بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ حمٓ
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
حم - عسق - كَذَٰلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ - تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ ۚ وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ ۗ أَلَا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ
(1. Ha Mim.)(2. 'Ain Sin Qaf.)(3. Likewise Allah, the Almighty, the All-Wise sends revelation to you as to those before you.)(4. To Him belongs all that is in the heavens and all that is on the earth, and He is the Most High, the Most Great.)(5. Nearly the heavens might be rent asunder from above them, and the angels glorify the praises of their Lord, and ask for forgiveness for those on the earth. Lo, Verily, Allah is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.)(6. And as for those who take as protecting friends others besides Him – Allah is Hafiz over them, and you are not a trustee over them.)
The Revelation and Allah's Might
We have previously discussed the individual letters.
كَذَٰلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(Likewise Allah, the Almighty, the All-Wise sends revelation to you as to those before you.) means, 'just as this Qur'an has been revealed to you, so too the Books and Scriptures were revealed to the Prophets who came before you.'
اللَّهُ الْعَزِيزُ
(Allah, the Almighty) means, in His vengeance
الْحَكِيمُ
(the All-Wise) means, in all that He says and does. Imam Malik, may Allah have mercy on him, narrated that 'A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "Al-Harith bin Hisham asked the Messenger of Allah ﷺ, 'O Messenger of Allah, how does the revelation come to you?' The Messenger of Allah ﷺ said:
أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ
(Sometimes it comes to me like the ringing of a bell, which is the most difficult for me; then it goes away, and I understand what was said. And sometimes the angel comes to me in the image of a man, and he speaks to me and I understand what he says.)"
A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "I saw him receiving the revelation on a very cold day, and when it departed from him, there were beads of sweat on his forehead." It was also reported in the Two Sahihs, and the version quoted here is that recorded by Al-Bukhari.
لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ
(To Him belongs all that is in the heavens and all that is on the earth,) means, everything is subject to His dominion and control.
وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
(and He is the Most High, the Most Great.) This is like the Ayat:
الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ
(the Most Great, the Most High)(13:9), and
هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ
(He is the Most High, the Most Great)(22:62). And there are many similar Ayat.
تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ ۚ
(Nearly the heavens might be rent asunder from above them,) Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Ad-Dahhak, Qatadah, As-Suddi and Ka'b Al-Ahbar said, "Out of fear of His might."
وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ ۗ
(and the angels glorify the praises of their Lord, and ask for forgiveness for those on the earth.) This is like the Ayah:
الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا
(Those who bear the Throne and those around it glorify the praises of their Lord, and believe in Him, and ask forgiveness for those who believe (saying): "Our Lord! You comprehend all things in mercy and knowledge,")(40:7)
أَلَا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
(Lo! Verily, Allah is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.) This is a reminder, to take heed of this fact.
وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ
(And as for those who take as protecting friends others besides Him) This refers to the idolators,
اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ
(Allah is Hafiz over them.) meaning, He is Witness to their deeds, recording and enumerating them precisely, and He will requite them for them in full.
وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ
(and you are not a trustee over them.) meaning, 'you are just a warner, and Allah is the Trustee of all affairs.'
Tafsir Ibn Kathir
حم عسق کی تفسیر :حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر ؒ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس حضرت حذیفہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کرلیا پھر منہ پھیرلیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ نے پھر بھی منہ پھیرلیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر حضرت حذیفہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ حضرت ابن عباس اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے جسے (عبد الا لہ) اور عبداللہ کہا جاتا ہوگا وہ مشرق کی نہروں میں سے ایک نہر کے پاس اترے گا۔ اور وہاں دو شہر بسائے گا نہر کو کاٹ کر دونوں شہروں میں لے جائے گا جب اللہ تعالیٰ ان کے ملک کے زوال اور ان کی دولت کا استیصال کا ارادہ کرے گا۔ اور ان کا وقت ختم ہونے کا ہوگا تو ان دونوں شہروں میں سے ایک پر رات کے وقت آگ آئے گی جو اسے جلا کر بھسم کر دے گی وہاں کے لوگ صبح کو اسے دیکھ کر تعجب کریں گے ایسا معلوم ہوگا کہ گویا یہاں کچھ تھا ہی نہیں صبح ہی صبح وہاں تمام بڑے بڑے سرکش متکبر مخالف حق لوگ جمع ہوں گے اسی وقت اللہ تعالیٰ ان سب کو اس شہر سمیت غارت کر دے گا۔ یہی معنی ہیں (حم عسق) کے یعنی اللہ کی طرف سے یہ عزیمت یعنی ضروری ہے یہ فتنہ قضا کیا ہوا یعنی فیصل شدہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عین سے مراد عدل سین سے مراد سیکون یعنی یہ عنقریب ہو کر رہے گا (ق) سے مراد واقع ہونے والا ان دونوں شہروں میں۔ اس سے بھی زیادہ غربت والی ایک اور روایت میں مسند حافظ ابو یعلی کی دوسری جلد میں مسند ابن عباس میں ہے جو مرفوع بھی ہے لیکن اس کی سند بالکل ضعف ہے اور منقطع بھی ہے اس میں ہے کہ کسی نے ان حروف کی تفسیر آنحضرت ﷺ سے سنی ہے حضرت ابن عباس جلدی سے اکھٹے ہوئے اور فرمایا ہاں میں نے سنی ہے (حم) اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے عین سے مراد (عاین المولون عذاب یوم بدر) ہے۔ سین سے مراد (اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّانْتَــصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا ۭ وَسَـيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَيَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَ02207) 26۔ الشعراء :227) (ق) سے کیا مراد ہے اسے آپ نہ بتاسکے تو حضرت ابوذر کھڑے ہوئے اور حضرت ابن عباس کی تفسیر کے مطابق تفسیر کی اور فرمایا (ق) سے مراد (قارعہ) آسمانی ہے جو تمام لوگوں کو ڈھانپ لے گا ترجمہ یہ ہوا کہ بدر کے دن پیٹھ موڑ کر بھاگنے والے کفار نے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ ان ظالموں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ ان کا کتنا برا انجام ہوا ؟ ان پر آسمانی عذاب آئے گا جو انہیں تباہ و برباد کر دے گا پھر فرماتا ہے کہ اے نبی جس طرح تم پر اس قرآن کی وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح تم سے پہلے کے پیغمبروں پر کتابیں اور صحیفے نازل ہوچکے ہیں یہ سب اس اللہ کی طرف سے اترے ہیں جو اپنا انتقام لینے میں غالب اور زبردست ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے حضرت حارث بن ہشام نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے جب وہ ختم ہوتی ہے تو مجھے جو کچھ کہا گیا وہ سب یاد ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے مجھ سے باتیں کرجاتا ہے جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد رکھ لیتا ہوں حضرت صدیقہ فرماتی ہیں سخت جاڑوں کے ایام میں بھی جب آپ پر وحی اترتی تھی تو شدت وحی سے آپ پانی پانی ہوجاتے تھے یہاں تک کہ پیشانی سے پسینہ کی بوندیں ٹپکنے لگتی تھیں۔ (بخاری مسلم) مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے حضور ﷺ سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ نے فرمایا میں ایک زنجیر کی سی گھڑگھڑاہٹ سنتا ہوں پھر کان لگا لیتا ہوں ایسی وحی میں مجھ پر اتنی شدت سی ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ مجھے اپنی روح نکل جانے کا گمان ہوتا ہے۔ شرح صحیح بخاری کے شروع میں ہم کیفیت وحی پر مفصل کلام کرچکے ہیں فالحمد للہ، پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی غلام ہے اس کی ملکیت ہے اس کے دباؤ تلے اور اس کے سامنے عاجز و مجبور ہے وہ بلندیوں والا اور بڑائیوں والا ہے وہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے وہ اونچائی والا اور کبریائی والا ہے اس کی عظمت اور جلالت کا یہ حال ہے کہ قریب ہے آسمان پھٹ پڑیں۔ فرشتے اس کی عظمت سے کپکپاتے ہوئے اس کی پاکی اور تعریف بیان کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لئے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ) 40۔ غافر :7) یعنی حاملان عرش اور اس کے قرب و جوار کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے اپنی رحمت و علم سے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے پس تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کے تابع ہیں انہیں عذاب جہنم سے بچا لے۔ پھر فرمایا جان لو کہ اللہ غفور و رحیم ہے، پھر فرماتا ہے کہ مشرکوں کے اعمال کی دیکھ بھال میں آپ کر رہا ہوں انہیں خود ہی پورا پورا بدلہ دوں گا۔ تیرا کام صرف انہیں آگاہ کردینا ہے تو کچھ ان پر داروغہ نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ الشُّورَى
وَهِيَ مَكِّيَّةٌ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
قَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَى الْحُرُوفِ الْمُقَطَّعَةِ. وَقَدْ رَوَى ابْنُ جَرِيرٍ هَاهُنَا أَثَرًا غَرِيبًا عَجِيبًا مُنْكَرًا، فَقَالَ:
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَير، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الحَوْطي، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ [[في ت: "وَقَدْ رَوَى ابْنُ جَرِيرٍ هَاهُنَا أَثَرًا غَرِيبًا عجيبا بسنده".]] قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ -وَعِنْدَهُ حُذيفة بْنُ الْيَمَانِ-: أَخْبِرْنِي عَنْ تَفْسِيرِ قَوْلِ اللَّهِ: ﴿حم عسق﴾ قَالَ: فَأَطْرَقَ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ كَرَّرَ مَقَالَتَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَلَمْ يُجِبْهُ بِشَيْءٍ وَكَرِهَ مَقَالَتَهُ، ثُمَّ كَرَّرَهَا الثَّالِثَةَ فَلَمْ يُحِرْ إِلَيْهِ شَيْئًا. فَقَالَ حُذَيْفَةُ [[في أ: "فقال له حذيفة".]] : أَنَا أُنْبِئُكَ بِهَا، قَدْ عَرَفْتُ لِمَ كَرِهَهَا؟ نَزَلَتْ فِي رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ يُقَالُ لَهُ "عَبْدُ الْإِلَهِ" -أَوْ: عَبْدُ اللَّهِ-يَنْزِلُ عَلَى نَهْرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْمَشْرِقِ تُبْنَى عَلَيْهِ مَدِينَتَانِ [[في ت، م، أ: "مدينتين".]] ، يَشُقُّ النَّهْرُ بَيْنَهُمَا شَقًّا، فَإِذَا أَذِنَ اللَّهُ فِي زَوَالِ مُلْكِهِمْ وَانْقِطَاعِ دَوْلَتِهِمْ وَمُدَّتِهِمْ، بَعَثَ اللَّهُ عَلَى إِحْدَاهُمَا نَارًا لَيْلًا فَتُصْبِحُ سَوْدَاءَ مُظْلِمَةً وَقَدِ احْتَرَقَتْ، كَأَنَّهَا لَمْ تَكُنْ مَكَانَهَا، وَتُصْبِحُ صَاحِبَتُهَا مُتَعَجِّبَةً: كَيْفَ أَفْلَتَتْ؟ فَمَا هُوَ إِلَّا بَيَاضُ يَوْمِهَا ذَلِكَ، حَتَّى يَجْتَمِعَ فِيهَا كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ مِنْهُمْ، ثُمَّ يَخْسِفُ اللَّهُ بِهَا وَبِهِمْ جَمِيعًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿حم عسق﴾ يَعْنِي: عَزِيمَةٌ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى وَفِتْنَةٌ وَقَضَاءٌ حُمّ: ﴿حُمَّ﴾ عَيْنٌ: يَعْنِي عَدْلًا مِنْهُ، سِينٌ: يَعْنِي سَيَكُونُ، ق: يَعْنِي واقع بِهَاتَيْنِ الْمَدِينَتَيْنِ [[تفسير الطبري (٢٥/٥) ورواه نعيم بن حماد في الفتن برقم (٥٦٨) من طريق أبي المغيرة عن أرطأة بن المنذر عمن حدثه عن ابن عباس فذكره.]] .
وَأَغْرَبَ مِنْهُ مَا رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ فِي الْجُزْءِ الثَّانِي مِنْ مُسْنَدِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي ذَلِكَ، وَلَكِنَّ إِسْنَادَهُ ضَعِيفٌ جِدًّا وَمُنْقَطِعٌ، فَإِنَّهُ قَالَ:
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الخُشَني الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ: صَعِدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ هَلْ سَمِعَ مِنْكُمْ أَحَدٌ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يُفَسِّرُ ﴿حم عسق﴾ ؟ فَوَثَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ: أَنَا: قَالَ: " ﴿حم﴾ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى" قَالَ: فَعَيْنٌ؟ قَالَ: "عَايَنَ الْمُوَلُّونَ عَذَابَ يَوْمِ بَدْرٍ" قَالَ: فَسِينٌ؟ قال: "سيعلم الذين ظلموا أي منقلب يَنْقَلِبُونَ" قَالَ: فَقَافٌ؟ فَسَكَتَ فَقَامَ أَبُو ذَرٍّ، فَفَسَّرَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَقَالَ: قَافٌ: قَارِعَةٌ مِنَ السَّمَاءِ تَغْشَى النَّاسَ [[ورواه ابن عساكر في تاريخه كما في الدر المنثور (٧/٣٣٦) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿كَذَلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ أَيْ: كَمَا أَنْزَلَ إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ، كَذَلِكَ أَنْزَلَ الْكُتُبَ وَالصُّحُفَ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَكَ. وَقَوْلُهُ: ﴿اللَّهُ الْعَزِيزُ﴾ أَيْ: فِي انْتِقَامِهِ، ﴿الْحَكِيمُ﴾ فِي أَقْوَالِهِ وَأَفْعَالِهِ.
قَالَ: الْإِمَامُ مَالِكٌ -رَحِمَهُ اللَّهِ-عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَة عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الجَرَس، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيّ فَيَفْصِمُ عَنِّي قَدْ وَعَيت مَا قَالَ. وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ رجُلا فَيُكَلِّمُنِي، فَأَعِي مَا يَقُولُ" قَالَتْ عَائِشَةُ [[في ت: "عائشة رضي الله عنها".]] فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ، وَإِنَّ جَبِينَهُ لِيَتَفَصَّدُ عَرَقًا.
أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ، وَلَفْظُهُ لِلْبُخَارِيِّ [[الموطأ (١/٢٠٢) وصحيح البخاري برقم (٢) وصحيح مسلم برقم (٢٣٣٣) .]] .
وَقَدْ [[في أ: "ولقد".]] رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عائشة، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ؛ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ: كَيْفَ يَنْزِلُ عَلَيْكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ: "مِثْلَ [[في أ: "فقال: في مثل".]] صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فيفصمُ عَنِّي وَقَدْ وعَيتُ مَا قَالَهُ" قَالَ: "وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ" قَالَ: "وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ فَيَتَمَثَّلُ لِي فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ" [[المعجم الكبير (٣/٢٥٩) .]] .
وَقَالَ: الْإِمَامُ [[في ت: "وروى".]] أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو [[في ت: عمر".]] ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ تُحِسُّ بِالْوَحْيِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَسْمَعُ صَلَاصِلَ ثُمَّ أَسْكُتُ عِنْدَ ذَلِكَ، فَمَا مِنْ مَرَّةٍ يُوحَى إليَّ إِلَّا ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسِي تُقبَض" تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ [[المسند (٢/٢٢٢) .]] .
وَقَدْ ذَكَرْنَا كَيْفِيَّةَ إِتْيَانِ الْوَحْيِ إِلَى رسول الله صلى الله عليه وسلم في أَوَّلِ شَرْحِ الْبُخَارِيِّ، بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ هَاهُنَا، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ﴾ أي: الْجَمِيعُ عَبِيدٌ لَهُ وَمِلْكٌ لَهُ، تَحْتَ قَهْرِهِ وَتَصْرِيفِهِ، ﴿وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ﴾ [الرَّعْدِ: ٩] ﴿وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ﴾ [سَبَأٍ: ٢٣] وَالْآيَاتُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿تَكَادُ السَّمَوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَالضَّحَّاكُ، وَقَتَادَةُ، وَالسُّدِّيُّ، وَكَعْبُ الْأَحْبَارِ: أَيْ فَرَقًا، مِنَ الْعَظَمَةِ ﴿وَالْمَلائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الأرْضِ﴾ كَقَوْلِهِ: ﴿الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا﴾ [غَافِرٍ:٧] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَلا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ إِعْلَامٌ بِذَلِكَ وَتَنْوِيهٌ بِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ﴾ يَعْنِي: الْمُشْرِكِينَ، ﴿اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ﴾ أَيْ: شَهِيدٌ عَلَى أَعْمَالِهِمْ، يُحْصِيهَا وَيَعُدُّهَا عَدًّا، وَسَيَجْزِيهِمْ بِهَا أَوْفَرَ الْجَزَاءِ. ﴿وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ﴾ أَيْ: إِنَّمَا أَنْتَ نَذِيرٌ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ.
عٓسٓقٓ
'Ayn, Seen, Qaf.
عٓسٓقٓ
عسق.
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
حم - عسق - كَذَٰلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ - تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ ۚ وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ ۗ أَلَا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ
(1. Ha Mim.)(2. 'Ain Sin Qaf.)(3. Likewise Allah, the Almighty, the All-Wise sends revelation to you as to those before you.)(4. To Him belongs all that is in the heavens and all that is on the earth, and He is the Most High, the Most Great.)(5. Nearly the heavens might be rent asunder from above them, and the angels glorify the praises of their Lord, and ask for forgiveness for those on the earth. Lo, Verily, Allah is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.)(6. And as for those who take as protecting friends others besides Him – Allah is Hafiz over them, and you are not a trustee over them.)
The Revelation and Allah's Might
We have previously discussed the individual letters.
كَذَٰلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(Likewise Allah, the Almighty, the All-Wise sends revelation to you as to those before you.) means, 'just as this Qur'an has been revealed to you, so too the Books and Scriptures were revealed to the Prophets who came before you.'
اللَّهُ الْعَزِيزُ
(Allah, the Almighty) means, in His vengeance
الْحَكِيمُ
(the All-Wise) means, in all that He says and does. Imam Malik, may Allah have mercy on him, narrated that 'A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "Al-Harith bin Hisham asked the Messenger of Allah ﷺ, 'O Messenger of Allah, how does the revelation come to you?' The Messenger of Allah ﷺ said:
أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ
(Sometimes it comes to me like the ringing of a bell, which is the most difficult for me; then it goes away, and I understand what was said. And sometimes the angel comes to me in the image of a man, and he speaks to me and I understand what he says.)"
A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "I saw him receiving the revelation on a very cold day, and when it departed from him, there were beads of sweat on his forehead." It was also reported in the Two Sahihs, and the version quoted here is that recorded by Al-Bukhari.
لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ
(To Him belongs all that is in the heavens and all that is on the earth,) means, everything is subject to His dominion and control.
وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
(and He is the Most High, the Most Great.) This is like the Ayat:
الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ
(the Most Great, the Most High)(13:9), and
هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ
(He is the Most High, the Most Great)(22:62). And there are many similar Ayat.
تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ ۚ
(Nearly the heavens might be rent asunder from above them,) Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Ad-Dahhak, Qatadah, As-Suddi and Ka'b Al-Ahbar said, "Out of fear of His might."
وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ ۗ
(and the angels glorify the praises of their Lord, and ask for forgiveness for those on the earth.) This is like the Ayah:
الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا
(Those who bear the Throne and those around it glorify the praises of their Lord, and believe in Him, and ask forgiveness for those who believe (saying): "Our Lord! You comprehend all things in mercy and knowledge,")(40:7)
أَلَا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
(Lo! Verily, Allah is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.) This is a reminder, to take heed of this fact.
وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ
(And as for those who take as protecting friends others besides Him) This refers to the idolators,
اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ
(Allah is Hafiz over them.) meaning, He is Witness to their deeds, recording and enumerating them precisely, and He will requite them for them in full.
وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ
(and you are not a trustee over them.) meaning, 'you are just a warner, and Allah is the Trustee of all affairs.'
Tafsir Ibn Kathir
حم عسق کی تفسیر :حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر ؒ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس حضرت حذیفہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کرلیا پھر منہ پھیرلیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ نے پھر بھی منہ پھیرلیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر حضرت حذیفہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ حضرت ابن عباس اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے جسے (عبد الا لہ) اور عبداللہ کہا جاتا ہوگا وہ مشرق کی نہروں میں سے ایک نہر کے پاس اترے گا۔ اور وہاں دو شہر بسائے گا نہر کو کاٹ کر دونوں شہروں میں لے جائے گا جب اللہ تعالیٰ ان کے ملک کے زوال اور ان کی دولت کا استیصال کا ارادہ کرے گا۔ اور ان کا وقت ختم ہونے کا ہوگا تو ان دونوں شہروں میں سے ایک پر رات کے وقت آگ آئے گی جو اسے جلا کر بھسم کر دے گی وہاں کے لوگ صبح کو اسے دیکھ کر تعجب کریں گے ایسا معلوم ہوگا کہ گویا یہاں کچھ تھا ہی نہیں صبح ہی صبح وہاں تمام بڑے بڑے سرکش متکبر مخالف حق لوگ جمع ہوں گے اسی وقت اللہ تعالیٰ ان سب کو اس شہر سمیت غارت کر دے گا۔ یہی معنی ہیں (حم عسق) کے یعنی اللہ کی طرف سے یہ عزیمت یعنی ضروری ہے یہ فتنہ قضا کیا ہوا یعنی فیصل شدہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عین سے مراد عدل سین سے مراد سیکون یعنی یہ عنقریب ہو کر رہے گا (ق) سے مراد واقع ہونے والا ان دونوں شہروں میں۔ اس سے بھی زیادہ غربت والی ایک اور روایت میں مسند حافظ ابو یعلی کی دوسری جلد میں مسند ابن عباس میں ہے جو مرفوع بھی ہے لیکن اس کی سند بالکل ضعف ہے اور منقطع بھی ہے اس میں ہے کہ کسی نے ان حروف کی تفسیر آنحضرت ﷺ سے سنی ہے حضرت ابن عباس جلدی سے اکھٹے ہوئے اور فرمایا ہاں میں نے سنی ہے (حم) اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے عین سے مراد (عاین المولون عذاب یوم بدر) ہے۔ سین سے مراد (اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّانْتَــصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا ۭ وَسَـيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَيَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَ02207) 26۔ الشعراء :227) (ق) سے کیا مراد ہے اسے آپ نہ بتاسکے تو حضرت ابوذر کھڑے ہوئے اور حضرت ابن عباس کی تفسیر کے مطابق تفسیر کی اور فرمایا (ق) سے مراد (قارعہ) آسمانی ہے جو تمام لوگوں کو ڈھانپ لے گا ترجمہ یہ ہوا کہ بدر کے دن پیٹھ موڑ کر بھاگنے والے کفار نے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ ان ظالموں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ ان کا کتنا برا انجام ہوا ؟ ان پر آسمانی عذاب آئے گا جو انہیں تباہ و برباد کر دے گا پھر فرماتا ہے کہ اے نبی جس طرح تم پر اس قرآن کی وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح تم سے پہلے کے پیغمبروں پر کتابیں اور صحیفے نازل ہوچکے ہیں یہ سب اس اللہ کی طرف سے اترے ہیں جو اپنا انتقام لینے میں غالب اور زبردست ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے حضرت حارث بن ہشام نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے جب وہ ختم ہوتی ہے تو مجھے جو کچھ کہا گیا وہ سب یاد ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے مجھ سے باتیں کرجاتا ہے جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد رکھ لیتا ہوں حضرت صدیقہ فرماتی ہیں سخت جاڑوں کے ایام میں بھی جب آپ پر وحی اترتی تھی تو شدت وحی سے آپ پانی پانی ہوجاتے تھے یہاں تک کہ پیشانی سے پسینہ کی بوندیں ٹپکنے لگتی تھیں۔ (بخاری مسلم) مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے حضور ﷺ سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ نے فرمایا میں ایک زنجیر کی سی گھڑگھڑاہٹ سنتا ہوں پھر کان لگا لیتا ہوں ایسی وحی میں مجھ پر اتنی شدت سی ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ مجھے اپنی روح نکل جانے کا گمان ہوتا ہے۔ شرح صحیح بخاری کے شروع میں ہم کیفیت وحی پر مفصل کلام کرچکے ہیں فالحمد للہ، پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی غلام ہے اس کی ملکیت ہے اس کے دباؤ تلے اور اس کے سامنے عاجز و مجبور ہے وہ بلندیوں والا اور بڑائیوں والا ہے وہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے وہ اونچائی والا اور کبریائی والا ہے اس کی عظمت اور جلالت کا یہ حال ہے کہ قریب ہے آسمان پھٹ پڑیں۔ فرشتے اس کی عظمت سے کپکپاتے ہوئے اس کی پاکی اور تعریف بیان کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لئے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ) 40۔ غافر :7) یعنی حاملان عرش اور اس کے قرب و جوار کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے اپنی رحمت و علم سے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے پس تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کے تابع ہیں انہیں عذاب جہنم سے بچا لے۔ پھر فرمایا جان لو کہ اللہ غفور و رحیم ہے، پھر فرماتا ہے کہ مشرکوں کے اعمال کی دیکھ بھال میں آپ کر رہا ہوں انہیں خود ہی پورا پورا بدلہ دوں گا۔ تیرا کام صرف انہیں آگاہ کردینا ہے تو کچھ ان پر داروغہ نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ الشُّورَى
وَهِيَ مَكِّيَّةٌ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
قَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَى الْحُرُوفِ الْمُقَطَّعَةِ. وَقَدْ رَوَى ابْنُ جَرِيرٍ هَاهُنَا أَثَرًا غَرِيبًا عَجِيبًا مُنْكَرًا، فَقَالَ:
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَير، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الحَوْطي، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ [[في ت: "وَقَدْ رَوَى ابْنُ جَرِيرٍ هَاهُنَا أَثَرًا غَرِيبًا عجيبا بسنده".]] قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ -وَعِنْدَهُ حُذيفة بْنُ الْيَمَانِ-: أَخْبِرْنِي عَنْ تَفْسِيرِ قَوْلِ اللَّهِ: ﴿حم عسق﴾ قَالَ: فَأَطْرَقَ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ كَرَّرَ مَقَالَتَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَلَمْ يُجِبْهُ بِشَيْءٍ وَكَرِهَ مَقَالَتَهُ، ثُمَّ كَرَّرَهَا الثَّالِثَةَ فَلَمْ يُحِرْ إِلَيْهِ شَيْئًا. فَقَالَ حُذَيْفَةُ [[في أ: "فقال له حذيفة".]] : أَنَا أُنْبِئُكَ بِهَا، قَدْ عَرَفْتُ لِمَ كَرِهَهَا؟ نَزَلَتْ فِي رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ يُقَالُ لَهُ "عَبْدُ الْإِلَهِ" -أَوْ: عَبْدُ اللَّهِ-يَنْزِلُ عَلَى نَهْرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْمَشْرِقِ تُبْنَى عَلَيْهِ مَدِينَتَانِ [[في ت، م، أ: "مدينتين".]] ، يَشُقُّ النَّهْرُ بَيْنَهُمَا شَقًّا، فَإِذَا أَذِنَ اللَّهُ فِي زَوَالِ مُلْكِهِمْ وَانْقِطَاعِ دَوْلَتِهِمْ وَمُدَّتِهِمْ، بَعَثَ اللَّهُ عَلَى إِحْدَاهُمَا نَارًا لَيْلًا فَتُصْبِحُ سَوْدَاءَ مُظْلِمَةً وَقَدِ احْتَرَقَتْ، كَأَنَّهَا لَمْ تَكُنْ مَكَانَهَا، وَتُصْبِحُ صَاحِبَتُهَا مُتَعَجِّبَةً: كَيْفَ أَفْلَتَتْ؟ فَمَا هُوَ إِلَّا بَيَاضُ يَوْمِهَا ذَلِكَ، حَتَّى يَجْتَمِعَ فِيهَا كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ مِنْهُمْ، ثُمَّ يَخْسِفُ اللَّهُ بِهَا وَبِهِمْ جَمِيعًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿حم عسق﴾ يَعْنِي: عَزِيمَةٌ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى وَفِتْنَةٌ وَقَضَاءٌ حُمّ: ﴿حُمَّ﴾ عَيْنٌ: يَعْنِي عَدْلًا مِنْهُ، سِينٌ: يَعْنِي سَيَكُونُ، ق: يَعْنِي واقع بِهَاتَيْنِ الْمَدِينَتَيْنِ [[تفسير الطبري (٢٥/٥) ورواه نعيم بن حماد في الفتن برقم (٥٦٨) من طريق أبي المغيرة عن أرطأة بن المنذر عمن حدثه عن ابن عباس فذكره.]] .
وَأَغْرَبَ مِنْهُ مَا رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ فِي الْجُزْءِ الثَّانِي مِنْ مُسْنَدِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي ذَلِكَ، وَلَكِنَّ إِسْنَادَهُ ضَعِيفٌ جِدًّا وَمُنْقَطِعٌ، فَإِنَّهُ قَالَ:
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الخُشَني الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ: صَعِدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ هَلْ سَمِعَ مِنْكُمْ أَحَدٌ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يُفَسِّرُ ﴿حم عسق﴾ ؟ فَوَثَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ: أَنَا: قَالَ: " ﴿حم﴾ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى" قَالَ: فَعَيْنٌ؟ قَالَ: "عَايَنَ الْمُوَلُّونَ عَذَابَ يَوْمِ بَدْرٍ" قَالَ: فَسِينٌ؟ قال: "سيعلم الذين ظلموا أي منقلب يَنْقَلِبُونَ" قَالَ: فَقَافٌ؟ فَسَكَتَ فَقَامَ أَبُو ذَرٍّ، فَفَسَّرَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَقَالَ: قَافٌ: قَارِعَةٌ مِنَ السَّمَاءِ تَغْشَى النَّاسَ [[ورواه ابن عساكر في تاريخه كما في الدر المنثور (٧/٣٣٦) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿كَذَلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ أَيْ: كَمَا أَنْزَلَ إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ، كَذَلِكَ أَنْزَلَ الْكُتُبَ وَالصُّحُفَ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَكَ. وَقَوْلُهُ: ﴿اللَّهُ الْعَزِيزُ﴾ أَيْ: فِي انْتِقَامِهِ، ﴿الْحَكِيمُ﴾ فِي أَقْوَالِهِ وَأَفْعَالِهِ.
قَالَ: الْإِمَامُ مَالِكٌ -رَحِمَهُ اللَّهِ-عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَة عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الجَرَس، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيّ فَيَفْصِمُ عَنِّي قَدْ وَعَيت مَا قَالَ. وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ رجُلا فَيُكَلِّمُنِي، فَأَعِي مَا يَقُولُ" قَالَتْ عَائِشَةُ [[في ت: "عائشة رضي الله عنها".]] فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ، وَإِنَّ جَبِينَهُ لِيَتَفَصَّدُ عَرَقًا.
أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ، وَلَفْظُهُ لِلْبُخَارِيِّ [[الموطأ (١/٢٠٢) وصحيح البخاري برقم (٢) وصحيح مسلم برقم (٢٣٣٣) .]] .
وَقَدْ [[في أ: "ولقد".]] رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عائشة، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ؛ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ: كَيْفَ يَنْزِلُ عَلَيْكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ: "مِثْلَ [[في أ: "فقال: في مثل".]] صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فيفصمُ عَنِّي وَقَدْ وعَيتُ مَا قَالَهُ" قَالَ: "وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ" قَالَ: "وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ فَيَتَمَثَّلُ لِي فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ" [[المعجم الكبير (٣/٢٥٩) .]] .
وَقَالَ: الْإِمَامُ [[في ت: "وروى".]] أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو [[في ت: عمر".]] ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ تُحِسُّ بِالْوَحْيِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَسْمَعُ صَلَاصِلَ ثُمَّ أَسْكُتُ عِنْدَ ذَلِكَ، فَمَا مِنْ مَرَّةٍ يُوحَى إليَّ إِلَّا ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسِي تُقبَض" تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ [[المسند (٢/٢٢٢) .]] .
وَقَدْ ذَكَرْنَا كَيْفِيَّةَ إِتْيَانِ الْوَحْيِ إِلَى رسول الله صلى الله عليه وسلم في أَوَّلِ شَرْحِ الْبُخَارِيِّ، بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ هَاهُنَا، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ﴾ أي: الْجَمِيعُ عَبِيدٌ لَهُ وَمِلْكٌ لَهُ، تَحْتَ قَهْرِهِ وَتَصْرِيفِهِ، ﴿وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ﴾ [الرَّعْدِ: ٩] ﴿وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ﴾ [سَبَأٍ: ٢٣] وَالْآيَاتُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿تَكَادُ السَّمَوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَالضَّحَّاكُ، وَقَتَادَةُ، وَالسُّدِّيُّ، وَكَعْبُ الْأَحْبَارِ: أَيْ فَرَقًا، مِنَ الْعَظَمَةِ ﴿وَالْمَلائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الأرْضِ﴾ كَقَوْلِهِ: ﴿الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا﴾ [غَافِرٍ:٧] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَلا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ إِعْلَامٌ بِذَلِكَ وَتَنْوِيهٌ بِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ﴾ يَعْنِي: الْمُشْرِكِينَ، ﴿اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ﴾ أَيْ: شَهِيدٌ عَلَى أَعْمَالِهِمْ، يُحْصِيهَا وَيَعُدُّهَا عَدًّا، وَسَيَجْزِيهِمْ بِهَا أَوْفَرَ الْجَزَاءِ. ﴿وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ﴾ أَيْ: إِنَّمَا أَنْتَ نَذِيرٌ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ.
كَذَٰلِكَ يُوحِىٓ إِلَيْكَ وَإِلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكَ ٱللَّهُ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ
Thus has He revealed to you, [O Muhammad], and to those before you - Allah, the Exalted in Might, the Wise.
خدائے غالب و دانا اسی طرح تمہاری طرف مضامین اور (براہین) بھیجتا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے
این گونه خداوند عزیز و حکیم به تو و پیامبرانی که پیش از تو بودند وحی میکند.
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
حم - عسق - كَذَٰلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ - تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ ۚ وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ ۗ أَلَا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ
(1. Ha Mim.)(2. 'Ain Sin Qaf.)(3. Likewise Allah, the Almighty, the All-Wise sends revelation to you as to those before you.)(4. To Him belongs all that is in the heavens and all that is on the earth, and He is the Most High, the Most Great.)(5. Nearly the heavens might be rent asunder from above them, and the angels glorify the praises of their Lord, and ask for forgiveness for those on the earth. Lo, Verily, Allah is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.)(6. And as for those who take as protecting friends others besides Him – Allah is Hafiz over them, and you are not a trustee over them.)
The Revelation and Allah's Might
We have previously discussed the individual letters.
كَذَٰلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(Likewise Allah, the Almighty, the All-Wise sends revelation to you as to those before you.) means, 'just as this Qur'an has been revealed to you, so too the Books and Scriptures were revealed to the Prophets who came before you.'
اللَّهُ الْعَزِيزُ
(Allah, the Almighty) means, in His vengeance
الْحَكِيمُ
(the All-Wise) means, in all that He says and does. Imam Malik, may Allah have mercy on him, narrated that 'A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "Al-Harith bin Hisham asked the Messenger of Allah ﷺ, 'O Messenger of Allah, how does the revelation come to you?' The Messenger of Allah ﷺ said:
أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ
(Sometimes it comes to me like the ringing of a bell, which is the most difficult for me; then it goes away, and I understand what was said. And sometimes the angel comes to me in the image of a man, and he speaks to me and I understand what he says.)"
A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "I saw him receiving the revelation on a very cold day, and when it departed from him, there were beads of sweat on his forehead." It was also reported in the Two Sahihs, and the version quoted here is that recorded by Al-Bukhari.
لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ
(To Him belongs all that is in the heavens and all that is on the earth,) means, everything is subject to His dominion and control.
وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
(and He is the Most High, the Most Great.) This is like the Ayat:
الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ
(the Most Great, the Most High)(13:9), and
هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ
(He is the Most High, the Most Great)(22:62). And there are many similar Ayat.
تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ ۚ
(Nearly the heavens might be rent asunder from above them,) Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Ad-Dahhak, Qatadah, As-Suddi and Ka'b Al-Ahbar said, "Out of fear of His might."
وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ ۗ
(and the angels glorify the praises of their Lord, and ask for forgiveness for those on the earth.) This is like the Ayah:
الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا
(Those who bear the Throne and those around it glorify the praises of their Lord, and believe in Him, and ask forgiveness for those who believe (saying): "Our Lord! You comprehend all things in mercy and knowledge,")(40:7)
أَلَا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
(Lo! Verily, Allah is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.) This is a reminder, to take heed of this fact.
وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ
(And as for those who take as protecting friends others besides Him) This refers to the idolators,
اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ
(Allah is Hafiz over them.) meaning, He is Witness to their deeds, recording and enumerating them precisely, and He will requite them for them in full.
وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ
(and you are not a trustee over them.) meaning, 'you are just a warner, and Allah is the Trustee of all affairs.'
Tafsir Ibn Kathir
حم عسق کی تفسیر :حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر ؒ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس حضرت حذیفہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کرلیا پھر منہ پھیرلیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ نے پھر بھی منہ پھیرلیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر حضرت حذیفہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ حضرت ابن عباس اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے جسے (عبد الا لہ) اور عبداللہ کہا جاتا ہوگا وہ مشرق کی نہروں میں سے ایک نہر کے پاس اترے گا۔ اور وہاں دو شہر بسائے گا نہر کو کاٹ کر دونوں شہروں میں لے جائے گا جب اللہ تعالیٰ ان کے ملک کے زوال اور ان کی دولت کا استیصال کا ارادہ کرے گا۔ اور ان کا وقت ختم ہونے کا ہوگا تو ان دونوں شہروں میں سے ایک پر رات کے وقت آگ آئے گی جو اسے جلا کر بھسم کر دے گی وہاں کے لوگ صبح کو اسے دیکھ کر تعجب کریں گے ایسا معلوم ہوگا کہ گویا یہاں کچھ تھا ہی نہیں صبح ہی صبح وہاں تمام بڑے بڑے سرکش متکبر مخالف حق لوگ جمع ہوں گے اسی وقت اللہ تعالیٰ ان سب کو اس شہر سمیت غارت کر دے گا۔ یہی معنی ہیں (حم عسق) کے یعنی اللہ کی طرف سے یہ عزیمت یعنی ضروری ہے یہ فتنہ قضا کیا ہوا یعنی فیصل شدہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عین سے مراد عدل سین سے مراد سیکون یعنی یہ عنقریب ہو کر رہے گا (ق) سے مراد واقع ہونے والا ان دونوں شہروں میں۔ اس سے بھی زیادہ غربت والی ایک اور روایت میں مسند حافظ ابو یعلی کی دوسری جلد میں مسند ابن عباس میں ہے جو مرفوع بھی ہے لیکن اس کی سند بالکل ضعف ہے اور منقطع بھی ہے اس میں ہے کہ کسی نے ان حروف کی تفسیر آنحضرت ﷺ سے سنی ہے حضرت ابن عباس جلدی سے اکھٹے ہوئے اور فرمایا ہاں میں نے سنی ہے (حم) اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے عین سے مراد (عاین المولون عذاب یوم بدر) ہے۔ سین سے مراد (اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّانْتَــصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا ۭ وَسَـيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَيَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَ02207) 26۔ الشعراء :227) (ق) سے کیا مراد ہے اسے آپ نہ بتاسکے تو حضرت ابوذر کھڑے ہوئے اور حضرت ابن عباس کی تفسیر کے مطابق تفسیر کی اور فرمایا (ق) سے مراد (قارعہ) آسمانی ہے جو تمام لوگوں کو ڈھانپ لے گا ترجمہ یہ ہوا کہ بدر کے دن پیٹھ موڑ کر بھاگنے والے کفار نے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ ان ظالموں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ ان کا کتنا برا انجام ہوا ؟ ان پر آسمانی عذاب آئے گا جو انہیں تباہ و برباد کر دے گا پھر فرماتا ہے کہ اے نبی جس طرح تم پر اس قرآن کی وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح تم سے پہلے کے پیغمبروں پر کتابیں اور صحیفے نازل ہوچکے ہیں یہ سب اس اللہ کی طرف سے اترے ہیں جو اپنا انتقام لینے میں غالب اور زبردست ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے حضرت حارث بن ہشام نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے جب وہ ختم ہوتی ہے تو مجھے جو کچھ کہا گیا وہ سب یاد ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے مجھ سے باتیں کرجاتا ہے جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد رکھ لیتا ہوں حضرت صدیقہ فرماتی ہیں سخت جاڑوں کے ایام میں بھی جب آپ پر وحی اترتی تھی تو شدت وحی سے آپ پانی پانی ہوجاتے تھے یہاں تک کہ پیشانی سے پسینہ کی بوندیں ٹپکنے لگتی تھیں۔ (بخاری مسلم) مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے حضور ﷺ سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ نے فرمایا میں ایک زنجیر کی سی گھڑگھڑاہٹ سنتا ہوں پھر کان لگا لیتا ہوں ایسی وحی میں مجھ پر اتنی شدت سی ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ مجھے اپنی روح نکل جانے کا گمان ہوتا ہے۔ شرح صحیح بخاری کے شروع میں ہم کیفیت وحی پر مفصل کلام کرچکے ہیں فالحمد للہ، پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی غلام ہے اس کی ملکیت ہے اس کے دباؤ تلے اور اس کے سامنے عاجز و مجبور ہے وہ بلندیوں والا اور بڑائیوں والا ہے وہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے وہ اونچائی والا اور کبریائی والا ہے اس کی عظمت اور جلالت کا یہ حال ہے کہ قریب ہے آسمان پھٹ پڑیں۔ فرشتے اس کی عظمت سے کپکپاتے ہوئے اس کی پاکی اور تعریف بیان کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لئے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ) 40۔ غافر :7) یعنی حاملان عرش اور اس کے قرب و جوار کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے اپنی رحمت و علم سے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے پس تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کے تابع ہیں انہیں عذاب جہنم سے بچا لے۔ پھر فرمایا جان لو کہ اللہ غفور و رحیم ہے، پھر فرماتا ہے کہ مشرکوں کے اعمال کی دیکھ بھال میں آپ کر رہا ہوں انہیں خود ہی پورا پورا بدلہ دوں گا۔ تیرا کام صرف انہیں آگاہ کردینا ہے تو کچھ ان پر داروغہ نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ الشُّورَى
وَهِيَ مَكِّيَّةٌ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
قَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَى الْحُرُوفِ الْمُقَطَّعَةِ. وَقَدْ رَوَى ابْنُ جَرِيرٍ هَاهُنَا أَثَرًا غَرِيبًا عَجِيبًا مُنْكَرًا، فَقَالَ:
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَير، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الحَوْطي، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ [[في ت: "وَقَدْ رَوَى ابْنُ جَرِيرٍ هَاهُنَا أَثَرًا غَرِيبًا عجيبا بسنده".]] قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ -وَعِنْدَهُ حُذيفة بْنُ الْيَمَانِ-: أَخْبِرْنِي عَنْ تَفْسِيرِ قَوْلِ اللَّهِ: ﴿حم عسق﴾ قَالَ: فَأَطْرَقَ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ كَرَّرَ مَقَالَتَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَلَمْ يُجِبْهُ بِشَيْءٍ وَكَرِهَ مَقَالَتَهُ، ثُمَّ كَرَّرَهَا الثَّالِثَةَ فَلَمْ يُحِرْ إِلَيْهِ شَيْئًا. فَقَالَ حُذَيْفَةُ [[في أ: "فقال له حذيفة".]] : أَنَا أُنْبِئُكَ بِهَا، قَدْ عَرَفْتُ لِمَ كَرِهَهَا؟ نَزَلَتْ فِي رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ يُقَالُ لَهُ "عَبْدُ الْإِلَهِ" -أَوْ: عَبْدُ اللَّهِ-يَنْزِلُ عَلَى نَهْرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْمَشْرِقِ تُبْنَى عَلَيْهِ مَدِينَتَانِ [[في ت، م، أ: "مدينتين".]] ، يَشُقُّ النَّهْرُ بَيْنَهُمَا شَقًّا، فَإِذَا أَذِنَ اللَّهُ فِي زَوَالِ مُلْكِهِمْ وَانْقِطَاعِ دَوْلَتِهِمْ وَمُدَّتِهِمْ، بَعَثَ اللَّهُ عَلَى إِحْدَاهُمَا نَارًا لَيْلًا فَتُصْبِحُ سَوْدَاءَ مُظْلِمَةً وَقَدِ احْتَرَقَتْ، كَأَنَّهَا لَمْ تَكُنْ مَكَانَهَا، وَتُصْبِحُ صَاحِبَتُهَا مُتَعَجِّبَةً: كَيْفَ أَفْلَتَتْ؟ فَمَا هُوَ إِلَّا بَيَاضُ يَوْمِهَا ذَلِكَ، حَتَّى يَجْتَمِعَ فِيهَا كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ مِنْهُمْ، ثُمَّ يَخْسِفُ اللَّهُ بِهَا وَبِهِمْ جَمِيعًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿حم عسق﴾ يَعْنِي: عَزِيمَةٌ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى وَفِتْنَةٌ وَقَضَاءٌ حُمّ: ﴿حُمَّ﴾ عَيْنٌ: يَعْنِي عَدْلًا مِنْهُ، سِينٌ: يَعْنِي سَيَكُونُ، ق: يَعْنِي واقع بِهَاتَيْنِ الْمَدِينَتَيْنِ [[تفسير الطبري (٢٥/٥) ورواه نعيم بن حماد في الفتن برقم (٥٦٨) من طريق أبي المغيرة عن أرطأة بن المنذر عمن حدثه عن ابن عباس فذكره.]] .
وَأَغْرَبَ مِنْهُ مَا رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ فِي الْجُزْءِ الثَّانِي مِنْ مُسْنَدِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي ذَلِكَ، وَلَكِنَّ إِسْنَادَهُ ضَعِيفٌ جِدًّا وَمُنْقَطِعٌ، فَإِنَّهُ قَالَ:
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الخُشَني الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ: صَعِدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ هَلْ سَمِعَ مِنْكُمْ أَحَدٌ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يُفَسِّرُ ﴿حم عسق﴾ ؟ فَوَثَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ: أَنَا: قَالَ: " ﴿حم﴾ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى" قَالَ: فَعَيْنٌ؟ قَالَ: "عَايَنَ الْمُوَلُّونَ عَذَابَ يَوْمِ بَدْرٍ" قَالَ: فَسِينٌ؟ قال: "سيعلم الذين ظلموا أي منقلب يَنْقَلِبُونَ" قَالَ: فَقَافٌ؟ فَسَكَتَ فَقَامَ أَبُو ذَرٍّ، فَفَسَّرَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَقَالَ: قَافٌ: قَارِعَةٌ مِنَ السَّمَاءِ تَغْشَى النَّاسَ [[ورواه ابن عساكر في تاريخه كما في الدر المنثور (٧/٣٣٦) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿كَذَلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ أَيْ: كَمَا أَنْزَلَ إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ، كَذَلِكَ أَنْزَلَ الْكُتُبَ وَالصُّحُفَ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَكَ. وَقَوْلُهُ: ﴿اللَّهُ الْعَزِيزُ﴾ أَيْ: فِي انْتِقَامِهِ، ﴿الْحَكِيمُ﴾ فِي أَقْوَالِهِ وَأَفْعَالِهِ.
قَالَ: الْإِمَامُ مَالِكٌ -رَحِمَهُ اللَّهِ-عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَة عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الجَرَس، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيّ فَيَفْصِمُ عَنِّي قَدْ وَعَيت مَا قَالَ. وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ رجُلا فَيُكَلِّمُنِي، فَأَعِي مَا يَقُولُ" قَالَتْ عَائِشَةُ [[في ت: "عائشة رضي الله عنها".]] فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ، وَإِنَّ جَبِينَهُ لِيَتَفَصَّدُ عَرَقًا.
أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ، وَلَفْظُهُ لِلْبُخَارِيِّ [[الموطأ (١/٢٠٢) وصحيح البخاري برقم (٢) وصحيح مسلم برقم (٢٣٣٣) .]] .
وَقَدْ [[في أ: "ولقد".]] رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عائشة، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ؛ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ: كَيْفَ يَنْزِلُ عَلَيْكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ: "مِثْلَ [[في أ: "فقال: في مثل".]] صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فيفصمُ عَنِّي وَقَدْ وعَيتُ مَا قَالَهُ" قَالَ: "وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ" قَالَ: "وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ فَيَتَمَثَّلُ لِي فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ" [[المعجم الكبير (٣/٢٥٩) .]] .
وَقَالَ: الْإِمَامُ [[في ت: "وروى".]] أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو [[في ت: عمر".]] ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ تُحِسُّ بِالْوَحْيِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَسْمَعُ صَلَاصِلَ ثُمَّ أَسْكُتُ عِنْدَ ذَلِكَ، فَمَا مِنْ مَرَّةٍ يُوحَى إليَّ إِلَّا ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسِي تُقبَض" تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ [[المسند (٢/٢٢٢) .]] .
وَقَدْ ذَكَرْنَا كَيْفِيَّةَ إِتْيَانِ الْوَحْيِ إِلَى رسول الله صلى الله عليه وسلم في أَوَّلِ شَرْحِ الْبُخَارِيِّ، بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ هَاهُنَا، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ﴾ أي: الْجَمِيعُ عَبِيدٌ لَهُ وَمِلْكٌ لَهُ، تَحْتَ قَهْرِهِ وَتَصْرِيفِهِ، ﴿وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ﴾ [الرَّعْدِ: ٩] ﴿وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ﴾ [سَبَأٍ: ٢٣] وَالْآيَاتُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿تَكَادُ السَّمَوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَالضَّحَّاكُ، وَقَتَادَةُ، وَالسُّدِّيُّ، وَكَعْبُ الْأَحْبَارِ: أَيْ فَرَقًا، مِنَ الْعَظَمَةِ ﴿وَالْمَلائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الأرْضِ﴾ كَقَوْلِهِ: ﴿الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا﴾ [غَافِرٍ:٧] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَلا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ إِعْلَامٌ بِذَلِكَ وَتَنْوِيهٌ بِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ﴾ يَعْنِي: الْمُشْرِكِينَ، ﴿اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ﴾ أَيْ: شَهِيدٌ عَلَى أَعْمَالِهِمْ، يُحْصِيهَا وَيَعُدُّهَا عَدًّا، وَسَيَجْزِيهِمْ بِهَا أَوْفَرَ الْجَزَاءِ. ﴿وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ﴾ أَيْ: إِنَّمَا أَنْتَ نَذِيرٌ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ.
لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْعَظِيمُ
To Him belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth, and He is the Most High, the Most Great.
جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے
آنچه در آسمانها و آنچه در زمین است از آن اوست؛ و او بلندمرتبه و بزرگ است!
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
حم - عسق - كَذَٰلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ - تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ ۚ وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ ۗ أَلَا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ
(1. Ha Mim.)(2. 'Ain Sin Qaf.)(3. Likewise Allah, the Almighty, the All-Wise sends revelation to you as to those before you.)(4. To Him belongs all that is in the heavens and all that is on the earth, and He is the Most High, the Most Great.)(5. Nearly the heavens might be rent asunder from above them, and the angels glorify the praises of their Lord, and ask for forgiveness for those on the earth. Lo, Verily, Allah is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.)(6. And as for those who take as protecting friends others besides Him – Allah is Hafiz over them, and you are not a trustee over them.)
The Revelation and Allah's Might
We have previously discussed the individual letters.
كَذَٰلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(Likewise Allah, the Almighty, the All-Wise sends revelation to you as to those before you.) means, 'just as this Qur'an has been revealed to you, so too the Books and Scriptures were revealed to the Prophets who came before you.'
اللَّهُ الْعَزِيزُ
(Allah, the Almighty) means, in His vengeance
الْحَكِيمُ
(the All-Wise) means, in all that He says and does. Imam Malik, may Allah have mercy on him, narrated that 'A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "Al-Harith bin Hisham asked the Messenger of Allah ﷺ, 'O Messenger of Allah, how does the revelation come to you?' The Messenger of Allah ﷺ said:
أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ
(Sometimes it comes to me like the ringing of a bell, which is the most difficult for me; then it goes away, and I understand what was said. And sometimes the angel comes to me in the image of a man, and he speaks to me and I understand what he says.)"
A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "I saw him receiving the revelation on a very cold day, and when it departed from him, there were beads of sweat on his forehead." It was also reported in the Two Sahihs, and the version quoted here is that recorded by Al-Bukhari.
لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ
(To Him belongs all that is in the heavens and all that is on the earth,) means, everything is subject to His dominion and control.
وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
(and He is the Most High, the Most Great.) This is like the Ayat:
الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ
(the Most Great, the Most High)(13:9), and
هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ
(He is the Most High, the Most Great)(22:62). And there are many similar Ayat.
تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ ۚ
(Nearly the heavens might be rent asunder from above them,) Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Ad-Dahhak, Qatadah, As-Suddi and Ka'b Al-Ahbar said, "Out of fear of His might."
وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ ۗ
(and the angels glorify the praises of their Lord, and ask for forgiveness for those on the earth.) This is like the Ayah:
الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا
(Those who bear the Throne and those around it glorify the praises of their Lord, and believe in Him, and ask forgiveness for those who believe (saying): "Our Lord! You comprehend all things in mercy and knowledge,")(40:7)
أَلَا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
(Lo! Verily, Allah is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.) This is a reminder, to take heed of this fact.
وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ
(And as for those who take as protecting friends others besides Him) This refers to the idolators,
اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ
(Allah is Hafiz over them.) meaning, He is Witness to their deeds, recording and enumerating them precisely, and He will requite them for them in full.
وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ
(and you are not a trustee over them.) meaning, 'you are just a warner, and Allah is the Trustee of all affairs.'
Tafsir Ibn Kathir
حم عسق کی تفسیر :حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر ؒ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس حضرت حذیفہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کرلیا پھر منہ پھیرلیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ نے پھر بھی منہ پھیرلیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر حضرت حذیفہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ حضرت ابن عباس اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے جسے (عبد الا لہ) اور عبداللہ کہا جاتا ہوگا وہ مشرق کی نہروں میں سے ایک نہر کے پاس اترے گا۔ اور وہاں دو شہر بسائے گا نہر کو کاٹ کر دونوں شہروں میں لے جائے گا جب اللہ تعالیٰ ان کے ملک کے زوال اور ان کی دولت کا استیصال کا ارادہ کرے گا۔ اور ان کا وقت ختم ہونے کا ہوگا تو ان دونوں شہروں میں سے ایک پر رات کے وقت آگ آئے گی جو اسے جلا کر بھسم کر دے گی وہاں کے لوگ صبح کو اسے دیکھ کر تعجب کریں گے ایسا معلوم ہوگا کہ گویا یہاں کچھ تھا ہی نہیں صبح ہی صبح وہاں تمام بڑے بڑے سرکش متکبر مخالف حق لوگ جمع ہوں گے اسی وقت اللہ تعالیٰ ان سب کو اس شہر سمیت غارت کر دے گا۔ یہی معنی ہیں (حم عسق) کے یعنی اللہ کی طرف سے یہ عزیمت یعنی ضروری ہے یہ فتنہ قضا کیا ہوا یعنی فیصل شدہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عین سے مراد عدل سین سے مراد سیکون یعنی یہ عنقریب ہو کر رہے گا (ق) سے مراد واقع ہونے والا ان دونوں شہروں میں۔ اس سے بھی زیادہ غربت والی ایک اور روایت میں مسند حافظ ابو یعلی کی دوسری جلد میں مسند ابن عباس میں ہے جو مرفوع بھی ہے لیکن اس کی سند بالکل ضعف ہے اور منقطع بھی ہے اس میں ہے کہ کسی نے ان حروف کی تفسیر آنحضرت ﷺ سے سنی ہے حضرت ابن عباس جلدی سے اکھٹے ہوئے اور فرمایا ہاں میں نے سنی ہے (حم) اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے عین سے مراد (عاین المولون عذاب یوم بدر) ہے۔ سین سے مراد (اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّانْتَــصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا ۭ وَسَـيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَيَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَ02207) 26۔ الشعراء :227) (ق) سے کیا مراد ہے اسے آپ نہ بتاسکے تو حضرت ابوذر کھڑے ہوئے اور حضرت ابن عباس کی تفسیر کے مطابق تفسیر کی اور فرمایا (ق) سے مراد (قارعہ) آسمانی ہے جو تمام لوگوں کو ڈھانپ لے گا ترجمہ یہ ہوا کہ بدر کے دن پیٹھ موڑ کر بھاگنے والے کفار نے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ ان ظالموں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ ان کا کتنا برا انجام ہوا ؟ ان پر آسمانی عذاب آئے گا جو انہیں تباہ و برباد کر دے گا پھر فرماتا ہے کہ اے نبی جس طرح تم پر اس قرآن کی وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح تم سے پہلے کے پیغمبروں پر کتابیں اور صحیفے نازل ہوچکے ہیں یہ سب اس اللہ کی طرف سے اترے ہیں جو اپنا انتقام لینے میں غالب اور زبردست ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے حضرت حارث بن ہشام نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے جب وہ ختم ہوتی ہے تو مجھے جو کچھ کہا گیا وہ سب یاد ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے مجھ سے باتیں کرجاتا ہے جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد رکھ لیتا ہوں حضرت صدیقہ فرماتی ہیں سخت جاڑوں کے ایام میں بھی جب آپ پر وحی اترتی تھی تو شدت وحی سے آپ پانی پانی ہوجاتے تھے یہاں تک کہ پیشانی سے پسینہ کی بوندیں ٹپکنے لگتی تھیں۔ (بخاری مسلم) مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے حضور ﷺ سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ نے فرمایا میں ایک زنجیر کی سی گھڑگھڑاہٹ سنتا ہوں پھر کان لگا لیتا ہوں ایسی وحی میں مجھ پر اتنی شدت سی ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ مجھے اپنی روح نکل جانے کا گمان ہوتا ہے۔ شرح صحیح بخاری کے شروع میں ہم کیفیت وحی پر مفصل کلام کرچکے ہیں فالحمد للہ، پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی غلام ہے اس کی ملکیت ہے اس کے دباؤ تلے اور اس کے سامنے عاجز و مجبور ہے وہ بلندیوں والا اور بڑائیوں والا ہے وہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے وہ اونچائی والا اور کبریائی والا ہے اس کی عظمت اور جلالت کا یہ حال ہے کہ قریب ہے آسمان پھٹ پڑیں۔ فرشتے اس کی عظمت سے کپکپاتے ہوئے اس کی پاکی اور تعریف بیان کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لئے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ) 40۔ غافر :7) یعنی حاملان عرش اور اس کے قرب و جوار کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے اپنی رحمت و علم سے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے پس تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کے تابع ہیں انہیں عذاب جہنم سے بچا لے۔ پھر فرمایا جان لو کہ اللہ غفور و رحیم ہے، پھر فرماتا ہے کہ مشرکوں کے اعمال کی دیکھ بھال میں آپ کر رہا ہوں انہیں خود ہی پورا پورا بدلہ دوں گا۔ تیرا کام صرف انہیں آگاہ کردینا ہے تو کچھ ان پر داروغہ نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ الشُّورَى
وَهِيَ مَكِّيَّةٌ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
قَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَى الْحُرُوفِ الْمُقَطَّعَةِ. وَقَدْ رَوَى ابْنُ جَرِيرٍ هَاهُنَا أَثَرًا غَرِيبًا عَجِيبًا مُنْكَرًا، فَقَالَ:
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَير، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الحَوْطي، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ [[في ت: "وَقَدْ رَوَى ابْنُ جَرِيرٍ هَاهُنَا أَثَرًا غَرِيبًا عجيبا بسنده".]] قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ -وَعِنْدَهُ حُذيفة بْنُ الْيَمَانِ-: أَخْبِرْنِي عَنْ تَفْسِيرِ قَوْلِ اللَّهِ: ﴿حم عسق﴾ قَالَ: فَأَطْرَقَ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ كَرَّرَ مَقَالَتَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَلَمْ يُجِبْهُ بِشَيْءٍ وَكَرِهَ مَقَالَتَهُ، ثُمَّ كَرَّرَهَا الثَّالِثَةَ فَلَمْ يُحِرْ إِلَيْهِ شَيْئًا. فَقَالَ حُذَيْفَةُ [[في أ: "فقال له حذيفة".]] : أَنَا أُنْبِئُكَ بِهَا، قَدْ عَرَفْتُ لِمَ كَرِهَهَا؟ نَزَلَتْ فِي رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ يُقَالُ لَهُ "عَبْدُ الْإِلَهِ" -أَوْ: عَبْدُ اللَّهِ-يَنْزِلُ عَلَى نَهْرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْمَشْرِقِ تُبْنَى عَلَيْهِ مَدِينَتَانِ [[في ت، م، أ: "مدينتين".]] ، يَشُقُّ النَّهْرُ بَيْنَهُمَا شَقًّا، فَإِذَا أَذِنَ اللَّهُ فِي زَوَالِ مُلْكِهِمْ وَانْقِطَاعِ دَوْلَتِهِمْ وَمُدَّتِهِمْ، بَعَثَ اللَّهُ عَلَى إِحْدَاهُمَا نَارًا لَيْلًا فَتُصْبِحُ سَوْدَاءَ مُظْلِمَةً وَقَدِ احْتَرَقَتْ، كَأَنَّهَا لَمْ تَكُنْ مَكَانَهَا، وَتُصْبِحُ صَاحِبَتُهَا مُتَعَجِّبَةً: كَيْفَ أَفْلَتَتْ؟ فَمَا هُوَ إِلَّا بَيَاضُ يَوْمِهَا ذَلِكَ، حَتَّى يَجْتَمِعَ فِيهَا كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ مِنْهُمْ، ثُمَّ يَخْسِفُ اللَّهُ بِهَا وَبِهِمْ جَمِيعًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿حم عسق﴾ يَعْنِي: عَزِيمَةٌ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى وَفِتْنَةٌ وَقَضَاءٌ حُمّ: ﴿حُمَّ﴾ عَيْنٌ: يَعْنِي عَدْلًا مِنْهُ، سِينٌ: يَعْنِي سَيَكُونُ، ق: يَعْنِي واقع بِهَاتَيْنِ الْمَدِينَتَيْنِ [[تفسير الطبري (٢٥/٥) ورواه نعيم بن حماد في الفتن برقم (٥٦٨) من طريق أبي المغيرة عن أرطأة بن المنذر عمن حدثه عن ابن عباس فذكره.]] .
وَأَغْرَبَ مِنْهُ مَا رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ فِي الْجُزْءِ الثَّانِي مِنْ مُسْنَدِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي ذَلِكَ، وَلَكِنَّ إِسْنَادَهُ ضَعِيفٌ جِدًّا وَمُنْقَطِعٌ، فَإِنَّهُ قَالَ:
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الخُشَني الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ: صَعِدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ هَلْ سَمِعَ مِنْكُمْ أَحَدٌ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يُفَسِّرُ ﴿حم عسق﴾ ؟ فَوَثَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ: أَنَا: قَالَ: " ﴿حم﴾ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى" قَالَ: فَعَيْنٌ؟ قَالَ: "عَايَنَ الْمُوَلُّونَ عَذَابَ يَوْمِ بَدْرٍ" قَالَ: فَسِينٌ؟ قال: "سيعلم الذين ظلموا أي منقلب يَنْقَلِبُونَ" قَالَ: فَقَافٌ؟ فَسَكَتَ فَقَامَ أَبُو ذَرٍّ، فَفَسَّرَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَقَالَ: قَافٌ: قَارِعَةٌ مِنَ السَّمَاءِ تَغْشَى النَّاسَ [[ورواه ابن عساكر في تاريخه كما في الدر المنثور (٧/٣٣٦) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿كَذَلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ أَيْ: كَمَا أَنْزَلَ إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ، كَذَلِكَ أَنْزَلَ الْكُتُبَ وَالصُّحُفَ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَكَ. وَقَوْلُهُ: ﴿اللَّهُ الْعَزِيزُ﴾ أَيْ: فِي انْتِقَامِهِ، ﴿الْحَكِيمُ﴾ فِي أَقْوَالِهِ وَأَفْعَالِهِ.
قَالَ: الْإِمَامُ مَالِكٌ -رَحِمَهُ اللَّهِ-عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَة عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الجَرَس، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيّ فَيَفْصِمُ عَنِّي قَدْ وَعَيت مَا قَالَ. وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ رجُلا فَيُكَلِّمُنِي، فَأَعِي مَا يَقُولُ" قَالَتْ عَائِشَةُ [[في ت: "عائشة رضي الله عنها".]] فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ، وَإِنَّ جَبِينَهُ لِيَتَفَصَّدُ عَرَقًا.
أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ، وَلَفْظُهُ لِلْبُخَارِيِّ [[الموطأ (١/٢٠٢) وصحيح البخاري برقم (٢) وصحيح مسلم برقم (٢٣٣٣) .]] .
وَقَدْ [[في أ: "ولقد".]] رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عائشة، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ؛ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ: كَيْفَ يَنْزِلُ عَلَيْكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ: "مِثْلَ [[في أ: "فقال: في مثل".]] صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فيفصمُ عَنِّي وَقَدْ وعَيتُ مَا قَالَهُ" قَالَ: "وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ" قَالَ: "وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ فَيَتَمَثَّلُ لِي فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ" [[المعجم الكبير (٣/٢٥٩) .]] .
وَقَالَ: الْإِمَامُ [[في ت: "وروى".]] أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو [[في ت: عمر".]] ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ تُحِسُّ بِالْوَحْيِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَسْمَعُ صَلَاصِلَ ثُمَّ أَسْكُتُ عِنْدَ ذَلِكَ، فَمَا مِنْ مَرَّةٍ يُوحَى إليَّ إِلَّا ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسِي تُقبَض" تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ [[المسند (٢/٢٢٢) .]] .
وَقَدْ ذَكَرْنَا كَيْفِيَّةَ إِتْيَانِ الْوَحْيِ إِلَى رسول الله صلى الله عليه وسلم في أَوَّلِ شَرْحِ الْبُخَارِيِّ، بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ هَاهُنَا، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ﴾ أي: الْجَمِيعُ عَبِيدٌ لَهُ وَمِلْكٌ لَهُ، تَحْتَ قَهْرِهِ وَتَصْرِيفِهِ، ﴿وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ﴾ [الرَّعْدِ: ٩] ﴿وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ﴾ [سَبَأٍ: ٢٣] وَالْآيَاتُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿تَكَادُ السَّمَوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَالضَّحَّاكُ، وَقَتَادَةُ، وَالسُّدِّيُّ، وَكَعْبُ الْأَحْبَارِ: أَيْ فَرَقًا، مِنَ الْعَظَمَةِ ﴿وَالْمَلائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الأرْضِ﴾ كَقَوْلِهِ: ﴿الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا﴾ [غَافِرٍ:٧] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَلا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ إِعْلَامٌ بِذَلِكَ وَتَنْوِيهٌ بِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ﴾ يَعْنِي: الْمُشْرِكِينَ، ﴿اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ﴾ أَيْ: شَهِيدٌ عَلَى أَعْمَالِهِمْ، يُحْصِيهَا وَيَعُدُّهَا عَدًّا، وَسَيَجْزِيهِمْ بِهَا أَوْفَرَ الْجَزَاءِ. ﴿وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ﴾ أَيْ: إِنَّمَا أَنْتَ نَذِيرٌ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ.
تَكَادُ ٱلسَّمَٰوَٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِن فَوْقِهِنَّ ۚ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَن فِى ٱلْأَرْضِ ۗ أَلَآ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
The heavens almost break from above them, and the angels exalt [Allah] with praise of their Lord and ask forgiveness for those on earth. Unquestionably, it is Allah who is the Forgiving, the Merciful.
قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیج کرتے رہتے ہیں اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں۔ سن رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
نزدیک است آسمانها (بخاطر نسبتهای ناروای مشرکان) از بالا متلاشی شوند و فرشتگان پیوسته تسبیح و حمد پروردگارشان را بجا میآورند و برای کسانی که در زمین هستند استغفار میکنند؛ آگاه باشید خداوند آمرزنده و مهربان است.
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
حم - عسق - كَذَٰلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ - تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ ۚ وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ ۗ أَلَا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ
(1. Ha Mim.)(2. 'Ain Sin Qaf.)(3. Likewise Allah, the Almighty, the All-Wise sends revelation to you as to those before you.)(4. To Him belongs all that is in the heavens and all that is on the earth, and He is the Most High, the Most Great.)(5. Nearly the heavens might be rent asunder from above them, and the angels glorify the praises of their Lord, and ask for forgiveness for those on the earth. Lo, Verily, Allah is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.)(6. And as for those who take as protecting friends others besides Him – Allah is Hafiz over them, and you are not a trustee over them.)
The Revelation and Allah's Might
We have previously discussed the individual letters.
كَذَٰلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(Likewise Allah, the Almighty, the All-Wise sends revelation to you as to those before you.) means, 'just as this Qur'an has been revealed to you, so too the Books and Scriptures were revealed to the Prophets who came before you.'
اللَّهُ الْعَزِيزُ
(Allah, the Almighty) means, in His vengeance
الْحَكِيمُ
(the All-Wise) means, in all that He says and does. Imam Malik, may Allah have mercy on him, narrated that 'A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "Al-Harith bin Hisham asked the Messenger of Allah ﷺ, 'O Messenger of Allah, how does the revelation come to you?' The Messenger of Allah ﷺ said:
أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ
(Sometimes it comes to me like the ringing of a bell, which is the most difficult for me; then it goes away, and I understand what was said. And sometimes the angel comes to me in the image of a man, and he speaks to me and I understand what he says.)"
A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "I saw him receiving the revelation on a very cold day, and when it departed from him, there were beads of sweat on his forehead." It was also reported in the Two Sahihs, and the version quoted here is that recorded by Al-Bukhari.
لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ
(To Him belongs all that is in the heavens and all that is on the earth,) means, everything is subject to His dominion and control.
وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
(and He is the Most High, the Most Great.) This is like the Ayat:
الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ
(the Most Great, the Most High)(13:9), and
هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ
(He is the Most High, the Most Great)(22:62). And there are many similar Ayat.
تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ ۚ
(Nearly the heavens might be rent asunder from above them,) Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Ad-Dahhak, Qatadah, As-Suddi and Ka'b Al-Ahbar said, "Out of fear of His might."
وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ ۗ
(and the angels glorify the praises of their Lord, and ask for forgiveness for those on the earth.) This is like the Ayah:
الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا
(Those who bear the Throne and those around it glorify the praises of their Lord, and believe in Him, and ask forgiveness for those who believe (saying): "Our Lord! You comprehend all things in mercy and knowledge,")(40:7)
أَلَا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
(Lo! Verily, Allah is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.) This is a reminder, to take heed of this fact.
وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ
(And as for those who take as protecting friends others besides Him) This refers to the idolators,
اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ
(Allah is Hafiz over them.) meaning, He is Witness to their deeds, recording and enumerating them precisely, and He will requite them for them in full.
وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ
(and you are not a trustee over them.) meaning, 'you are just a warner, and Allah is the Trustee of all affairs.'
Tafsir Ibn Kathir
حم عسق کی تفسیر :حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر ؒ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس حضرت حذیفہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کرلیا پھر منہ پھیرلیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ نے پھر بھی منہ پھیرلیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر حضرت حذیفہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ حضرت ابن عباس اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے جسے (عبد الا لہ) اور عبداللہ کہا جاتا ہوگا وہ مشرق کی نہروں میں سے ایک نہر کے پاس اترے گا۔ اور وہاں دو شہر بسائے گا نہر کو کاٹ کر دونوں شہروں میں لے جائے گا جب اللہ تعالیٰ ان کے ملک کے زوال اور ان کی دولت کا استیصال کا ارادہ کرے گا۔ اور ان کا وقت ختم ہونے کا ہوگا تو ان دونوں شہروں میں سے ایک پر رات کے وقت آگ آئے گی جو اسے جلا کر بھسم کر دے گی وہاں کے لوگ صبح کو اسے دیکھ کر تعجب کریں گے ایسا معلوم ہوگا کہ گویا یہاں کچھ تھا ہی نہیں صبح ہی صبح وہاں تمام بڑے بڑے سرکش متکبر مخالف حق لوگ جمع ہوں گے اسی وقت اللہ تعالیٰ ان سب کو اس شہر سمیت غارت کر دے گا۔ یہی معنی ہیں (حم عسق) کے یعنی اللہ کی طرف سے یہ عزیمت یعنی ضروری ہے یہ فتنہ قضا کیا ہوا یعنی فیصل شدہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عین سے مراد عدل سین سے مراد سیکون یعنی یہ عنقریب ہو کر رہے گا (ق) سے مراد واقع ہونے والا ان دونوں شہروں میں۔ اس سے بھی زیادہ غربت والی ایک اور روایت میں مسند حافظ ابو یعلی کی دوسری جلد میں مسند ابن عباس میں ہے جو مرفوع بھی ہے لیکن اس کی سند بالکل ضعف ہے اور منقطع بھی ہے اس میں ہے کہ کسی نے ان حروف کی تفسیر آنحضرت ﷺ سے سنی ہے حضرت ابن عباس جلدی سے اکھٹے ہوئے اور فرمایا ہاں میں نے سنی ہے (حم) اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے عین سے مراد (عاین المولون عذاب یوم بدر) ہے۔ سین سے مراد (اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّانْتَــصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا ۭ وَسَـيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَيَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَ02207) 26۔ الشعراء :227) (ق) سے کیا مراد ہے اسے آپ نہ بتاسکے تو حضرت ابوذر کھڑے ہوئے اور حضرت ابن عباس کی تفسیر کے مطابق تفسیر کی اور فرمایا (ق) سے مراد (قارعہ) آسمانی ہے جو تمام لوگوں کو ڈھانپ لے گا ترجمہ یہ ہوا کہ بدر کے دن پیٹھ موڑ کر بھاگنے والے کفار نے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ ان ظالموں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ ان کا کتنا برا انجام ہوا ؟ ان پر آسمانی عذاب آئے گا جو انہیں تباہ و برباد کر دے گا پھر فرماتا ہے کہ اے نبی جس طرح تم پر اس قرآن کی وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح تم سے پہلے کے پیغمبروں پر کتابیں اور صحیفے نازل ہوچکے ہیں یہ سب اس اللہ کی طرف سے اترے ہیں جو اپنا انتقام لینے میں غالب اور زبردست ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے حضرت حارث بن ہشام نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے جب وہ ختم ہوتی ہے تو مجھے جو کچھ کہا گیا وہ سب یاد ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے مجھ سے باتیں کرجاتا ہے جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد رکھ لیتا ہوں حضرت صدیقہ فرماتی ہیں سخت جاڑوں کے ایام میں بھی جب آپ پر وحی اترتی تھی تو شدت وحی سے آپ پانی پانی ہوجاتے تھے یہاں تک کہ پیشانی سے پسینہ کی بوندیں ٹپکنے لگتی تھیں۔ (بخاری مسلم) مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے حضور ﷺ سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ نے فرمایا میں ایک زنجیر کی سی گھڑگھڑاہٹ سنتا ہوں پھر کان لگا لیتا ہوں ایسی وحی میں مجھ پر اتنی شدت سی ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ مجھے اپنی روح نکل جانے کا گمان ہوتا ہے۔ شرح صحیح بخاری کے شروع میں ہم کیفیت وحی پر مفصل کلام کرچکے ہیں فالحمد للہ، پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی غلام ہے اس کی ملکیت ہے اس کے دباؤ تلے اور اس کے سامنے عاجز و مجبور ہے وہ بلندیوں والا اور بڑائیوں والا ہے وہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے وہ اونچائی والا اور کبریائی والا ہے اس کی عظمت اور جلالت کا یہ حال ہے کہ قریب ہے آسمان پھٹ پڑیں۔ فرشتے اس کی عظمت سے کپکپاتے ہوئے اس کی پاکی اور تعریف بیان کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لئے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ) 40۔ غافر :7) یعنی حاملان عرش اور اس کے قرب و جوار کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے اپنی رحمت و علم سے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے پس تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کے تابع ہیں انہیں عذاب جہنم سے بچا لے۔ پھر فرمایا جان لو کہ اللہ غفور و رحیم ہے، پھر فرماتا ہے کہ مشرکوں کے اعمال کی دیکھ بھال میں آپ کر رہا ہوں انہیں خود ہی پورا پورا بدلہ دوں گا۔ تیرا کام صرف انہیں آگاہ کردینا ہے تو کچھ ان پر داروغہ نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ الشُّورَى
وَهِيَ مَكِّيَّةٌ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
قَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَى الْحُرُوفِ الْمُقَطَّعَةِ. وَقَدْ رَوَى ابْنُ جَرِيرٍ هَاهُنَا أَثَرًا غَرِيبًا عَجِيبًا مُنْكَرًا، فَقَالَ:
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَير، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الحَوْطي، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ [[في ت: "وَقَدْ رَوَى ابْنُ جَرِيرٍ هَاهُنَا أَثَرًا غَرِيبًا عجيبا بسنده".]] قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ -وَعِنْدَهُ حُذيفة بْنُ الْيَمَانِ-: أَخْبِرْنِي عَنْ تَفْسِيرِ قَوْلِ اللَّهِ: ﴿حم عسق﴾ قَالَ: فَأَطْرَقَ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ كَرَّرَ مَقَالَتَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَلَمْ يُجِبْهُ بِشَيْءٍ وَكَرِهَ مَقَالَتَهُ، ثُمَّ كَرَّرَهَا الثَّالِثَةَ فَلَمْ يُحِرْ إِلَيْهِ شَيْئًا. فَقَالَ حُذَيْفَةُ [[في أ: "فقال له حذيفة".]] : أَنَا أُنْبِئُكَ بِهَا، قَدْ عَرَفْتُ لِمَ كَرِهَهَا؟ نَزَلَتْ فِي رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ يُقَالُ لَهُ "عَبْدُ الْإِلَهِ" -أَوْ: عَبْدُ اللَّهِ-يَنْزِلُ عَلَى نَهْرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْمَشْرِقِ تُبْنَى عَلَيْهِ مَدِينَتَانِ [[في ت، م، أ: "مدينتين".]] ، يَشُقُّ النَّهْرُ بَيْنَهُمَا شَقًّا، فَإِذَا أَذِنَ اللَّهُ فِي زَوَالِ مُلْكِهِمْ وَانْقِطَاعِ دَوْلَتِهِمْ وَمُدَّتِهِمْ، بَعَثَ اللَّهُ عَلَى إِحْدَاهُمَا نَارًا لَيْلًا فَتُصْبِحُ سَوْدَاءَ مُظْلِمَةً وَقَدِ احْتَرَقَتْ، كَأَنَّهَا لَمْ تَكُنْ مَكَانَهَا، وَتُصْبِحُ صَاحِبَتُهَا مُتَعَجِّبَةً: كَيْفَ أَفْلَتَتْ؟ فَمَا هُوَ إِلَّا بَيَاضُ يَوْمِهَا ذَلِكَ، حَتَّى يَجْتَمِعَ فِيهَا كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ مِنْهُمْ، ثُمَّ يَخْسِفُ اللَّهُ بِهَا وَبِهِمْ جَمِيعًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿حم عسق﴾ يَعْنِي: عَزِيمَةٌ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى وَفِتْنَةٌ وَقَضَاءٌ حُمّ: ﴿حُمَّ﴾ عَيْنٌ: يَعْنِي عَدْلًا مِنْهُ، سِينٌ: يَعْنِي سَيَكُونُ، ق: يَعْنِي واقع بِهَاتَيْنِ الْمَدِينَتَيْنِ [[تفسير الطبري (٢٥/٥) ورواه نعيم بن حماد في الفتن برقم (٥٦٨) من طريق أبي المغيرة عن أرطأة بن المنذر عمن حدثه عن ابن عباس فذكره.]] .
وَأَغْرَبَ مِنْهُ مَا رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ فِي الْجُزْءِ الثَّانِي مِنْ مُسْنَدِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي ذَلِكَ، وَلَكِنَّ إِسْنَادَهُ ضَعِيفٌ جِدًّا وَمُنْقَطِعٌ، فَإِنَّهُ قَالَ:
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الخُشَني الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ: صَعِدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ هَلْ سَمِعَ مِنْكُمْ أَحَدٌ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يُفَسِّرُ ﴿حم عسق﴾ ؟ فَوَثَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ: أَنَا: قَالَ: " ﴿حم﴾ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى" قَالَ: فَعَيْنٌ؟ قَالَ: "عَايَنَ الْمُوَلُّونَ عَذَابَ يَوْمِ بَدْرٍ" قَالَ: فَسِينٌ؟ قال: "سيعلم الذين ظلموا أي منقلب يَنْقَلِبُونَ" قَالَ: فَقَافٌ؟ فَسَكَتَ فَقَامَ أَبُو ذَرٍّ، فَفَسَّرَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَقَالَ: قَافٌ: قَارِعَةٌ مِنَ السَّمَاءِ تَغْشَى النَّاسَ [[ورواه ابن عساكر في تاريخه كما في الدر المنثور (٧/٣٣٦) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿كَذَلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ أَيْ: كَمَا أَنْزَلَ إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ، كَذَلِكَ أَنْزَلَ الْكُتُبَ وَالصُّحُفَ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَكَ. وَقَوْلُهُ: ﴿اللَّهُ الْعَزِيزُ﴾ أَيْ: فِي انْتِقَامِهِ، ﴿الْحَكِيمُ﴾ فِي أَقْوَالِهِ وَأَفْعَالِهِ.
قَالَ: الْإِمَامُ مَالِكٌ -رَحِمَهُ اللَّهِ-عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَة عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الجَرَس، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيّ فَيَفْصِمُ عَنِّي قَدْ وَعَيت مَا قَالَ. وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ رجُلا فَيُكَلِّمُنِي، فَأَعِي مَا يَقُولُ" قَالَتْ عَائِشَةُ [[في ت: "عائشة رضي الله عنها".]] فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ، وَإِنَّ جَبِينَهُ لِيَتَفَصَّدُ عَرَقًا.
أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ، وَلَفْظُهُ لِلْبُخَارِيِّ [[الموطأ (١/٢٠٢) وصحيح البخاري برقم (٢) وصحيح مسلم برقم (٢٣٣٣) .]] .
وَقَدْ [[في أ: "ولقد".]] رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عائشة، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ؛ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ: كَيْفَ يَنْزِلُ عَلَيْكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ: "مِثْلَ [[في أ: "فقال: في مثل".]] صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فيفصمُ عَنِّي وَقَدْ وعَيتُ مَا قَالَهُ" قَالَ: "وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ" قَالَ: "وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ فَيَتَمَثَّلُ لِي فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ" [[المعجم الكبير (٣/٢٥٩) .]] .
وَقَالَ: الْإِمَامُ [[في ت: "وروى".]] أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو [[في ت: عمر".]] ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ تُحِسُّ بِالْوَحْيِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَسْمَعُ صَلَاصِلَ ثُمَّ أَسْكُتُ عِنْدَ ذَلِكَ، فَمَا مِنْ مَرَّةٍ يُوحَى إليَّ إِلَّا ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسِي تُقبَض" تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ [[المسند (٢/٢٢٢) .]] .
وَقَدْ ذَكَرْنَا كَيْفِيَّةَ إِتْيَانِ الْوَحْيِ إِلَى رسول الله صلى الله عليه وسلم في أَوَّلِ شَرْحِ الْبُخَارِيِّ، بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ هَاهُنَا، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ﴾ أي: الْجَمِيعُ عَبِيدٌ لَهُ وَمِلْكٌ لَهُ، تَحْتَ قَهْرِهِ وَتَصْرِيفِهِ، ﴿وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ﴾ [الرَّعْدِ: ٩] ﴿وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ﴾ [سَبَأٍ: ٢٣] وَالْآيَاتُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿تَكَادُ السَّمَوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَالضَّحَّاكُ، وَقَتَادَةُ، وَالسُّدِّيُّ، وَكَعْبُ الْأَحْبَارِ: أَيْ فَرَقًا، مِنَ الْعَظَمَةِ ﴿وَالْمَلائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الأرْضِ﴾ كَقَوْلِهِ: ﴿الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا﴾ [غَافِرٍ:٧] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَلا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ إِعْلَامٌ بِذَلِكَ وَتَنْوِيهٌ بِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ﴾ يَعْنِي: الْمُشْرِكِينَ، ﴿اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ﴾ أَيْ: شَهِيدٌ عَلَى أَعْمَالِهِمْ، يُحْصِيهَا وَيَعُدُّهَا عَدًّا، وَسَيَجْزِيهِمْ بِهَا أَوْفَرَ الْجَزَاءِ. ﴿وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ﴾ أَيْ: إِنَّمَا أَنْتَ نَذِيرٌ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ.
وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ ٱللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ وَمَآ أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍۢ
And those who take as allies other than Him - Allah is [yet] Guardian over them; and you, [O Muhammad], are not over them a manager.
اور جن لوگوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں وہ خدا کو یاد ہیں۔ اور تم ان پر داروغہ نہیں ہو
کسانی که غیر خدا را ولیّ خود انتخاب کردند، خداوند حساب همه اعمال آنها را نگه میدارد؛ و تو مأمور نیستی که آنان را مجبور به قبول حقّ کنی!
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
حم - عسق - كَذَٰلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ - تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ ۚ وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ ۗ أَلَا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ
(1. Ha Mim.)(2. 'Ain Sin Qaf.)(3. Likewise Allah, the Almighty, the All-Wise sends revelation to you as to those before you.)(4. To Him belongs all that is in the heavens and all that is on the earth, and He is the Most High, the Most Great.)(5. Nearly the heavens might be rent asunder from above them, and the angels glorify the praises of their Lord, and ask for forgiveness for those on the earth. Lo, Verily, Allah is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.)(6. And as for those who take as protecting friends others besides Him – Allah is Hafiz over them, and you are not a trustee over them.)
The Revelation and Allah's Might
We have previously discussed the individual letters.
كَذَٰلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(Likewise Allah, the Almighty, the All-Wise sends revelation to you as to those before you.) means, 'just as this Qur'an has been revealed to you, so too the Books and Scriptures were revealed to the Prophets who came before you.'
اللَّهُ الْعَزِيزُ
(Allah, the Almighty) means, in His vengeance
الْحَكِيمُ
(the All-Wise) means, in all that He says and does. Imam Malik, may Allah have mercy on him, narrated that 'A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "Al-Harith bin Hisham asked the Messenger of Allah ﷺ, 'O Messenger of Allah, how does the revelation come to you?' The Messenger of Allah ﷺ said:
أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ
(Sometimes it comes to me like the ringing of a bell, which is the most difficult for me; then it goes away, and I understand what was said. And sometimes the angel comes to me in the image of a man, and he speaks to me and I understand what he says.)"
A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "I saw him receiving the revelation on a very cold day, and when it departed from him, there were beads of sweat on his forehead." It was also reported in the Two Sahihs, and the version quoted here is that recorded by Al-Bukhari.
لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ
(To Him belongs all that is in the heavens and all that is on the earth,) means, everything is subject to His dominion and control.
وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
(and He is the Most High, the Most Great.) This is like the Ayat:
الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ
(the Most Great, the Most High)(13:9), and
هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ
(He is the Most High, the Most Great)(22:62). And there are many similar Ayat.
تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ ۚ
(Nearly the heavens might be rent asunder from above them,) Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, Ad-Dahhak, Qatadah, As-Suddi and Ka'b Al-Ahbar said, "Out of fear of His might."
وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ ۗ
(and the angels glorify the praises of their Lord, and ask for forgiveness for those on the earth.) This is like the Ayah:
الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا
(Those who bear the Throne and those around it glorify the praises of their Lord, and believe in Him, and ask forgiveness for those who believe (saying): "Our Lord! You comprehend all things in mercy and knowledge,")(40:7)
أَلَا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
(Lo! Verily, Allah is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.) This is a reminder, to take heed of this fact.
وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ
(And as for those who take as protecting friends others besides Him) This refers to the idolators,
اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ
(Allah is Hafiz over them.) meaning, He is Witness to their deeds, recording and enumerating them precisely, and He will requite them for them in full.
وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ
(and you are not a trustee over them.) meaning, 'you are just a warner, and Allah is the Trustee of all affairs.'
Tafsir Ibn Kathir
حم عسق کی تفسیر :حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر ؒ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس حضرت حذیفہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کرلیا پھر منہ پھیرلیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ نے پھر بھی منہ پھیرلیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر حضرت حذیفہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ حضرت ابن عباس اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے جسے (عبد الا لہ) اور عبداللہ کہا جاتا ہوگا وہ مشرق کی نہروں میں سے ایک نہر کے پاس اترے گا۔ اور وہاں دو شہر بسائے گا نہر کو کاٹ کر دونوں شہروں میں لے جائے گا جب اللہ تعالیٰ ان کے ملک کے زوال اور ان کی دولت کا استیصال کا ارادہ کرے گا۔ اور ان کا وقت ختم ہونے کا ہوگا تو ان دونوں شہروں میں سے ایک پر رات کے وقت آگ آئے گی جو اسے جلا کر بھسم کر دے گی وہاں کے لوگ صبح کو اسے دیکھ کر تعجب کریں گے ایسا معلوم ہوگا کہ گویا یہاں کچھ تھا ہی نہیں صبح ہی صبح وہاں تمام بڑے بڑے سرکش متکبر مخالف حق لوگ جمع ہوں گے اسی وقت اللہ تعالیٰ ان سب کو اس شہر سمیت غارت کر دے گا۔ یہی معنی ہیں (حم عسق) کے یعنی اللہ کی طرف سے یہ عزیمت یعنی ضروری ہے یہ فتنہ قضا کیا ہوا یعنی فیصل شدہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عین سے مراد عدل سین سے مراد سیکون یعنی یہ عنقریب ہو کر رہے گا (ق) سے مراد واقع ہونے والا ان دونوں شہروں میں۔ اس سے بھی زیادہ غربت والی ایک اور روایت میں مسند حافظ ابو یعلی کی دوسری جلد میں مسند ابن عباس میں ہے جو مرفوع بھی ہے لیکن اس کی سند بالکل ضعف ہے اور منقطع بھی ہے اس میں ہے کہ کسی نے ان حروف کی تفسیر آنحضرت ﷺ سے سنی ہے حضرت ابن عباس جلدی سے اکھٹے ہوئے اور فرمایا ہاں میں نے سنی ہے (حم) اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے عین سے مراد (عاین المولون عذاب یوم بدر) ہے۔ سین سے مراد (اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّانْتَــصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا ۭ وَسَـيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَيَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَ02207) 26۔ الشعراء :227) (ق) سے کیا مراد ہے اسے آپ نہ بتاسکے تو حضرت ابوذر کھڑے ہوئے اور حضرت ابن عباس کی تفسیر کے مطابق تفسیر کی اور فرمایا (ق) سے مراد (قارعہ) آسمانی ہے جو تمام لوگوں کو ڈھانپ لے گا ترجمہ یہ ہوا کہ بدر کے دن پیٹھ موڑ کر بھاگنے والے کفار نے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ ان ظالموں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ ان کا کتنا برا انجام ہوا ؟ ان پر آسمانی عذاب آئے گا جو انہیں تباہ و برباد کر دے گا پھر فرماتا ہے کہ اے نبی جس طرح تم پر اس قرآن کی وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح تم سے پہلے کے پیغمبروں پر کتابیں اور صحیفے نازل ہوچکے ہیں یہ سب اس اللہ کی طرف سے اترے ہیں جو اپنا انتقام لینے میں غالب اور زبردست ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے حضرت حارث بن ہشام نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے جب وہ ختم ہوتی ہے تو مجھے جو کچھ کہا گیا وہ سب یاد ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے مجھ سے باتیں کرجاتا ہے جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد رکھ لیتا ہوں حضرت صدیقہ فرماتی ہیں سخت جاڑوں کے ایام میں بھی جب آپ پر وحی اترتی تھی تو شدت وحی سے آپ پانی پانی ہوجاتے تھے یہاں تک کہ پیشانی سے پسینہ کی بوندیں ٹپکنے لگتی تھیں۔ (بخاری مسلم) مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے حضور ﷺ سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ نے فرمایا میں ایک زنجیر کی سی گھڑگھڑاہٹ سنتا ہوں پھر کان لگا لیتا ہوں ایسی وحی میں مجھ پر اتنی شدت سی ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ مجھے اپنی روح نکل جانے کا گمان ہوتا ہے۔ شرح صحیح بخاری کے شروع میں ہم کیفیت وحی پر مفصل کلام کرچکے ہیں فالحمد للہ، پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی غلام ہے اس کی ملکیت ہے اس کے دباؤ تلے اور اس کے سامنے عاجز و مجبور ہے وہ بلندیوں والا اور بڑائیوں والا ہے وہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے وہ اونچائی والا اور کبریائی والا ہے اس کی عظمت اور جلالت کا یہ حال ہے کہ قریب ہے آسمان پھٹ پڑیں۔ فرشتے اس کی عظمت سے کپکپاتے ہوئے اس کی پاکی اور تعریف بیان کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لئے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ) 40۔ غافر :7) یعنی حاملان عرش اور اس کے قرب و جوار کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے اپنی رحمت و علم سے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے پس تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کے تابع ہیں انہیں عذاب جہنم سے بچا لے۔ پھر فرمایا جان لو کہ اللہ غفور و رحیم ہے، پھر فرماتا ہے کہ مشرکوں کے اعمال کی دیکھ بھال میں آپ کر رہا ہوں انہیں خود ہی پورا پورا بدلہ دوں گا۔ تیرا کام صرف انہیں آگاہ کردینا ہے تو کچھ ان پر داروغہ نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ الشُّورَى
وَهِيَ مَكِّيَّةٌ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
قَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَى الْحُرُوفِ الْمُقَطَّعَةِ. وَقَدْ رَوَى ابْنُ جَرِيرٍ هَاهُنَا أَثَرًا غَرِيبًا عَجِيبًا مُنْكَرًا، فَقَالَ:
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَير، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الحَوْطي، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ [[في ت: "وَقَدْ رَوَى ابْنُ جَرِيرٍ هَاهُنَا أَثَرًا غَرِيبًا عجيبا بسنده".]] قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ -وَعِنْدَهُ حُذيفة بْنُ الْيَمَانِ-: أَخْبِرْنِي عَنْ تَفْسِيرِ قَوْلِ اللَّهِ: ﴿حم عسق﴾ قَالَ: فَأَطْرَقَ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ كَرَّرَ مَقَالَتَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَلَمْ يُجِبْهُ بِشَيْءٍ وَكَرِهَ مَقَالَتَهُ، ثُمَّ كَرَّرَهَا الثَّالِثَةَ فَلَمْ يُحِرْ إِلَيْهِ شَيْئًا. فَقَالَ حُذَيْفَةُ [[في أ: "فقال له حذيفة".]] : أَنَا أُنْبِئُكَ بِهَا، قَدْ عَرَفْتُ لِمَ كَرِهَهَا؟ نَزَلَتْ فِي رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ يُقَالُ لَهُ "عَبْدُ الْإِلَهِ" -أَوْ: عَبْدُ اللَّهِ-يَنْزِلُ عَلَى نَهْرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْمَشْرِقِ تُبْنَى عَلَيْهِ مَدِينَتَانِ [[في ت، م، أ: "مدينتين".]] ، يَشُقُّ النَّهْرُ بَيْنَهُمَا شَقًّا، فَإِذَا أَذِنَ اللَّهُ فِي زَوَالِ مُلْكِهِمْ وَانْقِطَاعِ دَوْلَتِهِمْ وَمُدَّتِهِمْ، بَعَثَ اللَّهُ عَلَى إِحْدَاهُمَا نَارًا لَيْلًا فَتُصْبِحُ سَوْدَاءَ مُظْلِمَةً وَقَدِ احْتَرَقَتْ، كَأَنَّهَا لَمْ تَكُنْ مَكَانَهَا، وَتُصْبِحُ صَاحِبَتُهَا مُتَعَجِّبَةً: كَيْفَ أَفْلَتَتْ؟ فَمَا هُوَ إِلَّا بَيَاضُ يَوْمِهَا ذَلِكَ، حَتَّى يَجْتَمِعَ فِيهَا كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ مِنْهُمْ، ثُمَّ يَخْسِفُ اللَّهُ بِهَا وَبِهِمْ جَمِيعًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿حم عسق﴾ يَعْنِي: عَزِيمَةٌ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى وَفِتْنَةٌ وَقَضَاءٌ حُمّ: ﴿حُمَّ﴾ عَيْنٌ: يَعْنِي عَدْلًا مِنْهُ، سِينٌ: يَعْنِي سَيَكُونُ، ق: يَعْنِي واقع بِهَاتَيْنِ الْمَدِينَتَيْنِ [[تفسير الطبري (٢٥/٥) ورواه نعيم بن حماد في الفتن برقم (٥٦٨) من طريق أبي المغيرة عن أرطأة بن المنذر عمن حدثه عن ابن عباس فذكره.]] .
وَأَغْرَبَ مِنْهُ مَا رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ فِي الْجُزْءِ الثَّانِي مِنْ مُسْنَدِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي ذَلِكَ، وَلَكِنَّ إِسْنَادَهُ ضَعِيفٌ جِدًّا وَمُنْقَطِعٌ، فَإِنَّهُ قَالَ:
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الخُشَني الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ: صَعِدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ هَلْ سَمِعَ مِنْكُمْ أَحَدٌ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يُفَسِّرُ ﴿حم عسق﴾ ؟ فَوَثَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ: أَنَا: قَالَ: " ﴿حم﴾ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى" قَالَ: فَعَيْنٌ؟ قَالَ: "عَايَنَ الْمُوَلُّونَ عَذَابَ يَوْمِ بَدْرٍ" قَالَ: فَسِينٌ؟ قال: "سيعلم الذين ظلموا أي منقلب يَنْقَلِبُونَ" قَالَ: فَقَافٌ؟ فَسَكَتَ فَقَامَ أَبُو ذَرٍّ، فَفَسَّرَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَقَالَ: قَافٌ: قَارِعَةٌ مِنَ السَّمَاءِ تَغْشَى النَّاسَ [[ورواه ابن عساكر في تاريخه كما في الدر المنثور (٧/٣٣٦) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿كَذَلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ أَيْ: كَمَا أَنْزَلَ إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ، كَذَلِكَ أَنْزَلَ الْكُتُبَ وَالصُّحُفَ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَكَ. وَقَوْلُهُ: ﴿اللَّهُ الْعَزِيزُ﴾ أَيْ: فِي انْتِقَامِهِ، ﴿الْحَكِيمُ﴾ فِي أَقْوَالِهِ وَأَفْعَالِهِ.
قَالَ: الْإِمَامُ مَالِكٌ -رَحِمَهُ اللَّهِ-عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَة عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الجَرَس، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيّ فَيَفْصِمُ عَنِّي قَدْ وَعَيت مَا قَالَ. وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ رجُلا فَيُكَلِّمُنِي، فَأَعِي مَا يَقُولُ" قَالَتْ عَائِشَةُ [[في ت: "عائشة رضي الله عنها".]] فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ، وَإِنَّ جَبِينَهُ لِيَتَفَصَّدُ عَرَقًا.
أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ، وَلَفْظُهُ لِلْبُخَارِيِّ [[الموطأ (١/٢٠٢) وصحيح البخاري برقم (٢) وصحيح مسلم برقم (٢٣٣٣) .]] .
وَقَدْ [[في أ: "ولقد".]] رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عائشة، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ؛ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ: كَيْفَ يَنْزِلُ عَلَيْكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ: "مِثْلَ [[في أ: "فقال: في مثل".]] صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فيفصمُ عَنِّي وَقَدْ وعَيتُ مَا قَالَهُ" قَالَ: "وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ" قَالَ: "وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي الْمَلَكُ فَيَتَمَثَّلُ لِي فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ" [[المعجم الكبير (٣/٢٥٩) .]] .
وَقَالَ: الْإِمَامُ [[في ت: "وروى".]] أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو [[في ت: عمر".]] ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ تُحِسُّ بِالْوَحْيِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَسْمَعُ صَلَاصِلَ ثُمَّ أَسْكُتُ عِنْدَ ذَلِكَ، فَمَا مِنْ مَرَّةٍ يُوحَى إليَّ إِلَّا ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسِي تُقبَض" تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ [[المسند (٢/٢٢٢) .]] .
وَقَدْ ذَكَرْنَا كَيْفِيَّةَ إِتْيَانِ الْوَحْيِ إِلَى رسول الله صلى الله عليه وسلم في أَوَّلِ شَرْحِ الْبُخَارِيِّ، بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ هَاهُنَا، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ﴾ أي: الْجَمِيعُ عَبِيدٌ لَهُ وَمِلْكٌ لَهُ، تَحْتَ قَهْرِهِ وَتَصْرِيفِهِ، ﴿وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ﴾ [الرَّعْدِ: ٩] ﴿وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ﴾ [سَبَأٍ: ٢٣] وَالْآيَاتُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿تَكَادُ السَّمَوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَالضَّحَّاكُ، وَقَتَادَةُ، وَالسُّدِّيُّ، وَكَعْبُ الْأَحْبَارِ: أَيْ فَرَقًا، مِنَ الْعَظَمَةِ ﴿وَالْمَلائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الأرْضِ﴾ كَقَوْلِهِ: ﴿الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا﴾ [غَافِرٍ:٧] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَلا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ إِعْلَامٌ بِذَلِكَ وَتَنْوِيهٌ بِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ﴾ يَعْنِي: الْمُشْرِكِينَ، ﴿اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ﴾ أَيْ: شَهِيدٌ عَلَى أَعْمَالِهِمْ، يُحْصِيهَا وَيَعُدُّهَا عَدًّا، وَسَيَجْزِيهِمْ بِهَا أَوْفَرَ الْجَزَاءِ. ﴿وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ﴾ أَيْ: إِنَّمَا أَنْتَ نَذِيرٌ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ.
وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ قُرْءَانًا عَرَبِيًّۭا لِّتُنذِرَ أُمَّ ٱلْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا وَتُنذِرَ يَوْمَ ٱلْجَمْعِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ فَرِيقٌۭ فِى ٱلْجَنَّةِ وَفَرِيقٌۭ فِى ٱلسَّعِيرِ
And thus We have revealed to you an Arabic Qur'an that you may warn the Mother of Cities [Makkah] and those around it and warn of the Day of Assembly, about which there is no doubt. A party will be in Paradise and a party in the Blaze.
اور اسی طرح تمہارے پاس قرآن عربی بھیجا ہے تاکہ تم بڑے گاؤں (یعنی مکّے) کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے اردگرد رہتے ہیں ان کو رستہ دکھاؤ اور انہیں قیامت کے دن کا بھی جس میں کچھ شک نہیں ہے خوف دلاؤ۔ اس روز ایک فریق بہشت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں
و این گونه قرآنی عربی [= فصیح و گویا] را بر تو وحی کردیم تا «امّالقری» [= مکّه] و مردم پیرامون آن را انذار کنی و آنها را از روزی که همه خلایق در آن روز جمع میشوند و شکّ و تردید در آن نیست بترسانی؛ گروهی در بهشتند و گروهی در آتش سوزان!
Tafsir Ibn Kathir
And thus We have revealed to you a Qur'an in Arabic that you may warn the Mother of the Towns and all around it, and warn (them) of the Day of Assembling of which there is no doubt, a party will be in Paradise and a party in the blazing Fire (7)And if Allah had willed, He could have made them one nation, but He admits whom He wills to His mercy. And the wrongdoers will have neither a protector nor a helper (8)
The Qur'an was revealed to serve as a Warning
Allah says, 'just as We sent revelation to the Prophets before you,'
أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرْآنًا عَرَبِيًّا
(thus We have revealed to you a Qur'an in Arabic) meaning, plain, clear, and manifest
لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ
(that you may warn the Mother of the Towns), i.e., Makkah,
وَمَنْ حَوْلَهَا
(and all around it,) means, all the lands, east and west. Makkah is called Umm Al-Qura (the Mother of the Towns) because it is nobler than all other lands, as indicated by much evidence that has been discussed elsewhere. Among the most concise and clear proofs of that is the report recorded by Imam Ahmad from 'Abdullah bin 'Adi bin Al-Hamra' Az-Zuhri, who heard the Messenger of Allah ﷺ say, as he was standing in the market place of Makkah;
وَاللهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللهِ وَأَحَبُّ أَرْضِ اللهِ إِلَى اللهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ
(By Allah, you are the best land of Allah, the most beloved land to Allah; were it not for the fact that I was driven out from you, I would never have left you.) This was also recorded by At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Majah; At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih. "
وَتُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ
(and warn (them) of the Day of Assembling) i.e., the Day of Resurrection, when Allah will assemble the first and the last in one plain.
لَا رَيْبَ فِيهِ
(of which there is no doubt,) means, there is no doubt that it will happen and will most certainly come to pass.
فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ
(a party will be in Paradise and a party in the blazing Fire.) This is like the Ayah:
يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ۖ ذَٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ ۗ
((And remember) the Day when He will gather you (all) on the Day of Gathering, – that will be the Day of mutual loss and gain)(64:9). which means that the people of Paradise and the people of Hell will gain and lose, respectively. And it is like the Ayah:
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ - وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَعْدُودٍ - يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ
(Indeed in that (there) is a sure lesson for those who fear the torment of the Hereafter. That is a Day whereon will be gathered together, and that is a Day when all (the dwellers of the heavens and the earth) will be present. And We delay it only for a term fixed. On the Day when it comes, no person shall speak except by His leave. Some among them will be wretched and (others) blessed.)(11:103-105) Imam Ahmad recorded that 'Abdullah bin 'Amr, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ came out to us, holding two books in his hand. He said,
أَتَدْرُونَ مَا هٰذَانِ الْكِتَابَانِ؟
(Do you know what these two books are?) We said, "We do not know unless you tell us, O Messenger of Allah." Concerning the book in his right hand, He ﷺ said:
هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِأَسْمَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلىٰ آخِرِهِمْ، لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أبدًا
(This is a book from the Lord of the worlds, containing the names of the people of Paradise and of their fathers and tribes; all of them are detailed, down to the last one of them, and nothing will be added or taken away from it.) Then concerning the book in his left hand, he ﷺ said:
هَذَا كِتَابُ أَهْلِ النَّارِ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلىٰ آخِرِهِمْ، لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا
(This is the book of the people of Hell, containing their names and the names of their fathers and tribes, all of them are detailed down to the last one of them, and nothing will be added or taken away from it.) The Companions of the Messenger of Allah ﷺ said, "Why should we strive if it is something that is already cut and dried" The Messenger of Allah ﷺ said:
سَدِّدُوا وَقَارِبُوا فَإِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّةِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ،وَإِنَّ صَاحِبَ النَّارِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ
(Strive with your deeds as hard as you can for middle course or close to it, for the person who is destined for Paradise will die doing the deeds of the people of Paradise, regardless of what he did before, and the person who is destined for Hell will die doing the deeds of the people of Hell, regardless of what he did before.) Then he ﷺ made a gesture with his fist and said,
فَرَغَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْعِبَادِ
(Your Lord has settled the matter of His servants) and he opened his right hand as if throwing something;
فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ
(A party in Paradise.) and he made a similar gesture with his left hand;
فَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ
(And a party in the blazing Fire.)" This was also recorded by At-Tirmidhi, and An-Nasa'i; At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih Gharib."
