1
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ
Whatever is in the heavens and whatever is on the earth exalts Allah, and He is the Exalted in Might, the Wise.
جو چیز آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے سب خدا کی تنزیہ کرتی ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے
آنچه در آسمانها و آنچه در زمین است همه تسبیح خدا میگویند؛ و او شکستناپذیر و حکیم است!
Tafsir Ibn Kathir
The Virtues of Surat As-Saff
Imam Ahmad recorded that 'Abdullah bin Salam said, "We asked, 'Who among us should go to the Messenger ﷺ and ask him about the dearest actions to Allah?' None among us volunteered. The Messenger ﷺ sent a man to us and that man gathered us and recited this Surah, Surat As-Saff, in its entirety.'"
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ - كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ - إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ
(1. Whatsoever is in the heavens and whatsoever is on the earth glorifies Allah. And He is the Almighty, the All-Wise.)(2. O you who believe! Why do you say that which you do not do?)(3. Most hateful it is with Allah that you say that which you do not do.)(4. Verily, Allah loves those who fight in His cause in rows as if they were a solid structure.)
Chastising Those Who say what They do not do
We mentioned in many a places before the meaning of Allah's statement,
سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(Whatsoever is in the heavens and whatsoever is on the earth glorifies Allah. And He is the Almighty, the All-Wise.) Therefore, we do not need to repeat its meaning here. Allah's statement,
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ
(O you who believe! Why do you say that which you do not do?)
This refutes those who neglect to fulfill their promises. This honorable Ayah supports the view that several scholars of the Salaf held, that it is necessary to fulfill the promise, regardless of whether the promise includes some type of wealth for the person receiving the promise or otherwise. They also argue from the Sunnah, with the Hadith recorded in the Two Sahihs in which Allah's Messenger ﷺ said,
آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ
(There are three signs for a hypocrite: when he promises, he breaks his promise; when speaks, he lies; and when he is entrusted, he betrays.) And in another Hadith in the Sahih,
أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا،وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْ نِفَاقٍ حَتّٰى يَدَعَهَا
(There are four characteristics which if one has all of them, he is the pure hypocrite, and if anyone has any of them, he has a characteristic of hypocrisy, until he abandons it.)
So he mentioned breaking the promise among these four characteristics. We mentioned the meaning of these two Hadiths in the beginning of the explanation of Sahih Al-Bukhari, and to Allah is the praise and the thanks. Therefore Allah implied this meaning, when He continued His admonishment by saying,
كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ
(Most hateful it is with Allah that you say that which you do not do.)
Imam Ahmad and Abu Dawud recorded that 'Abdullah bin 'Amir bin Rabi'ah said, "Allah's Messenger ﷺ came to us while I was a young boy, and I went out to play. My mother said, 'O 'Abdullah! Come, I want to give you something.' Allah's Messenger ﷺ said to her,
وَمَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيَهُ؟
(What did you want to give him?) She said, 'Dates.' He said,
أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تَفْعَلِي كُتِبَتْ عَلَيْكِ كَذْبَةٌ
(If you had not given them to him, it would have been written as a lie in your record.)" Muqatil bin Hayyan said, "The faithful believers said, 'If we only knew the dearest good actions to Allah, we would perform them.' Thus, Allah told them about the dearest actions to Him,saying,
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا
(Verily, Allah loves those who fight in His cause in rows) Allah stated what He likes, and they were tested on the day of Uhud. However, they retreated and fled, leaving the Prophet ﷺ behind. It was about their case that Allah revealed this Ayah:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ
(O you who believe! Why do you say that which you do not do?) Allah says here, 'The dearest of you to Me, is he who fights in My cause.'"
Some said that it was revealed about the gravity of fighting in battle, when one says that he fought and endured the battle, even though he did not do so. Qatadah and Ad-Dahhak said that this Ayah was sent down to admonish some people who used to say that they killed, fought, stabbed, and did such and such during battle, even though they did not do any of it.
Sa'id bin Jubayr said about Allah's statement,
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا
(Verily, Allah loves those who fight in His cause in rows (ranks)) "Before Allah's Messenger ﷺ began the battle against the enemy, he liked to line up his forces in rows; in this Surah, Allah teaches the believers to do the same."
