1
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ إِذَا جَآءَكَ ٱلْمُنَٰفِقُونَ قَالُوا۟ نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُۥ وَٱللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ ٱلْمُنَٰفِقِينَ لَكَٰذِبُونَ
When the hypocrites come to you, [O Muhammad], they say, "We testify that you are the Messenger of Allah." And Allah knows that you are His Messenger, and Allah testifies that the hypocrites are liars.
(اے محمدﷺ) جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو (از راہ نفاق) کہتے ہیں کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ بےشک خدا کے پیغمبر ہیں اور خدا جانتا ہے کہ درحقیقت تم اس کے پیغمبر ہو لیکن خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ منافق (دل سے اعتقاد نہ رکھنے کے لحاظ سے) جھوٹے ہیں
هنگامی که منافقان نزد تو آیند میگویند: «ما شهادت میدهیم که یقیناً تو رسول خدایی!» خداوند میداند که تو رسول او هستی، ولی خداوند شهادت میدهد که منافقان دروغگو هستند (و به گفته خود ایمان ندارند).
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ - اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ - ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ - وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ ۖ وَإِنْ يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ ۖ كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ ۖ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ ۚ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ ۚ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ۖ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ
(1. When the hypocrites come to you, they say: "We bear witness that you are indeed the Messenger of Allah." Allah knows that you are indeed His Messenger, and Allah bears witness that the hypocrites are liars indeed.)(2. They have made their oaths a screen. Thus they hinder (others) from the path of Allah. Verily, evil is what they used to do.)(3. That is because they believed, and then disbelieved; therefore their hearts are sealed, so they understand not.)(4. And when you look at them, their bodies please you; and when they speak, you listen to their words. They are as blocks of wood propped up. They think that every cry is against them. They are the enemies, so beware of them. May Allah curse them! How are they denying the right path?)
The Case of the Hypocrites and their Behavior
Allah the Exalted states that the hypocrites pretended to be Muslims when they went to the Prophet ﷺ. In reality, they were not Muslims, but rather the opposite. This is why Allah the Exalted said,
إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ ۗ
(When the hypocrites come to you, they say: "We bear witness that you are indeed the Messenger of Allah.") meaning, 'when the hypocrites come to you, they announce this statement and pretend to believe in it.' Allah informs that there is no substance to their statement, and this is why He said,
وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ
(Allah knows that you are indeed His Messenger,) then said,
وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ
(And Allah bears witness that the hypocrites are liars indeed.) meaning, their claims, even though it is true about the Prophet. But they did not believe inwardly in what they declared outwardly, and this is why Allah declared their falsehood about their creed. Allah's statement,
اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ۚ
(They have made their oaths a screen. Thus they hinder (others) from the path of Allah.) meaning, the hypocrites shield themselves from Muslims when they falsely and sinfully swear to be what they are not in reality. Some Muslims were deceived because they did not know their falsehood, and thus, thought that they were Muslims. Some Muslims believed what hypocrites say and even imitated them in their outward behavior. However, inwardly, hypocrites seek the destruction of Islam and its people, and this is why trusting them might bring great harm to many people. This is why Allah said next,
فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(Thus they hinder (others) from the path of Allah. Verily, evil is what they used to do.) Allah said,
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ
(That is because they believed, and then disbelieved; therefore their hearts are sealed, so they understand not.) meaning, He has decreed them to be hypocrites because they reverted from faith to disbelief and exchanged guidance for misguidance. Therefore, Allah stamped and sealed their hearts and because of it, they cannot comprehend the guidance, nor any goodness can reach their hearts. Truly, their hearts neither understand, nor attain guidance. Allah said,
وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ ۖ وَإِنْ يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ
(And when you look at them, their bodies please you; and when they speak, you listen to their words.) meaning, hypocrites have a graceful outer appearance and are eloquent. When one hears them speak, he will listen to their eloquent words, even though hypocrites are truly weak and feeble, full of fear, fright and cowardice. Allah's statement,
يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ ۚ
(They think that every cry is against them.) means, every time an incident occurs or something frightening happens, they think that it is headed their way. This is indicative of their cowardice, just as Allah said about them,
أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ ۖ فَإِذَا جَاءَ الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشَىٰ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ فَإِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوكُمْ بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ أَشِحَّةً عَلَى الْخَيْرِ ۚ أُولَٰئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوا فَأَحْبَطَ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا
(Being miserly towards you then when fear comes, you will see them looking to you, their eyes revolving like (those of) one over whom hovers death; but when the fear departs, they will smite you with sharp tongues, miserly towards good. Such have not believed. Therefore Allah makes their deeds fruitless and that is ever easy for Allah.)(33:19)
They are shapes that do not have much substance, and this is why Allah said,
هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ ۚ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ۖ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ
(They are the enemies, so beware of them. May Allah curse them! How are they denying the right path?) means, how they are being led astray to the misguidance, away from the guidance.
Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet ﷺ said,
إِنَّ لِلْمُنَافِقِينَ عَلَامَاتٍ يُعْرَفُونَ بِهَا: تَحِيَّتُهُمْ لَعْنَةٌ وَطَعَامُهُمْ نُهْبَةٌ وَغَنِيمَتُهُمْ غُلُولٌ لَا يَقْرَبُونَ الْمَسَاجِدَ إِلَّا هَجْرًا، وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا دَبْرًا، مُسْتَكْبِرِينَ لَا يَأْلَفُونَ وَلَا يُؤْلَفُونَ، خُشُبٌ بِاللَّيْلِ صُخُبٌ بِالنَّهَارِ - وفِي رِوَايَةٍ - سُخُبٌ بِالنَّهَارِ
(Hypocrites have certain signs that they are known by. Their greeting is really a curse, their food is from stealing and the war booty they collect is from theft. They shun the Masjid and they do not come to the prayer but at its end. They are arrogant; it is neither easy for them to blend in, nor it is easy for people to blend with them. They are like pieces of wood by night and are noisy by day.) Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ منافقوں کے نفاق کو ظاہر کرتا ہے کہ گویہ تیرے پاس آ کر قسمیں کھا کھا کر اپنے اسلام کا اظہار کرتے ہیں تیری رسالت کا اقرار کرتے ہیں مگر درصال دل کے کھوٹے ہیں، فی الواقع آپ رسول اللہ بھی ہیں، ان کا یہ قول بھی ہے مگر چونکہ دل میں اس کا کوئی اثر نہیں، لہذا یہ جھوٹے ہیں۔ یہ تجھے رسول اللہ مانتے ہیں، اس بارے میں اگر یہ سچے ہونے کے لئے قسمیں بھی کھائیں لیکن آپ یقین نہ کیجئے۔ یہ قسمیں تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے یہ تو اپنے جھوٹ کو سچ بنانے کا ایک ذریعہ ہیں، مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان سے ہوشیار ہیں کہیں انہیں سچا ایماندار سمجھ کر کسی بات میں ان کی تقلید نہ کرنے لگیں کہ یہ اسلام کے رنگ میں تم کو کفر کا ارتکاب کرا دیں، یہ بد اعمال لوگ اللہ کی راہ سے دور ہیں۔ ضحاک کی قرأت میں ابمانھم الف کی زیر کے ساتھ ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ انہوں نے اپنی ظاہری تصدیق کو اپنے لئے تقیہ بنا لیا ہے کہ قتل سے اور حکم کفر سے دنیا میں بچ جائیں۔ یہ نفاق ان کے دلوں میں اس گناہ کی شومی کے باعث رچ گیا ہے کہ ایمان سے پھر کر کفر کی طرف اور ہدایت سے ہٹ کر ضلالت کی جانب آگئے ہیں، اب دلوں پر مہر الٰہی لگ چکی ہے اور بات کی تہہ کو پہنچنے کی قابلیت سلب ہوچکی ہے، بظاہر تو خوش رو خوش گو ہیں اس فصاحت اور بلاغت سے گفتگو کرتے ہیں کہ خواہ مخواہ دوسرے کے دل کو مائل کرلیں، لیکن باطن میں بڑے کھوٹے بڑے کمزور دل والے نامرد اور بدنیت ہیں، جہاں کوئی بھی واقعہ رونما ہوا اور سمجھ بیٹھے کہ ہائے مرے، اور جگہ ہے اشحتہ علیکم الخ تمہارے مقابلہ میں بخل کرتے ہیں، پھر جس وقت خوف ہوتا ہے تو تمہاری طرف اس طرح آنکھیں پھیر پھیر کر دیکھتے ہیں گویا کسی شخص پر موت کی بیہوشی طاری ہے، پھر جب خوف چلا جاتا ہے تو تمہیں اپنی بدکلامی سے ایذاء دیتے ہیں اور مال غنیمت کی حرص میں نہ کہنے کی باتیں کہہ گذرتے ہیں یہ بےایمان ہیں ان کے اعمال غارت ہیں اللہ پر یہ امر نہایت ہی آسان ہے، پس ان کی یہ آوازیں خالی پیٹ کے ڈھول کی بلند بانگ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتیں یہی تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں اور ثقہ اور مسکین صورتوں کے دھوکے میں نہ آجانا، اللہ انہیں برباد کرے ذرا سوچیں تو کیوں ہدایت کو چھوڑ کر بےراہی پر چل رہے ہیں ؟ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منافقوں کی بہت سی علامتیں ہیں جن سے وہ پہچان لئے جاتے ہیں ان کا سلام لعنت ہے ان کی خوراک لوٹ مار ہے ان کی غنیمت حرام اور خیانت ہے وہ مسجدوں کی نزدیکی ناپسند کرتے ہیں وہ نمازوں کے لئے آخری وقت آتے ہیں تکبر اور نحوت والے ہوتے ہیں نرمی اور سلوک تواضع اور انکساری سے محروم ہوتے ہیں نہ خود ان کاموں کو کریں نہ دوسروں کے ان کاموں کو وقعت کی نگاہ سے دیکھیں رات کی لکڑیاں اور دن کے شور و غل کرنیوالے اور روایت میں ہے دن کو خوب کھانے پینے والے اور رات کو خشک لکڑیوں کی طرح پڑ رہنے والے۔ Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُنَافِقُونَ
وَهِيَ مَدَنِيَّةٌ [[فضائل هذه السورة ذكرت في أول سورة الجمعة.]]
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْمُنَافِقِينَ: إِنَّهُمْ إِنَّمَا يَتَفَوَّهُونَ بِالْإِسْلَامِ إِذَا جَاءُوا النَّبِيَّ ﷺ فَأَمَّا فِي بَاطِنِ الْأَمْرِ فَلَيْسُوا كَذَلِكَ، بَلْ عَلَى الضِّدِّ مِنْ ذَلِكَ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ﴾ أَيْ: إِذَا حَضَروا عِنْدَكَ [[في أ: "إليك".]] وَاجَهُوكَ بِذَلِكَ، وَأَظْهَرُوا لَكَ ذَلِكَ، وَلَيْسُوا كَمَا يَقُولُونَ: وَلِهَذَا اعْتَرَضَ بِجُمْلَةٍ مُخْبِرَةٍ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: ﴿اللَّهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ﴾
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ﴾ أَيْ: فِيمَا أَخْبَرُوا بِهِ، وَإِنْ كَانَ مُطَابِقًا لِلْخَارِجِ؛ لِأَنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْتَقِدُونَ صِحَّةَ مَا يَقُولُونَ وَلَا صِدْقَهُ؛ وَلِهَذَا كَذَّبَهُمْ بِالنِّسْبَةِ إِلَى اعْتِقَادِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ﴾ أَيِ: اتَّقَوُا النَّاسَ بِالْأَيْمَانِ الْكَاذِبَةِ والحَلْفات الْآثِمَةِ، لِيُصَدَّقُوا فِيمَا يَقُولُونَ، فَاغْتَرَّ بِهِمْ مَنْ لَا يَعْرِفُ جَلِيَّةَ أَمْرِهِمْ، فَاعْتَقَدُوا أَنَّهُمْ مُسْلِمُونَ [[في أ: "فاعتقدهم مسلمين".]] فَرُبَّمَا اقْتَدَى بِهِمْ فِيمَا يَفْعَلُونَ وَصَدَّقَهُمْ فِيمَا يَقُولُونَ، وَهُمْ مِنْ [[في م: "في".]] شَأْنِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا [[في أ: "كانوا يقولون".]] فِي الْبَاطِنِ لَا يَأْلُونَ الْإِسْلَامَ وَأَهْلَهُ خَبَلا فَحَصَلَ بِهَذَا الْقَدْرِ ضَرَرٌ كَبِيرٌ [[في أ: "كثير".]] عَلَى كَثِيرٍ مِنَ النَّاسِ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ وَلِهَذَا كَانَ الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحم يَقْرَؤُهَا: "اتَّخَذُوا إيمَانَهُمْ جُنَّةً" أَيْ: تَصْدِيقَهُمُ الظَّاهِرَ جُنَّة، أَيْ: تَقِيَّةً يَتَّقُونَ بِهِ الْقَتْلَ. وَالْجُمْهُورُ يَقْرَؤُهَا: [[في م، أ: "قرؤوها".]] ﴿أَيْمَانَهُمْ﴾ جَمْعُ يَمِينٍ.