Imam Ahmad recorded that Abu Nadrah said, "One of the Companions of the Prophet ﷺ, whose name was Abu Abdullah, was visited by some of his friends, and they found him weeping. They asked him, 'What has caused you to weep? Didn't the Messenger of Allah ﷺ say to you,
خُذْ مِنْ شَارِبِكَ ثُمَّ أَقِرَّهُ حَتَّى تَلْقَانِي
(Trim your moustache and adhere to that practice until you meet me)' He said, 'Yes, but I heard the Messenger of Allah ﷺ say;
إِنَّ اللهَ تَعَالَىٰ قَبَضَ بِيَمِينِهِ قَبْضَةً وَأُخْرَىٰ بِالْيَدِ الْأُخْرَىٰ، قَالَ: هٰذِهِ لِهٰذِهِ، وَهٰذِهِ لِهٰذِهِ، وَلَا أُبَالِي
(Allah picked up a handful in His Right Hand and another in His other Hand, and said, "This is for this and this is for this, and I do not care.") 'And I do not know in which of the two handfuls I am.'" There are several Hadiths about Al-Qadr (the Divine Decree) in the books of Sahih, Sunan and Musnad. Including those narrated by 'Ali, Ibn Mas'ud, 'A'ishah and a large number of Companions, may Allah be pleased with them all.
وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَهُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً
(And if Allah had willed, He could have made them one nation,) means, either all following guidance or all following misguidance, but He made them all different, and He guides whomsoever He wills to the truth and He sends astray whomsoever He wills, and He has complete wisdom and perfect proof. Allah says:
وَلَٰكِنْ يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ فِي رَحْمَتِهِ ۚ وَالظَّالِمُونَ مَا لَهُمْ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ
(but He admits whom He wills to His mercy. And the wrongdoers will have neither a protector nor a helper.)
Tafsir Ibn Kathir
قیامت کا آنا یقینی ہے یعنی جس طرح اے نبی آخر الزماں تم سے پہلے انبیاء پر وحی الٰہی آتی رہی تم پر بھی یہ قرآن وحی کے ذریعہ نازل کیا گیا ہے۔ یہ عربی میں بہت واضح بالکل کھلا ہوا اور سلجھے ہوئے بیان والا ہے تاکہ تو شہر مکہ کے رہنے والوں کو احکام الٰہی اور اللہ کے عذاب سے آگاہ کر دے نیز تمام اطراف عالم کو۔ آس پاس سے مراد مشرق و مغرب کی ہر سمت ہے مکہ شریف کو ام القرٰی اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ تمام شہروں سے افضل و بہتر ہے اس کے دلائل بہت سے ہیں جو اپنی اپنی جگہ مذکور ہیں ہاں ! یہاں پر ایک دلیل جو مختصر بھی ہے اور صاف بھی ہے سن لیجئے۔ ترمذی نسائی، ابن ماجہ، مسند احمد وغیرہ میں ہے حضرت عبداللہ بن عدی فرماتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے سنا آپ مکہ شریف کے بازار خزروع میں کھڑے ہوئے فرما رہے تھے کہ اے مکہ قسم ہے اللہ کی ساری زمین سے اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب اور زیادہ افضل ہے اگر میں تجھ میں سے نہ نکالا جاتا تو قسم ہے اللہ کی ہرگز تجھے نہ چھوڑتا۔ امام ترمذی ؒ اس حدیث کو حسن صحیح فرماتے ہیں اور اس لئے کہ تو قیامت کے دن سے سب کو ڈرا دے جس دن تمام اول و آخر زمانے کے لوگ ایک میدان میں جمع ہوں گے۔ جس دن کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں جس دن کچھ لوگ جنتی ہوں گے اور کچھ جہنمی یہ وہ دن ہوگا کہ جنتی نفع میں رہیں گے اور جہنمی گھاٹے میں دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے آیت (ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ ۙ لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ01003) 11۔ ھود :103) یعنی ان واقعات میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو آخرت کا وہ دن ہے جس میں تمام لوگ جمع کئے جائیں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہے۔ ہم تو اسے تھوڑی سی مدت معلوم کے لئے مؤخر کئے ہوئے ہیں۔ اس دن کوئی شخص بغیر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بات تک نہ کرسکے گا ان میں سے بعض تو بدقسمت ہوں گے اور بعض خوش نصیب۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے پاس ایک مرتبہ دو کتابیں اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر آئے اور ہم سے پوچھا جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ ہم نے کہا ہمیں تو خبر نہیں آپ فرمائیے۔ آپ نے اپنی داہنے ہاتھ کی کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ رب العالمین کی کتاب ہے جس میں جنتیوں کے نام ہیں مع ان کے والد اور ان کے قبیلہ کے نام کے اور آخر میں حساب کر کے میزان لگا دی گئی ہے اب ان میں نہ ایک بڑھے نہ ایک گھٹے۔ پھر اپنے بائیں ہاتھ کی کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ جہنمیوں کے ناموں کا رجسٹر ہے انکے نام ان کی ولدیت اور ان کی قوم سب اس میں لکھی ہوئی ہے پھر آخر میں میزان لگا دی گئی ہے ان میں بھی کمی بیشی ناممکن ہے۔ صحابہ نے پوچھا پھر ہمیں عمل کی کیا ضرورت ؟ جب کہ سب لکھا جا چکا ہے آپ نے فرمایا ٹھیک ٹھاک رہو بھلائی کی نزدیکی لئے رہو۔ اہل جنت کا خاتمہ نیکیوں اور بھلے اعمال پر ہی ہوگا گو وہ کیسے ہی اعمال کرتا ہو اور نار کا خاتمہ جہنمی اعمال پر ہی ہوگا گو وہ کیسے ہی کاموں کا مرتکب رہا ہو۔ پھر آپ نے اپنی دونوں مٹھیاں بند کرلیں اور فرمایا تمہارا رب عزوجل بندوں کے فیصلوں سے فراغت حاصل کرچکا ہے ایک فرقہ جنت میں ہے اور ایک جہنم میں اس کے ساتھ ہی آپ نے اپنے دائیں بائیں ہاتھوں سے اشارہ کیا گویا کوئی چیز پھینک رہے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ یہی حدیث اور کتابوں میں بھی ہے کسی میں یہ بھی ہے کہ یہ تمام عدل ہی عدل ہے حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جب آدم ؑ کو پیدا کیا اور ان کی تمام اولاد ان میں سے نکالی اور چیونٹیوں کی طرح وہ میدان میں پھیل گئی تو اسے اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا ایک حصہ نیکوں کا دوسرا بدوں کا۔ پھر انہیں پھیلا دیا دوبارہ انہیں سمیٹ لیا اور اسی طرح اپنی مٹھیوں میں لے کر فرمایا ایک حصہ جنتی اور دوسرا جہنمی یہ روایت موقوف ہی ٹھیک ہے واللہ اعلم۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضرت ابو عبداللہ نامی صحابی بیمار تھے ہم لوگ ان کی بیمار پرسی کے لئے گئے۔ دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں تو کہا کہ آپ کیوں روتے ہیں آپ سے تو رسول اللہ ﷺ نے فرما دیا ہے کہ اپنی مونچھیں کم رکھا کرو یہاں تک کہ مجھ سے ملو اس پر صحابی نے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے لیکن مجھے تو یہ حدیث رلا رہی ہے کہ حضور ﷺ سے سنا ہے اللہ تعالیٰ اپنی دائیں مٹھی میں مخلوق لی اور اسی طرح دوسرے ہاتھ کی مٹھی میں بھی اور فرمایا یہ لوگ اس کے لئے ہیں یعنی جنت کے لئے اور یہ اس کے لئے ہیں یعنی جہنم کے لئے اور مجھے کچھ پرواہ نہیں۔ پس مجھے خبر نہیں کہ اللہ کی کس مٹھی میں میں تھا ؟ اس طرح کی اثبات تقدیر کی اور بہت سی حدیثیں ہیں پھر فرماتا ہے اگر اللہ کو منظور ہوتا تو سب کو ایک ہی طریقے پر کردیتا یعنی یا تو ہدایت پر یا گمراہی پر لیکن رب نے ان میں تفاوت رکھا بعض کو حق کی ہدایت کی اور بعض کو اس سے بھلا دیا اپنی حکمت کو وہی جانتا ہے وہ جسے چاہے اپنی رحمت تلے کھڑا کرلے ظالموں کا حمایتی اور مددگار کوئی نہیں۔ ابن جریر میں ہے اللہ تعالیٰ سے حضرت موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) نے عرض کی کہ اے میرے رب تو نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا پھر ان میں سے کچھ کو تو جنت میں لے جائے گا اور کچھ اوروں کو جہنم میں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ سب ہی جنت میں جاتے جناب باری نے ارشاد فرمایا موسیٰ اپنا پیرہن اونچا کرو آپ نے اونچا کیا پھر فرمایا اور اونچا کرو آپ نے اور اونچا کیا فرمایا اور اوپر اٹھاؤ جواب دیا اے اللہ اب تو سارے جسم سے اونچا کرلیا سوائے اس جگہ کے جس کے اوپر سے ہٹانے میں خیر نہیں فرمایا بس موسیٰ اسی طرح میں بھی اپنی تمام مخلوق کو جنت میں داخل کروں گا سوائے ان کے جو بالکل ہی خیر سے خالی ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: وَكَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَكَ، ﴿أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرْآنًا عَرَبِيًّا﴾ أَيْ: وَاضِحًا جَلِيًّا بَيِّنًا، ﴿لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى﴾ وَهِيَ مَكَّةُ، ﴿وَمَنْ حَوْلَهَا﴾ أَيْ: مِنْ سَائِرِ الْبِلَادِ شَرْقًا وَغَرْبًا، وَسُمِّيَتْ مَكَّةُ "أُمَّ الْقُرَى"؛ لِأَنَّهَا أَشْرَفُ مِنْ سَائِرِ الْبِلَادِ، لِأَدِلَّةٍ كَثِيرَةٍ مَذْكُورَةٍ فِي مَوَاضِعِهَا. وَمِنْ أَوْجَزِ ذَلِكَ وَأَدَلِّهِ مَا قَالَ [[في ت: "ما رواه".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ:
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِي، أَخْبَرَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِي بْنِ الْحَمْرَاءِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ [[في ت: "قال".]] -وَهُوَ وَاقِفٌ بالحَزْوَرَة فِي سُوقِ مَكَّةَ-: "وَاللَّهِ، إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ" [[المسند (٤/٣٠٥) .]] .
وَهَكَذَا رِوَايَةُ التِّرْمِذِيِّ، وَالنَّسَائِيِّ، وَابْنِ مَاجَهْ، مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، بِهِ [[سنن الترمذي برقم (٣٩٢٥) والنسائي في السنن الكبرى برقم (٤٢٥٢) وسنن ابن ماجه برقم (٣١٠٨) .]] وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ صَحِيحٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ﴾ ، وَهُوَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، يَجْمَعُ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَا رَيْبَ فِيهِ﴾ أَيْ: لَا شَكَّ فِي وُقُوعِهِ، وَأَنَّهُ كَائِنٌ لَا مَحَالَةَ. وَقَوْلُهُ: ﴿فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ﴾ ، كَقَوْلِهِ: ﴿يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذَلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ﴾ [التَّغَابُنِ:٩] أَيْ: يَغْبَن أَهْلُ الْجَنَّةِ أَهْلَ النَّارِ، وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿ذَلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلا لأجَلٍ مَعْدُودٍ يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ﴾ [هُودٍ:١٠٣-١٠٥] [[قبلها في ت، م، أ: " (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الآخرة) ".]] .
قَالَ [[في ت: "روى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا لَيْث، حَدَّثَنِي أَبُو قَبِيلٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ شُفَيّ [[في أ: "شقيق".]] الْأَصْبَحِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا-قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَفِي يَدِهِ كِتَابَانِ، فَقَالَ: "أَتَدْرُونَ مَا هَذَانِ الْكِتَابَانِ؟ " قَالَ: قُلْنَا: لَا إِلَّا أَنْ تُخْبِرَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قال للذي في يده اليمينى: "هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ، بِأَسْمَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ، ثُمَّ أَجْمَلَ عَلَى آخِرِهِمْ -لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا" ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي فِي يَسَارِهِ: "هَذَا كِتَابُ أَهْلِ النَّارِ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ، ثُمَّ أَجْمَلَ عَلَى آخِرِهِمْ -لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا" فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: فَلِأَيِّ شَيْءٍ إذًا نعمل إن كان هذا أمر قَدْ فُرِغ مِنْهُ؟ فَقَالَ [[في ت، م: "قال".]] رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "سَدِّدُوا وَقَارِبُوا، فَإِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّةِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ الْجَنَّةِ [[في م: "بعمل أهل الجنة".]] ، وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمل، وَإِنَّ صَاحِبَ النَّارِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ النَّارِ [[في م، ت، أ: "بعمل أهل النار"]] ، وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ" ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ فَقَبَضَهَا، ثُمَّ قَالَ: "فَرَغَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْعِبَادِ" ثُمَّ قَالَ بِالْيُمْنَى فَنَبَذَ بِهَا فَقَالَ: "فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ"، وَنَبَذَ بِالْيُسْرَى فَقَالَ: "فَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ"
وَهَكَذَا رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ جَمِيعًا، عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَبَكْرِ بْنِ مُضَرَ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، عَنْ شُفَيّ بْنِ مَاتِعٍ [[في أ: "رافع".]] الْأَصْبَحِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، بِهِ [[المسند (٢/١٦٧) وسنن الترمذي برقم (٢١٤١) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٧٣) .]] .
وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
وَسَاقَهُ الْبَغَوِيُّ فِي تَفْسِيرِهِ مِنْ طَرِيقِ بِشْرِ بْنِ بَكْرٍ [[في م: "بكير".]] ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. وَعِنْدَهُ زِيَادَاتٌ مِنْهَا: ثُمَّ قَالَ: "فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ، عَدْلٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" [[معالم التنزيل للبغوي (٧/١٨٥) .]] .
وَرَوَاهُ [[في ت: "روى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ عن أبيه، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ -كَاتِبِ اللَّيْثِ-عَنِ اللَّيْثِ، بِهِ.
وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي قَبِيل، عَنْ شُفَيٍّ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الصَّحَابَةِ، فَذَكَرَهُ [[تفسير الطبري (٢٥/٧) .]] .
ثُمَّ رُوِيَ عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ وَهْب، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ وحَيْوَة بْنِ [[في أ: "عن".]] شُرَيْح، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ؛ أَنَّ أَبَا فِرَاسٍ [[في ت: "عن أبي فراس".]] حَدَّثَهُ: أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ نَفَضَهُ نَفْضَ المزْوَد [[في م: "المرود".]] ، وَأَخْرَجَ مِنْهُ كُلَّ ذُرِّيَّتِهِ، فَخَرَجَ أَمْثَالَ النَّغَف، فَقَبَضَهُمْ قَبْضَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ، ثُمَّ أَلْقَاهُمَا، ثُمَّ قَبَضَهُمَا فَقَالَ: فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ، وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ [[تفسير الطبري (٢٥/٧) .]] .
وَهَذَا الْمَوْقُوفُ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ، وَاللَّهُ أعلم.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ-أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ يُقَالُ لَهُ: أَبُو عَبْدِ اللَّهِ -دَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ وَهُوَ يَبْكِي، فَقَالُوا لَهُ: مَا يُبْكِيكَ؟ أَلَمْ يَقُلْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "خُذْ مِنْ شَارِبِكَ ثُمَّ أَقِرَّهُ حَتَّى تَلْقَانِي" قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يقول: "إن اللَّهَ قَبَضَ بِيَمِينِهِ قَبْضَةً، وَأُخْرَى بِالْيَدِ الْأُخْرَى، قَالَ: هَذِهِ لِهَذِهِ، وَهَذِهِ لِهَذِهِ وَلَا أُبَالِي" فَلَا أَدْرِي فِي أَيِّ الْقَبْضَتَيْنِ أَنَا [[المسند (٤/١٧٦٩) .]] .
وَأَحَادِيثُ الْقَدَرِ فِي الصِّحَاحِ وَالسُّنَنِ وَالْمَسَانِيدِ كَثِيرَةٌ جِدًّا، مِنْهَا حَدِيثُ عَلِيٍّ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَائِشَةَ، وَجَمَاعَةٍ جَمَّةٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَهُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً﴾ أَيْ: إِمَّا عَلَى الْهِدَايَةِ أَوْ عَلَى الضَّلَالَةِ، وَلَكِنَّهُ تَعَالَى فَاوَتَ بَيْنَهُمْ، فَهَدَى مَنْ يَشَاءُ [[في أ: "شاء".]] إِلَى الْحَقِّ، وَأَضَلَّ مَنْ يَشَاءُ عَنْهُ، وَلَهُ الْحِكْمَةُ وَالْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَلَكِنْ يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ فِي رَحْمَتِهِ وَالظَّالِمُونَ مَا لَهُمْ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ﴾
وَقَالَ: ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سُوَيْدٍ، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ: أَنَّهُ بَلَغَهُ [[في ت: "وروى ابن جرير بسنده".]] أَنَّ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ:: يَا رَبِّ خَلقُك الَّذِينَ [[في ت: "الذي".]] خَلَقْتَهُمْ، جَعَلْتَ مِنْهُمْ فَرِيقًا فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقًا فِي النَّارِ، لَوْ مَا أَدْخَلْتَهُمْ كُلَّهُمُ الْجَنَّةَ؟! فَقَالَ: يَا مُوسَى، ارْفَعْ ذَرْعك. فَرَفَعَ، قَالَ: قَدْ رَفَعْتُ. قَالَ: ارْفَعْ. فَرَفَعَ، فَلَمْ يُتْرَكْ شَيْئًا، قَالَ: يَا رَبِّ قَدْ رَفَعْتُ، قَالَ: ارْفَعْ. قَالَ: قَدْ رَفَعْتُ، إِلَّا مَا لَا خَيْرَ فِيهِ. قَالَ: كَذَلِكَ أُدْخِلُ خَلْقِي كُلَّهُمُ الْجَنَّةَ، إِلَّا مَا لَا خَيْرَ فِيهِ.
وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَهُمْ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ وَلَٰكِن يُدْخِلُ مَن يَشَآءُ فِى رَحْمَتِهِۦ ۚ وَٱلظَّٰلِمُونَ مَا لَهُم مِّن وَلِىٍّۢ وَلَا نَصِيرٍ
And if Allah willed, He could have made them [of] one religion, but He admits whom He wills into His mercy. And the wrongdoers have not any protector or helper.
اور اگر خدا چاہتا تو ان کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی یار ہے اور نہ مددگار
و اگر خدا میخواست همه آنها را امّت واحدی قرار میداد (و به زور هدایت میکرد، ولی هدایت اجباری سودی ندارد)؛ امّا خداوند هر کس را بخواهد در رحمتش وارد میکند، و برای ظالمان ولیّ و یاوری نیست.
Tafsir Ibn Kathir
And thus We have revealed to you a Qur'an in Arabic that you may warn the Mother of the Towns and all around it, and warn (them) of the Day of Assembling of which there is no doubt, a party will be in Paradise and a party in the blazing Fire (7)And if Allah had willed, He could have made them one nation, but He admits whom He wills to His mercy. And the wrongdoers will have neither a protector nor a helper (8)
The Qur'an was revealed to serve as a Warning
Allah says, 'just as We sent revelation to the Prophets before you,'
أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرْآنًا عَرَبِيًّا
(thus We have revealed to you a Qur'an in Arabic) meaning, plain, clear, and manifest
لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ
(that you may warn the Mother of the Towns), i.e., Makkah,
وَمَنْ حَوْلَهَا
(and all around it,) means, all the lands, east and west. Makkah is called Umm Al-Qura (the Mother of the Towns) because it is nobler than all other lands, as indicated by much evidence that has been discussed elsewhere. Among the most concise and clear proofs of that is the report recorded by Imam Ahmad from 'Abdullah bin 'Adi bin Al-Hamra' Az-Zuhri, who heard the Messenger of Allah ﷺ say, as he was standing in the market place of Makkah;
وَاللهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللهِ وَأَحَبُّ أَرْضِ اللهِ إِلَى اللهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ
(By Allah, you are the best land of Allah, the most beloved land to Allah; were it not for the fact that I was driven out from you, I would never have left you.) This was also recorded by At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Majah; At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih. "
وَتُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ
(and warn (them) of the Day of Assembling) i.e., the Day of Resurrection, when Allah will assemble the first and the last in one plain.
لَا رَيْبَ فِيهِ
(of which there is no doubt,) means, there is no doubt that it will happen and will most certainly come to pass.
فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ
(a party will be in Paradise and a party in the blazing Fire.) This is like the Ayah:
يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ۖ ذَٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ ۗ
((And remember) the Day when He will gather you (all) on the Day of Gathering, – that will be the Day of mutual loss and gain)(64:9). which means that the people of Paradise and the people of Hell will gain and lose, respectively. And it is like the Ayah:
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ - وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَعْدُودٍ - يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ
(Indeed in that (there) is a sure lesson for those who fear the torment of the Hereafter. That is a Day whereon will be gathered together, and that is a Day when all (the dwellers of the heavens and the earth) will be present. And We delay it only for a term fixed. On the Day when it comes, no person shall speak except by His leave. Some among them will be wretched and (others) blessed.)(11:103-105) Imam Ahmad recorded that 'Abdullah bin 'Amr, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ came out to us, holding two books in his hand. He said,
أَتَدْرُونَ مَا هٰذَانِ الْكِتَابَانِ؟
(Do you know what these two books are?) We said, "We do not know unless you tell us, O Messenger of Allah." Concerning the book in his right hand, He ﷺ said:
هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِأَسْمَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلىٰ آخِرِهِمْ، لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أبدًا
(This is a book from the Lord of the worlds, containing the names of the people of Paradise and of their fathers and tribes; all of them are detailed, down to the last one of them, and nothing will be added or taken away from it.) Then concerning the book in his left hand, he ﷺ said:
هَذَا كِتَابُ أَهْلِ النَّارِ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلىٰ آخِرِهِمْ، لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا
(This is the book of the people of Hell, containing their names and the names of their fathers and tribes, all of them are detailed down to the last one of them, and nothing will be added or taken away from it.) The Companions of the Messenger of Allah ﷺ said, "Why should we strive if it is something that is already cut and dried" The Messenger of Allah ﷺ said:
سَدِّدُوا وَقَارِبُوا فَإِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّةِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ،وَإِنَّ صَاحِبَ النَّارِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ
(Strive with your deeds as hard as you can for middle course or close to it, for the person who is destined for Paradise will die doing the deeds of the people of Paradise, regardless of what he did before, and the person who is destined for Hell will die doing the deeds of the people of Hell, regardless of what he did before.) Then he ﷺ made a gesture with his fist and said,
فَرَغَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْعِبَادِ
(Your Lord has settled the matter of His servants) and he opened his right hand as if throwing something;
فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ
(A party in Paradise.) and he made a similar gesture with his left hand;
فَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ
(And a party in the blazing Fire.)" This was also recorded by At-Tirmidhi, and An-Nasa'i; At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih Gharib."
Imam Ahmad recorded that Abu Nadrah said, "One of the Companions of the Prophet ﷺ, whose name was Abu Abdullah, was visited by some of his friends, and they found him weeping. They asked him, 'What has caused you to weep? Didn't the Messenger of Allah ﷺ say to you,
خُذْ مِنْ شَارِبِكَ ثُمَّ أَقِرَّهُ حَتَّى تَلْقَانِي
(Trim your moustache and adhere to that practice until you meet me)' He said, 'Yes, but I heard the Messenger of Allah ﷺ say;
إِنَّ اللهَ تَعَالَىٰ قَبَضَ بِيَمِينِهِ قَبْضَةً وَأُخْرَىٰ بِالْيَدِ الْأُخْرَىٰ، قَالَ: هٰذِهِ لِهٰذِهِ، وَهٰذِهِ لِهٰذِهِ، وَلَا أُبَالِي
(Allah picked up a handful in His Right Hand and another in His other Hand, and said, "This is for this and this is for this, and I do not care.") 'And I do not know in which of the two handfuls I am.'" There are several Hadiths about Al-Qadr (the Divine Decree) in the books of Sahih, Sunan and Musnad. Including those narrated by 'Ali, Ibn Mas'ud, 'A'ishah and a large number of Companions, may Allah be pleased with them all.
وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَهُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً
(And if Allah had willed, He could have made them one nation,) means, either all following guidance or all following misguidance, but He made them all different, and He guides whomsoever He wills to the truth and He sends astray whomsoever He wills, and He has complete wisdom and perfect proof. Allah says:
وَلَٰكِنْ يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ فِي رَحْمَتِهِ ۚ وَالظَّالِمُونَ مَا لَهُمْ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ
(but He admits whom He wills to His mercy. And the wrongdoers will have neither a protector nor a helper.)
Tafsir Ibn Kathir
قیامت کا آنا یقینی ہے یعنی جس طرح اے نبی آخر الزماں تم سے پہلے انبیاء پر وحی الٰہی آتی رہی تم پر بھی یہ قرآن وحی کے ذریعہ نازل کیا گیا ہے۔ یہ عربی میں بہت واضح بالکل کھلا ہوا اور سلجھے ہوئے بیان والا ہے تاکہ تو شہر مکہ کے رہنے والوں کو احکام الٰہی اور اللہ کے عذاب سے آگاہ کر دے نیز تمام اطراف عالم کو۔ آس پاس سے مراد مشرق و مغرب کی ہر سمت ہے مکہ شریف کو ام القرٰی اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ تمام شہروں سے افضل و بہتر ہے اس کے دلائل بہت سے ہیں جو اپنی اپنی جگہ مذکور ہیں ہاں ! یہاں پر ایک دلیل جو مختصر بھی ہے اور صاف بھی ہے سن لیجئے۔ ترمذی نسائی، ابن ماجہ، مسند احمد وغیرہ میں ہے حضرت عبداللہ بن عدی فرماتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے سنا آپ مکہ شریف کے بازار خزروع میں کھڑے ہوئے فرما رہے تھے کہ اے مکہ قسم ہے اللہ کی ساری زمین سے اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب اور زیادہ افضل ہے اگر میں تجھ میں سے نہ نکالا جاتا تو قسم ہے اللہ کی ہرگز تجھے نہ چھوڑتا۔ امام ترمذی ؒ اس حدیث کو حسن صحیح فرماتے ہیں اور اس لئے کہ تو قیامت کے دن سے سب کو ڈرا دے جس دن تمام اول و آخر زمانے کے لوگ ایک میدان میں جمع ہوں گے۔ جس دن کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں جس دن کچھ لوگ جنتی ہوں گے اور کچھ جہنمی یہ وہ دن ہوگا کہ جنتی نفع میں رہیں گے اور جہنمی گھاٹے میں دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے آیت (ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ ۙ لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ01003) 11۔ ھود :103) یعنی ان واقعات میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو آخرت کا وہ دن ہے جس میں تمام لوگ جمع کئے جائیں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہے۔ ہم تو اسے تھوڑی سی مدت معلوم کے لئے مؤخر کئے ہوئے ہیں۔ اس دن کوئی شخص بغیر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بات تک نہ کرسکے گا ان میں سے بعض تو بدقسمت ہوں گے اور بعض خوش نصیب۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے پاس ایک مرتبہ دو کتابیں اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر آئے اور ہم سے پوچھا جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ ہم نے کہا ہمیں تو خبر نہیں آپ فرمائیے۔ آپ نے اپنی داہنے ہاتھ کی کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ رب العالمین کی کتاب ہے جس میں جنتیوں کے نام ہیں مع ان کے والد اور ان کے قبیلہ کے نام کے اور آخر میں حساب کر کے میزان لگا دی گئی ہے اب ان میں نہ ایک بڑھے نہ ایک گھٹے۔ پھر اپنے بائیں ہاتھ کی کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ جہنمیوں کے ناموں کا رجسٹر ہے انکے نام ان کی ولدیت اور ان کی قوم سب اس میں لکھی ہوئی ہے پھر آخر میں میزان لگا دی گئی ہے ان میں بھی کمی بیشی ناممکن ہے۔ صحابہ نے پوچھا پھر ہمیں عمل کی کیا ضرورت ؟ جب کہ سب لکھا جا چکا ہے آپ نے فرمایا ٹھیک ٹھاک رہو بھلائی کی نزدیکی لئے رہو۔ اہل جنت کا خاتمہ نیکیوں اور بھلے اعمال پر ہی ہوگا گو وہ کیسے ہی اعمال کرتا ہو اور نار کا خاتمہ جہنمی اعمال پر ہی ہوگا گو وہ کیسے ہی کاموں کا مرتکب رہا ہو۔ پھر آپ نے اپنی دونوں مٹھیاں بند کرلیں اور فرمایا تمہارا رب عزوجل بندوں کے فیصلوں سے فراغت حاصل کرچکا ہے ایک فرقہ جنت میں ہے اور ایک جہنم میں اس کے ساتھ ہی آپ نے اپنے دائیں بائیں ہاتھوں سے اشارہ کیا گویا کوئی چیز پھینک رہے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ یہی حدیث اور کتابوں میں بھی ہے کسی میں یہ بھی ہے کہ یہ تمام عدل ہی عدل ہے حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جب آدم ؑ کو پیدا کیا اور ان کی تمام اولاد ان میں سے نکالی اور چیونٹیوں کی طرح وہ میدان میں پھیل گئی تو اسے اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا ایک حصہ نیکوں کا دوسرا بدوں کا۔ پھر انہیں پھیلا دیا دوبارہ انہیں سمیٹ لیا اور اسی طرح اپنی مٹھیوں میں لے کر فرمایا ایک حصہ جنتی اور دوسرا جہنمی یہ روایت موقوف ہی ٹھیک ہے واللہ اعلم۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضرت ابو عبداللہ نامی صحابی بیمار تھے ہم لوگ ان کی بیمار پرسی کے لئے گئے۔ دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں تو کہا کہ آپ کیوں روتے ہیں آپ سے تو رسول اللہ ﷺ نے فرما دیا ہے کہ اپنی مونچھیں کم رکھا کرو یہاں تک کہ مجھ سے ملو اس پر صحابی نے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے لیکن مجھے تو یہ حدیث رلا رہی ہے کہ حضور ﷺ سے سنا ہے اللہ تعالیٰ اپنی دائیں مٹھی میں مخلوق لی اور اسی طرح دوسرے ہاتھ کی مٹھی میں بھی اور فرمایا یہ لوگ اس کے لئے ہیں یعنی جنت کے لئے اور یہ اس کے لئے ہیں یعنی جہنم کے لئے اور مجھے کچھ پرواہ نہیں۔ پس مجھے خبر نہیں کہ اللہ کی کس مٹھی میں میں تھا ؟ اس طرح کی اثبات تقدیر کی اور بہت سی حدیثیں ہیں پھر فرماتا ہے اگر اللہ کو منظور ہوتا تو سب کو ایک ہی طریقے پر کردیتا یعنی یا تو ہدایت پر یا گمراہی پر لیکن رب نے ان میں تفاوت رکھا بعض کو حق کی ہدایت کی اور بعض کو اس سے بھلا دیا اپنی حکمت کو وہی جانتا ہے وہ جسے چاہے اپنی رحمت تلے کھڑا کرلے ظالموں کا حمایتی اور مددگار کوئی نہیں۔ ابن جریر میں ہے اللہ تعالیٰ سے حضرت موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) نے عرض کی کہ اے میرے رب تو نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا پھر ان میں سے کچھ کو تو جنت میں لے جائے گا اور کچھ اوروں کو جہنم میں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ سب ہی جنت میں جاتے جناب باری نے ارشاد فرمایا موسیٰ اپنا پیرہن اونچا کرو آپ نے اونچا کیا پھر فرمایا اور اونچا کرو آپ نے اور اونچا کیا فرمایا اور اوپر اٹھاؤ جواب دیا اے اللہ اب تو سارے جسم سے اونچا کرلیا سوائے اس جگہ کے جس کے اوپر سے ہٹانے میں خیر نہیں فرمایا بس موسیٰ اسی طرح میں بھی اپنی تمام مخلوق کو جنت میں داخل کروں گا سوائے ان کے جو بالکل ہی خیر سے خالی ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: وَكَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَكَ، ﴿أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرْآنًا عَرَبِيًّا﴾ أَيْ: وَاضِحًا جَلِيًّا بَيِّنًا، ﴿لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى﴾ وَهِيَ مَكَّةُ، ﴿وَمَنْ حَوْلَهَا﴾ أَيْ: مِنْ سَائِرِ الْبِلَادِ شَرْقًا وَغَرْبًا، وَسُمِّيَتْ مَكَّةُ "أُمَّ الْقُرَى"؛ لِأَنَّهَا أَشْرَفُ مِنْ سَائِرِ الْبِلَادِ، لِأَدِلَّةٍ كَثِيرَةٍ مَذْكُورَةٍ فِي مَوَاضِعِهَا. وَمِنْ أَوْجَزِ ذَلِكَ وَأَدَلِّهِ مَا قَالَ [[في ت: "ما رواه".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ:
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِي، أَخْبَرَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِي بْنِ الْحَمْرَاءِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ [[في ت: "قال".]] -وَهُوَ وَاقِفٌ بالحَزْوَرَة فِي سُوقِ مَكَّةَ-: "وَاللَّهِ، إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ" [[المسند (٤/٣٠٥) .]] .
وَهَكَذَا رِوَايَةُ التِّرْمِذِيِّ، وَالنَّسَائِيِّ، وَابْنِ مَاجَهْ، مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، بِهِ [[سنن الترمذي برقم (٣٩٢٥) والنسائي في السنن الكبرى برقم (٤٢٥٢) وسنن ابن ماجه برقم (٣١٠٨) .]] وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ صَحِيحٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ﴾ ، وَهُوَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، يَجْمَعُ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَا رَيْبَ فِيهِ﴾ أَيْ: لَا شَكَّ فِي وُقُوعِهِ، وَأَنَّهُ كَائِنٌ لَا مَحَالَةَ. وَقَوْلُهُ: ﴿فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ﴾ ، كَقَوْلِهِ: ﴿يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذَلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ﴾ [التَّغَابُنِ:٩] أَيْ: يَغْبَن أَهْلُ الْجَنَّةِ أَهْلَ النَّارِ، وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿ذَلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلا لأجَلٍ مَعْدُودٍ يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ﴾ [هُودٍ:١٠٣-١٠٥] [[قبلها في ت، م، أ: " (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الآخرة) ".]] .
قَالَ [[في ت: "روى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا لَيْث، حَدَّثَنِي أَبُو قَبِيلٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ شُفَيّ [[في أ: "شقيق".]] الْأَصْبَحِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا-قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَفِي يَدِهِ كِتَابَانِ، فَقَالَ: "أَتَدْرُونَ مَا هَذَانِ الْكِتَابَانِ؟ " قَالَ: قُلْنَا: لَا إِلَّا أَنْ تُخْبِرَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قال للذي في يده اليمينى: "هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ، بِأَسْمَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ، ثُمَّ أَجْمَلَ عَلَى آخِرِهِمْ -لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا" ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي فِي يَسَارِهِ: "هَذَا كِتَابُ أَهْلِ النَّارِ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ، ثُمَّ أَجْمَلَ عَلَى آخِرِهِمْ -لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا" فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: فَلِأَيِّ شَيْءٍ إذًا نعمل إن كان هذا أمر قَدْ فُرِغ مِنْهُ؟ فَقَالَ [[في ت، م: "قال".]] رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "سَدِّدُوا وَقَارِبُوا، فَإِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّةِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ الْجَنَّةِ [[في م: "بعمل أهل الجنة".]] ، وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمل، وَإِنَّ صَاحِبَ النَّارِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ النَّارِ [[في م، ت، أ: "بعمل أهل النار"]] ، وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ" ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ فَقَبَضَهَا، ثُمَّ قَالَ: "فَرَغَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْعِبَادِ" ثُمَّ قَالَ بِالْيُمْنَى فَنَبَذَ بِهَا فَقَالَ: "فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ"، وَنَبَذَ بِالْيُسْرَى فَقَالَ: "فَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ"
وَهَكَذَا رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ جَمِيعًا، عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَبَكْرِ بْنِ مُضَرَ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، عَنْ شُفَيّ بْنِ مَاتِعٍ [[في أ: "رافع".]] الْأَصْبَحِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، بِهِ [[المسند (٢/١٦٧) وسنن الترمذي برقم (٢١٤١) والنسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٧٣) .]] .
وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
وَسَاقَهُ الْبَغَوِيُّ فِي تَفْسِيرِهِ مِنْ طَرِيقِ بِشْرِ بْنِ بَكْرٍ [[في م: "بكير".]] ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. وَعِنْدَهُ زِيَادَاتٌ مِنْهَا: ثُمَّ قَالَ: "فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ، عَدْلٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" [[معالم التنزيل للبغوي (٧/١٨٥) .]] .
وَرَوَاهُ [[في ت: "روى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ عن أبيه، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ -كَاتِبِ اللَّيْثِ-عَنِ اللَّيْثِ، بِهِ.
وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي قَبِيل، عَنْ شُفَيٍّ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الصَّحَابَةِ، فَذَكَرَهُ [[تفسير الطبري (٢٥/٧) .]] .
ثُمَّ رُوِيَ عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ وَهْب، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ وحَيْوَة بْنِ [[في أ: "عن".]] شُرَيْح، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ؛ أَنَّ أَبَا فِرَاسٍ [[في ت: "عن أبي فراس".]] حَدَّثَهُ: أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ نَفَضَهُ نَفْضَ المزْوَد [[في م: "المرود".]] ، وَأَخْرَجَ مِنْهُ كُلَّ ذُرِّيَّتِهِ، فَخَرَجَ أَمْثَالَ النَّغَف، فَقَبَضَهُمْ قَبْضَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ، ثُمَّ أَلْقَاهُمَا، ثُمَّ قَبَضَهُمَا فَقَالَ: فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ، وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ [[تفسير الطبري (٢٥/٧) .]] .
وَهَذَا الْمَوْقُوفُ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ، وَاللَّهُ أعلم.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ-أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ يُقَالُ لَهُ: أَبُو عَبْدِ اللَّهِ -دَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ وَهُوَ يَبْكِي، فَقَالُوا لَهُ: مَا يُبْكِيكَ؟ أَلَمْ يَقُلْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "خُذْ مِنْ شَارِبِكَ ثُمَّ أَقِرَّهُ حَتَّى تَلْقَانِي" قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يقول: "إن اللَّهَ قَبَضَ بِيَمِينِهِ قَبْضَةً، وَأُخْرَى بِالْيَدِ الْأُخْرَى، قَالَ: هَذِهِ لِهَذِهِ، وَهَذِهِ لِهَذِهِ وَلَا أُبَالِي" فَلَا أَدْرِي فِي أَيِّ الْقَبْضَتَيْنِ أَنَا [[المسند (٤/١٧٦٩) .]] .
وَأَحَادِيثُ الْقَدَرِ فِي الصِّحَاحِ وَالسُّنَنِ وَالْمَسَانِيدِ كَثِيرَةٌ جِدًّا، مِنْهَا حَدِيثُ عَلِيٍّ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَائِشَةَ، وَجَمَاعَةٍ جَمَّةٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَهُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً﴾ أَيْ: إِمَّا عَلَى الْهِدَايَةِ أَوْ عَلَى الضَّلَالَةِ، وَلَكِنَّهُ تَعَالَى فَاوَتَ بَيْنَهُمْ، فَهَدَى مَنْ يَشَاءُ [[في أ: "شاء".]] إِلَى الْحَقِّ، وَأَضَلَّ مَنْ يَشَاءُ عَنْهُ، وَلَهُ الْحِكْمَةُ وَالْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَلَكِنْ يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ فِي رَحْمَتِهِ وَالظَّالِمُونَ مَا لَهُمْ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ﴾
وَقَالَ: ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سُوَيْدٍ، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ: أَنَّهُ بَلَغَهُ [[في ت: "وروى ابن جرير بسنده".]] أَنَّ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ:: يَا رَبِّ خَلقُك الَّذِينَ [[في ت: "الذي".]] خَلَقْتَهُمْ، جَعَلْتَ مِنْهُمْ فَرِيقًا فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقًا فِي النَّارِ، لَوْ مَا أَدْخَلْتَهُمْ كُلَّهُمُ الْجَنَّةَ؟! فَقَالَ: يَا مُوسَى، ارْفَعْ ذَرْعك. فَرَفَعَ، قَالَ: قَدْ رَفَعْتُ. قَالَ: ارْفَعْ. فَرَفَعَ، فَلَمْ يُتْرَكْ شَيْئًا، قَالَ: يَا رَبِّ قَدْ رَفَعْتُ، قَالَ: ارْفَعْ. قَالَ: قَدْ رَفَعْتُ، إِلَّا مَا لَا خَيْرَ فِيهِ. قَالَ: كَذَلِكَ أُدْخِلُ خَلْقِي كُلَّهُمُ الْجَنَّةَ، إِلَّا مَا لَا خَيْرَ فِيهِ.
أَمِ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ ۖ فَٱللَّهُ هُوَ ٱلْوَلِىُّ وَهُوَ يُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ
Or have they taken protectors [or allies] besides him? But Allah - He is the Protector, and He gives life to the dead, and He is over all things competent.
کیا انہوں نے اس کے سوا کارساز بنائے ہیں؟ کارساز تو خدا ہی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
آیا آنها غیر از خدا را ولیّ خود برگزیدند؟! در حالی که «ولیّ» فقط خداوند است و اوست که مردگان را زنده میکند، و اوست که بر هر چیزی تواناست!
Tafsir Ibn Kathir
Or have they taken protecting friends besides Him? But Allah – He Alone is the protector. And He Who gives life to the dead, and He is Able to do all things (9)And in whatsoever you differ, the decision thereof is with Allah. Such is Allah, my Lord in Whom I put my trust, and to Him I turn in repentance (10)The Creator of the heavens and the earth. He has made for you mates from yourselves, and for the cattle (also) mates. By this means He creates you. There is nothing like Him, and He is the All-Hearer, the All-Seer (11)To Him belong the keys of the heavens and the earth. He enlarges provision for whom He wills, and straitens. Verily, He is the All-Knower of everything (12)
Allah is the Protector, Ruler and Creator
Here Allah denounces the idolators for taking other gods instead of Allah, and declares that He is the True God, and it is not right to worship anyone except Him Alone. He is the One Who is able to bring the dead back to life and He is Able to do all things. Then He says:
وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ ۚ
(And in whatsoever you differ, the decision thereof is with Allah.) means, in whatever issue you differ. This is general in meaning and applies to all things.
فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ
(the decision thereof is with Allah.) means, He is the Judge of that, according to His Book and the Sunnah of His Prophet ﷺ. This is like the Ayah:
فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ
((And) if you differ in anything amongst yourselves, refer it to Allah and His Messenger)(4:59).
ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي
(Such is Allah, my Lord) means, (He is) the Judge of all things.
عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ
(in Whom I put my trust, and to Him I turn in repentance.) means, 'I refer all matters to Him.'
فَاطِرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ
(The Creator of the heavens and the earth.) means, the Maker of them both and everything in between.
جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا
(He has made for you mates from yourselves,) means, of your own kind. As a blessing and a favor from Him, He has made your kind male and female.
وَمِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا
(and for the cattle (also) mates.) means, and He has created for you eight pairs of cattle.
يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ ۚ
(By this means He creates you.) means, in this manner He creates you, male and female, generation after generation of men and cattle.
لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ
(There is nothing like Him,) means, there is nothing like the Creator of these pairs, for He is the Unique, the Self-Sufficient Master, Who has no peer or equal.
وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
(He is the All-Hearer, the All-Seer.)
لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ
(To Him belong the keys of the heavens and the earth.) We have already discussed the interpretation of this phrase in Surat Az-Zumar (39:63), the conclusion of which is that He is the One Who is controlling and governing them.
يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ
(He expands provision for whom He wills, and straitens.) means, He gives plentiful provision to whomsoever He wills and He reduces it for whomsoever He wills, and He is perfectly Wise and Just.
إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
(Verily, He is the All-Knower of everything.)
Tafsir Ibn Kathir
مشرکین کا شرک اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس مشرکانہ فعل کی قباحت بیان فرماتا ہے جو وہ اللہ کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے اور دوسروں کی پرستش کرتے تھے۔ اور بیان فرماتا ہے کہ سچا ولی اور حقیقی کارساز تو میں ہوں۔ مردوں کو جلانا میری صفت ہے ہر چیز پر قابو اور قدرت رکھنا میرا وصف ہے پھر میرے سوا اور کی عبادت کیسی ؟ پھر فرماتا ہے جس کسی امر میں تم میں اختلاف رونما ہوجائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف لے جاؤ یعنی تمام دینی اور دنیوی اختلاف کے فیصلے کی چیز کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مانو۔ جیسے فرمان عالی شان ہے آیت (فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا 59) 4۔ النسآء :59) اگر تم میں کوئی جھگڑا ہو تو اسے اللہ کی اور اس کے رسول کی طرف لوٹا لے جاؤ پھر فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو ہر چیز پر حاکم ہے وہی میرا رب ہے۔ میرا توکل اسی پر ہے اور اپنے تمام کام اسی کی طرف سونپتا ہوں اور ہر وقت اسی کی جانب رجوع کرتا ہوں وہ آسمانوں و زمین اور ان کے درمیان کی کل مخلوق کا خالق ہے اس کا احسان دیکھو کہ اس نے تمہاری ہی جنس اور تمہاری ہی شکل کے تمہارے جوڑے بنا دئیے یعنی مرد و عورت اور چوپایوں کے بھی جوڑے پیدا کئے جو آٹھ ہیں وہ اسی پیدائش میں تمہیں پیدا کرتا ہے یعنی اسی صفت پر یعنی جوڑ جوڑ پیدا کرتا جا رہا ہے نسلیں کی نسلیں پھیلا دیں قرنوں گذر گئے اور سلسلہ اسی طرح چلا آرہا ہے ادھر انسانوں کا ادھر جانوروں کا۔ بغوی ؒ فرماتے ہیں مراد رحم میں پیدا کرتا ہے بعض کہتے ہیں پیٹ میں بعض کہتے ہیں اسی طریق پر پھیلانا ہے حضرت مجاہد فرماتے ہیں نسلیں پھیلانی مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں یہاں (فیہ) معنی (بہ) کے ہے یعنی مرد اور عورت کے جوڑے سے نسل انسانی کو وہ پھیلا رہا اور پیدا کر رہا ہے حق یہ ہے کہ خالق کے ساتھ کوئی اور نہیں وہ فرد و صمد ہے وہ بےنظیر ہے وہ سمیع وبصیر ہے آسمان و زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھوں میں ہیں سورة زمر میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے مقصد یہ ہے کہ سارے عالم کا متصرف مالک حاکم وہی یکتا لا شریک ہے جسے چاہے کشادہ روزی دے جس پر چاہے تنگی کر دے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ کسی حالت میں وہ کسی پر ظلم کرنے والا نہیں اس کا وسیع علم ساری مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُنْكِرًا عَلَى الْمُشْرِكِينَ فِي اتِّخَاذِهِمْ آلِهَةً مِنْ دُونِ اللَّهِ، وَمُخْبِرًا أَنَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ الْحَقُّ الَّذِي لَا تَنْبَغِي الْعِبَادَةُ إِلَّا لَهُ وَحْدَهُ، فَإِنَّهُ الْقَادِرُ عَلَى إِحْيَاءِ الْمَوْتَى وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ﴾ أَيْ: مَهْمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنَ الْأُمُورِ وَهَذَا عَامٌّ فِي جَمِيعِ الْأَشْيَاءِ، ﴿فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ﴾ أَيْ: هُوَ الْحَاكِمُ فِيهِ بِكِتَابِهِ، وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ ﷺ، كَقَوْلِهِ: ﴿فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [النِّسَاءِ:٥٩] . .
﴿ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي﴾ أَيِ: الْحَاكِمُ فِي كُلِّ شَيْءٍ، ﴿عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ﴾ أَيْ: أَرْجِعُ فِي جَمِيعِ الأمور.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَاطِرِ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ﴾ أَيْ: خَالِقُهُمَا وَمَا بَيْنَهُمَا، ﴿جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا﴾ أَيْ: مِنْ جِنْسِكُمْ وَشَكْلِكُمْ، مِنَّةً عَلَيْكُمْ وَتَفَضُّلًا جَعَلَ مِنْ جِنْسِكُمْ ذَكَرًا وَأُنْثَى، ﴿وَمِنَ الأنْعَامِ أَزْوَاجًا﴾ أَيْ: وَخَلَقَ لَكُمْ مِنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ﴾ أَيْ: يَخْلُقُكُمْ فِيهِ، أَيْ: فِي ذَلِكَ الْخَلْقِ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ لَا يَزَالُ يَذْرَؤُكُمْ [[في أ: "نوعكم".]] فِيهِ ذُكُورًا وَإِنَاثًا، خَلْقًا مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ، وَجِيلًا بَعْدَ جِيلٍ، وَنَسْلًا بَعْدَ نَسْلٍ، مِنَ النَّاسِ وَالْأَنْعَامِ.
وَقَالَ الْبَغَوِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: ﴿يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ﴾ أَيْ: فِي الرَّحِمِ. وَقِيلَ: فِي الْبَطْنِ. وَقِيلَ: فِي هَذَا الْوَجْهِ مِنَ الْخِلْقَةِ.
قَالَ مُجَاهِدٌ: وَنَسْلًا بَعْدَ نَسْلٍ مِنَ النَّاسِ وَالْأَنْعَامِ.
وَقِيلَ: "فِي" بِمَعْنَى "الْبَاءِ"، أَيْ: يَذْرَؤُكُمْ بِهِ.
﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ أَيْ: لَيْسَ كَخَالِقِ الْأَزْوَاجِ كُلِّهَا شَيْءٌ؛ لِأَنَّهُ الْفَرْدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَا نَظِيرَ لَهُ، ﴿وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ﴾ تَقَدَّمَ تَفْسِيرُهُ فِي "سُورَةِ الزُّمَرِ"، وَحَاصِلُ ذَلِكَ أَنَّهُ الْمُتَصَرِّفُ الْحَاكِمُ فِيهِمَا، ﴿يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ﴾ أَيْ: يُوَسِّعُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ، وَيُضَيِّقُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ، وَلَهُ الْحِكْمَةُ وَالْعَدْلُ التَّامُّ، ﴿إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾
وَمَا ٱخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَىْءٍۢ فَحُكْمُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبِّى عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ
And in anything over which you disagree - its ruling is [to be referred] to Allah. [Say], "That is Allah, my Lord; upon Him I have relied, and to Him I turn back."
اور تم جس بات میں اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ خدا کی طرف (سے ہوگا) یہی خدا میرا پروردگار ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں
در هر چیز اختلاف کنید، داوریش با خداست؛ این است خداوند، پروردگار من، بر او توکّل کردهام و به سوی او بازمیگردم!
Tafsir Ibn Kathir
Or have they taken protecting friends besides Him? But Allah – He Alone is the protector. And He Who gives life to the dead, and He is Able to do all things (9)And in whatsoever you differ, the decision thereof is with Allah. Such is Allah, my Lord in Whom I put my trust, and to Him I turn in repentance (10)The Creator of the heavens and the earth. He has made for you mates from yourselves, and for the cattle (also) mates. By this means He creates you. There is nothing like Him, and He is the All-Hearer, the All-Seer (11)To Him belong the keys of the heavens and the earth. He enlarges provision for whom He wills, and straitens. Verily, He is the All-Knower of everything (12)
Allah is the Protector, Ruler and Creator
Here Allah denounces the idolators for taking other gods instead of Allah, and declares that He is the True God, and it is not right to worship anyone except Him Alone. He is the One Who is able to bring the dead back to life and He is Able to do all things. Then He says:
وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ ۚ
(And in whatsoever you differ, the decision thereof is with Allah.) means, in whatever issue you differ. This is general in meaning and applies to all things.
فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ
(the decision thereof is with Allah.) means, He is the Judge of that, according to His Book and the Sunnah of His Prophet ﷺ. This is like the Ayah:
فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ
((And) if you differ in anything amongst yourselves, refer it to Allah and His Messenger)(4:59).
ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي
(Such is Allah, my Lord) means, (He is) the Judge of all things.
عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ
(in Whom I put my trust, and to Him I turn in repentance.) means, 'I refer all matters to Him.'
فَاطِرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ
(The Creator of the heavens and the earth.) means, the Maker of them both and everything in between.
جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا
(He has made for you mates from yourselves,) means, of your own kind. As a blessing and a favor from Him, He has made your kind male and female.
وَمِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا
(and for the cattle (also) mates.) means, and He has created for you eight pairs of cattle.
يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ ۚ
(By this means He creates you.) means, in this manner He creates you, male and female, generation after generation of men and cattle.
لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ
(There is nothing like Him,) means, there is nothing like the Creator of these pairs, for He is the Unique, the Self-Sufficient Master, Who has no peer or equal.
وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
(He is the All-Hearer, the All-Seer.)
لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ
(To Him belong the keys of the heavens and the earth.) We have already discussed the interpretation of this phrase in Surat Az-Zumar (39:63), the conclusion of which is that He is the One Who is controlling and governing them.
يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ
(He expands provision for whom He wills, and straitens.) means, He gives plentiful provision to whomsoever He wills and He reduces it for whomsoever He wills, and He is perfectly Wise and Just.
إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
(Verily, He is the All-Knower of everything.)
Tafsir Ibn Kathir
مشرکین کا شرک اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس مشرکانہ فعل کی قباحت بیان فرماتا ہے جو وہ اللہ کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے اور دوسروں کی پرستش کرتے تھے۔ اور بیان فرماتا ہے کہ سچا ولی اور حقیقی کارساز تو میں ہوں۔ مردوں کو جلانا میری صفت ہے ہر چیز پر قابو اور قدرت رکھنا میرا وصف ہے پھر میرے سوا اور کی عبادت کیسی ؟ پھر فرماتا ہے جس کسی امر میں تم میں اختلاف رونما ہوجائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف لے جاؤ یعنی تمام دینی اور دنیوی اختلاف کے فیصلے کی چیز کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مانو۔ جیسے فرمان عالی شان ہے آیت (فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا 59) 4۔ النسآء :59) اگر تم میں کوئی جھگڑا ہو تو اسے اللہ کی اور اس کے رسول کی طرف لوٹا لے جاؤ پھر فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو ہر چیز پر حاکم ہے وہی میرا رب ہے۔ میرا توکل اسی پر ہے اور اپنے تمام کام اسی کی طرف سونپتا ہوں اور ہر وقت اسی کی جانب رجوع کرتا ہوں وہ آسمانوں و زمین اور ان کے درمیان کی کل مخلوق کا خالق ہے اس کا احسان دیکھو کہ اس نے تمہاری ہی جنس اور تمہاری ہی شکل کے تمہارے جوڑے بنا دئیے یعنی مرد و عورت اور چوپایوں کے بھی جوڑے پیدا کئے جو آٹھ ہیں وہ اسی پیدائش میں تمہیں پیدا کرتا ہے یعنی اسی صفت پر یعنی جوڑ جوڑ پیدا کرتا جا رہا ہے نسلیں کی نسلیں پھیلا دیں قرنوں گذر گئے اور سلسلہ اسی طرح چلا آرہا ہے ادھر انسانوں کا ادھر جانوروں کا۔ بغوی ؒ فرماتے ہیں مراد رحم میں پیدا کرتا ہے بعض کہتے ہیں پیٹ میں بعض کہتے ہیں اسی طریق پر پھیلانا ہے حضرت مجاہد فرماتے ہیں نسلیں پھیلانی مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں یہاں (فیہ) معنی (بہ) کے ہے یعنی مرد اور عورت کے جوڑے سے نسل انسانی کو وہ پھیلا رہا اور پیدا کر رہا ہے حق یہ ہے کہ خالق کے ساتھ کوئی اور نہیں وہ فرد و صمد ہے وہ بےنظیر ہے وہ سمیع وبصیر ہے آسمان و زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھوں میں ہیں سورة زمر میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے مقصد یہ ہے کہ سارے عالم کا متصرف مالک حاکم وہی یکتا لا شریک ہے جسے چاہے کشادہ روزی دے جس پر چاہے تنگی کر دے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ کسی حالت میں وہ کسی پر ظلم کرنے والا نہیں اس کا وسیع علم ساری مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُنْكِرًا عَلَى الْمُشْرِكِينَ فِي اتِّخَاذِهِمْ آلِهَةً مِنْ دُونِ اللَّهِ، وَمُخْبِرًا أَنَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ الْحَقُّ الَّذِي لَا تَنْبَغِي الْعِبَادَةُ إِلَّا لَهُ وَحْدَهُ، فَإِنَّهُ الْقَادِرُ عَلَى إِحْيَاءِ الْمَوْتَى وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ﴾ أَيْ: مَهْمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنَ الْأُمُورِ وَهَذَا عَامٌّ فِي جَمِيعِ الْأَشْيَاءِ، ﴿فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ﴾ أَيْ: هُوَ الْحَاكِمُ فِيهِ بِكِتَابِهِ، وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ ﷺ، كَقَوْلِهِ: ﴿فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [النِّسَاءِ:٥٩] . .
﴿ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي﴾ أَيِ: الْحَاكِمُ فِي كُلِّ شَيْءٍ، ﴿عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ﴾ أَيْ: أَرْجِعُ فِي جَمِيعِ الأمور.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَاطِرِ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ﴾ أَيْ: خَالِقُهُمَا وَمَا بَيْنَهُمَا، ﴿جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا﴾ أَيْ: مِنْ جِنْسِكُمْ وَشَكْلِكُمْ، مِنَّةً عَلَيْكُمْ وَتَفَضُّلًا جَعَلَ مِنْ جِنْسِكُمْ ذَكَرًا وَأُنْثَى، ﴿وَمِنَ الأنْعَامِ أَزْوَاجًا﴾ أَيْ: وَخَلَقَ لَكُمْ مِنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ﴾ أَيْ: يَخْلُقُكُمْ فِيهِ، أَيْ: فِي ذَلِكَ الْخَلْقِ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ لَا يَزَالُ يَذْرَؤُكُمْ [[في أ: "نوعكم".]] فِيهِ ذُكُورًا وَإِنَاثًا، خَلْقًا مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ، وَجِيلًا بَعْدَ جِيلٍ، وَنَسْلًا بَعْدَ نَسْلٍ، مِنَ النَّاسِ وَالْأَنْعَامِ.
وَقَالَ الْبَغَوِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: ﴿يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ﴾ أَيْ: فِي الرَّحِمِ. وَقِيلَ: فِي الْبَطْنِ. وَقِيلَ: فِي هَذَا الْوَجْهِ مِنَ الْخِلْقَةِ.
قَالَ مُجَاهِدٌ: وَنَسْلًا بَعْدَ نَسْلٍ مِنَ النَّاسِ وَالْأَنْعَامِ.
وَقِيلَ: "فِي" بِمَعْنَى "الْبَاءِ"، أَيْ: يَذْرَؤُكُمْ بِهِ.
﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ أَيْ: لَيْسَ كَخَالِقِ الْأَزْوَاجِ كُلِّهَا شَيْءٌ؛ لِأَنَّهُ الْفَرْدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَا نَظِيرَ لَهُ، ﴿وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ﴾ تَقَدَّمَ تَفْسِيرُهُ فِي "سُورَةِ الزُّمَرِ"، وَحَاصِلُ ذَلِكَ أَنَّهُ الْمُتَصَرِّفُ الْحَاكِمُ فِيهِمَا، ﴿يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ﴾ أَيْ: يُوَسِّعُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ، وَيُضَيِّقُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ، وَلَهُ الْحِكْمَةُ وَالْعَدْلُ التَّامُّ، ﴿إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾
فَاطِرُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَٰجًۭا وَمِنَ ٱلْأَنْعَٰمِ أَزْوَٰجًۭا ۖ يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ ۚ لَيْسَ كَمِثْلِهِۦ شَىْءٌۭ ۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيرُ
[He is] Creator of the heavens and the earth. He has made for you from yourselves, mates, and among the cattle, mates; He multiplies you thereby. There is nothing like unto Him, and He is the Hearing, the Seeing.
آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (وہی ہے) ۔ اسی نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کے جوڑے بنائے اور چارپایوں کے بھی جوڑے (بنائے اور) اسی طریق پر تم کو پھیلاتا رہتا ہے۔ اس جیسی کوئی چیز نہیں۔ اور وہ دیکھتا سنتا ہے
او آفریننده آسمانها و زمین است و از جنس شما همسرانی برای شما قرار داد و جفتهایی از چهارپایان آفرید؛ و شما را به این وسیله [= بوسیله همسران] زیاد می کند؛ هیچ چیز همانند او نیست و او شنوا و بیناست!
Tafsir Ibn Kathir
Or have they taken protecting friends besides Him? But Allah – He Alone is the protector. And He Who gives life to the dead, and He is Able to do all things (9)And in whatsoever you differ, the decision thereof is with Allah. Such is Allah, my Lord in Whom I put my trust, and to Him I turn in repentance (10)The Creator of the heavens and the earth. He has made for you mates from yourselves, and for the cattle (also) mates. By this means He creates you. There is nothing like Him, and He is the All-Hearer, the All-Seer (11)To Him belong the keys of the heavens and the earth. He enlarges provision for whom He wills, and straitens. Verily, He is the All-Knower of everything (12)
Allah is the Protector, Ruler and Creator
Here Allah denounces the idolators for taking other gods instead of Allah, and declares that He is the True God, and it is not right to worship anyone except Him Alone. He is the One Who is able to bring the dead back to life and He is Able to do all things. Then He says:
وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ ۚ
(And in whatsoever you differ, the decision thereof is with Allah.) means, in whatever issue you differ. This is general in meaning and applies to all things.
فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ
(the decision thereof is with Allah.) means, He is the Judge of that, according to His Book and the Sunnah of His Prophet ﷺ. This is like the Ayah:
فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ
((And) if you differ in anything amongst yourselves, refer it to Allah and His Messenger)(4:59).
ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي
(Such is Allah, my Lord) means, (He is) the Judge of all things.
عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ
(in Whom I put my trust, and to Him I turn in repentance.) means, 'I refer all matters to Him.'
فَاطِرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ
(The Creator of the heavens and the earth.) means, the Maker of them both and everything in between.
جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا
(He has made for you mates from yourselves,) means, of your own kind. As a blessing and a favor from Him, He has made your kind male and female.
وَمِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا
(and for the cattle (also) mates.) means, and He has created for you eight pairs of cattle.
يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ ۚ
(By this means He creates you.) means, in this manner He creates you, male and female, generation after generation of men and cattle.
لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ
(There is nothing like Him,) means, there is nothing like the Creator of these pairs, for He is the Unique, the Self-Sufficient Master, Who has no peer or equal.
وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
(He is the All-Hearer, the All-Seer.)
لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ
(To Him belong the keys of the heavens and the earth.) We have already discussed the interpretation of this phrase in Surat Az-Zumar (39:63), the conclusion of which is that He is the One Who is controlling and governing them.
يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ
(He expands provision for whom He wills, and straitens.) means, He gives plentiful provision to whomsoever He wills and He reduces it for whomsoever He wills, and He is perfectly Wise and Just.
إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
(Verily, He is the All-Knower of everything.)
Tafsir Ibn Kathir
مشرکین کا شرک اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس مشرکانہ فعل کی قباحت بیان فرماتا ہے جو وہ اللہ کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے اور دوسروں کی پرستش کرتے تھے۔ اور بیان فرماتا ہے کہ سچا ولی اور حقیقی کارساز تو میں ہوں۔ مردوں کو جلانا میری صفت ہے ہر چیز پر قابو اور قدرت رکھنا میرا وصف ہے پھر میرے سوا اور کی عبادت کیسی ؟ پھر فرماتا ہے جس کسی امر میں تم میں اختلاف رونما ہوجائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف لے جاؤ یعنی تمام دینی اور دنیوی اختلاف کے فیصلے کی چیز کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مانو۔ جیسے فرمان عالی شان ہے آیت (فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا 59) 4۔ النسآء :59) اگر تم میں کوئی جھگڑا ہو تو اسے اللہ کی اور اس کے رسول کی طرف لوٹا لے جاؤ پھر فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو ہر چیز پر حاکم ہے وہی میرا رب ہے۔ میرا توکل اسی پر ہے اور اپنے تمام کام اسی کی طرف سونپتا ہوں اور ہر وقت اسی کی جانب رجوع کرتا ہوں وہ آسمانوں و زمین اور ان کے درمیان کی کل مخلوق کا خالق ہے اس کا احسان دیکھو کہ اس نے تمہاری ہی جنس اور تمہاری ہی شکل کے تمہارے جوڑے بنا دئیے یعنی مرد و عورت اور چوپایوں کے بھی جوڑے پیدا کئے جو آٹھ ہیں وہ اسی پیدائش میں تمہیں پیدا کرتا ہے یعنی اسی صفت پر یعنی جوڑ جوڑ پیدا کرتا جا رہا ہے نسلیں کی نسلیں پھیلا دیں قرنوں گذر گئے اور سلسلہ اسی طرح چلا آرہا ہے ادھر انسانوں کا ادھر جانوروں کا۔ بغوی ؒ فرماتے ہیں مراد رحم میں پیدا کرتا ہے بعض کہتے ہیں پیٹ میں بعض کہتے ہیں اسی طریق پر پھیلانا ہے حضرت مجاہد فرماتے ہیں نسلیں پھیلانی مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں یہاں (فیہ) معنی (بہ) کے ہے یعنی مرد اور عورت کے جوڑے سے نسل انسانی کو وہ پھیلا رہا اور پیدا کر رہا ہے حق یہ ہے کہ خالق کے ساتھ کوئی اور نہیں وہ فرد و صمد ہے وہ بےنظیر ہے وہ سمیع وبصیر ہے آسمان و زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھوں میں ہیں سورة زمر میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے مقصد یہ ہے کہ سارے عالم کا متصرف مالک حاکم وہی یکتا لا شریک ہے جسے چاہے کشادہ روزی دے جس پر چاہے تنگی کر دے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ کسی حالت میں وہ کسی پر ظلم کرنے والا نہیں اس کا وسیع علم ساری مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُنْكِرًا عَلَى الْمُشْرِكِينَ فِي اتِّخَاذِهِمْ آلِهَةً مِنْ دُونِ اللَّهِ، وَمُخْبِرًا أَنَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ الْحَقُّ الَّذِي لَا تَنْبَغِي الْعِبَادَةُ إِلَّا لَهُ وَحْدَهُ، فَإِنَّهُ الْقَادِرُ عَلَى إِحْيَاءِ الْمَوْتَى وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ﴾ أَيْ: مَهْمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنَ الْأُمُورِ وَهَذَا عَامٌّ فِي جَمِيعِ الْأَشْيَاءِ، ﴿فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ﴾ أَيْ: هُوَ الْحَاكِمُ فِيهِ بِكِتَابِهِ، وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ ﷺ، كَقَوْلِهِ: ﴿فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [النِّسَاءِ:٥٩] . .
﴿ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي﴾ أَيِ: الْحَاكِمُ فِي كُلِّ شَيْءٍ، ﴿عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ﴾ أَيْ: أَرْجِعُ فِي جَمِيعِ الأمور.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَاطِرِ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ﴾ أَيْ: خَالِقُهُمَا وَمَا بَيْنَهُمَا، ﴿جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا﴾ أَيْ: مِنْ جِنْسِكُمْ وَشَكْلِكُمْ، مِنَّةً عَلَيْكُمْ وَتَفَضُّلًا جَعَلَ مِنْ جِنْسِكُمْ ذَكَرًا وَأُنْثَى، ﴿وَمِنَ الأنْعَامِ أَزْوَاجًا﴾ أَيْ: وَخَلَقَ لَكُمْ مِنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ﴾ أَيْ: يَخْلُقُكُمْ فِيهِ، أَيْ: فِي ذَلِكَ الْخَلْقِ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ لَا يَزَالُ يَذْرَؤُكُمْ [[في أ: "نوعكم".]] فِيهِ ذُكُورًا وَإِنَاثًا، خَلْقًا مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ، وَجِيلًا بَعْدَ جِيلٍ، وَنَسْلًا بَعْدَ نَسْلٍ، مِنَ النَّاسِ وَالْأَنْعَامِ.
وَقَالَ الْبَغَوِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: ﴿يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ﴾ أَيْ: فِي الرَّحِمِ. وَقِيلَ: فِي الْبَطْنِ. وَقِيلَ: فِي هَذَا الْوَجْهِ مِنَ الْخِلْقَةِ.
قَالَ مُجَاهِدٌ: وَنَسْلًا بَعْدَ نَسْلٍ مِنَ النَّاسِ وَالْأَنْعَامِ.
وَقِيلَ: "فِي" بِمَعْنَى "الْبَاءِ"، أَيْ: يَذْرَؤُكُمْ بِهِ.
﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ أَيْ: لَيْسَ كَخَالِقِ الْأَزْوَاجِ كُلِّهَا شَيْءٌ؛ لِأَنَّهُ الْفَرْدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَا نَظِيرَ لَهُ، ﴿وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ﴾ تَقَدَّمَ تَفْسِيرُهُ فِي "سُورَةِ الزُّمَرِ"، وَحَاصِلُ ذَلِكَ أَنَّهُ الْمُتَصَرِّفُ الْحَاكِمُ فِيهِمَا، ﴿يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ﴾ أَيْ: يُوَسِّعُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ، وَيُضَيِّقُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ، وَلَهُ الْحِكْمَةُ وَالْعَدْلُ التَّامُّ، ﴿إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾
لَهُۥ مَقَالِيدُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّهُۥ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۭ
To Him belong the keys of the heavens and the earth. He extends provision for whom He wills and restricts [it]. Indeed He is, of all things, Knowing.
آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے۔ بےشک وہ ہر چیز سے واقف ہے
کلیدهای آسمانها و زمین از آن اوست؛ روزی را برای هر کس بخواهد گسترش می دهد یا محدود میسازد؛ او به همه چیز داناست.
Tafsir Ibn Kathir
Or have they taken protecting friends besides Him? But Allah – He Alone is the protector. And He Who gives life to the dead, and He is Able to do all things (9)And in whatsoever you differ, the decision thereof is with Allah. Such is Allah, my Lord in Whom I put my trust, and to Him I turn in repentance (10)The Creator of the heavens and the earth. He has made for you mates from yourselves, and for the cattle (also) mates. By this means He creates you. There is nothing like Him, and He is the All-Hearer, the All-Seer (11)To Him belong the keys of the heavens and the earth. He enlarges provision for whom He wills, and straitens. Verily, He is the All-Knower of everything (12)
Allah is the Protector, Ruler and Creator
Here Allah denounces the idolators for taking other gods instead of Allah, and declares that He is the True God, and it is not right to worship anyone except Him Alone. He is the One Who is able to bring the dead back to life and He is Able to do all things. Then He says:
وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ ۚ
(And in whatsoever you differ, the decision thereof is with Allah.) means, in whatever issue you differ. This is general in meaning and applies to all things.
فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ
(the decision thereof is with Allah.) means, He is the Judge of that, according to His Book and the Sunnah of His Prophet ﷺ. This is like the Ayah:
فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ
((And) if you differ in anything amongst yourselves, refer it to Allah and His Messenger)(4:59).
ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي
(Such is Allah, my Lord) means, (He is) the Judge of all things.
عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ
(in Whom I put my trust, and to Him I turn in repentance.) means, 'I refer all matters to Him.'
فَاطِرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ
(The Creator of the heavens and the earth.) means, the Maker of them both and everything in between.
جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا
(He has made for you mates from yourselves,) means, of your own kind. As a blessing and a favor from Him, He has made your kind male and female.
وَمِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا
(and for the cattle (also) mates.) means, and He has created for you eight pairs of cattle.
يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ ۚ
(By this means He creates you.) means, in this manner He creates you, male and female, generation after generation of men and cattle.
لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ
(There is nothing like Him,) means, there is nothing like the Creator of these pairs, for He is the Unique, the Self-Sufficient Master, Who has no peer or equal.
وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
(He is the All-Hearer, the All-Seer.)
لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ
(To Him belong the keys of the heavens and the earth.) We have already discussed the interpretation of this phrase in Surat Az-Zumar (39:63), the conclusion of which is that He is the One Who is controlling and governing them.
يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ
(He expands provision for whom He wills, and straitens.) means, He gives plentiful provision to whomsoever He wills and He reduces it for whomsoever He wills, and He is perfectly Wise and Just.
إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
(Verily, He is the All-Knower of everything.)
Tafsir Ibn Kathir
مشرکین کا شرک اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس مشرکانہ فعل کی قباحت بیان فرماتا ہے جو وہ اللہ کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے اور دوسروں کی پرستش کرتے تھے۔ اور بیان فرماتا ہے کہ سچا ولی اور حقیقی کارساز تو میں ہوں۔ مردوں کو جلانا میری صفت ہے ہر چیز پر قابو اور قدرت رکھنا میرا وصف ہے پھر میرے سوا اور کی عبادت کیسی ؟ پھر فرماتا ہے جس کسی امر میں تم میں اختلاف رونما ہوجائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف لے جاؤ یعنی تمام دینی اور دنیوی اختلاف کے فیصلے کی چیز کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مانو۔ جیسے فرمان عالی شان ہے آیت (فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا 59) 4۔ النسآء :59) اگر تم میں کوئی جھگڑا ہو تو اسے اللہ کی اور اس کے رسول کی طرف لوٹا لے جاؤ پھر فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو ہر چیز پر حاکم ہے وہی میرا رب ہے۔ میرا توکل اسی پر ہے اور اپنے تمام کام اسی کی طرف سونپتا ہوں اور ہر وقت اسی کی جانب رجوع کرتا ہوں وہ آسمانوں و زمین اور ان کے درمیان کی کل مخلوق کا خالق ہے اس کا احسان دیکھو کہ اس نے تمہاری ہی جنس اور تمہاری ہی شکل کے تمہارے جوڑے بنا دئیے یعنی مرد و عورت اور چوپایوں کے بھی جوڑے پیدا کئے جو آٹھ ہیں وہ اسی پیدائش میں تمہیں پیدا کرتا ہے یعنی اسی صفت پر یعنی جوڑ جوڑ پیدا کرتا جا رہا ہے نسلیں کی نسلیں پھیلا دیں قرنوں گذر گئے اور سلسلہ اسی طرح چلا آرہا ہے ادھر انسانوں کا ادھر جانوروں کا۔ بغوی ؒ فرماتے ہیں مراد رحم میں پیدا کرتا ہے بعض کہتے ہیں پیٹ میں بعض کہتے ہیں اسی طریق پر پھیلانا ہے حضرت مجاہد فرماتے ہیں نسلیں پھیلانی مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں یہاں (فیہ) معنی (بہ) کے ہے یعنی مرد اور عورت کے جوڑے سے نسل انسانی کو وہ پھیلا رہا اور پیدا کر رہا ہے حق یہ ہے کہ خالق کے ساتھ کوئی اور نہیں وہ فرد و صمد ہے وہ بےنظیر ہے وہ سمیع وبصیر ہے آسمان و زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھوں میں ہیں سورة زمر میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے مقصد یہ ہے کہ سارے عالم کا متصرف مالک حاکم وہی یکتا لا شریک ہے جسے چاہے کشادہ روزی دے جس پر چاہے تنگی کر دے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ کسی حالت میں وہ کسی پر ظلم کرنے والا نہیں اس کا وسیع علم ساری مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُنْكِرًا عَلَى الْمُشْرِكِينَ فِي اتِّخَاذِهِمْ آلِهَةً مِنْ دُونِ اللَّهِ، وَمُخْبِرًا أَنَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ الْحَقُّ الَّذِي لَا تَنْبَغِي الْعِبَادَةُ إِلَّا لَهُ وَحْدَهُ، فَإِنَّهُ الْقَادِرُ عَلَى إِحْيَاءِ الْمَوْتَى وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ﴾ أَيْ: مَهْمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنَ الْأُمُورِ وَهَذَا عَامٌّ فِي جَمِيعِ الْأَشْيَاءِ، ﴿فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ﴾ أَيْ: هُوَ الْحَاكِمُ فِيهِ بِكِتَابِهِ، وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ ﷺ، كَقَوْلِهِ: ﴿فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [النِّسَاءِ:٥٩] . .
﴿ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي﴾ أَيِ: الْحَاكِمُ فِي كُلِّ شَيْءٍ، ﴿عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ﴾ أَيْ: أَرْجِعُ فِي جَمِيعِ الأمور.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَاطِرِ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ﴾ أَيْ: خَالِقُهُمَا وَمَا بَيْنَهُمَا، ﴿جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا﴾ أَيْ: مِنْ جِنْسِكُمْ وَشَكْلِكُمْ، مِنَّةً عَلَيْكُمْ وَتَفَضُّلًا جَعَلَ مِنْ جِنْسِكُمْ ذَكَرًا وَأُنْثَى، ﴿وَمِنَ الأنْعَامِ أَزْوَاجًا﴾ أَيْ: وَخَلَقَ لَكُمْ مِنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ﴾ أَيْ: يَخْلُقُكُمْ فِيهِ، أَيْ: فِي ذَلِكَ الْخَلْقِ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ لَا يَزَالُ يَذْرَؤُكُمْ [[في أ: "نوعكم".]] فِيهِ ذُكُورًا وَإِنَاثًا، خَلْقًا مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ، وَجِيلًا بَعْدَ جِيلٍ، وَنَسْلًا بَعْدَ نَسْلٍ، مِنَ النَّاسِ وَالْأَنْعَامِ.
وَقَالَ الْبَغَوِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: ﴿يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ﴾ أَيْ: فِي الرَّحِمِ. وَقِيلَ: فِي الْبَطْنِ. وَقِيلَ: فِي هَذَا الْوَجْهِ مِنَ الْخِلْقَةِ.
قَالَ مُجَاهِدٌ: وَنَسْلًا بَعْدَ نَسْلٍ مِنَ النَّاسِ وَالْأَنْعَامِ.
وَقِيلَ: "فِي" بِمَعْنَى "الْبَاءِ"، أَيْ: يَذْرَؤُكُمْ بِهِ.
﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ أَيْ: لَيْسَ كَخَالِقِ الْأَزْوَاجِ كُلِّهَا شَيْءٌ؛ لِأَنَّهُ الْفَرْدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَا نَظِيرَ لَهُ، ﴿وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ﴾ تَقَدَّمَ تَفْسِيرُهُ فِي "سُورَةِ الزُّمَرِ"، وَحَاصِلُ ذَلِكَ أَنَّهُ الْمُتَصَرِّفُ الْحَاكِمُ فِيهِمَا، ﴿يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ﴾ أَيْ: يُوَسِّعُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ، وَيُضَيِّقُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ، وَلَهُ الْحِكْمَةُ وَالْعَدْلُ التَّامُّ، ﴿إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾
۞ شَرَعَ لَكُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِۦ نُوحًۭا وَٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِۦٓ إِبْرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰٓ ۖ أَنْ أَقِيمُوا۟ ٱلدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا۟ فِيهِ ۚ كَبُرَ عَلَى ٱلْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ۚ ٱللَّهُ يَجْتَبِىٓ إِلَيْهِ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِىٓ إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ
He has ordained for you of religion what He enjoined upon Noah and that which We have revealed to you, [O Muhammad], and what We enjoined upon Abraham and Moses and Jesus - to establish the religion and not be divided therein. Difficult for those who associate others with Allah is that to which you invite them. Allah chooses for Himself whom He wills and guides to Himself whoever turns back [to Him].
اسی نے تمہارے لئے دین کا وہی رستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے کا) نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمدﷺ) ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا (وہ یہ) کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔ جس چیز کی طرف تم مشرکوں کو بلاتے ہو وہ ان کو دشوار گزرتی ہے۔ الله جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کا برگزیدہ کرلیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف رستہ دکھا دیتا ہے
آیینی را برای شما تشریع کرد که به نوح توصیه کرده بود؛ و آنچه را بر تو وحی فرستادیم و به ابراهیم و موسی و عیسی سفارش کردیم این بود که: دین را برپا دارید و در آن تفرقه ایجاد نکنید! و بر مشرکان گران است آنچه شما آنان را به سویش دعوت می کنید! خداوند هر کس را بخواهد برمیگزیند، و کسی را که به سوی او بازگردد هدایت میکند.
Tafsir Ibn Kathir
He (Allah) has ordained for you the same religion which He ordained for Nuh, and that which We have revealed to you, and that which We ordained for Ibrahim, Musa and 'Isa saying you should establish religion and make no divisions in it. Intolerable for the idolators is that to which you call them. Allah chooses for Himself whom He wills, and guides unto Himself who turns to Him in repentance (13)And they divided not till after knowledge had come to them, through transgression between themselves. And had it not been for a Word that went forth before from your Lord for an appointed term, the matter would have been settled between them. And verily, those who were made to inherit the Scripture after them, are in grave doubt concerning it (14)
The Religion of the Messengers is One
Allah says to this Ummah:
شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ
(He (Allah) has ordained for you the same religion which He ordained for Nuh, and that which We have revealed to you,)
Allah mentions the first Messenger who was sent after Adam, that is, Nuh, peace be upon them, and the last of them is Muhammad ﷺ. Then He mentions those who came in between them who were the Messengers of strong will, namely Ibrahim, Musa and 'Isa bin Maryam. This Ayah mentions all five, just as they are also mentioned in the Ayah in Surat Al-Ahzab, where Allah says:
وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۖ
(And (remember) when We took from the Prophets their covenant, and from you, and from Nuh, Ibrahim, Musa, and 'Isa son of Maryam.)(33:7). The Message which all the Messengers brought was to worship Allah Alone, with no partner or associate, as Allah says:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ
(And We did not send any Messenger before you but We revealed to him (saying): None has the right to be worshipped but I, so worship Me.)(21:25). And according to a Hadith (the Prophet ﷺ said):
نَحْنُ مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ، دِينُنَا وَاحِدٌ
(We Prophets are brothers and our religion is one.) In other words, the common bond between them is that Allah Alone is to be worshipped, with no partner or associate, even though their laws and ways may differ, as Allah says.
لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا ۚ
(To each among you, We have prescribed a law and a clear way)(5:48). Allah says here:
أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ۚ
(saying you should establish religion and make no divisions in it.) meaning, Allah enjoined all the Prophets (peace and blessings of Allah be upon them all) to be as one and He forbade them to differ and be divided.
كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ۚ
(Intolerable for the idolators is that to which you call them.) means, 'it is too much for them to bear, and they hate that to which you call them, O Muhammad, i.e., Tawhid.'
اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ
(Allah chooses for Himself whom He wills, and guides unto Himself who turns to Him in repentance.) means, He is the One Who decrees guidance for those who deserve it, and decrees misguidance for those who prefer it to the right path. Allah says here;
وَمَا تَفَرَّقُوا إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ
(And they divided not till after knowledge had come to them,) means, their opposition to the truth arose after it had come to them and proof had been established against them. Nothing made them resist in this manner except their transgression and stubbornness.
وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى
(And had it not been for a Word that went forth before from your Lord for an appointed term,) means, were it not for the fact that Allah had already decreed that He would delay the reckoning of His servants until the Day of Resurrection, the punishment would have been hastened for them in this world.
وَإِنَّ الَّذِينَ أُورِثُوا الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِهِمْ
(And verily, those who were made to inherit the Scripture after them,) means, the later generation which came after the earlier generation which had rejected the truth.
لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ
(are in grave doubt concerning it.) means, they do not have any firm conviction in matters of religion; they merely imitate their forefathers, without any evidence or proof. So they are very confused and doubtful.
Tafsir Ibn Kathir
امت محمدیہ پر شریعت الٰہی کا انعام اللہ تعالیٰ نے جو انعام اس امت پر کیا ہے اس کا ذکر یہاں فرماتا ہے کہ تمہارے لئے جو شرع مقرر کی ہے وہ ہے جو حضرت آدم کے بعد دنیا کے سب سے پہلے پیغمبر اور دنیا کے سب سے آخری پیغمبر اور ان کے درمیان کے اولو العزم پیغمبروں کی تھی۔ پس یہاں جن پانچ پیغمبروں کا ذکر ہوا ہے انہی پانچ کا ذکر سورة احزاب میں بھی کیا گیا ہے فرمایا آیت (وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۠ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا ۙ) 33۔ الأحزاب :7) ، وہ دین جو تمام انبیاء کا مشترک طور پر ہے وہ اللہ واحد کی عبادت ہے جیسے اللہ جل و علا کا فرمان ہے آیت (وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون) یعنی تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ان سب کی طرف ہم نے یہی وحی کی ہے کہ معبود میرے سوا کوئی نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرتے رہو حدیث میں ہے ہم انبیاء کی جماعت آپس میں علاتی بھائیوں کی طرح ہیں ہم سب کا دین ایک ہی ہے جیسے علاتی بھائیوں کا باپ ایک ہوتا ہے الغرض احکام شرع میں گو جزوی اختلاف ہو۔ لیکن اصولی طور پر دین ایک ہی ہے اور وہ توحید باری تعالیٰ عزاسمہ ہے، فرمان اللہ ہے آیت (لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا 48ۙ) 5۔ المآئدہ :48) تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے شریعت و راہ بنادی ہے۔ یہاں اس وحی کی تفصیل یوں بیان ہو رہی ہے کہ دین کو قائم رکھو جماعت بندی کے ساتھ اتفاق سے رہو اختلاف اور پھوٹ نہ کرو پھر فرماتا ہے کہ یہی توحید کی صدائیں ان مشرکوں کو ناگوار گذرتی ہیں۔ حق یہ ہے کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے جو مستحق ہدایت ہوتا ہے وہ رب کی طرف رجوع کرتا ہے اور اللہ اس کا ہاتھ تھام کر ہدایت کے راستے لا کھڑا کرتا ہے اور جو از خود برے راستے کو اختیار کرلیتا ہے اور صاف راہ چھوڑ دیتا ہے اللہ بھی اس کے ماتھے پر ضلالت لکھ دیتا ہے جب ان کے پاس حق آگیا حجت ان پر قائم ہوچکی۔ اس وقت وہ آپس میں ضد اور بحث کی بنا پر مختلف ہوگئے۔ اگر قیامت کا دن حساب کتاب اور جزا سزا کے لئے مقرر شدہ نہ ہوتا تو ان کے ہر بد عمل کی سزا انہیں یہیں مل جایا کرتی۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ گزشتہ جو پہلوں سے کتابیں پائے ہوئے ہیں۔ یہ صرف تقلیدی طور پر مانتے ہیں اور ظاہر ہے کہ مقلد کا ایمان شک شبہ سے خالی نہیں ہوتا۔ انہیں خود یقین نہیں دلیل و حجت کی بناء پر ایمان نہیں، بلکہ یہ اپنے پیشروؤں کے جو حق کے جھٹلانے والے تھے مقلد ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى لِهَذِهِ الْأُمَّةِ: ﴿شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ﴾ ، فَذَكَرَ أَوَّلَ الرُّسُلِ بَعْدَ آدَمَ وَهُوَ نُوحٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ وَآخِرَهُمْ وَهُوَ مُحَمَّدٌ ﷺ، ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ بَيْنِ ذَلِكَ مِنْ أُولِي الْعَزْمِ وَهُمْ: إِبْرَاهِيمُ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ. وَهَذِهِ الْآيَةُ انْتَظَمَتْ ذِكْرَ الْخَمْسَةِ كَمَا اشْتَمَلَتْ آيَةُ "الْأَحْزَابِ" عَلَيْهِمْ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ﴾ الْآيَةَ [الْأَحْزَابِ:٧] . وَالدِّينُ الَّذِي جَاءَتْ بِهِ الرُّسُلُ كُلُّهُمْ هُوَ: عِبَادَةُ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، كَمَا قَالَ: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾ [الأنبياء:٢٥] . وفي الْحَدِيثِ: "نَحْنُ مَعْشَرَ [[في ت، م: "معاشر".]] الْأَنْبِيَاءِ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ دِينُنَا وَاحِدٌ" أَيِ: الْقَدْرُ الْمُشْتَرَكُ بَيْنَهُمْ هُوَ عِبَادَةُ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَإِنْ اخْتَلَفَتْ شَرَائِعُهُمْ وَمَنَاهِجُهُمْ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا﴾ [الْمَائِدَةِ:٤٨] ؛ وَلِهَذَا قَالَ هَاهُنَا: ﴿أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ﴾ أَيْ: وَصَّى اللَّهُ [سُبْحَانَهُ وَ] [[زيادة من ت، م، أ.]] تَعَالَى جَمِيعَ الْأَنْبِيَاءِ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، بِالِائْتِلَافِ وَالْجَمَاعَةِ، وَنَهَاهُمْ عَنِ الِافْتِرَاقِ وَالِاخْتِلَافِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ﴾ أَيْ: شَقَّ عَلَيْهِمْ وَأَنْكَرُوا مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ يَا مُحَمَّدُ مِنَ التَّوْحِيدِ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ﴾ أَيْ: هُوَ الَّذِي يُقدّر الْهِدَايَةَ لِمَنْ يَسْتَحِقُّهَا، وَيَكْتُبُ الضَّلَالَةَ عَلَى مَنْ آثَرَهَا عَلَى طَرِيقِ الرُّشْدِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَمَا تَفَرَّقُوا إِلا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ﴾ أَيْ: إِنَّمَا كَانَ مُخَالَفَتُهُمْ لِلْحَقِّ بَعْدَ بُلُوغِهِ إِلَيْهِمْ، وَقِيَامِ الْحُجَّةِ عَلَيْهِمْ، وَمَا حَمَلَهُمْ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا البغيُ والعنادُ وَالْمُشَاقَّةُ.
ثُمَّ قَالَ [اللَّهُ] [[زيادة من م.]] تَعَالَى: ﴿وَلَوْلا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى﴾ أَيْ: لَوْلَا الْكَلِمَةُ السَّابِقَةُ مِنَ اللَّهِ بِإِنْظَارِ الْعِبَادِ بِإِقَامَةِ حِسَابِهِمْ إِلَى يَوْمِ الْمَعَادِ، لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا سَرِيعًا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنَّ الَّذِينَ أُورِثُوا الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِهِمْ﴾ يَعْنِي: الْجِيلَ الْمُتَأَخِّرَ بَعْدَ الْقَرْنِ الْأَوَّلِ الْمُكَذِّبِ لِلْحَقِّ ﴿لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ﴾ أَيْ: لَيْسُوا عَلَى يَقِينٍ مِنْ أَمْرِهِمْ، وَإِنَّمَا هُمْ مُقَلِّدُونَ لِآبَائِهِمْ وَأَسْلَافِهِمْ، بِلَا دَلِيلٍ وَلَا بُرهان، وَهُمْ فِي حَيْرَةٍ مِنْ أَمْرِهِمْ، وَشَكٍّ مُرِيبٍ، وَشِقَاقٍ بَعِيدٍ.
وَمَا تَفَرَّقُوٓا۟ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌۭ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى لَّقُضِىَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُورِثُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ مِنۢ بَعْدِهِمْ لَفِى شَكٍّۢ مِّنْهُ مُرِيبٍۢ
And they did not become divided until after knowledge had come to them - out of jealous animosity between themselves. And if not for a word that preceded from your Lord [postponing the penalty] until a specified time, it would have been concluded between them. And indeed, those who were granted inheritance of the Scripture after them are, concerning it, in disquieting doubt.
اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) ۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ اس (کی طرف) سے شبہے کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں
آنان پراکنده نشدند مگر بعد از آنکه علم و آگاهی به سراغشان آمد؛ و این تفرقه جویی بخاطر انحراف از حق (و عداوت و حسد) بود؛ و اگر فرمانی از سوی پروردگارت صادر نشده بود که تا سرآمد معیّنی (زنده و آزاد) باشند، در میان آنها داوری میشد؛ و کسانی که بعد از آنها وارثان کتاب شدند نسبت به آن در شک و تردیدند، شکی همراه با بدبینی!
Tafsir Ibn Kathir
He (Allah) has ordained for you the same religion which He ordained for Nuh, and that which We have revealed to you, and that which We ordained for Ibrahim, Musa and 'Isa saying you should establish religion and make no divisions in it. Intolerable for the idolators is that to which you call them. Allah chooses for Himself whom He wills, and guides unto Himself who turns to Him in repentance (13)And they divided not till after knowledge had come to them, through transgression between themselves. And had it not been for a Word that went forth before from your Lord for an appointed term, the matter would have been settled between them. And verily, those who were made to inherit the Scripture after them, are in grave doubt concerning it (14)
The Religion of the Messengers is One
Allah says to this Ummah:
شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ
(He (Allah) has ordained for you the same religion which He ordained for Nuh, and that which We have revealed to you,)
Allah mentions the first Messenger who was sent after Adam, that is, Nuh, peace be upon them, and the last of them is Muhammad ﷺ. Then He mentions those who came in between them who were the Messengers of strong will, namely Ibrahim, Musa and 'Isa bin Maryam. This Ayah mentions all five, just as they are also mentioned in the Ayah in Surat Al-Ahzab, where Allah says:
وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۖ
(And (remember) when We took from the Prophets their covenant, and from you, and from Nuh, Ibrahim, Musa, and 'Isa son of Maryam.)(33:7). The Message which all the Messengers brought was to worship Allah Alone, with no partner or associate, as Allah says:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ
(And We did not send any Messenger before you but We revealed to him (saying): None has the right to be worshipped but I, so worship Me.)(21:25). And according to a Hadith (the Prophet ﷺ said):
نَحْنُ مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ، دِينُنَا وَاحِدٌ
(We Prophets are brothers and our religion is one.) In other words, the common bond between them is that Allah Alone is to be worshipped, with no partner or associate, even though their laws and ways may differ, as Allah says.
لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا ۚ
(To each among you, We have prescribed a law and a clear way)(5:48). Allah says here:
أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ۚ
(saying you should establish religion and make no divisions in it.) meaning, Allah enjoined all the Prophets (peace and blessings of Allah be upon them all) to be as one and He forbade them to differ and be divided.
كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ۚ
(Intolerable for the idolators is that to which you call them.) means, 'it is too much for them to bear, and they hate that to which you call them, O Muhammad, i.e., Tawhid.'
اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ
(Allah chooses for Himself whom He wills, and guides unto Himself who turns to Him in repentance.) means, He is the One Who decrees guidance for those who deserve it, and decrees misguidance for those who prefer it to the right path. Allah says here;
وَمَا تَفَرَّقُوا إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ
(And they divided not till after knowledge had come to them,) means, their opposition to the truth arose after it had come to them and proof had been established against them. Nothing made them resist in this manner except their transgression and stubbornness.
وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى
(And had it not been for a Word that went forth before from your Lord for an appointed term,) means, were it not for the fact that Allah had already decreed that He would delay the reckoning of His servants until the Day of Resurrection, the punishment would have been hastened for them in this world.
وَإِنَّ الَّذِينَ أُورِثُوا الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِهِمْ
(And verily, those who were made to inherit the Scripture after them,) means, the later generation which came after the earlier generation which had rejected the truth.
لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ
(are in grave doubt concerning it.) means, they do not have any firm conviction in matters of religion; they merely imitate their forefathers, without any evidence or proof. So they are very confused and doubtful.
Tafsir Ibn Kathir
امت محمدیہ پر شریعت الٰہی کا انعام اللہ تعالیٰ نے جو انعام اس امت پر کیا ہے اس کا ذکر یہاں فرماتا ہے کہ تمہارے لئے جو شرع مقرر کی ہے وہ ہے جو حضرت آدم کے بعد دنیا کے سب سے پہلے پیغمبر اور دنیا کے سب سے آخری پیغمبر اور ان کے درمیان کے اولو العزم پیغمبروں کی تھی۔ پس یہاں جن پانچ پیغمبروں کا ذکر ہوا ہے انہی پانچ کا ذکر سورة احزاب میں بھی کیا گیا ہے فرمایا آیت (وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۠ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا ۙ) 33۔ الأحزاب :7) ، وہ دین جو تمام انبیاء کا مشترک طور پر ہے وہ اللہ واحد کی عبادت ہے جیسے اللہ جل و علا کا فرمان ہے آیت (وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون) یعنی تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ان سب کی طرف ہم نے یہی وحی کی ہے کہ معبود میرے سوا کوئی نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرتے رہو حدیث میں ہے ہم انبیاء کی جماعت آپس میں علاتی بھائیوں کی طرح ہیں ہم سب کا دین ایک ہی ہے جیسے علاتی بھائیوں کا باپ ایک ہوتا ہے الغرض احکام شرع میں گو جزوی اختلاف ہو۔ لیکن اصولی طور پر دین ایک ہی ہے اور وہ توحید باری تعالیٰ عزاسمہ ہے، فرمان اللہ ہے آیت (لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا 48ۙ) 5۔ المآئدہ :48) تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے شریعت و راہ بنادی ہے۔ یہاں اس وحی کی تفصیل یوں بیان ہو رہی ہے کہ دین کو قائم رکھو جماعت بندی کے ساتھ اتفاق سے رہو اختلاف اور پھوٹ نہ کرو پھر فرماتا ہے کہ یہی توحید کی صدائیں ان مشرکوں کو ناگوار گذرتی ہیں۔ حق یہ ہے کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے جو مستحق ہدایت ہوتا ہے وہ رب کی طرف رجوع کرتا ہے اور اللہ اس کا ہاتھ تھام کر ہدایت کے راستے لا کھڑا کرتا ہے اور جو از خود برے راستے کو اختیار کرلیتا ہے اور صاف راہ چھوڑ دیتا ہے اللہ بھی اس کے ماتھے پر ضلالت لکھ دیتا ہے جب ان کے پاس حق آگیا حجت ان پر قائم ہوچکی۔ اس وقت وہ آپس میں ضد اور بحث کی بنا پر مختلف ہوگئے۔ اگر قیامت کا دن حساب کتاب اور جزا سزا کے لئے مقرر شدہ نہ ہوتا تو ان کے ہر بد عمل کی سزا انہیں یہیں مل جایا کرتی۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ گزشتہ جو پہلوں سے کتابیں پائے ہوئے ہیں۔ یہ صرف تقلیدی طور پر مانتے ہیں اور ظاہر ہے کہ مقلد کا ایمان شک شبہ سے خالی نہیں ہوتا۔ انہیں خود یقین نہیں دلیل و حجت کی بناء پر ایمان نہیں، بلکہ یہ اپنے پیشروؤں کے جو حق کے جھٹلانے والے تھے مقلد ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى لِهَذِهِ الْأُمَّةِ: ﴿شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ﴾ ، فَذَكَرَ أَوَّلَ الرُّسُلِ بَعْدَ آدَمَ وَهُوَ نُوحٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ وَآخِرَهُمْ وَهُوَ مُحَمَّدٌ ﷺ، ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ بَيْنِ ذَلِكَ مِنْ أُولِي الْعَزْمِ وَهُمْ: إِبْرَاهِيمُ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ. وَهَذِهِ الْآيَةُ انْتَظَمَتْ ذِكْرَ الْخَمْسَةِ كَمَا اشْتَمَلَتْ آيَةُ "الْأَحْزَابِ" عَلَيْهِمْ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ﴾ الْآيَةَ [الْأَحْزَابِ:٧] . وَالدِّينُ الَّذِي جَاءَتْ بِهِ الرُّسُلُ كُلُّهُمْ هُوَ: عِبَادَةُ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، كَمَا قَالَ: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾ [الأنبياء:٢٥] . وفي الْحَدِيثِ: "نَحْنُ مَعْشَرَ [[في ت، م: "معاشر".]] الْأَنْبِيَاءِ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ دِينُنَا وَاحِدٌ" أَيِ: الْقَدْرُ الْمُشْتَرَكُ بَيْنَهُمْ هُوَ عِبَادَةُ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَإِنْ اخْتَلَفَتْ شَرَائِعُهُمْ وَمَنَاهِجُهُمْ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا﴾ [الْمَائِدَةِ:٤٨] ؛ وَلِهَذَا قَالَ هَاهُنَا: ﴿أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ﴾ أَيْ: وَصَّى اللَّهُ [سُبْحَانَهُ وَ] [[زيادة من ت، م، أ.]] تَعَالَى جَمِيعَ الْأَنْبِيَاءِ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، بِالِائْتِلَافِ وَالْجَمَاعَةِ، وَنَهَاهُمْ عَنِ الِافْتِرَاقِ وَالِاخْتِلَافِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ﴾ أَيْ: شَقَّ عَلَيْهِمْ وَأَنْكَرُوا مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ يَا مُحَمَّدُ مِنَ التَّوْحِيدِ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ﴾ أَيْ: هُوَ الَّذِي يُقدّر الْهِدَايَةَ لِمَنْ يَسْتَحِقُّهَا، وَيَكْتُبُ الضَّلَالَةَ عَلَى مَنْ آثَرَهَا عَلَى طَرِيقِ الرُّشْدِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَمَا تَفَرَّقُوا إِلا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ﴾ أَيْ: إِنَّمَا كَانَ مُخَالَفَتُهُمْ لِلْحَقِّ بَعْدَ بُلُوغِهِ إِلَيْهِمْ، وَقِيَامِ الْحُجَّةِ عَلَيْهِمْ، وَمَا حَمَلَهُمْ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا البغيُ والعنادُ وَالْمُشَاقَّةُ.
ثُمَّ قَالَ [اللَّهُ] [[زيادة من م.]] تَعَالَى: ﴿وَلَوْلا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى﴾ أَيْ: لَوْلَا الْكَلِمَةُ السَّابِقَةُ مِنَ اللَّهِ بِإِنْظَارِ الْعِبَادِ بِإِقَامَةِ حِسَابِهِمْ إِلَى يَوْمِ الْمَعَادِ، لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا سَرِيعًا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنَّ الَّذِينَ أُورِثُوا الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِهِمْ﴾ يَعْنِي: الْجِيلَ الْمُتَأَخِّرَ بَعْدَ الْقَرْنِ الْأَوَّلِ الْمُكَذِّبِ لِلْحَقِّ ﴿لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ﴾ أَيْ: لَيْسُوا عَلَى يَقِينٍ مِنْ أَمْرِهِمْ، وَإِنَّمَا هُمْ مُقَلِّدُونَ لِآبَائِهِمْ وَأَسْلَافِهِمْ، بِلَا دَلِيلٍ وَلَا بُرهان، وَهُمْ فِي حَيْرَةٍ مِنْ أَمْرِهِمْ، وَشَكٍّ مُرِيبٍ، وَشِقَاقٍ بَعِيدٍ.
فَلِذَٰلِكَ فَٱدْعُ ۖ وَٱسْتَقِمْ كَمَآ أُمِرْتَ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَهُمْ ۖ وَقُلْ ءَامَنتُ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِن كِتَٰبٍۢ ۖ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ ۖ ٱللَّهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ۖ لَنَآ أَعْمَٰلُنَا وَلَكُمْ أَعْمَٰلُكُمْ ۖ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ ۖ ٱللَّهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا ۖ وَإِلَيْهِ ٱلْمَصِيرُ
So to that [religion of Allah] invite, [O Muhammad], and remain on a right course as you are commanded and do not follow their inclinations but say, "I have believed in what Allah has revealed of the Qur'an, and I have been commanded to do justice among you. Allah is our Lord and your Lord. For us are our deeds, and for you your deeds. There is no [need for] argument between us and you. Allah will bring us together, and to Him is the [final] destination."
تو (اے محمدﷺ) اسی (دین کی) طرف (لوگوں کو) بلاتے رہنا اور جیسا تم کو حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہنا۔ اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ اور کہہ دو کہ جو کتاب خدا نے نازل فرمائی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تم میں انصاف کروں۔ خدا ہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے۔ ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا۔ ہم میں اور تم میں کچھ بحث وتکرار نہیں۔ خدا ہم (سب) کو اکھٹا کرے گا۔ اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
پس به همین خاطر تو نیز آنان را به سوی این آیین واحد الهی دعوت کن و آنچنان که مأمور شدهای استقامت نما، و از هوی و هوسهای آنان پیروی مکن، و بگو: «به هر کتابی که خدا نازل کرده ایمان آوردهام و مأمورم در میان شما عدالت کنم؛ خداوند پروردگار ما و شماست؛ نتیجه اعمال ما از آن ما است و نتیجه اعمال شما از آن شما، خصومت شخصی در میان ما نیست؛ و خداوند ما و شما را در یکجا جمع میکند، و بازگشت (همه) به سوی اوست!»
Tafsir Ibn Kathir
So unto this then invite (people), and stand firm as you are commanded, and follow not their desires but say: "I believe in whatsoever Allah has sent down of the Book and I am commanded to do justice among you. Allah is our Lord and your Lord. For us our deeds and for you your deeds. There is no dispute between us and you. Allah will assemble us (all), and to Him is the final return. (15)
This Ayah includes ten separate and independent ideas, each of which is a ruling on its own. They (the scholars) said that there is nothing else like it in the Qur'an, apart from Ayat Al-Kursi [2:255], which also includes ten ideas.
فَلِذَٰلِكَ فَادْعُ ۖ
(So unto this then invite (people),) means, 'so call people to this which We have revealed to you and which We enjoined upon all the Prophets before you,' the Prophets of major ways [of Shari'ah] that were followed, such as the Messengers of strong will, and others.
وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ ۖ
(and stand firm as you are commanded,) means, 'adhere firmly, you and those who follow you, to the worship of Allah as He has commanded you.'
وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ ۖ
(and follow not their desires) means, the desires of the idolators, in the falsehoods that they have invented and fabricated by worshipping idols.
وَقُلْ آمَنْتُ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ كِتَابٍ ۖ
(but say: "I believe in whatsoever Allah has sent down of the Book...") means, 'I believe in all the Books that have been revealed from heaven to the Prophets; we do not differentiate between any of them.'
وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ ۖ
(and I am commanded to do justice among you.) means, when judging according to the commands of Allah.
اللَّهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ۖ
(Allah is our Lord and your Lord.) means, 'He is the One Who is to be worshipped, and there is no true God but He. We affirm this willingly, and even though you do not do so willingly, everyone in the universe prostrates to Him obediently and willingly.'
لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ ۖ
(For us our deeds and for you your deeds.) means, 'we have nothing to do with you. ' This is like the Ayah:
وَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنْتُمْ بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ
(And if they demy you, say: "For me are my deeds and for you are your deeds! You are innocent of what I do, and I am innocent of what you do!")(10:41)
لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ ۖ
(There is no dispute between us and you.) Mujahid said, "This means, no argument." As-Suddi said, "This was before Ayah of the sword was revealed." This fits the context, because this Ayah was revealed in Makkah, and Ayah of the sword [22:39-40] was revealed after the Hijrah.
اللَّهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا ۖ
(Allah will assemble us (all),) means, on the Day of Resurrection. This is like the Ayah:
قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ
(Say: "Our Lord will assemble us all together, then He will judge between us with truth. And He is the Just Judge, the All-Knower of the true state of affairs.")(34:26).
وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ
(and to Him is the final return.) means, the final return on the Day of Reckoning.