He also said that Allah's statement,
كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ
(as if they were a solid structure.) means, its parts are firmly connected to each other; in rows for battle. Muqatil bin Hayyan said, "Firmly connected to each other." Ibn 'Abbas commented on the meaning of the Ayah,
كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ
(as if they were a solid structure.) by saying, "They are like a firm structure that does not move, because its parts are cemented to each other." Tafsir Ibn Kathir
ایفائے عہد ایمان کی علامت ہے اور صف اتحاد کی علامت پہلی آیت کی تفسیر کئی بار گذر چکی ہے اب پھر اس کا اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ پھر ان لوگوں کا ذکر ہوتا ہے جو کہیں اور نہ کریں، وعدہ کریں اور وفا نہ کریں، بعض علمائ، سلف نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ وعدہ کا پورا کرنا مطلقاً واجب ہے جس سے وعدہ کیا ہے خواہ وہ تاکید کرے یا نہ کرے، ان کی دلیل بخاری و مسلم کی یہ حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منافق کی تین عادتیں ہوتی ہیں (1) جب وعدہ کرے خلاف کرے (2) جب بات کرے جھوٹ بولے (3) جب امانت دیا جائے خیانت کے، دوسری صحیح حدیث میں ہے چار باتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان چار میں سے ایک ہو اس میں ایک خصلت نفاق کی ہے جب تک اسے نہ چھوڑے۔ ان میں ایک عادت وعدہ خلافی کی ہے، شرح صحیح بخاری کی ابتدا میں ہم نے ان دونوں احادیث کی پوری شرح کردی ہے۔ فالحمد اللہ۔ اسی لئے یہاں بھی اس کی تاکید میں فرمایا گیا اللہ تعلیٰ کو یہ بات سخت ناپسند ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو، مسند احمد اور ابو داؤد میں حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ آئے میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا کھیل کود کے لئے جانے لگا تو میری والدہ نے مجھے آواز دے کر کہا ادھر آ کچھ دوں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کچھ دینا بھی چاہتی ہو ؟ میری والدہ نے کہا ہاں حضور ﷺ کھجوریں دوں گی آپ نے فرمایا پھر تو خیر ورنہ یاد رکھو کچھ نہ دینے کا ارادہ ہوتا اور یوں کہتیں تو تم پر ایک جھوٹ لکھا جاتا، حضرت امام مالک ؒ فرماتے ہیں کہ جب وعدے کے ساتھ وعدہ پورا کرنے کی تاکید کا تعلق ہو تو اس وعدے کو فوا کرنا واجب ہوجاتا ہے، مثلاً کسی شخص نے کسی سے کہہ دیا کہ تو نکاح کرلے اور اتنا اتنا ہر روز میں تجھے دیتا رہوں گا اس نے نکاح کرلیا تو جب نکاح باقی ہے اس شخص پر واجب ہے کہ اسے اپنے وعدے کے مطابق دیتا رہے اس لئے کہ اس میں آدمی کے حق کا تعلق ثابت ہوگیا جس پر اس سے باز پرس سختی کے ساتھ ہوسکتی ہے۔ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ایفاء عہد مطلق واجب ہی نہیں، اس آیت کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ جب لوگوں نے جہاد کی فرضیت کی خواہش کی اور فرض ہوگیا تو اب بعض لوگ دیکھنے لگے جس پر یہ آیت اتری، جیسے اور جگہ ہے۔ الخ یعنی کیا تو نے انہیں نہ دیکھا جن سے کہا گیا تم اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز و زکوٰۃ کا خیال رکھو، پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں ایسے لوگ بھی نکل آئے جو لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرتے ہیں بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ کہنے لگے پروردگار تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا ؟ کیوں ہمیں ایک وقت مقرر تک اس حکم کو موخر نہ کیا جو قریب ہی تو ہے۔ تو کہہ دے کہ اسباب دنیا تو بہت ہی کم ہیں ہاں پرہیزگاروں کے لئے آخرت بہترین چیز ہے۔ تم پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا تم کہیں بھی ہو تمہیں موت ڈھونڈ نکالے گی گو تم مضبوط محلوں میں ہو، اور جگہ ہے الخ، یعنی مسلمان کہتے ہیں کیوں کوئی سورت نہیں اتاری جاتی ؟ پھر جب کوئی محکمہ سورت اتاری جاتی ہے اور اس میں لڑائی کا ذکر ہوتا ہے تو دیکھے گا کہ بیمار دل والے تیری طرف اس طرح دیکھیں گے جیسے وہ دیکھتا ہے جس پر موت کی بیہوشی ہو، اسی طرح کی یہ آیت بھی ہے، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بعض مومنوں نے جہاد کی فرضیت سے پہلے کا کہ کیا ہی اچھا ہوتا اللہ تعالیٰ ہمیں وہ عمل بتاتا جو اسے سب سے زیادہ پسند ہوتا تاکہ ہم اس پر عامل ہوتے پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو خبر کی کہ سب سے زیادہ پسندیدہ عمل میرے نزدیک ایمان ہے جو شک شبہ سے پاک ہو اور بےایمانوں سے جہاد کرنا ہے تو بعض مسلمانوں پر یہ گراں گزرا جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ وہ باتیں زبان سے کیوں نکالتے ہو جنہیں کرتے نہیں، امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں، حضرت مقاتل بن حیان فرماتے ہیں کہ مسلمانوں نے کہا اگر ہمیں معلوم ہوجاتا کہ کس عمل کو اللہ تعالیٰ بہت پسند فرماتا ہے تو ہم ضرور وہ عمل بجا لاتے اس پر اللہ عزوجل نے وہ عمل بتایا کہ میری راہ میں صفیں باندھ کر مضبوطی کے ساتھ جم کر جہاد کرنے والوں کو میں بہت پسند فرماتا ہوں پھر احد والے دن ان کی آزمائش ہوگئی اور لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے جس پر یہ فرمان الیشان اترا کہ کیوں وہ کہتے ہو جو کہ نہیں دکھاتے ؟ بعض حضرات فرماتے ہیں یہ ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو کہیں ہم نے جہاد کیا اور حالانکہ جہاد نہ کیا ہو منہ سے کہیں کہ ہم زخمی ہوئے اور زخمی نہ ہوئے ہوں کہیں کہ ہم پر مار پڑی اور مار نہ پڑی ہو منہ سے کہیں کہ ہم قید کئے گئے اور قید نہ کئے گئے ہوں، ابن زید فرماتے ہیں اس سے مراد منافق ہیں کہ مسلمانوں کی مدد کا وعدہ کرتے لیکن وقت پر پورا نہ کرتے، زید بن اسلم جہاد مراد لیتے ہیں، حضرت مجاہد فرماتے ہیں ان کہنے والوں میں حضرت عبداللہ بن رواحہ انصاری ؓ بھی تھے جب آیت اتری اور معلوم ہوا کہ جہاد سب سے زیادہ عمدہ عمل ہے تو آپ نے عہد کرلیا کہ میں تو اب سے لے کر مرتے دم تک اللہ کی راہ میں اپنے آپ کو وقف کرچکا چناچہ اسی پر قائم بھی رہے یہاں تک کہ فی سبیل اللہ شہید ہوگئے، حضرت ابو موسیٰ ؓ نے بصرہ کے قاریوں کو ایک مرتبہ بلوایا تو تین سو قاری ان کے پاس آئے جن میں سے ہر ایک قاری قرآن تھا۔ پھر فرمایا تم اہل بصرہ کے قاری اور ان میں سے بہترین لوگ ہو سنو ہم ایک سورت پڑھتے تھے جو مسبحات کی سورتوں کے مشابہ تھی پھر ہم اسے بھلا دیئے گئے ہاں مجھے اس میں سے اتنا یاد رہ گیا۔ (آیت) یعنی اے ایمان والو وہ کیوں کہو جو نہ کرو پھر وہ لکھا جائے اور تمہاری گردونوں میں بطور گواہ کے لٹکا دیا جائے پھر قیامت کے دن اس کی بابت باز پرس ہو۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کے محبوب وہ لوگ ہیں جو صفیں باندھ کر دشمنان اللہ کے مقابلے میں ڈٹ جاتے ہیں تاکہ اللہ کا بول بالا ہو اسلام کی حفاظت ہو اور دین کا غلبہ ہو، مسند میں ہے تین قسم کے لوگوں کی تین حالتیں ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ تبارک و تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور ہنس دیتا ہے رات کو اٹھ کر تہجد پڑھنے والے نماز کے لئے صفیں باندھنے والے، میدان جنگ میں صف بندی کرنے والے، ابن ابی حاتم میں ہے حضرت مطرف فرماتے ہیں مجھے یہ روایت حضرت ابوذر ؓ ایک حدیث پہنچی تھی میرے جی میں تھا کہ خود حضرت ابوذر سے مل کر یہ حدیث آمنے سامنے سن لوں چناچہ ایک مرتبہ جا کر آپ سے ملاقات کی اور واقعہ بیان کیا آپ نے خوشنودی کا اظہار فرما کر کہا وہ حدیث کیا ہے ؟ میں نے کہا یہ کہ اللہ تعالیٰ تین شخصوں کو دشمن جانتا ہے اور تین کو دوست رکھتا ہے فرمایا ہاں میں نے اپنے خلیل حضرت محمد ﷺ پر جھوٹ نہیں بول سکتا فی الواقع آپ نے ہم سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے، میں نے پوچھا وہ تین کون ہیں ؟ جنہیں اللہ تعالیٰ محبوب جانتا ہے فرمایا ایک تو وہ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے خالص خوشنودی اللہ کی نیت سے نکلے دشمن سے جب مقابلہ ہو تو دلیرانہ جہاد کرے تم اس کی تصدیق خود کتاب اللہ میں بھی دیکھ سکتے ہو پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی اور پھر پوری حدیث بیان کی، ابن ابی حاتم میں یہ حدیث اسی طرح ان ہی الفاظ میں اتنی ہی آئی ہے ہاں ترمذی اور نسائی میں پوری حدیث ہے اور ہم نے بھی اسے دوسری جگہ مکمل وارد کیا ہے، فالحمد اللہ۔ حضرت کعب احبار سے ابن ابی حاتم میں منقول ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے آپ میرے بندے متوکل اور پسندیدہ ہیں بدخلق بد زبان بازاروں میں شور و غل کرنے والے نہیں برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے بلکہ درگذر کر کے معاف کردیتے ہیں۔ آپ کی جائے پیدائش مکہ ہے، جائے ہجرت طابہ ہے، ملک آپ کا شام ہے، امت آپ کی بکثرت حمد اللہ کرنے والی ہے، ہر حال میں اور ہر منزل میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کرتے رہتے ہیں۔ صبح کے وقت ذکر اللہ میں ان کی پست آوازیں برابر سنائی دیتی ہیں جیسے شہد کی مکھیوں کی بھن بھناہٹ اپنے ناخن اور مچھیں کترتے ہیں اور اپنے تہمد اپنی آدھی پنڈلیوں تک باندھتے ہیں ان کی صفیں میدان جہاد میں ایسی ہوتی ہیں جیسی نماز میں، پھر حضرت کعب نے اسی آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا سورج کی نگہبانی کرنے والے جہاں وقت نماز آجائے نماز ادا کرلینے والے گو سواری پر ہوں، حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں جب تک حضور ﷺ نہ بنوا لیتے دشمن سے لڑائی شروع نہیں کرتے تھے، پس صف بندی کی تعلیم مسلمانوں کو اللہ کی دی ہوئی ہے ایک دوسرے سے ملے کھڑے رہیں، ثابت قدم رہیں اور ٹلیں نہیں تم نہیں دیکھتے کہ عمارت کا بنانے والا نہیں چاہتا کہ اس کی عمارت میں کہیں اونچ نیچ ہو ٹیڑھی ترچھی ہو یا سوراخ رہ جائیں اسی طرح اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کے امر میں اختلاف ہو میدان جنگ میں اور بوقت نماز مسلمانوں کی صف بندی خود اس نے کی ہے پس تم اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو جو احکام بجا لائے گا یہ اس کے لئے عصمت اور بچاؤ ثابت ہے۔ ابو بحریہ فرماتے ہیں مسلمان گھوڑوں پر سوار ہو کر لڑنا پسند نہیں کرتے تھے انہیں تو یہ اچھا معلوم ہوتا تھا کہ زمین پر پیدل صفیں بنا کر آمنے سامنے کا مقابلہ کریں، آپ فرماتے ہیں جب تم مجھے دیکھو کہ میں نے صف میں سے ادھر ادھر توجہ کی تو تم جو چاہو ملامت کرنا اور برا بھلا کہنا۔ Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ الصَّفِّ
وَهِيَ مَدَنِيَّةٌ.
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ -وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: تَذَاكَرْنَا: أَيُّكُمْ يَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَيَسْأَلَهُ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ فَلَمْ يَقُمْ أَحَدٌ مِنَّا، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَيْنَا رَجُلًا فَجَمَعَنَا فَقَرَأَ عَلَيْنَا هَذِهِ السُّورَةَ، يَعْنِي سُورَةَ الصَّفِّ كُلَّهَا. هَكَذَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ [[المسند (٥/٤٥٢) .]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيد الْبَيْرُوتِيُّ [[في أ: "السروري".]] قِرَاءَةً قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ. أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالُوا: لَوْ أَرْسَلْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ نَسْأَلُهُ عَنْ أَحَبِّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ فَلَمْ يَذْهَبْ إِلَيْهِ أَحَدٌ مِنَّا، وَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أُولَئِكَ النَّفَرَ رَجُلًا رَجُلًا حَتَّى جَمَعَهُمْ، وَنَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ السُّورَةُ: (سَبَّحَ) الصَّفُّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ كُلَّهَا. قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ كُلَّهَا، قَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا أَبُو سَلَمَةَ كُلَّهَا. قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ كُلَّهَا. قَالَ أَبِي: وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا الْأَوْزَاعِيُّ كُلَّهَا.
