa. They conspired to extinguish the light that he brought and bring down his word. They plotted to portray Musa as a liar and fake. They feared that he might lure people to his side by his magic, they claimed, and thus prevail over them and drive them away from their land. What they feared occured, just as Allah said,
وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ
(And We let Fir'awn and Haman and their hosts receive from them that which they feared.)[28:6]
After they conferred about Musa, they agreed on a plot, as Allah said about them,
Tafsir Ibn Kathir
درباریوں سے مشورے ہوئے ! ٭٭ جب ڈر خوف جاتا رہا فرعون پھر سے اپنے تخت پر آ بیٹھا اور درباریوں کے اوسان درست ہوگئے تو فرعون نے کہا بھئی مجھے تو یہ جادوگر لگتا ہے اور ہے بھی بڑا استاد۔ ان لوگوں نے اس کی تائید کی اور کہا حضور درست فرما رہے ہیں۔ اب مشورے کرنے لگے کہ اگر یہ معاملہ یونہی رہا تو لوگ اس کی طرف مائل ہوجائیں گے اور جب یہ قوت پکڑے گا تو ہم سے بادشاہت چھین لے گا ہمیں جلاوطن کر دے گا بتاؤ کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ کی شان ہے جس سے خوف کھایا وہی سامنے آیا۔
Tafsir Ibn Kathir
أَيْ: قَالَ الْمَلَأُ -وَهُمُ الْجُمْهُورُ وَالسَّادَةُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ -مُوَافِقِينَ لِقَوْلِ فِرْعَوْنَ فِيهِ، بَعْدَ مَا رَجَعَ إِلَيْهِ رَوْعه، وَاسْتَقَرَّ عَلَى سَرِيرِ مَمْلَكَتِهِ [[في د: "ملكه".]] بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَ لِلْمَلَأِ حَوْلَهُ -: ﴿إِنَّ هَذَا لَسَاحِرٌ عَلِيمٌ﴾ فَوَافَقُوهُ وَقَالُوا كَمَقَالَتِهِ، وَتَشَاوَرُوا فِي أَمْرِهِ، وَمَاذَا يَصْنَعُونَ فِي أَمْرِهِ، وكيف تكون حيلتهم في إطفاء نُورِهِ وَإِخْمَادِ كَلِمَتِهِ، وَظُهُورِ كَذِبِهِ وَافْتِرَائِهِمْ، وَتَخَوَّفُوا مِنْ [مَعْرِفَتِهِ] [[زيادة من ك، م، أ.]] أَنْ يَسْتَمِيلَ [[في د: "يميل".]] النَّاسَ بِسِحْرِهِ فِيمَا يَعْتَقِدُونَ [[في ك: "يعتقدوه".]] فَيَكُونَ ذَلِكَ سَبَبًا لِظُهُورِهِ عَلَيْهِمْ، وَإِخْرَاجِهِ إِيَّاهُمْ مِنْ أَرْضِهِمْ وَالَّذِي خَافُوا مِنْهُ وَقَعُوا فِيهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُمْ مَا كَانُوا يَحْذَرُونَ﴾ [الْقَصَصِ:٦] فَلَمَّا تَشَاوَرُوا فِي شَأْنِهِ، وَائْتَمَرُوا فِيهِ، اتَّفَقَ رَأْيُهُمْ عَلَى مَا حَكَاهُ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى:
يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُم مِّنْ أَرْضِكُمْ ۖ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ
Who wants to expel you from your land [through magic], so what do you instruct?"
اس کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ بھلا تمہاری کیا صلاح ہے؟
میخواهد شما را از سرزمینتان بیرون کند؛ (نظر شما چیست، و) در برابر او چه دستوری دارید؟»
Tafsir Ibn Kathir
The chiefs of the people of Fir'awn said: "This is indeed a well-versed sorcerer. (109)"He wants to get you out of your land, so what do you advise? (110)
Fir'awn's People say that Musa is a Magician!
The chiefs and noblemen of the people of Fir'awn agreed with Fir'awn's statement about Musa. After Fir'awn felt safe and returned to his throne, he said to the chiefs of his people,
إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ عَلِيمٌ
(This is indeed a well-versed sorcerer) and they agreed. They held counsel to decide what they should do about Musa. They conspired to extinguish the light that he brought and bring down his word. They plotted to portray Musa as a liar and fake. They feared that he might lure people to his side by his magic, they claimed, and thus prevail over them and drive them away from their land. What they feared occured, just as Allah said,
وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ
(And We let Fir'awn and Haman and their hosts receive from them that which they feared.)[28:6]
After they conferred about Musa, they agreed on a plot, as Allah said about them,
Tafsir Ibn Kathir
درباریوں سے مشورے ہوئے ! ٭٭ جب ڈر خوف جاتا رہا فرعون پھر سے اپنے تخت پر آ بیٹھا اور درباریوں کے اوسان درست ہوگئے تو فرعون نے کہا بھئی مجھے تو یہ جادوگر لگتا ہے اور ہے بھی بڑا استاد۔ ان لوگوں نے اس کی تائید کی اور کہا حضور درست فرما رہے ہیں۔ اب مشورے کرنے لگے کہ اگر یہ معاملہ یونہی رہا تو لوگ اس کی طرف مائل ہوجائیں گے اور جب یہ قوت پکڑے گا تو ہم سے بادشاہت چھین لے گا ہمیں جلاوطن کر دے گا بتاؤ کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ کی شان ہے جس سے خوف کھایا وہی سامنے آیا۔
Tafsir Ibn Kathir
أَيْ: قَالَ الْمَلَأُ -وَهُمُ الْجُمْهُورُ وَالسَّادَةُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ -مُوَافِقِينَ لِقَوْلِ فِرْعَوْنَ فِيهِ، بَعْدَ مَا رَجَعَ إِلَيْهِ رَوْعه، وَاسْتَقَرَّ عَلَى سَرِيرِ مَمْلَكَتِهِ [[في د: "ملكه".]] بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَ لِلْمَلَأِ حَوْلَهُ -: ﴿إِنَّ هَذَا لَسَاحِرٌ عَلِيمٌ﴾ فَوَافَقُوهُ وَقَالُوا كَمَقَالَتِهِ، وَتَشَاوَرُوا فِي أَمْرِهِ، وَمَاذَا يَصْنَعُونَ فِي أَمْرِهِ، وكيف تكون حيلتهم في إطفاء نُورِهِ وَإِخْمَادِ كَلِمَتِهِ، وَظُهُورِ كَذِبِهِ وَافْتِرَائِهِمْ، وَتَخَوَّفُوا مِنْ [مَعْرِفَتِهِ] [[زيادة من ك، م، أ.]] أَنْ يَسْتَمِيلَ [[في د: "يميل".]] النَّاسَ بِسِحْرِهِ فِيمَا يَعْتَقِدُونَ [[في ك: "يعتقدوه".]] فَيَكُونَ ذَلِكَ سَبَبًا لِظُهُورِهِ عَلَيْهِمْ، وَإِخْرَاجِهِ إِيَّاهُمْ مِنْ أَرْضِهِمْ وَالَّذِي خَافُوا مِنْهُ وَقَعُوا فِيهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُمْ مَا كَانُوا يَحْذَرُونَ﴾ [الْقَصَصِ:٦] فَلَمَّا تَشَاوَرُوا فِي شَأْنِهِ، وَائْتَمَرُوا فِيهِ، اتَّفَقَ رَأْيُهُمْ عَلَى مَا حَكَاهُ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى:
قَالُوٓا۟ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَأَرْسِلْ فِى ٱلْمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ
They said, "Postpone [the matter of] him and his brother and send among the cities gatherers
انہوں نے (فرعون سے) کہا کہ فی الحال موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے اور شہروں میں نقیب روانہ کر دیجیے
(سپس به فرعون) گفتند: «(کار) او و برادرش را به تأخیر انداز، و جمعآوریکنندگان را به همه شهرها بفرست...
Tafsir Ibn Kathir
They said: "Put him and his brother off (for a time), and send callers to the cities to collect (111)"That they bring to you all well-versed sorcerers. (112)
Ibn 'Abbas commented,
أَرْجِهْ
("Put him off"), means, "delay him (for a time)."
وَأَرْسِلْ فِي الْمَدَائِنِ
("and send to the cities"), areas and provinces of your kingdom – O Fir'awn,
حَاشِرِينَ
("to collect") to gather magicians from various lands. At this time, magic was the trade of the day and it was widespread and popular. They had the idea that what Musa brought was a type of magic similar to the magic that the sorcerers of their time practiced. Because of this incorrect assumption, they brought all the magicians in order to defeat the miracles that he showed them. Allah said about Fir'awn,
فَلَنَأْتِيَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهِ فَاجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهُ نَحْنُ وَلَا أَنتَ مَكَانًا سُوًى - قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّينَةِ وَأَن يُحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى - فَتَوَلَّىٰ فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَيْدَهُ ثُمَّ أَتَىٰ
(Then verily, we can produce magic the like thereof; so appoint a meeting between us and you, which neither we nor you shall fail to keep, in an open place where both shall have a just and equal chance." [Musa] said: "Your appointed meeting is the day of the festival, and let the people assemble when the sun has risen (forenoon)." So Fir'awn withdrew, devised his plot and then came back.)[20:58-60].
Allah said,
Tafsir Ibn Kathir
درباریوں کا مشورہ درباریوں نے مشورہ دیا کہ ان دونوں بھائیوں کا معاملہ تو اس وقت رفع دفع کرو، اسے ملتوی رکھو اور ملک کے ہر حصے میں ہر کارے بھیج دو جو جادوگروں کو جمع کر کے آپ کے دربار میں لائیں۔ تو جب تمام استاد فن جادوگر آجائیں ان سے مقابلہ کرایا جائے تو یہ ہار جائے گا اور منہ دکھانے کے قابل نہ رہے گا، یہ اگر جادو جانتا ہے تو ہماری رعایا میں جادو گروں کی کیا کمی ہے ؟ بڑے بڑے ماہر جادوگر ہم میں موجود ہیں جو اپنے فن میں بےنظیر ہیں اور بہت چست و چالاک ہیں۔ چناچہ حضرت موسیٰ سے کہا گیا کہ ہم سمجھ گئے کہ تو جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دینے کے ارادے سے آیا ہے تو اگر تجھ میں کوئی سکت ہے تو آ ہاتھ ملا ہم تجھ سے مقابلے کا دن اور جگہ مقرر کرتے ہیں اور جگہ مقرر ہوجائے پھر جو بھاگے وہی ہارا۔ آپ نے فرمایا اجھا یہ ہوس بھی نکال لو۔ جاؤ تمہارا عید کا دن مجھے منظور ہے اور دن چڑھے اجالے کا وقت اور شرط یہ کہ یہ مقابلہ مجمع عام میں ہو۔ چنانجہ فرعون اس تیاری میں مصروف ہوگیا۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ﴿أَرْجِهِ﴾ أَخِّرْهُ. وَقَالَ قَتَادَةُ: احبسهُ. ﴿وَأَرْسِلْ﴾ أَيِ: ابْعَثْ ﴿فِي الْمَدَائِنِ﴾ أَيْ: فِي الْأَقَالِيمِ وَمُعَامَلَةِ مُلْكِكَ، ﴿حَاشِرِينَ﴾ أَيْ: مَنْ يَحْشُرُ لَكَ السَّحَرَةَ مِنْ سَائِرِ الْبِلَادِ وَيَجْمَعُهُمْ.
وَقَدْ كَانَ السِّحْرُ فِي زَمَانِهِمْ غَالِبًا كَثِيرًا ظَاهِرًا. وَاعْتَقَدَ مَنِ اعْتَقَدَ مِنْهُمْ، وَأُوهِمَ مَنْ أُوهِمَ مِنْهُمْ، أَنَّ مَا جَاءَ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مِنْ قَبِيلِ مَا تُشَعْبِذُهُ [[في ك: "يشعبذه".]] سَحَرَتُهُمْ؛ فَلِهَذَا جَمَعُوا لَهُ السَّحَرَةَ لِيُعَارِضُوهُ بِنَظِيرِ مَا أَرَاهُمْ مِنَ الْبَيِّنَاتِ، كَمَا أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْ فِرْعَوْنَ حَيْثُ قَالَ: ﴿قَالَ أَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ أَرْضِنَا بِسِحْرِكَ يَا مُوسَى. فَلَنَأْتِيَنَّكَ بِسِحْرٍ مِثْلِهِ فَاجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مَوْعِدًا لَا نُخْلِفُهُ نَحْنُ وَلا أَنْتَ مَكَانًا سُوًى. قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّينَةِ وَأَنْ يُحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى. فَتَوَلَّى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَيْدَهُ ثُمَّ أَتَى﴾ [طه:٥٧-٦٠] وَقَالَ تَعَالَى هَاهُنَا:
يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَٰحِرٍ عَلِيمٍۢ
Who will bring you every learned magician."
کہ تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں
تا هر ساحر دانا (و کارآزمودهای) را به خدمت تو بیاورند!»
Tafsir Ibn Kathir
They said: "Put him and his brother off (for a time), and send callers to the cities to collect (111)"That they bring to you all well-versed sorcerers. (112)
Ibn 'Abbas commented,
أَرْجِهْ
("Put him off"), means, "delay him (for a time)."
وَأَرْسِلْ فِي الْمَدَائِنِ
("and send to the cities"), areas and provinces of your kingdom – O Fir'awn,
حَاشِرِينَ
("to collect") to gather magicians from various lands. At this time, magic was the trade of the day and it was widespread and popular. They had the idea that what Musa brought was a type of magic similar to the magic that the sorcerers of their time practiced. Because of this incorrect assumption, they brought all the magicians in order to defeat the miracles that he showed them. Allah said about Fir'awn,
فَلَنَأْتِيَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهِ فَاجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهُ نَحْنُ وَلَا أَنتَ مَكَانًا سُوًى - قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّينَةِ وَأَن يُحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى - فَتَوَلَّىٰ فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَيْدَهُ ثُمَّ أَتَىٰ
(Then verily, we can produce magic the like thereof; so appoint a meeting between us and you, which neither we nor you shall fail to keep, in an open place where both shall have a just and equal chance." [Musa] said: "Your appointed meeting is the day of the festival, and let the people assemble when the sun has risen (forenoon)." So Fir'awn withdrew, devised his plot and then came back.)[20:58-60].
Allah said,
Tafsir Ibn Kathir
درباریوں کا مشورہ درباریوں نے مشورہ دیا کہ ان دونوں بھائیوں کا معاملہ تو اس وقت رفع دفع کرو، اسے ملتوی رکھو اور ملک کے ہر حصے میں ہر کارے بھیج دو جو جادوگروں کو جمع کر کے آپ کے دربار میں لائیں۔ تو جب تمام استاد فن جادوگر آجائیں ان سے مقابلہ کرایا جائے تو یہ ہار جائے گا اور منہ دکھانے کے قابل نہ رہے گا، یہ اگر جادو جانتا ہے تو ہماری رعایا میں جادو گروں کی کیا کمی ہے ؟ بڑے بڑے ماہر جادوگر ہم میں موجود ہیں جو اپنے فن میں بےنظیر ہیں اور بہت چست و چالاک ہیں۔ چناچہ حضرت موسیٰ سے کہا گیا کہ ہم سمجھ گئے کہ تو جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دینے کے ارادے سے آیا ہے تو اگر تجھ میں کوئی سکت ہے تو آ ہاتھ ملا ہم تجھ سے مقابلے کا دن اور جگہ مقرر کرتے ہیں اور جگہ مقرر ہوجائے پھر جو بھاگے وہی ہارا۔ آپ نے فرمایا اجھا یہ ہوس بھی نکال لو۔ جاؤ تمہارا عید کا دن مجھے منظور ہے اور دن چڑھے اجالے کا وقت اور شرط یہ کہ یہ مقابلہ مجمع عام میں ہو۔ چنانجہ فرعون اس تیاری میں مصروف ہوگیا۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ﴿أَرْجِهِ﴾ أَخِّرْهُ. وَقَالَ قَتَادَةُ: احبسهُ. ﴿وَأَرْسِلْ﴾ أَيِ: ابْعَثْ ﴿فِي الْمَدَائِنِ﴾ أَيْ: فِي الْأَقَالِيمِ وَمُعَامَلَةِ مُلْكِكَ، ﴿حَاشِرِينَ﴾ أَيْ: مَنْ يَحْشُرُ لَكَ السَّحَرَةَ مِنْ سَائِرِ الْبِلَادِ وَيَجْمَعُهُمْ.
وَقَدْ كَانَ السِّحْرُ فِي زَمَانِهِمْ غَالِبًا كَثِيرًا ظَاهِرًا. وَاعْتَقَدَ مَنِ اعْتَقَدَ مِنْهُمْ، وَأُوهِمَ مَنْ أُوهِمَ مِنْهُمْ، أَنَّ مَا جَاءَ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مِنْ قَبِيلِ مَا تُشَعْبِذُهُ [[في ك: "يشعبذه".]] سَحَرَتُهُمْ؛ فَلِهَذَا جَمَعُوا لَهُ السَّحَرَةَ لِيُعَارِضُوهُ بِنَظِيرِ مَا أَرَاهُمْ مِنَ الْبَيِّنَاتِ، كَمَا أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْ فِرْعَوْنَ حَيْثُ قَالَ: ﴿قَالَ أَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ أَرْضِنَا بِسِحْرِكَ يَا مُوسَى. فَلَنَأْتِيَنَّكَ بِسِحْرٍ مِثْلِهِ فَاجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مَوْعِدًا لَا نُخْلِفُهُ نَحْنُ وَلا أَنْتَ مَكَانًا سُوًى. قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّينَةِ وَأَنْ يُحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى. فَتَوَلَّى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَيْدَهُ ثُمَّ أَتَى﴾ [طه:٥٧-٦٠] وَقَالَ تَعَالَى هَاهُنَا:
وَجَآءَ ٱلسَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوٓا۟ إِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِن كُنَّا نَحْنُ ٱلْغَٰلِبِينَ
And the magicians came to Pharaoh. They said, "Indeed for us is a reward if we are the predominant."
(چنانچہ ایسا ہی کیا گیا) اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں صلہ عطا کیا جائے
ساحران نزد فرعون آمدند و گفتند: «آیا اگر ما پیروز گردیم، اجر و پاداش مهمی خواهیم داشت؟!»
Tafsir Ibn Kathir
And so the sorcerers came to Fir'awn. They said: "Indeed there will be a (good) reward for us if we are the victors. (113)He said: "Yes, and moreover you will (in that case) be of the nearest (to me). (114)
The Magicians convene and change Their Ropes into Snakes before Musa
Allah describes the conversation that took place between Fir'awn and the magicians he collected to defeat Musa, peace be upon him. Fir'awn told them that he will reward them and give them tremendous provisions. He made them hope in acquiring what they wished for and to make them among his private audience and best associates. When they were assured of the cursed Fir'awn's promises,
Tafsir Ibn Kathir
جادو گروں نے پہلے ہی فرعون سے قول وقرار لے لیا تاکہ محنت کالی نہ جائے اور اگر ہم جیت جائیں تو خالی ہاتھ نہ رہ جائیں۔ فرعون نے وعدہ کیا کہ منہ مانگا انعام اور ہمیشہ کیلئے خاص درباریوں میں داخلہ دوں گا۔ یہ قول وقرار لے کر میدان میں اتر آئے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَمَّا تَشَارَطَ عَلَيْهِ فِرْعَوْنُ وَالسَّحَرَةُ الَّذِينَ [[في د: "لما".]] اسْتَدْعَاهُمْ لِمُعَارَضَةِ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِنْ غَلَبُوا مُوسَى لَيُثِيبَنَّهُمْ وَلَيُعْطِينَّهُمْ عَطَاءً جَزِيلًا. فَوَعَدَهُمْ وَمَنَّاهُمْ أَنْ يُعْطِيَهُمْ مَا أَرَادُوا، وَيَجْعَلَنَّهُمْ [[في أ: "وليجعلهم".]] مِنْ جُلَسَائِهِ وَالْمُقَرِّبِينَ عِنْدَهُ، فَلَمَّا تَوَثَّقُوا مِنْ فرعون لعنه الله:
قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ لَمِنَ ٱلْمُقَرَّبِينَ
He said, "Yes, and, [moreover], you will be among those made near [to me]."
(فرعون نے) کہا ہاں (ضرور) اور (اس کے علاوہ) تم مقربوں میں داخل کرلیے جاؤ گے
گفت: «آری، و شما از مقربان خواهید بود!»
Tafsir Ibn Kathir
And so the sorcerers came to Fir'awn. They said: "Indeed there will be a (good) reward for us if we are the victors. (113)He said: "Yes, and moreover you will (in that case) be of the nearest (to me). (114)
The Magicians convene and change Their Ropes into Snakes before Musa
Allah describes the conversation that took place between Fir'awn and the magicians he collected to defeat Musa, peace be upon him. Fir'awn told them that he will reward them and give them tremendous provisions. He made them hope in acquiring what they wished for and to make them among his private audience and best associates. When they were assured of the cursed Fir'awn's promises,
Tafsir Ibn Kathir
جادو گروں نے پہلے ہی فرعون سے قول وقرار لے لیا تاکہ محنت کالی نہ جائے اور اگر ہم جیت جائیں تو خالی ہاتھ نہ رہ جائیں۔ فرعون نے وعدہ کیا کہ منہ مانگا انعام اور ہمیشہ کیلئے خاص درباریوں میں داخلہ دوں گا۔ یہ قول وقرار لے کر میدان میں اتر آئے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَمَّا تَشَارَطَ عَلَيْهِ فِرْعَوْنُ وَالسَّحَرَةُ الَّذِينَ [[في د: "لما".]] اسْتَدْعَاهُمْ لِمُعَارَضَةِ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِنْ غَلَبُوا مُوسَى لَيُثِيبَنَّهُمْ وَلَيُعْطِينَّهُمْ عَطَاءً جَزِيلًا. فَوَعَدَهُمْ وَمَنَّاهُمْ أَنْ يُعْطِيَهُمْ مَا أَرَادُوا، وَيَجْعَلَنَّهُمْ [[في أ: "وليجعلهم".]] مِنْ جُلَسَائِهِ وَالْمُقَرِّبِينَ عِنْدَهُ، فَلَمَّا تَوَثَّقُوا مِنْ فرعون لعنه الله:
قَالُوا۟ يَٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ نَحْنُ ٱلْمُلْقِينَ
They said, "O Moses, either you throw [your staff], or we will be the ones to throw [first]."
(جب فریقین روزِ مقررہ پر جمع ہوئے تو) جادوگروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم (جادو کی چیز) ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں
(روز مبارزه فرا رسید. ساحران) گفتند: «ای موسی! یا تو (وسایل سحرت را) بیفکن، یا ما میافکنیم!»
Tafsir Ibn Kathir
They said: "O Musa! Either you throw (first), or shall we have the (first) throw? (115)He [Musa] said: "Throw you (first)." So when they threw, they bewitched the eyes of the people, and struck terror into them, and they displayed a great trick (116)
The magicians challenged Musa, when they said,
إِمَّا أَن تُلْقِيَ وَإِمَّا أَن نَّكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ
(Either you throw (first), or shall we have the (first) throw?) before you. In another Ayah, they said,
وَإِمَّا أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَىٰ
(Or we be the first to throw)[20:65]. Musa said to them, you throw first. It was said that the wisdom behind asking them to throw first, is that - Allah knows best - the people might witness the magicians' sorcery first. When the magicians had cast their spell and captured the eyes, the clear and unequivocal truth came, at a time when they all anticipated and waited for it to come, thus making the truth even more impressive to their hearts. This is what happened. Allah said,
فَلَمَّا أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ
(So when they threw, they bewitched the eyes of the people, and struck terror into them,) meaning, they deceived the eyes and made them think that thet trick was real, when it was only an illusion, just as Allah said,
فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ - قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ - وَأَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ
(So Musa conceived fear in himself. We (Allah) said: "Fear not! Surely, you will have the upper hand. And throw that which is in your right hand! It will swallow up that which they have made. That which they have made is only a magician's trick, and the magician will never be successful, to whatever amount (of skill) he may attain")[20:67-69].
Ibn 'Abbas commented that the magicians threw, "Thick ropes and long sticks, and they appeared to be crawling, an illusion that they created with their magic."
Tafsir Ibn Kathir
جادوگروں سے مقابلہ جادوگروں کو اپنی قوت پر بڑا گھمنڈ تھا وہ سب فی الحقیقت اپنے اس فن کے لاجواب استاد تھے اس لئے انہوں نے آتے ہی حضرت موسیٰ کو چیلنج دیا کہ لو ہوشیار ہوجاؤ تمہیں اختیار ہے میدان میں اپنے کرتب پہلے دکاؤ اور اگر کہو تو پہل ہم کردیں۔ آپ نے فرمایا بہتر ہے کہ تمہارے حوصلے نکل جائیں اور لوگ تمہارا کمال فن دیکھ لیں اور پھر اللہ کی قدرت کو بھی دیکھ لیں اور حق و باطل میں دیک بھال کر فیصلہ کرسکیں وہ تو یہ چاہتے ہی تھے انہوں نے جھٹ سے اپنی رسیاں اور لکڑیاں نکال نکال کر میدان میں ڈالنی شروع کر دین ادھر وہ میدان میں پڑتے ہی چلتی پھرتی اور بنی بنائی سانپ معلوم ہونے لگیں۔ یہ صرف نظر بندی تھی۔ فی الواقع خارج میں ان کا وجود بدل نہیں گیا تھا بلکہ اس طرح لوگوں کو دکھائی دیتی تھیں کہ گویا زندہ ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ اپنے دل میں خطرہ محسوس کرنے لگے۔ اللہ کی طرف سے اسی وقت وحی آئی کہ خوف نہ کر تو ہی غالب رہے گا۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی ڈال تو سہی ان کا کیا دھرا یہ تو سب ہڑپ کر جائے گی۔ یہ سب تو جادوگری کا کرشمہ ہے بھلا جادو والے بھی کبھی کامیاب ہوئے ہیں ؟ بڑی موٹی موٹی رسیاں اور لمبی لمبی لکڑیاں انہوں نے ڈالی تھیں جو سب چلتی پھرتی دوڑتی بھاگتی معلوم ہو رہی تھیں، یہ جادوگر پندرہ ہزار یا تیس ہزار سے اوپر اوپر تھے یا ستر ہزار کی تعداد میں تھے، ہر ایک اپنے ساتھ رسیاں اور لکڑیاں لایا تھا صف بستہ کھڑے تھے اور لوگ چاروں طرف موجود تھے ہر ایک ہمہ تن شوق بنا ہوا تھا فرعون اپنے لاؤ لشکر اور درباریوں سمیت بڑے رعب سے اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا ادھر وقت ہوا ادھر سب کی نگاہوں نے دیکھا کہ ایک درویش صفت اللہ کا نبی اپنے ساتھ اپنے بھائی کو لئے ہوئے لکڑی ٹکاتے ہوئے آ رہے ہیں۔ یہ تھے جن کے مقابلے کی یہ دھوم دھام تھی۔ آپ کے آتے ہی جادوگروں نے صرف یہ دریافت کر کے کہ ابتدا کس کی طرف سے ہونی چاہئے خود ابتدا کردی۔ حضرت موسیٰ ؑ کی پھر فرعون کی پھر تماشائیوں کی آنکھوں پر جادو کر کے سب کو ہیبت زدہ کردیا۔ اب جو اپنی اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو ہزار ہا کی تعداد میں پہاڑوں کے برابر سانپ نظر آنے لگے جو اوپر تلے ایک دوسرے سے لپٹ رہے ہیں ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں میدان بھر گیا ہے انہوں نے اپنے فن کا پورا مظاہرہ کر دکھایا۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ مُبَارَزَةٌ مِنَ السَّحَرَةِ لِمُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي قَوْلِهِمْ: ﴿إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ﴾ أَيْ: قَبْلك. كَمَا قَالَ [[في أ: "قالوا".]] فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى﴾ [طه:٦٥] فَقَالَ لَهُمْ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿أَلْقُوا﴾ أَيْ: أَنْتُمْ أَوَّلًا قَبْلِي. وَالْحِكْمَةُ فِي هَذَا -وَاللَّهُ أَعْلَمُ -لِيَرَى النَّاسُ صَنِيعَهُمْ وَيَتَأَمَّلُوهُ، فَإِذَا فُرغ مِنْ بَهْرَجِهِمْ [[في أ: "بهرجتهم".]] وَمُحَالِهِمْ، جَاءَهُمُ الْحَقُّ الْوَاضِحُ الْجَلِيُّ بَعْدَ تَطَلُّبٍ لَهُ وَالِانْتِظَارِ مِنْهُمْ لِمَجِيئِهِ، فَيَكُونَ أَوْقَعَ فِي النُّفُوسِ. وَكَذَا كَانَ. وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَلَمَّا أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ﴾ أَيْ: خَيَّلُوا إِلَى الْأَبْصَارِ أَنَّ مَا فَعَلُوهُ لَهُ حَقِيقَةٌ فِي الْخَارِجِ، وَلَمْ يَكُنْ إِلَّا مُجَرَّدَ صَنْعَةٍ وَخَيَالٍ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى * فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُوسَى * قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنْتَ الأعْلَى * وَأَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَى﴾ [طه:٦٦: ٦٩] .
قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَة: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَلْقَوْا حِبَالًا غِلَاظًا وَخُشُبًا طِوَالًا. قَالَ: فَأَقْبَلَتْ يُخَيل إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: صَفّ خَمْسَةَ عَشَرَ أَلْفَ سَاحِرٍ، مَعَ كُلِّ سَاحِرٍ حِبَالُهُ وَعِصِيُّهُ، وَخَرَجَ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مَعَهُ أَخُوهُ يَتَّكِئُ عَلَى عَصَاهُ، حَتَّى أَتَى الْجَمْعَ، وَفِرْعَوْنُ فِي مَجْلِسِهِ مَعَ أَشْرَافِ أَهْلِ مَمْلَكَتِهِ، ثُمَّ قَالَ السَّحَرَةُ: ﴿يَا مُوسَى إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى * قَالَ بَلْ أَلْقُوا فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ﴾ [طه:٦٥، ٦٦] فَكَانَ أَوَّلُ مَا اخْتَطَفُوا بِسِحْرِهِمْ بَصَرَ مُوسَى وَبَصَرَ فِرْعَوْنَ، ثُمَّ أَبْصَارَ النَّاسِ بَعْدُ، ثُمَّ أَلْقَى كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَا فِي يَدِهِ مِنَ الْحِبَالِ وَالْعِصِيِّ [[في ك، م، أ: "العصى والحبال".]] فَإِذَا حَيَّاتٌ كَأَمْثَالِ الْجِبَالِ، قَدْ مَلَأَتِ الْوَادِي يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا.
وَقَالَ السُّدِّي: كَانُوا بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ أَلْفَ رَجُلٍ، لَيْسَ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِلَّا وَمَعَهُ حَبْلٌ وَعَصًا، ﴿فَلَمَّا أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ﴾ يَقُولُ: فَرَقوهم أَيْ: مِنَ الفرَق.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّستَوَائي، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ابْنُ أَبِي بَزَّة قَالَ: جَمَعَ فِرْعَوْنُ سَبْعِينَ أَلْفَ سَاحِرٍ، فَأَلْقَوْا سَبْعِينَ أَلْفَ حَبْلٍ، وَسَبْعِينَ أَلْفَ عَصَا، حَتَّى جَعَلَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى [[تفسير الطبري (١٣/٢٨) وهذا من أخبار أهل الكتاب التي لا فائدة من علمها.]] ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ﴾
قَالَ أَلْقُوا۟ ۖ فَلَمَّآ أَلْقَوْا۟ سَحَرُوٓا۟ أَعْيُنَ ٱلنَّاسِ وَٱسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَآءُو بِسِحْرٍ عَظِيمٍۢ
He said, "Throw," and when they threw, they bewitched the eyes of the people and struck terror into them, and they presented a great [feat of] magic.
(موسیٰ نے) کہا تم ہی ڈالو۔ جب انہوں نے (جادو کی چیزیں) ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا (یعنی نظربندی کردی) اور (لاٹھیوں اور رسیوں کے سانپ بنا بنا کر) انہیں ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا
گفت: «شما بیفکنید!» و هنگامی (که وسایل سحر خود را) افکندند، مردم را چشمبندی کردند و ترساندند؛ و سحر عظیمی پدید آوردند.
Tafsir Ibn Kathir
They said: "O Musa! Either you throw (first), or shall we have the (first) throw? (115)He [Musa] said: "Throw you (first)." So when they threw, they bewitched the eyes of the people, and struck terror into them, and they displayed a great trick (116)
The magicians challenged Musa, when they said,
إِمَّا أَن تُلْقِيَ وَإِمَّا أَن نَّكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ
(Either you throw (first), or shall we have the (first) throw?) before you. In another Ayah, they said,
وَإِمَّا أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَىٰ
(Or we be the first to throw)[20:65]. Musa said to them, you throw first. It was said that the wisdom behind asking them to throw first, is that - Allah knows best - the people might witness the magicians' sorcery first. When the magicians had cast their spell and captured the eyes, the clear and unequivocal truth came, at a time when they all anticipated and waited for it to come, thus making the truth even more impressive to their hearts. This is what happened. Allah said,
فَلَمَّا أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ
(So when they threw, they bewitched the eyes of the people, and struck terror into them,) meaning, they deceived the eyes and made them think that thet trick was real, when it was only an illusion, just as Allah said,
فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ - قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ - وَأَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ
(So Musa conceived fear in himself. We (Allah) said: "Fear not! Surely, you will have the upper hand. And throw that which is in your right hand! It will swallow up that which they have made. That which they have made is only a magician's trick, and the magician will never be successful, to whatever amount (of skill) he may attain")[20:67-69].
Ibn 'Abbas commented that the magicians threw, "Thick ropes and long sticks, and they appeared to be crawling, an illusion that they created with their magic."
Tafsir Ibn Kathir
جادوگروں سے مقابلہ جادوگروں کو اپنی قوت پر بڑا گھمنڈ تھا وہ سب فی الحقیقت اپنے اس فن کے لاجواب استاد تھے اس لئے انہوں نے آتے ہی حضرت موسیٰ کو چیلنج دیا کہ لو ہوشیار ہوجاؤ تمہیں اختیار ہے میدان میں اپنے کرتب پہلے دکاؤ اور اگر کہو تو پہل ہم کردیں۔ آپ نے فرمایا بہتر ہے کہ تمہارے حوصلے نکل جائیں اور لوگ تمہارا کمال فن دیکھ لیں اور پھر اللہ کی قدرت کو بھی دیکھ لیں اور حق و باطل میں دیک بھال کر فیصلہ کرسکیں وہ تو یہ چاہتے ہی تھے انہوں نے جھٹ سے اپنی رسیاں اور لکڑیاں نکال نکال کر میدان میں ڈالنی شروع کر دین ادھر وہ میدان میں پڑتے ہی چلتی پھرتی اور بنی بنائی سانپ معلوم ہونے لگیں۔ یہ صرف نظر بندی تھی۔ فی الواقع خارج میں ان کا وجود بدل نہیں گیا تھا بلکہ اس طرح لوگوں کو دکھائی دیتی تھیں کہ گویا زندہ ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ اپنے دل میں خطرہ محسوس کرنے لگے۔ اللہ کی طرف سے اسی وقت وحی آئی کہ خوف نہ کر تو ہی غالب رہے گا۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی ڈال تو سہی ان کا کیا دھرا یہ تو سب ہڑپ کر جائے گی۔ یہ سب تو جادوگری کا کرشمہ ہے بھلا جادو والے بھی کبھی کامیاب ہوئے ہیں ؟ بڑی موٹی موٹی رسیاں اور لمبی لمبی لکڑیاں انہوں نے ڈالی تھیں جو سب چلتی پھرتی دوڑتی بھاگتی معلوم ہو رہی تھیں، یہ جادوگر پندرہ ہزار یا تیس ہزار سے اوپر اوپر تھے یا ستر ہزار کی تعداد میں تھے، ہر ایک اپنے ساتھ رسیاں اور لکڑیاں لایا تھا صف بستہ کھڑے تھے اور لوگ چاروں طرف موجود تھے ہر ایک ہمہ تن شوق بنا ہوا تھا فرعون اپنے لاؤ لشکر اور درباریوں سمیت بڑے رعب سے اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا ادھر وقت ہوا ادھر سب کی نگاہوں نے دیکھا کہ ایک درویش صفت اللہ کا نبی اپنے ساتھ اپنے بھائی کو لئے ہوئے لکڑی ٹکاتے ہوئے آ رہے ہیں۔ یہ تھے جن کے مقابلے کی یہ دھوم دھام تھی۔ آپ کے آتے ہی جادوگروں نے صرف یہ دریافت کر کے کہ ابتدا کس کی طرف سے ہونی چاہئے خود ابتدا کردی۔ حضرت موسیٰ ؑ کی پھر فرعون کی پھر تماشائیوں کی آنکھوں پر جادو کر کے سب کو ہیبت زدہ کردیا۔ اب جو اپنی اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو ہزار ہا کی تعداد میں پہاڑوں کے برابر سانپ نظر آنے لگے جو اوپر تلے ایک دوسرے سے لپٹ رہے ہیں ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں میدان بھر گیا ہے انہوں نے اپنے فن کا پورا مظاہرہ کر دکھایا۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ مُبَارَزَةٌ مِنَ السَّحَرَةِ لِمُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي قَوْلِهِمْ: ﴿إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ﴾ أَيْ: قَبْلك. كَمَا قَالَ [[في أ: "قالوا".]] فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى﴾ [طه:٦٥] فَقَالَ لَهُمْ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿أَلْقُوا﴾ أَيْ: أَنْتُمْ أَوَّلًا قَبْلِي. وَالْحِكْمَةُ فِي هَذَا -وَاللَّهُ أَعْلَمُ -لِيَرَى النَّاسُ صَنِيعَهُمْ وَيَتَأَمَّلُوهُ، فَإِذَا فُرغ مِنْ بَهْرَجِهِمْ [[في أ: "بهرجتهم".]] وَمُحَالِهِمْ، جَاءَهُمُ الْحَقُّ الْوَاضِحُ الْجَلِيُّ بَعْدَ تَطَلُّبٍ لَهُ وَالِانْتِظَارِ مِنْهُمْ لِمَجِيئِهِ، فَيَكُونَ أَوْقَعَ فِي النُّفُوسِ. وَكَذَا كَانَ. وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَلَمَّا أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ﴾ أَيْ: خَيَّلُوا إِلَى الْأَبْصَارِ أَنَّ مَا فَعَلُوهُ لَهُ حَقِيقَةٌ فِي الْخَارِجِ، وَلَمْ يَكُنْ إِلَّا مُجَرَّدَ صَنْعَةٍ وَخَيَالٍ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى * فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُوسَى * قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنْتَ الأعْلَى * وَأَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَى﴾ [طه:٦٦: ٦٩] .
قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَة: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَلْقَوْا حِبَالًا غِلَاظًا وَخُشُبًا طِوَالًا. قَالَ: فَأَقْبَلَتْ يُخَيل إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: صَفّ خَمْسَةَ عَشَرَ أَلْفَ سَاحِرٍ، مَعَ كُلِّ سَاحِرٍ حِبَالُهُ وَعِصِيُّهُ، وَخَرَجَ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مَعَهُ أَخُوهُ يَتَّكِئُ عَلَى عَصَاهُ، حَتَّى أَتَى الْجَمْعَ، وَفِرْعَوْنُ فِي مَجْلِسِهِ مَعَ أَشْرَافِ أَهْلِ مَمْلَكَتِهِ، ثُمَّ قَالَ السَّحَرَةُ: ﴿يَا مُوسَى إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى * قَالَ بَلْ أَلْقُوا فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ﴾ [طه:٦٥، ٦٦] فَكَانَ أَوَّلُ مَا اخْتَطَفُوا بِسِحْرِهِمْ بَصَرَ مُوسَى وَبَصَرَ فِرْعَوْنَ، ثُمَّ أَبْصَارَ النَّاسِ بَعْدُ، ثُمَّ أَلْقَى كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَا فِي يَدِهِ مِنَ الْحِبَالِ وَالْعِصِيِّ [[في ك، م، أ: "العصى والحبال".]] فَإِذَا حَيَّاتٌ كَأَمْثَالِ الْجِبَالِ، قَدْ مَلَأَتِ الْوَادِي يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا.
وَقَالَ السُّدِّي: كَانُوا بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ أَلْفَ رَجُلٍ، لَيْسَ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِلَّا وَمَعَهُ حَبْلٌ وَعَصًا، ﴿فَلَمَّا أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ﴾ يَقُولُ: فَرَقوهم أَيْ: مِنَ الفرَق.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّستَوَائي، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ابْنُ أَبِي بَزَّة قَالَ: جَمَعَ فِرْعَوْنُ سَبْعِينَ أَلْفَ سَاحِرٍ، فَأَلْقَوْا سَبْعِينَ أَلْفَ حَبْلٍ، وَسَبْعِينَ أَلْفَ عَصَا، حَتَّى جَعَلَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى [[تفسير الطبري (١٣/٢٨) وهذا من أخبار أهل الكتاب التي لا فائدة من علمها.]] ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ﴾
۞ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ۖ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ
And We inspired to Moses, "Throw your staff," and at once it devoured what they were falsifying.
(اس وقت) ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ تم بھی اپنی لاٹھی ڈال دو۔ وہ فوراً (سانپ بن کر) جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں کو (ایک ایک کرکے) نگل جائے گی
(ما) به موسی وحی کردیم که: «عصای خود را بیفکن!» ناگهان (بصورت مار عظیمی در آمد که) وسایل دروغین آنها را بسرعت برمیگرفت.
Tafsir Ibn Kathir
And We revealed to Musa (saying): "Throw your stick," and behold! It swallowed up straight away all the falsehood which they showed (117)Thus truth was confirmed, and all that they did was made of no effect (118)So they were defeated there and returned disgraced (119)And the sorcerers fell down prostrate (120)They said: "We believe in the Lord of all that exists (121)"The Lord of Musa and Harun. (122)
Musa defeats the Magicians, Who believe in Him
Allah states that at that tremendous moment, in which Allah differentiated between Truth and Falsehood, He sent a revelation to His servant and Messenger Musa, peace be upon him, ordering him to throw the stick that he held in his right hand,
فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ
(It swallowed straight away) and devoured,
مَا يَأْفِكُونَ
(all the falsehood which they showed.) the magic that they caused the illusion with, of magic with which they caused making it appear real, whereas it was not real at all. Ibn 'Abbas said that Musa's stick swallowed all the ropes and sticks that the magicians threw. The magicians realized that this was from heaven and was by no means magic. They fell in prostration and proclaimed,
آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ - رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ
("We believe in the Lord of all that exists. The Lord of Musa and Harun ).
Muhammad bin Ishaq commented, "It followed the ropes and sticks one after another, until nothing that the sorcerers threw remained. Musa then held it in his hand, and it became a stick again just as it was before. The magicians fell in prostration and proclaimed, 'We believe in the Lord of all that exists, the Lord of Musa and Harun. Had Musa been a magician, he would not have prevailed over us.'" Al-Qasim bin Abi Bazzah commented, "Allah revealed to Musa to throw his stick. When he threw his stick, it became a huge, manifest snake that opened its mouth and swallowed the magicians' ropes and sticks. On that, the magicians fell in prostration. They did not raise their heads before seeing the Paradise, the Fire, and the recompense of their inhabitants."
Tafsir Ibn Kathir
جادوگر سجدہ ریز ہوگئے اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چناچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کردیا جو کجھ وہاں تھا سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نظر نہ آتی تھی۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ نے جہاں اس پہ ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہوگیا باطل دب گیا۔ تمیز ہوگئی معاملہ صاف ہوگیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہوگئے اور کہنے لگے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس جادو نہیں۔ یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کرسکے اور صفائی کردی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ حضرت قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُ أَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ وَرَسُولِهِ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي ذَلِكَ الْمَوْقِفِ الْعَظِيمِ، الَّذِي فَرَّقَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، يَأْمُرُهُ بِأَنْ يُلْقِيَ مَا فِي يَمِينِهِ وَهِيَ عَصَاهُ، ﴿فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ﴾ أَيْ: تَأْكُلُ ﴿مَا يَأْفِكُونَ﴾ أَيْ: مَا يُلْقُونَهُ وَيُوهِمُونَ أَنَّهُ حَقٌّ، وَهُوَ بَاطِلٌ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَجَعَلَتْ لَا تَمُرّ بِشَيْءٍ [[في أ: "على شيء".]] مِنْ حِبَالِهِمْ وَلَا مِنْ خُشُبهم [[في أ: "عصيهم".]] إِلَّا الْتَقَمَتْهُ، فَعَرَفَتِ السَّحَرَةُ أَنَّ هَذَا أَمْرٌ مِنَ السَّمَاءِ، وَلَيْسَ هَذَا بِسِحْرٍ، فَخَرُّوا سُجَّدًا وَقَالُوا: ﴿آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبِّ مُوسَى وَهَارُونَ﴾
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: جَعَلَتْ تَبْتَلِعُ [[في أ: "تتبع".]] تِلْكَ الْحِبَالَ وَالْعِصِيَّ وَاحِدَةً، وَاحِدَةً حَتَّى مَا يُرَى بِالْوَادِي قَلِيلٌ وَلَا كَثِيرٌ مِمَّا أَلْقَوْا، ثُمَّ أَخَذَهَا مُوسَى فَإِذَا هِيَ عَصًا فِي يَدِهِ كَمَا كَانَتْ، وَوَقَعَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا ﴿قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبِّ مُوسَى وَهَارُونَ﴾ لَوْ كَانَ هَذَا سَاحِرًا مَا غُلبنا.
وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّة: أَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ، فَأَلْقَى عَصَاهُ، فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ فاغرٌ فَاهُ، يَبْتَلِعُ [[في م: "يبلع".]] حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ. فَأُلْقِيَ السَّحَرَةَ عِنْدَ ذَلِكَ سُجَّدًا، فَمَا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ حَتَّى رَأَوُا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَثَوَابَ أَهْلِهِمَا.
فَوَقَعَ ٱلْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
So the truth was established, and abolished was what they were doing.
(پھر) تو حق ثابت ہوگیا اور جو کچھ فرعونی کرتے تھے، باطل ہوگیا
(در این هنگام،) حق آشکار شد؛ و آنچه آنها ساخته بودند، باطل گشت.
Tafsir Ibn Kathir
And We revealed to Musa (saying): "Throw your stick," and behold! It swallowed up straight away all the falsehood which they showed (117)Thus truth was confirmed, and all that they did was made of no effect (118)So they were defeated there and returned disgraced (119)And the sorcerers fell down prostrate (120)They said: "We believe in the Lord of all that exists (121)"The Lord of Musa and Harun. (122)
Musa defeats the Magicians, Who believe in Him
Allah states that at that tremendous moment, in which Allah differentiated between Truth and Falsehood, He sent a revelation to His servant and Messenger Musa, peace be upon him, ordering him to throw the stick that he held in his right hand,
فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ
(It swallowed straight away) and devoured,
مَا يَأْفِكُونَ
(all the falsehood which they showed.) the magic that they caused the illusion with, of magic with which they caused making it appear real, whereas it was not real at all. Ibn 'Abbas said that Musa's stick swallowed all the ropes and sticks that the magicians threw. The magicians realized that this was from heaven and was by no means magic. They fell in prostration and proclaimed,
آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ - رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ
("We believe in the Lord of all that exists. The Lord of Musa and Harun ).
Muhammad bin Ishaq commented, "It followed the ropes and sticks one after another, until nothing that the sorcerers threw remained. Musa then held it in his hand, and it became a stick again just as it was before. The magicians fell in prostration and proclaimed, 'We believe in the Lord of all that exists, the Lord of Musa and Harun. Had Musa been a magician, he would not have prevailed over us.'" Al-Qasim bin Abi Bazzah commented, "Allah revealed to Musa to throw his stick. When he threw his stick, it became a huge, manifest snake that opened its mouth and swallowed the magicians' ropes and sticks. On that, the magicians fell in prostration. They did not raise their heads before seeing the Paradise, the Fire, and the recompense of their inhabitants."
Tafsir Ibn Kathir
جادوگر سجدہ ریز ہوگئے اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چناچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کردیا جو کجھ وہاں تھا سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نظر نہ آتی تھی۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ نے جہاں اس پہ ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہوگیا باطل دب گیا۔ تمیز ہوگئی معاملہ صاف ہوگیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہوگئے اور کہنے لگے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس جادو نہیں۔ یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کرسکے اور صفائی کردی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ حضرت قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُ أَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ وَرَسُولِهِ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي ذَلِكَ الْمَوْقِفِ الْعَظِيمِ، الَّذِي فَرَّقَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، يَأْمُرُهُ بِأَنْ يُلْقِيَ مَا فِي يَمِينِهِ وَهِيَ عَصَاهُ، ﴿فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ﴾ أَيْ: تَأْكُلُ ﴿مَا يَأْفِكُونَ﴾ أَيْ: مَا يُلْقُونَهُ وَيُوهِمُونَ أَنَّهُ حَقٌّ، وَهُوَ بَاطِلٌ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَجَعَلَتْ لَا تَمُرّ بِشَيْءٍ [[في أ: "على شيء".]] مِنْ حِبَالِهِمْ وَلَا مِنْ خُشُبهم [[في أ: "عصيهم".]] إِلَّا الْتَقَمَتْهُ، فَعَرَفَتِ السَّحَرَةُ أَنَّ هَذَا أَمْرٌ مِنَ السَّمَاءِ، وَلَيْسَ هَذَا بِسِحْرٍ، فَخَرُّوا سُجَّدًا وَقَالُوا: ﴿آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبِّ مُوسَى وَهَارُونَ﴾
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: جَعَلَتْ تَبْتَلِعُ [[في أ: "تتبع".]] تِلْكَ الْحِبَالَ وَالْعِصِيَّ وَاحِدَةً، وَاحِدَةً حَتَّى مَا يُرَى بِالْوَادِي قَلِيلٌ وَلَا كَثِيرٌ مِمَّا أَلْقَوْا، ثُمَّ أَخَذَهَا مُوسَى فَإِذَا هِيَ عَصًا فِي يَدِهِ كَمَا كَانَتْ، وَوَقَعَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا ﴿قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبِّ مُوسَى وَهَارُونَ﴾ لَوْ كَانَ هَذَا سَاحِرًا مَا غُلبنا.
وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّة: أَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ، فَأَلْقَى عَصَاهُ، فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ فاغرٌ فَاهُ، يَبْتَلِعُ [[في م: "يبلع".]] حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ. فَأُلْقِيَ السَّحَرَةَ عِنْدَ ذَلِكَ سُجَّدًا، فَمَا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ حَتَّى رَأَوُا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَثَوَابَ أَهْلِهِمَا.
فَغُلِبُوا۟ هُنَالِكَ وَٱنقَلَبُوا۟ صَٰغِرِينَ
And Pharaoh and his people were overcome right there and became debased.
اور وہ مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہوکر رہ گئے
و در آنجا (همگی) مغلوب شدند؛ و خوار و کوچک گشتند.
Tafsir Ibn Kathir
And We revealed to Musa (saying): "Throw your stick," and behold! It swallowed up straight away all the falsehood which they showed (117)Thus truth was confirmed, and all that they did was made of no effect (118)So they were defeated there and returned disgraced (119)And the sorcerers fell down prostrate (120)They said: "We believe in the Lord of all that exists (121)"The Lord of Musa and Harun. (122)
Musa defeats the Magicians, Who believe in Him
Allah states that at that tremendous moment, in which Allah differentiated between Truth and Falsehood, He sent a revelation to His servant and Messenger Musa, peace be upon him, ordering him to throw the stick that he held in his right hand,
فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ
(It swallowed straight away) and devoured,
مَا يَأْفِكُونَ
(all the falsehood which they showed.) the magic that they caused the illusion with, of magic with which they caused making it appear real, whereas it was not real at all. Ibn 'Abbas said that Musa's stick swallowed all the ropes and sticks that the magicians threw. The magicians realized that this was from heaven and was by no means magic. They fell in prostration and proclaimed,
آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ - رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ
("We believe in the Lord of all that exists. The Lord of Musa and Harun ).
Muhammad bin Ishaq commented, "It followed the ropes and sticks one after another, until nothing that the sorcerers threw remained. Musa then held it in his hand, and it became a stick again just as it was before. The magicians fell in prostration and proclaimed, 'We believe in the Lord of all that exists, the Lord of Musa and Harun. Had Musa been a magician, he would not have prevailed over us.'" Al-Qasim bin Abi Bazzah commented, "Allah revealed to Musa to throw his stick. When he threw his stick, it became a huge, manifest snake that opened its mouth and swallowed the magicians' ropes and sticks. On that, the magicians fell in prostration. They did not raise their heads before seeing the Paradise, the Fire, and the recompense of their inhabitants."
Tafsir Ibn Kathir
جادوگر سجدہ ریز ہوگئے اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چناچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کردیا جو کجھ وہاں تھا سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نظر نہ آتی تھی۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ نے جہاں اس پہ ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہوگیا باطل دب گیا۔ تمیز ہوگئی معاملہ صاف ہوگیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہوگئے اور کہنے لگے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس جادو نہیں۔ یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کرسکے اور صفائی کردی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ حضرت قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُ أَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ وَرَسُولِهِ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي ذَلِكَ الْمَوْقِفِ الْعَظِيمِ، الَّذِي فَرَّقَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، يَأْمُرُهُ بِأَنْ يُلْقِيَ مَا فِي يَمِينِهِ وَهِيَ عَصَاهُ، ﴿فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ﴾ أَيْ: تَأْكُلُ ﴿مَا يَأْفِكُونَ﴾ أَيْ: مَا يُلْقُونَهُ وَيُوهِمُونَ أَنَّهُ حَقٌّ، وَهُوَ بَاطِلٌ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَجَعَلَتْ لَا تَمُرّ بِشَيْءٍ [[في أ: "على شيء".]] مِنْ حِبَالِهِمْ وَلَا مِنْ خُشُبهم [[في أ: "عصيهم".]] إِلَّا الْتَقَمَتْهُ، فَعَرَفَتِ السَّحَرَةُ أَنَّ هَذَا أَمْرٌ مِنَ السَّمَاءِ، وَلَيْسَ هَذَا بِسِحْرٍ، فَخَرُّوا سُجَّدًا وَقَالُوا: ﴿آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبِّ مُوسَى وَهَارُونَ﴾
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: جَعَلَتْ تَبْتَلِعُ [[في أ: "تتبع".]] تِلْكَ الْحِبَالَ وَالْعِصِيَّ وَاحِدَةً، وَاحِدَةً حَتَّى مَا يُرَى بِالْوَادِي قَلِيلٌ وَلَا كَثِيرٌ مِمَّا أَلْقَوْا، ثُمَّ أَخَذَهَا مُوسَى فَإِذَا هِيَ عَصًا فِي يَدِهِ كَمَا كَانَتْ، وَوَقَعَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا ﴿قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبِّ مُوسَى وَهَارُونَ﴾ لَوْ كَانَ هَذَا سَاحِرًا مَا غُلبنا.
وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّة: أَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ، فَأَلْقَى عَصَاهُ، فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ فاغرٌ فَاهُ، يَبْتَلِعُ [[في م: "يبلع".]] حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ. فَأُلْقِيَ السَّحَرَةَ عِنْدَ ذَلِكَ سُجَّدًا، فَمَا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ حَتَّى رَأَوُا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَثَوَابَ أَهْلِهِمَا.
وَأُلْقِىَ ٱلسَّحَرَةُ سَٰجِدِينَ
And the magicians fell down in prostration [to Allah].
(یہ کیفیت دیکھ کر) جادوگر سجدے میں گر پڑے
و ساحران (بیاختیار) به سجده افتادند.
Tafsir Ibn Kathir
And We revealed to Musa (saying): "Throw your stick," and behold! It swallowed up straight away all the falsehood which they showed (117)Thus truth was confirmed, and all that they did was made of no effect (118)So they were defeated there and returned disgraced (119)And the sorcerers fell down prostrate (120)They said: "We believe in the Lord of all that exists (121)"The Lord of Musa and Harun. (122)
Musa defeats the Magicians, Who believe in Him
Allah states that at that tremendous moment, in which Allah differentiated between Truth and Falsehood, He sent a revelation to His servant and Messenger Musa, peace be upon him, ordering him to throw the stick that he held in his right hand,
فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ
(It swallowed straight away) and devoured,
مَا يَأْفِكُونَ
(all the falsehood which they showed.) the magic that they caused the illusion with, of magic with which they caused making it appear real, whereas it was not real at all. Ibn 'Abbas said that Musa's stick swallowed all the ropes and sticks that the magicians threw. The magicians realized that this was from heaven and was by no means magic. They fell in prostration and proclaimed,
آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ - رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ
("We believe in the Lord of all that exists. The Lord of Musa and Harun ).
Muhammad bin Ishaq commented, "It followed the ropes and sticks one after another, until nothing that the sorcerers threw remained. Musa then held it in his hand, and it became a stick again just as it was before. The magicians fell in prostration and proclaimed, 'We believe in the Lord of all that exists, the Lord of Musa and Harun. Had Musa been a magician, he would not have prevailed over us.'" Al-Qasim bin Abi Bazzah commented, "Allah revealed to Musa to throw his stick. When he threw his stick, it became a huge, manifest snake that opened its mouth and swallowed the magicians' ropes and sticks. On that, the magicians fell in prostration. They did not raise their heads before seeing the Paradise, the Fire, and the recompense of their inhabitants."
Tafsir Ibn Kathir
جادوگر سجدہ ریز ہوگئے اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چناچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کردیا جو کجھ وہاں تھا سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نظر نہ آتی تھی۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ نے جہاں اس پہ ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہوگیا باطل دب گیا۔ تمیز ہوگئی معاملہ صاف ہوگیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہوگئے اور کہنے لگے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس جادو نہیں۔ یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کرسکے اور صفائی کردی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ حضرت قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُ أَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ وَرَسُولِهِ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي ذَلِكَ الْمَوْقِفِ الْعَظِيمِ، الَّذِي فَرَّقَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، يَأْمُرُهُ بِأَنْ يُلْقِيَ مَا فِي يَمِينِهِ وَهِيَ عَصَاهُ، ﴿فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ﴾ أَيْ: تَأْكُلُ ﴿مَا يَأْفِكُونَ﴾ أَيْ: مَا يُلْقُونَهُ وَيُوهِمُونَ أَنَّهُ حَقٌّ، وَهُوَ بَاطِلٌ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَجَعَلَتْ لَا تَمُرّ بِشَيْءٍ [[في أ: "على شيء".]] مِنْ حِبَالِهِمْ وَلَا مِنْ خُشُبهم [[في أ: "عصيهم".]] إِلَّا الْتَقَمَتْهُ، فَعَرَفَتِ السَّحَرَةُ أَنَّ هَذَا أَمْرٌ مِنَ السَّمَاءِ، وَلَيْسَ هَذَا بِسِحْرٍ، فَخَرُّوا سُجَّدًا وَقَالُوا: ﴿آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبِّ مُوسَى وَهَارُونَ﴾
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: جَعَلَتْ تَبْتَلِعُ [[في أ: "تتبع".]] تِلْكَ الْحِبَالَ وَالْعِصِيَّ وَاحِدَةً، وَاحِدَةً حَتَّى مَا يُرَى بِالْوَادِي قَلِيلٌ وَلَا كَثِيرٌ مِمَّا أَلْقَوْا، ثُمَّ أَخَذَهَا مُوسَى فَإِذَا هِيَ عَصًا فِي يَدِهِ كَمَا كَانَتْ، وَوَقَعَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا ﴿قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبِّ مُوسَى وَهَارُونَ﴾ لَوْ كَانَ هَذَا سَاحِرًا مَا غُلبنا.
وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّة: أَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ، فَأَلْقَى عَصَاهُ، فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ فاغرٌ فَاهُ، يَبْتَلِعُ [[في م: "يبلع".]] حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ. فَأُلْقِيَ السَّحَرَةَ عِنْدَ ذَلِكَ سُجَّدًا، فَمَا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ حَتَّى رَأَوُا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَثَوَابَ أَهْلِهِمَا.
قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
They said, "We have believed in the Lord of the worlds,
اور کہنے لگے کہ ہم جہان کے پروردگار پر ایمان لائے
و گفتند: «ما به پروردگار جهانیان ایمان آوردیم؛
Tafsir Ibn Kathir
And We revealed to Musa (saying): "Throw your stick," and behold! It swallowed up straight away all the falsehood which they showed (117)Thus truth was confirmed, and all that they did was made of no effect (118)So they were defeated there and returned disgraced (119)And the sorcerers fell down prostrate (120)They said: "We believe in the Lord of all that exists (121)"The Lord of Musa and Harun. (122)
Musa defeats the Magicians, Who believe in Him
Allah states that at that tremendous moment, in which Allah differentiated between Truth and Falsehood, He sent a revelation to His servant and Messenger Musa, peace be upon him, ordering him to throw the stick that he held in his right hand,
فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ
(It swallowed straight away) and devoured,
مَا يَأْفِكُونَ
(all the falsehood which they showed.) the magic that they caused the illusion with, of magic with which they caused making it appear real, whereas it was not real at all. Ibn 'Abbas said that Musa's stick swallowed all the ropes and sticks that the magicians threw. The magicians realized that this was from heaven and was by no means magic. They fell in prostration and proclaimed,
آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ - رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ
("We believe in the Lord of all that exists. The Lord of Musa and Harun ).
Muhammad bin Ishaq commented, "It followed the ropes and sticks one after another, until nothing that the sorcerers threw remained. Musa then held it in his hand, and it became a stick again just as it was before. The magicians fell in prostration and proclaimed, 'We believe in the Lord of all that exists, the Lord of Musa and Harun. Had Musa been a magician, he would not have prevailed over us.'" Al-Qasim bin Abi Bazzah commented, "Allah revealed to Musa to throw his stick. When he threw his stick, it became a huge, manifest snake that opened its mouth and swallowed the magicians' ropes and sticks. On that, the magicians fell in prostration. They did not raise their heads before seeing the Paradise, the Fire, and the recompense of their inhabitants."
Tafsir Ibn Kathir
جادوگر سجدہ ریز ہوگئے اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چناچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کردیا جو کجھ وہاں تھا سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نظر نہ آتی تھی۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ نے جہاں اس پہ ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہوگیا باطل دب گیا۔ تمیز ہوگئی معاملہ صاف ہوگیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہوگئے اور کہنے لگے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس جادو نہیں۔ یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کرسکے اور صفائی کردی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ حضرت قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُ أَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ وَرَسُولِهِ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي ذَلِكَ الْمَوْقِفِ الْعَظِيمِ، الَّذِي فَرَّقَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، يَأْمُرُهُ بِأَنْ يُلْقِيَ مَا فِي يَمِينِهِ وَهِيَ عَصَاهُ، ﴿فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ﴾ أَيْ: تَأْكُلُ ﴿مَا يَأْفِكُونَ﴾ أَيْ: مَا يُلْقُونَهُ وَيُوهِمُونَ أَنَّهُ حَقٌّ، وَهُوَ بَاطِلٌ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَجَعَلَتْ لَا تَمُرّ بِشَيْءٍ [[في أ: "على شيء".]] مِنْ حِبَالِهِمْ وَلَا مِنْ خُشُبهم [[في أ: "عصيهم".]] إِلَّا الْتَقَمَتْهُ، فَعَرَفَتِ السَّحَرَةُ أَنَّ هَذَا أَمْرٌ مِنَ السَّمَاءِ، وَلَيْسَ هَذَا بِسِحْرٍ، فَخَرُّوا سُجَّدًا وَقَالُوا: ﴿آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبِّ مُوسَى وَهَارُونَ﴾
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: جَعَلَتْ تَبْتَلِعُ [[في أ: "تتبع".]] تِلْكَ الْحِبَالَ وَالْعِصِيَّ وَاحِدَةً، وَاحِدَةً حَتَّى مَا يُرَى بِالْوَادِي قَلِيلٌ وَلَا كَثِيرٌ مِمَّا أَلْقَوْا، ثُمَّ أَخَذَهَا مُوسَى فَإِذَا هِيَ عَصًا فِي يَدِهِ كَمَا كَانَتْ، وَوَقَعَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا ﴿قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبِّ مُوسَى وَهَارُونَ﴾ لَوْ كَانَ هَذَا سَاحِرًا مَا غُلبنا.
وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّة: أَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ، فَأَلْقَى عَصَاهُ، فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ فاغرٌ فَاهُ، يَبْتَلِعُ [[في م: "يبلع".]] حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ. فَأُلْقِيَ السَّحَرَةَ عِنْدَ ذَلِكَ سُجَّدًا، فَمَا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ حَتَّى رَأَوُا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَثَوَابَ أَهْلِهِمَا.
رَبِّ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ
The Lord of Moses and Aaron."
یعنی موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر
پروردگار موسی و هارون!»
Tafsir Ibn Kathir
And We revealed to Musa (saying): "Throw your stick," and behold! It swallowed up straight away all the falsehood which they showed (117)Thus truth was confirmed, and all that they did was made of no effect (118)So they were defeated there and returned disgraced (119)And the sorcerers fell down prostrate (120)They said: "We believe in the Lord of all that exists (121)"The Lord of Musa and Harun. (122)
Musa defeats the Magicians, Who believe in Him
Allah states that at that tremendous moment, in which Allah differentiated between Truth and Falsehood, He sent a revelation to His servant and Messenger Musa, peace be upon him, ordering him to throw the stick that he held in his right hand,
فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ
(It swallowed straight away) and devoured,
مَا يَأْفِكُونَ
(all the falsehood which they showed.) the magic that they caused the illusion with, of magic with which they caused making it appear real, whereas it was not real at all. Ibn 'Abbas said that Musa's stick swallowed all the ropes and sticks that the magicians threw. The magicians realized that this was from heaven and was by no means magic. They fell in prostration and proclaimed,
آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ - رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ
("We believe in the Lord of all that exists. The Lord of Musa and Harun ).
Muhammad bin Ishaq commented, "It followed the ropes and sticks one after another, until nothing that the sorcerers threw remained. Musa then held it in his hand, and it became a stick again just as it was before. The magicians fell in prostration and proclaimed, 'We believe in the Lord of all that exists, the Lord of Musa and Harun. Had Musa been a magician, he would not have prevailed over us.'" Al-Qasim bin Abi Bazzah commented, "Allah revealed to Musa to throw his stick. When he threw his stick, it became a huge, manifest snake that opened its mouth and swallowed the magicians' ropes and sticks. On that, the magicians fell in prostration. They did not raise their heads before seeing the Paradise, the Fire, and the recompense of their inhabitants."
Tafsir Ibn Kathir
جادوگر سجدہ ریز ہوگئے اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چناچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کردیا جو کجھ وہاں تھا سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نظر نہ آتی تھی۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ نے جہاں اس پہ ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہوگیا باطل دب گیا۔ تمیز ہوگئی معاملہ صاف ہوگیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہوگئے اور کہنے لگے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس جادو نہیں۔ یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کرسکے اور صفائی کردی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ حضرت قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُ أَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ وَرَسُولِهِ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي ذَلِكَ الْمَوْقِفِ الْعَظِيمِ، الَّذِي فَرَّقَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، يَأْمُرُهُ بِأَنْ يُلْقِيَ مَا فِي يَمِينِهِ وَهِيَ عَصَاهُ، ﴿فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ﴾ أَيْ: تَأْكُلُ ﴿مَا يَأْفِكُونَ﴾ أَيْ: مَا يُلْقُونَهُ وَيُوهِمُونَ أَنَّهُ حَقٌّ، وَهُوَ بَاطِلٌ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَجَعَلَتْ لَا تَمُرّ بِشَيْءٍ [[في أ: "على شيء".]] مِنْ حِبَالِهِمْ وَلَا مِنْ خُشُبهم [[في أ: "عصيهم".]] إِلَّا الْتَقَمَتْهُ، فَعَرَفَتِ السَّحَرَةُ أَنَّ هَذَا أَمْرٌ مِنَ السَّمَاءِ، وَلَيْسَ هَذَا بِسِحْرٍ، فَخَرُّوا سُجَّدًا وَقَالُوا: ﴿آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبِّ مُوسَى وَهَارُونَ﴾
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: جَعَلَتْ تَبْتَلِعُ [[في أ: "تتبع".]] تِلْكَ الْحِبَالَ وَالْعِصِيَّ وَاحِدَةً، وَاحِدَةً حَتَّى مَا يُرَى بِالْوَادِي قَلِيلٌ وَلَا كَثِيرٌ مِمَّا أَلْقَوْا، ثُمَّ أَخَذَهَا مُوسَى فَإِذَا هِيَ عَصًا فِي يَدِهِ كَمَا كَانَتْ، وَوَقَعَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا ﴿قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبِّ مُوسَى وَهَارُونَ﴾ لَوْ كَانَ هَذَا سَاحِرًا مَا غُلبنا.
وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّة: أَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ، فَأَلْقَى عَصَاهُ، فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ فاغرٌ فَاهُ، يَبْتَلِعُ [[في م: "يبلع".]] حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ. فَأُلْقِيَ السَّحَرَةَ عِنْدَ ذَلِكَ سُجَّدًا، فَمَا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ حَتَّى رَأَوُا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَثَوَابَ أَهْلِهِمَا.
قَالَ فِرْعَوْنُ ءَامَنتُم بِهِۦ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَمَكْرٌۭ مَّكَرْتُمُوهُ فِى ٱلْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا۟ مِنْهَآ أَهْلَهَا ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
Said Pharaoh, "You believed in him before I gave you permission. Indeed, this is a conspiracy which you conspired in the city to expel therefrom its people. But you are going to know.
فرعون نے کہا کہ پیشتر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے؟ بےشک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہلِ شہر کو یہاں سے نکال دو۔ سو عنقریب (اس کا نتیجہ) معلوم کرلو گے
فرعون گفت: «آیا پیش از آنکه به شما اجازه دهم، به او ایمان آوردید؟! حتماً این نیرنگ و توطئهای است که در این شهر (و دیار) چیدهاید، تا اهلش را از آن بیرون کنید؛ ولی بزودی خواهید دانست!
Tafsir Ibn Kathir
Fir'awn said: "You have believed in him [Musa] before I gave you permission. Surely, this is a plot which you have plotted in the city to drive out its people, but you shall come to know. (123)"Surely, I will cut off your hands and your feet from opposite sides, then I will crucify you all. (124)They said: "Verily, we are returning to our Lord. (125)"And you take vengeance on us only because we believed in the Ayat of our Lord when they reached us! Our Lord! pour out on us patience, and cause us to die as Muslims. (126)
Fir'awn threatens the Magicians after They believed in Musa and Their Response to Him
Allah mentions the threats that the Fir'awn - may Allah curse him - made to the magicians after they believed Musa, peace be upon him, and the deceit and cunning that Fir'awn showed the people. Fir'awn said,
إِنَّ هَٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا
(Surely, this is a plot which you have plotted in the city to drive out its people,) meaning Fir'awn proclaimed, 'Musa's defeating you today was because you plotted with him and agreed to that.' Fir'awn also said,
إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ
(He (Musa) is your chief who has taught you magic.)[20:71]
However, Fir'awn and all those who had any sense of reason knew for sure that what Fir'awn said was utterly false. As soon as Musa came from Madyan, he called Fir'awn to Allah and demonstrated tremendous miracles and clear proofs for the Truth that he brought. Fir'awn then sent emissaries to various cities of his kingdom and collected magicians who were scattered throughout Egypt. Fir'awn and his people chose from them, summoned them, and Fir'awn promised them great rewards. These magicians were very eager to prevail over Musa in front of Fir'awn, so that they might become closer to him. Musa neither knew any of them nor saw or met them before. Fir'awn knew that, but he claimed otherwise to deceive the ignorant masses of his kingdom, just as Allah described them,
فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ
(Thus he [Fir'awn] fooled his people, and they obeyed him.)[43:54]
Certainly, a people who believed Fir'awn in his statement,
أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ
("I am your lord, most high.")[79:24], are among the most ignorant and misguided creatures of Allah.
In his Tafsir, As-Suddi reported that Ibn Mas'ud, Ibn 'Abbas, and several other Companions, commented,
إِنَّ هَٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ
("Surely, this is a plot which you have plotted in the city...")
"Musa met the leader of the magicians and said to him, 'If I defeat you, will you believe in me and bear witness that what I brought is the truth?' The magician said, 'Tomorrow, I will produce a type of magic that cannot be defeated by another magic. By Allah! If you defeat me, I will believe in you and testify to your truth.' Fir'awn was watching them, and this is why he said what he said." His statement,
لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا
("to drive out its people"), means, so that you all cooperate to gain influence and power, replacing the chiefs and masters of this land. In this case, power in the state will be yours,
فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
("but you shall come to know"), what I will do to you. He then explained his threat,
لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَافٍ
("Surely, I will cut off your hands and your feet from opposite sides.") by cutting the right hand and the left leg or the opposite,
ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ
("then I will crucify you all.") just as he said in another Ayah,
فِي جُذُوعِ النَّخْلِ
("'Fi' the trunks of date palms")[20:71], 'Fi' in this Ayah means "on". Ibn 'Abbas said that Fir'awn was the first to crucify and cut off hands and legs on opposite sides. The magicians said,
إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ
("Verily, we are returning to our Lord.")
They said, 'We are now sure that we will go back to Allah. Certainly, Allah's punishment is more severe than your punishment and His torment for what you are calling us to, this day, and the magic you forced us to practice, is greater than your torment. Therefore, we will observe patience in the face of your punishment today, so that we are saved from Allah's torment.' They continued,
رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا
("Our Lord! pour out on us patience"), with your religion and being firm in it,
وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ
("and cause us to die as Muslims."), as followers of Your Prophet Musa, peace be upon him. They also said to Fir'awn,
فَاقْضِ مَا أَنتَ قَاضٍ إِنَّمَا تَقْضِي هَٰذِهِ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا - إِنَّا آمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَايَانَا وَمَا أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ وَاللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ - إِنَّهُ مَن يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ - وَمَن يَأْتِهِ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ فَأُولَٰئِكَ لَهُمُ الدَّرَجَاتُ الْعُلَىٰ
("So decide whatever you desire to decree, for you can only decide for the life of this world. Verily, we have believed in our Lord, that He may forgive us our faults, and the magic to which you did compel us. And Allah is better [to reward] and more lasting [in punishment]. Verily, whoever comes to his Lord as a criminal, then surely, for him is Hell, wherein he will neither die nor live. But whoever comes to Him (Allah) as a believer, and has done righteous good deeds, for such are the high ranks (in the Hereafter).)[20:72-75].
The magicians started the day as sorcerers and ended as honorable martyrs! Ibn 'Abbas, 'Ubayd bin 'Umayr, Qatadah and Ibn Jurayj commented, "They started the day as sorcerers and ended it as martyrs."
Tafsir Ibn Kathir
فرعون سیخ پا ہو گیا جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کرلینے سے فرعون آگ بگولا ہوگیا اور اس اثر کو روکنے کیلئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو یہ تمہارا استاد ہے تم اس کے شاگرد ہو تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ بھئی تو پہلے چلا جا پھر ہم آجائیں گے اس طرح میدان قائم ہو ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائینگے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔ کوئی بیوقوف انسان بھی اس کے ایک جملہ کو بھی صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ ؑ اپنا بچپن فرعون کے محل میں گذارتے ہیں، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں، مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں فرعون انہیں اپنی رضامندی کا یقین دلاتا ہے خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں حضرت موسیٰ ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے نہ سنا ہے نہ ملے ہیں نہ جانتے ہیں۔ لیکن وزیرے چنیں شہریارے چناں وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی ؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ موسیٰ ؑ نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آجاؤں تو کیا تو مجھ پر ایمان لائے گا ؟ اس نے کہا آج میدان میں ہماری جانب جو جادو پیش کیا جائے گا اس کا جواب ساری مخلوق کے پاس نہیں تو اگر اس پر غالب آگیا تو مجھے بیشک یقین ہوجائے گا کہ وہ جادو نہیں معجزہ ہے۔ یہ گفتگو فرعون کے کانوں تک پہنچی اسے یہ دوہرا رہا ہے کہ تم نے ملی بھگت کرلی۔ اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال یہ چلتا اور کہتا ہے کہ تم اپنے ایکے، اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو، اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہوجائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کے کھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمھجتا تھا کہ اب یہ نرم پڑجائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہوگئے، بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا ؟ یہاں سے تو واپس اللہ کے پاس جانا ہی ہے اسی کے قبضہ وقدرت میں سب کچھ ہے آج اگر تیری سزاؤں سے بچ گئے تو کیا اللہ کے ہاں کی سزائیں بھی معاف ہوجائیں گی ؟ ہمارے نزدیک تو دنیا کی سزائیں بھگت لینا بہ نسبت آخرت کے عذاب کے بھگتنے کے بہت ہی آسان ہے۔ تو ہم سے اللہ کے نبی کا مقابلہ کراچکا ہے لیکن اب جبکہ ہم پر حق واضح ہوگیا ہم اس پر ایمان لے آئے تو تو چڑ رہا ہے۔ کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن پھر خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے اس لئے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ ہمیں صبر عطا فرما، ثابت قدمی دے، ہمیں اسلام پر ہی موت دے، تیرے نبی حضرت موسیٰ ؑ کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں۔ ایسا نہ ہو اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آجائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں۔ ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں، ہمتیں دگنی ہوجاتی ہیں فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر، کسر اٹھا نہ رکھ، جو جی میں ہے کر گذر تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے۔ ہم صبر کرلیں گے کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی ہے۔ گناہگاروں کے لئے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے جہاں نہ موت آئے نہ کارآمد زندگی ہو۔ اور مومنوں کے لئے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں۔ سبحان اللہ یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَمَّا تَوَعَّدَ بِهِ فِرْعَوْنُ، لَعَنَهُ اللَّهُ، السَّحَرَةَ لَمَّا آمَنُوا بِمُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَمَا أَظْهَرُهُ لِلنَّاسِ مِنْ كَيْدِهِ وَمَكْرِهِ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ هَذَا لَمَكْرٌ مَكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا﴾ أَيْ: إِنَّ غَلَبَه لَكُمْ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا إِنَّمَا كَانَ عَنْ تَشَاوُرٍ مِنْكُمْ وَرِضَا مِنْكُمْ لِذَلِكَ، كَقَوْلِهِ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ﴾ [طه:٧٠] وَهُوَ يَعْلَمُ وَكُلُّ مَنْ لَهُ لُبٌّ أَنَّ هَذَا الَّذِي قَالَهُ مِنْ أَبْطَلِ الْبَاطِلِ؛ فَإِنَّ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِمُجَرَّدِ مَا جَاءَ مِنْ "مَدْين" دَعَا فِرْعَوْنَ إِلَى اللَّهِ، وَأَظْهَرَ الْمُعْجِزَاتِ الْبَاهِرَةَ وَالْحُجَجَ الْقَاطِعَةَ عَلَى صِدْقِ مَا جَاءَ بِهِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ أَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي مَدَائِنِ مُلْكِهِ وَمُعَامَلَةِ سَلْطَنَتِهِ، فَجَمَعَ سَحَرَةً مُتَفَرِّقِينَ مِنْ سَائِرِ الْأَقَالِيمِ بِبِلَادِ مِصْرَ، مِمَّنِ اخْتَارَ هُوَ وَالْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ، وَأَحْضَرَهُمْ عِنْدَهُ وَوَعَدَهُمْ بِالْعَطَاءِ الْجَزِيلِ. وَقَدْ كَانُوا مِنْ أَحْرَصِ النَّاسِ عَلَى ذَلِكَ، وَعَلَى الظُّهُورِ فِي مَقَامِهِمْ ذَلِكَ وَالتَّقَدُّمِ عِنْدَ فِرْعَوْنَ، وَمُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَا يَعْرِفُ أَحَدًا مِنْهُمْ وَلَا رَآهُ وَلَا اجْتَمَعَ بِهِ، وَفِرْعَوْنُ يَعْلَمُ ذَلِكَ، وَإِنَّمَا قَالَ هَذَا تَسَتُّرًا وَتَدْلِيسًا عَلَى رَعَاعِ دَوْلَتِهِ وجَهَلتهم، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ﴾ [الزُّخْرُفِ:٥٤] فَإِنَّ قَوْمًا صَدَّقُوهُ فِي قَوْلِهِ: ﴿أَنَا رَبُّكُمُ الأعْلَى﴾ [النَّازِعَاتِ:٢٤] مِنْ أجْهَل خَلْقِ اللَّهِ وَأَضَلِّهِمْ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ فِي تَفْسِيرِهِ بِإِسْنَادِهِ الْمَشْهُورِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَغَيْرِهِمَا مِنَ الصَّحَابَةِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِنَّ هَذَا لَمَكْرٌ مَكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ﴾ قاوا: الْتَقَى مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وأميرُ السَّحَرَةِ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: أَرَأَيْتَكَ إِنْ غَلَبْتُكَ أَتُؤْمِنُ بِي، وَتَشْهَدُ أَنَّ مَا جِئْتُ بِهِ حَقٌّ؟ قَالَ السَّاحِرُ: لَآتِيَنَّ غَدًا بِسِحْرٍ لَا يَغْلِبُهُ سِحْرٌ، فوالله لئن غلبتني لأومنن بِكَ وَلَأَشْهَدَنَّ أَنَّكَ حَقٌّ. وَفِرْعَوْنُ يَنْظُرُ إِلَيْهِمَا، قَالُوا: فَلِهَذَا قَالَ مَا قَالَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا﴾ أَيْ: تَجْتَمِعُوا أَنْتُمْ وَهُوَ، وَتَكُونَ لكم [[في ك، م: "لهم".]] دولة وصولة، وتخرجوا مِنْهَا الْأَكَابِرَ وَالرُّؤَسَاءَ، وَتَكُونَ الدَّوْلَةُ وَالتَّصَرُّفُ لَكُمْ، ﴿فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: مَا أَصْنَعُ بِكُمْ.
ثُمَّ فَسَّرَ هَذَا الْوَعِيدَ بِقَوْلِهِ: ﴿لأقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ﴾ يَعْنِي: يَقْطَعُ يَدَ الرّجُل الْيُمْنَى ورجْله الْيُسْرَى أَوْ بِالْعَكْسِ. وَ ﴿لأصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ﴾ وَقَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿فِي جُذُوعِ النَّخْلِ﴾ [طه:٧١] أَيْ: عَلَى الْجُذُوعِ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكَانَ [[في م، أ: "فكان".]] أولَ مَنْ صَلَبَ، وأولَ مَنْ قَطَعَ الْأَيْدِيَ وَالْأَرْجُلَ مِنْ خِلَافٍ، فِرْعَوْنُ.
وَقَوْلُ السَّحَرَةِ: ﴿إِنَّا إِلَى رَبِّنَا مُنْقَلِبُونَ﴾ أَيْ: قَدْ تَحَقَّقْنَا أَنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، وَعَذَابَهُ أَشَدُّ مِنْ عَذَابِكَ، وَنَكَالُهُ [[في أ: "ونكاله على ".]] مَا تَدْعُونَا إِلَيْهِ، وَمَا أَكْرَهَتْنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ، أَعْظَمُ [[في د: "أشد".]] مِنْ نَكَالِكَ، فَلَنَصْبِرَنَّ الْيَوْمَ عَلَى عَذَابِكَ لِنَخْلُصَ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، لَمَّا قَالُوا: ﴿رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا﴾ أَيْ: عُمَّنَا بِالصَّبْرِ عَلَى دِينِكَ، وَالثَّبَاتِ عَلَيْهِ، ﴿وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ﴾ أَيْ: مُتَابِعِينَ لِنَبِيِّكَ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ. وَقَالُوا لِفِرْعَوْنَ: ﴿فَاقْضِ مَا أَنْتَ قَاضٍ إِنَّمَا تَقْضِي هَذِهِ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا * إِنَّا آمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَايَانَا وَمَا أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ وَاللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَى * إِنَّهُ مَنْ يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلا يَحْيَا * وَمَنْ يَأْتِهِ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ فَأُولَئِكَ لَهُمُالدَّرَجَاتُ الْعُلا﴾ [طه:٧٢-٧٥] فَكَانُوا فِي أَوَّلِ النَّهَارِ سَحَرَةً، فَصَارُوا فِي آخِرِهِ [[في ك، م، أ: "في آخر النهار".]] شُهَدَاءَ بَرَرَةً.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وعُبَيد بْنُ عُمَيْر، وَقَتَادَةُ، وَابْنُ جُرَيْج: كَانُوا فِي أَوَّلِ النَّهَارِ سَحَرَةً، وَفِي آخِرِهِ شُهَدَاءَ.
لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَٰفٍۢ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ
I will surely cut off your hands and your feet on opposite sides; then I will surely crucify you all."
میں (پہلے تو) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا پھر تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا
سوگند میخورم که دستها و پاهای شما را بطور مخالف [= دست راست با پای چپ، یا دست چپ با پای راست] قطع میکنم؛ سپس همگی را به دار میآویزم!
Tafsir Ibn Kathir
Fir'awn said: "You have believed in him [Musa] before I gave you permission. Surely, this is a plot which you have plotted in the city to drive out its people, but you shall come to know. (123)"Surely, I will cut off your hands and your feet from opposite sides, then I will crucify you all. (124)They said: "Verily, we are returning to our Lord. (125)"And you take vengeance on us only because we believed in the Ayat of our Lord when they reached us! Our Lord! pour out on us patience, and cause us to die as Muslims. (126)
Fir'awn threatens the Magicians after They believed in Musa and Their Response to Him
Allah mentions the threats that the Fir'awn - may Allah curse him - made to the magicians after they believed Musa, peace be upon him, and the deceit and cunning that Fir'awn showed the people. Fir'awn said,
إِنَّ هَٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا
(Surely, this is a plot which you have plotted in the city to drive out its people,) meaning Fir'awn proclaimed, 'Musa's defeating you today was because you plotted with him and agreed to that.' Fir'awn also said,
إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ
(He (Musa) is your chief who has taught you magic.)[20:71]
However, Fir'awn and all those who had any sense of reason knew for sure that what Fir'awn said was utterly false. As soon as Musa came from Madyan, he called Fir'awn to Allah and demonstrated tremendous miracles and clear proofs for the Truth that he brought. Fir'awn then sent emissaries to various cities of his kingdom and collected magicians who were scattered throughout Egypt. Fir'awn and his people chose from them, summoned them, and Fir'awn promised them great rewards. These magicians were very eager to prevail over Musa in front of Fir'awn, so that they might become closer to him. Musa neither knew any of them nor saw or met them before. Fir'awn knew that, but he claimed otherwise to deceive the ignorant masses of his kingdom, just as Allah described them,
فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ
(Thus he [Fir'awn] fooled his people, and they obeyed him.)[43:54]
Certainly, a people who believed Fir'awn in his statement,
أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ
("I am your lord, most high.")[79:24], are among the most ignorant and misguided creatures of Allah.
In his Tafsir, As-Suddi reported that Ibn Mas'ud, Ibn 'Abbas, and several other Companions, commented,
إِنَّ هَٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ
("Surely, this is a plot which you have plotted in the city...")
"Musa met the leader of the magicians and said to him, 'If I defeat you, will you believe in me and bear witness that what I brought is the truth?' The magician said, 'Tomorrow, I will produce a type of magic that cannot be defeated by another magic. By Allah! If you defeat me, I will believe in you and testify to your truth.' Fir'awn was watching them, and this is why he said what he said." His statement,
لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا
("to drive out its people"), means, so that you all cooperate to gain influence and power, replacing the chiefs and masters of this land. In this case, power in the state will be yours,
فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
("but you shall come to know"), what I will do to you. He then explained his threat,
لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَافٍ
("Surely, I will cut off your hands and your feet from opposite sides.") by cutting the right hand and the left leg or the opposite,
ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ
("then I will crucify you all.") just as he said in another Ayah,
فِي جُذُوعِ النَّخْلِ
("'Fi' the trunks of date palms")[20:71], 'Fi' in this Ayah means "on". Ibn 'Abbas said that Fir'awn was the first to crucify and cut off hands and legs on opposite sides. The magicians said,
إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ
("Verily, we are returning to our Lord.")
They said, 'We are now sure that we will go back to Allah. Certainly, Allah's punishment is more severe than your punishment and His torment for what you are calling us to, this day, and the magic you forced us to practice, is greater than your torment. Therefore, we will observe patience in the face of your punishment today, so that we are saved from Allah's torment.' They continued,
رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا
("Our Lord! pour out on us patience"), with your religion and being firm in it,
وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ
("and cause us to die as Muslims."), as followers of Your Prophet Musa, peace be upon him. They also said to Fir'awn,
فَاقْضِ مَا أَنتَ قَاضٍ إِنَّمَا تَقْضِي هَٰذِهِ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا - إِنَّا آمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَايَانَا وَمَا أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ وَاللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ - إِنَّهُ مَن يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ - وَمَن يَأْتِهِ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ فَأُولَٰئِكَ لَهُمُ الدَّرَجَاتُ الْعُلَىٰ
("So decide whatever you desire to decree, for you can only decide for the life of this world. Verily, we have believed in our Lord, that He may forgive us our faults, and the magic to which you did compel us. And Allah is better [to reward] and more lasting [in punishment]. Verily, whoever comes to his Lord as a criminal, then surely, for him is Hell, wherein he will neither die nor live. But whoever comes to Him (Allah) as a believer, and has done righteous good deeds, for such are the high ranks (in the Hereafter).)[20:72-75].
The magicians started the day as sorcerers and ended as honorable martyrs! Ibn 'Abbas, 'Ubayd bin 'Umayr, Qatadah and Ibn Jurayj commented, "They started the day as sorcerers and ended it as martyrs."
Tafsir Ibn Kathir
فرعون سیخ پا ہو گیا جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کرلینے سے فرعون آگ بگولا ہوگیا اور اس اثر کو روکنے کیلئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو یہ تمہارا استاد ہے تم اس کے شاگرد ہو تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ بھئی تو پہلے چلا جا پھر ہم آجائیں گے اس طرح میدان قائم ہو ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائینگے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔ کوئی بیوقوف انسان بھی اس کے ایک جملہ کو بھی صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ ؑ اپنا بچپن فرعون کے محل میں گذارتے ہیں، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں، مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں فرعون انہیں اپنی رضامندی کا یقین دلاتا ہے خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں حضرت موسیٰ ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے نہ سنا ہے نہ ملے ہیں نہ جانتے ہیں۔ لیکن وزیرے چنیں شہریارے چناں وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی ؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ موسیٰ ؑ نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آجاؤں تو کیا تو مجھ پر ایمان لائے گا ؟ اس نے کہا آج میدان میں ہماری جانب جو جادو پیش کیا جائے گا اس کا جواب ساری مخلوق کے پاس نہیں تو اگر اس پر غالب آگیا تو مجھے بیشک یقین ہوجائے گا کہ وہ جادو نہیں معجزہ ہے۔ یہ گفتگو فرعون کے کانوں تک پہنچی اسے یہ دوہرا رہا ہے کہ تم نے ملی بھگت کرلی۔ اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال یہ چلتا اور کہتا ہے کہ تم اپنے ایکے، اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو، اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہوجائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کے کھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمھجتا تھا کہ اب یہ نرم پڑجائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہوگئے، بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا ؟ یہاں سے تو واپس اللہ کے پاس جانا ہی ہے اسی کے قبضہ وقدرت میں سب کچھ ہے آج اگر تیری سزاؤں سے بچ گئے تو کیا اللہ کے ہاں کی سزائیں بھی معاف ہوجائیں گی ؟ ہمارے نزدیک تو دنیا کی سزائیں بھگت لینا بہ نسبت آخرت کے عذاب کے بھگتنے کے بہت ہی آسان ہے۔ تو ہم سے اللہ کے نبی کا مقابلہ کراچکا ہے لیکن اب جبکہ ہم پر حق واضح ہوگیا ہم اس پر ایمان لے آئے تو تو چڑ رہا ہے۔ کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن پھر خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے اس لئے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ ہمیں صبر عطا فرما، ثابت قدمی دے، ہمیں اسلام پر ہی موت دے، تیرے نبی حضرت موسیٰ ؑ کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں۔ ایسا نہ ہو اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آجائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں۔ ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں، ہمتیں دگنی ہوجاتی ہیں فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر، کسر اٹھا نہ رکھ، جو جی میں ہے کر گذر تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے۔ ہم صبر کرلیں گے کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی ہے۔ گناہگاروں کے لئے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے جہاں نہ موت آئے نہ کارآمد زندگی ہو۔ اور مومنوں کے لئے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں۔ سبحان اللہ یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَمَّا تَوَعَّدَ بِهِ فِرْعَوْنُ، لَعَنَهُ اللَّهُ، السَّحَرَةَ لَمَّا آمَنُوا بِمُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَمَا أَظْهَرُهُ لِلنَّاسِ مِنْ كَيْدِهِ وَمَكْرِهِ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ هَذَا لَمَكْرٌ مَكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا﴾ أَيْ: إِنَّ غَلَبَه لَكُمْ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا إِنَّمَا كَانَ عَنْ تَشَاوُرٍ مِنْكُمْ وَرِضَا مِنْكُمْ لِذَلِكَ، كَقَوْلِهِ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ﴾ [طه:٧٠] وَهُوَ يَعْلَمُ وَكُلُّ مَنْ لَهُ لُبٌّ أَنَّ هَذَا الَّذِي قَالَهُ مِنْ أَبْطَلِ الْبَاطِلِ؛ فَإِنَّ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِمُجَرَّدِ مَا جَاءَ مِنْ "مَدْين" دَعَا فِرْعَوْنَ إِلَى اللَّهِ، وَأَظْهَرَ الْمُعْجِزَاتِ الْبَاهِرَةَ وَالْحُجَجَ الْقَاطِعَةَ عَلَى صِدْقِ مَا جَاءَ بِهِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ أَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي مَدَائِنِ مُلْكِهِ وَمُعَامَلَةِ سَلْطَنَتِهِ، فَجَمَعَ سَحَرَةً مُتَفَرِّقِينَ مِنْ سَائِرِ الْأَقَالِيمِ بِبِلَادِ مِصْرَ، مِمَّنِ اخْتَارَ هُوَ وَالْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ، وَأَحْضَرَهُمْ عِنْدَهُ وَوَعَدَهُمْ بِالْعَطَاءِ الْجَزِيلِ. وَقَدْ كَانُوا مِنْ أَحْرَصِ النَّاسِ عَلَى ذَلِكَ، وَعَلَى الظُّهُورِ فِي مَقَامِهِمْ ذَلِكَ وَالتَّقَدُّمِ عِنْدَ فِرْعَوْنَ، وَمُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَا يَعْرِفُ أَحَدًا مِنْهُمْ وَلَا رَآهُ وَلَا اجْتَمَعَ بِهِ، وَفِرْعَوْنُ يَعْلَمُ ذَلِكَ، وَإِنَّمَا قَالَ هَذَا تَسَتُّرًا وَتَدْلِيسًا عَلَى رَعَاعِ دَوْلَتِهِ وجَهَلتهم، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ﴾ [الزُّخْرُفِ:٥٤] فَإِنَّ قَوْمًا صَدَّقُوهُ فِي قَوْلِهِ: ﴿أَنَا رَبُّكُمُ الأعْلَى﴾ [النَّازِعَاتِ:٢٤] مِنْ أجْهَل خَلْقِ اللَّهِ وَأَضَلِّهِمْ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ فِي تَفْسِيرِهِ بِإِسْنَادِهِ الْمَشْهُورِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَغَيْرِهِمَا مِنَ الصَّحَابَةِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِنَّ هَذَا لَمَكْرٌ مَكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ﴾ قاوا: الْتَقَى مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وأميرُ السَّحَرَةِ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: أَرَأَيْتَكَ إِنْ غَلَبْتُكَ أَتُؤْمِنُ بِي، وَتَشْهَدُ أَنَّ مَا جِئْتُ بِهِ حَقٌّ؟ قَالَ السَّاحِرُ: لَآتِيَنَّ غَدًا بِسِحْرٍ لَا يَغْلِبُهُ سِحْرٌ، فوالله لئن غلبتني لأومنن بِكَ وَلَأَشْهَدَنَّ أَنَّكَ حَقٌّ. وَفِرْعَوْنُ يَنْظُرُ إِلَيْهِمَا، قَالُوا: فَلِهَذَا قَالَ مَا قَالَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا﴾ أَيْ: تَجْتَمِعُوا أَنْتُمْ وَهُوَ، وَتَكُونَ لكم [[في ك، م: "لهم".]] دولة وصولة، وتخرجوا مِنْهَا الْأَكَابِرَ وَالرُّؤَسَاءَ، وَتَكُونَ الدَّوْلَةُ وَالتَّصَرُّفُ لَكُمْ، ﴿فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: مَا أَصْنَعُ بِكُمْ.
ثُمَّ فَسَّرَ هَذَا الْوَعِيدَ بِقَوْلِهِ: ﴿لأقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ﴾ يَعْنِي: يَقْطَعُ يَدَ الرّجُل الْيُمْنَى ورجْله الْيُسْرَى أَوْ بِالْعَكْسِ. وَ ﴿لأصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ﴾ وَقَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿فِي جُذُوعِ النَّخْلِ﴾ [طه:٧١] أَيْ: عَلَى الْجُذُوعِ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكَانَ [[في م، أ: "فكان".]] أولَ مَنْ صَلَبَ، وأولَ مَنْ قَطَعَ الْأَيْدِيَ وَالْأَرْجُلَ مِنْ خِلَافٍ، فِرْعَوْنُ.
وَقَوْلُ السَّحَرَةِ: ﴿إِنَّا إِلَى رَبِّنَا مُنْقَلِبُونَ﴾ أَيْ: قَدْ تَحَقَّقْنَا أَنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، وَعَذَابَهُ أَشَدُّ مِنْ عَذَابِكَ، وَنَكَالُهُ [[في أ: "ونكاله على ".]] مَا تَدْعُونَا إِلَيْهِ، وَمَا أَكْرَهَتْنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ، أَعْظَمُ [[في د: "أشد".]] مِنْ نَكَالِكَ، فَلَنَصْبِرَنَّ الْيَوْمَ عَلَى عَذَابِكَ لِنَخْلُصَ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، لَمَّا قَالُوا: ﴿رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا﴾ أَيْ: عُمَّنَا بِالصَّبْرِ عَلَى دِينِكَ، وَالثَّبَاتِ عَلَيْهِ، ﴿وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ﴾ أَيْ: مُتَابِعِينَ لِنَبِيِّكَ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ. وَقَالُوا لِفِرْعَوْنَ: ﴿فَاقْضِ مَا أَنْتَ قَاضٍ إِنَّمَا تَقْضِي هَذِهِ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا * إِنَّا آمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَايَانَا وَمَا أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ وَاللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَى * إِنَّهُ مَنْ يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلا يَحْيَا * وَمَنْ يَأْتِهِ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ فَأُولَئِكَ لَهُمُالدَّرَجَاتُ الْعُلا﴾ [طه:٧٢-٧٥] فَكَانُوا فِي أَوَّلِ النَّهَارِ سَحَرَةً، فَصَارُوا فِي آخِرِهِ [[في ك، م، أ: "في آخر النهار".]] شُهَدَاءَ بَرَرَةً.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وعُبَيد بْنُ عُمَيْر، وَقَتَادَةُ، وَابْنُ جُرَيْج: كَانُوا فِي أَوَّلِ النَّهَارِ سَحَرَةً، وَفِي آخِرِهِ شُهَدَاءَ.
قَالُوٓا۟ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ
They said, "Indeed, to our Lord we will return.
وہ بولے کہ ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
(ساحران) گفتند: «(مهم نیست،) ما به سوی پروردگارمان بازمیگردیم!
Tafsir Ibn Kathir
Fir'awn said: "You have believed in him [Musa] before I gave you permission. Surely, this is a plot which you have plotted in the city to drive out its people, but you shall come to know. (123)"Surely, I will cut off your hands and your feet from opposite sides, then I will crucify you all. (124)They said: "Verily, we are returning to our Lord. (125)"And you take vengeance on us only because we believed in the Ayat of our Lord when they reached us! Our Lord! pour out on us patience, and cause us to die as Muslims. (126)
Fir'awn threatens the Magicians after They believed in Musa and Their Response to Him
Allah mentions the threats that the Fir'awn - may Allah curse him - made to the magicians after they believed Musa, peace be upon him, and the deceit and cunning that Fir'awn showed the people. Fir'awn said,
إِنَّ هَٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا
(Surely, this is a plot which you have plotted in the city to drive out its people,) meaning Fir'awn proclaimed, 'Musa's defeating you today was because you plotted with him and agreed to that.' Fir'awn also said,
إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ
(He (Musa) is your chief who has taught you magic.)[20:71]
However, Fir'awn and all those who had any sense of reason knew for sure that what Fir'awn said was utterly false. As soon as Musa came from Madyan, he called Fir'awn to Allah and demonstrated tremendous miracles and clear proofs for the Truth that he brought. Fir'awn then sent emissaries to various cities of his kingdom and collected magicians who were scattered throughout Egypt. Fir'awn and his people chose from them, summoned them, and Fir'awn promised them great rewards. These magicians were very eager to prevail over Musa in front of Fir'awn, so that they might become closer to him. Musa neither knew any of them nor saw or met them before. Fir'awn knew that, but he claimed otherwise to deceive the ignorant masses of his kingdom, just as Allah described them,
فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ
(Thus he [Fir'awn] fooled his people, and they obeyed him.)[43:54]
Certainly, a people who believed Fir'awn in his statement,
أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ
("I am your lord, most high.")[79:24], are among the most ignorant and misguided creatures of Allah.
In his Tafsir, As-Suddi reported that Ibn Mas'ud, Ibn 'Abbas, and several other Companions, commented,
إِنَّ هَٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ
("Surely, this is a plot which you have plotted in the city...")
"Musa met the leader of the magicians and said to him, 'If I defeat you, will you believe in me and bear witness that what I brought is the truth?' The magician said, 'Tomorrow, I will produce a type of magic that cannot be defeated by another magic. By Allah! If you defeat me, I will believe in you and testify to your truth.' Fir'awn was watching them, and this is why he said what he said." His statement,
لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا
("to drive out its people"), means, so that you all cooperate to gain influence and power, replacing the chiefs and masters of this land. In this case, power in the state will be yours,
فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
("but you shall come to know"), what I will do to you. He then explained his threat,
لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَافٍ
("Surely, I will cut off your hands and your feet from opposite sides.") by cutting the right hand and the left leg or the opposite,
ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ
("then I will crucify you all.") just as he said in another Ayah,
فِي جُذُوعِ النَّخْلِ
("'Fi' the trunks of date palms")[20:71], 'Fi' in this Ayah means "on". Ibn 'Abbas said that Fir'awn was the first to crucify and cut off hands and legs on opposite sides. The magicians said,
إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ
("Verily, we are returning to our Lord.")
They said, 'We are now sure that we will go back to Allah. Certainly, Allah's punishment is more severe than your punishment and His torment for what you are calling us to, this day, and the magic you forced us to practice, is greater than your torment. Therefore, we will observe patience in the face of your punishment today, so that we are saved from Allah's torment.' They continued,
رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا
("Our Lord! pour out on us patience"), with your religion and being firm in it,
وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ
("and cause us to die as Muslims."), as followers of Your Prophet Musa, peace be upon him. They also said to Fir'awn,
فَاقْضِ مَا أَنتَ قَاضٍ إِنَّمَا تَقْضِي هَٰذِهِ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا - إِنَّا آمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَايَانَا وَمَا أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ وَاللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ - إِنَّهُ مَن يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ - وَمَن يَأْتِهِ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ فَأُولَٰئِكَ لَهُمُ الدَّرَجَاتُ الْعُلَىٰ
("So decide whatever you desire to decree, for you can only decide for the life of this world. Verily, we have believed in our Lord, that He may forgive us our faults, and the magic to which you did compel us. And Allah is better [to reward] and more lasting [in punishment]. Verily, whoever comes to his Lord as a criminal, then surely, for him is Hell, wherein he will neither die nor live. But whoever comes to Him (Allah) as a believer, and has done righteous good deeds, for such are the high ranks (in the Hereafter).)[20:72-75].
The magicians started the day as sorcerers and ended as honorable martyrs! Ibn 'Abbas, 'Ubayd bin 'Umayr, Qatadah and Ibn Jurayj commented, "They started the day as sorcerers and ended it as martyrs."
Tafsir Ibn Kathir
فرعون سیخ پا ہو گیا جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کرلینے سے فرعون آگ بگولا ہوگیا اور اس اثر کو روکنے کیلئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو یہ تمہارا استاد ہے تم اس کے شاگرد ہو تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ بھئی تو پہلے چلا جا پھر ہم آجائیں گے اس طرح میدان قائم ہو ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائینگے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔ کوئی بیوقوف انسان بھی اس کے ایک جملہ کو بھی صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ ؑ اپنا بچپن فرعون کے محل میں گذارتے ہیں، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں، مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں فرعون انہیں اپنی رضامندی کا یقین دلاتا ہے خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں حضرت موسیٰ ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے نہ سنا ہے نہ ملے ہیں نہ جانتے ہیں۔ لیکن وزیرے چنیں شہریارے چناں وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی ؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ موسیٰ ؑ نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آجاؤں تو کیا تو مجھ پر ایمان لائے گا ؟ اس نے کہا آج میدان میں ہماری جانب جو جادو پیش کیا جائے گا اس کا جواب ساری مخلوق کے پاس نہیں تو اگر اس پر غالب آگیا تو مجھے بیشک یقین ہوجائے گا کہ وہ جادو نہیں معجزہ ہے۔ یہ گفتگو فرعون کے کانوں تک پہنچی اسے یہ دوہرا رہا ہے کہ تم نے ملی بھگت کرلی۔ اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال یہ چلتا اور کہتا ہے کہ تم اپنے ایکے، اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو، اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہوجائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کے کھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمھجتا تھا کہ اب یہ نرم پڑجائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہوگئے، بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا ؟ یہاں سے تو واپس اللہ کے پاس جانا ہی ہے اسی کے قبضہ وقدرت میں سب کچھ ہے آج اگر تیری سزاؤں سے بچ گئے تو کیا اللہ کے ہاں کی سزائیں بھی معاف ہوجائیں گی ؟ ہمارے نزدیک تو دنیا کی سزائیں بھگت لینا بہ نسبت آخرت کے عذاب کے بھگتنے کے بہت ہی آسان ہے۔ تو ہم سے اللہ کے نبی کا مقابلہ کراچکا ہے لیکن اب جبکہ ہم پر حق واضح ہوگیا ہم اس پر ایمان لے آئے تو تو چڑ رہا ہے۔ کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن پھر خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے اس لئے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ ہمیں صبر عطا فرما، ثابت قدمی دے، ہمیں اسلام پر ہی موت دے، تیرے نبی حضرت موسیٰ ؑ کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں۔ ایسا نہ ہو اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آجائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں۔ ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں، ہمتیں دگنی ہوجاتی ہیں فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر، کسر اٹھا نہ رکھ، جو جی میں ہے کر گذر تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے۔ ہم صبر کرلیں گے کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی ہے۔ گناہگاروں کے لئے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے جہاں نہ موت آئے نہ کارآمد زندگی ہو۔ اور مومنوں کے لئے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں۔ سبحان اللہ یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَمَّا تَوَعَّدَ بِهِ فِرْعَوْنُ، لَعَنَهُ اللَّهُ، السَّحَرَةَ لَمَّا آمَنُوا بِمُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَمَا أَظْهَرُهُ لِلنَّاسِ مِنْ كَيْدِهِ وَمَكْرِهِ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ هَذَا لَمَكْرٌ مَكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا﴾ أَيْ: إِنَّ غَلَبَه لَكُمْ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا إِنَّمَا كَانَ عَنْ تَشَاوُرٍ مِنْكُمْ وَرِضَا مِنْكُمْ لِذَلِكَ، كَقَوْلِهِ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ﴾ [طه:٧٠] وَهُوَ يَعْلَمُ وَكُلُّ مَنْ لَهُ لُبٌّ أَنَّ هَذَا الَّذِي قَالَهُ مِنْ أَبْطَلِ الْبَاطِلِ؛ فَإِنَّ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِمُجَرَّدِ مَا جَاءَ مِنْ "مَدْين" دَعَا فِرْعَوْنَ إِلَى اللَّهِ، وَأَظْهَرَ الْمُعْجِزَاتِ الْبَاهِرَةَ وَالْحُجَجَ الْقَاطِعَةَ عَلَى صِدْقِ مَا جَاءَ بِهِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ أَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي مَدَائِنِ مُلْكِهِ وَمُعَامَلَةِ سَلْطَنَتِهِ، فَجَمَعَ سَحَرَةً مُتَفَرِّقِينَ مِنْ سَائِرِ الْأَقَالِيمِ بِبِلَادِ مِصْرَ، مِمَّنِ اخْتَارَ هُوَ وَالْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ، وَأَحْضَرَهُمْ عِنْدَهُ وَوَعَدَهُمْ بِالْعَطَاءِ الْجَزِيلِ. وَقَدْ كَانُوا مِنْ أَحْرَصِ النَّاسِ عَلَى ذَلِكَ، وَعَلَى الظُّهُورِ فِي مَقَامِهِمْ ذَلِكَ وَالتَّقَدُّمِ عِنْدَ فِرْعَوْنَ، وَمُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَا يَعْرِفُ أَحَدًا مِنْهُمْ وَلَا رَآهُ وَلَا اجْتَمَعَ بِهِ، وَفِرْعَوْنُ يَعْلَمُ ذَلِكَ، وَإِنَّمَا قَالَ هَذَا تَسَتُّرًا وَتَدْلِيسًا عَلَى رَعَاعِ دَوْلَتِهِ وجَهَلتهم، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ﴾ [الزُّخْرُفِ:٥٤] فَإِنَّ قَوْمًا صَدَّقُوهُ فِي قَوْلِهِ: ﴿أَنَا رَبُّكُمُ الأعْلَى﴾ [النَّازِعَاتِ:٢٤] مِنْ أجْهَل خَلْقِ اللَّهِ وَأَضَلِّهِمْ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ فِي تَفْسِيرِهِ بِإِسْنَادِهِ الْمَشْهُورِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَغَيْرِهِمَا مِنَ الصَّحَابَةِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِنَّ هَذَا لَمَكْرٌ مَكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ﴾ قاوا: الْتَقَى مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وأميرُ السَّحَرَةِ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: أَرَأَيْتَكَ إِنْ غَلَبْتُكَ أَتُؤْمِنُ بِي، وَتَشْهَدُ أَنَّ مَا جِئْتُ بِهِ حَقٌّ؟ قَالَ السَّاحِرُ: لَآتِيَنَّ غَدًا بِسِحْرٍ لَا يَغْلِبُهُ سِحْرٌ، فوالله لئن غلبتني لأومنن بِكَ وَلَأَشْهَدَنَّ أَنَّكَ حَقٌّ. وَفِرْعَوْنُ يَنْظُرُ إِلَيْهِمَا، قَالُوا: فَلِهَذَا قَالَ مَا قَالَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا﴾ أَيْ: تَجْتَمِعُوا أَنْتُمْ وَهُوَ، وَتَكُونَ لكم [[في ك، م: "لهم".]] دولة وصولة، وتخرجوا مِنْهَا الْأَكَابِرَ وَالرُّؤَسَاءَ، وَتَكُونَ الدَّوْلَةُ وَالتَّصَرُّفُ لَكُمْ، ﴿فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: مَا أَصْنَعُ بِكُمْ.
ثُمَّ فَسَّرَ هَذَا الْوَعِيدَ بِقَوْلِهِ: ﴿لأقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ﴾ يَعْنِي: يَقْطَعُ يَدَ الرّجُل الْيُمْنَى ورجْله الْيُسْرَى أَوْ بِالْعَكْسِ. وَ ﴿لأصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ﴾ وَقَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿فِي جُذُوعِ النَّخْلِ﴾ [طه:٧١] أَيْ: عَلَى الْجُذُوعِ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكَانَ [[في م، أ: "فكان".]] أولَ مَنْ صَلَبَ، وأولَ مَنْ قَطَعَ الْأَيْدِيَ وَالْأَرْجُلَ مِنْ خِلَافٍ، فِرْعَوْنُ.
وَقَوْلُ السَّحَرَةِ: ﴿إِنَّا إِلَى رَبِّنَا مُنْقَلِبُونَ﴾ أَيْ: قَدْ تَحَقَّقْنَا أَنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، وَعَذَابَهُ أَشَدُّ مِنْ عَذَابِكَ، وَنَكَالُهُ [[في أ: "ونكاله على ".]] مَا تَدْعُونَا إِلَيْهِ، وَمَا أَكْرَهَتْنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ، أَعْظَمُ [[في د: "أشد".]] مِنْ نَكَالِكَ، فَلَنَصْبِرَنَّ الْيَوْمَ عَلَى عَذَابِكَ لِنَخْلُصَ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، لَمَّا قَالُوا: ﴿رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا﴾ أَيْ: عُمَّنَا بِالصَّبْرِ عَلَى دِينِكَ، وَالثَّبَاتِ عَلَيْهِ، ﴿وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ﴾ أَيْ: مُتَابِعِينَ لِنَبِيِّكَ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ. وَقَالُوا لِفِرْعَوْنَ: ﴿فَاقْضِ مَا أَنْتَ قَاضٍ إِنَّمَا تَقْضِي هَذِهِ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا * إِنَّا آمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَايَانَا وَمَا أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ وَاللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَى * إِنَّهُ مَنْ يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلا يَحْيَا * وَمَنْ يَأْتِهِ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ فَأُولَئِكَ لَهُمُالدَّرَجَاتُ الْعُلا﴾ [طه:٧٢-٧٥] فَكَانُوا فِي أَوَّلِ النَّهَارِ سَحَرَةً، فَصَارُوا فِي آخِرِهِ [[في ك، م، أ: "في آخر النهار".]] شُهَدَاءَ بَرَرَةً.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وعُبَيد بْنُ عُمَيْر، وَقَتَادَةُ، وَابْنُ جُرَيْج: كَانُوا فِي أَوَّلِ النَّهَارِ سَحَرَةً، وَفِي آخِرِهِ شُهَدَاءَ.
وَمَا تَنقِمُ مِنَّآ إِلَّآ أَنْ ءَامَنَّا بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا ۚ رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًۭا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ
And you do not resent us except because we believed in the signs of our Lord when they came to us. Our Lord, pour upon us patience and let us die as Muslims [in submission to You]."
اور اس کے سوا تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے کہ جب ہمارے پروردگار کی نشانیاں ہمارے پاس آگئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے۔ اے پروردگار ہم پر صبرواستقامت کے دہانے کھول دے اور ہمیں (ماریو تو) مسلمان ہی ماریو
انتقام تو از ما، تنها بخاطر این است که ما به آیات پروردگار خویش -هنگامی که به سراغ ما آمد- ایمان آوردیم. بار الها! صبر و استقامت بر ما فرو ریز! (و آخرین درجه شکیبائی را به ما مرحمت فرما!) و ما را مسلمان بمیران!»
Tafsir Ibn Kathir
Fir'awn said: "You have believed in him [Musa] before I gave you permission. Surely, this is a plot which you have plotted in the city to drive out its people, but you shall come to know. (123)"Surely, I will cut off your hands and your feet from opposite sides, then I will crucify you all. (124)They said: "Verily, we are returning to our Lord. (125)"And you take vengeance on us only because we believed in the Ayat of our Lord when they reached us! Our Lord! pour out on us patience, and cause us to die as Muslims. (126)
Fir'awn threatens the Magicians after They believed in Musa and Their Response to Him
Allah mentions the threats that the Fir'awn - may Allah curse him - made to the magicians after they believed Musa, peace be upon him, and the deceit and cunning that Fir'awn showed the people. Fir'awn said,
إِنَّ هَٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا
(Surely, this is a plot which you have plotted in the city to drive out its people,) meaning Fir'awn proclaimed, 'Musa's defeating you today was because you plotted with him and agreed to that.' Fir'awn also said,
إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ
(He (Musa) is your chief who has taught you magic.)[20:71]
However, Fir'awn and all those who had any sense of reason knew for sure that what Fir'awn said was utterly false. As soon as Musa came from Madyan, he called Fir'awn to Allah and demonstrated tremendous miracles and clear proofs for the Truth that he brought. Fir'awn then sent emissaries to various cities of his kingdom and collected magicians who were scattered throughout Egypt. Fir'awn and his people chose from them, summoned them, and Fir'awn promised them great rewards. These magicians were very eager to prevail over Musa in front of Fir'awn, so that they might become closer to him. Musa neither knew any of them nor saw or met them before. Fir'awn knew that, but he claimed otherwise to deceive the ignorant masses of his kingdom, just as Allah described them,
فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ
(Thus he [Fir'awn] fooled his people, and they obeyed him.)[43:54]
Certainly, a people who believed Fir'awn in his statement,
أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ
("I am your lord, most high.")[79:24], are among the most ignorant and misguided creatures of Allah.
In his Tafsir, As-Suddi reported that Ibn Mas'ud, Ibn 'Abbas, and several other Companions, commented,
إِنَّ هَٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ
("Surely, this is a plot which you have plotted in the city...")
"Musa met the leader of the magicians and said to him, 'If I defeat you, will you believe in me and bear witness that what I brought is the truth?' The magician said, 'Tomorrow, I will produce a type of magic that cannot be defeated by another magic. By Allah! If you defeat me, I will believe in you and testify to your truth.' Fir'awn was watching them, and this is why he said what he said." His statement,
لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا
("to drive out its people"), means, so that you all cooperate to gain influence and power, replacing the chiefs and masters of this land. In this case, power in the state will be yours,
فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
("but you shall come to know"), what I will do to you. He then explained his threat,
لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَافٍ
("Surely, I will cut off your hands and your feet from opposite sides.") by cutting the right hand and the left leg or the opposite,
ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ
("then I will crucify you all.") just as he said in another Ayah,
فِي جُذُوعِ النَّخْلِ
("'Fi' the trunks of date palms")[20:71], 'Fi' in this Ayah means "on". Ibn 'Abbas said that Fir'awn was the first to crucify and cut off hands and legs on opposite sides. The magicians said,
إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ
("Verily, we are returning to our Lord.")
They said, 'We are now sure that we will go back to Allah. Certainly, Allah's punishment is more severe than your punishment and His torment for what you are calling us to, this day, and the magic you forced us to practice, is greater than your torment. Therefore, we will observe patience in the face of your punishment today, so that we are saved from Allah's torment.' They continued,
رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا
("Our Lord! pour out on us patience"), with your religion and being firm in it,
وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ
("and cause us to die as Muslims."), as followers of Your Prophet Musa, peace be upon him. They also said to Fir'awn,
فَاقْضِ مَا أَنتَ قَاضٍ إِنَّمَا تَقْضِي هَٰذِهِ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا - إِنَّا آمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَايَانَا وَمَا أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ وَاللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ - إِنَّهُ مَن يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ - وَمَن يَأْتِهِ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ فَأُولَٰئِكَ لَهُمُ الدَّرَجَاتُ الْعُلَىٰ
("So decide whatever you desire to decree, for you can only decide for the life of this world. Verily, we have believed in our Lord, that He may forgive us our faults, and the magic to which you did compel us. And Allah is better [to reward] and more lasting [in punishment]. Verily, whoever comes to his Lord as a criminal, then surely, for him is Hell, wherein he will neither die nor live. But whoever comes to Him (Allah) as a believer, and has done righteous good deeds, for such are the high ranks (in the Hereafter).)[20:72-75].
The magicians started the day as sorcerers and ended as honorable martyrs! Ibn 'Abbas, 'Ubayd bin 'Umayr, Qatadah and Ibn Jurayj commented, "They started the day as sorcerers and ended it as martyrs."
Tafsir Ibn Kathir
فرعون سیخ پا ہو گیا جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کرلینے سے فرعون آگ بگولا ہوگیا اور اس اثر کو روکنے کیلئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو یہ تمہارا استاد ہے تم اس کے شاگرد ہو تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ بھئی تو پہلے چلا جا پھر ہم آجائیں گے اس طرح میدان قائم ہو ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائینگے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔ کوئی بیوقوف انسان بھی اس کے ایک جملہ کو بھی صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ ؑ اپنا بچپن فرعون کے محل میں گذارتے ہیں، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں، مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں فرعون انہیں اپنی رضامندی کا یقین دلاتا ہے خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں حضرت موسیٰ ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے نہ سنا ہے نہ ملے ہیں نہ جانتے ہیں۔ لیکن وزیرے چنیں شہریارے چناں وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی ؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ موسیٰ ؑ نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آجاؤں تو کیا تو مجھ پر ایمان لائے گا ؟ اس نے کہا آج میدان میں ہماری جانب جو جادو پیش کیا جائے گا اس کا جواب ساری مخلوق کے پاس نہیں تو اگر اس پر غالب آگیا تو مجھے بیشک یقین ہوجائے گا کہ وہ جادو نہیں معجزہ ہے۔ یہ گفتگو فرعون کے کانوں تک پہنچی اسے یہ دوہرا رہا ہے کہ تم نے ملی بھگت کرلی۔ اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال یہ چلتا اور کہتا ہے کہ تم اپنے ایکے، اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو، اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہوجائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کے کھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمھجتا تھا کہ اب یہ نرم پڑجائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہوگئے، بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا ؟ یہاں سے تو واپس اللہ کے پاس جانا ہی ہے اسی کے قبضہ وقدرت میں سب کچھ ہے آج اگر تیری سزاؤں سے بچ گئے تو کیا اللہ کے ہاں کی سزائیں بھی معاف ہوجائیں گی ؟ ہمارے نزدیک تو دنیا کی سزائیں بھگت لینا بہ نسبت آخرت کے عذاب کے بھگتنے کے بہت ہی آسان ہے۔ تو ہم سے اللہ کے نبی کا مقابلہ کراچکا ہے لیکن اب جبکہ ہم پر حق واضح ہوگیا ہم اس پر ایمان لے آئے تو تو چڑ رہا ہے۔ کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن پھر خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے اس لئے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ ہمیں صبر عطا فرما، ثابت قدمی دے، ہمیں اسلام پر ہی موت دے، تیرے نبی حضرت موسیٰ ؑ کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں۔ ایسا نہ ہو اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آجائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں۔ ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں، ہمتیں دگنی ہوجاتی ہیں فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر، کسر اٹھا نہ رکھ، جو جی میں ہے کر گذر تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے۔ ہم صبر کرلیں گے کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی ہے۔ گناہگاروں کے لئے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے جہاں نہ موت آئے نہ کارآمد زندگی ہو۔ اور مومنوں کے لئے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں۔ سبحان اللہ یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَمَّا تَوَعَّدَ بِهِ فِرْعَوْنُ، لَعَنَهُ اللَّهُ، السَّحَرَةَ لَمَّا آمَنُوا بِمُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَمَا أَظْهَرُهُ لِلنَّاسِ مِنْ كَيْدِهِ وَمَكْرِهِ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ هَذَا لَمَكْرٌ مَكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا﴾ أَيْ: إِنَّ غَلَبَه لَكُمْ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا إِنَّمَا كَانَ عَنْ تَشَاوُرٍ مِنْكُمْ وَرِضَا مِنْكُمْ لِذَلِكَ، كَقَوْلِهِ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ﴾ [طه:٧٠] وَهُوَ يَعْلَمُ وَكُلُّ مَنْ لَهُ لُبٌّ أَنَّ هَذَا الَّذِي قَالَهُ مِنْ أَبْطَلِ الْبَاطِلِ؛ فَإِنَّ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِمُجَرَّدِ مَا جَاءَ مِنْ "مَدْين" دَعَا فِرْعَوْنَ إِلَى اللَّهِ، وَأَظْهَرَ الْمُعْجِزَاتِ الْبَاهِرَةَ وَالْحُجَجَ الْقَاطِعَةَ عَلَى صِدْقِ مَا جَاءَ بِهِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ أَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي مَدَائِنِ مُلْكِهِ وَمُعَامَلَةِ سَلْطَنَتِهِ، فَجَمَعَ سَحَرَةً مُتَفَرِّقِينَ مِنْ سَائِرِ الْأَقَالِيمِ بِبِلَادِ مِصْرَ، مِمَّنِ اخْتَارَ هُوَ وَالْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ، وَأَحْضَرَهُمْ عِنْدَهُ وَوَعَدَهُمْ بِالْعَطَاءِ الْجَزِيلِ. وَقَدْ كَانُوا مِنْ أَحْرَصِ النَّاسِ عَلَى ذَلِكَ، وَعَلَى الظُّهُورِ فِي مَقَامِهِمْ ذَلِكَ وَالتَّقَدُّمِ عِنْدَ فِرْعَوْنَ، وَمُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَا يَعْرِفُ أَحَدًا مِنْهُمْ وَلَا رَآهُ وَلَا اجْتَمَعَ بِهِ، وَفِرْعَوْنُ يَعْلَمُ ذَلِكَ، وَإِنَّمَا قَالَ هَذَا تَسَتُّرًا وَتَدْلِيسًا عَلَى رَعَاعِ دَوْلَتِهِ وجَهَلتهم، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ﴾ [الزُّخْرُفِ:٥٤] فَإِنَّ قَوْمًا صَدَّقُوهُ فِي قَوْلِهِ: ﴿أَنَا رَبُّكُمُ الأعْلَى﴾ [النَّازِعَاتِ:٢٤] مِنْ أجْهَل خَلْقِ اللَّهِ وَأَضَلِّهِمْ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ فِي تَفْسِيرِهِ بِإِسْنَادِهِ الْمَشْهُورِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَغَيْرِهِمَا مِنَ الصَّحَابَةِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِنَّ هَذَا لَمَكْرٌ مَكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ﴾ قاوا: الْتَقَى مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وأميرُ السَّحَرَةِ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: أَرَأَيْتَكَ إِنْ غَلَبْتُكَ أَتُؤْمِنُ بِي، وَتَشْهَدُ أَنَّ مَا جِئْتُ بِهِ حَقٌّ؟ قَالَ السَّاحِرُ: لَآتِيَنَّ غَدًا بِسِحْرٍ لَا يَغْلِبُهُ سِحْرٌ، فوالله لئن غلبتني لأومنن بِكَ وَلَأَشْهَدَنَّ أَنَّكَ حَقٌّ. وَفِرْعَوْنُ يَنْظُرُ إِلَيْهِمَا، قَالُوا: فَلِهَذَا قَالَ مَا قَالَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا﴾ أَيْ: تَجْتَمِعُوا أَنْتُمْ وَهُوَ، وَتَكُونَ لكم [[في ك، م: "لهم".]] دولة وصولة، وتخرجوا مِنْهَا الْأَكَابِرَ وَالرُّؤَسَاءَ، وَتَكُونَ الدَّوْلَةُ وَالتَّصَرُّفُ لَكُمْ، ﴿فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: مَا أَصْنَعُ بِكُمْ.
ثُمَّ فَسَّرَ هَذَا الْوَعِيدَ بِقَوْلِهِ: ﴿لأقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ﴾ يَعْنِي: يَقْطَعُ يَدَ الرّجُل الْيُمْنَى ورجْله الْيُسْرَى أَوْ بِالْعَكْسِ. وَ ﴿لأصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ﴾ وَقَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿فِي جُذُوعِ النَّخْلِ﴾ [طه:٧١] أَيْ: عَلَى الْجُذُوعِ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكَانَ [[في م، أ: "فكان".]] أولَ مَنْ صَلَبَ، وأولَ مَنْ قَطَعَ الْأَيْدِيَ وَالْأَرْجُلَ مِنْ خِلَافٍ، فِرْعَوْنُ.
وَقَوْلُ السَّحَرَةِ: ﴿إِنَّا إِلَى رَبِّنَا مُنْقَلِبُونَ﴾ أَيْ: قَدْ تَحَقَّقْنَا أَنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، وَعَذَابَهُ أَشَدُّ مِنْ عَذَابِكَ، وَنَكَالُهُ [[في أ: "ونكاله على ".]] مَا تَدْعُونَا إِلَيْهِ، وَمَا أَكْرَهَتْنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ، أَعْظَمُ [[في د: "أشد".]] مِنْ نَكَالِكَ، فَلَنَصْبِرَنَّ الْيَوْمَ عَلَى عَذَابِكَ لِنَخْلُصَ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، لَمَّا قَالُوا: ﴿رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا﴾ أَيْ: عُمَّنَا بِالصَّبْرِ عَلَى دِينِكَ، وَالثَّبَاتِ عَلَيْهِ، ﴿وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ﴾ أَيْ: مُتَابِعِينَ لِنَبِيِّكَ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ. وَقَالُوا لِفِرْعَوْنَ: ﴿فَاقْضِ مَا أَنْتَ قَاضٍ إِنَّمَا تَقْضِي هَذِهِ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا * إِنَّا آمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَايَانَا وَمَا أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ وَاللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَى * إِنَّهُ مَنْ يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلا يَحْيَا * وَمَنْ يَأْتِهِ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ فَأُولَئِكَ لَهُمُالدَّرَجَاتُ الْعُلا﴾ [طه:٧٢-٧٥] فَكَانُوا فِي أَوَّلِ النَّهَارِ سَحَرَةً، فَصَارُوا فِي آخِرِهِ [[في ك، م، أ: "في آخر النهار".]] شُهَدَاءَ بَرَرَةً.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وعُبَيد بْنُ عُمَيْر، وَقَتَادَةُ، وَابْنُ جُرَيْج: كَانُوا فِي أَوَّلِ النَّهَارِ سَحَرَةً، وَفِي آخِرِهِ شُهَدَاءَ.
وَقَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُۥ لِيُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَيَذَرَكَ وَءَالِهَتَكَ ۚ قَالَ سَنُقَتِّلُ أَبْنَآءَهُمْ وَنَسْتَحْىِۦ نِسَآءَهُمْ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قَٰهِرُونَ
And the eminent among the people of Pharaoh said," Will you leave Moses and his people to cause corruption in the land and abandon you and your gods?" [Pharaoh] said, "We will kill their sons and keep their women alive; and indeed, we are subjugators over them."
اور قومِ فرعون میں جو سردار تھے کہنے لگے کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیجیے گا کہ ملک میں خرابی کریں اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں۔ وہ بولے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کرڈالیں گے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیں گے اور بےشک ہم ان پر غالب ہیں
و اشراف قوم فرعون (به او) گفتند: «آیا موسی و قومش را رها میکنی که در زمین فساد کنند، و تو و خدایانت را رها سازد؟!» گفت: «بزودی پسرانشان را میکشیم، و دخترانشان را زنده نگه میداریم (تا به ما خدمت کنند)؛ و ما بر آنها کاملاً مسلّطیم!»
Tafsir Ibn Kathir
The chiefs of Fir'awn's people said: "Will you leave Musa and his people to spread mischief in the land, and to abandon you and your gods?" He said: "We will kill their sons, and let their women live, and we have indeed irresistible power over them. (127)Musa said to his people: "Seek help in Allah and be patient. Verily, the earth is Allah's. He gives it as a heritage to whom He wills of His servants; and the (blessed) end is for the pious and righteous persons. (128)They said: "We suffered troubles before you came to us, and since you have come to us." He said: "It may be that your Lord will destroy your enemy and make you successors on the earth, so that He may see how you act? (129)
Fir'awn vows to kill the Children of Israel, Who complain to Musa; Allah promises Them Victory
Allah mentions the conspiracy of Fir'awn and his people, their ill intentions and their hatred for Musa and his people.
وَقَالَ الْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ
(The chiefs of Fir'awn's people said), to Fir'awn,
أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُ
("Will you leave Musa and his people"), will you let them be free,
لِيُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ
("to spread mischief in the land"), spreading unrest among your subjects and calling them to worship their Lord instead of you?
Amazingly, these people were worried that Musa and his people would cause mischief! Rather, Fir'awn and his people are the mischief-makers, but they did not realize it. They said,
وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ
("and to abandon you and your gods")
Your gods', according to Ibn 'Abbas, as As-Suddi narrated from him, "Were cows. Whenever they saw a beautiful cow, Fir'awn would command them to worship it. This is why As-Samiri, made the statue of a calf that seemed to moo for the Children of Israel." Fir'awn accepted his people's recommendation, saying,
سَنُقَتِّلُ أَبْنَاءَهُمْ وَنَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ
("We will kill their sons, and let their women live") thus reiterating his previous order concerning the Children of Israel. He had tormented them [killing every newly born male] before Musa was born, so that Musa would not live. However, the opposite of what Fir'awn sought and intended occurred. The same end struck Fir'awn that he intended to subjugate and humiliate the Children of Israel with. Allah gave victory to the Children of Israel, humiliated and disgraced Fir'awn, and caused him to drown along with his soldiers.
When Fir'awn insisted on his evil plot against the Children of Israel,
قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّهِ وَاصْبِرُوا
(Musa said to his people: "Seek help in Allah and be patient") and promised them that the good end will be theirs and that they will prevail, saying,
إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ - قَالُوا أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا
("Verily, the earth is Allah's. He gives it as a heritage to whom He wills of His servants; and the (blessed) end is for the pious and righteous persons." They said: "We suffered troubles before you came to us, and since you have come to us.")
The Children of Israel replied to Musa, 'they (Fir'awn and his people) inflicted humiliation and disgrace on us, some you witnessed, both before and after you came to us, O Musa'! Musa replied, reminding them of their present situation and how it will change in the future,
عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ
("It may be that your Lord will destroy your enemy...") encouraging them to appreciate Allah when the afflictions are removed and replaced by a bounty.
Tafsir Ibn Kathir
آخری حربہ بغاوت کا الزام فرعون اور فرعونیت نے حضرت موسیٰ اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے کہنے لگے یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں بغاوت پھیلا دیں گے ملک میں بد امنی پیدا کریں گے ان کا ضرور اور جلد کوئی انتظام کرنا چاہئے، اللہ کی شان دیکھئے کیا مصلح بنے ہوئے ہیں کہ اللہ کے رسول اور مومنوں کے فساد سے دنیا کو بچانا چاہتے ہیں حالانکہ مفسد اور بد نفس خود ہیں۔ آیت (ویذرک) میں بعض تو کہتے ہیں واؤ حالیہ ہے یعنی در آنحالیکہ موسیٰ اور قوم موسیٰ نے تیری پرستش چھوڑ رکھی ہے پھر بھی تو انہیں زندہ رہنے دیتا ہے ؟ حضرت ابی بن کعب کی قرأت میں ہے آیت (وقد ترکوک ان یعبدوا الھتک) اور قول ہے کہ واؤ عاطفہ ہے یعنی تو نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔ جس فساد کو یہ برپا کر رہے ہیں اور تیرے معبودوں کے چھوڑنے پر اکسا رہے ہیں۔ بعض کی قرأت الاھتک ہے یعنی تیری عبادت سے، بعض کا بیان ہے کہ فرعون بھی کسی کو پوجا کرتا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے وہ پوشیدہ راز میں رکھتا تھا، ایک روایت میں ہے کہ اس کا بت اس کی گردن میں ہی لٹکتا رہتا تھا جسے یہ سجدہ کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بہترین گائے پر فرعون کی نگاہ پڑی جاتی تو لوگوں سے کہہ دیتا کہ اس کی پرستش کرو۔ اسی لئے سامری نے بھی بنی اسرائیل کے لئے بچھڑا نکالا۔ الغرض اپنے سرداروں کی بات سن کر فرعون جواب دیتا ہے کہ اب سے ان کے لئے ہم احکام جاری کریں گے کہ ان کے ہاں جو اولاد ہو دیکھ لی جائے۔ اگر لڑکا ہو تو قتل کردیا جائے لڑکی ہو تو زندہ چھوڑ دی جائے۔ پہلے سرکش فرعون ان مساکین کے ساتھ یہی کرچکا تھا جبکہ اسے یہ منظور تھا کہ حضرت موسیٰ پیدا ہی نہ ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ارادہ غالب آیا اور حضرت موسیٰ باوجود اس کے حکم کے زندہ وسالم بجے رہے اب دوبارہ اس نے یہی قانون جاری کردیا تاکہ بنی اسرائیل کی جمعیت ٹوٹ جائے، یہ کمزور پڑجائیں اور بالاخر ان کا نام مٹ جائے لیکن قدرت نے اس کا بھی خلاف کر دکھایا، اسی کو اور اس کی قوم کو غارت کردیا اور بنی اسرائیل کو اوج و ترقی پر پہنچا دیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اس تکبر کے مقابلے میں تحمل اور اس کے ظلم کے مقابلے میں صبر سے کام لیا اپنی قوم کو سمجھایا اور بتایا کہ اللہ فرما چکا ہے کہ لحاظ سے تم ہی اچھے رہو گے تم اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ قوم والوں نے کہا اے اللہ کے نبی آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم اس طرح ستائے جاتے رہے، اسی ذلت و اہانت میں مبتلا رہے اور اب پھر یہی نوبت آئی ہے۔ آپ نے مزید تسلی دی اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں۔ یقین مانو کہ تمہارا بدخواہ ہلاک ہوگا اور تم کو اللہ تعالیٰ اوج پر پہنچائے گا۔ اس وقت وہ دیکھے گا کہ کون کتنا شکر بجا لاتا ہے ؟ تکلیف کا ہٹ جانا راحت کامل جانا انسان کو نہال نہال کردیتا ہے یہ پورے شکریئے کا وقت ہوتا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَمَّا تَمَالَأَ عَلَيْهِ فِرْعَوْنُ وَمَلَؤُهُ، وَمَا أَظْهَرُوهُ [[في ك، م، أ: "أضمروه"، وفي د: "أضمروا".]] لِمُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَقَوْمِهِ مِنَ الْأَذَى وَالْبِغْضَةِ: ﴿وَقَالَ الْمَلأ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ﴾ أَيْ: لِفِرْعَوْنَ ﴿أَتَذَرُ مُوسَى وَقَوْمَهُ﴾ أَيْ: أَتَدَعُهُمْ لِيُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ، أَيْ: يُفْسِدُوا أَهْلَ رَعَيَّتِكَ وَيَدْعُوهُمْ إِلَى عِبَادَةِ رَبِّهِمْ دُونَكَ، يَالَلَّهِ لِلْعَجَبِ! صَارَ [[في أ: "صاروا".]] هَؤُلَاءِ يُشْفِقُونَ مِنْ إِفْسَادِ مُوسَى وَقَوْمِهِ! أَلَا إِنَّ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ هُمُ الْمُفْسِدُونَ، وَلَكِنْ لَا يَشْعُرُونَ؛ وَلِهَذَا قَالُوا: ﴿وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ﴾ قَالَ بَعْضُهُمْ: "الْوَاوُ" هُنَا حَالِيَّةٌ، أَيْ: أَتَذِرُهُ وَقَوْمَهُ يُفْسِدُونَ وَقَدْ تَرَكَ عبادتك؟ وَقَرَأَ ذَلِكَ أُبيّ بْنُ كَعْبٍ: "وَقَدْ تَرَكُوكَ أَنْ يَعْبُدُوكَ وَآلِهَتَكَ"، حَكَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ آخَرُونَ: هِيَ عَاطِفَةٌ، أَيْ: لَا تَدَعْ مُوسَى يَصْنَعُ هُوَ وَقَوْمُهُ مِنَ الْفَسَادِ مَا قَدْ أَقْرَرْتَهُمْ [[في أ: "أقررتم".]] عَلَيْهِ وَعَلَى تَرْكِهِ آلِهَتَكَ.
وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ: "إِلَاهَتَكَ" أَيْ: عِبَادَتَكَ، ورُوي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمُجَاهِدٍ.
وَعَلَى الْقِرَاءَةِ الْأُولَى قَالَ بَعْضُهُمْ: كَانَ لِفِرْعَوْنَ إِلَهٌ يَعْبُدُهُ. قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: كَانَ لِفِرْعَوْنَ إِلَهٌ يَعْبُدُهُ فِي السِّرِّ. وَقَالَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: كَانَ لَهُ [[في ك، م، أ: "لفرعون".]] جُمَانة فِي عُنُقِهِ مُعَلَّقَةٌ يَسْجُدُ لَهَا.
وَقَالَ السُّدِّيُّ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ﴾ وَآلِهَتُهُ، فِيمَا زَعَمَ ابْنُ عَبَّاسٍ، كَانَتِ الْبَقَرُ، كَانُوا إِذَا رَأَوْا بَقَرَةً حَسْنَاءَ أَمَرَهُمْ فِرْعَوْنُ أَنْ يَعْبُدُوهَا، فَلِذَلِكَ أَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا.
فَأَجَابَهُمْ فِرْعَوْنُ فِيمَا سَأَلُوهُ بِقَوْلِهِ: ﴿سَنُقَتِّلُ أَبْنَاءَهُمْ وَنَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ﴾ وَهَذَا أَمْرٌ ثَانٍ بِهَذَا الصَّنِيعِ، وَقَدْ كَانَ نَكَّلَ بِهِمْ بِهِ قَبْلَ وِلَادَةِ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، حَذَرًا مِنْ وُجُودِهِ، فَكَانَ خِلَافَ مَا رَامَهُ وَضِدَّ مَا قَصَدَهُ فِرْعَوْنُ. وَهَكَذَا عُومِلَ فِي صَنِيعِهِ [هَذَا] [[زيادة من م، أ.]] أَيْضًا، إِنَّمَا أَرَادَ قَهْرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَإِذْلَالَهُمْ، فَجَاءَ الْأَمْرُ عَلَى خِلَافِ مَا أَرَادَ: نَصَرَهُمُ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَذَلَّهُ، وَأَرْغَمَ أَنْفَهُ، وَأَغْرَقَهُ وَجُنُودَهُ.
وَلَمَّا صَمَّمَ فِرْعَوْنُ عَلَى مَا ذَكَرَهُ مِنَ الْمُسَاءَةِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ، ﴿قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّهِ وَاصْبِرُوا﴾ وَوَعْدَهُمْ بِالْعَاقِبَةِ، وَأَنَّ الدَّارَ سَتَصِيرُ لَهُمْ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الأرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ * قَالُوا أُوذِينَا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَأْتِيَنَا وَمِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا﴾ أَيْ: قَدْ جَرَى عَلَيْنَا مِثْلُ مَا رَأَيْتَ مِنَ الْهَوَانِ وَالْإِذْلَالِ مِنْ قَبْلِ مَا جِئْتَ يَا مُوسَى، وَمِنْ بَعْدِ ذَلِكَ. فَقَالَ مُنَبِّهًا لَهُمْ عَلَى حَالِهِمُ الْحَاضِرَةِ [[في ك، د، م: "الحاضر".]] وَمَا يَصِيرُونَ [[في د: "يصير".]] إِلَيْهِ فِي ثَانِي الْحَالِ: ﴿عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الأرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ] ﴾ [[زيادة من د، ك، م، وفي هـ: "الآية".]] وَهَذَا تَحْضِيضٌ لَهُمْ عَلَى الْعَزْمِ عَلَى الشُّكْرِ، عِنْدَ حُلُولِ النِّعَمِ وَزَوَالِ النِّقَمِ.
قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ ٱسْتَعِينُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱصْبِرُوٓا۟ ۖ إِنَّ ٱلْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۖ وَٱلْعَٰقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ
Said Moses to his people, "Seek help through Allah and be patient. Indeed, the earth belongs to Allah. He causes to inherit it whom He wills of His servants. And the [best] outcome is for the righteous."
موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا سے مدد مانگو اور ثابت قدم رہو۔ زمین تو خدا کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا مالک بناتا ہے۔ اور آخر بھلا تو ڈرنے والوں کا ہے
موسی به قوم خود گفت: «از خدا یاری جویید، و استقامت پیشه کنید، که زمین از آن خداست، و آن را به هر کس از بندگانش که بخواهد، واگذار میکند؛ و سرانجام (نیک) برای پرهیزکاران است!»
Tafsir Ibn Kathir
The chiefs of Fir'awn's people said: "Will you leave Musa and his people to spread mischief in the land, and to abandon you and your gods?" He said: "We will kill their sons, and let their women live, and we have indeed irresistible power over them. (127)Musa said to his people: "Seek help in Allah and be patient. Verily, the earth is Allah's. He gives it as a heritage to whom He wills of His servants; and the (blessed) end is for the pious and righteous persons. (128)They said: "We suffered troubles before you came to us, and since you have come to us." He said: "It may be that your Lord will destroy your enemy and make you successors on the earth, so that He may see how you act? (129)
Fir'awn vows to kill the Children of Israel, Who complain to Musa; Allah promises Them Victory
Allah mentions the conspiracy of Fir'awn and his people, their ill intentions and their hatred for Musa and his people.
وَقَالَ الْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ
(The chiefs of Fir'awn's people said), to Fir'awn,
أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُ
("Will you leave Musa and his people"), will you let them be free,
لِيُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ
("to spread mischief in the land"), spreading unrest among your subjects and calling them to worship their Lord instead of you?
Amazingly, these people were worried that Musa and his people would cause mischief! Rather, Fir'awn and his people are the mischief-makers, but they did not realize it. They said,
وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ
("and to abandon you and your gods")
Your gods', according to Ibn 'Abbas, as As-Suddi narrated from him, "Were cows. Whenever they saw a beautiful cow, Fir'awn would command them to worship it. This is why As-Samiri, made the statue of a calf that seemed to moo for the Children of Israel." Fir'awn accepted his people's recommendation, saying,
سَنُقَتِّلُ أَبْنَاءَهُمْ وَنَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ
("We will kill their sons, and let their women live") thus reiterating his previous order concerning the Children of Israel. He had tormented them [killing every newly born male] before Musa was born, so that Musa would not live. However, the opposite of what Fir'awn sought and intended occurred. The same end struck Fir'awn that he intended to subjugate and humiliate the Children of Israel with. Allah gave victory to the Children of Israel, humiliated and disgraced Fir'awn, and caused him to drown along with his soldiers.
When Fir'awn insisted on his evil plot against the Children of Israel,
قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّهِ وَاصْبِرُوا
(Musa said to his people: "Seek help in Allah and be patient") and promised them that the good end will be theirs and that they will prevail, saying,
إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ - قَالُوا أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا
("Verily, the earth is Allah's. He gives it as a heritage to whom He wills of His servants; and the (blessed) end is for the pious and righteous persons." They said: "We suffered troubles before you came to us, and since you have come to us.")
The Children of Israel replied to Musa, 'they (Fir'awn and his people) inflicted humiliation and disgrace on us, some you witnessed, both before and after you came to us, O Musa'! Musa replied, reminding them of their present situation and how it will change in the future,
عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ
("It may be that your Lord will destroy your enemy...") encouraging them to appreciate Allah when the afflictions are removed and replaced by a bounty.
Tafsir Ibn Kathir
آخری حربہ بغاوت کا الزام فرعون اور فرعونیت نے حضرت موسیٰ اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے کہنے لگے یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں بغاوت پھیلا دیں گے ملک میں بد امنی پیدا کریں گے ان کا ضرور اور جلد کوئی انتظام کرنا چاہئے، اللہ کی شان دیکھئے کیا مصلح بنے ہوئے ہیں کہ اللہ کے رسول اور مومنوں کے فساد سے دنیا کو بچانا چاہتے ہیں حالانکہ مفسد اور بد نفس خود ہیں۔ آیت (ویذرک) میں بعض تو کہتے ہیں واؤ حالیہ ہے یعنی در آنحالیکہ موسیٰ اور قوم موسیٰ نے تیری پرستش چھوڑ رکھی ہے پھر بھی تو انہیں زندہ رہنے دیتا ہے ؟ حضرت ابی بن کعب کی قرأت میں ہے آیت (وقد ترکوک ان یعبدوا الھتک) اور قول ہے کہ واؤ عاطفہ ہے یعنی تو نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔ جس فساد کو یہ برپا کر رہے ہیں اور تیرے معبودوں کے چھوڑنے پر اکسا رہے ہیں۔ بعض کی قرأت الاھتک ہے یعنی تیری عبادت سے، بعض کا بیان ہے کہ فرعون بھی کسی کو پوجا کرتا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے وہ پوشیدہ راز میں رکھتا تھا، ایک روایت میں ہے کہ اس کا بت اس کی گردن میں ہی لٹکتا رہتا تھا جسے یہ سجدہ کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بہترین گائے پر فرعون کی نگاہ پڑی جاتی تو لوگوں سے کہہ دیتا کہ اس کی پرستش کرو۔ اسی لئے سامری نے بھی بنی اسرائیل کے لئے بچھڑا نکالا۔ الغرض اپنے سرداروں کی بات سن کر فرعون جواب دیتا ہے کہ اب سے ان کے لئے ہم احکام جاری کریں گے کہ ان کے ہاں جو اولاد ہو دیکھ لی جائے۔ اگر لڑکا ہو تو قتل کردیا جائے لڑکی ہو تو زندہ چھوڑ دی جائے۔ پہلے سرکش فرعون ان مساکین کے ساتھ یہی کرچکا تھا جبکہ اسے یہ منظور تھا کہ حضرت موسیٰ پیدا ہی نہ ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ارادہ غالب آیا اور حضرت موسیٰ باوجود اس کے حکم کے زندہ وسالم بجے رہے اب دوبارہ اس نے یہی قانون جاری کردیا تاکہ بنی اسرائیل کی جمعیت ٹوٹ جائے، یہ کمزور پڑجائیں اور بالاخر ان کا نام مٹ جائے لیکن قدرت نے اس کا بھی خلاف کر دکھایا، اسی کو اور اس کی قوم کو غارت کردیا اور بنی اسرائیل کو اوج و ترقی پر پہنچا دیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اس تکبر کے مقابلے میں تحمل اور اس کے ظلم کے مقابلے میں صبر سے کام لیا اپنی قوم کو سمجھایا اور بتایا کہ اللہ فرما چکا ہے کہ لحاظ سے تم ہی اچھے رہو گے تم اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ قوم والوں نے کہا اے اللہ کے نبی آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم اس طرح ستائے جاتے رہے، اسی ذلت و اہانت میں مبتلا رہے اور اب پھر یہی نوبت آئی ہے۔ آپ نے مزید تسلی دی اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں۔ یقین مانو کہ تمہارا بدخواہ ہلاک ہوگا اور تم کو اللہ تعالیٰ اوج پر پہنچائے گا۔ اس وقت وہ دیکھے گا کہ کون کتنا شکر بجا لاتا ہے ؟ تکلیف کا ہٹ جانا راحت کامل جانا انسان کو نہال نہال کردیتا ہے یہ پورے شکریئے کا وقت ہوتا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَمَّا تَمَالَأَ عَلَيْهِ فِرْعَوْنُ وَمَلَؤُهُ، وَمَا أَظْهَرُوهُ [[في ك، م، أ: "أضمروه"، وفي د: "أضمروا".]] لِمُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَقَوْمِهِ مِنَ الْأَذَى وَالْبِغْضَةِ: ﴿وَقَالَ الْمَلأ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ﴾ أَيْ: لِفِرْعَوْنَ ﴿أَتَذَرُ مُوسَى وَقَوْمَهُ﴾ أَيْ: أَتَدَعُهُمْ لِيُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ، أَيْ: يُفْسِدُوا أَهْلَ رَعَيَّتِكَ وَيَدْعُوهُمْ إِلَى عِبَادَةِ رَبِّهِمْ دُونَكَ، يَالَلَّهِ لِلْعَجَبِ! صَارَ [[في أ: "صاروا".]] هَؤُلَاءِ يُشْفِقُونَ مِنْ إِفْسَادِ مُوسَى وَقَوْمِهِ! أَلَا إِنَّ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ هُمُ الْمُفْسِدُونَ، وَلَكِنْ لَا يَشْعُرُونَ؛ وَلِهَذَا قَالُوا: ﴿وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ﴾ قَالَ بَعْضُهُمْ: "الْوَاوُ" هُنَا حَالِيَّةٌ، أَيْ: أَتَذِرُهُ وَقَوْمَهُ يُفْسِدُونَ وَقَدْ تَرَكَ عبادتك؟ وَقَرَأَ ذَلِكَ أُبيّ بْنُ كَعْبٍ: "وَقَدْ تَرَكُوكَ أَنْ يَعْبُدُوكَ وَآلِهَتَكَ"، حَكَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ آخَرُونَ: هِيَ عَاطِفَةٌ، أَيْ: لَا تَدَعْ مُوسَى يَصْنَعُ هُوَ وَقَوْمُهُ مِنَ الْفَسَادِ مَا قَدْ أَقْرَرْتَهُمْ [[في أ: "أقررتم".]] عَلَيْهِ وَعَلَى تَرْكِهِ آلِهَتَكَ.
وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ: "إِلَاهَتَكَ" أَيْ: عِبَادَتَكَ، ورُوي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمُجَاهِدٍ.
وَعَلَى الْقِرَاءَةِ الْأُولَى قَالَ بَعْضُهُمْ: كَانَ لِفِرْعَوْنَ إِلَهٌ يَعْبُدُهُ. قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: كَانَ لِفِرْعَوْنَ إِلَهٌ يَعْبُدُهُ فِي السِّرِّ. وَقَالَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: كَانَ لَهُ [[في ك، م، أ: "لفرعون".]] جُمَانة فِي عُنُقِهِ مُعَلَّقَةٌ يَسْجُدُ لَهَا.
وَقَالَ السُّدِّيُّ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ﴾ وَآلِهَتُهُ، فِيمَا زَعَمَ ابْنُ عَبَّاسٍ، كَانَتِ الْبَقَرُ، كَانُوا إِذَا رَأَوْا بَقَرَةً حَسْنَاءَ أَمَرَهُمْ فِرْعَوْنُ أَنْ يَعْبُدُوهَا، فَلِذَلِكَ أَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا.
فَأَجَابَهُمْ فِرْعَوْنُ فِيمَا سَأَلُوهُ بِقَوْلِهِ: ﴿سَنُقَتِّلُ أَبْنَاءَهُمْ وَنَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ﴾ وَهَذَا أَمْرٌ ثَانٍ بِهَذَا الصَّنِيعِ، وَقَدْ كَانَ نَكَّلَ بِهِمْ بِهِ قَبْلَ وِلَادَةِ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، حَذَرًا مِنْ وُجُودِهِ، فَكَانَ خِلَافَ مَا رَامَهُ وَضِدَّ مَا قَصَدَهُ فِرْعَوْنُ. وَهَكَذَا عُومِلَ فِي صَنِيعِهِ [هَذَا] [[زيادة من م، أ.]] أَيْضًا، إِنَّمَا أَرَادَ قَهْرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَإِذْلَالَهُمْ، فَجَاءَ الْأَمْرُ عَلَى خِلَافِ مَا أَرَادَ: نَصَرَهُمُ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَذَلَّهُ، وَأَرْغَمَ أَنْفَهُ، وَأَغْرَقَهُ وَجُنُودَهُ.
وَلَمَّا صَمَّمَ فِرْعَوْنُ عَلَى مَا ذَكَرَهُ مِنَ الْمُسَاءَةِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ، ﴿قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّهِ وَاصْبِرُوا﴾ وَوَعْدَهُمْ بِالْعَاقِبَةِ، وَأَنَّ الدَّارَ سَتَصِيرُ لَهُمْ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الأرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ * قَالُوا أُوذِينَا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَأْتِيَنَا وَمِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا﴾ أَيْ: قَدْ جَرَى عَلَيْنَا مِثْلُ مَا رَأَيْتَ مِنَ الْهَوَانِ وَالْإِذْلَالِ مِنْ قَبْلِ مَا جِئْتَ يَا مُوسَى، وَمِنْ بَعْدِ ذَلِكَ. فَقَالَ مُنَبِّهًا لَهُمْ عَلَى حَالِهِمُ الْحَاضِرَةِ [[في ك، د، م: "الحاضر".]] وَمَا يَصِيرُونَ [[في د: "يصير".]] إِلَيْهِ فِي ثَانِي الْحَالِ: ﴿عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الأرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ] ﴾ [[زيادة من د، ك، م، وفي هـ: "الآية".]] وَهَذَا تَحْضِيضٌ لَهُمْ عَلَى الْعَزْمِ عَلَى الشُّكْرِ، عِنْدَ حُلُولِ النِّعَمِ وَزَوَالِ النِّقَمِ.
قَالُوٓا۟ أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِنۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ
They said, "We have been harmed before you came to us and after you have come to us." He said, "Perhaps your Lord will destroy your enemy and grant you succession in the land and see how you will do."
وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچتی رہیں اور آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو
گفتند: «پیش از آنکه به سوی ما بیایی آزار دیدیم، (هم اکنون) پس از آمدنت نیز آزار میبینیم! (کی این آزارها سر خواهد آمد؟)» گفت: «امید است پروردگارتان دشمن شما را هلاک کند، و شما را در زمین جانشین (آنها) سازد، و بنگرد چگونه عمل میکنید!»
Tafsir Ibn Kathir
The chiefs of Fir'awn's people said: "Will you leave Musa and his people to spread mischief in the land, and to abandon you and your gods?" He said: "We will kill their sons, and let their women live, and we have indeed irresistible power over them. (127)Musa said to his people: "Seek help in Allah and be patient. Verily, the earth is Allah's. He gives it as a heritage to whom He wills of His servants; and the (blessed) end is for the pious and righteous persons. (128)They said: "We suffered troubles before you came to us, and since you have come to us." He said: "It may be that your Lord will destroy your enemy and make you successors on the earth, so that He may see how you act? (129)
Fir'awn vows to kill the Children of Israel, Who complain to Musa; Allah promises Them Victory
Allah mentions the conspiracy of Fir'awn and his people, their ill intentions and their hatred for Musa and his people.
وَقَالَ الْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ
(The chiefs of Fir'awn's people said), to Fir'awn,
أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُ
("Will you leave Musa and his people"), will you let them be free,
لِيُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ
("to spread mischief in the land"), spreading unrest among your subjects and calling them to worship their Lord instead of you?
Amazingly, these people were worried that Musa and his people would cause mischief! Rather, Fir'awn and his people are the mischief-makers, but they did not realize it. They said,
وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ
("and to abandon you and your gods")
Your gods', according to Ibn 'Abbas, as As-Suddi narrated from him, "Were cows. Whenever they saw a beautiful cow, Fir'awn would command them to worship it. This is why As-Samiri, made the statue of a calf that seemed to moo for the Children of Israel." Fir'awn accepted his people's recommendation, saying,
سَنُقَتِّلُ أَبْنَاءَهُمْ وَنَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ
("We will kill their sons, and let their women live") thus reiterating his previous order concerning the Children of Israel. He had tormented them [killing every newly born male] before Musa was born, so that Musa would not live. However, the opposite of what Fir'awn sought and intended occurred. The same end struck Fir'awn that he intended to subjugate and humiliate the Children of Israel with. Allah gave victory to the Children of Israel, humiliated and disgraced Fir'awn, and caused him to drown along with his soldiers.
When Fir'awn insisted on his evil plot against the Children of Israel,
قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّهِ وَاصْبِرُوا
(Musa said to his people: "Seek help in Allah and be patient") and promised them that the good end will be theirs and that they will prevail, saying,
إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ - قَالُوا أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا
("Verily, the earth is Allah's. He gives it as a heritage to whom He wills of His servants; and the (blessed) end is for the pious and righteous persons." They said: "We suffered troubles before you came to us, and since you have come to us.")
The Children of Israel replied to Musa, 'they (Fir'awn and his people) inflicted humiliation and disgrace on us, some you witnessed, both before and after you came to us, O Musa'! Musa replied, reminding them of their present situation and how it will change in the future,
عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ
("It may be that your Lord will destroy your enemy...") encouraging them to appreciate Allah when the afflictions are removed and replaced by a bounty.
Tafsir Ibn Kathir
آخری حربہ بغاوت کا الزام فرعون اور فرعونیت نے حضرت موسیٰ اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے کہنے لگے یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں بغاوت پھیلا دیں گے ملک میں بد امنی پیدا کریں گے ان کا ضرور اور جلد کوئی انتظام کرنا چاہئے، اللہ کی شان دیکھئے کیا مصلح بنے ہوئے ہیں کہ اللہ کے رسول اور مومنوں کے فساد سے دنیا کو بچانا چاہتے ہیں حالانکہ مفسد اور بد نفس خود ہیں۔ آیت (ویذرک) میں بعض تو کہتے ہیں واؤ حالیہ ہے یعنی در آنحالیکہ موسیٰ اور قوم موسیٰ نے تیری پرستش چھوڑ رکھی ہے پھر بھی تو انہیں زندہ رہنے دیتا ہے ؟ حضرت ابی بن کعب کی قرأت میں ہے آیت (وقد ترکوک ان یعبدوا الھتک) اور قول ہے کہ واؤ عاطفہ ہے یعنی تو نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔ جس فساد کو یہ برپا کر رہے ہیں اور تیرے معبودوں کے چھوڑنے پر اکسا رہے ہیں۔ بعض کی قرأت الاھتک ہے یعنی تیری عبادت سے، بعض کا بیان ہے کہ فرعون بھی کسی کو پوجا کرتا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے وہ پوشیدہ راز میں رکھتا تھا، ایک روایت میں ہے کہ اس کا بت اس کی گردن میں ہی لٹکتا رہتا تھا جسے یہ سجدہ کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بہترین گائے پر فرعون کی نگاہ پڑی جاتی تو لوگوں سے کہہ دیتا کہ اس کی پرستش کرو۔ اسی لئے سامری نے بھی بنی اسرائیل کے لئے بچھڑا نکالا۔ الغرض اپنے سرداروں کی بات سن کر فرعون جواب دیتا ہے کہ اب سے ان کے لئے ہم احکام جاری کریں گے کہ ان کے ہاں جو اولاد ہو دیکھ لی جائے۔ اگر لڑکا ہو تو قتل کردیا جائے لڑکی ہو تو زندہ چھوڑ دی جائے۔ پہلے سرکش فرعون ان مساکین کے ساتھ یہی کرچکا تھا جبکہ اسے یہ منظور تھا کہ حضرت موسیٰ پیدا ہی نہ ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ارادہ غالب آیا اور حضرت موسیٰ باوجود اس کے حکم کے زندہ وسالم بجے رہے اب دوبارہ اس نے یہی قانون جاری کردیا تاکہ بنی اسرائیل کی جمعیت ٹوٹ جائے، یہ کمزور پڑجائیں اور بالاخر ان کا نام مٹ جائے لیکن قدرت نے اس کا بھی خلاف کر دکھایا، اسی کو اور اس کی قوم کو غارت کردیا اور بنی اسرائیل کو اوج و ترقی پر پہنچا دیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اس تکبر کے مقابلے میں تحمل اور اس کے ظلم کے مقابلے میں صبر سے کام لیا اپنی قوم کو سمجھایا اور بتایا کہ اللہ فرما چکا ہے کہ لحاظ سے تم ہی اچھے رہو گے تم اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ قوم والوں نے کہا اے اللہ کے نبی آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم اس طرح ستائے جاتے رہے، اسی ذلت و اہانت میں مبتلا رہے اور اب پھر یہی نوبت آئی ہے۔ آپ نے مزید تسلی دی اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں۔ یقین مانو کہ تمہارا بدخواہ ہلاک ہوگا اور تم کو اللہ تعالیٰ اوج پر پہنچائے گا۔ اس وقت وہ دیکھے گا کہ کون کتنا شکر بجا لاتا ہے ؟ تکلیف کا ہٹ جانا راحت کامل جانا انسان کو نہال نہال کردیتا ہے یہ پورے شکریئے کا وقت ہوتا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَمَّا تَمَالَأَ عَلَيْهِ فِرْعَوْنُ وَمَلَؤُهُ، وَمَا أَظْهَرُوهُ [[في ك، م، أ: "أضمروه"، وفي د: "أضمروا".]] لِمُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَقَوْمِهِ مِنَ الْأَذَى وَالْبِغْضَةِ: ﴿وَقَالَ الْمَلأ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ﴾ أَيْ: لِفِرْعَوْنَ ﴿أَتَذَرُ مُوسَى وَقَوْمَهُ﴾ أَيْ: أَتَدَعُهُمْ لِيُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ، أَيْ: يُفْسِدُوا أَهْلَ رَعَيَّتِكَ وَيَدْعُوهُمْ إِلَى عِبَادَةِ رَبِّهِمْ دُونَكَ، يَالَلَّهِ لِلْعَجَبِ! صَارَ [[في أ: "صاروا".]] هَؤُلَاءِ يُشْفِقُونَ مِنْ إِفْسَادِ مُوسَى وَقَوْمِهِ! أَلَا إِنَّ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ هُمُ الْمُفْسِدُونَ، وَلَكِنْ لَا يَشْعُرُونَ؛ وَلِهَذَا قَالُوا: ﴿وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ﴾ قَالَ بَعْضُهُمْ: "الْوَاوُ" هُنَا حَالِيَّةٌ، أَيْ: أَتَذِرُهُ وَقَوْمَهُ يُفْسِدُونَ وَقَدْ تَرَكَ عبادتك؟ وَقَرَأَ ذَلِكَ أُبيّ بْنُ كَعْبٍ: "وَقَدْ تَرَكُوكَ أَنْ يَعْبُدُوكَ وَآلِهَتَكَ"، حَكَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ آخَرُونَ: هِيَ عَاطِفَةٌ، أَيْ: لَا تَدَعْ مُوسَى يَصْنَعُ هُوَ وَقَوْمُهُ مِنَ الْفَسَادِ مَا قَدْ أَقْرَرْتَهُمْ [[في أ: "أقررتم".]] عَلَيْهِ وَعَلَى تَرْكِهِ آلِهَتَكَ.
وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ: "إِلَاهَتَكَ" أَيْ: عِبَادَتَكَ، ورُوي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمُجَاهِدٍ.
وَعَلَى الْقِرَاءَةِ الْأُولَى قَالَ بَعْضُهُمْ: كَانَ لِفِرْعَوْنَ إِلَهٌ يَعْبُدُهُ. قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: كَانَ لِفِرْعَوْنَ إِلَهٌ يَعْبُدُهُ فِي السِّرِّ. وَقَالَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: كَانَ لَهُ [[في ك، م، أ: "لفرعون".]] جُمَانة فِي عُنُقِهِ مُعَلَّقَةٌ يَسْجُدُ لَهَا.
وَقَالَ السُّدِّيُّ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ﴾ وَآلِهَتُهُ، فِيمَا زَعَمَ ابْنُ عَبَّاسٍ، كَانَتِ الْبَقَرُ، كَانُوا إِذَا رَأَوْا بَقَرَةً حَسْنَاءَ أَمَرَهُمْ فِرْعَوْنُ أَنْ يَعْبُدُوهَا، فَلِذَلِكَ أَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا.
فَأَجَابَهُمْ فِرْعَوْنُ فِيمَا سَأَلُوهُ بِقَوْلِهِ: ﴿سَنُقَتِّلُ أَبْنَاءَهُمْ وَنَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ﴾ وَهَذَا أَمْرٌ ثَانٍ بِهَذَا الصَّنِيعِ، وَقَدْ كَانَ نَكَّلَ بِهِمْ بِهِ قَبْلَ وِلَادَةِ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، حَذَرًا مِنْ وُجُودِهِ، فَكَانَ خِلَافَ مَا رَامَهُ وَضِدَّ مَا قَصَدَهُ فِرْعَوْنُ. وَهَكَذَا عُومِلَ فِي صَنِيعِهِ [هَذَا] [[زيادة من م، أ.]] أَيْضًا، إِنَّمَا أَرَادَ قَهْرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَإِذْلَالَهُمْ، فَجَاءَ الْأَمْرُ عَلَى خِلَافِ مَا أَرَادَ: نَصَرَهُمُ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَذَلَّهُ، وَأَرْغَمَ أَنْفَهُ، وَأَغْرَقَهُ وَجُنُودَهُ.
وَلَمَّا صَمَّمَ فِرْعَوْنُ عَلَى مَا ذَكَرَهُ مِنَ الْمُسَاءَةِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ، ﴿قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّهِ وَاصْبِرُوا﴾ وَوَعْدَهُمْ بِالْعَاقِبَةِ، وَأَنَّ الدَّارَ سَتَصِيرُ لَهُمْ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الأرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ * قَالُوا أُوذِينَا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَأْتِيَنَا وَمِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا﴾ أَيْ: قَدْ جَرَى عَلَيْنَا مِثْلُ مَا رَأَيْتَ مِنَ الْهَوَانِ وَالْإِذْلَالِ مِنْ قَبْلِ مَا جِئْتَ يَا مُوسَى، وَمِنْ بَعْدِ ذَلِكَ. فَقَالَ مُنَبِّهًا لَهُمْ عَلَى حَالِهِمُ الْحَاضِرَةِ [[في ك، د، م: "الحاضر".]] وَمَا يَصِيرُونَ [[في د: "يصير".]] إِلَيْهِ فِي ثَانِي الْحَالِ: ﴿عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الأرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ] ﴾ [[زيادة من د، ك، م، وفي هـ: "الآية".]] وَهَذَا تَحْضِيضٌ لَهُمْ عَلَى الْعَزْمِ عَلَى الشُّكْرِ، عِنْدَ حُلُولِ النِّعَمِ وَزَوَالِ النِّقَمِ.
وَلَقَدْ أَخَذْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ بِٱلسِّنِينَ وَنَقْصٍۢ مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ
And We certainly seized the people of Pharaoh with years of famine and a deficiency in fruits that perhaps they would be reminded.
اور ہم نے فرعونیوں کو قحطوں اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں
و ما نزدیکان فرعون (و قوم او) را به خشکسالی و کمبود میوهها گرفتار کردیم، شاید متذکر گردند!
Tafsir Ibn Kathir
And indeed We punished the people of Fir'awn with years of drought and lack of fruits (crops), that they might remember (take heed)(130)But whenever good came to them, they said: "This is for us." And if evil afflicted them, they considered it an omen about Musa and those with him. Be informed! Verily, their omens are with Allah but most of them know not (131)
Fir'awn and His People suffer Years of Drought
Allah said,
وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ
(And indeed We punished the people of Fir'awn) We tested and tried them,
بِالسِّنِينَ
(with years of drought) of famine due to little produce,
وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرَاتِ
(and lack of fruits), which is less severe, according to Mujahid. Abu Ishaq narrated that Raja' bin Haywah said, "The date tree used to produce only one date!"
لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ - فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ
(That they might remember (take heed). But whenever good came to them) such as a fertile season and provisions,
قَالُوا لَنَا هَٰذِهِ
(they said, "This is for us."), because we deserve it,
وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ
(and if evil afflicted them) drought and famine,
يَطَّيَّرُوا بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُ
(they considered it an omen Musa and those with him.) saying that this hardship is because of them and what they have done.
أَلَا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللَّهِ
(Verily, their omens are with Allah) 'Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas commented on the Ayah,
أَلَا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللَّهِ
(Verily, their omens are with Allah) "Allah says that their afflictions are with and from Him,
وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
(but most of them know not.)"
Tafsir Ibn Kathir
اعمال کا خمیازہ اب آل فرعون پر بھی سختی کے مواقع آئے تاکہ ان کی آنکھیں کھلیں اور اللہ کے دین کی طرف جھکیں، کھیتیاں کم آئیں، قحط سالیاں پڑگئیں، درختوں میں پھل کم لگے یہاں تک کہ ایک درخت میں ایک ہی کھجور لگی یہ صرف بطور آزمائش تھا کہ وہ اب بھی ٹھیک ٹھاک ہوجائیں۔ لیکن ان عقل کے اندھوں کو راستی سے دشمنی ہوگئی شادابی اور فراخی دیکھ کر تو اکڑ کر کہتے کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور خشک سالی اور تنگی دیکھ کر آواز لگاتے کہ یہ موسیٰ اور مومنوں کی وجہ سے ہے۔ جب کہ مصیبتیں اور راحتیں اللہ کی جانب سے ہیں لیکن بےعملی کی باتیں بناتے رہے ان کی بد شگونی ان کے بد اعمال تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر مصیبتیں لاتے تھے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ﴾ أَيِ: اخْتَبَرْنَاهُمْ وَامْتَحَنَّاهُمْ وَابْتَلَيْنَاهُمْ ﴿بِالسِّنِينَ﴾ وَهِيَ سِنِي الْجُوعِ بِسَبَبِ قِلَّةِ الزُّرُوعِ [[في د، ك، م: "الزرع".]] ﴿وَنَقْصٍ مِنَ الثَّمَرَاتِ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ: وَهُوَ دُونَ ذَلِكَ.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوة: كَانَتِ النَّخْلَةُ لا تحمل إلا ثمرة واحدة.
﴿لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ * فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ﴾ أَيْ: مِنَ الْخِصْبِ وَالرِّزْقِ ﴿قَالُوا لَنَا هَذِهِ﴾ أَيْ: هَذَا لَنَا بِمَا نَسْتَحِقُّهُ:، ﴿وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ﴾ أَيْ: جَدْبٌ وَقَحْطٌ ﴿يَطَّيَّرُوا بِمُوسَى وَمَنْ مَعَهُ﴾ أَيْ: هذا بسببهم وما جاؤوا بِهِ.
﴿أَلا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ﴾ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عباس: ﴿أَلا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ﴾ يَقُولُ: مَصَائِبُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ، قَالَ اللَّهُ: ﴿وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ﴾
وَقَالَ ابْنُ جُرَيْج، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ﴿أَلا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ﴾ قَالَ: إِلَّا مِنْ قِبَل اللَّهِ.
فَإِذَا جَآءَتْهُمُ ٱلْحَسَنَةُ قَالُوا۟ لَنَا هَٰذِهِۦ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۭ يَطَّيَّرُوا۟ بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ ۗ أَلَآ إِنَّمَا طَٰٓئِرُهُمْ عِندَ ٱللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
But when good came to them, they said, "This is ours [by right]." And if a bad [condition] struck them, they saw an evil omen in Moses and those with him. Unquestionably, their fortune is with Allah, but most of them do not know.
تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اس کے مستحق ہیں۔ اور اگر سختی پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے رفیقوں کی بدشگونی بتاتے۔ دیکھو ان کی بدشگونی خدا کے ہاں مقرر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے
(اما آنها نه تنها پند نگرفتند، بلکه) هنگامی که نیکی (و نعمت) به آنها میرسید، میگفتند: «بخاطر خود ماست.» ولی موقعی که بدی (و بلا) به آنها میرسید، میگفتند: «از شومی موسی و کسان اوست»! آگاه باشید سرچشمه همه اینها، نزد خداست؛ ولی بیشتر آنها نمیدانند!
Tafsir Ibn Kathir
And indeed We punished the people of Fir'awn with years of drought and lack of fruits (crops), that they might remember (take heed)(130)But whenever good came to them, they said: "This is for us." And if evil afflicted them, they considered it an omen about Musa and those with him. Be informed! Verily, their omens are with Allah but most of them know not (131)
Fir'awn and His People suffer Years of Drought
Allah said,
وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ
(And indeed We punished the people of Fir'awn) We tested and tried them,
بِالسِّنِينَ
(with years of drought) of famine due to little produce,
وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرَاتِ
(and lack of fruits), which is less severe, according to Mujahid. Abu Ishaq narrated that Raja' bin Haywah said, "The date tree used to produce only one date!"
لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ - فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ
(That they might remember (take heed). But whenever good came to them) such as a fertile season and provisions,
قَالُوا لَنَا هَٰذِهِ
(they said, "This is for us."), because we deserve it,
وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ
(and if evil afflicted them) drought and famine,
يَطَّيَّرُوا بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُ
(they considered it an omen Musa and those with him.) saying that this hardship is because of them and what they have done.
أَلَا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللَّهِ
(Verily, their omens are with Allah) 'Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas commented on the Ayah,
أَلَا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللَّهِ
(Verily, their omens are with Allah) "Allah says that their afflictions are with and from Him,
وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
(but most of them know not.)"
Tafsir Ibn Kathir
اعمال کا خمیازہ اب آل فرعون پر بھی سختی کے مواقع آئے تاکہ ان کی آنکھیں کھلیں اور اللہ کے دین کی طرف جھکیں، کھیتیاں کم آئیں، قحط سالیاں پڑگئیں، درختوں میں پھل کم لگے یہاں تک کہ ایک درخت میں ایک ہی کھجور لگی یہ صرف بطور آزمائش تھا کہ وہ اب بھی ٹھیک ٹھاک ہوجائیں۔ لیکن ان عقل کے اندھوں کو راستی سے دشمنی ہوگئی شادابی اور فراخی دیکھ کر تو اکڑ کر کہتے کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور خشک سالی اور تنگی دیکھ کر آواز لگاتے کہ یہ موسیٰ اور مومنوں کی وجہ سے ہے۔ جب کہ مصیبتیں اور راحتیں اللہ کی جانب سے ہیں لیکن بےعملی کی باتیں بناتے رہے ان کی بد شگونی ان کے بد اعمال تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر مصیبتیں لاتے تھے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ﴾ أَيِ: اخْتَبَرْنَاهُمْ وَامْتَحَنَّاهُمْ وَابْتَلَيْنَاهُمْ ﴿بِالسِّنِينَ﴾ وَهِيَ سِنِي الْجُوعِ بِسَبَبِ قِلَّةِ الزُّرُوعِ [[في د، ك، م: "الزرع".]] ﴿وَنَقْصٍ مِنَ الثَّمَرَاتِ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ: وَهُوَ دُونَ ذَلِكَ.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوة: كَانَتِ النَّخْلَةُ لا تحمل إلا ثمرة واحدة.
﴿لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ * فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ﴾ أَيْ: مِنَ الْخِصْبِ وَالرِّزْقِ ﴿قَالُوا لَنَا هَذِهِ﴾ أَيْ: هَذَا لَنَا بِمَا نَسْتَحِقُّهُ:، ﴿وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ﴾ أَيْ: جَدْبٌ وَقَحْطٌ ﴿يَطَّيَّرُوا بِمُوسَى وَمَنْ مَعَهُ﴾ أَيْ: هذا بسببهم وما جاؤوا بِهِ.
﴿أَلا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ﴾ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عباس: ﴿أَلا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ﴾ يَقُولُ: مَصَائِبُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ، قَالَ اللَّهُ: ﴿وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ﴾
وَقَالَ ابْنُ جُرَيْج، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ﴿أَلا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ﴾ قَالَ: إِلَّا مِنْ قِبَل اللَّهِ.
وَقَالُوا۟ مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِۦ مِنْ ءَايَةٍۢ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
And they said, "No matter what sign you bring us with which to bewitch us, we will not be believers in you."
اور کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس (خواہ) کوئی ہی نشانی لاؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو۔ مگر ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں
و گفتند: «هر زمان نشانه و معجزهای برای ما بیاوری که سحرمان کنی، ما به تو ایمان نمیآوریم!»
Tafsir Ibn Kathir
They said [to Musa]: "Whatever Ayat you may bring to us, to work therewith your sorcery on us, we shall never believe in you. (132)So We sent on them: the Tuwfan, the locusts, the Qummal, the frogs, and the blood (as a succession of) manifest signs, yet they remained arrogant, and they were of those people who were criminals (133)And when the punishment struck them, they said: "O Musa! Invoke your Lord for us because of His promise to you. If you remove the punishment from us, we indeed shall believe in you, and we shall let the Children of Israel go with you. (134)But when We removed the punishment from them for a fixed term, which they had to reach, behold! They broke their word (135)
Allah punishes the People of Fir'awn because of Their Rebellion
Allah describes the rebellion, tyranny, defiance of the truth and insistence on falsehood of the people of Fir'awn, prompting them to proclaim,
مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِ مِنْ آيَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
("Whatever Ayat you may bring to us, to work therewith your sorcery on us, we shall never believe in you.")
They said, 'whatever miracle, proof and evidence you bring us, we will neither accept it from you nor believe in you or what you came with.' Allah said,
فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ
(So We sent on them the Tufan)
Ibn 'Abbas commented; "It was a heavy rain that ruined the produce and fruits." He is also reported to have said that Tuwfan refers to mass death. Mujahid said it is water that carries the plague every where. As for the locust, it is the well-known insect, which is permissible to eat. It is recorded in the Two Sahihs, that Abu Ya'fur said that he asked 'Abdullah bin Abi Awfa about locust. He said, "We participated in seven battles with the Messenger of Allah ﷺ, and we used to eat locusts." Ash-Shafi'i, Ahmad bin Hanbal and Ibn Majah recorded from 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam that his father narrated from Ibn 'Umar that the Prophet ﷺ said,
أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ: الْحُوتُ وَالْجَرَادُ وَالْكَبِدُ وَالطِّحَالُ
(We were allowed two dead animals and two [kinds of] blood: fish and locust, and kidney and spleen.)
Ibn Abi Najih narrated from Mujahid about Allah's statement,
فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ
"Eating the nails on their doors and leaving the wood." As for the Qummal, Ibn 'Abbas said that it is the grain bug, or, according to another view; small locusts that do not have wings. Similar was reported from Mujahid, 'Ikrimah and Qatadah. Al-Hasan and Sa'id bin Jubayr said that 'Qummal' are small black insects.
Abu Ja'far bin Jarir recorded that Sa'id bin Jubayr said, "When Musa came to Fir'awn, he demanded, 'Release the Children of Israel to me.' But, Fir'awn did not comply; and Allah sent the Tuwfan, and that is a rain which continued until they feared that it was a form of torment. They said to Musa, 'Invoke your Lord to release us from this rain, and we will believe in you and send the Children of Israel with you.' Musa invoked his Lord and He removed the affliction from them. However, they did not believe, nor did they send the Children of Israel with him.
In that year, Allah allowed (the earth) to grow various types of produce, fruits and grass for them as never before. They said, 'This is what we hoped for.' So Allah sent the locusts, and the locusts started to feed on the grass. When they saw the effect the locusts had on the grass, they knew that no vegetation would be saved from devastation. They said, 'O Musa! Invoke your Lord so that He will remove the locusts from us, and we will believe in you and release the Children of Israel to you.' Musa invoked his Lord, and He removed the locusts. Still, they did not believe and did not send the Children of Israel with him.
They collected grains and kept them in their homes. They said, 'We saved our crops.' However, Allah sent the Qummal, grain bugs, and one of them would take ten bags of grains to the mill, but only reap three small bags of grain. They said, 'O Musa! Ask your Lord to remove the Qummal (weevil) from us and we will believe in you and send the Children of Israel with you.' Musa invoked his Lord, and Allah removed the Qummal from them. However, they did not send the Children of Israel with him.
Once, when he was with Fir'awn, Musa heard the sound of a frog and said to Fir'awn, 'What will you and your people suffer from this (the frogs)' Fir'awn said, 'What can frogs do' Yet, by the time that night arrived a person would be sitting in a crowd of frogs that reached up to his chin and could not open his mouth to speak without a frog jumping in it. They said to Musa, 'Invoke your Lord to remove these frogs from us, and we will believe in you and send the Children of Israel with you.' Musa invoked his Lord, but they did not believe.
Allah then sent blood that filled the rivers, wells and the water containers they had. They complained to Fir'awn, saying, 'We are inflicted with blood and do not have anything to drink.' He said, 'Musa has bewitched you.' They said, 'How could he do that when whenever we look for water in our containers we found that it has turned into blood?' They came to Musa and said, 'Invoke your Lord to save us from this blood, and we will believe in you and send the Children of Israel with you.' Musa invoked his Lord and the blood stopped, but they did not believe nor send the Children of Israel with him." A similar account was attributed to Ibn 'Abbas, As-Suddi, Qatadah and several others among the Salaf.
Muhammad bin Ishaq bin Yasar said, "The enemy of Allah, Fir'awn, went back defeated and humiliated, after the sorcerers believed (in Musa). He insisted on remaining in disbelief and persisted in wickedness. Allah sent down the signs to him, and he (and his people) were first inflicted by famine. Allah then sent the flood, the locusts, the Qummal, the frogs then blood, as consecutive signs. When Allah sent the flood, it filled the surface of the earth with water. But the water level receded, and they could not make use of it to till the land or do anything else. They became hungry. This is when,
قَالُوا يَا مُوسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ لَئِن كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ
(They said: "O Musa! Invoke your Lord for us because of His promise to you. If you remove the punishment from us, we indeed shall believe in you, and we shall let the Children of Israel go with you.")
Musa invoked his Lord and He removed the affliction from them, but they did not keep their promises.
So Allah sent locusts that ate the trees and consumed the nails on their doors, until the doors fell from their homes and residences. They again said what they said to Musa before, and he called on his Lord and He removed the affliction.
Still, they did not keep their promises, and Allah sent the Qummal. Musa, peace be upon him, was commanded to go to a mound and strike it with his staff. So Musa went to a huge mound, struck it with his staff and the Qummal fell out of it in tremendous numbers, until they overwhelmed the houses and food reserves, ultimately depriving them of sleep and rest. When they suffered under this affliction, they said similar to what they said before, and Musa invoked his Lord and He removed the affliction.
They did not keep their promise and Allah sent the frogs to them, and they filled the houses, foods and pots. One of them would not pick up a piece of clothing, or uncover some food, without finding frogs in it. When this affliction became hard on them, they made similar promises as before, Musa supplicated to his Lord and Allah removed the affliction.
They did not keep any of the promises they made, and Allah sent the blood, and the waters of the people of Fir'awn turned to blood. Any water they collected from a well, a river, or a container, turned to blood."
Tafsir Ibn Kathir
سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ان کی سرکشی اور ضد دیکھئے کہ حضرت موسیٰ ؑ سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں کیسے ہی معجزے بتائیں ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہوگئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لئے بعض مفسرین نے کہا ہے طوفان سے مراد موت ہے۔ بعض کہتے ہیں کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ عبداللہ بن ابی اونی سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا سات غزوے میں نے رسول اکرم ﷺ کے ساتھ کئے ہیں۔ ہر ایک میں ہم تو ٹڈیاں کھاتے رہے، مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں دو مردے اور دو خون ہمارے لئے حلال کئے گئے ہیں مچھلی اور ٹڈی اور کلیجی اور تلی۔ ابو داؤد میں ہے حضور سے ٹڈی کی نسبت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا اللہ کے لشکر بہت سے ہیں جنہیں نہ کھاتا ہوں نہ حرام کہتا ہوں۔ حضور نے جی نہ چاہنے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا جیسے کہ گو آپ نے نہیں کھایا حالانکہ دوسروں کو اس کے کھانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ حافظ ابن عساکر رحمت اللہ علیہ نے ایک مستقل رسالہ اسی میں تصنیف فرمایا ہے اس میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضور ٹڈی نہیں کھاتے تھے اور نہ گردے کھاتے تھے اور نہ گوہ۔ لیکن انہیں آپ نے حرام نہیں کیا۔ ٹڈی اس وجہ سے کہ وہ عذاب ہے، گردے اس وجہ سے کہ یہ پیشاب کے قریب ہیں اور گوہ اس وجہ سے کہ آپ کو خوف تھا کہ کہیں یہ مسخ شدہ امت نہ ہو، پھر یہ روایت بھی غریب ہے صرف یہی ایک سند ہے، امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ ٹڈی کو بڑی رغبت سے کھایا کرتے، تلاش کر کے منگوایا کرتے۔ چناچہ کسی نے آپ سے مسئلہ پوچھا کہ ٹڈی کھائی جائے ؟ آپ نے فرمایا کاش کہ ایک دو پیس مل جاتیں تو کیسے مزے سے کھاتے۔ ابن ماجہ میں ہے کہ امہات المومنین تو طباقوں میں لگا کر ٹڈیاں ہدیے اور تحفے کے طور پر بھیجتی تھیں۔ امام بغوی ایک روایت لائے ہیں کہ حضور نے فرمایا حضرت مریم بنت عمران (علیہما السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ایسا گوشت مجھے کھلا جس میں خون نہ ہو اللہ تعالیٰ نے انہیں ٹڈی کھلائی آپ نے ان کے لئے دعا کی کہ اے اللہ اسے بغیر دودھ پینے کے زندگی دے اور اس کی اولاد کو بغیر آواز نکالے اس کے پیچھے لگا دے۔ ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے ٹڈیوں کو مارو نہیں یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں یہ ٹڈیاں ان کے دروازوں کی کیلیں کھا جاتی تھیں اور لکڑی چھوڑ دیتی تھیں اور زاعی کہتے ہیں میں ایک دن جنگل میں تھا کیا دیکھتا ہوں کہ ٹڈیاں بہت سی آسمان کی طرف ہیں اور ان میں سے ایک ٹڈی پر ایک شخص سوار ہے جو ہتھیار بند ہے جو جس طرف اشارہ کرتا ہے ساری ٹڈیاں اس طرف کو جھک جاتی ہیں اور وہ زبان سے برابر کہہ رہا ہے کہ دنیا باطل ہے اور اس میں جو ہے وہ بھی باطل ہے۔ شریح قاضی فرماتے ہیں اس جانور میں سات مختلف جانوروں کی شان ہے اس کا سر گو گھوڑے جیسا ہے گردن بیل جیسی ہے سینہ شیر جیسا ہے پر گدھ جیسے ہیں پر اونٹ جیسے ہیں دم سانپ کی طرح کی ہے۔ پیٹ بچھو جیسا ہے آیت (اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۚ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ 96) 5۔ المآئدہ :96) کی تفسیر میں یہ روایت گذر چکی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج یا عمرے میں جا رہے تھے تو سامنے سے ہمیں ٹڈی دل ملا ہم نے احرام کی حالت میں انہیں لکڑیوں سے مارنا شروع کیا حضور سے سوال کرنے پر آپ نے فرمایا دریائی شکار میں محرم کو کوئی حرج نہیں۔ حضور ﷺ جب ان ٹڈیوں کیلئے بد دعا کرتے تو فرماتے اے اللہ جتنی ان میں سے بڑی ہیں تو انہیں سب کو ہلاک کر ڈال اور جتنی چھوٹی ہیں سب کو قتل کر ڈال ان کے انڈے خراب کر دے ان کی نسل کاٹ دے ان کے منہ ہماری روزی سے روک لے ہمیں روزیاں عطا فرما بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے۔ اس پر حضرت جابر نے عرض کیا یا رسول اللہ اللہ کے ایک لشکر کے غارت و برباد ہوجانے کی آپ دعا کرتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ تو سمندر کے اندر کی مچھلیوں کا ناک جھاڑن ہے۔ چناچہ بعض لوگوں نے اسے مچھلی میں سے اسی طرح نکلتے دیکھا ہے۔ جب مچھلی سمندر کے کنارے انڈے دے جاتی ہے وہاں سے جب پانی ہٹ جاتا ہے اور دھوپ پڑنے لگتی ہے تو وہ انڈے سب کے سب پھوٹ جاتے ہیں اور ان میں سے ٹڈیاں نکلتی ہیں جو پرواز کر جاتی ہیں۔ آیت قرآن (الا امم امثالکم) کی تفسیر میں حضرت عمر فاروق ؓ کی وہ حدیث ہم نے بیان کردی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور جار سو خشکی میں۔ سب سے پہلے ہلاکت ٹڈیوں کی ہوگی۔ امام ابوبکر بن ابو داؤد ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لکڑی تلوار کے مقابلے پر کچھ نہیں اور درخت کی چھال ٹڈی کے مقابلے میں کچھ نہیں یہ حدیث غریب ہے۔ قتل کے بارے میں ابن عباس سے منقول ہے کہ یہ وہ سیاہ رنگ کے چھوٹے چھوٹے جانور ہیں جو گہیوں میں سے نکلتے ہیں اور قول ہے کہ یہ بھی ایک قسم کی بےپر کی ٹڈیاں ہیں۔ سعید کہتے ہیں سیاہ رنگ کے چھوٹے سے کیڑے ہیں۔ اس کا واحد قملہ ہے۔ یہ جانور جب اونٹ کو چمٹ جاتے ہیں تو اسے ہلاک کردیتے ہیں۔ الغرض ایسے ہی موذی جانور بصورت عذاب فرعونیوں کے لئے بھیجے گئے تھے۔ فرعون کی سرکشی اور انکار پر طوفان آیا جس سے انہیں یقین ہوگیا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ گڑ گڑا کر حضرت موسیٰ سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے یہ موسلا دھار پانی رک جائے تو ہم آپ پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ کردیں گے۔ آپ نے دعا کی طوفان ہٹ گیا تو یہ اپنے وعدے سے پھرگئے۔ پھر اللہ کی شان ہے کہ کھیتیاں اور باغات اس قدر پھلے کہ اس سے پہلے کبھی ایسے نہیں پھلے تھے جب تیار ہوگئے تو ٹڈیوں کا عذاب آیا اسے دیکھ کر پھر گھبرائے اور موسیٰ ؑ سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ عذاب ہٹا لے اب ہم پختہ وعدہ کرتے ہیں آپ کی دعا سے یہ عذاب بھی ہٹ گیا لیکن انہوں نے پھر وعدہ شکنی کی۔ فصلیں کاٹ لائے کھلیان اٹھا لئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا عذاب پھر اور شکل میں آیا تمام اناج وغیرہ میں کیڑا لگ گیا اس قدر بکثرت یہ جانور پھیل گئے کہ دس پیمانے لے کر کوئی شخص پسوانے نکلتا تو پسوائے تک وہ جانور سات پیمانے کھالیتے۔ گھبرا کر نبی ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے پھر وعدے کئے آپ پھر دعا کی اللہ تعالیٰ نے اس آفت کو بھی ہٹا لیا۔ لیکن انہوں نے پھر بےایمانی کی۔ نہ بنی اسرائیل کو رہا کیا نہ ایمان قبول کیا۔ اس پر مینڈکوں کا عذاب آیا۔ دربار میں فرعون بیٹھا ہوا ہے تو وہیں مینڈک ظاہر ہو کر ٹرانے لگا سمجھ گئے کہ یہ نئی شکل کا عذاب الٰہی ہے۔ اب یہ پھیلنے اور بڑھنے شروع ہوئے یہاں تک کہ آدمی بیٹھتا تو اس کی گردن تک آس پاس سے اسے مینڈک گھیر لیتے۔ جہاں بات کرنے کیلئے کوئی منہ کھولتا کہ مینڈک تڑپ کر اس کے منہ میں گھس جاتا۔ پھر تنگ آکر حضرت موسیٰ ؑ سے اس عذاب کے ہٹنے کی درخواست کی اور اقرار کیا کہ ہم خود ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی آزاد کردیں گے آپ نے دعا کی اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کو بھی دفع کردیا لیکن پھر مکر گئے۔ چناچہ ان پر خون کا عذاب آیا تمام برتنوں میں خون کھانے پینے کی چیزوں میں خون کنویں میں سے پانی نکلایں تو خون۔ تالاب سے پانی لائیں تو خون۔ پھر تڑپ اٹھے فرعون نے کہا یہ بھی جادو ہے لیکن جب تنگ آگئے تو آخر حضرت موسیٰ سے مع وعدہ درخواست کی کہ ہم تو پانی سے ترس گئے۔ چناچہ آپ نے قول قرار لے کھر پور دعا کی اور اللہ نے اس عذاب کو بھی ہٹا لیا لیکن یہ پھر منکر ہوگئے۔ فرعون جب میدان سے ناکام واپس لوٹا تھا اس نے ٹھان لی تھی کہ خواہ کچھ بھی ہو میں ایمان نہ لاؤں گا۔ چناچہ طوفان کی وجہ سے بھوکوں مرنے لگے پھر ٹڈیوں کا عذاب آیا تو درخت تو کیا گھر کی چوکھٹیں اور دروازوں تک وہ کھا گئیں مکانات گرنے لگے پھر حضرت موسیٰ نے اللہ کے حکم سے ایک پتھر پر لکڑی ماری۔ جس میں سے بیشمار چچڑیاں نکل پڑیں اور پھیل گئیں۔ کھانا، پینا، سونا، بیٹھنا، سب بند ہوگیا۔ پھر مینڈکوں کا عذاب آیا جہاں دیکھو مینڈک نظر آنے لگے۔ پھر خون کا عذاب آیا نہریں، تالاب، کنویں، مٹکے گھڑے وغیرہ غرض بجائے پانی کے خون ہی خون سب چیزیں ہوگئیں۔ عبید اللہ بن عمرو فرماتے ہیں مینڈک کو نہ مارو یہ جب بصورت عذاب فرعونیوں کے پاس آئے تو ایک نے اللہ کی رضا جوئی کے لئے تنور میں چھلانگ ماری۔ اللہ نے اس کے بدلے انہیں پانی کی ٹھنڈک عطا فرمائی اور ان کی آواز کو اپنی تسبیح بنایا۔ یہ بھی مروی ہے کہ خون سے مراد نکسیر پھوٹنا ہے الغرض ہر عذاب کو دیکھ کر اقرار کرتے لیکن جب حضرت موسیٰ کی دعا سے وہ ہٹ جاتا تو پھر انکار کر جاتے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا إِخْبَارٌ مِنَ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، عَنْ تَمرد قَوْمِ فِرْعَوْنَ وَعُتُوِّهِمْ، وَعِنَادِهِمْ لِلْحَقِّ وَإِصْرَارِهِمْ عَلَى الْبَاطِلِ فِي قَوْلِهِمْ: ﴿مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِ مِنْ آيَةٍ لِتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ﴾ يَقُولُونَ: أيُّ آيَةٍ جِئْتِنَا بِهَا وَدَلَالَةً وَحَجَّةً أَقَمْتَهَا، رَدَدْنَاهَا فَلَا نَقْبَلُهَا مِنْكَ، وَلَا نُؤْمِنُ بِكَ وَلَا بِمَا جِئْتَ بِهِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ﴾
اخْتَلَفُوا فِي مَعْنَاهُ، فَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي رِوَايَةٍ: كَثْرَةُ الْأَمْطَارِ الْمُغْرِقَةِ الْمُتْلِفَةِ لِلزُّرُوعِ وَالثِّمَارِ. وَبِهِ قَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِم.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: هُوَ كَثْرَةُ الْمَوْتِ. وَكَذَا قَالَ عَطَاءٌ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: ﴿الطُّوفَانَ﴾ الْمَاءُ، وَالطَّاعُونُ عَلَى كُلِّ حَالٍ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمان، حَدَّثَنَا المِنْهَال بْنُ [[في أ: "عن".]] خَلِيفَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِيناء، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ "الطُّوفَانُ الْمَوْتُ".
وَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ مَرْدَوَيْهِ، مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَمَانٍ، بِهِ وَهُوَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: هُوَ أَمْرٌ مِنَ اللَّهِ طَافَ بِهِمْ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِنْ رَبِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ. [فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ] [[زيادة من أ.]] ﴾ [القلم:١٩، ٢٠] وَأَمَّا الْجَرَادُ فَمَعْرُوفٌ مَشْهُورٌ، وَهُوَ مَأْكُولٌ؛ لِمَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ أَبِي يعفُور [[في م: "يعقوب".]] قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنِ الْجَرَادِ، فَقَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ سَبْعَ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ [[صحيح البخاري برقم (٥٤٩٥) ، وصحيح مسلم برقم (١٩٥٢) .]]
وَرَوَى الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ: الْحُوتُ وَالْجَرَادُ، وَالْكَبِدُ وَالطِّحَالُ" [[مسند الشافعي (١٧٣٤) ، ومسند أحمد (٢/٩٧) ، وسنن ابن ماجة برقم (٣٢١٨) .
وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعِيفُ وقد رجح أبو زرعة والدارقطني وقفه.]]
وَرَوَاهُ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ رُشَيْد، عَنْ سُوَيْد بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي تَمَّامٍ الْأَيْلِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا مِثْلَهُ [[ورواه ابن مردويه في تفسيره كما في نصب الراية للزيعلي (٤/٢٠٢) من طريق محمد بن بشر، عن داود بن راشد، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ (أَبِي هشام الأيلي) سمعت زيد بن أسلم يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم فذكره.
تنبيه: وقع هنا: "أبو تمام الأيلي". وفي نصب الراية: "أبو هشام الأيلي" وهذا تصحيف والصواب: "أبو هاشم الأيلي" وهو كثير بن عبد الله الأيلي، ضعيف. انظر: تلخيص الحبير لابن حجر (١/٢٦) .]]
وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزِّبْرِقان الْأَهْوَازِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ الْجَرَادِ فَقَالَ: "أَكْثَرُ جُنُودِ اللَّهِ، لَا آكُلُهُ، وَلَا أُحَرِّمُهُ" [[سنن أبي داود (٣٩١٣) .]]
وَإِنَّمَا تَرَكَهُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ [[في أ: " صلى الله عليه وسلم".]] لِأَنَّهُ كَانَ يَعَافُهُ، كَمَا عَافَتْ نَفْسُهُ الشَّرِيفَةُ أَكَلَ الضَّبِّ، وَأَذِنَ فِيهِ.
وَقَدْ رَوَى الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ فِي جُزْءٍ جَمَعَهُ فِي الْجَرَادِ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَدَوِيِّ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْج، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَا يَأْكُلُ الْجَرَادَ، وَلَا الْكُلْوَتَيْنِ، وَلَا الضَّبَّ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يُحَرِّمَهَا. أَمَّا الْجَرَادُ: فَرِجْزٌ وَعَذَابٌ. وَأَمَّا الْكُلْوَتَانِ: فَلِقُرْبِهِمَا مِنَ الْبَوْلِ. وَأَمَّا الضَّبُّ فَقَالَ: "أَتَخَوَّفُ أَنْ يَكُونَ مَسْخًا"، ثُمَّ قَالَ [[في أ: "وقال".]] غَرِيبٌ، لَمْ أَكْتُبْهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ [[ورواه ابن صصري في أماليه كما في الكنز برقم (١٨١٨٥) وفي إسناده انقطاع فإن عطاء لم يسمع من ابن عباس وابن جريج مدلس وقد عنعن.]]
وَقَدْ كَانَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَشْتَهِيهِ وَيُحِبُّهُ، فَرَوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ سُئل عَنِ الْجَرَادِ فَقَالَ: لَيْتَ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْهُ قَفْعَة أَوْ قَفْعَتَيْنِ نَأْكُلُهُ [[رواه مالك في الموطأ (٢/٩٣٣) .]]
وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيع، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ سَعِيدِ بْنِ الْمَرْزُبَانِ الْبَقَّالِ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ ﷺ يَتَهادَيْن الْجَرَادَ عَلَى الْأَطْبَاقِ [[سنن ابن ماجة برقم (٣٢٢٠) وقال البوصيري في الزوائد (٣/٦٤) : "هذا إسناد ضعيف".]]
وَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْد، حَدَّثَنَا بَقِيَّة بْنُ الوليد، عن نُمَيْر بن يزيد القَيْني [[في أ: "عن الوليد بن يحيى بن مرثد".]] حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صُدَيّ بْنِ عَجْلان، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ، عَلَيْهَا السَّلَامُ، سَأَلَتْ رَبَّهَا [عَزَّ وَجَلَّ] [[زيادة من ك، د.]] أَنْ يُطْعِمَهَا لَحْمًا لَا دَمَ لَهُ، فَأَطْعَمَهَا الْجَرَادَ، فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ أَعِشْهُ بِغَيْرِ رَضَاعٍ، وَتَابِعْ بَيْنَه بِغَيْرِ شِيَاعٍ" [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (٨/١٦٦) من طريق بقية بن الوليد به قال الهيثمي في المجمع (٤/٣٩) : "فيه بقية وهو ثقة لكنه مدلس، ويزيد القيني لم أعرفه، وبقية رجاله ثقات".]] وَقَالَ نُمَير: "الشَيَاع": الصَّوْتُ.
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ: حَدَّثَنَا أَبُو تَقِيٍّ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ اليَزَني [[في أ: "المزني".]] حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَم بْنِ زُرْعَة، عَنْ شُرَيْح بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي زُهَيْر النُّمَيْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَا تُقَاتِلُوا الْجَرَادَ، فَإِنَّهُ جُنْدُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ". غَرِيبٌ جِدًّا [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (٢٢/٢٩٧) ، وأبو االشيخ الأصبهاني في العظمة برقم (١٢٩٣) من طريق إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ به.]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ﴾ قَالَ: كَانَتْ تَأْكُلُ مَسَامِيرَ أَبْوَابِهِمْ، وتَدَع الْخَشَبَ.
وَرَوَى ابْنُ عَسَاكِرَ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الْخَرَائِطِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ: خَرَجْتُ إِلَى الصَّحْرَاءِ، فَإِذَا أَنَا برِجْل مِنْ جَرَادٍ فِي السَّمَاءِ، وَإِذَا برَجل رَاكِبٍ عَلَى جَرَادة مِنْهَا، وَهُوَ شَاكٍ فِي الْحَدِيدِ، وَكُلَّمَا قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، مَالَ الْجَرَادُ مَعَ يَدِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: الدُّنْيَا بَاطِلٌ بَاطِلٌ مَا فِيهَا، الدُّنْيَا بَاطِلٌ بَاطِلٌ مَا فِيهَا، الدُّنْيَا بَاطِلٌ بَاطِلٌ مَا فِيهَا.
وَرَوَى الْحَافِظُ أَبُو الْفَرَجِ [[في أ: "ابن الفرج".]] الْمُعَافَى بْنُ زَكَرِيَّا الْحَرِيرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، أَخْبَرَنَا وَكِيع، عَنِ الْأَعْمَشِ، أَنْبَأَنَا عَامِرٌ قَالَ: سُئِلَ شُرَيْح الْقَاضِي عَنِ الْجَرَادِ، فَقَالَ: قَبَّحَ اللَّهُ الْجَرَادَةَ. فِيهَا خِلْقَةُ سَبْعَةِ جَبَابِرَةٍ: رَأَسُهَا رَأْسُ فَرَسٍ، وَعُنُقُهَا عُنُقُ ثَوْرٍ، وَصَدْرُهَا صَدْرُ أَسَدِ، وَجَنَاحُهَا جَنَاحُ نَسْرٍ، وَرِجْلَاهَا رِجْلَا جَمَلٍ. وَذَنَبُهَا ذَنَبُ حَيَّةٍ، وَبَطْنُهَا بَطْنُ عَقْرَبٍ.
وَ [قَدْ] [[زيادة من ك، أ.]] قَدَّمْنَا عِنْدَ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ﴾ [الْمَائِدَةِ:٩٦] حَدِيثَ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي المُهزَم، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ في حج أو عمرة، فاستقبلنا [[في ك: "فاستقبلتنا".]] رجْلُ جَرَادٍ، فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُ بالعِصِيِّ، وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ [عَنْ ذَلِكَ] [[زيادة من أ.]] فَقَالَ: "لَا بَأْسَ بِصَيْدِ الْبَحْرِ" [[سورة المائدة آية: ٩٦.]]
وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ، عَنْ هَارُونَ الْحَمَّالِ [[في أ: "الحماني".]] عَنْ هَاشِمِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلاثة، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ وَجَابِرٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] عَنْ رَسُولِ اللَّهِ [[في ك، م، أ: "النبي".]] ﷺ؛ أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَعَا عَلَى الْجَرَادِ قَالَ: "اللَّهُمَّ أَهْلِكْ كِبَارَهُ، وَاقْتُلْ صِغَارَهُ، وَأَفْسِدْ بَيْضَهُ، وَاقْطَعْ دَابِرَهُ، وَخُذْ بِأَفْوَاهِهِ عَنْ مَعَايِشِنَا وَأَرْزَاقِنَا، إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ". فَقَالَ لَهُ جَابِرٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَدْعُو عَلَى جُنْدٍ مِنْ أَجْنَادِ اللَّهِ بِقَطْعِ دَابِرِهِ؟ فَقَالَ: "إِنَّمَا هُوَ نَثْرَةُ حُوتٍ [[في أ: "صوت".]] فِي الْبَحْرِ" قال هَاشِمٌ [[في ك: "هشام".]] أَخْبَرَنِي زِيَادٌ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مَنْ رَآهُ يَنْثُرُهُ الْحُوتُ [[سنن ابن ماجة برقم (٣٢٢١) قال البوصيري في الزوائد (٣/٦٥) : "هذا أسناد ضعيف لضعف موسى بن محمد بن إبراهيم. أورده ابن الجوزي في الموضوعات من طريق هارون بن عبد الله وقال: لا يصح عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وضعه موسى بن محمد المذكور".]] قَالَ: مَنْ حَقَّقَ ذَلِكَ إِنَّ السَّمَكَ إِذَا بَاضَ فِي سَاحِلِ الْبَحْرِ فَنَضَبَ الْمَاءُ عَنْهُ وَبَدَا لِلشَّمْسِ، أَنَّهُ يَفْقِسُ كُلُّهُ جَرَادًا طَيَّارًا.
وَقَدَّمْنَا عِنْدَ قَوْلِهِ: ﴿إِلا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ﴾ [الْأَنْعَامِ:٣٨] حَدِيثَ عُمَر، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: "إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ أَلْفَ أُمَّةٍ، سِتُّمِائَةٍ فِي الْبَحْرِ وَأَرْبَعُمِائَةٍ فِي الْبَرِّ، وَإِنَّ أَوَّلَهَا هَلَاكًا الْجَرَادُ" [[سورة الأنعام آية: ٣٨، وقد تفرد بهذا الحديث محمد بن عيسى، قال ابن عدي في الكامل: "قال عمرو بن علي: محمد بن عيسى بصري صاحب محمد بن المنكدر، ضعيف منكر الحديث روي عن محمد بن المنكدر، عن جابر، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ في الجراد".]]
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْس، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ الْجَوْزَجَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَا وَباء مَعَ السَّيْفِ، وَلَا نَجَاءَ مَعَ الْجَرَادِ". حَدِيثٌ غَرِيبٌ [[ورواه ابن صصري في أماليه كما في الكنز برقم (٣٠٨٧١) والجامع الصغير للسيوطي (٦/٤٣٩) ورمز له بالضعف، وأقره المناوي والألباني.]]
وَأَمَّا ﴿الْقُمَّلَ﴾ فَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: هُوَ [[في م: "أنه".]] السُّوسُ الَّذِي يَخْرُجُ مِنَ الْحِنْطَةِ. وَعَنْهُ أَنَّهُ الدَّبَى [[في م: "الدباب".]] -وَهُوَ الْجَرَادُ الصِّغَارُ الَّذِي لَا أَجْنِحَةَ لَهُ. وَبِهِ قَالَ مُجَاهِدٌ، وَعِكْرِمَةُ، وَقَتَادَةُ.
وَعَنِ الْحَسَنِ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: ﴿الْقُمَّلَ﴾ دَوَابٌّ سُودٌ صِغَارٌ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: ﴿الْقُمَّلَ﴾ الْبَرَاغِيثُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ ﴿الْقُمَّل﴾ جَمْعٌ وَاحِدَتُهَا "قُمَّلة"، وَهِيَ دَابَّةٌ تُشْبِهُ القَمْل، تَأْكُلُهَا الْإِبِلُ، فِيمَا بَلَغَنِي، وَهِيَ الَّتِي عَنَاهَا الْأَعْشَى بِقَوْلِهِ:
قَوْمٌ تُعَالِجُ [[في م: "يعالج".]] قُمَّلا أَبْنَاؤُهُمْ وَسَلَاسِلًا أجُدا وَبَابًا مُؤْصَدَا [[البيت في تفسير الطبري (١٣/٥٦) ، واللسان مادة (قمل) .]]
قَالَ: وَكَانَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِكَلَامِ الْعَرَبِ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ يَزْعُمُ أَنَّ الْقُمَّلَ عِنْدَ الْعَرَبِ "الْحَمْنَانُ"، وَاحِدَتُهَا "حَمْنَانَةٌ"، وَهِيَ صِغَارُ الْقِرْدَانِ فَوْقَ الْقَمْقَامَةِ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: لَمَّا أَتَى مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِرْعَوْنَ قَالَ لَهُ: أَرْسِلْ مَعِيَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ -وَهُوَ الْمَطَرُ -فَصَبَّ عَلَيْهِمْ مِنْهُ شَيْئًا، خَافُوا أَنْ يَكُونَ عَذَابًا، فَقَالُوا لِمُوسَى: ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يَكْشِفْ عَنَّا الْمَطَرَ، فَنُؤْمِنَ لَكَ، وَنُرْسِلَ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَدَعَا رَبَّهُ، فَلَمْ يُؤْمِنُوا، وَلَمْ يُرْسِلُوا مَعَهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَأَنْبَتَ لَهُمْ فِي تِلْكَ السَّنَةِ شَيْئًا لَمْ يُنْبِتْهُ قَبْلَ ذَلِكَ مِنَ الزَّرْعِ وَالثَّمَرِ [[في م: "من الزروع والثمار"، وفي ك، أ: "الزروع والثمر".]] وَالْكَلَأِ فَقَالُوا: هَذَا مَا كُنَّا نَتَمَنَّى. فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الجراد، فسلطه على الكلأ فلما رأوا أَثَرَهُ فِي الْكَلَأِ عَرَفُوا أَنَّهُ لَا يُبْقِي الزَّرْعَ، فَقَالُوا: يَا مُوسَى، ادْعُ لَنَا رَبَّكَ لِيَكْشِفَ [[في د، ك، م: "فيكشف".]] عَنَّا الْجَرَادَ فَنُؤْمِنَ لَكَ، وَنُرْسِلَ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ عَنْهُمُ الْجَرَادَ، فَلَمْ يُؤْمِنُوا، وَلَمْ يُرْسِلُوا مَعَهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَدَاسُوا وَأَحْرَزُوا فِي الْبُيُوتِ، فَقَالُوا: قَدْ أَحْرَزْنَا. فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْقُمَّلَ-وَهُوَ السُّوسُ الَّذِي يَخْرُجُ مِنْهُ -فَكَانَ الرَّجُلُ يَخْرِجُ عَشْرَةَ [[في ك "يخرج معه عشرة".]] أَجْرِبَةٍ إِلَى الرَّحَى، فَلَمْ يَرُدَّ مِنْهَا إِلَّا ثَلَاثَةَ أَقْفِزَةٍ [[في ك: "ثلاثة إلا أقفزة".]] فَقَالُوا لِمُوسَى: ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يَكْشِفْ عَنَّا الْقُمَّلَ، فَنُؤْمِنَ لَكَ، وَنُرْسِلَ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُرْسِلُوا مَعَهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ فِرْعَوْنَ، إِذْ سَمِعَ نَقِيقَ ضِفْدَعٍ، فَقَالَ لِفِرْعَوْنَ: مَا تَلْقَى أَنْتَ وَقَوْمُكَ مِنْ هَذَا. قَالَ [[في ك، د، م، أ: "فقال".]] وَمَا عَسَى أَنْ يَكُونَ كَيْدُ هَذَا؟ فَمَا أَمْسَوْا حَتَّى كَانَ الرَّجُلُ يَجْلِسُ إِلَى ذَقْنه فِي الضَّفَادِعِ، وَيَهُمُّ أَنْ يَتَكَلَّمَ فَتَثِبُ [[في م، أ: "فيثب"، وفي د: "فتبدر".]] الضِّفْدَعُ فِي فِيهِ. فَقَالُوا لِمُوسَى: ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يَكْشِفْ عَنَّا هَذِهِ الضَّفَادِعَ، فَنُؤْمِنَ لَكَ، وَنُرْسِلَ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ [[في م: "فكشف الضفادع".]] عَنْهُمْ فَلَمْ يُؤْمِنُوا. وَأَرْسَلَ [[في م: "فأرسل".]] اللَّهُ عَلَيْهِمُ الدَّمَ، فَكَانُوا مَا اسْتَقَوْا مِنَ الْأَنْهَارِ وَالْآبَارِ، وَمَا كَانَ فِي أَوْعِيَتِهِمْ، وَجَدُوهُ دَمًا عَبِيطًا، فَشَكَوَا إِلَى فِرْعَوْنَ، فَقَالُوا: إِنَّا قَدِ ابْتُلِينَا بِالدَّمِ، وَلَيْسَ لَنَا شَرَابٌ. فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ سَحَرَكُمْ!! فَقَالُوا: مِنْ أَيْنَ سَحَرَنَا، وَنَحْنُ لَا نُجِدُ فِي أَوْعِيَتِنَا شَيْئًا مِنَ الْمَاءِ إِلَّا وَجَدْنَاهُ دَمًا عَبِيطًا؟ فَأَتَوْهُ وَقَالُوا: يَا مُوسَى، ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يَكْشِفْ عَنَّا هَذَا الدَّمَ فَنُؤْمِنَ بِكَ [[في ك، م، أ: "لك".]] وَنُرْسِلَ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَلَمْ يُؤْمِنُوا، وَلَمْ يُرْسِلُوا مَعَهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ [[تفسير الطبري (١٣/٥٧) .]]
وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَالسُّدِّيِّ، وَقَتَادَةَ وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَاءِ السَّلَفِ [[بعدها في م، أ: "أنه أخذ بذلك".]]
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: فَرَجَعَ عَدُوُّ اللَّهِ فِرْعَوْنُ حِينَ آمَنَتِ السَّحَرَةُ مَغْلُوبًا مَغْلُولًا ثُمَّ أَبَى إِلَّا الْإِقَامَةَ عَلَى الْكُفْرِ، وَالتَّمَادِي فِي الشَّرِّ، فَتَابَعَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْآيَاتِ، وَأَخَذَهُ بِالسِّنِينَ، فَأَرْسَلَ عَلَيْهِ الطُّوفَانَ، ثُمَّ الْجَرَادَ، ثُمَّ الْقُمَّلَ، ثُمَّ الضَّفَادِعَ، ثُمَّ الدَّمَ، آيَاتٍ مُفَصَّلَاتٍ. فَأَرْسَلَ الطُّوفَانَ -وَهُوَ الْمَاءُ -فَفَاضَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ثُمَّ رَكَدَ، لَا يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يَحْرُثُوا وَلَا يَعْمَلُوا شَيْئًا، حَتَّى جَهِدُوا جُوعًا، فَلَمَّا بَلَغَهُمْ ذَلِكَ ﴿قَالُوا يَا مُوسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ فَدَعَا مُوسَى رَبَّهُ، فَكَشَفَ [[في م، ك: "فكشفه".]] عَنْهُمْ، فَلَمْ يَفُوا لَهُ بِشَيْءٍ مِمَّا قَالُوا، فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْجَرَادَ، فَأَكَلَ الشَّجَرَ، فِيمَا بَلَغَنِي، حَتَّى إِنْ كَانَ لَيَأْكُلُ مَسَامِيرَ الْأَبْوَابِ مِنَ الْحَدِيدِ، حَتَّى تَقَعَ دُوْرُهُمْ وَمَسَاكِنُهُمْ، فَقَالُوا مِثْلَ مَا قَالُوا، فَدَعَا رَبَّهُ فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَلَمْ يَفُوا لَهُ بِشَيْءٍ مِمَّا قَالُوا، فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْقُمَّلُ، فَذُكِرَ لِي أَنَّ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أُمِرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى كَثِيبٍ حَتَّى يَضْرِبَهُ بِعَصَاهُ، فَمَشَى إِلَى كَثِيبٍ أَهْيَلَ عَظِيمٍ، فَضَرَبَهُ بِهَا، فَانْثَالَ عَلَيْهِمْ قُمَّلًا حَتَّى غَلَبَ عَلَى الْبُيُوتِ وَالْأَطْعِمَةِ وَمَنَعَهُمُ النَّوْمَ وَالْقَرَارَةَ، فَلَمَّا جَهَدَهُمْ قَالُوا لَهُ مِثْلَ مَا قَالُوا لَهُ، فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَلَمْ يَفُوا لَهُ بِشَيْءٍ مِمَّا قَالُوا. فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الضَّفَادِعَ، فَمَلَأَتِ الْبُيُوتَ وَالْأَطْعِمَةَ وَالْآنِيَةَ، فَلَا يَكْشِفُ أَحَدٌ ثَوْبًا وَلَا طَعَامًا إِلَّا وَجَدَ فِيهِ الضَّفَادِعَ، قَدْ غَلَبَتْ عَلَيْهِ. فلما جهدهم ذلك، قالوا له مِثْلَ مَا قَالُوا، فَسَأَلَ رَبَّهُ [[في ك، م: "فدعا".]] فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَلَمْ يَفُوا لَهُ بِشَيْءٍ مِمَّا قَالُوا، فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الدَّمَ، فَصَارَتْ مِيَاهُ آلِ فِرْعَوْنَ دَمًا، لَا يَسْتَقُونَ مِنْ بِئْرٍ وَلَا نَهْرٍ، وَلَا يَغْتَرِفُونَ مِنْ إِنَاءٍ، إِلَّا عَادَ دَمًا عَبِيطًا [[رواه الطبري في تفسيره (١٣/٦٣) .]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، أنبأنا جابر ابن يَزِيدَ [[في أ: "زيد".]] عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرو: لَا تَقْتُلُوا الضَّفَادِعَ، فَإِنَّهَا لَمَّا أُرْسِلَتْ عَلَى قَوْمِ فِرْعَوْنَ [[في ك، م، أ: "بني إسرائيل".]] انْطَلَقَ ضِفْدَعٌ مِنْهَا فَوَقَعَ فِي تَنُّورٍ فِيهِ نَارٌ، يَطْلُبُ بِذَلِكَ مَرْضَاتِ اللَّهِ، فَأَبْدَلَهُنَّ اللَّهُ مِنْ هَذَا أَبْرَدَ شَيْءٍ يَعْلَمُهُ مِنَ الْمَاءِ، وَجَعَلَ نَقِيقَهُنَّ التَّسْبِيحَ. وَرُوِيَ مِنْ طَرِيقِ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ [[وفي إسناده جابر بن يزيد وهو ضعيف وقد ورد النهي عن قتل الضفدع مَرْفُوعًا إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فروي عبد الرحمن التيمي، رضي الله عنه: "أن طبيبا ذكر ضفدعا في دواء عند النبي - صلى الله عليه وسلم - فنهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن قتله". أخرجه أبو داود في السنن برقم (٥٢٦٩) .]]
وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ: يَعْنِي بِالدَّمِ: الرُّعَافَ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلطُّوفَانَ وَٱلْجَرَادَ وَٱلْقُمَّلَ وَٱلضَّفَادِعَ وَٱلدَّمَ ءَايَٰتٍۢ مُّفَصَّلَٰتٍۢ فَٱسْتَكْبَرُوا۟ وَكَانُوا۟ قَوْمًۭا مُّجْرِمِينَ
So We sent upon them the flood and locusts and lice and frogs and blood as distinct signs, but they were arrogant and were a criminal people.
تو ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون کتنی کھلی ہوئی نشانیاں بھیجیں۔ مگر وہ تکبر ہی کرتے رہے اور وہ لوگ تھے ہی گنہگار
سپس (بلاها را پشت سر هم بر آنها نازل کردیم:) طوفان و ملخ و آفت گیاهی و قورباغهها و خون را -که نشانههایی از هم جدا بودند- بر آنها فرستادیم؛ (ولی باز بیدار نشدند، و) تکبر ورزیدند، و جمعیّت گنهکاری بودند!
Tafsir Ibn Kathir
They said [to Musa]: "Whatever Ayat you may bring to us, to work therewith your sorcery on us, we shall never believe in you. (132)So We sent on them: the Tuwfan, the locusts, the Qummal, the frogs, and the blood (as a succession of) manifest signs, yet they remained arrogant, and they were of those people who were criminals (133)And when the punishment struck them, they said: "O Musa! Invoke your Lord for us because of His promise to you. If you remove the punishment from us, we indeed shall believe in you, and we shall let the Children of Israel go with you. (134)But when We removed the punishment from them for a fixed term, which they had to reach, behold! They broke their word (135)
Allah punishes the People of Fir'awn because of Their Rebellion
Allah describes the rebellion, tyranny, defiance of the truth and insistence on falsehood of the people of Fir'awn, prompting them to proclaim,
مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِ مِنْ آيَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
("Whatever Ayat you may bring to us, to work therewith your sorcery on us, we shall never believe in you.")
They said, 'whatever miracle, proof and evidence you bring us, we will neither accept it from you nor believe in you or what you came with.' Allah said,
فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ
(So We sent on them the Tufan)
Ibn 'Abbas commented; "It was a heavy rain that ruined the produce and fruits." He is also reported to have said that Tuwfan refers to mass death. Mujahid said it is water that carries the plague every where. As for the locust, it is the well-known insect, which is permissible to eat. It is recorded in the Two Sahihs, that Abu Ya'fur said that he asked 'Abdullah bin Abi Awfa about locust. He said, "We participated in seven battles with the Messenger of Allah ﷺ, and we used to eat locusts." Ash-Shafi'i, Ahmad bin Hanbal and Ibn Majah recorded from 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam that his father narrated from Ibn 'Umar that the Prophet ﷺ said,
أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ: الْحُوتُ وَالْجَرَادُ وَالْكَبِدُ وَالطِّحَالُ
(We were allowed two dead animals and two [kinds of] blood: fish and locust, and kidney and spleen.)
Ibn Abi Najih narrated from Mujahid about Allah's statement,
فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ
"Eating the nails on their doors and leaving the wood." As for the Qummal, Ibn 'Abbas said that it is the grain bug, or, according to another view; small locusts that do not have wings. Similar was reported from Mujahid, 'Ikrimah and Qatadah. Al-Hasan and Sa'id bin Jubayr said that 'Qummal' are small black insects.
Abu Ja'far bin Jarir recorded that Sa'id bin Jubayr said, "When Musa came to Fir'awn, he demanded, 'Release the Children of Israel to me.' But, Fir'awn did not comply; and Allah sent the Tuwfan, and that is a rain which continued until they feared that it was a form of torment. They said to Musa, 'Invoke your Lord to release us from this rain, and we will believe in you and send the Children of Israel with you.' Musa invoked his Lord and He removed the affliction from them. However, they did not believe, nor did they send the Children of Israel with him.
In that year, Allah allowed (the earth) to grow various types of produce, fruits and grass for them as never before. They said, 'This is what we hoped for.' So Allah sent the locusts, and the locusts started to feed on the grass. When they saw the effect the locusts had on the grass, they knew that no vegetation would be saved from devastation. They said, 'O Musa! Invoke your Lord so that He will remove the locusts from us, and we will believe in you and release the Children of Israel to you.' Musa invoked his Lord, and He removed the locusts. Still, they did not believe and did not send the Children of Israel with him.
They collected grains and kept them in their homes. They said, 'We saved our crops.' However, Allah sent the Qummal, grain bugs, and one of them would take ten bags of grains to the mill, but only reap three small bags of grain. They said, 'O Musa! Ask your Lord to remove the Qummal (weevil) from us and we will believe in you and send the Children of Israel with you.' Musa invoked his Lord, and Allah removed the Qummal from them. However, they did not send the Children of Israel with him.
Once, when he was with Fir'awn, Musa heard the sound of a frog and said to Fir'awn, 'What will you and your people suffer from this (the frogs)' Fir'awn said, 'What can frogs do' Yet, by the time that night arrived a person would be sitting in a crowd of frogs that reached up to his chin and could not open his mouth to speak without a frog jumping in it. They said to Musa, 'Invoke your Lord to remove these frogs from us, and we will believe in you and send the Children of Israel with you.' Musa invoked his Lord, but they did not believe.
Allah then sent blood that filled the rivers, wells and the water containers they had. They complained to Fir'awn, saying, 'We are inflicted with blood and do not have anything to drink.' He said, 'Musa has bewitched you.' They said, 'How could he do that when whenever we look for water in our containers we found that it has turned into blood?' They came to Musa and said, 'Invoke your Lord to save us from this blood, and we will believe in you and send the Children of Israel with you.' Musa invoked his Lord and the blood stopped, but they did not believe nor send the Children of Israel with him." A similar account was attributed to Ibn 'Abbas, As-Suddi, Qatadah and several others among the Salaf.
Muhammad bin Ishaq bin Yasar said, "The enemy of Allah, Fir'awn, went back defeated and humiliated, after the sorcerers believed (in Musa). He insisted on remaining in disbelief and persisted in wickedness. Allah sent down the signs to him, and he (and his people) were first inflicted by famine. Allah then sent the flood, the locusts, the Qummal, the frogs then blood, as consecutive signs. When Allah sent the flood, it filled the surface of the earth with water. But the water level receded, and they could not make use of it to till the land or do anything else. They became hungry. This is when,
قَالُوا يَا مُوسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ لَئِن كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ
(They said: "O Musa! Invoke your Lord for us because of His promise to you. If you remove the punishment from us, we indeed shall believe in you, and we shall let the Children of Israel go with you.")
Musa invoked his Lord and He removed the affliction from them, but they did not keep their promises.
So Allah sent locusts that ate the trees and consumed the nails on their doors, until the doors fell from their homes and residences. They again said what they said to Musa before, and he called on his Lord and He removed the affliction.
Still, they did not keep their promises, and Allah sent the Qummal. Musa, peace be upon him, was commanded to go to a mound and strike it with his staff. So Musa went to a huge mound, struck it with his staff and the Qummal fell out of it in tremendous numbers, until they overwhelmed the houses and food reserves, ultimately depriving them of sleep and rest. When they suffered under this affliction, they said similar to what they said before, and Musa invoked his Lord and He removed the affliction.
They did not keep their promise and Allah sent the frogs to them, and they filled the houses, foods and pots. One of them would not pick up a piece of clothing, or uncover some food, without finding frogs in it. When this affliction became hard on them, they made similar promises as before, Musa supplicated to his Lord and Allah removed the affliction.
They did not keep any of the promises they made, and Allah sent the blood, and the waters of the people of Fir'awn turned to blood. Any water they collected from a well, a river, or a container, turned to blood."
Tafsir Ibn Kathir
سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ان کی سرکشی اور ضد دیکھئے کہ حضرت موسیٰ ؑ سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں کیسے ہی معجزے بتائیں ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہوگئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لئے بعض مفسرین نے کہا ہے طوفان سے مراد موت ہے۔ بعض کہتے ہیں کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ عبداللہ بن ابی اونی سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا سات غزوے میں نے رسول اکرم ﷺ کے ساتھ کئے ہیں۔ ہر ایک میں ہم تو ٹڈیاں کھاتے رہے، مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں دو مردے اور دو خون ہمارے لئے حلال کئے گئے ہیں مچھلی اور ٹڈی اور کلیجی اور تلی۔ ابو داؤد میں ہے حضور سے ٹڈی کی نسبت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا اللہ کے لشکر بہت سے ہیں جنہیں نہ کھاتا ہوں نہ حرام کہتا ہوں۔ حضور نے جی نہ چاہنے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا جیسے کہ گو آپ نے نہیں کھایا حالانکہ دوسروں کو اس کے کھانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ حافظ ابن عساکر رحمت اللہ علیہ نے ایک مستقل رسالہ اسی میں تصنیف فرمایا ہے اس میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضور ٹڈی نہیں کھاتے تھے اور نہ گردے کھاتے تھے اور نہ گوہ۔ لیکن انہیں آپ نے حرام نہیں کیا۔ ٹڈی اس وجہ سے کہ وہ عذاب ہے، گردے اس وجہ سے کہ یہ پیشاب کے قریب ہیں اور گوہ اس وجہ سے کہ آپ کو خوف تھا کہ کہیں یہ مسخ شدہ امت نہ ہو، پھر یہ روایت بھی غریب ہے صرف یہی ایک سند ہے، امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ ٹڈی کو بڑی رغبت سے کھایا کرتے، تلاش کر کے منگوایا کرتے۔ چناچہ کسی نے آپ سے مسئلہ پوچھا کہ ٹڈی کھائی جائے ؟ آپ نے فرمایا کاش کہ ایک دو پیس مل جاتیں تو کیسے مزے سے کھاتے۔ ابن ماجہ میں ہے کہ امہات المومنین تو طباقوں میں لگا کر ٹڈیاں ہدیے اور تحفے کے طور پر بھیجتی تھیں۔ امام بغوی ایک روایت لائے ہیں کہ حضور نے فرمایا حضرت مریم بنت عمران (علیہما السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ایسا گوشت مجھے کھلا جس میں خون نہ ہو اللہ تعالیٰ نے انہیں ٹڈی کھلائی آپ نے ان کے لئے دعا کی کہ اے اللہ اسے بغیر دودھ پینے کے زندگی دے اور اس کی اولاد کو بغیر آواز نکالے اس کے پیچھے لگا دے۔ ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے ٹڈیوں کو مارو نہیں یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں یہ ٹڈیاں ان کے دروازوں کی کیلیں کھا جاتی تھیں اور لکڑی چھوڑ دیتی تھیں اور زاعی کہتے ہیں میں ایک دن جنگل میں تھا کیا دیکھتا ہوں کہ ٹڈیاں بہت سی آسمان کی طرف ہیں اور ان میں سے ایک ٹڈی پر ایک شخص سوار ہے جو ہتھیار بند ہے جو جس طرف اشارہ کرتا ہے ساری ٹڈیاں اس طرف کو جھک جاتی ہیں اور وہ زبان سے برابر کہہ رہا ہے کہ دنیا باطل ہے اور اس میں جو ہے وہ بھی باطل ہے۔ شریح قاضی فرماتے ہیں اس جانور میں سات مختلف جانوروں کی شان ہے اس کا سر گو گھوڑے جیسا ہے گردن بیل جیسی ہے سینہ شیر جیسا ہے پر گدھ جیسے ہیں پر اونٹ جیسے ہیں دم سانپ کی طرح کی ہے۔ پیٹ بچھو جیسا ہے آیت (اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۚ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ 96) 5۔ المآئدہ :96) کی تفسیر میں یہ روایت گذر چکی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج یا عمرے میں جا رہے تھے تو سامنے سے ہمیں ٹڈی دل ملا ہم نے احرام کی حالت میں انہیں لکڑیوں سے مارنا شروع کیا حضور سے سوال کرنے پر آپ نے فرمایا دریائی شکار میں محرم کو کوئی حرج نہیں۔ حضور ﷺ جب ان ٹڈیوں کیلئے بد دعا کرتے تو فرماتے اے اللہ جتنی ان میں سے بڑی ہیں تو انہیں سب کو ہلاک کر ڈال اور جتنی چھوٹی ہیں سب کو قتل کر ڈال ان کے انڈے خراب کر دے ان کی نسل کاٹ دے ان کے منہ ہماری روزی سے روک لے ہمیں روزیاں عطا فرما بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے۔ اس پر حضرت جابر نے عرض کیا یا رسول اللہ اللہ کے ایک لشکر کے غارت و برباد ہوجانے کی آپ دعا کرتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ تو سمندر کے اندر کی مچھلیوں کا ناک جھاڑن ہے۔ چناچہ بعض لوگوں نے اسے مچھلی میں سے اسی طرح نکلتے دیکھا ہے۔ جب مچھلی سمندر کے کنارے انڈے دے جاتی ہے وہاں سے جب پانی ہٹ جاتا ہے اور دھوپ پڑنے لگتی ہے تو وہ انڈے سب کے سب پھوٹ جاتے ہیں اور ان میں سے ٹڈیاں نکلتی ہیں جو پرواز کر جاتی ہیں۔ آیت قرآن (الا امم امثالکم) کی تفسیر میں حضرت عمر فاروق ؓ کی وہ حدیث ہم نے بیان کردی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور جار سو خشکی میں۔ سب سے پہلے ہلاکت ٹڈیوں کی ہوگی۔ امام ابوبکر بن ابو داؤد ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لکڑی تلوار کے مقابلے پر کچھ نہیں اور درخت کی چھال ٹڈی کے مقابلے میں کچھ نہیں یہ حدیث غریب ہے۔ قتل کے بارے میں ابن عباس سے منقول ہے کہ یہ وہ سیاہ رنگ کے چھوٹے چھوٹے جانور ہیں جو گہیوں میں سے نکلتے ہیں اور قول ہے کہ یہ بھی ایک قسم کی بےپر کی ٹڈیاں ہیں۔ سعید کہتے ہیں سیاہ رنگ کے چھوٹے سے کیڑے ہیں۔ اس کا واحد قملہ ہے۔ یہ جانور جب اونٹ کو چمٹ جاتے ہیں تو اسے ہلاک کردیتے ہیں۔ الغرض ایسے ہی موذی جانور بصورت عذاب فرعونیوں کے لئے بھیجے گئے تھے۔ فرعون کی سرکشی اور انکار پر طوفان آیا جس سے انہیں یقین ہوگیا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ گڑ گڑا کر حضرت موسیٰ سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے یہ موسلا دھار پانی رک جائے تو ہم آپ پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ کردیں گے۔ آپ نے دعا کی طوفان ہٹ گیا تو یہ اپنے وعدے سے پھرگئے۔ پھر اللہ کی شان ہے کہ کھیتیاں اور باغات اس قدر پھلے کہ اس سے پہلے کبھی ایسے نہیں پھلے تھے جب تیار ہوگئے تو ٹڈیوں کا عذاب آیا اسے دیکھ کر پھر گھبرائے اور موسیٰ ؑ سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ عذاب ہٹا لے اب ہم پختہ وعدہ کرتے ہیں آپ کی دعا سے یہ عذاب بھی ہٹ گیا لیکن انہوں نے پھر وعدہ شکنی کی۔ فصلیں کاٹ لائے کھلیان اٹھا لئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا عذاب پھر اور شکل میں آیا تمام اناج وغیرہ میں کیڑا لگ گیا اس قدر بکثرت یہ جانور پھیل گئے کہ دس پیمانے لے کر کوئی شخص پسوانے نکلتا تو پسوائے تک وہ جانور سات پیمانے کھالیتے۔ گھبرا کر نبی ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے پھر وعدے کئے آپ پھر دعا کی اللہ تعالیٰ نے اس آفت کو بھی ہٹا لیا۔ لیکن انہوں نے پھر بےایمانی کی۔ نہ بنی اسرائیل کو رہا کیا نہ ایمان قبول کیا۔ اس پر مینڈکوں کا عذاب آیا۔ دربار میں فرعون بیٹھا ہوا ہے تو وہیں مینڈک ظاہر ہو کر ٹرانے لگا سمجھ گئے کہ یہ نئی شکل کا عذاب الٰہی ہے۔ اب یہ پھیلنے اور بڑھنے شروع ہوئے یہاں تک کہ آدمی بیٹھتا تو اس کی گردن تک آس پاس سے اسے مینڈک گھیر لیتے۔ جہاں بات کرنے کیلئے کوئی منہ کھولتا کہ مینڈک تڑپ کر اس کے منہ میں گھس جاتا۔ پھر تنگ آکر حضرت موسیٰ ؑ سے اس عذاب کے ہٹنے کی درخواست کی اور اقرار کیا کہ ہم خود ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی آزاد کردیں گے آپ نے دعا کی اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کو بھی دفع کردیا لیکن پھر مکر گئے۔ چناچہ ان پر خون کا عذاب آیا تمام برتنوں میں خون کھانے پینے کی چیزوں میں خون کنویں میں سے پانی نکلایں تو خون۔ تالاب سے پانی لائیں تو خون۔ پھر تڑپ اٹھے فرعون نے کہا یہ بھی جادو ہے لیکن جب تنگ آگئے تو آخر حضرت موسیٰ سے مع وعدہ درخواست کی کہ ہم تو پانی سے ترس گئے۔ چناچہ آپ نے قول قرار لے کھر پور دعا کی اور اللہ نے اس عذاب کو بھی ہٹا لیا لیکن یہ پھر منکر ہوگئے۔ فرعون جب میدان سے ناکام واپس لوٹا تھا اس نے ٹھان لی تھی کہ خواہ کچھ بھی ہو میں ایمان نہ لاؤں گا۔ چناچہ طوفان کی وجہ سے بھوکوں مرنے لگے پھر ٹڈیوں کا عذاب آیا تو درخت تو کیا گھر کی چوکھٹیں اور دروازوں تک وہ کھا گئیں مکانات گرنے لگے پھر حضرت موسیٰ نے اللہ کے حکم سے ایک پتھر پر لکڑی ماری۔ جس میں سے بیشمار چچڑیاں نکل پڑیں اور پھیل گئیں۔ کھانا، پینا، سونا، بیٹھنا، سب بند ہوگیا۔ پھر مینڈکوں کا عذاب آیا جہاں دیکھو مینڈک نظر آنے لگے۔ پھر خون کا عذاب آیا نہریں، تالاب، کنویں، مٹکے گھڑے وغیرہ غرض بجائے پانی کے خون ہی خون سب چیزیں ہوگئیں۔ عبید اللہ بن عمرو فرماتے ہیں مینڈک کو نہ مارو یہ جب بصورت عذاب فرعونیوں کے پاس آئے تو ایک نے اللہ کی رضا جوئی کے لئے تنور میں چھلانگ ماری۔ اللہ نے اس کے بدلے انہیں پانی کی ٹھنڈک عطا فرمائی اور ان کی آواز کو اپنی تسبیح بنایا۔ یہ بھی مروی ہے کہ خون سے مراد نکسیر پھوٹنا ہے الغرض ہر عذاب کو دیکھ کر اقرار کرتے لیکن جب حضرت موسیٰ کی دعا سے وہ ہٹ جاتا تو پھر انکار کر جاتے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا إِخْبَارٌ مِنَ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، عَنْ تَمرد قَوْمِ فِرْعَوْنَ وَعُتُوِّهِمْ، وَعِنَادِهِمْ لِلْحَقِّ وَإِصْرَارِهِمْ عَلَى الْبَاطِلِ فِي قَوْلِهِمْ: ﴿مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِ مِنْ آيَةٍ لِتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ﴾ يَقُولُونَ: أيُّ آيَةٍ جِئْتِنَا بِهَا وَدَلَالَةً وَحَجَّةً أَقَمْتَهَا، رَدَدْنَاهَا فَلَا نَقْبَلُهَا مِنْكَ، وَلَا نُؤْمِنُ بِكَ وَلَا بِمَا جِئْتَ بِهِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ﴾
اخْتَلَفُوا فِي مَعْنَاهُ، فَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي رِوَايَةٍ: كَثْرَةُ الْأَمْطَارِ الْمُغْرِقَةِ الْمُتْلِفَةِ لِلزُّرُوعِ وَالثِّمَارِ. وَبِهِ قَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِم.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: هُوَ كَثْرَةُ الْمَوْتِ. وَكَذَا قَالَ عَطَاءٌ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: ﴿الطُّوفَانَ﴾ الْمَاءُ، وَالطَّاعُونُ عَلَى كُلِّ حَالٍ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمان، حَدَّثَنَا المِنْهَال بْنُ [[في أ: "عن".]] خَلِيفَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِيناء، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ "الطُّوفَانُ الْمَوْتُ".
وَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ مَرْدَوَيْهِ، مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَمَانٍ، بِهِ وَهُوَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: هُوَ أَمْرٌ مِنَ اللَّهِ طَافَ بِهِمْ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِنْ رَبِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ. [فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ] [[زيادة من أ.]] ﴾ [القلم:١٩، ٢٠] وَأَمَّا الْجَرَادُ فَمَعْرُوفٌ مَشْهُورٌ، وَهُوَ مَأْكُولٌ؛ لِمَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ أَبِي يعفُور [[في م: "يعقوب".]] قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنِ الْجَرَادِ، فَقَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ سَبْعَ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ [[صحيح البخاري برقم (٥٤٩٥) ، وصحيح مسلم برقم (١٩٥٢) .]]
وَرَوَى الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ: الْحُوتُ وَالْجَرَادُ، وَالْكَبِدُ وَالطِّحَالُ" [[مسند الشافعي (١٧٣٤) ، ومسند أحمد (٢/٩٧) ، وسنن ابن ماجة برقم (٣٢١٨) .
وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعِيفُ وقد رجح أبو زرعة والدارقطني وقفه.]]
وَرَوَاهُ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ رُشَيْد، عَنْ سُوَيْد بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي تَمَّامٍ الْأَيْلِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا مِثْلَهُ [[ورواه ابن مردويه في تفسيره كما في نصب الراية للزيعلي (٤/٢٠٢) من طريق محمد بن بشر، عن داود بن راشد، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ (أَبِي هشام الأيلي) سمعت زيد بن أسلم يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم فذكره.
تنبيه: وقع هنا: "أبو تمام الأيلي". وفي نصب الراية: "أبو هشام الأيلي" وهذا تصحيف والصواب: "أبو هاشم الأيلي" وهو كثير بن عبد الله الأيلي، ضعيف. انظر: تلخيص الحبير لابن حجر (١/٢٦) .]]
وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزِّبْرِقان الْأَهْوَازِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ الْجَرَادِ فَقَالَ: "أَكْثَرُ جُنُودِ اللَّهِ، لَا آكُلُهُ، وَلَا أُحَرِّمُهُ" [[سنن أبي داود (٣٩١٣) .]]
وَإِنَّمَا تَرَكَهُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ [[في أ: " صلى الله عليه وسلم".]] لِأَنَّهُ كَانَ يَعَافُهُ، كَمَا عَافَتْ نَفْسُهُ الشَّرِيفَةُ أَكَلَ الضَّبِّ، وَأَذِنَ فِيهِ.
وَقَدْ رَوَى الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ فِي جُزْءٍ جَمَعَهُ فِي الْجَرَادِ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَدَوِيِّ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْج، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَا يَأْكُلُ الْجَرَادَ، وَلَا الْكُلْوَتَيْنِ، وَلَا الضَّبَّ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يُحَرِّمَهَا. أَمَّا الْجَرَادُ: فَرِجْزٌ وَعَذَابٌ. وَأَمَّا الْكُلْوَتَانِ: فَلِقُرْبِهِمَا مِنَ الْبَوْلِ. وَأَمَّا الضَّبُّ فَقَالَ: "أَتَخَوَّفُ أَنْ يَكُونَ مَسْخًا"، ثُمَّ قَالَ [[في أ: "وقال".]] غَرِيبٌ، لَمْ أَكْتُبْهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ [[ورواه ابن صصري في أماليه كما في الكنز برقم (١٨١٨٥) وفي إسناده انقطاع فإن عطاء لم يسمع من ابن عباس وابن جريج مدلس وقد عنعن.]]
وَقَدْ كَانَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَشْتَهِيهِ وَيُحِبُّهُ، فَرَوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ سُئل عَنِ الْجَرَادِ فَقَالَ: لَيْتَ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْهُ قَفْعَة أَوْ قَفْعَتَيْنِ نَأْكُلُهُ [[رواه مالك في الموطأ (٢/٩٣٣) .]]
وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيع، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ سَعِيدِ بْنِ الْمَرْزُبَانِ الْبَقَّالِ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ ﷺ يَتَهادَيْن الْجَرَادَ عَلَى الْأَطْبَاقِ [[سنن ابن ماجة برقم (٣٢٢٠) وقال البوصيري في الزوائد (٣/٦٤) : "هذا إسناد ضعيف".]]
وَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْد، حَدَّثَنَا بَقِيَّة بْنُ الوليد، عن نُمَيْر بن يزيد القَيْني [[في أ: "عن الوليد بن يحيى بن مرثد".]] حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صُدَيّ بْنِ عَجْلان، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ، عَلَيْهَا السَّلَامُ، سَأَلَتْ رَبَّهَا [عَزَّ وَجَلَّ] [[زيادة من ك، د.]] أَنْ يُطْعِمَهَا لَحْمًا لَا دَمَ لَهُ، فَأَطْعَمَهَا الْجَرَادَ، فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ أَعِشْهُ بِغَيْرِ رَضَاعٍ، وَتَابِعْ بَيْنَه بِغَيْرِ شِيَاعٍ" [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (٨/١٦٦) من طريق بقية بن الوليد به قال الهيثمي في المجمع (٤/٣٩) : "فيه بقية وهو ثقة لكنه مدلس، ويزيد القيني لم أعرفه، وبقية رجاله ثقات".]] وَقَالَ نُمَير: "الشَيَاع": الصَّوْتُ.
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ: حَدَّثَنَا أَبُو تَقِيٍّ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ اليَزَني [[في أ: "المزني".]] حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَم بْنِ زُرْعَة، عَنْ شُرَيْح بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي زُهَيْر النُّمَيْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَا تُقَاتِلُوا الْجَرَادَ، فَإِنَّهُ جُنْدُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ". غَرِيبٌ جِدًّا [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (٢٢/٢٩٧) ، وأبو االشيخ الأصبهاني في العظمة برقم (١٢٩٣) من طريق إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ به.]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ﴾ قَالَ: كَانَتْ تَأْكُلُ مَسَامِيرَ أَبْوَابِهِمْ، وتَدَع الْخَشَبَ.
وَرَوَى ابْنُ عَسَاكِرَ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الْخَرَائِطِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ: خَرَجْتُ إِلَى الصَّحْرَاءِ، فَإِذَا أَنَا برِجْل مِنْ جَرَادٍ فِي السَّمَاءِ، وَإِذَا برَجل رَاكِبٍ عَلَى جَرَادة مِنْهَا، وَهُوَ شَاكٍ فِي الْحَدِيدِ، وَكُلَّمَا قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، مَالَ الْجَرَادُ مَعَ يَدِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: الدُّنْيَا بَاطِلٌ بَاطِلٌ مَا فِيهَا، الدُّنْيَا بَاطِلٌ بَاطِلٌ مَا فِيهَا، الدُّنْيَا بَاطِلٌ بَاطِلٌ مَا فِيهَا.
وَرَوَى الْحَافِظُ أَبُو الْفَرَجِ [[في أ: "ابن الفرج".]] الْمُعَافَى بْنُ زَكَرِيَّا الْحَرِيرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، أَخْبَرَنَا وَكِيع، عَنِ الْأَعْمَشِ، أَنْبَأَنَا عَامِرٌ قَالَ: سُئِلَ شُرَيْح الْقَاضِي عَنِ الْجَرَادِ، فَقَالَ: قَبَّحَ اللَّهُ الْجَرَادَةَ. فِيهَا خِلْقَةُ سَبْعَةِ جَبَابِرَةٍ: رَأَسُهَا رَأْسُ فَرَسٍ، وَعُنُقُهَا عُنُقُ ثَوْرٍ، وَصَدْرُهَا صَدْرُ أَسَدِ، وَجَنَاحُهَا جَنَاحُ نَسْرٍ، وَرِجْلَاهَا رِجْلَا جَمَلٍ. وَذَنَبُهَا ذَنَبُ حَيَّةٍ، وَبَطْنُهَا بَطْنُ عَقْرَبٍ.
وَ [قَدْ] [[زيادة من ك، أ.]] قَدَّمْنَا عِنْدَ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ﴾ [الْمَائِدَةِ:٩٦] حَدِيثَ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي المُهزَم، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ في حج أو عمرة، فاستقبلنا [[في ك: "فاستقبلتنا".]] رجْلُ جَرَادٍ، فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُ بالعِصِيِّ، وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ [عَنْ ذَلِكَ] [[زيادة من أ.]] فَقَالَ: "لَا بَأْسَ بِصَيْدِ الْبَحْرِ" [[سورة المائدة آية: ٩٦.]]
وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ، عَنْ هَارُونَ الْحَمَّالِ [[في أ: "الحماني".]] عَنْ هَاشِمِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلاثة، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ وَجَابِرٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] عَنْ رَسُولِ اللَّهِ [[في ك، م، أ: "النبي".]] ﷺ؛ أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَعَا عَلَى الْجَرَادِ قَالَ: "اللَّهُمَّ أَهْلِكْ كِبَارَهُ، وَاقْتُلْ صِغَارَهُ، وَأَفْسِدْ بَيْضَهُ، وَاقْطَعْ دَابِرَهُ، وَخُذْ بِأَفْوَاهِهِ عَنْ مَعَايِشِنَا وَأَرْزَاقِنَا، إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ". فَقَالَ لَهُ جَابِرٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَدْعُو عَلَى جُنْدٍ مِنْ أَجْنَادِ اللَّهِ بِقَطْعِ دَابِرِهِ؟ فَقَالَ: "إِنَّمَا هُوَ نَثْرَةُ حُوتٍ [[في أ: "صوت".]] فِي الْبَحْرِ" قال هَاشِمٌ [[في ك: "هشام".]] أَخْبَرَنِي زِيَادٌ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مَنْ رَآهُ يَنْثُرُهُ الْحُوتُ [[سنن ابن ماجة برقم (٣٢٢١) قال البوصيري في الزوائد (٣/٦٥) : "هذا أسناد ضعيف لضعف موسى بن محمد بن إبراهيم. أورده ابن الجوزي في الموضوعات من طريق هارون بن عبد الله وقال: لا يصح عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وضعه موسى بن محمد المذكور".]] قَالَ: مَنْ حَقَّقَ ذَلِكَ إِنَّ السَّمَكَ إِذَا بَاضَ فِي سَاحِلِ الْبَحْرِ فَنَضَبَ الْمَاءُ عَنْهُ وَبَدَا لِلشَّمْسِ، أَنَّهُ يَفْقِسُ كُلُّهُ جَرَادًا طَيَّارًا.
وَقَدَّمْنَا عِنْدَ قَوْلِهِ: ﴿إِلا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ﴾ [الْأَنْعَامِ:٣٨] حَدِيثَ عُمَر، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: "إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ أَلْفَ أُمَّةٍ، سِتُّمِائَةٍ فِي الْبَحْرِ وَأَرْبَعُمِائَةٍ فِي الْبَرِّ، وَإِنَّ أَوَّلَهَا هَلَاكًا الْجَرَادُ" [[سورة الأنعام آية: ٣٨، وقد تفرد بهذا الحديث محمد بن عيسى، قال ابن عدي في الكامل: "قال عمرو بن علي: محمد بن عيسى بصري صاحب محمد بن المنكدر، ضعيف منكر الحديث روي عن محمد بن المنكدر، عن جابر، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ في الجراد".]]
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْس، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ الْجَوْزَجَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَا وَباء مَعَ السَّيْفِ، وَلَا نَجَاءَ مَعَ الْجَرَادِ". حَدِيثٌ غَرِيبٌ [[ورواه ابن صصري في أماليه كما في الكنز برقم (٣٠٨٧١) والجامع الصغير للسيوطي (٦/٤٣٩) ورمز له بالضعف، وأقره المناوي والألباني.]]
وَأَمَّا ﴿الْقُمَّلَ﴾ فَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: هُوَ [[في م: "أنه".]] السُّوسُ الَّذِي يَخْرُجُ مِنَ الْحِنْطَةِ. وَعَنْهُ أَنَّهُ الدَّبَى [[في م: "الدباب".]] -وَهُوَ الْجَرَادُ الصِّغَارُ الَّذِي لَا أَجْنِحَةَ لَهُ. وَبِهِ قَالَ مُجَاهِدٌ، وَعِكْرِمَةُ، وَقَتَادَةُ.
وَعَنِ الْحَسَنِ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: ﴿الْقُمَّلَ﴾ دَوَابٌّ سُودٌ صِغَارٌ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: ﴿الْقُمَّلَ﴾ الْبَرَاغِيثُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ ﴿الْقُمَّل﴾ جَمْعٌ وَاحِدَتُهَا "قُمَّلة"، وَهِيَ دَابَّةٌ تُشْبِهُ القَمْل، تَأْكُلُهَا الْإِبِلُ، فِيمَا بَلَغَنِي، وَهِيَ الَّتِي عَنَاهَا الْأَعْشَى بِقَوْلِهِ:
قَوْمٌ تُعَالِجُ [[في م: "يعالج".]] قُمَّلا أَبْنَاؤُهُمْ وَسَلَاسِلًا أجُدا وَبَابًا مُؤْصَدَا [[البيت في تفسير الطبري (١٣/٥٦) ، واللسان مادة (قمل) .]]
قَالَ: وَكَانَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِكَلَامِ الْعَرَبِ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ يَزْعُمُ أَنَّ الْقُمَّلَ عِنْدَ الْعَرَبِ "الْحَمْنَانُ"، وَاحِدَتُهَا "حَمْنَانَةٌ"، وَهِيَ صِغَارُ الْقِرْدَانِ فَوْقَ الْقَمْقَامَةِ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: لَمَّا أَتَى مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِرْعَوْنَ قَالَ لَهُ: أَرْسِلْ مَعِيَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ -وَهُوَ الْمَطَرُ -فَصَبَّ عَلَيْهِمْ مِنْهُ شَيْئًا، خَافُوا أَنْ يَكُونَ عَذَابًا، فَقَالُوا لِمُوسَى: ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يَكْشِفْ عَنَّا الْمَطَرَ، فَنُؤْمِنَ لَكَ، وَنُرْسِلَ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَدَعَا رَبَّهُ، فَلَمْ يُؤْمِنُوا، وَلَمْ يُرْسِلُوا مَعَهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَأَنْبَتَ لَهُمْ فِي تِلْكَ السَّنَةِ شَيْئًا لَمْ يُنْبِتْهُ قَبْلَ ذَلِكَ مِنَ الزَّرْعِ وَالثَّمَرِ [[في م: "من الزروع والثمار"، وفي ك، أ: "الزروع والثمر".]] وَالْكَلَأِ فَقَالُوا: هَذَا مَا كُنَّا نَتَمَنَّى. فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الجراد، فسلطه على الكلأ فلما رأوا أَثَرَهُ فِي الْكَلَأِ عَرَفُوا أَنَّهُ لَا يُبْقِي الزَّرْعَ، فَقَالُوا: يَا مُوسَى، ادْعُ لَنَا رَبَّكَ لِيَكْشِفَ [[في د، ك، م: "فيكشف".]] عَنَّا الْجَرَادَ فَنُؤْمِنَ لَكَ، وَنُرْسِلَ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ عَنْهُمُ الْجَرَادَ، فَلَمْ يُؤْمِنُوا، وَلَمْ يُرْسِلُوا مَعَهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَدَاسُوا وَأَحْرَزُوا فِي الْبُيُوتِ، فَقَالُوا: قَدْ أَحْرَزْنَا. فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْقُمَّلَ-وَهُوَ السُّوسُ الَّذِي يَخْرُجُ مِنْهُ -فَكَانَ الرَّجُلُ يَخْرِجُ عَشْرَةَ [[في ك "يخرج معه عشرة".]] أَجْرِبَةٍ إِلَى الرَّحَى، فَلَمْ يَرُدَّ مِنْهَا إِلَّا ثَلَاثَةَ أَقْفِزَةٍ [[في ك: "ثلاثة إلا أقفزة".]] فَقَالُوا لِمُوسَى: ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يَكْشِفْ عَنَّا الْقُمَّلَ، فَنُؤْمِنَ لَكَ، وَنُرْسِلَ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُرْسِلُوا مَعَهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ فِرْعَوْنَ، إِذْ سَمِعَ نَقِيقَ ضِفْدَعٍ، فَقَالَ لِفِرْعَوْنَ: مَا تَلْقَى أَنْتَ وَقَوْمُكَ مِنْ هَذَا. قَالَ [[في ك، د، م، أ: "فقال".]] وَمَا عَسَى أَنْ يَكُونَ كَيْدُ هَذَا؟ فَمَا أَمْسَوْا حَتَّى كَانَ الرَّجُلُ يَجْلِسُ إِلَى ذَقْنه فِي الضَّفَادِعِ، وَيَهُمُّ أَنْ يَتَكَلَّمَ فَتَثِبُ [[في م، أ: "فيثب"، وفي د: "فتبدر".]] الضِّفْدَعُ فِي فِيهِ. فَقَالُوا لِمُوسَى: ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يَكْشِفْ عَنَّا هَذِهِ الضَّفَادِعَ، فَنُؤْمِنَ لَكَ، وَنُرْسِلَ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ [[في م: "فكشف الضفادع".]] عَنْهُمْ فَلَمْ يُؤْمِنُوا. وَأَرْسَلَ [[في م: "فأرسل".]] اللَّهُ عَلَيْهِمُ الدَّمَ، فَكَانُوا مَا اسْتَقَوْا مِنَ الْأَنْهَارِ وَالْآبَارِ، وَمَا كَانَ فِي أَوْعِيَتِهِمْ، وَجَدُوهُ دَمًا عَبِيطًا، فَشَكَوَا إِلَى فِرْعَوْنَ، فَقَالُوا: إِنَّا قَدِ ابْتُلِينَا بِالدَّمِ، وَلَيْسَ لَنَا شَرَابٌ. فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ سَحَرَكُمْ!! فَقَالُوا: مِنْ أَيْنَ سَحَرَنَا، وَنَحْنُ لَا نُجِدُ فِي أَوْعِيَتِنَا شَيْئًا مِنَ الْمَاءِ إِلَّا وَجَدْنَاهُ دَمًا عَبِيطًا؟ فَأَتَوْهُ وَقَالُوا: يَا مُوسَى، ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يَكْشِفْ عَنَّا هَذَا الدَّمَ فَنُؤْمِنَ بِكَ [[في ك، م، أ: "لك".]] وَنُرْسِلَ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَلَمْ يُؤْمِنُوا، وَلَمْ يُرْسِلُوا مَعَهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ [[تفسير الطبري (١٣/٥٧) .]]
وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَالسُّدِّيِّ، وَقَتَادَةَ وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَاءِ السَّلَفِ [[بعدها في م، أ: "أنه أخذ بذلك".]]
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: فَرَجَعَ عَدُوُّ اللَّهِ فِرْعَوْنُ حِينَ آمَنَتِ السَّحَرَةُ مَغْلُوبًا مَغْلُولًا ثُمَّ أَبَى إِلَّا الْإِقَامَةَ عَلَى الْكُفْرِ، وَالتَّمَادِي فِي الشَّرِّ، فَتَابَعَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْآيَاتِ، وَأَخَذَهُ بِالسِّنِينَ، فَأَرْسَلَ عَلَيْهِ الطُّوفَانَ، ثُمَّ الْجَرَادَ، ثُمَّ الْقُمَّلَ، ثُمَّ الضَّفَادِعَ، ثُمَّ الدَّمَ، آيَاتٍ مُفَصَّلَاتٍ. فَأَرْسَلَ الطُّوفَانَ -وَهُوَ الْمَاءُ -فَفَاضَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ثُمَّ رَكَدَ، لَا يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يَحْرُثُوا وَلَا يَعْمَلُوا شَيْئًا، حَتَّى جَهِدُوا جُوعًا، فَلَمَّا بَلَغَهُمْ ذَلِكَ ﴿قَالُوا يَا مُوسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ فَدَعَا مُوسَى رَبَّهُ، فَكَشَفَ [[في م، ك: "فكشفه".]] عَنْهُمْ، فَلَمْ يَفُوا لَهُ بِشَيْءٍ مِمَّا قَالُوا، فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْجَرَادَ، فَأَكَلَ الشَّجَرَ، فِيمَا بَلَغَنِي، حَتَّى إِنْ كَانَ لَيَأْكُلُ مَسَامِيرَ الْأَبْوَابِ مِنَ الْحَدِيدِ، حَتَّى تَقَعَ دُوْرُهُمْ وَمَسَاكِنُهُمْ، فَقَالُوا مِثْلَ مَا قَالُوا، فَدَعَا رَبَّهُ فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَلَمْ يَفُوا لَهُ بِشَيْءٍ مِمَّا قَالُوا، فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْقُمَّلُ، فَذُكِرَ لِي أَنَّ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أُمِرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى كَثِيبٍ حَتَّى يَضْرِبَهُ بِعَصَاهُ، فَمَشَى إِلَى كَثِيبٍ أَهْيَلَ عَظِيمٍ، فَضَرَبَهُ بِهَا، فَانْثَالَ عَلَيْهِمْ قُمَّلًا حَتَّى غَلَبَ عَلَى الْبُيُوتِ وَالْأَطْعِمَةِ وَمَنَعَهُمُ النَّوْمَ وَالْقَرَارَةَ، فَلَمَّا جَهَدَهُمْ قَالُوا لَهُ مِثْلَ مَا قَالُوا لَهُ، فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَلَمْ يَفُوا لَهُ بِشَيْءٍ مِمَّا قَالُوا. فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الضَّفَادِعَ، فَمَلَأَتِ الْبُيُوتَ وَالْأَطْعِمَةَ وَالْآنِيَةَ، فَلَا يَكْشِفُ أَحَدٌ ثَوْبًا وَلَا طَعَامًا إِلَّا وَجَدَ فِيهِ الضَّفَادِعَ، قَدْ غَلَبَتْ عَلَيْهِ. فلما جهدهم ذلك، قالوا له مِثْلَ مَا قَالُوا، فَسَأَلَ رَبَّهُ [[في ك، م: "فدعا".]] فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَلَمْ يَفُوا لَهُ بِشَيْءٍ مِمَّا قَالُوا، فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الدَّمَ، فَصَارَتْ مِيَاهُ آلِ فِرْعَوْنَ دَمًا، لَا يَسْتَقُونَ مِنْ بِئْرٍ وَلَا نَهْرٍ، وَلَا يَغْتَرِفُونَ مِنْ إِنَاءٍ، إِلَّا عَادَ دَمًا عَبِيطًا [[رواه الطبري في تفسيره (١٣/٦٣) .]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، أنبأنا جابر ابن يَزِيدَ [[في أ: "زيد".]] عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرو: لَا تَقْتُلُوا الضَّفَادِعَ، فَإِنَّهَا لَمَّا أُرْسِلَتْ عَلَى قَوْمِ فِرْعَوْنَ [[في ك، م، أ: "بني إسرائيل".]] انْطَلَقَ ضِفْدَعٌ مِنْهَا فَوَقَعَ فِي تَنُّورٍ فِيهِ نَارٌ، يَطْلُبُ بِذَلِكَ مَرْضَاتِ اللَّهِ، فَأَبْدَلَهُنَّ اللَّهُ مِنْ هَذَا أَبْرَدَ شَيْءٍ يَعْلَمُهُ مِنَ الْمَاءِ، وَجَعَلَ نَقِيقَهُنَّ التَّسْبِيحَ. وَرُوِيَ مِنْ طَرِيقِ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ [[وفي إسناده جابر بن يزيد وهو ضعيف وقد ورد النهي عن قتل الضفدع مَرْفُوعًا إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فروي عبد الرحمن التيمي، رضي الله عنه: "أن طبيبا ذكر ضفدعا في دواء عند النبي - صلى الله عليه وسلم - فنهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن قتله". أخرجه أبو داود في السنن برقم (٥٢٦٩) .]]
وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ: يَعْنِي بِالدَّمِ: الرُّعَافَ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ ٱلرِّجْزُ قَالُوا۟ يَٰمُوسَى ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ ۖ لَئِن كَشَفْتَ عَنَّا ٱلرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ
And when the punishment descended upon them, they said, "O Moses, invoke for us your Lord by what He has promised you. If you [can] remove the punishment from us, we will surely believe you, and we will send with you the Children of Israel."
اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے کہ موسیٰ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کرو۔ جیسا اس نے تم سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم سے عذاب کو ٹال دو گے تو ہم تم پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ جانے (کی اجازت) دیں گے
هنگامی که بلا بر آنها مسلط میشد، میگفتند: «ای موسی! از خدایت برای ما بخواه به عهدی که با تو کرده، رفتار کند! اگر این بلا را از ما مرتفع سازی، قطعاً به تو ایمان میآوریم، و بنی اسرائیل را با تو خواهیم فرستاد!»
Tafsir Ibn Kathir
They said [to Musa]: "Whatever Ayat you may bring to us, to work therewith your sorcery on us, we shall never believe in you. (132)So We sent on them: the Tuwfan, the locusts, the Qummal, the frogs, and the blood (as a succession of) manifest signs, yet they remained arrogant, and they were of those people who were criminals (133)And when the punishment struck them, they said: "O Musa! Invoke your Lord for us because of His promise to you. If you remove the punishment from us, we indeed shall believe in you, and we shall let the Children of Israel go with you. (134)But when We removed the punishment from them for a fixed term, which they had to reach, behold! They broke their word (135)
Allah punishes the People of Fir'awn because of Their Rebellion
Allah describes the rebellion, tyranny, defiance of the truth and insistence on falsehood of the people of Fir'awn, prompting them to proclaim,
مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِ مِنْ آيَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
("Whatever Ayat you may bring to us, to work therewith your sorcery on us, we shall never believe in you.")
They said, 'whatever miracle, proof and evidence you bring us, we will neither accept it from you nor believe in you or what you came with.' Allah said,
فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ
(So We sent on them the Tufan)
Ibn 'Abbas commented; "It was a heavy rain that ruined the produce and fruits." He is also reported to have said that Tuwfan refers to mass death. Mujahid said it is water that carries the plague every where. As for the locust, it is the well-known insect, which is permissible to eat. It is recorded in the Two Sahihs, that Abu Ya'fur said that he asked 'Abdullah bin Abi Awfa about locust. He said, "We participated in seven battles with the Messenger of Allah ﷺ, and we used to eat locusts." Ash-Shafi'i, Ahmad bin Hanbal and Ibn Majah recorded from 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam that his father narrated from Ibn 'Umar that the Prophet ﷺ said,
أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ: الْحُوتُ وَالْجَرَادُ وَالْكَبِدُ وَالطِّحَالُ
(We were allowed two dead animals and two [kinds of] blood: fish and locust, and kidney and spleen.)
Ibn Abi Najih narrated from Mujahid about Allah's statement,
فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ
"Eating the nails on their doors and leaving the wood." As for the Qummal, Ibn 'Abbas said that it is the grain bug, or, according to another view; small locusts that do not have wings. Similar was reported from Mujahid, 'Ikrimah and Qatadah. Al-Hasan and Sa'id bin Jubayr said that 'Qummal' are small black insects.
Abu Ja'far bin Jarir recorded that Sa'id bin Jubayr said, "When Musa came to Fir'awn, he demanded, 'Release the Children of Israel to me.' But, Fir'awn did not comply; and Allah sent the Tuwfan, and that is a rain which continued until they feared that it was a form of torment. They said to Musa, 'Invoke your Lord to release us from this rain, and we will believe in you and send the Children of Israel with you.' Musa invoked his Lord and He removed the affliction from them. However, they did not believe, nor did they send the Children of Israel with him.
In that year, Allah allowed (the earth) to grow various types of produce, fruits and grass for them as never before. They said, 'This is what we hoped for.' So Allah sent the locusts, and the locusts started to feed on the grass. When they saw the effect the locusts had on the grass, they knew that no vegetation would be saved from devastation. They said, 'O Musa! Invoke your Lord so that He will remove the locusts from us, and we will believe in you and release the Children of Israel to you.' Musa invoked his Lord, and He removed the locusts. Still, they did not believe and did not send the Children of Israel with him.
They collected grains and kept them in their homes. They said, 'We saved our crops.' However, Allah sent the Qummal, grain bugs, and one of them would take ten bags of grains to the mill, but only reap three small bags of grain. They said, 'O Musa! Ask your Lord to remove the Qummal (weevil) from us and we will believe in you and send the Children of Israel with you.' Musa invoked his Lord, and Allah removed the Qummal from them. However, they did not send the Children of Israel with him.
Once, when he was with Fir'awn, Musa heard the sound of a frog and said to Fir'awn, 'What will you and your people suffer from this (the frogs)' Fir'awn said, 'What can frogs do' Yet, by the time that night arrived a person would be sitting in a crowd of frogs that reached up to his chin and could not open his mouth to speak without a frog jumping in it. They said to Musa, 'Invoke your Lord to remove these frogs from us, and we will believe in you and send the Children of Israel with you.' Musa invoked his Lord, but they did not believe.
Allah then sent blood that filled the rivers, wells and the water containers they had. They complained to Fir'awn, saying, 'We are inflicted with blood and do not have anything to drink.' He said, 'Musa has bewitched you.' They said, 'How could he do that when whenever we look for water in our containers we found that it has turned into blood?' They came to Musa and said, 'Invoke your Lord to save us from this blood, and we will believe in you and send the Children of Israel with you.' Musa invoked his Lord and the blood stopped, but they did not believe nor send the Children of Israel with him." A similar account was attributed to Ibn 'Abbas, As-Suddi, Qatadah and several others among the Salaf.
Muhammad bin Ishaq bin Yasar said, "The enemy of Allah, Fir'awn, went back defeated and humiliated, after the sorcerers believed (in Musa). He insisted on remaining in disbelief and persisted in wickedness. Allah sent down the signs to him, and he (and his people) were first inflicted by famine. Allah then sent the flood, the locusts, the Qummal, the frogs then blood, as consecutive signs. When Allah sent the flood, it filled the surface of the earth with water. But the water level receded, and they could not make use of it to till the land or do anything else. They became hungry. This is when,
قَالُوا يَا مُوسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ لَئِن كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ
(They said: "O Musa! Invoke your Lord for us because of His promise to you. If you remove the punishment from us, we indeed shall believe in you, and we shall let the Children of Israel go with you.")
Musa invoked his Lord and He removed the affliction from them, but they did not keep their promises.
So Allah sent locusts that ate the trees and consumed the nails on their doors, until the doors fell from their homes and residences. They again said what they said to Musa before, and he called on his Lord and He removed the affliction.
Still, they did not keep their promises, and Allah sent the Qummal. Musa, peace be upon him, was commanded to go to a mound and strike it with his staff. So Musa went to a huge mound, struck it with his staff and the Qummal fell out of it in tremendous numbers, until they overwhelmed the houses and food reserves, ultimately depriving them of sleep and rest. When they suffered under this affliction, they said similar to what they said before, and Musa invoked his Lord and He removed the affliction.
They did not keep their promise and Allah sent the frogs to them, and they filled the houses, foods and pots. One of them would not pick up a piece of clothing, or uncover some food, without finding frogs in it. When this affliction became hard on them, they made similar promises as before, Musa supplicated to his Lord and Allah removed the affliction.
They did not keep any of the promises they made, and Allah sent the blood, and the waters of the people of Fir'awn turned to blood. Any water they collected from a well, a river, or a container, turned to blood."
Tafsir Ibn Kathir
سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ان کی سرکشی اور ضد دیکھئے کہ حضرت موسیٰ ؑ سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں کیسے ہی معجزے بتائیں ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہوگئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لئے بعض مفسرین نے کہا ہے طوفان سے مراد موت ہے۔ بعض کہتے ہیں کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ عبداللہ بن ابی اونی سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا سات غزوے میں نے رسول اکرم ﷺ کے ساتھ کئے ہیں۔ ہر ایک میں ہم تو ٹڈیاں کھاتے رہے، مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں دو مردے اور دو خون ہمارے لئے حلال کئے گئے ہیں مچھلی اور ٹڈی اور کلیجی اور تلی۔ ابو داؤد میں ہے حضور سے ٹڈی کی نسبت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا اللہ کے لشکر بہت سے ہیں جنہیں نہ کھاتا ہوں نہ حرام کہتا ہوں۔ حضور نے جی نہ چاہنے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا جیسے کہ گو آپ نے نہیں کھایا حالانکہ دوسروں کو اس کے کھانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ حافظ ابن عساکر رحمت اللہ علیہ نے ایک مستقل رسالہ اسی میں تصنیف فرمایا ہے اس میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضور ٹڈی نہیں کھاتے تھے اور نہ گردے کھاتے تھے اور نہ گوہ۔ لیکن انہیں آپ نے حرام نہیں کیا۔ ٹڈی اس وجہ سے کہ وہ عذاب ہے، گردے اس وجہ سے کہ یہ پیشاب کے قریب ہیں اور گوہ اس وجہ سے کہ آپ کو خوف تھا کہ کہیں یہ مسخ شدہ امت نہ ہو، پھر یہ روایت بھی غریب ہے صرف یہی ایک سند ہے، امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ ٹڈی کو بڑی رغبت سے کھایا کرتے، تلاش کر کے منگوایا کرتے۔ چناچہ کسی نے آپ سے مسئلہ پوچھا کہ ٹڈی کھائی جائے ؟ آپ نے فرمایا کاش کہ ایک دو پیس مل جاتیں تو کیسے مزے سے کھاتے۔ ابن ماجہ میں ہے کہ امہات المومنین تو طباقوں میں لگا کر ٹڈیاں ہدیے اور تحفے کے طور پر بھیجتی تھیں۔ امام بغوی ایک روایت لائے ہیں کہ حضور نے فرمایا حضرت مریم بنت عمران (علیہما السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ایسا گوشت مجھے کھلا جس میں خون نہ ہو اللہ تعالیٰ نے انہیں ٹڈی کھلائی آپ نے ان کے لئے دعا کی کہ اے اللہ اسے بغیر دودھ پینے کے زندگی دے اور اس کی اولاد کو بغیر آواز نکالے اس کے پیچھے لگا دے۔ ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے ٹڈیوں کو مارو نہیں یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں یہ ٹڈیاں ان کے دروازوں کی کیلیں کھا جاتی تھیں اور لکڑی چھوڑ دیتی تھیں اور زاعی کہتے ہیں میں ایک دن جنگل میں تھا کیا دیکھتا ہوں کہ ٹڈیاں بہت سی آسمان کی طرف ہیں اور ان میں سے ایک ٹڈی پر ایک شخص سوار ہے جو ہتھیار بند ہے جو جس طرف اشارہ کرتا ہے ساری ٹڈیاں اس طرف کو جھک جاتی ہیں اور وہ زبان سے برابر کہہ رہا ہے کہ دنیا باطل ہے اور اس میں جو ہے وہ بھی باطل ہے۔ شریح قاضی فرماتے ہیں اس جانور میں سات مختلف جانوروں کی شان ہے اس کا سر گو گھوڑے جیسا ہے گردن بیل جیسی ہے سینہ شیر جیسا ہے پر گدھ جیسے ہیں پر اونٹ جیسے ہیں دم سانپ کی طرح کی ہے۔ پیٹ بچھو جیسا ہے آیت (اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۚ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ 96) 5۔ المآئدہ :96) کی تفسیر میں یہ روایت گذر چکی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج یا عمرے میں جا رہے تھے تو سامنے سے ہمیں ٹڈی دل ملا ہم نے احرام کی حالت میں انہیں لکڑیوں سے مارنا شروع کیا حضور سے سوال کرنے پر آپ نے فرمایا دریائی شکار میں محرم کو کوئی حرج نہیں۔ حضور ﷺ جب ان ٹڈیوں کیلئے بد دعا کرتے تو فرماتے اے اللہ جتنی ان میں سے بڑی ہیں تو انہیں سب کو ہلاک کر ڈال اور جتنی چھوٹی ہیں سب کو قتل کر ڈال ان کے انڈے خراب کر دے ان کی نسل کاٹ دے ان کے منہ ہماری روزی سے روک لے ہمیں روزیاں عطا فرما بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے۔ اس پر حضرت جابر نے عرض کیا یا رسول اللہ اللہ کے ایک لشکر کے غارت و برباد ہوجانے کی آپ دعا کرتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ تو سمندر کے اندر کی مچھلیوں کا ناک جھاڑن ہے۔ چناچہ بعض لوگوں نے اسے مچھلی میں سے اسی طرح نکلتے دیکھا ہے۔ جب مچھلی سمندر کے کنارے انڈے دے جاتی ہے وہاں سے جب پانی ہٹ جاتا ہے اور دھوپ پڑنے لگتی ہے تو وہ انڈے سب کے سب پھوٹ جاتے ہیں اور ان میں سے ٹڈیاں نکلتی ہیں جو پرواز کر جاتی ہیں۔ آیت قرآن (الا امم امثالکم) کی تفسیر میں حضرت عمر فاروق ؓ کی وہ حدیث ہم نے بیان کردی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور جار سو خشکی میں۔ سب سے پہلے ہلاکت ٹڈیوں کی ہوگی۔ امام ابوبکر بن ابو داؤد ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لکڑی تلوار کے مقابلے پر کچھ نہیں اور درخت کی چھال ٹڈی کے مقابلے میں کچھ نہیں یہ حدیث غریب ہے۔ قتل کے بارے میں ابن عباس سے منقول ہے کہ یہ وہ سیاہ رنگ کے چھوٹے چھوٹے جانور ہیں جو گہیوں میں سے نکلتے ہیں اور قول ہے کہ یہ بھی ایک قسم کی بےپر کی ٹڈیاں ہیں۔ سعید کہتے ہیں سیاہ رنگ کے چھوٹے سے کیڑے ہیں۔ اس کا واحد قملہ ہے۔ یہ جانور جب اونٹ کو چمٹ جاتے ہیں تو اسے ہلاک کردیتے ہیں۔ الغرض ایسے ہی موذی جانور بصورت عذاب فرعونیوں کے لئے بھیجے گئے تھے۔ فرعون کی سرکشی اور انکار پر طوفان آیا جس سے انہیں یقین ہوگیا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ گڑ گڑا کر حضرت موسیٰ سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے یہ موسلا دھار پانی رک جائے تو ہم آپ پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ کردیں گے۔ آپ نے دعا کی طوفان ہٹ گیا تو یہ اپنے وعدے سے پھرگئے۔ پھر اللہ کی شان ہے کہ کھیتیاں اور باغات اس قدر پھلے کہ اس سے پہلے کبھی ایسے نہیں پھلے تھے جب تیار ہوگئے تو ٹڈیوں کا عذاب آیا اسے دیکھ کر پھر گھبرائے اور موسیٰ ؑ سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ عذاب ہٹا لے اب ہم پختہ وعدہ کرتے ہیں آپ کی دعا سے یہ عذاب بھی ہٹ گیا لیکن انہوں نے پھر وعدہ شکنی کی۔ فصلیں کاٹ لائے کھلیان اٹھا لئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا عذاب پھر اور شکل میں آیا تمام اناج وغیرہ میں کیڑا لگ گیا اس قدر بکثرت یہ جانور پھیل گئے کہ دس پیمانے لے کر کوئی شخص پسوانے نکلتا تو پسوائے تک وہ جانور سات پیمانے کھالیتے۔ گھبرا کر نبی ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے پھر وعدے کئے آپ پھر دعا کی اللہ تعالیٰ نے اس آفت کو بھی ہٹا لیا۔ لیکن انہوں نے پھر بےایمانی کی۔ نہ بنی اسرائیل کو رہا کیا نہ ایمان قبول کیا۔ اس پر مینڈکوں کا عذاب آیا۔ دربار میں فرعون بیٹھا ہوا ہے تو وہیں مینڈک ظاہر ہو کر ٹرانے لگا سمجھ گئے کہ یہ نئی شکل کا عذاب الٰہی ہے۔ اب یہ پھیلنے اور بڑھنے شروع ہوئے یہاں تک کہ آدمی بیٹھتا تو اس کی گردن تک آس پاس سے اسے مینڈک گھیر لیتے۔ جہاں بات کرنے کیلئے کوئی منہ کھولتا کہ مینڈک تڑپ کر اس کے منہ میں گھس جاتا۔ پھر تنگ آکر حضرت موسیٰ ؑ سے اس عذاب کے ہٹنے کی درخواست کی اور اقرار کیا کہ ہم خود ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی آزاد کردیں گے آپ نے دعا کی اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کو بھی دفع کردیا لیکن پھر مکر گئے۔ چناچہ ان پر خون کا عذاب آیا تمام برتنوں میں خون کھانے پینے کی چیزوں میں خون کنویں میں سے پانی نکلایں تو خون۔ تالاب سے پانی لائیں تو خون۔ پھر تڑپ اٹھے فرعون نے کہا یہ بھی جادو ہے لیکن جب تنگ آگئے تو آخر حضرت موسیٰ سے مع وعدہ درخواست کی کہ ہم تو پانی سے ترس گئے۔ چناچہ آپ نے قول قرار لے کھر پور دعا کی اور اللہ نے اس عذاب کو بھی ہٹا لیا لیکن یہ پھر منکر ہوگئے۔ فرعون جب میدان سے ناکام واپس لوٹا تھا اس نے ٹھان لی تھی کہ خواہ کچھ بھی ہو میں ایمان نہ لاؤں گا۔ چناچہ طوفان کی وجہ سے بھوکوں مرنے لگے پھر ٹڈیوں کا عذاب آیا تو درخت تو کیا گھر کی چوکھٹیں اور دروازوں تک وہ کھا گئیں مکانات گرنے لگے پھر حضرت موسیٰ نے اللہ کے حکم سے ایک پتھر پر لکڑی ماری۔ جس میں سے بیشمار چچڑیاں نکل پڑیں اور پھیل گئیں۔ کھانا، پینا، سونا، بیٹھنا، سب بند ہوگیا۔ پھر مینڈکوں کا عذاب آیا جہاں دیکھو مینڈک نظر آنے لگے۔ پھر خون کا عذاب آیا نہریں، تالاب، کنویں، مٹکے گھڑے وغیرہ غرض بجائے پانی کے خون ہی خون سب چیزیں ہوگئیں۔ عبید اللہ بن عمرو فرماتے ہیں مینڈک کو نہ مارو یہ جب بصورت عذاب فرعونیوں کے پاس آئے تو ایک نے اللہ کی رضا جوئی کے لئے تنور میں چھلانگ ماری۔ اللہ نے اس کے بدلے انہیں پانی کی ٹھنڈک عطا فرمائی اور ان کی آواز کو اپنی تسبیح بنایا۔ یہ بھی مروی ہے کہ خون سے مراد نکسیر پھوٹنا ہے الغرض ہر عذاب کو دیکھ کر اقرار کرتے لیکن جب حضرت موسیٰ کی دعا سے وہ ہٹ جاتا تو پھر انکار کر جاتے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا إِخْبَارٌ مِنَ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، عَنْ تَمرد قَوْمِ فِرْعَوْنَ وَعُتُوِّهِمْ، وَعِنَادِهِمْ لِلْحَقِّ وَإِصْرَارِهِمْ عَلَى الْبَاطِلِ فِي قَوْلِهِمْ: ﴿مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِ مِنْ آيَةٍ لِتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ﴾ يَقُولُونَ: أيُّ آيَةٍ جِئْتِنَا بِهَا وَدَلَالَةً وَحَجَّةً أَقَمْتَهَا، رَدَدْنَاهَا فَلَا نَقْبَلُهَا مِنْكَ، وَلَا نُؤْمِنُ بِكَ وَلَا بِمَا جِئْتَ بِهِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ﴾
اخْتَلَفُوا فِي مَعْنَاهُ، فَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي رِوَايَةٍ: كَثْرَةُ الْأَمْطَارِ الْمُغْرِقَةِ الْمُتْلِفَةِ لِلزُّرُوعِ وَالثِّمَارِ. وَبِهِ قَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِم.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: هُوَ كَثْرَةُ الْمَوْتِ. وَكَذَا قَالَ عَطَاءٌ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: ﴿الطُّوفَانَ﴾ الْمَاءُ، وَالطَّاعُونُ عَلَى كُلِّ حَالٍ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمان، حَدَّثَنَا المِنْهَال بْنُ [[في أ: "عن".]] خَلِيفَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِيناء، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ "الطُّوفَانُ الْمَوْتُ".
وَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ مَرْدَوَيْهِ، مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَمَانٍ، بِهِ وَهُوَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: هُوَ أَمْرٌ مِنَ اللَّهِ طَافَ بِهِمْ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِنْ رَبِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ. [فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ] [[زيادة من أ.]] ﴾ [القلم:١٩، ٢٠] وَأَمَّا الْجَرَادُ فَمَعْرُوفٌ مَشْهُورٌ، وَهُوَ مَأْكُولٌ؛ لِمَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ أَبِي يعفُور [[في م: "يعقوب".]] قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنِ الْجَرَادِ، فَقَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ سَبْعَ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ [[صحيح البخاري برقم (٥٤٩٥) ، وصحيح مسلم برقم (١٩٥٢) .]]
وَرَوَى الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ: الْحُوتُ وَالْجَرَادُ، وَالْكَبِدُ وَالطِّحَالُ" [[مسند الشافعي (١٧٣٤) ، ومسند أحمد (٢/٩٧) ، وسنن ابن ماجة برقم (٣٢١٨) .
وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعِيفُ وقد رجح أبو زرعة والدارقطني وقفه.]]
وَرَوَاهُ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ رُشَيْد، عَنْ سُوَيْد بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي تَمَّامٍ الْأَيْلِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا مِثْلَهُ [[ورواه ابن مردويه في تفسيره كما في نصب الراية للزيعلي (٤/٢٠٢) من طريق محمد بن بشر، عن داود بن راشد، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ (أَبِي هشام الأيلي) سمعت زيد بن أسلم يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم فذكره.
تنبيه: وقع هنا: "أبو تمام الأيلي". وفي نصب الراية: "أبو هشام الأيلي" وهذا تصحيف والصواب: "أبو هاشم الأيلي" وهو كثير بن عبد الله الأيلي، ضعيف. انظر: تلخيص الحبير لابن حجر (١/٢٦) .]]
وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزِّبْرِقان الْأَهْوَازِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ الْجَرَادِ فَقَالَ: "أَكْثَرُ جُنُودِ اللَّهِ، لَا آكُلُهُ، وَلَا أُحَرِّمُهُ" [[سنن أبي داود (٣٩١٣) .]]
وَإِنَّمَا تَرَكَهُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ [[في أ: " صلى الله عليه وسلم".]] لِأَنَّهُ كَانَ يَعَافُهُ، كَمَا عَافَتْ نَفْسُهُ الشَّرِيفَةُ أَكَلَ الضَّبِّ، وَأَذِنَ فِيهِ.
وَقَدْ رَوَى الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ فِي جُزْءٍ جَمَعَهُ فِي الْجَرَادِ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَدَوِيِّ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْج، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَا يَأْكُلُ الْجَرَادَ، وَلَا الْكُلْوَتَيْنِ، وَلَا الضَّبَّ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يُحَرِّمَهَا. أَمَّا الْجَرَادُ: فَرِجْزٌ وَعَذَابٌ. وَأَمَّا الْكُلْوَتَانِ: فَلِقُرْبِهِمَا مِنَ الْبَوْلِ. وَأَمَّا الضَّبُّ فَقَالَ: "أَتَخَوَّفُ أَنْ يَكُونَ مَسْخًا"، ثُمَّ قَالَ [[في أ: "وقال".]] غَرِيبٌ، لَمْ أَكْتُبْهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ [[ورواه ابن صصري في أماليه كما في الكنز برقم (١٨١٨٥) وفي إسناده انقطاع فإن عطاء لم يسمع من ابن عباس وابن جريج مدلس وقد عنعن.]]
وَقَدْ كَانَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَشْتَهِيهِ وَيُحِبُّهُ، فَرَوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ سُئل عَنِ الْجَرَادِ فَقَالَ: لَيْتَ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْهُ قَفْعَة أَوْ قَفْعَتَيْنِ نَأْكُلُهُ [[رواه مالك في الموطأ (٢/٩٣٣) .]]
وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيع، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ سَعِيدِ بْنِ الْمَرْزُبَانِ الْبَقَّالِ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ ﷺ يَتَهادَيْن الْجَرَادَ عَلَى الْأَطْبَاقِ [[سنن ابن ماجة برقم (٣٢٢٠) وقال البوصيري في الزوائد (٣/٦٤) : "هذا إسناد ضعيف".]]
وَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْد، حَدَّثَنَا بَقِيَّة بْنُ الوليد، عن نُمَيْر بن يزيد القَيْني [[في أ: "عن الوليد بن يحيى بن مرثد".]] حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صُدَيّ بْنِ عَجْلان، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ، عَلَيْهَا السَّلَامُ، سَأَلَتْ رَبَّهَا [عَزَّ وَجَلَّ] [[زيادة من ك، د.]] أَنْ يُطْعِمَهَا لَحْمًا لَا دَمَ لَهُ، فَأَطْعَمَهَا الْجَرَادَ، فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ أَعِشْهُ بِغَيْرِ رَضَاعٍ، وَتَابِعْ بَيْنَه بِغَيْرِ شِيَاعٍ" [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (٨/١٦٦) من طريق بقية بن الوليد به قال الهيثمي في المجمع (٤/٣٩) : "فيه بقية وهو ثقة لكنه مدلس، ويزيد القيني لم أعرفه، وبقية رجاله ثقات".]] وَقَالَ نُمَير: "الشَيَاع": الصَّوْتُ.
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ: حَدَّثَنَا أَبُو تَقِيٍّ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ اليَزَني [[في أ: "المزني".]] حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَم بْنِ زُرْعَة، عَنْ شُرَيْح بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي زُهَيْر النُّمَيْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَا تُقَاتِلُوا الْجَرَادَ، فَإِنَّهُ جُنْدُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ". غَرِيبٌ جِدًّا [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (٢٢/٢٩٧) ، وأبو االشيخ الأصبهاني في العظمة برقم (١٢٩٣) من طريق إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ به.]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ﴾ قَالَ: كَانَتْ تَأْكُلُ مَسَامِيرَ أَبْوَابِهِمْ، وتَدَع الْخَشَبَ.
وَرَوَى ابْنُ عَسَاكِرَ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الْخَرَائِطِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ: خَرَجْتُ إِلَى الصَّحْرَاءِ، فَإِذَا أَنَا برِجْل مِنْ جَرَادٍ فِي السَّمَاءِ، وَإِذَا برَجل رَاكِبٍ عَلَى جَرَادة مِنْهَا، وَهُوَ شَاكٍ فِي الْحَدِيدِ، وَكُلَّمَا قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، مَالَ الْجَرَادُ مَعَ يَدِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: الدُّنْيَا بَاطِلٌ بَاطِلٌ مَا فِيهَا، الدُّنْيَا بَاطِلٌ بَاطِلٌ مَا فِيهَا، الدُّنْيَا بَاطِلٌ بَاطِلٌ مَا فِيهَا.
وَرَوَى الْحَافِظُ أَبُو الْفَرَجِ [[في أ: "ابن الفرج".]] الْمُعَافَى بْنُ زَكَرِيَّا الْحَرِيرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، أَخْبَرَنَا وَكِيع، عَنِ الْأَعْمَشِ، أَنْبَأَنَا عَامِرٌ قَالَ: سُئِلَ شُرَيْح الْقَاضِي عَنِ الْجَرَادِ، فَقَالَ: قَبَّحَ اللَّهُ الْجَرَادَةَ. فِيهَا خِلْقَةُ سَبْعَةِ جَبَابِرَةٍ: رَأَسُهَا رَأْسُ فَرَسٍ، وَعُنُقُهَا عُنُقُ ثَوْرٍ، وَصَدْرُهَا صَدْرُ أَسَدِ، وَجَنَاحُهَا جَنَاحُ نَسْرٍ، وَرِجْلَاهَا رِجْلَا جَمَلٍ. وَذَنَبُهَا ذَنَبُ حَيَّةٍ، وَبَطْنُهَا بَطْنُ عَقْرَبٍ.
وَ [قَدْ] [[زيادة من ك، أ.]] قَدَّمْنَا عِنْدَ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ﴾ [الْمَائِدَةِ:٩٦] حَدِيثَ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي المُهزَم، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ في حج أو عمرة، فاستقبلنا [[في ك: "فاستقبلتنا".]] رجْلُ جَرَادٍ، فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُ بالعِصِيِّ، وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ [عَنْ ذَلِكَ] [[زيادة من أ.]] فَقَالَ: "لَا بَأْسَ بِصَيْدِ الْبَحْرِ" [[سورة المائدة آية: ٩٦.]]
وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ، عَنْ هَارُونَ الْحَمَّالِ [[في أ: "الحماني".]] عَنْ هَاشِمِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلاثة، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ وَجَابِرٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] عَنْ رَسُولِ اللَّهِ [[في ك، م، أ: "النبي".]] ﷺ؛ أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَعَا عَلَى الْجَرَادِ قَالَ: "اللَّهُمَّ أَهْلِكْ كِبَارَهُ، وَاقْتُلْ صِغَارَهُ، وَأَفْسِدْ بَيْضَهُ، وَاقْطَعْ دَابِرَهُ، وَخُذْ بِأَفْوَاهِهِ عَنْ مَعَايِشِنَا وَأَرْزَاقِنَا، إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ". فَقَالَ لَهُ جَابِرٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَدْعُو عَلَى جُنْدٍ مِنْ أَجْنَادِ اللَّهِ بِقَطْعِ دَابِرِهِ؟ فَقَالَ: "إِنَّمَا هُوَ نَثْرَةُ حُوتٍ [[في أ: "صوت".]] فِي الْبَحْرِ" قال هَاشِمٌ [[في ك: "هشام".]] أَخْبَرَنِي زِيَادٌ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مَنْ رَآهُ يَنْثُرُهُ الْحُوتُ [[سنن ابن ماجة برقم (٣٢٢١) قال البوصيري في الزوائد (٣/٦٥) : "هذا أسناد ضعيف لضعف موسى بن محمد بن إبراهيم. أورده ابن الجوزي في الموضوعات من طريق هارون بن عبد الله وقال: لا يصح عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وضعه موسى بن محمد المذكور".]] قَالَ: مَنْ حَقَّقَ ذَلِكَ إِنَّ السَّمَكَ إِذَا بَاضَ فِي سَاحِلِ الْبَحْرِ فَنَضَبَ الْمَاءُ عَنْهُ وَبَدَا لِلشَّمْسِ، أَنَّهُ يَفْقِسُ كُلُّهُ جَرَادًا طَيَّارًا.
وَقَدَّمْنَا عِنْدَ قَوْلِهِ: ﴿إِلا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ﴾ [الْأَنْعَامِ:٣٨] حَدِيثَ عُمَر، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: "إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ أَلْفَ أُمَّةٍ، سِتُّمِائَةٍ فِي الْبَحْرِ وَأَرْبَعُمِائَةٍ فِي الْبَرِّ، وَإِنَّ أَوَّلَهَا هَلَاكًا الْجَرَادُ" [[سورة الأنعام آية: ٣٨، وقد تفرد بهذا الحديث محمد بن عيسى، قال ابن عدي في الكامل: "قال عمرو بن علي: محمد بن عيسى بصري صاحب محمد بن المنكدر، ضعيف منكر الحديث روي عن محمد بن المنكدر، عن جابر، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ في الجراد".]]
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْس، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ الْجَوْزَجَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَا وَباء مَعَ السَّيْفِ، وَلَا نَجَاءَ مَعَ الْجَرَادِ". حَدِيثٌ غَرِيبٌ [[ورواه ابن صصري في أماليه كما في الكنز برقم (٣٠٨٧١) والجامع الصغير للسيوطي (٦/٤٣٩) ورمز له بالضعف، وأقره المناوي والألباني.]]
وَأَمَّا ﴿الْقُمَّلَ﴾ فَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: هُوَ [[في م: "أنه".]] السُّوسُ الَّذِي يَخْرُجُ مِنَ الْحِنْطَةِ. وَعَنْهُ أَنَّهُ الدَّبَى [[في م: "الدباب".]] -وَهُوَ الْجَرَادُ الصِّغَارُ الَّذِي لَا أَجْنِحَةَ لَهُ. وَبِهِ قَالَ مُجَاهِدٌ، وَعِكْرِمَةُ، وَقَتَادَةُ.
وَعَنِ الْحَسَنِ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: ﴿الْقُمَّلَ﴾ دَوَابٌّ سُودٌ صِغَارٌ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: ﴿الْقُمَّلَ﴾ الْبَرَاغِيثُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ ﴿الْقُمَّل﴾ جَمْعٌ وَاحِدَتُهَا "قُمَّلة"، وَهِيَ دَابَّةٌ تُشْبِهُ القَمْل، تَأْكُلُهَا الْإِبِلُ، فِيمَا بَلَغَنِي، وَهِيَ الَّتِي عَنَاهَا الْأَعْشَى بِقَوْلِهِ:
قَوْمٌ تُعَالِجُ [[في م: "يعالج".]] قُمَّلا أَبْنَاؤُهُمْ وَسَلَاسِلًا أجُدا وَبَابًا مُؤْصَدَا [[البيت في تفسير الطبري (١٣/٥٦) ، واللسان مادة (قمل) .]]
قَالَ: وَكَانَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِكَلَامِ الْعَرَبِ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ يَزْعُمُ أَنَّ الْقُمَّلَ عِنْدَ الْعَرَبِ "الْحَمْنَانُ"، وَاحِدَتُهَا "حَمْنَانَةٌ"، وَهِيَ صِغَارُ الْقِرْدَانِ فَوْقَ الْقَمْقَامَةِ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: لَمَّا أَتَى مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِرْعَوْنَ قَالَ لَهُ: أَرْسِلْ مَعِيَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ -وَهُوَ الْمَطَرُ -فَصَبَّ عَلَيْهِمْ مِنْهُ شَيْئًا، خَافُوا أَنْ يَكُونَ عَذَابًا، فَقَالُوا لِمُوسَى: ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يَكْشِفْ عَنَّا الْمَطَرَ، فَنُؤْمِنَ لَكَ، وَنُرْسِلَ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَدَعَا رَبَّهُ، فَلَمْ يُؤْمِنُوا، وَلَمْ يُرْسِلُوا مَعَهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَأَنْبَتَ لَهُمْ فِي تِلْكَ السَّنَةِ شَيْئًا لَمْ يُنْبِتْهُ قَبْلَ ذَلِكَ مِنَ الزَّرْعِ وَالثَّمَرِ [[في م: "من الزروع والثمار"، وفي ك، أ: "الزروع والثمر".]] وَالْكَلَأِ فَقَالُوا: هَذَا مَا كُنَّا نَتَمَنَّى. فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الجراد، فسلطه على الكلأ فلما رأوا أَثَرَهُ فِي الْكَلَأِ عَرَفُوا أَنَّهُ لَا يُبْقِي الزَّرْعَ، فَقَالُوا: يَا مُوسَى، ادْعُ لَنَا رَبَّكَ لِيَكْشِفَ [[في د، ك، م: "فيكشف".]] عَنَّا الْجَرَادَ فَنُؤْمِنَ لَكَ، وَنُرْسِلَ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ عَنْهُمُ الْجَرَادَ، فَلَمْ يُؤْمِنُوا، وَلَمْ يُرْسِلُوا مَعَهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَدَاسُوا وَأَحْرَزُوا فِي الْبُيُوتِ، فَقَالُوا: قَدْ أَحْرَزْنَا. فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْقُمَّلَ-وَهُوَ السُّوسُ الَّذِي يَخْرُجُ مِنْهُ -فَكَانَ الرَّجُلُ يَخْرِجُ عَشْرَةَ [[في ك "يخرج معه عشرة".]] أَجْرِبَةٍ إِلَى الرَّحَى، فَلَمْ يَرُدَّ مِنْهَا إِلَّا ثَلَاثَةَ أَقْفِزَةٍ [[في ك: "ثلاثة إلا أقفزة".]] فَقَالُوا لِمُوسَى: ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يَكْشِفْ عَنَّا الْقُمَّلَ، فَنُؤْمِنَ لَكَ، وَنُرْسِلَ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُرْسِلُوا مَعَهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ فِرْعَوْنَ، إِذْ سَمِعَ نَقِيقَ ضِفْدَعٍ، فَقَالَ لِفِرْعَوْنَ: مَا تَلْقَى أَنْتَ وَقَوْمُكَ مِنْ هَذَا. قَالَ [[في ك، د، م، أ: "فقال".]] وَمَا عَسَى أَنْ يَكُونَ كَيْدُ هَذَا؟ فَمَا أَمْسَوْا حَتَّى كَانَ الرَّجُلُ يَجْلِسُ إِلَى ذَقْنه فِي الضَّفَادِعِ، وَيَهُمُّ أَنْ يَتَكَلَّمَ فَتَثِبُ [[في م، أ: "فيثب"، وفي د: "فتبدر".]] الضِّفْدَعُ فِي فِيهِ. فَقَالُوا لِمُوسَى: ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يَكْشِفْ عَنَّا هَذِهِ الضَّفَادِعَ، فَنُؤْمِنَ لَكَ، وَنُرْسِلَ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ [[في م: "فكشف الضفادع".]] عَنْهُمْ فَلَمْ يُؤْمِنُوا. وَأَرْسَلَ [[في م: "فأرسل".]] اللَّهُ عَلَيْهِمُ الدَّمَ، فَكَانُوا مَا اسْتَقَوْا مِنَ الْأَنْهَارِ وَالْآبَارِ، وَمَا كَانَ فِي أَوْعِيَتِهِمْ، وَجَدُوهُ دَمًا عَبِيطًا، فَشَكَوَا إِلَى فِرْعَوْنَ، فَقَالُوا: إِنَّا قَدِ ابْتُلِينَا بِالدَّمِ، وَلَيْسَ لَنَا شَرَابٌ. فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ سَحَرَكُمْ!! فَقَالُوا: مِنْ أَيْنَ سَحَرَنَا، وَنَحْنُ لَا نُجِدُ فِي أَوْعِيَتِنَا شَيْئًا مِنَ الْمَاءِ إِلَّا وَجَدْنَاهُ دَمًا عَبِيطًا؟ فَأَتَوْهُ وَقَالُوا: يَا مُوسَى، ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يَكْشِفْ عَنَّا هَذَا الدَّمَ فَنُؤْمِنَ بِكَ [[في ك، م، أ: "لك".]] وَنُرْسِلَ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَلَمْ يُؤْمِنُوا، وَلَمْ يُرْسِلُوا مَعَهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ [[تفسير الطبري (١٣/٥٧) .]]
وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَالسُّدِّيِّ، وَقَتَادَةَ وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَاءِ السَّلَفِ [[بعدها في م، أ: "أنه أخذ بذلك".]]
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: فَرَجَعَ عَدُوُّ اللَّهِ فِرْعَوْنُ حِينَ آمَنَتِ السَّحَرَةُ مَغْلُوبًا مَغْلُولًا ثُمَّ أَبَى إِلَّا الْإِقَامَةَ عَلَى الْكُفْرِ، وَالتَّمَادِي فِي الشَّرِّ، فَتَابَعَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْآيَاتِ، وَأَخَذَهُ بِالسِّنِينَ، فَأَرْسَلَ عَلَيْهِ الطُّوفَانَ، ثُمَّ الْجَرَادَ، ثُمَّ الْقُمَّلَ، ثُمَّ الضَّفَادِعَ، ثُمَّ الدَّمَ، آيَاتٍ مُفَصَّلَاتٍ. فَأَرْسَلَ الطُّوفَانَ -وَهُوَ الْمَاءُ -فَفَاضَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ثُمَّ رَكَدَ، لَا يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يَحْرُثُوا وَلَا يَعْمَلُوا شَيْئًا، حَتَّى جَهِدُوا جُوعًا، فَلَمَّا بَلَغَهُمْ ذَلِكَ ﴿قَالُوا يَا مُوسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ فَدَعَا مُوسَى رَبَّهُ، فَكَشَفَ [[في م، ك: "فكشفه".]] عَنْهُمْ، فَلَمْ يَفُوا لَهُ بِشَيْءٍ مِمَّا قَالُوا، فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْجَرَادَ، فَأَكَلَ الشَّجَرَ، فِيمَا بَلَغَنِي، حَتَّى إِنْ كَانَ لَيَأْكُلُ مَسَامِيرَ الْأَبْوَابِ مِنَ الْحَدِيدِ، حَتَّى تَقَعَ دُوْرُهُمْ وَمَسَاكِنُهُمْ، فَقَالُوا مِثْلَ مَا قَالُوا، فَدَعَا رَبَّهُ فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَلَمْ يَفُوا لَهُ بِشَيْءٍ مِمَّا قَالُوا، فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْقُمَّلُ، فَذُكِرَ لِي أَنَّ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أُمِرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى كَثِيبٍ حَتَّى يَضْرِبَهُ بِعَصَاهُ، فَمَشَى إِلَى كَثِيبٍ أَهْيَلَ عَظِيمٍ، فَضَرَبَهُ بِهَا، فَانْثَالَ عَلَيْهِمْ قُمَّلًا حَتَّى غَلَبَ عَلَى الْبُيُوتِ وَالْأَطْعِمَةِ وَمَنَعَهُمُ النَّوْمَ وَالْقَرَارَةَ، فَلَمَّا جَهَدَهُمْ قَالُوا لَهُ مِثْلَ مَا قَالُوا لَهُ، فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَلَمْ يَفُوا لَهُ بِشَيْءٍ مِمَّا قَالُوا. فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الضَّفَادِعَ، فَمَلَأَتِ الْبُيُوتَ وَالْأَطْعِمَةَ وَالْآنِيَةَ، فَلَا يَكْشِفُ أَحَدٌ ثَوْبًا وَلَا طَعَامًا إِلَّا وَجَدَ فِيهِ الضَّفَادِعَ، قَدْ غَلَبَتْ عَلَيْهِ. فلما جهدهم ذلك، قالوا له مِثْلَ مَا قَالُوا، فَسَأَلَ رَبَّهُ [[في ك، م: "فدعا".]] فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَلَمْ يَفُوا لَهُ بِشَيْءٍ مِمَّا قَالُوا، فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الدَّمَ، فَصَارَتْ مِيَاهُ آلِ فِرْعَوْنَ دَمًا، لَا يَسْتَقُونَ مِنْ بِئْرٍ وَلَا نَهْرٍ، وَلَا يَغْتَرِفُونَ مِنْ إِنَاءٍ، إِلَّا عَادَ دَمًا عَبِيطًا [[رواه الطبري في تفسيره (١٣/٦٣) .]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، أنبأنا جابر ابن يَزِيدَ [[في أ: "زيد".]] عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرو: لَا تَقْتُلُوا الضَّفَادِعَ، فَإِنَّهَا لَمَّا أُرْسِلَتْ عَلَى قَوْمِ فِرْعَوْنَ [[في ك، م، أ: "بني إسرائيل".]] انْطَلَقَ ضِفْدَعٌ مِنْهَا فَوَقَعَ فِي تَنُّورٍ فِيهِ نَارٌ، يَطْلُبُ بِذَلِكَ مَرْضَاتِ اللَّهِ، فَأَبْدَلَهُنَّ اللَّهُ مِنْ هَذَا أَبْرَدَ شَيْءٍ يَعْلَمُهُ مِنَ الْمَاءِ، وَجَعَلَ نَقِيقَهُنَّ التَّسْبِيحَ. وَرُوِيَ مِنْ طَرِيقِ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ [[وفي إسناده جابر بن يزيد وهو ضعيف وقد ورد النهي عن قتل الضفدع مَرْفُوعًا إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فروي عبد الرحمن التيمي، رضي الله عنه: "أن طبيبا ذكر ضفدعا في دواء عند النبي - صلى الله عليه وسلم - فنهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن قتله". أخرجه أبو داود في السنن برقم (٥٢٦٩) .]]
وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ: يَعْنِي بِالدَّمِ: الرُّعَافَ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ ٱلرِّجْزَ إِلَىٰٓ أَجَلٍ هُم بَٰلِغُوهُ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَ
But when We removed the punishment from them until a term which they were to reach, then at once they broke their word.
پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے تو وہ عہد کو توڑ ڈالتے
اما هنگامی که بلا را، پس از مدت معینی که به آن میرسیدند، از آنها برمیداشتیم، پیمان خویش را میشکستند!
Tafsir Ibn Kathir
They said [to Musa]: "Whatever Ayat you may bring to us, to work therewith your sorcery on us, we shall never believe in you. (132)So We sent on them: the Tuwfan, the locusts, the Qummal, the frogs, and the blood (as a succession of) manifest signs, yet they remained arrogant, and they were of those people who were criminals (133)And when the punishment struck them, they said: "O Musa! Invoke your Lord for us because of His promise to you. If you remove the punishment from us, we indeed shall believe in you, and we shall let the Children of Israel go with you. (134)But when We removed the punishment from them for a fixed term, which they had to reach, behold! They broke their word (135)
Allah punishes the People of Fir'awn because of Their Rebellion
Allah describes the rebellion, tyranny, defiance of the truth and insistence on falsehood of the people of Fir'awn, prompting them to proclaim,
مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِ مِنْ آيَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
("Whatever Ayat you may bring to us, to work therewith your sorcery on us, we shall never believe in you.")
They said, 'whatever miracle, proof and evidence you bring us, we will neither accept it from you nor believe in you or what you came with.' Allah said,
فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ
(So We sent on them the Tufan)
Ibn 'Abbas commented; "It was a heavy rain that ruined the produce and fruits." He is also reported to have said that Tuwfan refers to mass death. Mujahid said it is water that carries the plague every where. As for the locust, it is the well-known insect, which is permissible to eat. It is recorded in the Two Sahihs, that Abu Ya'fur said that he asked 'Abdullah bin Abi Awfa about locust. He said, "We participated in seven battles with the Messenger of Allah ﷺ, and we used to eat locusts." Ash-Shafi'i, Ahmad bin Hanbal and Ibn Majah recorded from 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam that his father narrated from Ibn 'Umar that the Prophet ﷺ said,
أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ: الْحُوتُ وَالْجَرَادُ وَالْكَبِدُ وَالطِّحَالُ
(We were allowed two dead animals and two [kinds of] blood: fish and locust, and kidney and spleen.)
Ibn Abi Najih narrated from Mujahid about Allah's statement,
فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ
"Eating the nails on their doors and leaving the wood." As for the Qummal, Ibn 'Abbas said that it is the grain bug, or, according to another view; small locusts that do not have wings. Similar was reported from Mujahid, 'Ikrimah and Qatadah. Al-Hasan and Sa'id bin Jubayr said that 'Qummal' are small black insects.
Abu Ja'far bin Jarir recorded that Sa'id bin Jubayr said, "When Musa came to Fir'awn, he demanded, 'Release the Children of Israel to me.' But, Fir'awn did not comply; and Allah sent the Tuwfan, and that is a rain which continued until they feared that it was a form of torment. They said to Musa, 'Invoke your Lord to release us from this rain, and we will believe in you and send the Children of Israel with you.' Musa invoked his Lord and He removed the affliction from them. However, they did not believe, nor did they send the Children of Israel with him.
In that year, Allah allowed (the earth) to grow various types of produce, fruits and grass for them as never before. They said, 'This is what we hoped for.' So Allah sent the locusts, and the locusts started to feed on the grass. When they saw the effect the locusts had on the grass, they knew that no vegetation would be saved from devastation. They said, 'O Musa! Invoke your Lord so that He will remove the locusts from us, and we will believe in you and release the Children of Israel to you.' Musa invoked his Lord, and He removed the locusts. Still, they did not believe and did not send the Children of Israel with him.
They collected grains and kept them in their homes. They said, 'We saved our crops.' However, Allah sent the Qummal, grain bugs, and one of them would take ten bags of grains to the mill, but only reap three small bags of grain. They said, 'O Musa! Ask your Lord to remove the Qummal (weevil) from us and we will believe in you and send the Children of Israel with you.' Musa invoked his Lord, and Allah removed the Qummal from them. However, they did not send the Children of Israel with him.
Once, when he was with Fir'awn, Musa heard the sound of a frog and said to Fir'awn, 'What will you and your people suffer from this (the frogs)' Fir'awn said, 'What can frogs do' Yet, by the time that night arrived a person would be sitting in a crowd of frogs that reached up to his chin and could not open his mouth to speak without a frog jumping in it. They said to Musa, 'Invoke your Lord to remove these frogs from us, and we will believe in you and send the Children of Israel with you.' Musa invoked his Lord, but they did not believe.
Allah then sent blood that filled the rivers, wells and the water containers they had. They complained to Fir'awn, saying, 'We are inflicted with blood and do not have anything to drink.' He said, 'Musa has bewitched you.' They said, 'How could he do that when whenever we look for water in our containers we found that it has turned into blood?' They came to Musa and said, 'Invoke your Lord to save us from this blood, and we will believe in you and send the Children of Israel with you.' Musa invoked his Lord and the blood stopped, but they did not believe nor send the Children of Israel with him." A similar account was attributed to Ibn 'Abbas, As-Suddi, Qatadah and several others among the Salaf.
Muhammad bin Ishaq bin Yasar said, "The enemy of Allah, Fir'awn, went back defeated and humiliated, after the sorcerers believed (in Musa). He insisted on remaining in disbelief and persisted in wickedness. Allah sent down the signs to him, and he (and his people) were first inflicted by famine. Allah then sent the flood, the locusts, the Qummal, the frogs then blood, as consecutive signs. When Allah sent the flood, it filled the surface of the earth with water. But the water level receded, and they could not make use of it to till the land or do anything else. They became hungry. This is when,
قَالُوا يَا مُوسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ لَئِن كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ
(They said: "O Musa! Invoke your Lord for us because of His promise to you. If you remove the punishment from us, we indeed shall believe in you, and we shall let the Children of Israel go with you.")
Musa invoked his Lord and He removed the affliction from them, but they did not keep their promises.
So Allah sent locusts that ate the trees and consumed the nails on their doors, until the doors fell from their homes and residences. They again said what they said to Musa before, and he called on his Lord and He removed the affliction.
Still, they did not keep their promises, and Allah sent the Qummal. Musa, peace be upon him, was commanded to go to a mound and strike it with his staff. So Musa went to a huge mound, struck it with his staff and the Qummal fell out of it in tremendous numbers, until they overwhelmed the houses and food reserves, ultimately depriving them of sleep and rest. When they suffered under this affliction, they said similar to what they said before, and Musa invoked his Lord and He removed the affliction.
They did not keep their promise and Allah sent the frogs to them, and they filled the houses, foods and pots. One of them would not pick up a piece of clothing, or uncover some food, without finding frogs in it. When this affliction became hard on them, they made similar promises as before, Musa supplicated to his Lord and Allah removed the affliction.
They did not keep any of the promises they made, and Allah sent the blood, and the waters of the people of Fir'awn turned to blood. Any water they collected from a well, a river, or a container, turned to blood."
Tafsir Ibn Kathir
سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ان کی سرکشی اور ضد دیکھئے کہ حضرت موسیٰ ؑ سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں کیسے ہی معجزے بتائیں ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہوگئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لئے بعض مفسرین نے کہا ہے طوفان سے مراد موت ہے۔ بعض کہتے ہیں کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ عبداللہ بن ابی اونی سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا سات غزوے میں نے رسول اکرم ﷺ کے ساتھ کئے ہیں۔ ہر ایک میں ہم تو ٹڈیاں کھاتے رہے، مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں دو مردے اور دو خون ہمارے لئے حلال کئے گئے ہیں مچھلی اور ٹڈی اور کلیجی اور تلی۔ ابو داؤد میں ہے حضور سے ٹڈی کی نسبت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا اللہ کے لشکر بہت سے ہیں جنہیں نہ کھاتا ہوں نہ حرام کہتا ہوں۔ حضور نے جی نہ چاہنے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا جیسے کہ گو آپ نے نہیں کھایا حالانکہ دوسروں کو اس کے کھانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ حافظ ابن عساکر رحمت اللہ علیہ نے ایک مستقل رسالہ اسی میں تصنیف فرمایا ہے اس میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضور ٹڈی نہیں کھاتے تھے اور نہ گردے کھاتے تھے اور نہ گوہ۔ لیکن انہیں آپ نے حرام نہیں کیا۔ ٹڈی اس وجہ سے کہ وہ عذاب ہے، گردے اس وجہ سے کہ یہ پیشاب کے قریب ہیں اور گوہ اس وجہ سے کہ آپ کو خوف تھا کہ کہیں یہ مسخ شدہ امت نہ ہو، پھر یہ روایت بھی غریب ہے صرف یہی ایک سند ہے، امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ ٹڈی کو بڑی رغبت سے کھایا کرتے، تلاش کر کے منگوایا کرتے۔ چناچہ کسی نے آپ سے مسئلہ پوچھا کہ ٹڈی کھائی جائے ؟ آپ نے فرمایا کاش کہ ایک دو پیس مل جاتیں تو کیسے مزے سے کھاتے۔ ابن ماجہ میں ہے کہ امہات المومنین تو طباقوں میں لگا کر ٹڈیاں ہدیے اور تحفے کے طور پر بھیجتی تھیں۔ امام بغوی ایک روایت لائے ہیں کہ حضور نے فرمایا حضرت مریم بنت عمران (علیہما السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ایسا گوشت مجھے کھلا جس میں خون نہ ہو اللہ تعالیٰ نے انہیں ٹڈی کھلائی آپ نے ان کے لئے دعا کی کہ اے اللہ اسے بغیر دودھ پینے کے زندگی دے اور اس کی اولاد کو بغیر آواز نکالے اس کے پیچھے لگا دے۔ ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے ٹڈیوں کو مارو نہیں یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں یہ ٹڈیاں ان کے دروازوں کی کیلیں کھا جاتی تھیں اور لکڑی چھوڑ دیتی تھیں اور زاعی کہتے ہیں میں ایک دن جنگل میں تھا کیا دیکھتا ہوں کہ ٹڈیاں بہت سی آسمان کی طرف ہیں اور ان میں سے ایک ٹڈی پر ایک شخص سوار ہے جو ہتھیار بند ہے جو جس طرف اشارہ کرتا ہے ساری ٹڈیاں اس طرف کو جھک جاتی ہیں اور وہ زبان سے برابر کہہ رہا ہے کہ دنیا باطل ہے اور اس میں جو ہے وہ بھی باطل ہے۔ شریح قاضی فرماتے ہیں اس جانور میں سات مختلف جانوروں کی شان ہے اس کا سر گو گھوڑے جیسا ہے گردن بیل جیسی ہے سینہ شیر جیسا ہے پر گدھ جیسے ہیں پر اونٹ جیسے ہیں دم سانپ کی طرح کی ہے۔ پیٹ بچھو جیسا ہے آیت (اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۚ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ 96) 5۔ المآئدہ :96) کی تفسیر میں یہ روایت گذر چکی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج یا عمرے میں جا رہے تھے تو سامنے سے ہمیں ٹڈی دل ملا ہم نے احرام کی حالت میں انہیں لکڑیوں سے مارنا شروع کیا حضور سے سوال کرنے پر آپ نے فرمایا دریائی شکار میں محرم کو کوئی حرج نہیں۔ حضور ﷺ جب ان ٹڈیوں کیلئے بد دعا کرتے تو فرماتے اے اللہ جتنی ان میں سے بڑی ہیں تو انہیں سب کو ہلاک کر ڈال اور جتنی چھوٹی ہیں سب کو قتل کر ڈال ان کے انڈے خراب کر دے ان کی نسل کاٹ دے ان کے منہ ہماری روزی سے روک لے ہمیں روزیاں عطا فرما بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے۔ اس پر حضرت جابر نے عرض کیا یا رسول اللہ اللہ کے ایک لشکر کے غارت و برباد ہوجانے کی آپ دعا کرتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ تو سمندر کے اندر کی مچھلیوں کا ناک جھاڑن ہے۔ چناچہ بعض لوگوں نے اسے مچھلی میں سے اسی طرح نکلتے دیکھا ہے۔ جب مچھلی سمندر کے کنارے انڈے دے جاتی ہے وہاں سے جب پانی ہٹ جاتا ہے اور دھوپ پڑنے لگتی ہے تو وہ انڈے سب کے سب پھوٹ جاتے ہیں اور ان میں سے ٹڈیاں نکلتی ہیں جو پرواز کر جاتی ہیں۔ آیت قرآن (الا امم امثالکم) کی تفسیر میں حضرت عمر فاروق ؓ کی وہ حدیث ہم نے بیان کردی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور جار سو خشکی میں۔ سب سے پہلے ہلاکت ٹڈیوں کی ہوگی۔ امام ابوبکر بن ابو داؤد ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لکڑی تلوار کے مقابلے پر کچھ نہیں اور درخت کی چھال ٹڈی کے مقابلے میں کچھ نہیں یہ حدیث غریب ہے۔ قتل کے بارے میں ابن عباس سے منقول ہے کہ یہ وہ سیاہ رنگ کے چھوٹے چھوٹے جانور ہیں جو گہیوں میں سے نکلتے ہیں اور قول ہے کہ یہ بھی ایک قسم کی بےپر کی ٹڈیاں ہیں۔ سعید کہتے ہیں سیاہ رنگ کے چھوٹے سے کیڑے ہیں۔ اس کا واحد قملہ ہے۔ یہ جانور جب اونٹ کو چمٹ جاتے ہیں تو اسے ہلاک کردیتے ہیں۔ الغرض ایسے ہی موذی جانور بصورت عذاب فرعونیوں کے لئے بھیجے گئے تھے۔ فرعون کی سرکشی اور انکار پر طوفان آیا جس سے انہیں یقین ہوگیا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ گڑ گڑا کر حضرت موسیٰ سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے یہ موسلا دھار پانی رک جائے تو ہم آپ پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ کردیں گے۔ آپ نے دعا کی طوفان ہٹ گیا تو یہ اپنے وعدے سے پھرگئے۔ پھر اللہ کی شان ہے کہ کھیتیاں اور باغات اس قدر پھلے کہ اس سے پہلے کبھی ایسے نہیں پھلے تھے جب تیار ہوگئے تو ٹڈیوں کا عذاب آیا اسے دیکھ کر پھر گھبرائے اور موسیٰ ؑ سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ عذاب ہٹا لے اب ہم پختہ وعدہ کرتے ہیں آپ کی دعا سے یہ عذاب بھی ہٹ گیا لیکن انہوں نے پھر وعدہ شکنی کی۔ فصلیں کاٹ لائے کھلیان اٹھا لئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا عذاب پھر اور شکل میں آیا تمام اناج وغیرہ میں کیڑا لگ گیا اس قدر بکثرت یہ جانور پھیل گئے کہ دس پیمانے لے کر کوئی شخص پسوانے نکلتا تو پسوائے تک وہ جانور سات پیمانے کھالیتے۔ گھبرا کر نبی ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے پھر وعدے کئے آپ پھر دعا کی اللہ تعالیٰ نے اس آفت کو بھی ہٹا لیا۔ لیکن انہوں نے پھر بےایمانی کی۔ نہ بنی اسرائیل کو رہا کیا نہ ایمان قبول کیا۔ اس پر مینڈکوں کا عذاب آیا۔ دربار میں فرعون بیٹھا ہوا ہے تو وہیں مینڈک ظاہر ہو کر ٹرانے لگا سمجھ گئے کہ یہ نئی شکل کا عذاب الٰہی ہے۔ اب یہ پھیلنے اور بڑھنے شروع ہوئے یہاں تک کہ آدمی بیٹھتا تو اس کی گردن تک آس پاس سے اسے مینڈک گھیر لیتے۔ جہاں بات کرنے کیلئے کوئی منہ کھولتا کہ مینڈک تڑپ کر اس کے منہ میں گھس جاتا۔ پھر تنگ آکر حضرت موسیٰ ؑ سے اس عذاب کے ہٹنے کی درخواست کی اور اقرار کیا کہ ہم خود ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی آزاد کردیں گے آپ نے دعا کی اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کو بھی دفع کردیا لیکن پھر مکر گئے۔ چناچہ ان پر خون کا عذاب آیا تمام برتنوں میں خون کھانے پینے کی چیزوں میں خون کنویں میں سے پانی نکلایں تو خون۔ تالاب سے پانی لائیں تو خون۔ پھر تڑپ اٹھے فرعون نے کہا یہ بھی جادو ہے لیکن جب تنگ آگئے تو آخر حضرت موسیٰ سے مع وعدہ درخواست کی کہ ہم تو پانی سے ترس گئے۔ چناچہ آپ نے قول قرار لے کھر پور دعا کی اور اللہ نے اس عذاب کو بھی ہٹا لیا لیکن یہ پھر منکر ہوگئے۔ فرعون جب میدان سے ناکام واپس لوٹا تھا اس نے ٹھان لی تھی کہ خواہ کچھ بھی ہو میں ایمان نہ لاؤں گا۔ چناچہ طوفان کی وجہ سے بھوکوں مرنے لگے پھر ٹڈیوں کا عذاب آیا تو درخت تو کیا گھر کی چوکھٹیں اور دروازوں تک وہ کھا گئیں مکانات گرنے لگے پھر حضرت موسیٰ نے اللہ کے حکم سے ایک پتھر پر لکڑی ماری۔ جس میں سے بیشمار چچڑیاں نکل پڑیں اور پھیل گئیں۔ کھانا، پینا، سونا، بیٹھنا، سب بند ہوگیا۔ پھر مینڈکوں کا عذاب آیا جہاں دیکھو مینڈک نظر آنے لگے۔ پھر خون کا عذاب آیا نہریں، تالاب، کنویں، مٹکے گھڑے وغیرہ غرض بجائے پانی کے خون ہی خون سب چیزیں ہوگئیں۔ عبید اللہ بن عمرو فرماتے ہیں مینڈک کو نہ مارو یہ جب بصورت عذاب فرعونیوں کے پاس آئے تو ایک نے اللہ کی رضا جوئی کے لئے تنور میں چھلانگ ماری۔ اللہ نے اس کے بدلے انہیں پانی کی ٹھنڈک عطا فرمائی اور ان کی آواز کو اپنی تسبیح بنایا۔ یہ بھی مروی ہے کہ خون سے مراد نکسیر پھوٹنا ہے الغرض ہر عذاب کو دیکھ کر اقرار کرتے لیکن جب حضرت موسیٰ کی دعا سے وہ ہٹ جاتا تو پھر انکار کر جاتے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا إِخْبَارٌ مِنَ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، عَنْ تَمرد قَوْمِ فِرْعَوْنَ وَعُتُوِّهِمْ، وَعِنَادِهِمْ لِلْحَقِّ وَإِصْرَارِهِمْ عَلَى الْبَاطِلِ فِي قَوْلِهِمْ: ﴿مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِ مِنْ آيَةٍ لِتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ﴾ يَقُولُونَ: أيُّ آيَةٍ جِئْتِنَا بِهَا وَدَلَالَةً وَحَجَّةً أَقَمْتَهَا، رَدَدْنَاهَا فَلَا نَقْبَلُهَا مِنْكَ، وَلَا نُؤْمِنُ بِكَ وَلَا بِمَا جِئْتَ بِهِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ﴾
اخْتَلَفُوا فِي مَعْنَاهُ، فَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي رِوَايَةٍ: كَثْرَةُ الْأَمْطَارِ الْمُغْرِقَةِ الْمُتْلِفَةِ لِلزُّرُوعِ وَالثِّمَارِ. وَبِهِ قَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِم.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: هُوَ كَثْرَةُ الْمَوْتِ. وَكَذَا قَالَ عَطَاءٌ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: ﴿الطُّوفَانَ﴾ الْمَاءُ، وَالطَّاعُونُ عَلَى كُلِّ حَالٍ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمان، حَدَّثَنَا المِنْهَال بْنُ [[في أ: "عن".]] خَلِيفَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِيناء، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ "الطُّوفَانُ الْمَوْتُ".
وَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ مَرْدَوَيْهِ، مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَمَانٍ، بِهِ وَهُوَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: هُوَ أَمْرٌ مِنَ اللَّهِ طَافَ بِهِمْ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِنْ رَبِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ. [فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ] [[زيادة من أ.]] ﴾ [القلم:١٩، ٢٠] وَأَمَّا الْجَرَادُ فَمَعْرُوفٌ مَشْهُورٌ، وَهُوَ مَأْكُولٌ؛ لِمَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ أَبِي يعفُور [[في م: "يعقوب".]] قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنِ الْجَرَادِ، فَقَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ سَبْعَ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ [[صحيح البخاري برقم (٥٤٩٥) ، وصحيح مسلم برقم (١٩٥٢) .]]
وَرَوَى الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ: الْحُوتُ وَالْجَرَادُ، وَالْكَبِدُ وَالطِّحَالُ" [[مسند الشافعي (١٧٣٤) ، ومسند أحمد (٢/٩٧) ، وسنن ابن ماجة برقم (٣٢١٨) .
وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعِيفُ وقد رجح أبو زرعة والدارقطني وقفه.]]
وَرَوَاهُ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ رُشَيْد، عَنْ سُوَيْد بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي تَمَّامٍ الْأَيْلِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا مِثْلَهُ [[ورواه ابن مردويه في تفسيره كما في نصب الراية للزيعلي (٤/٢٠٢) من طريق محمد بن بشر، عن داود بن راشد، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ (أَبِي هشام الأيلي) سمعت زيد بن أسلم يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم فذكره.
تنبيه: وقع هنا: "أبو تمام الأيلي". وفي نصب الراية: "أبو هشام الأيلي" وهذا تصحيف والصواب: "أبو هاشم الأيلي" وهو كثير بن عبد الله الأيلي، ضعيف. انظر: تلخيص الحبير لابن حجر (١/٢٦) .]]
وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزِّبْرِقان الْأَهْوَازِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ الْجَرَادِ فَقَالَ: "أَكْثَرُ جُنُودِ اللَّهِ، لَا آكُلُهُ، وَلَا أُحَرِّمُهُ" [[سنن أبي داود (٣٩١٣) .]]
وَإِنَّمَا تَرَكَهُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ [[في أ: " صلى الله عليه وسلم".]] لِأَنَّهُ كَانَ يَعَافُهُ، كَمَا عَافَتْ نَفْسُهُ الشَّرِيفَةُ أَكَلَ الضَّبِّ، وَأَذِنَ فِيهِ.
وَقَدْ رَوَى الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ فِي جُزْءٍ جَمَعَهُ فِي الْجَرَادِ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَدَوِيِّ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْج، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَا يَأْكُلُ الْجَرَادَ، وَلَا الْكُلْوَتَيْنِ، وَلَا الضَّبَّ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يُحَرِّمَهَا. أَمَّا الْجَرَادُ: فَرِجْزٌ وَعَذَابٌ. وَأَمَّا الْكُلْوَتَانِ: فَلِقُرْبِهِمَا مِنَ الْبَوْلِ. وَأَمَّا الضَّبُّ فَقَالَ: "أَتَخَوَّفُ أَنْ يَكُونَ مَسْخًا"، ثُمَّ قَالَ [[في أ: "وقال".]] غَرِيبٌ، لَمْ أَكْتُبْهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ [[ورواه ابن صصري في أماليه كما في الكنز برقم (١٨١٨٥) وفي إسناده انقطاع فإن عطاء لم يسمع من ابن عباس وابن جريج مدلس وقد عنعن.]]
وَقَدْ كَانَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَشْتَهِيهِ وَيُحِبُّهُ، فَرَوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ سُئل عَنِ الْجَرَادِ فَقَالَ: لَيْتَ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْهُ قَفْعَة أَوْ قَفْعَتَيْنِ نَأْكُلُهُ [[رواه مالك في الموطأ (٢/٩٣٣) .]]
وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيع، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ سَعِيدِ بْنِ الْمَرْزُبَانِ الْبَقَّالِ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ ﷺ يَتَهادَيْن الْجَرَادَ عَلَى الْأَطْبَاقِ [[سنن ابن ماجة برقم (٣٢٢٠) وقال البوصيري في الزوائد (٣/٦٤) : "هذا إسناد ضعيف".]]
وَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْد، حَدَّثَنَا بَقِيَّة بْنُ الوليد، عن نُمَيْر بن يزيد القَيْني [[في أ: "عن الوليد بن يحيى بن مرثد".]] حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صُدَيّ بْنِ عَجْلان، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ، عَلَيْهَا السَّلَامُ، سَأَلَتْ رَبَّهَا [عَزَّ وَجَلَّ] [[زيادة من ك، د.]] أَنْ يُطْعِمَهَا لَحْمًا لَا دَمَ لَهُ، فَأَطْعَمَهَا الْجَرَادَ، فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ أَعِشْهُ بِغَيْرِ رَضَاعٍ، وَتَابِعْ بَيْنَه بِغَيْرِ شِيَاعٍ" [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (٨/١٦٦) من طريق بقية بن الوليد به قال الهيثمي في المجمع (٤/٣٩) : "فيه بقية وهو ثقة لكنه مدلس، ويزيد القيني لم أعرفه، وبقية رجاله ثقات".]] وَقَالَ نُمَير: "الشَيَاع": الصَّوْتُ.
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ: حَدَّثَنَا أَبُو تَقِيٍّ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ اليَزَني [[في أ: "المزني".]] حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَم بْنِ زُرْعَة، عَنْ شُرَيْح بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي زُهَيْر النُّمَيْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَا تُقَاتِلُوا الْجَرَادَ، فَإِنَّهُ جُنْدُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ". غَرِيبٌ جِدًّا [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (٢٢/٢٩٧) ، وأبو االشيخ الأصبهاني في العظمة برقم (١٢٩٣) من طريق إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ به.]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ﴾ قَالَ: كَانَتْ تَأْكُلُ مَسَامِيرَ أَبْوَابِهِمْ، وتَدَع الْخَشَبَ.
وَرَوَى ابْنُ عَسَاكِرَ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الْخَرَائِطِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ: خَرَجْتُ إِلَى الصَّحْرَاءِ، فَإِذَا أَنَا برِجْل مِنْ جَرَادٍ فِي السَّمَاءِ، وَإِذَا برَجل رَاكِبٍ عَلَى جَرَادة مِنْهَا، وَهُوَ شَاكٍ فِي الْحَدِيدِ، وَكُلَّمَا قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، مَالَ الْجَرَادُ مَعَ يَدِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: الدُّنْيَا بَاطِلٌ بَاطِلٌ مَا فِيهَا، الدُّنْيَا بَاطِلٌ بَاطِلٌ مَا فِيهَا، الدُّنْيَا بَاطِلٌ بَاطِلٌ مَا فِيهَا.
وَرَوَى الْحَافِظُ أَبُو الْفَرَجِ [[في أ: "ابن الفرج".]] الْمُعَافَى بْنُ زَكَرِيَّا الْحَرِيرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، أَخْبَرَنَا وَكِيع، عَنِ الْأَعْمَشِ، أَنْبَأَنَا عَامِرٌ قَالَ: سُئِلَ شُرَيْح الْقَاضِي عَنِ الْجَرَادِ، فَقَالَ: قَبَّحَ اللَّهُ الْجَرَادَةَ. فِيهَا خِلْقَةُ سَبْعَةِ جَبَابِرَةٍ: رَأَسُهَا رَأْسُ فَرَسٍ، وَعُنُقُهَا عُنُقُ ثَوْرٍ، وَصَدْرُهَا صَدْرُ أَسَدِ، وَجَنَاحُهَا جَنَاحُ نَسْرٍ، وَرِجْلَاهَا رِجْلَا جَمَلٍ. وَذَنَبُهَا ذَنَبُ حَيَّةٍ، وَبَطْنُهَا بَطْنُ عَقْرَبٍ.
وَ [قَدْ] [[زيادة من ك، أ.]] قَدَّمْنَا عِنْدَ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ﴾ [الْمَائِدَةِ:٩٦] حَدِيثَ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي المُهزَم، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ في حج أو عمرة، فاستقبلنا [[في ك: "فاستقبلتنا".]] رجْلُ جَرَادٍ، فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُ بالعِصِيِّ، وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ [عَنْ ذَلِكَ] [[زيادة من أ.]] فَقَالَ: "لَا بَأْسَ بِصَيْدِ الْبَحْرِ" [[سورة المائدة آية: ٩٦.]]
وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ، عَنْ هَارُونَ الْحَمَّالِ [[في أ: "الحماني".]] عَنْ هَاشِمِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلاثة، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ وَجَابِرٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] عَنْ رَسُولِ اللَّهِ [[في ك، م، أ: "النبي".]] ﷺ؛ أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَعَا عَلَى الْجَرَادِ قَالَ: "اللَّهُمَّ أَهْلِكْ كِبَارَهُ، وَاقْتُلْ صِغَارَهُ، وَأَفْسِدْ بَيْضَهُ، وَاقْطَعْ دَابِرَهُ، وَخُذْ بِأَفْوَاهِهِ عَنْ مَعَايِشِنَا وَأَرْزَاقِنَا، إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ". فَقَالَ لَهُ جَابِرٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَدْعُو عَلَى جُنْدٍ مِنْ أَجْنَادِ اللَّهِ بِقَطْعِ دَابِرِهِ؟ فَقَالَ: "إِنَّمَا هُوَ نَثْرَةُ حُوتٍ [[في أ: "صوت".]] فِي الْبَحْرِ" قال هَاشِمٌ [[في ك: "هشام".]] أَخْبَرَنِي زِيَادٌ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مَنْ رَآهُ يَنْثُرُهُ الْحُوتُ [[سنن ابن ماجة برقم (٣٢٢١) قال البوصيري في الزوائد (٣/٦٥) : "هذا أسناد ضعيف لضعف موسى بن محمد بن إبراهيم. أورده ابن الجوزي في الموضوعات من طريق هارون بن عبد الله وقال: لا يصح عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وضعه موسى بن محمد المذكور".]] قَالَ: مَنْ حَقَّقَ ذَلِكَ إِنَّ السَّمَكَ إِذَا بَاضَ فِي سَاحِلِ الْبَحْرِ فَنَضَبَ الْمَاءُ عَنْهُ وَبَدَا لِلشَّمْسِ، أَنَّهُ يَفْقِسُ كُلُّهُ جَرَادًا طَيَّارًا.
وَقَدَّمْنَا عِنْدَ قَوْلِهِ: ﴿إِلا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ﴾ [الْأَنْعَامِ:٣٨] حَدِيثَ عُمَر، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: "إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ أَلْفَ أُمَّةٍ، سِتُّمِائَةٍ فِي الْبَحْرِ وَأَرْبَعُمِائَةٍ فِي الْبَرِّ، وَإِنَّ أَوَّلَهَا هَلَاكًا الْجَرَادُ" [[سورة الأنعام آية: ٣٨، وقد تفرد بهذا الحديث محمد بن عيسى، قال ابن عدي في الكامل: "قال عمرو بن علي: محمد بن عيسى بصري صاحب محمد بن المنكدر، ضعيف منكر الحديث روي عن محمد بن المنكدر، عن جابر، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ في الجراد".]]
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْس، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ الْجَوْزَجَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَا وَباء مَعَ السَّيْفِ، وَلَا نَجَاءَ مَعَ الْجَرَادِ". حَدِيثٌ غَرِيبٌ [[ورواه ابن صصري في أماليه كما في الكنز برقم (٣٠٨٧١) والجامع الصغير للسيوطي (٦/٤٣٩) ورمز له بالضعف، وأقره المناوي والألباني.]]
وَأَمَّا ﴿الْقُمَّلَ﴾ فَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: هُوَ [[في م: "أنه".]] السُّوسُ الَّذِي يَخْرُجُ مِنَ الْحِنْطَةِ. وَعَنْهُ أَنَّهُ الدَّبَى [[في م: "الدباب".]] -وَهُوَ الْجَرَادُ الصِّغَارُ الَّذِي لَا أَجْنِحَةَ لَهُ. وَبِهِ قَالَ مُجَاهِدٌ، وَعِكْرِمَةُ، وَقَتَادَةُ.
وَعَنِ الْحَسَنِ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: ﴿الْقُمَّلَ﴾ دَوَابٌّ سُودٌ صِغَارٌ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: ﴿الْقُمَّلَ﴾ الْبَرَاغِيثُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ ﴿الْقُمَّل﴾ جَمْعٌ وَاحِدَتُهَا "قُمَّلة"، وَهِيَ دَابَّةٌ تُشْبِهُ القَمْل، تَأْكُلُهَا الْإِبِلُ، فِيمَا بَلَغَنِي، وَهِيَ الَّتِي عَنَاهَا الْأَعْشَى بِقَوْلِهِ:
قَوْمٌ تُعَالِجُ [[في م: "يعالج".]] قُمَّلا أَبْنَاؤُهُمْ وَسَلَاسِلًا أجُدا وَبَابًا مُؤْصَدَا [[البيت في تفسير الطبري (١٣/٥٦) ، واللسان مادة (قمل) .]]
قَالَ: وَكَانَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِكَلَامِ الْعَرَبِ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ يَزْعُمُ أَنَّ الْقُمَّلَ عِنْدَ الْعَرَبِ "الْحَمْنَانُ"، وَاحِدَتُهَا "حَمْنَانَةٌ"، وَهِيَ صِغَارُ الْقِرْدَانِ فَوْقَ الْقَمْقَامَةِ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: لَمَّا أَتَى مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِرْعَوْنَ قَالَ لَهُ: أَرْسِلْ مَعِيَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ -وَهُوَ الْمَطَرُ -فَصَبَّ عَلَيْهِمْ مِنْهُ شَيْئًا، خَافُوا أَنْ يَكُونَ عَذَابًا، فَقَالُوا لِمُوسَى: ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يَكْشِفْ عَنَّا الْمَطَرَ، فَنُؤْمِنَ لَكَ، وَنُرْسِلَ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَدَعَا رَبَّهُ، فَلَمْ يُؤْمِنُوا، وَلَمْ يُرْسِلُوا مَعَهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَأَنْبَتَ لَهُمْ فِي تِلْكَ السَّنَةِ شَيْئًا لَمْ يُنْبِتْهُ قَبْلَ ذَلِكَ مِنَ الزَّرْعِ وَالثَّمَرِ [[في م: "من الزروع والثمار"، وفي ك، أ: "الزروع والثمر".]] وَالْكَلَأِ فَقَالُوا: هَذَا مَا كُنَّا نَتَمَنَّى. فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الجراد، فسلطه على الكلأ فلما رأوا أَثَرَهُ فِي الْكَلَأِ عَرَفُوا أَنَّهُ لَا يُبْقِي الزَّرْعَ، فَقَالُوا: يَا مُوسَى، ادْعُ لَنَا رَبَّكَ لِيَكْشِفَ [[في د، ك، م: "فيكشف".]] عَنَّا الْجَرَادَ فَنُؤْمِنَ لَكَ، وَنُرْسِلَ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ عَنْهُمُ الْجَرَادَ، فَلَمْ يُؤْمِنُوا، وَلَمْ يُرْسِلُوا مَعَهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَدَاسُوا وَأَحْرَزُوا فِي الْبُيُوتِ، فَقَالُوا: قَدْ أَحْرَزْنَا. فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْقُمَّلَ-وَهُوَ السُّوسُ الَّذِي يَخْرُجُ مِنْهُ -فَكَانَ الرَّجُلُ يَخْرِجُ عَشْرَةَ [[في ك "يخرج معه عشرة".]] أَجْرِبَةٍ إِلَى الرَّحَى، فَلَمْ يَرُدَّ مِنْهَا إِلَّا ثَلَاثَةَ أَقْفِزَةٍ [[في ك: "ثلاثة إلا أقفزة".]] فَقَالُوا لِمُوسَى: ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يَكْشِفْ عَنَّا الْقُمَّلَ، فَنُؤْمِنَ لَكَ، وَنُرْسِلَ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُرْسِلُوا مَعَهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ فِرْعَوْنَ، إِذْ سَمِعَ نَقِيقَ ضِفْدَعٍ، فَقَالَ لِفِرْعَوْنَ: مَا تَلْقَى أَنْتَ وَقَوْمُكَ مِنْ هَذَا. قَالَ [[في ك، د، م، أ: "فقال".]] وَمَا عَسَى أَنْ يَكُونَ كَيْدُ هَذَا؟ فَمَا أَمْسَوْا حَتَّى كَانَ الرَّجُلُ يَجْلِسُ إِلَى ذَقْنه فِي الضَّفَادِعِ، وَيَهُمُّ أَنْ يَتَكَلَّمَ فَتَثِبُ [[في م، أ: "فيثب"، وفي د: "فتبدر".]] الضِّفْدَعُ فِي فِيهِ. فَقَالُوا لِمُوسَى: ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يَكْشِفْ عَنَّا هَذِهِ الضَّفَادِعَ، فَنُؤْمِنَ لَكَ، وَنُرْسِلَ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ [[في م: "فكشف الضفادع".]] عَنْهُمْ فَلَمْ يُؤْمِنُوا. وَأَرْسَلَ [[في م: "فأرسل".]] اللَّهُ عَلَيْهِمُ الدَّمَ، فَكَانُوا مَا اسْتَقَوْا مِنَ الْأَنْهَارِ وَالْآبَارِ، وَمَا كَانَ فِي أَوْعِيَتِهِمْ، وَجَدُوهُ دَمًا عَبِيطًا، فَشَكَوَا إِلَى فِرْعَوْنَ، فَقَالُوا: إِنَّا قَدِ ابْتُلِينَا بِالدَّمِ، وَلَيْسَ لَنَا شَرَابٌ. فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ سَحَرَكُمْ!! فَقَالُوا: مِنْ أَيْنَ سَحَرَنَا، وَنَحْنُ لَا نُجِدُ فِي أَوْعِيَتِنَا شَيْئًا مِنَ الْمَاءِ إِلَّا وَجَدْنَاهُ دَمًا عَبِيطًا؟ فَأَتَوْهُ وَقَالُوا: يَا مُوسَى، ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يَكْشِفْ عَنَّا هَذَا الدَّمَ فَنُؤْمِنَ بِكَ [[في ك، م، أ: "لك".]] وَنُرْسِلَ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَلَمْ يُؤْمِنُوا، وَلَمْ يُرْسِلُوا مَعَهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ [[تفسير الطبري (١٣/٥٧) .]]
وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَالسُّدِّيِّ، وَقَتَادَةَ وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَاءِ السَّلَفِ [[بعدها في م، أ: "أنه أخذ بذلك".]]
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: فَرَجَعَ عَدُوُّ اللَّهِ فِرْعَوْنُ حِينَ آمَنَتِ السَّحَرَةُ مَغْلُوبًا مَغْلُولًا ثُمَّ أَبَى إِلَّا الْإِقَامَةَ عَلَى الْكُفْرِ، وَالتَّمَادِي فِي الشَّرِّ، فَتَابَعَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْآيَاتِ، وَأَخَذَهُ بِالسِّنِينَ، فَأَرْسَلَ عَلَيْهِ الطُّوفَانَ، ثُمَّ الْجَرَادَ، ثُمَّ الْقُمَّلَ، ثُمَّ الضَّفَادِعَ، ثُمَّ الدَّمَ، آيَاتٍ مُفَصَّلَاتٍ. فَأَرْسَلَ الطُّوفَانَ -وَهُوَ الْمَاءُ -فَفَاضَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ثُمَّ رَكَدَ، لَا يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يَحْرُثُوا وَلَا يَعْمَلُوا شَيْئًا، حَتَّى جَهِدُوا جُوعًا، فَلَمَّا بَلَغَهُمْ ذَلِكَ ﴿قَالُوا يَا مُوسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ فَدَعَا مُوسَى رَبَّهُ، فَكَشَفَ [[في م، ك: "فكشفه".]] عَنْهُمْ، فَلَمْ يَفُوا لَهُ بِشَيْءٍ مِمَّا قَالُوا، فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْجَرَادَ، فَأَكَلَ الشَّجَرَ، فِيمَا بَلَغَنِي، حَتَّى إِنْ كَانَ لَيَأْكُلُ مَسَامِيرَ الْأَبْوَابِ مِنَ الْحَدِيدِ، حَتَّى تَقَعَ دُوْرُهُمْ وَمَسَاكِنُهُمْ، فَقَالُوا مِثْلَ مَا قَالُوا، فَدَعَا رَبَّهُ فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَلَمْ يَفُوا لَهُ بِشَيْءٍ مِمَّا قَالُوا، فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْقُمَّلُ، فَذُكِرَ لِي أَنَّ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أُمِرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى كَثِيبٍ حَتَّى يَضْرِبَهُ بِعَصَاهُ، فَمَشَى إِلَى كَثِيبٍ أَهْيَلَ عَظِيمٍ، فَضَرَبَهُ بِهَا، فَانْثَالَ عَلَيْهِمْ قُمَّلًا حَتَّى غَلَبَ عَلَى الْبُيُوتِ وَالْأَطْعِمَةِ وَمَنَعَهُمُ النَّوْمَ وَالْقَرَارَةَ، فَلَمَّا جَهَدَهُمْ قَالُوا لَهُ مِثْلَ مَا قَالُوا لَهُ، فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَلَمْ يَفُوا لَهُ بِشَيْءٍ مِمَّا قَالُوا. فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الضَّفَادِعَ، فَمَلَأَتِ الْبُيُوتَ وَالْأَطْعِمَةَ وَالْآنِيَةَ، فَلَا يَكْشِفُ أَحَدٌ ثَوْبًا وَلَا طَعَامًا إِلَّا وَجَدَ فِيهِ الضَّفَادِعَ، قَدْ غَلَبَتْ عَلَيْهِ. فلما جهدهم ذلك، قالوا له مِثْلَ مَا قَالُوا، فَسَأَلَ رَبَّهُ [[في ك، م: "فدعا".]] فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَلَمْ يَفُوا لَهُ بِشَيْءٍ مِمَّا قَالُوا، فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الدَّمَ، فَصَارَتْ مِيَاهُ آلِ فِرْعَوْنَ دَمًا، لَا يَسْتَقُونَ مِنْ بِئْرٍ وَلَا نَهْرٍ، وَلَا يَغْتَرِفُونَ مِنْ إِنَاءٍ، إِلَّا عَادَ دَمًا عَبِيطًا [[رواه الطبري في تفسيره (١٣/٦٣) .]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، أنبأنا جابر ابن يَزِيدَ [[في أ: "زيد".]] عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرو: لَا تَقْتُلُوا الضَّفَادِعَ، فَإِنَّهَا لَمَّا أُرْسِلَتْ عَلَى قَوْمِ فِرْعَوْنَ [[في ك، م، أ: "بني إسرائيل".]] انْطَلَقَ ضِفْدَعٌ مِنْهَا فَوَقَعَ فِي تَنُّورٍ فِيهِ نَارٌ، يَطْلُبُ بِذَلِكَ مَرْضَاتِ اللَّهِ، فَأَبْدَلَهُنَّ اللَّهُ مِنْ هَذَا أَبْرَدَ شَيْءٍ يَعْلَمُهُ مِنَ الْمَاءِ، وَجَعَلَ نَقِيقَهُنَّ التَّسْبِيحَ. وَرُوِيَ مِنْ طَرِيقِ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ [[وفي إسناده جابر بن يزيد وهو ضعيف وقد ورد النهي عن قتل الضفدع مَرْفُوعًا إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فروي عبد الرحمن التيمي، رضي الله عنه: "أن طبيبا ذكر ضفدعا في دواء عند النبي - صلى الله عليه وسلم - فنهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن قتله". أخرجه أبو داود في السنن برقم (٥٢٦٩) .]]
وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ: يَعْنِي بِالدَّمِ: الرُّعَافَ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
فَٱنتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَٰهُمْ فِى ٱلْيَمِّ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَكَانُوا۟ عَنْهَا غَٰفِلِينَ
So We took retribution from them, and We drowned them in the sea because they denied Our signs and were heedless of them.
تو ہم نے ان سے بدلہ لے کر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بےپروائی کرتے تھے
سرانجام از آنها انتقام گرفتیم، و آنان را در دریا غرق کردیم؛ زیرا آیات ما را تکذیب کردند، و از آن غافل بودند.
Tafsir Ibn Kathir
So We took retribution from them. We drowned them in the sea, because they belied Our Ayat and were heedless with them (136)And We made the people who were considered weak to inherit the eastern parts of the land and the western parts thereof which We have blessed. And the fair Word of your Lord was fulfilled for the Children of Israel, because of their endurance. And We destroyed what Fir'awn and his people produced, and what they erected (137)
The People of Fir'awn drown in the Sea; the Children of Israel inherit the Holy Land
Allah states that when the people of Fir'awn rebelled and transgressed, even though He inflicted them with consecutive signs, one after another, He took retribution from them by drowning them in the sea that Musa parted by Allah's power, and he and the Children of Israel passed through. In their pursuit, Fir'awn and his soldiers went in the sea chasing Musa and his people. When they all had gone inside the water, the sea closed in on them and they all drowned, because they belied the Ayat of Allah and were heedless of them. Allah said that He has granted the people who were considered weak, the Children of Israel, to inherit the eastern and western parts of the land.
Al-Hasan Al-Basri and Qatadah commented that Allah's statement,
مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا
(...the eastern parts of the land and the western parts thereof which We have blessed.) refers to the Sham area (Greater Syria). Also, Mujahid and Ibn Jarir said that Allah's statement,
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا
(And the fair Word of your Lord was fulfilled for the Children of Israel, because of their endurance.) is explained by Allah's other statement,
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ - وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ
(And We wished to do a favor to those who were weak (and oppressed) in the land, and to make them rulers and to make them the inheritors. And to establish them in the land, and We let Fir'awn and Haman and their hosts receive from them that which they feared)[28:5-6]. Further, Allah's statement,
وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ
(And We destroyed what Fir'awn and his people produced,) meaning, We destroyed what Fir'awn and his people produced, such as agriculture and buildings.
وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ
(and what they erected.) Ibn 'Abbas and Mujahid said that
يَعْرِشُونَ
(they erected) means, they built.
Tafsir Ibn Kathir
انجام سرکشی جب یہ لوگ اپنی سرکشی اور خود پسندی میں اتنے بڑھ گئے کہ باری تعالیٰ کی بار بار کی نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان لانے سے برابر انکار کرتے رہے تو قدرت نے اپنے زبر دست انتقام میں انہیں پھانس لیا اور سب کو دریا برد کردیا۔ بنی اسرائیل بحکم اللہ تعالیٰ ہجرت کر کے چلے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا ان کے لئے خشک ہوگیا پھر فرعون اور اس کے ساتھی اس میں اترے تو دریا میں پھر روانی آگئی اور پانی کا ریلہ آیا اور وہ سب ڈوب گئے۔ یہ تھا انجام اللہ کی باتوں کو جھوٹ سمجھنے اور ان سے غافل رہنے کا۔ پھر پروردگار نے بنو اسرائیل جیسے کمزور ناتواں لوگوں کو اس زمین کا وارث بنادیا۔ مشرق و مغرب ان کے قبضے میں آگیا جیسے فرمان ہے کہ ہم نے ان بےبسوں پر احسان کرنا چاہا اور انہیں امام اور وارث بنانا چاہا۔ انہیں حکومت سونپ دی اور فرعون وہامان اور ان کے لشکریوں کو وہ نتیجہ دکھایا جس سے وہ بھاگ رہے تھے۔ فرعونیوں سے ہرے بھرے باغات " چشمے " کھیتیاں، عمدہ مقامات، فراواں نعمتیں چھڑوا کر ہم نے دوسری قوم کے سپرد کردیں۔ یہ ہماری قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ سر زمین شام برکت والی ہے۔ بنی اسرائیل کا صبر نیک نتیجہ لایا فرعون اور اس کی قوم کی بنی بنائی چیزیں غارت ہوئیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُمْ لَمَّا عَتَوَا وَتَمَرَّدُوا، مَعَ ابْتِلَائِهِ إِيَّاهُمْ بِالْآيَاتِ الْمُتَوَاتِرَةِ وَاحِدَةٍ بَعْدَ وَاحِدَةٍ، [أَنَّهُ] [[زيادة من أ.]] انْتَقَمَ مِنْهُمْ بِإِغْرَاقِهِ إِيَّاهُمْ فِي الْيَمِّ، وَهُوَ الْبَحْرُ الَّذِي فَرَقَهُ لِمُوسَى، فَجَاوَزَهُ وَبَنُو إِسْرَائِيلَ مَعَهُ، ثُمَّ وَرَدَهُ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ عَلَى أَثَرِهِمْ، فَلَمَّا اسْتَكْمَلُوا فِيهِ ارْتَطَمَ عَلَيْهِمْ، فَغَرِقُوا عَنْ آخِرِهِمْ، وَذَلِكَ بِسَبَبِ تَكْذِيبِهِمْ بِآيَاتِ اللَّهِ وَتَغَافُلِهِمْ عَنْهَا.
وَأَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُ أَوْرَثَ الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ -وَهُمْ بَنُو إِسْرَائِيلَ - ﴿مَشَارِقَ الأرْضِ وَمَغَارِبَهَا﴾ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ * وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأرْضِ وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُمْ مَا كَانُوا يَحْذَرُونَ﴾ [الْقَصَصِ:٥، ٦] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ * وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيم وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ * كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ﴾ [الدُّخَانِ:٢٥-٢٨]
وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَقَتَادَةَ، فِي قَوْلِهِ: ﴿مَشَارِقَ الأرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا﴾ يَعْنِي: الشَّامَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ الْحُسْنَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ وَابْنُ جَرِيرٍ: وَهِيَ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ * وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأرْضِ وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُمْ مَا كَانُوا يَحْذَرُونَ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ﴾ أَيْ: وَخَرَّبْنَا مَا كَانَ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ يَصْنَعُونَهُ مِنَ الْعِمَارَاتِ وَالْمَزَارِعِ، ﴿وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ﴾ قال ابن عباس ومجاهد: ﴿يَعْرِشُونَ﴾ يبنون.
وَأَوْرَثْنَا ٱلْقَوْمَ ٱلَّذِينَ كَانُوا۟ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَٰرِقَ ٱلْأَرْضِ وَمَغَٰرِبَهَا ٱلَّتِى بَٰرَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ ٱلْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ بِمَا صَبَرُوا۟ ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُۥ وَمَا كَانُوا۟ يَعْرِشُونَ
And We caused the people who had been oppressed to inherit the eastern regions of the land and the western ones, which We had blessed. And the good word of your Lord was fulfilled for the Children of Israel because of what they had patiently endured. And We destroyed [all] that Pharaoh and his people were producing and what they had been building.
اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو زمین (شام) کے مشرق ومغرب کا جس میں ہم نے برکت دی تھی وارث کردیا اور بنی اسرائیل کے بارے میں ان کے صبر کی وجہ سے تمہارے پروردگار کا وعدہٴ نیک پورا ہوا اور فرعون اور قوم فرعون جو (محل) بناتے اور (انگور کے باغ) جو چھتریوں پر چڑھاتے تھے سب کو ہم نے تباہ کردیا
و مشرقها و مغربهای پر برکت زمین را به آن قومِ به ضعف کشانده شده (زیر زنجیر ظلم و ستم)، واگذار کردیم؛ و وعده نیک پروردگارت بر بنی اسرائیل، بخاطر صبر و استقامتی که به خرج دادند، تحقّق یافت؛ و آنچه فرعون و فرعونیان (از کاخهای مجلّل) میساختند، و آنچه از باغهای داربستدار فراهم ساخته بودند، در هم کوبیدیم!
Tafsir Ibn Kathir
So We took retribution from them. We drowned them in the sea, because they belied Our Ayat and were heedless with them (136)And We made the people who were considered weak to inherit the eastern parts of the land and the western parts thereof which We have blessed. And the fair Word of your Lord was fulfilled for the Children of Israel, because of their endurance. And We destroyed what Fir'awn and his people produced, and what they erected (137)
The People of Fir'awn drown in the Sea; the Children of Israel inherit the Holy Land
Allah states that when the people of Fir'awn rebelled and transgressed, even though He inflicted them with consecutive signs, one after another, He took retribution from them by drowning them in the sea that Musa parted by Allah's power, and he and the Children of Israel passed through. In their pursuit, Fir'awn and his soldiers went in the sea chasing Musa and his people. When they all had gone inside the water, the sea closed in on them and they all drowned, because they belied the Ayat of Allah and were heedless of them. Allah said that He has granted the people who were considered weak, the Children of Israel, to inherit the eastern and western parts of the land.
Al-Hasan Al-Basri and Qatadah commented that Allah's statement,
مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا
(...the eastern parts of the land and the western parts thereof which We have blessed.) refers to the Sham area (Greater Syria). Also, Mujahid and Ibn Jarir said that Allah's statement,
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا
(And the fair Word of your Lord was fulfilled for the Children of Israel, because of their endurance.) is explained by Allah's other statement,
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ - وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ
(And We wished to do a favor to those who were weak (and oppressed) in the land, and to make them rulers and to make them the inheritors. And to establish them in the land, and We let Fir'awn and Haman and their hosts receive from them that which they feared)[28:5-6]. Further, Allah's statement,
وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ
(And We destroyed what Fir'awn and his people produced,) meaning, We destroyed what Fir'awn and his people produced, such as agriculture and buildings.
وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ
(and what they erected.) Ibn 'Abbas and Mujahid said that
يَعْرِشُونَ
(they erected) means, they built.
Tafsir Ibn Kathir
انجام سرکشی جب یہ لوگ اپنی سرکشی اور خود پسندی میں اتنے بڑھ گئے کہ باری تعالیٰ کی بار بار کی نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان لانے سے برابر انکار کرتے رہے تو قدرت نے اپنے زبر دست انتقام میں انہیں پھانس لیا اور سب کو دریا برد کردیا۔ بنی اسرائیل بحکم اللہ تعالیٰ ہجرت کر کے چلے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا ان کے لئے خشک ہوگیا پھر فرعون اور اس کے ساتھی اس میں اترے تو دریا میں پھر روانی آگئی اور پانی کا ریلہ آیا اور وہ سب ڈوب گئے۔ یہ تھا انجام اللہ کی باتوں کو جھوٹ سمجھنے اور ان سے غافل رہنے کا۔ پھر پروردگار نے بنو اسرائیل جیسے کمزور ناتواں لوگوں کو اس زمین کا وارث بنادیا۔ مشرق و مغرب ان کے قبضے میں آگیا جیسے فرمان ہے کہ ہم نے ان بےبسوں پر احسان کرنا چاہا اور انہیں امام اور وارث بنانا چاہا۔ انہیں حکومت سونپ دی اور فرعون وہامان اور ان کے لشکریوں کو وہ نتیجہ دکھایا جس سے وہ بھاگ رہے تھے۔ فرعونیوں سے ہرے بھرے باغات " چشمے " کھیتیاں، عمدہ مقامات، فراواں نعمتیں چھڑوا کر ہم نے دوسری قوم کے سپرد کردیں۔ یہ ہماری قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ سر زمین شام برکت والی ہے۔ بنی اسرائیل کا صبر نیک نتیجہ لایا فرعون اور اس کی قوم کی بنی بنائی چیزیں غارت ہوئیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُمْ لَمَّا عَتَوَا وَتَمَرَّدُوا، مَعَ ابْتِلَائِهِ إِيَّاهُمْ بِالْآيَاتِ الْمُتَوَاتِرَةِ وَاحِدَةٍ بَعْدَ وَاحِدَةٍ، [أَنَّهُ] [[زيادة من أ.]] انْتَقَمَ مِنْهُمْ بِإِغْرَاقِهِ إِيَّاهُمْ فِي الْيَمِّ، وَهُوَ الْبَحْرُ الَّذِي فَرَقَهُ لِمُوسَى، فَجَاوَزَهُ وَبَنُو إِسْرَائِيلَ مَعَهُ، ثُمَّ وَرَدَهُ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ عَلَى أَثَرِهِمْ، فَلَمَّا اسْتَكْمَلُوا فِيهِ ارْتَطَمَ عَلَيْهِمْ، فَغَرِقُوا عَنْ آخِرِهِمْ، وَذَلِكَ بِسَبَبِ تَكْذِيبِهِمْ بِآيَاتِ اللَّهِ وَتَغَافُلِهِمْ عَنْهَا.
وَأَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُ أَوْرَثَ الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ -وَهُمْ بَنُو إِسْرَائِيلَ - ﴿مَشَارِقَ الأرْضِ وَمَغَارِبَهَا﴾ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ * وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأرْضِ وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُمْ مَا كَانُوا يَحْذَرُونَ﴾ [الْقَصَصِ:٥، ٦] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ * وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيم وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ * كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ﴾ [الدُّخَانِ:٢٥-٢٨]
وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَقَتَادَةَ، فِي قَوْلِهِ: ﴿مَشَارِقَ الأرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا﴾ يَعْنِي: الشَّامَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ الْحُسْنَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ وَابْنُ جَرِيرٍ: وَهِيَ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ * وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الأرْضِ وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُمْ مَا كَانُوا يَحْذَرُونَ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ﴾ أَيْ: وَخَرَّبْنَا مَا كَانَ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ يَصْنَعُونَهُ مِنَ الْعِمَارَاتِ وَالْمَزَارِعِ، ﴿وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ﴾ قال ابن عباس ومجاهد: ﴿يَعْرِشُونَ﴾ يبنون.
وَجَٰوَزْنَا بِبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱلْبَحْرَ فَأَتَوْا۟ عَلَىٰ قَوْمٍۢ يَعْكُفُونَ عَلَىٰٓ أَصْنَامٍۢ لَّهُمْ ۚ قَالُوا۟ يَٰمُوسَى ٱجْعَل لَّنَآ إِلَٰهًۭا كَمَا لَهُمْ ءَالِهَةٌۭ ۚ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌۭ تَجْهَلُونَ
And We took the Children of Israel across the sea; then they came upon a people intent in devotion to [some] idols of theirs. They said, "O Moses, make for us a god just as they have gods." He said, "Indeed, you are a people behaving ignorantly.
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں کے پاس جا پہنچے جو اپنے بتوں (کی عبادت) کے لیے بیٹھے رہتے تھے۔ (بنی اسرائیل) کہنے لگے کہ موسیٰ جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں۔ ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دو۔ موسیٰ نے کہا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو
و بنی اسرائیل را (سالم) از دریا عبور دادیم؛ (ناگاه) در راه خود به گروهی رسیدند که اطراف بتهایشان، با تواضع و خضوع، گرد آمده بودند. (در این هنگام، بنی اسرائیل) به موسی گفتند: «تو هم برای ما معبودی قرار ده، همانگونه که آنها معبودان (و خدایانی) دارند!» گفت: «شما جمعیّتی جاهل و نادان هستید!
Tafsir Ibn Kathir
And We brought the Children of Israel (with safety) across the sea, and they came upon a people devoted to some of their idols (in worship). They said: "O Musa! Make for us a god as they have gods." He said: "Verily, you are an ignorant people. (138)[Musa added:] "Verily, these people will be destroyed for that which they are engaged in (idols' worship). And all that they are doing is in vain. (139)
The Children of Israel safely cross the Sea, but still held on to the Idea of Idol Worshipping
Allah mentions the words that the ignorant ones among the Children of Israel uttered to Musa after they crossed the sea and witnessed Allah's Ayat and great power.
فَأَتَوْا عَلَىٰ قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَىٰ أَصْنَامٍ لَّهُمْ
(And they came upon a people devoted to some of their idols (in worship).)
Some scholars of Tafsir said that the people mentioned here were from Canaan, or from the tribe of Lakhm. Ibn Jarir commented, "They were worshipping idols that they made in the shape of cows, and this influenced the Children of Israel later when they worshipped the calf. They said here,
يَا مُوسَى اجْعَل لَّنَا إِلَٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ
("O Musa! Make for us a god as they have gods." He said: "Verily, you are an ignorant people.")
Musa replied, you are ignorant of Allah's greatness and majesty and His purity from any partners or anything resembling Him.
إِنَّ هَٰؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيهِ
("Verily, these people will be destroyed for that which they are engaged in) they will perish,
وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
("and all that they are doing is in vain.")
Commenting on this Ayah, Imam Abu Ja'far bin Jarir reported from Abu Waqid Al-Laythi that they (the Companions) went out from Makkah with the Messenger of Allah ﷺ for (the battle of) Hunayn. Abu Waqid said, "Some of the disbelievers had a lote tree whose vicinity they used to remain in, and upon which they would hang their weapons on. That tree was called 'Dhat Al-Anwat'. So when we passed by a huge, green lote tree, we said, 'O Messenger of Allah! Appoint for us a Dhat Al-Anwat as they have.' He said,
قُلْتُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى لِمُوسَى:
(by He in Whose Hand is my soul! You said just as what the people of Musa said to him:
اجْعَل لَّنَا إِلَٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ - إِنَّ هَٰؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيهِ وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
("Make for us a god as they have gods." He said: "Verily, you are an ignorant people. Verily, these people will be destroyed for that which they are engaged in, and all that they are doing is in vain."))"
Tafsir Ibn Kathir
شوق بت پرستی اتنی ساری اللہ کی قدرت کی نشانیاں بنی اسرائیل دیکھ چکے لیکن دریا پار اترتے ہی بت پرستوں کے ایک گروہ کو اپنے بتوں کے آس پاس اعتکاف میں بیٹھے دیکھتے ہی حضرت موسیٰ سے کہنے لگے کہ " ہمارے لئے بھی کوئی چیز مقرر کر دیجئے تاکہ ہم بھی اس کی عبادت کریں جیسے کہ ان کے معبود ان کے سامنے ہیں۔ یہ کافر لوگ کنعانی تھے ایک قول ہے کہ لحم قبیلہ کے تھے یہ گائے کی شکل بنائے ہوئے اس کی پوجا کر رہے تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اسکے جواب میں فرمایا تم اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال سے محض ناواقف ہو۔ تم نہیں جانتے کہ اللہ شریک و مثیل سے پاک اور بلند تر ہے۔ یہ لوگ جس کام میں مبتلا ہیں وہ تباہ کن ہے اور ان کا عمل باطل ہے۔ ابو واقد لیثی ؓ کا بیان ہے کہ جب لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ شریف سے حنین کو روانہ ہوئے تو راستے میں انہیں بیری کا وہ درخت ملا جہاں مشرکین مجاور بن کر بیٹھا کرتے تھے اور اپنے ہتھیار وہاں لٹکایا کرتے تھے اس کا نام ذات انواط تھا تو صحابہ نے حضور سے عرض کیا کہ ایک ذات انواط ہمارے لئے بھی مقرر کردیں۔ آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری ذات ہے کہ تم نے قوم موسیٰ جیسی بات کہہ دی کہ ہمارے لئے بھی معبود مقرر کر دیجئے جیسا ان کا معبود ہے۔ جس کے جواب میں حضرت کلیم اللہ نے فرمایا تم جاہل لوگ ہو یہ لوگ جس شغل میں ہیں وہ ہلاکت خیز ہے اور جس کام میں ہیں وہ باطل ہے (ابن جریر) مسند احمد کی روایت میں ہے کہ یہ درخواست کرنے والے حضرت ابو واقد لیثی تھے جواب سے پہلے یہ سوال سن کر آنحضرت ﷺ کا اللہ اکبر کہنا بھی مروی ہے اور یہ بھی کہ آپ نے فرمایا کہ تم بھی اپنے اگلوں کی سی چال چلنے لگے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَمَّا قَالَهُ جَهَلَةُ بَنِي إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، حِينَ جَاوَزُوا الْبَحْرَ، وَقَدْ رَأَوْا مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَعَظِيمِ سُلْطَانِهِ مَا رَأَوْا، ﴿فَأَتَوْا﴾ أَيْ: فَمَرُّوا ﴿عَلَى قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَى أَصْنَامٍ لَهُمْ﴾ قَالَ بَعْضُ الْمُفَسِّرِينَ: كَانُوا مِنَ الْكَنْعَانِيِّينَ. وَقِيلَ: كَانُوا مِنْ لَخْمٍ.
قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَكَانُوا يَعْبُدُونَ أَصْنَامًا عَلَى صُوَرِ الْبَقَرِ، فَلِهَذَا أَثَارَ [[في أ: "أثر".]] ذَلِكَ شُبْهَةً لَهُمْ فِي عِبَادَتِهِمُ الْعِجْلَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالُوا: ﴿يَا مُوسَى اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ﴾ أَيْ: تَجْهَلُونَ عَظَمَةَ اللَّهِ وَجَلَالَهُ، وَمَا يَجِبُ أَنْ يُنَزَّهَ [[في د: "تنزيهه".]] عَنْهُ مِنَ الشَّرِيكِ وَالْمَثِيلِ.
﴿إِنَّ هَؤُلاءِ مُتَبَّرٌ مَا هُمْ فِيهِ﴾ أَيْ: هَالِكٌ ﴿وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾
وَرَوَى الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ [رَحِمَهُ اللَّهُ] [[زيادة من أ.]] تَفْسِيرَ هَذِهِ الْآيَةِ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ وعَقِيل، وَمَعْمَرٍ كُلِّهِمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ: أَنَّهُمْ خَرَجُوا مِنْ مَكَّةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِلَى حُنَيْنٍ، قَالَ: وَكَانَ لِلْكُفَّارِ سِدْرَةٌ [[في م: "سدة".]] يَعْكُفُونَ عِنْدَهَا، وَيُعَلِّقُونَ بِهَا أَسْلِحَتَهُمْ، يُقَالُ لَهَا: "ذَاتُ أَنْوَاطٍ"، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِسِدْرَةٍ خَضْرَاءَ عَظِيمَةٍ، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ. فَقَالَ: "قُلْتُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى لِمُوسَى: ﴿اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ. إِنَّ هَؤُلاءِ مُتَبَّرٌ مَا هُمْ فِيهِ وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [[تفسير الطبري (١٣/٨١، ٨٢) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَر، عن الزُّهْرِيِّ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدِّيلي، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قبل حُنَيْنٍ، فَمَرَرْنَا بِسِدْرَةٍ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ [[في أ: "رسول الله".]] اجْعَلْ لَنَا هَذِهِ "ذَاتَ أَنْوَاطٍ"، كَمَا لِلْكَفَّارِ ذَاتُ أَنْوَاطٍ، وَكَانَ الْكَفَّارُ يَنُوطُونَ سِلَاحَهُمْ بِسِدْرَةٍ، وَيَعْكُفُونَ حَوْلَهَا. فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: "اللَّهُ أَكْبَرُ، هَذَا كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى: ﴿اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ [قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ] ﴾ [[زيادة من د.]] إِنَّكُمْ تَرْكَبُونَ [[في م: "لتركبون".]] سَنَنَ مَنْ قَبِلَكُمْ" [[المسند (٥/٢١٨) ورواه النسائي في السنن الكبرى برقم (١١١٨٥) من طريق عبد الرزاق به ورواه الترمذي في السنن برقم (٢١٨٠) من طريق سفيان عن الزهري بنحوه، قال الترمذي: "هذا حديث حسن صحيح".]]
وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، مِنْ حَدِيثِ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جده مرفوعا [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (١٧/٢١) من طريق ابن أبي فديك، عن كثير بن عبد الله الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ مَرْفُوعًا، قَالَ الهيثمي في المجمع (٧/٢٤) : "فيه كثير بن عبد الله وقد ضعفه الجمهور وحسن الترمذي حديثه.]]
إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ مُتَبَّرٌۭ مَّا هُمْ فِيهِ وَبَٰطِلٌۭ مَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
Indeed, those [worshippers] - destroyed is that in which they are [engaged], and worthless is whatever they were doing."
یہ لوگ جس (شغل) میں (پھنسے ہوئے) ہیں وہ برباد ہونے والا ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں سب بیہودہ ہیں
اینها (را که میبینید)، سرانجام کارشان نابودی است؛ و آنچه انجام میدهند، باطل (و بیهوده) است.
Tafsir Ibn Kathir
And We brought the Children of Israel (with safety) across the sea, and they came upon a people devoted to some of their idols (in worship). They said: "O Musa! Make for us a god as they have gods." He said: "Verily, you are an ignorant people. (138)[Musa added:] "Verily, these people will be destroyed for that which they are engaged in (idols' worship). And all that they are doing is in vain. (139)
The Children of Israel safely cross the Sea, but still held on to the Idea of Idol Worshipping
Allah mentions the words that the ignorant ones among the Children of Israel uttered to Musa after they crossed the sea and witnessed Allah's Ayat and great power.
فَأَتَوْا عَلَىٰ قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَىٰ أَصْنَامٍ لَّهُمْ
(And they came upon a people devoted to some of their idols (in worship).)
Some scholars of Tafsir said that the people mentioned here were from Canaan, or from the tribe of Lakhm. Ibn Jarir commented, "They were worshipping idols that they made in the shape of cows, and this influenced the Children of Israel later when they worshipped the calf. They said here,
يَا مُوسَى اجْعَل لَّنَا إِلَٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ
("O Musa! Make for us a god as they have gods." He said: "Verily, you are an ignorant people.")
Musa replied, you are ignorant of Allah's greatness and majesty and His purity from any partners or anything resembling Him.
إِنَّ هَٰؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيهِ
("Verily, these people will be destroyed for that which they are engaged in) they will perish,
وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
("and all that they are doing is in vain.")
Commenting on this Ayah, Imam Abu Ja'far bin Jarir reported from Abu Waqid Al-Laythi that they (the Companions) went out from Makkah with the Messenger of Allah ﷺ for (the battle of) Hunayn. Abu Waqid said, "Some of the disbelievers had a lote tree whose vicinity they used to remain in, and upon which they would hang their weapons on. That tree was called 'Dhat Al-Anwat'. So when we passed by a huge, green lote tree, we said, 'O Messenger of Allah! Appoint for us a Dhat Al-Anwat as they have.' He said,
قُلْتُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى لِمُوسَى:
(by He in Whose Hand is my soul! You said just as what the people of Musa said to him:
اجْعَل لَّنَا إِلَٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ - إِنَّ هَٰؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيهِ وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
("Make for us a god as they have gods." He said: "Verily, you are an ignorant people. Verily, these people will be destroyed for that which they are engaged in, and all that they are doing is in vain."))"
Tafsir Ibn Kathir
شوق بت پرستی اتنی ساری اللہ کی قدرت کی نشانیاں بنی اسرائیل دیکھ چکے لیکن دریا پار اترتے ہی بت پرستوں کے ایک گروہ کو اپنے بتوں کے آس پاس اعتکاف میں بیٹھے دیکھتے ہی حضرت موسیٰ سے کہنے لگے کہ " ہمارے لئے بھی کوئی چیز مقرر کر دیجئے تاکہ ہم بھی اس کی عبادت کریں جیسے کہ ان کے معبود ان کے سامنے ہیں۔ یہ کافر لوگ کنعانی تھے ایک قول ہے کہ لحم قبیلہ کے تھے یہ گائے کی شکل بنائے ہوئے اس کی پوجا کر رہے تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اسکے جواب میں فرمایا تم اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال سے محض ناواقف ہو۔ تم نہیں جانتے کہ اللہ شریک و مثیل سے پاک اور بلند تر ہے۔ یہ لوگ جس کام میں مبتلا ہیں وہ تباہ کن ہے اور ان کا عمل باطل ہے۔ ابو واقد لیثی ؓ کا بیان ہے کہ جب لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ شریف سے حنین کو روانہ ہوئے تو راستے میں انہیں بیری کا وہ درخت ملا جہاں مشرکین مجاور بن کر بیٹھا کرتے تھے اور اپنے ہتھیار وہاں لٹکایا کرتے تھے اس کا نام ذات انواط تھا تو صحابہ نے حضور سے عرض کیا کہ ایک ذات انواط ہمارے لئے بھی مقرر کردیں۔ آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری ذات ہے کہ تم نے قوم موسیٰ جیسی بات کہہ دی کہ ہمارے لئے بھی معبود مقرر کر دیجئے جیسا ان کا معبود ہے۔ جس کے جواب میں حضرت کلیم اللہ نے فرمایا تم جاہل لوگ ہو یہ لوگ جس شغل میں ہیں وہ ہلاکت خیز ہے اور جس کام میں ہیں وہ باطل ہے (ابن جریر) مسند احمد کی روایت میں ہے کہ یہ درخواست کرنے والے حضرت ابو واقد لیثی تھے جواب سے پہلے یہ سوال سن کر آنحضرت ﷺ کا اللہ اکبر کہنا بھی مروی ہے اور یہ بھی کہ آپ نے فرمایا کہ تم بھی اپنے اگلوں کی سی چال چلنے لگے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَمَّا قَالَهُ جَهَلَةُ بَنِي إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، حِينَ جَاوَزُوا الْبَحْرَ، وَقَدْ رَأَوْا مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَعَظِيمِ سُلْطَانِهِ مَا رَأَوْا، ﴿فَأَتَوْا﴾ أَيْ: فَمَرُّوا ﴿عَلَى قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَى أَصْنَامٍ لَهُمْ﴾ قَالَ بَعْضُ الْمُفَسِّرِينَ: كَانُوا مِنَ الْكَنْعَانِيِّينَ. وَقِيلَ: كَانُوا مِنْ لَخْمٍ.
قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَكَانُوا يَعْبُدُونَ أَصْنَامًا عَلَى صُوَرِ الْبَقَرِ، فَلِهَذَا أَثَارَ [[في أ: "أثر".]] ذَلِكَ شُبْهَةً لَهُمْ فِي عِبَادَتِهِمُ الْعِجْلَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالُوا: ﴿يَا مُوسَى اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ﴾ أَيْ: تَجْهَلُونَ عَظَمَةَ اللَّهِ وَجَلَالَهُ، وَمَا يَجِبُ أَنْ يُنَزَّهَ [[في د: "تنزيهه".]] عَنْهُ مِنَ الشَّرِيكِ وَالْمَثِيلِ.
﴿إِنَّ هَؤُلاءِ مُتَبَّرٌ مَا هُمْ فِيهِ﴾ أَيْ: هَالِكٌ ﴿وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾
وَرَوَى الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ [رَحِمَهُ اللَّهُ] [[زيادة من أ.]] تَفْسِيرَ هَذِهِ الْآيَةِ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ وعَقِيل، وَمَعْمَرٍ كُلِّهِمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ: أَنَّهُمْ خَرَجُوا مِنْ مَكَّةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِلَى حُنَيْنٍ، قَالَ: وَكَانَ لِلْكُفَّارِ سِدْرَةٌ [[في م: "سدة".]] يَعْكُفُونَ عِنْدَهَا، وَيُعَلِّقُونَ بِهَا أَسْلِحَتَهُمْ، يُقَالُ لَهَا: "ذَاتُ أَنْوَاطٍ"، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِسِدْرَةٍ خَضْرَاءَ عَظِيمَةٍ، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ. فَقَالَ: "قُلْتُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى لِمُوسَى: ﴿اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ. إِنَّ هَؤُلاءِ مُتَبَّرٌ مَا هُمْ فِيهِ وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [[تفسير الطبري (١٣/٨١، ٨٢) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَر، عن الزُّهْرِيِّ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدِّيلي، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قبل حُنَيْنٍ، فَمَرَرْنَا بِسِدْرَةٍ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ [[في أ: "رسول الله".]] اجْعَلْ لَنَا هَذِهِ "ذَاتَ أَنْوَاطٍ"، كَمَا لِلْكَفَّارِ ذَاتُ أَنْوَاطٍ، وَكَانَ الْكَفَّارُ يَنُوطُونَ سِلَاحَهُمْ بِسِدْرَةٍ، وَيَعْكُفُونَ حَوْلَهَا. فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: "اللَّهُ أَكْبَرُ، هَذَا كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى: ﴿اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ [قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ] ﴾ [[زيادة من د.]] إِنَّكُمْ تَرْكَبُونَ [[في م: "لتركبون".]] سَنَنَ مَنْ قَبِلَكُمْ" [[المسند (٥/٢١٨) ورواه النسائي في السنن الكبرى برقم (١١١٨٥) من طريق عبد الرزاق به ورواه الترمذي في السنن برقم (٢١٨٠) من طريق سفيان عن الزهري بنحوه، قال الترمذي: "هذا حديث حسن صحيح".]]
وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، مِنْ حَدِيثِ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جده مرفوعا [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (١٧/٢١) من طريق ابن أبي فديك، عن كثير بن عبد الله الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ مَرْفُوعًا، قَالَ الهيثمي في المجمع (٧/٢٤) : "فيه كثير بن عبد الله وقد ضعفه الجمهور وحسن الترمذي حديثه.]]
قَالَ أَغَيْرَ ٱللَّهِ أَبْغِيكُمْ إِلَٰهًۭا وَهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ
He said, "Is it other than Allah I should desire for you as a god while He has preferred you over the worlds?"
(اور یہ بھی) کہا کہ بھلا میں خدا کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت بخشی ہے
(سپس) گفت: «آیا غیر از خداوند، مبعودی برای شما بطلبم؟! خدایی که شما را بر جهانیان (و مردم عصرتان) برتری داد!»
Tafsir Ibn Kathir
He said: "Shall I seek for you an ilah (a god) other than Allah, while He has given you superiority over the nations. (140)And (remember) when We rescued you from Fir'awn's people, who were afflicting you with the worst torment, killing your sons and letting your women live. And in that was a great trial from your Lord (141)
Reminding the Children of Israel of Allah's Blessings for Them
Musa reminded the Children of Israel of Allah's blessings, such as saving them from Fir'awn, his tyranny and the humiliation and disgrace they suffered. He reminded them of the glory and revenge against their enemy, when they watched them suffering in disgrace, destroyed by drowning and meeting utter demise. We mentioned this subject in the Tafsir of Surat Al-Baqarah.
Tafsir Ibn Kathir
ماضی کی یاد دہانی انہیں اس گمراہ خیالی سے روکنے کیلئے آپ اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد دلا رہے ہیں کہ فرعونیوں کی غلامی سے اللہ نے تمہیں آزادی دلوائی، ذلت و رسوائی سے چھٹکارا دیا۔ پھر اوج و عزت عطا فرمائی تمہارے دیکھتے ہوئے تمہارے دشمنوں کو غارت کردیا۔ ایسے رب کے سوا اور کوئی لائق عبادت کیسے ہوسکتا ہے ؟ فرعون کے وقت کی اپنی ابتری کو بھول گئے جس سے اللہ نے نجات دی۔ اس کی پوری تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يذكِّرهم مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِنِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْهِمْ، مِنْ إِنْقَاذِهِمْ مِنْ أَسْرِ فِرْعَوْنَ وَقَهْرِهِ، وَمَا كَانُوا فِيهِ مِنَ الْهَوَانِ وَالذِّلَّةِ، وَمَا صَارُوا إِلَيْهِ مِنَ الْعِزَّةِ وَالِاشْتِفَاءِ مِنْ عَدُوِّهِمْ، وَالنَّظَرِ إِلَيْهِ فِي حَالِ هَوَانِهِ وَهَلَاكِهِ، وَغَرَقِهِ وَدَمَارِهِ. وَقَدْ تَقَدَّمَ تَفْسِيرُهَا فِي [سُورَةِ] [[زيادة من م، أ.]] الْبَقَرَةِ.
وَإِذْ أَنجَيْنَٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ ۖ يُقَتِّلُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌۭ
And [recall, O Children of Israel], when We saved you from the people of Pharaoh, [who were] afflicting you with the worst torment - killing your sons and keeping your women alive. And in that was a great trial from your Lord.
(اور ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں (کے ہاتھ) سے نجات بخشی وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سخت آزمائش تھی
(به خاطر بیاورید) زمانی را که از (چنگال) فرعونیان نجاتتان بخشیدیم! آنها که پیوسته شما را شکنجه میدادند، پسرانتان را میکشتند، و زنانتان را (برای خدمتگاری) زنده میگذاشتند؛ و در این، آزمایش بزرگی از سوی خدا برای شما بود.
Tafsir Ibn Kathir
He said: "Shall I seek for you an ilah (a god) other than Allah, while He has given you superiority over the nations. (140)And (remember) when We rescued you from Fir'awn's people, who were afflicting you with the worst torment, killing your sons and letting your women live. And in that was a great trial from your Lord (141)
Reminding the Children of Israel of Allah's Blessings for Them
Musa reminded the Children of Israel of Allah's blessings, such as saving them from Fir'awn, his tyranny and the humiliation and disgrace they suffered. He reminded them of the glory and revenge against their enemy, when they watched them suffering in disgrace, destroyed by drowning and meeting utter demise. We mentioned this subject in the Tafsir of Surat Al-Baqarah.
Tafsir Ibn Kathir
ماضی کی یاد دہانی انہیں اس گمراہ خیالی سے روکنے کیلئے آپ اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد دلا رہے ہیں کہ فرعونیوں کی غلامی سے اللہ نے تمہیں آزادی دلوائی، ذلت و رسوائی سے چھٹکارا دیا۔ پھر اوج و عزت عطا فرمائی تمہارے دیکھتے ہوئے تمہارے دشمنوں کو غارت کردیا۔ ایسے رب کے سوا اور کوئی لائق عبادت کیسے ہوسکتا ہے ؟ فرعون کے وقت کی اپنی ابتری کو بھول گئے جس سے اللہ نے نجات دی۔ اس کی پوری تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يذكِّرهم مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِنِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْهِمْ، مِنْ إِنْقَاذِهِمْ مِنْ أَسْرِ فِرْعَوْنَ وَقَهْرِهِ، وَمَا كَانُوا فِيهِ مِنَ الْهَوَانِ وَالذِّلَّةِ، وَمَا صَارُوا إِلَيْهِ مِنَ الْعِزَّةِ وَالِاشْتِفَاءِ مِنْ عَدُوِّهِمْ، وَالنَّظَرِ إِلَيْهِ فِي حَالِ هَوَانِهِ وَهَلَاكِهِ، وَغَرَقِهِ وَدَمَارِهِ. وَقَدْ تَقَدَّمَ تَفْسِيرُهَا فِي [سُورَةِ] [[زيادة من م، أ.]] الْبَقَرَةِ.
۞ وَوَٰعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَٰثِينَ لَيْلَةًۭ وَأَتْمَمْنَٰهَا بِعَشْرٍۢ فَتَمَّ مِيقَٰتُ رَبِّهِۦٓ أَرْبَعِينَ لَيْلَةًۭ ۚ وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَٰرُونَ ٱخْلُفْنِى فِى قَوْمِى وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ ٱلْمُفْسِدِينَ
And We made an appointment with Moses for thirty nights and perfected them by [the addition of] ten; so the term of his Lord was completed as forty nights. And Moses said to his brother Aaron, "Take my place among my people, do right [by them], and do not follow the way of the corrupters."
اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کی میعاد مقرر کی۔ اور اس دس (راتیں) اور ملا کر اسے پورا (چلّہ) کردیا تو اس کے پروردگار کی چالیس رات کی میعاد پوری ہوگئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میرے (کوہِٰ طور پر جانے کے) بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو (ان کی) اصلاح کرتے رہنا ٹھیک اور شریروں کے رستے نہ چلنا
و ما با موسی، سی شب وعده گذاشتیم؛ سپس آن را با ده شب (دیگر) تکمیل نمودیم؛ به این ترتیب، میعاد پروردگارش (با او)، چهل شب تمام شد. و موسی به برادرش هارون گفت: «جانشین من در میان قومم باش. و (آنها) را اصلاح کن! و از روش مفسدان، پیروی منما!»
Tafsir Ibn Kathir
And We appointed for Musa thirty nights and added ten, and he completed the term, appointed by his Lord, of forty nights. And Musa said to his brother Harun: "Replace me among my people, act in the right way and follow not the way of the mischief-makers. (142)
Musa fasts and worships Allah for Forty Days
Allah reminds the Children of Israel of the guidance that He sent to them by speaking directly to Musa and revealing the Tawrah to him. In it, was their law and the details of their legislation. Allah stated here that He appointed thirty nights for Musa. The scholars of Tafsir said that Musa fasted this period, and when they ended, Musa cleaned his teeth with a twig. Allah commanded him to complete the term adding ten more days, making the total forty. When the appointed term finished, Musa was about to return to Mount Tur, as Allah said,
يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ قَدْ أَنجَيْنَاكُم مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَوَاعَدْنَاكُمْ جَانِبَ الطُّورِ الْأَيْمَنَ
(O Children of Israel! We delivered you from your enemy, and We made a covenant with you on the right side of the Mount)[20:80].
Musa left his brother Harun with the Children of Israel and commanded him to use wisdom and refrain from mischief. This was only a reminder, for Harun was an honorable and noble Prophet who had grace and exalted standard with Allah, may Allah's peace and blessings be upon him and the rest of the Prophets.
Tafsir Ibn Kathir
احسانات پہ احسانات اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنا وہ احسان یاد دلاتا ہے جس کی وجہ سے موسیٰ کو شرف ہم کلامی حاصل ہوا اور تورات ملی جو ان سب کے لئے باعث ہدایت و نور تھی جس میں ان کی شریعت کی تفصیل تھی اور اللہ کے تمام احکام موجود تھے۔ تیس راتوں کا وعدہ ہوا، آپ نے یہ دن روزوں سے گذارے۔ وقت پورا کر کے ایک درخت کی چھال کو چبا کر مسواک کی۔ حکم ہوا کہ دس اور پورے کر کے پورے چالیس کرو۔ کہتے ہیں کہ ایک مہینہ تو ذوالقعدہ کا تھا اور دس دن ذوالحجہ کے۔ تو عید والے دن وہ وعدہ پورا ہوا اور اسی دن اللہ کے کلام سے آپ کو شرف ملا اسی دن دین محمدی بھی کامل ہوا ہے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے آیت (اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا) 5۔ المآئدہ :3) وعدہ پورا کرنے کے بعد حضرت موسیٰ ؑ نے طور کا قصد کیا جیسے اور آیت میں ہے کہ اے گروہ بنی اسرائیل ہم نے تمہیں دشمن سے نجات دی اور طور ایمان کا وعدہ کیا۔ آپ نے جاتے ہوئے اپنے بھائی حضرت ہارون ؑ کو اپنا خلیفہ بنایا اور انہیں اصلاح کی اور فساد سے بچنے کی ہدایت کی۔ یہ صرف بطور وعظ کے تھا ورنہ حضرت ہارون ؑ بھی اللہ کے شریف و کریم اور ذی عزت پیغمبر تھے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ و علی سائر
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُمْتَنًّا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، بِمَا حَصَلَ لَهُمْ مِنَ الْهِدَايَةِ، بِتَكْلِيمِهِ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَإِعْطَائِهِ التَّوْرَاةَ، وَفِيهَا أَحْكَامُهُمْ وَتَفَاصِيلُ شَرْعِهِمْ، فَذَكَرَ تَعَالَى أَنَّهُ وَاعَدَ مُوسَى ثَلَاثِينَ لَيْلَةً.
قَالَ الْمُفَسِّرُونَ: فَصَامَهَا مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَلَمَّا تَمَّ الْمِيقَاتُ اسْتَاكَ بِلِحَاءِ شَجَرَةٍ، فَأَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يُكْمِلَ بِعَشْرٍ [[في أ: "العشرة".]] أَرْبَعِينَ.
وَقَدِ اخْتَلَفَ الْمُفَسِّرُونَ فِي هَذِهِ الْعَشْرِ مَا هِيَ؟ فَالْأَكْثَرُونَ عَلَى أَنَّ الثَّلَاثِينَ هِيَ ذُو الْقَعْدَةِ، وَالْعَشَرُ عَشَرُ ذِي الْحِجَّةِ. قَالَهُ مُجَاهِدٌ، وَمَسْرُوقٌ، وَابْنُ جُرَيْجٍ. وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. فَعَلَى هَذَا يَكُونُ قَدْ كَمَّلَ الْمِيقَاتَ يَوْمَ النَّحْرِ، وَحَصَلَ فِيهِ التَّكْلِيمُ لِمُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَفِيهِ أَكْمَلَ اللَّهُ الدِّينَ لِمُحَمَّدٍ ﷺ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإسْلامَ دِينًا﴾ [الْمَائِدَةِ:٣]
فَلَمَّا تَمَّ الْمِيقَاتُ عَزَمَ [[في د، ك، م: "وعزم".]] مُوسَى عَلَى الذَّهَابِ إِلَى الطُّورِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ قَدْ أَنْجَيْنَاكُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ وَوَاعَدْنَاكُمْ جَانِبَ الطُّورِ الأيْمَنَ﴾ الْآيَةَ [طه: ٨٠] ، فَحِينَئِذٍ اسْتَخْلَفَ مُوسَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَخَاهُ هَارُونَ، وَأَوْصَاهُ بِالْإِصْلَاحِ وَعَدَمِ الْإِفْسَادِ. وَهَذَا تَنْبِيهٌ وَتَذْكِيرٌ، وَإِلَّا فَهَارُونُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، نَبِيٌّ شَرِيفٌ كَرِيمٌ عَلَى اللَّهِ، لَهُ وَجَاهَةٌ وَجَلَالَةٌ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، وَعَلَى سَائِرِ الْأَنْبِيَاءِ [[في ك، أ: "أنبياء الله".]]
وَلَمَّا جَآءَ مُوسَىٰ لِمِيقَٰتِنَا وَكَلَّمَهُۥ رَبُّهُۥ قَالَ رَبِّ أَرِنِىٓ أَنظُرْ إِلَيْكَ ۚ قَالَ لَن تَرَىٰنِى وَلَٰكِنِ ٱنظُرْ إِلَى ٱلْجَبَلِ فَإِنِ ٱسْتَقَرَّ مَكَانَهُۥ فَسَوْفَ تَرَىٰنِى ۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكًّۭا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًۭا ۚ فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبْحَٰنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْمُؤْمِنِينَ
And when Moses arrived at Our appointed time and his Lord spoke to him, he said, "My Lord, show me [Yourself] that I may look at You." [Allah] said, "You will not see Me, but look at the mountain; if it should remain in place, then you will see Me." But when his Lord appeared to the mountain, He rendered it level, and Moses fell unconscious. And when he awoke, he said, "Exalted are You! I have repented to You, and I am the first of the believers."
اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر (کوہ طور) پر پہنچے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے (جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار (بھی) دیکھوں۔ پروردگار نے کہا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے۔ جب ان کا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہوا تو (تجلی انوارِ ربانی) نے اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانے والے ہیں ان میں سب سے اول ہوں
و هنگامی که موسی به میعادگاه ما آمد، و پروردگارش با او سخن گفت، عرض کرد: «پروردگارا! خودت را به من نشان ده، تا تو را ببینم!» گفت: «هرگز مرا نخواهی دید! ولی به کوه بنگر، اگر در جای خود ثابت ماند، مرا خواهی دید!» اما هنگامی که پروردگارش بر کوه جلوه کرد، آن را همسان خاک قرار داد؛ و موسی مدهوش به زمین افتاد. چون به هوش آمد، عرض کرد: «خداوندا! منزهی تو (از اینکه با چشم تو را ببینم)! من به سوی تو بازگشتم! و من نخستین مؤمنانم!»
Tafsir Ibn Kathir
And when Musa came at the time and place appointed by Us, and his Lord (Allah) spoke to him; he said: "O my Lord! Show me (Yourself), that I may look upon You." Allah said: "You cannot see Me, but look upon the mountain; if it stands still in its place then you shall see Me." So when his Lord appeared to the mountain, He made it collapse to dust, and Musa fell down unconscious. Then when he recovered his senses he said: "Glory be to You, I turn to You in repentance and I am the first of the believers. (143)
Musa asks to see Allah
Allah said that when Musa came for His appointment and spoke to Him directly, he asked to see Him,
رَبِّ أَرِنِي أَنظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَن تَرَانِي
("O my Lord! Show me (Yourself), that I may look upon You." Allah said: "You cannot see Me,")
You cannot' (Lan) by no means indicates that seeing Allah will never occur, as (the misguided sect of) Al-Mu'tazilah claimed. The Hadiths of Mutawatir grade narrated from the Messenger of Allah, affirm that the believers will see Allah in the Hereafter. We will mention these Hadiths under the explanation of Allah's statement,
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ - إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ
(Some faces that Day shall be radiant. Looking at their Lord.)[75:22-23]
In earlier Scriptures, it was reported that Allah said to Musa, "O Musa! No living soul sees Me, but will perish, and no solid but will be demolished." Allah said here,
فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ موسَى صَعِقًا
(So when his Lord appeared to the mountain, He made it collapse to dust, and Musa fell down unconscious.)
In his Musnad Imam Ahmad recorded from Anas bin Malik that the Prophet ﷺ said about Allah's saying;
فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُ لِلْجَبَلِ
(And when his Lord appeared to the mountain,)
هكذا
(Like this) then he held out the tip of his little finger. At-Tirmidhi recorded this in the chapter of Tafsir for this Ayah, then he said; "This Hadith is Hasan Sahih Gharib."
This was also recorded by Al-Hakim in his Mustadrak through the route of Hamad bin Salamah, and he said; "This Hadith is Sahih according to the criteria of Muslim and they did not record it." And As-Suddi reported that 'Ikrimah reported from Ibn 'Abbas about Allah's saying,
فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُ لِلْجَبَلِ
(And when his Lord appeared to the mountain,) Only the extent of the little finger appeared from Him,
جَعَلَهُ دَكًّا
(He made it collapse) as dust;
وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا
(And Musa fell down unconscious) fainting from it. Ibn Jarir recorded these because of the relation to the word Al-Ghashi.
فَلَمَّا أَفَاقَ
(Then when he (Musa) recovered his senses) after he lost consciousness,
قَالَ سُبْحَانَكَ
(he said: "Glory be to You,") thus, praising, glorifying and honoring Allah since no living soul could see Him in this life and remain alive. Musa' statement,
تُبْتُ إِلَيْكَ
("I turn to You in repentance") means, according to Mujahid, that from asking you to look at you,
وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ
("and I am the first of the believers."), among the Children of Israel, according to Ibn 'Abbas, Mujahid, and Ibn Jarir preferred this view. Or, according to another narration from Ibn 'Abbas, the meaning of,
وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ
("and I am the first of the believers."), is that 'none shall see You (in this life).' Allah said,
وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا
(And Musa fell down unconscious.)
Abu Sa'id Al-Khudri and Abu Hurayrah narrated a Hadith from the Prophet ﷺ that is suitable to mention here. As for the Hadith from Abu Sa'id, Al-Bukhari recorded in his Sahih that he said: A Jew came to the Prophet ﷺ after his face was smacked, and said, "O Muhammad! One of your companions from Al-Ansar smacked me on the face." The Prophet ﷺ said,
ادْعُوهُ
(Summon him) and he was summoned. The Prophet ﷺ asked him,
لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ؟
(Why did you smack his face?) He said, "O Allah's Messenger! I passed by that Jew and heard him swearing, 'No, by He Who has chosen Musa over mankind!' I said, 'Over Muhammad too?', and I became angry and struck his face." The Prophet ﷺ said,
لَا تُخَيِّرُونِي مِنْ بَيْنِ الْأَنْبِيَاءِ فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ جُوزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ
(Do not prefer me above the Prophets. Verily, on the Day of Resurrection, people will be struck unconscious, and I (feel that I) am the first to wake up. Thereupon I will find that Musa is holding onto a pillar of the Throne ('Arsh of Allah). I will not know if he woke up before me or he received his due (because of his) unconsciousness on (Mount) At-Tur.)
Al-Bukhari recorded this Hadith in many locations of his Sahih, as did Muslim and Abu Dawud. As for the Hadith from Abu Hurayrah, Imam Ahmad and the Two Shaykhs (Al-Bukhari and Muslim) collected his narration.
Tafsir Ibn Kathir
طلب زیارت اور موت وعدے کے مطابق حضرت موسیٰ طور پہاڑ پر پہنچے، اللہ کا کلام سنا تو دیدار کی آرزو کی، جواب ملا کہ یہ تیرے لئے ناممکن ہے۔ اس سے معتزلہ نے استدلال کیا ہے کہ دنیا اور آخرت میں اللہ کا دیدار نہ ہوگا کیونکہ لن ابدی نفی کے لئے آتا ہے لیکن یہ قول بالکل ہی بودا ہے کیونکہ متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ مومنوں کو قیامت کے دن اللہ کا دیدار ہوگا۔ وہ حدیثیں آیت (وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ 22ۙ) 75۔ القیامة :22) اور آیت (كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ 15ۭ) 83۔ المطففین :15) کی تفسیر میں آئیں گی انشاء اللہ تعالٰی، ایک قول اس آیت کی تفسیر میں یہ ہے کہ یہ نفی ابدی ہے لیکن دنیاوی زندگی کے لئے نہ کہ آخرت کے لئے بھی۔ کیونکہ آخرت میں دیدار باری تعالیٰ مومنوں کو قطعاً ہوگا جیسے کہ آیات و احادیث سے ثابت ہے اس طرح کوئی معارضہ بھی باقی نہیں رہتا۔ یہ آیت مثل (لا تدرکہ الا بصار) کے ہے جس کی تفسیر سورة انعام میں گذر چکی ہے۔ اگلی کتابوں میں ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی اس درخواست پر ان سے کہا گیا تھا کہ اے موسیٰ مجھے جو زندہ شخص دیکھ لے وہ مرجائے۔ میرے دیدار کی تاب کوئی زندہ لا نہیں سکتا۔ خشک چیزیں بھی میری تجلی سے تھرا اٹھتی ہیں چنانجہ پہاڑ کا حال خود کلیم اللہ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور خود بھی بیہوش ہوگئے۔ امام ابو جعفر طبری نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ حضور فرماتے ہیں کہ جب اس کے رب نے پہاڑ پر تجلی ڈالی، اپنی انگلی سے اشارہ کیا تو وہ چکنا چور ہوگیا۔ راوی حدیث ابو اسماعیل نے اپنے شاگردوں کو اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا، لیکن اس حدیث کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام واضح نہیں کیا گیا، ایک روایت میں ہے کہ آپ نے اپنے انگوٹھے کو اپنی چھنگلیا کی اوپر کی پور پر رکھ کر بتایا کہ اتنے سے جمال سے پہاڑ زمین کے ساتھ ہموار ہوگیا۔ مسند کی روایت میں ہے کہ حمید نے اپنے استاد سے کہا اس سے آپ کی کیا مراد ہے ؟ تو استاد نے ان کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ حضرت انس بن مالک سے میں نے یہ سنا اور انہوں نے آنحضرت رسول مقبول ﷺ سے۔ ترمذی میں بھی یہ ہدایت ہے اور امام صاحب نے اسے حسن صحیح غریب فرمایا ہے۔ مستدرک میں اسے وارد کر کے کہا ہے کہ یہ شرط مسلم پر ہے اور صحیح ہے۔ خلال کہتے ہیں اس کی سند صحیح ہے اس میں کوئی علت نہیں۔ ابن مردویہ میں بھی مرفوعاً مروی ہے لیکن اس کی بھی سند صحیح نہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں صرف بقدر چھنگلی انگلی کے تجلی ہوئی تھی جس سے وہ مٹی کی طرح چور چور ہوگیا اور کلیم اللہ بھی بیہوش ہوگئے۔ کہتے ہیں وہ پہاڑ دھنس گیا سمندر میں چلا گیا اور حضرت موسیٰ بیہوش ہو کر گرپڑے بعض بزرگ فرماتے ہیں وہ پہاڑ اب قیامت تک ظاہر نہ ہوگا بلکہ زمین میں اترتا چلا جاتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے اس تجلی سے چھ پہاڑ اپنی جگہ سے اڑ گئے جن میں سے تین مکہ میں ہیں اور تین مدینے میں۔ احد رقان اور رضوی مدینے میں۔ حرا، ثبیر اور ثور مکہ میں۔ لیکن یہ حدیث بالکل غریب ہے بلکہ منکر ہے۔ کہتے ہیں کہ طور پر تجلی کے ظہور سے پہلے پہاڑ بالکل صاف تھے اس کے بعد ان میں غار اور کھڈ اور شاخیں قائم ہوگئیں۔ جناب کلیم اللہ کی آرزو کے جواب میں انکار ہوا اور پھر مزید تشفی کے لئے فرمایا گیا کہ میری ادنیٰ سی تجلی کی برداشت تجھ سے تو کیا بہت زیادہ قوی مخلوق میں بھی نہیں۔ دیکھ پہاڑ کی جانب خیال رکھ پھر اس پر اپنی تجلی ڈالی جس سے پہاڑ جھک گیا اور موسیٰ بیہوش ہوگئے صرف اللہ کی نظر نے پہاڑ کو ریزہ ریزہ کردیا وہ بالکل مٹی ہو کر ریت کا میدان ہوگیا۔ بعض قرأتوں میں اسی طرح ہے اور ابن مردویہ میں ایک مرفوع حدیث بھی ہے۔ حضرت موسیٰ کو غشی آگئی یہ ٹھیک نہیں کہ موت آگئی گولغتاً یہ بھی ہوسکتا ہے جیسے آیت (وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اللّٰهُ ۭ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ 68) 39۔ الزمر :68) میں موت کے معنی ہیں۔ لیکن وہاں قرینہ موجود ہے جو اس لفظ سے اسی معنی کے ہونے کی تائید کرتا ہے اور یہاں کا قرینہ بیہوشی کی تائید کرتا ہے کیونکہ آگے فرمان ہے آیت (فلما افاق) ظاہر ہے کہ افاقہ بیہوشی سے ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ ہوش میں آتے ہی اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور تعظیم و جلال بیان فرمانے لگے کہ واقعی وہ ایسا ہی ہے کہ کوئی زندہ اس کے جمال کی تاب نہیں لاسکتا۔ پھر اپنے سوال سے توبہ کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ سب بنی اسرائیل سے پہلے میں ایمان لانے والا بنتا ہوں۔ میں اس پر سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں کہ واقعی کوئی زندہ آنکھ تجھے دیکھ نہیں سکتی۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ سے پہلے کوئی مومن ہی نہ تھا بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ کا دیدار زندوں کے لئے ناممکن ہے۔ ابن جریر میں اس آیت کی تفسیر میں محمد بن اسحاق بن یسار کی روایت سے ایک عجیب و غریب مطول اثر نقل کیا گیا ہے عجب نہیں کہ یہ اسرائیلی روایتوں میں سے ہو واللہ اعلم۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک یہود کو کسی نے ایک تھپڑ مارا تھا وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس شکایت لایا کہ آپ کے فلاں انصاری صحابی نے مجھے تھپڑ مارا ہے۔ آپ نے اسے بلوایا اور اس سے پوچھا۔ اس نے کہا سچ ہے۔ وجہ یہ ہوئی کہ یہ کہہ رہا تھا اس اللہ کی قسم ہے جس نے موسیٰ کو تمام جہاں پر فضیلت دی تو میں نے کہا کیا حضرت محمد ﷺ پر بھی ؟ اور غصے میں آ کر میں نے اسے تھپڑ مار دیا۔ آپ نے فرمایا سنو نبیوں کے درمیان تم مجھے فضیلت نہ دیا کرو۔ قیامت میں سب بیہوش ہوں گے سب سے پہلے مجھے ہوش آئے گا تو میں دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ ؑ عرش الٰہی کا پایہ تھامے ہوئے ہیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ انہیں مجھ سے پہلے افاقہ ہوا ؟ یا طور کی بیہوشی کے بدلے یہاں بیہوش ہی نہیں ہوئے ؟ یہ حدیث بخاری شریف میں کئی جگہ ہے اور مسلم شریف میں بھی ہے اور ابو داؤد میں بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی کا جھگڑا ہوگیا اس پر مسلمان نے کہا اس کی قسم جس نے حضرت محمد ﷺ کو تمام جہان پر فضیلت دی اور یہودی نے کہا اس کی قسم جس نے حضرت موسیٰ ؑ کو تمام جہان پر فضیلت دی۔ اس پر مسلمان نے اسے تھپڑ مارا۔ اس روایت میں ہے کہ شاید موسیٰ ان میں سے ہوں جن کا اللہ تعالیٰ نے بیہوشی سے استثنا کرلیا۔ حافظ ابوبکر ابن ابی الدنیا ؒ کی روایت میں ہے کہ یہ تھپڑ مارنے والے حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے۔ لیکن بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ یہ کوئی انصاری ؓ تھے۔ یہی زیادہ صحیح اور زیادہ صریح ہے واللہ اعلم۔ اس حدیث میں یہ فرمان کہ تم نبیوں کے درمیان مجھے فضیلت نہ دو ایسا ہی ہے جیسے اور حدیث میں بھی فرمان ہے کہ نبیوں میں مجھے فضیلت نہ دو۔ نہ حضرت یونس بن متی ؑ پر فضیلت دو۔ یہ فرمان بطور تواضع کے ہے یا یہ فرمان اس سے پہلے ہے کہ آپ کو اپنی فضیلت کا علم اللہ کی طرف سے ہوا ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ غصے میں آ کر یا تعصب کی بنا پر مجھے فضیلت نہ دو یا یہ کہ صرف اپنی رائے سے میری فضیلت قائم نہ کرو۔ واللہ اعلم۔ لوگ قیامت کے دن بیہوش ہوں گے یہ بہوشی میدان قیامت کی بعض ہولناکیوں کی وجہ سے ہوگی واللہ اعلم۔ بہت ممکن ہے یہ اس وقت کا حال ہو جب الہ الملک و دیان تبارک و تعالیٰ لوگوں کے درمیان حق فیصلے کرنے کیلئے تشریف لائے گا تو اس کی تجلی سے لوگ بیہوش ہوجائیں گے۔ جیسے حضرت موسیٰ اللہ کے جمال کی برداشت کو طور پر نہ لاسکے۔ اسی لئے آپ کا فرمان ہے کہ نہ معلوم مجھ سے پہلے انہیں افاقہ ہوا یا طور کی بیہوشی کے بدلے یہاں بیہوش نہ ہوئے۔ قاضی عیاض ؒ اپنی کتاب الشفا کے شروع میں لکھتے ہیں کہ دیدار الٰہی کی اس تجلی کی وجہ سے حضرت موسیٰ ؑ اس چیونٹی کو بھی دیکھ لیا کرتے تھے جو دس فرسخ دور رات کے اندھیرے میں کسی پتھر پر چل رہی ہو اور بہت ممکن ہے کہ ہمارے نبی ﷺ ان چیزوں سے جن کا ہم نے ذکر کیا معراج کے واقعہ کے بعد مخصوص ہوئے ہوں اور آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا قاضی صاحب کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے حالانکہ اس کی سند غور طلب ہے۔ اس میں مجہول راوی ہیں اور ایسی باتیں جب تک ثقہ راویوں کے سلسلے نہ ثابت ہوں قابل قبول نہیں ہوتیں۔ واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهُ لَمَّا جَاءَ لِمِيقَاتِ اللَّهِ تَعَالَى، وَحَصَلَ لَهُ التَّكْلِيمُ مِنَ اللَّهِ [تَعَالَى] [[زيادة من ك، أ.]] سَأَلَ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ فَقَالَ: ﴿رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَانِي﴾
وَقَدْ أَشْكَلَ حَرْفُ "لَنْ" هَاهُنَا عَلَى كَثِيرٍ مِنَ الْعُلَمَاءِ؛ لِأَنَّهَا مَوْضُوعَةٌ لِنَفْيِ التَّأْبِيدِ، فَاسْتَدَلَّ بِهِ الْمُعْتَزِلَةُ عَلَى نَفْيِ الرُّؤْيَةِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ. وَهَذَا أَضْعَفُ الْأَقْوَالِ؛ لِأَنَّهُ قَدْ تَوَاتَرَتِ الْأَحَادِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِأَنَّ الْمُؤْمِنِينَ يَرَوْنَ اللَّهَ فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ، كَمَا سَنُورِدُهَا عِنْدَ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ. إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ. وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ﴾ [الْقِيَامَةِ:٢٢، ٢٣] .
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى إِخْبَارًا عَنِ الْكُفَّارِ: ﴿كَلا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ﴾ [الْمُطَفِّفِينَ:١٥]
وَقِيلَ: إِنَّهَا لِنَفْيِ التَّأْبِيدِ فِي الدُّنْيَا، جَمْعًا بَيْنَ هَذِهِ الْآيَةِ، وَبَيْنَ الدَّلِيلِ الْقَاطِعِ عَلَى صِحَّةِ الرُّؤْيَةِ فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ.
وَقِيلَ: إِنَّ هَذَا الْكَلَامَ فِي هَذَا الْمَقَامِ كَالْكَلَامِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَا تُدْرِكُهُ الأبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ﴾ وَقَدْ تَقَدَّمَ ذَلِكَ فِي الْأَنْعَامِ [الْآيَةَ:١٠٣] .
وَفِي الْكُتُبِ الْمُتَقَدِّمَةِ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِمُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ: "يَا مُوسَى، إِنَّهُ لَا يَرَانِي حَيٌّ إِلَّا مَاتَ، وَلَا يَابِسٌ إِلَّا تَدَهْدَهَ"؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا﴾
قَالَ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ الطَّبَرِيُّ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُهَيْل الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَّة بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم قال: "لما تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ، أَشَارَ بِإِصْبَعِهِ فَجَعَلَهُ دَكًّا" وَأَرَانَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ [[تفسير الطبري (١٣/٩٨) .]]
هَذَا الْإِسْنَادُ فِيهِ رَجُلٌ مُبْهَمٌ لَمْ يُسَمَّ، ثُمَّ قَالَ [[في أ: "وقال".]]
حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حجَّاج بْنُ مِنْهال، حَدَّثَنَا حَمَّاد، عَنْ لَيْث، عَنْ أَنَسٍ؛ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا﴾ قَالَ: "هَكَذَا بِإِصْبَعِهِ -وَوَضَعَ النَّبِيُّ ﷺ إِصْبَعَهُ الْإِبْهَامَ عَلَى الْمَفْصِلِ الْأَعْلَى مِنَ الْخِنْصَرِ-فَسَاخَ الْجَبَلُ" [[تفسير الطبري (١٣/٩٩) .]]
هَكَذَا وَقَعَ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ "حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَنَسٍ". وَالْمَشْهُورُ: "حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ"، كَمَا قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ:
حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا هُدْبَة بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: قَالَ ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا﴾ قَالَ: وَضَعَ الْإِبْهَامَ قَرِيبًا مِنْ طَرْفِ خِنْصَرِهِ، قَالَ: فَسَاخَ الْجَبَلُ -قَالَ حُمَيْدٌ لِثَابِتٍ: تَقُولُ هَذَا؟ فَرَفَعَ ثَابِتٌ يَدَهُ فَضَرَبَ صَدَرَ حُمَيْدٍ، وَقَالَ: يَقُولُهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَيَقُولُهُ أَنَسٌ وَأَنَا أَكْتُمُهُ؟ [[تفسير الطبري (١٣/٩٩) .]]
وَهَكَذَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُثَنَّى، مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ [جَعَلَهُ دَكًّا] ﴾ [[زيادة من أ.]] قال: قال هكذا -يعني أنه خرج طَرَفَ الْخِنْصَرِ -قَالَ أَحْمَدُ: أَرَانَا مُعَاذٌ، فَقَالَ لَهُ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ: مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ؟ قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرَهُ ضَرْبَةً شَدِيدَةً وَقَالَ: مَنْ أَنْتَ يَا حُمَيْدُ؟! وَمَا أَنْتَ يَا حُمَيْدُ؟! يُحَدِّثُنِي بِهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، فَتَقُولُ أَنْتَ: مَا تُرِيدُ إِلَيْهِ؟!
وَهَكَذَا رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ بِهِ. وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ [بْنِ سَلَمَةَ] [[زيادة من أ.]] بِهِ [[المسند (٣/١٢٥) وسنن الترمذي برقم (٣٠٧٤) ورواه ابن خزيمة في التوحيد برقم (١١٣) من طريق معاذ بن جبل به.]] ثُمَّ قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَمَّادٍ.
وَهَكَذَا رَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي مُسْتَدْرَكِهِ مِنْ طُرُقٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، بِهِ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [[في أ: "يخرجه".]] [[المستدرك (٢/٣٢٠) ورواه ابن خزيمة في التوحيد برقم (١١٤) وابن الأعرابي في معجمه برقم (٤٠٥) من طريق عفان بن مسلم عن حماد بن سلمة به.]]
وَرَوَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ [[في أك: "أبو محمد بن الحسن".]] بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَلَّالُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْد، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ الْبَغَوِيِّ، عَنْ هُدْبَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ: هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ لَا عِلَّةَ فِيهِ.
وَقَدْ رَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوعًا [وَهَذَا ليس بشيء، لأن داود ابن الْمُحَبَّرِ كَذَّابٌ وَرَوَاهُ الْحَافِظَانِ أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو بَكْرٍ] [[زيادة من أ.]] بِنَحْوِهِ [[ورواه ابن منده في الرد على الجهمية برقم (٥٩) من طريق شعبة به.]]
وَأَسْنَدَهُ ابْنُ مَرْدَوَيْهِ مِنْ طَرِيقَيْنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَة، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوعًا [[ورواه ابن عدي في الكامل (١/٣٥٠) من طريق أيوب بن خوط عن قتادة عن أنس مرفوعا وأيوب بن خوط متروك الحديث.]] بِنَحْوِهِ، وَأَسْنَدَهُ ابْنُ مَرْدَوَيْهِ مِنْ طَرِيقِ ابْنِ البيْلِمِاني، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا، وَلَا يَصِحُّ أَيْضًا.
وَقَالَ السُّدِّي، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ﴾ قَالَ: مَا تَجَلَّى مِنْهُ إِلَّا قَدْرُ الْخِنْصَرِ ﴿جَعَلَهُ دَكًّا﴾ قَالَ: تُرَابًا ﴿وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا﴾ قَالَ: مَغْشِيًا عَلَيْهِ. رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: ﴿وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا﴾ قَالَ: مَيِّتًا.
وَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: سَاخَ الْجَبَلُ فِي الْأَرْضِ، حَتَّى وَقَعَ فِي الْبَحْرِ فَهُوَ يَذْهَبُ مَعَهُ [[في أ: "بعد".]]
وَقَالَ سُنَيْد، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ: ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا﴾ انْقَعَرَ فَدَخَلَ تَحْتَ الْأَرْضِ، فَلَا يَظْهَرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
وَجَاءَ فِي بَعْضِ الْأَخْبَارِ أَنَّهُ سَاخَ فِي الْأَرْضِ، فَهُوَ يَهْوِي فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، رَوَاهُ ابْنُ مردويه.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّة، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى أَبُو غَسَّانَ الْكِنَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْجَلْدِ بْنِ أيوب، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّة، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: "لَمَّا تَجَلَّى اللَّهُ لِلْجِبَالِ [[في أ: "للجبل".]] طَارَتْ لِعَظَمَتِهِ سِتَّةُ أَجْبُلٍ، فَوَقَعَتْ ثَلَاثَةٌ بِالْمَدِينَةِ وَثَلَاثَةٌ بِمَكَّةَ، بِالْمَدِينَةِ: أُحُدٌ، وَوَرْقَانُ، وَرَضْوَى. وَوَقَعَ بِمَكَّةَ: حِرَاءٌ، وثَبِير، وَثَوْرٌ".
وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، بَلْ مُنْكَرٌ [[ورواه ابن الأعرابي في معجمه (١٦٦/٢) والمحاملي في أماليه (١/١٧٢/١) كما في االسلسة الضعيفة للشيخ ناصر الألباني برقم (١٦٢) والخطيب االبغدادي في تاريخ بغداد (١٠/٤٤١) كلهم من طريق عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عبد الله به.
قال الخطيب: "هذا الحديث غريب جدا لم أكتبه إلا بهذا الإسناد" وأورده ابن الجوزي في الموضوعات (١/١٢٠) وقال: "قال ابن حبان: موضوع، وعبد العزيز متروك يروى المناكير عن المشاهير".]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: ذُكِرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ، حَدَّثَنَا الهَيْثَم بْنُ خَارِجَةَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حُصَين بْنِ عَلاق، عَنْ عُرْوة بْنِ رُوَيم قَالَ: كَانَتِ الْجِبَالُ قَبْلَ أَنْ يَتَجَلَّى اللَّهُ لِمُوسَى عَلَى الطُّورِ صُمًا مُلْسا، فَلَمَّا تَجَلَّى اللَّهُ لِمُوسَى عَلَى الطُّورِ دُكَّ [[في أ: "صارت دكا".]] وَتَفَطَّرَتِ الْجِبَالُ فَصَارَتِ الشُّقُوقُ وَالْكُهُوفُ.
وَقَالَ الرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ: ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا﴾ وَذَلِكَ أَنَّ الْجَبَلَ حِينَ كُشِفَ الْغِطَاءُ وَرَأَى النُّورَ، صَارَ مِثْلَ دَكٍّ مِنَ الدِّكَاكِ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: ﴿جَعَلَهُ دَكًّا﴾ أَيْ: فَتَّتَهُ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي﴾ فَإِنَّهُ أَكْبَرُ مِنْكَ وَأَشَدُّ خَلْقًا، ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ﴾ فَنَظَرَ إِلَى الْجَبَلِ لَا يَتَمَالَكُ، وَأَقْبَلَ الْجَبَلُ فَدُكَّ عَلَى أَوَّلِهِ، وَرَأَى مُوسَى مَا يَصْنَعُ الْجَبَلُ، فَخَرَّ صَعِقًا.
وَقَالَ عِكْرِمَةُ: ﴿جَعَلَهُ دَكًّا﴾ قَالَ: نَظَرَ اللَّهُ إِلَى الْجَبَلِ، فَصَارَ صَحْرَاءَ تُرَابًا.
وَقَدْ قَرَأَ بِهَذِهِ الْقِرَاءَةِ بَعْضُ الْقُرَّاءِ، وَاخْتَارَهَا ابْنُ جَرِيرٍ، وَقَدْ وَرَدَ فِيهَا حديث مرفوع، رواه بن مَرْدَوَيْهِ.
وَالْمَعْرُوفُ أَنَّ "الصَّعْق" هُوَ الْغَشْيُ هَاهُنَا، كَمَا فَسَّرَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَغَيْرُهُ، لَا كَمَا فَسَّرَهُ قَتَادَةُ بِالْمَوْتِ، وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ صَحِيحًا فِي اللُّغَةِ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الأرْضِ إِلا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ﴾ [الزُّمَرِ:٦٨] فَإِنَّ هُنَاكَ قَرِينَةٌ تَدُلُّ عَلَى الْمَوْتِ كَمَا أَنَّ هُنَا قَرِينَةً تَدُلُّ عَلَى الْغَشْيِ، وَهِيَ قَوْلُهُ: ﴿فَلَمَّا أَفَاقَ﴾ وَالْإِفَاقَةُ إِنَّمَا تَكُونُ مِنْ [[في ك، م: "عن".]] غَشْيٍّ.
﴿قَالَ سُبْحَانَكَ﴾ تَنْزِيهًا وَتَعْظِيمًا وَإِجْلَالًا أَنْ يَرَاهُ أَحَدٌ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَاتَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿تُبْتُ إِلَيْكَ﴾ قال مجاهد: أن أسألك الرؤية.
﴿وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُجَاهِدٌ: مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ. وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ. وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ أَنَّهُ لَا يَرَاكَ أَحَدٌ. وَكَذَا قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ: قَدْ كَانَ قَبْلَهُ مُؤْمِنُونَ، وَلَكِنْ يَقُولُ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِكَ أَنَّهُ لَا يَرَاكَ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
وَهَذَا قَوْلٌ حَسَنٌ لَهُ اتِّجَاهٌ. وَقَدْ ذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ فِي تَفْسِيرِهِ هَاهُنَا أَثَرًا طَوِيلًا فِيهِ غَرَائِبُ وَعَجَائِبُ، عَنْ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ [رَحِمَهُ اللَّهُ] [[زيادة من أ.]] وَكَأَنَّهُ تَلَقَّاهُ مِنَ الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ [[انظر: تفسير الطبري (١٣/٩١) .]] وَاللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من م.]] أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا﴾ فيه أبو سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ، فَأَسْنَدَهُ الْبُخَارِيُّ فِي صَحِيحِهِ هَاهُنَا، فَقَالَ:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ اليهود إلى النبي صلى الله عليه وسلم قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِكَ مِنَ الْأَنْصَارِ لَطَمَ وَجْهِي. قَالَ: "ادْعُوهُ" فَدَعَوْهُ، قَالَ: "لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ؟ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي مَرَرْتُ بِالْيَهُودِيِّ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ.
قَالَ: قُلْتُ: وَعَلَى مُحَمَّدٍ؟ فَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ [[في د: "غيظة".]] فَلَطَمْتُهُ، قَالَ: "لَا تُخَيِّرُونِي مِنْ بَيْنِ الْأَنْبِيَاءِ، فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ جُوزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ".
وَقَدْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي أَمَاكِنَ كَثِيرَةٍ مِنْ صَحِيحِهِ، وَمُسْلِمٌ فِي أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ صَحِيحِهِ، وَأَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ "السُّنَّةِ" مِنْ سُنَنِهِ مِنْ طُرُقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ الْمَازِنِيِّ الْأَنْصَارِيِّ الْمَدَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ سَعْدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ الْخُدْرِيِّ، بِهِ [[صحيح البخاري برقم (٤٦٣٨، ٢٤١٢، ٦٩١٧، ٣٣٩٨، ٧٤٢٧، ٦٥١٨) وصحيح مسلم برقم (٢٣٧٤) وسنن أبي داود برقم (٤٦٦٨) .]]
وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ:
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلَانِ: رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَرَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ الْمُسْلِمُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى الْعَالَمِينَ. وَقَالَ الْيَهُودِيُّ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْعَالَمِينَ، فَغَضِبَ الْمُسْلِمُ عَلَى الْيَهُودِيِّ فَلَطَمَهُ، فَأَتَى الْيَهُودِيُّ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَاعْتَرَفَ بِذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى؛ فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَأَجِدُ مُوسَى مُمْسِكًا بِجَانِبِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَكَانَ مِمَّنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَمْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَاهُ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ، مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، بِهِ [[المسند (٢/٢٦٤) وصحيح البخاري برقم (٣٤٠٨، ٢٤١١) وصحيح مسلم برقم (٢٣٧٣) .]]
وَقَدْ رَوَى الْحَافِظُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، رَحِمَهُ اللَّهُ: أَنَّ الَّذِي لَطَمَ الْيَهُودِيَّ فِي هَذِهِ الْقَضِيَّةِ هُوَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ [[قال الحافظ ابن حجر في فتح الباري (٦/٤٤٣) : "وأما كون اللاطم في هذه القصة الصديق فهو مصرح به فيما أخرجه سفيان بن عيينة في جامعة وابن أبي الدنيا في "كتاب البعث" من طريقه عن عمرو بن دينار، عن عطاء وابن جدعان، عن سعيد بن المسيب قال: كان بين رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم وبين رجل من اليهود كلام في شيء فقال عمرو بن دينار: هو أبو بكر الصديق".]] وَلَكِنْ تَقَدَّمَ فِي الصَّحِيحَيْنِ أَنَّهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَهَذَا هُوَ أَصَحُّ وَأَصْرَحُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَالْكَلَامُ فِي قَوْلِهِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: "لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى"، كَالْكَلَامِ عَلَى قَوْلِهِ: "لَا تُفَضِّلُونِي عَلَى الْأَنْبِيَاءِ وَلَا عَلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى"، قِيلَ: مِنْ بَابِ التَّوَاضُعِ. وَقِيلَ: قَبْلَ أَنْ يَعْلَمَ بِذَلِكَ. وَقِيلَ: نَهَى أَنْ يُفَضَّلَ بَيْنَهُمْ عَلَى وَجْهِ الْغَضَبِ وَالتَّعَصُّبِ. وَقِيلَ: عَلَى وَجْهِ الْقَوْلِ بِمُجَرَّدِ الرَّأْيِ وَالتَّشَهِّي، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: "فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، الظَّاهِرُ أَنَّ هَذَا الصَّعْقَ يَكُونُ فِي عَرَصَاتِ الْقِيَامَةِ، يَحْصُلُ أَمْرٌ يُصْعَقُونَ مِنْهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِهِ. وَقَدْ يَكُونُ ذَلِكَ إِذَا جَاءَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِفَصْلِ الْقَضَاءِ، وَتَجَلَّى لِلْخَلَائِقِ الْمَلِكُ الدَّيَّانُ، كَمَا صَعِقَ مُوسَى مِنْ تَجَلِّي الرَّبِّ، عَزَّ وَجَلَّ، وَلِهَذَا قَالَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: "فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ جُوزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ"؟
وَقَدْ رَوَى الْقَاضِي عِيَاضٌ فِي أَوَائِلِ كِتَابِهِ "الشِّفَاءِ" بِسَنَدِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْزُوقٍ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "لَمَّا تَجَلَّى اللَّهُ لِمُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، كَانَ يُبْصِرُ النَّمْلَةَ عَلَى الصَّفَا فِي اللَّيْلَةِ الظَّلْمَاءِ، مَسِيرَةَ عَشَرَةِ فَرَاسِخَ" [[الشفا (١/١٦٥) .]] ثُمَّ قَالَ: "وَلَا يَبْعُدُ عَلَى هَذَا أَنَّ يَخْتَصَّ نَبِيًّا بِمَا ذَكَرْنَاهُ مِنْ هَذَا الْبَابِ، بَعْدَ الْإِسْرَاءِ وَالْحَظْوَةِ بِمَا رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى.
انْتَهَى مَا قَالَهُ، وَكَأَنَّهُ صَحَّحَ هَذَا الْحَدِيثَ، وَفِي صِحَّتِهِ نَظَرٌ، وَلَا يَخْلُو رِجَالُ إِسْنَادِهِ مِنْ مَجَاهِيلَ لَا يُعْرَفُونَ، وَمِثْلُ هَذَا إِنَّمَا يُقْبَلُ مِنْ رِوَايَةِ الْعَدْلِ الضَّابِطِ عَنْ مِثْلِهِ، حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى مُنْتَهَاهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ إِنِّى ٱصْطَفَيْتُكَ عَلَى ٱلنَّاسِ بِرِسَٰلَٰتِى وَبِكَلَٰمِى فَخُذْ مَآ ءَاتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ ٱلشَّٰكِرِينَ
[Allah] said, "O Moses, I have chosen you over the people with My messages and My words [to you]. So take what I have given you and be among the grateful."
(خدا نے) فرمایا موسیٰ میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے۔ تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجالاؤ
(خداوند) فرمود: «ای موسی! من تو را با رسالتهای خویش، و با سخنگفتنم (با تو)، بر مردم برتری دادم و برگزیدم؛ پس آنچه را به تو دادهام بگیر و از شکرگزاران باش!»
Tafsir Ibn Kathir
(Allah) said: "O Musa I have chosen you above men by My Messages, and by My speaking (to you). So hold that which I have given you and be of the grateful. (144)And We wrote for him on the Tablets the exhortation all things and the explanation for all things (and said): Hold unto these with firmness, and enjoin your people to take the better therein. I shall show you the home of the rebellious (145)
Allah chooses Musa and gives Him the Tablets
Allah states that He spoke to Musa directly and informed him that He has chosen him above the people of his time, by His Message and by speaking to him.
Here we should mention that there is no doubt that Muhammad ﷺ is the chief of all the Children of Adam, the earlier and later ones among them. This is why Allah has chosen him to be the Final and Last Prophet and Messenger, whose Law shall remain dominant and valid until the commencement of the Last Hour. Muhammad's followers are more numerous than the followers of all Prophets and Messengers. After Muhammad ﷺ, the next in rank of honor and virtue is Ibrahim upon him be peace,, then Musa, son of 'Imran, who spoke to the Most Beneficent directly. Allah commanded Musa, saying,
فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ
(So hold to that which I have given you), of My Speech and conversation with you,
وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ
(and be of the grateful) , for it and do not ask for what is beyond your capacity to bear.
Allah stated that He has written lessons and exhortation for all things and explanations for all things on the Tablets. It was said that in the Tablets, Allah wrote advice and the details of the commandments for lawful and prohibited matters. The Tablets contained the Tawrah, that Allah described;
وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِن بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَىٰ بَصَائِرَ لِلنَّاسِ
(And indeed We gave Musa – after We had destroyed the generations of old – the Scripture as an enlightenment for mankind)[28:43].
It was also said that Allah gave Musa the Tablets before the Tawrah, and Allah knows best. Allah said next,
فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ
(Hold unto these with firmness), be firm on the obedience,
وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا
(and enjoin your people to take the better therein.)
Sufyan bin 'Uyaynah said, "Abu Sa'd narrated to us from 'Ikrimah from Ibn 'Abbas that "Musa, peace be upon him, was commanded to adhere to the toughest of what was ordained on his people." Allah's statement,
سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِينَ
(I shall show you the home of the rebellious), means, you will witness the recompense of those who defy My order and deviate from My obedience, the destruction, demise and utter loss they will suffer.
Tafsir Ibn Kathir
انبیاء کی فضیلت پر ایک تبصرہ حضرت موسیٰ ؑ کو جناب باری فرماتا ہے کہ دوہری نعمت آپ کو عطا ہوئی یعنی رسالت اور ہم کلامی۔ مگر چونکہ ہمارے حضرت محمد ﷺ تمام اول و آخر نبیوں کے سردار ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے رسالت ختم کرنے والا آپ کو بنایا کہ قیامت تک آپ ہی کی شریعت جاری رہے گی اور تمام انبیاء اور رسولوں سے آپ کے تابعدار تعداد میں زیادہ ہوں گے فضیلت کے اعتبار سے آپ کے بعد سب سے افضل حضرت ابراہیم ؑ ہیں جو خلیل اللہ تھے۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ ہیں جو کلیم اللہ تھے۔ اے موسیٰ جو مناجات اور کلام تجھے میں نے دیا ہے وہ لے لے اور مضبوطی سے اس پر استقامت رکھ اور اس پر جتنا تجھ سے ہو سکے شکر بجا لایا کر۔ کہا گیا ہے کہ تورات کی تختیاں جواہر کی تھیں اور ان میں اللہ تعالیٰ نے تمام احکام حلال حرام کے تفصیل کے ساتھ لکھ دیئے تھے ان ہی تختیوں میں تورات تھی جس کے متعلق فرمان ہے کہ اگلے لوگوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ کو لوگوں کی ہدایت کے لئے کتاب عطا فرمائی۔ یہ بھی مروی ہے کہ تورات سے پہلے یہ تختیاں ملی تھیں واللہ اعلم۔ الغرض دیدار الٰہی جس کی تمنا آپ نے کی تھی اس کے عوض یہ چیز آپ کو ملی۔ کہا گیا اسے ماننے کے ارادے سے لے لو اور اپنی قوم کو ان اچھائیوں پر عمل کرنے کی ہدایت کرو۔ آپ کو زیادہ تاکید ہوئی اور قوم کو ان سے کم۔ تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میری حکم عدولی کرنے والے کا کیا انجام ہوتا ہے ؟ جیسے کوئی کسی کو دھمکاتے ہوئے کہے کہ تم میری مخالفت انجام بھی دیکھ لو گے۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ میں تمہیں شام کے بدکاروں کے گھروں کا مالک بنا دوں گا یا مراد اس سے فرعونیوں کا ترکہ ہو۔ لیکن پہلی بات ہی زیادہ ٹھیک معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ فرمان تیہ کے میدان سے پہلے اور فرعون سے نجات پالینے کے بعد کا ہے۔ واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
يَذْكُرُ تَعَالَى أَنَّهُ خَاطَبَ مُوسَى [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] بِأَنَّهُ اصْطَفَاهُ عَلَى عَالَمِي زَمَانِهِ بِرِسَالَاتِهِ وَبِكَلَامِهِ [[في ك، م: "وكلامه".]] تَعَالَى وَلَا شَكَّ أَنَّ مُحَمَّدًا ﷺ سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ مِنَ الْأَوَّلِينَ والآخرين؛ ولهذا اختصه الله بأن جَعَلَهُ خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ، الَّتِي [[في أ: "الذي".]] تَسْتَمِرُّ شَرِيعَتُهُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ، وَأَتْبَاعُهُ أَكْثَرُ مِنْ أَتْبَاعِ سَائِرِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ كُلِّهِمْ، وَبَعْدَهُ فِي الشَّرَفِ وَالْفَضْلِ إِبْرَاهِيمُ الْخَلِيلُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ مُوسَى [بْنُ عِمْرَانَ] [[زيادة من م، أ.]] كَلِيمُ الرَّحْمَنِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ؛ وَلِهَذَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ: ﴿فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ﴾ أَيْ: مِنَ الْكَلَامِ [وَالْوَحْيِ] [[زيادة من م.]] وَالْمُنَاجَاةِ ﴿وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ﴾ أَيْ: عَلَى ذَلِكَ، وَلَا تَطْلُبْ مَا لَا طَاقَةَ لَكَ بِهِ.