Tafsir Ibn Kathir
تمام انبیاء کی شریعت یکساں ہے۔اس آیت میں ایک لطیفہ ہے جو قرآن کریم کی صرف ایک اور آیت میں پایا جاتا ہے باقی کسی اور آیت میں نہیں وہ یہ کہ اس میں دس کلمے ہیں جو سب مستقل ہیں الگ الگ ایک ایک کلمہ اپنی ذات میں ایک مستقل حکم ہے یہی بات دوسری آیت یعنی آیت الکرسی میں بھی ہے پس پہلا حکم تو یہ ہوتا ہے کہ جو وحی تجھ پر نازل کی گئی ہے اور وہی وحی تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء پر آتی رہی ہے اور جو شرع تیرے لئے مقرر کی گئی ہے اور وہی تجھ سے پہلے تمام انبیاء کرام کے لئے بھی مقرر کی گئی تھی تو تمام لوگوں کو اس کی دعوت دے ہر ایک کو اسی کی طرف بلا اور اسی کے منوانے اور پھیلانے کی کوشش میں لگا رہ اور اللہ تعالیٰ کی عبادت و وحدانیت پر تو آپ استقامت کر اور اپنے ماننے والوں سے استقامت کر مشرکین نے جو کچھ اختلاف کر رکھے ہیں جو تکذیب و افتراء ان کا شیوہ ہے جو عبادت غیر اللہ ان کی عادت ہے خبردار تو ہرگز ہرگز ان کی خواہش اور ان کی چاہتوں میں نہ آجانا۔ ان کی ایک بھی نہ ماننا اور علی الاعلان اپنے اس عقیدے کی تبلیغ کر کہ اللہ کی نازل کردہ تمام کتابوں پر میرا ایمان ہے میرا یہ کام نہیں کہ ایک کو مانوں اور دوسری سے انکار کروں، ایک کو لے لوں اور دوسری کو چھوڑ دوں۔ میں تم میں بھی وہی احکام جاری کرنا چاہتا ہوں جو اللہ کی طرف سے میرے پاس پہنچائے گئے ہیں اور جو سراسر عدل اور یکسر انصاف پر مبنی ہیں۔ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ہمارا تمہارا معبود برحق وہی ہے اور وہی سب کا پالنہار ہے گو کوئی اپنی خوشی سے اس کے سامنے نہ جھکے لیکن دراصل ہر شخص بلکہ ہر چیز اس کے آگے جھکی ہوئی ہے اور سجدے میں پڑی ہوئی ہے ہمارے عمل ہمارے ساتھ۔ تمہاری کرنی تمہیں بھرنی۔ ہم تم میں کوئی تعلق نہیں جیسے اور آیت میں ہے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لئے میرے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں۔ تم میرے اعمال سے بری اور میں تمہارے اعمال سے بیزار۔ ہم تم میں کوئی خصومت اور جھگڑا نہیں۔ کسی بحث مباحثے کی ضرورت نہیں۔ حضرت سدی ؒ فرماتے ہیں یہ حکم تو مکہ میں تھا لیکن مدینے میں جہاد کے احکام اترے۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور جہاد کی آیتیں ہجرت کے بعد کی ہیں قیامت کے دن اللہ ہم سب کو جمع کرے گا جیسے اور آیت میں ہے (قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بالْحَقِّ ۭ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ 26) 34۔ سبأ :26) ، یعنی تو کہہ دے کہ ہمیں ہمارا رب جمع کرے گا پھر ہم میں حق کے ساتھ فیصلے کرے گا اور وہی فیصلے کرنے والا اور علم والا ہے پھر فرماتا ہے لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
اشْتَمَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الْكَرِيمَةُ عَلَى عَشْرِ كَلِمَاتٍ مُسْتَقِلَّاتٍ، كُلٌّ مِنْهَا مُنْفَصِلَةٌ عَنِ الَّتِي قَبْلَهَا، [لَهَا] [[زيادة من ت، أ.]] حُكْمٌ بِرَأْسِهِ-قَالُوا: وَلَا نَظِيرَ لَهَا سِوَى آيَةِ الْكُرْسِيِّ، فَإِنَّهَا أَيْضًا عَشَرَةُ [[في ت: "عشر".]] فُصُولٍ كَهَذِهِ.
قَوْلُهُ [[في ت: "فقوله".]] ﴿فَلِذَلِكَ فَادْعُ﴾ أَيْ: فَلِلَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ مِنَ الدِّينِ الَّذِي وَصَّيْنَا بِهِ جَمِيعَ الْمُرْسَلِينَ قَبْلَكَ أَصْحَابَ الشَّرَائِعِ الْكِبَارِ الْمُتَّبَعَةِ كَأُولِي الْعَزْمِ وَغَيْرِهِمْ، فادعُ النَّاسَ إِلَيْهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ﴾ أَيْ: وَاسْتَقِمْ أَنْتَ وَمَنِ اتَّبَعَكَ عَلَى عِبَادَةِ اللَّهِ، كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ﴾ يَعْنِي: الْمُشْرِكِينَ فِيمَا اخْتَلَقُوهُ، وَكَذَّبُوهُ وَافْتَرَوْهُ مِنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَقُلْ آمَنْتُ بِمَا أَنزلَ اللَّهُ مِنْ كِتَابٍ﴾ أَيْ: صَدَّقْتُ بِجَمِيعِ الْكُتُبِ الْمُنْزَلَةِ مِنَ السَّمَاءِ على الْأَنْبِيَاءِ لَا نُفَرِّقُ [[في ت: "لا يفرق".]] بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأُمِرْتُ لأعْدِلَ بَيْنَكُمُ﴾ أَيْ: فِي الْحُكْمِ كَمَا أَمَرَنِي اللَّهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿اللَّهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ﴾ أَيْ: هُوَ الْمَعْبُودُ، لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، فَنَحْنُ نُقِرُّ بِذَلِكَ اخْتِيَارًا، وَأَنْتُمْ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوهُ اخْتِيَارًا، فَلَهُ يَسْجُدُ مَنْ فِي الْعَالَمِينَ طَوْعًا وَاخْتِيَارًا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ﴾ أَيْ: نَحْنُ بُرَآءُ مِنْكُمْ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنْتُمْ بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ﴾ [يُونُسَ:٤١] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ: أَيْ لَا خُصُومَةَ. قَالَ السُّدِّيُّ: وَذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِ آيَةِ السَّيْفِ. وَهَذَا مُتَّجَهٌ لِأَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ مَكِّيَّةٌ، وَآيَةَ السَّيْفِ بَعْدَ الْهِجْرَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿اللَّهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا﴾ أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، كَقَوْلِهِ: ﴿قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ﴾ [سَبَأٍ:٢٦] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ﴾ أي: المرجع والمآب يوم الحساب.
وَٱلَّذِينَ يُحَآجُّونَ فِى ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مَا ٱسْتُجِيبَ لَهُۥ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌۭ وَلَهُمْ عَذَابٌۭ شَدِيدٌ
And those who argue concerning Allah after He has been responded to - their argument is invalid with their Lord, and upon them is [His] wrath, and for them is a severe punishment.
اور جو لوگ خدا (کے بارے) میں بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہو جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے۔ اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے
کسانی که (از روی لجاجت) درباره خدا بعد از پذیرفتن (و ایمان به) او، محاجّه می کنند، دلیلشان نزد پروردگارشان باطل و بیپایه است؛ و غضب بر آنهاست و عذابی شدید دارند.
Tafsir Ibn Kathir
And those who dispute concerning Allah, after it has been accepted, of no use is their dispute before their Lord and on them is wrath, and for them will be a severe torment (16)It is Allah Who has sent down the Book in truth, and the Balance. And what can make you know that perhaps the Hour is close at hand (17)Those who believe not therein seek to hasten it, while those who believe are fearful of it, and know that it is the very truth. Verily, those who dispute concerning the Hour are certainly in error far away (18)
A Warning to Those Who dispute concerning Matters of Religion
Here Allah warns those who try to hinder those who believe in Allah, from following His path.
وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا اسْتُجِيبَ لَهُ
(And those who dispute concerning Allah, after it has been accepted,) means, those who dispute with the believers who have responded to Allah and His Messenger, and try to stop them from following the path of guidance.
حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ
(no use is their dispute before their Lord) means, it is futile before Allah.
وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ
(and on them is wrath,) means, from Him.
وَلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ
(and for them will be a severe torment.) means, on the Day of Resurrection. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, and Mujahid said, "They disputed with the believers after they responded to Allah and His Messenger, and tried to prevent them from following the path of guidance, hoping that they would return to Jahiliyyah." Qatadah said, "These were the Jews and Christians who said to them, 'Our religion is better than your religion, our Prophet came before your Prophet, and we are better than you and closer to Allah than you.'" This was nothing but lies. Then Allah says:
اللَّهُ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ
(It is Allah Who has sent down the Book in truth,) referring to all the Books which were revealed from Him to His Prophets.
وَالْمِيزَانَ
(and the Balance.) means, justice and fairness. This was the view of Mujahid and Qatadah. This is like the Ayat:
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ
(Indeed We have sent Our Messengers with clear proofs, and revealed with them the Scripture and the Balance that mankind may keep up justice)(57:25).
وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ - أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ - وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ
(And the heaven He has raised high, and He has set up the Balance. In order that you may not transgress (due) balance. And observe the weight with equity and do not make the balance deficient.)(55:7-9)
وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ
(And what can make you know that perhaps the Hour is close at hand?) This is encouragement (to strive) for its sake, a terrifying warning, and advice to think little of this world.
يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا ۖ
(Those who believe not therein seek to hasten it,) means, they say, 'when will this promise be fulfilled, if you are telling the truth?' But they say this by way of disbelief and stubbornness, thinking that it is unlikely to happen.
وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا
(while those who believe are fearful of it) means, they are afraid of it happening.
وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ
(and know that it is the very truth.) means, that it will undoubtedly come to pass, so they prepare themselves for it and strive for its sake. It was reported through various chains of narration, a number reaching the level of being Mutawatir, in Sahih and Hasan narrations, in the Books of Sunan and Musnad.
According to some versions, a man addressed the Messenger of Allah ﷺ in a loud voice, when he was on one of his journeys, calling out to him, "O Muhammad!" The Messenger of Allah ﷺ replied in a similar manner, "Here I am!" The man said, "When will the Hour come?" The Messenger of Allah ﷺ said,
وَيْحَكَ إِنَّهَا كَائِنَةٌ فَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟
(Woe to you! It will most certainly come. What have you done to prepare for it?) He said, "Love for Allah and His Messenger." He ﷺ said:
أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ
(You will be with those whom you love.) According to another Hadith:
الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ
("A man will be with those whom he loves.) This is Mutawatir beyond a doubt. The point is that he did not answer his question about when the Hour would happen, but he commanded him to prepare for it.
أَلَا إِنَّ الَّذِينَ يُمَارُونَ فِي السَّاعَةِ
(Verily, those who dispute concerning the Hour) means, who dispute whether it will happen and think it is unlikely ever to come,
لَفِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ
(are certainly in error far away.) means, they are clearly ignorant, because the One Who created the heavens and the earth is even more able to give life to the dead, as Allah says:
وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ۚ
(And He it is Who originates the creation, then He will repeat it; and this is easier for Him)(30:27).
Tafsir Ibn Kathir
منکرین قیامت کے لئے وعیدیں اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو ایمان داروں سے فضول حجتیں کیا کرتے ہیں، انہیں راہ ہدایت سے بہکانا چاہتے ہیں اور اللہ کے دین میں اختلاف پیدا کرتے ہیں۔ ان کی حجت باطل ہے ان پر رب غضبناک ہے۔ اور انہیں قیامت کے روز سخت اور ناقابل برداشت مار ماری جائے گی۔ ان کی طمع پوری ہونی یعنی مسلمانوں میں پھر دوبارہ جاہلیت کی خو بو آنا محال ہے ٹھیک اسی طرح یہود و نصارٰی کا بھی یہ جادو نہیں چلنے دے گا۔ ناممکن ہے کہ مسلمان ان کے موجودہ دین کو اپنے سچے اچھے اصل اور بےکھرے دین پر ترجیح دیں۔ اور اس دین کو لیں جس میں جھوٹ ملا ہوا ہے جو محرف و مبدل ہے۔ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور عدل و انصاف اتارا۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ 25ۧ) 57۔ الحدید :25) یعنی ہم نے اپنے رسولوں کو ظاہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا قرآن کے ہمراہ کتاب اور میزان اتارا تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوجائیں۔ ایک اور آیت میں ہے آیت (وَالسَّمَاۗءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ ۙ) 55۔ الرحمن :7) یعنی آسمان کو اسی نے اونچا کیا اور ترازؤں کو اسی نے رکھا تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو۔ اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول کو مت گھٹاؤ۔ پھر فرماتا ہے تو نہیں جان سکتا کہ قیامت بالکل قریب ہے اس میں خوف اور لالچ دونوں ہی ہیں اور اس میں دنیا سے بےرغبت کرنا بھی مقصود ہے۔ پھر فرمایا اس کے منکر تو جلدی مچا رہے ہیں کہ قیامت کیوں نہیں آتی ؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو قیامت قائم کردو کیونکہ ان کے نزدیک قیامت ہونا محال ہے۔ لیکن ان کے برخلاف ایمان دار اس سے کانپ رہے ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ روز جزا کا آنا حتمی اور ضروری ہے۔ یہ اس سے ڈر کر وہ اعمال بجا لا رہے ہیں جو انہیں اس روز کام دیں ایک بالکل صحیح حدیث میں ہے جو تقریبا تواتر کے درجہ کو پہنچی ہوئی ہے کہ ایک شخص نے بلند آواز سے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یارسول اللہ قیامت کب ہوگی ؟ یہ واقعہ سفر کا ہے وہ حضرت ﷺ سے کچھ دور تھے آپ نے فرمایا ہاں ہاں وہ یقینا آنے والی ہے تو بتا کہ تو نے اس کے لئے تیاری کیا کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی محبت آپ نے فرمایا تو ان کے ساتھ ہوگا جن سے تو محبت رکھتا ہے اور حدیث میں حضور ﷺ کا فرمان ہے ہر شخص اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا تھا۔ یہ حدیث یقینا متواتر ہے الغرض حضور ﷺ نے اس سوال کے جواب میں قیامت کے وقت کا تعین نہیں کیا بلکہ سائل کو اس دن کے لئے تیاری کرنے کو فرمایا پس قیامت کے آنے کے وقت علم کا سوائے اللہ کے کسی اور کو نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ قیامت کے آنے میں جو لوگ جھگڑ رہے ہیں اور اس کے منکر ہیں اسے محال جانتے ہیں وہ نرے جاہل ہیں سچی سمجھ صحیح عقل سے دور پڑے ہوئے ہیں سیدھے راستے سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ تعجب ہے کہ زمین و آسمان کا ابتدائی خالق اللہ کو مانیں اور انسان کو مار ڈالنے کے بعد دوبارہ زندہ کردینے پر اسے قادر نہ جانیں جس نے بغیر کسی نمونے کے اور بغیر کسی جز کے ابتدا ً اسے پیدا کردیا تو دوبارہ جب کہ اس کے اجزاء بھی کسی نہ کسی صورت میں کچھ نہ کچھ موجود ہیں اسے پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہے بلکہ عقل سلیم بھی اسے تسلیم کرتی ہے اور اب تو اور بھی آسان ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى -مُتَوَعِّدًا الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِهِ-: ﴿وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا اسْتُجِيبَ لَهُ﴾ أَيْ: يُجَادِلُونَ الْمُؤْمِنِينَ الْمُسْتَجِيبِينَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، لِيَصُدُّوهُمْ عَمَّا سَلَكُوهُ مِنْ طَرِيقِ الْهُدَى، ﴿حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ﴾ أَيْ: بَاطِلَةٌ عِنْدَ اللَّهِ، ﴿وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ﴾ أَيْ: مِنْهُ، ﴿وَلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ﴾ أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ: جَادَلُوا الْمُؤْمِنِينَ بَعْدَ مَا اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، لِيَصُدُّوهُمْ عَنِ الْهُدَى، وَطَمِعُوا أَنْ تَعُودَ الْجَاهِلِيَّةُ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: هُمُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، قَالُوا لَهُمْ: دِينُنَا خَيْرٌ مِنْ دِينِكُمْ، وَنَبِيُّنَا قَبْلَ نَبِيِّكُمْ، وَنَحْنُ خَيْرٌ مِنْكُمْ، وَأَوْلَى بِاللَّهِ مِنْكُمْ. وَقَدْ كَذَبُوا فِي ذَلِكَ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿اللَّهُ الَّذِي أَنزلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ﴾ يَعْنِي: الْكُتُبَ الْمُنَزَّلَةَ مِنْ عِنْدِهِ عَلَى أَنْبِيَائِهِ ﴿وَالْمِيزَانَ﴾ ، وَهُوَ: الْعَدْلُ وَالْإِنْصَافُ، قَالَهُ مُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ. وَهَذِهِ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ﴾ [الْحَدِيدِ:٢٥] وَقَوْلُهُ: ﴿وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ. أَلا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ. وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ﴾ [الرَّحْمَنِ:٧-٩] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ﴾ فِيهِ تَرْغِيبٌ فِيهَا، وَتَرْهِيبٌ مِنْهَا، وَتَزْهِيدٌ فِي الدُّنْيَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا﴾ أَيْ: يَقُولُونَ: ﴿مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾ [سَبَأٍ:٢٩] ، وَإِنَّمَا يَقُولُونَ [[في ت: "يقول".]] ذَلِكَ تَكْذِيبًا وَاسْتِبْعَادًا، وَكُفْرًا وَعِنَادًا، ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا﴾ أَيْ: خَائِفُونَ وَجِلُونَ مِنْ وُقُوعِهَا ﴿وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ﴾ أَيْ: كَائِنَةٌ لَا مَحَالَةَ، فَهُمْ مُسْتَعِدُّونَ لَهَا عَامِلُونَ مِنْ أَجْلِهَا.
وَقَدْ رُوي مِنْ طُرُقٍ تَبْلُغُ دَرَجَةَ التَّوَاتُرِ، فِي الصِّحَاحِ وَالْحِسَانِ، وَالسُّنَنِ وَالْمَسَانِيدِ، وَفِي بَعْضِ أَلْفَاظِهِ؛ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بِصَوْتٍ جَهْوَرِيّ، وَهُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَنَادَاهُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ نَحْوًا مِنْ صَوْتِهِ "هَاؤُمُ". فَقَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "وَيْحَكَ، إِنَّهَا كَائِنَةٌ، فَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ " فَقَالَ: حُب اللَّهِ وَرَسُولِهِ. فَقَالَ: "أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٦١٦٧) ومسلم في صحيحه برقم (٢٦٣٩) مِنْ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.]] .
فَقَوْلُهُ فِي الْحَدِيثِ: "الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ"، هَذَا مُتَوَاتِرٌ لَا مَحَالَةَ، وَالْغَرَضُ أَنَّهُ لَمْ يُجِبْهُ عَنْ وَقْتِ السَّاعَةِ، بَلْ أَمَرَهُ بِالِاسْتِعْدَادِ لَهَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَلا إِنَّ الَّذِينَ يُمَارُونَ فِي السَّاعَةِ﴾ أَيْ: يُحَاجُّونَ فِي وُجُودِهَا وَيَدْفَعُونَ وُقُوعَهَا، ﴿لَفِي ضَلالٍ بَعِيدٍ﴾ أَيْ: فِي جَهْلٍ بَيِّنٍ؛ لِأَنَّ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ قَادِرٌ عَلَى إِحْيَاءِ الْمَوْتَى بِطَرِيقِ الْأَوْلَى وَالْأَحْرَى، كَمَا قَالَ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ﴾ [الرُّومِ:٢٧] .
ٱللَّهُ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ وَٱلْمِيزَانَ ۗ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ ٱلسَّاعَةَ قَرِيبٌۭ
It is Allah who has sent down the Book in truth and [also] the balance. And what will make you perceive? Perhaps the Hour is near.
خدا ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور (عدل وانصاف کی) ترازو۔ اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آ پہنچی ہو
خداوند کسی است که کتاب را بحق نازل کرد و میزان (سنجش حق و باطل و خبر قیامت) را نیز؛ تو چه میدانی شاید ساعت (قیام قیامت) نزدیک باشد!
Tafsir Ibn Kathir
And those who dispute concerning Allah, after it has been accepted, of no use is their dispute before their Lord and on them is wrath, and for them will be a severe torment (16)It is Allah Who has sent down the Book in truth, and the Balance. And what can make you know that perhaps the Hour is close at hand (17)Those who believe not therein seek to hasten it, while those who believe are fearful of it, and know that it is the very truth. Verily, those who dispute concerning the Hour are certainly in error far away (18)
A Warning to Those Who dispute concerning Matters of Religion
Here Allah warns those who try to hinder those who believe in Allah, from following His path.
وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا اسْتُجِيبَ لَهُ
(And those who dispute concerning Allah, after it has been accepted,) means, those who dispute with the believers who have responded to Allah and His Messenger, and try to stop them from following the path of guidance.
حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ
(no use is their dispute before their Lord) means, it is futile before Allah.
وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ
(and on them is wrath,) means, from Him.
وَلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ
(and for them will be a severe torment.) means, on the Day of Resurrection. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, and Mujahid said, "They disputed with the believers after they responded to Allah and His Messenger, and tried to prevent them from following the path of guidance, hoping that they would return to Jahiliyyah." Qatadah said, "These were the Jews and Christians who said to them, 'Our religion is better than your religion, our Prophet came before your Prophet, and we are better than you and closer to Allah than you.'" This was nothing but lies. Then Allah says:
اللَّهُ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ
(It is Allah Who has sent down the Book in truth,) referring to all the Books which were revealed from Him to His Prophets.
وَالْمِيزَانَ
(and the Balance.) means, justice and fairness. This was the view of Mujahid and Qatadah. This is like the Ayat:
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ
(Indeed We have sent Our Messengers with clear proofs, and revealed with them the Scripture and the Balance that mankind may keep up justice)(57:25).
وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ - أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ - وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ
(And the heaven He has raised high, and He has set up the Balance. In order that you may not transgress (due) balance. And observe the weight with equity and do not make the balance deficient.)(55:7-9)
وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ
(And what can make you know that perhaps the Hour is close at hand?) This is encouragement (to strive) for its sake, a terrifying warning, and advice to think little of this world.
يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا ۖ
(Those who believe not therein seek to hasten it,) means, they say, 'when will this promise be fulfilled, if you are telling the truth?' But they say this by way of disbelief and stubbornness, thinking that it is unlikely to happen.
وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا
(while those who believe are fearful of it) means, they are afraid of it happening.
وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ
(and know that it is the very truth.) means, that it will undoubtedly come to pass, so they prepare themselves for it and strive for its sake. It was reported through various chains of narration, a number reaching the level of being Mutawatir, in Sahih and Hasan narrations, in the Books of Sunan and Musnad.
According to some versions, a man addressed the Messenger of Allah ﷺ in a loud voice, when he was on one of his journeys, calling out to him, "O Muhammad!" The Messenger of Allah ﷺ replied in a similar manner, "Here I am!" The man said, "When will the Hour come?" The Messenger of Allah ﷺ said,
وَيْحَكَ إِنَّهَا كَائِنَةٌ فَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟
(Woe to you! It will most certainly come. What have you done to prepare for it?) He said, "Love for Allah and His Messenger." He ﷺ said:
أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ
(You will be with those whom you love.) According to another Hadith:
الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ
("A man will be with those whom he loves.) This is Mutawatir beyond a doubt. The point is that he did not answer his question about when the Hour would happen, but he commanded him to prepare for it.
أَلَا إِنَّ الَّذِينَ يُمَارُونَ فِي السَّاعَةِ
(Verily, those who dispute concerning the Hour) means, who dispute whether it will happen and think it is unlikely ever to come,
لَفِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ
(are certainly in error far away.) means, they are clearly ignorant, because the One Who created the heavens and the earth is even more able to give life to the dead, as Allah says:
وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ۚ
(And He it is Who originates the creation, then He will repeat it; and this is easier for Him)(30:27).
Tafsir Ibn Kathir
منکرین قیامت کے لئے وعیدیں اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو ایمان داروں سے فضول حجتیں کیا کرتے ہیں، انہیں راہ ہدایت سے بہکانا چاہتے ہیں اور اللہ کے دین میں اختلاف پیدا کرتے ہیں۔ ان کی حجت باطل ہے ان پر رب غضبناک ہے۔ اور انہیں قیامت کے روز سخت اور ناقابل برداشت مار ماری جائے گی۔ ان کی طمع پوری ہونی یعنی مسلمانوں میں پھر دوبارہ جاہلیت کی خو بو آنا محال ہے ٹھیک اسی طرح یہود و نصارٰی کا بھی یہ جادو نہیں چلنے دے گا۔ ناممکن ہے کہ مسلمان ان کے موجودہ دین کو اپنے سچے اچھے اصل اور بےکھرے دین پر ترجیح دیں۔ اور اس دین کو لیں جس میں جھوٹ ملا ہوا ہے جو محرف و مبدل ہے۔ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور عدل و انصاف اتارا۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ 25ۧ) 57۔ الحدید :25) یعنی ہم نے اپنے رسولوں کو ظاہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا قرآن کے ہمراہ کتاب اور میزان اتارا تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوجائیں۔ ایک اور آیت میں ہے آیت (وَالسَّمَاۗءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ ۙ) 55۔ الرحمن :7) یعنی آسمان کو اسی نے اونچا کیا اور ترازؤں کو اسی نے رکھا تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو۔ اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول کو مت گھٹاؤ۔ پھر فرماتا ہے تو نہیں جان سکتا کہ قیامت بالکل قریب ہے اس میں خوف اور لالچ دونوں ہی ہیں اور اس میں دنیا سے بےرغبت کرنا بھی مقصود ہے۔ پھر فرمایا اس کے منکر تو جلدی مچا رہے ہیں کہ قیامت کیوں نہیں آتی ؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو قیامت قائم کردو کیونکہ ان کے نزدیک قیامت ہونا محال ہے۔ لیکن ان کے برخلاف ایمان دار اس سے کانپ رہے ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ روز جزا کا آنا حتمی اور ضروری ہے۔ یہ اس سے ڈر کر وہ اعمال بجا لا رہے ہیں جو انہیں اس روز کام دیں ایک بالکل صحیح حدیث میں ہے جو تقریبا تواتر کے درجہ کو پہنچی ہوئی ہے کہ ایک شخص نے بلند آواز سے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یارسول اللہ قیامت کب ہوگی ؟ یہ واقعہ سفر کا ہے وہ حضرت ﷺ سے کچھ دور تھے آپ نے فرمایا ہاں ہاں وہ یقینا آنے والی ہے تو بتا کہ تو نے اس کے لئے تیاری کیا کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی محبت آپ نے فرمایا تو ان کے ساتھ ہوگا جن سے تو محبت رکھتا ہے اور حدیث میں حضور ﷺ کا فرمان ہے ہر شخص اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا تھا۔ یہ حدیث یقینا متواتر ہے الغرض حضور ﷺ نے اس سوال کے جواب میں قیامت کے وقت کا تعین نہیں کیا بلکہ سائل کو اس دن کے لئے تیاری کرنے کو فرمایا پس قیامت کے آنے کے وقت علم کا سوائے اللہ کے کسی اور کو نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ قیامت کے آنے میں جو لوگ جھگڑ رہے ہیں اور اس کے منکر ہیں اسے محال جانتے ہیں وہ نرے جاہل ہیں سچی سمجھ صحیح عقل سے دور پڑے ہوئے ہیں سیدھے راستے سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ تعجب ہے کہ زمین و آسمان کا ابتدائی خالق اللہ کو مانیں اور انسان کو مار ڈالنے کے بعد دوبارہ زندہ کردینے پر اسے قادر نہ جانیں جس نے بغیر کسی نمونے کے اور بغیر کسی جز کے ابتدا ً اسے پیدا کردیا تو دوبارہ جب کہ اس کے اجزاء بھی کسی نہ کسی صورت میں کچھ نہ کچھ موجود ہیں اسے پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہے بلکہ عقل سلیم بھی اسے تسلیم کرتی ہے اور اب تو اور بھی آسان ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى -مُتَوَعِّدًا الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِهِ-: ﴿وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا اسْتُجِيبَ لَهُ﴾ أَيْ: يُجَادِلُونَ الْمُؤْمِنِينَ الْمُسْتَجِيبِينَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، لِيَصُدُّوهُمْ عَمَّا سَلَكُوهُ مِنْ طَرِيقِ الْهُدَى، ﴿حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ﴾ أَيْ: بَاطِلَةٌ عِنْدَ اللَّهِ، ﴿وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ﴾ أَيْ: مِنْهُ، ﴿وَلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ﴾ أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ: جَادَلُوا الْمُؤْمِنِينَ بَعْدَ مَا اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، لِيَصُدُّوهُمْ عَنِ الْهُدَى، وَطَمِعُوا أَنْ تَعُودَ الْجَاهِلِيَّةُ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: هُمُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، قَالُوا لَهُمْ: دِينُنَا خَيْرٌ مِنْ دِينِكُمْ، وَنَبِيُّنَا قَبْلَ نَبِيِّكُمْ، وَنَحْنُ خَيْرٌ مِنْكُمْ، وَأَوْلَى بِاللَّهِ مِنْكُمْ. وَقَدْ كَذَبُوا فِي ذَلِكَ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿اللَّهُ الَّذِي أَنزلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ﴾ يَعْنِي: الْكُتُبَ الْمُنَزَّلَةَ مِنْ عِنْدِهِ عَلَى أَنْبِيَائِهِ ﴿وَالْمِيزَانَ﴾ ، وَهُوَ: الْعَدْلُ وَالْإِنْصَافُ، قَالَهُ مُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ. وَهَذِهِ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ﴾ [الْحَدِيدِ:٢٥] وَقَوْلُهُ: ﴿وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ. أَلا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ. وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ﴾ [الرَّحْمَنِ:٧-٩] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ﴾ فِيهِ تَرْغِيبٌ فِيهَا، وَتَرْهِيبٌ مِنْهَا، وَتَزْهِيدٌ فِي الدُّنْيَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا﴾ أَيْ: يَقُولُونَ: ﴿مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾ [سَبَأٍ:٢٩] ، وَإِنَّمَا يَقُولُونَ [[في ت: "يقول".]] ذَلِكَ تَكْذِيبًا وَاسْتِبْعَادًا، وَكُفْرًا وَعِنَادًا، ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا﴾ أَيْ: خَائِفُونَ وَجِلُونَ مِنْ وُقُوعِهَا ﴿وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ﴾ أَيْ: كَائِنَةٌ لَا مَحَالَةَ، فَهُمْ مُسْتَعِدُّونَ لَهَا عَامِلُونَ مِنْ أَجْلِهَا.
وَقَدْ رُوي مِنْ طُرُقٍ تَبْلُغُ دَرَجَةَ التَّوَاتُرِ، فِي الصِّحَاحِ وَالْحِسَانِ، وَالسُّنَنِ وَالْمَسَانِيدِ، وَفِي بَعْضِ أَلْفَاظِهِ؛ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بِصَوْتٍ جَهْوَرِيّ، وَهُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَنَادَاهُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ نَحْوًا مِنْ صَوْتِهِ "هَاؤُمُ". فَقَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "وَيْحَكَ، إِنَّهَا كَائِنَةٌ، فَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ " فَقَالَ: حُب اللَّهِ وَرَسُولِهِ. فَقَالَ: "أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٦١٦٧) ومسلم في صحيحه برقم (٢٦٣٩) مِنْ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.]] .
فَقَوْلُهُ فِي الْحَدِيثِ: "الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ"، هَذَا مُتَوَاتِرٌ لَا مَحَالَةَ، وَالْغَرَضُ أَنَّهُ لَمْ يُجِبْهُ عَنْ وَقْتِ السَّاعَةِ، بَلْ أَمَرَهُ بِالِاسْتِعْدَادِ لَهَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَلا إِنَّ الَّذِينَ يُمَارُونَ فِي السَّاعَةِ﴾ أَيْ: يُحَاجُّونَ فِي وُجُودِهَا وَيَدْفَعُونَ وُقُوعَهَا، ﴿لَفِي ضَلالٍ بَعِيدٍ﴾ أَيْ: فِي جَهْلٍ بَيِّنٍ؛ لِأَنَّ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ قَادِرٌ عَلَى إِحْيَاءِ الْمَوْتَى بِطَرِيقِ الْأَوْلَى وَالْأَحْرَى، كَمَا قَالَ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ﴾ [الرُّومِ:٢٧] .
يَسْتَعْجِلُ بِهَا ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا ۖ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا ٱلْحَقُّ ۗ أَلَآ إِنَّ ٱلَّذِينَ يُمَارُونَ فِى ٱلسَّاعَةِ لَفِى ضَلَٰلٍۭ بَعِيدٍ
Those who do not believe in it are impatient for it, but those who believe are fearful of it and know that it is the truth. Unquestionably, those who dispute concerning the Hour are in extreme error.
جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے لئے جلدی کر رہے ہیں۔ اور جو مومن ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں۔ اور جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے۔ دیکھو جو لوگ قیامت میں جھگڑتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں
کسانی که به قیامت ایمان ندارند درباره آن شتاب میکنند؛ ولی آنها که ایمان آوردهاند پیوسته از آن هراسانند، و میدانند آن حق است؛ آگاه باشید کسانی که در قیامت تردید میکنند، در گمراهی عمیقی هستند.
Tafsir Ibn Kathir
And those who dispute concerning Allah, after it has been accepted, of no use is their dispute before their Lord and on them is wrath, and for them will be a severe torment (16)It is Allah Who has sent down the Book in truth, and the Balance. And what can make you know that perhaps the Hour is close at hand (17)Those who believe not therein seek to hasten it, while those who believe are fearful of it, and know that it is the very truth. Verily, those who dispute concerning the Hour are certainly in error far away (18)
A Warning to Those Who dispute concerning Matters of Religion
Here Allah warns those who try to hinder those who believe in Allah, from following His path.
وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا اسْتُجِيبَ لَهُ
(And those who dispute concerning Allah, after it has been accepted,) means, those who dispute with the believers who have responded to Allah and His Messenger, and try to stop them from following the path of guidance.
حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ
(no use is their dispute before their Lord) means, it is futile before Allah.
وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ
(and on them is wrath,) means, from Him.
وَلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ
(and for them will be a severe torment.) means, on the Day of Resurrection. Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, and Mujahid said, "They disputed with the believers after they responded to Allah and His Messenger, and tried to prevent them from following the path of guidance, hoping that they would return to Jahiliyyah." Qatadah said, "These were the Jews and Christians who said to them, 'Our religion is better than your religion, our Prophet came before your Prophet, and we are better than you and closer to Allah than you.'" This was nothing but lies. Then Allah says:
اللَّهُ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ
(It is Allah Who has sent down the Book in truth,) referring to all the Books which were revealed from Him to His Prophets.
وَالْمِيزَانَ
(and the Balance.) means, justice and fairness. This was the view of Mujahid and Qatadah. This is like the Ayat:
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ
(Indeed We have sent Our Messengers with clear proofs, and revealed with them the Scripture and the Balance that mankind may keep up justice)(57:25).
وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ - أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ - وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ
(And the heaven He has raised high, and He has set up the Balance. In order that you may not transgress (due) balance. And observe the weight with equity and do not make the balance deficient.)(55:7-9)
وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ
(And what can make you know that perhaps the Hour is close at hand?) This is encouragement (to strive) for its sake, a terrifying warning, and advice to think little of this world.
يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا ۖ
(Those who believe not therein seek to hasten it,) means, they say, 'when will this promise be fulfilled, if you are telling the truth?' But they say this by way of disbelief and stubbornness, thinking that it is unlikely to happen.
وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا
(while those who believe are fearful of it) means, they are afraid of it happening.
وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ
(and know that it is the very truth.) means, that it will undoubtedly come to pass, so they prepare themselves for it and strive for its sake. It was reported through various chains of narration, a number reaching the level of being Mutawatir, in Sahih and Hasan narrations, in the Books of Sunan and Musnad.
According to some versions, a man addressed the Messenger of Allah ﷺ in a loud voice, when he was on one of his journeys, calling out to him, "O Muhammad!" The Messenger of Allah ﷺ replied in a similar manner, "Here I am!" The man said, "When will the Hour come?" The Messenger of Allah ﷺ said,
وَيْحَكَ إِنَّهَا كَائِنَةٌ فَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟
(Woe to you! It will most certainly come. What have you done to prepare for it?) He said, "Love for Allah and His Messenger." He ﷺ said:
أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ
(You will be with those whom you love.) According to another Hadith:
الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ
("A man will be with those whom he loves.) This is Mutawatir beyond a doubt. The point is that he did not answer his question about when the Hour would happen, but he commanded him to prepare for it.
أَلَا إِنَّ الَّذِينَ يُمَارُونَ فِي السَّاعَةِ
(Verily, those who dispute concerning the Hour) means, who dispute whether it will happen and think it is unlikely ever to come,
لَفِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ
(are certainly in error far away.) means, they are clearly ignorant, because the One Who created the heavens and the earth is even more able to give life to the dead, as Allah says:
وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ۚ
(And He it is Who originates the creation, then He will repeat it; and this is easier for Him)(30:27).
Tafsir Ibn Kathir
منکرین قیامت کے لئے وعیدیں اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو ایمان داروں سے فضول حجتیں کیا کرتے ہیں، انہیں راہ ہدایت سے بہکانا چاہتے ہیں اور اللہ کے دین میں اختلاف پیدا کرتے ہیں۔ ان کی حجت باطل ہے ان پر رب غضبناک ہے۔ اور انہیں قیامت کے روز سخت اور ناقابل برداشت مار ماری جائے گی۔ ان کی طمع پوری ہونی یعنی مسلمانوں میں پھر دوبارہ جاہلیت کی خو بو آنا محال ہے ٹھیک اسی طرح یہود و نصارٰی کا بھی یہ جادو نہیں چلنے دے گا۔ ناممکن ہے کہ مسلمان ان کے موجودہ دین کو اپنے سچے اچھے اصل اور بےکھرے دین پر ترجیح دیں۔ اور اس دین کو لیں جس میں جھوٹ ملا ہوا ہے جو محرف و مبدل ہے۔ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور عدل و انصاف اتارا۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ 25ۧ) 57۔ الحدید :25) یعنی ہم نے اپنے رسولوں کو ظاہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا قرآن کے ہمراہ کتاب اور میزان اتارا تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوجائیں۔ ایک اور آیت میں ہے آیت (وَالسَّمَاۗءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ ۙ) 55۔ الرحمن :7) یعنی آسمان کو اسی نے اونچا کیا اور ترازؤں کو اسی نے رکھا تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو۔ اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول کو مت گھٹاؤ۔ پھر فرماتا ہے تو نہیں جان سکتا کہ قیامت بالکل قریب ہے اس میں خوف اور لالچ دونوں ہی ہیں اور اس میں دنیا سے بےرغبت کرنا بھی مقصود ہے۔ پھر فرمایا اس کے منکر تو جلدی مچا رہے ہیں کہ قیامت کیوں نہیں آتی ؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو قیامت قائم کردو کیونکہ ان کے نزدیک قیامت ہونا محال ہے۔ لیکن ان کے برخلاف ایمان دار اس سے کانپ رہے ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ روز جزا کا آنا حتمی اور ضروری ہے۔ یہ اس سے ڈر کر وہ اعمال بجا لا رہے ہیں جو انہیں اس روز کام دیں ایک بالکل صحیح حدیث میں ہے جو تقریبا تواتر کے درجہ کو پہنچی ہوئی ہے کہ ایک شخص نے بلند آواز سے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یارسول اللہ قیامت کب ہوگی ؟ یہ واقعہ سفر کا ہے وہ حضرت ﷺ سے کچھ دور تھے آپ نے فرمایا ہاں ہاں وہ یقینا آنے والی ہے تو بتا کہ تو نے اس کے لئے تیاری کیا کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی محبت آپ نے فرمایا تو ان کے ساتھ ہوگا جن سے تو محبت رکھتا ہے اور حدیث میں حضور ﷺ کا فرمان ہے ہر شخص اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا تھا۔ یہ حدیث یقینا متواتر ہے الغرض حضور ﷺ نے اس سوال کے جواب میں قیامت کے وقت کا تعین نہیں کیا بلکہ سائل کو اس دن کے لئے تیاری کرنے کو فرمایا پس قیامت کے آنے کے وقت علم کا سوائے اللہ کے کسی اور کو نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ قیامت کے آنے میں جو لوگ جھگڑ رہے ہیں اور اس کے منکر ہیں اسے محال جانتے ہیں وہ نرے جاہل ہیں سچی سمجھ صحیح عقل سے دور پڑے ہوئے ہیں سیدھے راستے سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ تعجب ہے کہ زمین و آسمان کا ابتدائی خالق اللہ کو مانیں اور انسان کو مار ڈالنے کے بعد دوبارہ زندہ کردینے پر اسے قادر نہ جانیں جس نے بغیر کسی نمونے کے اور بغیر کسی جز کے ابتدا ً اسے پیدا کردیا تو دوبارہ جب کہ اس کے اجزاء بھی کسی نہ کسی صورت میں کچھ نہ کچھ موجود ہیں اسے پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہے بلکہ عقل سلیم بھی اسے تسلیم کرتی ہے اور اب تو اور بھی آسان ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى -مُتَوَعِّدًا الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِهِ-: ﴿وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا اسْتُجِيبَ لَهُ﴾ أَيْ: يُجَادِلُونَ الْمُؤْمِنِينَ الْمُسْتَجِيبِينَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، لِيَصُدُّوهُمْ عَمَّا سَلَكُوهُ مِنْ طَرِيقِ الْهُدَى، ﴿حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ﴾ أَيْ: بَاطِلَةٌ عِنْدَ اللَّهِ، ﴿وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ﴾ أَيْ: مِنْهُ، ﴿وَلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ﴾ أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ: جَادَلُوا الْمُؤْمِنِينَ بَعْدَ مَا اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، لِيَصُدُّوهُمْ عَنِ الْهُدَى، وَطَمِعُوا أَنْ تَعُودَ الْجَاهِلِيَّةُ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: هُمُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، قَالُوا لَهُمْ: دِينُنَا خَيْرٌ مِنْ دِينِكُمْ، وَنَبِيُّنَا قَبْلَ نَبِيِّكُمْ، وَنَحْنُ خَيْرٌ مِنْكُمْ، وَأَوْلَى بِاللَّهِ مِنْكُمْ. وَقَدْ كَذَبُوا فِي ذَلِكَ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿اللَّهُ الَّذِي أَنزلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ﴾ يَعْنِي: الْكُتُبَ الْمُنَزَّلَةَ مِنْ عِنْدِهِ عَلَى أَنْبِيَائِهِ ﴿وَالْمِيزَانَ﴾ ، وَهُوَ: الْعَدْلُ وَالْإِنْصَافُ، قَالَهُ مُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ. وَهَذِهِ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ﴾ [الْحَدِيدِ:٢٥] وَقَوْلُهُ: ﴿وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ. أَلا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ. وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ﴾ [الرَّحْمَنِ:٧-٩] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ﴾ فِيهِ تَرْغِيبٌ فِيهَا، وَتَرْهِيبٌ مِنْهَا، وَتَزْهِيدٌ فِي الدُّنْيَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا﴾ أَيْ: يَقُولُونَ: ﴿مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾ [سَبَأٍ:٢٩] ، وَإِنَّمَا يَقُولُونَ [[في ت: "يقول".]] ذَلِكَ تَكْذِيبًا وَاسْتِبْعَادًا، وَكُفْرًا وَعِنَادًا، ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا﴾ أَيْ: خَائِفُونَ وَجِلُونَ مِنْ وُقُوعِهَا ﴿وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ﴾ أَيْ: كَائِنَةٌ لَا مَحَالَةَ، فَهُمْ مُسْتَعِدُّونَ لَهَا عَامِلُونَ مِنْ أَجْلِهَا.
وَقَدْ رُوي مِنْ طُرُقٍ تَبْلُغُ دَرَجَةَ التَّوَاتُرِ، فِي الصِّحَاحِ وَالْحِسَانِ، وَالسُّنَنِ وَالْمَسَانِيدِ، وَفِي بَعْضِ أَلْفَاظِهِ؛ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بِصَوْتٍ جَهْوَرِيّ، وَهُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَنَادَاهُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ نَحْوًا مِنْ صَوْتِهِ "هَاؤُمُ". فَقَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "وَيْحَكَ، إِنَّهَا كَائِنَةٌ، فَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ " فَقَالَ: حُب اللَّهِ وَرَسُولِهِ. فَقَالَ: "أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٦١٦٧) ومسلم في صحيحه برقم (٢٦٣٩) مِنْ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.]] .
فَقَوْلُهُ فِي الْحَدِيثِ: "الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ"، هَذَا مُتَوَاتِرٌ لَا مَحَالَةَ، وَالْغَرَضُ أَنَّهُ لَمْ يُجِبْهُ عَنْ وَقْتِ السَّاعَةِ، بَلْ أَمَرَهُ بِالِاسْتِعْدَادِ لَهَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَلا إِنَّ الَّذِينَ يُمَارُونَ فِي السَّاعَةِ﴾ أَيْ: يُحَاجُّونَ فِي وُجُودِهَا وَيَدْفَعُونَ وُقُوعَهَا، ﴿لَفِي ضَلالٍ بَعِيدٍ﴾ أَيْ: فِي جَهْلٍ بَيِّنٍ؛ لِأَنَّ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ قَادِرٌ عَلَى إِحْيَاءِ الْمَوْتَى بِطَرِيقِ الْأَوْلَى وَالْأَحْرَى، كَمَا قَالَ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ﴾ [الرُّومِ:٢٧] .
ٱللَّهُ لَطِيفٌۢ بِعِبَادِهِۦ يَرْزُقُ مَن يَشَآءُ ۖ وَهُوَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْعَزِيزُ
Allah is Subtle with His servants; He gives provisions to whom He wills. And He is the Powerful, the Exalted in Might.
خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے۔ اور وہ زور والا (اور) زبردست ہے
خداوند نسبت به بندگانش لطف (و آگاهی) دارد؛ هر کس را بخواهد روزی میدهد و او قوّی و شکستناپذیر است!
Tafsir Ibn Kathir
Allah is very Gracious and Kind to His servants. He gives provisions to whom He wills. And He is the All-Strong, the Almighty (19)Whosoever desires the reward of the Hereafter, We give him increase in his reward, and whosoever desires the reward of this world, We give him thereof, and he has no portion in the Hereafter (20)Or have they partners with Allah who have instituted for them a religion which Allah has not ordained? And had it not been for a decisive Word, the matter would have been judged between them. And verily, for the wrongdoers there is a painful torment (21)You will see the wrongdoers fearful of that which they have earned, and it will surely befall them. But those who believe and do righteous deeds (will be) in the flowering meadows of the Gardens. They shall have whatsoever they desire with their Lord. That is the supreme grace (22)
The Provision of Allah in this World and the Hereafter
Here Allah speaks of His kindness towards His creation, in that He provides for every last one of them and does not forget anyone. When it comes to His provision, the righteous and the sinner are alike. Allah says:
وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
(And no moving creature is there on the earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit. All is in a Clear Book.)(11:6) And there are many similar Ayat.
يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ
(He gives provisions to whom He wills.) means, He gives generously to whomsoever He wills.
وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ
(And He is the All-Strong, the Almighty.) means, there is nothing that can overpower Him. Then Allah says:
مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ
(Whosoever desires the reward of the Hereafter,) means, whoever does things for the sake of the Hereafter,
نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ
(We give him increase in his reward,) meaning, 'We will give him strength and help him to do what he wants to do, and We will increase it for him. So for every good, We will multiply it and give him between ten and seven hundred good rewards,' as much as Allah wills.
وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ
(and whosoever desires the reward of this world, We give him thereof, and he has no portion in the Hereafter.) means, whoever strives for the purpose of worldly gains, and never pays any heed to the Hereafter at all, Allah will deny him the Hereafter; and in this world, if He wills He will give to him and if He does not will, he will gain neither. So the one who strives with this intention in mind will have the worst deal in this world and in the Hereafter. The evidence for that is the fact that this Ayah is reinforced by the passage in Subhan (i.e., Surat Al-Isra') in which Allah says:
مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا - وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا - كُلًّا نُمِدُّ هَٰؤُلَاءِ وَهَٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا - انْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا
(Whoever desires the quick-passing, We readily grant him what We will for whom We like. Then, afterwards, We have appointed for him Hell; he will (enter) burn therein disgraced and rejected. And whoever desires the Hereafter and strives for it, with the necessary effort due for it while he is a believer – then such are the ones whose striving shall be appreciated. On each – these as well as those – We bestow from the bounties of your Lord. And the bounties of your Lord can never be forbidden. See how We prefer one above another (in this world), and verily, the Hereafter will be greater in degrees and greater in preferment.)(17:18-21)
It was reported that Ubayy bin Ka'b, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
بَشِّرْ هٰذِهِ الْأُمَّةَ بِالسَّنَاءِ وَالرِّفْعَةِ وَالنَّصْرِ وَالتَّمْكِينِ فِي الْأَرْضِ، فَمَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ عَمَلَ الْآخِرَةِ لِلدُّنْيَا، لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الْاخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ
(Give the glad tidings to this Ummah of sublimity, high status, victory and power in the land. But whoever among them does the deeds of the Hereafter for the sake of worldly gain, will have no portion of the Hereafter.)"
Making Legislation for the Creatures is Shirk
Allah says:
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ ۚ
(Or have they partners with Allah who have instituted for them a religion which Allah has not ordained?) means, they do not follow what Allah has ordained for you of upright religion; on the contrary, they follow what their devils (Shayatin), of men and Jinn, have prescribed for them. They instituted taboos, such as the Bahirah, Sa'ibah, Wasilah or Ham.
They also permitted eating flesh and blood of animals not slaughtered for consumption, gambling and other kinds of misguidance, ignorance and falsehood. These are things that they invented during Jahiliyyah, when they came up with all kinds of false rulings on what was permitted and what was forbidden, and false rites of worship and other corrupt ideas. It was recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ said:
رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيِّ بْنِ قَمَعَةَ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ
(I saw 'Amr bin Luhayy bin Qama'ah dragging his intestines in Hell) – because he had been the first one to introduce the idea of the Sa'ibah. This man was one of the kings of the Khuza'ah tribe, and he was the first one to do these things. He was the one who had made the Quraysh worship idols, may the curse of Allah be upon him. Allah said:
وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۗ
(And had it not been for a decisive Word, the matter would have been judged between them.) means, the punishment would have been hastened for them, were it not for the fact that it had already been decreed that it would be delayed until the Day of Resurrection.
وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(And verily, for the wrongdoers there is a painful torment.) i.e., an agonizing torment in Hell, what a terrible destination.
The Terror of the Idolators in the Place of Gathering
تَرَى الظَّالِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا كَسَبُوا
(You will see the wrongdoers fearful of that which they have earned,) means, in the arena of Resurrection.
وَهُوَ وَاقِعٌ بِهِمْ
(and it will surely befall them.) means, the thing that they fear will undoubtedly happen to them. This is how they will be on the Day of Resurrection; they will be in a state of utter fear and terror.
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ ۖ لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ
(But those who believe and do righteous deeds (will be) in the flowering meadows of the Gardens. They shall have whatsoever they desire with their Lord.)
What comparison can there be between the former and the latter? How can the one who will be in the arena of resurrection in a state of humiliation and fear, deserving it for his wrongdoing, be compared with the one who will be in the gardens of Paradise, enjoying whatever he wants of food, drink, clothing, dwellings, scenery, spouses and other delights such as no eye has seen, no ear has heard, and has never crossed the minds of men. Allah says:
ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ
(That is the supreme grace.) means, the ultimate victory and complete blessing.
Tafsir Ibn Kathir
غفورو رحیم اللہ اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ایک کو دوسرے کے ہاتھ سے روزی پہنچا رہا ہے ایک بھی نہیں جسے اللہ بھول جائے نیک بد ہر ایک اس کے ہاں کا وظیفہ خوار ہے جیسے فرمایا (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) ، زمین پر چلنے والے تمام جانداروں کی روزیوں کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے وہ ہر ایک کے رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے اور سب کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہوا بھی ہے وہ جس کے لئے چاہتا ہے کشادہ روزی مقرر کرتا ہے وہ طاقتور غالب ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی پھر فرماتا ہے جو آخرت کے اعمال کی طرف توجہ کرتا ہے ہم خود اس کی مدد کرتے ہیں اسے قوت طاقت دیتے ہیں اس کی نیکیاں بڑھاتے رہتے ہیں کسی نیکی کو دس گنی کردیتے ہیں کسی کو سات سو گنا کسی کو اس سے بھی زیادہ الغرض آخرت کی چاہت جس دل میں ہوتی ہے اس شخص کو نیک اعمال کی توفیق اللہ کی طرف سے عطا فرمائی جاتی ہے۔ اور جس کی تمام کوشش دنیا حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہیں آخرت کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوتی تو وہ دونوں جہاں سے محروم رہتا ہے دنیا کا ملنا اللہ کے ارادے پر موقوف ہے ممکن ہے وہ ہزاروں جتن کرلے اور دنیا سے بھی محروم رہ جائے دوسری آیت میں اس مضمون کو مقید بیان کیا گیا ہے۔ فرمان ہے (مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا 18) 17۔ الإسراء :18) ، یعنی جو شخص دنیا کا ہوگا ایسے لوگوں میں سے ہم جسے چاہیں اور جتنا چاہیں دے دیں گے پھر اس کے لئے جہنم تجویز کریں گے جس میں وہ بدحال اور راندہ درگاہ ہو کر داخل ہوگا اور جو آخرت کی طلب کرے گا اور اس کے لئے جو کوشش کرنی چاہیے کرے گا اور وہ باایمان بھی ہوگا۔ تو ناممکن ہے کہ اس کی کوشش کی قدر دانی نہ کی جائے۔ دنیوی بخشش و عطا تو عام ہے۔ اس سے ہم ان سب کی امداد کیا کرتے ہیں اور تیرے رب کی یہ دنیوی عطا کسی پر پسند نہیں، خود دیکھ لو کہ ہم نے ایک کو دوسرے پر کس طرح فوقیت دے رکھی ہے یقین مان لو کہ درجوں کے اعتبار سے بھی اور فضیلت کی حیثیت سے بھی آخرت بہت بڑی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اس امت کو برتری اور بلندی کی نصرت اور سلطنت کی خوشخبری ہو ان میں سے جو شخص دینی عمل دنیا کے لئے کرے گا اسے آخرت میں کوئی حصہ نہ ملے گا پھر فرمایا ہے کہ یہ مشرکین دین اللہ کی تو پیروی کرتے نہیں بلکہ جن شیاطین اور انسانوں کو انہوں نے اپنا بڑا سمجھ رکھا ہے یہ جو احکام انہیں بتاتے ہیں انہی احکام کے مجموعے کو دین سمجھتے ہیں۔ حلال و حرام کا تعین اپنے ان بڑوں کے کہنے پر کرتے ہیں انہی کے ایجاد کردہ عبادات کے طریقے استعمال کر رہے ہیں اسی طرح مال کے احکام بھی ازخود تراشیدہ ہیں جنہیں شرعی سمجھ بیٹھے ہیں چناچہ جاہلیت میں بعض جانوروں کو انہوں نے از خود حرام کرلیا تھا مثلا وہ جانور جس کا کان چیر کر اپنے معبودان باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور داغ دے کر سانڈ چھوڑ دیتے تھے اور مادہ بچے کو حمل کی صورت میں ہی ان کے نام کردیتے تھے جس اونٹ سے دس بچے حاصل کرلیں اسے ان کے نام چھوڑ دیتے تھے پھر انہیں ان کی تعظیم کے خیال سے اپنے اوپر حرام سمجھتے تھے۔ اور بعض چیزوں کو حلال کرلیا تھا جیسے مردار، خون اور جوا۔ صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں میں نے عمرو بن لحی بن قمعہ کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا یہی وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے غیر اللہ کے نام پر جانوروں کا چھوڑنا بتایا یہ شخص خزاعہ کے بادشاہوں میں سے ایک تھا اسی نے سب سے پہلے ان کاموں کی ایجاد کی تھی۔ جو جاہلیت کے کام عربوں میں مروج تھے۔ اسی نے قریشیوں کو بت پرستی میں ڈال دیا اللہ اس پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے۔ فرماتا ہے کہ اگر میری یہ بات پہلے سے میرے ہاں طے شدہ نہ ہوتی کہ میں گنہگاروں کو قیامت کے آنے تک ڈھیل دوں گا تو میں آج ہی ان کفار کو اپنے عذاب میں جکڑ لیتا اب انہیں قیامت کے دن جہنم کے المناک اور بڑے سخت عذاب ہوں گے میدان قیامت میں تم دیکھو گے کہ یہ ظالم لوگ اپنے کرتوتوں سے لرزاں و ترساں ہوں گے۔ مارے خوف کے تھرا رہے ہوں گے لیکن آج کوئی چیز نہ ہوگی جو انہیں بچا سکے۔ آج تو یہ اعمال کا مزہ چکھ کر ہی رہیں گے ان کے بالکل برعکس ایماندار نیکو کار لوگوں کا حال ہوگا کہ وہ امن چین سے جنتوں کے باغات میں مزے کر رہے ہوں گے ان کی ذلت و رسوائی ڈر خوف ان کی عزت بڑائی امن چین کا خیال کرلو وہ طرح طرح کی مصیبتوں تکلیفوں میں ہوں گے یہ طرح طرح کی راحتوں اور لذتوں میں ہوں گے۔ عمدہ بہترین غذائیں، بہترین لباس، مکانات، بہترین بیویاں اور بہترین سازو سامان انہیں ملے ہوئے ہوں گے جن کا دیکھنا سننا تو کہاں ؟ کسی انسان کے ذہن اور تصور میں بھی یہ چیزیں نہیں آسکتیں۔ حضرت ابو طیبہ ؒ فرماتے ہیں جنتیوں کے سروں پر ابر آئے گا اور انہیں ندا ہوگی کہ بتاؤ کس چیز کی بارش چاہتے ہو ؟ پس جو لوگ جس چیز کی بارش چاہیں گے وہی چیز ان پر اس بادل سے برسے گی یہاں تک کہ کہیں گے ہم پر ابھرے ہوئے سینے والی ہم عمر عورتیں برسائی جائیں چناچہ وہی برسیں گی۔ اسی لئے فرمایا کہ فضل کبیر یعنی زبردست کامیابی کامل نعمت یہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ لُطْفِهِ بِخَلْقِهِ فِي رِزْقِهِ إِيَّاهُمْ عَنْ آخِرِهِمْ، لَا يَنْسَى أَحَدًا مِنْهُمْ، سَوَاءٌ فِي رِزْقِهِ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الأرْضِ إِلا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ﴾ [هُودٍ:٦] وَلَهَا [[في ت: "ولهذا".]] نَظَائِرُ كَثِيرَةٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ﴾ أَيْ: يُوَسِّعُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ، ﴿وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ﴾ أَيْ: لَا يعجزه شيء.
ثُمَّ قَالَ: ﴿مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الآخِرَةِ﴾ أَيْ: عَمَلَ الْآخِرَةِ ﴿نزدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ﴾ أَيْ: نُقَوِّيهِ وَنُعِينُهُ عَلَى مَا هُوَ بِصَدَدِهِ، وَنُكْثِرُ نَمَاءَهُ، وَنَجْزِيهِ بِالْحَسَنَةِ عَشْرَ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ، إِلَى مَا يَشَاءُ اللَّهُ ﴿وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ﴾ أَيْ: وَمَنْ كَانَ إِنَّمَا سَعْيُهُ لِيَحْصُلَ لَهُ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا، وَلَيْسَ لَهُ إِلَى الْآخِرَةِ همَّة [[في ت: "وهم".]] أَلْبَتَّةَ بِالْكُلِّيَّةِ، حَرَمه اللَّهُ الْآخِرَةَ وَالدُّنْيَا إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ مِنْهَا، وَإِنْ لَمْ يَشَأْ لَمْ يَحْصُلْ [[في أ: "يجعل".]] لَهُ لَا هَذِهِ وَلَا هَذِهِ، وَفَازَ هَذَا السَّاعِي بِهَذِهِ النِّيَّةِ بِالصَّفْقَةِ الْخَاسِرَةِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.
وَالدَّلِيلُ عَلَى هَذَا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ هَاهُنَا مُقَيَّدَةٌ بِالْآيَةِ الَّتِي فِي "سُبْحَانَ" وَهِيَ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا وَمَنْ أَرَادَ الآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا كُلا نُمِدُّ هَؤُلاءِ وَهَؤُلاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا انْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَلَلآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ:١٨-٢١] .
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُغيرة، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من ت.]] قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "بَشِّرْ هَذِهِ الْأُمَّةَ بالسَّنَاء وَالرِّفْعَةِ، وَالنَّصْرِ وَالتَّمْكِينِ فِي الْأَرْضِ، فَمِنْ عَمِلَ مِنْهُمْ عَمَلَ الْآخِرَةِ لِلدُّنْيَا، لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ" [[رواه البغوي في شرح السنة (١٤/٣٣٥) من طريق الثوري به.]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ﴾ أَيْ: هُمْ لَا يَتَّبِعُونَ مَا شَرَعَ اللَّهُ لَكَ مِنَ الدِّينِ الْقَوِيمِ، بَلْ يَتَّبِعُونَ مَا شَرَعَ لَهُمْ شَيَاطِينُهُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، مِنْ تَحْرِيمِ مَا حَرَّمُوا عَلَيْهِمْ، مِنَ الْبَحِيرَةِ وَالسَّائِبَةِ وَالْوَصِيلَةِ وَالْحَامِ، وَتَحْلِيلِ الْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَالْقِمَارِ، إِلَى نَحْوِ ذَلِكَ مِنَ الضَّلَالَاتِ وَالْجَهَالَةِ [[في أ: "الجهالات".]] الْبَاطِلَةِ، الَّتِي كَانُوا قَدِ اخْتَرَعُوهَا فِي جَاهِلِيَّتِهِمْ، مِنَ التَّحْلِيلِ وَالتَّحْرِيمِ، وَالْعِبَادَاتِ الْبَاطِلَةِ، وَالْأَقْوَالِ الْفَاسِدَةِ.
وَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيّ بْنِ قَمَعَة يَجُر قُصْبَه فِي النَّارِ" [[انظر تخريج هذا الحديث عند تفسير الآية: ١٠٣ من سورة المائدة.]] لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ. وَكَانَ هَذَا الرَّجُلُ أَحَدَ مُلُوكِ خُزَاعَةَ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ فَعَلَ هَذِهِ الْأَشْيَاءَ، وَهُوَ الَّذِي حَمَل قُرَيْشًا عَلَى عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ، لَعَنَهُ اللَّهُ وَقَبَّحَهُ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَوْلا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ﴾ أَيْ: لَعُوجِلُوا بِالْعُقُوبَةِ، لَوْلَا مَا تَقَدَّمَ مِنَ الْإِنْظَارِ إِلَى يَوْمِ الْمَعَادِ، ﴿وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ أَيْ: شَدِيدٌ مُوجِعٌ [[في ت، أ: "وجيع".]] فِي جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿تَرَى الظَّالِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا كَسَبُوا﴾ أَيْ: فِي عَرَصَاتِ الْقِيَامَةِ، ﴿وَهُوَ وَاقِعٌ بِهِمْ﴾ أَيِ: الَّذِي يَخَافُونَ مِنْهُ وَاقِعٌ بِهِمْ لَا مَحَالَةَ، هَذَا حَالُهُمْ يَوْمَ مَعَادِهِمْ، وَهُمْ فِي هَذَا الْخَوْفِ وَالْوَجَلِ، ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ﴾ فَأَيْنَ هَذَا مِنْ هذا: أَيْنَ مَنْ هُوَ فِي العَرَصَات فِي الذُّلِّ وَالْهَوَانِ وَالْخَوْفِ الْمُحَقَّقِ عَلَيْهِ بِظُلْمِهِ، مِمَّنْ هُوَ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ، فِيمَا يَشَاءُ مِنْ مَآكِلَ وَمُشَارِبَ وَمَلَابِسَ وَمَسَاكِنَ وَمَنَاظِرَ وَمَنَاكِحَ وَمَلَاذَّ، فِيمَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ.
قَالَ: الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَبَّارُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ [[في ت: "روى الحسن بن عرفة بسنده".]] عَنْ أَبِي طَيْبَة، قَالَ: إِنَّ الشَّرْب مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَتُظِلُّهُمُ السَّحَابَةُ فَتَقُولُ: مَا أمْطِرُكُم. قَالَ: فَمَا يَدْعُو دَاعٍ مِنَ [[في أ: "في".]] الْقَوْمِ بِشَيْءٍ إِلَّا أَمْطَرَتْهُمْ، حَتَّى إِنَّ الْقَائِلَ مِنْهُمْ لَيَقُولُ: أَمْطِرِينَا كَوَاعِبَ أَتْرَابًا.
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَرَفَةَ، بِهِ.
وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ﴾ أَيِ: الْفَوْزُ الْعَظِيمُ، وَالنِّعْمَةُ التَّامَّةُ السابغة الشاملة العامة.
مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ ٱلْءَاخِرَةِ نَزِدْ لَهُۥ فِى حَرْثِهِۦ ۖ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ ٱلدُّنْيَا نُؤْتِهِۦ مِنْهَا وَمَا لَهُۥ فِى ٱلْءَاخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ
Whoever desires the harvest of the Hereafter - We increase for him in his harvest. And whoever desires the harvest of this world - We give him thereof, but there is not for him in the Hereafter any share.
جو شخص آخرت کی کھیتی کا خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دیں گے۔ اور جو دنیا کی کھیتی کا خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دے دیں گے۔ اور اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا
کسی که زراعت آخرت را بخواهد، به کشت او برکت و افزایش میدهیم و بر محصولش میافزاییم؛ و کسی که فقط کشت دنیا را بطلبد، کمی از آن به او میدهیم امّا در آخرت هیچ بهرهای ندارد!
Tafsir Ibn Kathir
Allah is very Gracious and Kind to His servants. He gives provisions to whom He wills. And He is the All-Strong, the Almighty (19)Whosoever desires the reward of the Hereafter, We give him increase in his reward, and whosoever desires the reward of this world, We give him thereof, and he has no portion in the Hereafter (20)Or have they partners with Allah who have instituted for them a religion which Allah has not ordained? And had it not been for a decisive Word, the matter would have been judged between them. And verily, for the wrongdoers there is a painful torment (21)You will see the wrongdoers fearful of that which they have earned, and it will surely befall them. But those who believe and do righteous deeds (will be) in the flowering meadows of the Gardens. They shall have whatsoever they desire with their Lord. That is the supreme grace (22)
The Provision of Allah in this World and the Hereafter
Here Allah speaks of His kindness towards His creation, in that He provides for every last one of them and does not forget anyone. When it comes to His provision, the righteous and the sinner are alike. Allah says:
وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
(And no moving creature is there on the earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit. All is in a Clear Book.)(11:6) And there are many similar Ayat.
يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ
(He gives provisions to whom He wills.) means, He gives generously to whomsoever He wills.
وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ
(And He is the All-Strong, the Almighty.) means, there is nothing that can overpower Him. Then Allah says:
مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ
(Whosoever desires the reward of the Hereafter,) means, whoever does things for the sake of the Hereafter,
نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ
(We give him increase in his reward,) meaning, 'We will give him strength and help him to do what he wants to do, and We will increase it for him. So for every good, We will multiply it and give him between ten and seven hundred good rewards,' as much as Allah wills.
وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ
(and whosoever desires the reward of this world, We give him thereof, and he has no portion in the Hereafter.) means, whoever strives for the purpose of worldly gains, and never pays any heed to the Hereafter at all, Allah will deny him the Hereafter; and in this world, if He wills He will give to him and if He does not will, he will gain neither. So the one who strives with this intention in mind will have the worst deal in this world and in the Hereafter. The evidence for that is the fact that this Ayah is reinforced by the passage in Subhan (i.e., Surat Al-Isra') in which Allah says:
مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا - وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا - كُلًّا نُمِدُّ هَٰؤُلَاءِ وَهَٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا - انْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا
(Whoever desires the quick-passing, We readily grant him what We will for whom We like. Then, afterwards, We have appointed for him Hell; he will (enter) burn therein disgraced and rejected. And whoever desires the Hereafter and strives for it, with the necessary effort due for it while he is a believer – then such are the ones whose striving shall be appreciated. On each – these as well as those – We bestow from the bounties of your Lord. And the bounties of your Lord can never be forbidden. See how We prefer one above another (in this world), and verily, the Hereafter will be greater in degrees and greater in preferment.)(17:18-21)
It was reported that Ubayy bin Ka'b, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
بَشِّرْ هٰذِهِ الْأُمَّةَ بِالسَّنَاءِ وَالرِّفْعَةِ وَالنَّصْرِ وَالتَّمْكِينِ فِي الْأَرْضِ، فَمَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ عَمَلَ الْآخِرَةِ لِلدُّنْيَا، لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الْاخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ
(Give the glad tidings to this Ummah of sublimity, high status, victory and power in the land. But whoever among them does the deeds of the Hereafter for the sake of worldly gain, will have no portion of the Hereafter.)"
Making Legislation for the Creatures is Shirk
Allah says:
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ ۚ
(Or have they partners with Allah who have instituted for them a religion which Allah has not ordained?) means, they do not follow what Allah has ordained for you of upright religion; on the contrary, they follow what their devils (Shayatin), of men and Jinn, have prescribed for them. They instituted taboos, such as the Bahirah, Sa'ibah, Wasilah or Ham.
They also permitted eating flesh and blood of animals not slaughtered for consumption, gambling and other kinds of misguidance, ignorance and falsehood. These are things that they invented during Jahiliyyah, when they came up with all kinds of false rulings on what was permitted and what was forbidden, and false rites of worship and other corrupt ideas. It was recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ said:
رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيِّ بْنِ قَمَعَةَ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ
(I saw 'Amr bin Luhayy bin Qama'ah dragging his intestines in Hell) – because he had been the first one to introduce the idea of the Sa'ibah. This man was one of the kings of the Khuza'ah tribe, and he was the first one to do these things. He was the one who had made the Quraysh worship idols, may the curse of Allah be upon him. Allah said:
وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۗ
(And had it not been for a decisive Word, the matter would have been judged between them.) means, the punishment would have been hastened for them, were it not for the fact that it had already been decreed that it would be delayed until the Day of Resurrection.
وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(And verily, for the wrongdoers there is a painful torment.) i.e., an agonizing torment in Hell, what a terrible destination.
The Terror of the Idolators in the Place of Gathering
تَرَى الظَّالِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا كَسَبُوا
(You will see the wrongdoers fearful of that which they have earned,) means, in the arena of Resurrection.
وَهُوَ وَاقِعٌ بِهِمْ
(and it will surely befall them.) means, the thing that they fear will undoubtedly happen to them. This is how they will be on the Day of Resurrection; they will be in a state of utter fear and terror.
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ ۖ لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ
(But those who believe and do righteous deeds (will be) in the flowering meadows of the Gardens. They shall have whatsoever they desire with their Lord.)
What comparison can there be between the former and the latter? How can the one who will be in the arena of resurrection in a state of humiliation and fear, deserving it for his wrongdoing, be compared with the one who will be in the gardens of Paradise, enjoying whatever he wants of food, drink, clothing, dwellings, scenery, spouses and other delights such as no eye has seen, no ear has heard, and has never crossed the minds of men. Allah says:
ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ
(That is the supreme grace.) means, the ultimate victory and complete blessing.
Tafsir Ibn Kathir
غفورو رحیم اللہ اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ایک کو دوسرے کے ہاتھ سے روزی پہنچا رہا ہے ایک بھی نہیں جسے اللہ بھول جائے نیک بد ہر ایک اس کے ہاں کا وظیفہ خوار ہے جیسے فرمایا (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) ، زمین پر چلنے والے تمام جانداروں کی روزیوں کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے وہ ہر ایک کے رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے اور سب کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہوا بھی ہے وہ جس کے لئے چاہتا ہے کشادہ روزی مقرر کرتا ہے وہ طاقتور غالب ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی پھر فرماتا ہے جو آخرت کے اعمال کی طرف توجہ کرتا ہے ہم خود اس کی مدد کرتے ہیں اسے قوت طاقت دیتے ہیں اس کی نیکیاں بڑھاتے رہتے ہیں کسی نیکی کو دس گنی کردیتے ہیں کسی کو سات سو گنا کسی کو اس سے بھی زیادہ الغرض آخرت کی چاہت جس دل میں ہوتی ہے اس شخص کو نیک اعمال کی توفیق اللہ کی طرف سے عطا فرمائی جاتی ہے۔ اور جس کی تمام کوشش دنیا حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہیں آخرت کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوتی تو وہ دونوں جہاں سے محروم رہتا ہے دنیا کا ملنا اللہ کے ارادے پر موقوف ہے ممکن ہے وہ ہزاروں جتن کرلے اور دنیا سے بھی محروم رہ جائے دوسری آیت میں اس مضمون کو مقید بیان کیا گیا ہے۔ فرمان ہے (مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا 18) 17۔ الإسراء :18) ، یعنی جو شخص دنیا کا ہوگا ایسے لوگوں میں سے ہم جسے چاہیں اور جتنا چاہیں دے دیں گے پھر اس کے لئے جہنم تجویز کریں گے جس میں وہ بدحال اور راندہ درگاہ ہو کر داخل ہوگا اور جو آخرت کی طلب کرے گا اور اس کے لئے جو کوشش کرنی چاہیے کرے گا اور وہ باایمان بھی ہوگا۔ تو ناممکن ہے کہ اس کی کوشش کی قدر دانی نہ کی جائے۔ دنیوی بخشش و عطا تو عام ہے۔ اس سے ہم ان سب کی امداد کیا کرتے ہیں اور تیرے رب کی یہ دنیوی عطا کسی پر پسند نہیں، خود دیکھ لو کہ ہم نے ایک کو دوسرے پر کس طرح فوقیت دے رکھی ہے یقین مان لو کہ درجوں کے اعتبار سے بھی اور فضیلت کی حیثیت سے بھی آخرت بہت بڑی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اس امت کو برتری اور بلندی کی نصرت اور سلطنت کی خوشخبری ہو ان میں سے جو شخص دینی عمل دنیا کے لئے کرے گا اسے آخرت میں کوئی حصہ نہ ملے گا پھر فرمایا ہے کہ یہ مشرکین دین اللہ کی تو پیروی کرتے نہیں بلکہ جن شیاطین اور انسانوں کو انہوں نے اپنا بڑا سمجھ رکھا ہے یہ جو احکام انہیں بتاتے ہیں انہی احکام کے مجموعے کو دین سمجھتے ہیں۔ حلال و حرام کا تعین اپنے ان بڑوں کے کہنے پر کرتے ہیں انہی کے ایجاد کردہ عبادات کے طریقے استعمال کر رہے ہیں اسی طرح مال کے احکام بھی ازخود تراشیدہ ہیں جنہیں شرعی سمجھ بیٹھے ہیں چناچہ جاہلیت میں بعض جانوروں کو انہوں نے از خود حرام کرلیا تھا مثلا وہ جانور جس کا کان چیر کر اپنے معبودان باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور داغ دے کر سانڈ چھوڑ دیتے تھے اور مادہ بچے کو حمل کی صورت میں ہی ان کے نام کردیتے تھے جس اونٹ سے دس بچے حاصل کرلیں اسے ان کے نام چھوڑ دیتے تھے پھر انہیں ان کی تعظیم کے خیال سے اپنے اوپر حرام سمجھتے تھے۔ اور بعض چیزوں کو حلال کرلیا تھا جیسے مردار، خون اور جوا۔ صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں میں نے عمرو بن لحی بن قمعہ کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا یہی وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے غیر اللہ کے نام پر جانوروں کا چھوڑنا بتایا یہ شخص خزاعہ کے بادشاہوں میں سے ایک تھا اسی نے سب سے پہلے ان کاموں کی ایجاد کی تھی۔ جو جاہلیت کے کام عربوں میں مروج تھے۔ اسی نے قریشیوں کو بت پرستی میں ڈال دیا اللہ اس پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے۔ فرماتا ہے کہ اگر میری یہ بات پہلے سے میرے ہاں طے شدہ نہ ہوتی کہ میں گنہگاروں کو قیامت کے آنے تک ڈھیل دوں گا تو میں آج ہی ان کفار کو اپنے عذاب میں جکڑ لیتا اب انہیں قیامت کے دن جہنم کے المناک اور بڑے سخت عذاب ہوں گے میدان قیامت میں تم دیکھو گے کہ یہ ظالم لوگ اپنے کرتوتوں سے لرزاں و ترساں ہوں گے۔ مارے خوف کے تھرا رہے ہوں گے لیکن آج کوئی چیز نہ ہوگی جو انہیں بچا سکے۔ آج تو یہ اعمال کا مزہ چکھ کر ہی رہیں گے ان کے بالکل برعکس ایماندار نیکو کار لوگوں کا حال ہوگا کہ وہ امن چین سے جنتوں کے باغات میں مزے کر رہے ہوں گے ان کی ذلت و رسوائی ڈر خوف ان کی عزت بڑائی امن چین کا خیال کرلو وہ طرح طرح کی مصیبتوں تکلیفوں میں ہوں گے یہ طرح طرح کی راحتوں اور لذتوں میں ہوں گے۔ عمدہ بہترین غذائیں، بہترین لباس، مکانات، بہترین بیویاں اور بہترین سازو سامان انہیں ملے ہوئے ہوں گے جن کا دیکھنا سننا تو کہاں ؟ کسی انسان کے ذہن اور تصور میں بھی یہ چیزیں نہیں آسکتیں۔ حضرت ابو طیبہ ؒ فرماتے ہیں جنتیوں کے سروں پر ابر آئے گا اور انہیں ندا ہوگی کہ بتاؤ کس چیز کی بارش چاہتے ہو ؟ پس جو لوگ جس چیز کی بارش چاہیں گے وہی چیز ان پر اس بادل سے برسے گی یہاں تک کہ کہیں گے ہم پر ابھرے ہوئے سینے والی ہم عمر عورتیں برسائی جائیں چناچہ وہی برسیں گی۔ اسی لئے فرمایا کہ فضل کبیر یعنی زبردست کامیابی کامل نعمت یہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ لُطْفِهِ بِخَلْقِهِ فِي رِزْقِهِ إِيَّاهُمْ عَنْ آخِرِهِمْ، لَا يَنْسَى أَحَدًا مِنْهُمْ، سَوَاءٌ فِي رِزْقِهِ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الأرْضِ إِلا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ﴾ [هُودٍ:٦] وَلَهَا [[في ت: "ولهذا".]] نَظَائِرُ كَثِيرَةٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ﴾ أَيْ: يُوَسِّعُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ، ﴿وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ﴾ أَيْ: لَا يعجزه شيء.
ثُمَّ قَالَ: ﴿مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الآخِرَةِ﴾ أَيْ: عَمَلَ الْآخِرَةِ ﴿نزدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ﴾ أَيْ: نُقَوِّيهِ وَنُعِينُهُ عَلَى مَا هُوَ بِصَدَدِهِ، وَنُكْثِرُ نَمَاءَهُ، وَنَجْزِيهِ بِالْحَسَنَةِ عَشْرَ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ، إِلَى مَا يَشَاءُ اللَّهُ ﴿وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ﴾ أَيْ: وَمَنْ كَانَ إِنَّمَا سَعْيُهُ لِيَحْصُلَ لَهُ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا، وَلَيْسَ لَهُ إِلَى الْآخِرَةِ همَّة [[في ت: "وهم".]] أَلْبَتَّةَ بِالْكُلِّيَّةِ، حَرَمه اللَّهُ الْآخِرَةَ وَالدُّنْيَا إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ مِنْهَا، وَإِنْ لَمْ يَشَأْ لَمْ يَحْصُلْ [[في أ: "يجعل".]] لَهُ لَا هَذِهِ وَلَا هَذِهِ، وَفَازَ هَذَا السَّاعِي بِهَذِهِ النِّيَّةِ بِالصَّفْقَةِ الْخَاسِرَةِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.
وَالدَّلِيلُ عَلَى هَذَا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ هَاهُنَا مُقَيَّدَةٌ بِالْآيَةِ الَّتِي فِي "سُبْحَانَ" وَهِيَ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا وَمَنْ أَرَادَ الآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا كُلا نُمِدُّ هَؤُلاءِ وَهَؤُلاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا انْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَلَلآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ:١٨-٢١] .
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُغيرة، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من ت.]] قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "بَشِّرْ هَذِهِ الْأُمَّةَ بالسَّنَاء وَالرِّفْعَةِ، وَالنَّصْرِ وَالتَّمْكِينِ فِي الْأَرْضِ، فَمِنْ عَمِلَ مِنْهُمْ عَمَلَ الْآخِرَةِ لِلدُّنْيَا، لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ" [[رواه البغوي في شرح السنة (١٤/٣٣٥) من طريق الثوري به.]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ﴾ أَيْ: هُمْ لَا يَتَّبِعُونَ مَا شَرَعَ اللَّهُ لَكَ مِنَ الدِّينِ الْقَوِيمِ، بَلْ يَتَّبِعُونَ مَا شَرَعَ لَهُمْ شَيَاطِينُهُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، مِنْ تَحْرِيمِ مَا حَرَّمُوا عَلَيْهِمْ، مِنَ الْبَحِيرَةِ وَالسَّائِبَةِ وَالْوَصِيلَةِ وَالْحَامِ، وَتَحْلِيلِ الْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَالْقِمَارِ، إِلَى نَحْوِ ذَلِكَ مِنَ الضَّلَالَاتِ وَالْجَهَالَةِ [[في أ: "الجهالات".]] الْبَاطِلَةِ، الَّتِي كَانُوا قَدِ اخْتَرَعُوهَا فِي جَاهِلِيَّتِهِمْ، مِنَ التَّحْلِيلِ وَالتَّحْرِيمِ، وَالْعِبَادَاتِ الْبَاطِلَةِ، وَالْأَقْوَالِ الْفَاسِدَةِ.
وَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيّ بْنِ قَمَعَة يَجُر قُصْبَه فِي النَّارِ" [[انظر تخريج هذا الحديث عند تفسير الآية: ١٠٣ من سورة المائدة.]] لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ. وَكَانَ هَذَا الرَّجُلُ أَحَدَ مُلُوكِ خُزَاعَةَ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ فَعَلَ هَذِهِ الْأَشْيَاءَ، وَهُوَ الَّذِي حَمَل قُرَيْشًا عَلَى عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ، لَعَنَهُ اللَّهُ وَقَبَّحَهُ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَوْلا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ﴾ أَيْ: لَعُوجِلُوا بِالْعُقُوبَةِ، لَوْلَا مَا تَقَدَّمَ مِنَ الْإِنْظَارِ إِلَى يَوْمِ الْمَعَادِ، ﴿وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ أَيْ: شَدِيدٌ مُوجِعٌ [[في ت، أ: "وجيع".]] فِي جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿تَرَى الظَّالِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا كَسَبُوا﴾ أَيْ: فِي عَرَصَاتِ الْقِيَامَةِ، ﴿وَهُوَ وَاقِعٌ بِهِمْ﴾ أَيِ: الَّذِي يَخَافُونَ مِنْهُ وَاقِعٌ بِهِمْ لَا مَحَالَةَ، هَذَا حَالُهُمْ يَوْمَ مَعَادِهِمْ، وَهُمْ فِي هَذَا الْخَوْفِ وَالْوَجَلِ، ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ﴾ فَأَيْنَ هَذَا مِنْ هذا: أَيْنَ مَنْ هُوَ فِي العَرَصَات فِي الذُّلِّ وَالْهَوَانِ وَالْخَوْفِ الْمُحَقَّقِ عَلَيْهِ بِظُلْمِهِ، مِمَّنْ هُوَ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ، فِيمَا يَشَاءُ مِنْ مَآكِلَ وَمُشَارِبَ وَمَلَابِسَ وَمَسَاكِنَ وَمَنَاظِرَ وَمَنَاكِحَ وَمَلَاذَّ، فِيمَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ.
قَالَ: الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَبَّارُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ [[في ت: "روى الحسن بن عرفة بسنده".]] عَنْ أَبِي طَيْبَة، قَالَ: إِنَّ الشَّرْب مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَتُظِلُّهُمُ السَّحَابَةُ فَتَقُولُ: مَا أمْطِرُكُم. قَالَ: فَمَا يَدْعُو دَاعٍ مِنَ [[في أ: "في".]] الْقَوْمِ بِشَيْءٍ إِلَّا أَمْطَرَتْهُمْ، حَتَّى إِنَّ الْقَائِلَ مِنْهُمْ لَيَقُولُ: أَمْطِرِينَا كَوَاعِبَ أَتْرَابًا.
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَرَفَةَ، بِهِ.
وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ﴾ أَيِ: الْفَوْزُ الْعَظِيمُ، وَالنِّعْمَةُ التَّامَّةُ السابغة الشاملة العامة.
أَمْ لَهُمْ شُرَكَٰٓؤُا۟ شَرَعُوا۟ لَهُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنۢ بِهِ ٱللَّهُ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةُ ٱلْفَصْلِ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ ۗ وَإِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ
Or have they other deities who have ordained for them a religion to which Allah has not consented? But if not for the decisive word, it would have been concluded between them. And indeed, the wrongdoers will have a painful punishment.
کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا خدا نے حکم نہیں دیا۔ اور اگر فیصلے (کے دن) کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے
آیا معبودانی دارند که بیاذن خداوند آیینی برای آنها ساختهاند؟! اگر مهلت معیّنی برای آنها نبود، در میانشان داوری میشد (و دستور عذاب صادر میگشت) و برای ظالمان عذاب دردناکی است!
Tafsir Ibn Kathir
Allah is very Gracious and Kind to His servants. He gives provisions to whom He wills. And He is the All-Strong, the Almighty (19)Whosoever desires the reward of the Hereafter, We give him increase in his reward, and whosoever desires the reward of this world, We give him thereof, and he has no portion in the Hereafter (20)Or have they partners with Allah who have instituted for them a religion which Allah has not ordained? And had it not been for a decisive Word, the matter would have been judged between them. And verily, for the wrongdoers there is a painful torment (21)You will see the wrongdoers fearful of that which they have earned, and it will surely befall them. But those who believe and do righteous deeds (will be) in the flowering meadows of the Gardens. They shall have whatsoever they desire with their Lord. That is the supreme grace (22)
The Provision of Allah in this World and the Hereafter
Here Allah speaks of His kindness towards His creation, in that He provides for every last one of them and does not forget anyone. When it comes to His provision, the righteous and the sinner are alike. Allah says:
وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
(And no moving creature is there on the earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit. All is in a Clear Book.)(11:6) And there are many similar Ayat.
يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ
(He gives provisions to whom He wills.) means, He gives generously to whomsoever He wills.
وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ
(And He is the All-Strong, the Almighty.) means, there is nothing that can overpower Him. Then Allah says:
مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ
(Whosoever desires the reward of the Hereafter,) means, whoever does things for the sake of the Hereafter,
نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ
(We give him increase in his reward,) meaning, 'We will give him strength and help him to do what he wants to do, and We will increase it for him. So for every good, We will multiply it and give him between ten and seven hundred good rewards,' as much as Allah wills.
وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ
(and whosoever desires the reward of this world, We give him thereof, and he has no portion in the Hereafter.) means, whoever strives for the purpose of worldly gains, and never pays any heed to the Hereafter at all, Allah will deny him the Hereafter; and in this world, if He wills He will give to him and if He does not will, he will gain neither. So the one who strives with this intention in mind will have the worst deal in this world and in the Hereafter. The evidence for that is the fact that this Ayah is reinforced by the passage in Subhan (i.e., Surat Al-Isra') in which Allah says:
مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا - وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا - كُلًّا نُمِدُّ هَٰؤُلَاءِ وَهَٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا - انْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا
(Whoever desires the quick-passing, We readily grant him what We will for whom We like. Then, afterwards, We have appointed for him Hell; he will (enter) burn therein disgraced and rejected. And whoever desires the Hereafter and strives for it, with the necessary effort due for it while he is a believer – then such are the ones whose striving shall be appreciated. On each – these as well as those – We bestow from the bounties of your Lord. And the bounties of your Lord can never be forbidden. See how We prefer one above another (in this world), and verily, the Hereafter will be greater in degrees and greater in preferment.)(17:18-21)
It was reported that Ubayy bin Ka'b, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
بَشِّرْ هٰذِهِ الْأُمَّةَ بِالسَّنَاءِ وَالرِّفْعَةِ وَالنَّصْرِ وَالتَّمْكِينِ فِي الْأَرْضِ، فَمَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ عَمَلَ الْآخِرَةِ لِلدُّنْيَا، لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الْاخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ
(Give the glad tidings to this Ummah of sublimity, high status, victory and power in the land. But whoever among them does the deeds of the Hereafter for the sake of worldly gain, will have no portion of the Hereafter.)"
Making Legislation for the Creatures is Shirk
Allah says:
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ ۚ
(Or have they partners with Allah who have instituted for them a religion which Allah has not ordained?) means, they do not follow what Allah has ordained for you of upright religion; on the contrary, they follow what their devils (Shayatin), of men and Jinn, have prescribed for them. They instituted taboos, such as the Bahirah, Sa'ibah, Wasilah or Ham.
They also permitted eating flesh and blood of animals not slaughtered for consumption, gambling and other kinds of misguidance, ignorance and falsehood. These are things that they invented during Jahiliyyah, when they came up with all kinds of false rulings on what was permitted and what was forbidden, and false rites of worship and other corrupt ideas. It was recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ said:
رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيِّ بْنِ قَمَعَةَ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ
(I saw 'Amr bin Luhayy bin Qama'ah dragging his intestines in Hell) – because he had been the first one to introduce the idea of the Sa'ibah. This man was one of the kings of the Khuza'ah tribe, and he was the first one to do these things. He was the one who had made the Quraysh worship idols, may the curse of Allah be upon him. Allah said:
وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۗ
(And had it not been for a decisive Word, the matter would have been judged between them.) means, the punishment would have been hastened for them, were it not for the fact that it had already been decreed that it would be delayed until the Day of Resurrection.
وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(And verily, for the wrongdoers there is a painful torment.) i.e., an agonizing torment in Hell, what a terrible destination.
The Terror of the Idolators in the Place of Gathering
تَرَى الظَّالِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا كَسَبُوا
(You will see the wrongdoers fearful of that which they have earned,) means, in the arena of Resurrection.
وَهُوَ وَاقِعٌ بِهِمْ
(and it will surely befall them.) means, the thing that they fear will undoubtedly happen to them. This is how they will be on the Day of Resurrection; they will be in a state of utter fear and terror.
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ ۖ لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ
(But those who believe and do righteous deeds (will be) in the flowering meadows of the Gardens. They shall have whatsoever they desire with their Lord.)
What comparison can there be between the former and the latter? How can the one who will be in the arena of resurrection in a state of humiliation and fear, deserving it for his wrongdoing, be compared with the one who will be in the gardens of Paradise, enjoying whatever he wants of food, drink, clothing, dwellings, scenery, spouses and other delights such as no eye has seen, no ear has heard, and has never crossed the minds of men. Allah says:
ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ
(That is the supreme grace.) means, the ultimate victory and complete blessing.
Tafsir Ibn Kathir
غفورو رحیم اللہ اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ایک کو دوسرے کے ہاتھ سے روزی پہنچا رہا ہے ایک بھی نہیں جسے اللہ بھول جائے نیک بد ہر ایک اس کے ہاں کا وظیفہ خوار ہے جیسے فرمایا (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) ، زمین پر چلنے والے تمام جانداروں کی روزیوں کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے وہ ہر ایک کے رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے اور سب کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہوا بھی ہے وہ جس کے لئے چاہتا ہے کشادہ روزی مقرر کرتا ہے وہ طاقتور غالب ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی پھر فرماتا ہے جو آخرت کے اعمال کی طرف توجہ کرتا ہے ہم خود اس کی مدد کرتے ہیں اسے قوت طاقت دیتے ہیں اس کی نیکیاں بڑھاتے رہتے ہیں کسی نیکی کو دس گنی کردیتے ہیں کسی کو سات سو گنا کسی کو اس سے بھی زیادہ الغرض آخرت کی چاہت جس دل میں ہوتی ہے اس شخص کو نیک اعمال کی توفیق اللہ کی طرف سے عطا فرمائی جاتی ہے۔ اور جس کی تمام کوشش دنیا حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہیں آخرت کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوتی تو وہ دونوں جہاں سے محروم رہتا ہے دنیا کا ملنا اللہ کے ارادے پر موقوف ہے ممکن ہے وہ ہزاروں جتن کرلے اور دنیا سے بھی محروم رہ جائے دوسری آیت میں اس مضمون کو مقید بیان کیا گیا ہے۔ فرمان ہے (مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا 18) 17۔ الإسراء :18) ، یعنی جو شخص دنیا کا ہوگا ایسے لوگوں میں سے ہم جسے چاہیں اور جتنا چاہیں دے دیں گے پھر اس کے لئے جہنم تجویز کریں گے جس میں وہ بدحال اور راندہ درگاہ ہو کر داخل ہوگا اور جو آخرت کی طلب کرے گا اور اس کے لئے جو کوشش کرنی چاہیے کرے گا اور وہ باایمان بھی ہوگا۔ تو ناممکن ہے کہ اس کی کوشش کی قدر دانی نہ کی جائے۔ دنیوی بخشش و عطا تو عام ہے۔ اس سے ہم ان سب کی امداد کیا کرتے ہیں اور تیرے رب کی یہ دنیوی عطا کسی پر پسند نہیں، خود دیکھ لو کہ ہم نے ایک کو دوسرے پر کس طرح فوقیت دے رکھی ہے یقین مان لو کہ درجوں کے اعتبار سے بھی اور فضیلت کی حیثیت سے بھی آخرت بہت بڑی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اس امت کو برتری اور بلندی کی نصرت اور سلطنت کی خوشخبری ہو ان میں سے جو شخص دینی عمل دنیا کے لئے کرے گا اسے آخرت میں کوئی حصہ نہ ملے گا پھر فرمایا ہے کہ یہ مشرکین دین اللہ کی تو پیروی کرتے نہیں بلکہ جن شیاطین اور انسانوں کو انہوں نے اپنا بڑا سمجھ رکھا ہے یہ جو احکام انہیں بتاتے ہیں انہی احکام کے مجموعے کو دین سمجھتے ہیں۔ حلال و حرام کا تعین اپنے ان بڑوں کے کہنے پر کرتے ہیں انہی کے ایجاد کردہ عبادات کے طریقے استعمال کر رہے ہیں اسی طرح مال کے احکام بھی ازخود تراشیدہ ہیں جنہیں شرعی سمجھ بیٹھے ہیں چناچہ جاہلیت میں بعض جانوروں کو انہوں نے از خود حرام کرلیا تھا مثلا وہ جانور جس کا کان چیر کر اپنے معبودان باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور داغ دے کر سانڈ چھوڑ دیتے تھے اور مادہ بچے کو حمل کی صورت میں ہی ان کے نام کردیتے تھے جس اونٹ سے دس بچے حاصل کرلیں اسے ان کے نام چھوڑ دیتے تھے پھر انہیں ان کی تعظیم کے خیال سے اپنے اوپر حرام سمجھتے تھے۔ اور بعض چیزوں کو حلال کرلیا تھا جیسے مردار، خون اور جوا۔ صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں میں نے عمرو بن لحی بن قمعہ کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا یہی وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے غیر اللہ کے نام پر جانوروں کا چھوڑنا بتایا یہ شخص خزاعہ کے بادشاہوں میں سے ایک تھا اسی نے سب سے پہلے ان کاموں کی ایجاد کی تھی۔ جو جاہلیت کے کام عربوں میں مروج تھے۔ اسی نے قریشیوں کو بت پرستی میں ڈال دیا اللہ اس پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے۔ فرماتا ہے کہ اگر میری یہ بات پہلے سے میرے ہاں طے شدہ نہ ہوتی کہ میں گنہگاروں کو قیامت کے آنے تک ڈھیل دوں گا تو میں آج ہی ان کفار کو اپنے عذاب میں جکڑ لیتا اب انہیں قیامت کے دن جہنم کے المناک اور بڑے سخت عذاب ہوں گے میدان قیامت میں تم دیکھو گے کہ یہ ظالم لوگ اپنے کرتوتوں سے لرزاں و ترساں ہوں گے۔ مارے خوف کے تھرا رہے ہوں گے لیکن آج کوئی چیز نہ ہوگی جو انہیں بچا سکے۔ آج تو یہ اعمال کا مزہ چکھ کر ہی رہیں گے ان کے بالکل برعکس ایماندار نیکو کار لوگوں کا حال ہوگا کہ وہ امن چین سے جنتوں کے باغات میں مزے کر رہے ہوں گے ان کی ذلت و رسوائی ڈر خوف ان کی عزت بڑائی امن چین کا خیال کرلو وہ طرح طرح کی مصیبتوں تکلیفوں میں ہوں گے یہ طرح طرح کی راحتوں اور لذتوں میں ہوں گے۔ عمدہ بہترین غذائیں، بہترین لباس، مکانات، بہترین بیویاں اور بہترین سازو سامان انہیں ملے ہوئے ہوں گے جن کا دیکھنا سننا تو کہاں ؟ کسی انسان کے ذہن اور تصور میں بھی یہ چیزیں نہیں آسکتیں۔ حضرت ابو طیبہ ؒ فرماتے ہیں جنتیوں کے سروں پر ابر آئے گا اور انہیں ندا ہوگی کہ بتاؤ کس چیز کی بارش چاہتے ہو ؟ پس جو لوگ جس چیز کی بارش چاہیں گے وہی چیز ان پر اس بادل سے برسے گی یہاں تک کہ کہیں گے ہم پر ابھرے ہوئے سینے والی ہم عمر عورتیں برسائی جائیں چناچہ وہی برسیں گی۔ اسی لئے فرمایا کہ فضل کبیر یعنی زبردست کامیابی کامل نعمت یہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ لُطْفِهِ بِخَلْقِهِ فِي رِزْقِهِ إِيَّاهُمْ عَنْ آخِرِهِمْ، لَا يَنْسَى أَحَدًا مِنْهُمْ، سَوَاءٌ فِي رِزْقِهِ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الأرْضِ إِلا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ﴾ [هُودٍ:٦] وَلَهَا [[في ت: "ولهذا".]] نَظَائِرُ كَثِيرَةٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ﴾ أَيْ: يُوَسِّعُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ، ﴿وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ﴾ أَيْ: لَا يعجزه شيء.
ثُمَّ قَالَ: ﴿مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الآخِرَةِ﴾ أَيْ: عَمَلَ الْآخِرَةِ ﴿نزدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ﴾ أَيْ: نُقَوِّيهِ وَنُعِينُهُ عَلَى مَا هُوَ بِصَدَدِهِ، وَنُكْثِرُ نَمَاءَهُ، وَنَجْزِيهِ بِالْحَسَنَةِ عَشْرَ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ، إِلَى مَا يَشَاءُ اللَّهُ ﴿وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ﴾ أَيْ: وَمَنْ كَانَ إِنَّمَا سَعْيُهُ لِيَحْصُلَ لَهُ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا، وَلَيْسَ لَهُ إِلَى الْآخِرَةِ همَّة [[في ت: "وهم".]] أَلْبَتَّةَ بِالْكُلِّيَّةِ، حَرَمه اللَّهُ الْآخِرَةَ وَالدُّنْيَا إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ مِنْهَا، وَإِنْ لَمْ يَشَأْ لَمْ يَحْصُلْ [[في أ: "يجعل".]] لَهُ لَا هَذِهِ وَلَا هَذِهِ، وَفَازَ هَذَا السَّاعِي بِهَذِهِ النِّيَّةِ بِالصَّفْقَةِ الْخَاسِرَةِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.
وَالدَّلِيلُ عَلَى هَذَا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ هَاهُنَا مُقَيَّدَةٌ بِالْآيَةِ الَّتِي فِي "سُبْحَانَ" وَهِيَ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا وَمَنْ أَرَادَ الآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا كُلا نُمِدُّ هَؤُلاءِ وَهَؤُلاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا انْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَلَلآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ:١٨-٢١] .
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُغيرة، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من ت.]] قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "بَشِّرْ هَذِهِ الْأُمَّةَ بالسَّنَاء وَالرِّفْعَةِ، وَالنَّصْرِ وَالتَّمْكِينِ فِي الْأَرْضِ، فَمِنْ عَمِلَ مِنْهُمْ عَمَلَ الْآخِرَةِ لِلدُّنْيَا، لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ" [[رواه البغوي في شرح السنة (١٤/٣٣٥) من طريق الثوري به.]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ﴾ أَيْ: هُمْ لَا يَتَّبِعُونَ مَا شَرَعَ اللَّهُ لَكَ مِنَ الدِّينِ الْقَوِيمِ، بَلْ يَتَّبِعُونَ مَا شَرَعَ لَهُمْ شَيَاطِينُهُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، مِنْ تَحْرِيمِ مَا حَرَّمُوا عَلَيْهِمْ، مِنَ الْبَحِيرَةِ وَالسَّائِبَةِ وَالْوَصِيلَةِ وَالْحَامِ، وَتَحْلِيلِ الْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَالْقِمَارِ، إِلَى نَحْوِ ذَلِكَ مِنَ الضَّلَالَاتِ وَالْجَهَالَةِ [[في أ: "الجهالات".]] الْبَاطِلَةِ، الَّتِي كَانُوا قَدِ اخْتَرَعُوهَا فِي جَاهِلِيَّتِهِمْ، مِنَ التَّحْلِيلِ وَالتَّحْرِيمِ، وَالْعِبَادَاتِ الْبَاطِلَةِ، وَالْأَقْوَالِ الْفَاسِدَةِ.
وَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيّ بْنِ قَمَعَة يَجُر قُصْبَه فِي النَّارِ" [[انظر تخريج هذا الحديث عند تفسير الآية: ١٠٣ من سورة المائدة.]] لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ. وَكَانَ هَذَا الرَّجُلُ أَحَدَ مُلُوكِ خُزَاعَةَ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ فَعَلَ هَذِهِ الْأَشْيَاءَ، وَهُوَ الَّذِي حَمَل قُرَيْشًا عَلَى عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ، لَعَنَهُ اللَّهُ وَقَبَّحَهُ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَوْلا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ﴾ أَيْ: لَعُوجِلُوا بِالْعُقُوبَةِ، لَوْلَا مَا تَقَدَّمَ مِنَ الْإِنْظَارِ إِلَى يَوْمِ الْمَعَادِ، ﴿وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ أَيْ: شَدِيدٌ مُوجِعٌ [[في ت، أ: "وجيع".]] فِي جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿تَرَى الظَّالِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا كَسَبُوا﴾ أَيْ: فِي عَرَصَاتِ الْقِيَامَةِ، ﴿وَهُوَ وَاقِعٌ بِهِمْ﴾ أَيِ: الَّذِي يَخَافُونَ مِنْهُ وَاقِعٌ بِهِمْ لَا مَحَالَةَ، هَذَا حَالُهُمْ يَوْمَ مَعَادِهِمْ، وَهُمْ فِي هَذَا الْخَوْفِ وَالْوَجَلِ، ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ﴾ فَأَيْنَ هَذَا مِنْ هذا: أَيْنَ مَنْ هُوَ فِي العَرَصَات فِي الذُّلِّ وَالْهَوَانِ وَالْخَوْفِ الْمُحَقَّقِ عَلَيْهِ بِظُلْمِهِ، مِمَّنْ هُوَ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ، فِيمَا يَشَاءُ مِنْ مَآكِلَ وَمُشَارِبَ وَمَلَابِسَ وَمَسَاكِنَ وَمَنَاظِرَ وَمَنَاكِحَ وَمَلَاذَّ، فِيمَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ.
قَالَ: الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَبَّارُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ [[في ت: "روى الحسن بن عرفة بسنده".]] عَنْ أَبِي طَيْبَة، قَالَ: إِنَّ الشَّرْب مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَتُظِلُّهُمُ السَّحَابَةُ فَتَقُولُ: مَا أمْطِرُكُم. قَالَ: فَمَا يَدْعُو دَاعٍ مِنَ [[في أ: "في".]] الْقَوْمِ بِشَيْءٍ إِلَّا أَمْطَرَتْهُمْ، حَتَّى إِنَّ الْقَائِلَ مِنْهُمْ لَيَقُولُ: أَمْطِرِينَا كَوَاعِبَ أَتْرَابًا.
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَرَفَةَ، بِهِ.
وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ﴾ أَيِ: الْفَوْزُ الْعَظِيمُ، وَالنِّعْمَةُ التَّامَّةُ السابغة الشاملة العامة.
تَرَى ٱلظَّٰلِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا كَسَبُوا۟ وَهُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ ۗ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فِى رَوْضَاتِ ٱلْجَنَّاتِ ۖ لَهُم مَّا يَشَآءُونَ عِندَ رَبِّهِمْ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَضْلُ ٱلْكَبِيرُ
You will see the wrongdoers fearful of what they have earned, and it will [certainly] befall them. And those who have believed and done righteous deeds will be in lush regions of the gardens [in Paradise] having whatever they will in the presence of their Lord. That is what is the great bounty.
تم دیکھو گے کہ ظالم اپنے اعمال (کے وبال) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر پڑے گا۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے۔ وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لیے ان کے پروردگار کے پاس (موجود) ہوگا۔ یہی بڑا فضل ہے
(در آن روز) ستمگران را میبینی که از اعمالی که انجام دادهاند سخت بیمناکند، ولی آنها را فرامیگیرد! امّا کسانی که ایمان آورده و کارهای شایسته انجام دادهاند در باغهای بهشتند و هر چه بخواهند نزد پروردگارشان برای آنها فراهم است؛ این است فضل (و بخشش) بزرگ!
Tafsir Ibn Kathir
Allah is very Gracious and Kind to His servants. He gives provisions to whom He wills. And He is the All-Strong, the Almighty (19)Whosoever desires the reward of the Hereafter, We give him increase in his reward, and whosoever desires the reward of this world, We give him thereof, and he has no portion in the Hereafter (20)Or have they partners with Allah who have instituted for them a religion which Allah has not ordained? And had it not been for a decisive Word, the matter would have been judged between them. And verily, for the wrongdoers there is a painful torment (21)You will see the wrongdoers fearful of that which they have earned, and it will surely befall them. But those who believe and do righteous deeds (will be) in the flowering meadows of the Gardens. They shall have whatsoever they desire with their Lord. That is the supreme grace (22)
The Provision of Allah in this World and the Hereafter
Here Allah speaks of His kindness towards His creation, in that He provides for every last one of them and does not forget anyone. When it comes to His provision, the righteous and the sinner are alike. Allah says:
وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
(And no moving creature is there on the earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit. All is in a Clear Book.)(11:6) And there are many similar Ayat.
يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ
(He gives provisions to whom He wills.) means, He gives generously to whomsoever He wills.
وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ
(And He is the All-Strong, the Almighty.) means, there is nothing that can overpower Him. Then Allah says:
مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ
(Whosoever desires the reward of the Hereafter,) means, whoever does things for the sake of the Hereafter,
نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ
(We give him increase in his reward,) meaning, 'We will give him strength and help him to do what he wants to do, and We will increase it for him. So for every good, We will multiply it and give him between ten and seven hundred good rewards,' as much as Allah wills.
وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ
(and whosoever desires the reward of this world, We give him thereof, and he has no portion in the Hereafter.) means, whoever strives for the purpose of worldly gains, and never pays any heed to the Hereafter at all, Allah will deny him the Hereafter; and in this world, if He wills He will give to him and if He does not will, he will gain neither. So the one who strives with this intention in mind will have the worst deal in this world and in the Hereafter. The evidence for that is the fact that this Ayah is reinforced by the passage in Subhan (i.e., Surat Al-Isra') in which Allah says:
مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا - وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا - كُلًّا نُمِدُّ هَٰؤُلَاءِ وَهَٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا - انْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا
(Whoever desires the quick-passing, We readily grant him what We will for whom We like. Then, afterwards, We have appointed for him Hell; he will (enter) burn therein disgraced and rejected. And whoever desires the Hereafter and strives for it, with the necessary effort due for it while he is a believer – then such are the ones whose striving shall be appreciated. On each – these as well as those – We bestow from the bounties of your Lord. And the bounties of your Lord can never be forbidden. See how We prefer one above another (in this world), and verily, the Hereafter will be greater in degrees and greater in preferment.)(17:18-21)
It was reported that Ubayy bin Ka'b, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
بَشِّرْ هٰذِهِ الْأُمَّةَ بِالسَّنَاءِ وَالرِّفْعَةِ وَالنَّصْرِ وَالتَّمْكِينِ فِي الْأَرْضِ، فَمَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ عَمَلَ الْآخِرَةِ لِلدُّنْيَا، لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الْاخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ
(Give the glad tidings to this Ummah of sublimity, high status, victory and power in the land. But whoever among them does the deeds of the Hereafter for the sake of worldly gain, will have no portion of the Hereafter.)"