[وَقَوْلُهُ] [[زيادة من م، أ.]] ﴿ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطُبِعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ﴾ أي: إنما قُدّر عليهم النِّفَاقُ لِرُجُوعِهِمْ عَنِ الْإِيمَانِ إِلَى الْكُفْرَانِ، وَاسْتِبْدَالِهِمُ الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى ﴿فَطُبِعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ﴾ أَيْ: فَلَا يَصِلُ إِلَى قُلُوبِهِمْ هُدًى، وَلَا يَخْلُصُ إِلَيْهَا خَيْرٌ، فَلَا تَعِي وَلَا تَهْتَدِي.
﴿وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ وَإِنْ يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ﴾ أَيْ: كَانُوا أَشْكَالًا حَسَنَةً وَذَوِي فَصَاحَةٍ وَأَلْسِنَةٍ، إِذَا سَمِعَهُمُ السَّامِعُ يُصْغِي إِلَى قَوْلِهِمْ [[في م: "إلى قلوبهم".]] لِبَلَاغَتِهِمْ، وَهُمْ مَعَ ذَلِكَ فِي غَايَةِ الضَّعْفِ والخَور وَالْهَلَعِ وَالْجَزَعِ وَالْجُبْنِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ﴾ أَيْ: كُلَّمَا وَقَعَ أَمْرٌ أَوْ كَائِنَةٌ أَوْ خَوْفٌ، يَعْتَقِدُونَ، لِجُبْنِهِمْ، أَنَّهُ نَازِلٌ بِهِمْ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ فَإِذَا جَاءَ الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشَى عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ فَإِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوكُمْ بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ أَشِحَّةً عَلَى الْخَيْرِ أُولَئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوا فَأَحْبَطَ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا﴾ [الْأَحْزَابِ: ١٩] فَهُمْ جَهَامات وَصُوَرٌ بِلَا مَعَانِي. وَلِهَذَا قَالَ: ﴿هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ﴾ أَيْ: كَيْفَ يُصرَفون عَنِ الْهُدَى إِلَى الضَّلَالِ.
وَقَدْ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامة الجُمَحي، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ بَكْرِ [[في أ: "بكير".]] بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ. عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ لِلْمُنَافِقِينَ عَلَامَاتٍ يُعْرَفُونَ بِهَا: تَحِيَّتُهُمْ لَعْنَةٌ، وَطَعَامُهُمْ نُهبَة، وَغَنِيمَتُهُمْ غُلُولٌ، وَلَا يَقَرَبُونَ الْمَسَاجِدَ إِلَّا هُجْرا وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا دُبْرا، مُسْتَكْبِرِينَ لَا يألَفون وَلَا يُؤلَفون، خُشُبٌ بِاللَّيْلِ، صُخُب بِالنَّهَارِ". وقال يزيد مَرةً: سُخُبٌ بالنهار [[المسند (٢/٢٩٣) .]]