ثُمَّ أَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُ كَتَبَ لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِكُلِّ شَيْءٍ، قِيلَ: كَانَتِ الْأَلْوَاحُ مِنْ جَوْهَرٍ، وَأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَتَبَ لَهُ فِيهَا مَوَاعِظَ وَأَحْكَامًا مُفَصَّلَةً مُبَيِّنَةً لِلْحَلَالِ وَالْحَرَامِ، وَكَانَتْ هَذِهِ الْأَلْوَاحُ مُشْتَمِلَةً عَلَى التَّوْرَاةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من ك، م، أ.]] فِيهَا: ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الأولَى بَصَائِرَ لِلنَّاسِ﴾ [الْقَصَصِ:٤٣]
وَقِيلَ: الْأَلْوَاحُ أُعْطِيَهَا مُوسَى قَبْلَ التَّوْرَاةِ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَعَلَى كُلِّ تَقْدِيرٍ كَانَتْ [[في، م، ك، أ: "فكانت".]] كَالتَّعْوِيضِ لَهُ عَمَّا سَأَلَ مِنَ الرُّؤْيَةِ وَمُنِعَ مِنْهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ﴾ أَيْ: بِعَزْمٍ عَلَى الطَّاعَةِ ﴿وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا﴾ قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ [[في أ: "أبو سعيد".]] عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أُمِرَ مُوسَى -عَلَيْهِ السَّلَامُ -أَنْ يَأْخُذَ بِأَشَدِّ مَا أَمَرَ قَوْمَهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِينَ﴾ أَيْ: سَتَرَوْنَ [[في أ: "أي: ستروا".]] عَاقِبَةَ مَنْ خَالَفَ أَمْرِي، وَخَرَجَ عَنْ طَاعَتِي، كَيْفَ يَصِيرُ إِلَى الْهَلَاكِ وَالدَّمَارِ وَالتَّبَابِ؟
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَإِنَّمَا قَالَ: ﴿سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِينَ﴾ كَمَا يَقُولُ الْقَائِلُ لِمَنْ يُخَاطِبُهُ: "سَأُرِيكَ غَدًا إِلَامَ يَصِيرُ إِلَيْهِ حَالُ مَنْ خَالَفَ أَمْرِي"، عَلَى وَجْهِ التَّهْدِيدِ وَالْوَعِيدِ لِمَنْ عَصَاهُ وَخَالَفَ أَمْرَهُ.
ثُمَّ نَقَلَ مَعْنَى ذَلِكَ عَنْ مُجَاهِدٍ، وَالْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ.
وَقِيلَ: مَعْنَاهُ ﴿سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِينَ﴾ أَيْ: مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، وَأُعْطِيكُمْ إِيَّاهَا. وَقِيلَ: مَنَازِلُ قَوْمِ فِرْعَوْنَ، وَالْأَوَّلُ أَوْلَى، وَاللَّهُ أَعْلَمُ؛ لِأَنَّ هَذَا كَانَ بَعْدَ انْفِصَالِ مُوسَى وَقَوْمِهِ عَنْ بِلَادِ مِصْرَ، وَهُوَ خِطَابٌ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ قَبْلَ دُخُولِهِمُ التِّيهَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَكَتَبْنَا لَهُۥ فِى ٱلْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَىْءٍۢ مَّوْعِظَةًۭ وَتَفْصِيلًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍۢ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍۢ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا۟ بِأَحْسَنِهَا ۚ سَأُو۟رِيكُمْ دَارَ ٱلْفَٰسِقِينَ
And We wrote for him on the tablets [something] of all things - instruction and explanation for all things, [saying], "Take them with determination and order your people to take the best of it. I will show you the home of the defiantly disobedient."
اور ہم نے (تورات) کی تختیوں میں ان کے لیے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پھر (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اس میں (مندرج ہیں اور) بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں۔ میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا
و برای او در الواح اندرزی از هر موضوعی نوشتیم؛ و بیانی از هر چیز کردیم -«پس آن را با جدّیت بگیر! و به قوم خود بگو: به نیکوترین آنها عمل کنند! (و آنها که به مخالفت برخیزند، کیفرشان دوزخ است؛) و بزودی جایگاه فاسقان را به شما نشان خواهم داد!»
Tafsir Ibn Kathir
(Allah) said: "O Musa I have chosen you above men by My Messages, and by My speaking (to you). So hold that which I have given you and be of the grateful. (144)And We wrote for him on the Tablets the exhortation all things and the explanation for all things (and said): Hold unto these with firmness, and enjoin your people to take the better therein. I shall show you the home of the rebellious (145)
Allah chooses Musa and gives Him the Tablets
Allah states that He spoke to Musa directly and informed him that He has chosen him above the people of his time, by His Message and by speaking to him.
Here we should mention that there is no doubt that Muhammad ﷺ is the chief of all the Children of Adam, the earlier and later ones among them. This is why Allah has chosen him to be the Final and Last Prophet and Messenger, whose Law shall remain dominant and valid until the commencement of the Last Hour. Muhammad's followers are more numerous than the followers of all Prophets and Messengers. After Muhammad ﷺ, the next in rank of honor and virtue is Ibrahim upon him be peace,, then Musa, son of 'Imran, who spoke to the Most Beneficent directly. Allah commanded Musa, saying,
فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ
(So hold to that which I have given you), of My Speech and conversation with you,
وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ
(and be of the grateful) , for it and do not ask for what is beyond your capacity to bear.
Allah stated that He has written lessons and exhortation for all things and explanations for all things on the Tablets. It was said that in the Tablets, Allah wrote advice and the details of the commandments for lawful and prohibited matters. The Tablets contained the Tawrah, that Allah described;
وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِن بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَىٰ بَصَائِرَ لِلنَّاسِ
(And indeed We gave Musa – after We had destroyed the generations of old – the Scripture as an enlightenment for mankind)[28:43].
It was also said that Allah gave Musa the Tablets before the Tawrah, and Allah knows best. Allah said next,
فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ
(Hold unto these with firmness), be firm on the obedience,
وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا
(and enjoin your people to take the better therein.)
Sufyan bin 'Uyaynah said, "Abu Sa'd narrated to us from 'Ikrimah from Ibn 'Abbas that "Musa, peace be upon him, was commanded to adhere to the toughest of what was ordained on his people." Allah's statement,
سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِينَ
(I shall show you the home of the rebellious), means, you will witness the recompense of those who defy My order and deviate from My obedience, the destruction, demise and utter loss they will suffer.
Tafsir Ibn Kathir
انبیاء کی فضیلت پر ایک تبصرہ حضرت موسیٰ ؑ کو جناب باری فرماتا ہے کہ دوہری نعمت آپ کو عطا ہوئی یعنی رسالت اور ہم کلامی۔ مگر چونکہ ہمارے حضرت محمد ﷺ تمام اول و آخر نبیوں کے سردار ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے رسالت ختم کرنے والا آپ کو بنایا کہ قیامت تک آپ ہی کی شریعت جاری رہے گی اور تمام انبیاء اور رسولوں سے آپ کے تابعدار تعداد میں زیادہ ہوں گے فضیلت کے اعتبار سے آپ کے بعد سب سے افضل حضرت ابراہیم ؑ ہیں جو خلیل اللہ تھے۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ ہیں جو کلیم اللہ تھے۔ اے موسیٰ جو مناجات اور کلام تجھے میں نے دیا ہے وہ لے لے اور مضبوطی سے اس پر استقامت رکھ اور اس پر جتنا تجھ سے ہو سکے شکر بجا لایا کر۔ کہا گیا ہے کہ تورات کی تختیاں جواہر کی تھیں اور ان میں اللہ تعالیٰ نے تمام احکام حلال حرام کے تفصیل کے ساتھ لکھ دیئے تھے ان ہی تختیوں میں تورات تھی جس کے متعلق فرمان ہے کہ اگلے لوگوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ کو لوگوں کی ہدایت کے لئے کتاب عطا فرمائی۔ یہ بھی مروی ہے کہ تورات سے پہلے یہ تختیاں ملی تھیں واللہ اعلم۔ الغرض دیدار الٰہی جس کی تمنا آپ نے کی تھی اس کے عوض یہ چیز آپ کو ملی۔ کہا گیا اسے ماننے کے ارادے سے لے لو اور اپنی قوم کو ان اچھائیوں پر عمل کرنے کی ہدایت کرو۔ آپ کو زیادہ تاکید ہوئی اور قوم کو ان سے کم۔ تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میری حکم عدولی کرنے والے کا کیا انجام ہوتا ہے ؟ جیسے کوئی کسی کو دھمکاتے ہوئے کہے کہ تم میری مخالفت انجام بھی دیکھ لو گے۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ میں تمہیں شام کے بدکاروں کے گھروں کا مالک بنا دوں گا یا مراد اس سے فرعونیوں کا ترکہ ہو۔ لیکن پہلی بات ہی زیادہ ٹھیک معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ فرمان تیہ کے میدان سے پہلے اور فرعون سے نجات پالینے کے بعد کا ہے۔ واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
يَذْكُرُ تَعَالَى أَنَّهُ خَاطَبَ مُوسَى [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] بِأَنَّهُ اصْطَفَاهُ عَلَى عَالَمِي زَمَانِهِ بِرِسَالَاتِهِ وَبِكَلَامِهِ [[في ك، م: "وكلامه".]] تَعَالَى وَلَا شَكَّ أَنَّ مُحَمَّدًا ﷺ سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ مِنَ الْأَوَّلِينَ والآخرين؛ ولهذا اختصه الله بأن جَعَلَهُ خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ، الَّتِي [[في أ: "الذي".]] تَسْتَمِرُّ شَرِيعَتُهُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ، وَأَتْبَاعُهُ أَكْثَرُ مِنْ أَتْبَاعِ سَائِرِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ كُلِّهِمْ، وَبَعْدَهُ فِي الشَّرَفِ وَالْفَضْلِ إِبْرَاهِيمُ الْخَلِيلُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ مُوسَى [بْنُ عِمْرَانَ] [[زيادة من م، أ.]] كَلِيمُ الرَّحْمَنِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ؛ وَلِهَذَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ: ﴿فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ﴾ أَيْ: مِنَ الْكَلَامِ [وَالْوَحْيِ] [[زيادة من م.]] وَالْمُنَاجَاةِ ﴿وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ﴾ أَيْ: عَلَى ذَلِكَ، وَلَا تَطْلُبْ مَا لَا طَاقَةَ لَكَ بِهِ.
ثُمَّ أَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُ كَتَبَ لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِكُلِّ شَيْءٍ، قِيلَ: كَانَتِ الْأَلْوَاحُ مِنْ جَوْهَرٍ، وَأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَتَبَ لَهُ فِيهَا مَوَاعِظَ وَأَحْكَامًا مُفَصَّلَةً مُبَيِّنَةً لِلْحَلَالِ وَالْحَرَامِ، وَكَانَتْ هَذِهِ الْأَلْوَاحُ مُشْتَمِلَةً عَلَى التَّوْرَاةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من ك، م، أ.]] فِيهَا: ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الأولَى بَصَائِرَ لِلنَّاسِ﴾ [الْقَصَصِ:٤٣]
وَقِيلَ: الْأَلْوَاحُ أُعْطِيَهَا مُوسَى قَبْلَ التَّوْرَاةِ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَعَلَى كُلِّ تَقْدِيرٍ كَانَتْ [[في، م، ك، أ: "فكانت".]] كَالتَّعْوِيضِ لَهُ عَمَّا سَأَلَ مِنَ الرُّؤْيَةِ وَمُنِعَ مِنْهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ﴾ أَيْ: بِعَزْمٍ عَلَى الطَّاعَةِ ﴿وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا﴾ قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ [[في أ: "أبو سعيد".]] عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أُمِرَ مُوسَى -عَلَيْهِ السَّلَامُ -أَنْ يَأْخُذَ بِأَشَدِّ مَا أَمَرَ قَوْمَهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِينَ﴾ أَيْ: سَتَرَوْنَ [[في أ: "أي: ستروا".]] عَاقِبَةَ مَنْ خَالَفَ أَمْرِي، وَخَرَجَ عَنْ طَاعَتِي، كَيْفَ يَصِيرُ إِلَى الْهَلَاكِ وَالدَّمَارِ وَالتَّبَابِ؟
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَإِنَّمَا قَالَ: ﴿سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِينَ﴾ كَمَا يَقُولُ الْقَائِلُ لِمَنْ يُخَاطِبُهُ: "سَأُرِيكَ غَدًا إِلَامَ يَصِيرُ إِلَيْهِ حَالُ مَنْ خَالَفَ أَمْرِي"، عَلَى وَجْهِ التَّهْدِيدِ وَالْوَعِيدِ لِمَنْ عَصَاهُ وَخَالَفَ أَمْرَهُ.
ثُمَّ نَقَلَ مَعْنَى ذَلِكَ عَنْ مُجَاهِدٍ، وَالْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ.
وَقِيلَ: مَعْنَاهُ ﴿سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِينَ﴾ أَيْ: مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، وَأُعْطِيكُمْ إِيَّاهَا. وَقِيلَ: مَنَازِلُ قَوْمِ فِرْعَوْنَ، وَالْأَوَّلُ أَوْلَى، وَاللَّهُ أَعْلَمُ؛ لِأَنَّ هَذَا كَانَ بَعْدَ انْفِصَالِ مُوسَى وَقَوْمِهِ عَنْ بِلَادِ مِصْرَ، وَهُوَ خِطَابٌ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ قَبْلَ دُخُولِهِمُ التِّيهَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
سَأَصْرِفُ عَنْ ءَايَٰتِىَ ٱلَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَإِن يَرَوْا۟ كُلَّ ءَايَةٍۢ لَّا يُؤْمِنُوا۟ بِهَا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًۭا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلْغَىِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًۭا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَكَانُوا۟ عَنْهَا غَٰفِلِينَ
I will turn away from My signs those who are arrogant upon the earth without right; and if they should see every sign, they will not believe in it. And if they see the way of consciousness, they will not adopt it as a way; but if they see the way of error, they will adopt it as a way. That is because they have denied Our signs and they were heedless of them.
جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر راستی کا رستہ دیکھیں تو اسے (اپنا) رستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے رستہ بنالیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے
بزودی کسانی را که در روی زمین بناحق تکبّر میورزند، از (ایمان به) آیات خود، منصرف میسازم! آنها چنانند که اگر هر آیه و نشانهای را ببینند، به آن ایمان نمیآورند؛ اگر راه هدایت را ببینند، آن را راه خود انتخاب نمیکنند؛ و اگر طریق گمراهی را ببینند، آن را راه خود انتخاب میکنند! (همه اینها) بخاطر آن است که آیات ما را تکذیب کردند، و از آن غافل بودند!
Tafsir Ibn Kathir
I shall turn away from My Ayat those who behave arrogantly on the earth, without a right, and (even) if they see all the Ayat, they will not believe in them. And if they see the way of righteousness, they will not adopt it as the way, but if they see the way of error, they will adopt that way, that is because they have rejected Our Ayat and were heedless of them (146)Those who deny Our Ayat and the meeting in the Hereafter, vain are their deeds. Are they requited with anything except what they used to do (147)
Arrogant People will be deprived of Allah's Ayat
Allah said,
سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ
(I shall turn away from My Ayat those who behave arrogantly on the earth, without a right).
Allah says, "I shall deprive the hearts of those who are too proud to obey Me, and arrogant with people without right, from understanding the signs and proofs that testify to My Might, Law and Commandments." And just as they acted arrogantly without justification, Allah has disgraced them with ignorance. Allah said in another Ayah,
وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(And We shall turn their hearts and their eyes away (from guidance), as they refused to believe therein for the first time)[6:110], and,
فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ
(So when they turned away (from the path of Allah), Allah turned their hearts away (from the right path).)[61:5] Sufyan bin 'Uyaynah commented on this Ayah,
سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ
(I shall turn away from My Ayat those who behave arrogantly on the earth, without a right),
"(Allah says) I shall snatch away comprehension of the Qur'an from them and turn them away from My Ayat. " Ibn Jarir commented on Sufyan's statement that, "This indicates that this part of the Ayah is addressed to this Ummah." This is not necessarily true, for Ibn 'Uyaynah actually meant that this occurs in every Ummah and that there is no difference between one Ummah and another Ummah in this regard. Allah knows best. Allah said next,
وَإِن يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوا بِهَا
(and (even) if they see all the Ayat, they will not believe in them). Allah said in a similar Ayah,
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ
(Truly, those, against whom the Word (wrath) of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them, until they see the painful torment.)[10:96-97] Allah's statement,
وَإِن يَرَوْا سَبِيلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا
(And if they see the way of righteousness, they will not adopt it as the way,) means, even if the way of guidance and safety appears before them, they will not take it, but if the way that leads to destruction and misguidance appears to them, they adopt that way. Allah explains why they do this,
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا
(that is because they have rejected Our Ayat), in their hearts,
وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ
(and were heedless of them.), gaining no lessons from the Ayat. Allah's statement,
وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَلِقَاءِ الْآخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ
(Those who deny Our Ayat and the meeting in the Hereafter, vain are their deeds.) indicates that whoever among them does this, remaining on this path until death, then all his deeds will be in vain. Allah said next,
هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(Are they requited with anything except what they used to do?) meaning, 'We only recompense them according to the deeds that they performed, good for good and evil for evil. Surely, as you bring forth, you reap the harvest thereof.'
Tafsir Ibn Kathir
تکبر کا پھل محرومی تکبر کا نتیجہ ہمیشہ جہالت ہوتا ہے ایسے لوگوں کو حق سمجھنے، اسے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ ان کے بےایمانی کی وجہ سے ان کے دل الٹ جاتے ہیں، آنکھ کان بیکار ہوجاتے ہیں۔ ان کی کجی ان کے دلوں کو بھی کج کردیتی ہے۔ علماء کا مقولہ ہے کہ متکبر اور پوچھنے سے جی چرانے والا کبھی عالم نہیں ہوسکتا۔ جو شخص تھوڑی دیر کے لئے علم کے حاصل کرنے میں اپنے آپ کو دوسرے کے سامنے نہ جھکائے وہ عمر بھر ذلت و رسوائی میں رہتا ہے۔ متکبر لوگوں کو قرآن کی سمجھ کہاں ؟ وہ تو رب کی آیتوں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ اس امت کے لوگ ہوں یا اور امتوں کے سب کے ساتھ اللہ کا طریقہ یہی رہا ہے کہ تکبر کی وجہ سے حق کی پیروی نصیب نہیں ہوتی چونکہ یہ لوگ اللہ کے عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں اگرچہ یہ بڑے بڑے معجزے بھی دیکھ لیں انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا۔ گو نجات کے راستے ان پر کھل جائیں لیکن اس راہ پر چلنا ان کے لئے دشوار ہے۔ ہاں بری راہ سامنے آتے ہی یہ بےطرح اس پر لپکے۔ اس لئے کہ ان کے دلوں میں جھٹلانا ہے اور اپنے اعمال کے نتیجوں سے بیخبر ہیں۔ جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلائیں، آخرت کا یقین نہ رکھیں، اسی عقیدے پر مریں ان کے اعمال اکارت ہیں۔ ہم کسی پر ظلم نہیں کرتے بدلہ صرف کئے ہوئے اعمال کا ہی ملتا ہے۔ بھلے کا بھلا اور برے کا برا، جیسا کر وگے ویسا بھرو گے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الأرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ﴾ أَيْ: سَأَمْنَعُ فهم [[في أ: "منهم".]] الحجج وَالْأَدِلَّةِ عَلَى عَظْمَتِي وَشَرِيعَتِي وَأَحْكَامِي قُلُوبَ الْمُتَكَبِّرِينَ عَنْ طَاعَتِي، وَيَتَكَبَّرُونَ عَلَى النَّاسِ [[في أ: "على الله".]] بِغَيْرِ حَقٍّ، أَيْ: كَمَا اسْتَكْبَرُوا بِغَيْرِ حَقٍّ أَذَلَّهُمُ اللَّهُ بِالْجَهْلِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ [الْأَنْعَامِ:١١٠] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ﴾ [الصَّفِّ:٥]
وَقَالَ بَعْضُ السَّلَفِ: لَا يَنَالُ الْعِلْمَ حَيِيٌّ وَلَا مُسْتَكْبِرٌ.
وَقَالَ آخَرُ: مَنْ لَمْ يَصْبِرْ عَلَى ذُلِّ التَّعَلُّمِ سَاعَةً، بَقِيَ فِي ذُلِّ الْجَهْلِ أَبَدًا.
وَقَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَينة فِي قَوْلِهِ: ﴿سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الأرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ﴾ قَالَ: أَنْزِعُ عَنْهُمْ فَهْمَ الْقُرْآنِ، وَأَصْرِفُهُمْ عَنْ آيَاتِي.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ هَذَا خِطَابٌ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ [[تفسير الطبري (١٣/١١٣) .]]
قُلْتُ: لَيْسَ هَذَا بِلَازِمٍ؛ لِأَنَّ ابْنَ عُيَيْنَةَ إِنَّمَا أَرَادَ أَنَّ هَذَا مُطَّرِدٌ فِي حَقِّ كُلِّ أُمَّةٍ، وَلَا فَرْقَ بَيْنَ أَحَدٍ وَأَحَدٍ فِي هَذَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُوا بِهَا﴾ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الألِيمَ﴾ [يُونُسَ:٩٦، ٩٧] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ يَرَوْا سَبِيلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلا﴾ أَيْ: وَإِنْ ظَهَرَ لَهُمْ سَبِيلُ الرُّشْدِ، أَيْ: طَرِيقُ النَّجَاةِ لَا يَسْلُكُوهَا، وَإِنْ ظَهَرَ لَهُمْ طَرِيقُ الْهَلَاكِ وَالضَّلَالِ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا.
ثُمَّ عَلَّلَ مَصِيرَهُمْ إِلَى هَذِهِ الْحَالِ بِقَوْلِهِ: ﴿ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا﴾ أَيْ: كَذَّبَتْ بِهَا قُلُوبُهُمْ، ﴿وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ﴾ أَيْ: لَا يَعْلَمُونَ شَيْئًا مِمَّا فِيهَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَلِقَاءِ الآخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ﴾ أَيْ: مَنْ فَعَلَ مِنْهُمْ ذَلِكَ وَاسْتَمَرَّ عَلَيْهِ إِلَى الْمَمَاتِ، حَبِطَ عَمَلُهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَلْ يُجْزَوْنَ إِلا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ أَيْ: إِنَّمَا نُجَازِيهِمْ بِحَسْبِ [[في أ: "نجازيهم إلا بحسب".]] أَعْمَالِهِمُ الَّتِي أَسْلَفُوهَا، إِنْ خَيْرًا فَخَيْرٌ وَإِنَّ شَرًّا فَشَرٌّ، وَكَمَا تَدِينُ تُدَانُ.
وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَلِقَآءِ ٱلْءَاخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
Those who denied Our signs and the meeting of the Hereafter - their deeds have become worthless. Are they recompensed except for what they used to do?
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ یہ جیسے عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا
و کسانی که آیات، و دیدار رستاخیز را تکذیب (و انکار) کنند، اعمالشان نابود می گردد؛ آیا جز آنچه را عمل میکردند پاداش داده میشوند؟!
Tafsir Ibn Kathir
I shall turn away from My Ayat those who behave arrogantly on the earth, without a right, and (even) if they see all the Ayat, they will not believe in them. And if they see the way of righteousness, they will not adopt it as the way, but if they see the way of error, they will adopt that way, that is because they have rejected Our Ayat and were heedless of them (146)Those who deny Our Ayat and the meeting in the Hereafter, vain are their deeds. Are they requited with anything except what they used to do (147)
Arrogant People will be deprived of Allah's Ayat
Allah said,
سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ
(I shall turn away from My Ayat those who behave arrogantly on the earth, without a right).
Allah says, "I shall deprive the hearts of those who are too proud to obey Me, and arrogant with people without right, from understanding the signs and proofs that testify to My Might, Law and Commandments." And just as they acted arrogantly without justification, Allah has disgraced them with ignorance. Allah said in another Ayah,
وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(And We shall turn their hearts and their eyes away (from guidance), as they refused to believe therein for the first time)[6:110], and,
فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ
(So when they turned away (from the path of Allah), Allah turned their hearts away (from the right path).)[61:5] Sufyan bin 'Uyaynah commented on this Ayah,
سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ
(I shall turn away from My Ayat those who behave arrogantly on the earth, without a right),
"(Allah says) I shall snatch away comprehension of the Qur'an from them and turn them away from My Ayat. " Ibn Jarir commented on Sufyan's statement that, "This indicates that this part of the Ayah is addressed to this Ummah." This is not necessarily true, for Ibn 'Uyaynah actually meant that this occurs in every Ummah and that there is no difference between one Ummah and another Ummah in this regard. Allah knows best. Allah said next,
وَإِن يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوا بِهَا
(and (even) if they see all the Ayat, they will not believe in them). Allah said in a similar Ayah,
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ
(Truly, those, against whom the Word (wrath) of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them, until they see the painful torment.)[10:96-97] Allah's statement,
وَإِن يَرَوْا سَبِيلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا
(And if they see the way of righteousness, they will not adopt it as the way,) means, even if the way of guidance and safety appears before them, they will not take it, but if the way that leads to destruction and misguidance appears to them, they adopt that way. Allah explains why they do this,
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا
(that is because they have rejected Our Ayat), in their hearts,
وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ
(and were heedless of them.), gaining no lessons from the Ayat. Allah's statement,
وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَلِقَاءِ الْآخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ
(Those who deny Our Ayat and the meeting in the Hereafter, vain are their deeds.) indicates that whoever among them does this, remaining on this path until death, then all his deeds will be in vain. Allah said next,
هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(Are they requited with anything except what they used to do?) meaning, 'We only recompense them according to the deeds that they performed, good for good and evil for evil. Surely, as you bring forth, you reap the harvest thereof.'
Tafsir Ibn Kathir
تکبر کا پھل محرومی تکبر کا نتیجہ ہمیشہ جہالت ہوتا ہے ایسے لوگوں کو حق سمجھنے، اسے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ ان کے بےایمانی کی وجہ سے ان کے دل الٹ جاتے ہیں، آنکھ کان بیکار ہوجاتے ہیں۔ ان کی کجی ان کے دلوں کو بھی کج کردیتی ہے۔ علماء کا مقولہ ہے کہ متکبر اور پوچھنے سے جی چرانے والا کبھی عالم نہیں ہوسکتا۔ جو شخص تھوڑی دیر کے لئے علم کے حاصل کرنے میں اپنے آپ کو دوسرے کے سامنے نہ جھکائے وہ عمر بھر ذلت و رسوائی میں رہتا ہے۔ متکبر لوگوں کو قرآن کی سمجھ کہاں ؟ وہ تو رب کی آیتوں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ اس امت کے لوگ ہوں یا اور امتوں کے سب کے ساتھ اللہ کا طریقہ یہی رہا ہے کہ تکبر کی وجہ سے حق کی پیروی نصیب نہیں ہوتی چونکہ یہ لوگ اللہ کے عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں اگرچہ یہ بڑے بڑے معجزے بھی دیکھ لیں انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا۔ گو نجات کے راستے ان پر کھل جائیں لیکن اس راہ پر چلنا ان کے لئے دشوار ہے۔ ہاں بری راہ سامنے آتے ہی یہ بےطرح اس پر لپکے۔ اس لئے کہ ان کے دلوں میں جھٹلانا ہے اور اپنے اعمال کے نتیجوں سے بیخبر ہیں۔ جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلائیں، آخرت کا یقین نہ رکھیں، اسی عقیدے پر مریں ان کے اعمال اکارت ہیں۔ ہم کسی پر ظلم نہیں کرتے بدلہ صرف کئے ہوئے اعمال کا ہی ملتا ہے۔ بھلے کا بھلا اور برے کا برا، جیسا کر وگے ویسا بھرو گے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الأرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ﴾ أَيْ: سَأَمْنَعُ فهم [[في أ: "منهم".]] الحجج وَالْأَدِلَّةِ عَلَى عَظْمَتِي وَشَرِيعَتِي وَأَحْكَامِي قُلُوبَ الْمُتَكَبِّرِينَ عَنْ طَاعَتِي، وَيَتَكَبَّرُونَ عَلَى النَّاسِ [[في أ: "على الله".]] بِغَيْرِ حَقٍّ، أَيْ: كَمَا اسْتَكْبَرُوا بِغَيْرِ حَقٍّ أَذَلَّهُمُ اللَّهُ بِالْجَهْلِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ [الْأَنْعَامِ:١١٠] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ﴾ [الصَّفِّ:٥]
وَقَالَ بَعْضُ السَّلَفِ: لَا يَنَالُ الْعِلْمَ حَيِيٌّ وَلَا مُسْتَكْبِرٌ.
وَقَالَ آخَرُ: مَنْ لَمْ يَصْبِرْ عَلَى ذُلِّ التَّعَلُّمِ سَاعَةً، بَقِيَ فِي ذُلِّ الْجَهْلِ أَبَدًا.
وَقَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَينة فِي قَوْلِهِ: ﴿سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الأرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ﴾ قَالَ: أَنْزِعُ عَنْهُمْ فَهْمَ الْقُرْآنِ، وَأَصْرِفُهُمْ عَنْ آيَاتِي.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ هَذَا خِطَابٌ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ [[تفسير الطبري (١٣/١١٣) .]]
قُلْتُ: لَيْسَ هَذَا بِلَازِمٍ؛ لِأَنَّ ابْنَ عُيَيْنَةَ إِنَّمَا أَرَادَ أَنَّ هَذَا مُطَّرِدٌ فِي حَقِّ كُلِّ أُمَّةٍ، وَلَا فَرْقَ بَيْنَ أَحَدٍ وَأَحَدٍ فِي هَذَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُوا بِهَا﴾ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الألِيمَ﴾ [يُونُسَ:٩٦، ٩٧] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ يَرَوْا سَبِيلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلا﴾ أَيْ: وَإِنْ ظَهَرَ لَهُمْ سَبِيلُ الرُّشْدِ، أَيْ: طَرِيقُ النَّجَاةِ لَا يَسْلُكُوهَا، وَإِنْ ظَهَرَ لَهُمْ طَرِيقُ الْهَلَاكِ وَالضَّلَالِ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا.
ثُمَّ عَلَّلَ مَصِيرَهُمْ إِلَى هَذِهِ الْحَالِ بِقَوْلِهِ: ﴿ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا﴾ أَيْ: كَذَّبَتْ بِهَا قُلُوبُهُمْ، ﴿وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ﴾ أَيْ: لَا يَعْلَمُونَ شَيْئًا مِمَّا فِيهَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَلِقَاءِ الآخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ﴾ أَيْ: مَنْ فَعَلَ مِنْهُمْ ذَلِكَ وَاسْتَمَرَّ عَلَيْهِ إِلَى الْمَمَاتِ، حَبِطَ عَمَلُهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿هَلْ يُجْزَوْنَ إِلا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ أَيْ: إِنَّمَا نُجَازِيهِمْ بِحَسْبِ [[في أ: "نجازيهم إلا بحسب".]] أَعْمَالِهِمُ الَّتِي أَسْلَفُوهَا، إِنْ خَيْرًا فَخَيْرٌ وَإِنَّ شَرًّا فَشَرٌّ، وَكَمَا تَدِينُ تُدَانُ.
وَٱتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَىٰ مِنۢ بَعْدِهِۦ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًۭا جَسَدًۭا لَّهُۥ خُوَارٌ ۚ أَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّهُۥ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا ۘ ٱتَّخَذُوهُ وَكَانُوا۟ ظَٰلِمِينَ
And the people of Moses made, after [his departure], from their ornaments a calf - an image having a lowing sound. Did they not see that it could neither speak to them nor guide them to a way? They took it [for worship], and they were wrongdoers.
اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا
قوم موسی بعد (از رفتن) او (به میعادگاه خدا)، از زیورهای خود گوسالهای ساختند؛ جسد بیجانی که صدای گوساله داشت! آیا آنها نمیدیدند که با آنان سخن نمیگوید، و به راه (راست) هدایتشان نمیکند؟! آن را (خدای خود) انتخاب کردند، و ظالم بودند!
Tafsir Ibn Kathir
And the people of Musa made in his absence, out of their ornaments, the image of a calf (for worship). It had a sound. Did they not see that it could neither speak to them nor guide them to the way? They took it (for worship) and they were wrongdoers (148)And when they regretted and saw that they had gone astray, they said: "If our Lord have not mercy upon us and forgive us, we shall certainly be of the losers (149)
Story of worshipping the Calf
Allah describes the misguidance of those who worshipped the calf that As-Samiri made for them from the ornaments they borrowed from the Copts. He made the shape of a calf with these ornaments and threw in it a handful of dust from the trace of the horse that the Angel Jibril was riding, and the calf seemed to moo. This occurred after Musa went for the appointed term with his Lord, where Allah told him about what happened when he was on Mount Tur. Allah said about His Honorable Self,
قَالَ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِن بَعْدِكَ وَأَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ
((Allah) said: "Verily, We have tried your people in your absence, and As-Samiri has led them astray")[20:85].
The scholars of Tafsir have different views over the calf, whether it actually became alive and mooing, or if it remained made of gold, but the air entering it made it appear to be mooing. These are two opinions. Allah knows best. It was reported that when the statue mooed, the Jews started dancing around it and fell into misguidance because they adored it. They said that this, the calf, is your god and the god of Musa, but Musa forgot it! Allah answered them,
أَفَلَا يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا وَلَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا
(Did they not see that it could not return them a word (for answer), and that it had neither power to harm them nor to do them good?)[20:89]. Allah said here,
أَلَمْ يَرَوْا أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا
(Did they not see that it could neither speak to them nor guide them to the way?)
Allah condemned the Jews for falling into misguidance, worshipping the calf and ignoring the Creator of the heavens and earth, the Lord and King of all things. They worshipped besides Him a statue made in the shape of a calf, that seemed to moo, but it neither spoke to them nor brought them any benefit. Rather, their very sense of reason was blinded because of ignorance and misguidance. Allah's statement,
وَلَمَّا سُقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ
(And when they regretted), and felt sorrow for their action,
وَرَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوا قَالُوا لَئِن لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
(and saw that they had gone astray, they said: "If our Lord have not mercy upon us and forgive us, we will certainly become among the losers.") or among the destroyed ones. This was their recognition of their sin and their way of seeking salvation from Allah the Most Mighty and Majestic.
Tafsir Ibn Kathir
بنی اسرائیل کا بچھڑے کو پوجنا حضرت موسیٰ ؑ تو اللہ کے وعدے کے مطابق تورات لینے گئے ادھر فرعونیوں کے جو زیور بنی اسرائیل کے پاس رہ گئے تھے سامری نے انہیں جمع کیا اور اپنے پاس سے اس میں خاک کی مٹھی ڈال دی جو حضرت جبرائیل ؑ کے گھوڑے کی ٹاپ تلے سے اس نے اٹھالی تھی اللہ کی قدرت سے وہ سونا گل کر مثل ایک گائے کے جسم کے ہوگیا اور چونکہ کھو کھلا تھا اس میں سے آواز بھی آنے لگی اور وہ بالکل ہو بہو گائے کی سی آواز تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کو بہکا کر اس کی عبادت کرانی شروع کردی بہت سے لوگ اسے پوجنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے طور پر حضرت موسیٰ کو اس فتنے کی خبر دی۔ یہ بچھڑا یا تو سچ مچ خون گوشت کا بن گیا تھا یا سونے کا ہی تھا مگر شکل گائے کی تھی یہ اللہ ہی جانے۔ بنی اسرائیل تو آواز سنتے ہی ناچنے لگے اور اس پر ریجھ گئے۔ سامری نے کہہ دیا کہ اللہ تو یہی ہے موسیٰ بھول گئے ہیں۔ انہیں اتنی بھی تمیز نہ آئی کہ وہ اللہ تو کسی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور کسی نفع نقصان کا اختیار بھی نہیں رکھتا۔ اس بچھڑے کو اس اللہ کو چھوڑ کر پوجو جو سب کا مالک اور سب کا خالق ہے۔ اس کی وجہ سوائے اندھے پن اور بےعقلی کے اور کیا ہوسکتی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا کسی چیز کی محبت انسان کو اندھا بہرا کردیتی ہے پھر جب اس محبت میں کمی آئی آنکھیں کھلیں تو اپنے اس فعل پر نادم ہونے لگے اور یقین کرلیا کہ واقعی ہم گمراہ ہوگئے تو اللہ سے بخشش مانگنے لگے۔ ایک قرأت میں تغفر تے سے بھی ہے۔ جان گئے کہ اگر معافی نہ ملی تو بڑے نقصان سے دو جار ہوجائیں گے۔ غرض اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ سے جھکے اور التجا کرنے لگے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ ضَلَالِ مَنْ ضَلَّ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي عِبَادَتِهِمُ الْعِجْلَ، الَّذِي اتَّخَذَهُ لَهُمُ السَّامِرِيُّ مِنْ حُلِيِّ الْقِبْطِ، الَّذِي كَانُوا اسْتَعَارُوهُ مِنْهُمْ، فَشَكَّلَ لَهُمْ مِنْهُ عِجْلًا ثُمَّ أَلْقَى فِيهِ الْقَبْضَةَ مِنَ التُّرَابِ الَّتِي أَخَذَهَا مِنْ أَثَرِ فَرَسِ جِبْرِيلَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَصَارَ عِجْلًا جَسَدًا لَهُ خُوَارٌ، وَ"الْخُوَارُ" صَوْتُ الْبَقَرِ.
وَكَانَ هَذَا مِنْهُمْ بَعْدَ ذَهَابِ مُوسَى [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] لِمِيقَاتِ رَبِّهِ تَعَالَى، وَأَعْلَمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِذَلِكَ وَهُوَ عَلَى الطُّورِ، حَيْثُ يَقُولُ تَعَالَى إِخْبَارًا عَنْ نَفْسِهِ الْكَرِيمَةِ: ﴿قَالَ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْ بَعْدِكَ وَأَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ﴾ [طه:٨٥]
وَقَدِ اخْتَلَفَ الْمُفَسِّرُونَ فِي هَذَا الْعِجْلِ: هَلْ صَارَ لَحْمًا وَدَمًا لَهُ خُوَارٌ؟ أَوِ اسْتَمَرَّ عَلَى كَوْنِهِ مَنْ ذَهَبٍ، إِلَّا أَنَّهُ يَدْخُلُ فِيهِ الْهَوَاءُ فَيُصَوِّتُ كَالْبَقَرِ؟ عَلَى قَوْلَيْنِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَيُقَالُ: إِنَّهُمْ لَمَّا صَوّت لَهُمُ الْعِجْلُ رَقَصُوا حَوْلَهُ وَافْتَتَنُوا بِهِ، ﴿فَقَالُوا هَذَا إِلَهُكُمْ وَإِلَهُ مُوسَى فَنَسِيَ﴾ [طه:٨٨] فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿أَفَلا يَرَوْنَ أَلا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلا وَلا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَلا نَفْعًا﴾ [طه:٨٩]
وَقَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ: ﴿أَلَمْ يَرَوْا أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلا يَهْدِيهِمْ سَبِيلا﴾ يُنْكِرُ تَعَالَى عَلَيْهِمْ فِي ضَلَالِهِمْ بِالْعِجْلِ، وذُهُولهم عَنْ خَالِقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَرَبِّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكِهِ، أَنْ عَبَدُوا [[في م: "يعبدوا".]] مَعَهُ عِجْلًا جَسَدًا لَهُ خُوَار لَا يُكَلِّمُهُمْ، وَلَا يُرْشِدُهُمْ إِلَى خَيْرٍ. وَلَكِنْ غَطَّى عَلَى أعيُن بَصَائِرِهِمْ [[في م: "أبصارهم".]] عَمَى الْجَهْلِ وَالضَّلَالِ، كَمَا تقدم من رواية الإمام أحمد وأبو دَاوُدَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "حُبُّكَ الشَّيْءَ يُعْمي ويُصِم" [[المسند (٥/١٩٤) وسنن أبي داود برقم (٥١٣٠) وقد رواه الإمام أحمد في مسنده (٦/٤٥٠) موقوفا، قال الحافظ ابن حجر في أجوبته عن أحاديث المصابيح: "الموقوف أشبه".]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَمَّا سُقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ﴾ أَيْ: نَدِمُوا عَلَى مَا فَعَلُوا، ﴿وَرَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوا قَالُوا لَئِنْ لَمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا﴾ وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ: "لَئِنْ لَمْ تَرْحَمْنَا" بِالتَّاءِ الْمُثَنَّاةِ مِنْ فَوْقُ، "رَبَّنَا" مُنَادَى، "وتَغْفِر لَنَا"، ﴿لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ أَيْ: مِنَ الْهَالِكِينَ وَهَذَا اعْتِرَافٌ مِنْهُمْ بِذَنْبِهِمْ وَالْتِجَاءٌ إِلَى اللَّهِ عز وجل.
وَلَمَّا سُقِطَ فِىٓ أَيْدِيهِمْ وَرَأَوْا۟ أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوا۟ قَالُوا۟ لَئِن لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ
And when regret overcame them and they saw that they had gone astray, they said, "If our Lord does not have mercy upon us and forgive us, we will surely be among the losers."
اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے
و هنگامی که حقیقت به دستشان افتاد، و دیدند گمراه شدهاند، گفتند: «اگر پروردگارمان به ما رحم نکند، و ما را نیامرزد، بطور قطع از زیانکاران خواهیم بود!»
Tafsir Ibn Kathir
And the people of Musa made in his absence, out of their ornaments, the image of a calf (for worship). It had a sound. Did they not see that it could neither speak to them nor guide them to the way? They took it (for worship) and they were wrongdoers (148)And when they regretted and saw that they had gone astray, they said: "If our Lord have not mercy upon us and forgive us, we shall certainly be of the losers (149)
Story of worshipping the Calf
Allah describes the misguidance of those who worshipped the calf that As-Samiri made for them from the ornaments they borrowed from the Copts. He made the shape of a calf with these ornaments and threw in it a handful of dust from the trace of the horse that the Angel Jibril was riding, and the calf seemed to moo. This occurred after Musa went for the appointed term with his Lord, where Allah told him about what happened when he was on Mount Tur. Allah said about His Honorable Self,
قَالَ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِن بَعْدِكَ وَأَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ
((Allah) said: "Verily, We have tried your people in your absence, and As-Samiri has led them astray")[20:85].
The scholars of Tafsir have different views over the calf, whether it actually became alive and mooing, or if it remained made of gold, but the air entering it made it appear to be mooing. These are two opinions. Allah knows best. It was reported that when the statue mooed, the Jews started dancing around it and fell into misguidance because they adored it. They said that this, the calf, is your god and the god of Musa, but Musa forgot it! Allah answered them,
أَفَلَا يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا وَلَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا
(Did they not see that it could not return them a word (for answer), and that it had neither power to harm them nor to do them good?)[20:89]. Allah said here,
أَلَمْ يَرَوْا أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا
(Did they not see that it could neither speak to them nor guide them to the way?)
Allah condemned the Jews for falling into misguidance, worshipping the calf and ignoring the Creator of the heavens and earth, the Lord and King of all things. They worshipped besides Him a statue made in the shape of a calf, that seemed to moo, but it neither spoke to them nor brought them any benefit. Rather, their very sense of reason was blinded because of ignorance and misguidance. Allah's statement,
وَلَمَّا سُقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ
(And when they regretted), and felt sorrow for their action,
وَرَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوا قَالُوا لَئِن لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
(and saw that they had gone astray, they said: "If our Lord have not mercy upon us and forgive us, we will certainly become among the losers.") or among the destroyed ones. This was their recognition of their sin and their way of seeking salvation from Allah the Most Mighty and Majestic.
Tafsir Ibn Kathir
بنی اسرائیل کا بچھڑے کو پوجنا حضرت موسیٰ ؑ تو اللہ کے وعدے کے مطابق تورات لینے گئے ادھر فرعونیوں کے جو زیور بنی اسرائیل کے پاس رہ گئے تھے سامری نے انہیں جمع کیا اور اپنے پاس سے اس میں خاک کی مٹھی ڈال دی جو حضرت جبرائیل ؑ کے گھوڑے کی ٹاپ تلے سے اس نے اٹھالی تھی اللہ کی قدرت سے وہ سونا گل کر مثل ایک گائے کے جسم کے ہوگیا اور چونکہ کھو کھلا تھا اس میں سے آواز بھی آنے لگی اور وہ بالکل ہو بہو گائے کی سی آواز تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کو بہکا کر اس کی عبادت کرانی شروع کردی بہت سے لوگ اسے پوجنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے طور پر حضرت موسیٰ کو اس فتنے کی خبر دی۔ یہ بچھڑا یا تو سچ مچ خون گوشت کا بن گیا تھا یا سونے کا ہی تھا مگر شکل گائے کی تھی یہ اللہ ہی جانے۔ بنی اسرائیل تو آواز سنتے ہی ناچنے لگے اور اس پر ریجھ گئے۔ سامری نے کہہ دیا کہ اللہ تو یہی ہے موسیٰ بھول گئے ہیں۔ انہیں اتنی بھی تمیز نہ آئی کہ وہ اللہ تو کسی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور کسی نفع نقصان کا اختیار بھی نہیں رکھتا۔ اس بچھڑے کو اس اللہ کو چھوڑ کر پوجو جو سب کا مالک اور سب کا خالق ہے۔ اس کی وجہ سوائے اندھے پن اور بےعقلی کے اور کیا ہوسکتی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا کسی چیز کی محبت انسان کو اندھا بہرا کردیتی ہے پھر جب اس محبت میں کمی آئی آنکھیں کھلیں تو اپنے اس فعل پر نادم ہونے لگے اور یقین کرلیا کہ واقعی ہم گمراہ ہوگئے تو اللہ سے بخشش مانگنے لگے۔ ایک قرأت میں تغفر تے سے بھی ہے۔ جان گئے کہ اگر معافی نہ ملی تو بڑے نقصان سے دو جار ہوجائیں گے۔ غرض اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ سے جھکے اور التجا کرنے لگے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ ضَلَالِ مَنْ ضَلَّ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي عِبَادَتِهِمُ الْعِجْلَ، الَّذِي اتَّخَذَهُ لَهُمُ السَّامِرِيُّ مِنْ حُلِيِّ الْقِبْطِ، الَّذِي كَانُوا اسْتَعَارُوهُ مِنْهُمْ، فَشَكَّلَ لَهُمْ مِنْهُ عِجْلًا ثُمَّ أَلْقَى فِيهِ الْقَبْضَةَ مِنَ التُّرَابِ الَّتِي أَخَذَهَا مِنْ أَثَرِ فَرَسِ جِبْرِيلَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَصَارَ عِجْلًا جَسَدًا لَهُ خُوَارٌ، وَ"الْخُوَارُ" صَوْتُ الْبَقَرِ.
وَكَانَ هَذَا مِنْهُمْ بَعْدَ ذَهَابِ مُوسَى [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] لِمِيقَاتِ رَبِّهِ تَعَالَى، وَأَعْلَمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِذَلِكَ وَهُوَ عَلَى الطُّورِ، حَيْثُ يَقُولُ تَعَالَى إِخْبَارًا عَنْ نَفْسِهِ الْكَرِيمَةِ: ﴿قَالَ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْ بَعْدِكَ وَأَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ﴾ [طه:٨٥]
وَقَدِ اخْتَلَفَ الْمُفَسِّرُونَ فِي هَذَا الْعِجْلِ: هَلْ صَارَ لَحْمًا وَدَمًا لَهُ خُوَارٌ؟ أَوِ اسْتَمَرَّ عَلَى كَوْنِهِ مَنْ ذَهَبٍ، إِلَّا أَنَّهُ يَدْخُلُ فِيهِ الْهَوَاءُ فَيُصَوِّتُ كَالْبَقَرِ؟ عَلَى قَوْلَيْنِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَيُقَالُ: إِنَّهُمْ لَمَّا صَوّت لَهُمُ الْعِجْلُ رَقَصُوا حَوْلَهُ وَافْتَتَنُوا بِهِ، ﴿فَقَالُوا هَذَا إِلَهُكُمْ وَإِلَهُ مُوسَى فَنَسِيَ﴾ [طه:٨٨] فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿أَفَلا يَرَوْنَ أَلا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلا وَلا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَلا نَفْعًا﴾ [طه:٨٩]
وَقَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ: ﴿أَلَمْ يَرَوْا أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلا يَهْدِيهِمْ سَبِيلا﴾ يُنْكِرُ تَعَالَى عَلَيْهِمْ فِي ضَلَالِهِمْ بِالْعِجْلِ، وذُهُولهم عَنْ خَالِقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَرَبِّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكِهِ، أَنْ عَبَدُوا [[في م: "يعبدوا".]] مَعَهُ عِجْلًا جَسَدًا لَهُ خُوَار لَا يُكَلِّمُهُمْ، وَلَا يُرْشِدُهُمْ إِلَى خَيْرٍ. وَلَكِنْ غَطَّى عَلَى أعيُن بَصَائِرِهِمْ [[في م: "أبصارهم".]] عَمَى الْجَهْلِ وَالضَّلَالِ، كَمَا تقدم من رواية الإمام أحمد وأبو دَاوُدَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "حُبُّكَ الشَّيْءَ يُعْمي ويُصِم" [[المسند (٥/١٩٤) وسنن أبي داود برقم (٥١٣٠) وقد رواه الإمام أحمد في مسنده (٦/٤٥٠) موقوفا، قال الحافظ ابن حجر في أجوبته عن أحاديث المصابيح: "الموقوف أشبه".]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَمَّا سُقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ﴾ أَيْ: نَدِمُوا عَلَى مَا فَعَلُوا، ﴿وَرَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوا قَالُوا لَئِنْ لَمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا﴾ وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ: "لَئِنْ لَمْ تَرْحَمْنَا" بِالتَّاءِ الْمُثَنَّاةِ مِنْ فَوْقُ، "رَبَّنَا" مُنَادَى، "وتَغْفِر لَنَا"، ﴿لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ أَيْ: مِنَ الْهَالِكِينَ وَهَذَا اعْتِرَافٌ مِنْهُمْ بِذَنْبِهِمْ وَالْتِجَاءٌ إِلَى اللَّهِ عز وجل.
وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوْمِهِۦ غَضْبَٰنَ أَسِفًۭا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِى مِنۢ بَعْدِىٓ ۖ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ ۖ وَأَلْقَى ٱلْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُۥٓ إِلَيْهِ ۚ قَالَ ٱبْنَ أُمَّ إِنَّ ٱلْقَوْمَ ٱسْتَضْعَفُونِى وَكَادُوا۟ يَقْتُلُونَنِى فَلَا تُشْمِتْ بِىَ ٱلْأَعْدَآءَ وَلَا تَجْعَلْنِى مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ
And when Moses returned to his people, angry and grieved, he said, "How wretched is that by which you have replaced me after [my departure]. Were you impatient over the matter of your Lord?" And he threw down the tablets and seized his brother by [the hair of] his head, pulling him toward him. [Aaron] said, "O son of my mother, indeed the people oppressed me and were about to kill me, so let not the enemies rejoice over me and do not place me among the wrongdoing people."
اور جب موسیٰ اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔ تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم (یعنی میرا اپنے پاس آنا) جلد چاہا (یہ کہا) اور (شدت غضب سے تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی جان لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں۔ تو ایسا کام نہ کیجیے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایئے
و هنگامی که موسی خشمگین و اندوهناک به سوی قوم خود بازگشت، گفت: «پس از من، بد جانشینانی برایم بودید (و آیین مرا ضایع کردید)! آیا درمورد فرمان پروردگارتان (و تمدید مدّت میعاد او)، عجله نمودید (و زود قضاوت کردید؟!)» سپس الواح را افکند، و سر برادر خود را گرفت (و با عصبانیت) به سوی خود کشید؛ او گفت: «فرزند مادرم! این گروه، مرا در فشار گذاردند و ناتوان کردند؛ و نزدیک بود مرا بکشند، پس کاری نکن که دشمنان مرا شماتت کنند و مرا با گروه ستمکاران قرار مده!»
Tafsir Ibn Kathir
And when Musa returned to his people, angry and grieved, he said: "What an evil thing is that which you have done during my absence. Did you hasten in matter of your Lord?" And he threw down the Tablets and seized his brother by (the hair of) his head and dragged him towards him. He (Harun) said: "O son of my mother! Indeed the people judged me weak and were about to kill me, so make not the enemies rejoice over me, nor put me among the people who are wrongdoers. (150)He (Musa) said: "O my Lord! Forgive me and my brother, and admit us into Your mercy, for You are the Most Merciful of those who show mercy. (151)
Allah states that when Musa returned to his people after conversation with his Lord, he became angry and full of regret. Abu Ad-Darda' said that Asif, or regret, is the severest type of anger.
قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي مِن بَعْدِي
(He (Musa) said: "What an evil thing is that which you have done during my absence.") evil it is that which you committed after I departed and left you, by worshiping the calf,
أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ
(Did you hasten in the matter of your Lord?)
Musa said, 'You wanted me to rush back to you, even though [being there] this was Allah's decision?' Allah said next,
وَأَلْقَى الْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ
(And he threw down the Tablets and seized his brother by his head and dragged him towards him.)
This Ayah demonstrates the meaning of the Hadith,
لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ
(Information is not the same as observation.)
It indicates that Musa threw down the Tablets because he was angry at his people, according to the majority of scholars of early and latter times. Allah said,
وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ
(and seized his brother by (the hair of) his head and dragged him towards him.) for Musa feared that Harun might have not tried hard enough to forbid them from their evil action. In another Ayah, Allah said,
قَالَ يَا هَارُونُ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَهُمْ ضَلُّوا - أَلَّا تَتَّبِعَنِ أَفَعَصَيْتَ أَمْرِي - قَالَ يَا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلَا بِرَأْسِي إِنِّي خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي
((He [Musa] said: "O Harun ! What prevented you when you saw them going astray. That you followed me not (according to my advice to you)? Have you then disobeyed my order?" He [Harun] said: "O son of my mother! Seize (me) not by my beard, nor by my head! Verily, I feared lest you should say: 'You have caused a division among the Children of Israel, and you have not respected (waited or observed) my word!'")[20:92-94].
Here, Allah said that Harun said,
ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَكَادُوا يَقْتُلُونَنِي فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْأَعْدَاءَ وَلَا تَجْعَلْنِي مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
("O son of my mother! Indeed the people judged me weak and were about to kill me, so make not the enemies rejoice over me, nor put me among the people who are wrongdoers.")
Harun said, 'Do not place me on the same level as they are, as if I was one of them.' Further, Harun said, 'O son of my mother', so that Musa would feel more mercy and leniency towards him, even though Harun was also the son of Musa's father. When Musa was satisfied that his brother was innocent,
وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَارُونُ مِن قَبْلُ يَا قَوْمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِ وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَٰنُ فَاتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوا أَمْرِي
(And Harun indeed had said to them beforehand: "O my people! You are being tried in this, and verily, your Lord is (Allah) the Most Gracious, so follow me and obey my order.")[20:90], this is when,
قَالَ
(he said) Musa,
رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِأَخِي وَأَدْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
("O my Lord! Forgive me and my brother, and admit us into Your mercy, for you are the Most Merciful of those who show mercy.")
Ibn Abi Hatim recorded that Ibn 'Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
يَرْحَمُ اللهُ مُوسَى لَيْسَ الْمُعَايِنُ كَالْمُخْبِرِ أَخْبَرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ قَوْمَهُ فُتِنُوا بَعْدَهُ فَلَمْ يَلْقَ الْأَلْوَاحَ فَلَمَّا رَآهُمْ وَعَايَنَهُمْ أَلْقَى الْأَلْوَاحَ
(May Allah grant His mercy to Musa! Surely, he who observes [something] is nothing like he who is informed about it. His Lord, the Exalted and Most Honored, told him that his people were tested after him, but he did not throw the Tablets. When he saw them with his eyes, then he threw the Tablets.)
Tafsir Ibn Kathir
موسیٰ ؑ کی کوہ طور سے واپسی حضرت موسیٰ ؑ کو چونکہ طور پر ہی اپنی قوم کا یہ کفر معلوم ہوچکا تھا اس لئے سخت غضبناک ہو کر واپس آئے اور فرمانے لگے کہ تم نے تو میرے بعد سخت نالائقی کی۔ تم نے میرا انتظار بھی نہ کیا میری ذرا سی تاخیر میں یہ ظلم ڈھایا غصے کے مارے تختیاں ہاتھ سے پھینک دیں۔ کہا گیا ہے کہ یہ زمرد یا یا قوت یا کسی اور چیز کی تھیں۔ سچ ہے جو حدیث میں ہے کہ دیکھنا سننا برابر نہیں، اپنی قوم پر غصے ہو کر الواح ہاتھ سے گرا دیں۔ ٹھیک بات یہی ہے جمہور سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے لیکن ابن جریر نے قتادہ سے ایک عجیب قول نقل کیا ہے جس کی سند بھی صحیح نہیں۔ ابن عطیہ وغیرہ نے اس کی بہت تردید کی ہے اور واقعی وہ تردید کے قابل بھی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ قتادہ نے یہ اہل کتاب سے لیا ہو اور ان کا کیا اعتبار ہے ؟ ان میں جھوٹے، بناوٹ کرنے والے، گھڑ لینے والے، بد دین، بےدین ہر طرح کے لوگ ہیں اس خوف سے کہ کہیں حضرت ہارون ؑ نے انہیں باز رکھنے کی پوری کوشش نہ کی ہو آپ نے ان کے سر کے بالوں کے بل انہیں گھسیٹ لیا اور فرمانے لگے انہیں گمراہ ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی تو نے میری ما تحتی میں انہیں کیوں نہ روکا ؟ کیا تو بھی میرے فرمان کا منکر بن گیا ؟ اس پر حضرت ہارون ؑ نے جواب دیا کہ بھائی جان میرے سر کے اور داڑھی کے بال نہ پکڑیں میں نے تو ہر ممکن طریقے سے انہیں روکا زیادہ اس لئے نہ الجھا کہ کہیں آپ یہ نہ فرما دیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفریق ڈال دی ؟ تو نے میرا انتظار کیوں نہ کیا ؟ ورنہ میں تو ان گمراہوں سے اب تک زمین کو پاک کرچکا ہوتا۔ انہوں نے تو مجھے کچھ بھی نہ سمجھا بلکہ میرے قتل کے درپے ہوگئے۔ آپ مجھے ان ہی کی طرح نہ سمجھیں نہ ان میں ملائیں۔ حضرت ہارون کا یہ فرمانا کہ اے میرے ماں جائے بھائی یہ صرف اس لئے تھا کہ حضرت موسیٰ کو رحم آجائے، ماں باپ دونوں کے ایک ہی تھے۔ جب آپ کو اپنے بھائی ہارون کی برات کی تحقیق ہوگئی اللہ کی طرف سے بھی ان کی پاک دامنی اور بےقصوری معلوم ہوگئی کہ انہوں نے اپنی قوم سے پہلے ہی یہ فرما دیا تھا کہ افسوس تم فتنے میں پڑگئے اب بھی کچھ نہیں بگڑا پروردگار بڑا ہی رحیم و کریم ہے تم میری مان لو اور پھر سے میرے تابع دار بن جاؤ تو آپ اللہ سے دعائیں کرنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم کرے واقعی دیکھنے والے میں اور خبر سننے والے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ قوم کی گمراہی کی خبر سنی تو تختیاں ہاتھ سے نہ گرائیں لیکن اسی منظر کو دیکھ کر قابو میں نہ رہے تختیاں پھینک دیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، رَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ مِنْ مُنَاجَاةِ رَبِّهِ تَعَالَى وَهُوَ غَضْبَانُ أَسِفٌ.
قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ "الْأَسَفُ": أَشَدُّ الْغَضَبِ.
﴿قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي مِنْ بَعْدِي﴾ يَقُولُ: بِئْسَ مَا صَنَعْتُمْ فِي عِبَادَتِكُمُ الْعِجْلَ بَعْدَ أَنْ ذَهَبْتُ وَتَرَكْتُكُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ﴾ ؟ يَقُولُ: اسْتَعْجَلْتُمْ مَجِيئِي إِلَيْكُمْ، وَهُوَ مُقَدَّرٌ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَلْقَى الألْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ﴾ قِيلَ: كَانَتِ الْأَلْوَاحُ مِنْ زُمُرُّد. وَقِيلَ: مِنْ يَاقُوتٍ. وَقِيلَ: مِنْ بَرَد وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى مَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ: "لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ" [[رواه أحمد في مسنده (١/٢٧١) من حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم: "ليس الخبر كالمعاينة إن الله، عز وجل، أخبر موسى بما صنع قومه في العجل، فلم يلق الألواح، فلما عاين ما صنعوا ألقى الألواح فانكسرت".]]
ثُمَّ ظَاهِرُ السِّيَاقِ أَنَّهُ إِنَّمَا أَلْقَى الْأَلْوَاحَ غَضَبًا عَلَى قَوْمِهِ، وَهَذَا قَوْلُ جُمْهُورِ الْعُلَمَاءِ سَلَفًا وَخَلَفًا. وَرَوَى ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ قَتَادَةَ فِي هَذَا قَوْلًا غَرِيبًا، لَا يَصِحُّ إِسْنَادُهُ إِلَى حِكَايَةِ قَتَادَةَ، وَقَدْ رَدّه ابْنُ عَطِيَّةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْعُلَمَاءِ، وَهُوَ جَدِيرٌ بِالرَّدِّ، وَكَأَنَّهُ تَلَقَّاه قَتَادَةُ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَفِيهِمْ كَذَّابُونَ ووَضّاعون وَأَفَّاكُونَ وَزَنَادِقَةٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ﴾ خَوْفًا أَنْ يَكُونَ قَدْ قَصَّر فِي نَهْيِهِمْ، كَمَا قَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿قَالَ يَا هَارُونُ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَهُمْ ضَلُّوا أَلا تَتَّبِعَنِ أَفَعَصَيْتَ أَمْرِي. قَالَ يَا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلا بِرَأْسِي إِنِّي خَشِيتُ أَنْ تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي﴾ [طه:٩٢-٩٤] وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَكَادُوا يَقْتُلُونَنِي فَلا تُشْمِتْ بِيَ الأعْدَاءَ وَلا تَجْعَلْنِي مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: لَا تَسُقني مَسَاقهم، وَلَا تَخْلُطْنِي مَعَهُمْ. وَإِنَّمَا قَالَ: ﴿ابْنَ أُمَّ﴾ ؛ لِتَكُونَ [[في ك، م: "ليكون".]] أَرْأَفَ وَأَنْجَعَ عِنْدَهُ، وَإِلَّا فَهُوَ شَقِيقُهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ. فَلَمَّا تَحَقَّقَ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بَرَاءَةَ سَاحَةِ هَارُونَ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ك، أ.]] كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَارُونُ مِنْ قَبْلُ يَا قَوْمِ إِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهِ وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَنُ فَاتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوا أَمْرِي﴾ [طه:٩٠] فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالَ مُوسَى: ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلأخِي وَأَدْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَاحِ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانة، عَنْ أَبِي بِشْر، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ [[في ك، أ: "رسول الله"]] ﷺ "يَرْحَمُ [[في م: "رحم".]] اللَّهُ مُوسَى، لَيْسَ الْمُعَايِنُ كَالْمُخْبَرِ؛ أَخْبَرَهُ رَبُّهُ، عَزَّ وَجَلَّ، أَنَّ قَوْمَهُ فُتِنُوا بَعْدَهُ، فَلَمْ يُلْقِ الْأَلْوَاحَ، فَلَمَّا رَآهُمْ وَعَايَنَهُمْ أَلْقَى الْأَلْوَاحَ" [[ورواه الحاكم في المستدرك (٢/٣٨٠) من طريق أبي بشر، بِهِ. وَقَالَ: "هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يخرجاه" وفي تلخيص الذهبي: "سمعه من أبي بشر ثقتان".]]
قَالَ رَبِّ ٱغْفِرْ لِى وَلِأَخِى وَأَدْخِلْنَا فِى رَحْمَتِكَ ۖ وَأَنتَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ
[Moses] said, "My Lord, forgive me and my brother and admit us into Your mercy, for You are the most merciful of the merciful."
تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
(موسی) گفت: «پروردگارا! من و برادرم را بیامرز، و ما را در رحمت خود داخل فرما، و تو مهربانترین مهربانانی!»
Tafsir Ibn Kathir
And when Musa returned to his people, angry and grieved, he said: "What an evil thing is that which you have done during my absence. Did you hasten in matter of your Lord?" And he threw down the Tablets and seized his brother by (the hair of) his head and dragged him towards him. He (Harun) said: "O son of my mother! Indeed the people judged me weak and were about to kill me, so make not the enemies rejoice over me, nor put me among the people who are wrongdoers. (150)He (Musa) said: "O my Lord! Forgive me and my brother, and admit us into Your mercy, for You are the Most Merciful of those who show mercy. (151)
Allah states that when Musa returned to his people after conversation with his Lord, he became angry and full of regret. Abu Ad-Darda' said that Asif, or regret, is the severest type of anger.
قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي مِن بَعْدِي
(He (Musa) said: "What an evil thing is that which you have done during my absence.") evil it is that which you committed after I departed and left you, by worshiping the calf,
أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ
(Did you hasten in the matter of your Lord?)
Musa said, 'You wanted me to rush back to you, even though [being there] this was Allah's decision?' Allah said next,
وَأَلْقَى الْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ
(And he threw down the Tablets and seized his brother by his head and dragged him towards him.)
This Ayah demonstrates the meaning of the Hadith,
لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ
(Information is not the same as observation.)
It indicates that Musa threw down the Tablets because he was angry at his people, according to the majority of scholars of early and latter times. Allah said,
وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ
(and seized his brother by (the hair of) his head and dragged him towards him.) for Musa feared that Harun might have not tried hard enough to forbid them from their evil action. In another Ayah, Allah said,
قَالَ يَا هَارُونُ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَهُمْ ضَلُّوا - أَلَّا تَتَّبِعَنِ أَفَعَصَيْتَ أَمْرِي - قَالَ يَا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلَا بِرَأْسِي إِنِّي خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي
((He [Musa] said: "O Harun ! What prevented you when you saw them going astray. That you followed me not (according to my advice to you)? Have you then disobeyed my order?" He [Harun] said: "O son of my mother! Seize (me) not by my beard, nor by my head! Verily, I feared lest you should say: 'You have caused a division among the Children of Israel, and you have not respected (waited or observed) my word!'")[20:92-94].
Here, Allah said that Harun said,
ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَكَادُوا يَقْتُلُونَنِي فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْأَعْدَاءَ وَلَا تَجْعَلْنِي مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
("O son of my mother! Indeed the people judged me weak and were about to kill me, so make not the enemies rejoice over me, nor put me among the people who are wrongdoers.")
Harun said, 'Do not place me on the same level as they are, as if I was one of them.' Further, Harun said, 'O son of my mother', so that Musa would feel more mercy and leniency towards him, even though Harun was also the son of Musa's father. When Musa was satisfied that his brother was innocent,
وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَارُونُ مِن قَبْلُ يَا قَوْمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِ وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَٰنُ فَاتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوا أَمْرِي
(And Harun indeed had said to them beforehand: "O my people! You are being tried in this, and verily, your Lord is (Allah) the Most Gracious, so follow me and obey my order.")[20:90], this is when,
قَالَ
(he said) Musa,
رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِأَخِي وَأَدْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
("O my Lord! Forgive me and my brother, and admit us into Your mercy, for you are the Most Merciful of those who show mercy.")
Ibn Abi Hatim recorded that Ibn 'Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
يَرْحَمُ اللهُ مُوسَى لَيْسَ الْمُعَايِنُ كَالْمُخْبِرِ أَخْبَرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ قَوْمَهُ فُتِنُوا بَعْدَهُ فَلَمْ يَلْقَ الْأَلْوَاحَ فَلَمَّا رَآهُمْ وَعَايَنَهُمْ أَلْقَى الْأَلْوَاحَ
(May Allah grant His mercy to Musa! Surely, he who observes [something] is nothing like he who is informed about it. His Lord, the Exalted and Most Honored, told him that his people were tested after him, but he did not throw the Tablets. When he saw them with his eyes, then he threw the Tablets.)
Tafsir Ibn Kathir
موسیٰ ؑ کی کوہ طور سے واپسی حضرت موسیٰ ؑ کو چونکہ طور پر ہی اپنی قوم کا یہ کفر معلوم ہوچکا تھا اس لئے سخت غضبناک ہو کر واپس آئے اور فرمانے لگے کہ تم نے تو میرے بعد سخت نالائقی کی۔ تم نے میرا انتظار بھی نہ کیا میری ذرا سی تاخیر میں یہ ظلم ڈھایا غصے کے مارے تختیاں ہاتھ سے پھینک دیں۔ کہا گیا ہے کہ یہ زمرد یا یا قوت یا کسی اور چیز کی تھیں۔ سچ ہے جو حدیث میں ہے کہ دیکھنا سننا برابر نہیں، اپنی قوم پر غصے ہو کر الواح ہاتھ سے گرا دیں۔ ٹھیک بات یہی ہے جمہور سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے لیکن ابن جریر نے قتادہ سے ایک عجیب قول نقل کیا ہے جس کی سند بھی صحیح نہیں۔ ابن عطیہ وغیرہ نے اس کی بہت تردید کی ہے اور واقعی وہ تردید کے قابل بھی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ قتادہ نے یہ اہل کتاب سے لیا ہو اور ان کا کیا اعتبار ہے ؟ ان میں جھوٹے، بناوٹ کرنے والے، گھڑ لینے والے، بد دین، بےدین ہر طرح کے لوگ ہیں اس خوف سے کہ کہیں حضرت ہارون ؑ نے انہیں باز رکھنے کی پوری کوشش نہ کی ہو آپ نے ان کے سر کے بالوں کے بل انہیں گھسیٹ لیا اور فرمانے لگے انہیں گمراہ ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی تو نے میری ما تحتی میں انہیں کیوں نہ روکا ؟ کیا تو بھی میرے فرمان کا منکر بن گیا ؟ اس پر حضرت ہارون ؑ نے جواب دیا کہ بھائی جان میرے سر کے اور داڑھی کے بال نہ پکڑیں میں نے تو ہر ممکن طریقے سے انہیں روکا زیادہ اس لئے نہ الجھا کہ کہیں آپ یہ نہ فرما دیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفریق ڈال دی ؟ تو نے میرا انتظار کیوں نہ کیا ؟ ورنہ میں تو ان گمراہوں سے اب تک زمین کو پاک کرچکا ہوتا۔ انہوں نے تو مجھے کچھ بھی نہ سمجھا بلکہ میرے قتل کے درپے ہوگئے۔ آپ مجھے ان ہی کی طرح نہ سمجھیں نہ ان میں ملائیں۔ حضرت ہارون کا یہ فرمانا کہ اے میرے ماں جائے بھائی یہ صرف اس لئے تھا کہ حضرت موسیٰ کو رحم آجائے، ماں باپ دونوں کے ایک ہی تھے۔ جب آپ کو اپنے بھائی ہارون کی برات کی تحقیق ہوگئی اللہ کی طرف سے بھی ان کی پاک دامنی اور بےقصوری معلوم ہوگئی کہ انہوں نے اپنی قوم سے پہلے ہی یہ فرما دیا تھا کہ افسوس تم فتنے میں پڑگئے اب بھی کچھ نہیں بگڑا پروردگار بڑا ہی رحیم و کریم ہے تم میری مان لو اور پھر سے میرے تابع دار بن جاؤ تو آپ اللہ سے دعائیں کرنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم کرے واقعی دیکھنے والے میں اور خبر سننے والے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ قوم کی گمراہی کی خبر سنی تو تختیاں ہاتھ سے نہ گرائیں لیکن اسی منظر کو دیکھ کر قابو میں نہ رہے تختیاں پھینک دیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، رَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ مِنْ مُنَاجَاةِ رَبِّهِ تَعَالَى وَهُوَ غَضْبَانُ أَسِفٌ.
قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ "الْأَسَفُ": أَشَدُّ الْغَضَبِ.
﴿قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي مِنْ بَعْدِي﴾ يَقُولُ: بِئْسَ مَا صَنَعْتُمْ فِي عِبَادَتِكُمُ الْعِجْلَ بَعْدَ أَنْ ذَهَبْتُ وَتَرَكْتُكُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ﴾ ؟ يَقُولُ: اسْتَعْجَلْتُمْ مَجِيئِي إِلَيْكُمْ، وَهُوَ مُقَدَّرٌ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَلْقَى الألْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ﴾ قِيلَ: كَانَتِ الْأَلْوَاحُ مِنْ زُمُرُّد. وَقِيلَ: مِنْ يَاقُوتٍ. وَقِيلَ: مِنْ بَرَد وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى مَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ: "لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ" [[رواه أحمد في مسنده (١/٢٧١) من حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم: "ليس الخبر كالمعاينة إن الله، عز وجل، أخبر موسى بما صنع قومه في العجل، فلم يلق الألواح، فلما عاين ما صنعوا ألقى الألواح فانكسرت".]]
ثُمَّ ظَاهِرُ السِّيَاقِ أَنَّهُ إِنَّمَا أَلْقَى الْأَلْوَاحَ غَضَبًا عَلَى قَوْمِهِ، وَهَذَا قَوْلُ جُمْهُورِ الْعُلَمَاءِ سَلَفًا وَخَلَفًا. وَرَوَى ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ قَتَادَةَ فِي هَذَا قَوْلًا غَرِيبًا، لَا يَصِحُّ إِسْنَادُهُ إِلَى حِكَايَةِ قَتَادَةَ، وَقَدْ رَدّه ابْنُ عَطِيَّةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْعُلَمَاءِ، وَهُوَ جَدِيرٌ بِالرَّدِّ، وَكَأَنَّهُ تَلَقَّاه قَتَادَةُ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَفِيهِمْ كَذَّابُونَ ووَضّاعون وَأَفَّاكُونَ وَزَنَادِقَةٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ﴾ خَوْفًا أَنْ يَكُونَ قَدْ قَصَّر فِي نَهْيِهِمْ، كَمَا قَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿قَالَ يَا هَارُونُ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَهُمْ ضَلُّوا أَلا تَتَّبِعَنِ أَفَعَصَيْتَ أَمْرِي. قَالَ يَا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلا بِرَأْسِي إِنِّي خَشِيتُ أَنْ تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي﴾ [طه:٩٢-٩٤] وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَكَادُوا يَقْتُلُونَنِي فَلا تُشْمِتْ بِيَ الأعْدَاءَ وَلا تَجْعَلْنِي مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: لَا تَسُقني مَسَاقهم، وَلَا تَخْلُطْنِي مَعَهُمْ. وَإِنَّمَا قَالَ: ﴿ابْنَ أُمَّ﴾ ؛ لِتَكُونَ [[في ك، م: "ليكون".]] أَرْأَفَ وَأَنْجَعَ عِنْدَهُ، وَإِلَّا فَهُوَ شَقِيقُهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ. فَلَمَّا تَحَقَّقَ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بَرَاءَةَ سَاحَةِ هَارُونَ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ك، أ.]] كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَارُونُ مِنْ قَبْلُ يَا قَوْمِ إِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهِ وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَنُ فَاتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوا أَمْرِي﴾ [طه:٩٠] فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالَ مُوسَى: ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلأخِي وَأَدْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَاحِ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانة، عَنْ أَبِي بِشْر، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ [[في ك، أ: "رسول الله"]] ﷺ "يَرْحَمُ [[في م: "رحم".]] اللَّهُ مُوسَى، لَيْسَ الْمُعَايِنُ كَالْمُخْبَرِ؛ أَخْبَرَهُ رَبُّهُ، عَزَّ وَجَلَّ، أَنَّ قَوْمَهُ فُتِنُوا بَعْدَهُ، فَلَمْ يُلْقِ الْأَلْوَاحَ، فَلَمَّا رَآهُمْ وَعَايَنَهُمْ أَلْقَى الْأَلْوَاحَ" [[ورواه الحاكم في المستدرك (٢/٣٨٠) من طريق أبي بشر، بِهِ. وَقَالَ: "هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يخرجاه" وفي تلخيص الذهبي: "سمعه من أبي بشر ثقتان".]]
إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌۭ مِّن رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌۭ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُفْتَرِينَ
Indeed, those who took the calf [for worship] will obtain anger from their Lord and humiliation in the life of this world, and thus do We recompense the inventors [of falsehood].
(خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
کسانی که گوساله را (معبود خود) قرار دادند، بزودی خشم پروردگارشان، و ذلّت در زندگی دنیا به آنها میرسد؛ و اینچنین، کسانی را که (بر خدا) افترا میبندند، کیفر می دهیم!
Tafsir Ibn Kathir
Certainly, those who took the calf (for worship), wrath from their Lord and humiliation will come upon them in the life of this world. Thus do We recompense those who invent lies (152)But those who committed evil deeds and then repented afterwards and believed, verily, your Lord after (all) that is indeed Oft-Forgiving, Most Merciful (153)
The 'wrath' mentioned here that struck the Children of Israel because of their worshipping the calf, means, Allah did not accept their repentance until some of them [who did not worship the calf] killed others [who worshipped the calf]. We mentioned this story in Surat Al-Baqarah,
فَتُوبُوا إِلَىٰ بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِندَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
(So turn in repentance to your Creator and kill yourselves (the guilty), that will be better for you before your Creator." Then He accepted your repentance. Truly, He is the One Who accepts repentance, the Most Merciful.)[2:54]
As for the humiliation mentioned in the Ayah, it pertains to the disgrace and humiliation that the Jews suffered in the life of this world. Allah's statement,
وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ
(Thus do We recompense those who invent lies) is for all those who invent an innovation (in religion). Surely, the disgrace resulting from inventing an innovation (in religion) and defying Allah's Message, will be placed in the heart and from there on to the shoulders. Al-Hasan Al-Basri said; "The disgrace of innovation will weigh on their shoulders even if they were to gallop on their mules or trot on their work horses." Ayyub As-Sakhtiyani narrated from Abu Qilabah Al-Jarmi that he commented on this Ayah,
وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ
(Thus do We recompense those who invent lies.)
"By Allah! This Ayah is for all those who invent a lie, until the Day of Resurrection." Also, Sufyan bin 'Uyaynah said, "Every person who invents a Bid'ah (innovation in the religion) will taste disgrace."Allah tells His servants that He accepts repentance from His servants for any sin, even Shirk, Kufr, hypocrisy and disobedience. Allah said:
وَالَّذِينَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ ثُمَّ تَابُوا مِن بَعْدِهَا وَآمَنُوا إِنَّ رَبَّكَ
(But those who committed evil deeds and then repented afterwards and believed, verily, your Lord)
O Muhammad, Messenger of Repentance and Prophet of Mercy,
مِن بَعْدِهَا
(after that) after committing that evil action,
لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
(is indeed Oft-Forgiving, Most Merciful.)
Ibn Abi Hatim reported that 'Abdullah bin Mas'ud was asked about a man committing fornication with a woman and then marrying her, and Ibn Mas'ud recited this Ayah,
وَالَّذِينَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ ثُمَّ تَابُوا مِن بَعْدِهَا وَآمَنُوا إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
(But those who committed evil deeds and then repented afterwards and believed, verily, your Lord after (all) that is indeed Oft-Forgiving, Most Merciful.)
'Abdullah recited this Ayah ten times, neither allowing nor disallowing it.
Tafsir Ibn Kathir
باہم قتل کی سزا ان گو سالہ پر ستوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔ جب تک ان لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کرلیا ان کی توبہ قبول نہ ہوئی جیسے کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں تفصیل وار بیان ہوچکا ہے کہ انہیں حکم ہوا تھا کہ اپنے خالق سے توبہ کرو اور آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو یہی تمہارے حق میں ٹھیک ہے پھر وہ تمہاری توبہ قبول فرمائے گا وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم و کرم والا ہے۔ اسی طرح دنیا میں بھی ان یہودیوں پر ذلت نازل ہوئی۔ ہر بدعتی کی جو اللہ کے دین میں جھوٹا طوفان اٹھائے یہی سزا ہے۔ رسول کی مخالفت اور بدعت کا بوجھ اس کے دل سے نکل کر اس کے کندھوں پر آپڑتا ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں گو وہ دنیوی ٹھاٹھ رکھتا ہو لیکن ذلت اس کے چہرے پر برستی ہے۔ قیامت تک یہی سزا ہر جھوٹے افترا باز کی اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔ حضرت سفیان بن عینیہ فرماتے ہیں کہ ہر بدعتی ذلیل ہے۔ پھر فرماتے ہے کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے خواہ کیسا ہی گناہ ہو لیکن توبہ کے بعد وہ معاف فرما دیتا ہے گو کفر و شرک اور نفاق و شفاق ہی کیوں نہ ہو۔ فرمان ہے کہ جو لوگ برائیوں کے بعد توبہ کرلیں اور ایمان لائیں تو اے رسول رحمت اور اے نبی نور (یعنی قرآن) تیرا رب اس فعل کے بعد بھی غفور و رحیم ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے سوال ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زناکاری کرے پھر اس سے نکاح کرلے تو ؟ آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی کوئی دس دس مرتبہ اسے تلاوت کیا اور کوئی حکم یا منع نہیں کیا۔
Tafsir Ibn Kathir
أَمَّا الْغَضَبُ الَّذِي نَالَ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي عِبَادَةِ الْعِجْلِ، فَهُوَ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَقْبَلْ لَهُمْ تَوْبَةً، حَتَّى قَتَل بَعْضُهُمْ بَعْضًا، كَمَا تَقَدَّمَ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ: ﴿فَتُوبُوا إِلَى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴾ [الْبَقَرَةِ:٥٤]
وَأَمَّا الذِّلَّةُ فَأَعْقَبَهُمْ ذَلِكَ ذُلًّا وَصَغَارًا [[في أ: "فأعقبهم ذل وصغار".]] فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَقَوْلُهُ: ﴿وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ﴾ نَائِلَةٌ لِكُلٍّ مَنِ افْتَرَى بِدْعَةً، فَإِنَّ ذُلَّ الْبِدْعَةِ وَمُخَالَفَةَ الرِّسَالَةِ [[في م: "الرسل".]] مُتَّصِلَةٌ مِنْ قَلْبِهِ عَلَى كَتِفَيْهِ، كَمَا قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: إِنَّ ذُلَّ الْبِدْعَةِ عَلَى أَكْتَافِهِمْ، وَإِنْ هَمْلَجَت بِهِمُ الْبَغْلَاتُ، وَطَقْطَقَتْ بِهِمُ الْبَرَاذِينُ.
وَهَكَذَا رَوَى أَيُّوبُ السَّخْتَيَاني، عَنْ أَبِي قِلابة الجَرْمي، أَنَّهُ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ﴾ قَالَ: هِيَ وَاللَّهِ لِكُلِّ مُفْتَرٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
وَقَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: كُلُّ صَاحِبِ بِدْعَةٍ ذَلِيلٌ.
ثُمَّ نَبَّهَ تَعَالَى عِبَادَهُ وَأَرْشَدَهُمْ إِلَى أَنَّهُ يَقْبَلُ تَوْبَةَ عِبَادِهِ مِنْ أَيِّ ذَنْبٍ كَانَ، حَتَّى وَلَوْ كَانَ مِنْ كُفْرٍ أَوْ شِرْكٍ أَوْ نِفَاقٍ أَوْ شِقَاقٍ؛ وَلِهَذَا عَقَّبَ هَذِهِ الْقِصَّةَ بِقَوْلِهِ: ﴿وَالَّذِينَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِهَا وَآمَنُوا إِنَّ رَبَّكَ﴾ أَيْ: يَا مُحَمَّدُ، يَا رَسُولَ الرَّحْمَةِ وَنَبِيَّ النُّورِ [[في ك، م، أ: "التوبة".]] ﴿مِنْ بَعْدِهَا﴾ أَيْ: مِنْ بَعْدِ تِلْكَ الْفِعْلَةِ ﴿لَغَفُورٌ رَحِيمٌ﴾
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عَزْرَة [[في م: "عروة".]] عَنِ الْحَسَنِ العُرَفي، عَنْ عَلْقَمة، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ؛ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ -يَعْنِي عَنْ الرَّجُلِ يَزْنِي بِالْمَرْأَةِ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا -فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿وَالَّذِينَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِهَا وَآمَنُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ فَتَلَاهَا عَبْدُ اللَّهِ عَشْرَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يَأْمُرْهُمْ [[في ك، م: "يأمر".]] بِهَا وَلَمْ يَنْهَهُمْ عَنْهَا.
وَٱلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ثُمَّ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِهَا وَءَامَنُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ
But those who committed misdeeds and then repented after them and believed - indeed your Lord, thereafter, is Forgiving and Merciful.
اور جنہوں نے برے کام کیے پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار اس کے بعد (بخش دے گا کہ وہ) بخشنے والا مہربان ہے
و آنها که گناه کردند، و بعد از آن توبه نمودند و ایمان آوردند، (امید عفو او را دارند؛ زیرا) پروردگار تو، در پی این کار، آمرزنده و مهربان است.
Tafsir Ibn Kathir
Certainly, those who took the calf (for worship), wrath from their Lord and humiliation will come upon them in the life of this world. Thus do We recompense those who invent lies (152)But those who committed evil deeds and then repented afterwards and believed, verily, your Lord after (all) that is indeed Oft-Forgiving, Most Merciful (153)
The 'wrath' mentioned here that struck the Children of Israel because of their worshipping the calf, means, Allah did not accept their repentance until some of them [who did not worship the calf] killed others [who worshipped the calf]. We mentioned this story in Surat Al-Baqarah,
فَتُوبُوا إِلَىٰ بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِندَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
(So turn in repentance to your Creator and kill yourselves (the guilty), that will be better for you before your Creator." Then He accepted your repentance. Truly, He is the One Who accepts repentance, the Most Merciful.)[2:54]
As for the humiliation mentioned in the Ayah, it pertains to the disgrace and humiliation that the Jews suffered in the life of this world. Allah's statement,
وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ
(Thus do We recompense those who invent lies) is for all those who invent an innovation (in religion). Surely, the disgrace resulting from inventing an innovation (in religion) and defying Allah's Message, will be placed in the heart and from there on to the shoulders. Al-Hasan Al-Basri said; "The disgrace of innovation will weigh on their shoulders even if they were to gallop on their mules or trot on their work horses." Ayyub As-Sakhtiyani narrated from Abu Qilabah Al-Jarmi that he commented on this Ayah,
وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ
(Thus do We recompense those who invent lies.)
"By Allah! This Ayah is for all those who invent a lie, until the Day of Resurrection." Also, Sufyan bin 'Uyaynah said, "Every person who invents a Bid'ah (innovation in the religion) will taste disgrace."Allah tells His servants that He accepts repentance from His servants for any sin, even Shirk, Kufr, hypocrisy and disobedience. Allah said:
وَالَّذِينَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ ثُمَّ تَابُوا مِن بَعْدِهَا وَآمَنُوا إِنَّ رَبَّكَ
(But those who committed evil deeds and then repented afterwards and believed, verily, your Lord)
O Muhammad, Messenger of Repentance and Prophet of Mercy,
مِن بَعْدِهَا
(after that) after committing that evil action,
لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
(is indeed Oft-Forgiving, Most Merciful.)
Ibn Abi Hatim reported that 'Abdullah bin Mas'ud was asked about a man committing fornication with a woman and then marrying her, and Ibn Mas'ud recited this Ayah,
وَالَّذِينَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ ثُمَّ تَابُوا مِن بَعْدِهَا وَآمَنُوا إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
(But those who committed evil deeds and then repented afterwards and believed, verily, your Lord after (all) that is indeed Oft-Forgiving, Most Merciful.)
'Abdullah recited this Ayah ten times, neither allowing nor disallowing it.
Tafsir Ibn Kathir
باہم قتل کی سزا ان گو سالہ پر ستوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔ جب تک ان لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کرلیا ان کی توبہ قبول نہ ہوئی جیسے کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں تفصیل وار بیان ہوچکا ہے کہ انہیں حکم ہوا تھا کہ اپنے خالق سے توبہ کرو اور آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو یہی تمہارے حق میں ٹھیک ہے پھر وہ تمہاری توبہ قبول فرمائے گا وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم و کرم والا ہے۔ اسی طرح دنیا میں بھی ان یہودیوں پر ذلت نازل ہوئی۔ ہر بدعتی کی جو اللہ کے دین میں جھوٹا طوفان اٹھائے یہی سزا ہے۔ رسول کی مخالفت اور بدعت کا بوجھ اس کے دل سے نکل کر اس کے کندھوں پر آپڑتا ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں گو وہ دنیوی ٹھاٹھ رکھتا ہو لیکن ذلت اس کے چہرے پر برستی ہے۔ قیامت تک یہی سزا ہر جھوٹے افترا باز کی اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔ حضرت سفیان بن عینیہ فرماتے ہیں کہ ہر بدعتی ذلیل ہے۔ پھر فرماتے ہے کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے خواہ کیسا ہی گناہ ہو لیکن توبہ کے بعد وہ معاف فرما دیتا ہے گو کفر و شرک اور نفاق و شفاق ہی کیوں نہ ہو۔ فرمان ہے کہ جو لوگ برائیوں کے بعد توبہ کرلیں اور ایمان لائیں تو اے رسول رحمت اور اے نبی نور (یعنی قرآن) تیرا رب اس فعل کے بعد بھی غفور و رحیم ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے سوال ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زناکاری کرے پھر اس سے نکاح کرلے تو ؟ آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی کوئی دس دس مرتبہ اسے تلاوت کیا اور کوئی حکم یا منع نہیں کیا۔
Tafsir Ibn Kathir
أَمَّا الْغَضَبُ الَّذِي نَالَ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي عِبَادَةِ الْعِجْلِ، فَهُوَ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَقْبَلْ لَهُمْ تَوْبَةً، حَتَّى قَتَل بَعْضُهُمْ بَعْضًا، كَمَا تَقَدَّمَ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ: ﴿فَتُوبُوا إِلَى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴾ [الْبَقَرَةِ:٥٤]
وَأَمَّا الذِّلَّةُ فَأَعْقَبَهُمْ ذَلِكَ ذُلًّا وَصَغَارًا [[في أ: "فأعقبهم ذل وصغار".]] فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَقَوْلُهُ: ﴿وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ﴾ نَائِلَةٌ لِكُلٍّ مَنِ افْتَرَى بِدْعَةً، فَإِنَّ ذُلَّ الْبِدْعَةِ وَمُخَالَفَةَ الرِّسَالَةِ [[في م: "الرسل".]] مُتَّصِلَةٌ مِنْ قَلْبِهِ عَلَى كَتِفَيْهِ، كَمَا قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: إِنَّ ذُلَّ الْبِدْعَةِ عَلَى أَكْتَافِهِمْ، وَإِنْ هَمْلَجَت بِهِمُ الْبَغْلَاتُ، وَطَقْطَقَتْ بِهِمُ الْبَرَاذِينُ.
وَهَكَذَا رَوَى أَيُّوبُ السَّخْتَيَاني، عَنْ أَبِي قِلابة الجَرْمي، أَنَّهُ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ﴾ قَالَ: هِيَ وَاللَّهِ لِكُلِّ مُفْتَرٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
وَقَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: كُلُّ صَاحِبِ بِدْعَةٍ ذَلِيلٌ.
ثُمَّ نَبَّهَ تَعَالَى عِبَادَهُ وَأَرْشَدَهُمْ إِلَى أَنَّهُ يَقْبَلُ تَوْبَةَ عِبَادِهِ مِنْ أَيِّ ذَنْبٍ كَانَ، حَتَّى وَلَوْ كَانَ مِنْ كُفْرٍ أَوْ شِرْكٍ أَوْ نِفَاقٍ أَوْ شِقَاقٍ؛ وَلِهَذَا عَقَّبَ هَذِهِ الْقِصَّةَ بِقَوْلِهِ: ﴿وَالَّذِينَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِهَا وَآمَنُوا إِنَّ رَبَّكَ﴾ أَيْ: يَا مُحَمَّدُ، يَا رَسُولَ الرَّحْمَةِ وَنَبِيَّ النُّورِ [[في ك، م، أ: "التوبة".]] ﴿مِنْ بَعْدِهَا﴾ أَيْ: مِنْ بَعْدِ تِلْكَ الْفِعْلَةِ ﴿لَغَفُورٌ رَحِيمٌ﴾
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عَزْرَة [[في م: "عروة".]] عَنِ الْحَسَنِ العُرَفي، عَنْ عَلْقَمة، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ؛ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ -يَعْنِي عَنْ الرَّجُلِ يَزْنِي بِالْمَرْأَةِ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا -فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿وَالَّذِينَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِهَا وَآمَنُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ فَتَلَاهَا عَبْدُ اللَّهِ عَشْرَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يَأْمُرْهُمْ [[في ك، م: "يأمر".]] بِهَا وَلَمْ يَنْهَهُمْ عَنْهَا.
وَلَمَّا سَكَتَ عَن مُّوسَى ٱلْغَضَبُ أَخَذَ ٱلْأَلْوَاحَ ۖ وَفِى نُسْخَتِهَا هُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ لِّلَّذِينَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُونَ
And when the anger subsided in Moses, he took up the tablets; and in their inscription was guidance and mercy for those who are fearful of their Lord.
اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو (تورات) کی تختیاں اٹھالیں اور جو کچھ ان میں لکھا تھا وہ ان لوگوں کے لیے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں۔ ہدایت اور رحمت تھی
هنگامی که خشم موسی فرو نشست؛ الواح (تورات) را برگرفت؛ و در نوشتههای آن، هدایت و رحمت برای کسانی بود که از پروردگار خویش میترسند (و از مخالفت فرمانش بیم دارند).
Tafsir Ibn Kathir
And when the anger of Musa calmed, he took up the Tablets; and in their inscription was guidance and mercy for those who fear their Lord (154)
Musa picked up the Tablets when His Anger subsided
Allah said next,
وَلَمَّا سَكَتَ
(And when calmed) and subsided,
عَن مُّوسَى الْغَضَبُ
(the anger of Musa) with his people,
أَخَذَ الْأَلْوَاحَ
(he took up the Tablets), which he had thrown out of jealousy for Allah and anger for His sake, because of his people worshipping the calf,
وَفِي نُسْخَتِهَا هُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِينَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُونَ
(and in their inscription was guidance and mercy for those who fear their Lord.)
Several scholars of Tafsir said that when Musa threw the Tablets on the ground they were shattered and he collected the pieces afterwards. Musa found in its inscription guidance and mercy, but the specific details of the Law was lost, so they said. They also claimed that the shattered pieces of the Tablets still remained in the treasury safes of some Israelite kings until the Islamic State came into existence. Only Allah knows if these statements are true.
Tafsir Ibn Kathir
حضرت موسیٰ کو اپنی قوم پر جو غصہ تھا جب وہ جاتا رہا تو سخت غصے کی حالت میں جن تختیوں کو انہوں نے زمین پر ڈال دیا تھا اب اٹھا لیں۔ یہ غصہ صرف اللہ کی راہ میں تھا کیونکہ آپ کی قوم نے بچھڑے کی پوجا کی تھی۔ ان تختیوں میں ہدایت و رحمت تھی۔ کہتے ہیں کہ جب کلیم اللہ نے تختیاں زمین پر ڈال دیں تو وہ ٹوٹ گئیں پھر انہیں جمع کیا۔ تو ان میں رہبری اور رحم پایا اور تفصیل اٹھا لی گئی تھی۔ کہتے ہیں کہ ان تختیوں کے ٹکڑے شاہی خزانوں میں بنی اسرائیل کے پاس دولت اسلامیہ کے ابتدائی زمانے تک محفوظ رہے واللہ اعلم۔ اس کی صحت کا کوئی پتہ نہیں حالانکہ یہ بات مشہور ہے کہ وہ تختیاں جنتی جوہر کی تھیں اور اس آیت میں ہے کہ پھر حضرت موسیٰ نے خود ہی انہیں اٹھا لیا اور ان میں رحمت و ہدایت پائی چونکہ رجت متضمن ہے خشوع و خضوع کو اس لئے اسے لام سے متعدی کیا۔ قتادہ کہتے ہیں ان میں آپ نے لکھا دیکھا کہ ایک امت تمام امتوں سے بہتر ہوگی جو لوگوں کے لئے قائم کی جائے گی جو بھلی باتوں کا حکم کرے گی اور برائیوں سے روکے گی تو حضرت موسیٰ نے دعا کی کہ اے اللہ میری امت کو یہی امت بنا دے جواب ملا کہ یہ امت امت احمد ہے ﷺ پھر پڑھا کہ ایک امت ہوگی جو دنیا میں سب سے آخر آئے گی اور جنت میں سب سے پہلے جائے گی تو بھی آپ نے یہی درخواست کی اور یہی جواب پایا پھر پڑھا کہ ایک امت ہوگی جن کی کتاب ان کے سینوں میں ہوگی جس کی وہ تلاوت کریں گے یعنی حفظ کریں گے اور دوسرے لوگ دیکھ کر پڑھتے ہیں۔ اگر ان کی کتابیں اٹھ جائیں تو علم جاتا رہے کیونکہ انہیں حفظ نہیں۔ اس طرح کا حافظہ اسی امت کیلئے مخصوص ہے کسی اور امت کو نہیں ملا۔ اس پر بھی آپ نے یہی درخواست کی اور یہی جواب پایا۔ پھر دیکھا کہ اس میں لکھا ہوا ہے کہ ایک امت ہوگی جو اگلی پچھلی تمام کتابوں پر ایمان لائے گی اور گمراہوں سے جہاد کرے گی یہاں تک کہ کانے دجال سے جہاد کرے گی۔ اس پر بھی آپ نے یہی دعا کی اور یہی جواب پایا۔ پھر ان تختیوں میں آپ نے پڑھا کہ ایک امت ہوگی جو خود بھی شفاعت کرے گی اور ان کی شفاعت دوسرے بھی کریں گے آپ نے پھر یہی دعا کی کہ اے اللہ یہ مرتبہ میری امت کو دے۔ جواب ملا یہ امت امت احمد ہے ﷺ ہے اس پر آپ نے تختیاں لے لیں اور کہنے لگے اے اللہ مجھے امت احمد میں کر دے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَلَمَّا سَكَتَ﴾ أَيْ: سَكَنَ ﴿عَنْ مُوسَى الْغَضَبُ﴾ أَيْ: غَضَبُهُ عَلَى قَوْمِهِ ﴿أَخَذَ الألْوَاحَ﴾ أَيْ: الَّتِي كَانَ أَلْقَاهَا مِنْ شِدَّةِ الْغَضَبِ عَلَى عِبَادَتِهِمُ الْعِجْلَ، غَيْرَةً لِلَّهِ وَغَضَبًا لَهُ ﴿وَفِي نُسْخَتِهَا هُدًى وَرَحْمَةٌ﴾
يَقُولُ كَثِيرٌ مِنَ الْمُفَسِّرِينَ: إِنَّهَا لَمَّا أَلْقَاهَا تَكَسَّرَتْ، ثُمَّ جَمَعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ؛ وَلِهَذَا قَالَ بَعْضُ السَّلَفِ: فَوَجَدَ فِيهَا هُدًى وَرَحْمَةً. وَأَمَّا التَّفْصِيلُ فَذَهَبَ، وَزَعَمُوا أَنَّ رُضَاضَهَا لَمْ يَزَلْ مَوْجُودًا فِي خَزَائِنِ الْمُلُوكِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَى الدَّوْلَةِ الْإِسْلَامِيَّةِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِصِحَّةِ هَذَا. وَأَمَّا الدَّلِيلُ الْقَاطِعُ عَلَى أَنَّهَا تَكَسَّرَتْ حِينَ أَلْقَاهَا، وَهِيَ مِنْ جَوْهَرِ الْجَنَّةِ [[في أ: "من جوهر من الجنة".]] فَقَدْ [[في ك: "وقد".]] أَخْبَرَ [اللَّهُ] [[زيادة من أ.]] تَعَالَى أَنَّهُ لَمَّا أَخَذَهَا بَعْدَ مَا أَلْقَاهَا وَجَدَ فِيهَا هُدًى وَرَحْمَةً.
﴿لِلَّذِينَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُونَ﴾ ضَمَّنَ الرَّهْبَةَ مَعْنَى الْخُضُوعِ؛ وَلِهَذَا عدَّاها بِاللَّامِ. وَقَالَ قَتَادَةُ: فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿أَخَذَ الألْوَاحَ﴾ قَالَ: رَبِّ، إِنِّي أجدُ فِي الْأَلْوَاحِ أُمَّةً خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ، يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ، فَاجْعَلْهُمْ [[في د، ك، م، أ: "اجعلهم".]] أُمَّتِي. قَالَ: تِلْكَ أُمَّةُ أَحْمَدَ. قَالَ: رَبِّ، إِنِّي أَجِدُ فِي الْأَلْوَاحِ أُمَّةً هُمُ الْآخَرُونَ -أَيْ آخَرُونَ فِي الخَلْقِ -السابقون [[في د، أ: "سابقون".]] في دخول الجنة، رَبِّ اجْعَلْهُمْ أُمَّتِي. قَالَ: تِلْكَ أُمَّةُ أَحْمَدَ. قَالَ: رَبِّ، إِنِّي أَجِدُ فِي الْأَلْوَاحِ أُمَّةً أَنَاجِيلُهُمْ فِي صُدُورِهِمْ يَقْرَءُونَهَا -كِتَابَهُمْ -وَكَانَ مَنْ قَبْلَهُمْ يَقْرَءُونَ كِتَابَهُمْ نَظَرًا، حَتَّى إِذَا رَفَعُوهَا لَمْ يَحْفَظُوا [مِنْهَا] [[زيادة من أ.]] شَيْئًا، وَلَمْ يَعْرِفُوهُ. قَالَ قَتَادَةُ: وَإِنَّ اللَّهَ أَعْطَاهُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ مِنَ الْحِفْظِ شَيْئًا لَمْ يُعْطِهِ [[في ك، م، أ: "يعط".]] أَحَدًا مِنَ الْأُمَمِ. قَالَ: رَبِّ، اجْعَلْهُمْ أُمَّتِي. قَالَ: تِلْكَ أُمَّةُ أَحْمَدَ. قَالَ: رَبِّ، إِنِّي أَجِدُ فِي الْأَلْوَاحِ أُمَّةً يُؤْمِنُونَ بِالْكِتَابِ الْأَوَّلِ، وَبِالْكِتَابِ الْآخِرِ، وَيُقَاتِلُونَ فُصُولَ الضَّلَالَةِ، حَتَّى يُقَاتِلُوا [[في ك، م: "يقاتلون" وهو خطأ.]] الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ، فَاجْعَلْهُمْ أُمَّتِي. قَالَ: تِلْكَ أُمَّةُ أَحْمَدَ. قَالَ: رَبِّ، إِنِّي أَجِدُ فِي الْأَلْوَاحِ أُمَّةً صَدَقَاتُهُمْ يَأْكُلُونَهَا فِي بُطُونِهِمْ، وَيُؤْجَرُونَ عَلَيْهَا -وَكَانَ مَنْ قَبْلَهُمْ مِنَ الْأُمَمِ إِذَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَقَبِلَتْ مِنْهُ، بَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهَا نَارًا فَأَكَلَتْهَا، وَإِنْ رُدَّتْ عَلَيْهِ تُركَت، فَتَأْكُلُهَا السِّبَاعُ وَالطَّيْرُ، وَإِنَّ اللَّهَ أَخَذَ صَدَقَاتِكُمْ مِنْ غَنِيِّكُمْ لِفَقِيرِكُمْ [[في ك: "غنيهم لفقيرهم".]] -قَالَ: رَبِّ، اجْعَلْهُمْ أُمَّتِي. قَالَ: تِلْكَ أُمَّةُ أَحْمَدَ. قَالَ رَبِّ، إِنِّي أَجِدُ فِي الْأَلْوَاحِ أُمَّةً إِذَا هَمَّ أَحَدُهُمْ بِحَسَنَةٍ ثُمَّ لَمْ يَعْمَلْهَا، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ، فَإِنْ عَمِلَهَا، كُتِبَتْ لَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ [ضِعْفٍ] [[زيادة من أ.]] رَبِّ اجْعَلْهُمْ أُمَّتِي. قَالَ: تِلْكَ أُمَّةُ أَحْمَدَ. قَالَ: رَبِّ، إِنِّي أَجِدُ فِي الْأَلْوَاحِ أُمَّةً إِذَا هَم أَحَدُهُمْ بِسَيِّئَةٍ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ حَتَّى يَعْمَلَهَا، فَإِذَا عَمِلَهَا كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةٌ وَاحِدَةٌ، فَاجْعَلْهُمْ أُمَّتِي: قَالَ: تِلْكَ أُمَّةُ أَحْمَدَ. قَالَ: رَبِّ، إِنِّي أَجِدُ فِي الْأَلْوَاحِ أُمَّةً هُمُ الْمُسْتَجِيبُونَ وَالْمُسْتَجَابُ لَهُمْ، فَاجْعَلْهُمْ أُمَّتِي. قَالَ: تِلْكَ أُمَّةُ أَحْمَدَ. قَالَ: رَبِّ، إِنِّي أَجِدُ فِي الْأَلْوَاحِ أُمَّةً هُمُ المشفَّعون وَالْمَشْفُوعُ لَهُمْ، فَاجْعَلْهُمْ أُمَّتِي. قَالَ: تِلْكَ أُمَّةُ أَحْمَدَ. قَالَ: قَتَادَةُ فَذُكِرَ لَنَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ مُوسَى [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] نَبَذَ الْأَلْوَاحَ، وَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أُمَّةِ أَحْمَدَ [[تفسير الطبري (١٣/١٢٤) .]]
وَٱخْتَارَ مُوسَىٰ قَوْمَهُۥ سَبْعِينَ رَجُلًۭا لِّمِيقَٰتِنَا ۖ فَلَمَّآ أَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُم مِّن قَبْلُ وَإِيَّٰىَ ۖ أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَّآ ۖ إِنْ هِىَ إِلَّا فِتْنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَن تَشَآءُ وَتَهْدِى مَن تَشَآءُ ۖ أَنتَ وَلِيُّنَا فَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَمْنَا ۖ وَأَنتَ خَيْرُ ٱلْغَٰفِرِينَ
And Moses chose from his people seventy men for Our appointment. And when the earthquake seized them, he said, "My Lord, if You had willed, You could have destroyed them before and me [as well]. Would You destroy us for what the foolish among us have done? This is not but Your trial by which You send astray whom You will and guide whom You will. You are our Protector, so forgive us and have mercy upon us; and You are the best of forgivers.
اور موسیٰ نے اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب (کرکے کوہ طور پر حاضر) ٹل کیے۔ جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو موسیٰ نے کہا کہ اے پروردگار تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے ہلاک کر دیتا۔ کیا تو اس فعل کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کردے گا۔ یہ تو تیری آزمائش ہے۔ اس سے تو جس کو چاہے گمراہ کرے اور جس کو چاہے ہدایت بخشے۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے تو ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے
موسی از قوم خود، هفتاد تن از مردان را برای میعادگاه ما برگزید؛ و هنگامی که زمینلرزه آنها را فرا گرفت (و هلاک شدند)، گفت: «پروردگارا! اگر میخواستی، می توانستی آنها و مرا پیش از این نیز هلاک کنی! آیا ما را به آنچه سفیهانمان انجام دادهاند، (مجازات و) هلاک میکنی؟! این، جز آزمایش تو، چیز دیگر نیست؛ که هر کس را بخواهی (و مستحق بدانی)، به وسیله آن گمراه میسازی؛ و هر کس را بخواهی (و شایسته ببینی)، هدایت میکنی! تو ولیّ مایی، و ما را بیامرز، بر ما رحم کن، و تو بهترین آمرزندگانی!
Tafsir Ibn Kathir
And Musa chose out of his people seventy (of the best) men for Our appointed time and place of meeting, and when they were seized with a violent earthquake, he said: "O my Lord, if it had been Your Will, You could have destroyed them and me before; would You destroy us for the deeds of the foolish among us? It is only Your trial by which You lead astray whom You will, and keep guided whom You will. You are our protector, so forgive us and have mercy on us: for You are the best of those who forgive (155)"And ordain for us good in this world, and in the Hereafter. Certainly we have Hudna unto You." He said: (As to) My punishment I afflict therewith whom I will and My mercy embraces all things. That (mercy) I shall ordain for those who have Taqwa, and give Zakah; and those who believe in Our Ayat (156)
Seventy Men from the Children of Israel go for the appointed Meeting Place that Allah designated, Allah later on destroys Them
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas commented; "Allah commanded Musa to choose seventy men. So he chose them and proceeded with them in order that they supplicate to their Lord. Their supplication included asking Allah, 'O Allah! Give us what you have never given anyone before us and will never give anyone after us!' Allah disliked this supplication and they were seized with a violent earthquake, Musa said:
رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُم مِّن قَبْلُ وَإِيَّايَ
("O my Lord, if it had been Your will, You could have destroyed them and me before.)'"
As-Suddi said, "Allah commanded Musa to come with thirty men from the Children of Israel, apologizing for worshipping the calf; and He gave them an appointed time and place.
وَاخْتَارَ مُوسَىٰ قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا
(And Musa chose out of his people seventy (of the best) men.)
He chose these men and went along with them so that they could apologize. When they reached the appointed place, they said,
لَن نُّؤْمِنَ لَكَ
(We shall never believe in you), [2:55] 'O Musa,
حَتَّىٰ نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً
(until we see Allah plainly,) for you spoke to Him,' they said, 'therefore, show Him to us,'
فَأَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَةُ
(but they were struck with a bolt of lightning)[4:153] and they died. Musa stood up crying, invoking Allah, 'O Lord! What should I tell the Children of Israel, when I go back to them after You destroyed their best men?'
رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُم مِّن قَبْلُ وَإِيَّايَ
("O my Lord, if it had been Your will, You could have destroyed them and me before").'"
Muhammad bin Ishaq said, "Musa chose seventy of the best men from the Children of Israel. He said to them, 'Go to the meeting with Allah and repent for what you committed. Beg His forgiveness for those of your people whom you left behind. Fast, purify yourselves and clean your clothes.' So, he went with them to Mount Tur in Sinai for the meeting place and time designated by his Lord. He went there only with the leave and knowledge of Allah. According to what has been mentioned to me, when the seventy did what he ordered them to do, and went with him to the meeting of Musa with his Lord, they said, 'Request that we may also hear the words of our Lord.' So he replied, 'I shall.' When Musa approached the mountain it became completely covered with columns of clouds, Musa approached it and entered in them. He said to the people, 'Approach.' But when Allah spoke to Musa, his cloak was surrounded by a brilliant light which no human could bear to look at, so below him a barrier was placed and the people approached. When they entered the cloud they fell prostrate and they heard Him while he was speaking to Musa, commanding him and forbidding him, saying what to do and what not to do. When He completed commanding him, and removed the cloud from Musa, he faced the people and they said, 'O Musa! We will not believe in you unless we see Allah directly.' So the thunder shook them, their souls were captured and they all died. Musa stood up invoking, begging and supplicating to his Lord,
رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُم مِّن قَبْلُ وَإِيَّايَ
("O my Lord, if it had been Your will, You could have destroyed them and me before.")' meaning, 'They were foolish. Would You destroy anyone who comes after me from the Children of Israel?'
Ibn 'Abbas, Qatadah, Mujahid and Ibn Jarir At-Tabari said, "They were seized by the tremor or lightning, because they neither shunned nor forbade their people who worshipped the calf." This is supported by Musa's statement,
أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا
("would You destroy us for the deeds of the fools among us?") He said next,
إِنْ هِيَ إِلَّا فِتْنَتُكَ
("It is only Your Fitnah") affliction, test and trial, according to Ibn 'Abbas, Sa'id bin Jubayr, Abu Al-'Aliyah, Ar-Rabi' bin Anas and several among the Salaf and latter scholars. This is the only plausible meaning, in which Musa says, "The decision is Yours (O Allah), and the judgment, and whatever You will occurs. You misguide whom You will, guide whom You will, and none can guide whom You misguide or misguide whom You guide. There is none who can give what You deprive or avert what You give. The sovereignty is all Yours, and Yours is the judgment, the creation and the decision." The Ayah,
أَنتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ
("You are our protector, so forgive us and have mercy on us: for You are the best of those who forgive."), pertains to (Allah's) covering the mistake and not punishing for the sin. Whenever mercy is mentioned along with forgiveness [such as in Musa's supplication to Allah], it includes the hope that Allah does not permit one to fall into that act again.
وَأَنتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ
("for You are the best of those who forgive,") for none except You can forgive the sin.
وَاكْتُبْ لَنَا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ
("And ordain for us good in this world, and in the Hereafter.")
The first part of Musa's supplication was to fend off what should be avoided, while this part is a request for what is sought. The meaning of,
وَاكْتُبْ لَنَا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ
("And ordain for us good in this world, and in the Hereafter.") is, 'ordain for us and grant us all that is good in both lives. We mentioned the meaning of 'good' before in Surat Al-Baqarah.
إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ
("We have Hudna unto You") 'we repent, go back and return unto You,' according to the meaning of, 'Hudna', given by Ibn 'Abbas, Sa'id bin Jubayr, Mujahid, Abu Al-'Aliyah, Ad-Dahhak, Ibrahim At-Taymi, As-Suddi, Qatadah and several others.
قالَ عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لَلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ
(He said: (As to) My punishment I afflict therewith whom I will and My mercy embraces all things. That (mercy) I shall ordain for those who have Taqwa, and give Zakah; and those who believe in Our Ayat.)[7:156]
Allah's Mercy is for Those Who have Taqwa and believe in Allah's Ayat and His Messenger (ﷺ)
Allah answers the statement,
إِنْ هِيَ إِلَّا فِتْنَتُكَ
("It is only Your trial...")[7:155], by saying,
عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ
((As to) My punishment I afflict therewith whom I will and My mercy embraces all things.)
Allah says here, 'I do what I will, decide what I will and I have wisdom and justice in all matters.' Certainly, there is no deity worthy of worship except Allah. Allah's statement,
وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ
(and My mercy embraces all things) testifies to His encompassing mercy. Allah said that the angels who carry His Throne and those around the Throne supplicate,
رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَعِلْمًا
("Our Lord! You comprehend all things in mercy and knowledge.")[40:7]
Imam Ahmad recorded that Jundub bin 'Abdullah Al-Bajali said, "A bedouin man came, he made his camel kneel and he tied it. Then he prayed behind the Messenger of Allah ﷺ. When the Messenger of Allah ﷺ finished the prayer, that man untied his camel mounted it and supplicated aloud, 'O Allah! Grant Your mercy to me and to Muhammad, and do not give a share in it to anyone else.' The Messenger of Allah ﷺ commented (to his Companions),
أَتَقُولُونَ هَذَا أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ؟
(Do you think that this man is more misguided or his camel Did you not hear what this man has said?) They said, 'Yes.' He said,
لَقَدْ حَظَّرْتَ رَحْمَةً وَاسِعَةً إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَأَنْزَلَ رَحْمَةً يَتَعَاطَفُ بِهَا الخَلْقُ جِنُّهَا وَإِنْسُهَا وَبَهَائِمُهَا وَأَخَّرَ عِنْدَهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ رَحْمَةً أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ؟
(You (the bedouin man) have restricted a vast mercy! Allah, the Exalted, the most Honored has created a hundred mercies and sent down one of them by which the creation, men, Jinn and animals, show mercy to each other. He left with Him ninety-nine mercies, so do you say that this man is more misguided or his camel?) Ahmad and Abu Dawud collected this Hadith.
Imam Ahmad recorded that Salman narrated that the Prophet ﷺ said,
إِنَّ للهِ عَزَّ وَجَلَّ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَمِنْهَا رَحْمَةٌ يَتَرَاحَمُ بِهَا الْخَلْقُ وَبِهَا تَعْطِفُ الْوُحُوشُ عَلَى أَوْلَادِهَا وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
(Allah, the Exalted and Most Honored, has a hundred mercies. With one of them, the creations show mercy to each other, and even the beasts show kindness to their offspring. He has kept ninety-nine mercies with Him for the Day of Resurrection.) Muslim recorded it.
Allah said next,
فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ
(That (mercy) I shall ordain for those who have Taqwa,) meaning, I will ordain My mercy for them, as a favor and kindness from Me to them. Allah said in a similar Ayah,
كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ
(your Lord has written Mercy for Himself)[6:54] Allah's statement,
لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ
(for those who have Taqwa), means, 'I will ordain My mercy for those who possess these qualities, and they are the Ummah of Muhammad,'
لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ
(for those who have Taqwa), who avoid Shirk and major sins,
وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ
(and give the Zakah), purify themselves, according to one opinion. It was also said that, 'the Zakah', here pertains to wealth. It is possible that both meanings are included here, for this Ayah was revealed in Makkah [before Zakah in fixed shares was ordained],
وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ
(and those who believe in Our Ayat.), those who have faith in them.
Tafsir Ibn Kathir
موسیٰ ؑ کی کوہ طور سے واپسی ٭٭ حضرت موسیٰ ؑ نے حسب فرمان الٰہی اپنی قوم سے ستر شخصوں کو منتخب کیا اور جناب باری سے دعائیں مانگنا شروع کیں۔ لیکن یہ لوگ اپنی دعا میں حد سے تجاوز کر گئے کہنے لگے اللہ تو ہمیں وہ دے جو نہ ہم سے پہلے کسی کو دیا ہو نہ ہمارے بعد کسی کو دے۔ یہ دعا اللہ تعالیٰ کو ناپسند آئی اور ان پر بھونچال آگیا۔ جس سے گھبرا کر حضرت موسیٰ اللہ سے دعائیں کرنے لگے۔ سدی کہتے ہیں انہیں لے کر آپ اللہ تعالیٰ سے بنی اسرائیل کی گو سالہ پرستی کی معذرت کرنے کیلئے گئے تھے۔ یہاں جب وہ پہنچے تو کہنے لگے ہم تو جب تک خود اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہ لائیں گے۔ ہم کلام سن رہے ہیں لیکن دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس پر کڑاکے کی آواز ہوئی اور یہ سب مر کھپ گئے حضرت موسیٰ نے رونا شروع کیا کہ اللہ میں بنی اسرائیل کو کیا منہ دکھاؤں گا ؟ ان کے یہ بہترین لوگ تھے اگر یہی منشا تھی تو اس سے پہلے ہی ہمیں ہلاک کردیا ہوتا۔ امام محمد بن اسحاق کا قول ہے کہ انہیں اس بت پرستی سے توبہ کرنے کیلئے بطور وفد کے آپ لے چلے تھے۔ ان سے فرما دیا تھا کہ پاک صاف ہوجاؤ پاک کپڑے پہن لو اور روزے سے چلو یہ اللہ کے بتائے ہوئے وقت پر طور سینا پہنچے۔ مناجات میں مشعول ہوئے تو انہوں نے خواہش کی کہ اللہ سے دعا کیجئے کہ ہم بھی اللہ کا کلام سنیں آپ نے دعا کی جب حسب عادت بادل آیا اور موسیٰ ؑ آگے بڑھ گئے اور بادل میں چھپ گئے قوم سے فرمایا تم بھی قریب آجاؤ یہ بھی اندر چلے گئے اور حسب معمول حضرت موسیٰ ؑ کی پیشانی پر ایک نور چمکنے لگا جو اللہ کے کلام کے وقت برابر چمکتا رہتا تھا اس وقت کوئی انسان آپ کے چہرے پر نگاہ نہیں ڈال سکتا تھا آپ نے حجاب کرلیا لوگ سب سجدے میں گرپڑے اور اللہ کا کلام شروع ہوا جو یہ لوگ بھی سن رہے تھے کہ فرمان ہو رہا ہے یہ کر یہ نہ کر وغیرہ۔ جب باتیں ہو چکیں اور ابر اٹھ گیا تو ان لوگوں نے کہا ہم تو جب تک اللہ کو خود خوب ظاہر نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے تو ان پر کڑاکا نازل ہوا اور سب کے سب ایک ساتھ مرگئے موسیٰ ؑ بہت گھبرائے اور مناجات شروع کردی اس میں یہاں تک کہا کہ اگر ہلاک ہی کرنا تھا تو اس سے پہلے ہلاک کیا ہوتا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ حضرت ہارون ؑ کو اور شبر اور شبیر کو لے کر پہار کی گھاٹی میں گئے۔ ہارون ایک بلند جگہ کھڑے تھے کہ ان کی روح قبض کرلی گئی جب آپ واپس بنی اسرائیل کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا کہ چونکہ آپ کے بھائی بڑے ملنسار اور نرم آدمی تھے آپ نے ہی انہیں الگ لے جا کر قتل کردیا اس پر آپ نے فرمایا اجھا تم اپنے میں سے ستر آدمی چھانٹ کر میرے ساتھ کردو انہوں نے کردیئے جنہیں لے کر آپ گئے اور حضرت ہارون کی لاش سے پوچھا کہ آپ کو کس نے قتل کیا ؟ اللہ کی قدرت سے وہ بولے کسی نے نہیں بلکہ میں اپنی موت مرا ہوں انہوں نے کہا بس موسیٰ اب سے آپ کی نافرمانی ہرگز نہ کی جائے گی اسی وقت زلزلہ آیا جس سے وہ سب مرگئے اب تو حضرت موسیٰ بہت گھبرائے دائیں بائیں گھومنے لگے اور وہ عرض کرنے لگے جو قرآن میں مذکور ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی التجا قبول کرلی ان سب کو زندہ کردیا اور بعد میں وہ سب انبیاء بنے لیکن یہ اثر بہت ہی غریب ہے اس کا ایک راوی عمارہ بن عبد غیر معروف ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ ان پر اس زلزلے کے آنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ بچھڑے کی پرستش کے وقت خاموش تھے ان پجاریوں کو روکتے نہ تھے اس قول کی دلیل میں حضرت موسیٰ کا یہ فرمان بالکل ٹھیک اترتا ہے کہ اے اللہ ہم میں سے چند بیوقوفوں کے فعل کی وجہ سے تو ہمیں ہلاک کر رہا ہے ؟ پھر فرماتے ہیں یہ تو تیری طرف کی آزمائش ہی ہے تیرا ہی حکم چلتا ہے اور تیری ہی چاہت کامیاب ہے۔ ہدایت و ضلالت تیرے ہی ساتھ ہے جس کو تو ہدایت دے اسے کوئی بہکا نہیں سکتا اور جسے تو بہکائے اس کی کوئی رہبری نہیں کرسکتا۔ تو جس سے روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا اور جسے دے دے اس سے کوئی چھین نہیں سکتا۔ ملک کا مالک تو اکیلا، حکم کا حاکم صرف تو ہی ہے۔ خلق و امر تیرا ہی ہے تو ہمارا ولی ہے، ہمیں بخش، ہم پر رحم فرما، تو سب سے اچھا معاف فرمانے والا ہے۔ غفر کے معنی ہیں چھپا دینا اور پکڑ نہ کرنا جب رحمت بھی اس کے ساتھ مل جائے تو یہ مطلب ہوتا ہے کہ آئندہ اس گناہ سے بچاؤ ہوجائے۔ گناہوں کا بخش دینے والا صرف تو ہی ہے۔ پس جس چیز سے ڈر تھا اس کا بچاؤ طلب کرنے کے بعد اب مقصود حاصل کرنے کیلئے دعا کی جاتی ہے کہ ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اسے ہمارے نام لکھ دے واجب و ثابت کر دے۔ حسنہ کی تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے۔ ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں، رغبت ہماری تیری ہی جانب ہے، ہماری توبہ اور عاجزی تیری طرف ہے۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ چونکہ انہوں نے ھدنا کہا تھا اس لئے انہیں یہودی کہا گیا ہے لیکن اس روایت کی سند میں جابر بن یزید جعفی ہیں جو ضعیف ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: كَانَ اللَّهُ أمرَه أَنْ يَخْتَارَ مِنْ قَوْمِهِ سَبْعِينَ رَجُلًا فَاخْتَارَ سَبْعِينَ رَجُلًا فَبَرَزَ بِهِمْ لِيَدْعُوا رَبَّهُمْ، فَكَانَ فِيمَا دَعَوُا اللَّهَ قَالُوا: اللَّهُمَّ أَعْطِنَا مَا لَمْ تُعْطِهِ أَحَدًا قَبْلَنَا وَلَا تُعْطِهِ أَحَدًا بَعْدَنَا فَكَرِهَ اللَّهُ ذَلِكَ مِنْ دعائهم، فأخذتهم الرجفة، قال موسى: ﴿رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِيَّايَ﴾ الْآيَةَ.
وَقَالَ السُّدِّي: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَ مُوسَى أَنْ يَأْتِيَهُ فِي نَاسٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ مِنْ عِبَادَةِ الْعِجْلِ، وَوَعْدَهُمْ مَوْعِدًا، فَاخْتَارَ مُوسَى قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا عَلَى عَيْنِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمْ لِيَعْتَذِرُوا. فَلَمَّا أَتَوْا ذَلِكَ الْمَكَانَ قَالُوا: لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ يَا مُوسَى حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً، فَإِنَّكَ قَدْ كَلَّمْتَهُ، فأرناه. فأخذتهم الصَّاعِقَةُ فَمَاتُوا، فَقَامَ مُوسَى يَبْكِي وَيَدْعُو اللَّهَ وَيَقُولُ: رَبِّ، مَاذَا أَقُولُ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِذَا لَقِيتُهُمْ [[في أ: "أتيتهم".]] وَقَدْ أَهْلَكْتَ خِيَارَهُمْ؟ ﴿رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِيَّايَ﴾
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: اخْتَارَ مُوسَى مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَبْعِينَ رَجُلًا الخيّرَ فَالْخَيِّرَ، وَقَالَ: انْطَلِقُوا إِلَى اللَّهِ فَتُوبُوا إِلَيْهِ مِمَّا صَنَعْتُمْ، وسَلُوه التَّوْبَةَ عَلَى مَنْ تَرَكْتُمْ وَرَاءَكُمْ مِنْ قَوْمِكُمْ، صُومُوا وتطهَّروا، وطهِّروا ثِيَابَكُمْ. فَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى طُور سَيْناء، لِمِيقَاتٍ وقَّته لَهُ رَبُّهُ، وَكَانَ لَا يَأْتِيهِ إِلَّا بِإِذْنٍ مِنْهُ وَعِلْمٍ -فَقَالَ لَهُ السَّبْعُونَ -فِيمَا ذُكِرَ لِي -حِينَ صَنَعُوا مَا أَمَرَهُمْ بِهِ، وَخَرَجُوا مَعَهُ لِلِقَاءِ رَبِّهِ، [فَقَالُوا] [[زيادة من أ.]] لِمُوسَى: اطْلُبْ لَنَا نَسْمَعْ كَلَامَ رَبِّنَا. فَقَالَ: أَفْعَلُ. فَلَمَّا دَنَا مُوسَى مِنَ الْجَبَلِ، وَقَعَ عَلَيْهِ عمودُ الْغَمَامُ، حَتَّى تَغَشَّى الْجَبَلَ كُلَّهُ. وَدَنَا مُوسَى فَدَخَلَ فِيهِ، وَقَالَ لِلْقَوْمِ: ادْنُوا. وَكَانَ مُوسَى إِذَا كَلَّمَهُ [[في ك: "كلم".]] اللَّهُ وَقَعَ عَلَى جَبْهَةِ مُوسَى نُورٌ سَاطِعٌ، لَا يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ مِنْ بَنِي آدَمَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ. فَضُرِبَ دُونَهُ بِالْحِجَابِ. وَدَنَا الْقَوْمُ، حَتَّى إِذَا دَخَلُوا وَقَعُوا سُجُودا [[في أ: "سجدا".]] فَسَمِعُوهُ وَهُوَ يُكَلِّمُ مُوسَى، يَأْمُرُهُ وَيَنْهَاهُ: افْعَلْ، وَلَا تَفْعَلْ. فَلَمَّا فَرَغَ إِلَيْهِ مِنْ أَمْرِهِ، انْكَشَفَ عَنْ مُوسَى الْغَمَامُ، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِمْ، فَقَالُوا لِمُوسَى: لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً. فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ -وَهِيَ الصَّاعِقَةُ -فافتُلتَت [[في أ: "فالتقت".]] أَرْوَاحُهُمْ، فَمَاتُوا جَمِيعًا. فَقَامَ مُوسَى يُنَاشِدُ رَبَّهُ وَيَدْعُوهُ وَيَرْغَبُ إِلَيْهِ، وَيَقُولُ: ﴿رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِيَّايَ﴾ قَدْ سَفِهُوا، أَفَنُهْلِكُ مَنْ وَرَائِي مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ.
وَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَبْدٍ السَّلُولي، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: انْطَلَقَ مُوسَى وَهَارُونُ وَشَبَّرُ وَشَبِيرُ، فَانْطَلَقُوا إِلَى سَفْحِ جَبَل، فَنَامَ [[في أ: "فقام".]] هَارُونُ عَلَى سَرِيرٍ، فَتَوَفَّاهُ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ. فَلَمَّا رَجَعَ مُوسَى إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالُوا لَهُ: أَيْنَ هَارُونُ؟ قَالَ: تَوَفَّاهُ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ. قَالُوا [لَهُ] [[زيادة من ك.]] أَنْتَ قَتَلْتَهُ، حَسَدتنا عَلَى خُلقه وَلِينِهِ -أَوْ كَلِمَةٍ نَحْوَهَا -قَالَ: فَاخْتَارُوا مَنْ شِئْتُمْ. قَالَ: فَاخْتَارُوا سَبْعِينَ رَجُلًا. قَالَ: فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَاخْتَارَ مُوسَى قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلا﴾ فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَيْهِ قَالُوا: يَا هَارُونُ، مَنْ قَتَلَكَ؟ قَالَ: مَا قَتَلَنِي أَحَدٌ، وَلَكِنْ تَوَفَّانِي اللَّهُ. قَالُوا: يَا مُوسَى، لَنْ تُعْصَى بَعْدَ الْيَوْمِ. قَالَ: فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ. قَالَ: فَجَعَلَ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، يُرْجِعُ يَمِينًا وَشِمَالًا وَقَالَ: يَا ﴿رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِيَّايَ أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا إِنْ هِيَ إِلا فِتْنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَاءُ وَتَهْدِي مَنْ تَشَاءُ﴾ قَالَ: فَأَحْيَاهُمُ اللَّهُ وَجَعَلَهُمْ أَنْبِيَاءَ كُلَّهُمْ.
هَذَا أَثَرٌ غَرِيبٌ جِدًّا، وَعِمَارَةُ بْنُ عَبْدٍ [[في ك: "عبيد".]] هَذَا لَا أَعْرِفُهُ. وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلُولَ عَنْ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ [[تفسير الطبري (١٣/١٤٢) وفي إسناده عمارة بن عبد السلولي. قال الذهبي في ميزان الاعتدال: "عمارة بن عبد، عن علي، مجهول لا يحتج به. قاله أبو حاتم. وقال أحمد: مستقيم الحديث لا يروى عنه غير أبي إسحاق".]]
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُجَاهِدٌ وَقَتَادَةُ وَابْنُ جُرَيْج: إِنَّمَا أَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ لِأَنَّهُمْ لَمْ يُزَايِلُوا قَوْمَهُمْ فِي عِبَادَتِهِمُ الْعِجْلَ، وَلَا نَهْوَهُمْ، وَيَتَوَجَّهُ هَذَا الْقَوْلُ بِقَوْلِ موسى: ﴿أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنْ هِيَ إِلا فِتْنَتُكَ﴾ أَيِ: ابْتِلَاؤُكَ وَاخْتِبَارُكَ وَامْتِحَانُكَ. قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَأَبُو الْعَالِيَةِ، وَرَبِيعُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَاءِ السَّلَفِ وَالْخَلَفِ. وَلَا مَعْنَى لَهُ غَيْرَ ذَلِكَ؛ يَقُولُ: إِنِ الأمرُ إِلَّا أمرُك، وَإِنِ الحكمُ إِلَّا لَكَ، فَمَا شِئْتَ كَانَ، تَضِلُّ مَنْ تَشَاءُ، وَتَهْدِي مَنْ تَشَاءُ، وَلَا هَادِيَ لِمَنْ أَضْلَلْتَ، وَلَا مُضِل لِمَنْ هَدَيت، وَلَا مُعطِي لِمَا مَنَعت، وَلَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، فَالْمُلْكُ كُلُّهُ لَكَ، وَالْحُكْمُ كُلُّهُ لَكَ، لَكَ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَنْتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ﴾ الغَفْر هُوَ: السَّتْرُ، وَتَرْكُ الْمُؤَاخَذَةِ بِالذَّنْبِ، وَالرَّحْمَةُ إِذَا قُرِنَتْ مَعَ الْغَفْرِ، يُرَادُ بِهَا أَلَّا يُوقِعَهُ فِي مِثْلِهِ فِي الْمُسْتَقْبَلِ، ﴿وَأَنْتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ﴾ أَيْ: لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ﴿وَاكْتُبْ لَنَا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ﴾ هُنَاكَ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ مِنَ الدُّعَاءِ دَفْعُ الْمَحْذُورِ، وَهَذَا لِتَحْصِيلِ الْمَقْصُودِ ﴿وَاكْتُبْ لَنَا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ﴾ أَيْ: أَوْجِبْ لَنَا وَأَثْبِتْ لَنَا فِيهِمَا حَسَنَةً، وَقَدْ تَقَدَّمَ [تَفْسِيرُ] [[زيادة من ك، م، أ.]] ذَلِكَ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ. [الْآيَةَ:٢٠١]
﴿إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ﴾ أَيْ: تُبْنَا وَرَجَعْنَا وَأَنَبْنَا إِلَيْكَ. قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَير، وَمُجَاهِدٌ، وَأَبُو الْعَالِيَةِ، وَالضَّحَّاكُ، وَإِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ، والسُّدِّي، وَقَتَادَةُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ. وَهُوَ كَذَلِكَ لُغَة.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَكِيع، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجيَّ [[في أ: "يحيى".]] عَنْ عَلِيٍّ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] قَالَ: إِنَّمَا سُمِّيَتِ الْيَهُودُ لِأَنَّهُمْ قَالُوا: ﴿إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ﴾
جَابِرٌ -هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الجُعْفي -ضَعِيفٌ.
قَالَ تَعَالَى مُجِيبًا لِمُوسَى فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنْ هِيَ إِلا فِتْنَتُكَ [تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَاءُ وَتَهْدِي مَنْ تَشَاءُ] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] الْآيَةَ: ﴿عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ [فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ] ﴾ [[زيادة من م.]] أَيْ: أَفْعَلُ مَا أَشَاءُ، وَأَحْكُمُ مَا أُرِيدُ، وَلِيَ الْحِكْمَةُ وَالْعَدْلُ فِي كُلِّ ذَلِكَ، سُبْحَانَهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ﴾ آيَةٌ عَظِيمَةُ الشُّمُولِ وَالْعُمُومِ، كَقَوْلِهِ إِخْبَارًا عَنْ حَمَلة الْعَرْشِ وَمَنْ حَوْلَهُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ: ﴿رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا﴾ [غَافِرٍ:٧]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الجُرَيري، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الجُشَمي، حَدَّثَنَا جُنْدُب -هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ البَجَلي، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ عَقَلها ثُمَّ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ. فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَتَى رَاحِلَتَهُ فَأَطْلَقَ عِقَالَهَا، ثُمَّ رَكِبَهَا، ثُمَّ نَادَى: اللَّهُمَّ، ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَتَقُولُونَ هَذَا أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ؟ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ؟ " قَالُوا: بَلَى. قَالَ: "لَقَدْ حَظَرْت [[في د: "حجرت".]] رَحْمَةً وَاسِعَةً؛ إن الله، عز وَجَلَّ، خَلَقْ مِائَةَ رَحْمَةٍ، فَأَنْزَلَ رَحْمَةً وَاحِدَةً يَتَعَاطَفُ بِهَا الْخَلْقُ؛ جِنُّهَا وَإِنْسُهَا وَبَهَائِمُهَا، وأخَّرَ عِنْدَهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ [[في ك، م: "تسعا وتسعون"، وفي أ: "تسع وتسعون".]] رَحْمَةً، أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ؟ ".
رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، بِهِ [[المسند (٤/٣١٢) وسنن أبي داود برقم (٤٨٨٥) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِنْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، مِائَةَ رَحْمَةٍ، فَمِنْهَا رَحْمَةٌ يتراحمُ بِهَا الْخَلْقُ، وَبِهَا تَعْطِفُ الْوُحُوشُ عَلَى أَوْلَادِهَا، وَأَخَّرَ تِسْعًا وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
تَفَرَّدَ [[في ك، م، أ: "انفرد".]] بِإِخْرَاجِهِ مُسْلِمٌ، فَرَوَاهُ مِنْ حَدِيثِ سُلَيمان -هُوَ ابْنُ طِرْخان -وَدَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ -وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلٍّ [[في أ: "بن مثل".]] -عَنْ سَلْمَانَ، هُوَ الْفَارِسِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، بِهِ [[المسند (٥/٤٣٩) وصحيح مسلم برقم (٢٧٥٣) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَة، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ النَّبِيَّ [[في ك، أ: "عن النبي"، وفي م: "عن رسول الله".]] ﷺ قَالَ: "لِلَّهِ مِائَةُ رَحْمَةٍ، عِنْدَهُ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، وَجَعْلِ عِنْدَكُمْ وَاحِدَةً تَتَرَاحَمُونَ بِهَا بَيْنَ [[في أ: "من".]] الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَبَيْنَ الْخَلْقِ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ضَمَّهَا إِلَيْهِ". تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ [[المسند (٣/٥٥) .]]
وَقَالَ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لِلَّهِ مِائَةُ رَحْمَةٍ، فَقَسَّمَ مِنْهَا جُزْءًا وَاحِدًا بَيْنَ الْخَلْقِ، فِيهِ يَتَرَاحَمُ النَّاسُ وَالْوَحْشُ وَالطَّيْرُ".
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهِ [[المسند (٣/٥٥) ، وسنن ابن ماجة برقم (٤٢٩٤) .]]
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا سَعْدٌ أَبُو غَيْلان الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَر، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ الفاجرُ فِي دِينِهِ، الْأَحْمَقُ فِي مَعِيشَتِهِ. وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ الَّذِي قَدْ مَحَشته النَّارُ بِذَنْبِهِ. وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيَغْفِرَنَّ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْفِرَةً يَتَطَاوَلُ لَهَا إِبْلِيسُ رَجَاءَ أَنْ تُصِيبَهُ".
هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ [[في أ: "هذا الأثر".]] جِدًّا، "وَسَعْدٌ" هَذَا لَا أَعْرِفُهُ [[المعجم الكبير (٣/١٦٨) وقال الهيثمي في المجمع (١٠/٢١٦) : "سعيد بن طالب أبو غيلان وثقه أبو زرعة وابن حبان، وفيه ضعف وبقية رجاله ثقات".]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ﴾ الْآيَةَ، يَعْنِي: فَسَأُوجِبُ حُصُول رَحْمَتِي مِنَّةً مِنِّي وَإِحْسَانًا إِلَيْهِمْ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ﴾ [الْأَنْعَامِ:٥٤] وَقَوْلُهُ: ﴿لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ﴾ أَيْ: سَأَجْعَلُهَا لِلْمُتَّصِفِينَ بِهَذِهِ الصِّفَاتِ، وَهُمْ أُمَّةُ مُحَمَّدٍ ﷺ الَّذِينَ يَتَّقُونَ، أَيْ: الشِّرْكَ وَالْعَظَائِمَ مِنَ الذُّنُوبِ.
﴿وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ﴾ قِيلَ: زَكَاةُ النُّفُوسِ. وَقِيلَ: [زَكَاةُ] [[زيادة من أ.]] الْأَمْوَالِ. وَيُحْتَمَلُ أَنْ تَكُونَ عَامَّةً لَهُمَا؛ فَإِنَّ الْآيَةَ مَكِّيَّةٌ ﴿وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ﴾ أَيْ: يُصَدِّقُونَ.
۞ وَٱكْتُبْ لَنَا فِى هَٰذِهِ ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ إِنَّا هُدْنَآ إِلَيْكَ ۚ قَالَ عَذَابِىٓ أُصِيبُ بِهِۦ مَنْ أَشَآءُ ۖ وَرَحْمَتِى وَسِعَتْ كُلَّ شَىْءٍۢ ۚ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَٰتِنَا يُؤْمِنُونَ
And decree for us in this world [that which is] good and [also] in the Hereafter; indeed, we have turned back to You." [Allah] said, "My punishment - I afflict with it whom I will, but My mercy encompasses all things." So I will decree it [especially] for those who fear Me and give zakah and those who believe in Our verses -
اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰة دیتے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں
و برای ما، در این دنیا و سرای دیگر، نیکی مقرّر فرما؛ چه اینکه ما به سوی تو بازگشت کردهایم! «(خداوند در برابر این تقاضا، به موسی) گفت:» مجازاتم را به هر کس بخواهم میرسانم؛ و رحمتم همه چیز را فراگرفته؛ و آن را برای آنها که تقوا پیشه کنند، و زکات را بپردازند، و آنها که به آیات ما ایمان میآورند، مقرّر خواهم داشت!
Tafsir Ibn Kathir
And Musa chose out of his people seventy (of the best) men for Our appointed time and place of meeting, and when they were seized with a violent earthquake, he said: "O my Lord, if it had been Your Will, You could have destroyed them and me before; would You destroy us for the deeds of the foolish among us? It is only Your trial by which You lead astray whom You will, and keep guided whom You will. You are our protector, so forgive us and have mercy on us: for You are the best of those who forgive (155)"And ordain for us good in this world, and in the Hereafter. Certainly we have Hudna unto You." He said: (As to) My punishment I afflict therewith whom I will and My mercy embraces all things. That (mercy) I shall ordain for those who have Taqwa, and give Zakah; and those who believe in Our Ayat (156)
Seventy Men from the Children of Israel go for the appointed Meeting Place that Allah designated, Allah later on destroys Them
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas commented; "Allah commanded Musa to choose seventy men. So he chose them and proceeded with them in order that they supplicate to their Lord. Their supplication included asking Allah, 'O Allah! Give us what you have never given anyone before us and will never give anyone after us!' Allah disliked this supplication and they were seized with a violent earthquake, Musa said:
رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُم مِّن قَبْلُ وَإِيَّايَ
("O my Lord, if it had been Your will, You could have destroyed them and me before.)'"
As-Suddi said, "Allah commanded Musa to come with thirty men from the Children of Israel, apologizing for worshipping the calf; and He gave them an appointed time and place.
وَاخْتَارَ مُوسَىٰ قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا
(And Musa chose out of his people seventy (of the best) men.)
He chose these men and went along with them so that they could apologize. When they reached the appointed place, they said,
لَن نُّؤْمِنَ لَكَ
(We shall never believe in you), [2:55] 'O Musa,
حَتَّىٰ نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً
(until we see Allah plainly,) for you spoke to Him,' they said, 'therefore, show Him to us,'
فَأَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَةُ
(but they were struck with a bolt of lightning)[4:153] and they died. Musa stood up crying, invoking Allah, 'O Lord! What should I tell the Children of Israel, when I go back to them after You destroyed their best men?'
رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُم مِّن قَبْلُ وَإِيَّايَ
("O my Lord, if it had been Your will, You could have destroyed them and me before").'"
Muhammad bin Ishaq said, "Musa chose seventy of the best men from the Children of Israel. He said to them, 'Go to the meeting with Allah and repent for what you committed. Beg His forgiveness for those of your people whom you left behind. Fast, purify yourselves and clean your clothes.' So, he went with them to Mount Tur in Sinai for the meeting place and time designated by his Lord. He went there only with the leave and knowledge of Allah. According to what has been mentioned to me, when the seventy did what he ordered them to do, and went with him to the meeting of Musa with his Lord, they said, 'Request that we may also hear the words of our Lord.' So he replied, 'I shall.' When Musa approached the mountain it became completely covered with columns of clouds, Musa approached it and entered in them. He said to the people, 'Approach.' But when Allah spoke to Musa, his cloak was surrounded by a brilliant light which no human could bear to look at, so below him a barrier was placed and the people approached. When they entered the cloud they fell prostrate and they heard Him while he was speaking to Musa, commanding him and forbidding him, saying what to do and what not to do. When He completed commanding him, and removed the cloud from Musa, he faced the people and they said, 'O Musa! We will not believe in you unless we see Allah directly.' So the thunder shook them, their souls were captured and they all died. Musa stood up invoking, begging and supplicating to his Lord,
رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُم مِّن قَبْلُ وَإِيَّايَ
("O my Lord, if it had been Your will, You could have destroyed them and me before.")' meaning, 'They were foolish. Would You destroy anyone who comes after me from the Children of Israel?'
Ibn 'Abbas, Qatadah, Mujahid and Ibn Jarir At-Tabari said, "They were seized by the tremor or lightning, because they neither shunned nor forbade their people who worshipped the calf." This is supported by Musa's statement,
أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا
("would You destroy us for the deeds of the fools among us?") He said next,
إِنْ هِيَ إِلَّا فِتْنَتُكَ
("It is only Your Fitnah") affliction, test and trial, according to Ibn 'Abbas, Sa'id bin Jubayr, Abu Al-'Aliyah, Ar-Rabi' bin Anas and several among the Salaf and latter scholars. This is the only plausible meaning, in which Musa says, "The decision is Yours (O Allah), and the judgment, and whatever You will occurs. You misguide whom You will, guide whom You will, and none can guide whom You misguide or misguide whom You guide. There is none who can give what You deprive or avert what You give. The sovereignty is all Yours, and Yours is the judgment, the creation and the decision." The Ayah,
أَنتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ
("You are our protector, so forgive us and have mercy on us: for You are the best of those who forgive."), pertains to (Allah's) covering the mistake and not punishing for the sin. Whenever mercy is mentioned along with forgiveness [such as in Musa's supplication to Allah], it includes the hope that Allah does not permit one to fall into that act again.
وَأَنتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ
("for You are the best of those who forgive,") for none except You can forgive the sin.
وَاكْتُبْ لَنَا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ
("And ordain for us good in this world, and in the Hereafter.")
The first part of Musa's supplication was to fend off what should be avoided, while this part is a request for what is sought. The meaning of,
وَاكْتُبْ لَنَا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ
("And ordain for us good in this world, and in the Hereafter.") is, 'ordain for us and grant us all that is good in both lives. We mentioned the meaning of 'good' before in Surat Al-Baqarah.
إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ
("We have Hudna unto You") 'we repent, go back and return unto You,' according to the meaning of, 'Hudna', given by Ibn 'Abbas, Sa'id bin Jubayr, Mujahid, Abu Al-'Aliyah, Ad-Dahhak, Ibrahim At-Taymi, As-Suddi, Qatadah and several others.
قالَ عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لَلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ
(He said: (As to) My punishment I afflict therewith whom I will and My mercy embraces all things. That (mercy) I shall ordain for those who have Taqwa, and give Zakah; and those who believe in Our Ayat.)[7:156]
Allah's Mercy is for Those Who have Taqwa and believe in Allah's Ayat and His Messenger (ﷺ)
Allah answers the statement,
إِنْ هِيَ إِلَّا فِتْنَتُكَ
("It is only Your trial...")[7:155], by saying,
عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ
((As to) My punishment I afflict therewith whom I will and My mercy embraces all things.)
Allah says here, 'I do what I will, decide what I will and I have wisdom and justice in all matters.' Certainly, there is no deity worthy of worship except Allah. Allah's statement,
وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ
(and My mercy embraces all things) testifies to His encompassing mercy. Allah said that the angels who carry His Throne and those around the Throne supplicate,
رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَعِلْمًا
("Our Lord! You comprehend all things in mercy and knowledge.")[40:7]
Imam Ahmad recorded that Jundub bin 'Abdullah Al-Bajali said, "A bedouin man came, he made his camel kneel and he tied it. Then he prayed behind the Messenger of Allah ﷺ. When the Messenger of Allah ﷺ finished the prayer, that man untied his camel mounted it and supplicated aloud, 'O Allah! Grant Your mercy to me and to Muhammad, and do not give a share in it to anyone else.' The Messenger of Allah ﷺ commented (to his Companions),
أَتَقُولُونَ هَذَا أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ؟
(Do you think that this man is more misguided or his camel Did you not hear what this man has said?) They said, 'Yes.' He said,
لَقَدْ حَظَّرْتَ رَحْمَةً وَاسِعَةً إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَأَنْزَلَ رَحْمَةً يَتَعَاطَفُ بِهَا الخَلْقُ جِنُّهَا وَإِنْسُهَا وَبَهَائِمُهَا وَأَخَّرَ عِنْدَهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ رَحْمَةً أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ؟
(You (the bedouin man) have restricted a vast mercy! Allah, the Exalted, the most Honored has created a hundred mercies and sent down one of them by which the creation, men, Jinn and animals, show mercy to each other. He left with Him ninety-nine mercies, so do you say that this man is more misguided or his camel?) Ahmad and Abu Dawud collected this Hadith.
Imam Ahmad recorded that Salman narrated that the Prophet ﷺ said,
إِنَّ للهِ عَزَّ وَجَلَّ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَمِنْهَا رَحْمَةٌ يَتَرَاحَمُ بِهَا الْخَلْقُ وَبِهَا تَعْطِفُ الْوُحُوشُ عَلَى أَوْلَادِهَا وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
(Allah, the Exalted and Most Honored, has a hundred mercies. With one of them, the creations show mercy to each other, and even the beasts show kindness to their offspring. He has kept ninety-nine mercies with Him for the Day of Resurrection.) Muslim recorded it.
Allah said next,
فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ
(That (mercy) I shall ordain for those who have Taqwa,) meaning, I will ordain My mercy for them, as a favor and kindness from Me to them. Allah said in a similar Ayah,
كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ
(your Lord has written Mercy for Himself)[6:54] Allah's statement,
لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ
(for those who have Taqwa), means, 'I will ordain My mercy for those who possess these qualities, and they are the Ummah of Muhammad,'
لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ
(for those who have Taqwa), who avoid Shirk and major sins,
وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ
(and give the Zakah), purify themselves, according to one opinion. It was also said that, 'the Zakah', here pertains to wealth. It is possible that both meanings are included here, for this Ayah was revealed in Makkah [before Zakah in fixed shares was ordained],
وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ
(and those who believe in Our Ayat.), those who have faith in them.
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ کی رحمت اور انسان چونکہ کلیم اللہ ؑ نے اپنی دعا میں کہا تھا کہ یہ محض تیری طرف سے آزمائش ہے اس کے جواب میں فرمایا جارہا ہے کہ عذاب تو صرف گنہگاروں کو ہی ہوتا ہے اور گنہگاروں میں سے بھی انہی کو جو میری نگاہ میں گنہگار ہیں نہ کہ ہر گنہگار کو۔ میں اپنی حکمت عدل اور پورے علم کے ذریعے سے جانتا ہوں کہ مستحق عذاب کون ہے ؟ صرف اسی کو عذاب پہنچاتا ہے۔ ہاں البتہ میری رحمت بڑی وسیع چیز ہے جو سب پر شامل، سب پر حاوی اور سب پر محیط ہے۔ چناچہ عرش کے اٹھانے والے اور اس کے ارد گرد رہنے والے فرشتے فرماتے رہا کرتے ہیں کہ اے رب تو نے اپنی رحمت اور اپنے علم سے تمام چیزوں کو گھیر رکھا ہے۔ مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی آیا اونٹ بٹھا کر اسے باندھ کر نماز میں حضور ﷺ کے پیچھے کھڑا ہوگیا نماز سے فارغ ہو کر اونٹ کو کھول کر اس پر سوار ہو کر اونچی آواز سے دعا کرنے لگا کہ اے اللہ مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم کر اور اپنی رحمت میں کسی اور کو ہم دونوں کا شریک نہ کر۔ آپ یہ سن کر فرمانے لگے بتاؤ یہ خود راہ گم کردہ ہونے میں بڑھا ہوا ہے یا اس کا اونٹ ؟ تم نے سنا بھی اس نے کیا کہا ؟ صحابہ نے عرض کیا ہاں حضور سن لیا آپ نے فرمایا اے شخص تو نے اللہ کی بہت ہی کشادہ رحمت کو بہت تنگ چیز سمجھ لیا سن اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے سو حصے کئے جن میں سے صرف ایک ہی حصہ دنیا میں اتارا اسی سے مخلوق ایک دوسرے پر ترس کھاتی ہے اور رحم کرتی ہے، اسی سے حیوان بھی اپنی اولاد کے ساتھ نرمی اور رحم کا برتاؤ کرتے ہیں باقی کے ننانوے حصے تو اس کے پاس ہی ہیں جن کا اظہار قیامت کے دن ہوگا اور روایت میں ہے کہ بروز قیامت اسی حصے کے ساتھ اور ننانوے حصے جو موخر ہیں ملا دیئے جایں گے ایک اور روایت میں ہے کہ اسی نازل کردہ ایک حصے میں پرند بھی شریک ہیں۔ طبری میں ہے قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جو اپنے دین میں فاجر ہے جو اپنی معاش میں احمق ہے وہ بھی اس میں داخل ہے۔ اس کی قسم جو میری جان اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے وہ بھی جنت میں جائے گا جو مستحق جہنم ہوگا۔ اس کی قسم جس کے قبضے میں میری روح ہے قیامت کے دن اللہ کی رحمت کے کرشمے دیکھ کر ابلیس بھی امیدوار ہو کر ہاتھ پھیلا دے گا۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کا راوی سعد غری معروف ہے۔ پس میں اپنی اس رحمت کو ان کے لئے واجب کر دونگا اور یہ بھی محض اپنے فضل و کرم سے۔ جیسے فرمان ہے تمہارے رب نے اپنی ذات پر رحمت کو ان کے لئے واجب کردوں گا اور یہ بھی محض اپنے فضل و کرم سے۔ جیسے فرمان ہے تمہارے رب نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کرلیا ہے۔ پس جن پر رحمت رب واجب ہوجائے گی ان کے اوصاف بیان فرمائے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مراد اس سے امت محمد ﷺ ہے جو تقویٰ کریں یعنی شرک سے اور کبیرہ گناہوں سے بچیں زکوٰۃ دیں یعنی اپنے ضمیر کو پاک رکھیں اور مال کی زکوٰۃ بھی ادا کریں ـ (کیونکہ یہ آیت مکی ہے) اور ہماری آیتوں کو مان لیں ان پر ایمان لائیں اور انہیں سچ سمجھیں۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: كَانَ اللَّهُ أمرَه أَنْ يَخْتَارَ مِنْ قَوْمِهِ سَبْعِينَ رَجُلًا فَاخْتَارَ سَبْعِينَ رَجُلًا فَبَرَزَ بِهِمْ لِيَدْعُوا رَبَّهُمْ، فَكَانَ فِيمَا دَعَوُا اللَّهَ قَالُوا: اللَّهُمَّ أَعْطِنَا مَا لَمْ تُعْطِهِ أَحَدًا قَبْلَنَا وَلَا تُعْطِهِ أَحَدًا بَعْدَنَا فَكَرِهَ اللَّهُ ذَلِكَ مِنْ دعائهم، فأخذتهم الرجفة، قال موسى: ﴿رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِيَّايَ﴾ الْآيَةَ.
وَقَالَ السُّدِّي: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَ مُوسَى أَنْ يَأْتِيَهُ فِي نَاسٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ مِنْ عِبَادَةِ الْعِجْلِ، وَوَعْدَهُمْ مَوْعِدًا، فَاخْتَارَ مُوسَى قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا عَلَى عَيْنِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمْ لِيَعْتَذِرُوا. فَلَمَّا أَتَوْا ذَلِكَ الْمَكَانَ قَالُوا: لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ يَا مُوسَى حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً، فَإِنَّكَ قَدْ كَلَّمْتَهُ، فأرناه. فأخذتهم الصَّاعِقَةُ فَمَاتُوا، فَقَامَ مُوسَى يَبْكِي وَيَدْعُو اللَّهَ وَيَقُولُ: رَبِّ، مَاذَا أَقُولُ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِذَا لَقِيتُهُمْ [[في أ: "أتيتهم".]] وَقَدْ أَهْلَكْتَ خِيَارَهُمْ؟ ﴿رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِيَّايَ﴾
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: اخْتَارَ مُوسَى مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَبْعِينَ رَجُلًا الخيّرَ فَالْخَيِّرَ، وَقَالَ: انْطَلِقُوا إِلَى اللَّهِ فَتُوبُوا إِلَيْهِ مِمَّا صَنَعْتُمْ، وسَلُوه التَّوْبَةَ عَلَى مَنْ تَرَكْتُمْ وَرَاءَكُمْ مِنْ قَوْمِكُمْ، صُومُوا وتطهَّروا، وطهِّروا ثِيَابَكُمْ. فَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى طُور سَيْناء، لِمِيقَاتٍ وقَّته لَهُ رَبُّهُ، وَكَانَ لَا يَأْتِيهِ إِلَّا بِإِذْنٍ مِنْهُ وَعِلْمٍ -فَقَالَ لَهُ السَّبْعُونَ -فِيمَا ذُكِرَ لِي -حِينَ صَنَعُوا مَا أَمَرَهُمْ بِهِ، وَخَرَجُوا مَعَهُ لِلِقَاءِ رَبِّهِ، [فَقَالُوا] [[زيادة من أ.]] لِمُوسَى: اطْلُبْ لَنَا نَسْمَعْ كَلَامَ رَبِّنَا. فَقَالَ: أَفْعَلُ. فَلَمَّا دَنَا مُوسَى مِنَ الْجَبَلِ، وَقَعَ عَلَيْهِ عمودُ الْغَمَامُ، حَتَّى تَغَشَّى الْجَبَلَ كُلَّهُ. وَدَنَا مُوسَى فَدَخَلَ فِيهِ، وَقَالَ لِلْقَوْمِ: ادْنُوا. وَكَانَ مُوسَى إِذَا كَلَّمَهُ [[في ك: "كلم".]] اللَّهُ وَقَعَ عَلَى جَبْهَةِ مُوسَى نُورٌ سَاطِعٌ، لَا يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ مِنْ بَنِي آدَمَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ. فَضُرِبَ دُونَهُ بِالْحِجَابِ. وَدَنَا الْقَوْمُ، حَتَّى إِذَا دَخَلُوا وَقَعُوا سُجُودا [[في أ: "سجدا".]] فَسَمِعُوهُ وَهُوَ يُكَلِّمُ مُوسَى، يَأْمُرُهُ وَيَنْهَاهُ: افْعَلْ، وَلَا تَفْعَلْ. فَلَمَّا فَرَغَ إِلَيْهِ مِنْ أَمْرِهِ، انْكَشَفَ عَنْ مُوسَى الْغَمَامُ، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِمْ، فَقَالُوا لِمُوسَى: لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً. فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ -وَهِيَ الصَّاعِقَةُ -فافتُلتَت [[في أ: "فالتقت".]] أَرْوَاحُهُمْ، فَمَاتُوا جَمِيعًا. فَقَامَ مُوسَى يُنَاشِدُ رَبَّهُ وَيَدْعُوهُ وَيَرْغَبُ إِلَيْهِ، وَيَقُولُ: ﴿رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِيَّايَ﴾ قَدْ سَفِهُوا، أَفَنُهْلِكُ مَنْ وَرَائِي مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ.
وَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَبْدٍ السَّلُولي، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: انْطَلَقَ مُوسَى وَهَارُونُ وَشَبَّرُ وَشَبِيرُ، فَانْطَلَقُوا إِلَى سَفْحِ جَبَل، فَنَامَ [[في أ: "فقام".]] هَارُونُ عَلَى سَرِيرٍ، فَتَوَفَّاهُ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ. فَلَمَّا رَجَعَ مُوسَى إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالُوا لَهُ: أَيْنَ هَارُونُ؟ قَالَ: تَوَفَّاهُ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ. قَالُوا [لَهُ] [[زيادة من ك.]] أَنْتَ قَتَلْتَهُ، حَسَدتنا عَلَى خُلقه وَلِينِهِ -أَوْ كَلِمَةٍ نَحْوَهَا -قَالَ: فَاخْتَارُوا مَنْ شِئْتُمْ. قَالَ: فَاخْتَارُوا سَبْعِينَ رَجُلًا. قَالَ: فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَاخْتَارَ مُوسَى قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلا﴾ فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَيْهِ قَالُوا: يَا هَارُونُ، مَنْ قَتَلَكَ؟ قَالَ: مَا قَتَلَنِي أَحَدٌ، وَلَكِنْ تَوَفَّانِي اللَّهُ. قَالُوا: يَا مُوسَى، لَنْ تُعْصَى بَعْدَ الْيَوْمِ. قَالَ: فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ. قَالَ: فَجَعَلَ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، يُرْجِعُ يَمِينًا وَشِمَالًا وَقَالَ: يَا ﴿رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِيَّايَ أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا إِنْ هِيَ إِلا فِتْنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَاءُ وَتَهْدِي مَنْ تَشَاءُ﴾ قَالَ: فَأَحْيَاهُمُ اللَّهُ وَجَعَلَهُمْ أَنْبِيَاءَ كُلَّهُمْ.
هَذَا أَثَرٌ غَرِيبٌ جِدًّا، وَعِمَارَةُ بْنُ عَبْدٍ [[في ك: "عبيد".]] هَذَا لَا أَعْرِفُهُ. وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلُولَ عَنْ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ [[تفسير الطبري (١٣/١٤٢) وفي إسناده عمارة بن عبد السلولي. قال الذهبي في ميزان الاعتدال: "عمارة بن عبد، عن علي، مجهول لا يحتج به. قاله أبو حاتم. وقال أحمد: مستقيم الحديث لا يروى عنه غير أبي إسحاق".]]
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُجَاهِدٌ وَقَتَادَةُ وَابْنُ جُرَيْج: إِنَّمَا أَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ لِأَنَّهُمْ لَمْ يُزَايِلُوا قَوْمَهُمْ فِي عِبَادَتِهِمُ الْعِجْلَ، وَلَا نَهْوَهُمْ، وَيَتَوَجَّهُ هَذَا الْقَوْلُ بِقَوْلِ موسى: ﴿أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنْ هِيَ إِلا فِتْنَتُكَ﴾ أَيِ: ابْتِلَاؤُكَ وَاخْتِبَارُكَ وَامْتِحَانُكَ. قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَأَبُو الْعَالِيَةِ، وَرَبِيعُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَاءِ السَّلَفِ وَالْخَلَفِ. وَلَا مَعْنَى لَهُ غَيْرَ ذَلِكَ؛ يَقُولُ: إِنِ الأمرُ إِلَّا أمرُك، وَإِنِ الحكمُ إِلَّا لَكَ، فَمَا شِئْتَ كَانَ، تَضِلُّ مَنْ تَشَاءُ، وَتَهْدِي مَنْ تَشَاءُ، وَلَا هَادِيَ لِمَنْ أَضْلَلْتَ، وَلَا مُضِل لِمَنْ هَدَيت، وَلَا مُعطِي لِمَا مَنَعت، وَلَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، فَالْمُلْكُ كُلُّهُ لَكَ، وَالْحُكْمُ كُلُّهُ لَكَ، لَكَ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَنْتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ﴾ الغَفْر هُوَ: السَّتْرُ، وَتَرْكُ الْمُؤَاخَذَةِ بِالذَّنْبِ، وَالرَّحْمَةُ إِذَا قُرِنَتْ مَعَ الْغَفْرِ، يُرَادُ بِهَا أَلَّا يُوقِعَهُ فِي مِثْلِهِ فِي الْمُسْتَقْبَلِ، ﴿وَأَنْتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ﴾ أَيْ: لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ﴿وَاكْتُبْ لَنَا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ﴾ هُنَاكَ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ مِنَ الدُّعَاءِ دَفْعُ الْمَحْذُورِ، وَهَذَا لِتَحْصِيلِ الْمَقْصُودِ ﴿وَاكْتُبْ لَنَا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ﴾ أَيْ: أَوْجِبْ لَنَا وَأَثْبِتْ لَنَا فِيهِمَا حَسَنَةً، وَقَدْ تَقَدَّمَ [تَفْسِيرُ] [[زيادة من ك، م، أ.]] ذَلِكَ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ. [الْآيَةَ:٢٠١]
﴿إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ﴾ أَيْ: تُبْنَا وَرَجَعْنَا وَأَنَبْنَا إِلَيْكَ. قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَير، وَمُجَاهِدٌ، وَأَبُو الْعَالِيَةِ، وَالضَّحَّاكُ، وَإِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ، والسُّدِّي، وَقَتَادَةُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ. وَهُوَ كَذَلِكَ لُغَة.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَكِيع، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجيَّ [[في أ: "يحيى".]] عَنْ عَلِيٍّ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] قَالَ: إِنَّمَا سُمِّيَتِ الْيَهُودُ لِأَنَّهُمْ قَالُوا: ﴿إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ﴾
جَابِرٌ -هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الجُعْفي -ضَعِيفٌ.
قَالَ تَعَالَى مُجِيبًا لِمُوسَى فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنْ هِيَ إِلا فِتْنَتُكَ [تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَاءُ وَتَهْدِي مَنْ تَشَاءُ] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] الْآيَةَ: ﴿عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ [فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ] ﴾ [[زيادة من م.]] أَيْ: أَفْعَلُ مَا أَشَاءُ، وَأَحْكُمُ مَا أُرِيدُ، وَلِيَ الْحِكْمَةُ وَالْعَدْلُ فِي كُلِّ ذَلِكَ، سُبْحَانَهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ﴾ آيَةٌ عَظِيمَةُ الشُّمُولِ وَالْعُمُومِ، كَقَوْلِهِ إِخْبَارًا عَنْ حَمَلة الْعَرْشِ وَمَنْ حَوْلَهُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ: ﴿رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا﴾ [غَافِرٍ:٧]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الجُرَيري، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الجُشَمي، حَدَّثَنَا جُنْدُب -هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ البَجَلي، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ عَقَلها ثُمَّ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ. فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَتَى رَاحِلَتَهُ فَأَطْلَقَ عِقَالَهَا، ثُمَّ رَكِبَهَا، ثُمَّ نَادَى: اللَّهُمَّ، ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَتَقُولُونَ هَذَا أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ؟ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ؟ " قَالُوا: بَلَى. قَالَ: "لَقَدْ حَظَرْت [[في د: "حجرت".]] رَحْمَةً وَاسِعَةً؛ إن الله، عز وَجَلَّ، خَلَقْ مِائَةَ رَحْمَةٍ، فَأَنْزَلَ رَحْمَةً وَاحِدَةً يَتَعَاطَفُ بِهَا الْخَلْقُ؛ جِنُّهَا وَإِنْسُهَا وَبَهَائِمُهَا، وأخَّرَ عِنْدَهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ [[في ك، م: "تسعا وتسعون"، وفي أ: "تسع وتسعون".]] رَحْمَةً، أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ؟ ".
رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، بِهِ [[المسند (٤/٣١٢) وسنن أبي داود برقم (٤٨٨٥) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِنْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، مِائَةَ رَحْمَةٍ، فَمِنْهَا رَحْمَةٌ يتراحمُ بِهَا الْخَلْقُ، وَبِهَا تَعْطِفُ الْوُحُوشُ عَلَى أَوْلَادِهَا، وَأَخَّرَ تِسْعًا وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
تَفَرَّدَ [[في ك، م، أ: "انفرد".]] بِإِخْرَاجِهِ مُسْلِمٌ، فَرَوَاهُ مِنْ حَدِيثِ سُلَيمان -هُوَ ابْنُ طِرْخان -وَدَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ -وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلٍّ [[في أ: "بن مثل".]] -عَنْ سَلْمَانَ، هُوَ الْفَارِسِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، بِهِ [[المسند (٥/٤٣٩) وصحيح مسلم برقم (٢٧٥٣) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَة، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ النَّبِيَّ [[في ك، أ: "عن النبي"، وفي م: "عن رسول الله".]] ﷺ قَالَ: "لِلَّهِ مِائَةُ رَحْمَةٍ، عِنْدَهُ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، وَجَعْلِ عِنْدَكُمْ وَاحِدَةً تَتَرَاحَمُونَ بِهَا بَيْنَ [[في أ: "من".]] الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَبَيْنَ الْخَلْقِ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ضَمَّهَا إِلَيْهِ". تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ [[المسند (٣/٥٥) .]]
وَقَالَ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لِلَّهِ مِائَةُ رَحْمَةٍ، فَقَسَّمَ مِنْهَا جُزْءًا وَاحِدًا بَيْنَ الْخَلْقِ، فِيهِ يَتَرَاحَمُ النَّاسُ وَالْوَحْشُ وَالطَّيْرُ".
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهِ [[المسند (٣/٥٥) ، وسنن ابن ماجة برقم (٤٢٩٤) .]]
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا سَعْدٌ أَبُو غَيْلان الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَر، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ الفاجرُ فِي دِينِهِ، الْأَحْمَقُ فِي مَعِيشَتِهِ. وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ الَّذِي قَدْ مَحَشته النَّارُ بِذَنْبِهِ. وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيَغْفِرَنَّ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْفِرَةً يَتَطَاوَلُ لَهَا إِبْلِيسُ رَجَاءَ أَنْ تُصِيبَهُ".
هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ [[في أ: "هذا الأثر".]] جِدًّا، "وَسَعْدٌ" هَذَا لَا أَعْرِفُهُ [[المعجم الكبير (٣/١٦٨) وقال الهيثمي في المجمع (١٠/٢١٦) : "سعيد بن طالب أبو غيلان وثقه أبو زرعة وابن حبان، وفيه ضعف وبقية رجاله ثقات".]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ﴾ الْآيَةَ، يَعْنِي: فَسَأُوجِبُ حُصُول رَحْمَتِي مِنَّةً مِنِّي وَإِحْسَانًا إِلَيْهِمْ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ﴾ [الْأَنْعَامِ:٥٤] وَقَوْلُهُ: ﴿لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ﴾ أَيْ: سَأَجْعَلُهَا لِلْمُتَّصِفِينَ بِهَذِهِ الصِّفَاتِ، وَهُمْ أُمَّةُ مُحَمَّدٍ ﷺ الَّذِينَ يَتَّقُونَ، أَيْ: الشِّرْكَ وَالْعَظَائِمَ مِنَ الذُّنُوبِ.
﴿وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ﴾ قِيلَ: زَكَاةُ النُّفُوسِ. وَقِيلَ: [زَكَاةُ] [[زيادة من أ.]] الْأَمْوَالِ. وَيُحْتَمَلُ أَنْ تَكُونَ عَامَّةً لَهُمَا؛ فَإِنَّ الْآيَةَ مَكِّيَّةٌ ﴿وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ﴾ أَيْ: يُصَدِّقُونَ.
ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِىَّ ٱلْأُمِّىَّ ٱلَّذِى يَجِدُونَهُۥ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَىٰهُمْ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ ٱلْخَبَٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَٱلْأَغْلَٰلَ ٱلَّتِى كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِهِۦ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَٱتَّبَعُوا۟ ٱلنُّورَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ ۙ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ
Those who follow the Messenger, the unlettered prophet, whom they find written in what they have of the Torah and the Gospel, who enjoins upon them what is right and forbids them what is wrong and makes lawful for them the good things and prohibits for them the evil and relieves them of their burden and the shackles which were upon them. So they who have believed in him, honored him, supported him and followed the light which was sent down with him - it is those who will be the successful.
وہ جو (محمدﷺ) رسول (الله) کی جو نبی اُمی ہیں پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں۔ اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) تھے اتارتے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی۔ اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی۔ وہی مراد پانے والے ہیں
همانها که از فرستاده (خدا)، پیامبر «امّی» پیروی میکنند؛ پیامبری که صفاتش را، در تورات و انجیلی که نزدشان است، مییابند؛ آنها را به معروف دستور میدهد، و از منکر باز میدارد؛ اشیار پاکیزه را برای آنها حلال میشمرد، و ناپاکیها را تحریم می کند؛ و بارهای سنگین، و زنجیرهایی را که بر آنها بود، (از دوش و گردنشان) بر میدارد، پس کسانی که به او ایمان آوردند، و حمایت و یاریش کردند، و از نوری که با او نازل شده پیروی نمودند، آنان رستگارانند.
Tafsir Ibn Kathir
Those who follow the Messenger, the Prophet who can neither read nor write whom they find written of with them in the Tawrah and the Injil, – he commands them to do good; and forbids them from evil; he makes lawful for them the good things, and forbids them from the evil things, he releases them from their heavy burdens and from the fetters that were upon them. So those who believe in him, honor him, help him, and follow the light which has been sent down with him, it is they who will be successful (157)
The Description of that Messenger (ﷺ)
الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ
(Those who follow the Messenger, the Prophet who can neither read nor write whom they find written with them in the Tawrah and the Injil,)
This is the description of the Prophet Muhammad ﷺ in the Books of the Prophets. They delivered the good news of his advent to their nations and commanded them to follow him. His descriptions were still apparent in their Books, as the rabbis and the priests well know. Imam Ahmad recorded that Abu Sakhr Al-'Uqayli said that a bedouin man said to him, "I brought a milk-producing camel to Al-Madinah during the life time of Allah's Messenger. After I sold it, I said to myself, 'I will meet that man (Muhammad) and hear from him.' So I passed by him while he was walking between Abu Bakr and 'Umar, and I followed them until they went by a Jewish man, who was reading from an open copy of the Tawrah. He was mourning a son of his who was dying and who was one of the most handsome boys. The Messenger of Allah ﷺ asked him (the father),
أَنْشُدُكَ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ هَلْ تَجِدُ فِي كِتَابِكَ هَذَا صِفَتِي وَمَخْرَجِي؟
(I ask you by He Who has sent down the Tawrah, do you not find the description of me and my advent in your Book?)
He nodded his head in the negative. His son said, 'Rather, yes, by He Who has sent down the Tawrah! We find the description of you and your advent in our Book. I bear witness that there is no deity worthy of worship except Allah and that you are the Messenger of Allah.' The Prophet ﷺ said (to the Companions),
أَقِيمُوا الْيَهُودِيَّ عَنْ أَخِيكُم
(Stop the Jew (the father) from (taking care of) your brother (in Islam).)
The Prophet ﷺ then personally took care of the son's funeral and led the funeral prayer on him.'" This Hadith is sound and is supported by a similar Hadith in the Sahih narrated from Anas.
Ibn Jarir recorded that Al-Muthanna said that 'Ata' bin Yasar said, "I met 'Abdullah bin 'Amr and asked him, 'Tell me about the description of Allah's Messenger ﷺ in the Tawrah.' He said, 'Yes, by Allah! He is described in the Tawrah, just as he is described in the Qur'an,
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا
(O Prophet! Verily, We have sent you as a witness, and a bearer of glad tidings, and a warner.)[33:45] as a safe refuge for the unlettered ones. 'You are My servant and Messenger. I have called you 'Al-Mutawakkil' (who trusts in Allah), not hard or harsh.' Neither uttering foul speech in the markets nor returning evil deed with one in kind. Rather, he forgives and forgoes. Allah will not end his life until He straightens through him the crooked religion, so that they might proclaim, 'There is no deity worthy of worship except Allah.' He will open through him sealed hearts, deaf ears and blind eyes.'" 'Ata' then said, "I also met Ka'b and asked him the same question, and his answer did not differ from 'Abdullah's answer, even concerning one letter. " Al-Bukhari recorded it from 'Abdullah bin 'Amr. It was also recorded by Al-Bukhari [up to the word] forgoes. And he mentioned the narration of 'Abdullah bin 'Amr then he said; "It was common in the speech of our Salaf that they describe the Books of the People of the Two Scriptures as the Tawrah, as some Hadiths concur. Allah knows best."
Allah's statement,
يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ
(He commands them to do good; and forbids them from evil;)
This is the description of the Messenger of Allah ﷺ in previous Books. These were the true qualities of our Messenger ﷺ, as well, for he only ordained good and forbade evil. We should mention here that 'Abdullah bin Mas'ud said, "When you hear Allah's statement,
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا
(O you who believe!), then pay it your full attention, for it is a good that you are being commanded, or an evil that you are being forbidden." And the most important and greatest of these commands and prohibitions, is that Allah has sent the Messenger ﷺ to order worshipping Him Alone without partners and forbid worshipping others besides Him. This is the Message that Allah has sent all Messengers with before Muhammad ﷺ, just as Allah said,
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ
(And verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah, and avoid the Taghut (false deities)")[16:36]. Allah's statement,
وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ
(He makes lawful for them the good things, and forbids them from the evil things,) meaning, he makes the Bahirah, Sa'ibah, Wasilah and Ham, etc., lawful. They were prohibitions that they invented which were only hard for themselves. He also forbids them from evil things, such as the flesh of the pig, Riba, and foods that were treated as lawful although Allah the Exalted had forbidden them. 'Ali bin Abi Talhah reported this from Ibn 'Abbas. Allah's statement,
وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ
(He (Muhammad) releases them from their heavy burdens, and from the fetters that were upon them.) indicates that Muhammad ﷺ came with leniency and an easy religion. As mentioned in the Hadith recorded from many routes that Allah's Messenger ﷺ said,
بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ
(I was sent with the easy way of Hanifiyyah [monotheism])
The Prophet ﷺ said to the two Commanders he appointed, Mu'adh and Abu Musa Al-Ash'ari, when he sent them to Yemen,
بَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا وَيَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا
(Bring glad tidings and do not drive people away, make things easy and do not make them difficult, obey each other and do not differ among yourselves).
Abu Barzah Al-Aslami, the Prophet's Companion, said, "I accompanied the Messenger of Allah and saw how easy he was. The nations that were before us had things made difficult for them in their laws. Allah made the law encompassing and easy for this Ummah. Hence the statement of the Messenger of Allah,
إِنَّ اللهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسُهَا مَا لَمْ تَقُلْ أَوْ تَعْمَل
(Allah has forgiven my Ummah for what occurs in themselves, as long as they do not utter it or act upon it.)
The Prophet ﷺ said,
رُفِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْيَانُ وَمَا اسُتُكْرِهُوا عَلَيْهِ
(My Ummah was forgiven (by Allah) unintentional errors, forgetfulness and what they are forced to do.)"
This is why Allah has guided this Ummah to proclaim,
رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
("Our Lord! Punish us not if we forget or fall into error, our Lord! Lay not on us a burden like that which You did lay on those before us (Jews and Christians); our Lord! Put not on us a burden greater than we have strength to bear. Pardon us and grant us forgiveness. Have mercy on us. You are our Mawla (Patron, Supporter and Protector) and give us victory over the disbelieving people.)[2:286]
It is recorded in Sahih Muslim that [the Prophet ﷺ said that] Allah the Exalted said after every one of these supplications, "I shall accept (your supplication)." Allah's statement,
فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ
(So those who believe in him, honor him, help him.) refers to respecting and honoring Muhammad ﷺ,
وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ
(and follow the light which has been sent down with him,) the Qur'an and the revelation [Sunnah] that the Prophet delivered to mankind,
أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(it is they who will be successful.) in this life and the Hereafter.
Tafsir Ibn Kathir
سابقہ کتابوں میں آخری پیغمبر خاتم الانبیاء ﷺ کے جو اوصاف بیان ہوئے تھے جس سے ان نبیوں کی امت آپ کو پہچان جائے وہ بیان ہو رہے ہیں سب کو حکم تھا کہ ان صفات کا پیغمبر اگر تمہارے زمانے میں ظاہر ہو تو تم سب ان کی تابعداری میں لگ جانا۔ مسند احمد میں ہے ایک صاحب فرماتے ہیں میں کچھ خریدو فروخت کا سامان لے کر مدینے آیا جب اپنی تجارت سے فارغ ہوا تو میں نے کہا اس شخص سے بھی مل لوں میں چلا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ ابوبکر و عمر کے ساتھ کہیں جا رہے ہیں میں بھی پیچھے پیچھے چلنے لگا آپ ایک یہودی عالم کے گھر گئے اس کا نوجوان خوبصورت تنومند بیٹا نزع کی حالت میں تھا اور وہ اپنے دل کو تسکین دینے کیلئے تورات کھولے ہوئے اس کے پاس بیٹھا ہوا تلاوت کر رہا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا کہ تجھے اس کی قسم جس نے یہ تورات نازل فرمائی ہے کیا میری صفت اور میرے معبوث ہونے کی خبر اس میں تمہارے پاس ہے یا نہیں ؟ اس نے اپنے سر کے اشارے سے انکار کیا۔ اسی وقت اس کا وہ بچہ بول اٹھا کہ اس کی قسم جس نے تورات نازل فرمائی ہے ہم آپ کی صفات اور آپ کے آنے کا پورا حال اس تورات میں موجود پاتے ہیں اور میری تہہ دل سے گواہی ہے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور آپ اس کے سچے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا اس یہودی کو اپنے بھائی کے پاس سے ہٹاؤ پھر آپ ہی اس کے کفن دفن کے والی بنے اور اس کے جنازے کی نماز پڑھائی۔ مستدرک حاکم میں ہے حضرت ہشام بن عاص اموی فرماتے ہیں کہ میں اور ایک صاحب روم کے بادشاہ ہرقل کو دعوت اسلام دینے کیلئے روانہ ہوئے۔ غوطہ دمشق میں پہنچ کر ہم حیلہ بن ایم غسانی کے ہاں گئے اس نے اپنا قاصد بھیجا کہ ہم اس سے باتین کرلیں۔ ہم نے کہا واللہ ہم تم سے کوئی بات نہ کریں گے ہم بادشاہ کے پاس بھیجے گئے ہیں اگر وہ چاہیں تو ہم سے خود سنیں اور خود جواب دیں ورنہ ہم قاصدوں سے گفتگو کرنا نہیں چاہتے۔ قاصدوں نے یہ خبر بادشاہ کو پہنچائی اس نے اجازت دی اور ہمیں اپنے پاس بلا لیا چناچہ میں نے اس سے باتیں کیں اور اسلام کی دعوت دی۔ وہ اس وقت سیاہ لباس پہنے ہوئے تھا کہنے لگا کہ دیکھ میں نے یہ لباس پہن رکھا ہے اور حلف اٹھایا ہے کہ جب تک تم لوگوں کو شام سے نہ نکال دوں گا اس سیاہ لبادے کو نہ اتاروں گا۔ قاصد اسلام نے یہ سن کر پھر کہا بادشاہ ہوش سنبھالو اللہ کی قسم یہ آپ کے تخت کی جگہ اور آپ کے بڑھے بادشاہ کا پائے تخت بھی انشاء اللہ عنقریب ہم اپنے قبضے میں کرلیں گے۔ یہ کوئی ہماری ہوس نہیں بلکہ ہمارے نبی ﷺ سے ہمیں یہ پختہ خبر مل چکی ہے۔ اس نے کہا تم وہ لوگ نہیں ہاں ہم سے ہمارا یہ تخت و تاج و قوم چھینے گی جو دنوں کو روزے سے رہتے ہوں اور راتوں کو تہجد پڑھتے ہوں۔ اچھا تم بتاؤ تمہارے روزے کے احکام کیا ہیں ؟ اب جو ہم نے بتائے تو اس کا منہ کالا ہوگیا۔ اس نے اسی وقت ہمارے ساتھ اپنا ایک آدمی کردیا اور کہا انہیں شاہ روم کے پاس لے جاؤ جب ہم اس کے پائے تخت کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا تم اس حال میں تو اس شہر میں نہیں جاسکتے اگر تم کہو تو میں تمہارے لئے عمدہ سواریاں لا دوں ان پر سوار ہو کر تم شہر میں چلو ہم نے کہا ناممکن ہے ہم تو اسی حالت میں انہی سواریوں پر چلیں گے انہوں نے بادشاہ سے کہلوا بھیجا وہاں سے اجازت آئی کہ اچھا انہیں اونٹوں پر ہی لے آؤ ہم اپنے اونٹوں پر سوار گلے میں تلواریں لٹائے شاہی محل کے پاس پہنچے وہاں ہم نے اپنی سواریاں بٹھائیں بادشاہ دریچے میں سے ہمیں دیکھ رہا تھا ہمارے منہ سے بےساختہ دعا (لا الہ الا اللہ واللہ اکبر) کا نعرہ نکل گیا۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ اسی وقت شام اور روم کا محل تھرا اٹھا اس طرح جس طرح کسی خوشے کو تیز ہوا کا جھونکا ہلا رہا ہو اسی وقت محل سے شاہی قاصد دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا آپ کو یہ نہیں چاہئے کہ اپنے دین کو اس طرح ہمارے سامنے اعلان کرو، چلو تم کو بادشاہ سلامت یاد کر رہے ہیں چناچہ ہم اس کے ساتھ دربار میں گئے دیکھا کہ چاروں طرف سرخ مخمل اور سرخ ریشم ہے خود بھی سرخ لباس پہنے ہوئے ہے تمام دربار پادریوں اور ارکان سلطنت سے بھرا ہوا ہے۔ جب ہم پاس پہنچ گئے تو مسکرا کر کہنے لگا جو سلام تم میں آپس میں مروج ہے تم نے مجھے وہ سلام کیوں نہ کیا ؟ ترجمان کی معرفت ہمیں بادشاہ کا یہ سوال پہنچا تو ہم نے جواب دیا کہ جو سلام ہم میں ہے اس کے لائق تم نہیں اور جو آداب کا دستور تم میں ہے وہ ہمیں پسند نہیں۔ اس نے کہا اچھا تمہارا سلام آپس میں کیا ہے ؟ ہم نے کہا السلام علیکم اس نے کہا اپنے بادشاہ کو تم کس طرح سلام کرتے ہو ؟ ہم نے کہا صرف ان ہی الفاظ سے۔ پوچھا اچھا وہ بھی تمہیں کوئی جواب دیتے ہیں ہم نے کہا یہی الفاظ وہ کہتے ہیں۔ بادشاہ نے دریافت کیا کہ تمہارے ہاں سب سے بڑا کلمہ کون سا ہے ؟ ہم نے کہا دعا (لا الہ الا اللہ واللہ اکبر)۔ اللہ عزوجل کی قسم ادھر ہم نے یہ کلمہ کہا ادھر پھر سے محل میں زلزلہ پڑا یہاں تک کہ سارا دربار چھت کی طرف نظریں کر کے سہم گیا۔ بادشاہ ہیبت ذدہ ہو کر پوچھنے لگا کیوں جی اپنے گھروں میں بھی جب کبھی تم یہ کلمہ پڑھتے ہو تمہارے گھر بھی اس طرح زلزلے میں آجاتے ہیں ؟ ہم نے کہا کبھی نہیں ہم نے تو یہ بات یہیں آپ کے ہاں ہی دیکھی ہے۔ بادشاہ کہنے لگا کاش کہ تم جب کبھی اس کلمے کو کہتے تمام چیزیں اسی طرح ہل جاتیں اور میرا آدھا ملک ہی رہ جاتا۔ ہم نے پوچھا یہ کیوں ؟ اس نے جواب دیا اس لئے کہ یہ آسان تھا بہ نسبت اس بات کے کہ یہ امر نبوت ہو۔ پھر اس نے ہم سے ہمارا ارادہ دریافت کیا ہم نے صاف بتایا۔ اس نے کہا اچھا یہ بتاؤ کہ تم نماز کس طرح پڑھتے ہو اور روزہ کس طرح رکھتے ہو ؟ ہم نے دونوں باتیں بتادیں اس نے اب ہمیں رخصت کیا اور بڑے اکرام و احترام سے ہمیں شاہی معزز مہمانوں میں رکھا۔ تین دن جب گذرے تو رات کے وقت ہمیں قاصد بلا نے آیا ہم پھر دربار میں گئے تو اس نے ہم سے پھر ہمارا مطلب پوچھا ہم نے اسے دوہرایا پھر اس نے ایک حویلی کی شکل کی سونا منڈھی ہوئی ایک چیز منگوائی جس میں بہت سارے مکانات تھے اور ان کے دروازے تھے اس نے اسے کنجی سے کھول کر ایک سیاہ رنگ کا ریشمی جامہ نکالا ہم نے دیکھا کہ اس میں ایک شخص ہے جس کی بڑی بڑی آنکھیں ہیں بڑی رانیں ہیں۔ بڑی لمبی اور گھنی داڑھی ہے اور سر کے بال دو حصوں میں نہایت کو خوبصورت لمبے لمبے ہیں ہم سے پوچھا انہیں جانتے ہو ؟ ہم نے کہا نہیں۔ کہا یہ حضرت آدم ؑ ہیں ان کے جسم پر بال بہت ہی تھے۔ پھر دوسرا دروازہ کھول کر اس میں سے سیاہ رنگ ریشم کا پارچہ نکالا جس میں ایک سفید صورت تھی جس کے گھونگر والے بال تھے سرخ رنگ آنکھیں تھیں بڑے کلے کے آدمی تھے اور بڑی خوش وضع داڑھی تھی ہم سے پوجھا انہیں پہچانتے ہو ؟ ہم نے انکار کیا تو کہا یہ حضرت نوح ؑ ہیں۔ پھر ایک دروازہ کھول کر اس میں سے سیاہ ریشمی کپڑا نکالا اس میں ایک شخص تھا نہایت ہی گورا چٹا رنگ، بہت خوبصورت آنکھیں، کشادہ پیشانی، لمبے رخسار، سفید داڑھی، یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ مسکرا رہے ہیں۔ ہم سے پوچھا انہیں پہچانا ؟ ہم نے انکار کیا تو کہا یہ حضرت ابراہیم ؑ ہیں۔ پھر ایک دروازہ کھولا اس میں سے ایک خوبصورت سفید شکل دکھائی دی جو ہو بہو رسول اللہ ﷺ کی تھی۔ ہم سے پوچھا انہیں پہچانتے ہو ؟ ہم نے کہا یہ حضرت محمد ہیں ﷺ ہیں۔ یہ کہا اور ہمارے آنسو نکل آئے۔ بادشاہ اب تک کھڑا ہوا تھا اب وہ بیٹھ گیا اور ہم سے دوبارہ پوچھا کہ یہی شکل حضور کی ہے ہم نے کہا واللہ یہی ہے اسی طرح کہ گویا تو آپ کو آپ کی زندگی میں دیکھ رہا ہے۔ پس وہ تھوڑی دیر تک غور سے اسے دیکھتا رہا پھر ہم سے کہنے لگا کہ یہ آخری گھر تھا لیکن میں نے اور گھروں کو چھوڑ کر اسے بیچ میں ہی اس لئے کھول دیا کہ تمہیں آزما لوں کہ تم پہچان جاتے ہو یا نہیں۔ پھر ایک اور دروازہ کھول کر اس میں سے بھی سیاہ رنگ ریشمی کپڑا نکالا جس میں ایک گندم گوں نرمی والی صورت تھی۔ بال گھنگھریالے آنکھیں گہری نظریں تیز تیور تیکھے دانت پر دانت ہونٹ موٹے ہو رہے تھے جیسے کہ غصے میں بھرے ہوئے ہیں۔ ہم سے پوچھا انہیں پہنچانا ؟ ہم نے انکار کیا بادشاہ نے کہا یہ حضرت موسیٰ ؑ ہیں۔ اسی کے متصل ایک اور صورت تھی جو قریب قریب اسی کی سی تھی۔ مگر ان کے سر کے بال گویا تیل لگے ہوئے تھے۔ ماتھا کشادہ تھا، آنکھوں میں کچھ فراخی تھی ہم سے پوچھا انہیں جانتے ہو ؟ ہمارے انکار پر کہا یہ حضرت ہارون بن عمران ؑ ہیں۔ پھر ایک دروازہ کھول کر اس میں سے ایک سفید رنگ ریشم کا ٹکڑا نکالا جس میں ایک گندم گوں رنگ میانہ قد سیدھے بالوں والا ایک شخص تھا گویا وہ غضبناک ہے پوچھا انہیں پہچانا ؟ ہم نے کہا نہیں۔ کہا یہ حضرت لوط ؑ ہیں۔ پھر ایک دروازہ کھول کر اس میں سے ایک سفید ریشمی کپڑا نکال کر دیکھایا جس میں سنہرے رنگ کے ایک آدمی تھے جن کا قد طویل نہ تھا رخسار ہلکے تھے چہرہ خوبصورت تھا ہم سے پوچھا انہیں جانتے ہو ؟ ہم نے کہا نہیں، کہا یہ حضرت اسحاق ؑ ہیں۔ پھر ایک دروازہ کھول کر اس میں سے سیاہ رنگ کا ریشمی کپڑا نکالا جس میں ایک شکل تھی سفید رنگ خوبصورت اونچی ناک والے اچھے قامت والے نورانی چہرے والے جس میں خوف اللہ ظاہر تھا رنگ سرخی مائل سفید تھا پوجھا انہیں جانتے ہو ؟ ہم نے کہا نہیں، کہا یہ تمہارے نبی ﷺ کے دادا حضرت اسماعیل ؑ ہیں۔ پھر اور دروازہ کھول کر سفید ریشمی کپڑے کا ٹکڑا نکال کر دکھایا جس میں ایک صورت تھی جو حضرت آدم ؑ کی صورت سے بہت ہی ملتی جلتی تھی اور چہرہ تو سورج کی طرح روشن تھا، پوچھا انہیں پہچانا ؟ ہم نے لا علمی ظاہر کی تو کہا یہ حضرت یوسف ؑ ہیں۔ پھر ایک دروازہ کھول کر اس میں سے سفید ریشم کا پارچہ نکال کر ہمیں دکھایا جس میں ایک صورت تھی سرخ رنگ بھری پنڈلیاں کشادہ آنکھیں اونجا پیٹ قدرے چھوٹا قد تلوار لٹکائے ہوئے۔ پوچھا انہیں جانتے ہو ؟ ہم نے کہا نہیں۔ کہا یہ حضرت داؤد ؑ ہیں پھر اور دروازہ کھول کر سفید ریشم نکالا جس میں ایک صورت تھی موٹی رانوں والی لمبے پیروں والی گھوڑے سوار۔ پوچھا انہیں پہنچانا ؟ ہم نے کہا نہیں، کہا یہ حضرت سلیمان ؑ ہیں۔ پھر ایک اور دروازہ کھولا اور اس میں سے سیاہ رنگ حریری پارچہ نکالا جس میں ایک صورت تھی۔ سفید رنگ نوجوان سخت سیاہ داڑھی بہت زیادہ بال خوشنما آنکھیں خوبصورت چہرہ۔ پوچھا انہیں جانتے ہو ؟ ہم نے کہا نہیں کہا یہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں۔ ہم نے پوچھا آپ کے پاس یہ صورتیں کہاں سے آئیں ؟ یہ تو ہمیں یقین ہوگیا ہے کہ یہ تمامایاء کی اصلی صورت کے بالکل ٹھیک نمونے ہیں۔ کیونکہ ہم نے اپنے پیغمبر ﷺ کی صورت کو بالکل ٹھیک اور درست پایا۔ بادشاہ نے جواب دیا بات یہ ہے کہ حضرت آدم ؑ نے رب العزت سے دعا کی کہ آپ کی اولاد میں سے جو انبیاء (علیہم السلام) ہیں ان سب کو دکھایا جائے پس ان کی صورتیں آپ پر نازل ہوئیں جو حضرت آدم ؑ کے خزانے میں جو سورج کے غروب ہونے کی جگہ پر تھا محفوظ تھیں ذوالقرنین نے انہیں وہاں سے لے لیا اور حضرت دانیال کو دیں۔ پھر بادشاہ کہنے لگے کہ میں تو اس پر خوش ہوں کہ اپنی بادشاہت چھوڑ دوں میں اگر غلام ہوتا تو تمہارے ہاتھوں بک جاتا اور تمہاری غلامی میں اپنی پوری زندگی بسر کرتا۔ پھر اس نے ہمیں بہت کچھ تحفے تحائف دے کر اچھی طرح رخصت کیا۔ جب ہم خلیفہ المسلمین امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے دربار میں پہنچے اور یہ سارا واقعہ بیان کیا تو حضرت صدیق اکبر ؓ روئے اور فرمانے لگے اس مسکین کے ساتھ اللہ کی توفیق رفیق ہوتی تو یہ ایسا کر گذرتا۔ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے بتلایا ہے کہ نصرانی اور یہودی حضرت محمد ﷺ کے اوصاف اپنی کتابوں میں برابر پاتے ہیں۔ یہ روایت امام بیہقی کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی ہے۔ اس کی اسناد بھی خوف و خطر سے خالی ہے۔ حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کی جو صفتیں تورات میں ہوں وہ مجھے بتاؤ تو انہوں نے فرمایا ہاں واللہ آپ کی صفتیں تورات میں ہیں جو قرآن میں بھی ہیں کہ اے نبی ہم نے آپ کو گواہ اور خوشخبری سنانے والا اور آگاہ کرنے والا اور ان پڑھوں کو گمراہی سے بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ آپ میرے بندے اور رسول ہیں، آپ کا نام متوکل ہے، آپ بدگو اور بد خلق نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو قبض نہ کرے گا جب تک کہ آپ کی وجہ سے لوگوں کی زبان سے لا الہ الا اللہ کہلوا کر ٹیڑھے دین کو درست نہ کر دے۔ بند دلوں کو کھول دے گا، بہرے کانوں کو سننے والا بنا دے گا، اندھی آنکھوں کو دیکھتی کر دے گا۔ یہ روایت صحیح بخاری شریف میں بھی ہے۔ حضرت عطا فرماتے ہیں پھر میں حضرت کعب سے ملا اور ان سے بھی یہی سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا ایک حرف کی بھی کمی بیشی دونوں صاحبوں کے بیان میں نہ تھی یہ اور بات ہے کہ آپ نے اپنی لغت میں دونوں کے الفاظ بولے۔ بخاری شریف کی اس روایت میں اس ذکر کے بعد کہ آپ بدخلق نہیں یہ بھی ہے کہ آپ بازاروں میں شور وغل کرنے والے نہیں، آپ برائی کے بدلے برائی کرنے والے نہیں بلکہ معافی اور درگذر کرنے والے ہیں۔ عبداللہ بن عمرو کی حدیث کے ذکر کے بعد ہے کہ سلف کے کلام میں عموماً تورات کا لفظ اہل کتاب کی کتابوں پر بولا جاتا ہے۔ اس کے مشابہ اور بھی روایتیں ہیں واللہ اعلم۔ طبرانی میں حضرت جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ میں تجارت کی غرض سے شام میں گیا وہاں میری ملاقات اہل کتاب کے ایک عالم سے ہوئی۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ نبی تم میں ہوئے ہیں ؟ میں نے کہا ہاں، اس نے کہا اگر تمہیں ان کی صورت دکھائیں تو تم پہچان لو گے ؟ میں نے کہا ضرور چناچہ وہ مجھے ایک گھر میں لے گیا جہاں بہت سی صورتیں تھیں لیکن ان میں میری نگاہ میں حضور کی کوئی شبیہ نہ آئی، اسی وقت ایک اور عالم آیا ہم سے پوچھا کیا بات ہے ؟ جب اسے ساری بات معلوم ہوئی تو وہ ہمیں اپنے مکان لے گیا وہاں جاتے ہی میری نگاہ آپ کی شبیہ پر پڑی اور میں نے دیکھا کہ گویا کوئی آپ کے پیچھے ہی آپ کو تھامے ہوئے ہے، میں نے یہ دیکھ کر اس سے پوچھا یہ دوسرے صاحب پیچھے کیسے ہیں ؟ اس نے جواب دیا کہ جو نبی آیا اس کے بعد بھی نبی آیا لیکن اس نبی کے بعد کوئی نبی نہیں اس کے پیچھے کا یہ شخص اس کا خلیفہ ہے۔ اب جو میں نے غور سے دیکھا تو وہ بالکل حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی شکل تھی۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ نے ایک مرتبہ اپنے موذن اقرع کو ایک پادری کے پاس بھیجا آپ اسے بلا لائے امیر المومنین نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ تم میری صفت اپنی کتابوں میں پاتے ہو ؟ اس نے کہا ہاں، کہا کیا ؟ اس نے جواب دیا کہ قرن۔ آپ نے کوڑا اٹھا کر فرمایا قرن کیا ہے ؟ اس نے کہا گویا کہ وہ لوہے کا سینگ ہے وہ امیر ہے دین میں بہت سخت۔ فرمایا اچھا میرے بعد والے کی صفت کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ خلیفہ تو وہ نیک صالح ہے لیکن اپنے قرابتداروں کو وہ دوسروں پر ترجیح دے گا۔ آپ نے فرمایا اللہ عثمان پر رحم کرے تین بار یہ فرمایا پھر فرمایا اچھا ان کے بعد ؟ اس نے کہا لوہے کے ٹکڑے جیسا۔ حضرت عمر نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا اور افسوس کرنے لگے اس نے کہا اے امیر المومنین ہوں گے تو وہ نیک خلیفہ لیکن بنائے ہی اس وقت جائیں گے جب تلوار کھچی ہوئی ہو اور خون بہہ رہا ہو (ابو داؤد) ان کتابوں میں آنحضرت ﷺ کی ایک صفت یہ بھی تھی کہ آپ نیکیوں کا حکم دیں گے برائیوں سے روکیں گے۔ فی الواقع آپ ایسے ہی تھے کونسی بھلائی ہے جس کا آپ نے حکم نہ دیا ہو ؟ کونسی برائی ہے جس سے آپ نے نہ روکا ہو ؟ جیسے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں تم جب قرآن کے یہ لفظ سنو کہ اے ایمان والو تو اسی وقت ہمہ تن گوش ہوجاؤ کیونکہ یا تو کسی خیر کا تمہیں حکم کیا جائے گا یا کسی شر سے تمہیں بچایا جائے گا۔ ان میں سب سے زیادہ تاکید اللہ کی وحدانیت تھی جس کا حکم برابر ہر نبی کو ہوتا رہا۔ قرآن شاہد ہے کہ ہر امت کے رسول کو پہلا حکم یہی ملا کہ وہ لوگوں سے کہہ دیں کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ماسوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مسند احمد میں فرمان رسول اللہ ﷺ ہے کہ جب تم میری کسی حدیث کو سنو جسے تمہارے دل پہچان لیں تمہارے جسم اس کی قبولیت کے لئے تیار ہوجائیں اور تمہیں یہ معلوم ہو کہ وہ میرے لائق ہے تو میں اس سے بہ نسبت تمہارے زیادہ لائق ہوں اور جب تم میرے نام سے کوئی ایسی بات سنو جس سے تمہارے دل انکار کریں اور تمہارے جسم نفرت کریں اور تم دیکھو کہ وہ تم سے بہت دور ہے پس میں بہ نسبت تمہارے بھی اس سے بہت دور ہوں۔ اس کی سند بہت پکی ہے۔ اسی کی ایک اور روایت میں حضرت علی کا قول ہے کہ جب تم رسول اللہ ﷺ سے منقول کوئی حدیث سنو تو اس کے ساتھ وہ خیال کرو جو خوب راہ والا بہت مبارک اور بہت پرہیزگاری والا ہو۔ پھر حضور کی ایک صفت بیان ہو رہی ہے کہ آپ کل پاک صاف اور طیب چیزوں کو حلال کرتے ہیں بہت سی چیزیں ان میں ایسی تھیں جنہیں لوگوں نے از خود حرام قرار دے لیا تھا جیسے جانوروں کو بتوں کے نام کر کے نشان ڈال کر انہیں حرام سمھجنا وغیرہ اور خبیث اور گندی چیزیں آپ لوگوں پر حرام کرتے ہیں جیسے سور کا گوشت سود وغیرہ اور جو حرام چیزیں لوگوں نے از خود حلال کرلی تھیں۔ بعض علماء کا فرمان ہے کہ اللہ کی حلال کردہ چیزیں کھاؤ وہ دین میں بھی ترقی کرتی ہیں اور بدن میں بھی فائدہ پہنچاتی ہیں اور جو چیزیں حرام کردی ہیں ان سے بچو کیونکہ ان سے دین کے نقصان کے علاوہ صحت میں بھی نقصان ہوتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ چیزوں کی اچھائی برائی دراصل عقلی ہے۔ اس کے بہت سے جواب دیئے گئے ہیں لیکن یہ جگہ اس کے بیان کی نہیں اسی آیت کو زیر نظر رکھ کر بعض اور علماء نے کہا ہے کہ جن چیزوں کا حلال حرام ہونا کسی کو نہ پہنچا ہو اور کوئی آیت حدیث اس کے بارے میں نہ ملی ہو تو دیکھنا چاہئے کہ عرب اسے اچھی چیز سمجھتے ہیں یا اس سے کراہت کرتے ہیں اگر اسے اچھی چیز جان کر استعمال میں لاتے ہیں تو حلال ہے اور اگر بری چیز سمجھ کر نفرت کر کے اسے نہ کھاتے ہوں تو وہ حرام ہے۔ اس اصول میں بھی بہت کچھ گفتگو ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ آپ بہت صاف آسان اور سہل دین لے کر آئیں گے۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ میں ایک طرف آسان دین دے کر معبوث کیا گیا ہوں۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت معاذ بن جبل کو جب حضور ﷺ یمن کا امیر بنا کر بھیجتے ہیں تو فرماتے ہیں تم دونوں خوش خبری دینا، نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا، سختی نہ کرنا، مل کر رہنا، اختلاف نہ کرنا۔ آپ کے صحابی ایوبرزہ اسلمی فرماتے ہیں میں حضور کے ساتھ رہا ہوں اور آپ کی آسانیوں کا خوب مشاہدہ کیا ہے پہلی امتوں میں بہت سختیاں تھیں لیکن پروردگار عالم نے اس امت سے وہ تمام تنگیاں دور فرما دیں۔ آسان دین اور سہولت والی شریعت انہیں عطا فرمائی۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میری امت کے دلوں میں جو وسوسے گذریں ان پر انہیں پکڑ نہیں جب تک کہ زبان سے نہ نکالیں یا عمل نہ لائیں۔ فرماتے ہیں میری امت کی بھول چوک اور غلطی سے اور جو کام ان سے جبراً کئے کرائے جائیں ان سے اللہ تعالیٰ نے قلم اٹھا لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس امت کو خود اللہ تعالیٰ نے یہ تعلیم فرمائی کہ کہو کہ اے ہمارے پروردگار تو ہماری بھول چوک پر ہماری پکڑ نہ کر۔ اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ لاؤ جو ہم سے پہلوں پر تھا۔ اے ہمارے رب ہمیں ہماری طاقت سے زیادہ بوجھل نہ کر۔ ہمیں معاف فرما، ہمیں بخش، ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا کار ساز مولیٰ ہے۔ پس ہمیں کافروں پر مدد عطا فرما۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب مسلمانوں نے یہ دعائیں کیں تو ہر جملے پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے یہ قبول فرمایا۔ پس جو لوگ اس نبی آخر الزماں ﷺ پر ایمان لائیں اور آپ کا ادب عزت کریں اور جو وحی آپ پر اتری ہے اس نور کی پیروی کریں وہی دنیا آخرت میں فلاح پانے والے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
﴿الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الأمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالإنْجِيلِ﴾ وَهَذِهِ صِفَةَ مُحَمَّدٍ ﷺ فِي كُتُبِ الْأَنْبِيَاءِ بَشَّرُوا أُمَمَهُمْ بِبَعْثِهِ [[في ك، م، أ: "ببعثته".]] وَأَمَرُوهُمْ بِمُتَابَعَتِهِ، وَلَمْ تَزَلْ صِفَاتُهُ مَوْجُودَةً فِي كُتُبِهِمْ يَعْرِفُهَا عُلَمَاؤُهُمْ وَأَحْبَارُهُمْ كَمَا قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ:
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الجُرَيري، عَنْ أَبِي صَخْرٍ الْعُقَيْلِيِّ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ، قَالَ: جَلَبْتُ جَلُوبَةً إِلَى الْمَدِينَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ بَيْعَتِي [[في د: "بيعي".]] قُلْتُ: لَأَلْقِيَنَّ هَذَا الرَّجُلَ فَلْأَسْمَعَنَّ مِنْهُ، قَالَ: فَتَلَقَّانِي بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ يَمْشُونَ، فَتَبِعْتُهُمْ فِي أَقْفَائِهِمْ حَتَّى أَتَوْا عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ نَاشِرًا التَّوْرَاةَ يَقْرَؤُهَا، يُعَزِّي بِهَا نَفْسَهُ عَنِ ابْنٍ لَهُ فِي الْمَوْتِ كَأَحْسَنِ الْفِتْيَانِ وَأَجْمَلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَنْشُدُكَ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ، هَلْ تَجِدُ [[في أ: "هل تجدني".]] فِي كِتَابِكَ هَذَا صِفَتِي وَمَخْرَجِي؟ " فَقَالَ بِرَأْسِهِ هَكَذَا، أَيْ: لَا. فَقَالَ ابْنُهُ، إِي: وَالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ إِنَّا لِنَجِدُ فِي كِتَابِنَا صِفَتَكَ ومَخرجك، وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّكَ [[في ك: "وأشهد أنك".]] رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ: "أَقِيمُوا الْيَهُودِيَّ عَنْ أَخِيكُمْ". ثُمَّ وَلِيَ كَفَنَهُ [[في ك، م، أ: "ثم ولى كفنه وحنطه".]] وَالصَّلَاةَ عَلَيْهِ [[المسند (٥/٤١١) .]]
هَذَا حَدِيثٌ جَيِّدٌ قَوِيٌّ لَهُ شَاهِدٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَنَسٍ.
وَقَالَ الْحَاكِمُ صَاحِبُ الْمُسْتَدْرَكِ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ -عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ [[في أ: "البكري".]] حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُرَحْبِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْعَاصِ الْأُمَوِيِّ قَالَ: بُعِثْتُ أَنَا وَرَجُلٌ آخَرُ إِلَى هِرَقْلَ صَاحِبِ الرُّومِ نَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا الْغُوطَةَ -يَعْنِي غُوطَةَ دِمَشْقَ -فَنَزَلْنَا عَلَى جَبَلَةَ بْنِ الْأَيْهَمِ الْغَسَّانِيِّ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ عَلَى سَرِيرٍ لَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا بِرَسُولِهِ نُكَلِّمُهُ، فَقُلْنَا: وَاللَّهِ لَا نُكَلِّمُ رَسُولًا إِنَّمَا بُعِثْنَا إِلَى الْمَلِكِ، فَإِنْ أَذِنَ لَنَا كَلَّمْنَاهُ [[في د: "تكلمنا".]] وَإِلَّا لَمْ نكلم الرَّسُولَ [[في ك: "الرسل".]] فَرَجَعَ إِلَيْهِ الرَّسُولُ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، قَالَ: فَأَذِنَ لَنَا فَقَالَ: تَكَلَّمُوا [[في ك: "فتكلموا".]] فَكَلَّمَهُ هِشَامُ بْنُ الْعَاصِ، وَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِذَا عَلَيْهِ ثيابُ سوادٍ [[في أ: "سود".]] فَقَالَ لَهُ هِشَامٌ: وَمَا هَذِهِ الَّتِي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ: لَبِسْتُهَا وَحَلَفْتُ أَلَّا أَنْزَعَهَا حَتَّى أُخْرِجَكُمْ مِنَ الشَّامِ. قُلْنَا: وَمَجْلِسَكَ هَذَا، وَاللَّهِ [[في د، ك، م: "فوالله".]] لَنَأْخُذَنَّهُ مِنْكَ، وَلَنَأْخُذَنَّ مُلْكَ الْمَلِكِ الْأَعْظَمِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ، أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ نَبِيُّنَا [[في أ: "نبينا محمد".]] ﷺ. قَالَ: لَسْتُمْ بِهِمْ، بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَصُومُونَ بِالنَّهَارِ، وَيَقُومُونَ بِاللَّيْلِ، فَكَيْفَ صَوْمُكُمْ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ، فمُلئ وَجْهُهُ سَوَادًا فَقَالَ: قُومُوا. وَبَعَثَ مَعَنَا رَسُولًا إِلَى الْمَلِكِ، فَخَرَجْنَا، حَتَّى إِذَا كُنَّا قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ، قَالَ لَنَا الَّذِي مَعَنَا: إِنَّ دَوَابَّكُمْ هَذِهِ لَا تَدْخُلُ مَدِينَةَ الْمَلَكِ، فَإِنْ شِئْتُمْ حَمَلْنَاكُمْ عَلَى بِرَاذِينَ وَبِغَالٍ؟ قُلْنَا: وَاللَّهِ لَا نَدْخُلُ إِلَّا عَلَيْهَا، فَأَرْسَلُوا إِلَى الْمَلِكِ أَنَّهُمْ يَأْبَوْنَ ذَلِكَ. فَدَخَلْنَا عَلَى رَوَاحِلِنَا مُتَقَلِّدِينَ سُيُوفَنَا، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى غُرْفَةٍ [[في أ: "غرفة له".]] فَأَنَخْنَا فِي أَصْلِهَا وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْنَا، فَقُلْنَا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ فَاللَّهُ يَعْلَمُ لَقَدْ تَنَفَّضَت الْغُرْفَةُ حَتَّى صَارَتْ كَأَنَّهَا عِذْق تصَفّقه الرِّيَاحُ، فَأَرْسَلَ [[في د: "قال فأرسل".]] إِلَيْنَا: لَيْسَ لَكُمْ أَنْ تَجْهَرُوا عَلَيْنَا بِدِينِكُمْ. وَأَرْسَلَ إِلَيْنَا: أَنِ ادْخُلُوا فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ عَلَى فِرَاشٍ لَهُ، وَعِنْدَهُ بَطَارِقَتُهُ مِنَ الرُّومُ، وَكُلُّ شَيْءٍ فِي مَجْلِسِهِ أَحْمَرُ، وَمَا حَوْلَهُ حُمْرَةٌ، وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ مِنَ الْحُمْرَةِ، فَدَنَوْنَا مِنْهُ فَضَحِكَ، فَقَالَ: مَا كَانَ عَلَيْكُمْ لَوْ حَيَّيْتُمُونِي بِتَحِيَّتِكُمْ فِيمَا بَيْنَكُمْ؟ وَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ فَصِيحٌ بِالْعَرَبِيَّةِ، كَثِيرُ الْكَلَامِ، فَقُلْنَا: إِنْ تَحِيَّتَنَا فِيمَا بَيْنَنَا لَا تَحِلُّ لَكَ، وَتَحِيَّتُكَ الَّتِي تُحيى بِهَا لَا تَحِلُّ [[في د، م: "لا يحل".]] لَنَا أَنْ نُحَيِّيَكَ بِهَا. قَالَ: كَيْفَ تَحِيَّتُكُمْ فِيمَا بَيْنَكُمْ؟ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكَ. قَالَ: وَكَيْفَ تُحَيُّونَ مَلِكَكُمْ؟ قُلْنَا: بِهَا. قَالَ: وَكَيْفَ يَرُدُّ عَلَيْكُمْ؟ قُلْنَا: بِهَا. قَالَ: فَمَا أَعْظَمُ كَلَامِكُمْ؟ قُلْنَا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ فَلَمَّا تَكَلَّمْنَا بِهَا وَاللَّهُ يَعْلَمُ -لَقَدْ تَنَفَّضت الْغُرْفَةُ حَتَّى رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهَا، قَالَ: فَهَذِهِ الْكَلِمَةُ الَّتِي قُلْتُمُوهَا حَيْثُ تَنَفَّضَتِ الْغُرْفَةُ، كُلَّمَا قُلْتُمُوهَا فِي بُيُوتِكُمْ تَنَفَّضَتْ عَلَيْكُمْ غُرَفُكُمْ؟ قُلْنَا: لَا مَا رَأَيْنَاهَا فَعَلَتْ هَذَا قَطُّ إِلَّا عِنْدَكَ. قَالَ: لَوَدِدْتُ أَنَّكُمْ كُلَّمَا قُلْتُمْ تَنَفَّضَ كُلُّ شَيْءٍ عَلَيْكُمْ. وَإِنِّي خَرَجْتُ [[في د. "وأني قد خرجت".]] مِنْ نِصْفِ مُلْكِي. قُلْنَا: لِمَ؟ قَالَ: لِأَنَّهُ كَانَ أَيْسَرُ لِشَأْنِهَا، وَأَجْدَرُ أَلَّا تَكُونَ مِنْ أَمْرِ النُّبُوَّةِ، وَأَنَّهَا [[في ك، م: "أن".]] تَكُونُ مِنْ حِيَلِ النَّاسِ. ثُمَّ سَأَلَنَا عَمَّا أَرَادَ فَأَخْبَرْنَاهُ. ثُمَّ قَالَ: كَيْفَ صَلَاتُكُمْ وَصَوْمُكُمْ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: قُومُوا فَقُمْنَا. فَأَمَرَ لَنَا بِمَنْزِلٍ حَسَنٍ وَنُزُلٍ كَثير، فَأَقَمْنَا ثَلَاثًا.
فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا لَيْلًا فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَاسْتَعَادَ قَوْلَنَا، فَأَعَدْنَاهُ. ثُمَّ دَعَا بِشَيْءٍ كَهَيْئَةِ الرَّبْعَةِ الْعَظِيمَةِ مُذْهَبَةٍ، فِيهَا بُيُوتٌ صِغَارٌ عَلَيْهَا أَبْوَابٌ، فَفَتَحَ بَيْتًا وَقُفْلًا فَاسْتَخْرَجَ حَرِيرَةً سَوْدَاءَ، فَنَشَرَهَا، فَإِذَا فِيهَا صُورَةٌ حَمْرَاءُ، وَإِذَا فِيهَا رَجُلٌ ضَخْمُ الْعَيْنَيْنِ. عَظِيمُ الْأَلْيَتَيْنِ، لَمْ أَرَ مِثْلَ طُولِ عُنُقِهِ، وَإِذَا لَيْسَتْ لَهُ لِحْيَةٌ، وَإِذَا لَهُ ضَفِيرَتَانِ أَحْسَنَ مَا خَلَقَ اللَّهِ. قَالَ: أَتَعْرِفُونَ هَذَا؟ قُلْنَا: لَا. قَالَ: هَذَا آدَمُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَإِذَا هُوَ أَكْثَرُ النَّاسِ شَعْرًا.
ثُمَّ فَتَحَ بَابًا آخَرَ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ حَرِيرَةً سَوْدَاءَ، وَإِذَا فِيهَا صُورَةٌ بَيْضَاءُ، وَإِذَا لَهُ شَعْرٌ كَشَعْرِ الْقِطَطِ، أَحْمَرُ الْعَيْنَيْنِ، ضَخْمُ الْهَامَةِ، حَسَنُ اللِّحْيَةِ، فَقَالَ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قُلْنَا: لَا. قَالَ: هذا نُوحٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
ثُمَّ فَتَحَ بَابًا آخَرَ، فَاسْتَخْرَجَ [[في د، ك، أ: "فاستخرج منه".]] حَرِيرَةً سَوْدَاءَ، وَإِذَا فِيهَا رَجُلٌ شَدِيدُ الْبَيَاضِ، حَسَنُ الْعَيْنَيْنِ، صَلْت الْجَبِينِ، طَوِيلُ الْخَدِّ، أَبْيَضُ اللِّحْيَةِ كَأَنَّهُ يَبْتَسِمُ، فَقَالَ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قُلْنَا: لَا. قَالَ: هَذَا إِبْرَاهِيمُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
ثُمَّ فَتَحَ بَابًا آخَرَ [[في أ: "آخر فاستخرج منه حريرة سوداء".]] فَإِذَا فِيهِ صُورَةٌ بَيْضَاءُ، وَإِذَا -وَاللَّهِ -رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ [[في د، م: "قال".]] أَتَعْرِفُونَ هَذَا؟ قُلْنَا: نَعَمْ، مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: وَبَكَيْنَا. قَالَ: وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ قَامَ قَائِمًا ثُمَّ جَلَسَ، وَقَالَ: وَاللَّهِ إِنَّهُ لَهُوَ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، إِنَّهُ لَهُوَ، كَأَنَّكَ تَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَأَمْسَكَ سَاعَةً يَنْظُرُ إِلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: أَمَا إِنَّهُ كَانَ آخِرَ الْبُيُوتِ، وَلَكِنِّي عَجَّلته لَكُمْ لِأَنْظُرَ مَا عِنْدَكُمْ.
ثُمَّ فَتَحَ بَابًا آخَرَ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ حَرِيرَةً سَوْدَاءَ، فَإِذَا فِيهَا صُورَةٌ أَدْمَاءُ سَحْمَاءُ [[في أ: "جسماء".]] وَإِذَا رَجُلٌ جَعْدٌ قَطَطٌ، غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، حَدِيدُ النَّظَرِ، عَابِسٌ مُتَرَاكِبُ الْأَسْنَانِ، مقلَّص [[في د: "مفلطس".]] الشَّفَةِ كَأَنَّهُ غَضْبَانُ، فَقَالَ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قُلْنَا: لَا. قَالَ: هَذَا مُوسَى [[في م: "موسى بن عمران".]] عَلَيْهِ السَّلَامُ. وَإِلَى جَانِبَهُ صُورَةٌ تُشْبِهُهُ، إِلَّا أَنَّهُ مُدْهَان الرَّأْسِ، عَرِيضُ الْجَبِينِ، فِي عَيْنَيْهِ قَبَلٌ، فَقَالَ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قُلْنَا: لَا. قَالَ: هَذَا هَارُونُ بْنُ عِمْرَانَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
ثُمَّ فَتَحَ بَابًا آخَرَ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ حَرِيرَةً بَيْضَاءَ، فَإِذَا فِيهَا صُورَةُ رَجُلِ آدَمَ سَبْط رَبْعَة، كَأَنَّهُ غَضْبَانُ، فَقَالَ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قُلْنَا: لَا. قَالَ: هَذَا لُوطٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
ثُمَّ فَتَحَ بَابًا آخَرَ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ حَرِيرَةً بَيْضَاءَ، فَإِذَا فِيهَا صُورَةُ رَجُلٍ أَبْيَضَ مُشْرَب حُمرة، أَقْنَى، خَفِيفُ الْعَارِضِينَ، حَسَنُ الْوَجْهِ فَقَالَ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قُلْنَا: لَا. قَالَ هَذَا إِسْحَاقُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
ثُمَّ فَتَحَ بَابًا آخَرَ، فَاسْتَخْرَجَ [[في د، ك، أ: "فاستخرج منه".]] حَرِيرَةً بَيْضَاءَ، فَإِذَا فِيهَا صُورَةٌ تُشْبِهُ إِسْحَاقَ، إِلَّا أَنَّهُ عَلَى شَفَتِهِ خَالٌ، فَقَالَ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قُلْنَا: لَا. [قَالَ] [[زيادة من أ.]] هَذَا يَعْقُوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
ثُمَّ فَتَحَ بَابًا آخَرَ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ حَرِيرَةً سَوْدَاءَ، فِيهَا صُورَةُ رَجُلٍ أَبْيَضَ، حَسَنِ الْوَجْهِ، أَقْنَى الْأَنْفِ، حَسَنِ الْقَامَةِ، يَعْلُو وَجْهَهُ نُورٌ، يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْخُشُوعُ، يَضْرِبُ إِلَى الْحُمْرَةِ، قَالَ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قُلْنَا: لَا. قَالَ: هَذَا إِسْمَاعِيلُ جَدُّ نَبِيِّكُمْ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ.