Making Legislation for the Creatures is Shirk
Allah says:
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ ۚ
(Or have they partners with Allah who have instituted for them a religion which Allah has not ordained?) means, they do not follow what Allah has ordained for you of upright religion; on the contrary, they follow what their devils (Shayatin), of men and Jinn, have prescribed for them. They instituted taboos, such as the Bahirah, Sa'ibah, Wasilah or Ham.
They also permitted eating flesh and blood of animals not slaughtered for consumption, gambling and other kinds of misguidance, ignorance and falsehood. These are things that they invented during Jahiliyyah, when they came up with all kinds of false rulings on what was permitted and what was forbidden, and false rites of worship and other corrupt ideas. It was recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ said:
رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيِّ بْنِ قَمَعَةَ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ
(I saw 'Amr bin Luhayy bin Qama'ah dragging his intestines in Hell) – because he had been the first one to introduce the idea of the Sa'ibah. This man was one of the kings of the Khuza'ah tribe, and he was the first one to do these things. He was the one who had made the Quraysh worship idols, may the curse of Allah be upon him. Allah said:
وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۗ
(And had it not been for a decisive Word, the matter would have been judged between them.) means, the punishment would have been hastened for them, were it not for the fact that it had already been decreed that it would be delayed until the Day of Resurrection.
وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(And verily, for the wrongdoers there is a painful torment.) i.e., an agonizing torment in Hell, what a terrible destination.
The Terror of the Idolators in the Place of Gathering
تَرَى الظَّالِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا كَسَبُوا
(You will see the wrongdoers fearful of that which they have earned,) means, in the arena of Resurrection.
وَهُوَ وَاقِعٌ بِهِمْ
(and it will surely befall them.) means, the thing that they fear will undoubtedly happen to them. This is how they will be on the Day of Resurrection; they will be in a state of utter fear and terror.
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ ۖ لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ
(But those who believe and do righteous deeds (will be) in the flowering meadows of the Gardens. They shall have whatsoever they desire with their Lord.)
What comparison can there be between the former and the latter? How can the one who will be in the arena of resurrection in a state of humiliation and fear, deserving it for his wrongdoing, be compared with the one who will be in the gardens of Paradise, enjoying whatever he wants of food, drink, clothing, dwellings, scenery, spouses and other delights such as no eye has seen, no ear has heard, and has never crossed the minds of men. Allah says:
ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ
(That is the supreme grace.) means, the ultimate victory and complete blessing.
Tafsir Ibn Kathir
غفورو رحیم اللہ اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ایک کو دوسرے کے ہاتھ سے روزی پہنچا رہا ہے ایک بھی نہیں جسے اللہ بھول جائے نیک بد ہر ایک اس کے ہاں کا وظیفہ خوار ہے جیسے فرمایا (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) ، زمین پر چلنے والے تمام جانداروں کی روزیوں کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے وہ ہر ایک کے رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے اور سب کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہوا بھی ہے وہ جس کے لئے چاہتا ہے کشادہ روزی مقرر کرتا ہے وہ طاقتور غالب ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی پھر فرماتا ہے جو آخرت کے اعمال کی طرف توجہ کرتا ہے ہم خود اس کی مدد کرتے ہیں اسے قوت طاقت دیتے ہیں اس کی نیکیاں بڑھاتے رہتے ہیں کسی نیکی کو دس گنی کردیتے ہیں کسی کو سات سو گنا کسی کو اس سے بھی زیادہ الغرض آخرت کی چاہت جس دل میں ہوتی ہے اس شخص کو نیک اعمال کی توفیق اللہ کی طرف سے عطا فرمائی جاتی ہے۔ اور جس کی تمام کوشش دنیا حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہیں آخرت کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوتی تو وہ دونوں جہاں سے محروم رہتا ہے دنیا کا ملنا اللہ کے ارادے پر موقوف ہے ممکن ہے وہ ہزاروں جتن کرلے اور دنیا سے بھی محروم رہ جائے دوسری آیت میں اس مضمون کو مقید بیان کیا گیا ہے۔ فرمان ہے (مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا 18) 17۔ الإسراء :18) ، یعنی جو شخص دنیا کا ہوگا ایسے لوگوں میں سے ہم جسے چاہیں اور جتنا چاہیں دے دیں گے پھر اس کے لئے جہنم تجویز کریں گے جس میں وہ بدحال اور راندہ درگاہ ہو کر داخل ہوگا اور جو آخرت کی طلب کرے گا اور اس کے لئے جو کوشش کرنی چاہیے کرے گا اور وہ باایمان بھی ہوگا۔ تو ناممکن ہے کہ اس کی کوشش کی قدر دانی نہ کی جائے۔ دنیوی بخشش و عطا تو عام ہے۔ اس سے ہم ان سب کی امداد کیا کرتے ہیں اور تیرے رب کی یہ دنیوی عطا کسی پر پسند نہیں، خود دیکھ لو کہ ہم نے ایک کو دوسرے پر کس طرح فوقیت دے رکھی ہے یقین مان لو کہ درجوں کے اعتبار سے بھی اور فضیلت کی حیثیت سے بھی آخرت بہت بڑی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اس امت کو برتری اور بلندی کی نصرت اور سلطنت کی خوشخبری ہو ان میں سے جو شخص دینی عمل دنیا کے لئے کرے گا اسے آخرت میں کوئی حصہ نہ ملے گا پھر فرمایا ہے کہ یہ مشرکین دین اللہ کی تو پیروی کرتے نہیں بلکہ جن شیاطین اور انسانوں کو انہوں نے اپنا بڑا سمجھ رکھا ہے یہ جو احکام انہیں بتاتے ہیں انہی احکام کے مجموعے کو دین سمجھتے ہیں۔ حلال و حرام کا تعین اپنے ان بڑوں کے کہنے پر کرتے ہیں انہی کے ایجاد کردہ عبادات کے طریقے استعمال کر رہے ہیں اسی طرح مال کے احکام بھی ازخود تراشیدہ ہیں جنہیں شرعی سمجھ بیٹھے ہیں چناچہ جاہلیت میں بعض جانوروں کو انہوں نے از خود حرام کرلیا تھا مثلا وہ جانور جس کا کان چیر کر اپنے معبودان باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور داغ دے کر سانڈ چھوڑ دیتے تھے اور مادہ بچے کو حمل کی صورت میں ہی ان کے نام کردیتے تھے جس اونٹ سے دس بچے حاصل کرلیں اسے ان کے نام چھوڑ دیتے تھے پھر انہیں ان کی تعظیم کے خیال سے اپنے اوپر حرام سمجھتے تھے۔ اور بعض چیزوں کو حلال کرلیا تھا جیسے مردار، خون اور جوا۔ صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں میں نے عمرو بن لحی بن قمعہ کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا یہی وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے غیر اللہ کے نام پر جانوروں کا چھوڑنا بتایا یہ شخص خزاعہ کے بادشاہوں میں سے ایک تھا اسی نے سب سے پہلے ان کاموں کی ایجاد کی تھی۔ جو جاہلیت کے کام عربوں میں مروج تھے۔ اسی نے قریشیوں کو بت پرستی میں ڈال دیا اللہ اس پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے۔ فرماتا ہے کہ اگر میری یہ بات پہلے سے میرے ہاں طے شدہ نہ ہوتی کہ میں گنہگاروں کو قیامت کے آنے تک ڈھیل دوں گا تو میں آج ہی ان کفار کو اپنے عذاب میں جکڑ لیتا اب انہیں قیامت کے دن جہنم کے المناک اور بڑے سخت عذاب ہوں گے میدان قیامت میں تم دیکھو گے کہ یہ ظالم لوگ اپنے کرتوتوں سے لرزاں و ترساں ہوں گے۔ مارے خوف کے تھرا رہے ہوں گے لیکن آج کوئی چیز نہ ہوگی جو انہیں بچا سکے۔ آج تو یہ اعمال کا مزہ چکھ کر ہی رہیں گے ان کے بالکل برعکس ایماندار نیکو کار لوگوں کا حال ہوگا کہ وہ امن چین سے جنتوں کے باغات میں مزے کر رہے ہوں گے ان کی ذلت و رسوائی ڈر خوف ان کی عزت بڑائی امن چین کا خیال کرلو وہ طرح طرح کی مصیبتوں تکلیفوں میں ہوں گے یہ طرح طرح کی راحتوں اور لذتوں میں ہوں گے۔ عمدہ بہترین غذائیں، بہترین لباس، مکانات، بہترین بیویاں اور بہترین سازو سامان انہیں ملے ہوئے ہوں گے جن کا دیکھنا سننا تو کہاں ؟ کسی انسان کے ذہن اور تصور میں بھی یہ چیزیں نہیں آسکتیں۔ حضرت ابو طیبہ ؒ فرماتے ہیں جنتیوں کے سروں پر ابر آئے گا اور انہیں ندا ہوگی کہ بتاؤ کس چیز کی بارش چاہتے ہو ؟ پس جو لوگ جس چیز کی بارش چاہیں گے وہی چیز ان پر اس بادل سے برسے گی یہاں تک کہ کہیں گے ہم پر ابھرے ہوئے سینے والی ہم عمر عورتیں برسائی جائیں چناچہ وہی برسیں گی۔ اسی لئے فرمایا کہ فضل کبیر یعنی زبردست کامیابی کامل نعمت یہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ لُطْفِهِ بِخَلْقِهِ فِي رِزْقِهِ إِيَّاهُمْ عَنْ آخِرِهِمْ، لَا يَنْسَى أَحَدًا مِنْهُمْ، سَوَاءٌ فِي رِزْقِهِ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الأرْضِ إِلا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ﴾ [هُودٍ:٦] وَلَهَا [[في ت: "ولهذا".]] نَظَائِرُ كَثِيرَةٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ﴾ أَيْ: يُوَسِّعُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ، ﴿وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ﴾ أَيْ: لَا يعجزه شيء.
ثُمَّ قَالَ: ﴿مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الآخِرَةِ﴾ أَيْ: عَمَلَ الْآخِرَةِ ﴿نزدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ﴾ أَيْ: نُقَوِّيهِ وَنُعِينُهُ عَلَى مَا هُوَ بِصَدَدِهِ، وَنُكْثِرُ نَمَاءَهُ، وَنَجْزِيهِ بِالْحَسَنَةِ عَشْرَ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ، إِلَى مَا يَشَاءُ اللَّهُ ﴿وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ﴾ أَيْ: وَمَنْ كَانَ إِنَّمَا سَعْيُهُ لِيَحْصُلَ لَهُ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا، وَلَيْسَ لَهُ إِلَى الْآخِرَةِ همَّة [[في ت: "وهم".]] أَلْبَتَّةَ بِالْكُلِّيَّةِ، حَرَمه اللَّهُ الْآخِرَةَ وَالدُّنْيَا إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ مِنْهَا، وَإِنْ لَمْ يَشَأْ لَمْ يَحْصُلْ [[في أ: "يجعل".]] لَهُ لَا هَذِهِ وَلَا هَذِهِ، وَفَازَ هَذَا السَّاعِي بِهَذِهِ النِّيَّةِ بِالصَّفْقَةِ الْخَاسِرَةِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.
وَالدَّلِيلُ عَلَى هَذَا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ هَاهُنَا مُقَيَّدَةٌ بِالْآيَةِ الَّتِي فِي "سُبْحَانَ" وَهِيَ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا وَمَنْ أَرَادَ الآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا كُلا نُمِدُّ هَؤُلاءِ وَهَؤُلاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا انْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَلَلآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ:١٨-٢١] .
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُغيرة، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من ت.]] قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "بَشِّرْ هَذِهِ الْأُمَّةَ بالسَّنَاء وَالرِّفْعَةِ، وَالنَّصْرِ وَالتَّمْكِينِ فِي الْأَرْضِ، فَمِنْ عَمِلَ مِنْهُمْ عَمَلَ الْآخِرَةِ لِلدُّنْيَا، لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ" [[رواه البغوي في شرح السنة (١٤/٣٣٥) من طريق الثوري به.]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ﴾ أَيْ: هُمْ لَا يَتَّبِعُونَ مَا شَرَعَ اللَّهُ لَكَ مِنَ الدِّينِ الْقَوِيمِ، بَلْ يَتَّبِعُونَ مَا شَرَعَ لَهُمْ شَيَاطِينُهُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، مِنْ تَحْرِيمِ مَا حَرَّمُوا عَلَيْهِمْ، مِنَ الْبَحِيرَةِ وَالسَّائِبَةِ وَالْوَصِيلَةِ وَالْحَامِ، وَتَحْلِيلِ الْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَالْقِمَارِ، إِلَى نَحْوِ ذَلِكَ مِنَ الضَّلَالَاتِ وَالْجَهَالَةِ [[في أ: "الجهالات".]] الْبَاطِلَةِ، الَّتِي كَانُوا قَدِ اخْتَرَعُوهَا فِي جَاهِلِيَّتِهِمْ، مِنَ التَّحْلِيلِ وَالتَّحْرِيمِ، وَالْعِبَادَاتِ الْبَاطِلَةِ، وَالْأَقْوَالِ الْفَاسِدَةِ.
وَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيّ بْنِ قَمَعَة يَجُر قُصْبَه فِي النَّارِ" [[انظر تخريج هذا الحديث عند تفسير الآية: ١٠٣ من سورة المائدة.]] لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ. وَكَانَ هَذَا الرَّجُلُ أَحَدَ مُلُوكِ خُزَاعَةَ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ فَعَلَ هَذِهِ الْأَشْيَاءَ، وَهُوَ الَّذِي حَمَل قُرَيْشًا عَلَى عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ، لَعَنَهُ اللَّهُ وَقَبَّحَهُ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَوْلا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ﴾ أَيْ: لَعُوجِلُوا بِالْعُقُوبَةِ، لَوْلَا مَا تَقَدَّمَ مِنَ الْإِنْظَارِ إِلَى يَوْمِ الْمَعَادِ، ﴿وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ أَيْ: شَدِيدٌ مُوجِعٌ [[في ت، أ: "وجيع".]] فِي جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿تَرَى الظَّالِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا كَسَبُوا﴾ أَيْ: فِي عَرَصَاتِ الْقِيَامَةِ، ﴿وَهُوَ وَاقِعٌ بِهِمْ﴾ أَيِ: الَّذِي يَخَافُونَ مِنْهُ وَاقِعٌ بِهِمْ لَا مَحَالَةَ، هَذَا حَالُهُمْ يَوْمَ مَعَادِهِمْ، وَهُمْ فِي هَذَا الْخَوْفِ وَالْوَجَلِ، ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ﴾ فَأَيْنَ هَذَا مِنْ هذا: أَيْنَ مَنْ هُوَ فِي العَرَصَات فِي الذُّلِّ وَالْهَوَانِ وَالْخَوْفِ الْمُحَقَّقِ عَلَيْهِ بِظُلْمِهِ، مِمَّنْ هُوَ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ، فِيمَا يَشَاءُ مِنْ مَآكِلَ وَمُشَارِبَ وَمَلَابِسَ وَمَسَاكِنَ وَمَنَاظِرَ وَمَنَاكِحَ وَمَلَاذَّ، فِيمَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ.
قَالَ: الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَبَّارُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ [[في ت: "روى الحسن بن عرفة بسنده".]] عَنْ أَبِي طَيْبَة، قَالَ: إِنَّ الشَّرْب مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَتُظِلُّهُمُ السَّحَابَةُ فَتَقُولُ: مَا أمْطِرُكُم. قَالَ: فَمَا يَدْعُو دَاعٍ مِنَ [[في أ: "في".]] الْقَوْمِ بِشَيْءٍ إِلَّا أَمْطَرَتْهُمْ، حَتَّى إِنَّ الْقَائِلَ مِنْهُمْ لَيَقُولُ: أَمْطِرِينَا كَوَاعِبَ أَتْرَابًا.
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَرَفَةَ، بِهِ.
وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ﴾ أَيِ: الْفَوْزُ الْعَظِيمُ، وَالنِّعْمَةُ التَّامَّةُ السابغة الشاملة العامة.
ذَٰلِكَ ٱلَّذِى يُبَشِّرُ ٱللَّهُ عِبَادَهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ ۗ قُل لَّآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا ٱلْمَوَدَّةَ فِى ٱلْقُرْبَىٰ ۗ وَمَن يَقْتَرِفْ حَسَنَةًۭ نَّزِدْ لَهُۥ فِيهَا حُسْنًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ شَكُورٌ
It is that of which Allah gives good tidings to His servants who believe and do righteous deeds. Say, [O Muhammad], "I do not ask you for this message any payment [but] only good will through kinship." And whoever commits a good deed - We will increase for him good therein. Indeed, Allah is Forgiving and Appreciative.
یہی وہ (انعام ہے) جس کی خدا اپنے ان بندوں کو جو ایمان لاتے اور عمل نیک کرتے ہیں بشارت دیتا ہے۔ کہہ دو کہ میں اس کا تم سے صلہ نہیں مانگتا مگر (تم کو) قرابت کی محبت (تو چاہیئے) اور جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس میں ثواب بڑھائیں گے۔ بےشک خدا بخشنے والا قدردان ہے
این همان چیزی است که خداوند بندگانش را که ایمان آورده و اعمال صالح انجام دادهاند به آن نوید میدهد! بگو: «من هیچ پاداشی از شما بر رسالتم درخواست نمیکنم جز دوستداشتن نزدیکانم [= اهل بیتم]؛ و هر کس کار نیکی انجام دهد، بر نیکیاش میافزاییم؛ چرا که خداوند آمرزنده و سپاسگزار است.
Tafsir Ibn Kathir
That is whereof Allah gives glad tidings to His servants who believe and do righteous good deeds. Say: "No reward do I ask of you for this except to be kind to me for my kinship with you." And whoever earns a good righteous deed, We shall give him an increase of good in respect thereof. Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Ready to appreciate (23)Or say they: "He has invented a lie against Allah?" If Allah willed, He could have sealed up your heart. And Allah wipes out falsehood, and establishes the truth by His Word. Verily, He knows well what are in the breasts (24)
Good News of the Blessings of Paradise for the People of Faith
Having mentioned the gardens of Paradise, Allah then says to His servants who believe and do righteous deeds:
ذَٰلِكَ الَّذِي يُبَشِّرُ اللَّهُ عِبَادَهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۗ
(That is whereof Allah gives glad tidings to His servants who believe and do righteous good deeds.) meaning, this will undoubtedly come to them, because it is glad tidings from Allah to them.
قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ ۗ
(Say: "No reward do I ask of you for this except to be kind to me for my kinship with you.") means, 'say, O Muhammad, to these idolators among the disbeliever of Quraysh: I do not ask you for anything in return for this message and sincere advice which I bring to you. All I ask of you is that you withhold your evil from me and let me convey the Messages of my Lord. If you will not help me, then do not disturb me, for the sake of the ties of kinship that exist between you and I.' Al-Bukhari recorded that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, was asked about the Ayah:
إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ
(except to be kind to me for my kinship with you.) Sa'id bin Jubayr said, "To be kind to the family of Muhammad." Ibn 'Abbas said, "No, you have jumped to a hasty conclusion. There was no clan among Quraysh to whom the Prophet ﷺ did not have some ties of kinship." Ibn 'Abbas said, "Except that you uphold the ties of kinship that exist between me and you." This was recorded by Al-Bukhari. It was also recorded by Imam Ahmad with a different chain of narration.
وَمَنْ يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا ۚ
(And whoever earns a good righteous deed, We shall give him an increase of good in respect thereof) means, 'whoever does a good deed, We will increase him in good for it, i.e., in reward.' This is like the Ayah:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا
(Surely, Allah wrongs not even of the weight of a speck of dust, but if there is any good, He doubles it, and gives from Him a great reward.)(4:40)
إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ شَكُورٌ
(Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Ready to appreciate.) means, He forgives many bad deeds and increases a small amount of good deeds; He conceals and forgives sins and He multiplies and increases the reward of good deeds.
The Accusation that the Prophet ﷺ fabricated the Qur'an - and the Response to that
Allah's saying;
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا ۖ فَإِنْ يَشَإِ اللَّهُ يَخْتِمْ عَلَىٰ قَلْبِكَ ۗ
(Or say they: "He has invented a lie against Allah?" If Allah willed, He could have sealed up your heart.) means, 'if you had invented any lies against Him, as these ignorant people claim,'
يَخْتِمْ عَلَىٰ قَلْبِكَ
(He could have sealed up your heart.) means, 'and thus caused you to forget what had already come to you of the Qur'an.' This is like the Ayah:
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ - لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ - ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ - فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ
(And if he had forged a false saying concerning Us (Allah), We surely would have seized him by his right hand, and then We certainly would have cut off his life artery, And none of you could have withheld Us from (punishing) him.)(69:44-47) which means, 'We would have wrought the utmost vengeance upon him, and no one among mankind would have been able to protect him.' And Allah said:
وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ
(and establishes the truth by His Word.) means, He establishes it and strengthens it and makes it clear by His Words, i.e., by His evidence and signs.
إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(Verily, He knows well what are in the breasts.) means, all that is hidden in the hearts of men.
Tafsir Ibn Kathir
رسول اللہ سے قرابت داری کی فضیلت اوپر کی آیتوں میں جنت کی نعمتوں کا ذکر کر کے بیان فرما رہا ہے کہ ایمان دار نیک کار بندوں کو اس کی بشارت ہو پھر اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ قریش کے مشرکین سے کہہ دو کہ اس تبلیغ پر اور اس تمہاری خیر خواہی پر میں تم سے کچھ طلب تو نہیں کر رہا۔ تمہاری بھلائی تو ایک طرف رہی تم اگر اپنی برائی سے ہی ٹل جاؤ اور مجھے رب کی رسالت پہنچانے دو اور قرابت داری کے رشتے کو سامنے رکھ کر میری ایذاء رسانی سے ہی رک جاؤ تو یہی بہت ہے صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی گئی تو حضرت سعید بن جبیر ؒ نے کہا اس سے مراد قرابت آل محمد ﷺ ہے یہ سن کر آپ نے فرمایا تم نے عجلت سے کام لیا سنو قریش کے جس قدر قبیلے تھے سب کے ساتھ حضور کی رشتہ داری تھی تو مطلب یہی کہ تم اس رشتے داری کا لحاظ رکھو جو مجھ میں اور تم میں ہے حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ، حضرت قتادہ، حضرت سدی، حضرت ابو مالک، حضرت عبد الرحمن وغیرہ بھی اس آیت کی یہی تفسیر کرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں جو دلیلیں دی ہیں جس ہدایت کا راستہ بتایا ہے اس پر کوئی اجر تم سے نہیں چاہتا سوائے اس کے کہ تم اللہ کو چاہنے لگو اور اس کی اطاعت کی وجہ سے اس سے قرب اور نزدیکی حاصل کرلو حضرت حسن بصری سے بھی یہی تفسیر منقول ہے تو یہ دوسرا قول ہوا پہلا قول حضور ﷺ کا اپنی رشتے داری کو یاد دلانا دوسرا قول آپ کی یہ طلب کہ لوگ اللہ کی نزدیکی حاصل کرلیں تیسرا قول جو حضرت سعید بن جبیر کی روایت سے گزرا کہ تم میری قرابت کے ساتھ احسان اور نیکی کرو۔ ابو الدیلم کا بیان ہے کہ جب حضرت علی بن حسین کو قید کر کے لایا گیا اور دمشق کے بالا خانے میں رکھا گیا تو ایک شامی نے کہا اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہیں قتل کرایا اور تمہارا ناس کرا دیا اور فتنہ کی ترقی کو روک دیا یہ سن کر آپ نے فرمایا کیا تو نے قرآن بھی پڑھا ہے اس نے کہا کیوں نہیں ؟ فرمایا اس میں (حم) والی سورتیں بھی پڑھی ہیں ؟ اس نے کہا واہ سارا قرآن پڑھ لیا اور (حم) والی سورتیں نہیں پڑھیں ؟ آپ نے فرمایا پھر کیا ان میں اس آیت کی تلاوت تو نے نہیں کی ؟ آیت (قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى ۭ وَمَنْ يَّــقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ 23) 42۔ الشوری :23) یعنی میں تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا مگر محبت قرابت کی۔ اس نے کہا پھر کیا تم وہ ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! حضرت عمرو بن شعیب سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا مراد قرابت رسول ﷺ ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ انصار نے اپنی خدمات اسلام گنوائیں گویا فخر کے طور پر۔ اس پر ابن عباس یا حضرت عباس نے فرمایا ہم تم سے افضل ہیں جب یہ خبر حضور ﷺ کو ملی تو آپ ان کی مجلس میں آئے اور فرمایا انصاریو کیا تم ذلت کی حالت میں نہ تھے ؟ پھر اللہ نے تمہیں میری وجہ سے عزت بخشی ! انہوں نے کہا بیشک آپ سچے ہیں۔ فرمایا کیا تم گمراہ نہ تھے ؟ پھر اللہ نے تمہیں میری وجہ سے ہدایت کی ؟ انہوں نے کہا ہاں بیشک آپ نے سچ فرمایا پھر آپ نے فرمایا اب تم مجھے کیوں نہیں کہتے ؟ انہوں نے کہا کیا کہیں ؟ فرمایا کیوں نہیں کہتے ؟ کہ کیا تیری قوم نے تجھے نکال نہیں دیا تھا ؟ اس وقت ہم نے تجھے پناہ دی کیا انہوں نے تجھے جھٹلایا نہ تھا ؟ اس وقت ہم نے تیری تصدیق کی ؟ کیا انہوں نے تجھے پست کرنا نہیں چاہا تھا اس وقت ہم نے تیری مدد کی ؟ اس طرح کی آپ نے اور بھی بہت سی باتیں کیں یہاں تک کہ انصار اپنے گھٹنوں پر جھک پڑے اور انہوں نے کہا حضور ﷺ ہماری اولاد اور جو کچھ ہمارے پاس ہے سب اللہ کا اور سب اس کے رسول کے لئے ہے۔ پھر یہ آیت (قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى ۭ وَمَنْ يَّــقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ 23) 42۔ الشوری :23) نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں بھی اسی کے قریب ضعیف سند سے مروی ہے بخاری و مسلم میں یہ حدیث ہے اس میں ہے کہ یہ واقعہ حنین کی غنیمت کی تقسیم کے وقت پیش آیا تھا اور اس میں آیت کے اترنے کا ذکر بھی نہیں اور اس آیت کو مدینے میں نازل شدہ ماننے میں بھی قدرے تامل ہے اس لئے کہ یہ سورت مکی ہے پھر جو واقعہ حدیث میں مذکور ہے اس واقعہ میں اور اس آیت میں کچھ ایسی زیادہ ظاہر مناسبت بھی نہیں ایک روایت میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں جن کی محبت رکھنے کا ہمیں حکم باری ہوا ہے آپ نے فرمایا حضرت فاطمہ اور ان کی اولاد ؓ۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے اور اس کا راوی مبہم ہے جو معروف نہیں پھر اس کا استاد ایک شیعہ ہے جو بالکل ثقاہت سے گرا ہوا ہے اس کا نام حسین اشغر ہے اس جیسی حدیث بھلا اس کی روایت سے کیسے مان لی جائے گی ؟ پھر مدینے میں آیت نازل ہونا ہی مستعد ہے حق یہ ہے کہ آیت مکی ہے اور مکہ شریف میں حضرت فاطمہ کا عقد ہی نہ ہوا تھا اولاد کیسی ؟ آپ کا عقد تو صرف حضرت علی کے ساتھ جنگ بدر کے بعد سنہ002ھ میں ہوا۔ پس صحیح تفسیر اس کی وہی ہے جو حبر المہ ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباس نے کی ہے جو بحوالہ بخاری پہلے گذر چکی ہم اہل بیت کے ساتھ خیرخواہی کرنے کے منکر نہیں ہے ہم مانتے ہیں کہ ان کے ساتھ احسان و سلوک اور ان کا اکرام و احترام ضروری چیز ہے روئے زمین پر ان سے زیادہ پاک اور صاف ستھرا گھرانا اور نہیں حسب و نسب میں اور فخر و مباہات میں بلا شک یہ سب سے اعلیٰ ہیں۔ بالخصوص ان میں سے وہ جو متبع سنت نبی ہوں جیسے کہ اسلاف کی روش تھی یعنی حضرت عباس اور آل عباس کی اور حضرت علی اور آل علی کی ؓ اجمعین۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا ہے میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کتاب اللہ اور میری عزت اور یہ دونوں جدا نہ ہوں گے جب تک کہ حوض پر میرے پاس نہ آئیں مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عباد بن عبدالملک نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ قریشی جب آپس میں ملتے ہیں تو بڑی خندہ پیشانی سے ملتے ہیں۔ لیکن ہم سے اس ہنسی خوشی کے ساتھ نہیں ملتے۔ یہ سن کر آپ بہت رنجیدہ ہوئے اور فرمانے لگے اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کسی کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اللہ کے لئے اور اس کے رسول کی وجہ سے تم سے محبت نہ رکھے اور روایت میں ہے کہ حضرت عباس نے کہا قریشی باتیں کرتے ہوتے ہیں ہمیں دیکھ کر چپ ہوجاتے ہیں اسے سن کر مارے غصے کے آپ کی پیشانی پر بل پڑگئے اور فرمایا واللہ کسی مسلمان کے دل میں ایمان جاگزیں نہیں ہوگا جب تک کہ وہ تم سے اللہ کے لئے اور میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہ رکھے صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر نے فرمایا لوگو حضور ﷺ کا لحاظ حضور ﷺ کے اہل بیت میں رکھو ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے حضرت علی سے فرمایا اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ کے قرابت داروں سے سلوک کرنا مجھے اپنے قرابت داروں کے سلوک سے بھی پیارا ہے حضرت عمر فاروق نے حضرت عباس سے فرمایا واللہ تمہارا اسلام لانا مجھے اپنے والد خطاب کے اسلام لانے سے بھی زیادہ اچھا لگا اس لئے کہ تمہارا اسلام حضور ﷺ کو خطاب کے اسلام سے زیادہ محبوب تھا۔ پس اسلام کے ان دو چمکتے ستاروں کا مسلمانوں کے ان دونوں سیدوں کا جو معاملہ آل رسول ﷺ اوراقربا پیغمبر کے ساتھ تھا وہی عزت و محبت کا معاملہ مسلمانوں کو آپ کے اہل بیت اور قرابت داروں سے رکھنا چاہیے۔ کیونکہ نبیوں اور رسولوں کے بعد تمام دنیا سے افضل یہی دونوں بزرگ خلیفہ رسول تھے پس مسلمانوں کو ان کی پیروی کر کے حضور ﷺ کے اہل بیت اور کنبے قبیلے کے ساتھ جس عقیدت سے پیش آنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں خلیفہ سے اہل بیت سے اور حضور ﷺ کے کل صحابہ سے خوش ہوجائے اور سب کو اپنی رضا مندی میں لے لے آمین۔ صحیح مسلم وغیرہ میں حدیث ہے کہ یزید بن حیان اور حصین بن میسرہ اور عمر بن مسلم حضرت زید بن ارقم کے پاس گئے حضرت حصین نے کہا اے حضرت آپ کو تو بڑی بڑی خیر و برکت مل گئی آپ نے اللہ کے نبی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا آپ نے اللہ کے پیغمبر ﷺ کی باتیں اپنے کانوں سے سنیں آپ کے ساتھ جہاد کیے آپ کے ساتھ نمازیں پڑھیں حق تو یہ ہے کہ بڑی بڑی فضیلتیں آپ نے سمیٹ لیں اچھا اب کوئی حدیث ہمیں بھی بتائیے۔ اس پر حضرت زید نے فرمایا میرے بھتیجے سنو میری عمر اب بڑی ہوگئی حضور ﷺ کی رحلت کو عرصہ گذر چکا بعض چیزیں ذہن میں محفوظ نہیں رہیں اب تو یہی رکھو کہ جو از خود سنا دوں اسے مان لیا کرو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو کہ تکلف سے بیان کرنا پڑے پھر آپ نے فرمایا کہ مکہ اور مدینے کے درمیان پانی کی جگہ کے پاس جسے خم کہا جاتا تھا کھڑے ہو کر اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں ایک خطبہ سنایا اللہ کی حمد وثنا کی وعظ و پند کیا پھر فرمایا لوگو میں ایک انسان ہوں کیا عجب کہ ابھی ابھی میرے پاس قاصد اللہ پہنچ جائے اور میں اس کی مان لوں سنو میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک تو کتاب اللہ جس میں نور و ہدایت ہے تم اللہ کی کتاب کو مضبوط تھام لو اور اس کو مضبوطی سے تھامے رہو پس اس کی بڑی رغبت دلائی اور بہت کچھ تاکید کی پھر فرمایا اے میرے اہل بیت میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں یہ سن کر حصین نے حضرت زید سے پوچھا اے زید آپ کے اہل بیت کون ہیں ؟ کیا آپ کی بیویاں اہل بیت میں داخل نہیں ؟ فرمایا بیشک آپ کی بیویاں وہ ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ حرام ہے پوچھا وہ کون ہیں ؟ فرمایا آل علی، آل عقیل، آل جعفر، آل عباس ؓ پوچھا کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے ؟ فرمایا ہاں ! ترمذی شریف میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوط تھامے رہے تو بہکو گے نہیں ایک دوسری سے زیادہ عظمت والی ہے کتاب اللہ جو اللہ کی طرف سے ایک لٹکائی ہوئی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک آئی ہے اور دوسری چیز میری عترت میرے اہل بیت ہے اور یہ دونوں جدا نہ ہوں گی یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر آئیں۔ پس دیکھ لو کہ میرے بعد کس طرح ان میں میری جانشینی کرتے ہو ؟ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے اور صرف ترمذی میں ہے یہ روایت ہے حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت سے ترمذی میں ہے کہ عرفے والے دن رسول اللہ ﷺ نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر جسے قصوا کہا جاتا تھا خطبہ دیا جس میں فرمایا لوگو میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے تھامے رہے تو ہرگز گمراہ نہیں ہو گے کتاب اللہ اور میری عترت اہل بیت۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو مدنظر رکھ کر تم لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھو اور اللہ کی محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت رکھو اور میری محبت کی وجہ سے میری اہل بیت سے محبت رکھو یہ حدیث اور اوپر کی حدیث حسن غریب ہے اس مضمون کی اور احادیث ہم نے آیت (اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا 33ۚ) 33۔ الأحزاب :33) کی تفسیر میں وارد کردی ہیں یہاں ان کے دہرانے کی ضرورت نہیں فالحمد اللہ۔ ایک ضعیف حدیث مسند ابو یعلی میں ہے کہ حضرت ابوذر نے بیت اللہ کے دروازے کا کنڈا تھامے ہوئے فرمایا لوگو جو مجھے جانتے ہیں وہ تو جانتے ہی ہیں جو نہیں پہچانتے وہ اب پہچان کرلیں کہ میرا نام ابوذر ہے سنو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ تم میں میرے اہل بیت کی مثال مثل نوح ؑ کی کشتی کے ہے اس میں جو چلا گیا اس نے نجات پالی اور جو اس میں داخل نہ ہوا ہلاک ہوا پھر فرماتا ہے جو نیک عمل کرے ہم اس کا ثواب اور بڑھا دیتے ہیں جیسے ایک اور آیت میں فرمایا اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر ظلم نہیں کرتا اگر نیکی ہو تو اور بڑھا دیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے بعض سلف کا قول ہے کہ نیکی کا ثواب اس کے بعد نیکی ہے اور برائی کا بدلہ اس کے بعد برائی ہے پھر فرمان ہوا کہ اللہ گناہوں کو بخشنے والا ہے اور نیکیوں کی قدر دانی کرنے والا ہے انہیں بڑھا چڑھا کردیتا ہے پھر فرماتا ہے کہ یہ جاہل کفار جو کہتے ہیں کہ یہ قرآن تو نے گھڑ لیا ہے اور اللہ کے نام لگا دیا ہے ایسا نہیں اگر ایسا ہوتا تو اللہ تیرے دل پر مہر لگا دیتا اور تجھے کچھ بھی یاد نہ رہتا جیسے فرمان ہے آیت (وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ 44 ۙ) 69۔ الحاقة :44) اگر یہ رسول ہمارے ذمے کچھ باتیں لگا دیتے تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ کر ان کے دل کی رگ کاٹ ڈالتے اور تم میں سے کوئی انہیں اس سزا سے نہ بچا سکتا۔ یعنی یہ اگر ہمارے کلام میں کچھ بھی زیادتی کرتے تو ایسا انتقام لیتے کہ دنیا کی کوئی ہستی اسے نہ بچا سکتی اس کے بعد کا جملہ آیت (ویمح اللہ) الخ، (یختم) پر معطوف نہیں بلکہ یہ مبتدا ہے اور مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ آیت (یختم) پر عطف نہیں جو مجزوم ہو۔ واؤ کا کتابت میں نہ آنا یہ صرف امام کے رسم خط کی موافقت کی وجہ سے ہے جیسے آیت (سَـنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ 18ۙ) 96۔ العلق :18) میں واؤ لکھنے میں نہیں آئی۔ اور آیت (وَيَدْعُ الْاِنْسَان بالشَّرِّ دُعَاۗءَهٗ بالْخَيْرِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا 11) 17۔ الإسراء :11) میں واؤ نہیں لکھی گئی ہاں اس کے بعد کے جملے آیت (اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ ۙ) 8۔ الانفال :7) کا عطف آیت (وَيَمْــحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ ۭ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ 24) 42۔ الشوری :24) ، پر ہے یعنی اللہ تعالیٰ حق کو واضح اور مبین کردیتا ہے اپنے کلمات سے یعنی دلائل بیان فرما کر حجت پیش کر کے وہ خوب دانا بینا ہے دلوں کے راز سینوں کے بھید اس پر کھلے ہوئے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى لَمَّا ذَكَرَ رَوْضَاتِ الْجَنَّةِ، لِعِبَادِهِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ: ﴿ذَلِكَ الَّذِي يُبَشِّرُ اللَّهُ عِبَادَهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ أَيْ: هَذَا حَاصِلٌ لَهُمْ كَائِنٌ لَا مَحَالَةَ، بِبِشَارَةِ اللَّهِ لَهُمْ بِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾ أَيْ: قُلْ يَا مُحَمَّدُ لِهَؤُلَاءِ الْمُشْرِكِينَ مِنْ كُفَّارِ قُرَيْشٍ: لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَى هَذَا الْبَلَاغِ وَالنُّصْحِ لَكُمْ مَا لَا تُعْطُونِيهِ، وَإِنَّمَا أَطْلُبُ مِنْكُمْ أَنْ تَكُفُّوا شَرَّكُمْ عَنِّي وَتَذَرُونِي أُبَلِّغُ رِسَالَاتِ [[في ت، م، أ: "رسالة".]] رَبِّي، إِنْ لَمْ تَنْصُرُونِي فَلَا تُؤْذُونِي بِمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ.
قَالَ الْبُخَارِيُّ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا [[في ت: "روى البخاري بسنده".]] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: عَجِلْتَ إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ، فَقَالَ: إِلَّا أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ. انْفَرَدَ بِهِ الْبُخَارِيُّ [[صحيح البخاري برقم (٤٨١٨) والمسند (١/٢٢٩) .]] .
وَرَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، عَنْ شُعْبَةَ بِهِ. وَهَكَذَا رَوَى عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ، وَالضَّحَّاكُ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، والعَوْفي، وَيُوسُفُ بْنُ مِهْران وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَهُ. وَبِهِ قَالَ مُجَاهِدٌ، وَعِكْرِمَةُ، وَقَتَادَةُ، وَالسُّدِّيُّ، وَأَبُو مَالِكٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَغَيْرُهُمْ.
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ [[في ت: "وروى الطبراني".]] حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ يَزِيدَ الطَّبَرَانِيُّ وَجَعْفَرٌ الْقَلَانِسِيُّ قَالَا حدثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٍ، عَنْ خُصَيف، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا أَنْ تَوَدّوني فِي نَفْسِي لِقَرَابَتِي مِنْكُمْ، وَتَحْفَظُوا الْقَرَابَةَ الَّتِي بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ" [[المعجم الكبير (١١/٤٣٥) .]] .
وَرَوَى الْإِمَامُ أَحْمَدُ، عَنْ حَسَنِ بْنِ مُوسَى: حَدَّثَنَا قَزَعَة يَعْنِي ابْنَ سُوَيد -وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ-عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَزَعة بْنِ سُوَيْدٍ-عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: "لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَى مَا آتَيْتُكُمْ مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى أَجْرًا، إِلَّا أَنْ تُوَادوا اللَّهَ، وَأَنْ تَقَرَّبُوا إِلَيْهِ بِطَاعَتِهِ" [[المسند (١/٢٦٨) .]] .
وَهَكَذَا رَوَى قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، مِثْلَهُ.
وَهَذَا كَأَنَّهُ تَفْسِيرٌ بِقَوْلٍ ثَانٍ، كَأَنَّهُ يَقُولُ: ﴿إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾ أَيْ: إِلَّا أَنْ تَعْمَلُوا بِالطَّاعَةِ الَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَ اللَّهِ زُلْفَى.
وَقَوْلٌ ثَالِثٌ: وَهُوَ مَا حَكَاهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ، رِوَايَةً عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، مَا مَعْنَاهُ أَنَّهُ قَالَ: مَعْنَى ذَلِكَ أَنْ تَوَدُّونِي فِي قَرَابَتِي، أَيْ: تُحْسِنُوا إِلَيْهِمْ وَتَبَرُّوهُمْ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ، عَنْ أَبِي الدَّيْلَمِ قَالَ: لَمَّا جِيءَ بِعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَسِيرًا، فَأُقِيمَ عَلَى دَرَجِ دِمَشْقَ، قَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي قَتَلَكُمْ وَاسْتَأْصَلَكُمْ، وَقَطَعَ قَرْنَيِ الْفِتْنَةِ. فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ: أَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: أَقَرَأْتَ آلَ حم؟ قَالَ: قَرَأْتُ الْقُرْآنَ، وَلَمْ أَقْرَأْ آلَ حم. قَالَ: مَا قَرَأْتَ: ﴿قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾ ؟ قَالَ: وَإِنَّكُمْ أَنْتُمْ [[في ت، أ: "لأنتم".]] هُمْ؟ قَالَ: نَعَمْ.
وَقَالَ: أَبُو إِسْحَاقَ السَّبِيعيّ: سَأَلْتُ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾ فَقَالَ: قُرْبَى النَّبِيِّ ﷺ. رَوَاهُمَا ابْنُ جَرِيرٍ [[تفسير الطبري (٢٥/١٧) .]] .
ثُمَّ قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، حَدَّثَنِي يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَتِ الْأَنْصَارُ: فَعَلْنَا وَفَعَلْنَا، وَكَأَنَّهُمْ فَخَرُوا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ -أَوِ: الْعَبَّاسُ، شَكَّ عَبْدُ السَّلَامِ-: لَنَا الْفَضْلُ عَلَيْكُمْ. فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَأَتَاهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ فَقَالَ: "يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَمْ تَكُونُوا أَذِلَّةً فَأَعَزَّكُمُ اللَّهُ بِي؟ " قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: أَلَمْ تَكُونُوا ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللَّهُ بِي؟ " قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "أَفَلَا تُجِيبُونِي؟ " قَالُوا: مَا نَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "أَلَا تَقُولُونَ: أَلَمْ يخرجك قومك فآويناك؟ أو لم يكذبوك فصدقناك؟ أو لم يَخْذُلُوكَ فَنَصَرْنَاكَ"؟ قَالَ: فَمَا زَالَ يَقُولُ حَتَّى جَثَوْا عَلَى الرُّكَبِ، وَقَالُوا: أَمْوَالُنَا وَمَا فِي أَيْدِينَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ. قَالَ: فَنَزَلَتْ: ﴿قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾ [[تفسير الطبري (٢٥/١٦) .]] .
وَهَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ عَلِيٍّ، عن عبد السلام، عن يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ -وَهُوَ ضَعِيفٌ-بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ.
وَفِي الصَّحِيحَيْنِ -فِي قَسْمِ غَنَائِمِ حُنَيْنٍ-قَرِيبٌ مِنْ هَذَا السِّيَاقِ، وَلَكِنْ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَةِ. وذكْرُ نُزُولِهَا فِي الْمَدِينَةِ فِيهِ نَظَرٌ؛ لِأَنَّ السُّورَةَ مَكِّيَّةٌ، وَلَيْسَ يَظْهَرُ بَيْنَ هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ وَبَيْنَ السِّيَاقِ مُنَاسَبَةٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا علي بن الحسين، حَدَّثَنَا رَجُلٌ سَمَّاهُ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْأَشْقَرُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ [[في ت: "وروى ابن أبي حاتم بسنده".]] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: ﴿قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ أَمَرَ اللَّهُ بِمَوَدَّتِهِمْ؟ قَالَ: "فَاطِمَةُ وَوَلَدُهَا، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ" [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (١١/٤٤٤) من طريق حرب الطحان عن حسين الأشقر به.]] .
وَهَذَا إِسْنَادٌ [[في أ: "الإسناد".]] ضَعِيفٌ، فِيهِ مُبْهَمٌ لَا يُعْرَفُ، عَنْ شَيْخٍ شِيعِيٍّ مُتَخَرّق [[في أ: "مخترق".]] ، وَهُوَ حُسَيْنٌ الْأَشْقَرُ، وَلَا يُقْبَلُ خَبَرُهُ فِي هَذَا الْمَحَلِّ. وَذِكْرُ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَةِ فِي الْمَدِينَةِ بَعِيدٌ؛ فَإِنَّهَا مَكِّيَّةٌ وَلَمْ يَكُنْ إِذْ ذَاكَ لِفَاطِمَةَ أَوْلَادٌ بِالْكُلِّيَّةِ، فَإِنَّهَا لَمْ تَتَزَوَّجْ بَعْلِيٍّ إِلَّا بَعْدَ بَدْرٍ مِنَ [[في أ: "في".]] السَّنَةِ الثانية من الهجرة.
والحق تفسير الآية بِمَا فَسَّرَهَا بِهِ الْإِمَامُ حَبرُ الْأُمَّةِ، وَتُرْجُمَانُ الْقُرْآنِ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، كَمَا رَوَاهُ عَنْهُ الْبُخَارِيُّ [رَحِمَهُ اللَّهُ] [[زيادة من ت، م، أ.]] وَلَا تُنْكَرُ الْوَصَاةُ [[في ت: "ولا ينكر الوصاية".]] بِأَهْلِ الْبَيْتِ، وَالْأَمْرُ بِالْإِحْسَانِ إِلَيْهِمْ، وَاحْتِرَامِهِمْ وَإِكْرَامِهِمْ، فَإِنَّهُمْ مِنْ ذُرِّيَّةٍ طَاهِرَةٍ، مِنْ أَشْرَفِ بَيْتٍ وُجِدَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، فَخْرًا وَحَسَبًا وَنَسَبًا، وَلَا سِيَّمَا إِذَا كَانُوا مُتَّبِعِينَ لِلسُّنَّةِ النَّبَوِيَّةِ الصَّحِيحَةِ الْوَاضِحَةِ الْجَلِيَّةِ، كَمَا كَانَ عَلَيْهِ سَلَفُهُمْ، كَالْعَبَّاسِ وَبَنِيهِ، وَعَلِيٍّ وَأَهْلِ بَيْتِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، رَضِيَ الله عنهم أجمعين.
و [قد ثَبَتَ] [[زيادة من ت، أ.]] فِي الصَّحِيحِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ بغَدِير خُمّ: "إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ: كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي، وَإِنَّهُمَا لَمْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ" [[صحيح مسلم برقم (٢٤٠٨) بنحوه من حديث زيد بن الأرقم.]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ [[في ت: "وروى الإمام أحمد بإسناده".]] ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ قُرَيْشًا إِذَا لَقِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لَقُوهُمْ بِبِشْرٍ حَسَنٍ، وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِوُجُوهٍ لَا نَعْرِفُهَا؟ قَالَ: فَغَضِبَ النَّبِيُّ ﷺ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَدْخُلُ قَلْبَ الرَّجُلِ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ" [[المسند (١/٢٠٧) .]] .
ثُمَّ قَالَ أَحْمَدُ [[في ت: "ثم روى الإمام أحمد".]] حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: دَخَلَ الْعَبَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: إِنَّا لَنَخْرُجُ فَنَرَى قُرَيْشًا تُحدث، فإذا رأونا سَكَتُوا. فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ودَرّ عِرْقُ بَيْنَ عَيْنِهِ [[في ت، أ: "عينيه".]] ، ثُمَّ قَالَ: "وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ امْرِئٍ [[في ت، أ: "امرئ مسلم".]] إِيمَانٌ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِقَرَابَتِي" [[المسند (١/٢٠٧) .]] .
وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدٍ قَالَ: سمعتُ أَبِي يُحَدِّثُ [[في ت: "وروى البخاري بإسناده".]] عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ارْقُبُوا مُحَمَّدًا ﷺ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ [[صحيح البخاري برقم (٣٧١٣) .]] .
وَفِي الصَّحِيحِ: أَنَّ الصِّدِّيقَ قَالَ لَعَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: وَاللَّهِ لِقَرَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي [[في أ: "أحب إلي من أن أصل قرابتي".]] [[صحيح البخاري برقم (٣٧١٢) .]] .
وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلْعَبَّاسِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: وَاللَّهِ لَإِسْلَامُكَ يَوْمَ أَسْلَمْتَ كَانَ أَحَبَّ إليَّ مِنْ إِسْلَامِ الْخَطَّابِ لَوْ أَسْلَمَ؛ لَأَنَّ إِسْلَامَكَ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ مِنْ إِسْلَامِ الْخَطَّابِ.
فَحَالُ الشَّيْخَيْنِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، هُوَ الْوَاجِبُ عَلَى كُلِّ أَحَدٍ أَنْ يَكُونَ كَذَلِكَ؛ وَلِهَذَا كَانَا أَفْضَلَ الْمُؤْمِنِينَ بَعْدَ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَعَنْ سَائِرِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي حَيّان التيمي، حدثني يزيد ابن حَيَّانَ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وحُسَيْن بْنُ مَيْسَرة، وَعُمَرُ [[في ت، أ: "وعمرو".]] بْنُ مُسْلِمٍ إِلَى زَيْدِ [[في أ: "يزيد".]] بْنِ أَرْقَمَ، فَلَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: لَقَدْ لقيتَ يَا زَيْدُ [[في أ: "يزيد".]] خَيْرًا كَثِيرًا، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ وَغَزَوْتَ مَعَهُ، وَصَلَّيْتَ مَعَهُ. لَقَدْ رَأَيْتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا. حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ. فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، وَاللَّهِ كَبُرت [[في ت، أ: "والله لقد كبرت".]] سِنِّي، وَقَدِمَ عَهْدِي، وَنَسِيتُ بَعْضَ الَّذِي كُنْتُ أَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَمَا حَدَّثْتُكُمْ فَاقْبَلُوهُ، وَمَا لَا فَلَا تُكَلّفونيه. ثُمَّ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمًا خَطِيبًا فِينَا، بِمَاءٍ يُدْعَى خُمّا -بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ-فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَذَكَرَ وَوَعَظَ، ثُمَّ قَالَ: "أَمَّا بَعْدُ، أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَ، وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ، أَوَّلُهُمَا: كِتَابُ اللَّهِ، فِيهِ الهدى والنور، فخذوا بكتاب الله واستمسكوا به" فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَرَغَّبَ فِيهِ، وَقَالَ: "وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي" فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ يَا زَيْدُ؟ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: إِنَّ نِسَاءَهُ من أهل بيته، ولكن أهل بيته من حُرم الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ قَالَ: وَمَنْ هُمْ؟ قَالَ: هم آل علي، وآل عقيل، وآل جعفر، وَآلُ الْعَبَّاسِ، قَالَ: أَكُلُّ هَؤُلَاءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ؟ قال: نعم.
وهكذا رواه مسلم [في فضائل] [[زيادة من ت، م، أ.]] وَالنَّسَائِيُّ مِنْ طُرُقٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيّان به [[المسند (٤/٣٦٦) وصحيح مسلم برقم (٢٤٠٨) والنسائي في السنن الكبرى برقم (٨١٧٥) .]] .
وَقَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ [[في ت: "وروى الترمذي".]] حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ -وَالْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ-قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ "إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي، أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الْآخَرِ: كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ [[في ت: "بين".]] السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَالْآخَرُ عِتْرَتِي: أَهْلُ بَيْتِي، وَلَنْ يَتَفَرَّقا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا"
تَفَرَّدَ بِرِوَايَتِهِ التِّرْمِذِيُّ [[سنن الترمذي برقم (٣٧٨٨) .]] ثُمَّ قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ أَيْضًا [[في ت: "وروى الترمذي".]] حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ [[في ت: "عبد الله رضي الله عنه".]] قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فِي حَجَّتِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ يَخْطُبُ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا: كِتَابَ اللَّهِ، وَعِتْرَتِي: أَهْلَ بَيْتِي"
تَفَرَّدَ بِهِ التِّرْمِذِيُّ أَيْضًا [[سنن الترمذي برقم (٣٧٨٦) .]] ، وَقَالَ: حَسَنٌ غَرِيبٌ. وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ.
ثُمَّ قَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِين، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ النَّوْفَلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ [[قي ت: "وروى الترمذي أيضا عن ابن عباس".]] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَحِبُّوا اللَّهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ [[في ت: "يغدوكم به".]] مِنْ نِعَمِهِ، وَأَحِبُّونِي [[في ت: "فأحبوني".]] بِحُبِّ اللَّهِ، وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي بِحُبِّي"
ثُمَّ قَالَ [[في ت: "وقال".]] حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ [[سنن الترمذي برقم (٣٧٨٩) .]] .
وَقَدْ أَوْرَدْنَا أَحَادِيثَ أُخَر عِنْدَ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ [الْأَحْزَابِ: ٣٣] [[انظر تفسير الآية: ٣٣ من سورة لأحزاب.]] ، بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهَا هَاهُنَا، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ.
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى: حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيد، حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَنَش قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ وَهُوَ آخِذٌ بِحَلْقَةِ الْبَابِ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي، وَمَنْ أَنْكَرَنِي فَأَنَا أَبُو ذَرٍّ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّمَا مَثَلُ أهل بيتي فيكم مَثَل سفينة نوح، مَنْ دَخَلَهَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا هَلَكَ" [[ورواه الحاكم في المستدرك وصححه (٣/١٥٠) من طريق مفضل بن صالح عن أبي إسحاق به، وتعقبه الذهبي بقوله: "فيه مفضل ابن صالح واه"، ورواه الطبراني في المعجم الكبير (٣/٣٧) من طريق عبد الله بن داهر عن عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ عَنِ الْأَعْمَشِ عن أبي إسحاق به، وفي إسناده عبد الله بن داهر الرازي متروك.]] .
هَذَا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ضَعِيفٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَنْ يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نزدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا﴾ أَيْ: وَمَنْ يَعْمَلُ حَسَنَةً ﴿نزدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا﴾ أَيْ: أَجْرًا وَثَوَابًا، كَقَوْلِهِ ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [النِّسَاءِ:٤٠] .
وَقَالَ بَعْضُ السَّلَفِ: [إِنَّ] [[زيادة من ت، م، أ.]] مِنْ ثَوَابِ الْحَسَنَةِ الْحَسَنَةَ بَعْدَهَا، وَمِنْ جَزَاءِ السَّيِّئَةِ (السَّيِّئَةَ) بَعْدَهَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ شَكُورٌ﴾ أَيْ: يَغْفِرُ الْكَثِيرَ مِنَ السَّيِّئَاتِ، وَيُكَثِّرُ الْقَلِيلَ مِنَ الْحَسَنَاتِ، فَيَسْتُرُ وَيَغْفِرُ، وَيُضَاعِفُ فَيَشْكُرُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا فَإِنْ يَشَأِ اللَّهُ يَخْتِمْ عَلَى قَلْبِكَ﴾ أَيْ: لَوِ افْتَرَيْتَ عَلَيْهِ كَذِبًا كَمَا يَزْعُمُ هَؤُلَاءِ الْجَاهِلُونَ ﴿يَخْتِمْ عَلَى قَلْبِكَ﴾ أَيْ: لَطَبَعَ عَلَى قَلْبِكَ وَسَلَبَكَ مَا كَانَ آتَاكَ مِنَ الْقُرْآنِ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الأقَاوِيلِ لأخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ﴾ [الْحَاقَّةِ:٤٤-٤٧] أَيْ: لَانْتَقَمْنَا مِنْهُ أَشَدَّ الِانْتِقَامِ، وَمَا قَدَرَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَنْ يَحْجِزَ عَنْهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَمْحُ اللَّهُ الْبَاطِلَ﴾ لَيْسَ مَعْطُوفًا عَلَى قَوْلِهِ: ﴿يَخْتِمْ﴾ فَيَكُونَ مَجْزُومًا، بَلْ هُوَ مَرْفُوعٌ عَلَى الِابْتِدَاءِ، قَالَهُ ابْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: وَحُذِفَتْ مِنْ كِتَابَتِهِ "الْوَاوُ" فِي رَسْمِ الْمُصْحَفِ الْإِمَامِ، كَمَا حُذِفَتْ فِي [[في ت، أ: "من".]] قَوْلِهِ: ﴿سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ [الْعَلَقِ:١٨] وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَدْعُ الإنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاءَهُ بِالْخَيْرِ﴾ [الْإِسْرَاءِ:١١] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ﴾ مَعْطُوفٌ عَلَى ﴿وَيَمْحُ اللَّهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ﴾ أَيْ: يُحَقِّقُهُ وَيُثْبِتُهُ وَيُبَيِّنُهُ وَيُوَضِّحُهُ بِكَلِمَاتِهِ، أَيْ: بِحُجَجِهِ وَبَرَاهِينِهِ، ﴿إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ﴾ أَيْ: بِمَا تُكِنُّهُ الضَّمَائِرُ، وَتَنْطَوِي عَلَيْهِ السَّرَائِرُ.
أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًۭا ۖ فَإِن يَشَإِ ٱللَّهُ يَخْتِمْ عَلَىٰ قَلْبِكَ ۗ وَيَمْحُ ٱللَّهُ ٱلْبَٰطِلَ وَيُحِقُّ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦٓ ۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
Or do they say, "He has invented about Allah a lie"? But if Allah willed, He could seal over your heart. And Allah eliminates falsehood and establishes the truth by His words. Indeed, He is Knowing of that within the breasts.
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے خدا پر جھوٹ باندھ لیا ہے؟ اگر خدا چاہے تو (اے محمدﷺ) تمہارے دل پر مہر لگا دے۔ اور خدا جھوٹ کو نابود کرتا اور اپنی باتوں سے حق کو ثابت کرتا ہے۔ بےشک وہ سینے تک کی باتوں سے واقف ہے
آیا میگویند: «او بر خدا دروغ بسته است»؟! در حالی که اگر خدا بخواهد بر قلب تو مُهر مینهد (و اگر خلاف بگوئی قدرت اظهار این آیات را از تو میگیرد) و باطل را محو میکند و حقّ را بفرمانش پابرجا میسازد؛ چرا که او از آنچه درون سینههاست آگاه است.
Tafsir Ibn Kathir
That is whereof Allah gives glad tidings to His servants who believe and do righteous good deeds. Say: "No reward do I ask of you for this except to be kind to me for my kinship with you." And whoever earns a good righteous deed, We shall give him an increase of good in respect thereof. Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Ready to appreciate (23)Or say they: "He has invented a lie against Allah?" If Allah willed, He could have sealed up your heart. And Allah wipes out falsehood, and establishes the truth by His Word. Verily, He knows well what are in the breasts (24)
Good News of the Blessings of Paradise for the People of Faith
Having mentioned the gardens of Paradise, Allah then says to His servants who believe and do righteous deeds:
ذَٰلِكَ الَّذِي يُبَشِّرُ اللَّهُ عِبَادَهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۗ
(That is whereof Allah gives glad tidings to His servants who believe and do righteous good deeds.) meaning, this will undoubtedly come to them, because it is glad tidings from Allah to them.
قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ ۗ
(Say: "No reward do I ask of you for this except to be kind to me for my kinship with you.") means, 'say, O Muhammad, to these idolators among the disbeliever of Quraysh: I do not ask you for anything in return for this message and sincere advice which I bring to you. All I ask of you is that you withhold your evil from me and let me convey the Messages of my Lord. If you will not help me, then do not disturb me, for the sake of the ties of kinship that exist between you and I.' Al-Bukhari recorded that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, was asked about the Ayah:
إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ
(except to be kind to me for my kinship with you.) Sa'id bin Jubayr said, "To be kind to the family of Muhammad." Ibn 'Abbas said, "No, you have jumped to a hasty conclusion. There was no clan among Quraysh to whom the Prophet ﷺ did not have some ties of kinship." Ibn 'Abbas said, "Except that you uphold the ties of kinship that exist between me and you." This was recorded by Al-Bukhari. It was also recorded by Imam Ahmad with a different chain of narration.
وَمَنْ يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا ۚ
(And whoever earns a good righteous deed, We shall give him an increase of good in respect thereof) means, 'whoever does a good deed, We will increase him in good for it, i.e., in reward.' This is like the Ayah:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا
(Surely, Allah wrongs not even of the weight of a speck of dust, but if there is any good, He doubles it, and gives from Him a great reward.)(4:40)
إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ شَكُورٌ
(Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Ready to appreciate.) means, He forgives many bad deeds and increases a small amount of good deeds; He conceals and forgives sins and He multiplies and increases the reward of good deeds.
The Accusation that the Prophet ﷺ fabricated the Qur'an - and the Response to that
Allah's saying;
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا ۖ فَإِنْ يَشَإِ اللَّهُ يَخْتِمْ عَلَىٰ قَلْبِكَ ۗ
(Or say they: "He has invented a lie against Allah?" If Allah willed, He could have sealed up your heart.) means, 'if you had invented any lies against Him, as these ignorant people claim,'
يَخْتِمْ عَلَىٰ قَلْبِكَ
(He could have sealed up your heart.) means, 'and thus caused you to forget what had already come to you of the Qur'an.' This is like the Ayah:
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ - لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ - ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ - فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ
(And if he had forged a false saying concerning Us (Allah), We surely would have seized him by his right hand, and then We certainly would have cut off his life artery, And none of you could have withheld Us from (punishing) him.)(69:44-47) which means, 'We would have wrought the utmost vengeance upon him, and no one among mankind would have been able to protect him.' And Allah said:
وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ
(and establishes the truth by His Word.) means, He establishes it and strengthens it and makes it clear by His Words, i.e., by His evidence and signs.
إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(Verily, He knows well what are in the breasts.) means, all that is hidden in the hearts of men.
Tafsir Ibn Kathir
رسول اللہ سے قرابت داری کی فضیلت اوپر کی آیتوں میں جنت کی نعمتوں کا ذکر کر کے بیان فرما رہا ہے کہ ایمان دار نیک کار بندوں کو اس کی بشارت ہو پھر اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ قریش کے مشرکین سے کہہ دو کہ اس تبلیغ پر اور اس تمہاری خیر خواہی پر میں تم سے کچھ طلب تو نہیں کر رہا۔ تمہاری بھلائی تو ایک طرف رہی تم اگر اپنی برائی سے ہی ٹل جاؤ اور مجھے رب کی رسالت پہنچانے دو اور قرابت داری کے رشتے کو سامنے رکھ کر میری ایذاء رسانی سے ہی رک جاؤ تو یہی بہت ہے صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی گئی تو حضرت سعید بن جبیر ؒ نے کہا اس سے مراد قرابت آل محمد ﷺ ہے یہ سن کر آپ نے فرمایا تم نے عجلت سے کام لیا سنو قریش کے جس قدر قبیلے تھے سب کے ساتھ حضور کی رشتہ داری تھی تو مطلب یہی کہ تم اس رشتے داری کا لحاظ رکھو جو مجھ میں اور تم میں ہے حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ، حضرت قتادہ، حضرت سدی، حضرت ابو مالک، حضرت عبد الرحمن وغیرہ بھی اس آیت کی یہی تفسیر کرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں جو دلیلیں دی ہیں جس ہدایت کا راستہ بتایا ہے اس پر کوئی اجر تم سے نہیں چاہتا سوائے اس کے کہ تم اللہ کو چاہنے لگو اور اس کی اطاعت کی وجہ سے اس سے قرب اور نزدیکی حاصل کرلو حضرت حسن بصری سے بھی یہی تفسیر منقول ہے تو یہ دوسرا قول ہوا پہلا قول حضور ﷺ کا اپنی رشتے داری کو یاد دلانا دوسرا قول آپ کی یہ طلب کہ لوگ اللہ کی نزدیکی حاصل کرلیں تیسرا قول جو حضرت سعید بن جبیر کی روایت سے گزرا کہ تم میری قرابت کے ساتھ احسان اور نیکی کرو۔ ابو الدیلم کا بیان ہے کہ جب حضرت علی بن حسین کو قید کر کے لایا گیا اور دمشق کے بالا خانے میں رکھا گیا تو ایک شامی نے کہا اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہیں قتل کرایا اور تمہارا ناس کرا دیا اور فتنہ کی ترقی کو روک دیا یہ سن کر آپ نے فرمایا کیا تو نے قرآن بھی پڑھا ہے اس نے کہا کیوں نہیں ؟ فرمایا اس میں (حم) والی سورتیں بھی پڑھی ہیں ؟ اس نے کہا واہ سارا قرآن پڑھ لیا اور (حم) والی سورتیں نہیں پڑھیں ؟ آپ نے فرمایا پھر کیا ان میں اس آیت کی تلاوت تو نے نہیں کی ؟ آیت (قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى ۭ وَمَنْ يَّــقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ 23) 42۔ الشوری :23) یعنی میں تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا مگر محبت قرابت کی۔ اس نے کہا پھر کیا تم وہ ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! حضرت عمرو بن شعیب سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا مراد قرابت رسول ﷺ ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ انصار نے اپنی خدمات اسلام گنوائیں گویا فخر کے طور پر۔ اس پر ابن عباس یا حضرت عباس نے فرمایا ہم تم سے افضل ہیں جب یہ خبر حضور ﷺ کو ملی تو آپ ان کی مجلس میں آئے اور فرمایا انصاریو کیا تم ذلت کی حالت میں نہ تھے ؟ پھر اللہ نے تمہیں میری وجہ سے عزت بخشی ! انہوں نے کہا بیشک آپ سچے ہیں۔ فرمایا کیا تم گمراہ نہ تھے ؟ پھر اللہ نے تمہیں میری وجہ سے ہدایت کی ؟ انہوں نے کہا ہاں بیشک آپ نے سچ فرمایا پھر آپ نے فرمایا اب تم مجھے کیوں نہیں کہتے ؟ انہوں نے کہا کیا کہیں ؟ فرمایا کیوں نہیں کہتے ؟ کہ کیا تیری قوم نے تجھے نکال نہیں دیا تھا ؟ اس وقت ہم نے تجھے پناہ دی کیا انہوں نے تجھے جھٹلایا نہ تھا ؟ اس وقت ہم نے تیری تصدیق کی ؟ کیا انہوں نے تجھے پست کرنا نہیں چاہا تھا اس وقت ہم نے تیری مدد کی ؟ اس طرح کی آپ نے اور بھی بہت سی باتیں کیں یہاں تک کہ انصار اپنے گھٹنوں پر جھک پڑے اور انہوں نے کہا حضور ﷺ ہماری اولاد اور جو کچھ ہمارے پاس ہے سب اللہ کا اور سب اس کے رسول کے لئے ہے۔ پھر یہ آیت (قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى ۭ وَمَنْ يَّــقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ 23) 42۔ الشوری :23) نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں بھی اسی کے قریب ضعیف سند سے مروی ہے بخاری و مسلم میں یہ حدیث ہے اس میں ہے کہ یہ واقعہ حنین کی غنیمت کی تقسیم کے وقت پیش آیا تھا اور اس میں آیت کے اترنے کا ذکر بھی نہیں اور اس آیت کو مدینے میں نازل شدہ ماننے میں بھی قدرے تامل ہے اس لئے کہ یہ سورت مکی ہے پھر جو واقعہ حدیث میں مذکور ہے اس واقعہ میں اور اس آیت میں کچھ ایسی زیادہ ظاہر مناسبت بھی نہیں ایک روایت میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں جن کی محبت رکھنے کا ہمیں حکم باری ہوا ہے آپ نے فرمایا حضرت فاطمہ اور ان کی اولاد ؓ۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے اور اس کا راوی مبہم ہے جو معروف نہیں پھر اس کا استاد ایک شیعہ ہے جو بالکل ثقاہت سے گرا ہوا ہے اس کا نام حسین اشغر ہے اس جیسی حدیث بھلا اس کی روایت سے کیسے مان لی جائے گی ؟ پھر مدینے میں آیت نازل ہونا ہی مستعد ہے حق یہ ہے کہ آیت مکی ہے اور مکہ شریف میں حضرت فاطمہ کا عقد ہی نہ ہوا تھا اولاد کیسی ؟ آپ کا عقد تو صرف حضرت علی کے ساتھ جنگ بدر کے بعد سنہ002ھ میں ہوا۔ پس صحیح تفسیر اس کی وہی ہے جو حبر المہ ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباس نے کی ہے جو بحوالہ بخاری پہلے گذر چکی ہم اہل بیت کے ساتھ خیرخواہی کرنے کے منکر نہیں ہے ہم مانتے ہیں کہ ان کے ساتھ احسان و سلوک اور ان کا اکرام و احترام ضروری چیز ہے روئے زمین پر ان سے زیادہ پاک اور صاف ستھرا گھرانا اور نہیں حسب و نسب میں اور فخر و مباہات میں بلا شک یہ سب سے اعلیٰ ہیں۔ بالخصوص ان میں سے وہ جو متبع سنت نبی ہوں جیسے کہ اسلاف کی روش تھی یعنی حضرت عباس اور آل عباس کی اور حضرت علی اور آل علی کی ؓ اجمعین۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا ہے میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کتاب اللہ اور میری عزت اور یہ دونوں جدا نہ ہوں گے جب تک کہ حوض پر میرے پاس نہ آئیں مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عباد بن عبدالملک نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ قریشی جب آپس میں ملتے ہیں تو بڑی خندہ پیشانی سے ملتے ہیں۔ لیکن ہم سے اس ہنسی خوشی کے ساتھ نہیں ملتے۔ یہ سن کر آپ بہت رنجیدہ ہوئے اور فرمانے لگے اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کسی کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اللہ کے لئے اور اس کے رسول کی وجہ سے تم سے محبت نہ رکھے اور روایت میں ہے کہ حضرت عباس نے کہا قریشی باتیں کرتے ہوتے ہیں ہمیں دیکھ کر چپ ہوجاتے ہیں اسے سن کر مارے غصے کے آپ کی پیشانی پر بل پڑگئے اور فرمایا واللہ کسی مسلمان کے دل میں ایمان جاگزیں نہیں ہوگا جب تک کہ وہ تم سے اللہ کے لئے اور میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہ رکھے صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر نے فرمایا لوگو حضور ﷺ کا لحاظ حضور ﷺ کے اہل بیت میں رکھو ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے حضرت علی سے فرمایا اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ کے قرابت داروں سے سلوک کرنا مجھے اپنے قرابت داروں کے سلوک سے بھی پیارا ہے حضرت عمر فاروق نے حضرت عباس سے فرمایا واللہ تمہارا اسلام لانا مجھے اپنے والد خطاب کے اسلام لانے سے بھی زیادہ اچھا لگا اس لئے کہ تمہارا اسلام حضور ﷺ کو خطاب کے اسلام سے زیادہ محبوب تھا۔ پس اسلام کے ان دو چمکتے ستاروں کا مسلمانوں کے ان دونوں سیدوں کا جو معاملہ آل رسول ﷺ اوراقربا پیغمبر کے ساتھ تھا وہی عزت و محبت کا معاملہ مسلمانوں کو آپ کے اہل بیت اور قرابت داروں سے رکھنا چاہیے۔ کیونکہ نبیوں اور رسولوں کے بعد تمام دنیا سے افضل یہی دونوں بزرگ خلیفہ رسول تھے پس مسلمانوں کو ان کی پیروی کر کے حضور ﷺ کے اہل بیت اور کنبے قبیلے کے ساتھ جس عقیدت سے پیش آنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں خلیفہ سے اہل بیت سے اور حضور ﷺ کے کل صحابہ سے خوش ہوجائے اور سب کو اپنی رضا مندی میں لے لے آمین۔ صحیح مسلم وغیرہ میں حدیث ہے کہ یزید بن حیان اور حصین بن میسرہ اور عمر بن مسلم حضرت زید بن ارقم کے پاس گئے حضرت حصین نے کہا اے حضرت آپ کو تو بڑی بڑی خیر و برکت مل گئی آپ نے اللہ کے نبی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا آپ نے اللہ کے پیغمبر ﷺ کی باتیں اپنے کانوں سے سنیں آپ کے ساتھ جہاد کیے آپ کے ساتھ نمازیں پڑھیں حق تو یہ ہے کہ بڑی بڑی فضیلتیں آپ نے سمیٹ لیں اچھا اب کوئی حدیث ہمیں بھی بتائیے۔ اس پر حضرت زید نے فرمایا میرے بھتیجے سنو میری عمر اب بڑی ہوگئی حضور ﷺ کی رحلت کو عرصہ گذر چکا بعض چیزیں ذہن میں محفوظ نہیں رہیں اب تو یہی رکھو کہ جو از خود سنا دوں اسے مان لیا کرو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو کہ تکلف سے بیان کرنا پڑے پھر آپ نے فرمایا کہ مکہ اور مدینے کے درمیان پانی کی جگہ کے پاس جسے خم کہا جاتا تھا کھڑے ہو کر اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں ایک خطبہ سنایا اللہ کی حمد وثنا کی وعظ و پند کیا پھر فرمایا لوگو میں ایک انسان ہوں کیا عجب کہ ابھی ابھی میرے پاس قاصد اللہ پہنچ جائے اور میں اس کی مان لوں سنو میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک تو کتاب اللہ جس میں نور و ہدایت ہے تم اللہ کی کتاب کو مضبوط تھام لو اور اس کو مضبوطی سے تھامے رہو پس اس کی بڑی رغبت دلائی اور بہت کچھ تاکید کی پھر فرمایا اے میرے اہل بیت میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں یہ سن کر حصین نے حضرت زید سے پوچھا اے زید آپ کے اہل بیت کون ہیں ؟ کیا آپ کی بیویاں اہل بیت میں داخل نہیں ؟ فرمایا بیشک آپ کی بیویاں وہ ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ حرام ہے پوچھا وہ کون ہیں ؟ فرمایا آل علی، آل عقیل، آل جعفر، آل عباس ؓ پوچھا کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے ؟ فرمایا ہاں ! ترمذی شریف میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوط تھامے رہے تو بہکو گے نہیں ایک دوسری سے زیادہ عظمت والی ہے کتاب اللہ جو اللہ کی طرف سے ایک لٹکائی ہوئی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک آئی ہے اور دوسری چیز میری عترت میرے اہل بیت ہے اور یہ دونوں جدا نہ ہوں گی یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر آئیں۔ پس دیکھ لو کہ میرے بعد کس طرح ان میں میری جانشینی کرتے ہو ؟ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے اور صرف ترمذی میں ہے یہ روایت ہے حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت سے ترمذی میں ہے کہ عرفے والے دن رسول اللہ ﷺ نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر جسے قصوا کہا جاتا تھا خطبہ دیا جس میں فرمایا لوگو میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے تھامے رہے تو ہرگز گمراہ نہیں ہو گے کتاب اللہ اور میری عترت اہل بیت۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو مدنظر رکھ کر تم لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھو اور اللہ کی محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت رکھو اور میری محبت کی وجہ سے میری اہل بیت سے محبت رکھو یہ حدیث اور اوپر کی حدیث حسن غریب ہے اس مضمون کی اور احادیث ہم نے آیت (اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا 33ۚ) 33۔ الأحزاب :33) کی تفسیر میں وارد کردی ہیں یہاں ان کے دہرانے کی ضرورت نہیں فالحمد اللہ۔ ایک ضعیف حدیث مسند ابو یعلی میں ہے کہ حضرت ابوذر نے بیت اللہ کے دروازے کا کنڈا تھامے ہوئے فرمایا لوگو جو مجھے جانتے ہیں وہ تو جانتے ہی ہیں جو نہیں پہچانتے وہ اب پہچان کرلیں کہ میرا نام ابوذر ہے سنو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ تم میں میرے اہل بیت کی مثال مثل نوح ؑ کی کشتی کے ہے اس میں جو چلا گیا اس نے نجات پالی اور جو اس میں داخل نہ ہوا ہلاک ہوا پھر فرماتا ہے جو نیک عمل کرے ہم اس کا ثواب اور بڑھا دیتے ہیں جیسے ایک اور آیت میں فرمایا اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر ظلم نہیں کرتا اگر نیکی ہو تو اور بڑھا دیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے بعض سلف کا قول ہے کہ نیکی کا ثواب اس کے بعد نیکی ہے اور برائی کا بدلہ اس کے بعد برائی ہے پھر فرمان ہوا کہ اللہ گناہوں کو بخشنے والا ہے اور نیکیوں کی قدر دانی کرنے والا ہے انہیں بڑھا چڑھا کردیتا ہے پھر فرماتا ہے کہ یہ جاہل کفار جو کہتے ہیں کہ یہ قرآن تو نے گھڑ لیا ہے اور اللہ کے نام لگا دیا ہے ایسا نہیں اگر ایسا ہوتا تو اللہ تیرے دل پر مہر لگا دیتا اور تجھے کچھ بھی یاد نہ رہتا جیسے فرمان ہے آیت (وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ 44 ۙ) 69۔ الحاقة :44) اگر یہ رسول ہمارے ذمے کچھ باتیں لگا دیتے تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ کر ان کے دل کی رگ کاٹ ڈالتے اور تم میں سے کوئی انہیں اس سزا سے نہ بچا سکتا۔ یعنی یہ اگر ہمارے کلام میں کچھ بھی زیادتی کرتے تو ایسا انتقام لیتے کہ دنیا کی کوئی ہستی اسے نہ بچا سکتی اس کے بعد کا جملہ آیت (ویمح اللہ) الخ، (یختم) پر معطوف نہیں بلکہ یہ مبتدا ہے اور مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ آیت (یختم) پر عطف نہیں جو مجزوم ہو۔ واؤ کا کتابت میں نہ آنا یہ صرف امام کے رسم خط کی موافقت کی وجہ سے ہے جیسے آیت (سَـنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ 18ۙ) 96۔ العلق :18) میں واؤ لکھنے میں نہیں آئی۔ اور آیت (وَيَدْعُ الْاِنْسَان بالشَّرِّ دُعَاۗءَهٗ بالْخَيْرِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا 11) 17۔ الإسراء :11) میں واؤ نہیں لکھی گئی ہاں اس کے بعد کے جملے آیت (اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ ۙ) 8۔ الانفال :7) کا عطف آیت (وَيَمْــحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ ۭ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ 24) 42۔ الشوری :24) ، پر ہے یعنی اللہ تعالیٰ حق کو واضح اور مبین کردیتا ہے اپنے کلمات سے یعنی دلائل بیان فرما کر حجت پیش کر کے وہ خوب دانا بینا ہے دلوں کے راز سینوں کے بھید اس پر کھلے ہوئے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى لَمَّا ذَكَرَ رَوْضَاتِ الْجَنَّةِ، لِعِبَادِهِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ: ﴿ذَلِكَ الَّذِي يُبَشِّرُ اللَّهُ عِبَادَهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ أَيْ: هَذَا حَاصِلٌ لَهُمْ كَائِنٌ لَا مَحَالَةَ، بِبِشَارَةِ اللَّهِ لَهُمْ بِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾ أَيْ: قُلْ يَا مُحَمَّدُ لِهَؤُلَاءِ الْمُشْرِكِينَ مِنْ كُفَّارِ قُرَيْشٍ: لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَى هَذَا الْبَلَاغِ وَالنُّصْحِ لَكُمْ مَا لَا تُعْطُونِيهِ، وَإِنَّمَا أَطْلُبُ مِنْكُمْ أَنْ تَكُفُّوا شَرَّكُمْ عَنِّي وَتَذَرُونِي أُبَلِّغُ رِسَالَاتِ [[في ت، م، أ: "رسالة".]] رَبِّي، إِنْ لَمْ تَنْصُرُونِي فَلَا تُؤْذُونِي بِمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ.
قَالَ الْبُخَارِيُّ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا [[في ت: "روى البخاري بسنده".]] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: عَجِلْتَ إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ، فَقَالَ: إِلَّا أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ. انْفَرَدَ بِهِ الْبُخَارِيُّ [[صحيح البخاري برقم (٤٨١٨) والمسند (١/٢٢٩) .]] .
وَرَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، عَنْ شُعْبَةَ بِهِ. وَهَكَذَا رَوَى عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ، وَالضَّحَّاكُ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، والعَوْفي، وَيُوسُفُ بْنُ مِهْران وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَهُ. وَبِهِ قَالَ مُجَاهِدٌ، وَعِكْرِمَةُ، وَقَتَادَةُ، وَالسُّدِّيُّ، وَأَبُو مَالِكٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَغَيْرُهُمْ.
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ [[في ت: "وروى الطبراني".]] حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ يَزِيدَ الطَّبَرَانِيُّ وَجَعْفَرٌ الْقَلَانِسِيُّ قَالَا حدثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٍ، عَنْ خُصَيف، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا أَنْ تَوَدّوني فِي نَفْسِي لِقَرَابَتِي مِنْكُمْ، وَتَحْفَظُوا الْقَرَابَةَ الَّتِي بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ" [[المعجم الكبير (١١/٤٣٥) .]] .
وَرَوَى الْإِمَامُ أَحْمَدُ، عَنْ حَسَنِ بْنِ مُوسَى: حَدَّثَنَا قَزَعَة يَعْنِي ابْنَ سُوَيد -وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ-عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَزَعة بْنِ سُوَيْدٍ-عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: "لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَى مَا آتَيْتُكُمْ مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى أَجْرًا، إِلَّا أَنْ تُوَادوا اللَّهَ، وَأَنْ تَقَرَّبُوا إِلَيْهِ بِطَاعَتِهِ" [[المسند (١/٢٦٨) .]] .
وَهَكَذَا رَوَى قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، مِثْلَهُ.
وَهَذَا كَأَنَّهُ تَفْسِيرٌ بِقَوْلٍ ثَانٍ، كَأَنَّهُ يَقُولُ: ﴿إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾ أَيْ: إِلَّا أَنْ تَعْمَلُوا بِالطَّاعَةِ الَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَ اللَّهِ زُلْفَى.
وَقَوْلٌ ثَالِثٌ: وَهُوَ مَا حَكَاهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ، رِوَايَةً عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، مَا مَعْنَاهُ أَنَّهُ قَالَ: مَعْنَى ذَلِكَ أَنْ تَوَدُّونِي فِي قَرَابَتِي، أَيْ: تُحْسِنُوا إِلَيْهِمْ وَتَبَرُّوهُمْ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ، عَنْ أَبِي الدَّيْلَمِ قَالَ: لَمَّا جِيءَ بِعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَسِيرًا، فَأُقِيمَ عَلَى دَرَجِ دِمَشْقَ، قَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي قَتَلَكُمْ وَاسْتَأْصَلَكُمْ، وَقَطَعَ قَرْنَيِ الْفِتْنَةِ. فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ: أَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: أَقَرَأْتَ آلَ حم؟ قَالَ: قَرَأْتُ الْقُرْآنَ، وَلَمْ أَقْرَأْ آلَ حم. قَالَ: مَا قَرَأْتَ: ﴿قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾ ؟ قَالَ: وَإِنَّكُمْ أَنْتُمْ [[في ت، أ: "لأنتم".]] هُمْ؟ قَالَ: نَعَمْ.
وَقَالَ: أَبُو إِسْحَاقَ السَّبِيعيّ: سَأَلْتُ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾ فَقَالَ: قُرْبَى النَّبِيِّ ﷺ. رَوَاهُمَا ابْنُ جَرِيرٍ [[تفسير الطبري (٢٥/١٧) .]] .
ثُمَّ قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، حَدَّثَنِي يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَتِ الْأَنْصَارُ: فَعَلْنَا وَفَعَلْنَا، وَكَأَنَّهُمْ فَخَرُوا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ -أَوِ: الْعَبَّاسُ، شَكَّ عَبْدُ السَّلَامِ-: لَنَا الْفَضْلُ عَلَيْكُمْ. فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَأَتَاهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ فَقَالَ: "يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَمْ تَكُونُوا أَذِلَّةً فَأَعَزَّكُمُ اللَّهُ بِي؟ " قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: أَلَمْ تَكُونُوا ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللَّهُ بِي؟ " قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "أَفَلَا تُجِيبُونِي؟ " قَالُوا: مَا نَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "أَلَا تَقُولُونَ: أَلَمْ يخرجك قومك فآويناك؟ أو لم يكذبوك فصدقناك؟ أو لم يَخْذُلُوكَ فَنَصَرْنَاكَ"؟ قَالَ: فَمَا زَالَ يَقُولُ حَتَّى جَثَوْا عَلَى الرُّكَبِ، وَقَالُوا: أَمْوَالُنَا وَمَا فِي أَيْدِينَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ. قَالَ: فَنَزَلَتْ: ﴿قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾ [[تفسير الطبري (٢٥/١٦) .]] .
وَهَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ عَلِيٍّ، عن عبد السلام، عن يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ -وَهُوَ ضَعِيفٌ-بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ.
وَفِي الصَّحِيحَيْنِ -فِي قَسْمِ غَنَائِمِ حُنَيْنٍ-قَرِيبٌ مِنْ هَذَا السِّيَاقِ، وَلَكِنْ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَةِ. وذكْرُ نُزُولِهَا فِي الْمَدِينَةِ فِيهِ نَظَرٌ؛ لِأَنَّ السُّورَةَ مَكِّيَّةٌ، وَلَيْسَ يَظْهَرُ بَيْنَ هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ وَبَيْنَ السِّيَاقِ مُنَاسَبَةٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا علي بن الحسين، حَدَّثَنَا رَجُلٌ سَمَّاهُ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْأَشْقَرُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ [[في ت: "وروى ابن أبي حاتم بسنده".]] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: ﴿قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ أَمَرَ اللَّهُ بِمَوَدَّتِهِمْ؟ قَالَ: "فَاطِمَةُ وَوَلَدُهَا، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ" [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (١١/٤٤٤) من طريق حرب الطحان عن حسين الأشقر به.]] .
وَهَذَا إِسْنَادٌ [[في أ: "الإسناد".]] ضَعِيفٌ، فِيهِ مُبْهَمٌ لَا يُعْرَفُ، عَنْ شَيْخٍ شِيعِيٍّ مُتَخَرّق [[في أ: "مخترق".]] ، وَهُوَ حُسَيْنٌ الْأَشْقَرُ، وَلَا يُقْبَلُ خَبَرُهُ فِي هَذَا الْمَحَلِّ. وَذِكْرُ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَةِ فِي الْمَدِينَةِ بَعِيدٌ؛ فَإِنَّهَا مَكِّيَّةٌ وَلَمْ يَكُنْ إِذْ ذَاكَ لِفَاطِمَةَ أَوْلَادٌ بِالْكُلِّيَّةِ، فَإِنَّهَا لَمْ تَتَزَوَّجْ بَعْلِيٍّ إِلَّا بَعْدَ بَدْرٍ مِنَ [[في أ: "في".]] السَّنَةِ الثانية من الهجرة.
والحق تفسير الآية بِمَا فَسَّرَهَا بِهِ الْإِمَامُ حَبرُ الْأُمَّةِ، وَتُرْجُمَانُ الْقُرْآنِ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، كَمَا رَوَاهُ عَنْهُ الْبُخَارِيُّ [رَحِمَهُ اللَّهُ] [[زيادة من ت، م، أ.]] وَلَا تُنْكَرُ الْوَصَاةُ [[في ت: "ولا ينكر الوصاية".]] بِأَهْلِ الْبَيْتِ، وَالْأَمْرُ بِالْإِحْسَانِ إِلَيْهِمْ، وَاحْتِرَامِهِمْ وَإِكْرَامِهِمْ، فَإِنَّهُمْ مِنْ ذُرِّيَّةٍ طَاهِرَةٍ، مِنْ أَشْرَفِ بَيْتٍ وُجِدَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، فَخْرًا وَحَسَبًا وَنَسَبًا، وَلَا سِيَّمَا إِذَا كَانُوا مُتَّبِعِينَ لِلسُّنَّةِ النَّبَوِيَّةِ الصَّحِيحَةِ الْوَاضِحَةِ الْجَلِيَّةِ، كَمَا كَانَ عَلَيْهِ سَلَفُهُمْ، كَالْعَبَّاسِ وَبَنِيهِ، وَعَلِيٍّ وَأَهْلِ بَيْتِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، رَضِيَ الله عنهم أجمعين.
و [قد ثَبَتَ] [[زيادة من ت، أ.]] فِي الصَّحِيحِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ بغَدِير خُمّ: "إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ: كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي، وَإِنَّهُمَا لَمْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ" [[صحيح مسلم برقم (٢٤٠٨) بنحوه من حديث زيد بن الأرقم.]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ [[في ت: "وروى الإمام أحمد بإسناده".]] ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ قُرَيْشًا إِذَا لَقِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لَقُوهُمْ بِبِشْرٍ حَسَنٍ، وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِوُجُوهٍ لَا نَعْرِفُهَا؟ قَالَ: فَغَضِبَ النَّبِيُّ ﷺ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَدْخُلُ قَلْبَ الرَّجُلِ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ" [[المسند (١/٢٠٧) .]] .
ثُمَّ قَالَ أَحْمَدُ [[في ت: "ثم روى الإمام أحمد".]] حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: دَخَلَ الْعَبَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: إِنَّا لَنَخْرُجُ فَنَرَى قُرَيْشًا تُحدث، فإذا رأونا سَكَتُوا. فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ودَرّ عِرْقُ بَيْنَ عَيْنِهِ [[في ت، أ: "عينيه".]] ، ثُمَّ قَالَ: "وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ امْرِئٍ [[في ت، أ: "امرئ مسلم".]] إِيمَانٌ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِقَرَابَتِي" [[المسند (١/٢٠٧) .]] .
وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدٍ قَالَ: سمعتُ أَبِي يُحَدِّثُ [[في ت: "وروى البخاري بإسناده".]] عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ارْقُبُوا مُحَمَّدًا ﷺ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ [[صحيح البخاري برقم (٣٧١٣) .]] .
وَفِي الصَّحِيحِ: أَنَّ الصِّدِّيقَ قَالَ لَعَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: وَاللَّهِ لِقَرَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي [[في أ: "أحب إلي من أن أصل قرابتي".]] [[صحيح البخاري برقم (٣٧١٢) .]] .
وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلْعَبَّاسِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: وَاللَّهِ لَإِسْلَامُكَ يَوْمَ أَسْلَمْتَ كَانَ أَحَبَّ إليَّ مِنْ إِسْلَامِ الْخَطَّابِ لَوْ أَسْلَمَ؛ لَأَنَّ إِسْلَامَكَ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ مِنْ إِسْلَامِ الْخَطَّابِ.
فَحَالُ الشَّيْخَيْنِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، هُوَ الْوَاجِبُ عَلَى كُلِّ أَحَدٍ أَنْ يَكُونَ كَذَلِكَ؛ وَلِهَذَا كَانَا أَفْضَلَ الْمُؤْمِنِينَ بَعْدَ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَعَنْ سَائِرِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي حَيّان التيمي، حدثني يزيد ابن حَيَّانَ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وحُسَيْن بْنُ مَيْسَرة، وَعُمَرُ [[في ت، أ: "وعمرو".]] بْنُ مُسْلِمٍ إِلَى زَيْدِ [[في أ: "يزيد".]] بْنِ أَرْقَمَ، فَلَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: لَقَدْ لقيتَ يَا زَيْدُ [[في أ: "يزيد".]] خَيْرًا كَثِيرًا، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ وَغَزَوْتَ مَعَهُ، وَصَلَّيْتَ مَعَهُ. لَقَدْ رَأَيْتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا. حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ. فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، وَاللَّهِ كَبُرت [[في ت، أ: "والله لقد كبرت".]] سِنِّي، وَقَدِمَ عَهْدِي، وَنَسِيتُ بَعْضَ الَّذِي كُنْتُ أَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَمَا حَدَّثْتُكُمْ فَاقْبَلُوهُ، وَمَا لَا فَلَا تُكَلّفونيه. ثُمَّ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمًا خَطِيبًا فِينَا، بِمَاءٍ يُدْعَى خُمّا -بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ-فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَذَكَرَ وَوَعَظَ، ثُمَّ قَالَ: "أَمَّا بَعْدُ، أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَ، وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ، أَوَّلُهُمَا: كِتَابُ اللَّهِ، فِيهِ الهدى والنور، فخذوا بكتاب الله واستمسكوا به" فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَرَغَّبَ فِيهِ، وَقَالَ: "وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي" فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ يَا زَيْدُ؟ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: إِنَّ نِسَاءَهُ من أهل بيته، ولكن أهل بيته من حُرم الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ قَالَ: وَمَنْ هُمْ؟ قَالَ: هم آل علي، وآل عقيل، وآل جعفر، وَآلُ الْعَبَّاسِ، قَالَ: أَكُلُّ هَؤُلَاءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ؟ قال: نعم.
وهكذا رواه مسلم [في فضائل] [[زيادة من ت، م، أ.]] وَالنَّسَائِيُّ مِنْ طُرُقٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيّان به [[المسند (٤/٣٦٦) وصحيح مسلم برقم (٢٤٠٨) والنسائي في السنن الكبرى برقم (٨١٧٥) .]] .
وَقَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ [[في ت: "وروى الترمذي".]] حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ -وَالْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ-قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ "إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي، أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الْآخَرِ: كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ [[في ت: "بين".]] السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَالْآخَرُ عِتْرَتِي: أَهْلُ بَيْتِي، وَلَنْ يَتَفَرَّقا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا"
تَفَرَّدَ بِرِوَايَتِهِ التِّرْمِذِيُّ [[سنن الترمذي برقم (٣٧٨٨) .]] ثُمَّ قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ أَيْضًا [[في ت: "وروى الترمذي".]] حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ [[في ت: "عبد الله رضي الله عنه".]] قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فِي حَجَّتِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ يَخْطُبُ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا: كِتَابَ اللَّهِ، وَعِتْرَتِي: أَهْلَ بَيْتِي"
تَفَرَّدَ بِهِ التِّرْمِذِيُّ أَيْضًا [[سنن الترمذي برقم (٣٧٨٦) .]] ، وَقَالَ: حَسَنٌ غَرِيبٌ. وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ.
ثُمَّ قَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِين، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ النَّوْفَلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ [[قي ت: "وروى الترمذي أيضا عن ابن عباس".]] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَحِبُّوا اللَّهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ [[في ت: "يغدوكم به".]] مِنْ نِعَمِهِ، وَأَحِبُّونِي [[في ت: "فأحبوني".]] بِحُبِّ اللَّهِ، وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي بِحُبِّي"
ثُمَّ قَالَ [[في ت: "وقال".]] حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ [[سنن الترمذي برقم (٣٧٨٩) .]] .
وَقَدْ أَوْرَدْنَا أَحَادِيثَ أُخَر عِنْدَ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ [الْأَحْزَابِ: ٣٣] [[انظر تفسير الآية: ٣٣ من سورة لأحزاب.]] ، بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهَا هَاهُنَا، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ.
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى: حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيد، حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَنَش قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ وَهُوَ آخِذٌ بِحَلْقَةِ الْبَابِ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي، وَمَنْ أَنْكَرَنِي فَأَنَا أَبُو ذَرٍّ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّمَا مَثَلُ أهل بيتي فيكم مَثَل سفينة نوح، مَنْ دَخَلَهَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا هَلَكَ" [[ورواه الحاكم في المستدرك وصححه (٣/١٥٠) من طريق مفضل بن صالح عن أبي إسحاق به، وتعقبه الذهبي بقوله: "فيه مفضل ابن صالح واه"، ورواه الطبراني في المعجم الكبير (٣/٣٧) من طريق عبد الله بن داهر عن عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ عَنِ الْأَعْمَشِ عن أبي إسحاق به، وفي إسناده عبد الله بن داهر الرازي متروك.]] .
هَذَا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ضَعِيفٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَنْ يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نزدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا﴾ أَيْ: وَمَنْ يَعْمَلُ حَسَنَةً ﴿نزدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا﴾ أَيْ: أَجْرًا وَثَوَابًا، كَقَوْلِهِ ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [النِّسَاءِ:٤٠] .
وَقَالَ بَعْضُ السَّلَفِ: [إِنَّ] [[زيادة من ت، م، أ.]] مِنْ ثَوَابِ الْحَسَنَةِ الْحَسَنَةَ بَعْدَهَا، وَمِنْ جَزَاءِ السَّيِّئَةِ (السَّيِّئَةَ) بَعْدَهَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ شَكُورٌ﴾ أَيْ: يَغْفِرُ الْكَثِيرَ مِنَ السَّيِّئَاتِ، وَيُكَثِّرُ الْقَلِيلَ مِنَ الْحَسَنَاتِ، فَيَسْتُرُ وَيَغْفِرُ، وَيُضَاعِفُ فَيَشْكُرُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا فَإِنْ يَشَأِ اللَّهُ يَخْتِمْ عَلَى قَلْبِكَ﴾ أَيْ: لَوِ افْتَرَيْتَ عَلَيْهِ كَذِبًا كَمَا يَزْعُمُ هَؤُلَاءِ الْجَاهِلُونَ ﴿يَخْتِمْ عَلَى قَلْبِكَ﴾ أَيْ: لَطَبَعَ عَلَى قَلْبِكَ وَسَلَبَكَ مَا كَانَ آتَاكَ مِنَ الْقُرْآنِ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الأقَاوِيلِ لأخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ﴾ [الْحَاقَّةِ:٤٤-٤٧] أَيْ: لَانْتَقَمْنَا مِنْهُ أَشَدَّ الِانْتِقَامِ، وَمَا قَدَرَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَنْ يَحْجِزَ عَنْهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَمْحُ اللَّهُ الْبَاطِلَ﴾ لَيْسَ مَعْطُوفًا عَلَى قَوْلِهِ: ﴿يَخْتِمْ﴾ فَيَكُونَ مَجْزُومًا، بَلْ هُوَ مَرْفُوعٌ عَلَى الِابْتِدَاءِ، قَالَهُ ابْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: وَحُذِفَتْ مِنْ كِتَابَتِهِ "الْوَاوُ" فِي رَسْمِ الْمُصْحَفِ الْإِمَامِ، كَمَا حُذِفَتْ فِي [[في ت، أ: "من".]] قَوْلِهِ: ﴿سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ [الْعَلَقِ:١٨] وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَدْعُ الإنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاءَهُ بِالْخَيْرِ﴾ [الْإِسْرَاءِ:١١] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ﴾ مَعْطُوفٌ عَلَى ﴿وَيَمْحُ اللَّهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ﴾ أَيْ: يُحَقِّقُهُ وَيُثْبِتُهُ وَيُبَيِّنُهُ وَيُوَضِّحُهُ بِكَلِمَاتِهِ، أَيْ: بِحُجَجِهِ وَبَرَاهِينِهِ، ﴿إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ﴾ أَيْ: بِمَا تُكِنُّهُ الضَّمَائِرُ، وَتَنْطَوِي عَلَيْهِ السَّرَائِرُ.
وَهُوَ ٱلَّذِى يَقْبَلُ ٱلتَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِۦ وَيَعْفُوا۟ عَنِ ٱلسَّيِّـَٔاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ
And it is He who accepts repentance from his servants and pardons misdeeds, and He knows what you do.
اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور (ان کے) قصور معاف فرماتا ہے اور جو تم کرتے ہو (سب) جانتا ہے
او کسی است که توبه را از بندگانش میپذیرد و بدیها را میبخشد، و آنچه را انجام میدهید میداند.
Tafsir Ibn Kathir
And He it is Who accepts repentance from His servants, and forgives sins, and He knows what you do (25)And He answers those who believe and do righteous good deeds, and gives them increase of His bounty. And as for the disbelievers, theirs will be a severe torment (26)And if Allah were to extend the provision for His servants, they would surely rebel in the earth, but He sends down by measure as He wills. Verily, He is, in respect of His servants, the Well-Aware, the All-Seer (27)And He it is Who sends down the rain after they have despaired, and spreads His mercy. And He is the Wali, Worthy of all praise (28)
Allah accepts Repentance and responds to Supplications
Here Allah reminds His servants that He accepts repentance. If they turn to Him and come back to Him, then by His kindness and generosity He forgives, overlooks and conceals (their sins), as He says:
وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا
(And whoever does evil or wrongs himself but afterwards seeks Allah's forgiveness, he will find Allah Oft-Forgiving, Most Merciful.)(4:110) It was reported in Sahih Muslim that Anas bin Malik, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
للهُ تَعَالَىٰ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ - حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ - مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَتْ رَاحِلَتُهُ بِأَرْضِ فَلَاةٍ، فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ، وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَأَيِسَ مِنْهَا فَأَتَىٰ شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا، قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا، قَائِمَةً عِنْدَهُ، فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا، ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ: اللّٰهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ، أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ
(Allah is more pleased with the repentance of His servant than anyone of you who loses his riding beast in a barren land, and it was carrying his food and drink; he despairs of ever finding it, so he comes to a tree and lies down in its shade, having given up all hope of finding his riding beast; then whilst he is there like that, suddenly he sees it standing near him, so he takes hold of its reins and because of his great joy he says, "O Allah,You are my slave and I am Your Lord!" – i.e,. he makes a mistake because of his great joy.)"
A similar report was also narrated in the Sahih from 'Abdullah bin Mas'ud, may Allah be pleased with him.
وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ
(And He it is Who accepts repentance from His servants,) It was reported that Az-Zuhri said, concerning this Ayah, that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
للهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يَخَافُ أَنْ يَقْتُلَهُ فِيهِ الْعَطَشُ
(Allah rejoices more over the repentance of His servant than one of you feels when he finds his lost camel in a place where he had feared that he would die of thirst.)" Hammam bin Al-Harith said, "Ibn Mas'ud was asked about a man who commits immoral sins with a woman and then marries her. He said, 'There is nothing wrong with that,' and recited:
وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ
(And He it is Who accepts repentance from His servants)."
وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ
(and forgives sins,) means, He will accept repentance in the future, and He forgives past sins.
وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ
(and He knows what you do.) means, He knows all your deeds and actions and words, yet He still accepts the repentance of those who repent to Him.
وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
(And He answers those who believe and do righteous good deeds,) As-Suddi said, "This means, He responds to them." This was also the view of Ibn Jarir: "It means that He answers their supplication for themselves, their companions and their brothers."
وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ
(and gives them increase of His bounty.) means, He answers their supplications and gives them more besides. Qatadah said, narrating from Ibrahim An-Nakha'i Al-Lakhmi about the Ayah:
وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
(And He answers those who believe and do righteous good deeds,) – (this means) they intercede for their brothers;
وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ
(and gives them increase of His bounty.) – (this means) they intercede for their brothers' brothers.
وَالْكَافِرُونَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ
(And as for the disbelievers, theirs will be a severe torment.) – having mentioned the believers and the great reward that is theirs, Allah then mentions the disbelievers and the severe, painful, agonizing torment that they will find with Him on the Day of Resurrection, the Day when they are brought to account.
The Reason why Provision is not Increased
وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ
(And if Allah were to extend the provision for His servants, they would surely rebel in the earth,) means, 'if We gave them more provision than they need, this would make them rebel and transgress against one another in an arrogant and insolent manner.'
وَلَٰكِنْ يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرٌ
(but He sends down by measure as He wills. Verily, He is, in respect of His servants, the Well-Aware, the All-Seer.) means, but He gives them provision according to what is in their best interests, and He knows best about that. So He makes rich those who deserve to be rich, and He makes poor those who deserve to be poor.
وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا
(And He it is Who sends down the rain after they have despaired,) means, after the people have given up hope that rain will fall, He sends it down upon them at their time of need. This is like the Ayah:
وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ
(And verily, before that (rain) – just before it was sent down upon them – they were in despair!)(30:49)
وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ
(and spreads His mercy.) means, He bestows it upon all the people who live in that region. Qatadah said, "We were told that a man said to 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, 'O Commander of the faithful, no rain has come and the people are in despair.' 'Umar, may Allah be pleased with him, said, 'Rain will be sent upon you,' and he recited:
وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ ۚ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ
(And He it is Who sends down the rain after they have despaired, and spreads His mercy. And He is the Protector, Worthy of all praise)." Meaning He is the One Who is in control of His creation, taking care of what will benefit them in this world and the Hereafter, and the consequences of all His decrees and actions are good, for which He is worthy of all praise.
Tafsir Ibn Kathir
توبہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنا احسان اور اپنا کرم بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں پر اس قدر مہربان ہے کہ بد سے بد گنہگار بھی جب اپنی بد کرداری سے باز آئے اور خلوص کے ساتھ اس کے سامنے جھکے اور سچے دل سے توبہ کرے تو وہ اپنے رحم و کرم سے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اپنا فضل اس کے شامل حال کردیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01100) 4۔ النسآء :110) ، جو شخص بد عملی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو غفور و رحیم پائے گا۔ صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی اونٹنی جنگل بیابان میں گم ہوگئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا بھی ہو یہ اس کی جستجو کر کے عاجز آکر کسی درخت تلے پڑ رہا اور اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا اونٹنی سے بالکل مایوس ہوگیا کہ یکایک وہ دیکھتا ہے کہ اونٹنی اس کے پاس ہی کھڑی ہے یہ فورا اٹھ بیٹھتا ہے اس کی نکیل تھام لیتا ہے اور اس قدر خوش ہوتا ہے کہ بےتحاشا اس کی زبان سے نکل جاتا ہے کہ یا اللہ بیشک تو میرا غلام ہے اور میں تیرا رب ہوں وہ اپنی خوشی کی وجہ سے خطا کرجاتا ہے ایک مختصر حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اتنی خوشی اس شخص کو بھی نہیں ہوتی جو ایسی جگہ میں ہو جہاں پیاس کے مارے ہلاک ہو رہا ہو اور وہیں اس کی سواری کا جانور گم ہوگیا ہو جو اسے دفعتًا مل جائے۔ حضرت ابن مسعود سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے برا کام کرتا ہے پھر اس سے نکاح کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا نکاح میں کوئی حرج نہیں پھر آپ نے یہی آیت پڑھی توبہ تو مستقبل کے لئے قبول ہوتی ہے اور برائیاں گذشتہ معاف کردی جاتی ہیں تمہارے ہر قول و فعل اور عمل کا اسے علم ہے۔ باوجود اس کے جھکنے والے کی طرف مائل ہوتا ہے اور توبہ قبول فرما لیتا ہے وہ ایمان والوں اور نیک کاروں کی دعا قبول فرماتا ہے وہ خواہ اپنے لئے دعا کریں خواہ دوسروں کے لئے۔ حضرت معاذ ملک شام میں خطبہ پڑھتے ہوئے اپنے مجاہد ساتھیوں سے فرماتے ہیں تم ایمان دار ہو اور جنتی ہو اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ رومی اور فارسی جنہیں تم قید کر لائے ہو کیا عجب کہ یہ بھی جنت میں پہنچ جائیں کیونکہ ان میں سے جب تمہارا کوئی کام کردیتا ہے تو تم اسے کہتے ہو اللہ تجھ پر رحم کرے تو نے بہت اچھا کام کیا اللہ تجھے برکت دے تو نے بہت اچھا کیا وغیرہ اور قرآن کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کی قبول فرماتا ہے پھر آپ نے اسی آیت کا یہ جملہ تلاوت فرمایا معنی اسکے یہ کہ اللہ ان کی سنتا ہے جو بات کو مان لیتے ہیں اور اس کی اتباع کرتے ہیں اور جیسے فرمایا آیت (اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ 36۬) 6۔ الانعام :36) ابن ابی حاتم میں ہے کہ اپنے فضل سے زیادتی دینا یہ ہے کہ ان کے حق میں ایسے لوگوں کی سفارش قبول فرما لے گا جن کے ساتھ انہوں نے کچھ سلوک کیا ہو۔ حضرت ابراہیم نخعی نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے وہ اپنے بھائیوں کی سفارش کریں گے اور انہیں زیادہ فضل ملے گا یعنی بھائیوں کے بھائیوں کی بھی شفاعت کی اجازت ہوجائے گی مومنوں کی اس عزو شان کو بیان فرما کر کفار کی بدحالی بیان فرمائی کہ انہیں سخت دردناک اور گھبراہٹ والے عذاب ہونگے پھر فرمایا اگر ان بندوں کو ان کی روزیوں میں وسعت مل جاتی ان کی ضرورت سے زیادہ ان کے پلے پڑجاتا تو یہ خرمستی میں آ کر دنیا میں ہلڑ مچا دیتے اور دنیا کے امن کو آگ لگا دیتے ایک دوسرے کو پھونک دینا بھون کھانا۔ سرکشی اور طغیان تکبر اور بےپرواہی حد سے بڑھ جاتی اسی لئے حضرت قتادہ کا فلسفیانہ مقولہ ہے کہ زندگی کا سامان اتنا ہی اچھا ہے جتنے میں سرکشی اور لا ابالی پن نہ آئے اس مضمون کی پوری حدیث کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر دنیا کی نمائش کا ہے پہلے بیان ہوچکی ہے پھر فرماتا ہے وہ ایک اندازے سے روزیاں پہنچا رہا ہے بندے کی صلاحیت کا اسے علم ہے۔ غنا اور فقیری کے مستحق کو وہ خوب جانتا ہے قدسی حدیث شریف میں ہے میرے بندے ایسے بھی ہیں جن کی صلاحیت مالداری میں ہی ہے اگر میں انہیں فقیر بنا دوں تو وہ دینداری سے بھی جاتے رہیں گے۔ اور بعض میرے بندے ایسے بھی ہیں کہ ان کے لائق فقیری ہی ہے اگر وہ مال حاصل کرلیں اور توانگر بن جائیں تو اس حالت میں گویا ان کا دین فاسد کر دوں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ لوگ باران رحمت کا انتظار کرتے کرتے مایوس ہوجاتے ہیں ایسی پوری حاجت اور سخت مصیبت کے وقت میں بارش برساتا ہوں ان کی ناامیدی اور خشک سالی ختم ہوجاتی ہے اور عام طور پر میری رحمت پھیل جاتی ہے امیرالمومنین خلیفتہ المسلمین فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب سے ایک شخص کہتا ہے امیر المومنین قحط سالی ہوگئی اور اب تو لوگ بارش سے بالکل مایوس ہوگئے تو آپ نے فرمایا جاؤ اب انشاء اللہ ضرور بارش ہوگی پھر اس آیت کی تلاوت کی وہ ولی وحمید ہے یعنی مخلوقات کے تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں اس کے کام قابل ستائش و تعریف ہیں۔ مخلوق کے بھلے کو وہ جانتا ہے اور ان کے نفع کا اسے علم ہے اس کے کام نفع سے خالی نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُمْتَنًّا عَلَى عِبَادِهِ بِقَبُولِ تَوْبَتِهِمْ إِلَيْهِ إِذَا تَابُوا وَرَجَعُوا إِلَيْهِ: أَنَّهُ مِنْ كَرَمِهِ وَحِلْمِهِ أَنَّهُ يَعْفُو وَيَصْفَحُ وَيَسْتُرُ وَيَغْفِرُ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ [النِّسَاءِ:١١٠] وَقَدْ ثَبَتَ فِي صَحِيحِ مسلم، رحمه الله، حيث قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَاحِ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ [[في أ: "قالا".]] حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ -وَهُوَ عَمُّهُ [[في ت: "عمه رضي الله عنه".]] -قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ، مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ رَاحِلَتُهُ بِأَرْضٍ فَلَاةٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ، وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَأَيِسَ مِنْهَا، فَأَتَى شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا، قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا قَائِمَةٌ عِنْدَهُ، فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ: اللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ -أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ" [[صحيح مسلم برقم (٢٧٤٧) .]] .
وَقَدْ ثَبَتَ أَيْضًا فِي الصَّحِيحِ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ نَحْوَهُ [[في ت: "مثله".]] [[صحيح مسلم برقم (٢٧٤٤) .]] .
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ﴾ : أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ [[في ت: "راحلته".]] فِي الْمَكَانِ الَّذِي يَخَافُ أَنْ يَقْتُلَهُ الْعَطَشُ فِيهِ" [[تفسير عبد الرزاق (٢/١٥٦) وقد روى متصلا، فرواه مسلم في صحيحه برقم (٢٦٧٥) مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ همام ابن منبه عن أبي هريرة به.]] .
وَقَالَ هَمَّامُ بْنُ الْحَارِثِ: سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنْ الرَّجُلِ يَفْجُرُ بِالْمَرْأَةِ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ، وَقَرَأَ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ﴾ الْآيَةَ رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ الْقَاضِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ هَمَّامٍ فَذَكَرَهُ [[تفسير الطبري (٢٥/١٨) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ﴾ أَيْ: يَقْبَلُ التَّوْبَةَ فِي الْمُسْتَقْبَلِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ فِي الْمَاضِي، ﴿وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ﴾ أَيْ: هُوَ عَالِمٌ بِجَمِيعِ مَا فَعَلْتُمْ وَصَنَعْتُمْ وَقُلْتُمْ، وَمَعَ هَذَا يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ إِلَيْهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ قَالَ السُّدِّيُّ: يَعْنِي يَسْتَجِيبُ لَهُمْ. وَكَذَا قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: مَعْنَاهُ يَسْتَجِيبُ الدُّعَاءَ لَهُمْ [[في ت، م: "لهم الدعاء".]] [لِأَنْفُسِهِمْ] [[زيادة من ت، م.]] وَلِأَصْحَابِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ. وَحَكَاهُ عَنْ بَعْضِ النُّحَاةِ، وَأَنَّهُ جَعَلَهَا كَقَوْلِهِ: ﴿فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ﴾ [آلِ عِمْرَانَ: ١٩٥] .
ثُمَّ رَوَى هُوَ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَبْرَةَ قَالَ: خَطَبَنَا مُعَاذٌ بِالشَّامِ فَقَالَ: أَنْتُمُ الْمُؤْمِنُونَ، وَأَنْتُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ. وَاللَّهِ إِنِّي أَرْجُو أَنْ يُدْخِلَ اللَّهُ مَنْ تَسْبُونَ مِنْ فَارِسَ وَالرُّومِ الْجَنَّةَ، وَذَلِكَ بِأَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا عَمِلَ لَهُ -يَعْنِي أحدُهم عَمَلًا-قَالَ: أَحْسَنْتَ رَحِمَكَ [[في ت، م، أ: "يرحمك".]] اللَّهُ، أَحْسَنْتَ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ﴾
وَحَكَى ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعَرَبِيَّةِ أَنَّهُ جَعَلَ [[في ت، م: "جعله".]] [مِثْلَ] [[زيادة من ت، أ.]] قَوْلِهِ: ﴿وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا﴾ كَقَوْلِهِ: ﴿الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ﴾ [الزُّمَرِ:١٨] أَيْ: هُمُ الَّذِينَ يَسْتَجِيبُونَ لِلْحَقِّ وَيَتَّبِعُونَهُ، كَقَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: ﴿إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ﴾ [الْأَنْعَامِ:٣٦] وَالْمَعْنَى الْأَوَّلُ أَظْهَرُ؛ لِقَوْلِهِ [[في ت: "كقوله".]] تَعَالَى: ﴿وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ﴾ أَيْ: يَسْتَجِيبُ دُعَاءَهُمْ وَيَزِيدُهُمْ فَوْقَ ذَلِكَ؛ وَلِهَذَا قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ [[في ت: "روى ابن أبي حاتم بسنده عن عبد الله".]] قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ﴾ قَالَ: "الشَّفَاعَةُ لِمَنْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، مِمَّنْ صَنَعَ إِلَيْهِمْ مَعْرُوفًا [[في أ: "المعروف".]] فِي الدُّنْيَا" [[ورواه أبي عاصم في السنة برقم (٨٤٦) من طريق محمد بن مصفى عن بقية به، وفي إسيناده إسماعيل الكندي. قال الذهبي في الميزان (١/٢٣٥) : "عن الأعمش، وعنه بقية، بخبر عجيب منكر".]] .
وَقَالَ قَتَادَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ اللَّخْمِيِّ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ قَالَ: يُشَفَّعُونَ فِي إِخْوَانِهِمْ، ﴿وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ﴾ قَالَ: يُشَفَّعُونَ فِي إِخْوَانِ إِخْوَانِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالْكَافِرُونَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ﴾ لَمَّا ذَكَرَ الْمُؤْمِنِينَ وَمَا لَهُمْ مِنَ الثَّوَابِ الْجَزِيلِ، ذَكَرَ الْكَافِرِينَ وَمَا لَهُمْ عِنْدَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْعَذَابِ الشَّدِيدِ الْمُوجِعِ الْمُؤْلِمِ يَوْمَ مَعَادِهِمْ وَحِسَابِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الأرْضِ﴾ أَيْ: لَوْ أَعْطَاهُمْ فَوْقَ حَاجَتِهِمْ مِنَ الرِّزْقِ، لَحَمَلَهُمْ ذَلِكَ عَلَى الْبَغْيِ وَالطُّغْيَانِ مِنْ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ، أَشَرًا وَبَطَرًا.
وَقَالَ قَتَادَةُ: كَانَ يُقَالُ: خَيْرُ الْعَيْشِ مَا لَا يُلْهِيكَ وَلَا يُطْغِيكَ. وَذَكَرَ قَتَادَةُ حَدِيثَ: "إِنَّمَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ مِنْ زَهْرَةِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا" وَسُؤَالَ السَّائِلِ: أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ الْحَدِيثَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَكِنْ يُنزلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرٌ﴾ أَيْ: وَلَكِنْ يَرْزُقُهُمْ مِنَ الرِّزْقِ مَا يَخْتَارُهُ مِمَّا فِيهِ صَلَاحُهُمْ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِذَلِكَ فَيُغْنِي مَنْ يَسْتَحِقُّ الْغِنَى، وَيُفْقِرُ مَنْ يَسْتَحِقُّ الْفَقْرَ. كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الْمَرْوِيِّ: "إِنَّ مِنْ عِبَادِي لَمَنْ [[في ت: "من".]] لَا يُصْلِحُهُ إِلَّا الْغِنَى، وَلَوْ أَفْقَرْتُهُ لَأَفْسَدْتُ عَلَيْهِ دِينَهُ، وَإِنَّ مِنْ عِبَادِي لَمَنْ لَا يُصْلِحُهُ إِلَّا الْفَقْرُ، وَلَوْ أَغْنَيْتُهُ لَأَفْسَدْتُ عَلَيْهِ دِينَهُ"
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يُنزلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا﴾ أَيْ: مِنْ بَعْدِ إِيَاسِ النَّاسِ مِنْ نُزُولِ الْمَطَرِ، يُنَزِّلُهُ عَلَيْهِمْ فِي وَقْتِ حَاجَتِهِمْ وَفَقْرِهِمْ إِلَيْهِ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يُنزلَ عَلَيْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ﴾ [الرُّومِ:٤٩] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ﴾ أَيْ: يَعُمُّ بِهَا الْوُجُودَ عَلَى أَهْلِ ذَلِكَ القُطْر وتلك الناحية.
قَالَ قَتَادَةُ: ذُكِرَ لَنَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قُحط الْمَطَرُ وَقَنَطَ النَّاسُ؟ فَقَالَ عُمَرُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مُطِرْتُمْ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يُنزلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ﴾ [[رواه الطبري في تفسيره (٢٥/١٩) .]] .
﴿وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ﴾ أَيْ: هُوَ الْمُتَصَرِّفُ لِخَلْقِهِ بِمَا يَنْفَعُهُمْ فِي دُنْيَاهُمْ وَأُخْرَاهُمْ، وَهُوَ الْمَحْمُودُ الْعَاقِبَةِ فِي جَمِيعِ مَا يُقَدِّرُهُ وَيَفْعَلُهُ.
وَيَسْتَجِيبُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِۦ ۚ وَٱلْكَٰفِرُونَ لَهُمْ عَذَابٌۭ شَدِيدٌۭ
And He answers [the supplication of] those who have believed and done righteous deeds and increases [for] them from His bounty. But the disbelievers will have a severe punishment.
اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کی (دعا) قبول فرماتا ہے اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے
و درخواست کسانی را که ایمان آورده و کارهای نیک انجام دادهاند میپذیرد و از فضل خود بر آنها میافزاید؛ امّا برای کافران عذاب شدیدی است!
Tafsir Ibn Kathir
And He it is Who accepts repentance from His servants, and forgives sins, and He knows what you do (25)And He answers those who believe and do righteous good deeds, and gives them increase of His bounty. And as for the disbelievers, theirs will be a severe torment (26)And if Allah were to extend the provision for His servants, they would surely rebel in the earth, but He sends down by measure as He wills. Verily, He is, in respect of His servants, the Well-Aware, the All-Seer (27)And He it is Who sends down the rain after they have despaired, and spreads His mercy. And He is the Wali, Worthy of all praise (28)
Allah accepts Repentance and responds to Supplications
Here Allah reminds His servants that He accepts repentance. If they turn to Him and come back to Him, then by His kindness and generosity He forgives, overlooks and conceals (their sins), as He says:
وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا
(And whoever does evil or wrongs himself but afterwards seeks Allah's forgiveness, he will find Allah Oft-Forgiving, Most Merciful.)(4:110) It was reported in Sahih Muslim that Anas bin Malik, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
للهُ تَعَالَىٰ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ - حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ - مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَتْ رَاحِلَتُهُ بِأَرْضِ فَلَاةٍ، فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ، وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَأَيِسَ مِنْهَا فَأَتَىٰ شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا، قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا، قَائِمَةً عِنْدَهُ، فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا، ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ: اللّٰهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ، أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ
(Allah is more pleased with the repentance of His servant than anyone of you who loses his riding beast in a barren land, and it was carrying his food and drink; he despairs of ever finding it, so he comes to a tree and lies down in its shade, having given up all hope of finding his riding beast; then whilst he is there like that, suddenly he sees it standing near him, so he takes hold of its reins and because of his great joy he says, "O Allah,You are my slave and I am Your Lord!" – i.e,. he makes a mistake because of his great joy.)"
A similar report was also narrated in the Sahih from 'Abdullah bin Mas'ud, may Allah be pleased with him.
وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ
(And He it is Who accepts repentance from His servants,) It was reported that Az-Zuhri said, concerning this Ayah, that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
للهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يَخَافُ أَنْ يَقْتُلَهُ فِيهِ الْعَطَشُ
(Allah rejoices more over the repentance of His servant than one of you feels when he finds his lost camel in a place where he had feared that he would die of thirst.)" Hammam bin Al-Harith said, "Ibn Mas'ud was asked about a man who commits immoral sins with a woman and then marries her. He said, 'There is nothing wrong with that,' and recited:
وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ
(And He it is Who accepts repentance from His servants)."
وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ
(and forgives sins,) means, He will accept repentance in the future, and He forgives past sins.
وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ
(and He knows what you do.) means, He knows all your deeds and actions and words, yet He still accepts the repentance of those who repent to Him.
وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
(And He answers those who believe and do righteous good deeds,) As-Suddi said, "This means, He responds to them." This was also the view of Ibn Jarir: "It means that He answers their supplication for themselves, their companions and their brothers."
وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ
(and gives them increase of His bounty.) means, He answers their supplications and gives them more besides. Qatadah said, narrating from Ibrahim An-Nakha'i Al-Lakhmi about the Ayah:
وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
(And He answers those who believe and do righteous good deeds,) – (this means) they intercede for their brothers;
وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ
(and gives them increase of His bounty.) – (this means) they intercede for their brothers' brothers.
وَالْكَافِرُونَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ
(And as for the disbelievers, theirs will be a severe torment.) – having mentioned the believers and the great reward that is theirs, Allah then mentions the disbelievers and the severe, painful, agonizing torment that they will find with Him on the Day of Resurrection, the Day when they are brought to account.
The Reason why Provision is not Increased
وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ
(And if Allah were to extend the provision for His servants, they would surely rebel in the earth,) means, 'if We gave them more provision than they need, this would make them rebel and transgress against one another in an arrogant and insolent manner.'
وَلَٰكِنْ يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرٌ
(but He sends down by measure as He wills. Verily, He is, in respect of His servants, the Well-Aware, the All-Seer.) means, but He gives them provision according to what is in their best interests, and He knows best about that. So He makes rich those who deserve to be rich, and He makes poor those who deserve to be poor.
وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا
(And He it is Who sends down the rain after they have despaired,) means, after the people have given up hope that rain will fall, He sends it down upon them at their time of need. This is like the Ayah:
وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ
(And verily, before that (rain) – just before it was sent down upon them – they were in despair!)(30:49)
وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ
(and spreads His mercy.) means, He bestows it upon all the people who live in that region. Qatadah said, "We were told that a man said to 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, 'O Commander of the faithful, no rain has come and the people are in despair.' 'Umar, may Allah be pleased with him, said, 'Rain will be sent upon you,' and he recited:
وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ ۚ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ
(And He it is Who sends down the rain after they have despaired, and spreads His mercy. And He is the Protector, Worthy of all praise)." Meaning He is the One Who is in control of His creation, taking care of what will benefit them in this world and the Hereafter, and the consequences of all His decrees and actions are good, for which He is worthy of all praise.
Tafsir Ibn Kathir
توبہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنا احسان اور اپنا کرم بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں پر اس قدر مہربان ہے کہ بد سے بد گنہگار بھی جب اپنی بد کرداری سے باز آئے اور خلوص کے ساتھ اس کے سامنے جھکے اور سچے دل سے توبہ کرے تو وہ اپنے رحم و کرم سے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اپنا فضل اس کے شامل حال کردیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01100) 4۔ النسآء :110) ، جو شخص بد عملی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو غفور و رحیم پائے گا۔ صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی اونٹنی جنگل بیابان میں گم ہوگئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا بھی ہو یہ اس کی جستجو کر کے عاجز آکر کسی درخت تلے پڑ رہا اور اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا اونٹنی سے بالکل مایوس ہوگیا کہ یکایک وہ دیکھتا ہے کہ اونٹنی اس کے پاس ہی کھڑی ہے یہ فورا اٹھ بیٹھتا ہے اس کی نکیل تھام لیتا ہے اور اس قدر خوش ہوتا ہے کہ بےتحاشا اس کی زبان سے نکل جاتا ہے کہ یا اللہ بیشک تو میرا غلام ہے اور میں تیرا رب ہوں وہ اپنی خوشی کی وجہ سے خطا کرجاتا ہے ایک مختصر حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اتنی خوشی اس شخص کو بھی نہیں ہوتی جو ایسی جگہ میں ہو جہاں پیاس کے مارے ہلاک ہو رہا ہو اور وہیں اس کی سواری کا جانور گم ہوگیا ہو جو اسے دفعتًا مل جائے۔ حضرت ابن مسعود سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے برا کام کرتا ہے پھر اس سے نکاح کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا نکاح میں کوئی حرج نہیں پھر آپ نے یہی آیت پڑھی توبہ تو مستقبل کے لئے قبول ہوتی ہے اور برائیاں گذشتہ معاف کردی جاتی ہیں تمہارے ہر قول و فعل اور عمل کا اسے علم ہے۔ باوجود اس کے جھکنے والے کی طرف مائل ہوتا ہے اور توبہ قبول فرما لیتا ہے وہ ایمان والوں اور نیک کاروں کی دعا قبول فرماتا ہے وہ خواہ اپنے لئے دعا کریں خواہ دوسروں کے لئے۔ حضرت معاذ ملک شام میں خطبہ پڑھتے ہوئے اپنے مجاہد ساتھیوں سے فرماتے ہیں تم ایمان دار ہو اور جنتی ہو اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ رومی اور فارسی جنہیں تم قید کر لائے ہو کیا عجب کہ یہ بھی جنت میں پہنچ جائیں کیونکہ ان میں سے جب تمہارا کوئی کام کردیتا ہے تو تم اسے کہتے ہو اللہ تجھ پر رحم کرے تو نے بہت اچھا کام کیا اللہ تجھے برکت دے تو نے بہت اچھا کیا وغیرہ اور قرآن کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کی قبول فرماتا ہے پھر آپ نے اسی آیت کا یہ جملہ تلاوت فرمایا معنی اسکے یہ کہ اللہ ان کی سنتا ہے جو بات کو مان لیتے ہیں اور اس کی اتباع کرتے ہیں اور جیسے فرمایا آیت (اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ 36۬) 6۔ الانعام :36) ابن ابی حاتم میں ہے کہ اپنے فضل سے زیادتی دینا یہ ہے کہ ان کے حق میں ایسے لوگوں کی سفارش قبول فرما لے گا جن کے ساتھ انہوں نے کچھ سلوک کیا ہو۔ حضرت ابراہیم نخعی نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے وہ اپنے بھائیوں کی سفارش کریں گے اور انہیں زیادہ فضل ملے گا یعنی بھائیوں کے بھائیوں کی بھی شفاعت کی اجازت ہوجائے گی مومنوں کی اس عزو شان کو بیان فرما کر کفار کی بدحالی بیان فرمائی کہ انہیں سخت دردناک اور گھبراہٹ والے عذاب ہونگے پھر فرمایا اگر ان بندوں کو ان کی روزیوں میں وسعت مل جاتی ان کی ضرورت سے زیادہ ان کے پلے پڑجاتا تو یہ خرمستی میں آ کر دنیا میں ہلڑ مچا دیتے اور دنیا کے امن کو آگ لگا دیتے ایک دوسرے کو پھونک دینا بھون کھانا۔ سرکشی اور طغیان تکبر اور بےپرواہی حد سے بڑھ جاتی اسی لئے حضرت قتادہ کا فلسفیانہ مقولہ ہے کہ زندگی کا سامان اتنا ہی اچھا ہے جتنے میں سرکشی اور لا ابالی پن نہ آئے اس مضمون کی پوری حدیث کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر دنیا کی نمائش کا ہے پہلے بیان ہوچکی ہے پھر فرماتا ہے وہ ایک اندازے سے روزیاں پہنچا رہا ہے بندے کی صلاحیت کا اسے علم ہے۔ غنا اور فقیری کے مستحق کو وہ خوب جانتا ہے قدسی حدیث شریف میں ہے میرے بندے ایسے بھی ہیں جن کی صلاحیت مالداری میں ہی ہے اگر میں انہیں فقیر بنا دوں تو وہ دینداری سے بھی جاتے رہیں گے۔ اور بعض میرے بندے ایسے بھی ہیں کہ ان کے لائق فقیری ہی ہے اگر وہ مال حاصل کرلیں اور توانگر بن جائیں تو اس حالت میں گویا ان کا دین فاسد کر دوں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ لوگ باران رحمت کا انتظار کرتے کرتے مایوس ہوجاتے ہیں ایسی پوری حاجت اور سخت مصیبت کے وقت میں بارش برساتا ہوں ان کی ناامیدی اور خشک سالی ختم ہوجاتی ہے اور عام طور پر میری رحمت پھیل جاتی ہے امیرالمومنین خلیفتہ المسلمین فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب سے ایک شخص کہتا ہے امیر المومنین قحط سالی ہوگئی اور اب تو لوگ بارش سے بالکل مایوس ہوگئے تو آپ نے فرمایا جاؤ اب انشاء اللہ ضرور بارش ہوگی پھر اس آیت کی تلاوت کی وہ ولی وحمید ہے یعنی مخلوقات کے تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں اس کے کام قابل ستائش و تعریف ہیں۔ مخلوق کے بھلے کو وہ جانتا ہے اور ان کے نفع کا اسے علم ہے اس کے کام نفع سے خالی نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُمْتَنًّا عَلَى عِبَادِهِ بِقَبُولِ تَوْبَتِهِمْ إِلَيْهِ إِذَا تَابُوا وَرَجَعُوا إِلَيْهِ: أَنَّهُ مِنْ كَرَمِهِ وَحِلْمِهِ أَنَّهُ يَعْفُو وَيَصْفَحُ وَيَسْتُرُ وَيَغْفِرُ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ [النِّسَاءِ:١١٠] وَقَدْ ثَبَتَ فِي صَحِيحِ مسلم، رحمه الله، حيث قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَاحِ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ [[في أ: "قالا".]] حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ -وَهُوَ عَمُّهُ [[في ت: "عمه رضي الله عنه".]] -قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ، مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ رَاحِلَتُهُ بِأَرْضٍ فَلَاةٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ، وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَأَيِسَ مِنْهَا، فَأَتَى شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا، قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا قَائِمَةٌ عِنْدَهُ، فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ: اللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ -أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ" [[صحيح مسلم برقم (٢٧٤٧) .]] .
وَقَدْ ثَبَتَ أَيْضًا فِي الصَّحِيحِ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ نَحْوَهُ [[في ت: "مثله".]] [[صحيح مسلم برقم (٢٧٤٤) .]] .
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ﴾ : أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ [[في ت: "راحلته".]] فِي الْمَكَانِ الَّذِي يَخَافُ أَنْ يَقْتُلَهُ الْعَطَشُ فِيهِ" [[تفسير عبد الرزاق (٢/١٥٦) وقد روى متصلا، فرواه مسلم في صحيحه برقم (٢٦٧٥) مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ همام ابن منبه عن أبي هريرة به.]] .
وَقَالَ هَمَّامُ بْنُ الْحَارِثِ: سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنْ الرَّجُلِ يَفْجُرُ بِالْمَرْأَةِ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ، وَقَرَأَ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ﴾ الْآيَةَ رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ الْقَاضِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ هَمَّامٍ فَذَكَرَهُ [[تفسير الطبري (٢٥/١٨) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ﴾ أَيْ: يَقْبَلُ التَّوْبَةَ فِي الْمُسْتَقْبَلِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ فِي الْمَاضِي، ﴿وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ﴾ أَيْ: هُوَ عَالِمٌ بِجَمِيعِ مَا فَعَلْتُمْ وَصَنَعْتُمْ وَقُلْتُمْ، وَمَعَ هَذَا يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ إِلَيْهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ قَالَ السُّدِّيُّ: يَعْنِي يَسْتَجِيبُ لَهُمْ. وَكَذَا قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: مَعْنَاهُ يَسْتَجِيبُ الدُّعَاءَ لَهُمْ [[في ت، م: "لهم الدعاء".]] [لِأَنْفُسِهِمْ] [[زيادة من ت، م.]] وَلِأَصْحَابِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ. وَحَكَاهُ عَنْ بَعْضِ النُّحَاةِ، وَأَنَّهُ جَعَلَهَا كَقَوْلِهِ: ﴿فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ﴾ [آلِ عِمْرَانَ: ١٩٥] .
ثُمَّ رَوَى هُوَ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَبْرَةَ قَالَ: خَطَبَنَا مُعَاذٌ بِالشَّامِ فَقَالَ: أَنْتُمُ الْمُؤْمِنُونَ، وَأَنْتُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ. وَاللَّهِ إِنِّي أَرْجُو أَنْ يُدْخِلَ اللَّهُ مَنْ تَسْبُونَ مِنْ فَارِسَ وَالرُّومِ الْجَنَّةَ، وَذَلِكَ بِأَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا عَمِلَ لَهُ -يَعْنِي أحدُهم عَمَلًا-قَالَ: أَحْسَنْتَ رَحِمَكَ [[في ت، م، أ: "يرحمك".]] اللَّهُ، أَحْسَنْتَ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ﴾
وَحَكَى ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعَرَبِيَّةِ أَنَّهُ جَعَلَ [[في ت، م: "جعله".]] [مِثْلَ] [[زيادة من ت، أ.]] قَوْلِهِ: ﴿وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا﴾ كَقَوْلِهِ: ﴿الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ﴾ [الزُّمَرِ:١٨] أَيْ: هُمُ الَّذِينَ يَسْتَجِيبُونَ لِلْحَقِّ وَيَتَّبِعُونَهُ، كَقَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: ﴿إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ﴾ [الْأَنْعَامِ:٣٦] وَالْمَعْنَى الْأَوَّلُ أَظْهَرُ؛ لِقَوْلِهِ [[في ت: "كقوله".]] تَعَالَى: ﴿وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ﴾ أَيْ: يَسْتَجِيبُ دُعَاءَهُمْ وَيَزِيدُهُمْ فَوْقَ ذَلِكَ؛ وَلِهَذَا قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ [[في ت: "روى ابن أبي حاتم بسنده عن عبد الله".]] قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ﴾ قَالَ: "الشَّفَاعَةُ لِمَنْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، مِمَّنْ صَنَعَ إِلَيْهِمْ مَعْرُوفًا [[في أ: "المعروف".]] فِي الدُّنْيَا" [[ورواه أبي عاصم في السنة برقم (٨٤٦) من طريق محمد بن مصفى عن بقية به، وفي إسيناده إسماعيل الكندي. قال الذهبي في الميزان (١/٢٣٥) : "عن الأعمش، وعنه بقية، بخبر عجيب منكر".]] .
وَقَالَ قَتَادَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ اللَّخْمِيِّ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ قَالَ: يُشَفَّعُونَ فِي إِخْوَانِهِمْ، ﴿وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ﴾ قَالَ: يُشَفَّعُونَ فِي إِخْوَانِ إِخْوَانِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالْكَافِرُونَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ﴾ لَمَّا ذَكَرَ الْمُؤْمِنِينَ وَمَا لَهُمْ مِنَ الثَّوَابِ الْجَزِيلِ، ذَكَرَ الْكَافِرِينَ وَمَا لَهُمْ عِنْدَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْعَذَابِ الشَّدِيدِ الْمُوجِعِ الْمُؤْلِمِ يَوْمَ مَعَادِهِمْ وَحِسَابِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الأرْضِ﴾ أَيْ: لَوْ أَعْطَاهُمْ فَوْقَ حَاجَتِهِمْ مِنَ الرِّزْقِ، لَحَمَلَهُمْ ذَلِكَ عَلَى الْبَغْيِ وَالطُّغْيَانِ مِنْ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ، أَشَرًا وَبَطَرًا.
وَقَالَ قَتَادَةُ: كَانَ يُقَالُ: خَيْرُ الْعَيْشِ مَا لَا يُلْهِيكَ وَلَا يُطْغِيكَ. وَذَكَرَ قَتَادَةُ حَدِيثَ: "إِنَّمَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ مِنْ زَهْرَةِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا" وَسُؤَالَ السَّائِلِ: أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ الْحَدِيثَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَكِنْ يُنزلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرٌ﴾ أَيْ: وَلَكِنْ يَرْزُقُهُمْ مِنَ الرِّزْقِ مَا يَخْتَارُهُ مِمَّا فِيهِ صَلَاحُهُمْ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِذَلِكَ فَيُغْنِي مَنْ يَسْتَحِقُّ الْغِنَى، وَيُفْقِرُ مَنْ يَسْتَحِقُّ الْفَقْرَ. كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الْمَرْوِيِّ: "إِنَّ مِنْ عِبَادِي لَمَنْ [[في ت: "من".]] لَا يُصْلِحُهُ إِلَّا الْغِنَى، وَلَوْ أَفْقَرْتُهُ لَأَفْسَدْتُ عَلَيْهِ دِينَهُ، وَإِنَّ مِنْ عِبَادِي لَمَنْ لَا يُصْلِحُهُ إِلَّا الْفَقْرُ، وَلَوْ أَغْنَيْتُهُ لَأَفْسَدْتُ عَلَيْهِ دِينَهُ"
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يُنزلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا﴾ أَيْ: مِنْ بَعْدِ إِيَاسِ النَّاسِ مِنْ نُزُولِ الْمَطَرِ، يُنَزِّلُهُ عَلَيْهِمْ فِي وَقْتِ حَاجَتِهِمْ وَفَقْرِهِمْ إِلَيْهِ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يُنزلَ عَلَيْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ﴾ [الرُّومِ:٤٩] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ﴾ أَيْ: يَعُمُّ بِهَا الْوُجُودَ عَلَى أَهْلِ ذَلِكَ القُطْر وتلك الناحية.
قَالَ قَتَادَةُ: ذُكِرَ لَنَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قُحط الْمَطَرُ وَقَنَطَ النَّاسُ؟ فَقَالَ عُمَرُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مُطِرْتُمْ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يُنزلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ﴾ [[رواه الطبري في تفسيره (٢٥/١٩) .]] .
﴿وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ﴾ أَيْ: هُوَ الْمُتَصَرِّفُ لِخَلْقِهِ بِمَا يَنْفَعُهُمْ فِي دُنْيَاهُمْ وَأُخْرَاهُمْ، وَهُوَ الْمَحْمُودُ الْعَاقِبَةِ فِي جَمِيعِ مَا يُقَدِّرُهُ وَيَفْعَلُهُ.
۞ وَلَوْ بَسَطَ ٱللَّهُ ٱلرِّزْقَ لِعِبَادِهِۦ لَبَغَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَٰكِن يُنَزِّلُ بِقَدَرٍۢ مَّا يَشَآءُ ۚ إِنَّهُۥ بِعِبَادِهِۦ خَبِيرٌۢ بَصِيرٌۭ
And if Allah had extended [excessively] provision for His servants, they would have committed tyranny throughout the earth. But He sends [it] down in an amount which He wills. Indeed He is, of His servants, Acquainted and Seeing.
اور اگر خدا اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا تو زمین میں فساد کرنے لگتے۔ لیکن وہ جو چیز چاہتا ہے اندازے کے ساتھ نازل کرتا ہے۔ بےشک وہ اپنے بندوں کو جانتا اور دیکھتا ہے
هرگاه خداوند روزی را برای بندگانش وسعت بخشد، در زمین طغیان و ستم میکنند؛ از اینرو بمقداری که میخواهد (و مصلحت میداند) نازل میکند، که نسبه به بندگانش آگاه و بیناست!
Tafsir Ibn Kathir
And He it is Who accepts repentance from His servants, and forgives sins, and He knows what you do (25)And He answers those who believe and do righteous good deeds, and gives them increase of His bounty. And as for the disbelievers, theirs will be a severe torment (26)And if Allah were to extend the provision for His servants, they would surely rebel in the earth, but He sends down by measure as He wills. Verily, He is, in respect of His servants, the Well-Aware, the All-Seer (27)And He it is Who sends down the rain after they have despaired, and spreads His mercy. And He is the Wali, Worthy of all praise (28)
Allah accepts Repentance and responds to Supplications
Here Allah reminds His servants that He accepts repentance. If they turn to Him and come back to Him, then by His kindness and generosity He forgives, overlooks and conceals (their sins), as He says:
وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا
(And whoever does evil or wrongs himself but afterwards seeks Allah's forgiveness, he will find Allah Oft-Forgiving, Most Merciful.)(4:110) It was reported in Sahih Muslim that Anas bin Malik, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
للهُ تَعَالَىٰ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ - حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ - مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَتْ رَاحِلَتُهُ بِأَرْضِ فَلَاةٍ، فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ، وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَأَيِسَ مِنْهَا فَأَتَىٰ شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا، قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا، قَائِمَةً عِنْدَهُ، فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا، ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ: اللّٰهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ، أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ
(Allah is more pleased with the repentance of His servant than anyone of you who loses his riding beast in a barren land, and it was carrying his food and drink; he despairs of ever finding it, so he comes to a tree and lies down in its shade, having given up all hope of finding his riding beast; then whilst he is there like that, suddenly he sees it standing near him, so he takes hold of its reins and because of his great joy he says, "O Allah,You are my slave and I am Your Lord!" – i.e,. he makes a mistake because of his great joy.)"
A similar report was also narrated in the Sahih from 'Abdullah bin Mas'ud, may Allah be pleased with him.
وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ
(And He it is Who accepts repentance from His servants,) It was reported that Az-Zuhri said, concerning this Ayah, that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
للهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يَخَافُ أَنْ يَقْتُلَهُ فِيهِ الْعَطَشُ
(Allah rejoices more over the repentance of His servant than one of you feels when he finds his lost camel in a place where he had feared that he would die of thirst.)" Hammam bin Al-Harith said, "Ibn Mas'ud was asked about a man who commits immoral sins with a woman and then marries her. He said, 'There is nothing wrong with that,' and recited:
وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ
(And He it is Who accepts repentance from His servants)."
وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ
(and forgives sins,) means, He will accept repentance in the future, and He forgives past sins.
وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ
(and He knows what you do.) means, He knows all your deeds and actions and words, yet He still accepts the repentance of those who repent to Him.
وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
(And He answers those who believe and do righteous good deeds,) As-Suddi said, "This means, He responds to them." This was also the view of Ibn Jarir: "It means that He answers their supplication for themselves, their companions and their brothers."
وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ
(and gives them increase of His bounty.) means, He answers their supplications and gives them more besides. Qatadah said, narrating from Ibrahim An-Nakha'i Al-Lakhmi about the Ayah:
وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
(And He answers those who believe and do righteous good deeds,) – (this means) they intercede for their brothers;
وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ
(and gives them increase of His bounty.) – (this means) they intercede for their brothers' brothers.
وَالْكَافِرُونَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ
(And as for the disbelievers, theirs will be a severe torment.) – having mentioned the believers and the great reward that is theirs, Allah then mentions the disbelievers and the severe, painful, agonizing torment that they will find with Him on the Day of Resurrection, the Day when they are brought to account.
The Reason why Provision is not Increased
وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ
(And if Allah were to extend the provision for His servants, they would surely rebel in the earth,) means, 'if We gave them more provision than they need, this would make them rebel and transgress against one another in an arrogant and insolent manner.'
وَلَٰكِنْ يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرٌ
(but He sends down by measure as He wills. Verily, He is, in respect of His servants, the Well-Aware, the All-Seer.) means, but He gives them provision according to what is in their best interests, and He knows best about that. So He makes rich those who deserve to be rich, and He makes poor those who deserve to be poor.
وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا
(And He it is Who sends down the rain after they have despaired,) means, after the people have given up hope that rain will fall, He sends it down upon them at their time of need. This is like the Ayah:
وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ
(And verily, before that (rain) – just before it was sent down upon them – they were in despair!)(30:49)
وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ
(and spreads His mercy.) means, He bestows it upon all the people who live in that region. Qatadah said, "We were told that a man said to 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, 'O Commander of the faithful, no rain has come and the people are in despair.' 'Umar, may Allah be pleased with him, said, 'Rain will be sent upon you,' and he recited:
وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ ۚ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ
(And He it is Who sends down the rain after they have despaired, and spreads His mercy. And He is the Protector, Worthy of all praise)." Meaning He is the One Who is in control of His creation, taking care of what will benefit them in this world and the Hereafter, and the consequences of all His decrees and actions are good, for which He is worthy of all praise.
Tafsir Ibn Kathir
توبہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنا احسان اور اپنا کرم بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں پر اس قدر مہربان ہے کہ بد سے بد گنہگار بھی جب اپنی بد کرداری سے باز آئے اور خلوص کے ساتھ اس کے سامنے جھکے اور سچے دل سے توبہ کرے تو وہ اپنے رحم و کرم سے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اپنا فضل اس کے شامل حال کردیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01100) 4۔ النسآء :110) ، جو شخص بد عملی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو غفور و رحیم پائے گا۔ صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی اونٹنی جنگل بیابان میں گم ہوگئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا بھی ہو یہ اس کی جستجو کر کے عاجز آکر کسی درخت تلے پڑ رہا اور اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا اونٹنی سے بالکل مایوس ہوگیا کہ یکایک وہ دیکھتا ہے کہ اونٹنی اس کے پاس ہی کھڑی ہے یہ فورا اٹھ بیٹھتا ہے اس کی نکیل تھام لیتا ہے اور اس قدر خوش ہوتا ہے کہ بےتحاشا اس کی زبان سے نکل جاتا ہے کہ یا اللہ بیشک تو میرا غلام ہے اور میں تیرا رب ہوں وہ اپنی خوشی کی وجہ سے خطا کرجاتا ہے ایک مختصر حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اتنی خوشی اس شخص کو بھی نہیں ہوتی جو ایسی جگہ میں ہو جہاں پیاس کے مارے ہلاک ہو رہا ہو اور وہیں اس کی سواری کا جانور گم ہوگیا ہو جو اسے دفعتًا مل جائے۔ حضرت ابن مسعود سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے برا کام کرتا ہے پھر اس سے نکاح کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا نکاح میں کوئی حرج نہیں پھر آپ نے یہی آیت پڑھی توبہ تو مستقبل کے لئے قبول ہوتی ہے اور برائیاں گذشتہ معاف کردی جاتی ہیں تمہارے ہر قول و فعل اور عمل کا اسے علم ہے۔ باوجود اس کے جھکنے والے کی طرف مائل ہوتا ہے اور توبہ قبول فرما لیتا ہے وہ ایمان والوں اور نیک کاروں کی دعا قبول فرماتا ہے وہ خواہ اپنے لئے دعا کریں خواہ دوسروں کے لئے۔ حضرت معاذ ملک شام میں خطبہ پڑھتے ہوئے اپنے مجاہد ساتھیوں سے فرماتے ہیں تم ایمان دار ہو اور جنتی ہو اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ رومی اور فارسی جنہیں تم قید کر لائے ہو کیا عجب کہ یہ بھی جنت میں پہنچ جائیں کیونکہ ان میں سے جب تمہارا کوئی کام کردیتا ہے تو تم اسے کہتے ہو اللہ تجھ پر رحم کرے تو نے بہت اچھا کام کیا اللہ تجھے برکت دے تو نے بہت اچھا کیا وغیرہ اور قرآن کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کی قبول فرماتا ہے پھر آپ نے اسی آیت کا یہ جملہ تلاوت فرمایا معنی اسکے یہ کہ اللہ ان کی سنتا ہے جو بات کو مان لیتے ہیں اور اس کی اتباع کرتے ہیں اور جیسے فرمایا آیت (اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ 36۬) 6۔ الانعام :36) ابن ابی حاتم میں ہے کہ اپنے فضل سے زیادتی دینا یہ ہے کہ ان کے حق میں ایسے لوگوں کی سفارش قبول فرما لے گا جن کے ساتھ انہوں نے کچھ سلوک کیا ہو۔ حضرت ابراہیم نخعی نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے وہ اپنے بھائیوں کی سفارش کریں گے اور انہیں زیادہ فضل ملے گا یعنی بھائیوں کے بھائیوں کی بھی شفاعت کی اجازت ہوجائے گی مومنوں کی اس عزو شان کو بیان فرما کر کفار کی بدحالی بیان فرمائی کہ انہیں سخت دردناک اور گھبراہٹ والے عذاب ہونگے پھر فرمایا اگر ان بندوں کو ان کی روزیوں میں وسعت مل جاتی ان کی ضرورت سے زیادہ ان کے پلے پڑجاتا تو یہ خرمستی میں آ کر دنیا میں ہلڑ مچا دیتے اور دنیا کے امن کو آگ لگا دیتے ایک دوسرے کو پھونک دینا بھون کھانا۔ سرکشی اور طغیان تکبر اور بےپرواہی حد سے بڑھ جاتی اسی لئے حضرت قتادہ کا فلسفیانہ مقولہ ہے کہ زندگی کا سامان اتنا ہی اچھا ہے جتنے میں سرکشی اور لا ابالی پن نہ آئے اس مضمون کی پوری حدیث کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر دنیا کی نمائش کا ہے پہلے بیان ہوچکی ہے پھر فرماتا ہے وہ ایک اندازے سے روزیاں پہنچا رہا ہے بندے کی صلاحیت کا اسے علم ہے۔ غنا اور فقیری کے مستحق کو وہ خوب جانتا ہے قدسی حدیث شریف میں ہے میرے بندے ایسے بھی ہیں جن کی صلاحیت مالداری میں ہی ہے اگر میں انہیں فقیر بنا دوں تو وہ دینداری سے بھی جاتے رہیں گے۔ اور بعض میرے بندے ایسے بھی ہیں کہ ان کے لائق فقیری ہی ہے اگر وہ مال حاصل کرلیں اور توانگر بن جائیں تو اس حالت میں گویا ان کا دین فاسد کر دوں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ لوگ باران رحمت کا انتظار کرتے کرتے مایوس ہوجاتے ہیں ایسی پوری حاجت اور سخت مصیبت کے وقت میں بارش برساتا ہوں ان کی ناامیدی اور خشک سالی ختم ہوجاتی ہے اور عام طور پر میری رحمت پھیل جاتی ہے امیرالمومنین خلیفتہ المسلمین فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب سے ایک شخص کہتا ہے امیر المومنین قحط سالی ہوگئی اور اب تو لوگ بارش سے بالکل مایوس ہوگئے تو آپ نے فرمایا جاؤ اب انشاء اللہ ضرور بارش ہوگی پھر اس آیت کی تلاوت کی وہ ولی وحمید ہے یعنی مخلوقات کے تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں اس کے کام قابل ستائش و تعریف ہیں۔ مخلوق کے بھلے کو وہ جانتا ہے اور ان کے نفع کا اسے علم ہے اس کے کام نفع سے خالی نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُمْتَنًّا عَلَى عِبَادِهِ بِقَبُولِ تَوْبَتِهِمْ إِلَيْهِ إِذَا تَابُوا وَرَجَعُوا إِلَيْهِ: أَنَّهُ مِنْ كَرَمِهِ وَحِلْمِهِ أَنَّهُ يَعْفُو وَيَصْفَحُ وَيَسْتُرُ وَيَغْفِرُ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ [النِّسَاءِ:١١٠] وَقَدْ ثَبَتَ فِي صَحِيحِ مسلم، رحمه الله، حيث قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَاحِ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ [[في أ: "قالا".]] حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ -وَهُوَ عَمُّهُ [[في ت: "عمه رضي الله عنه".]] -قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ، مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ رَاحِلَتُهُ بِأَرْضٍ فَلَاةٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ، وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَأَيِسَ مِنْهَا، فَأَتَى شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا، قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا قَائِمَةٌ عِنْدَهُ، فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ: اللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ -أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ" [[صحيح مسلم برقم (٢٧٤٧) .]] .
وَقَدْ ثَبَتَ أَيْضًا فِي الصَّحِيحِ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ نَحْوَهُ [[في ت: "مثله".]] [[صحيح مسلم برقم (٢٧٤٤) .]] .
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ﴾ : أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ [[في ت: "راحلته".]] فِي الْمَكَانِ الَّذِي يَخَافُ أَنْ يَقْتُلَهُ الْعَطَشُ فِيهِ" [[تفسير عبد الرزاق (٢/١٥٦) وقد روى متصلا، فرواه مسلم في صحيحه برقم (٢٦٧٥) مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ همام ابن منبه عن أبي هريرة به.]] .
وَقَالَ هَمَّامُ بْنُ الْحَارِثِ: سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنْ الرَّجُلِ يَفْجُرُ بِالْمَرْأَةِ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ، وَقَرَأَ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ﴾ الْآيَةَ رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ الْقَاضِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ هَمَّامٍ فَذَكَرَهُ [[تفسير الطبري (٢٥/١٨) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ﴾ أَيْ: يَقْبَلُ التَّوْبَةَ فِي الْمُسْتَقْبَلِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ فِي الْمَاضِي، ﴿وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ﴾ أَيْ: هُوَ عَالِمٌ بِجَمِيعِ مَا فَعَلْتُمْ وَصَنَعْتُمْ وَقُلْتُمْ، وَمَعَ هَذَا يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ إِلَيْهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ قَالَ السُّدِّيُّ: يَعْنِي يَسْتَجِيبُ لَهُمْ. وَكَذَا قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: مَعْنَاهُ يَسْتَجِيبُ الدُّعَاءَ لَهُمْ [[في ت، م: "لهم الدعاء".]] [لِأَنْفُسِهِمْ] [[زيادة من ت، م.]] وَلِأَصْحَابِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ. وَحَكَاهُ عَنْ بَعْضِ النُّحَاةِ، وَأَنَّهُ جَعَلَهَا كَقَوْلِهِ: ﴿فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ﴾ [آلِ عِمْرَانَ: ١٩٥] .
ثُمَّ رَوَى هُوَ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَبْرَةَ قَالَ: خَطَبَنَا مُعَاذٌ بِالشَّامِ فَقَالَ: أَنْتُمُ الْمُؤْمِنُونَ، وَأَنْتُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ. وَاللَّهِ إِنِّي أَرْجُو أَنْ يُدْخِلَ اللَّهُ مَنْ تَسْبُونَ مِنْ فَارِسَ وَالرُّومِ الْجَنَّةَ، وَذَلِكَ بِأَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا عَمِلَ لَهُ -يَعْنِي أحدُهم عَمَلًا-قَالَ: أَحْسَنْتَ رَحِمَكَ [[في ت، م، أ: "يرحمك".]] اللَّهُ، أَحْسَنْتَ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ﴾
وَحَكَى ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعَرَبِيَّةِ أَنَّهُ جَعَلَ [[في ت، م: "جعله".]] [مِثْلَ] [[زيادة من ت، أ.]] قَوْلِهِ: ﴿وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا﴾ كَقَوْلِهِ: ﴿الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ﴾ [الزُّمَرِ:١٨] أَيْ: هُمُ الَّذِينَ يَسْتَجِيبُونَ لِلْحَقِّ وَيَتَّبِعُونَهُ، كَقَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: ﴿إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ﴾ [الْأَنْعَامِ:٣٦] وَالْمَعْنَى الْأَوَّلُ أَظْهَرُ؛ لِقَوْلِهِ [[في ت: "كقوله".]] تَعَالَى: ﴿وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ﴾ أَيْ: يَسْتَجِيبُ دُعَاءَهُمْ وَيَزِيدُهُمْ فَوْقَ ذَلِكَ؛ وَلِهَذَا قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ [[في ت: "روى ابن أبي حاتم بسنده عن عبد الله".]] قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ﴾ قَالَ: "الشَّفَاعَةُ لِمَنْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، مِمَّنْ صَنَعَ إِلَيْهِمْ مَعْرُوفًا [[في أ: "المعروف".]] فِي الدُّنْيَا" [[ورواه أبي عاصم في السنة برقم (٨٤٦) من طريق محمد بن مصفى عن بقية به، وفي إسيناده إسماعيل الكندي. قال الذهبي في الميزان (١/٢٣٥) : "عن الأعمش، وعنه بقية، بخبر عجيب منكر".]] .
وَقَالَ قَتَادَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ اللَّخْمِيِّ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ قَالَ: يُشَفَّعُونَ فِي إِخْوَانِهِمْ، ﴿وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ﴾ قَالَ: يُشَفَّعُونَ فِي إِخْوَانِ إِخْوَانِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالْكَافِرُونَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ﴾ لَمَّا ذَكَرَ الْمُؤْمِنِينَ وَمَا لَهُمْ مِنَ الثَّوَابِ الْجَزِيلِ، ذَكَرَ الْكَافِرِينَ وَمَا لَهُمْ عِنْدَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْعَذَابِ الشَّدِيدِ الْمُوجِعِ الْمُؤْلِمِ يَوْمَ مَعَادِهِمْ وَحِسَابِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الأرْضِ﴾ أَيْ: لَوْ أَعْطَاهُمْ فَوْقَ حَاجَتِهِمْ مِنَ الرِّزْقِ، لَحَمَلَهُمْ ذَلِكَ عَلَى الْبَغْيِ وَالطُّغْيَانِ مِنْ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ، أَشَرًا وَبَطَرًا.
وَقَالَ قَتَادَةُ: كَانَ يُقَالُ: خَيْرُ الْعَيْشِ مَا لَا يُلْهِيكَ وَلَا يُطْغِيكَ. وَذَكَرَ قَتَادَةُ حَدِيثَ: "إِنَّمَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ مِنْ زَهْرَةِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا" وَسُؤَالَ السَّائِلِ: أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ الْحَدِيثَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَكِنْ يُنزلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرٌ﴾ أَيْ: وَلَكِنْ يَرْزُقُهُمْ مِنَ الرِّزْقِ مَا يَخْتَارُهُ مِمَّا فِيهِ صَلَاحُهُمْ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِذَلِكَ فَيُغْنِي مَنْ يَسْتَحِقُّ الْغِنَى، وَيُفْقِرُ مَنْ يَسْتَحِقُّ الْفَقْرَ. كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الْمَرْوِيِّ: "إِنَّ مِنْ عِبَادِي لَمَنْ [[في ت: "من".]] لَا يُصْلِحُهُ إِلَّا الْغِنَى، وَلَوْ أَفْقَرْتُهُ لَأَفْسَدْتُ عَلَيْهِ دِينَهُ، وَإِنَّ مِنْ عِبَادِي لَمَنْ لَا يُصْلِحُهُ إِلَّا الْفَقْرُ، وَلَوْ أَغْنَيْتُهُ لَأَفْسَدْتُ عَلَيْهِ دِينَهُ"
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يُنزلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا﴾ أَيْ: مِنْ بَعْدِ إِيَاسِ النَّاسِ مِنْ نُزُولِ الْمَطَرِ، يُنَزِّلُهُ عَلَيْهِمْ فِي وَقْتِ حَاجَتِهِمْ وَفَقْرِهِمْ إِلَيْهِ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يُنزلَ عَلَيْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ﴾ [الرُّومِ:٤٩] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ﴾ أَيْ: يَعُمُّ بِهَا الْوُجُودَ عَلَى أَهْلِ ذَلِكَ القُطْر وتلك الناحية.
قَالَ قَتَادَةُ: ذُكِرَ لَنَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قُحط الْمَطَرُ وَقَنَطَ النَّاسُ؟ فَقَالَ عُمَرُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مُطِرْتُمْ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يُنزلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ﴾ [[رواه الطبري في تفسيره (٢٥/١٩) .]] .
﴿وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ﴾ أَيْ: هُوَ الْمُتَصَرِّفُ لِخَلْقِهِ بِمَا يَنْفَعُهُمْ فِي دُنْيَاهُمْ وَأُخْرَاهُمْ، وَهُوَ الْمَحْمُودُ الْعَاقِبَةِ فِي جَمِيعِ مَا يُقَدِّرُهُ وَيَفْعَلُهُ.
وَهُوَ ٱلَّذِى يُنَزِّلُ ٱلْغَيْثَ مِنۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوا۟ وَيَنشُرُ رَحْمَتَهُۥ ۚ وَهُوَ ٱلْوَلِىُّ ٱلْحَمِيدُ
And it is He who sends down the rain after they had despaired and spreads His mercy. And He is the Protector, the Praiseworthy.
اور وہی تو ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا اور اپنی رحمت (یعنی بارش) کی برکت کو پھیلا دیتا ہے۔ اور وہ کارساز اور سزاوار تعریف ہے
او کسی است که باران سودمند را پس از آنکه مأیوس شدند نازل میکند و رحمت خویش را میگستراند؛ و او ولیّ و (سرپرست) و ستوده است!
Tafsir Ibn Kathir
And He it is Who accepts repentance from His servants, and forgives sins, and He knows what you do (25)And He answers those who believe and do righteous good deeds, and gives them increase of His bounty. And as for the disbelievers, theirs will be a severe torment (26)And if Allah were to extend the provision for His servants, they would surely rebel in the earth, but He sends down by measure as He wills. Verily, He is, in respect of His servants, the Well-Aware, the All-Seer (27)And He it is Who sends down the rain after they have despaired, and spreads His mercy. And He is the Wali, Worthy of all praise (28)
Allah accepts Repentance and responds to Supplications
Here Allah reminds His servants that He accepts repentance. If they turn to Him and come back to Him, then by His kindness and generosity He forgives, overlooks and conceals (their sins), as He says:
وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا
(And whoever does evil or wrongs himself but afterwards seeks Allah's forgiveness, he will find Allah Oft-Forgiving, Most Merciful.)(4:110) It was reported in Sahih Muslim that Anas bin Malik, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
للهُ تَعَالَىٰ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ - حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ - مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَتْ رَاحِلَتُهُ بِأَرْضِ فَلَاةٍ، فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ، وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَأَيِسَ مِنْهَا فَأَتَىٰ شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا، قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا، قَائِمَةً عِنْدَهُ، فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا، ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ: اللّٰهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ، أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ
(Allah is more pleased with the repentance of His servant than anyone of you who loses his riding beast in a barren land, and it was carrying his food and drink; he despairs of ever finding it, so he comes to a tree and lies down in its shade, having given up all hope of finding his riding beast; then whilst he is there like that, suddenly he sees it standing near him, so he takes hold of its reins and because of his great joy he says, "O Allah,You are my slave and I am Your Lord!" – i.e,. he makes a mistake because of his great joy.)"
A similar report was also narrated in the Sahih from 'Abdullah bin Mas'ud, may Allah be pleased with him.
وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ
(And He it is Who accepts repentance from His servants,) It was reported that Az-Zuhri said, concerning this Ayah, that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
للهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يَخَافُ أَنْ يَقْتُلَهُ فِيهِ الْعَطَشُ
(Allah rejoices more over the repentance of His servant than one of you feels when he finds his lost camel in a place where he had feared that he would die of thirst.)" Hammam bin Al-Harith said, "Ibn Mas'ud was asked about a man who commits immoral sins with a woman and then marries her. He said, 'There is nothing wrong with that,' and recited:
وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ
(And He it is Who accepts repentance from His servants)."
وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ
(and forgives sins,) means, He will accept repentance in the future, and He forgives past sins.
وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ
(and He knows what you do.) means, He knows all your deeds and actions and words, yet He still accepts the repentance of those who repent to Him.
وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
(And He answers those who believe and do righteous good deeds,) As-Suddi said, "This means, He responds to them." This was also the view of Ibn Jarir: "It means that He answers their supplication for themselves, their companions and their brothers."
وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ
(and gives them increase of His bounty.) means, He answers their supplications and gives them more besides. Qatadah said, narrating from Ibrahim An-Nakha'i Al-Lakhmi about the Ayah:
وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
(And He answers those who believe and do righteous good deeds,) – (this means) they intercede for their brothers;
وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ
(and gives them increase of His bounty.) – (this means) they intercede for their brothers' brothers.
وَالْكَافِرُونَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ
(And as for the disbelievers, theirs will be a severe torment.) – having mentioned the believers and the great reward that is theirs, Allah then mentions the disbelievers and the severe, painful, agonizing torment that they will find with Him on the Day of Resurrection, the Day when they are brought to account.
The Reason why Provision is not Increased
وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ
(And if Allah were to extend the provision for His servants, they would surely rebel in the earth,) means, 'if We gave them more provision than they need, this would make them rebel and transgress against one another in an arrogant and insolent manner.'
وَلَٰكِنْ يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرٌ
(but He sends down by measure as He wills. Verily, He is, in respect of His servants, the Well-Aware, the All-Seer.) means, but He gives them provision according to what is in their best interests, and He knows best about that. So He makes rich those who deserve to be rich, and He makes poor those who deserve to be poor.
وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا
(And He it is Who sends down the rain after they have despaired,) means, after the people have given up hope that rain will fall, He sends it down upon them at their time of need. This is like the Ayah:
وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ
(And verily, before that (rain) – just before it was sent down upon them – they were in despair!)(30:49)
وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ
(and spreads His mercy.) means, He bestows it upon all the people who live in that region. Qatadah said, "We were told that a man said to 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, 'O Commander of the faithful, no rain has come and the people are in despair.' 'Umar, may Allah be pleased with him, said, 'Rain will be sent upon you,' and he recited:
وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ ۚ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ
(And He it is Who sends down the rain after they have despaired, and spreads His mercy. And He is the Protector, Worthy of all praise)." Meaning He is the One Who is in control of His creation, taking care of what will benefit them in this world and the Hereafter, and the consequences of all His decrees and actions are good, for which He is worthy of all praise.
Tafsir Ibn Kathir
توبہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنا احسان اور اپنا کرم بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں پر اس قدر مہربان ہے کہ بد سے بد گنہگار بھی جب اپنی بد کرداری سے باز آئے اور خلوص کے ساتھ اس کے سامنے جھکے اور سچے دل سے توبہ کرے تو وہ اپنے رحم و کرم سے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اپنا فضل اس کے شامل حال کردیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01100) 4۔ النسآء :110) ، جو شخص بد عملی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو غفور و رحیم پائے گا۔ صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی اونٹنی جنگل بیابان میں گم ہوگئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا بھی ہو یہ اس کی جستجو کر کے عاجز آکر کسی درخت تلے پڑ رہا اور اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا اونٹنی سے بالکل مایوس ہوگیا کہ یکایک وہ دیکھتا ہے کہ اونٹنی اس کے پاس ہی کھڑی ہے یہ فورا اٹھ بیٹھتا ہے اس کی نکیل تھام لیتا ہے اور اس قدر خوش ہوتا ہے کہ بےتحاشا اس کی زبان سے نکل جاتا ہے کہ یا اللہ بیشک تو میرا غلام ہے اور میں تیرا رب ہوں وہ اپنی خوشی کی وجہ سے خطا کرجاتا ہے ایک مختصر حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اتنی خوشی اس شخص کو بھی نہیں ہوتی جو ایسی جگہ میں ہو جہاں پیاس کے مارے ہلاک ہو رہا ہو اور وہیں اس کی سواری کا جانور گم ہوگیا ہو جو اسے دفعتًا مل جائے۔ حضرت ابن مسعود سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے برا کام کرتا ہے پھر اس سے نکاح کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا نکاح میں کوئی حرج نہیں پھر آپ نے یہی آیت پڑھی توبہ تو مستقبل کے لئے قبول ہوتی ہے اور برائیاں گذشتہ معاف کردی جاتی ہیں تمہارے ہر قول و فعل اور عمل کا اسے علم ہے۔ باوجود اس کے جھکنے والے کی طرف مائل ہوتا ہے اور توبہ قبول فرما لیتا ہے وہ ایمان والوں اور نیک کاروں کی دعا قبول فرماتا ہے وہ خواہ اپنے لئے دعا کریں خواہ دوسروں کے لئے۔ حضرت معاذ ملک شام میں خطبہ پڑھتے ہوئے اپنے مجاہد ساتھیوں سے فرماتے ہیں تم ایمان دار ہو اور جنتی ہو اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ رومی اور فارسی جنہیں تم قید کر لائے ہو کیا عجب کہ یہ بھی جنت میں پہنچ جائیں کیونکہ ان میں سے جب تمہارا کوئی کام کردیتا ہے تو تم اسے کہتے ہو اللہ تجھ پر رحم کرے تو نے بہت اچھا کام کیا اللہ تجھے برکت دے تو نے بہت اچھا کیا وغیرہ اور قرآن کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کی قبول فرماتا ہے پھر آپ نے اسی آیت کا یہ جملہ تلاوت فرمایا معنی اسکے یہ کہ اللہ ان کی سنتا ہے جو بات کو مان لیتے ہیں اور اس کی اتباع کرتے ہیں اور جیسے فرمایا آیت (اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ 36۬) 6۔ الانعام :36) ابن ابی حاتم میں ہے کہ اپنے فضل سے زیادتی دینا یہ ہے کہ ان کے حق میں ایسے لوگوں کی سفارش قبول فرما لے گا جن کے ساتھ انہوں نے کچھ سلوک کیا ہو۔ حضرت ابراہیم نخعی نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے وہ اپنے بھائیوں کی سفارش کریں گے اور انہیں زیادہ فضل ملے گا یعنی بھائیوں کے بھائیوں کی بھی شفاعت کی اجازت ہوجائے گی مومنوں کی اس عزو شان کو بیان فرما کر کفار کی بدحالی بیان فرمائی کہ انہیں سخت دردناک اور گھبراہٹ والے عذاب ہونگے پھر فرمایا اگر ان بندوں کو ان کی روزیوں میں وسعت مل جاتی ان کی ضرورت سے زیادہ ان کے پلے پڑجاتا تو یہ خرمستی میں آ کر دنیا میں ہلڑ مچا دیتے اور دنیا کے امن کو آگ لگا دیتے ایک دوسرے کو پھونک دینا بھون کھانا۔ سرکشی اور طغیان تکبر اور بےپرواہی حد سے بڑھ جاتی اسی لئے حضرت قتادہ کا فلسفیانہ مقولہ ہے کہ زندگی کا سامان اتنا ہی اچھا ہے جتنے میں سرکشی اور لا ابالی پن نہ آئے اس مضمون کی پوری حدیث کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر دنیا کی نمائش کا ہے پہلے بیان ہوچکی ہے پھر فرماتا ہے وہ ایک اندازے سے روزیاں پہنچا رہا ہے بندے کی صلاحیت کا اسے علم ہے۔ غنا اور فقیری کے مستحق کو وہ خوب جانتا ہے قدسی حدیث شریف میں ہے میرے بندے ایسے بھی ہیں جن کی صلاحیت مالداری میں ہی ہے اگر میں انہیں فقیر بنا دوں تو وہ دینداری سے بھی جاتے رہیں گے۔ اور بعض میرے بندے ایسے بھی ہیں کہ ان کے لائق فقیری ہی ہے اگر وہ مال حاصل کرلیں اور توانگر بن جائیں تو اس حالت میں گویا ان کا دین فاسد کر دوں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ لوگ باران رحمت کا انتظار کرتے کرتے مایوس ہوجاتے ہیں ایسی پوری حاجت اور سخت مصیبت کے وقت میں بارش برساتا ہوں ان کی ناامیدی اور خشک سالی ختم ہوجاتی ہے اور عام طور پر میری رحمت پھیل جاتی ہے امیرالمومنین خلیفتہ المسلمین فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب سے ایک شخص کہتا ہے امیر المومنین قحط سالی ہوگئی اور اب تو لوگ بارش سے بالکل مایوس ہوگئے تو آپ نے فرمایا جاؤ اب انشاء اللہ ضرور بارش ہوگی پھر اس آیت کی تلاوت کی وہ ولی وحمید ہے یعنی مخلوقات کے تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں اس کے کام قابل ستائش و تعریف ہیں۔ مخلوق کے بھلے کو وہ جانتا ہے اور ان کے نفع کا اسے علم ہے اس کے کام نفع سے خالی نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُمْتَنًّا عَلَى عِبَادِهِ بِقَبُولِ تَوْبَتِهِمْ إِلَيْهِ إِذَا تَابُوا وَرَجَعُوا إِلَيْهِ: أَنَّهُ مِنْ كَرَمِهِ وَحِلْمِهِ أَنَّهُ يَعْفُو وَيَصْفَحُ وَيَسْتُرُ وَيَغْفِرُ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ [النِّسَاءِ:١١٠] وَقَدْ ثَبَتَ فِي صَحِيحِ مسلم، رحمه الله، حيث قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَاحِ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ [[في أ: "قالا".]] حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ -وَهُوَ عَمُّهُ [[في ت: "عمه رضي الله عنه".]] -قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ، مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ رَاحِلَتُهُ بِأَرْضٍ فَلَاةٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ، وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَأَيِسَ مِنْهَا، فَأَتَى شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا، قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا قَائِمَةٌ عِنْدَهُ، فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ: اللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ -أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ" [[صحيح مسلم برقم (٢٧٤٧) .]] .
وَقَدْ ثَبَتَ أَيْضًا فِي الصَّحِيحِ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ نَحْوَهُ [[في ت: "مثله".]] [[صحيح مسلم برقم (٢٧٤٤) .]] .
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ﴾ : أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ [[في ت: "راحلته".]] فِي الْمَكَانِ الَّذِي يَخَافُ أَنْ يَقْتُلَهُ الْعَطَشُ فِيهِ" [[تفسير عبد الرزاق (٢/١٥٦) وقد روى متصلا، فرواه مسلم في صحيحه برقم (٢٦٧٥) مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ همام ابن منبه عن أبي هريرة به.]] .
وَقَالَ هَمَّامُ بْنُ الْحَارِثِ: سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنْ الرَّجُلِ يَفْجُرُ بِالْمَرْأَةِ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ، وَقَرَأَ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ﴾ الْآيَةَ رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ الْقَاضِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ هَمَّامٍ فَذَكَرَهُ [[تفسير الطبري (٢٥/١٨) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ﴾ أَيْ: يَقْبَلُ التَّوْبَةَ فِي الْمُسْتَقْبَلِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ فِي الْمَاضِي، ﴿وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ﴾ أَيْ: هُوَ عَالِمٌ بِجَمِيعِ مَا فَعَلْتُمْ وَصَنَعْتُمْ وَقُلْتُمْ، وَمَعَ هَذَا يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ إِلَيْهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ قَالَ السُّدِّيُّ: يَعْنِي يَسْتَجِيبُ لَهُمْ. وَكَذَا قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: مَعْنَاهُ يَسْتَجِيبُ الدُّعَاءَ لَهُمْ [[في ت، م: "لهم الدعاء".]] [لِأَنْفُسِهِمْ] [[زيادة من ت، م.]] وَلِأَصْحَابِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ. وَحَكَاهُ عَنْ بَعْضِ النُّحَاةِ، وَأَنَّهُ جَعَلَهَا كَقَوْلِهِ: ﴿فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ﴾ [آلِ عِمْرَانَ: ١٩٥] .
ثُمَّ رَوَى هُوَ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَبْرَةَ قَالَ: خَطَبَنَا مُعَاذٌ بِالشَّامِ فَقَالَ: أَنْتُمُ الْمُؤْمِنُونَ، وَأَنْتُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ. وَاللَّهِ إِنِّي أَرْجُو أَنْ يُدْخِلَ اللَّهُ مَنْ تَسْبُونَ مِنْ فَارِسَ وَالرُّومِ الْجَنَّةَ، وَذَلِكَ بِأَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا عَمِلَ لَهُ -يَعْنِي أحدُهم عَمَلًا-قَالَ: أَحْسَنْتَ رَحِمَكَ [[في ت، م، أ: "يرحمك".]] اللَّهُ، أَحْسَنْتَ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ﴾
وَحَكَى ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعَرَبِيَّةِ أَنَّهُ جَعَلَ [[في ت، م: "جعله".]] [مِثْلَ] [[زيادة من ت، أ.]] قَوْلِهِ: ﴿وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا﴾ كَقَوْلِهِ: ﴿الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ﴾ [الزُّمَرِ:١٨] أَيْ: هُمُ الَّذِينَ يَسْتَجِيبُونَ لِلْحَقِّ وَيَتَّبِعُونَهُ، كَقَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: ﴿إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ﴾ [الْأَنْعَامِ:٣٦] وَالْمَعْنَى الْأَوَّلُ أَظْهَرُ؛ لِقَوْلِهِ [[في ت: "كقوله".]] تَعَالَى: ﴿وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ﴾ أَيْ: يَسْتَجِيبُ دُعَاءَهُمْ وَيَزِيدُهُمْ فَوْقَ ذَلِكَ؛ وَلِهَذَا قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ [[في ت: "روى ابن أبي حاتم بسنده عن عبد الله".]] قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ﴾ قَالَ: "الشَّفَاعَةُ لِمَنْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، مِمَّنْ صَنَعَ إِلَيْهِمْ مَعْرُوفًا [[في أ: "المعروف".]] فِي الدُّنْيَا" [[ورواه أبي عاصم في السنة برقم (٨٤٦) من طريق محمد بن مصفى عن بقية به، وفي إسيناده إسماعيل الكندي. قال الذهبي في الميزان (١/٢٣٥) : "عن الأعمش، وعنه بقية، بخبر عجيب منكر".]] .
وَقَالَ قَتَادَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ اللَّخْمِيِّ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ قَالَ: يُشَفَّعُونَ فِي إِخْوَانِهِمْ، ﴿وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ﴾ قَالَ: يُشَفَّعُونَ فِي إِخْوَانِ إِخْوَانِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالْكَافِرُونَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ﴾ لَمَّا ذَكَرَ الْمُؤْمِنِينَ وَمَا لَهُمْ مِنَ الثَّوَابِ الْجَزِيلِ، ذَكَرَ الْكَافِرِينَ وَمَا لَهُمْ عِنْدَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْعَذَابِ الشَّدِيدِ الْمُوجِعِ الْمُؤْلِمِ يَوْمَ مَعَادِهِمْ وَحِسَابِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الأرْضِ﴾ أَيْ: لَوْ أَعْطَاهُمْ فَوْقَ حَاجَتِهِمْ مِنَ الرِّزْقِ، لَحَمَلَهُمْ ذَلِكَ عَلَى الْبَغْيِ وَالطُّغْيَانِ مِنْ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ، أَشَرًا وَبَطَرًا.
وَقَالَ قَتَادَةُ: كَانَ يُقَالُ: خَيْرُ الْعَيْشِ مَا لَا يُلْهِيكَ وَلَا يُطْغِيكَ. وَذَكَرَ قَتَادَةُ حَدِيثَ: "إِنَّمَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ مِنْ زَهْرَةِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا" وَسُؤَالَ السَّائِلِ: أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ الْحَدِيثَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَكِنْ يُنزلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرٌ﴾ أَيْ: وَلَكِنْ يَرْزُقُهُمْ مِنَ الرِّزْقِ مَا يَخْتَارُهُ مِمَّا فِيهِ صَلَاحُهُمْ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِذَلِكَ فَيُغْنِي مَنْ يَسْتَحِقُّ الْغِنَى، وَيُفْقِرُ مَنْ يَسْتَحِقُّ الْفَقْرَ. كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الْمَرْوِيِّ: "إِنَّ مِنْ عِبَادِي لَمَنْ [[في ت: "من".]] لَا يُصْلِحُهُ إِلَّا الْغِنَى، وَلَوْ أَفْقَرْتُهُ لَأَفْسَدْتُ عَلَيْهِ دِينَهُ، وَإِنَّ مِنْ عِبَادِي لَمَنْ لَا يُصْلِحُهُ إِلَّا الْفَقْرُ، وَلَوْ أَغْنَيْتُهُ لَأَفْسَدْتُ عَلَيْهِ دِينَهُ"
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يُنزلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا﴾ أَيْ: مِنْ بَعْدِ إِيَاسِ النَّاسِ مِنْ نُزُولِ الْمَطَرِ، يُنَزِّلُهُ عَلَيْهِمْ فِي وَقْتِ حَاجَتِهِمْ وَفَقْرِهِمْ إِلَيْهِ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يُنزلَ عَلَيْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ﴾ [الرُّومِ:٤٩] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ﴾ أَيْ: يَعُمُّ بِهَا الْوُجُودَ عَلَى أَهْلِ ذَلِكَ القُطْر وتلك الناحية.
قَالَ قَتَادَةُ: ذُكِرَ لَنَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قُحط الْمَطَرُ وَقَنَطَ النَّاسُ؟ فَقَالَ عُمَرُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مُطِرْتُمْ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يُنزلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ﴾ [[رواه الطبري في تفسيره (٢٥/١٩) .]] .
﴿وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ﴾ أَيْ: هُوَ الْمُتَصَرِّفُ لِخَلْقِهِ بِمَا يَنْفَعُهُمْ فِي دُنْيَاهُمْ وَأُخْرَاهُمْ، وَهُوَ الْمَحْمُودُ الْعَاقِبَةِ فِي جَمِيعِ مَا يُقَدِّرُهُ وَيَفْعَلُهُ.
وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦ خَلْقُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِن دَآبَّةٍۢ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَآءُ قَدِيرٌۭ
And of his signs is the creation of the heavens and earth and what He has dispersed throughout them of creatures. And He, for gathering them when He wills, is competent.
اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور ان جانوروں کا جو اس نے ان میں پھیلا رکھے ہیں اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر قادر ہے
و از آیات اوست آفرینش آسمانها و زمین و آنچه از جنبندگان در آنها منتشر نموده؛ و او هرگاه بخواهد بر جمع آنها تواناست!
Tafsir Ibn Kathir
And among His Ayat is the creation of the heavens and the earth, and whatever moving creatures He has dispersed in them both. And He is Able to assemble them whenever He wills (29)And whatever of misfortune befalls you, it is because of what your hands have earned. And He pardons much (30)And you cannot escape from Allah in the earth, and besides Allah you have neither any protector nor any helper (31)
Among the Signs of Allah is the Creation of the Heavens and the Earth
وَمِنْ آيَاتِهِ
(And among His Ayat) the signs which point to His great might and power,
خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا
(is the creation of the heavens and the earth, and whatever moving creatures He has dispersed in them both.) means, whatever He has created in them, i.e., in the heavens and the earth.
مِنْ دَابَّةٍ
(and whatever moving creatures) this includes the angels, men, Jinn and all the animals with their different shapes, colors, languages, natures, kinds and types. He has distributed them throughout the various regions of the heavens and earth.
وَهُوَ
(And He) means, yet despite all that,
عَلَىٰ جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَاءُ قَدِيرٌ
(is Able to assemble them whenever He wills.) means, on the Day of Resurrection, He will gather the first and the last of them, and bring all His creatures together in one place where they will all hear the voice of the caller and all of them will be seen clearly; then He will judge between them with justice and truth.
The Cause of Misfortune is Sin
وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ
(And whatever of misfortune befalls you, it is because of what your hands have earned.) means, 'whatever disasters happen to you, O mankind, are because of sins that you have committed in the past.'
وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ
(And He pardons much.) means, of sins; 'He does not punish you for them, rather He forgives you.'
وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ
(And if Allah were to punish men for that which they earned, He would not leave a moving creature on the surface of the earth)(35:45). According to a Sahih Hadith:
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حَزَنٍ إِلَّا كَفَّرَ اللهُ عَنْهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ، حَتّٰى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا
(By the One in Whose Hand is my soul, no believer is stricken with fatigue, exhaustion, worry or grief, but Allah will forgive him for some of his sins thereby – even a thorn which pricks him.) Imam Ahmad recorded that Mu'awiyah bin Abi Sufyan, may Allah be pleased with him, said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ say:
مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ فِي جَسَدِهِ يُؤْذِيهِ إِلَّا كَفَّرَ اللهُ تَعَالَىٰ عَنْهُ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ
(No physical harm befalls a believer, but Allah will expiate for some of his sins because of it.)" Imam Ahmad also recorded that 'A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا، ابْتَلَاهُ اللهُ تَعَالَىٰ بِالْحَزَنِ لِيُكَفِّرَهَا
(If a person commits many sins and has nothing that will expiate for them, Allah will test him with some grief that will expiate for them.)"
Tafsir Ibn Kathir
آفات اور تکالیف سے خطاؤں کی معافی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت قدرت اور سلطنت کا بیان ہو رہا ہے کہ آسمان و زمین اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور ان میں کئی ساری مخلوق بھی اسی کی پیدا کی ہوئی ہے فرشتے انسان جنات اور مختلف قسموں کے حیوانات جو کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہ ان سب کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا۔ جبکہ ان کے حواس گم ہوچکے ہوں گے اور ان میں عدل و انصاف کیا جائے گا پھر فرماتا ہے لوگو تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ سب دراصل تمہارے اپنے کئے گناہوں کا بدلہ ہیں اور ابھی تو وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری بہت سی حکم عدولیوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے اگر ہر اک گناہ پر پکڑے تو تو تم زمین پر چل پھر بھی نہ سکو۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کو جو تکلیف سختی غم اور پریشانی ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے یہاں تک کہ ایک کانٹا لگنے کے عوض بھی جب آیت (فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ ۭ) 99۔ الزلزلة :7) ، اتری اس وقت حضرت صدیق اکبر کھانا کھا رہے تھے آپ نے اسے سن کر کھانے سا ہاتھ ہٹا لیا اور کہا یارسول اللہ ﷺ کیا ہر برائی بھلائی کا بدلہ دیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا سنو طبیعت کے خلاف جو چیزیں ہوتی ہیں یہ سب برائیوں کے بدلے ہیں اور ساری نیکیاں اللہ کے پاس جمع شدہ ہیں حضرت ابو ادریس فرماتے ہیں یہی مضمون اس آیت میں بیان ہوا امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں آؤ میں تمہیں کتاب اللہ شریف کی افضل ترین آیت سناؤں اور ساتھ ہی حدیث بھی۔ حضور ﷺ نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی اور میرا نام لے کر فرمایا سن میں اس کی تفسیر بھی تجھے بتادوں تجھے جو بیماریاں سختیاں اور بلائیں آفتیں دنیا میں پہنچتی ہیں وہ سب بدلہ ہے تمہارے اپنے اعمال کا اللہ تعالیٰ کا حکم اس سے بہت زیادہ ہے کہ پھر انہی پر آخرت میں بھی سزا کرے اور اکثر برائیاں معاف فرما دیتا ہے تو اس کے کرم سے یہ بالکل ناممکن ہے کہ دنیا میں معاف کی ہوئی خطاؤں پر آخرت میں پکڑے (مسند احمد) ابن ابی حاتم میں یہی روایت حضرت علی ہی کے قول سے مروی ہے اس میں ہے کہ ابو حجیفہ جب حضرت علی کے پاس گئے تو آپ نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جسے یاد رکھنا ہر مومن کا فرض ہے پھر یہ تفسیر آیت کی اپنی طرف سے کر کے سنائی مسند میں ہے کہ مسلمان کے جسم میں جو تکلیف ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرماتا ہے۔ مسند ہی کی اور حدیث میں ہے جب ایمان دار بندے کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور اس کے کفارے کی کوئی چیز اس کے پاس نہیں ہوتی تو اللہ اسے کسی رنج و غم میں مبتلا کردیتا ہے اور وہی اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے ابن ابی حاتم میں حضرت حسن بصری سے مروی ہے کہ اس آیت کے اترنے پر حضور ﷺ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ لکڑی کی ذرا سی خراش ہڈی کی ذرا سی تکلیف یہاں تک کہ قدم کا پھسلنا بھی کسی نہ کسی گناہ پر ہے اور ابھی اللہ کے عفو کئے ہوئے بہت سے گناہ تو یونہی مٹ جاتے ہیں ابن ابی حاتم ہی میں ہے کہ جب حضرت عمران بن حصین کے جسم میں تکلیف ہوئی اور لوگ ان کی عیادت کو گئے تو حضرت حسن نے کہا آپ کی یہ حالت تو دیکھی نہیں جاتی ہمیں بڑا صدمہ ہو رہا ہے آپ نے فرمایا ایسا نہ کہو جو تم دیکھ رہے ہو یہ سب گناہوں کا کفارہ ہے اور بھی بہت سے گناہ تو اللہ معاف فرما چکا ہے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی ہے۔ ابو البلاد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علاء بن بدر سے کہا کہ قرآن میں تو یہ آیت ہے اور میں ابھی نابالغ بچہ ہوں اور اندھا ہوگیا ہوں آپ نے فرمایا یہ تیرے ماں باپ کے گناہوں کا بدلہ ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھ کر بھول جانے والا یقینا اپنے کسی گناہ میں پکڑا گیا ہے۔ اس کی اور کوئی وجہ نہیں پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا بتاؤ تو اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہوگی کہ انسان یاد کر کے کلام اللہ بھول جائے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَمِنْ آيَاتِهِ:﴾ الدَّالَّةِ عَلَى عَظَمَتِهِ وَقُدْرَتِهِ الْعَظِيمَةِ وَسُلْطَانِهِ الْقَاهِرِ ﴿خَلْقُ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا﴾ أَيْ: ذَرَأَ فِيهِمَا، أَيْ: فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، ﴿مِنْ دَابَّةٍ﴾ وَهَذَا يَشْمَلُ الْمَلَائِكَةَ وَالْجِنَّ وَالْإِنْسَ وَسَائِرَ الْحَيَوَانَاتِ، عَلَى اخْتِلَافِ أَشْكَالِهِمْ وَأَلْوَانِهِمْ وَلُغَاتِهِمْ، وَطِبَاعِهِمْ وَأَجْنَاسِهِمْ، وَأَنْوَاعِهِمْ، وَقَدْ فَرَّقَهُمْ فِي أَرْجَاءِ أَقْطَارِ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتِ، ﴿وَهُوَ﴾ مَعَ هَذَا كُلِّهِ ﴿عَلَى جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَاءُ قَدِيرٌ﴾ أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَجْمَعُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ وَسَائِرَ الْخَلَائِقِ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، يُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي، وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ، فَيَحْكُمُ فِيهِمْ بِحُكْمِهِ الْعَدْلِ الْحَقِّ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ﴾ أَيْ: مَهْمَا أَصَابَكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ مِنَ الْمَصَائِبِ فَإِنَّمَا هُوَ [[في ت، أ: "هي".]] عَنْ سَيِّئَاتٍ تَقَدَّمَتْ لَكُمْ ﴿وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ أَيْ: مِنَ السَّيِّئَاتِ، فَلَا يُجَازِيكُمْ عَلَيْهَا بَلْ يَعْفُو عَنْهَا، ﴿وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ﴾ [فَاطِرٍ: ٤٥] وَفِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَب وَلَا هَمٍّ وَلَا حُزَن، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ، حَتَّى الشَّوْكَةِ [[في ت، أ: "بالشوكة".]] يُشَاكُهَا" [[صحيح البخاري برقم (٥٦٤١، ٥٦٤٢) وصحيح مسلم برقم (٢٥٧٣) "من حديث أبي سعيد الخدري وأبي هريرة رضي الله عنهما".]] .
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُليَّة، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ: قَرَأْتُ فِي كِتَابِ أَبِي قِلابَةَ قَالَ: نَزَلَتْ: ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ [الزَّلْزَلَةِ:٧، ٨] وَأَبُو بَكْرٍ يَأْكُلُ، فَأَمْسَكَ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَرَاءٍ مَا عَمِلْتُ مِنْ خَيْرٍ وَشَرٍّ؟ فَقَالَ: "أَرَأَيْتَ مَا رَأَيْتَ مِمَّا تَكْرَهُ، فَهُوَ مِنْ مَثَاقِيلِ ذَرّ الشَّرِّ، وَتُدَّخَرُ مَثَاقِيلُ الْخَيْرِ حَتَّى تُعْطَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالَ: قَالَ أَبُو إِدْرِيسَ: فَإِنِّي أَرَى مِصْدَاقَهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ [[تفسير الطبري (٢٥/٢٠) .]] .
ثُمَّ رَوَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عن أنس [[تفسير الطبري (٢٥/٢١) .]] ، قال: والأول أصح.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الفَزَاري، حَدَّثَنَا الْأَزْهَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْكَاهِلِيُّ، عَنِ الخَضْر بْنِ القَوَّاس الْبَجْلِيِّ، عَنْ أَبِي سُخَيْلَةَ [[في ت: "وروى ابن أبي حاتم بإسناده".]] عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلِ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَحَدَّثَنَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، قَالَ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ . وَسَأُفَسِّرُهَا لَكَ يَا عَلِيُّ: "مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مَرَضٍ أَوْ عُقُوبَةٍ أَوْ بَلَاءٍ فِي الدُّنْيَا، فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ [[في أ: "أيديكم ويعفو عن كثير".]] وَاللَّهُ تَعَالَى أَحْلَمُ مِنْ أَنْ يُثَنِّى عَلَيْهِ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَةِ، وَمَا عَفَا اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ [[في ت: "والله".]] تَعَالَى أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ بَعْدَ عَفْوِهِ"
وَكَذَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ وعَبْدة، عَنْ أَبِي سُخَيلة قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ ... فَذَكَرَ نَحْوَهُ مَرْفُوعًا [[المسند (١/٨٥) .]] .
ثُمَّ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ [نَحْوَهُ] [[زيادة من أ.]] مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَوْقُوفًا فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي الْوَضَّاحِ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي جُحَيفَة قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ يَنْبَغِي لِكُلِّ مُؤْمِنٍ أَنْ يَعيَه [[في أ: "يصيبه".]] ؟ قَالَ: فَسَأَلْنَاهُ فَتَلَا [[في ت: "قبل".]] هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ قَالَ: مَا عَاقَبَ اللَّهُ بِهِ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَحْلَمُ مِنْ أَنْ يُثَنِّي عَلَيْهِ الْعُقُوبَةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَا عَفَا اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي عَفْوِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ -يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى-عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ-هُوَ ابْنُ أَبِي سُفْيَانَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ فِي جَسَدِهِ يُؤْذِيهِ إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ" [[المسند (٤/٩٨) قال الهيثمي في المجمع (٣/٣٠١) : "رجال أحمد رجال الصحيح".]] .
وَقَالَ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ [[في ت، م: "عن مجاهد، وروى أيضا".]] ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا، ابْتَلَاهُ اللَّهُ بالحَزَنِ لِيُكَفِّرَهَا" [[المسند (٦/١٥٧) .]] .
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ -هُوَ الْبَصْرِيُّ-قَالَ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا مِنْ خَدْش عُودٍ، وَلَا اخْتِلَاجِ عِرْقٍ، وَلَا عَثْرة قَدَمٍ، إِلَّا بِذَنْبٍ وَمَا يَعْفُو اللَّهُ عَنْهُ أَكْثَرُ" [[ورواه هناد بن السري في الزهد برقم (٤٣١) من طريق إسماعيل بن مسلم به مرسلا.]] .
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] أَيْضًا: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا هُشَيمْ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الحسن، عن عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ وَقَدْ كَانَ ابْتُلِيَ فِي جَسَدِهِ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُهُمْ إِنَّا لَنَبْتَئِسُ لَكَ لِمَا نَرَى فِيكَ. قَالَ: فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا تَرَى، فَإِنَّ مَا تَرَى بِذَنْبٍ، وَمَا يَعْفُو اللَّهُ عَنْهُ أَكْثَرُ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾
[قَالَ:] [[زيادة من ت، أ.]] وَحَدَّثَنَا أَبِي: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الحمَّاني، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ أَبِي الْبِلَادِ [[في أ: "أبي العلا".]] قَالَ: قُلْتُ لِلْعَلَاءِ بْنِ بَدْرٍ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ﴾ ، وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرِي وَأَنَا غُلَامٌ؟ قَالَ: فَبِذُنُوبِ وَالِدَيْكَ.
وَحَدَّثَنَا أَبِي: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافسي، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ العزيز بن أبي راود، عَنِ الضَّحَّاكِ [[في ت: "وروى أيضا عن الضحاك".]] قَالَ: مَا نَعْلَمُ أَحَدًا حَفِظَ الْقُرْآنَ ثُمَّ نَسِيَهُ [[في أ: "سيبه".]] إِلَّا بِذَنْبٍ، ثُمَّ قَرَأَ الضَّحَّاكُ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ . ثُمَّ يَقُولُ الضَّحَّاكُ: وأي مصيبة أعظم من نسيان القرآن.
وَمَآ أَصَٰبَكُم مِّن مُّصِيبَةٍۢ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُوا۟ عَن كَثِيرٍۢ
And whatever strikes you of disaster - it is for what your hands have earned; but He pardons much.
اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف ہی کردیتا ہے
هر مصیبتی به شما رسد بخاطر اعمالی است که انجام دادهاید، و بسیاری را نیز عفو میکند!
Tafsir Ibn Kathir
And among His Ayat is the creation of the heavens and the earth, and whatever moving creatures He has dispersed in them both. And He is Able to assemble them whenever He wills (29)And whatever of misfortune befalls you, it is because of what your hands have earned. And He pardons much (30)And you cannot escape from Allah in the earth, and besides Allah you have neither any protector nor any helper (31)
Among the Signs of Allah is the Creation of the Heavens and the Earth
وَمِنْ آيَاتِهِ
(And among His Ayat) the signs which point to His great might and power,
خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا
(is the creation of the heavens and the earth, and whatever moving creatures He has dispersed in them both.) means, whatever He has created in them, i.e., in the heavens and the earth.
مِنْ دَابَّةٍ
(and whatever moving creatures) this includes the angels, men, Jinn and all the animals with their different shapes, colors, languages, natures, kinds and types. He has distributed them throughout the various regions of the heavens and earth.
وَهُوَ
(And He) means, yet despite all that,
عَلَىٰ جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَاءُ قَدِيرٌ
(is Able to assemble them whenever He wills.) means, on the Day of Resurrection, He will gather the first and the last of them, and bring all His creatures together in one place where they will all hear the voice of the caller and all of them will be seen clearly; then He will judge between them with justice and truth.
The Cause of Misfortune is Sin
وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ
(And whatever of misfortune befalls you, it is because of what your hands have earned.) means, 'whatever disasters happen to you, O mankind, are because of sins that you have committed in the past.'
وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ
(And He pardons much.) means, of sins; 'He does not punish you for them, rather He forgives you.'
وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ
(And if Allah were to punish men for that which they earned, He would not leave a moving creature on the surface of the earth)(35:45). According to a Sahih Hadith:
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حَزَنٍ إِلَّا كَفَّرَ اللهُ عَنْهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ، حَتّٰى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا
(By the One in Whose Hand is my soul, no believer is stricken with fatigue, exhaustion, worry or grief, but Allah will forgive him for some of his sins thereby – even a thorn which pricks him.) Imam Ahmad recorded that Mu'awiyah bin Abi Sufyan, may Allah be pleased with him, said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ say:
مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ فِي جَسَدِهِ يُؤْذِيهِ إِلَّا كَفَّرَ اللهُ تَعَالَىٰ عَنْهُ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ
(No physical harm befalls a believer, but Allah will expiate for some of his sins because of it.)" Imam Ahmad also recorded that 'A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا، ابْتَلَاهُ اللهُ تَعَالَىٰ بِالْحَزَنِ لِيُكَفِّرَهَا
(If a person commits many sins and has nothing that will expiate for them, Allah will test him with some grief that will expiate for them.)"
Tafsir Ibn Kathir
آفات اور تکالیف سے خطاؤں کی معافی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت قدرت اور سلطنت کا بیان ہو رہا ہے کہ آسمان و زمین اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور ان میں کئی ساری مخلوق بھی اسی کی پیدا کی ہوئی ہے فرشتے انسان جنات اور مختلف قسموں کے حیوانات جو کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہ ان سب کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا۔ جبکہ ان کے حواس گم ہوچکے ہوں گے اور ان میں عدل و انصاف کیا جائے گا پھر فرماتا ہے لوگو تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ سب دراصل تمہارے اپنے کئے گناہوں کا بدلہ ہیں اور ابھی تو وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری بہت سی حکم عدولیوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے اگر ہر اک گناہ پر پکڑے تو تو تم زمین پر چل پھر بھی نہ سکو۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کو جو تکلیف سختی غم اور پریشانی ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے یہاں تک کہ ایک کانٹا لگنے کے عوض بھی جب آیت (فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ ۭ) 99۔ الزلزلة :7) ، اتری اس وقت حضرت صدیق اکبر کھانا کھا رہے تھے آپ نے اسے سن کر کھانے سا ہاتھ ہٹا لیا اور کہا یارسول اللہ ﷺ کیا ہر برائی بھلائی کا بدلہ دیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا سنو طبیعت کے خلاف جو چیزیں ہوتی ہیں یہ سب برائیوں کے بدلے ہیں اور ساری نیکیاں اللہ کے پاس جمع شدہ ہیں حضرت ابو ادریس فرماتے ہیں یہی مضمون اس آیت میں بیان ہوا امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں آؤ میں تمہیں کتاب اللہ شریف کی افضل ترین آیت سناؤں اور ساتھ ہی حدیث بھی۔ حضور ﷺ نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی اور میرا نام لے کر فرمایا سن میں اس کی تفسیر بھی تجھے بتادوں تجھے جو بیماریاں سختیاں اور بلائیں آفتیں دنیا میں پہنچتی ہیں وہ سب بدلہ ہے تمہارے اپنے اعمال کا اللہ تعالیٰ کا حکم اس سے بہت زیادہ ہے کہ پھر انہی پر آخرت میں بھی سزا کرے اور اکثر برائیاں معاف فرما دیتا ہے تو اس کے کرم سے یہ بالکل ناممکن ہے کہ دنیا میں معاف کی ہوئی خطاؤں پر آخرت میں پکڑے (مسند احمد) ابن ابی حاتم میں یہی روایت حضرت علی ہی کے قول سے مروی ہے اس میں ہے کہ ابو حجیفہ جب حضرت علی کے پاس گئے تو آپ نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جسے یاد رکھنا ہر مومن کا فرض ہے پھر یہ تفسیر آیت کی اپنی طرف سے کر کے سنائی مسند میں ہے کہ مسلمان کے جسم میں جو تکلیف ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرماتا ہے۔ مسند ہی کی اور حدیث میں ہے جب ایمان دار بندے کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور اس کے کفارے کی کوئی چیز اس کے پاس نہیں ہوتی تو اللہ اسے کسی رنج و غم میں مبتلا کردیتا ہے اور وہی اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے ابن ابی حاتم میں حضرت حسن بصری سے مروی ہے کہ اس آیت کے اترنے پر حضور ﷺ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ لکڑی کی ذرا سی خراش ہڈی کی ذرا سی تکلیف یہاں تک کہ قدم کا پھسلنا بھی کسی نہ کسی گناہ پر ہے اور ابھی اللہ کے عفو کئے ہوئے بہت سے گناہ تو یونہی مٹ جاتے ہیں ابن ابی حاتم ہی میں ہے کہ جب حضرت عمران بن حصین کے جسم میں تکلیف ہوئی اور لوگ ان کی عیادت کو گئے تو حضرت حسن نے کہا آپ کی یہ حالت تو دیکھی نہیں جاتی ہمیں بڑا صدمہ ہو رہا ہے آپ نے فرمایا ایسا نہ کہو جو تم دیکھ رہے ہو یہ سب گناہوں کا کفارہ ہے اور بھی بہت سے گناہ تو اللہ معاف فرما چکا ہے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی ہے۔ ابو البلاد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علاء بن بدر سے کہا کہ قرآن میں تو یہ آیت ہے اور میں ابھی نابالغ بچہ ہوں اور اندھا ہوگیا ہوں آپ نے فرمایا یہ تیرے ماں باپ کے گناہوں کا بدلہ ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھ کر بھول جانے والا یقینا اپنے کسی گناہ میں پکڑا گیا ہے۔ اس کی اور کوئی وجہ نہیں پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا بتاؤ تو اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہوگی کہ انسان یاد کر کے کلام اللہ بھول جائے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَمِنْ آيَاتِهِ:﴾ الدَّالَّةِ عَلَى عَظَمَتِهِ وَقُدْرَتِهِ الْعَظِيمَةِ وَسُلْطَانِهِ الْقَاهِرِ ﴿خَلْقُ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا﴾ أَيْ: ذَرَأَ فِيهِمَا، أَيْ: فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، ﴿مِنْ دَابَّةٍ﴾ وَهَذَا يَشْمَلُ الْمَلَائِكَةَ وَالْجِنَّ وَالْإِنْسَ وَسَائِرَ الْحَيَوَانَاتِ، عَلَى اخْتِلَافِ أَشْكَالِهِمْ وَأَلْوَانِهِمْ وَلُغَاتِهِمْ، وَطِبَاعِهِمْ وَأَجْنَاسِهِمْ، وَأَنْوَاعِهِمْ، وَقَدْ فَرَّقَهُمْ فِي أَرْجَاءِ أَقْطَارِ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتِ، ﴿وَهُوَ﴾ مَعَ هَذَا كُلِّهِ ﴿عَلَى جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَاءُ قَدِيرٌ﴾ أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَجْمَعُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ وَسَائِرَ الْخَلَائِقِ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، يُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي، وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ، فَيَحْكُمُ فِيهِمْ بِحُكْمِهِ الْعَدْلِ الْحَقِّ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ﴾ أَيْ: مَهْمَا أَصَابَكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ مِنَ الْمَصَائِبِ فَإِنَّمَا هُوَ [[في ت، أ: "هي".]] عَنْ سَيِّئَاتٍ تَقَدَّمَتْ لَكُمْ ﴿وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ أَيْ: مِنَ السَّيِّئَاتِ، فَلَا يُجَازِيكُمْ عَلَيْهَا بَلْ يَعْفُو عَنْهَا، ﴿وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ﴾ [فَاطِرٍ: ٤٥] وَفِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَب وَلَا هَمٍّ وَلَا حُزَن، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ، حَتَّى الشَّوْكَةِ [[في ت، أ: "بالشوكة".]] يُشَاكُهَا" [[صحيح البخاري برقم (٥٦٤١، ٥٦٤٢) وصحيح مسلم برقم (٢٥٧٣) "من حديث أبي سعيد الخدري وأبي هريرة رضي الله عنهما".]] .
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُليَّة، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ: قَرَأْتُ فِي كِتَابِ أَبِي قِلابَةَ قَالَ: نَزَلَتْ: ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ [الزَّلْزَلَةِ:٧، ٨] وَأَبُو بَكْرٍ يَأْكُلُ، فَأَمْسَكَ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَرَاءٍ مَا عَمِلْتُ مِنْ خَيْرٍ وَشَرٍّ؟ فَقَالَ: "أَرَأَيْتَ مَا رَأَيْتَ مِمَّا تَكْرَهُ، فَهُوَ مِنْ مَثَاقِيلِ ذَرّ الشَّرِّ، وَتُدَّخَرُ مَثَاقِيلُ الْخَيْرِ حَتَّى تُعْطَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالَ: قَالَ أَبُو إِدْرِيسَ: فَإِنِّي أَرَى مِصْدَاقَهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ [[تفسير الطبري (٢٥/٢٠) .]] .
ثُمَّ رَوَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عن أنس [[تفسير الطبري (٢٥/٢١) .]] ، قال: والأول أصح.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الفَزَاري، حَدَّثَنَا الْأَزْهَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْكَاهِلِيُّ، عَنِ الخَضْر بْنِ القَوَّاس الْبَجْلِيِّ، عَنْ أَبِي سُخَيْلَةَ [[في ت: "وروى ابن أبي حاتم بإسناده".]] عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلِ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَحَدَّثَنَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، قَالَ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ . وَسَأُفَسِّرُهَا لَكَ يَا عَلِيُّ: "مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مَرَضٍ أَوْ عُقُوبَةٍ أَوْ بَلَاءٍ فِي الدُّنْيَا، فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ [[في أ: "أيديكم ويعفو عن كثير".]] وَاللَّهُ تَعَالَى أَحْلَمُ مِنْ أَنْ يُثَنِّى عَلَيْهِ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَةِ، وَمَا عَفَا اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ [[في ت: "والله".]] تَعَالَى أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ بَعْدَ عَفْوِهِ"
وَكَذَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ وعَبْدة، عَنْ أَبِي سُخَيلة قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ ... فَذَكَرَ نَحْوَهُ مَرْفُوعًا [[المسند (١/٨٥) .]] .
ثُمَّ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ [نَحْوَهُ] [[زيادة من أ.]] مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَوْقُوفًا فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي الْوَضَّاحِ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي جُحَيفَة قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ يَنْبَغِي لِكُلِّ مُؤْمِنٍ أَنْ يَعيَه [[في أ: "يصيبه".]] ؟ قَالَ: فَسَأَلْنَاهُ فَتَلَا [[في ت: "قبل".]] هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ قَالَ: مَا عَاقَبَ اللَّهُ بِهِ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَحْلَمُ مِنْ أَنْ يُثَنِّي عَلَيْهِ الْعُقُوبَةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَا عَفَا اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي عَفْوِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ -يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى-عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ-هُوَ ابْنُ أَبِي سُفْيَانَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ فِي جَسَدِهِ يُؤْذِيهِ إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ" [[المسند (٤/٩٨) قال الهيثمي في المجمع (٣/٣٠١) : "رجال أحمد رجال الصحيح".]] .
وَقَالَ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ [[في ت، م: "عن مجاهد، وروى أيضا".]] ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا، ابْتَلَاهُ اللَّهُ بالحَزَنِ لِيُكَفِّرَهَا" [[المسند (٦/١٥٧) .]] .
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ -هُوَ الْبَصْرِيُّ-قَالَ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا مِنْ خَدْش عُودٍ، وَلَا اخْتِلَاجِ عِرْقٍ، وَلَا عَثْرة قَدَمٍ، إِلَّا بِذَنْبٍ وَمَا يَعْفُو اللَّهُ عَنْهُ أَكْثَرُ" [[ورواه هناد بن السري في الزهد برقم (٤٣١) من طريق إسماعيل بن مسلم به مرسلا.]] .
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] أَيْضًا: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا هُشَيمْ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الحسن، عن عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ وَقَدْ كَانَ ابْتُلِيَ فِي جَسَدِهِ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُهُمْ إِنَّا لَنَبْتَئِسُ لَكَ لِمَا نَرَى فِيكَ. قَالَ: فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا تَرَى، فَإِنَّ مَا تَرَى بِذَنْبٍ، وَمَا يَعْفُو اللَّهُ عَنْهُ أَكْثَرُ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾
[قَالَ:] [[زيادة من ت، أ.]] وَحَدَّثَنَا أَبِي: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الحمَّاني، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ أَبِي الْبِلَادِ [[في أ: "أبي العلا".]] قَالَ: قُلْتُ لِلْعَلَاءِ بْنِ بَدْرٍ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ﴾ ، وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرِي وَأَنَا غُلَامٌ؟ قَالَ: فَبِذُنُوبِ وَالِدَيْكَ.
وَحَدَّثَنَا أَبِي: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافسي، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ العزيز بن أبي راود، عَنِ الضَّحَّاكِ [[في ت: "وروى أيضا عن الضحاك".]] قَالَ: مَا نَعْلَمُ أَحَدًا حَفِظَ الْقُرْآنَ ثُمَّ نَسِيَهُ [[في أ: "سيبه".]] إِلَّا بِذَنْبٍ، ثُمَّ قَرَأَ الضَّحَّاكُ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ . ثُمَّ يَقُولُ الضَّحَّاكُ: وأي مصيبة أعظم من نسيان القرآن.
وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ فِى ٱلْأَرْضِ ۖ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا نَصِيرٍۢ
And you will not cause failure [to Allah] upon the earth. And you have not besides Allah any protector or helper.
اور تم زمین میں (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے۔ اور خدا کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار
و شما هرگز نمیتوانید در زمین از قدرت خداوند فرار کنید؛ و غیر از خدا هیچ ولیّ و یاوری برای شما نیست.
Tafsir Ibn Kathir
And among His Ayat is the creation of the heavens and the earth, and whatever moving creatures He has dispersed in them both. And He is Able to assemble them whenever He wills (29)And whatever of misfortune befalls you, it is because of what your hands have earned. And He pardons much (30)And you cannot escape from Allah in the earth, and besides Allah you have neither any protector nor any helper (31)
Among the Signs of Allah is the Creation of the Heavens and the Earth
وَمِنْ آيَاتِهِ
(And among His Ayat) the signs which point to His great might and power,
خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا
(is the creation of the heavens and the earth, and whatever moving creatures He has dispersed in them both.) means, whatever He has created in them, i.e., in the heavens and the earth.
مِنْ دَابَّةٍ
(and whatever moving creatures) this includes the angels, men, Jinn and all the animals with their different shapes, colors, languages, natures, kinds and types. He has distributed them throughout the various regions of the heavens and earth.
وَهُوَ
(And He) means, yet despite all that,
عَلَىٰ جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَاءُ قَدِيرٌ
(is Able to assemble them whenever He wills.) means, on the Day of Resurrection, He will gather the first and the last of them, and bring all His creatures together in one place where they will all hear the voice of the caller and all of them will be seen clearly; then He will judge between them with justice and truth.