وَقَدْ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيِّ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: قَعَدْنَا نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَتَذَاكَرْنَا، فَقُلْنَا: لو نعلم: أي الأعمال أحب إلى الله عَزَّ وَجَلَّ لَعَمِلْنَاهُ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ: " سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ [كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا] " [[زيادة من أ.]] قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ. قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا ابْنُ سَلَامٍ. قَالَ يَحْيَى: فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا أَبُو سَلَمَةَ. قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ: فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا الْأَوْزَاعِيُّ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا ابْنُ كَثِيرٍ.
ثُمَّ قَالَ التِّرْمِذِيُّ: وَقَدْ خُولِفَ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، فَرَوَى ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ -أَوْ: عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ [[سنن الترمذي برقم (٣٣٠٩) .]]
قُلْتُ: وَهَكَذَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، عَنْ يَعْمُرَ، عَنِ ابْنِ المبارك، به [[المسند (٥/٤٥٢) .]] قَالَ التِّرْمِذِيُّ: وَرَوَى الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، نَحْوَ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ.
قُلْتُ: وَكَذَا رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، كَمَا رَوَاهُ ابْنُ كَثِيرٍ.
قُلْتُ: وَقَدْ أَخْبَرَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ الشَّيْخُ الْمُسْنِدُ أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الْحَجَّارُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، أَخْبَرَنَا أَبُو المُنَجَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَر بْنِ اللَّتي [[في أ: "الليثي".]] أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَقْتِ عَبْدُ الْأَوَّلِ بْنُ عِيسَى بْنِ شُعَيب السَّجْزيّ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُظَفَّرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الدَّاوُدِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمَّوَية السرَخسِيّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ عُمَر بْنِ عِمْرَانَ السَّمَرْقَنْدِيُّ، أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ الْحَافِظُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ بِجَمِيعِ مُسْنَدِهِ [[في أ: "سنده".]] أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ... فَذَكَرَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، وَتَسَلْسَلَ لَنَا قِرَاءَتُهَا إِلَى شَيْخِنَا أَبِي الْعَبَّاسِ الْحَجَّارِ، وَلَمْ يَقْرَأْهَا، لِأَنَّهُ كَانَ أُمِّيًّا، وَضَاقَ الْوَقْتُ عَنْ تَلْقِينِهَا إِيَّاهُ. وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي الْحَافِظُ الْكَبِيرُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ الذَّهَبِيُّ، رَحِمَهُ اللَّهُ: أَخْبَرَنَا الْقَاضِي تَقِيُّ الدِّينِ سُلَيْمَانُ بْنُ الشَّيْخِ أَبِي عُمَرَ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُنَجَّا بْنُ اللَّتي [[في أ: "الليثي".]] فَذَكَرَهَ بِإِسْنَادِهِ، وتَسلل [[في أ: "وتسلسل".]] لِي مِنْ طَرِيقَةٍ، وَقَرَأَهَا عَلَيَّ بِكَمَالِهَا، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَى قَوْلِهِ: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ غَيْرَ مَرَّةٍ، بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ﴾ ؟ إِنْكَارٌ عَلَى مَنْ يَعد عدَةً، أَوْ يَقُولُ قَوْلًا لَا يَفِي بِهِ، وَلِهَذَا اسْتَدَلَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ مَنْ ذَهَبَ مِنَ عُلَمَاءِ السَّلَفِ إِلَى أَنَّهُ يَجِبُ الْوَفَاءُ بِالْوَعْدِ مُطْلَقًا، سَوَاءٌ تَرَتَّبَ عَلَيْهِ غُرم لِلْمَوْعُودِ أَمْ لَا. وَاحْتَجُّوا أَيْضًا مِنَ السُّنَّةِ بِمَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم قَالَ: "آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّث كَذَبَ، إِذَا وَعَد أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ" [[صحيح البخاري برقم (٣٣) وصحيح مسلم برقم (٥٩) من حديث أبي هريرة رضي الله عنه.]] وَفِي الْحَدِيثِ الْآخَرِ فِي الصَّحِيحِ: "أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَة مِنْ نِفَاقٍ حَتَّى يَدَعها" [[صحيح البخاري برقم (٣٤) وصحيح مسلم برقم (٥٨) مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ الله عنهما.]] -فَذَكَرَ مِنْهُنَّ إِخْلَافَ الْوَعْدِ. وَقَدِ اسْتَقْصَيْنَا الْكَلَامَ عَلَى هَذَيْنَ الْحَدِيثَيْنِ فِي أَوَّلِ "شَرْحِ الْبُخَارِيِّ"، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ. وَلِهَذَا أَكَّدَ اللَّهُ تَعَالَى هَذَا الْإِنْكَارَ عَلَيْهِمْ بِقَوْلِهِ: ﴿كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ﴾
وَقَدْ رَوَى الْإِمَامُ أحمدُ وَأَبُو دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ [فِي بَيْتِنَا] [[زيادة من المسند.]] وَأَنَا صَبِيٌّ قَالَ: فَذَهَبْتُ لِأَخْرُجَ لِأَلْعَبَ، فَقَالَتْ أُمِّي: يَا عَبْدَ اللَّهِ: تَعَالَ أُعْطِكَ. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "وَمَا أَرَدْتِ أَنْ تُعطِيه؟ ". قَالَتْ: تَمْرًا. فَقَالَ: "أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تَفْعَلِي كُتِبت عَلَيْكِ كِذْبة" [[المسند (٣/٤٤٧) وسنن أبي داود برقم (٤٩٩١) .]]