ثُمَّ فَتَحَ بَابًا آخَرَ، فَاسْتَخْرَجَ [[في ك، م، أ: "فاستخرج منه".]] حَرِيرَةً بَيْضَاءَ، فِيهَا صُورَةٌ كَأَنَّهَا آدَمُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، كَأَنَّ وَجْهَهَ الشَّمْسُ، فَقَالَ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قُلْنَا: لَا. قَالَ: هَذَا يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
ثُمَّ فَتَحَ بَابًا آخَرَ فَاسْتَخْرَجَ [[في ك، م، أ: "فاستخرج منه".]] حَرِيرَةً بَيْضَاءَ، فَإِذَا فِيهَا صُورَةُ رَجُلٍ أَحْمَرَ حَمْش السَّاقَيْنِ، أَخْفَشِ الْعَيْنَيْنِ ضَخْمِ الْبَطْنِ، رَبْعة مُتَقَلِّدٍ سَيْفًا، فَقَالَ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قُلْنَا: لَا. قَالَ: هذا داود، عليه السلام.
ثُمَّ فَتَحَ بَابًا آخَرَ، فَاسْتَخْرَجَ [[في ك، م، أ: "فاستخرج منه".]] حَرِيرَةً بَيْضَاءَ، فِيهَا صُورَةُ رَجُلٍ ضَخْمِ الْأَلْيَتَيْنِ، طَوِيلِ الرِّجْلَيْنِ، رَاكِبٍ فَرَسًا، فَقَالَ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قُلْنَا: لَا. قَالَ: هَذَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَلَيْهِ [[في أ: "عليهما".]] السَّلَامُ.
ثُمَّ فَتَحَ بَابًا آخَرَ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ حَرِيرَةً سَوْدَاءَ، فِيهَا صُورَةٌ بَيْضَاءُ، وَإِذَا شابٌّ [[في د: "وإذا رجل شاب".]] شَدِيدٌ سَوَادِ اللِّحْيَةِ، كَثِيرُ الشِّعْرِ، حَسَنُ الْعَيْنَيْنِ، حَسَنُ الْوَجْهِ، فَقَالَ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قُلْنَا: لَا. قَالَ: هَذَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
قُلْنَا: مَنْ أَيْنَ لَكَ هَذِهِ الصُّوَرُ؟ لِأَنَّا نَعْلَمُ أَنَّهَا عَلَى مَا صُوِّرَتْ عَلَيْهِ الْأَنْبِيَاءُ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، لِأَنَّا رَأَيْنَا صُورَةَ نَبِيِّنَا عَلَيْهِ السَّلَامُ مِثْلَهُ. فَقَالَ: إِنَّ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، سَأَلَ رَبَّهُ أَنْ يُرِيَهُ الْأَنْبِيَاءَ مِنْ وَلَدِهِ، فَأَنْزَلَ عَلَيْهِ صُوَرَهُمْ، فَكَانَ فِي خِزَانَةِ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عِنْدَ مَغْرِبِ الشَّمْسِ، فَاسْتَخْرَجَهَا ذُو الْقَرْنَيْنِ مِنْ مَغْرِبِ الشَّمْسِ فَدَفَعَهَا إِلَى دَانْيَالَ. ثُمَّ قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ إِنَّ نَفْسِي طابت بالخروج من ملكي، وإني كُنْتُ عَبْدًا لِأَشَرِّكُمْ مِلْكَةً، حَتَّى أَمُوتَ. ثُمَّ أَجَازَنَا فَأَحْسَنَ جَائِزَتَنَا، وَسَرَّحَنَا، فَلَمَّا أَتَيْنَا أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَحَدَّثْنَاهُ بِمَا أَرَانَا، وَبِمَا قَالَ لَنَا، وَمَا أَجَازَنَا، قَالَ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: مِسْكِينٌ! لَوْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا لَفَعَلَ. ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُمْ وَالْيَهُودُ يَجِدُونَ نَعْتَ مُحَمَّدٍ ﷺ عِنْدَهُمْ.
هَكَذَا أَوْرَدَهُ الْحَافِظُ الْكَبِيرُ أَبُو بَكْرٍ الْبَيْهَقِيُّ، رَحِمَهُ اللَّهُ، فِي كِتَابِ "دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ"، عَنِ الْحَاكِمِ إِجَازَةً، فَذَكَرَهُ [[دلائل النبوة (١/٣٨٥) .]] وَإِسْنَادُهُ لَا بَأْسَ بِهِ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَر، حَدَّثَنَا فُلَيْح، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي التَّوْرَاةِ. قَالَ: أَجَلْ وَاللَّهِ، إِنَّهُ لَمَوْصُوفٌ فِي التَّوْرَاةِ كَصِفَتِهِ فِي الْقُرْآنِ: "يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَحِرْزًا لِلْأُمِّيِّينَ، أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي، سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكِّلَ، لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ، وَلَا صخَّاب فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ، وَلَنْ يَقْبِضَهُ اللَّهُ حَتَّى يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ، بِأَنْ يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيَفْتَحَ بِهِ قُلُوبًا غُلفا، وَآذَانًا صُمًّا، وَأَعْيُنًا عُمْيًا" قَالَ عَطَاءٌ: ثُمَّ لَقِيتُ كَعْبًا فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَمَا اخْتَلَفَ حَرْفًا، إِلَّا أَنَّ كَعْبًا قَالَ بِلُغَتِهِ، قَالَ: "قُلُوبًا غُلوفيًا وَآذَانًا صُمُومِيًا وَأَعْيُنًا عُمُومِيًا".
وَقَدْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي صَحِيحِهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَان، عَنْ فُلَيْح، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ -فَذَكَرَ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ [[تفسير الطبري (١٣/١٦٤) وصحيح البخاري برقم (٢١٢٥) .]] وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ: "لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ": "وَلَا صَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ".
وَيَقَعُ فِي كَلَامِ كَثِيرٍ مِنَ السَّلَفِ إِطْلَاقُ "التَّوْرَاةِ" عَلَى كُتُبِ أَهْلِ الْكِتَابِ. وَقَدْ وَرَدَ فِي بَعْضِ الْأَحَادِيثِ مَا يُشْبِهُ هَذَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ورَّاق الْحُمَيْدِيِّ [[في هـ: "محمد بن إدرس بن الحميدي"، وفي بقية النسخ: "محمد بن إدريس بن وراق بن الحميدي" والمثبت من الجرح والتعدل ٢١٣/٢٠٤ مستفاد من هامش ط. الشعب.]] حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ -مِنْ وَلَدِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ -قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ عُثْمَانَ بِنْتُ سَعِيدٍ -وَهِيَ جَدَّتِي -عَنْ أَبِيهَا سَعِيدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ، قَالَ: خَرَجْتُ تَاجِرًا إِلَى الشَّامِ، فَلَمَّا كُنْتُ بِأَدْنَى الشَّامِ، لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكُمْ رَجُلٌ نَبِيًّا؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: هَلْ تَعْرِفُ صُورَتَهُ إِذَا رَأَيْتَهَا؟ قُلْتُ: نَعَمْ. فَأَدْخَلَنِي بَيْتًا فِيهِ صُوَرٌ، فَلَمْ أَرَ صُورَةَ النَّبِيِّ ﷺ، فَبَيْنَمَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ عَلَيْنَا، فَقَالَ: فِيمَ أَنْتُمْ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ، فَذَهَبَ بِنَا إِلَى مَنْزِلِهِ، فَسَاعَةَ مَا دَخَلْتُ نَظَرْتُ إِلَى صُورَةِ النَّبِيِّ ﷺ، وَإِذَا رَجُلٌ آخِذٌ بِعَقِبِ النَّبِيِّ ﷺ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الْقَابِضُ عَلَى عَقِبِهِ؟ قَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا كَانَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ إِلَّا هَذَا النَّبِيَّ، فَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ، وَهَذَا الْخَلِيفَةُ بَعْدَهُ، وَإِذَا صِفَةُ أَبِي بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ [[المعجم الكبير (٢/١٢٥) ورواه أيضا في الأوسط برقم (٣٤٩٦) "مجمع البحرين" وقال: "لا يروى عن جبير إلا بهذا الإسناد، تفرد به محمد بن إدريس". قال الهيثمي في المجمع (٨/٢٣٣) : "فيه من لم أعرفهم".]]
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ [[في جميع النسخ: "عمر بن حفص أبو عمر الضرير"، والمثبت من سنن أبي داود.]] حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيَّ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنِ الْأَقْرَعِ مُؤَذِّنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: بَعَثَنِي عُمَرُ إِلَى الْأَسْقُفِ، فَدَعَوْتُهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: هَلْ تَجِدُنِي فِي الْكِتَابِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: كَيْفَ تَجِدُنِي؟ قَالَ: أَجِدُكَ قَرْنا. قَالَ: فَرَفَعَ عُمَرُ الدُّرَّةَ وَقَالَ [[في أ: "فقال".]] قَرْنُ مَهْ؟ قَالَ: قَرْنُ حَدِيدٍ، أَمِيرٌ شَدِيدٌ. قَالَ: فَكَيْفَ تَجِدُ الَّذِي بَعْدِي؟ قَالَ: أَجِدُ خَلِيفَةً صَالِحًا، غَيْرَ أَنَّهُ يُؤْثِرُ قَرَابَتَهُ قَالَ عُمَرُ: يَرْحَمُ اللَّهُ عُثْمَانَ، ثَلَاثًا. قَالَ: كَيْفَ تَجِدُ الَّذِي بَعْدَهُ؟ قَالَ: أَجِدُ صَدَأَ حَدِيدٍ. قَالَ: فَوَضَعَ عُمَرُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ وَقَالَ: يَا دَفْرَاهُ، يَا دَفْراه! قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّهُ خَلِيفَةٌ صَالِحٌ، وَلَكِنَّهُ يُستخلف حِينَ يُستخلف وَالسَّيْفُ مَسْلُولٌ، وَالدَّمُ مُهْرَاقٌ [[سنن أبي داود برقم (٤٦٥٦) ، "والدفر: النتن".]]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى ﴿يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ﴾ هَذِهِ صِفَةُ الرَّسُولِ ﷺ [[في م: "صلوات الله وسلامه عليه".]] فِي الْكُتُبِ الْمُتَقَدِّمَةِ، وَهَكَذَا كَانَ [[في ك، م، أ: "كانت".]] حَالُهُ، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، لَا يَأْمُرُ إِلَّا بِخَيْرٍ، وَلَا يَنْهَى إِلَّا عَنْ شَرٍّ، كَمَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: إِذَا سَمِعْتَ اللَّهَ يَقُولُ: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ فَأرْعها سَمْعَكَ، فَإِنَّهُ خَيْرٌ يَأْمُرُ بِهِ أَوْ شَرٌّ يَنْهَى عَنْهُ. وَمِنْ أَهَمِّ ذَلِكَ وَأَعْظَمِهِ، مَا بَعَثَهُ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من م.]] بِهِ مِنَ الْأَمْرِ بِعِبَادَتِهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَالنَّهْيِ عَنْ عِبَادَةِ مَنْ سِوَاهُ، كَمَا أَرْسَلَ بِهِ جَمِيعَ الرُّسُلِ قَبْلَهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولا أَنِ اُعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾ [النَّحْلِ:٣٦] وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ -هُوَ الْعَقَدِيُّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو -حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ -هُوَ ابْنُ بِلَالٍ -عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ، عن أبي حميد وأبي أسيد، رضي اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " إِذَا سَمِعْتُمُ الْحَدِيثَ عَنِّي تَعْرِفُهُ قُلُوبُكُمْ، وَتَلِينُ لَهُ أَشْعَارُكُمْ وَأَبْشَارُكُمْ، وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ قَرِيبٌ، فَأَنَا أَوْلَاكُمْ بِهِ. وَإِذَا سَمِعْتُمُ الْحَدِيثَ عَنِّي تُنْكِرُهُ قُلُوبُكُمْ، وَتَنْفُرُ مِنْهُ أَشْعَارُكُمْ وَأَبْشَارُكُمْ، وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ بَعِيدٌ، فَأَنَا أَبْعَدُكُمْ مِنْهُ" [[المسند من حديث أبي أسيد (٣/٤٩٧) ومن حديث أبي حميد (٥/٤٢٥) .]]
هَذَا [حَدِيثٌ] [[زيادة من أ.]] جَيِّدُ الْإِسْنَادِ، لَمْ يُخْرِجْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ الْكُتُبِ [السِّتَّةِ] [[زيادة من أ.]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَدِيثًا، فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي هُوَ أَهْدَى، وَالَّذِي هُوَ أَهْنَا، [وَالَّذِي هُوَ أَنْجَى] [[زيادة من أ.]] وَالَّذِي هو أتقى [[في أ: "أبقى".]] [[المسند (١/١٢٢) .]]
ثم رواه عن يحيى عن بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَدِيثًا، فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي هُوَ أَهْدَاهُ وَأَهْنَاهُ وَأَتْقَاهُ [[المسند (١/١٣٠) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ﴾ أَيْ: يُحِلُّ لَهُمْ مَا كَانُوا حَرَّمُوهُ عَلَى أَنْفُسِهِمْ مِنَ الْبَحَائِرِ، وَالسَّوَائِبِ، وَالْوَصَائِلِ، وَالِحَامِ، وَنَحْوِ ذَلِكَ، مِمَّا كَانُوا ضَيَّقُوا بِهِ عَلَى أَنْفُسِهِمْ، وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ.
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عباس: كَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ وَالرِّبَا، وَمَا كَانُوا يَسْتَحِلُّونَهُ مِنَ الْمُحَرَّمَاتِ مِنَ الْمَآكِلِ الَّتِي حَرَّمَهَا اللَّهُ تَعَالَى.
وَقَالَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ: كُلُّ مَا أَحَلَّ اللَّهُ تَعَالَى، فَهُوَ طَيِّبٌ نَافِعٌ فِي الْبَدَنِ وَالدِّينِ، وَكُلُّ مَا حَرَّمَهُ، فَهُوَ خَبِيثٌ ضَارٌّ فِي الْبَدَنِ وَالدِّينِ.
وَقَدْ تَمَسَّكَ بِهَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ مَنْ يَرَى التَّحْسِينَ وَالتَّقْبِيحَ الْعَقْلِيَّيْنِ، وَأُجِيبَ عَنْ ذَلِكَ بِمَا لَا يَتَّسِعُ هَذَا الْمَوْضِعُ لَهُ.
وَكَذَا احْتَجَّ بِهَا مَنْ ذَهَبَ مِنَ الْعُلَمَاءِ إِلَى أَنَّ الْمَرْجِعَ فِي حِلِّ الْمَآكِلِ الَّتِي لَمْ يَنُصَّ عَلَى تَحْلِيلِهَا وَلَا تَحْرِيمِهَا، إِلَى مَا اسْتَطَابَتْهُ الْعَرَبُ فِي حَالِ رَفَاهِيَتِهَا، وَكَذَا فِي جَانِبِ التَّحْرِيمِ إِلَى مَا اسْتَخْبَثَتْهُ. وَفِيهِ [[في م: "وفي ذلك".]] كَلَامٌ طَوِيلٌ أَيْضًا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالأغْلالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ﴾ أَيْ: إِنَّهُ جَاءَ بِالتَّيْسِيرِ وَالسَّمَاحَةِ، كَمَا وَرَدَ الْحَدِيثُ مِنْ طُرُقٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ". وَقَالَ لِأَمِيرَيْهِ مُعَاذٍ وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، لَمَّا [[في أ: "حين".]] بَعَثَهُمَا إِلَى الْيَمَنِ: "بَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَيَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا". وَقَالَ صَاحِبُهُ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ: إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم وشهدت تيسيره.
وَقَدْ كَانَتِ الْأُمَمُ الَّذِينَ [[في ك: "التي".]] كَانُوا قَبْلَنَا فِي شَرَائِعِهِمْ ضِيقٌ عَلَيْهِمْ، فَوَسَّعَ اللَّهُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ أُمُورَهَا، وَسَهَّلَهَا لَهُمْ؛ وَلِهَذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَقُلْ أَوْ تَعْمَلْ" [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٥٢٦٩) ومسلم في صحيحه برقم (١٢٧) من حديث أبي هريرة.]] وَقَالَ: "رُفِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ" [[رواه ابن ماجة في السنن برقم (٢٠٤٥) مِنْ حَدِيثِ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وقد سبق تخريجه وذكر شواهده.]] ؛ وَلِهَذَا قَدْ أَرْشَدَ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ أَنْ يَقُولُوا: ﴿رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ﴾ [الْبَقَرَةِ:٢٨٦] وَثَبَتَ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ بَعْدَ كُلِّ سُؤَالٍ مِنْ هَذِهِ: قَدْ فَعَلْتُ، قَدْ فَعَلْتُ [[صحيح مسلم برقم (١٢٦) من حديث ابن عباس، رضي الله عنه.]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ﴾ أَيْ: عَظَّمُوهُ وَوَقَّرُوهُ، ﴿وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزلَ مَعَهُ﴾ أَيِ: الْقُرْآنَ وَالْوَحْيَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُبَلِّغًا إِلَى النَّاسِ، ﴿أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ أَيْ: فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.
قُلْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۖ فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِ ٱلنَّبِىِّ ٱلْأُمِّىِّ ٱلَّذِى يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَكَلِمَٰتِهِۦ وَٱتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ
Say, [O Muhammad], "O mankind, indeed I am the Messenger of Allah to you all, [from Him] to whom belongs the dominion of the heavens and the earth. There is no deity except Him; He gives life and causes death." So believe in Allah and His Messenger, the unlettered prophet, who believes in Allah and His words, and follow him that you may be guided.
(اے محمدﷺ) کہہ دو کہ لوگو میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا (یعنی اس کا رسول) ہوں۔ (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ تو خدا پر اور اس کے رسول پیغمبر اُمی پر جو خدا پر اور اس کے تمام کلام پر ایمان رکھتے ہیں ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ
بگو: «ای مردم! من فرستاده خدا به سوی همه شما هستم؛ همان خدایی که حکومت آسمانها و زمین، از آن اوست؛ معبودی جز او نیست؛ زنده میکند و میمیراند؛ پس ایمان بیاورید به خدا و فرستادهاش، آن پیامبر درس نخواندهای که به خدا و کلماتش ایمان دارد؛ و از او پیروی کنید تا هدایت یابید!»
Tafsir Ibn Kathir
Say: "O mankind! Verily, I am sent to you all as the Messenger of Allah – to Whom belongs the dominion of the heavens and the earth. None has the right to be worshipped but He. It is He Who gives life and causes death. So believe in Allah and His Messenger, the Prophet who can neither read nor write, who believes in Allah and His Words, and follow him so that you may be guided. (158)
Muhammad's (ﷺ) Message is Universal
Allah says to His Prophet and Messenger Muhammad ﷺ,
قُلْ
(Say), O Muhammad,
يَا أَيُّهَا النَّاسُ
(O mankind!), this is directed to mankind red and black, and the Arabs and non-Arabs alike,
إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا
(I am sent to you all as the Messenger of Allah,)
This Ayah mentions the Prophet's honor and greatness, for he is the Final Prophet who was sent to all mankind [and the Jinns]. Allah said,
قُلِ اللَّهُ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَٰذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ
(Say, "Allah is Witness between you and I; this Qur'an has been revealed to me that I may therewith warn you and whomsoever it may reach.")[6:19],
وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ
(but those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place)[11:17], and,
وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوا وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ
(And say to those who were given the Scripture and to the illiterates (Arab pagans): "Do you (also) submit yourselves (to Allah in Islam)" If they do, they are rightly guided; but if they turn away, your duty is only to convey the Message.)[3:20]
There are many other Ayat and more Hadiths than can be counted on this subject. It is also well-known in our religion that the Messenger of Allah ﷺ was sent to all mankind [and the Jinns]. Al-Bukhari recorded that Abu Ad-Darda' said, "Abu Bakr and 'Umar had an argument in which Abu Bakr made 'Umar angry. So 'Umar went away while angry and Abu Bakr followed him asking him to forgive him, but 'Umar refused. 'Umar shut his door closed in Abu Bakr's face and Abu Bakr went to the Messenger of Allah ﷺ while we were with him. The Messenger of Allah ﷺ said,
أَمَّا صَاحِبُكُمْ هَذَا فَقَدْ غَامَرَ
(This fellow of yours (Abu Bakr) has made someone angry!)
'Umar became sorry for what he did, went to the Prophet ﷺ and greeted him with the Salam and sat next to him, telling him what had happened. The Messenger of Allah became angry (at 'Umar), and realizing that, Abu Bakr said, 'O Allah's Messenger! It was me who was unjust.' The Messenger of Allah ﷺ said,
هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُو لِي صَاحِبِي؟ إِنِّي قُلْتُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا فَقُلْتُمْ: كَذَبْتَ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقْتَ
(Will you leave my Companion (Abu Bakr) alone! I said, 'O People! I am the Messenger of Allah to you all,' and you said, 'You lie,' but Abu Bakr declared, 'You said the truth.')" Al-Bukhari recorded it.
Imam Ahmad recorded that Ibn 'Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي وَلَا أَقُولُهُ فَخْرًا بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَهِيَ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا
(I have been given five things which were not given to any Prophet before me, and I do not say it out of pride. I was sent to all mankind (their) black and white alike. Allah made me victorious by fright, (by His frightening my enemies) for a distance of one month's journey. The spoils of war are lawful for me, yet it was not lawful for anyone else before me. The earth has been made for me (and for my followers) a place for praying and a thing to perform purification with. I have been given the Shafa'ah (right of intercession), and I saved it for my Ummah on the Day of Resurrection. Therefore, the Shafa'ah will reach those who associate none with Allah in worship.) This Hadith's chain of narration is suitable, but the Two Sahihs did not record it. Allah's statement,
الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ
(to Whom belongs the dominion of the heavens and the earth. None has the right to be worshipped but He. It is He Who gives life and causes death.) describes Allah by the words of the Messenger ﷺ that He Who has sent him is the Creator, Lord and King of all things and in His Hand is the control, life, death and the decision. Just as Allah said
فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ
(So believe in Allah and His Messenger, the Prophet who can neither read nor write,) Allah proclaims here that Muhammad ﷺ is His Messenger and reiterates this fact by commanding that he be believed in and followed. Allah said,
النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ
(The Prophet who can neither read nor write) who you were promised and given the good news of in previous revealed books.
Certainly, Muhammad ﷺ was amply described in the previous books, including his description as being the unlettered Prophet. Allah's statement,
الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَاتِهِ
(who believes in Allah and His Words), means, his actions conform with his words and he believes in what he was given from his Lord.
وَاتَّبِعُوهُ
(And follow him), embrace his path and guidance,
لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ
(so that you may be guided) to the Straight Path.
Tafsir Ibn Kathir
النبی العالم اور النبی الخاتم ﷺ اللہ تعالیٰ اپنے نبی و رسول حضرت محمد ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ تمام عرب عجم گوروں کالوں سے کہہ دو کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں۔ آپ کی شرافت و عظمت ہے کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور تمام دنیا کے لئے صرف آپ ہی نبی ہیں۔ جیسے فرمان قرآن ہے آیت (قل اللہ شھید بینی وبینکم واو حی الی ھذا القران لا نذر کم بہ ومن بلغ) یعنی اعلان کر دے کہ مجھ میں تم میں اللہ گواہ ہے اس پاک قرآن کی وحی میری جانب اس لئے اتاری گئی ہے کہ میں اس سے تمہیں اور جن لوگوں تک یہ پہنچے سب کو ہوشیار کر دوں اور آیت میں ہے (ومن یکفر بہ من الاحزاب فالنار موعدہ) یعنی مخلوق کے مختلف گروہ میں سے جو بھی آپ سے انکار کرے اس کی وعدہ گاہ جہنم ہے اور آیت میں ہے (وقل للذین اوتوا الکتاب ولا مبین ا اسلمتم فان اسلموافقد اھتدواوان تولوافانما علیک البلاغ) یعنی اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سے کہہ دو کہ کیا تم مانتے ہو ؟ اگر تسلیم کرلیں مسلمان ہوجائیں تو راہ پر ہیں ورنہ تیرے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہی ہے۔ اس مضمون کی اور بھی قرآنی آیتیں بکثرت ہیں اور حدیثیں تو اس بارے میں بیشمار ہیں۔ دین اسلام کی ذرا سی بھی سمجھ جسے ہے وہ بالیقین جانتا اور مانتا ہے کہ آپ تمام جہان کے لوگوں کی طرف رسول اللہ ﷺ۔ اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف میں ہے کہ اتفاق سے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر میں کچھ چشمک ہوگئی۔ حضرت صدیق نے حضرت فاروق کو ناراض کردیا حضرت فاروق اسی حالت میں چلے گئے حضرت صدیق نے درخواست کی کہ آپ معاف فرمائیں اور اللہ سے میرے لئے بخشش چاہیں لیکن حضرت عمر راضی نہ ہوئے بلکہ کواڑ بند کر لئے۔ آپ لوٹ کر دربار محمدی میں آئے اس وقت اور صحابہ بھی حضور کی مجلس میں موجود تھے آپ نے فرمایا تمہارے اس ساتھی نے انہیں ناراض اور غضبناک کردیا۔ حضرت عمر حضرت صدیق کی واپسی کے بعد بہت ہی نادم ہوئے اور اسی وقت دربار رسالت مآب میں حاضر ہو کر تمام بات کہہ سنائی۔ حضور ناراض ہوئے۔ ابوبکر صدیق بار بار کہتے جاتے تھے کہ یارسول اللہ زیادہ ظلم تو مجھ سے سر زد ہوا ہے۔ حضور نے فرمایا کیا تم میرے ساتھی کو میری وجہ سے چھوڑتے نہیں ؟ سنو جب میں نے اس آواز حق کو اٹھایا کہ لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوں تو تم نے کہا تو جھوٹا ہے لیکن اس ابوبکر نے کہا آپ سچے ہیں۔ ابن عباس سے مرفوعاً مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ یاد رہے کہ میں اسے فخراً نہیں کہتا میں تمام سرخ و سیاہ لوگوں کی جانب بھیجا گیا ہوں اور میری مدد مہینے بھر کے فاصلے سے صرف رعب کے ساتھ کی گئی ہے اور میرے لئے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے ہیں حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کیلئے حلال نہیں کئے گئے تھے اور میرے لئے ساری زمین مسجد اور وضو کے لئے حلال کردی گئی ہے اور مجھے اپنی امت کی شفاعت عطا فرمائی گئی ہے جسے میں نے ان لوگوں کے لئے مخصوص کر رکھا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ (مسند امام احمد) روایت ہے کہ غزوہ تبوک والے سال رسول اللہ ﷺ رات کو تہجد کی نماز کے لئے کھڑے ہوئے پس بہت سے صحابہ آپ کے پیچھے جمع ہوگئے کہ آپ کی چوکیداری کریں نماز کے بعد آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اس رات مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے اور کسی کو نہیں دی گئیں میں تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں مجھ سے پہلے کے تمام رسول صرف اپنی اپنی قوم کی طرف ہی نبی بنا کر بھیجے جاتے رہے مجھے اپنے دشمنوں پر رعب کے ساتھ مدد دی گئی ہے گو وہ مجھ سے مہینے بھر کے فاصلے پر ہوں وہیں وہ مرعوب ہوجاتے ہیں۔ میرے لئے مال غنیمت حلال کئے گئے ہیں حالانکہ مجھ سے پہلے کے لوگ ان کی بہت عظمت کرتے تھے وہ اس مال کو جلا دیا کرتے تھے اور میرے لئے ساری زمین مسجد اور وضو کی پاک چیز بنادی گئی ہے جہاں کہیں میرے امتی کو نماز کا وقت آجائے وہ تیمم کرلے اور نماز ادا کرلے مجھ سے پہلے کے لوگ اس کی عظمت کرتے تھے سوائے ان جگہوں کے جو نماز کے لئے مخصوص تھیں اور جگہ نماز نہیں پڑھ سکتے تھے اور پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ مجھ سے فرمایا گیا آپ دعا کیجئے مانگئے کیا مانگتے ہیں ؟ ہر نبی مانگ چکا ہے تو میں نے اپنے اس سوال کو قیامت پر اٹھا رکھا ہے پس وہ تم سب کے لئے ہے اور ہر اس شخص کیلئے جو لا الہ الا اللہ کی گواہی دے۔ اس کی اسناد بہت پختہ ہے اور مسند احمد میں یہ حدیث موجود ہے۔ مسند کی اور حدیث میں ہے کہ میری اس امت میں سے جس یہودی یا نصرانی کے کان میں میرا ذکر پڑے اور وہ مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جنت میں نہیں جاسکتا یہ حدیث اور سند سے صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میرا ذکر اس امت کے جس یہودی نصرانی کے پاس پہنچے اور وہ مجھ پر اور میری وحی پر ایمان نہ لائے اور مرجائے وہ جہنمی ہے۔ مسند کی ایک اور حدیث میں آپ نے ان پانچوں چیزوں کا ذکر فرمایا جو صرف آپ کو ہی ملی ہیں پھر فرمایا ہر نبی نے شفاعت کا سوال کرلیا ہے اور میں نے اپنے سوال کو چھپا رکھا ہے اور ان کے لئے اٹھا رکھا ہے جو میری امت میں سے توحید پر مرے۔ یہ حدیث جابر بن عبداللہ کی روایت سے بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے کہ مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کے انبیاء کو نہیں دی گئیں مہی نے بھر کی مسافت تک رعب سے امداد و نصرت، ساری زمین کا مسجد و طہور ہونا کہ میری امت کو جہاں وقت نماز آجائے ادا کرلے، غنیمتوں کا حلال کیا جانا جو پہلے کسی کے لئے حلال نہ تھیں۔ شفاعت کا دیا جانا، تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا جانا حالانکہ پہلے کے انبیاء صرف اپنی قوم کی طرف ہی بھیجے جاتے تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ کہو مجھے اس اللہ نے بھیجا ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے سب چیزوں کا خالق مالک ہے جس کے ہاتھ میں ملک ہے جو مارنے جلانے پر قادر ہے جس کا حکم چلتا ہے۔ پس اے لوگو تم اللہ پر اور اس کے رسول و نبی پر ایمان لاؤ جو ان پڑھ ہونے کے باوجود دنیا کو پڑھا رہے ہیں انہی کا تم سے وعدہ تھا اور ان ہی کی بشارت تمہاری کتابوں میں بھی ہے۔ انہی کی صفتیں اگلی کتابوں میں ہیں۔ یہ خود اللہ کی ذات پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتے ہیں۔ قول و فعل سب میں اللہ کے کلام کے مطیع ہیں۔ تم سب ان کے ماتحت اور فرمانبردار ہوجاؤ۔ انہی کے طریقے پر چلو انہی کی فرمانبرداری کرو، تم راہ راست پر آجاؤ گے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ وَرَسُولِهِ مُحَمَّدٍ ﷺ ﴿قُلْ﴾ يَا مُحَمَّدُ: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ﴾ وَهَذَا خِطَابٌ لِلْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَالْعَرَبِيِّ وَالْعَجَمِيِّ، ﴿إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا﴾ أَيْ: جَمِيعُكُمْ، وَهَذَا مِنْ شَرَفِهِ وَعَظَمَتِهِ أَنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَأَنَّهُ مَبْعُوثٌ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿قُلِ اللَّهُ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لأنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ﴾ [الْأَنْعَامِ:١٩] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الأحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ﴾ [هُودٍ:١٧] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالأمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلاغُ﴾ [آلِ عِمْرَانَ:٢٠] وَالْآيَاتُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ، كَمَا أَنَّ الْأَحَادِيثَ فِي هَذَا أَكْثَرُ مِنْ أَنْ تُحْصَرَ، وَهُوَ مَعْلُومٌ مِنْ دِينِ الْإِسْلَامِ ضَرُورَةً أَنَّهُ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، رَسُولُ اللَّهِ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ.
قَالَ الْبُخَارِيُّ، رَحِمَهُ اللَّهُ، فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُوسَى بْنُ هَارُونَ قَالَا حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهُ بن العلاء بن زَبْر [[في أ: "زيد".]] حدثني بسر [[في أ: "بشر".]] ابن عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: كَانَتْ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، مُحَاوَرَةٌ، فَأَغْضَبَ أَبُو بَكْرٍ عُمَرَ، فَانْصَرَفَ عُمَرُ عَنْهُ مُغْضَبًا، فَأَتْبَعَهُ أَبُو بَكْرٍ يَسْأَلُهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَهُ، فَلَمْ يَفْعَلْ حَتَّى أَغْلَقَ بَابَهُ فِي وَجْهِهِ، فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى رسول الله صلى الله عليه وسلم -فقال أَبُو الدَّرْدَاءِ: وَنَحْنُ عِنْدُهُ -فَقَالَ [[في ك، م، أ: "قال".]] رَسُولُ اللَّهِ ﷺ "أَمَّا صَاحِبُكُمْ هَذَا فقد غامر" -أي: غَاضَبَ وَحَاقَدَ -قَالَ: وَنَدِمَ عُمَرُ عَلَى مَا كَانَ مِنْهُ، فَأَقْبَلَ حَتَّى سَلَّمَ وَجَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ وَقَصَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ الْخَبَرَ -قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: وَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يَقُولُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَأَنَا كُنْتُ أَظْلَمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُوا لِي صَاحِبِي؟ إِنِّي قُلْتُ: يَأَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا، فَقُلْتُمْ: كَذَبْتَ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقْتَ". انْفَرَدَ بِهِ الْبُخَارِيُّ [[صحيح البخاري برقم (٤٦٤٠) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي -وَلَا أَقُولُهُ فَخْرًا: بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً: الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي، فَهِيَ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا" [[المسند (١/٣٠١) قال الهيثمي في المجمع (٨/٢٥٨) : "رجال أحمد رجال الصحيح غير يزيد بن أبي زياد وهو حسن الحديث".]] إِسْنَادُهُ جَيِّدٌ، وَلَمْ يُخْرِجُوهُ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عن أبي الهاد، عن عمرو ابن شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ، قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي، فَاجْتَمَعَ وَرَاءَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ [[في أ: "من الأنصار".]] يَحْرُسُونَهُ، حَتَّى إِذَا صَلَّى انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُمْ: "لَقَدْ أُعْطِيتُ اللَّيْلَةَ خَمْسًا مَا أُعْطِيَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي، أَمَّا أَنَا فَأُرْسِلْتُ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ عَامَّةً [[في ك: "كافة".]] وَكَانَ مَنْ قَبْلِي إِنَّمَا يُرْسَلُ إِلَى قَوْمِهِ، وَنُصِرْتُ عَلَى الْعَدُوِّ بِالرُّعْبِ، وَلَوْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ مَسِيرَةَ شَهْرٍ لَمُلِئَ مِنِّي رُعْبًا، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ آكُلُهَا [[في أ: "كلها".]] وَكَانَ مَنْ قَبْلِي يُعَظِّمُونَ أَكْلَهَا، كَانُوا يَحْرِقُونَهَا، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسَاجِدَ [[في ك: "مسجدا".]] وَطَهُورًا، أَيْنَمَا أَدْرَكَتْنِي الصَّلَاةُ تَمَسَّحْتُ وَصَلَّيْتُ، وَكَانَ مِنْ قَبْلِي يُعَظِّمُونَ ذَلِكَ، إِنَّمَا كَانُوا يُصَلُّونَ فِي بِيَعِهِمْ وَكَنَائِسِهِمْ، وَالْخَامِسَةُ هِيَ مَا هِيَ، قِيلَ لِي: سَلْ؛ فَإِنَّ كُلَّ نَبِيٍّ قَدْ سَأَلَ. فَأَخَّرْتُ مَسْأَلَتِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَهِيَ لَكُمْ وَلِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" [[المسند (٢/٢٢٢) .]] إِسْنَادٌ جَيِّدٌ قَوِيٌّ أَيْضًا وَلَمْ يُخْرِجُوهُ.
وَقَالَ أَيْضًا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ [[في م: "عن النبي".]] ﷺ قال: "مَنْ سَمِعَ بِي مِنْ أُمَّتِي أَوْ يَهُودِيٌّ أَوْ نَصْرَانِيٌّ، فَلَمْ يُؤْمِنْ بِي، لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ" [[المسند (٤/٤٩٦) .]]
وَهَذَا الْحَدِيثِ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي رَجُلٌ [[في م: "أحد".]] مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ: يَهُودِيٌّ وَلَا [[في م: "أو".]] نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ لَا يؤمن [[في م: "ثم يموت ولا يؤمن".]] بي إلا دخل النار" [[هذا لفظ حديث أبي هريرة وقد رواه مسلم في صحيحه برقم (١٥٣) وحديث أبي موسى الأشعري بهذا اللفظ رواه النسائي في السنن الكبرى برقم (١١٢٤١) .]] وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَسَنٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ -وَهُوَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ -عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ [[في ك: "عن النبي".]] ﷺ، أَنَّهُ قَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ: يَهُودِيٌّ أَوْ نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَا يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ". تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ [[المسند (٢/٣٥٠) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَة، عَنْ أَبِي مُوسَى، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أُعْطِيتُ خَمْسًا: بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ [[في أ: "ولم تحل لأحد".]] لِمَنْ كَانَ قَبْلِي، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ شَهْرًا [[في ك: "مسيرة شهر".]] وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ -وَلَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ سَأَلَ الشَّفَاعَةَ، وَإِنِّي قَدِ اخْتَبَأْتُ شَفَاعَتِي، ثُمَّ جَعَلْتُهَا لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا" [[المسند (٤/٤١٦) وقال الهيثمي في المجمع (٨/٢٥٨) : "رجاله رجال الصحيح".]]
وَهَذَا أَيْضًا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ أَرَهُمْ خَرَّجُوهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَهَذَا الْحَدِيثُ ثَابِتٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ أَيْضًا، مِنْ حَدِيثِ [[في ك، م، أ: "رواية".]] جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَلْيُصَلِّ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قبلي، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ [ﷺ] [[زيادة من أ.]] يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً" [[صحيح البخاري برقم (٣٣٥) وصحيح مسلم برقم (٥٢١) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ لَا إِلَهَ إِلا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ﴾ صِفَةُ اللَّهِ تَعَالَى، فِي قَوْلِهِ [[في ك: "قول".]] ﴿رَسُولُ اللَّهِ﴾ أَيْ: الَّذِي أَرْسَلَنِي هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَرَبُّهُ وَمَلِيكُهُ، الَّذِي بِيَدِهِ الْمَلِكُ وَالْإِحْيَاءُ وَالْإِمَاتَةُ، وَلَهُ الْحُكْمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الأمِّيِّ﴾ أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْهِمْ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ بِاتِّبَاعِهِ وَالْإِيمَانِ بِهِ، ﴿النَّبِيِّ الأمِّيِّ﴾ أَيْ: الَّذِي وُعِدْتُمْ بِهِ وَبُشِّرْتُمْ بِهِ فِي الْكُتُبِ الْمُتَقَدِّمَةِ، فَإِنَّهُ مَنْعُوتٌ بِذَلِكَ فِي كُتُبِهِمْ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿النَّبِيِّ الأمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَاتِهِ﴾ أَيْ: يُصَدِّقُ قَوْلَهُ عَمَلُهُ، وَهُوَ يُؤْمِنُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ ﴿وَاتَّبِعُوهُ﴾ أَيْ: اسْلُكُوا طَرِيقَهُ وَاقْتَفُوا أَثَرَهُ، ﴿لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ﴾ أَيْ: إِلَى الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِيمِ.
وَمِن قَوْمِ مُوسَىٰٓ أُمَّةٌۭ يَهْدُونَ بِٱلْحَقِّ وَبِهِۦ يَعْدِلُونَ
And among the people of Moses is a community which guides by truth and by it establishes justice.
اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں
و از قوم موسی، گروهی هستند که به سوی حق هدایت میکنند؛ و به حق و عدالت حکم مینمایند.
Tafsir Ibn Kathir
And of the people of Musa there is a community who lead (the men) with truth and establish justice therewith (159)
Allah stated that of the Children of Israel there are some who follow the truth and judge by it, just as He said in another Ayah,
مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ
(A party of the people of the Scripture stand for the right, they recite the verses of Allah during the hours of the night, prostrating themselves in prayer)[3:113],
وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ لَا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَٰئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
(And there are, certainly, among the People of the Scripture, those who believe in Allah and in that which has been revealed to you, and in that which has been revealed to them, humbling themselves before Allah. They do not sell the verses of Allah for a small price, for them is a reward with their Lord. Surely, Allah is Swift in account.)[3:199]
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ - وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ - أُولَٰئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا
(Those to whom We gave the Scripture before it, they believe in it (the Qur'an). And when it is recited to them, they say: "We believe in it. Verily, it is the truth from our Lord. Indeed even before it we have been from those who submit themselves. These will be given their reward twice over, because they are patient.)[28:52-54], and,
إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا - وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا - وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا
(Verily, those who were given knowledge before it, when it (this Qur'an) is recited to them, fall down on their faces in humble prostration. And they say: "Glory be to our Lord! Truly, the promise of our Lord must be fulfilled." And they fall down on their faces weeping and it increases their humility.)[17:107-109]
Tafsir Ibn Kathir
انبیاء کا قاتل گروہ خبر ہے کہ امت موسیٰ میں بھی ایک گروہ حق کا ماننے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (لَيْسُوْا سَوَاۗءً ۭ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَاۗىِٕمَةٌ يَّتْلُوْنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ وَھُمْ يَسْجُدُوْنَ01103) 3۔ آل عمران :113) ، اہل کتاب میں سے ایک جماعت حق پر قائم ہے، راتوں کو اللہ کے کلام کی تلاوت کرتی رہتی ہے اور برابر سجدے کیا کرتی ہے اور آیت میں ہے (وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ ۙ لَا يَشْتَرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ01909) 3۔ آل عمران :199) ، یعنی اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس پر جو تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اور اس پر جو ان کی طرف اتارا گیا ہے ایمان کا اور اس کی حقانیت کا اعلان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس سے پہلے ہی مسلمان تھے انہیں ان کے صبر کا دوہرا اجر ہے اور آیت میں ہے (اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ01201ۧ) 2۔ البقرة :121) ، جو لوگ ہماری کتاب پائے ہوئے ہیں اور اسے حق تلاوت کی ادائیگی کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ اس قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور فرمان ہے آیت (قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖٓ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا01007ۙ{ السجدہ }) 17۔ الإسراء :107) جو لوگ پہلے علم دیئے گئے ہیں وہ ہمارے پاک قرآن کی آیتیں سن کر سجدوں میں گرپڑتے ہیں۔ ہماری پاکیزگی کا اظہار کر کے ہمارے وعدوں کی سچائی بیان کرتے ہیں۔ اپنی ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے سجدے کرتے ہیں اور عاجزی اور اللہ سے خوف کھانے میں سبقت لے جاتے ہیں امام ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اس جگہ ایک عجیب خبر لکھی ہے کہ ابن جریج فرماتے ہیں جب بنی اسرائیل نے کفر کیا اور اپنے نبیوں کو قتل کیا ان کے بارہ گروہ تھے ان میں سے ایک گروہ اس نالائق گروہ سے الگ رہا اللہ تعالیٰ سے معذورت کی اور دعا کی کہ ان میں اور ان گیارہ گروہوں میں وہ تفریق کر دے۔ چناچہ زمین میں ایک سرنگ ہوگئی یہ اس میں چلے گئے اور چین کے پرلے پار نکل گئے وہاں پر سچے سیدھے مسلمان انہیں ملے جو ہمارے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے تھے۔ کہتے ہیں کہ آیت (وَّقُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًا01004ۭ) 17۔ الإسراء :104) کا یہی مطلب ہے۔ اس آیت میں جس دوسرے وعدے کا ذکر ہے یہ آخرت کا وعدہ ہے۔ کہتے ہیں اس سرنگ میں ڈیڑھ سال تک وہ چلتے رہے۔ کہتے ہیں اس قوم کے اور تمہارے درمیان ایک نہر ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّ مِنْهُمْ طَائِفَةً يَتَّبِعُونَ الْحَقَّ وَيَعْدِلُونَ بِهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ﴾ [آلِ عِمْرَانَ:١١٣] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنزلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ لَا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلا أُولَئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾ [آلِ عِمْرَانَ:١٩٩] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِهِ هُمْ بِهِ يُؤْمِنُونَ * وَإِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ * أُولَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا [وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ] [[زيادة من م، وفي هـ: "الآية".]] ﴾ [القصص:٥٢-٥٤] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلاوَتِهِ أُولَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ﴾ الْآيَةَ [الْبَقَرَةِ:١٢١] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلأذْقَانِ سُجَّدًا* وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولا * وَيَخِرُّونَ لِلأذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا﴾ [الْإِسْرَاءِ:١٠٧-١٠٩]
وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ جَرِيرٍ فِي تَفْسِيرِهَا خَبَرًا عَجِيبًا، فَقَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَوْلُهُ: ﴿وَمِنْ قَوْمِ مُوسَى أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ﴾ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَمَّا قَتَلُوا أَنْبِيَاءَهُمْ، وَكَفَرُوا -وَكَانُوا اثْنَيْ عَشَرَ سِبْطًا -تَبْرَأَ سِبْطٌ مِنْهُمْ مِمَّا صَنَعُوا، وَاعْتَذَرُوا، وَسَأَلُوا اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ، أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُمْ، فَفَتَحَ اللَّهُ لَهُمْ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ، فَسَارُوا فِيهِ حَتَّى خَرَجُوا مِنْ وَرَاءِ الصِّينِ، فَهُمْ هُنَالِكَ حُنَفَاءَ مُسْلِمِينَ يَسْتَقْبِلُونَ قِبْلَتَنَا. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الأرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا﴾ [الْإِسْرَاءِ:١٠٤] وَ"وَعْدُ الْآخِرَةِ": عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ [[تفسير الطبري (١٣/١٧٣) .]] -قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سَارُوا فِي السِّرْبِ سَنَةً وَنِصْفًا.
وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ صَدَقَةَ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنِ السُّدِّي: ﴿وَمِنْ قَوْمِ مُوسَى أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ﴾ قَالَ: قَوْمٌ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ نهر من شُهْد [[في أ: "سهل".]]
وَقَطَّعْنَٰهُمُ ٱثْنَتَىْ عَشْرَةَ أَسْبَاطًا أُمَمًۭا ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ إِذِ ٱسْتَسْقَىٰهُ قَوْمُهُۥٓ أَنِ ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْحَجَرَ ۖ فَٱنۢبَجَسَتْ مِنْهُ ٱثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًۭا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍۢ مَّشْرَبَهُمْ ۚ وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلْغَمَٰمَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلْمَنَّ وَٱلسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا۟ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقْنَٰكُمْ ۚ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
And We divided them into twelve descendant tribes [as distinct] nations. And We inspired to Moses when his people implored him for water, "Strike with your staff the stone," and there gushed forth from it twelve springs. Every people knew its watering place. And We shaded them with clouds and sent down upon them manna and quails, [saying], "Eat from the good things with which We have provided you." And they wronged Us not, but they were [only] wronging themselves.
اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) الگ الگ کرکے بارہ قبیلے (اور) بڑی بڑی جماعتیں بنا دیا۔ اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مار دو۔ تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان (کے سروں) پر بادل کو سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلویٰ اتارتے رہے۔ اور (ان سے کہا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھاؤ۔ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ (جو) نقصان کیا اپنا ہی کیا
ما آنها را به دوازده گروه -که هر یک شاخهای (از دودمان اسرائیل) بود - تقسیم کردیم. و هنگامی که قوم موسی (در بیابان) از او تقاضای آب کردند، به او وحی فرستادیم که: «عصای خود را بر سنگ بزن!» ناگهان دوازده چشمه از آن بیرون جست؛ آنچنان که هر گروه، چشمه و آبشخور خود را میشناخت. و ابر را بر سر آنها سایبان ساختیم؛ و بر آنها «مَن» و «سَلوی» فرستادیم؛ (و به آنان گفتیم:) از روزیهای پاکیزهای که به شما دادهایم، بخورید! (و شکر خدا را بجا آورید! آنها نافرمانی و ستم کردند؛ ولی) به ما ستم نکردند، لکن به خودشان ستم مینمودند.
Tafsir Ibn Kathir
And We divided them into twelve tribes (as distinct) nations. We revealed to Musa when his people asked him for water (saying): "Strike the stone with your stick," and there gushed forth out of it twelve springs, each group knew its own place for water. We shaded them with the clouds and sent down upon them the manna and the quail (saying): "Eat of the good things with which We have provided you." They harmed Us not but they used to harm themselves (160)And (remember) when it was said to them: "Dwell in this town (Jerusalem) and eat therefrom wherever you wish, and say, '(O Allah) forgive our sins'; and enter the gate prostrating (bowing with humility). We shall forgive you your wrongdoings. We shall increase (the reward) for the good-doers. (161)But those among them who did wrong, changed the word that had been told to them. So We sent on them a torment from the heaven in return for their wrongdoings (162)
We discussed these Ayat in Surat Al-Baqarah, which was revealed in Al-Madinah, while these Ayat were revealed in Makkah. We also mentioned the difference between the two narrations, and thus we do not need to repeat it here, all thanks are due to Allah and all the favors are from Him.
Tafsir Ibn Kathir
یہ سب آیتیں سورة بقرہ میں گذر چکی ہیں اور وہیں ان کی پوری تفسیر بھی بحمد اللہ ہم نے بیان کردی ہے وہ سورت مدنیہ ہے اور یہ مکیہ ہے۔ ان آیتوں اور ان آیتوں کا فرق بھی مع لطافت کے ہم نے وہیں ذکر کردیا ہے دوبارہ کی ضرورت نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
تَقَدَّمَ تَفْسِيرُ هَذَا كُلِّهِ فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ"، وَهِيَ مَدَنِيَّةٌ، وَهَذَا السِّيَاقُ مَكِّيٌّ، وَنَبَّهْنَا عَلَى الْفَرْقِ بَيْنَ هَذَا السِّيَاقِ وَذَاكَ بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ [[سورة البقرة الآية: ٦٠.]]
وَإِذْ قِيلَ لَهُمُ ٱسْكُنُوا۟ هَٰذِهِ ٱلْقَرْيَةَ وَكُلُوا۟ مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُولُوا۟ حِطَّةٌۭ وَٱدْخُلُوا۟ ٱلْبَابَ سُجَّدًۭا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيٓـَٰٔتِكُمْ ۚ سَنَزِيدُ ٱلْمُحْسِنِينَ
And [mention, O Muhammad], when it was said to them, "Dwell in this city and eat from it wherever you will and say, 'Relieve us of our burdens,' and enter the gate bowing humbly; We will [then] forgive you your sins. We will increase the doers of good [in goodness and reward]."
اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطّتہٌ کہنا اور دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے
و (به خاطر بیاورید) هنگامی را که به آنها گفته شد: «در این شهر [= بیت المقدّس] ساکن شوید، و از هر جا (و به هر کیفیت) بخواهید، از آن بخورید (و بهره گیرید)! و بگویید: خداوندا! گناهان ما را بریز! و از درِ (بیت المقدس) با تواضع وارد شوید! که اگر چنین کنید، گناهان شما را میبخشم؛ و نیکوکاران را پاداش بیشتر خواهیم داد.»
Tafsir Ibn Kathir
And We divided them into twelve tribes (as distinct) nations. We revealed to Musa when his people asked him for water (saying): "Strike the stone with your stick," and there gushed forth out of it twelve springs, each group knew its own place for water. We shaded them with the clouds and sent down upon them the manna and the quail (saying): "Eat of the good things with which We have provided you." They harmed Us not but they used to harm themselves (160)And (remember) when it was said to them: "Dwell in this town (Jerusalem) and eat therefrom wherever you wish, and say, '(O Allah) forgive our sins'; and enter the gate prostrating (bowing with humility). We shall forgive you your wrongdoings. We shall increase (the reward) for the good-doers. (161)But those among them who did wrong, changed the word that had been told to them. So We sent on them a torment from the heaven in return for their wrongdoings (162)
We discussed these Ayat in Surat Al-Baqarah, which was revealed in Al-Madinah, while these Ayat were revealed in Makkah. We also mentioned the difference between the two narrations, and thus we do not need to repeat it here, all thanks are due to Allah and all the favors are from Him.
Tafsir Ibn Kathir
یہ سب آیتیں سورة بقرہ میں گذر چکی ہیں اور وہیں ان کی پوری تفسیر بھی بحمد اللہ ہم نے بیان کردی ہے وہ سورت مدنیہ ہے اور یہ مکیہ ہے۔ ان آیتوں اور ان آیتوں کا فرق بھی مع لطافت کے ہم نے وہیں ذکر کردیا ہے دوبارہ کی ضرورت نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
تَقَدَّمَ تَفْسِيرُ هَذَا كُلِّهِ فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ"، وَهِيَ مَدَنِيَّةٌ، وَهَذَا السِّيَاقُ مَكِّيٌّ، وَنَبَّهْنَا عَلَى الْفَرْقِ بَيْنَ هَذَا السِّيَاقِ وَذَاكَ بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ [[سورة البقرة الآية: ٦٠.]]
فَبَدَّلَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ ٱلَّذِى قِيلَ لَهُمْ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُوا۟ يَظْلِمُونَ
But those who wronged among them changed [the words] to a statement other than that which had been said to them. So We sent upon them a punishment from the sky for the wrong that they were doing.
مگر جو ان میں ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لیے کہ ظلم کرتے تھے
اما ستمگران آنها، این سخن (و آن فرمانها) را، بغیر آنچه به آنها گفته شده بود، تغییر دادند؛ از اینرو بخاطر ستمی که روا میداشتند، بلایی از آسمان بر آنها فرستادیم (و مجازاتشان کردیم).
Tafsir Ibn Kathir
And We divided them into twelve tribes (as distinct) nations. We revealed to Musa when his people asked him for water (saying): "Strike the stone with your stick," and there gushed forth out of it twelve springs, each group knew its own place for water. We shaded them with the clouds and sent down upon them the manna and the quail (saying): "Eat of the good things with which We have provided you." They harmed Us not but they used to harm themselves (160)And (remember) when it was said to them: "Dwell in this town (Jerusalem) and eat therefrom wherever you wish, and say, '(O Allah) forgive our sins'; and enter the gate prostrating (bowing with humility). We shall forgive you your wrongdoings. We shall increase (the reward) for the good-doers. (161)But those among them who did wrong, changed the word that had been told to them. So We sent on them a torment from the heaven in return for their wrongdoings (162)
We discussed these Ayat in Surat Al-Baqarah, which was revealed in Al-Madinah, while these Ayat were revealed in Makkah. We also mentioned the difference between the two narrations, and thus we do not need to repeat it here, all thanks are due to Allah and all the favors are from Him.
Tafsir Ibn Kathir
یہ سب آیتیں سورة بقرہ میں گذر چکی ہیں اور وہیں ان کی پوری تفسیر بھی بحمد اللہ ہم نے بیان کردی ہے وہ سورت مدنیہ ہے اور یہ مکیہ ہے۔ ان آیتوں اور ان آیتوں کا فرق بھی مع لطافت کے ہم نے وہیں ذکر کردیا ہے دوبارہ کی ضرورت نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
تَقَدَّمَ تَفْسِيرُ هَذَا كُلِّهِ فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ"، وَهِيَ مَدَنِيَّةٌ، وَهَذَا السِّيَاقُ مَكِّيٌّ، وَنَبَّهْنَا عَلَى الْفَرْقِ بَيْنَ هَذَا السِّيَاقِ وَذَاكَ بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ [[سورة البقرة الآية: ٦٠.]]
وَسْـَٔلْهُمْ عَنِ ٱلْقَرْيَةِ ٱلَّتِى كَانَتْ حَاضِرَةَ ٱلْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِى ٱلسَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًۭا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ ۙ لَا تَأْتِيهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَبْلُوهُم بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ
And ask them about the town that was by the sea - when they transgressed in [the matter of] the sabbath - when their fish came to them openly on their sabbath day, and the day they had no sabbath they did not come to them. Thus did We give them trial because they were defiantly disobedient.
اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جب لب دریا واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان کے ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو ان کی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے
و از آنها درباره (سرگذشت) شهری که در ساحل دریا بود بپرس! زمانی که آنها در روزهای شنبه، تجاوز (و نافرمانی) خدا میکردند؛ همان هنگام که ماهیانشان، روز شنبه (که روز تعطیل و استراحت و عبادت بود، بر سطح آب،) آشکار میشدند؛ امّا در غیر روز شنبه، به سراغ آنها نمیآمدند؛ این چنین آنها را به چیزی آزمایش کردیم که نافرمانی میکردند!
Tafsir Ibn Kathir
And ask them about the town that was by the sea; when they transgressed in the matter of the Sabbath: when their fish came to them openly on the Sabbath day, and did not come to them on the day they had no Sabbath. Thus We made a trial for them, for they used to rebel against Allah's command (163)
The Jews transgress the Sanctity of the Sabbath
This Ayah explains Allah's statement,
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنكُمْ فِي السَّبْتِ
(And indeed you knew those among you who transgressed in the matter of the Sabbath..)[2:65] Allah says to His Prophet ﷺ here,
وَاسْأَلْهُمْ
(And ask them) ask the Jews who are with you, about the story of their fellow Jews who defied Allah's command, so that His punishment overtook them all of a sudden for their evil actions, transgression and defiance by way of deceit. Also, warn the Jews (O Muhammad) against hiding your description that they find in their books, so that they do not suffer what their forefathers suffered. The village mentioned here is Aylah, on the shore of the Qulzum (Red) Sea. Muhammad bin Ishaq recorded from Dawud bin Al-Husayn from 'Ikrimah that Ibn 'Abbas commented on Allah's statement,
وَاسْأَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ
(And ask them about the town that was by the sea...) "A village called Aylah between Madyan and At-Tur (which is in Sinai). 'Ikrimah, Mujahid, Qatadah and As-Suddi said similarly. Allah's statement,
إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ
(when they transgressed in the matter of the Sabbath;) means, they transgressed in the Sabbath and defied Allah's command to them to keep it sanctified,
إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا
(when their fish came to them openly on the Sabbath day,) visible on top of the water, according to Ad-Dahhak who reported it from Ibn 'Abbas. Ibn Jarir said, "Allah's statement,
وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ لَا تَأْتِيهِمْ كَذَٰلِكَ نَبْلُوهُم
(and did not come to them on the day they had no Sabbath. Thus We made a trial of them,) means, this is how We tested them by making the fish swim close to the surface of the water, on the day which they were prohibited to fish. The fish would be hidden from them on the day when they were allowed to fish,
كَذَٰلِكَ نَبْلُوهُم
(Thus We made a trial for them,) so that We test them,
بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
(for they used to rebel against Allah's command) by defying His obedience and rebelling against it."
Therefore, these were a people who used a trick to violate Allah's prohibitions, taking an action that seemed legal on the surface. However, in reality, this action was meant to transgress the prohibition. Imam and scholar Abu 'Abdullah Ibn Battah reported that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
لَا تَرْتَكِبوُا مَا ارْتَكَبَتِ الْيَهُودُ فَتَسْتَحِلُّوا مَحَارِمَ اللهِ بِأَدْنَى الْحِيَلِ
(Do not repeat what the Jews committed, and violate Allah's prohibitions using deceitful tricks.) This Hadith has a reasonable chain.
Tafsir Ibn Kathir
تصدیق رسالت سے گریزاں یھودی علماء پہلے آیت (وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِيْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِى السَّبْتِ فَقُلْنَا لَھُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِـــِٕيْنَ 65ۚ) 2۔ البقرة :65) گذر چکی ہے اسی واقعہ کا تفصیلی بیان اس آیت میں ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلوات اللہ وسلامہ علیہ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنے زمانے کے یہودیوں سے ان کے پہلے باپ دادوں کی بابت سوال کیجئے جنہوں نے اللہ کے فرمان کی مخالفت کی تھی پس ان کی سرکشی اور حیلہ جوئی کی وجہ سے ہماری اچانک پکڑ ان پر مسلط ہوئی۔ اس واقعہ کو یاد دلا کہ یہ بھی میری ناگہانی سزا سے ڈر کر اپنی اس ملعون صفت کو بدل دیں اور آپ کے جو اوصاف ان کی کتابوں میں ہیں انہیں نہ چھپائیں ایسا نہ ہو کہ ان کی طرح ان پر بھی ہمارے عذاب ان کی بیخبر ی میں برس پڑیں۔ ان لوگوں کی یہ بستی بحر قلزم کے کنارے واقع تھی جس کا نام آئلہ تھا۔ مدین اور طور کے درمیان یہ شہر تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بستی کا نام مدین تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا نام متنا تھا۔ یہ مدین اور عینوں کے درمیان تھا۔ انہیں حکم ملا کہ یہ ہفتہ کے دن کی حرمت کریں اور اس دن شکار نہ کھیلیں، مچھلی نہ پکڑیں۔ ادھر مچھلیوں کی بحکم الٰہی یہ حالت ہوئی کہ ہفتے والے دن تو چڑھی چلی آتیں کھلم کھلا ہاتھ لگتیں تیرتی پھرتیں سب طرف سے سمٹ کر آ جاتیں اور جب ہفتہ نہ ہوتا ایک مچھلی بھی نظر نہ آتی بلکہ تلاش پر بھی ہاتھ نہ لگتی۔ یہ ہماری آزمائش تھی کہ مچھلیاں ہیں تو شکار منع اور شکار جائز ہے تو مچھلیاں ندارد۔ چونکہ یہ لوگ فاسق اور بےحکم تھے اس لئے ہم نے بھی ان کو اس طرح آزمایا آخر ان لوگوں نے حیلہ جوئی شروع کی ایسے اسباب جمع کرنے شروع کئے جو باطن میں اس حرام کام کا ذریعہ بن جائیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ یہودیوں کی طرح حیلے کر کے ذرا سی دیر کے لئے اللہ کے حرام کو حلال نہ کرلینا۔ اس حدیث کو امام ابن بطو لائے ہیں اور اس کی سند نہایت عمدہ ہے اس کے راوی احمد ہیں۔ محمد بن مسلم کا ذکر امام خطیب ؒ نے اپنی تاریخ میں کیا ہے اور انہیں ثقہ کہا ہے باقی اور سب راوی بہت مشہور ہیں اور سب کے سب ثقہ ہیں ایسی بہت سی سندوں کو امام ترمذی ؒ نے صحیح کہا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا السِّيَاقُ هُوَ بَسْطٌ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ﴾ [الْبَقَرَةِ:٦٥] يَقُولُ [اللَّهُ] [[زيادة من م.]] تَعَالَى، لِنَبِيِّهِ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ: ﴿وَاسْأَلْهُمْ﴾ أَيْ: وَاسْأَلْ هَؤُلَاءِ الْيَهُودَ الَّذِينَ بِحَضْرَتِكَ عَنْ قِصَّةِ أَصْحَابِهِمُ الَّذِينَ خَالَفُوا أَمْرَ اللَّهِ، فَفَاجَأَتْهُمْ نِقْمَتُهُ عَلَى صَنِيعِهِمْ وَاعْتِدَائِهِمْ وَاحْتِيَالِهِمْ فِي الْمُخَالَفَةِ، وَحَذِّرْ هَؤُلَاءِ مِنْ كِتْمَانِ صِفَتِكَ الَّتِي يَجِدُونَهَا فِي كُتُبِهِمْ؛ لِئَلَّا يَحِلَّ بِهِمْ مَا حَلَّ بِإِخْوَانِهِمْ وَسَلَفِهِمْ. وَهَذِهِ الْقَرْيَةُ هِيَ "أَيْلَةُ" وَهِيَ عَلَى شَاطِئِ بَحْرِ الْقُلْزُمِ.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: عَنْ دَاوُدَ بْنِ الحُصَين، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَاسْأَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ﴾ قَالَ: هِيَ قَرْيَةٌ يُقَالُ لَهَا "أَيْلَةُ" بَيْنَ مَدْيَنَ وَالطُّورِ. وَكَذَا قَالَ عِكْرِمَةُ، وَمُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ، والسُّدِّي.
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ الْقَارِئُ، سَمِعْنَا أَنَّهَا أَيْلَةُ. وَقِيلَ: هِيَ مَدْيَنُ، وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَالَ ابْنُ زَيْدٍ: هِيَ قَرْيَةٌ يُقَالُ لَهَا. "مُقْنَا" بَيْنَ مَدْيَنَ وعَيدُوني.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ﴾ أَيْ: يَعْتَدُونَ فِيهِ وَيُخَالِفُونَ أَمْرَ اللَّهِ فِيهِ لَهُمْ بِالْوَصَاةِ بِهِ إِذْ ذَاكَ. ﴿إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا﴾ قَالَ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَيْ ظَاهِرَةً عَلَى الْمَاءِ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿شُرَّعًا﴾ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ لَا تَأْتِيهِمْ كَذَلِكَ نَبْلُوهُمْ﴾ أَيْ: نَخْتَبِرُهُمْ بِإِظْهَارِ السَّمَكِ لَهُمْ عَلَى ظَهْرِ الْمَاءِ فِي الْيَوْمِ الْمُحَرَّمِ عَلَيْهِمْ صَيْدُهُ، وَإِخْفَائِهِ [[في ك، م، أ: "إخفائها".]] عَنْهُمْ فِي الْيَوْمِ الْمُحَلَّلِ لَهُمْ صَيْدُهُ ﴿كَذَلِكَ نَبْلُوهُمْ﴾ نَخْتَبِرُهُمْ ﴿بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ﴾ يَقُولُ: بِفِسْقِهِمْ عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ وَخُرُوجِهِمْ عَنْهَا.
وَهَؤُلَاءِ قَوْمٌ احْتَالُوا عَلَى انْتِهَاكِ مَحَارِمِ اللَّهِ، بِمَا تَعَاطَوْا مِنَ الْأَسْبَابِ الظَّاهِرَةِ الَّتِي مَعْنَاهَا فِي الْبَاطِنِ تَعَاطِي الْحَرَامِ.
وَقَدْ قَالَ الْفَقِيهُ الْإِمَامُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بَطَّةَ، رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم قال: "لَا تَرْتَكِبُوا مَا ارْتَكَبَتِ [[في أ: "ارتكب".]] الْيَهُودُ، فَتَسْتَحِلُّوا مَحَارِمَ اللَّهِ بِأَدْنَى الْحِيَلِ" [[جزء في الخلع وإبطال الحيل لابن بطة (٤٢) .]]
وَهَذَا إِسْنَادٌ جَيِّدٌ، فَإِنَّ أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ هَذَا [[في م: "هكذا".]] ذَكَرَهُ الْخَطِيبُ فِي تَارِيخِهِ [[في تاريخ بغداد (٥/٩٨، ٩٩) أحمد بن محمد بن مسلم البغدادي ولكن لم يتكلم عليه الخطيب ولم يوثق.]] وَوَثَّقَهُ، وَبَاقِي رِجَالِهِ مَشْهُورُونَ ثِقَاتٌ، وَيُصَحِّحُ التِّرْمِذِيُّ بِمِثْلِ هَذَا الْإِسْنَادِ كَثِيرًا.
وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌۭ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ۙ ٱللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًۭا شَدِيدًۭا ۖ قَالُوا۟ مَعْذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
And when a community among them said, "Why do you advise [or warn] a people whom Allah is [about] to destroy or to punish with a severe punishment?" they [the advisors] said, "To be absolved before your Lord and perhaps they may fear Him."
اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو الله ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے تو انہوں نے کہا اس لیے کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت کرسکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں
و (به یاد آر) هنگامی را که گروهی از آنها (به گروه دیگر) گفتند: «چرا جمعی (گنهکار) را اندرز میدهید که سرانجام خداوند آنها را هلاک خواهد کرد، یا به عذاب شدیدی گرفتار خواهد ساخت؟! (آنها را به حال خود واگذارید تا نابود شوند!)» گفتند: «(این اندرزها،) برای اعتذار (و رفع مسؤولیت) در پیشگاه پروردگار شماست؛ بعلاوه شاید آنها (بپذیرند، و از گناه باز ایستند، و) تقوا پیشه کنند!»
Tafsir Ibn Kathir
And when a community among them said: "Why do you preach to a people whom Allah is about to destroy or to punish with a severe torment?" (The preachers) said: "In order to be free from guilt before your Lord (Allah), and perhaps they may fear Allah. (164)So when they forgot the reminder that had been given to them, We rescued those who forbade evil, but with a severe torment We seized those who did wrong, because they used to rebel against Allah's command (165)So when they exceeded the limits of what they were prohibited, We said to them: "Be you monkeys, despised. (166)
Those Who breached the Sabbath were turned into Monkeys, but Those Who prohibited Their Actions were saved
Allah said that the people of this village were divided into three groups, a group that committed the prohibition, catching fish on the Sabbath, as we described in the Tafsir of Surat Al-Baqarah. Another group prohibited them from transgression and avoided them. A third group neither prohibited them, nor participated in their action. The third group said to the preachers,
لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا
("Why do you preach to a people whom Allah is about to destroy or to punish with a severe torment?").
They said, 'why do you forbid these people from evil, when you know that they are destroyed and have earned Allah's punishment?' Therefore, they said, there is no benefit in forbidding them. The preachers replied,
مَعْذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمْ
("In order to be free from guilt before your Lord (Allah),") 'for we were commanded to enjoin righteousness and forbid evil,'
وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
("and perhaps they may fear Allah") for on account of our advice, they might stop this evil and repent to Allah. Certainly, if they repent to Allah, Allah will accept their repentance and grant them His mercy.' Allah said,
فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ
(So when they forgot the reminder that had been given to them,) when the evil doers refused the advice,
أَنجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا
(We rescued those who forbade evil, but We seized who did wrong,) who committed the transgression,
بِعَذَابٍ بَئِيسٍ
(with a severe torment). Allah stated that those who enjoined good were saved, while those who committed the transgression were destroyed, but He did not mention the end of those who were passive (the third group), for the compensation is comparable to the deed. This type did not do what would warrant praise, nor commit wrong so that they are admonished.
Ikrimah said, "Ibn 'Abbas said about the Ayah: 'I do not know whether or not the people were saved who said;
لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ
("Why do you preach to a people whom Allah is about to destroy…?")
So I continued discussing it with him until I convinced him that they were. Then he gave me [the gift of] a garment." Allah said,
وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ
(and We seized those who did wrong with a Ba'is torment) indicating that those who remained were saved. As for 'Ba'is', it means 'severe', according to Mujahid, or 'painful', according to Qatadah. These meanings are synonymous, and Allah knows best. Allah said next,
خَاسِئِينَ
(despised), humiliated, disgraced and rejected.
Tafsir Ibn Kathir
اصحاب سبت جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے ان کے تین گروہ ہوگئے تھے ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے حوالوں سے مچھلی پکڑنے والا۔ دوسرا گروہ انہیں روکنے والا اور ان سے بیزاری ظاہر کر کے ان سے الگ ہوجانے والا اور تیسرا گروہ چپ چاپ رہ کر نہ اس کام کو کرنے والا نہ اس سے روکنے والا جیسے کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار بیان کر آئے ہیں۔ جو لوگ خاموش تھے نہ برائی کرتے تھے نہ بروں کو برائی سے روکتے تھے انہوں نے روکنے والوں کو سمجھانا شروع کیا کہ میاں ان لوگوں کو کہنے سننے سے کیا فائدہ ؟ انہوں نے تو اللہ کے عذاب مول لے لئے ہیں رب کے غضب کیلئے تیار ہوگئے ہیں اب تم ان کے پیچھے کیوں پڑے ہو ؟ تو اس پاک گروہ نے جواب دیا کہ اس میں دو فائدے ہیں ایک تو یہ کہ اللہ کے پاس ہم معذرت خواہ ہوجائیں کہ ہم اپنا فرض برابر ادا کرتے رہے انہیں ہر وقت سمجھاتے بجھاتے رہے۔ معذرت کے پیش سے بھی ایک قرأت ہے تو گوایا ھذا کا لفظ یہاں مقرر مانا یعنی انہوں نے کہا یہ ہماری معذرت ہے اور زبر کی قرأت پر یہ مطلب ہے کہ ہم جو انہیں روک رہے ہیں یہ کام بطور اس کے کر رہے ہیں کہ اللہ کے ہاں ہم پر الزام نہ آئے کیونکہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمیشہ نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو، دوسرا فائدہ اس میں یہ ہے کہ بہت ممکن ہے کسی وقت کی نصیحت ان پر اثر کر جائے یہ لوگ اپنی اس حرام کاری سے باز آجائیں اللہ سے توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی ان پر مہربانی کرے اور ان کے گناہ معاف فرما دے۔ آخر کار ان کی نصیحت خیر خواہی بھی بےنتیجہ ثابت ہوئی۔ ان بدکاروں نے ایک نہ مانی تو ہم نے اس مسلم گروہ کو تو جو برابر ان سے نالاں رہا ان سے الگ رہا اور انہیں سمجھتا بجھتا رہا نجات دے دی اور باقی کے ظالموں کو جو ہماری نافرمانیوں کے مرتکب تھے اپنے بدترین عذابوں سے پکڑ لیا۔ عبارت کی عمدگی ملاحظہ ہو کہ روکنے والوں کی نجات کا کھلے لفظوں میں اعلان کیا ظالموں کی ہلاکت کا بھی غیر مشتبہ الفاظ میں بیان کیا اور چپ رہنے والوں کے حالات سے سکوت کیا گیا، اس لئے کہ ہر عمل کی جزا اسی کی ہم جنس ہے۔ یہ لوگ نہ تو اس ظلم عظیم میں شریک تھے کہ ان کی مذمت اعلانیہ کی جائے نہ دلیری سے روکتے تھے کہ صاف طور پر قابل تعریف ٹھہریں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جو گروہ ممانعت کرنے کے بعد تھک کر بیٹھ گیا تھا اور پھر روکنا جھوڑ دیا تھا اللہ کا عذاب جب آیا تو یہ گروہ بھی اس عذاب سے بچ گیا صرف وہی ہلاک ہوئے جو گناہ میں مبتلا تھے۔ آپ کے شاگرد حضرت عکرمہ کا بیان ہے کہ پہلے حضرت ابن عباس کو اس میں بڑا تردد تھا کہ آیا یہ لوگ ہلاک ہوئے یا بچ گئے یہاں تک کہ ایک روز میں آیا تو دیکھا کہ قرآن گود میں رکھے ہوئے رو رہے ہیں۔ اول اول تو میرا حوصلہ نہ پڑا کہ سامنے آؤں لیکن دیر تک جب یہی حالت رہی تو میں نے قریب آکر سلام کیا بیٹھ گیا اور رونے کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا دیکھو یہ سورة اعراف ہے اس میں ایلہ کے یہودیوں کا ذکر ہے کہ انہیں ہفتے کے روز مچھلی کے شکار کی ممانعت کردی گئی اور ان کی آزمائش کے لئے مچھلیوں کو حکم ھوا کہ وہ صرف ہفتے کے دن ہی نکلیں ہفتے کے دن دریا مچھلیوں سے بھرے رہتے تھے۔ ترو تازہ موٹی اور عمدہ بکثرت مچھلیاں پانی کے اوپر اجھلتی کودتی رہتی تھیں اور دنوں میں سخت کوشش کے باوجود بھی نہ ملتی تھیں۔ کچھ دنوں تو ان کے دلوں کے اندر حکم الٰہی کی عظمت رہی اور یہ ان کے پکڑنے سے رکے رہے لیکن پھر شیطان نے ان کے دل میں یہ قیاس ڈال دیا کہ اس دن منع کھانے سے ہے تم نے آج کھانا نہیں۔ پکڑ لو اور جائز دن کھا لینا۔ سچے مسلمانوں نے انہیں اس حیلہ جوئی سے ہرچند روکا اور سمجھایا کہ دیکھو شکار کھیلنا شروع نہ کرو شکار اور کھانا دونوں منموع ہیں۔ اگلے جمعہ کے دن جو جماعت شیطانی پھندے میں پھنس چکی تھی وہ اپنے بال بچوں سمیت شکار کو نکل کھڑی ہوئی۔ باقی کے لوگوں کی دو جماعتیں بن گئیں ایک ان کے دائیں ایک بائیں۔ دائیں جانب والی تو برابر انہیں روکتی رہی کہ اللہ سے ڈرو اور اللہ کے عذابوں کے لئے تیاری نہ کرو۔ بائیں والوں نے کہا میاں تمہیں کیا پڑی ؟ یہ تو خراب ہونے والے ہیں اب تم انہیں نصیحت کر کے کیا لو گے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ خیر اللہ کے ہاں ہم تو چھوٹ جائیں گے اور ہمیں تو اب تک مایوسی بھی نہیں کیا عجب کہ یہ لوگ سنور جائیں تو ہلاکت اور عذاب سے محفوظ رہیں۔ ہماری تو عین منشا یہ ہے لیکن یہ بدکار اپنی بےایمانی سے باز نہ آئے اور نصیحت انہیں کار گر نہ ہوئی تو دائیں طرف کے لوگوں نے کہا تم نے ہمارا کہا نہ مانا۔ اللہ کی نافرمانی کی، ارتکاب حرمت کیا۔ عجب نہیں راتوں رات تم پر کوئی عذاب رب آئے۔ اللہ تمہیں زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسا دے یا کسی اور طرح تمہیں سزا دے۔ رات ہم تو یہیں گذاریں گے تمہارے ساتھ شہر میں نہیں رہیں گے۔ جب صبح ہوگئی اور شہر کے دروازے نہ کھلے تو انہوں نے کواڑ کھٹ کھٹائے، آوازیں دیں لیکن کوئی جواب نہ آیا آخر سیڑھی لگا کر ایک شخص کو قلعہ کی دیوار پر چڑھایا اس نے دیکھا تو حیران ہوگیا کہ سب لوگ بندر بنا دیئے گئے۔ اس نے ان سب مسلمانوں کو خبر دی۔ یہ دروازے توڑ کر اندر گئے تو دیکھا کہ سب دم دار بندر بن گئے ہیں یہ تو کسی کو پہچان نہ سکے لیکن وہ پہچان گئے ہر بندر اپنے اپنے رشتے دار کے قدموں میں لوٹنے لگا ان کے کپڑے پکڑ پکڑ کر رونے لگا تو انہوں نے کہا دیکھو ہم تو تمہیں منع کر رہے تھے لیکن تم نے مانا ہی نہیں۔ وہ اپنا سر ہلاتے تھے کہ ہاں ٹھیک ہے ہمارے اعمال کی شامت نے ہی ہمیں برباد کیا ہے۔ تو اب یہ تو قرآن میں ہے کہ روکنے والے نجات یافتہ ہوئے لیکن یہ بیان نہیں کہ جو روکنے والوں کو منع کرتے تھے ان کا کیا حشر ہوا ؟ اب ہم بھی بہت سی خلاف باتیں دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں کرسکتے، میں نے آپ سے یہ سن کر کہا اللہ مجھے آپ پر نثار کر دے آپ یہ تو دیکھئے کہ وہ لوگ ان کے اس فعل کو برا سمجھتے رہے تھے ان کی مخالفت کرتے تھے جانتے تھے کہ یہ ہلاک ہونے والے ہیں ظاہر ہے کہ یہ بچ گئے، آپ کی سمجھ میں آگیا اور اسی وقت حکم دیا کہ مجھے دو چادریں انعام میں دی جائیں۔ الغرض اس بیچ کی جماعت کی نسبت ایک قول تو یہ ہے کہ عذاب سے بچ گئی دوسرا قول یہ ہے کہ عذاب ان پر بھی آیا۔ ابن رومان فرماتے ہیں کہ ہفتے والے دن خوب مچھلیاں آتیں پانی ان سے بھر جاتا پھر بیچ کے کسی دن نظر نہ آتیں دوسرے ہفتے کو پھر یہی حال ہوتا، سب سے پہلے ایک شخص نے یہ حیلہ نکالا کہ ڈور اور کانٹا تیار کیا، مچھلی کو اس میں ہفتے کے دن پھنسا لیا اور پانی میں ہی چھوڑ دیا اتوار کی رات کو جا کر نکال لیں بھونا لوگوں کو مچھلی کی خوشبو پہنچی تو سب نے گھیر لیا۔ ہرچند پوچھا لیکن اول تو یہ سختی سے انکار کرتا رہا آخر اسنے بات بنادی کہ دراصل ایک مچھلی کا چھلکا مجھے مل گیا تھا میں نے اسے بھونا تھا، دوسرے ہفتے کے دن اس نے اسی طرح دو مچھلیاں پھانس لیں اتوار کی رات کو نکال کر بھوننے لگا لوگ آگئے تو اس نے کہا میں نے ایک ترکیب نکال لی ہے جس سے نافرمانی بھی نہ ہو اور کام بھی نہ رکے اب جو حیلہ بیان کیا تو ان سب نے اسے پسند کیا اور اکثر لوگ یونہی کرنے لگے۔ یہ لوگ رات کو شہر پناہ کے پھاٹک بند کر کے سوتے تھے جس رات عذاب آیا حسب دستور یہ شہر پناہ کے پھاٹک لگا کر سوئے تھے۔ صبح کو جب باہر والے شہر میں داخل ہونے کو آئے تو خلاف معمول اب تک دروازے بند پائے آوازیں دیں کوئی جواب نہ ملا قلعہ پر چڑھ گئے دیکھا تو بندر بنا دیئے گئے ہیں کھول کر اندر گئے تو بندر اپنے اپنے رشتہ داروں کے قدموں میں لوٹنے لگے اس سے پہلے سورة بقرہ کی ایسی ہی آیت کی تفسیر کے موقعہ پر بالتفصیل ان واقعات کو اچھی طرح بیان کرچکے ہیں وہیں دیکھ لیجئے۔ فالحمد اللہ، دوسرا قول یہ ہے کہ جو چپ رہے تھے وہ بھی ان گنہگاروں کے ساتھ ہلاک ہوئے، ابن عباس سے منقول ہے کہ پہلے ہفتہ کے دن کی تعظیم بطور بدعت خود ان لوگوں نے نکالی اب اللہ کی طرف سے بطور آزمائش کے وہ تعظیم ان پر ضروری قرار دے دی گئی اور حکم ہوگیا کہ اس دن مجھلی کا شکار نہ کرو پھر مچھلیوں کا اس دن نمایاں ہونا اور دنوں میں نہ نکلنا وغیرہ بیان فرما کر فرمایا کہ پھر ان میں سے ایک شخص نے ایک مچھلی ہفتے کے دن پکڑی اس کی ناک میں سوراخ کرکے ڈور باندھ کر ایک کیل کنارے گاڑ کر اس میں ڈور اٹکا کر مچھلی کو دریا میں ڈال دیا دوسرے دن جا کر پانی میں سے نکال لایا اور بھون کر کھالی سوائے اس پاک باز حق گو جماعت کے لوگوں کے کسی نے نہ اسے روکا نہ منع کیا نہ سمجھایا لیکن ان کی نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس ایک کی دیکھا دیکھی اور بھی یہی کام کرنے لگے یہاں تک کہ بازاروں میں مچھلی آنے لگی اور اعلانیہ یہ کام ہونے لگا۔ ایک اور جماعت کے لوگوں نے اس حق والی جماعت سے کہا کہ تم ان لوگوں کو کیوں وعظ کرتے ہو اللہ تو انہیں ہلاک کرنے والا سخت عذاب کرنے والا ہے تو انہوں نے وہ جواب دیا یعنی اللہ کا فرمان دہرایا۔ لیکن لوگ فرمان ربانی کو بھول بیٹھے اور عذاب رب کے خود شکار ہوگئے۔ یہ تین گروہوں میں بٹ گئے تھے ایک تو شکار کھیلنے والا، ایک منع کرنے والا، ایک ان منع کرنے والوں سے کہنے والا کہ اب نصیحت بیکار ہے۔ بس وہ تو بچ گئے جو برابر روکتے رہے تھے اور دونوں جماعتیں ہلاک کردی گئیں۔ سند اس کی نہایت عمدہ ہے لیکن حضرت ابن عباس کا حضرت عکرمہ کے قول کی طرف رجوع کرنا اس قول کے کہنے سے اولیٰ ہے اس لئے کہ اس قول کے بعد ان پر ان کے حال کی حقیقت کھل گئی واللہ اعلم۔ پھر فرمان ہے کہ ہم نے ظالموں کو سخت عذابوں سے دبوچ لیا۔ مفہوم کی دلالت تو اس بات پر ہے کہ جو باقی رہے بچ گئے۔ (بئیس) کی کئی ایک قرأتیں ہیں اس کے معنی سخت کے، دردناک کے، تکلیف دہ کے ہیں اور سب کا مطلب قریب قریب یکساں ہے۔ ان کی سرکشی اور ان کے حد سے گذر جانے کے باعث ہم نے ان سے کہہ دیا کہ تم ذلیل حقیر اور ناقدرے بندر بن جاؤ چناچہ وہ ایسے ہی ہوگئے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ أَهْلِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ أَنَّهُمْ صَارُوا إِلَى ثَلَاثِ فِرَقٍ: فِرْقَةٌ [[في ك، م، أ: "ففرقة".]] ارْتَكَبَتِ الْمَحْذُورَ، وَاحْتَالُوا عَلَى اصْطِيَادِ السَّمَكِ يَوْمَ السَّبْتِ، كَمَا تَقَدَّمَ بَيَانُهُ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ. وَفِرْقَةٌ نَهَتْ عَنْ ذَلِكَ، [وَأَنْكَرَتْ] [[زيادة من ك، م، أ.]] وَاعْتَزَلَتْهُمْ. وَفِرْقَةٌ سَكَتَتْ فَلَمْ تَفْعَلْ وَلَمْ تَنْهَ، وَلَكِنَّهَا قَالَتْ لِلْمُنْكِرَةِ: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ ؟ أَيْ: لِمَ تَنْهَوْنَ هَؤُلَاءِ، وَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّهُمْ هَلَكُوا وَاسْتَحَقُّوا الْعُقُوبَةَ مِنَ اللَّهِ؟ فَلَا فَائِدَةَ فِي نَهْيِكُمْ إِيَّاهُمْ. قَالَتْ لَهُمُ الْمُنْكِرَةُ: ﴿مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ﴾ قَرَأَ بَعْضُهُمْ بِالرَّفْعِ، كَأَنَّهُ عَلَى تَقْدِيرِهِ: هَذَا مَعْذِرَةٌ وَقَرَأَ آخَرُونَ بِالنَّصْبِ، أَيْ: نَفْعَلُ ذَلِكَ ﴿مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ﴾ أَيْ: فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا مِنَ الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ ﴿وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ﴾ يَقُولُونَ: وَلَعَلَّ بِهَذَا الْإِنْكَارِ يَتَّقُونَ مَا هُمْ فِيهِ وَيَتْرُكُونَهُ، وَيَرْجِعُونَ إِلَى اللَّهِ تَائِبِينَ، فَإِذَا تَابُوا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَرَحِمَهُمْ.
قَالَ تَعَالَى: ﴿فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ﴾ أَيْ: فَلَمَّا أَبَى الْفَاعِلُونَ الْمُنْكَرَ قَبُولَ النَّصِيحَةِ، ﴿أَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا﴾ أَيْ: ارْتَكَبُوا الْمَعْصِيَةَ ﴿بِعَذَابٍ بَئِيسٍ﴾ فَنَصَّ عَلَى نَجَاةِ النَّاهِينَ وَهَلَاكِ الظَّالِمِينَ، وَسَكَتَ عَنِ السَّاكِتِينَ؛ لِأَنَّ الْجَزَاءَ مِنْ جِنْسِ الْعَمَلِ، فَهُمْ لَا يَسْتَحِقُّونَ مَدْحًا فَيُمْدَحُوا، وَلَا ارْتَكَبُوا عَظِيمًا فَيُذَمُّوا، وَمَعَ هَذَا فَقَدَ اخْتَلَفَ الْأَئِمَّةُ فِيهِمْ: هَلْ كَانُوا مِنَ الْهَالِكِينَ أَوْ مِنَ النَّاجِينَ؟ عَلَى قَوْلَيْنِ:
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌ مِنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ [قَالَ:] [[زيادة من أ.]] هِيَ قَرْيَةٌ عَلَى شَاطِئِ الْبَحْرِ بَيْنَ مِصْرَ وَالْمَدِينَةِ، يُقَالُ لَهَا: "أَيْلَةُ"، فَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْحِيتَانَ يَوْمَ سَبْتِهِمْ، وَكَانَتِ الْحِيتَانُ تَأْتِيهِمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا فِي سَاحِلِ الْبَحْرِ، فَإِذَا مَضَى يَوْمُ السَّبْتِ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهَا. فَمَضَى عَلَى ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ إِنْ طَائِفَةً مِنْهُمْ أَخَذُوا الْحِيتَانَ يَوْمَ سَبْتِهِمْ، فَنَهَتْهُمْ طَائِفَةٌ وَقَالُوا: تَأْخُذُونَهَا وَقَدْ حَرَّمَهَا اللَّهُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ سَبْتِكُمْ؟ فَلَمْ يَزْدَادُوا إِلَّا غَيًّا وَعُتُوًّا، وَجَعَلَتْ طَائِفَةٌ أُخْرَى تَنْهَاهُمْ، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ قَالَتْ طَائِفَةٌ مِنَ النُّهَاةِ: تَعْلَمُونَ أَنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ قَدْ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْعَذَابُ، ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ [أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا] ﴾ [[زيادة من أ.]] وَكَانُوا أَشَدَّ غَضَبًا لِلَّهِ مِنَ الطَّائِفَةِ الْأُخْرَى؟ فَقَالُوا: ﴿مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ﴾ وَكُلٌّ قَدْ كَانُوا يَنْهَوْنَ، فَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمْ غَضَبُ اللَّهِ نَجَتِ الطَّائِفَتَانِ اللَّتَانِ قَالُوا: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ﴾ وَالَّذِينَ قَالُوا: ﴿مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ﴾ وَأَهْلَكَ اللَّهُ أَهْلَ مَعْصِيَتِهِ الَّذِينَ أَخَذُوا الْحِيتَانَ، فَجَعَلَهُمْ قِرَدَةً.
وَرَوَى الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَرِيبًا مِنْ هَذَا.
وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عباس: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾
قال: ما أدري أنجا الَّذِينَ قَالُوا: "أَتَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ"، أَمْ لَا؟ قَالَ: فَلَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى عرَّفته أَنَّهُمْ نَجَوْا، فَكَسَانِي حُلَّةً.
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْج، حَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: جِئْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَوْمًا وَهُوَ يَبْكِي، وَإِذَا [[في أ: "إن".]] الْمُصْحَفُ فِي حِجْرِهِ، فَأَعْظَمْتُ أَنْ أَدْنُوَ، ثُمَّ لَمْ أَزَلْ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى تَقَدَّمْتُ فَجَلَسْتُ، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبَّاسٍ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ؟ قَالَ: فَقَالَ: هَؤُلَاءِ الْوَرَقَاتِ. قَالَ: وَإِذَا هُوَ فِي "سُورَةِ الْأَعْرَافِ"، قَالَ: تَعْرِفُ [[في أ: "قال هل تعرف".]] أَيْلَةَ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَإِنَّهُ كَانَ بِهَا حَيٌّ مِنْ يَهُودَ سِيقَتِ الْحِيتَانُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ السَّبْتِ، ثُمَّ غَاصَتْ لَا يَقْدِرُونَ عَلَيْهَا حَتَّى يَغُوصُوا بَعْدَ كَدٍّ وَمُؤْنَةٍ شَدِيدَةٍ، كَانَتْ تَأْتِيهِمْ يَوْمَ السَّبْتِ شُرَّعًا بِيضًا سِمَانًا كَأَنَّهَا الْمَاخِضُ، تَتَبَطَّحُ [[في م: "حتى تنبطح".]] ظُهُورُهَا لِبُطُونِهَا بِأَفْنِيَتِهِمْ. فَكَانُوا كَذَلِكَ بُرْهَةً مِنَ الدَّهْرِ، ثُمَّ إِنِ الشَّيْطَانَ أَوْحَى إِلَيْهِمْ فَقَالَ: إِنَّمَا نُهِيتُمْ عَنْ أَكْلِهَا يَوْمَ السَّبْتِ، فَخُذُوهَا فِيهِ، وَكُلُوهَا فِي غَيْرِهِ مِنَ الْأَيَّامِ. فَقَالَتْ ذَلِكَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ: بَلْ نُهِيتُمْ عَنْ أَكْلِهَا وَأَخْذِهَا وَصَيْدِهَا يَوْمَ السَّبْتِ. فَكَانُوا كَذَلِكَ، حَتَّى جَاءَتِ الْجُمُعَةُ الْمُقْبِلَةُ، فَغَدَتْ طَائِفَةٌ بِأَنْفُسِهَا وَأَبْنَائِهَا وَنِسَائِهَا، وَاعْتَزَلَتْ طَائِفَةٌ ذَاتَ الْيَمِينِ، وَتَنَحَّتْ وَاعْتَزَلَتْ طَائِفَةٌ ذَاتَ الْيَسَارِ وَسَكَتَتْ. وَقَالَ الْأَيْمَنُونَ: وَيَلْكُمُ، اللَّهَ، اللَّهَ نَنْهَاكُمْ أَنْ [[في أ: "الله، الله ينهاكم عن ذلك ولا".]] تَتَعَرَّضُوا لِعُقُوبَةِ اللَّهِ. وَقَالَ الْأَيْسَرُونَ: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ ؟ قَالَ الْأَيْمَنُونَ: ﴿مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ﴾ إِنْ يَنْتَهُوا فَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْنَا أَلَّا يُصَابُوا وَلَا يَهْلِكُوا، وَإِنْ لَمْ يَنْتَهُوا فَمَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ. فَمَضَوْا عَلَى الْخَطِيئَةِ، وَقَالَ الْأَيْمَنُونَ: فَقَدْ [[في أ: "قد".]] فَعَلْتُمْ، يَا أَعْدَاءَ اللَّهِ. وَاللَّهِ لَا نُبَايِتُكُمُ [[في م: "لنأتينكم".]] اللَّيْلَةَ فِي مَدِينَتِكُمْ، وَاللَّهِ مَا نَرَاكُمْ تُصْبِحُونَ حَتَّى يُصَبِّحَكُمُ اللَّهُ بِخَسْفٍ أَوْ قَذْفٍ أَوْ بَعْضِ مَا عِنْدَهُ مِنَ الْعَذَابِ. فَلَمَّا أَصْبَحُوا ضَرَبُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ وَنَادَوْا، فَلَمْ يُجَابُوا، فَوَضَعُوا سُلَّمًا، وَأَعْلَوْا سُورَ الْمَدِينَةِ رَجُلًا فَالْتَفَتَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: أَيْ عِبَادَ اللَّهِ، قِرَدَةٌ وَاللَّهِ تُعَاوِي لَهَا أَذْنَابٌ. قَالَ: فَفَتَحُوا فَدَخَلُوا عَلَيْهِمْ، فَعَرَفَتِ الْقُرُودُ أَنْسَابَهَا [[في م: "أنسابهم".]] مِنَ الْإِنْسِ، وَلَا تَعْرِفُ الْإِنْسُ أَنْسَابَهَا مِنَ الْقِرَدَةِ، فَجَعَلَتِ الْقُرُودُ يَأْتِيهَا نَسِيبُهَا [[في أ: "تأت نسبها".]] مِنَ الْإِنْسِ فَتَشُمُّ ثِيَابَهُ وَتَبْكِي، فَتَقُولُ: أَلَمْ نَنْهَكُمْ عَنْ كَذَا؟ فَتَقُولُ بِرَأْسِهَا، أَيْ نَعَمْ. ثُمَّ قَرَأَ [[في أ: "ثم فسر".]] ابْنُ عَبَّاسٍ: ﴿فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ أَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ﴾ قَالَ: فَأَرَى الَّذِينَ نَهَوْا قَدْ نَجَوْا، وَلَا أَرَى الْآخَرِينَ ذُكِرُوا، وَنَحْنُ نَرَى أَشْيَاءَ نُنْكِرُهَا وَلَا نَقُولُ فِيهَا؟. قَالَ: قُلْتُ: جَعَلَنِي اللَّهُ فَدَاكَ، أَلَا تَرَى أَنَّهُمْ قَدْ كَرِهُوا مَا هُمْ عَلَيْهِ، وَخَالَفُوهُمْ وَقَالُوا: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ﴾ ؟ قَالَ: فَأَمَرَ لِي فَكُسِيتُ ثَوْبَيْنِ غَلِيظَيْنِ [[تفسير عبد الرزاق (١/٢٢٦) .]]
وَكَذَا رَوَى مُجَاهِدٌ، عَنْهُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، أَخْبَرَنَا أَشْهَبُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عن مالك، قال: زعم ابن رومان أَنَّ قَوْلَهُ تَعَالَى: ﴿تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ لَا تَأْتِيهِمْ﴾ قَالَ: كَانَتْ تَأْتِيهِمْ يَوْمَ السَّبْتِ، فَإِذَا كَانَ الْمَسَاءُ ذَهَبَتْ، فَلَا يُرَى مِنْهَا شَيْءٌ إِلَى يَوْمِ السَّبْتِ الْآخَرِ، فَاتَّخَذَ -لِذَلِكَ -رَجُلٌ خَيْطًا وَوَتَدًا، فَرَبَطَ حُوتًا مِنْهَا فِي الْمَاءِ يَوْمَ السَّبْتِ، حَتَّى إِذَا أَمْسَوْا لَيْلَةَ الْأَحَدِ، أَخَذَهُ فَاشْتَوَاهُ، فَوَجَدَ النَّاسُ رِيحَهُ، فَأَتَوْهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَجَحَدَهُمْ، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى قَالَ لَهُمْ: "فَإِنَّهُ جِلْدُ حُوتٍ وَجَدْنَاهُ". فَلَمَّا كَانَ السَّبْتُ [[في م: "فلما كان يوم السبت".]] الْآخَرُ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ -وَلَا أَدْرِي لَعَلَّهُ قَالَ: رَبَطَ حُوتَيْنِ -فَلَمَّا أَمْسَى مِنْ لَيْلَةِ الْأَحَدِ أَخَذَهُ فَاشْتَوَاهُ، فَوَجَدُوا رَائِحَةً، فَجَاءُوا [[في م: "فأتوه".]] فَسَأَلُوهُ [[في م: "فسألوه عن ذلك فجحدهم".]] فَقَالَ لَهُمْ: لَوْ شِئْتُمْ صَنَعْتُمْ كَمَا أَصْنَعُ. فَقَالُوا لَهُ: وَمَا صَنَعْتَ؟ فَأَخْبَرَهُمْ، فَفَعَلُوا مِثْلَ مَا فَعَلَ، حَتَّى كَثُرَ ذَلِكَ. وَكَانَتْ لَهُمْ مَدِينَةٌ لَهَا رَبَضٌ يُغْلِقُونَهَا عَلَيْهِمْ، فَأَصَابَهُمْ مِنَ الْمَسْخِ مَا أَصَابَهُمْ. فَغَدَوْا [[في م: "فعدا".]] عَلَيْهِمْ جِيرَانُهُمْ مِمَّا كَانُوا [[في ك، م: "ممن كان".]] حَوْلَهُمْ، يَطْلُبُونَ مِنْهُمْ مَا يَطْلُبُ النَّاسُ، فَوَجَدُوا الْمَدِينَةَ مُغْلَقَةً عَلَيْهِمْ، فَنَادَوْا فَلَمْ يُجِيبُوهُمْ، فَتَسَوَّرُوا عَلَيْهِمْ، فَإِذَا هُمْ قِرَدَةٌ، فَجَعَلَ الْقِرْدُ يَدْنُو يَتَمَسَّحُ بِمَنْ كَانَ يَعْرِفُ قَبْلَ ذَلِكَ، وَيَدْنُو مِنْهُ وَيَتَمَسَّحُ بِهِ [[تفسير الطبري (١٣/١٩٣) .]]
وَقَدْ قَدَّمْنَا فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" [[سورة البقرة الآية: ٦٠.]] مِنَ الْآثَارِ فِي خَبَرِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ مَا فِيهِ مَقْنَعٌ وَكِفَايَةٌ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ.
الْقَوْلُ الثَّانِي: أَنَّ السَّاكِتِينَ كَانُوا مِنَ الْهَالِكِينَ.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ أَنَّهُ قَالَ: ابْتَدَعُوا السَّبْتَ فَابْتُلُوا فِيهِ، فَحَرُمَتْ عَلَيْهِمْ فِيهِ الْحِيتَانُ، فَكَانُوا إِذَا كَانَ يَوْمُ السَّبْتِ، شَرَعَتْ لَهُمُ الْحِيتَانُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهَا فِي الْبَحْرِ. فَإِذَا انْقَضَى السَّبْتُ، ذَهَبَتْ فَلَمْ تُرَ حَتَّى السَّبْتِ الْمُقْبِلِ، فَإِذَا جَاءَ السَّبْتُ جَاءَتْ شُرَّعًا، فَمَكَثُوا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثُوا كَذَلِكَ، ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ أَخَذَ حُوتًا فَخَزَمَ أَنْفَهُ ثُمَّ، ضَرَبَ لَهُ وَتَدًا فِي السَّاحِلِ، وَرَبَطَهُ وَتَرَكَهُ فِي الْمَاءِ. فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ، أَخَذَهُ فَشَوَاهُ فَأَكَلَهُ، فَفَعَلَ ذَلِكَ وَهُمْ يَنْظُرُونَ وَلَا يُنْكِرُونَ، وَلَا يَنْهَاهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ، إِلَّا عُصْبَةٌ مِنْهُمْ نَهَوْهُ، حَتَّى ظَهَرَ ذَلِكَ فِي الْأَسْوَاقِ، فَفُعِلَ عَلَانِيَةً. قَالَ: فَقَالَتْ طَائِفَةٌ لِلَّذِينَ يَنْهَوْنَهُمْ: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا قَالُوا مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ﴾ فَقَالُوا: سَخِطَ أَعْمَالَهُمْ ﴿وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ * فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿قِرَدَةً خَاسِئِينَ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانُوا أَثْلَاثًا: ثُلْثٌ نَهَوْا، وَثُلْثٌ قَالُوا: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ﴾ وَثُلْثٌ أَصْحَابُ الْخَطِيئَةِ، فَمَا نَجَا إِلَّا الَّذِينَ نَهَوْا وَهَلَكَ سَائِرُهُمْ.
وَهَذَا إِسْنَادٌ جَيِّدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَكِنْ رُجُوعَهُ إِلَى قَوْلِ عِكْرِمَةَ فِي نَجَاةِ السَّاكِتِينَ، أَوْلَى مِنَ الْقَوْلِ بِهَذَا؛ لِأَنَّهُ تَبَيَّنَ حَالَهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ﴾ فِيهِ دَلَالَةٌ بِالْمَفْهُومِ عَلَى أَنَّ الَّذِينَ بَقُوا نَجَوْا.
وَ ﴿بَئِيسٍ﴾ فِيهِ قِرَاءَاتٌ كَثِيرَةٌ، وَمَعْنَاهُ فِي قَوْلِ مُجَاهِدٍ: "الشَّدِيدُ"، وَفِي رِوَايَةٍ: "أَلِيمٍ". وَقَالَ قَتَادَةُ: مُوجِعٌ. وَالْكُلُّ مُتَقَارِبٌ، وَاللَّهُ أعلم.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿خَاسِئِينَ﴾ أَيْ: ذَلِيلِينَ حَقِيرِينَ مُهَانِينَ.
فَلَمَّا نَسُوا۟ مَا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦٓ أَنجَيْنَا ٱلَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ ٱلسُّوٓءِ وَأَخَذْنَا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ بِعَذَابٍۭ بَـِٔيسٍۭ بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ
And when they forgot that by which they had been reminded, We saved those who had forbidden evil and seized those who wronged, with a wretched punishment, because they were defiantly disobeying.
جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا کہ نافرمانی کئے جاتے تھے
امّا هنگامی که تذکراتی را که به آنها داده شده بود فراموش کردند، (لحظه عذاب فرا رسید؛ و) نهیکنندگان از بدی را رهایی بخشیدیم؛ و کسانی را که ستم کردند، بخاطر نافرمانیشان به عذاب شدیدی گرفتار ساختیم.
Tafsir Ibn Kathir
And when a community among them said: "Why do you preach to a people whom Allah is about to destroy or to punish with a severe torment?" (The preachers) said: "In order to be free from guilt before your Lord (Allah), and perhaps they may fear Allah. (164)So when they forgot the reminder that had been given to them, We rescued those who forbade evil, but with a severe torment We seized those who did wrong, because they used to rebel against Allah's command (165)So when they exceeded the limits of what they were prohibited, We said to them: "Be you monkeys, despised. (166)
Those Who breached the Sabbath were turned into Monkeys, but Those Who prohibited Their Actions were saved
Allah said that the people of this village were divided into three groups, a group that committed the prohibition, catching fish on the Sabbath, as we described in the Tafsir of Surat Al-Baqarah. Another group prohibited them from transgression and avoided them. A third group neither prohibited them, nor participated in their action. The third group said to the preachers,
لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا
("Why do you preach to a people whom Allah is about to destroy or to punish with a severe torment?").
They said, 'why do you forbid these people from evil, when you know that they are destroyed and have earned Allah's punishment?' Therefore, they said, there is no benefit in forbidding them. The preachers replied,
مَعْذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمْ
("In order to be free from guilt before your Lord (Allah),") 'for we were commanded to enjoin righteousness and forbid evil,'
وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
("and perhaps they may fear Allah") for on account of our advice, they might stop this evil and repent to Allah. Certainly, if they repent to Allah, Allah will accept their repentance and grant them His mercy.' Allah said,
فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ
(So when they forgot the reminder that had been given to them,) when the evil doers refused the advice,
أَنجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا
(We rescued those who forbade evil, but We seized who did wrong,) who committed the transgression,
بِعَذَابٍ بَئِيسٍ
(with a severe torment). Allah stated that those who enjoined good were saved, while those who committed the transgression were destroyed, but He did not mention the end of those who were passive (the third group), for the compensation is comparable to the deed. This type did not do what would warrant praise, nor commit wrong so that they are admonished.
Ikrimah said, "Ibn 'Abbas said about the Ayah: 'I do not know whether or not the people were saved who said;
لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ
("Why do you preach to a people whom Allah is about to destroy…?")
So I continued discussing it with him until I convinced him that they were. Then he gave me [the gift of] a garment." Allah said,
وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ
(and We seized those who did wrong with a Ba'is torment) indicating that those who remained were saved. As for 'Ba'is', it means 'severe', according to Mujahid, or 'painful', according to Qatadah. These meanings are synonymous, and Allah knows best. Allah said next,
خَاسِئِينَ
(despised), humiliated, disgraced and rejected.
Tafsir Ibn Kathir
اصحاب سبت جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے ان کے تین گروہ ہوگئے تھے ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے حوالوں سے مچھلی پکڑنے والا۔ دوسرا گروہ انہیں روکنے والا اور ان سے بیزاری ظاہر کر کے ان سے الگ ہوجانے والا اور تیسرا گروہ چپ چاپ رہ کر نہ اس کام کو کرنے والا نہ اس سے روکنے والا جیسے کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار بیان کر آئے ہیں۔ جو لوگ خاموش تھے نہ برائی کرتے تھے نہ بروں کو برائی سے روکتے تھے انہوں نے روکنے والوں کو سمجھانا شروع کیا کہ میاں ان لوگوں کو کہنے سننے سے کیا فائدہ ؟ انہوں نے تو اللہ کے عذاب مول لے لئے ہیں رب کے غضب کیلئے تیار ہوگئے ہیں اب تم ان کے پیچھے کیوں پڑے ہو ؟ تو اس پاک گروہ نے جواب دیا کہ اس میں دو فائدے ہیں ایک تو یہ کہ اللہ کے پاس ہم معذرت خواہ ہوجائیں کہ ہم اپنا فرض برابر ادا کرتے رہے انہیں ہر وقت سمجھاتے بجھاتے رہے۔ معذرت کے پیش سے بھی ایک قرأت ہے تو گوایا ھذا کا لفظ یہاں مقرر مانا یعنی انہوں نے کہا یہ ہماری معذرت ہے اور زبر کی قرأت پر یہ مطلب ہے کہ ہم جو انہیں روک رہے ہیں یہ کام بطور اس کے کر رہے ہیں کہ اللہ کے ہاں ہم پر الزام نہ آئے کیونکہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمیشہ نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو، دوسرا فائدہ اس میں یہ ہے کہ بہت ممکن ہے کسی وقت کی نصیحت ان پر اثر کر جائے یہ لوگ اپنی اس حرام کاری سے باز آجائیں اللہ سے توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی ان پر مہربانی کرے اور ان کے گناہ معاف فرما دے۔ آخر کار ان کی نصیحت خیر خواہی بھی بےنتیجہ ثابت ہوئی۔ ان بدکاروں نے ایک نہ مانی تو ہم نے اس مسلم گروہ کو تو جو برابر ان سے نالاں رہا ان سے الگ رہا اور انہیں سمجھتا بجھتا رہا نجات دے دی اور باقی کے ظالموں کو جو ہماری نافرمانیوں کے مرتکب تھے اپنے بدترین عذابوں سے پکڑ لیا۔ عبارت کی عمدگی ملاحظہ ہو کہ روکنے والوں کی نجات کا کھلے لفظوں میں اعلان کیا ظالموں کی ہلاکت کا بھی غیر مشتبہ الفاظ میں بیان کیا اور چپ رہنے والوں کے حالات سے سکوت کیا گیا، اس لئے کہ ہر عمل کی جزا اسی کی ہم جنس ہے۔ یہ لوگ نہ تو اس ظلم عظیم میں شریک تھے کہ ان کی مذمت اعلانیہ کی جائے نہ دلیری سے روکتے تھے کہ صاف طور پر قابل تعریف ٹھہریں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جو گروہ ممانعت کرنے کے بعد تھک کر بیٹھ گیا تھا اور پھر روکنا جھوڑ دیا تھا اللہ کا عذاب جب آیا تو یہ گروہ بھی اس عذاب سے بچ گیا صرف وہی ہلاک ہوئے جو گناہ میں مبتلا تھے۔ آپ کے شاگرد حضرت عکرمہ کا بیان ہے کہ پہلے حضرت ابن عباس کو اس میں بڑا تردد تھا کہ آیا یہ لوگ ہلاک ہوئے یا بچ گئے یہاں تک کہ ایک روز میں آیا تو دیکھا کہ قرآن گود میں رکھے ہوئے رو رہے ہیں۔ اول اول تو میرا حوصلہ نہ پڑا کہ سامنے آؤں لیکن دیر تک جب یہی حالت رہی تو میں نے قریب آکر سلام کیا بیٹھ گیا اور رونے کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا دیکھو یہ سورة اعراف ہے اس میں ایلہ کے یہودیوں کا ذکر ہے کہ انہیں ہفتے کے روز مچھلی کے شکار کی ممانعت کردی گئی اور ان کی آزمائش کے لئے مچھلیوں کو حکم ھوا کہ وہ صرف ہفتے کے دن ہی نکلیں ہفتے کے دن دریا مچھلیوں سے بھرے رہتے تھے۔ ترو تازہ موٹی اور عمدہ بکثرت مچھلیاں پانی کے اوپر اجھلتی کودتی رہتی تھیں اور دنوں میں سخت کوشش کے باوجود بھی نہ ملتی تھیں۔ کچھ دنوں تو ان کے دلوں کے اندر حکم الٰہی کی عظمت رہی اور یہ ان کے پکڑنے سے رکے رہے لیکن پھر شیطان نے ان کے دل میں یہ قیاس ڈال دیا کہ اس دن منع کھانے سے ہے تم نے آج کھانا نہیں۔ پکڑ لو اور جائز دن کھا لینا۔ سچے مسلمانوں نے انہیں اس حیلہ جوئی سے ہرچند روکا اور سمجھایا کہ دیکھو شکار کھیلنا شروع نہ کرو شکار اور کھانا دونوں منموع ہیں۔ اگلے جمعہ کے دن جو جماعت شیطانی پھندے میں پھنس چکی تھی وہ اپنے بال بچوں سمیت شکار کو نکل کھڑی ہوئی۔ باقی کے لوگوں کی دو جماعتیں بن گئیں ایک ان کے دائیں ایک بائیں۔ دائیں جانب والی تو برابر انہیں روکتی رہی کہ اللہ سے ڈرو اور اللہ کے عذابوں کے لئے تیاری نہ کرو۔ بائیں والوں نے کہا میاں تمہیں کیا پڑی ؟ یہ تو خراب ہونے والے ہیں اب تم انہیں نصیحت کر کے کیا لو گے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ خیر اللہ کے ہاں ہم تو چھوٹ جائیں گے اور ہمیں تو اب تک مایوسی بھی نہیں کیا عجب کہ یہ لوگ سنور جائیں تو ہلاکت اور عذاب سے محفوظ رہیں۔ ہماری تو عین منشا یہ ہے لیکن یہ بدکار اپنی بےایمانی سے باز نہ آئے اور نصیحت انہیں کار گر نہ ہوئی تو دائیں طرف کے لوگوں نے کہا تم نے ہمارا کہا نہ مانا۔ اللہ کی نافرمانی کی، ارتکاب حرمت کیا۔ عجب نہیں راتوں رات تم پر کوئی عذاب رب آئے۔ اللہ تمہیں زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسا دے یا کسی اور طرح تمہیں سزا دے۔ رات ہم تو یہیں گذاریں گے تمہارے ساتھ شہر میں نہیں رہیں گے۔ جب صبح ہوگئی اور شہر کے دروازے نہ کھلے تو انہوں نے کواڑ کھٹ کھٹائے، آوازیں دیں لیکن کوئی جواب نہ آیا آخر سیڑھی لگا کر ایک شخص کو قلعہ کی دیوار پر چڑھایا اس نے دیکھا تو حیران ہوگیا کہ سب لوگ بندر بنا دیئے گئے۔ اس نے ان سب مسلمانوں کو خبر دی۔ یہ دروازے توڑ کر اندر گئے تو دیکھا کہ سب دم دار بندر بن گئے ہیں یہ تو کسی کو پہچان نہ سکے لیکن وہ پہچان گئے ہر بندر اپنے اپنے رشتے دار کے قدموں میں لوٹنے لگا ان کے کپڑے پکڑ پکڑ کر رونے لگا تو انہوں نے کہا دیکھو ہم تو تمہیں منع کر رہے تھے لیکن تم نے مانا ہی نہیں۔ وہ اپنا سر ہلاتے تھے کہ ہاں ٹھیک ہے ہمارے اعمال کی شامت نے ہی ہمیں برباد کیا ہے۔ تو اب یہ تو قرآن میں ہے کہ روکنے والے نجات یافتہ ہوئے لیکن یہ بیان نہیں کہ جو روکنے والوں کو منع کرتے تھے ان کا کیا حشر ہوا ؟ اب ہم بھی بہت سی خلاف باتیں دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں کرسکتے، میں نے آپ سے یہ سن کر کہا اللہ مجھے آپ پر نثار کر دے آپ یہ تو دیکھئے کہ وہ لوگ ان کے اس فعل کو برا سمجھتے رہے تھے ان کی مخالفت کرتے تھے جانتے تھے کہ یہ ہلاک ہونے والے ہیں ظاہر ہے کہ یہ بچ گئے، آپ کی سمجھ میں آگیا اور اسی وقت حکم دیا کہ مجھے دو چادریں انعام میں دی جائیں۔ الغرض اس بیچ کی جماعت کی نسبت ایک قول تو یہ ہے کہ عذاب سے بچ گئی دوسرا قول یہ ہے کہ عذاب ان پر بھی آیا۔ ابن رومان فرماتے ہیں کہ ہفتے والے دن خوب مچھلیاں آتیں پانی ان سے بھر جاتا پھر بیچ کے کسی دن نظر نہ آتیں دوسرے ہفتے کو پھر یہی حال ہوتا، سب سے پہلے ایک شخص نے یہ حیلہ نکالا کہ ڈور اور کانٹا تیار کیا، مچھلی کو اس میں ہفتے کے دن پھنسا لیا اور پانی میں ہی چھوڑ دیا اتوار کی رات کو جا کر نکال لیں بھونا لوگوں کو مچھلی کی خوشبو پہنچی تو سب نے گھیر لیا۔ ہرچند پوچھا لیکن اول تو یہ سختی سے انکار کرتا رہا آخر اسنے بات بنادی کہ دراصل ایک مچھلی کا چھلکا مجھے مل گیا تھا میں نے اسے بھونا تھا، دوسرے ہفتے کے دن اس نے اسی طرح دو مچھلیاں پھانس لیں اتوار کی رات کو نکال کر بھوننے لگا لوگ آگئے تو اس نے کہا میں نے ایک ترکیب نکال لی ہے جس سے نافرمانی بھی نہ ہو اور کام بھی نہ رکے اب جو حیلہ بیان کیا تو ان سب نے اسے پسند کیا اور اکثر لوگ یونہی کرنے لگے۔ یہ لوگ رات کو شہر پناہ کے پھاٹک بند کر کے سوتے تھے جس رات عذاب آیا حسب دستور یہ شہر پناہ کے پھاٹک لگا کر سوئے تھے۔ صبح کو جب باہر والے شہر میں داخل ہونے کو آئے تو خلاف معمول اب تک دروازے بند پائے آوازیں دیں کوئی جواب نہ ملا قلعہ پر چڑھ گئے دیکھا تو بندر بنا دیئے گئے ہیں کھول کر اندر گئے تو بندر اپنے اپنے رشتہ داروں کے قدموں میں لوٹنے لگے اس سے پہلے سورة بقرہ کی ایسی ہی آیت کی تفسیر کے موقعہ پر بالتفصیل ان واقعات کو اچھی طرح بیان کرچکے ہیں وہیں دیکھ لیجئے۔ فالحمد اللہ، دوسرا قول یہ ہے کہ جو چپ رہے تھے وہ بھی ان گنہگاروں کے ساتھ ہلاک ہوئے، ابن عباس سے منقول ہے کہ پہلے ہفتہ کے دن کی تعظیم بطور بدعت خود ان لوگوں نے نکالی اب اللہ کی طرف سے بطور آزمائش کے وہ تعظیم ان پر ضروری قرار دے دی گئی اور حکم ہوگیا کہ اس دن مجھلی کا شکار نہ کرو پھر مچھلیوں کا اس دن نمایاں ہونا اور دنوں میں نہ نکلنا وغیرہ بیان فرما کر فرمایا کہ پھر ان میں سے ایک شخص نے ایک مچھلی ہفتے کے دن پکڑی اس کی ناک میں سوراخ کرکے ڈور باندھ کر ایک کیل کنارے گاڑ کر اس میں ڈور اٹکا کر مچھلی کو دریا میں ڈال دیا دوسرے دن جا کر پانی میں سے نکال لایا اور بھون کر کھالی سوائے اس پاک باز حق گو جماعت کے لوگوں کے کسی نے نہ اسے روکا نہ منع کیا نہ سمجھایا لیکن ان کی نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس ایک کی دیکھا دیکھی اور بھی یہی کام کرنے لگے یہاں تک کہ بازاروں میں مچھلی آنے لگی اور اعلانیہ یہ کام ہونے لگا۔ ایک اور جماعت کے لوگوں نے اس حق والی جماعت سے کہا کہ تم ان لوگوں کو کیوں وعظ کرتے ہو اللہ تو انہیں ہلاک کرنے والا سخت عذاب کرنے والا ہے تو انہوں نے وہ جواب دیا یعنی اللہ کا فرمان دہرایا۔ لیکن لوگ فرمان ربانی کو بھول بیٹھے اور عذاب رب کے خود شکار ہوگئے۔ یہ تین گروہوں میں بٹ گئے تھے ایک تو شکار کھیلنے والا، ایک منع کرنے والا، ایک ان منع کرنے والوں سے کہنے والا کہ اب نصیحت بیکار ہے۔ بس وہ تو بچ گئے جو برابر روکتے رہے تھے اور دونوں جماعتیں ہلاک کردی گئیں۔ سند اس کی نہایت عمدہ ہے لیکن حضرت ابن عباس کا حضرت عکرمہ کے قول کی طرف رجوع کرنا اس قول کے کہنے سے اولیٰ ہے اس لئے کہ اس قول کے بعد ان پر ان کے حال کی حقیقت کھل گئی واللہ اعلم۔ پھر فرمان ہے کہ ہم نے ظالموں کو سخت عذابوں سے دبوچ لیا۔ مفہوم کی دلالت تو اس بات پر ہے کہ جو باقی رہے بچ گئے۔ (بئیس) کی کئی ایک قرأتیں ہیں اس کے معنی سخت کے، دردناک کے، تکلیف دہ کے ہیں اور سب کا مطلب قریب قریب یکساں ہے۔ ان کی سرکشی اور ان کے حد سے گذر جانے کے باعث ہم نے ان سے کہہ دیا کہ تم ذلیل حقیر اور ناقدرے بندر بن جاؤ چناچہ وہ ایسے ہی ہوگئے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ أَهْلِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ أَنَّهُمْ صَارُوا إِلَى ثَلَاثِ فِرَقٍ: فِرْقَةٌ [[في ك، م، أ: "ففرقة".]] ارْتَكَبَتِ الْمَحْذُورَ، وَاحْتَالُوا عَلَى اصْطِيَادِ السَّمَكِ يَوْمَ السَّبْتِ، كَمَا تَقَدَّمَ بَيَانُهُ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ. وَفِرْقَةٌ نَهَتْ عَنْ ذَلِكَ، [وَأَنْكَرَتْ] [[زيادة من ك، م، أ.]] وَاعْتَزَلَتْهُمْ. وَفِرْقَةٌ سَكَتَتْ فَلَمْ تَفْعَلْ وَلَمْ تَنْهَ، وَلَكِنَّهَا قَالَتْ لِلْمُنْكِرَةِ: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ ؟ أَيْ: لِمَ تَنْهَوْنَ هَؤُلَاءِ، وَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّهُمْ هَلَكُوا وَاسْتَحَقُّوا الْعُقُوبَةَ مِنَ اللَّهِ؟ فَلَا فَائِدَةَ فِي نَهْيِكُمْ إِيَّاهُمْ. قَالَتْ لَهُمُ الْمُنْكِرَةُ: ﴿مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ﴾ قَرَأَ بَعْضُهُمْ بِالرَّفْعِ، كَأَنَّهُ عَلَى تَقْدِيرِهِ: هَذَا مَعْذِرَةٌ وَقَرَأَ آخَرُونَ بِالنَّصْبِ، أَيْ: نَفْعَلُ ذَلِكَ ﴿مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ﴾ أَيْ: فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا مِنَ الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ ﴿وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ﴾ يَقُولُونَ: وَلَعَلَّ بِهَذَا الْإِنْكَارِ يَتَّقُونَ مَا هُمْ فِيهِ وَيَتْرُكُونَهُ، وَيَرْجِعُونَ إِلَى اللَّهِ تَائِبِينَ، فَإِذَا تَابُوا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَرَحِمَهُمْ.
قَالَ تَعَالَى: ﴿فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ﴾ أَيْ: فَلَمَّا أَبَى الْفَاعِلُونَ الْمُنْكَرَ قَبُولَ النَّصِيحَةِ، ﴿أَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا﴾ أَيْ: ارْتَكَبُوا الْمَعْصِيَةَ ﴿بِعَذَابٍ بَئِيسٍ﴾ فَنَصَّ عَلَى نَجَاةِ النَّاهِينَ وَهَلَاكِ الظَّالِمِينَ، وَسَكَتَ عَنِ السَّاكِتِينَ؛ لِأَنَّ الْجَزَاءَ مِنْ جِنْسِ الْعَمَلِ، فَهُمْ لَا يَسْتَحِقُّونَ مَدْحًا فَيُمْدَحُوا، وَلَا ارْتَكَبُوا عَظِيمًا فَيُذَمُّوا، وَمَعَ هَذَا فَقَدَ اخْتَلَفَ الْأَئِمَّةُ فِيهِمْ: هَلْ كَانُوا مِنَ الْهَالِكِينَ أَوْ مِنَ النَّاجِينَ؟ عَلَى قَوْلَيْنِ:
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌ مِنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ [قَالَ:] [[زيادة من أ.]] هِيَ قَرْيَةٌ عَلَى شَاطِئِ الْبَحْرِ بَيْنَ مِصْرَ وَالْمَدِينَةِ، يُقَالُ لَهَا: "أَيْلَةُ"، فَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْحِيتَانَ يَوْمَ سَبْتِهِمْ، وَكَانَتِ الْحِيتَانُ تَأْتِيهِمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا فِي سَاحِلِ الْبَحْرِ، فَإِذَا مَضَى يَوْمُ السَّبْتِ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهَا. فَمَضَى عَلَى ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ إِنْ طَائِفَةً مِنْهُمْ أَخَذُوا الْحِيتَانَ يَوْمَ سَبْتِهِمْ، فَنَهَتْهُمْ طَائِفَةٌ وَقَالُوا: تَأْخُذُونَهَا وَقَدْ حَرَّمَهَا اللَّهُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ سَبْتِكُمْ؟ فَلَمْ يَزْدَادُوا إِلَّا غَيًّا وَعُتُوًّا، وَجَعَلَتْ طَائِفَةٌ أُخْرَى تَنْهَاهُمْ، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ قَالَتْ طَائِفَةٌ مِنَ النُّهَاةِ: تَعْلَمُونَ أَنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ قَدْ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْعَذَابُ، ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ [أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا] ﴾ [[زيادة من أ.]] وَكَانُوا أَشَدَّ غَضَبًا لِلَّهِ مِنَ الطَّائِفَةِ الْأُخْرَى؟ فَقَالُوا: ﴿مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ﴾ وَكُلٌّ قَدْ كَانُوا يَنْهَوْنَ، فَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمْ غَضَبُ اللَّهِ نَجَتِ الطَّائِفَتَانِ اللَّتَانِ قَالُوا: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ﴾ وَالَّذِينَ قَالُوا: ﴿مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ﴾ وَأَهْلَكَ اللَّهُ أَهْلَ مَعْصِيَتِهِ الَّذِينَ أَخَذُوا الْحِيتَانَ، فَجَعَلَهُمْ قِرَدَةً.
وَرَوَى الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَرِيبًا مِنْ هَذَا.
وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عباس: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾
قال: ما أدري أنجا الَّذِينَ قَالُوا: "أَتَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ"، أَمْ لَا؟ قَالَ: فَلَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى عرَّفته أَنَّهُمْ نَجَوْا، فَكَسَانِي حُلَّةً.
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْج، حَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: جِئْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَوْمًا وَهُوَ يَبْكِي، وَإِذَا [[في أ: "إن".]] الْمُصْحَفُ فِي حِجْرِهِ، فَأَعْظَمْتُ أَنْ أَدْنُوَ، ثُمَّ لَمْ أَزَلْ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى تَقَدَّمْتُ فَجَلَسْتُ، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبَّاسٍ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ؟ قَالَ: فَقَالَ: هَؤُلَاءِ الْوَرَقَاتِ. قَالَ: وَإِذَا هُوَ فِي "سُورَةِ الْأَعْرَافِ"، قَالَ: تَعْرِفُ [[في أ: "قال هل تعرف".]] أَيْلَةَ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَإِنَّهُ كَانَ بِهَا حَيٌّ مِنْ يَهُودَ سِيقَتِ الْحِيتَانُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ السَّبْتِ، ثُمَّ غَاصَتْ لَا يَقْدِرُونَ عَلَيْهَا حَتَّى يَغُوصُوا بَعْدَ كَدٍّ وَمُؤْنَةٍ شَدِيدَةٍ، كَانَتْ تَأْتِيهِمْ يَوْمَ السَّبْتِ شُرَّعًا بِيضًا سِمَانًا كَأَنَّهَا الْمَاخِضُ، تَتَبَطَّحُ [[في م: "حتى تنبطح".]] ظُهُورُهَا لِبُطُونِهَا بِأَفْنِيَتِهِمْ. فَكَانُوا كَذَلِكَ بُرْهَةً مِنَ الدَّهْرِ، ثُمَّ إِنِ الشَّيْطَانَ أَوْحَى إِلَيْهِمْ فَقَالَ: إِنَّمَا نُهِيتُمْ عَنْ أَكْلِهَا يَوْمَ السَّبْتِ، فَخُذُوهَا فِيهِ، وَكُلُوهَا فِي غَيْرِهِ مِنَ الْأَيَّامِ. فَقَالَتْ ذَلِكَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ: بَلْ نُهِيتُمْ عَنْ أَكْلِهَا وَأَخْذِهَا وَصَيْدِهَا يَوْمَ السَّبْتِ. فَكَانُوا كَذَلِكَ، حَتَّى جَاءَتِ الْجُمُعَةُ الْمُقْبِلَةُ، فَغَدَتْ طَائِفَةٌ بِأَنْفُسِهَا وَأَبْنَائِهَا وَنِسَائِهَا، وَاعْتَزَلَتْ طَائِفَةٌ ذَاتَ الْيَمِينِ، وَتَنَحَّتْ وَاعْتَزَلَتْ طَائِفَةٌ ذَاتَ الْيَسَارِ وَسَكَتَتْ. وَقَالَ الْأَيْمَنُونَ: وَيَلْكُمُ، اللَّهَ، اللَّهَ نَنْهَاكُمْ أَنْ [[في أ: "الله، الله ينهاكم عن ذلك ولا".]] تَتَعَرَّضُوا لِعُقُوبَةِ اللَّهِ. وَقَالَ الْأَيْسَرُونَ: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ ؟ قَالَ الْأَيْمَنُونَ: ﴿مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ﴾ إِنْ يَنْتَهُوا فَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْنَا أَلَّا يُصَابُوا وَلَا يَهْلِكُوا، وَإِنْ لَمْ يَنْتَهُوا فَمَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ. فَمَضَوْا عَلَى الْخَطِيئَةِ، وَقَالَ الْأَيْمَنُونَ: فَقَدْ [[في أ: "قد".]] فَعَلْتُمْ، يَا أَعْدَاءَ اللَّهِ. وَاللَّهِ لَا نُبَايِتُكُمُ [[في م: "لنأتينكم".]] اللَّيْلَةَ فِي مَدِينَتِكُمْ، وَاللَّهِ مَا نَرَاكُمْ تُصْبِحُونَ حَتَّى يُصَبِّحَكُمُ اللَّهُ بِخَسْفٍ أَوْ قَذْفٍ أَوْ بَعْضِ مَا عِنْدَهُ مِنَ الْعَذَابِ. فَلَمَّا أَصْبَحُوا ضَرَبُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ وَنَادَوْا، فَلَمْ يُجَابُوا، فَوَضَعُوا سُلَّمًا، وَأَعْلَوْا سُورَ الْمَدِينَةِ رَجُلًا فَالْتَفَتَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: أَيْ عِبَادَ اللَّهِ، قِرَدَةٌ وَاللَّهِ تُعَاوِي لَهَا أَذْنَابٌ. قَالَ: فَفَتَحُوا فَدَخَلُوا عَلَيْهِمْ، فَعَرَفَتِ الْقُرُودُ أَنْسَابَهَا [[في م: "أنسابهم".]] مِنَ الْإِنْسِ، وَلَا تَعْرِفُ الْإِنْسُ أَنْسَابَهَا مِنَ الْقِرَدَةِ، فَجَعَلَتِ الْقُرُودُ يَأْتِيهَا نَسِيبُهَا [[في أ: "تأت نسبها".]] مِنَ الْإِنْسِ فَتَشُمُّ ثِيَابَهُ وَتَبْكِي، فَتَقُولُ: أَلَمْ نَنْهَكُمْ عَنْ كَذَا؟ فَتَقُولُ بِرَأْسِهَا، أَيْ نَعَمْ. ثُمَّ قَرَأَ [[في أ: "ثم فسر".]] ابْنُ عَبَّاسٍ: ﴿فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ أَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ﴾ قَالَ: فَأَرَى الَّذِينَ نَهَوْا قَدْ نَجَوْا، وَلَا أَرَى الْآخَرِينَ ذُكِرُوا، وَنَحْنُ نَرَى أَشْيَاءَ نُنْكِرُهَا وَلَا نَقُولُ فِيهَا؟. قَالَ: قُلْتُ: جَعَلَنِي اللَّهُ فَدَاكَ، أَلَا تَرَى أَنَّهُمْ قَدْ كَرِهُوا مَا هُمْ عَلَيْهِ، وَخَالَفُوهُمْ وَقَالُوا: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ﴾ ؟ قَالَ: فَأَمَرَ لِي فَكُسِيتُ ثَوْبَيْنِ غَلِيظَيْنِ [[تفسير عبد الرزاق (١/٢٢٦) .]]
وَكَذَا رَوَى مُجَاهِدٌ، عَنْهُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، أَخْبَرَنَا أَشْهَبُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عن مالك، قال: زعم ابن رومان أَنَّ قَوْلَهُ تَعَالَى: ﴿تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ لَا تَأْتِيهِمْ﴾ قَالَ: كَانَتْ تَأْتِيهِمْ يَوْمَ السَّبْتِ، فَإِذَا كَانَ الْمَسَاءُ ذَهَبَتْ، فَلَا يُرَى مِنْهَا شَيْءٌ إِلَى يَوْمِ السَّبْتِ الْآخَرِ، فَاتَّخَذَ -لِذَلِكَ -رَجُلٌ خَيْطًا وَوَتَدًا، فَرَبَطَ حُوتًا مِنْهَا فِي الْمَاءِ يَوْمَ السَّبْتِ، حَتَّى إِذَا أَمْسَوْا لَيْلَةَ الْأَحَدِ، أَخَذَهُ فَاشْتَوَاهُ، فَوَجَدَ النَّاسُ رِيحَهُ، فَأَتَوْهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَجَحَدَهُمْ، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى قَالَ لَهُمْ: "فَإِنَّهُ جِلْدُ حُوتٍ وَجَدْنَاهُ". فَلَمَّا كَانَ السَّبْتُ [[في م: "فلما كان يوم السبت".]] الْآخَرُ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ -وَلَا أَدْرِي لَعَلَّهُ قَالَ: رَبَطَ حُوتَيْنِ -فَلَمَّا أَمْسَى مِنْ لَيْلَةِ الْأَحَدِ أَخَذَهُ فَاشْتَوَاهُ، فَوَجَدُوا رَائِحَةً، فَجَاءُوا [[في م: "فأتوه".]] فَسَأَلُوهُ [[في م: "فسألوه عن ذلك فجحدهم".]] فَقَالَ لَهُمْ: لَوْ شِئْتُمْ صَنَعْتُمْ كَمَا أَصْنَعُ. فَقَالُوا لَهُ: وَمَا صَنَعْتَ؟ فَأَخْبَرَهُمْ، فَفَعَلُوا مِثْلَ مَا فَعَلَ، حَتَّى كَثُرَ ذَلِكَ. وَكَانَتْ لَهُمْ مَدِينَةٌ لَهَا رَبَضٌ يُغْلِقُونَهَا عَلَيْهِمْ، فَأَصَابَهُمْ مِنَ الْمَسْخِ مَا أَصَابَهُمْ. فَغَدَوْا [[في م: "فعدا".]] عَلَيْهِمْ جِيرَانُهُمْ مِمَّا كَانُوا [[في ك، م: "ممن كان".]] حَوْلَهُمْ، يَطْلُبُونَ مِنْهُمْ مَا يَطْلُبُ النَّاسُ، فَوَجَدُوا الْمَدِينَةَ مُغْلَقَةً عَلَيْهِمْ، فَنَادَوْا فَلَمْ يُجِيبُوهُمْ، فَتَسَوَّرُوا عَلَيْهِمْ، فَإِذَا هُمْ قِرَدَةٌ، فَجَعَلَ الْقِرْدُ يَدْنُو يَتَمَسَّحُ بِمَنْ كَانَ يَعْرِفُ قَبْلَ ذَلِكَ، وَيَدْنُو مِنْهُ وَيَتَمَسَّحُ بِهِ [[تفسير الطبري (١٣/١٩٣) .]]
وَقَدْ قَدَّمْنَا فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" [[سورة البقرة الآية: ٦٠.]] مِنَ الْآثَارِ فِي خَبَرِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ مَا فِيهِ مَقْنَعٌ وَكِفَايَةٌ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ.
الْقَوْلُ الثَّانِي: أَنَّ السَّاكِتِينَ كَانُوا مِنَ الْهَالِكِينَ.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ أَنَّهُ قَالَ: ابْتَدَعُوا السَّبْتَ فَابْتُلُوا فِيهِ، فَحَرُمَتْ عَلَيْهِمْ فِيهِ الْحِيتَانُ، فَكَانُوا إِذَا كَانَ يَوْمُ السَّبْتِ، شَرَعَتْ لَهُمُ الْحِيتَانُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهَا فِي الْبَحْرِ. فَإِذَا انْقَضَى السَّبْتُ، ذَهَبَتْ فَلَمْ تُرَ حَتَّى السَّبْتِ الْمُقْبِلِ، فَإِذَا جَاءَ السَّبْتُ جَاءَتْ شُرَّعًا، فَمَكَثُوا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثُوا كَذَلِكَ، ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ أَخَذَ حُوتًا فَخَزَمَ أَنْفَهُ ثُمَّ، ضَرَبَ لَهُ وَتَدًا فِي السَّاحِلِ، وَرَبَطَهُ وَتَرَكَهُ فِي الْمَاءِ. فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ، أَخَذَهُ فَشَوَاهُ فَأَكَلَهُ، فَفَعَلَ ذَلِكَ وَهُمْ يَنْظُرُونَ وَلَا يُنْكِرُونَ، وَلَا يَنْهَاهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ، إِلَّا عُصْبَةٌ مِنْهُمْ نَهَوْهُ، حَتَّى ظَهَرَ ذَلِكَ فِي الْأَسْوَاقِ، فَفُعِلَ عَلَانِيَةً. قَالَ: فَقَالَتْ طَائِفَةٌ لِلَّذِينَ يَنْهَوْنَهُمْ: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا قَالُوا مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ﴾ فَقَالُوا: سَخِطَ أَعْمَالَهُمْ ﴿وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ * فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿قِرَدَةً خَاسِئِينَ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانُوا أَثْلَاثًا: ثُلْثٌ نَهَوْا، وَثُلْثٌ قَالُوا: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ﴾ وَثُلْثٌ أَصْحَابُ الْخَطِيئَةِ، فَمَا نَجَا إِلَّا الَّذِينَ نَهَوْا وَهَلَكَ سَائِرُهُمْ.
وَهَذَا إِسْنَادٌ جَيِّدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَكِنْ رُجُوعَهُ إِلَى قَوْلِ عِكْرِمَةَ فِي نَجَاةِ السَّاكِتِينَ، أَوْلَى مِنَ الْقَوْلِ بِهَذَا؛ لِأَنَّهُ تَبَيَّنَ حَالَهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ﴾ فِيهِ دَلَالَةٌ بِالْمَفْهُومِ عَلَى أَنَّ الَّذِينَ بَقُوا نَجَوْا.
وَ ﴿بَئِيسٍ﴾ فِيهِ قِرَاءَاتٌ كَثِيرَةٌ، وَمَعْنَاهُ فِي قَوْلِ مُجَاهِدٍ: "الشَّدِيدُ"، وَفِي رِوَايَةٍ: "أَلِيمٍ". وَقَالَ قَتَادَةُ: مُوجِعٌ. وَالْكُلُّ مُتَقَارِبٌ، وَاللَّهُ أعلم.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿خَاسِئِينَ﴾ أَيْ: ذَلِيلِينَ حَقِيرِينَ مُهَانِينَ.
فَلَمَّا عَتَوْا۟ عَن مَّا نُهُوا۟ عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُونُوا۟ قِرَدَةً خَٰسِـِٔينَ
So when they were insolent about that which they had been forbidden, We said to them, "Be apes, despised."
غرض جن اعمال (بد) سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پراصرار اور ہمارے حکم سے) گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ
(آری،) هنگامی که در برابر آنچه از آن نهی شده بودند سرکشی کردند، به آنها گفتیم: «به شکل میمونهایی طردشده در آیید!»
Tafsir Ibn Kathir
And when a community among them said: "Why do you preach to a people whom Allah is about to destroy or to punish with a severe torment?" (The preachers) said: "In order to be free from guilt before your Lord (Allah), and perhaps they may fear Allah. (164)So when they forgot the reminder that had been given to them, We rescued those who forbade evil, but with a severe torment We seized those who did wrong, because they used to rebel against Allah's command (165)So when they exceeded the limits of what they were prohibited, We said to them: "Be you monkeys, despised. (166)
Those Who breached the Sabbath were turned into Monkeys, but Those Who prohibited Their Actions were saved
Allah said that the people of this village were divided into three groups, a group that committed the prohibition, catching fish on the Sabbath, as we described in the Tafsir of Surat Al-Baqarah. Another group prohibited them from transgression and avoided them. A third group neither prohibited them, nor participated in their action. The third group said to the preachers,
لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا
("Why do you preach to a people whom Allah is about to destroy or to punish with a severe torment?").
They said, 'why do you forbid these people from evil, when you know that they are destroyed and have earned Allah's punishment?' Therefore, they said, there is no benefit in forbidding them. The preachers replied,
مَعْذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمْ
("In order to be free from guilt before your Lord (Allah),") 'for we were commanded to enjoin righteousness and forbid evil,'
وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
("and perhaps they may fear Allah") for on account of our advice, they might stop this evil and repent to Allah. Certainly, if they repent to Allah, Allah will accept their repentance and grant them His mercy.' Allah said,
فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ
(So when they forgot the reminder that had been given to them,) when the evil doers refused the advice,
أَنجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا
(We rescued those who forbade evil, but We seized who did wrong,) who committed the transgression,
بِعَذَابٍ بَئِيسٍ
(with a severe torment). Allah stated that those who enjoined good were saved, while those who committed the transgression were destroyed, but He did not mention the end of those who were passive (the third group), for the compensation is comparable to the deed. This type did not do what would warrant praise, nor commit wrong so that they are admonished.
Ikrimah said, "Ibn 'Abbas said about the Ayah: 'I do not know whether or not the people were saved who said;
لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ
("Why do you preach to a people whom Allah is about to destroy…?")
So I continued discussing it with him until I convinced him that they were. Then he gave me [the gift of] a garment." Allah said,
وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ
(and We seized those who did wrong with a Ba'is torment) indicating that those who remained were saved. As for 'Ba'is', it means 'severe', according to Mujahid, or 'painful', according to Qatadah. These meanings are synonymous, and Allah knows best. Allah said next,
خَاسِئِينَ
(despised), humiliated, disgraced and rejected.
Tafsir Ibn Kathir
اصحاب سبت جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے ان کے تین گروہ ہوگئے تھے ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے حوالوں سے مچھلی پکڑنے والا۔ دوسرا گروہ انہیں روکنے والا اور ان سے بیزاری ظاہر کر کے ان سے الگ ہوجانے والا اور تیسرا گروہ چپ چاپ رہ کر نہ اس کام کو کرنے والا نہ اس سے روکنے والا جیسے کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار بیان کر آئے ہیں۔ جو لوگ خاموش تھے نہ برائی کرتے تھے نہ بروں کو برائی سے روکتے تھے انہوں نے روکنے والوں کو سمجھانا شروع کیا کہ میاں ان لوگوں کو کہنے سننے سے کیا فائدہ ؟ انہوں نے تو اللہ کے عذاب مول لے لئے ہیں رب کے غضب کیلئے تیار ہوگئے ہیں اب تم ان کے پیچھے کیوں پڑے ہو ؟ تو اس پاک گروہ نے جواب دیا کہ اس میں دو فائدے ہیں ایک تو یہ کہ اللہ کے پاس ہم معذرت خواہ ہوجائیں کہ ہم اپنا فرض برابر ادا کرتے رہے انہیں ہر وقت سمجھاتے بجھاتے رہے۔ معذرت کے پیش سے بھی ایک قرأت ہے تو گوایا ھذا کا لفظ یہاں مقرر مانا یعنی انہوں نے کہا یہ ہماری معذرت ہے اور زبر کی قرأت پر یہ مطلب ہے کہ ہم جو انہیں روک رہے ہیں یہ کام بطور اس کے کر رہے ہیں کہ اللہ کے ہاں ہم پر الزام نہ آئے کیونکہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمیشہ نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو، دوسرا فائدہ اس میں یہ ہے کہ بہت ممکن ہے کسی وقت کی نصیحت ان پر اثر کر جائے یہ لوگ اپنی اس حرام کاری سے باز آجائیں اللہ سے توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی ان پر مہربانی کرے اور ان کے گناہ معاف فرما دے۔ آخر کار ان کی نصیحت خیر خواہی بھی بےنتیجہ ثابت ہوئی۔ ان بدکاروں نے ایک نہ مانی تو ہم نے اس مسلم گروہ کو تو جو برابر ان سے نالاں رہا ان سے الگ رہا اور انہیں سمجھتا بجھتا رہا نجات دے دی اور باقی کے ظالموں کو جو ہماری نافرمانیوں کے مرتکب تھے اپنے بدترین عذابوں سے پکڑ لیا۔ عبارت کی عمدگی ملاحظہ ہو کہ روکنے والوں کی نجات کا کھلے لفظوں میں اعلان کیا ظالموں کی ہلاکت کا بھی غیر مشتبہ الفاظ میں بیان کیا اور چپ رہنے والوں کے حالات سے سکوت کیا گیا، اس لئے کہ ہر عمل کی جزا اسی کی ہم جنس ہے۔ یہ لوگ نہ تو اس ظلم عظیم میں شریک تھے کہ ان کی مذمت اعلانیہ کی جائے نہ دلیری سے روکتے تھے کہ صاف طور پر قابل تعریف ٹھہریں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جو گروہ ممانعت کرنے کے بعد تھک کر بیٹھ گیا تھا اور پھر روکنا جھوڑ دیا تھا اللہ کا عذاب جب آیا تو یہ گروہ بھی اس عذاب سے بچ گیا صرف وہی ہلاک ہوئے جو گناہ میں مبتلا تھے۔ آپ کے شاگرد حضرت عکرمہ کا بیان ہے کہ پہلے حضرت ابن عباس کو اس میں بڑا تردد تھا کہ آیا یہ لوگ ہلاک ہوئے یا بچ گئے یہاں تک کہ ایک روز میں آیا تو دیکھا کہ قرآن گود میں رکھے ہوئے رو رہے ہیں۔ اول اول تو میرا حوصلہ نہ پڑا کہ سامنے آؤں لیکن دیر تک جب یہی حالت رہی تو میں نے قریب آکر سلام کیا بیٹھ گیا اور رونے کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا دیکھو یہ سورة اعراف ہے اس میں ایلہ کے یہودیوں کا ذکر ہے کہ انہیں ہفتے کے روز مچھلی کے شکار کی ممانعت کردی گئی اور ان کی آزمائش کے لئے مچھلیوں کو حکم ھوا کہ وہ صرف ہفتے کے دن ہی نکلیں ہفتے کے دن دریا مچھلیوں سے بھرے رہتے تھے۔ ترو تازہ موٹی اور عمدہ بکثرت مچھلیاں پانی کے اوپر اجھلتی کودتی رہتی تھیں اور دنوں میں سخت کوشش کے باوجود بھی نہ ملتی تھیں۔ کچھ دنوں تو ان کے دلوں کے اندر حکم الٰہی کی عظمت رہی اور یہ ان کے پکڑنے سے رکے رہے لیکن پھر شیطان نے ان کے دل میں یہ قیاس ڈال دیا کہ اس دن منع کھانے سے ہے تم نے آج کھانا نہیں۔ پکڑ لو اور جائز دن کھا لینا۔ سچے مسلمانوں نے انہیں اس حیلہ جوئی سے ہرچند روکا اور سمجھایا کہ دیکھو شکار کھیلنا شروع نہ کرو شکار اور کھانا دونوں منموع ہیں۔ اگلے جمعہ کے دن جو جماعت شیطانی پھندے میں پھنس چکی تھی وہ اپنے بال بچوں سمیت شکار کو نکل کھڑی ہوئی۔ باقی کے لوگوں کی دو جماعتیں بن گئیں ایک ان کے دائیں ایک بائیں۔ دائیں جانب والی تو برابر انہیں روکتی رہی کہ اللہ سے ڈرو اور اللہ کے عذابوں کے لئے تیاری نہ کرو۔ بائیں والوں نے کہا میاں تمہیں کیا پڑی ؟ یہ تو خراب ہونے والے ہیں اب تم انہیں نصیحت کر کے کیا لو گے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ خیر اللہ کے ہاں ہم تو چھوٹ جائیں گے اور ہمیں تو اب تک مایوسی بھی نہیں کیا عجب کہ یہ لوگ سنور جائیں تو ہلاکت اور عذاب سے محفوظ رہیں۔ ہماری تو عین منشا یہ ہے لیکن یہ بدکار اپنی بےایمانی سے باز نہ آئے اور نصیحت انہیں کار گر نہ ہوئی تو دائیں طرف کے لوگوں نے کہا تم نے ہمارا کہا نہ مانا۔ اللہ کی نافرمانی کی، ارتکاب حرمت کیا۔ عجب نہیں راتوں رات تم پر کوئی عذاب رب آئے۔ اللہ تمہیں زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسا دے یا کسی اور طرح تمہیں سزا دے۔ رات ہم تو یہیں گذاریں گے تمہارے ساتھ شہر میں نہیں رہیں گے۔ جب صبح ہوگئی اور شہر کے دروازے نہ کھلے تو انہوں نے کواڑ کھٹ کھٹائے، آوازیں دیں لیکن کوئی جواب نہ آیا آخر سیڑھی لگا کر ایک شخص کو قلعہ کی دیوار پر چڑھایا اس نے دیکھا تو حیران ہوگیا کہ سب لوگ بندر بنا دیئے گئے۔ اس نے ان سب مسلمانوں کو خبر دی۔ یہ دروازے توڑ کر اندر گئے تو دیکھا کہ سب دم دار بندر بن گئے ہیں یہ تو کسی کو پہچان نہ سکے لیکن وہ پہچان گئے ہر بندر اپنے اپنے رشتے دار کے قدموں میں لوٹنے لگا ان کے کپڑے پکڑ پکڑ کر رونے لگا تو انہوں نے کہا دیکھو ہم تو تمہیں منع کر رہے تھے لیکن تم نے مانا ہی نہیں۔ وہ اپنا سر ہلاتے تھے کہ ہاں ٹھیک ہے ہمارے اعمال کی شامت نے ہی ہمیں برباد کیا ہے۔ تو اب یہ تو قرآن میں ہے کہ روکنے والے نجات یافتہ ہوئے لیکن یہ بیان نہیں کہ جو روکنے والوں کو منع کرتے تھے ان کا کیا حشر ہوا ؟ اب ہم بھی بہت سی خلاف باتیں دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں کرسکتے، میں نے آپ سے یہ سن کر کہا اللہ مجھے آپ پر نثار کر دے آپ یہ تو دیکھئے کہ وہ لوگ ان کے اس فعل کو برا سمجھتے رہے تھے ان کی مخالفت کرتے تھے جانتے تھے کہ یہ ہلاک ہونے والے ہیں ظاہر ہے کہ یہ بچ گئے، آپ کی سمجھ میں آگیا اور اسی وقت حکم دیا کہ مجھے دو چادریں انعام میں دی جائیں۔ الغرض اس بیچ کی جماعت کی نسبت ایک قول تو یہ ہے کہ عذاب سے بچ گئی دوسرا قول یہ ہے کہ عذاب ان پر بھی آیا۔ ابن رومان فرماتے ہیں کہ ہفتے والے دن خوب مچھلیاں آتیں پانی ان سے بھر جاتا پھر بیچ کے کسی دن نظر نہ آتیں دوسرے ہفتے کو پھر یہی حال ہوتا، سب سے پہلے ایک شخص نے یہ حیلہ نکالا کہ ڈور اور کانٹا تیار کیا، مچھلی کو اس میں ہفتے کے دن پھنسا لیا اور پانی میں ہی چھوڑ دیا اتوار کی رات کو جا کر نکال لیں بھونا لوگوں کو مچھلی کی خوشبو پہنچی تو سب نے گھیر لیا۔ ہرچند پوچھا لیکن اول تو یہ سختی سے انکار کرتا رہا آخر اسنے بات بنادی کہ دراصل ایک مچھلی کا چھلکا مجھے مل گیا تھا میں نے اسے بھونا تھا، دوسرے ہفتے کے دن اس نے اسی طرح دو مچھلیاں پھانس لیں اتوار کی رات کو نکال کر بھوننے لگا لوگ آگئے تو اس نے کہا میں نے ایک ترکیب نکال لی ہے جس سے نافرمانی بھی نہ ہو اور کام بھی نہ رکے اب جو حیلہ بیان کیا تو ان سب نے اسے پسند کیا اور اکثر لوگ یونہی کرنے لگے۔ یہ لوگ رات کو شہر پناہ کے پھاٹک بند کر کے سوتے تھے جس رات عذاب آیا حسب دستور یہ شہر پناہ کے پھاٹک لگا کر سوئے تھے۔ صبح کو جب باہر والے شہر میں داخل ہونے کو آئے تو خلاف معمول اب تک دروازے بند پائے آوازیں دیں کوئی جواب نہ ملا قلعہ پر چڑھ گئے دیکھا تو بندر بنا دیئے گئے ہیں کھول کر اندر گئے تو بندر اپنے اپنے رشتہ داروں کے قدموں میں لوٹنے لگے اس سے پہلے سورة بقرہ کی ایسی ہی آیت کی تفسیر کے موقعہ پر بالتفصیل ان واقعات کو اچھی طرح بیان کرچکے ہیں وہیں دیکھ لیجئے۔ فالحمد اللہ، دوسرا قول یہ ہے کہ جو چپ رہے تھے وہ بھی ان گنہگاروں کے ساتھ ہلاک ہوئے، ابن عباس سے منقول ہے کہ پہلے ہفتہ کے دن کی تعظیم بطور بدعت خود ان لوگوں نے نکالی اب اللہ کی طرف سے بطور آزمائش کے وہ تعظیم ان پر ضروری قرار دے دی گئی اور حکم ہوگیا کہ اس دن مجھلی کا شکار نہ کرو پھر مچھلیوں کا اس دن نمایاں ہونا اور دنوں میں نہ نکلنا وغیرہ بیان فرما کر فرمایا کہ پھر ان میں سے ایک شخص نے ایک مچھلی ہفتے کے دن پکڑی اس کی ناک میں سوراخ کرکے ڈور باندھ کر ایک کیل کنارے گاڑ کر اس میں ڈور اٹکا کر مچھلی کو دریا میں ڈال دیا دوسرے دن جا کر پانی میں سے نکال لایا اور بھون کر کھالی سوائے اس پاک باز حق گو جماعت کے لوگوں کے کسی نے نہ اسے روکا نہ منع کیا نہ سمجھایا لیکن ان کی نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس ایک کی دیکھا دیکھی اور بھی یہی کام کرنے لگے یہاں تک کہ بازاروں میں مچھلی آنے لگی اور اعلانیہ یہ کام ہونے لگا۔ ایک اور جماعت کے لوگوں نے اس حق والی جماعت سے کہا کہ تم ان لوگوں کو کیوں وعظ کرتے ہو اللہ تو انہیں ہلاک کرنے والا سخت عذاب کرنے والا ہے تو انہوں نے وہ جواب دیا یعنی اللہ کا فرمان دہرایا۔ لیکن لوگ فرمان ربانی کو بھول بیٹھے اور عذاب رب کے خود شکار ہوگئے۔ یہ تین گروہوں میں بٹ گئے تھے ایک تو شکار کھیلنے والا، ایک منع کرنے والا، ایک ان منع کرنے والوں سے کہنے والا کہ اب نصیحت بیکار ہے۔ بس وہ تو بچ گئے جو برابر روکتے رہے تھے اور دونوں جماعتیں ہلاک کردی گئیں۔ سند اس کی نہایت عمدہ ہے لیکن حضرت ابن عباس کا حضرت عکرمہ کے قول کی طرف رجوع کرنا اس قول کے کہنے سے اولیٰ ہے اس لئے کہ اس قول کے بعد ان پر ان کے حال کی حقیقت کھل گئی واللہ اعلم۔ پھر فرمان ہے کہ ہم نے ظالموں کو سخت عذابوں سے دبوچ لیا۔ مفہوم کی دلالت تو اس بات پر ہے کہ جو باقی رہے بچ گئے۔ (بئیس) کی کئی ایک قرأتیں ہیں اس کے معنی سخت کے، دردناک کے، تکلیف دہ کے ہیں اور سب کا مطلب قریب قریب یکساں ہے۔ ان کی سرکشی اور ان کے حد سے گذر جانے کے باعث ہم نے ان سے کہہ دیا کہ تم ذلیل حقیر اور ناقدرے بندر بن جاؤ چناچہ وہ ایسے ہی ہوگئے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ أَهْلِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ أَنَّهُمْ صَارُوا إِلَى ثَلَاثِ فِرَقٍ: فِرْقَةٌ [[في ك، م، أ: "ففرقة".]] ارْتَكَبَتِ الْمَحْذُورَ، وَاحْتَالُوا عَلَى اصْطِيَادِ السَّمَكِ يَوْمَ السَّبْتِ، كَمَا تَقَدَّمَ بَيَانُهُ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ. وَفِرْقَةٌ نَهَتْ عَنْ ذَلِكَ، [وَأَنْكَرَتْ] [[زيادة من ك، م، أ.]] وَاعْتَزَلَتْهُمْ. وَفِرْقَةٌ سَكَتَتْ فَلَمْ تَفْعَلْ وَلَمْ تَنْهَ، وَلَكِنَّهَا قَالَتْ لِلْمُنْكِرَةِ: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ ؟ أَيْ: لِمَ تَنْهَوْنَ هَؤُلَاءِ، وَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّهُمْ هَلَكُوا وَاسْتَحَقُّوا الْعُقُوبَةَ مِنَ اللَّهِ؟ فَلَا فَائِدَةَ فِي نَهْيِكُمْ إِيَّاهُمْ. قَالَتْ لَهُمُ الْمُنْكِرَةُ: ﴿مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ﴾ قَرَأَ بَعْضُهُمْ بِالرَّفْعِ، كَأَنَّهُ عَلَى تَقْدِيرِهِ: هَذَا مَعْذِرَةٌ وَقَرَأَ آخَرُونَ بِالنَّصْبِ، أَيْ: نَفْعَلُ ذَلِكَ ﴿مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ﴾ أَيْ: فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا مِنَ الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ ﴿وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ﴾ يَقُولُونَ: وَلَعَلَّ بِهَذَا الْإِنْكَارِ يَتَّقُونَ مَا هُمْ فِيهِ وَيَتْرُكُونَهُ، وَيَرْجِعُونَ إِلَى اللَّهِ تَائِبِينَ، فَإِذَا تَابُوا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَرَحِمَهُمْ.
قَالَ تَعَالَى: ﴿فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ﴾ أَيْ: فَلَمَّا أَبَى الْفَاعِلُونَ الْمُنْكَرَ قَبُولَ النَّصِيحَةِ، ﴿أَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا﴾ أَيْ: ارْتَكَبُوا الْمَعْصِيَةَ ﴿بِعَذَابٍ بَئِيسٍ﴾ فَنَصَّ عَلَى نَجَاةِ النَّاهِينَ وَهَلَاكِ الظَّالِمِينَ، وَسَكَتَ عَنِ السَّاكِتِينَ؛ لِأَنَّ الْجَزَاءَ مِنْ جِنْسِ الْعَمَلِ، فَهُمْ لَا يَسْتَحِقُّونَ مَدْحًا فَيُمْدَحُوا، وَلَا ارْتَكَبُوا عَظِيمًا فَيُذَمُّوا، وَمَعَ هَذَا فَقَدَ اخْتَلَفَ الْأَئِمَّةُ فِيهِمْ: هَلْ كَانُوا مِنَ الْهَالِكِينَ أَوْ مِنَ النَّاجِينَ؟ عَلَى قَوْلَيْنِ:
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌ مِنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ [قَالَ:] [[زيادة من أ.]] هِيَ قَرْيَةٌ عَلَى شَاطِئِ الْبَحْرِ بَيْنَ مِصْرَ وَالْمَدِينَةِ، يُقَالُ لَهَا: "أَيْلَةُ"، فَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْحِيتَانَ يَوْمَ سَبْتِهِمْ، وَكَانَتِ الْحِيتَانُ تَأْتِيهِمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا فِي سَاحِلِ الْبَحْرِ، فَإِذَا مَضَى يَوْمُ السَّبْتِ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهَا. فَمَضَى عَلَى ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ إِنْ طَائِفَةً مِنْهُمْ أَخَذُوا الْحِيتَانَ يَوْمَ سَبْتِهِمْ، فَنَهَتْهُمْ طَائِفَةٌ وَقَالُوا: تَأْخُذُونَهَا وَقَدْ حَرَّمَهَا اللَّهُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ سَبْتِكُمْ؟ فَلَمْ يَزْدَادُوا إِلَّا غَيًّا وَعُتُوًّا، وَجَعَلَتْ طَائِفَةٌ أُخْرَى تَنْهَاهُمْ، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ قَالَتْ طَائِفَةٌ مِنَ النُّهَاةِ: تَعْلَمُونَ أَنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ قَدْ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْعَذَابُ، ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ [أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا] ﴾ [[زيادة من أ.]] وَكَانُوا أَشَدَّ غَضَبًا لِلَّهِ مِنَ الطَّائِفَةِ الْأُخْرَى؟ فَقَالُوا: ﴿مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ﴾ وَكُلٌّ قَدْ كَانُوا يَنْهَوْنَ، فَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمْ غَضَبُ اللَّهِ نَجَتِ الطَّائِفَتَانِ اللَّتَانِ قَالُوا: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ﴾ وَالَّذِينَ قَالُوا: ﴿مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ﴾ وَأَهْلَكَ اللَّهُ أَهْلَ مَعْصِيَتِهِ الَّذِينَ أَخَذُوا الْحِيتَانَ، فَجَعَلَهُمْ قِرَدَةً.
وَرَوَى الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَرِيبًا مِنْ هَذَا.
وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عباس: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾
قال: ما أدري أنجا الَّذِينَ قَالُوا: "أَتَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ"، أَمْ لَا؟ قَالَ: فَلَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى عرَّفته أَنَّهُمْ نَجَوْا، فَكَسَانِي حُلَّةً.
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْج، حَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: جِئْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَوْمًا وَهُوَ يَبْكِي، وَإِذَا [[في أ: "إن".]] الْمُصْحَفُ فِي حِجْرِهِ، فَأَعْظَمْتُ أَنْ أَدْنُوَ، ثُمَّ لَمْ أَزَلْ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى تَقَدَّمْتُ فَجَلَسْتُ، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبَّاسٍ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ؟ قَالَ: فَقَالَ: هَؤُلَاءِ الْوَرَقَاتِ. قَالَ: وَإِذَا هُوَ فِي "سُورَةِ الْأَعْرَافِ"، قَالَ: تَعْرِفُ [[في أ: "قال هل تعرف".]] أَيْلَةَ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَإِنَّهُ كَانَ بِهَا حَيٌّ مِنْ يَهُودَ سِيقَتِ الْحِيتَانُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ السَّبْتِ، ثُمَّ غَاصَتْ لَا يَقْدِرُونَ عَلَيْهَا حَتَّى يَغُوصُوا بَعْدَ كَدٍّ وَمُؤْنَةٍ شَدِيدَةٍ، كَانَتْ تَأْتِيهِمْ يَوْمَ السَّبْتِ شُرَّعًا بِيضًا سِمَانًا كَأَنَّهَا الْمَاخِضُ، تَتَبَطَّحُ [[في م: "حتى تنبطح".]] ظُهُورُهَا لِبُطُونِهَا بِأَفْنِيَتِهِمْ. فَكَانُوا كَذَلِكَ بُرْهَةً مِنَ الدَّهْرِ، ثُمَّ إِنِ الشَّيْطَانَ أَوْحَى إِلَيْهِمْ فَقَالَ: إِنَّمَا نُهِيتُمْ عَنْ أَكْلِهَا يَوْمَ السَّبْتِ، فَخُذُوهَا فِيهِ، وَكُلُوهَا فِي غَيْرِهِ مِنَ الْأَيَّامِ. فَقَالَتْ ذَلِكَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ: بَلْ نُهِيتُمْ عَنْ أَكْلِهَا وَأَخْذِهَا وَصَيْدِهَا يَوْمَ السَّبْتِ. فَكَانُوا كَذَلِكَ، حَتَّى جَاءَتِ الْجُمُعَةُ الْمُقْبِلَةُ، فَغَدَتْ طَائِفَةٌ بِأَنْفُسِهَا وَأَبْنَائِهَا وَنِسَائِهَا، وَاعْتَزَلَتْ طَائِفَةٌ ذَاتَ الْيَمِينِ، وَتَنَحَّتْ وَاعْتَزَلَتْ طَائِفَةٌ ذَاتَ الْيَسَارِ وَسَكَتَتْ. وَقَالَ الْأَيْمَنُونَ: وَيَلْكُمُ، اللَّهَ، اللَّهَ نَنْهَاكُمْ أَنْ [[في أ: "الله، الله ينهاكم عن ذلك ولا".]] تَتَعَرَّضُوا لِعُقُوبَةِ اللَّهِ. وَقَالَ الْأَيْسَرُونَ: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ ؟ قَالَ الْأَيْمَنُونَ: ﴿مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ﴾ إِنْ يَنْتَهُوا فَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْنَا أَلَّا يُصَابُوا وَلَا يَهْلِكُوا، وَإِنْ لَمْ يَنْتَهُوا فَمَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ. فَمَضَوْا عَلَى الْخَطِيئَةِ، وَقَالَ الْأَيْمَنُونَ: فَقَدْ [[في أ: "قد".]] فَعَلْتُمْ، يَا أَعْدَاءَ اللَّهِ. وَاللَّهِ لَا نُبَايِتُكُمُ [[في م: "لنأتينكم".]] اللَّيْلَةَ فِي مَدِينَتِكُمْ، وَاللَّهِ مَا نَرَاكُمْ تُصْبِحُونَ حَتَّى يُصَبِّحَكُمُ اللَّهُ بِخَسْفٍ أَوْ قَذْفٍ أَوْ بَعْضِ مَا عِنْدَهُ مِنَ الْعَذَابِ. فَلَمَّا أَصْبَحُوا ضَرَبُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ وَنَادَوْا، فَلَمْ يُجَابُوا، فَوَضَعُوا سُلَّمًا، وَأَعْلَوْا سُورَ الْمَدِينَةِ رَجُلًا فَالْتَفَتَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: أَيْ عِبَادَ اللَّهِ، قِرَدَةٌ وَاللَّهِ تُعَاوِي لَهَا أَذْنَابٌ. قَالَ: فَفَتَحُوا فَدَخَلُوا عَلَيْهِمْ، فَعَرَفَتِ الْقُرُودُ أَنْسَابَهَا [[في م: "أنسابهم".]] مِنَ الْإِنْسِ، وَلَا تَعْرِفُ الْإِنْسُ أَنْسَابَهَا مِنَ الْقِرَدَةِ، فَجَعَلَتِ الْقُرُودُ يَأْتِيهَا نَسِيبُهَا [[في أ: "تأت نسبها".]] مِنَ الْإِنْسِ فَتَشُمُّ ثِيَابَهُ وَتَبْكِي، فَتَقُولُ: أَلَمْ نَنْهَكُمْ عَنْ كَذَا؟ فَتَقُولُ بِرَأْسِهَا، أَيْ نَعَمْ. ثُمَّ قَرَأَ [[في أ: "ثم فسر".]] ابْنُ عَبَّاسٍ: ﴿فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ أَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ﴾ قَالَ: فَأَرَى الَّذِينَ نَهَوْا قَدْ نَجَوْا، وَلَا أَرَى الْآخَرِينَ ذُكِرُوا، وَنَحْنُ نَرَى أَشْيَاءَ نُنْكِرُهَا وَلَا نَقُولُ فِيهَا؟. قَالَ: قُلْتُ: جَعَلَنِي اللَّهُ فَدَاكَ، أَلَا تَرَى أَنَّهُمْ قَدْ كَرِهُوا مَا هُمْ عَلَيْهِ، وَخَالَفُوهُمْ وَقَالُوا: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ﴾ ؟ قَالَ: فَأَمَرَ لِي فَكُسِيتُ ثَوْبَيْنِ غَلِيظَيْنِ [[تفسير عبد الرزاق (١/٢٢٦) .]]
وَكَذَا رَوَى مُجَاهِدٌ، عَنْهُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، أَخْبَرَنَا أَشْهَبُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عن مالك، قال: زعم ابن رومان أَنَّ قَوْلَهُ تَعَالَى: ﴿تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ لَا تَأْتِيهِمْ﴾ قَالَ: كَانَتْ تَأْتِيهِمْ يَوْمَ السَّبْتِ، فَإِذَا كَانَ الْمَسَاءُ ذَهَبَتْ، فَلَا يُرَى مِنْهَا شَيْءٌ إِلَى يَوْمِ السَّبْتِ الْآخَرِ، فَاتَّخَذَ -لِذَلِكَ -رَجُلٌ خَيْطًا وَوَتَدًا، فَرَبَطَ حُوتًا مِنْهَا فِي الْمَاءِ يَوْمَ السَّبْتِ، حَتَّى إِذَا أَمْسَوْا لَيْلَةَ الْأَحَدِ، أَخَذَهُ فَاشْتَوَاهُ، فَوَجَدَ النَّاسُ رِيحَهُ، فَأَتَوْهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَجَحَدَهُمْ، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى قَالَ لَهُمْ: "فَإِنَّهُ جِلْدُ حُوتٍ وَجَدْنَاهُ". فَلَمَّا كَانَ السَّبْتُ [[في م: "فلما كان يوم السبت".]] الْآخَرُ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ -وَلَا أَدْرِي لَعَلَّهُ قَالَ: رَبَطَ حُوتَيْنِ -فَلَمَّا أَمْسَى مِنْ لَيْلَةِ الْأَحَدِ أَخَذَهُ فَاشْتَوَاهُ، فَوَجَدُوا رَائِحَةً، فَجَاءُوا [[في م: "فأتوه".]] فَسَأَلُوهُ [[في م: "فسألوه عن ذلك فجحدهم".]] فَقَالَ لَهُمْ: لَوْ شِئْتُمْ صَنَعْتُمْ كَمَا أَصْنَعُ. فَقَالُوا لَهُ: وَمَا صَنَعْتَ؟ فَأَخْبَرَهُمْ، فَفَعَلُوا مِثْلَ مَا فَعَلَ، حَتَّى كَثُرَ ذَلِكَ. وَكَانَتْ لَهُمْ مَدِينَةٌ لَهَا رَبَضٌ يُغْلِقُونَهَا عَلَيْهِمْ، فَأَصَابَهُمْ مِنَ الْمَسْخِ مَا أَصَابَهُمْ. فَغَدَوْا [[في م: "فعدا".]] عَلَيْهِمْ جِيرَانُهُمْ مِمَّا كَانُوا [[في ك، م: "ممن كان".]] حَوْلَهُمْ، يَطْلُبُونَ مِنْهُمْ مَا يَطْلُبُ النَّاسُ، فَوَجَدُوا الْمَدِينَةَ مُغْلَقَةً عَلَيْهِمْ، فَنَادَوْا فَلَمْ يُجِيبُوهُمْ، فَتَسَوَّرُوا عَلَيْهِمْ، فَإِذَا هُمْ قِرَدَةٌ، فَجَعَلَ الْقِرْدُ يَدْنُو يَتَمَسَّحُ بِمَنْ كَانَ يَعْرِفُ قَبْلَ ذَلِكَ، وَيَدْنُو مِنْهُ وَيَتَمَسَّحُ بِهِ [[تفسير الطبري (١٣/١٩٣) .]]
وَقَدْ قَدَّمْنَا فِي سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" [[سورة البقرة الآية: ٦٠.]] مِنَ الْآثَارِ فِي خَبَرِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ مَا فِيهِ مَقْنَعٌ وَكِفَايَةٌ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ.
الْقَوْلُ الثَّانِي: أَنَّ السَّاكِتِينَ كَانُوا مِنَ الْهَالِكِينَ.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ أَنَّهُ قَالَ: ابْتَدَعُوا السَّبْتَ فَابْتُلُوا فِيهِ، فَحَرُمَتْ عَلَيْهِمْ فِيهِ الْحِيتَانُ، فَكَانُوا إِذَا كَانَ يَوْمُ السَّبْتِ، شَرَعَتْ لَهُمُ الْحِيتَانُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهَا فِي الْبَحْرِ. فَإِذَا انْقَضَى السَّبْتُ، ذَهَبَتْ فَلَمْ تُرَ حَتَّى السَّبْتِ الْمُقْبِلِ، فَإِذَا جَاءَ السَّبْتُ جَاءَتْ شُرَّعًا، فَمَكَثُوا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثُوا كَذَلِكَ، ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ أَخَذَ حُوتًا فَخَزَمَ أَنْفَهُ ثُمَّ، ضَرَبَ لَهُ وَتَدًا فِي السَّاحِلِ، وَرَبَطَهُ وَتَرَكَهُ فِي الْمَاءِ. فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ، أَخَذَهُ فَشَوَاهُ فَأَكَلَهُ، فَفَعَلَ ذَلِكَ وَهُمْ يَنْظُرُونَ وَلَا يُنْكِرُونَ، وَلَا يَنْهَاهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ، إِلَّا عُصْبَةٌ مِنْهُمْ نَهَوْهُ، حَتَّى ظَهَرَ ذَلِكَ فِي الْأَسْوَاقِ، فَفُعِلَ عَلَانِيَةً. قَالَ: فَقَالَتْ طَائِفَةٌ لِلَّذِينَ يَنْهَوْنَهُمْ: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا قَالُوا مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ﴾ فَقَالُوا: سَخِطَ أَعْمَالَهُمْ ﴿وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ * فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿قِرَدَةً خَاسِئِينَ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانُوا أَثْلَاثًا: ثُلْثٌ نَهَوْا، وَثُلْثٌ قَالُوا: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ﴾ وَثُلْثٌ أَصْحَابُ الْخَطِيئَةِ، فَمَا نَجَا إِلَّا الَّذِينَ نَهَوْا وَهَلَكَ سَائِرُهُمْ.
وَهَذَا إِسْنَادٌ جَيِّدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَكِنْ رُجُوعَهُ إِلَى قَوْلِ عِكْرِمَةَ فِي نَجَاةِ السَّاكِتِينَ، أَوْلَى مِنَ الْقَوْلِ بِهَذَا؛ لِأَنَّهُ تَبَيَّنَ حَالَهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ﴾ فِيهِ دَلَالَةٌ بِالْمَفْهُومِ عَلَى أَنَّ الَّذِينَ بَقُوا نَجَوْا.
وَ ﴿بَئِيسٍ﴾ فِيهِ قِرَاءَاتٌ كَثِيرَةٌ، وَمَعْنَاهُ فِي قَوْلِ مُجَاهِدٍ: "الشَّدِيدُ"، وَفِي رِوَايَةٍ: "أَلِيمٍ". وَقَالَ قَتَادَةُ: مُوجِعٌ. وَالْكُلُّ مُتَقَارِبٌ، وَاللَّهُ أعلم.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿خَاسِئِينَ﴾ أَيْ: ذَلِيلِينَ حَقِيرِينَ مُهَانِينَ.
وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ مَن يَسُومُهُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ ۗ إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ ٱلْعِقَابِ ۖ وَإِنَّهُۥ لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ
And [mention] when your Lord declared that He would surely [continue to] send upon them until the Day of Resurrection those who would afflict them with the worst torment. Indeed, your Lord is swift in penalty; but indeed, He is Forgiving and Merciful.
(اور اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے شخص کو مسلط رکھے گا جو انہیں بری بری تکلیفیں دیتا رہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے
و (نیز به خاطر بیاور) هنگامی را که پروردگارت اعلام کرد: تا دامنه قیامت، کسی را بر آنها مسلّط خواهد ساخت که همواره آنها را در عذاب سختی قرار دهد؛ زیرا پروردگارت مجازاتش سریع، (و در عین حال، نسبت به توبهکاران) آمرزنده و مهربان است.
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) when your Lord declared that He would certainly keep on sending against them, till the Day of Resurrection, those who would afflict them with a humiliating torment. Verily, your Lord is quick in retribution and certainly He is Oft-Forgiving, Most Merciful (167)
Eternal Humiliation placed on the Jews
تَأَذَّنَ
(Ta'dhdhana) means 'declared', according to Mujahid, or 'ordained', according to others. This part of the Ayah indicates a vow,
لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ
(that He will keep on sending against them) against the Jews,
إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَن يَسُومُهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ
(till the Day of Resurrection, those who would afflict them with a humiliating torment.) on account of their disobedience, defying Allah's orders and Law and using tricks to transgress the prohibitions. It was reported that Musa required the Jews to pay the production tax for seven or thirteen years, and he was the first to do so. Also, the Jews fell under the humiliating rule of the Greek Kushdanin, Chaldeans and later on the Christians, who subjugated and disgraced them, and required them to pay the Jizyah (tribute tax). When Islam came and Muhammad ﷺ was sent, they became under his power and had to pay the Jizyah, as well. Therefore, the humiliating torment mentioned here includes disgrace and paying the Jizyah, as Al-'Awfi narrated from Ibn 'Abbas. In the future, the Jews will support the Dajjal (False Messiah); and the Muslims, along with 'Isa, son of Mary, will kill the Jews. This will occur just before the end of this world. Allah said next,
إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ
(Verily, your Lord is quick in retribution), with those who disobey Him and defy His Law,
وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
(and certainly He is Oft-Forgiving, Most Merciful.) for those who repent and go back to Him. This Ayah mentions both the mercy, as well as, the punishment, so that no despair is felt. Allah often mentions encouragement and warning together, so that hearts always have a sense of hope and fear.
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا انجام ذلت و رسوائی اللہ تعالیٰ نے یہود کو اطلاع کردی کہ ان کی اس سخت نافرمانی و بار بار کی بغاوت اور ہر موقعہ پر نافرمانی، رب سے سرکشی اور اللہ کے حرام کو اپنے کام میں لانے کیلئے حیلہ جوئی کر کے اسے حلال کی جامہ پوشی کا بدلہ یہ ہے کہ قیامت تک تم دبے رہو ذلت میں رہو لوگ تمہیں پست کرتے چلے جائیں۔ خود حضرت موسیٰ ؑ نے بھی ان پر تاوان مقرر کردیا تھا سات سال یا تیرہ سال تک یہ اسے ادا کرتے رہے، سب سے پہلے خراج کا طریقہ آپ نے ہی ایجاد کیا پھر ان پر یونانیوں کی حکومت ہوئی پھر کسرانیوں کلدانیوں اور نصرانیوں کی۔ سب کے زمانے میں ذلیل اور حقیر رہے ان سے جزیہ لیا جاتا رہا اور انہیں پستی سے ابھرنے کا کوئی موقعہ نہ ملا۔ پھر اسلام آیا اور اس نے بھی انہیں پست کیا جزیہ اور خراج برابر ان سے وصول ہوتا رہا۔ غرض یہ ذلیل رہے اس امت کے ہاتھوں بھی حقارت کے گڑھے میں گرے رہے۔ بالآخر یہ دجال کے سات مل جائیں گے لیکن مسلمان حضرت عیسیٰ ؑ کے ساتھ جا کر ان کی تخم ریزی کردیں گے، جو بھی شریعت الہ کی مخالفت کرتا ہے، اللہ کے فرمان کی تحقیر کرتا ہے اللہ اسے جلدی ہی سزا دے دیتا ہے۔ ہاں جو اس کی طرف رغبت و رجوع کرے، توبہ کرے، جھکے تو وہ بھی اس کے ساتھ بخشش و رحمت سے پیش آتا ہے چونکہ ایمان نام ہے خوف اور امید کا اسی لئے یہاں اور اکثر جگہ عذاب وثواب، پکڑ دکڑ اور بخشش اور لالچ دونوں کا ایک ساتھ بیان ہوا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
﴿تَأَذَّنَ﴾ تَفَعَّل مِنَ الْإِذْنِ أَيْ: أَعْلَمَ، قَالَهُ مُجَاهِدٌ. وَقَالَ غَيْرُهُ: أَمَرَ.
وَفِي قُوَّةِ الْكَلَامِ مَا يُفِيدُ مَعْنَى الْقَسَمِ مِنْ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَلِهَذَا تُلُقِّيَت بِاللَّامِ فِي قَوْلِهِ: ﴿لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ﴾ أَيْ: عَلَى الْيَهُودِ ﴿إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ يَسُومُهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ﴾ أَيْ: بِسَبَبِ عِصْيَانِهِمْ وَمُخَالَفَتِهِمْ أَوَامِرَ اللَّهِ وَشَرْعَهُ وَاحْتِيَالِهِمْ عَلَى الْمَحَارِمِ.
وَيُقَالُ: إِنَّ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، ضَرَبَ عَلَيْهِمُ الْخَرَاجَ سَبْعَ سِنِينَ -وَقِيلَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ ضَرَبَ الْخَرَاجَ. ثُمَّ كَانُوا فِي قَهْرِ الْمُلُوكِ مِنَ الْيُونَانِيِّينَ وَالْكَشْدَانِيِّينَ وَالْكَلْدَانِيِّينَ، ثُمَّ صَارُوا فِي [[في ك، م، أ: "إلى".]] قَهْرِ النَّصَارَى وَإِذْلَالِهِمْ وَإِيَّاهُمْ، أَخْذِهِمْ مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ وَالْخَرَاجَ، ثُمَّ جَاءَ الْإِسْلَامُ، وَمُحَمَّدٌ، عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ وَالسَّلَامُ، فَكَانُوا تَحْتَ صُفَارِهِ وَذِمَّتِهِ يُؤَدُّونَ الْخَرَاجَ وَالْجِزَى [[في م: "الجزية".]]
قَالَ الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ: هِيَ الْمَسْكَنَةُ، وَأَخْذُ الْجِزْيَةِ مِنْهُمْ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْهُ: هِيَ الْجِزْيَةُ، وَالَّذِينَ يَسُومُهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ: مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَأُمَّتُهُ، إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
وَكَذَا قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَابْنُ جُرَيْج، والسُّدِّي، وَقَتَادَةُ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: عَنْ مَعْمَر، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: يَسْتَحَبُّ أَنْ تُبْعَثَ الْأَنْبَاطُ فِي الْجِزْيَةِ.
قُلْتُ: ثُمَّ آخِرُ أَمْرِهِمْ أَنَّهُمْ يَخْرُجُونَ أَنْصَارَ الدَّجَّالِ، فَيَقْتُلُهُمُ الْمُسْلِمُونَ مَعَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَذَلِكَ آخِرَ الزَّمَانِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ﴾ أَيْ: لِمَنْ عَصَاهُ وَخَالَفَ [أَمْرَهُ وَ] [[زيادة من أ.]] شَرْعَهُ، ﴿وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ أَيْ: لِمَنْ تَابَ إِلَيْهِ وَأَنَابَ.
وَهَذَا مِنْ بَابِ قَرْنِ الرَّحْمَةِ مَعَ الْعُقُوبَةِ، لِئَلَّا يَحْصُلَ الْيَأْسُ، فَيَقْرِنُ [اللَّهُ] [[زيادة من م.]] تَعَالَى بَيْنَ التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيبِ كَثِيرًا؛ لِتُبْقَى النُّفُوسُ بين الرجاء والخوف.
وَقَطَّعْنَٰهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ أُمَمًۭا ۖ مِّنْهُمُ ٱلصَّٰلِحُونَ وَمِنْهُمْ دُونَ ذَٰلِكَ ۖ وَبَلَوْنَٰهُم بِٱلْحَسَنَٰتِ وَٱلسَّيِّـَٔاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
And We divided them throughout the earth into nations. Of them some were righteous, and of them some were otherwise. And We tested them with good [times] and bad that perhaps they would return [to obedience].
اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کرکے ملک میں منتشر کر دیا۔ بعض ان میں سے نیکوکار ہیں اور بعض اور طرح کے (یعنی بدکار) اور ہم آسائشوں، تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں
و آنها را در زمین بصورت گروههایی، پراکنده ساختیم؛ گروهی از آنها صالح، و گروهی ناصالحند. و آنها را با نیکیها و بدیها آزمودیم، شاید بازگردند!
Tafsir Ibn Kathir
And We have broken them (the Jews) up into various separate groups on the earth: some of them are righteous and some are away from that. And We tried them with good (blessings) and evil (calamities) in order that they might turn (to Allah)(168)Then after them succeeded an (evil) generation, which inherited the Book, but they chose (for themselves) the goods of this low life saying: "(Everything) will be forgiven to us." And if (again) the offer of the like (evil pleasures of this world) came their way, they would (again) seize them (would commit those sins). Was not the covenant of the Book taken from them that they would not say about Allah anything but the truth? And they have studied what is in it (the Book). And the home in the Hereafter is better for those who have Taqwa. Do not you then understand (169)And as to those who hold fast to the Book (act on its teachings) and perform the Salah, certainly We shall never waste the reward of those who do righteous deeds (170)
The Children of Israel scatter throughout the Land
Allah states that He divided the Jews into various nations, sects and groups,
وَقُلْنَا مِن بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا
(And We said to the Children of Israel after him (after Musa died): "Dwell in the land, then, when the final and the last promise comes near, We shall bring you altogether as a mixed crowd (gathered out of various nations).")[17:104]
مِّنْهُمُ الصَّالِحُونَ وَمِنْهُمْ دُونَ ذَٰلِكَ
(some of them are righteous and some are away from that), some of them are led aright and some are not righteous, just as the Jinns declared,
وَأَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَٰلِكَ كُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا
("There are among us some that are righteous, and some the contrary; we are groups having different ways (religious sects).")[72:11] Allah said here,
وَبَلَوْنَاهُم
(And We tried them), and tested them,
بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ
(with good and evil), with times of ease, difficulty, eagerness, fear, well-being and affliction,
لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(in order that they might turn (to Allah)) Allah said next,
فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا الْكِتَابَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا الْأَدْنَىٰ
(Then after them succeeded an (evil) generation, which inherited the Book, but they chose (for themselves) the goods of this low life)
This Ayah means, after the generation made up of righteous and unrighteous people, another generation came that did not have goodness in them, and they inherited the Tawrah and studied it. Mujahid commented on Allah's statement,
يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا الْأَدْنَىٰ
(They chose (for themselves) the goods of this low life)
"They will consume anything they can consume in this life, whether legally or illegally. Yet, they wish for forgiveness,
وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا وَإِن يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهُ يَأْخُذُوهُ
(Saying: "(Everything) will be forgiven for us." And if (again) the offer of the like came their way, they would (again) seize them.)" Qatadah commented on Allah's statement,
يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا الْأَدْنَىٰ
(they chose (for themselves) the goods of this low life) "This, by Allah, is an evil generation,
وَرِثُوا الْكِتَابَ
(which inherited the Book) after their Prophets and Messengers, for they were entrusted with this job by Allah's command to them. Allah said in another Ayah,
فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ
(Then, there has succeeded them a posterity who neglect the Salah (the prayers).)[19:59] Allah said next,
يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا الْأَدْنَىٰ وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا
(They chose the goods of this low life saying: "(Everything) will be forgiven to us.")
They wish and hope from Allah, while deceiving themselves,
وَإِن يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهُ يَأْخُذُوهُ
(And if (again) the offer of the like came their way, they would (again) seize them.)
Nothing stops them from this behavior, for whenever they are given an opportunity in this life, they will consume regardless of it being allowed or not." As-Suddi said about Allah's statement,
فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ
(Then after them succeeded an (evil) generation) until,
وَدَرَسُوا مَا فِيهِ
(and they have studied what is in it (the Book).)
"Every time the Children of Israel appointed a judge, he used to take bribes. The best ones among them held a counsel and took covenants from each that they would not take bribes. However, when one of them would take bribes in return for judgment and was asked, 'What is the matter with you; you take a bribe to grant judgment?', he replied, 'I will be forgiven.' So the rest of his people would admonish him for what he did. But when he died, or was replaced, the one who replaced him would take bribes too. Therefore, Allah says, if the others (who admonished him) would have a chance to loot this world, they will take it.'" Allah said,
أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِم مِّيثَاقُ الْكِتَابِ أَن لَّا يَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ
(Was not the covenant of the Book taken from them that they would not say about Allah anything but the truth?) thus, admonishing them for this behavior. Allah took a pledge from them that they would declare the truth to people and not hide it. Allah said in another Ayah,
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ
((And remember) when Allah took a covenant from those who were given the Scripture to make it known and clear to mankind, and not to hide it, but they threw it away behind their backs, and purchased with it some miserable gain! And indeed worst is that which they bought)[3:187]. Ibn Jurayj said that Ibn 'Abbas said about the Ayah,
أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِم مِّيثَاقُ الْكِتَابِ أَن لَّا يَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ
(Was not the covenant of the Book taken from them that they would not say about Allah anything but the truth?),
"Their claim that Allah will forgive the sins they keep committing without repenting from them." Allah said,
وَالدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(And the home in the Hereafter is better for those who have Taqwa Do not you then understand?)
Encouraging them to seek Allah's tremendous reward and warning them against His severe torment. Allah says here, 'My reward and what I have are better for those who avoid prohibitions, abandon lusts and become active in the obedience of their Lord.'
أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(Do not you then understand?) Allah says' Do not these people, who preferred this life instead of what is with Me, have any sense to prohibit them from their foolish and extravagant ways?' Allah then praises those who adhere to His Book, which directs them to follow His Messenger Muhammad ﷺ,
وَالَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِالْكِتَابِ
(And as to those who hold fast to the Book) adhere to it, implement its commands and refrain from its prohibitions,
وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ
(and perform the Salah, certainly We shall never waste the reward of those who do righteous deeds.)
Tafsir Ibn Kathir
رشوت خوری کا انجام ذلت و رسوائی ہے بنی اسرائیل مختلف فرقے اور گروہ کر کے زمین میں پھیلا دیئے گئے۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل سے کہا تم زمین میں رہو سہو، جب آخرت کا وعدہ آئے گا ہم تمہیں جمع کر کے لائیں گے ان میں کچھ تو نیک لوگ تھے کجھ بد تھے، جنات میں بھی یہی حال ہے جیسے سورة جن میں ان کا قول ہے کہ ہم میں کچھ تو نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے ہیں ہمارے بھی مختلف فرقے ہوتے آئے ہیں پھر فرمان ہے کہ میں نے انہیں سختی نرمی سے، لالچ اور خوف سے، عافیت اور بلا سے غرض ہر طرح پر کھ لیا تاکہ وہ اپنے کرتوت سے ہٹ جائیں جب یہ زمانہ بھی گذرا جس میں نیک بد ہر طرح کے لوگ تھے ان کے بعد تو ایسے ناخلف اور نالائق آئے جن میں کوئی بھلائی اور خیریت تھی ہی نہیں۔ یہ اب تورات کی تلاوت والے رہ گئے ممکن ہے اس سے مراد صرف نصرانی ہوں اور ممکن ہے کہ یہ خبر عام نصرانی غیر نصرانی سب پر مشتمل ہو وہ حق بات کو بدلنے اور مٹانے کی فکر میں لگ گئے جیب بھر دو جو چاہو کہلوا لو۔ پس ہوس یہ ہے کہ ہے کیا ؟ توبہ کرلیں گے معاف ہوجائے گا پھر موقع آیا پھر دنیا لے کر اللہ کی باتیں بدل دیں۔ گناہ کیا توبہ کی پھر موقعہ ملتے ہی لپک کر گناہ کرلیا۔ مقصود ان کا دنیا طلبی ہے حلال سے ملے چاہے حرام سے ملے پھر بھی مغفرت کی تمنا ہے۔ یہ ہیں جو وارث رسول کہلواتے ہیں اور جن سے اللہ نے عہد لیا ہے جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنہوں نے نماز تک ضائع کردی۔ بنی اسرائیل کا آوے کا آوا بگڑ گیا آج ایک کو قاضی بناتے ہیں وہ رشوتیں کھانے اور احکام بدلنے لگتا ہے وہ اسے ہٹا کر دوسرے کو قائم کرتے ہیں اس کا بھی یہی حال ہوتا ہے پوچھتے ہیں بھئی ایسا کیوں کرتے ہو ؟ جواب ملتا ہے اللہ غفور و رحیم ہے پھر وہ ان لوگوں میں سے کسی کو اس عہدے پر لاتے ہیں جو اگلے قاضیوں حاکموں اور ججوں کا شاکی تھا لیکن وہ بھی رشوتیں لینے لگتا ہے اور ناحق فیصلے کرنے لگتا ہے پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو ؟ حالانکہ تم سے مضوبط عہد و پیمان ہم نے لے لیا ہے کہ تم حق کو ظاہر کیا کرو اسے نہ چھپاؤ لیکن ذلیل دنیا کے لالچ میں آ کر عذاب رب مول لے رہے ہو اسی وعدے کا بیان آیت (وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ للنَّاسِ وَلَاتَكْتُمُوْنَهٗ ۡ فَنَبَذُوْهُ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَـــنًا قَلِيْلًا ۭ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُوْنَ01807) 3۔ آل عمران :187) میں ہوا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری سے عہد لیا تھا کہ وہ کتاب اللہ لوگوں کے سامنے بیان کرتے رہیں گے اور اس کی کوئی بات نہ چھپائیں گے۔ یہ بھی اس کے خلاف تھا کہ گناہ کرتے چلے جائیں توبہ نہ کریں اور بخشش کی امید رکھیں پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس کے اجرو ثواب کی لالچ دکھاتا ہے کہ اگر تقویٰ کیا حرام سے بچے خواہش نفسانی کے پیچھے نہ لگے رب کی اطاعت کی تو آخرت کا بھلا تمہیں لے گا جو اس فانی دنیا کے ٹھاٹھ سے بہت ہی بہتر ہے۔ کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں کہ گراں بہا چیز کو چھوڑ کر ردی چیز کے پیچھے پڑے ہو ؟ پھر جناب باری عزوجل ان مومنوں کی تعریف کرتا ہے جو کتاب اللہ پر قائم ہیں اور اس کتاب کی راہنمائی کے مطابق اس پیغمبر آخر الزمان ﷺ کی اتباع کرتے ہیں، کلام رب پر جم کر عمل کرتے ہیں، احکام الٰہی کو دل سے مانتے ہیں اور بجا لاتے ہیں اس کے منع کردہ کاموں سے رک گئے ہیں، نماز کو پابندی، دلچسپی، خشوع اور خضوع سے ادا کرتے ہیں حقیقتاً یہی لوگ اصلاح پر ہیں ناممکن ہے کہ ان نیک اور پاکباز لوگوں کا بدلہ اللہ ضائع کر دے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَذْكُرُ تَعَالَى أَنَّهُ فَرَّقَهُمْ فِي الْأَرْضِ أُمَمًا، أَيْ: طَوَائِفَ وَفَرْقًا، كَمَا قَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] ﴿وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الأرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا﴾ [الْإِسْرَاءِ:١٠٤]
﴿مِنْهُمُ الصَّالِحُونَ وَمِنْهُمْ دُونَ ذَلِكَ﴾ أَيْ: فِيهِمُ الصَّالِحُ وَغَيْرُ ذَلِكَ، كَمَا قَالَتِ الْجِنُّ: ﴿وَأَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَلِكَ كُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا﴾ [الْجِنِّ:١١] ، ﴿وَبَلَوْنَاهُمْ﴾ أَيِ: اخْتَبَرْنَاهُمْ ﴿بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ﴾ أَيْ: بِالرَّخَاءِ وَالشِّدَّةِ، وَالرَّغْبَةِ وَالرَّهْبَةِ، وَالْعَافِيَةِ وَالْبَلَاءِ، ﴿لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا الْكِتَابَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَذَا الأدْنَى وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا وَإِنْ يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِثْلُهُ يَأْخُذُوهُ﴾ يَقُولُ تَعَالَى: فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ الْجِيلِ الَّذِينَ فِيهِمُ الصَّالِحُ وَالطَّالِحُ، خَلْفٌ آخَرُ لَا خَيْرَ فِيهِمْ، وَقَدْ وَرِثُوا دِرَاسَةَ [هَذَا] [[زيادة من م.]] الْكِتَابِ وَهُوَ التَّوْرَاةُ -وَقَالَ مُجَاهِدٌ: هُمُ النَّصَارَى -وَقَدْ يَكُونُ أَعَمُّ مِنْ ذَلِكَ، ﴿يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَذَا الأدْنَى﴾ أَيْ: يَعْتَاضُونَ عَنْ بذل الحق ونشره بعَرَض الحياة الدنيا، ويسرفون أَنْفُسَهُمْ وَيَعِدُونَهَا بِالتَّوْبَةِ، وَكُلَّمَا لَاحَ لَهُمْ مِثْلُ الْأَوَّلِ وَقَعُوا فِيهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَإِنْ يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِثْلُهُ يَأْخُذُوهُ﴾ كَمَا قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: يَعْمَلُونَ الذَّنْبَ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ مِنْهُ، فَإِنْ عَرَضَ ذَلِكَ الذَّنْبُ أَخَذُوهُ.
وَقَوْلُ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَذَا الأدْنَى﴾ قَالَ: لَا يُشْرُفُ لَهُمْ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا أَخَذُوهُ، حَلَالًا كَانَ أَوْ حَرَامًا، وَيَتَمَنَّوْنَ الْمَغْفِرَةَ، وَيَقُولُونَ: ﴿سَيُغْفَرُ لَنَا﴾ وَإِنْ يَجِدُوا عَرَضًا مِثْلَهُ يَأْخُذُوهُ.
وَقَالَ قَتَادَةُ فِي: ﴿فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ﴾ أَيْ: وَاللَّهِ، لَخَلَفُ سُوءٍ، وَرِثُوا الْكِتَابَ بَعْدَ أَنْبِيَائِهِمْ وَرُسُلِهِمْ، وَرَّثَهُمُ اللَّهُ وَعَهِدَ إِلَيْهِمْ، وَقَالَ اللَّهُ فِي آيَةٍ أُخْرَى: ﴿فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ﴾ [مَرْيَمَ:٥٩] ، قَالَ ﴿يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَذَا الأدْنَى وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا﴾ تَمَنَّوْا عَلَى اللَّهِ أَمَانِيَّ، وغرَّة يَغْتَرُّونَ بِهَا، ﴿وَإِنْ يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِثْلُهُ يَأْخُذُوهُ﴾ لَا يَشْغَلُهُمْ شَيْءٌ عَنْ شَيْءٍ، وَلَا يَنْهَاهُمْ شَيْءٌ عَنْ ذَلِكَ، كُلَّمَا هَفَّ لَهُمْ شَيْءٌ مِنْ [أَمْرِ] [[زيادة من أ.]] الدُّنْيَا أَكَلُوهُ، وَلَا يُبَالُونَ حَلَالًا كَانَ أَوْ حَرَامًا.
وَقَالَ السُّدِّي [فِي] [[زيادة من م.]] قَوْلِهِ: ﴿فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿وَدَرَسُوا مَا فِيهِ﴾ قَالَ: كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لَا يَسْتَقْضُونَ قَاضِيًا إِلَّا ارْتَشَى فِي الْحُكْمِ، وَإِنَّ خِيَارَهُمُ اجْتَمَعُوا، فَأَخَذَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ الْعُهُودَ أَلَّا يَفْعَلُوا وَلَا يَرْتَشِي، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ إِذَا اسْتَقْضَى ارْتَشَى، فَيُقَالُ لَهُ: مَا شَأْنُكَ تَرْتَشِي فِي الْحُكْمِ، فَيَقُولُ: "سَيَغْفِرُ لِي"، فَتَطْعَنُ عَلَيْهِ الْبَقِيَّةُ الْآخَرُونَ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِيمَا صَنَعَ، فَإِذَا مَاتَ، أَوْ نَزَعَ، وَجُعِلَ مَكَانَهُ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ يَطْعَنُ عَلَيْهِ، فَيَرْتَشِي. يَقُولُ: وَإِنْ يأت الآخرين عرض الدنيا يأخذوه.
قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِيثَاقُ الْكِتَابِ أَنْ لَا يَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلا الْحَقَّ وَدَرَسُوا مَا فِيهِ﴾ يَقُولُ تَعَالَى مُنْكِرًا عَلَيْهِمْ فِي صَنِيعِهِمْ هَذَا، مَعَ مَا أَخَذَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْمِيثَاقِ لَيُبَيِّنُنَّ الْحَقَّ لِلنَّاسِ، وَلَا يَكْتُمُونَهُ كَقَوْلِهِ: ﴿وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ﴾ [آلِ عِمْرَانَ:١٨٧]
وَقَالَ ابْنُ جُرَيْج: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ﴿أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِيثَاقُ الْكِتَابِ أَنْ لَا يَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلا الْحَقَّ﴾ قَالَ: فِيمَا يُوجِبُونَ عَلَى اللَّهِ مِنْ غُفْرَانِ ذُنُوبِهِمُ الَّتِي لَا يَزَالُونَ يَعُودُونَ فِيهَا، وَلَا يَتُوبُونَ مِنْهَا.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَالدَّارُ الآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلا تَعْقِلُونَ﴾ يُرَغِّبُهُمْ تَعَالَى فِي جَزِيلِ ثَوَابِهِ، وَيُحَذِّرُهُمْ مِنْ وَبِيلِ عِقَابِهِ، أَيْ: وَثَوَابِي وَمَا عِنْدِي خَيْرٌ لِمَنِ اتَّقَى الْمَحَارِمَ، وَتَرَكَ هَوَى نَفْسِهِ، وَأَقْبَلَ عَلَى طَاعَةِ رَبِّهِ.
﴿أَفَلا تَعْقِلُونَ﴾ يَقُولُ: أَفَلَيِسَ لِهَؤُلَاءِ الَّذِينَ اعْتَاضُوا بعَرَض الدُّنْيَا عَمَّا عِنْدِي عَقْلٌ يَرْدَعُهُمْ عَمَّا هُمْ فِيهِ مِنَ السَّفَهِ وَالتَّبْذِيرِ؟ ثُمَّ أَثْنَى تَعَالَى عَلَى مَنْ تَمَسَّكَ بِكِتَابِهِ الَّذِي يَقُودُهُ إِلَى اتِّبَاعِ رَسُولِهِ مُحَمَّدٍ ﷺ، كَمَا هُوَ مَكْتُوبٌ فِيهِ، فَقَالَ تَعَالَى ﴿وَالَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِالْكِتَابِ﴾ أَيْ: اعْتَصَمُوا بِهِ وَاقْتَدَوْا بِأَوَامِرِهِ، وَتَرَكُوا زَوَاجِرَهُ ﴿وَأَقَامُوا الصَّلاةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ﴾
فَخَلَفَ مِنۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌۭ وَرِثُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا ٱلْأَدْنَىٰ وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا وَإِن يَأْتِهِمْ عَرَضٌۭ مِّثْلُهُۥ يَأْخُذُوهُ ۚ أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِم مِّيثَٰقُ ٱلْكِتَٰبِ أَن لَّا يَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْحَقَّ وَدَرَسُوا۟ مَا فِيهِ ۗ وَٱلدَّارُ ٱلْءَاخِرَةُ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
And there followed them successors who inherited the Scripture [while] taking the commodities of this lower life and saying, "It will be forgiven for us." And if an offer like it comes to them, they will [again] take it. Was not the covenant of the Scripture taken from them that they would not say about Allah except the truth, and they studied what was in it? And the home of the Hereafter is better for those who fear Allah, so will you not use reason?
پھر ان کے بعد ناخلف ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے۔ یہ (بےتامل) اس دنیائے دنی کا مال ومتاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دیئے جائیں گے۔ اور (لوگ ایسوں پر طعن کرتے ہیں) اگر ان کے سامنے بھی ویسا ہی مال آجاتا ہے تو وہ بھی اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کی نسبت عہد نہیں لیا گیا کہ خدا پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے۔ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اس کو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے کیا تم سمجھتے نہیں
پس از آنها، فرزندانی جای آنها را گرفتند که وارث کتاب (آسمانی، تورات) شدند؛ (امّا با این حال،) متاع این دنیای پست را گرفته، (بر اطاعت فرمان خدا ترجیح میدهند) و میگویند: «(اگر ما گنهکاریم توبه میکنیم و) بزودی بخشیده خواهیم شد!» اما اگر متاع دیگری همانند آن به دستشان بیفتد، آن را (نیز) میگیرند، (و باز حکم خدا را پشت سر میافکنند.) آیا پیمان کتاب (خدا) از آنها گرفته نشده که بر خدا (دروغ نبندند، و) جز حق نگویند، و آنان بارها آنرا خواندهاند؟! و سرای آخرت برای پرهیزگاران بهتر است، آیا نمیفهمید؟!
Tafsir Ibn Kathir
And We have broken them (the Jews) up into various separate groups on the earth: some of them are righteous and some are away from that. And We tried them with good (blessings) and evil (calamities) in order that they might turn (to Allah)(168)Then after them succeeded an (evil) generation, which inherited the Book, but they chose (for themselves) the goods of this low life saying: "(Everything) will be forgiven to us." And if (again) the offer of the like (evil pleasures of this world) came their way, they would (again) seize them (would commit those sins). Was not the covenant of the Book taken from them that they would not say about Allah anything but the truth? And they have studied what is in it (the Book). And the home in the Hereafter is better for those who have Taqwa. Do not you then understand (169)And as to those who hold fast to the Book (act on its teachings) and perform the Salah, certainly We shall never waste the reward of those who do righteous deeds (170)
The Children of Israel scatter throughout the Land
Allah states that He divided the Jews into various nations, sects and groups,
وَقُلْنَا مِن بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا
(And We said to the Children of Israel after him (after Musa died): "Dwell in the land, then, when the final and the last promise comes near, We shall bring you altogether as a mixed crowd (gathered out of various nations).")[17:104]
مِّنْهُمُ الصَّالِحُونَ وَمِنْهُمْ دُونَ ذَٰلِكَ
(some of them are righteous and some are away from that), some of them are led aright and some are not righteous, just as the Jinns declared,
وَأَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَٰلِكَ كُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا
("There are among us some that are righteous, and some the contrary; we are groups having different ways (religious sects).")[72:11] Allah said here,
وَبَلَوْنَاهُم
(And We tried them), and tested them,
بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ
(with good and evil), with times of ease, difficulty, eagerness, fear, well-being and affliction,
لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(in order that they might turn (to Allah)) Allah said next,
فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا الْكِتَابَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا الْأَدْنَىٰ
(Then after them succeeded an (evil) generation, which inherited the Book, but they chose (for themselves) the goods of this low life)
This Ayah means, after the generation made up of righteous and unrighteous people, another generation came that did not have goodness in them, and they inherited the Tawrah and studied it. Mujahid commented on Allah's statement,
يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا الْأَدْنَىٰ
(They chose (for themselves) the goods of this low life)
"They will consume anything they can consume in this life, whether legally or illegally. Yet, they wish for forgiveness,
وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا وَإِن يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهُ يَأْخُذُوهُ
(Saying: "(Everything) will be forgiven for us." And if (again) the offer of the like came their way, they would (again) seize them.)" Qatadah commented on Allah's statement,
يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا الْأَدْنَىٰ
(they chose (for themselves) the goods of this low life) "This, by Allah, is an evil generation,
وَرِثُوا الْكِتَابَ
(which inherited the Book) after their Prophets and Messengers, for they were entrusted with this job by Allah's command to them. Allah said in another Ayah,
فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ
(Then, there has succeeded them a posterity who neglect the Salah (the prayers).)[19:59] Allah said next,
يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا الْأَدْنَىٰ وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا
(They chose the goods of this low life saying: "(Everything) will be forgiven to us.")
They wish and hope from Allah, while deceiving themselves,
وَإِن يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهُ يَأْخُذُوهُ
(And if (again) the offer of the like came their way, they would (again) seize them.)
Nothing stops them from this behavior, for whenever they are given an opportunity in this life, they will consume regardless of it being allowed or not." As-Suddi said about Allah's statement,
فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ
(Then after them succeeded an (evil) generation) until,
وَدَرَسُوا مَا فِيهِ
(and they have studied what is in it (the Book).)
"Every time the Children of Israel appointed a judge, he used to take bribes. The best ones among them held a counsel and took covenants from each that they would not take bribes. However, when one of them would take bribes in return for judgment and was asked, 'What is the matter with you; you take a bribe to grant judgment?', he replied, 'I will be forgiven.' So the rest of his people would admonish him for what he did. But when he died, or was replaced, the one who replaced him would take bribes too. Therefore, Allah says, if the others (who admonished him) would have a chance to loot this world, they will take it.'" Allah said,
أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِم مِّيثَاقُ الْكِتَابِ أَن لَّا يَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ
(Was not the covenant of the Book taken from them that they would not say about Allah anything but the truth?) thus, admonishing them for this behavior. Allah took a pledge from them that they would declare the truth to people and not hide it. Allah said in another Ayah,
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ
((And remember) when Allah took a covenant from those who were given the Scripture to make it known and clear to mankind, and not to hide it, but they threw it away behind their backs, and purchased with it some miserable gain! And indeed worst is that which they bought)[3:187]. Ibn Jurayj said that Ibn 'Abbas said about the Ayah,
أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِم مِّيثَاقُ الْكِتَابِ أَن لَّا يَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ
(Was not the covenant of the Book taken from them that they would not say about Allah anything but the truth?),
"Their claim that Allah will forgive the sins they keep committing without repenting from them." Allah said,
وَالدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(And the home in the Hereafter is better for those who have Taqwa Do not you then understand?)
Encouraging them to seek Allah's tremendous reward and warning them against His severe torment. Allah says here, 'My reward and what I have are better for those who avoid prohibitions, abandon lusts and become active in the obedience of their Lord.'
أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(Do not you then understand?) Allah says' Do not these people, who preferred this life instead of what is with Me, have any sense to prohibit them from their foolish and extravagant ways?' Allah then praises those who adhere to His Book, which directs them to follow His Messenger Muhammad ﷺ,
وَالَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِالْكِتَابِ
(And as to those who hold fast to the Book) adhere to it, implement its commands and refrain from its prohibitions,
وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ
(and perform the Salah, certainly We shall never waste the reward of those who do righteous deeds.)
Tafsir Ibn Kathir
رشوت خوری کا انجام ذلت و رسوائی ہے بنی اسرائیل مختلف فرقے اور گروہ کر کے زمین میں پھیلا دیئے گئے۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل سے کہا تم زمین میں رہو سہو، جب آخرت کا وعدہ آئے گا ہم تمہیں جمع کر کے لائیں گے ان میں کچھ تو نیک لوگ تھے کجھ بد تھے، جنات میں بھی یہی حال ہے جیسے سورة جن میں ان کا قول ہے کہ ہم میں کچھ تو نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے ہیں ہمارے بھی مختلف فرقے ہوتے آئے ہیں پھر فرمان ہے کہ میں نے انہیں سختی نرمی سے، لالچ اور خوف سے، عافیت اور بلا سے غرض ہر طرح پر کھ لیا تاکہ وہ اپنے کرتوت سے ہٹ جائیں جب یہ زمانہ بھی گذرا جس میں نیک بد ہر طرح کے لوگ تھے ان کے بعد تو ایسے ناخلف اور نالائق آئے جن میں کوئی بھلائی اور خیریت تھی ہی نہیں۔ یہ اب تورات کی تلاوت والے رہ گئے ممکن ہے اس سے مراد صرف نصرانی ہوں اور ممکن ہے کہ یہ خبر عام نصرانی غیر نصرانی سب پر مشتمل ہو وہ حق بات کو بدلنے اور مٹانے کی فکر میں لگ گئے جیب بھر دو جو چاہو کہلوا لو۔ پس ہوس یہ ہے کہ ہے کیا ؟ توبہ کرلیں گے معاف ہوجائے گا پھر موقع آیا پھر دنیا لے کر اللہ کی باتیں بدل دیں۔ گناہ کیا توبہ کی پھر موقعہ ملتے ہی لپک کر گناہ کرلیا۔ مقصود ان کا دنیا طلبی ہے حلال سے ملے چاہے حرام سے ملے پھر بھی مغفرت کی تمنا ہے۔ یہ ہیں جو وارث رسول کہلواتے ہیں اور جن سے اللہ نے عہد لیا ہے جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنہوں نے نماز تک ضائع کردی۔ بنی اسرائیل کا آوے کا آوا بگڑ گیا آج ایک کو قاضی بناتے ہیں وہ رشوتیں کھانے اور احکام بدلنے لگتا ہے وہ اسے ہٹا کر دوسرے کو قائم کرتے ہیں اس کا بھی یہی حال ہوتا ہے پوچھتے ہیں بھئی ایسا کیوں کرتے ہو ؟ جواب ملتا ہے اللہ غفور و رحیم ہے پھر وہ ان لوگوں میں سے کسی کو اس عہدے پر لاتے ہیں جو اگلے قاضیوں حاکموں اور ججوں کا شاکی تھا لیکن وہ بھی رشوتیں لینے لگتا ہے اور ناحق فیصلے کرنے لگتا ہے پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو ؟ حالانکہ تم سے مضوبط عہد و پیمان ہم نے لے لیا ہے کہ تم حق کو ظاہر کیا کرو اسے نہ چھپاؤ لیکن ذلیل دنیا کے لالچ میں آ کر عذاب رب مول لے رہے ہو اسی وعدے کا بیان آیت (وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ للنَّاسِ وَلَاتَكْتُمُوْنَهٗ ۡ فَنَبَذُوْهُ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَـــنًا قَلِيْلًا ۭ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُوْنَ01807) 3۔ آل عمران :187) میں ہوا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری سے عہد لیا تھا کہ وہ کتاب اللہ لوگوں کے سامنے بیان کرتے رہیں گے اور اس کی کوئی بات نہ چھپائیں گے۔ یہ بھی اس کے خلاف تھا کہ گناہ کرتے چلے جائیں توبہ نہ کریں اور بخشش کی امید رکھیں پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس کے اجرو ثواب کی لالچ دکھاتا ہے کہ اگر تقویٰ کیا حرام سے بچے خواہش نفسانی کے پیچھے نہ لگے رب کی اطاعت کی تو آخرت کا بھلا تمہیں لے گا جو اس فانی دنیا کے ٹھاٹھ سے بہت ہی بہتر ہے۔ کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں کہ گراں بہا چیز کو چھوڑ کر ردی چیز کے پیچھے پڑے ہو ؟ پھر جناب باری عزوجل ان مومنوں کی تعریف کرتا ہے جو کتاب اللہ پر قائم ہیں اور اس کتاب کی راہنمائی کے مطابق اس پیغمبر آخر الزمان ﷺ کی اتباع کرتے ہیں، کلام رب پر جم کر عمل کرتے ہیں، احکام الٰہی کو دل سے مانتے ہیں اور بجا لاتے ہیں اس کے منع کردہ کاموں سے رک گئے ہیں، نماز کو پابندی، دلچسپی، خشوع اور خضوع سے ادا کرتے ہیں حقیقتاً یہی لوگ اصلاح پر ہیں ناممکن ہے کہ ان نیک اور پاکباز لوگوں کا بدلہ اللہ ضائع کر دے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَذْكُرُ تَعَالَى أَنَّهُ فَرَّقَهُمْ فِي الْأَرْضِ أُمَمًا، أَيْ: طَوَائِفَ وَفَرْقًا، كَمَا قَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] ﴿وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الأرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا﴾ [الْإِسْرَاءِ:١٠٤]
﴿مِنْهُمُ الصَّالِحُونَ وَمِنْهُمْ دُونَ ذَلِكَ﴾ أَيْ: فِيهِمُ الصَّالِحُ وَغَيْرُ ذَلِكَ، كَمَا قَالَتِ الْجِنُّ: ﴿وَأَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَلِكَ كُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا﴾ [الْجِنِّ:١١] ، ﴿وَبَلَوْنَاهُمْ﴾ أَيِ: اخْتَبَرْنَاهُمْ ﴿بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ﴾ أَيْ: بِالرَّخَاءِ وَالشِّدَّةِ، وَالرَّغْبَةِ وَالرَّهْبَةِ، وَالْعَافِيَةِ وَالْبَلَاءِ، ﴿لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا الْكِتَابَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَذَا الأدْنَى وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا وَإِنْ يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِثْلُهُ يَأْخُذُوهُ﴾ يَقُولُ تَعَالَى: فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ الْجِيلِ الَّذِينَ فِيهِمُ الصَّالِحُ وَالطَّالِحُ، خَلْفٌ آخَرُ لَا خَيْرَ فِيهِمْ، وَقَدْ وَرِثُوا دِرَاسَةَ [هَذَا] [[زيادة من م.]] الْكِتَابِ وَهُوَ التَّوْرَاةُ -وَقَالَ مُجَاهِدٌ: هُمُ النَّصَارَى -وَقَدْ يَكُونُ أَعَمُّ مِنْ ذَلِكَ، ﴿يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَذَا الأدْنَى﴾ أَيْ: يَعْتَاضُونَ عَنْ بذل الحق ونشره بعَرَض الحياة الدنيا، ويسرفون أَنْفُسَهُمْ وَيَعِدُونَهَا بِالتَّوْبَةِ، وَكُلَّمَا لَاحَ لَهُمْ مِثْلُ الْأَوَّلِ وَقَعُوا فِيهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَإِنْ يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِثْلُهُ يَأْخُذُوهُ﴾ كَمَا قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: يَعْمَلُونَ الذَّنْبَ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ مِنْهُ، فَإِنْ عَرَضَ ذَلِكَ الذَّنْبُ أَخَذُوهُ.
وَقَوْلُ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَذَا الأدْنَى﴾ قَالَ: لَا يُشْرُفُ لَهُمْ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا أَخَذُوهُ، حَلَالًا كَانَ أَوْ حَرَامًا، وَيَتَمَنَّوْنَ الْمَغْفِرَةَ، وَيَقُولُونَ: ﴿سَيُغْفَرُ لَنَا﴾ وَإِنْ يَجِدُوا عَرَضًا مِثْلَهُ يَأْخُذُوهُ.
وَقَالَ قَتَادَةُ فِي: ﴿فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ﴾ أَيْ: وَاللَّهِ، لَخَلَفُ سُوءٍ، وَرِثُوا الْكِتَابَ بَعْدَ أَنْبِيَائِهِمْ وَرُسُلِهِمْ، وَرَّثَهُمُ اللَّهُ وَعَهِدَ إِلَيْهِمْ، وَقَالَ اللَّهُ فِي آيَةٍ أُخْرَى: ﴿فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ﴾ [مَرْيَمَ:٥٩] ، قَالَ ﴿يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَذَا الأدْنَى وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا﴾ تَمَنَّوْا عَلَى اللَّهِ أَمَانِيَّ، وغرَّة يَغْتَرُّونَ بِهَا، ﴿وَإِنْ يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِثْلُهُ يَأْخُذُوهُ﴾ لَا يَشْغَلُهُمْ شَيْءٌ عَنْ شَيْءٍ، وَلَا يَنْهَاهُمْ شَيْءٌ عَنْ ذَلِكَ، كُلَّمَا هَفَّ لَهُمْ شَيْءٌ مِنْ [أَمْرِ] [[زيادة من أ.]] الدُّنْيَا أَكَلُوهُ، وَلَا يُبَالُونَ حَلَالًا كَانَ أَوْ حَرَامًا.
وَقَالَ السُّدِّي [فِي] [[زيادة من م.]] قَوْلِهِ: ﴿فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿وَدَرَسُوا مَا فِيهِ﴾ قَالَ: كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لَا يَسْتَقْضُونَ قَاضِيًا إِلَّا ارْتَشَى فِي الْحُكْمِ، وَإِنَّ خِيَارَهُمُ اجْتَمَعُوا، فَأَخَذَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ الْعُهُودَ أَلَّا يَفْعَلُوا وَلَا يَرْتَشِي، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ إِذَا اسْتَقْضَى ارْتَشَى، فَيُقَالُ لَهُ: مَا شَأْنُكَ تَرْتَشِي فِي الْحُكْمِ، فَيَقُولُ: "سَيَغْفِرُ لِي"، فَتَطْعَنُ عَلَيْهِ الْبَقِيَّةُ الْآخَرُونَ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِيمَا صَنَعَ، فَإِذَا مَاتَ، أَوْ نَزَعَ، وَجُعِلَ مَكَانَهُ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ يَطْعَنُ عَلَيْهِ، فَيَرْتَشِي. يَقُولُ: وَإِنْ يأت الآخرين عرض الدنيا يأخذوه.
قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِيثَاقُ الْكِتَابِ أَنْ لَا يَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلا الْحَقَّ وَدَرَسُوا مَا فِيهِ﴾ يَقُولُ تَعَالَى مُنْكِرًا عَلَيْهِمْ فِي صَنِيعِهِمْ هَذَا، مَعَ مَا أَخَذَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْمِيثَاقِ لَيُبَيِّنُنَّ الْحَقَّ لِلنَّاسِ، وَلَا يَكْتُمُونَهُ كَقَوْلِهِ: ﴿وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ﴾ [آلِ عِمْرَانَ:١٨٧]
وَقَالَ ابْنُ جُرَيْج: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ﴿أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِيثَاقُ الْكِتَابِ أَنْ لَا يَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلا الْحَقَّ﴾ قَالَ: فِيمَا يُوجِبُونَ عَلَى اللَّهِ مِنْ غُفْرَانِ ذُنُوبِهِمُ الَّتِي لَا يَزَالُونَ يَعُودُونَ فِيهَا، وَلَا يَتُوبُونَ مِنْهَا.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَالدَّارُ الآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلا تَعْقِلُونَ﴾ يُرَغِّبُهُمْ تَعَالَى فِي جَزِيلِ ثَوَابِهِ، وَيُحَذِّرُهُمْ مِنْ وَبِيلِ عِقَابِهِ، أَيْ: وَثَوَابِي وَمَا عِنْدِي خَيْرٌ لِمَنِ اتَّقَى الْمَحَارِمَ، وَتَرَكَ هَوَى نَفْسِهِ، وَأَقْبَلَ عَلَى طَاعَةِ رَبِّهِ.
﴿أَفَلا تَعْقِلُونَ﴾ يَقُولُ: أَفَلَيِسَ لِهَؤُلَاءِ الَّذِينَ اعْتَاضُوا بعَرَض الدُّنْيَا عَمَّا عِنْدِي عَقْلٌ يَرْدَعُهُمْ عَمَّا هُمْ فِيهِ مِنَ السَّفَهِ وَالتَّبْذِيرِ؟ ثُمَّ أَثْنَى تَعَالَى عَلَى مَنْ تَمَسَّكَ بِكِتَابِهِ الَّذِي يَقُودُهُ إِلَى اتِّبَاعِ رَسُولِهِ مُحَمَّدٍ ﷺ، كَمَا هُوَ مَكْتُوبٌ فِيهِ، فَقَالَ تَعَالَى ﴿وَالَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِالْكِتَابِ﴾ أَيْ: اعْتَصَمُوا بِهِ وَاقْتَدَوْا بِأَوَامِرِهِ، وَتَرَكُوا زَوَاجِرَهُ ﴿وَأَقَامُوا الصَّلاةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ﴾
وَٱلَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِٱلْكِتَٰبِ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُصْلِحِينَ
But those who hold fast to the Book and establish prayer - indeed, We will not allow to be lost the reward of the reformers.
اور جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں اور نماز کا التزام رکھتے ہیں (ان کو ہم اجر دیں گے کہ) ہم نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے
و آنها که به کتاب (خدا) تمسّک جویند، و نماز را برپا دارند، (پاداش بزرگی خواهند داشت؛ زیرا) ما پاداش مصلحان را ضایع نخواهیم کرد!
Tafsir Ibn Kathir
And We have broken them (the Jews) up into various separate groups on the earth: some of them are righteous and some are away from that. And We tried them with good (blessings) and evil (calamities) in order that they might turn (to Allah)(168)Then after them succeeded an (evil) generation, which inherited the Book, but they chose (for themselves) the goods of this low life saying: "(Everything) will be forgiven to us." And if (again) the offer of the like (evil pleasures of this world) came their way, they would (again) seize them (would commit those sins). Was not the covenant of the Book taken from them that they would not say about Allah anything but the truth? And they have studied what is in it (the Book). And the home in the Hereafter is better for those who have Taqwa. Do not you then understand (169)And as to those who hold fast to the Book (act on its teachings) and perform the Salah, certainly We shall never waste the reward of those who do righteous deeds (170)
The Children of Israel scatter throughout the Land
Allah states that He divided the Jews into various nations, sects and groups,
وَقُلْنَا مِن بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا
(And We said to the Children of Israel after him (after Musa died): "Dwell in the land, then, when the final and the last promise comes near, We shall bring you altogether as a mixed crowd (gathered out of various nations).")[17:104]
مِّنْهُمُ الصَّالِحُونَ وَمِنْهُمْ دُونَ ذَٰلِكَ
(some of them are righteous and some are away from that), some of them are led aright and some are not righteous, just as the Jinns declared,
وَأَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَٰلِكَ كُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا
("There are among us some that are righteous, and some the contrary; we are groups having different ways (religious sects).")[72:11] Allah said here,
وَبَلَوْنَاهُم
(And We tried them), and tested them,
بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ
(with good and evil), with times of ease, difficulty, eagerness, fear, well-being and affliction,
لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(in order that they might turn (to Allah)) Allah said next,
فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا الْكِتَابَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا الْأَدْنَىٰ
(Then after them succeeded an (evil) generation, which inherited the Book, but they chose (for themselves) the goods of this low life)
This Ayah means, after the generation made up of righteous and unrighteous people, another generation came that did not have goodness in them, and they inherited the Tawrah and studied it. Mujahid commented on Allah's statement,
يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا الْأَدْنَىٰ
(They chose (for themselves) the goods of this low life)
"They will consume anything they can consume in this life, whether legally or illegally. Yet, they wish for forgiveness,
وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا وَإِن يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهُ يَأْخُذُوهُ
(Saying: "(Everything) will be forgiven for us." And if (again) the offer of the like came their way, they would (again) seize them.)" Qatadah commented on Allah's statement,
يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا الْأَدْنَىٰ
(they chose (for themselves) the goods of this low life) "This, by Allah, is an evil generation,
وَرِثُوا الْكِتَابَ
(which inherited the Book) after their Prophets and Messengers, for they were entrusted with this job by Allah's command to them. Allah said in another Ayah,
فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ
(Then, there has succeeded them a posterity who neglect the Salah (the prayers).)[19:59] Allah said next,
يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا الْأَدْنَىٰ وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا
(They chose the goods of this low life saying: "(Everything) will be forgiven to us.")
They wish and hope from Allah, while deceiving themselves,
وَإِن يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهُ يَأْخُذُوهُ
(And if (again) the offer of the like came their way, they would (again) seize them.)
Nothing stops them from this behavior, for whenever they are given an opportunity in this life, they will consume regardless of it being allowed or not." As-Suddi said about Allah's statement,
فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ
(Then after them succeeded an (evil) generation) until,
وَدَرَسُوا مَا فِيهِ
(and they have studied what is in it (the Book).)
"Every time the Children of Israel appointed a judge, he used to take bribes. The best ones among them held a counsel and took covenants from each that they would not take bribes. However, when one of them would take bribes in return for judgment and was asked, 'What is the matter with you; you take a bribe to grant judgment?', he replied, 'I will be forgiven.' So the rest of his people would admonish him for what he did. But when he died, or was replaced, the one who replaced him would take bribes too. Therefore, Allah says, if the others (who admonished him) would have a chance to loot this world, they will take it.'" Allah said,
أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِم مِّيثَاقُ الْكِتَابِ أَن لَّا يَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ
(Was not the covenant of the Book taken from them that they would not say about Allah anything but the truth?) thus, admonishing them for this behavior. Allah took a pledge from them that they would declare the truth to people and not hide it. Allah said in another Ayah,
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ
((And remember) when Allah took a covenant from those who were given the Scripture to make it known and clear to mankind, and not to hide it, but they threw it away behind their backs, and purchased with it some miserable gain! And indeed worst is that which they bought)[3:187]. Ibn Jurayj said that Ibn 'Abbas said about the Ayah,
أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِم مِّيثَاقُ الْكِتَابِ أَن لَّا يَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ
(Was not the covenant of the Book taken from them that they would not say about Allah anything but the truth?),
"Their claim that Allah will forgive the sins they keep committing without repenting from them." Allah said,
وَالدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(And the home in the Hereafter is better for those who have Taqwa Do not you then understand?)
Encouraging them to seek Allah's tremendous reward and warning them against His severe torment. Allah says here, 'My reward and what I have are better for those who avoid prohibitions, abandon lusts and become active in the obedience of their Lord.'
أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(Do not you then understand?) Allah says' Do not these people, who preferred this life instead of what is with Me, have any sense to prohibit them from their foolish and extravagant ways?' Allah then praises those who adhere to His Book, which directs them to follow His Messenger Muhammad ﷺ,
وَالَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِالْكِتَابِ
(And as to those who hold fast to the Book) adhere to it, implement its commands and refrain from its prohibitions,
وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ
(and perform the Salah, certainly We shall never waste the reward of those who do righteous deeds.)
Tafsir Ibn Kathir
رشوت خوری کا انجام ذلت و رسوائی ہے بنی اسرائیل مختلف فرقے اور گروہ کر کے زمین میں پھیلا دیئے گئے۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل سے کہا تم زمین میں رہو سہو، جب آخرت کا وعدہ آئے گا ہم تمہیں جمع کر کے لائیں گے ان میں کچھ تو نیک لوگ تھے کجھ بد تھے، جنات میں بھی یہی حال ہے جیسے سورة جن میں ان کا قول ہے کہ ہم میں کچھ تو نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے ہیں ہمارے بھی مختلف فرقے ہوتے آئے ہیں پھر فرمان ہے کہ میں نے انہیں سختی نرمی سے، لالچ اور خوف سے، عافیت اور بلا سے غرض ہر طرح پر کھ لیا تاکہ وہ اپنے کرتوت سے ہٹ جائیں جب یہ زمانہ بھی گذرا جس میں نیک بد ہر طرح کے لوگ تھے ان کے بعد تو ایسے ناخلف اور نالائق آئے جن میں کوئی بھلائی اور خیریت تھی ہی نہیں۔ یہ اب تورات کی تلاوت والے رہ گئے ممکن ہے اس سے مراد صرف نصرانی ہوں اور ممکن ہے کہ یہ خبر عام نصرانی غیر نصرانی سب پر مشتمل ہو وہ حق بات کو بدلنے اور مٹانے کی فکر میں لگ گئے جیب بھر دو جو چاہو کہلوا لو۔ پس ہوس یہ ہے کہ ہے کیا ؟ توبہ کرلیں گے معاف ہوجائے گا پھر موقع آیا پھر دنیا لے کر اللہ کی باتیں بدل دیں۔ گناہ کیا توبہ کی پھر موقعہ ملتے ہی لپک کر گناہ کرلیا۔ مقصود ان کا دنیا طلبی ہے حلال سے ملے چاہے حرام سے ملے پھر بھی مغفرت کی تمنا ہے۔ یہ ہیں جو وارث رسول کہلواتے ہیں اور جن سے اللہ نے عہد لیا ہے جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنہوں نے نماز تک ضائع کردی۔ بنی اسرائیل کا آوے کا آوا بگڑ گیا آج ایک کو قاضی بناتے ہیں وہ رشوتیں کھانے اور احکام بدلنے لگتا ہے وہ اسے ہٹا کر دوسرے کو قائم کرتے ہیں اس کا بھی یہی حال ہوتا ہے پوچھتے ہیں بھئی ایسا کیوں کرتے ہو ؟ جواب ملتا ہے اللہ غفور و رحیم ہے پھر وہ ان لوگوں میں سے کسی کو اس عہدے پر لاتے ہیں جو اگلے قاضیوں حاکموں اور ججوں کا شاکی تھا لیکن وہ بھی رشوتیں لینے لگتا ہے اور ناحق فیصلے کرنے لگتا ہے پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو ؟ حالانکہ تم سے مضوبط عہد و پیمان ہم نے لے لیا ہے کہ تم حق کو ظاہر کیا کرو اسے نہ چھپاؤ لیکن ذلیل دنیا کے لالچ میں آ کر عذاب رب مول لے رہے ہو اسی وعدے کا بیان آیت (وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ للنَّاسِ وَلَاتَكْتُمُوْنَهٗ ۡ فَنَبَذُوْهُ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَـــنًا قَلِيْلًا ۭ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُوْنَ01807) 3۔ آل عمران :187) میں ہوا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری سے عہد لیا تھا کہ وہ کتاب اللہ لوگوں کے سامنے بیان کرتے رہیں گے اور اس کی کوئی بات نہ چھپائیں گے۔ یہ بھی اس کے خلاف تھا کہ گناہ کرتے چلے جائیں توبہ نہ کریں اور بخشش کی امید رکھیں پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس کے اجرو ثواب کی لالچ دکھاتا ہے کہ اگر تقویٰ کیا حرام سے بچے خواہش نفسانی کے پیچھے نہ لگے رب کی اطاعت کی تو آخرت کا بھلا تمہیں لے گا جو اس فانی دنیا کے ٹھاٹھ سے بہت ہی بہتر ہے۔ کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں کہ گراں بہا چیز کو چھوڑ کر ردی چیز کے پیچھے پڑے ہو ؟ پھر جناب باری عزوجل ان مومنوں کی تعریف کرتا ہے جو کتاب اللہ پر قائم ہیں اور اس کتاب کی راہنمائی کے مطابق اس پیغمبر آخر الزمان ﷺ کی اتباع کرتے ہیں، کلام رب پر جم کر عمل کرتے ہیں، احکام الٰہی کو دل سے مانتے ہیں اور بجا لاتے ہیں اس کے منع کردہ کاموں سے رک گئے ہیں، نماز کو پابندی، دلچسپی، خشوع اور خضوع سے ادا کرتے ہیں حقیقتاً یہی لوگ اصلاح پر ہیں ناممکن ہے کہ ان نیک اور پاکباز لوگوں کا بدلہ اللہ ضائع کر دے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَذْكُرُ تَعَالَى أَنَّهُ فَرَّقَهُمْ فِي الْأَرْضِ أُمَمًا، أَيْ: طَوَائِفَ وَفَرْقًا، كَمَا قَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] ﴿وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الأرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا﴾ [الْإِسْرَاءِ:١٠٤]
﴿مِنْهُمُ الصَّالِحُونَ وَمِنْهُمْ دُونَ ذَلِكَ﴾ أَيْ: فِيهِمُ الصَّالِحُ وَغَيْرُ ذَلِكَ، كَمَا قَالَتِ الْجِنُّ: ﴿وَأَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَلِكَ كُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا﴾ [الْجِنِّ:١١] ، ﴿وَبَلَوْنَاهُمْ﴾ أَيِ: اخْتَبَرْنَاهُمْ ﴿بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ﴾ أَيْ: بِالرَّخَاءِ وَالشِّدَّةِ، وَالرَّغْبَةِ وَالرَّهْبَةِ، وَالْعَافِيَةِ وَالْبَلَاءِ، ﴿لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا الْكِتَابَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَذَا الأدْنَى وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا وَإِنْ يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِثْلُهُ يَأْخُذُوهُ﴾ يَقُولُ تَعَالَى: فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ الْجِيلِ الَّذِينَ فِيهِمُ الصَّالِحُ وَالطَّالِحُ، خَلْفٌ آخَرُ لَا خَيْرَ فِيهِمْ، وَقَدْ وَرِثُوا دِرَاسَةَ [هَذَا] [[زيادة من م.]] الْكِتَابِ وَهُوَ التَّوْرَاةُ -وَقَالَ مُجَاهِدٌ: هُمُ النَّصَارَى -وَقَدْ يَكُونُ أَعَمُّ مِنْ ذَلِكَ، ﴿يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَذَا الأدْنَى﴾ أَيْ: يَعْتَاضُونَ عَنْ بذل الحق ونشره بعَرَض الحياة الدنيا، ويسرفون أَنْفُسَهُمْ وَيَعِدُونَهَا بِالتَّوْبَةِ، وَكُلَّمَا لَاحَ لَهُمْ مِثْلُ الْأَوَّلِ وَقَعُوا فِيهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَإِنْ يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِثْلُهُ يَأْخُذُوهُ﴾ كَمَا قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: يَعْمَلُونَ الذَّنْبَ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ مِنْهُ، فَإِنْ عَرَضَ ذَلِكَ الذَّنْبُ أَخَذُوهُ.
وَقَوْلُ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَذَا الأدْنَى﴾ قَالَ: لَا يُشْرُفُ لَهُمْ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا أَخَذُوهُ، حَلَالًا كَانَ أَوْ حَرَامًا، وَيَتَمَنَّوْنَ الْمَغْفِرَةَ، وَيَقُولُونَ: ﴿سَيُغْفَرُ لَنَا﴾ وَإِنْ يَجِدُوا عَرَضًا مِثْلَهُ يَأْخُذُوهُ.
وَقَالَ قَتَادَةُ فِي: ﴿فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ﴾ أَيْ: وَاللَّهِ، لَخَلَفُ سُوءٍ، وَرِثُوا الْكِتَابَ بَعْدَ أَنْبِيَائِهِمْ وَرُسُلِهِمْ، وَرَّثَهُمُ اللَّهُ وَعَهِدَ إِلَيْهِمْ، وَقَالَ اللَّهُ فِي آيَةٍ أُخْرَى: ﴿فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ﴾ [مَرْيَمَ:٥٩] ، قَالَ ﴿يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَذَا الأدْنَى وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا﴾ تَمَنَّوْا عَلَى اللَّهِ أَمَانِيَّ، وغرَّة يَغْتَرُّونَ بِهَا، ﴿وَإِنْ يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِثْلُهُ يَأْخُذُوهُ﴾ لَا يَشْغَلُهُمْ شَيْءٌ عَنْ شَيْءٍ، وَلَا يَنْهَاهُمْ شَيْءٌ عَنْ ذَلِكَ، كُلَّمَا هَفَّ لَهُمْ شَيْءٌ مِنْ [أَمْرِ] [[زيادة من أ.]] الدُّنْيَا أَكَلُوهُ، وَلَا يُبَالُونَ حَلَالًا كَانَ أَوْ حَرَامًا.
وَقَالَ السُّدِّي [فِي] [[زيادة من م.]] قَوْلِهِ: ﴿فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿وَدَرَسُوا مَا فِيهِ﴾ قَالَ: كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لَا يَسْتَقْضُونَ قَاضِيًا إِلَّا ارْتَشَى فِي الْحُكْمِ، وَإِنَّ خِيَارَهُمُ اجْتَمَعُوا، فَأَخَذَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ الْعُهُودَ أَلَّا يَفْعَلُوا وَلَا يَرْتَشِي، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ إِذَا اسْتَقْضَى ارْتَشَى، فَيُقَالُ لَهُ: مَا شَأْنُكَ تَرْتَشِي فِي الْحُكْمِ، فَيَقُولُ: "سَيَغْفِرُ لِي"، فَتَطْعَنُ عَلَيْهِ الْبَقِيَّةُ الْآخَرُونَ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِيمَا صَنَعَ، فَإِذَا مَاتَ، أَوْ نَزَعَ، وَجُعِلَ مَكَانَهُ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ يَطْعَنُ عَلَيْهِ، فَيَرْتَشِي. يَقُولُ: وَإِنْ يأت الآخرين عرض الدنيا يأخذوه.
قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِيثَاقُ الْكِتَابِ أَنْ لَا يَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلا الْحَقَّ وَدَرَسُوا مَا فِيهِ﴾ يَقُولُ تَعَالَى مُنْكِرًا عَلَيْهِمْ فِي صَنِيعِهِمْ هَذَا، مَعَ مَا أَخَذَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْمِيثَاقِ لَيُبَيِّنُنَّ الْحَقَّ لِلنَّاسِ، وَلَا يَكْتُمُونَهُ كَقَوْلِهِ: ﴿وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ﴾ [آلِ عِمْرَانَ:١٨٧]
وَقَالَ ابْنُ جُرَيْج: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ﴿أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِيثَاقُ الْكِتَابِ أَنْ لَا يَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلا الْحَقَّ﴾ قَالَ: فِيمَا يُوجِبُونَ عَلَى اللَّهِ مِنْ غُفْرَانِ ذُنُوبِهِمُ الَّتِي لَا يَزَالُونَ يَعُودُونَ فِيهَا، وَلَا يَتُوبُونَ مِنْهَا.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَالدَّارُ الآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلا تَعْقِلُونَ﴾ يُرَغِّبُهُمْ تَعَالَى فِي جَزِيلِ ثَوَابِهِ، وَيُحَذِّرُهُمْ مِنْ وَبِيلِ عِقَابِهِ، أَيْ: وَثَوَابِي وَمَا عِنْدِي خَيْرٌ لِمَنِ اتَّقَى الْمَحَارِمَ، وَتَرَكَ هَوَى نَفْسِهِ، وَأَقْبَلَ عَلَى طَاعَةِ رَبِّهِ.
﴿أَفَلا تَعْقِلُونَ﴾ يَقُولُ: أَفَلَيِسَ لِهَؤُلَاءِ الَّذِينَ اعْتَاضُوا بعَرَض الدُّنْيَا عَمَّا عِنْدِي عَقْلٌ يَرْدَعُهُمْ عَمَّا هُمْ فِيهِ مِنَ السَّفَهِ وَالتَّبْذِيرِ؟ ثُمَّ أَثْنَى تَعَالَى عَلَى مَنْ تَمَسَّكَ بِكِتَابِهِ الَّذِي يَقُودُهُ إِلَى اتِّبَاعِ رَسُولِهِ مُحَمَّدٍ ﷺ، كَمَا هُوَ مَكْتُوبٌ فِيهِ، فَقَالَ تَعَالَى ﴿وَالَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِالْكِتَابِ﴾ أَيْ: اعْتَصَمُوا بِهِ وَاقْتَدَوْا بِأَوَامِرِهِ، وَتَرَكُوا زَوَاجِرَهُ ﴿وَأَقَامُوا الصَّلاةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ﴾
۞ وَإِذْ نَتَقْنَا ٱلْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُۥ ظُلَّةٌۭ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُۥ وَاقِعٌۢ بِهِمْ خُذُوا۟ مَآ ءَاتَيْنَٰكُم بِقُوَّةٍۢ وَٱذْكُرُوا۟ مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
And [mention] when We raised the mountain above them as if it was a dark cloud and they were certain that it would fall upon them, [and Allah said], "Take what We have given you with determination and remember what is in it that you might fear Allah."
اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرتا ہے تو (ہم نے کہا کہ) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو۔ اور جو اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ
و (نیز به خاطر بیاور) هنگامی که کوه را همچون سایبانی بر فراز آنها بلند کردیم، آنچنان که گمان کردند بر آنان فرود میآمد؛ (و در همین حال، از آنها پیمان گرفتیم و گفتیم:) آنچه را (از احکام و دستورها) به شما دادهایم، با قوّت (و جدیت) بگیرید! و آنچه در آن است، به یاد داشته باشید، (و عمل کنید،) تا پرهیزگار شوید!
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) when We Nataqna the mountain over them as if it had been a canopy, and they thought that it was going to fall on them. (We said): "Hold firmly to what We have given you [the Tawrah], and remember that which is therein (act on its commandments), so that you may fear Allah and obey Him. (171)
Raising Mount Tur over the Jews, because of Their Rebellion
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas commented on the Ayah,
وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ
(And (remember) when We Nataqna the mountain over them), "We raised the mountain, as Allah's other statement testifies,
وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ
(And for their covenant, We raised over them the mountain)[4:154]."
Also, Sufyan Ath-Thawri narrated that Al-A'mash said that, Sa'id bin Jubayr said that Ibn 'Abbas said, "The angels raised the Mount over their heads, as reiterated by Allah's statement,
وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ
(We raised over them the mountain)[4:154]."
Al-Qasim bin Abi Ayyub narrated that Sa'id bin Jubayr said that Ibn 'Abbas said, "Musa later on proceeded with them to the Sacred Land. He took along the Tablets, after his anger subsided, and commanded them to adhere to the orders that Allah ordained to be delivered to them. But these orders became heavy on them and they did not want to implement them until Allah raised the mountain over them,
كَأَنَّهُ ظُلَّةٌ
(as if it had been a canopy), that is, when the angels raised the mountain over their heads." An-Nasa'i collected it.
Tafsir Ibn Kathir
اسی طرح کی آیت (وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ ۭ خُذُوْا مَآ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّاذْكُرُوْا مَا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ 63) 2۔ البقرة :63) ہے یعنی ہم نے ان کے سروں پر طور پہاڑ لا کھڑا کیا۔ اسے فرشتے اٹھا لائے تھے۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ جب موسیٰ ؑ انہیں ارض مقدس کی طرف لے چلے اور غصہ اتر جانے کے بعد تختیاں اٹھا لیں اور ان میں جو حکم احکام تھے، وہ انہیں سنائے تو انہیں وہ سخت معلوم ہوئے اور تسلیم و تعمیل سے صاف انکار کردیا تو بحکم الہی فرشتوں نے پہاڑ اٹھا کر ان کے سروں پر لا کھڑا کردیا (نسائی میں) مروی ہے کہ جب کلیم اللہ علیہ صلوات نے فرمایا کہ لوگو اللہ کی کتاب کے احکام قبول کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں سناؤ اس میں کیا احکام ہیں ؟ اگر آسان ہوئے تو ہم منظور کرلیں گے ورنہ نہ مانیں گے حضرت موسیٰ ؑ کے بار بار کے اصرار پر بھی یہ لوگ یہی کہتے رہے آخر اسی وقت اللہ کے حکم سے پہاڑ اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کے سروں پر معلق کھڑا ہوگیا اور اللہ کے پیغمبر نے فرمایا بو لو اب مانتے ہو یا اللہ تعالیٰ تم پر پہاڑ گرا کر تمہیں فنا کر دے ؟ اسی وقت یہ سب کے سب مارے ڈر کے سجدے میں گرپڑے لیکن بائیں آنکھ سجدے میں تھی اور دائیں سے اوپر دیکھ رہے تھے کہ کہیں پہاڑ گر نہ پڑے۔ چناچہ یہودیوں میں اب تک سجدے کا طریقہ یہی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اسی طرح کے سجدے نے ہم پر سے عذاب الٰہی دور کردیا ہے۔ پھر جب حضرت موسیٰ ؑ نے ان تختیوں کو کھولا تو ان میں کتاب تھی جسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا اسی وقت تمام پہاڑ درخت پتھر سب کانپ اٹھے۔ آج بھی یہودی تلاوت تورات کے وقت کانپ اٹھتے ہیں اور ان کے سر جھک جاتے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عباس قوله: ﴿وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ﴾ يَقُولُ: رَفَعْنَاهُ، وَهُوَ قَوْلُهُ: ﴿وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ﴾ [النِّسَاءِ:١٥٤]
وَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَتْهُ الْمَلَائِكَةُ فَوْقَ رُءُوسِهِمْ.
وَقَالَ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قال: ثُمَّ سَارَ بِهِمْ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مُتَوَجِّهًا نَحْوَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ، وَأَخَذَ الْأَلْوَاحَ بَعْدَ مَا سَكَتَ عَنْهُ الْغَضَبُ، فَأَمَرَهُمْ بِالَّذِي أَمْرَهُ [[في م: "أمر".]] اللَّهُ تَعَالَى [بِهِ] [[زيادة من أ.]] -أَنْ يُبَلِّغَهُمْ مِنَ الْوَظَائِفِ، فَثَقُلَتْ عَلَيْهِمْ، وَأَبَوْا أَنْ يَقْرَبُوهَا حَتَّى يَنْتِقَ [[في د، ك، م: "نتق".]] اللَّهُ الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُ ظُلَّةٌ، قَالَ: رَفَعَتْهُ الْمَلَائِكَةُ فَوْقَ رُءُوسِهِمْ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِطُولِهِ [[سنن النسائي الكبرى برقم (١١٣٢٦) وهو حديث الفتون وسيأتي إن شاء الله في سورة طه.]]
وَقَالَ سُنَيْدُ بْنُ دَاوُدَ فِي تَفْسِيرِهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: هَذَا كِتَابٌ، أَتَقْبَلُونَهُ بِمَا فِيهِ، فَإِنَّ فِيهِ بَيَانَ مَا أُحِلَّ لَكُمْ وَمَا حُرِّمَ عَلَيْكُمْ، وَمَا أَمَرَكُمْ وَمَا نَهَاكُمْ؟ قَالُوا: انْشُرْ عَلَيْنَا مَا فِيهَا، فَإِنْ كَانَتْ فَرَائِضُهَا يَسِيرَةً، وَحُدُودُهَا خَفِيفَةً قَبِلْنَاهَا. قَالَ: اقْبَلُوهَا بِمَا فِيهَا. قَالُوا: لَا حَتَّى نَعْلَمَ مَا فِيهَا، كَيْفَ حُدُودُهَا وَفَرَائِضُهَا؟ فَرَاجَعُوا مُوسَى مِرَارًا، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى الْجَبَلِ فَانْقَلَعَ فَارْتَفَعَ فِي السَّمَاءِ، حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ رُءُوسِهِمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ قَالَ لَهُمْ مُوسَى: أَلَا تَرَوْنَ مَا يَقُولُ رَبِّي، عَزَّ وَجَلَّ؟ لَئِنْ لَمْ تَقْبَلُوا التَّوْرَاةَ بِمَا فِيهَا، لَأَرْمِيَنَّكُمْ بِهَذَا الْجَبَلِ. قَالَ: فَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ قَالَ: لَمَّا نَظَرُوا إِلَى الْجَبَلِ خَرَّ كُلُّ رجلٍ سَاجِدًا عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْسَرِ، وَنَظَرَ بِعَيْنِهِ الْيُمْنَى إِلَى الْجَبَلِ، فَرِقًا مِنْ أَنْ يَسْقُطَ [عَلَيْهِ] [[زيادة من ك، أ.]] فَكَذَلِكَ لَيْسَ الْيَوْمَ فِي الْأَرْضِ يَهُودِيٌّ يَسْجُدُ إِلَّا عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْسَرِ، يَقُولُونَ: هَذِهِ السَّجْدَةُ الَّتِي رُفِعَتْ بِهَا الْعُقُوبَةُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَلَمَّا نَشَرَ الْأَلْوَاحَ فِيهَا كِتَابُ اللَّهِ كَتَبَهُ بِيَدِهِ، لَمْ يَبْقَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ جَبَلٌ وَلَا شَجَرٌ وَلَا حَجَرٌ إِلَّا اهْتَزَّ، فَلَيْسَ الْيَوْمَ يَهُودِيٌّ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ صَغِيرٌ، وَلَا كَبِيرٌ، تُقْرَأُ عَلَيْهِ التَّوْرَاةُ إِلَّا اهْتَزَّ وَنَفَضَ لَهَا رَأْسَهُ. [أَيْ: حَرَّكَ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَسَيُنْغِضُونَ إِلَيْكَ رُءُوسَهُمْ﴾ [الْإِسْرَاءِ:٥١] أَيْ يُحَرِّكُونَهَا] [[زيادة من ك، م.]]
وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنۢ بَنِىٓ ءَادَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ ۛ شَهِدْنَآ ۛ أَن تَقُولُوا۟ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَٰذَا غَٰفِلِينَ
And [mention] when your Lord took from the children of Adam - from their loins - their descendants and made them testify of themselves, [saying to them], "Am I not your Lord?" They said, "Yes, we have testified." [This] - lest you should say on the day of Resurrection, "Indeed, we were of this unaware."
اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرا لیا (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا تمہارا پروردگار نہیں ہوں۔ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا پروردگار ہے) ۔ یہ اقرار اس لیے کرایا تھا کہ قیامت کے دن (کہیں یوں نہ) کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی
و (به خاطر بیاور) زمانی را که پروردگارت از پشت و صلب فرزندان آدم، ذریه آنها را برگرفت؛ و آنها را گواه بر خویشتن ساخت؛ (و فرمود:) «آیا من پروردگار شما نیستم؟» گفتند: «آری، گواهی میدهیم!» (چنین کرد مبادا) روز رستاخیز بگویید: «ما از این، غافل بودیم؛ (و از پیمان فطری توحید بیخبر ماندیم)»!
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) when your Lord brought forth from the Children of Adam, from their loins, their seed and made them testify as to themselves (saying): "Am I not your Lord?" They said: "Yes! We testify," lest you should say on the Day of Resurrection: "Verily, we were unaware of this. (172)Or lest you should say: "It was only our fathers aforetime who took others as partners in worship along with Allah, and we were (merely their) descendants after them; will You then destroy us because of the deeds of men who practiced falsehood? (173)Thus do We explain the Ayat in detail, so that they may turn (unto the truth)(174)
The Covenant taken from the Descendants of Adam
Allah stated that He brought the descendants of Adam out of their fathers' loins, and they testified against themselves that Allah is their Lord and King and that there is no deity worthy of worship except Him. Allah created them on this Fitrah, or way, just as He said,
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ
(So set you (O Muhammad) your face truly towards the religion, Hanifan. Allah's Fitrah with which He has created mankind. No change let there be in Khalqillah.)[30:30]
And it is recorded in the Two Sahihs from Abu Hurayrah who said that the Messenger of Allah ﷺ said,
كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُولَدُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ
(Every child is born upon the Fitrah, it is only his parents who turn him into a Jew, a Christian or a Zoroastrian. Just as animals are born having full bodies, do you see any of them having a cutoff nose (when they are born)) .
Muslim recorded that 'Iyad bin 'Himar said that the Messenger of Allah ﷺ said;
يَقُولُ اللهُ: إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ فَجَاءَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُم
(Allah said, 'I created My servants Hunafa' (monotheists), but the devils came to them and deviated them from their religion, prohibiting what I allowed.)
There are Hadiths that mention that Allah took Adam's offspring from his loins and divided them into those on the right and those on the left. Imam Ahmad recorded that Anas bin Malik said that the Prophet ﷺ said,
يُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهِ قَالَ: فَيَقُولُ: نَعَمْ فَيَقُولُ: قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ قَدْ أَخَذْتُ عَلَيْكَ فِي ظَهْرِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي
(It will be said to a man from the people of the Fire on the Day of Resurrection, 'If you owned all that is on the earth, would you pay it as ransom?' He will reply, 'Yes.' Allah will say, 'I ordered you with what is less than that, when you were still in Adam's loins, that is, associate none with Me (in worship). You insisted that you associate with Me (in worship).') This was recorded in the Two Sahihs
Commenting on this Ayah (7:172), At-Tirmidhi recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
لَمَّا خَلَقَ اللهُ آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَسَقَطَ مِنْ ظَهْرِهِ كُلُّ نَسَمَةٍ هُوَ خَالِقُهَا مِنْ ذُرِّيَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَجَعَلَ بَيْنَ عَيْنَي كَلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وَبِيصًا مِنْ نُورٍ ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى آدَمَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ مَنْ هؤُلَاءِ؟ قَالَ: هؤُلَاءِ ذُرِّيَّتُكَ فَرَأَىَ رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَعْجَبَهُ وَبِيصُ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ قَالَ: أَيْ رَبِّ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ آخِرِ الْأُمَمِ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ يُقَالُ لَهُ دَاوُدُ قَالَ: رَبِّ وَكَمْ جَعَلْتَ عُمْرَهُ؟ قَالَ: سِتِّينَ سَنَةً، قَالَ: أَيْ رَبِّ وَقَدْ وَهَبْتُ لَهُ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً فَلَمَّا انْقَضَى عُمْرُ آدَمَ جَاءَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ قَالَ: أَوَ لَمْ يَبْقَ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعُونَ سَنَةً قَالَ: أَوَ لَمْ تُعْطِهَا ابْنَكَ دَاوُدَ؟ قَالَ: فَجَحَدَ آدَمُ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ وَنَسِيَ آدَمُ فَنِسَيتْ ذُرِّيَّتُهُ وَخَطِىءَ آدَمُ فَخَطِئَتْ ذُرِّيَّتُهُ
(When Allah created Adam, He wiped Adam's back and every person that He will create from him until the Day of Resurrection fell out from his back. Allah placed a glimmering light between the eyes of each one of them. Allah showed them to Adam and Adam asked, 'O Lord! Who are they?' Allah said, 'These are your offspring.' Adam saw a man from among them whose light he liked. He asked, 'O Lord! Who is this man?' Allah said, 'This is a man from the latter generations of your offspring. His name is Dawud.' Adam said, 'O Lord! How many years would he live?' Allah said, 'Sixty years.' Adam said, 'O Lord! I have forfeited forty years from my life for him.' When Adam's life came to an end, the angel of death came to him (to take his soul). Adam said, 'I still have forty years from my life term, don't I?' He said, 'Have you not given it to your son Dawud?' So Adam denied that and his offspring followed suit (denying Allah's covenant), Adam forgot and his offspring forgot, Adam made a mistake and his offspring made mistakes.)
At-Tirmidhi said, "This Hadith is Hasan Sahih, and it was reported from various chains of narration through Abu Hurayrah from the Prophet ﷺ". Al-Hakim also recorded it in his Mustadrak, and said; "Sahih according to the criteria of Muslim, and they did not record it."
These and similar Hadiths testify that Allah, the Exalted and Most Honored, brought forth Adam's offspring from his loins and separated between the inhabitants of Paradise and those of the Fire. Allah then said,
وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَىٰ
(and made them testify as to themselves (saying): "Am I not your Lord?" They said: "Yes!")
Therefore, Allah made them testify with themselves by circumstance and words. Testimony is sometimes given in words, such as,
قَالُوا شَهِدْنَا عَلَىٰ أَنفُسِنَا
(They will say: "We bear witness against ourselves.")[6:130]
At other times, testimony is given by the people themselves, such as Allah's statement,
مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ
(It is not for the Mushrikin, (polytheists) to maintain the mosques of Allah, while they testify against their own selves of disbelief.)[9:17]
This Ayah means that their disbelief testifies against them, not that they actually testify against themselves here. Another Ayah of this type is Allah's statement,
وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ
(And to that he bears witness (by his deeds).)[100:7]
The same is the case with asking, sometimes takes the form of words and sometimes a situation or circumstance. For instance, Allah said,
وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ
(And He gave you of all that you asked for.)[14:34] Allah said here,
أَن تَقُولُوا
(lest you should say), on the Day of Resurrection
إِنَّا كُنَّا عَنْ هَٰذَا
(we were of this) of Tawhid
غَافِلِينَ - أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا
(unaware. Or lest you should say: "It was only our fathers aforetime who took others as partners in worship along with Allah,")[7:172-173]
Tafsir Ibn Kathir
ہر روح نے اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق مانا اولاد آدم سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب، خالق، مالک، معبود صرف وہی ہے۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی ناممکن ہے، بخاری و مسلم میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ اس دین پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں، حدیث قدسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا پھر شیطان نے آ کر انہیں ان کے سچے دین سے بہکا کر میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کردیں۔ قبیلہ بن سعد کے ایک صحابی حضرت اسود بن سریع فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چار غزوے کئے لوگوں نے لڑنے والے کفار کے قتل کے بعد ان کے بجوں کو بھی پکڑ لیا جب آپ کو اس کا علم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور فرمایا لوگ ان بچوں کو کیوں پکڑ رہے ہیں ؟ کسی نے کہا حضور وہ بھی تو مشرکوں کے ہی بچے ہیں ؟ فرمایا سنو تم میں سے بہتر لوگ مشرکین کی اولاد میں ہیں یاد رکھو ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر زبان چلنے پر اس کے ماں باپ یہودیت یا نصرانیت کی تعلیم دینے لگتے ہیں۔ اس کے راوی حضرت حسن فرماتے ہیں اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اللہ نے اولاد آدم سے اپنی توحید کا اقرار لیا ہے (ابن جریر) اس اقرار کے بارے میں کئی ایک حدیثیں مروی ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن دوزخی سے کہا جائے گا اگر تمام دنیا تیری ہو تو کیا تو خوش ہے کہ اسے اپنے فدئیے میں دے کر میرے عذابوں سے آج بچ جائے ؟ وہ کہے گا ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تو اس سے بہت ہی ہلکے درجے کی چیز تجھ سے طلب کی تھی اور اس کا وعدہ بھی تجھ سے لے لیا تھا کہ میرے سوا تو کسی اور کی عبادت نہ کرے لیکن تو عہد توڑے بغیر نہ رہا اور دوسرے کو میرا شریک عبادت ٹھہرایا۔ مسند میں ہے نعمان نامی میدان میں اللہ تعالیٰ نے پشت آدم میں سے عرفے کے دن ان کی تمام اولاد ظاہر فرمائی سب کو اس کے سامنے پھیلا دیا اور فرمایا کہ میں تم سب کا رب نہیں ہوں ؟ سب نے کہا ہاں ہم گواہ ہیں پھر آپ نے مبطلون تک تلاوت فرمائی۔ یہ روایت موقوف ابن عباس سے بھی مروی ہے واللہ اعلم۔ اس وقت لوگ چیونٹیوں کی طرح تھے اور تر زمین پر تھے۔ حضرت ضحاک بن مزاحم کے جھ دن کی عمر کے صاحبزادے کا انتقال ہوگیا تو آپ نے فرمایا جابر اسے دفن کر کے اس کا منہ کفن سے کھول دینا اور گرہ بھی کھول دینا کیونکہ میرا یہ بچہ بٹھا دیا جائے گا اور اس سے سوال کیا جائے گا جابر نے حکم کی بجا آوری کی، پھر میں نے پوچھا کہ آپ کے بجے سے کیا سوال ہوگا اور کون سوال کرے گا ؟ فرمایا اس میثاق کے بارے میں جو صلب آدم میں لیا گیا ہے سوال کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا وہ میثاق کیا ہے ؟ فرمایا میں نے حضرت ابن عباس سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو جتنے انسان قیامت تک پیدا ہونے والے ہیں سب کی روحیں آگئیں اللہ نے ان سے عہد و پیمان لیا کہ وہ اسی کی عبادت کریں گے اس کے سوا کسی اور کو معبود نہیں مانیں گے خود ان کے رزق کا کفیل بنا پھر انہیں صلب آدم میں لوٹا دیا۔ پس یہ سب قیامت سے پہلے ہی پہلے پیدا ہوں گے۔ جس نے اس وعدے کو پورا کیا اور اپنی زندگی میں اس پر قائم رہا اسے وہ وعدہ نفع دے گا اور جس نے اپنی زندگی میں اس کی خلاف ورزی کی اسے پہلے کا وعدہ کجھ فائدہ نہ دے گا۔ بچپن میں ہی جو مرگیا وہ میثاق اول پر اور فطرت پر مرا۔ ان آثار سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اوپر والی حدیث کا موقوف ہونا ہی اکثر اور زیادہ ثبوت والا ہے۔ ابن جریر کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بنی آدم کی پیٹھ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ایسی نکلایں جیسے کنگھی بالوں میں سے نکلتی ہے ان سے اپنی ربوبیت کا سوال کیا انہوں نے اقرار کیا فرشتوں نے شہادت دی اس لئے کہ یہ لوگ قیامت کے دن اس سے غفلت کا بہانہ نہ کریں۔ حضرت عمر ؓ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا یہی سوال رسول اللہ ﷺ سے ہوا تھا تو آپ نے میرے سنتے ہوئے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے حضرت آدم کو پیدا کیا اپنے داہنے ہاتھ سے ان کی پیٹھ کو چھوا اس سے اولاد نکلی فرمایا میں نے انہیں جہنم کیلئے پیدا کیا ہے یہ جہنمیوں کے اعمال کریں گے تو آپ سے سوال ہوا کہ پھر عمل کس گنتی میں ہیں ؟ آپ نے فرمایا جو جنتی ہے اس سے مرتے دم تک جنتیوں کے ہی اعمال سرزد ہوں گے اور جنت میں جائیں گے ہاں جو جہنم کیلئے پیدا کیا گیا ہے اس سے وہی اعمال سرزد ہوں گے انہی پر مرے گا اور جہنم میں داخل ہوگا (ابوداؤد) اور حدیث میں ہے کہ اولاد آدم کو نکال کر ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور رکھ کر حضرت آدم کے سامنے پیش کیا حضرت نے پوچھا کہ یا اللہ یہ کون ہیں ؟ فرمایا یہ تیری اولاد ہے ان میں سے ایک کے ماتھے کی چمک کو حضرت آدم کے سامنے پیش کیا حضرت نے پوچھا کہ یا اللہ یہ کون ہیں ؟ فرمایا یہ تیری اولاد میں سے بہت دور جا کر ہیں ان کا نام داؤد ہے پوچھا ان کی عمر کیا ہے ؟ فرمایا ساٹھ سال کہا یا اللہ چالیس سال میری عمر میں سے ان کی عمر میں زیادہ کر پس جب حضرت آدم کی روح کو قبض کرنے کیلئے فرشتہ آیا تو آپ نے فرمایا میری عمر میں سے تو ابھی چالیس سال باقی ہیں، فرشتے نے کہا آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے یہ چالیس سال اپنے بچے حضرت داؤد کو ہبہ کردیئے ہیں۔ بات یہ ہے چونکہ آدم نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی انکار کی عادی ہے آدم خود بھول گئے ان کی اولاد بھی بھولتی ہے آدم نے خطا کی ان کی اولاد بھی خطا کرتی ہے، یہ حدیث ترمذی میں ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح لکھتے ہیں اور روایت میں ہے کہ جب آدم ؑ نے دیکھا کہ کوئی ان میں جذامی ہے کوئی کوڑھی ہے کوئی اندھا ہے کوئی بیمار ہے تو پوچھا کہ یا اللہ اس میں کیا مصلحت ہے ؟ فرمایا یہ کہ میرا شکریہ کیا جائے۔ حضرت آدم ؑ نے پوچھا کہ یا اللہ ان میں یہ زیادہ روشن اور نورانی چہروں والے کون ہیں ؟ فرمایا یہ انبیاء ہیں۔ کسی شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں یہ ہمارا ذاتی عمل ہے یا کہ فیصل شدہ ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آدم کی اولاد کو ان کی پیٹھوں سے نکالا انہیں گواہ بنایا پھر اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا یہ جنتی ہیں اور یہ جہنمی۔ پس اہل جنت پر تو نیک کام آسان ہوتے ہیں اور دوزخیوں پر برے کام آسان ہوتے ہیں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور قضیہ ختم کیا تو جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملنے والا ہے انہیں اپنی داہنی مٹھی میں لیا اور بائیں والوں کو بائیں مٹھی میں لیا پھر فرمایا اے دائیں طرف والو انہوں نے کہا لبیک وسعد یک فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے کہا ہاں پھر سب کو ملا دیا کسی نے پوچھا یہ کیوں کیا ؟ فرمایا اس لئے کہ ان کے لئے اور اعمال ہیں جنہیں یہ کرنے والے ہیں یہ تو صرف اس لئے کہلوایا گیا ہے کہ انہیں یہ عذر نہ رہے کہ ہم اس سے غافل تھے۔ پھر سب کو صلب آدم میں لوٹا دیا۔ حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں اس میدان میں اس دن سب کو جمع کیا، صورتیں دیں، بولنے کی طاقت دی، پھر عہد و میثاق لیا اور اپنے رب ہونے پر خود انہیں گواہ بنایا اور ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور حضرت آدم کو گواہ بنایا کہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں علم نہ تھا جان لو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں نہ میرے سوا کوئی اور مربی ہے۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا میں اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تمہیں یہ وعدہ یاد دلائیں گے میں اپنی کتابیں اتاروں گا تاکہ تمہیں یہ عہد و میثاق یاد دلاتی رہیں سب نے جواب میں کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا رب ہے تو ہی ہمارا معبود ہے تیرے سوا ہمارا کوئی مربی نہیں۔ پس سب سے اطاعت کا وعدہ لیا اب جو حضرت آدم ؑ نے نظر اٹھا کر دیکھا تو امیر غریب اور اس کے سوا مختلف قسم کے لوگوں پر نظر پڑی تو آپ کہنے لگے کیا اچھا ہوتا کہ سب برابر ایک ہی حالت کے ہوتے تو جواب ملا کہ یہ اس لئے ہے کہ ہر شخص میری شکر گزاری کرے۔ آپ نے دیکھا کہ ان میں اللہ کے پیغمبر بھی ہیں ان سے پھر علیحدہ ایک اور میثاق لیا گیا جس کا بیان آیت (وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۠ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا ۙ) 33۔ الأحزاب :7) ، میں ہے۔ اسی عام میثاق کا بیان آیت (فطرۃ اللہ) میں ہے اسی لئے فرمان ہے آیت (ھذا نذیر من النزر الا ولی) اسی کا بیان اس آیت میں ہے (وما وجدنا لا کثرھم من عھد) (مسند احمد) حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ، حضرت سعید بن جبیر، حضرت حسن، حضرت قتادہ، حضرت سدی اور بہت سے سلف سے ان احادیث کے مطابق اقوال مروی ہیں جن سب کے وارد کرنے سے بہت طول ہوجائے گا ماحصل سب کا یہی ہے جو ہم نے بیان کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو آپ کی پیٹھ سے نکالا جنتی دوزخی الگ الگ کئے اور وہیں ان کو اپنے رب ہونے پر گواہ کرلیا یہ جن دو احادیث میں ہے وہ دونوں مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہیں اسی لئے سلف و خلف میں اس بات کے قائل گذرے ہیں کہ اس سے مراد فطرت پر پیدا کرنے ہے جیسے کہ مرفوع اور صحیح احادیث میں وارد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت (من بنی آدم) فرمایا اور آیت (من ظھور ھم) کہا ورنہ من آدم اور من ظھرہ ہوتا۔ ان کی نسلیں اس روز نکالی گئیں جو کہ یکے بعد دیگرے مختلف قرنوں میں ہونے والی تھیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ ۭ اِنَّ رَبَّكَ سَرِيْعُ الْعِقَابِ ڮوَاِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ01605) 6۔ الانعام :165) اللہ ہی نے تمہیں زمین میں دوسروں کا جانشین کیا ہے اور جگہ ہے وہی تمہیں زمین کے خلیفہ بنا رہا ہے اور آیت میں ہے جیسے تمہیں دوسرے لوگوں کی اولاد میں کیا۔ الغرض حال و قال سے سب نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کیا۔ شہادت قولی ہوتی ہے جیسے آیت (شھدنا علی انفسانا) میں اور شہادت کبھی حال سے ہوتی ہے جیسے آیت (مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بالْكُفْرِ ۭاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ښ وَفِي النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ 17) 9۔ التوبہ :17) میں یعنی ان کا حال ان کے کفر کی کھلی اور کافی شہادت ہے اس طرح کی آیت (وانہ علی ذالک لشھید) ہے۔ اسی طرح سوال بھی کبھی زبان سے ہوتا ہے کبھی حال سے۔ جیسے فرمان ہے (وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ 34) 14۔ ابراھیم :34) اس نیت میں تمہارے کا منہ مانگا دیا۔ کہتی ہیں کہ اس بات پر یہ دلیل بھی ہے کہ ان کے شرک کرنے پر یہ حجت ان کے خلاف پیش کی۔ پس اگر یہ واقع میں ہوا ہوتا جیسا کہ ایک قول ہے تو چاہئے تھا کہ ہر ایک کو یاد ہوتا تاکہ اس پر حجت رہے۔ اگر اس کا جواب یہ ہو کہ فرمان رسول سے خبر پالینا کافی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو رسولوں کو ہی نہیں مانتے وہ رسولوں کی دی ہوئی خبروں کو کب صحیح جانتے ہیں ؟ حالانکہ قرآن کریم نے رسولوں کی تکذیب کے علاوہ خود اس شہادت کو مستقل دلیل ٹھہرایا ہے پس اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد فطرت ربانی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے اور وہ فطرت توحید باری تعالیٰ ہے۔ اسی لئے فرماتا ہے کہ یہ اس لئے کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم توحید سے غافل تھے اور یہ بھی نہ کہہ سکو کہ شرک تو ہمارے اگلے باپ دادوں نے کیا تھا ان کے اس ایجاد کردہ گناہ پر ہمیں سزا کیوں ؟ پھر تفصیل وار آیات کے بیان فرمانے کا راز ظاہر کیا کہ اس کو سن کر برائیوں سے باز آجانا ممکن ہوجاتا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُ اسْتَخْرَجَ ذُرِّيَّةَ بَنِي آدَمَ مِنْ أَصْلَابِهِمْ، شَاهِدِينَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَنَّ اللَّهَ رَبُّهُمْ وَمَلِيكُهُمْ، وَأَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ. كَمَا أَنَّهُ تَعَالَى فَطَرَهُمْ عَلَى ذَلِكَ وَجَبَلَهُمْ عَلَيْهِ، قَالَ تَعَالَى: ﴿فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ﴾ [الرُّومِ:٣٠] وَفِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ -وَفِي رِوَايَةٍ: عَلَى هَذِهِ الْمِلَّةِ -فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، وَيُنَصِّرَانِهِ، وَيُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُولَدُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ" وَفِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "يَقُولُ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من ك، م.]] إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ فَجَاءَتْهُمُ [[في م: "فجاءت".]] الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ، عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ" [[صحيح مسلم برقم (٢٨٦٥) ، وسبق تخريجه هو والذي قبله عند الآية: ٣٠.]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى: أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ حَدَّثَهُمْ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سُرَيْعٍ مِنْ بَنِي سَعْدٍ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَرْبَعَ غَزَوَاتٍ، قَالَ: فَتَنَاوَلَ الْقَوْمُ الذُّرِّيَّةَ بَعْدَ مَا قَتَلُوا الْمُقَاتَلَةَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَنَاوَلُونَ الذُّرِّيَّةَ؟ " قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسُوا أَبْنَاءَ الْمُشْرِكِينَ؟ فَقَالَ: "إِنَّ خِيَارَكُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ! أَلَا إِنَّهَا لَيْسَتْ نِسْمَةٌ تُولَدُ إِلَّا وُلِدَتْ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَمَا تَزَالُ عَلَيْهَا حَتَّى يُبَيِّنَ عَنْهَا لِسَانُهَا، فَأَبَوَاهَا يُهَوِّدَانِهَا أَوْ [[في م: "و".]] يُنَصِّرَانِهَا". قَالَ الْحَسَنُ: وَاللَّهِ لَقَدْ قَالَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ [وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ] ﴾ [[زيادة من أ.]] الآية [[تفسير الطبري (١٣/٣٢١) .]] وقد رواه الإمام أحمد، عَنِ اسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ [[المسند (٣/٤٣٥) .]] بِهِ. وَأَخْرَجَهُ النَّسَائِيُّ فِي سُنَنِهِ مِنْ حَدِيثِ هُشَيْم، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: حدثنا الأسود ابن سَرِيع، فَذَكَرَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَاسْتِحْضَارَهُ الْآيَةَ عِنْدَ ذَلِكَ [[سنن النسائي الكبرى برقم (٨٦١٦) .]]
وَقَدْ وَرَدَتْ أَحَادِيثُ فِي أَخْذِ الذُّرِّيَّةِ مِنْ صلْب آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَتَمْيِيزِهِمْ إِلَى أَصْحَابِ الْيَمِينِ وَ [إِلَى] [[زيادة من ك، م، أ.]] أَصْحَابِ الشِّمَالِ، وَفِي بَعْضِهَا [[في أ: "وفي بعض".]] الِاسْتِشْهَادُ عَلَيْهِمْ بِأَنَّ اللَّهَ رَبُّهُمْ.
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَجَّاج، حَدَّثَنَا شُعْبة، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الجَوْني، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "يُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهِ؟ " قَالَ: "فَيَقُولُ: نَعَمْ. فَيَقُولُ: قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ، قَدْ أَخَذْتُ عَلَيْكَ فِي ظَهْرِ آدَمَ [[في أ: "ظهر أبيك".]] أَلَّا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا، فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي".
أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، بِهِ [[المسند (٣/١٢٧) وصحيح البخاري برقم (٣٣٣٤) وصحيح مسلم برقم (٢٨٠٥) .]]
حَدِيثٌ آخَرُ: وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ -يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ -عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَابِرٍ [[في ك، م: "جبر"، وفي أ: "جبير".]] عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَير، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ أَخَذَ الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِنُعْمَانَ. يَعْنِي [[في ك، م، أ: "يوم".]] عَرَفَةَ فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ كُلَّ ذُرِّيَّةٍ ذَرَأَهَا فَنَثَرَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قُبُلًا قَالَ: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿الْمُبْطِلُونَ﴾
وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ النَّسَائِيُّ فِي كِتَابِ التَّفْسِيرِ مِنْ سُنَنِهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ -صَاعِقَةٍ -عَنْ حُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيِّ، بِهِ. وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ حَدِيثِ حُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ [[المسند (١/٢٧٢) وسنن النسائي الكبرى برقم (١١١٩١) وتفسير الطبري (١٣/٢٢٢) وقال النسائي: "كلثوم هذا ليس بالقوى، وحديثه ليس بالمحفوظ".]] بِهِ. إِلَّا أَنَّ ابْنَ أَبِي حَاتِمٍ جَعَلَهُ مَوْقُوفًا. وَأَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ فِي مُسْتَدْرَكِهِ مِنْ حَدِيثِ حُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْر، بِهِ. وَقَالَ: صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِكُلْثُومِ بْنِ جُبَيْرٍ [[في ك، م: "جبر".]] [[المستدرك (١/٢٧) .]] هَكَذَا قَالَ، وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ [[في أ: "جبير".]] عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَوَقَفَهُ [[أخرجه الطبري في تفسيره (١٣/١٧٢) .]] وَكَذَا رواه إسماعيل بن عُلَيَّةَ ووَكِيع، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كُلْثُومٍ، عَنْ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِهِ. [[رواه الطبري في تفسيره (١٣/٢٢٤) من طريق ابن علية ورواه (١٣/٢٢٩) من طريق وكيع.]] وَكَذَا رَوَاهُ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَحَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، وَعَلِيُّ بْنُ بَذِيمة، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[تفسير الطبري (١٣/٢٢٧ - ٢٢٩) .]] قَوْلُهُ، وَكَذَا رَوَاهُ العَوْفي وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[تفسير الطبري (١٣ / ٢٣٦، ٢٣٧) .]] فَهَذَا أَكْثَرُ وَأَثْبَتُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَكِيع، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَة الضُّبَعِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] قَالَ: أَخْرَجَ اللَّهُ ذُرِّيَّةَ آدَمَ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] مِنْ ظَهْرِهِ كَهَيْئَةِ الذَّرِّ، وَهُوَ فِي آذِي مِنَ الْمَاءِ.
وَقَالَ أَيْضًا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا ضَمْرَة بْنُ رَبِيعَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ عَنْ جُوبير قَالَ: مَاتَ ابْنٌ لِلضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِم، [وَهُوَ] [[زيادة من م.]] ابْنُ سِتَّةِ أَيَّامٍ. قَالَ: فَقَالَ: يَا جَابِرُ، إِذَا أَنْتَ وَضَعْتَ ابْنِي فِي لَحْدِهِ، فَأَبْرِزْ وَجْهَهُ، وحُلّ عَنْهُ عُقَدَهُ، فَإِنَّ ابْنِي مُجْلَس، وَمَسْئُولٌ. فَفَعَلْتُ بِهِ الَّذِي أَمَرَ، فَلَمَّا فَرَغْتُ قُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، عَمَّ يُسأل ابْنُكَ؟ مَنْ يَسْأَلُهُ إِيَّاهُ؟ قَالَ: يُسْأل عَنِ الميثاق الذي أقر به في [[في ك، م، أ: "من".]] صلب آدم. قُلْتُ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، وَمَا هَذَا الْمِيثَاقُ الَّذِي أَقَرَّ بِهِ فِي [[في ك، م، أ: "من".]] صُلْبِ آدَمَ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] ؛ أَنَّ اللَّهَ مَسَحَ صُلْبَ آدَمَ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ كُلَّ نَسَمَةٍ هُوَ خَلَقَهَا [[في ك، م، أ: "خالقها".]] إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَأَخَذَ مِنْهُمُ الْمِيثَاقَ: أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَتَكَفَّلَ لَهُمْ بِالْأَرْزَاقِ، ثُمَّ أَعَادَهُمْ فِي صُلْبِهِ. فَلَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ حَتَّى يُولَدَ مَنْ أَعْطَى الْمِيثَاقَ يَوْمَئِذٍ، فَمَنْ أَدْرَكَ مِنْهُمُ الْمِيثَاقَ الْآخِرَ فَوَفَّى بِهِ، نَفَعَهُ الْمِيثَاقُ الْأَوَّلُ. وَمَنْ أَدْرَكَ الْمِيثَاقَ الْآخِرَ فَلَمْ يَفِ [[في ك، م: "يقر".]] بِهِ، لَمْ يَنْفَعْهُ الْمِيثَاقُ الْأَوَّلُ. وَمَنْ مَاتَ صَغِيرًا قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَ الْمِيثَاقَ الْآخَرَ، مَاتَ عَلَى الْمِيثَاقِ الْأَوَّلِ عَلَى الْفِطْرَةِ [[تفسير الطبري (١٣/٢٣٠) .]]
فَهَذِهِ الطُّرُقُ كُلُّهَا مِمَّا تقوِّي وَقْف هَذَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
حَدِيثٌ آخَرُ: وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي طَيْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنِ الضَّحَّاكِ وَعَنْ [[في م: "بن".]] -مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ -عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ﴾ قَالَ: "أَخَذَ مِنْ ظَهْرِهِ، كَمَا يُؤْخَذُ بِالْمُشْطِ مِنَ الرَّأْسِ، فَقَالَ لَهُمْ: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى﴾ قَالَتِ الْمَلائِكَةُ ﴿شَهِدْنَا أَنْ يَقُولُوا﴾ [[في أ: "تقولوا".]] يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ [[تفسير الطبري (١٣/٢٣٢) قال الطبري: "ولأعلمه صحيحا؛ لأن الثقات الذين يعتمد على حفظهم واتقانهم، حدثوا بهذا الحديث عن الثوري فوقفوه على عبد الله بن عمرو، ولم يرفعوه ولم يذكروا في الحديث هذا الحرف الذي ذكره أحمد بن أبي طيبة عنه".]]
أَحْمَدُ بْنُ أَبِي طَيْبَةَ هَذَا هُوَ: أَبُو مُحَمَّدٍ الْجُرْجَانِيُّ قَاضِي قَوْمَسَ، كَانَ أَحَدَ الزُّهَّادِ، أَخْرَجَ لَهُ النَّسَائِيُّ فِي سُنَنِهِ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ: يُكْتَبُ حَدِيثُهُ. وَقَالَ ابْنُ عَدِيّ: حَدَّثَ بِأَحَادِيثَ أَكْثَرُهَا [[في ك، م، أ: "كثيرة".]] غَرَائِبُ.
وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عن منصور، عن مجاهد، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَوْلُهُ، وَكَذَا رَوَاهُ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهِ. وَهَذَا أَصَحُّ [[تفسير الطبري (١٣/٢٣٣) .]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
حَدِيثٌ آخَرُ: قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا رَوْحٌ -هُوَ ابْنُ عُبَادَةَ -حَدَّثَنَا مَالِكٌ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسةَ: أَنَّ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَخْبَرَهُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسار الجُهَني: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سُئِل عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى﴾ الْآيَةَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، سُئل عَنْهَا، فَقَالَ: "إِنِ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ بِيَمِينِهِ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، قَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ، وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ. ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، قَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلنَّارِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِذَا خَلَقَ اللَّهُ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ، اسْتَعْمَلَهُ بِأَعْمَالِ [[في ك، م، أ: "بعمل".]] أَهْلِ الْجَنَّةِ، حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيُدْخِلَهُ [[في ك، م، أ: "فيدخل".]] بِهِ الْجَنَّةَ. وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ، اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ، فَيُدْخِلَهُ [[في أ: "فيدخل".]] بِهِ النَّارَ".
وَهَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنِ القَعْنَبي -وَالنَّسَائِيُّ عَنْ قُتَيْبَةَ -وَالتِّرْمِذِيُّ [[في ك، م، أ: "والترمذي في تفسيرهما".]] عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَعْن. وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ. وَابْنُ جَرِيرٍ مِنْ حديث روح ابن عُبَادَةَ وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ. وَأَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانٍ فِي صَحِيحِهِ، مِنْ رِوَايَةِ أَبِي مُصْعَبٍ الزُّبَيْرِيِّ، كُلُّهُمْ عَنِ الْإِمَامِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، بِهِ [[المسند (١/٤٤) وسنن أبي داود برقم (٤٧٠٣) وسنن النسائي الكبرى برقم (١١١٩٠) وسنن الترمذي برقم (٣٠٧٥) وتفسير الطبري (١٣/٢٣٣) .]]
قَالَ التِّرْمِذِيُّ: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَمُسْلِمُ بْنُ يَسَار لَمْ يَسْمَعْ [[في أ: "لم يسمع من".]] عُمَر. وَكَذَا قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو زُرْعَة. زَادَ أَبُو حَاتِمٍ: وَبَيْنَهُمَا نُعَيْم بْنُ رَبِيعَةَ.
وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي سُنَنِهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُصَفَّى، عَنْ بَقِيَّةَ، عن عمر ابن جُعْثُم [[في أ: "عمرو بن خثعم".]] الْقُرَشِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَة، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَار الْجُهَنِيِّ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] وَقَدْ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ﴾ فَذَكَرَهُ [[سنن أبي داود برقم (٤٧٠٤) ورواه الطبري في تفسيره (١٣/٢٣٥) من طريق محمد بن مصفى، به.]]
وَقَالَ الْحَافِظُ الدَّارَقُطْنِيُّ: وَقَدْ تَابَعَ عُمَرَ بْنَ جُعْثُم بْنِ زَيْدِ بْنِ سِنان أَبُو فَرْوَة الرَّهَاوي، وَقَوْلُهُمَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ قَوْلِ مَالِكٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ [[العلل للدارقطني (٢/٢٢١ - ٢٢٣) .]]
قُلْتُ: الظَّاهِرُ أَنَّ الْإِمَامَ مَالِكًا إِنَّمَا أَسْقَطَ ذِكْرَ "نُعَيْمَ بْنَ رَبِيعَةَ" عمدًا؛ لما جهل حاله ولم يعرفه، فَإِنَّهُ غَيْرُ مَعْرُوفٍ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَكَذَلِكَ يُسْقِطُ ذِكْرَ جَمَاعَةٍ مِمَّنْ لَا يَرْتَضِيهِمْ؛ وَلِهَذَا يُرْسِلُ كَثِيرًا مِنَ الْمَرْفُوعَاتِ، وَيَقْطَعُ كَثِيرًا مِنَ الْمَوْصُولَاتِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
حَدِيثٌ آخَرُ: قَالَ التِّرْمِذِيُّ عِنْدَ تَفْسِيرِهِ هَذِهِ الْآيَةَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْم، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ [عَزَّ وَجَلَّ] [[زيادة من أ.]] آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهُ، فَسَقَطَ مِنْ ظَهْرِهِ كُلُّ نَسَمة هُوَ خَالِقُهَا مِنْ ذُرِّيَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَجَعَلَ بَيْنَ عَيْنَيْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وَبيصًا مِنْ نُورٍ، ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى آدَمَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ ذَرِّيَّتُكَ. فَرَأَى رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَعْجَبَهُ وَبِيص مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ آخِرِ الْأُمَمِ مِنْ ذُرّيتك، يُقَالُ لَهُ: دَاوُدُ. قَالَ: رَبِّ، وَكَمْ جَعَلْتَ عُمُرَهُ؟ قَالَ: سِتِّينَ سَنَةً. قَالَ: أَيْ رَبِّ، زِدْهُ مِنْ عُمُرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً. فَلَمَّا انْقَضَى عُمُرُ آدَمَ، جَاءَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ قَالَ: أَوْ لَمْ يَبْقَ مِنْ عُمُرِي أَرْبَعُونَ [[في د، أ: "أربعين".]] سَنَةً؟ قَالَ: أوَ لَمْ تُعْطِهَا ابْنَكَ دَاوُدَ؟ قَالَ: فَجَحَدَ آدَمُ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ، وَنَسِيَ آدَمُ فَنَسِيَتْ ذُرِّيَّتُهُ، وَخَطِئَ آدَمُ فَخَطِئَتْ ذُرِّيَّتُهُ".
ثُمَّ قَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوي مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ.
وَرَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي مُسْتَدْرَكِهِ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي نُعَيْم الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْن، بِهِ. وَقَالَ: صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [[سنن الترمذي برقم (٣٠٧٦) والمستدرك (٢/٣٢٥) .]]
وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ فِي تَفْسِيرِهِ، مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ، إِلَى أَنْ قَالَ: "ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى آدَمَ فَقَالَ: يَا آدَمُ، هَؤُلَاءِ ذَرِّيَّتُكَ. وَإِذَا فِيهِمُ الْأَجْذَمُ وَالْأَبْرَصُ وَالْأَعْمَى، وَأَنْوَاعُ الْأَسْقَامِ، فَقَالَ آدَمُ: يَا رَبِّ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا بِذُرِّيَّتِي؟ قَالَ: كَيْ تُشْكَرَ نِعْمَتِي. وَقَالَ آدَمُ: يَا رَبِّ، مِنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ أَرَاهُمْ أظْهَرَ النَّاسِ نُورًا؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الْأَنْبِيَاءُ يَا آدَمُ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ". ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ دَاوُدَ، كَنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ [[ورواه أبو الشيخ في العظمة برقم (١٠١٥) من طريق محمد بن شعيب، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، به. وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعِيفُ.]]
حَدِيثٌ آخَرُ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَتَادَةَ النَّصْري [[في أ: "البصري".]] عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُبْدَأُ الْأَعْمَالُ، أَمْ قَدْ قُضِي الْقَضَاءُ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَخَذَ ذُرِّيَّةَ آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ، ثُمَّ أَشْهَدُهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ أَفَاضَ بِهِمْ فِي كَفَّيْهِ" ثُمَّ قَالَ: "هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ، فَأَهْلُ الْجَنَّةِ مُيَسَّرون لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَهْلُ النَّارِ مُيَسَّرون لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ".
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، وَابْنُ مَرْدَوَيْهِ من طرق عنه [[تفسير الطبري (١٣/٢٤٤) وقد توسع الشيخ محمود شاكر في الكلام عليه في الحاشية بما يغني عن إعادته هنا.]] حَدِيثٌ آخَرُ: رَوَى جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ -وَهُوَ ضَعِيفٌ -عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ، وَقَضَى الْقَضِيَّةَ، أَخَذَ أَهْلَ الْيَمِينِ بِيَمِينِهِ وَأَهْلَ الشِّمَالِ بِشِمَالِهِ، فَقَالَ: يَا أَصْحَابَ الْيَمِينِ. فَقَالُوا: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ. قَالَ: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى. قَالَ: يَا أَصْحَابَ الشِّمَالِ. قَالُوا: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ. قَالَ: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى ثُمَّ خَلَطَ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَبِّ، لِمَ خَلَطْتَ بَيْنَهُمْ؟ قَالَ: لَهُمْ أَعْمَالٌ مِنْ دُونِ ذَلِكَ هُمْ لَهَا عَامِلُونَ، أَنْ يَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ، ثُمَّ رَدَّهُمْ فِي صُلْبِ آدَمَ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] . رَوَاهُ ابْنُ مَرْدَوَيْهِ [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (٨/٢٨٧) من طريق عثمان بن االهيثم، عن جعفر بن الزبير به. وجعفر بن الزبير ضعيف جدا، وقد توبع:
تابعه بشر بن نمير عن القاسم عن أبي أمامة بنحوه. ورواه أبو الشيخ في العظمة برقم (٢٢٨) والعقيلي في الضعفاء الكبير (١/٥١) ، ولكن لم يفرح بهذه المتابعة فإن بشر بن نمير متروك متهم.]]
أَثَرٌ آخَرُ: قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبي بْنِ كَعْبٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى [[في أ: "الله عز وجل".]] ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ﴾ الْآيَةَ وَالَّتِي بَعْدَهَا، قَالَ: فَجَمْعُهُمْ لَهُ يَوْمَئِذٍ جَمِيعًا، مَا هُوَ كَائِنٌ مِنْهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَجَعَلَهُمْ أَرْوَاحًا ثُمَّ صَوَّرَهُمْ ثُمَّ اسْتَنْطَقَهُمْ فَتَكَلَّمُوا، وَأَخَذَ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ، وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى، الْآيَةَ. قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُ عَلَيْكُمُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ، والأرَضِين السَّبْعَ، وَأُشْهِدُ عَلَيْكُمْ أَبَاكُمْ آدَمَ أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: لَمْ نَعْلَمْ بِهَذَا اعْلَمُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرِي، وَلَا رَبَّ غَيْرِي، فَلَا تُشْرِكُوا بِي شَيْئًا، وَإِنِّي سَأُرْسِلُ إِلَيْكُمْ رُسُلًا يُذَكِّرُونَكُمْ [[في أ: "ينذرونكم".]] عَهْدِي وَمِيثَاقِي، وَأْنْزِلُ عَلَيْكُمْ كُتُبِي. قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ رَبُّنَا وَإِلَهُنَا، لَا رَبَّ لَنَا غَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ لَنَا غَيْرُكَ. فَأَقَرُّوا لَهُ يَوْمَئِذٍ بِالطَّاعَةِ، وَرَفَعَ أَبَاهُمْ آدَمُ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ، فَرَأَى فِيهِمُ الْغَنِيَّ وَالْفَقِيرَ، وَحَسَنَ الصُّورَةِ وَدُونَ ذَلِكَ. فَقَالَ: يَا رَبِّ، لَوْ سَويت بَيْنَ عِبَادِكَ؟ قَالَ: إِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أُشْكَرَ. وَرَأَى فِيهِمُ الْأَنْبِيَاءَ مِثْلَ السرُج عَلَيْهِمُ النُّورُ، وَخُصُّوا بِمِيثَاقٍ آخَرَ مِنَ الرِّسَالَةِ وَالنُّبُوَّةِ، فَهُوَ الَّذِي يَقُولُ تَعَالَى [[في أ: "عز وجل".]] ﴿وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ [وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا] [[زيادة من م، أ، وفي هـ: "الآية".]] ﴾ [الْأَحْزَابِ:٧] وَهُوَ الَّذِي يَقُولُ: ﴿فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ [الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] الْآيَةَ [الرُّومِ:٣٠] ، وَمِنْ ذَلِكَ قَالَ: ﴿هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الأولَى﴾ [النَّجْمِ:٥٦] وَمِنْ ذَلِكَ قَالَ: ﴿وَمَا وَجَدْنَا لأكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ [وَإِنْ وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ] [[زيادة من د، ك، م، أ، وفي هـ: "الآية".]] ﴾ [الْأَعْرَافِ:١٠٢] .
رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ فِي مُسْنَدِ أَبِيهِ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَابْنُ جَرِيرٍ وَابْنُ مَرْدُويه فِي تَفَاسِيرِهِمْ، مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، بِهِ. وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعِكْرِمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَالْحَسَنِ، وَقَتَادَةَ، وَالسُّدِّيِّ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَاءِ السَّلَفِ، سِيَاقَاتٍ تُوَافِقُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ، اكْتَفَيْنَا بِإِيرَادِهَا عَنِ التَّطْوِيلِ فِي تلك الآثار كلها، وبالله المستعان.
فَهَذِهِ الْأَحَادِيثُ دَالَّةٌ عَلَى أَنَّ اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ، اسْتَخْرَجَ ذُرِّيَّةَ آدَمَ مِنْ صُلْبِهِ، وَمَيَّزَ بَيْنَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ، وَأَمَّا الْإِشْهَادُ عَلَيْهِمْ هُنَاكَ بِأَنَّهُ رَبُّهُمْ، فَمَا هُوَ إِلَّا فِي حَدِيثِ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ [[في أ: "جبير".]] عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] وَقَدْ بَيَّنَّا أَنَّهُمَا مَوْقُوفَانِ لَا مَرْفُوعَانِ، كَمَا تَقَدَّمَ. وَمِنْ ثَمَّ قَالَ قَائِلُونَ مِنَ السَّلَفِ وَالْخَلْفِ: إِنَّ الْمُرَادَ بِهَذَا الْإِشْهَادِ إِنَّمَا هُوَ فَطْرهم عَلَى التَّوْحِيدِ، كَمَا تَقَدَّمَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعِيَاضِ بْنِ حمَار المُجَاشعي، وَمِنْ رِوَايَةِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيع. وَقَدْ فَسَّرَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ الْآيَةَ بِذَلِكَ، قَالُوا: وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ﴾ وَلَمْ يَقُلْ: "مِنْ آدَمَ"، ﴿مِنْ ظُهُورِهِمْ﴾ وَلَمْ يُقَلْ: "مِنْ ظَهْرِهِ" ﴿ذُرِّيَّاتِهِمْ﴾ أَيْ: جَعَلَ نَسْلَهُمْ جِيلًا بَعْدَ جِيلٍ، وَقَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلائِفَ الأرْضِ﴾ [الْأَنْعَامِ:١٦٥] وَقَالَ: ﴿وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الأرْضِ﴾ [النَّمْلِ:٦٢] وَقَالَ: ﴿كَمَا أَنْشَأَكُمْ مِنْ ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ آخَرِينَ﴾ [الْأَنْعَامِ:١٣٣]
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى﴾ أَيْ: أَوَجَدَهُمْ شَاهِدِينَ بِذَلِكَ، قَائِلِينَ لَهُ حَالًا وَقَالَا. وَالشَّهَادَةُ تَارَةً تَكُونُ بِالْقَوْلِ، كَمَا قَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] ﴿قَالُوا شَهِدْنَا عَلَى أَنْفُسِنَا﴾ [الْأَنْعَامِ:١٣٠] الْآيَةَ، وَتَارَةً تَكُونُ حَالًا كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَنْ يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ﴾ [التَّوْبَةِ:١٧] أَيْ: حَالُهُمْ شَاهِدٌ عَلَيْهِمْ بِذَلِكَ لَا أَنَّهُمْ قَائِلُونَ ذَلِكَ، وَكَذَلِكَ [[في ك: "وكذا"، وفي م: "وهذا كقوله".]] قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَإِنَّهُ عَلَى ذَلِكَ لَشَهِيدٌ﴾ [الْعَادِيَاتِ:٧] كَمَا أَنَّ السُّؤَالَ تَارَةً يَكُونُ بِالْقَالِ، وَتَارَةً يَكُونُ بِالْحَالِ، كَمَا فِي قَوْلِهِ: ﴿وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ﴾ [إِبْرَاهِيمَ:٣٤] قَالُوا: وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِهَذَا هَذَا، أَنْ جَعَلَ هَذَا الْإِشْهَادَ حُجَّةً عَلَيْهِمْ فِي الْإِشْرَاكِ، فَلَوْ كَانَ قَدْ وَقَعَ هَذَا كَمَا قَالَهُ مَنْ قَالَ [[في م، أ: "قاله".]] لَكَانَ كُلُّ أَحَدٍ يَذْكُرُهُ، لِيُكُونَ حُجَّةً عَلَيْهِ. فَإِنْ قِيلَ: إِخْبَارُ الرَّسُولِ بِهِ كَافٍ فِي وُجُودِهِ، فَالْجَوَابُ: أَنَّ الْمُكَذِّبِينَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُكَذِّبُونَ بِجَمِيعِ مَا جَاءَتْهُمْ بِهِ الرُّسُلُ مِنْ هَذَا وَغَيْرِهِ. وَهَذَا جَعَلَ حُجَّةً مُسْتَقِلَّةً عَلَيْهِمْ، فَدَلَّ عَلَى أَنَّهُ الْفِطْرَةُ الَّتِي فُطِروا عَلَيْهَا مِنَ الْإِقْرَارِ بِالتَّوْحِيدِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَنْ يَقُولُوا﴾ [[في ك، م، أ: "تقولوا".]] أَيْ: لِئَلَّا يَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: ﴿إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا﴾ أَيْ: [عَنِ] [[زيادة من م، أ.]] التَّوْحِيدِ ﴿غَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا﴾ [[في م: "تقولوا".]] الْآيَةَ.
أَوْ تَقُولُوٓا۟ إِنَّمَآ أَشْرَكَ ءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةًۭ مِّنۢ بَعْدِهِمْ ۖ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلْمُبْطِلُونَ
Or [lest] you say, "It was only that our fathers associated [others in worship] with Allah before, and we were but descendants after them. Then would You destroy us for what the falsifiers have done?"
یا یہ (نہ) کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے بڑوں نے کیا تھا۔ اور ہم تو ان کی اولاد تھے (جو) ان کے بعد (پیدا ہوئے) ۔ تو کیا جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے
یا بگویید: «پدرانمان پیش از ما مشرک بودند، ما هم فرزندانی بعد از آنها بودیم؛ (و چارهای جز پیروی از آنان نداشتیم؛) آیا ما را به آنچه باطلگرایان انجام دادند مجازات میکنی؟!»
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) when your Lord brought forth from the Children of Adam, from their loins, their seed and made them testify as to themselves (saying): "Am I not your Lord?" They said: "Yes! We testify," lest you should say on the Day of Resurrection: "Verily, we were unaware of this. (172)Or lest you should say: "It was only our fathers aforetime who took others as partners in worship along with Allah, and we were (merely their) descendants after them; will You then destroy us because of the deeds of men who practiced falsehood? (173)Thus do We explain the Ayat in detail, so that they may turn (unto the truth)(174)
The Covenant taken from the Descendants of Adam
Allah stated that He brought the descendants of Adam out of their fathers' loins, and they testified against themselves that Allah is their Lord and King and that there is no deity worthy of worship except Him. Allah created them on this Fitrah, or way, just as He said,
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ
(So set you (O Muhammad) your face truly towards the religion, Hanifan. Allah's Fitrah with which He has created mankind. No change let there be in Khalqillah.)[30:30]
And it is recorded in the Two Sahihs from Abu Hurayrah who said that the Messenger of Allah ﷺ said,
كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُولَدُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ
(Every child is born upon the Fitrah, it is only his parents who turn him into a Jew, a Christian or a Zoroastrian. Just as animals are born having full bodies, do you see any of them having a cutoff nose (when they are born)) .
Muslim recorded that 'Iyad bin 'Himar said that the Messenger of Allah ﷺ said;
يَقُولُ اللهُ: إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ فَجَاءَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُم
(Allah said, 'I created My servants Hunafa' (monotheists), but the devils came to them and deviated them from their religion, prohibiting what I allowed.)
There are Hadiths that mention that Allah took Adam's offspring from his loins and divided them into those on the right and those on the left. Imam Ahmad recorded that Anas bin Malik said that the Prophet ﷺ said,
يُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهِ قَالَ: فَيَقُولُ: نَعَمْ فَيَقُولُ: قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ قَدْ أَخَذْتُ عَلَيْكَ فِي ظَهْرِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي
(It will be said to a man from the people of the Fire on the Day of Resurrection, 'If you owned all that is on the earth, would you pay it as ransom?' He will reply, 'Yes.' Allah will say, 'I ordered you with what is less than that, when you were still in Adam's loins, that is, associate none with Me (in worship). You insisted that you associate with Me (in worship).') This was recorded in the Two Sahihs
Commenting on this Ayah (7:172), At-Tirmidhi recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
لَمَّا خَلَقَ اللهُ آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَسَقَطَ مِنْ ظَهْرِهِ كُلُّ نَسَمَةٍ هُوَ خَالِقُهَا مِنْ ذُرِّيَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَجَعَلَ بَيْنَ عَيْنَي كَلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وَبِيصًا مِنْ نُورٍ ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى آدَمَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ مَنْ هؤُلَاءِ؟ قَالَ: هؤُلَاءِ ذُرِّيَّتُكَ فَرَأَىَ رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَعْجَبَهُ وَبِيصُ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ قَالَ: أَيْ رَبِّ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ آخِرِ الْأُمَمِ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ يُقَالُ لَهُ دَاوُدُ قَالَ: رَبِّ وَكَمْ جَعَلْتَ عُمْرَهُ؟ قَالَ: سِتِّينَ سَنَةً، قَالَ: أَيْ رَبِّ وَقَدْ وَهَبْتُ لَهُ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً فَلَمَّا انْقَضَى عُمْرُ آدَمَ جَاءَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ قَالَ: أَوَ لَمْ يَبْقَ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعُونَ سَنَةً قَالَ: أَوَ لَمْ تُعْطِهَا ابْنَكَ دَاوُدَ؟ قَالَ: فَجَحَدَ آدَمُ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ وَنَسِيَ آدَمُ فَنِسَيتْ ذُرِّيَّتُهُ وَخَطِىءَ آدَمُ فَخَطِئَتْ ذُرِّيَّتُهُ
(When Allah created Adam, He wiped Adam's back and every person that He will create from him until the Day of Resurrection fell out from his back. Allah placed a glimmering light between the eyes of each one of them. Allah showed them to Adam and Adam asked, 'O Lord! Who are they?' Allah said, 'These are your offspring.' Adam saw a man from among them whose light he liked. He asked, 'O Lord! Who is this man?' Allah said, 'This is a man from the latter generations of your offspring. His name is Dawud.' Adam said, 'O Lord! How many years would he live?' Allah said, 'Sixty years.' Adam said, 'O Lord! I have forfeited forty years from my life for him.' When Adam's life came to an end, the angel of death came to him (to take his soul). Adam said, 'I still have forty years from my life term, don't I?' He said, 'Have you not given it to your son Dawud?' So Adam denied that and his offspring followed suit (denying Allah's covenant), Adam forgot and his offspring forgot, Adam made a mistake and his offspring made mistakes.)
At-Tirmidhi said, "This Hadith is Hasan Sahih, and it was reported from various chains of narration through Abu Hurayrah from the Prophet ﷺ". Al-Hakim also recorded it in his Mustadrak, and said; "Sahih according to the criteria of Muslim, and they did not record it."
These and similar Hadiths testify that Allah, the Exalted and Most Honored, brought forth Adam's offspring from his loins and separated between the inhabitants of Paradise and those of the Fire. Allah then said,
وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَىٰ
(and made them testify as to themselves (saying): "Am I not your Lord?" They said: "Yes!")
Therefore, Allah made them testify with themselves by circumstance and words. Testimony is sometimes given in words, such as,
قَالُوا شَهِدْنَا عَلَىٰ أَنفُسِنَا
(They will say: "We bear witness against ourselves.")[6:130]
At other times, testimony is given by the people themselves, such as Allah's statement,
مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ
(It is not for the Mushrikin, (polytheists) to maintain the mosques of Allah, while they testify against their own selves of disbelief.)[9:17]
This Ayah means that their disbelief testifies against them, not that they actually testify against themselves here. Another Ayah of this type is Allah's statement,
وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ
(And to that he bears witness (by his deeds).)[100:7]
The same is the case with asking, sometimes takes the form of words and sometimes a situation or circumstance. For instance, Allah said,
وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ
(And He gave you of all that you asked for.)[14:34] Allah said here,
أَن تَقُولُوا
(lest you should say), on the Day of Resurrection
إِنَّا كُنَّا عَنْ هَٰذَا
(we were of this) of Tawhid
غَافِلِينَ - أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا
(unaware. Or lest you should say: "It was only our fathers aforetime who took others as partners in worship along with Allah,")[7:172-173]
Tafsir Ibn Kathir
ہر روح نے اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق مانا اولاد آدم سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب، خالق، مالک، معبود صرف وہی ہے۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی ناممکن ہے، بخاری و مسلم میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ اس دین پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں، حدیث قدسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا پھر شیطان نے آ کر انہیں ان کے سچے دین سے بہکا کر میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کردیں۔ قبیلہ بن سعد کے ایک صحابی حضرت اسود بن سریع فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چار غزوے کئے لوگوں نے لڑنے والے کفار کے قتل کے بعد ان کے بجوں کو بھی پکڑ لیا جب آپ کو اس کا علم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور فرمایا لوگ ان بچوں کو کیوں پکڑ رہے ہیں ؟ کسی نے کہا حضور وہ بھی تو مشرکوں کے ہی بچے ہیں ؟ فرمایا سنو تم میں سے بہتر لوگ مشرکین کی اولاد میں ہیں یاد رکھو ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر زبان چلنے پر اس کے ماں باپ یہودیت یا نصرانیت کی تعلیم دینے لگتے ہیں۔ اس کے راوی حضرت حسن فرماتے ہیں اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اللہ نے اولاد آدم سے اپنی توحید کا اقرار لیا ہے (ابن جریر) اس اقرار کے بارے میں کئی ایک حدیثیں مروی ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن دوزخی سے کہا جائے گا اگر تمام دنیا تیری ہو تو کیا تو خوش ہے کہ اسے اپنے فدئیے میں دے کر میرے عذابوں سے آج بچ جائے ؟ وہ کہے گا ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تو اس سے بہت ہی ہلکے درجے کی چیز تجھ سے طلب کی تھی اور اس کا وعدہ بھی تجھ سے لے لیا تھا کہ میرے سوا تو کسی اور کی عبادت نہ کرے لیکن تو عہد توڑے بغیر نہ رہا اور دوسرے کو میرا شریک عبادت ٹھہرایا۔ مسند میں ہے نعمان نامی میدان میں اللہ تعالیٰ نے پشت آدم میں سے عرفے کے دن ان کی تمام اولاد ظاہر فرمائی سب کو اس کے سامنے پھیلا دیا اور فرمایا کہ میں تم سب کا رب نہیں ہوں ؟ سب نے کہا ہاں ہم گواہ ہیں پھر آپ نے مبطلون تک تلاوت فرمائی۔ یہ روایت موقوف ابن عباس سے بھی مروی ہے واللہ اعلم۔ اس وقت لوگ چیونٹیوں کی طرح تھے اور تر زمین پر تھے۔ حضرت ضحاک بن مزاحم کے جھ دن کی عمر کے صاحبزادے کا انتقال ہوگیا تو آپ نے فرمایا جابر اسے دفن کر کے اس کا منہ کفن سے کھول دینا اور گرہ بھی کھول دینا کیونکہ میرا یہ بچہ بٹھا دیا جائے گا اور اس سے سوال کیا جائے گا جابر نے حکم کی بجا آوری کی، پھر میں نے پوچھا کہ آپ کے بجے سے کیا سوال ہوگا اور کون سوال کرے گا ؟ فرمایا اس میثاق کے بارے میں جو صلب آدم میں لیا گیا ہے سوال کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا وہ میثاق کیا ہے ؟ فرمایا میں نے حضرت ابن عباس سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو جتنے انسان قیامت تک پیدا ہونے والے ہیں سب کی روحیں آگئیں اللہ نے ان سے عہد و پیمان لیا کہ وہ اسی کی عبادت کریں گے اس کے سوا کسی اور کو معبود نہیں مانیں گے خود ان کے رزق کا کفیل بنا پھر انہیں صلب آدم میں لوٹا دیا۔ پس یہ سب قیامت سے پہلے ہی پہلے پیدا ہوں گے۔ جس نے اس وعدے کو پورا کیا اور اپنی زندگی میں اس پر قائم رہا اسے وہ وعدہ نفع دے گا اور جس نے اپنی زندگی میں اس کی خلاف ورزی کی اسے پہلے کا وعدہ کجھ فائدہ نہ دے گا۔ بچپن میں ہی جو مرگیا وہ میثاق اول پر اور فطرت پر مرا۔ ان آثار سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اوپر والی حدیث کا موقوف ہونا ہی اکثر اور زیادہ ثبوت والا ہے۔ ابن جریر کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بنی آدم کی پیٹھ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ایسی نکلایں جیسے کنگھی بالوں میں سے نکلتی ہے ان سے اپنی ربوبیت کا سوال کیا انہوں نے اقرار کیا فرشتوں نے شہادت دی اس لئے کہ یہ لوگ قیامت کے دن اس سے غفلت کا بہانہ نہ کریں۔ حضرت عمر ؓ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا یہی سوال رسول اللہ ﷺ سے ہوا تھا تو آپ نے میرے سنتے ہوئے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے حضرت آدم کو پیدا کیا اپنے داہنے ہاتھ سے ان کی پیٹھ کو چھوا اس سے اولاد نکلی فرمایا میں نے انہیں جہنم کیلئے پیدا کیا ہے یہ جہنمیوں کے اعمال کریں گے تو آپ سے سوال ہوا کہ پھر عمل کس گنتی میں ہیں ؟ آپ نے فرمایا جو جنتی ہے اس سے مرتے دم تک جنتیوں کے ہی اعمال سرزد ہوں گے اور جنت میں جائیں گے ہاں جو جہنم کیلئے پیدا کیا گیا ہے اس سے وہی اعمال سرزد ہوں گے انہی پر مرے گا اور جہنم میں داخل ہوگا (ابوداؤد) اور حدیث میں ہے کہ اولاد آدم کو نکال کر ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور رکھ کر حضرت آدم کے سامنے پیش کیا حضرت نے پوچھا کہ یا اللہ یہ کون ہیں ؟ فرمایا یہ تیری اولاد ہے ان میں سے ایک کے ماتھے کی چمک کو حضرت آدم کے سامنے پیش کیا حضرت نے پوچھا کہ یا اللہ یہ کون ہیں ؟ فرمایا یہ تیری اولاد میں سے بہت دور جا کر ہیں ان کا نام داؤد ہے پوچھا ان کی عمر کیا ہے ؟ فرمایا ساٹھ سال کہا یا اللہ چالیس سال میری عمر میں سے ان کی عمر میں زیادہ کر پس جب حضرت آدم کی روح کو قبض کرنے کیلئے فرشتہ آیا تو آپ نے فرمایا میری عمر میں سے تو ابھی چالیس سال باقی ہیں، فرشتے نے کہا آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے یہ چالیس سال اپنے بچے حضرت داؤد کو ہبہ کردیئے ہیں۔ بات یہ ہے چونکہ آدم نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی انکار کی عادی ہے آدم خود بھول گئے ان کی اولاد بھی بھولتی ہے آدم نے خطا کی ان کی اولاد بھی خطا کرتی ہے، یہ حدیث ترمذی میں ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح لکھتے ہیں اور روایت میں ہے کہ جب آدم ؑ نے دیکھا کہ کوئی ان میں جذامی ہے کوئی کوڑھی ہے کوئی اندھا ہے کوئی بیمار ہے تو پوچھا کہ یا اللہ اس میں کیا مصلحت ہے ؟ فرمایا یہ کہ میرا شکریہ کیا جائے۔ حضرت آدم ؑ نے پوچھا کہ یا اللہ ان میں یہ زیادہ روشن اور نورانی چہروں والے کون ہیں ؟ فرمایا یہ انبیاء ہیں۔ کسی شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں یہ ہمارا ذاتی عمل ہے یا کہ فیصل شدہ ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آدم کی اولاد کو ان کی پیٹھوں سے نکالا انہیں گواہ بنایا پھر اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا یہ جنتی ہیں اور یہ جہنمی۔ پس اہل جنت پر تو نیک کام آسان ہوتے ہیں اور دوزخیوں پر برے کام آسان ہوتے ہیں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور قضیہ ختم کیا تو جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملنے والا ہے انہیں اپنی داہنی مٹھی میں لیا اور بائیں والوں کو بائیں مٹھی میں لیا پھر فرمایا اے دائیں طرف والو انہوں نے کہا لبیک وسعد یک فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے کہا ہاں پھر سب کو ملا دیا کسی نے پوچھا یہ کیوں کیا ؟ فرمایا اس لئے کہ ان کے لئے اور اعمال ہیں جنہیں یہ کرنے والے ہیں یہ تو صرف اس لئے کہلوایا گیا ہے کہ انہیں یہ عذر نہ رہے کہ ہم اس سے غافل تھے۔ پھر سب کو صلب آدم میں لوٹا دیا۔ حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں اس میدان میں اس دن سب کو جمع کیا، صورتیں دیں، بولنے کی طاقت دی، پھر عہد و میثاق لیا اور اپنے رب ہونے پر خود انہیں گواہ بنایا اور ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور حضرت آدم کو گواہ بنایا کہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں علم نہ تھا جان لو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں نہ میرے سوا کوئی اور مربی ہے۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا میں اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تمہیں یہ وعدہ یاد دلائیں گے میں اپنی کتابیں اتاروں گا تاکہ تمہیں یہ عہد و میثاق یاد دلاتی رہیں سب نے جواب میں کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا رب ہے تو ہی ہمارا معبود ہے تیرے سوا ہمارا کوئی مربی نہیں۔ پس سب سے اطاعت کا وعدہ لیا اب جو حضرت آدم ؑ نے نظر اٹھا کر دیکھا تو امیر غریب اور اس کے سوا مختلف قسم کے لوگوں پر نظر پڑی تو آپ کہنے لگے کیا اچھا ہوتا کہ سب برابر ایک ہی حالت کے ہوتے تو جواب ملا کہ یہ اس لئے ہے کہ ہر شخص میری شکر گزاری کرے۔ آپ نے دیکھا کہ ان میں اللہ کے پیغمبر بھی ہیں ان سے پھر علیحدہ ایک اور میثاق لیا گیا جس کا بیان آیت (وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۠ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا ۙ) 33۔ الأحزاب :7) ، میں ہے۔ اسی عام میثاق کا بیان آیت (فطرۃ اللہ) میں ہے اسی لئے فرمان ہے آیت (ھذا نذیر من النزر الا ولی) اسی کا بیان اس آیت میں ہے (وما وجدنا لا کثرھم من عھد) (مسند احمد) حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ، حضرت سعید بن جبیر، حضرت حسن، حضرت قتادہ، حضرت سدی اور بہت سے سلف سے ان احادیث کے مطابق اقوال مروی ہیں جن سب کے وارد کرنے سے بہت طول ہوجائے گا ماحصل سب کا یہی ہے جو ہم نے بیان کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو آپ کی پیٹھ سے نکالا جنتی دوزخی الگ الگ کئے اور وہیں ان کو اپنے رب ہونے پر گواہ کرلیا یہ جن دو احادیث میں ہے وہ دونوں مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہیں اسی لئے سلف و خلف میں اس بات کے قائل گذرے ہیں کہ اس سے مراد فطرت پر پیدا کرنے ہے جیسے کہ مرفوع اور صحیح احادیث میں وارد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت (من بنی آدم) فرمایا اور آیت (من ظھور ھم) کہا ورنہ من آدم اور من ظھرہ ہوتا۔ ان کی نسلیں اس روز نکالی گئیں جو کہ یکے بعد دیگرے مختلف قرنوں میں ہونے والی تھیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ ۭ اِنَّ رَبَّكَ سَرِيْعُ الْعِقَابِ ڮوَاِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ01605) 6۔ الانعام :165) اللہ ہی نے تمہیں زمین میں دوسروں کا جانشین کیا ہے اور جگہ ہے وہی تمہیں زمین کے خلیفہ بنا رہا ہے اور آیت میں ہے جیسے تمہیں دوسرے لوگوں کی اولاد میں کیا۔ الغرض حال و قال سے سب نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کیا۔ شہادت قولی ہوتی ہے جیسے آیت (شھدنا علی انفسانا) میں اور شہادت کبھی حال سے ہوتی ہے جیسے آیت (مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بالْكُفْرِ ۭاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ښ وَفِي النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ 17) 9۔ التوبہ :17) میں یعنی ان کا حال ان کے کفر کی کھلی اور کافی شہادت ہے اس طرح کی آیت (وانہ علی ذالک لشھید) ہے۔ اسی طرح سوال بھی کبھی زبان سے ہوتا ہے کبھی حال سے۔ جیسے فرمان ہے (وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ 34) 14۔ ابراھیم :34) اس نیت میں تمہارے کا منہ مانگا دیا۔ کہتی ہیں کہ اس بات پر یہ دلیل بھی ہے کہ ان کے شرک کرنے پر یہ حجت ان کے خلاف پیش کی۔ پس اگر یہ واقع میں ہوا ہوتا جیسا کہ ایک قول ہے تو چاہئے تھا کہ ہر ایک کو یاد ہوتا تاکہ اس پر حجت رہے۔ اگر اس کا جواب یہ ہو کہ فرمان رسول سے خبر پالینا کافی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو رسولوں کو ہی نہیں مانتے وہ رسولوں کی دی ہوئی خبروں کو کب صحیح جانتے ہیں ؟ حالانکہ قرآن کریم نے رسولوں کی تکذیب کے علاوہ خود اس شہادت کو مستقل دلیل ٹھہرایا ہے پس اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد فطرت ربانی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے اور وہ فطرت توحید باری تعالیٰ ہے۔ اسی لئے فرماتا ہے کہ یہ اس لئے کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم توحید سے غافل تھے اور یہ بھی نہ کہہ سکو کہ شرک تو ہمارے اگلے باپ دادوں نے کیا تھا ان کے اس ایجاد کردہ گناہ پر ہمیں سزا کیوں ؟ پھر تفصیل وار آیات کے بیان فرمانے کا راز ظاہر کیا کہ اس کو سن کر برائیوں سے باز آجانا ممکن ہوجاتا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُ اسْتَخْرَجَ ذُرِّيَّةَ بَنِي آدَمَ مِنْ أَصْلَابِهِمْ، شَاهِدِينَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَنَّ اللَّهَ رَبُّهُمْ وَمَلِيكُهُمْ، وَأَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ. كَمَا أَنَّهُ تَعَالَى فَطَرَهُمْ عَلَى ذَلِكَ وَجَبَلَهُمْ عَلَيْهِ، قَالَ تَعَالَى: ﴿فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ﴾ [الرُّومِ:٣٠] وَفِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ -وَفِي رِوَايَةٍ: عَلَى هَذِهِ الْمِلَّةِ -فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، وَيُنَصِّرَانِهِ، وَيُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُولَدُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ" وَفِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "يَقُولُ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من ك، م.]] إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ فَجَاءَتْهُمُ [[في م: "فجاءت".]] الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ، عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ" [[صحيح مسلم برقم (٢٨٦٥) ، وسبق تخريجه هو والذي قبله عند الآية: ٣٠.]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى: أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ حَدَّثَهُمْ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سُرَيْعٍ مِنْ بَنِي سَعْدٍ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَرْبَعَ غَزَوَاتٍ، قَالَ: فَتَنَاوَلَ الْقَوْمُ الذُّرِّيَّةَ بَعْدَ مَا قَتَلُوا الْمُقَاتَلَةَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَنَاوَلُونَ الذُّرِّيَّةَ؟ " قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسُوا أَبْنَاءَ الْمُشْرِكِينَ؟ فَقَالَ: "إِنَّ خِيَارَكُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ! أَلَا إِنَّهَا لَيْسَتْ نِسْمَةٌ تُولَدُ إِلَّا وُلِدَتْ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَمَا تَزَالُ عَلَيْهَا حَتَّى يُبَيِّنَ عَنْهَا لِسَانُهَا، فَأَبَوَاهَا يُهَوِّدَانِهَا أَوْ [[في م: "و".]] يُنَصِّرَانِهَا". قَالَ الْحَسَنُ: وَاللَّهِ لَقَدْ قَالَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ [وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ] ﴾ [[زيادة من أ.]] الآية [[تفسير الطبري (١٣/٣٢١) .]] وقد رواه الإمام أحمد، عَنِ اسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ [[المسند (٣/٤٣٥) .]] بِهِ. وَأَخْرَجَهُ النَّسَائِيُّ فِي سُنَنِهِ مِنْ حَدِيثِ هُشَيْم، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: حدثنا الأسود ابن سَرِيع، فَذَكَرَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَاسْتِحْضَارَهُ الْآيَةَ عِنْدَ ذَلِكَ [[سنن النسائي الكبرى برقم (٨٦١٦) .]]
وَقَدْ وَرَدَتْ أَحَادِيثُ فِي أَخْذِ الذُّرِّيَّةِ مِنْ صلْب آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَتَمْيِيزِهِمْ إِلَى أَصْحَابِ الْيَمِينِ وَ [إِلَى] [[زيادة من ك، م، أ.]] أَصْحَابِ الشِّمَالِ، وَفِي بَعْضِهَا [[في أ: "وفي بعض".]] الِاسْتِشْهَادُ عَلَيْهِمْ بِأَنَّ اللَّهَ رَبُّهُمْ.
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَجَّاج، حَدَّثَنَا شُعْبة، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الجَوْني، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "يُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهِ؟ " قَالَ: "فَيَقُولُ: نَعَمْ. فَيَقُولُ: قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ، قَدْ أَخَذْتُ عَلَيْكَ فِي ظَهْرِ آدَمَ [[في أ: "ظهر أبيك".]] أَلَّا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا، فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي".
أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، بِهِ [[المسند (٣/١٢٧) وصحيح البخاري برقم (٣٣٣٤) وصحيح مسلم برقم (٢٨٠٥) .]]
حَدِيثٌ آخَرُ: وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ -يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ -عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَابِرٍ [[في ك، م: "جبر"، وفي أ: "جبير".]] عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَير، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ أَخَذَ الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِنُعْمَانَ. يَعْنِي [[في ك، م، أ: "يوم".]] عَرَفَةَ فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ كُلَّ ذُرِّيَّةٍ ذَرَأَهَا فَنَثَرَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قُبُلًا قَالَ: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿الْمُبْطِلُونَ﴾
وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ النَّسَائِيُّ فِي كِتَابِ التَّفْسِيرِ مِنْ سُنَنِهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ -صَاعِقَةٍ -عَنْ حُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيِّ، بِهِ. وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ حَدِيثِ حُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ [[المسند (١/٢٧٢) وسنن النسائي الكبرى برقم (١١١٩١) وتفسير الطبري (١٣/٢٢٢) وقال النسائي: "كلثوم هذا ليس بالقوى، وحديثه ليس بالمحفوظ".]] بِهِ. إِلَّا أَنَّ ابْنَ أَبِي حَاتِمٍ جَعَلَهُ مَوْقُوفًا. وَأَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ فِي مُسْتَدْرَكِهِ مِنْ حَدِيثِ حُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْر، بِهِ. وَقَالَ: صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِكُلْثُومِ بْنِ جُبَيْرٍ [[في ك، م: "جبر".]] [[المستدرك (١/٢٧) .]] هَكَذَا قَالَ، وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ [[في أ: "جبير".]] عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَوَقَفَهُ [[أخرجه الطبري في تفسيره (١٣/١٧٢) .]] وَكَذَا رواه إسماعيل بن عُلَيَّةَ ووَكِيع، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كُلْثُومٍ، عَنْ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِهِ. [[رواه الطبري في تفسيره (١٣/٢٢٤) من طريق ابن علية ورواه (١٣/٢٢٩) من طريق وكيع.]] وَكَذَا رَوَاهُ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَحَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، وَعَلِيُّ بْنُ بَذِيمة، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[تفسير الطبري (١٣/٢٢٧ - ٢٢٩) .]] قَوْلُهُ، وَكَذَا رَوَاهُ العَوْفي وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[تفسير الطبري (١٣ / ٢٣٦، ٢٣٧) .]] فَهَذَا أَكْثَرُ وَأَثْبَتُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَكِيع، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَة الضُّبَعِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] قَالَ: أَخْرَجَ اللَّهُ ذُرِّيَّةَ آدَمَ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] مِنْ ظَهْرِهِ كَهَيْئَةِ الذَّرِّ، وَهُوَ فِي آذِي مِنَ الْمَاءِ.
وَقَالَ أَيْضًا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا ضَمْرَة بْنُ رَبِيعَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ عَنْ جُوبير قَالَ: مَاتَ ابْنٌ لِلضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِم، [وَهُوَ] [[زيادة من م.]] ابْنُ سِتَّةِ أَيَّامٍ. قَالَ: فَقَالَ: يَا جَابِرُ، إِذَا أَنْتَ وَضَعْتَ ابْنِي فِي لَحْدِهِ، فَأَبْرِزْ وَجْهَهُ، وحُلّ عَنْهُ عُقَدَهُ، فَإِنَّ ابْنِي مُجْلَس، وَمَسْئُولٌ. فَفَعَلْتُ بِهِ الَّذِي أَمَرَ، فَلَمَّا فَرَغْتُ قُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، عَمَّ يُسأل ابْنُكَ؟ مَنْ يَسْأَلُهُ إِيَّاهُ؟ قَالَ: يُسْأل عَنِ الميثاق الذي أقر به في [[في ك، م، أ: "من".]] صلب آدم. قُلْتُ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، وَمَا هَذَا الْمِيثَاقُ الَّذِي أَقَرَّ بِهِ فِي [[في ك، م، أ: "من".]] صُلْبِ آدَمَ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] ؛ أَنَّ اللَّهَ مَسَحَ صُلْبَ آدَمَ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ كُلَّ نَسَمَةٍ هُوَ خَلَقَهَا [[في ك، م، أ: "خالقها".]] إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَأَخَذَ مِنْهُمُ الْمِيثَاقَ: أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَتَكَفَّلَ لَهُمْ بِالْأَرْزَاقِ، ثُمَّ أَعَادَهُمْ فِي صُلْبِهِ. فَلَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ حَتَّى يُولَدَ مَنْ أَعْطَى الْمِيثَاقَ يَوْمَئِذٍ، فَمَنْ أَدْرَكَ مِنْهُمُ الْمِيثَاقَ الْآخِرَ فَوَفَّى بِهِ، نَفَعَهُ الْمِيثَاقُ الْأَوَّلُ. وَمَنْ أَدْرَكَ الْمِيثَاقَ الْآخِرَ فَلَمْ يَفِ [[في ك، م: "يقر".]] بِهِ، لَمْ يَنْفَعْهُ الْمِيثَاقُ الْأَوَّلُ. وَمَنْ مَاتَ صَغِيرًا قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَ الْمِيثَاقَ الْآخَرَ، مَاتَ عَلَى الْمِيثَاقِ الْأَوَّلِ عَلَى الْفِطْرَةِ [[تفسير الطبري (١٣/٢٣٠) .]]
فَهَذِهِ الطُّرُقُ كُلُّهَا مِمَّا تقوِّي وَقْف هَذَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
حَدِيثٌ آخَرُ: وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي طَيْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنِ الضَّحَّاكِ وَعَنْ [[في م: "بن".]] -مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ -عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ﴾ قَالَ: "أَخَذَ مِنْ ظَهْرِهِ، كَمَا يُؤْخَذُ بِالْمُشْطِ مِنَ الرَّأْسِ، فَقَالَ لَهُمْ: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى﴾ قَالَتِ الْمَلائِكَةُ ﴿شَهِدْنَا أَنْ يَقُولُوا﴾ [[في أ: "تقولوا".]] يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ [[تفسير الطبري (١٣/٢٣٢) قال الطبري: "ولأعلمه صحيحا؛ لأن الثقات الذين يعتمد على حفظهم واتقانهم، حدثوا بهذا الحديث عن الثوري فوقفوه على عبد الله بن عمرو، ولم يرفعوه ولم يذكروا في الحديث هذا الحرف الذي ذكره أحمد بن أبي طيبة عنه".]]
أَحْمَدُ بْنُ أَبِي طَيْبَةَ هَذَا هُوَ: أَبُو مُحَمَّدٍ الْجُرْجَانِيُّ قَاضِي قَوْمَسَ، كَانَ أَحَدَ الزُّهَّادِ، أَخْرَجَ لَهُ النَّسَائِيُّ فِي سُنَنِهِ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ: يُكْتَبُ حَدِيثُهُ. وَقَالَ ابْنُ عَدِيّ: حَدَّثَ بِأَحَادِيثَ أَكْثَرُهَا [[في ك، م، أ: "كثيرة".]] غَرَائِبُ.
وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عن منصور، عن مجاهد، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَوْلُهُ، وَكَذَا رَوَاهُ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهِ. وَهَذَا أَصَحُّ [[تفسير الطبري (١٣/٢٣٣) .]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
حَدِيثٌ آخَرُ: قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا رَوْحٌ -هُوَ ابْنُ عُبَادَةَ -حَدَّثَنَا مَالِكٌ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسةَ: أَنَّ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَخْبَرَهُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسار الجُهَني: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سُئِل عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى﴾ الْآيَةَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، سُئل عَنْهَا، فَقَالَ: "إِنِ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ بِيَمِينِهِ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، قَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ، وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ. ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، قَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلنَّارِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِذَا خَلَقَ اللَّهُ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ، اسْتَعْمَلَهُ بِأَعْمَالِ [[في ك، م، أ: "بعمل".]] أَهْلِ الْجَنَّةِ، حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيُدْخِلَهُ [[في ك، م، أ: "فيدخل".]] بِهِ الْجَنَّةَ. وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ، اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ، فَيُدْخِلَهُ [[في أ: "فيدخل".]] بِهِ النَّارَ".
وَهَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنِ القَعْنَبي -وَالنَّسَائِيُّ عَنْ قُتَيْبَةَ -وَالتِّرْمِذِيُّ [[في ك، م، أ: "والترمذي في تفسيرهما".]] عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَعْن. وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ. وَابْنُ جَرِيرٍ مِنْ حديث روح ابن عُبَادَةَ وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ. وَأَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانٍ فِي صَحِيحِهِ، مِنْ رِوَايَةِ أَبِي مُصْعَبٍ الزُّبَيْرِيِّ، كُلُّهُمْ عَنِ الْإِمَامِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، بِهِ [[المسند (١/٤٤) وسنن أبي داود برقم (٤٧٠٣) وسنن النسائي الكبرى برقم (١١١٩٠) وسنن الترمذي برقم (٣٠٧٥) وتفسير الطبري (١٣/٢٣٣) .]]
قَالَ التِّرْمِذِيُّ: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَمُسْلِمُ بْنُ يَسَار لَمْ يَسْمَعْ [[في أ: "لم يسمع من".]] عُمَر. وَكَذَا قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو زُرْعَة. زَادَ أَبُو حَاتِمٍ: وَبَيْنَهُمَا نُعَيْم بْنُ رَبِيعَةَ.
وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي سُنَنِهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُصَفَّى، عَنْ بَقِيَّةَ، عن عمر ابن جُعْثُم [[في أ: "عمرو بن خثعم".]] الْقُرَشِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَة، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَار الْجُهَنِيِّ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] وَقَدْ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ﴾ فَذَكَرَهُ [[سنن أبي داود برقم (٤٧٠٤) ورواه الطبري في تفسيره (١٣/٢٣٥) من طريق محمد بن مصفى، به.]]
وَقَالَ الْحَافِظُ الدَّارَقُطْنِيُّ: وَقَدْ تَابَعَ عُمَرَ بْنَ جُعْثُم بْنِ زَيْدِ بْنِ سِنان أَبُو فَرْوَة الرَّهَاوي، وَقَوْلُهُمَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ قَوْلِ مَالِكٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ [[العلل للدارقطني (٢/٢٢١ - ٢٢٣) .]]
قُلْتُ: الظَّاهِرُ أَنَّ الْإِمَامَ مَالِكًا إِنَّمَا أَسْقَطَ ذِكْرَ "نُعَيْمَ بْنَ رَبِيعَةَ" عمدًا؛ لما جهل حاله ولم يعرفه، فَإِنَّهُ غَيْرُ مَعْرُوفٍ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَكَذَلِكَ يُسْقِطُ ذِكْرَ جَمَاعَةٍ مِمَّنْ لَا يَرْتَضِيهِمْ؛ وَلِهَذَا يُرْسِلُ كَثِيرًا مِنَ الْمَرْفُوعَاتِ، وَيَقْطَعُ كَثِيرًا مِنَ الْمَوْصُولَاتِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
حَدِيثٌ آخَرُ: قَالَ التِّرْمِذِيُّ عِنْدَ تَفْسِيرِهِ هَذِهِ الْآيَةَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْم، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ [عَزَّ وَجَلَّ] [[زيادة من أ.]] آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهُ، فَسَقَطَ مِنْ ظَهْرِهِ كُلُّ نَسَمة هُوَ خَالِقُهَا مِنْ ذُرِّيَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَجَعَلَ بَيْنَ عَيْنَيْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وَبيصًا مِنْ نُورٍ، ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى آدَمَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ ذَرِّيَّتُكَ. فَرَأَى رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَعْجَبَهُ وَبِيص مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ آخِرِ الْأُمَمِ مِنْ ذُرّيتك، يُقَالُ لَهُ: دَاوُدُ. قَالَ: رَبِّ، وَكَمْ جَعَلْتَ عُمُرَهُ؟ قَالَ: سِتِّينَ سَنَةً. قَالَ: أَيْ رَبِّ، زِدْهُ مِنْ عُمُرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً. فَلَمَّا انْقَضَى عُمُرُ آدَمَ، جَاءَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ قَالَ: أَوْ لَمْ يَبْقَ مِنْ عُمُرِي أَرْبَعُونَ [[في د، أ: "أربعين".]] سَنَةً؟ قَالَ: أوَ لَمْ تُعْطِهَا ابْنَكَ دَاوُدَ؟ قَالَ: فَجَحَدَ آدَمُ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ، وَنَسِيَ آدَمُ فَنَسِيَتْ ذُرِّيَّتُهُ، وَخَطِئَ آدَمُ فَخَطِئَتْ ذُرِّيَّتُهُ".
ثُمَّ قَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوي مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ.
وَرَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي مُسْتَدْرَكِهِ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي نُعَيْم الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْن، بِهِ. وَقَالَ: صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [[سنن الترمذي برقم (٣٠٧٦) والمستدرك (٢/٣٢٥) .]]
وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ فِي تَفْسِيرِهِ، مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ، إِلَى أَنْ قَالَ: "ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى آدَمَ فَقَالَ: يَا آدَمُ، هَؤُلَاءِ ذَرِّيَّتُكَ. وَإِذَا فِيهِمُ الْأَجْذَمُ وَالْأَبْرَصُ وَالْأَعْمَى، وَأَنْوَاعُ الْأَسْقَامِ، فَقَالَ آدَمُ: يَا رَبِّ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا بِذُرِّيَّتِي؟ قَالَ: كَيْ تُشْكَرَ نِعْمَتِي. وَقَالَ آدَمُ: يَا رَبِّ، مِنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ أَرَاهُمْ أظْهَرَ النَّاسِ نُورًا؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الْأَنْبِيَاءُ يَا آدَمُ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ". ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ دَاوُدَ، كَنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ [[ورواه أبو الشيخ في العظمة برقم (١٠١٥) من طريق محمد بن شعيب، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، به. وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعِيفُ.]]
حَدِيثٌ آخَرُ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَتَادَةَ النَّصْري [[في أ: "البصري".]] عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُبْدَأُ الْأَعْمَالُ، أَمْ قَدْ قُضِي الْقَضَاءُ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَخَذَ ذُرِّيَّةَ آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ، ثُمَّ أَشْهَدُهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ أَفَاضَ بِهِمْ فِي كَفَّيْهِ" ثُمَّ قَالَ: "هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ، فَأَهْلُ الْجَنَّةِ مُيَسَّرون لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَهْلُ النَّارِ مُيَسَّرون لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ".
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، وَابْنُ مَرْدَوَيْهِ من طرق عنه [[تفسير الطبري (١٣/٢٤٤) وقد توسع الشيخ محمود شاكر في الكلام عليه في الحاشية بما يغني عن إعادته هنا.]] حَدِيثٌ آخَرُ: رَوَى جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ -وَهُوَ ضَعِيفٌ -عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ، وَقَضَى الْقَضِيَّةَ، أَخَذَ أَهْلَ الْيَمِينِ بِيَمِينِهِ وَأَهْلَ الشِّمَالِ بِشِمَالِهِ، فَقَالَ: يَا أَصْحَابَ الْيَمِينِ. فَقَالُوا: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ. قَالَ: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى. قَالَ: يَا أَصْحَابَ الشِّمَالِ. قَالُوا: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ. قَالَ: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى ثُمَّ خَلَطَ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَبِّ، لِمَ خَلَطْتَ بَيْنَهُمْ؟ قَالَ: لَهُمْ أَعْمَالٌ مِنْ دُونِ ذَلِكَ هُمْ لَهَا عَامِلُونَ، أَنْ يَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ، ثُمَّ رَدَّهُمْ فِي صُلْبِ آدَمَ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] . رَوَاهُ ابْنُ مَرْدَوَيْهِ [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (٨/٢٨٧) من طريق عثمان بن االهيثم، عن جعفر بن الزبير به. وجعفر بن الزبير ضعيف جدا، وقد توبع:
تابعه بشر بن نمير عن القاسم عن أبي أمامة بنحوه. ورواه أبو الشيخ في العظمة برقم (٢٢٨) والعقيلي في الضعفاء الكبير (١/٥١) ، ولكن لم يفرح بهذه المتابعة فإن بشر بن نمير متروك متهم.]]
أَثَرٌ آخَرُ: قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبي بْنِ كَعْبٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى [[في أ: "الله عز وجل".]] ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ﴾ الْآيَةَ وَالَّتِي بَعْدَهَا، قَالَ: فَجَمْعُهُمْ لَهُ يَوْمَئِذٍ جَمِيعًا، مَا هُوَ كَائِنٌ مِنْهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَجَعَلَهُمْ أَرْوَاحًا ثُمَّ صَوَّرَهُمْ ثُمَّ اسْتَنْطَقَهُمْ فَتَكَلَّمُوا، وَأَخَذَ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ، وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى، الْآيَةَ. قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُ عَلَيْكُمُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ، والأرَضِين السَّبْعَ، وَأُشْهِدُ عَلَيْكُمْ أَبَاكُمْ آدَمَ أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: لَمْ نَعْلَمْ بِهَذَا اعْلَمُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرِي، وَلَا رَبَّ غَيْرِي، فَلَا تُشْرِكُوا بِي شَيْئًا، وَإِنِّي سَأُرْسِلُ إِلَيْكُمْ رُسُلًا يُذَكِّرُونَكُمْ [[في أ: "ينذرونكم".]] عَهْدِي وَمِيثَاقِي، وَأْنْزِلُ عَلَيْكُمْ كُتُبِي. قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ رَبُّنَا وَإِلَهُنَا، لَا رَبَّ لَنَا غَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ لَنَا غَيْرُكَ. فَأَقَرُّوا لَهُ يَوْمَئِذٍ بِالطَّاعَةِ، وَرَفَعَ أَبَاهُمْ آدَمُ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ، فَرَأَى فِيهِمُ الْغَنِيَّ وَالْفَقِيرَ، وَحَسَنَ الصُّورَةِ وَدُونَ ذَلِكَ. فَقَالَ: يَا رَبِّ، لَوْ سَويت بَيْنَ عِبَادِكَ؟ قَالَ: إِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أُشْكَرَ. وَرَأَى فِيهِمُ الْأَنْبِيَاءَ مِثْلَ السرُج عَلَيْهِمُ النُّورُ، وَخُصُّوا بِمِيثَاقٍ آخَرَ مِنَ الرِّسَالَةِ وَالنُّبُوَّةِ، فَهُوَ الَّذِي يَقُولُ تَعَالَى [[في أ: "عز وجل".]] ﴿وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ [وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا] [[زيادة من م، أ، وفي هـ: "الآية".]] ﴾ [الْأَحْزَابِ:٧] وَهُوَ الَّذِي يَقُولُ: ﴿فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ [الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] الْآيَةَ [الرُّومِ:٣٠] ، وَمِنْ ذَلِكَ قَالَ: ﴿هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الأولَى﴾ [النَّجْمِ:٥٦] وَمِنْ ذَلِكَ قَالَ: ﴿وَمَا وَجَدْنَا لأكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ [وَإِنْ وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ] [[زيادة من د، ك، م، أ، وفي هـ: "الآية".]] ﴾ [الْأَعْرَافِ:١٠٢] .
رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ فِي مُسْنَدِ أَبِيهِ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَابْنُ جَرِيرٍ وَابْنُ مَرْدُويه فِي تَفَاسِيرِهِمْ، مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، بِهِ. وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعِكْرِمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَالْحَسَنِ، وَقَتَادَةَ، وَالسُّدِّيِّ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَاءِ السَّلَفِ، سِيَاقَاتٍ تُوَافِقُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ، اكْتَفَيْنَا بِإِيرَادِهَا عَنِ التَّطْوِيلِ فِي تلك الآثار كلها، وبالله المستعان.
فَهَذِهِ الْأَحَادِيثُ دَالَّةٌ عَلَى أَنَّ اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ، اسْتَخْرَجَ ذُرِّيَّةَ آدَمَ مِنْ صُلْبِهِ، وَمَيَّزَ بَيْنَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ، وَأَمَّا الْإِشْهَادُ عَلَيْهِمْ هُنَاكَ بِأَنَّهُ رَبُّهُمْ، فَمَا هُوَ إِلَّا فِي حَدِيثِ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ [[في أ: "جبير".]] عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] وَقَدْ بَيَّنَّا أَنَّهُمَا مَوْقُوفَانِ لَا مَرْفُوعَانِ، كَمَا تَقَدَّمَ. وَمِنْ ثَمَّ قَالَ قَائِلُونَ مِنَ السَّلَفِ وَالْخَلْفِ: إِنَّ الْمُرَادَ بِهَذَا الْإِشْهَادِ إِنَّمَا هُوَ فَطْرهم عَلَى التَّوْحِيدِ، كَمَا تَقَدَّمَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعِيَاضِ بْنِ حمَار المُجَاشعي، وَمِنْ رِوَايَةِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيع. وَقَدْ فَسَّرَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ الْآيَةَ بِذَلِكَ، قَالُوا: وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ﴾ وَلَمْ يَقُلْ: "مِنْ آدَمَ"، ﴿مِنْ ظُهُورِهِمْ﴾ وَلَمْ يُقَلْ: "مِنْ ظَهْرِهِ" ﴿ذُرِّيَّاتِهِمْ﴾ أَيْ: جَعَلَ نَسْلَهُمْ جِيلًا بَعْدَ جِيلٍ، وَقَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلائِفَ الأرْضِ﴾ [الْأَنْعَامِ:١٦٥] وَقَالَ: ﴿وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الأرْضِ﴾ [النَّمْلِ:٦٢] وَقَالَ: ﴿كَمَا أَنْشَأَكُمْ مِنْ ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ آخَرِينَ﴾ [الْأَنْعَامِ:١٣٣]
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى﴾ أَيْ: أَوَجَدَهُمْ شَاهِدِينَ بِذَلِكَ، قَائِلِينَ لَهُ حَالًا وَقَالَا. وَالشَّهَادَةُ تَارَةً تَكُونُ بِالْقَوْلِ، كَمَا قَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] ﴿قَالُوا شَهِدْنَا عَلَى أَنْفُسِنَا﴾ [الْأَنْعَامِ:١٣٠] الْآيَةَ، وَتَارَةً تَكُونُ حَالًا كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَنْ يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ﴾ [التَّوْبَةِ:١٧] أَيْ: حَالُهُمْ شَاهِدٌ عَلَيْهِمْ بِذَلِكَ لَا أَنَّهُمْ قَائِلُونَ ذَلِكَ، وَكَذَلِكَ [[في ك: "وكذا"، وفي م: "وهذا كقوله".]] قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَإِنَّهُ عَلَى ذَلِكَ لَشَهِيدٌ﴾ [الْعَادِيَاتِ:٧] كَمَا أَنَّ السُّؤَالَ تَارَةً يَكُونُ بِالْقَالِ، وَتَارَةً يَكُونُ بِالْحَالِ، كَمَا فِي قَوْلِهِ: ﴿وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ﴾ [إِبْرَاهِيمَ:٣٤] قَالُوا: وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِهَذَا هَذَا، أَنْ جَعَلَ هَذَا الْإِشْهَادَ حُجَّةً عَلَيْهِمْ فِي الْإِشْرَاكِ، فَلَوْ كَانَ قَدْ وَقَعَ هَذَا كَمَا قَالَهُ مَنْ قَالَ [[في م، أ: "قاله".]] لَكَانَ كُلُّ أَحَدٍ يَذْكُرُهُ، لِيُكُونَ حُجَّةً عَلَيْهِ. فَإِنْ قِيلَ: إِخْبَارُ الرَّسُولِ بِهِ كَافٍ فِي وُجُودِهِ، فَالْجَوَابُ: أَنَّ الْمُكَذِّبِينَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُكَذِّبُونَ بِجَمِيعِ مَا جَاءَتْهُمْ بِهِ الرُّسُلُ مِنْ هَذَا وَغَيْرِهِ. وَهَذَا جَعَلَ حُجَّةً مُسْتَقِلَّةً عَلَيْهِمْ، فَدَلَّ عَلَى أَنَّهُ الْفِطْرَةُ الَّتِي فُطِروا عَلَيْهَا مِنَ الْإِقْرَارِ بِالتَّوْحِيدِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَنْ يَقُولُوا﴾ [[في ك، م، أ: "تقولوا".]] أَيْ: لِئَلَّا يَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: ﴿إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا﴾ أَيْ: [عَنِ] [[زيادة من م، أ.]] التَّوْحِيدِ ﴿غَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا﴾ [[في م: "تقولوا".]] الْآيَةَ.
وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
And thus do We [explain in] detail the verses, and perhaps they will return.
اور اسی طرح ہم (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ رجوع کریں
این گونه، آیات را توضیح میدهیم؛ و شاید به سوی حق بازگردند (و بدانند ندای توحید در درون جانشان، از روز نخست بوده است)!
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) when your Lord brought forth from the Children of Adam, from their loins, their seed and made them testify as to themselves (saying): "Am I not your Lord?" They said: "Yes! We testify," lest you should say on the Day of Resurrection: "Verily, we were unaware of this. (172)Or lest you should say: "It was only our fathers aforetime who took others as partners in worship along with Allah, and we were (merely their) descendants after them; will You then destroy us because of the deeds of men who practiced falsehood? (173)Thus do We explain the Ayat in detail, so that they may turn (unto the truth)(174)
The Covenant taken from the Descendants of Adam
Allah stated that He brought the descendants of Adam out of their fathers' loins, and they testified against themselves that Allah is their Lord and King and that there is no deity worthy of worship except Him. Allah created them on this Fitrah, or way, just as He said,
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ
(So set you (O Muhammad) your face truly towards the religion, Hanifan. Allah's Fitrah with which He has created mankind. No change let there be in Khalqillah.)[30:30]
And it is recorded in the Two Sahihs from Abu Hurayrah who said that the Messenger of Allah ﷺ said,
كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُولَدُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ
(Every child is born upon the Fitrah, it is only his parents who turn him into a Jew, a Christian or a Zoroastrian. Just as animals are born having full bodies, do you see any of them having a cutoff nose (when they are born)) .
Muslim recorded that 'Iyad bin 'Himar said that the Messenger of Allah ﷺ said;
يَقُولُ اللهُ: إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ فَجَاءَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُم
(Allah said, 'I created My servants Hunafa' (monotheists), but the devils came to them and deviated them from their religion, prohibiting what I allowed.)
There are Hadiths that mention that Allah took Adam's offspring from his loins and divided them into those on the right and those on the left. Imam Ahmad recorded that Anas bin Malik said that the Prophet ﷺ said,
يُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهِ قَالَ: فَيَقُولُ: نَعَمْ فَيَقُولُ: قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ قَدْ أَخَذْتُ عَلَيْكَ فِي ظَهْرِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي
(It will be said to a man from the people of the Fire on the Day of Resurrection, 'If you owned all that is on the earth, would you pay it as ransom?' He will reply, 'Yes.' Allah will say, 'I ordered you with what is less than that, when you were still in Adam's loins, that is, associate none with Me (in worship). You insisted that you associate with Me (in worship).') This was recorded in the Two Sahihs
Commenting on this Ayah (7:172), At-Tirmidhi recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
لَمَّا خَلَقَ اللهُ آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَسَقَطَ مِنْ ظَهْرِهِ كُلُّ نَسَمَةٍ هُوَ خَالِقُهَا مِنْ ذُرِّيَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَجَعَلَ بَيْنَ عَيْنَي كَلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وَبِيصًا مِنْ نُورٍ ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى آدَمَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ مَنْ هؤُلَاءِ؟ قَالَ: هؤُلَاءِ ذُرِّيَّتُكَ فَرَأَىَ رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَعْجَبَهُ وَبِيصُ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ قَالَ: أَيْ رَبِّ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ آخِرِ الْأُمَمِ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ يُقَالُ لَهُ دَاوُدُ قَالَ: رَبِّ وَكَمْ جَعَلْتَ عُمْرَهُ؟ قَالَ: سِتِّينَ سَنَةً، قَالَ: أَيْ رَبِّ وَقَدْ وَهَبْتُ لَهُ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً فَلَمَّا انْقَضَى عُمْرُ آدَمَ جَاءَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ قَالَ: أَوَ لَمْ يَبْقَ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعُونَ سَنَةً قَالَ: أَوَ لَمْ تُعْطِهَا ابْنَكَ دَاوُدَ؟ قَالَ: فَجَحَدَ آدَمُ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ وَنَسِيَ آدَمُ فَنِسَيتْ ذُرِّيَّتُهُ وَخَطِىءَ آدَمُ فَخَطِئَتْ ذُرِّيَّتُهُ
(When Allah created Adam, He wiped Adam's back and every person that He will create from him until the Day of Resurrection fell out from his back. Allah placed a glimmering light between the eyes of each one of them. Allah showed them to Adam and Adam asked, 'O Lord! Who are they?' Allah said, 'These are your offspring.' Adam saw a man from among them whose light he liked. He asked, 'O Lord! Who is this man?' Allah said, 'This is a man from the latter generations of your offspring. His name is Dawud.' Adam said, 'O Lord! How many years would he live?' Allah said, 'Sixty years.' Adam said, 'O Lord! I have forfeited forty years from my life for him.' When Adam's life came to an end, the angel of death came to him (to take his soul). Adam said, 'I still have forty years from my life term, don't I?' He said, 'Have you not given it to your son Dawud?' So Adam denied that and his offspring followed suit (denying Allah's covenant), Adam forgot and his offspring forgot, Adam made a mistake and his offspring made mistakes.)
At-Tirmidhi said, "This Hadith is Hasan Sahih, and it was reported from various chains of narration through Abu Hurayrah from the Prophet ﷺ". Al-Hakim also recorded it in his Mustadrak, and said; "Sahih according to the criteria of Muslim, and they did not record it."
These and similar Hadiths testify that Allah, the Exalted and Most Honored, brought forth Adam's offspring from his loins and separated between the inhabitants of Paradise and those of the Fire. Allah then said,
وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَىٰ
(and made them testify as to themselves (saying): "Am I not your Lord?" They said: "Yes!")
Therefore, Allah made them testify with themselves by circumstance and words. Testimony is sometimes given in words, such as,
قَالُوا شَهِدْنَا عَلَىٰ أَنفُسِنَا
(They will say: "We bear witness against ourselves.")[6:130]
At other times, testimony is given by the people themselves, such as Allah's statement,
مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ
(It is not for the Mushrikin, (polytheists) to maintain the mosques of Allah, while they testify against their own selves of disbelief.)[9:17]
This Ayah means that their disbelief testifies against them, not that they actually testify against themselves here. Another Ayah of this type is Allah's statement,
وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ
(And to that he bears witness (by his deeds).)[100:7]
The same is the case with asking, sometimes takes the form of words and sometimes a situation or circumstance. For instance, Allah said,
وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ
(And He gave you of all that you asked for.)[14:34] Allah said here,
أَن تَقُولُوا
(lest you should say), on the Day of Resurrection
إِنَّا كُنَّا عَنْ هَٰذَا
(we were of this) of Tawhid
غَافِلِينَ - أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا
(unaware. Or lest you should say: "It was only our fathers aforetime who took others as partners in worship along with Allah,")[7:172-173]
Tafsir Ibn Kathir
ہر روح نے اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق مانا اولاد آدم سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب، خالق، مالک، معبود صرف وہی ہے۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی ناممکن ہے، بخاری و مسلم میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ اس دین پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں، حدیث قدسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا پھر شیطان نے آ کر انہیں ان کے سچے دین سے بہکا کر میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کردیں۔ قبیلہ بن سعد کے ایک صحابی حضرت اسود بن سریع فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چار غزوے کئے لوگوں نے لڑنے والے کفار کے قتل کے بعد ان کے بجوں کو بھی پکڑ لیا جب آپ کو اس کا علم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور فرمایا لوگ ان بچوں کو کیوں پکڑ رہے ہیں ؟ کسی نے کہا حضور وہ بھی تو مشرکوں کے ہی بچے ہیں ؟ فرمایا سنو تم میں سے بہتر لوگ مشرکین کی اولاد میں ہیں یاد رکھو ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر زبان چلنے پر اس کے ماں باپ یہودیت یا نصرانیت کی تعلیم دینے لگتے ہیں۔ اس کے راوی حضرت حسن فرماتے ہیں اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اللہ نے اولاد آدم سے اپنی توحید کا اقرار لیا ہے (ابن جریر) اس اقرار کے بارے میں کئی ایک حدیثیں مروی ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن دوزخی سے کہا جائے گا اگر تمام دنیا تیری ہو تو کیا تو خوش ہے کہ اسے اپنے فدئیے میں دے کر میرے عذابوں سے آج بچ جائے ؟ وہ کہے گا ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تو اس سے بہت ہی ہلکے درجے کی چیز تجھ سے طلب کی تھی اور اس کا وعدہ بھی تجھ سے لے لیا تھا کہ میرے سوا تو کسی اور کی عبادت نہ کرے لیکن تو عہد توڑے بغیر نہ رہا اور دوسرے کو میرا شریک عبادت ٹھہرایا۔ مسند میں ہے نعمان نامی میدان میں اللہ تعالیٰ نے پشت آدم میں سے عرفے کے دن ان کی تمام اولاد ظاہر فرمائی سب کو اس کے سامنے پھیلا دیا اور فرمایا کہ میں تم سب کا رب نہیں ہوں ؟ سب نے کہا ہاں ہم گواہ ہیں پھر آپ نے مبطلون تک تلاوت فرمائی۔ یہ روایت موقوف ابن عباس سے بھی مروی ہے واللہ اعلم۔ اس وقت لوگ چیونٹیوں کی طرح تھے اور تر زمین پر تھے۔ حضرت ضحاک بن مزاحم کے جھ دن کی عمر کے صاحبزادے کا انتقال ہوگیا تو آپ نے فرمایا جابر اسے دفن کر کے اس کا منہ کفن سے کھول دینا اور گرہ بھی کھول دینا کیونکہ میرا یہ بچہ بٹھا دیا جائے گا اور اس سے سوال کیا جائے گا جابر نے حکم کی بجا آوری کی، پھر میں نے پوچھا کہ آپ کے بجے سے کیا سوال ہوگا اور کون سوال کرے گا ؟ فرمایا اس میثاق کے بارے میں جو صلب آدم میں لیا گیا ہے سوال کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا وہ میثاق کیا ہے ؟ فرمایا میں نے حضرت ابن عباس سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو جتنے انسان قیامت تک پیدا ہونے والے ہیں سب کی روحیں آگئیں اللہ نے ان سے عہد و پیمان لیا کہ وہ اسی کی عبادت کریں گے اس کے سوا کسی اور کو معبود نہیں مانیں گے خود ان کے رزق کا کفیل بنا پھر انہیں صلب آدم میں لوٹا دیا۔ پس یہ سب قیامت سے پہلے ہی پہلے پیدا ہوں گے۔ جس نے اس وعدے کو پورا کیا اور اپنی زندگی میں اس پر قائم رہا اسے وہ وعدہ نفع دے گا اور جس نے اپنی زندگی میں اس کی خلاف ورزی کی اسے پہلے کا وعدہ کجھ فائدہ نہ دے گا۔ بچپن میں ہی جو مرگیا وہ میثاق اول پر اور فطرت پر مرا۔ ان آثار سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اوپر والی حدیث کا موقوف ہونا ہی اکثر اور زیادہ ثبوت والا ہے۔ ابن جریر کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بنی آدم کی پیٹھ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ایسی نکلایں جیسے کنگھی بالوں میں سے نکلتی ہے ان سے اپنی ربوبیت کا سوال کیا انہوں نے اقرار کیا فرشتوں نے شہادت دی اس لئے کہ یہ لوگ قیامت کے دن اس سے غفلت کا بہانہ نہ کریں۔ حضرت عمر ؓ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا یہی سوال رسول اللہ ﷺ سے ہوا تھا تو آپ نے میرے سنتے ہوئے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے حضرت آدم کو پیدا کیا اپنے داہنے ہاتھ سے ان کی پیٹھ کو چھوا اس سے اولاد نکلی فرمایا میں نے انہیں جہنم کیلئے پیدا کیا ہے یہ جہنمیوں کے اعمال کریں گے تو آپ سے سوال ہوا کہ پھر عمل کس گنتی میں ہیں ؟ آپ نے فرمایا جو جنتی ہے اس سے مرتے دم تک جنتیوں کے ہی اعمال سرزد ہوں گے اور جنت میں جائیں گے ہاں جو جہنم کیلئے پیدا کیا گیا ہے اس سے وہی اعمال سرزد ہوں گے انہی پر مرے گا اور جہنم میں داخل ہوگا (ابوداؤد) اور حدیث میں ہے کہ اولاد آدم کو نکال کر ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور رکھ کر حضرت آدم کے سامنے پیش کیا حضرت نے پوچھا کہ یا اللہ یہ کون ہیں ؟ فرمایا یہ تیری اولاد ہے ان میں سے ایک کے ماتھے کی چمک کو حضرت آدم کے سامنے پیش کیا حضرت نے پوچھا کہ یا اللہ یہ کون ہیں ؟ فرمایا یہ تیری اولاد میں سے بہت دور جا کر ہیں ان کا نام داؤد ہے پوچھا ان کی عمر کیا ہے ؟ فرمایا ساٹھ سال کہا یا اللہ چالیس سال میری عمر میں سے ان کی عمر میں زیادہ کر پس جب حضرت آدم کی روح کو قبض کرنے کیلئے فرشتہ آیا تو آپ نے فرمایا میری عمر میں سے تو ابھی چالیس سال باقی ہیں، فرشتے نے کہا آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے یہ چالیس سال اپنے بچے حضرت داؤد کو ہبہ کردیئے ہیں۔ بات یہ ہے چونکہ آدم نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی انکار کی عادی ہے آدم خود بھول گئے ان کی اولاد بھی بھولتی ہے آدم نے خطا کی ان کی اولاد بھی خطا کرتی ہے، یہ حدیث ترمذی میں ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح لکھتے ہیں اور روایت میں ہے کہ جب آدم ؑ نے دیکھا کہ کوئی ان میں جذامی ہے کوئی کوڑھی ہے کوئی اندھا ہے کوئی بیمار ہے تو پوچھا کہ یا اللہ اس میں کیا مصلحت ہے ؟ فرمایا یہ کہ میرا شکریہ کیا جائے۔ حضرت آدم ؑ نے پوچھا کہ یا اللہ ان میں یہ زیادہ روشن اور نورانی چہروں والے کون ہیں ؟ فرمایا یہ انبیاء ہیں۔ کسی شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں یہ ہمارا ذاتی عمل ہے یا کہ فیصل شدہ ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آدم کی اولاد کو ان کی پیٹھوں سے نکالا انہیں گواہ بنایا پھر اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا یہ جنتی ہیں اور یہ جہنمی۔ پس اہل جنت پر تو نیک کام آسان ہوتے ہیں اور دوزخیوں پر برے کام آسان ہوتے ہیں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور قضیہ ختم کیا تو جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملنے والا ہے انہیں اپنی داہنی مٹھی میں لیا اور بائیں والوں کو بائیں مٹھی میں لیا پھر فرمایا اے دائیں طرف والو انہوں نے کہا لبیک وسعد یک فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے کہا ہاں پھر سب کو ملا دیا کسی نے پوچھا یہ کیوں کیا ؟ فرمایا اس لئے کہ ان کے لئے اور اعمال ہیں جنہیں یہ کرنے والے ہیں یہ تو صرف اس لئے کہلوایا گیا ہے کہ انہیں یہ عذر نہ رہے کہ ہم اس سے غافل تھے۔ پھر سب کو صلب آدم میں لوٹا دیا۔ حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں اس میدان میں اس دن سب کو جمع کیا، صورتیں دیں، بولنے کی طاقت دی، پھر عہد و میثاق لیا اور اپنے رب ہونے پر خود انہیں گواہ بنایا اور ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور حضرت آدم کو گواہ بنایا کہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں علم نہ تھا جان لو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں نہ میرے سوا کوئی اور مربی ہے۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا میں اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تمہیں یہ وعدہ یاد دلائیں گے میں اپنی کتابیں اتاروں گا تاکہ تمہیں یہ عہد و میثاق یاد دلاتی رہیں سب نے جواب میں کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا رب ہے تو ہی ہمارا معبود ہے تیرے سوا ہمارا کوئی مربی نہیں۔ پس سب سے اطاعت کا وعدہ لیا اب جو حضرت آدم ؑ نے نظر اٹھا کر دیکھا تو امیر غریب اور اس کے سوا مختلف قسم کے لوگوں پر نظر پڑی تو آپ کہنے لگے کیا اچھا ہوتا کہ سب برابر ایک ہی حالت کے ہوتے تو جواب ملا کہ یہ اس لئے ہے کہ ہر شخص میری شکر گزاری کرے۔ آپ نے دیکھا کہ ان میں اللہ کے پیغمبر بھی ہیں ان سے پھر علیحدہ ایک اور میثاق لیا گیا جس کا بیان آیت (وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۠ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا ۙ) 33۔ الأحزاب :7) ، میں ہے۔ اسی عام میثاق کا بیان آیت (فطرۃ اللہ) میں ہے اسی لئے فرمان ہے آیت (ھذا نذیر من النزر الا ولی) اسی کا بیان اس آیت میں ہے (وما وجدنا لا کثرھم من عھد) (مسند احمد) حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ، حضرت سعید بن جبیر، حضرت حسن، حضرت قتادہ، حضرت سدی اور بہت سے سلف سے ان احادیث کے مطابق اقوال مروی ہیں جن سب کے وارد کرنے سے بہت طول ہوجائے گا ماحصل سب کا یہی ہے جو ہم نے بیان کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو آپ کی پیٹھ سے نکالا جنتی دوزخی الگ الگ کئے اور وہیں ان کو اپنے رب ہونے پر گواہ کرلیا یہ جن دو احادیث میں ہے وہ دونوں مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہیں اسی لئے سلف و خلف میں اس بات کے قائل گذرے ہیں کہ اس سے مراد فطرت پر پیدا کرنے ہے جیسے کہ مرفوع اور صحیح احادیث میں وارد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت (من بنی آدم) فرمایا اور آیت (من ظھور ھم) کہا ورنہ من آدم اور من ظھرہ ہوتا۔ ان کی نسلیں اس روز نکالی گئیں جو کہ یکے بعد دیگرے مختلف قرنوں میں ہونے والی تھیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ ۭ اِنَّ رَبَّكَ سَرِيْعُ الْعِقَابِ ڮوَاِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ01605) 6۔ الانعام :165) اللہ ہی نے تمہیں زمین میں دوسروں کا جانشین کیا ہے اور جگہ ہے وہی تمہیں زمین کے خلیفہ بنا رہا ہے اور آیت میں ہے جیسے تمہیں دوسرے لوگوں کی اولاد میں کیا۔ الغرض حال و قال سے سب نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کیا۔ شہادت قولی ہوتی ہے جیسے آیت (شھدنا علی انفسانا) میں اور شہادت کبھی حال سے ہوتی ہے جیسے آیت (مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بالْكُفْرِ ۭاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ښ وَفِي النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ 17) 9۔ التوبہ :17) میں یعنی ان کا حال ان کے کفر کی کھلی اور کافی شہادت ہے اس طرح کی آیت (وانہ علی ذالک لشھید) ہے۔ اسی طرح سوال بھی کبھی زبان سے ہوتا ہے کبھی حال سے۔ جیسے فرمان ہے (وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ 34) 14۔ ابراھیم :34) اس نیت میں تمہارے کا منہ مانگا دیا۔ کہتی ہیں کہ اس بات پر یہ دلیل بھی ہے کہ ان کے شرک کرنے پر یہ حجت ان کے خلاف پیش کی۔ پس اگر یہ واقع میں ہوا ہوتا جیسا کہ ایک قول ہے تو چاہئے تھا کہ ہر ایک کو یاد ہوتا تاکہ اس پر حجت رہے۔ اگر اس کا جواب یہ ہو کہ فرمان رسول سے خبر پالینا کافی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو رسولوں کو ہی نہیں مانتے وہ رسولوں کی دی ہوئی خبروں کو کب صحیح جانتے ہیں ؟ حالانکہ قرآن کریم نے رسولوں کی تکذیب کے علاوہ خود اس شہادت کو مستقل دلیل ٹھہرایا ہے پس اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد فطرت ربانی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے اور وہ فطرت توحید باری تعالیٰ ہے۔ اسی لئے فرماتا ہے کہ یہ اس لئے کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم توحید سے غافل تھے اور یہ بھی نہ کہہ سکو کہ شرک تو ہمارے اگلے باپ دادوں نے کیا تھا ان کے اس ایجاد کردہ گناہ پر ہمیں سزا کیوں ؟ پھر تفصیل وار آیات کے بیان فرمانے کا راز ظاہر کیا کہ اس کو سن کر برائیوں سے باز آجانا ممکن ہوجاتا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُ اسْتَخْرَجَ ذُرِّيَّةَ بَنِي آدَمَ مِنْ أَصْلَابِهِمْ، شَاهِدِينَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَنَّ اللَّهَ رَبُّهُمْ وَمَلِيكُهُمْ، وَأَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ. كَمَا أَنَّهُ تَعَالَى فَطَرَهُمْ عَلَى ذَلِكَ وَجَبَلَهُمْ عَلَيْهِ، قَالَ تَعَالَى: ﴿فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ﴾ [الرُّومِ:٣٠] وَفِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ -وَفِي رِوَايَةٍ: عَلَى هَذِهِ الْمِلَّةِ -فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، وَيُنَصِّرَانِهِ، وَيُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُولَدُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ" وَفِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "يَقُولُ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من ك، م.]] إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ فَجَاءَتْهُمُ [[في م: "فجاءت".]] الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ، عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ" [[صحيح مسلم برقم (٢٨٦٥) ، وسبق تخريجه هو والذي قبله عند الآية: ٣٠.]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى: أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ حَدَّثَهُمْ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سُرَيْعٍ مِنْ بَنِي سَعْدٍ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَرْبَعَ غَزَوَاتٍ، قَالَ: فَتَنَاوَلَ الْقَوْمُ الذُّرِّيَّةَ بَعْدَ مَا قَتَلُوا الْمُقَاتَلَةَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَنَاوَلُونَ الذُّرِّيَّةَ؟ " قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسُوا أَبْنَاءَ الْمُشْرِكِينَ؟ فَقَالَ: "إِنَّ خِيَارَكُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ! أَلَا إِنَّهَا لَيْسَتْ نِسْمَةٌ تُولَدُ إِلَّا وُلِدَتْ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَمَا تَزَالُ عَلَيْهَا حَتَّى يُبَيِّنَ عَنْهَا لِسَانُهَا، فَأَبَوَاهَا يُهَوِّدَانِهَا أَوْ [[في م: "و".]] يُنَصِّرَانِهَا". قَالَ الْحَسَنُ: وَاللَّهِ لَقَدْ قَالَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ [وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ] ﴾ [[زيادة من أ.]] الآية [[تفسير الطبري (١٣/٣٢١) .]] وقد رواه الإمام أحمد، عَنِ اسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ [[المسند (٣/٤٣٥) .]] بِهِ. وَأَخْرَجَهُ النَّسَائِيُّ فِي سُنَنِهِ مِنْ حَدِيثِ هُشَيْم، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: حدثنا الأسود ابن سَرِيع، فَذَكَرَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَاسْتِحْضَارَهُ الْآيَةَ عِنْدَ ذَلِكَ [[سنن النسائي الكبرى برقم (٨٦١٦) .]]
وَقَدْ وَرَدَتْ أَحَادِيثُ فِي أَخْذِ الذُّرِّيَّةِ مِنْ صلْب آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَتَمْيِيزِهِمْ إِلَى أَصْحَابِ الْيَمِينِ وَ [إِلَى] [[زيادة من ك، م، أ.]] أَصْحَابِ الشِّمَالِ، وَفِي بَعْضِهَا [[في أ: "وفي بعض".]] الِاسْتِشْهَادُ عَلَيْهِمْ بِأَنَّ اللَّهَ رَبُّهُمْ.
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَجَّاج، حَدَّثَنَا شُعْبة، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الجَوْني، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "يُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهِ؟ " قَالَ: "فَيَقُولُ: نَعَمْ. فَيَقُولُ: قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ، قَدْ أَخَذْتُ عَلَيْكَ فِي ظَهْرِ آدَمَ [[في أ: "ظهر أبيك".]] أَلَّا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا، فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي".
أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، بِهِ [[المسند (٣/١٢٧) وصحيح البخاري برقم (٣٣٣٤) وصحيح مسلم برقم (٢٨٠٥) .]]
حَدِيثٌ آخَرُ: وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ -يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ -عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَابِرٍ [[في ك، م: "جبر"، وفي أ: "جبير".]] عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَير، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ أَخَذَ الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِنُعْمَانَ. يَعْنِي [[في ك، م، أ: "يوم".]] عَرَفَةَ فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ كُلَّ ذُرِّيَّةٍ ذَرَأَهَا فَنَثَرَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قُبُلًا قَالَ: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿الْمُبْطِلُونَ﴾
وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ النَّسَائِيُّ فِي كِتَابِ التَّفْسِيرِ مِنْ سُنَنِهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ -صَاعِقَةٍ -عَنْ حُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيِّ، بِهِ. وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ حَدِيثِ حُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ [[المسند (١/٢٧٢) وسنن النسائي الكبرى برقم (١١١٩١) وتفسير الطبري (١٣/٢٢٢) وقال النسائي: "كلثوم هذا ليس بالقوى، وحديثه ليس بالمحفوظ".]] بِهِ. إِلَّا أَنَّ ابْنَ أَبِي حَاتِمٍ جَعَلَهُ مَوْقُوفًا. وَأَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ فِي مُسْتَدْرَكِهِ مِنْ حَدِيثِ حُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْر، بِهِ. وَقَالَ: صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِكُلْثُومِ بْنِ جُبَيْرٍ [[في ك، م: "جبر".]] [[المستدرك (١/٢٧) .]] هَكَذَا قَالَ، وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ [[في أ: "جبير".]] عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَوَقَفَهُ [[أخرجه الطبري في تفسيره (١٣/١٧٢) .]] وَكَذَا رواه إسماعيل بن عُلَيَّةَ ووَكِيع، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كُلْثُومٍ، عَنْ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِهِ. [[رواه الطبري في تفسيره (١٣/٢٢٤) من طريق ابن علية ورواه (١٣/٢٢٩) من طريق وكيع.]] وَكَذَا رَوَاهُ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَحَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، وَعَلِيُّ بْنُ بَذِيمة، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[تفسير الطبري (١٣/٢٢٧ - ٢٢٩) .]] قَوْلُهُ، وَكَذَا رَوَاهُ العَوْفي وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[تفسير الطبري (١٣ / ٢٣٦، ٢٣٧) .]] فَهَذَا أَكْثَرُ وَأَثْبَتُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَكِيع، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَة الضُّبَعِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] قَالَ: أَخْرَجَ اللَّهُ ذُرِّيَّةَ آدَمَ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] مِنْ ظَهْرِهِ كَهَيْئَةِ الذَّرِّ، وَهُوَ فِي آذِي مِنَ الْمَاءِ.
وَقَالَ أَيْضًا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا ضَمْرَة بْنُ رَبِيعَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ عَنْ جُوبير قَالَ: مَاتَ ابْنٌ لِلضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِم، [وَهُوَ] [[زيادة من م.]] ابْنُ سِتَّةِ أَيَّامٍ. قَالَ: فَقَالَ: يَا جَابِرُ، إِذَا أَنْتَ وَضَعْتَ ابْنِي فِي لَحْدِهِ، فَأَبْرِزْ وَجْهَهُ، وحُلّ عَنْهُ عُقَدَهُ، فَإِنَّ ابْنِي مُجْلَس، وَمَسْئُولٌ. فَفَعَلْتُ بِهِ الَّذِي أَمَرَ، فَلَمَّا فَرَغْتُ قُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، عَمَّ يُسأل ابْنُكَ؟ مَنْ يَسْأَلُهُ إِيَّاهُ؟ قَالَ: يُسْأل عَنِ الميثاق الذي أقر به في [[في ك، م، أ: "من".]] صلب آدم. قُلْتُ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، وَمَا هَذَا الْمِيثَاقُ الَّذِي أَقَرَّ بِهِ فِي [[في ك، م، أ: "من".]] صُلْبِ آدَمَ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] ؛ أَنَّ اللَّهَ مَسَحَ صُلْبَ آدَمَ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ كُلَّ نَسَمَةٍ هُوَ خَلَقَهَا [[في ك، م، أ: "خالقها".]] إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَأَخَذَ مِنْهُمُ الْمِيثَاقَ: أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَتَكَفَّلَ لَهُمْ بِالْأَرْزَاقِ، ثُمَّ أَعَادَهُمْ فِي صُلْبِهِ. فَلَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ حَتَّى يُولَدَ مَنْ أَعْطَى الْمِيثَاقَ يَوْمَئِذٍ، فَمَنْ أَدْرَكَ مِنْهُمُ الْمِيثَاقَ الْآخِرَ فَوَفَّى بِهِ، نَفَعَهُ الْمِيثَاقُ الْأَوَّلُ. وَمَنْ أَدْرَكَ الْمِيثَاقَ الْآخِرَ فَلَمْ يَفِ [[في ك، م: "يقر".]] بِهِ، لَمْ يَنْفَعْهُ الْمِيثَاقُ الْأَوَّلُ. وَمَنْ مَاتَ صَغِيرًا قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَ الْمِيثَاقَ الْآخَرَ، مَاتَ عَلَى الْمِيثَاقِ الْأَوَّلِ عَلَى الْفِطْرَةِ [[تفسير الطبري (١٣/٢٣٠) .]]
فَهَذِهِ الطُّرُقُ كُلُّهَا مِمَّا تقوِّي وَقْف هَذَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
حَدِيثٌ آخَرُ: وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي طَيْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنِ الضَّحَّاكِ وَعَنْ [[في م: "بن".]] -مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ -عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ﴾ قَالَ: "أَخَذَ مِنْ ظَهْرِهِ، كَمَا يُؤْخَذُ بِالْمُشْطِ مِنَ الرَّأْسِ، فَقَالَ لَهُمْ: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى﴾ قَالَتِ الْمَلائِكَةُ ﴿شَهِدْنَا أَنْ يَقُولُوا﴾ [[في أ: "تقولوا".]] يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ [[تفسير الطبري (١٣/٢٣٢) قال الطبري: "ولأعلمه صحيحا؛ لأن الثقات الذين يعتمد على حفظهم واتقانهم، حدثوا بهذا الحديث عن الثوري فوقفوه على عبد الله بن عمرو، ولم يرفعوه ولم يذكروا في الحديث هذا الحرف الذي ذكره أحمد بن أبي طيبة عنه".]]
أَحْمَدُ بْنُ أَبِي طَيْبَةَ هَذَا هُوَ: أَبُو مُحَمَّدٍ الْجُرْجَانِيُّ قَاضِي قَوْمَسَ، كَانَ أَحَدَ الزُّهَّادِ، أَخْرَجَ لَهُ النَّسَائِيُّ فِي سُنَنِهِ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ: يُكْتَبُ حَدِيثُهُ. وَقَالَ ابْنُ عَدِيّ: حَدَّثَ بِأَحَادِيثَ أَكْثَرُهَا [[في ك، م، أ: "كثيرة".]] غَرَائِبُ.
وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عن منصور، عن مجاهد، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَوْلُهُ، وَكَذَا رَوَاهُ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهِ. وَهَذَا أَصَحُّ [[تفسير الطبري (١٣/٢٣٣) .]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
حَدِيثٌ آخَرُ: قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا رَوْحٌ -هُوَ ابْنُ عُبَادَةَ -حَدَّثَنَا مَالِكٌ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسةَ: أَنَّ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَخْبَرَهُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسار الجُهَني: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سُئِل عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى﴾ الْآيَةَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، سُئل عَنْهَا، فَقَالَ: "إِنِ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ بِيَمِينِهِ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، قَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ، وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ. ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، قَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلنَّارِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِذَا خَلَقَ اللَّهُ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ، اسْتَعْمَلَهُ بِأَعْمَالِ [[في ك، م، أ: "بعمل".]] أَهْلِ الْجَنَّةِ، حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيُدْخِلَهُ [[في ك، م، أ: "فيدخل".]] بِهِ الْجَنَّةَ. وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ، اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ، فَيُدْخِلَهُ [[في أ: "فيدخل".]] بِهِ النَّارَ".
وَهَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنِ القَعْنَبي -وَالنَّسَائِيُّ عَنْ قُتَيْبَةَ -وَالتِّرْمِذِيُّ [[في ك، م، أ: "والترمذي في تفسيرهما".]] عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَعْن. وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ. وَابْنُ جَرِيرٍ مِنْ حديث روح ابن عُبَادَةَ وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ. وَأَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانٍ فِي صَحِيحِهِ، مِنْ رِوَايَةِ أَبِي مُصْعَبٍ الزُّبَيْرِيِّ، كُلُّهُمْ عَنِ الْإِمَامِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، بِهِ [[المسند (١/٤٤) وسنن أبي داود برقم (٤٧٠٣) وسنن النسائي الكبرى برقم (١١١٩٠) وسنن الترمذي برقم (٣٠٧٥) وتفسير الطبري (١٣/٢٣٣) .]]
قَالَ التِّرْمِذِيُّ: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَمُسْلِمُ بْنُ يَسَار لَمْ يَسْمَعْ [[في أ: "لم يسمع من".]] عُمَر. وَكَذَا قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو زُرْعَة. زَادَ أَبُو حَاتِمٍ: وَبَيْنَهُمَا نُعَيْم بْنُ رَبِيعَةَ.
وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي سُنَنِهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُصَفَّى، عَنْ بَقِيَّةَ، عن عمر ابن جُعْثُم [[في أ: "عمرو بن خثعم".]] الْقُرَشِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَة، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَار الْجُهَنِيِّ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] وَقَدْ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ﴾ فَذَكَرَهُ [[سنن أبي داود برقم (٤٧٠٤) ورواه الطبري في تفسيره (١٣/٢٣٥) من طريق محمد بن مصفى، به.]]
وَقَالَ الْحَافِظُ الدَّارَقُطْنِيُّ: وَقَدْ تَابَعَ عُمَرَ بْنَ جُعْثُم بْنِ زَيْدِ بْنِ سِنان أَبُو فَرْوَة الرَّهَاوي، وَقَوْلُهُمَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ قَوْلِ مَالِكٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ [[العلل للدارقطني (٢/٢٢١ - ٢٢٣) .]]
قُلْتُ: الظَّاهِرُ أَنَّ الْإِمَامَ مَالِكًا إِنَّمَا أَسْقَطَ ذِكْرَ "نُعَيْمَ بْنَ رَبِيعَةَ" عمدًا؛ لما جهل حاله ولم يعرفه، فَإِنَّهُ غَيْرُ مَعْرُوفٍ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَكَذَلِكَ يُسْقِطُ ذِكْرَ جَمَاعَةٍ مِمَّنْ لَا يَرْتَضِيهِمْ؛ وَلِهَذَا يُرْسِلُ كَثِيرًا مِنَ الْمَرْفُوعَاتِ، وَيَقْطَعُ كَثِيرًا مِنَ الْمَوْصُولَاتِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
حَدِيثٌ آخَرُ: قَالَ التِّرْمِذِيُّ عِنْدَ تَفْسِيرِهِ هَذِهِ الْآيَةَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْم، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ [عَزَّ وَجَلَّ] [[زيادة من أ.]] آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهُ، فَسَقَطَ مِنْ ظَهْرِهِ كُلُّ نَسَمة هُوَ خَالِقُهَا مِنْ ذُرِّيَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَجَعَلَ بَيْنَ عَيْنَيْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وَبيصًا مِنْ نُورٍ، ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى آدَمَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ ذَرِّيَّتُكَ. فَرَأَى رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَعْجَبَهُ وَبِيص مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ آخِرِ الْأُمَمِ مِنْ ذُرّيتك، يُقَالُ لَهُ: دَاوُدُ. قَالَ: رَبِّ، وَكَمْ جَعَلْتَ عُمُرَهُ؟ قَالَ: سِتِّينَ سَنَةً. قَالَ: أَيْ رَبِّ، زِدْهُ مِنْ عُمُرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً. فَلَمَّا انْقَضَى عُمُرُ آدَمَ، جَاءَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ قَالَ: أَوْ لَمْ يَبْقَ مِنْ عُمُرِي أَرْبَعُونَ [[في د، أ: "أربعين".]] سَنَةً؟ قَالَ: أوَ لَمْ تُعْطِهَا ابْنَكَ دَاوُدَ؟ قَالَ: فَجَحَدَ آدَمُ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ، وَنَسِيَ آدَمُ فَنَسِيَتْ ذُرِّيَّتُهُ، وَخَطِئَ آدَمُ فَخَطِئَتْ ذُرِّيَّتُهُ".
ثُمَّ قَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوي مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ.
وَرَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي مُسْتَدْرَكِهِ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي نُعَيْم الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْن، بِهِ. وَقَالَ: صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [[سنن الترمذي برقم (٣٠٧٦) والمستدرك (٢/٣٢٥) .]]
وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ فِي تَفْسِيرِهِ، مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ، إِلَى أَنْ قَالَ: "ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى آدَمَ فَقَالَ: يَا آدَمُ، هَؤُلَاءِ ذَرِّيَّتُكَ. وَإِذَا فِيهِمُ الْأَجْذَمُ وَالْأَبْرَصُ وَالْأَعْمَى، وَأَنْوَاعُ الْأَسْقَامِ، فَقَالَ آدَمُ: يَا رَبِّ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا بِذُرِّيَّتِي؟ قَالَ: كَيْ تُشْكَرَ نِعْمَتِي. وَقَالَ آدَمُ: يَا رَبِّ، مِنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ أَرَاهُمْ أظْهَرَ النَّاسِ نُورًا؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الْأَنْبِيَاءُ يَا آدَمُ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ". ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ دَاوُدَ، كَنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ [[ورواه أبو الشيخ في العظمة برقم (١٠١٥) من طريق محمد بن شعيب، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، به. وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعِيفُ.]]
حَدِيثٌ آخَرُ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَتَادَةَ النَّصْري [[في أ: "البصري".]] عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُبْدَأُ الْأَعْمَالُ، أَمْ قَدْ قُضِي الْقَضَاءُ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَخَذَ ذُرِّيَّةَ آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ، ثُمَّ أَشْهَدُهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ أَفَاضَ بِهِمْ فِي كَفَّيْهِ" ثُمَّ قَالَ: "هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ، فَأَهْلُ الْجَنَّةِ مُيَسَّرون لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَهْلُ النَّارِ مُيَسَّرون لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ".
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، وَابْنُ مَرْدَوَيْهِ من طرق عنه [[تفسير الطبري (١٣/٢٤٤) وقد توسع الشيخ محمود شاكر في الكلام عليه في الحاشية بما يغني عن إعادته هنا.]] حَدِيثٌ آخَرُ: رَوَى جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ -وَهُوَ ضَعِيفٌ -عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ، وَقَضَى الْقَضِيَّةَ، أَخَذَ أَهْلَ الْيَمِينِ بِيَمِينِهِ وَأَهْلَ الشِّمَالِ بِشِمَالِهِ، فَقَالَ: يَا أَصْحَابَ الْيَمِينِ. فَقَالُوا: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ. قَالَ: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى. قَالَ: يَا أَصْحَابَ الشِّمَالِ. قَالُوا: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ. قَالَ: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى ثُمَّ خَلَطَ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَبِّ، لِمَ خَلَطْتَ بَيْنَهُمْ؟ قَالَ: لَهُمْ أَعْمَالٌ مِنْ دُونِ ذَلِكَ هُمْ لَهَا عَامِلُونَ، أَنْ يَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ، ثُمَّ رَدَّهُمْ فِي صُلْبِ آدَمَ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] . رَوَاهُ ابْنُ مَرْدَوَيْهِ [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (٨/٢٨٧) من طريق عثمان بن االهيثم، عن جعفر بن الزبير به. وجعفر بن الزبير ضعيف جدا، وقد توبع:
تابعه بشر بن نمير عن القاسم عن أبي أمامة بنحوه. ورواه أبو الشيخ في العظمة برقم (٢٢٨) والعقيلي في الضعفاء الكبير (١/٥١) ، ولكن لم يفرح بهذه المتابعة فإن بشر بن نمير متروك متهم.]]
أَثَرٌ آخَرُ: قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبي بْنِ كَعْبٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى [[في أ: "الله عز وجل".]] ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ﴾ الْآيَةَ وَالَّتِي بَعْدَهَا، قَالَ: فَجَمْعُهُمْ لَهُ يَوْمَئِذٍ جَمِيعًا، مَا هُوَ كَائِنٌ مِنْهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَجَعَلَهُمْ أَرْوَاحًا ثُمَّ صَوَّرَهُمْ ثُمَّ اسْتَنْطَقَهُمْ فَتَكَلَّمُوا، وَأَخَذَ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ، وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى، الْآيَةَ. قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُ عَلَيْكُمُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ، والأرَضِين السَّبْعَ، وَأُشْهِدُ عَلَيْكُمْ أَبَاكُمْ آدَمَ أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: لَمْ نَعْلَمْ بِهَذَا اعْلَمُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرِي، وَلَا رَبَّ غَيْرِي، فَلَا تُشْرِكُوا بِي شَيْئًا، وَإِنِّي سَأُرْسِلُ إِلَيْكُمْ رُسُلًا يُذَكِّرُونَكُمْ [[في أ: "ينذرونكم".]] عَهْدِي وَمِيثَاقِي، وَأْنْزِلُ عَلَيْكُمْ كُتُبِي. قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ رَبُّنَا وَإِلَهُنَا، لَا رَبَّ لَنَا غَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ لَنَا غَيْرُكَ. فَأَقَرُّوا لَهُ يَوْمَئِذٍ بِالطَّاعَةِ، وَرَفَعَ أَبَاهُمْ آدَمُ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ، فَرَأَى فِيهِمُ الْغَنِيَّ وَالْفَقِيرَ، وَحَسَنَ الصُّورَةِ وَدُونَ ذَلِكَ. فَقَالَ: يَا رَبِّ، لَوْ سَويت بَيْنَ عِبَادِكَ؟ قَالَ: إِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أُشْكَرَ. وَرَأَى فِيهِمُ الْأَنْبِيَاءَ مِثْلَ السرُج عَلَيْهِمُ النُّورُ، وَخُصُّوا بِمِيثَاقٍ آخَرَ مِنَ الرِّسَالَةِ وَالنُّبُوَّةِ، فَهُوَ الَّذِي يَقُولُ تَعَالَى [[في أ: "عز وجل".]] ﴿وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ [وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا] [[زيادة من م، أ، وفي هـ: "الآية".]] ﴾ [الْأَحْزَابِ:٧] وَهُوَ الَّذِي يَقُولُ: ﴿فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ [الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] الْآيَةَ [الرُّومِ:٣٠] ، وَمِنْ ذَلِكَ قَالَ: ﴿هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الأولَى﴾ [النَّجْمِ:٥٦] وَمِنْ ذَلِكَ قَالَ: ﴿وَمَا وَجَدْنَا لأكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ [وَإِنْ وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ] [[زيادة من د، ك، م، أ، وفي هـ: "الآية".]] ﴾ [الْأَعْرَافِ:١٠٢] .
رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ فِي مُسْنَدِ أَبِيهِ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَابْنُ جَرِيرٍ وَابْنُ مَرْدُويه فِي تَفَاسِيرِهِمْ، مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، بِهِ. وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعِكْرِمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَالْحَسَنِ، وَقَتَادَةَ، وَالسُّدِّيِّ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَاءِ السَّلَفِ، سِيَاقَاتٍ تُوَافِقُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ، اكْتَفَيْنَا بِإِيرَادِهَا عَنِ التَّطْوِيلِ فِي تلك الآثار كلها، وبالله المستعان.
فَهَذِهِ الْأَحَادِيثُ دَالَّةٌ عَلَى أَنَّ اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ، اسْتَخْرَجَ ذُرِّيَّةَ آدَمَ مِنْ صُلْبِهِ، وَمَيَّزَ بَيْنَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ، وَأَمَّا الْإِشْهَادُ عَلَيْهِمْ هُنَاكَ بِأَنَّهُ رَبُّهُمْ، فَمَا هُوَ إِلَّا فِي حَدِيثِ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ [[في أ: "جبير".]] عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] وَقَدْ بَيَّنَّا أَنَّهُمَا مَوْقُوفَانِ لَا مَرْفُوعَانِ، كَمَا تَقَدَّمَ. وَمِنْ ثَمَّ قَالَ قَائِلُونَ مِنَ السَّلَفِ وَالْخَلْفِ: إِنَّ الْمُرَادَ بِهَذَا الْإِشْهَادِ إِنَّمَا هُوَ فَطْرهم عَلَى التَّوْحِيدِ، كَمَا تَقَدَّمَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعِيَاضِ بْنِ حمَار المُجَاشعي، وَمِنْ رِوَايَةِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيع. وَقَدْ فَسَّرَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ الْآيَةَ بِذَلِكَ، قَالُوا: وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ﴾ وَلَمْ يَقُلْ: "مِنْ آدَمَ"، ﴿مِنْ ظُهُورِهِمْ﴾ وَلَمْ يُقَلْ: "مِنْ ظَهْرِهِ" ﴿ذُرِّيَّاتِهِمْ﴾ أَيْ: جَعَلَ نَسْلَهُمْ جِيلًا بَعْدَ جِيلٍ، وَقَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلائِفَ الأرْضِ﴾ [الْأَنْعَامِ:١٦٥] وَقَالَ: ﴿وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الأرْضِ﴾ [النَّمْلِ:٦٢] وَقَالَ: ﴿كَمَا أَنْشَأَكُمْ مِنْ ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ آخَرِينَ﴾ [الْأَنْعَامِ:١٣٣]
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى﴾ أَيْ: أَوَجَدَهُمْ شَاهِدِينَ بِذَلِكَ، قَائِلِينَ لَهُ حَالًا وَقَالَا. وَالشَّهَادَةُ تَارَةً تَكُونُ بِالْقَوْلِ، كَمَا قَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] ﴿قَالُوا شَهِدْنَا عَلَى أَنْفُسِنَا﴾ [الْأَنْعَامِ:١٣٠] الْآيَةَ، وَتَارَةً تَكُونُ حَالًا كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَنْ يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ﴾ [التَّوْبَةِ:١٧] أَيْ: حَالُهُمْ شَاهِدٌ عَلَيْهِمْ بِذَلِكَ لَا أَنَّهُمْ قَائِلُونَ ذَلِكَ، وَكَذَلِكَ [[في ك: "وكذا"، وفي م: "وهذا كقوله".]] قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَإِنَّهُ عَلَى ذَلِكَ لَشَهِيدٌ﴾ [الْعَادِيَاتِ:٧] كَمَا أَنَّ السُّؤَالَ تَارَةً يَكُونُ بِالْقَالِ، وَتَارَةً يَكُونُ بِالْحَالِ، كَمَا فِي قَوْلِهِ: ﴿وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ﴾ [إِبْرَاهِيمَ:٣٤] قَالُوا: وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِهَذَا هَذَا، أَنْ جَعَلَ هَذَا الْإِشْهَادَ حُجَّةً عَلَيْهِمْ فِي الْإِشْرَاكِ، فَلَوْ كَانَ قَدْ وَقَعَ هَذَا كَمَا قَالَهُ مَنْ قَالَ [[في م، أ: "قاله".]] لَكَانَ كُلُّ أَحَدٍ يَذْكُرُهُ، لِيُكُونَ حُجَّةً عَلَيْهِ. فَإِنْ قِيلَ: إِخْبَارُ الرَّسُولِ بِهِ كَافٍ فِي وُجُودِهِ، فَالْجَوَابُ: أَنَّ الْمُكَذِّبِينَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُكَذِّبُونَ بِجَمِيعِ مَا جَاءَتْهُمْ بِهِ الرُّسُلُ مِنْ هَذَا وَغَيْرِهِ. وَهَذَا جَعَلَ حُجَّةً مُسْتَقِلَّةً عَلَيْهِمْ، فَدَلَّ عَلَى أَنَّهُ الْفِطْرَةُ الَّتِي فُطِروا عَلَيْهَا مِنَ الْإِقْرَارِ بِالتَّوْحِيدِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَنْ يَقُولُوا﴾ [[في ك، م، أ: "تقولوا".]] أَيْ: لِئَلَّا يَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: ﴿إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا﴾ أَيْ: [عَنِ] [[زيادة من م، أ.]] التَّوْحِيدِ ﴿غَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا﴾ [[في م: "تقولوا".]] الْآيَةَ.
وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ٱلَّذِىٓ ءَاتَيْنَٰهُ ءَايَٰتِنَا فَٱنسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ ٱلشَّيْطَٰنُ فَكَانَ مِنَ ٱلْغَاوِينَ
And recite to them, [O Muhammad], the news of him to whom we gave [knowledge of] Our signs, but he detached himself from them; so Satan pursued him, and he became of the deviators.
اور ان کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دو جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں (اور ہفت پارچہٴ علم شرائع سے مزین کیا) تو اس نے ان کو اتار دیا پھر شیطان اس کے پیچھے لگا تو وہ گمراہوں میں ہوگیا
و بر آنها بخوان سرگذشت آن کس را که آیات خود را به او دادیم؛ ولی (سرانجام) خود را از آن تهی ساخت و شیطان در پی او افتاد، و از گمراهان شد!
Tafsir Ibn Kathir
And recite to them the story of him to whom We gave Our Ayat, but he threw them away; so Shaytan followed him up, and he became of those who went astray (175)And had We willed, We would surely have elevated him therewith, but he clung to the earth and followed his own vain desires. So his parable is the parable of a dog: if you drive him away, he pants, or if you leave him alone, he (still) pants. Such is the parable of the people who reject Our Ayat. So relate the stories, perhaps they may reflect (176)Evil is the parable of the people who rejected Our Ayat, and used to wrong themselves (177)
Story of Bal'am bin Ba'ura
Abdur-Razzaq recorded that 'Abdullah bin Mas'ud said that Allah's statement,
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا
(And recite to them the story of him to whom We gave Our Ayat, but he threw them away)
"Is about Bal'am bin Ba'ura' a man from the Children of Israel." Shu'bah and several other narrators narrated this statement from Mansur who got it from Ibn Mas'ud. Sa'id bin Abi 'Arubah narrated that Qatadah said that Ibn 'Abbas said, "He is Sayfi, son of Ar-Rahib." Qatadah commented that Ka'b said, "He was a man from Al-Balqla' (a province of Jordan) who knew Allah's Greatest Name. He used to live in Bayt Al-Maqdis with the tyrants." Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas said, "He is Bal'am bin Ba'ura', a man from Yemen whom Allah had given the knowledge of His Ayat, but he abandoned them." Malik bin Dinar said, "He was one of the scholars of the Children of Israel whose supplication was acceptable. They used to seek his lead in suplication in times of difficulty. Allah's Prophet Musa sent him to the King of Madyan to call him to Allah. That king appeased him and gave him land and gifts, and he reverted from the religion of Musa and followed the king's religion." 'Imran bin 'Uyaynah narrated that 'Husayn said that 'Imran bin Al-Harith said that Ibn 'Abbas said, "He is Bal'am son of Ba'ura'." Similar was said by Mujahid and 'Ikrimah. Therefore, it is well-known that this honorable Ayah was revealed about a man from the Children of Israel in ancient times, according to Ibn Mas'ud and several others among the Salaf. 'Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas said, "He is a man from the city of the tyrants (Jerusalem) whose name was Bal'am and who knew Allah's Greatest Name." 'Ali bin Abi Talhah also reported that Ibn 'Abbas that he said, "When Musa and those with him went to the city of the tyrants (Jerusalem), the cousins of Bal'am and his people came to him and said, 'Musa is a strong man, and he has many soldiers. If he gains the upper hand over us, we will be destroyed. Therefore, supplicate to Allah that He prevents Musa and those with him from prevailing over us.' Bal'am said, 'If I supplicate to Allah that He turns back Musa and those with him, I will lose in this life and the Hereafter.' They kept luring him until he supplicated against Musa and his people, and Allah took away what he bestowed on him (of knowledge). Hence Allah's statement,
فَانسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ
(but he threw them away; so Shaytan followed him up).'" Allah said next,
وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ
(And had We willed, We would surely have elevated him therewith but he clung to the earth and followed his own vain desires.) Allah said,
وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا
(And had We willed, We would surely have elevated him therewith) from the filth of this earthly life through the Ayat that We gave him knowledge of,
وَلَٰكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ
(but he clung to the earth), he became interested in the adornment of this life and its delights. He indulged in the lusts of life and its joys and was deceived by it, just as life deceived others like him, without sound comprehension or a good mind. Muhammad bin Ishaq bin Yasar narrated from Salim, from Abu An-Nadr that when Musa entered the land of Bani Canaan in the area of Ash-Sham (Greater Syria), the people of Bal'am came to him, saying, "This is Musa, son of 'Imran with the Children of Israel. He wants to drive us out from our land, kill us and replace us with the Children of Israel. We are your people and have no other dwelling area. You are a person whose supplication is acceptable (to Allah), so go out and supplicate to Allah against them." He said, "Woe to you! Here is Allah's Prophet (Musa) with whom the angels and believers are! How can I supplicate against them when I know from Allah what I know?" They said, "We have no other dwelling area." So they kept luring and begging him until he was tempted by the trial and went on his donkey towards Mount Husban, which was behind the Israelite military barracks. When he proceeded on the Mount for a while, the donkey sat down and refused to proceed. He got off the donkey and struck it until it stood up again and he rode it. The donkey did the same after a little while, and he struck it again until it stood up... So he proceeded and tried to supplicate against Musa and his people. However, Allah made his tongue mention his people with evil and the Children of Israel with good instead of his people, who protested, "O Bal'am! What are you doing? You are supplicating for them and against us!" He said, "It is against my will. This is a matter that Allah has decided." He then said to them, as his tongue was made to loll out of his mouth, "Now I have lost this life and the Hereafter." This Ayah was revealed about the story of Bal'am son of Ba'ura'
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا
(And recite to them the story of him to whom We gave Our Ayat, but he threw them away.), until,
لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
(perhaps they may reflect.) Allah said next,
فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَث
(So his parable is the parable of a dog: if you drive him away, he pants, or if you leave him alone, he (still) pants.)
Scholars of Tafsir have conflicting opinions regarding the meaning of this Ayah. Some scholars said that it refers to the end of Bal'am's tongue which flickered out of his mouth, as in the story narrated from Ibn Ishaq, from Salim, from Abu An-Nadr. Therefore, his example is the example of the dog, its tongue pants regardless of whether it is driven away or not. It was also said that the meaning here is a parable of this man – and his like – concerning their misguidance, persisting the wrong path and not being able to benefit from faith or comprehend what they are being called to. So his example is that of a dog which pants whether it was driven away or left alone. The person described here does not benefit from the advice or the call to faith, just as if the advice and call never occurred. Allah said in another Ayah,
سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
(It is the same to them (disbelievers) whether you warn them or do not warn them, they will not believe.)[2:6] and,
اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ
(Whether you ask forgiveness for them (hypocrites) or ask not forgiveness for them – (and even) if you ask seventy times for their forgiveness – Allah will not forgive them.)[9:80] and similar Ayat. It was also said that the meaning here, is that the heart of the disbeliever, the hypocrite and the wicked is weak and devoid of guidance. Therefore, it keeps faltering. Similar was narrated from Al-Hasan Al-Basri.
فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
(So relate the stories, perhaps they may reflect) Allah said next to His Prophet Muhammad ﷺ,
فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ
(So relate the stories, perhaps they may) the Children of Israel, who have knowledge ot the story of Bal'am and what happened to him when Allah allowed him to stray and expelled him from His mercy. Allah favored him by teaching him His Greatest Name, by which, if He is asked, He will grant, and if He is called upon, He answers. But Bal'am used it in disobedience to Allah and invoked Him against His own party of the people of faith, followers of His servant and Messenger during that time, Musa, the son of 'Imran, peace be upon him, whom Allah spoke to directly,
لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
(perhaps they may reflect.) and avoid Bal'am's behavior, for Allah has given the Jews knowledge and made them superior to the bedouins surrounding them. He gave them the description of Muhammad ﷺ which would allow them to recognize him, as they recognize their own children. They, among people, have the most right to follow, aid and support Muhammad ﷺ, in obedience to their Prophets who informed them of him and commanded them to follow him. Therefore, whoever among them defies the knowledge in their Books or hides it from the servants, Allah will place disgrace on him in this life, followed by humiliation in the Hereafter. Allah said,
سَاءَ مَثَلًا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا
(Evil is the parable of the people who rejected Our Ayat.)
Allah says, evil is the example of the people who deny Our Ayat in that they are equated with dogs that have no interest but to collect food and satisfy lusts.' Therefore, whoever goes out of the area of knowledge and guidance, and seeks satisfaction for his lusts and vain desires, is just like a dog; what an evil example. The Sahih recorded that the Messenger of Allah ﷺ said,
لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ، الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ
(The evil example is not suitable for us: he who goes back on his gift is just like the dog that eats its vomit.) Allah's statement,
وَأَنفُسَهُمْ كَانُوا يَظْلِمُونَ
(and they used to wrong themselves.) means, Allah did not wrong them, but they wronged themselves by rejecting guidance, not obeying the Lord, being content with this life that will soon end, all the while seeking to fulfill desires and obey lusts.
Tafsir Ibn Kathir
بلعم بن باعورا مروی ہے کہ جس کا واقعہ ان آیتوں میں بیان ہو رہا ہے اس کا نام بلعم بن باعورا ہے۔ یہ بھی کہ کہا گیا ہے کہ اس کا نام ضفی بن راہب تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بلقاء کا ایک شخص تھا جو اسم اعظم جانتا تھا اور جبارین کے سات ہی بیت المقدس میں رہا کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ یمنی شخص تھا جس نے کلام اللہ کو ترک کردیا تھا، یہ شخص بنی اسرائیل کے علماء میں سے تھا، اس کی دعا مقبول ہوجایا کرتی تھی۔ بنی اسرائیل سختیوں کے وقت اسے آگے کردیا کرتے تھے۔ اللہ اس کی دعا مقبول فرما لیا کرتا تھا۔ اسے حضرت موسیٰ ؑ نے مدین کے بادشاہ کی طرف اللہ کے دین کی دعوت دینے کیلئے بھیجا تھا اس عقلمند بادشاہ نے اسے مکرو فریب سے اپنا کرلیا۔ اس کے نام کئی گاؤں کردیئے اور بہت کجھ انعام و اکرام دیا۔ یہ بدنصیب دین موسوی کو چھوڑ کر اس کے مذہب میں جا ملا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام بلعام تھا۔ یہ بھی ہے کہ یہ امیہ بن ابو صلت ہے۔ ممکن ہے یہ کہنے والے کی یہ مراد ہو کہ یہ امیہ بھی اسی کے مشابہ تھا۔ اسے بھی اگلی شریعتوں کا علم تھا لیکن یہ ان سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔ خود حضور ﷺ کے زمانے کو بھی اس نے پایا آپ کی آیات بینات دیکھیں، معجزے اپنی آنکھوں سے دیکھ لئے، ہزارہا کو دین حق میں داخل ہوتے دیکھا، لیکن مشرکین کے میل جول، ان میں امتیاز، ان میں دوستی اور وہاں کی سرداری کی ہوس نے اسے اسلام اور قبول حق سے روک دیا۔ اسی نے بدری کافروں کے ماتم میں مرثئے کہے، لعنتہ اللہ۔ بعض احادیث میں وارد ہے کہ اس کی زبان تو ایمان لا چکی تھی لیکن دل مومن نہیں ہوا تھا کہتے ہیں کہ اس شخص سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اس کی دعائیں جو بھی یہ کرے گا مقبول ہوں گی اس کی بیوی نے ایک مرتبہ اس سے کہا کہ ان تین دعاؤں میں سے ایک دعا میرے لئے کر۔ اس نے منظور کرلیا اور پوچھا کیا دعا کرانا چاہتی ہو ؟ اس نے کہا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس قدر حسن و خوبصورتی عطا فرمائے کہ مجھ سے زیادہ حسین عورت بنی اسرائیل میں کوئی نہ ہو۔ اس نے دعا کی اور وہ ایسی ہی حسین ہوگئی۔ اب تو اس نے پر نکالے اور اپنے میاں کو محض بےحقیقت سمجھنے لگی بڑے بڑے لوگ اس کی طرف جھکنے لگے اور یہ بھی ان کی طرف مائل ہوگئی اس سے یہ بہت کڑھا اور اللہ سے دعا کی کہ یا اللہ اسے کتیا بنا دے۔ یہ بھی منظور ہوئی وہ کتیا بن گئی۔ اب اس کے بچے آئے انہوں نے گھیر لیا کہ آپ نے غضب کیا لوگ ہمیں طعنہ دیتے ہیں اور ہم کتیا کے بچے مشہور ہو رہے ہیں۔ آپ دعا کیجئے کہ اللہ اسے اس کی اصلی حالت میں پھر سے لا دے۔ اس نے وہ تیسری دعا بھی کرلی تینوں دعائیں یوں ہی ضائع ہوگئیں اور یہ خالی ہاتھ بےخیر رہ گیا۔ مشہور بات تو یہی ہے کہ بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے یہ ایک شخص تھا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہ نبی تھا۔ یہ محض غلط ہے، بالکل جھوٹ ہے اور کھلا افترا ہے۔ مروی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ جب قوم جبارین سے لڑائی کے لئے بنی اسرائیل کی ہمراہی میں گئے انہی جبارین میں بلغام نامی یہ شخص تھا اس کی قوم اور اس کے قرابت دار چچا وغیرہ سب اس کے پاس آئے اور کہا کہ موسیٰ اور اس کی قوم کے لئے آپ بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا یہ نہیں ہوسکتا اگر میں ایسا کروں گا تو میری دنیا آخرت دونوں خراب ہوجائیں گی لیکن قوم سر ہوگئی۔ یہ بھی لحاظ مروت میں آگیا۔ بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس سے کرامت چھین لی اور اسے اس کے مرتبے سے گرا دیا۔ سدی کہتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل کو وادی تیہ میں چالیس سال گذر گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوشع بن نون ؑ کو نبی بنا کر بھیجا انہوں نے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہیں لے کر جاؤں اور ان جبارین سے جہاد کروں۔ یہ آمادہ ہوگئے، بیعت کرلی۔ انہی میں بلعام نامی ایک شخص تھا جو بڑا عالم تھا اسم اعظم جانتا تھا۔ یہ بدنصیب کافر ہوگیا، قوم جبارین میں جا ملا اور ان سے کہا تم نہ گھبراؤ جب بنی اسرائیل کا لشکر آجائے گا میں ان پر بد دعا کروں گا تو وہ دفعتاً ہلاک ہوجائے گا۔ اس کے پاس تمام دنیوی ٹھاٹھ تھے لیکن عورتوں کی عظمت کی وجہ سے یہ ان سے نہیں ملتا تھا بلکہ ایک گدھی پال رکھی تھی۔ اسی بدقسمت کا ذکر اس آیت میں ہے۔ شیطان اس پر غالب آگیا اسے اپنے پھندے میں پھانس لیا جو وہ کہتا تھا یہ کرتا تھا آخر ہلاک ہوگیا۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تم سب سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں جو قرآن پڑھ لے گا جو اسلام کی چادر اوڑھے ہوئے ہوگا اور دینی ترقی پر ہوگا کہ ایک دم اس سے ہٹ جائے گا، اسے پس پشت ڈال دے گا، اپنے پڑوسی پر تلوار لے دوڑے گا اور اسے شرک کی تہمت لگائے گا۔ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ نے یہ سن کر دریافت کیا کہ یا رسول اللہ مشرک ہونے کے زیادہ قابل کون ہوگا ؟ یہ تہمت لگانے والا ؟ وہ جسے تہمت لگا رہا ہے فرمایا نہیں بلکہ تہمت دھرنے والا۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو قادر تھے کہ اسے بلند مرتبے پر پہنچائیں، دنیا کی آلائشوں سے پاک رکھیں، اپنی دی ہوئی آیتوں کی تابعداری پر قائم رکھیں لیکن وہ دنیوی لذتوں کی طرف جھک پڑا یہاں تک کہ شیطان کا پورا مرید ہوگیا۔ اسے سجدہ کرلیا۔ کہتے ہیں کہ اس بلعام سے لوگوں نے درخواست کی کہ آپ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کے حق میں بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا اچھا میں اللہ سے حکم لے لوں۔ جب اس نے اللہ تعالیٰ سے مناجات کی تو اسے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل مسلمان ہیں اور ان میں اللہ کے نبی موجود ہیں اس نے سب سے کہا کہ مجھے بد دعا کرنے سے روک دیا گیا ہے انہوں نے بہت سارے تحفے تحائف جمع کر کے اسے دیئے اس نے سب رکھ لئے۔ پھر دوبارہ درخواست کی کہ ہمیں ان سے بہت خوف ہے آپ ضرور ان پر بد دعا کیجئے اس نے جواب دیا کہ جب تک میں اللہ تعالیٰ سے اجازت نہ لے لوں میں ہرگز یہ نہ کروں گا اس نے پھر اللہ سے مناجات کی لیکن اسے کچھ معلوم نہ ہوسکا اس نے یہی جواب انہیں دیا تو انہوں نے کہا دیکھو اگر منع ہی مقصود ہوتا تو آپ کو روک دیا جاتا جیسا کہ اس سے پہلے روک دیا گیا۔ اس کی بھی سمجھ میں آگیا اٹھ کر بد دعا شروع کی۔ اللہ کی شان ہے بد دعا ان پر کرنے کے بجائے اس کی زبان سے اپنی ہی قوم کے لئے بد دعا نکلی اور جب اپنی قوم کی فتح کی دعا مانگنا چاہتا تو بنی اسرائیل کی فتح و نصرت کی دعا نکلتی۔ قوم نے کہا آپ کیا غضب کر رہے ہیں ؟ اس نے کہا کیا کروں ؟ میری زبان میرے قابو میں نہیں۔ سنو اگر سچ مچ میری زبان سے ان کے لئے بد دعا نکلی بھی تو قبول نہ ہوگی۔ سنو اب میں تمہیں ایک ترکیب بتاتا ہوں اگر تم اس میں کامیاب ہوگئے تو سمجھ لو کہ بنی اسرائیل برباد ہوجائیں گے تم اپنی نوجوان لڑکیوں کو بناؤ سنگھار کرا کے ان کے لشکروں میں بھیجو اور انہیں ہدایت کردو کہ کوئی ان کی طرف جھکے تو یہ انکار نہ کریں ممکن ہے بوجہ مسافرت یہ لوگ زناکاری میں مبتلا ہوجائیں اگر یہ ہوا تو چونکہ یہ حرام کاری اللہ کو سخت ناپسند ہے اسی وقت ان پر عذاب آجائے گا اور یہ تباہ ہوجائیں گے۔ ان بےغیرتوں نے اس بات کو مان لیا اور یہی کیا۔ خود بادشاہ کی بڑی حسین و جمیل لڑکی بھی بن ٹھن کر نکلی اسے ہدایت کردی گئی تھی کہ سوائے حضرت موسیٰ کے اور کسی کو اپنا نفس نہ سونپے۔ یہ عورتیں جب بنی اسرائیل کے لشکر میں پہنچیں تو عام لوگ بےقابو ہوگئے حرام کاری سے بچ نہ سکے۔ شہزادی بنی اسرائیل کے ایک سردار کے پاس پہنچی۔ اس سردار نے اس لڑکی پر ڈورے ڈالے لیکن اس لڑکی نے انکار کیا۔ اس نے بتایا کہ میں فلاں فلاں ہوں، اس نے اپنے باپ سے یا بلعام سے پچھوایا اس نے اجازت دی۔ یہ خبیث اپنا منہ کالا کر رہا تھا جسے حضرت ہارون ؑ کی اولاد میں سے کسی صاحب نے دیکھ لیا اپنے نیزے سے ان دونوں کو پرودیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دست و بازی قوی کردیئے اس نے یونہی ان دونوں کو چھدے ہوئے اٹھا لیا لوگوں نے بھی انہیں دیکھا۔ اب اس لشکر پر عذاب رب بشکل طاعون آیا اور ستر ہزار آدمی فوراً ہلاک ہوگئے۔ بلعام اپنی گدھی پر سوار ہو کر چلا وہ ایک ٹیلے پر چڑھ کر رک گئی اب بلعام اسے مارتا پیٹتا ہے لیکن وہ قدم نہیں اٹھاتی۔ آخر گدھی نے اس کی طرف دیکھا اور کہا مجھے کیوں مار رہا ہے سامنے دیکھ کون ہے ؟ اس نے دیکھ تو شیطان لعین کھڑا ہوا تھا یہ اتر پڑا اور سجدے میں گرگیا۔ الغرض ایمان سے خالی ہوگیا اس کا نام یا تو بلعام تھا۔ یا بلعم بن با عورا یا ابن ابر بار بن باعور بن شہوم بن قوشتم بن مآب بن لوط بن ہارون یا ابن مران بن آزر۔ یہ بلقا کا رئیس تھا، اسم اعظم جانتا تھا لیکن اخیر میں دین حق سے ہٹ گیا۔ واللہ اعلم۔ ایک روایت میں ہے کہ قوم کے زیادہ کہنے سننے سے جب یہ اپنی گدھی پر سوار ہو کر بد دعا کے لئے چلا تو اس کی گدھی بیٹھ گئی۔ اس نے اسے مار پیٹ کر اٹھایا کچھ دور چل کر پھر بیٹھ گئی۔ اس نے اسے پھر مار پیٹ کر اٹھایا، اسے اللہ نے زبان دی۔ اس نے کہا تیرا ناس جائے تو کہاں اور کیوں جا رہا ہے اللہ کے مقابلے اس کے رسول سے لڑنے اور مومنوں کو نقصان دلانے جا رہا ہے ؟ دیکھ تو سہی فرشتے میری راہ روکے کھڑے ہیں۔ اس نے پھر بھی کچھ خیال نہ کیا آگے بڑھ گیا۔ حبان نامی پہاڑی پر چڑھ گیا جہاں سے بنو اسرائیل کا لشکر سامنے ہی نظر آتا تھا۔ اب ان کیلئے بددعا اور اپنی قوم کے لئے دعائیں کرنے لگا لیکن زبان الٹ گئی دعا کی جگہ بد دعا اور بد دعا کی جگہ دعا نکلنے لگی۔ قوم نے کہا کیا کر رہے ہو ؟ کہا بےبس ہوں۔ اسی وقت اس کی زبان نکل پڑی سینے پر لٹکنے لگی اس نے کہا لو میری دنیا بھی خراب ہوئی اور دین تو بالکل برباد ہوگیا پھر اس نے خوبصورت لڑکیاں بھیجنے کی ترکیب بتائی جیسے کہ اوپر بیان ہوا اور کہا کہ اگر ان میں سے ایک نے بھی بدکاری کرلی تو ان پر عذاب رب آجائے گا ان عورتوں میں سے ایک بہت ہی حسین عورت جو کنانیہ تھی اور جس کا نام کستی تھا جو صور نامی ایک رئیس کی بیٹی تھی وہ جب بنی اسرائیل کے ایک بہت بڑے سردار زمری بن شلوم کے پاس سے گذری جو شمعون بن یعقوب کی نسل میں سے تھا وہ اس پر فریفتہ ہوگیا۔ دلیری کے ساتھ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس گیا اور کہنے لگا آپ تو شاید کہہ دیں گے کہ یہ مجھ پر حرام ہے ؟ آپ نے کہا بیشک۔ اس نے کہا اچھا میں آپ کی یہ بات تو نہیں مان سکتا، اسے اپنے خیمے میں لے گیا اور اس سے منہ کالا کرنے لگا۔ وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر طاعون بھیج دیا۔ حضرت فحاص بن غیرار بن ہارون اس وقت لشکر گاہ سے کہیں باہر گئے ہوئے تھے جب آئے اور تمام حقیقت سنی تو بیتاب ہو کر غصے کے ساتھ اس بد کردار کے خیمے میں پہنچے اور اپنے نیزے میں ان دونوں کو پرو لیا اور اپنے ہاتھ میں نیزہ لئے ہوئے انہیں اوپر اٹھائے ہوئے باہر نکلے کہنی کو کھ پر لگائے ہوئے تھے کہنے لگے یا اللہ ہمیں معاف فرما ہم پر سے یہ وبا دور فرما دیکھ لے ہم تیرے نافرمانوں کے ساتھ یہ کرتے ہیں۔ ان کی دعا اور اس فعل سے طاعون اٹھ گیا لیکن اتنی دیر میں جب حساب لگایا گیا تو ستر ہزار آدمی اور ایک روایت کی رو سے بیس ہزار مرچکے تھے۔ دن کا وقت تھا اور کنانیوں کی یہ چھوکریاں سودا بیچنے کے بہانے صرف اس لئے آئی تھیں کہ بنو اسرائیل بدکاری میں پھنس جائیں اور ان پر عذاب آجائیں۔ بنو اسرائیل میں اب تک یہ دستور چلا آتا ہے کہ وہ اپنے ذبیحہ میں سے گردن اور دست اور سری اور ہر قسم کا سب سے پہلا پھل فحاص کی اولاد کو دیا کرتے ہیں۔ اسی بلعام بن باعورا کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ فرمان ہے کہ اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ کالی ہے تو ہانپتا ہے اور دھتکارا جائے تو ہانپتا رہتا ہے۔ یا تو اس مثال سے یہ مطلب ہے کہ بلعام کی زبان نیچے کو لٹک پڑی تھی جو پھر اندر کو نہ ہوئی کتے کی طرح ہانپتا رہتا تھا اور زبان باہر لٹکائے رہتا تھا۔ یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی ضلالت اور اس پر جمے رہنے کی مثال دی کہ اسے ایمان کی دعوت، علم کی دولت غرض کسی چیز نے برائی سے نہ ہٹایا جیسے کتے کی اس کی زبان لٹکنے کی حالت برابر قائم رہتی ہے خواہ اسے پاؤں تل روندو خواہ جھوڑ دو۔ جیسے بعض کفار مکہ کی نسبت فرمان ہے کہ انہیں وعظ و پند کہنا نہ کہنا سب برابر ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا اور جیسے بعض منافقوں کی نسبت فرمان ہے کہ ان کے لئے تو استغفار کر یا نہ کر اللہ انہیں نہیں بخشے گا۔ یہ بھی مطلب اس مثال کا بیان کیا گیا ہے کہ ان کافروں منافقوں اور گمراہ لوگوں کے دل بودے اور ہدایت سے خالی ہیں یہ کبھی مطمئن نہیں ہوتے۔ پھر اللہ عزوجل اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ تو انہیں پند و نصیحت کرتا رہ تاکہ ان میں سے جو عالم ہیں، وہ غور و فکر کر کے اللہ کی راہ پر آجائیں یہ سوچیں کہ بلعام ملعون کا کیا حال ہوا دینی علم جیسی زبردست دولت کو جس نے دنیا کی سفلی راحت پر کھو دیا۔ آخر نہ یہ ملا نہ وہ۔ دونوں ہاتھ خالی رہ گئے۔ اسی طرح یہ علماء یہود جو اپنی کتابوں میں اللہ کی ہدایتیں پڑھ رہے ہیں، آپ کے اوصاف لکھے پاتے ہیں، انہیں چاہئے کہ دنیا کی طمع میں پھنس کر اپنے مریدوں کو پھانس کر پھول نہ جائیں ورنہ یہ بھی اس کی طرح دنیا میں کھو دیئے جائیں گے انہیں چاہئے کہ اپنی علمیت سے فائدہ اٹھائیں۔ سب سے پہلے تیری اطاعت کی طرف جھکیں اور اوروں پر حق کو ظاہر کریں۔ دیکھ لو کہ کفار کی کیسی بری مثالیں ہیں کہ کتوں کی طرح صرف نگلنے اگلنے اور شہوت رانی میں پڑے ہوئے ہیں۔ پس جو بھی علم و ہدایت کو چھوڑ کر خواہش نفس کے پورا کرنے میں لگ جائے وہ بھی کتے جیسا ہی ہے۔ حضور فرماتے ہیں ہمارے لئے بری مثالیں نہیں اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کو پھر لے لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ گنہگار لوگ اللہ کا کچھ بگاڑتے نہیں یہ تو اپنا ہی خسارہ کرتے ہیں۔ طاعت مولیٰ ، اتباع ہدی سے ہٹا کر خواہش کی غلامی دنیا کی چاہت میں پڑ کر اپنے دونوں جہان خراب کرتے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا [فَأَتْبَعَهُ] ﴾ [[زيادة من ك.]] الْآيَةَ، قَالَ: هُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، يُقَالُ لَهُ: بَلْعم بْنُ أبَرَ. وَكَذَا رَوَاهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهِ.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَة، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] هُوَ صَيْفِيُّ بْنُ الرَّاهِبِ.
قَالَ قَتَادَةُ: وَقَالَ كَعْبٌ: كَانَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَلْقَاءِ، وَكَانَ يَعْلَمُ الِاسْمَ الْأَكْبَرَ، وَكَانَ مُقِيمًا بِبَيْتِ [[في أ: "بيت".]] الْمَقْدِسِ مَعَ الْجَبَّارِينَ.
وَقَالَ العَوْفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] هُوَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، يُقَالُ لَهُ: بَلْعَم، آتَاهُ اللَّهُ آيَاتِهِ فَتَرَكَهَا.
وَقَالَ مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ: كَانَ مِنْ عُلَمَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَكَانَ مُجَابَ الدَّعْوَةِ، يُقَدِّمُونَهُ فِي الشَّدَائِدِ، بَعَثَهُ نَبِيُّ اللَّهِ مُوسَى إِلَى مَلِكِ مَدْين يَدْعُوهُ إِلَى اللَّهِ، فَأَقْطَعُهُ وَأَعْطَاهُ، فَتَبِعَ دِينَهُ وَتَرَكَ دِينَ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
وَقَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُصَين، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] هُوَ بَلْعَمُ بْنُ بَاعِرَ. وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ وَعِكْرِمَةُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] قَالَ: هُوَ بِلْعَامُ -وَقَالَتْ ثَقِيفٌ: هُوَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ.
وَقَالَ شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] فِي قَوْلِهِ: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ [آيَاتِنَا] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] قَالَ: هُوَ صَاحِبُكُمْ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ.
وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْهُ وَهُوَ صَحِيحٌ إِلَيْهِ، وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ أَنَّ أُمَيَّةَ بْنَ أَبِي الصَّلْتِ يُشْبِهُهُ، فَإِنَّهُ كَانَ قَدِ اتَّصَلَ إِلَيْهِ عِلْمٌ كَثِيرٌ مِنْ عِلْمِ الشَّرَائِعِ الْمُتَقَدِّمَةِ، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَنْتَفِعْ بِعِلْمِهِ، فَإِنَّهُ أَدْرَكَ زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَبَلَغَتْهُ أَعْلَامُهُ وَآيَاتُهُ وَمُعْجِزَاتُهُ، وَظَهَرَتْ لِكُلِّ مَنْ لَهُ بَصِيرَةٌ، وَمَعَ هَذَا اجْتَمَعَ بِهِ وَلَمْ يَتْبَعْهُ، وَصَارَ إِلَى مُوَالَاةِ الْمُشْرِكِينَ وَمُنَاصَرَتِهِمْ وَامْتِدَاحِهِمْ، وَرَثَى أَهْلَ بَدْرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِمَرْثَاةٍ بَلِيغَةٍ، قَبَّحَهُ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] [[انظر: العقيدة في السيرة النبوية لابن هشام (٢/٣٠) .]] وَقَدْ جَاءَ فِي بَعْضِ الْأَحَادِيثِ: "أَنَّهُ مِمَّنْ آمَنَ لِسَانُهُ، وَلَمْ يُؤْمِنْ قَلْبُهُ"؛ فَإِنَّ لَهُ أَشْعَارًا رَبَّانِيَّةً وَحِكَمًا وَفَصَاحَةً، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَشْرَحِ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْأَعْوَرِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا﴾ قَالَ: هُوَ رَجُلٌ أُعْطِيَ ثَلَاثَ دَعْوَاتٍ يُسْتَجَابُ لَهُ فِيهِنَّ، وَكَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ لَهُ مِنْهَا وَلَدٌ، فَقَالَتْ: اجْعَلْ لِي مِنْهَا واحدة. قال: فَلَكِ وَاحِدَةٌ، فَمَا الَّذِي تُرِيدِينَ؟ قَالَتْ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي أَجْمَلَ امْرَأَةٍ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَدَعَا اللَّهَ، فَجَعَلَهَا أَجْمَلَ امْرَأَةٍ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَلَمَّا عَلِمَتْ أَنْ [[في أ: "أنه".]] لَيْسَ فِيهِمْ مِثْلُهَا رَغِبَتْ عَنْهُ، وَأَرَادَتْ شَيْئًا آخَرَ، فَدَعَا اللَّهُ أَنْ يَجْعَلَهَا كَلْبَةً، فَصَارَتْ كَلْبَةً، فَذَهَبَتْ دَعْوَتَانِ. فَجَاءَ بَنُوهَا فَقَالُوا: لَيْسَ بِنَا عَلَى هَذَا قَرَارٌ، قَدْ صَارَتْ أُمُّنَا كَلْبَةً يُعَيِّرُنَا النَّاسُ بِهَا، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّهَا إِلَى الْحَالِ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا، فَدَعَا اللَّهَ، فَعَادَتْ كَمَا كَانَتْ، فَذَهَبْتِ الدَّعْوَاتُ الثَّلَاثُ، وَسُمِّيَتِ الْبَسُوسُ. [[ورواه أبو الشيخ في تفسيره كما في الدر المنثور (٣/٦٠٨) .]] غَرِيبٌ.
وَأَمَّا الْمَشْهُورُ فِي سَبَبٍ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ، فَإِنَّمَا هُوَ رَجُلٌ مِنَ الْمُتَقَدِّمِينَ فِي زَمَنِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، كَمَا قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَغَيْرُهُ مِنَ السَّلَفِ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: هُوَ رَجُلٌ مِنْ مَدِينَةِ الْجَبَّارِينَ، يُقَالُ لَهُ: "بَلْعَامُ" [[في د، ك، م، أ: "بلعم".]] وَكَانَ يَعْلَمُ اسْمَ اللَّهِ الْأَكْبَرَ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَغَيْرُهُ مِنْ عُلَمَاءِ السَّلَفِ: كَانَ [رَجُلًا] [[زيادة من أ.]] مُجَابَ الدَّعْوَةِ، وَلَا يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ.
وَأَغْرَبَ، بَلْ أَبْعَدَ، بَلْ أَخْطَأَ مَنْ قَالَ: كَانَ قَدْ [[في أ: "من قال أنه".]] أُوتِيَ النُّبُوَّةَ فَانْسَلَخَ مِنْهَا. حَكَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، عَنْ بَعْضِهِمْ، وَلَا يَصِحُّ [[تفسير الطبري (١٣/٢٥٩) .]]
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عباس: لما نزل مُوسَى بِهِمْ -يَعْنِي بِالْجَبَّارِينَ -وَمَنْ مَعَهُ، أَتَاهُ يَعْنِي بَلْعَامُ [[في د، ك، م، أ: "بلعم".]] -أَتَاهُ بَنُو عَمِّهِ وَقَوْمُهُ، فَقَالُوا: إِنَّ مُوسَى رَجُلٌ حَدِيدٌ، وَمَعَهُ جُنُودٌ كَثِيرَةٌ، وَإِنَّهُ إِنْ يَظْهَرْ عَلَيْنَا يُهْلِكْنَا، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ عَنَّا مُوسَى وَمَنْ مَعَهُ. قَالَ: إِنِّي إِنْ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ مُوسَى وَمَنْ مَعَهُ، ذَهَبَتْ دُنْيَايَ وَآخِرَتِي. فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى دَعَا عَلَيْهِمْ، فَسَلَخَهُ اللَّهُ مَا كَانَ عَلَيْهِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ [مِنَ الْغَاوِينَ] ﴾ [[زيادة من د، ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]]
وَقَالَ السُّدِّيُّ: إِنَّ اللَّهَ لَمَّا انْقَضَّتِ الْأَرْبَعُونَ سَنَةً الَّتِي قَالَ اللَّهُ: ﴿فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً﴾ [الْمَائِدَةِ:٢٦] بَعَثَ يُوشَعَ بْنَ نُونٍ نَبِيًّا، فَدَعَا بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ نَبِيٌّ، وَأَنَّ اللَّهَ [قَدْ] [[زيادة من د، أ.]] أَمَرَهُ أَنْ يُقَاتِلَ الْجَبَّارِينَ، فَبَايَعُوهُ وَصَدَّقُوهُ. وَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ يُقَالُ لَهُ: "بَلْعَمُ" وَكَانَ عَالَمًا، يَعْلَمُ الِاسْمَ الْأَعْظَمَ الْمَكْتُومَ، فَكَفَرَ -لَعَنَهُ اللَّهُ -وَأَتَى الْجَبَّارِينَ وَقَالَ لَهُمْ: لَا تَرْهَبُوا بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَإِنِّي إِذَا خَرَجْتُمْ تُقَاتِلُونَهُمُ أَدْعُوَا عَلَيْهِمْ دَعْوَةً فَيَهْلِكُونَ! وَكَانَ عِنْدَهُمْ فِيمَا شَاءَ مِنَ الدُّنْيَا، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَاءَ، يُعَظِّمُهُنَّ [[في أ: "لعظمهن".]] فَكَانَ يَنْكِحُ أَتَانًا لَهُ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ اللَّهُ تعالى [[في أ: "الله عز وجل".]] ﴿فَانْسَلَخَ مِنْهَا﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ﴾ أَيِ: اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِ وَغَلَبَهُ عَلَى أَمْرِهِ، فَمَهْمَا أَمَرَهُ امْتَثَلَ وَأَطَاعَهُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ﴾ أَيْ: مِنَ الْهَالِكِينَ الْحَائِرَيْنِ [[في أ: "الجائرين".]] الْبَائِرَيْنِ.
وَقَدْ وَرَدَ فِي مَعْنَى هَذِهِ الْآيَةِ حَدِيثٌ رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى الْمُوصِلِيُّ فِي مُسْنَدِهِ حَيْثُ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ بَهْرام، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا جُنْدُب الْبَجَلِيُّ في هذا المسجد؛ أن حذيفة -يعني بن الْيَمَانِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -حَدَّثَهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "أن مِمَّا أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ رجُل قَرَأَ الْقُرْآنَ، حَتَّى إِذَا رُؤِيَتْ بَهْجَتُهُ عَلَيْهِ وَكَانَ رِدْء الْإِسْلَامِ اعْتَرَاهُ [[في أ: "اعتره".]] إِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ، انْسَلَخَ مِنْهُ، وَنَبَذَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ، وَسَعَى عَلَى جَارِهِ بِالسَّيْفِ، وَرَمَاهُ بِالشِّرْكِ". قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيُّهُمَا أَوْلَى بِالشِّرْكِ: الْمَرْمِيُّ أَوِ الرَّامِي؟ قَالَ: "بَلِ الرَّامِي".
هَذَا إِسْنَادٌ جَيِّدٌ [[ورواه البزار في مسنده برقم (١٧٥) من طريق: حدثنا محمد بن مرزوق والحسن بن أبي كبشة، حدثنا محمد بن بكر البرساني به. قال الهيثمي في المجمع (١/١٨٨) : "إسناده حسن".]] وَالصَّلْتُ بْنُ بَهْرَامَ كَانَ مِنْ ثِقَاتِ الْكُوفِيِّينَ، وَلَمْ يُرْمَ بِشَيْءٍ سِوَى الْإِرْجَاءِ، وَقَدْ وَثَّقَهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُمَا.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الأرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ﴾ يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا﴾ أَيْ: لَرَفَعْنَاهُ مِنَ التَّدَنُّسِ عَنْ [[في أ: "من".]] قَاذُورَاتِ الدُّنْيَا بِالْآيَاتِ الَّتِي آتَيْنَاهُ إِيَّاهَا، ﴿وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الأرْضِ﴾ أَيْ: مَالَ إِلَى زِينَةِ الدُّنْيَا وَزَهْرَتِهَا، وَأَقْبَلَ عَلَى لَذَّاتِهَا وَنَعِيمِهَا، وَغَرَّتْهُ كَمَا غَرَّتْ غَيْرَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْبَصَائِرِ [[في أ: "الأبصار".]] وَالنُّهَى.
وَقَالَ أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الأرْضِ﴾ قَالَ: تَرَاءَى لَهُ الشَّيْطَانُ عَلَى غَلْوة مِنْ قَنْطَرَةِ بَانْيَاسَ، فَسَجَدَتِ الْحِمَارَةُ لِلَّهِ، وَسَجَدَ بَلْعَامُ لِلشَّيْطَانِ. وَكَذَا قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْر بْنِ نُفَير، وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: وَكَانَ مِنْ قِصَّةِ هَذَا الرَّجُلِ: مَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ سُئل عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا [فَانْسَلَخَ مِنْهَا] ﴾ [[زيادة من أ.]] فَحَدَّثَ عَنْ سَيَّارٍ أَنَّهُ كَانَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ بَلْعَامُ، وَكَانَ قَدْ أُوتِيَ النُّبُوَّةَ وَكَانَ مُجَابَ الدَّعْوَةِ، قَالَ: وَإِنَّ مُوسَى أَقْبَلَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ يُرِيدُ الْأَرْضَ الَّتِي فِيهَا بَلْعَامُ -أَوْ قَالَ: الشَّامَ -قَالَ فرُعب النَّاسُ مِنْهُ رُعْبًا شَدِيدًا، قَالَ: فَأَتَوْا بَلْعَامَ، فَقَالُوا: ادْعُ اللَّهَ عَلَى هَذَا الرَّجُلِ وَجَيْشِهِ! قَالَ: حَتَّى أوَامر رَبِّي -أَوْ: حَتَّى أُؤَامِرَ -قَالَ: فَوَامَرَ فِي الدُّعَاءِ عَلَيْهِمْ، فَقِيلَ لَهُ: لَا تَدْعُ عَلَيْهِمْ، فَإِنَّهُمْ عِبَادِي، وَفِيهِمْ نَبِيُّهُمْ. قَالَ: فَقَالَ لِقَوْمِهِ: إِنِّي قَدْ آمَرْتُ رَبِّي فِي الدُّعَاءِ عَلَيْهِمْ، وَإِنِّي قَدْ نُهِيتُ. فَأَهْدَوْا لَهُ هَدِيَّةً فَقَبِلَهَا، ثُمَّ رَاجَعُوهُ فَقَالُوا: ادْعُ عَلَيْهِمْ. فَقَالَ: حَتَّى أَوَامِرَ. فَوَامَرَ، فَلَمْ يَحُر إِلَيْهِ شَيْءٌ. فَقَالَ: قَدْ وَامَرْتَ فَلَمْ يَحُر إِلَيَّ شَيْءٌ! فَقَالُوا: لَوْ كَرِهَ رَبُّكَ أَنْ تَدْعُوَ عَلَيْهِمْ لَنَهَاكَ كَمَا نَهَاكَ الْمَرَّةَ الْأُولَى. قَالَ: فَأَخَذَ يَدْعُو عَلَيْهِمْ، فَإِذَا دَعَا عَلَيْهِمْ، جَرَى عَلَى لِسَانِهِ الدُّعَاءُ عَلَى قَوْمِهِ، وإذا أراد أن يدعو أن يفتح لِقَوْمِهِ [[في م: "على قومه".]] دَعَا أَنْ يَفْتَحَ لِمُوسَى وَجَيْشِهِ -أَوْ نَحْوًا مِنْ ذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ. قَالَ [[في أ: "فقالوا له".]] مَا نَرَاكَ تَدْعُو إِلَّا عَلَيْنَا. قَالَ: مَا يَجْرِي عَلَى لِسَانِي إِلَّا هَكَذَا، وَلَوْ دَعَوْتُ عَلَيْهِ أَيْضًا مَا اسْتُجِيبَ لِي، وَلَكِنْ سَأَدُلُّكُمْ عَلَى أَمْرٍ عَسَى أَنْ يَكُونَ فِيهِ هَلَاكُهُمْ. إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الزِّنَا، وَإِنَّهُمْ إِنْ وَقَعُوا بِالزِّنَا هَلَكُوا، وَرَجَوْتُ أَنْ يُهْلِكَهُمُ اللَّهُ، فَأَخْرِجُوا النِّسَاءَ يَسْتقبلنهم [[في أ: "تستقبلهم".]] ؛ فَإِنَّهُمْ قَوْمٌ مُسَافِرُونَ، فَعَسَى أَنْ يَزْنُوا فَيَهْلَكُوا. قَالَ: فَفَعَلُوا. قَالَ: فَأَخْرَجُوا النِّسَاءَ يَسْتَقْبِلْنَهُمْ. قَالَ: وَكَانَ لِلْمَلِكِ ابْنَةٌ، فَذَكَرَ مِنْ عِظَمِهَا مَا اللَّهُ أَعْلَمُ بِهِ! قَالَ: فَقَالَ أَبُوهَا -أَوْ بَلْعَامُ-: لَا تُمَكِّنِي نَفْسَكِ إِلَّا مِنْ مُوسَى! قَالَ: وَوَقَعُوا فِي الزِّنَا. قَالَ: وَأَتَاهَا رَأْسُ سِبْطٍ مِنْ أَسْبَاطِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَالَ: فَأَرَادَهَا عَلَى نَفْسِهِ، فَقَالَتْ: مَا أَنَا بِمُمَكِّنَةِ نَفْسِي إِلَّا مِنْ مُوسَى. قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ مَنْزِلَتِي [[في أ: "إن من منزلتي".]] كَذَا وَكَذَا، وَإِنَّ مِنْ حَالِي كَذَا وَكَذَا. قَالَ: فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَبِيهَا تَسْتَأْمِرُهُ، قَالَ: فَقَالَ لَهَا: فَأَمْكِنِيهِ قَالَ: وَيَأْتِيهِمَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَارُونَ وَمَعَهُ الرُّمْحُ فَيَطْعَنُهُمَا. قَالَ: وَأَيَّدَهُ اللَّهُ بِقُوَّةٍ. فَانْتَظَمَهُمَا جَمِيعًا، وَرَفَعَهُمَا عَلَى رُمْحِهِ [[في م: "على رأس رمحه".]] فَرَآهُمَا النَّاسُ -أَوْ كَمَا حدَّث -قَالَ: وَسَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الطَّاعُونَ، فَمَاتَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا.
