1
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ قَدْ سَمِعَ ٱللَّهُ قَوْلَ ٱلَّتِى تُجَٰدِلُكَ فِى زَوْجِهَا وَتَشْتَكِىٓ إِلَى ٱللَّهِ وَٱللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَآ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌۢ بَصِيرٌ
Certainly has Allah heard the speech of the one who argues with you, [O Muhammad], concerning her husband and directs her complaint to Allah. And Allah hears your dialogue; indeed, Allah is Hearing and Seeing.
(اے پیغمبر) جو عورت تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث جدال کرتی اور خدا سے شکایت (رنج وملال) کرتی تھی۔ خدا نے اس کی التجا سن لی اور خدا تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا دیکھتا ہے
خداوند سخن زنی را که درباره شوهرش به تو مراجعه کرده بود و به خداوند شکایت میکرد شنید (و تقاضای او را اجابت کرد)؛ خداوند گفتگوی شما را با هم (و اصرار آن زن را درباره حل مشکلش) میشنید؛ و خداوند شنوا و بیناست.
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ
(1. Indeed Allah has heard the statement of her that disputes with you concerning her husband, and complains to Allah. And Allah hears the argument between you both. Verily, Allah is All-Hearer, All-Seer.)
Reason for revealing this Surah
Imam Ahmad recorded that 'A'ishah said, "All praise be to Allah, Who hears all voices. "The woman who disputed" came to the Prophet ﷺ and argued with him while I was in another part of the room, unable to hear what she said. Allah the Exalted and Most Honored revealed this Ayah,
قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا
(Indeed Allah has heard the statement of her that disputes with you concerning her husband.)" till the end of this Ayah.
Al-Bukhari collected this Hadith without a chain of narration in the Book of Tawhid in his Sahih. An-Nasa'i, Ibn Majah, Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir also collected this Hadith.
In the narration that Ibn Abi Hatim collected, 'A'ishah said, "Blessed is He, Whose hearing has encompassed all things. I heard what Khawlah bint Tha'labah said while some of it I could not hear. She was complaining to Allah's Messenger ﷺ about her husband. She said, 'O Allah's Messenger! He spent my wealth, exhausted my youth and my womb bore abundantly for him. When I became old, unable to bear children, he pronounced the Ziharon me! O Allah! I complain to you.' Soon after, Jibril brought down this Ayah,
قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا
(Indeed Allah has heard the statement of her that disputes with you concerning her husband,)" She added, "Her husband was Aws bin As-Samit." Tafsir Ibn Kathir
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات حمد وثناء کے لائق ہے جس کے سننے نے تمام آوازوں کو گھیر رکھا ہے، یہ شکایت کرنے والی خاتون آکر آنحضرت ﷺ سے اس طرح چپکے چپکے باتیں کر رہی تھیں کہ باوجود اسی گھر میں موجود ہونے کے میں مطلقاً نہ سن سکی کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے اس پوشیدہ آواز کو بھی سن لیا اور یہ آیت اتری (بخاری و مسند وغیرہ) اور روایت میں آپ کا یہ فرمان اس طرح منقول ہے کہ بابرکت ہے وہ الہ جو ہر اونچی نیچی آواز کو سنتا ہے، یہ شکایت کرنے والی بی بی صاحبہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ ؓ جب حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو اس طرح سرگوشیاں کر رہی تھیں کہ کوئی لفظ تو کان تک پہنچ جاتا تھا ورنہ اکثر باتیں باوجود اسی گھر میں موجود ہونے کے میرے کانوں تک نہیں پہنچتی تھیں۔ اپنے میاں کی شکایت کرتے ہوئے فرمایا کہ یارسول اللہ ﷺ میری جوانی تو ان کے ساتھ کٹی بچے ان سے ہوئے اب جبکہ میں بڑھیا ہوگئی بچے پیدا کرنے کے قابل نہ رہی تو میرے میاں نے مجھ سے ظہار کرلیا، اے اللہ میں تیرے سامنے اپنے اس دکھڑے کا رونا روتی ہوں، ابھی یہ بی بی صاحبہ گھر سے باہر نہیں نکلی تھیں کہ حضرت جبرائیل ؑ یہ آیت لے کر اترے، ان کے خاوند کا نام حضرت اوس بن صامت ؓ تھا (ابن ابی حاتم) انہیں بھی کچھ جنون سا ہوجاتا تھا اس حالت میں اپنی بیوی صاحبہ سے ظہار کرلیتے پھر جب اچھے ہوجاتے تو گویا کچھ کہا ہی نہ تھا، یہ بی بی صاحبہ حضور سے فتویٰ پوچھنے اور اللہ کے سامنے اپنی التجا بیان کرنے کو آئیں جس پر یہ آیت اتری۔ حضرت یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ اپنی خلافت کے زمانے میں اور لوگوں کے ساتھ جا رہے تھے کہ ایک عورت نے آواز دے کر ٹھہرالیا، حضرت عمر فوراً ٹھہر گئے اور ان کے پاس جاکر توجہ اور ادب سے سر جھکائے ان کی باتیں سننے لگے، جب وہ اپنی فرمائش کی تعمیل کراچکیں اور خود لوٹ گئیں تب امیرالمومنین ؓ بھی واپس ہمارے پاس آئے، ایک شخص نے کہا امیرالمومنین ایک بڑھیا کے کہنے سے آپ رک گئے اور اتنے آدمیوں کو آپ کی وجہ سے اب تک رکنا پڑا، آپ نے فرمایا افسوس جانتے بھی ہو یہ کون تھیں ؟ اس نے کہا نہیں، فرمایا یہ وہ عورت ہیں جن کی شکایت اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان پر سنی یہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ ہیں اگر یہ آج صبح سے شام چھوڑ رات کردیتیں اور مجھ سے کچھ فرماتی رہتیں تو بھی میں ان کی خدمت سے نہ ٹلتا ہاں نماز کے وقت نماز ادا کرلیتا اور پھر کمربستہ خدمت کیلئے حاضر ہوجاتا (ابن ابی حاتم) اس کی سند منقطع ہے اور دوسرے طریق سے بھی مروی ہے، ایک روایت میں ہے کہ یہ خولہ بن صامت تھیں اور ان کی والدہ کا نام معاذہ تھا جن کے بارے میں آیت (وَلَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَي الْبِغَاۗءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا 33) 24۔ النور :33) ہوئی تھی، لیکن ٹھیک بات یہ ہے کہ حضرت خولہ اوس بن صامت کی بیوی تھیں، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو۔ Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُجَادَلَةِ
وَهِيَ مَدَنِيَّةٌ.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَة، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَسع سَمْعُهُ الْأَصْوَاتَ، لَقَدْ جَاءَتِ المجادلةُ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ تُكَلِّمُهُ وَأَنَا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، مَا أَسْمَعُ مَا تَقُولُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ إِلَى آخَرِ الْآيَةِ [[المسند (٦/٤٦) .]]
وَهَكَذَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي كِتَابِ التَّوْحِيدِ تَعْلِيقًا فَقَالَ: وَقَالَ الْأَعْمَشُ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، فَذَكَرَهُ [[صحيح البخاري برقم (٧٣٨٥) .]] وَأَخْرَجَهُ النَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَابْنُ جَرِيرٍ، مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهِ [[سنن النسائي الكبرى برقم (١١٥٧٠) وسنن ابن ماجة برقم (١٨٨) وتفسير الطبري (٢٨/٥) .]]