وَذَهَبَ الْإِمَامُ مَالِكٌ، رَحِمَهُ اللَّهُ، إِلَى أَنَّهُ إِذَا تَعَلَّقَ بِالْوَعْدِ غُرم عَلَى الْمَوْعُودِ وَجَبَ الْوَفَاءُ بِهِ، كَمَا لَوْ قَالَ لِغَيْرِهِ: "تَزَوَّجْ وَلَكَ عَلَيَّ كُلَّ يَوْمٍ كَذَا". فتزوجَ، وَجَبَ عَلَيْهِ أَنْ يُعْطِيَهُ مَا دَامَ كَذَلِكَ، لِأَنَّهُ تَعَلَّقَ بِهِ حَقُّ آدَمِيٍّ، وَهُوَ مَبْنِيٌّ عَلَى الْمُضَايَقَةِ. وَذَهَبَ الْجُمْهُورُ إِلَى أَنَّهُ لَا يَجِبْ مُطْلَقًا، وَحَمَلُوا الْآيَةَ عَلَى أَنَّهَا نَزَلَتْ حِينَ تَمَنَّوْا فَرضِيَّة الْجِهَادِ عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا فُرِضَ نَكَلَ عَنْهُ بَعْضُهُمْ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلا أَخَّرْتَنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالآخِرَةُ خَيْرٌ لِمَنِ اتَّقَى وَلا تُظْلَمُونَ فَتِيلا أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي بُرُوجٍ مُشَيَّدَةٍ﴾ [النِّسَاءِ: ٧٧، ٧٨] . وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلا نزلَتْ سُورَةٌ فَإِذَا أُنزلَتْ سُورَةٌ مُحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ﴾ الْآيَةَ [مُحَمَّدٍ: ٢٠] وَهَكَذَا هَذِهِ الْآيَةُ مَعْنَاهَا، كَمَا قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ﴾ قَالَ: كَانَ نَاسٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ الْجِهَادُ يَقُولُونَ: لَوَدِدْنَا أَنَّ اللَّهَ -عَزَّ وَجَلَّ-دَلَّنَا عَلَى أَحَبِّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ، فنعملَ بِهِ. فَأَخْبَرَ اللَّهُ نَبِيَّهُ أَنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إيمانٌ بِهِ [[في م: "إيمان بالله".]] لَا شَكَّ فِيهِ، وَجِهَادُ أَهْلِ مَعْصِيَتِهِ الَّذِينَ خَالَفُوا الْإِيمَانَ وَلَمْ يُقِرُّوا بِهِ. فَلَمَّا نَزَلَ الْجِهَادُ كَرِهَ ذَلِكَ أُنَاسٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، وَشَقَّ عَلَيْهِمْ أَمْرُهُ، فَقَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ﴾ ؟. وَهَذَا اخْتِيَارُ ابْنِ جَرِيرٍ [[تفسير الطبري (٢٨/٥٦) .]] .
وَقَالَ مُقَاتِلُ بْنُ حَيّان: قَالَ الْمُؤْمِنُونَ: لَوْ نَعْلَمُ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ لَعَمِلْنَا بِهِ. فَدَلَّهُمُ اللَّهُ عَلَى أَحَبِّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ، فَقَالَ: ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا﴾ فَبَيَّنَ لَهُمْ، فَابْتُلُوا يَوْمَ أُحُدٍ بِذَلِكَ، فَوَلَّوْا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ مُدْبِرِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي ذَلِكَ: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ﴾ ؟ وَقَالَ: أَحَبُّكُمْ إِلَيَّ مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِي.
وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: أُنْزِلَتْ فِي شَأْنِ الْقِتَالِ، يَقُولُ الرَّجُلُ: "قَاتَلْتُ"، وَلَمْ يُقَاتِلْ [[في م: "ولم أقاتل".]] وَطَعَنْتُ" وَلَمْ يَطْعَنْ وَ "ضَرَبْتُ"، وَلَمْ يَضْرِبْ وَ "صَبَرْتُ"، وَلَمْ يَصْبِرْ.
وَقَالَ قَتَادَةُ، وَالضَّحَّاكُ: نَزَلَتْ [[في م: "أنزلت".]] تَوْبِيخًا لِقَوْمٍ كَانُوا يَقُولُونَ: "قَتَلْنَا، ضَرَبْنَا، طَعَنَّا، وَفَعَلْنَا". وَلَمْ يَكُونُوا فعلوا ذلك.
وَقَالَ ابْنُ يَزِيدَ: نَزَلَتْ فِي قَوْمٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، كَانُوا يَعدون الْمُسْلِمِينَ النصرَ، وَلَا يَفُون لَهُمْ بِذَلِكَ.
وَقَالَ مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: ﴿لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ﴾ ؟، قَالَ: فِي الْجِهَادِ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ﴾ فَمَا بَيْنَ ذَلِكَ: فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، قَالُوا فِي مَجْلِسٍ: لَوْ نَعْلَمُ أَيَّ الْأَعْمَالِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ، لِعَمِلْنَا بِهَا حَتَّى نَمُوتَ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذَا فِيهِمْ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ: لَا أَبْرَحُ [[في أ: "فما أبرح".]] حَبِيسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى أَمُوتَ. فَقُتِلَ شَهِيدًا.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيِّ بْنِ مُسْهِر [[في أ: "شهر".]] عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ [[في أ: "الديلمي".]] عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَعَثَ أَبُو مُوسَى إِلَى قُرَّاءِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ مِنْهُمْ ثَلَاثُمِائَةِ رَجُلٍ، كُلُّهُمْ قَدْ قَرَأَ الْقُرْآنَ، فَقَالَ. أَنْتُمْ قُرَّاءُ أَهْلِ الْبَصْرَةِ وَخِيَارُهُمْ. وَقَالَ: كُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً كُنَّا نُشَبِّهُهَا بِإِحْدَى الْمُسَبِّحَاتِ، فَأُنْسِيْنَاهَا، غَيْرَ أَنِّي قَدْ حَفِظْتُ مِنْهَا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ﴾ فَتُكْتَبُ شَهَادَةً فِي أَعْنَاقِكُمْ، فَتُسْأَلُونَ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
وَلِهَذَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ﴾ فَهَذَا إِخْبَارٌ مِنْهُ تَعَالَى بِمَحَبَّةِ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا اصْطَفُّوا مُوَاجِهِينَ لِأَعْدَاءِ اللَّهِ فِي حَوْمَةِ الْوَغَى، يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَن كَفَرَ بِاللَّهِ، لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا، وَدِينُهُ هُوَ الظَّاهِرُ الْعَالِي عَلَى سَائِرِ الْأَدْيَانِ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هُشَيْم، قَالَ مُجالد أَخْبَرَنَا عَنْ أَبِي الودَّاك، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "ثَلَاثٌ يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَيْهِمُ: الرَّجُلُ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ، وَالْقَوْمُ إِذَا صَفُّوا لِلصَّلَاةِ، وَالْقَوْمُ إِذَا صَفُّوا لِلْقِتَالِ".
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ مِنْ حَدِيثِ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الوَدَّاك جَبْرِ بْنِ نَوْفٍ، بِهِ [[المسند (٣/٨٠) وسنن ابن ماجة برقم (٢٠٠) وقال البوصيري في الزوائد (١/٨٧) : "هذا إسناد فيه مقال، مجالد بن سعيد وإن أخرج له مسلم في صحيحه فإنما روى له مقرونًا بغيره قال ابن عدى: عامة ما يرويه غير محفوظ".]] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيم الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْن، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ -يَعْنِي ابْنَ شَيْبَانَ-حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّير قَالَ: قَالَ مُطرَف: كَانَ يَبْلُغُنِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ كُنْتُ أَشْتَهِي لِقَاءَهُ، فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، كَانَ يَبْلُغُنِي عَنْكَ حَدِيثٌ، فَكُنْتُ أَشْتَهِي لِقَاءَكَ، فَقَالَ: لِلَّهِ أَبُوكَ! فَقَدْ لَقِيتَ، فَهَاتِ. فَقُلْتُ: كَانَ يَبْلُغُنِي عَنْكَ أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ حَدَّثَكُمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ ثَلَاثَةً وَيُبْغِضُ ثَلَاثَةً؟ قَالَ: أَجَلْ، فَلَا إِخَالُنِي أَكْذِبُ عَلَى خَلِيلِي ﷺ. قُلْتُ: فَمَنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ؟ قَالَ: رَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، خَرَجَ مُحْتَسِبًا مُجَاهِدًا فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَقُتِلَ، وَأَنْتُمْ تَجِدُونَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ الْمُنَزَّلِ، ثُمَّ قَرَأَ ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ﴾ وذكر الحديث.