قَالَ أَبُو الْمُعْتَمِرِ: فَحَدَّثَنِي سَيَّار: أَنَّ بلعامًا رَكِبَ حَمَّارَةً لَهُ حَتَّى [[في أ: "حتى إذا".]] أَتَى الْعَلُولَى [[في ك: "العلوي".]] -أَوْ قَالَ: طَرِيقًا مِنَ الْعَلُولَى [[في ك: "العلوي".]] -جَعَلَ يَضْرِبُهَا وَلَا تُقْدم، وَقَامَتْ عَلَيْهِ فَقَالَتْ: عَلَامَ تَضْرِبُنِي؟ أَمَا تَرَى هَذَا الَّذِي بَيْنَ يَدَيْكَ؟ فَإِذَا الشَّيْطَانُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَنَزَلَ وَسَجَدَ لَهُ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾
قَالَ: فَحَدَّثَنِي بِهَذَا سَيَّارٌ، وَلَا أَدْرِي لَعَلَّهُ قَدْ دَخَلَ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ حَدِيثِ غَيْرِهِ.
قُلْتُ: هُوَ بَلْعَامُ -وَيُقَالُ: بُلْعُمُ -بْنُ بَاعُورَاءَ، ابْنُ أَبَرَ. وَيُقَالُ: ابْنُ بَاعُورَ بْنِ شُهُومَ [[في أ: "شهتوم".]] بن قوشتم ابن مَابَ بْنِ لُوطِ بْنِ هَارَانَ -وَيُقَالُ: ابْنُ حَرَانَ -بْنِ آزَرَ. وَكَانَ يَسْكُنُ قَرْيَةً مِنْ قُرَى الْبَلْقَاءِ.
قَالَ ابْنُ عَسَاكِرَ: وَهُوَ الَّذِي كَانَ يَعْرِفُ اسْمَ اللَّهِ الْأَعْظَمَ، فَانْسَلَخَ مِنْ دِينِهِ، لَهُ ذِكْرٌ فِي الْقُرْآنِ. ثُمَّ أَوْرَدَ [[في أ: "ثم ذكر".]] مِنْ قِصَّتِهِ نَحْوًا مِمَّا ذَكَرْنَا هَاهُنَا، وَأَوْرَدَهُ عَنْ وَهْبٍ وَغَيْرِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ؛ أَنَّهُ حَدَّثَ: أَنَّ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا نَزَلَ فِي أَرْضِ بَنِي كَنْعَانَ مِنْ أَرْضِ الشَّامِ، أَتَى قَوْمُ بَلْعَامَ إِلَيْهِ فَقَالُوا لَهُ: هَذَا مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَدْ جَاءَ يُخْرِجُنَا مِنْ بِلَادِنَا وَيَقْتُلُنَا وَيُحِلُّهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَإِنَّا قَوْمُكَ، وَلَيْسَ لَنَا مَنْزِلٌ، وَأَنْتَ رَجُلٌ مُجَابُ الدَّعْوَةِ، فَاخْرُجْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ. قَالَ: وَيَلْكُمُ! نَبِيُّ اللَّهِ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ وَالْمُؤْمِنُونَ، كَيْفَ أَذْهَبُ أَدْعُو عَلَيْهِمْ، وَأَنَا أَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا أَعْلَمُ؟! قَالُوا لَهُ: مَا لَنَا مِنْ مَنْزِلٍ! فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ يُرَقِّقُونَهُ وَيَتَضَرَّعُونَ إِلَيْهِ، حَتَّى فَتَنُوهُ فَافْتُتِنَ، فَرَكِبَ حَمَارَةً [[في م، أ: "حمارا".]] لَهُ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْجَبَلِ الَّذِي يُطْلِعُهُ عَلَى عَسْكَرِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَهُوَ جَبَلُ حُسْبان، فَلَمَّا سَارَ عَلَيْهَا غَيْرَ كَثِيرٍ، رَبَضَتْ بِهِ، فنزل عنها فضربها، حتى إذا أَذْلَقَهَا قَامَتْ فَرَكِبَهَا. فَلَمْ تَسْرِ بِهِ كَثِيرًا حَتَّى رَبَضَتْ بِهِ، فَضَرَبَهَا حَتَّى إِذَا أَذْلَقَهَا أَذِنَ اللَّهُ لَهَا فَكَلَّمَتْهُ حُجَّةً عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: وَيْحَكَ يَا بَلْعَمُ: أَيْنَ تَذْهَبُ؟ أَمَا [[في ك، م: "ألا".]] تَرَى الْمَلَائِكَةَ أَمَامِي تَرُدُّنِي عَنْ وَجْهِي هَذَا؟ أَتَذْهَبُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ وَالْمُؤْمِنِينَ لِتَدْعُوَ [[في أ: "تدعو".]] عَلَيْهِمْ؟ فَلَمْ يَنْزِعْ عَنْهَا يَضْرِبُهَا، فَخَلَّى اللَّهُ سَبِيلَهَا حِينَ فَعَلَ بِهَا ذَلِكَ. فَانْطَلَقَتْ بِهِ حَتَّى إِذَا أَشْرَفَتْ بِهِ عَلَى رَأْسِ حُسْبَانَ، عَلَى عَسْكَرِ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ، جَعَلَ يَدْعُو عَلَيْهِمْ، وَلَا يَدْعُو عَلَيْهِمْ بَشَرٍّ إِلَّا صَرَفَ اللَّهُ لِسَانَهُ إِلَى قَوْمِهِ، وَلَا يَدْعُو لِقَوْمِهِ بِخَيْرٍ إِلَّا صَرَفَ لِسَانَهُ إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَقَالَ لَهُ قَوْمُهُ: أَتَدْرِي يَا بَلْعَمُ مَا تَصْنَعُ؟ إِنَّمَا تَدْعُو لَهُمْ، وَتَدْعُو عَلَيْنَا! قَالَ: فَهَذَا مَا لَا أَمْلِكُ، هَذَا شَيْءٌ قَدْ غَلَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ! قَالَ: وَانْدَلَعَ لِسَانُهُ فَوَقَعَ عَلَى صَدْرِهِ، فَقَالَ لَهُمْ: قَدْ ذَهَبَتْ مِنِّي الْآنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ، وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا الْمَكْرُ وَالْحِيلَةُ، فَسَأَمْكُرُ لَكُمْ وَأَحْتَالُ، جَمِّلوا النِّسَاءَ وَأَعْطُوهُنَّ السِّلَعَ، ثُمَّ أَرْسِلُوهُنَّ إِلَى الْعَسْكَرِ يَبِعْنَهَا فِيهِ، وَمُرُوهُنَّ فَلَا تَمْنَعُ امْرَأَةٌ نَفْسَهَا مِنْ رَجُلٍ أَرَادَهَا، فَإِنَّهُمْ إِنْ زَنَى رَجُلٌ مِنْهُمْ وَاحِدٌ كُفِيتموهم، فَفَعَلُوا. فَلَمَّا دَخَلَ النِّسَاءُ الْعَسْكَرَ، مَرَّتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْكَنْعَانِيِّينَ اسْمُهَا "كَسْبَى ابْنَةُ صُورَ، رَأْسِ أُمَّتِهِ" بِرَجُلٍ مِنْ عُظَمَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَهُوَ "زَمْرَى بْنُ شَلُومَ"، رَأْسُ سِبْطِ بَنِي سَمْعَانَ بْنِ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، فَقَامَ إِلَيْهَا، فَأَخَذَ بِيَدِهَا حِينَ أَعْجَبَهُ جَمَالُهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ بِهَا حَتَّى وَقَفَ بِهَا عَلَى مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: إِنِّي أَظُنُّكَ سَتَقُولُ هَذَا حَرَامٌ عَلَيْكَ؟ قَالَ: أَجَلْ، هِيَ حَرَامٌ عَلَيْكَ، لَا تَقْرَبْهَا. قَالَ: فَوَاللَّهِ لَا نُطِيعُكَ فِي هَذَا. ثُمَّ دَخَلَ بِهَا قُبَّتَهُ فَوَقَعَ عَلَيْهَا. وَأَرْسَلَ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ، الطَّاعُونَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَكَانَ فِنْحَاصُ بْنُ الْعَيْزَارِ بْنِ هَارُونَ، صَاحِبَ أَمْرِ مُوسَى، وَكَانَ غَائِبًا حِينَ صَنَعَ زَمْرَى بْنُ شَلُومَ مَا صَنَعَ، فَجَاءَ وَالطَّاعُونُ يَجُوسُ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَأُخْبِرَ الْخَبَرَ، فَأَخَذَ حَرْبَتَهُ، وَكَانَتْ مِنْ حَدِيدٍ كُلُّهَا، ثُمَّ دَخَلَ الْقُبَّةَ وَهُمَا مُتَضَاجِعَانِ، فَانْتَظَمَهُمَا بِحَرْبَتِهِ، ثُمَّ خَرَجَ بِهِمَا رَافِعَهُمَا إِلَى السَّمَاءِ، وَالْحَرْبَةُ قَدْ أَخَذَهَا بِذِرَاعِهِ، وَاعْتَمَدَ بِمِرْفَقِهِ عَلَى خَاصِرَتِهِ، وَأَسْنَدَ الْحَرْبَةَ إِلَى لَحْيَيْه -وَكَانَ بَكْرَ الْعَيْزَارِ -وَجَعَلَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ هَكَذَا نَفْعَلُ بِمَنْ يَعْصِيكَ. وَرُفِعَ الطَّاعُونُ، فَحُسِبَ مَنْ هَلَكَ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الطَّاعُونِ فِيمَا بَيْنُ أَنْ أَصَابَ زَمْرَى الْمَرْأَةَ إِلَى أَنْ قَتَلَهُ فِنْحَاصُ، فَوَجَدُوهُ قَدْ هَلَكَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا -وَالْمُقَلِّلُ لَهُمْ يَقُولُ: عِشْرُونَ أَلْفًا -فِي سَاعَةٍ مِنَ النَّهَارِ. فَمِنْ هُنَالِكَ تُعْطِي بَنُو إِسْرَائِيلَ وَلَدَ فِنْحَاصَ مِنْ كُلِّ ذَبِيحَةٍ ذَبَحُوهَا الْقُبَّةَ وَالذِّرَاعَ واللَّحَى -لِاعْتِمَادِهِ بِالْحَرْبَةِ عَلَى خَاصِرَتِهِ، وَأَخْذِهِ إِيَّاهَا بِذِرَاعِهِ، وَإِسْنَادِهِ إِيَّاهَا إِلَى لَحْيَيْهِ -وَالْبِكْرَ مِنْ كُلِّ أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ؛ لِأَنَّهُ كَانَ بَكْرَ أَبِيهِ الْعَيْزَارِ. فَفِي بَلْعَامَ بْنِ بَاعُورَاءَ أَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا [فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ] ﴾ [[زيادة من أ.]] -إِلَى قَوْلِهِ: ﴿لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾ [[رواه الطبري في تفسيره (١٣/٢٦٤) .]]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ﴾ اخْتَلَفَ الْمُفَسِّرُونَ فِي مَعْنَاهُ [[في أ: "في معنى هذا".]] فَأَمَّا عَلَى سِيَاقِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَالِمِ بن أبي النضر: أن بلعاما انْدَلَعَ لِسَانُهُ عَلَى صَدْرِهِ -فَتَشْبِيهُهُ بِالْكَلْبِ فِي لَهْثِهِ [[في د، ك، م: "لهيثه".]] فِي كِلْتَا حَالَتَيْهِ إِنْ زُجِرَ وَإِنْ تُرِكَ. وَقِيلَ: مَعْنَاهُ: فَصَارَ مِثْلَهُ فِي ضَلَالِهِ وَاسْتِمْرَارِهِ فِيهِ، وَعَدَمِ انْتِفَاعِهِ بِالدُّعَاءِ إِلَى الْإِيمَانِ وَعَدَمِ الدُّعَاءِ، كَالْكَلْبِ فِي لَهْثِهِ [[في د، ك، م، "لهيثه".]] فِي حَالَتَيْهِ، إن حَمَلْتَ عَلَيْهِ وَإِنَّ تَرِكْتَهُ، هُوَ يَلْهَثُ فِي الْحَالَيْنِ، فَكَذَلِكَ هَذَا لَا يَنْتَفِعُ بِالْمَوْعِظَةِ وَالدَّعْوَةِ إِلَى الْإِيمَانِ وَلَا عَدَمِهِ؛ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ﴾ [الْبَقَرَةِ:٦] ، ﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ﴾ [التَّوْبَةِ:٨٠] وَنَحْوَ ذَلِكَ.
وَقِيلَ: مَعْنَاهُ: أَنَّ قَلْبَ الْكَافِرِ وَالْمُنَافِقِ وَالضَّالِّ، ضَعِيفٌ فَارِغٌ مِنَ الْهُدَى، فَهُوَ كَثِيرُ الْوَجِيبِ [[في أ: "الوجيف".]] فَعَبَّرَ عَنْ هَذَا بِهَذَا، نُقِلَ نَحْوُهُ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَغَيْرِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾ يَقُولُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ مُحَمَّدٍ ﷺ: ﴿فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ﴾ أَيْ: لَعَلَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ الْعَالِمِينَ بِحَالِ بَلْعَامَ، وَمَا جَرَى لَهُ فِي إِضْلَالِ اللَّهِ إِيَّاهُ وَإِبْعَادِهِ مِنْ رَحْمَتِهِ، بِسَبَبِ أَنَّهُ اسْتَعْمَلَ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ -فِي تَعْلِيمِهِ الِاسْمَ الْأَعْظَمَ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ -فِي غَيْرِ طَاعَةِ رَبِّهِ، بَلْ دَعَا بِهِ عَلَى حِزْبِ الرَّحْمَنِ، وَشِعْبِ الْإِيمَانِ، أَتْبَاعِ عَبْدِهِ وَرَسُولِهِ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ، كَلِيمِ اللَّهِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ، [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ك.]] ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾ أَيْ: فَيَحْذَرُوا أَنْ يَكُونُوا مِثْلَهُ؛ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَاهُمْ عِلْمًا، وَمَيَّزَهُمْ عَلَى مَنْ عَدَاهُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ، وَجَعَلَ بِأَيْدِيهِمْ صِفَةَ مُحَمَّدٍ ﷺ يَعْرِفُونَهَا كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ، فَهُمْ أَحَقُّ النَّاسِ وَأَوْلَاهُمْ بِاتِّبَاعِهِ وَمُنَاصَرَتِهِ وَمُؤَازَرَتِهِ، كَمَا أَخْبَرَتْهُمْ أَنْبِيَاؤُهُمْ بِذَلِكَ وَأَمَرَتْهُمْ بِهِ؛ وَلِهَذَا مَنْ خَالَفَ مِنْهُمْ مَا فِي كِتَابِهِ وَكَتَمَهُ فَلَمْ يُعْلِمْ بِهِ الْعِبَادَ، أَحَلَّ اللَّهُ بِهِ ذُلًّا فِي الدُّنْيَا مَوْصُولًا بِذُلِّ الْآخِرَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿سَاءَ مَثَلا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَأَنْفُسَهُمْ كَانُوا يَظْلِمُونَ﴾ يَقُولُ تَعَالَى سَاءَ مَثَلًا مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا، أَيْ: سَاءَ مَثَلُهُمْ أَنْ شُبِّهُوا بِالْكِلَابِ الَّتِي [[في د، ك: "الذين".]] لَا هِمَّةَ لَهَا [[في ك، م: "لهم".]] إِلَّا فِي تَحْصِيلِ أَكْلَةٍ أَوْ شَهْوَةٍ، فَمَنْ خَرَجَ عَنْ حَيِّز الْعِلْمِ وَالْهُدَى وَأَقْبَلَ عَلَى شَهْوَةِ نَفْسِهِ، وَاتَّبِعْ هَوَاهُ، صَارَ شَبِيهًا بِالْكَلْبِ، وَبِئْسَ الْمَثَلُ مَثَلُهُ؛ وَلِهَذَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ، الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ" [[صحيح البخاري برقم (٢٦٢٢) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَنْفُسَهُمْ كَانُوا يَظْلِمُونَ﴾ أَيْ: مَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ، وَلَكِنْ هُمْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ، بِإِعْرَاضِهِمْ عَنِ اتِّبَاعِ الْهُدَى، وَطَاعَةِ الْمَوْلَى، إِلَى الرُّكُونِ إِلَى دَارِ الْبِلَى، وَالْإِقْبَالِ عَلَى تَحْصِيلِ اللَّذَّاتِ وَمُوَافَقَةِ الْهَوَى.
وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَٰهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُۥٓ أَخْلَدَ إِلَى ٱلْأَرْضِ وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ ۚ فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ ٱلْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَث ۚ ذَّٰلِكَ مَثَلُ ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا ۚ فَٱقْصُصِ ٱلْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
And if We had willed, we could have elevated him thereby, but he adhered [instead] to the earth and followed his own desire. So his example is like that of the dog: if you chase him, he pants, or if you leave him, he [still] pants. That is the example of the people who denied Our signs. So relate the stories that perhaps they will give thought.
اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں سے اس (کے درجے) کو بلند کر دیتے مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا۔ تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ اگر سختی کرو تو زبان نکالے رہے اور یونہی چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو ان سے یہ قصہ بیان کردو۔ تاکہ وہ فکر کریں
و اگر میخواستیم، (مقام) او را با این آیات (و علوم و دانشها) بالا میبردیم؛ (اما اجبار، بر خلاف سنت ماست؛ پس او را به حال خود رها کردیم) و او به پستی گرایید، و از هوای نفس پیروی کرد! مثل او همچون سگ (هار) است که اگر به او حمله کنی، دهانش را باز، و زبانش را برون میآورد، و اگر او را به حال خود واگذاری، باز همین کار را میکند؛ (گویی چنان تشنه دنیاپرستی است که هرگز سیراب نمیشود! (این مثل گروهی است که آیات ما را تکذیب کردند؛ این داستانها را (برای آنها) بازگو کن، شاید بیندیشند (و بیدار شوند)!
Tafsir Ibn Kathir
And recite to them the story of him to whom We gave Our Ayat, but he threw them away; so Shaytan followed him up, and he became of those who went astray (175)And had We willed, We would surely have elevated him therewith, but he clung to the earth and followed his own vain desires. So his parable is the parable of a dog: if you drive him away, he pants, or if you leave him alone, he (still) pants. Such is the parable of the people who reject Our Ayat. So relate the stories, perhaps they may reflect (176)Evil is the parable of the people who rejected Our Ayat, and used to wrong themselves (177)
Story of Bal'am bin Ba'ura
Abdur-Razzaq recorded that 'Abdullah bin Mas'ud said that Allah's statement,
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا
(And recite to them the story of him to whom We gave Our Ayat, but he threw them away)
"Is about Bal'am bin Ba'ura' a man from the Children of Israel." Shu'bah and several other narrators narrated this statement from Mansur who got it from Ibn Mas'ud. Sa'id bin Abi 'Arubah narrated that Qatadah said that Ibn 'Abbas said, "He is Sayfi, son of Ar-Rahib." Qatadah commented that Ka'b said, "He was a man from Al-Balqla' (a province of Jordan) who knew Allah's Greatest Name. He used to live in Bayt Al-Maqdis with the tyrants." Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas said, "He is Bal'am bin Ba'ura', a man from Yemen whom Allah had given the knowledge of His Ayat, but he abandoned them." Malik bin Dinar said, "He was one of the scholars of the Children of Israel whose supplication was acceptable. They used to seek his lead in suplication in times of difficulty. Allah's Prophet Musa sent him to the King of Madyan to call him to Allah. That king appeased him and gave him land and gifts, and he reverted from the religion of Musa and followed the king's religion." 'Imran bin 'Uyaynah narrated that 'Husayn said that 'Imran bin Al-Harith said that Ibn 'Abbas said, "He is Bal'am son of Ba'ura'." Similar was said by Mujahid and 'Ikrimah. Therefore, it is well-known that this honorable Ayah was revealed about a man from the Children of Israel in ancient times, according to Ibn Mas'ud and several others among the Salaf. 'Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas said, "He is a man from the city of the tyrants (Jerusalem) whose name was Bal'am and who knew Allah's Greatest Name." 'Ali bin Abi Talhah also reported that Ibn 'Abbas that he said, "When Musa and those with him went to the city of the tyrants (Jerusalem), the cousins of Bal'am and his people came to him and said, 'Musa is a strong man, and he has many soldiers. If he gains the upper hand over us, we will be destroyed. Therefore, supplicate to Allah that He prevents Musa and those with him from prevailing over us.' Bal'am said, 'If I supplicate to Allah that He turns back Musa and those with him, I will lose in this life and the Hereafter.' They kept luring him until he supplicated against Musa and his people, and Allah took away what he bestowed on him (of knowledge). Hence Allah's statement,
فَانسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ
(but he threw them away; so Shaytan followed him up).'" Allah said next,
وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ
(And had We willed, We would surely have elevated him therewith but he clung to the earth and followed his own vain desires.) Allah said,
وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا
(And had We willed, We would surely have elevated him therewith) from the filth of this earthly life through the Ayat that We gave him knowledge of,
وَلَٰكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ
(but he clung to the earth), he became interested in the adornment of this life and its delights. He indulged in the lusts of life and its joys and was deceived by it, just as life deceived others like him, without sound comprehension or a good mind. Muhammad bin Ishaq bin Yasar narrated from Salim, from Abu An-Nadr that when Musa entered the land of Bani Canaan in the area of Ash-Sham (Greater Syria), the people of Bal'am came to him, saying, "This is Musa, son of 'Imran with the Children of Israel. He wants to drive us out from our land, kill us and replace us with the Children of Israel. We are your people and have no other dwelling area. You are a person whose supplication is acceptable (to Allah), so go out and supplicate to Allah against them." He said, "Woe to you! Here is Allah's Prophet (Musa) with whom the angels and believers are! How can I supplicate against them when I know from Allah what I know?" They said, "We have no other dwelling area." So they kept luring and begging him until he was tempted by the trial and went on his donkey towards Mount Husban, which was behind the Israelite military barracks. When he proceeded on the Mount for a while, the donkey sat down and refused to proceed. He got off the donkey and struck it until it stood up again and he rode it. The donkey did the same after a little while, and he struck it again until it stood up... So he proceeded and tried to supplicate against Musa and his people. However, Allah made his tongue mention his people with evil and the Children of Israel with good instead of his people, who protested, "O Bal'am! What are you doing? You are supplicating for them and against us!" He said, "It is against my will. This is a matter that Allah has decided." He then said to them, as his tongue was made to loll out of his mouth, "Now I have lost this life and the Hereafter." This Ayah was revealed about the story of Bal'am son of Ba'ura'
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا
(And recite to them the story of him to whom We gave Our Ayat, but he threw them away.), until,
لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
(perhaps they may reflect.) Allah said next,
فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَث
(So his parable is the parable of a dog: if you drive him away, he pants, or if you leave him alone, he (still) pants.)
Scholars of Tafsir have conflicting opinions regarding the meaning of this Ayah. Some scholars said that it refers to the end of Bal'am's tongue which flickered out of his mouth, as in the story narrated from Ibn Ishaq, from Salim, from Abu An-Nadr. Therefore, his example is the example of the dog, its tongue pants regardless of whether it is driven away or not. It was also said that the meaning here is a parable of this man – and his like – concerning their misguidance, persisting the wrong path and not being able to benefit from faith or comprehend what they are being called to. So his example is that of a dog which pants whether it was driven away or left alone. The person described here does not benefit from the advice or the call to faith, just as if the advice and call never occurred. Allah said in another Ayah,
سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
(It is the same to them (disbelievers) whether you warn them or do not warn them, they will not believe.)[2:6] and,
اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ
(Whether you ask forgiveness for them (hypocrites) or ask not forgiveness for them – (and even) if you ask seventy times for their forgiveness – Allah will not forgive them.)[9:80] and similar Ayat. It was also said that the meaning here, is that the heart of the disbeliever, the hypocrite and the wicked is weak and devoid of guidance. Therefore, it keeps faltering. Similar was narrated from Al-Hasan Al-Basri.
فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
(So relate the stories, perhaps they may reflect) Allah said next to His Prophet Muhammad ﷺ,
فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ
(So relate the stories, perhaps they may) the Children of Israel, who have knowledge ot the story of Bal'am and what happened to him when Allah allowed him to stray and expelled him from His mercy. Allah favored him by teaching him His Greatest Name, by which, if He is asked, He will grant, and if He is called upon, He answers. But Bal'am used it in disobedience to Allah and invoked Him against His own party of the people of faith, followers of His servant and Messenger during that time, Musa, the son of 'Imran, peace be upon him, whom Allah spoke to directly,
لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
(perhaps they may reflect.) and avoid Bal'am's behavior, for Allah has given the Jews knowledge and made them superior to the bedouins surrounding them. He gave them the description of Muhammad ﷺ which would allow them to recognize him, as they recognize their own children. They, among people, have the most right to follow, aid and support Muhammad ﷺ, in obedience to their Prophets who informed them of him and commanded them to follow him. Therefore, whoever among them defies the knowledge in their Books or hides it from the servants, Allah will place disgrace on him in this life, followed by humiliation in the Hereafter. Allah said,
سَاءَ مَثَلًا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا
(Evil is the parable of the people who rejected Our Ayat.)
Allah says, evil is the example of the people who deny Our Ayat in that they are equated with dogs that have no interest but to collect food and satisfy lusts.' Therefore, whoever goes out of the area of knowledge and guidance, and seeks satisfaction for his lusts and vain desires, is just like a dog; what an evil example. The Sahih recorded that the Messenger of Allah ﷺ said,
لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ، الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ
(The evil example is not suitable for us: he who goes back on his gift is just like the dog that eats its vomit.) Allah's statement,
وَأَنفُسَهُمْ كَانُوا يَظْلِمُونَ
(and they used to wrong themselves.) means, Allah did not wrong them, but they wronged themselves by rejecting guidance, not obeying the Lord, being content with this life that will soon end, all the while seeking to fulfill desires and obey lusts.
Tafsir Ibn Kathir
بلعم بن باعورا مروی ہے کہ جس کا واقعہ ان آیتوں میں بیان ہو رہا ہے اس کا نام بلعم بن باعورا ہے۔ یہ بھی کہ کہا گیا ہے کہ اس کا نام ضفی بن راہب تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بلقاء کا ایک شخص تھا جو اسم اعظم جانتا تھا اور جبارین کے سات ہی بیت المقدس میں رہا کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ یمنی شخص تھا جس نے کلام اللہ کو ترک کردیا تھا، یہ شخص بنی اسرائیل کے علماء میں سے تھا، اس کی دعا مقبول ہوجایا کرتی تھی۔ بنی اسرائیل سختیوں کے وقت اسے آگے کردیا کرتے تھے۔ اللہ اس کی دعا مقبول فرما لیا کرتا تھا۔ اسے حضرت موسیٰ ؑ نے مدین کے بادشاہ کی طرف اللہ کے دین کی دعوت دینے کیلئے بھیجا تھا اس عقلمند بادشاہ نے اسے مکرو فریب سے اپنا کرلیا۔ اس کے نام کئی گاؤں کردیئے اور بہت کجھ انعام و اکرام دیا۔ یہ بدنصیب دین موسوی کو چھوڑ کر اس کے مذہب میں جا ملا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام بلعام تھا۔ یہ بھی ہے کہ یہ امیہ بن ابو صلت ہے۔ ممکن ہے یہ کہنے والے کی یہ مراد ہو کہ یہ امیہ بھی اسی کے مشابہ تھا۔ اسے بھی اگلی شریعتوں کا علم تھا لیکن یہ ان سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔ خود حضور ﷺ کے زمانے کو بھی اس نے پایا آپ کی آیات بینات دیکھیں، معجزے اپنی آنکھوں سے دیکھ لئے، ہزارہا کو دین حق میں داخل ہوتے دیکھا، لیکن مشرکین کے میل جول، ان میں امتیاز، ان میں دوستی اور وہاں کی سرداری کی ہوس نے اسے اسلام اور قبول حق سے روک دیا۔ اسی نے بدری کافروں کے ماتم میں مرثئے کہے، لعنتہ اللہ۔ بعض احادیث میں وارد ہے کہ اس کی زبان تو ایمان لا چکی تھی لیکن دل مومن نہیں ہوا تھا کہتے ہیں کہ اس شخص سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اس کی دعائیں جو بھی یہ کرے گا مقبول ہوں گی اس کی بیوی نے ایک مرتبہ اس سے کہا کہ ان تین دعاؤں میں سے ایک دعا میرے لئے کر۔ اس نے منظور کرلیا اور پوچھا کیا دعا کرانا چاہتی ہو ؟ اس نے کہا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس قدر حسن و خوبصورتی عطا فرمائے کہ مجھ سے زیادہ حسین عورت بنی اسرائیل میں کوئی نہ ہو۔ اس نے دعا کی اور وہ ایسی ہی حسین ہوگئی۔ اب تو اس نے پر نکالے اور اپنے میاں کو محض بےحقیقت سمجھنے لگی بڑے بڑے لوگ اس کی طرف جھکنے لگے اور یہ بھی ان کی طرف مائل ہوگئی اس سے یہ بہت کڑھا اور اللہ سے دعا کی کہ یا اللہ اسے کتیا بنا دے۔ یہ بھی منظور ہوئی وہ کتیا بن گئی۔ اب اس کے بچے آئے انہوں نے گھیر لیا کہ آپ نے غضب کیا لوگ ہمیں طعنہ دیتے ہیں اور ہم کتیا کے بچے مشہور ہو رہے ہیں۔ آپ دعا کیجئے کہ اللہ اسے اس کی اصلی حالت میں پھر سے لا دے۔ اس نے وہ تیسری دعا بھی کرلی تینوں دعائیں یوں ہی ضائع ہوگئیں اور یہ خالی ہاتھ بےخیر رہ گیا۔ مشہور بات تو یہی ہے کہ بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے یہ ایک شخص تھا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہ نبی تھا۔ یہ محض غلط ہے، بالکل جھوٹ ہے اور کھلا افترا ہے۔ مروی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ جب قوم جبارین سے لڑائی کے لئے بنی اسرائیل کی ہمراہی میں گئے انہی جبارین میں بلغام نامی یہ شخص تھا اس کی قوم اور اس کے قرابت دار چچا وغیرہ سب اس کے پاس آئے اور کہا کہ موسیٰ اور اس کی قوم کے لئے آپ بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا یہ نہیں ہوسکتا اگر میں ایسا کروں گا تو میری دنیا آخرت دونوں خراب ہوجائیں گی لیکن قوم سر ہوگئی۔ یہ بھی لحاظ مروت میں آگیا۔ بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس سے کرامت چھین لی اور اسے اس کے مرتبے سے گرا دیا۔ سدی کہتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل کو وادی تیہ میں چالیس سال گذر گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوشع بن نون ؑ کو نبی بنا کر بھیجا انہوں نے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہیں لے کر جاؤں اور ان جبارین سے جہاد کروں۔ یہ آمادہ ہوگئے، بیعت کرلی۔ انہی میں بلعام نامی ایک شخص تھا جو بڑا عالم تھا اسم اعظم جانتا تھا۔ یہ بدنصیب کافر ہوگیا، قوم جبارین میں جا ملا اور ان سے کہا تم نہ گھبراؤ جب بنی اسرائیل کا لشکر آجائے گا میں ان پر بد دعا کروں گا تو وہ دفعتاً ہلاک ہوجائے گا۔ اس کے پاس تمام دنیوی ٹھاٹھ تھے لیکن عورتوں کی عظمت کی وجہ سے یہ ان سے نہیں ملتا تھا بلکہ ایک گدھی پال رکھی تھی۔ اسی بدقسمت کا ذکر اس آیت میں ہے۔ شیطان اس پر غالب آگیا اسے اپنے پھندے میں پھانس لیا جو وہ کہتا تھا یہ کرتا تھا آخر ہلاک ہوگیا۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تم سب سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں جو قرآن پڑھ لے گا جو اسلام کی چادر اوڑھے ہوئے ہوگا اور دینی ترقی پر ہوگا کہ ایک دم اس سے ہٹ جائے گا، اسے پس پشت ڈال دے گا، اپنے پڑوسی پر تلوار لے دوڑے گا اور اسے شرک کی تہمت لگائے گا۔ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ نے یہ سن کر دریافت کیا کہ یا رسول اللہ مشرک ہونے کے زیادہ قابل کون ہوگا ؟ یہ تہمت لگانے والا ؟ وہ جسے تہمت لگا رہا ہے فرمایا نہیں بلکہ تہمت دھرنے والا۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو قادر تھے کہ اسے بلند مرتبے پر پہنچائیں، دنیا کی آلائشوں سے پاک رکھیں، اپنی دی ہوئی آیتوں کی تابعداری پر قائم رکھیں لیکن وہ دنیوی لذتوں کی طرف جھک پڑا یہاں تک کہ شیطان کا پورا مرید ہوگیا۔ اسے سجدہ کرلیا۔ کہتے ہیں کہ اس بلعام سے لوگوں نے درخواست کی کہ آپ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کے حق میں بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا اچھا میں اللہ سے حکم لے لوں۔ جب اس نے اللہ تعالیٰ سے مناجات کی تو اسے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل مسلمان ہیں اور ان میں اللہ کے نبی موجود ہیں اس نے سب سے کہا کہ مجھے بد دعا کرنے سے روک دیا گیا ہے انہوں نے بہت سارے تحفے تحائف جمع کر کے اسے دیئے اس نے سب رکھ لئے۔ پھر دوبارہ درخواست کی کہ ہمیں ان سے بہت خوف ہے آپ ضرور ان پر بد دعا کیجئے اس نے جواب دیا کہ جب تک میں اللہ تعالیٰ سے اجازت نہ لے لوں میں ہرگز یہ نہ کروں گا اس نے پھر اللہ سے مناجات کی لیکن اسے کچھ معلوم نہ ہوسکا اس نے یہی جواب انہیں دیا تو انہوں نے کہا دیکھو اگر منع ہی مقصود ہوتا تو آپ کو روک دیا جاتا جیسا کہ اس سے پہلے روک دیا گیا۔ اس کی بھی سمجھ میں آگیا اٹھ کر بد دعا شروع کی۔ اللہ کی شان ہے بد دعا ان پر کرنے کے بجائے اس کی زبان سے اپنی ہی قوم کے لئے بد دعا نکلی اور جب اپنی قوم کی فتح کی دعا مانگنا چاہتا تو بنی اسرائیل کی فتح و نصرت کی دعا نکلتی۔ قوم نے کہا آپ کیا غضب کر رہے ہیں ؟ اس نے کہا کیا کروں ؟ میری زبان میرے قابو میں نہیں۔ سنو اگر سچ مچ میری زبان سے ان کے لئے بد دعا نکلی بھی تو قبول نہ ہوگی۔ سنو اب میں تمہیں ایک ترکیب بتاتا ہوں اگر تم اس میں کامیاب ہوگئے تو سمجھ لو کہ بنی اسرائیل برباد ہوجائیں گے تم اپنی نوجوان لڑکیوں کو بناؤ سنگھار کرا کے ان کے لشکروں میں بھیجو اور انہیں ہدایت کردو کہ کوئی ان کی طرف جھکے تو یہ انکار نہ کریں ممکن ہے بوجہ مسافرت یہ لوگ زناکاری میں مبتلا ہوجائیں اگر یہ ہوا تو چونکہ یہ حرام کاری اللہ کو سخت ناپسند ہے اسی وقت ان پر عذاب آجائے گا اور یہ تباہ ہوجائیں گے۔ ان بےغیرتوں نے اس بات کو مان لیا اور یہی کیا۔ خود بادشاہ کی بڑی حسین و جمیل لڑکی بھی بن ٹھن کر نکلی اسے ہدایت کردی گئی تھی کہ سوائے حضرت موسیٰ کے اور کسی کو اپنا نفس نہ سونپے۔ یہ عورتیں جب بنی اسرائیل کے لشکر میں پہنچیں تو عام لوگ بےقابو ہوگئے حرام کاری سے بچ نہ سکے۔ شہزادی بنی اسرائیل کے ایک سردار کے پاس پہنچی۔ اس سردار نے اس لڑکی پر ڈورے ڈالے لیکن اس لڑکی نے انکار کیا۔ اس نے بتایا کہ میں فلاں فلاں ہوں، اس نے اپنے باپ سے یا بلعام سے پچھوایا اس نے اجازت دی۔ یہ خبیث اپنا منہ کالا کر رہا تھا جسے حضرت ہارون ؑ کی اولاد میں سے کسی صاحب نے دیکھ لیا اپنے نیزے سے ان دونوں کو پرودیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دست و بازی قوی کردیئے اس نے یونہی ان دونوں کو چھدے ہوئے اٹھا لیا لوگوں نے بھی انہیں دیکھا۔ اب اس لشکر پر عذاب رب بشکل طاعون آیا اور ستر ہزار آدمی فوراً ہلاک ہوگئے۔ بلعام اپنی گدھی پر سوار ہو کر چلا وہ ایک ٹیلے پر چڑھ کر رک گئی اب بلعام اسے مارتا پیٹتا ہے لیکن وہ قدم نہیں اٹھاتی۔ آخر گدھی نے اس کی طرف دیکھا اور کہا مجھے کیوں مار رہا ہے سامنے دیکھ کون ہے ؟ اس نے دیکھ تو شیطان لعین کھڑا ہوا تھا یہ اتر پڑا اور سجدے میں گرگیا۔ الغرض ایمان سے خالی ہوگیا اس کا نام یا تو بلعام تھا۔ یا بلعم بن با عورا یا ابن ابر بار بن باعور بن شہوم بن قوشتم بن مآب بن لوط بن ہارون یا ابن مران بن آزر۔ یہ بلقا کا رئیس تھا، اسم اعظم جانتا تھا لیکن اخیر میں دین حق سے ہٹ گیا۔ واللہ اعلم۔ ایک روایت میں ہے کہ قوم کے زیادہ کہنے سننے سے جب یہ اپنی گدھی پر سوار ہو کر بد دعا کے لئے چلا تو اس کی گدھی بیٹھ گئی۔ اس نے اسے مار پیٹ کر اٹھایا کچھ دور چل کر پھر بیٹھ گئی۔ اس نے اسے پھر مار پیٹ کر اٹھایا، اسے اللہ نے زبان دی۔ اس نے کہا تیرا ناس جائے تو کہاں اور کیوں جا رہا ہے اللہ کے مقابلے اس کے رسول سے لڑنے اور مومنوں کو نقصان دلانے جا رہا ہے ؟ دیکھ تو سہی فرشتے میری راہ روکے کھڑے ہیں۔ اس نے پھر بھی کچھ خیال نہ کیا آگے بڑھ گیا۔ حبان نامی پہاڑی پر چڑھ گیا جہاں سے بنو اسرائیل کا لشکر سامنے ہی نظر آتا تھا۔ اب ان کیلئے بددعا اور اپنی قوم کے لئے دعائیں کرنے لگا لیکن زبان الٹ گئی دعا کی جگہ بد دعا اور بد دعا کی جگہ دعا نکلنے لگی۔ قوم نے کہا کیا کر رہے ہو ؟ کہا بےبس ہوں۔ اسی وقت اس کی زبان نکل پڑی سینے پر لٹکنے لگی اس نے کہا لو میری دنیا بھی خراب ہوئی اور دین تو بالکل برباد ہوگیا پھر اس نے خوبصورت لڑکیاں بھیجنے کی ترکیب بتائی جیسے کہ اوپر بیان ہوا اور کہا کہ اگر ان میں سے ایک نے بھی بدکاری کرلی تو ان پر عذاب رب آجائے گا ان عورتوں میں سے ایک بہت ہی حسین عورت جو کنانیہ تھی اور جس کا نام کستی تھا جو صور نامی ایک رئیس کی بیٹی تھی وہ جب بنی اسرائیل کے ایک بہت بڑے سردار زمری بن شلوم کے پاس سے گذری جو شمعون بن یعقوب کی نسل میں سے تھا وہ اس پر فریفتہ ہوگیا۔ دلیری کے ساتھ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس گیا اور کہنے لگا آپ تو شاید کہہ دیں گے کہ یہ مجھ پر حرام ہے ؟ آپ نے کہا بیشک۔ اس نے کہا اچھا میں آپ کی یہ بات تو نہیں مان سکتا، اسے اپنے خیمے میں لے گیا اور اس سے منہ کالا کرنے لگا۔ وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر طاعون بھیج دیا۔ حضرت فحاص بن غیرار بن ہارون اس وقت لشکر گاہ سے کہیں باہر گئے ہوئے تھے جب آئے اور تمام حقیقت سنی تو بیتاب ہو کر غصے کے ساتھ اس بد کردار کے خیمے میں پہنچے اور اپنے نیزے میں ان دونوں کو پرو لیا اور اپنے ہاتھ میں نیزہ لئے ہوئے انہیں اوپر اٹھائے ہوئے باہر نکلے کہنی کو کھ پر لگائے ہوئے تھے کہنے لگے یا اللہ ہمیں معاف فرما ہم پر سے یہ وبا دور فرما دیکھ لے ہم تیرے نافرمانوں کے ساتھ یہ کرتے ہیں۔ ان کی دعا اور اس فعل سے طاعون اٹھ گیا لیکن اتنی دیر میں جب حساب لگایا گیا تو ستر ہزار آدمی اور ایک روایت کی رو سے بیس ہزار مرچکے تھے۔ دن کا وقت تھا اور کنانیوں کی یہ چھوکریاں سودا بیچنے کے بہانے صرف اس لئے آئی تھیں کہ بنو اسرائیل بدکاری میں پھنس جائیں اور ان پر عذاب آجائیں۔ بنو اسرائیل میں اب تک یہ دستور چلا آتا ہے کہ وہ اپنے ذبیحہ میں سے گردن اور دست اور سری اور ہر قسم کا سب سے پہلا پھل فحاص کی اولاد کو دیا کرتے ہیں۔ اسی بلعام بن باعورا کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ فرمان ہے کہ اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ کالی ہے تو ہانپتا ہے اور دھتکارا جائے تو ہانپتا رہتا ہے۔ یا تو اس مثال سے یہ مطلب ہے کہ بلعام کی زبان نیچے کو لٹک پڑی تھی جو پھر اندر کو نہ ہوئی کتے کی طرح ہانپتا رہتا تھا اور زبان باہر لٹکائے رہتا تھا۔ یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی ضلالت اور اس پر جمے رہنے کی مثال دی کہ اسے ایمان کی دعوت، علم کی دولت غرض کسی چیز نے برائی سے نہ ہٹایا جیسے کتے کی اس کی زبان لٹکنے کی حالت برابر قائم رہتی ہے خواہ اسے پاؤں تل روندو خواہ جھوڑ دو۔ جیسے بعض کفار مکہ کی نسبت فرمان ہے کہ انہیں وعظ و پند کہنا نہ کہنا سب برابر ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا اور جیسے بعض منافقوں کی نسبت فرمان ہے کہ ان کے لئے تو استغفار کر یا نہ کر اللہ انہیں نہیں بخشے گا۔ یہ بھی مطلب اس مثال کا بیان کیا گیا ہے کہ ان کافروں منافقوں اور گمراہ لوگوں کے دل بودے اور ہدایت سے خالی ہیں یہ کبھی مطمئن نہیں ہوتے۔ پھر اللہ عزوجل اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ تو انہیں پند و نصیحت کرتا رہ تاکہ ان میں سے جو عالم ہیں، وہ غور و فکر کر کے اللہ کی راہ پر آجائیں یہ سوچیں کہ بلعام ملعون کا کیا حال ہوا دینی علم جیسی زبردست دولت کو جس نے دنیا کی سفلی راحت پر کھو دیا۔ آخر نہ یہ ملا نہ وہ۔ دونوں ہاتھ خالی رہ گئے۔ اسی طرح یہ علماء یہود جو اپنی کتابوں میں اللہ کی ہدایتیں پڑھ رہے ہیں، آپ کے اوصاف لکھے پاتے ہیں، انہیں چاہئے کہ دنیا کی طمع میں پھنس کر اپنے مریدوں کو پھانس کر پھول نہ جائیں ورنہ یہ بھی اس کی طرح دنیا میں کھو دیئے جائیں گے انہیں چاہئے کہ اپنی علمیت سے فائدہ اٹھائیں۔ سب سے پہلے تیری اطاعت کی طرف جھکیں اور اوروں پر حق کو ظاہر کریں۔ دیکھ لو کہ کفار کی کیسی بری مثالیں ہیں کہ کتوں کی طرح صرف نگلنے اگلنے اور شہوت رانی میں پڑے ہوئے ہیں۔ پس جو بھی علم و ہدایت کو چھوڑ کر خواہش نفس کے پورا کرنے میں لگ جائے وہ بھی کتے جیسا ہی ہے۔ حضور فرماتے ہیں ہمارے لئے بری مثالیں نہیں اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کو پھر لے لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ گنہگار لوگ اللہ کا کچھ بگاڑتے نہیں یہ تو اپنا ہی خسارہ کرتے ہیں۔ طاعت مولیٰ ، اتباع ہدی سے ہٹا کر خواہش کی غلامی دنیا کی چاہت میں پڑ کر اپنے دونوں جہان خراب کرتے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا [فَأَتْبَعَهُ] ﴾ [[زيادة من ك.]] الْآيَةَ، قَالَ: هُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، يُقَالُ لَهُ: بَلْعم بْنُ أبَرَ. وَكَذَا رَوَاهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهِ.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَة، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] هُوَ صَيْفِيُّ بْنُ الرَّاهِبِ.
قَالَ قَتَادَةُ: وَقَالَ كَعْبٌ: كَانَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَلْقَاءِ، وَكَانَ يَعْلَمُ الِاسْمَ الْأَكْبَرَ، وَكَانَ مُقِيمًا بِبَيْتِ [[في أ: "بيت".]] الْمَقْدِسِ مَعَ الْجَبَّارِينَ.
وَقَالَ العَوْفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] هُوَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، يُقَالُ لَهُ: بَلْعَم، آتَاهُ اللَّهُ آيَاتِهِ فَتَرَكَهَا.
وَقَالَ مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ: كَانَ مِنْ عُلَمَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَكَانَ مُجَابَ الدَّعْوَةِ، يُقَدِّمُونَهُ فِي الشَّدَائِدِ، بَعَثَهُ نَبِيُّ اللَّهِ مُوسَى إِلَى مَلِكِ مَدْين يَدْعُوهُ إِلَى اللَّهِ، فَأَقْطَعُهُ وَأَعْطَاهُ، فَتَبِعَ دِينَهُ وَتَرَكَ دِينَ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
وَقَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُصَين، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] هُوَ بَلْعَمُ بْنُ بَاعِرَ. وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ وَعِكْرِمَةُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] قَالَ: هُوَ بِلْعَامُ -وَقَالَتْ ثَقِيفٌ: هُوَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ.
وَقَالَ شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] فِي قَوْلِهِ: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ [آيَاتِنَا] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] قَالَ: هُوَ صَاحِبُكُمْ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ.
وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْهُ وَهُوَ صَحِيحٌ إِلَيْهِ، وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ أَنَّ أُمَيَّةَ بْنَ أَبِي الصَّلْتِ يُشْبِهُهُ، فَإِنَّهُ كَانَ قَدِ اتَّصَلَ إِلَيْهِ عِلْمٌ كَثِيرٌ مِنْ عِلْمِ الشَّرَائِعِ الْمُتَقَدِّمَةِ، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَنْتَفِعْ بِعِلْمِهِ، فَإِنَّهُ أَدْرَكَ زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَبَلَغَتْهُ أَعْلَامُهُ وَآيَاتُهُ وَمُعْجِزَاتُهُ، وَظَهَرَتْ لِكُلِّ مَنْ لَهُ بَصِيرَةٌ، وَمَعَ هَذَا اجْتَمَعَ بِهِ وَلَمْ يَتْبَعْهُ، وَصَارَ إِلَى مُوَالَاةِ الْمُشْرِكِينَ وَمُنَاصَرَتِهِمْ وَامْتِدَاحِهِمْ، وَرَثَى أَهْلَ بَدْرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِمَرْثَاةٍ بَلِيغَةٍ، قَبَّحَهُ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] [[انظر: العقيدة في السيرة النبوية لابن هشام (٢/٣٠) .]] وَقَدْ جَاءَ فِي بَعْضِ الْأَحَادِيثِ: "أَنَّهُ مِمَّنْ آمَنَ لِسَانُهُ، وَلَمْ يُؤْمِنْ قَلْبُهُ"؛ فَإِنَّ لَهُ أَشْعَارًا رَبَّانِيَّةً وَحِكَمًا وَفَصَاحَةً، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَشْرَحِ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْأَعْوَرِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا﴾ قَالَ: هُوَ رَجُلٌ أُعْطِيَ ثَلَاثَ دَعْوَاتٍ يُسْتَجَابُ لَهُ فِيهِنَّ، وَكَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ لَهُ مِنْهَا وَلَدٌ، فَقَالَتْ: اجْعَلْ لِي مِنْهَا واحدة. قال: فَلَكِ وَاحِدَةٌ، فَمَا الَّذِي تُرِيدِينَ؟ قَالَتْ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي أَجْمَلَ امْرَأَةٍ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَدَعَا اللَّهَ، فَجَعَلَهَا أَجْمَلَ امْرَأَةٍ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَلَمَّا عَلِمَتْ أَنْ [[في أ: "أنه".]] لَيْسَ فِيهِمْ مِثْلُهَا رَغِبَتْ عَنْهُ، وَأَرَادَتْ شَيْئًا آخَرَ، فَدَعَا اللَّهُ أَنْ يَجْعَلَهَا كَلْبَةً، فَصَارَتْ كَلْبَةً، فَذَهَبَتْ دَعْوَتَانِ. فَجَاءَ بَنُوهَا فَقَالُوا: لَيْسَ بِنَا عَلَى هَذَا قَرَارٌ، قَدْ صَارَتْ أُمُّنَا كَلْبَةً يُعَيِّرُنَا النَّاسُ بِهَا، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّهَا إِلَى الْحَالِ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا، فَدَعَا اللَّهَ، فَعَادَتْ كَمَا كَانَتْ، فَذَهَبْتِ الدَّعْوَاتُ الثَّلَاثُ، وَسُمِّيَتِ الْبَسُوسُ. [[ورواه أبو الشيخ في تفسيره كما في الدر المنثور (٣/٦٠٨) .]] غَرِيبٌ.
وَأَمَّا الْمَشْهُورُ فِي سَبَبٍ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ، فَإِنَّمَا هُوَ رَجُلٌ مِنَ الْمُتَقَدِّمِينَ فِي زَمَنِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، كَمَا قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَغَيْرُهُ مِنَ السَّلَفِ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: هُوَ رَجُلٌ مِنْ مَدِينَةِ الْجَبَّارِينَ، يُقَالُ لَهُ: "بَلْعَامُ" [[في د، ك، م، أ: "بلعم".]] وَكَانَ يَعْلَمُ اسْمَ اللَّهِ الْأَكْبَرَ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَغَيْرُهُ مِنْ عُلَمَاءِ السَّلَفِ: كَانَ [رَجُلًا] [[زيادة من أ.]] مُجَابَ الدَّعْوَةِ، وَلَا يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ.
وَأَغْرَبَ، بَلْ أَبْعَدَ، بَلْ أَخْطَأَ مَنْ قَالَ: كَانَ قَدْ [[في أ: "من قال أنه".]] أُوتِيَ النُّبُوَّةَ فَانْسَلَخَ مِنْهَا. حَكَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، عَنْ بَعْضِهِمْ، وَلَا يَصِحُّ [[تفسير الطبري (١٣/٢٥٩) .]]
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عباس: لما نزل مُوسَى بِهِمْ -يَعْنِي بِالْجَبَّارِينَ -وَمَنْ مَعَهُ، أَتَاهُ يَعْنِي بَلْعَامُ [[في د، ك، م، أ: "بلعم".]] -أَتَاهُ بَنُو عَمِّهِ وَقَوْمُهُ، فَقَالُوا: إِنَّ مُوسَى رَجُلٌ حَدِيدٌ، وَمَعَهُ جُنُودٌ كَثِيرَةٌ، وَإِنَّهُ إِنْ يَظْهَرْ عَلَيْنَا يُهْلِكْنَا، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ عَنَّا مُوسَى وَمَنْ مَعَهُ. قَالَ: إِنِّي إِنْ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ مُوسَى وَمَنْ مَعَهُ، ذَهَبَتْ دُنْيَايَ وَآخِرَتِي. فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى دَعَا عَلَيْهِمْ، فَسَلَخَهُ اللَّهُ مَا كَانَ عَلَيْهِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ [مِنَ الْغَاوِينَ] ﴾ [[زيادة من د، ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]]
وَقَالَ السُّدِّيُّ: إِنَّ اللَّهَ لَمَّا انْقَضَّتِ الْأَرْبَعُونَ سَنَةً الَّتِي قَالَ اللَّهُ: ﴿فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً﴾ [الْمَائِدَةِ:٢٦] بَعَثَ يُوشَعَ بْنَ نُونٍ نَبِيًّا، فَدَعَا بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ نَبِيٌّ، وَأَنَّ اللَّهَ [قَدْ] [[زيادة من د، أ.]] أَمَرَهُ أَنْ يُقَاتِلَ الْجَبَّارِينَ، فَبَايَعُوهُ وَصَدَّقُوهُ. وَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ يُقَالُ لَهُ: "بَلْعَمُ" وَكَانَ عَالَمًا، يَعْلَمُ الِاسْمَ الْأَعْظَمَ الْمَكْتُومَ، فَكَفَرَ -لَعَنَهُ اللَّهُ -وَأَتَى الْجَبَّارِينَ وَقَالَ لَهُمْ: لَا تَرْهَبُوا بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَإِنِّي إِذَا خَرَجْتُمْ تُقَاتِلُونَهُمُ أَدْعُوَا عَلَيْهِمْ دَعْوَةً فَيَهْلِكُونَ! وَكَانَ عِنْدَهُمْ فِيمَا شَاءَ مِنَ الدُّنْيَا، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَاءَ، يُعَظِّمُهُنَّ [[في أ: "لعظمهن".]] فَكَانَ يَنْكِحُ أَتَانًا لَهُ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ اللَّهُ تعالى [[في أ: "الله عز وجل".]] ﴿فَانْسَلَخَ مِنْهَا﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ﴾ أَيِ: اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِ وَغَلَبَهُ عَلَى أَمْرِهِ، فَمَهْمَا أَمَرَهُ امْتَثَلَ وَأَطَاعَهُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ﴾ أَيْ: مِنَ الْهَالِكِينَ الْحَائِرَيْنِ [[في أ: "الجائرين".]] الْبَائِرَيْنِ.
وَقَدْ وَرَدَ فِي مَعْنَى هَذِهِ الْآيَةِ حَدِيثٌ رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى الْمُوصِلِيُّ فِي مُسْنَدِهِ حَيْثُ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ بَهْرام، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا جُنْدُب الْبَجَلِيُّ في هذا المسجد؛ أن حذيفة -يعني بن الْيَمَانِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -حَدَّثَهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "أن مِمَّا أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ رجُل قَرَأَ الْقُرْآنَ، حَتَّى إِذَا رُؤِيَتْ بَهْجَتُهُ عَلَيْهِ وَكَانَ رِدْء الْإِسْلَامِ اعْتَرَاهُ [[في أ: "اعتره".]] إِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ، انْسَلَخَ مِنْهُ، وَنَبَذَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ، وَسَعَى عَلَى جَارِهِ بِالسَّيْفِ، وَرَمَاهُ بِالشِّرْكِ". قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيُّهُمَا أَوْلَى بِالشِّرْكِ: الْمَرْمِيُّ أَوِ الرَّامِي؟ قَالَ: "بَلِ الرَّامِي".
هَذَا إِسْنَادٌ جَيِّدٌ [[ورواه البزار في مسنده برقم (١٧٥) من طريق: حدثنا محمد بن مرزوق والحسن بن أبي كبشة، حدثنا محمد بن بكر البرساني به. قال الهيثمي في المجمع (١/١٨٨) : "إسناده حسن".]] وَالصَّلْتُ بْنُ بَهْرَامَ كَانَ مِنْ ثِقَاتِ الْكُوفِيِّينَ، وَلَمْ يُرْمَ بِشَيْءٍ سِوَى الْإِرْجَاءِ، وَقَدْ وَثَّقَهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُمَا.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الأرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ﴾ يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا﴾ أَيْ: لَرَفَعْنَاهُ مِنَ التَّدَنُّسِ عَنْ [[في أ: "من".]] قَاذُورَاتِ الدُّنْيَا بِالْآيَاتِ الَّتِي آتَيْنَاهُ إِيَّاهَا، ﴿وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الأرْضِ﴾ أَيْ: مَالَ إِلَى زِينَةِ الدُّنْيَا وَزَهْرَتِهَا، وَأَقْبَلَ عَلَى لَذَّاتِهَا وَنَعِيمِهَا، وَغَرَّتْهُ كَمَا غَرَّتْ غَيْرَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْبَصَائِرِ [[في أ: "الأبصار".]] وَالنُّهَى.
وَقَالَ أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الأرْضِ﴾ قَالَ: تَرَاءَى لَهُ الشَّيْطَانُ عَلَى غَلْوة مِنْ قَنْطَرَةِ بَانْيَاسَ، فَسَجَدَتِ الْحِمَارَةُ لِلَّهِ، وَسَجَدَ بَلْعَامُ لِلشَّيْطَانِ. وَكَذَا قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْر بْنِ نُفَير، وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: وَكَانَ مِنْ قِصَّةِ هَذَا الرَّجُلِ: مَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ سُئل عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا [فَانْسَلَخَ مِنْهَا] ﴾ [[زيادة من أ.]] فَحَدَّثَ عَنْ سَيَّارٍ أَنَّهُ كَانَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ بَلْعَامُ، وَكَانَ قَدْ أُوتِيَ النُّبُوَّةَ وَكَانَ مُجَابَ الدَّعْوَةِ، قَالَ: وَإِنَّ مُوسَى أَقْبَلَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ يُرِيدُ الْأَرْضَ الَّتِي فِيهَا بَلْعَامُ -أَوْ قَالَ: الشَّامَ -قَالَ فرُعب النَّاسُ مِنْهُ رُعْبًا شَدِيدًا، قَالَ: فَأَتَوْا بَلْعَامَ، فَقَالُوا: ادْعُ اللَّهَ عَلَى هَذَا الرَّجُلِ وَجَيْشِهِ! قَالَ: حَتَّى أوَامر رَبِّي -أَوْ: حَتَّى أُؤَامِرَ -قَالَ: فَوَامَرَ فِي الدُّعَاءِ عَلَيْهِمْ، فَقِيلَ لَهُ: لَا تَدْعُ عَلَيْهِمْ، فَإِنَّهُمْ عِبَادِي، وَفِيهِمْ نَبِيُّهُمْ. قَالَ: فَقَالَ لِقَوْمِهِ: إِنِّي قَدْ آمَرْتُ رَبِّي فِي الدُّعَاءِ عَلَيْهِمْ، وَإِنِّي قَدْ نُهِيتُ. فَأَهْدَوْا لَهُ هَدِيَّةً فَقَبِلَهَا، ثُمَّ رَاجَعُوهُ فَقَالُوا: ادْعُ عَلَيْهِمْ. فَقَالَ: حَتَّى أَوَامِرَ. فَوَامَرَ، فَلَمْ يَحُر إِلَيْهِ شَيْءٌ. فَقَالَ: قَدْ وَامَرْتَ فَلَمْ يَحُر إِلَيَّ شَيْءٌ! فَقَالُوا: لَوْ كَرِهَ رَبُّكَ أَنْ تَدْعُوَ عَلَيْهِمْ لَنَهَاكَ كَمَا نَهَاكَ الْمَرَّةَ الْأُولَى. قَالَ: فَأَخَذَ يَدْعُو عَلَيْهِمْ، فَإِذَا دَعَا عَلَيْهِمْ، جَرَى عَلَى لِسَانِهِ الدُّعَاءُ عَلَى قَوْمِهِ، وإذا أراد أن يدعو أن يفتح لِقَوْمِهِ [[في م: "على قومه".]] دَعَا أَنْ يَفْتَحَ لِمُوسَى وَجَيْشِهِ -أَوْ نَحْوًا مِنْ ذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ. قَالَ [[في أ: "فقالوا له".]] مَا نَرَاكَ تَدْعُو إِلَّا عَلَيْنَا. قَالَ: مَا يَجْرِي عَلَى لِسَانِي إِلَّا هَكَذَا، وَلَوْ دَعَوْتُ عَلَيْهِ أَيْضًا مَا اسْتُجِيبَ لِي، وَلَكِنْ سَأَدُلُّكُمْ عَلَى أَمْرٍ عَسَى أَنْ يَكُونَ فِيهِ هَلَاكُهُمْ. إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الزِّنَا، وَإِنَّهُمْ إِنْ وَقَعُوا بِالزِّنَا هَلَكُوا، وَرَجَوْتُ أَنْ يُهْلِكَهُمُ اللَّهُ، فَأَخْرِجُوا النِّسَاءَ يَسْتقبلنهم [[في أ: "تستقبلهم".]] ؛ فَإِنَّهُمْ قَوْمٌ مُسَافِرُونَ، فَعَسَى أَنْ يَزْنُوا فَيَهْلَكُوا. قَالَ: فَفَعَلُوا. قَالَ: فَأَخْرَجُوا النِّسَاءَ يَسْتَقْبِلْنَهُمْ. قَالَ: وَكَانَ لِلْمَلِكِ ابْنَةٌ، فَذَكَرَ مِنْ عِظَمِهَا مَا اللَّهُ أَعْلَمُ بِهِ! قَالَ: فَقَالَ أَبُوهَا -أَوْ بَلْعَامُ-: لَا تُمَكِّنِي نَفْسَكِ إِلَّا مِنْ مُوسَى! قَالَ: وَوَقَعُوا فِي الزِّنَا. قَالَ: وَأَتَاهَا رَأْسُ سِبْطٍ مِنْ أَسْبَاطِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَالَ: فَأَرَادَهَا عَلَى نَفْسِهِ، فَقَالَتْ: مَا أَنَا بِمُمَكِّنَةِ نَفْسِي إِلَّا مِنْ مُوسَى. قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ مَنْزِلَتِي [[في أ: "إن من منزلتي".]] كَذَا وَكَذَا، وَإِنَّ مِنْ حَالِي كَذَا وَكَذَا. قَالَ: فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَبِيهَا تَسْتَأْمِرُهُ، قَالَ: فَقَالَ لَهَا: فَأَمْكِنِيهِ قَالَ: وَيَأْتِيهِمَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَارُونَ وَمَعَهُ الرُّمْحُ فَيَطْعَنُهُمَا. قَالَ: وَأَيَّدَهُ اللَّهُ بِقُوَّةٍ. فَانْتَظَمَهُمَا جَمِيعًا، وَرَفَعَهُمَا عَلَى رُمْحِهِ [[في م: "على رأس رمحه".]] فَرَآهُمَا النَّاسُ -أَوْ كَمَا حدَّث -قَالَ: وَسَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الطَّاعُونَ، فَمَاتَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا.
قَالَ أَبُو الْمُعْتَمِرِ: فَحَدَّثَنِي سَيَّار: أَنَّ بلعامًا رَكِبَ حَمَّارَةً لَهُ حَتَّى [[في أ: "حتى إذا".]] أَتَى الْعَلُولَى [[في ك: "العلوي".]] -أَوْ قَالَ: طَرِيقًا مِنَ الْعَلُولَى [[في ك: "العلوي".]] -جَعَلَ يَضْرِبُهَا وَلَا تُقْدم، وَقَامَتْ عَلَيْهِ فَقَالَتْ: عَلَامَ تَضْرِبُنِي؟ أَمَا تَرَى هَذَا الَّذِي بَيْنَ يَدَيْكَ؟ فَإِذَا الشَّيْطَانُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَنَزَلَ وَسَجَدَ لَهُ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾
قَالَ: فَحَدَّثَنِي بِهَذَا سَيَّارٌ، وَلَا أَدْرِي لَعَلَّهُ قَدْ دَخَلَ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ حَدِيثِ غَيْرِهِ.
قُلْتُ: هُوَ بَلْعَامُ -وَيُقَالُ: بُلْعُمُ -بْنُ بَاعُورَاءَ، ابْنُ أَبَرَ. وَيُقَالُ: ابْنُ بَاعُورَ بْنِ شُهُومَ [[في أ: "شهتوم".]] بن قوشتم ابن مَابَ بْنِ لُوطِ بْنِ هَارَانَ -وَيُقَالُ: ابْنُ حَرَانَ -بْنِ آزَرَ. وَكَانَ يَسْكُنُ قَرْيَةً مِنْ قُرَى الْبَلْقَاءِ.
قَالَ ابْنُ عَسَاكِرَ: وَهُوَ الَّذِي كَانَ يَعْرِفُ اسْمَ اللَّهِ الْأَعْظَمَ، فَانْسَلَخَ مِنْ دِينِهِ، لَهُ ذِكْرٌ فِي الْقُرْآنِ. ثُمَّ أَوْرَدَ [[في أ: "ثم ذكر".]] مِنْ قِصَّتِهِ نَحْوًا مِمَّا ذَكَرْنَا هَاهُنَا، وَأَوْرَدَهُ عَنْ وَهْبٍ وَغَيْرِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ؛ أَنَّهُ حَدَّثَ: أَنَّ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا نَزَلَ فِي أَرْضِ بَنِي كَنْعَانَ مِنْ أَرْضِ الشَّامِ، أَتَى قَوْمُ بَلْعَامَ إِلَيْهِ فَقَالُوا لَهُ: هَذَا مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَدْ جَاءَ يُخْرِجُنَا مِنْ بِلَادِنَا وَيَقْتُلُنَا وَيُحِلُّهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَإِنَّا قَوْمُكَ، وَلَيْسَ لَنَا مَنْزِلٌ، وَأَنْتَ رَجُلٌ مُجَابُ الدَّعْوَةِ، فَاخْرُجْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ. قَالَ: وَيَلْكُمُ! نَبِيُّ اللَّهِ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ وَالْمُؤْمِنُونَ، كَيْفَ أَذْهَبُ أَدْعُو عَلَيْهِمْ، وَأَنَا أَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا أَعْلَمُ؟! قَالُوا لَهُ: مَا لَنَا مِنْ مَنْزِلٍ! فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ يُرَقِّقُونَهُ وَيَتَضَرَّعُونَ إِلَيْهِ، حَتَّى فَتَنُوهُ فَافْتُتِنَ، فَرَكِبَ حَمَارَةً [[في م، أ: "حمارا".]] لَهُ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْجَبَلِ الَّذِي يُطْلِعُهُ عَلَى عَسْكَرِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَهُوَ جَبَلُ حُسْبان، فَلَمَّا سَارَ عَلَيْهَا غَيْرَ كَثِيرٍ، رَبَضَتْ بِهِ، فنزل عنها فضربها، حتى إذا أَذْلَقَهَا قَامَتْ فَرَكِبَهَا. فَلَمْ تَسْرِ بِهِ كَثِيرًا حَتَّى رَبَضَتْ بِهِ، فَضَرَبَهَا حَتَّى إِذَا أَذْلَقَهَا أَذِنَ اللَّهُ لَهَا فَكَلَّمَتْهُ حُجَّةً عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: وَيْحَكَ يَا بَلْعَمُ: أَيْنَ تَذْهَبُ؟ أَمَا [[في ك، م: "ألا".]] تَرَى الْمَلَائِكَةَ أَمَامِي تَرُدُّنِي عَنْ وَجْهِي هَذَا؟ أَتَذْهَبُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ وَالْمُؤْمِنِينَ لِتَدْعُوَ [[في أ: "تدعو".]] عَلَيْهِمْ؟ فَلَمْ يَنْزِعْ عَنْهَا يَضْرِبُهَا، فَخَلَّى اللَّهُ سَبِيلَهَا حِينَ فَعَلَ بِهَا ذَلِكَ. فَانْطَلَقَتْ بِهِ حَتَّى إِذَا أَشْرَفَتْ بِهِ عَلَى رَأْسِ حُسْبَانَ، عَلَى عَسْكَرِ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ، جَعَلَ يَدْعُو عَلَيْهِمْ، وَلَا يَدْعُو عَلَيْهِمْ بَشَرٍّ إِلَّا صَرَفَ اللَّهُ لِسَانَهُ إِلَى قَوْمِهِ، وَلَا يَدْعُو لِقَوْمِهِ بِخَيْرٍ إِلَّا صَرَفَ لِسَانَهُ إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَقَالَ لَهُ قَوْمُهُ: أَتَدْرِي يَا بَلْعَمُ مَا تَصْنَعُ؟ إِنَّمَا تَدْعُو لَهُمْ، وَتَدْعُو عَلَيْنَا! قَالَ: فَهَذَا مَا لَا أَمْلِكُ، هَذَا شَيْءٌ قَدْ غَلَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ! قَالَ: وَانْدَلَعَ لِسَانُهُ فَوَقَعَ عَلَى صَدْرِهِ، فَقَالَ لَهُمْ: قَدْ ذَهَبَتْ مِنِّي الْآنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ، وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا الْمَكْرُ وَالْحِيلَةُ، فَسَأَمْكُرُ لَكُمْ وَأَحْتَالُ، جَمِّلوا النِّسَاءَ وَأَعْطُوهُنَّ السِّلَعَ، ثُمَّ أَرْسِلُوهُنَّ إِلَى الْعَسْكَرِ يَبِعْنَهَا فِيهِ، وَمُرُوهُنَّ فَلَا تَمْنَعُ امْرَأَةٌ نَفْسَهَا مِنْ رَجُلٍ أَرَادَهَا، فَإِنَّهُمْ إِنْ زَنَى رَجُلٌ مِنْهُمْ وَاحِدٌ كُفِيتموهم، فَفَعَلُوا. فَلَمَّا دَخَلَ النِّسَاءُ الْعَسْكَرَ، مَرَّتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْكَنْعَانِيِّينَ اسْمُهَا "كَسْبَى ابْنَةُ صُورَ، رَأْسِ أُمَّتِهِ" بِرَجُلٍ مِنْ عُظَمَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَهُوَ "زَمْرَى بْنُ شَلُومَ"، رَأْسُ سِبْطِ بَنِي سَمْعَانَ بْنِ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، فَقَامَ إِلَيْهَا، فَأَخَذَ بِيَدِهَا حِينَ أَعْجَبَهُ جَمَالُهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ بِهَا حَتَّى وَقَفَ بِهَا عَلَى مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: إِنِّي أَظُنُّكَ سَتَقُولُ هَذَا حَرَامٌ عَلَيْكَ؟ قَالَ: أَجَلْ، هِيَ حَرَامٌ عَلَيْكَ، لَا تَقْرَبْهَا. قَالَ: فَوَاللَّهِ لَا نُطِيعُكَ فِي هَذَا. ثُمَّ دَخَلَ بِهَا قُبَّتَهُ فَوَقَعَ عَلَيْهَا. وَأَرْسَلَ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ، الطَّاعُونَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَكَانَ فِنْحَاصُ بْنُ الْعَيْزَارِ بْنِ هَارُونَ، صَاحِبَ أَمْرِ مُوسَى، وَكَانَ غَائِبًا حِينَ صَنَعَ زَمْرَى بْنُ شَلُومَ مَا صَنَعَ، فَجَاءَ وَالطَّاعُونُ يَجُوسُ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَأُخْبِرَ الْخَبَرَ، فَأَخَذَ حَرْبَتَهُ، وَكَانَتْ مِنْ حَدِيدٍ كُلُّهَا، ثُمَّ دَخَلَ الْقُبَّةَ وَهُمَا مُتَضَاجِعَانِ، فَانْتَظَمَهُمَا بِحَرْبَتِهِ، ثُمَّ خَرَجَ بِهِمَا رَافِعَهُمَا إِلَى السَّمَاءِ، وَالْحَرْبَةُ قَدْ أَخَذَهَا بِذِرَاعِهِ، وَاعْتَمَدَ بِمِرْفَقِهِ عَلَى خَاصِرَتِهِ، وَأَسْنَدَ الْحَرْبَةَ إِلَى لَحْيَيْه -وَكَانَ بَكْرَ الْعَيْزَارِ -وَجَعَلَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ هَكَذَا نَفْعَلُ بِمَنْ يَعْصِيكَ. وَرُفِعَ الطَّاعُونُ، فَحُسِبَ مَنْ هَلَكَ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الطَّاعُونِ فِيمَا بَيْنُ أَنْ أَصَابَ زَمْرَى الْمَرْأَةَ إِلَى أَنْ قَتَلَهُ فِنْحَاصُ، فَوَجَدُوهُ قَدْ هَلَكَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا -وَالْمُقَلِّلُ لَهُمْ يَقُولُ: عِشْرُونَ أَلْفًا -فِي سَاعَةٍ مِنَ النَّهَارِ. فَمِنْ هُنَالِكَ تُعْطِي بَنُو إِسْرَائِيلَ وَلَدَ فِنْحَاصَ مِنْ كُلِّ ذَبِيحَةٍ ذَبَحُوهَا الْقُبَّةَ وَالذِّرَاعَ واللَّحَى -لِاعْتِمَادِهِ بِالْحَرْبَةِ عَلَى خَاصِرَتِهِ، وَأَخْذِهِ إِيَّاهَا بِذِرَاعِهِ، وَإِسْنَادِهِ إِيَّاهَا إِلَى لَحْيَيْهِ -وَالْبِكْرَ مِنْ كُلِّ أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ؛ لِأَنَّهُ كَانَ بَكْرَ أَبِيهِ الْعَيْزَارِ. فَفِي بَلْعَامَ بْنِ بَاعُورَاءَ أَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا [فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ] ﴾ [[زيادة من أ.]] -إِلَى قَوْلِهِ: ﴿لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾ [[رواه الطبري في تفسيره (١٣/٢٦٤) .]]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ﴾ اخْتَلَفَ الْمُفَسِّرُونَ فِي مَعْنَاهُ [[في أ: "في معنى هذا".]] فَأَمَّا عَلَى سِيَاقِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَالِمِ بن أبي النضر: أن بلعاما انْدَلَعَ لِسَانُهُ عَلَى صَدْرِهِ -فَتَشْبِيهُهُ بِالْكَلْبِ فِي لَهْثِهِ [[في د، ك، م: "لهيثه".]] فِي كِلْتَا حَالَتَيْهِ إِنْ زُجِرَ وَإِنْ تُرِكَ. وَقِيلَ: مَعْنَاهُ: فَصَارَ مِثْلَهُ فِي ضَلَالِهِ وَاسْتِمْرَارِهِ فِيهِ، وَعَدَمِ انْتِفَاعِهِ بِالدُّعَاءِ إِلَى الْإِيمَانِ وَعَدَمِ الدُّعَاءِ، كَالْكَلْبِ فِي لَهْثِهِ [[في د، ك، م، "لهيثه".]] فِي حَالَتَيْهِ، إن حَمَلْتَ عَلَيْهِ وَإِنَّ تَرِكْتَهُ، هُوَ يَلْهَثُ فِي الْحَالَيْنِ، فَكَذَلِكَ هَذَا لَا يَنْتَفِعُ بِالْمَوْعِظَةِ وَالدَّعْوَةِ إِلَى الْإِيمَانِ وَلَا عَدَمِهِ؛ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ﴾ [الْبَقَرَةِ:٦] ، ﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ﴾ [التَّوْبَةِ:٨٠] وَنَحْوَ ذَلِكَ.
وَقِيلَ: مَعْنَاهُ: أَنَّ قَلْبَ الْكَافِرِ وَالْمُنَافِقِ وَالضَّالِّ، ضَعِيفٌ فَارِغٌ مِنَ الْهُدَى، فَهُوَ كَثِيرُ الْوَجِيبِ [[في أ: "الوجيف".]] فَعَبَّرَ عَنْ هَذَا بِهَذَا، نُقِلَ نَحْوُهُ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَغَيْرِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾ يَقُولُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ مُحَمَّدٍ ﷺ: ﴿فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ﴾ أَيْ: لَعَلَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ الْعَالِمِينَ بِحَالِ بَلْعَامَ، وَمَا جَرَى لَهُ فِي إِضْلَالِ اللَّهِ إِيَّاهُ وَإِبْعَادِهِ مِنْ رَحْمَتِهِ، بِسَبَبِ أَنَّهُ اسْتَعْمَلَ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ -فِي تَعْلِيمِهِ الِاسْمَ الْأَعْظَمَ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ -فِي غَيْرِ طَاعَةِ رَبِّهِ، بَلْ دَعَا بِهِ عَلَى حِزْبِ الرَّحْمَنِ، وَشِعْبِ الْإِيمَانِ، أَتْبَاعِ عَبْدِهِ وَرَسُولِهِ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ، كَلِيمِ اللَّهِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ، [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ك.]] ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾ أَيْ: فَيَحْذَرُوا أَنْ يَكُونُوا مِثْلَهُ؛ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَاهُمْ عِلْمًا، وَمَيَّزَهُمْ عَلَى مَنْ عَدَاهُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ، وَجَعَلَ بِأَيْدِيهِمْ صِفَةَ مُحَمَّدٍ ﷺ يَعْرِفُونَهَا كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ، فَهُمْ أَحَقُّ النَّاسِ وَأَوْلَاهُمْ بِاتِّبَاعِهِ وَمُنَاصَرَتِهِ وَمُؤَازَرَتِهِ، كَمَا أَخْبَرَتْهُمْ أَنْبِيَاؤُهُمْ بِذَلِكَ وَأَمَرَتْهُمْ بِهِ؛ وَلِهَذَا مَنْ خَالَفَ مِنْهُمْ مَا فِي كِتَابِهِ وَكَتَمَهُ فَلَمْ يُعْلِمْ بِهِ الْعِبَادَ، أَحَلَّ اللَّهُ بِهِ ذُلًّا فِي الدُّنْيَا مَوْصُولًا بِذُلِّ الْآخِرَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿سَاءَ مَثَلا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَأَنْفُسَهُمْ كَانُوا يَظْلِمُونَ﴾ يَقُولُ تَعَالَى سَاءَ مَثَلًا مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا، أَيْ: سَاءَ مَثَلُهُمْ أَنْ شُبِّهُوا بِالْكِلَابِ الَّتِي [[في د، ك: "الذين".]] لَا هِمَّةَ لَهَا [[في ك، م: "لهم".]] إِلَّا فِي تَحْصِيلِ أَكْلَةٍ أَوْ شَهْوَةٍ، فَمَنْ خَرَجَ عَنْ حَيِّز الْعِلْمِ وَالْهُدَى وَأَقْبَلَ عَلَى شَهْوَةِ نَفْسِهِ، وَاتَّبِعْ هَوَاهُ، صَارَ شَبِيهًا بِالْكَلْبِ، وَبِئْسَ الْمَثَلُ مَثَلُهُ؛ وَلِهَذَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ، الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ" [[صحيح البخاري برقم (٢٦٢٢) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَنْفُسَهُمْ كَانُوا يَظْلِمُونَ﴾ أَيْ: مَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ، وَلَكِنْ هُمْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ، بِإِعْرَاضِهِمْ عَنِ اتِّبَاعِ الْهُدَى، وَطَاعَةِ الْمَوْلَى، إِلَى الرُّكُونِ إِلَى دَارِ الْبِلَى، وَالْإِقْبَالِ عَلَى تَحْصِيلِ اللَّذَّاتِ وَمُوَافَقَةِ الْهَوَى.
سَآءَ مَثَلًا ٱلْقَوْمُ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَأَنفُسَهُمْ كَانُوا۟ يَظْلِمُونَ
How evil an example [is that of] the people who denied Our signs and used to wrong themselves.
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انہوں نے نقصان (کیا تو) اپنا ہی کیا
چه بد مثلی دارند گروهی که آیات ما را تکذیب کردند؛ و آنها تنها به خودشان ستم مینمودند!
Tafsir Ibn Kathir
And recite to them the story of him to whom We gave Our Ayat, but he threw them away; so Shaytan followed him up, and he became of those who went astray (175)And had We willed, We would surely have elevated him therewith, but he clung to the earth and followed his own vain desires. So his parable is the parable of a dog: if you drive him away, he pants, or if you leave him alone, he (still) pants. Such is the parable of the people who reject Our Ayat. So relate the stories, perhaps they may reflect (176)Evil is the parable of the people who rejected Our Ayat, and used to wrong themselves (177)
Story of Bal'am bin Ba'ura
Abdur-Razzaq recorded that 'Abdullah bin Mas'ud said that Allah's statement,
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا
(And recite to them the story of him to whom We gave Our Ayat, but he threw them away)
"Is about Bal'am bin Ba'ura' a man from the Children of Israel." Shu'bah and several other narrators narrated this statement from Mansur who got it from Ibn Mas'ud. Sa'id bin Abi 'Arubah narrated that Qatadah said that Ibn 'Abbas said, "He is Sayfi, son of Ar-Rahib." Qatadah commented that Ka'b said, "He was a man from Al-Balqla' (a province of Jordan) who knew Allah's Greatest Name. He used to live in Bayt Al-Maqdis with the tyrants." Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas said, "He is Bal'am bin Ba'ura', a man from Yemen whom Allah had given the knowledge of His Ayat, but he abandoned them." Malik bin Dinar said, "He was one of the scholars of the Children of Israel whose supplication was acceptable. They used to seek his lead in suplication in times of difficulty. Allah's Prophet Musa sent him to the King of Madyan to call him to Allah. That king appeased him and gave him land and gifts, and he reverted from the religion of Musa and followed the king's religion." 'Imran bin 'Uyaynah narrated that 'Husayn said that 'Imran bin Al-Harith said that Ibn 'Abbas said, "He is Bal'am son of Ba'ura'." Similar was said by Mujahid and 'Ikrimah. Therefore, it is well-known that this honorable Ayah was revealed about a man from the Children of Israel in ancient times, according to Ibn Mas'ud and several others among the Salaf. 'Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas said, "He is a man from the city of the tyrants (Jerusalem) whose name was Bal'am and who knew Allah's Greatest Name." 'Ali bin Abi Talhah also reported that Ibn 'Abbas that he said, "When Musa and those with him went to the city of the tyrants (Jerusalem), the cousins of Bal'am and his people came to him and said, 'Musa is a strong man, and he has many soldiers. If he gains the upper hand over us, we will be destroyed. Therefore, supplicate to Allah that He prevents Musa and those with him from prevailing over us.' Bal'am said, 'If I supplicate to Allah that He turns back Musa and those with him, I will lose in this life and the Hereafter.' They kept luring him until he supplicated against Musa and his people, and Allah took away what he bestowed on him (of knowledge). Hence Allah's statement,
فَانسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ
(but he threw them away; so Shaytan followed him up).'" Allah said next,
وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ
(And had We willed, We would surely have elevated him therewith but he clung to the earth and followed his own vain desires.) Allah said,
وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا
(And had We willed, We would surely have elevated him therewith) from the filth of this earthly life through the Ayat that We gave him knowledge of,
وَلَٰكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ
(but he clung to the earth), he became interested in the adornment of this life and its delights. He indulged in the lusts of life and its joys and was deceived by it, just as life deceived others like him, without sound comprehension or a good mind. Muhammad bin Ishaq bin Yasar narrated from Salim, from Abu An-Nadr that when Musa entered the land of Bani Canaan in the area of Ash-Sham (Greater Syria), the people of Bal'am came to him, saying, "This is Musa, son of 'Imran with the Children of Israel. He wants to drive us out from our land, kill us and replace us with the Children of Israel. We are your people and have no other dwelling area. You are a person whose supplication is acceptable (to Allah), so go out and supplicate to Allah against them." He said, "Woe to you! Here is Allah's Prophet (Musa) with whom the angels and believers are! How can I supplicate against them when I know from Allah what I know?" They said, "We have no other dwelling area." So they kept luring and begging him until he was tempted by the trial and went on his donkey towards Mount Husban, which was behind the Israelite military barracks. When he proceeded on the Mount for a while, the donkey sat down and refused to proceed. He got off the donkey and struck it until it stood up again and he rode it. The donkey did the same after a little while, and he struck it again until it stood up... So he proceeded and tried to supplicate against Musa and his people. However, Allah made his tongue mention his people with evil and the Children of Israel with good instead of his people, who protested, "O Bal'am! What are you doing? You are supplicating for them and against us!" He said, "It is against my will. This is a matter that Allah has decided." He then said to them, as his tongue was made to loll out of his mouth, "Now I have lost this life and the Hereafter." This Ayah was revealed about the story of Bal'am son of Ba'ura'
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا
(And recite to them the story of him to whom We gave Our Ayat, but he threw them away.), until,
لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
(perhaps they may reflect.) Allah said next,
فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَث
(So his parable is the parable of a dog: if you drive him away, he pants, or if you leave him alone, he (still) pants.)
Scholars of Tafsir have conflicting opinions regarding the meaning of this Ayah. Some scholars said that it refers to the end of Bal'am's tongue which flickered out of his mouth, as in the story narrated from Ibn Ishaq, from Salim, from Abu An-Nadr. Therefore, his example is the example of the dog, its tongue pants regardless of whether it is driven away or not. It was also said that the meaning here is a parable of this man – and his like – concerning their misguidance, persisting the wrong path and not being able to benefit from faith or comprehend what they are being called to. So his example is that of a dog which pants whether it was driven away or left alone. The person described here does not benefit from the advice or the call to faith, just as if the advice and call never occurred. Allah said in another Ayah,
سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
(It is the same to them (disbelievers) whether you warn them or do not warn them, they will not believe.)[2:6] and,
اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ
(Whether you ask forgiveness for them (hypocrites) or ask not forgiveness for them – (and even) if you ask seventy times for their forgiveness – Allah will not forgive them.)[9:80] and similar Ayat. It was also said that the meaning here, is that the heart of the disbeliever, the hypocrite and the wicked is weak and devoid of guidance. Therefore, it keeps faltering. Similar was narrated from Al-Hasan Al-Basri.
فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
(So relate the stories, perhaps they may reflect) Allah said next to His Prophet Muhammad ﷺ,
فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ
(So relate the stories, perhaps they may) the Children of Israel, who have knowledge ot the story of Bal'am and what happened to him when Allah allowed him to stray and expelled him from His mercy. Allah favored him by teaching him His Greatest Name, by which, if He is asked, He will grant, and if He is called upon, He answers. But Bal'am used it in disobedience to Allah and invoked Him against His own party of the people of faith, followers of His servant and Messenger during that time, Musa, the son of 'Imran, peace be upon him, whom Allah spoke to directly,
لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
(perhaps they may reflect.) and avoid Bal'am's behavior, for Allah has given the Jews knowledge and made them superior to the bedouins surrounding them. He gave them the description of Muhammad ﷺ which would allow them to recognize him, as they recognize their own children. They, among people, have the most right to follow, aid and support Muhammad ﷺ, in obedience to their Prophets who informed them of him and commanded them to follow him. Therefore, whoever among them defies the knowledge in their Books or hides it from the servants, Allah will place disgrace on him in this life, followed by humiliation in the Hereafter. Allah said,
سَاءَ مَثَلًا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا
(Evil is the parable of the people who rejected Our Ayat.)
Allah says, evil is the example of the people who deny Our Ayat in that they are equated with dogs that have no interest but to collect food and satisfy lusts.' Therefore, whoever goes out of the area of knowledge and guidance, and seeks satisfaction for his lusts and vain desires, is just like a dog; what an evil example. The Sahih recorded that the Messenger of Allah ﷺ said,
لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ، الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ
(The evil example is not suitable for us: he who goes back on his gift is just like the dog that eats its vomit.) Allah's statement,
وَأَنفُسَهُمْ كَانُوا يَظْلِمُونَ
(and they used to wrong themselves.) means, Allah did not wrong them, but they wronged themselves by rejecting guidance, not obeying the Lord, being content with this life that will soon end, all the while seeking to fulfill desires and obey lusts.
Tafsir Ibn Kathir
بلعم بن باعورا مروی ہے کہ جس کا واقعہ ان آیتوں میں بیان ہو رہا ہے اس کا نام بلعم بن باعورا ہے۔ یہ بھی کہ کہا گیا ہے کہ اس کا نام ضفی بن راہب تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بلقاء کا ایک شخص تھا جو اسم اعظم جانتا تھا اور جبارین کے سات ہی بیت المقدس میں رہا کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ یمنی شخص تھا جس نے کلام اللہ کو ترک کردیا تھا، یہ شخص بنی اسرائیل کے علماء میں سے تھا، اس کی دعا مقبول ہوجایا کرتی تھی۔ بنی اسرائیل سختیوں کے وقت اسے آگے کردیا کرتے تھے۔ اللہ اس کی دعا مقبول فرما لیا کرتا تھا۔ اسے حضرت موسیٰ ؑ نے مدین کے بادشاہ کی طرف اللہ کے دین کی دعوت دینے کیلئے بھیجا تھا اس عقلمند بادشاہ نے اسے مکرو فریب سے اپنا کرلیا۔ اس کے نام کئی گاؤں کردیئے اور بہت کجھ انعام و اکرام دیا۔ یہ بدنصیب دین موسوی کو چھوڑ کر اس کے مذہب میں جا ملا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام بلعام تھا۔ یہ بھی ہے کہ یہ امیہ بن ابو صلت ہے۔ ممکن ہے یہ کہنے والے کی یہ مراد ہو کہ یہ امیہ بھی اسی کے مشابہ تھا۔ اسے بھی اگلی شریعتوں کا علم تھا لیکن یہ ان سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔ خود حضور ﷺ کے زمانے کو بھی اس نے پایا آپ کی آیات بینات دیکھیں، معجزے اپنی آنکھوں سے دیکھ لئے، ہزارہا کو دین حق میں داخل ہوتے دیکھا، لیکن مشرکین کے میل جول، ان میں امتیاز، ان میں دوستی اور وہاں کی سرداری کی ہوس نے اسے اسلام اور قبول حق سے روک دیا۔ اسی نے بدری کافروں کے ماتم میں مرثئے کہے، لعنتہ اللہ۔ بعض احادیث میں وارد ہے کہ اس کی زبان تو ایمان لا چکی تھی لیکن دل مومن نہیں ہوا تھا کہتے ہیں کہ اس شخص سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اس کی دعائیں جو بھی یہ کرے گا مقبول ہوں گی اس کی بیوی نے ایک مرتبہ اس سے کہا کہ ان تین دعاؤں میں سے ایک دعا میرے لئے کر۔ اس نے منظور کرلیا اور پوچھا کیا دعا کرانا چاہتی ہو ؟ اس نے کہا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس قدر حسن و خوبصورتی عطا فرمائے کہ مجھ سے زیادہ حسین عورت بنی اسرائیل میں کوئی نہ ہو۔ اس نے دعا کی اور وہ ایسی ہی حسین ہوگئی۔ اب تو اس نے پر نکالے اور اپنے میاں کو محض بےحقیقت سمجھنے لگی بڑے بڑے لوگ اس کی طرف جھکنے لگے اور یہ بھی ان کی طرف مائل ہوگئی اس سے یہ بہت کڑھا اور اللہ سے دعا کی کہ یا اللہ اسے کتیا بنا دے۔ یہ بھی منظور ہوئی وہ کتیا بن گئی۔ اب اس کے بچے آئے انہوں نے گھیر لیا کہ آپ نے غضب کیا لوگ ہمیں طعنہ دیتے ہیں اور ہم کتیا کے بچے مشہور ہو رہے ہیں۔ آپ دعا کیجئے کہ اللہ اسے اس کی اصلی حالت میں پھر سے لا دے۔ اس نے وہ تیسری دعا بھی کرلی تینوں دعائیں یوں ہی ضائع ہوگئیں اور یہ خالی ہاتھ بےخیر رہ گیا۔ مشہور بات تو یہی ہے کہ بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے یہ ایک شخص تھا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہ نبی تھا۔ یہ محض غلط ہے، بالکل جھوٹ ہے اور کھلا افترا ہے۔ مروی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ جب قوم جبارین سے لڑائی کے لئے بنی اسرائیل کی ہمراہی میں گئے انہی جبارین میں بلغام نامی یہ شخص تھا اس کی قوم اور اس کے قرابت دار چچا وغیرہ سب اس کے پاس آئے اور کہا کہ موسیٰ اور اس کی قوم کے لئے آپ بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا یہ نہیں ہوسکتا اگر میں ایسا کروں گا تو میری دنیا آخرت دونوں خراب ہوجائیں گی لیکن قوم سر ہوگئی۔ یہ بھی لحاظ مروت میں آگیا۔ بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس سے کرامت چھین لی اور اسے اس کے مرتبے سے گرا دیا۔ سدی کہتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل کو وادی تیہ میں چالیس سال گذر گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوشع بن نون ؑ کو نبی بنا کر بھیجا انہوں نے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہیں لے کر جاؤں اور ان جبارین سے جہاد کروں۔ یہ آمادہ ہوگئے، بیعت کرلی۔ انہی میں بلعام نامی ایک شخص تھا جو بڑا عالم تھا اسم اعظم جانتا تھا۔ یہ بدنصیب کافر ہوگیا، قوم جبارین میں جا ملا اور ان سے کہا تم نہ گھبراؤ جب بنی اسرائیل کا لشکر آجائے گا میں ان پر بد دعا کروں گا تو وہ دفعتاً ہلاک ہوجائے گا۔ اس کے پاس تمام دنیوی ٹھاٹھ تھے لیکن عورتوں کی عظمت کی وجہ سے یہ ان سے نہیں ملتا تھا بلکہ ایک گدھی پال رکھی تھی۔ اسی بدقسمت کا ذکر اس آیت میں ہے۔ شیطان اس پر غالب آگیا اسے اپنے پھندے میں پھانس لیا جو وہ کہتا تھا یہ کرتا تھا آخر ہلاک ہوگیا۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تم سب سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں جو قرآن پڑھ لے گا جو اسلام کی چادر اوڑھے ہوئے ہوگا اور دینی ترقی پر ہوگا کہ ایک دم اس سے ہٹ جائے گا، اسے پس پشت ڈال دے گا، اپنے پڑوسی پر تلوار لے دوڑے گا اور اسے شرک کی تہمت لگائے گا۔ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ نے یہ سن کر دریافت کیا کہ یا رسول اللہ مشرک ہونے کے زیادہ قابل کون ہوگا ؟ یہ تہمت لگانے والا ؟ وہ جسے تہمت لگا رہا ہے فرمایا نہیں بلکہ تہمت دھرنے والا۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو قادر تھے کہ اسے بلند مرتبے پر پہنچائیں، دنیا کی آلائشوں سے پاک رکھیں، اپنی دی ہوئی آیتوں کی تابعداری پر قائم رکھیں لیکن وہ دنیوی لذتوں کی طرف جھک پڑا یہاں تک کہ شیطان کا پورا مرید ہوگیا۔ اسے سجدہ کرلیا۔ کہتے ہیں کہ اس بلعام سے لوگوں نے درخواست کی کہ آپ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کے حق میں بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا اچھا میں اللہ سے حکم لے لوں۔ جب اس نے اللہ تعالیٰ سے مناجات کی تو اسے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل مسلمان ہیں اور ان میں اللہ کے نبی موجود ہیں اس نے سب سے کہا کہ مجھے بد دعا کرنے سے روک دیا گیا ہے انہوں نے بہت سارے تحفے تحائف جمع کر کے اسے دیئے اس نے سب رکھ لئے۔ پھر دوبارہ درخواست کی کہ ہمیں ان سے بہت خوف ہے آپ ضرور ان پر بد دعا کیجئے اس نے جواب دیا کہ جب تک میں اللہ تعالیٰ سے اجازت نہ لے لوں میں ہرگز یہ نہ کروں گا اس نے پھر اللہ سے مناجات کی لیکن اسے کچھ معلوم نہ ہوسکا اس نے یہی جواب انہیں دیا تو انہوں نے کہا دیکھو اگر منع ہی مقصود ہوتا تو آپ کو روک دیا جاتا جیسا کہ اس سے پہلے روک دیا گیا۔ اس کی بھی سمجھ میں آگیا اٹھ کر بد دعا شروع کی۔ اللہ کی شان ہے بد دعا ان پر کرنے کے بجائے اس کی زبان سے اپنی ہی قوم کے لئے بد دعا نکلی اور جب اپنی قوم کی فتح کی دعا مانگنا چاہتا تو بنی اسرائیل کی فتح و نصرت کی دعا نکلتی۔ قوم نے کہا آپ کیا غضب کر رہے ہیں ؟ اس نے کہا کیا کروں ؟ میری زبان میرے قابو میں نہیں۔ سنو اگر سچ مچ میری زبان سے ان کے لئے بد دعا نکلی بھی تو قبول نہ ہوگی۔ سنو اب میں تمہیں ایک ترکیب بتاتا ہوں اگر تم اس میں کامیاب ہوگئے تو سمجھ لو کہ بنی اسرائیل برباد ہوجائیں گے تم اپنی نوجوان لڑکیوں کو بناؤ سنگھار کرا کے ان کے لشکروں میں بھیجو اور انہیں ہدایت کردو کہ کوئی ان کی طرف جھکے تو یہ انکار نہ کریں ممکن ہے بوجہ مسافرت یہ لوگ زناکاری میں مبتلا ہوجائیں اگر یہ ہوا تو چونکہ یہ حرام کاری اللہ کو سخت ناپسند ہے اسی وقت ان پر عذاب آجائے گا اور یہ تباہ ہوجائیں گے۔ ان بےغیرتوں نے اس بات کو مان لیا اور یہی کیا۔ خود بادشاہ کی بڑی حسین و جمیل لڑکی بھی بن ٹھن کر نکلی اسے ہدایت کردی گئی تھی کہ سوائے حضرت موسیٰ کے اور کسی کو اپنا نفس نہ سونپے۔ یہ عورتیں جب بنی اسرائیل کے لشکر میں پہنچیں تو عام لوگ بےقابو ہوگئے حرام کاری سے بچ نہ سکے۔ شہزادی بنی اسرائیل کے ایک سردار کے پاس پہنچی۔ اس سردار نے اس لڑکی پر ڈورے ڈالے لیکن اس لڑکی نے انکار کیا۔ اس نے بتایا کہ میں فلاں فلاں ہوں، اس نے اپنے باپ سے یا بلعام سے پچھوایا اس نے اجازت دی۔ یہ خبیث اپنا منہ کالا کر رہا تھا جسے حضرت ہارون ؑ کی اولاد میں سے کسی صاحب نے دیکھ لیا اپنے نیزے سے ان دونوں کو پرودیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دست و بازی قوی کردیئے اس نے یونہی ان دونوں کو چھدے ہوئے اٹھا لیا لوگوں نے بھی انہیں دیکھا۔ اب اس لشکر پر عذاب رب بشکل طاعون آیا اور ستر ہزار آدمی فوراً ہلاک ہوگئے۔ بلعام اپنی گدھی پر سوار ہو کر چلا وہ ایک ٹیلے پر چڑھ کر رک گئی اب بلعام اسے مارتا پیٹتا ہے لیکن وہ قدم نہیں اٹھاتی۔ آخر گدھی نے اس کی طرف دیکھا اور کہا مجھے کیوں مار رہا ہے سامنے دیکھ کون ہے ؟ اس نے دیکھ تو شیطان لعین کھڑا ہوا تھا یہ اتر پڑا اور سجدے میں گرگیا۔ الغرض ایمان سے خالی ہوگیا اس کا نام یا تو بلعام تھا۔ یا بلعم بن با عورا یا ابن ابر بار بن باعور بن شہوم بن قوشتم بن مآب بن لوط بن ہارون یا ابن مران بن آزر۔ یہ بلقا کا رئیس تھا، اسم اعظم جانتا تھا لیکن اخیر میں دین حق سے ہٹ گیا۔ واللہ اعلم۔ ایک روایت میں ہے کہ قوم کے زیادہ کہنے سننے سے جب یہ اپنی گدھی پر سوار ہو کر بد دعا کے لئے چلا تو اس کی گدھی بیٹھ گئی۔ اس نے اسے مار پیٹ کر اٹھایا کچھ دور چل کر پھر بیٹھ گئی۔ اس نے اسے پھر مار پیٹ کر اٹھایا، اسے اللہ نے زبان دی۔ اس نے کہا تیرا ناس جائے تو کہاں اور کیوں جا رہا ہے اللہ کے مقابلے اس کے رسول سے لڑنے اور مومنوں کو نقصان دلانے جا رہا ہے ؟ دیکھ تو سہی فرشتے میری راہ روکے کھڑے ہیں۔ اس نے پھر بھی کچھ خیال نہ کیا آگے بڑھ گیا۔ حبان نامی پہاڑی پر چڑھ گیا جہاں سے بنو اسرائیل کا لشکر سامنے ہی نظر آتا تھا۔ اب ان کیلئے بددعا اور اپنی قوم کے لئے دعائیں کرنے لگا لیکن زبان الٹ گئی دعا کی جگہ بد دعا اور بد دعا کی جگہ دعا نکلنے لگی۔ قوم نے کہا کیا کر رہے ہو ؟ کہا بےبس ہوں۔ اسی وقت اس کی زبان نکل پڑی سینے پر لٹکنے لگی اس نے کہا لو میری دنیا بھی خراب ہوئی اور دین تو بالکل برباد ہوگیا پھر اس نے خوبصورت لڑکیاں بھیجنے کی ترکیب بتائی جیسے کہ اوپر بیان ہوا اور کہا کہ اگر ان میں سے ایک نے بھی بدکاری کرلی تو ان پر عذاب رب آجائے گا ان عورتوں میں سے ایک بہت ہی حسین عورت جو کنانیہ تھی اور جس کا نام کستی تھا جو صور نامی ایک رئیس کی بیٹی تھی وہ جب بنی اسرائیل کے ایک بہت بڑے سردار زمری بن شلوم کے پاس سے گذری جو شمعون بن یعقوب کی نسل میں سے تھا وہ اس پر فریفتہ ہوگیا۔ دلیری کے ساتھ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس گیا اور کہنے لگا آپ تو شاید کہہ دیں گے کہ یہ مجھ پر حرام ہے ؟ آپ نے کہا بیشک۔ اس نے کہا اچھا میں آپ کی یہ بات تو نہیں مان سکتا، اسے اپنے خیمے میں لے گیا اور اس سے منہ کالا کرنے لگا۔ وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر طاعون بھیج دیا۔ حضرت فحاص بن غیرار بن ہارون اس وقت لشکر گاہ سے کہیں باہر گئے ہوئے تھے جب آئے اور تمام حقیقت سنی تو بیتاب ہو کر غصے کے ساتھ اس بد کردار کے خیمے میں پہنچے اور اپنے نیزے میں ان دونوں کو پرو لیا اور اپنے ہاتھ میں نیزہ لئے ہوئے انہیں اوپر اٹھائے ہوئے باہر نکلے کہنی کو کھ پر لگائے ہوئے تھے کہنے لگے یا اللہ ہمیں معاف فرما ہم پر سے یہ وبا دور فرما دیکھ لے ہم تیرے نافرمانوں کے ساتھ یہ کرتے ہیں۔ ان کی دعا اور اس فعل سے طاعون اٹھ گیا لیکن اتنی دیر میں جب حساب لگایا گیا تو ستر ہزار آدمی اور ایک روایت کی رو سے بیس ہزار مرچکے تھے۔ دن کا وقت تھا اور کنانیوں کی یہ چھوکریاں سودا بیچنے کے بہانے صرف اس لئے آئی تھیں کہ بنو اسرائیل بدکاری میں پھنس جائیں اور ان پر عذاب آجائیں۔ بنو اسرائیل میں اب تک یہ دستور چلا آتا ہے کہ وہ اپنے ذبیحہ میں سے گردن اور دست اور سری اور ہر قسم کا سب سے پہلا پھل فحاص کی اولاد کو دیا کرتے ہیں۔ اسی بلعام بن باعورا کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ فرمان ہے کہ اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ کالی ہے تو ہانپتا ہے اور دھتکارا جائے تو ہانپتا رہتا ہے۔ یا تو اس مثال سے یہ مطلب ہے کہ بلعام کی زبان نیچے کو لٹک پڑی تھی جو پھر اندر کو نہ ہوئی کتے کی طرح ہانپتا رہتا تھا اور زبان باہر لٹکائے رہتا تھا۔ یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی ضلالت اور اس پر جمے رہنے کی مثال دی کہ اسے ایمان کی دعوت، علم کی دولت غرض کسی چیز نے برائی سے نہ ہٹایا جیسے کتے کی اس کی زبان لٹکنے کی حالت برابر قائم رہتی ہے خواہ اسے پاؤں تل روندو خواہ جھوڑ دو۔ جیسے بعض کفار مکہ کی نسبت فرمان ہے کہ انہیں وعظ و پند کہنا نہ کہنا سب برابر ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا اور جیسے بعض منافقوں کی نسبت فرمان ہے کہ ان کے لئے تو استغفار کر یا نہ کر اللہ انہیں نہیں بخشے گا۔ یہ بھی مطلب اس مثال کا بیان کیا گیا ہے کہ ان کافروں منافقوں اور گمراہ لوگوں کے دل بودے اور ہدایت سے خالی ہیں یہ کبھی مطمئن نہیں ہوتے۔ پھر اللہ عزوجل اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ تو انہیں پند و نصیحت کرتا رہ تاکہ ان میں سے جو عالم ہیں، وہ غور و فکر کر کے اللہ کی راہ پر آجائیں یہ سوچیں کہ بلعام ملعون کا کیا حال ہوا دینی علم جیسی زبردست دولت کو جس نے دنیا کی سفلی راحت پر کھو دیا۔ آخر نہ یہ ملا نہ وہ۔ دونوں ہاتھ خالی رہ گئے۔ اسی طرح یہ علماء یہود جو اپنی کتابوں میں اللہ کی ہدایتیں پڑھ رہے ہیں، آپ کے اوصاف لکھے پاتے ہیں، انہیں چاہئے کہ دنیا کی طمع میں پھنس کر اپنے مریدوں کو پھانس کر پھول نہ جائیں ورنہ یہ بھی اس کی طرح دنیا میں کھو دیئے جائیں گے انہیں چاہئے کہ اپنی علمیت سے فائدہ اٹھائیں۔ سب سے پہلے تیری اطاعت کی طرف جھکیں اور اوروں پر حق کو ظاہر کریں۔ دیکھ لو کہ کفار کی کیسی بری مثالیں ہیں کہ کتوں کی طرح صرف نگلنے اگلنے اور شہوت رانی میں پڑے ہوئے ہیں۔ پس جو بھی علم و ہدایت کو چھوڑ کر خواہش نفس کے پورا کرنے میں لگ جائے وہ بھی کتے جیسا ہی ہے۔ حضور فرماتے ہیں ہمارے لئے بری مثالیں نہیں اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کو پھر لے لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ گنہگار لوگ اللہ کا کچھ بگاڑتے نہیں یہ تو اپنا ہی خسارہ کرتے ہیں۔ طاعت مولیٰ ، اتباع ہدی سے ہٹا کر خواہش کی غلامی دنیا کی چاہت میں پڑ کر اپنے دونوں جہان خراب کرتے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا [فَأَتْبَعَهُ] ﴾ [[زيادة من ك.]] الْآيَةَ، قَالَ: هُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، يُقَالُ لَهُ: بَلْعم بْنُ أبَرَ. وَكَذَا رَوَاهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهِ.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَة، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] هُوَ صَيْفِيُّ بْنُ الرَّاهِبِ.
قَالَ قَتَادَةُ: وَقَالَ كَعْبٌ: كَانَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَلْقَاءِ، وَكَانَ يَعْلَمُ الِاسْمَ الْأَكْبَرَ، وَكَانَ مُقِيمًا بِبَيْتِ [[في أ: "بيت".]] الْمَقْدِسِ مَعَ الْجَبَّارِينَ.
وَقَالَ العَوْفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] هُوَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، يُقَالُ لَهُ: بَلْعَم، آتَاهُ اللَّهُ آيَاتِهِ فَتَرَكَهَا.
وَقَالَ مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ: كَانَ مِنْ عُلَمَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَكَانَ مُجَابَ الدَّعْوَةِ، يُقَدِّمُونَهُ فِي الشَّدَائِدِ، بَعَثَهُ نَبِيُّ اللَّهِ مُوسَى إِلَى مَلِكِ مَدْين يَدْعُوهُ إِلَى اللَّهِ، فَأَقْطَعُهُ وَأَعْطَاهُ، فَتَبِعَ دِينَهُ وَتَرَكَ دِينَ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
وَقَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُصَين، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] هُوَ بَلْعَمُ بْنُ بَاعِرَ. وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ وَعِكْرِمَةُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] قَالَ: هُوَ بِلْعَامُ -وَقَالَتْ ثَقِيفٌ: هُوَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ.
وَقَالَ شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا] [[زيادة من أ.]] فِي قَوْلِهِ: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ [آيَاتِنَا] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ.]] قَالَ: هُوَ صَاحِبُكُمْ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ.
وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْهُ وَهُوَ صَحِيحٌ إِلَيْهِ، وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ أَنَّ أُمَيَّةَ بْنَ أَبِي الصَّلْتِ يُشْبِهُهُ، فَإِنَّهُ كَانَ قَدِ اتَّصَلَ إِلَيْهِ عِلْمٌ كَثِيرٌ مِنْ عِلْمِ الشَّرَائِعِ الْمُتَقَدِّمَةِ، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَنْتَفِعْ بِعِلْمِهِ، فَإِنَّهُ أَدْرَكَ زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَبَلَغَتْهُ أَعْلَامُهُ وَآيَاتُهُ وَمُعْجِزَاتُهُ، وَظَهَرَتْ لِكُلِّ مَنْ لَهُ بَصِيرَةٌ، وَمَعَ هَذَا اجْتَمَعَ بِهِ وَلَمْ يَتْبَعْهُ، وَصَارَ إِلَى مُوَالَاةِ الْمُشْرِكِينَ وَمُنَاصَرَتِهِمْ وَامْتِدَاحِهِمْ، وَرَثَى أَهْلَ بَدْرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِمَرْثَاةٍ بَلِيغَةٍ، قَبَّحَهُ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] [[انظر: العقيدة في السيرة النبوية لابن هشام (٢/٣٠) .]] وَقَدْ جَاءَ فِي بَعْضِ الْأَحَادِيثِ: "أَنَّهُ مِمَّنْ آمَنَ لِسَانُهُ، وَلَمْ يُؤْمِنْ قَلْبُهُ"؛ فَإِنَّ لَهُ أَشْعَارًا رَبَّانِيَّةً وَحِكَمًا وَفَصَاحَةً، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَشْرَحِ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْأَعْوَرِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا﴾ قَالَ: هُوَ رَجُلٌ أُعْطِيَ ثَلَاثَ دَعْوَاتٍ يُسْتَجَابُ لَهُ فِيهِنَّ، وَكَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ لَهُ مِنْهَا وَلَدٌ، فَقَالَتْ: اجْعَلْ لِي مِنْهَا واحدة. قال: فَلَكِ وَاحِدَةٌ، فَمَا الَّذِي تُرِيدِينَ؟ قَالَتْ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي أَجْمَلَ امْرَأَةٍ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَدَعَا اللَّهَ، فَجَعَلَهَا أَجْمَلَ امْرَأَةٍ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَلَمَّا عَلِمَتْ أَنْ [[في أ: "أنه".]] لَيْسَ فِيهِمْ مِثْلُهَا رَغِبَتْ عَنْهُ، وَأَرَادَتْ شَيْئًا آخَرَ، فَدَعَا اللَّهُ أَنْ يَجْعَلَهَا كَلْبَةً، فَصَارَتْ كَلْبَةً، فَذَهَبَتْ دَعْوَتَانِ. فَجَاءَ بَنُوهَا فَقَالُوا: لَيْسَ بِنَا عَلَى هَذَا قَرَارٌ، قَدْ صَارَتْ أُمُّنَا كَلْبَةً يُعَيِّرُنَا النَّاسُ بِهَا، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّهَا إِلَى الْحَالِ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا، فَدَعَا اللَّهَ، فَعَادَتْ كَمَا كَانَتْ، فَذَهَبْتِ الدَّعْوَاتُ الثَّلَاثُ، وَسُمِّيَتِ الْبَسُوسُ. [[ورواه أبو الشيخ في تفسيره كما في الدر المنثور (٣/٦٠٨) .]] غَرِيبٌ.
وَأَمَّا الْمَشْهُورُ فِي سَبَبٍ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ، فَإِنَّمَا هُوَ رَجُلٌ مِنَ الْمُتَقَدِّمِينَ فِي زَمَنِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، كَمَا قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَغَيْرُهُ مِنَ السَّلَفِ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: هُوَ رَجُلٌ مِنْ مَدِينَةِ الْجَبَّارِينَ، يُقَالُ لَهُ: "بَلْعَامُ" [[في د، ك، م، أ: "بلعم".]] وَكَانَ يَعْلَمُ اسْمَ اللَّهِ الْأَكْبَرَ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَغَيْرُهُ مِنْ عُلَمَاءِ السَّلَفِ: كَانَ [رَجُلًا] [[زيادة من أ.]] مُجَابَ الدَّعْوَةِ، وَلَا يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ.
وَأَغْرَبَ، بَلْ أَبْعَدَ، بَلْ أَخْطَأَ مَنْ قَالَ: كَانَ قَدْ [[في أ: "من قال أنه".]] أُوتِيَ النُّبُوَّةَ فَانْسَلَخَ مِنْهَا. حَكَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، عَنْ بَعْضِهِمْ، وَلَا يَصِحُّ [[تفسير الطبري (١٣/٢٥٩) .]]
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عباس: لما نزل مُوسَى بِهِمْ -يَعْنِي بِالْجَبَّارِينَ -وَمَنْ مَعَهُ، أَتَاهُ يَعْنِي بَلْعَامُ [[في د، ك، م، أ: "بلعم".]] -أَتَاهُ بَنُو عَمِّهِ وَقَوْمُهُ، فَقَالُوا: إِنَّ مُوسَى رَجُلٌ حَدِيدٌ، وَمَعَهُ جُنُودٌ كَثِيرَةٌ، وَإِنَّهُ إِنْ يَظْهَرْ عَلَيْنَا يُهْلِكْنَا، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ عَنَّا مُوسَى وَمَنْ مَعَهُ. قَالَ: إِنِّي إِنْ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ مُوسَى وَمَنْ مَعَهُ، ذَهَبَتْ دُنْيَايَ وَآخِرَتِي. فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى دَعَا عَلَيْهِمْ، فَسَلَخَهُ اللَّهُ مَا كَانَ عَلَيْهِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ [مِنَ الْغَاوِينَ] ﴾ [[زيادة من د، ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]]
وَقَالَ السُّدِّيُّ: إِنَّ اللَّهَ لَمَّا انْقَضَّتِ الْأَرْبَعُونَ سَنَةً الَّتِي قَالَ اللَّهُ: ﴿فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً﴾ [الْمَائِدَةِ:٢٦] بَعَثَ يُوشَعَ بْنَ نُونٍ نَبِيًّا، فَدَعَا بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ نَبِيٌّ، وَأَنَّ اللَّهَ [قَدْ] [[زيادة من د، أ.]] أَمَرَهُ أَنْ يُقَاتِلَ الْجَبَّارِينَ، فَبَايَعُوهُ وَصَدَّقُوهُ. وَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ يُقَالُ لَهُ: "بَلْعَمُ" وَكَانَ عَالَمًا، يَعْلَمُ الِاسْمَ الْأَعْظَمَ الْمَكْتُومَ، فَكَفَرَ -لَعَنَهُ اللَّهُ -وَأَتَى الْجَبَّارِينَ وَقَالَ لَهُمْ: لَا تَرْهَبُوا بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَإِنِّي إِذَا خَرَجْتُمْ تُقَاتِلُونَهُمُ أَدْعُوَا عَلَيْهِمْ دَعْوَةً فَيَهْلِكُونَ! وَكَانَ عِنْدَهُمْ فِيمَا شَاءَ مِنَ الدُّنْيَا، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَاءَ، يُعَظِّمُهُنَّ [[في أ: "لعظمهن".]] فَكَانَ يَنْكِحُ أَتَانًا لَهُ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ اللَّهُ تعالى [[في أ: "الله عز وجل".]] ﴿فَانْسَلَخَ مِنْهَا﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ﴾ أَيِ: اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِ وَغَلَبَهُ عَلَى أَمْرِهِ، فَمَهْمَا أَمَرَهُ امْتَثَلَ وَأَطَاعَهُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ﴾ أَيْ: مِنَ الْهَالِكِينَ الْحَائِرَيْنِ [[في أ: "الجائرين".]] الْبَائِرَيْنِ.
وَقَدْ وَرَدَ فِي مَعْنَى هَذِهِ الْآيَةِ حَدِيثٌ رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى الْمُوصِلِيُّ فِي مُسْنَدِهِ حَيْثُ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ بَهْرام، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا جُنْدُب الْبَجَلِيُّ في هذا المسجد؛ أن حذيفة -يعني بن الْيَمَانِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -حَدَّثَهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "أن مِمَّا أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ رجُل قَرَأَ الْقُرْآنَ، حَتَّى إِذَا رُؤِيَتْ بَهْجَتُهُ عَلَيْهِ وَكَانَ رِدْء الْإِسْلَامِ اعْتَرَاهُ [[في أ: "اعتره".]] إِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ، انْسَلَخَ مِنْهُ، وَنَبَذَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ، وَسَعَى عَلَى جَارِهِ بِالسَّيْفِ، وَرَمَاهُ بِالشِّرْكِ". قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيُّهُمَا أَوْلَى بِالشِّرْكِ: الْمَرْمِيُّ أَوِ الرَّامِي؟ قَالَ: "بَلِ الرَّامِي".
هَذَا إِسْنَادٌ جَيِّدٌ [[ورواه البزار في مسنده برقم (١٧٥) من طريق: حدثنا محمد بن مرزوق والحسن بن أبي كبشة، حدثنا محمد بن بكر البرساني به. قال الهيثمي في المجمع (١/١٨٨) : "إسناده حسن".]] وَالصَّلْتُ بْنُ بَهْرَامَ كَانَ مِنْ ثِقَاتِ الْكُوفِيِّينَ، وَلَمْ يُرْمَ بِشَيْءٍ سِوَى الْإِرْجَاءِ، وَقَدْ وَثَّقَهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُمَا.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الأرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ﴾ يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا﴾ أَيْ: لَرَفَعْنَاهُ مِنَ التَّدَنُّسِ عَنْ [[في أ: "من".]] قَاذُورَاتِ الدُّنْيَا بِالْآيَاتِ الَّتِي آتَيْنَاهُ إِيَّاهَا، ﴿وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الأرْضِ﴾ أَيْ: مَالَ إِلَى زِينَةِ الدُّنْيَا وَزَهْرَتِهَا، وَأَقْبَلَ عَلَى لَذَّاتِهَا وَنَعِيمِهَا، وَغَرَّتْهُ كَمَا غَرَّتْ غَيْرَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْبَصَائِرِ [[في أ: "الأبصار".]] وَالنُّهَى.
وَقَالَ أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الأرْضِ﴾ قَالَ: تَرَاءَى لَهُ الشَّيْطَانُ عَلَى غَلْوة مِنْ قَنْطَرَةِ بَانْيَاسَ، فَسَجَدَتِ الْحِمَارَةُ لِلَّهِ، وَسَجَدَ بَلْعَامُ لِلشَّيْطَانِ. وَكَذَا قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْر بْنِ نُفَير، وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: وَكَانَ مِنْ قِصَّةِ هَذَا الرَّجُلِ: مَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ سُئل عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا [فَانْسَلَخَ مِنْهَا] ﴾ [[زيادة من أ.]] فَحَدَّثَ عَنْ سَيَّارٍ أَنَّهُ كَانَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ بَلْعَامُ، وَكَانَ قَدْ أُوتِيَ النُّبُوَّةَ وَكَانَ مُجَابَ الدَّعْوَةِ، قَالَ: وَإِنَّ مُوسَى أَقْبَلَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ يُرِيدُ الْأَرْضَ الَّتِي فِيهَا بَلْعَامُ -أَوْ قَالَ: الشَّامَ -قَالَ فرُعب النَّاسُ مِنْهُ رُعْبًا شَدِيدًا، قَالَ: فَأَتَوْا بَلْعَامَ، فَقَالُوا: ادْعُ اللَّهَ عَلَى هَذَا الرَّجُلِ وَجَيْشِهِ! قَالَ: حَتَّى أوَامر رَبِّي -أَوْ: حَتَّى أُؤَامِرَ -قَالَ: فَوَامَرَ فِي الدُّعَاءِ عَلَيْهِمْ، فَقِيلَ لَهُ: لَا تَدْعُ عَلَيْهِمْ، فَإِنَّهُمْ عِبَادِي، وَفِيهِمْ نَبِيُّهُمْ. قَالَ: فَقَالَ لِقَوْمِهِ: إِنِّي قَدْ آمَرْتُ رَبِّي فِي الدُّعَاءِ عَلَيْهِمْ، وَإِنِّي قَدْ نُهِيتُ. فَأَهْدَوْا لَهُ هَدِيَّةً فَقَبِلَهَا، ثُمَّ رَاجَعُوهُ فَقَالُوا: ادْعُ عَلَيْهِمْ. فَقَالَ: حَتَّى أَوَامِرَ. فَوَامَرَ، فَلَمْ يَحُر إِلَيْهِ شَيْءٌ. فَقَالَ: قَدْ وَامَرْتَ فَلَمْ يَحُر إِلَيَّ شَيْءٌ! فَقَالُوا: لَوْ كَرِهَ رَبُّكَ أَنْ تَدْعُوَ عَلَيْهِمْ لَنَهَاكَ كَمَا نَهَاكَ الْمَرَّةَ الْأُولَى. قَالَ: فَأَخَذَ يَدْعُو عَلَيْهِمْ، فَإِذَا دَعَا عَلَيْهِمْ، جَرَى عَلَى لِسَانِهِ الدُّعَاءُ عَلَى قَوْمِهِ، وإذا أراد أن يدعو أن يفتح لِقَوْمِهِ [[في م: "على قومه".]] دَعَا أَنْ يَفْتَحَ لِمُوسَى وَجَيْشِهِ -أَوْ نَحْوًا مِنْ ذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ. قَالَ [[في أ: "فقالوا له".]] مَا نَرَاكَ تَدْعُو إِلَّا عَلَيْنَا. قَالَ: مَا يَجْرِي عَلَى لِسَانِي إِلَّا هَكَذَا، وَلَوْ دَعَوْتُ عَلَيْهِ أَيْضًا مَا اسْتُجِيبَ لِي، وَلَكِنْ سَأَدُلُّكُمْ عَلَى أَمْرٍ عَسَى أَنْ يَكُونَ فِيهِ هَلَاكُهُمْ. إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الزِّنَا، وَإِنَّهُمْ إِنْ وَقَعُوا بِالزِّنَا هَلَكُوا، وَرَجَوْتُ أَنْ يُهْلِكَهُمُ اللَّهُ، فَأَخْرِجُوا النِّسَاءَ يَسْتقبلنهم [[في أ: "تستقبلهم".]] ؛ فَإِنَّهُمْ قَوْمٌ مُسَافِرُونَ، فَعَسَى أَنْ يَزْنُوا فَيَهْلَكُوا. قَالَ: فَفَعَلُوا. قَالَ: فَأَخْرَجُوا النِّسَاءَ يَسْتَقْبِلْنَهُمْ. قَالَ: وَكَانَ لِلْمَلِكِ ابْنَةٌ، فَذَكَرَ مِنْ عِظَمِهَا مَا اللَّهُ أَعْلَمُ بِهِ! قَالَ: فَقَالَ أَبُوهَا -أَوْ بَلْعَامُ-: لَا تُمَكِّنِي نَفْسَكِ إِلَّا مِنْ مُوسَى! قَالَ: وَوَقَعُوا فِي الزِّنَا. قَالَ: وَأَتَاهَا رَأْسُ سِبْطٍ مِنْ أَسْبَاطِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَالَ: فَأَرَادَهَا عَلَى نَفْسِهِ، فَقَالَتْ: مَا أَنَا بِمُمَكِّنَةِ نَفْسِي إِلَّا مِنْ مُوسَى. قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ مَنْزِلَتِي [[في أ: "إن من منزلتي".]] كَذَا وَكَذَا، وَإِنَّ مِنْ حَالِي كَذَا وَكَذَا. قَالَ: فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَبِيهَا تَسْتَأْمِرُهُ، قَالَ: فَقَالَ لَهَا: فَأَمْكِنِيهِ قَالَ: وَيَأْتِيهِمَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَارُونَ وَمَعَهُ الرُّمْحُ فَيَطْعَنُهُمَا. قَالَ: وَأَيَّدَهُ اللَّهُ بِقُوَّةٍ. فَانْتَظَمَهُمَا جَمِيعًا، وَرَفَعَهُمَا عَلَى رُمْحِهِ [[في م: "على رأس رمحه".]] فَرَآهُمَا النَّاسُ -أَوْ كَمَا حدَّث -قَالَ: وَسَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الطَّاعُونَ، فَمَاتَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا.
قَالَ أَبُو الْمُعْتَمِرِ: فَحَدَّثَنِي سَيَّار: أَنَّ بلعامًا رَكِبَ حَمَّارَةً لَهُ حَتَّى [[في أ: "حتى إذا".]] أَتَى الْعَلُولَى [[في ك: "العلوي".]] -أَوْ قَالَ: طَرِيقًا مِنَ الْعَلُولَى [[في ك: "العلوي".]] -جَعَلَ يَضْرِبُهَا وَلَا تُقْدم، وَقَامَتْ عَلَيْهِ فَقَالَتْ: عَلَامَ تَضْرِبُنِي؟ أَمَا تَرَى هَذَا الَّذِي بَيْنَ يَدَيْكَ؟ فَإِذَا الشَّيْطَانُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَنَزَلَ وَسَجَدَ لَهُ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾
قَالَ: فَحَدَّثَنِي بِهَذَا سَيَّارٌ، وَلَا أَدْرِي لَعَلَّهُ قَدْ دَخَلَ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ حَدِيثِ غَيْرِهِ.
قُلْتُ: هُوَ بَلْعَامُ -وَيُقَالُ: بُلْعُمُ -بْنُ بَاعُورَاءَ، ابْنُ أَبَرَ. وَيُقَالُ: ابْنُ بَاعُورَ بْنِ شُهُومَ [[في أ: "شهتوم".]] بن قوشتم ابن مَابَ بْنِ لُوطِ بْنِ هَارَانَ -وَيُقَالُ: ابْنُ حَرَانَ -بْنِ آزَرَ. وَكَانَ يَسْكُنُ قَرْيَةً مِنْ قُرَى الْبَلْقَاءِ.
قَالَ ابْنُ عَسَاكِرَ: وَهُوَ الَّذِي كَانَ يَعْرِفُ اسْمَ اللَّهِ الْأَعْظَمَ، فَانْسَلَخَ مِنْ دِينِهِ، لَهُ ذِكْرٌ فِي الْقُرْآنِ. ثُمَّ أَوْرَدَ [[في أ: "ثم ذكر".]] مِنْ قِصَّتِهِ نَحْوًا مِمَّا ذَكَرْنَا هَاهُنَا، وَأَوْرَدَهُ عَنْ وَهْبٍ وَغَيْرِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ؛ أَنَّهُ حَدَّثَ: أَنَّ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا نَزَلَ فِي أَرْضِ بَنِي كَنْعَانَ مِنْ أَرْضِ الشَّامِ، أَتَى قَوْمُ بَلْعَامَ إِلَيْهِ فَقَالُوا لَهُ: هَذَا مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَدْ جَاءَ يُخْرِجُنَا مِنْ بِلَادِنَا وَيَقْتُلُنَا وَيُحِلُّهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَإِنَّا قَوْمُكَ، وَلَيْسَ لَنَا مَنْزِلٌ، وَأَنْتَ رَجُلٌ مُجَابُ الدَّعْوَةِ، فَاخْرُجْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ. قَالَ: وَيَلْكُمُ! نَبِيُّ اللَّهِ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ وَالْمُؤْمِنُونَ، كَيْفَ أَذْهَبُ أَدْعُو عَلَيْهِمْ، وَأَنَا أَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا أَعْلَمُ؟! قَالُوا لَهُ: مَا لَنَا مِنْ مَنْزِلٍ! فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ يُرَقِّقُونَهُ وَيَتَضَرَّعُونَ إِلَيْهِ، حَتَّى فَتَنُوهُ فَافْتُتِنَ، فَرَكِبَ حَمَارَةً [[في م، أ: "حمارا".]] لَهُ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْجَبَلِ الَّذِي يُطْلِعُهُ عَلَى عَسْكَرِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَهُوَ جَبَلُ حُسْبان، فَلَمَّا سَارَ عَلَيْهَا غَيْرَ كَثِيرٍ، رَبَضَتْ بِهِ، فنزل عنها فضربها، حتى إذا أَذْلَقَهَا قَامَتْ فَرَكِبَهَا. فَلَمْ تَسْرِ بِهِ كَثِيرًا حَتَّى رَبَضَتْ بِهِ، فَضَرَبَهَا حَتَّى إِذَا أَذْلَقَهَا أَذِنَ اللَّهُ لَهَا فَكَلَّمَتْهُ حُجَّةً عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: وَيْحَكَ يَا بَلْعَمُ: أَيْنَ تَذْهَبُ؟ أَمَا [[في ك، م: "ألا".]] تَرَى الْمَلَائِكَةَ أَمَامِي تَرُدُّنِي عَنْ وَجْهِي هَذَا؟ أَتَذْهَبُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ وَالْمُؤْمِنِينَ لِتَدْعُوَ [[في أ: "تدعو".]] عَلَيْهِمْ؟ فَلَمْ يَنْزِعْ عَنْهَا يَضْرِبُهَا، فَخَلَّى اللَّهُ سَبِيلَهَا حِينَ فَعَلَ بِهَا ذَلِكَ. فَانْطَلَقَتْ بِهِ حَتَّى إِذَا أَشْرَفَتْ بِهِ عَلَى رَأْسِ حُسْبَانَ، عَلَى عَسْكَرِ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ، جَعَلَ يَدْعُو عَلَيْهِمْ، وَلَا يَدْعُو عَلَيْهِمْ بَشَرٍّ إِلَّا صَرَفَ اللَّهُ لِسَانَهُ إِلَى قَوْمِهِ، وَلَا يَدْعُو لِقَوْمِهِ بِخَيْرٍ إِلَّا صَرَفَ لِسَانَهُ إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَقَالَ لَهُ قَوْمُهُ: أَتَدْرِي يَا بَلْعَمُ مَا تَصْنَعُ؟ إِنَّمَا تَدْعُو لَهُمْ، وَتَدْعُو عَلَيْنَا! قَالَ: فَهَذَا مَا لَا أَمْلِكُ، هَذَا شَيْءٌ قَدْ غَلَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ! قَالَ: وَانْدَلَعَ لِسَانُهُ فَوَقَعَ عَلَى صَدْرِهِ، فَقَالَ لَهُمْ: قَدْ ذَهَبَتْ مِنِّي الْآنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ، وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا الْمَكْرُ وَالْحِيلَةُ، فَسَأَمْكُرُ لَكُمْ وَأَحْتَالُ، جَمِّلوا النِّسَاءَ وَأَعْطُوهُنَّ السِّلَعَ، ثُمَّ أَرْسِلُوهُنَّ إِلَى الْعَسْكَرِ يَبِعْنَهَا فِيهِ، وَمُرُوهُنَّ فَلَا تَمْنَعُ امْرَأَةٌ نَفْسَهَا مِنْ رَجُلٍ أَرَادَهَا، فَإِنَّهُمْ إِنْ زَنَى رَجُلٌ مِنْهُمْ وَاحِدٌ كُفِيتموهم، فَفَعَلُوا. فَلَمَّا دَخَلَ النِّسَاءُ الْعَسْكَرَ، مَرَّتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْكَنْعَانِيِّينَ اسْمُهَا "كَسْبَى ابْنَةُ صُورَ، رَأْسِ أُمَّتِهِ" بِرَجُلٍ مِنْ عُظَمَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَهُوَ "زَمْرَى بْنُ شَلُومَ"، رَأْسُ سِبْطِ بَنِي سَمْعَانَ بْنِ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، فَقَامَ إِلَيْهَا، فَأَخَذَ بِيَدِهَا حِينَ أَعْجَبَهُ جَمَالُهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ بِهَا حَتَّى وَقَفَ بِهَا عَلَى مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: إِنِّي أَظُنُّكَ سَتَقُولُ هَذَا حَرَامٌ عَلَيْكَ؟ قَالَ: أَجَلْ، هِيَ حَرَامٌ عَلَيْكَ، لَا تَقْرَبْهَا. قَالَ: فَوَاللَّهِ لَا نُطِيعُكَ فِي هَذَا. ثُمَّ دَخَلَ بِهَا قُبَّتَهُ فَوَقَعَ عَلَيْهَا. وَأَرْسَلَ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ، الطَّاعُونَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَكَانَ فِنْحَاصُ بْنُ الْعَيْزَارِ بْنِ هَارُونَ، صَاحِبَ أَمْرِ مُوسَى، وَكَانَ غَائِبًا حِينَ صَنَعَ زَمْرَى بْنُ شَلُومَ مَا صَنَعَ، فَجَاءَ وَالطَّاعُونُ يَجُوسُ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَأُخْبِرَ الْخَبَرَ، فَأَخَذَ حَرْبَتَهُ، وَكَانَتْ مِنْ حَدِيدٍ كُلُّهَا، ثُمَّ دَخَلَ الْقُبَّةَ وَهُمَا مُتَضَاجِعَانِ، فَانْتَظَمَهُمَا بِحَرْبَتِهِ، ثُمَّ خَرَجَ بِهِمَا رَافِعَهُمَا إِلَى السَّمَاءِ، وَالْحَرْبَةُ قَدْ أَخَذَهَا بِذِرَاعِهِ، وَاعْتَمَدَ بِمِرْفَقِهِ عَلَى خَاصِرَتِهِ، وَأَسْنَدَ الْحَرْبَةَ إِلَى لَحْيَيْه -وَكَانَ بَكْرَ الْعَيْزَارِ -وَجَعَلَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ هَكَذَا نَفْعَلُ بِمَنْ يَعْصِيكَ. وَرُفِعَ الطَّاعُونُ، فَحُسِبَ مَنْ هَلَكَ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الطَّاعُونِ فِيمَا بَيْنُ أَنْ أَصَابَ زَمْرَى الْمَرْأَةَ إِلَى أَنْ قَتَلَهُ فِنْحَاصُ، فَوَجَدُوهُ قَدْ هَلَكَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا -وَالْمُقَلِّلُ لَهُمْ يَقُولُ: عِشْرُونَ أَلْفًا -فِي سَاعَةٍ مِنَ النَّهَارِ. فَمِنْ هُنَالِكَ تُعْطِي بَنُو إِسْرَائِيلَ وَلَدَ فِنْحَاصَ مِنْ كُلِّ ذَبِيحَةٍ ذَبَحُوهَا الْقُبَّةَ وَالذِّرَاعَ واللَّحَى -لِاعْتِمَادِهِ بِالْحَرْبَةِ عَلَى خَاصِرَتِهِ، وَأَخْذِهِ إِيَّاهَا بِذِرَاعِهِ، وَإِسْنَادِهِ إِيَّاهَا إِلَى لَحْيَيْهِ -وَالْبِكْرَ مِنْ كُلِّ أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ؛ لِأَنَّهُ كَانَ بَكْرَ أَبِيهِ الْعَيْزَارِ. فَفِي بَلْعَامَ بْنِ بَاعُورَاءَ أَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا [فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ] ﴾ [[زيادة من أ.]] -إِلَى قَوْلِهِ: ﴿لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾ [[رواه الطبري في تفسيره (١٣/٢٦٤) .]]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ﴾ اخْتَلَفَ الْمُفَسِّرُونَ فِي مَعْنَاهُ [[في أ: "في معنى هذا".]] فَأَمَّا عَلَى سِيَاقِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَالِمِ بن أبي النضر: أن بلعاما انْدَلَعَ لِسَانُهُ عَلَى صَدْرِهِ -فَتَشْبِيهُهُ بِالْكَلْبِ فِي لَهْثِهِ [[في د، ك، م: "لهيثه".]] فِي كِلْتَا حَالَتَيْهِ إِنْ زُجِرَ وَإِنْ تُرِكَ. وَقِيلَ: مَعْنَاهُ: فَصَارَ مِثْلَهُ فِي ضَلَالِهِ وَاسْتِمْرَارِهِ فِيهِ، وَعَدَمِ انْتِفَاعِهِ بِالدُّعَاءِ إِلَى الْإِيمَانِ وَعَدَمِ الدُّعَاءِ، كَالْكَلْبِ فِي لَهْثِهِ [[في د، ك، م، "لهيثه".]] فِي حَالَتَيْهِ، إن حَمَلْتَ عَلَيْهِ وَإِنَّ تَرِكْتَهُ، هُوَ يَلْهَثُ فِي الْحَالَيْنِ، فَكَذَلِكَ هَذَا لَا يَنْتَفِعُ بِالْمَوْعِظَةِ وَالدَّعْوَةِ إِلَى الْإِيمَانِ وَلَا عَدَمِهِ؛ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ﴾ [الْبَقَرَةِ:٦] ، ﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ﴾ [التَّوْبَةِ:٨٠] وَنَحْوَ ذَلِكَ.
وَقِيلَ: مَعْنَاهُ: أَنَّ قَلْبَ الْكَافِرِ وَالْمُنَافِقِ وَالضَّالِّ، ضَعِيفٌ فَارِغٌ مِنَ الْهُدَى، فَهُوَ كَثِيرُ الْوَجِيبِ [[في أ: "الوجيف".]] فَعَبَّرَ عَنْ هَذَا بِهَذَا، نُقِلَ نَحْوُهُ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَغَيْرِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾ يَقُولُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ مُحَمَّدٍ ﷺ: ﴿فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ﴾ أَيْ: لَعَلَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ الْعَالِمِينَ بِحَالِ بَلْعَامَ، وَمَا جَرَى لَهُ فِي إِضْلَالِ اللَّهِ إِيَّاهُ وَإِبْعَادِهِ مِنْ رَحْمَتِهِ، بِسَبَبِ أَنَّهُ اسْتَعْمَلَ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ -فِي تَعْلِيمِهِ الِاسْمَ الْأَعْظَمَ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ -فِي غَيْرِ طَاعَةِ رَبِّهِ، بَلْ دَعَا بِهِ عَلَى حِزْبِ الرَّحْمَنِ، وَشِعْبِ الْإِيمَانِ، أَتْبَاعِ عَبْدِهِ وَرَسُولِهِ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ، كَلِيمِ اللَّهِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ، [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ك.]] ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾ أَيْ: فَيَحْذَرُوا أَنْ يَكُونُوا مِثْلَهُ؛ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَاهُمْ عِلْمًا، وَمَيَّزَهُمْ عَلَى مَنْ عَدَاهُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ، وَجَعَلَ بِأَيْدِيهِمْ صِفَةَ مُحَمَّدٍ ﷺ يَعْرِفُونَهَا كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ، فَهُمْ أَحَقُّ النَّاسِ وَأَوْلَاهُمْ بِاتِّبَاعِهِ وَمُنَاصَرَتِهِ وَمُؤَازَرَتِهِ، كَمَا أَخْبَرَتْهُمْ أَنْبِيَاؤُهُمْ بِذَلِكَ وَأَمَرَتْهُمْ بِهِ؛ وَلِهَذَا مَنْ خَالَفَ مِنْهُمْ مَا فِي كِتَابِهِ وَكَتَمَهُ فَلَمْ يُعْلِمْ بِهِ الْعِبَادَ، أَحَلَّ اللَّهُ بِهِ ذُلًّا فِي الدُّنْيَا مَوْصُولًا بِذُلِّ الْآخِرَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿سَاءَ مَثَلا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَأَنْفُسَهُمْ كَانُوا يَظْلِمُونَ﴾ يَقُولُ تَعَالَى سَاءَ مَثَلًا مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا، أَيْ: سَاءَ مَثَلُهُمْ أَنْ شُبِّهُوا بِالْكِلَابِ الَّتِي [[في د، ك: "الذين".]] لَا هِمَّةَ لَهَا [[في ك، م: "لهم".]] إِلَّا فِي تَحْصِيلِ أَكْلَةٍ أَوْ شَهْوَةٍ، فَمَنْ خَرَجَ عَنْ حَيِّز الْعِلْمِ وَالْهُدَى وَأَقْبَلَ عَلَى شَهْوَةِ نَفْسِهِ، وَاتَّبِعْ هَوَاهُ، صَارَ شَبِيهًا بِالْكَلْبِ، وَبِئْسَ الْمَثَلُ مَثَلُهُ؛ وَلِهَذَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ، الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ" [[صحيح البخاري برقم (٢٦٢٢) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَنْفُسَهُمْ كَانُوا يَظْلِمُونَ﴾ أَيْ: مَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ، وَلَكِنْ هُمْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ، بِإِعْرَاضِهِمْ عَنِ اتِّبَاعِ الْهُدَى، وَطَاعَةِ الْمَوْلَى، إِلَى الرُّكُونِ إِلَى دَارِ الْبِلَى، وَالْإِقْبَالِ عَلَى تَحْصِيلِ اللَّذَّاتِ وَمُوَافَقَةِ الْهَوَى.
مَن يَهْدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلْمُهْتَدِى ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ
Whoever Allah guides - he is the [rightly] guided; and whoever He sends astray - it is those who are the losers.
جس کو خدا ہدایت دے وہی راہ یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں
آن کس را که خدا هدایت کند، هدایت یافته (واقعی) اوست؛ و کسانی را که (بخاطر اعمالشان) گمراه سازد، زیانکاران (واقعی) آنها هستند!
Tafsir Ibn Kathir
Whomsoever Allah guides, he is the guided one, and whomsoever He sends astray, – then those! They are the losers (178)
Allah says, whomever He leads aright, then none can lead him to misguidance, and whomever He leads astray, will have acquired failure, loss and sure misguidance. Verily, whatever Allah wills occurs; and whatever He does not will, does not occur. A Hadith narrated from 'Abdullah bin Mas'ud reads,
إِنَّ الْحَمْدَ للهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَهْدِيهِ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
(All praise is due to Allah, Whom we praise and seek help, guidance and forgiveness from. We seek refuge with Allah from the evils within ourselves and from the burden of our evil deeds. He whom Allah guides, will never be misled; and he whom He misguides, will never have one who will guide him. I bear witness that there is no deity worthy of worship except Allah without partners and that Muhammad is His servant and Messenger.) The complete Hadith was collected by Imam Ahmad and the collectors of Sunan and others.
Tafsir Ibn Kathir
بہترین دعا رب جنہیں راہ دکھائے انہیں کوئی بےراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ ہی غلط راہ پر ڈال دے اس کی شومی قسمت میں کیا شک ہے ؟ اللہ کا چاہا ہوتا ہے اس کا نہ چاہا کبھی نہیں ہوسکتا۔ ابن مسعود کی حدیث میں ہے کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے ہدایت طلب کرتے ہیں اور اسی سے بخشش مانگتے ہیں۔ ہم اپنے نفس کی شرارتوں سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے بھی۔ اللہ کے راہ دکھائے ہوئے کو کوئی بہکا نہیں سکتا اور اس کے گمراہ کئے ہوئے کو کوئی راہ راست پر لا نہیں سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ معبود صرف اللہ ہی ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میری گواہی ہے کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ (مسند احمد وغیرہ)
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: مَنْ هَدَاهُ اللَّهُ فَإِنَّهُ لَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ أَضَلَّهُ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ وَضَلَّ لَا مَحَالَةَ، فَإِنَّهُ تَعَالَى مَا شَاءَ كَانَ، وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ؛ وَلِهَذَا جَاءَ فِي حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ: "إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَهْدِيهِ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنُعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
الْحَدِيثُ بِتَمَامِهِ رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، وَأَهْلُ السُّنَنِ، وغيرهم [[المسند (١/٣٩٢) وسنن أبي داود برقم (١٠٩٧) وسنن النسائي (٦/٨٩) وسنن ابن ماجة برقم (١٨٩٢) .]]
وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌۭ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌۭ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ ءَاذَانٌۭ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَآ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ كَٱلْأَنْعَٰمِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْغَٰفِلُونَ
And We have certainly created for Hell many of the jinn and mankind. They have hearts with which they do not understand, they have eyes with which they do not see, and they have ears with which they do not hear. Those are like livestock; rather, they are more astray. It is they who are the heedless.
اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہیں۔ ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ بالکل چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں
به یقین، گروه بسیاری از جن و انس را برای دوزخ آفریدیم؛ آنها دلها [= عقلها] یی دارند که با آن (اندیشه نمیکنند، و) نمیفهمند؛ و چشمانی که با آن نمیبینند؛ و گوشهایی که با آن نمیشنوند؛ آنها همچون چهارپایانند؛ بلکه گمراهتر! اینان همان غافلانند (چرا که با داشتن همهگونه امکانات هدایت، باز هم گمراهند)!
Tafsir Ibn Kathir
And surely, We have created many of the Jinn and mankind for Hell. They have hearts wherewith they understand not, and they have eyes wherewith they see not, and they have ears wherewith they hear not (the truth). They are like cattle, nay even more astray; those! They are the heedless ones (179)
Disbelief and the Divine Decree
Allah said,
وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ
(And surely, We have created for Hell) We made a share in the Fire for,
كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ
(many of the Jinn and mankind) We prepared them for it by their performance of the deeds of its people. When Allah intended to create the creation, He knew what their work will be before they existed. He wrote all this in a Book, kept with Him, fifty thousand years before He created the heavens and earth. Muslim recorded that 'Abdullah bin 'Amr narrated that the Messenger of Allah ﷺ said,
إِنَّ اللهَ قَدَّرَ مَقَادِيرَ الْخَلْقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ
(Verily, Allah decided the destination and due measurement of the creation fifty thousand years before He created the heavens and earth, and His Throne was over the water.)
There are many Hadiths on this subject, and certainly, the matter of Al-Qadar is of utmost importance, yet this is not where we should discuss it.
Allah said,
لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا
(They have hearts wherewith they understand not, and they have eyes wherewith they see not, and they have ears wherewith they hear not.) meaning, they do not benefit from these senses that Allah made for them as a means of gaining guidance. Similarly, Allah said,
وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَأَبْصَارًا وَأَفْئِدَةً فَمَا أَغْنَىٰ عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَا أَبْصَارُهُمْ وَلَا أَفْئِدَتُهُم مِّن شَيْءٍ إِذْ كَانُوا يَجْحَدُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ
(And We had assigned them the (faculties of) hearing, seeing, and hearts; but their hearing, seeing, and their hearts availed them nothing since they used to deny the Ayat.)[46:26]. Allah also said about the hypocrites,
صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ
((They are) deaf, dumb, and blind, so they return not (to the right path))[2:18], and about the disbelievers,
صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ
((They are) deaf, dumb and blind. So they do not understand.)[2:171]
However, they are not deaf, dumb or blind, except relation to the guidance. Allah said;
وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لَّأَسْمَعَهُمْ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا وَّهُم مُّعْرِضُونَ
(Had Allah known of any good in them, He would indeed have made them listen; and even if He had made them listen, they would but have turned away with aversion (to the truth).)[8:23],
فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ
(Verily, it is not the eyes that grow blind, but it is the hearts which are in the breasts that grow blind.)[22:46], and,
وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ - وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ
(And whosoever turns away blindly from the remembrance of the Most Gracious (Allah), We appoint for him Shaytan to be an intimate companion to him. And verily, they hinder them from the path, but they think that they are guided aright!)[43:36-37] Allah's statement,
أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ
(They are like cattle), means, those who neither hear the truth, nor understand it, nor see the guidance, are just like grazing cattle that do not benefit from these senses, except for what sustains their life in this world. Allah said in a similar Ayah,
وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً
(And the example of those who disbelieve is as that of one who shouts to those who hear nothing but calls and cries.)[2:171] meaning, their example, when they are called to the faith, is the example of cattle that hear only the voice of their shepherd, but cannot understand what he is saying. Allah further described them
بَلْ هُمْ أَضَلُّ
(nay even more astray), than cattle, because cattle still respond to the call of their shepherd, even though they do not understand what he is saying. As for the people described here, they are unlike cattle, which fulfill the purpose and service they were created for. The disbeliever was created to worship Allah alone in Tawhid, but he disbelieved in Allah and associated others in His worship. Therefore, those people who obey Allah are more honorable than some angels, while cattle are better than those who disbelieve in Him. So Allah said;
أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ
(They are like cattle, nay even more astray; those! They are the heedless ones.)
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے بہت سے انسان اور جن جہنمی ہونے والے ہیں اور ان سے ویسے ہی اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ مخلوق میں سے کون کیسے عمل کرے گا ؟ یہ علام الغیوب کو ان کی پیدائش سے پہلے ہی معلوم ہوتا ہے۔ پس اپنے علم کے مطابق اپنی کتاب میں آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے ہی لکھ لیا۔ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا چناچہ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ایک انصاری نابالغ بچے کے جنازے پر بلوائے گئے تو میں نے کہا مبارک ہو اس کو یہ تو جنت کی چڑیا ہے نہ برائی کی نہ برائی کا وقت پایا آپ نے فرمایا کچھ اور بھی ؟ سن اللہ تعالیٰ نے جنت کو اور جنت والوں کو پیدا کیا ہے اور انہیں جنتی مقرر کردیا ہے حالانکہ ابھی تو وہ اپنے باپوں کی پیٹھوں میں ہی تھے اسی طرح اس نے جہنم بنائی ہے اور اس کے رہنے والے پیدا کئے ہیں انہیں اسی لئے مقرر کردیا ہے درآں حالیکہ اب تک وہ اپنے باپوں کی پشت میں ہی ہیں۔ بخاری و مسلم کی حدیثیں ہیں اور تقدیر کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں کہ یہاں پورا بیان ہوجائے۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ ایسے خالی از خیر محروم قسمت لوگ کسی چیز سے فائدہ نہیں اٹھاتے تمام اعضاء ہوتے ہیں لیکن قوتیں سب سے چھن جاتی ہیں اندھے بہرے گونگے بن کر زندگی گڑھے میں ہی گذار دیتے ہیں اگر ان میں خیر باقی ہوتی تو اللہ اپنی باتیں انہیں سناتا بھی۔ یہ تو خیر سے بالکل خالی ہوگئے سنتے ہیں اور ان سنی کر جاتے ہیں آنکھیں ہی نہیں بلکہ دل کی آنکھین اندھی ہوگئی ہیں۔ رحمان کے ذکر سے منہ موڑ نے کی سزا یہ ملی ہے کہ شیطان کے بھائی بن گئے ہیں، راہ حق سے دور جا پڑے ہیں مگر سمجھ یہی رہے ہیں کہ ہم سچے اور صحیح راستے پر ہیں۔ ان میں اور چوپائے جانوروں میں کوئی فرق نہیں۔ نہ یہ حق کو دیکھیں، نہ ہدایت کو دیکھیں، نہ اللہ کی باتوں کو سوچیں۔ چوپائے بھی تو اپنے حواس کو دنیا کے کام میں لاتے ہیں اسی طرح یہ بھی فکر عقبیٰ سے، ذکر رب سے، راہ مولا سے غافل، گو نگے اور اندھے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَمَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اِلَّا دُعَاۗءً وَّنِدَاۗءً ۭ ۻ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ01701) 2۔ البقرة :171) یعنی ان کافروں کی مثال تو اس شخص کی سی ہے جو اس کے پیچھے چلا رہا ہے جو درحقیقت سنتی ونتی خاک بھی نہیں ہاں صرف شوروغل تو اس کے کان میں پڑتا ہے۔ چوپائے آواز تو سنتے ہیں لیکن کیا کہا ؟ اسے سمجھے ان کی بلا۔ پھر ترقی کر کے فرماتا ہے کہ یہ ظالم تو چوپایوں سے بھی بدترین ہیں کہ چوپائے گو نہ سمجھیں لیکن آواز پر کان تو کھڑے کردیتے ہیں، اشاروں پر حرکت تو کرتے ہیں، یہ تو اپنے مالک کو اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ اپنی پیدائش کی غایت کو آج تک معلوم ہی نہیں کیا، جبھی تو اللہ سے کفر کرتے ہیں اور غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف جو اللہ کا مطیع انسان ہو وہ اللہ کے اطاعت گذار فرشتے سے بہتر ہے اور کفار انسان سے چوپائے جانور بہتر ہیں ایسے لوگ پورے غافل ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ ذَرَأْنَا﴾ أَيْ: خَلَقْنَا وَجَعَلْنَا ﴿لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنِّ وَالإنْسِ﴾ أَيْ: هَيَّأْنَاهُمْ لَهَا، وَبِعَمَلِ أَهْلِهَا يَعْمَلُونَ، فَإِنَّهُ تَعَالَى لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَ الْخَلَائِقَ، عَلِمَ مَا هُمْ عَامِلُونَ قَبْلَ كَوْنِهِمْ، فَكَتَبَ ذَلِكَ عِنْدَهُ فِي كِتَابٍ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، كَمَا وَرَدَ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ قَدَّرَ مَقَادِيرَ الْخَلْقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ" [[صحيح مسلم برقم (٢٦٥٣) .]]
وَفِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ أَيْضًا، مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ خَالَتِهَا عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى جِنَازَةِ صَبِيٍّ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ طُوبَى لَهُ، عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ، لَمْ يَعْمَلِ السُّوءَ وَلَمْ يُدْرِكْهُ. فَقَالَ [رَسُولُ اللَّهِ ﷺ] [[زيادة من د.]] أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ؟ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْجَنَّةَ، وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ، وَخَلَقَ النَّارَ، وَخَلَقَ لَهَا [[في د، ك، م: "للنار".]] أَهْلًا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ" [[صحيح مسلم برقم (٢٦٦٢) .]]
وَفِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] ثُمَّ يَبْعَثُ إِلَيْهِ الْمَلِكَ، فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، فَيَكْتُبُ: رِزْقَهُ، وَأَجَلَهُ، وَعَمَلَهُ، وَشَقِيٌّ أَمْ [[في ك، م، أ: "أو".]] سَعِيدٌ".
وَتَقَدَّمَ أَنَّ اللَّهَ [تَعَالَى] [[زيادة من أ.]] لَمَّا اسْتَخْرَجَ ذُرِّيَّةَ آدَمَ مِنْ صُلْبِهِ وَجَعْلَهُمْ فَرِيقَيْنِ: أَصْحَابُ الْيَمِينِ وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ، قَالَ: "هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي، وَهَؤُلَاءِ لِلنَّارِ وَلَا أُبَالِي".
وَالْأَحَادِيثُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ، وَمَسْأَلَةُ الْقَدَرِ كَبِيرَةٌ لَيْسَ هَذَا مَوْضِعَ بَسْطِهَا.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا﴾ يَعْنِي: لَيْسَ يَنْتَفِعُونَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْجَوَارِحِ الَّتِي جَعَلَهَا اللَّهُ [سَبَبًا لِلْهِدَايَةِ] [[زيادة من د، ك، م، أ.]] كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَأَبْصَارًا وَأَفْئِدَةً فَمَا أَغْنَى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلا أَبْصَارُهُمْ وَلا أَفْئِدَتُهُمْ مِنْ شَيْءٍ إِذْ كَانُوا يَجْحَدُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ [وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ] [[زيادة من أ. وفي هـ: "الآية".]] ﴾ [الْأَحْقَافِ:٢٦] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ﴾ [الْبَقَرَةِ:١٨] هَذَا فِي حَقِّ الْمُنَافِقِينَ، وَقَالَ فِي حَقِّ الْكَافِرِينَ: ﴿صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ﴾ [الْبَقَرَةِ:١٧١] وَلَمْ يَكُونُوا صُمًّا بُكْمًا عُمْيًا إِلَّا عَنِ الْهُدَى، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لأسْمَعَهُمْ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَهُمْ مُعْرِضُونَ﴾ [الأنفال:٢٣] ، وَقَالَ: ﴿فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الأبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ﴾ [الْحَجِّ:٤٦] ، وَقَالَ ﴿وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ * وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ﴾ [الزُّخْرُفِ:٣٦، ٣٧] .
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿أُولَئِكَ كَالأنْعَامِ﴾ أَيْ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ لَا يَسْمَعُونَ الْحَقَّ وَلَا يَعُونَهُ وَلَا يُبْصِرُونَ الْهُدَى، كَالْأَنْعَامِ السَّارِحَةِ الَّتِي لَا تَنْتَفِعُ [[في ك، م: "لا ينتفع".]] بِهَذِهِ الْحَوَاسِّ مِنْهَا إِلَّا فِي الَّذِي يَعِيشُهَا مِنْ ظَاهِرِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلا دُعَاءً وَنِدَاءً [صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ] [[زيادة من أ.]] ﴾ [الْبَقَرَةِ:١٧١] أَيْ: وَمَثَلُهُمْ -فِي حَالِ دُعَائِهِمْ إِلَى الْإِيمَانِ -كَمَثَلِ الْأَنْعَامِ إِذَا دَعَاهَا رَاعِيهَا لَا تَسْمَعُ إِلَّا صَوْتَهُ، وَلَا تَفْقَهُ [[في أ: "لا تفهم".]] مَا يَقُولُ؛ وَلِهَذَا قَالَ فِي هَؤُلَاءِ: ﴿بَلْ هُمْ أَضَلُّ﴾ أَيْ: مِنَ الدَّوَابِّ؛ لِأَنَّ الدَّوَابَّ قَدْ تَسْتَجِيبُ مَعَ ذَلِكَ لِرَاعِيهَا إِذَا أَبَسَّ بِهَا، وَإِنْ لَمْ تَفْقَهْ كَلَامَهُ، بِخِلَافِ هَؤُلَاءِ؛ وَلِأَنَّ الدَّوَابَّ تَفْقَهُ [[في أ: "تفعل".]] مَا خُلِقَتْ لَهُ إِمَّا بِطَبْعِهَا وَإِمَّا بِتَسْخِيرِهَا، بِخِلَافِ الْكَافِرِ فَإِنَّهُ إِنَّمَا خُلِقَ لِيَعْبُدَ اللَّهَ وَيُوَحِّدَهُ، فَكَفَرَ بِاللَّهِ وَأَشْرَكَ بِهِ؛ وَلِهَذَا مَنْ أَطَاعَ اللَّهَ مِنَ الْبَشَرِ كَانَ أَشْرَفَ مَنْ مِثْلِهِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ فِي مَعَادِهِ، وَمَنْ كَفَرَ بِهِ [[في أ: "بالله".]] مِنَ الْبَشَرِ، كَانَتِ الدَّوَابُّ أَتَمَّ مِنْهُ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أُولَئِكَ كَالأنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ﴾
وَلِلَّهِ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ فَٱدْعُوهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا۟ ٱلَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِىٓ أَسْمَٰٓئِهِۦ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
And to Allah belong the best names, so invoke Him by them. And leave [the company of] those who practice deviation concerning His names. They will be recompensed for what they have been doing.
اور خدا کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرو اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی اختیار کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اس کی سزا پائیں گے
و برای خدا، نامهای نیک است؛ خدا را به آن (نامها) بخوانید! و کسانی را که در اسماء خدا تحریف میکنند (و بر غیر او مینهند، و شریک برایش قائل میشوند)، رها سازید! آنها بزودی جزای اعمالی را که انجام میدادند، میبینند!
Tafsir Ibn Kathir
And (all) the Most Beautiful Names belong to Allah, so call on Him by them, and leave the company of those who belie His Names. They will be requited for what they used to do (180)
Allah's Most Beautiful Names
Abu Hurayrah narrated that the Messenger of Allah ﷺ said,
إِنَّ للهِ تِسْعًا وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَهُوَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ
(Verily, Allah has ninety-nine Names, a hundred less one; whoever counts (and preserves) them, will enter Paradise. Allah is Witr (One) and loves Al-Witr (the odd numbered things),) The Two Sahihs collected this Hadith.
We should state that Allah's Names are not restricted to only ninety-nine. For instance, in his Musnad, Imam Ahmad recorded that 'Abdullah bin Mas'ud said that the Messenger of Allah ﷺ said;
مَا أَصَابَ أَحَدًا قَطُّ هَمٌّ وَلَا حَزَنٌ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضُاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ في كِتَابِكَ أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرآنَ الْعَظِيمَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجَلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي، إِلَّا أَذْهَبَ اللهُ حُزْنَهُ وَهَمَّهُ وَأَبْدَلَ مَكَانَهُ فَرَحًا
(Any person who is overcome by sadness or grief and supplicates, 'O Allah! I am Your servant, son of Your female servant. My forelock is in Your Hand. Your decision concerning me shall certainly come to pass. Just is Your Judgement about me. I invoke You by every Name that You have and that You called Yourself by, sent down in Your Book, taught to any of Your creatures, or kept with You in the knowledge of the Unseen that is with You. Make the Glorious Qur'an the spring of my heart, the light of my chest, the remover of my grief and the dissipater of my concern.' Surely, Allah will remove his grief and sadness and exchange them for delight.)
The Prophet ﷺ was asked "O Messenger of Allah! Should we learn these words?" He said,
بَلَى يَنْبَغِي لِكُلِّ مَنْ سَمِعَهَا أَنْ يَتَعَلَّمَهَا
(Yes. It is an obligation on all those who hear this supplication to learn it.)
Al-'Awfi said that Ibn 'Abbas said about Allah's statement,
وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ
(and leave the company of those who belie His Names)
"To belie Allah's Names includes saying that Al-Lat (an idol) derived from Allah's Name." Ibn Jurayj narrated from Mujahid that he commented,
وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ
(and leave the company of those who belie His Names)
"They derived Al-Lat (an idol's name) from Allah, and Al-'Uzza (another idol) from Al-'Aziz (the All-Mighty)." Qatadah stated that Ilhad refers to associating others with Allah in His Names (such as calling an idol Al-'Uzza). The word Ilhad [used in the Ayah in another from] means deviation, wickedness, injustice and straying. The hole in the grave is called Lahd, because it is a hole within a hole, that is turned towards the Qiblah (the direction of the prayer).
Tafsir Ibn Kathir
اسماء الحسنیٰ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں انہیں جو محفوظ کرلے وہ جنتی ہے وہ وتر ہے طاق کو ہی پسند فرماتا ہے (بخاری وغیرہ) ترمذی میں ہے ننانوے نام اس طرح ہیں دعا (اللہ الذی لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم الملک القدوس السلام المومن المھیمن العزیز الجبار المتکبر الاخالق الباری المصور الغفار القھار الوھاب الرزاق الفتاح العلیم القابض الباسط الخافض الرافع المعز المذل السمیع البصیر الحکم العدل اللطیف الخبیر الحلیم العظیم الغفور الشکور العلی الکبیر الحفیظ المقیت الہسیب الجلیل الکریم الرقیب المجیب الواسع الحکیم الودود المجید الباعث الشھید الحق الوکیل القوی المتین الولی الحمید المحصی المبدی المعید المحی الممیت الحی القیوم الواجد الواحد الا حد الفرد الصمد القادر المقتدر المقدم الموخر الا ول الاخر الظاہر الباطن الوالی المتعالیٰ البر التواب المنتقم العفو الروف مالک الملک ذوالجلال والا کرام المقسط الجامع الغنی المغنی المانع الضار النافع النور الھادی البدیع الباقی الوارث الرشید الصبور)۔ یہ حدیث غریب ہے کچھ کمی زیادتی کے ساتھ اسی طرح یہ نام ابن ماجہ کی حدیث میں بھی وارد ہیں۔ بعض بزرگوں کا خیال ہے کہ یہ نام راویوں نے قرآن میں چھانٹ لئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ یہ یاد رہے کہ یہی ننانوے نام اللہ کے ہوں اور نہ ہوں یہ بات نہیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جسے کبھی بھی کوئی غم و رنج پہنچے اور وہ یہ دعا کرے (اللھم انی عبدک ابن عبدک ابن امتک ناصیتی بیدک ماض فی حکمک عدل فی قصاوک اسالک بکل اسم ھولک سمیت بہ نفسک وانزلتہ فی کتابک اوعلمتہ احد امن خقک اواستاثرت بہ فی علم الغیب عندک ان تجعل القران العظیم ربیع قلبی ونور صدری و جلاء حزنی و ذھاب ہمی)۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے غم و رنج کو دور کر دے گا اور اس کی جگہ راحت و خوشی عطا فرمائے گا۔ آپ سے سوال کیا گیا کہ پھر کیا ہم اسے اوروں کو بھی سکھائیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں بیشک جو اسے سنے اسے چاہئے کہ دوسروں کو بھی سکھائے۔ امام ابو حاتم بن حبان بستی بھی اس روایت کو اسی طرح اپنی صحیح میں لائے ہیں۔ امام ابوبکر بن عربی بھی اپنی کتاب الاحوذی فی شرح الترمذی میں لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی کتاب و سنت سے جمع کئے ہیں جن کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے، واللہ اعلم۔ اللہ کے ناموں سے الحاد کرنے والوں کو چھوڑ دو جیسے کہ لفظ اللہ سے کافروں نے اپنے بت کا نام لات رکھا اور عزیز سے مشتق کر کے عزی نام رکھا۔ یہ بھی معنی ہیں کہ جو اللہ کے ناموں میں شریک کرتے ہیں انہیں چھوڑو۔ جو انہیں جھٹلاتے ہیں ان سے منہ موڑ لو۔ الحاد کے لفظی معنی ہیں درمیانہ سیدھے راستے سے ہٹ جانا اور گھوم جانا۔ اسی لئے بغلی قبر کو لحد کہتے ہیں کیونکہ سیدھی کھدائی سے ہٹا کر بنائی جاتی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ لِلَّهِ تِسْعًا وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةٌ إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَهُوَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ".
أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْهُ [[صحيح البخاري برقم (٦٤١٠) وصحيح مسلم برقم (٢٦٧٧) .]] رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهِ [[صحيح البخاري برقم (٧٣٩٢) .]] وَأَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ، عَنِ الْجَوْزَجَانِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ شُعَيْبٍ فَذَكَرَ بِسَنَدِهِ مِثْلَهُ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ: "يُحِبُّ الْوِتْرَ": هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ، الْمَلِكُ، الْقُدُّوسُ، السَّلَامُ، الْمُؤْمِنُ، الْمُهَيْمِنُ، الْعَزِيزُ، الْجَبَّارُ، الْمُتَكَبِّرُ، الْخَالِقُ، الْبَارِئُ، الْمُصَوِّرُ، الْغَفَّارُ، الْقَهَّارُ، الْوَهَّابُ، الرَّزَّاقُ، الْفَتَّاحُ، الْعَلِيمُ، الْقَابِضُ، الْبَاسِطُ، الْخَافِضُ، الرَّافِعُ، الْمُعِزُّ، الْمُذِلُّ، السَّمِيعُ، الْبَصِيرُ، الْحَكَمُ، الْعَدْلُ، اللَّطِيفُ، الْخَبِيرُ، الْحَلِيمُ، الْعَظِيمُ، الْغَفُورُ، الشَّكُورُ، الْعَلِيُّ، الْكَبِيرُ، الْحَفِيظُ، الْمَقِيتُ، الْحَسِيبُ، الْجَلِيلُ، الْكَرِيمُ، الرَّقِيبُ، الْمُجِيبُ، الْوَاسِعُ، الْحَكِيمُ، الْوَدُودُ، الْمَجِيدُ، الْبَاعِثُ، الشَّهِيدُ، الْحَقُّ، الْوَكِيلُ، الْقَوِيُّ، الْمَتِينُ، الْوَلِيُّ، الْحَمِيدُ، الْمُحْصِي، الْمُبْدِئُ، الْمُعِيدُ، الْمُحْيِي، الْمُمِيتُ، الْحَيُّ، الْقَيُّومُ، الْوَاجِدُ، الْمَاجِدُ، الْوَاحِدُ، الْأَحَدُ، الْفَرْدُ، الصَّمَدُ، الْقَادِرُ، الْمُقْتَدِرُ، الْمُقَدِّمُ، الْمُؤَخِّرُ، الْأَوَّلُ، الْآخِرُ، الظاهر، الْبَاطِنُ، الْوَالِي، الْمُتَعَالِي، الْبَرُّ، التَّوَّابُ، الْمُنْتَقِمُ، الْعَفُوُّ، الرَّءُوفُ، مَالِكُ الْمُلْكِ، ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، الْمُقْسِطُ، الْجَامِعُ، الْغَنِيُّ، الْمُغْنِي، الْمَانِعُ، الضَّارُّ، النَّافِعُ، النُّورُ، الْهَادِي، الْبَدِيعُ، الْبَاقِي، الْوَارِثُ، الرَّشِيدُ، الصَّبُورُ [[بعدها في م: "ليس كمثله شيء وهو السميع البصير".]]
ثُمَّ قَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] وَلَا نَعْلَمُ فِي كَثِيرٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ ذِكْرَ الْأَسْمَاءِ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
وَرَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي صَحِيحِهِ، مِنْ طَرِيقِ صَفْوَانَ، بِهِ [[سنن الترمذي برقم (٣٥٠٧) .]] وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ فِي سُنَنِهِ، مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ [[في أ: "أخرى".]] عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا [[سنن ابن ماجة برقم (٣٨٦١) ، وقال البوصيري: "إسناد طريق ابن ماجة ضعيف لضعف عبد الملك بن محمد الصنعاني".]] فَسَرَدَ الْأَسْمَاءَ كَنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ بِزِيَادَةٍ وَنُقْصَانٍ.
وَالَّذِي عَوَّلَ عَلَيْهِ جَمَاعَةٌ مِنَ الْحُفَّاظِ أَنَّ سَرْدَ الْأَسْمَاءِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مُدْرَجٌ فِيهِ، وَإِنَّمَا ذَلِكَ كَمَا رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ: أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُمْ قَالُوا ذَلِكَ، أَيْ: أنهم جمعوها من القرآن كما رود [[في ك، م، أ: "روى".]] عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَأَبِي زَيْدٍ اللُّغَوِيِّ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
ثُمَّ لِيُعْلَمْ أَنَّ الْأَسْمَاءَ الْحُسْنَى لَيْسَتْ مُنْحَصِرَةً فِي التِّسْعَةِ وَالتِّسْعِينَ [[في د: "تسعة وتسعين".]] بِدَلِيلِ مَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنِ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "مَا أَصَابَ أَحَدًا قَطُّ هَمٌّ وَلَا حُزْنٌ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، ابْنُ عَبْدِكِ، ابْنُ أَمَتِكِ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَعْلَمْتَهُ [[في م: "علمته".]] أَحَدًا مَنْ خَلْقِكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجِلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي، إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ هَمَّهُ وَحُزْنَهُ وَأَبْدَلَهُ مَكَانَهُ فَرَحًا". فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَتَعَلَّمُهَا؟ فَقَالَ: "بَلَى، يَنْبَغِي لِكُلٍّ مِنْ سَمِعَهَا [[في أ: "ينبغي لمن سمعها".]] أَنْ يَتَعَلَّمَهَا".
وَقَدْ أَخْرَجَهُ الْإِمَامُ أَبُو حَاتِمِ بْنُ حِبَّانَ الْبَسْتِيُّ فِي صَحِيحِهِ بِمِثْلِهِ [[المسند (١/٣٩٢) ، وصحيح ابن حبان برقم (٢٣٧٢) "موارد".]]
وَذَكَرَ الْفَقِيهُ الْإِمَامُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْعَرَبِيِّ أَحَدُ أَئِمَّةِ الْمَالِكِيَّةِ فِي كِتَابِهِ: "الْأَحْوَذِيُّ فِي شَرْحِ التِّرْمِذِيِّ"؛ أَنَّ بَعْضَهُمْ جَمَعَ مِنَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ أَلْفَ اسْمٍ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ﴾ قَالَ: إِلْحَادُ الْمُلْحِدِينَ: أَنْ دَعَوُا "اللات [[في أ: "اللات والعزى".]] في أسماء الله.
وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ﴾ قَالَ: اشْتَقُّوا "اللَّاتَ" مِنَ اللَّهِ، وَاشْتَقُّوا "الْعُزَّى" مِنَ الْعَزِيزِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: ﴿يُلْحِدُونَ﴾ يُشْرِكُونَ. وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: الْإِلْحَادُ: التَّكْذِيبُ. وَأَصِلُ الْإِلْحَادِ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ: الْعَدْلُ عَنِ الْقَصْدِ، وَالْمَيْلُ وَالْجَوْرُ وَالِانْحِرَافُ، وَمِنْهُ اللَّحْدُ فِي الْقَبْرِ، لِانْحِرَافِهِ إِلَى جِهَةِ الْقِبْلَةِ عَنْ سَمْتِ الْحَفْرِ.
وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ أُمَّةٌۭ يَهْدُونَ بِٱلْحَقِّ وَبِهِۦ يَعْدِلُونَ
And among those We created is a community which guides by truth and thereby establishes justice.
اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا رستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں
و از آنها که آفریدیم، گروهی بحق هدایت میکنند، و بحق اجرای عدالت مینمایند.
Tafsir Ibn Kathir
And of those whom We have created, there is a community who guides (others) with the truth, and establishes justice therewith.) Allah sai (181)
وَمِمَّنْ خَلَقْنَا
(And of those whom We have created), in reference to some nations,
أُمَّةٌ
(a community), that stands in truth, in words and action,
يَهْدُونَ بِالْحَقِّ
(who guides (others) with the truth), they proclaim it and call to it,
وَبِهِ يَعْدِلُونَ
(and establishes justice therewith), adhere to it themselves and judge by it. It was reported that this Ayah refers to the Ummah of Muhammad ﷺ.
In the Two Sahihs, it is recorded that Mu'awiyah bin Abi Sufyan said that the Messenger of Allah ﷺ said,
لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ وَلَا مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ
(There will always be a group of my Ummah who are apparent on the Truth, unabated by those who fail or oppose them, until the (Last) Hour commences.)
In another narration, the Messenger ﷺ said,
حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ
(Until Allah's command (the Last Hour) comes while they are still like this.) and in yet another narration,
وَهُمْ بِالشَّامِ
(And they will dwell in Ash-Sham (Greater Syria).)
Tafsir Ibn Kathir
امت محمد ﷺ کے اوصاف یعنی بعض لوگ حق وعدل پر قائم ہیں۔ حق بات ہی زبان سے نکالتے ہیں، حق کام ہی کرتے ہیں، حق کی طرف ہی اوروں کو بلاتے ہیں، حق کے ساتھ ہی انصاف کرتے ہیں اور بعض آثار میں مروی ہے کہ اس سے مراد امت محمد یہ ہے چنانجہ حضرت قتادہ فرماتے ہیں مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ نبی ﷺ جب اس آیت کی تلاوت فرماتے تو فرماتے کہ یہ تمہارے لئے ہے تم سے پہلے یہ وصف قوم موسیٰ کا تھا۔ ربیع بن انس فرماتے ہیں کہ حضور کا ارشاد ہے میری امت میں سے ایک جماعت حق پر قائم رہے گی یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ بن مریم اتریں وہ خواہ کبھی بھی اتریں۔ بخاری و مسلم میں ہے آپ فرماتے ہیں میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر ظاہر رہے گا انہیں ان کی دشمنی کرنے والے کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے ایک اور روایت میں ہے یہاں تک کہ اللہ کا امر آجائے وہ اسی پر رہیں گے۔ ایک روایت میں ہے (اس وقت) وہ شام میں ہوں گے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَمِمَّنْ خَلَقْنَا﴾ أَيْ: وَمِنَ الْأُمَمِ ﴿أُمًّةٌ﴾ قَائِمَةٌ بِالْحَقِّ، قَوْلًا وَعَمَلًا ﴿يَهْدُونَ بِالْحَقِّ﴾ يَقُولُونَهُ وَيَدْعُونَ إِلَيْهِ، ﴿وَبِهِ يَعْدِلُونَ﴾ يَعْمَلُونَ وَيَقْضُونَ.
وَقَدْ جَاءَ فِي الْآثَارِ: أَنَّ الْمُرَادَ بِهَذِهِ الْأُمَّةِ الْمَذْكُورَةِ فِي الْآيَةِ، هِيَ هَذِهِ الْأُمَّةُ الْمُحَمَّدِيَّةُ.
قَالَ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: بَلَغَنَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَقُولُ إِذَا قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: "هَذِهِ لَكُمْ، وَقَدْ أُعْطِي الْقَوْمُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ مِثْلَهَا: ﴿وَمِنْ قَوْمِ مُوسَى أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ﴾ [[رواه الطبري في تفسيره (١٣/٢٨٦) ، وهو مرسل.]] [الْأَعْرَافِ: ١٥٩]
وَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ﴾ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا عَلَى الْحَقِّ، حَتَّى يَنْزِلَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ مَتَّى مَا نَزَلَ". [[رواه الثعلبي في تفسيره كما في تخريج أحاديث الكشاف للزيلعي (١/٤٧٤) .]]
وَفِي الصَّحِيحَيْنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ، وَلَا مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ -وَفِي رِوَايَةٍ -: حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ -وَفِي رِوَايَةٍ -: وَهُمْ بِالشَّامِ" [[صحيحح البخاري برقم (٣٦٤١) وصحيح مسلم برقم (١٠٣٧) .]]
وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ
But those who deny Our signs - We will progressively lead them [to destruction] from where they do not know.
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو بتدریج اس طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا
و آنها که آیات ما را تکذیب کردند، به تدریج از جائی که نمیدانند، گرفتار مجازاتشان خواهیم کرد.
Tafsir Ibn Kathir
Those who reject Our Ayat, We shall gradually seize them with punishment in ways they perceive not (182)And I respite them; certainly My plan is strong.) Allah sai (183)
وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ
(Those who reject Our Ayat, We shall gradually seize them in ways they perceive not) meaning, the doors of provisions will be opened for them and also the means of livelihood, in this life. They will be deceived by all this and think that they are on the correct path. Allah said in another instance,
فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّىٰ إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُم بَغْتَةً فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ - فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
(So, when they forgot (the warning) with which they had been reminded, We opened for them the gates of every (pleasant) thing, until in the midst of their enjoyment in that which they were given, all of a sudden, We took them (in punishment), and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrow. So the root of the people who did wrong was cut off. And all the praises and thanks are to Allah, the Lord of all that exists.)[6:44-45]. Allah said here,
وَأُمْلِي لَهُمْ
(And I respite them) prolong what they are in,
إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ
(certainly My plan is strong) and perfect.
Tafsir Ibn Kathir
سامان تعیش کی کثرت عتاب الٰہی بھی ہے یعنی ایسے لوگوں کو روزی میں کشادی دی جائے گی، معاش کی آسانیاں ملیں گی، وہ دھوکے میں پڑجائیں گے اور حقانیت کو بھول جائیں گے۔ جب پورے مست ہوجائیں گے اور ہماری نصیحت کو گئی گذری کردیں گے تو ہم انہیں ہر طرح کے آرام دیں گے یہاں تک کہ وہ مست ہوجائیں تب انہیں ہم ناگہانی پکڑ میں پکڑ لیں گے۔ اس وقت وہ مایوسی کے ساتھ منہ تکتے رہ جائیں گے اور ان ظالموں کی رگ کٹ جائے گی۔ حقیقتاً تعریفوں کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ انہیں میں تو ڈھیل دونگا اور یہ میرے اس داؤ سے بیخبر ہوں گے۔ میری تدبیر کبھی ناکام نہیں ہوتی وہ بڑی مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ﴾ وَمَعْنَاهُ: أَنَّهُ يَفْتَحُ لَهُمْ أَبْوَابَ الرِّزْقِ وَوُجُوهَ الْمَعَاشِ فِي الدُّنْيَا، حَتَّى يَغْتَرُّوا بِمَا هُمْ فِيهِ وَيَعْتَقِدُوا [[في أ: "ويعتقدون".]] أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ * فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [الْأَنْعَامِ:٤٤، ٤٥] ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَأُمْلِي لَهُمْ﴾ أَيْ: وَسَأُمْلِي لَهُمْ، أُطَوِّلُ لَهُمْ مَا هُمْ فِيهِ ﴿إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ﴾ أَيْ: قوي شديد.
وَأُمْلِى لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ
And I will give them time. Indeed, my plan is firm.
اور میں ان کو مہلت دیئے جاتا ہوں میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے
و به آنها مهلت میدهم (تا مجازاتشان دردناکتر باشد)؛ زیرا طرح و نقشه من، قوی (و حساب شده) است. (و هیچ کس را قدرت فرار از آن نیست.)
Tafsir Ibn Kathir
Those who reject Our Ayat, We shall gradually seize them with punishment in ways they perceive not (182)And I respite them; certainly My plan is strong.) Allah sai (183)
وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ
(Those who reject Our Ayat, We shall gradually seize them in ways they perceive not) meaning, the doors of provisions will be opened for them and also the means of livelihood, in this life. They will be deceived by all this and think that they are on the correct path. Allah said in another instance,
فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّىٰ إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُم بَغْتَةً فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ - فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
(So, when they forgot (the warning) with which they had been reminded, We opened for them the gates of every (pleasant) thing, until in the midst of their enjoyment in that which they were given, all of a sudden, We took them (in punishment), and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrow. So the root of the people who did wrong was cut off. And all the praises and thanks are to Allah, the Lord of all that exists.)[6:44-45]. Allah said here,
وَأُمْلِي لَهُمْ
(And I respite them) prolong what they are in,
إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ
(certainly My plan is strong) and perfect.
Tafsir Ibn Kathir
سامان تعیش کی کثرت عتاب الٰہی بھی ہے یعنی ایسے لوگوں کو روزی میں کشادی دی جائے گی، معاش کی آسانیاں ملیں گی، وہ دھوکے میں پڑجائیں گے اور حقانیت کو بھول جائیں گے۔ جب پورے مست ہوجائیں گے اور ہماری نصیحت کو گئی گذری کردیں گے تو ہم انہیں ہر طرح کے آرام دیں گے یہاں تک کہ وہ مست ہوجائیں تب انہیں ہم ناگہانی پکڑ میں پکڑ لیں گے۔ اس وقت وہ مایوسی کے ساتھ منہ تکتے رہ جائیں گے اور ان ظالموں کی رگ کٹ جائے گی۔ حقیقتاً تعریفوں کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ انہیں میں تو ڈھیل دونگا اور یہ میرے اس داؤ سے بیخبر ہوں گے۔ میری تدبیر کبھی ناکام نہیں ہوتی وہ بڑی مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ﴾ وَمَعْنَاهُ: أَنَّهُ يَفْتَحُ لَهُمْ أَبْوَابَ الرِّزْقِ وَوُجُوهَ الْمَعَاشِ فِي الدُّنْيَا، حَتَّى يَغْتَرُّوا بِمَا هُمْ فِيهِ وَيَعْتَقِدُوا [[في أ: "ويعتقدون".]] أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ * فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [الْأَنْعَامِ:٤٤، ٤٥] ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَأُمْلِي لَهُمْ﴾ أَيْ: وَسَأُمْلِي لَهُمْ، أُطَوِّلُ لَهُمْ مَا هُمْ فِيهِ ﴿إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ﴾ أَيْ: قوي شديد.
أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا۟ ۗ مَا بِصَاحِبِهِم مِّن جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌۭ مُّبِينٌ
Then do they not give thought? There is in their companion [Muhammad] no madness. He is not but a clear warner.
کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے رفیق محمد (ﷺ) کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ وہ تو ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں
آیا فکر نکردند که همنشین آنها [= پیامبر] هیچگونه (اثری از) جنون ندارد؟! (پس چگونه چنین نسبت ناروایی به او میدهند؟!) او فقط بیم دهنده آشکاری است (که مردم را متوجه وظایفشان میسازد).
Tafsir Ibn Kathir
Do they not reflect? There is no madness in their companion. He is but a plain warner.) Allah sai (184)
أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا
(Do they not reflect?) 'those who deny Our Ayat,'
مَا بِصَاحِبِهِم
(there is not in their companion), Muhammad ﷺ,
مِّن جِنَّةٍ
(madness) Muhammad is not mad, rather, he is truly the Messenger of Allah, calling to Truth,
إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ
(but he is a plain warner), and this is clear for those who have a mind and a heart by which they understand and comprehend. Allah said in another Ayah,
وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ
(And (O people) your companion is not a madman.)[81:22] Allah also said,
قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ أَن تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَّكُم بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ
(Say: "I exhort you to one (thing) only, that you stand up for Allah's sake in pairs and singly, and reflect, there is no madness in your companion. He is only a warner to you in face of a severe torment.")[34:46] meaning, 'I ask you to stand for Allah in sincerity without stubbornness or bias,'
مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ
(in pairs and singly)[34:46] individuals and in groups,
ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا
(and reflect)[34:46], about this man who brought the Message from Allah, is he mad? If you do this, it will become clear to you that he is the Messenger of Allah ﷺ in truth and justice. Qatadah bin Di'amah said, "We were informed that the Prophet of Allah once was on (Mount) As-Safa and called the Quraysh, subtribe by subtribe, proclaiming,
يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي فُلَانٍ فَحَذَّرَهُمْ بَأْسَ اللهِ وَوَقَائِعَ اللهِ
(O Children of so-and-so, O Children of so-and-so! He warned them against Allah's might and what He has done (such as revenge from His enemies).)
Some of them commented, 'This companion of yours (Prophet Muhammad) is mad; he kept shouting until the morning?' Allah sent down this Ayah,
أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِهِم مِّن جِنَّةٍ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ
(Do they not reflect? There is no madness in their companion. He is but a plain warner)[7:184].'"
Tafsir Ibn Kathir
صداقت رسالت پر اللہ کی گواہی کیا ان کافروں نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ میں جنوں کی کوئی بات بھی ہے ؟ جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ اِنَّمَآ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَفُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا ۣ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ ۭ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ 46) 34۔ سبأ :46) آؤ میری ایک بات تو مان لو ذرا سی دیر خلوص کے ساتھ اللہ کو حاضر جان کر اکیلے و کیلے غور تو کرو کہ مجھ میں کونسا دیوانہ پن ہے ؟ میں تو تمہیں آنے والے سخت خطرے کی اطلاع دے رہا ہوں کہ اس سے ہوشیار رہو۔ جب تم یہ کرو گے تو خود اس نتیجے پر پہنچ جاؤ گے کہ میں مجنوں نہیں بلکہ اللہ کا پیغام دے کر تم میں بھیجا گیا ہوں۔ حضور نے ایک مرتبہ صفا پہاڑ پر چڑھ کر قریشیوں کے ایک ایک قبیلے کا الگ الگ نام لے کر انہیں اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اسی طرح صبح کردی تو بعض کہنے لگے دیوانہ ہوگیا ہے اس پر یہ آیت اتری۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا﴾ هَؤُلَاءِ الْمُكَذِّبُونَ بِآيَاتِنَا ﴿مَا بِصَاحِبِهِمْ﴾ يَعْنِي مُحَمَّدًا -صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ [[في أ: "صلى الله عليه وسلم"]] ﴿مِنْ جِنَّةٍ﴾ أَيْ: لَيْسَ بِهِ جُنُونٌ، بَلْ هُوَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًا دَعَا إِلَى حَقٍّ، ﴿إِنْ هُوَ إِلا نَذِيرٌ مُبِينٌ﴾ أَيْ: ظَاهِرٌ لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ وَلُبٌّ يَعْقِلُ بِهِ وَيَعِي بِهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُونٍ﴾ [التَّكْوِيرِ:٢٢] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَى وَفُرَادَى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ إِنْ هُوَ إِلا نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ﴾ [سَبَأٍ:٤٦] يَقُولُ إِنَّمَا أَطْلُبُ مِنْكُمْ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ قِيَامًا خَالِصًا لِلَّهِ، لَيْسَ فِيهِ تَعَصُّبٌ وَلَا عِنَادٌ، ﴿مَثْنَى وَفُرَادَى﴾ أَيْ: مُجْتَمِعِينَ وَمُتَفَرِّقِينَ، ﴿ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا﴾ فِي هَذَا الَّذِي جَاءَكُمْ بِالرِّسَالَةِ مِنَ اللَّهِ: أَبِهِ جُنُونٌ أَمْ لَا؟ فَإِنَّكُمْ إِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ، بَانَ لَكُمْ وَظَهَرَ أَنَّهُ رَسُولُ [اللَّهِ] [[زيادة من د، ك، م، أ.]] حَقًّا وَصِدْقًا.
وَقَالَ قَتَادَةُ بْنُ دِعَامَةَ: ذُكِرَ لَنَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ كَانَ عَلَى الصَّفَا، فَدَعَا قُرَيْشًا فَجَعَلَ يُفَخِّذهم فَخِذًا فَخِذًا: "يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي فُلَانٍ"، فَحَذَّرَهُمْ بَأْسَ اللَّهِ وَوَقَائِعَ اللَّهِ، فَقَالَ قَائِلُهُمْ: إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا لَمَجْنُونٍ. بَاتَ يُصَوِّتُ إِلَى الصَّبَاحِ -أَوْ: حَتَّى أَصْبَحَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِهِمْ مِنْ جِنَّةٍ إِنْ هُوَ إِلا نَذِيرٌ مُبِينٌ﴾ [[رواه الطبري في تفسيره (١٣/٢٨٩) .]]
أَوَلَمْ يَنظُرُوا۟ فِى مَلَكُوتِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَىْءٍۢ وَأَنْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَدِ ٱقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ ۖ فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَهُۥ يُؤْمِنُونَ
Do they not look into the realm of the heavens and the earth and everything that Allah has created and [think] that perhaps their appointed time has come near? So in what statement hereafter will they believe?
کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں جو چیزیں خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی اور اس بات پر (خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں ان (کی موت) کا وقت نزدیک پہنچ گیا ہو۔ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے
آیا در حکومت و نظام آسمانها و زمین، و آنچه خدا آفریده است، (از روی دقت و عبرت) نظر نیفکندند؟! (و آیا در این نیز اندیشه نکردند که) شاید پایان زندگی آنها نزدیک شده باشد؟! (اگر به این کتاب آسمانی روشن ایمان نیاورند،) بعد از آن به کدام سخن ایمان خواهند آورد؟!
Tafsir Ibn Kathir
Do they not look in the dominion of the heavens and the earth and all things that Allah has created; and that it may be that the end of their lives is near. In what message after this will they then believe (185)
Allah asks, those who denied faith, did they not contemplate about Our Ayat in the kingdom of the heavens and earth and what was created in them? Do they not contemplate about all this and learn lessons from it, so that they are certain that He Who has all this, has no equal or rival? All this was made by He Who Alone deserves the worship and sincere religion, so that they might have faith in Him and believe in His Messenger, all the while turning to Allah's obedience, rejecting any rivals to Him, and rejecting idols. They should be warned that their lifes may have reached their end, and they, thus, face their demise while disbelievers, ending up in Allah's torment and severe punishment. Allah said,
فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ
(In what message after this will they then believe?)
Allah says, what more warnings, and discouragements should compel them to believe, if the warnings and threats that Muhammad ﷺ brought them from Allah in His Book do not compel them to do so? Allah said next,
Tafsir Ibn Kathir
شیطانی چکر اللہ تعالیٰ جل شانہ کی اتنی بڑی وسیع بادشاہت میں سے اور زمین و آسمان کی ہر طرح کی مخلوق میں سے کسی ایک چیز نے بھی بعد از غور وفکر انہیں یہ توفیق نہ دی کہ یہ باایمان ہوجاتے ؟ اور رب کو بےنظیر و بےشبہ واحد و فردا مان لیتے ؟ اور جان لیتے کہ اتنی بڑی خلق کا خالق اتنے بڑے ملک کا واحد مالک ہی عبادتوں کے لائق ہے ؟ پھر یہ ایمان قبول کرلیتے اسی کی عبادتوں میں لگ جاتے اور شرک و کفر سے یکسو ہوجاتے ؟ انہیں ڈر لگنے لگتا کہ کیا خبر ہماری موت کا وقت قریب ہی آگیا ہو ؟ ہم کفر پر ہی مرجائیں تو ابدی سزاؤں میں پڑجائیں ؟ جب انہیں اتنی نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد، اس قدر باتیں سمجھا دینے کے بعد بھی ایمان و یقین نہ آیا، اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کے آجانے کے بعد بھی یہ راہ رست پر نہ آئے تو اب کس بات کو مانیں گے ؟ مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ معراج والی رات جب میں ساتویں آسمان پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ گویا اوپر کی طرف بجلی کڑک اور کھڑ کھڑاہٹ ہو رہی ہے، میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس پہنچا جن کے پیٹ بڑے بڑے گھروں جتنے اونچے تھے جن میں سانپ بھر رہے تھے جو باہر سے ہی نظر آتے تھے میں نے حضرت جبرائیل سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتلایا یہ سود خور ہیں جب میں وہاں سے اترنے لگا تو آسمان اول پر آکر میں نے دیکھا کہ نیچے کی جانب دھواں، غبار اور شور غل ہے میں نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ جبرائیل نے کہا یہ شیاطین ہیں جو اپنی خرمستیوں اور دھینگا مشتیوں سے لوگوں کی آنکھوں پر پردے ڈال رہے ہیں کہ وہ آسمان و زمین کی بادشاہت کی چیزوں میں غورو فکر نہ کرسکیں اگر یہ بات نہ ہوتی تو وہ بڑے عجائبات دیکھتے۔ اس کے ایک راوی علی بن زید بن جادعان کی بہت سی روایات منکر ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿أَوَلَمْ يَنْظُرُوا﴾ -هَؤُلَاءِ الْمُكَذِّبُونَ بِآيَاتِنَا -فِي مُلْكِ اللَّهِ وَسُلْطَانِهِ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَفِيمَا خَلَقَ [اللَّهُ] [[زيادة من م.]] مِنْ شَيْءٍ فِيهِمَا، فَيَتَدَبَّرُوا ذَلِكَ وَيَعْتَبِرُوا بِهِ، وَيَعْلَمُوا أَنَّ ذَلِكَ لِمَنْ لَا نَظِيرَ لَهُ وَلَا شَبِيهَ، ومِنْ فِعْل مَنْ لَا يَنْبَغِي أَنْ تَكُونَ [[في ك، أ: "يكون".]] الْعِبَادَةُ. وَالدِّينُ الْخَالِصُ إِلَّا لَهُ. فَيُؤْمِنُوا بِهِ، وَيُصَدِّقُوا رَسُولَهُ، وَيُنِيبُوا إِلَى طَاعَتِهِ، وَيَخْلَعُوا الْأَنْدَادَ وَالْأَوْثَانَ، وَيَحْذَرُوا أَنْ تَكُونَ آجَالُهُمْ قَدِ اقْتَرَبَتْ، فَيَهْلَكُوا عَلَى كُفْرِهِمْ، وَيَصِيرُوا إِلَى عَذَابِ اللَّهِ وَأَلِيمِ عِقَابِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ﴾ ؟ يَقُولُ: فَبِأَيِّ تَخْوِيفٍ وَتَحْذِيرٍ وَتَرْهِيبٍ -بَعْدَ تَحْذِيرِ مُحَمَّدٍ وَتَرْهِيبِهِ، الَّذِي أَتَاهُمْ بِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فِي آيِ كِتَابِهِ -يُصَدِّقُونَ، إِنْ لَمْ يُصَدِّقُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ الَّذِي جَاءَهُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ؟! .
وَقَدْ رَوَى الْإِمَامُ أَحْمَدُ عَنْ حَسَنِ بْنِ مُوسَى وَعَفَّانَ [[في أ: "عثمان".]] بْنِ مُسْلِمٍ وَعَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ بن جُدْعَان، عَنْ أَبِي الصَّلْتِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "رَأَيْتُ لَيْلَةَ أَسْرِيَ بِي، لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَنَظَرْتُ فَوْقِي، فَإِذَا أَنَا بِرَعْدٍ وَبَرْقٍ وَصَوَاعِقَ"، قَالَ: "وَأَتَيْتُ عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ، قلت: من هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا. فَلَمَّا نَزَلْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَنَظَرْتُ إِلَى أَسْفَلَ مِنِّي، فَإِذَا أَنَا برَهج وَدُخَانٍ وَأَصْوَاتٍ [[في م: "وأصوات عالية".]] فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذِهِ الشَّيَاطِينُ [[في أ: "هذه أصوات الشياطين".]] يُحَرِّفون عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ أَنْ لَا يَتَفَكَّرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَوُا الْعَجَائِبَ".
عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنُ جُدْعَانَ لَهُ مُنْكَرَاتٌ [[المسند (٢/٣٥٣) .]] .
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى:
مَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَلَا هَادِىَ لَهُۥ ۚ وَيَذَرُهُمْ فِى طُغْيَٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ
Whoever Allah sends astray - there is no guide for him. And He leaves them in their transgression, wandering blindly.
جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں
هر کس را خداوند (به جرم اعمال زشتش) گمراه سازد، هدایت کنندهای ندارد؛ و آنها را در طغیان و سرکشیشان رها میسازد، تا سرگردان شوند!
Tafsir Ibn Kathir
Whomsoever Allah sends astray, none can guide him; and He lets them wander blindly in their transgressions (186)
Allah says, those who were destined to be misguided, then none can lead them to guidance, and even if they try their best effort to gain such guidance, this will not avail them,
وَمَن يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَن تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا
(And whomsoever Allah wants to put in Fitnah (error, because of his rejecting of Faith, or trial), you can do nothing for him against Allah)[5:41], and,
قُلِ انظُرُوا مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ
(Say: "Behold all that is in the heavens and the earth," but neither Ayat nor warners benefit those who believe not)[10:101].
Tafsir Ibn Kathir
میری نشانیاں اور تعلیم گمراہوں کے لئے بےسود ہیں جس پر گمراہی لکھ دی گئی ہے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ وہ جا ہے ساری نشانیاں دیکھ لے لیکن سب بےسود۔ اللہ کا ارادہ جس کے لئے فتنے کا ہو تو اس کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ میرا حکم تو یہی ہے کہ آسمان و زمین کی میری بیشمار نشانیوں پر غور کرو لیکن یہ ظاہر ہے کہ آیتیں اور ڈراوے بےایمانوں کے لئے سود مند نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: مَنْ كُتِب عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ فَإِنَّهُ لَا يَهْدِيهِ أَحَدٌ، وَلَوْ نَظَرَ لِنَفْسِهِ فِيمَا نَظَرَ، فَإِنَّهُ لَا يُجْزَى [[في م، ك: "لا يجدى".]] عَنْهُ شَيْئًا، ﴿وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا﴾ [الْمَائِدَةِ:٤١] قَالَ تَعَالَى: ﴿قُلِ انْظُرُوا مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا تُغْنِي الآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَا يُؤْمِنُونَ﴾ [يُونُسَ:١٠١]
يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّى ۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَآ إِلَّا هُوَ ۚ ثَقُلَتْ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةًۭ ۗ يَسْـَٔلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِىٌّ عَنْهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ ٱللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
They ask you, [O Muhammad], about the Hour: when is its arrival? Say, "Its knowledge is only with my Lord. None will reveal its time except Him. It lays heavily upon the heavens and the earth. It will not come upon you except unexpectedly." They ask you as if you are familiar with it. Say, "Its knowledge is only with Allah, but most of the people do not know."
(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کردےگا۔ وہ آسمان وزمین میں ایک بھاری بات ہوگی اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے
درباره قیامت از تو سؤال میکنند، کی فرامیرسد؟! بگو: «علمش فقط نزد پروردگار من است؛ و هیچکس جز او (نمیتواند) وقت آن را آشکار سازد؛ (اما قیام قیامت، حتی) در آسمانها و زمین، سنگین (و بسیار پر اهمیت) است؛ و جز بطور ناگهانی، به سراغ شما نمیآید!» (باز) از تو سؤال میکنند، چنان که گویی تو از زمان وقوع آن باخبری! بگو: «علمش تنها نزد خداست؛ ولی بیشتر مردم نمیدانند.»
Tafsir Ibn Kathir
They ask you about the Hour (Day of Resurrection): "When will be its appointed time?" Say: "The knowledge thereof is with my Lord (Alone). None can reveal its time but He. Heavy is its burden through the heavens and the earth. It shall not come upon you except all of a sudden." They ask you as if you have a good knowledge of it. Say: "The knowledge thereof is with Allah (Alone), but most of mankind know not. (187)
The Last Hour and its Portents
Allah said here,
يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ
(They ask you about the Hour), just as He said in another Ayah,
يَسْأَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ
(People ask you concerning the Hour)[33:63].
It was said that this Ayah was revealed about the Quraysh or the Jews, although it appears that it was about the Quraysh, because this Ayah was revealed in Makkah. The Quraysh used to ask about the Last Hour, because they used to deny it and discount its coming. For instance, Allah said in another Ayah,
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
(And they say: "When will be this promise (the torment or the Day of Resurrection), if you speak the truth?")[10:48], and,
يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ أَلَا إِنَّ الَّذِينَ يُمَارُونَ فِي السَّاعَةِ لَفِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ
(Those who believe not therein seek to hasten it, while those who believe are fearful of it, and know that it is the very truth. Verily, those who dispute concerning the Hour are certainly in error far away)[42:18].
Allah said here (that the Quraysh asked),
أَيَّانَ مُرْسَاهَا
("When will be its appointed time?") in reference to its commencement, according to 'Ali bin Abi Talhah who reported this from Ibn 'Abbas. They asked about the Hour's appointed term and when the end of this world will begin;
قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ
(Say: "The knowledge thereof is with my Lord (Alone). None can reveal its time but He.")
Allah commanded His Messenger ﷺ that when asked about the appointed term of the Last Hour, he referred its knowledge to Allah, the Exalted. Only Allah knows the Last Hour's appointed term and when it will certainly occur, and none besides Him has this knowledge,
ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
(Heavy is its burden through the heavens and the earth)
'Abdur-Razzaq narrated that Ma'mar said that Qatadah commented on this Ayah,
ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
(Heavy is its burden through the heavens and the earth)
"Its knowledge is heavy on the residents of the heavens and earth, they do not have knowledge in it." Also, Ma'mar said that Al-Hasan commented on this Ayah, "When the Last Hour comes, it will be heavy on the residents of the heavens and earth."
Ad-Dahhak said that Ibn 'Abbas explained this Ayah,
ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
(Heavy is its burden through the heavens and the earth,) saying, "All creatures will suffer its heaviness on the Day of Resurrection." Ibn Jurayj also said about this Ayah,
ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
(Heavy is its burden through the heavens and the earth.)
"When it commences, the heavens will be torn, the stars will scatter all over, the sun will be wound round (thus losing its light), the mountains will be made to pass away and all of which Allah spoke of will occur. This is the meaning of its burden being heavy." As-Suddi said that,
ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
(Heavy is its burden through the heavens and the earth) means, its knowledge is hidden in the heavens and earth, and none, not even a close angel or a sent Messenger has knowledge of its appointed time.
لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً
(It shall not come upon you except all of a sudden) indicating that the Hour will start all of a sudden, while they are unaware. Qatadah said, "Allah has decided that,
لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً
(It shall not come upon you except all of a sudden.) He then said, "We were informed that Allah's Prophet ﷺ said,
إِنَّ السَّاعَةَ تَهِيجُ بِالنَّاسِ، وَالرَّجُلُ يُصْلِحُ حَوْضَهُ وَالرَّجُلُ يَسْقِي مَاشِيَتَهُ، وَالرَّجُلُ يُقِمُ سِلْعَتَهُ فِي السُّوقِ وَيَخْفِضُ مِيزَانَهُ وَيَرْفَعُهُ
The Hour will start (suddenly) for the people while one is mending his watering hole, giving water to his cattle, setting his goods in the market or lowering his scale and raising it (selling and buying).'" Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَ طَلَعَتْ فَرَآهَا النَّاسُ آمَنُوا أَجْمَعُونَ، فَذَلِكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلَانِ ثَوْبَهُمَا بَيْنَهُمَا، فَلَا يَتَبَايَعَانِهِ وَلَا يَطْوِيَانِهِ. وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِهِ فَلَا يَطْعَمُهُ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَهُو يَلِيطُ حَوْضَهُ فَلَا يَسْقِي فِيهِ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَالرَّجُلُ قَدْ رَفَعَ أَكْلَتَهُ إِلَى فِيهِ فَلَا يَطْعَمُهَا
(The Hour will not commence until the sun rises from the west. When it rises (from the west) and the people see it, then, all people will believe. However, this is when faith does not benefit a soul that did not believe beforehand nor earned good in faith. The Hour will (all of a sudden) commence while two men have spread a garment between them, and they will neither have time to conclude the transaction nor to fold the garment. The Hour will commence after a man milked his animal, but he will not have time to drink it. The Hour will start when a man is making his watering hole (for his animals), but will not have time to make use of the pool. And the Hour will commence while a man has raised his hand with a bite to his mouth, but will not eat it.)
Al-'Awfi said that Ibn 'Abbas commented on the Ayah,
يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا
(They ask you as if you have good knowledge of it.)
"As if you have good relations and friendship with them!" Ibn 'Abbas said, "When the people (pagans of Quraysh) asked the Prophet ﷺ about the Last Hour, they did so in a way as if Muhammad was their friend! Allah revealed to him that its knowledge is with Him Alone and He did not inform a close angel or Messenger of it." The correct explanation for this Ayah is, as narrated from Mujahid, through Ibn Abi Najih,
يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا
(They ask you as if you have Hafi of it.) means, 'as if you had asked about its time and so its knowledge is with you.' Allah said,
قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
(Say: "The knowledge thereof is with Allah (Alone), but most of mankind know not.")
When Jibril came in the shape of a bedouin man to teach the people matters of their religion, he sat next to the Messenger of Allah ﷺ asking him as if to learn. Jibril asked the Messenger ﷺ about Islam, then about Iman (faith) then about Ihsan (Excellence in the religion). He asked next, "When will the Hour start" Allah's Messenger ﷺ said,
مَا الْمَسْؤُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ
(He who is asked about it has no more knowledge of it than the questioner.)
Therefore, the Prophet ﷺ was saying, 'I have no more knowledge in it than you (O Jibril), nor does anyone have more knowledge in it than anyone else.' The Prophet ﷺ then recited the Ayah,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ
(Verily, Allah, with Him (Alone) is the knowledge of the Hour.)[31:34]
In another narration, Jibril asked the Prophet ﷺ about the portents of the Hour, and the Prophet ﷺ mentioned them. The Prophet ﷺ also said in this narration,
فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللهُ
(Five, their knowledge is only with Allah) then recited this Ayah (31:34). In response to the Prophet's answers after each question, Jibril would say, "You have said the truth." This made the Companions wonder about this questioner who would ask a question and attest to every answer he was given. When Jibril went away, the Messenger of Allah ﷺ said to the Companions,
هَذَا جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُم
(This is Jibril, he came to teach you matters of your religion.) In yet another narration, the Prophet ﷺ commented,
وَمَا أَتَانِي فِي صُورَةٍ إِلَّا عَرَفْتُهُ فِيهَا إِلَّا صُورَتُهُ هَذِهِ
(I recognized him (Jibril) in every shape he came to me in, except this one.)
Muslim recorded that 'Aishah, may Allah be pleased with her, said; "When the bedouins used to come to the Prophet ﷺ, they used to ask him about the Hour. The Prophet ﷺ would answer them, while pointing at the youngest person among them,
إِنْ يَعِشْ هَذَا لَمْ يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ حَتَّى قَامَتْ عَلَيْكُمْ سَاعَتُكُم
(If this (young man) lives, he will not become old before your Hour starts.)
The Prophet ﷺ meant the end of their life that introduces them to the life in Barzakh, which is between this life and the Hereafter. Muslim recorded that Anas said that a man asked Allah's Messenger ﷺ about the Hour, and the Messenger ﷺ answered,
إِنْ يَعِشْ هَذَا الْغُلَامُ فَعَسَى أَنْ لَا يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ
(If this young boy lives, it might be that he will not become old before the Hour starts.) Only Muslim collected this Hadith.
Jabir bin 'Abdullah said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying, one month before he died,
تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ، وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللهِ، وَأُقْسِمُ بِاللهِ مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ الْيَوْمَ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ
(You keep asking me about the Hour, when its knowledge is with Allah. I swear by Allah that there is no living soul on the face of the earth now will be alive a hundred years from now.)
Muslim collected this Hadith. A similar Hadith is recorded in Two Sahihs from Ibn 'Umar, but he commented, "The Messenger of Allah ﷺ meant that his generation will be finished by that time reach its appointed term." Imam Ahmad recorded that Ibn Mas'ud said that the Prophet ﷺ said,
لَقِيتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى، فَتَذَاكَرُوا أَمْرَ السَّاعَةِ - قَالَ - فَرَدُّوْا أَمْرَهُمْ إِلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهَا، فَرَدُّوا أَمْرَهُمْ إِلَى مُوسَى فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهَا، فَرَدُّوا أَمْرَهُمْ إِلَى عِيسَى فَقَالَ عِيسَى: أَمَّا وَجْبَتُهَا فَلَا يَعْلَمُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَفِيمَا عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ - قَالَ - وَمَعِي قَضِيبَانِ، فَإِذَا رَآنِي ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرَّصَاصُ، قَالَ: فَيُهْلِكُهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا رَآنِي حَتَّى إِنَّ الشَّجَرَ وَالْحَجَرَ يَقُولُ: يَا مُسْلِمُ إِنَّ تَحْتِي كَافِرًا فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ، قَالَ: فَيُهْلِكُهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلَى بِلَادِهِمْ وَأَوْطَانِهِمْ،
،قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ يَخْرُجُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ، فَيَطَأُونَ بِلَادَهُمْ لَا يَأْتُون عَلَى شَيْءٍ إِلَّا أَهْلَكُوهُ وَلَا يَمُرُّونَ عَلَى مَاءٍ إِلَّا شَرِبُوه: قَالَ: ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِليَّ فَيَشْكُونَهُمْ فَأَدْعُو اللهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمْ فَيُهْلِكُهُمْ وَيُمِيتُهُمْ حَتَّى تَجْوَى الْأَرْضُ مِنْ نَتْنِ رِيحِهِمْ أَيْ تُنْتِنُ، قَالَ: فَيُنْزِلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَطَرَ فَيَجْتَرِفُ أَجْسَادَهُمْ حَتَّى يَقْذِفَهُمْ فِي الْبَحْرِ. قال يزيد بن هارون: ثُمَّ تُنْسَفُ الْجِبَالُ وَتُمَدُّ الْأَرْضُ مَدَّ الْأَدِيمِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ هُشَيْمٍ، قَالَ: فَفِيمَا عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ ذَلِكَ إِذَا كَانَ كَذَلِكَ، فَإِنَّ السَّاعَةَ كَالْحَامِلِ الـمُتِمِّ لَا يَدْرِي أَهْلُهَا مَتَى تُفَاجِئُهُمْ بِوَلَادَتِـهَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا
(During the night of Isra', I met Ibrahim, Musa and 'Isa. They mentioned the matter of the Last Hour, and they asked Ibrahim about it, who said, 'I do not have knowledge of it.' They asked Musa about it and he said, 'I have no knowledge of it.' They then asked 'Isa about it, and he said, 'As for when it will occur, only Allah, the Exalted and Most Honored, knows that. My Lord has conveyed to me that the Dajjal (False Messiah) will appear, and I will have two staffs (spears) with me. When he sees me, he will dissolve just as lead is dissolved. Allah will destroy him when he sees me, and the tree and the stone will say, 'O Muslim! There is a disbeliever under (behind) me, so come and kill him.' Allah will destroy them (the Dajjal and his army), and the people will safely go back to their lands and areas. Thereafter, Gog and Magog will appear, and they will be swarming from every mound, sweeping over the earth and destroying everything they pass by. They will drink every water source they pass. The people will come to me complaining about Gog and Magog and will invoke Allah, the Exalted and Most Honored, against them, and Allah will bring death to all of them until the earth rots with their stinking odor. Allah will send down rain on them and the rain will carry their corpses, until it throws them in the sea... My Lord, the Exalted and Most Honored has conveyed to me that when this occurs, the Hour will be just like the pregnant women when the term of pregnancy is full, her family does not know when she will surprise them and give birth, whether by night or by day.)
Ibn Majah also collected a similar Hadith Therefore these are the greatest of the Messengers but they did not have knowledge of the appointed term of the Hour. They asked 'Isa about it and he spoke about its Signs, since he will descend in the last generations of this Ummah, implementing the Law of Allah's Messenger ﷺ, killing the Dajjal and destroying Gog and Magog people by the blessing of his supplication. 'Isa merely informed them of the knowledge Allah gave him on this subject.
Imam Ahmad recorded that Hudhayfah said, "The Messenger of Allah ﷺ was asked about the Hour and he said,
عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ، وَلَكِنْ سَأُخْبِرُكُمْ بِمَشَارِيطِهَا وَمَا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْهَا، إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا فِتْنَةً وَهَرَجًا
(Its knowledge is with my Lord, the Exalted and Most Honored, none can reveal its time except Him. However, I will tell you about its portents and the signs that precede it. Before it commences, there will be Fitnah (trials) and Harj.)
They asked, 'O Allah's Messenger! We know the meaning of the Fitnah, so what is the Harj?' He said,
بِلِسَانِ الْـحَبَشَةِ الْقَتْلُ
(It means killing, in the Language of the Ethiopians.) He then said,
وَيُلْقَى بَيْنَ النَّاسِ التَّنَاكُرُ، فَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يَعْرِفُ أَحَدًا
(Isolation and loneliness will be common between people, and therefore, almost no one will be able to recognize any other.)"
None among the collectors of the six Sunan collected this Hadith using this chain of narration. Tariq bin Shihab said that the Messenger of Allah ﷺ kept mentioning the Last Hour [for people kept asking about it], until this Ayah was revealed,
يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا
(They ask you about the Hour (Day of Resurrection): "When will be its appointed time?").
An-Nasa'i collected this Hadith, which has a strong chain. Therefore, this unlettered Prophet ﷺ, the chief of the Messengers and their Seal, Muhammad, may Allah's peace and blessings be on him, Muhammad, the Prophet of mercy, repentance, Al-Malhmah (great demise of the disbelievers), Al-'Aqib (who came after many Prophets), Al-Muqaffi (the last of a succession) and Al-Hashir (below whom will all people be gathered [on the Day of Gathering]) Muhammad ﷺ who said, as collected in the Sahih from Anas and Sahl bin Sa'd,
بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ
(My sending and the Hour are like this,) and he joined his index and middle fingers. Yet, he was commanded to defer knowledge of the Last Hour to Allah if he was asked about it,
قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
(Say: "The knowledge thereof is with Allah (alone), but most of mankind know not.")