The Cause of Misfortune is Sin
وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ
(And whatever of misfortune befalls you, it is because of what your hands have earned.) means, 'whatever disasters happen to you, O mankind, are because of sins that you have committed in the past.'
وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ
(And He pardons much.) means, of sins; 'He does not punish you for them, rather He forgives you.'
وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ
(And if Allah were to punish men for that which they earned, He would not leave a moving creature on the surface of the earth)(35:45). According to a Sahih Hadith:
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حَزَنٍ إِلَّا كَفَّرَ اللهُ عَنْهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ، حَتّٰى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا
(By the One in Whose Hand is my soul, no believer is stricken with fatigue, exhaustion, worry or grief, but Allah will forgive him for some of his sins thereby – even a thorn which pricks him.) Imam Ahmad recorded that Mu'awiyah bin Abi Sufyan, may Allah be pleased with him, said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ say:
مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ فِي جَسَدِهِ يُؤْذِيهِ إِلَّا كَفَّرَ اللهُ تَعَالَىٰ عَنْهُ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ
(No physical harm befalls a believer, but Allah will expiate for some of his sins because of it.)" Imam Ahmad also recorded that 'A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا، ابْتَلَاهُ اللهُ تَعَالَىٰ بِالْحَزَنِ لِيُكَفِّرَهَا
(If a person commits many sins and has nothing that will expiate for them, Allah will test him with some grief that will expiate for them.)"
Tafsir Ibn Kathir
آفات اور تکالیف سے خطاؤں کی معافی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت قدرت اور سلطنت کا بیان ہو رہا ہے کہ آسمان و زمین اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور ان میں کئی ساری مخلوق بھی اسی کی پیدا کی ہوئی ہے فرشتے انسان جنات اور مختلف قسموں کے حیوانات جو کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہ ان سب کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا۔ جبکہ ان کے حواس گم ہوچکے ہوں گے اور ان میں عدل و انصاف کیا جائے گا پھر فرماتا ہے لوگو تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ سب دراصل تمہارے اپنے کئے گناہوں کا بدلہ ہیں اور ابھی تو وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری بہت سی حکم عدولیوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے اگر ہر اک گناہ پر پکڑے تو تو تم زمین پر چل پھر بھی نہ سکو۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کو جو تکلیف سختی غم اور پریشانی ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے یہاں تک کہ ایک کانٹا لگنے کے عوض بھی جب آیت (فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ ۭ) 99۔ الزلزلة :7) ، اتری اس وقت حضرت صدیق اکبر کھانا کھا رہے تھے آپ نے اسے سن کر کھانے سا ہاتھ ہٹا لیا اور کہا یارسول اللہ ﷺ کیا ہر برائی بھلائی کا بدلہ دیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا سنو طبیعت کے خلاف جو چیزیں ہوتی ہیں یہ سب برائیوں کے بدلے ہیں اور ساری نیکیاں اللہ کے پاس جمع شدہ ہیں حضرت ابو ادریس فرماتے ہیں یہی مضمون اس آیت میں بیان ہوا امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں آؤ میں تمہیں کتاب اللہ شریف کی افضل ترین آیت سناؤں اور ساتھ ہی حدیث بھی۔ حضور ﷺ نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی اور میرا نام لے کر فرمایا سن میں اس کی تفسیر بھی تجھے بتادوں تجھے جو بیماریاں سختیاں اور بلائیں آفتیں دنیا میں پہنچتی ہیں وہ سب بدلہ ہے تمہارے اپنے اعمال کا اللہ تعالیٰ کا حکم اس سے بہت زیادہ ہے کہ پھر انہی پر آخرت میں بھی سزا کرے اور اکثر برائیاں معاف فرما دیتا ہے تو اس کے کرم سے یہ بالکل ناممکن ہے کہ دنیا میں معاف کی ہوئی خطاؤں پر آخرت میں پکڑے (مسند احمد) ابن ابی حاتم میں یہی روایت حضرت علی ہی کے قول سے مروی ہے اس میں ہے کہ ابو حجیفہ جب حضرت علی کے پاس گئے تو آپ نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جسے یاد رکھنا ہر مومن کا فرض ہے پھر یہ تفسیر آیت کی اپنی طرف سے کر کے سنائی مسند میں ہے کہ مسلمان کے جسم میں جو تکلیف ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرماتا ہے۔ مسند ہی کی اور حدیث میں ہے جب ایمان دار بندے کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور اس کے کفارے کی کوئی چیز اس کے پاس نہیں ہوتی تو اللہ اسے کسی رنج و غم میں مبتلا کردیتا ہے اور وہی اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے ابن ابی حاتم میں حضرت حسن بصری سے مروی ہے کہ اس آیت کے اترنے پر حضور ﷺ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ لکڑی کی ذرا سی خراش ہڈی کی ذرا سی تکلیف یہاں تک کہ قدم کا پھسلنا بھی کسی نہ کسی گناہ پر ہے اور ابھی اللہ کے عفو کئے ہوئے بہت سے گناہ تو یونہی مٹ جاتے ہیں ابن ابی حاتم ہی میں ہے کہ جب حضرت عمران بن حصین کے جسم میں تکلیف ہوئی اور لوگ ان کی عیادت کو گئے تو حضرت حسن نے کہا آپ کی یہ حالت تو دیکھی نہیں جاتی ہمیں بڑا صدمہ ہو رہا ہے آپ نے فرمایا ایسا نہ کہو جو تم دیکھ رہے ہو یہ سب گناہوں کا کفارہ ہے اور بھی بہت سے گناہ تو اللہ معاف فرما چکا ہے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی ہے۔ ابو البلاد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علاء بن بدر سے کہا کہ قرآن میں تو یہ آیت ہے اور میں ابھی نابالغ بچہ ہوں اور اندھا ہوگیا ہوں آپ نے فرمایا یہ تیرے ماں باپ کے گناہوں کا بدلہ ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھ کر بھول جانے والا یقینا اپنے کسی گناہ میں پکڑا گیا ہے۔ اس کی اور کوئی وجہ نہیں پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا بتاؤ تو اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہوگی کہ انسان یاد کر کے کلام اللہ بھول جائے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَمِنْ آيَاتِهِ:﴾ الدَّالَّةِ عَلَى عَظَمَتِهِ وَقُدْرَتِهِ الْعَظِيمَةِ وَسُلْطَانِهِ الْقَاهِرِ ﴿خَلْقُ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا﴾ أَيْ: ذَرَأَ فِيهِمَا، أَيْ: فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، ﴿مِنْ دَابَّةٍ﴾ وَهَذَا يَشْمَلُ الْمَلَائِكَةَ وَالْجِنَّ وَالْإِنْسَ وَسَائِرَ الْحَيَوَانَاتِ، عَلَى اخْتِلَافِ أَشْكَالِهِمْ وَأَلْوَانِهِمْ وَلُغَاتِهِمْ، وَطِبَاعِهِمْ وَأَجْنَاسِهِمْ، وَأَنْوَاعِهِمْ، وَقَدْ فَرَّقَهُمْ فِي أَرْجَاءِ أَقْطَارِ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتِ، ﴿وَهُوَ﴾ مَعَ هَذَا كُلِّهِ ﴿عَلَى جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَاءُ قَدِيرٌ﴾ أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَجْمَعُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ وَسَائِرَ الْخَلَائِقِ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، يُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي، وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ، فَيَحْكُمُ فِيهِمْ بِحُكْمِهِ الْعَدْلِ الْحَقِّ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ﴾ أَيْ: مَهْمَا أَصَابَكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ مِنَ الْمَصَائِبِ فَإِنَّمَا هُوَ [[في ت، أ: "هي".]] عَنْ سَيِّئَاتٍ تَقَدَّمَتْ لَكُمْ ﴿وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ أَيْ: مِنَ السَّيِّئَاتِ، فَلَا يُجَازِيكُمْ عَلَيْهَا بَلْ يَعْفُو عَنْهَا، ﴿وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ﴾ [فَاطِرٍ: ٤٥] وَفِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَب وَلَا هَمٍّ وَلَا حُزَن، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ، حَتَّى الشَّوْكَةِ [[في ت، أ: "بالشوكة".]] يُشَاكُهَا" [[صحيح البخاري برقم (٥٦٤١، ٥٦٤٢) وصحيح مسلم برقم (٢٥٧٣) "من حديث أبي سعيد الخدري وأبي هريرة رضي الله عنهما".]] .
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُليَّة، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ: قَرَأْتُ فِي كِتَابِ أَبِي قِلابَةَ قَالَ: نَزَلَتْ: ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ [الزَّلْزَلَةِ:٧، ٨] وَأَبُو بَكْرٍ يَأْكُلُ، فَأَمْسَكَ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَرَاءٍ مَا عَمِلْتُ مِنْ خَيْرٍ وَشَرٍّ؟ فَقَالَ: "أَرَأَيْتَ مَا رَأَيْتَ مِمَّا تَكْرَهُ، فَهُوَ مِنْ مَثَاقِيلِ ذَرّ الشَّرِّ، وَتُدَّخَرُ مَثَاقِيلُ الْخَيْرِ حَتَّى تُعْطَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالَ: قَالَ أَبُو إِدْرِيسَ: فَإِنِّي أَرَى مِصْدَاقَهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ [[تفسير الطبري (٢٥/٢٠) .]] .
ثُمَّ رَوَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عن أنس [[تفسير الطبري (٢٥/٢١) .]] ، قال: والأول أصح.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الفَزَاري، حَدَّثَنَا الْأَزْهَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْكَاهِلِيُّ، عَنِ الخَضْر بْنِ القَوَّاس الْبَجْلِيِّ، عَنْ أَبِي سُخَيْلَةَ [[في ت: "وروى ابن أبي حاتم بإسناده".]] عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلِ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَحَدَّثَنَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، قَالَ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ . وَسَأُفَسِّرُهَا لَكَ يَا عَلِيُّ: "مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مَرَضٍ أَوْ عُقُوبَةٍ أَوْ بَلَاءٍ فِي الدُّنْيَا، فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ [[في أ: "أيديكم ويعفو عن كثير".]] وَاللَّهُ تَعَالَى أَحْلَمُ مِنْ أَنْ يُثَنِّى عَلَيْهِ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَةِ، وَمَا عَفَا اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ [[في ت: "والله".]] تَعَالَى أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ بَعْدَ عَفْوِهِ"
وَكَذَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ وعَبْدة، عَنْ أَبِي سُخَيلة قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ ... فَذَكَرَ نَحْوَهُ مَرْفُوعًا [[المسند (١/٨٥) .]] .
ثُمَّ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ [نَحْوَهُ] [[زيادة من أ.]] مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَوْقُوفًا فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي الْوَضَّاحِ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي جُحَيفَة قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ يَنْبَغِي لِكُلِّ مُؤْمِنٍ أَنْ يَعيَه [[في أ: "يصيبه".]] ؟ قَالَ: فَسَأَلْنَاهُ فَتَلَا [[في ت: "قبل".]] هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ قَالَ: مَا عَاقَبَ اللَّهُ بِهِ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَحْلَمُ مِنْ أَنْ يُثَنِّي عَلَيْهِ الْعُقُوبَةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَا عَفَا اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي عَفْوِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ -يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى-عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ-هُوَ ابْنُ أَبِي سُفْيَانَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ فِي جَسَدِهِ يُؤْذِيهِ إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ" [[المسند (٤/٩٨) قال الهيثمي في المجمع (٣/٣٠١) : "رجال أحمد رجال الصحيح".]] .
وَقَالَ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ [[في ت، م: "عن مجاهد، وروى أيضا".]] ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا، ابْتَلَاهُ اللَّهُ بالحَزَنِ لِيُكَفِّرَهَا" [[المسند (٦/١٥٧) .]] .
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ -هُوَ الْبَصْرِيُّ-قَالَ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا مِنْ خَدْش عُودٍ، وَلَا اخْتِلَاجِ عِرْقٍ، وَلَا عَثْرة قَدَمٍ، إِلَّا بِذَنْبٍ وَمَا يَعْفُو اللَّهُ عَنْهُ أَكْثَرُ" [[ورواه هناد بن السري في الزهد برقم (٤٣١) من طريق إسماعيل بن مسلم به مرسلا.]] .
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] أَيْضًا: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا هُشَيمْ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الحسن، عن عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ وَقَدْ كَانَ ابْتُلِيَ فِي جَسَدِهِ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُهُمْ إِنَّا لَنَبْتَئِسُ لَكَ لِمَا نَرَى فِيكَ. قَالَ: فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا تَرَى، فَإِنَّ مَا تَرَى بِذَنْبٍ، وَمَا يَعْفُو اللَّهُ عَنْهُ أَكْثَرُ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾
[قَالَ:] [[زيادة من ت، أ.]] وَحَدَّثَنَا أَبِي: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الحمَّاني، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ أَبِي الْبِلَادِ [[في أ: "أبي العلا".]] قَالَ: قُلْتُ لِلْعَلَاءِ بْنِ بَدْرٍ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ﴾ ، وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرِي وَأَنَا غُلَامٌ؟ قَالَ: فَبِذُنُوبِ وَالِدَيْكَ.
وَحَدَّثَنَا أَبِي: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافسي، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ العزيز بن أبي راود، عَنِ الضَّحَّاكِ [[في ت: "وروى أيضا عن الضحاك".]] قَالَ: مَا نَعْلَمُ أَحَدًا حَفِظَ الْقُرْآنَ ثُمَّ نَسِيَهُ [[في أ: "سيبه".]] إِلَّا بِذَنْبٍ، ثُمَّ قَرَأَ الضَّحَّاكُ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ . ثُمَّ يَقُولُ الضَّحَّاكُ: وأي مصيبة أعظم من نسيان القرآن.
وَمِنْ ءَايَٰتِهِ ٱلْجَوَارِ فِى ٱلْبَحْرِ كَٱلْأَعْلَٰمِ
And of His signs are the ships in the sea, like mountains.
اور اسی کی نشانیوں میں سے سمندر کے جہاز ہیں (جو) گویا پہاڑ (ہیں)
از نشانههای او کشتیهایی است که در دریا همچون کوهها به نظر میرسند!
Tafsir Ibn Kathir
And among His signs are the ships in the sea like mountains (32)If He wills, He causes the wind to cease, then they would become motionless on the surface (of the sea). Verily, in this are signs for everyone patient and grateful (33)Or He may destroy them because of that which their (people) have earned. And He pardons much (34)And those who dispute as regards Our Ayat may know that there is no place of refuge for them (35)
Ships are also among the Signs of Allah
Allah tells us that another sign of His great power and dominion is the fact that He has subjugated the sea so that ships may sail in it by His command, so they sail in the sea like mountains. This was the view of Mujahid, Al-Hasan, As-Suddi and Ad-Dahhak. In other words, these ships on the sea are like mountains on land.
إِنْ يَشَأْ يُسْكِنِ الرِّيحَ
(If He wills, He causes the wind to cease,) means, the winds that cause the ships to travel on the sea. If He willed, He could cause the winds to cease, then the ships would not move and would remain still, neither coming nor going, staying where they are on the surface of the water.
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ
(Verily, in this are signs for everyone patient) means, who is patient in the face of adversity
شَكُورٍ
(and grateful.) means, in the fact that Allah has subjugated the sea and He sends as much wind as they need in order to travel, there are signs of His blessings to His creation for everyone who is patient, i.e., at times of difficulty, and grateful, i.e., at times of ease.
أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا
(Or He may destroy them because of that which their (people) have earned.) means, if He wills, He may destroy the ships and drown them, because of the sins of the people on board.
وَيَعْفُ عَنْ كَثِيرٍ
(And He pardons much.) means, of their sins; if He were to punish them for all of their sins, He would destroy everyone who sails on the sea. Some of the scholars interpreted the Ayah
أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا
(Or He may destroy them because of that which their (people) have earned.) as meaning, if He willed, He could send the wind to blow fiercely so that it would take the ships and divert them from their courses, driving them to the right or the left, so that they would be lost and would not be able to follow their intended path. This interpretation also includes the idea of their being destroyed. This also fits the first meaning, which is that if Allah willed, He could cause the wind to cease, in which case the ships would stop moving, or He could make the wind fierce, in which case the ships would be lost and destroyed. But by His grace and mercy, He sends the wind according to their needs, just as He sends rain that is sufficient. If He sent too much rain, it would destroy their houses, and if He sent too little, their crops and fruits would not grow. In the case of lands such as Egypt, He sends water from another land, because they do not need rain; if rain were to fall upon them, it would destroy their houses and cause walls to collapse.
وَيَعْلَمَ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِنَا مَا لَهُمْ مِنْ مَحِيصٍ
(And those who dispute as regards Our Ayat may know that there is no place of refuge for them.) means, they have no means of escape from Our torment and vengeance, for they are subdued by Our power.
Tafsir Ibn Kathir
سمندروں کی تسخیر قدرت الہی کی نشانی اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کے نشان اپنی مخلوق کے سامنے رکھتا ہے کہ اس نے سمندروں کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ کشتیاں ان میں برابر آئیں جائیں۔ بڑی بڑی کشتیاں سمندروں میں ایسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے زمین میں اونچے پہاڑ۔ ان کشتیوں کو ادھر سے ادھر لے جانے والی ہوائیں اس کے قبضے میں ہیں اگر وہی چاہے تو ان ہواؤں کو روک لے پھر تو بادبان بیکار ہوجائیں اور کشتی رک کر کھڑی ہوجائے ہر وہ شخص جو سختیوں میں صبر کا اور آسانیوں میں شکر کا عادی ہو اس کے لئے تو بڑی عبرت کی جا ہے وہ رب کی عظیم الشان قدرت اور اس کی بےپایاں سلطنت کو ان نشانوں سے سمجھ سکتا ہے اور جس طرح ہوائیں بند کر کے کشتیوں کو کھڑا کرلینا اور روک لینا اس کے بس میں ہے اسی طرح ان پہاڑوں جیسی کشتیوں کو دم بھر میں ڈبو دینا بھی اس کے ہاتھ ہے اگر وہ چاہے تو اہل کشتی کے گناہوں کے باعث انہیں غرق کر دے۔ ابھی تو وہ بہت سے گناہوں سے درگذر فرما لیتا ہے اور اگر سب گناہوں پر پکڑے تو جو بھی کشتی میں بیٹھے سیدھا سمندر میں ڈوبے لیکن اس کی بےپایاں رحمت ان کو اس پار سے اس پار کردیتی ہے۔ علماء تفسیر نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسی ہوا کو ناموافق کر دے۔ تیز و تند آندھی چلا دے جو کشتی کو سیدھی راہ چلنے ہی نہ دے ادھر سے ادھر کر دے سنبھالے نہ سنبھل سکے جہاں جانا ہے اس طرف جا ہی نہ سکے اور یونہی سرگشتہ و حیران ہو ہو کر اہل کشتی تباہ ہوجائیں۔ الغرض اگر بند کر دے تو کھڑے کھڑے ناکام رہیں اگر تیز کر دے تو ناکامی۔ لیکن یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ خوشگوار موافق ہوائیں چلاتا ہے اور لمبے لمبے سفر ان کشتیوں کے ذریعہ بنی آدم طے کرتا ہے اور اپنے مقصد کو پالیتا ہے یہی حال پانی کا ہے کہ اگر بالکل نہ برسائے خشک سالی رہے دنیا تباہ ہوجائے۔ اگر بہت ہی برسا دے تو تر سالی کوئی چیز پیدا نہ ہونے دے اور دنیا ہلاک ہوجائے۔ ساتھ ہی مینہ کی کثرت طغیانی کا مکانوں کے گرنے کا اور پوری بربادی کا سبب بن جائے یہاں تک کہ رب کی مہربانی سے جن شہروں میں اور جن زمینوں میں زیادہ بارش کی ضرورت ہے وہاں کثرت سے مینہ برستا ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہے وہاں کمی سے پھر فرماتا ہے کہ ہماری نشانیوں سے جھگڑنے والے ایسے موقعوں پر تو مان لیتے ہیں کہ ہماری قدرت سے باہر نہیں۔ ہم اگر انتقام لینا چاہیں ہم اگر عذاب کرنا چاہیں تو وہ چھوٹ نہیں سکتے سب ہماری قدرت اور مشیت تلے ہیں (فسبحانہ ما اعظم شانہ)
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: وَمِنْ آيَاتِهِ الدَّالَّةِ عَلَى قُدْرَتِهِ وَسُلْطَانِهِ، تَسْخِيرُهُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ فِيهِ الْفُلْكُ بِأَمْرِهِ، وَهِيَ الْجَوَارِي فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ، أَيْ: كَالْجِبَالِ، قَالَهُ مُجَاهِدٌ، وَالْحَسَنُ، وَالسُّدِّيُّ، وَالضَّحَّاكُ، أَيْ: هِيَ [[في أ: "هذه".]] فِي الْبَحْرِ كَالْجِبَالِ فِي الْبَرِّ،.
﴿إِنْ يَشَأْ يُسْكِنِ الرِّيحَ﴾ أَيِ: الَّتِي تَسِيرُ بِالسُّفُنِ [[في ت: "تسير بها السفن".]] ، لَوْ شَاءَ لَسَكَّنَهَا حَتَّى لَا تَتَحَرَّكَ [[في ت: "يتحرك".]] السُّفُنُ، بَلْ تَظَلَّ رَاكِدَةً لَا تَجِيءُ وَلَا تَذْهَبُ، بَلْ وَاقِفَةً عَلَى ظَهْرِهِ، أَيْ: عَلَى وَجْهِ الْمَاءِ ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ﴾ أَيْ: فِي الشَّدَائِدِ ﴿شَكُورٍ﴾ أَيْ: إِنَّ فِي تَسْخِيرِهِ الْبَحْرَ وَإِجْرَائِهِ الْهَوَى بِقَدْرِ مَا يَحْتَاجُونَ إِلَيْهِ لِسَيْرِهِمْ، لَدَلَالَاتٍ عَلَى نِعَمِهِ تَعَالَى عَلَى خَلْقِهِ ﴿لِكُلِّ صَبَّارٍ﴾ أَيْ: فِي الشَّدَائِدِ، ﴿شَكُورٍ﴾ فِي الرَّخَاءِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا﴾ أَيْ: وَلَوْ شَاءَ لَأَهْلَكَ السُّفُنَ وَغَرَّقَهَا بِذُنُوبِ أَهْلِهَا الَّذِينَ هُمْ رَاكِبُونَ عَلَيْهَا [[في ت، م، أ: "فيها".]] ﴿وَيَعْفُ عَنْ كَثِيرٍ﴾ أَيْ: مِنْ ذُنُوبِهِمْ. وَلَوْ أَخَذَهُمْ بِجَمِيعِ ذُنُوبِهِمْ لِأَهْلَكَ كُلَّ مَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ [[في م: "كل من يركب في البحر"، وفي أ: "كل من يركب البحر".]] .
وَقَالَ بَعْضُ عُلَمَاءِ التَّفْسِيرِ: مَعْنَى قَوْلِهِ: ﴿أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا﴾ أَيْ: لَوْ شَاءَ لَأَرْسَلَ الرِّيحَ قَوِيَّةً عَاتِيَةً، فَأَخَذَتِ السُّفُنَ وَأَحَالَتْهَا [[في ت، أ: "فأجالتها"ن وفي م: "فاجتالتها".]] عَنْ سَيْرِهَا الْمُسْتَقِيمِ، فَصَرَفَتْهَا ذَاتَ الْيَمِينِ أَوْ ذَاتَ الشِّمَالِ، آبِقَةً لَا تَسِيرُ عَلَى طَرِيقٍ، وَلَا إِلَى جِهَةِ مَقْصِدٍ.
وَهَذَا الْقَوْلُ هُوَ يَتَضَمَّنُ هَلَاكَهَا، وَهُوَ مُنَاسِبٌ لِلْأَوَّلِ [[في ت، أ: "للقول الأول".]] ، وَهُوَ أَنَّهُ تَعَالَى لَوْ شَاءَ لَسَكَّنَ الرِّيحَ فَوَقَفَتْ، أَوْ لَقَوَّاهُ فَشَرَدَتْ وَأَبْقَتْ وَهَلَكَتْ. وَلَكِنْ مِنْ لُطْفِهِ [[في أ: "لطف الله".]] وَرَحْمَتِهِ أَنَّهُ يُرْسِلُهُ بِحَسْبِ الْحَاجَةِ، كَمَا يُرْسِلُ الْمَطَرَ بِقَدْرِ الْكِفَايَةِ، وَلَوْ أَنْزَلَهُ كَثِيرًا جِدًّا لَهَدَمَ الْبُنْيَانَ، أَوْ قَلِيلًا لَمَا أَنْبَتَ الزَّرْعَ [[في ت، م: "الزروع".]] وَالثِّمَارَ، حَتَّى إِنَّهُ يُرْسِلُ إِلَى مِثْلِ بِلَادِ مِصْرَ سَيْحًا مِنْ أَرْضٍ أُخْرَى غَيْرِهَا [[في أ: "عليها".]] ؛ لِأَنَّهُمْ لَا يَحْتَاجُونَ إِلَى مَطَرٍ، وَلَوْ أَنْزَلَ عَلَيْهِمْ لَهَدَمَ بُنْيَانَهُمْ، وَأَسْقَطَ جُدْرَانَهُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَعْلَمَ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِنَا مَا لَهُمْ مِنْ مَحِيصٍ﴾ أَيْ: لَا مَحِيدَ لَهُمْ عَنْ بَأْسِنَا وَنِقْمَتِنَا، فَإِنَّهُمْ مَقْهُورُونَ بِقُدْرَتِنَا.
إِن يَشَأْ يُسْكِنِ ٱلرِّيحَ فَيَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلَىٰ ظَهْرِهِۦٓ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّكُلِّ صَبَّارٍۢ شَكُورٍ
If He willed, He could still the wind, and they would remain motionless on its surface. Indeed in that are signs for everyone patient and grateful.
اگر خدا چاہے تو ہوا کو ٹھیرا دے اور جہاز اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں۔ تمام صبر اور شکر کرنے والوں کے لئے ان (باتوں) میں قدرت خدا کے نمونے ہیں
اگر او اراده کند، باد را ساکن میسازد تا آنها بر پشت دریا بیحرکت بمانند؛ در این نشانههایی است برای هر صبرکننده شکرگزار!
Tafsir Ibn Kathir
And among His signs are the ships in the sea like mountains (32)If He wills, He causes the wind to cease, then they would become motionless on the surface (of the sea). Verily, in this are signs for everyone patient and grateful (33)Or He may destroy them because of that which their (people) have earned. And He pardons much (34)And those who dispute as regards Our Ayat may know that there is no place of refuge for them (35)
Ships are also among the Signs of Allah
Allah tells us that another sign of His great power and dominion is the fact that He has subjugated the sea so that ships may sail in it by His command, so they sail in the sea like mountains. This was the view of Mujahid, Al-Hasan, As-Suddi and Ad-Dahhak. In other words, these ships on the sea are like mountains on land.
إِنْ يَشَأْ يُسْكِنِ الرِّيحَ
(If He wills, He causes the wind to cease,) means, the winds that cause the ships to travel on the sea. If He willed, He could cause the winds to cease, then the ships would not move and would remain still, neither coming nor going, staying where they are on the surface of the water.
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ
(Verily, in this are signs for everyone patient) means, who is patient in the face of adversity
شَكُورٍ
(and grateful.) means, in the fact that Allah has subjugated the sea and He sends as much wind as they need in order to travel, there are signs of His blessings to His creation for everyone who is patient, i.e., at times of difficulty, and grateful, i.e., at times of ease.
أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا
(Or He may destroy them because of that which their (people) have earned.) means, if He wills, He may destroy the ships and drown them, because of the sins of the people on board.
وَيَعْفُ عَنْ كَثِيرٍ
(And He pardons much.) means, of their sins; if He were to punish them for all of their sins, He would destroy everyone who sails on the sea. Some of the scholars interpreted the Ayah
أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا
(Or He may destroy them because of that which their (people) have earned.) as meaning, if He willed, He could send the wind to blow fiercely so that it would take the ships and divert them from their courses, driving them to the right or the left, so that they would be lost and would not be able to follow their intended path. This interpretation also includes the idea of their being destroyed. This also fits the first meaning, which is that if Allah willed, He could cause the wind to cease, in which case the ships would stop moving, or He could make the wind fierce, in which case the ships would be lost and destroyed. But by His grace and mercy, He sends the wind according to their needs, just as He sends rain that is sufficient. If He sent too much rain, it would destroy their houses, and if He sent too little, their crops and fruits would not grow. In the case of lands such as Egypt, He sends water from another land, because they do not need rain; if rain were to fall upon them, it would destroy their houses and cause walls to collapse.
وَيَعْلَمَ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِنَا مَا لَهُمْ مِنْ مَحِيصٍ
(And those who dispute as regards Our Ayat may know that there is no place of refuge for them.) means, they have no means of escape from Our torment and vengeance, for they are subdued by Our power.
Tafsir Ibn Kathir
سمندروں کی تسخیر قدرت الہی کی نشانی اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کے نشان اپنی مخلوق کے سامنے رکھتا ہے کہ اس نے سمندروں کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ کشتیاں ان میں برابر آئیں جائیں۔ بڑی بڑی کشتیاں سمندروں میں ایسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے زمین میں اونچے پہاڑ۔ ان کشتیوں کو ادھر سے ادھر لے جانے والی ہوائیں اس کے قبضے میں ہیں اگر وہی چاہے تو ان ہواؤں کو روک لے پھر تو بادبان بیکار ہوجائیں اور کشتی رک کر کھڑی ہوجائے ہر وہ شخص جو سختیوں میں صبر کا اور آسانیوں میں شکر کا عادی ہو اس کے لئے تو بڑی عبرت کی جا ہے وہ رب کی عظیم الشان قدرت اور اس کی بےپایاں سلطنت کو ان نشانوں سے سمجھ سکتا ہے اور جس طرح ہوائیں بند کر کے کشتیوں کو کھڑا کرلینا اور روک لینا اس کے بس میں ہے اسی طرح ان پہاڑوں جیسی کشتیوں کو دم بھر میں ڈبو دینا بھی اس کے ہاتھ ہے اگر وہ چاہے تو اہل کشتی کے گناہوں کے باعث انہیں غرق کر دے۔ ابھی تو وہ بہت سے گناہوں سے درگذر فرما لیتا ہے اور اگر سب گناہوں پر پکڑے تو جو بھی کشتی میں بیٹھے سیدھا سمندر میں ڈوبے لیکن اس کی بےپایاں رحمت ان کو اس پار سے اس پار کردیتی ہے۔ علماء تفسیر نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسی ہوا کو ناموافق کر دے۔ تیز و تند آندھی چلا دے جو کشتی کو سیدھی راہ چلنے ہی نہ دے ادھر سے ادھر کر دے سنبھالے نہ سنبھل سکے جہاں جانا ہے اس طرف جا ہی نہ سکے اور یونہی سرگشتہ و حیران ہو ہو کر اہل کشتی تباہ ہوجائیں۔ الغرض اگر بند کر دے تو کھڑے کھڑے ناکام رہیں اگر تیز کر دے تو ناکامی۔ لیکن یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ خوشگوار موافق ہوائیں چلاتا ہے اور لمبے لمبے سفر ان کشتیوں کے ذریعہ بنی آدم طے کرتا ہے اور اپنے مقصد کو پالیتا ہے یہی حال پانی کا ہے کہ اگر بالکل نہ برسائے خشک سالی رہے دنیا تباہ ہوجائے۔ اگر بہت ہی برسا دے تو تر سالی کوئی چیز پیدا نہ ہونے دے اور دنیا ہلاک ہوجائے۔ ساتھ ہی مینہ کی کثرت طغیانی کا مکانوں کے گرنے کا اور پوری بربادی کا سبب بن جائے یہاں تک کہ رب کی مہربانی سے جن شہروں میں اور جن زمینوں میں زیادہ بارش کی ضرورت ہے وہاں کثرت سے مینہ برستا ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہے وہاں کمی سے پھر فرماتا ہے کہ ہماری نشانیوں سے جھگڑنے والے ایسے موقعوں پر تو مان لیتے ہیں کہ ہماری قدرت سے باہر نہیں۔ ہم اگر انتقام لینا چاہیں ہم اگر عذاب کرنا چاہیں تو وہ چھوٹ نہیں سکتے سب ہماری قدرت اور مشیت تلے ہیں (فسبحانہ ما اعظم شانہ)
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: وَمِنْ آيَاتِهِ الدَّالَّةِ عَلَى قُدْرَتِهِ وَسُلْطَانِهِ، تَسْخِيرُهُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ فِيهِ الْفُلْكُ بِأَمْرِهِ، وَهِيَ الْجَوَارِي فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ، أَيْ: كَالْجِبَالِ، قَالَهُ مُجَاهِدٌ، وَالْحَسَنُ، وَالسُّدِّيُّ، وَالضَّحَّاكُ، أَيْ: هِيَ [[في أ: "هذه".]] فِي الْبَحْرِ كَالْجِبَالِ فِي الْبَرِّ،.
﴿إِنْ يَشَأْ يُسْكِنِ الرِّيحَ﴾ أَيِ: الَّتِي تَسِيرُ بِالسُّفُنِ [[في ت: "تسير بها السفن".]] ، لَوْ شَاءَ لَسَكَّنَهَا حَتَّى لَا تَتَحَرَّكَ [[في ت: "يتحرك".]] السُّفُنُ، بَلْ تَظَلَّ رَاكِدَةً لَا تَجِيءُ وَلَا تَذْهَبُ، بَلْ وَاقِفَةً عَلَى ظَهْرِهِ، أَيْ: عَلَى وَجْهِ الْمَاءِ ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ﴾ أَيْ: فِي الشَّدَائِدِ ﴿شَكُورٍ﴾ أَيْ: إِنَّ فِي تَسْخِيرِهِ الْبَحْرَ وَإِجْرَائِهِ الْهَوَى بِقَدْرِ مَا يَحْتَاجُونَ إِلَيْهِ لِسَيْرِهِمْ، لَدَلَالَاتٍ عَلَى نِعَمِهِ تَعَالَى عَلَى خَلْقِهِ ﴿لِكُلِّ صَبَّارٍ﴾ أَيْ: فِي الشَّدَائِدِ، ﴿شَكُورٍ﴾ فِي الرَّخَاءِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا﴾ أَيْ: وَلَوْ شَاءَ لَأَهْلَكَ السُّفُنَ وَغَرَّقَهَا بِذُنُوبِ أَهْلِهَا الَّذِينَ هُمْ رَاكِبُونَ عَلَيْهَا [[في ت، م، أ: "فيها".]] ﴿وَيَعْفُ عَنْ كَثِيرٍ﴾ أَيْ: مِنْ ذُنُوبِهِمْ. وَلَوْ أَخَذَهُمْ بِجَمِيعِ ذُنُوبِهِمْ لِأَهْلَكَ كُلَّ مَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ [[في م: "كل من يركب في البحر"، وفي أ: "كل من يركب البحر".]] .
وَقَالَ بَعْضُ عُلَمَاءِ التَّفْسِيرِ: مَعْنَى قَوْلِهِ: ﴿أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا﴾ أَيْ: لَوْ شَاءَ لَأَرْسَلَ الرِّيحَ قَوِيَّةً عَاتِيَةً، فَأَخَذَتِ السُّفُنَ وَأَحَالَتْهَا [[في ت، أ: "فأجالتها"ن وفي م: "فاجتالتها".]] عَنْ سَيْرِهَا الْمُسْتَقِيمِ، فَصَرَفَتْهَا ذَاتَ الْيَمِينِ أَوْ ذَاتَ الشِّمَالِ، آبِقَةً لَا تَسِيرُ عَلَى طَرِيقٍ، وَلَا إِلَى جِهَةِ مَقْصِدٍ.
وَهَذَا الْقَوْلُ هُوَ يَتَضَمَّنُ هَلَاكَهَا، وَهُوَ مُنَاسِبٌ لِلْأَوَّلِ [[في ت، أ: "للقول الأول".]] ، وَهُوَ أَنَّهُ تَعَالَى لَوْ شَاءَ لَسَكَّنَ الرِّيحَ فَوَقَفَتْ، أَوْ لَقَوَّاهُ فَشَرَدَتْ وَأَبْقَتْ وَهَلَكَتْ. وَلَكِنْ مِنْ لُطْفِهِ [[في أ: "لطف الله".]] وَرَحْمَتِهِ أَنَّهُ يُرْسِلُهُ بِحَسْبِ الْحَاجَةِ، كَمَا يُرْسِلُ الْمَطَرَ بِقَدْرِ الْكِفَايَةِ، وَلَوْ أَنْزَلَهُ كَثِيرًا جِدًّا لَهَدَمَ الْبُنْيَانَ، أَوْ قَلِيلًا لَمَا أَنْبَتَ الزَّرْعَ [[في ت، م: "الزروع".]] وَالثِّمَارَ، حَتَّى إِنَّهُ يُرْسِلُ إِلَى مِثْلِ بِلَادِ مِصْرَ سَيْحًا مِنْ أَرْضٍ أُخْرَى غَيْرِهَا [[في أ: "عليها".]] ؛ لِأَنَّهُمْ لَا يَحْتَاجُونَ إِلَى مَطَرٍ، وَلَوْ أَنْزَلَ عَلَيْهِمْ لَهَدَمَ بُنْيَانَهُمْ، وَأَسْقَطَ جُدْرَانَهُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَعْلَمَ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِنَا مَا لَهُمْ مِنْ مَحِيصٍ﴾ أَيْ: لَا مَحِيدَ لَهُمْ عَنْ بَأْسِنَا وَنِقْمَتِنَا، فَإِنَّهُمْ مَقْهُورُونَ بِقُدْرَتِنَا.
أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا۟ وَيَعْفُ عَن كَثِيرٍۢ
Or He could destroy them for what they earned; but He pardons much.
یا ان کے اعمال کے سبب ان کو تباہ کردے۔ اور بہت سے قصور معاف کردے
یا اگر بخواهد آنها را بخاطر اعمالی که سرنشینانش مرتکب شدهاند نابود میسازد؛ و در عین حال بسیاری را میبخشد.
Tafsir Ibn Kathir
And among His signs are the ships in the sea like mountains (32)If He wills, He causes the wind to cease, then they would become motionless on the surface (of the sea). Verily, in this are signs for everyone patient and grateful (33)Or He may destroy them because of that which their (people) have earned. And He pardons much (34)And those who dispute as regards Our Ayat may know that there is no place of refuge for them (35)
Ships are also among the Signs of Allah
Allah tells us that another sign of His great power and dominion is the fact that He has subjugated the sea so that ships may sail in it by His command, so they sail in the sea like mountains. This was the view of Mujahid, Al-Hasan, As-Suddi and Ad-Dahhak. In other words, these ships on the sea are like mountains on land.
إِنْ يَشَأْ يُسْكِنِ الرِّيحَ
(If He wills, He causes the wind to cease,) means, the winds that cause the ships to travel on the sea. If He willed, He could cause the winds to cease, then the ships would not move and would remain still, neither coming nor going, staying where they are on the surface of the water.
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ
(Verily, in this are signs for everyone patient) means, who is patient in the face of adversity
شَكُورٍ
(and grateful.) means, in the fact that Allah has subjugated the sea and He sends as much wind as they need in order to travel, there are signs of His blessings to His creation for everyone who is patient, i.e., at times of difficulty, and grateful, i.e., at times of ease.
أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا
(Or He may destroy them because of that which their (people) have earned.) means, if He wills, He may destroy the ships and drown them, because of the sins of the people on board.
وَيَعْفُ عَنْ كَثِيرٍ
(And He pardons much.) means, of their sins; if He were to punish them for all of their sins, He would destroy everyone who sails on the sea. Some of the scholars interpreted the Ayah
أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا
(Or He may destroy them because of that which their (people) have earned.) as meaning, if He willed, He could send the wind to blow fiercely so that it would take the ships and divert them from their courses, driving them to the right or the left, so that they would be lost and would not be able to follow their intended path. This interpretation also includes the idea of their being destroyed. This also fits the first meaning, which is that if Allah willed, He could cause the wind to cease, in which case the ships would stop moving, or He could make the wind fierce, in which case the ships would be lost and destroyed. But by His grace and mercy, He sends the wind according to their needs, just as He sends rain that is sufficient. If He sent too much rain, it would destroy their houses, and if He sent too little, their crops and fruits would not grow. In the case of lands such as Egypt, He sends water from another land, because they do not need rain; if rain were to fall upon them, it would destroy their houses and cause walls to collapse.
وَيَعْلَمَ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِنَا مَا لَهُمْ مِنْ مَحِيصٍ
(And those who dispute as regards Our Ayat may know that there is no place of refuge for them.) means, they have no means of escape from Our torment and vengeance, for they are subdued by Our power.
Tafsir Ibn Kathir
سمندروں کی تسخیر قدرت الہی کی نشانی اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کے نشان اپنی مخلوق کے سامنے رکھتا ہے کہ اس نے سمندروں کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ کشتیاں ان میں برابر آئیں جائیں۔ بڑی بڑی کشتیاں سمندروں میں ایسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے زمین میں اونچے پہاڑ۔ ان کشتیوں کو ادھر سے ادھر لے جانے والی ہوائیں اس کے قبضے میں ہیں اگر وہی چاہے تو ان ہواؤں کو روک لے پھر تو بادبان بیکار ہوجائیں اور کشتی رک کر کھڑی ہوجائے ہر وہ شخص جو سختیوں میں صبر کا اور آسانیوں میں شکر کا عادی ہو اس کے لئے تو بڑی عبرت کی جا ہے وہ رب کی عظیم الشان قدرت اور اس کی بےپایاں سلطنت کو ان نشانوں سے سمجھ سکتا ہے اور جس طرح ہوائیں بند کر کے کشتیوں کو کھڑا کرلینا اور روک لینا اس کے بس میں ہے اسی طرح ان پہاڑوں جیسی کشتیوں کو دم بھر میں ڈبو دینا بھی اس کے ہاتھ ہے اگر وہ چاہے تو اہل کشتی کے گناہوں کے باعث انہیں غرق کر دے۔ ابھی تو وہ بہت سے گناہوں سے درگذر فرما لیتا ہے اور اگر سب گناہوں پر پکڑے تو جو بھی کشتی میں بیٹھے سیدھا سمندر میں ڈوبے لیکن اس کی بےپایاں رحمت ان کو اس پار سے اس پار کردیتی ہے۔ علماء تفسیر نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسی ہوا کو ناموافق کر دے۔ تیز و تند آندھی چلا دے جو کشتی کو سیدھی راہ چلنے ہی نہ دے ادھر سے ادھر کر دے سنبھالے نہ سنبھل سکے جہاں جانا ہے اس طرف جا ہی نہ سکے اور یونہی سرگشتہ و حیران ہو ہو کر اہل کشتی تباہ ہوجائیں۔ الغرض اگر بند کر دے تو کھڑے کھڑے ناکام رہیں اگر تیز کر دے تو ناکامی۔ لیکن یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ خوشگوار موافق ہوائیں چلاتا ہے اور لمبے لمبے سفر ان کشتیوں کے ذریعہ بنی آدم طے کرتا ہے اور اپنے مقصد کو پالیتا ہے یہی حال پانی کا ہے کہ اگر بالکل نہ برسائے خشک سالی رہے دنیا تباہ ہوجائے۔ اگر بہت ہی برسا دے تو تر سالی کوئی چیز پیدا نہ ہونے دے اور دنیا ہلاک ہوجائے۔ ساتھ ہی مینہ کی کثرت طغیانی کا مکانوں کے گرنے کا اور پوری بربادی کا سبب بن جائے یہاں تک کہ رب کی مہربانی سے جن شہروں میں اور جن زمینوں میں زیادہ بارش کی ضرورت ہے وہاں کثرت سے مینہ برستا ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہے وہاں کمی سے پھر فرماتا ہے کہ ہماری نشانیوں سے جھگڑنے والے ایسے موقعوں پر تو مان لیتے ہیں کہ ہماری قدرت سے باہر نہیں۔ ہم اگر انتقام لینا چاہیں ہم اگر عذاب کرنا چاہیں تو وہ چھوٹ نہیں سکتے سب ہماری قدرت اور مشیت تلے ہیں (فسبحانہ ما اعظم شانہ)
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: وَمِنْ آيَاتِهِ الدَّالَّةِ عَلَى قُدْرَتِهِ وَسُلْطَانِهِ، تَسْخِيرُهُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ فِيهِ الْفُلْكُ بِأَمْرِهِ، وَهِيَ الْجَوَارِي فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ، أَيْ: كَالْجِبَالِ، قَالَهُ مُجَاهِدٌ، وَالْحَسَنُ، وَالسُّدِّيُّ، وَالضَّحَّاكُ، أَيْ: هِيَ [[في أ: "هذه".]] فِي الْبَحْرِ كَالْجِبَالِ فِي الْبَرِّ،.
﴿إِنْ يَشَأْ يُسْكِنِ الرِّيحَ﴾ أَيِ: الَّتِي تَسِيرُ بِالسُّفُنِ [[في ت: "تسير بها السفن".]] ، لَوْ شَاءَ لَسَكَّنَهَا حَتَّى لَا تَتَحَرَّكَ [[في ت: "يتحرك".]] السُّفُنُ، بَلْ تَظَلَّ رَاكِدَةً لَا تَجِيءُ وَلَا تَذْهَبُ، بَلْ وَاقِفَةً عَلَى ظَهْرِهِ، أَيْ: عَلَى وَجْهِ الْمَاءِ ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ﴾ أَيْ: فِي الشَّدَائِدِ ﴿شَكُورٍ﴾ أَيْ: إِنَّ فِي تَسْخِيرِهِ الْبَحْرَ وَإِجْرَائِهِ الْهَوَى بِقَدْرِ مَا يَحْتَاجُونَ إِلَيْهِ لِسَيْرِهِمْ، لَدَلَالَاتٍ عَلَى نِعَمِهِ تَعَالَى عَلَى خَلْقِهِ ﴿لِكُلِّ صَبَّارٍ﴾ أَيْ: فِي الشَّدَائِدِ، ﴿شَكُورٍ﴾ فِي الرَّخَاءِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا﴾ أَيْ: وَلَوْ شَاءَ لَأَهْلَكَ السُّفُنَ وَغَرَّقَهَا بِذُنُوبِ أَهْلِهَا الَّذِينَ هُمْ رَاكِبُونَ عَلَيْهَا [[في ت، م، أ: "فيها".]] ﴿وَيَعْفُ عَنْ كَثِيرٍ﴾ أَيْ: مِنْ ذُنُوبِهِمْ. وَلَوْ أَخَذَهُمْ بِجَمِيعِ ذُنُوبِهِمْ لِأَهْلَكَ كُلَّ مَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ [[في م: "كل من يركب في البحر"، وفي أ: "كل من يركب البحر".]] .
وَقَالَ بَعْضُ عُلَمَاءِ التَّفْسِيرِ: مَعْنَى قَوْلِهِ: ﴿أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا﴾ أَيْ: لَوْ شَاءَ لَأَرْسَلَ الرِّيحَ قَوِيَّةً عَاتِيَةً، فَأَخَذَتِ السُّفُنَ وَأَحَالَتْهَا [[في ت، أ: "فأجالتها"ن وفي م: "فاجتالتها".]] عَنْ سَيْرِهَا الْمُسْتَقِيمِ، فَصَرَفَتْهَا ذَاتَ الْيَمِينِ أَوْ ذَاتَ الشِّمَالِ، آبِقَةً لَا تَسِيرُ عَلَى طَرِيقٍ، وَلَا إِلَى جِهَةِ مَقْصِدٍ.
وَهَذَا الْقَوْلُ هُوَ يَتَضَمَّنُ هَلَاكَهَا، وَهُوَ مُنَاسِبٌ لِلْأَوَّلِ [[في ت، أ: "للقول الأول".]] ، وَهُوَ أَنَّهُ تَعَالَى لَوْ شَاءَ لَسَكَّنَ الرِّيحَ فَوَقَفَتْ، أَوْ لَقَوَّاهُ فَشَرَدَتْ وَأَبْقَتْ وَهَلَكَتْ. وَلَكِنْ مِنْ لُطْفِهِ [[في أ: "لطف الله".]] وَرَحْمَتِهِ أَنَّهُ يُرْسِلُهُ بِحَسْبِ الْحَاجَةِ، كَمَا يُرْسِلُ الْمَطَرَ بِقَدْرِ الْكِفَايَةِ، وَلَوْ أَنْزَلَهُ كَثِيرًا جِدًّا لَهَدَمَ الْبُنْيَانَ، أَوْ قَلِيلًا لَمَا أَنْبَتَ الزَّرْعَ [[في ت، م: "الزروع".]] وَالثِّمَارَ، حَتَّى إِنَّهُ يُرْسِلُ إِلَى مِثْلِ بِلَادِ مِصْرَ سَيْحًا مِنْ أَرْضٍ أُخْرَى غَيْرِهَا [[في أ: "عليها".]] ؛ لِأَنَّهُمْ لَا يَحْتَاجُونَ إِلَى مَطَرٍ، وَلَوْ أَنْزَلَ عَلَيْهِمْ لَهَدَمَ بُنْيَانَهُمْ، وَأَسْقَطَ جُدْرَانَهُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَعْلَمَ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِنَا مَا لَهُمْ مِنْ مَحِيصٍ﴾ أَيْ: لَا مَحِيدَ لَهُمْ عَنْ بَأْسِنَا وَنِقْمَتِنَا، فَإِنَّهُمْ مَقْهُورُونَ بِقُدْرَتِنَا.
وَيَعْلَمَ ٱلَّذِينَ يُجَٰدِلُونَ فِىٓ ءَايَٰتِنَا مَا لَهُم مِّن مَّحِيصٍۢ
And [that is so] those who dispute concerning Our signs may know that for them there is no place of escape.
اور (انتقام اس لئے لیا جائے کہ) جو لوگ ہماری آیتوں میں جھگڑتے ہیں۔ وہ جان لیں کہ ان کے لئے خلاصی نہیں
کسانی که در آیات ما مجادله میکنند بدانند هیچ گریزگاهی ندارند!
Tafsir Ibn Kathir
And among His signs are the ships in the sea like mountains (32)If He wills, He causes the wind to cease, then they would become motionless on the surface (of the sea). Verily, in this are signs for everyone patient and grateful (33)Or He may destroy them because of that which their (people) have earned. And He pardons much (34)And those who dispute as regards Our Ayat may know that there is no place of refuge for them (35)
Ships are also among the Signs of Allah
Allah tells us that another sign of His great power and dominion is the fact that He has subjugated the sea so that ships may sail in it by His command, so they sail in the sea like mountains. This was the view of Mujahid, Al-Hasan, As-Suddi and Ad-Dahhak. In other words, these ships on the sea are like mountains on land.
إِنْ يَشَأْ يُسْكِنِ الرِّيحَ
(If He wills, He causes the wind to cease,) means, the winds that cause the ships to travel on the sea. If He willed, He could cause the winds to cease, then the ships would not move and would remain still, neither coming nor going, staying where they are on the surface of the water.
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ
(Verily, in this are signs for everyone patient) means, who is patient in the face of adversity
شَكُورٍ
(and grateful.) means, in the fact that Allah has subjugated the sea and He sends as much wind as they need in order to travel, there are signs of His blessings to His creation for everyone who is patient, i.e., at times of difficulty, and grateful, i.e., at times of ease.
أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا
(Or He may destroy them because of that which their (people) have earned.) means, if He wills, He may destroy the ships and drown them, because of the sins of the people on board.
وَيَعْفُ عَنْ كَثِيرٍ
(And He pardons much.) means, of their sins; if He were to punish them for all of their sins, He would destroy everyone who sails on the sea. Some of the scholars interpreted the Ayah
أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا
(Or He may destroy them because of that which their (people) have earned.) as meaning, if He willed, He could send the wind to blow fiercely so that it would take the ships and divert them from their courses, driving them to the right or the left, so that they would be lost and would not be able to follow their intended path. This interpretation also includes the idea of their being destroyed. This also fits the first meaning, which is that if Allah willed, He could cause the wind to cease, in which case the ships would stop moving, or He could make the wind fierce, in which case the ships would be lost and destroyed. But by His grace and mercy, He sends the wind according to their needs, just as He sends rain that is sufficient. If He sent too much rain, it would destroy their houses, and if He sent too little, their crops and fruits would not grow. In the case of lands such as Egypt, He sends water from another land, because they do not need rain; if rain were to fall upon them, it would destroy their houses and cause walls to collapse.
وَيَعْلَمَ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِنَا مَا لَهُمْ مِنْ مَحِيصٍ
(And those who dispute as regards Our Ayat may know that there is no place of refuge for them.) means, they have no means of escape from Our torment and vengeance, for they are subdued by Our power.
Tafsir Ibn Kathir
سمندروں کی تسخیر قدرت الہی کی نشانی اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کے نشان اپنی مخلوق کے سامنے رکھتا ہے کہ اس نے سمندروں کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ کشتیاں ان میں برابر آئیں جائیں۔ بڑی بڑی کشتیاں سمندروں میں ایسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے زمین میں اونچے پہاڑ۔ ان کشتیوں کو ادھر سے ادھر لے جانے والی ہوائیں اس کے قبضے میں ہیں اگر وہی چاہے تو ان ہواؤں کو روک لے پھر تو بادبان بیکار ہوجائیں اور کشتی رک کر کھڑی ہوجائے ہر وہ شخص جو سختیوں میں صبر کا اور آسانیوں میں شکر کا عادی ہو اس کے لئے تو بڑی عبرت کی جا ہے وہ رب کی عظیم الشان قدرت اور اس کی بےپایاں سلطنت کو ان نشانوں سے سمجھ سکتا ہے اور جس طرح ہوائیں بند کر کے کشتیوں کو کھڑا کرلینا اور روک لینا اس کے بس میں ہے اسی طرح ان پہاڑوں جیسی کشتیوں کو دم بھر میں ڈبو دینا بھی اس کے ہاتھ ہے اگر وہ چاہے تو اہل کشتی کے گناہوں کے باعث انہیں غرق کر دے۔ ابھی تو وہ بہت سے گناہوں سے درگذر فرما لیتا ہے اور اگر سب گناہوں پر پکڑے تو جو بھی کشتی میں بیٹھے سیدھا سمندر میں ڈوبے لیکن اس کی بےپایاں رحمت ان کو اس پار سے اس پار کردیتی ہے۔ علماء تفسیر نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسی ہوا کو ناموافق کر دے۔ تیز و تند آندھی چلا دے جو کشتی کو سیدھی راہ چلنے ہی نہ دے ادھر سے ادھر کر دے سنبھالے نہ سنبھل سکے جہاں جانا ہے اس طرف جا ہی نہ سکے اور یونہی سرگشتہ و حیران ہو ہو کر اہل کشتی تباہ ہوجائیں۔ الغرض اگر بند کر دے تو کھڑے کھڑے ناکام رہیں اگر تیز کر دے تو ناکامی۔ لیکن یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ خوشگوار موافق ہوائیں چلاتا ہے اور لمبے لمبے سفر ان کشتیوں کے ذریعہ بنی آدم طے کرتا ہے اور اپنے مقصد کو پالیتا ہے یہی حال پانی کا ہے کہ اگر بالکل نہ برسائے خشک سالی رہے دنیا تباہ ہوجائے۔ اگر بہت ہی برسا دے تو تر سالی کوئی چیز پیدا نہ ہونے دے اور دنیا ہلاک ہوجائے۔ ساتھ ہی مینہ کی کثرت طغیانی کا مکانوں کے گرنے کا اور پوری بربادی کا سبب بن جائے یہاں تک کہ رب کی مہربانی سے جن شہروں میں اور جن زمینوں میں زیادہ بارش کی ضرورت ہے وہاں کثرت سے مینہ برستا ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہے وہاں کمی سے پھر فرماتا ہے کہ ہماری نشانیوں سے جھگڑنے والے ایسے موقعوں پر تو مان لیتے ہیں کہ ہماری قدرت سے باہر نہیں۔ ہم اگر انتقام لینا چاہیں ہم اگر عذاب کرنا چاہیں تو وہ چھوٹ نہیں سکتے سب ہماری قدرت اور مشیت تلے ہیں (فسبحانہ ما اعظم شانہ)
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: وَمِنْ آيَاتِهِ الدَّالَّةِ عَلَى قُدْرَتِهِ وَسُلْطَانِهِ، تَسْخِيرُهُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ فِيهِ الْفُلْكُ بِأَمْرِهِ، وَهِيَ الْجَوَارِي فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ، أَيْ: كَالْجِبَالِ، قَالَهُ مُجَاهِدٌ، وَالْحَسَنُ، وَالسُّدِّيُّ، وَالضَّحَّاكُ، أَيْ: هِيَ [[في أ: "هذه".]] فِي الْبَحْرِ كَالْجِبَالِ فِي الْبَرِّ،.
﴿إِنْ يَشَأْ يُسْكِنِ الرِّيحَ﴾ أَيِ: الَّتِي تَسِيرُ بِالسُّفُنِ [[في ت: "تسير بها السفن".]] ، لَوْ شَاءَ لَسَكَّنَهَا حَتَّى لَا تَتَحَرَّكَ [[في ت: "يتحرك".]] السُّفُنُ، بَلْ تَظَلَّ رَاكِدَةً لَا تَجِيءُ وَلَا تَذْهَبُ، بَلْ وَاقِفَةً عَلَى ظَهْرِهِ، أَيْ: عَلَى وَجْهِ الْمَاءِ ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ﴾ أَيْ: فِي الشَّدَائِدِ ﴿شَكُورٍ﴾ أَيْ: إِنَّ فِي تَسْخِيرِهِ الْبَحْرَ وَإِجْرَائِهِ الْهَوَى بِقَدْرِ مَا يَحْتَاجُونَ إِلَيْهِ لِسَيْرِهِمْ، لَدَلَالَاتٍ عَلَى نِعَمِهِ تَعَالَى عَلَى خَلْقِهِ ﴿لِكُلِّ صَبَّارٍ﴾ أَيْ: فِي الشَّدَائِدِ، ﴿شَكُورٍ﴾ فِي الرَّخَاءِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا﴾ أَيْ: وَلَوْ شَاءَ لَأَهْلَكَ السُّفُنَ وَغَرَّقَهَا بِذُنُوبِ أَهْلِهَا الَّذِينَ هُمْ رَاكِبُونَ عَلَيْهَا [[في ت، م، أ: "فيها".]] ﴿وَيَعْفُ عَنْ كَثِيرٍ﴾ أَيْ: مِنْ ذُنُوبِهِمْ. وَلَوْ أَخَذَهُمْ بِجَمِيعِ ذُنُوبِهِمْ لِأَهْلَكَ كُلَّ مَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ [[في م: "كل من يركب في البحر"، وفي أ: "كل من يركب البحر".]] .
وَقَالَ بَعْضُ عُلَمَاءِ التَّفْسِيرِ: مَعْنَى قَوْلِهِ: ﴿أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا﴾ أَيْ: لَوْ شَاءَ لَأَرْسَلَ الرِّيحَ قَوِيَّةً عَاتِيَةً، فَأَخَذَتِ السُّفُنَ وَأَحَالَتْهَا [[في ت، أ: "فأجالتها"ن وفي م: "فاجتالتها".]] عَنْ سَيْرِهَا الْمُسْتَقِيمِ، فَصَرَفَتْهَا ذَاتَ الْيَمِينِ أَوْ ذَاتَ الشِّمَالِ، آبِقَةً لَا تَسِيرُ عَلَى طَرِيقٍ، وَلَا إِلَى جِهَةِ مَقْصِدٍ.
وَهَذَا الْقَوْلُ هُوَ يَتَضَمَّنُ هَلَاكَهَا، وَهُوَ مُنَاسِبٌ لِلْأَوَّلِ [[في ت، أ: "للقول الأول".]] ، وَهُوَ أَنَّهُ تَعَالَى لَوْ شَاءَ لَسَكَّنَ الرِّيحَ فَوَقَفَتْ، أَوْ لَقَوَّاهُ فَشَرَدَتْ وَأَبْقَتْ وَهَلَكَتْ. وَلَكِنْ مِنْ لُطْفِهِ [[في أ: "لطف الله".]] وَرَحْمَتِهِ أَنَّهُ يُرْسِلُهُ بِحَسْبِ الْحَاجَةِ، كَمَا يُرْسِلُ الْمَطَرَ بِقَدْرِ الْكِفَايَةِ، وَلَوْ أَنْزَلَهُ كَثِيرًا جِدًّا لَهَدَمَ الْبُنْيَانَ، أَوْ قَلِيلًا لَمَا أَنْبَتَ الزَّرْعَ [[في ت، م: "الزروع".]] وَالثِّمَارَ، حَتَّى إِنَّهُ يُرْسِلُ إِلَى مِثْلِ بِلَادِ مِصْرَ سَيْحًا مِنْ أَرْضٍ أُخْرَى غَيْرِهَا [[في أ: "عليها".]] ؛ لِأَنَّهُمْ لَا يَحْتَاجُونَ إِلَى مَطَرٍ، وَلَوْ أَنْزَلَ عَلَيْهِمْ لَهَدَمَ بُنْيَانَهُمْ، وَأَسْقَطَ جُدْرَانَهُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَعْلَمَ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِنَا مَا لَهُمْ مِنْ مَحِيصٍ﴾ أَيْ: لَا مَحِيدَ لَهُمْ عَنْ بَأْسِنَا وَنِقْمَتِنَا، فَإِنَّهُمْ مَقْهُورُونَ بِقُدْرَتِنَا.
فَمَآ أُوتِيتُم مِّن شَىْءٍۢ فَمَتَٰعُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيْرٌۭ وَأَبْقَىٰ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
So whatever thing you have been given - it is but [for] enjoyment of the worldly life. But what is with Allah is better and more lasting for those who have believed and upon their Lord rely
(لوگو) جو (مال ومتاع) تم کو دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا (ناپائدار) فائدہ ہے۔ اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ بہتر اور قائم رہنے والا ہے (یعنی) ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں
آنچه به شما عطا شده متاع زودگذر زندگی دنیاست، و آنچه نزد خداست برای کسانی که ایمان آورده و بر پروردگارشان توکّل میکنند بهتر و پایدارتر است.
Tafsir Ibn Kathir
So whatever you have been given is but (a passing) enjoyment for this worldly life, but that which is with Allah is better and more lasting for those who believe and put their trust in their Lord (36)And those who shun the greater sins, and Al-Fawahish, and when they are angry, they forgive (37)And those who answer the Call of their Lord, and perform the Salah, and who (conduct) their affairs by mutual consultation, and who spend of what We have bestowed on them (38)And those who, when an oppressive wrong is done to them, take revenge (39)
The Attributes of Those Who deserve that which is with Allah
Here Allah points out the insignificance of this worldly life and its transient adornments and luxuries.
فَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ
(So whatever you have been given is but (a passing) enjoyment for this worldly life.) means, no matter what you achieve and amass, do not be deceived by it, for it is only the enjoyment of this life, which is the lower, transient realm that will undoubtedly come to an end.
وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ
(but that which is with Allah is better and more lasting) means, the reward of Allah is better than this world, and it will last forever, so do not give preference to that which is transient over that which is lasting. Allah says:
لِلَّذِينَ آمَنُوا
(for those who believe) means, for those who are patient in forgoing the pleasures of this world,
وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(and put their trust in their Lord.) means, so that He will help them to be patient in doing what is obligatory and avoiding what is forbidden. Then Allah says:
وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ
(And those who shun the greater sins, and Al-Fawahish,) We have already discussed sin and Al-Fawahish in Surat Al-A'raf.
وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ
(and when they are angry, they forgive.) means, their nature dictates that they should forgive people and be tolerant. Vengeance is not in their nature. It was reported in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ never took revenge for his own sake, only when the sacred Laws of Allah were violated.
وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ
(And those who answer the Call of their Lord,) means, they follow His Messenger ﷺ and obey His commands and avoid that which He has prohibited.
وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ
(and perform As-Salah) – which is the greatest act of worship of Allah, may He be glorified.
وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ
(and who (conduct) their affairs by mutual consultation,) means, they do not make a decision without consulting one another on the matter so that they can help one another by sharing their ideas concerning issues such as wars and other matters. This is like the Ayah:
وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ
(and consult them in the affairs)(3:159). The Prophet ﷺ used to consult with them concerning wars and other matters, so that they would feel confidant. When 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, was dying, after he had been stabbed, he entrusted the choice of the next Khalifah to six people who were to be consulted. They were 'Uthman, 'Ali, Talhah, Az-Zubayr, Sa'id and 'Abdur-Rahman bin 'Awf, may Allah be pleased with them all. Then all of the Companions, may Allah be pleased with them, agreed to appoint 'Uthman as their leader.
وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ
(and who spend of what We have bestowed on them.) this means kindly treating the creation of Allah, starting with those who are closest, then the next closest, and so on.
وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ
(And those who, when an oppressive wrong is done to them, take revenge.) ameans, they have the strength to take revenge on those who commit aggressive wrong and hostile acts against them. They are not incapable of doing so and they are not helpless; they are able to take revenge against those who transgress against them, even though when they have the power to take revenge, they prefer to forgive, as when Yusuf, peace be upon him, said to his brothers:
لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ
(No reproach on you this day; may Allah forgive you)(12: 92). even though he was in a position to take revenge on them for what they had done to him. The Messenger of Allah ﷺ forgave the eighty people who intended to do him harm during the year of Al-Hudaybiyah, camping by the mountain of At-Tan'im. When he overpowered them, he set them free, even though he was in a position to take revenge on them. He also forgave Ghawrath bin Al-Harith who wanted to kill him and unsheathed his sword while he was sleeping. The Prophet ﷺ woke up to find him pointing the sword at him. He reproached him angrily and the sword dropped. Then the Messenger of Allah ﷺ picked up the sword and called his Companions He told them what had happened, and he forgave the man. There are many similar Hadiths and reports. And Allah knows best.
Tafsir Ibn Kathir
درگذر کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بےقدری اور اسکی حقارت بیان فرمائی کہ اسے جمع کر کے کسی کو اس پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ یہ فانی چیز ہے۔ بلکہ آخرت کی طرف رغبت کرنی چاہیے نیک اعمال کر کے ثواب جمع کرنا چاہیے جو سرمدی اور باقی چیز ہے۔ پس فانی کو باقی پر کمی کو زیادتی پر ترجیح دینا عقلمندی نہیں اب اس ثواب کے حاصل کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں کہ ایمان مضبوط ہو تاکہ دنیاوی لذتوں کے ترک پر صبر ہو سکے اللہ پر کامل بھروسہ ہو تاکہ صبر پر اس کی امداد ملے اور احکام الٰہی کی بجا آوری اور نافرمانیوں سے اجتناب آسان ہوجائے کبیرہ گناہوں اور فحش کاموں سے پرہیز چاہیے۔ اس جملہ کی تفسیر سورة اعراف میں گذر چکی ہے۔ غصے پر قابو چاہیے کہ عین غصے اور غضب کی حالت میں بھی خوش خلقی اور درگذر کی عادت نہ چھوٹے چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی اپنے نفس کا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں اگر اللہ کے احکام کی بےعزتی اور بےتوقیری ہوتی ہو تو اور بات ہے اور حدیث میں ہے کہ بہت ہی زیادہ غصے کی حالت میں بھی آپ کی زبان سے اس کے سوا اور کچھ الفاظ نہ نکلتے کہ فرماتے اسے کیا ہوگیا ہے اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں مسلمان پست و ذلیل ہوتا تو پسند نہیں کرتے تھے لیکن غالب آکر انتقام بھی نہیں لیتے تھے بلکہ درگذر کر جاتے اور معاف فرما دیتے۔ ان کی اور صفت یہ ہے کہ یہ اللہ کا کہا کرتے ہیں رسول ﷺ کی اتباع کرتے ہیں جس کا وہ حکم کرے بجا لاتے ہیں جس سے وہ روکے رک جاتے ہیں نماز کے پابند ہوتے ہیں جو سب سے اعلیٰ عبادت ہے۔ بڑے بڑے امور میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے۔ خود رسول اللہ ﷺ کو حکم اللہ ہوتا ہے آیت (وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْر01509) 3۔ آل عمران :159) یعنی ان سے مشورہ کرلیا کرو اسی لئے حضور ﷺ کی عادت تھی کہ جہاد وغیرہ کے موقعہ پر لوگوں سے مشورہ کرلیا کرتے تاکہ ان کے جی خوش ہوجائیں۔ اور اسی بنا پر امیر المومنین حضرت عمر نے جب کہ آپ کو زخمی کردیا گیا اور وفات کا وقت آگیا چھ آدمی مقرر کر دئیے کہ یہ اپنے مشورے سے میرے بعد کسی کو میرا جانشین مقرر کریں ان چھ بزرگوں کے نام یہ ہیں۔ عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمن بن عوف رضٰی اللہ تعالیٰ عنہم۔ پس سب نے باتفاق رائے حضرت عثمان کو اپنا امیر مقرر کیا پھر ان کا جن کے لئے آخرت کی تیاری اور وہاں کے ثواب ہیں ایک اور وصف بیان فرمایا کہ جہاں یہ حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کمی نہیں کرتے اپنے مال میں محتاجوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں اور درجہ بدرجہ اپنی طاقت کے مطابق ہر ایک کے ساتھ سلوک و احسان کرتے رہتے ہیں اور یہ ایسے ذلیل پست اور بےزور نہیں ہوتے کہ ظالم کے ظلم کی روک تھام نہ کرسکیں بلکہ اتنی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ظالموں سے انتقام لیں اور مظلوم کو اس کے پنجے سے نجات دلوائیں لیکن ہاں ! اپنی شرافت کی وجہ سے غالب آکر پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے کہ نبی اللہ حضرت یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں پر قابو پا کر فرما دیا کہ جاؤ تمہیں میں کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتا بلکہ میری خواہش ہے اور دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔ اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ حضرت محمد ﷺ نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لئے گئے اور گرفتار ہو کر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا۔ اور اسی طرح آپ نے غورث بن حارث کو معاف فرما دیا یہ وہ شخص ہے کہ حضور ﷺ کے سوتے ہوئے اس نے آپ کی تلوار پر قبضہ کرلیا جب آپ جاگے اور اسے ڈانٹا تو تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور آپ نے تلوار لے لی اور وہ مجرم گردن جھکائے آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا آپ نے صحابہ کو بلا کر یہ منظر دکھایا اور یہ قصہ بھی سنایا پھر اسے معاف فرما دیا اور جانے دیا۔ اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو علم وقدرت کے باوجود آپ نے اس سے درگذر فرما لے اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ کو زہر دیا تھا آپ نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہوجانے کے باوجود بھی آپ نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کردیا اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی۔ جو جنگ خیبر میں حضرت محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود حضور ﷺ کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی آنحضرت ﷺ کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے راحت حاصل ہوجائے گی یہ معلوم ہوجانے پر اور اس کے اقبال کرلینے پر بھی اللہ کے رسول ﷺ نے اسے چھوڑ دیا۔ معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کردی گئی اس لئے اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے حضرت بشر بن برا فوت ہوگئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی اور بھی حضور ﷺ کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں ﷺ۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُحَقِّرًا بِشَأْنِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا، وَمَا فِيهَا مِنَ الزَّهْرَةِ وَالنَّعِيمِ الْفَانِي، بِقَوْلِهِ: ﴿فَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ أَيْ: مَهْمَا حَصَلْتُمْ وَجَمَعْتُمْ فَلَا تَغْتَرُّوا بِهِ، فَإِنَّمَا هُوَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَهِيَ دَارٌ دَنِيئَةٌ فَانِيَةٌ زَائِلَةٌ لَا مَحَالَةَ، ﴿وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى﴾ أَيْ: وَثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا، وَهُوَ بَاقٍ سَرْمَدِيٌّ، فَلَا تُقَدِّمُوا الْفَانِيَ عَلَى الْبَاقِي؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لِلَّذِينَ آمَنُوا﴾ أَيْ: لِلَّذِينَ صَبَرُوا عَلَى تَرْكِ الْمَلَاذِّ فِي الدُّنْيَا، ﴿وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ﴾ أَيْ: لِيُعِينَهُمْ عَلَى الصَّبْرِ فِي أَدَاءِ الْوَاجِبَاتِ وَتَرْكِ الْمُحَرَّمَاتِ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الإثْمِ وَالْفَوَاحِشَ﴾ وَقَدْ قَدَّمْنَا الْكَلَامَ عَلَى الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشِ فِي "سُورَةِ الْأَعْرَافِ" ﴿وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ﴾ أَيْ: سَجِيَّتُهُمْ [وَخَلْقُهُمْ وَطَبْعُهُمْ] [[زيادة من أ.]] تَقْتَضِي الصَّفْحَ وَالْعَفْوَ عَنِ النَّاسِ، لَيْسَ سَجِيَّتُهُمُ الِانْتِقَامَ مِنَ النَّاسِ.
وَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ قَطُّ، إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللَّهِ [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٦١٢٦) من حديث عائشة بلفظ: "وما انتقم رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه في شيء قط، إلا أن تنتهك حرمة الله، فينتقم بها الله".]] وَفِي حَدِيثٍ آخَرَ: "كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا [[في أ: "للرجل".]] عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ: مَا لَهُ؟ تَرِبَتْ جَبِينُهُ" [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٦٠٣١) مِنْ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.]] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ [[في ت: "وروى ابن أبي حاتم بسنده".]] ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: كَانَ الْمُؤْمِنُونَ يَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَذِلُّوا، وكانوا إذا قدروا عفوا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ﴾ أَيِ: اتَّبَعُوا رُسُلَهُ وَأَطَاعُوا أَمْرَهُ، وَاجْتَنَبُوا زَجْرَهُ، ﴿وَأَقَامُوا الصَّلاةَ﴾ وَهِيَ أَعْظَمُ الْعِبَادَاتِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ﴿وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ﴾ أَيْ: لَا يُبْرِمُونَ أَمْرًا حَتَّى يَتَشَاوَرُوا [[في أ: "يشاورون".]] فِيهِ، لِيَتَسَاعَدُوا بِآرَائِهِمْ فِي مِثْلِ الْحُرُوبِ وَمَا جَرَى مَجْرَاهَا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الأمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ﴾ [آلِ عمران: ١٥٩] ولهذا كان عليه [الصلاة] [[زيادة من ت.]] السلام، يُشَاوِرُهُمْ فِي الْحُرُوبِ وَنَحْوِهَا، لِيُطَيِّبَ بِذَلِكَ قُلُوبَهُمْ. وَهَكَذَا لَمَّا حَضَرَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من ت.]] الْوَفَاةُ حِينَ طُعِنَ، جَعَلَ الْأَمْرَ بَعْدَهُ شُورَى فِي سِتَّةِ نَفَرٍ، وَهُمْ: عُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ، فَاجْتَمَعَ رَأْيُ الصَّحَابَةِ كُلِّهِمْ عَلَى تَقْدِيمِ عُثْمَانَ عَلَيْهِمْ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، ﴿وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ﴾ وَذَلِكَ بِالْإِحْسَانِ إِلَى خَلْقِ اللَّهِ، الْأَقْرَبِ إِلَيْهِمْ مِنْهُمْ فَالْأَقْرَبِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ﴾ أَيْ: فِيهِمْ قُوَّةُ الِانْتِصَارِ مِمَّنْ ظَلَمَهُمْ وَاعْتَدَى عَلَيْهِمْ، لَيْسُوا بِعَاجِزِينَ وَلَا أَذِلَّةٍ، بَلْ يَقْدِرُونَ عَلَى الِانْتِقَامِ مِمَّنْ بَغَى عَلَيْهِمْ، وَإِنْ كَانُوا مع هذا إذا قدروا وعفوا، كَمَا قَالَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لِإِخْوَتِهِ: ﴿لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ [وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ] [[زيادة من أ.]] ﴾ [يُوسُفَ:٩٢] ، مَعَ قُدْرَتِهِ عَلَى مُؤَاخَذَتِهِمْ وَمُقَابَلَتِهِمْ عَلَى صَنِيعِهِمْ إِلَيْهِ، وَكَمَا عَفَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ أُولَئِكَ النَّفَرِ الثَّمَانِينَ الَّذِينَ قَصَدُوهُ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَنَزَلُوا مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ، فَلَمَّا قَدَرَ عَلَيْهِمْ مَنَّ عَلَيْهِمْ [[في ت، م، أ: "عنهم".]] مَعَ قُدْرَتِهِ عَلَى الِانْتِقَامِ، وَكَذَلِكَ عَفْوُهُ عَنْ غَوْرَث بْنِ الْحَارِثِ، الَّذِي أَرَادَ الْفَتْكَ بِهِ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ت.]] حِينَ اخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَهُوَ نَائِمٌ، فَاسْتَيْقَظَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتا، فَانْتَهَرَهُ فَوَضَعَهُ مِنْ يَدِهِ، وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ السَّيْفَ مِنْ يَدِهِ، وَدَعَا أَصْحَابَهُ، ثُمَّ أَعْلَمَهُمْ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ هَذَا الرَّجُلِ، وَعَفَا عَنْهُ. وَكَذَلِكَ عَفَا عَنْ لَبِيدِ بْنِ الْأَعْصَمِ [[في ت: "أعصم".]] ، الَّذِي سَحَرَهُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَمَعَ هَذَا لَمْ يَعْرِضْ لَهُ، وَلَا عَاتَبَهُ، مَعَ قُدْرَتِهِ عَلَيْهِ. وَكَذَلِكَ عَفْوُهُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَنِ الْمَرْأَةِ الْيَهُودِيَّةِ -وَهِيَ زَيْنَبُ أُخْتُ [[في ت، م: "بنت".]] مَرْحَبٍ الْيَهُودِيِّ الْخَيْبَرِيِّ الَّذِي قَتَلَهُ مَحْمُودُ بْنُ مَسْلَمَةَ-الَّتِي سَمَّتِ الذِّرَاعَ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَأَخْبَرَهُ الذِّرَاعُ بِذَلِكَ، فَدَعَاهَا فَاعْتَرَفَتْ فَقَالَ: "مَا حَمَلَكِ عَلَى ذَلِكَ" قَالَتْ: أَرَدْتُ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ نَبِيًّا اسْتَرَحْنَا مِنْكَ، فَأَطْلَقَهَا، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، وَلَكِنْ لَمَّا مَاتَ مِنْهُ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ قَتَلَهَا بِهِ، وَالْأَحَادِيثُ وَالْآثَارُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ جِدًّا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ [[في أ: "ولله الحمد والمنة".]] .
وَٱلَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَٰٓئِرَ ٱلْإِثْمِ وَٱلْفَوَٰحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا۟ هُمْ يَغْفِرُونَ
And those who avoid the major sins and immoralities, and when they are angry, they forgive,
اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں
همان کسانی که از گناهان بزرگ و اعمال زشت اجتناب میورزند، و هنگامی که خشمگین شوند عفو میکنند.
Tafsir Ibn Kathir
So whatever you have been given is but (a passing) enjoyment for this worldly life, but that which is with Allah is better and more lasting for those who believe and put their trust in their Lord (36)And those who shun the greater sins, and Al-Fawahish, and when they are angry, they forgive (37)And those who answer the Call of their Lord, and perform the Salah, and who (conduct) their affairs by mutual consultation, and who spend of what We have bestowed on them (38)And those who, when an oppressive wrong is done to them, take revenge (39)
The Attributes of Those Who deserve that which is with Allah
Here Allah points out the insignificance of this worldly life and its transient adornments and luxuries.
فَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ
(So whatever you have been given is but (a passing) enjoyment for this worldly life.) means, no matter what you achieve and amass, do not be deceived by it, for it is only the enjoyment of this life, which is the lower, transient realm that will undoubtedly come to an end.
وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ
(but that which is with Allah is better and more lasting) means, the reward of Allah is better than this world, and it will last forever, so do not give preference to that which is transient over that which is lasting. Allah says:
لِلَّذِينَ آمَنُوا
(for those who believe) means, for those who are patient in forgoing the pleasures of this world,
وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(and put their trust in their Lord.) means, so that He will help them to be patient in doing what is obligatory and avoiding what is forbidden. Then Allah says:
وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ
(And those who shun the greater sins, and Al-Fawahish,) We have already discussed sin and Al-Fawahish in Surat Al-A'raf.
وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ
(and when they are angry, they forgive.) means, their nature dictates that they should forgive people and be tolerant. Vengeance is not in their nature. It was reported in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ never took revenge for his own sake, only when the sacred Laws of Allah were violated.
وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ
(And those who answer the Call of their Lord,) means, they follow His Messenger ﷺ and obey His commands and avoid that which He has prohibited.
وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ
(and perform As-Salah) – which is the greatest act of worship of Allah, may He be glorified.
وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ
(and who (conduct) their affairs by mutual consultation,) means, they do not make a decision without consulting one another on the matter so that they can help one another by sharing their ideas concerning issues such as wars and other matters. This is like the Ayah:
وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ
(and consult them in the affairs)(3:159). The Prophet ﷺ used to consult with them concerning wars and other matters, so that they would feel confidant. When 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, was dying, after he had been stabbed, he entrusted the choice of the next Khalifah to six people who were to be consulted. They were 'Uthman, 'Ali, Talhah, Az-Zubayr, Sa'id and 'Abdur-Rahman bin 'Awf, may Allah be pleased with them all. Then all of the Companions, may Allah be pleased with them, agreed to appoint 'Uthman as their leader.
وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ
(and who spend of what We have bestowed on them.) this means kindly treating the creation of Allah, starting with those who are closest, then the next closest, and so on.
وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ
(And those who, when an oppressive wrong is done to them, take revenge.) ameans, they have the strength to take revenge on those who commit aggressive wrong and hostile acts against them. They are not incapable of doing so and they are not helpless; they are able to take revenge against those who transgress against them, even though when they have the power to take revenge, they prefer to forgive, as when Yusuf, peace be upon him, said to his brothers:
لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ
(No reproach on you this day; may Allah forgive you)(12: 92). even though he was in a position to take revenge on them for what they had done to him. The Messenger of Allah ﷺ forgave the eighty people who intended to do him harm during the year of Al-Hudaybiyah, camping by the mountain of At-Tan'im. When he overpowered them, he set them free, even though he was in a position to take revenge on them. He also forgave Ghawrath bin Al-Harith who wanted to kill him and unsheathed his sword while he was sleeping. The Prophet ﷺ woke up to find him pointing the sword at him. He reproached him angrily and the sword dropped. Then the Messenger of Allah ﷺ picked up the sword and called his Companions He told them what had happened, and he forgave the man. There are many similar Hadiths and reports. And Allah knows best.
Tafsir Ibn Kathir
درگذر کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بےقدری اور اسکی حقارت بیان فرمائی کہ اسے جمع کر کے کسی کو اس پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ یہ فانی چیز ہے۔ بلکہ آخرت کی طرف رغبت کرنی چاہیے نیک اعمال کر کے ثواب جمع کرنا چاہیے جو سرمدی اور باقی چیز ہے۔ پس فانی کو باقی پر کمی کو زیادتی پر ترجیح دینا عقلمندی نہیں اب اس ثواب کے حاصل کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں کہ ایمان مضبوط ہو تاکہ دنیاوی لذتوں کے ترک پر صبر ہو سکے اللہ پر کامل بھروسہ ہو تاکہ صبر پر اس کی امداد ملے اور احکام الٰہی کی بجا آوری اور نافرمانیوں سے اجتناب آسان ہوجائے کبیرہ گناہوں اور فحش کاموں سے پرہیز چاہیے۔ اس جملہ کی تفسیر سورة اعراف میں گذر چکی ہے۔ غصے پر قابو چاہیے کہ عین غصے اور غضب کی حالت میں بھی خوش خلقی اور درگذر کی عادت نہ چھوٹے چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی اپنے نفس کا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں اگر اللہ کے احکام کی بےعزتی اور بےتوقیری ہوتی ہو تو اور بات ہے اور حدیث میں ہے کہ بہت ہی زیادہ غصے کی حالت میں بھی آپ کی زبان سے اس کے سوا اور کچھ الفاظ نہ نکلتے کہ فرماتے اسے کیا ہوگیا ہے اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں مسلمان پست و ذلیل ہوتا تو پسند نہیں کرتے تھے لیکن غالب آکر انتقام بھی نہیں لیتے تھے بلکہ درگذر کر جاتے اور معاف فرما دیتے۔ ان کی اور صفت یہ ہے کہ یہ اللہ کا کہا کرتے ہیں رسول ﷺ کی اتباع کرتے ہیں جس کا وہ حکم کرے بجا لاتے ہیں جس سے وہ روکے رک جاتے ہیں نماز کے پابند ہوتے ہیں جو سب سے اعلیٰ عبادت ہے۔ بڑے بڑے امور میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے۔ خود رسول اللہ ﷺ کو حکم اللہ ہوتا ہے آیت (وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْر01509) 3۔ آل عمران :159) یعنی ان سے مشورہ کرلیا کرو اسی لئے حضور ﷺ کی عادت تھی کہ جہاد وغیرہ کے موقعہ پر لوگوں سے مشورہ کرلیا کرتے تاکہ ان کے جی خوش ہوجائیں۔ اور اسی بنا پر امیر المومنین حضرت عمر نے جب کہ آپ کو زخمی کردیا گیا اور وفات کا وقت آگیا چھ آدمی مقرر کر دئیے کہ یہ اپنے مشورے سے میرے بعد کسی کو میرا جانشین مقرر کریں ان چھ بزرگوں کے نام یہ ہیں۔ عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمن بن عوف رضٰی اللہ تعالیٰ عنہم۔ پس سب نے باتفاق رائے حضرت عثمان کو اپنا امیر مقرر کیا پھر ان کا جن کے لئے آخرت کی تیاری اور وہاں کے ثواب ہیں ایک اور وصف بیان فرمایا کہ جہاں یہ حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کمی نہیں کرتے اپنے مال میں محتاجوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں اور درجہ بدرجہ اپنی طاقت کے مطابق ہر ایک کے ساتھ سلوک و احسان کرتے رہتے ہیں اور یہ ایسے ذلیل پست اور بےزور نہیں ہوتے کہ ظالم کے ظلم کی روک تھام نہ کرسکیں بلکہ اتنی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ظالموں سے انتقام لیں اور مظلوم کو اس کے پنجے سے نجات دلوائیں لیکن ہاں ! اپنی شرافت کی وجہ سے غالب آکر پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے کہ نبی اللہ حضرت یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں پر قابو پا کر فرما دیا کہ جاؤ تمہیں میں کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتا بلکہ میری خواہش ہے اور دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔ اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ حضرت محمد ﷺ نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لئے گئے اور گرفتار ہو کر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا۔ اور اسی طرح آپ نے غورث بن حارث کو معاف فرما دیا یہ وہ شخص ہے کہ حضور ﷺ کے سوتے ہوئے اس نے آپ کی تلوار پر قبضہ کرلیا جب آپ جاگے اور اسے ڈانٹا تو تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور آپ نے تلوار لے لی اور وہ مجرم گردن جھکائے آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا آپ نے صحابہ کو بلا کر یہ منظر دکھایا اور یہ قصہ بھی سنایا پھر اسے معاف فرما دیا اور جانے دیا۔ اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو علم وقدرت کے باوجود آپ نے اس سے درگذر فرما لے اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ کو زہر دیا تھا آپ نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہوجانے کے باوجود بھی آپ نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کردیا اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی۔ جو جنگ خیبر میں حضرت محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود حضور ﷺ کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی آنحضرت ﷺ کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے راحت حاصل ہوجائے گی یہ معلوم ہوجانے پر اور اس کے اقبال کرلینے پر بھی اللہ کے رسول ﷺ نے اسے چھوڑ دیا۔ معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کردی گئی اس لئے اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے حضرت بشر بن برا فوت ہوگئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی اور بھی حضور ﷺ کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں ﷺ۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُحَقِّرًا بِشَأْنِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا، وَمَا فِيهَا مِنَ الزَّهْرَةِ وَالنَّعِيمِ الْفَانِي، بِقَوْلِهِ: ﴿فَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ أَيْ: مَهْمَا حَصَلْتُمْ وَجَمَعْتُمْ فَلَا تَغْتَرُّوا بِهِ، فَإِنَّمَا هُوَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَهِيَ دَارٌ دَنِيئَةٌ فَانِيَةٌ زَائِلَةٌ لَا مَحَالَةَ، ﴿وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى﴾ أَيْ: وَثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا، وَهُوَ بَاقٍ سَرْمَدِيٌّ، فَلَا تُقَدِّمُوا الْفَانِيَ عَلَى الْبَاقِي؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لِلَّذِينَ آمَنُوا﴾ أَيْ: لِلَّذِينَ صَبَرُوا عَلَى تَرْكِ الْمَلَاذِّ فِي الدُّنْيَا، ﴿وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ﴾ أَيْ: لِيُعِينَهُمْ عَلَى الصَّبْرِ فِي أَدَاءِ الْوَاجِبَاتِ وَتَرْكِ الْمُحَرَّمَاتِ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الإثْمِ وَالْفَوَاحِشَ﴾ وَقَدْ قَدَّمْنَا الْكَلَامَ عَلَى الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشِ فِي "سُورَةِ الْأَعْرَافِ" ﴿وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ﴾ أَيْ: سَجِيَّتُهُمْ [وَخَلْقُهُمْ وَطَبْعُهُمْ] [[زيادة من أ.]] تَقْتَضِي الصَّفْحَ وَالْعَفْوَ عَنِ النَّاسِ، لَيْسَ سَجِيَّتُهُمُ الِانْتِقَامَ مِنَ النَّاسِ.
وَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ قَطُّ، إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللَّهِ [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٦١٢٦) من حديث عائشة بلفظ: "وما انتقم رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه في شيء قط، إلا أن تنتهك حرمة الله، فينتقم بها الله".]] وَفِي حَدِيثٍ آخَرَ: "كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا [[في أ: "للرجل".]] عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ: مَا لَهُ؟ تَرِبَتْ جَبِينُهُ" [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٦٠٣١) مِنْ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.]] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ [[في ت: "وروى ابن أبي حاتم بسنده".]] ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: كَانَ الْمُؤْمِنُونَ يَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَذِلُّوا، وكانوا إذا قدروا عفوا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ﴾ أَيِ: اتَّبَعُوا رُسُلَهُ وَأَطَاعُوا أَمْرَهُ، وَاجْتَنَبُوا زَجْرَهُ، ﴿وَأَقَامُوا الصَّلاةَ﴾ وَهِيَ أَعْظَمُ الْعِبَادَاتِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ﴿وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ﴾ أَيْ: لَا يُبْرِمُونَ أَمْرًا حَتَّى يَتَشَاوَرُوا [[في أ: "يشاورون".]] فِيهِ، لِيَتَسَاعَدُوا بِآرَائِهِمْ فِي مِثْلِ الْحُرُوبِ وَمَا جَرَى مَجْرَاهَا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الأمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ﴾ [آلِ عمران: ١٥٩] ولهذا كان عليه [الصلاة] [[زيادة من ت.]] السلام، يُشَاوِرُهُمْ فِي الْحُرُوبِ وَنَحْوِهَا، لِيُطَيِّبَ بِذَلِكَ قُلُوبَهُمْ. وَهَكَذَا لَمَّا حَضَرَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من ت.]] الْوَفَاةُ حِينَ طُعِنَ، جَعَلَ الْأَمْرَ بَعْدَهُ شُورَى فِي سِتَّةِ نَفَرٍ، وَهُمْ: عُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ، فَاجْتَمَعَ رَأْيُ الصَّحَابَةِ كُلِّهِمْ عَلَى تَقْدِيمِ عُثْمَانَ عَلَيْهِمْ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، ﴿وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ﴾ وَذَلِكَ بِالْإِحْسَانِ إِلَى خَلْقِ اللَّهِ، الْأَقْرَبِ إِلَيْهِمْ مِنْهُمْ فَالْأَقْرَبِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ﴾ أَيْ: فِيهِمْ قُوَّةُ الِانْتِصَارِ مِمَّنْ ظَلَمَهُمْ وَاعْتَدَى عَلَيْهِمْ، لَيْسُوا بِعَاجِزِينَ وَلَا أَذِلَّةٍ، بَلْ يَقْدِرُونَ عَلَى الِانْتِقَامِ مِمَّنْ بَغَى عَلَيْهِمْ، وَإِنْ كَانُوا مع هذا إذا قدروا وعفوا، كَمَا قَالَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لِإِخْوَتِهِ: ﴿لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ [وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ] [[زيادة من أ.]] ﴾ [يُوسُفَ:٩٢] ، مَعَ قُدْرَتِهِ عَلَى مُؤَاخَذَتِهِمْ وَمُقَابَلَتِهِمْ عَلَى صَنِيعِهِمْ إِلَيْهِ، وَكَمَا عَفَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ أُولَئِكَ النَّفَرِ الثَّمَانِينَ الَّذِينَ قَصَدُوهُ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَنَزَلُوا مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ، فَلَمَّا قَدَرَ عَلَيْهِمْ مَنَّ عَلَيْهِمْ [[في ت، م، أ: "عنهم".]] مَعَ قُدْرَتِهِ عَلَى الِانْتِقَامِ، وَكَذَلِكَ عَفْوُهُ عَنْ غَوْرَث بْنِ الْحَارِثِ، الَّذِي أَرَادَ الْفَتْكَ بِهِ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ت.]] حِينَ اخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَهُوَ نَائِمٌ، فَاسْتَيْقَظَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتا، فَانْتَهَرَهُ فَوَضَعَهُ مِنْ يَدِهِ، وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ السَّيْفَ مِنْ يَدِهِ، وَدَعَا أَصْحَابَهُ، ثُمَّ أَعْلَمَهُمْ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ هَذَا الرَّجُلِ، وَعَفَا عَنْهُ. وَكَذَلِكَ عَفَا عَنْ لَبِيدِ بْنِ الْأَعْصَمِ [[في ت: "أعصم".]] ، الَّذِي سَحَرَهُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَمَعَ هَذَا لَمْ يَعْرِضْ لَهُ، وَلَا عَاتَبَهُ، مَعَ قُدْرَتِهِ عَلَيْهِ. وَكَذَلِكَ عَفْوُهُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَنِ الْمَرْأَةِ الْيَهُودِيَّةِ -وَهِيَ زَيْنَبُ أُخْتُ [[في ت، م: "بنت".]] مَرْحَبٍ الْيَهُودِيِّ الْخَيْبَرِيِّ الَّذِي قَتَلَهُ مَحْمُودُ بْنُ مَسْلَمَةَ-الَّتِي سَمَّتِ الذِّرَاعَ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَأَخْبَرَهُ الذِّرَاعُ بِذَلِكَ، فَدَعَاهَا فَاعْتَرَفَتْ فَقَالَ: "مَا حَمَلَكِ عَلَى ذَلِكَ" قَالَتْ: أَرَدْتُ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ نَبِيًّا اسْتَرَحْنَا مِنْكَ، فَأَطْلَقَهَا، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، وَلَكِنْ لَمَّا مَاتَ مِنْهُ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ قَتَلَهَا بِهِ، وَالْأَحَادِيثُ وَالْآثَارُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ جِدًّا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ [[في أ: "ولله الحمد والمنة".]] .
وَٱلَّذِينَ ٱسْتَجَابُوا۟ لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ
And those who have responded to their lord and established prayer and whose affair is [determined by] consultation among themselves, and from what We have provided them, they spend.
اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔ اور اپنے کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں۔ اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
و کسانی که دعوت پروردگارشان را اجابت کرده و نماز را برپا میدارند و کارهایشان به صورت مشورت در میان آنهاست و از آنچه به آنها روزی دادهایم انفاق میکنند،
Tafsir Ibn Kathir
So whatever you have been given is but (a passing) enjoyment for this worldly life, but that which is with Allah is better and more lasting for those who believe and put their trust in their Lord (36)And those who shun the greater sins, and Al-Fawahish, and when they are angry, they forgive (37)And those who answer the Call of their Lord, and perform the Salah, and who (conduct) their affairs by mutual consultation, and who spend of what We have bestowed on them (38)And those who, when an oppressive wrong is done to them, take revenge (39)
The Attributes of Those Who deserve that which is with Allah
Here Allah points out the insignificance of this worldly life and its transient adornments and luxuries.
فَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ
(So whatever you have been given is but (a passing) enjoyment for this worldly life.) means, no matter what you achieve and amass, do not be deceived by it, for it is only the enjoyment of this life, which is the lower, transient realm that will undoubtedly come to an end.
وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ
(but that which is with Allah is better and more lasting) means, the reward of Allah is better than this world, and it will last forever, so do not give preference to that which is transient over that which is lasting. Allah says:
لِلَّذِينَ آمَنُوا
(for those who believe) means, for those who are patient in forgoing the pleasures of this world,
وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(and put their trust in their Lord.) means, so that He will help them to be patient in doing what is obligatory and avoiding what is forbidden. Then Allah says:
وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ
(And those who shun the greater sins, and Al-Fawahish,) We have already discussed sin and Al-Fawahish in Surat Al-A'raf.
وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ
(and when they are angry, they forgive.) means, their nature dictates that they should forgive people and be tolerant. Vengeance is not in their nature. It was reported in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ never took revenge for his own sake, only when the sacred Laws of Allah were violated.
وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ
(And those who answer the Call of their Lord,) means, they follow His Messenger ﷺ and obey His commands and avoid that which He has prohibited.
وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ
(and perform As-Salah) – which is the greatest act of worship of Allah, may He be glorified.
وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ
(and who (conduct) their affairs by mutual consultation,) means, they do not make a decision without consulting one another on the matter so that they can help one another by sharing their ideas concerning issues such as wars and other matters. This is like the Ayah:
وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ
(and consult them in the affairs)(3:159). The Prophet ﷺ used to consult with them concerning wars and other matters, so that they would feel confidant. When 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, was dying, after he had been stabbed, he entrusted the choice of the next Khalifah to six people who were to be consulted. They were 'Uthman, 'Ali, Talhah, Az-Zubayr, Sa'id and 'Abdur-Rahman bin 'Awf, may Allah be pleased with them all. Then all of the Companions, may Allah be pleased with them, agreed to appoint 'Uthman as their leader.
وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ
(and who spend of what We have bestowed on them.) this means kindly treating the creation of Allah, starting with those who are closest, then the next closest, and so on.
وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ
(And those who, when an oppressive wrong is done to them, take revenge.) ameans, they have the strength to take revenge on those who commit aggressive wrong and hostile acts against them. They are not incapable of doing so and they are not helpless; they are able to take revenge against those who transgress against them, even though when they have the power to take revenge, they prefer to forgive, as when Yusuf, peace be upon him, said to his brothers:
لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ
(No reproach on you this day; may Allah forgive you)(12: 92). even though he was in a position to take revenge on them for what they had done to him. The Messenger of Allah ﷺ forgave the eighty people who intended to do him harm during the year of Al-Hudaybiyah, camping by the mountain of At-Tan'im. When he overpowered them, he set them free, even though he was in a position to take revenge on them. He also forgave Ghawrath bin Al-Harith who wanted to kill him and unsheathed his sword while he was sleeping. The Prophet ﷺ woke up to find him pointing the sword at him. He reproached him angrily and the sword dropped. Then the Messenger of Allah ﷺ picked up the sword and called his Companions He told them what had happened, and he forgave the man. There are many similar Hadiths and reports. And Allah knows best.
Tafsir Ibn Kathir
درگذر کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بےقدری اور اسکی حقارت بیان فرمائی کہ اسے جمع کر کے کسی کو اس پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ یہ فانی چیز ہے۔ بلکہ آخرت کی طرف رغبت کرنی چاہیے نیک اعمال کر کے ثواب جمع کرنا چاہیے جو سرمدی اور باقی چیز ہے۔ پس فانی کو باقی پر کمی کو زیادتی پر ترجیح دینا عقلمندی نہیں اب اس ثواب کے حاصل کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں کہ ایمان مضبوط ہو تاکہ دنیاوی لذتوں کے ترک پر صبر ہو سکے اللہ پر کامل بھروسہ ہو تاکہ صبر پر اس کی امداد ملے اور احکام الٰہی کی بجا آوری اور نافرمانیوں سے اجتناب آسان ہوجائے کبیرہ گناہوں اور فحش کاموں سے پرہیز چاہیے۔ اس جملہ کی تفسیر سورة اعراف میں گذر چکی ہے۔ غصے پر قابو چاہیے کہ عین غصے اور غضب کی حالت میں بھی خوش خلقی اور درگذر کی عادت نہ چھوٹے چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی اپنے نفس کا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں اگر اللہ کے احکام کی بےعزتی اور بےتوقیری ہوتی ہو تو اور بات ہے اور حدیث میں ہے کہ بہت ہی زیادہ غصے کی حالت میں بھی آپ کی زبان سے اس کے سوا اور کچھ الفاظ نہ نکلتے کہ فرماتے اسے کیا ہوگیا ہے اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں مسلمان پست و ذلیل ہوتا تو پسند نہیں کرتے تھے لیکن غالب آکر انتقام بھی نہیں لیتے تھے بلکہ درگذر کر جاتے اور معاف فرما دیتے۔ ان کی اور صفت یہ ہے کہ یہ اللہ کا کہا کرتے ہیں رسول ﷺ کی اتباع کرتے ہیں جس کا وہ حکم کرے بجا لاتے ہیں جس سے وہ روکے رک جاتے ہیں نماز کے پابند ہوتے ہیں جو سب سے اعلیٰ عبادت ہے۔ بڑے بڑے امور میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے۔ خود رسول اللہ ﷺ کو حکم اللہ ہوتا ہے آیت (وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْر01509) 3۔ آل عمران :159) یعنی ان سے مشورہ کرلیا کرو اسی لئے حضور ﷺ کی عادت تھی کہ جہاد وغیرہ کے موقعہ پر لوگوں سے مشورہ کرلیا کرتے تاکہ ان کے جی خوش ہوجائیں۔ اور اسی بنا پر امیر المومنین حضرت عمر نے جب کہ آپ کو زخمی کردیا گیا اور وفات کا وقت آگیا چھ آدمی مقرر کر دئیے کہ یہ اپنے مشورے سے میرے بعد کسی کو میرا جانشین مقرر کریں ان چھ بزرگوں کے نام یہ ہیں۔ عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمن بن عوف رضٰی اللہ تعالیٰ عنہم۔ پس سب نے باتفاق رائے حضرت عثمان کو اپنا امیر مقرر کیا پھر ان کا جن کے لئے آخرت کی تیاری اور وہاں کے ثواب ہیں ایک اور وصف بیان فرمایا کہ جہاں یہ حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کمی نہیں کرتے اپنے مال میں محتاجوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں اور درجہ بدرجہ اپنی طاقت کے مطابق ہر ایک کے ساتھ سلوک و احسان کرتے رہتے ہیں اور یہ ایسے ذلیل پست اور بےزور نہیں ہوتے کہ ظالم کے ظلم کی روک تھام نہ کرسکیں بلکہ اتنی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ظالموں سے انتقام لیں اور مظلوم کو اس کے پنجے سے نجات دلوائیں لیکن ہاں ! اپنی شرافت کی وجہ سے غالب آکر پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے کہ نبی اللہ حضرت یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں پر قابو پا کر فرما دیا کہ جاؤ تمہیں میں کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتا بلکہ میری خواہش ہے اور دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔ اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ حضرت محمد ﷺ نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لئے گئے اور گرفتار ہو کر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا۔ اور اسی طرح آپ نے غورث بن حارث کو معاف فرما دیا یہ وہ شخص ہے کہ حضور ﷺ کے سوتے ہوئے اس نے آپ کی تلوار پر قبضہ کرلیا جب آپ جاگے اور اسے ڈانٹا تو تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور آپ نے تلوار لے لی اور وہ مجرم گردن جھکائے آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا آپ نے صحابہ کو بلا کر یہ منظر دکھایا اور یہ قصہ بھی سنایا پھر اسے معاف فرما دیا اور جانے دیا۔ اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو علم وقدرت کے باوجود آپ نے اس سے درگذر فرما لے اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ کو زہر دیا تھا آپ نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہوجانے کے باوجود بھی آپ نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کردیا اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی۔ جو جنگ خیبر میں حضرت محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود حضور ﷺ کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی آنحضرت ﷺ کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے راحت حاصل ہوجائے گی یہ معلوم ہوجانے پر اور اس کے اقبال کرلینے پر بھی اللہ کے رسول ﷺ نے اسے چھوڑ دیا۔ معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کردی گئی اس لئے اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے حضرت بشر بن برا فوت ہوگئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی اور بھی حضور ﷺ کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں ﷺ۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُحَقِّرًا بِشَأْنِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا، وَمَا فِيهَا مِنَ الزَّهْرَةِ وَالنَّعِيمِ الْفَانِي، بِقَوْلِهِ: ﴿فَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ أَيْ: مَهْمَا حَصَلْتُمْ وَجَمَعْتُمْ فَلَا تَغْتَرُّوا بِهِ، فَإِنَّمَا هُوَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَهِيَ دَارٌ دَنِيئَةٌ فَانِيَةٌ زَائِلَةٌ لَا مَحَالَةَ، ﴿وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى﴾ أَيْ: وَثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا، وَهُوَ بَاقٍ سَرْمَدِيٌّ، فَلَا تُقَدِّمُوا الْفَانِيَ عَلَى الْبَاقِي؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لِلَّذِينَ آمَنُوا﴾ أَيْ: لِلَّذِينَ صَبَرُوا عَلَى تَرْكِ الْمَلَاذِّ فِي الدُّنْيَا، ﴿وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ﴾ أَيْ: لِيُعِينَهُمْ عَلَى الصَّبْرِ فِي أَدَاءِ الْوَاجِبَاتِ وَتَرْكِ الْمُحَرَّمَاتِ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الإثْمِ وَالْفَوَاحِشَ﴾ وَقَدْ قَدَّمْنَا الْكَلَامَ عَلَى الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشِ فِي "سُورَةِ الْأَعْرَافِ" ﴿وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ﴾ أَيْ: سَجِيَّتُهُمْ [وَخَلْقُهُمْ وَطَبْعُهُمْ] [[زيادة من أ.]] تَقْتَضِي الصَّفْحَ وَالْعَفْوَ عَنِ النَّاسِ، لَيْسَ سَجِيَّتُهُمُ الِانْتِقَامَ مِنَ النَّاسِ.
وَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ قَطُّ، إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللَّهِ [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٦١٢٦) من حديث عائشة بلفظ: "وما انتقم رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه في شيء قط، إلا أن تنتهك حرمة الله، فينتقم بها الله".]] وَفِي حَدِيثٍ آخَرَ: "كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا [[في أ: "للرجل".]] عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ: مَا لَهُ؟ تَرِبَتْ جَبِينُهُ" [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٦٠٣١) مِنْ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.]] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ [[في ت: "وروى ابن أبي حاتم بسنده".]] ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: كَانَ الْمُؤْمِنُونَ يَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَذِلُّوا، وكانوا إذا قدروا عفوا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ﴾ أَيِ: اتَّبَعُوا رُسُلَهُ وَأَطَاعُوا أَمْرَهُ، وَاجْتَنَبُوا زَجْرَهُ، ﴿وَأَقَامُوا الصَّلاةَ﴾ وَهِيَ أَعْظَمُ الْعِبَادَاتِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ﴿وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ﴾ أَيْ: لَا يُبْرِمُونَ أَمْرًا حَتَّى يَتَشَاوَرُوا [[في أ: "يشاورون".]] فِيهِ، لِيَتَسَاعَدُوا بِآرَائِهِمْ فِي مِثْلِ الْحُرُوبِ وَمَا جَرَى مَجْرَاهَا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الأمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ﴾ [آلِ عمران: ١٥٩] ولهذا كان عليه [الصلاة] [[زيادة من ت.]] السلام، يُشَاوِرُهُمْ فِي الْحُرُوبِ وَنَحْوِهَا، لِيُطَيِّبَ بِذَلِكَ قُلُوبَهُمْ. وَهَكَذَا لَمَّا حَضَرَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من ت.]] الْوَفَاةُ حِينَ طُعِنَ، جَعَلَ الْأَمْرَ بَعْدَهُ شُورَى فِي سِتَّةِ نَفَرٍ، وَهُمْ: عُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ، فَاجْتَمَعَ رَأْيُ الصَّحَابَةِ كُلِّهِمْ عَلَى تَقْدِيمِ عُثْمَانَ عَلَيْهِمْ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، ﴿وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ﴾ وَذَلِكَ بِالْإِحْسَانِ إِلَى خَلْقِ اللَّهِ، الْأَقْرَبِ إِلَيْهِمْ مِنْهُمْ فَالْأَقْرَبِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ﴾ أَيْ: فِيهِمْ قُوَّةُ الِانْتِصَارِ مِمَّنْ ظَلَمَهُمْ وَاعْتَدَى عَلَيْهِمْ، لَيْسُوا بِعَاجِزِينَ وَلَا أَذِلَّةٍ، بَلْ يَقْدِرُونَ عَلَى الِانْتِقَامِ مِمَّنْ بَغَى عَلَيْهِمْ، وَإِنْ كَانُوا مع هذا إذا قدروا وعفوا، كَمَا قَالَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لِإِخْوَتِهِ: ﴿لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ [وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ] [[زيادة من أ.]] ﴾ [يُوسُفَ:٩٢] ، مَعَ قُدْرَتِهِ عَلَى مُؤَاخَذَتِهِمْ وَمُقَابَلَتِهِمْ عَلَى صَنِيعِهِمْ إِلَيْهِ، وَكَمَا عَفَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ أُولَئِكَ النَّفَرِ الثَّمَانِينَ الَّذِينَ قَصَدُوهُ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَنَزَلُوا مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ، فَلَمَّا قَدَرَ عَلَيْهِمْ مَنَّ عَلَيْهِمْ [[في ت، م، أ: "عنهم".]] مَعَ قُدْرَتِهِ عَلَى الِانْتِقَامِ، وَكَذَلِكَ عَفْوُهُ عَنْ غَوْرَث بْنِ الْحَارِثِ، الَّذِي أَرَادَ الْفَتْكَ بِهِ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ت.]] حِينَ اخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَهُوَ نَائِمٌ، فَاسْتَيْقَظَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتا، فَانْتَهَرَهُ فَوَضَعَهُ مِنْ يَدِهِ، وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ السَّيْفَ مِنْ يَدِهِ، وَدَعَا أَصْحَابَهُ، ثُمَّ أَعْلَمَهُمْ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ هَذَا الرَّجُلِ، وَعَفَا عَنْهُ. وَكَذَلِكَ عَفَا عَنْ لَبِيدِ بْنِ الْأَعْصَمِ [[في ت: "أعصم".]] ، الَّذِي سَحَرَهُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَمَعَ هَذَا لَمْ يَعْرِضْ لَهُ، وَلَا عَاتَبَهُ، مَعَ قُدْرَتِهِ عَلَيْهِ. وَكَذَلِكَ عَفْوُهُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَنِ الْمَرْأَةِ الْيَهُودِيَّةِ -وَهِيَ زَيْنَبُ أُخْتُ [[في ت، م: "بنت".]] مَرْحَبٍ الْيَهُودِيِّ الْخَيْبَرِيِّ الَّذِي قَتَلَهُ مَحْمُودُ بْنُ مَسْلَمَةَ-الَّتِي سَمَّتِ الذِّرَاعَ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَأَخْبَرَهُ الذِّرَاعُ بِذَلِكَ، فَدَعَاهَا فَاعْتَرَفَتْ فَقَالَ: "مَا حَمَلَكِ عَلَى ذَلِكَ" قَالَتْ: أَرَدْتُ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ نَبِيًّا اسْتَرَحْنَا مِنْكَ، فَأَطْلَقَهَا، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، وَلَكِنْ لَمَّا مَاتَ مِنْهُ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ قَتَلَهَا بِهِ، وَالْأَحَادِيثُ وَالْآثَارُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ جِدًّا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ [[في أ: "ولله الحمد والمنة".]] .
وَٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَابَهُمُ ٱلْبَغْىُ هُمْ يَنتَصِرُونَ
And those who, when tyranny strikes them, they defend themselves,
اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں
و کسانی که هرگاه ستمی به آنها رسد، (تسلیم ظلم نمیشوند و) یاری میطلبند!
Tafsir Ibn Kathir
So whatever you have been given is but (a passing) enjoyment for this worldly life, but that which is with Allah is better and more lasting for those who believe and put their trust in their Lord (36)And those who shun the greater sins, and Al-Fawahish, and when they are angry, they forgive (37)And those who answer the Call of their Lord, and perform the Salah, and who (conduct) their affairs by mutual consultation, and who spend of what We have bestowed on them (38)And those who, when an oppressive wrong is done to them, take revenge (39)
The Attributes of Those Who deserve that which is with Allah
Here Allah points out the insignificance of this worldly life and its transient adornments and luxuries.
فَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ
(So whatever you have been given is but (a passing) enjoyment for this worldly life.) means, no matter what you achieve and amass, do not be deceived by it, for it is only the enjoyment of this life, which is the lower, transient realm that will undoubtedly come to an end.
وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ
(but that which is with Allah is better and more lasting) means, the reward of Allah is better than this world, and it will last forever, so do not give preference to that which is transient over that which is lasting. Allah says:
لِلَّذِينَ آمَنُوا
(for those who believe) means, for those who are patient in forgoing the pleasures of this world,
وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(and put their trust in their Lord.) means, so that He will help them to be patient in doing what is obligatory and avoiding what is forbidden. Then Allah says:
وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ
(And those who shun the greater sins, and Al-Fawahish,) We have already discussed sin and Al-Fawahish in Surat Al-A'raf.
وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ
(and when they are angry, they forgive.) means, their nature dictates that they should forgive people and be tolerant. Vengeance is not in their nature. It was reported in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ never took revenge for his own sake, only when the sacred Laws of Allah were violated.
وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ
(And those who answer the Call of their Lord,) means, they follow His Messenger ﷺ and obey His commands and avoid that which He has prohibited.
وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ
(and perform As-Salah) – which is the greatest act of worship of Allah, may He be glorified.
وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ
(and who (conduct) their affairs by mutual consultation,) means, they do not make a decision without consulting one another on the matter so that they can help one another by sharing their ideas concerning issues such as wars and other matters. This is like the Ayah:
وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ
(and consult them in the affairs)(3:159). The Prophet ﷺ used to consult with them concerning wars and other matters, so that they would feel confidant. When 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, was dying, after he had been stabbed, he entrusted the choice of the next Khalifah to six people who were to be consulted. They were 'Uthman, 'Ali, Talhah, Az-Zubayr, Sa'id and 'Abdur-Rahman bin 'Awf, may Allah be pleased with them all. Then all of the Companions, may Allah be pleased with them, agreed to appoint 'Uthman as their leader.
وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ
(and who spend of what We have bestowed on them.) this means kindly treating the creation of Allah, starting with those who are closest, then the next closest, and so on.
وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ
(And those who, when an oppressive wrong is done to them, take revenge.) ameans, they have the strength to take revenge on those who commit aggressive wrong and hostile acts against them. They are not incapable of doing so and they are not helpless; they are able to take revenge against those who transgress against them, even though when they have the power to take revenge, they prefer to forgive, as when Yusuf, peace be upon him, said to his brothers:
لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ
(No reproach on you this day; may Allah forgive you)(12: 92). even though he was in a position to take revenge on them for what they had done to him. The Messenger of Allah ﷺ forgave the eighty people who intended to do him harm during the year of Al-Hudaybiyah, camping by the mountain of At-Tan'im. When he overpowered them, he set them free, even though he was in a position to take revenge on them. He also forgave Ghawrath bin Al-Harith who wanted to kill him and unsheathed his sword while he was sleeping. The Prophet ﷺ woke up to find him pointing the sword at him. He reproached him angrily and the sword dropped. Then the Messenger of Allah ﷺ picked up the sword and called his Companions He told them what had happened, and he forgave the man. There are many similar Hadiths and reports. And Allah knows best.
Tafsir Ibn Kathir
درگذر کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بےقدری اور اسکی حقارت بیان فرمائی کہ اسے جمع کر کے کسی کو اس پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ یہ فانی چیز ہے۔ بلکہ آخرت کی طرف رغبت کرنی چاہیے نیک اعمال کر کے ثواب جمع کرنا چاہیے جو سرمدی اور باقی چیز ہے۔ پس فانی کو باقی پر کمی کو زیادتی پر ترجیح دینا عقلمندی نہیں اب اس ثواب کے حاصل کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں کہ ایمان مضبوط ہو تاکہ دنیاوی لذتوں کے ترک پر صبر ہو سکے اللہ پر کامل بھروسہ ہو تاکہ صبر پر اس کی امداد ملے اور احکام الٰہی کی بجا آوری اور نافرمانیوں سے اجتناب آسان ہوجائے کبیرہ گناہوں اور فحش کاموں سے پرہیز چاہیے۔ اس جملہ کی تفسیر سورة اعراف میں گذر چکی ہے۔ غصے پر قابو چاہیے کہ عین غصے اور غضب کی حالت میں بھی خوش خلقی اور درگذر کی عادت نہ چھوٹے چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی اپنے نفس کا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں اگر اللہ کے احکام کی بےعزتی اور بےتوقیری ہوتی ہو تو اور بات ہے اور حدیث میں ہے کہ بہت ہی زیادہ غصے کی حالت میں بھی آپ کی زبان سے اس کے سوا اور کچھ الفاظ نہ نکلتے کہ فرماتے اسے کیا ہوگیا ہے اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں مسلمان پست و ذلیل ہوتا تو پسند نہیں کرتے تھے لیکن غالب آکر انتقام بھی نہیں لیتے تھے بلکہ درگذر کر جاتے اور معاف فرما دیتے۔ ان کی اور صفت یہ ہے کہ یہ اللہ کا کہا کرتے ہیں رسول ﷺ کی اتباع کرتے ہیں جس کا وہ حکم کرے بجا لاتے ہیں جس سے وہ روکے رک جاتے ہیں نماز کے پابند ہوتے ہیں جو سب سے اعلیٰ عبادت ہے۔ بڑے بڑے امور میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے۔ خود رسول اللہ ﷺ کو حکم اللہ ہوتا ہے آیت (وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْر01509) 3۔ آل عمران :159) یعنی ان سے مشورہ کرلیا کرو اسی لئے حضور ﷺ کی عادت تھی کہ جہاد وغیرہ کے موقعہ پر لوگوں سے مشورہ کرلیا کرتے تاکہ ان کے جی خوش ہوجائیں۔ اور اسی بنا پر امیر المومنین حضرت عمر نے جب کہ آپ کو زخمی کردیا گیا اور وفات کا وقت آگیا چھ آدمی مقرر کر دئیے کہ یہ اپنے مشورے سے میرے بعد کسی کو میرا جانشین مقرر کریں ان چھ بزرگوں کے نام یہ ہیں۔ عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمن بن عوف رضٰی اللہ تعالیٰ عنہم۔ پس سب نے باتفاق رائے حضرت عثمان کو اپنا امیر مقرر کیا پھر ان کا جن کے لئے آخرت کی تیاری اور وہاں کے ثواب ہیں ایک اور وصف بیان فرمایا کہ جہاں یہ حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کمی نہیں کرتے اپنے مال میں محتاجوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں اور درجہ بدرجہ اپنی طاقت کے مطابق ہر ایک کے ساتھ سلوک و احسان کرتے رہتے ہیں اور یہ ایسے ذلیل پست اور بےزور نہیں ہوتے کہ ظالم کے ظلم کی روک تھام نہ کرسکیں بلکہ اتنی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ظالموں سے انتقام لیں اور مظلوم کو اس کے پنجے سے نجات دلوائیں لیکن ہاں ! اپنی شرافت کی وجہ سے غالب آکر پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے کہ نبی اللہ حضرت یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں پر قابو پا کر فرما دیا کہ جاؤ تمہیں میں کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتا بلکہ میری خواہش ہے اور دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔ اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ حضرت محمد ﷺ نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لئے گئے اور گرفتار ہو کر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا۔ اور اسی طرح آپ نے غورث بن حارث کو معاف فرما دیا یہ وہ شخص ہے کہ حضور ﷺ کے سوتے ہوئے اس نے آپ کی تلوار پر قبضہ کرلیا جب آپ جاگے اور اسے ڈانٹا تو تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور آپ نے تلوار لے لی اور وہ مجرم گردن جھکائے آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا آپ نے صحابہ کو بلا کر یہ منظر دکھایا اور یہ قصہ بھی سنایا پھر اسے معاف فرما دیا اور جانے دیا۔ اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو علم وقدرت کے باوجود آپ نے اس سے درگذر فرما لے اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ کو زہر دیا تھا آپ نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہوجانے کے باوجود بھی آپ نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کردیا اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی۔ جو جنگ خیبر میں حضرت محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود حضور ﷺ کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی آنحضرت ﷺ کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے راحت حاصل ہوجائے گی یہ معلوم ہوجانے پر اور اس کے اقبال کرلینے پر بھی اللہ کے رسول ﷺ نے اسے چھوڑ دیا۔ معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کردی گئی اس لئے اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے حضرت بشر بن برا فوت ہوگئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی اور بھی حضور ﷺ کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں ﷺ۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُحَقِّرًا بِشَأْنِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا، وَمَا فِيهَا مِنَ الزَّهْرَةِ وَالنَّعِيمِ الْفَانِي، بِقَوْلِهِ: ﴿فَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ أَيْ: مَهْمَا حَصَلْتُمْ وَجَمَعْتُمْ فَلَا تَغْتَرُّوا بِهِ، فَإِنَّمَا هُوَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَهِيَ دَارٌ دَنِيئَةٌ فَانِيَةٌ زَائِلَةٌ لَا مَحَالَةَ، ﴿وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى﴾ أَيْ: وَثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا، وَهُوَ بَاقٍ سَرْمَدِيٌّ، فَلَا تُقَدِّمُوا الْفَانِيَ عَلَى الْبَاقِي؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لِلَّذِينَ آمَنُوا﴾ أَيْ: لِلَّذِينَ صَبَرُوا عَلَى تَرْكِ الْمَلَاذِّ فِي الدُّنْيَا، ﴿وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ﴾ أَيْ: لِيُعِينَهُمْ عَلَى الصَّبْرِ فِي أَدَاءِ الْوَاجِبَاتِ وَتَرْكِ الْمُحَرَّمَاتِ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الإثْمِ وَالْفَوَاحِشَ﴾ وَقَدْ قَدَّمْنَا الْكَلَامَ عَلَى الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشِ فِي "سُورَةِ الْأَعْرَافِ" ﴿وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ﴾ أَيْ: سَجِيَّتُهُمْ [وَخَلْقُهُمْ وَطَبْعُهُمْ] [[زيادة من أ.]] تَقْتَضِي الصَّفْحَ وَالْعَفْوَ عَنِ النَّاسِ، لَيْسَ سَجِيَّتُهُمُ الِانْتِقَامَ مِنَ النَّاسِ.
وَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ قَطُّ، إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللَّهِ [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٦١٢٦) من حديث عائشة بلفظ: "وما انتقم رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه في شيء قط، إلا أن تنتهك حرمة الله، فينتقم بها الله".]] وَفِي حَدِيثٍ آخَرَ: "كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا [[في أ: "للرجل".]] عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ: مَا لَهُ؟ تَرِبَتْ جَبِينُهُ" [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٦٠٣١) مِنْ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.]] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ [[في ت: "وروى ابن أبي حاتم بسنده".]] ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: كَانَ الْمُؤْمِنُونَ يَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَذِلُّوا، وكانوا إذا قدروا عفوا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ﴾ أَيِ: اتَّبَعُوا رُسُلَهُ وَأَطَاعُوا أَمْرَهُ، وَاجْتَنَبُوا زَجْرَهُ، ﴿وَأَقَامُوا الصَّلاةَ﴾ وَهِيَ أَعْظَمُ الْعِبَادَاتِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ﴿وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ﴾ أَيْ: لَا يُبْرِمُونَ أَمْرًا حَتَّى يَتَشَاوَرُوا [[في أ: "يشاورون".]] فِيهِ، لِيَتَسَاعَدُوا بِآرَائِهِمْ فِي مِثْلِ الْحُرُوبِ وَمَا جَرَى مَجْرَاهَا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الأمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ﴾ [آلِ عمران: ١٥٩] ولهذا كان عليه [الصلاة] [[زيادة من ت.]] السلام، يُشَاوِرُهُمْ فِي الْحُرُوبِ وَنَحْوِهَا، لِيُطَيِّبَ بِذَلِكَ قُلُوبَهُمْ. وَهَكَذَا لَمَّا حَضَرَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ [رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] [[زيادة من ت.]] الْوَفَاةُ حِينَ طُعِنَ، جَعَلَ الْأَمْرَ بَعْدَهُ شُورَى فِي سِتَّةِ نَفَرٍ، وَهُمْ: عُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ، فَاجْتَمَعَ رَأْيُ الصَّحَابَةِ كُلِّهِمْ عَلَى تَقْدِيمِ عُثْمَانَ عَلَيْهِمْ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، ﴿وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ﴾ وَذَلِكَ بِالْإِحْسَانِ إِلَى خَلْقِ اللَّهِ، الْأَقْرَبِ إِلَيْهِمْ مِنْهُمْ فَالْأَقْرَبِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ﴾ أَيْ: فِيهِمْ قُوَّةُ الِانْتِصَارِ مِمَّنْ ظَلَمَهُمْ وَاعْتَدَى عَلَيْهِمْ، لَيْسُوا بِعَاجِزِينَ وَلَا أَذِلَّةٍ، بَلْ يَقْدِرُونَ عَلَى الِانْتِقَامِ مِمَّنْ بَغَى عَلَيْهِمْ، وَإِنْ كَانُوا مع هذا إذا قدروا وعفوا، كَمَا قَالَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لِإِخْوَتِهِ: ﴿لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ [وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ] [[زيادة من أ.]] ﴾ [يُوسُفَ:٩٢] ، مَعَ قُدْرَتِهِ عَلَى مُؤَاخَذَتِهِمْ وَمُقَابَلَتِهِمْ عَلَى صَنِيعِهِمْ إِلَيْهِ، وَكَمَا عَفَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ أُولَئِكَ النَّفَرِ الثَّمَانِينَ الَّذِينَ قَصَدُوهُ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَنَزَلُوا مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ، فَلَمَّا قَدَرَ عَلَيْهِمْ مَنَّ عَلَيْهِمْ [[في ت، م، أ: "عنهم".]] مَعَ قُدْرَتِهِ عَلَى الِانْتِقَامِ، وَكَذَلِكَ عَفْوُهُ عَنْ غَوْرَث بْنِ الْحَارِثِ، الَّذِي أَرَادَ الْفَتْكَ بِهِ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ت.]] حِينَ اخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَهُوَ نَائِمٌ، فَاسْتَيْقَظَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتا، فَانْتَهَرَهُ فَوَضَعَهُ مِنْ يَدِهِ، وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ السَّيْفَ مِنْ يَدِهِ، وَدَعَا أَصْحَابَهُ، ثُمَّ أَعْلَمَهُمْ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ هَذَا الرَّجُلِ، وَعَفَا عَنْهُ. وَكَذَلِكَ عَفَا عَنْ لَبِيدِ بْنِ الْأَعْصَمِ [[في ت: "أعصم".]] ، الَّذِي سَحَرَهُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَمَعَ هَذَا لَمْ يَعْرِضْ لَهُ، وَلَا عَاتَبَهُ، مَعَ قُدْرَتِهِ عَلَيْهِ. وَكَذَلِكَ عَفْوُهُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَنِ الْمَرْأَةِ الْيَهُودِيَّةِ -وَهِيَ زَيْنَبُ أُخْتُ [[في ت، م: "بنت".]] مَرْحَبٍ الْيَهُودِيِّ الْخَيْبَرِيِّ الَّذِي قَتَلَهُ مَحْمُودُ بْنُ مَسْلَمَةَ-الَّتِي سَمَّتِ الذِّرَاعَ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَأَخْبَرَهُ الذِّرَاعُ بِذَلِكَ، فَدَعَاهَا فَاعْتَرَفَتْ فَقَالَ: "مَا حَمَلَكِ عَلَى ذَلِكَ" قَالَتْ: أَرَدْتُ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ نَبِيًّا اسْتَرَحْنَا مِنْكَ، فَأَطْلَقَهَا، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، وَلَكِنْ لَمَّا مَاتَ مِنْهُ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ قَتَلَهَا بِهِ، وَالْأَحَادِيثُ وَالْآثَارُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ جِدًّا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ [[في أ: "ولله الحمد والمنة".]] .
وَجَزَٰٓؤُا۟ سَيِّئَةٍۢ سَيِّئَةٌۭ مِّثْلُهَا ۖ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُۥ عَلَى ٱللَّهِ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلظَّٰلِمِينَ
And the retribution for an evil act is an evil one like it, but whoever pardons and makes reconciliation - his reward is [due] from Allah. Indeed, He does not like wrongdoers.
اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے۔ مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کردے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
کیفر بدی، مجازاتی است همانند آن؛ و هر کس عفو و اصلاح کند، پاداش او با خداست؛ خداوند ظالمان را دوست ندارد!
Tafsir Ibn Kathir
The recompense for an evil is an evil like thereof; but whoever forgives and makes reconciliation, his reward is with Allah. Verily, He likes not the wrongdoers (40)And indeed whosoever takes revenge after he has suffered wrong, for such there is no way (of blame) against them (41)The way is only against those who oppress men and rebel in the earth without justification; for such there will be a painful torment (42)And verily, whosoever shows patience and forgives, that would truly be from the things recommended by Allah (43)
Forgiving or exacting Revenge on Wrongdoers
وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ۖ
(The recompense for an evil is an evil like thereof). This is like the Ayat:
فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ
(Then whoever transgresses the prohibition against you, you transgress likewise against him)(2:194), and
وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ ۖ
(And if you punish, then punish them with the like of that with which you were afflicted)(16:126). Justice, has been prescribed, in the form of the prescribed laws of equality in punishment (Al-Qisas), but the better way, which means forgiving, is recommended, as Allah says:
وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ ۚ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ ۚ
(and wounds equal for equal. But if anyone remits the retaliation by way of charity, it shall be for him an expiation)(5:45). Allah says here:
فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۚ
(but whoever forgives and makes reconciliation, his reward is with Allah.) means, that will not be wasted with Allah. As it says in a Sahih Hadith:
وَمَا زَادَ اللهُ تَعَالَىٰ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا
(Allah does not increase the person who forgives except in honor.)"
إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
(Verily, He likes not the wrongdoers.) means, the aggressors, i.e., those who initiate the evil actions.
وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَٰئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ
(And indeed whosoever takes revenge after he has suffered wrong, for such there is no way (of blame) against them.) means, there is no sin on him for taking revenge against the one who wronged him.
إِنَّمَا السَّبِيلُ
(The way) means, the burden of sin,
عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ
(is only against those who oppress men and rebel in the earth without justification;) means, those who initiate wrongful actions against others, as it says in the Sahih Hadith:
الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِىءِ، مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ
(When two persons indulge in abusing each other, the one who initiated the wrongful action is to blame, unless the one who was wronged oversteps the mark in retaliation.)
أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(for such there will be a painful torment.) means, intense and agonizing. It was reported that Muhammad bin Wasi' said, "I came to Makkah and there was a security out post over the trench whose guards took me to Marwan bin Al-Muhallab, who was the governor of Basrah. He said, 'What do you need, O Abu 'Abdullah' I said, 'If you can do it, I need you to be like the brother of Banu 'Adiy.' He said, 'Who is the brother of Banu 'Adiy' He said, 'Al-'Ala' bin Ziyad; he once appointed a friend of his to a position of authority, and he wrote to him: If you can, only go to sleep after you make sure that there is nothing on your back [i.e., you do not owe anything to anyone], your stomach is empty and your hands are untainted by the blood or wealth of the Muslims. If you do that, then there will be no way (of blame) against you –
إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(The way is only against those who oppress men and rebel in the earth without justification; for such there will be a painful torment.)' Marwan said, 'He spoke the truth, by Allah, and gave sincere advice. ' Then he said, 'What do you need, O Abu 'Abdullah' I said, 'I need you to let me join my family.' He said, 'Yes [I will do that].'" This was recorded by Ibn Abi Hatim. When Allah condemned wrongdoing and the people who do it, and prescribed Al-Qisas, He encouraged forgiveness:
وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ
(And verily, whosoever shows patience and forgives,) meaning, whoever bears the insult with patience and conceals the evil action,
إِنَّ ذَٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ
(that would truly be from the things recommended by Allah.) Sa'id bin Jubayr said, "This means, one of the things enjoined by Allah," i.e., good actions for which there will be a great reward and much praise.
Tafsir Ibn Kathir
ارشاد ہوتا ہے کہ برائی کا بدلہ لینا جائز ہے۔ جیسے فرمایا آیت (فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ01904) 2۔ البقرة :194) اور آیت میں ہے (وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ01206) 16۔ النحل :126) یعنی خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے پھر اسے معاف کر دے تو وہ اس کے لئے کفارہ ہوجائے گا۔ یہاں بھی فرمایا جو شخص معاف کر دے اور صلح و صفائی کرلے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ حدیث میں ہے درگذر کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت اور بڑھا دیتا ہے لیکن جو بدلے میں اصل جرم سے بڑھ جائے وہ اللہ کا دشمن ہے۔ پھر برائی کی ابتدا اسی کی طرف سے سمجھی جائے گی پھر فرماتا ہے جس پر ظلم ہو اسے بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ ابن عون فرماتے ہیں، میں اس لفظ (انتصر) کی تفسیر کی طلب میں تھا تو مجھ سے علی بن زید بن جدعان نے بروایت اپنی والدہ ام محمد کے جو حضرت عائشہ کے پاس جایا کرتی تھیں بیان کیا کہ حضرت عائشہ کے ہاں حضور ﷺ گئے اس وقت حضرت زینب وہاں موجود تھیں آپ کو معلوم نہ تھا صدیقہ کی طرف جب آپ نے ہاتھ بڑھایا تو صدیقہ نے اشارے سے بتایا اس وقت آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ حضرت زینب نے صدیقہ کو برا بھلا کہنا شروع کیا۔ حضور ﷺ کی ممانعت پر بھی خاموش نہ ہوئیں آپ نے حضرت عائشہ کو اجازت دی کہ جواب دیں۔ اب جو جواب ہوا تو حضرت زینب عاجز آگئیں اور سیدھی حضرت علی کے پاس گئیں اور کہا عائشہ تمہیں یوں یوں کہتی ہیں اور ایسا ایسا کرتی ہیں یہ سن کر حضرت فاطمہ حاضر حضور ہوئیں آپ نے ان سے فرمایا قسم رب کعبہ کی ! عائشہ سے میں محبت رکھتا ہوں یہ تو اسی وقت واپس چلی گئیں۔ اور حضرت علی سے سارا واقعہ کہہ سنایا پھر حضرت علی آئے اور آپ سے باتیں کیں۔ یہ روایت ابن جریر میں اسی طرح ہے لیکن اس کے راوی اپنی روایتوں میں عموما منکر حدیثیں لایا کرتے ہیں اور یہ روایت بھی منکر ہے نسائی اور ابن ماجہ میں اس طرح ہے کہ حضرت زینب غصہ میں بھری ہوئی بلا اطلاع حضرت عائشہ کے گھر چلی آئیں اور حضور ﷺ سے حضرت صدیقہ کی نسبت کچھ کہا پھر حضرت عائشہ سے لڑنے لگیں لیکن مائی صاحبہ نے خاموشی اختیار کی جب وہ بہت کہہ چکیں تو آپ نے عائشہ سے فرمایا تو اپنا بدلہ لے لے پھر جو صدیقہ نے جواب دینے شروع کئے تو حضرت زینب کا تھوک خشک ہوگیا۔ کوئی جواب نہ دے سکیں اور حضور ﷺ کے چہرے سے وہ صدمہ ہٹ گیا۔ حاصل یہ ہے کہ مظلوم ظالم کو جواب دے اور اپنا بدلہ لے لے۔ بزار میں ہے ظالم کے لئے جس نے بد دعا کی اس نے بدلہ لے لیا۔ یہی حدیث ترمذی میں ہے لیکن اس کے ایک راوی میں کچھ کلام ہے پھر فرماتا ہے حرج و گناہ ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کریں اور زمین میں بلا وجہ شرو فساد کریں۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے دو برا کہنے والے جو کچھ کہیں سب کا بوجھ شروع کرنے والے پر ہے جب کہ مظلوم بدلے کی حد سے آگے نہ نکل جائے ایسے فسادی قیامت کے دن دردناک عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے حضرت محمد بن واسع فرماتے ہیں میں مکہ جانے لگا تو دیکھا کہ خندق پر پل بنا ہوا ہے میں ابھی وہیں تھا جو گرفتار کرلیا گیا اور امیر بصرہ مروان بن مہلب کے پاس پہنچا دیا گیا اس نے مجھ سے کہا ابو عبداللہ تم کیا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا یہی کہ اگر تم سے ہو سکے تو بنو عدی کے بھائی جیسے بن جاؤ پوچھا وہ کون ہے ؟ کہا علا بن زیاد کہ اپنے ایک دوست کو ایک مرتبہ کسی صیغہ پر عامل بنایا تو انہوں نے اسے لکھا کہ حمد و صلوۃ کے بعد اگر تجھ سے ہو سکے تو یہ کرنا کہ تیری کمر بوجھ سے خالی رہے تیرا پیٹ حرام سے بچ جائے تیرے ہاتھ مسلمانوں کے خون ومال سے آلودہ نہ ہوں تو جب یہ کرے گا تو تجھ پر کوئی گناہ کی راہ باقی نہ رہے گی یہ راہ تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کریں اور بےوجہ ناحق زمین میں فساد پھیلائیں۔ مروان نے کہا اللہ جانتا ہے اس نے سچ کہا اور خیر خواہی کی بات کہی۔ اچھا اب کیا آرزو ہے ؟ فرمایا یہی کہ تم مجھے میرے گھر پہنچا دو مروان نے کہا بہت اچھا۔ (ابن ابی حاتم) پس ظلم و اہل ظلم کی مذمت بیان کر کے بدلے کی اجازت دے کر اب افضلیت کی طرف رغبت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ جو ایذاء برداشت کرلے اور برائی سے درگذر کرلے اس نے بڑی بہادری سے کام کیا جس پر وہ بڑے ثواب اور پورے بدلے کا مستحق ہے۔ حضرت فضیل بن عیاض کا فرمان ہے کہ جب تم سے آکر کوئی شخص کسی اور کی شکایت کرے تو اسے تلقین کرو کہ بھائی معاف کردو معافی میں ہی بہتری ہے اور یہی پرہیزگاری کا ثبوت ہے اگر وہ نہ مانے اور اپنے دل کی کمزوری کا اظہار کرے تو خیر کہہ دو کہ جاؤ بدلہ لے لو لیکن اس صورت میں کہ پھر کہیں تم بڑھ نہ جاؤ ورنہ ہم تو اب بھی یہی کہیں ورنہ ہم تو اب بھی یہی کہیں گے کہ معاف کردو یہ دروازہ بہت وسعت والا ہے اور بدلے کی راہ بہت تنگ ہے سنو معاف کردینے والا تو آرام سے میٹھی نیند سو جاتا ہے اور بدلے کی دھن والا دن رات متفکر رہتا ہے۔ اور توڑ جوڑ سوچتا ہے۔ مسند امام احمد میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابوبکر صدیق کو برا بھلا کہنا شروع کیا حضور ﷺ بھی وہیں تشریف فرما تھے آپ تعجب کے ساتھ مسکرانے لگے حضرت صدیق خاموش تھے لیکن جب کہ اس نے بہت گالیاں دیں تو آپ نے بھی بعض کا جواب دیا۔ اس پر حضور ﷺ ناراض ہو کر وہاں سے چل دئیے۔ حضرت ابوبکر سے رہا نہ گیا آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ وہ مجھے برا بھلا کہتا رہا تو آپ بیٹھے سنتے رہے اور جب میں نے اس کی دو ایک باتوں کا جواب دیا تو آپ ناراض ہو کر اٹھ کے چلے ؟ آپ نے فرمایا سنو جب تک تم خاموش تھے فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دیتا تھا جب تم آپ بولے تو فرشتہ ہٹ گیا اور شیطان بیچ میں آگیا پھر بھلا میں شیطان کی موجودگی میں وہاں کیسے بیٹھا رہتا ؟ پھر فرمایا سنو ابوبکر تین چیزیں بالکل حق ہیں 001 جس پر کوئی ظلم کیا جائے اور وہ اس سے چشم پوشی کرلے تو ضرور اللہ اسے عزت دے گا اور اس کی مدد کرے گا 002 جو شخص سلوک اور احسان کا دروازہ کھولے گا اور صلہ رحمی کے ارادے سے لوگوں کو دیتا رہے گا اللہ اسے برکت دے گا اور زیادتی عطا فرمائے گا 003 اور جو شخص مال بڑھانے کے لئے سوال کا دروازہ کھول لے گا اور دوسروں سے مانگتا پھرے گا اللہ اس کے ہاں بےبرکتی کر دے گا اور کمی میں ہی وہ مبتلا رہے گا یہ روایت ابو داؤد میں بھی ہے اور مضمون کے اعتبار سے یہ بڑی پیاری حدیث ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ﴾ [البقرة:١٩٤] وَكَقَوْلِهِ [[في ت: "وقوله".]] ﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ﴾ [النَّحْلِ:١٢٩] فَشَرَعَ الْعَدْلَ وَهُوَ الْقَصَاصُ، وَنَدَبَ إِلَى الْفَضْلِ وَهُوَ الْعَفْوُ، كَقَوْلِهِ [تَعَالَى] [[زيادة من ت.]] ﴿وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ﴾ [الْمَائِدَةِ:٤٥] ؛ وَلِهَذَا قَالَ هَاهُنَا: ﴿فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ﴾ أَيْ: لَا يَضِيعُ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ كَمَا صَحَّ فِي الْحَدِيثِ: "وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا" وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ﴾ أَيِ: الْمُعْتَدِينَ، وَهُوَ الْمُبْتَدِئُ بِالسَّيِّئَةِ.
[وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَمَّا كَانَتِ الْأَقْسَامُ ثَلَاثَةً: ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ، وَمُقْتَصِدٌ، وَسَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ، ذَكَرَ الْأَقْسَامَ الثَّلَاثَةَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ فَذَكَرَ الْمُقْتَصِدَ وَهُوَ الَّذِي يُفِيضُ بِقَدْرِ حَقِّهِ لِقَوْلِهِ: ﴿وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا﴾ ، ثُمَّ ذَكَرَ السَّابِقَ بِقَوْلِهِ: ﴿فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ﴾ ثُمَّ ذَكَرَ الظَّالِمَ بِقَوْلِهِ: ﴿إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ﴾ فَأَمَرَ بِالْعَدْلِ،وَنَدَبَ إِلَى الْفَضْلِ، وَنَهَى مِنَ الظُّلْمِ] [[زيادة من ت، أ.]] .
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ﴾ أَيْ: لَيْسَ عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ فِي الِانْتِصَارِ مِمَّنْ ظَلَمَهُمْ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ [[في ت: "وروى ابن جرير".]] حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزيع [[في أ: "سويع".]] حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا [[في ت: "عن".]] ابْنُ عَوْن قَالَ: كُنْتُ أَسْأَلُ عَنِ الِانْتِصَارِ: ﴿وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ﴾ فَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ [[في ت: "يزيد".]] بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ -امْرَأَةِ أَبِيهِ-قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: زَعَمُوا أَنَّهَا كَانَتْ تَدْخُلُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ [[في ت: "عائشة رضي الله عنها".]] -قَالَتْ: قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَعِنْدَنَا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ، فَجَعَلَ يَصْنَعُ بِيَدِهِ شَيْئًا فَلَمْ يَفْطِن لَهَا، فَقُلْتُ بِيَدِهِ حَتَّى [[في أ: "فقلت له حتى".]] فَطَّنته لَهَا، فَأَمْسَكَ. وَأَقْبَلَتْ زَيْنَبُ تُقْحِمُ لِعَائِشَةَ، فَنَهَاهَا، فَأَبَتْ أَنْ تَنْتَهِيَ. فَقَالَ لِعَائِشَةَ: "سُبّيها" فَسَبَّتْهَا فَغَلَبَتْهَا، وَانْطَلَقَتْ زَيْنَبُ فَأَتَتْ عَلِيًّا فَقَالَتْ: إِنَّ عَائِشَةَ تَقَعُ بِكُمْ، وَتَفْعَلُ بِكُمْ. فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ فَقَالَ [[في ت: "فقالت".]] لَهَا "إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ" فَانْصَرَفَتْ، وَقَالَتْ لِعَلِيٍّ: إِنِّي قُلْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لِي كَذَا وَكَذَا. قَالَ: وَجَاءَ عَلِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَكَلَّمَهُ فِي ذَلِكَ [[تفسير الطبري (٢٥/٢٤) .]] .
هَكَذَا وَرَدَ هَذَا السِّيَاقُ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ يَأْتِي فِي رِوَايَاتِهِ بِالْمُنْكَرَاتِ غَالِبًا، وَهَذَا فِيهِ نَكَارَةٌ، وَالْحَدِيثُ الصَّحِيحُ خِلَافُ هَذَا السِّيَاقِ، كَمَا رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ الْفَأْفَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ البَهِيّ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: مَا علمتُ حَتَّى دَخَلَتْ عليَّ زَيْنَبُ بِغَيْرِ إِذَنٍ وَهِيَ غَضْبَى، ثُمَّ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ: حَسْبُكَ إِذَا قَلَبَتْ لَكَ ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ ذُرَيّعَتَيهَا ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيَّ فَأَعْرَضْتُ عَنْهَا، حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: "دُونَكِ فَانْتَصِرِي" فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا وَقَدْ يَبِسَ رِيقُهَا فِي فَمِهَا، مَا [[في م: "لم".]] تَرُدُّ عَلَيَّ شَيْئًا. فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم يتهلل وجهه. وهذا لفظ النَّسَائِيِّ [[النسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٧٦) وسنن ابن ماجه برقم (١٩٨١) قال البوصيري في الزوائد (٢/١١٥) : "هذا إسناد صحيح على شرط مسلم".]] .
وَقَالَ الْبَزَّارُ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ [[في ت: "وروى البزار بسنده".]] ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ دَعَا عَلَى مَنْ ظَلَمَهُ فَقَدِ انْتَصَرَ".
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ -وَاسْمُهُ مَيْمُونٌ-ثُمَّ قَالَ: "لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ، وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ" [[سنن الترمذي برقم (٣٥٥٢) ورواه ابن أبي شيبة في المصنف (١٠/٣٤٧) وابن عدي في الكامل (٦/٤١٢) من طريق أبي الأحوص به، وقال ابن عدي: "لا أعلم من يرويه عن أبي حمزة غير أبي الأحوص".]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّمَا السَّبِيلُ﴾ أَيْ: إِنَّمَا الْحَرَجُ وَالْعَنَتُ ﴿عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الأرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ﴾ أَيْ: يَبْدَؤُونَ النَّاسَ بِالظُّلْمِ. كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ: "الْمُسْتَبَّانُ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَد الْمَظْلُومُ".
﴿أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ أَيْ: شَدِيدٌ مُوجِعٌ.
قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ -أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ-حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ، حَدَّثَنَا [[في ت: "عن".]] مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ فَإِذَا عَلَى الْخَنْدَقِ مَنْظَرَة، فَأُخِذْتُ فَانْطُلِقَ بِي إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْمُهَلَّبِ، وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْبَصْرَةِ، فَقَالَ: حَاجَتَكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ. قُلْتُ حَاجَتِي إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ كَمَا قَالَ أَخُو بَنِي عَدِيٍّ. قَالَ: وَمَنْ أَخُو بَنِي عَدِيٍّ؟ قَالَ: الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ، اسْتَعْمَلَ صَدِيقًا لَهُ مَرَّةً عَلَى عَمَلٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَلَّا تَبِيتَ إِلَّا وَظَهْرُكَ خَفِيفٌ، وَبَطْنُكَ خَمِيصٌ، وَكَفُّكَ نَقِيَّةٌ مِنْ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ [[في أ: "قبلت".]] ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ سَبِيلٌ، ﴿إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الأرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ فَقَالَ [[في ت، أ: "فقال مروان".]] صَدَقَ وَاللَّهِ وَنَصَحَ ثُمَّ قَالَ: مَا حَاجَتُكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟ قُلْتُ: حَاجَتِي أَنْ تُلْحِقَنِي بِأَهْلِي. قَالَ: نَعَمْ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ [[المصنف لابن أبي شيبة (١٤/٦٣) .]] .
ثُمَّ إِنَّهُ تَعَالَى لَمَّا ذَمَّ الظُّلْمَ وَأَهْلَهُ وَشَرَّعَ الْقَصَاصَ، قَالَ نَادِبًا إِلَى الْعَفْوِ وَالصَّفْحِ: ﴿وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ﴾ أَيْ: صَبَرَ عَلَى الْأَذَى وَسَتَرَ السَّيِّئَةَ، ﴿إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الأمُورِ﴾
قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: [يَعْنِي] [[زيادة من أ.]] لَمِنْ حَقِّ الْأُمُورِ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا، أَيْ: لَمِنَ الْأُمُورِ الْمَشْكُورَةِ وَالْأَفْعَالِ الْحَمِيدَةِ [[في ت: "المحمودة".]] الَّتِي عَلَيْهَا ثَوَابٌ جَزِيلٌ وَثَنَاءٌ جَمِيلٌ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الطَّرْسُوسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ يَزِيدَ -خَادِمُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ-قَالَ: سَمِعْتُ [[في ت: "وعن".]] الْفُضَيْلَ بْنَ عِيَاضٍ يقول [[في ت: "قال".]] إذا أتاك رجل يَشْكُو إِلَيْكَ رَجُلًا فَقُلْ: "يَا أَخِي، اعْفُ عَنْهُ". فَإِنَّ الْعَفْوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى، فَإِنْ قَالَ: لَا يَحْتَمِلُ قَلْبِي الْعَفْوَ، وَلَكِنْ أَنْتَصِرُ كَمَا أَمَرَنِي اللَّهُ [[في ت: "ربي".]] عَزَّ وَجَلَّ. فَقُلْ لَهُ [[في ت، أ: "قال له الفضيل".]] إِنْ كُنْتُ تُحْسِنُ أَنْ تَنْتَصِرَ وَإِلَّا فَارْجِعْ إِلَى بَابِ الْعَفْوِ، فَإِنَّهُ بَابٌ وَاسِعٌ، فَإِنَّهُ مَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَصَاحِبُ الْعَفْوِ يَنَامُ عَلَى فِرَاشِهِ بِاللَّيْلِ، وَصَاحِبُ الِانْتِصَارِ يُقَلِّبُ الْأُمُورَ [[بعدها: "رواه ابن أبي حاتم".]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ-عَنِ ابْنِ عَجْلان، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، [[في ت: "وروى الإمام أحمد بسنده".]] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ ﷺ جَالِسٌ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ ﷺ يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ ﷺ وَقَامَ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ! قَالَ: "إِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَنْكَ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ حَضَرَ [[في ت، م، أ: "وقع".]] الشَّيْطَانُ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ". ثُمَّ قَالَ: "يَا أَبَا بَكْرٍ، ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ، مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلم بِمَظْلَمَةٍ فَيُغْضِي عَنْهَا لِلَّهِ، إِلَّا أَعَزَّ اللَّهُ بِهَا نَصْرَه، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ يُرِيدُ بِهَا صِلَةً، إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا كَثْرَةً، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً، إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا قِلَّةً"
وَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ -قَالَ: وَرَوَاهُ صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، كِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلان [[المسند (٢/٤٣٦) وسنن أبي داود برقم (٤٨٩٦، ٤٨٩٧) .]] وَرَوَاهُ مِنْ طَرِيقِ اللَّيْثِ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِي، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُحَرِّرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلًا [[سنن أبي داود برقم (٤٨٩٧) .]] .
وَهَذَا الْحَدِيثُ فِي غَايَةِ الْحُسْنِ فِي الْمَعْنَى، وَهُوَ سببُ سَبِّهِ لِلصِّدِّيقِ [[في ت، أ: "وهذا الحديث في غاية الحسن وهو مناسب للصديق"، وفي م: "وَهَذَا الْحَدِيثُ فِي غَايَةِ الْحُسْنِ فِي الْمَعْنَى وهو مناسب للصديق".]] .
وَلَمَنِ ٱنتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِۦ فَأُو۟لَٰٓئِكَ مَا عَلَيْهِم مِّن سَبِيلٍ
And whoever avenges himself after having been wronged - those have not upon them any cause [for blame].
اور جس پر ظلم ہوا ہو اگر وہ اس کے بعد انتقام لے تو ایسے لوگوں پر کچھ الزام نہیں
و کسی که بعد از مظلومشدن یاری طلبد، ایرادی بر او نیست؛
Tafsir Ibn Kathir
The recompense for an evil is an evil like thereof; but whoever forgives and makes reconciliation, his reward is with Allah. Verily, He likes not the wrongdoers (40)And indeed whosoever takes revenge after he has suffered wrong, for such there is no way (of blame) against them (41)The way is only against those who oppress men and rebel in the earth without justification; for such there will be a painful torment (42)And verily, whosoever shows patience and forgives, that would truly be from the things recommended by Allah (43)
Forgiving or exacting Revenge on Wrongdoers
وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ۖ
(The recompense for an evil is an evil like thereof). This is like the Ayat:
فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ
(Then whoever transgresses the prohibition against you, you transgress likewise against him)(2:194), and
وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ ۖ
(And if you punish, then punish them with the like of that with which you were afflicted)(16:126). Justice, has been prescribed, in the form of the prescribed laws of equality in punishment (Al-Qisas), but the better way, which means forgiving, is recommended, as Allah says:
وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ ۚ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ ۚ
(and wounds equal for equal. But if anyone remits the retaliation by way of charity, it shall be for him an expiation)(5:45). Allah says here:
فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۚ
(but whoever forgives and makes reconciliation, his reward is with Allah.) means, that will not be wasted with Allah. As it says in a Sahih Hadith:
وَمَا زَادَ اللهُ تَعَالَىٰ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا
(Allah does not increase the person who forgives except in honor.)"
إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
(Verily, He likes not the wrongdoers.) means, the aggressors, i.e., those who initiate the evil actions.
وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَٰئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ
(And indeed whosoever takes revenge after he has suffered wrong, for such there is no way (of blame) against them.) means, there is no sin on him for taking revenge against the one who wronged him.
إِنَّمَا السَّبِيلُ
(The way) means, the burden of sin,
عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ
(is only against those who oppress men and rebel in the earth without justification;) means, those who initiate wrongful actions against others, as it says in the Sahih Hadith:
الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِىءِ، مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ
(When two persons indulge in abusing each other, the one who initiated the wrongful action is to blame, unless the one who was wronged oversteps the mark in retaliation.)
أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(for such there will be a painful torment.) means, intense and agonizing. It was reported that Muhammad bin Wasi' said, "I came to Makkah and there was a security out post over the trench whose guards took me to Marwan bin Al-Muhallab, who was the governor of Basrah. He said, 'What do you need, O Abu 'Abdullah' I said, 'If you can do it, I need you to be like the brother of Banu 'Adiy.' He said, 'Who is the brother of Banu 'Adiy' He said, 'Al-'Ala' bin Ziyad; he once appointed a friend of his to a position of authority, and he wrote to him: If you can, only go to sleep after you make sure that there is nothing on your back [i.e., you do not owe anything to anyone], your stomach is empty and your hands are untainted by the blood or wealth of the Muslims. If you do that, then there will be no way (of blame) against you –
إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(The way is only against those who oppress men and rebel in the earth without justification; for such there will be a painful torment.)' Marwan said, 'He spoke the truth, by Allah, and gave sincere advice. ' Then he said, 'What do you need, O Abu 'Abdullah' I said, 'I need you to let me join my family.' He said, 'Yes [I will do that].'" This was recorded by Ibn Abi Hatim. When Allah condemned wrongdoing and the people who do it, and prescribed Al-Qisas, He encouraged forgiveness:
وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ
(And verily, whosoever shows patience and forgives,) meaning, whoever bears the insult with patience and conceals the evil action,
إِنَّ ذَٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ
(that would truly be from the things recommended by Allah.) Sa'id bin Jubayr said, "This means, one of the things enjoined by Allah," i.e., good actions for which there will be a great reward and much praise.
Tafsir Ibn Kathir
ارشاد ہوتا ہے کہ برائی کا بدلہ لینا جائز ہے۔ جیسے فرمایا آیت (فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ01904) 2۔ البقرة :194) اور آیت میں ہے (وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ01206) 16۔ النحل :126) یعنی خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے پھر اسے معاف کر دے تو وہ اس کے لئے کفارہ ہوجائے گا۔ یہاں بھی فرمایا جو شخص معاف کر دے اور صلح و صفائی کرلے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ حدیث میں ہے درگذر کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت اور بڑھا دیتا ہے لیکن جو بدلے میں اصل جرم سے بڑھ جائے وہ اللہ کا دشمن ہے۔ پھر برائی کی ابتدا اسی کی طرف سے سمجھی جائے گی پھر فرماتا ہے جس پر ظلم ہو اسے بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ ابن عون فرماتے ہیں، میں اس لفظ (انتصر) کی تفسیر کی طلب میں تھا تو مجھ سے علی بن زید بن جدعان نے بروایت اپنی والدہ ام محمد کے جو حضرت عائشہ کے پاس جایا کرتی تھیں بیان کیا کہ حضرت عائشہ کے ہاں حضور ﷺ گئے اس وقت حضرت زینب وہاں موجود تھیں آپ کو معلوم نہ تھا صدیقہ کی طرف جب آپ نے ہاتھ بڑھایا تو صدیقہ نے اشارے سے بتایا اس وقت آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ حضرت زینب نے صدیقہ کو برا بھلا کہنا شروع کیا۔ حضور ﷺ کی ممانعت پر بھی خاموش نہ ہوئیں آپ نے حضرت عائشہ کو اجازت دی کہ جواب دیں۔ اب جو جواب ہوا تو حضرت زینب عاجز آگئیں اور سیدھی حضرت علی کے پاس گئیں اور کہا عائشہ تمہیں یوں یوں کہتی ہیں اور ایسا ایسا کرتی ہیں یہ سن کر حضرت فاطمہ حاضر حضور ہوئیں آپ نے ان سے فرمایا قسم رب کعبہ کی ! عائشہ سے میں محبت رکھتا ہوں یہ تو اسی وقت واپس چلی گئیں۔ اور حضرت علی سے سارا واقعہ کہہ سنایا پھر حضرت علی آئے اور آپ سے باتیں کیں۔ یہ روایت ابن جریر میں اسی طرح ہے لیکن اس کے راوی اپنی روایتوں میں عموما منکر حدیثیں لایا کرتے ہیں اور یہ روایت بھی منکر ہے نسائی اور ابن ماجہ میں اس طرح ہے کہ حضرت زینب غصہ میں بھری ہوئی بلا اطلاع حضرت عائشہ کے گھر چلی آئیں اور حضور ﷺ سے حضرت صدیقہ کی نسبت کچھ کہا پھر حضرت عائشہ سے لڑنے لگیں لیکن مائی صاحبہ نے خاموشی اختیار کی جب وہ بہت کہہ چکیں تو آپ نے عائشہ سے فرمایا تو اپنا بدلہ لے لے پھر جو صدیقہ نے جواب دینے شروع کئے تو حضرت زینب کا تھوک خشک ہوگیا۔ کوئی جواب نہ دے سکیں اور حضور ﷺ کے چہرے سے وہ صدمہ ہٹ گیا۔ حاصل یہ ہے کہ مظلوم ظالم کو جواب دے اور اپنا بدلہ لے لے۔ بزار میں ہے ظالم کے لئے جس نے بد دعا کی اس نے بدلہ لے لیا۔ یہی حدیث ترمذی میں ہے لیکن اس کے ایک راوی میں کچھ کلام ہے پھر فرماتا ہے حرج و گناہ ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کریں اور زمین میں بلا وجہ شرو فساد کریں۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے دو برا کہنے والے جو کچھ کہیں سب کا بوجھ شروع کرنے والے پر ہے جب کہ مظلوم بدلے کی حد سے آگے نہ نکل جائے ایسے فسادی قیامت کے دن دردناک عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے حضرت محمد بن واسع فرماتے ہیں میں مکہ جانے لگا تو دیکھا کہ خندق پر پل بنا ہوا ہے میں ابھی وہیں تھا جو گرفتار کرلیا گیا اور امیر بصرہ مروان بن مہلب کے پاس پہنچا دیا گیا اس نے مجھ سے کہا ابو عبداللہ تم کیا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا یہی کہ اگر تم سے ہو سکے تو بنو عدی کے بھائی جیسے بن جاؤ پوچھا وہ کون ہے ؟ کہا علا بن زیاد کہ اپنے ایک دوست کو ایک مرتبہ کسی صیغہ پر عامل بنایا تو انہوں نے اسے لکھا کہ حمد و صلوۃ کے بعد اگر تجھ سے ہو سکے تو یہ کرنا کہ تیری کمر بوجھ سے خالی رہے تیرا پیٹ حرام سے بچ جائے تیرے ہاتھ مسلمانوں کے خون ومال سے آلودہ نہ ہوں تو جب یہ کرے گا تو تجھ پر کوئی گناہ کی راہ باقی نہ رہے گی یہ راہ تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کریں اور بےوجہ ناحق زمین میں فساد پھیلائیں۔ مروان نے کہا اللہ جانتا ہے اس نے سچ کہا اور خیر خواہی کی بات کہی۔ اچھا اب کیا آرزو ہے ؟ فرمایا یہی کہ تم مجھے میرے گھر پہنچا دو مروان نے کہا بہت اچھا۔ (ابن ابی حاتم) پس ظلم و اہل ظلم کی مذمت بیان کر کے بدلے کی اجازت دے کر اب افضلیت کی طرف رغبت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ جو ایذاء برداشت کرلے اور برائی سے درگذر کرلے اس نے بڑی بہادری سے کام کیا جس پر وہ بڑے ثواب اور پورے بدلے کا مستحق ہے۔ حضرت فضیل بن عیاض کا فرمان ہے کہ جب تم سے آکر کوئی شخص کسی اور کی شکایت کرے تو اسے تلقین کرو کہ بھائی معاف کردو معافی میں ہی بہتری ہے اور یہی پرہیزگاری کا ثبوت ہے اگر وہ نہ مانے اور اپنے دل کی کمزوری کا اظہار کرے تو خیر کہہ دو کہ جاؤ بدلہ لے لو لیکن اس صورت میں کہ پھر کہیں تم بڑھ نہ جاؤ ورنہ ہم تو اب بھی یہی کہیں ورنہ ہم تو اب بھی یہی کہیں گے کہ معاف کردو یہ دروازہ بہت وسعت والا ہے اور بدلے کی راہ بہت تنگ ہے سنو معاف کردینے والا تو آرام سے میٹھی نیند سو جاتا ہے اور بدلے کی دھن والا دن رات متفکر رہتا ہے۔ اور توڑ جوڑ سوچتا ہے۔ مسند امام احمد میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابوبکر صدیق کو برا بھلا کہنا شروع کیا حضور ﷺ بھی وہیں تشریف فرما تھے آپ تعجب کے ساتھ مسکرانے لگے حضرت صدیق خاموش تھے لیکن جب کہ اس نے بہت گالیاں دیں تو آپ نے بھی بعض کا جواب دیا۔ اس پر حضور ﷺ ناراض ہو کر وہاں سے چل دئیے۔ حضرت ابوبکر سے رہا نہ گیا آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ وہ مجھے برا بھلا کہتا رہا تو آپ بیٹھے سنتے رہے اور جب میں نے اس کی دو ایک باتوں کا جواب دیا تو آپ ناراض ہو کر اٹھ کے چلے ؟ آپ نے فرمایا سنو جب تک تم خاموش تھے فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دیتا تھا جب تم آپ بولے تو فرشتہ ہٹ گیا اور شیطان بیچ میں آگیا پھر بھلا میں شیطان کی موجودگی میں وہاں کیسے بیٹھا رہتا ؟ پھر فرمایا سنو ابوبکر تین چیزیں بالکل حق ہیں 001 جس پر کوئی ظلم کیا جائے اور وہ اس سے چشم پوشی کرلے تو ضرور اللہ اسے عزت دے گا اور اس کی مدد کرے گا 002 جو شخص سلوک اور احسان کا دروازہ کھولے گا اور صلہ رحمی کے ارادے سے لوگوں کو دیتا رہے گا اللہ اسے برکت دے گا اور زیادتی عطا فرمائے گا 003 اور جو شخص مال بڑھانے کے لئے سوال کا دروازہ کھول لے گا اور دوسروں سے مانگتا پھرے گا اللہ اس کے ہاں بےبرکتی کر دے گا اور کمی میں ہی وہ مبتلا رہے گا یہ روایت ابو داؤد میں بھی ہے اور مضمون کے اعتبار سے یہ بڑی پیاری حدیث ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ﴾ [البقرة:١٩٤] وَكَقَوْلِهِ [[في ت: "وقوله".]] ﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ﴾ [النَّحْلِ:١٢٩] فَشَرَعَ الْعَدْلَ وَهُوَ الْقَصَاصُ، وَنَدَبَ إِلَى الْفَضْلِ وَهُوَ الْعَفْوُ، كَقَوْلِهِ [تَعَالَى] [[زيادة من ت.]] ﴿وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ﴾ [الْمَائِدَةِ:٤٥] ؛ وَلِهَذَا قَالَ هَاهُنَا: ﴿فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ﴾ أَيْ: لَا يَضِيعُ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ كَمَا صَحَّ فِي الْحَدِيثِ: "وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا" وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ﴾ أَيِ: الْمُعْتَدِينَ، وَهُوَ الْمُبْتَدِئُ بِالسَّيِّئَةِ.
[وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَمَّا كَانَتِ الْأَقْسَامُ ثَلَاثَةً: ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ، وَمُقْتَصِدٌ، وَسَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ، ذَكَرَ الْأَقْسَامَ الثَّلَاثَةَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ فَذَكَرَ الْمُقْتَصِدَ وَهُوَ الَّذِي يُفِيضُ بِقَدْرِ حَقِّهِ لِقَوْلِهِ: ﴿وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا﴾ ، ثُمَّ ذَكَرَ السَّابِقَ بِقَوْلِهِ: ﴿فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ﴾ ثُمَّ ذَكَرَ الظَّالِمَ بِقَوْلِهِ: ﴿إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ﴾ فَأَمَرَ بِالْعَدْلِ،وَنَدَبَ إِلَى الْفَضْلِ، وَنَهَى مِنَ الظُّلْمِ] [[زيادة من ت، أ.]] .
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ﴾ أَيْ: لَيْسَ عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ فِي الِانْتِصَارِ مِمَّنْ ظَلَمَهُمْ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ [[في ت: "وروى ابن جرير".]] حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزيع [[في أ: "سويع".]] حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا [[في ت: "عن".]] ابْنُ عَوْن قَالَ: كُنْتُ أَسْأَلُ عَنِ الِانْتِصَارِ: ﴿وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ﴾ فَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ [[في ت: "يزيد".]] بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ -امْرَأَةِ أَبِيهِ-قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: زَعَمُوا أَنَّهَا كَانَتْ تَدْخُلُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ [[في ت: "عائشة رضي الله عنها".]] -قَالَتْ: قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَعِنْدَنَا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ، فَجَعَلَ يَصْنَعُ بِيَدِهِ شَيْئًا فَلَمْ يَفْطِن لَهَا، فَقُلْتُ بِيَدِهِ حَتَّى [[في أ: "فقلت له حتى".]] فَطَّنته لَهَا، فَأَمْسَكَ. وَأَقْبَلَتْ زَيْنَبُ تُقْحِمُ لِعَائِشَةَ، فَنَهَاهَا، فَأَبَتْ أَنْ تَنْتَهِيَ. فَقَالَ لِعَائِشَةَ: "سُبّيها" فَسَبَّتْهَا فَغَلَبَتْهَا، وَانْطَلَقَتْ زَيْنَبُ فَأَتَتْ عَلِيًّا فَقَالَتْ: إِنَّ عَائِشَةَ تَقَعُ بِكُمْ، وَتَفْعَلُ بِكُمْ. فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ فَقَالَ [[في ت: "فقالت".]] لَهَا "إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ" فَانْصَرَفَتْ، وَقَالَتْ لِعَلِيٍّ: إِنِّي قُلْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لِي كَذَا وَكَذَا. قَالَ: وَجَاءَ عَلِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَكَلَّمَهُ فِي ذَلِكَ [[تفسير الطبري (٢٥/٢٤) .]] .
هَكَذَا وَرَدَ هَذَا السِّيَاقُ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ يَأْتِي فِي رِوَايَاتِهِ بِالْمُنْكَرَاتِ غَالِبًا، وَهَذَا فِيهِ نَكَارَةٌ، وَالْحَدِيثُ الصَّحِيحُ خِلَافُ هَذَا السِّيَاقِ، كَمَا رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ الْفَأْفَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ البَهِيّ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: مَا علمتُ حَتَّى دَخَلَتْ عليَّ زَيْنَبُ بِغَيْرِ إِذَنٍ وَهِيَ غَضْبَى، ثُمَّ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ: حَسْبُكَ إِذَا قَلَبَتْ لَكَ ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ ذُرَيّعَتَيهَا ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيَّ فَأَعْرَضْتُ عَنْهَا، حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: "دُونَكِ فَانْتَصِرِي" فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا وَقَدْ يَبِسَ رِيقُهَا فِي فَمِهَا، مَا [[في م: "لم".]] تَرُدُّ عَلَيَّ شَيْئًا. فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم يتهلل وجهه. وهذا لفظ النَّسَائِيِّ [[النسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٧٦) وسنن ابن ماجه برقم (١٩٨١) قال البوصيري في الزوائد (٢/١١٥) : "هذا إسناد صحيح على شرط مسلم".]] .
وَقَالَ الْبَزَّارُ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ [[في ت: "وروى البزار بسنده".]] ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ دَعَا عَلَى مَنْ ظَلَمَهُ فَقَدِ انْتَصَرَ".
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ -وَاسْمُهُ مَيْمُونٌ-ثُمَّ قَالَ: "لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ، وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ" [[سنن الترمذي برقم (٣٥٥٢) ورواه ابن أبي شيبة في المصنف (١٠/٣٤٧) وابن عدي في الكامل (٦/٤١٢) من طريق أبي الأحوص به، وقال ابن عدي: "لا أعلم من يرويه عن أبي حمزة غير أبي الأحوص".]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّمَا السَّبِيلُ﴾ أَيْ: إِنَّمَا الْحَرَجُ وَالْعَنَتُ ﴿عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الأرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ﴾ أَيْ: يَبْدَؤُونَ النَّاسَ بِالظُّلْمِ. كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ: "الْمُسْتَبَّانُ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَد الْمَظْلُومُ".
﴿أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ أَيْ: شَدِيدٌ مُوجِعٌ.
قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ -أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ-حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ، حَدَّثَنَا [[في ت: "عن".]] مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ فَإِذَا عَلَى الْخَنْدَقِ مَنْظَرَة، فَأُخِذْتُ فَانْطُلِقَ بِي إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْمُهَلَّبِ، وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْبَصْرَةِ، فَقَالَ: حَاجَتَكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ. قُلْتُ حَاجَتِي إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ كَمَا قَالَ أَخُو بَنِي عَدِيٍّ. قَالَ: وَمَنْ أَخُو بَنِي عَدِيٍّ؟ قَالَ: الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ، اسْتَعْمَلَ صَدِيقًا لَهُ مَرَّةً عَلَى عَمَلٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَلَّا تَبِيتَ إِلَّا وَظَهْرُكَ خَفِيفٌ، وَبَطْنُكَ خَمِيصٌ، وَكَفُّكَ نَقِيَّةٌ مِنْ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ [[في أ: "قبلت".]] ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ سَبِيلٌ، ﴿إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الأرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ فَقَالَ [[في ت، أ: "فقال مروان".]] صَدَقَ وَاللَّهِ وَنَصَحَ ثُمَّ قَالَ: مَا حَاجَتُكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟ قُلْتُ: حَاجَتِي أَنْ تُلْحِقَنِي بِأَهْلِي. قَالَ: نَعَمْ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ [[المصنف لابن أبي شيبة (١٤/٦٣) .]] .
ثُمَّ إِنَّهُ تَعَالَى لَمَّا ذَمَّ الظُّلْمَ وَأَهْلَهُ وَشَرَّعَ الْقَصَاصَ، قَالَ نَادِبًا إِلَى الْعَفْوِ وَالصَّفْحِ: ﴿وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ﴾ أَيْ: صَبَرَ عَلَى الْأَذَى وَسَتَرَ السَّيِّئَةَ، ﴿إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الأمُورِ﴾
قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: [يَعْنِي] [[زيادة من أ.]] لَمِنْ حَقِّ الْأُمُورِ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا، أَيْ: لَمِنَ الْأُمُورِ الْمَشْكُورَةِ وَالْأَفْعَالِ الْحَمِيدَةِ [[في ت: "المحمودة".]] الَّتِي عَلَيْهَا ثَوَابٌ جَزِيلٌ وَثَنَاءٌ جَمِيلٌ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الطَّرْسُوسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ يَزِيدَ -خَادِمُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ-قَالَ: سَمِعْتُ [[في ت: "وعن".]] الْفُضَيْلَ بْنَ عِيَاضٍ يقول [[في ت: "قال".]] إذا أتاك رجل يَشْكُو إِلَيْكَ رَجُلًا فَقُلْ: "يَا أَخِي، اعْفُ عَنْهُ". فَإِنَّ الْعَفْوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى، فَإِنْ قَالَ: لَا يَحْتَمِلُ قَلْبِي الْعَفْوَ، وَلَكِنْ أَنْتَصِرُ كَمَا أَمَرَنِي اللَّهُ [[في ت: "ربي".]] عَزَّ وَجَلَّ. فَقُلْ لَهُ [[في ت، أ: "قال له الفضيل".]] إِنْ كُنْتُ تُحْسِنُ أَنْ تَنْتَصِرَ وَإِلَّا فَارْجِعْ إِلَى بَابِ الْعَفْوِ، فَإِنَّهُ بَابٌ وَاسِعٌ، فَإِنَّهُ مَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَصَاحِبُ الْعَفْوِ يَنَامُ عَلَى فِرَاشِهِ بِاللَّيْلِ، وَصَاحِبُ الِانْتِصَارِ يُقَلِّبُ الْأُمُورَ [[بعدها: "رواه ابن أبي حاتم".]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ-عَنِ ابْنِ عَجْلان، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، [[في ت: "وروى الإمام أحمد بسنده".]] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ ﷺ جَالِسٌ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ ﷺ يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ ﷺ وَقَامَ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ! قَالَ: "إِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَنْكَ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ حَضَرَ [[في ت، م، أ: "وقع".]] الشَّيْطَانُ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ". ثُمَّ قَالَ: "يَا أَبَا بَكْرٍ، ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ، مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلم بِمَظْلَمَةٍ فَيُغْضِي عَنْهَا لِلَّهِ، إِلَّا أَعَزَّ اللَّهُ بِهَا نَصْرَه، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ يُرِيدُ بِهَا صِلَةً، إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا كَثْرَةً، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً، إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا قِلَّةً"
وَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ -قَالَ: وَرَوَاهُ صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، كِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلان [[المسند (٢/٤٣٦) وسنن أبي داود برقم (٤٨٩٦، ٤٨٩٧) .]] وَرَوَاهُ مِنْ طَرِيقِ اللَّيْثِ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِي، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُحَرِّرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلًا [[سنن أبي داود برقم (٤٨٩٧) .]] .
وَهَذَا الْحَدِيثُ فِي غَايَةِ الْحُسْنِ فِي الْمَعْنَى، وَهُوَ سببُ سَبِّهِ لِلصِّدِّيقِ [[في ت، أ: "وهذا الحديث في غاية الحسن وهو مناسب للصديق"، وفي م: "وَهَذَا الْحَدِيثُ فِي غَايَةِ الْحُسْنِ فِي الْمَعْنَى وهو مناسب للصديق".]] .
إِنَّمَا ٱلسَّبِيلُ عَلَى ٱلَّذِينَ يَظْلِمُونَ ٱلنَّاسَ وَيَبْغُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ
The cause is only against the ones who wrong the people and tyrannize upon the earth without right. Those will have a painful punishment.
الزام تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کو تکلیف دینے والا عذاب ہوگا
ایراد و مجازات بر کسانی است که به مردم ستم میکنند و در زمین بناحق ظلم روا میدارند؛ برای آنان عذاب دردناکی است!
Tafsir Ibn Kathir
The recompense for an evil is an evil like thereof; but whoever forgives and makes reconciliation, his reward is with Allah. Verily, He likes not the wrongdoers (40)And indeed whosoever takes revenge after he has suffered wrong, for such there is no way (of blame) against them (41)The way is only against those who oppress men and rebel in the earth without justification; for such there will be a painful torment (42)And verily, whosoever shows patience and forgives, that would truly be from the things recommended by Allah (43)
Forgiving or exacting Revenge on Wrongdoers
وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ۖ
(The recompense for an evil is an evil like thereof). This is like the Ayat:
فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ
(Then whoever transgresses the prohibition against you, you transgress likewise against him)(2:194), and
وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ ۖ
(And if you punish, then punish them with the like of that with which you were afflicted)(16:126). Justice, has been prescribed, in the form of the prescribed laws of equality in punishment (Al-Qisas), but the better way, which means forgiving, is recommended, as Allah says:
وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ ۚ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ ۚ
(and wounds equal for equal. But if anyone remits the retaliation by way of charity, it shall be for him an expiation)(5:45). Allah says here:
فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۚ
(but whoever forgives and makes reconciliation, his reward is with Allah.) means, that will not be wasted with Allah. As it says in a Sahih Hadith:
وَمَا زَادَ اللهُ تَعَالَىٰ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا
(Allah does not increase the person who forgives except in honor.)"
إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
(Verily, He likes not the wrongdoers.) means, the aggressors, i.e., those who initiate the evil actions.
وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَٰئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ
(And indeed whosoever takes revenge after he has suffered wrong, for such there is no way (of blame) against them.) means, there is no sin on him for taking revenge against the one who wronged him.
إِنَّمَا السَّبِيلُ
(The way) means, the burden of sin,
عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ
(is only against those who oppress men and rebel in the earth without justification;) means, those who initiate wrongful actions against others, as it says in the Sahih Hadith:
الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِىءِ، مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ
(When two persons indulge in abusing each other, the one who initiated the wrongful action is to blame, unless the one who was wronged oversteps the mark in retaliation.)
أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(for such there will be a painful torment.) means, intense and agonizing. It was reported that Muhammad bin Wasi' said, "I came to Makkah and there was a security out post over the trench whose guards took me to Marwan bin Al-Muhallab, who was the governor of Basrah. He said, 'What do you need, O Abu 'Abdullah' I said, 'If you can do it, I need you to be like the brother of Banu 'Adiy.' He said, 'Who is the brother of Banu 'Adiy' He said, 'Al-'Ala' bin Ziyad; he once appointed a friend of his to a position of authority, and he wrote to him: If you can, only go to sleep after you make sure that there is nothing on your back [i.e., you do not owe anything to anyone], your stomach is empty and your hands are untainted by the blood or wealth of the Muslims. If you do that, then there will be no way (of blame) against you –
إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(The way is only against those who oppress men and rebel in the earth without justification; for such there will be a painful torment.)' Marwan said, 'He spoke the truth, by Allah, and gave sincere advice. ' Then he said, 'What do you need, O Abu 'Abdullah' I said, 'I need you to let me join my family.' He said, 'Yes [I will do that].'" This was recorded by Ibn Abi Hatim. When Allah condemned wrongdoing and the people who do it, and prescribed Al-Qisas, He encouraged forgiveness:
وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ
(And verily, whosoever shows patience and forgives,) meaning, whoever bears the insult with patience and conceals the evil action,
إِنَّ ذَٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ
(that would truly be from the things recommended by Allah.) Sa'id bin Jubayr said, "This means, one of the things enjoined by Allah," i.e., good actions for which there will be a great reward and much praise.
Tafsir Ibn Kathir
ارشاد ہوتا ہے کہ برائی کا بدلہ لینا جائز ہے۔ جیسے فرمایا آیت (فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ01904) 2۔ البقرة :194) اور آیت میں ہے (وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ01206) 16۔ النحل :126) یعنی خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے پھر اسے معاف کر دے تو وہ اس کے لئے کفارہ ہوجائے گا۔ یہاں بھی فرمایا جو شخص معاف کر دے اور صلح و صفائی کرلے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ حدیث میں ہے درگذر کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت اور بڑھا دیتا ہے لیکن جو بدلے میں اصل جرم سے بڑھ جائے وہ اللہ کا دشمن ہے۔ پھر برائی کی ابتدا اسی کی طرف سے سمجھی جائے گی پھر فرماتا ہے جس پر ظلم ہو اسے بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ ابن عون فرماتے ہیں، میں اس لفظ (انتصر) کی تفسیر کی طلب میں تھا تو مجھ سے علی بن زید بن جدعان نے بروایت اپنی والدہ ام محمد کے جو حضرت عائشہ کے پاس جایا کرتی تھیں بیان کیا کہ حضرت عائشہ کے ہاں حضور ﷺ گئے اس وقت حضرت زینب وہاں موجود تھیں آپ کو معلوم نہ تھا صدیقہ کی طرف جب آپ نے ہاتھ بڑھایا تو صدیقہ نے اشارے سے بتایا اس وقت آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ حضرت زینب نے صدیقہ کو برا بھلا کہنا شروع کیا۔ حضور ﷺ کی ممانعت پر بھی خاموش نہ ہوئیں آپ نے حضرت عائشہ کو اجازت دی کہ جواب دیں۔ اب جو جواب ہوا تو حضرت زینب عاجز آگئیں اور سیدھی حضرت علی کے پاس گئیں اور کہا عائشہ تمہیں یوں یوں کہتی ہیں اور ایسا ایسا کرتی ہیں یہ سن کر حضرت فاطمہ حاضر حضور ہوئیں آپ نے ان سے فرمایا قسم رب کعبہ کی ! عائشہ سے میں محبت رکھتا ہوں یہ تو اسی وقت واپس چلی گئیں۔ اور حضرت علی سے سارا واقعہ کہہ سنایا پھر حضرت علی آئے اور آپ سے باتیں کیں۔ یہ روایت ابن جریر میں اسی طرح ہے لیکن اس کے راوی اپنی روایتوں میں عموما منکر حدیثیں لایا کرتے ہیں اور یہ روایت بھی منکر ہے نسائی اور ابن ماجہ میں اس طرح ہے کہ حضرت زینب غصہ میں بھری ہوئی بلا اطلاع حضرت عائشہ کے گھر چلی آئیں اور حضور ﷺ سے حضرت صدیقہ کی نسبت کچھ کہا پھر حضرت عائشہ سے لڑنے لگیں لیکن مائی صاحبہ نے خاموشی اختیار کی جب وہ بہت کہہ چکیں تو آپ نے عائشہ سے فرمایا تو اپنا بدلہ لے لے پھر جو صدیقہ نے جواب دینے شروع کئے تو حضرت زینب کا تھوک خشک ہوگیا۔ کوئی جواب نہ دے سکیں اور حضور ﷺ کے چہرے سے وہ صدمہ ہٹ گیا۔ حاصل یہ ہے کہ مظلوم ظالم کو جواب دے اور اپنا بدلہ لے لے۔ بزار میں ہے ظالم کے لئے جس نے بد دعا کی اس نے بدلہ لے لیا۔ یہی حدیث ترمذی میں ہے لیکن اس کے ایک راوی میں کچھ کلام ہے پھر فرماتا ہے حرج و گناہ ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کریں اور زمین میں بلا وجہ شرو فساد کریں۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے دو برا کہنے والے جو کچھ کہیں سب کا بوجھ شروع کرنے والے پر ہے جب کہ مظلوم بدلے کی حد سے آگے نہ نکل جائے ایسے فسادی قیامت کے دن دردناک عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے حضرت محمد بن واسع فرماتے ہیں میں مکہ جانے لگا تو دیکھا کہ خندق پر پل بنا ہوا ہے میں ابھی وہیں تھا جو گرفتار کرلیا گیا اور امیر بصرہ مروان بن مہلب کے پاس پہنچا دیا گیا اس نے مجھ سے کہا ابو عبداللہ تم کیا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا یہی کہ اگر تم سے ہو سکے تو بنو عدی کے بھائی جیسے بن جاؤ پوچھا وہ کون ہے ؟ کہا علا بن زیاد کہ اپنے ایک دوست کو ایک مرتبہ کسی صیغہ پر عامل بنایا تو انہوں نے اسے لکھا کہ حمد و صلوۃ کے بعد اگر تجھ سے ہو سکے تو یہ کرنا کہ تیری کمر بوجھ سے خالی رہے تیرا پیٹ حرام سے بچ جائے تیرے ہاتھ مسلمانوں کے خون ومال سے آلودہ نہ ہوں تو جب یہ کرے گا تو تجھ پر کوئی گناہ کی راہ باقی نہ رہے گی یہ راہ تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کریں اور بےوجہ ناحق زمین میں فساد پھیلائیں۔ مروان نے کہا اللہ جانتا ہے اس نے سچ کہا اور خیر خواہی کی بات کہی۔ اچھا اب کیا آرزو ہے ؟ فرمایا یہی کہ تم مجھے میرے گھر پہنچا دو مروان نے کہا بہت اچھا۔ (ابن ابی حاتم) پس ظلم و اہل ظلم کی مذمت بیان کر کے بدلے کی اجازت دے کر اب افضلیت کی طرف رغبت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ جو ایذاء برداشت کرلے اور برائی سے درگذر کرلے اس نے بڑی بہادری سے کام کیا جس پر وہ بڑے ثواب اور پورے بدلے کا مستحق ہے۔ حضرت فضیل بن عیاض کا فرمان ہے کہ جب تم سے آکر کوئی شخص کسی اور کی شکایت کرے تو اسے تلقین کرو کہ بھائی معاف کردو معافی میں ہی بہتری ہے اور یہی پرہیزگاری کا ثبوت ہے اگر وہ نہ مانے اور اپنے دل کی کمزوری کا اظہار کرے تو خیر کہہ دو کہ جاؤ بدلہ لے لو لیکن اس صورت میں کہ پھر کہیں تم بڑھ نہ جاؤ ورنہ ہم تو اب بھی یہی کہیں ورنہ ہم تو اب بھی یہی کہیں گے کہ معاف کردو یہ دروازہ بہت وسعت والا ہے اور بدلے کی راہ بہت تنگ ہے سنو معاف کردینے والا تو آرام سے میٹھی نیند سو جاتا ہے اور بدلے کی دھن والا دن رات متفکر رہتا ہے۔ اور توڑ جوڑ سوچتا ہے۔ مسند امام احمد میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابوبکر صدیق کو برا بھلا کہنا شروع کیا حضور ﷺ بھی وہیں تشریف فرما تھے آپ تعجب کے ساتھ مسکرانے لگے حضرت صدیق خاموش تھے لیکن جب کہ اس نے بہت گالیاں دیں تو آپ نے بھی بعض کا جواب دیا۔ اس پر حضور ﷺ ناراض ہو کر وہاں سے چل دئیے۔ حضرت ابوبکر سے رہا نہ گیا آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ وہ مجھے برا بھلا کہتا رہا تو آپ بیٹھے سنتے رہے اور جب میں نے اس کی دو ایک باتوں کا جواب دیا تو آپ ناراض ہو کر اٹھ کے چلے ؟ آپ نے فرمایا سنو جب تک تم خاموش تھے فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دیتا تھا جب تم آپ بولے تو فرشتہ ہٹ گیا اور شیطان بیچ میں آگیا پھر بھلا میں شیطان کی موجودگی میں وہاں کیسے بیٹھا رہتا ؟ پھر فرمایا سنو ابوبکر تین چیزیں بالکل حق ہیں 001 جس پر کوئی ظلم کیا جائے اور وہ اس سے چشم پوشی کرلے تو ضرور اللہ اسے عزت دے گا اور اس کی مدد کرے گا 002 جو شخص سلوک اور احسان کا دروازہ کھولے گا اور صلہ رحمی کے ارادے سے لوگوں کو دیتا رہے گا اللہ اسے برکت دے گا اور زیادتی عطا فرمائے گا 003 اور جو شخص مال بڑھانے کے لئے سوال کا دروازہ کھول لے گا اور دوسروں سے مانگتا پھرے گا اللہ اس کے ہاں بےبرکتی کر دے گا اور کمی میں ہی وہ مبتلا رہے گا یہ روایت ابو داؤد میں بھی ہے اور مضمون کے اعتبار سے یہ بڑی پیاری حدیث ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ﴾ [البقرة:١٩٤] وَكَقَوْلِهِ [[في ت: "وقوله".]] ﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ﴾ [النَّحْلِ:١٢٩] فَشَرَعَ الْعَدْلَ وَهُوَ الْقَصَاصُ، وَنَدَبَ إِلَى الْفَضْلِ وَهُوَ الْعَفْوُ، كَقَوْلِهِ [تَعَالَى] [[زيادة من ت.]] ﴿وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ﴾ [الْمَائِدَةِ:٤٥] ؛ وَلِهَذَا قَالَ هَاهُنَا: ﴿فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ﴾ أَيْ: لَا يَضِيعُ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ كَمَا صَحَّ فِي الْحَدِيثِ: "وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا" وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ﴾ أَيِ: الْمُعْتَدِينَ، وَهُوَ الْمُبْتَدِئُ بِالسَّيِّئَةِ.
[وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَمَّا كَانَتِ الْأَقْسَامُ ثَلَاثَةً: ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ، وَمُقْتَصِدٌ، وَسَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ، ذَكَرَ الْأَقْسَامَ الثَّلَاثَةَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ فَذَكَرَ الْمُقْتَصِدَ وَهُوَ الَّذِي يُفِيضُ بِقَدْرِ حَقِّهِ لِقَوْلِهِ: ﴿وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا﴾ ، ثُمَّ ذَكَرَ السَّابِقَ بِقَوْلِهِ: ﴿فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ﴾ ثُمَّ ذَكَرَ الظَّالِمَ بِقَوْلِهِ: ﴿إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ﴾ فَأَمَرَ بِالْعَدْلِ،وَنَدَبَ إِلَى الْفَضْلِ، وَنَهَى مِنَ الظُّلْمِ] [[زيادة من ت، أ.]] .
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ﴾ أَيْ: لَيْسَ عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ فِي الِانْتِصَارِ مِمَّنْ ظَلَمَهُمْ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ [[في ت: "وروى ابن جرير".]] حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزيع [[في أ: "سويع".]] حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا [[في ت: "عن".]] ابْنُ عَوْن قَالَ: كُنْتُ أَسْأَلُ عَنِ الِانْتِصَارِ: ﴿وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ﴾ فَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ [[في ت: "يزيد".]] بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ -امْرَأَةِ أَبِيهِ-قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: زَعَمُوا أَنَّهَا كَانَتْ تَدْخُلُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ [[في ت: "عائشة رضي الله عنها".]] -قَالَتْ: قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَعِنْدَنَا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ، فَجَعَلَ يَصْنَعُ بِيَدِهِ شَيْئًا فَلَمْ يَفْطِن لَهَا، فَقُلْتُ بِيَدِهِ حَتَّى [[في أ: "فقلت له حتى".]] فَطَّنته لَهَا، فَأَمْسَكَ. وَأَقْبَلَتْ زَيْنَبُ تُقْحِمُ لِعَائِشَةَ، فَنَهَاهَا، فَأَبَتْ أَنْ تَنْتَهِيَ. فَقَالَ لِعَائِشَةَ: "سُبّيها" فَسَبَّتْهَا فَغَلَبَتْهَا، وَانْطَلَقَتْ زَيْنَبُ فَأَتَتْ عَلِيًّا فَقَالَتْ: إِنَّ عَائِشَةَ تَقَعُ بِكُمْ، وَتَفْعَلُ بِكُمْ. فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ فَقَالَ [[في ت: "فقالت".]] لَهَا "إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ" فَانْصَرَفَتْ، وَقَالَتْ لِعَلِيٍّ: إِنِّي قُلْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لِي كَذَا وَكَذَا. قَالَ: وَجَاءَ عَلِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَكَلَّمَهُ فِي ذَلِكَ [[تفسير الطبري (٢٥/٢٤) .]] .
هَكَذَا وَرَدَ هَذَا السِّيَاقُ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ يَأْتِي فِي رِوَايَاتِهِ بِالْمُنْكَرَاتِ غَالِبًا، وَهَذَا فِيهِ نَكَارَةٌ، وَالْحَدِيثُ الصَّحِيحُ خِلَافُ هَذَا السِّيَاقِ، كَمَا رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ الْفَأْفَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ البَهِيّ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: مَا علمتُ حَتَّى دَخَلَتْ عليَّ زَيْنَبُ بِغَيْرِ إِذَنٍ وَهِيَ غَضْبَى، ثُمَّ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ: حَسْبُكَ إِذَا قَلَبَتْ لَكَ ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ ذُرَيّعَتَيهَا ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيَّ فَأَعْرَضْتُ عَنْهَا، حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: "دُونَكِ فَانْتَصِرِي" فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا وَقَدْ يَبِسَ رِيقُهَا فِي فَمِهَا، مَا [[في م: "لم".]] تَرُدُّ عَلَيَّ شَيْئًا. فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم يتهلل وجهه. وهذا لفظ النَّسَائِيِّ [[النسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٧٦) وسنن ابن ماجه برقم (١٩٨١) قال البوصيري في الزوائد (٢/١١٥) : "هذا إسناد صحيح على شرط مسلم".]] .
وَقَالَ الْبَزَّارُ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ [[في ت: "وروى البزار بسنده".]] ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ دَعَا عَلَى مَنْ ظَلَمَهُ فَقَدِ انْتَصَرَ".
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ -وَاسْمُهُ مَيْمُونٌ-ثُمَّ قَالَ: "لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ، وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ" [[سنن الترمذي برقم (٣٥٥٢) ورواه ابن أبي شيبة في المصنف (١٠/٣٤٧) وابن عدي في الكامل (٦/٤١٢) من طريق أبي الأحوص به، وقال ابن عدي: "لا أعلم من يرويه عن أبي حمزة غير أبي الأحوص".]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّمَا السَّبِيلُ﴾ أَيْ: إِنَّمَا الْحَرَجُ وَالْعَنَتُ ﴿عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الأرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ﴾ أَيْ: يَبْدَؤُونَ النَّاسَ بِالظُّلْمِ. كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ: "الْمُسْتَبَّانُ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَد الْمَظْلُومُ".
﴿أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ أَيْ: شَدِيدٌ مُوجِعٌ.
قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ -أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ-حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ، حَدَّثَنَا [[في ت: "عن".]] مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ فَإِذَا عَلَى الْخَنْدَقِ مَنْظَرَة، فَأُخِذْتُ فَانْطُلِقَ بِي إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْمُهَلَّبِ، وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْبَصْرَةِ، فَقَالَ: حَاجَتَكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ. قُلْتُ حَاجَتِي إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ كَمَا قَالَ أَخُو بَنِي عَدِيٍّ. قَالَ: وَمَنْ أَخُو بَنِي عَدِيٍّ؟ قَالَ: الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ، اسْتَعْمَلَ صَدِيقًا لَهُ مَرَّةً عَلَى عَمَلٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَلَّا تَبِيتَ إِلَّا وَظَهْرُكَ خَفِيفٌ، وَبَطْنُكَ خَمِيصٌ، وَكَفُّكَ نَقِيَّةٌ مِنْ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ [[في أ: "قبلت".]] ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ سَبِيلٌ، ﴿إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الأرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ فَقَالَ [[في ت، أ: "فقال مروان".]] صَدَقَ وَاللَّهِ وَنَصَحَ ثُمَّ قَالَ: مَا حَاجَتُكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟ قُلْتُ: حَاجَتِي أَنْ تُلْحِقَنِي بِأَهْلِي. قَالَ: نَعَمْ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ [[المصنف لابن أبي شيبة (١٤/٦٣) .]] .
ثُمَّ إِنَّهُ تَعَالَى لَمَّا ذَمَّ الظُّلْمَ وَأَهْلَهُ وَشَرَّعَ الْقَصَاصَ، قَالَ نَادِبًا إِلَى الْعَفْوِ وَالصَّفْحِ: ﴿وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ﴾ أَيْ: صَبَرَ عَلَى الْأَذَى وَسَتَرَ السَّيِّئَةَ، ﴿إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الأمُورِ﴾
قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: [يَعْنِي] [[زيادة من أ.]] لَمِنْ حَقِّ الْأُمُورِ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا، أَيْ: لَمِنَ الْأُمُورِ الْمَشْكُورَةِ وَالْأَفْعَالِ الْحَمِيدَةِ [[في ت: "المحمودة".]] الَّتِي عَلَيْهَا ثَوَابٌ جَزِيلٌ وَثَنَاءٌ جَمِيلٌ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الطَّرْسُوسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ يَزِيدَ -خَادِمُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ-قَالَ: سَمِعْتُ [[في ت: "وعن".]] الْفُضَيْلَ بْنَ عِيَاضٍ يقول [[في ت: "قال".]] إذا أتاك رجل يَشْكُو إِلَيْكَ رَجُلًا فَقُلْ: "يَا أَخِي، اعْفُ عَنْهُ". فَإِنَّ الْعَفْوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى، فَإِنْ قَالَ: لَا يَحْتَمِلُ قَلْبِي الْعَفْوَ، وَلَكِنْ أَنْتَصِرُ كَمَا أَمَرَنِي اللَّهُ [[في ت: "ربي".]] عَزَّ وَجَلَّ. فَقُلْ لَهُ [[في ت، أ: "قال له الفضيل".]] إِنْ كُنْتُ تُحْسِنُ أَنْ تَنْتَصِرَ وَإِلَّا فَارْجِعْ إِلَى بَابِ الْعَفْوِ، فَإِنَّهُ بَابٌ وَاسِعٌ، فَإِنَّهُ مَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَصَاحِبُ الْعَفْوِ يَنَامُ عَلَى فِرَاشِهِ بِاللَّيْلِ، وَصَاحِبُ الِانْتِصَارِ يُقَلِّبُ الْأُمُورَ [[بعدها: "رواه ابن أبي حاتم".]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ-عَنِ ابْنِ عَجْلان، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، [[في ت: "وروى الإمام أحمد بسنده".]] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ ﷺ جَالِسٌ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ ﷺ يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ ﷺ وَقَامَ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ! قَالَ: "إِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَنْكَ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ حَضَرَ [[في ت، م، أ: "وقع".]] الشَّيْطَانُ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ". ثُمَّ قَالَ: "يَا أَبَا بَكْرٍ، ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ، مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلم بِمَظْلَمَةٍ فَيُغْضِي عَنْهَا لِلَّهِ، إِلَّا أَعَزَّ اللَّهُ بِهَا نَصْرَه، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ يُرِيدُ بِهَا صِلَةً، إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا كَثْرَةً، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً، إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا قِلَّةً"
وَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ -قَالَ: وَرَوَاهُ صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، كِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلان [[المسند (٢/٤٣٦) وسنن أبي داود برقم (٤٨٩٦، ٤٨٩٧) .]] وَرَوَاهُ مِنْ طَرِيقِ اللَّيْثِ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِي، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُحَرِّرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلًا [[سنن أبي داود برقم (٤٨٩٧) .]] .
وَهَذَا الْحَدِيثُ فِي غَايَةِ الْحُسْنِ فِي الْمَعْنَى، وَهُوَ سببُ سَبِّهِ لِلصِّدِّيقِ [[في ت، أ: "وهذا الحديث في غاية الحسن وهو مناسب للصديق"، وفي م: "وَهَذَا الْحَدِيثُ فِي غَايَةِ الْحُسْنِ فِي الْمَعْنَى وهو مناسب للصديق".]] .
وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ ٱلْأُمُورِ
And whoever is patient and forgives - indeed, that is of the matters [requiring] determination.
اور جو صبر کرے اور قصور معاف کردے تو یہ ہمت کے کام ہیں
امّا کسانی که شکیبایی و عفو کنند، این از کارهای پرارزش است!
Tafsir Ibn Kathir
The recompense for an evil is an evil like thereof; but whoever forgives and makes reconciliation, his reward is with Allah. Verily, He likes not the wrongdoers (40)And indeed whosoever takes revenge after he has suffered wrong, for such there is no way (of blame) against them (41)The way is only against those who oppress men and rebel in the earth without justification; for such there will be a painful torment (42)And verily, whosoever shows patience and forgives, that would truly be from the things recommended by Allah (43)
Forgiving or exacting Revenge on Wrongdoers
وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ۖ
(The recompense for an evil is an evil like thereof). This is like the Ayat:
فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ
(Then whoever transgresses the prohibition against you, you transgress likewise against him)(2:194), and
وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ ۖ
(And if you punish, then punish them with the like of that with which you were afflicted)(16:126). Justice, has been prescribed, in the form of the prescribed laws of equality in punishment (Al-Qisas), but the better way, which means forgiving, is recommended, as Allah says:
وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ ۚ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ ۚ
(and wounds equal for equal. But if anyone remits the retaliation by way of charity, it shall be for him an expiation)(5:45). Allah says here:
فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۚ
(but whoever forgives and makes reconciliation, his reward is with Allah.) means, that will not be wasted with Allah. As it says in a Sahih Hadith:
وَمَا زَادَ اللهُ تَعَالَىٰ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا
(Allah does not increase the person who forgives except in honor.)"
إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
(Verily, He likes not the wrongdoers.) means, the aggressors, i.e., those who initiate the evil actions.
وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَٰئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ
(And indeed whosoever takes revenge after he has suffered wrong, for such there is no way (of blame) against them.) means, there is no sin on him for taking revenge against the one who wronged him.
إِنَّمَا السَّبِيلُ
(The way) means, the burden of sin,
عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ
(is only against those who oppress men and rebel in the earth without justification;) means, those who initiate wrongful actions against others, as it says in the Sahih Hadith:
الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِىءِ، مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ
(When two persons indulge in abusing each other, the one who initiated the wrongful action is to blame, unless the one who was wronged oversteps the mark in retaliation.)
أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(for such there will be a painful torment.) means, intense and agonizing. It was reported that Muhammad bin Wasi' said, "I came to Makkah and there was a security out post over the trench whose guards took me to Marwan bin Al-Muhallab, who was the governor of Basrah. He said, 'What do you need, O Abu 'Abdullah' I said, 'If you can do it, I need you to be like the brother of Banu 'Adiy.' He said, 'Who is the brother of Banu 'Adiy' He said, 'Al-'Ala' bin Ziyad; he once appointed a friend of his to a position of authority, and he wrote to him: If you can, only go to sleep after you make sure that there is nothing on your back [i.e., you do not owe anything to anyone], your stomach is empty and your hands are untainted by the blood or wealth of the Muslims. If you do that, then there will be no way (of blame) against you –
إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(The way is only against those who oppress men and rebel in the earth without justification; for such there will be a painful torment.)' Marwan said, 'He spoke the truth, by Allah, and gave sincere advice. ' Then he said, 'What do you need, O Abu 'Abdullah' I said, 'I need you to let me join my family.' He said, 'Yes [I will do that].'" This was recorded by Ibn Abi Hatim. When Allah condemned wrongdoing and the people who do it, and prescribed Al-Qisas, He encouraged forgiveness:
وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ
(And verily, whosoever shows patience and forgives,) meaning, whoever bears the insult with patience and conceals the evil action,
إِنَّ ذَٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ
(that would truly be from the things recommended by Allah.) Sa'id bin Jubayr said, "This means, one of the things enjoined by Allah," i.e., good actions for which there will be a great reward and much praise.
Tafsir Ibn Kathir
ارشاد ہوتا ہے کہ برائی کا بدلہ لینا جائز ہے۔ جیسے فرمایا آیت (فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ01904) 2۔ البقرة :194) اور آیت میں ہے (وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ01206) 16۔ النحل :126) یعنی خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے پھر اسے معاف کر دے تو وہ اس کے لئے کفارہ ہوجائے گا۔ یہاں بھی فرمایا جو شخص معاف کر دے اور صلح و صفائی کرلے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ حدیث میں ہے درگذر کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت اور بڑھا دیتا ہے لیکن جو بدلے میں اصل جرم سے بڑھ جائے وہ اللہ کا دشمن ہے۔ پھر برائی کی ابتدا اسی کی طرف سے سمجھی جائے گی پھر فرماتا ہے جس پر ظلم ہو اسے بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ ابن عون فرماتے ہیں، میں اس لفظ (انتصر) کی تفسیر کی طلب میں تھا تو مجھ سے علی بن زید بن جدعان نے بروایت اپنی والدہ ام محمد کے جو حضرت عائشہ کے پاس جایا کرتی تھیں بیان کیا کہ حضرت عائشہ کے ہاں حضور ﷺ گئے اس وقت حضرت زینب وہاں موجود تھیں آپ کو معلوم نہ تھا صدیقہ کی طرف جب آپ نے ہاتھ بڑھایا تو صدیقہ نے اشارے سے بتایا اس وقت آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ حضرت زینب نے صدیقہ کو برا بھلا کہنا شروع کیا۔ حضور ﷺ کی ممانعت پر بھی خاموش نہ ہوئیں آپ نے حضرت عائشہ کو اجازت دی کہ جواب دیں۔ اب جو جواب ہوا تو حضرت زینب عاجز آگئیں اور سیدھی حضرت علی کے پاس گئیں اور کہا عائشہ تمہیں یوں یوں کہتی ہیں اور ایسا ایسا کرتی ہیں یہ سن کر حضرت فاطمہ حاضر حضور ہوئیں آپ نے ان سے فرمایا قسم رب کعبہ کی ! عائشہ سے میں محبت رکھتا ہوں یہ تو اسی وقت واپس چلی گئیں۔ اور حضرت علی سے سارا واقعہ کہہ سنایا پھر حضرت علی آئے اور آپ سے باتیں کیں۔ یہ روایت ابن جریر میں اسی طرح ہے لیکن اس کے راوی اپنی روایتوں میں عموما منکر حدیثیں لایا کرتے ہیں اور یہ روایت بھی منکر ہے نسائی اور ابن ماجہ میں اس طرح ہے کہ حضرت زینب غصہ میں بھری ہوئی بلا اطلاع حضرت عائشہ کے گھر چلی آئیں اور حضور ﷺ سے حضرت صدیقہ کی نسبت کچھ کہا پھر حضرت عائشہ سے لڑنے لگیں لیکن مائی صاحبہ نے خاموشی اختیار کی جب وہ بہت کہہ چکیں تو آپ نے عائشہ سے فرمایا تو اپنا بدلہ لے لے پھر جو صدیقہ نے جواب دینے شروع کئے تو حضرت زینب کا تھوک خشک ہوگیا۔ کوئی جواب نہ دے سکیں اور حضور ﷺ کے چہرے سے وہ صدمہ ہٹ گیا۔ حاصل یہ ہے کہ مظلوم ظالم کو جواب دے اور اپنا بدلہ لے لے۔ بزار میں ہے ظالم کے لئے جس نے بد دعا کی اس نے بدلہ لے لیا۔ یہی حدیث ترمذی میں ہے لیکن اس کے ایک راوی میں کچھ کلام ہے پھر فرماتا ہے حرج و گناہ ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کریں اور زمین میں بلا وجہ شرو فساد کریں۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے دو برا کہنے والے جو کچھ کہیں سب کا بوجھ شروع کرنے والے پر ہے جب کہ مظلوم بدلے کی حد سے آگے نہ نکل جائے ایسے فسادی قیامت کے دن دردناک عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے حضرت محمد بن واسع فرماتے ہیں میں مکہ جانے لگا تو دیکھا کہ خندق پر پل بنا ہوا ہے میں ابھی وہیں تھا جو گرفتار کرلیا گیا اور امیر بصرہ مروان بن مہلب کے پاس پہنچا دیا گیا اس نے مجھ سے کہا ابو عبداللہ تم کیا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا یہی کہ اگر تم سے ہو سکے تو بنو عدی کے بھائی جیسے بن جاؤ پوچھا وہ کون ہے ؟ کہا علا بن زیاد کہ اپنے ایک دوست کو ایک مرتبہ کسی صیغہ پر عامل بنایا تو انہوں نے اسے لکھا کہ حمد و صلوۃ کے بعد اگر تجھ سے ہو سکے تو یہ کرنا کہ تیری کمر بوجھ سے خالی رہے تیرا پیٹ حرام سے بچ جائے تیرے ہاتھ مسلمانوں کے خون ومال سے آلودہ نہ ہوں تو جب یہ کرے گا تو تجھ پر کوئی گناہ کی راہ باقی نہ رہے گی یہ راہ تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کریں اور بےوجہ ناحق زمین میں فساد پھیلائیں۔ مروان نے کہا اللہ جانتا ہے اس نے سچ کہا اور خیر خواہی کی بات کہی۔ اچھا اب کیا آرزو ہے ؟ فرمایا یہی کہ تم مجھے میرے گھر پہنچا دو مروان نے کہا بہت اچھا۔ (ابن ابی حاتم) پس ظلم و اہل ظلم کی مذمت بیان کر کے بدلے کی اجازت دے کر اب افضلیت کی طرف رغبت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ جو ایذاء برداشت کرلے اور برائی سے درگذر کرلے اس نے بڑی بہادری سے کام کیا جس پر وہ بڑے ثواب اور پورے بدلے کا مستحق ہے۔ حضرت فضیل بن عیاض کا فرمان ہے کہ جب تم سے آکر کوئی شخص کسی اور کی شکایت کرے تو اسے تلقین کرو کہ بھائی معاف کردو معافی میں ہی بہتری ہے اور یہی پرہیزگاری کا ثبوت ہے اگر وہ نہ مانے اور اپنے دل کی کمزوری کا اظہار کرے تو خیر کہہ دو کہ جاؤ بدلہ لے لو لیکن اس صورت میں کہ پھر کہیں تم بڑھ نہ جاؤ ورنہ ہم تو اب بھی یہی کہیں ورنہ ہم تو اب بھی یہی کہیں گے کہ معاف کردو یہ دروازہ بہت وسعت والا ہے اور بدلے کی راہ بہت تنگ ہے سنو معاف کردینے والا تو آرام سے میٹھی نیند سو جاتا ہے اور بدلے کی دھن والا دن رات متفکر رہتا ہے۔ اور توڑ جوڑ سوچتا ہے۔ مسند امام احمد میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابوبکر صدیق کو برا بھلا کہنا شروع کیا حضور ﷺ بھی وہیں تشریف فرما تھے آپ تعجب کے ساتھ مسکرانے لگے حضرت صدیق خاموش تھے لیکن جب کہ اس نے بہت گالیاں دیں تو آپ نے بھی بعض کا جواب دیا۔ اس پر حضور ﷺ ناراض ہو کر وہاں سے چل دئیے۔ حضرت ابوبکر سے رہا نہ گیا آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ وہ مجھے برا بھلا کہتا رہا تو آپ بیٹھے سنتے رہے اور جب میں نے اس کی دو ایک باتوں کا جواب دیا تو آپ ناراض ہو کر اٹھ کے چلے ؟ آپ نے فرمایا سنو جب تک تم خاموش تھے فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دیتا تھا جب تم آپ بولے تو فرشتہ ہٹ گیا اور شیطان بیچ میں آگیا پھر بھلا میں شیطان کی موجودگی میں وہاں کیسے بیٹھا رہتا ؟ پھر فرمایا سنو ابوبکر تین چیزیں بالکل حق ہیں 001 جس پر کوئی ظلم کیا جائے اور وہ اس سے چشم پوشی کرلے تو ضرور اللہ اسے عزت دے گا اور اس کی مدد کرے گا 002 جو شخص سلوک اور احسان کا دروازہ کھولے گا اور صلہ رحمی کے ارادے سے لوگوں کو دیتا رہے گا اللہ اسے برکت دے گا اور زیادتی عطا فرمائے گا 003 اور جو شخص مال بڑھانے کے لئے سوال کا دروازہ کھول لے گا اور دوسروں سے مانگتا پھرے گا اللہ اس کے ہاں بےبرکتی کر دے گا اور کمی میں ہی وہ مبتلا رہے گا یہ روایت ابو داؤد میں بھی ہے اور مضمون کے اعتبار سے یہ بڑی پیاری حدیث ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا﴾ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ﴾ [البقرة:١٩٤] وَكَقَوْلِهِ [[في ت: "وقوله".]] ﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ﴾ [النَّحْلِ:١٢٩] فَشَرَعَ الْعَدْلَ وَهُوَ الْقَصَاصُ، وَنَدَبَ إِلَى الْفَضْلِ وَهُوَ الْعَفْوُ، كَقَوْلِهِ [تَعَالَى] [[زيادة من ت.]] ﴿وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ﴾ [الْمَائِدَةِ:٤٥] ؛ وَلِهَذَا قَالَ هَاهُنَا: ﴿فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ﴾ أَيْ: لَا يَضِيعُ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ كَمَا صَحَّ فِي الْحَدِيثِ: "وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا" وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ﴾ أَيِ: الْمُعْتَدِينَ، وَهُوَ الْمُبْتَدِئُ بِالسَّيِّئَةِ.
[وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَمَّا كَانَتِ الْأَقْسَامُ ثَلَاثَةً: ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ، وَمُقْتَصِدٌ، وَسَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ، ذَكَرَ الْأَقْسَامَ الثَّلَاثَةَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ فَذَكَرَ الْمُقْتَصِدَ وَهُوَ الَّذِي يُفِيضُ بِقَدْرِ حَقِّهِ لِقَوْلِهِ: ﴿وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا﴾ ، ثُمَّ ذَكَرَ السَّابِقَ بِقَوْلِهِ: ﴿فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ﴾ ثُمَّ ذَكَرَ الظَّالِمَ بِقَوْلِهِ: ﴿إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ﴾ فَأَمَرَ بِالْعَدْلِ،وَنَدَبَ إِلَى الْفَضْلِ، وَنَهَى مِنَ الظُّلْمِ] [[زيادة من ت، أ.]] .
