1
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ الٓمٓ
Alif, Lam, Meem.
الٓمٓ
الم
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
الم - تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِيمِ - هُدًى وَرَحْمَةً لِلْمُحْسِنِينَ - الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ - أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(1. Alif Lam Mim.)(2. These are Ayat of the Wise Book.)(3. A guide and a mercy for the Muhsinin.)(4. Those who perform the Salah and give Zakah and they have faith in the Hereafter with certainty.)(5. Such are on guidance from their Lord, and such are the successful.)
At the beginning of Surat Al-Baqarah we discussed the letters such as those that appear at the beginning of this Surah. Allah has made the Qur'an a guidance and healing and a mercy for the Muhsinin, who are those who do good deeds in accordance with the Shari'ah. They establish the obligatory prayers in the proper manner and at the correct times, and follow that with regular, optional and supererogatory prayers; they pay the Zakah to those who deserve it; they uphold the ties of kinship with their relatives; they have certain faith that there will be rewards and punishments in the Hereafter, and they seek the reward with Allah; they do not show off or seek a reward or thanks from other people. Whoever does this is one of those of whom Allah says:
أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ ۖ
(Such are on guidance from their Lord,) meaning, they follow His guidance with clear understanding.
وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(and such are the successful.) in this world and in the Hereafter. Tafsir Ibn Kathir
نماز میں مقتدی اور امام کا تعلق حق کو ہم نے اس کلام پاک میں پوری طرح واضح کردیا ہے اور مثالیں دے دے کر سمجھا دیا ہے کہ لوگوں پر حق کھل جائے اور اس کی تابعداری میں لگ جائیں۔ انکے پاس تو کوئی بھی معجزہ آجائے کیساہی نشان حق دیکھ لیں لیکن یہ جھٹ سے بلاغور علی الفور کہیں گے کہ یہ جادو ہے باطل ہے جھوٹ ہے۔ دیکھئے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ خود قرآن کریم کی آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۙ) 10۔ یونس :96) میں ہے کہ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آجائیں یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب کا معائنہ کرلیں۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ بےعلم لوگوں کے دلوں پر اسی طرح اللہ کی مہر لگ جاتی ہے۔ اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے ان کی مخالفت اور دشمنی پر درگزر کئے چلے جائیے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ ضرور تمہیں ایک دن ان پر غالب کرے گا اور تمہاری امداد فرمائے گا۔ اور دنیا اور آخرت میں تجھے اور تیرے تابعداروں کو مخالفین پر غلبہ دے گا۔ تہیں چاہیے کہ اپنے کام پر لگے رہو حق پر جم جاؤ اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو اسی میں ساری ہدایت ہے باقی سب باطل کے ڈھیر ہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی ؓ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں تھے کہ ایک خارجی نے آپ کا نام لے کر زور سے اس آیت کی تلاوت کی۔ (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 65) 39۔ الزمر :65) آپ نے خاموشی سے اس آیت کو سنا سمجھا اور نماز ہی میں اس کے جواب میں آیت (فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ 60) 30۔ الروم :60) تلاوت فرمائی۔ (ابن جریر ابن ابی حاتم) وہ حدیث جس سے اس مبارک سورة کی فضیلت اور اس کی قرأت کا صبح کی نماز میں مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے) ایک صحابی عنہ فرماتے ہیں حضور ﷺ نے ایک دن صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے اسی سورت کی قرأت کی۔ اثناء قرأت میں آپ کو وہم ساہو گیا فارغ ہو کر فرمانے لگے تم میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں لیکن باقاعدہ ٹھیک ٹھاک وضو نہیں کرتے۔ تم میں سے جو بھی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو اسے اچھی طرح وضو کرنا چائیے (مسند احمد) اس کی اسناد حسن ہے متن بھی حسن ہے اور اسمیں ایک عجیب بھید ہے اور بہت بڑی خیر ہے اور وہ یہ کہ آپ کے مقتدیوں کے وضو بالکل درست نہ ہونے کا اثر آپ پر بھی پڑا۔ پس ثابت ہوا کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ معلق ہے۔ Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ لُقْمَانَ
وَهِيَ مَكِّيَّةٌ.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ سُورَةِ "الْبَقَرَةِ" عَامَّةُ الْكَلَامِ عَلَى مَا يَتَعَلَّقُ بِصَدْرِ هَذِهِ السُّورَةِ، وَهُوَ أَنَّهُ تَعَالَى جَعَلَ هَذَا الْقُرْآنَ هُدًى وَشِفَاءً وَرَحْمَةً لِلْمُحْسِنِينَ، وَهُمُ الَّذِينَ أَحْسَنُوا الْعَمَلَ فِي اتِّبَاعِ الشَّرِيعَةِ، فَأَقَامُوا الصَّلَاةَ الْمَفْرُوضَةَ بِحُدُودِهَا وَأَوْقَاتِهَا، وَمَا يَتْبَعُهَا مِنْ نَوَافِلَ رَاتِبَةٍ وَغَيْرِ رَاتِبَةٍ، وَآتَوُا الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ عَلَيْهِمْ إِلَى مُسْتَحِقِّيهَا، وَوَصَلُوا قُرَابَاتِهُمْ وَأَرْحَامَهُمْ، وَأَيْقَنُوا بِالْجَزَاءِ فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ، فَرَغِبُوا إلى الله في ثواب ذلك، لم يراؤوا بِهِ وَلَا أَرَادُوا جَزَاءً مِنَ النَّاسِ وَلَا شَكُورًا، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ كَذَلِكَ فَهُوَ مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ﴾ أَيْ: عَلَى بَصِيرَةٍ وَبَيِّنَةٍ وَمَنْهَجٍ وَاضِحٍ وَجَلِيٍّ، ﴿وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ أَيْ: فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.