Tafsir Ibn Kathir
قیامت کب اور کس وقت ؟ یہ دریافت کرنے والے قریشی بھی تھے اور یہودی بھی لیکن چونکہ یہ آیت مکی ہے اس لئے ٹھیک یہی ہے کہ قریشیوں کا سوال تھا چونکہ وہ قیامت کے قائل ہی نہ تھے اس لئے اس قسم کے سوال کیا کرتے تھے کہ اگر سچے ہو تو اس کا ٹھیک وقت بتادو۔ ادھر بےایمان اس کی جلدی مچا رہے ہیں۔ ادھر ایماندار اسے حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جنہیں اس میں بھی شک ہے دو روز کی گمراہی میں تو وہی ہیں۔ پوچھا کرتے تھے کہ قیامت واقع کب ہوگی ؟ جواب سکھایا گیا کہ اس کے صحیح وقت کا علم سوائے اللہ کے کسی کو نہیں وہی اس کے صحیح وقت سے واقف ہے بجز اس کے کسی کو اس کے واقع ہونے کا وقت معلوم نہیں۔ اس کا علم زمین و آسمان پر بھی بھاری ہے، ان کے رہنے والی ساری مخلوق اس علم سے خالی ہے۔ وہ جب آئے گی سب پر ایک ہی دقت واقع ہوگی، سب کو ضرر پہنچے گا۔ آسمان پھٹ جائے گا ستارے جھڑ جائیں گے سورج بےنور ہوجائیں گے پہاڑ اڑنے لگیں گے اسی لئے وہ ساری مخلوق پر گراں گذر رہی ہے۔ اس کے واقع ہونے کے صحیح وقت کا علم ساری مخلوق پر بھاری ہے۔ زمین و آسمان والے سب اس سے عاجز اور بیخبر ہیں۔ وہ تو اچانک سب کی بیخبر ی میں ہی آئے گی۔ کوئی بزرگ سے بزرگ فرشتہ، کوئی بڑے سے بڑا پیغمبر بھی اس کے آنے کے وقت کا عالم نہیں۔ وہ تو سب کی بیخبر ی میں ہی آجائے گی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں دنیا کے کل کام حسب دستور ہو رہے ہوں گے، جانوروں والے اپنے جانوروں کے پانی پلانے کے حوض درست کر رہے ہوں گے، تجارت والے تول تال میں مشغول ہوں گے جو قیامت آجائے گی۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ قیامت قائم ہونے سے پہلے سورج مغرب کی طرف سے نکلے گا اسے دیکھتے ہی سب لوگ ایمان قبول کرلیں گے لیکن اس وقت کا ایمان ان کے لئے بےسود ہوگا۔ جو اس سے پہلے ایمان نہ لائے ہوں اور جنہوں نے اس سے پہلے نیکیاں نہ کی ہوں۔ قیامت اس طرح دفعتاً آجائے گی کہ ایک شخص کپڑا پھیلائے دوسرے کو دکھا رہا ہوگا اور دوسرا دیکھ رہا ہوگا بھاؤ تاؤ ہو رہا ہوگا کہ قیامت ہوجائے گی نہ یہ خریدو فروخت کرسکیں گے نہ کپڑے کی تہہ کرسکیں گے کوئی دودھ دوہ کرلے آ رہا ہوگا پی نہ سکے گا کہ قیامت آجائے گی کوئی حوض درست کر رہا ہوگا ابھی جانوروں کو پانی نہ پلا چکا ہوگا کہ قیامت آجائے گی کوئی لقمہ اٹھائے ہوئے ہوگا ابھی منہ میں نہ ڈالا ہوگا کہ قیامت آجائے گی۔ صحیح مسلم شریف میں ہے آدمی دودھ کا کٹورا اٹھا کر پینا چاہتا ہی ہوگا ابھی منہ سے نہ لگ پائے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی کپڑے کے خریدار بھی سود نہ کرچکے ہوں گے کہ قیامت آجائے گی حوض والے بھی لیپاپوتی کر رہے ہوں گے کہ قیامت برپا ہوجائے گی۔ تجھ سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا تو ان کا سجا رفیق ہے یہ تیرے پکے دوست ہیں۔ اس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ تجھے اس کا حال معلوم ہے حالانکہ کسی مقرب فرشتے یا نبی یا رسول کو اس کا علم ہرگز نہیں۔ قریشیوں نے یہ بھی کہا تھا کہ حضور ہم تو آپ کے قرابتدار ہیں ہمیں تو بتا دیجئے کہ قیامت کب اور کس دن کس سال آئے گی ؟ اس طرح پوچھا کہ گویا آپ کو معلوم ہے حالانکہ اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہی ہے جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ 34) 31۔ لقمان :34) قیامت کا علم صرف اللہ کو ہی ہے یہی معنی زیادہ ترجیح والے ہیں واللہ اعلم۔ حضرت جبرائیل ؑ نے بھی جب اعرابی کا روپ دھار کر سائل کی وضع میں آپ کے پاس بیٹھ کر آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے صاف جواب دیا کہ اس کا علم نہ مجھے ہے نہ تجھے۔ اس سے پہلے کے سوالات آپ بتا چکے تھے اس سوال کے جواب میں اپنی لا علمی ظاہر کر کے پوری سورة لقمان کی آخری آیت پڑھی کہ ان پانچ چیزوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یعنی علم قیامت، بارش کا آنا، مادہ کے پیٹ کے بچے کا حال، کل کے حالات، موت کی جگہ۔ ہاں جب آپ نے اس کی علامتیں پوچھیں تو حضور نے بتادیں۔ پھر اسی آیت کو تلاوت فرمایا جبرائیل آپ کے ہر جواب پر یہی فرماتے جاتے تھے کہ آپ نے سچ فرمایا ان کے چلے جانے کے بعد صحابہ نے تعجب سے پوچھا کہ حضور یہ کون صاحب تھے ؟ آپ نے فرمایا جبرائیل تھے تمہیں دین سکھانے آئے تھے۔ جب کبھی وہ میرے پاس جس ہیئت میں آئے میں نے انہیں پہچان لیا لیکن اب کی مرتبہ تو میں خود اب تک نہ پہچان سکا تھا۔ الحمد اللہ میں نے اس کے تمام طریقے کل سندوں کے ساتھ پوری بحث کر کے بخاری شریف کی شرح کے اول میں ہی ذکر کردیئے ہیں۔ ایک اعرابی نے آ کر با آواز بلند آپ کا نام لے کر آپ کو پکارا آپ نے اسی طرح جواب دیا۔ اس نے کہا قیامت کب ہوگی ؟ آپ نے فرمایا وہ آنے والی تو قطعاً ہے، تو بتا تو نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ روزے نماز تو میرے پاس زیادہ نہیں البتہ میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت سے اپنے دل کو پر پاتا ہوں آپ نے فرمایا انسان اسی کے ہمراہ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہو، مومن اس حدیث کو سن کر بہت ہی خوش ہوئے کہ اس قدر خوشی انہیں اور کسی چیز پر نہیں ہوئی تھی۔ آپ کی عادت مبارک ہی تھی کہ جب کوئی آپ سے ایسا سوال کرے جس کی ضرورت نہ ہو تو آپ اسے وہ بات بتاتے جو اس سے کہیں زیادہ مفید ہو۔ اسی لئے اس سائل کو بھی فرمایا کہ وقت کا علم کیا فائدہ دے گا ؟ ہو سکے تو تیاری کرلو۔ صحیح مسلم میں ہے کہ اعراب لوگ حضور سے جب کبھی قیامت کے بارے سوال کرتے تو آپ جو ان میں سب سے کم عمر ہوتا اسے دیکھ کر فرماتے کہ اگر یہ اپنی طبعی عمر تک پہنچا تو اس کے بڑھاپے تک ہی تم اپنی قیامت کو پالو گے۔ اس سے مراد ان کی موت ہے جو آخرت کے برزخ میں پہنچا دیتی ہے بعض روایتوں میں ان کے اس قسم کے سوال پر آنحضرت کا علی الا طلاق یہی فرمانا بھی مروی ہے کہ اس نوعمر کے بڑھاپے تک قیامت آجائے گی یہ اطلاق بھی اسی تقلید پر مجمول ہوگا یعنی مراد اس سے ان لوگوں کی موت کا وقت ہے، وفات سے ایک ماہ قبل آپ نے فرمایا تم مجھ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہو اس کے صحیح وقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، میں قسمیہ بیان کرتا ہوں کہ اس وقت روئے زمین پر جتنے متنفس ہیں ان میں سے ایک بھی سو سال تک باقی نہ رہے گاـ (مسلم) مطلب اس سے یہ ہے کہ سو سال تک اس زمانے کے موجود لوگوں سے یہ دنیا خالی ہوجائے گی۔ آپ فرماتے ہیں معراج والی شب میری ملاقات حضرت موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) سے ہوئی وہاں قیامت کے وقت کا ذکر چلا تو حضرت ابراہیم کی طرف سب نے بات کو جھکا دیا۔ آپ نے جواب دیا کہ مجھے تو اس کا علم نہیں سب حضرت موسیٰ کی طرف متوجہ ہوئے یہی جواب وہاں سے ملا پھر حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے فرمایا اس کے واقع ہونے کا وقت تو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔ ہاں مجھ سے میرے رب نے فرما رکھا ہے کہ دجال نکلنے والا ہے میرے ساتھ دو شاخیں ہوں گی وہ مجھے دیکھ کر سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا آخر اللہ اسے میرے ہاتھوں ہلاک کرے گا یہاں تک کہ درخت اور پتھر بھی بولنے لگیں گے کہ اے مسلمان یہاں میرے نیچے ایک کافر چھپا ہوا ہے آ اور اسے قتل کر ڈال جب اللہ تعالیٰ ان سب کو ہلاک کر دے گا تب لوگ اپنے شہروں اور وطنوں کو لوٹیں گے۔ اس وقت یاجوج ماجود نکلیں گے جو کودتے پھلانگتے چاروں طرف پھیل جائیں گے جہاں سے گذریں گے تباہی پھیلا دیں گے جس پانی سے گذریں گے سب پی جائیں گے۔ آخر لوگ تنگ آ کر مجھ سے شکایت کریں گے میں اللہ سے دعا کروں گا اللہ تعالیٰ سب کو ہلاک کر دے گا ان کی لاشوں کا سڑاند پھیلے گی جس سے لوگ تنگ آجائیں گے اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا جو ان کی لاشوں کو بہا کر سمندر میں ڈال آئے گی پھر تو پہاڑ اڑنے لگیں گے اور زمین سکڑنے لگے گی۔ جب یہ سب کچھ ظاہر ہوگا اس وقت قیامت ایسی قریب ہوگی جیسی پورے دن والی حاملہ عورت کے بچہ ہونے کا زمانہ قریب ہوتا ہے کہ گھر کے لوگ ہوشیار رہتے ہیں کہ نہ جانیں دن کو ہوجائے یا رات کو۔ ـ (ابن ماجہ مسند وغیرہ) اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کا علم کسی رسول کو بھی نہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ بھی اس کی علامات بیان فرماتے ہیں نہ کہ مقررہ وقت۔ اس لئے کہ آپ احکام رسول ﷺ کے جاری کرنے اور دجال کو قتل کرنے اور اپنی دعا کی برکت سے یاجوج ماجوج کو ہلاک کرنے کیلئے اس امت کے آخر زمانے میں نازل ہوں گے جس کا علم اللہ نے آپ کو دے دیا ہے۔ آنحضرت ﷺ سے قیامت کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا اس کا علم اللہ کے پاس ہی ہے سوائے اس کے اسے اور کوئی نہیں جانتا ہاں میں تمہیں اس کی شرطیں بتلاتا ہوں اس سے پہلے بڑے بڑے فتنے اور لڑائیاں ہوں گی لوگوں کے خون ایسے سفید ہوجائیں گے کہ گویا کوئی کسی کو جانتا پہچانتا ہی نہیں (مسند) آپ اس آیت کے اترنے سے پہلے بھی اکثر قیامت کا ذکر فرماتے رہا کرتے تھے پس غور کرلو کہ یہ نبی امی ﷺ جو سید الرسل ہیں خاتم الانبیاء ہیں نبی الرحمہ ہیں نبی اللہ ہیں الملحمہ ہیں عاقب ہیں مقفی ہیں ہاشر ہیں جن کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا جن کا فرمان ہے کہ میں اور قیامت اس طرح آئے ہیں اور آپ نے اپنی دونوں انگلیاں جوڑ کر بتائیں یعنی شہادت کی انگلی اور اس کے پاس کی انگلی لیکن باوجود اس کے قیامت کا علم آپ کو نہ تھا۔ آپ سے جب سوال ہوا تو یہی حکم ملا جواب دو کہ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ﴾ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَسْأَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ﴾ [الْأَحْزَابِ:٦٣] قِيلَ: نَزَلَتْ فِي قُرَيْشٍ. وَقِيلَ: فِي نَفَرٍ مِنَ الْيَهُودِ. وَالْأَوَّلُ أَشْبَهُ؛ لِأَنَّ الْآيَةَ مَكِّيَّةٌ، وَكَانُوا يَسْأَلُونَ عَنْ وَقْتِ السَّاعَةِ، اسْتِبْعَادًا لِوُقُوعِهَا، وَتَكْذِيبًا بِوُجُودِهَا؛ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٣٨] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ أَلا إِنَّ الَّذِينَ يُمَارُونَ فِي السَّاعَةِ لَفِي ضَلالٍ بَعِيدٍ﴾ [الشُّورَى:١٨]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَيَّانَ مُرْسَاهَا﴾ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: "مُنْتَهَاهَا" أَيْ: مَتَى مَحَّطُهَا؟ وَأَيَّانَ آخَرُ مُدَّةِ الدُّنْيَا الَّذِي هُوَ أَوَّلُ وَقْتِ السَّاعَةِ؟
﴿قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلا هُوَ﴾ أَمَرَ تَعَالَى نَبِيَّهُ ﷺ إِذَا سُئِلَ عَنْ وَقْتِ السَّاعَةِ، أَنْ يرُدَّ عِلْمَهَا إِلَى اللَّهِ تَعَالَى؛ فَإِنَّهُ هُوَ الَّذِي يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا، أَيْ: يَعْلَمُ جَلِيَّةَ أَمْرِهَا، وَمَتَى يَكُونُ عَلَى التَّحْدِيدِ، [أَيْ] [[زيادة من م.]] لَا يَعْلَمُ ذَلِكَ [أَحَدٌ] [[زيادة من أ.]] إِلَّا هُوَ تَعَالَى؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ﴾
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَر، عَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ: ﴿ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ﴾ قَالَ: ثَقُلَ عِلْمُهَا عَلَى أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ. قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الْحَسَنُ: إِذَا جَاءَتْ، ثَقُلَتْ عَلَى أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَقُولُ: كَبُرَت عليهم.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ﴾ قَالَ: لَيْسَ شَيْءٌ مِنَ الْخَلْقِ إِلَّا يُصِيبُهُ مِنْ ضَرَرِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
وَقَالَ ابْنُ جُرَيْج: ﴿ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ﴾ قَالَ: إِذَا جَاءَتِ انْشَقَّتِ السَّمَاءُ [[في أ: "السموات".]] وَانْتَثَرَتِ النُّجُومُ، وَكُوِّرَتِ الشَّمْسُ، وَسُيِّرَتِ الْجِبَالُ، وَكَانَ مَا قَالَهُ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ [[في أ: "الله تعالى".]] فَذَلِكَ ثِقْلُهَا.
وَاخْتَارَ ابْنُ جَرِيرٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: أَنَّ الْمُرَادَ: ثَقُلَ عِلْمُ وَقْتِهَا عَلَى أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، كَمَا قَالَ [[في م، أ: "قاله".]] قَتَادَةُ.
وَهُوَ كَمَا قَالَاهُ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَا تَأْتِيكُمْ إِلا بَغْتَةً﴾ وَلَا يَنْفِي ذَلِكَ ثِقَلُ مَجِيئِهَا عَلَى أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ [فِي قَوْلِهِ تَعَالَى] [[زيادة من م.]] ﴿ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ﴾ يَقُولُ: خَفِيَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، فَلَا يَعْلَمُ قِيَامَهَا حِينَ تَقُومُ مَلَكٌ مُقَرَّبٌ، وَلَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ.
﴿لَا تَأْتِيكُمْ إِلا بَغْتَةً﴾ [قَالَ] [[زيادة من أ.]] يَبْغَتُهُمْ قِيَامُهَا، تَأْتِيهِمْ عَلَى غَفْلَةٍ.
وَقَالَ قَتَادَةُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَا تَأْتِيكُمْ إِلا بَغْتَةً﴾ قَضَى اللَّهُ أَنَّهَا ﴿لَا تَأْتِيكُمْ إِلا بَغْتَةً﴾ قَالَ: وَذُكِرَ لَنَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ قَالَ [[في م: "كان يقول".]] "إِنَّ السَّاعَةَ تَهِيجُ بِالنَّاسِ، وَالرَّجُلُ يَصْلِحُ حَوْضَهُ، وَالرَّجُلُ يَسْقِي مَاشِيَتَهُ، وَالرَّجُلُ يُقِيمُ سِلْعَتَهُ فِي السُّوقِ وَيُخْفِضُ مِيزَانَهُ وَيَرْفَعُهُ" [[رواه الطبري في تفسيره (١٣/٢٩٧) والثعلبي في تفسيره كما في "تخريج أحاديث الكشاف" للزيلعي (١/٤٧٥) وهو مرسل.]]
وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا طَلَعَتْ فَرَآهَا النَّاسُ آمَنُوا أَجْمَعُونَ، فَذَلِكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلَانِ ثَوْبَهُمَا [[في م: "ثوبا".]] بَيْنَهُمَا، فَلَا يَتَبَايَعَانِهِ وَلَا يَطْوِيَانِهِ. ولتقومَنّ السَّاعَةُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لقْحَته فَلَا يَطْعَمُه. ولتقومَنّ السَّاعَةُ وَهُوَ يَلِيط حَوْضَهُ فَلَا يَسْقِي فِيهِ. ولتقومَنّ السَّاعَةُ وَالرَّجُلُ قَدْ رَفَعَ أَكْلَتَهُ إِلَى فِيهِ فَلَا يَطْعَمُهَا" [[صحيح البخاري برقم (٦٥٠٦) .]]
وَقَالَ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ: حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: "تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرَّجُلُ يَحْلِبُ اللِّقْحَة، فَمَا يَصِلُ الْإِنَاءُ إِلَى فِيهِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ. وَالرَّجُلَانِ [[في ك: "والرجل".]] يَتَبَايَعَانِ الثَّوْبَ فَمَا يَتَبَايَعَانِهِ حَتَّى تَقُومَ. وَالرَّجُلُ يَلُوطُ حَوْضَهُ فَمَا يَصْدُرُ حَتَّى تَقُومَ" [[صحيح مسلم برقم (٢٩٥٤) .]]
* *
وَقَوْلُهُ [تَعَالَى] [[زيادة من ك، م، أ.]] ﴿يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا﴾ اخْتَلَفَ الْمُفَسِّرُونَ فِي مَعْنَاهُ، فَقِيلَ: مَعْنَاهُ: كَمَا قَالَ [[في ك، م، أ: "فقيل معناه: كأنك حفى بها كما قال".]] الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا﴾ يَقُولُ: كَأَنَّ بَيْنَكَ وبينهم مودة، كَأَنَّكَ صَدِيقٌ لَهُمْ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمَّا سَأَلَ النَّاسُ مُحَمَّدًا ﷺ عَنِ السَّاعَةِ، سَأَلُوهُ سُؤَالَ قَوْمٍ كَأَنَّهُمْ يُرُونَ أَنَّ مُحَمَّدًا حَفِيٌّ بِهِمْ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَهُ، اسْتَأْثَرَ بِعِلْمِهَا، فَلَمْ يُطْلِعِ اللَّهُ عَلَيْهَا مَلَكًا مُقَرَّبًا وَلَا رَسُولًا.
وَقَالَ قَتَادَةُ: قَالَتْ قُرَيْشٌ لِمُحَمَّدٍ ﷺ: إِنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ قَرَابَةً، فَأَسِرَّ إِلَيْنَا مَتَى السَّاعَةُ. فَقَالَ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ: ﴿يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا﴾
وَكَذَا رُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعِكْرِمَةَ، وَأَبِي مَالِكٍ، والسُّدِّي، وَهَذَا قَوْلٌ. وَالصَّحِيحُ عَنْ مُجَاهِدٍ -مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي نَجِيح وَغَيْرِهِ -: ﴿يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا﴾ قَالَ: استَحْفَيت عَنْهَا السُّؤَالَ، حَتَّى عَلِمْتَ وَقْتَهَا.
وَكَذَا قَالَ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا﴾ يَقُولُ: كَأَنَّكَ عَالِمٌ بِهَا، لَسْتَ تَعْلَمُهَا، ﴿قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ﴾
وَقَالَ مَعْمَرٌ، عَنْ بَعْضِهِمْ: ﴿كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا﴾ كَأَنَّكَ عَالِمٌ بِهَا.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: ﴿كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا﴾ كَأَنَّكَ عَالِمٌ بِهَا، وَقَدْ أَخْفَى اللَّهُ عَلِمَهَا عَلَى خَلْقِهِ، وَقَرَأَ: ﴿إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ﴾ الْآيَةَ [لُقْمَانَ:٣٤] .
وَلَهَذَا الْقَوْلُ أَرْجَحُ فِي الْمَعْنَى مِنَ الْأَوَّلِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾
وَلِهَذَا لَمَّا جَاءَ جِبْرِيلُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي صُورَةِ أَعْرَابِيٍّ، يُعَلِّمُ النَّاسَ أَمْرَ دِينِهِمْ، فَجَلَسَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مَجْلِسَ السَّائِلِ الْمُسْتَرْشِدِ، وَسَأَلَهُ عَنِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ عَنِ الْإِيمَانِ، ثُمَّ عَنِ الْإِحْسَانِ، ثُمَّ قَالَ: فَمَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ" أَيْ: لَسْتُ أَعْلَمَ بِهَا مِنْكَ وَلَا أَحَدَ أَعْلَمُ بِهَا مِنْ أَحَدٍ، ثُمَّ قَرَأَ النَّبِيُّ ﷺ: ﴿إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ﴾ الْآيَةَ [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٥٠) ومسلم في صحيحه برقم (٩) .]]
وَفِي رِوَايَةٍ: فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، ثُمَّ قَالَ: "فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ". وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ، وَفِي هَذَا كُلِّهِ يَقُولُ لَهُ بَعْدَ كُلِّ جَوَابٍ: "صَدَقْتَ"؛ وَلِهَذَا عَجِبَ الصَّحَابَةُ مِنْ هَذَا السَّائِلِ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ، ثُمَّ لَمَّا انْصَرَفَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "هَذَا جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ [[في م، أ: "يعلمكم أمر".]] دِينَكُمْ" [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٥٠) ومسلم في صحيحه برقم (٩) .]]
وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: "وَمَا أَتَانِي فِي صُورَةٍ إِلَّا عَرَفْتُهُ فِيهَا، إِلَّا صُورَتَهُ هَذِهِ".
وَقَدْ ذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ بِطُرُقِهِ وَأَلْفَاظِهِ مِنَ الصِّحَاحِ وَالْحِسَانِ وَالْمَسَانِيدِ، فِي أَوَّلِ شَرْحٍ صَحِيحٍ الْبُخَارِيِّ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ [[وانظر هذا المطلب في: شرح الحافظ ابن حجر "فتح الباري" (١/١١٤) .]]
وَلَمَّا سَأَلَهُ ذَلِكَ الْأَعْرَابِيُّ وَنَادَاهُ بِصَوْتٍ جَهْوَرِيٍّ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: هاء [[في أ: "هاؤم".]] - عَلَى نَحْوٍ مِنْ صَوْتِهِ -قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "وَيْحَكَ إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ، فَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ " قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ [[في أ: "كثير".]] صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ، وَلَكِنِّي أَحَبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ". فَمَا فَرِحَ الْمُسْلِمُونَ بِشَيْءٍ فَرَحَهُمْ بِهَذَا الْحَدِيثِ [[رواه مسلم في صحيحه برقم (٢٦٣٩) مِنْ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.]]
وَهَذَا لَهُ طُرُقٌ مُتَعَدِّدَةٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَغَيْرِهِمَا عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ؛ أَنَّهُ قَالَ: "الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ" [[جاء من حديث أنس بن مالك وصفوان بن عسال وعبد الله بن مسعود وأبي موسى الأشعري:.
أما حديث أنس بن مالك فهو السابق ذكره.
وأما حديث صفوان بن عسال فرواه الترمذي في السنن برقم (٣٥٣٥) .
وأما حديث عبد الله بن مسعود فرواه البخاري في صحيحه برقم (٦١٦٩) ومسلم في صحيحه برقم (٢٦٤٠) .
وأما حديث أبي موسى الأشعري فرواه البخاري في صحيحه برقم (٦١٧٠) ومسلم في صحيحه برقم (٢٦٤١) .]] وَهِيَ مُتَوَاتِرَةٌ عِنْدَ كَثِيرٍ مِنَ الْحُفَّاظِ الْمُتْقِنِينَ.
فَفِيهِ أَنَّهُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ هَذَا الَّذِي لَا يَحْتَاجُونَ إِلَى عِلْمِهِ، أَرْشَدَهُمْ إِلَى مَا هُوَ الْأَهَمُّ فِي حَقِّهِمْ، وَهُوَ الِاسْتِعْدَادُ لِوُقُوعِ ذَلِكَ، وَالتَّهَيُّؤُ لَهُ قَبْلَ نُزُولِهِ، وَإِنْ لَمْ يَعْرِفُوا تَعْيِينَ وَقْتِهِ.
وَلِهَذَا قَالَ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتِ الْأَعْرَابُ إِذَا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، سَأَلُوهُ عَنِ السَّاعَةِ: مَتَى السَّاعَةُ؟ فَنَظَرَ [[في ك، م: "فينظر".]] إِلَى أَحْدَثِ إِنْسَانٍ [[في ك، م، أ: "أسنان".]] مِنْهُمْ فَقَالَ: "إِنَّ يَعِشْ هَذَا لَمْ يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ حَتَّى قَامَتْ عَلَيْكُمْ سَاعَتُكُمْ" [[صحيح مسلم برقم (٢٩٥٢) .]] يَعْنِي بِذَلِكَ مَوْتَهُمُ الَّذِي يُفْضِي بِهِمْ إِلَى الْحُصُولِ فِي بَرْزَخِ الدَّارِ الْآخِرَةِ.
ثُمَّ قَالَ مُسْلِمٌ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ؛ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنِ السَّاعَةِ، وَعِنْدَهُ غُلَامٌ مَنَّ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أن يَعِشْ هَذَا الْغُلَامُ فَعَسَى أَلَّا يُدْرِكَهُ الهَرَم حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ". انْفَرَدَ بِهِ مُسْلِمٌ [[صحيح مسلم برقم (٢٩٥٣) .]]
وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ [[في ك، م، أ: "سعيد بن أبي هلال المصري".]] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ؛ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ هُنَيهة، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى غُلَامٍ بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، فَقَالَ: "إِنَّ عُمِّرَ هَذَا لَمْ يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ" -قَالَ أَنَسٌ: ذَلِكَ الْغُلَامُ مِنْ أَتْرَابِي [[صحيح مسلم برقم (٢٩٥٣) .]]
وَقَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَرَّ غُلَامٌ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ -وَكَانَ مَنْ أقراني [[في ك، م: "أترابي".]] -فقال للنبي ﷺ: "إِنَّ يُؤَخَّرْ هَذَا لم يدركه الهرم حتى تقوم الساعة" [[صحيح مسلم برقم (٢٩٥٣) .]] وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي كِتَابِ "الْأَدَبِ" مِنْ صَحِيحِهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ؛ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِي آخِرِهِ: "فَمَرَّ غُلَامٌ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ"، وَذَكَرَهُ [[صحيح البخاري برقم (٦١٦٧) .]]
وَهَذَا الْإِطْلَاقُ فِي هَذِهِ الرِّوَايَاتِ مَحْمُولٌ عَلَى التَّقْيِيدِ بِ"سَاعَتِكُمْ" فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
وَقَالَ ابْنُ جُرَيْج: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ: أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم قبل [[في ك: "يقول قبل".]] أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ، قَالَ: "تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ، وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ. وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ الْيَوْمَ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ، تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ [[صحيح مسلم برقم (٢٥٣٨) .]]
وَفِي الصَّحِيحَيْنِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلُهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَإِنَّمَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ انْخِرَامَ ذَلِكَ الْقَرْنِ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ مُؤْثِرِ بْنِ عَفَازة [[في م: "غفارة"، وفي ك: "عفان".]] عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ [[في م: "عن النبي".]] ﷺ قَالَ: "لَقِيتُ لَيْلَةَ أُسَرِيَ بِي إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى"، قَالَ:"فَتَذَاكَرُوا أَمْرَ السَّاعَةِ"، قَالَ: "فَرَدُّوا أَمْرَهُمْ إِلَى إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهَا. فَرَدُّوا أَمْرَهُمْ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهَا. فَرَدُّوا أَمْرَهُمْ إِلَى عِيسَى، فَقَالَ عِيسَى: أَمَّا وَجْبَتُهَا فَلَا يَعْلَمُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ، وَفِيمَا عَهِدَ إليَّ رَبِّي، عَزَّ وَجَلَّ، أَنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ"، قَالَ: "وَمَعِي قَضِيبَانِ، فَإِذَا رَآنِي ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرَّصَاصُ"، قَالَ: "فَيُهْلِكُهُ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ، إِذَا رَآنِي، حَتَّى إِنَّ الْحَجَرَ وَالشَّجَرَ يَقُولُ: يَا مُسْلِمُ، إِنْ تَحْتِي كَافِرًا تَعَالَى فَاقْتُلْهُ". قَالَ: "فَيُهْلِكُهُمُ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلَى بِلَادِهِمْ وَأَوْطَانِهِمْ"، قَالَ: "فَعِنْدَ ذَلِكَ يَخْرُجُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ، فَيَطَئُونَ بِلَادَهُمْ، لَا يَأْتُونَ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا أَهْلَكُوهُ، وَلَا يَمُرُّونَ عَلَى مَاءٍ إِلَّا شَرِبُوهُ"، قَالَ: "ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إليَّ فَيَشْكُونَهُمْ، فَأَدْعُو [[في م: "وأدعوا".]] اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ، عَلَيْهِمْ فَيُهْلِكُهُمْ وَيُمِيتُهُمْ، حَتَّى تَجْوَى الْأَرْضُ مِنْ نَتَنِ رِيحِهِمْ -أَيْ: تُنْتِن -" قَالَ: "فَيُنْزِلُ اللَّهُ الْمَطَرَ، فَيَجْتَرِفُ أَجْسَادَهُمْ حَتَّى يَقْذِفَهُمْ فِي [[في أ: "إلى".]] الْبَحْرِ".
قَالَ أَحْمَدُ: قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: ثُمَّ تُنْسَفُ الْجِبَالُ، وَتُمَدُّ الْأَرْضُ مَدَّ الْأَدِيمِ -ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ هُشَيْمٍ قَالَ: فَفِيمَا عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّي، عَزَّ وَجَلَّ، أَنَّ ذَلِكَ إِذَا كَانَ كَذَلِكَ، فَإِنَّ [[في أ: "تكون".]] السَّاعَةَ كَالْحَامِلِ الْمُتِمِّ لَا يَدْرِي أَهْلُهَا مَتَى تُفَاجِئُهُمْ بِوِلَادِهَا [[في د، ك: "بولادتها".]] لَيْلًا أَوْ نَهَارًا [[المسند (١/٣٧٥) .]]
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، عَنْ بُنْدَار عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَب بِسَنَدِهِ، نَحْوَهُ [[سنن ابن ماجة برقم (٤٠٨١) وقال البوصيري في الزوائد (٣/٢٦١) : "هذا إسناد صحيح رجاله ثقات، مؤثر بن عفازة ذكره ابن حبان في الثقات، وباقي رجال الإسناد ثقات".]]
فَهَؤُلَاءِ أَكَابِرُ أُولِي الْعَزْمِ مِنَ الْمُرْسَلِينَ، لَيْسَ عِنْدَهُمْ عِلْمٌ بِوَقْتِ السَّاعَةِ عَلَى التَّعْيِينِ، وَإِنَّمَا رَدُّوا الْأَمْرَ إِلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَتَكَلَّمَ عَلَى أَشْرَاطِهَا؛ لِأَنَّهُ يَنْزِلُ فِي آخِرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ مُنَفِّذًا لِأَحْكَامِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَيَقْتُلُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ، وَيَجْعَلُ اللَّهُ هَلَاكَ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ بِبَرَكَةِ دُعَائِهِ، فَأَخْبَرَ بِمَا أَعْلَمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْر [[في م: "مليكة".]] حَدَّثَنَا عُبيد اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيط [[في أ: "عبد الله بن زياد بن لقيط".]] قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ السَّاعَةِ فَقَالَ: "عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي لَا يُجَلِّيها لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ، وَلَكِنْ سَأُخْبِرُكُمْ [[في ك، م: "أخبركم".]] بِمَشَارِيطِهَا، وَمَا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْهَا: إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا فِتْنَةً وَهَرْجًا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْفِتْنَةُ قَدْ عَرَفْنَاهَا، فَالْهَرْجُ مَا هُوَ؟ قَالَ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ: "الْقَتْلُ". قَالَ [[في م: "وقال".]] وَيُلقَى بَيْنَ النَّاسِ التَّنَاكرُ، فَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يَعْرِفُ أَحَدًا" [[المسند (٥/٣٨٩) قال الهيثمي في المجمع (٧/٣٠٩) : "رجاله رجال الصحيح".]] لَمْ يَرَوِهِ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ الْكُتُبِ السِّتَّةِ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
وَقَالَ وَكِيع: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَا يَزَالُ يَذْكُرُ مِنْ شَأْنِ [[في أ: "أمر".]] السَّاعَةِ حَتَّى نَزَلَتْ: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا﴾ الْآيَةَ [النَّازِعَاتِ:٤٢] .
وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، بِهِ [[سنن النسائي الكبرى برقم (١١٦٤٥) .]] وَهَذَا إِسْنَادٌ جَيِّدٌ قَوِيٌّ.
فَهَذَا النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ سَيِّدُ الرُّسُلِ وَخَاتَمُهُمْ [مُحَمَّدٌ] [[زيادة من م، أ.]] صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَامُهُ [[في م:" صلى الله عليه وسلم "]] نَبِيُّ الرَّحْمَةِ، وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ، وَنَبِيُّ الْمَلْحَمَةِ، وَالْعَاقِبُ والمُقَفَّي، وَالْحَاشِرُ الَّذِي تُحْشَرُ [[في أ: "يحشر".]] النَّاسُ عَلَى قَدَمَيْهِ، مَعَ قَوْلِهِ فِيمَا ثَبَتَ عَنْهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: "بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ" [[أما حديث أنس بن مالك:
فأخرجه البخاري في صحيحه برقم (٦٥٠٤) ومسلم في صحيحه برقم (٢٩٥١) .
وأما حديث سهل بن سعد:
فأخرجه البخاري في صحيحه برقم (٤٩٣٦) ومسلم في صحيحه برقم (٢٩٥٠) .]] وَقَرَنَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالَّتِي تَلِيهَا. وَمَعَ هَذَا كُلِّهِ، قَدْ أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَرُد عِلْمَ وَقْتِ السَّاعَةِ إِلَيْهِ إِذَا سُئِلَ عَنْهَا، فَقَالَ: ﴿قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾
قُل لَّآ أَمْلِكُ لِنَفْسِى نَفْعًۭا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ لَٱسْتَكْثَرْتُ مِنَ ٱلْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِىَ ٱلسُّوٓءُ ۚ إِنْ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٌۭ وَبَشِيرٌۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ
Say, "I hold not for myself [the power of] benefit or harm, except what Allah has willed. And if I knew the unseen, I could have acquired much wealth, and no harm would have touched me. I am not except a warner and a bringer of good tidings to a people who believe."
کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو الله چاہے اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں
بگو: «من مالک سود و زیان خویش نیستم، مگر آنچه را خدا بخواهد؛ (و از غیب و اسرار نهان نیز خبر ندارم، مگر آنچه خداوند اراده کند؛) و اگر از غیب باخبر بودم، سود فراوانی برای خود فراهم میکردم، و هیچ بدی (و زیانی) به من نمیرسید؛ من فقط بیمدهنده و بشارتدهندهام برای گروهی که ایمان میآورند! (و آماده پذیرش حقند)
Tafsir Ibn Kathir
Say : "I possess no power over benefit or harm to myself except as Allah wills. If I had the knowledge of the Ghayb (Unseen), I should have secured for myself an abundance of wealth, and no evil should have touched me. I am but a warner, and a bringer of glad tidings unto people who believe. (188)
The Messenger (ﷺ) does not know the Unseen, and He cannot bring Benefit or Harm even to Himself
Allah commanded His Prophet ﷺ to entrust all matters to Him and to inform, about himself, that he does not know the unseen future, but he knows of it only what Allah informs him. Allah said in another Ayah,
عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا
((He Alone is) the All-Knower of the Ghayb (Unseen), and He reveals to none His Ghayb.)[72:26]
Ad-Dahhak reported that Ibn 'Abbas said that,
وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ
(If I had the knowledge of the Ghayb (Unseen), I should have secured for myself an abundance of wealth.) refers to money. In another narration, Ibn 'Abbas commented, "I would have knowledge of how much profit I would make with what I buy, and I would always sell what I would make profit from,
وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ
("and no evil should have touched me.") and poverty would never touch me." Ibn Jarir said, "And others said, 'This means that if I know the Unseen then I would prepare for the years of famine during the prosperous years, and in the time of high cost, I would have prepared for it.'" 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam also commented on this Ayah;
وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ
("and no evil should have touched me."), "I would have avoided and saved myself from any type of harm before it comes." Allah then stated that the Prophet ﷺ is a warner and bearer of good news. He warns against the torment and brings good news of Paradise for the believers,
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا
(So We have made this (the Qur'an) easy on your tongue, only that you may give glad tidings to the pious, and warn with it the most quarrelsome of people.)[19:97]
Tafsir Ibn Kathir
نبی ﷺ کو علم غیب نہیں تھا اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ آپ تمام کام سپرد الہ کریں اور صاف کہہ دیں کہ غیب کی کسی بات کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف وہ جانتا ہوں جو اللہ تعالیٰ مجھے معلوم کرا دے۔ جیسے سورة جن میں ہے کہ عالم الغیب اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ اپنے غیب پر کسی کو آگاہ نہیں کرتا۔ مجھے اگر غیب کی اطلاع ہوتی تو میں اپنے لئے بہت سی بھلائیاں سمیٹ لیتا۔ مجاہد سے مروی ہے کہ اگر مجھے اپنی موت کا علم ہوتا تو نیکیوں میں بھی سبقت لے جاتا۔ لیکن یہ قول غور طلب ہے کیونکہ حضور کے اعمال دائمی تھے جو نیکی ایک بار کرتے پھر اسے معمول بنالیتے۔ ساری زندگی اور زندگی کا ہر ایک دن بلکہ ہر ایک گھڑی ایک ہی طرح کی تھی۔ گویا کہ آپ کی نگاہیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف لگتی رہتی تھیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ بات یوں ہوسکتی ہے کہ دوسروں کو میں ان کی موت کے وقت سے خبردار کر کے انہیں اعمال نیک کی رغبت دلاتا واللہ اعلم۔ اس سے زیادہ اچھا قول اس کی تفسیر میں حضرت ابن عباس کا ہے کہ میں مال جمع کرلیتا مجھے معلوم ہوجاتا کہ اس چیز کے خریدنے میں نفع ہے میں اسے خرید لیتا۔ جانتا کہ اس کی خریداری میں نقصان ہے نہ خریدتا۔ خشک سالی کے لئے ترسالی میں ذخیرہ جمع کرلیتا۔ ارزانی کے وقت گرانیے علم سے سودا جمع کرلیتا۔ کبھی کوئی برائی مجھے نہ پہنچتی کیونکہ میں علم غیب سے جان لیتا کہ یہ برائی ہے تو میں پہلے سے ہی اس سے جتن کرلیتا۔ لیکن میں علم غیب نہیں جانتا اس لئے فقیری بھی مجھ پر آتی ہے تکلیف بھی ہوتی ہے۔ مجھ میں تم یہ وصف نہ مانو۔ سنو مجھ میں وصف یہ ہے کہ میں برے لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈراتا ہوں ایمانداروں کو جنت کی خوش خبری سناتا ہوں جیسے فرمان ہے آیت (فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِيْنَ وَتُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا 97) 19۔ مریم :97) ہم نے اسے تیری زبان پر آسان کردیا ہے کہ تو پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور بروں کو ڈرا دے۔
Tafsir Ibn Kathir
أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يُفَوِّضَ الْأُمُورَ إِلَيْهِ، وَأَنْ يُخْبِرَ عَنْ نَفْسِهِ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ، وَلَا اطِّلَاعَ لَهُ عَلَى شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ إِلَّا بِمَا أَطْلَعَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿عَالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا. [إِلا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا] ﴾ [الْجِنِّ:٢٦، ٢٧] [[زيادة من م، أ.]] وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ﴾ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ. ﴿وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ﴾ قَالَ: لَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ مَتَى أَمُوتُ، لَعَمِلْتُ عَمَلًا صَالِحًا.
وَكَذَلِكَ رَوَى ابْنُ أَبِي نجِيح عَنْ مُجَاهِدٍ: وَقَالَ مِثْلَهُ ابْنُ جُرَيْج.
وَفِيهِ نَظَرٌ؛ لِأَنَّ عَمَلَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ كَانَ دَيمة. وَفِي رِوَايَةٍ: كَانَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ [[رواه مسلم في صحيحه برقم (٧٨٣) من حديث عائشة، رضي الله عنها.]]
فَجَمِيعُ عَمَلِهِ كَانَ عَلَى مِنْوَالٍ وَاحِدٍ، كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَى اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، فِي جَمِيعِ أَحْوَالِهِ، اللَّهُمَّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ المرادُ أَنْ يُرْشِدَ غَيْرَهُ إِلَى الِاسْتِعْدَادِ لِذَلِكَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَالْأَحْسَنُ فِي هَذَا مَا رَوَاهُ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ﴾ أَيْ: مِنَ الْمَالِ. وَفِي رِوَايَةٍ: لَعَلِمْتُ إِذَا اشْتَرَيْتُ شَيْئًا مَا [[في م: "مما".]] أَرْبَحُ فِيهِ، فَلَا أَبِيعُ شَيْئًا إِلَّا رَبِحْتُ فِيهِ، وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ، قَالَ: وَلَا يُصِيبُنِي الْفَقْرُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَقَالَ آخَرُونَ: مَعْنَى ذَلِكَ: لَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَأَعْدَدْتُ لِلسَّنَةِ الْمُجْدِبَةِ مِنَ الْمُخْصِبَةِ، وَلَعَرَفْتُ [[في أ: "ولوقت".]] الغَلاء مِنَ الرُّخْصِ، فَاسْتَعْدَدْتُ لَهُ مِنَ الرُّخْصِ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: ﴿وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ﴾ قَالَ: لَاجْتَنَبْتُ مَا يَكُونُ مِنَ الشَّرِّ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ، وَاتَّقَيْتُهُ.
ثُمَّ أَخْبَرَ أَنَّهُ إِنَّمَا هُوَ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ، أَيْ: نَذِيرٌ مِنَ الْعَذَابِ، وَبَشِيرٌ لِلْمُؤْمِنِينَ بِالْجَنَّاتِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْمًا لُدًّا﴾ [مَرْيَمَ:٩٧]
۞ هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍۢ وَٰحِدَةٍۢ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا ۖ فَلَمَّا تَغَشَّىٰهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًۭا فَمَرَّتْ بِهِۦ ۖ فَلَمَّآ أَثْقَلَت دَّعَوَا ٱللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ ءَاتَيْتَنَا صَٰلِحًۭا لَّنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ
It is He who created you from one soul and created from it its mate that he might dwell in security with her. And when he covers her, she carries a light burden and continues therein. And when it becomes heavy, they both invoke Allah, their Lord, "If You should give us a good [child], we will surely be among the grateful."
وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر جب کچھ بوجھ معلوم کرتی یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا ہے تو دونوں میاں بیوی اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دے گا تو ہم تیرے شکر گذار ہوں گے
او خدایی است که (همه) شما را از یک فرد آفرید؛ و همسرش را نیز از جنس او قرار داد، تا در کنار او بیاساید. سپس هنگامی که با او آمیزش کرد، حملی سبک برداشت، که با وجود آن، به کارهای خود ادامه میداد؛ و چون سنگین شد، هر دو از خداوند و پروردگار خود خواستند «اگر فرزند صالحی به ما دهی، از شاکران خواهیم بود!»
Tafsir Ibn Kathir
It is He Who has created you from a single person, and (then) He has created from him his wife, in order that he might enjoy the pleasure of living with her. When he covered [had sexual relation with] her, she became pregnant and she carried it about (lightly). Then when it became heavy, they both invoked Allah, their Lord (saying): "If You give us a Salih (good in every aspect) child, we shall indeed be among the grateful. (189)But when He gave them a Salih child, they ascribed partners to Him (Allah) in that which He has given to them. High be Allah, Exalted above all that they ascribe as partners to Him (190)
All Mankind are the Offspring of Adam
Allah states that He has created all mankind from Adam, peace be upon him, and from Adam, He created his wife, Hawwa' and from them, people started to spread. Allah said in another Ayah,
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ
(O mankind! We have created you from a male and a female, and made you into nations and tribes, that you may know one another. Verily, the most honorable of you with Allah is that (believer) who has Taqwa)[49:13], and,
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا
(O mankind! Have Taqwa of your Lord, Who created you from a single person, and from him He created his wife.)[4:1]
In this honorable Ayah, Allah said;
وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا
(And (then) He has created from him his wife, in order that he might enjoy the pleasure of living with her.) so that he is intimate and compassionate with her. Allah said in another Ayah,
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً
(And among His Signs is this, that He created for you wives (spouses) from among yourselves, that you may find repose in them, and He has put between you affection and mercy.)[30:21]
Indeed, there is no intimacy between two souls like that between the spouses. This is why Allah mentioned that the sorcerer might be able with his trick to separate between a man and his wife [thus indicating the difficulty of separating them in normal circumstances]. Allah said next,
فَلَمَّا تَغَشَّاهَا
(When he covered her) meaning had sexual intercourses with her.
حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا
(she became pregnant and she carried it about lightly) in reference to the first stage of pregnancy when the woman does not feel pain, for at that time, the fetus will be just a Nutfah (the mixture of the male and female discharge), then becomes an 'Alaqah (a piece of thick coagulated blood) and then a Mudghah (a small lump of flesh). Allah said next,
فَمَرَّتْ بِهِ
(and she carried it about), she continued the pregnancy, according to Mujahid. It was reported that Al-Hasan, Ibrahim An-Nakha'i and As-Suddi said similarly. Maymun bin Mahran reported that his father said, "She found the pregnancy unnoticeable." Ayyub said, "I asked Al-Hasan about the Ayah,
فَمَرَّتْ بِهِ
(and she carried it about) and he said, 'Had you been an Arab, you would know what it means! It means that she continued the pregnancy [through its various stages].'" Qatadah said,
فَمَرَّتْ بِهِ
(and she carried it about (lightly).), means, it became clear that she was pregnant. Ibn Jarir commented, "This Ayah means that the liquid remained, whether she stood up or sat down." Al-'Awfi recorded that Ibn 'Abbas said, "The semen remained in, but she was unsure if she became pregnant or not,
فَلَمَّا أَثْقَلَت
(Then when it became heavy), she became heavier with the fetus", As-Suddi said, "The fetus grew in her womb."
دَّعَوَا اللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا
(they both invoked Allah, their Lord (saying): "If You give us a Salih child,) if he is born human in every respect. Ad-Dahhak said that Ibn 'Abbas commented, "They feared that their child might be born in the shape of an animal!" while Abu Al-Bakhtri and Abu Malik commented, "They feared that their newborn might not be human." Al-Hasan Al-Basri also commented, "If You (Allah) give us a boy."
لَّنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ - فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا فَتَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
(we shall indeed be among the grateful. But when He gave them a Salih child, they ascribed partners to Him (Allah) in that which He has given to them. High be Allah, Exalted above all that they ascribe as partners to Him.)[7:189-190]
Ibn Jarir recorded that Al-Hasan commented on this part of the Ayah,
جَعَلَا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا
(they ascribed partners to Him (Allah) in that which He has given to them)
"This occurred by followers of some religion, not from Adam [or Hawwa']."
Al-Hasan also said, "This Ayah refers to those among the offspring of Adam who fell into Shirk,
جَعَلَا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا
(they ascribed partners to Him (Allah) in that which He has given to them.)"
Qatadah said, "Al-Hasan used to say that it refers to the Jews and Christians. Allah gave them children, and they turned them into Jews and Christians."
The explanations from Al-Hasan have authentic chains of narration leading to him, and certainly, it is one of the best interpretations. This Ayah should therefore be understood this way, for it is apparent that it does not refer to Adam and Hawa', but about the idolators among their offspring. Allah mentioned the person first [Adam and Hawwa'] and then continued to mention the species [mankind, many of whom committed Shirk]. There are similar cases in the Qur'an. For cases, Allah said
وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ
(And indeed We have adorned the nearest heaven with lamps)[67:5]
It is well-known that the stars that were made as lamps in the sky are not the same as the shooting missiles that are thrown at the devils [mentioned later in the Ayah]. There are similar instances in the Qur'an. Allah knows best.
Tafsir Ibn Kathir
ایک ہی باپ ایک ہی ماں اور تمام نسل آدم تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے صرف حضرت آدم ؑ سے ہی پیدا کیا۔ انہی سے ان کی بیوی حضرت حوا کو پیدا کیا پھر ان دونوں سے نسل انسان جاری کی۔ جیسے فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ 13) 49۔ الحجرات :13) لوگو ہم نے تمہیں ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے پھر تمہارے کنبے اور قبیلے بنا دیئے تاکہ آپس میں ایک وسرے کو پہچانتے رہو۔ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ ذی عزت وہ ہے جو پرہیزگاری میں سب سے آگے ہے۔ سورة نساء کے شروع میں ہے اے لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک ہی شخص یعنی حضرت آدم سے پیدا کیا ہے انہی سے ان کی بیوی کو پیدا کیا پھر ان دونوں میاں بیوی سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے۔ یہاں فرماتا ہے کہ انہی سے ان کی بیوی کو بنایا تاکہ یہ آرام اٹھائیں چناچہ ایک اور آیت میں ہے (لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمتہ) لوگو یہ بھی اللہ کی ایک مہربانی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں بنادیں تاکہ تم ان سے سکون و آرام حاصل کرو اور اس نے تم میں باہم محبت و الفت پیدا کردی۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے چاہت ہے جو میاں بیوی میں وہ پیدا کردیتا ہے۔ اسی لئے جادوگروں کی برائی بیان کرتے ہوئے قرآن نے فرمایا کہ وہ اپنی مکاریوں سے میاں بیوی میں جدائی ڈلوا دیتے ہیں۔ عورت مرد کے ملنے سے بحکم الٰہی عورت کو حمل ٹھہر جاتا ہے جب تک وہ نطفے، خون اور لوتھڑے کی شکل میں ہوتا ہے ہلکا سا رہتا ہے وہ برابر اپنے کام کاج میں آمد و رفت میں لگی رہتی ہے کوئی ایسی زیادہ تکلیف اور بار نہیں معلوم ہوتا اور اندر ہی اندر وہ برابر بڑھتا رہتا ہے اسے تو یونہی سا کچھ وہم کبھی ہوتا ہے کہ شاید کچھ ہو۔ کچھ وقت یونہی گذر جانے کے بعد بوجھ معلوم ہونے لگتا ہے حمل ظاہر ہوجاتا ہے بچہ پیٹ میں بڑا ہوجاتا ہے طبیعت تھکنے لگتی ہے اب ماں باپ دونوں اللہ سے دعائیں کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہ ہمیں صحیح سالم بیٹا عطا فرمائے تو ہم شکر گذاری کریں گے۔ ڈر لگتا ہے کہ کہیں کچھ اور بات نہ ہوجائے۔ اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرمائی اور صحیح سالم انسانی شکل و صورت کا بچہ عطا فرمایا تو اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ مفسرین نے اس جگہ بہت سے آثار و احادیث بیان کئے ہیں جنہیں میں یہاں نقل کرتا ہوں اور ان میں جو بات ہے وہ بھی بیان کروں گا پھر جو بات صحیح ہے اسے بتاؤں گا ان شاء اللہ۔ مسند احمد میں ہے کہ جب حضرت حوا کو اولاد ہوئی تو ابلیس گھومنے لگا ان کے بچے زندہ نہیں رہتے تھے شیطان نے سیکھایا کہ اب اس کا نام عبدالحارث رکھ دے تو یہ زندہ رہے گا چناچہ انہوں نے یہی کیا اور یہی ہوا اور اصل میں یہ شیطانی حرکت تھی اور اسی کا حکم تھا۔ امام ترمذی نے بھی اسے وارد کیا ہے پھر فرمایا ہے حسن غریب ہے، میں کہتا ہوں اس حدیث میں تین علتیں ہیں ایک تو یہ کہ اس کے ایک راوی عمر بن ابراہیم مصری کی بابت امام ابو حاتم رازی ؒ فرماتے ہیں کہ یہ راوی ایسا نہیں کہ اس سے حجت پکڑی جائے گو امام ابن معین نے اس کی توثیق کی ہے لیکن ابن مردویہ نے اسے معمر سے اس نے اپنے باپ سے اس نے سمرہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے واللہ اعلم دوسرے یہ کہ یہی روایت موقوفاً حضرت سمرہ کے اپنے قول سے مروی ہوئی ہے جو کہ مرفوع نہیں ابن جرید میں خود حضرت عمرہ بن جندب کا اپنا فرمان ہے کہ حضرت آدم نے اپنے لڑکے کا نام عبدالحارث رکھا۔ تیسرے اس آیت کی تفسیر اس کے راوی حضرت حسن سے بھی اس کے علاوہ بھی مروی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ مرفوع حدیث ان کی روایت کردہ ہوتی تو یہ خود اس کے خلاف تفسیر نہ کرتے۔ چناچہ ابن جرید میں ہے حضرت حسن فرماتے ہیں یہ حضرت آدم کا واقعہ نہیں بلکہ بعض مذاہب والوں کا واقعہ ہے اور روایت میں آپ کا یہ فرمان منقول ہے کہ اس سے مراد بعض مشرک انسان ہیں جو ایسا کرتے ہیں، فرماتے ہیں کہ یہ یہود و نصاریٰ کا فعل بیان ہوا ہے کہ اپنی اولادوں کو اپنی روش پر ڈال لیتے ہیں۔ یہ سب اسنادیں حضرت حسن تک بالکل صحیح ہیں اور اس آیت کو جو کچھ تفسیر کی گئی ہے اس میں سب سے بہتر تفسیر یہی ہے۔ خیر مقصد یہ تھا کہ اتنا بڑا متقی اور پرہیزگار آدمی ایک آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث قول پیغمبر روایت کرے پھر اس کے خلاف خود تفسیر کرے یہ بالکل ان ہونی بات ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حدیث مرفوع نہیں بلکہ وہ حضرت سمرہ کا اپنا قول ہے۔ اس کے بعد یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ حضرت سمرہ نے اسے ہل کتاب سے ماخوذ کیا ہو جیسے کعب و ہب وغیرہ جو مسلمان ہوگئے تھے انشاء اللہ اس کا بیان بھی عنقریب ہوگا بہر صورت اس روایت کا مرفوع ہونا ہم تسلیم نہیں کرتے واللہ اعلم۔ اب اور آثار جو اس بارے میں ہیں انہیں سنئے۔ ابن عباس کہتے ہیں حضرت حوا کے جو بچے پیدا ہوتے تھے ان کا نام عبداللہ عبید اللہ وغیرہ رکھتی تھیں وہ بچے فوت ہوجاتے تھے پھر ان کے پاس ابلیس آیا اور کہا اگر تم کوئی اور نام رکھو تو تمہارے بچے زندہ رہیں گے چناچہ ان دونوں نے یہی کیا جو بچہ پیدا ہوا اس کا نام عبدالحارث رکھا اس کا بیان ان آیتوں میں ہے اور روایت میں ہے کہ ان کے دو بجے اس سے پہلے مرچکے تھے اب حالت حمل میں شیطان ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تمہیں معلوم بھی ہے کہ تمہارے پیٹ میں کیا ہے ؟ ممکن ہے کوئی جانور ہی ہو ممکن ہے صحیح سالم نہ پیدا ہو ممکن ہے اگلوں کی طرح یہ بھی مرجائے تم میری مان لو اور اب جو بچہ پیدا ہو اس کا نام میرے نام پر رکھو تو انسان ہوگا صحیح سالم ہوگا زندہ رہے گا یہ بھی اس کے بہکاوے میں آگئے اور عبدالحارث نام رکھا۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے اور روایت میں ہے کہ پہلی دفعہ حمل کے وقت یہ آیا اور انہیں ڈرایا کہ میں وہی ہوں جس نے تمہیں جنت سے نکلویا اب یا تم میری اطاعت کرو۔ ورنہ میں اسے یہ کر ڈالوں گا وہ کر ڈالوں گا وغیرہ ہرچند ڈرایا مگر انہوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔ اللہ کی شان وہ بچہ مردہ پیدا ہوا دوبارہ حمل ٹھہرا پھر یہ ملعون پہنچا اور اسی طرح خوف زدہ کرنے لگا اب بھی انہوں نے اس کی اطاعت نہ کی چناچہ یہ دوسرا بچہ بھی مردہ ہوا۔ تیسرے حمل کے وقت یہ خبیث پھر آیا اب کی مرتبہ اولاد کی محبت میں آ کر انہوں نے اس کی مان لی اور اس کا نام عبدالحارث رکھا اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ ابن عباس سے اس اثر کو لے کر ان کے شاگردوں کی ایک جماعت نے بھی یہی کہا ہے جیسے حضرت مجاہد حضرت سعید بن جبیر حضرت عکرمہ اور دوسرے طبقے میں سے قتادہ سدی وغیرہ اسی طرح سلف سے خلف تک بہت سے مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہی کہا ہے۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ اثر اہل کتاب سے لیا گیا ہے۔ اس کی بڑی دلیل یہ ہے کہ ابن عباس اسے ابی ابن کعب سے روایت کرتے ہیں جیسے کہ ابن ابی ہاتم میں ہے پس ظاہر ہے کہ یہ اہل کتاب کے آثار سے ہے۔ جن کی بابت رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ ان کی باتوں کو نہ سچی کہو نہ جھوٹی۔ ان کی روایتیں تین طرح کی ہیں۔ ایک تو وہ جن کی صحت ہمارے ہاں کسی آیت یا حدیث سے ہوتی ہے۔ ایک وہ جن کی تکذیب کسی آیت یا حدیث سے ہوتی ہو۔ ایک وہ جس کی بابت کوئی ایسا فیصلہ ہمارے دین میں نہ ملے تو بقول حضور ﷺ اس روایت کے بیان میں تو کوئی حرج نہیں لیکن تصدیق تکذیب جائز نہیں۔ میرے نزدیک تو یہ اثر دوسری قسم کا ہے یعنی ماننے کے قابل نہیں اور جن صحابہ اور تابعین سے یہ مروی ہے انہوں نے اسے تیسری قسم کا اپنی اولاد کے معاملے میں اللہ کے ساتھ کرنے کا بیان ان آیتوں میں ہے نہ کہ حضرت امام حسن بصری ؒ فرماتے ہیں کہ مشرکوں کا اپنی اولاد کے معاملے میں اللہ کے ساتھ کرنے کا بیان ان آیتوں میں ہے نہ کہ حضرت آدم و حوا کا۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ اس شرک سے اور ان کے شریک ٹھہرانے سے بلند وبالا ہے ان آیتوں میں یہ ذکر اور ان سے پہلے آدم و حوا کا ذکر مثل تمہید کے ہے کہ ان اصلی ماں باپ کا ذکر کر کے پھر اور ماں باپوں کا ذکر ہوا اور ان ہی کا شرک بیان ہوا۔ ذکر شخص سے ذکر جنس کی طرف استطراد کے طور پر جیسے آیت (ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیع) میں ہے یعنی ہم نے دنیا کے آسمان کو ستاروں سے زینت دی اور انہیں شیطانوں پر انگارے برسانے والا بنایا اور یہ ظاہر ہے کہ جو ستارے زینت کے ہیں وہ جھڑتے نہیں ان سے شیطانوں کو مار نہیں پڑتی۔ یہاں بھی استطراد تاروں کی شخصیت سے تاروں کی جنس کی طرف ہے اس کی اور بھی بہت سی مثالیں قرآن کریم میں موجود ہیں، واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
يُنَبِّهُ تَعَالَى عَلَى أَنَّهُ خَلَقَ جَمِيعَ النَّاسِ مِنْ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَنَّهُ خَلَقَ مِنْهُ زَوْجَهُ [[في د: "زوجته".]] حَوَّاءَ، ثُمَّ انْتَشَرَ النَّاسُ مِنْهُمَا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾ [الْحُجُرَاتِ:١٣] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا [وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالا كَثِيرًا وَنِسَاءً] [[زيادة من م، أ.]] ﴾ الْآيَةَ [النِّسَاءِ:١] .
وَقَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ: ﴿وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا﴾ أَيْ: لِيَأْلَفَهَا وَيَسْكُنَ بِهَا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾ [الرُّومِ:٢١] فَلَا أُلْفَةَ بَيْنَ زَوْجين أَعْظَمُ مِمَّا بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ؛ وَلِهَذَا ذَكَرَ تَعَالَى أَنَّ السَّاحِرَ رُبَّمَا تَوَصَّلَ بِكَيْدِهِ إِلَى التَّفْرِقَةِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ.
﴿فَلَمَّا تَغَشَّاهَا﴾ أَيْ: وَطِئَهَا ﴿حَمَلَتْ حَمْلا خَفِيفًا﴾ وَذَلِكَ أَوَّلُ الْحَمْلِ، لَا تَجِدُ الْمَرْأَةُ لَهُ أَلَمًا، إِنَّمَا هِيَ النُّطفة، ثُمَّ العَلَقة، ثُمَّ المُضغة.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَمَرَّتْ بِهِ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ: اسْتَمَرَّتْ بِحَمْلِهِ. وَرُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعَي، والسُّدِّي، نَحْوُهُ.
وَقَالَ مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ: عَنْ أَبِيهِ اسْتَخَفَّتْهُ.
وَقَالَ أَيُّوبُ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ عَنْ قَوْلِهِ: ﴿فَمَرَّتْ بِهِ﴾ قَالَ: لَوْ كُنْتَ رَجُلًا عَرَبِيًّا لَعَرَفْتَ مَا هِيَ. إِنَّمَا هِيَ: فَاسْتَمَرَّتْ بِهِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: ﴿فَمَرَّتْ بِهِ﴾ وَاسْتَبَانَ حَمْلُهَا.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: [مَعْنَاهُ] [[زيادة من أ.]] اسْتَمَرَّتْ بِالْمَاءِ، قَامَتْ بِهِ وَقَعَدَتْ.
وَقَالَ العَوْفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: اسْتَمَرَّتْ بِهِ، فَشَكَّتْ: أَحَمَلَتْ [[في د، ك، م، أ: "أحبلت".]] أَمْ لَا.
﴿فَلَمَّا أَثْقَلَتْ﴾ أَيْ: صَارَتْ ذَاتَ ثِقَلٍ [[في م: "أثقل".]] بِحَمْلِهَا.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: كَبِرَ الْوَلَدُ فِي بَطْنِهَا.
﴿دَعَوَا اللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا﴾ أَيْ: بَشَرًا سَوِيًّا، كَمَا قَالَ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَشْفَقَا أَنْ يَكُونَ بَهِيمَةً.
وَكَذَلِكَ [[في أ: "وكذا".]] قَالَ أَبُو البَخْتري وَأَبُو مَالِكٍ: أَشْفَقَا أَلَّا يَكُونَ إِنْسَانًا.
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: لَئِنْ آتَيْتِنَا غُلَامًا.
﴿لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ. فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحًا جَعَلا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا فَتَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ ذَكَرَ الْمُفَسِّرُونَ هَاهُنَا آثَارًا وَأَحَادِيثَ سَأُورِدُهَا وَأُبَيِّنُ مَا فِيهَا، ثُمَّ نُتْبِعُ ذَلِكَ بَيَانَ الصَّحِيحِ فِي ذَلِكَ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَبِهِ الثِّقَةُ.
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سُمْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ [[في د: "رسول الله".]] ﷺ قَالَ: "وَلَمَّا وَلَدَتْ حَوَّاءُ طَافَ بِهَا إِبْلِيسُ -وَكَانَ لَا يَعِيشُ لَهَا وَلَدٌ -فَقَالَ: سَمِّيهِ عَبْدَ الْحَارِثِ؛ فَإِنَّهُ يَعِيشُ، فَسَمَّتْهُ عَبْدَ الْحَارِثِ، فَعَاشَ وَكَانَ ذلك من وحي الشَّيْطَانِ وَأَمْرِهِ".
وَهَكَذَا رَوَاهُ [[في أ: "وروي".]] ابْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، بُنْدَار، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، بِهِ.
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ فِي تَفْسِيرِهِ [[في د، ك، م، أ: "تفسير".]] هَذِهِ الْآيَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمَثْنَى، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ، بِهِ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
وَرَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي مُسْتَدْرَكِهِ، مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ مَرْفُوعًا ثُمَّ قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ.
وَرَوَاهُ الْإِمَامُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ فِي تَفْسِيرِهِ، عَنْ أَبِي زُرْعَة الرَّازِيِّ، عَنْ هِلَالِ بْنِ فَيَّاضٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، بِهِ مَرْفُوعًا.
وَكَذَا رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرِ بْنُ مَرْدويه فِي تَفْسِيرِهِ مِنْ حَدِيثِ شَاذِّ بْنِ فَيَّاضٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، بِهِ مَرْفُوعًا [[المسند (٥/١١) وتفسير الطبري (١٣/٣٠٩) ، وسنن الترمذي برقم (٣٠٧٧) ، والمستدرك (٢/٥٤٥) .]]
قُلْتُ: "وَشَاذٌّ" [هَذَا] [[زيادة من أ.]] هُوَ: هِلَالٌ، وَشَاذٌّ لَقَبُهُ. وَالْغَرَضُ أَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ مَعْلُولٌ مِنْ ثَلَاثَةِ أَوْجُهٍ:
أَحَدُهَا: أَنَّ عُمَرَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ هَذَا هُوَ الْبَصْرِيُّ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَلَكِنْ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ: لَا يُحْتَجُّ بِهِ. وَلَكِنْ رَوَاهُ ابْنُ مَرْدَوَيْهِ مِنْ حَدِيثِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سُمْرَةَ [[في أ: "حمزة".]] مَرْفُوعًا فَاللَّهُ أَعْلَمُ.
الثَّانِي: أَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ قَوْلِ سُمْرَةَ نَفْسِهِ، لَيْسَ مَرْفُوعًا، كَمَا قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ. وَحَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ [[في د، ك، م: "بكر بن عبد الله".]] عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ سَمْرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: سَمَّى آدَمُ ابْنَهُ "عَبْدَ الْحَارِثِ".
الثَّالِثُ: أَنَّ الْحَسَنَ نَفْسَهُ فَسَّرَ الْآيَةَ بِغَيْرِ هَذَا، فَلَوْ كَانَ هَذَا عِنْدَهُ عَنْ سُمْرَةَ مَرْفُوعًا، لَمَا عَدَلَ عَنْهُ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَكِيع، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْحَسَنِ: ﴿جَعَلا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا﴾ قَالَ: كَانَ هَذَا فِي بَعْضِ أَهْلِ الْمِلَلِ، وَلَمْ يَكُنْ بِآدَمَ [[تفسير الطبري (١٣/٣١٤) .]]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ: عَنَى بِهَا ذَرِّيَّةَ آدَمَ، وَمَنْ أَشْرَكَ مِنْهُمْ بَعْدَهُ -يَعْنِي: [قَوْلَهُ] [[زيادة من ك، م، أ.]] ﴿جَعَلا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا﴾ [[تفسير الطبري (١٣/٣١٤) .]] وَحَدَّثَنَا بِشْرٌ [[في أ: "بشير".]] حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: كَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ: هُمُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، رَزَقَهُمُ اللَّهُ أَوْلَادًا، فَهَوَّدُوا ونَصَّروا [[تفسير الطبري (١٣/٣١٥) .]]
وَهَذِهِ أَسَانِيدُ صَحِيحَةٌ عَنِ الْحَسَنِ، رَحِمَهُ اللَّهُ، أَنَّهُ فَسَّرَ الْآيَةَ بِذَلِكَ، وَهُوَ مِنْ أَحْسَنِ التَّفَاسِيرِ وَأَوْلَى مَا حُمِلَتْ [[في أ: "ما دلت".]] عَلَيْهِ الْآيَةُ، وَلَوْ كَانَ هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدَهُ مَحْفُوظًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، لَمَا عَدَلَ عَنْهُ هُوَ وَلَا غَيْرُهُ، وَلَا سِيَّمَا مَعَ تَقْوَاهُ لِلَّهِ وَوَرَعه، فَهَذَا يَدُلُّكَ عَلَى أَنَّهُ مَوْقُوفٌ عَلَى الصَّحَابِيِّ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ تَلَقَّاهُ مِنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ، مَنْ آمَنُ مِنْهُمْ، مِثْلِ: كَعْبٍ أَوْ وَهْبِ بْنِ مُنَبّه وَغَيْرِهِمَا، كَمَا سَيَأْتِي بَيَانُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من م.]] إِلَّا أَنَّنَا بَرِئْنَا مِنْ عُهْدَةِ الْمَرْفُوعِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
فَأَمَّا [[في د، م: "وأما".]] الْآثَارُ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الحُصَين، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ حَوَّاءُ تَلِدُ لِآدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَوْلَادًا فَيُعَبِّدُهُمْ لِلَّهِ ويُسَمّيه: "عَبْدَ اللَّهِ" وَ"عُبَيْدَ اللَّهِ"، وَنَحْوَ ذَلِكَ، فَيُصِيبُهُمُ الموت فأتاهما إِبْلِيسُ وَآدَمَ فَقَالَ: إِنَّكُمَا لَوْ تُسَمِّيَانِهِ بِغَيْرِ الَّذِي تُسميانه بِهِ لَعَاشَ [[في ك: "فعاش".]] قَالَ: فَوَلَدَتْ لَهُ رَجُلًا [[في أ: "ولدا".]] فَسَمَّاهُ "عَبْدَ الْحَارِثِ"، فَفِيهِ أَنْزَلَ اللَّهُ، يَقُولُ اللَّهُ: ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿جَعَلا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا﴾ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
وَقَالَ العَوْفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ فِي آدَمَ: ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿فَمَرَّتْ بِهِ﴾ شَكَّت [[في م، أ: "فشكت".]] أحَبَلتْ أَمْ لَا؟ ﴿فَلَمَّا أَثْقَلَتْ دَعَوَا اللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ﴾ فَأَتَاهُمَا الشَّيْطَانُ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرِيَانِ مَا يُولَدُ لَكُمَا؟ أَمْ هَلْ تَدْرِيَانِ مَا يَكُونُ؟ أَبَهِيمَةٌ [[في ك: "بهيمة".]] يَكُونُ أَمْ لَا؟ وزيَّن لَهُمَا الْبَاطِلَ؛ إِنَّهُ غَوِيٌّ مُبِينٌ، وَقَدْ كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ وَلَدَتْ وَلَدَيْنِ فَمَاتَا، فَقَالَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ: إِنَّكُمَا إِنْ لَمْ تُسَمِّيَاهُ بِي، لَمْ يَخْرُجْ سَوِيًّا، وَمَاتَ كَمَا مَاتَ الْأَوَّلَانِ [[في ك، م، أ: "الأول".]] فَسَمَّيَا وَلَدَهُمَا "عَبْدَ الْحَارِثِ"، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ [تَعَالَى] [[زيادة من ك.]] ﴿فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحًا جَعَلا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا﴾ الْآيَةَ.
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحًا جَعَلا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا﴾ قَالَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا فَلَمَّا تَغَشَّاهَا﴾ آدَمُ ﴿حَمَلَتْ [حَمْلا خَفِيفًا] ﴾ [[زيادة من أ.]] فَأَتَاهُمَا إِبْلِيسُ -لَعَنَهُ اللَّهُ -فَقَالَ: إِنَّى صَاحِبُكُمَا الَّذِي أَخْرَجْتُكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ لَتطيعُنِّي أَوْ لأجعلنَّ قَرْنَيْ لَهُ [[في م، ك: "له قرن".]] أَيْلٍ فَيَخْرُجُ مِنْ بَطْنِكِ فَيَشُقُّهُ، ولأفعلنَّ ولأفعلنَّ -يُخَوِّفُهُمَا -فسمِّياه "عَبْدَ الْحَارِثِ" فَأَبَيَا أَنْ يُطِيعَاهُ، فَخَرَجَ مَيِّتًا، ثُمَّ حَمَلَتِ الثَّانِيَةَ، فَأَتَاهُمَا أَيْضًا فَقَالَ: أَنَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي فَعَلْتُ مَا فَعَلْتُ، لتفعلُنَّ أَوْ لأفعلَنَّ -يُخَوِّفُهُمَا -فَأَبَيَا أَنْ يُطِيعَاهُ، فَخَرَجَ مَيِّتًا، ثُمَّ حَمَلَتِ الثَّالِثَةَ فَأَتَاهُمَا أَيْضًا، فَذَكَرَ لَهُمَا، فَأَدْرَكَهُمَا حبُّ الْوَلَدِ، فَسَمَّيَاهُ "عَبْدَ الْحَارِثِ"، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿جَعَلا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا﴾ رواه ابن أبي حاتم.
وَقَدْ تَلْقَى هَذَا الْأَثَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ جَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، كَمُجَاهِدٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعِكْرِمَةَ. وَمِنَ الطَّبَقَةِ الثَّانِيَةِ: قَتَادَةُ، وَالسُّدِّيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ السَّلَفِ وَجَمَاعَةٌ مِنَ الْخَلَفِ، وَمِنَ الْمُفَسِّرِينَ مِنَ الْمُتَأَخِّرِينَ جَمَاعَاتٌ لَا يُحْصَوْنَ كَثْرَةً، وَكَأَنَّهُ -وَاللَّهُ أَعْلَمُ -أَصْلُهُ مَأْخُوذٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَوَاهُ عَنْ أُبي بْنِ كَعْبٍ، كَمَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَمَاهِرِ [[في أ: "أبو الجماهير".]] حَدَّثَنَا سَعِيدٌ -يَعْنِي ابْنَ بَشِيرٍ -عَنْ عُقْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَاسٍ، عَنْ أُبي بْنِ كَعْبٍ قَالَ: لَمَّا حَمَلَتْ حَوَّاءُ أَتَاهَا الشَّيْطَانُ، فَقَالَ [[في م، ك: "قال".]] لَهَا: أَتُطِيعِينِي ويَسْلَم لَكِ وَلَدُكِ؟ سَمِّيهِ "عَبْدَ الْحَارِثِ"، فَلَمْ تفعلْ، فَوَلَدَتْ فَمَاتَ، ثُمَّ حَمَلَتْ فَقَالَ لَهَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَلَمْ تَفْعَلْ. ثُمَّ حَمَلَتِ الثَّالِثَ فَجَاءَهَا فَقَالَ: إِنْ تُطِيعِينِي يَسْلَمْ، وَإِلَّا فَإِنَّهُ يَكُونُ بَهِيمة، فهيَّبهما فَأَطَاعَا.
وَهَذِهِ الْآثَارُ يَظْهَرُ عَلَيْهَا -وَاللَّهُ أَعْلَمُ -أَنَّهَا مِنْ آثَارِ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَقَدْ صَحَّ الْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "إِذَا حَدَّثكم أَهْلُ الْكِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ"، ثُمَّ أَخْبَارُهُمْ عَلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ: فَمِنْهَا: مَا عَلِمْنَا صِحَّتَهُ بِمَا دَلَّ عَلَيْهِ الدَّلِيلُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَوْ سُنَّةِ رَسُولِهِ. وَمِنْهَا مَا عَلِمْنَا كَذِبَهُ، بِمَا دُلَّ عَلَى خِلَافِهِ مِنَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ أَيْضًا. وَمِنْهَا: مَا هُوَ مَسْكُوتٌ عَنْهُ، فَهُوَ الْمَأْذُونُ فِي رِوَايَتِهِ، بِقَوْلِهِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: "حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرج" وَهُوَ الَّذِي لَا يصدَّق وَلَا يُكَذَّبُ، لِقَوْلِهِ: "فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ". وَهَذَا الْأَثَرُ: [هَلْ] [[زيادة من ك، م، أ.]] هُوَ مِنَ الْقِسْمِ الثَّانِي أَوِ الثَّالِثِ؟ فِيهِ نَظَرٌ. فَأَمَّا مَنْ حَدَّثَ بِهِ مِنْ صحَابي أَوْ تَابِعِيٍّ، فَإِنَّهُ يَرَاهُ مِنَ الْقَسَمِ الثَّالِثِ، وَأَمَّا نَحْنُ فَعَلَى مَذْهَبِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، رَحِمَهُ اللَّهُ، فِي هَذَا [وَاللَّهُ أَعْلَمُ] [[زيادة من ك.]] وَأَنَّهُ لَيْسَ الْمُرَادُ مِنْ هَذَا السِّيَاقِ آدَمُ وَحَوَّاءُ، وَإِنَّمَا الْمُرَادُ مِنْ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ اللَّهُ: ﴿فَتَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ ثم قال:
فَلَمَّآ ءَاتَىٰهُمَا صَٰلِحًۭا جَعَلَا لَهُۥ شُرَكَآءَ فِيمَآ ءَاتَىٰهُمَا ۚ فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
But when He gives them a good [child], they ascribe partners to Him concerning that which He has given them. Exalted is Allah above what they associate with Him.
جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں۔ جو وہ شرک کرتے ہیں (خدا کا رتبہ) اس سے بلند ہے
اما هنگامی که خداوند فرزند صالحی به آنها داد، (موجودات دیگر را در این موهبت مؤثر دانستند؛ و) برای خدا، در این نعمت که به آنها بخشیده بود، همتایانی قائل شدند؛ خداوند برتر است از آنچه همتای او قرار میدهند!
Tafsir Ibn Kathir
It is He Who has created you from a single person, and (then) He has created from him his wife, in order that he might enjoy the pleasure of living with her. When he covered [had sexual relation with] her, she became pregnant and she carried it about (lightly). Then when it became heavy, they both invoked Allah, their Lord (saying): "If You give us a Salih (good in every aspect) child, we shall indeed be among the grateful. (189)But when He gave them a Salih child, they ascribed partners to Him (Allah) in that which He has given to them. High be Allah, Exalted above all that they ascribe as partners to Him (190)
All Mankind are the Offspring of Adam
Allah states that He has created all mankind from Adam, peace be upon him, and from Adam, He created his wife, Hawwa' and from them, people started to spread. Allah said in another Ayah,
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ
(O mankind! We have created you from a male and a female, and made you into nations and tribes, that you may know one another. Verily, the most honorable of you with Allah is that (believer) who has Taqwa)[49:13], and,
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا
(O mankind! Have Taqwa of your Lord, Who created you from a single person, and from him He created his wife.)[4:1]
In this honorable Ayah, Allah said;
وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا
(And (then) He has created from him his wife, in order that he might enjoy the pleasure of living with her.) so that he is intimate and compassionate with her. Allah said in another Ayah,
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً
(And among His Signs is this, that He created for you wives (spouses) from among yourselves, that you may find repose in them, and He has put between you affection and mercy.)[30:21]
Indeed, there is no intimacy between two souls like that between the spouses. This is why Allah mentioned that the sorcerer might be able with his trick to separate between a man and his wife [thus indicating the difficulty of separating them in normal circumstances]. Allah said next,
فَلَمَّا تَغَشَّاهَا
(When he covered her) meaning had sexual intercourses with her.
حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا
(she became pregnant and she carried it about lightly) in reference to the first stage of pregnancy when the woman does not feel pain, for at that time, the fetus will be just a Nutfah (the mixture of the male and female discharge), then becomes an 'Alaqah (a piece of thick coagulated blood) and then a Mudghah (a small lump of flesh). Allah said next,
فَمَرَّتْ بِهِ
(and she carried it about), she continued the pregnancy, according to Mujahid. It was reported that Al-Hasan, Ibrahim An-Nakha'i and As-Suddi said similarly. Maymun bin Mahran reported that his father said, "She found the pregnancy unnoticeable." Ayyub said, "I asked Al-Hasan about the Ayah,
فَمَرَّتْ بِهِ
(and she carried it about) and he said, 'Had you been an Arab, you would know what it means! It means that she continued the pregnancy [through its various stages].'" Qatadah said,
فَمَرَّتْ بِهِ
(and she carried it about (lightly).), means, it became clear that she was pregnant. Ibn Jarir commented, "This Ayah means that the liquid remained, whether she stood up or sat down." Al-'Awfi recorded that Ibn 'Abbas said, "The semen remained in, but she was unsure if she became pregnant or not,
فَلَمَّا أَثْقَلَت
(Then when it became heavy), she became heavier with the fetus", As-Suddi said, "The fetus grew in her womb."
دَّعَوَا اللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا
(they both invoked Allah, their Lord (saying): "If You give us a Salih child,) if he is born human in every respect. Ad-Dahhak said that Ibn 'Abbas commented, "They feared that their child might be born in the shape of an animal!" while Abu Al-Bakhtri and Abu Malik commented, "They feared that their newborn might not be human." Al-Hasan Al-Basri also commented, "If You (Allah) give us a boy."
لَّنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ - فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا فَتَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
(we shall indeed be among the grateful. But when He gave them a Salih child, they ascribed partners to Him (Allah) in that which He has given to them. High be Allah, Exalted above all that they ascribe as partners to Him.)[7:189-190]
Ibn Jarir recorded that Al-Hasan commented on this part of the Ayah,
جَعَلَا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا
(they ascribed partners to Him (Allah) in that which He has given to them)
"This occurred by followers of some religion, not from Adam [or Hawwa']."
Al-Hasan also said, "This Ayah refers to those among the offspring of Adam who fell into Shirk,
جَعَلَا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا
(they ascribed partners to Him (Allah) in that which He has given to them.)"
Qatadah said, "Al-Hasan used to say that it refers to the Jews and Christians. Allah gave them children, and they turned them into Jews and Christians."
The explanations from Al-Hasan have authentic chains of narration leading to him, and certainly, it is one of the best interpretations. This Ayah should therefore be understood this way, for it is apparent that it does not refer to Adam and Hawa', but about the idolators among their offspring. Allah mentioned the person first [Adam and Hawwa'] and then continued to mention the species [mankind, many of whom committed Shirk]. There are similar cases in the Qur'an. For cases, Allah said
وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ
(And indeed We have adorned the nearest heaven with lamps)[67:5]
It is well-known that the stars that were made as lamps in the sky are not the same as the shooting missiles that are thrown at the devils [mentioned later in the Ayah]. There are similar instances in the Qur'an. Allah knows best.
Tafsir Ibn Kathir
ایک ہی باپ ایک ہی ماں اور تمام نسل آدم تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے صرف حضرت آدم ؑ سے ہی پیدا کیا۔ انہی سے ان کی بیوی حضرت حوا کو پیدا کیا پھر ان دونوں سے نسل انسان جاری کی۔ جیسے فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ 13) 49۔ الحجرات :13) لوگو ہم نے تمہیں ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے پھر تمہارے کنبے اور قبیلے بنا دیئے تاکہ آپس میں ایک وسرے کو پہچانتے رہو۔ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ ذی عزت وہ ہے جو پرہیزگاری میں سب سے آگے ہے۔ سورة نساء کے شروع میں ہے اے لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک ہی شخص یعنی حضرت آدم سے پیدا کیا ہے انہی سے ان کی بیوی کو پیدا کیا پھر ان دونوں میاں بیوی سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے۔ یہاں فرماتا ہے کہ انہی سے ان کی بیوی کو بنایا تاکہ یہ آرام اٹھائیں چناچہ ایک اور آیت میں ہے (لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمتہ) لوگو یہ بھی اللہ کی ایک مہربانی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں بنادیں تاکہ تم ان سے سکون و آرام حاصل کرو اور اس نے تم میں باہم محبت و الفت پیدا کردی۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے چاہت ہے جو میاں بیوی میں وہ پیدا کردیتا ہے۔ اسی لئے جادوگروں کی برائی بیان کرتے ہوئے قرآن نے فرمایا کہ وہ اپنی مکاریوں سے میاں بیوی میں جدائی ڈلوا دیتے ہیں۔ عورت مرد کے ملنے سے بحکم الٰہی عورت کو حمل ٹھہر جاتا ہے جب تک وہ نطفے، خون اور لوتھڑے کی شکل میں ہوتا ہے ہلکا سا رہتا ہے وہ برابر اپنے کام کاج میں آمد و رفت میں لگی رہتی ہے کوئی ایسی زیادہ تکلیف اور بار نہیں معلوم ہوتا اور اندر ہی اندر وہ برابر بڑھتا رہتا ہے اسے تو یونہی سا کچھ وہم کبھی ہوتا ہے کہ شاید کچھ ہو۔ کچھ وقت یونہی گذر جانے کے بعد بوجھ معلوم ہونے لگتا ہے حمل ظاہر ہوجاتا ہے بچہ پیٹ میں بڑا ہوجاتا ہے طبیعت تھکنے لگتی ہے اب ماں باپ دونوں اللہ سے دعائیں کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہ ہمیں صحیح سالم بیٹا عطا فرمائے تو ہم شکر گذاری کریں گے۔ ڈر لگتا ہے کہ کہیں کچھ اور بات نہ ہوجائے۔ اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرمائی اور صحیح سالم انسانی شکل و صورت کا بچہ عطا فرمایا تو اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ مفسرین نے اس جگہ بہت سے آثار و احادیث بیان کئے ہیں جنہیں میں یہاں نقل کرتا ہوں اور ان میں جو بات ہے وہ بھی بیان کروں گا پھر جو بات صحیح ہے اسے بتاؤں گا ان شاء اللہ۔ مسند احمد میں ہے کہ جب حضرت حوا کو اولاد ہوئی تو ابلیس گھومنے لگا ان کے بچے زندہ نہیں رہتے تھے شیطان نے سیکھایا کہ اب اس کا نام عبدالحارث رکھ دے تو یہ زندہ رہے گا چناچہ انہوں نے یہی کیا اور یہی ہوا اور اصل میں یہ شیطانی حرکت تھی اور اسی کا حکم تھا۔ امام ترمذی نے بھی اسے وارد کیا ہے پھر فرمایا ہے حسن غریب ہے، میں کہتا ہوں اس حدیث میں تین علتیں ہیں ایک تو یہ کہ اس کے ایک راوی عمر بن ابراہیم مصری کی بابت امام ابو حاتم رازی ؒ فرماتے ہیں کہ یہ راوی ایسا نہیں کہ اس سے حجت پکڑی جائے گو امام ابن معین نے اس کی توثیق کی ہے لیکن ابن مردویہ نے اسے معمر سے اس نے اپنے باپ سے اس نے سمرہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے واللہ اعلم دوسرے یہ کہ یہی روایت موقوفاً حضرت سمرہ کے اپنے قول سے مروی ہوئی ہے جو کہ مرفوع نہیں ابن جرید میں خود حضرت عمرہ بن جندب کا اپنا فرمان ہے کہ حضرت آدم نے اپنے لڑکے کا نام عبدالحارث رکھا۔ تیسرے اس آیت کی تفسیر اس کے راوی حضرت حسن سے بھی اس کے علاوہ بھی مروی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ مرفوع حدیث ان کی روایت کردہ ہوتی تو یہ خود اس کے خلاف تفسیر نہ کرتے۔ چناچہ ابن جرید میں ہے حضرت حسن فرماتے ہیں یہ حضرت آدم کا واقعہ نہیں بلکہ بعض مذاہب والوں کا واقعہ ہے اور روایت میں آپ کا یہ فرمان منقول ہے کہ اس سے مراد بعض مشرک انسان ہیں جو ایسا کرتے ہیں، فرماتے ہیں کہ یہ یہود و نصاریٰ کا فعل بیان ہوا ہے کہ اپنی اولادوں کو اپنی روش پر ڈال لیتے ہیں۔ یہ سب اسنادیں حضرت حسن تک بالکل صحیح ہیں اور اس آیت کو جو کچھ تفسیر کی گئی ہے اس میں سب سے بہتر تفسیر یہی ہے۔ خیر مقصد یہ تھا کہ اتنا بڑا متقی اور پرہیزگار آدمی ایک آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث قول پیغمبر روایت کرے پھر اس کے خلاف خود تفسیر کرے یہ بالکل ان ہونی بات ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حدیث مرفوع نہیں بلکہ وہ حضرت سمرہ کا اپنا قول ہے۔ اس کے بعد یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ حضرت سمرہ نے اسے ہل کتاب سے ماخوذ کیا ہو جیسے کعب و ہب وغیرہ جو مسلمان ہوگئے تھے انشاء اللہ اس کا بیان بھی عنقریب ہوگا بہر صورت اس روایت کا مرفوع ہونا ہم تسلیم نہیں کرتے واللہ اعلم۔ اب اور آثار جو اس بارے میں ہیں انہیں سنئے۔ ابن عباس کہتے ہیں حضرت حوا کے جو بچے پیدا ہوتے تھے ان کا نام عبداللہ عبید اللہ وغیرہ رکھتی تھیں وہ بچے فوت ہوجاتے تھے پھر ان کے پاس ابلیس آیا اور کہا اگر تم کوئی اور نام رکھو تو تمہارے بچے زندہ رہیں گے چناچہ ان دونوں نے یہی کیا جو بچہ پیدا ہوا اس کا نام عبدالحارث رکھا اس کا بیان ان آیتوں میں ہے اور روایت میں ہے کہ ان کے دو بجے اس سے پہلے مرچکے تھے اب حالت حمل میں شیطان ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تمہیں معلوم بھی ہے کہ تمہارے پیٹ میں کیا ہے ؟ ممکن ہے کوئی جانور ہی ہو ممکن ہے صحیح سالم نہ پیدا ہو ممکن ہے اگلوں کی طرح یہ بھی مرجائے تم میری مان لو اور اب جو بچہ پیدا ہو اس کا نام میرے نام پر رکھو تو انسان ہوگا صحیح سالم ہوگا زندہ رہے گا یہ بھی اس کے بہکاوے میں آگئے اور عبدالحارث نام رکھا۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے اور روایت میں ہے کہ پہلی دفعہ حمل کے وقت یہ آیا اور انہیں ڈرایا کہ میں وہی ہوں جس نے تمہیں جنت سے نکلویا اب یا تم میری اطاعت کرو۔ ورنہ میں اسے یہ کر ڈالوں گا وہ کر ڈالوں گا وغیرہ ہرچند ڈرایا مگر انہوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔ اللہ کی شان وہ بچہ مردہ پیدا ہوا دوبارہ حمل ٹھہرا پھر یہ ملعون پہنچا اور اسی طرح خوف زدہ کرنے لگا اب بھی انہوں نے اس کی اطاعت نہ کی چناچہ یہ دوسرا بچہ بھی مردہ ہوا۔ تیسرے حمل کے وقت یہ خبیث پھر آیا اب کی مرتبہ اولاد کی محبت میں آ کر انہوں نے اس کی مان لی اور اس کا نام عبدالحارث رکھا اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ ابن عباس سے اس اثر کو لے کر ان کے شاگردوں کی ایک جماعت نے بھی یہی کہا ہے جیسے حضرت مجاہد حضرت سعید بن جبیر حضرت عکرمہ اور دوسرے طبقے میں سے قتادہ سدی وغیرہ اسی طرح سلف سے خلف تک بہت سے مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہی کہا ہے۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ اثر اہل کتاب سے لیا گیا ہے۔ اس کی بڑی دلیل یہ ہے کہ ابن عباس اسے ابی ابن کعب سے روایت کرتے ہیں جیسے کہ ابن ابی ہاتم میں ہے پس ظاہر ہے کہ یہ اہل کتاب کے آثار سے ہے۔ جن کی بابت رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ ان کی باتوں کو نہ سچی کہو نہ جھوٹی۔ ان کی روایتیں تین طرح کی ہیں۔ ایک تو وہ جن کی صحت ہمارے ہاں کسی آیت یا حدیث سے ہوتی ہے۔ ایک وہ جن کی تکذیب کسی آیت یا حدیث سے ہوتی ہو۔ ایک وہ جس کی بابت کوئی ایسا فیصلہ ہمارے دین میں نہ ملے تو بقول حضور ﷺ اس روایت کے بیان میں تو کوئی حرج نہیں لیکن تصدیق تکذیب جائز نہیں۔ میرے نزدیک تو یہ اثر دوسری قسم کا ہے یعنی ماننے کے قابل نہیں اور جن صحابہ اور تابعین سے یہ مروی ہے انہوں نے اسے تیسری قسم کا اپنی اولاد کے معاملے میں اللہ کے ساتھ کرنے کا بیان ان آیتوں میں ہے نہ کہ حضرت امام حسن بصری ؒ فرماتے ہیں کہ مشرکوں کا اپنی اولاد کے معاملے میں اللہ کے ساتھ کرنے کا بیان ان آیتوں میں ہے نہ کہ حضرت آدم و حوا کا۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ اس شرک سے اور ان کے شریک ٹھہرانے سے بلند وبالا ہے ان آیتوں میں یہ ذکر اور ان سے پہلے آدم و حوا کا ذکر مثل تمہید کے ہے کہ ان اصلی ماں باپ کا ذکر کر کے پھر اور ماں باپوں کا ذکر ہوا اور ان ہی کا شرک بیان ہوا۔ ذکر شخص سے ذکر جنس کی طرف استطراد کے طور پر جیسے آیت (ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیع) میں ہے یعنی ہم نے دنیا کے آسمان کو ستاروں سے زینت دی اور انہیں شیطانوں پر انگارے برسانے والا بنایا اور یہ ظاہر ہے کہ جو ستارے زینت کے ہیں وہ جھڑتے نہیں ان سے شیطانوں کو مار نہیں پڑتی۔ یہاں بھی استطراد تاروں کی شخصیت سے تاروں کی جنس کی طرف ہے اس کی اور بھی بہت سی مثالیں قرآن کریم میں موجود ہیں، واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
يُنَبِّهُ تَعَالَى عَلَى أَنَّهُ خَلَقَ جَمِيعَ النَّاسِ مِنْ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَنَّهُ خَلَقَ مِنْهُ زَوْجَهُ [[في د: "زوجته".]] حَوَّاءَ، ثُمَّ انْتَشَرَ النَّاسُ مِنْهُمَا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾ [الْحُجُرَاتِ:١٣] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا [وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالا كَثِيرًا وَنِسَاءً] [[زيادة من م، أ.]] ﴾ الْآيَةَ [النِّسَاءِ:١] .
وَقَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ: ﴿وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا﴾ أَيْ: لِيَأْلَفَهَا وَيَسْكُنَ بِهَا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾ [الرُّومِ:٢١] فَلَا أُلْفَةَ بَيْنَ زَوْجين أَعْظَمُ مِمَّا بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ؛ وَلِهَذَا ذَكَرَ تَعَالَى أَنَّ السَّاحِرَ رُبَّمَا تَوَصَّلَ بِكَيْدِهِ إِلَى التَّفْرِقَةِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ.
﴿فَلَمَّا تَغَشَّاهَا﴾ أَيْ: وَطِئَهَا ﴿حَمَلَتْ حَمْلا خَفِيفًا﴾ وَذَلِكَ أَوَّلُ الْحَمْلِ، لَا تَجِدُ الْمَرْأَةُ لَهُ أَلَمًا، إِنَّمَا هِيَ النُّطفة، ثُمَّ العَلَقة، ثُمَّ المُضغة.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَمَرَّتْ بِهِ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ: اسْتَمَرَّتْ بِحَمْلِهِ. وَرُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعَي، والسُّدِّي، نَحْوُهُ.
وَقَالَ مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ: عَنْ أَبِيهِ اسْتَخَفَّتْهُ.
وَقَالَ أَيُّوبُ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ عَنْ قَوْلِهِ: ﴿فَمَرَّتْ بِهِ﴾ قَالَ: لَوْ كُنْتَ رَجُلًا عَرَبِيًّا لَعَرَفْتَ مَا هِيَ. إِنَّمَا هِيَ: فَاسْتَمَرَّتْ بِهِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: ﴿فَمَرَّتْ بِهِ﴾ وَاسْتَبَانَ حَمْلُهَا.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: [مَعْنَاهُ] [[زيادة من أ.]] اسْتَمَرَّتْ بِالْمَاءِ، قَامَتْ بِهِ وَقَعَدَتْ.
وَقَالَ العَوْفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: اسْتَمَرَّتْ بِهِ، فَشَكَّتْ: أَحَمَلَتْ [[في د، ك، م، أ: "أحبلت".]] أَمْ لَا.
﴿فَلَمَّا أَثْقَلَتْ﴾ أَيْ: صَارَتْ ذَاتَ ثِقَلٍ [[في م: "أثقل".]] بِحَمْلِهَا.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: كَبِرَ الْوَلَدُ فِي بَطْنِهَا.
﴿دَعَوَا اللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا﴾ أَيْ: بَشَرًا سَوِيًّا، كَمَا قَالَ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَشْفَقَا أَنْ يَكُونَ بَهِيمَةً.
وَكَذَلِكَ [[في أ: "وكذا".]] قَالَ أَبُو البَخْتري وَأَبُو مَالِكٍ: أَشْفَقَا أَلَّا يَكُونَ إِنْسَانًا.
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: لَئِنْ آتَيْتِنَا غُلَامًا.
﴿لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ. فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحًا جَعَلا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا فَتَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ ذَكَرَ الْمُفَسِّرُونَ هَاهُنَا آثَارًا وَأَحَادِيثَ سَأُورِدُهَا وَأُبَيِّنُ مَا فِيهَا، ثُمَّ نُتْبِعُ ذَلِكَ بَيَانَ الصَّحِيحِ فِي ذَلِكَ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَبِهِ الثِّقَةُ.
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سُمْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ [[في د: "رسول الله".]] ﷺ قَالَ: "وَلَمَّا وَلَدَتْ حَوَّاءُ طَافَ بِهَا إِبْلِيسُ -وَكَانَ لَا يَعِيشُ لَهَا وَلَدٌ -فَقَالَ: سَمِّيهِ عَبْدَ الْحَارِثِ؛ فَإِنَّهُ يَعِيشُ، فَسَمَّتْهُ عَبْدَ الْحَارِثِ، فَعَاشَ وَكَانَ ذلك من وحي الشَّيْطَانِ وَأَمْرِهِ".
وَهَكَذَا رَوَاهُ [[في أ: "وروي".]] ابْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، بُنْدَار، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، بِهِ.
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ فِي تَفْسِيرِهِ [[في د، ك، م، أ: "تفسير".]] هَذِهِ الْآيَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمَثْنَى، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ، بِهِ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
وَرَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي مُسْتَدْرَكِهِ، مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ مَرْفُوعًا ثُمَّ قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ.
وَرَوَاهُ الْإِمَامُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ فِي تَفْسِيرِهِ، عَنْ أَبِي زُرْعَة الرَّازِيِّ، عَنْ هِلَالِ بْنِ فَيَّاضٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، بِهِ مَرْفُوعًا.
وَكَذَا رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرِ بْنُ مَرْدويه فِي تَفْسِيرِهِ مِنْ حَدِيثِ شَاذِّ بْنِ فَيَّاضٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، بِهِ مَرْفُوعًا [[المسند (٥/١١) وتفسير الطبري (١٣/٣٠٩) ، وسنن الترمذي برقم (٣٠٧٧) ، والمستدرك (٢/٥٤٥) .]]
قُلْتُ: "وَشَاذٌّ" [هَذَا] [[زيادة من أ.]] هُوَ: هِلَالٌ، وَشَاذٌّ لَقَبُهُ. وَالْغَرَضُ أَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ مَعْلُولٌ مِنْ ثَلَاثَةِ أَوْجُهٍ:
أَحَدُهَا: أَنَّ عُمَرَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ هَذَا هُوَ الْبَصْرِيُّ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَلَكِنْ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ: لَا يُحْتَجُّ بِهِ. وَلَكِنْ رَوَاهُ ابْنُ مَرْدَوَيْهِ مِنْ حَدِيثِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سُمْرَةَ [[في أ: "حمزة".]] مَرْفُوعًا فَاللَّهُ أَعْلَمُ.
الثَّانِي: أَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ قَوْلِ سُمْرَةَ نَفْسِهِ، لَيْسَ مَرْفُوعًا، كَمَا قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ. وَحَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ [[في د، ك، م: "بكر بن عبد الله".]] عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ سَمْرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: سَمَّى آدَمُ ابْنَهُ "عَبْدَ الْحَارِثِ".
الثَّالِثُ: أَنَّ الْحَسَنَ نَفْسَهُ فَسَّرَ الْآيَةَ بِغَيْرِ هَذَا، فَلَوْ كَانَ هَذَا عِنْدَهُ عَنْ سُمْرَةَ مَرْفُوعًا، لَمَا عَدَلَ عَنْهُ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَكِيع، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْحَسَنِ: ﴿جَعَلا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا﴾ قَالَ: كَانَ هَذَا فِي بَعْضِ أَهْلِ الْمِلَلِ، وَلَمْ يَكُنْ بِآدَمَ [[تفسير الطبري (١٣/٣١٤) .]]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ: عَنَى بِهَا ذَرِّيَّةَ آدَمَ، وَمَنْ أَشْرَكَ مِنْهُمْ بَعْدَهُ -يَعْنِي: [قَوْلَهُ] [[زيادة من ك، م، أ.]] ﴿جَعَلا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا﴾ [[تفسير الطبري (١٣/٣١٤) .]] وَحَدَّثَنَا بِشْرٌ [[في أ: "بشير".]] حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: كَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ: هُمُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، رَزَقَهُمُ اللَّهُ أَوْلَادًا، فَهَوَّدُوا ونَصَّروا [[تفسير الطبري (١٣/٣١٥) .]]
وَهَذِهِ أَسَانِيدُ صَحِيحَةٌ عَنِ الْحَسَنِ، رَحِمَهُ اللَّهُ، أَنَّهُ فَسَّرَ الْآيَةَ بِذَلِكَ، وَهُوَ مِنْ أَحْسَنِ التَّفَاسِيرِ وَأَوْلَى مَا حُمِلَتْ [[في أ: "ما دلت".]] عَلَيْهِ الْآيَةُ، وَلَوْ كَانَ هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدَهُ مَحْفُوظًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، لَمَا عَدَلَ عَنْهُ هُوَ وَلَا غَيْرُهُ، وَلَا سِيَّمَا مَعَ تَقْوَاهُ لِلَّهِ وَوَرَعه، فَهَذَا يَدُلُّكَ عَلَى أَنَّهُ مَوْقُوفٌ عَلَى الصَّحَابِيِّ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ تَلَقَّاهُ مِنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ، مَنْ آمَنُ مِنْهُمْ، مِثْلِ: كَعْبٍ أَوْ وَهْبِ بْنِ مُنَبّه وَغَيْرِهِمَا، كَمَا سَيَأْتِي بَيَانُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ [تَعَالَى] [[زيادة من م.]] إِلَّا أَنَّنَا بَرِئْنَا مِنْ عُهْدَةِ الْمَرْفُوعِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
فَأَمَّا [[في د، م: "وأما".]] الْآثَارُ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الحُصَين، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ حَوَّاءُ تَلِدُ لِآدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَوْلَادًا فَيُعَبِّدُهُمْ لِلَّهِ ويُسَمّيه: "عَبْدَ اللَّهِ" وَ"عُبَيْدَ اللَّهِ"، وَنَحْوَ ذَلِكَ، فَيُصِيبُهُمُ الموت فأتاهما إِبْلِيسُ وَآدَمَ فَقَالَ: إِنَّكُمَا لَوْ تُسَمِّيَانِهِ بِغَيْرِ الَّذِي تُسميانه بِهِ لَعَاشَ [[في ك: "فعاش".]] قَالَ: فَوَلَدَتْ لَهُ رَجُلًا [[في أ: "ولدا".]] فَسَمَّاهُ "عَبْدَ الْحَارِثِ"، فَفِيهِ أَنْزَلَ اللَّهُ، يَقُولُ اللَّهُ: ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿جَعَلا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا﴾ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
وَقَالَ العَوْفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ فِي آدَمَ: ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿فَمَرَّتْ بِهِ﴾ شَكَّت [[في م، أ: "فشكت".]] أحَبَلتْ أَمْ لَا؟ ﴿فَلَمَّا أَثْقَلَتْ دَعَوَا اللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ﴾ فَأَتَاهُمَا الشَّيْطَانُ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرِيَانِ مَا يُولَدُ لَكُمَا؟ أَمْ هَلْ تَدْرِيَانِ مَا يَكُونُ؟ أَبَهِيمَةٌ [[في ك: "بهيمة".]] يَكُونُ أَمْ لَا؟ وزيَّن لَهُمَا الْبَاطِلَ؛ إِنَّهُ غَوِيٌّ مُبِينٌ، وَقَدْ كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ وَلَدَتْ وَلَدَيْنِ فَمَاتَا، فَقَالَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ: إِنَّكُمَا إِنْ لَمْ تُسَمِّيَاهُ بِي، لَمْ يَخْرُجْ سَوِيًّا، وَمَاتَ كَمَا مَاتَ الْأَوَّلَانِ [[في ك، م، أ: "الأول".]] فَسَمَّيَا وَلَدَهُمَا "عَبْدَ الْحَارِثِ"، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ [تَعَالَى] [[زيادة من ك.]] ﴿فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحًا جَعَلا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا﴾ الْآيَةَ.
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحًا جَعَلا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا﴾ قَالَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا فَلَمَّا تَغَشَّاهَا﴾ آدَمُ ﴿حَمَلَتْ [حَمْلا خَفِيفًا] ﴾ [[زيادة من أ.]] فَأَتَاهُمَا إِبْلِيسُ -لَعَنَهُ اللَّهُ -فَقَالَ: إِنَّى صَاحِبُكُمَا الَّذِي أَخْرَجْتُكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ لَتطيعُنِّي أَوْ لأجعلنَّ قَرْنَيْ لَهُ [[في م، ك: "له قرن".]] أَيْلٍ فَيَخْرُجُ مِنْ بَطْنِكِ فَيَشُقُّهُ، ولأفعلنَّ ولأفعلنَّ -يُخَوِّفُهُمَا -فسمِّياه "عَبْدَ الْحَارِثِ" فَأَبَيَا أَنْ يُطِيعَاهُ، فَخَرَجَ مَيِّتًا، ثُمَّ حَمَلَتِ الثَّانِيَةَ، فَأَتَاهُمَا أَيْضًا فَقَالَ: أَنَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي فَعَلْتُ مَا فَعَلْتُ، لتفعلُنَّ أَوْ لأفعلَنَّ -يُخَوِّفُهُمَا -فَأَبَيَا أَنْ يُطِيعَاهُ، فَخَرَجَ مَيِّتًا، ثُمَّ حَمَلَتِ الثَّالِثَةَ فَأَتَاهُمَا أَيْضًا، فَذَكَرَ لَهُمَا، فَأَدْرَكَهُمَا حبُّ الْوَلَدِ، فَسَمَّيَاهُ "عَبْدَ الْحَارِثِ"، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿جَعَلا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا﴾ رواه ابن أبي حاتم.
وَقَدْ تَلْقَى هَذَا الْأَثَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ جَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، كَمُجَاهِدٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعِكْرِمَةَ. وَمِنَ الطَّبَقَةِ الثَّانِيَةِ: قَتَادَةُ، وَالسُّدِّيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ السَّلَفِ وَجَمَاعَةٌ مِنَ الْخَلَفِ، وَمِنَ الْمُفَسِّرِينَ مِنَ الْمُتَأَخِّرِينَ جَمَاعَاتٌ لَا يُحْصَوْنَ كَثْرَةً، وَكَأَنَّهُ -وَاللَّهُ أَعْلَمُ -أَصْلُهُ مَأْخُوذٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَوَاهُ عَنْ أُبي بْنِ كَعْبٍ، كَمَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَمَاهِرِ [[في أ: "أبو الجماهير".]] حَدَّثَنَا سَعِيدٌ -يَعْنِي ابْنَ بَشِيرٍ -عَنْ عُقْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَاسٍ، عَنْ أُبي بْنِ كَعْبٍ قَالَ: لَمَّا حَمَلَتْ حَوَّاءُ أَتَاهَا الشَّيْطَانُ، فَقَالَ [[في م، ك: "قال".]] لَهَا: أَتُطِيعِينِي ويَسْلَم لَكِ وَلَدُكِ؟ سَمِّيهِ "عَبْدَ الْحَارِثِ"، فَلَمْ تفعلْ، فَوَلَدَتْ فَمَاتَ، ثُمَّ حَمَلَتْ فَقَالَ لَهَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَلَمْ تَفْعَلْ. ثُمَّ حَمَلَتِ الثَّالِثَ فَجَاءَهَا فَقَالَ: إِنْ تُطِيعِينِي يَسْلَمْ، وَإِلَّا فَإِنَّهُ يَكُونُ بَهِيمة، فهيَّبهما فَأَطَاعَا.
وَهَذِهِ الْآثَارُ يَظْهَرُ عَلَيْهَا -وَاللَّهُ أَعْلَمُ -أَنَّهَا مِنْ آثَارِ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَقَدْ صَحَّ الْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "إِذَا حَدَّثكم أَهْلُ الْكِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ"، ثُمَّ أَخْبَارُهُمْ عَلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ: فَمِنْهَا: مَا عَلِمْنَا صِحَّتَهُ بِمَا دَلَّ عَلَيْهِ الدَّلِيلُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَوْ سُنَّةِ رَسُولِهِ. وَمِنْهَا مَا عَلِمْنَا كَذِبَهُ، بِمَا دُلَّ عَلَى خِلَافِهِ مِنَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ أَيْضًا. وَمِنْهَا: مَا هُوَ مَسْكُوتٌ عَنْهُ، فَهُوَ الْمَأْذُونُ فِي رِوَايَتِهِ، بِقَوْلِهِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: "حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرج" وَهُوَ الَّذِي لَا يصدَّق وَلَا يُكَذَّبُ، لِقَوْلِهِ: "فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ". وَهَذَا الْأَثَرُ: [هَلْ] [[زيادة من ك، م، أ.]] هُوَ مِنَ الْقِسْمِ الثَّانِي أَوِ الثَّالِثِ؟ فِيهِ نَظَرٌ. فَأَمَّا مَنْ حَدَّثَ بِهِ مِنْ صحَابي أَوْ تَابِعِيٍّ، فَإِنَّهُ يَرَاهُ مِنَ الْقَسَمِ الثَّالِثِ، وَأَمَّا نَحْنُ فَعَلَى مَذْهَبِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، رَحِمَهُ اللَّهُ، فِي هَذَا [وَاللَّهُ أَعْلَمُ] [[زيادة من ك.]] وَأَنَّهُ لَيْسَ الْمُرَادُ مِنْ هَذَا السِّيَاقِ آدَمُ وَحَوَّاءُ، وَإِنَّمَا الْمُرَادُ مِنْ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ اللَّهُ: ﴿فَتَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ ثم قال:
أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْـًۭٔا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
Do they associate with Him those who create nothing and they are [themselves] created?
کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کیے جاتے ہیں
آیا موجوداتی را همتای او قرارمیدهند که چیزی را نمیآفرینند، و خودشان مخلوقند.
Tafsir Ibn Kathir
Do they attribute as partners to Allah those who created nothing but they themselves are created (191)No help can they give them, nor can they help themselves (192)And if you call them to guidance, they follow you not. It is the same for you whether you call them or you keep silent (193)Verily, those whom you call upon besides Allah are servants like you. So call upon them and let them answer you if you are truthful (194)Have they feet wherewith they walk? Or have they hands wherewith they hold? Or have they eyes wherewith they see? Or have they ears wherewith they hear? Say: "Call your (so-called) partners (of Allah) and then plot against me, and give me no respite (195)Verily, my protector is Allah Who has revealed the Book (the Qur'an), and He protects the righteous (196)And those whom you call upon besides Him (Allah) cannot help you nor can they help themselves (197)And if you call them to guidance, they hear not and you will see them looking at you, yet they see not. (198)
Idols do not create, help, or have Power over Anything
Allah admonishes the idolators who worshipped idols, rivals and images besides Him, although these objects were created by Allah, and neither own anything nor can they bring harm or benefit. These objects do not see or give aid to those who worship them. They are inanimate objects that neither move, hear, or see. Those who worship these objects are better than they are, for they hear see and have strength of their own. Allah said,
أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
(Do they attribute as partners to Allah those who created nothing but they themselves are created?) meaning, 'Do you associate with Allah others that neither create, nor have power to create anything?' Allah said in another Ayah,
يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ - مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ
(O mankind! A similitude has been coined, so listen to it (carefully): Verily, those on whom you call besides Allah, cannot create (even) a fly, even though they combine together for the purpose. And if the fly snatches away a thing from them, they will have no power to release it from the fly. So weak are (both) the seeker and the sought. They have not estimated Allah His rightful estimate. Verily, Allah is All-Strong, Almighty)[22:73-74].
Allah states that if all false gods of the disbelievers gather their strength, they would not be able to create a fly. Rather, if the fly steals anything from them, no matter how insignificant, and flew away, they would not be able to retrieve it. Therefore, if an object is this weak, how can it be worshipped and invoked for provisions and aid? This is why Allah said,
لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
(...who created nothing but they themselves are created?) these worshipped objects themselves were created and made. Prophet Ibrahim Al-Khalil proclaimed,
أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ
("Worship you that which you (yourselves) carve?")[37:95] Allah said next,
وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا
(No help can they give them) those who worship them,
وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ
(nor can they help themselves) nor are they able to aid themselves against those who seek to harm them. For instance, Allah's Khalil, peace be upon him, broke and disgraced the idols of his people, just as Allah said he did,
فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ
(Then he turned upon them, striking (them) with (his) right hand,)[37:93] and,
فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ
(So he broke them to pieces, (all) except the biggest of them, that they might turn to it.)[21:58]
Mu'adh bin 'Amr ibn Al-Jamuh and Mu'adh bin Jabal, may Allah be pleased with both of them, were still young when they embraced Islam after the Messenger of Allah ﷺ came to Al-Madinah. So they were attacking the idols of the idolators at night, breaking, disfiguring them and using them as fuel for needy widows. They sought to give a lesson to their people to make them aware of their error. 'Amr bin Al-Jamuh, who was one of the chiefs of his people, had an idol that he used to worship and perfume. The two Mu'adhs used to go to that idol, turn it on its head and tarnish it with animal waste. When 'Amr bin Al-Jamuh would see what happened to his idol, he would clean it, perfume it and leave a sword next to it, saying, "Defend yourself." However, the two young men would repeat their actions, and he would do the same as before. Once, they took the idol, tied it to a dead dog and threw it in a well while tied to a rope! When 'Amr bin Al-Jamuh saw this, he knew that his religion was false and said, "By Allah! Had you been a god who has might, you would not end up tied to a dog on a rope!" 'Amr bin Al-Jamuh embraced Islam, and he was strong in his Islam. He was later martyred during the battle of Uhud, may Allah be pleased with him, give him pleasure. and grant him Paradise as his dwelling. Allah said,
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ
(And if you call them to guidance, they follow you not.)
Allah says, these idols do not hear the calls of those who worship them. Therefore, the result is the same, whether calling the idols or shunning them. Ibrahim, peace be upon said,
يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا
("O my father! Why do you worship that which hears not, sees not and cannot avail you in anything?")[19:42]
Next, Allah states that the idols were created, just as those who worship them. Rather, the people are better than the idols, because they are able to hear, see and exert harm. The idols, on the other hand, have no such powers. Allah said next,
قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ
(Say: "Call your (so-called) partners (of Allah)) invoke the idols for aid against me and do not give me respite, even for an instant, and give it your best effort,
إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ
(Verily, my protector is Allah Who has revealed the Book (the Qur'an), and He protects the righteous.)
Allah's support is sufficient and He will suffice for me, He is My supporter, I trust in Him and take refuge with Him. He is my protector, in this life and the Hereafter, and the protector of every righteous believer after me. Similarly, the people of Hud said,
إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ - إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
("All that we say is that some of our gods have seized you with evil (madness). " Hud replied: "I call Allah to witness, and bear you witness that I am free from that which you ascribe [as partners in worship, with Him (Allah)]. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving (living) creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on a path that is straight)[11:54-56].
Ibrahim Al-Khalil proclaimed (to his people),
أَفَرَأَيْتُم مَّا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ - فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ - الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ
(Do you observe that which you have been wershipping, You and your ancient fathers. Verily, they are enemies to me, save the Lord of all that exists. Who has created me, and it is He Who guides me.")[26:75-78]
He also said to his father and his people,
إِنَّنِي بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ - إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ - وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
("Verily, I am innocent of what you warship. Except Him Who did create me; and verily, He will guide me." And he made it a legacy lasting among his offspring, that they may turn back (to Allah).)[43:26-28] Allah said here,
إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ
(Verily, those whom you call upon besides Allah) until the end of the Ayah, reiterating what has been said earlier, but He uses direct speech this time,
لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ
(cannot help you nor can they help themselves.) The Ayah,
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ
(And if you call them to guidance, they hear not and you will see them looking at you, yet they see not.) is similar to another Ayah,
إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ
(If you invoke (or call upon) them, they hear not your call.)[35:14]. Allah said next,
وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ
(and you will see them looking at you, yet they see not.) meaning, they have eyes that stare as if they see, although they are solid. Therefore, the Ayah treated them as if they had a mind [saying, Tarahum, instead of Taraha], since they are made in the shape of humans with eyes drawn on them.
Tafsir Ibn Kathir
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو بوجتے ہیں وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں وہی ان کا پالنے والا ہے وہ بالکل بےاختیار ہیں کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا تندرست اور اجھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں کان بھی ہیں یہ بیوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ لوگو آؤ ایک لطیف مثال سنو تم جنہیں پکار رہے ہو یہ سارے ہی جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ان کی طاقت سے خارج ہے۔ بلکہ ان کی کمزوری تو یہاں تک ہے کہ کوئی مکھی ان کی کسی چیز کو چھین لے جائے تو یہ اس سے واپس بھی نہیں کرسکتے طلب کرنے والے اور جن سے طلب کی جا رہی ہے بہت ہی بودے ہیں تعجب ہے کہ اتنے کمزوروں کی عبادت کی جاتی ہے جو اپنا حق بھی ایک مکھی سے نہیں لے سکتے وہ تمہاری روزیوں اور مدد پر کیسے قادر ہوں گے ؟ حضرت خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود ہی گھڑتے اور بناتے ہو ؟ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کی مدد کرسکتے ہیں نہ خود اپنی ہی کوئی مدد کرسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت خلیل اللہ ؑ نے انہیں توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا لیکن ان سے یہ نہ ہوسکا کہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیتے۔ ہاتھ میں تبر لے کر سب کو چورا کردیا اور ان معبود ان باطل سے یہ بھی نہ ہوسکا کہ کسی طرح اپنا بچاؤ کرلیتے، خود رسول کریم ﷺ کے زمانے میں بھی حضرت معاذ بن عمرو بن جموح اور حضرت معاذ بن جبل ؓ یہی کام کرتے تھے کہ رات کے وقت چپکے سے جا کر مشرکین کے بت توڑ آتے اور جو لکڑی کے ہوتے انہیں توڑ کر بیوہ عورتوں کو دے دیتے کہ وہ اپنا ایندھن بنالیں اور قوم کے بت پرست عبرت حاصل کریں۔ خود حضرت معاذ کا باپ عمرو بن جموح بھی بت پرست تھا یہ دونوں نوجوان دوست وہاں بھی پہنچتے اور اس بت کو پلیدی سے آلودہ کر آتے۔ جب یہ آتا تو اپنے خدا کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھاتا، پھر دھوتا، پھر اس پر خوشبو ملتا۔ ایک مرتبہ اس نے اس کے پاس تلوار رکھ دی اور کہا دیکھ آج تیرا دشمن آئے تو اس تلوار سے اس کا کام تمام کردینا۔ یہ اس رات بھی پہنچے اور اس کی درگت کر کے پاخانے سے لیپ کر کے چلے آئے مگر تاہم اسے اثر نہ ہوا صبح کو اسی طرح اس نے دھو دھا کر ٹھیک ٹھاک کر کے خوشبو لگا کر بیٹھا کر ڈنڈوت کی یعنی (اٹھک بیٹھک) کی۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ کسی طرح یہ نہیں مانتا تو ایک رات اس بت کو اٹھا لائے اور ایک کتے کا پلا جو مرا پڑا تھا اس کے گلے میں باندھ دیا اور محلے کے ایک کنویں میں ڈال دیا صبح اس نے اپنے بت کو نہ پا کر تلاش کی تو کنویں میں اسے نظر آیا کہ کتے کے مردہ بچے کے ساتھ پڑا ہوا ہے اب اسے بت سے اور بت پرستی سے نفرت ہوگئی اور اس نے کہا عربی (تاللہ لو کنت الھا مستدن لم تک والکلب جمیعافی قرن)یعنی اگر تو سچ مچ اللہ ہوتا تو کنوئیں میں کتے کے پلے کے ساتھ پڑا ہوا نہ ہوتا پھر حاضر حضور سرکار مدینہ ﷺ ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہوگئے پھر تو اسلام میں پورے پکے ہوگئے۔ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور کفار کو قتل کرتے ہوئے شہید ہوگئے دعا (ؓ وارضاہ وجعل جنت الفردوس ماوا)۔ انہیں اگر بلا یا جائے تو یہ قبول کرنا تو درکنار سن بھی نہیں سکتے محض پتھر ہیں، بےجان ہیں، بےآنکھ اور بےکان ہیں جیسے کہ حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ میرے والد ! آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنیں نہ دیھکیں نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکیں نہ تیرے کسی کام آسکیں۔ انہیں پکارنا نہ پکارنا دونوں برابر ہیں۔ یہ تو تم جیسے ہی بےبس اور اللہ کی مخلوق ہیں بتاؤ تو کبھی انہوں نے تمہاری فریاد رسی کی ہے ؟ یا کبھی تمہاری دعا کا جواب دیا ہے ؟ حقیقت میں ان سے افضل و اعلیٰ تو تم خود ہو۔ تم سنتے دیکھتے چلتے پھرتے بولتے چالتے ہو یہ تو اتنا بھی نہیں کرسکتے۔ اجھا تم ان سے میرا کچھ بگاڑ نے کی درخواست کرو میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر ان سے ہو سکے تو بلا تامل اپنی پوری طاقت سے جو میرا بگاڑ سکتے ہوں بگاڑ لیں۔ سنو میں تو اللہ کو اپنا حمایتی اور مددگار سمجھتا ہوں وہی میرا بچانے والا ہے اور وہ مجھے کافی وافی ہے اسی پر میرا بھروسہ ہے اسی سے میرا لگاؤ ہے۔ میں ہی نہیں ہر نیک بندہ یہی کرتا ہے اور وہ بھی اپنے تمام سچے غلاموں کی نگہبانی اور حفاظت کرتا رہتا ہے اور کرتا رہے گا۔ میرے بعد بھی ان سب کا نگراں اور محافظ وہی ہے۔ حضرت ہود ؑ سے آپ کی قوم نے کہا کہ ہمارا تو خیال ہے کہ تو جو ہمارے معبودوں پر ایمان نہیں رکھتا اسی سبب سے انہوں نے تجھے ان مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا سنو تم کو اور اللہ کو گواہ کر کے میں کہتا ہوں اور علیٰ الاعلان کہتا ہوں کہ میں تمہارے اللہ کے سوا اور تمام معبودوں سے بری اور بیزار اور ان سب کا دشمن ہوں۔ تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو تمہیں بھی قسم ہے جو ذرا سی کوتاہی کرو۔ میرا توکل اللہ کی ذات پر ہے تمام جانداروں کی چوٹیاں اسی کے ہاتھ ہیں میرا رب ہی سچی راہ پر ہے حضرت خلیل اللہ ؑ نے بھی یہی فرمایا تھا کہ تم اور تمہارے بزرگ جن کی پرستش کرتے ہیں میں ان سب کا دشمن ہوں اور وہ مجھ سے دور ہیں سوائے اس رب العالمین کے جس نے مجھے پیدا کیا اور میری رہبری کی۔ آپ نے اپنے والد اور قوم سے بھی یہی فرمایا کہ میں تمہارے معبودان باطل سے بری اور بیزار ہوں سوائے اس سچے معبود کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہی میری رہبری کرے گا ہم نے اسی کلمے کو اس کی نسل میں ہمیشہ کیلئے باقی رکھ دیا تاکہ لوگ اپنے باطل خیالات سے ہٹ جائیں۔ پہلے تو غائبانہ فرمایا تھا پھر اور تاکید کے طور پر خطاب کر کے فرماتا ہے کہ جن جن کو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو وہ تمہاری امداد نہیں کرسکتے اور نہ وہ خود اپنا ہی کوئی نفع کرسکتے ہیں۔ یہ تو سن ہی نہیں سکتے تجھے تو یہ آنکھوں والے دکھائی دیتے ہیں لیکن دراصل ان کی اصلی آنکھیں ہی نہیں کہ کسی کو دیکھ سکیں۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر تم انہیں پکارو تو وہ سنتے نہیں چونکہ وہ تصاویر اور بت ہیں ان کی مصنوعی آنکھیں ہیں محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں لیکن دراصل دیکھ نہیں رہے چونکہ وہ پتھر بصورت انسان ہیں اس لئے ضمیر بھی ذوی العقول کی لائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کفار ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے یہی امام ابن جریر کا اختیار کردہ اور قتادہ کا قول بھی یہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا إِنْكَارٌ مِنَ اللَّهِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ عَبَدُوا مَعَ اللَّهِ غَيْرَهُ، مِنَ الْأَنْدَادِ وَالْأَصْنَامِ وَالْأَوْثَانِ، وَهِيَ مَخْلُوقَةٌ لِلَّهِ مَرْبُوبَةٌ مَصْنُوعَةٌ، لَا تَمْلِكُ شَيْئًا مِنَ الْأَمْرِ، وَلَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، [وَلَا تَنْصُرُ] [[زيادة من د، ك، م، أ.]] وَلَا تَنْتَصِرُ لِعَابِدِيهَا، بَلْ هِيَ جَمَادٌ لَا تَتَحَرَّكُ وَلَا تَسْمَعُ وَلَا تُبْصِرُ، وَعَابِدُوهَا أَكَمُلُ مِنْهَا بِسَمْعِهِمْ وَبَصَرِهِمْ وَبَطْشِهِمْ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ﴾ أَيْ: أَتُشْرِكُونَ [[في م، أ: "أيشركون".]] بِهِ مِنَ الْمَعْبُودَاتِ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَا يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ * مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾ [الْحَجِّ:٧٣، ٧٤] أَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُ لَوِ اجْتَمَعَتْ آلِهَتُهُمْ كُلُّهَا، مَا اسْتَطَاعُوا خَلْقَ ذُبَابَةٍ، بَلْ لَوِ أستَلبتهم [[في د: "سلبتهم".]] الذُّبَابَةُ شَيْئًا مِنْ حَقير الْمَطَاعِمِ [[في د، م: "الطعام".]] وَطَارَتْ، لَمَا اسْتَطَاعُوا إِنْقَاذَ ذَلِكَ مِنْهَا، فَمَنْ هَذِهِ صِفَتُهُ وَحَالُهُ، كَيْفَ يُعْبَدُ لِيَرْزُقَ وَيُسْتَنْصَرُ؟ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ﴾ أَيْ: بَلْ هُمْ مَخْلُوقُونَ مَصْنُوعُونَ كَمَا قَالَ الْخَلِيلُ: ﴿قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ * [وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ] [[زيادة من د، ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٥، ٩٦]
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا﴾ أَيْ: لِعَابِدِيهِمْ ﴿وَلا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ﴾ يَعْنِي: وَلَا لِأَنْفُسِهِمْ يَنْصُرُونَ مِمَّنْ أَرَادَهُمْ بِسُوءٍ، كَمَا كَانَ الْخَلِيلُ، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، يَكْسِرُ أَصْنَامَ قَوْمِهِ ويهينُها غَايَةَ الْإِهَانَةِ، كَمَا أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْهُ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٣] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلا كَبِيرًا لَهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٥٨] وَكَمَا كَانَ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -وَكَانَا شَابَّيْنِ قَدْ أَسْلَمَا لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ -فَكَانَا يَعْدُوَانِ فِي اللَّيْلِ عَلَى أَصْنَامِ الْمُشْرِكِينَ يَكْسِرَانِهَا وَيُتْلِفَانِهَا وَيَتَّخِذَانِهَا حَطَبًا لِلْأَرَامِلِ، لِيَعْتَبِرَ قَوْمُهُمَا بِذَلِكَ، وَيَرْتَئُوا لِأَنْفُسِهِمْ، فَكَانَ لِعَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ -وَكَانَ سَيِّدًا فِي قَوْمِهِ -كَانَ لَهُ صَنَمٌ يَعْبُدُهُ وَيُطَيِّبُهُ، فَكَانَا يَجِيئَانِ فِي اللَّيْلِ فَيُنَكِّسَانِهِ عَلَى رَأْسِهِ، وَيُلَطِّخَانِهِ بالعَذِرة، فَيَجِيءُ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ فَيَرَى مَا صُنِعَ بِهِ فَيَغْسِلُهُ وَيُطَيِّبُهُ وَيَضَعُ عِنْدَهُ سَيْفًا، وَيَقُولُ لَهُ: "انْتَصَرَ". [ثُمَّ] [[زيادة من د، م، أ.]] يَعُودَانِ لِمِثْلِ ذَلِكَ، وَيَعُودُ إِلَى صَنِيعِهِ أَيْضًا، حَتَّى أَخَذَاهُ مَرَّةً فَقَرَنَا مَعَهُ جَرْوَ كَلْبٍ مَيِّتٍ، ودلَّياه فِي حَبْلٍ فِي بِئْرٍ هُنَاكَ، فَلَمَّا جَاءَ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ وَرَأَى ذَلِكَ، نَظَرَ فَعَلِمَ أَنَّ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الدِّينِ بَاطِلٌ، وَقَالَ:
تَالله لَوْ كُنتَ إِلَها مُسْتَدن ... لَمْ تَكُ والكَلْبُ جَمِيعًا فِي قَرنْ [[انظر: الرجز في السيرة النبوية لابن هشام (١/٣٥٤) .]]
ثُمَّ أَسْلَمَ فَحسُن إِسْلَامُهُ، وَقُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَرْضَاهُ، وَجَعَلَ جَنَّةَ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَتَّبِعُوكُمْ [سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنْتُمْ صَامِتُونَ] ﴾ [[زيادة من أ، وفي هـ: "الآية".]] يَعْنِي: أَنَّ هَذِهِ الْأَصْنَامَ لَا تَسْمَعُ دُعَاءَ مَنْ دَعَاهَا، وَسَوَاءٌ لَدَيْهَا مَنْ دَعَاهَا وَمَنْ دَحَاهَا، كَمَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ: ﴿يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ وَلا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا﴾ [مَرْيَمَ:٤٢] ؟
ثُمَّ ذَكَرَ تَعَالَى أَنَّهَا عَبِيدٌ مِثْلَ عَابِدِيهَا، أَيْ: مَخْلُوقَاتٌ مثلهم، بل الأناسي أكمل منها، لأنها تَسْمَعُ وَتُبْصِرُ وَتَبْطِشُ، وَتِلْكَ لَا تَفْعَلُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلا تُنْظِرُونِ﴾ [[زيادة من د، ك، م، أ، وفي هـ: "الآية".]] أَيِ: اسْتَنْصِرُوا بِهَا عَلَيَّ، فَلَا تُؤَخِّرُونِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَاجْهَدُوا جُهْدَكُمْ! ﴿إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نزلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ﴾ أَيِ: اللَّهُ حَسْبِي وَكَافِيَّ، وَهُوَ نَصِيرِي وَعَلَيْهِ مُتَّكَلِي، وَإِلَيْهِ أَلْجَأُ، وَهُوَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ صَالِحٍ بَعْدِي. وَهَذَا كَمَا قَالَ هُودٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا قَالَ لَهُ قَوْمُهُ: ﴿إِنْ نَقُولُ إِلا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ * مِنْ دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُون * إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [هُودٍ:٥٤-٥٦] وَكَقَوْلِ الْخَلِيلِ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ * أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الأقْدَمُونَ * فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِي إِلا رَبَّ الْعَالَمِينَ * الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ * [وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ * وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ] [[زيادة من أ.]] ﴾ [الشُّعَرَاءِ:٧٥-٨٠] الْآيَاتِ، وَكَقَوْلِهِ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ ﴿إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ * إِلا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ * وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ [الزُّخْرُفِ:٢٦-٢٨]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ﴾ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، مُؤَكِّدٌ لِمَا تَقَدَّمَ، إِلَّا أَنَّهُ بِصِيغَةِ الْخِطَابِ، وَذَلِكَ بِصِيغَةِ الْغَيْبَةِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَسْمَعُوا وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ [وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ [[زيادة من أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [فَاطِرٍ:١٤]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾ إِنَّمَا قَالَ: ﴿يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ﴾ أَيْ: يُقَابِلُونَكَ بِعُيُونٍ مُصَوَّرَةٍ كَأَنَّهَا نَاظِرَةٌ، وَهِيَ جَمَادٌ؛ وَلِهَذَا عَامَلَهُمْ مُعَامَلَةَ مَنْ يَعْقِلُ؛ لِأَنَّهَا عَلَى صُوَرٍ مُصَوَّرَةٍ كَالْإِنْسَانِ، [فَقَالَ] [[زيادة من د، أ.]] ﴿وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ﴾ فَعَبَّرَ عَنْهَا بِضَمِيرِ مَنْ يَعْقِلُ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: الْمُرَادُ بِهَذَا [[في أ: "بها".]] الْمُشْرِكُونَ وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ نَحْوُهُ. وَالْأَوَّلُ أَوْلَى، وَهُوَ اخْتِيَارُ ابْنِ جَرِيرٍ، وَقَالَهُ قَتَادَةُ.
وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًۭا وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ
And the false deities are unable to [give] them help, nor can they help themselves.
اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں
و نمیتوانند آنان را یاری کنند، و نه خودشان را یاری میدهند.
Tafsir Ibn Kathir
Do they attribute as partners to Allah those who created nothing but they themselves are created (191)No help can they give them, nor can they help themselves (192)And if you call them to guidance, they follow you not. It is the same for you whether you call them or you keep silent (193)Verily, those whom you call upon besides Allah are servants like you. So call upon them and let them answer you if you are truthful (194)Have they feet wherewith they walk? Or have they hands wherewith they hold? Or have they eyes wherewith they see? Or have they ears wherewith they hear? Say: "Call your (so-called) partners (of Allah) and then plot against me, and give me no respite (195)Verily, my protector is Allah Who has revealed the Book (the Qur'an), and He protects the righteous (196)And those whom you call upon besides Him (Allah) cannot help you nor can they help themselves (197)And if you call them to guidance, they hear not and you will see them looking at you, yet they see not. (198)
Idols do not create, help, or have Power over Anything
Allah admonishes the idolators who worshipped idols, rivals and images besides Him, although these objects were created by Allah, and neither own anything nor can they bring harm or benefit. These objects do not see or give aid to those who worship them. They are inanimate objects that neither move, hear, or see. Those who worship these objects are better than they are, for they hear see and have strength of their own. Allah said,
أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
(Do they attribute as partners to Allah those who created nothing but they themselves are created?) meaning, 'Do you associate with Allah others that neither create, nor have power to create anything?' Allah said in another Ayah,
يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ - مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ
(O mankind! A similitude has been coined, so listen to it (carefully): Verily, those on whom you call besides Allah, cannot create (even) a fly, even though they combine together for the purpose. And if the fly snatches away a thing from them, they will have no power to release it from the fly. So weak are (both) the seeker and the sought. They have not estimated Allah His rightful estimate. Verily, Allah is All-Strong, Almighty)[22:73-74].
Allah states that if all false gods of the disbelievers gather their strength, they would not be able to create a fly. Rather, if the fly steals anything from them, no matter how insignificant, and flew away, they would not be able to retrieve it. Therefore, if an object is this weak, how can it be worshipped and invoked for provisions and aid? This is why Allah said,
لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
(...who created nothing but they themselves are created?) these worshipped objects themselves were created and made. Prophet Ibrahim Al-Khalil proclaimed,
أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ
("Worship you that which you (yourselves) carve?")[37:95] Allah said next,
وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا
(No help can they give them) those who worship them,
وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ
(nor can they help themselves) nor are they able to aid themselves against those who seek to harm them. For instance, Allah's Khalil, peace be upon him, broke and disgraced the idols of his people, just as Allah said he did,
فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ
(Then he turned upon them, striking (them) with (his) right hand,)[37:93] and,
فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ
(So he broke them to pieces, (all) except the biggest of them, that they might turn to it.)[21:58]
Mu'adh bin 'Amr ibn Al-Jamuh and Mu'adh bin Jabal, may Allah be pleased with both of them, were still young when they embraced Islam after the Messenger of Allah ﷺ came to Al-Madinah. So they were attacking the idols of the idolators at night, breaking, disfiguring them and using them as fuel for needy widows. They sought to give a lesson to their people to make them aware of their error. 'Amr bin Al-Jamuh, who was one of the chiefs of his people, had an idol that he used to worship and perfume. The two Mu'adhs used to go to that idol, turn it on its head and tarnish it with animal waste. When 'Amr bin Al-Jamuh would see what happened to his idol, he would clean it, perfume it and leave a sword next to it, saying, "Defend yourself." However, the two young men would repeat their actions, and he would do the same as before. Once, they took the idol, tied it to a dead dog and threw it in a well while tied to a rope! When 'Amr bin Al-Jamuh saw this, he knew that his religion was false and said, "By Allah! Had you been a god who has might, you would not end up tied to a dog on a rope!" 'Amr bin Al-Jamuh embraced Islam, and he was strong in his Islam. He was later martyred during the battle of Uhud, may Allah be pleased with him, give him pleasure. and grant him Paradise as his dwelling. Allah said,
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ
(And if you call them to guidance, they follow you not.)
Allah says, these idols do not hear the calls of those who worship them. Therefore, the result is the same, whether calling the idols or shunning them. Ibrahim, peace be upon said,
يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا
("O my father! Why do you worship that which hears not, sees not and cannot avail you in anything?")[19:42]
Next, Allah states that the idols were created, just as those who worship them. Rather, the people are better than the idols, because they are able to hear, see and exert harm. The idols, on the other hand, have no such powers. Allah said next,
قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ
(Say: "Call your (so-called) partners (of Allah)) invoke the idols for aid against me and do not give me respite, even for an instant, and give it your best effort,
إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ
(Verily, my protector is Allah Who has revealed the Book (the Qur'an), and He protects the righteous.)
Allah's support is sufficient and He will suffice for me, He is My supporter, I trust in Him and take refuge with Him. He is my protector, in this life and the Hereafter, and the protector of every righteous believer after me. Similarly, the people of Hud said,
إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ - إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
("All that we say is that some of our gods have seized you with evil (madness). " Hud replied: "I call Allah to witness, and bear you witness that I am free from that which you ascribe [as partners in worship, with Him (Allah)]. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving (living) creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on a path that is straight)[11:54-56].
Ibrahim Al-Khalil proclaimed (to his people),
أَفَرَأَيْتُم مَّا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ - فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ - الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ
(Do you observe that which you have been wershipping, You and your ancient fathers. Verily, they are enemies to me, save the Lord of all that exists. Who has created me, and it is He Who guides me.")[26:75-78]
He also said to his father and his people,
إِنَّنِي بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ - إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ - وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
("Verily, I am innocent of what you warship. Except Him Who did create me; and verily, He will guide me." And he made it a legacy lasting among his offspring, that they may turn back (to Allah).)[43:26-28] Allah said here,
إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ
(Verily, those whom you call upon besides Allah) until the end of the Ayah, reiterating what has been said earlier, but He uses direct speech this time,
لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ
(cannot help you nor can they help themselves.) The Ayah,
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ
(And if you call them to guidance, they hear not and you will see them looking at you, yet they see not.) is similar to another Ayah,
إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ
(If you invoke (or call upon) them, they hear not your call.)[35:14]. Allah said next,
وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ
(and you will see them looking at you, yet they see not.) meaning, they have eyes that stare as if they see, although they are solid. Therefore, the Ayah treated them as if they had a mind [saying, Tarahum, instead of Taraha], since they are made in the shape of humans with eyes drawn on them.
Tafsir Ibn Kathir
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو بوجتے ہیں وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں وہی ان کا پالنے والا ہے وہ بالکل بےاختیار ہیں کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا تندرست اور اجھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں کان بھی ہیں یہ بیوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ لوگو آؤ ایک لطیف مثال سنو تم جنہیں پکار رہے ہو یہ سارے ہی جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ان کی طاقت سے خارج ہے۔ بلکہ ان کی کمزوری تو یہاں تک ہے کہ کوئی مکھی ان کی کسی چیز کو چھین لے جائے تو یہ اس سے واپس بھی نہیں کرسکتے طلب کرنے والے اور جن سے طلب کی جا رہی ہے بہت ہی بودے ہیں تعجب ہے کہ اتنے کمزوروں کی عبادت کی جاتی ہے جو اپنا حق بھی ایک مکھی سے نہیں لے سکتے وہ تمہاری روزیوں اور مدد پر کیسے قادر ہوں گے ؟ حضرت خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود ہی گھڑتے اور بناتے ہو ؟ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کی مدد کرسکتے ہیں نہ خود اپنی ہی کوئی مدد کرسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت خلیل اللہ ؑ نے انہیں توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا لیکن ان سے یہ نہ ہوسکا کہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیتے۔ ہاتھ میں تبر لے کر سب کو چورا کردیا اور ان معبود ان باطل سے یہ بھی نہ ہوسکا کہ کسی طرح اپنا بچاؤ کرلیتے، خود رسول کریم ﷺ کے زمانے میں بھی حضرت معاذ بن عمرو بن جموح اور حضرت معاذ بن جبل ؓ یہی کام کرتے تھے کہ رات کے وقت چپکے سے جا کر مشرکین کے بت توڑ آتے اور جو لکڑی کے ہوتے انہیں توڑ کر بیوہ عورتوں کو دے دیتے کہ وہ اپنا ایندھن بنالیں اور قوم کے بت پرست عبرت حاصل کریں۔ خود حضرت معاذ کا باپ عمرو بن جموح بھی بت پرست تھا یہ دونوں نوجوان دوست وہاں بھی پہنچتے اور اس بت کو پلیدی سے آلودہ کر آتے۔ جب یہ آتا تو اپنے خدا کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھاتا، پھر دھوتا، پھر اس پر خوشبو ملتا۔ ایک مرتبہ اس نے اس کے پاس تلوار رکھ دی اور کہا دیکھ آج تیرا دشمن آئے تو اس تلوار سے اس کا کام تمام کردینا۔ یہ اس رات بھی پہنچے اور اس کی درگت کر کے پاخانے سے لیپ کر کے چلے آئے مگر تاہم اسے اثر نہ ہوا صبح کو اسی طرح اس نے دھو دھا کر ٹھیک ٹھاک کر کے خوشبو لگا کر بیٹھا کر ڈنڈوت کی یعنی (اٹھک بیٹھک) کی۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ کسی طرح یہ نہیں مانتا تو ایک رات اس بت کو اٹھا لائے اور ایک کتے کا پلا جو مرا پڑا تھا اس کے گلے میں باندھ دیا اور محلے کے ایک کنویں میں ڈال دیا صبح اس نے اپنے بت کو نہ پا کر تلاش کی تو کنویں میں اسے نظر آیا کہ کتے کے مردہ بچے کے ساتھ پڑا ہوا ہے اب اسے بت سے اور بت پرستی سے نفرت ہوگئی اور اس نے کہا عربی (تاللہ لو کنت الھا مستدن لم تک والکلب جمیعافی قرن)یعنی اگر تو سچ مچ اللہ ہوتا تو کنوئیں میں کتے کے پلے کے ساتھ پڑا ہوا نہ ہوتا پھر حاضر حضور سرکار مدینہ ﷺ ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہوگئے پھر تو اسلام میں پورے پکے ہوگئے۔ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور کفار کو قتل کرتے ہوئے شہید ہوگئے دعا (ؓ وارضاہ وجعل جنت الفردوس ماوا)۔ انہیں اگر بلا یا جائے تو یہ قبول کرنا تو درکنار سن بھی نہیں سکتے محض پتھر ہیں، بےجان ہیں، بےآنکھ اور بےکان ہیں جیسے کہ حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ میرے والد ! آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنیں نہ دیھکیں نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکیں نہ تیرے کسی کام آسکیں۔ انہیں پکارنا نہ پکارنا دونوں برابر ہیں۔ یہ تو تم جیسے ہی بےبس اور اللہ کی مخلوق ہیں بتاؤ تو کبھی انہوں نے تمہاری فریاد رسی کی ہے ؟ یا کبھی تمہاری دعا کا جواب دیا ہے ؟ حقیقت میں ان سے افضل و اعلیٰ تو تم خود ہو۔ تم سنتے دیکھتے چلتے پھرتے بولتے چالتے ہو یہ تو اتنا بھی نہیں کرسکتے۔ اجھا تم ان سے میرا کچھ بگاڑ نے کی درخواست کرو میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر ان سے ہو سکے تو بلا تامل اپنی پوری طاقت سے جو میرا بگاڑ سکتے ہوں بگاڑ لیں۔ سنو میں تو اللہ کو اپنا حمایتی اور مددگار سمجھتا ہوں وہی میرا بچانے والا ہے اور وہ مجھے کافی وافی ہے اسی پر میرا بھروسہ ہے اسی سے میرا لگاؤ ہے۔ میں ہی نہیں ہر نیک بندہ یہی کرتا ہے اور وہ بھی اپنے تمام سچے غلاموں کی نگہبانی اور حفاظت کرتا رہتا ہے اور کرتا رہے گا۔ میرے بعد بھی ان سب کا نگراں اور محافظ وہی ہے۔ حضرت ہود ؑ سے آپ کی قوم نے کہا کہ ہمارا تو خیال ہے کہ تو جو ہمارے معبودوں پر ایمان نہیں رکھتا اسی سبب سے انہوں نے تجھے ان مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا سنو تم کو اور اللہ کو گواہ کر کے میں کہتا ہوں اور علیٰ الاعلان کہتا ہوں کہ میں تمہارے اللہ کے سوا اور تمام معبودوں سے بری اور بیزار اور ان سب کا دشمن ہوں۔ تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو تمہیں بھی قسم ہے جو ذرا سی کوتاہی کرو۔ میرا توکل اللہ کی ذات پر ہے تمام جانداروں کی چوٹیاں اسی کے ہاتھ ہیں میرا رب ہی سچی راہ پر ہے حضرت خلیل اللہ ؑ نے بھی یہی فرمایا تھا کہ تم اور تمہارے بزرگ جن کی پرستش کرتے ہیں میں ان سب کا دشمن ہوں اور وہ مجھ سے دور ہیں سوائے اس رب العالمین کے جس نے مجھے پیدا کیا اور میری رہبری کی۔ آپ نے اپنے والد اور قوم سے بھی یہی فرمایا کہ میں تمہارے معبودان باطل سے بری اور بیزار ہوں سوائے اس سچے معبود کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہی میری رہبری کرے گا ہم نے اسی کلمے کو اس کی نسل میں ہمیشہ کیلئے باقی رکھ دیا تاکہ لوگ اپنے باطل خیالات سے ہٹ جائیں۔ پہلے تو غائبانہ فرمایا تھا پھر اور تاکید کے طور پر خطاب کر کے فرماتا ہے کہ جن جن کو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو وہ تمہاری امداد نہیں کرسکتے اور نہ وہ خود اپنا ہی کوئی نفع کرسکتے ہیں۔ یہ تو سن ہی نہیں سکتے تجھے تو یہ آنکھوں والے دکھائی دیتے ہیں لیکن دراصل ان کی اصلی آنکھیں ہی نہیں کہ کسی کو دیکھ سکیں۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر تم انہیں پکارو تو وہ سنتے نہیں چونکہ وہ تصاویر اور بت ہیں ان کی مصنوعی آنکھیں ہیں محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں لیکن دراصل دیکھ نہیں رہے چونکہ وہ پتھر بصورت انسان ہیں اس لئے ضمیر بھی ذوی العقول کی لائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کفار ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے یہی امام ابن جریر کا اختیار کردہ اور قتادہ کا قول بھی یہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا إِنْكَارٌ مِنَ اللَّهِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ عَبَدُوا مَعَ اللَّهِ غَيْرَهُ، مِنَ الْأَنْدَادِ وَالْأَصْنَامِ وَالْأَوْثَانِ، وَهِيَ مَخْلُوقَةٌ لِلَّهِ مَرْبُوبَةٌ مَصْنُوعَةٌ، لَا تَمْلِكُ شَيْئًا مِنَ الْأَمْرِ، وَلَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، [وَلَا تَنْصُرُ] [[زيادة من د، ك، م، أ.]] وَلَا تَنْتَصِرُ لِعَابِدِيهَا، بَلْ هِيَ جَمَادٌ لَا تَتَحَرَّكُ وَلَا تَسْمَعُ وَلَا تُبْصِرُ، وَعَابِدُوهَا أَكَمُلُ مِنْهَا بِسَمْعِهِمْ وَبَصَرِهِمْ وَبَطْشِهِمْ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ﴾ أَيْ: أَتُشْرِكُونَ [[في م، أ: "أيشركون".]] بِهِ مِنَ الْمَعْبُودَاتِ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَا يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ * مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾ [الْحَجِّ:٧٣، ٧٤] أَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُ لَوِ اجْتَمَعَتْ آلِهَتُهُمْ كُلُّهَا، مَا اسْتَطَاعُوا خَلْقَ ذُبَابَةٍ، بَلْ لَوِ أستَلبتهم [[في د: "سلبتهم".]] الذُّبَابَةُ شَيْئًا مِنْ حَقير الْمَطَاعِمِ [[في د، م: "الطعام".]] وَطَارَتْ، لَمَا اسْتَطَاعُوا إِنْقَاذَ ذَلِكَ مِنْهَا، فَمَنْ هَذِهِ صِفَتُهُ وَحَالُهُ، كَيْفَ يُعْبَدُ لِيَرْزُقَ وَيُسْتَنْصَرُ؟ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ﴾ أَيْ: بَلْ هُمْ مَخْلُوقُونَ مَصْنُوعُونَ كَمَا قَالَ الْخَلِيلُ: ﴿قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ * [وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ] [[زيادة من د، ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٥، ٩٦]
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا﴾ أَيْ: لِعَابِدِيهِمْ ﴿وَلا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ﴾ يَعْنِي: وَلَا لِأَنْفُسِهِمْ يَنْصُرُونَ مِمَّنْ أَرَادَهُمْ بِسُوءٍ، كَمَا كَانَ الْخَلِيلُ، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، يَكْسِرُ أَصْنَامَ قَوْمِهِ ويهينُها غَايَةَ الْإِهَانَةِ، كَمَا أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْهُ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٣] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلا كَبِيرًا لَهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٥٨] وَكَمَا كَانَ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -وَكَانَا شَابَّيْنِ قَدْ أَسْلَمَا لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ -فَكَانَا يَعْدُوَانِ فِي اللَّيْلِ عَلَى أَصْنَامِ الْمُشْرِكِينَ يَكْسِرَانِهَا وَيُتْلِفَانِهَا وَيَتَّخِذَانِهَا حَطَبًا لِلْأَرَامِلِ، لِيَعْتَبِرَ قَوْمُهُمَا بِذَلِكَ، وَيَرْتَئُوا لِأَنْفُسِهِمْ، فَكَانَ لِعَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ -وَكَانَ سَيِّدًا فِي قَوْمِهِ -كَانَ لَهُ صَنَمٌ يَعْبُدُهُ وَيُطَيِّبُهُ، فَكَانَا يَجِيئَانِ فِي اللَّيْلِ فَيُنَكِّسَانِهِ عَلَى رَأْسِهِ، وَيُلَطِّخَانِهِ بالعَذِرة، فَيَجِيءُ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ فَيَرَى مَا صُنِعَ بِهِ فَيَغْسِلُهُ وَيُطَيِّبُهُ وَيَضَعُ عِنْدَهُ سَيْفًا، وَيَقُولُ لَهُ: "انْتَصَرَ". [ثُمَّ] [[زيادة من د، م، أ.]] يَعُودَانِ لِمِثْلِ ذَلِكَ، وَيَعُودُ إِلَى صَنِيعِهِ أَيْضًا، حَتَّى أَخَذَاهُ مَرَّةً فَقَرَنَا مَعَهُ جَرْوَ كَلْبٍ مَيِّتٍ، ودلَّياه فِي حَبْلٍ فِي بِئْرٍ هُنَاكَ، فَلَمَّا جَاءَ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ وَرَأَى ذَلِكَ، نَظَرَ فَعَلِمَ أَنَّ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الدِّينِ بَاطِلٌ، وَقَالَ:
تَالله لَوْ كُنتَ إِلَها مُسْتَدن ... لَمْ تَكُ والكَلْبُ جَمِيعًا فِي قَرنْ [[انظر: الرجز في السيرة النبوية لابن هشام (١/٣٥٤) .]]
ثُمَّ أَسْلَمَ فَحسُن إِسْلَامُهُ، وَقُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَرْضَاهُ، وَجَعَلَ جَنَّةَ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَتَّبِعُوكُمْ [سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنْتُمْ صَامِتُونَ] ﴾ [[زيادة من أ، وفي هـ: "الآية".]] يَعْنِي: أَنَّ هَذِهِ الْأَصْنَامَ لَا تَسْمَعُ دُعَاءَ مَنْ دَعَاهَا، وَسَوَاءٌ لَدَيْهَا مَنْ دَعَاهَا وَمَنْ دَحَاهَا، كَمَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ: ﴿يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ وَلا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا﴾ [مَرْيَمَ:٤٢] ؟
ثُمَّ ذَكَرَ تَعَالَى أَنَّهَا عَبِيدٌ مِثْلَ عَابِدِيهَا، أَيْ: مَخْلُوقَاتٌ مثلهم، بل الأناسي أكمل منها، لأنها تَسْمَعُ وَتُبْصِرُ وَتَبْطِشُ، وَتِلْكَ لَا تَفْعَلُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلا تُنْظِرُونِ﴾ [[زيادة من د، ك، م، أ، وفي هـ: "الآية".]] أَيِ: اسْتَنْصِرُوا بِهَا عَلَيَّ، فَلَا تُؤَخِّرُونِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَاجْهَدُوا جُهْدَكُمْ! ﴿إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نزلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ﴾ أَيِ: اللَّهُ حَسْبِي وَكَافِيَّ، وَهُوَ نَصِيرِي وَعَلَيْهِ مُتَّكَلِي، وَإِلَيْهِ أَلْجَأُ، وَهُوَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ صَالِحٍ بَعْدِي. وَهَذَا كَمَا قَالَ هُودٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا قَالَ لَهُ قَوْمُهُ: ﴿إِنْ نَقُولُ إِلا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ * مِنْ دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُون * إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [هُودٍ:٥٤-٥٦] وَكَقَوْلِ الْخَلِيلِ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ * أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الأقْدَمُونَ * فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِي إِلا رَبَّ الْعَالَمِينَ * الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ * [وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ * وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ] [[زيادة من أ.]] ﴾ [الشُّعَرَاءِ:٧٥-٨٠] الْآيَاتِ، وَكَقَوْلِهِ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ ﴿إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ * إِلا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ * وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ [الزُّخْرُفِ:٢٦-٢٨]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ﴾ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، مُؤَكِّدٌ لِمَا تَقَدَّمَ، إِلَّا أَنَّهُ بِصِيغَةِ الْخِطَابِ، وَذَلِكَ بِصِيغَةِ الْغَيْبَةِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَسْمَعُوا وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ [وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ [[زيادة من أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [فَاطِرٍ:١٤]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾ إِنَّمَا قَالَ: ﴿يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ﴾ أَيْ: يُقَابِلُونَكَ بِعُيُونٍ مُصَوَّرَةٍ كَأَنَّهَا نَاظِرَةٌ، وَهِيَ جَمَادٌ؛ وَلِهَذَا عَامَلَهُمْ مُعَامَلَةَ مَنْ يَعْقِلُ؛ لِأَنَّهَا عَلَى صُوَرٍ مُصَوَّرَةٍ كَالْإِنْسَانِ، [فَقَالَ] [[زيادة من د، أ.]] ﴿وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ﴾ فَعَبَّرَ عَنْهَا بِضَمِيرِ مَنْ يَعْقِلُ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: الْمُرَادُ بِهَذَا [[في أ: "بها".]] الْمُشْرِكُونَ وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ نَحْوُهُ. وَالْأَوَّلُ أَوْلَى، وَهُوَ اخْتِيَارُ ابْنِ جَرِيرٍ، وَقَالَهُ قَتَادَةُ.
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى ٱلْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ ۚ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنتُمْ صَٰمِتُونَ
And if you [believers] invite them to guidance, they will not follow you. It is all the same for you whether you invite them or you are silent.
اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں۔ تمہارے لیے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے ہو رہو
و هرگاه آنها را به سوی هدایت دعوت کنید، از شما پیروی نمیکنند؛ و برای شما یکسان است چه آنها را دعوت کنید و چه خاموش باشید؟!
Tafsir Ibn Kathir
Do they attribute as partners to Allah those who created nothing but they themselves are created (191)No help can they give them, nor can they help themselves (192)And if you call them to guidance, they follow you not. It is the same for you whether you call them or you keep silent (193)Verily, those whom you call upon besides Allah are servants like you. So call upon them and let them answer you if you are truthful (194)Have they feet wherewith they walk? Or have they hands wherewith they hold? Or have they eyes wherewith they see? Or have they ears wherewith they hear? Say: "Call your (so-called) partners (of Allah) and then plot against me, and give me no respite (195)Verily, my protector is Allah Who has revealed the Book (the Qur'an), and He protects the righteous (196)And those whom you call upon besides Him (Allah) cannot help you nor can they help themselves (197)And if you call them to guidance, they hear not and you will see them looking at you, yet they see not. (198)
Idols do not create, help, or have Power over Anything
Allah admonishes the idolators who worshipped idols, rivals and images besides Him, although these objects were created by Allah, and neither own anything nor can they bring harm or benefit. These objects do not see or give aid to those who worship them. They are inanimate objects that neither move, hear, or see. Those who worship these objects are better than they are, for they hear see and have strength of their own. Allah said,
أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
(Do they attribute as partners to Allah those who created nothing but they themselves are created?) meaning, 'Do you associate with Allah others that neither create, nor have power to create anything?' Allah said in another Ayah,
يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ - مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ
(O mankind! A similitude has been coined, so listen to it (carefully): Verily, those on whom you call besides Allah, cannot create (even) a fly, even though they combine together for the purpose. And if the fly snatches away a thing from them, they will have no power to release it from the fly. So weak are (both) the seeker and the sought. They have not estimated Allah His rightful estimate. Verily, Allah is All-Strong, Almighty)[22:73-74].
Allah states that if all false gods of the disbelievers gather their strength, they would not be able to create a fly. Rather, if the fly steals anything from them, no matter how insignificant, and flew away, they would not be able to retrieve it. Therefore, if an object is this weak, how can it be worshipped and invoked for provisions and aid? This is why Allah said,
لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
(...who created nothing but they themselves are created?) these worshipped objects themselves were created and made. Prophet Ibrahim Al-Khalil proclaimed,
أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ
("Worship you that which you (yourselves) carve?")[37:95] Allah said next,
وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا
(No help can they give them) those who worship them,
وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ
(nor can they help themselves) nor are they able to aid themselves against those who seek to harm them. For instance, Allah's Khalil, peace be upon him, broke and disgraced the idols of his people, just as Allah said he did,
فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ
(Then he turned upon them, striking (them) with (his) right hand,)[37:93] and,
فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ
(So he broke them to pieces, (all) except the biggest of them, that they might turn to it.)[21:58]
Mu'adh bin 'Amr ibn Al-Jamuh and Mu'adh bin Jabal, may Allah be pleased with both of them, were still young when they embraced Islam after the Messenger of Allah ﷺ came to Al-Madinah. So they were attacking the idols of the idolators at night, breaking, disfiguring them and using them as fuel for needy widows. They sought to give a lesson to their people to make them aware of their error. 'Amr bin Al-Jamuh, who was one of the chiefs of his people, had an idol that he used to worship and perfume. The two Mu'adhs used to go to that idol, turn it on its head and tarnish it with animal waste. When 'Amr bin Al-Jamuh would see what happened to his idol, he would clean it, perfume it and leave a sword next to it, saying, "Defend yourself." However, the two young men would repeat their actions, and he would do the same as before. Once, they took the idol, tied it to a dead dog and threw it in a well while tied to a rope! When 'Amr bin Al-Jamuh saw this, he knew that his religion was false and said, "By Allah! Had you been a god who has might, you would not end up tied to a dog on a rope!" 'Amr bin Al-Jamuh embraced Islam, and he was strong in his Islam. He was later martyred during the battle of Uhud, may Allah be pleased with him, give him pleasure. and grant him Paradise as his dwelling. Allah said,
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ
(And if you call them to guidance, they follow you not.)
Allah says, these idols do not hear the calls of those who worship them. Therefore, the result is the same, whether calling the idols or shunning them. Ibrahim, peace be upon said,
يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا
("O my father! Why do you worship that which hears not, sees not and cannot avail you in anything?")[19:42]
Next, Allah states that the idols were created, just as those who worship them. Rather, the people are better than the idols, because they are able to hear, see and exert harm. The idols, on the other hand, have no such powers. Allah said next,
قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ
(Say: "Call your (so-called) partners (of Allah)) invoke the idols for aid against me and do not give me respite, even for an instant, and give it your best effort,
إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ
(Verily, my protector is Allah Who has revealed the Book (the Qur'an), and He protects the righteous.)
Allah's support is sufficient and He will suffice for me, He is My supporter, I trust in Him and take refuge with Him. He is my protector, in this life and the Hereafter, and the protector of every righteous believer after me. Similarly, the people of Hud said,
إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ - إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
("All that we say is that some of our gods have seized you with evil (madness). " Hud replied: "I call Allah to witness, and bear you witness that I am free from that which you ascribe [as partners in worship, with Him (Allah)]. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving (living) creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on a path that is straight)[11:54-56].
Ibrahim Al-Khalil proclaimed (to his people),
أَفَرَأَيْتُم مَّا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ - فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ - الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ
(Do you observe that which you have been wershipping, You and your ancient fathers. Verily, they are enemies to me, save the Lord of all that exists. Who has created me, and it is He Who guides me.")[26:75-78]
He also said to his father and his people,
إِنَّنِي بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ - إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ - وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
("Verily, I am innocent of what you warship. Except Him Who did create me; and verily, He will guide me." And he made it a legacy lasting among his offspring, that they may turn back (to Allah).)[43:26-28] Allah said here,
إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ
(Verily, those whom you call upon besides Allah) until the end of the Ayah, reiterating what has been said earlier, but He uses direct speech this time,
لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ
(cannot help you nor can they help themselves.) The Ayah,
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ
(And if you call them to guidance, they hear not and you will see them looking at you, yet they see not.) is similar to another Ayah,
إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ
(If you invoke (or call upon) them, they hear not your call.)[35:14]. Allah said next,
وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ
(and you will see them looking at you, yet they see not.) meaning, they have eyes that stare as if they see, although they are solid. Therefore, the Ayah treated them as if they had a mind [saying, Tarahum, instead of Taraha], since they are made in the shape of humans with eyes drawn on them.
Tafsir Ibn Kathir
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو بوجتے ہیں وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں وہی ان کا پالنے والا ہے وہ بالکل بےاختیار ہیں کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا تندرست اور اجھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں کان بھی ہیں یہ بیوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ لوگو آؤ ایک لطیف مثال سنو تم جنہیں پکار رہے ہو یہ سارے ہی جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ان کی طاقت سے خارج ہے۔ بلکہ ان کی کمزوری تو یہاں تک ہے کہ کوئی مکھی ان کی کسی چیز کو چھین لے جائے تو یہ اس سے واپس بھی نہیں کرسکتے طلب کرنے والے اور جن سے طلب کی جا رہی ہے بہت ہی بودے ہیں تعجب ہے کہ اتنے کمزوروں کی عبادت کی جاتی ہے جو اپنا حق بھی ایک مکھی سے نہیں لے سکتے وہ تمہاری روزیوں اور مدد پر کیسے قادر ہوں گے ؟ حضرت خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود ہی گھڑتے اور بناتے ہو ؟ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کی مدد کرسکتے ہیں نہ خود اپنی ہی کوئی مدد کرسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت خلیل اللہ ؑ نے انہیں توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا لیکن ان سے یہ نہ ہوسکا کہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیتے۔ ہاتھ میں تبر لے کر سب کو چورا کردیا اور ان معبود ان باطل سے یہ بھی نہ ہوسکا کہ کسی طرح اپنا بچاؤ کرلیتے، خود رسول کریم ﷺ کے زمانے میں بھی حضرت معاذ بن عمرو بن جموح اور حضرت معاذ بن جبل ؓ یہی کام کرتے تھے کہ رات کے وقت چپکے سے جا کر مشرکین کے بت توڑ آتے اور جو لکڑی کے ہوتے انہیں توڑ کر بیوہ عورتوں کو دے دیتے کہ وہ اپنا ایندھن بنالیں اور قوم کے بت پرست عبرت حاصل کریں۔ خود حضرت معاذ کا باپ عمرو بن جموح بھی بت پرست تھا یہ دونوں نوجوان دوست وہاں بھی پہنچتے اور اس بت کو پلیدی سے آلودہ کر آتے۔ جب یہ آتا تو اپنے خدا کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھاتا، پھر دھوتا، پھر اس پر خوشبو ملتا۔ ایک مرتبہ اس نے اس کے پاس تلوار رکھ دی اور کہا دیکھ آج تیرا دشمن آئے تو اس تلوار سے اس کا کام تمام کردینا۔ یہ اس رات بھی پہنچے اور اس کی درگت کر کے پاخانے سے لیپ کر کے چلے آئے مگر تاہم اسے اثر نہ ہوا صبح کو اسی طرح اس نے دھو دھا کر ٹھیک ٹھاک کر کے خوشبو لگا کر بیٹھا کر ڈنڈوت کی یعنی (اٹھک بیٹھک) کی۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ کسی طرح یہ نہیں مانتا تو ایک رات اس بت کو اٹھا لائے اور ایک کتے کا پلا جو مرا پڑا تھا اس کے گلے میں باندھ دیا اور محلے کے ایک کنویں میں ڈال دیا صبح اس نے اپنے بت کو نہ پا کر تلاش کی تو کنویں میں اسے نظر آیا کہ کتے کے مردہ بچے کے ساتھ پڑا ہوا ہے اب اسے بت سے اور بت پرستی سے نفرت ہوگئی اور اس نے کہا عربی (تاللہ لو کنت الھا مستدن لم تک والکلب جمیعافی قرن)یعنی اگر تو سچ مچ اللہ ہوتا تو کنوئیں میں کتے کے پلے کے ساتھ پڑا ہوا نہ ہوتا پھر حاضر حضور سرکار مدینہ ﷺ ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہوگئے پھر تو اسلام میں پورے پکے ہوگئے۔ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور کفار کو قتل کرتے ہوئے شہید ہوگئے دعا (ؓ وارضاہ وجعل جنت الفردوس ماوا)۔ انہیں اگر بلا یا جائے تو یہ قبول کرنا تو درکنار سن بھی نہیں سکتے محض پتھر ہیں، بےجان ہیں، بےآنکھ اور بےکان ہیں جیسے کہ حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ میرے والد ! آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنیں نہ دیھکیں نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکیں نہ تیرے کسی کام آسکیں۔ انہیں پکارنا نہ پکارنا دونوں برابر ہیں۔ یہ تو تم جیسے ہی بےبس اور اللہ کی مخلوق ہیں بتاؤ تو کبھی انہوں نے تمہاری فریاد رسی کی ہے ؟ یا کبھی تمہاری دعا کا جواب دیا ہے ؟ حقیقت میں ان سے افضل و اعلیٰ تو تم خود ہو۔ تم سنتے دیکھتے چلتے پھرتے بولتے چالتے ہو یہ تو اتنا بھی نہیں کرسکتے۔ اجھا تم ان سے میرا کچھ بگاڑ نے کی درخواست کرو میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر ان سے ہو سکے تو بلا تامل اپنی پوری طاقت سے جو میرا بگاڑ سکتے ہوں بگاڑ لیں۔ سنو میں تو اللہ کو اپنا حمایتی اور مددگار سمجھتا ہوں وہی میرا بچانے والا ہے اور وہ مجھے کافی وافی ہے اسی پر میرا بھروسہ ہے اسی سے میرا لگاؤ ہے۔ میں ہی نہیں ہر نیک بندہ یہی کرتا ہے اور وہ بھی اپنے تمام سچے غلاموں کی نگہبانی اور حفاظت کرتا رہتا ہے اور کرتا رہے گا۔ میرے بعد بھی ان سب کا نگراں اور محافظ وہی ہے۔ حضرت ہود ؑ سے آپ کی قوم نے کہا کہ ہمارا تو خیال ہے کہ تو جو ہمارے معبودوں پر ایمان نہیں رکھتا اسی سبب سے انہوں نے تجھے ان مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا سنو تم کو اور اللہ کو گواہ کر کے میں کہتا ہوں اور علیٰ الاعلان کہتا ہوں کہ میں تمہارے اللہ کے سوا اور تمام معبودوں سے بری اور بیزار اور ان سب کا دشمن ہوں۔ تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو تمہیں بھی قسم ہے جو ذرا سی کوتاہی کرو۔ میرا توکل اللہ کی ذات پر ہے تمام جانداروں کی چوٹیاں اسی کے ہاتھ ہیں میرا رب ہی سچی راہ پر ہے حضرت خلیل اللہ ؑ نے بھی یہی فرمایا تھا کہ تم اور تمہارے بزرگ جن کی پرستش کرتے ہیں میں ان سب کا دشمن ہوں اور وہ مجھ سے دور ہیں سوائے اس رب العالمین کے جس نے مجھے پیدا کیا اور میری رہبری کی۔ آپ نے اپنے والد اور قوم سے بھی یہی فرمایا کہ میں تمہارے معبودان باطل سے بری اور بیزار ہوں سوائے اس سچے معبود کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہی میری رہبری کرے گا ہم نے اسی کلمے کو اس کی نسل میں ہمیشہ کیلئے باقی رکھ دیا تاکہ لوگ اپنے باطل خیالات سے ہٹ جائیں۔ پہلے تو غائبانہ فرمایا تھا پھر اور تاکید کے طور پر خطاب کر کے فرماتا ہے کہ جن جن کو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو وہ تمہاری امداد نہیں کرسکتے اور نہ وہ خود اپنا ہی کوئی نفع کرسکتے ہیں۔ یہ تو سن ہی نہیں سکتے تجھے تو یہ آنکھوں والے دکھائی دیتے ہیں لیکن دراصل ان کی اصلی آنکھیں ہی نہیں کہ کسی کو دیکھ سکیں۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر تم انہیں پکارو تو وہ سنتے نہیں چونکہ وہ تصاویر اور بت ہیں ان کی مصنوعی آنکھیں ہیں محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں لیکن دراصل دیکھ نہیں رہے چونکہ وہ پتھر بصورت انسان ہیں اس لئے ضمیر بھی ذوی العقول کی لائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کفار ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے یہی امام ابن جریر کا اختیار کردہ اور قتادہ کا قول بھی یہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا إِنْكَارٌ مِنَ اللَّهِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ عَبَدُوا مَعَ اللَّهِ غَيْرَهُ، مِنَ الْأَنْدَادِ وَالْأَصْنَامِ وَالْأَوْثَانِ، وَهِيَ مَخْلُوقَةٌ لِلَّهِ مَرْبُوبَةٌ مَصْنُوعَةٌ، لَا تَمْلِكُ شَيْئًا مِنَ الْأَمْرِ، وَلَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، [وَلَا تَنْصُرُ] [[زيادة من د، ك، م، أ.]] وَلَا تَنْتَصِرُ لِعَابِدِيهَا، بَلْ هِيَ جَمَادٌ لَا تَتَحَرَّكُ وَلَا تَسْمَعُ وَلَا تُبْصِرُ، وَعَابِدُوهَا أَكَمُلُ مِنْهَا بِسَمْعِهِمْ وَبَصَرِهِمْ وَبَطْشِهِمْ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ﴾ أَيْ: أَتُشْرِكُونَ [[في م، أ: "أيشركون".]] بِهِ مِنَ الْمَعْبُودَاتِ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَا يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ * مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾ [الْحَجِّ:٧٣، ٧٤] أَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُ لَوِ اجْتَمَعَتْ آلِهَتُهُمْ كُلُّهَا، مَا اسْتَطَاعُوا خَلْقَ ذُبَابَةٍ، بَلْ لَوِ أستَلبتهم [[في د: "سلبتهم".]] الذُّبَابَةُ شَيْئًا مِنْ حَقير الْمَطَاعِمِ [[في د، م: "الطعام".]] وَطَارَتْ، لَمَا اسْتَطَاعُوا إِنْقَاذَ ذَلِكَ مِنْهَا، فَمَنْ هَذِهِ صِفَتُهُ وَحَالُهُ، كَيْفَ يُعْبَدُ لِيَرْزُقَ وَيُسْتَنْصَرُ؟ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ﴾ أَيْ: بَلْ هُمْ مَخْلُوقُونَ مَصْنُوعُونَ كَمَا قَالَ الْخَلِيلُ: ﴿قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ * [وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ] [[زيادة من د، ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٥، ٩٦]
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا﴾ أَيْ: لِعَابِدِيهِمْ ﴿وَلا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ﴾ يَعْنِي: وَلَا لِأَنْفُسِهِمْ يَنْصُرُونَ مِمَّنْ أَرَادَهُمْ بِسُوءٍ، كَمَا كَانَ الْخَلِيلُ، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، يَكْسِرُ أَصْنَامَ قَوْمِهِ ويهينُها غَايَةَ الْإِهَانَةِ، كَمَا أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْهُ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٣] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلا كَبِيرًا لَهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٥٨] وَكَمَا كَانَ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -وَكَانَا شَابَّيْنِ قَدْ أَسْلَمَا لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ -فَكَانَا يَعْدُوَانِ فِي اللَّيْلِ عَلَى أَصْنَامِ الْمُشْرِكِينَ يَكْسِرَانِهَا وَيُتْلِفَانِهَا وَيَتَّخِذَانِهَا حَطَبًا لِلْأَرَامِلِ، لِيَعْتَبِرَ قَوْمُهُمَا بِذَلِكَ، وَيَرْتَئُوا لِأَنْفُسِهِمْ، فَكَانَ لِعَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ -وَكَانَ سَيِّدًا فِي قَوْمِهِ -كَانَ لَهُ صَنَمٌ يَعْبُدُهُ وَيُطَيِّبُهُ، فَكَانَا يَجِيئَانِ فِي اللَّيْلِ فَيُنَكِّسَانِهِ عَلَى رَأْسِهِ، وَيُلَطِّخَانِهِ بالعَذِرة، فَيَجِيءُ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ فَيَرَى مَا صُنِعَ بِهِ فَيَغْسِلُهُ وَيُطَيِّبُهُ وَيَضَعُ عِنْدَهُ سَيْفًا، وَيَقُولُ لَهُ: "انْتَصَرَ". [ثُمَّ] [[زيادة من د، م، أ.]] يَعُودَانِ لِمِثْلِ ذَلِكَ، وَيَعُودُ إِلَى صَنِيعِهِ أَيْضًا، حَتَّى أَخَذَاهُ مَرَّةً فَقَرَنَا مَعَهُ جَرْوَ كَلْبٍ مَيِّتٍ، ودلَّياه فِي حَبْلٍ فِي بِئْرٍ هُنَاكَ، فَلَمَّا جَاءَ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ وَرَأَى ذَلِكَ، نَظَرَ فَعَلِمَ أَنَّ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الدِّينِ بَاطِلٌ، وَقَالَ:
تَالله لَوْ كُنتَ إِلَها مُسْتَدن ... لَمْ تَكُ والكَلْبُ جَمِيعًا فِي قَرنْ [[انظر: الرجز في السيرة النبوية لابن هشام (١/٣٥٤) .]]
ثُمَّ أَسْلَمَ فَحسُن إِسْلَامُهُ، وَقُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَرْضَاهُ، وَجَعَلَ جَنَّةَ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَتَّبِعُوكُمْ [سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنْتُمْ صَامِتُونَ] ﴾ [[زيادة من أ، وفي هـ: "الآية".]] يَعْنِي: أَنَّ هَذِهِ الْأَصْنَامَ لَا تَسْمَعُ دُعَاءَ مَنْ دَعَاهَا، وَسَوَاءٌ لَدَيْهَا مَنْ دَعَاهَا وَمَنْ دَحَاهَا، كَمَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ: ﴿يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ وَلا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا﴾ [مَرْيَمَ:٤٢] ؟
ثُمَّ ذَكَرَ تَعَالَى أَنَّهَا عَبِيدٌ مِثْلَ عَابِدِيهَا، أَيْ: مَخْلُوقَاتٌ مثلهم، بل الأناسي أكمل منها، لأنها تَسْمَعُ وَتُبْصِرُ وَتَبْطِشُ، وَتِلْكَ لَا تَفْعَلُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلا تُنْظِرُونِ﴾ [[زيادة من د، ك، م، أ، وفي هـ: "الآية".]] أَيِ: اسْتَنْصِرُوا بِهَا عَلَيَّ، فَلَا تُؤَخِّرُونِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَاجْهَدُوا جُهْدَكُمْ! ﴿إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نزلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ﴾ أَيِ: اللَّهُ حَسْبِي وَكَافِيَّ، وَهُوَ نَصِيرِي وَعَلَيْهِ مُتَّكَلِي، وَإِلَيْهِ أَلْجَأُ، وَهُوَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ صَالِحٍ بَعْدِي. وَهَذَا كَمَا قَالَ هُودٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا قَالَ لَهُ قَوْمُهُ: ﴿إِنْ نَقُولُ إِلا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ * مِنْ دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُون * إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [هُودٍ:٥٤-٥٦] وَكَقَوْلِ الْخَلِيلِ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ * أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الأقْدَمُونَ * فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِي إِلا رَبَّ الْعَالَمِينَ * الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ * [وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ * وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ] [[زيادة من أ.]] ﴾ [الشُّعَرَاءِ:٧٥-٨٠] الْآيَاتِ، وَكَقَوْلِهِ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ ﴿إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ * إِلا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ * وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ [الزُّخْرُفِ:٢٦-٢٨]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ﴾ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، مُؤَكِّدٌ لِمَا تَقَدَّمَ، إِلَّا أَنَّهُ بِصِيغَةِ الْخِطَابِ، وَذَلِكَ بِصِيغَةِ الْغَيْبَةِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَسْمَعُوا وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ [وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ [[زيادة من أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [فَاطِرٍ:١٤]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾ إِنَّمَا قَالَ: ﴿يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ﴾ أَيْ: يُقَابِلُونَكَ بِعُيُونٍ مُصَوَّرَةٍ كَأَنَّهَا نَاظِرَةٌ، وَهِيَ جَمَادٌ؛ وَلِهَذَا عَامَلَهُمْ مُعَامَلَةَ مَنْ يَعْقِلُ؛ لِأَنَّهَا عَلَى صُوَرٍ مُصَوَّرَةٍ كَالْإِنْسَانِ، [فَقَالَ] [[زيادة من د، أ.]] ﴿وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ﴾ فَعَبَّرَ عَنْهَا بِضَمِيرِ مَنْ يَعْقِلُ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: الْمُرَادُ بِهَذَا [[في أ: "بها".]] الْمُشْرِكُونَ وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ نَحْوُهُ. وَالْأَوَّلُ أَوْلَى، وَهُوَ اخْتِيَارُ ابْنِ جَرِيرٍ، وَقَالَهُ قَتَادَةُ.
إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ ۖ فَٱدْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا۟ لَكُمْ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ
Indeed, those you [polytheists] call upon besides Allah are servants like you. So call upon them and let them respond to you, if you should be truthful.
(مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں (اچھا) تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہیئے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں
آنهایی را که غیر از خدا میخوانید (و پرستش میکنید)، بندگانی همچون خود شما هستند؛ آنها را بخوانید، و اگر راست میگویید باید به شما پاسخ دهند (و تقاضایتان را برآورند)!
Tafsir Ibn Kathir
Do they attribute as partners to Allah those who created nothing but they themselves are created (191)No help can they give them, nor can they help themselves (192)And if you call them to guidance, they follow you not. It is the same for you whether you call them or you keep silent (193)Verily, those whom you call upon besides Allah are servants like you. So call upon them and let them answer you if you are truthful (194)Have they feet wherewith they walk? Or have they hands wherewith they hold? Or have they eyes wherewith they see? Or have they ears wherewith they hear? Say: "Call your (so-called) partners (of Allah) and then plot against me, and give me no respite (195)Verily, my protector is Allah Who has revealed the Book (the Qur'an), and He protects the righteous (196)And those whom you call upon besides Him (Allah) cannot help you nor can they help themselves (197)And if you call them to guidance, they hear not and you will see them looking at you, yet they see not. (198)
Idols do not create, help, or have Power over Anything
Allah admonishes the idolators who worshipped idols, rivals and images besides Him, although these objects were created by Allah, and neither own anything nor can they bring harm or benefit. These objects do not see or give aid to those who worship them. They are inanimate objects that neither move, hear, or see. Those who worship these objects are better than they are, for they hear see and have strength of their own. Allah said,
أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
(Do they attribute as partners to Allah those who created nothing but they themselves are created?) meaning, 'Do you associate with Allah others that neither create, nor have power to create anything?' Allah said in another Ayah,
يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ - مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ
(O mankind! A similitude has been coined, so listen to it (carefully): Verily, those on whom you call besides Allah, cannot create (even) a fly, even though they combine together for the purpose. And if the fly snatches away a thing from them, they will have no power to release it from the fly. So weak are (both) the seeker and the sought. They have not estimated Allah His rightful estimate. Verily, Allah is All-Strong, Almighty)[22:73-74].
Allah states that if all false gods of the disbelievers gather their strength, they would not be able to create a fly. Rather, if the fly steals anything from them, no matter how insignificant, and flew away, they would not be able to retrieve it. Therefore, if an object is this weak, how can it be worshipped and invoked for provisions and aid? This is why Allah said,
لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
(...who created nothing but they themselves are created?) these worshipped objects themselves were created and made. Prophet Ibrahim Al-Khalil proclaimed,
أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ
("Worship you that which you (yourselves) carve?")[37:95] Allah said next,
وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا
(No help can they give them) those who worship them,
وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ
(nor can they help themselves) nor are they able to aid themselves against those who seek to harm them. For instance, Allah's Khalil, peace be upon him, broke and disgraced the idols of his people, just as Allah said he did,
فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ
(Then he turned upon them, striking (them) with (his) right hand,)[37:93] and,
فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ
(So he broke them to pieces, (all) except the biggest of them, that they might turn to it.)[21:58]
Mu'adh bin 'Amr ibn Al-Jamuh and Mu'adh bin Jabal, may Allah be pleased with both of them, were still young when they embraced Islam after the Messenger of Allah ﷺ came to Al-Madinah. So they were attacking the idols of the idolators at night, breaking, disfiguring them and using them as fuel for needy widows. They sought to give a lesson to their people to make them aware of their error. 'Amr bin Al-Jamuh, who was one of the chiefs of his people, had an idol that he used to worship and perfume. The two Mu'adhs used to go to that idol, turn it on its head and tarnish it with animal waste. When 'Amr bin Al-Jamuh would see what happened to his idol, he would clean it, perfume it and leave a sword next to it, saying, "Defend yourself." However, the two young men would repeat their actions, and he would do the same as before. Once, they took the idol, tied it to a dead dog and threw it in a well while tied to a rope! When 'Amr bin Al-Jamuh saw this, he knew that his religion was false and said, "By Allah! Had you been a god who has might, you would not end up tied to a dog on a rope!" 'Amr bin Al-Jamuh embraced Islam, and he was strong in his Islam. He was later martyred during the battle of Uhud, may Allah be pleased with him, give him pleasure. and grant him Paradise as his dwelling. Allah said,
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ
(And if you call them to guidance, they follow you not.)
Allah says, these idols do not hear the calls of those who worship them. Therefore, the result is the same, whether calling the idols or shunning them. Ibrahim, peace be upon said,
يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا
("O my father! Why do you worship that which hears not, sees not and cannot avail you in anything?")[19:42]
Next, Allah states that the idols were created, just as those who worship them. Rather, the people are better than the idols, because they are able to hear, see and exert harm. The idols, on the other hand, have no such powers. Allah said next,
قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ
(Say: "Call your (so-called) partners (of Allah)) invoke the idols for aid against me and do not give me respite, even for an instant, and give it your best effort,
إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ
(Verily, my protector is Allah Who has revealed the Book (the Qur'an), and He protects the righteous.)
Allah's support is sufficient and He will suffice for me, He is My supporter, I trust in Him and take refuge with Him. He is my protector, in this life and the Hereafter, and the protector of every righteous believer after me. Similarly, the people of Hud said,
إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ - إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
("All that we say is that some of our gods have seized you with evil (madness). " Hud replied: "I call Allah to witness, and bear you witness that I am free from that which you ascribe [as partners in worship, with Him (Allah)]. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving (living) creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on a path that is straight)[11:54-56].
Ibrahim Al-Khalil proclaimed (to his people),
أَفَرَأَيْتُم مَّا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ - فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ - الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ
(Do you observe that which you have been wershipping, You and your ancient fathers. Verily, they are enemies to me, save the Lord of all that exists. Who has created me, and it is He Who guides me.")[26:75-78]
He also said to his father and his people,
إِنَّنِي بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ - إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ - وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
("Verily, I am innocent of what you warship. Except Him Who did create me; and verily, He will guide me." And he made it a legacy lasting among his offspring, that they may turn back (to Allah).)[43:26-28] Allah said here,
إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ
(Verily, those whom you call upon besides Allah) until the end of the Ayah, reiterating what has been said earlier, but He uses direct speech this time,
لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ
(cannot help you nor can they help themselves.) The Ayah,
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ
(And if you call them to guidance, they hear not and you will see them looking at you, yet they see not.) is similar to another Ayah,
إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ
(If you invoke (or call upon) them, they hear not your call.)[35:14]. Allah said next,
وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ
(and you will see them looking at you, yet they see not.) meaning, they have eyes that stare as if they see, although they are solid. Therefore, the Ayah treated them as if they had a mind [saying, Tarahum, instead of Taraha], since they are made in the shape of humans with eyes drawn on them.
Tafsir Ibn Kathir
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو بوجتے ہیں وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں وہی ان کا پالنے والا ہے وہ بالکل بےاختیار ہیں کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا تندرست اور اجھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں کان بھی ہیں یہ بیوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ لوگو آؤ ایک لطیف مثال سنو تم جنہیں پکار رہے ہو یہ سارے ہی جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ان کی طاقت سے خارج ہے۔ بلکہ ان کی کمزوری تو یہاں تک ہے کہ کوئی مکھی ان کی کسی چیز کو چھین لے جائے تو یہ اس سے واپس بھی نہیں کرسکتے طلب کرنے والے اور جن سے طلب کی جا رہی ہے بہت ہی بودے ہیں تعجب ہے کہ اتنے کمزوروں کی عبادت کی جاتی ہے جو اپنا حق بھی ایک مکھی سے نہیں لے سکتے وہ تمہاری روزیوں اور مدد پر کیسے قادر ہوں گے ؟ حضرت خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود ہی گھڑتے اور بناتے ہو ؟ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کی مدد کرسکتے ہیں نہ خود اپنی ہی کوئی مدد کرسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت خلیل اللہ ؑ نے انہیں توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا لیکن ان سے یہ نہ ہوسکا کہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیتے۔ ہاتھ میں تبر لے کر سب کو چورا کردیا اور ان معبود ان باطل سے یہ بھی نہ ہوسکا کہ کسی طرح اپنا بچاؤ کرلیتے، خود رسول کریم ﷺ کے زمانے میں بھی حضرت معاذ بن عمرو بن جموح اور حضرت معاذ بن جبل ؓ یہی کام کرتے تھے کہ رات کے وقت چپکے سے جا کر مشرکین کے بت توڑ آتے اور جو لکڑی کے ہوتے انہیں توڑ کر بیوہ عورتوں کو دے دیتے کہ وہ اپنا ایندھن بنالیں اور قوم کے بت پرست عبرت حاصل کریں۔ خود حضرت معاذ کا باپ عمرو بن جموح بھی بت پرست تھا یہ دونوں نوجوان دوست وہاں بھی پہنچتے اور اس بت کو پلیدی سے آلودہ کر آتے۔ جب یہ آتا تو اپنے خدا کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھاتا، پھر دھوتا، پھر اس پر خوشبو ملتا۔ ایک مرتبہ اس نے اس کے پاس تلوار رکھ دی اور کہا دیکھ آج تیرا دشمن آئے تو اس تلوار سے اس کا کام تمام کردینا۔ یہ اس رات بھی پہنچے اور اس کی درگت کر کے پاخانے سے لیپ کر کے چلے آئے مگر تاہم اسے اثر نہ ہوا صبح کو اسی طرح اس نے دھو دھا کر ٹھیک ٹھاک کر کے خوشبو لگا کر بیٹھا کر ڈنڈوت کی یعنی (اٹھک بیٹھک) کی۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ کسی طرح یہ نہیں مانتا تو ایک رات اس بت کو اٹھا لائے اور ایک کتے کا پلا جو مرا پڑا تھا اس کے گلے میں باندھ دیا اور محلے کے ایک کنویں میں ڈال دیا صبح اس نے اپنے بت کو نہ پا کر تلاش کی تو کنویں میں اسے نظر آیا کہ کتے کے مردہ بچے کے ساتھ پڑا ہوا ہے اب اسے بت سے اور بت پرستی سے نفرت ہوگئی اور اس نے کہا عربی (تاللہ لو کنت الھا مستدن لم تک والکلب جمیعافی قرن)یعنی اگر تو سچ مچ اللہ ہوتا تو کنوئیں میں کتے کے پلے کے ساتھ پڑا ہوا نہ ہوتا پھر حاضر حضور سرکار مدینہ ﷺ ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہوگئے پھر تو اسلام میں پورے پکے ہوگئے۔ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور کفار کو قتل کرتے ہوئے شہید ہوگئے دعا (ؓ وارضاہ وجعل جنت الفردوس ماوا)۔ انہیں اگر بلا یا جائے تو یہ قبول کرنا تو درکنار سن بھی نہیں سکتے محض پتھر ہیں، بےجان ہیں، بےآنکھ اور بےکان ہیں جیسے کہ حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ میرے والد ! آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنیں نہ دیھکیں نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکیں نہ تیرے کسی کام آسکیں۔ انہیں پکارنا نہ پکارنا دونوں برابر ہیں۔ یہ تو تم جیسے ہی بےبس اور اللہ کی مخلوق ہیں بتاؤ تو کبھی انہوں نے تمہاری فریاد رسی کی ہے ؟ یا کبھی تمہاری دعا کا جواب دیا ہے ؟ حقیقت میں ان سے افضل و اعلیٰ تو تم خود ہو۔ تم سنتے دیکھتے چلتے پھرتے بولتے چالتے ہو یہ تو اتنا بھی نہیں کرسکتے۔ اجھا تم ان سے میرا کچھ بگاڑ نے کی درخواست کرو میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر ان سے ہو سکے تو بلا تامل اپنی پوری طاقت سے جو میرا بگاڑ سکتے ہوں بگاڑ لیں۔ سنو میں تو اللہ کو اپنا حمایتی اور مددگار سمجھتا ہوں وہی میرا بچانے والا ہے اور وہ مجھے کافی وافی ہے اسی پر میرا بھروسہ ہے اسی سے میرا لگاؤ ہے۔ میں ہی نہیں ہر نیک بندہ یہی کرتا ہے اور وہ بھی اپنے تمام سچے غلاموں کی نگہبانی اور حفاظت کرتا رہتا ہے اور کرتا رہے گا۔ میرے بعد بھی ان سب کا نگراں اور محافظ وہی ہے۔ حضرت ہود ؑ سے آپ کی قوم نے کہا کہ ہمارا تو خیال ہے کہ تو جو ہمارے معبودوں پر ایمان نہیں رکھتا اسی سبب سے انہوں نے تجھے ان مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا سنو تم کو اور اللہ کو گواہ کر کے میں کہتا ہوں اور علیٰ الاعلان کہتا ہوں کہ میں تمہارے اللہ کے سوا اور تمام معبودوں سے بری اور بیزار اور ان سب کا دشمن ہوں۔ تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو تمہیں بھی قسم ہے جو ذرا سی کوتاہی کرو۔ میرا توکل اللہ کی ذات پر ہے تمام جانداروں کی چوٹیاں اسی کے ہاتھ ہیں میرا رب ہی سچی راہ پر ہے حضرت خلیل اللہ ؑ نے بھی یہی فرمایا تھا کہ تم اور تمہارے بزرگ جن کی پرستش کرتے ہیں میں ان سب کا دشمن ہوں اور وہ مجھ سے دور ہیں سوائے اس رب العالمین کے جس نے مجھے پیدا کیا اور میری رہبری کی۔ آپ نے اپنے والد اور قوم سے بھی یہی فرمایا کہ میں تمہارے معبودان باطل سے بری اور بیزار ہوں سوائے اس سچے معبود کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہی میری رہبری کرے گا ہم نے اسی کلمے کو اس کی نسل میں ہمیشہ کیلئے باقی رکھ دیا تاکہ لوگ اپنے باطل خیالات سے ہٹ جائیں۔ پہلے تو غائبانہ فرمایا تھا پھر اور تاکید کے طور پر خطاب کر کے فرماتا ہے کہ جن جن کو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو وہ تمہاری امداد نہیں کرسکتے اور نہ وہ خود اپنا ہی کوئی نفع کرسکتے ہیں۔ یہ تو سن ہی نہیں سکتے تجھے تو یہ آنکھوں والے دکھائی دیتے ہیں لیکن دراصل ان کی اصلی آنکھیں ہی نہیں کہ کسی کو دیکھ سکیں۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر تم انہیں پکارو تو وہ سنتے نہیں چونکہ وہ تصاویر اور بت ہیں ان کی مصنوعی آنکھیں ہیں محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں لیکن دراصل دیکھ نہیں رہے چونکہ وہ پتھر بصورت انسان ہیں اس لئے ضمیر بھی ذوی العقول کی لائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کفار ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے یہی امام ابن جریر کا اختیار کردہ اور قتادہ کا قول بھی یہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا إِنْكَارٌ مِنَ اللَّهِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ عَبَدُوا مَعَ اللَّهِ غَيْرَهُ، مِنَ الْأَنْدَادِ وَالْأَصْنَامِ وَالْأَوْثَانِ، وَهِيَ مَخْلُوقَةٌ لِلَّهِ مَرْبُوبَةٌ مَصْنُوعَةٌ، لَا تَمْلِكُ شَيْئًا مِنَ الْأَمْرِ، وَلَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، [وَلَا تَنْصُرُ] [[زيادة من د، ك، م، أ.]] وَلَا تَنْتَصِرُ لِعَابِدِيهَا، بَلْ هِيَ جَمَادٌ لَا تَتَحَرَّكُ وَلَا تَسْمَعُ وَلَا تُبْصِرُ، وَعَابِدُوهَا أَكَمُلُ مِنْهَا بِسَمْعِهِمْ وَبَصَرِهِمْ وَبَطْشِهِمْ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ﴾ أَيْ: أَتُشْرِكُونَ [[في م، أ: "أيشركون".]] بِهِ مِنَ الْمَعْبُودَاتِ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَا يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ * مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾ [الْحَجِّ:٧٣، ٧٤] أَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُ لَوِ اجْتَمَعَتْ آلِهَتُهُمْ كُلُّهَا، مَا اسْتَطَاعُوا خَلْقَ ذُبَابَةٍ، بَلْ لَوِ أستَلبتهم [[في د: "سلبتهم".]] الذُّبَابَةُ شَيْئًا مِنْ حَقير الْمَطَاعِمِ [[في د، م: "الطعام".]] وَطَارَتْ، لَمَا اسْتَطَاعُوا إِنْقَاذَ ذَلِكَ مِنْهَا، فَمَنْ هَذِهِ صِفَتُهُ وَحَالُهُ، كَيْفَ يُعْبَدُ لِيَرْزُقَ وَيُسْتَنْصَرُ؟ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ﴾ أَيْ: بَلْ هُمْ مَخْلُوقُونَ مَصْنُوعُونَ كَمَا قَالَ الْخَلِيلُ: ﴿قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ * [وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ] [[زيادة من د، ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٥، ٩٦]
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا﴾ أَيْ: لِعَابِدِيهِمْ ﴿وَلا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ﴾ يَعْنِي: وَلَا لِأَنْفُسِهِمْ يَنْصُرُونَ مِمَّنْ أَرَادَهُمْ بِسُوءٍ، كَمَا كَانَ الْخَلِيلُ، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، يَكْسِرُ أَصْنَامَ قَوْمِهِ ويهينُها غَايَةَ الْإِهَانَةِ، كَمَا أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْهُ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٣] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلا كَبِيرًا لَهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٥٨] وَكَمَا كَانَ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -وَكَانَا شَابَّيْنِ قَدْ أَسْلَمَا لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ -فَكَانَا يَعْدُوَانِ فِي اللَّيْلِ عَلَى أَصْنَامِ الْمُشْرِكِينَ يَكْسِرَانِهَا وَيُتْلِفَانِهَا وَيَتَّخِذَانِهَا حَطَبًا لِلْأَرَامِلِ، لِيَعْتَبِرَ قَوْمُهُمَا بِذَلِكَ، وَيَرْتَئُوا لِأَنْفُسِهِمْ، فَكَانَ لِعَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ -وَكَانَ سَيِّدًا فِي قَوْمِهِ -كَانَ لَهُ صَنَمٌ يَعْبُدُهُ وَيُطَيِّبُهُ، فَكَانَا يَجِيئَانِ فِي اللَّيْلِ فَيُنَكِّسَانِهِ عَلَى رَأْسِهِ، وَيُلَطِّخَانِهِ بالعَذِرة، فَيَجِيءُ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ فَيَرَى مَا صُنِعَ بِهِ فَيَغْسِلُهُ وَيُطَيِّبُهُ وَيَضَعُ عِنْدَهُ سَيْفًا، وَيَقُولُ لَهُ: "انْتَصَرَ". [ثُمَّ] [[زيادة من د، م، أ.]] يَعُودَانِ لِمِثْلِ ذَلِكَ، وَيَعُودُ إِلَى صَنِيعِهِ أَيْضًا، حَتَّى أَخَذَاهُ مَرَّةً فَقَرَنَا مَعَهُ جَرْوَ كَلْبٍ مَيِّتٍ، ودلَّياه فِي حَبْلٍ فِي بِئْرٍ هُنَاكَ، فَلَمَّا جَاءَ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ وَرَأَى ذَلِكَ، نَظَرَ فَعَلِمَ أَنَّ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الدِّينِ بَاطِلٌ، وَقَالَ:
تَالله لَوْ كُنتَ إِلَها مُسْتَدن ... لَمْ تَكُ والكَلْبُ جَمِيعًا فِي قَرنْ [[انظر: الرجز في السيرة النبوية لابن هشام (١/٣٥٤) .]]
ثُمَّ أَسْلَمَ فَحسُن إِسْلَامُهُ، وَقُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَرْضَاهُ، وَجَعَلَ جَنَّةَ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَتَّبِعُوكُمْ [سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنْتُمْ صَامِتُونَ] ﴾ [[زيادة من أ، وفي هـ: "الآية".]] يَعْنِي: أَنَّ هَذِهِ الْأَصْنَامَ لَا تَسْمَعُ دُعَاءَ مَنْ دَعَاهَا، وَسَوَاءٌ لَدَيْهَا مَنْ دَعَاهَا وَمَنْ دَحَاهَا، كَمَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ: ﴿يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ وَلا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا﴾ [مَرْيَمَ:٤٢] ؟
ثُمَّ ذَكَرَ تَعَالَى أَنَّهَا عَبِيدٌ مِثْلَ عَابِدِيهَا، أَيْ: مَخْلُوقَاتٌ مثلهم، بل الأناسي أكمل منها، لأنها تَسْمَعُ وَتُبْصِرُ وَتَبْطِشُ، وَتِلْكَ لَا تَفْعَلُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلا تُنْظِرُونِ﴾ [[زيادة من د، ك، م، أ، وفي هـ: "الآية".]] أَيِ: اسْتَنْصِرُوا بِهَا عَلَيَّ، فَلَا تُؤَخِّرُونِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَاجْهَدُوا جُهْدَكُمْ! ﴿إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نزلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ﴾ أَيِ: اللَّهُ حَسْبِي وَكَافِيَّ، وَهُوَ نَصِيرِي وَعَلَيْهِ مُتَّكَلِي، وَإِلَيْهِ أَلْجَأُ، وَهُوَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ صَالِحٍ بَعْدِي. وَهَذَا كَمَا قَالَ هُودٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا قَالَ لَهُ قَوْمُهُ: ﴿إِنْ نَقُولُ إِلا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ * مِنْ دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُون * إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [هُودٍ:٥٤-٥٦] وَكَقَوْلِ الْخَلِيلِ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ * أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الأقْدَمُونَ * فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِي إِلا رَبَّ الْعَالَمِينَ * الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ * [وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ * وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ] [[زيادة من أ.]] ﴾ [الشُّعَرَاءِ:٧٥-٨٠] الْآيَاتِ، وَكَقَوْلِهِ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ ﴿إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ * إِلا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ * وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ [الزُّخْرُفِ:٢٦-٢٨]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ﴾ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، مُؤَكِّدٌ لِمَا تَقَدَّمَ، إِلَّا أَنَّهُ بِصِيغَةِ الْخِطَابِ، وَذَلِكَ بِصِيغَةِ الْغَيْبَةِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَسْمَعُوا وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ [وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ [[زيادة من أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [فَاطِرٍ:١٤]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾ إِنَّمَا قَالَ: ﴿يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ﴾ أَيْ: يُقَابِلُونَكَ بِعُيُونٍ مُصَوَّرَةٍ كَأَنَّهَا نَاظِرَةٌ، وَهِيَ جَمَادٌ؛ وَلِهَذَا عَامَلَهُمْ مُعَامَلَةَ مَنْ يَعْقِلُ؛ لِأَنَّهَا عَلَى صُوَرٍ مُصَوَّرَةٍ كَالْإِنْسَانِ، [فَقَالَ] [[زيادة من د، أ.]] ﴿وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ﴾ فَعَبَّرَ عَنْهَا بِضَمِيرِ مَنْ يَعْقِلُ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: الْمُرَادُ بِهَذَا [[في أ: "بها".]] الْمُشْرِكُونَ وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ نَحْوُهُ. وَالْأَوَّلُ أَوْلَى، وَهُوَ اخْتِيَارُ ابْنِ جَرِيرٍ، وَقَالَهُ قَتَادَةُ.
أَلَهُمْ أَرْجُلٌۭ يَمْشُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ أَيْدٍۢ يَبْطِشُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ أَعْيُنٌۭ يُبْصِرُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ ءَاذَانٌۭ يَسْمَعُونَ بِهَا ۗ قُلِ ٱدْعُوا۟ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ
Do they have feet by which they walk? Or do they have hands by which they strike? Or do they have eyes by which they see? Or do they have ears by which they hear? Say, [O Muhammad], "Call your 'partners' and then conspire against me and give me no respite.
بھلا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلالو اور میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی ہو) کرلو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو (پھر دیکھو کہ وہ میرا کیا کرسکتے ہیں)
آیا (آنها حداقل همانند خود شما) پاهایی دارند که با آن راه بروند؟! یا دستهایی دارند که با آن چیزی را بگیرند (و کاری انجام دهند)؟! یا چشمانی دارند که با آن ببینند؟! یا گوشهایی دارند که با آن بشنوند؟! (نه، هرگز، هیچکدام،) بگو: «(اکنون که چنین است،) بتهای خویش را که شریک خدا قرار دادهاید (بر ضد من) بخوانید، و برای من نقشه بکشید، و لحظهای مهلت ندهید، (تا بدانید کاری از آنها ساخته نیست)!
Tafsir Ibn Kathir
Do they attribute as partners to Allah those who created nothing but they themselves are created (191)No help can they give them, nor can they help themselves (192)And if you call them to guidance, they follow you not. It is the same for you whether you call them or you keep silent (193)Verily, those whom you call upon besides Allah are servants like you. So call upon them and let them answer you if you are truthful (194)Have they feet wherewith they walk? Or have they hands wherewith they hold? Or have they eyes wherewith they see? Or have they ears wherewith they hear? Say: "Call your (so-called) partners (of Allah) and then plot against me, and give me no respite (195)Verily, my protector is Allah Who has revealed the Book (the Qur'an), and He protects the righteous (196)And those whom you call upon besides Him (Allah) cannot help you nor can they help themselves (197)And if you call them to guidance, they hear not and you will see them looking at you, yet they see not. (198)
Idols do not create, help, or have Power over Anything
Allah admonishes the idolators who worshipped idols, rivals and images besides Him, although these objects were created by Allah, and neither own anything nor can they bring harm or benefit. These objects do not see or give aid to those who worship them. They are inanimate objects that neither move, hear, or see. Those who worship these objects are better than they are, for they hear see and have strength of their own. Allah said,
أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
(Do they attribute as partners to Allah those who created nothing but they themselves are created?) meaning, 'Do you associate with Allah others that neither create, nor have power to create anything?' Allah said in another Ayah,
يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ - مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ
(O mankind! A similitude has been coined, so listen to it (carefully): Verily, those on whom you call besides Allah, cannot create (even) a fly, even though they combine together for the purpose. And if the fly snatches away a thing from them, they will have no power to release it from the fly. So weak are (both) the seeker and the sought. They have not estimated Allah His rightful estimate. Verily, Allah is All-Strong, Almighty)[22:73-74].
Allah states that if all false gods of the disbelievers gather their strength, they would not be able to create a fly. Rather, if the fly steals anything from them, no matter how insignificant, and flew away, they would not be able to retrieve it. Therefore, if an object is this weak, how can it be worshipped and invoked for provisions and aid? This is why Allah said,
لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
(...who created nothing but they themselves are created?) these worshipped objects themselves were created and made. Prophet Ibrahim Al-Khalil proclaimed,
أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ
("Worship you that which you (yourselves) carve?")[37:95] Allah said next,
وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا
(No help can they give them) those who worship them,
وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ
(nor can they help themselves) nor are they able to aid themselves against those who seek to harm them. For instance, Allah's Khalil, peace be upon him, broke and disgraced the idols of his people, just as Allah said he did,
فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ
(Then he turned upon them, striking (them) with (his) right hand,)[37:93] and,
فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ
(So he broke them to pieces, (all) except the biggest of them, that they might turn to it.)[21:58]
Mu'adh bin 'Amr ibn Al-Jamuh and Mu'adh bin Jabal, may Allah be pleased with both of them, were still young when they embraced Islam after the Messenger of Allah ﷺ came to Al-Madinah. So they were attacking the idols of the idolators at night, breaking, disfiguring them and using them as fuel for needy widows. They sought to give a lesson to their people to make them aware of their error. 'Amr bin Al-Jamuh, who was one of the chiefs of his people, had an idol that he used to worship and perfume. The two Mu'adhs used to go to that idol, turn it on its head and tarnish it with animal waste. When 'Amr bin Al-Jamuh would see what happened to his idol, he would clean it, perfume it and leave a sword next to it, saying, "Defend yourself." However, the two young men would repeat their actions, and he would do the same as before. Once, they took the idol, tied it to a dead dog and threw it in a well while tied to a rope! When 'Amr bin Al-Jamuh saw this, he knew that his religion was false and said, "By Allah! Had you been a god who has might, you would not end up tied to a dog on a rope!" 'Amr bin Al-Jamuh embraced Islam, and he was strong in his Islam. He was later martyred during the battle of Uhud, may Allah be pleased with him, give him pleasure. and grant him Paradise as his dwelling. Allah said,
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ
(And if you call them to guidance, they follow you not.)
Allah says, these idols do not hear the calls of those who worship them. Therefore, the result is the same, whether calling the idols or shunning them. Ibrahim, peace be upon said,
يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا
("O my father! Why do you worship that which hears not, sees not and cannot avail you in anything?")[19:42]
Next, Allah states that the idols were created, just as those who worship them. Rather, the people are better than the idols, because they are able to hear, see and exert harm. The idols, on the other hand, have no such powers. Allah said next,
قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ
(Say: "Call your (so-called) partners (of Allah)) invoke the idols for aid against me and do not give me respite, even for an instant, and give it your best effort,
إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ
(Verily, my protector is Allah Who has revealed the Book (the Qur'an), and He protects the righteous.)
Allah's support is sufficient and He will suffice for me, He is My supporter, I trust in Him and take refuge with Him. He is my protector, in this life and the Hereafter, and the protector of every righteous believer after me. Similarly, the people of Hud said,
إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ - إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
("All that we say is that some of our gods have seized you with evil (madness). " Hud replied: "I call Allah to witness, and bear you witness that I am free from that which you ascribe [as partners in worship, with Him (Allah)]. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving (living) creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on a path that is straight)[11:54-56].
Ibrahim Al-Khalil proclaimed (to his people),
أَفَرَأَيْتُم مَّا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ - فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ - الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ
(Do you observe that which you have been wershipping, You and your ancient fathers. Verily, they are enemies to me, save the Lord of all that exists. Who has created me, and it is He Who guides me.")[26:75-78]
He also said to his father and his people,
إِنَّنِي بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ - إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ - وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
("Verily, I am innocent of what you warship. Except Him Who did create me; and verily, He will guide me." And he made it a legacy lasting among his offspring, that they may turn back (to Allah).)[43:26-28] Allah said here,
إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ
(Verily, those whom you call upon besides Allah) until the end of the Ayah, reiterating what has been said earlier, but He uses direct speech this time,
لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ
(cannot help you nor can they help themselves.) The Ayah,
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ
(And if you call them to guidance, they hear not and you will see them looking at you, yet they see not.) is similar to another Ayah,
إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ
(If you invoke (or call upon) them, they hear not your call.)[35:14]. Allah said next,
وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ
(and you will see them looking at you, yet they see not.) meaning, they have eyes that stare as if they see, although they are solid. Therefore, the Ayah treated them as if they had a mind [saying, Tarahum, instead of Taraha], since they are made in the shape of humans with eyes drawn on them.
Tafsir Ibn Kathir
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو بوجتے ہیں وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں وہی ان کا پالنے والا ہے وہ بالکل بےاختیار ہیں کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا تندرست اور اجھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں کان بھی ہیں یہ بیوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ لوگو آؤ ایک لطیف مثال سنو تم جنہیں پکار رہے ہو یہ سارے ہی جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ان کی طاقت سے خارج ہے۔ بلکہ ان کی کمزوری تو یہاں تک ہے کہ کوئی مکھی ان کی کسی چیز کو چھین لے جائے تو یہ اس سے واپس بھی نہیں کرسکتے طلب کرنے والے اور جن سے طلب کی جا رہی ہے بہت ہی بودے ہیں تعجب ہے کہ اتنے کمزوروں کی عبادت کی جاتی ہے جو اپنا حق بھی ایک مکھی سے نہیں لے سکتے وہ تمہاری روزیوں اور مدد پر کیسے قادر ہوں گے ؟ حضرت خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود ہی گھڑتے اور بناتے ہو ؟ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کی مدد کرسکتے ہیں نہ خود اپنی ہی کوئی مدد کرسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت خلیل اللہ ؑ نے انہیں توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا لیکن ان سے یہ نہ ہوسکا کہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیتے۔ ہاتھ میں تبر لے کر سب کو چورا کردیا اور ان معبود ان باطل سے یہ بھی نہ ہوسکا کہ کسی طرح اپنا بچاؤ کرلیتے، خود رسول کریم ﷺ کے زمانے میں بھی حضرت معاذ بن عمرو بن جموح اور حضرت معاذ بن جبل ؓ یہی کام کرتے تھے کہ رات کے وقت چپکے سے جا کر مشرکین کے بت توڑ آتے اور جو لکڑی کے ہوتے انہیں توڑ کر بیوہ عورتوں کو دے دیتے کہ وہ اپنا ایندھن بنالیں اور قوم کے بت پرست عبرت حاصل کریں۔ خود حضرت معاذ کا باپ عمرو بن جموح بھی بت پرست تھا یہ دونوں نوجوان دوست وہاں بھی پہنچتے اور اس بت کو پلیدی سے آلودہ کر آتے۔ جب یہ آتا تو اپنے خدا کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھاتا، پھر دھوتا، پھر اس پر خوشبو ملتا۔ ایک مرتبہ اس نے اس کے پاس تلوار رکھ دی اور کہا دیکھ آج تیرا دشمن آئے تو اس تلوار سے اس کا کام تمام کردینا۔ یہ اس رات بھی پہنچے اور اس کی درگت کر کے پاخانے سے لیپ کر کے چلے آئے مگر تاہم اسے اثر نہ ہوا صبح کو اسی طرح اس نے دھو دھا کر ٹھیک ٹھاک کر کے خوشبو لگا کر بیٹھا کر ڈنڈوت کی یعنی (اٹھک بیٹھک) کی۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ کسی طرح یہ نہیں مانتا تو ایک رات اس بت کو اٹھا لائے اور ایک کتے کا پلا جو مرا پڑا تھا اس کے گلے میں باندھ دیا اور محلے کے ایک کنویں میں ڈال دیا صبح اس نے اپنے بت کو نہ پا کر تلاش کی تو کنویں میں اسے نظر آیا کہ کتے کے مردہ بچے کے ساتھ پڑا ہوا ہے اب اسے بت سے اور بت پرستی سے نفرت ہوگئی اور اس نے کہا عربی (تاللہ لو کنت الھا مستدن لم تک والکلب جمیعافی قرن)یعنی اگر تو سچ مچ اللہ ہوتا تو کنوئیں میں کتے کے پلے کے ساتھ پڑا ہوا نہ ہوتا پھر حاضر حضور سرکار مدینہ ﷺ ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہوگئے پھر تو اسلام میں پورے پکے ہوگئے۔ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور کفار کو قتل کرتے ہوئے شہید ہوگئے دعا (ؓ وارضاہ وجعل جنت الفردوس ماوا)۔ انہیں اگر بلا یا جائے تو یہ قبول کرنا تو درکنار سن بھی نہیں سکتے محض پتھر ہیں، بےجان ہیں، بےآنکھ اور بےکان ہیں جیسے کہ حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ میرے والد ! آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنیں نہ دیھکیں نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکیں نہ تیرے کسی کام آسکیں۔ انہیں پکارنا نہ پکارنا دونوں برابر ہیں۔ یہ تو تم جیسے ہی بےبس اور اللہ کی مخلوق ہیں بتاؤ تو کبھی انہوں نے تمہاری فریاد رسی کی ہے ؟ یا کبھی تمہاری دعا کا جواب دیا ہے ؟ حقیقت میں ان سے افضل و اعلیٰ تو تم خود ہو۔ تم سنتے دیکھتے چلتے پھرتے بولتے چالتے ہو یہ تو اتنا بھی نہیں کرسکتے۔ اجھا تم ان سے میرا کچھ بگاڑ نے کی درخواست کرو میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر ان سے ہو سکے تو بلا تامل اپنی پوری طاقت سے جو میرا بگاڑ سکتے ہوں بگاڑ لیں۔ سنو میں تو اللہ کو اپنا حمایتی اور مددگار سمجھتا ہوں وہی میرا بچانے والا ہے اور وہ مجھے کافی وافی ہے اسی پر میرا بھروسہ ہے اسی سے میرا لگاؤ ہے۔ میں ہی نہیں ہر نیک بندہ یہی کرتا ہے اور وہ بھی اپنے تمام سچے غلاموں کی نگہبانی اور حفاظت کرتا رہتا ہے اور کرتا رہے گا۔ میرے بعد بھی ان سب کا نگراں اور محافظ وہی ہے۔ حضرت ہود ؑ سے آپ کی قوم نے کہا کہ ہمارا تو خیال ہے کہ تو جو ہمارے معبودوں پر ایمان نہیں رکھتا اسی سبب سے انہوں نے تجھے ان مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا سنو تم کو اور اللہ کو گواہ کر کے میں کہتا ہوں اور علیٰ الاعلان کہتا ہوں کہ میں تمہارے اللہ کے سوا اور تمام معبودوں سے بری اور بیزار اور ان سب کا دشمن ہوں۔ تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو تمہیں بھی قسم ہے جو ذرا سی کوتاہی کرو۔ میرا توکل اللہ کی ذات پر ہے تمام جانداروں کی چوٹیاں اسی کے ہاتھ ہیں میرا رب ہی سچی راہ پر ہے حضرت خلیل اللہ ؑ نے بھی یہی فرمایا تھا کہ تم اور تمہارے بزرگ جن کی پرستش کرتے ہیں میں ان سب کا دشمن ہوں اور وہ مجھ سے دور ہیں سوائے اس رب العالمین کے جس نے مجھے پیدا کیا اور میری رہبری کی۔ آپ نے اپنے والد اور قوم سے بھی یہی فرمایا کہ میں تمہارے معبودان باطل سے بری اور بیزار ہوں سوائے اس سچے معبود کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہی میری رہبری کرے گا ہم نے اسی کلمے کو اس کی نسل میں ہمیشہ کیلئے باقی رکھ دیا تاکہ لوگ اپنے باطل خیالات سے ہٹ جائیں۔ پہلے تو غائبانہ فرمایا تھا پھر اور تاکید کے طور پر خطاب کر کے فرماتا ہے کہ جن جن کو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو وہ تمہاری امداد نہیں کرسکتے اور نہ وہ خود اپنا ہی کوئی نفع کرسکتے ہیں۔ یہ تو سن ہی نہیں سکتے تجھے تو یہ آنکھوں والے دکھائی دیتے ہیں لیکن دراصل ان کی اصلی آنکھیں ہی نہیں کہ کسی کو دیکھ سکیں۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر تم انہیں پکارو تو وہ سنتے نہیں چونکہ وہ تصاویر اور بت ہیں ان کی مصنوعی آنکھیں ہیں محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں لیکن دراصل دیکھ نہیں رہے چونکہ وہ پتھر بصورت انسان ہیں اس لئے ضمیر بھی ذوی العقول کی لائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کفار ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے یہی امام ابن جریر کا اختیار کردہ اور قتادہ کا قول بھی یہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا إِنْكَارٌ مِنَ اللَّهِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ عَبَدُوا مَعَ اللَّهِ غَيْرَهُ، مِنَ الْأَنْدَادِ وَالْأَصْنَامِ وَالْأَوْثَانِ، وَهِيَ مَخْلُوقَةٌ لِلَّهِ مَرْبُوبَةٌ مَصْنُوعَةٌ، لَا تَمْلِكُ شَيْئًا مِنَ الْأَمْرِ، وَلَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، [وَلَا تَنْصُرُ] [[زيادة من د، ك، م، أ.]] وَلَا تَنْتَصِرُ لِعَابِدِيهَا، بَلْ هِيَ جَمَادٌ لَا تَتَحَرَّكُ وَلَا تَسْمَعُ وَلَا تُبْصِرُ، وَعَابِدُوهَا أَكَمُلُ مِنْهَا بِسَمْعِهِمْ وَبَصَرِهِمْ وَبَطْشِهِمْ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ﴾ أَيْ: أَتُشْرِكُونَ [[في م، أ: "أيشركون".]] بِهِ مِنَ الْمَعْبُودَاتِ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَا يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ * مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾ [الْحَجِّ:٧٣، ٧٤] أَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُ لَوِ اجْتَمَعَتْ آلِهَتُهُمْ كُلُّهَا، مَا اسْتَطَاعُوا خَلْقَ ذُبَابَةٍ، بَلْ لَوِ أستَلبتهم [[في د: "سلبتهم".]] الذُّبَابَةُ شَيْئًا مِنْ حَقير الْمَطَاعِمِ [[في د، م: "الطعام".]] وَطَارَتْ، لَمَا اسْتَطَاعُوا إِنْقَاذَ ذَلِكَ مِنْهَا، فَمَنْ هَذِهِ صِفَتُهُ وَحَالُهُ، كَيْفَ يُعْبَدُ لِيَرْزُقَ وَيُسْتَنْصَرُ؟ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ﴾ أَيْ: بَلْ هُمْ مَخْلُوقُونَ مَصْنُوعُونَ كَمَا قَالَ الْخَلِيلُ: ﴿قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ * [وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ] [[زيادة من د، ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٥، ٩٦]
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا﴾ أَيْ: لِعَابِدِيهِمْ ﴿وَلا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ﴾ يَعْنِي: وَلَا لِأَنْفُسِهِمْ يَنْصُرُونَ مِمَّنْ أَرَادَهُمْ بِسُوءٍ، كَمَا كَانَ الْخَلِيلُ، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، يَكْسِرُ أَصْنَامَ قَوْمِهِ ويهينُها غَايَةَ الْإِهَانَةِ، كَمَا أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْهُ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٣] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلا كَبِيرًا لَهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٥٨] وَكَمَا كَانَ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -وَكَانَا شَابَّيْنِ قَدْ أَسْلَمَا لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ -فَكَانَا يَعْدُوَانِ فِي اللَّيْلِ عَلَى أَصْنَامِ الْمُشْرِكِينَ يَكْسِرَانِهَا وَيُتْلِفَانِهَا وَيَتَّخِذَانِهَا حَطَبًا لِلْأَرَامِلِ، لِيَعْتَبِرَ قَوْمُهُمَا بِذَلِكَ، وَيَرْتَئُوا لِأَنْفُسِهِمْ، فَكَانَ لِعَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ -وَكَانَ سَيِّدًا فِي قَوْمِهِ -كَانَ لَهُ صَنَمٌ يَعْبُدُهُ وَيُطَيِّبُهُ، فَكَانَا يَجِيئَانِ فِي اللَّيْلِ فَيُنَكِّسَانِهِ عَلَى رَأْسِهِ، وَيُلَطِّخَانِهِ بالعَذِرة، فَيَجِيءُ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ فَيَرَى مَا صُنِعَ بِهِ فَيَغْسِلُهُ وَيُطَيِّبُهُ وَيَضَعُ عِنْدَهُ سَيْفًا، وَيَقُولُ لَهُ: "انْتَصَرَ". [ثُمَّ] [[زيادة من د، م، أ.]] يَعُودَانِ لِمِثْلِ ذَلِكَ، وَيَعُودُ إِلَى صَنِيعِهِ أَيْضًا، حَتَّى أَخَذَاهُ مَرَّةً فَقَرَنَا مَعَهُ جَرْوَ كَلْبٍ مَيِّتٍ، ودلَّياه فِي حَبْلٍ فِي بِئْرٍ هُنَاكَ، فَلَمَّا جَاءَ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ وَرَأَى ذَلِكَ، نَظَرَ فَعَلِمَ أَنَّ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الدِّينِ بَاطِلٌ، وَقَالَ:
تَالله لَوْ كُنتَ إِلَها مُسْتَدن ... لَمْ تَكُ والكَلْبُ جَمِيعًا فِي قَرنْ [[انظر: الرجز في السيرة النبوية لابن هشام (١/٣٥٤) .]]
ثُمَّ أَسْلَمَ فَحسُن إِسْلَامُهُ، وَقُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَرْضَاهُ، وَجَعَلَ جَنَّةَ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَتَّبِعُوكُمْ [سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنْتُمْ صَامِتُونَ] ﴾ [[زيادة من أ، وفي هـ: "الآية".]] يَعْنِي: أَنَّ هَذِهِ الْأَصْنَامَ لَا تَسْمَعُ دُعَاءَ مَنْ دَعَاهَا، وَسَوَاءٌ لَدَيْهَا مَنْ دَعَاهَا وَمَنْ دَحَاهَا، كَمَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ: ﴿يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ وَلا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا﴾ [مَرْيَمَ:٤٢] ؟
ثُمَّ ذَكَرَ تَعَالَى أَنَّهَا عَبِيدٌ مِثْلَ عَابِدِيهَا، أَيْ: مَخْلُوقَاتٌ مثلهم، بل الأناسي أكمل منها، لأنها تَسْمَعُ وَتُبْصِرُ وَتَبْطِشُ، وَتِلْكَ لَا تَفْعَلُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلا تُنْظِرُونِ﴾ [[زيادة من د، ك، م، أ، وفي هـ: "الآية".]] أَيِ: اسْتَنْصِرُوا بِهَا عَلَيَّ، فَلَا تُؤَخِّرُونِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَاجْهَدُوا جُهْدَكُمْ! ﴿إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نزلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ﴾ أَيِ: اللَّهُ حَسْبِي وَكَافِيَّ، وَهُوَ نَصِيرِي وَعَلَيْهِ مُتَّكَلِي، وَإِلَيْهِ أَلْجَأُ، وَهُوَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ صَالِحٍ بَعْدِي. وَهَذَا كَمَا قَالَ هُودٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا قَالَ لَهُ قَوْمُهُ: ﴿إِنْ نَقُولُ إِلا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ * مِنْ دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُون * إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [هُودٍ:٥٤-٥٦] وَكَقَوْلِ الْخَلِيلِ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ * أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الأقْدَمُونَ * فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِي إِلا رَبَّ الْعَالَمِينَ * الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ * [وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ * وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ] [[زيادة من أ.]] ﴾ [الشُّعَرَاءِ:٧٥-٨٠] الْآيَاتِ، وَكَقَوْلِهِ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ ﴿إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ * إِلا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ * وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ [الزُّخْرُفِ:٢٦-٢٨]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ﴾ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، مُؤَكِّدٌ لِمَا تَقَدَّمَ، إِلَّا أَنَّهُ بِصِيغَةِ الْخِطَابِ، وَذَلِكَ بِصِيغَةِ الْغَيْبَةِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَسْمَعُوا وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ [وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ [[زيادة من أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [فَاطِرٍ:١٤]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾ إِنَّمَا قَالَ: ﴿يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ﴾ أَيْ: يُقَابِلُونَكَ بِعُيُونٍ مُصَوَّرَةٍ كَأَنَّهَا نَاظِرَةٌ، وَهِيَ جَمَادٌ؛ وَلِهَذَا عَامَلَهُمْ مُعَامَلَةَ مَنْ يَعْقِلُ؛ لِأَنَّهَا عَلَى صُوَرٍ مُصَوَّرَةٍ كَالْإِنْسَانِ، [فَقَالَ] [[زيادة من د، أ.]] ﴿وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ﴾ فَعَبَّرَ عَنْهَا بِضَمِيرِ مَنْ يَعْقِلُ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: الْمُرَادُ بِهَذَا [[في أ: "بها".]] الْمُشْرِكُونَ وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ نَحْوُهُ. وَالْأَوَّلُ أَوْلَى، وَهُوَ اخْتِيَارُ ابْنِ جَرِيرٍ، وَقَالَهُ قَتَادَةُ.
إِنَّ وَلِۦِّىَ ٱللَّهُ ٱلَّذِى نَزَّلَ ٱلْكِتَٰبَ ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى ٱلصَّٰلِحِينَ
Indeed, my protector is Allah, who has sent down the Book; and He is an ally to the righteous.
میرا مددگار تو خدا ہی ہے جس نے کتاب (برحق) نازل کی۔ اور نیک لوگوں کا وہی دوستدار ہے
ولی و سرپرست من، خدایی است که این کتاب را نازل کرده؛ و او همه صالحان را سرپرستی میکند.