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ﴾ أَيْ: لَيْسَ عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ فِي الِانْتِصَارِ مِمَّنْ ظَلَمَهُمْ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ [[في ت: "وروى ابن جرير".]] حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزيع [[في أ: "سويع".]] حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا [[في ت: "عن".]] ابْنُ عَوْن قَالَ: كُنْتُ أَسْأَلُ عَنِ الِانْتِصَارِ: ﴿وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ﴾ فَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ [[في ت: "يزيد".]] بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ -امْرَأَةِ أَبِيهِ-قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: زَعَمُوا أَنَّهَا كَانَتْ تَدْخُلُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ [[في ت: "عائشة رضي الله عنها".]] -قَالَتْ: قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَعِنْدَنَا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ، فَجَعَلَ يَصْنَعُ بِيَدِهِ شَيْئًا فَلَمْ يَفْطِن لَهَا، فَقُلْتُ بِيَدِهِ حَتَّى [[في أ: "فقلت له حتى".]] فَطَّنته لَهَا، فَأَمْسَكَ. وَأَقْبَلَتْ زَيْنَبُ تُقْحِمُ لِعَائِشَةَ، فَنَهَاهَا، فَأَبَتْ أَنْ تَنْتَهِيَ. فَقَالَ لِعَائِشَةَ: "سُبّيها" فَسَبَّتْهَا فَغَلَبَتْهَا، وَانْطَلَقَتْ زَيْنَبُ فَأَتَتْ عَلِيًّا فَقَالَتْ: إِنَّ عَائِشَةَ تَقَعُ بِكُمْ، وَتَفْعَلُ بِكُمْ. فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ فَقَالَ [[في ت: "فقالت".]] لَهَا "إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ" فَانْصَرَفَتْ، وَقَالَتْ لِعَلِيٍّ: إِنِّي قُلْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لِي كَذَا وَكَذَا. قَالَ: وَجَاءَ عَلِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَكَلَّمَهُ فِي ذَلِكَ [[تفسير الطبري (٢٥/٢٤) .]] .
هَكَذَا وَرَدَ هَذَا السِّيَاقُ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ يَأْتِي فِي رِوَايَاتِهِ بِالْمُنْكَرَاتِ غَالِبًا، وَهَذَا فِيهِ نَكَارَةٌ، وَالْحَدِيثُ الصَّحِيحُ خِلَافُ هَذَا السِّيَاقِ، كَمَا رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ الْفَأْفَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ البَهِيّ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: مَا علمتُ حَتَّى دَخَلَتْ عليَّ زَيْنَبُ بِغَيْرِ إِذَنٍ وَهِيَ غَضْبَى، ثُمَّ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ: حَسْبُكَ إِذَا قَلَبَتْ لَكَ ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ ذُرَيّعَتَيهَا ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيَّ فَأَعْرَضْتُ عَنْهَا، حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: "دُونَكِ فَانْتَصِرِي" فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا وَقَدْ يَبِسَ رِيقُهَا فِي فَمِهَا، مَا [[في م: "لم".]] تَرُدُّ عَلَيَّ شَيْئًا. فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم يتهلل وجهه. وهذا لفظ النَّسَائِيِّ [[النسائي في السنن الكبرى برقم (١١٤٧٦) وسنن ابن ماجه برقم (١٩٨١) قال البوصيري في الزوائد (٢/١١٥) : "هذا إسناد صحيح على شرط مسلم".]] .
وَقَالَ الْبَزَّارُ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ [[في ت: "وروى البزار بسنده".]] ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ دَعَا عَلَى مَنْ ظَلَمَهُ فَقَدِ انْتَصَرَ".
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ -وَاسْمُهُ مَيْمُونٌ-ثُمَّ قَالَ: "لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ، وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ" [[سنن الترمذي برقم (٣٥٥٢) ورواه ابن أبي شيبة في المصنف (١٠/٣٤٧) وابن عدي في الكامل (٦/٤١٢) من طريق أبي الأحوص به، وقال ابن عدي: "لا أعلم من يرويه عن أبي حمزة غير أبي الأحوص".]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّمَا السَّبِيلُ﴾ أَيْ: إِنَّمَا الْحَرَجُ وَالْعَنَتُ ﴿عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الأرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ﴾ أَيْ: يَبْدَؤُونَ النَّاسَ بِالظُّلْمِ. كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ: "الْمُسْتَبَّانُ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَد الْمَظْلُومُ".
﴿أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ أَيْ: شَدِيدٌ مُوجِعٌ.
قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ -أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ-حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ، حَدَّثَنَا [[في ت: "عن".]] مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ فَإِذَا عَلَى الْخَنْدَقِ مَنْظَرَة، فَأُخِذْتُ فَانْطُلِقَ بِي إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْمُهَلَّبِ، وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْبَصْرَةِ، فَقَالَ: حَاجَتَكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ. قُلْتُ حَاجَتِي إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ كَمَا قَالَ أَخُو بَنِي عَدِيٍّ. قَالَ: وَمَنْ أَخُو بَنِي عَدِيٍّ؟ قَالَ: الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ، اسْتَعْمَلَ صَدِيقًا لَهُ مَرَّةً عَلَى عَمَلٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَلَّا تَبِيتَ إِلَّا وَظَهْرُكَ خَفِيفٌ، وَبَطْنُكَ خَمِيصٌ، وَكَفُّكَ نَقِيَّةٌ مِنْ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ [[في أ: "قبلت".]] ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ سَبِيلٌ، ﴿إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الأرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ فَقَالَ [[في ت، أ: "فقال مروان".]] صَدَقَ وَاللَّهِ وَنَصَحَ ثُمَّ قَالَ: مَا حَاجَتُكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟ قُلْتُ: حَاجَتِي أَنْ تُلْحِقَنِي بِأَهْلِي. قَالَ: نَعَمْ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ [[المصنف لابن أبي شيبة (١٤/٦٣) .]] .
ثُمَّ إِنَّهُ تَعَالَى لَمَّا ذَمَّ الظُّلْمَ وَأَهْلَهُ وَشَرَّعَ الْقَصَاصَ، قَالَ نَادِبًا إِلَى الْعَفْوِ وَالصَّفْحِ: ﴿وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ﴾ أَيْ: صَبَرَ عَلَى الْأَذَى وَسَتَرَ السَّيِّئَةَ، ﴿إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الأمُورِ﴾
قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: [يَعْنِي] [[زيادة من أ.]] لَمِنْ حَقِّ الْأُمُورِ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا، أَيْ: لَمِنَ الْأُمُورِ الْمَشْكُورَةِ وَالْأَفْعَالِ الْحَمِيدَةِ [[في ت: "المحمودة".]] الَّتِي عَلَيْهَا ثَوَابٌ جَزِيلٌ وَثَنَاءٌ جَمِيلٌ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الطَّرْسُوسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ يَزِيدَ -خَادِمُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ-قَالَ: سَمِعْتُ [[في ت: "وعن".]] الْفُضَيْلَ بْنَ عِيَاضٍ يقول [[في ت: "قال".]] إذا أتاك رجل يَشْكُو إِلَيْكَ رَجُلًا فَقُلْ: "يَا أَخِي، اعْفُ عَنْهُ". فَإِنَّ الْعَفْوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى، فَإِنْ قَالَ: لَا يَحْتَمِلُ قَلْبِي الْعَفْوَ، وَلَكِنْ أَنْتَصِرُ كَمَا أَمَرَنِي اللَّهُ [[في ت: "ربي".]] عَزَّ وَجَلَّ. فَقُلْ لَهُ [[في ت، أ: "قال له الفضيل".]] إِنْ كُنْتُ تُحْسِنُ أَنْ تَنْتَصِرَ وَإِلَّا فَارْجِعْ إِلَى بَابِ الْعَفْوِ، فَإِنَّهُ بَابٌ وَاسِعٌ، فَإِنَّهُ مَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَصَاحِبُ الْعَفْوِ يَنَامُ عَلَى فِرَاشِهِ بِاللَّيْلِ، وَصَاحِبُ الِانْتِصَارِ يُقَلِّبُ الْأُمُورَ [[بعدها: "رواه ابن أبي حاتم".]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ-عَنِ ابْنِ عَجْلان، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، [[في ت: "وروى الإمام أحمد بسنده".]] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ ﷺ جَالِسٌ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ ﷺ يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ ﷺ وَقَامَ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ! قَالَ: "إِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَنْكَ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ حَضَرَ [[في ت، م، أ: "وقع".]] الشَّيْطَانُ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ". ثُمَّ قَالَ: "يَا أَبَا بَكْرٍ، ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ، مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلم بِمَظْلَمَةٍ فَيُغْضِي عَنْهَا لِلَّهِ، إِلَّا أَعَزَّ اللَّهُ بِهَا نَصْرَه، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ يُرِيدُ بِهَا صِلَةً، إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا كَثْرَةً، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً، إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا قِلَّةً"
وَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ -قَالَ: وَرَوَاهُ صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، كِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلان [[المسند (٢/٤٣٦) وسنن أبي داود برقم (٤٨٩٦، ٤٨٩٧) .]] وَرَوَاهُ مِنْ طَرِيقِ اللَّيْثِ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِي، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُحَرِّرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلًا [[سنن أبي داود برقم (٤٨٩٧) .]] .
وَهَذَا الْحَدِيثُ فِي غَايَةِ الْحُسْنِ فِي الْمَعْنَى، وَهُوَ سببُ سَبِّهِ لِلصِّدِّيقِ [[في ت، أ: "وهذا الحديث في غاية الحسن وهو مناسب للصديق"، وفي م: "وَهَذَا الْحَدِيثُ فِي غَايَةِ الْحُسْنِ فِي الْمَعْنَى وهو مناسب للصديق".]] .
وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن وَلِىٍّۢ مِّنۢ بَعْدِهِۦ ۗ وَتَرَى ٱلظَّٰلِمِينَ لَمَّا رَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَ يَقُولُونَ هَلْ إِلَىٰ مَرَدٍّۢ مِّن سَبِيلٍۢ
And he whom Allah sends astray - for him there is no protector beyond Him. And you will see the wrongdoers, when they see the punishment, saying, "Is there for return [to the former world] any way?"
اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں۔ اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ (دوزخ کا) عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کیا (دنیا میں) واپس جانے کی بھی کوئی سبیل ہے؟
کسی را که خدا گمراه کند، ولیّ و یاوری جز او نخواهد داشت؛ و ظالمان را (روز قیامت) میبینی هنگامی که عذاب الهی را مشاهده میکنند میگویند: «آیا راهی به سوی بازگشت (و جبران) وجود دارد؟!»
Tafsir Ibn Kathir
And whomsoever Allah sends astray, for him there is no protector after Him. And you will see the wrongdoers, when they behold the torment, they will say: "Is there any way of return? (44)And you will see them brought forward to it (Hell) made humble by disgrace, (and) looking with stealthy glance. And those who believe will say: "Verily, the losers are they who lose themselves and their families on the Day of Resurrection." Verily, the wrongdoers will be in a lasting torment (45)And they will have no protectors to help them other than Allah. And he whom Allah sends astray, for him there is no way (46)
The State of the Wrongdoers on the Day of Resurrection
Allah tells us that whatever He wills happens and whatever He does not will does not happen, and no one can make it happen. Whomever He guides, none can lead astray, and whomever He leads astray, none can guide, as He says:
وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا
(but he whom He sends astray, for him you will find no protecting to lead him.)(18:17). Then Allah tells us about the wrongdoers, i.e., the idolators who associate others in worship with Allah:
لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ
(when they behold the torment,) i.e., on the Day of Resurrection, they will wish that they could go back to this world.
يَقُولُونَ هَلْ إِلَىٰ مَرَدٍّ مِنْ سَبِيلٍ
(they will say: "Is there any way of return?") This is like the Ayah:
وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - بَلْ بَدَا لَهُمْ مَا كَانُوا يُخْفُونَ مِنْ قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!" Nay, it has become manifest to them what they had been concealing before. But if they were returned, they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars.)(6:27-28)
وَتَرَاهُمْ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا
(And you will see them brought forward to it) means, to the Fire.
خَاشِعِينَ مِنَ الذُّلِّ
(made humble by disgrace,) means, in a befitting manner, because of their previous disobedience towards Allah.
يَنْظُرُونَ مِنْ طَرْفٍ خَفِيٍّ
((and) looking with stealthy glance.) Mujahid said, "In a humiliated manner." That is, they will steal glances at it, because they will be afraid of it. But the thing that they are afraid of will undoubtedly happen, and worse than that – may Allah save us from that.
وَقَالَ الَّذِينَ آمَنُوا
(And those who believe will say) means, on the Day of Resurrection they will say:
إِنَّ الْخَاسِرِينَ
(Verily, the losers...) means, the greatest losers.
الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
(are they who lose themselves and their families on the Day of Resurrection.) means, they will be taken to the Fire and deprived of any pleasures in the Hereafter. They will lose themselves, and they will be separated from their loved ones, companions, families and relatives, and they will lose them.
أَلَا إِنَّ الظَّالِمِينَ فِي عَذَابٍ مُقِيمٍ
(Verily, the wrongdoers will be in a lasting torment.) means, everlasting and eternal, with no way out and no escape.
وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنْ أَوْلِيَاءَ يَنْصُرُونَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ ۗ
(And they will have no protectors to help them other than Allah.) means, no one to save them from the punishment and torment which they are suffering.
وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ سَبِيلٍ
(And he whom Allah sends astray, for him there is no way.) means, no salvation.
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ کو کوئی پوچھنے والا نہیں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا اور نہ اسے کوئی کرسکتا ہے وہ جسے راہ راست دکھا دے اسے بہکا نہیں سکتا اور جس سے وہ راہ حق گم کر دے اسے کوئی اس راہ کو دکھا نہیں سکتا اور جگہ فرمان ہے آیت (وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرْشِدًا 17ۧ) 18۔ الكهف :17) جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی چارہ ساز اور رہبر نہیں۔ پھر فرماتا ہے یہ مشرکین قیامت کے عذاب کو دیکھ کر دوبارہ دنیا میں آنے کی تمنا کریں گے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27) 6۔ الانعام :27) ، کاش کہ تو انہیں دیکھتا جب کہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم دوبارہ واپس بھیج دئیے جائیں تو ہم ہرگز اپنے رب کی آیتوں کو جھوٹ نہ بتائیں بلکہ ایمان لے آئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ جس چیز کو اس سے پہلے پوشیدہ کئے ہوئے تھے وہ ان کے سامنے آگئی۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ دوبارہ بھیج بھی دیئے جائیں تب بھی وہی کریں گے جس سے منع کئے جاتے ہیں یقینا یہ جھوٹے ہیں پھر فرمایا یہ جہنم کے پاس لائے جائیں گے اور اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر ذلت برس رہی ہوگی عاجزی سے جھکے ہوئے ہوں گے اور نظریں بچاکر جہنم کو تک رہے ہوں گے۔ خوف زدہ اور حواس باختہ ہو رہے ہوں گے لیکن جس سے ڈر رہے ہیں اس سے بچ نہ سکیں گے نہ صرف اتنا ہی بلکہ ان کے وہم و گمان سے بھی زیادہ عذاب انہیں ہوگا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے اس وقت ایمان دار لوگ کہیں گے کہ حقیقی نقصان یافتہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ اپنے والوں کو بھی جہنم واصل کیا یہاں کی آج کی ابدی نعمتوں سے محروم رہے اور انہیں بھی محروم رکھا آج وہ سب الگ الگ عذاب میں مبتلا ہیں دائمی ابدی اور سرمدی سزائیں بھگت رہے ہیں اور یہ ناامید ہوجائیں آج کوئی ایسا نہیں جو ان عذابوں سے چھڑا سکے یا تخفیف کرا سکے ان گمراہوں کو خلاصی دینے والا کوئی نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبَرًا عَنْ نَفْسِهِ الْكَرِيمَةِ: أَنَّهُ مَا شَاءَ [[في ت: "ما شاء الله".]] كَانَ وَلَا رَادَّ لَهُ، وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ فَلَا مُوجِدَ لَهُ [[في أ: "فلا مؤاخذة له".]] وَأَنَّهُ مَنْ هَدَاهُ فَلَا مُضِل لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ [[في ت، م: "يضلل الله".]] فَلَا هَادِيَ لَهُ، كَمَا قَالَ: ﴿وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا﴾ [الْكَهْفِ: ١٧]
ثُمَّ قَالَ مُخْبِرًا عَنِ الظَّالِمِينَ، وَهُمُ الْمُشْرِكُونَ بِاللَّهِ ﴿لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ﴾ أَيْ: يَوْمَ القيامة يتمنون الرَّجْعَةَ إِلَى الدُّنْيَا، ﴿يَقُولُونَ هَلْ إِلَى مَرَدٍّ مِنْ سَبِيلٍ﴾ ، كَمَا قَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من ت.]] ﴿وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بَلْ بَدَا لَهُمْ مَا كَانُوا يُخْفُونَ مِنْ قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ﴾ [الْأَنْعَامِ:٢٧، ٢٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَرَاهُمْ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا﴾ أَيْ: عَلَى النَّارِ ﴿خَاشِعِينَ مِنَ الذُّلِّ﴾ أَيِ: الَّذِي قَدِ اعْتَرَاهُمْ بِمَا أَسْلَفُوا مِنْ عِصْيَانِ اللَّهِ، ﴿يَنْظُرُونَ مِنْ طَرْفٍ خَفِيٍّ﴾ قَالَ مجاهد: يعني ذليل، أَيْ يَنْظُرُونَ إِلَيْهَا مُسَارقَة خَوْفًا مِنْهَا، وَالَّذِي يَحْذَرُونَ مِنْهُ وَاقِعٌ بِهِمْ لَا مَحَالَةَ، وَمَا هُوَ أَعْظَمُ مِمَّا فِي نُفُوسِهِمْ، أَجَارَنَا اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ.
﴿وَقَالَ الَّذِينَ آمَنُوا﴾ أَيْ: يَقُولُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: ﴿إِنَّ الْخَاسِرِينَ﴾ أَيِ: الْخَسَارُ [[في أ: "الخاسر".]] الْأَكْبَرُ ﴿الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ أَيْ: ذَهَبَ بِهِمْ إِلَى [[في ت: "في".]] النَّارِ فَعُدِمُوا لَذَّتَهُمْ فِي دَارِ الْأَبَدِ، وَخَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ، وَفُرِّقَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَصْحَابِهِمْ وَأَحْبَابِهِمْ وَأَهَالِيهِمْ وَقَرَابَاتِهِمْ، [[في ت: "وأقربائهم".]] فَخَسِرُوهُمْ، ﴿أَلا إِنَّ الظَّالِمِينَ فِي عَذَابٍ مُقِيمٍ﴾ أَيْ: دَائِمٍ سَرْمَدِيٍّ أَبَدِيٍّ، لَا خُرُوجَ لَهُمْ مِنْهَا وَلَا مَحِيدَ لَهُمْ عَنْهَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنْ أَوْلِيَاءَ يَنْصُرُونَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ﴾ أَيْ: يُنْقِذُونَهُمْ مِمَّا هُمْ فِيهِ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ، ﴿وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ سَبِيلٍ﴾ أَيْ: لَيْسَ لَهُ خَلَاصٌ.
وَتَرَىٰهُمْ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا خَٰشِعِينَ مِنَ ٱلذُّلِّ يَنظُرُونَ مِن طَرْفٍ خَفِىٍّۢ ۗ وَقَالَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّ ٱلْخَٰسِرِينَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ أَلَآ إِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ فِى عَذَابٍۢ مُّقِيمٍۢ
And you will see them being exposed to the Fire, humbled from humiliation, looking from [behind] a covert glance. And those who had believed will say, "Indeed, the [true] losers are the ones who lost themselves and their families on the Day of Resurrection. Unquestionably, the wrongdoers are in an enduring punishment."
اور تم ان کو دیکھو گے کہ دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے ذلت سے عاجزی کرتے ہوئے چھپی (اور نیچی) نگاہ سے دیکھ رہے ہوں گے۔ اور مومن لوگ کہیں کے کہ خسارہ اٹھانے والے تو وہ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔ دیکھو کہ بےانصاف لوگ ہمیشہ کے دکھ میں (پڑے) رہیں گے
و آنها را میبینی که بر آتش عرضه میشوند در حالی که از شدّت مذلّت خاشعند و زیر چشمی (به آن) نگاه میکنند؛ و کسانی که ایمان آوردهاند میگویند: «زیانکاران واقعی آنانند که خود و خانواده خویش را روز قیامت از دست دادهاند؛ آگاه باشید که ظالمان (آن روز) در عذاب دائمند!»
Tafsir Ibn Kathir
And whomsoever Allah sends astray, for him there is no protector after Him. And you will see the wrongdoers, when they behold the torment, they will say: "Is there any way of return? (44)And you will see them brought forward to it (Hell) made humble by disgrace, (and) looking with stealthy glance. And those who believe will say: "Verily, the losers are they who lose themselves and their families on the Day of Resurrection." Verily, the wrongdoers will be in a lasting torment (45)And they will have no protectors to help them other than Allah. And he whom Allah sends astray, for him there is no way (46)
The State of the Wrongdoers on the Day of Resurrection
Allah tells us that whatever He wills happens and whatever He does not will does not happen, and no one can make it happen. Whomever He guides, none can lead astray, and whomever He leads astray, none can guide, as He says:
وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا
(but he whom He sends astray, for him you will find no protecting to lead him.)(18:17). Then Allah tells us about the wrongdoers, i.e., the idolators who associate others in worship with Allah:
لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ
(when they behold the torment,) i.e., on the Day of Resurrection, they will wish that they could go back to this world.
يَقُولُونَ هَلْ إِلَىٰ مَرَدٍّ مِنْ سَبِيلٍ
(they will say: "Is there any way of return?") This is like the Ayah:
وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - بَلْ بَدَا لَهُمْ مَا كَانُوا يُخْفُونَ مِنْ قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!" Nay, it has become manifest to them what they had been concealing before. But if they were returned, they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars.)(6:27-28)
وَتَرَاهُمْ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا
(And you will see them brought forward to it) means, to the Fire.
خَاشِعِينَ مِنَ الذُّلِّ
(made humble by disgrace,) means, in a befitting manner, because of their previous disobedience towards Allah.
يَنْظُرُونَ مِنْ طَرْفٍ خَفِيٍّ
((and) looking with stealthy glance.) Mujahid said, "In a humiliated manner." That is, they will steal glances at it, because they will be afraid of it. But the thing that they are afraid of will undoubtedly happen, and worse than that – may Allah save us from that.
وَقَالَ الَّذِينَ آمَنُوا
(And those who believe will say) means, on the Day of Resurrection they will say:
إِنَّ الْخَاسِرِينَ
(Verily, the losers...) means, the greatest losers.
الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
(are they who lose themselves and their families on the Day of Resurrection.) means, they will be taken to the Fire and deprived of any pleasures in the Hereafter. They will lose themselves, and they will be separated from their loved ones, companions, families and relatives, and they will lose them.
أَلَا إِنَّ الظَّالِمِينَ فِي عَذَابٍ مُقِيمٍ
(Verily, the wrongdoers will be in a lasting torment.) means, everlasting and eternal, with no way out and no escape.
وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنْ أَوْلِيَاءَ يَنْصُرُونَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ ۗ
(And they will have no protectors to help them other than Allah.) means, no one to save them from the punishment and torment which they are suffering.
وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ سَبِيلٍ
(And he whom Allah sends astray, for him there is no way.) means, no salvation.
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ کو کوئی پوچھنے والا نہیں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا اور نہ اسے کوئی کرسکتا ہے وہ جسے راہ راست دکھا دے اسے بہکا نہیں سکتا اور جس سے وہ راہ حق گم کر دے اسے کوئی اس راہ کو دکھا نہیں سکتا اور جگہ فرمان ہے آیت (وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرْشِدًا 17ۧ) 18۔ الكهف :17) جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی چارہ ساز اور رہبر نہیں۔ پھر فرماتا ہے یہ مشرکین قیامت کے عذاب کو دیکھ کر دوبارہ دنیا میں آنے کی تمنا کریں گے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27) 6۔ الانعام :27) ، کاش کہ تو انہیں دیکھتا جب کہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم دوبارہ واپس بھیج دئیے جائیں تو ہم ہرگز اپنے رب کی آیتوں کو جھوٹ نہ بتائیں بلکہ ایمان لے آئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ جس چیز کو اس سے پہلے پوشیدہ کئے ہوئے تھے وہ ان کے سامنے آگئی۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ دوبارہ بھیج بھی دیئے جائیں تب بھی وہی کریں گے جس سے منع کئے جاتے ہیں یقینا یہ جھوٹے ہیں پھر فرمایا یہ جہنم کے پاس لائے جائیں گے اور اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر ذلت برس رہی ہوگی عاجزی سے جھکے ہوئے ہوں گے اور نظریں بچاکر جہنم کو تک رہے ہوں گے۔ خوف زدہ اور حواس باختہ ہو رہے ہوں گے لیکن جس سے ڈر رہے ہیں اس سے بچ نہ سکیں گے نہ صرف اتنا ہی بلکہ ان کے وہم و گمان سے بھی زیادہ عذاب انہیں ہوگا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے اس وقت ایمان دار لوگ کہیں گے کہ حقیقی نقصان یافتہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ اپنے والوں کو بھی جہنم واصل کیا یہاں کی آج کی ابدی نعمتوں سے محروم رہے اور انہیں بھی محروم رکھا آج وہ سب الگ الگ عذاب میں مبتلا ہیں دائمی ابدی اور سرمدی سزائیں بھگت رہے ہیں اور یہ ناامید ہوجائیں آج کوئی ایسا نہیں جو ان عذابوں سے چھڑا سکے یا تخفیف کرا سکے ان گمراہوں کو خلاصی دینے والا کوئی نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبَرًا عَنْ نَفْسِهِ الْكَرِيمَةِ: أَنَّهُ مَا شَاءَ [[في ت: "ما شاء الله".]] كَانَ وَلَا رَادَّ لَهُ، وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ فَلَا مُوجِدَ لَهُ [[في أ: "فلا مؤاخذة له".]] وَأَنَّهُ مَنْ هَدَاهُ فَلَا مُضِل لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ [[في ت، م: "يضلل الله".]] فَلَا هَادِيَ لَهُ، كَمَا قَالَ: ﴿وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا﴾ [الْكَهْفِ: ١٧]
ثُمَّ قَالَ مُخْبِرًا عَنِ الظَّالِمِينَ، وَهُمُ الْمُشْرِكُونَ بِاللَّهِ ﴿لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ﴾ أَيْ: يَوْمَ القيامة يتمنون الرَّجْعَةَ إِلَى الدُّنْيَا، ﴿يَقُولُونَ هَلْ إِلَى مَرَدٍّ مِنْ سَبِيلٍ﴾ ، كَمَا قَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من ت.]] ﴿وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بَلْ بَدَا لَهُمْ مَا كَانُوا يُخْفُونَ مِنْ قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ﴾ [الْأَنْعَامِ:٢٧، ٢٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَرَاهُمْ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا﴾ أَيْ: عَلَى النَّارِ ﴿خَاشِعِينَ مِنَ الذُّلِّ﴾ أَيِ: الَّذِي قَدِ اعْتَرَاهُمْ بِمَا أَسْلَفُوا مِنْ عِصْيَانِ اللَّهِ، ﴿يَنْظُرُونَ مِنْ طَرْفٍ خَفِيٍّ﴾ قَالَ مجاهد: يعني ذليل، أَيْ يَنْظُرُونَ إِلَيْهَا مُسَارقَة خَوْفًا مِنْهَا، وَالَّذِي يَحْذَرُونَ مِنْهُ وَاقِعٌ بِهِمْ لَا مَحَالَةَ، وَمَا هُوَ أَعْظَمُ مِمَّا فِي نُفُوسِهِمْ، أَجَارَنَا اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ.
﴿وَقَالَ الَّذِينَ آمَنُوا﴾ أَيْ: يَقُولُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: ﴿إِنَّ الْخَاسِرِينَ﴾ أَيِ: الْخَسَارُ [[في أ: "الخاسر".]] الْأَكْبَرُ ﴿الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ أَيْ: ذَهَبَ بِهِمْ إِلَى [[في ت: "في".]] النَّارِ فَعُدِمُوا لَذَّتَهُمْ فِي دَارِ الْأَبَدِ، وَخَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ، وَفُرِّقَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَصْحَابِهِمْ وَأَحْبَابِهِمْ وَأَهَالِيهِمْ وَقَرَابَاتِهِمْ، [[في ت: "وأقربائهم".]] فَخَسِرُوهُمْ، ﴿أَلا إِنَّ الظَّالِمِينَ فِي عَذَابٍ مُقِيمٍ﴾ أَيْ: دَائِمٍ سَرْمَدِيٍّ أَبَدِيٍّ، لَا خُرُوجَ لَهُمْ مِنْهَا وَلَا مَحِيدَ لَهُمْ عَنْهَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنْ أَوْلِيَاءَ يَنْصُرُونَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ﴾ أَيْ: يُنْقِذُونَهُمْ مِمَّا هُمْ فِيهِ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ، ﴿وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ سَبِيلٍ﴾ أَيْ: لَيْسَ لَهُ خَلَاصٌ.
وَمَا كَانَ لَهُم مِّنْ أَوْلِيَآءَ يَنصُرُونَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ ۗ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن سَبِيلٍ
And there will not be for them any allies to aid them other than Allah. And whoever Allah sends astray - for him there is no way.
اور خدا کے سوا ان کے کوئی دوست نہ ہوں گے کہ خدا کے سوا ان کو مدد دے سکیں۔ اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کے لئے (ہدایت کا) کوئی رستہ نہیں
آنها جز خدا اولیا و یاورانی ندارند که یاریشان کنند؛ و هر کس را خدا گمراه سازد، هیچ راه نجاتی برای او نیست!
Tafsir Ibn Kathir
And whomsoever Allah sends astray, for him there is no protector after Him. And you will see the wrongdoers, when they behold the torment, they will say: "Is there any way of return? (44)And you will see them brought forward to it (Hell) made humble by disgrace, (and) looking with stealthy glance. And those who believe will say: "Verily, the losers are they who lose themselves and their families on the Day of Resurrection." Verily, the wrongdoers will be in a lasting torment (45)And they will have no protectors to help them other than Allah. And he whom Allah sends astray, for him there is no way (46)
The State of the Wrongdoers on the Day of Resurrection
Allah tells us that whatever He wills happens and whatever He does not will does not happen, and no one can make it happen. Whomever He guides, none can lead astray, and whomever He leads astray, none can guide, as He says:
وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا
(but he whom He sends astray, for him you will find no protecting to lead him.)(18:17). Then Allah tells us about the wrongdoers, i.e., the idolators who associate others in worship with Allah:
لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ
(when they behold the torment,) i.e., on the Day of Resurrection, they will wish that they could go back to this world.
يَقُولُونَ هَلْ إِلَىٰ مَرَدٍّ مِنْ سَبِيلٍ
(they will say: "Is there any way of return?") This is like the Ayah:
وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - بَلْ بَدَا لَهُمْ مَا كَانُوا يُخْفُونَ مِنْ قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!" Nay, it has become manifest to them what they had been concealing before. But if they were returned, they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars.)(6:27-28)
وَتَرَاهُمْ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا
(And you will see them brought forward to it) means, to the Fire.
خَاشِعِينَ مِنَ الذُّلِّ
(made humble by disgrace,) means, in a befitting manner, because of their previous disobedience towards Allah.
يَنْظُرُونَ مِنْ طَرْفٍ خَفِيٍّ
((and) looking with stealthy glance.) Mujahid said, "In a humiliated manner." That is, they will steal glances at it, because they will be afraid of it. But the thing that they are afraid of will undoubtedly happen, and worse than that – may Allah save us from that.
وَقَالَ الَّذِينَ آمَنُوا
(And those who believe will say) means, on the Day of Resurrection they will say:
إِنَّ الْخَاسِرِينَ
(Verily, the losers...) means, the greatest losers.
الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
(are they who lose themselves and their families on the Day of Resurrection.) means, they will be taken to the Fire and deprived of any pleasures in the Hereafter. They will lose themselves, and they will be separated from their loved ones, companions, families and relatives, and they will lose them.
أَلَا إِنَّ الظَّالِمِينَ فِي عَذَابٍ مُقِيمٍ
(Verily, the wrongdoers will be in a lasting torment.) means, everlasting and eternal, with no way out and no escape.
وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنْ أَوْلِيَاءَ يَنْصُرُونَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ ۗ
(And they will have no protectors to help them other than Allah.) means, no one to save them from the punishment and torment which they are suffering.
وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ سَبِيلٍ
(And he whom Allah sends astray, for him there is no way.) means, no salvation.
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ کو کوئی پوچھنے والا نہیں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا اور نہ اسے کوئی کرسکتا ہے وہ جسے راہ راست دکھا دے اسے بہکا نہیں سکتا اور جس سے وہ راہ حق گم کر دے اسے کوئی اس راہ کو دکھا نہیں سکتا اور جگہ فرمان ہے آیت (وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرْشِدًا 17ۧ) 18۔ الكهف :17) جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی چارہ ساز اور رہبر نہیں۔ پھر فرماتا ہے یہ مشرکین قیامت کے عذاب کو دیکھ کر دوبارہ دنیا میں آنے کی تمنا کریں گے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27) 6۔ الانعام :27) ، کاش کہ تو انہیں دیکھتا جب کہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم دوبارہ واپس بھیج دئیے جائیں تو ہم ہرگز اپنے رب کی آیتوں کو جھوٹ نہ بتائیں بلکہ ایمان لے آئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ جس چیز کو اس سے پہلے پوشیدہ کئے ہوئے تھے وہ ان کے سامنے آگئی۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ دوبارہ بھیج بھی دیئے جائیں تب بھی وہی کریں گے جس سے منع کئے جاتے ہیں یقینا یہ جھوٹے ہیں پھر فرمایا یہ جہنم کے پاس لائے جائیں گے اور اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر ذلت برس رہی ہوگی عاجزی سے جھکے ہوئے ہوں گے اور نظریں بچاکر جہنم کو تک رہے ہوں گے۔ خوف زدہ اور حواس باختہ ہو رہے ہوں گے لیکن جس سے ڈر رہے ہیں اس سے بچ نہ سکیں گے نہ صرف اتنا ہی بلکہ ان کے وہم و گمان سے بھی زیادہ عذاب انہیں ہوگا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے اس وقت ایمان دار لوگ کہیں گے کہ حقیقی نقصان یافتہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ اپنے والوں کو بھی جہنم واصل کیا یہاں کی آج کی ابدی نعمتوں سے محروم رہے اور انہیں بھی محروم رکھا آج وہ سب الگ الگ عذاب میں مبتلا ہیں دائمی ابدی اور سرمدی سزائیں بھگت رہے ہیں اور یہ ناامید ہوجائیں آج کوئی ایسا نہیں جو ان عذابوں سے چھڑا سکے یا تخفیف کرا سکے ان گمراہوں کو خلاصی دینے والا کوئی نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبَرًا عَنْ نَفْسِهِ الْكَرِيمَةِ: أَنَّهُ مَا شَاءَ [[في ت: "ما شاء الله".]] كَانَ وَلَا رَادَّ لَهُ، وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ فَلَا مُوجِدَ لَهُ [[في أ: "فلا مؤاخذة له".]] وَأَنَّهُ مَنْ هَدَاهُ فَلَا مُضِل لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ [[في ت، م: "يضلل الله".]] فَلَا هَادِيَ لَهُ، كَمَا قَالَ: ﴿وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا﴾ [الْكَهْفِ: ١٧]
ثُمَّ قَالَ مُخْبِرًا عَنِ الظَّالِمِينَ، وَهُمُ الْمُشْرِكُونَ بِاللَّهِ ﴿لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ﴾ أَيْ: يَوْمَ القيامة يتمنون الرَّجْعَةَ إِلَى الدُّنْيَا، ﴿يَقُولُونَ هَلْ إِلَى مَرَدٍّ مِنْ سَبِيلٍ﴾ ، كَمَا قَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من ت.]] ﴿وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بَلْ بَدَا لَهُمْ مَا كَانُوا يُخْفُونَ مِنْ قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ﴾ [الْأَنْعَامِ:٢٧، ٢٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَرَاهُمْ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا﴾ أَيْ: عَلَى النَّارِ ﴿خَاشِعِينَ مِنَ الذُّلِّ﴾ أَيِ: الَّذِي قَدِ اعْتَرَاهُمْ بِمَا أَسْلَفُوا مِنْ عِصْيَانِ اللَّهِ، ﴿يَنْظُرُونَ مِنْ طَرْفٍ خَفِيٍّ﴾ قَالَ مجاهد: يعني ذليل، أَيْ يَنْظُرُونَ إِلَيْهَا مُسَارقَة خَوْفًا مِنْهَا، وَالَّذِي يَحْذَرُونَ مِنْهُ وَاقِعٌ بِهِمْ لَا مَحَالَةَ، وَمَا هُوَ أَعْظَمُ مِمَّا فِي نُفُوسِهِمْ، أَجَارَنَا اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ.
﴿وَقَالَ الَّذِينَ آمَنُوا﴾ أَيْ: يَقُولُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: ﴿إِنَّ الْخَاسِرِينَ﴾ أَيِ: الْخَسَارُ [[في أ: "الخاسر".]] الْأَكْبَرُ ﴿الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ أَيْ: ذَهَبَ بِهِمْ إِلَى [[في ت: "في".]] النَّارِ فَعُدِمُوا لَذَّتَهُمْ فِي دَارِ الْأَبَدِ، وَخَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ، وَفُرِّقَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَصْحَابِهِمْ وَأَحْبَابِهِمْ وَأَهَالِيهِمْ وَقَرَابَاتِهِمْ، [[في ت: "وأقربائهم".]] فَخَسِرُوهُمْ، ﴿أَلا إِنَّ الظَّالِمِينَ فِي عَذَابٍ مُقِيمٍ﴾ أَيْ: دَائِمٍ سَرْمَدِيٍّ أَبَدِيٍّ، لَا خُرُوجَ لَهُمْ مِنْهَا وَلَا مَحِيدَ لَهُمْ عَنْهَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنْ أَوْلِيَاءَ يَنْصُرُونَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ﴾ أَيْ: يُنْقِذُونَهُمْ مِمَّا هُمْ فِيهِ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ، ﴿وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ سَبِيلٍ﴾ أَيْ: لَيْسَ لَهُ خَلَاصٌ.
ٱسْتَجِيبُوا۟ لِرَبِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌۭ لَّا مَرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ ۚ مَا لَكُم مِّن مَّلْجَإٍۢ يَوْمَئِذٍۢ وَمَا لَكُم مِّن نَّكِيرٍۢ
Respond to your Lord before a Day comes from Allah of which there is no repelling. No refuge will you have that day, nor for you will there be any denial.
ان سے کہہ دو کہ) قبل اس کے کہ وہ دن جو ٹلے گا نہیں خدا کی طرف سے آ موجود ہو اپنے پروردگار کا حکم قبول کرو۔ اس دن تمہارے لئے نہ کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تم سے گناہوں کا انکار ہی بن پڑے گا
اجابت کنید دعوت پروردگار خود را پیش از آنکه روزی فرا رسد که بازگشتی برای آن در برابر اراده خدا نیست؛ و در آن روز، نه پناهگاهی دارید و نه مدافعی!
Tafsir Ibn Kathir
Answer the Call of your Lord before there comes from Allah a Day which cannot be averted. You will have no refuge on that Day nor there will be for you any denying (47)But if they turn away, We have not sent you as a Hafiz over them. Your duty is to convey. And verily, when We cause man to taste of mercy from Us, he rejoices there at; but when some evil befalls them because of the deeds which their hands have sent forth, then verily, man (becomes) ingrate (48)
Encouragement to obey Allah before the Day of Resurrection
When Allah tells us about the horrors and terrifying events of the Day of Resurrection, He warns us about it and commands us to prepare for it:
اسْتَجِيبُوا لِرَبِّكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ ۚ
(Answer the Call of your Lord before there comes from Allah a Day which cannot be averted.) means, once He issues the command, it will come to pass within the blinking of an eye, and no one will be able to avert it or prevent it.
مَا لَكُمْ مِنْ مَلْجَإٍ يَوْمَئِذٍ وَمَا لَكُمْ مِنْ نَكِيرٍ
(You will have no refuge on that Day nor there will be for you any denying.) means, you will have no stronghold in which to take refuge, no place in which to hide from Allah, for He will encompass you with His knowledge and power, and you will have no refuge from Him except with Him.
يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ - كَلَّا لَا وَزَرَ - إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ
(On that Day man will say: "Where (is the refuge) to flee?" No! There is no refuge! Unto your Lord will be the place of rest that Day.)(75:10-12)
فَإِنْ أَعْرَضُوا
(But if they turn away,) refers to the idolators,
فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا
(We have not sent you as a Hafiz over them.) means, 'you have no power over them.' And Allah says elsewhere:
لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۗ
(Not upon you is their guidance, but Allah guides whom He wills)(2:272).
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ
(your duty is only to convey (the Message) and on Us is the reckoning)(13:40). And Allah says here:
إِنْ عَلَيْكَ إِلَّا الْبَلَاغُ ۗ
(Your duty is to convey.) meaning, 'all that We require you to do is to convey the Message of Allah to them.'
وَإِنَّا إِذَا أَذَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا ۖ
(And verily, when We cause man to taste of mercy from Us, he rejoices there at;) means, when a time of ease and comfort comes to him, he is happy about it.
وَإِنْ تُصِبْهُمْ
(but when befalls them) means mankind.
سَيِّئَةٌ
(some evil) means, drought, punishment, tribulation or difficulty,
فَإِنَّ الْإِنْسَانَ كَفُورٌ
(then verily, man (becomes) ingrate!) means, he forgets the previous times of ease and blessings and acknowledges nothing but the present moment. If times of ease come to him, he becomes arrogant and transgresses, but if any difficulty befalls him, he loses hope and is filled with despair. This is like what the Messenger of Allah ﷺ said to the women:
يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ، فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ
(O women, give in charity, for I have seen that you form the majority of the people of Hell.) A woman asked, "Why is that, O Messenger of Allah?" He said:
لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ الشِّكَايَةَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلىٰ إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ تَرَكْتَ يَوْمًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ
(Because you complain too much, and you are ungrateful to (your) husbands. If one of you were to be treated kindly for an entire lifetime, then that kindness was lacking for one day, she would say, 'I have never seen anything good from you!') This is the case with most women, except for those whom Allah guides and who are among the people who believe and do righteous deeds. As the Prophet ﷺ said, the believer is the one who:
إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَلَيْسَ ذَلِكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ
(...if something good happens to him, he is thankful, and that is good for him. If something bad happens to him, he bears it with patience, and that is good for him. This does not happen to anyone except the believer.)
Tafsir Ibn Kathir
آسانی میں شکر تنگی میں صبر مومنوں کی صفت ہے چونکہ اوپر یہ ذکر تھا کہ قیامت کے دن بڑے ہیبت ناک واقعات ہوں گے وہ سخت مصیبت کا دن ہوگا تو اب یہاں اس سے ڈرا رہا ہے اور اس دن کے لئے تیار رہنے کو فرماتا ہے کہ اس اچانک آجانے والے دن سے پہلے ہی پہلے اللہ کے فرمان پر پوری طرح عمل کرلو جب وہ دن آجائے تو تمہیں نہ تو کوئی جائے پناہ ملے گی نہ ایسی جگہ کہ وہاں انجان بن کر ایسے چھپ جاؤ کہ پہچانے نہ جاؤ اور نہ نظر پڑے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ مشرک نہ مانیں تو آپ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے انہیں ہدایت پر لاکھڑا کردینا آپ کے ذمے نہیں یہ کام اللہ کا ہے۔ آپ پر صرف تبلیغ ہے حساب ہم خود لے لیں گے انسان کی حالت یہ ہے کہ راحت میں بدمست بن جاتا ہے اور تکلیف میں ناشکرا پن کرتا ہے اس وقت اگلی نعمتوں کا بھی منکر بن جاتا ہے حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے عورتوں سے فرمایا صدقہ کرو میں نے تمہیں زیادہ تعداد میں جہنم میں دیکھا ہے کسی عورت نے پوچھا یہ کس وجہ سے ؟ آپ نے فرمایا تمہاری شکایت کی زیادتی اور اپنے خاوندوں کی ناشکری کی وجہ سے اگر تو ان میں سے کوئی تمہارے ساتھ ایک زمانے تک احسان کرتا رہے پھر ایک دن چھوڑ دے تو تم کہہ دو گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی کوئی راحت پائی ہی نہیں۔ فی الواقع اکثر عورتوں کا یہی حال ہے لیکن جس پر اللہ رحم کرے اور نیکی کی توفیق دے دے۔ اور حقیقی ایمان نصیب فرمائے پھر تو اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ ہر راحت پہ شکر ہر رنج پر صبر پس ہر حال میں نیکی حاصل ہوتی ہے اور یہ وصف بجز مومن کے کسی اور میں نہیں ہوتا۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى مَا يَكُونُ فِي يَوْمِ الْقِيَامَةِ مِنَ الْأَهْوَالِ وَالْأُمُورِ الْعِظَامِ الْهَائِلَةِ حَذَّر مِنْهُ وَأَمَرَ بِالِاسْتِعْدَادِ لَهُ، فَقَالَ: ﴿اسْتَجِيبُوا لِرَبِّكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ﴾ أَيْ: إِذَا أَمَرَ بِكَوْنِهِ فَإِنَّهُ كَلَمْحِ الْبَصَرِ يَكُونُ، وَلَيْسَ لَهُ دَافِعٌ وَلَا مَانِعٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مَا لَكُمْ مِنْ مَلْجَإٍ يَوْمَئِذٍ وَمَا لَكُمْ مِنْ نَكِيرٍ﴾ أَيْ: لَيْسَ لَكُمْ حِصْنٌ تَتَحَصَّنُونَ فِيهِ، وَلَا مَكَانٌ يَسْتُرُكُمْ وَتَتَنَكَّرُونَ فِيهِ، فَتَغِيبُونَ عَنْ بَصَرِهِ، تَبَارَكَ وَتَعَالَى، بَلْ هُوَ مُحِيطٌ بِكُمْ بِعِلْمِهِ وَبَصَرِهِ وَقُدْرَتِهِ، فَلَا مَلْجَأَ مِنْهُ إِلَّا إِلَيْهِ، ﴿يَقُولُ الإنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ. كَلا لَا وَزَرَ إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ﴾ [الْقِيَامَةِ:١٠-١٢] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَإِنْ أَعْرَضُوا﴾ يَعْنِي: الْمُشْرِكِينَ ﴿فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا﴾ أَيْ: لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ. وَقَالَ تَعَالَى: ﴿لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ﴾ [الْبَقَرَةِ:٢٧٢] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ﴾ [الرَّعْدِ:٤٠] وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿إِنْ عَلَيْكَ إِلا الْبَلاغُ﴾ أَيْ: إِنَّمَا كَلَّفْنَاكَ أَنْ تُبْلِغَهُمْ رسالة الله إليهم.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَإِنَّا إِذَا أَذَقْنَا الإنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا﴾ أَيْ: إِذَا أَصَابَهُ رَخَاءٌ وَنِعْمَةٌ فَرِحَ بِذَلِكَ، ﴿وَإِنْ تُصِبْهُمْ﴾ يَعْنِي النَّاسَ ﴿سَيِّئَةٌ﴾ أَيْ: جَدْبٌ وَنِقْمَةٌ وَبَلَاءٌ وَشِدَّةٌ، ﴿فَإِنَّ الإنْسَانَ كَفُورٌ﴾ أَيْ: يَجْحَدُ مَا تَقَدَّمَ مِنَ النِّعْمَةِ [[في ت، م: "النعم".]] وَلَا يَعْرِفُ إِلَّا السَّاعَةَ الرَّاهِنَةَ، فَإِنْ أَصَابَتْهُ نِعْمَةٌ أَشِرَ وَبَطِرَ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مِحْنَةٌ يَئِسَ وَقَنِطَ، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ [لِلنِّسَاءِ] [[زيادة من ت، م، أ.]] يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ" فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: ولِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "لِأَنَّكُنَّ تُكثرن الشِّكَايَةَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ تَرَكْتَ يَوْمًا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ" [[رواه مسلم في صحيحه برقم (٧٩) من حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عنه، وبرقم (٨٠) من حديث أبي هريرة رضي الله عنه.]] وَهَذَا حَالُ أَكْثَرِ النَّاسِ [[في ت، م: "النساء".]] إِلَّا مَنْ هَدَاهُ اللَّهُ وَأَلْهَمَهُ رُشْدَهُ، وَكَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ، فَالْمُؤْمِنُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ "إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَلَيْسَ ذَلِكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ" [[رواه مسلم في صحيحه برقم (٢٩٩) من حديث صهيب رضي الله عنه.]] .
فَإِنْ أَعْرَضُوا۟ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ۖ إِنْ عَلَيْكَ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ۗ وَإِنَّآ إِذَآ أَذَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ مِنَّا رَحْمَةًۭ فَرِحَ بِهَا ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَإِنَّ ٱلْإِنسَٰنَ كَفُورٌۭ
But if they turn away - then We have not sent you, [O Muhammad], over them as a guardian; upon you is only [the duty of] notification. And indeed, when We let man taste mercy from us, he rejoices in it; but if evil afflicts him for what his hands have put forth, then indeed, man is ungrateful.
پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔ تمہارا کام تو صرف (احکام کا) پہنچا دینا ہے۔ اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتا ہے۔ اور اگر ان کو ان ہی کے اعمال کے سبب کوئی سختی پہنچتی ہے تو (سب احسانوں کو بھول جاتے ہیں) بےشک انسان بڑا ناشکرا ہے
و اگر رویگردان شوند (غمگین مباش)، ما تو را حافظ آنان (و مأمور اجبارشان) قرار ندادهایم؛ وظیفه تو تنها ابلاغ رسالت است! و هنگامی که ما رحمتی از سوی خود به انسان بچشانیم به آن دلخوش میشود، و اگر بلایی بخاطر اعمالی که انجام دادهاند به آنها رسد (به کفران میپردازند)، چرا که انسان بسیار کفرانکننده است!
Tafsir Ibn Kathir
Answer the Call of your Lord before there comes from Allah a Day which cannot be averted. You will have no refuge on that Day nor there will be for you any denying (47)But if they turn away, We have not sent you as a Hafiz over them. Your duty is to convey. And verily, when We cause man to taste of mercy from Us, he rejoices there at; but when some evil befalls them because of the deeds which their hands have sent forth, then verily, man (becomes) ingrate (48)
Encouragement to obey Allah before the Day of Resurrection
When Allah tells us about the horrors and terrifying events of the Day of Resurrection, He warns us about it and commands us to prepare for it:
اسْتَجِيبُوا لِرَبِّكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ ۚ
(Answer the Call of your Lord before there comes from Allah a Day which cannot be averted.) means, once He issues the command, it will come to pass within the blinking of an eye, and no one will be able to avert it or prevent it.
مَا لَكُمْ مِنْ مَلْجَإٍ يَوْمَئِذٍ وَمَا لَكُمْ مِنْ نَكِيرٍ
(You will have no refuge on that Day nor there will be for you any denying.) means, you will have no stronghold in which to take refuge, no place in which to hide from Allah, for He will encompass you with His knowledge and power, and you will have no refuge from Him except with Him.
يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ - كَلَّا لَا وَزَرَ - إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ
(On that Day man will say: "Where (is the refuge) to flee?" No! There is no refuge! Unto your Lord will be the place of rest that Day.)(75:10-12)
فَإِنْ أَعْرَضُوا
(But if they turn away,) refers to the idolators,
فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا
(We have not sent you as a Hafiz over them.) means, 'you have no power over them.' And Allah says elsewhere:
لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۗ
(Not upon you is their guidance, but Allah guides whom He wills)(2:272).
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ
(your duty is only to convey (the Message) and on Us is the reckoning)(13:40). And Allah says here:
إِنْ عَلَيْكَ إِلَّا الْبَلَاغُ ۗ
(Your duty is to convey.) meaning, 'all that We require you to do is to convey the Message of Allah to them.'
وَإِنَّا إِذَا أَذَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا ۖ
(And verily, when We cause man to taste of mercy from Us, he rejoices there at;) means, when a time of ease and comfort comes to him, he is happy about it.
وَإِنْ تُصِبْهُمْ
(but when befalls them) means mankind.
سَيِّئَةٌ
(some evil) means, drought, punishment, tribulation or difficulty,
فَإِنَّ الْإِنْسَانَ كَفُورٌ
(then verily, man (becomes) ingrate!) means, he forgets the previous times of ease and blessings and acknowledges nothing but the present moment. If times of ease come to him, he becomes arrogant and transgresses, but if any difficulty befalls him, he loses hope and is filled with despair. This is like what the Messenger of Allah ﷺ said to the women:
يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ، فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ
(O women, give in charity, for I have seen that you form the majority of the people of Hell.) A woman asked, "Why is that, O Messenger of Allah?" He said:
لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ الشِّكَايَةَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلىٰ إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ تَرَكْتَ يَوْمًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ
(Because you complain too much, and you are ungrateful to (your) husbands. If one of you were to be treated kindly for an entire lifetime, then that kindness was lacking for one day, she would say, 'I have never seen anything good from you!') This is the case with most women, except for those whom Allah guides and who are among the people who believe and do righteous deeds. As the Prophet ﷺ said, the believer is the one who:
إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَلَيْسَ ذَلِكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ
(...if something good happens to him, he is thankful, and that is good for him. If something bad happens to him, he bears it with patience, and that is good for him. This does not happen to anyone except the believer.)
Tafsir Ibn Kathir
آسانی میں شکر تنگی میں صبر مومنوں کی صفت ہے چونکہ اوپر یہ ذکر تھا کہ قیامت کے دن بڑے ہیبت ناک واقعات ہوں گے وہ سخت مصیبت کا دن ہوگا تو اب یہاں اس سے ڈرا رہا ہے اور اس دن کے لئے تیار رہنے کو فرماتا ہے کہ اس اچانک آجانے والے دن سے پہلے ہی پہلے اللہ کے فرمان پر پوری طرح عمل کرلو جب وہ دن آجائے تو تمہیں نہ تو کوئی جائے پناہ ملے گی نہ ایسی جگہ کہ وہاں انجان بن کر ایسے چھپ جاؤ کہ پہچانے نہ جاؤ اور نہ نظر پڑے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ مشرک نہ مانیں تو آپ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے انہیں ہدایت پر لاکھڑا کردینا آپ کے ذمے نہیں یہ کام اللہ کا ہے۔ آپ پر صرف تبلیغ ہے حساب ہم خود لے لیں گے انسان کی حالت یہ ہے کہ راحت میں بدمست بن جاتا ہے اور تکلیف میں ناشکرا پن کرتا ہے اس وقت اگلی نعمتوں کا بھی منکر بن جاتا ہے حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے عورتوں سے فرمایا صدقہ کرو میں نے تمہیں زیادہ تعداد میں جہنم میں دیکھا ہے کسی عورت نے پوچھا یہ کس وجہ سے ؟ آپ نے فرمایا تمہاری شکایت کی زیادتی اور اپنے خاوندوں کی ناشکری کی وجہ سے اگر تو ان میں سے کوئی تمہارے ساتھ ایک زمانے تک احسان کرتا رہے پھر ایک دن چھوڑ دے تو تم کہہ دو گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی کوئی راحت پائی ہی نہیں۔ فی الواقع اکثر عورتوں کا یہی حال ہے لیکن جس پر اللہ رحم کرے اور نیکی کی توفیق دے دے۔ اور حقیقی ایمان نصیب فرمائے پھر تو اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ ہر راحت پہ شکر ہر رنج پر صبر پس ہر حال میں نیکی حاصل ہوتی ہے اور یہ وصف بجز مومن کے کسی اور میں نہیں ہوتا۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى مَا يَكُونُ فِي يَوْمِ الْقِيَامَةِ مِنَ الْأَهْوَالِ وَالْأُمُورِ الْعِظَامِ الْهَائِلَةِ حَذَّر مِنْهُ وَأَمَرَ بِالِاسْتِعْدَادِ لَهُ، فَقَالَ: ﴿اسْتَجِيبُوا لِرَبِّكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ﴾ أَيْ: إِذَا أَمَرَ بِكَوْنِهِ فَإِنَّهُ كَلَمْحِ الْبَصَرِ يَكُونُ، وَلَيْسَ لَهُ دَافِعٌ وَلَا مَانِعٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مَا لَكُمْ مِنْ مَلْجَإٍ يَوْمَئِذٍ وَمَا لَكُمْ مِنْ نَكِيرٍ﴾ أَيْ: لَيْسَ لَكُمْ حِصْنٌ تَتَحَصَّنُونَ فِيهِ، وَلَا مَكَانٌ يَسْتُرُكُمْ وَتَتَنَكَّرُونَ فِيهِ، فَتَغِيبُونَ عَنْ بَصَرِهِ، تَبَارَكَ وَتَعَالَى، بَلْ هُوَ مُحِيطٌ بِكُمْ بِعِلْمِهِ وَبَصَرِهِ وَقُدْرَتِهِ، فَلَا مَلْجَأَ مِنْهُ إِلَّا إِلَيْهِ، ﴿يَقُولُ الإنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ. كَلا لَا وَزَرَ إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ﴾ [الْقِيَامَةِ:١٠-١٢] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَإِنْ أَعْرَضُوا﴾ يَعْنِي: الْمُشْرِكِينَ ﴿فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا﴾ أَيْ: لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ. وَقَالَ تَعَالَى: ﴿لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ﴾ [الْبَقَرَةِ:٢٧٢] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ﴾ [الرَّعْدِ:٤٠] وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿إِنْ عَلَيْكَ إِلا الْبَلاغُ﴾ أَيْ: إِنَّمَا كَلَّفْنَاكَ أَنْ تُبْلِغَهُمْ رسالة الله إليهم.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَإِنَّا إِذَا أَذَقْنَا الإنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا﴾ أَيْ: إِذَا أَصَابَهُ رَخَاءٌ وَنِعْمَةٌ فَرِحَ بِذَلِكَ، ﴿وَإِنْ تُصِبْهُمْ﴾ يَعْنِي النَّاسَ ﴿سَيِّئَةٌ﴾ أَيْ: جَدْبٌ وَنِقْمَةٌ وَبَلَاءٌ وَشِدَّةٌ، ﴿فَإِنَّ الإنْسَانَ كَفُورٌ﴾ أَيْ: يَجْحَدُ مَا تَقَدَّمَ مِنَ النِّعْمَةِ [[في ت، م: "النعم".]] وَلَا يَعْرِفُ إِلَّا السَّاعَةَ الرَّاهِنَةَ، فَإِنْ أَصَابَتْهُ نِعْمَةٌ أَشِرَ وَبَطِرَ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مِحْنَةٌ يَئِسَ وَقَنِطَ، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ [لِلنِّسَاءِ] [[زيادة من ت، م، أ.]] يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ" فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: ولِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "لِأَنَّكُنَّ تُكثرن الشِّكَايَةَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ تَرَكْتَ يَوْمًا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ" [[رواه مسلم في صحيحه برقم (٧٩) من حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عنه، وبرقم (٨٠) من حديث أبي هريرة رضي الله عنه.]] وَهَذَا حَالُ أَكْثَرِ النَّاسِ [[في ت، م: "النساء".]] إِلَّا مَنْ هَدَاهُ اللَّهُ وَأَلْهَمَهُ رُشْدَهُ، وَكَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ، فَالْمُؤْمِنُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ "إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَلَيْسَ ذَلِكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ" [[رواه مسلم في صحيحه برقم (٢٩٩) من حديث صهيب رضي الله عنه.]] .
لِّلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشَآءُ إِنَٰثًۭا وَيَهَبُ لِمَن يَشَآءُ ٱلذُّكُورَ
To Allah belongs the dominion of the heavens and the earth; He creates what he wills. He gives to whom He wills female [children], and He gives to whom He wills males.
(تمام) بادشاہت خدا ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے
مالکیّت و حاکمیّت آسمانها و زمین از آن خداست؛ هر چه را بخواهد میآفریند؛ به هر کس اراده کند دختر میبخشد و به هر کس بخواهد پسر،
Tafsir Ibn Kathir
To Allah belongs the kingdom of the heavens and the earth. He creates what He wills. He bestows female upon whom He wills, and bestows male upon whom He wills (49)Or He bestows both males and females, and He renders barren whom He wills. Verily, He is the All-Knower and is Able (to do all things)(50)
Allah tells us that He is the Creator, Sovereign and Controller of the heavens and the earth. Whatever he wills happens, and whatever He does not will does not happen. He gives to whomsoever He wills and withholds from whomsoever he wills; none can withhold what He gives, and none can give what He withholds, and He creates whatever He wills.
يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا
(He bestows female upon whom He wills.) means, He gives them daughters only. Al-Baghawi said, "And among them (those who were given daughters only) was Lut, peace be upon him."
وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ
(and bestows male upon whom He wills.) means, He gives them sons only. Al-Baghawi said, "Like Ibrahim Al-Khalil, peace be upon him, who did not have any daughters."
أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا ۖ
(Or He bestows both males and females,) means, He gives to whomsoever He wills both males and females, sons and daughters. Al-Baghawi said, "Like Muhammad ﷺ."
وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا ۚ
(and He renders barren whom He wills.) means, so that he has no children at all. Al-Baghawi said, "Like Yahya and 'Isa, peace be upon them." So people are divided into four categories: some are given daughters, some are given sons, some are given both sons and daughters, and some are not given either sons or daughters, but they are rendered barren, with no offspring.
إِنَّهُ عَلِيمٌ
(Verily, He is the All-Knower) means, He knows who deserves to be in which of these categories.
قَدِيرٌ
(and is Able (to do all things).) means, to do whatever He wills and to differentiate between people in this manner. This issue is similar to that referred to in the Ayah where Allah says of 'Isa, peace be upon him:
وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ
(And (We wish) to appoint him as a sign to mankind)(19:21): i.e., proof for them of His power, for He created people in four different ways. Adam, peace be upon him, was created from clay, from neither a male nor a female. Hawwa', peace be upon her, was created from a male without a female. All other people, besides 'Isa, peace be upon him, were created from male and female, and this sign of Allah was completed with the creation of 'Isa bin Maryam, may peace be upon them both, who was created from a female without a male. Allah says:
وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ
(And (We wish) to appoint him as a sign to mankind)(19: 21). This issue has to do with parents, whilst the previous issue has to do with children, and in each case there are four categories. Glory be to the All-Knower Who is Able to do all things.
Tafsir Ibn Kathir
اولاد کا اختیار اللہ کے پاس ہے فرماتا ہے کہ خالق مالک اور متصرف زمین و آسمان کا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے جو چاہے پیدا کرے اور بنائے جسے چاہے صرف لڑکیاں دے جیسے حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے صرف لڑکے ہی عطا فرماتا ہے جیسے ابراہیم خلیل علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے لڑکے لڑکیاں سب کچھ دیتا ہے جیسے حضرت محمد ﷺ اور جسے چاہے لا ولد رکھتا ہے جیسے حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ۔ پس یہ چار قسمیں ہوئیں۔ لڑکیوں والے لڑکوں والے دونوں والے اور دونوں سے خالی ہاتھ۔ وہ علیم ہے ہر مستحق کو جانتا ہے۔ قادر ہے جس طرح چاہے تفاوت رکھتا ہے پس یہ مقام بھی مثل اس فرمان الٰہی کے ہے۔ جو حضرت عیسیٰ کے بارے میں ہے کہ تاکہ کہ ہم اسے لوگوں کے لئے نشان بنائیں یعنی دلیل قدرت بنائیں اور دکھا دیں کہ ہم نے مخلوق کو چار طور پر پیدا کیا حضرت آدم صرف مٹی سے پیدا ہوئے نہ ماں نہ باپ۔ حضرت حوا صرف مرد سے پیدا ہوئیں باقی کل انسان مرد عورت دونوں سے سوائے حضرت عیسیٰ کے کہ وہ صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کئے گئے۔ پس آپ کی پیدائش سے یہ چاروں قسمیں ہوگئیں۔ پس یہ مقام ماں باپ کے بارے میں تھا اور وہ مقام اولاد کے بارے میں اس کی بھی چار قسمیں اور اسکی بھی چار قسمیں سبحان اللہ یہ ہے اس اللہ کے علم وقدرت کی نشانی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُ خَالِقُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَالِكُهُمَا وَالْمُتَصَرِّفُ فِيهِمَا، وَأَنَّهُ مَا شَاءَ كَانَ، وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ، وَأَنَّهُ يُعْطِي مَنْ يَشَاءُ، وَيَمْنَعُ مَنْ يَشَاءُ، وَلَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَى، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعَ، وَأَنَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ، وَ ﴿يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا﴾ أَيْ: يَرْزُقُهُ الْبَنَاتِ فَقَطْ -قَالَ الْبَغَوِيُّ: وَمِنْهُمْ لُوطٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ ﴿وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ﴾ أَيْ: يَرْزُقُهُ الْبَنِينَ فَقَطْ. قَالَ الْبَغَوِيُّ: كَإِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ -لَمْ يُولَدْ لَهُ أُنْثَى،. ﴿أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا﴾ أَيْ: وَيُعْطِي مَنْ يَشَاءُ مِنَ النَّاسِ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى، أَيْ: مِنْ هَذَا وَهَذَا [[في ت: "هذا من هذا".]] . قَالَ الْبَغَوِيُّ: كَمُحَمَّدٍ، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ﴿وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا﴾ أَيْ: لَا يُولَدُ لَهُ. قَالَ الْبَغَوِيُّ: كَيَحْيَى وَعِيسَى، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، فَجَعَلَ النَّاسَ أَرْبَعَةَ أَقْسَامٍ، مِنْهُمْ مَنْ يُعْطِيهِ الْبَنَاتِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطِيهِ الْبَنِينَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطِيهِ مِنَ النَّوْعَيْنِ ذُكُورًا وَإِنَاثًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْنَعُهُ هَذَا وَهَذَا، فَيَجَعَلُهُ عَقِيمًا لَا نَسْلَ لَهُ وَلَا يُولَدُ لَهُ، ﴿إِنَّهُ عَلِيمٌ﴾ أَيْ: بِمَنْ يَسْتَحِقُّ كُلَّ قِسْمٍ مِنْ هَذِهِ الْأَقْسَامِ، ﴿قَدِيرٌ﴾ أَيْ: عَلَى مَنْ يَشَاءُ، مِنْ تَفَاوُتِ النَّاسِ فِي ذَلِكَ.
وَهَذَا الْمَقَامُ شَبِيهٌ بِقَوْلِهِ تَعَالَى عَنْ عِيسَى: ﴿وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ﴾ [مَرْيَمَ: ٢١] أَيْ: دَلَالَةً لَهُمْ عَلَى قُدْرَتِهِ، تَعَالَى وَتَقَدَّسَ، حَيْثُ خَلَقَ الْخَلْقَ عَلَى أَرْبَعَةِ أَقْسَامٍ، فَآدَمُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مَخْلُوقٌ مِنْ تُرَابٍ لَا مِنْ ذَكَرٍ وَلَا أُنْثَى، وَحَوَّاءُ عَلَيْهَا السَّلَامُ، [مَخْلُوقَةٌ] [[زيادة من ت.]] مِنْ ذَكَرٍ بِلَا أُنْثَى، وَسَائِرُ الْخَلْقِ سِوَى عِيسَى [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ت، م، وفي أ: "عيسى ابن مريم عليهما السلام".]] مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى، وَعِيسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مِنْ أُنْثَى بِلَا ذَكَرٍ فَتَمَّتِ الدَّلَالَةُ بِخَلْقِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ﴾ ، فَهَذَا الْمَقَامُ فِي الْآبَاءِ، وَالْمَقَامُ الْأَوَّلُ فِي الْأَبْنَاءِ، وَكُلٌّ منهما أربعة أقسام، فسبحان العليم القدير.
أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًۭا وَإِنَٰثًۭا ۖ وَيَجْعَلُ مَن يَشَآءُ عَقِيمًا ۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۭ قَدِيرٌۭ
Or He makes them [both] males and females, and He renders whom He wills barren. Indeed, He is Knowing and Competent.
یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے۔ وہ تو جاننے والا (اور) قدرت والا ہے
یا (اگر بخواهد) پسر و دختر -هر دو- را برای آنان جمع میکند و هر کس را بخواهد عقیم میگذارد؛ زیرا که او دانا و قادر است.
Tafsir Ibn Kathir
To Allah belongs the kingdom of the heavens and the earth. He creates what He wills. He bestows female upon whom He wills, and bestows male upon whom He wills (49)Or He bestows both males and females, and He renders barren whom He wills. Verily, He is the All-Knower and is Able (to do all things)(50)
Allah tells us that He is the Creator, Sovereign and Controller of the heavens and the earth. Whatever he wills happens, and whatever He does not will does not happen. He gives to whomsoever He wills and withholds from whomsoever he wills; none can withhold what He gives, and none can give what He withholds, and He creates whatever He wills.
يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا
(He bestows female upon whom He wills.) means, He gives them daughters only. Al-Baghawi said, "And among them (those who were given daughters only) was Lut, peace be upon him."
وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ
(and bestows male upon whom He wills.) means, He gives them sons only. Al-Baghawi said, "Like Ibrahim Al-Khalil, peace be upon him, who did not have any daughters."
أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا ۖ
(Or He bestows both males and females,) means, He gives to whomsoever He wills both males and females, sons and daughters. Al-Baghawi said, "Like Muhammad ﷺ."
وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا ۚ
(and He renders barren whom He wills.) means, so that he has no children at all. Al-Baghawi said, "Like Yahya and 'Isa, peace be upon them." So people are divided into four categories: some are given daughters, some are given sons, some are given both sons and daughters, and some are not given either sons or daughters, but they are rendered barren, with no offspring.
إِنَّهُ عَلِيمٌ
(Verily, He is the All-Knower) means, He knows who deserves to be in which of these categories.
قَدِيرٌ
(and is Able (to do all things).) means, to do whatever He wills and to differentiate between people in this manner. This issue is similar to that referred to in the Ayah where Allah says of 'Isa, peace be upon him:
وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ
(And (We wish) to appoint him as a sign to mankind)(19:21): i.e., proof for them of His power, for He created people in four different ways. Adam, peace be upon him, was created from clay, from neither a male nor a female. Hawwa', peace be upon her, was created from a male without a female. All other people, besides 'Isa, peace be upon him, were created from male and female, and this sign of Allah was completed with the creation of 'Isa bin Maryam, may peace be upon them both, who was created from a female without a male. Allah says:
وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ
(And (We wish) to appoint him as a sign to mankind)(19: 21). This issue has to do with parents, whilst the previous issue has to do with children, and in each case there are four categories. Glory be to the All-Knower Who is Able to do all things.
Tafsir Ibn Kathir
اولاد کا اختیار اللہ کے پاس ہے فرماتا ہے کہ خالق مالک اور متصرف زمین و آسمان کا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے جو چاہے پیدا کرے اور بنائے جسے چاہے صرف لڑکیاں دے جیسے حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے صرف لڑکے ہی عطا فرماتا ہے جیسے ابراہیم خلیل علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے لڑکے لڑکیاں سب کچھ دیتا ہے جیسے حضرت محمد ﷺ اور جسے چاہے لا ولد رکھتا ہے جیسے حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ۔ پس یہ چار قسمیں ہوئیں۔ لڑکیوں والے لڑکوں والے دونوں والے اور دونوں سے خالی ہاتھ۔ وہ علیم ہے ہر مستحق کو جانتا ہے۔ قادر ہے جس طرح چاہے تفاوت رکھتا ہے پس یہ مقام بھی مثل اس فرمان الٰہی کے ہے۔ جو حضرت عیسیٰ کے بارے میں ہے کہ تاکہ کہ ہم اسے لوگوں کے لئے نشان بنائیں یعنی دلیل قدرت بنائیں اور دکھا دیں کہ ہم نے مخلوق کو چار طور پر پیدا کیا حضرت آدم صرف مٹی سے پیدا ہوئے نہ ماں نہ باپ۔ حضرت حوا صرف مرد سے پیدا ہوئیں باقی کل انسان مرد عورت دونوں سے سوائے حضرت عیسیٰ کے کہ وہ صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کئے گئے۔ پس آپ کی پیدائش سے یہ چاروں قسمیں ہوگئیں۔ پس یہ مقام ماں باپ کے بارے میں تھا اور وہ مقام اولاد کے بارے میں اس کی بھی چار قسمیں اور اسکی بھی چار قسمیں سبحان اللہ یہ ہے اس اللہ کے علم وقدرت کی نشانی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُ خَالِقُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَالِكُهُمَا وَالْمُتَصَرِّفُ فِيهِمَا، وَأَنَّهُ مَا شَاءَ كَانَ، وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ، وَأَنَّهُ يُعْطِي مَنْ يَشَاءُ، وَيَمْنَعُ مَنْ يَشَاءُ، وَلَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَى، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعَ، وَأَنَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ، وَ ﴿يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا﴾ أَيْ: يَرْزُقُهُ الْبَنَاتِ فَقَطْ -قَالَ الْبَغَوِيُّ: وَمِنْهُمْ لُوطٌ، عَلَيْهِ السَّلَامُ ﴿وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ﴾ أَيْ: يَرْزُقُهُ الْبَنِينَ فَقَطْ. قَالَ الْبَغَوِيُّ: كَإِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ -لَمْ يُولَدْ لَهُ أُنْثَى،. ﴿أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا﴾ أَيْ: وَيُعْطِي مَنْ يَشَاءُ مِنَ النَّاسِ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى، أَيْ: مِنْ هَذَا وَهَذَا [[في ت: "هذا من هذا".]] . قَالَ الْبَغَوِيُّ: كَمُحَمَّدٍ، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ﴿وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا﴾ أَيْ: لَا يُولَدُ لَهُ. قَالَ الْبَغَوِيُّ: كَيَحْيَى وَعِيسَى، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، فَجَعَلَ النَّاسَ أَرْبَعَةَ أَقْسَامٍ، مِنْهُمْ مَنْ يُعْطِيهِ الْبَنَاتِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطِيهِ الْبَنِينَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطِيهِ مِنَ النَّوْعَيْنِ ذُكُورًا وَإِنَاثًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْنَعُهُ هَذَا وَهَذَا، فَيَجَعَلُهُ عَقِيمًا لَا نَسْلَ لَهُ وَلَا يُولَدُ لَهُ، ﴿إِنَّهُ عَلِيمٌ﴾ أَيْ: بِمَنْ يَسْتَحِقُّ كُلَّ قِسْمٍ مِنْ هَذِهِ الْأَقْسَامِ، ﴿قَدِيرٌ﴾ أَيْ: عَلَى مَنْ يَشَاءُ، مِنْ تَفَاوُتِ النَّاسِ فِي ذَلِكَ.
وَهَذَا الْمَقَامُ شَبِيهٌ بِقَوْلِهِ تَعَالَى عَنْ عِيسَى: ﴿وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ﴾ [مَرْيَمَ: ٢١] أَيْ: دَلَالَةً لَهُمْ عَلَى قُدْرَتِهِ، تَعَالَى وَتَقَدَّسَ، حَيْثُ خَلَقَ الْخَلْقَ عَلَى أَرْبَعَةِ أَقْسَامٍ، فَآدَمُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مَخْلُوقٌ مِنْ تُرَابٍ لَا مِنْ ذَكَرٍ وَلَا أُنْثَى، وَحَوَّاءُ عَلَيْهَا السَّلَامُ، [مَخْلُوقَةٌ] [[زيادة من ت.]] مِنْ ذَكَرٍ بِلَا أُنْثَى، وَسَائِرُ الْخَلْقِ سِوَى عِيسَى [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من ت، م، وفي أ: "عيسى ابن مريم عليهما السلام".]] مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى، وَعِيسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مِنْ أُنْثَى بِلَا ذَكَرٍ فَتَمَّتِ الدَّلَالَةُ بِخَلْقِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ﴾ ، فَهَذَا الْمَقَامُ فِي الْآبَاءِ، وَالْمَقَامُ الْأَوَّلُ فِي الْأَبْنَاءِ، وَكُلٌّ منهما أربعة أقسام، فسبحان العليم القدير.
۞ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ ٱللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَآئِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًۭا فَيُوحِىَ بِإِذْنِهِۦ مَا يَشَآءُ ۚ إِنَّهُۥ عَلِىٌّ حَكِيمٌۭ
And it is not for any human being that Allah should speak to him except by revelation or from behind a partition or that He sends a messenger to reveal, by His permission, what He wills. Indeed, He is Most High and Wise.
اور کسی آدمی کے لئے ممکن نہیں کہ خدا اس سے بات کرے مگر الہام (کے ذریعے) سے یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیج دے تو وہ خدا کے حکم سے جو خدا چاہے القا کرے۔ بےشک وہ عالی رتبہ (اور) حکمت والا ہے
و شایسته هیچ انسانی نیست که خدا با او سخن گوید، مگر از راه وحی یا از پشت حجاب، یا رسولی میفرستد و بفرمان او آنچه را بخواهد وحی میکند؛ چرا که او بلندمقام و حکیم است!
Tafsir Ibn Kathir
It is not given to any human being that Allah should speak to him unless (it be) by revelation, or from behind a veil, or (that) He sends a Messenger to reveal what He wills by His leave. Verily, He is Most High, Most Wise (51)And thus We have sent to you Ruh of Our command. You knew not what is the Book, nor what is Faith. But We have made it a light wherewith We guide whosoever of Our servants We will. And verily, you are indeed guiding to a straight path (52)The path of Allah to Whom belongs all that is in the heavens and all that is on the earth. Verily, all matters at the end go to Allah (53)
How the Revelation comes down
This refers to how Allah sends revelation. Sometimes He casts something into the heart of the Prophet ﷺ, and he has no doubt that it is from Allah, as it was reported in Sahih Ibn Hibban that the Messenger of Allah ﷺ said:
إِنَّ رُوْحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِي رُوعِي أَنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتّٰى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا وَأَجَلَهَا، فَاتَّقُوا اللهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ
(Ar-Ruh Al-Qudus [i.e., Jibril] breathed into my heart that no soul will die until its allotted provision and time have expired, so have Taqwa of Allah and keep seeking in a good (and lawful) way.)
أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ
(or from behind a veil) – as He spoke to Musa, peace be upon him. He asked to see Him after He had spoken to him, but this was not granted to him.
In the Sahih, it recorded that the Messenger of Allah ﷺ said to Jabir bin 'Abdullah, may Allah be pleased with him:
مَا كَلَّمَ اللهُ أَحَدًا إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَإِنَّهُ كَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا
(Allah never speaks to anyone except from behind a veil, but He spoke to your father directly.) This is how it was stated in the Hadith. He [Jabir's father] was killed on the day of Uhud, but this refers to the realm of Al-Barzakh, whereas the Ayah speaks of this earthly realm.
أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ
(or (that) He sends a Messenger to reveal what He wills by His leave.) as Jibril, peace be upon him, and other angels came down to the Prophets, peace be upon them.
إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ
(Verily, He is Most High, Most Wise.) He is Most High, All-Knowing, Most Wise.
وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا ۚ
(And thus We have sent to you Ruh of Our command.) means, the Qur'an.
مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ
(You knew not what is the Book, nor what is Faith.) means, 'in the details which were given to you in the Qur'an.'
وَلَٰكِنْ جَعَلْنَاهُ
(But We have made it) means, the Qur'an,
نُورًا نَهْدِي بِهِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا
(a light wherewith We guide whosoever of Our servants We will.) This is like the Ayah:
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ ۖ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى ۚ
(Say: "It is for those who believe, a guide and a healing. And as for those who disbelieve, there is heaviness (deafness) in their ears, and it (the Qur'an) is blindness for them.")(41:44).
وَإِنَّكَ
(And verily, you) means, 'O Muhammad,'
لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
(are indeed guiding to a straight path.) means, the correct behavior. Then Allah explains this further by saying:
صِرَاطِ اللَّهِ
(The path of Allah) meaning, His Laws which He enjoins.
الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ
(to Whom belongs all that is in the heavens and all that is on the earth.) means, their Lord and Sovereign, the One Who is controlling and ruling them, Whose decree cannot be overturned.
أَلَا إِلَى اللَّهِ تَصِيرُ الْأُمُورُ
(Verily, all matters at the end go to Allah.) means, all matters come back to Him and He issues judgement concerning them. Glorified and exalted be He far above all that the evildoers and deniers say.
This is the end of the Tafsir of Surat Ash-Shura.
Tafsir Ibn Kathir
قرآن حکیم شفا ہے مقامات و مراتب و کیفیات وحی کا بیان ہو رہا ہے کہ کبھی تو حضور ﷺ کے دل میں وحی ڈال دی جاتی ہے جس کے وحی اللہ ہونے میں آپکو کوئی شک نہیں رہتا جیسے صحیح ابن حبان کی حدیث میں ہے کہ روح القدس نے میرے دل میں یہ بات پھونکی ہے کہ کوئی شخص بھی جب تک اپنی روزی اور اپنا وقت پورا نہ کرلے ہرگز نہیں مرتا پس اللہ سے ڈرو اور روزی کی طلب میں اچھائی اختیار کرو۔ یا پردے کی اوٹ سے جیسے حضرت موسیٰ سے کلام ہوا۔ کیونکہ انہوں نے کلام سن کر جمال دیکھنا چاہا لیکن وہ پردے میں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر بن عبداللہ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی سے کلام نہیں کیا مگر پردے کے پیچھے سے لیکن تیرے باپ سے اپنے سامنے کلام کیا یہ جنت احد میں کفار کے ہاتھوں شہید کئے گئے تھے لیکن یہ یاد رہے کہ یہ کلام عالم برزخ کا ہے اور آیت میں جس کلام کا ذکر ہے اس سے مراد دنیا کا کلام ہے یا اپنے قاصد کو بھیج کر اپنی بات اس تک پہنچائے جیسے حضرت جبرائیل وغیرہ فرشتے انبیاء ؑ کے پاس آتے رہے وہ علو اور بلندی اور بزرگی والا ہے ساتھ ہی حکیم اور حکمت والا ہے روح سے مراد قرآن ہے فرماتا ہے اس قرآن کو بذریعہ وحی کے ہم نے تیری طرف اتارا ہے کتاب اور ایمان کو جس تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہم نے اپنی کتاب میں ہے تو اس سے پہلے جانتا بھی نہ تھا لیکن ہم نے اس قرآن کو نور بنایا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم اپنے ایمان دار بندوں کو راہ راست دکھلائیں جیسے آیت میں ہے (قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ 44) 41۔ فصلت :44) کہہ دے کہ یہ ایمان والوں کے واسطے ہدایت و شفا ہے اور بےایمانوں کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی ہیں پھر فرمایا کہ اے نبی ﷺ تم صریح اور مضبوط حق کی رہنمائی کر رہے ہو پھر صراط مستقیم کی تشریح کی اور فرمایا اسے شرع مقرر کرنے والا خود اللہ ہے جس کی شان یہ ہے کہ آسمانوں زمینوں کا مالک اور رب وہی ہے ان میں تصرف کرنے والا اور حکم چلانے والا بھی وہی ہے کوئی اس کے کسی حکم کو ٹال نہیں سکتا تمام امور اس کی طرف پھیرے جاتے ہیں وہی سب کاموں کے فیصلے کرتا ہے اور حکم کرتا ہے وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جو اس کی نسبت ظالم اور منکرین کہتے ہیں وہ بلندیوں اور بڑائیوں والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ مَقَامَاتُ [[في ت: "مقدمات".]] الْوَحْيِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى جَنَابِ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، وَهُوَ أَنَّهُ تَعَالَى تَارَةً يَقْذِفُ فِي رَوْعِ النَّبِيِّ ﷺ شَيْئًا لَا يَتَمَارَى فِيهِ أَنَّهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، كَمَا جَاءَ فِي صَحِيحِ ابْنِ حِبَّانَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "إِنَّ رُوح القُدُس نَفَثَ فِي رُوعي: إِنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا وَأَجَلَهَا، فَاتَّقَوُا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ" [[ورواه البغوي في شرح السنة (١٤/٣٠٤) من طريق إسماعيل بن أبي خالد عن زبيد اليامي عمن أخبره عن ابن مسعود به.]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ﴾ كَمَا كَلَّمَ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّهُ سَأَلَ الرُّؤْيَةَ بَعْدَ التَّكْلِيمِ، فَحُجِبَ عَنْهَا.
وَفِي الصَّحِيحِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم قال لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: "مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَإِنَّهُ كَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا" الْحَدِيثَ [[رواه الترمذي في السنن برقم (٣٠١٠) وقال: "هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ".]] ، وَكَانَ [أَبُوهُ] [[زيادة من ت، أ.]] قَدْ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَلَكِنَّ هَذَا فِي عَالَمِ الْبَرْزَخِ، وَالْآيَةُ إِنَّمَا هِيَ فِي الدَّارِ [[في ت: "دار".]] الدُّنْيَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَوْ يُرْسِلَ رَسُولا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ﴾ كَمَا يُنْزِلُ جِبْرِيلَ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من م.]] وَغَيْرَهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، ﴿إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ﴾ ، فَهُوَ عَلِيٌّ عَلِيمٌ خَبِيرٌ حَكِيمٌ.
* *
وَقَوْلُهُ [[في ت: "فقوله".]] ﴿وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا﴾ يَعْنِي: الْقُرْآنَ، ﴿مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلا الإيمَانُ﴾ أَيْ: عَلَى التَّفْصِيلِ الَّذِي شُرِعَ لَكَ فِي الْقُرْآنِ، ﴿وَلَكِنْ جَعَلْنَاهُ﴾ أَيِ: الْقُرْآنَ ﴿نُورًا نَهْدِي بِهِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا﴾ ، كَقَوْلِهِ: ﴿قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَئِكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ﴾ [فُصِّلَتْ:٤٤] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنَّكَ﴾ [أَيْ] [[زيادة من م.]] يَا مُحَمَّدُ ﴿لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ ، وَهُوَ الْخُلُقُ [[في ت، م، أ: "الحق".]] الْقَوِيمُ. ثُمَّ فَسَّرَهُ بِقَوْلِهِ: ﴿صِرَاطِ اللَّهِ [الَّذِي] ﴾ [[زيادة من أ.]] أَيْ: شَرْعُهُ الَّذِي أَمَرَ بِهِ اللَّهُ، ﴿الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ﴾ أَيْ: رَبُّهُمَا وَمَالِكُهُمَا، وَالْمُتَصَرِّفُ فِيهِمَا، الْحَاكِمُ الَّذِي لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ، ﴿أَلا إِلَى اللَّهِ تَصِيرُ الأمُورُ﴾ ، أَيْ: تَرْجِعُ الْأُمُورُ، فَيَفْصِلُهَا وَيَحْكُمُ فِيهَا.
آخِرُ تَفْسِيرِ سُورَةِ " [حم] [[زيادة من أ.]] الشورى" والحمد لله رب العالمين.
وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ رُوحًۭا مِّنْ أَمْرِنَا ۚ مَا كُنتَ تَدْرِى مَا ٱلْكِتَٰبُ وَلَا ٱلْإِيمَٰنُ وَلَٰكِن جَعَلْنَٰهُ نُورًۭا نَّهْدِى بِهِۦ مَن نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا ۚ وَإِنَّكَ لَتَهْدِىٓ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ
And thus We have revealed to you an inspiration of Our command. You did not know what is the Book or [what is] faith, but We have made it a light by which We guide whom We will of Our servants. And indeed, [O Muhammad], you guide to a straight path -
اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح القدس کے ذریعے سے (قرآن) بھیجا ہے۔ تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان کو۔ لیکن ہم نے اس کو نور بنایا ہے کہ اس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں۔ اور بےشک (اے محمدﷺ) تم سیدھا رستہ دکھاتے ہو
همان گونه (که بر پیامبران پیشین وحی فرستادیم) بر تو نیز روحی را بفرمان خود وحی کردیم؛ تو پیش از این نمیدانستی کتاب و ایمان چیست (و از محتوای قرآن آگاه نبودی)؛ ولی ما آن را نوری قرار دادیم که بوسیله آن هر کس از بندگان خویش را بخواهیم هدایت میکنیم؛ و تو مسلّماً به سوی راه راست هدایت میکنی.
Tafsir Ibn Kathir
It is not given to any human being that Allah should speak to him unless (it be) by revelation, or from behind a veil, or (that) He sends a Messenger to reveal what He wills by His leave. Verily, He is Most High, Most Wise (51)And thus We have sent to you Ruh of Our command. You knew not what is the Book, nor what is Faith. But We have made it a light wherewith We guide whosoever of Our servants We will. And verily, you are indeed guiding to a straight path (52)The path of Allah to Whom belongs all that is in the heavens and all that is on the earth. Verily, all matters at the end go to Allah (53)
How the Revelation comes down
This refers to how Allah sends revelation. Sometimes He casts something into the heart of the Prophet ﷺ, and he has no doubt that it is from Allah, as it was reported in Sahih Ibn Hibban that the Messenger of Allah ﷺ said:
إِنَّ رُوْحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِي رُوعِي أَنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتّٰى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا وَأَجَلَهَا، فَاتَّقُوا اللهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ
(Ar-Ruh Al-Qudus [i.e., Jibril] breathed into my heart that no soul will die until its allotted provision and time have expired, so have Taqwa of Allah and keep seeking in a good (and lawful) way.)
أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ
(or from behind a veil) – as He spoke to Musa, peace be upon him. He asked to see Him after He had spoken to him, but this was not granted to him.
In the Sahih, it recorded that the Messenger of Allah ﷺ said to Jabir bin 'Abdullah, may Allah be pleased with him:
مَا كَلَّمَ اللهُ أَحَدًا إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَإِنَّهُ كَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا
(Allah never speaks to anyone except from behind a veil, but He spoke to your father directly.) This is how it was stated in the Hadith. He [Jabir's father] was killed on the day of Uhud, but this refers to the realm of Al-Barzakh, whereas the Ayah speaks of this earthly realm.
أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ
(or (that) He sends a Messenger to reveal what He wills by His leave.) as Jibril, peace be upon him, and other angels came down to the Prophets, peace be upon them.
إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ
(Verily, He is Most High, Most Wise.) He is Most High, All-Knowing, Most Wise.
وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا ۚ
(And thus We have sent to you Ruh of Our command.) means, the Qur'an.
مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ
(You knew not what is the Book, nor what is Faith.) means, 'in the details which were given to you in the Qur'an.'
وَلَٰكِنْ جَعَلْنَاهُ
(But We have made it) means, the Qur'an,
نُورًا نَهْدِي بِهِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا
(a light wherewith We guide whosoever of Our servants We will.) This is like the Ayah:
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ ۖ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى ۚ
(Say: "It is for those who believe, a guide and a healing. And as for those who disbelieve, there is heaviness (deafness) in their ears, and it (the Qur'an) is blindness for them.")(41:44).
وَإِنَّكَ
(And verily, you) means, 'O Muhammad,'
لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
(are indeed guiding to a straight path.) means, the correct behavior. Then Allah explains this further by saying:
صِرَاطِ اللَّهِ
(The path of Allah) meaning, His Laws which He enjoins.
الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ
(to Whom belongs all that is in the heavens and all that is on the earth.) means, their Lord and Sovereign, the One Who is controlling and ruling them, Whose decree cannot be overturned.
أَلَا إِلَى اللَّهِ تَصِيرُ الْأُمُورُ
(Verily, all matters at the end go to Allah.) means, all matters come back to Him and He issues judgement concerning them. Glorified and exalted be He far above all that the evildoers and deniers say.
This is the end of the Tafsir of Surat Ash-Shura.
Tafsir Ibn Kathir
قرآن حکیم شفا ہے مقامات و مراتب و کیفیات وحی کا بیان ہو رہا ہے کہ کبھی تو حضور ﷺ کے دل میں وحی ڈال دی جاتی ہے جس کے وحی اللہ ہونے میں آپکو کوئی شک نہیں رہتا جیسے صحیح ابن حبان کی حدیث میں ہے کہ روح القدس نے میرے دل میں یہ بات پھونکی ہے کہ کوئی شخص بھی جب تک اپنی روزی اور اپنا وقت پورا نہ کرلے ہرگز نہیں مرتا پس اللہ سے ڈرو اور روزی کی طلب میں اچھائی اختیار کرو۔ یا پردے کی اوٹ سے جیسے حضرت موسیٰ سے کلام ہوا۔ کیونکہ انہوں نے کلام سن کر جمال دیکھنا چاہا لیکن وہ پردے میں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر بن عبداللہ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی سے کلام نہیں کیا مگر پردے کے پیچھے سے لیکن تیرے باپ سے اپنے سامنے کلام کیا یہ جنت احد میں کفار کے ہاتھوں شہید کئے گئے تھے لیکن یہ یاد رہے کہ یہ کلام عالم برزخ کا ہے اور آیت میں جس کلام کا ذکر ہے اس سے مراد دنیا کا کلام ہے یا اپنے قاصد کو بھیج کر اپنی بات اس تک پہنچائے جیسے حضرت جبرائیل وغیرہ فرشتے انبیاء ؑ کے پاس آتے رہے وہ علو اور بلندی اور بزرگی والا ہے ساتھ ہی حکیم اور حکمت والا ہے روح سے مراد قرآن ہے فرماتا ہے اس قرآن کو بذریعہ وحی کے ہم نے تیری طرف اتارا ہے کتاب اور ایمان کو جس تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہم نے اپنی کتاب میں ہے تو اس سے پہلے جانتا بھی نہ تھا لیکن ہم نے اس قرآن کو نور بنایا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم اپنے ایمان دار بندوں کو راہ راست دکھلائیں جیسے آیت میں ہے (قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ 44) 41۔ فصلت :44) کہہ دے کہ یہ ایمان والوں کے واسطے ہدایت و شفا ہے اور بےایمانوں کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی ہیں پھر فرمایا کہ اے نبی ﷺ تم صریح اور مضبوط حق کی رہنمائی کر رہے ہو پھر صراط مستقیم کی تشریح کی اور فرمایا اسے شرع مقرر کرنے والا خود اللہ ہے جس کی شان یہ ہے کہ آسمانوں زمینوں کا مالک اور رب وہی ہے ان میں تصرف کرنے والا اور حکم چلانے والا بھی وہی ہے کوئی اس کے کسی حکم کو ٹال نہیں سکتا تمام امور اس کی طرف پھیرے جاتے ہیں وہی سب کاموں کے فیصلے کرتا ہے اور حکم کرتا ہے وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جو اس کی نسبت ظالم اور منکرین کہتے ہیں وہ بلندیوں اور بڑائیوں والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ مَقَامَاتُ [[في ت: "مقدمات".]] الْوَحْيِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى جَنَابِ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، وَهُوَ أَنَّهُ تَعَالَى تَارَةً يَقْذِفُ فِي رَوْعِ النَّبِيِّ ﷺ شَيْئًا لَا يَتَمَارَى فِيهِ أَنَّهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، كَمَا جَاءَ فِي صَحِيحِ ابْنِ حِبَّانَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "إِنَّ رُوح القُدُس نَفَثَ فِي رُوعي: إِنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا وَأَجَلَهَا، فَاتَّقَوُا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ" [[ورواه البغوي في شرح السنة (١٤/٣٠٤) من طريق إسماعيل بن أبي خالد عن زبيد اليامي عمن أخبره عن ابن مسعود به.]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ﴾ كَمَا كَلَّمَ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّهُ سَأَلَ الرُّؤْيَةَ بَعْدَ التَّكْلِيمِ، فَحُجِبَ عَنْهَا.
وَفِي الصَّحِيحِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم قال لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: "مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَإِنَّهُ كَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا" الْحَدِيثَ [[رواه الترمذي في السنن برقم (٣٠١٠) وقال: "هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ".]] ، وَكَانَ [أَبُوهُ] [[زيادة من ت، أ.]] قَدْ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَلَكِنَّ هَذَا فِي عَالَمِ الْبَرْزَخِ، وَالْآيَةُ إِنَّمَا هِيَ فِي الدَّارِ [[في ت: "دار".]] الدُّنْيَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَوْ يُرْسِلَ رَسُولا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ﴾ كَمَا يُنْزِلُ جِبْرِيلَ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من م.]] وَغَيْرَهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، ﴿إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ﴾ ، فَهُوَ عَلِيٌّ عَلِيمٌ خَبِيرٌ حَكِيمٌ.
* *
وَقَوْلُهُ [[في ت: "فقوله".]] ﴿وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا﴾ يَعْنِي: الْقُرْآنَ، ﴿مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلا الإيمَانُ﴾ أَيْ: عَلَى التَّفْصِيلِ الَّذِي شُرِعَ لَكَ فِي الْقُرْآنِ، ﴿وَلَكِنْ جَعَلْنَاهُ﴾ أَيِ: الْقُرْآنَ ﴿نُورًا نَهْدِي بِهِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا﴾ ، كَقَوْلِهِ: ﴿قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَئِكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ﴾ [فُصِّلَتْ:٤٤] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنَّكَ﴾ [أَيْ] [[زيادة من م.]] يَا مُحَمَّدُ ﴿لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ ، وَهُوَ الْخُلُقُ [[في ت، م، أ: "الحق".]] الْقَوِيمُ. ثُمَّ فَسَّرَهُ بِقَوْلِهِ: ﴿صِرَاطِ اللَّهِ [الَّذِي] ﴾ [[زيادة من أ.]] أَيْ: شَرْعُهُ الَّذِي أَمَرَ بِهِ اللَّهُ، ﴿الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ﴾ أَيْ: رَبُّهُمَا وَمَالِكُهُمَا، وَالْمُتَصَرِّفُ فِيهِمَا، الْحَاكِمُ الَّذِي لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ، ﴿أَلا إِلَى اللَّهِ تَصِيرُ الأمُورُ﴾ ، أَيْ: تَرْجِعُ الْأُمُورُ، فَيَفْصِلُهَا وَيَحْكُمُ فِيهَا.
آخِرُ تَفْسِيرِ سُورَةِ " [حم] [[زيادة من أ.]] الشورى" والحمد لله رب العالمين.
صِرَٰطِ ٱللَّهِ ٱلَّذِى لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ أَلَآ إِلَى ٱللَّهِ تَصِيرُ ٱلْأُمُورُ
The path of Allah, to whom belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. Unquestionably, to Allah do [all] matters evolve.
(یعنی) خدا کا رستہ جو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کا مالک ہے۔ دیکھو سب کام خدا کی طرف رجوع ہوں گے (اور وہی ان میں فیصلہ کرے گا)
راه خداوندی که تمامی آنچه در آسمانها و آنچه در زمین است از آن اوست؛ آگاه باشید که همه کارها تنها بسوی خدا بازمیگردد!
Tafsir Ibn Kathir
It is not given to any human being that Allah should speak to him unless (it be) by revelation, or from behind a veil, or (that) He sends a Messenger to reveal what He wills by His leave. Verily, He is Most High, Most Wise (51)And thus We have sent to you Ruh of Our command. You knew not what is the Book, nor what is Faith. But We have made it a light wherewith We guide whosoever of Our servants We will. And verily, you are indeed guiding to a straight path (52)The path of Allah to Whom belongs all that is in the heavens and all that is on the earth. Verily, all matters at the end go to Allah (53)
How the Revelation comes down
This refers to how Allah sends revelation. Sometimes He casts something into the heart of the Prophet ﷺ, and he has no doubt that it is from Allah, as it was reported in Sahih Ibn Hibban that the Messenger of Allah ﷺ said:
إِنَّ رُوْحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِي رُوعِي أَنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتّٰى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا وَأَجَلَهَا، فَاتَّقُوا اللهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ
(Ar-Ruh Al-Qudus [i.e., Jibril] breathed into my heart that no soul will die until its allotted provision and time have expired, so have Taqwa of Allah and keep seeking in a good (and lawful) way.)
أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ
(or from behind a veil) – as He spoke to Musa, peace be upon him. He asked to see Him after He had spoken to him, but this was not granted to him.
In the Sahih, it recorded that the Messenger of Allah ﷺ said to Jabir bin 'Abdullah, may Allah be pleased with him:
مَا كَلَّمَ اللهُ أَحَدًا إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَإِنَّهُ كَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا
(Allah never speaks to anyone except from behind a veil, but He spoke to your father directly.) This is how it was stated in the Hadith. He [Jabir's father] was killed on the day of Uhud, but this refers to the realm of Al-Barzakh, whereas the Ayah speaks of this earthly realm.
أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ
(or (that) He sends a Messenger to reveal what He wills by His leave.) as Jibril, peace be upon him, and other angels came down to the Prophets, peace be upon them.
إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ
(Verily, He is Most High, Most Wise.) He is Most High, All-Knowing, Most Wise.
وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا ۚ
(And thus We have sent to you Ruh of Our command.) means, the Qur'an.
مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ
(You knew not what is the Book, nor what is Faith.) means, 'in the details which were given to you in the Qur'an.'
وَلَٰكِنْ جَعَلْنَاهُ
(But We have made it) means, the Qur'an,
نُورًا نَهْدِي بِهِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا
(a light wherewith We guide whosoever of Our servants We will.) This is like the Ayah:
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ ۖ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى ۚ
(Say: "It is for those who believe, a guide and a healing. And as for those who disbelieve, there is heaviness (deafness) in their ears, and it (the Qur'an) is blindness for them.")(41:44).
وَإِنَّكَ
(And verily, you) means, 'O Muhammad,'
لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
(are indeed guiding to a straight path.) means, the correct behavior. Then Allah explains this further by saying:
صِرَاطِ اللَّهِ
(The path of Allah) meaning, His Laws which He enjoins.
الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ
(to Whom belongs all that is in the heavens and all that is on the earth.) means, their Lord and Sovereign, the One Who is controlling and ruling them, Whose decree cannot be overturned.
أَلَا إِلَى اللَّهِ تَصِيرُ الْأُمُورُ
(Verily, all matters at the end go to Allah.) means, all matters come back to Him and He issues judgement concerning them. Glorified and exalted be He far above all that the evildoers and deniers say.
This is the end of the Tafsir of Surat Ash-Shura.
Tafsir Ibn Kathir
قرآن حکیم شفا ہے مقامات و مراتب و کیفیات وحی کا بیان ہو رہا ہے کہ کبھی تو حضور ﷺ کے دل میں وحی ڈال دی جاتی ہے جس کے وحی اللہ ہونے میں آپکو کوئی شک نہیں رہتا جیسے صحیح ابن حبان کی حدیث میں ہے کہ روح القدس نے میرے دل میں یہ بات پھونکی ہے کہ کوئی شخص بھی جب تک اپنی روزی اور اپنا وقت پورا نہ کرلے ہرگز نہیں مرتا پس اللہ سے ڈرو اور روزی کی طلب میں اچھائی اختیار کرو۔ یا پردے کی اوٹ سے جیسے حضرت موسیٰ سے کلام ہوا۔ کیونکہ انہوں نے کلام سن کر جمال دیکھنا چاہا لیکن وہ پردے میں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر بن عبداللہ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی سے کلام نہیں کیا مگر پردے کے پیچھے سے لیکن تیرے باپ سے اپنے سامنے کلام کیا یہ جنت احد میں کفار کے ہاتھوں شہید کئے گئے تھے لیکن یہ یاد رہے کہ یہ کلام عالم برزخ کا ہے اور آیت میں جس کلام کا ذکر ہے اس سے مراد دنیا کا کلام ہے یا اپنے قاصد کو بھیج کر اپنی بات اس تک پہنچائے جیسے حضرت جبرائیل وغیرہ فرشتے انبیاء ؑ کے پاس آتے رہے وہ علو اور بلندی اور بزرگی والا ہے ساتھ ہی حکیم اور حکمت والا ہے روح سے مراد قرآن ہے فرماتا ہے اس قرآن کو بذریعہ وحی کے ہم نے تیری طرف اتارا ہے کتاب اور ایمان کو جس تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہم نے اپنی کتاب میں ہے تو اس سے پہلے جانتا بھی نہ تھا لیکن ہم نے اس قرآن کو نور بنایا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم اپنے ایمان دار بندوں کو راہ راست دکھلائیں جیسے آیت میں ہے (قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ 44) 41۔ فصلت :44) کہہ دے کہ یہ ایمان والوں کے واسطے ہدایت و شفا ہے اور بےایمانوں کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی ہیں پھر فرمایا کہ اے نبی ﷺ تم صریح اور مضبوط حق کی رہنمائی کر رہے ہو پھر صراط مستقیم کی تشریح کی اور فرمایا اسے شرع مقرر کرنے والا خود اللہ ہے جس کی شان یہ ہے کہ آسمانوں زمینوں کا مالک اور رب وہی ہے ان میں تصرف کرنے والا اور حکم چلانے والا بھی وہی ہے کوئی اس کے کسی حکم کو ٹال نہیں سکتا تمام امور اس کی طرف پھیرے جاتے ہیں وہی سب کاموں کے فیصلے کرتا ہے اور حکم کرتا ہے وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جو اس کی نسبت ظالم اور منکرین کہتے ہیں وہ بلندیوں اور بڑائیوں والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ مَقَامَاتُ [[في ت: "مقدمات".]] الْوَحْيِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى جَنَابِ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، وَهُوَ أَنَّهُ تَعَالَى تَارَةً يَقْذِفُ فِي رَوْعِ النَّبِيِّ ﷺ شَيْئًا لَا يَتَمَارَى فِيهِ أَنَّهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، كَمَا جَاءَ فِي صَحِيحِ ابْنِ حِبَّانَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "إِنَّ رُوح القُدُس نَفَثَ فِي رُوعي: إِنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا وَأَجَلَهَا، فَاتَّقَوُا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ" [[ورواه البغوي في شرح السنة (١٤/٣٠٤) من طريق إسماعيل بن أبي خالد عن زبيد اليامي عمن أخبره عن ابن مسعود به.]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ﴾ كَمَا كَلَّمَ مُوسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّهُ سَأَلَ الرُّؤْيَةَ بَعْدَ التَّكْلِيمِ، فَحُجِبَ عَنْهَا.
وَفِي الصَّحِيحِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم قال لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: "مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَإِنَّهُ كَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا" الْحَدِيثَ [[رواه الترمذي في السنن برقم (٣٠١٠) وقال: "هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ".]] ، وَكَانَ [أَبُوهُ] [[زيادة من ت، أ.]] قَدْ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَلَكِنَّ هَذَا فِي عَالَمِ الْبَرْزَخِ، وَالْآيَةُ إِنَّمَا هِيَ فِي الدَّارِ [[في ت: "دار".]] الدُّنْيَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَوْ يُرْسِلَ رَسُولا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ﴾ كَمَا يُنْزِلُ جِبْرِيلَ [عَلَيْهِ السَّلَامُ] [[زيادة من م.]] وَغَيْرَهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، ﴿إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ﴾ ، فَهُوَ عَلِيٌّ عَلِيمٌ خَبِيرٌ حَكِيمٌ.
* *
وَقَوْلُهُ [[في ت: "فقوله".]] ﴿وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا﴾ يَعْنِي: الْقُرْآنَ، ﴿مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلا الإيمَانُ﴾ أَيْ: عَلَى التَّفْصِيلِ الَّذِي شُرِعَ لَكَ فِي الْقُرْآنِ، ﴿وَلَكِنْ جَعَلْنَاهُ﴾ أَيِ: الْقُرْآنَ ﴿نُورًا نَهْدِي بِهِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا﴾ ، كَقَوْلِهِ: ﴿قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَئِكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ﴾ [فُصِّلَتْ:٤٤] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنَّكَ﴾ [أَيْ] [[زيادة من م.]] يَا مُحَمَّدُ ﴿لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ ، وَهُوَ الْخُلُقُ [[في ت، م، أ: "الحق".]] الْقَوِيمُ. ثُمَّ فَسَّرَهُ بِقَوْلِهِ: ﴿صِرَاطِ اللَّهِ [الَّذِي] ﴾ [[زيادة من أ.]] أَيْ: شَرْعُهُ الَّذِي أَمَرَ بِهِ اللَّهُ، ﴿الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ﴾ أَيْ: رَبُّهُمَا وَمَالِكُهُمَا، وَالْمُتَصَرِّفُ فِيهِمَا، الْحَاكِمُ الَّذِي لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ، ﴿أَلا إِلَى اللَّهِ تَصِيرُ الأمُورُ﴾ ، أَيْ: تَرْجِعُ الْأُمُورُ، فَيَفْصِلُهَا وَيَحْكُمُ فِيهَا.
آخِرُ تَفْسِيرِ سُورَةِ " [حم] [[زيادة من أ.]] الشورى" والحمد لله رب العالمين.