هَكَذَا أَوْرَدَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ بِهَذَا السِّيَاقِ، وَبِهَذَا اللَّفْظِ، وَاخْتَصَرَهُ. وَقَدْ أَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ رِبْعَي بْنِ حِرَاش، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيان، عَنْ أَبِي ذَرّ بِأَبْسَطَ مِنْ هَذَا السِّيَاقِ وَأَتَمَّ [[سنن الترمذي برقم (٢٥٦٨) وسنن النسائي (٥/٨٤، ٣/٢٠٧) وقال الترمذي: "هذا حديث صحيح".]] وَقَدْ أَوْرَدْنَاهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.
وَعَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ أَنَّهُ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى لِمُحَمَّدٍ ﷺ: "عَبْدَيِ الْمُتَوَكِّلُ الْمُخْتَارُ لَيْسَ بفَظّ وَلَا غَليظ وَلَا صَخَّاب فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ مَوْلِدُهُ بِمَكَّةَ، وَهِجْرَتُهُ بِطَابَةَ، وَمُلْكُهُ بِالشَّامِ، وَأُمَّتُهُ الْحَمَّادُونَ يحمَدُون اللَّهَ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَفِي كُلِّ مَنْزِلَةٍ، لَهُمْ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ فِي جَوِّ السَّمَاءِ بالسحَر، يُوَضّون أَطْرَافَهُمْ، وَيَأْتَزِرُونَ عَلَى أَنْصَافِهِمْ، صَفُّهُمْ فِي الْقِتَالِ مِثْلُ صَفِّهِمْ فِي الصَّلَاةِ". ثُمَّ قَرَأَ: ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ﴾ رُعَاةُ الشَّمْسِ، يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُمْ، وَلَوْ على ظهر دابة" رواه بن أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ فِي قَوْلِهِ ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا﴾ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَا يُقَاتِلُ الْعَدُوَّ إِلَّا أَنْ يُصَافَّهُمْ، وَهَذَا تَعْلِيمٌ مِنَ اللَّهِ لِلْمُؤْمِنِينَ. قَالَ: وَقَوْلُهُ: ﴿كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ﴾ مُلْتَصِقٌ بَعْضُهُ فِي بَعْضٍ، مِنَ الصَّفِّ فِي الْقِتَالِ.
وَقَالَ مقاتل بن حيان: مُلْتَصِقٌ بَعْضُهُ إِلَى بَعْضٍ.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ﴿كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ﴾ مُثَبّت، لَا يَزُولُ، مُلْصَقٌ بَعْضُهُ بِبَعْضٍ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: ﴿كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ﴾ أَلَمْ تَرَ إِلَى صَاحِبِ الْبُنْيَانِ، كَيْفَ لَا يُحِبُّ أَنْ يَخْتَلِفَ بُنْيَانُهُ؟ فَكَذَلِكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ [يُحِبُّ أَنْ] [[زيادة من م، أ.]] لَا يَخْتَلِفَ أَمْرُهُ، وَإِنَّ اللَّهَ صَفَّ الْمُؤْمِنِينَ فِي قِتَالِهِمْ وَصَفَّهُمْ فِي صَلَاتِهِمْ، فَعَلَيْكُمْ بِأَمْرِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ عِصْمَةٌ لِمَنْ أَخَذَ بِهِ. أَوْرَدَ ذَلِكَ كُلَّهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَمرو السَّكُونِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّة بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ [[في أ: "عن أبي يحيى به".]] قَالَ: كَانُوا يَكْرَهُونَ الْقِتَالَ عَلَى الْخَيْلِ، وَيَسْتَحِبُّونَ الْقِتَالَ عَلَى الْأَرْضِ، لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ﴾ قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَحْرِيَّةَ [[في أ: "أبو بحيرة".]] يَقُولُ: إِذَا رَأَيْتُمُونِي التفتُّ فِي الصَّفِّ فَجَثُوا في لَحيي [[تفسير الطبري (٢٨/٥٧) .]]