1
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ وَٱلنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ
By the star when it descends,
تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے
سوگند به ستاره هنگامی که افول میکند،
Tafsir Ibn Kathir
The First Surah in which a Prostration is revealed
Al-Bukhari recorded that 'Abdullah [bin Mas'ud] said, "Surat An-Najm was the first Surah in which a prostration was revealed. The Prophet ﷺ (recited it in Makkah) and prostrated. Those who were with him did the same, except an old man who took a handful of soil and prostrated on it. Later on, I saw him killed as a disbeliever; he was Umayyah bin Khalaf." Al-Bukhari recorded this Hadith in several places of his Sahih, as did Muslim, Abu Dawud and An-Nasa'i, using various chains of narration through Abu Ishaq from 'Abdullah.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ - مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ - وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ - إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ
(1. By the star when it goes down.)(2. Your companion has neither gone astray nor has he erred.)(3. Nor does he speak of desire.)(4. It is only a revelation revealed.)
Allah swears the Messenger is True and His Words are a Revelation from Him
Ibn Abi Hatim recorded that Ash-Sha'bi and others stated that the Creator swears by whatever He wills among His creation, but the created only vow by the Creator. Allah said,
وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ
(By the star when it goes down.) Ibn Abi Najih reported that Mujahid said, "The star refers to Pleiades when it sets at Fajr." Ad-Dahhak said "When the Shayatin are shot with it." And this Ayah is like Allah's saying;
فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ - وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ - إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ - فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ - لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ -تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ
(So, I swear by the setting of the stars. And verily, that is indeed a great oath, if you but know. That is indeed an honorable recitation. In a Book well-guarded. Which none can touch but the pure. A revelation from the Lord of all that exists.)(56:75-80) Allah said;
مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ
(Your companion has neither gone astray nor has erred.) This contains the subject of the oath. This part of the Ayah is the witness that the Messenger of Allah ﷺ is sane and a follower of Truth. He is neither led astray, such as in the case of the ignorant who does not proceed on any path with knowledge, nor is he one who erred, such as in the case of the knowledgeable, who knows the Truth, yet deviates from it intentionally to something else. Therefore, Allah exonerated His Messenger and his Message from being similar to the misguided ways of the Christians and the erroneous paths of the Jews, such as knowing the Truth and hiding it, while abiding by falsehood. Rather, he, may Allah's peace and blessings be on him, and his glorious Message that Allah has sent him with, are on the perfect straight path, following guidance and what is correct.
Muhammad (ﷺ) was sent as a Mercy for all that exists; He does not speak of His Desire
Allah said,
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ
(Nor does he speak of desire), asserting that nothing the Prophet ﷺ utters is of his own desire or wish,
إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ
(It is only a revelation revealed.), means, he only conveys to the people what he was commanded to convey, in its entirety without additions or deletions. Imam Ahmad recorded that Abu Umamah said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say,
لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ لَيْسَ بِنَبِيٍّ مِثْلُ الْحَيَّيْنِ - أَوْ مِثْلُ أَحَدِ الْحَيَّيْنِ - رَبِيعَةَ وَمُضَرَ
(Verily, numbers similar to the two tribes, or one of them, Rabi'ah and Mudar, will enter Paradise on account of the intercession of one man, who is not a Prophet.) A man asked, "O Allah's Messenger! Is not Rabi'ah a subtribe of Mudar." The Prophet ﷺ said,
إِنَّمَا أَقُولُ مَا أَقُولُ
(I said what I said.) Imam Ahmad recorded that 'Abdullah bin 'Amr said, "I used to record everything I heard from the Messenger of Allah ﷺ so it would be preserved. The Quraysh discouraged me from this, saying, 'You record everything you hear from the Messenger of Allah ﷺ, even though he is human and sometimes speaks when he is angry?' I stopped recording the Hadiths for a while, but later mentioned what they said to the Messenger of Allah ﷺ, who said,
اكْتُبْ، فَوَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! مَا خَرَجَ مِنِّي إِلَّا الْحَقُّ
(Write! By He in Whose Hand is my soul, every word that comes out of me is the Truth.)" Abu Dawud also collected this Hadith. Tafsir Ibn Kathir
حضرت شعبی فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھالے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی (ابن ابی حاتم) ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا کے ستارے کا غائب ہونا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہوسکتی ہے مجاہد فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت (فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ 75 ۙ) 56۔ الواقعة :75) ہے۔ پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں وہ بےعلمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپکا راستہ سیدھا آپ عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ کا کوئی قول کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپکو حکم الہٰی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ کا کلام پاک ہوتا ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر اس پر ایک شخص نے کہا کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔ مسند کی اور حدیث میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں میں حضور ﷺ سے جو کچھ سنتا تھا اسے حفظ کرنے کے لئے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ ایک انسان ہیں کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں چناچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا لکھ لیا کرو اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا یہ حدیث ابو داؤد اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے بزار میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا۔ اس پر بعض صحابہ نے کہا حضور ﷺ کبھی کبھی ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔ Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّجْمِ
وَهِيَ مَكِّيَّةٌ.
قَالَ الْبُخَارِيُّ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أولُ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ فِيهَا سَجْدة: ﴿والنَّجم﴾ ، قَالَ: فَسَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَسَجَدَ مَنْ خَلْفَهُ، إِلَّا رَجُلًا رَأَيْتُهُ أَخَذَ كَفًّا مِنْ تُرَاب فَسَجَدَ عَلَيْهِ، فَرَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُتِل كَافِرًا، وَهُوَ أُمَيَّةُ بْنُ خَلَف [[صحيح البخاري برقم (٤٨٦٣) .]] .
وَقَدْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ أَيْضًا فِي مَوَاضِعَ، وَمُسْلِمٌ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، مِنْ طُرُقٍ، عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ، بِهِ [[صحيح البخاري برقم (١٠٧٠، ٣٨٥٣، ٣٩٧٢) وصحيح مسلم برقم (٥٧٦) وسنن أبي داود برقم (١٤٠٦) وسنن النسائي (٢/١٦٠) .]] . وَقَوْلُهُ فِي الْمُمْتَنِعِ: إِنَّهُ أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ مُشْكِلٌ، فَإِنَّهُ قَدْ جَاءَ مِنْ غَيْرِ هَذِهِ الطَّرِيقِ أَنَّهُ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
قَالَ الشَّعْبِيُّ وَغَيْرُهُ: الْخَالِقُ يُقسِم بِمَا شَاءَ مِنْ خَلْقه، وَالْمَخْلُوقُ لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُقْسِمَ إِلَّا بِالْخَالِقِ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَاخْتَلَفَ الْمُفَسِّرُونَ فِي مَعْنَى قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى﴾ فَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ: يَعْنِي بِالنَّجْمِ: الثُّريَّا إِذَا سَقَطَتْ مَعَ الْفَجْرِ. وَكَذَا رُوي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ. وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ. وَزَعَمَ السُّدِّيُّ أَنَّهَا الزُّهْرَةُ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: ﴿وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى﴾ إِذَا رُمي بِهِ الشَّيَاطِينُ. وَهَذَا الْقَوْلُ لَهُ اتِّجَاهٌ.
وَرَوَى الْأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى﴾ يَعْنِي: الْقُرْآنُ إِذَا نَزَلَ. وَهَذِهِ الْآيَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَلا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ. وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ. إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ. فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ. لَا يَمَسُّهُ إِلا الْمُطَهَّرُونَ. تَنزيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [الْوَاقِعَةِ: ٧٥ -٨٠] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى﴾ هَذَا هُوَ الْمُقْسَمُ عَلَيْهِ، وَهُوَ الشَّهَادَةُ لِلرَّسُولِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، بِأَنَّهُ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، لَيْسَ بِضَالٍّ، وَهُوَ: الْجَاهِلُ الَّذِي يسلك على غير طريق بِغَيْرِ عِلْمٍ، وَالْغَاوِي: هُوَ الْعَالِمُ بِالْحَقِّ الْعَادِلُ عَنْهُ قَصْدًا إِلَى غَيْرِهِ، فَنَزَّهَ اللَّهُ [سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى] [[زيادة من م.]] رَسُولَهُ وشَرْعَه عَنْ مُشَابَهَةِ أَهْلِ [[في م: "أصحاب".]] الضَّلَالِ كَالنَّصَارَى وَطَرَائِقِ الْيَهُودِ، وَعَنْ [[في م: "وهي".]] عِلْمِ الشَّيْءِ وَكِتْمَانِهِ وَالْعَمَلِ بِخِلَافِهِ، بَلْ هُوَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، وَمَا بَعَثَهُ اللَّهُ بِهِ مِنَ الشَّرْعِ الْعَظِيمِ فِي غَايَةِ الِاسْتِقَامَةِ وَالِاعْتِدَالِ وَالسَّدَادِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى﴾ أَيْ: مَا يَقُولُ قَوْلًا عَنْ هَوًى وَغَرَضٍ، ﴿إِنْ هُوَ إِلا وَحْيٌ يُوحَى﴾ أَيْ: إِنَّمَا يَقُولُ مَا أُمِرَ بِهِ، يُبَلِّغُهُ إِلَى النَّاسِ كَامِلًا موفَّرًا مِنْ غَيْرِ زِيَادَةٍ وَلَا نُقْصَانٍ، كَمَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ.
حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا حَرِيز بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَة، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ؛ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ لَيْسَ بِنَبِيٍّ مثلُ الْحَيَّيْنِ -أَوْ: مِثْلُ أَحَدِ الْحَيَّيْنِ-: رَبِيعة ومُضَر". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رسول الله، أو ما رَبِيعَةُ مِنْ مُضَرَ؟ قَالَ: "إِنَّمَا أَقُولُ مَا أَقُولُ" [[المسند (٥/٢٥٧) وقال الهيثمي في المجمع (١٠/٣٨١) : "رجال أحمد رجال الصحيح غير عبد الرحمن بن ميسرة وهو ثقة".]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيد اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أُرِيدُ حِفْظَهُ، فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ فَقَالُوا: إِنَّكَ تَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ تَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ، وَرَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَشَرٌ، يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ. فأمسكتُ عَنِ الْكِتَابِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: "اكْتُبْ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا خَرَجَ مِنِّي إِلَّا حَقٌّ".
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مُسَدَّد وَأَبِي بَكْرٍ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ القَطَّان، بِهِ [[المسند (٢/١٦٢) وسنن أبي داود برقم (٣٦٤٦) .]] .
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ الْبَزَّارُ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلان، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيرة، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "مَا أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّهُ الَّذِي مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، فَهُوَ الَّذِي لَا شَكّ فِيهِ". ثُمَّ قَالَ: لَا نَعْلَمُهُ يُروَى إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ [[مسند البزار برقم (٢٠٣) "كشف الأستار" وقال الهيثمي في المجمع (١/١٧٩) : "فيه أحمد بن منصور الرمادي وهو ثقة، وفيه كلام لا يضر وبقية رجاله رجال الصحيح، وعبد الله بن صالح مختلف فيه".]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أنه قَالَ: "لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا". قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: فَإِنَّكَ تُدَاعِبُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "إني لا أقول إلا حقا" [[المسند (٢/٣٤٠) ورواه الترمذي في السنن برقم (١٩٩٠) من طريق المقبري به وقال: "هذا حديث حسن صحيح".]] .