Tafsir Ibn Kathir
Do they attribute as partners to Allah those who created nothing but they themselves are created (191)No help can they give them, nor can they help themselves (192)And if you call them to guidance, they follow you not. It is the same for you whether you call them or you keep silent (193)Verily, those whom you call upon besides Allah are servants like you. So call upon them and let them answer you if you are truthful (194)Have they feet wherewith they walk? Or have they hands wherewith they hold? Or have they eyes wherewith they see? Or have they ears wherewith they hear? Say: "Call your (so-called) partners (of Allah) and then plot against me, and give me no respite (195)Verily, my protector is Allah Who has revealed the Book (the Qur'an), and He protects the righteous (196)And those whom you call upon besides Him (Allah) cannot help you nor can they help themselves (197)And if you call them to guidance, they hear not and you will see them looking at you, yet they see not. (198)
Idols do not create, help, or have Power over Anything
Allah admonishes the idolators who worshipped idols, rivals and images besides Him, although these objects were created by Allah, and neither own anything nor can they bring harm or benefit. These objects do not see or give aid to those who worship them. They are inanimate objects that neither move, hear, or see. Those who worship these objects are better than they are, for they hear see and have strength of their own. Allah said,
أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
(Do they attribute as partners to Allah those who created nothing but they themselves are created?) meaning, 'Do you associate with Allah others that neither create, nor have power to create anything?' Allah said in another Ayah,
يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ - مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ
(O mankind! A similitude has been coined, so listen to it (carefully): Verily, those on whom you call besides Allah, cannot create (even) a fly, even though they combine together for the purpose. And if the fly snatches away a thing from them, they will have no power to release it from the fly. So weak are (both) the seeker and the sought. They have not estimated Allah His rightful estimate. Verily, Allah is All-Strong, Almighty)[22:73-74].
Allah states that if all false gods of the disbelievers gather their strength, they would not be able to create a fly. Rather, if the fly steals anything from them, no matter how insignificant, and flew away, they would not be able to retrieve it. Therefore, if an object is this weak, how can it be worshipped and invoked for provisions and aid? This is why Allah said,
لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
(...who created nothing but they themselves are created?) these worshipped objects themselves were created and made. Prophet Ibrahim Al-Khalil proclaimed,
أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ
("Worship you that which you (yourselves) carve?")[37:95] Allah said next,
وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا
(No help can they give them) those who worship them,
وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ
(nor can they help themselves) nor are they able to aid themselves against those who seek to harm them. For instance, Allah's Khalil, peace be upon him, broke and disgraced the idols of his people, just as Allah said he did,
فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ
(Then he turned upon them, striking (them) with (his) right hand,)[37:93] and,
فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ
(So he broke them to pieces, (all) except the biggest of them, that they might turn to it.)[21:58]
Mu'adh bin 'Amr ibn Al-Jamuh and Mu'adh bin Jabal, may Allah be pleased with both of them, were still young when they embraced Islam after the Messenger of Allah ﷺ came to Al-Madinah. So they were attacking the idols of the idolators at night, breaking, disfiguring them and using them as fuel for needy widows. They sought to give a lesson to their people to make them aware of their error. 'Amr bin Al-Jamuh, who was one of the chiefs of his people, had an idol that he used to worship and perfume. The two Mu'adhs used to go to that idol, turn it on its head and tarnish it with animal waste. When 'Amr bin Al-Jamuh would see what happened to his idol, he would clean it, perfume it and leave a sword next to it, saying, "Defend yourself." However, the two young men would repeat their actions, and he would do the same as before. Once, they took the idol, tied it to a dead dog and threw it in a well while tied to a rope! When 'Amr bin Al-Jamuh saw this, he knew that his religion was false and said, "By Allah! Had you been a god who has might, you would not end up tied to a dog on a rope!" 'Amr bin Al-Jamuh embraced Islam, and he was strong in his Islam. He was later martyred during the battle of Uhud, may Allah be pleased with him, give him pleasure. and grant him Paradise as his dwelling. Allah said,
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ
(And if you call them to guidance, they follow you not.)
Allah says, these idols do not hear the calls of those who worship them. Therefore, the result is the same, whether calling the idols or shunning them. Ibrahim, peace be upon said,
يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا
("O my father! Why do you worship that which hears not, sees not and cannot avail you in anything?")[19:42]
Next, Allah states that the idols were created, just as those who worship them. Rather, the people are better than the idols, because they are able to hear, see and exert harm. The idols, on the other hand, have no such powers. Allah said next,
قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ
(Say: "Call your (so-called) partners (of Allah)) invoke the idols for aid against me and do not give me respite, even for an instant, and give it your best effort,
إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ
(Verily, my protector is Allah Who has revealed the Book (the Qur'an), and He protects the righteous.)
Allah's support is sufficient and He will suffice for me, He is My supporter, I trust in Him and take refuge with Him. He is my protector, in this life and the Hereafter, and the protector of every righteous believer after me. Similarly, the people of Hud said,
إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ - إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
("All that we say is that some of our gods have seized you with evil (madness). " Hud replied: "I call Allah to witness, and bear you witness that I am free from that which you ascribe [as partners in worship, with Him (Allah)]. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving (living) creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on a path that is straight)[11:54-56].
Ibrahim Al-Khalil proclaimed (to his people),
أَفَرَأَيْتُم مَّا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ - فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ - الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ
(Do you observe that which you have been wershipping, You and your ancient fathers. Verily, they are enemies to me, save the Lord of all that exists. Who has created me, and it is He Who guides me.")[26:75-78]
He also said to his father and his people,
إِنَّنِي بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ - إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ - وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
("Verily, I am innocent of what you warship. Except Him Who did create me; and verily, He will guide me." And he made it a legacy lasting among his offspring, that they may turn back (to Allah).)[43:26-28] Allah said here,
إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ
(Verily, those whom you call upon besides Allah) until the end of the Ayah, reiterating what has been said earlier, but He uses direct speech this time,
لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ
(cannot help you nor can they help themselves.) The Ayah,
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ
(And if you call them to guidance, they hear not and you will see them looking at you, yet they see not.) is similar to another Ayah,
إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ
(If you invoke (or call upon) them, they hear not your call.)[35:14]. Allah said next,
وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ
(and you will see them looking at you, yet they see not.) meaning, they have eyes that stare as if they see, although they are solid. Therefore, the Ayah treated them as if they had a mind [saying, Tarahum, instead of Taraha], since they are made in the shape of humans with eyes drawn on them.
Tafsir Ibn Kathir
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو بوجتے ہیں وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں وہی ان کا پالنے والا ہے وہ بالکل بےاختیار ہیں کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا تندرست اور اجھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں کان بھی ہیں یہ بیوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ لوگو آؤ ایک لطیف مثال سنو تم جنہیں پکار رہے ہو یہ سارے ہی جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ان کی طاقت سے خارج ہے۔ بلکہ ان کی کمزوری تو یہاں تک ہے کہ کوئی مکھی ان کی کسی چیز کو چھین لے جائے تو یہ اس سے واپس بھی نہیں کرسکتے طلب کرنے والے اور جن سے طلب کی جا رہی ہے بہت ہی بودے ہیں تعجب ہے کہ اتنے کمزوروں کی عبادت کی جاتی ہے جو اپنا حق بھی ایک مکھی سے نہیں لے سکتے وہ تمہاری روزیوں اور مدد پر کیسے قادر ہوں گے ؟ حضرت خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود ہی گھڑتے اور بناتے ہو ؟ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کی مدد کرسکتے ہیں نہ خود اپنی ہی کوئی مدد کرسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت خلیل اللہ ؑ نے انہیں توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا لیکن ان سے یہ نہ ہوسکا کہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیتے۔ ہاتھ میں تبر لے کر سب کو چورا کردیا اور ان معبود ان باطل سے یہ بھی نہ ہوسکا کہ کسی طرح اپنا بچاؤ کرلیتے، خود رسول کریم ﷺ کے زمانے میں بھی حضرت معاذ بن عمرو بن جموح اور حضرت معاذ بن جبل ؓ یہی کام کرتے تھے کہ رات کے وقت چپکے سے جا کر مشرکین کے بت توڑ آتے اور جو لکڑی کے ہوتے انہیں توڑ کر بیوہ عورتوں کو دے دیتے کہ وہ اپنا ایندھن بنالیں اور قوم کے بت پرست عبرت حاصل کریں۔ خود حضرت معاذ کا باپ عمرو بن جموح بھی بت پرست تھا یہ دونوں نوجوان دوست وہاں بھی پہنچتے اور اس بت کو پلیدی سے آلودہ کر آتے۔ جب یہ آتا تو اپنے خدا کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھاتا، پھر دھوتا، پھر اس پر خوشبو ملتا۔ ایک مرتبہ اس نے اس کے پاس تلوار رکھ دی اور کہا دیکھ آج تیرا دشمن آئے تو اس تلوار سے اس کا کام تمام کردینا۔ یہ اس رات بھی پہنچے اور اس کی درگت کر کے پاخانے سے لیپ کر کے چلے آئے مگر تاہم اسے اثر نہ ہوا صبح کو اسی طرح اس نے دھو دھا کر ٹھیک ٹھاک کر کے خوشبو لگا کر بیٹھا کر ڈنڈوت کی یعنی (اٹھک بیٹھک) کی۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ کسی طرح یہ نہیں مانتا تو ایک رات اس بت کو اٹھا لائے اور ایک کتے کا پلا جو مرا پڑا تھا اس کے گلے میں باندھ دیا اور محلے کے ایک کنویں میں ڈال دیا صبح اس نے اپنے بت کو نہ پا کر تلاش کی تو کنویں میں اسے نظر آیا کہ کتے کے مردہ بچے کے ساتھ پڑا ہوا ہے اب اسے بت سے اور بت پرستی سے نفرت ہوگئی اور اس نے کہا عربی (تاللہ لو کنت الھا مستدن لم تک والکلب جمیعافی قرن)یعنی اگر تو سچ مچ اللہ ہوتا تو کنوئیں میں کتے کے پلے کے ساتھ پڑا ہوا نہ ہوتا پھر حاضر حضور سرکار مدینہ ﷺ ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہوگئے پھر تو اسلام میں پورے پکے ہوگئے۔ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور کفار کو قتل کرتے ہوئے شہید ہوگئے دعا (ؓ وارضاہ وجعل جنت الفردوس ماوا)۔ انہیں اگر بلا یا جائے تو یہ قبول کرنا تو درکنار سن بھی نہیں سکتے محض پتھر ہیں، بےجان ہیں، بےآنکھ اور بےکان ہیں جیسے کہ حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ میرے والد ! آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنیں نہ دیھکیں نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکیں نہ تیرے کسی کام آسکیں۔ انہیں پکارنا نہ پکارنا دونوں برابر ہیں۔ یہ تو تم جیسے ہی بےبس اور اللہ کی مخلوق ہیں بتاؤ تو کبھی انہوں نے تمہاری فریاد رسی کی ہے ؟ یا کبھی تمہاری دعا کا جواب دیا ہے ؟ حقیقت میں ان سے افضل و اعلیٰ تو تم خود ہو۔ تم سنتے دیکھتے چلتے پھرتے بولتے چالتے ہو یہ تو اتنا بھی نہیں کرسکتے۔ اجھا تم ان سے میرا کچھ بگاڑ نے کی درخواست کرو میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر ان سے ہو سکے تو بلا تامل اپنی پوری طاقت سے جو میرا بگاڑ سکتے ہوں بگاڑ لیں۔ سنو میں تو اللہ کو اپنا حمایتی اور مددگار سمجھتا ہوں وہی میرا بچانے والا ہے اور وہ مجھے کافی وافی ہے اسی پر میرا بھروسہ ہے اسی سے میرا لگاؤ ہے۔ میں ہی نہیں ہر نیک بندہ یہی کرتا ہے اور وہ بھی اپنے تمام سچے غلاموں کی نگہبانی اور حفاظت کرتا رہتا ہے اور کرتا رہے گا۔ میرے بعد بھی ان سب کا نگراں اور محافظ وہی ہے۔ حضرت ہود ؑ سے آپ کی قوم نے کہا کہ ہمارا تو خیال ہے کہ تو جو ہمارے معبودوں پر ایمان نہیں رکھتا اسی سبب سے انہوں نے تجھے ان مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا سنو تم کو اور اللہ کو گواہ کر کے میں کہتا ہوں اور علیٰ الاعلان کہتا ہوں کہ میں تمہارے اللہ کے سوا اور تمام معبودوں سے بری اور بیزار اور ان سب کا دشمن ہوں۔ تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو تمہیں بھی قسم ہے جو ذرا سی کوتاہی کرو۔ میرا توکل اللہ کی ذات پر ہے تمام جانداروں کی چوٹیاں اسی کے ہاتھ ہیں میرا رب ہی سچی راہ پر ہے حضرت خلیل اللہ ؑ نے بھی یہی فرمایا تھا کہ تم اور تمہارے بزرگ جن کی پرستش کرتے ہیں میں ان سب کا دشمن ہوں اور وہ مجھ سے دور ہیں سوائے اس رب العالمین کے جس نے مجھے پیدا کیا اور میری رہبری کی۔ آپ نے اپنے والد اور قوم سے بھی یہی فرمایا کہ میں تمہارے معبودان باطل سے بری اور بیزار ہوں سوائے اس سچے معبود کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہی میری رہبری کرے گا ہم نے اسی کلمے کو اس کی نسل میں ہمیشہ کیلئے باقی رکھ دیا تاکہ لوگ اپنے باطل خیالات سے ہٹ جائیں۔ پہلے تو غائبانہ فرمایا تھا پھر اور تاکید کے طور پر خطاب کر کے فرماتا ہے کہ جن جن کو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو وہ تمہاری امداد نہیں کرسکتے اور نہ وہ خود اپنا ہی کوئی نفع کرسکتے ہیں۔ یہ تو سن ہی نہیں سکتے تجھے تو یہ آنکھوں والے دکھائی دیتے ہیں لیکن دراصل ان کی اصلی آنکھیں ہی نہیں کہ کسی کو دیکھ سکیں۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر تم انہیں پکارو تو وہ سنتے نہیں چونکہ وہ تصاویر اور بت ہیں ان کی مصنوعی آنکھیں ہیں محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں لیکن دراصل دیکھ نہیں رہے چونکہ وہ پتھر بصورت انسان ہیں اس لئے ضمیر بھی ذوی العقول کی لائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کفار ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے یہی امام ابن جریر کا اختیار کردہ اور قتادہ کا قول بھی یہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا إِنْكَارٌ مِنَ اللَّهِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ عَبَدُوا مَعَ اللَّهِ غَيْرَهُ، مِنَ الْأَنْدَادِ وَالْأَصْنَامِ وَالْأَوْثَانِ، وَهِيَ مَخْلُوقَةٌ لِلَّهِ مَرْبُوبَةٌ مَصْنُوعَةٌ، لَا تَمْلِكُ شَيْئًا مِنَ الْأَمْرِ، وَلَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، [وَلَا تَنْصُرُ] [[زيادة من د، ك، م، أ.]] وَلَا تَنْتَصِرُ لِعَابِدِيهَا، بَلْ هِيَ جَمَادٌ لَا تَتَحَرَّكُ وَلَا تَسْمَعُ وَلَا تُبْصِرُ، وَعَابِدُوهَا أَكَمُلُ مِنْهَا بِسَمْعِهِمْ وَبَصَرِهِمْ وَبَطْشِهِمْ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ﴾ أَيْ: أَتُشْرِكُونَ [[في م، أ: "أيشركون".]] بِهِ مِنَ الْمَعْبُودَاتِ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَا يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ * مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾ [الْحَجِّ:٧٣، ٧٤] أَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُ لَوِ اجْتَمَعَتْ آلِهَتُهُمْ كُلُّهَا، مَا اسْتَطَاعُوا خَلْقَ ذُبَابَةٍ، بَلْ لَوِ أستَلبتهم [[في د: "سلبتهم".]] الذُّبَابَةُ شَيْئًا مِنْ حَقير الْمَطَاعِمِ [[في د، م: "الطعام".]] وَطَارَتْ، لَمَا اسْتَطَاعُوا إِنْقَاذَ ذَلِكَ مِنْهَا، فَمَنْ هَذِهِ صِفَتُهُ وَحَالُهُ، كَيْفَ يُعْبَدُ لِيَرْزُقَ وَيُسْتَنْصَرُ؟ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ﴾ أَيْ: بَلْ هُمْ مَخْلُوقُونَ مَصْنُوعُونَ كَمَا قَالَ الْخَلِيلُ: ﴿قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ * [وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ] [[زيادة من د، ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٥، ٩٦]
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا﴾ أَيْ: لِعَابِدِيهِمْ ﴿وَلا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ﴾ يَعْنِي: وَلَا لِأَنْفُسِهِمْ يَنْصُرُونَ مِمَّنْ أَرَادَهُمْ بِسُوءٍ، كَمَا كَانَ الْخَلِيلُ، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، يَكْسِرُ أَصْنَامَ قَوْمِهِ ويهينُها غَايَةَ الْإِهَانَةِ، كَمَا أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْهُ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٣] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلا كَبِيرًا لَهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٥٨] وَكَمَا كَانَ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -وَكَانَا شَابَّيْنِ قَدْ أَسْلَمَا لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ -فَكَانَا يَعْدُوَانِ فِي اللَّيْلِ عَلَى أَصْنَامِ الْمُشْرِكِينَ يَكْسِرَانِهَا وَيُتْلِفَانِهَا وَيَتَّخِذَانِهَا حَطَبًا لِلْأَرَامِلِ، لِيَعْتَبِرَ قَوْمُهُمَا بِذَلِكَ، وَيَرْتَئُوا لِأَنْفُسِهِمْ، فَكَانَ لِعَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ -وَكَانَ سَيِّدًا فِي قَوْمِهِ -كَانَ لَهُ صَنَمٌ يَعْبُدُهُ وَيُطَيِّبُهُ، فَكَانَا يَجِيئَانِ فِي اللَّيْلِ فَيُنَكِّسَانِهِ عَلَى رَأْسِهِ، وَيُلَطِّخَانِهِ بالعَذِرة، فَيَجِيءُ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ فَيَرَى مَا صُنِعَ بِهِ فَيَغْسِلُهُ وَيُطَيِّبُهُ وَيَضَعُ عِنْدَهُ سَيْفًا، وَيَقُولُ لَهُ: "انْتَصَرَ". [ثُمَّ] [[زيادة من د، م، أ.]] يَعُودَانِ لِمِثْلِ ذَلِكَ، وَيَعُودُ إِلَى صَنِيعِهِ أَيْضًا، حَتَّى أَخَذَاهُ مَرَّةً فَقَرَنَا مَعَهُ جَرْوَ كَلْبٍ مَيِّتٍ، ودلَّياه فِي حَبْلٍ فِي بِئْرٍ هُنَاكَ، فَلَمَّا جَاءَ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ وَرَأَى ذَلِكَ، نَظَرَ فَعَلِمَ أَنَّ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الدِّينِ بَاطِلٌ، وَقَالَ:
تَالله لَوْ كُنتَ إِلَها مُسْتَدن ... لَمْ تَكُ والكَلْبُ جَمِيعًا فِي قَرنْ [[انظر: الرجز في السيرة النبوية لابن هشام (١/٣٥٤) .]]
ثُمَّ أَسْلَمَ فَحسُن إِسْلَامُهُ، وَقُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَرْضَاهُ، وَجَعَلَ جَنَّةَ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَتَّبِعُوكُمْ [سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنْتُمْ صَامِتُونَ] ﴾ [[زيادة من أ، وفي هـ: "الآية".]] يَعْنِي: أَنَّ هَذِهِ الْأَصْنَامَ لَا تَسْمَعُ دُعَاءَ مَنْ دَعَاهَا، وَسَوَاءٌ لَدَيْهَا مَنْ دَعَاهَا وَمَنْ دَحَاهَا، كَمَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ: ﴿يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ وَلا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا﴾ [مَرْيَمَ:٤٢] ؟
ثُمَّ ذَكَرَ تَعَالَى أَنَّهَا عَبِيدٌ مِثْلَ عَابِدِيهَا، أَيْ: مَخْلُوقَاتٌ مثلهم، بل الأناسي أكمل منها، لأنها تَسْمَعُ وَتُبْصِرُ وَتَبْطِشُ، وَتِلْكَ لَا تَفْعَلُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلا تُنْظِرُونِ﴾ [[زيادة من د، ك، م، أ، وفي هـ: "الآية".]] أَيِ: اسْتَنْصِرُوا بِهَا عَلَيَّ، فَلَا تُؤَخِّرُونِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَاجْهَدُوا جُهْدَكُمْ! ﴿إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نزلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ﴾ أَيِ: اللَّهُ حَسْبِي وَكَافِيَّ، وَهُوَ نَصِيرِي وَعَلَيْهِ مُتَّكَلِي، وَإِلَيْهِ أَلْجَأُ، وَهُوَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ صَالِحٍ بَعْدِي. وَهَذَا كَمَا قَالَ هُودٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا قَالَ لَهُ قَوْمُهُ: ﴿إِنْ نَقُولُ إِلا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ * مِنْ دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُون * إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [هُودٍ:٥٤-٥٦] وَكَقَوْلِ الْخَلِيلِ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ * أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الأقْدَمُونَ * فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِي إِلا رَبَّ الْعَالَمِينَ * الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ * [وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ * وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ] [[زيادة من أ.]] ﴾ [الشُّعَرَاءِ:٧٥-٨٠] الْآيَاتِ، وَكَقَوْلِهِ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ ﴿إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ * إِلا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ * وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ [الزُّخْرُفِ:٢٦-٢٨]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ﴾ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، مُؤَكِّدٌ لِمَا تَقَدَّمَ، إِلَّا أَنَّهُ بِصِيغَةِ الْخِطَابِ، وَذَلِكَ بِصِيغَةِ الْغَيْبَةِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَسْمَعُوا وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ [وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ [[زيادة من أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [فَاطِرٍ:١٤]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾ إِنَّمَا قَالَ: ﴿يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ﴾ أَيْ: يُقَابِلُونَكَ بِعُيُونٍ مُصَوَّرَةٍ كَأَنَّهَا نَاظِرَةٌ، وَهِيَ جَمَادٌ؛ وَلِهَذَا عَامَلَهُمْ مُعَامَلَةَ مَنْ يَعْقِلُ؛ لِأَنَّهَا عَلَى صُوَرٍ مُصَوَّرَةٍ كَالْإِنْسَانِ، [فَقَالَ] [[زيادة من د، أ.]] ﴿وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ﴾ فَعَبَّرَ عَنْهَا بِضَمِيرِ مَنْ يَعْقِلُ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: الْمُرَادُ بِهَذَا [[في أ: "بها".]] الْمُشْرِكُونَ وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ نَحْوُهُ. وَالْأَوَّلُ أَوْلَى، وَهُوَ اخْتِيَارُ ابْنِ جَرِيرٍ، وَقَالَهُ قَتَادَةُ.
وَٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ
And those you call upon besides Him are unable to help you, nor can they help themselves."
اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں
و آنهایی را که جز او میخوانید، نمیتوانند یاریتان کنند، و نه (حتی) خودشان را یاری دهند؛
Tafsir Ibn Kathir
Do they attribute as partners to Allah those who created nothing but they themselves are created (191)No help can they give them, nor can they help themselves (192)And if you call them to guidance, they follow you not. It is the same for you whether you call them or you keep silent (193)Verily, those whom you call upon besides Allah are servants like you. So call upon them and let them answer you if you are truthful (194)Have they feet wherewith they walk? Or have they hands wherewith they hold? Or have they eyes wherewith they see? Or have they ears wherewith they hear? Say: "Call your (so-called) partners (of Allah) and then plot against me, and give me no respite (195)Verily, my protector is Allah Who has revealed the Book (the Qur'an), and He protects the righteous (196)And those whom you call upon besides Him (Allah) cannot help you nor can they help themselves (197)And if you call them to guidance, they hear not and you will see them looking at you, yet they see not. (198)
Idols do not create, help, or have Power over Anything
Allah admonishes the idolators who worshipped idols, rivals and images besides Him, although these objects were created by Allah, and neither own anything nor can they bring harm or benefit. These objects do not see or give aid to those who worship them. They are inanimate objects that neither move, hear, or see. Those who worship these objects are better than they are, for they hear see and have strength of their own. Allah said,
أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
(Do they attribute as partners to Allah those who created nothing but they themselves are created?) meaning, 'Do you associate with Allah others that neither create, nor have power to create anything?' Allah said in another Ayah,
يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ - مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ
(O mankind! A similitude has been coined, so listen to it (carefully): Verily, those on whom you call besides Allah, cannot create (even) a fly, even though they combine together for the purpose. And if the fly snatches away a thing from them, they will have no power to release it from the fly. So weak are (both) the seeker and the sought. They have not estimated Allah His rightful estimate. Verily, Allah is All-Strong, Almighty)[22:73-74].
Allah states that if all false gods of the disbelievers gather their strength, they would not be able to create a fly. Rather, if the fly steals anything from them, no matter how insignificant, and flew away, they would not be able to retrieve it. Therefore, if an object is this weak, how can it be worshipped and invoked for provisions and aid? This is why Allah said,
لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
(...who created nothing but they themselves are created?) these worshipped objects themselves were created and made. Prophet Ibrahim Al-Khalil proclaimed,
أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ
("Worship you that which you (yourselves) carve?")[37:95] Allah said next,
وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا
(No help can they give them) those who worship them,
وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ
(nor can they help themselves) nor are they able to aid themselves against those who seek to harm them. For instance, Allah's Khalil, peace be upon him, broke and disgraced the idols of his people, just as Allah said he did,
فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ
(Then he turned upon them, striking (them) with (his) right hand,)[37:93] and,
فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ
(So he broke them to pieces, (all) except the biggest of them, that they might turn to it.)[21:58]
Mu'adh bin 'Amr ibn Al-Jamuh and Mu'adh bin Jabal, may Allah be pleased with both of them, were still young when they embraced Islam after the Messenger of Allah ﷺ came to Al-Madinah. So they were attacking the idols of the idolators at night, breaking, disfiguring them and using them as fuel for needy widows. They sought to give a lesson to their people to make them aware of their error. 'Amr bin Al-Jamuh, who was one of the chiefs of his people, had an idol that he used to worship and perfume. The two Mu'adhs used to go to that idol, turn it on its head and tarnish it with animal waste. When 'Amr bin Al-Jamuh would see what happened to his idol, he would clean it, perfume it and leave a sword next to it, saying, "Defend yourself." However, the two young men would repeat their actions, and he would do the same as before. Once, they took the idol, tied it to a dead dog and threw it in a well while tied to a rope! When 'Amr bin Al-Jamuh saw this, he knew that his religion was false and said, "By Allah! Had you been a god who has might, you would not end up tied to a dog on a rope!" 'Amr bin Al-Jamuh embraced Islam, and he was strong in his Islam. He was later martyred during the battle of Uhud, may Allah be pleased with him, give him pleasure. and grant him Paradise as his dwelling. Allah said,
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ
(And if you call them to guidance, they follow you not.)
Allah says, these idols do not hear the calls of those who worship them. Therefore, the result is the same, whether calling the idols or shunning them. Ibrahim, peace be upon said,
يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا
("O my father! Why do you worship that which hears not, sees not and cannot avail you in anything?")[19:42]
Next, Allah states that the idols were created, just as those who worship them. Rather, the people are better than the idols, because they are able to hear, see and exert harm. The idols, on the other hand, have no such powers. Allah said next,
قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ
(Say: "Call your (so-called) partners (of Allah)) invoke the idols for aid against me and do not give me respite, even for an instant, and give it your best effort,
إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ
(Verily, my protector is Allah Who has revealed the Book (the Qur'an), and He protects the righteous.)
Allah's support is sufficient and He will suffice for me, He is My supporter, I trust in Him and take refuge with Him. He is my protector, in this life and the Hereafter, and the protector of every righteous believer after me. Similarly, the people of Hud said,
إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ - إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
("All that we say is that some of our gods have seized you with evil (madness). " Hud replied: "I call Allah to witness, and bear you witness that I am free from that which you ascribe [as partners in worship, with Him (Allah)]. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving (living) creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on a path that is straight)[11:54-56].
Ibrahim Al-Khalil proclaimed (to his people),
أَفَرَأَيْتُم مَّا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ - فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ - الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ
(Do you observe that which you have been wershipping, You and your ancient fathers. Verily, they are enemies to me, save the Lord of all that exists. Who has created me, and it is He Who guides me.")[26:75-78]
He also said to his father and his people,
إِنَّنِي بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ - إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ - وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
("Verily, I am innocent of what you warship. Except Him Who did create me; and verily, He will guide me." And he made it a legacy lasting among his offspring, that they may turn back (to Allah).)[43:26-28] Allah said here,
إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ
(Verily, those whom you call upon besides Allah) until the end of the Ayah, reiterating what has been said earlier, but He uses direct speech this time,
لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ
(cannot help you nor can they help themselves.) The Ayah,
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ
(And if you call them to guidance, they hear not and you will see them looking at you, yet they see not.) is similar to another Ayah,
إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ
(If you invoke (or call upon) them, they hear not your call.)[35:14]. Allah said next,
وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ
(and you will see them looking at you, yet they see not.) meaning, they have eyes that stare as if they see, although they are solid. Therefore, the Ayah treated them as if they had a mind [saying, Tarahum, instead of Taraha], since they are made in the shape of humans with eyes drawn on them.
Tafsir Ibn Kathir
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو بوجتے ہیں وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں وہی ان کا پالنے والا ہے وہ بالکل بےاختیار ہیں کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا تندرست اور اجھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں کان بھی ہیں یہ بیوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ لوگو آؤ ایک لطیف مثال سنو تم جنہیں پکار رہے ہو یہ سارے ہی جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ان کی طاقت سے خارج ہے۔ بلکہ ان کی کمزوری تو یہاں تک ہے کہ کوئی مکھی ان کی کسی چیز کو چھین لے جائے تو یہ اس سے واپس بھی نہیں کرسکتے طلب کرنے والے اور جن سے طلب کی جا رہی ہے بہت ہی بودے ہیں تعجب ہے کہ اتنے کمزوروں کی عبادت کی جاتی ہے جو اپنا حق بھی ایک مکھی سے نہیں لے سکتے وہ تمہاری روزیوں اور مدد پر کیسے قادر ہوں گے ؟ حضرت خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود ہی گھڑتے اور بناتے ہو ؟ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کی مدد کرسکتے ہیں نہ خود اپنی ہی کوئی مدد کرسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت خلیل اللہ ؑ نے انہیں توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا لیکن ان سے یہ نہ ہوسکا کہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیتے۔ ہاتھ میں تبر لے کر سب کو چورا کردیا اور ان معبود ان باطل سے یہ بھی نہ ہوسکا کہ کسی طرح اپنا بچاؤ کرلیتے، خود رسول کریم ﷺ کے زمانے میں بھی حضرت معاذ بن عمرو بن جموح اور حضرت معاذ بن جبل ؓ یہی کام کرتے تھے کہ رات کے وقت چپکے سے جا کر مشرکین کے بت توڑ آتے اور جو لکڑی کے ہوتے انہیں توڑ کر بیوہ عورتوں کو دے دیتے کہ وہ اپنا ایندھن بنالیں اور قوم کے بت پرست عبرت حاصل کریں۔ خود حضرت معاذ کا باپ عمرو بن جموح بھی بت پرست تھا یہ دونوں نوجوان دوست وہاں بھی پہنچتے اور اس بت کو پلیدی سے آلودہ کر آتے۔ جب یہ آتا تو اپنے خدا کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھاتا، پھر دھوتا، پھر اس پر خوشبو ملتا۔ ایک مرتبہ اس نے اس کے پاس تلوار رکھ دی اور کہا دیکھ آج تیرا دشمن آئے تو اس تلوار سے اس کا کام تمام کردینا۔ یہ اس رات بھی پہنچے اور اس کی درگت کر کے پاخانے سے لیپ کر کے چلے آئے مگر تاہم اسے اثر نہ ہوا صبح کو اسی طرح اس نے دھو دھا کر ٹھیک ٹھاک کر کے خوشبو لگا کر بیٹھا کر ڈنڈوت کی یعنی (اٹھک بیٹھک) کی۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ کسی طرح یہ نہیں مانتا تو ایک رات اس بت کو اٹھا لائے اور ایک کتے کا پلا جو مرا پڑا تھا اس کے گلے میں باندھ دیا اور محلے کے ایک کنویں میں ڈال دیا صبح اس نے اپنے بت کو نہ پا کر تلاش کی تو کنویں میں اسے نظر آیا کہ کتے کے مردہ بچے کے ساتھ پڑا ہوا ہے اب اسے بت سے اور بت پرستی سے نفرت ہوگئی اور اس نے کہا عربی (تاللہ لو کنت الھا مستدن لم تک والکلب جمیعافی قرن)یعنی اگر تو سچ مچ اللہ ہوتا تو کنوئیں میں کتے کے پلے کے ساتھ پڑا ہوا نہ ہوتا پھر حاضر حضور سرکار مدینہ ﷺ ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہوگئے پھر تو اسلام میں پورے پکے ہوگئے۔ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور کفار کو قتل کرتے ہوئے شہید ہوگئے دعا (ؓ وارضاہ وجعل جنت الفردوس ماوا)۔ انہیں اگر بلا یا جائے تو یہ قبول کرنا تو درکنار سن بھی نہیں سکتے محض پتھر ہیں، بےجان ہیں، بےآنکھ اور بےکان ہیں جیسے کہ حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ میرے والد ! آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنیں نہ دیھکیں نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکیں نہ تیرے کسی کام آسکیں۔ انہیں پکارنا نہ پکارنا دونوں برابر ہیں۔ یہ تو تم جیسے ہی بےبس اور اللہ کی مخلوق ہیں بتاؤ تو کبھی انہوں نے تمہاری فریاد رسی کی ہے ؟ یا کبھی تمہاری دعا کا جواب دیا ہے ؟ حقیقت میں ان سے افضل و اعلیٰ تو تم خود ہو۔ تم سنتے دیکھتے چلتے پھرتے بولتے چالتے ہو یہ تو اتنا بھی نہیں کرسکتے۔ اجھا تم ان سے میرا کچھ بگاڑ نے کی درخواست کرو میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر ان سے ہو سکے تو بلا تامل اپنی پوری طاقت سے جو میرا بگاڑ سکتے ہوں بگاڑ لیں۔ سنو میں تو اللہ کو اپنا حمایتی اور مددگار سمجھتا ہوں وہی میرا بچانے والا ہے اور وہ مجھے کافی وافی ہے اسی پر میرا بھروسہ ہے اسی سے میرا لگاؤ ہے۔ میں ہی نہیں ہر نیک بندہ یہی کرتا ہے اور وہ بھی اپنے تمام سچے غلاموں کی نگہبانی اور حفاظت کرتا رہتا ہے اور کرتا رہے گا۔ میرے بعد بھی ان سب کا نگراں اور محافظ وہی ہے۔ حضرت ہود ؑ سے آپ کی قوم نے کہا کہ ہمارا تو خیال ہے کہ تو جو ہمارے معبودوں پر ایمان نہیں رکھتا اسی سبب سے انہوں نے تجھے ان مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا سنو تم کو اور اللہ کو گواہ کر کے میں کہتا ہوں اور علیٰ الاعلان کہتا ہوں کہ میں تمہارے اللہ کے سوا اور تمام معبودوں سے بری اور بیزار اور ان سب کا دشمن ہوں۔ تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو تمہیں بھی قسم ہے جو ذرا سی کوتاہی کرو۔ میرا توکل اللہ کی ذات پر ہے تمام جانداروں کی چوٹیاں اسی کے ہاتھ ہیں میرا رب ہی سچی راہ پر ہے حضرت خلیل اللہ ؑ نے بھی یہی فرمایا تھا کہ تم اور تمہارے بزرگ جن کی پرستش کرتے ہیں میں ان سب کا دشمن ہوں اور وہ مجھ سے دور ہیں سوائے اس رب العالمین کے جس نے مجھے پیدا کیا اور میری رہبری کی۔ آپ نے اپنے والد اور قوم سے بھی یہی فرمایا کہ میں تمہارے معبودان باطل سے بری اور بیزار ہوں سوائے اس سچے معبود کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہی میری رہبری کرے گا ہم نے اسی کلمے کو اس کی نسل میں ہمیشہ کیلئے باقی رکھ دیا تاکہ لوگ اپنے باطل خیالات سے ہٹ جائیں۔ پہلے تو غائبانہ فرمایا تھا پھر اور تاکید کے طور پر خطاب کر کے فرماتا ہے کہ جن جن کو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو وہ تمہاری امداد نہیں کرسکتے اور نہ وہ خود اپنا ہی کوئی نفع کرسکتے ہیں۔ یہ تو سن ہی نہیں سکتے تجھے تو یہ آنکھوں والے دکھائی دیتے ہیں لیکن دراصل ان کی اصلی آنکھیں ہی نہیں کہ کسی کو دیکھ سکیں۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر تم انہیں پکارو تو وہ سنتے نہیں چونکہ وہ تصاویر اور بت ہیں ان کی مصنوعی آنکھیں ہیں محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں لیکن دراصل دیکھ نہیں رہے چونکہ وہ پتھر بصورت انسان ہیں اس لئے ضمیر بھی ذوی العقول کی لائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کفار ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے یہی امام ابن جریر کا اختیار کردہ اور قتادہ کا قول بھی یہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا إِنْكَارٌ مِنَ اللَّهِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ عَبَدُوا مَعَ اللَّهِ غَيْرَهُ، مِنَ الْأَنْدَادِ وَالْأَصْنَامِ وَالْأَوْثَانِ، وَهِيَ مَخْلُوقَةٌ لِلَّهِ مَرْبُوبَةٌ مَصْنُوعَةٌ، لَا تَمْلِكُ شَيْئًا مِنَ الْأَمْرِ، وَلَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، [وَلَا تَنْصُرُ] [[زيادة من د، ك، م، أ.]] وَلَا تَنْتَصِرُ لِعَابِدِيهَا، بَلْ هِيَ جَمَادٌ لَا تَتَحَرَّكُ وَلَا تَسْمَعُ وَلَا تُبْصِرُ، وَعَابِدُوهَا أَكَمُلُ مِنْهَا بِسَمْعِهِمْ وَبَصَرِهِمْ وَبَطْشِهِمْ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ﴾ أَيْ: أَتُشْرِكُونَ [[في م، أ: "أيشركون".]] بِهِ مِنَ الْمَعْبُودَاتِ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَا يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ * مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾ [الْحَجِّ:٧٣، ٧٤] أَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُ لَوِ اجْتَمَعَتْ آلِهَتُهُمْ كُلُّهَا، مَا اسْتَطَاعُوا خَلْقَ ذُبَابَةٍ، بَلْ لَوِ أستَلبتهم [[في د: "سلبتهم".]] الذُّبَابَةُ شَيْئًا مِنْ حَقير الْمَطَاعِمِ [[في د، م: "الطعام".]] وَطَارَتْ، لَمَا اسْتَطَاعُوا إِنْقَاذَ ذَلِكَ مِنْهَا، فَمَنْ هَذِهِ صِفَتُهُ وَحَالُهُ، كَيْفَ يُعْبَدُ لِيَرْزُقَ وَيُسْتَنْصَرُ؟ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ﴾ أَيْ: بَلْ هُمْ مَخْلُوقُونَ مَصْنُوعُونَ كَمَا قَالَ الْخَلِيلُ: ﴿قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ * [وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ] [[زيادة من د، ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٥، ٩٦]
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا﴾ أَيْ: لِعَابِدِيهِمْ ﴿وَلا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ﴾ يَعْنِي: وَلَا لِأَنْفُسِهِمْ يَنْصُرُونَ مِمَّنْ أَرَادَهُمْ بِسُوءٍ، كَمَا كَانَ الْخَلِيلُ، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، يَكْسِرُ أَصْنَامَ قَوْمِهِ ويهينُها غَايَةَ الْإِهَانَةِ، كَمَا أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْهُ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٣] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلا كَبِيرًا لَهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٥٨] وَكَمَا كَانَ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -وَكَانَا شَابَّيْنِ قَدْ أَسْلَمَا لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ -فَكَانَا يَعْدُوَانِ فِي اللَّيْلِ عَلَى أَصْنَامِ الْمُشْرِكِينَ يَكْسِرَانِهَا وَيُتْلِفَانِهَا وَيَتَّخِذَانِهَا حَطَبًا لِلْأَرَامِلِ، لِيَعْتَبِرَ قَوْمُهُمَا بِذَلِكَ، وَيَرْتَئُوا لِأَنْفُسِهِمْ، فَكَانَ لِعَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ -وَكَانَ سَيِّدًا فِي قَوْمِهِ -كَانَ لَهُ صَنَمٌ يَعْبُدُهُ وَيُطَيِّبُهُ، فَكَانَا يَجِيئَانِ فِي اللَّيْلِ فَيُنَكِّسَانِهِ عَلَى رَأْسِهِ، وَيُلَطِّخَانِهِ بالعَذِرة، فَيَجِيءُ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ فَيَرَى مَا صُنِعَ بِهِ فَيَغْسِلُهُ وَيُطَيِّبُهُ وَيَضَعُ عِنْدَهُ سَيْفًا، وَيَقُولُ لَهُ: "انْتَصَرَ". [ثُمَّ] [[زيادة من د، م، أ.]] يَعُودَانِ لِمِثْلِ ذَلِكَ، وَيَعُودُ إِلَى صَنِيعِهِ أَيْضًا، حَتَّى أَخَذَاهُ مَرَّةً فَقَرَنَا مَعَهُ جَرْوَ كَلْبٍ مَيِّتٍ، ودلَّياه فِي حَبْلٍ فِي بِئْرٍ هُنَاكَ، فَلَمَّا جَاءَ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ وَرَأَى ذَلِكَ، نَظَرَ فَعَلِمَ أَنَّ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الدِّينِ بَاطِلٌ، وَقَالَ:
تَالله لَوْ كُنتَ إِلَها مُسْتَدن ... لَمْ تَكُ والكَلْبُ جَمِيعًا فِي قَرنْ [[انظر: الرجز في السيرة النبوية لابن هشام (١/٣٥٤) .]]
ثُمَّ أَسْلَمَ فَحسُن إِسْلَامُهُ، وَقُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَرْضَاهُ، وَجَعَلَ جَنَّةَ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَتَّبِعُوكُمْ [سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنْتُمْ صَامِتُونَ] ﴾ [[زيادة من أ، وفي هـ: "الآية".]] يَعْنِي: أَنَّ هَذِهِ الْأَصْنَامَ لَا تَسْمَعُ دُعَاءَ مَنْ دَعَاهَا، وَسَوَاءٌ لَدَيْهَا مَنْ دَعَاهَا وَمَنْ دَحَاهَا، كَمَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ: ﴿يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ وَلا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا﴾ [مَرْيَمَ:٤٢] ؟
ثُمَّ ذَكَرَ تَعَالَى أَنَّهَا عَبِيدٌ مِثْلَ عَابِدِيهَا، أَيْ: مَخْلُوقَاتٌ مثلهم، بل الأناسي أكمل منها، لأنها تَسْمَعُ وَتُبْصِرُ وَتَبْطِشُ، وَتِلْكَ لَا تَفْعَلُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلا تُنْظِرُونِ﴾ [[زيادة من د، ك، م، أ، وفي هـ: "الآية".]] أَيِ: اسْتَنْصِرُوا بِهَا عَلَيَّ، فَلَا تُؤَخِّرُونِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَاجْهَدُوا جُهْدَكُمْ! ﴿إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نزلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ﴾ أَيِ: اللَّهُ حَسْبِي وَكَافِيَّ، وَهُوَ نَصِيرِي وَعَلَيْهِ مُتَّكَلِي، وَإِلَيْهِ أَلْجَأُ، وَهُوَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ صَالِحٍ بَعْدِي. وَهَذَا كَمَا قَالَ هُودٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا قَالَ لَهُ قَوْمُهُ: ﴿إِنْ نَقُولُ إِلا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ * مِنْ دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُون * إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [هُودٍ:٥٤-٥٦] وَكَقَوْلِ الْخَلِيلِ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ * أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الأقْدَمُونَ * فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِي إِلا رَبَّ الْعَالَمِينَ * الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ * [وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ * وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ] [[زيادة من أ.]] ﴾ [الشُّعَرَاءِ:٧٥-٨٠] الْآيَاتِ، وَكَقَوْلِهِ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ ﴿إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ * إِلا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ * وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ [الزُّخْرُفِ:٢٦-٢٨]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ﴾ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، مُؤَكِّدٌ لِمَا تَقَدَّمَ، إِلَّا أَنَّهُ بِصِيغَةِ الْخِطَابِ، وَذَلِكَ بِصِيغَةِ الْغَيْبَةِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَسْمَعُوا وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ [وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ [[زيادة من أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [فَاطِرٍ:١٤]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾ إِنَّمَا قَالَ: ﴿يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ﴾ أَيْ: يُقَابِلُونَكَ بِعُيُونٍ مُصَوَّرَةٍ كَأَنَّهَا نَاظِرَةٌ، وَهِيَ جَمَادٌ؛ وَلِهَذَا عَامَلَهُمْ مُعَامَلَةَ مَنْ يَعْقِلُ؛ لِأَنَّهَا عَلَى صُوَرٍ مُصَوَّرَةٍ كَالْإِنْسَانِ، [فَقَالَ] [[زيادة من د، أ.]] ﴿وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ﴾ فَعَبَّرَ عَنْهَا بِضَمِيرِ مَنْ يَعْقِلُ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: الْمُرَادُ بِهَذَا [[في أ: "بها".]] الْمُشْرِكُونَ وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ نَحْوُهُ. وَالْأَوَّلُ أَوْلَى، وَهُوَ اخْتِيَارُ ابْنِ جَرِيرٍ، وَقَالَهُ قَتَادَةُ.
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى ٱلْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا۟ ۖ وَتَرَىٰهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ
And if you invite them to guidance, they do not hear; and you see them looking at you while they do not see.
اور اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو سن نہ سکیں اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ (بہ ظاہر) آنکھیں کھولے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر (فی الواقع) کچھ نہیں دیکھتے
و اگر آنها را به هدایت فرا خوانید، سخنانتان را نمیشنوند! و آنها را میبینی (که با چشمهای مصنوعیشان) به تو نگاه میکنند، اما در حقیقت نمیبینند!»
Tafsir Ibn Kathir
Do they attribute as partners to Allah those who created nothing but they themselves are created (191)No help can they give them, nor can they help themselves (192)And if you call them to guidance, they follow you not. It is the same for you whether you call them or you keep silent (193)Verily, those whom you call upon besides Allah are servants like you. So call upon them and let them answer you if you are truthful (194)Have they feet wherewith they walk? Or have they hands wherewith they hold? Or have they eyes wherewith they see? Or have they ears wherewith they hear? Say: "Call your (so-called) partners (of Allah) and then plot against me, and give me no respite (195)Verily, my protector is Allah Who has revealed the Book (the Qur'an), and He protects the righteous (196)And those whom you call upon besides Him (Allah) cannot help you nor can they help themselves (197)And if you call them to guidance, they hear not and you will see them looking at you, yet they see not. (198)
Idols do not create, help, or have Power over Anything
Allah admonishes the idolators who worshipped idols, rivals and images besides Him, although these objects were created by Allah, and neither own anything nor can they bring harm or benefit. These objects do not see or give aid to those who worship them. They are inanimate objects that neither move, hear, or see. Those who worship these objects are better than they are, for they hear see and have strength of their own. Allah said,
أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
(Do they attribute as partners to Allah those who created nothing but they themselves are created?) meaning, 'Do you associate with Allah others that neither create, nor have power to create anything?' Allah said in another Ayah,
يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ - مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ
(O mankind! A similitude has been coined, so listen to it (carefully): Verily, those on whom you call besides Allah, cannot create (even) a fly, even though they combine together for the purpose. And if the fly snatches away a thing from them, they will have no power to release it from the fly. So weak are (both) the seeker and the sought. They have not estimated Allah His rightful estimate. Verily, Allah is All-Strong, Almighty)[22:73-74].
Allah states that if all false gods of the disbelievers gather their strength, they would not be able to create a fly. Rather, if the fly steals anything from them, no matter how insignificant, and flew away, they would not be able to retrieve it. Therefore, if an object is this weak, how can it be worshipped and invoked for provisions and aid? This is why Allah said,
لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
(...who created nothing but they themselves are created?) these worshipped objects themselves were created and made. Prophet Ibrahim Al-Khalil proclaimed,
أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ
("Worship you that which you (yourselves) carve?")[37:95] Allah said next,
وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا
(No help can they give them) those who worship them,
وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ
(nor can they help themselves) nor are they able to aid themselves against those who seek to harm them. For instance, Allah's Khalil, peace be upon him, broke and disgraced the idols of his people, just as Allah said he did,
فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ
(Then he turned upon them, striking (them) with (his) right hand,)[37:93] and,
فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ
(So he broke them to pieces, (all) except the biggest of them, that they might turn to it.)[21:58]
Mu'adh bin 'Amr ibn Al-Jamuh and Mu'adh bin Jabal, may Allah be pleased with both of them, were still young when they embraced Islam after the Messenger of Allah ﷺ came to Al-Madinah. So they were attacking the idols of the idolators at night, breaking, disfiguring them and using them as fuel for needy widows. They sought to give a lesson to their people to make them aware of their error. 'Amr bin Al-Jamuh, who was one of the chiefs of his people, had an idol that he used to worship and perfume. The two Mu'adhs used to go to that idol, turn it on its head and tarnish it with animal waste. When 'Amr bin Al-Jamuh would see what happened to his idol, he would clean it, perfume it and leave a sword next to it, saying, "Defend yourself." However, the two young men would repeat their actions, and he would do the same as before. Once, they took the idol, tied it to a dead dog and threw it in a well while tied to a rope! When 'Amr bin Al-Jamuh saw this, he knew that his religion was false and said, "By Allah! Had you been a god who has might, you would not end up tied to a dog on a rope!" 'Amr bin Al-Jamuh embraced Islam, and he was strong in his Islam. He was later martyred during the battle of Uhud, may Allah be pleased with him, give him pleasure. and grant him Paradise as his dwelling. Allah said,
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ
(And if you call them to guidance, they follow you not.)
Allah says, these idols do not hear the calls of those who worship them. Therefore, the result is the same, whether calling the idols or shunning them. Ibrahim, peace be upon said,
يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا
("O my father! Why do you worship that which hears not, sees not and cannot avail you in anything?")[19:42]
Next, Allah states that the idols were created, just as those who worship them. Rather, the people are better than the idols, because they are able to hear, see and exert harm. The idols, on the other hand, have no such powers. Allah said next,
قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ
(Say: "Call your (so-called) partners (of Allah)) invoke the idols for aid against me and do not give me respite, even for an instant, and give it your best effort,
إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ
(Verily, my protector is Allah Who has revealed the Book (the Qur'an), and He protects the righteous.)
Allah's support is sufficient and He will suffice for me, He is My supporter, I trust in Him and take refuge with Him. He is my protector, in this life and the Hereafter, and the protector of every righteous believer after me. Similarly, the people of Hud said,
إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ - إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
("All that we say is that some of our gods have seized you with evil (madness). " Hud replied: "I call Allah to witness, and bear you witness that I am free from that which you ascribe [as partners in worship, with Him (Allah)]. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving (living) creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on a path that is straight)[11:54-56].
Ibrahim Al-Khalil proclaimed (to his people),
أَفَرَأَيْتُم مَّا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ - فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ - الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ
(Do you observe that which you have been wershipping, You and your ancient fathers. Verily, they are enemies to me, save the Lord of all that exists. Who has created me, and it is He Who guides me.")[26:75-78]
He also said to his father and his people,
إِنَّنِي بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ - إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ - وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
("Verily, I am innocent of what you warship. Except Him Who did create me; and verily, He will guide me." And he made it a legacy lasting among his offspring, that they may turn back (to Allah).)[43:26-28] Allah said here,
إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ
(Verily, those whom you call upon besides Allah) until the end of the Ayah, reiterating what has been said earlier, but He uses direct speech this time,
لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ
(cannot help you nor can they help themselves.) The Ayah,
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ
(And if you call them to guidance, they hear not and you will see them looking at you, yet they see not.) is similar to another Ayah,
إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ
(If you invoke (or call upon) them, they hear not your call.)[35:14]. Allah said next,
وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ
(and you will see them looking at you, yet they see not.) meaning, they have eyes that stare as if they see, although they are solid. Therefore, the Ayah treated them as if they had a mind [saying, Tarahum, instead of Taraha], since they are made in the shape of humans with eyes drawn on them.
Tafsir Ibn Kathir
انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو بوجتے ہیں وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں وہی ان کا پالنے والا ہے وہ بالکل بےاختیار ہیں کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا تندرست اور اجھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں کان بھی ہیں یہ بیوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ لوگو آؤ ایک لطیف مثال سنو تم جنہیں پکار رہے ہو یہ سارے ہی جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ان کی طاقت سے خارج ہے۔ بلکہ ان کی کمزوری تو یہاں تک ہے کہ کوئی مکھی ان کی کسی چیز کو چھین لے جائے تو یہ اس سے واپس بھی نہیں کرسکتے طلب کرنے والے اور جن سے طلب کی جا رہی ہے بہت ہی بودے ہیں تعجب ہے کہ اتنے کمزوروں کی عبادت کی جاتی ہے جو اپنا حق بھی ایک مکھی سے نہیں لے سکتے وہ تمہاری روزیوں اور مدد پر کیسے قادر ہوں گے ؟ حضرت خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود ہی گھڑتے اور بناتے ہو ؟ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کی مدد کرسکتے ہیں نہ خود اپنی ہی کوئی مدد کرسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت خلیل اللہ ؑ نے انہیں توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا لیکن ان سے یہ نہ ہوسکا کہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیتے۔ ہاتھ میں تبر لے کر سب کو چورا کردیا اور ان معبود ان باطل سے یہ بھی نہ ہوسکا کہ کسی طرح اپنا بچاؤ کرلیتے، خود رسول کریم ﷺ کے زمانے میں بھی حضرت معاذ بن عمرو بن جموح اور حضرت معاذ بن جبل ؓ یہی کام کرتے تھے کہ رات کے وقت چپکے سے جا کر مشرکین کے بت توڑ آتے اور جو لکڑی کے ہوتے انہیں توڑ کر بیوہ عورتوں کو دے دیتے کہ وہ اپنا ایندھن بنالیں اور قوم کے بت پرست عبرت حاصل کریں۔ خود حضرت معاذ کا باپ عمرو بن جموح بھی بت پرست تھا یہ دونوں نوجوان دوست وہاں بھی پہنچتے اور اس بت کو پلیدی سے آلودہ کر آتے۔ جب یہ آتا تو اپنے خدا کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھاتا، پھر دھوتا، پھر اس پر خوشبو ملتا۔ ایک مرتبہ اس نے اس کے پاس تلوار رکھ دی اور کہا دیکھ آج تیرا دشمن آئے تو اس تلوار سے اس کا کام تمام کردینا۔ یہ اس رات بھی پہنچے اور اس کی درگت کر کے پاخانے سے لیپ کر کے چلے آئے مگر تاہم اسے اثر نہ ہوا صبح کو اسی طرح اس نے دھو دھا کر ٹھیک ٹھاک کر کے خوشبو لگا کر بیٹھا کر ڈنڈوت کی یعنی (اٹھک بیٹھک) کی۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ کسی طرح یہ نہیں مانتا تو ایک رات اس بت کو اٹھا لائے اور ایک کتے کا پلا جو مرا پڑا تھا اس کے گلے میں باندھ دیا اور محلے کے ایک کنویں میں ڈال دیا صبح اس نے اپنے بت کو نہ پا کر تلاش کی تو کنویں میں اسے نظر آیا کہ کتے کے مردہ بچے کے ساتھ پڑا ہوا ہے اب اسے بت سے اور بت پرستی سے نفرت ہوگئی اور اس نے کہا عربی (تاللہ لو کنت الھا مستدن لم تک والکلب جمیعافی قرن)یعنی اگر تو سچ مچ اللہ ہوتا تو کنوئیں میں کتے کے پلے کے ساتھ پڑا ہوا نہ ہوتا پھر حاضر حضور سرکار مدینہ ﷺ ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہوگئے پھر تو اسلام میں پورے پکے ہوگئے۔ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور کفار کو قتل کرتے ہوئے شہید ہوگئے دعا (ؓ وارضاہ وجعل جنت الفردوس ماوا)۔ انہیں اگر بلا یا جائے تو یہ قبول کرنا تو درکنار سن بھی نہیں سکتے محض پتھر ہیں، بےجان ہیں، بےآنکھ اور بےکان ہیں جیسے کہ حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ میرے والد ! آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنیں نہ دیھکیں نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکیں نہ تیرے کسی کام آسکیں۔ انہیں پکارنا نہ پکارنا دونوں برابر ہیں۔ یہ تو تم جیسے ہی بےبس اور اللہ کی مخلوق ہیں بتاؤ تو کبھی انہوں نے تمہاری فریاد رسی کی ہے ؟ یا کبھی تمہاری دعا کا جواب دیا ہے ؟ حقیقت میں ان سے افضل و اعلیٰ تو تم خود ہو۔ تم سنتے دیکھتے چلتے پھرتے بولتے چالتے ہو یہ تو اتنا بھی نہیں کرسکتے۔ اجھا تم ان سے میرا کچھ بگاڑ نے کی درخواست کرو میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر ان سے ہو سکے تو بلا تامل اپنی پوری طاقت سے جو میرا بگاڑ سکتے ہوں بگاڑ لیں۔ سنو میں تو اللہ کو اپنا حمایتی اور مددگار سمجھتا ہوں وہی میرا بچانے والا ہے اور وہ مجھے کافی وافی ہے اسی پر میرا بھروسہ ہے اسی سے میرا لگاؤ ہے۔ میں ہی نہیں ہر نیک بندہ یہی کرتا ہے اور وہ بھی اپنے تمام سچے غلاموں کی نگہبانی اور حفاظت کرتا رہتا ہے اور کرتا رہے گا۔ میرے بعد بھی ان سب کا نگراں اور محافظ وہی ہے۔ حضرت ہود ؑ سے آپ کی قوم نے کہا کہ ہمارا تو خیال ہے کہ تو جو ہمارے معبودوں پر ایمان نہیں رکھتا اسی سبب سے انہوں نے تجھے ان مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا سنو تم کو اور اللہ کو گواہ کر کے میں کہتا ہوں اور علیٰ الاعلان کہتا ہوں کہ میں تمہارے اللہ کے سوا اور تمام معبودوں سے بری اور بیزار اور ان سب کا دشمن ہوں۔ تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو تمہیں بھی قسم ہے جو ذرا سی کوتاہی کرو۔ میرا توکل اللہ کی ذات پر ہے تمام جانداروں کی چوٹیاں اسی کے ہاتھ ہیں میرا رب ہی سچی راہ پر ہے حضرت خلیل اللہ ؑ نے بھی یہی فرمایا تھا کہ تم اور تمہارے بزرگ جن کی پرستش کرتے ہیں میں ان سب کا دشمن ہوں اور وہ مجھ سے دور ہیں سوائے اس رب العالمین کے جس نے مجھے پیدا کیا اور میری رہبری کی۔ آپ نے اپنے والد اور قوم سے بھی یہی فرمایا کہ میں تمہارے معبودان باطل سے بری اور بیزار ہوں سوائے اس سچے معبود کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہی میری رہبری کرے گا ہم نے اسی کلمے کو اس کی نسل میں ہمیشہ کیلئے باقی رکھ دیا تاکہ لوگ اپنے باطل خیالات سے ہٹ جائیں۔ پہلے تو غائبانہ فرمایا تھا پھر اور تاکید کے طور پر خطاب کر کے فرماتا ہے کہ جن جن کو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو وہ تمہاری امداد نہیں کرسکتے اور نہ وہ خود اپنا ہی کوئی نفع کرسکتے ہیں۔ یہ تو سن ہی نہیں سکتے تجھے تو یہ آنکھوں والے دکھائی دیتے ہیں لیکن دراصل ان کی اصلی آنکھیں ہی نہیں کہ کسی کو دیکھ سکیں۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر تم انہیں پکارو تو وہ سنتے نہیں چونکہ وہ تصاویر اور بت ہیں ان کی مصنوعی آنکھیں ہیں محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں لیکن دراصل دیکھ نہیں رہے چونکہ وہ پتھر بصورت انسان ہیں اس لئے ضمیر بھی ذوی العقول کی لائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کفار ہیں لیکن اول ہی اولیٰ ہے یہی امام ابن جریر کا اختیار کردہ اور قتادہ کا قول بھی یہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا إِنْكَارٌ مِنَ اللَّهِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ عَبَدُوا مَعَ اللَّهِ غَيْرَهُ، مِنَ الْأَنْدَادِ وَالْأَصْنَامِ وَالْأَوْثَانِ، وَهِيَ مَخْلُوقَةٌ لِلَّهِ مَرْبُوبَةٌ مَصْنُوعَةٌ، لَا تَمْلِكُ شَيْئًا مِنَ الْأَمْرِ، وَلَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، [وَلَا تَنْصُرُ] [[زيادة من د، ك، م، أ.]] وَلَا تَنْتَصِرُ لِعَابِدِيهَا، بَلْ هِيَ جَمَادٌ لَا تَتَحَرَّكُ وَلَا تَسْمَعُ وَلَا تُبْصِرُ، وَعَابِدُوهَا أَكَمُلُ مِنْهَا بِسَمْعِهِمْ وَبَصَرِهِمْ وَبَطْشِهِمْ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ﴾ أَيْ: أَتُشْرِكُونَ [[في م، أ: "أيشركون".]] بِهِ مِنَ الْمَعْبُودَاتِ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَا يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ * مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾ [الْحَجِّ:٧٣، ٧٤] أَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُ لَوِ اجْتَمَعَتْ آلِهَتُهُمْ كُلُّهَا، مَا اسْتَطَاعُوا خَلْقَ ذُبَابَةٍ، بَلْ لَوِ أستَلبتهم [[في د: "سلبتهم".]] الذُّبَابَةُ شَيْئًا مِنْ حَقير الْمَطَاعِمِ [[في د، م: "الطعام".]] وَطَارَتْ، لَمَا اسْتَطَاعُوا إِنْقَاذَ ذَلِكَ مِنْهَا، فَمَنْ هَذِهِ صِفَتُهُ وَحَالُهُ، كَيْفَ يُعْبَدُ لِيَرْزُقَ وَيُسْتَنْصَرُ؟ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ﴾ أَيْ: بَلْ هُمْ مَخْلُوقُونَ مَصْنُوعُونَ كَمَا قَالَ الْخَلِيلُ: ﴿قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ * [وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ] [[زيادة من د، ك، م، أ. وفي هـ: "الآية".]] ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٥، ٩٦]
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا﴾ أَيْ: لِعَابِدِيهِمْ ﴿وَلا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ﴾ يَعْنِي: وَلَا لِأَنْفُسِهِمْ يَنْصُرُونَ مِمَّنْ أَرَادَهُمْ بِسُوءٍ، كَمَا كَانَ الْخَلِيلُ، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، يَكْسِرُ أَصْنَامَ قَوْمِهِ ويهينُها غَايَةَ الْإِهَانَةِ، كَمَا أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْهُ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٣] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلا كَبِيرًا لَهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٥٨] وَكَمَا كَانَ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -وَكَانَا شَابَّيْنِ قَدْ أَسْلَمَا لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ -فَكَانَا يَعْدُوَانِ فِي اللَّيْلِ عَلَى أَصْنَامِ الْمُشْرِكِينَ يَكْسِرَانِهَا وَيُتْلِفَانِهَا وَيَتَّخِذَانِهَا حَطَبًا لِلْأَرَامِلِ، لِيَعْتَبِرَ قَوْمُهُمَا بِذَلِكَ، وَيَرْتَئُوا لِأَنْفُسِهِمْ، فَكَانَ لِعَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ -وَكَانَ سَيِّدًا فِي قَوْمِهِ -كَانَ لَهُ صَنَمٌ يَعْبُدُهُ وَيُطَيِّبُهُ، فَكَانَا يَجِيئَانِ فِي اللَّيْلِ فَيُنَكِّسَانِهِ عَلَى رَأْسِهِ، وَيُلَطِّخَانِهِ بالعَذِرة، فَيَجِيءُ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ فَيَرَى مَا صُنِعَ بِهِ فَيَغْسِلُهُ وَيُطَيِّبُهُ وَيَضَعُ عِنْدَهُ سَيْفًا، وَيَقُولُ لَهُ: "انْتَصَرَ". [ثُمَّ] [[زيادة من د، م، أ.]] يَعُودَانِ لِمِثْلِ ذَلِكَ، وَيَعُودُ إِلَى صَنِيعِهِ أَيْضًا، حَتَّى أَخَذَاهُ مَرَّةً فَقَرَنَا مَعَهُ جَرْوَ كَلْبٍ مَيِّتٍ، ودلَّياه فِي حَبْلٍ فِي بِئْرٍ هُنَاكَ، فَلَمَّا جَاءَ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ وَرَأَى ذَلِكَ، نَظَرَ فَعَلِمَ أَنَّ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الدِّينِ بَاطِلٌ، وَقَالَ:
تَالله لَوْ كُنتَ إِلَها مُسْتَدن ... لَمْ تَكُ والكَلْبُ جَمِيعًا فِي قَرنْ [[انظر: الرجز في السيرة النبوية لابن هشام (١/٣٥٤) .]]
ثُمَّ أَسْلَمَ فَحسُن إِسْلَامُهُ، وَقُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَرْضَاهُ، وَجَعَلَ جَنَّةَ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَتَّبِعُوكُمْ [سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنْتُمْ صَامِتُونَ] ﴾ [[زيادة من أ، وفي هـ: "الآية".]] يَعْنِي: أَنَّ هَذِهِ الْأَصْنَامَ لَا تَسْمَعُ دُعَاءَ مَنْ دَعَاهَا، وَسَوَاءٌ لَدَيْهَا مَنْ دَعَاهَا وَمَنْ دَحَاهَا، كَمَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ: ﴿يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ وَلا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا﴾ [مَرْيَمَ:٤٢] ؟
ثُمَّ ذَكَرَ تَعَالَى أَنَّهَا عَبِيدٌ مِثْلَ عَابِدِيهَا، أَيْ: مَخْلُوقَاتٌ مثلهم، بل الأناسي أكمل منها، لأنها تَسْمَعُ وَتُبْصِرُ وَتَبْطِشُ، وَتِلْكَ لَا تَفْعَلُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلا تُنْظِرُونِ﴾ [[زيادة من د، ك، م، أ، وفي هـ: "الآية".]] أَيِ: اسْتَنْصِرُوا بِهَا عَلَيَّ، فَلَا تُؤَخِّرُونِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَاجْهَدُوا جُهْدَكُمْ! ﴿إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نزلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ﴾ أَيِ: اللَّهُ حَسْبِي وَكَافِيَّ، وَهُوَ نَصِيرِي وَعَلَيْهِ مُتَّكَلِي، وَإِلَيْهِ أَلْجَأُ، وَهُوَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ صَالِحٍ بَعْدِي. وَهَذَا كَمَا قَالَ هُودٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا قَالَ لَهُ قَوْمُهُ: ﴿إِنْ نَقُولُ إِلا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ * مِنْ دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُون * إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [هُودٍ:٥٤-٥٦] وَكَقَوْلِ الْخَلِيلِ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من أ.]] ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ * أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الأقْدَمُونَ * فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِي إِلا رَبَّ الْعَالَمِينَ * الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ * [وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ * وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ] [[زيادة من أ.]] ﴾ [الشُّعَرَاءِ:٧٥-٨٠] الْآيَاتِ، وَكَقَوْلِهِ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ ﴿إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ * إِلا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ * وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ [الزُّخْرُفِ:٢٦-٢٨]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ﴾ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، مُؤَكِّدٌ لِمَا تَقَدَّمَ، إِلَّا أَنَّهُ بِصِيغَةِ الْخِطَابِ، وَذَلِكَ بِصِيغَةِ الْغَيْبَةِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَسْمَعُوا وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ [وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ [[زيادة من أ. وفي هـ: "الآية".]] ] ﴾ [فَاطِرٍ:١٤]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ﴾ إِنَّمَا قَالَ: ﴿يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ﴾ أَيْ: يُقَابِلُونَكَ بِعُيُونٍ مُصَوَّرَةٍ كَأَنَّهَا نَاظِرَةٌ، وَهِيَ جَمَادٌ؛ وَلِهَذَا عَامَلَهُمْ مُعَامَلَةَ مَنْ يَعْقِلُ؛ لِأَنَّهَا عَلَى صُوَرٍ مُصَوَّرَةٍ كَالْإِنْسَانِ، [فَقَالَ] [[زيادة من د، أ.]] ﴿وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ﴾ فَعَبَّرَ عَنْهَا بِضَمِيرِ مَنْ يَعْقِلُ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: الْمُرَادُ بِهَذَا [[في أ: "بها".]] الْمُشْرِكُونَ وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ نَحْوُهُ. وَالْأَوَّلُ أَوْلَى، وَهُوَ اخْتِيَارُ ابْنِ جَرِيرٍ، وَقَالَهُ قَتَادَةُ.
خُذِ ٱلْعَفْوَ وَأْمُرْ بِٱلْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ ٱلْجَٰهِلِينَ
Take what is given freely, enjoin what is good, and turn away from the ignorant.
(اے محمدﷺ) عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو
(به هر حال) با آنها مدارا کن و عذرشان را بپذیر، و به نیکیها دعوت نما، و از جاهلان روی بگردان (و با آنان ستیزه مکن)!
Tafsir Ibn Kathir
Show forgiveness, enjoin Al-'Urf (the good), and turn away from the foolish (don't punish them)(199)And if an evil whisper comes to you from Shaytan, then seek refuge with Allah. Verily, He is All-Hearer, All-Knower (200)
Showing Forgiveness
Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam commented on Allah's statement,
خُذِ الْعَفْوَ
(Show forgiveness) "Allah commanded [Prophet Muhammad ﷺ] to show forgiveness and turn away from the idolators for ten years. Afterwards Allah ordered him to be harsh with them."
And more than one narration from Mujahid says, "From the [bad] behavior and actions of the people, of those who have not committed espionage." And Hashim bin 'Urwah said that his father said, "Allah ordered Allah's Messenger ﷺ to pardon the people for their behavior."
And in one narration, "pardon what I have allowed you of their behavior. In Sahih Al-Bukhari it is recorded that Hisham reported from his father 'Urwah from his brother 'Abdullah bin Az-Zubayr who said; "[The Ayah];
خُذِ الْعَفْوَ
(Show forgiveness) was only revealed about the peoples [bad] character."
There is a narration from Mughirah from Hisham from his father from Ibn 'Umar; and another from Hisham from his father from 'A'ishah, both of whom said similarly. And Allah knows best.
Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim recorded that Yunus said that Sufyan bin 'Uyaynah narrated that Umay said, "When Allah, the Exalted and Most Honored, revealed this Ayah,
خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ
(Show forgiveness, enjoin Al-'Urf (what is good), and turn away from the foolish) to His Prophet, the Messenger of Allah ﷺ asked,
مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ
('What does it mean, O Jibril?) Jibril said, 'Allah commands you to forgive those who wronged you, give to those who deprived you, and keep relations with those who cut theirs with you.'"
Al-Bukhari said, "Allah said,
خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ
(Show forgiveness, enjoin Al-'Urf and turn away from the ignorant).
Al-'Urf', means, righteousness." Al-Bukhari next recorded from Ibn 'Abbas that he said, "'Uyaynah bin Hisn bin Hudhayfah stayed with his nephew Al-Hur bin Qays, who was among the people whom 'Umar used to have near him, for 'Umar used to like to have the reciters of the Qur'an (who memorized it) near him and would listen to their opinion, regardless of whether they were old or young men. 'Uyaynah said to his nephew, 'O my nephew! You are close to this chief ('Umar), so ask for permission for me to see him.' Al-Hur said 'I will ask him for you,' and he asked 'Umar for permission for 'Uyaynah to meet him, and 'Umar gave him permission. When 'Uyaynah entered on 'Umar, he said, 'O Ibn Al-Khattab! You neither give to us sufficiently nor rule with justice between us.' 'Umar became so angry that he almost punished 'Uyaynah. However, Al-Hur said, 'O Chief of he Faithful! Allah, the Exalted, said to His Prophet ﷺ,
خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ
(Show forgiveness, enjoin Al-'Urf, and turn away from the foolish)
Verily this man ('Uyaynah) is one of the fools!' By Allah, 'Umar did not do anything after he heard that Ayah being recited, and indeed, he was one who adhered to the Book of Allah, the Exalted and Most Honored." Al-Bukhari recorded this Hadith.
Some scholars said that people are of two kinds, a good-doer, so accept his good doing and neither ask him more than he can bear nor what causes him hardship. The other kind is the one who falls in shortcomings, so enjoin righteousness on him. If he still insists on evil, becomes difficult and continues in his ignorance, then turn away from him, so that your ignoring him might avert his evilness. Allah said in other instances,
ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ - وَقُل رَّبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ - وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَن يَحْضُرُونِ
(Repel evil with that which is better. We are best-acquainted with the things they utter. And say: "My Lord! I seek refuge with You from the whisperings (suggestions) of the Shayatin (devils). And I seek refuge with You, My Lord! lest they should come near me.")[23:96-98] and,
وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ - وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ
(The good deed and the evil deed cannot be equal. Repel (the evil) with one which is better, then verily he, between whom and you there was enmity, (will become) as though he was a close friend. But none is granted it (the above quality) except those who are patient – and none is granted it except the owner of the great portion in this world.)[41:34-35] in reference to the advice contained in these Ayat,
وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And if an evil whisper from Shaytan tries to turn you away (from doing good), then seek refuge in Allah. Verily, He is the All-Hearer, the All-Knower)[41:36].
Allah said in this honorable Suah,
وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
(And if an evil whisper comes to you from Shaytan, then seek refuge with Allah. Verily, He is All-Hearer, All-Knower.)[7:200] These three instances in the Qur'an, in Surahs Al-A'raf, Al-Mu'minun and As-Sajdah, are uinque in the Qur'an. Allah encourages lenient treatment of evil doers, for this might deter them from persistence in their evil, Allah willing,
فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ
(then verily he, between whom and you there was enmity, (will become) as though he was a close friend)[41:34].
Allah also encourages seeking refuge with Him from the devils of the Jinns. The devil will not be deterred if one is lenient with him, because he seeks your destruction and total demise. The devil to you, O mankind, is an open enemy, just as he was for your father before you.
Ibn Jarir said, while explaining Allah's statement,
وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ
(And if an evil whisper comes to you from Shaytan), "If the devil lures you to get angry, thus directing you away from forgiving the ignorant and towards punishing him
فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ
(then seek refuge with Allah.) Allah commands here to seek refuge with Him from the devil's whispers,
إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
(Verily, He is All-Hearer, All-Knower.) Allah hears the ignorance that the fools subject you to, your seeking refuge with Him from the devil's whispers, and the rest of the speech of His creation; none of it escapes His knowledge. He knows what drives the lures of the devil away from you, as well as, the rest of what His creatures do."
We mentioned the Hadiths concerning Isti'adhah (seeking refuge with Allah) in the beginning of this Tafsir, so we do not need to repeat them here.
Tafsir Ibn Kathir
اچھے اعمال کی نشاندہی ابن عباس فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ان سے وہ مال لے جو ان کی ضرورت سے زیادہ ہوں اور جسے یہ بخوشی اللہ کی راہ میں پیش کریں۔ پہلے چونکہ زکوٰۃ کے احکام بہ تفصیل نہیں اترے تھے اس لئے یہی حکم تھا۔ یہ بھی معنی کئے گئے ہیں کہ ضرورت سے زائد چیز اللہ کی راہ میں خرچ کردیا کرو۔ یہ بھی مطلب ہے کہ مشرکین سے بدلہ نہ لے دس سال تک تو یہی حکم رہا کہ درگذر کرتے ہو پھر جہاد کے احکام اترے۔ یہ بھی مطلب ہے کہ لوگوں کے اچھے اخلاق اور عمدہ عادات جو ظاہر ہوں انہی پر نظریں رکھ ان کے باطن نہ ٹٹول، تجسس نہ کرو۔ حضرت عبداللہ بن زبیر وغیرہ سے بھی یہی تفسیر مروی ہے یہی قول زیادہ مشہور ہے حدیث میں ہے کہ اس آیت کو سن کر حضرت جبرائیل سے آپ نے دریافت کیا کہ اس کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہ جو تجھ پر ظلم کرے تو اس سے درگذر کر۔ جو تجھے نہ دے تو اس کے ساتھ بھی احسان و سلوک کر۔ جو تجھ سے قطع تعلق کرے تو اس کے ساتھ بھی تعلق رکھ۔ مسند احمد میں ہے حضرت عقبہ بن عامر ؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ سے ملا اور آپ کا ہاتھ تھام کر درخواست کی کہ مجھے افضل اعمال بتائیے آپ نے فرمایا جو تجھ سے توڑے تو اس سے بھی جوڑ، جو تجھ سے روکے تو اسے دے، جو تجھ پر ظلم کرے تو اس پر بھی رحم کر۔ اوپر والی روایت مرسل ہے اور یہ روایت ضعیف ہے۔ عرف سے مراد نیک ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ عینیہ بن حصن بن حذیفہ اپنے بھائی حر بن قیس کے ہاں آ کے ٹھہرا۔ حضرت حر حضرت عمر بن خطاب ؓ کے خاص درباریوں میں تھے آپ کے درباری اور نزدیکی کا شرف صرف انہیں حاصل تھا جو قرآن کریم کے ماہر تھے خواہ وہ جوان ہوں خواہ بوڑھے۔ اس نے درخواست کی کہ مجھے آپ امیر المومنین عمر کے دربار میں حاضری کی اجازت دلوا دیجئے۔ آپ نے وہاں جا کر ان کے لئے اجازت چاہی امیر المومنین نے اجازت دے دی۔ یہ جاتے ہی کہنے لگے کہ اے ابن خطاب تو ہمیں بکثرت مال بھی نہیں دیتا اور ہم میں عدل کے ساتھ فیصلے بھی نہیں کرتا۔ آپ کو یہ کلام بھی برا لگا، ممکن تھا کہ اسے اس کی اس تہمت پر سزا دیتے لیکن اسی وقت حضرت حر نے کہا اے امیر المومنین اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم فرمایا ہے کہ عفودرگذر کی عادت رکھ، اچھائیوں کا حکم کرتا رہ اور جاہلوں سے چشم پوشی کر۔ امیر المومنین یقین کیجئے کہ یہ نرا جاہل ہے قرآن کریم کی اس آیت کا کان میں پڑنا تھا کہ آپ کا تمام رنج و غم غصہ و غضب جاتا رہا۔ آپ کی یہ تو عادت ہی تھی کہ ادھر کلام اللہ سنا ادھر گردن جھکا دی۔ امیرالمومنین ؓ کے پوتے حضرت سالم بن عبداللہ ؒ کا ذکر ہے کہ آپ نے شامیوں کے ایک قافلے کو دیکھا، جس میں گھنٹی تھی تو آپ نے فرمایا یہ گھنٹیاں منع ہیں۔ انہوں نے کہ ہم اس مسئلے کو آپ سے زیادہ جانتے ہیں بڑی بڑی گھنٹیوں سے منع ہے اس جیسی چھوٹی گھنٹیوں میں کیا حرج ہے ؟ حضرت سالم نے اسی آیت کا آخری جملہ پڑھ کر ان جاہلوں سے چشم پوشی کرلی۔ عرف معروف عارف عارفہ سب کے ایک ہی معنی ہیں۔ اس میں ہر اچھی بات کی اطاعت کا ذکر آگیا پھر حکم دیا کہ جاہلوں سے منہ پھیرلیا کر گو یہ حکم آپ کو ہے لیکن دراصل تمام بندوں کو یہی حکم ہے۔ مطلب یہ ہے ظلم برداشت کرلیا کرو تکلیف دہی کا خیال بھی نہ کرو۔ یہ معنی نہیں کہ دین حق کے معاملے میں جو جہالت سے پیش آئے تم اس سے کچھ نہ کہو، مسلمانوں سے جو کفر پر جم کر مقابلہ کرے تم اسے کجھ نہ کہنا۔ یہ مطلب اس جملے کا نہیں۔ یہ وہ پاکیزہ اخلاق ہیں جن کا مجسم عملی نمونہ رسول اللہ ﷺ تھے کسی نے اسی مضمون کو اپنے شعروں میں باندھا ہے۔ شعر (خذا لعفو وامربالعرف کما امرت واعرض عن الجاھلین ولن فی الکلام بکل الانام فمستحسن من ذوی الجاھلین یعنی درگزر کیا کر، بھلی بات بتادیا کر جیسے کہ تجھے حکم ہوا ہے، نادانوں سے ہٹ جا یا کر، ہر ایک سے نرم کلامی سے پیش آ۔ یاد رکھ کہ عزت و جاہ پر پہنچ کر نرم اور خوش اخلاق رہنا ہی کمال ہے۔ بعض مسلمانوں کا مقولہ ہے کہ لوگ دو طرح کے ہیں ایک تو بھلے اور محسن جو احسان و سلوک کریں قبول کرلے اور ان کے سر نہ ہوجا کہ ان کی وسعت سے زیادہ ان پر بوجھ ڈال دے۔ دوسرے بد اور ظالم انہیں نیکی اور بھلائی کا حکم دے پھر بھی اگر وہ اپنی جہالت پر اور بد کرداری پر اڑے رہیں اور تیرے سامنے سرکشی اختیار کریں تو تو ان سے روگردانی کرلے یہی چیز اسے اس کی برائی سے ہٹا دے گی جیسے کہ اللہ کا فرمان ہے آیت (اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ۭ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَصِفُوْنَ 96) 23۔ المؤمنون :96) بہترین طریق سے دفع کردو تو تمہارے دشمن بھی تمہارے دوست بن جائیں گے لیکن یہ انہی سے ہوسکتا ہے جو صابر ہوں اور نصیبوں والے ہوں۔ اس کے بعد شیطانی وسوسوں سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم ہوا اس لئے کہ وہ سخت ترین دشمن ہے اور ہے بھی احسان فراموش۔ انسانی دشمنوں سے بچاؤ تو عضو درگذر اور سلوک و احسان سے ہوجاتا ہے لیکن اس ملعون سے سوائے اللہ کی پناہ کے اور کوئی بچاؤ نہیں۔ یہ تینوں حکم جو سورة اعراف کی ان تین آیتوں میں ہیں یہی سورة مومنون میں بھی ہیں اور سورة حم السجدہ میں بھی۔ شیطان تو حضرت آدم ؑ کے وقت سے دشمن انسان ہے۔ یہ جب غصہ دلائے جوش میں لائے فرمان الٰہی کے خلاف ابھارے جاہلوں سے بدلہ لینے پر آمادہ کرے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگ لیا کرو۔ وہ جاہلوں کی جہالت کو بھی جانتا ہے اور تیرے بچاؤ کی ترکیبوں کو بھی جانتا ہے۔ ساری مخلوق کا اسے علم ہے وہ تمام کاموں سے خبردار ہے۔ کہتے ہیں کہ جب اگلے تین حکم سنے تو کہا اسے اللہ ان کاموں کے کرنے کے وقت تو شیطان ان کے خلاف بری طرح آمادہ کر دے گا اور نفس تو جوش انتقام سے پر ہوتا ہی ہے کہیں ان کی خلاف ورزی نہ ہوجائے تو یہ پچھلی آیت نازل ہوئی کہ ایسا کرنے سے شیطانی وسوسہ دفع ہوجائے گا اور تم ان اخلاق کریمانہ پر عامل ہوجاؤ گے۔ میں نے اپنی اسی تفسیر کے شروع میں ہی اعوذ کی بحث میں اس حدیث کو بھی وارد کیا ہے کہ دو شخص لڑ جھگڑ رہے تھے جن میں سے ایک سخت غضبناک تھا حضور نے فرمایا مجھے ایک ایسا کلمہ یاد ہے اگر یہ کہہ لے تو ابھی یہ بات جاتی رہے۔ وہ کلمہ (" اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ") ہے کسی نے اس میں بھی ذکر کیا تو اس نے کہا کہ کیا میں کوئی دیوانہ ہوگیا ہوں ؟ نزع کے اصلی معنی فساد کے ہیں وہ خواہ غصے سے ہو یا کسی اور وجہ سے۔ فرمان قرآن ہے کہ میرے بندوں کو آگاہ کردو کہ وہ بھلی بات زبان سے نکالا کریں۔ شیطان ان میں فساد کی آگ بھڑکانا چاہتا ہے۔ عیاذ کے معنی التجا اور استناد کے ہیں اور لاذ کا لفظ طلب خیر کے وقت بولا جاتا ہے جیسے حسن بن ہانی کا شعر ہے۔ (بامن الوذبہ فیما اوملہ ومن اعوذ بہ مما احاذرہ لا یجبر الناس عظماانت کا سرہ ولا یھیضون عظما انت جابرہ)یعنی اے اللہ تو میری آرزوؤں کا مرکز ہے اور میرے بچاؤ اور پناہ کا مسکن ہے مجھے یقین ہے کہ جس ہڈی کو تو توڑنا جا ہے اسے کوئی جوڑ نہیں سکتا اور جسے تو جوڑنا چاہے اسے کوئی توڑ نہیں سکتا۔ باقی حدیثیں جو اعوذ کے متعلق تھیں وہ ہم اپنی اس تفسیر کے شروع میں ہی لکھ آئے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ: ﴿خُذِ الْعَفْوَ﴾ يَعْنِي: خُذْ مَا عَفَا لَكَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَمَا أَتَوْكَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ فَخُذْهُ. وَكَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ "بَرَاءَةٌ" بِفَرَائِضَ الصَّدَقَاتِ وَتَفْصِيلِهَا، وَمَا انْتَهَتْ إِلَيْهِ الصَّدَقَاتُ. قَالَهُ السُّدِّيُّ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿خُذِ الْعَفْوَ﴾ أَنْفِقِ الْفَضْلَ. وَقَالَ سَعِيدُ [[في م: "حميد".]] بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: قال الفضل.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي قَوْلِهِ: ﴿خُذِ الْعَفْوَ﴾ أَمَرَهُ اللَّهُ بِالْعَفْوِ وَالصَّفْحِ عَنِ الْمُشْرِكِينَ عَشْرَ سِنِينَ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْغِلْظَةِ عَلَيْهِمْ. وَاخْتَارَ هَذَا الْقَوْلَ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿خُذِ الْعَفْوَ﴾ قَالَ: مِنْ أَخْلَاقِ النَّاسِ وَأَعْمَالِهِمْ مِنْ غَيْرِ تَحَسُّسٍ [[في د، ك، م: "تحسيس"، وفي أ: "تجسيس".]]
وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوة، عَنْ أَبِيهِ: أَمَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ ﷺ أَنْ يَأْخُذَ الْعَفْوَ مِنْ أَخْلَاقِ النَّاسِ. وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: خُذْ مَا عفي لَكَ مِنْ أَخْلَاقِهِمْ.
وَفِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ عُرْوَةَ، عَنْ أَخِيهِ [[في أ: "عن أبيه".]] عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: إِنَّمَا أَنَزَلَ [[في أ: "أنزل الله".]] ﴿خُذِ الْعَفْوَ﴾ مِنْ أَخْلَاقِ النَّاسِ [[صحيح البخاري برقم (٤٦٤٣، ٤٦٤٤) .]] وَفِي رِوَايَةٍ لِغَيْرِهِ: عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ. وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُمَا قَالَا مِثْلَ ذَلِكَ [[قال الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" (٨/٣٠٥) : "وقال عبيد الله بن عمر، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أخرجه البزار والطبراني وهي شاذة، وكذا رواية حماد بن سلمة، عن هشام، عن أبيه، عن عائشة عند ابن مردويه".]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَفِي رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ [[في أ: "عن أبي".]] الزُّبَيْرِ: ﴿خُذِ الْعَفْوَ﴾ قَالَ: مِنْ أَخْلَاقِ النَّاسِ، وَاللَّهِ لَآخُذَنَّهُ مِنْهُمْ مَا صَحِبْتُهُمْ. وَهَذَا أَشْهَرُ الْأَقْوَالِ، وَيَشْهَدُ لَهُ مَا رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ جَمِيعًا: حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ -هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ -عَنْ أُمَيٍّ قَالَ: لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ، عَلَى نَبِيِّهِ ﷺ: ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "ما هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ " قَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَكَ أَنْ تَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَكَ، وَتُعْطِيَ مَنْ حَرَمَكَ، وَتَصِلَ مَنْ قَطَعَكَ.
وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ أَيْضًا، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيِّ كِتَابَةً، عَنْ أصْبَغ بْنِ الْفَرَجِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أُمَيّ عَنِ الشَّعْبِيِّ. نَحْوَهُ، وَهَذَا -عَلَى كُلِّ حَالٍ -مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِيَ لَهُ شَاهِدٌ [[في ك، م: "شواهد".]] مِنْ وُجُوهٍ أُخَرَ، وَقَدْ رُوِيَ مَرْفُوعًا عَنْ جَابِرٍ وَقَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، أَسْنَدَهُمَا ابْنُ مَرْدَوَيْهِ [[ذكره السيوطي في الدر المنثور (٣/٦٢٨) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ، حَدَّثَنِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَابْتَدَأْتُهُ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبَرْنِي بِفَوَاضِلِ الْأَعْمَالِ. فَقَالَ: "يَا عُقْبَةُ، صِلْ مَنْ قَطَعَكَ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ، وَأَعْرِضْ عَمَّنْ ظَلَمَكَ".
وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ، مِنْ طَرِيقِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْر [[في م: "أحمد"، وفي أ: "نحر".]] عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، بِهِ. وَقَالَ حَسَنٌ [[المسند (٤/١٤٨) وسنن الترمذي برقم (٢٤٠٦) .]]
قُلْتُ: وَلَكِنْ "عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ" وَشَيْخُهُ "الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ"، فِيهِمَا ضعف.
وَقَالَ الْبُخَارِيُّ قَوْلُهُ: ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ "الْعُرْفُ": الْمَعْرُوفُ. حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ، فَنَزَلَ عَلَى ابْنِ أَخِيهِ الْحُرِّ بْنِ قَيْسٍ -وَكَانَ مِنَ النَّفَرِ الَّذِينَ يُدْنِيهِمْ عُمَرُ -وَكَانَ الْقُرَّاءُ أَصْحَابَ مَجَالِسِ عُمَرَ وَمُشَاوَرَتِهِ -كُهولا كَانُوا أَوْ شَبَابًا -فَقَالَ عُيَيْنَةُ لِابْنِ أَخِيهِ: يَابْنَ أَخِي، لَكَ وَجْهٌ عِنْدَ هَذَا الْأَمِيرِ، فَاسْتَأْذِنْ لِي عَلَيْهِ. قَالَ: سَأَسْتَأْذِنُ لَكَ عَلَيْهِ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَاسْتَأْذَنَ الْحُرُّ لِعُيَيْنَةَ، فَأَذِنَ لَهُ عُمَرُ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ: هِي يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، فَوَاللَّهِ مَا تُعْطِينَا الْجَزْلَ، وَلَا تَحْكُمُ بَيْنَنَا بِالْعَدْلِ. فَغَضِبَ عُمَرُ حَتَّى هَمَّ أَنْ يُوقِعَ بِهِ، فَقَالَ لَهُ الْحُرُّ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ ﷺ: ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ وَإِنَّ هَذَا مِنَ الْجَاهِلِينَ، وَاللَّهِ مَا جَاوَزَهَا عُمَرُ حِينَ تَلَاهَا عَلَيْهِ، وَكَانَ وَقَّافًا عِنْدَ كِتَابِ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ. انْفَرَدَ بِإِخْرَاجِهِ الْبُخَارِيُّ [[صحيح البخاري برقم (٤٦٤٢) .]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قِرَاءَةً، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ؛ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ مَرَّ عَلَى عِيرٍ لِأَهْلِ الشَّامِ وَفِيهَا جَرَسٌ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا مَنْهِيُّ عَنْهُ، فَقَالُوا: نَحْنُ أَعْلَمُ بِهَذَا مِنْكَ، إِنَّمَا يُكْرَهُ الجُلْجُل الْكَبِيرُ، فَأَمَّا مِثْلُ هَذَا فَلَا بَأْسَ بِهِ. فَسَكَتَ سَالِمٌ وَقَالَ: ﴿وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾
وَقَوْلُ الْبُخَارِيِّ: "الْعُرْفُ: الْمَعْرُوفُ" نَصَّ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، والسُّدِّي، وَقَتَادَةُ، وَابْنُ جَرِيرٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ. وَحَكَى ابْنُ جَرِيرٍ أَنَّهُ يُقَالُ: أَوْلَيْتُهُ عُرْفًا، وَعَارِفًا، وَعَارِفَةً، كُلُّ ذَلِكَ بِمَعْنَى: "الْمَعْرُوفِ". قَالَ: وَقَدْ أَمَرَ اللَّهُ نَبِيَّهُ ﷺ أَنْ يَأْمُرَ عِبَادَهُ بِالْمَعْرُوفِ، وَيَدْخُلُ فِي ذَلِكَ جَمِيعُ الطَّاعَاتِ، وَبِالْإِعْرَاضِ عَنِ الْجَاهِلِينَ، وَذَلِكَ وَإِنْ كَانَ أَمْرًا لِنَبِيِّهِ ﷺ فَإِنَّهُ تَأْدِيبٌ لِخُلُقِهِ بِاحْتِمَالِ مَنْ ظَلَمَهُمْ وَاعْتَدَى عَلَيْهِمْ، لَا بِالْإِعْرَاضِ عَمَّنْ جَهِلَ الْحَقَّ الْوَاجِبَ مَنْ حَقَّ اللَّهِ، وَلَا بِالصَّفْحِ عَمَّنْ كَفَرَ بِاللَّهِ وَجَهِلَ وَحْدَانِيَّتَهُ، وَهُوَ لِلْمُسْلِمِينَ حَرْبٌ.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبة، عَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ: ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ قَالَ: هَذِهِ أَخْلَاقٌ أَمَرَ اللَّهُ [عَزَّ وَجَلَّ] [[زيادة من أ.]] بِهَا نَبِيَّهُ ﷺ، وَدَلَّهُ عَلَيْهَا.
وَقَدْ أَخَذَ بَعْضُ الْحُكَمَاءِ هَذَا الْمَعْنَى، فَسَبَكَهُ فِي بَيْتَيْنِ فِيهِمَا جِنَاسٌ فَقَالَ:
خُذ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بعُرفٍ كَمَا ... أُمِرتَ وأعْرض عَنِ الجَاهلينْ ...
وَلِنْ فِي الكَلام لكُلِّ الْأَنَامِ ... فَمُسْتَحْسَن مِنْ ذَوِي الْجَاهِ لِينْ ...
وَقَالَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ: النَّاسُ رَجُلَانِ: فَرَجُلٌ مُحْسِنٌ، فَخُذْ مَا عَفَا لَكَ مِنْ إِحْسَانِهِ، وَلَا تُكَلِّفْهُ فَوْقَ طَاقَتِهِ وَلَا مَا يُحْرِجُهُ. وَإِمَّا مُسِيءٌ، فَمُرْهُ بِالْمَعْرُوفِ، فَإِنْ تَمَادَى عَلَى ضَلَالِهِ، وَاسْتَعْصَى عَلَيْكَ، وَاسْتَمَرَّ فِي جَهْلِهِ، فَأَعْرِضْ عَنْهُ، فَلَعَلَّ ذَلِكَ أَنْ يَرُدَّ كَيْدَهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ * وَقُلْ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ * وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ﴾ [المؤمنون:٩٦-٩٨] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَلا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ * وَمَا يُلَقَّاهَا﴾ أَيْ هَذِهِ الْوَصِيَّةَ ﴿إِلا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ * وَإِمَّا يَنزغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نزغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [فُصِّلَتْ:٣٤-٣٦] وَقَالَ فِي هَذِهِ السُّورَةِ الْكَرِيمَةِ أَيْضًا: ﴿وَإِمَّا يَنزغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نزغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ فَهَذِهِ الْآيَاتُ الثَّلَاثُ فِي "الْأَعْرَافِ" وَ "الْمُؤْمِنُونَ" وَ "حم السَّجْدَةِ"، لَا رَابِعَ لَهُنَّ، فَإِنَّهُ تَعَالَى يُرْشِدُ فِيهِنَّ إِلَى مُعَامَلَةِ الْعَاصِي مِنَ الْإِنْسِ بِالْمَعْرُوفِ وَالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ، فَإِنَّ ذَلِكَ يَكُفُّهُ عَمَّا هُوَ فِيهِ مِنَ التَّمَرُّدِ بِإِذْنِهِ تَعَالَى؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ﴾ ثُمَّ يُرْشِدُ تَعَالَى إِلَى الِاسْتِعَاذَةِ بِهِ مِنْ شَيْطَانِ الْجَانِّ، فَإِنَّهُ لَا يَكُفُّهُ [[في ك، م: "لا يكفيه"، وفي أ: "لا يكفيك".]] عَنْكَ الْإِحْسَانُ، وَإِنَّمَا يُرِيدُ هَلَاكَكَ وَدَمَارَكَ بِالْكُلِّيَّةِ، فإنه عدو مبين لك ولأبيك من قبلك.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ فِي تَفْسِيرِ قَوْلِهِ: ﴿وَإِمَّا يَنزغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نزغٌ﴾ وَإِمَّا يُغْضبَنَّك مِنَ الشَّيْطَانِ غَضَبٌ يَصُدُّكَ عَنِ الْإِعْرَاضِ عَنِ الْجَاهِلِينَ [[في د، ك، م: "الجاهل".]] وَيَحْمِلُكَ عَلَى مُجَازَاتِهِمْ ﴿فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ﴾ يَقُولُ: فَاسْتَجِرْ بِاللَّهِ مِنْ نَزْغِهِ ﴿سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ الَّذِي تَسْتَعِيذُ بِهِ مِنْ نَزْغِ الشَّيْطَانِ سَمِيعٌ لِجَهْلِ الْجَاهِلِ عَلَيْكَ، وَالِاسْتِعَاذَةِ بِهِ مِنْ نَزْغِهِ، وَلِغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ كَلَامِ خَلْقِهِ، لَا يَخْفَى عَلَيْهِ مِنْهُ شَيْءٌ، عَلِيمٌ بِمَا يُذْهِبُ عَنْكَ نَزْغَ الشَّيْطَانِ، وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ أُمُورِ خَلْقِهِ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: لَمَّا نَزَلَ: ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "يَا رَبِّ، كَيْفَ بِالْغَضَبِ؟ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿وَإِمَّا يَنزغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نزغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ [[تفسير الطبري (١٣/٣٣٣) .]]
قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ الِاسْتِعَاذَةِ حَدِيثُ الرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ تَسَابَّا بِحَضْرَةِ النَّبِيِّ ﷺ، فَغَضِبَ أَحَدُهُمَا حَتَّى جَعَلَ أَنْفُهُ يَتَمَزَّعُ غَضَبًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنِّي لِأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ". فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: مَا بِي مِنْ جُنُونٍ [[انظر: الحديث وتخريجه في الكلام على الاستعاذة.]]
وَأَصْلُ "النَّزْغِ": الْفَسَادُ، إِمَّا بِالْغَضَبِ أَوْ غَيْرِهِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنزغُ بَيْنَهُمْ﴾ [الْإِسْرَاءِ:٥٣] وَ"الْعِيَاذُ": الِالْتِجَاءُ وَالِاسْتِنَادُ وَالِاسْتِجَارَةُ مِنَ الشَّرِّ، وَأَمَّا "الْمَلَاذُ" فَفِي طَلَبِ الْخَيْرِ، كَمَا قَالَ أَبُو الطِّيبِ [الْحَسَنُ بْنُ هَانِئٍ] [[زيادة من ك، م، أ.]] الْمُتَنَبِّي:
يَا مَنْ ألوذُ بِهِ فيمَا أؤمِّلُه ... وَمَنْ أعوذُ بِهِ مِمَّا أحَاذرُه ...
لَا يَجْبر النَّاسُ عَظمًا أَنْتَ كاسرُه ... وَلَا يَهِيضُون عَظمًا أَنْتَ جَابِره [[ديوان المتنبي (٢/٢٧٢) .
قال الحافظ ابن كثير في البداية والنهاية (١١/٢٧٥) : "وقد بلغني عن شيخنا العلامة شيخ الإسلام أحمد بن تيمية، رحمه الله، أنه كان ينكر على المتنبي هذه المبالغة في مخلوق ويقول: إنما يصلح لجناب الله سبحانه وتعالى.
وأخبرني العلامة شمس الدين بن القيم، رحمه الله، أنه سمع الشيخ تقي الدين المذكور يقول: ربما قلت هذين البيتين في السجود، أدعوا الله بما تضمناه من الذل والخضوع".]] ...
وَقَدْ قَدَّمْنَا أَحَادِيثَ الِاسْتِعَاذَةِ فِي أَوَّلِ التَّفْسِيرِ، بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ هاهنا.
وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيْطَٰنِ نَزْغٌۭ فَٱسْتَعِذْ بِٱللَّهِ ۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
And if an evil suggestion comes to you from Satan, then seek refuge in Allah. Indeed, He is Hearing and Knowing.
اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو خدا سے پناہ مانگو۔ بےشک وہ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے
و هرگاه وسوسهای از شیطان به تو رسد، به خدا پناه بر؛ که او شنونده و داناست!
Tafsir Ibn Kathir
Show forgiveness, enjoin Al-'Urf (the good), and turn away from the foolish (don't punish them)(199)And if an evil whisper comes to you from Shaytan, then seek refuge with Allah. Verily, He is All-Hearer, All-Knower (200)
Showing Forgiveness
Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam commented on Allah's statement,
خُذِ الْعَفْوَ
(Show forgiveness) "Allah commanded [Prophet Muhammad ﷺ] to show forgiveness and turn away from the idolators for ten years. Afterwards Allah ordered him to be harsh with them."
And more than one narration from Mujahid says, "From the [bad] behavior and actions of the people, of those who have not committed espionage." And Hashim bin 'Urwah said that his father said, "Allah ordered Allah's Messenger ﷺ to pardon the people for their behavior."
And in one narration, "pardon what I have allowed you of their behavior. In Sahih Al-Bukhari it is recorded that Hisham reported from his father 'Urwah from his brother 'Abdullah bin Az-Zubayr who said; "[The Ayah];
خُذِ الْعَفْوَ
(Show forgiveness) was only revealed about the peoples [bad] character."
There is a narration from Mughirah from Hisham from his father from Ibn 'Umar; and another from Hisham from his father from 'A'ishah, both of whom said similarly. And Allah knows best.
Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim recorded that Yunus said that Sufyan bin 'Uyaynah narrated that Umay said, "When Allah, the Exalted and Most Honored, revealed this Ayah,
خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ
(Show forgiveness, enjoin Al-'Urf (what is good), and turn away from the foolish) to His Prophet, the Messenger of Allah ﷺ asked,
مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ
('What does it mean, O Jibril?) Jibril said, 'Allah commands you to forgive those who wronged you, give to those who deprived you, and keep relations with those who cut theirs with you.'"
Al-Bukhari said, "Allah said,
خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ
(Show forgiveness, enjoin Al-'Urf and turn away from the ignorant).
Al-'Urf', means, righteousness." Al-Bukhari next recorded from Ibn 'Abbas that he said, "'Uyaynah bin Hisn bin Hudhayfah stayed with his nephew Al-Hur bin Qays, who was among the people whom 'Umar used to have near him, for 'Umar used to like to have the reciters of the Qur'an (who memorized it) near him and would listen to their opinion, regardless of whether they were old or young men. 'Uyaynah said to his nephew, 'O my nephew! You are close to this chief ('Umar), so ask for permission for me to see him.' Al-Hur said 'I will ask him for you,' and he asked 'Umar for permission for 'Uyaynah to meet him, and 'Umar gave him permission. When 'Uyaynah entered on 'Umar, he said, 'O Ibn Al-Khattab! You neither give to us sufficiently nor rule with justice between us.' 'Umar became so angry that he almost punished 'Uyaynah. However, Al-Hur said, 'O Chief of he Faithful! Allah, the Exalted, said to His Prophet ﷺ,
خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ
(Show forgiveness, enjoin Al-'Urf, and turn away from the foolish)
Verily this man ('Uyaynah) is one of the fools!' By Allah, 'Umar did not do anything after he heard that Ayah being recited, and indeed, he was one who adhered to the Book of Allah, the Exalted and Most Honored." Al-Bukhari recorded this Hadith.
Some scholars said that people are of two kinds, a good-doer, so accept his good doing and neither ask him more than he can bear nor what causes him hardship. The other kind is the one who falls in shortcomings, so enjoin righteousness on him. If he still insists on evil, becomes difficult and continues in his ignorance, then turn away from him, so that your ignoring him might avert his evilness. Allah said in other instances,
ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ - وَقُل رَّبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ - وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَن يَحْضُرُونِ
(Repel evil with that which is better. We are best-acquainted with the things they utter. And say: "My Lord! I seek refuge with You from the whisperings (suggestions) of the Shayatin (devils). And I seek refuge with You, My Lord! lest they should come near me.")[23:96-98] and,
وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ - وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ
(The good deed and the evil deed cannot be equal. Repel (the evil) with one which is better, then verily he, between whom and you there was enmity, (will become) as though he was a close friend. But none is granted it (the above quality) except those who are patient – and none is granted it except the owner of the great portion in this world.)[41:34-35] in reference to the advice contained in these Ayat,
وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And if an evil whisper from Shaytan tries to turn you away (from doing good), then seek refuge in Allah. Verily, He is the All-Hearer, the All-Knower)[41:36].
Allah said in this honorable Suah,
وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
(And if an evil whisper comes to you from Shaytan, then seek refuge with Allah. Verily, He is All-Hearer, All-Knower.)[7:200] These three instances in the Qur'an, in Surahs Al-A'raf, Al-Mu'minun and As-Sajdah, are uinque in the Qur'an. Allah encourages lenient treatment of evil doers, for this might deter them from persistence in their evil, Allah willing,
فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ
(then verily he, between whom and you there was enmity, (will become) as though he was a close friend)[41:34].
Allah also encourages seeking refuge with Him from the devils of the Jinns. The devil will not be deterred if one is lenient with him, because he seeks your destruction and total demise. The devil to you, O mankind, is an open enemy, just as he was for your father before you.
Ibn Jarir said, while explaining Allah's statement,
وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ
(And if an evil whisper comes to you from Shaytan), "If the devil lures you to get angry, thus directing you away from forgiving the ignorant and towards punishing him
فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ
(then seek refuge with Allah.) Allah commands here to seek refuge with Him from the devil's whispers,
إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
(Verily, He is All-Hearer, All-Knower.) Allah hears the ignorance that the fools subject you to, your seeking refuge with Him from the devil's whispers, and the rest of the speech of His creation; none of it escapes His knowledge. He knows what drives the lures of the devil away from you, as well as, the rest of what His creatures do."
We mentioned the Hadiths concerning Isti'adhah (seeking refuge with Allah) in the beginning of this Tafsir, so we do not need to repeat them here.
Tafsir Ibn Kathir
اچھے اعمال کی نشاندہی ابن عباس فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ان سے وہ مال لے جو ان کی ضرورت سے زیادہ ہوں اور جسے یہ بخوشی اللہ کی راہ میں پیش کریں۔ پہلے چونکہ زکوٰۃ کے احکام بہ تفصیل نہیں اترے تھے اس لئے یہی حکم تھا۔ یہ بھی معنی کئے گئے ہیں کہ ضرورت سے زائد چیز اللہ کی راہ میں خرچ کردیا کرو۔ یہ بھی مطلب ہے کہ مشرکین سے بدلہ نہ لے دس سال تک تو یہی حکم رہا کہ درگذر کرتے ہو پھر جہاد کے احکام اترے۔ یہ بھی مطلب ہے کہ لوگوں کے اچھے اخلاق اور عمدہ عادات جو ظاہر ہوں انہی پر نظریں رکھ ان کے باطن نہ ٹٹول، تجسس نہ کرو۔ حضرت عبداللہ بن زبیر وغیرہ سے بھی یہی تفسیر مروی ہے یہی قول زیادہ مشہور ہے حدیث میں ہے کہ اس آیت کو سن کر حضرت جبرائیل سے آپ نے دریافت کیا کہ اس کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہ جو تجھ پر ظلم کرے تو اس سے درگذر کر۔ جو تجھے نہ دے تو اس کے ساتھ بھی احسان و سلوک کر۔ جو تجھ سے قطع تعلق کرے تو اس کے ساتھ بھی تعلق رکھ۔ مسند احمد میں ہے حضرت عقبہ بن عامر ؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ سے ملا اور آپ کا ہاتھ تھام کر درخواست کی کہ مجھے افضل اعمال بتائیے آپ نے فرمایا جو تجھ سے توڑے تو اس سے بھی جوڑ، جو تجھ سے روکے تو اسے دے، جو تجھ پر ظلم کرے تو اس پر بھی رحم کر۔ اوپر والی روایت مرسل ہے اور یہ روایت ضعیف ہے۔ عرف سے مراد نیک ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ عینیہ بن حصن بن حذیفہ اپنے بھائی حر بن قیس کے ہاں آ کے ٹھہرا۔ حضرت حر حضرت عمر بن خطاب ؓ کے خاص درباریوں میں تھے آپ کے درباری اور نزدیکی کا شرف صرف انہیں حاصل تھا جو قرآن کریم کے ماہر تھے خواہ وہ جوان ہوں خواہ بوڑھے۔ اس نے درخواست کی کہ مجھے آپ امیر المومنین عمر کے دربار میں حاضری کی اجازت دلوا دیجئے۔ آپ نے وہاں جا کر ان کے لئے اجازت چاہی امیر المومنین نے اجازت دے دی۔ یہ جاتے ہی کہنے لگے کہ اے ابن خطاب تو ہمیں بکثرت مال بھی نہیں دیتا اور ہم میں عدل کے ساتھ فیصلے بھی نہیں کرتا۔ آپ کو یہ کلام بھی برا لگا، ممکن تھا کہ اسے اس کی اس تہمت پر سزا دیتے لیکن اسی وقت حضرت حر نے کہا اے امیر المومنین اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم فرمایا ہے کہ عفودرگذر کی عادت رکھ، اچھائیوں کا حکم کرتا رہ اور جاہلوں سے چشم پوشی کر۔ امیر المومنین یقین کیجئے کہ یہ نرا جاہل ہے قرآن کریم کی اس آیت کا کان میں پڑنا تھا کہ آپ کا تمام رنج و غم غصہ و غضب جاتا رہا۔ آپ کی یہ تو عادت ہی تھی کہ ادھر کلام اللہ سنا ادھر گردن جھکا دی۔ امیرالمومنین ؓ کے پوتے حضرت سالم بن عبداللہ ؒ کا ذکر ہے کہ آپ نے شامیوں کے ایک قافلے کو دیکھا، جس میں گھنٹی تھی تو آپ نے فرمایا یہ گھنٹیاں منع ہیں۔ انہوں نے کہ ہم اس مسئلے کو آپ سے زیادہ جانتے ہیں بڑی بڑی گھنٹیوں سے منع ہے اس جیسی چھوٹی گھنٹیوں میں کیا حرج ہے ؟ حضرت سالم نے اسی آیت کا آخری جملہ پڑھ کر ان جاہلوں سے چشم پوشی کرلی۔ عرف معروف عارف عارفہ سب کے ایک ہی معنی ہیں۔ اس میں ہر اچھی بات کی اطاعت کا ذکر آگیا پھر حکم دیا کہ جاہلوں سے منہ پھیرلیا کر گو یہ حکم آپ کو ہے لیکن دراصل تمام بندوں کو یہی حکم ہے۔ مطلب یہ ہے ظلم برداشت کرلیا کرو تکلیف دہی کا خیال بھی نہ کرو۔ یہ معنی نہیں کہ دین حق کے معاملے میں جو جہالت سے پیش آئے تم اس سے کچھ نہ کہو، مسلمانوں سے جو کفر پر جم کر مقابلہ کرے تم اسے کجھ نہ کہنا۔ یہ مطلب اس جملے کا نہیں۔ یہ وہ پاکیزہ اخلاق ہیں جن کا مجسم عملی نمونہ رسول اللہ ﷺ تھے کسی نے اسی مضمون کو اپنے شعروں میں باندھا ہے۔ شعر (خذا لعفو وامربالعرف کما امرت واعرض عن الجاھلین ولن فی الکلام بکل الانام فمستحسن من ذوی الجاھلین یعنی درگزر کیا کر، بھلی بات بتادیا کر جیسے کہ تجھے حکم ہوا ہے، نادانوں سے ہٹ جا یا کر، ہر ایک سے نرم کلامی سے پیش آ۔ یاد رکھ کہ عزت و جاہ پر پہنچ کر نرم اور خوش اخلاق رہنا ہی کمال ہے۔ بعض مسلمانوں کا مقولہ ہے کہ لوگ دو طرح کے ہیں ایک تو بھلے اور محسن جو احسان و سلوک کریں قبول کرلے اور ان کے سر نہ ہوجا کہ ان کی وسعت سے زیادہ ان پر بوجھ ڈال دے۔ دوسرے بد اور ظالم انہیں نیکی اور بھلائی کا حکم دے پھر بھی اگر وہ اپنی جہالت پر اور بد کرداری پر اڑے رہیں اور تیرے سامنے سرکشی اختیار کریں تو تو ان سے روگردانی کرلے یہی چیز اسے اس کی برائی سے ہٹا دے گی جیسے کہ اللہ کا فرمان ہے آیت (اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ۭ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَصِفُوْنَ 96) 23۔ المؤمنون :96) بہترین طریق سے دفع کردو تو تمہارے دشمن بھی تمہارے دوست بن جائیں گے لیکن یہ انہی سے ہوسکتا ہے جو صابر ہوں اور نصیبوں والے ہوں۔ اس کے بعد شیطانی وسوسوں سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم ہوا اس لئے کہ وہ سخت ترین دشمن ہے اور ہے بھی احسان فراموش۔ انسانی دشمنوں سے بچاؤ تو عضو درگذر اور سلوک و احسان سے ہوجاتا ہے لیکن اس ملعون سے سوائے اللہ کی پناہ کے اور کوئی بچاؤ نہیں۔ یہ تینوں حکم جو سورة اعراف کی ان تین آیتوں میں ہیں یہی سورة مومنون میں بھی ہیں اور سورة حم السجدہ میں بھی۔ شیطان تو حضرت آدم ؑ کے وقت سے دشمن انسان ہے۔ یہ جب غصہ دلائے جوش میں لائے فرمان الٰہی کے خلاف ابھارے جاہلوں سے بدلہ لینے پر آمادہ کرے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگ لیا کرو۔ وہ جاہلوں کی جہالت کو بھی جانتا ہے اور تیرے بچاؤ کی ترکیبوں کو بھی جانتا ہے۔ ساری مخلوق کا اسے علم ہے وہ تمام کاموں سے خبردار ہے۔ کہتے ہیں کہ جب اگلے تین حکم سنے تو کہا اسے اللہ ان کاموں کے کرنے کے وقت تو شیطان ان کے خلاف بری طرح آمادہ کر دے گا اور نفس تو جوش انتقام سے پر ہوتا ہی ہے کہیں ان کی خلاف ورزی نہ ہوجائے تو یہ پچھلی آیت نازل ہوئی کہ ایسا کرنے سے شیطانی وسوسہ دفع ہوجائے گا اور تم ان اخلاق کریمانہ پر عامل ہوجاؤ گے۔ میں نے اپنی اسی تفسیر کے شروع میں ہی اعوذ کی بحث میں اس حدیث کو بھی وارد کیا ہے کہ دو شخص لڑ جھگڑ رہے تھے جن میں سے ایک سخت غضبناک تھا حضور نے فرمایا مجھے ایک ایسا کلمہ یاد ہے اگر یہ کہہ لے تو ابھی یہ بات جاتی رہے۔ وہ کلمہ (" اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ") ہے کسی نے اس میں بھی ذکر کیا تو اس نے کہا کہ کیا میں کوئی دیوانہ ہوگیا ہوں ؟ نزع کے اصلی معنی فساد کے ہیں وہ خواہ غصے سے ہو یا کسی اور وجہ سے۔ فرمان قرآن ہے کہ میرے بندوں کو آگاہ کردو کہ وہ بھلی بات زبان سے نکالا کریں۔ شیطان ان میں فساد کی آگ بھڑکانا چاہتا ہے۔ عیاذ کے معنی التجا اور استناد کے ہیں اور لاذ کا لفظ طلب خیر کے وقت بولا جاتا ہے جیسے حسن بن ہانی کا شعر ہے۔ (بامن الوذبہ فیما اوملہ ومن اعوذ بہ مما احاذرہ لا یجبر الناس عظماانت کا سرہ ولا یھیضون عظما انت جابرہ)یعنی اے اللہ تو میری آرزوؤں کا مرکز ہے اور میرے بچاؤ اور پناہ کا مسکن ہے مجھے یقین ہے کہ جس ہڈی کو تو توڑنا جا ہے اسے کوئی جوڑ نہیں سکتا اور جسے تو جوڑنا چاہے اسے کوئی توڑ نہیں سکتا۔ باقی حدیثیں جو اعوذ کے متعلق تھیں وہ ہم اپنی اس تفسیر کے شروع میں ہی لکھ آئے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ: ﴿خُذِ الْعَفْوَ﴾ يَعْنِي: خُذْ مَا عَفَا لَكَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَمَا أَتَوْكَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ فَخُذْهُ. وَكَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ "بَرَاءَةٌ" بِفَرَائِضَ الصَّدَقَاتِ وَتَفْصِيلِهَا، وَمَا انْتَهَتْ إِلَيْهِ الصَّدَقَاتُ. قَالَهُ السُّدِّيُّ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿خُذِ الْعَفْوَ﴾ أَنْفِقِ الْفَضْلَ. وَقَالَ سَعِيدُ [[في م: "حميد".]] بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: قال الفضل.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي قَوْلِهِ: ﴿خُذِ الْعَفْوَ﴾ أَمَرَهُ اللَّهُ بِالْعَفْوِ وَالصَّفْحِ عَنِ الْمُشْرِكِينَ عَشْرَ سِنِينَ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْغِلْظَةِ عَلَيْهِمْ. وَاخْتَارَ هَذَا الْقَوْلَ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿خُذِ الْعَفْوَ﴾ قَالَ: مِنْ أَخْلَاقِ النَّاسِ وَأَعْمَالِهِمْ مِنْ غَيْرِ تَحَسُّسٍ [[في د، ك، م: "تحسيس"، وفي أ: "تجسيس".]]
وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوة، عَنْ أَبِيهِ: أَمَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ ﷺ أَنْ يَأْخُذَ الْعَفْوَ مِنْ أَخْلَاقِ النَّاسِ. وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: خُذْ مَا عفي لَكَ مِنْ أَخْلَاقِهِمْ.
وَفِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ عُرْوَةَ، عَنْ أَخِيهِ [[في أ: "عن أبيه".]] عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: إِنَّمَا أَنَزَلَ [[في أ: "أنزل الله".]] ﴿خُذِ الْعَفْوَ﴾ مِنْ أَخْلَاقِ النَّاسِ [[صحيح البخاري برقم (٤٦٤٣، ٤٦٤٤) .]] وَفِي رِوَايَةٍ لِغَيْرِهِ: عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ. وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُمَا قَالَا مِثْلَ ذَلِكَ [[قال الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" (٨/٣٠٥) : "وقال عبيد الله بن عمر، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أخرجه البزار والطبراني وهي شاذة، وكذا رواية حماد بن سلمة، عن هشام، عن أبيه، عن عائشة عند ابن مردويه".]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَفِي رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ [[في أ: "عن أبي".]] الزُّبَيْرِ: ﴿خُذِ الْعَفْوَ﴾ قَالَ: مِنْ أَخْلَاقِ النَّاسِ، وَاللَّهِ لَآخُذَنَّهُ مِنْهُمْ مَا صَحِبْتُهُمْ. وَهَذَا أَشْهَرُ الْأَقْوَالِ، وَيَشْهَدُ لَهُ مَا رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ جَمِيعًا: حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ -هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ -عَنْ أُمَيٍّ قَالَ: لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ، عَلَى نَبِيِّهِ ﷺ: ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "ما هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ " قَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَكَ أَنْ تَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَكَ، وَتُعْطِيَ مَنْ حَرَمَكَ، وَتَصِلَ مَنْ قَطَعَكَ.
وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ أَيْضًا، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيِّ كِتَابَةً، عَنْ أصْبَغ بْنِ الْفَرَجِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أُمَيّ عَنِ الشَّعْبِيِّ. نَحْوَهُ، وَهَذَا -عَلَى كُلِّ حَالٍ -مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِيَ لَهُ شَاهِدٌ [[في ك، م: "شواهد".]] مِنْ وُجُوهٍ أُخَرَ، وَقَدْ رُوِيَ مَرْفُوعًا عَنْ جَابِرٍ وَقَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، أَسْنَدَهُمَا ابْنُ مَرْدَوَيْهِ [[ذكره السيوطي في الدر المنثور (٣/٦٢٨) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ، حَدَّثَنِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَابْتَدَأْتُهُ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبَرْنِي بِفَوَاضِلِ الْأَعْمَالِ. فَقَالَ: "يَا عُقْبَةُ، صِلْ مَنْ قَطَعَكَ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ، وَأَعْرِضْ عَمَّنْ ظَلَمَكَ".
وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ، مِنْ طَرِيقِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْر [[في م: "أحمد"، وفي أ: "نحر".]] عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، بِهِ. وَقَالَ حَسَنٌ [[المسند (٤/١٤٨) وسنن الترمذي برقم (٢٤٠٦) .]]
قُلْتُ: وَلَكِنْ "عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ" وَشَيْخُهُ "الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ"، فِيهِمَا ضعف.
وَقَالَ الْبُخَارِيُّ قَوْلُهُ: ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ "الْعُرْفُ": الْمَعْرُوفُ. حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ، فَنَزَلَ عَلَى ابْنِ أَخِيهِ الْحُرِّ بْنِ قَيْسٍ -وَكَانَ مِنَ النَّفَرِ الَّذِينَ يُدْنِيهِمْ عُمَرُ -وَكَانَ الْقُرَّاءُ أَصْحَابَ مَجَالِسِ عُمَرَ وَمُشَاوَرَتِهِ -كُهولا كَانُوا أَوْ شَبَابًا -فَقَالَ عُيَيْنَةُ لِابْنِ أَخِيهِ: يَابْنَ أَخِي، لَكَ وَجْهٌ عِنْدَ هَذَا الْأَمِيرِ، فَاسْتَأْذِنْ لِي عَلَيْهِ. قَالَ: سَأَسْتَأْذِنُ لَكَ عَلَيْهِ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَاسْتَأْذَنَ الْحُرُّ لِعُيَيْنَةَ، فَأَذِنَ لَهُ عُمَرُ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ: هِي يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، فَوَاللَّهِ مَا تُعْطِينَا الْجَزْلَ، وَلَا تَحْكُمُ بَيْنَنَا بِالْعَدْلِ. فَغَضِبَ عُمَرُ حَتَّى هَمَّ أَنْ يُوقِعَ بِهِ، فَقَالَ لَهُ الْحُرُّ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ ﷺ: ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ وَإِنَّ هَذَا مِنَ الْجَاهِلِينَ، وَاللَّهِ مَا جَاوَزَهَا عُمَرُ حِينَ تَلَاهَا عَلَيْهِ، وَكَانَ وَقَّافًا عِنْدَ كِتَابِ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ. انْفَرَدَ بِإِخْرَاجِهِ الْبُخَارِيُّ [[صحيح البخاري برقم (٤٦٤٢) .]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قِرَاءَةً، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ؛ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ مَرَّ عَلَى عِيرٍ لِأَهْلِ الشَّامِ وَفِيهَا جَرَسٌ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا مَنْهِيُّ عَنْهُ، فَقَالُوا: نَحْنُ أَعْلَمُ بِهَذَا مِنْكَ، إِنَّمَا يُكْرَهُ الجُلْجُل الْكَبِيرُ، فَأَمَّا مِثْلُ هَذَا فَلَا بَأْسَ بِهِ. فَسَكَتَ سَالِمٌ وَقَالَ: ﴿وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾
وَقَوْلُ الْبُخَارِيِّ: "الْعُرْفُ: الْمَعْرُوفُ" نَصَّ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، والسُّدِّي، وَقَتَادَةُ، وَابْنُ جَرِيرٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ. وَحَكَى ابْنُ جَرِيرٍ أَنَّهُ يُقَالُ: أَوْلَيْتُهُ عُرْفًا، وَعَارِفًا، وَعَارِفَةً، كُلُّ ذَلِكَ بِمَعْنَى: "الْمَعْرُوفِ". قَالَ: وَقَدْ أَمَرَ اللَّهُ نَبِيَّهُ ﷺ أَنْ يَأْمُرَ عِبَادَهُ بِالْمَعْرُوفِ، وَيَدْخُلُ فِي ذَلِكَ جَمِيعُ الطَّاعَاتِ، وَبِالْإِعْرَاضِ عَنِ الْجَاهِلِينَ، وَذَلِكَ وَإِنْ كَانَ أَمْرًا لِنَبِيِّهِ ﷺ فَإِنَّهُ تَأْدِيبٌ لِخُلُقِهِ بِاحْتِمَالِ مَنْ ظَلَمَهُمْ وَاعْتَدَى عَلَيْهِمْ، لَا بِالْإِعْرَاضِ عَمَّنْ جَهِلَ الْحَقَّ الْوَاجِبَ مَنْ حَقَّ اللَّهِ، وَلَا بِالصَّفْحِ عَمَّنْ كَفَرَ بِاللَّهِ وَجَهِلَ وَحْدَانِيَّتَهُ، وَهُوَ لِلْمُسْلِمِينَ حَرْبٌ.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبة، عَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ: ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ قَالَ: هَذِهِ أَخْلَاقٌ أَمَرَ اللَّهُ [عَزَّ وَجَلَّ] [[زيادة من أ.]] بِهَا نَبِيَّهُ ﷺ، وَدَلَّهُ عَلَيْهَا.
وَقَدْ أَخَذَ بَعْضُ الْحُكَمَاءِ هَذَا الْمَعْنَى، فَسَبَكَهُ فِي بَيْتَيْنِ فِيهِمَا جِنَاسٌ فَقَالَ:
خُذ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بعُرفٍ كَمَا ... أُمِرتَ وأعْرض عَنِ الجَاهلينْ ...
وَلِنْ فِي الكَلام لكُلِّ الْأَنَامِ ... فَمُسْتَحْسَن مِنْ ذَوِي الْجَاهِ لِينْ ...
وَقَالَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ: النَّاسُ رَجُلَانِ: فَرَجُلٌ مُحْسِنٌ، فَخُذْ مَا عَفَا لَكَ مِنْ إِحْسَانِهِ، وَلَا تُكَلِّفْهُ فَوْقَ طَاقَتِهِ وَلَا مَا يُحْرِجُهُ. وَإِمَّا مُسِيءٌ، فَمُرْهُ بِالْمَعْرُوفِ، فَإِنْ تَمَادَى عَلَى ضَلَالِهِ، وَاسْتَعْصَى عَلَيْكَ، وَاسْتَمَرَّ فِي جَهْلِهِ، فَأَعْرِضْ عَنْهُ، فَلَعَلَّ ذَلِكَ أَنْ يَرُدَّ كَيْدَهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ * وَقُلْ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ * وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ﴾ [المؤمنون:٩٦-٩٨] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَلا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ * وَمَا يُلَقَّاهَا﴾ أَيْ هَذِهِ الْوَصِيَّةَ ﴿إِلا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ * وَإِمَّا يَنزغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نزغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [فُصِّلَتْ:٣٤-٣٦] وَقَالَ فِي هَذِهِ السُّورَةِ الْكَرِيمَةِ أَيْضًا: ﴿وَإِمَّا يَنزغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نزغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ فَهَذِهِ الْآيَاتُ الثَّلَاثُ فِي "الْأَعْرَافِ" وَ "الْمُؤْمِنُونَ" وَ "حم السَّجْدَةِ"، لَا رَابِعَ لَهُنَّ، فَإِنَّهُ تَعَالَى يُرْشِدُ فِيهِنَّ إِلَى مُعَامَلَةِ الْعَاصِي مِنَ الْإِنْسِ بِالْمَعْرُوفِ وَالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ، فَإِنَّ ذَلِكَ يَكُفُّهُ عَمَّا هُوَ فِيهِ مِنَ التَّمَرُّدِ بِإِذْنِهِ تَعَالَى؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ﴾ ثُمَّ يُرْشِدُ تَعَالَى إِلَى الِاسْتِعَاذَةِ بِهِ مِنْ شَيْطَانِ الْجَانِّ، فَإِنَّهُ لَا يَكُفُّهُ [[في ك، م: "لا يكفيه"، وفي أ: "لا يكفيك".]] عَنْكَ الْإِحْسَانُ، وَإِنَّمَا يُرِيدُ هَلَاكَكَ وَدَمَارَكَ بِالْكُلِّيَّةِ، فإنه عدو مبين لك ولأبيك من قبلك.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ فِي تَفْسِيرِ قَوْلِهِ: ﴿وَإِمَّا يَنزغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نزغٌ﴾ وَإِمَّا يُغْضبَنَّك مِنَ الشَّيْطَانِ غَضَبٌ يَصُدُّكَ عَنِ الْإِعْرَاضِ عَنِ الْجَاهِلِينَ [[في د، ك، م: "الجاهل".]] وَيَحْمِلُكَ عَلَى مُجَازَاتِهِمْ ﴿فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ﴾ يَقُولُ: فَاسْتَجِرْ بِاللَّهِ مِنْ نَزْغِهِ ﴿سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ الَّذِي تَسْتَعِيذُ بِهِ مِنْ نَزْغِ الشَّيْطَانِ سَمِيعٌ لِجَهْلِ الْجَاهِلِ عَلَيْكَ، وَالِاسْتِعَاذَةِ بِهِ مِنْ نَزْغِهِ، وَلِغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ كَلَامِ خَلْقِهِ، لَا يَخْفَى عَلَيْهِ مِنْهُ شَيْءٌ، عَلِيمٌ بِمَا يُذْهِبُ عَنْكَ نَزْغَ الشَّيْطَانِ، وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ أُمُورِ خَلْقِهِ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: لَمَّا نَزَلَ: ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "يَا رَبِّ، كَيْفَ بِالْغَضَبِ؟ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿وَإِمَّا يَنزغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نزغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ [[تفسير الطبري (١٣/٣٣٣) .]]
قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ الِاسْتِعَاذَةِ حَدِيثُ الرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ تَسَابَّا بِحَضْرَةِ النَّبِيِّ ﷺ، فَغَضِبَ أَحَدُهُمَا حَتَّى جَعَلَ أَنْفُهُ يَتَمَزَّعُ غَضَبًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنِّي لِأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ". فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: مَا بِي مِنْ جُنُونٍ [[انظر: الحديث وتخريجه في الكلام على الاستعاذة.]]
وَأَصْلُ "النَّزْغِ": الْفَسَادُ، إِمَّا بِالْغَضَبِ أَوْ غَيْرِهِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنزغُ بَيْنَهُمْ﴾ [الْإِسْرَاءِ:٥٣] وَ"الْعِيَاذُ": الِالْتِجَاءُ وَالِاسْتِنَادُ وَالِاسْتِجَارَةُ مِنَ الشَّرِّ، وَأَمَّا "الْمَلَاذُ" فَفِي طَلَبِ الْخَيْرِ، كَمَا قَالَ أَبُو الطِّيبِ [الْحَسَنُ بْنُ هَانِئٍ] [[زيادة من ك، م، أ.]] الْمُتَنَبِّي:
يَا مَنْ ألوذُ بِهِ فيمَا أؤمِّلُه ... وَمَنْ أعوذُ بِهِ مِمَّا أحَاذرُه ...
لَا يَجْبر النَّاسُ عَظمًا أَنْتَ كاسرُه ... وَلَا يَهِيضُون عَظمًا أَنْتَ جَابِره [[ديوان المتنبي (٢/٢٧٢) .
قال الحافظ ابن كثير في البداية والنهاية (١١/٢٧٥) : "وقد بلغني عن شيخنا العلامة شيخ الإسلام أحمد بن تيمية، رحمه الله، أنه كان ينكر على المتنبي هذه المبالغة في مخلوق ويقول: إنما يصلح لجناب الله سبحانه وتعالى.
وأخبرني العلامة شمس الدين بن القيم، رحمه الله، أنه سمع الشيخ تقي الدين المذكور يقول: ربما قلت هذين البيتين في السجود، أدعوا الله بما تضمناه من الذل والخضوع".]] ...
وَقَدْ قَدَّمْنَا أَحَادِيثَ الِاسْتِعَاذَةِ فِي أَوَّلِ التَّفْسِيرِ، بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ هاهنا.
إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ إِذَا مَسَّهُمْ طَٰٓئِفٌۭ مِّنَ ٱلشَّيْطَٰنِ تَذَكَّرُوا۟ فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ
Indeed, those who fear Allah - when an impulse touches them from Satan, they remember [Him] and at once they have insight.
جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں
پرهیزگاران هنگامی که گرفتار وسوسههای شیطان شوند، به یاد (خدا و پاداش و کیفر او) میافتند؛ و (در پرتو یاد او، راه حق را میبینند و) ناگهان بینا میگردند.
Tafsir Ibn Kathir
Verily, those who have Taqwa, when an evil thought comes to them from Shaytan, they remember (Allah), and (indeed) they then see (aright)(201)But (as for) their brothers (the devils' brothers) they (the devils) plunge them deeper into error, and they never stop short (202)
The Whispering of Shaytan and the People of Taqwa
Allah mentions His servants who have Taqwa, obeying His orders, and avoid what He forbade:
إِذَا مَسَّهُمْ
(when comes to them) an evil thought, or anger, or the whispers of Shaytan cross their mind, or intend to err, or commit an error,
تَذَكَّرُوا
(they remember) Allah's punishment, as well as, His tremendous reward. They remember Allah's promises and threats, then repent, go back to Him, seek refuge with Him and ask for forgiveness before death,
فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ
(and (indeed) they then see (aright)) they become aright and aware of the error of their ways.
A Brethren of Devils among Mankind lure to Falsehood
Allah said next,
وَإِخْوَانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ
(But (as for) their brothers they plunge them deeper) in reference to the devils' brothers among mankind. Allah said in another Ayah,
إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ
(Verily, the spendthrifts are brothers of the Shayatin)[17:27] for they are followers of the Shayatin, who listen to them and obey their orders.
يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَيِّ
(They plunge them deeper into error) the devils help them commit sins, making this path easy and appealing to them
ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ
(and they never stop short) for the devils never cease inciting mankind to commit errors. 'Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas commented on Allah's statement,
وَإِخْوَانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ
(But (as for) their brothers they plunge them deeper into error, and they never stop short.)
"Neither mankind stop short of the evil that they are doing nor the devils stop short of luring them. " Therefore,
لَا يُقْصِرُونَ
(they never stop short) refers to the devils getting tired or stopping their whispering. Allah said in another Ayah,
أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّيَاطِينَ عَلَى الْكَافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا
(See you not that We have sent Shayatin against the disbelievers to push them to do evil)[19:83] persistently luring the disbelievers to commit evil, according to Ibn 'Abbas and others.
Tafsir Ibn Kathir
جو اللہ سے ڈرتا ہے۔ شیطان اس سے ڈرتا ہے طائف کی دوسری قرأت طیف ہے۔ یہ دونوں مشہور قرأتیں ہیں دونوں کے معنی ایک ہیں بعض نے لفظی تعریف بھی کی ہے۔ فرمان ہے کہ وہ لوگ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں جنہیں اللہ کا ڈر ہے جو نیکیوں کے عامل اور برائیوں سے رکنے والے ہیں انہیں جب کبھی غصہ آجائے، شیطان ان پر اپنا کوئی داؤ چلانا چاہے، ان کے دل میں کسی گناہ کی رغبت ڈالے، ان سے کوئی گناہ کرانا چاہے تو یہ اللہ کے عذاب سے بچنے میں جو ثواب ہے اسے بھی یاد کرلیتے ہیں رب کے وعدے وعید کی یاد کرتے ہیں اور فوراً چوکنے ہوجاتے ہیں، توبہ کرلیتے ہیں، اللہ کی طرف جھک جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے شیطانی شر سے پناہ مانگنے لگتے ہیں اور اسی وقت اللہ کی جناب میں رجوع کرتے ہیں اور استقامت کے ساتھ صحت پر جم جاتے ہیں۔ ابن مردویہ میں ہے کہ ایک عورت رسول ﷺ کے پاس آئی جسے مرگی کا دوارہ پڑا کرتا تھا۔ اس نے درخواست کی کہ میرے لئے آپ دعا کیجئے آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں دعا کروں اور اللہ تمہیں شفا بخشے اور اگر چاہو تو صبر کرو اور اللہ تم سے حساب نہ لے گا۔ اس نے کہا حضور میں صبر کرتی ہوں کہ میرا حساب معاف ہوجائے۔ سنن میں بھی یہ حدیث ہے کہ اس عورت نے کہا تھا کہ میں گر پڑتی ہوں اور بیہوشی کی حالت میں میرا کپڑا کھل جاتا ہے جس سے بےپردگی ہوتی ہے اللہ سے میری شفا کی دعا کیجئے۔ آپ نے فرمایا تم ان دونوں باتوں میں سے ایک کو پسند کرلو یا تو میں دعا کروں اور تمہیں شفا ہوجائے یا تم صبر کرو اور تمہیں جنت ملے اس نے کہا میں صبر کرتی ہوں کہ مجھے جنت ملے۔ لیکن اتنی دعا تو ضرور کیجئے کہ میں بےپردہ نہ ہوجایا کروں۔ آپ نے دعا کی چناچہ ان کا کپڑا کیسی ہی وہ تلملاتیں اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا تھا۔ حافظ ابن عساکر رحمتہ اللہ اپنی تاریخ میں عمر و بن جامع کے حالات میں نقل کرتے ہیں کہ ایک نوجوان عابد مسجد میں رہا کرتا تھا اور اللہ کی عبادت کا بہت مشتاق تھا ایک عورت نے اس پر ڈورے ڈالنے شروع کئے یہاں تک کہ اسے بہکا لیا قریب تھا کہ وہ اس کے ساتھ کوٹھڑی میں چلا جائے جو اسے یہ آیت (اذامسھم الخ) ، یاد آئی اور غش کھا کر گرپڑا بہت دیر کے بعد جب اسے ہوش آیا اس نے پھر اس آیت کو یاد کیا اور اس قدر اللہ کا خوف اس کے دل میں سمایا کہ اس کی جان نکل گئی حضرت عمر فاروق ؓ نے اس کے والد سے ہمدردی اور غم خواری کی۔ چونکہ انہیں رات ہی کو دفن کردیا گیا تھا آپ ان کی قبر پر گئے آپ کے ساتھ بہت سے آدمی تھے۔ آپ نے وہاں جا کر ان کی قبر پر نماز جنازہ ادا کی اور اسے آواز دے کر فرمایا اے نوجوان ! آیت (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ 46ۚ) 55۔ الرحمن :46) جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھے اس کیلئے دو دو جنتیں ہیں۔ اسی وقت قبر کے اندر سے آواز آئی کہ مجھے میرے رب عزوجل نے وہ دونوں دو دو مرتبے عطا فرما دیئے۔ یہ تو تھا حال اللہ والوں اور پرہیزگاروں کا کہ وہ شیطانی جھٹکوں سے بچ جاتے ہیں اس کے فن فریب سے چھوٹ جاتے ہیں اب ان کا حال بیان ہو رہا ہے جو خود شیطان کے بھائی بنے ہوئے ہیں۔ جیسے فضول خرچ لوگوں کو قرآن نے شیطان کے بھائی قرار دیا ہے ایسے لوگ اس کی باتین سنتے ہیں، مانتے ہیں اور ان پر ہی عمل کرتے ہیں۔ شیاطین ان کے سامنے برائیاں اچھے رنگ میں پیش کرتے ہیں، ان پر وہ آسان ہوجاتی ہیں اور یہ پوری مشغولیت کے ساتھ ان میں پھنس جاتے ہیں۔ دن بدن اپنی بدکاری میں بڑھتے جاتے ہیں، جہالت اور نادانی کی حد کردیتے ہیں۔ نہ شیطان ان کے بہکانے میں کوتاہی برتتے ہیں نہ یہ برائیاں کرنے میں کمی کرتے۔ یہ ان کے دلوں میں وسو سے ڈالتے رہتے ہیں اور وہ ان وسوسوں میں پھنستے رہتے ہیں یہ انہیں بھڑکاتے رہتے ہیں اور گناہوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں وہ برے عمل کئے جاتے ہیں اور برائیوں پر مداومت اور لذت کے ساتھ جمے رہتے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنِ الْمُتَّقِينَ مِنْ عِبَادِهِ الَّذِينَ أَطَاعُوهُ فِيمَا أَمَرَ، وَتَرَكُوا مَا عَنْهُ زَجَرَ، أَنَّهُمْ ﴿إِذَا مَسَّهُمْ﴾ أَيْ: أَصَابَهُمْ "طَيْفٌ" وَقَرَأَ آخَرُونَ: "طَائِفٌ"، وَقَدْ جَاءَ فِيهِ حَدِيثٌ، وَهُمَا قِرَاءَتَانِ مَشْهُورَتَانِ، فَقِيلَ: بِمَعْنًى وَاحِدٍ. وَقِيلَ: بَيْنَهُمَا فَرْقٌ، وَمِنْهُمْ مَنْ فَسَّرَ ذَلِكَ بِالْغَضَبِ، وَمِنْهُمْ مَنْ فَسَّرَهُ بِمَسِّ الشَّيْطَانِ بِالصَّرَعِ وَنَحْوِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ فَسَّرَهُ بِالْهَمِّ بِالذَّنْبِ، وَمِنْهُمْ مَنْ فَسَّرَهُ بِإِصَابَةِ الذَّنْبِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿تَذَكَّرُوا﴾ أَيْ: عِقَابَ اللَّهِ وَجَزِيلَ ثَوَابِهِ، وَوَعْدَهُ وَوَعِيدَهُ، فَتَابُوا وَأَنَابُوا، وَاسْتَعَاذُوا بِاللَّهِ وَرَجَعُوا إِلَيْهِ مِنْ قَرِيبٍ. ﴿فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ﴾ أَيْ: قَدِ اسْتَقَامُوا وَصَحَوْا مِمَّا كَانُوا فِيهِ.
وَقَدْ أَوْرَدَ [[في ك: "روى".]] الْحَافِظُ أَبُو بَكْرِ بْنُ مَرْدَوَيْهِ هَاهُنَا حَدِيثَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ [[في أ: "رسول الله".]] ﷺ وَبِهَا طَيْفٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَنِي. فَقَالَ: "إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ فَشَفَاكِ، وَإِنْ شِئْتِ فَاصْبِرِي وَلَا حِسَابَ عَلَيْكِ". فَقَالَتْ: بَلْ أَصْبِرُ، وَلَا حِسَابَ عَلَيَّ.
وَرَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ السُّنَنِ، وَعِنْدَهُمْ: قَالَتْ [[في م، أ: "فقالت".]] يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُصْرَعُ وَأَتَكَشَّفُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَنِي. فَقَالَ [[في أ: "فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ".]] إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَكَ، وَإِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ؟ " فَقَالَتْ: بَلْ أَصْبِرُ، وَلِيَ الْجَنَّةُ، وَلَكِنِ [[في أ: ولكن يا رسول الله".]] ادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ، فَدَعَا لَهَا، فَكَانَتْ لَا تَتَكَشَّفُ.
وَأَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ فِي مُسْتَدْرَكِهِ، وَقَالَ: صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [[المستدرك (٤/٢١٨) .]]
وَقَدْ ذَكَرَ الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ "عَمْرِو بْنِ جَامِعٍ" مِنْ تَارِيخِهِ: أَنَّ شَابًّا كَانَ يَتَعَبَّدُ فِي الْمَسْجِدِ، فَهَوِيَتْهُ امْرَأَةٌ، فَدَعَتْهُ إِلَى نَفْسِهَا، وَمَا [[في د: "فما".]] زَالَتْ بِهِ حَتَّى كَادَ يَدْخُلُ مَعَهَا الْمَنْزِلَ، فَذَكَرَ هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ﴾ فَخَرَّ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَأَعَادَهَا، فَمَاتَ. فَجَاءَ عُمَرُ فَعزَّى فِيهِ أَبَاهُ [[في أ: "أهله".]] وَكَانَ قَدْ دُفِنَ لَيْلًا فَذَهَبَ فَصَلَّى عَلَى قَبْرِهِ بِمَنْ مَعَهُ، ثُمَّ نَادَاهُ عُمَرُ فَقَالَ: يَا فَتَى [[في د، ك، أ: "يا فلان".]] ﴿وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ﴾ [الرَّحْمَنِ:٤٦] وَأَجَابَهُ الْفَتَى مِنْ دَاخِلِ الْقَبْرِ: يَا عُمَرُ، قَدْ أَعْطَانِيهِمَا رَبِّي، عَزَّ وَجَلَّ، فِي الْجَنَّةِ مَرَّتَيْنِ [[تاريخ دمشق لابن عساكر (١٣/ ٤١١، ٤١٢) "القسم المخطوط". ومختصر تاريخ دمشق لابن منظور (١٩/١٩٠، ١٩١) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِخْوَانِهِمْ﴾ أ: ي وَإِخْوَانُ الشَّيَاطِينِ مِنَ الْإِنْسِ، كَقَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ﴾ [الْإِسْرَاءِ:٢٧] وَهُمْ أَتْبَاعُهُمْ وَالْمُسْتَمِعُونَ [[في ك، م، أ: "المستمعين".]] لَهُمُ الْقَابِلُونَ [[في أ: "القائلون".]] لِأَوَامِرِهِمْ ﴿يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَيِّ﴾ أَيْ: تُسَاعِدُهُمُ الشَّيَاطِينُ عَلَى [فِعْلِ] [[زيادة من أ.]] الْمَعَاصِي، وَتُسَهِّلُهَا عَلَيْهِمْ وتحسنها لهم.
وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ: الْمَدُّ: الزِّيَادَةُ. يَعْنِي: يَزِيدُونَهُمْ فِي الْغَيِّ، يَعْنِي: الْجَهْلَ وَالسَّفَهَ.
﴿ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ﴾ قِيلَ: مَعْنَاهُ إِنَّ الشَّيَاطِينَ تَمُدُّ، وَالْإِنْسَ لَا تُقْصِرُ فِي أَعْمَالِهِمْ بِذَلِكَ. كَمَا قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابن عباس فِي قَوْلِهِ: ﴿وَإِخْوَانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ﴾ قَالَ: لَا الْإِنْسُ يُقْصِرُونَ عَمَّا يَعْمَلُونَ مِنَ السَّيِّئَاتِ، وَلَا الشَّيَاطِينُ تُمْسِكُ عَنْهُمْ.
قِيلَ: مَعْنَاهُ كَمَا رَوَاهُ الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ﴾ قَالَ: هُمُ الْجِنُّ، يُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ مِنَ الْإِنْسِ ﴿ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ﴾ يَقُولُ: لَا يَسْأَمُونَ.
وَكَذَا قَالَ السُّدِّي وَغَيْرُهُ: يَعْنِي إِنَّ الشَّيَاطِينَ يَمُدُّونَ أَوْلِيَاءَهُمْ مِنَ الْإِنْسِ وَلَا تَسْأَمُ مِنْ إِمْدَادِهِمْ فِي الشَّرِّ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ طَبِيعَةٌ لَهُمْ وسَجِيَّة، لَا تَفْتُرُ فِيهِ وَلَا تَبْطُلُ عَنْهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّيَاطِينَ عَلَى الْكَافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا﴾ [مَرْيَمَ:٨٣] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَغَيْرُهُ: تُزْعِجُهُمْ إِلَى الْمَعَاصِي إِزْعَاجًا.
وَإِخْوَٰنُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِى ٱلْغَىِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ
But their brothers - the devils increase them in error; then they do not stop short.
اور ان (کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں پھر (اس میں کسی طرح کی) کوتاہی نہیں کرتے
و (ناپرهیزگاران را) برادرانشان (از شیاطین) پیوسته در گمراهی پیش میبرند، و باز نمیایستند!
Tafsir Ibn Kathir
Verily, those who have Taqwa, when an evil thought comes to them from Shaytan, they remember (Allah), and (indeed) they then see (aright)(201)But (as for) their brothers (the devils' brothers) they (the devils) plunge them deeper into error, and they never stop short (202)
The Whispering of Shaytan and the People of Taqwa
Allah mentions His servants who have Taqwa, obeying His orders, and avoid what He forbade:
إِذَا مَسَّهُمْ
(when comes to them) an evil thought, or anger, or the whispers of Shaytan cross their mind, or intend to err, or commit an error,
تَذَكَّرُوا
(they remember) Allah's punishment, as well as, His tremendous reward. They remember Allah's promises and threats, then repent, go back to Him, seek refuge with Him and ask for forgiveness before death,
فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ
(and (indeed) they then see (aright)) they become aright and aware of the error of their ways.
A Brethren of Devils among Mankind lure to Falsehood
Allah said next,
وَإِخْوَانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ
(But (as for) their brothers they plunge them deeper) in reference to the devils' brothers among mankind. Allah said in another Ayah,
إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ
(Verily, the spendthrifts are brothers of the Shayatin)[17:27] for they are followers of the Shayatin, who listen to them and obey their orders.
يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَيِّ
(They plunge them deeper into error) the devils help them commit sins, making this path easy and appealing to them
ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ
(and they never stop short) for the devils never cease inciting mankind to commit errors. 'Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas commented on Allah's statement,
وَإِخْوَانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ
(But (as for) their brothers they plunge them deeper into error, and they never stop short.)
"Neither mankind stop short of the evil that they are doing nor the devils stop short of luring them. " Therefore,
لَا يُقْصِرُونَ
(they never stop short) refers to the devils getting tired or stopping their whispering. Allah said in another Ayah,
أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّيَاطِينَ عَلَى الْكَافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا
(See you not that We have sent Shayatin against the disbelievers to push them to do evil)[19:83] persistently luring the disbelievers to commit evil, according to Ibn 'Abbas and others.
Tafsir Ibn Kathir
جو اللہ سے ڈرتا ہے۔ شیطان اس سے ڈرتا ہے طائف کی دوسری قرأت طیف ہے۔ یہ دونوں مشہور قرأتیں ہیں دونوں کے معنی ایک ہیں بعض نے لفظی تعریف بھی کی ہے۔ فرمان ہے کہ وہ لوگ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں جنہیں اللہ کا ڈر ہے جو نیکیوں کے عامل اور برائیوں سے رکنے والے ہیں انہیں جب کبھی غصہ آجائے، شیطان ان پر اپنا کوئی داؤ چلانا چاہے، ان کے دل میں کسی گناہ کی رغبت ڈالے، ان سے کوئی گناہ کرانا چاہے تو یہ اللہ کے عذاب سے بچنے میں جو ثواب ہے اسے بھی یاد کرلیتے ہیں رب کے وعدے وعید کی یاد کرتے ہیں اور فوراً چوکنے ہوجاتے ہیں، توبہ کرلیتے ہیں، اللہ کی طرف جھک جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے شیطانی شر سے پناہ مانگنے لگتے ہیں اور اسی وقت اللہ کی جناب میں رجوع کرتے ہیں اور استقامت کے ساتھ صحت پر جم جاتے ہیں۔ ابن مردویہ میں ہے کہ ایک عورت رسول ﷺ کے پاس آئی جسے مرگی کا دوارہ پڑا کرتا تھا۔ اس نے درخواست کی کہ میرے لئے آپ دعا کیجئے آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں دعا کروں اور اللہ تمہیں شفا بخشے اور اگر چاہو تو صبر کرو اور اللہ تم سے حساب نہ لے گا۔ اس نے کہا حضور میں صبر کرتی ہوں کہ میرا حساب معاف ہوجائے۔ سنن میں بھی یہ حدیث ہے کہ اس عورت نے کہا تھا کہ میں گر پڑتی ہوں اور بیہوشی کی حالت میں میرا کپڑا کھل جاتا ہے جس سے بےپردگی ہوتی ہے اللہ سے میری شفا کی دعا کیجئے۔ آپ نے فرمایا تم ان دونوں باتوں میں سے ایک کو پسند کرلو یا تو میں دعا کروں اور تمہیں شفا ہوجائے یا تم صبر کرو اور تمہیں جنت ملے اس نے کہا میں صبر کرتی ہوں کہ مجھے جنت ملے۔ لیکن اتنی دعا تو ضرور کیجئے کہ میں بےپردہ نہ ہوجایا کروں۔ آپ نے دعا کی چناچہ ان کا کپڑا کیسی ہی وہ تلملاتیں اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا تھا۔ حافظ ابن عساکر رحمتہ اللہ اپنی تاریخ میں عمر و بن جامع کے حالات میں نقل کرتے ہیں کہ ایک نوجوان عابد مسجد میں رہا کرتا تھا اور اللہ کی عبادت کا بہت مشتاق تھا ایک عورت نے اس پر ڈورے ڈالنے شروع کئے یہاں تک کہ اسے بہکا لیا قریب تھا کہ وہ اس کے ساتھ کوٹھڑی میں چلا جائے جو اسے یہ آیت (اذامسھم الخ) ، یاد آئی اور غش کھا کر گرپڑا بہت دیر کے بعد جب اسے ہوش آیا اس نے پھر اس آیت کو یاد کیا اور اس قدر اللہ کا خوف اس کے دل میں سمایا کہ اس کی جان نکل گئی حضرت عمر فاروق ؓ نے اس کے والد سے ہمدردی اور غم خواری کی۔ چونکہ انہیں رات ہی کو دفن کردیا گیا تھا آپ ان کی قبر پر گئے آپ کے ساتھ بہت سے آدمی تھے۔ آپ نے وہاں جا کر ان کی قبر پر نماز جنازہ ادا کی اور اسے آواز دے کر فرمایا اے نوجوان ! آیت (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ 46ۚ) 55۔ الرحمن :46) جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھے اس کیلئے دو دو جنتیں ہیں۔ اسی وقت قبر کے اندر سے آواز آئی کہ مجھے میرے رب عزوجل نے وہ دونوں دو دو مرتبے عطا فرما دیئے۔ یہ تو تھا حال اللہ والوں اور پرہیزگاروں کا کہ وہ شیطانی جھٹکوں سے بچ جاتے ہیں اس کے فن فریب سے چھوٹ جاتے ہیں اب ان کا حال بیان ہو رہا ہے جو خود شیطان کے بھائی بنے ہوئے ہیں۔ جیسے فضول خرچ لوگوں کو قرآن نے شیطان کے بھائی قرار دیا ہے ایسے لوگ اس کی باتین سنتے ہیں، مانتے ہیں اور ان پر ہی عمل کرتے ہیں۔ شیاطین ان کے سامنے برائیاں اچھے رنگ میں پیش کرتے ہیں، ان پر وہ آسان ہوجاتی ہیں اور یہ پوری مشغولیت کے ساتھ ان میں پھنس جاتے ہیں۔ دن بدن اپنی بدکاری میں بڑھتے جاتے ہیں، جہالت اور نادانی کی حد کردیتے ہیں۔ نہ شیطان ان کے بہکانے میں کوتاہی برتتے ہیں نہ یہ برائیاں کرنے میں کمی کرتے۔ یہ ان کے دلوں میں وسو سے ڈالتے رہتے ہیں اور وہ ان وسوسوں میں پھنستے رہتے ہیں یہ انہیں بھڑکاتے رہتے ہیں اور گناہوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں وہ برے عمل کئے جاتے ہیں اور برائیوں پر مداومت اور لذت کے ساتھ جمے رہتے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنِ الْمُتَّقِينَ مِنْ عِبَادِهِ الَّذِينَ أَطَاعُوهُ فِيمَا أَمَرَ، وَتَرَكُوا مَا عَنْهُ زَجَرَ، أَنَّهُمْ ﴿إِذَا مَسَّهُمْ﴾ أَيْ: أَصَابَهُمْ "طَيْفٌ" وَقَرَأَ آخَرُونَ: "طَائِفٌ"، وَقَدْ جَاءَ فِيهِ حَدِيثٌ، وَهُمَا قِرَاءَتَانِ مَشْهُورَتَانِ، فَقِيلَ: بِمَعْنًى وَاحِدٍ. وَقِيلَ: بَيْنَهُمَا فَرْقٌ، وَمِنْهُمْ مَنْ فَسَّرَ ذَلِكَ بِالْغَضَبِ، وَمِنْهُمْ مَنْ فَسَّرَهُ بِمَسِّ الشَّيْطَانِ بِالصَّرَعِ وَنَحْوِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ فَسَّرَهُ بِالْهَمِّ بِالذَّنْبِ، وَمِنْهُمْ مَنْ فَسَّرَهُ بِإِصَابَةِ الذَّنْبِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿تَذَكَّرُوا﴾ أَيْ: عِقَابَ اللَّهِ وَجَزِيلَ ثَوَابِهِ، وَوَعْدَهُ وَوَعِيدَهُ، فَتَابُوا وَأَنَابُوا، وَاسْتَعَاذُوا بِاللَّهِ وَرَجَعُوا إِلَيْهِ مِنْ قَرِيبٍ. ﴿فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ﴾ أَيْ: قَدِ اسْتَقَامُوا وَصَحَوْا مِمَّا كَانُوا فِيهِ.
وَقَدْ أَوْرَدَ [[في ك: "روى".]] الْحَافِظُ أَبُو بَكْرِ بْنُ مَرْدَوَيْهِ هَاهُنَا حَدِيثَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ [[في أ: "رسول الله".]] ﷺ وَبِهَا طَيْفٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَنِي. فَقَالَ: "إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ فَشَفَاكِ، وَإِنْ شِئْتِ فَاصْبِرِي وَلَا حِسَابَ عَلَيْكِ". فَقَالَتْ: بَلْ أَصْبِرُ، وَلَا حِسَابَ عَلَيَّ.
وَرَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ السُّنَنِ، وَعِنْدَهُمْ: قَالَتْ [[في م، أ: "فقالت".]] يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُصْرَعُ وَأَتَكَشَّفُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَنِي. فَقَالَ [[في أ: "فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ".]] إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَكَ، وَإِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ؟ " فَقَالَتْ: بَلْ أَصْبِرُ، وَلِيَ الْجَنَّةُ، وَلَكِنِ [[في أ: ولكن يا رسول الله".]] ادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ، فَدَعَا لَهَا، فَكَانَتْ لَا تَتَكَشَّفُ.
وَأَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ فِي مُسْتَدْرَكِهِ، وَقَالَ: صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [[المستدرك (٤/٢١٨) .]]
وَقَدْ ذَكَرَ الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ "عَمْرِو بْنِ جَامِعٍ" مِنْ تَارِيخِهِ: أَنَّ شَابًّا كَانَ يَتَعَبَّدُ فِي الْمَسْجِدِ، فَهَوِيَتْهُ امْرَأَةٌ، فَدَعَتْهُ إِلَى نَفْسِهَا، وَمَا [[في د: "فما".]] زَالَتْ بِهِ حَتَّى كَادَ يَدْخُلُ مَعَهَا الْمَنْزِلَ، فَذَكَرَ هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ﴾ فَخَرَّ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَأَعَادَهَا، فَمَاتَ. فَجَاءَ عُمَرُ فَعزَّى فِيهِ أَبَاهُ [[في أ: "أهله".]] وَكَانَ قَدْ دُفِنَ لَيْلًا فَذَهَبَ فَصَلَّى عَلَى قَبْرِهِ بِمَنْ مَعَهُ، ثُمَّ نَادَاهُ عُمَرُ فَقَالَ: يَا فَتَى [[في د، ك، أ: "يا فلان".]] ﴿وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ﴾ [الرَّحْمَنِ:٤٦] وَأَجَابَهُ الْفَتَى مِنْ دَاخِلِ الْقَبْرِ: يَا عُمَرُ، قَدْ أَعْطَانِيهِمَا رَبِّي، عَزَّ وَجَلَّ، فِي الْجَنَّةِ مَرَّتَيْنِ [[تاريخ دمشق لابن عساكر (١٣/ ٤١١، ٤١٢) "القسم المخطوط". ومختصر تاريخ دمشق لابن منظور (١٩/١٩٠، ١٩١) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِخْوَانِهِمْ﴾ أ: ي وَإِخْوَانُ الشَّيَاطِينِ مِنَ الْإِنْسِ، كَقَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ﴾ [الْإِسْرَاءِ:٢٧] وَهُمْ أَتْبَاعُهُمْ وَالْمُسْتَمِعُونَ [[في ك، م، أ: "المستمعين".]] لَهُمُ الْقَابِلُونَ [[في أ: "القائلون".]] لِأَوَامِرِهِمْ ﴿يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَيِّ﴾ أَيْ: تُسَاعِدُهُمُ الشَّيَاطِينُ عَلَى [فِعْلِ] [[زيادة من أ.]] الْمَعَاصِي، وَتُسَهِّلُهَا عَلَيْهِمْ وتحسنها لهم.
وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ: الْمَدُّ: الزِّيَادَةُ. يَعْنِي: يَزِيدُونَهُمْ فِي الْغَيِّ، يَعْنِي: الْجَهْلَ وَالسَّفَهَ.
﴿ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ﴾ قِيلَ: مَعْنَاهُ إِنَّ الشَّيَاطِينَ تَمُدُّ، وَالْإِنْسَ لَا تُقْصِرُ فِي أَعْمَالِهِمْ بِذَلِكَ. كَمَا قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابن عباس فِي قَوْلِهِ: ﴿وَإِخْوَانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ﴾ قَالَ: لَا الْإِنْسُ يُقْصِرُونَ عَمَّا يَعْمَلُونَ مِنَ السَّيِّئَاتِ، وَلَا الشَّيَاطِينُ تُمْسِكُ عَنْهُمْ.
قِيلَ: مَعْنَاهُ كَمَا رَوَاهُ الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ﴾ قَالَ: هُمُ الْجِنُّ، يُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ مِنَ الْإِنْسِ ﴿ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ﴾ يَقُولُ: لَا يَسْأَمُونَ.
وَكَذَا قَالَ السُّدِّي وَغَيْرُهُ: يَعْنِي إِنَّ الشَّيَاطِينَ يَمُدُّونَ أَوْلِيَاءَهُمْ مِنَ الْإِنْسِ وَلَا تَسْأَمُ مِنْ إِمْدَادِهِمْ فِي الشَّرِّ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ طَبِيعَةٌ لَهُمْ وسَجِيَّة، لَا تَفْتُرُ فِيهِ وَلَا تَبْطُلُ عَنْهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّيَاطِينَ عَلَى الْكَافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا﴾ [مَرْيَمَ:٨٣] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَغَيْرُهُ: تُزْعِجُهُمْ إِلَى الْمَعَاصِي إِزْعَاجًا.
وَإِذَا لَمْ تَأْتِهِم بِـَٔايَةٍۢ قَالُوا۟ لَوْلَا ٱجْتَبَيْتَهَا ۚ قُلْ إِنَّمَآ أَتَّبِعُ مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ مِن رَّبِّى ۚ هَٰذَا بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُمْ وَهُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ
And when you, [O Muhammad], do not bring them a sign, they say, "Why have you not contrived it?" Say, "I only follow what is revealed to me from my Lord. This [Qur'an] is enlightenment from your Lord and guidance and mercy for a people who believe."
اور جب تم ان کے پاس (کچھ دنوں تک) کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنالی۔ کہہ دو کہ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔ یہ قرآن تمہارے پروردگار کی جانب سے دانش وبصیرت اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
هنگامی که (در نزول وحی تاخیر افتد، و) آیهای برای آنان نیاوری، میگویند: «چرا خودت (از پیش خود) آن را برنگزیدی؟!» بگو: «من تنها از چیزی پیروی میکنم که بر من وحی میشود؛ این وسیله بینایی از طرف پروردگارتان، و مایه هدایت و رحمت است برای جمعیّتی که ایمان میآورند.
Tafsir Ibn Kathir
And if you do not bring them a miracle, they say: "Why have you not brought it" Say: "I but follow what is revealed to me from my Lord. This (the Qur'an) is nothing but evidences from your Lord, and a guidance and a mercy for a people who believe. (203)
Idolators ask to witness Miracles
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas commented on Allah's statement,
قَالُوا لَوْلَا اجْتَبَيْتَهَا
(they say, "Why have you not brought it?")
"They say, 'Why have you not received a miracle?'", or, "Why have you not initiated or made it?" Ibn Jarir reported that, 'Abdullah bin Kathir said that Mujahid said about Allah's statement,
وَإِذَا لَمْ تَأْتِهِم بِآيَةٍ قَالُوا لَوْلَا اجْتَبَيْتَهَا
(And if you do not bring them a miracle, they say: "Why have you not brought it?")
"They say, 'Produce a miracle of your own.'" Qatadah, As-Suddi, 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam and Ibn Jarir agreed with this. Allah said next,
وَإِذَا لَمْ تَأْتِهِم بِآيَةٍ
(And if you do not bring them an Ayah) a miracle or a sign. Similarly, Allah said,
إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ آيَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ
(If We will, We could send down to them from the heaven a sign, to which they would bend their necks in humility.)[26:4]
The pagans asked the Prophet, why did you not strive hard to bring us an Ayah (miracle) from Allah so that we witness it and believe in it. Allah said to him,
قُلْ إِنَّمَا أَتَّبِعُ مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ مِن رَّبِّي
(Say: "I but follow what is revealed to me from my Lord.")
I do not ask such things of my Lord. I only follow what He reveals and commands me. Therefore, if Allah sends a miracle, I will accept it. Otherwise, I will not ask for it unless He allows me. Certainly, Allah is Most Wise, the All-Knower.
Allah next directs the servants to the fact that this Qur'an is the most powerful miracle, clearest evidence and most true proof and explanation, saying,
هَٰذَا بَصَائِرُ مِن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(This (the Qur'an) is nothing but evidences from your Lord, and a guidance and a mercy for a people who believe.)
Tafsir Ibn Kathir
سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے۔ یہ لوگ کوئی معجزہ مانگتے اور آپ اسے پیش نہ کرتے تو کہتے کہ نبی ہوتا تو ایسا کرلیتا، بنا لیتا، اللہ سے مانگ لیتا، اپنے آپ گھڑ لیتا، آسمان سے گھسیٹ لاتا۔ الغرض معجزہ طلب کرتے اور وہ طلب بھی سرکشی اور عناد کے ساتھ ہوتی۔ جیسے فرمان قرآن ہے آیت (اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ اٰيَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِيْنَ) 26۔ الشعراء :4) اگر ہم چاہتے تو کوئی نشان ان پر آسمان سے اتارتے جس سے ان کی گردنین جھک جاتیں۔ وہ لوگ حضور سے کہتے رہتے تھے کہ جو ہم مانگتے ہیں وہ معجزہ اپنے رب سے طلب کر کے ہمیں ضرور دکھا دیجئے۔ تو حکم دیا کہ ان سے فرما دیجئے کہ میں تو اللہ کی باتیں ماننے والا اور ان پر عمل کرنے والا وحی الٰہی کا تابع ہوں۔ میں اس کی جناب میں کوئی گستاخی نہیں کرسکتا، آگے نہیں بڑھ سکتا، جو حکم دے صرف اسے بجا لاتا ہوں۔ اگر کوئی معجزہ وہ عطا فرمائے دکھا دوں۔ جو وہ ظاہر نہ فرمائے میں اسے لا نہیں سکتا میرے بس میں کچھ نہیں میں اس سے معجزہ طلب نہیں کیا کرتا مجھ میں اتنی جرات نہیں ہاں اگر اس کی اجازت پالیتا ہوں تو اس سے دعا کرتا ہوں وہ حکمتوں والا اور علم والا ہے۔ میرے پاس تو میرے رب کا سب سے بڑا معجزہ یہ قرآن کریم ہے جو سب سے زیادہ واضح دلیل سب سے زیادہ سچی حجت اور سب سے زیادہ روشن برہان ہے جو حکمت ہدایت اور رحمت سے پر ہے اگر دل میں ایمان ہے تو اس اچھے سچے عمدہ اور اعلیٰ معجزے کے بعد دوسرے معجزے کی طلب باقی ہی نہیں رہتی۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قَالُوا لَوْلا اجْتَبَيْتَهَا﴾ يَقُولُ: لَوْلَا تَلَقَّيْتَهَا. وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: لَوْلَا أَحْدَثْتَهَا فَأَنْشَأْتَهَا.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ [[في د، أ: "جريج".]] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ [تَعَالَى] [[زيادة من ك، أ.]] ﴿وَإِذَا لَمْ تَأْتِهِمْ بِآيَةٍ قَالُوا لَوْلا اجْتَبَيْتَهَا﴾ قَالَ: لَوْلَا اقْتَضَيْتَهَا، قَالُوا: تُخْرِجُهَا عَنْ نَفْسِكَ. وَكَذَا قَالَ قَتَادَةُ، وَالسُّدِّيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من أ.]] ﴿لَوْلا اجْتَبَيْتَهَا﴾ يَقُولُ: تَلَقَّيْتَهَا مِنَ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ [[في د، ك، أ: "تعالى".]]
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: ﴿لَوْلا اجْتَبَيْتَهَا﴾ يَقُولُ: لَوْلَا أَخَذْتَهَا أَنْتَ فَجِئْتَ بِهَا مِنَ السَّمَاءِ.
وَمَعْنَى قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَإِذَا لَمْ تَأْتِهِمْ بِآيَةٍ﴾ أَيْ: مُعْجِزَةٍ، وَخَارِقٍ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنْ نَشَأْ نُنزلْ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ آيَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ﴾ [الشُّعَرَاءِ:٤] يَقُولُونَ لِلرَّسُولِ ﷺ: أَلَا تُجْهِدُ نَفْسَكَ فِي طَلَبِ الْآيَاتِ [مِنَ اللَّهِ] [[زيادة من م.]] حَتَّى نَرَاهَا وَنُؤْمِنَ بِهَا، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ: ﴿قُلْ إِنَّمَا أَتَّبِعُ مَا يُوحَى إِلَيَّ مِنْ رَبِّي﴾ أَيْ: أَنَا لَا أَتَقَدَّمُ إِلَيْهِ تَعَالَى فِي شَيْءٍ، وَإِنَّمَا أَتَّبِعُ مَا أَمَرَنِي بِهِ فَأَمْتَثِلُ مَا يُوحِيهِ إِلَيَّ، فَإِنْ بَعَثَ آيَةً قَبِلْتُهَا، وَإِنَّ مَنَعَهَا لَمْ أَسْأَلْهُ ابْتِدَاءَ إِيَّاهَا؛ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لِي فِي ذَلِكَ، فَإِنَّهُ حَكِيمٌ عَلِيمٌ.
ثُمَّ أَرْشَدَهُمْ إِلَى أَنَّ هَذَا الْقُرْآنَ هُوَ أَعْظَمُ الْمُعْجِزَاتِ، وَأَبْيَنُ الدَّلَالَاتِ، وَأَصْدَقُ الْحُجَجِ وَالْبَيِّنَاتِ، فَقَالَ: ﴿هَذَا بَصَائِرُ مِنْ رَبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴾
وَإِذَا قُرِئَ ٱلْقُرْءَانُ فَٱسْتَمِعُوا۟ لَهُۥ وَأَنصِتُوا۟ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
So when the Qur'an is recited, then listen to it and pay attention that you may receive mercy.
اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
هنگامی که قرآن خوانده شود، گوش فرا دهید و خاموش باشید؛ شاید مشمول رحمت خدا شوید!
Tafsir Ibn Kathir
So, when the Qur'an is recited, listen to it, and be silent that you may receive mercy (204)
The Order to listen to the Qur'an
After Allah mentioned that this Qur'an is a clear evidence, guidance and mercy for mankind, He commanded that one listen to the Qur'an when it is recited, in respect and honor of the Qur'an. This is to the contrary of the practice of the pagans of Quraysh, who said,
لَا تَسْمَعُوا لِهَٰذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ
("Listen not to this Qur'an, and make noise in the midst of its (recitation)")[41:26].
Ibn Jarir reported that Ibn Mas'ud said; "We would give Salams to each other during Salah. So the Ayah of Qur'an was revealed;
وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ
(When the Qur'an is recited, then listen to it.)
Tafsir Ibn Kathir
سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی چونکہ اوپر کی آیت میں بیان تھا کہ یہ قرآن لوگوں کے لئے بصیرت و بصارت ہے اور ساتھ ہی ہدایت و رحمت ہے اس لئے اس آیت میں اللہ تعالیٰ جل و علا حکم فرماتا ہے کہ اس کی عظمت اور احترام کے طور پر اس کی تلاوت کے وقت کان لگا کر اسے سنو ایسا نہ کرو جیسا کفار قریش نے کیا کہ وہ کہتے تھے آیت (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ 26) 41۔ فصلت :26) ، اس قرآن کو نہ سنو اور اس کے پڑھے جانے کے وقت شور غل مچا دو۔ اس کی اور زیادہ تاکید ہوجاتی ہے جبکہ فرض نماز میں امام با آواز بلند قرأت پڑھتا ہو۔ جیسے کہ صحیح مسلم شریف میں حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت سے ہے کہ امام اقتدا کے کئے جانے کیلئے مقرر کیا گیا ہے۔ جب وہ تکبیر کہے تم تکبیر کہو اور جب وہ پڑھے تم خاموش رہو۔ اس طرح سنن میں بھی یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ مروی ہے۔ امام مسلم بن حجاج ؒ نے بھی اسے صحیح کہا ہے اور اپنی کتاب میں نہیں لائے ـ (یہ یاد رہے کہ اس حدیث میں جو خاموش رہنے کا حکم ہے یہ صرف اس قرأت کیلئے ہے جو الحمد کے سوا ہو۔ جیسے کہ طبرانی کبیر میں صحیح حدیث میں جو خاموش رہنے کا حکم ہے یہ صرف اس قرأت کے لئے ہے جو الحمد کے سوا ہو۔ جیسے کہ طبرانی کبیر میں صحیح حدیث ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حدیث (من صلی خلف الا مام فلیقرا بفا تحۃ الکتاب) یعنی جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو وہ سورة فاتحہ ضرور پڑھ لے۔ پس سورة فاتحہ پڑھنے کا حکم ہے اور قرأت کے وقت خاموشی کا حکم ہے، واللہ اعلم۔ مترجم) اس آیت کے شان نزول کے متعلق حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ لوگ پہلے نماز پڑھتے ہوئے باتیں بھی کرلیا کرتے تھے تب یہ آیت اتری اور دوسری آیت میں چپ رہنے کا حکم کیا گیا۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ نماز پڑھتے ہوئے ہم آپ سے میں ایک دوسرے کو سلام کیا کرتے تھے پس یہ آیت اتری۔ آپ نے ایک مرتبہ نماز میں لوگوں کو امام کے ساتھ ہی ساتھ پڑھتے ہوئے سن کر فارغ ہو کر فرمایا کہ تم میں اس کی سمجھ بوجھ اب تک نہیں آئی کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے سنو اور چپ رہو جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ (واضح رہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ کی رائے میں اس سے مراد امام کے با آواز بلند الحمد کے سوا دوسری قرأت کے وقت مقتدی کا خاموش رہنا ہے نہ کہ پست آواز کی قرأت والی نماز میں، نہ بلند آواز کی قرأت والی نماز میں الحمد سے خاموشی۔ امام کے پیچھے الحمد تو خود آپ بھی پڑھا کرتے تھے جیسے کہ جزاء القراۃ بخاری میں ہے حدیث (انہ قرا فی العصر خلف الا مام فی الرکعتین الاولیین بام القران و سورة) یعنی آپ نے امام کے پیچھے عصر کی نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورة الحمد بھی پڑھی اور دوسری سورت بھی ملائی۔ پس آپ کے مندرجہ بالا فرمان کا مطلب صرف اسی قدر ہے کہ جب امام اونچی آواز سے قرأت کرے تو مقتدی الحمد کے سوا دوسری قرأت کے وقت سنے اور چپ رہے واللہ اعلم۔ مترجم حضرت زہری ؒ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس انصاری نوجوان کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس کی عادت تھی کہ جب کبھی رسول اللہ ﷺ قرآن سے کچھ پڑھتے یہ بھی اسے پڑھتا پس یہ آیت اتری۔ مسند احمد اور سنن میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس نماز سے فارغ ہو کر پلٹے جس میں آپ نے باآواز بلند قرأت پڑھی تھی پھر پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ پڑھا تھا ؟ ایک شخص نے کہا ہاں یارسول اللہ ﷺ۔ آپ نے فرمایا میں کہہ رہا تھا کہ یہ کیا بات ہے کہ مجھ سے قرآن کی چھینٹا جھپٹی ہو رہی ہے ؟ راوی کا کہنا ہے کہ اس کے بعد لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان نمازوں میں جن میں آپ اونچی آواز سے قرأت پڑھا کرتے تھے قرأت سے رک گئے جبکہ انہوں نے رسول ﷺ سے یہ سنا۔ امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں اور ابو حاتم رازی اس کی تصحیح کرتے ہیں (مطلب اس حدیث کا بھی یہی ہے کہ امام جب پکار کر قرأت پڑھے اس وقت مقتدی سوائے الحمد کے کچھ نہ پڑھے کیونکہ ایسی ہی روایت ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، موطا امام مالک، مسند احمد وغیرہ میں ہے جس میں ہے کہ جب آپ کے سوال کے جواب میں یہ کہا گیا ہے کہ ہم پڑھتے ہیں تو آپ نے فرمایا حدیث (لا تفعلوا الابفاتحۃ الکتاب فانہ لاصلوۃ لمن لم یقراء بھا) یعنی ایسا نہ کیا کرو صرف سورة فاتحہ پڑھو کیونکہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔ پس لوگ اونچی آواز والی قرأت کی نماز میں جس قرأت سے رک گئے وہ الحمد کے علاوہ تھی کیونکہ اسی سے روکا تھا اسی سے صحابہ رک گئے۔ الحمد تو پڑھنے کا حکم دیا تھا۔ بلکہ ساتھ ہی فرمادیا تھا کہ اس کے بغیر نماز ہی نہیں واللہ اعلم۔ مترجم) زہری کا قول ہے کہ امام جب اونچی آواز سے قرأت پڑھے تو انہیں امام کی قرأت کافی ہے امام کے پیچھے والے نہ پڑھیں گو انہیں امام کی آواز سنائی بھی نہ دے۔ ہاں البتہ جب امام آہستہ آواز سے پڑھ رہا ہو اس وقت مقتدی بھی آہستہ پڑھ لیا کریں اور کسی کو لائق نہیں کہ اس کے ساتھ ساتھ پڑھے خواہ جہری نماز ہو خواہ سری۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو تم اسے سنو اور چپ رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ علماء کے ایک گروہ کا مذہب ہے کہ جب امام اونچی آواز سے قرأت کرے تو مقتدی پر نہ سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے نہ کچھ اور۔ امام شافعی کے اس بارے میں دو قول ہیں جن میں سے ایک قول یہ بھی ہے لیکن یہ قول پہلے کا ہے جیسے کہ امام مالک کا مذہب، ایک اور روایت میں امام احمد کا بہ سبب ان دلائل کے جن کا ذکر گذر چکا۔ لیکن اس کے بعد کا آپ کا یہ فرمان ہے کہ مقتدی صرف سورة فاتحہ امام کے سکتوں کے درمیان پڑھ لے۔ صحابہ تابعین اور ان کے بعد والے گروہ کا یہی فرمان ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام احمد فرماتے ہیں مقتدی پر مطلقاً قرأت واجب نہیں نہ اس نماز میں جس میں امام آہستہ قرأت پڑھے نہ اس میں جس میں بلند آواز سے قرأت پڑھے اس لئے کہ حدیث میں ہے امام کی قرأت مقتدیوں کی بھی قرأت ہے۔ اسے امام احمد نے اپنی مسند میں حضرت جابر سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ یہی حدیث موطاء امام مالک میں موقوفا مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے یعنی یہ قول حضرت جابر ؓ کا ہونا زیادہ صحیح ہے نہ کہ فرمان رسول اللہ ﷺ کا (لیکن یہ بھی یاد رہے کہ خود حضرت جابر ؓ سے ابن ماجہ میں مروی ہے کہ حدیث (کنا نقرا فی الظھر والعصر خلف الا مام فی الرکعتین الالیین بفاتحتہ الکتاب و سورة وفی الاخریین بفاتحۃ الکتاب) یعنی ہم ظہر اور عصر کی نماز میں امام کے پیچھے پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ بھی پڑھتے تھے اور کوئی اور سورت بھی اور پچھلی دور کعتوں میں صرف سورة فاتحہ پڑھا کرتے تھے پس معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے جو فرمایا کہ امام کی قرأت اسے کافی ہے اس سے مراد الحمد کے علاوہ قرأت ہے۔ واللہ اعلم، مترجم) یہ مسئلہ اور جگہ نہایت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اسی خاص مسئلے پر حضرت امام ابو عبداللہ بخاری ؒ نے ایک مستقل رسالہ لکھا ہے اور اس میں ثابت کیا ہے کہ ہر نماز میں خواہ اس میں قرأت اونچی پڑھی جاتی ہو یا آہستہ مقتدیوں پر سورة فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے واللہ اعلم۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ آیت فرض نماز کے بارے میں ہے۔ طلحہ کا بیان ہے کہ عبید بن عمر اور عطاء بن ابی رباح کو میں نے دیکھا کہ واعظ و عظ کہہ رہا تھا اور وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے تو میں نے کہا تم اس وعظ کو نہیں سنتے اور وعید کے قابل ہو رہے ہو ؟ انہوں نے میری طرف دیکھا پھر باتوں میں مشغول ہوگئے۔ میں نے پھر یہی کہا انہوں نے پھر میری طرف دیکھا اور پھر باتوں میں مشغول ہوگئے۔ میں نے پھر یہی کہا انہوں نے پھر میری طرف دیکھ اور پھر اپنی باتوں میں لگ گئے، میں نے پھر تیسری مرتبہ ان سے یہی کہا۔ تیسری بار انہوں نے میری طرف دیکھ کر فرمایا یہ نماز کے بارے میں ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں نماز کے سوا جب کوئی پڑھ رہا ہو تو کلام کرنے میں کوئی حرج نہیں اور بھی بہت سے بزرگوں کا فرمان ہے کہ مراد اس سے نماز میں ہے۔ حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ یہ آیت نماز اور جمعہ کے خطبے کے بارے میں ہے۔ حضرت عطاء سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ حسن فرماتے ہیں نماز میں اور ذکر کے وقت، سعید بن جبیر فرماتے ہیں بقرہ عید اور میٹھی عید اور جمعہ کے دن اور جن نمازوں میں امام اونچی قرأت پڑھے۔ ابن جریر کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ مراد اس سے نماز میں اور خطبے میں چپ رہنا ہے جیسے کہ حکم ہوا ہے امام کے پیچھے خطبے کی حالت میں چپ رہو۔ مجاہد نے اسے مکروہ سمجھا کہ جب امام خوف کی آیت یا رحمت کی آیت تلاوت کرے تو اس کے پیچھے سے کوئی شخص کچھ کہے بلکہ خاموشی کے لئے کہا (حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کبھی کسی خوف کی آیت سے گزرتے تو پناہ مانگتے اور جب کبھی کسی رحمت کے بیان والی آیت سے گذرتے تو اللہ سے سوال کرتے۔ مترجم) حضرت حسن فرماتے ہیں جب تو قرآن سننے بیٹھے تو اس کے احترام میں خاموش رہا کر۔ مسند احمد میں فرمان رسول اللہ ﷺ ہے کہ جو شخص کان لگا کر کتاب اللہ کی کسی آیت کو سنے تو اس کے لئے کثرت سے بڑھنے والی نیکی لکھی جاتی ہے اور اگر اسے پڑھے تو اس کے لئے قیامت کے دن نور ہوگا۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى أَنَّ الْقُرْآنَ بَصَائِرُ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ، أَمَرَ تَعَالَى بِالْإِنْصَاتِ عِنْدَ تِلَاوَتِهِ إِعْظَامًا لَهُ وَاحْتِرَامًا، لَا كَمَا كَانَ يَعْتَمِدُهُ كُفَّارُ قُرَيْشٍ الْمُشْرِكُونَ [[في أ: "المشركين".]] فِي قَوْلِهِمْ: ﴿لَا تَسْمَعُوا لِهَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ [لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ] [[زيادة من د.]] ﴾ [فُصِّلَتْ:٢٦] وَلَكِنْ يَتَأَكَّدُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ إِذَا جَهَرَ الْإِمَامُ بِالْقِرَاءَةِ كَمَا وَرَدَ الْحَدِيثُ الذِي رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا" [[صحيح مسلم برقم (٤٠٤) .]] وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَهْلُ السُّنَنِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ [[رواه النسائي في السنن (١٢/١٤١) ، وابن ماجة في السنن برقم (٨٤٦) .]] وَصَحَّحَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَيْضًا، وَلَمْ يُخْرِجْهُ فِي كِتَابِهِ [[انظر الكلام على هذه الزيادة في: سورة الفاتحة.]] وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْهِجْرِيُّ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانُوا يَتَكَلَّمُونَ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ [وَأَنْصِتُوا] ﴾ [[زيادة من م.]] وَالْآيَةُ الْأُخْرَى، أُمِرُوا بِالْإِنْصَاتِ [[رواه الطبري في تفسيره (١٣/٣٤٥) .]]
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أبو بكر بن عياش، عن عَاصِمٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: كُنَّا يُسَلِّمُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ فِي الصَّلَاةِ: سَلَامٌ عَلَى فُلَانٍ، وَسَلَامٌ عَلَى فُلَانٍ، فَجَاءَ الْقُرْآنُ ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾
وَقَالَ أَيْضًا: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: صَلَّى ابْنُ مَسْعُودٍ، فَسَمِعَ نَاسًا يَقْرَءُونَ مَعَ الْإِمَامِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: أَمَا آنَ لَكُمْ أَنْ تَفْهَمُوا؟ أَمَا آنَ لَكُمْ أَنْ تَعْقِلُوا؟ ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا﴾ كَمَا أَمَرَكُمُ [[في أ: "كما أمر".]] اللَّهُ [[تفسير الطبري (١٣/٣٤٦) .]]
قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو السَّائِبِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ كُلَّمَا قَرَأَ شَيْئًا قَرَأَهُ، فَنَزَلَتْ: ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا﴾
وَقَدْ رَوَى الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَأَهْلُ السنن، من حديث الزهري، عن أبي أُكَيْمضة اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ: "هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعِي آنِفًا؟ " قَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ [[في ك، م: "فقال".]] إِنِّي أَقُولُ: مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟ " قَالَ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالْقِرَاءَةِ مِنَ الصَّلَوَاتِ [[في د: "الصلاة"]] حِينَ سَمِعُوا ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم [[المسند (٢/٣٠١) وسنن أبي داود برقم (٨٢٦) وسنن الترمذي برقم (٣١٢) وسنن النسائي (٢/١٤٠) وسنن ابن ماجة برقم (٨٤٨) .]]
وقال التِّرْمِذِيُّ: "هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ". وَصَحَّحَهُ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ.
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: لَا يَقْرَأُ مِنْ وَرَاءِ الْإِمَامِ فِيمَا يَجْهَرُ بِهِ الْإِمَامُ، تَكْفِيهِمْ قِرَاءَةُ الْإِمَامِ وَإِنْ لَمْ يُسْمِعْهُمْ صَوْتَهُ، وَلَكِنَّهُمْ يَقْرَءُونَ فِيمَا لَا يُجْهَرُ بِهِ سِرًّا فِي أَنْفُسِهِمْ، وَلَا يَصْلُحُ لِأَحَدٍ خَلْفَهُ أَنْ يَقْرَأَ مَعَهُ فِيمَا يَجْهَرُ بِهِ سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾
قُلْتُ: هَذَا مَذْهَبُ طَائِفَةٍ مِنَ الْعُلَمَاءِ: أَنَّ الْمَأْمُومَ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ فِي الصَّلَاةِ الْجَهْرِيَّةِ قِرَاءَةٌ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ الْإِمَامُ لَا الْفَاتِحَةُ وَلَا غَيْرُهَا، وَهُوَ أَحَدُ قَوْلَيِ الشَّافِعِيِّ، وَهُوَ الْقَدِيمُ كَمَذْهَبِ مَالِكٍ، وَرِوَايَةٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، لِمَا ذَكَرْنَاهُ مِنَ الْأَدِلَّةِ الْمُتَقَدِّمَةِ. وَقَالَ فِي الْجَدِيدِ: يَقْرَأُ الْفَاتِحَةَ فَقَطْ فِي سَكَتَاتِ الْإِمَامِ، وَهُوَ قَوْلُ طَائِفَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعَيْنِ فَمَنْ بَعْدَهُمْ. وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: لَا يَجِبُ عَلَى الْمَأْمُومِ قِرَاءَةٌ أَصْلًا فِي السِّرِّيَّةِ وَلَا الْجَهْرِيَّةِ، لِمَا وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ: "مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ". وَهَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ عَنْ جَابِرٍ مَرْفُوعًا، وَهُوَ فِي مُوَطَّأِ مَالِكٌ عَنْ وَهَبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفًا، وَهَذَا أَصَحُّ. وَهَذِهِ الْمَسْأَلَةُ مَبْسُوطَةٌ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ [[انظر الكلام مبسوطا في: مقدمة سورة الفاتحة.]] وَقَدْ أَفْرَدَ لَهَا الْإِمَامُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبُخَارِيُّ مُصَنَّفًا عَلَى حِدَةٍ [[سماه "جزء القراءة خلف الإمام" مطبوع في مؤسسة الرسالة ببيروت.]] وَاخْتَارَ وُجُوبَ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي السَّرِيَّةِ وَالْجَهْرِيَّةِ أَيْضًا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ: ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا﴾ يَعْنِي: فِي الصَّلَاةِ الْمَفْرُوضَةِ. وَكَذَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا حُمَيْد بْنُ مَسْعَدة، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزَ قَالَ: رَأَيْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ وَعَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يَتَحَدَّثَانِ، وَالْقَاصُّ يَقُصُّ، فَقُلْتُ: أَلَا تَسْتَمِعَانِ إِلَى الذِّكْرِ وَتَسْتَوْجِبَانِ الْمَوْعُودَ؟ قَالَ: فَنَظَرَا إِلَيَّ، ثُمَّ أَقْبَلَا عَلَى حَدِيثِهِمَا. قَالَ: فَأَعَدْتُ [[في أ: "فأعدت الكلام".]] فَنَظَرَا إِلَيَّ، وَأَقْبَلَا [[في أ: "ثم أقبلا".]] عَلَى حَدِيثِهِمَا. قَالَ: فَأَعَدْتُ الثَّالِثَةَ، قَالَ: فَنَظَرَا إِلَيَّ فَقَالَا إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ: ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا﴾
وَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا﴾ قَالَ: فِي الصَّلَاةِ. وَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ مُجَاهِدٍ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: لَا بَأْسَ إِذَا قَرَأَ الرجل في غير الصلاة أن يتكلم.
وَكَذَا قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَالضَّحَّاكُ، وَإِبْرَاهِيمُ النخعي، وقتادة، والشعبي، والسدي، وعبد الرحمن ابن زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: أَنَّ الْمُرَادَ بِذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ.
وَقَالَ شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي حُرَّةَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ مُجَاهِدًا يَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا﴾ قَالَ: فِي الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ.
وَكَذَا رَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ [[في د، أ: "ابن جرير".]] عَنْ عَطَاءٍ، مِثْلَهُ.
وَقَالَ هُشَيْم، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: فِي الصَّلَاةِ وَعِنْدَ الذِّكْرِ.
وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ بَقِيَّة: سَمِعْتُ ثَابِتَ بْنَ عَجْلَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا﴾ قَالَ: الْإِنْصَاتُ يَوْمَ الْأَضْحَى، وَيَوْمَ الْفِطْرِ، وَيَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَفِيمَا يَجْهَرُ بِهِ الْإِمَامُ مِنَ الصَّلَاةِ.
وَهَذَا اخْتِيَارُ ابْنِ جَرِيرٍ أَنَّ الْمُرَادَ بِذَلِكَ [الْإِنْصَاتُ فِي الصَّلَاةِ وَفِي الْخُطْبَةِ؛ لِمَا جَاءَ فِي الْأَحَادِيثِ مِنَ الْأَمْرِ بِالْإِنْصَاتِ] [[زيادة من م، أ.]] خَلْفَ الْإِمَامِ وَحَالَ الْخُطْبَةِ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ كَرِهَ إِذَا مَرَّ الْإِمَامُ بِآيَةِ خَوْفٍ أَوْ بِآيَةِ رَحْمَةٍ أَنْ يَقُولَ أَحَدٌ مِنْ خَلْفِهِ شَيْئًا، قَالَ: السُّكُوتُ.
وَقَالَ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالة، عَنِ الْحَسَنِ: إِذَا جَلَسْتَ إِلَى الْقُرْآنِ، فَأَنْصِتْ لَهُ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "مَنِ اسْتَمَعَ إِلَى آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ مُضَاعَفَةٌ، وَمَنْ تَلَاهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ". تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ [[المسند (٢/٣٤١) وفي إسناده عباد بن ميسرة وهو ضعيف.]] رَحِمَهُ اللَّهُ.
وَٱذْكُر رَّبَّكَ فِى نَفْسِكَ تَضَرُّعًۭا وَخِيفَةًۭ وَدُونَ ٱلْجَهْرِ مِنَ ٱلْقَوْلِ بِٱلْغُدُوِّ وَٱلْءَاصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ ٱلْغَٰفِلِينَ
And remember your Lord within yourself in humility and in fear without being apparent in speech - in the mornings and the evenings. And do not be among the heedless.
اور اپنے پروردگار کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح وشام یاد کرتے رہو اور (دیکھنا) غافل نہ ہونا
پروردگارت را در دل خود، از روی تضرع و خوف، آهسته و آرام، صبحگاهان و شامگاهان، یاد کن؛ و از غافلان مباش!
Tafsir Ibn Kathir
And remember your Lord within yourself, humbly and with fear and without loudness in words in the mornings and in the afternoons, and be not of those who are neglectful (205)Surely, those who are with your Lord (angels) are never too proud to perform acts of worship to Him, but they glorify His praise and prostrate themselves before Him (206)
Remembering Allah in the Mornings and Afternoons
Allah ordains that He be remembered more often in the mornings and the afternoons. Just as He ordered that He be worshipped during these two times when He said,
وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ
(And glorify the praises of your Lord, before the rising of the sun and before (its) setting.)[50:39]
Before the night of Isra', when the five daily prayers were ordained, this Ayah was revealed in Makkah ordering that Allah be worshipped at these times, Allah said next,
تَضَرُّعًا وَخِيفَةً
(humbly and with fear) meaning, remember your Lord in secret, not loudly, with eagerness and fear. This is why Allah said next,
وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ
(and without loudness in words). Therefore, it is recommended that remembering Allah in Dhikr is not performed in a loud voice. When the Companions asked the Messenger of Allah, "Is our Lord close, so that we call Him in secret, or far, so that we raise our voices?" Allah sent down the verse,
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ
(And when My servants ask you concerning Me, then (answer them), I am indeed near (to them by My knowledge). I respond to the invocations of the supplicant when he calls on Me (without any mediator or intercessor).)[2:186]
In the Two Sahihs, it is recorded that Abu Musa Al-Ash'ari said, "The people raised their voices with Du'a' (invoking Allah) while travelling. The Prophet ﷺ said to them,
يَا أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلِتهِ
(O people! Take it easy on yourselves, for He Whom you are calling is not deaf or absent. Verily, He Whom you are calling is the All-Hearer, close (by His knowledge), closer to one of you than the neck of his animal.)"
These texts encourage the servants to invoke Allah in Dhikr often, especially in the mornings and afternoons, so that they are not among those who neglect remembering Him. This is why Allah praised the angels who praise Him night and day without tiring,
إِنَّ الَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ
(Surely, those who are with your Lord (i.e., angels) are never too proud to perform acts of worship to Him)
Allah reminded the servants of this fact so that they imitate the angels in their tireless worship and obedience of Allah. Prostration, here, upon the mention that the angels prostrate to Allah is legitimate. A Hadith reads;
أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ
(Why not you stand in line (for the prayer) like the angels stand in line before their Lord? They continue the first then the next lines and they stand close to each other in line.)
This is the first place in the Qur'an where it has been legitimized – according to the agreement of the scholars – for the readers of the Qur'an, and those listening to its recitation, to perform prostration.
Tafsir Ibn Kathir
اللہ کی یاد بکثرت کرو مگر خاموشی سے اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے کہ صبح شام اس کی بکثرت یاد کر۔ یہاں بھی یہ فرمایا اور جگہ بھی ہے آیت (فسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب) یعنی اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کیا کرو سورج طلوع اور سورج غروب ہونے سے پہلے۔ یہ آیت مکیہ ہے اور یہ حکم معراج سے پہلے کا ہے غدو کہتے ہیں دن کے ابتدائی حصے کو اصال جمع ہے اصیل کی۔ جیسے کہ ایمان جمع ہے یمین کی۔ حکم دیا کہ رغبت، لالچ اور ڈر خوف کے ساتھ اللہ کی یاد اپنے دل میں اپنی زبان سے کرتے رہو چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں۔ اسی لئے مستحب یہی ہے کہ پکار کے ساتھ اللہ کی یاد اپنے دل میں اپنی زبان سے کرتے رہو چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں۔ اسی لئے مستحب یہی ہے کہ پکار کے ساتھ اور چلا چلا کر اللہ کا ذکر نہ کیا جائے۔ صحابہ نے جب حضور سے سوال کیا کہ کیا ہمارا رب قریب ہے کہ ہم اس سے سرگوشی چپکے چپکے کرلیا کریں یا دور ہے کہ ہم پکار پکار کر آوازیں دیں ؟ تو اللہ تعالیٰ جل و علا نے یہ آیت اتاری (واذا سألک عبادی عنی الخ) ، جب میرے بندے تجھ سے میری بابت سوال کریں تو جواب دے کہ میں بہت ہی نزدیک ہوں۔ دعا کرنے والے کی دعا کو جب بھی وہ مجھ سے دعا کرے قبول فرمالیا کرتا ہوں۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ لوگوں نے ایک سفر میں باآواز بلند دعائیں کرنی شروع کیں تو آپ نے فرمایا لوگو اپنی جانوں پر ترس کھاؤ تم کسی بہرے کو یا کسی غائب کو نہیں پکار رہے جسے تم پکارتے ہو وہ تو بہت ہی پست آواز سننے والا اور بہت ہی قریب ہے تمہاری سواری کی گردن جتنی تم سے قریب ہے اس سے بھی زیادہ وہ تم سے نزدیک ہے، ہوسکتا ہے کہ مراد اس آیت سے بھی وہی ہو جو آیت (ولا تجھر بصلاتک الخ) ، سے ہے۔ مشرکین قرآن سن کر قرآن کو جبرائل کو، رسول اللہ ﷺ کو اور خود اللہ تعالیٰ کو گالیاں دینے لگتے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ نہ تو آپ اس قدر بلند آواز سے پڑھیں کہ مشرکین چڑ کر بکنے جھکنے لگیں نہ اس قدر پست آواز سے پڑھیں کہ آپ کے صحابہ بھی نہ سن سکیں بلکہ اس کے درمیان کا راستہ ڈھونڈ نکالیں یعنی نہ بہت بلند نہ بہت آہستہ۔ یہاں بھی فرمایا کہ بہت بلند آواز سے نہ ہو اور غافل نہ بننا۔ امام ابن جریر اور ان سے پہلے حضرت عبدالرحمن بن زید بن اسلم نے فرمایا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں قرآن کے سننے والے کو جو خاموشی کا حکم تھا اسی کو دہرایا جا رہا ہے کہ اللہ کا ذکر اپنی زبان سے اپنے دل میں کیا کرو۔ لیکن یہ بعید ہے اور انصاف کے منافی ہے جس کا حکم فرمایا گیا ہے اور یہ کہ مراد اس سے یا تو نماز میں ہے یا نماز اور خطبے میں اور یہ ظاہر ہے کہ اس وقت خاموشی بہ نسبت ذکر ربانی کے افضل ہے۔ خواہ وہ پوشیدہ ہو خواہ ظاہر پس ان دونوں کی متابعت نہیں کی گئی۔ پس مراد اس سے بندوں کو صبح شام ذکر کی کثرت کی رغبت دلانا ہے تاکہ وہ غافلوں میں سے نہ ہوجائیں۔ (ان دونوں بزرگوں کے علاوہ حضرت عبداللہ بن عباس وغیرہ کا بھی یہی فرمان ہے۔ تفسیر بیضاوی وغیرہ میں بھی یہی ہے دونوں آیتوں کے ظاہری ربط کا تقاضا بھی یہی ہے واللہ اعلم) اسی لئے فرشتوں کی تعریف بیان ہوئی کہ وہ رات دن اللہ کی تسبیح میں لگے رہتے ہیں بالکل تھکتے نہیں۔ پس فرماتا ہے کہ جو تیرے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے۔ ان کا ذکر اس لئے کیا کہ اس کثرت عبادت و اطاعت میں ان کی اقتدا کی جائے، اسی لئے ہمارے لئے بھی شریعت نے سجدہ مقرر کیا فرشتے بھی سجدہ کرتے رہتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے تم اسی طرح صفیں کیوں نہیں باندھتے جیسے کہ فرشتے اپنے رب کے پاس صفیں باندھتے ہیں کہ وہ پہلے اول صف کو پورا کرتے ہیں اور صفوں میں ذرا سی بھی گنجائش اور جگہ باقی نہیں چھوڑتے۔ اس آیت پر اجماع کے ساتھ سجدہ واجب ہے پڑھنے والے پر بھی اور سننے والے پر بھی۔ قرآن میں تلاوت کا پہلا سجدہ یہی ہے۔ ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کو سجدے کی آیتوں میں سے گنا۔ الحمد اللہ سورة اعراف کی تفسیر ختم ہوئی۔
Tafsir Ibn Kathir
يَأْمُرُ تَعَالَى بِذِكْرِهِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَآخِرَهُ، كَمَا أَمَرَ بِعِبَادَتِهِ فِي هَذَيْنَ الْوَقْتَيْنِ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ﴾ [ق:٣٩] وَقَدْ كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ، وَهَذِهِ الْآيَةُ مَكِّيَّةٌ.
وَقَالَ هَاهُنَا بِالْغُدُوِّ -وَهُوَ أَوَائِلُ النَّهَارِ: ﴿وَالآصَالِ﴾ جَمْعُ أَصِيلٍ، كَمَا أَنَّ الْأَيْمَانَ جَمْعُ يَمِينٍ.
وَأَمَّا قَوْلُهُ: ﴿تَضَرُّعًا وَخِيفَةً﴾ أَيِ: اذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ رهبة ورغبة، وبالقول لا جهرًا؛ ولهذا قَالَ: ﴿وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ﴾ وَهَكَذَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يَكُونَ الذِّكْرُ لَا يَكُونُ نِدَاءً وَ [لَا] [[زيادة من أ.]] جَهْرًا بَلِيغًا؛ وَلِهَذَا لَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالُوا: أَقَرِيبٌ رَبُّنَا فَنُنَاجِيهِ أَمْ بَعِيدٌ فَنُنَادِيهِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ﴾ [الْبَقَرَةِ:١٨٦] [[رواه الطبري في تفسيره (٣/٤٨٠) من طريق عبدة السجستاني، عن الصلت بن حكيم، عن أبيه، عن جده فذكره، وقد سبق الكلام عليه عند الآية: ١٨٦ من سورة البقرة.]]
وَفِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: رَفَعَ النَّاسُ أَصْوَاتَهُمْ بِالدُّعَاءِ فِي بَعْضِ الْأَسْفَارِ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ: "أَيُّهَا النَّاسُ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّكُمْ لَا تدعون أصمَّ وَلَا غَائِبًا؛ إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ" [[صحيح البخاري برقم (٤٢٠٥) وصحيح مسلم برقم (٢٧٠٤) .]]
وَقَدْ يَكُونُ الْمُرَادُ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ كَمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ:١١٠] فَإِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا إِذَا سَمِعُوا الْقُرْآنَ سَبُّوهُ، وَسَبُّوا مَنْ أَنْزَلَهُ، وَ [سَبُّوا] [[زيادة من د.]] مَنْ جَاءَ بِهِ؛ فَأَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَلَّا يَجْهَرَ بِهِ، لِئَلَّا يَنَالَ مِنْهُ الْمُشْرِكُونَ، وَلَا يُخَافِتَ بِهِ عَنْ أَصْحَابِهِ فَلَا يُسْمِعُهُمْ، وَلْيَتَّخِذْ سَبِيلًا بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْإِسْرَارِ. وَكَذَا قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ: ﴿وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالآصَالِ وَلا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ﴾
وَقَدْ زَعَمَ ابْنُ جَرِيرٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَبْلَهُ: أَنَّ الْمُرَادَ بِهَذِهِ الْآيَةِ: أَمْرُ السَّامِعِ لِلْقُرْآنِ فِي حَالِ اسْتِمَاعِهِ بِالذِّكْرِ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ. وَهَذَا بِعِيدٌ مَنَافٍ لِلْإِنْصَاتِ الْمَأْمُورِ بِهِ، ثُمَّ الْمُرَادُ بِذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ، كَمَا تَقَدَّمَ، أَوِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ، وَمَعْلُومٌ أَنَّ الْإِنْصَاتَ إِذْ ذَاكَ أَفْضَلُ مِنَ الذِّكْرِ بِاللِّسَانِ، سَوَاءً كَانَ سِرًّا أَوْ جَهْرًا، فَهَذَا الَّذِي قَالَاهُ لَمْ يُتَابَعَا عَلَيْهِ، بَلِ الْمُرَادُ الْحَضُّ عَلَى كَثْرَةِ الذِّكْرِ مِنَ الْعِبَادِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ، لِئَلَّا يَكُونُوا مِنَ الْغَافِلِينَ؛ وَلِهَذَا مَدَحَ الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ، فَقَالَ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ [وَيُسَبِّحُونَهُ وَلَهُ يَسْجُدُونَ] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ، وفي هـ: "الآية".]] وَإِنَّمَا ذَكَّرَهُمْ بِهَذَا لِيُتَشَبَّهَ بِهِمْ فِي كَثْرَةِ طَاعَتِهِمْ وَعِبَادَتِهِمْ؛ وَلِهَذَا شُرِعَ لَنَا السُّجُودَ هَاهُنَا لَمَّا ذُكِرَ سُجُودُهُمْ لِلَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ: "أَلَا تُصَفُّونَ كَمَا تُصَفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا، يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الأوَل، ويتَراصُّون فِي الصَّفِّ" [[رواه مسلم في صحيحه برقم (٤٣٠) من حديث جابر بن سمرة، رضي الله عنه.]]
وَهَذِهِ أَوَّلُ سَجْدَةٍ فِي الْقُرْآنِ، مِمَّا يُشْرَعُ لِتَالِيهَا وَمُسْتَمِعِهَا السُّجُودُ بِالْإِجْمَاعِ. وَقَدْ وَرَدَ فِي حَدِيثٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ عَدَّهَا فِي سَجْدَاتِ الْقُرْآنِ [[سنن ابن ماجة برقم (١٠٥٦) .]]
آخَرُ [تَفْسِيرِ] [[زيادة من ك، م.]] سُورَةِ الْأَعْرَافِ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ والمنة.
إِنَّ ٱلَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِۦ وَيُسَبِّحُونَهُۥ وَلَهُۥ يَسْجُدُونَ ۩
Indeed, those who are near your Lord are not prevented by arrogance from His worship, and they exalt Him, and to Him they prostrate.
جو لوگ تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے گردن کشی نہیں کرتے اور اس پاک ذات کو یاد کرتے اور اس کے آگے سجدے کرتے رہتے ہیں
آنها که (در مقام قرب) نزد پروردگار تو هستند، (هیچگاه) از عبادتش تکبر نمیورزند، و او را تسبیح میگویند، و برایش سجده میکنند.
Tafsir Ibn Kathir
And remember your Lord within yourself, humbly and with fear and without loudness in words in the mornings and in the afternoons, and be not of those who are neglectful (205)Surely, those who are with your Lord (angels) are never too proud to perform acts of worship to Him, but they glorify His praise and prostrate themselves before Him (206)
Remembering Allah in the Mornings and Afternoons
Allah ordains that He be remembered more often in the mornings and the afternoons. Just as He ordered that He be worshipped during these two times when He said,
وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ
(And glorify the praises of your Lord, before the rising of the sun and before (its) setting.)[50:39]
Before the night of Isra', when the five daily prayers were ordained, this Ayah was revealed in Makkah ordering that Allah be worshipped at these times, Allah said next,
تَضَرُّعًا وَخِيفَةً
(humbly and with fear) meaning, remember your Lord in secret, not loudly, with eagerness and fear. This is why Allah said next,
وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ
(and without loudness in words). Therefore, it is recommended that remembering Allah in Dhikr is not performed in a loud voice. When the Companions asked the Messenger of Allah, "Is our Lord close, so that we call Him in secret, or far, so that we raise our voices?" Allah sent down the verse,
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ
(And when My servants ask you concerning Me, then (answer them), I am indeed near (to them by My knowledge). I respond to the invocations of the supplicant when he calls on Me (without any mediator or intercessor).)[2:186]
In the Two Sahihs, it is recorded that Abu Musa Al-Ash'ari said, "The people raised their voices with Du'a' (invoking Allah) while travelling. The Prophet ﷺ said to them,
يَا أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلِتهِ
(O people! Take it easy on yourselves, for He Whom you are calling is not deaf or absent. Verily, He Whom you are calling is the All-Hearer, close (by His knowledge), closer to one of you than the neck of his animal.)"
These texts encourage the servants to invoke Allah in Dhikr often, especially in the mornings and afternoons, so that they are not among those who neglect remembering Him. This is why Allah praised the angels who praise Him night and day without tiring,
إِنَّ الَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ
(Surely, those who are with your Lord (i.e., angels) are never too proud to perform acts of worship to Him)
Allah reminded the servants of this fact so that they imitate the angels in their tireless worship and obedience of Allah. Prostration, here, upon the mention that the angels prostrate to Allah is legitimate. A Hadith reads;
أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ
(Why not you stand in line (for the prayer) like the angels stand in line before their Lord? They continue the first then the next lines and they stand close to each other in line.)
This is the first place in the Qur'an where it has been legitimized – according to the agreement of the scholars – for the readers of the Qur'an, and those listening to its recitation, to perform prostration.
Tafsir Ibn Kathir
اللہ کی یاد بکثرت کرو مگر خاموشی سے اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے کہ صبح شام اس کی بکثرت یاد کر۔ یہاں بھی یہ فرمایا اور جگہ بھی ہے آیت (فسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب) یعنی اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کیا کرو سورج طلوع اور سورج غروب ہونے سے پہلے۔ یہ آیت مکیہ ہے اور یہ حکم معراج سے پہلے کا ہے غدو کہتے ہیں دن کے ابتدائی حصے کو اصال جمع ہے اصیل کی۔ جیسے کہ ایمان جمع ہے یمین کی۔ حکم دیا کہ رغبت، لالچ اور ڈر خوف کے ساتھ اللہ کی یاد اپنے دل میں اپنی زبان سے کرتے رہو چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں۔ اسی لئے مستحب یہی ہے کہ پکار کے ساتھ اللہ کی یاد اپنے دل میں اپنی زبان سے کرتے رہو چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں۔ اسی لئے مستحب یہی ہے کہ پکار کے ساتھ اور چلا چلا کر اللہ کا ذکر نہ کیا جائے۔ صحابہ نے جب حضور سے سوال کیا کہ کیا ہمارا رب قریب ہے کہ ہم اس سے سرگوشی چپکے چپکے کرلیا کریں یا دور ہے کہ ہم پکار پکار کر آوازیں دیں ؟ تو اللہ تعالیٰ جل و علا نے یہ آیت اتاری (واذا سألک عبادی عنی الخ) ، جب میرے بندے تجھ سے میری بابت سوال کریں تو جواب دے کہ میں بہت ہی نزدیک ہوں۔ دعا کرنے والے کی دعا کو جب بھی وہ مجھ سے دعا کرے قبول فرمالیا کرتا ہوں۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ لوگوں نے ایک سفر میں باآواز بلند دعائیں کرنی شروع کیں تو آپ نے فرمایا لوگو اپنی جانوں پر ترس کھاؤ تم کسی بہرے کو یا کسی غائب کو نہیں پکار رہے جسے تم پکارتے ہو وہ تو بہت ہی پست آواز سننے والا اور بہت ہی قریب ہے تمہاری سواری کی گردن جتنی تم سے قریب ہے اس سے بھی زیادہ وہ تم سے نزدیک ہے، ہوسکتا ہے کہ مراد اس آیت سے بھی وہی ہو جو آیت (ولا تجھر بصلاتک الخ) ، سے ہے۔ مشرکین قرآن سن کر قرآن کو جبرائل کو، رسول اللہ ﷺ کو اور خود اللہ تعالیٰ کو گالیاں دینے لگتے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ نہ تو آپ اس قدر بلند آواز سے پڑھیں کہ مشرکین چڑ کر بکنے جھکنے لگیں نہ اس قدر پست آواز سے پڑھیں کہ آپ کے صحابہ بھی نہ سن سکیں بلکہ اس کے درمیان کا راستہ ڈھونڈ نکالیں یعنی نہ بہت بلند نہ بہت آہستہ۔ یہاں بھی فرمایا کہ بہت بلند آواز سے نہ ہو اور غافل نہ بننا۔ امام ابن جریر اور ان سے پہلے حضرت عبدالرحمن بن زید بن اسلم نے فرمایا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں قرآن کے سننے والے کو جو خاموشی کا حکم تھا اسی کو دہرایا جا رہا ہے کہ اللہ کا ذکر اپنی زبان سے اپنے دل میں کیا کرو۔ لیکن یہ بعید ہے اور انصاف کے منافی ہے جس کا حکم فرمایا گیا ہے اور یہ کہ مراد اس سے یا تو نماز میں ہے یا نماز اور خطبے میں اور یہ ظاہر ہے کہ اس وقت خاموشی بہ نسبت ذکر ربانی کے افضل ہے۔ خواہ وہ پوشیدہ ہو خواہ ظاہر پس ان دونوں کی متابعت نہیں کی گئی۔ پس مراد اس سے بندوں کو صبح شام ذکر کی کثرت کی رغبت دلانا ہے تاکہ وہ غافلوں میں سے نہ ہوجائیں۔ (ان دونوں بزرگوں کے علاوہ حضرت عبداللہ بن عباس وغیرہ کا بھی یہی فرمان ہے۔ تفسیر بیضاوی وغیرہ میں بھی یہی ہے دونوں آیتوں کے ظاہری ربط کا تقاضا بھی یہی ہے واللہ اعلم) اسی لئے فرشتوں کی تعریف بیان ہوئی کہ وہ رات دن اللہ کی تسبیح میں لگے رہتے ہیں بالکل تھکتے نہیں۔ پس فرماتا ہے کہ جو تیرے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے۔ ان کا ذکر اس لئے کیا کہ اس کثرت عبادت و اطاعت میں ان کی اقتدا کی جائے، اسی لئے ہمارے لئے بھی شریعت نے سجدہ مقرر کیا فرشتے بھی سجدہ کرتے رہتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے تم اسی طرح صفیں کیوں نہیں باندھتے جیسے کہ فرشتے اپنے رب کے پاس صفیں باندھتے ہیں کہ وہ پہلے اول صف کو پورا کرتے ہیں اور صفوں میں ذرا سی بھی گنجائش اور جگہ باقی نہیں چھوڑتے۔ اس آیت پر اجماع کے ساتھ سجدہ واجب ہے پڑھنے والے پر بھی اور سننے والے پر بھی۔ قرآن میں تلاوت کا پہلا سجدہ یہی ہے۔ ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کو سجدے کی آیتوں میں سے گنا۔ الحمد اللہ سورة اعراف کی تفسیر ختم ہوئی۔
Tafsir Ibn Kathir
يَأْمُرُ تَعَالَى بِذِكْرِهِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَآخِرَهُ، كَمَا أَمَرَ بِعِبَادَتِهِ فِي هَذَيْنَ الْوَقْتَيْنِ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ﴾ [ق:٣٩] وَقَدْ كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ، وَهَذِهِ الْآيَةُ مَكِّيَّةٌ.
وَقَالَ هَاهُنَا بِالْغُدُوِّ -وَهُوَ أَوَائِلُ النَّهَارِ: ﴿وَالآصَالِ﴾ جَمْعُ أَصِيلٍ، كَمَا أَنَّ الْأَيْمَانَ جَمْعُ يَمِينٍ.
وَأَمَّا قَوْلُهُ: ﴿تَضَرُّعًا وَخِيفَةً﴾ أَيِ: اذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ رهبة ورغبة، وبالقول لا جهرًا؛ ولهذا قَالَ: ﴿وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ﴾ وَهَكَذَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يَكُونَ الذِّكْرُ لَا يَكُونُ نِدَاءً وَ [لَا] [[زيادة من أ.]] جَهْرًا بَلِيغًا؛ وَلِهَذَا لَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالُوا: أَقَرِيبٌ رَبُّنَا فَنُنَاجِيهِ أَمْ بَعِيدٌ فَنُنَادِيهِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ﴾ [الْبَقَرَةِ:١٨٦] [[رواه الطبري في تفسيره (٣/٤٨٠) من طريق عبدة السجستاني، عن الصلت بن حكيم، عن أبيه، عن جده فذكره، وقد سبق الكلام عليه عند الآية: ١٨٦ من سورة البقرة.]]
وَفِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: رَفَعَ النَّاسُ أَصْوَاتَهُمْ بِالدُّعَاءِ فِي بَعْضِ الْأَسْفَارِ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ: "أَيُّهَا النَّاسُ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّكُمْ لَا تدعون أصمَّ وَلَا غَائِبًا؛ إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ" [[صحيح البخاري برقم (٤٢٠٥) وصحيح مسلم برقم (٢٧٠٤) .]]
وَقَدْ يَكُونُ الْمُرَادُ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ كَمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ:١١٠] فَإِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا إِذَا سَمِعُوا الْقُرْآنَ سَبُّوهُ، وَسَبُّوا مَنْ أَنْزَلَهُ، وَ [سَبُّوا] [[زيادة من د.]] مَنْ جَاءَ بِهِ؛ فَأَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَلَّا يَجْهَرَ بِهِ، لِئَلَّا يَنَالَ مِنْهُ الْمُشْرِكُونَ، وَلَا يُخَافِتَ بِهِ عَنْ أَصْحَابِهِ فَلَا يُسْمِعُهُمْ، وَلْيَتَّخِذْ سَبِيلًا بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْإِسْرَارِ. وَكَذَا قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ: ﴿وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالآصَالِ وَلا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ﴾
وَقَدْ زَعَمَ ابْنُ جَرِيرٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَبْلَهُ: أَنَّ الْمُرَادَ بِهَذِهِ الْآيَةِ: أَمْرُ السَّامِعِ لِلْقُرْآنِ فِي حَالِ اسْتِمَاعِهِ بِالذِّكْرِ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ. وَهَذَا بِعِيدٌ مَنَافٍ لِلْإِنْصَاتِ الْمَأْمُورِ بِهِ، ثُمَّ الْمُرَادُ بِذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ، كَمَا تَقَدَّمَ، أَوِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ، وَمَعْلُومٌ أَنَّ الْإِنْصَاتَ إِذْ ذَاكَ أَفْضَلُ مِنَ الذِّكْرِ بِاللِّسَانِ، سَوَاءً كَانَ سِرًّا أَوْ جَهْرًا، فَهَذَا الَّذِي قَالَاهُ لَمْ يُتَابَعَا عَلَيْهِ، بَلِ الْمُرَادُ الْحَضُّ عَلَى كَثْرَةِ الذِّكْرِ مِنَ الْعِبَادِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ، لِئَلَّا يَكُونُوا مِنَ الْغَافِلِينَ؛ وَلِهَذَا مَدَحَ الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ، فَقَالَ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ [وَيُسَبِّحُونَهُ وَلَهُ يَسْجُدُونَ] ﴾ [[زيادة من ك، م، أ، وفي هـ: "الآية".]] وَإِنَّمَا ذَكَّرَهُمْ بِهَذَا لِيُتَشَبَّهَ بِهِمْ فِي كَثْرَةِ طَاعَتِهِمْ وَعِبَادَتِهِمْ؛ وَلِهَذَا شُرِعَ لَنَا السُّجُودَ هَاهُنَا لَمَّا ذُكِرَ سُجُودُهُمْ لِلَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ: "أَلَا تُصَفُّونَ كَمَا تُصَفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا، يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الأوَل، ويتَراصُّون فِي الصَّفِّ" [[رواه مسلم في صحيحه برقم (٤٣٠) من حديث جابر بن سمرة، رضي الله عنه.]]
وَهَذِهِ أَوَّلُ سَجْدَةٍ فِي الْقُرْآنِ، مِمَّا يُشْرَعُ لِتَالِيهَا وَمُسْتَمِعِهَا السُّجُودُ بِالْإِجْمَاعِ. وَقَدْ وَرَدَ فِي حَدِيثٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ عَدَّهَا فِي سَجْدَاتِ الْقُرْآنِ [[سنن ابن ماجة برقم (١٠٥٦) .]]
آخَرُ [تَفْسِيرِ] [[زيادة من ك، م.]] سُورَةِ الْأَعْرَافِ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ والمنة.