وَفِي رِوَايَةٍ لِابْنِ أَبِي حَاتِمٍ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: تَبَارَكَ الَّذِي أَوْعَى سَمْعُهُ كُلَّ شَيْءٍ، إِنِّي لَأَسْمَعُ كَلَامَ خَوْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ، وَيَخْفَى عَلَيَّ بَعْضُهُ، وَهِيَ تَشْتَكِي زَوْجَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَهِيَ تَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَلَ شَبَابِي، ونَثَرت [[في أ: "وبرت".]] لَهُ بَطْنِي، حَتَّى إِذَا كَبُرَت سِنِّي، وَانْقَطَعَ وَلَدِي، ظَاهَر مِنِّي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْكُو إِلَيْكَ. قَالَتْ: فَمَا بَرِحَتْ حَتَّى نَزَلَ جِبْرِيلُ بِهَذِهِ الْآيَةِ: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ وَقَالَ [[في م: "وقالت".]] وَزَوْجُهَا أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ.
وَقَالَ ابْنُ لَهِيعة، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ: هُوَ أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ-وَكَانَ أَوْسٌ امْرَأً بِهِ لَمَمٌ، فَكَانَ إِذَا أخَذه لَمَمُهُ [[في م: "أخذه لمم".]] وَاشْتَدَّ بِهِ يُظَاهِرُ مِنِ امْرَأَتِهِ، وَإِذَا ذَهَبَ لَمْ يَقُلْ شَيْئًا. فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ تَسْتَفْتِيهِ فِي ذَلِكَ، وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ﴾ الْآيَةَ.
وَهَكَذَا رَوَى هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا كَانَ به لممٌ، فذكر مثله.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ-يعني بن حَازِمٍ-قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا يَزِيدَ يُحَدِّثُ قَالَ: لَقِيَتِ امْرَأَةٌ عُمَرَ-يُقَالُ لَهَا: خَوْلَةُ بِنْتُ ثَعْلَبَةَ-وَهُوَ يَسِيرُ مَعَ النَّاسِ، فَاسْتَوْقَفَتْهُ فَوَقَفَ لَهَا وَدَنَا مِنْهَا وَأَصْغَى إِلَيْهَا رَأْسَهُ، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْهَا حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا وَانْصَرَفَتْ. فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، حَبَسْتَ رِجَالَاتِ قُرَيْشٍ عَلَى هَذِهِ الْعَجُوزِ؟! قَالَ: وَيْحَكَ! وَتَدْرِي مَنْ هَذِهِ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: هَذِهِ امْرَأَةٌ سَمِعَ اللَّهُ شَكْوَاهَا مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سموات، هَذِهِ خَوْلَةُ بِنْتُ ثَعْلَبَةَ، وَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَنْصَرِفْ عَنِّي إِلَى اللَّيْلِ مَا انْصَرَفْتُ عَنْهَا حَتَّى تَقْضِيَ حَاجَتَهَا إِلَى أَنْ تَحْضُرَ صَلَاةٌ فَأُصَلِّيَهَا، ثُمَّ أَرْجِعَ إِلَيْهَا حَتَّى تَقْضِيَ حَاجَتَهَا [[ورواه الدرامي في الرد على الجهمية (ص ٢٦) من طريق أبي يزيد، عن عمر بن الخطاب به. قال الذهبي في العلو (ص ١١٣) : "هذا إسناد صالح فيه انقطاع، أبو يزيد لم يلحق عمر".]]
هَذَا مُنْقَطِعٌ بَيْنَ أَبِي يَزِيدَ وَعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ. وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ. وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ أَيْضًا: حَدَّثَنَا الْمُنْذِرُ بْنُ شَاذَانَ [[في أ: "حدثنا الوليد بن المنذر به شاذان".]] حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنْ عَامِرٍ قَالَ: الْمَرْأَةُ الَّتِي جَادَلَتْ فِي زَوْجِهَا خَوْلَةُ بِنْتُ الصَّامِتِ، وَأُمُّهَا مُعَاذَةُ الَّتِي أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهَا: ﴿وَلا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا﴾ [النُّورِ: ٣٣]
صَوَابُهُ: خَوْلَةُ امْرَأَةُ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ.