بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ الٓمٓ
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
الم - أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ - وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ - أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
(1. Alif Lam Mim.)(2. Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested.)(3. And We indeed tested those who were before them so that Allah will indeed know those who are true, and He will know those who are liars.)(4. Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us? Evil is that which they judge!)
The Believers are tested so that it may be known Who is Sincere and Who is Lying
In the beginning of the Tafsir of Surat Al-Baqarah, we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs.
أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ
(Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested.) This is a rebuke in the form of a question, meaning that Allah will inevitably test His believing servants according to their level of faith, as it recorded in the authentic Hadith:
أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الصَّالِحُونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ لَهُ فِي الْبَلَاءِ
(The people most severly tested are the Prophets, then the righteous, then the next best and the next best. A man will be tested in accordance with the degree of his religious commitment; the stonger his religious commitment, the stronger his test.) This Ayah is like the Ayah,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ
(Do you think that you will enter Paradise without Allah knowing those of you who fought (in His cause) and knowing those who are the patient?)(3:142) There is a similar Ayah in Surat At-Tawbah. And Allah says:
أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۖ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّهِ ۗ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ
(Or think you that you will enter Paradise without such (trials) as came to those who passed away before you? They were afflicted with severe poverty and ailments and were so shaken that even the Messenger and those who believed along with him said, "When (will come) the help of Allah?" Yes! Certainly, the help of Allah is near!)(2:214) Allah says here:
وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ
(And We indeed tested those who were before them so that Allah will know those who are true, and will know those who are liars.) meaning, He will make know which are sincere in their claim to be believers from those who are lying. Allah, may He be glorified and exalted, knows what has happened in the past and what is yet to come, and He knows how that which will not happen would have happened if it were to happen. All the Imams of Ahlus-Sunnah wal-Jama'ah are agreed on this. This is the view of Ibn 'Abbas and others concerning phrases such as the Ayah,
إِلَّا لِنَعْلَمَ
(only that We know)(2:143). Meaning, only to see – because seeing has to do with what is there, but knowledge is broader than seeing, since it includes what is not present as well as what is.
The Evildoers cannot escape from Allah
Allah said:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us? Evil is that which they judge!) means, those who are not believers should not think that they will escape such trials and tests, for ahead of them lies a greater and more severe punishment. Allah says:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا ۚ
(Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us) meaning, "escape" from Us.
سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Evil is that which they judge!) what they think is evil.
Tafsir Ibn Kathir
حروف مقطعہ کی بحث سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں گزرچکی ہے۔ امتحان اور مومن پھر فرماتا ہے یہ ناممکن ہے کہ مومنوں کو بھی امتحان سے چھوڑ دیا جائے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے پھر صالح نیک لوگوں کا پھر ان سے کم درجے والے پھر ان سے کم درجے والے۔ انسان کا امتحان اس کے دین کے انداز پر ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں سخت ہے تو مصیبتیں بھی سخت نازل ہوتی ہیں۔ اسی مضمون کا بیان اس آیت میں بھی ہے (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 16ۧ) 9۔ التوبہ :16) کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ تم چھوڑ دئیے جاؤ گے ؟ حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے مجاہد کون ہے ؟ اور صابر کون ہے ؟ اسی طرح سورة برات اور سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے کہ کیا تم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ تم جنت میں یونہی چلے جاؤ گے ؟ اور اگلے لوگوں جیسے سخت امتحان کے موقعے تم پر نہ آئیں گے۔ جیسے کہ انہیں بھوک، دکھ، درد وغیرہ پہنچے۔ یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ کے ایماندار بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کہاں ہے ؟ یقین مانو کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔ یہاں بھی فرمایا ان سے اگلے مسلمانوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی انہیں بھی سرد گرم چکھایا گیا تاکہ جو اپنے دعوے میں سچے ہیں اور جو صڑف زبانی دعوے کرتے ہیں ان میں تمیز ہوجائے اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ اسے جانتا نہ تھا وہ ہر ہوچکی بات کو اور ہونے والی بات کو برابر جانتا ہے۔ اس پر اہل سنت والجماعت کے تمام اماموں کا اجماع ہے۔ پس یہاں علم رویت یعنی دیکھنے کے معنی میں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ لنعلم کے معنی لنری کرتے ہیں کیونکہ دیکھنے کا تعلق موجود چیزوں سے ہوتا ہے اور عم اس سے عام ہے۔ پھر فرمایا ہے جو ایمان نہیں لائے وہ بھی یہ گمان نہ کریں کہ امتحان سے بچ جائیں گے بڑے بڑے عذاب اور سخت سزائیں ان کی تاک میں ہیں۔ یہ ہاتھ سے نکل نہیں سکتے ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے ان کے یہ گمان نہایت برے ہیں جن کا برا نتیجہ یہ عنقریب دیکھ لیں گے۔
Tafsir Ibn Kathir
بسم الله الرحمن الرحيم
[وهي] [[زيادة من ف، أ.]] مكية.
* *
أَمَّا الْكَلَامُ عَلَى الْحُرُوفِ الْمُقَطَّعَةِ فَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ سُورَةِ "الْبَقَرَةِ".
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ﴾ اسْتِفْهَامُ إِنْكَارٍ، وَمَعْنَاهُ: أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى لَا بُدَّ أَنْ يَبْتَلِيَ عِبَادَهُ الْمُؤْمِنِينَ بِحَسْبِ مَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْإِيمَانِ، كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ: "أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الصَّالِحُونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ فِي الْبَلَاءِ" [[المسند (١/١٧٢) والترمذي في السنن برقم (٢٣٩٨) من طريق مصعب بن سعد عن أبيه سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وقال الترمذي: "حديث حسن صحيح".]] . وَهَذِهِ الْآيَةُ كَقَوْلِهِ: ﴿أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ﴾ [[هكذا وقعت الآية في جميع المخطوطات، والصواب بعدم إثبات قوله تعالى: (ويعلم الصابرين) لأنها ليست نهاية تذييل الآية ونهاية تذييل الآية: (وَلَمْ يَتَّخِذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَا رَسُولِهِ وَلَا الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ) .]] [آلِ عِمْرَانَ: ١٤٢] ، وَمِثْلُهَا فِي سُورَةِ "بَرَاءَةٌ" وَقَالَ فِي الْبَقَرَةِ: ﴿أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ﴾ [الْبَقَرَةِ: ٢١٤] ؛ وَلِهَذَا قَالَ هَاهُنَا: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ﴾ أَيِ: الَّذِينَ صَدَقُوا فِي دَعْوَاهُمُ الْإِيمَانَ مِمَّنْ هُوَ كَاذِبٌ فِي قَوْلِهِ وَدَعْوَاهُ. وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى يَعْلَمُ مَا كَانَ وَمَا يَكُونُ، وَمَا لَمْ يَكُنْ لَوْ كَانَ كَيْفَ يَكُونُ [[في ف، أ: "كيف كان يكون".]] . وَهَذَا مُجْمَعٌ عَلَيْهِ عِنْدَ أَئِمَّةِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ؛ وَلِهَذَا يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَغَيْرُهُ فِي مِثْلِ: ﴿إِلا لِنَعْلَمَ﴾ [الْبَقَرَةِ: ١٤٣] : إِلَّا لِنَرَى؛ وَذَلِكَ أَنَّ الرُّؤْيَةَ إِنَّمَا تَتَعَلَّقُ بِالْمَوْجُودِ، وَالْعِلْمُ أَعَمُّ مِنَ الرُّؤْيَةِ، فَإِنَّهُ [يَتَعَلَّقُ] [[زيادة من ف، أ.]] بِالْمَعْدُومِ وَالْمَوْجُودِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ﴾ أَيْ: لَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ لَمْ يَدْخُلُوا فِي الْإِيمَانِ أَنَّهُمْ يَتَخَلَّصُونَ مِنْ هَذِهِ الْفِتْنَةِ وَالِامْتِحَانِ، فَإِنَّ مِنْ وَرَائِهِمْ مِنَ الْعُقُوبَةِ والنكال ما هُوَ أَغْلَظُ مِنْ هَذَا وَأَطَمُّ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا﴾ أَيْ: يَفُوتُونَا، ﴿سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ﴾ أَيْ: بِئْسَ مَا يَظُنُّونَ.
أَحَسِبَ ٱلنَّاسُ أَن يُتْرَكُوٓا۟ أَن يَقُولُوٓا۟ ءَامَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ
Do the people think that they will be left to say, "We believe" and they will not be tried?
کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دیئے جائیں گے اور اُن کی آزمائش نہیں کی جائے گی
آیا مردم گمان کردند همین که بگویند: «ایمان آوردیم»، به حال خود رها میشوند و آزمایش نخواهند شد؟!
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
الم - أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ - وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ - أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
(1. Alif Lam Mim.)(2. Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested.)(3. And We indeed tested those who were before them so that Allah will indeed know those who are true, and He will know those who are liars.)(4. Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us? Evil is that which they judge!)
The Believers are tested so that it may be known Who is Sincere and Who is Lying
In the beginning of the Tafsir of Surat Al-Baqarah, we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs.
أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ
(Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested.) This is a rebuke in the form of a question, meaning that Allah will inevitably test His believing servants according to their level of faith, as it recorded in the authentic Hadith:
أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الصَّالِحُونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ لَهُ فِي الْبَلَاءِ
(The people most severly tested are the Prophets, then the righteous, then the next best and the next best. A man will be tested in accordance with the degree of his religious commitment; the stonger his religious commitment, the stronger his test.) This Ayah is like the Ayah,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ
(Do you think that you will enter Paradise without Allah knowing those of you who fought (in His cause) and knowing those who are the patient?)(3:142) There is a similar Ayah in Surat At-Tawbah. And Allah says:
أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۖ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّهِ ۗ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ
(Or think you that you will enter Paradise without such (trials) as came to those who passed away before you? They were afflicted with severe poverty and ailments and were so shaken that even the Messenger and those who believed along with him said, "When (will come) the help of Allah?" Yes! Certainly, the help of Allah is near!)(2:214) Allah says here:
وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ
(And We indeed tested those who were before them so that Allah will know those who are true, and will know those who are liars.) meaning, He will make know which are sincere in their claim to be believers from those who are lying. Allah, may He be glorified and exalted, knows what has happened in the past and what is yet to come, and He knows how that which will not happen would have happened if it were to happen. All the Imams of Ahlus-Sunnah wal-Jama'ah are agreed on this. This is the view of Ibn 'Abbas and others concerning phrases such as the Ayah,
إِلَّا لِنَعْلَمَ
(only that We know)(2:143). Meaning, only to see – because seeing has to do with what is there, but knowledge is broader than seeing, since it includes what is not present as well as what is.
The Evildoers cannot escape from Allah
Allah said:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us? Evil is that which they judge!) means, those who are not believers should not think that they will escape such trials and tests, for ahead of them lies a greater and more severe punishment. Allah says:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا ۚ
(Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us) meaning, "escape" from Us.
سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Evil is that which they judge!) what they think is evil.
Tafsir Ibn Kathir
حروف مقطعہ کی بحث سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں گزرچکی ہے۔ امتحان اور مومن پھر فرماتا ہے یہ ناممکن ہے کہ مومنوں کو بھی امتحان سے چھوڑ دیا جائے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے پھر صالح نیک لوگوں کا پھر ان سے کم درجے والے پھر ان سے کم درجے والے۔ انسان کا امتحان اس کے دین کے انداز پر ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں سخت ہے تو مصیبتیں بھی سخت نازل ہوتی ہیں۔ اسی مضمون کا بیان اس آیت میں بھی ہے (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 16ۧ) 9۔ التوبہ :16) کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ تم چھوڑ دئیے جاؤ گے ؟ حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے مجاہد کون ہے ؟ اور صابر کون ہے ؟ اسی طرح سورة برات اور سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے کہ کیا تم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ تم جنت میں یونہی چلے جاؤ گے ؟ اور اگلے لوگوں جیسے سخت امتحان کے موقعے تم پر نہ آئیں گے۔ جیسے کہ انہیں بھوک، دکھ، درد وغیرہ پہنچے۔ یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ کے ایماندار بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کہاں ہے ؟ یقین مانو کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔ یہاں بھی فرمایا ان سے اگلے مسلمانوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی انہیں بھی سرد گرم چکھایا گیا تاکہ جو اپنے دعوے میں سچے ہیں اور جو صڑف زبانی دعوے کرتے ہیں ان میں تمیز ہوجائے اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ اسے جانتا نہ تھا وہ ہر ہوچکی بات کو اور ہونے والی بات کو برابر جانتا ہے۔ اس پر اہل سنت والجماعت کے تمام اماموں کا اجماع ہے۔ پس یہاں علم رویت یعنی دیکھنے کے معنی میں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ لنعلم کے معنی لنری کرتے ہیں کیونکہ دیکھنے کا تعلق موجود چیزوں سے ہوتا ہے اور عم اس سے عام ہے۔ پھر فرمایا ہے جو ایمان نہیں لائے وہ بھی یہ گمان نہ کریں کہ امتحان سے بچ جائیں گے بڑے بڑے عذاب اور سخت سزائیں ان کی تاک میں ہیں۔ یہ ہاتھ سے نکل نہیں سکتے ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے ان کے یہ گمان نہایت برے ہیں جن کا برا نتیجہ یہ عنقریب دیکھ لیں گے۔
Tafsir Ibn Kathir
بسم الله الرحمن الرحيم
[وهي] [[زيادة من ف، أ.]] مكية.
* *
أَمَّا الْكَلَامُ عَلَى الْحُرُوفِ الْمُقَطَّعَةِ فَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ سُورَةِ "الْبَقَرَةِ".
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ﴾ اسْتِفْهَامُ إِنْكَارٍ، وَمَعْنَاهُ: أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى لَا بُدَّ أَنْ يَبْتَلِيَ عِبَادَهُ الْمُؤْمِنِينَ بِحَسْبِ مَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْإِيمَانِ، كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ: "أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الصَّالِحُونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ فِي الْبَلَاءِ" [[المسند (١/١٧٢) والترمذي في السنن برقم (٢٣٩٨) من طريق مصعب بن سعد عن أبيه سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وقال الترمذي: "حديث حسن صحيح".]] . وَهَذِهِ الْآيَةُ كَقَوْلِهِ: ﴿أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ﴾ [[هكذا وقعت الآية في جميع المخطوطات، والصواب بعدم إثبات قوله تعالى: (ويعلم الصابرين) لأنها ليست نهاية تذييل الآية ونهاية تذييل الآية: (وَلَمْ يَتَّخِذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَا رَسُولِهِ وَلَا الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ) .]] [آلِ عِمْرَانَ: ١٤٢] ، وَمِثْلُهَا فِي سُورَةِ "بَرَاءَةٌ" وَقَالَ فِي الْبَقَرَةِ: ﴿أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ﴾ [الْبَقَرَةِ: ٢١٤] ؛ وَلِهَذَا قَالَ هَاهُنَا: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ﴾ أَيِ: الَّذِينَ صَدَقُوا فِي دَعْوَاهُمُ الْإِيمَانَ مِمَّنْ هُوَ كَاذِبٌ فِي قَوْلِهِ وَدَعْوَاهُ. وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى يَعْلَمُ مَا كَانَ وَمَا يَكُونُ، وَمَا لَمْ يَكُنْ لَوْ كَانَ كَيْفَ يَكُونُ [[في ف، أ: "كيف كان يكون".]] . وَهَذَا مُجْمَعٌ عَلَيْهِ عِنْدَ أَئِمَّةِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ؛ وَلِهَذَا يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَغَيْرُهُ فِي مِثْلِ: ﴿إِلا لِنَعْلَمَ﴾ [الْبَقَرَةِ: ١٤٣] : إِلَّا لِنَرَى؛ وَذَلِكَ أَنَّ الرُّؤْيَةَ إِنَّمَا تَتَعَلَّقُ بِالْمَوْجُودِ، وَالْعِلْمُ أَعَمُّ مِنَ الرُّؤْيَةِ، فَإِنَّهُ [يَتَعَلَّقُ] [[زيادة من ف، أ.]] بِالْمَعْدُومِ وَالْمَوْجُودِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ﴾ أَيْ: لَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ لَمْ يَدْخُلُوا فِي الْإِيمَانِ أَنَّهُمْ يَتَخَلَّصُونَ مِنْ هَذِهِ الْفِتْنَةِ وَالِامْتِحَانِ، فَإِنَّ مِنْ وَرَائِهِمْ مِنَ الْعُقُوبَةِ والنكال ما هُوَ أَغْلَظُ مِنْ هَذَا وَأَطَمُّ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا﴾ أَيْ: يَفُوتُونَا، ﴿سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ﴾ أَيْ: بِئْسَ مَا يَظُنُّونَ.
وَلَقَدْ فَتَنَّا ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ صَدَقُوا۟ وَلَيَعْلَمَنَّ ٱلْكَٰذِبِينَ
But We have certainly tried those before them, and Allah will surely make evident those who are truthful, and He will surely make evident the liars.
اور جو لوگ اُن سے پہلے ہو چکے ہیں ہم نے اُن کو بھی آزمایا تھا (اور ان کو بھی آزمائیں گے) سو خدا اُن کو ضرور معلوم کریں گے جو (اپنے ایمان میں) سچے ہیں اور اُن کو بھی جو جھوٹے ہیں
ما کسانی را که پیش از آنان بودند آزمودیم (و اینها را نیز امتحان میکنیم)؛ باید علم خدا درباره کسانی که راست میگویند و کسانی که دروغ میگویند تحقق یابد!
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
الم - أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ - وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ - أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
(1. Alif Lam Mim.)(2. Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested.)(3. And We indeed tested those who were before them so that Allah will indeed know those who are true, and He will know those who are liars.)(4. Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us? Evil is that which they judge!)
The Believers are tested so that it may be known Who is Sincere and Who is Lying
In the beginning of the Tafsir of Surat Al-Baqarah, we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs.
أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ
(Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested.) This is a rebuke in the form of a question, meaning that Allah will inevitably test His believing servants according to their level of faith, as it recorded in the authentic Hadith:
أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الصَّالِحُونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ لَهُ فِي الْبَلَاءِ
(The people most severly tested are the Prophets, then the righteous, then the next best and the next best. A man will be tested in accordance with the degree of his religious commitment; the stonger his religious commitment, the stronger his test.) This Ayah is like the Ayah,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ
(Do you think that you will enter Paradise without Allah knowing those of you who fought (in His cause) and knowing those who are the patient?)(3:142) There is a similar Ayah in Surat At-Tawbah. And Allah says:
أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۖ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّهِ ۗ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ
(Or think you that you will enter Paradise without such (trials) as came to those who passed away before you? They were afflicted with severe poverty and ailments and were so shaken that even the Messenger and those who believed along with him said, "When (will come) the help of Allah?" Yes! Certainly, the help of Allah is near!)(2:214) Allah says here:
وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ
(And We indeed tested those who were before them so that Allah will know those who are true, and will know those who are liars.) meaning, He will make know which are sincere in their claim to be believers from those who are lying. Allah, may He be glorified and exalted, knows what has happened in the past and what is yet to come, and He knows how that which will not happen would have happened if it were to happen. All the Imams of Ahlus-Sunnah wal-Jama'ah are agreed on this. This is the view of Ibn 'Abbas and others concerning phrases such as the Ayah,
إِلَّا لِنَعْلَمَ
(only that We know)(2:143). Meaning, only to see – because seeing has to do with what is there, but knowledge is broader than seeing, since it includes what is not present as well as what is.
The Evildoers cannot escape from Allah
Allah said:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us? Evil is that which they judge!) means, those who are not believers should not think that they will escape such trials and tests, for ahead of them lies a greater and more severe punishment. Allah says:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا ۚ
(Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us) meaning, "escape" from Us.
سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Evil is that which they judge!) what they think is evil.
Tafsir Ibn Kathir
حروف مقطعہ کی بحث سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں گزرچکی ہے۔ امتحان اور مومن پھر فرماتا ہے یہ ناممکن ہے کہ مومنوں کو بھی امتحان سے چھوڑ دیا جائے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے پھر صالح نیک لوگوں کا پھر ان سے کم درجے والے پھر ان سے کم درجے والے۔ انسان کا امتحان اس کے دین کے انداز پر ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں سخت ہے تو مصیبتیں بھی سخت نازل ہوتی ہیں۔ اسی مضمون کا بیان اس آیت میں بھی ہے (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 16ۧ) 9۔ التوبہ :16) کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ تم چھوڑ دئیے جاؤ گے ؟ حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے مجاہد کون ہے ؟ اور صابر کون ہے ؟ اسی طرح سورة برات اور سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے کہ کیا تم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ تم جنت میں یونہی چلے جاؤ گے ؟ اور اگلے لوگوں جیسے سخت امتحان کے موقعے تم پر نہ آئیں گے۔ جیسے کہ انہیں بھوک، دکھ، درد وغیرہ پہنچے۔ یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ کے ایماندار بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کہاں ہے ؟ یقین مانو کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔ یہاں بھی فرمایا ان سے اگلے مسلمانوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی انہیں بھی سرد گرم چکھایا گیا تاکہ جو اپنے دعوے میں سچے ہیں اور جو صڑف زبانی دعوے کرتے ہیں ان میں تمیز ہوجائے اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ اسے جانتا نہ تھا وہ ہر ہوچکی بات کو اور ہونے والی بات کو برابر جانتا ہے۔ اس پر اہل سنت والجماعت کے تمام اماموں کا اجماع ہے۔ پس یہاں علم رویت یعنی دیکھنے کے معنی میں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ لنعلم کے معنی لنری کرتے ہیں کیونکہ دیکھنے کا تعلق موجود چیزوں سے ہوتا ہے اور عم اس سے عام ہے۔ پھر فرمایا ہے جو ایمان نہیں لائے وہ بھی یہ گمان نہ کریں کہ امتحان سے بچ جائیں گے بڑے بڑے عذاب اور سخت سزائیں ان کی تاک میں ہیں۔ یہ ہاتھ سے نکل نہیں سکتے ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے ان کے یہ گمان نہایت برے ہیں جن کا برا نتیجہ یہ عنقریب دیکھ لیں گے۔
Tafsir Ibn Kathir
بسم الله الرحمن الرحيم
[وهي] [[زيادة من ف، أ.]] مكية.
* *
أَمَّا الْكَلَامُ عَلَى الْحُرُوفِ الْمُقَطَّعَةِ فَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ سُورَةِ "الْبَقَرَةِ".
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ﴾ اسْتِفْهَامُ إِنْكَارٍ، وَمَعْنَاهُ: أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى لَا بُدَّ أَنْ يَبْتَلِيَ عِبَادَهُ الْمُؤْمِنِينَ بِحَسْبِ مَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْإِيمَانِ، كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ: "أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الصَّالِحُونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ فِي الْبَلَاءِ" [[المسند (١/١٧٢) والترمذي في السنن برقم (٢٣٩٨) من طريق مصعب بن سعد عن أبيه سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وقال الترمذي: "حديث حسن صحيح".]] . وَهَذِهِ الْآيَةُ كَقَوْلِهِ: ﴿أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ﴾ [[هكذا وقعت الآية في جميع المخطوطات، والصواب بعدم إثبات قوله تعالى: (ويعلم الصابرين) لأنها ليست نهاية تذييل الآية ونهاية تذييل الآية: (وَلَمْ يَتَّخِذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَا رَسُولِهِ وَلَا الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ) .]] [آلِ عِمْرَانَ: ١٤٢] ، وَمِثْلُهَا فِي سُورَةِ "بَرَاءَةٌ" وَقَالَ فِي الْبَقَرَةِ: ﴿أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ﴾ [الْبَقَرَةِ: ٢١٤] ؛ وَلِهَذَا قَالَ هَاهُنَا: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ﴾ أَيِ: الَّذِينَ صَدَقُوا فِي دَعْوَاهُمُ الْإِيمَانَ مِمَّنْ هُوَ كَاذِبٌ فِي قَوْلِهِ وَدَعْوَاهُ. وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى يَعْلَمُ مَا كَانَ وَمَا يَكُونُ، وَمَا لَمْ يَكُنْ لَوْ كَانَ كَيْفَ يَكُونُ [[في ف، أ: "كيف كان يكون".]] . وَهَذَا مُجْمَعٌ عَلَيْهِ عِنْدَ أَئِمَّةِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ؛ وَلِهَذَا يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَغَيْرُهُ فِي مِثْلِ: ﴿إِلا لِنَعْلَمَ﴾ [الْبَقَرَةِ: ١٤٣] : إِلَّا لِنَرَى؛ وَذَلِكَ أَنَّ الرُّؤْيَةَ إِنَّمَا تَتَعَلَّقُ بِالْمَوْجُودِ، وَالْعِلْمُ أَعَمُّ مِنَ الرُّؤْيَةِ، فَإِنَّهُ [يَتَعَلَّقُ] [[زيادة من ف، أ.]] بِالْمَعْدُومِ وَالْمَوْجُودِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ﴾ أَيْ: لَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ لَمْ يَدْخُلُوا فِي الْإِيمَانِ أَنَّهُمْ يَتَخَلَّصُونَ مِنْ هَذِهِ الْفِتْنَةِ وَالِامْتِحَانِ، فَإِنَّ مِنْ وَرَائِهِمْ مِنَ الْعُقُوبَةِ والنكال ما هُوَ أَغْلَظُ مِنْ هَذَا وَأَطَمُّ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا﴾ أَيْ: يَفُوتُونَا، ﴿سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ﴾ أَيْ: بِئْسَ مَا يَظُنُّونَ.
أَمْ حَسِبَ ٱلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن يَسْبِقُونَا ۚ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
Or do those who do evil deeds think they can outrun Us? Evil is what they judge.
کیا وہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ یہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے۔ جو خیال یہ کرتے ہیں برا ہے
آیا کسانی که اعمال بد انجام میدهند گمان کردند بر قدرت ما چیره خواهند شد؟! چه بد داوری میکنند!
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
الم - أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ - وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ - أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
(1. Alif Lam Mim.)(2. Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested.)(3. And We indeed tested those who were before them so that Allah will indeed know those who are true, and He will know those who are liars.)(4. Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us? Evil is that which they judge!)
The Believers are tested so that it may be known Who is Sincere and Who is Lying
In the beginning of the Tafsir of Surat Al-Baqarah, we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs.
أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ
(Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested.) This is a rebuke in the form of a question, meaning that Allah will inevitably test His believing servants according to their level of faith, as it recorded in the authentic Hadith:
أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الصَّالِحُونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ لَهُ فِي الْبَلَاءِ
(The people most severly tested are the Prophets, then the righteous, then the next best and the next best. A man will be tested in accordance with the degree of his religious commitment; the stonger his religious commitment, the stronger his test.) This Ayah is like the Ayah,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ
(Do you think that you will enter Paradise without Allah knowing those of you who fought (in His cause) and knowing those who are the patient?)(3:142) There is a similar Ayah in Surat At-Tawbah. And Allah says:
أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۖ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّهِ ۗ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ
(Or think you that you will enter Paradise without such (trials) as came to those who passed away before you? They were afflicted with severe poverty and ailments and were so shaken that even the Messenger and those who believed along with him said, "When (will come) the help of Allah?" Yes! Certainly, the help of Allah is near!)(2:214) Allah says here:
وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ
(And We indeed tested those who were before them so that Allah will know those who are true, and will know those who are liars.) meaning, He will make know which are sincere in their claim to be believers from those who are lying. Allah, may He be glorified and exalted, knows what has happened in the past and what is yet to come, and He knows how that which will not happen would have happened if it were to happen. All the Imams of Ahlus-Sunnah wal-Jama'ah are agreed on this. This is the view of Ibn 'Abbas and others concerning phrases such as the Ayah,
إِلَّا لِنَعْلَمَ
(only that We know)(2:143). Meaning, only to see – because seeing has to do with what is there, but knowledge is broader than seeing, since it includes what is not present as well as what is.
The Evildoers cannot escape from Allah
Allah said:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us? Evil is that which they judge!) means, those who are not believers should not think that they will escape such trials and tests, for ahead of them lies a greater and more severe punishment. Allah says:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا ۚ
(Or think those who do evil deeds that they can outstrip Us) meaning, "escape" from Us.
سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Evil is that which they judge!) what they think is evil.
Tafsir Ibn Kathir
حروف مقطعہ کی بحث سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں گزرچکی ہے۔ امتحان اور مومن پھر فرماتا ہے یہ ناممکن ہے کہ مومنوں کو بھی امتحان سے چھوڑ دیا جائے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے پھر صالح نیک لوگوں کا پھر ان سے کم درجے والے پھر ان سے کم درجے والے۔ انسان کا امتحان اس کے دین کے انداز پر ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں سخت ہے تو مصیبتیں بھی سخت نازل ہوتی ہیں۔ اسی مضمون کا بیان اس آیت میں بھی ہے (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 16ۧ) 9۔ التوبہ :16) کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ تم چھوڑ دئیے جاؤ گے ؟ حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے مجاہد کون ہے ؟ اور صابر کون ہے ؟ اسی طرح سورة برات اور سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے کہ کیا تم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ تم جنت میں یونہی چلے جاؤ گے ؟ اور اگلے لوگوں جیسے سخت امتحان کے موقعے تم پر نہ آئیں گے۔ جیسے کہ انہیں بھوک، دکھ، درد وغیرہ پہنچے۔ یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ کے ایماندار بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کہاں ہے ؟ یقین مانو کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔ یہاں بھی فرمایا ان سے اگلے مسلمانوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی انہیں بھی سرد گرم چکھایا گیا تاکہ جو اپنے دعوے میں سچے ہیں اور جو صڑف زبانی دعوے کرتے ہیں ان میں تمیز ہوجائے اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ اسے جانتا نہ تھا وہ ہر ہوچکی بات کو اور ہونے والی بات کو برابر جانتا ہے۔ اس پر اہل سنت والجماعت کے تمام اماموں کا اجماع ہے۔ پس یہاں علم رویت یعنی دیکھنے کے معنی میں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ لنعلم کے معنی لنری کرتے ہیں کیونکہ دیکھنے کا تعلق موجود چیزوں سے ہوتا ہے اور عم اس سے عام ہے۔ پھر فرمایا ہے جو ایمان نہیں لائے وہ بھی یہ گمان نہ کریں کہ امتحان سے بچ جائیں گے بڑے بڑے عذاب اور سخت سزائیں ان کی تاک میں ہیں۔ یہ ہاتھ سے نکل نہیں سکتے ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے ان کے یہ گمان نہایت برے ہیں جن کا برا نتیجہ یہ عنقریب دیکھ لیں گے۔
Tafsir Ibn Kathir
بسم الله الرحمن الرحيم
[وهي] [[زيادة من ف، أ.]] مكية.
* *
أَمَّا الْكَلَامُ عَلَى الْحُرُوفِ الْمُقَطَّعَةِ فَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ سُورَةِ "الْبَقَرَةِ".
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ﴾ اسْتِفْهَامُ إِنْكَارٍ، وَمَعْنَاهُ: أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى لَا بُدَّ أَنْ يَبْتَلِيَ عِبَادَهُ الْمُؤْمِنِينَ بِحَسْبِ مَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْإِيمَانِ، كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ: "أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الصَّالِحُونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ فِي الْبَلَاءِ" [[المسند (١/١٧٢) والترمذي في السنن برقم (٢٣٩٨) من طريق مصعب بن سعد عن أبيه سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وقال الترمذي: "حديث حسن صحيح".]] . وَهَذِهِ الْآيَةُ كَقَوْلِهِ: ﴿أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ﴾ [[هكذا وقعت الآية في جميع المخطوطات، والصواب بعدم إثبات قوله تعالى: (ويعلم الصابرين) لأنها ليست نهاية تذييل الآية ونهاية تذييل الآية: (وَلَمْ يَتَّخِذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَا رَسُولِهِ وَلَا الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ) .]] [آلِ عِمْرَانَ: ١٤٢] ، وَمِثْلُهَا فِي سُورَةِ "بَرَاءَةٌ" وَقَالَ فِي الْبَقَرَةِ: ﴿أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ﴾ [الْبَقَرَةِ: ٢١٤] ؛ وَلِهَذَا قَالَ هَاهُنَا: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ﴾ أَيِ: الَّذِينَ صَدَقُوا فِي دَعْوَاهُمُ الْإِيمَانَ مِمَّنْ هُوَ كَاذِبٌ فِي قَوْلِهِ وَدَعْوَاهُ. وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى يَعْلَمُ مَا كَانَ وَمَا يَكُونُ، وَمَا لَمْ يَكُنْ لَوْ كَانَ كَيْفَ يَكُونُ [[في ف، أ: "كيف كان يكون".]] . وَهَذَا مُجْمَعٌ عَلَيْهِ عِنْدَ أَئِمَّةِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ؛ وَلِهَذَا يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَغَيْرُهُ فِي مِثْلِ: ﴿إِلا لِنَعْلَمَ﴾ [الْبَقَرَةِ: ١٤٣] : إِلَّا لِنَرَى؛ وَذَلِكَ أَنَّ الرُّؤْيَةَ إِنَّمَا تَتَعَلَّقُ بِالْمَوْجُودِ، وَالْعِلْمُ أَعَمُّ مِنَ الرُّؤْيَةِ، فَإِنَّهُ [يَتَعَلَّقُ] [[زيادة من ف، أ.]] بِالْمَعْدُومِ وَالْمَوْجُودِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ﴾ أَيْ: لَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ لَمْ يَدْخُلُوا فِي الْإِيمَانِ أَنَّهُمْ يَتَخَلَّصُونَ مِنْ هَذِهِ الْفِتْنَةِ وَالِامْتِحَانِ، فَإِنَّ مِنْ وَرَائِهِمْ مِنَ الْعُقُوبَةِ والنكال ما هُوَ أَغْلَظُ مِنْ هَذَا وَأَطَمُّ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا﴾ أَيْ: يَفُوتُونَا، ﴿سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ﴾ أَيْ: بِئْسَ مَا يَظُنُّونَ.
مَن كَانَ يَرْجُوا۟ لِقَآءَ ٱللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ ٱللَّهِ لَءَاتٍۢ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
Whoever should hope for the meeting with Allah - indeed, the term decreed by Allah is coming. And He is the Hearing, the Knowing.
جو شخص خدا کی ملاقات کی اُمید رکھتا ہو خدا کا (مقرر کیا ہوا) وقت ضرور آنے والا ہے۔ اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے
کسی که امید به لقاء الله (و رستاخیز) دارد (باید در اطاعت فرمان او بکوشد!) زیرا سرآمدی را که خدا تعیین کرده فرامیرسد؛ و او شنوا و داناست!
Tafsir Ibn Kathir
Whoever hopes in meeting with Allah, then Allah's term is surely coming, and He is the All-Hearer, the All-Knower (5)And whosoever strives, he strives only for himself. Verily, Allah stands not in need of any of the creatures (6)Those who believe, and do righteous good deeds, surely, We shall expiate from them their evil deeds and We shall indeed reward them according to the best of that which they used to do (7)
Allah will fulfill the Hopes of the Righteous
Allah's saying;
مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ
(Whoever hopes in meeting with Allah,) means, in the Hereafter, and does righteous deeds, and hopes for a great reward with Allah, then Allah will fulfill his hopes and reward him for his deeds in full. This will undoubtedly come to pass, for He is the One Who hears all supplications, He knows and understands the needs of all created beings. Allah says:
مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لَآتٍ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(Whoever hopes in meeting with Allah, then Allah's term is surely coming, and He is the All-Hearer, the All-Knower.)
وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ ۚ
(And whosoever strives, he strives only for himself.) This is like the Ayah,
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ ۖ
(Whosoever does righteous good deed, it is for himself)(41:46). Whoever does a righteous deed, the benefit of that deed will come back to him, for Allah has no need of the deeds of His servants, and even if all of them were to be as pious as the most pious man among them, that would not add to His dominion in the slightest. Allah says:
وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ
(And whosoever strives, he strives only for himself. Verily, Allah stands not in need of any of the creatures.) Then Allah tells us that even though He has no need of His creatures, He is kind and generous to them. He will still give to those who believe and do righteous deeds the best of rewards, which is that He will expiate for them their bad deeds, and will reward them according to the best deeds that they did. He will accept the fewest good deeds and in return for one good deed will give anything between ten rewards and seven hundred, but for every bad deed, He will give only one evil merit, or even that He may overlook and forgive. This is like the Ayah,
إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا
(Surely, Allah wrongs not even the weight of a speck of dust, but if there is any good, He doubles it, and gives from Him a great reward.)(4:40). And He says here:
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَحْسَنَ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ
(Those who believe, and do righteous good deeds, surely, We shall expiate from them their evil deeds and We shall indeed reward them according to the best of that which they used to do.)
Tafsir Ibn Kathir
نیکیوں کی کوشش جنہیں آخرت کے بدلوں کی امید ہے اور اسے سامنے رکھ کر وہ نیکیاں کرتے ہیں۔ ان کی امیدیں پوری ہونگی اور انہیں نہ ختم ہونے والے ثواب ملیں گے۔ اللہ دعاؤں کا سننے والا اور کل کائنات کا جاننے والا ہے اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت ٹلتا نہیں۔ پھر فرماتا ہے ہر نیک عمل کرنے والا اپنا ہی نفع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال سے بےپرواہ ہے۔ اگر سارے انسان متقی بن جائیں تو اللہ کی سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔ حضرت حسن فرماتے ہیں جہاد تلوار چلانے کا ہی نام نہیں۔ انسان نیکیوں کی کوشش میں لگا ہے یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تمہاری نیکیاں اللہ کے کسی کام نہیں آتیں لیکن بہر حال اس کی یہ مہربانی کہ وہ تمہیں نیکیوں پر بدلے دیتا ہے۔ انکی وجہ سے تمہاری برائیں معاف فرما دیتا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی قدر کرتا ہے اور اس پر بڑے سے بڑا اجر دیتا ہے ایک ایک نیکی کا سات سات سوگنا بدلہ عنایت فرماتا ہے اور بدی کو یا تو بالکل ہی معاف فرما دیتا ہے یا اسی کے برابر سزا دیتا ہے۔ وہ ظلم سے پاک ہے، گناہوں سے درگزر کرلیتا ہے اور ان کے اچھے اعمال کا بدل عطا فرماتا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ﴾ أَيْ: فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ، وَعَمِلَ الصَّالِحَاتِ رَجَاءَ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الثَّوَابِ الْجَزِيلِ، فَإِنَّ اللَّهَ سَيُحَقِّقُ لَهُ رَجَاءَهُ وَيُوَفِّيهِ عَمَلَهُ كَامِلًا مَوْفُورًا [[في أ: "موفرا".]] ، فَإِنَّ ذَلِكَ كَائِنٌ لَا مَحَالَةَ؛ لِأَنَّهُ سَمِيعُ الدُّعَاءِ، بَصِيرٌ بِكُلِّ الْكَائِنَاتِ [[في ت: "بصير بالكائنات".]] ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لآتٍ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ﴾ ، كَقَوْلِهِ: ﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ﴾ [فُصِّلَتْ: ٤٦] أَيْ: مَنْ عَمِلَ صَالَحَا فَإِنَّمَا يَعُودُ نَفْعُ عَمَلِهِ عَلَى نَفْسِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ أَفْعَالِ الْعِبَادِ، وَلَوْ كَانُوا كُلُّهُمْ عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ [وَاحِدٍ] [[زيادة من أ.]] مِنْهُمْ، مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِهِ شَيْئًا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾ .
قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: إِنَّ الرَّجُلَ لِيُجَاهِدُ، وَمَا ضَرَبَ يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ بِسَيْفٍ.
ثُمَّ أَخْبَرَ أَنَّهُ مَعَ غِنَاهُ عَنِ الْخَلَائِقِ جَمِيعِهِمْ مِنْ إِحْسَانِهِ وَبِرِّهِ بِهِمْ يُجَازِي الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ، وَهُوَ أَنَّهُ يُكَفِّرُ عَنْهُمْ أَسْوَأَ الَّذِي عَمِلُوا، وَيَجْزِيهِمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا [[في ت، ف، أ: "الذي".]] كَانُوا يَعْمَلُونَ، فَيَقْبَلُ الْقَلِيلَ مِنَ الْحَسَنَاتِ، وَيُثِيبُ عَلَيْهَا الْوَاحِدَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ، وَيَجْزِي عَلَى السَّيِّئَةِ بِمِثْلِهَا أَوْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [النِّسَاءِ: ٤٠] ، وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَحْسَنَ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾
وَمَن جَٰهَدَ فَإِنَّمَا يُجَٰهِدُ لِنَفْسِهِۦٓ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِىٌّ عَنِ ٱلْعَٰلَمِينَ
And whoever strives only strives for [the benefit of] himself. Indeed, Allah is free from need of the worlds.
اور جو شخص محنت کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے محنت کرتا ہے۔ اور خدا تو سارے جہان سے بےپروا ہے
کسی که جهاد و تلاش کند، برای خود جهاد میکند؛ چرا که خداوند از همه جهانیان بی نیاز است.
Tafsir Ibn Kathir
Whoever hopes in meeting with Allah, then Allah's term is surely coming, and He is the All-Hearer, the All-Knower (5)And whosoever strives, he strives only for himself. Verily, Allah stands not in need of any of the creatures (6)Those who believe, and do righteous good deeds, surely, We shall expiate from them their evil deeds and We shall indeed reward them according to the best of that which they used to do (7)
Allah will fulfill the Hopes of the Righteous
Allah's saying;
مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ
(Whoever hopes in meeting with Allah,) means, in the Hereafter, and does righteous deeds, and hopes for a great reward with Allah, then Allah will fulfill his hopes and reward him for his deeds in full. This will undoubtedly come to pass, for He is the One Who hears all supplications, He knows and understands the needs of all created beings. Allah says:
مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لَآتٍ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(Whoever hopes in meeting with Allah, then Allah's term is surely coming, and He is the All-Hearer, the All-Knower.)
وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ ۚ
(And whosoever strives, he strives only for himself.) This is like the Ayah,
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ ۖ
(Whosoever does righteous good deed, it is for himself)(41:46). Whoever does a righteous deed, the benefit of that deed will come back to him, for Allah has no need of the deeds of His servants, and even if all of them were to be as pious as the most pious man among them, that would not add to His dominion in the slightest. Allah says:
وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ
(And whosoever strives, he strives only for himself. Verily, Allah stands not in need of any of the creatures.) Then Allah tells us that even though He has no need of His creatures, He is kind and generous to them. He will still give to those who believe and do righteous deeds the best of rewards, which is that He will expiate for them their bad deeds, and will reward them according to the best deeds that they did. He will accept the fewest good deeds and in return for one good deed will give anything between ten rewards and seven hundred, but for every bad deed, He will give only one evil merit, or even that He may overlook and forgive. This is like the Ayah,
إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا
(Surely, Allah wrongs not even the weight of a speck of dust, but if there is any good, He doubles it, and gives from Him a great reward.)(4:40). And He says here:
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَحْسَنَ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ
(Those who believe, and do righteous good deeds, surely, We shall expiate from them their evil deeds and We shall indeed reward them according to the best of that which they used to do.)
Tafsir Ibn Kathir
نیکیوں کی کوشش جنہیں آخرت کے بدلوں کی امید ہے اور اسے سامنے رکھ کر وہ نیکیاں کرتے ہیں۔ ان کی امیدیں پوری ہونگی اور انہیں نہ ختم ہونے والے ثواب ملیں گے۔ اللہ دعاؤں کا سننے والا اور کل کائنات کا جاننے والا ہے اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت ٹلتا نہیں۔ پھر فرماتا ہے ہر نیک عمل کرنے والا اپنا ہی نفع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال سے بےپرواہ ہے۔ اگر سارے انسان متقی بن جائیں تو اللہ کی سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔ حضرت حسن فرماتے ہیں جہاد تلوار چلانے کا ہی نام نہیں۔ انسان نیکیوں کی کوشش میں لگا ہے یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تمہاری نیکیاں اللہ کے کسی کام نہیں آتیں لیکن بہر حال اس کی یہ مہربانی کہ وہ تمہیں نیکیوں پر بدلے دیتا ہے۔ انکی وجہ سے تمہاری برائیں معاف فرما دیتا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی قدر کرتا ہے اور اس پر بڑے سے بڑا اجر دیتا ہے ایک ایک نیکی کا سات سات سوگنا بدلہ عنایت فرماتا ہے اور بدی کو یا تو بالکل ہی معاف فرما دیتا ہے یا اسی کے برابر سزا دیتا ہے۔ وہ ظلم سے پاک ہے، گناہوں سے درگزر کرلیتا ہے اور ان کے اچھے اعمال کا بدل عطا فرماتا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ﴾ أَيْ: فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ، وَعَمِلَ الصَّالِحَاتِ رَجَاءَ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الثَّوَابِ الْجَزِيلِ، فَإِنَّ اللَّهَ سَيُحَقِّقُ لَهُ رَجَاءَهُ وَيُوَفِّيهِ عَمَلَهُ كَامِلًا مَوْفُورًا [[في أ: "موفرا".]] ، فَإِنَّ ذَلِكَ كَائِنٌ لَا مَحَالَةَ؛ لِأَنَّهُ سَمِيعُ الدُّعَاءِ، بَصِيرٌ بِكُلِّ الْكَائِنَاتِ [[في ت: "بصير بالكائنات".]] ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لآتٍ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ﴾ ، كَقَوْلِهِ: ﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ﴾ [فُصِّلَتْ: ٤٦] أَيْ: مَنْ عَمِلَ صَالَحَا فَإِنَّمَا يَعُودُ نَفْعُ عَمَلِهِ عَلَى نَفْسِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ أَفْعَالِ الْعِبَادِ، وَلَوْ كَانُوا كُلُّهُمْ عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ [وَاحِدٍ] [[زيادة من أ.]] مِنْهُمْ، مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِهِ شَيْئًا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾ .
قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: إِنَّ الرَّجُلَ لِيُجَاهِدُ، وَمَا ضَرَبَ يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ بِسَيْفٍ.
ثُمَّ أَخْبَرَ أَنَّهُ مَعَ غِنَاهُ عَنِ الْخَلَائِقِ جَمِيعِهِمْ مِنْ إِحْسَانِهِ وَبِرِّهِ بِهِمْ يُجَازِي الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ، وَهُوَ أَنَّهُ يُكَفِّرُ عَنْهُمْ أَسْوَأَ الَّذِي عَمِلُوا، وَيَجْزِيهِمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا [[في ت، ف، أ: "الذي".]] كَانُوا يَعْمَلُونَ، فَيَقْبَلُ الْقَلِيلَ مِنَ الْحَسَنَاتِ، وَيُثِيبُ عَلَيْهَا الْوَاحِدَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ، وَيَجْزِي عَلَى السَّيِّئَةِ بِمِثْلِهَا أَوْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [النِّسَاءِ: ٤٠] ، وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَحْسَنَ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّـَٔاتِهِمْ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَحْسَنَ ٱلَّذِى كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
And those who believe and do righteous deeds - We will surely remove from them their misdeeds and will surely reward them according to the best of what they used to do.
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم ان کے گناہوں کو اُن سے دور کردیں گے اور ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے
و کسانی که ایمان آورده و کارهای شایسته انجام دادند، گناهان آنان را میپوشانیم (و میبخشیم) و آنان را به بهترین اعمالی که انجام میدادند پاداش میدهیم.
Tafsir Ibn Kathir
Whoever hopes in meeting with Allah, then Allah's term is surely coming, and He is the All-Hearer, the All-Knower (5)And whosoever strives, he strives only for himself. Verily, Allah stands not in need of any of the creatures (6)Those who believe, and do righteous good deeds, surely, We shall expiate from them their evil deeds and We shall indeed reward them according to the best of that which they used to do (7)
Allah will fulfill the Hopes of the Righteous
Allah's saying;
مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ
(Whoever hopes in meeting with Allah,) means, in the Hereafter, and does righteous deeds, and hopes for a great reward with Allah, then Allah will fulfill his hopes and reward him for his deeds in full. This will undoubtedly come to pass, for He is the One Who hears all supplications, He knows and understands the needs of all created beings. Allah says:
مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لَآتٍ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(Whoever hopes in meeting with Allah, then Allah's term is surely coming, and He is the All-Hearer, the All-Knower.)
وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ ۚ
(And whosoever strives, he strives only for himself.) This is like the Ayah,
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ ۖ
(Whosoever does righteous good deed, it is for himself)(41:46). Whoever does a righteous deed, the benefit of that deed will come back to him, for Allah has no need of the deeds of His servants, and even if all of them were to be as pious as the most pious man among them, that would not add to His dominion in the slightest. Allah says:
وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ
(And whosoever strives, he strives only for himself. Verily, Allah stands not in need of any of the creatures.) Then Allah tells us that even though He has no need of His creatures, He is kind and generous to them. He will still give to those who believe and do righteous deeds the best of rewards, which is that He will expiate for them their bad deeds, and will reward them according to the best deeds that they did. He will accept the fewest good deeds and in return for one good deed will give anything between ten rewards and seven hundred, but for every bad deed, He will give only one evil merit, or even that He may overlook and forgive. This is like the Ayah,
إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا
(Surely, Allah wrongs not even the weight of a speck of dust, but if there is any good, He doubles it, and gives from Him a great reward.)(4:40). And He says here:
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَحْسَنَ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ
(Those who believe, and do righteous good deeds, surely, We shall expiate from them their evil deeds and We shall indeed reward them according to the best of that which they used to do.)
Tafsir Ibn Kathir
نیکیوں کی کوشش جنہیں آخرت کے بدلوں کی امید ہے اور اسے سامنے رکھ کر وہ نیکیاں کرتے ہیں۔ ان کی امیدیں پوری ہونگی اور انہیں نہ ختم ہونے والے ثواب ملیں گے۔ اللہ دعاؤں کا سننے والا اور کل کائنات کا جاننے والا ہے اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت ٹلتا نہیں۔ پھر فرماتا ہے ہر نیک عمل کرنے والا اپنا ہی نفع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال سے بےپرواہ ہے۔ اگر سارے انسان متقی بن جائیں تو اللہ کی سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔ حضرت حسن فرماتے ہیں جہاد تلوار چلانے کا ہی نام نہیں۔ انسان نیکیوں کی کوشش میں لگا ہے یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تمہاری نیکیاں اللہ کے کسی کام نہیں آتیں لیکن بہر حال اس کی یہ مہربانی کہ وہ تمہیں نیکیوں پر بدلے دیتا ہے۔ انکی وجہ سے تمہاری برائیں معاف فرما دیتا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی قدر کرتا ہے اور اس پر بڑے سے بڑا اجر دیتا ہے ایک ایک نیکی کا سات سات سوگنا بدلہ عنایت فرماتا ہے اور بدی کو یا تو بالکل ہی معاف فرما دیتا ہے یا اسی کے برابر سزا دیتا ہے۔ وہ ظلم سے پاک ہے، گناہوں سے درگزر کرلیتا ہے اور ان کے اچھے اعمال کا بدل عطا فرماتا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ﴾ أَيْ: فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ، وَعَمِلَ الصَّالِحَاتِ رَجَاءَ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الثَّوَابِ الْجَزِيلِ، فَإِنَّ اللَّهَ سَيُحَقِّقُ لَهُ رَجَاءَهُ وَيُوَفِّيهِ عَمَلَهُ كَامِلًا مَوْفُورًا [[في أ: "موفرا".]] ، فَإِنَّ ذَلِكَ كَائِنٌ لَا مَحَالَةَ؛ لِأَنَّهُ سَمِيعُ الدُّعَاءِ، بَصِيرٌ بِكُلِّ الْكَائِنَاتِ [[في ت: "بصير بالكائنات".]] ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لآتٍ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ﴾ ، كَقَوْلِهِ: ﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ﴾ [فُصِّلَتْ: ٤٦] أَيْ: مَنْ عَمِلَ صَالَحَا فَإِنَّمَا يَعُودُ نَفْعُ عَمَلِهِ عَلَى نَفْسِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ أَفْعَالِ الْعِبَادِ، وَلَوْ كَانُوا كُلُّهُمْ عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ [وَاحِدٍ] [[زيادة من أ.]] مِنْهُمْ، مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِهِ شَيْئًا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾ .
قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: إِنَّ الرَّجُلَ لِيُجَاهِدُ، وَمَا ضَرَبَ يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ بِسَيْفٍ.
ثُمَّ أَخْبَرَ أَنَّهُ مَعَ غِنَاهُ عَنِ الْخَلَائِقِ جَمِيعِهِمْ مِنْ إِحْسَانِهِ وَبِرِّهِ بِهِمْ يُجَازِي الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ، وَهُوَ أَنَّهُ يُكَفِّرُ عَنْهُمْ أَسْوَأَ الَّذِي عَمِلُوا، وَيَجْزِيهِمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا [[في ت، ف، أ: "الذي".]] كَانُوا يَعْمَلُونَ، فَيَقْبَلُ الْقَلِيلَ مِنَ الْحَسَنَاتِ، وَيُثِيبُ عَلَيْهَا الْوَاحِدَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ، وَيَجْزِي عَلَى السَّيِّئَةِ بِمِثْلِهَا أَوْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [النِّسَاءِ: ٤٠] ، وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَحْسَنَ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾
وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيْهِ حُسْنًۭا ۖ وَإِن جَٰهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌۭ فَلَا تُطِعْهُمَآ ۚ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
And We have enjoined upon man goodness to parents. But if they endeavor to make you associate with Me that of which you have no knowledge, do not obey them. To Me is your return, and I will inform you about what you used to do.
اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ (اے مخاطب) اگر تیرے ماں باپ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جس کی حقیقت کی تجھے واقفیت نہیں۔ تو ان کا کہنا نہ مانیو۔ تم (سب) کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ پھر جو کچھ تم کرتے تھے میں تم کو جتا دوں گا
ما به انسان توصیه کردیم که به پدر و مادرش نیکی کند، و اگر آن دو (مشرک باشند و) تلاش کنند که برای من همتایی قائل شوی که به آن علم نداری، از آنها پیروی مکن! بازگشت شما به سوی من است، و شما را از آنچه انجام میدادید با خبر خواهم ساخت!
Tafsir Ibn Kathir
And We have enjoined on man to be dutiful to his parents; but if they strive to make you associate with Me, which you have no knowledge of, then obey them not. Unto Me is your return and I shall tell you what you used to do (8)And for those who believe and do righteous deeds, surely, We shall admit them among the righteous (9)
The Command to be Good and Dutiful to Parents
Allah commands His servants to be dutiful to parents, after urging them to adhere to belief in His Tawhid, because a person's parents are the cause of his existence. So he must treat them with the utmost kindness and respect, his father for spending on him and his mother because of her compassion for him. Allah says:
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا - وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
(And your Lord has decreed that you worship none but Him. And that you be dutiful to your parents. If one of them or both of them attain old age in your life, say not to them a word of disrespect, nor shout at them, but address them in terms of honor. And lower unto them the wing of submission and humility through mercy, and say: "My Lord! Bestow on them Your mercy as they did bring me up when I was young.")(17:23-24) Although Allah orders us to show kindness, mercy and respect towards them in return for their previous kindness, He says:
وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۚ
(but if they strive to make associate with Me, which you have no knowledge of, then obey them not.) meaning, if they are idolators, and they try to make you follow them in their religion, then beware of them, and do not obey them in that, for you will be brought back to Me on the Day of Resurrection, and Allah will reward you for your kindness towards them and your patience in adhering to your religion. It is Allah Who will gather you with the group of the righteous, not with the group of your parents, even though you were the closest of people to them in the world. For a person will be gathered on the Day of Resurrection with those whom he loves, meaning, religious love. Allah says:
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِي الصَّالِحِينَ
(And for those who believe and do righteous good deeds, surely, We shall make them enter with the righteous.) In his Tafsir of this Ayah, At-Tirmidhi recorded that Sa'd said: "Four Ayat were revealed concerning me – and he told his story. He said: "Umm Sa'd said: 'Did Allah not command you to honor your parents? By Allah, I will not eat or drink anything until I die or you renounce Islam.' When they wanted to feed her, they would force her mouth open. Then this Ayah was revealed:
وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا ۖ وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۚ
(And We have enjoined on man to be dutiful to his parents; but if they strive to make you associate with Me, of which you have no knowledge, then obey them not.)" This Hadith was also recorded by Imam Ahmad, Muslim, Abu Dawud and An-Nasa'i. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih.
Tafsir Ibn Kathir
انسان کا وجود پہلے اپنی توحید پر مضبوطی کے ساتھ کاربند رہنے کا حکم فرما کر اب ماں باپ کے سلوک واحسان کا حکم دیتا ہے۔ کیونکہ انہی سے انسان کا وجود ہوتا ہے۔ باپ خرچ کرتا ہے اور پرورش کرتا ہے ماں محبت رکھتی ہے اور پالتی ہے۔ دوسری آیت میں فرمان ہے آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا 23) 17۔ الإسراء :23) اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماچکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کی پوری اطاعت کرو۔ ان دونوں یا ان میں سے ایک کا بڑھاپے کا زمانہ آجائے تو انہیں اف بھی نہ کہنا ڈانٹ ڈپٹ تو کہاں کی ؟ بلکہ ان کے ساتھ ادب سے کلام کرنا اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھکے رہنا اور اللہ سے ان کے لیے دعا کرنا کہا اے اللہ ان پر ایسا رحم کر جیسے یہ بچپن میں مجھ پر کیا کرتے تھے۔ لیکن ہاں یہ خیال رہے کہ اگر یہ شرک کی طرف بلائیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ سمجھ لو کہ تمہیں ایک دن میرے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ اس وقت میں اپنی پرستش کا اور میرے فرمان کے تحت ماں باپ کی اطاعت کرنے کا بدلہ دونگا۔ اور نیک لوگوں کے ساتھ حشر کرونگا اگر تم نے اپنے ماں باپ کی وہ باتیں نہیں مانیں جو میرے احکام کے خلاف نہیں تو وہ خواہ کیسے ہی ہوں میں تمہیں ان سے الگ کر لونگا۔ کیونکہ قیامت کے دن انسان اس کے ساتھ ہوگا جسے وہ دنیا میں چاہتا تھا۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ایمان والوں اور نیک عمل والوں کو میں اپنے صالح بندوں میں ملادونگا۔ حضرت سعد فرماتے ہیں میرے بارے میں چار آیتیں اتریں جن میں سے ایک آیت یہ بھی ہے۔ یہ اس لئے اتری کہ میری ماں نے مجھ سے کہا کہ اے سعد ! کیا اللہ کا حکم میرے ساتھ نیکی کرنے کا نہیں ؟ اگر تو نے آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار نہ کیا تو واللہ میں کھانا پینا چھوڑ دونگی چناچہ اس نے یہی کیا یہاں تک کہ لوگ زبردستی اس کا منہ کھول کر غذا حلق میں پہنچا دیتے تھے پس یہ آیت اتری۔ (ترمذی وغیرہ)
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى آمِرًا عِبَادُهُ بِالْإِحْسَانِ إِلَى الْوَالِدَيْنِ بَعْدَ الْحَثِّ عَلَى التَّمَسُّكِ بِتَوْحِيدِهِ، فَإِنَّ الْوَالِدَيْنِ هَمَّا سَبَبُ وُجُودِ الْإِنْسَانِ، وَلَهُمَا عَلَيْهِ [[في أ: "إليه".]] غَايَةُ الْإِحْسَانِ، فَالْوَالِدُ بِالْإِنْفَاقِ وَالْوَالِدَةُ بِالْإِشْفَاقِ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَقَضَى رَبُّكَ أَلا تَعْبُدُوا إِلا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاهُمَا فَلا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلا كَرِيمًا، وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّي ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا﴾ [الإسراء: ٢٣، ٢٤] .
وَمَعَ هَذِهِ الْوَصِيَّةِ بِالرَّأْفَةِ وَالرَّحْمَةِ وَالْإِحْسَانِ إِلَيْهِمَا، فِي مُقَابَلَةِ إِحْسَانِهِمَا الْمُتَقَدِّمِ، قَالَ: ﴿وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلا تُطِعْهُمَا﴾ أَيْ: وَإِنْ حَرَصا عَلَيْكَ أَنْ تُتَابِعَهُمَا عَلَى دِينِهِمَا إِذَا كَانَا مُشْرِكَيْنِ، فَإِيَّاكَ وَإِيَّاهُمَا، لَا تُطِعْهُمَا فِي ذَلِكَ، فَإِنَّ مَرْجِعَكُمْ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَجْزِيكَ بِإِحْسَانِكَ إِلَيْهِمَا، وَصَبْرِكَ عَلَى دِينِكَ، وَأَحْشُرُكَ مَعَ الصَّالِحِينَ لَا فِي زُمْرَةِ وَالِدَيْكَ، وَإِنْ كُنْتَ أَقْرَبَ النَّاسِ إِلَيْهِمَا فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ الْمَرْءَ إِنَّمَا يُحْشَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ مَنْ أَحَبَّ، أَيْ: حُبًّا دِينِيًّا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِي الصَّالِحِينَ﴾ .
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] التِّرْمِذِيُّ عِنْدَ تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاك بْنُ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُصعَب بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ، قَالَ: نَزَلَتْ فيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ. فَذَكَرَ قِصَّةً، وَقَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَكَ اللَّهُ بِالْبَرِّ؟ وَاللَّهِ لَا أطعَمُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَمُوتَ أَوْ تَكْفُرَ، قَالَ: فَكَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُطْعِمُوهَا شَجَروا فَاهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ [[في ت، ف: "فنزلت".]] ﴿وَوَصَّيْنَا الإنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ﴾ الْآيَةَ.
وَهَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، وَمُسْلِمٌ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ أَيْضًا [[سنن الترمذي برقم (٣٠٧٩) والمسند (١/١٨١) وصحيح مسلم برقم (١٧٤٨) وسنن أبي داود برقم (٢٧٤٠) .]] ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ صَحِيحٌ.
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِى ٱلصَّٰلِحِينَ
And those who believe and do righteous deeds - We will surely admit them among the righteous [into Paradise].
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم نیک لوگوں میں داخل کریں گے
و کسانی که ایمان آورده و کارهای شایسته انجام دادند، آنها را در زمره صالحان وارد خواهیم کرد!
Tafsir Ibn Kathir
And We have enjoined on man to be dutiful to his parents; but if they strive to make you associate with Me, which you have no knowledge of, then obey them not. Unto Me is your return and I shall tell you what you used to do (8)And for those who believe and do righteous deeds, surely, We shall admit them among the righteous (9)
The Command to be Good and Dutiful to Parents
Allah commands His servants to be dutiful to parents, after urging them to adhere to belief in His Tawhid, because a person's parents are the cause of his existence. So he must treat them with the utmost kindness and respect, his father for spending on him and his mother because of her compassion for him. Allah says:
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا - وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
(And your Lord has decreed that you worship none but Him. And that you be dutiful to your parents. If one of them or both of them attain old age in your life, say not to them a word of disrespect, nor shout at them, but address them in terms of honor. And lower unto them the wing of submission and humility through mercy, and say: "My Lord! Bestow on them Your mercy as they did bring me up when I was young.")(17:23-24) Although Allah orders us to show kindness, mercy and respect towards them in return for their previous kindness, He says:
وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۚ
(but if they strive to make associate with Me, which you have no knowledge of, then obey them not.) meaning, if they are idolators, and they try to make you follow them in their religion, then beware of them, and do not obey them in that, for you will be brought back to Me on the Day of Resurrection, and Allah will reward you for your kindness towards them and your patience in adhering to your religion. It is Allah Who will gather you with the group of the righteous, not with the group of your parents, even though you were the closest of people to them in the world. For a person will be gathered on the Day of Resurrection with those whom he loves, meaning, religious love. Allah says:
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِي الصَّالِحِينَ
(And for those who believe and do righteous good deeds, surely, We shall make them enter with the righteous.) In his Tafsir of this Ayah, At-Tirmidhi recorded that Sa'd said: "Four Ayat were revealed concerning me – and he told his story. He said: "Umm Sa'd said: 'Did Allah not command you to honor your parents? By Allah, I will not eat or drink anything until I die or you renounce Islam.' When they wanted to feed her, they would force her mouth open. Then this Ayah was revealed:
وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا ۖ وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۚ
(And We have enjoined on man to be dutiful to his parents; but if they strive to make you associate with Me, of which you have no knowledge, then obey them not.)" This Hadith was also recorded by Imam Ahmad, Muslim, Abu Dawud and An-Nasa'i. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih.
Tafsir Ibn Kathir
انسان کا وجود پہلے اپنی توحید پر مضبوطی کے ساتھ کاربند رہنے کا حکم فرما کر اب ماں باپ کے سلوک واحسان کا حکم دیتا ہے۔ کیونکہ انہی سے انسان کا وجود ہوتا ہے۔ باپ خرچ کرتا ہے اور پرورش کرتا ہے ماں محبت رکھتی ہے اور پالتی ہے۔ دوسری آیت میں فرمان ہے آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا 23) 17۔ الإسراء :23) اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماچکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کی پوری اطاعت کرو۔ ان دونوں یا ان میں سے ایک کا بڑھاپے کا زمانہ آجائے تو انہیں اف بھی نہ کہنا ڈانٹ ڈپٹ تو کہاں کی ؟ بلکہ ان کے ساتھ ادب سے کلام کرنا اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھکے رہنا اور اللہ سے ان کے لیے دعا کرنا کہا اے اللہ ان پر ایسا رحم کر جیسے یہ بچپن میں مجھ پر کیا کرتے تھے۔ لیکن ہاں یہ خیال رہے کہ اگر یہ شرک کی طرف بلائیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ سمجھ لو کہ تمہیں ایک دن میرے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ اس وقت میں اپنی پرستش کا اور میرے فرمان کے تحت ماں باپ کی اطاعت کرنے کا بدلہ دونگا۔ اور نیک لوگوں کے ساتھ حشر کرونگا اگر تم نے اپنے ماں باپ کی وہ باتیں نہیں مانیں جو میرے احکام کے خلاف نہیں تو وہ خواہ کیسے ہی ہوں میں تمہیں ان سے الگ کر لونگا۔ کیونکہ قیامت کے دن انسان اس کے ساتھ ہوگا جسے وہ دنیا میں چاہتا تھا۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ایمان والوں اور نیک عمل والوں کو میں اپنے صالح بندوں میں ملادونگا۔ حضرت سعد فرماتے ہیں میرے بارے میں چار آیتیں اتریں جن میں سے ایک آیت یہ بھی ہے۔ یہ اس لئے اتری کہ میری ماں نے مجھ سے کہا کہ اے سعد ! کیا اللہ کا حکم میرے ساتھ نیکی کرنے کا نہیں ؟ اگر تو نے آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار نہ کیا تو واللہ میں کھانا پینا چھوڑ دونگی چناچہ اس نے یہی کیا یہاں تک کہ لوگ زبردستی اس کا منہ کھول کر غذا حلق میں پہنچا دیتے تھے پس یہ آیت اتری۔ (ترمذی وغیرہ)
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى آمِرًا عِبَادُهُ بِالْإِحْسَانِ إِلَى الْوَالِدَيْنِ بَعْدَ الْحَثِّ عَلَى التَّمَسُّكِ بِتَوْحِيدِهِ، فَإِنَّ الْوَالِدَيْنِ هَمَّا سَبَبُ وُجُودِ الْإِنْسَانِ، وَلَهُمَا عَلَيْهِ [[في أ: "إليه".]] غَايَةُ الْإِحْسَانِ، فَالْوَالِدُ بِالْإِنْفَاقِ وَالْوَالِدَةُ بِالْإِشْفَاقِ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَقَضَى رَبُّكَ أَلا تَعْبُدُوا إِلا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاهُمَا فَلا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلا كَرِيمًا، وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّي ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا﴾ [الإسراء: ٢٣، ٢٤] .
وَمَعَ هَذِهِ الْوَصِيَّةِ بِالرَّأْفَةِ وَالرَّحْمَةِ وَالْإِحْسَانِ إِلَيْهِمَا، فِي مُقَابَلَةِ إِحْسَانِهِمَا الْمُتَقَدِّمِ، قَالَ: ﴿وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلا تُطِعْهُمَا﴾ أَيْ: وَإِنْ حَرَصا عَلَيْكَ أَنْ تُتَابِعَهُمَا عَلَى دِينِهِمَا إِذَا كَانَا مُشْرِكَيْنِ، فَإِيَّاكَ وَإِيَّاهُمَا، لَا تُطِعْهُمَا فِي ذَلِكَ، فَإِنَّ مَرْجِعَكُمْ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَجْزِيكَ بِإِحْسَانِكَ إِلَيْهِمَا، وَصَبْرِكَ عَلَى دِينِكَ، وَأَحْشُرُكَ مَعَ الصَّالِحِينَ لَا فِي زُمْرَةِ وَالِدَيْكَ، وَإِنْ كُنْتَ أَقْرَبَ النَّاسِ إِلَيْهِمَا فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ الْمَرْءَ إِنَّمَا يُحْشَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ مَنْ أَحَبَّ، أَيْ: حُبًّا دِينِيًّا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِي الصَّالِحِينَ﴾ .
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] التِّرْمِذِيُّ عِنْدَ تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاك بْنُ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُصعَب بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ، قَالَ: نَزَلَتْ فيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ. فَذَكَرَ قِصَّةً، وَقَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَكَ اللَّهُ بِالْبَرِّ؟ وَاللَّهِ لَا أطعَمُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَمُوتَ أَوْ تَكْفُرَ، قَالَ: فَكَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُطْعِمُوهَا شَجَروا فَاهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ [[في ت، ف: "فنزلت".]] ﴿وَوَصَّيْنَا الإنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ﴾ الْآيَةَ.
وَهَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، وَمُسْلِمٌ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ أَيْضًا [[سنن الترمذي برقم (٣٠٧٩) والمسند (١/١٨١) وصحيح مسلم برقم (١٧٤٨) وسنن أبي داود برقم (٢٧٤٠) .]] ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ صَحِيحٌ.
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ فَإِذَآ أُوذِىَ فِى ٱللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ ٱلنَّاسِ كَعَذَابِ ٱللَّهِ وَلَئِن جَآءَ نَصْرٌۭ مِّن رَّبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ ۚ أَوَلَيْسَ ٱللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِى صُدُورِ ٱلْعَٰلَمِينَ
And of the people are some who say, "We believe in Allah," but when one [of them] is harmed for [the cause of] Allah, they consider the trial of the people as [if it were] the punishment of Allah. But if victory comes from your Lord, they say, "Indeed, We were with you." Is not Allah most knowing of what is within the breasts of all creatures?
اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر ایمان لائے جب اُن کو خدا (کے رستے) میں کوئی ایذا پہنچتی ہے تو لوگوں کی ایذا کو (یوں) سمجھتے ہیں جیسے خدا کا عذاب۔ اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے مدد پہنچے تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ تھے۔ کیا جو اہل عالم کے سینوں میں ہے خدا اس سے واقف نہیں؟
و از مردم کسانی هستند که میگویند: «به خدا ایمان آوردهایم!» اما هنگامی که در راه خدا شکنجه و آزار میبینند، آزار مردم را همچون عذاب الهی میشمارند (و از آن سخت وحشت میکنند)؛ ولی هنگامی که پیروزی از سوی پروردگارت (برای شما) بیاید، میگویند: «ما هم با شما بودیم (و در این پیروزی شریکیم)»!! آیا خداوند به آنچه در سینههای جهانیان است آگاهتر نیست؟!
Tafsir Ibn Kathir
Of mankind are some who say: "We believe in Allah." But if they are made to suffer for Allah, they consider the trial of mankind as Allah's punishment; and if victory comes from your Lord, they will say: "Verily, we were with you." Is not Allah Best Aware of what is in the breasts of the creatures (10)And indeed Allah knows those who believe, and verily, He knows the hypocrites (11)
The Attitudes of the Hypocrites and the Ways in which Allah tests People
Allah mentions the descriptions of the liars who falsely claim faith with their lips, while faith is not firm in their hearts. When a test or trial comes in this world, they think that this is a punishment from Allah, so they leave Islam. Allah says:
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ فَإِذَا أُوذِيَ فِي اللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللَّهِ
(Of mankind are some who say: "We believe in Allah." But if they are made to suffer for Allah, they consider the trial of mankind as Allah's punishment;) Ibn 'Abbas said, "Meaning that their trial is leaving Islam if they are made to suffer for Allah." This was also the view of others among the Salaf. This Ayah is like the Ayah,
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَىٰ حَرْفٍ ۖ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ ۖ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انْقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِ
(And among mankind is he who worships Allah as it were upon the edge: if good befalls him, he is content therewith; but if a trial befalls him, he turns back on his face...) until:
ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ
(That is a straying far away)[22:11-12]. Then Allah says:
وَلَئِنْ جَاءَ نَصْرٌ مِنْ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ ۚ
(and if victory comes from your Lord, they will say: "Verily, we were with you.") meaning, "if victory comes from your Lord, O Muhammad, and there are spoils of war, these people will say to you, 'We were with you,' i.e., we are your brothers in faith." This is like the Ayat:
الَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِنَ اللَّهِ قَالُوا أَلَمْ نَكُنْ مَعَكُمْ وَإِنْ كَانَ لِلْكَافِرِينَ نَصِيبٌ قَالُوا أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ۚ
(Those who wait and watch about you; if you gain a victory from Allah, they say: "Were we not with you?" But if the disbelievers gain a success, they say (to them): "Did we not gain mastery over you and did we not protect you from the believers?")(4:141).
فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِنْ عِنْدِهِ فَيُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا أَسَرُّوا فِي أَنْفُسِهِمْ نَادِمِينَ
(Perhaps Allah may bring a victory or a decision according to His will. Then they will become regretful for what they have been keeping as a secret in themselves)(5:52). And Allah tells us about them here:
وَلَئِنْ جَاءَ نَصْرٌ مِنْ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ ۚ
(and if victory comes from your Lord, they will say: "Verily, we were with you.") Then Allah says:
أَوَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِي صُدُورِ الْعَالَمِينَ
(Is not Allah Best Aware of what is in the breasts of the creatures?) meaning, 'does Allah not know best what is in their hearts and what they store secretly within themselves, even though outwardly they may appear to be in agreement with you?'
وَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنَافِقِينَ
(And indeed Allah knows those who believe, and verily He knows the hypocrites.) Allah will test the people with calamities and with times of ease, so that He may distinguish the believers from the hypocrites, to see who will obey Allah both in times of hardship and of ease, and who will obey Him only when things are going in accordance with their desires. As Allah says:
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّىٰ نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَكُمْ
(And surely, We shall try you till We test those who strive hard and the patient, and We shall test your facts.)(47:31) After the battle of Uhud, with its trials and tribulations for the Muslims, Allah said:
مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ۗ
(Allah will not leave the believers in the state in which you are now, until He distinguishes the wicked from the good...)(3:179)
Tafsir Ibn Kathir
مرتد ہونے والے ان منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے جو زبانی ایمان کا دعویٰ کرلیتے ہیں لیکن جہاں مخالفین کی طرف سے کوئی دکھ پہنچا کہ یہ اسے اللہ کا عذاب سمجھ کر مرتد ہوجاتے ہیں۔ یہی معنی حضرت ابن عباس وغیرہ نے کئے ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ 11) 22۔ الحج :11) یعنی بعض لوگ ایک کنارے کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اگر راحت ملی تو مطمئن ہوگئے اور اگر مصیبت پہنچی تو منہ پھیرلیا یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اگر حضور کو کوئی غنیمت ملی کوئی فتح ملی تو اپنا دیندار ہونا ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (الَّذِيْنَ يَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْٓا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ڮ وَاِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِيْنَ نَصِيْبٌ01401ۧ) 4۔ النسآء :141) وہ تمہیں دیکھتے رہتے ہیں اگر فتح و نصرت ہوئی تو ہانک لگانے لگتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں ہیں ؟ اور اگر کافروں کی بن آئی تو ان سے اپنی ساز جتانے لگتے ہیں کہ دیکھو ہم نے تمہارا ساتھ دیا ور تمہیں بچالیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا بہت ممکن ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو بالکل ہی غالب کر دے پھر تو یہ اپنی اس چھپی ہوئی حرکت پر صاف نادم ہوجائیں۔ یہاں فرمایا کہ یہ کیا بات ہے کیا انہیں اتنا بھی نہیں معلوم کہ اللہ عالم الغیب ہے۔ وہ جہاں زبانی بات جانتا ہے وہاں قلبی بات بھی اسے معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ بھلائیاں برائیاں پہنچا کر نیک و بد کو مومن و منافق کو الگ الگ کردے گا۔ نفس کے پرستار نفع کے خواہاں یکسو ہوجائیں گے اور نفع نقصان میں ایمان کو نہ چھوڑنے والے ظاہر ہوجائیں گے۔ جیسے فرمایا (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ ۙ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ 31) 47۔ محمد :31) ہم تمہیں آزماتے رہا کریں گے یہاں تک کہ تم میں سے مجاہدین کو اور صابرین کو ہم دنیا کے سامنے ظاہر کردیں اور تمہاری خبریں دیکھ بھال لیں۔ احد کے امتحان کا ذکر کرکے فرمایا کہ اللہ مومنوں کو جس حالت پر وہ تھے رکھنے والا نہ تھا جب کہ خبیث وطیب کی تمیز نہ کریں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ صِفَاتِ قَوْمٍ مِنَ [الْمُكَذِّبِينَ] [[زيادة من ف، أ.]] الَّذِينَ يَدَّعُونَ الْإِيمَانَ بِأَلْسِنَتِهِمْ، وَلَمْ يَثْبُتِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِهِمْ، بِأَنَّهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ فِتْنَةٌ وَمِحْنَةٌ فِي الدُّنْيَا، اعْتَقَدُوا أَنَّ هَذَا مِنْ نِقْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى بِهِمْ، فَارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ فَإِذَا أُوذِيَ فِي اللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللَّهِ﴾ .
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَعْنِي فِتْنَتَهُ أَنْ يَرْتَدَّ عَنْ دِينِهِ إِذَا أُوذِيَ فِي اللَّهِ. وَكَذَا قَالَ غَيْرُهُ مِنْ عُلَمَاءِ السَّلَفِ. وَهَذِهِ الْآيَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انْقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةَ ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ﴾ [الْحَجِّ: ١١] .
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَلَئِنْ جَاءَ نَصْرٌ مِنْ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ﴾ أَيْ: وَلَئِنْ جَاءَ نَصْرٌ قَرِيبٌ مِنْ رَبِّكَ -يَا مُحَمَّدُ -وَفَتْحٌ وَمَغَانِمُ، لَيَقُولُنَّ هَؤُلَاءِ لَكُمْ: إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ، أَيْ [كُنَّا] [[زيادة من ف.]] إخوانكم في الدين، كما قَالَ تَعَالَى: ﴿الَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِنَ اللَّهِ قَالُوا أَلَمْ نَكُنْ مَعَكُمْ وَإِنْ كَانَ لِلْكَافِرِينَ نَصِيبٌ قَالُوا أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [النِّسَاءِ: ١٤١] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِنْ عِنْدِهِ فَيُصْبِحُوا عَلَى مَا أَسَرُّوا فِي أَنْفُسِهِمْ نَادِمِينَ﴾ [الْمَائِدَةِ: ٥٢] .
وَقَالَ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْهُمْ هَاهُنَا: ﴿وَلَئِنْ جَاءَ نَصْرٌ مِنْ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ﴾ ، ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿أَوَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِي صُدُورِ الْعَالَمِينَ﴾ أَيْ: أَوَلَيِسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِي قُلُوبِهِمْ، وَمَا تكنُّه ضَمَائِرُهُمْ، وَإِنْ أَظْهَرُوا لَكُمُ الْمُوَافَقَةَ؟
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنَافِقِينَ﴾ أَيْ: وليختبرَنّ اللَّهُ النَّاسَ بِالضَّرَّاءِ وَالسَّرَّاءِ، لِيَتَمَيَّزَ هَؤُلَاءِ مِنْ هَؤُلَاءِ، وَمَنْ يُطِيعُ اللَّهَ فِي الضَّرَّاءِ وَالسَّرَّاءِ، إِنَّمَا يُطِيعُهُ فِي حَظِّ نَفْسِهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَكُمْ﴾ [مُحَمَّدٍ: ٣١] ، وَقَالَ تَعَالَى بَعْدَ وَقْعَةِ أُحُدٍ، الَّتِي كَانَ فِيهَا مَا كَانَ مِنَ الِاخْتِبَارِ وَالِامْتِحَانِ: ﴿مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ﴾ الْآيَةَ [آلِ عِمْرَانَ: ١٧٩] ، [وَاللَّهُ أَعْلَمُ] [[زيادة من ف.]] .
وَلَيَعْلَمَنَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَلَيَعْلَمَنَّ ٱلْمُنَٰفِقِينَ
And Allah will surely make evident those who believe, and He will surely make evident the hypocrites.
اور خدا اُن کو ضرور معلوم کرے گا جو (سچے) مومن ہیں اور منافقوں کو بھی معلوم کرکے رہے گا
مسلماً خداوند مؤمنان را میشناسد، و به یقین منافقان را (نیز) میشناسد.
Tafsir Ibn Kathir
Of mankind are some who say: "We believe in Allah." But if they are made to suffer for Allah, they consider the trial of mankind as Allah's punishment; and if victory comes from your Lord, they will say: "Verily, we were with you." Is not Allah Best Aware of what is in the breasts of the creatures (10)And indeed Allah knows those who believe, and verily, He knows the hypocrites (11)
The Attitudes of the Hypocrites and the Ways in which Allah tests People
Allah mentions the descriptions of the liars who falsely claim faith with their lips, while faith is not firm in their hearts. When a test or trial comes in this world, they think that this is a punishment from Allah, so they leave Islam. Allah says:
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ فَإِذَا أُوذِيَ فِي اللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللَّهِ
(Of mankind are some who say: "We believe in Allah." But if they are made to suffer for Allah, they consider the trial of mankind as Allah's punishment;) Ibn 'Abbas said, "Meaning that their trial is leaving Islam if they are made to suffer for Allah." This was also the view of others among the Salaf. This Ayah is like the Ayah,
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَىٰ حَرْفٍ ۖ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ ۖ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انْقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِ
(And among mankind is he who worships Allah as it were upon the edge: if good befalls him, he is content therewith; but if a trial befalls him, he turns back on his face...) until:
ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ
(That is a straying far away)[22:11-12]. Then Allah says:
وَلَئِنْ جَاءَ نَصْرٌ مِنْ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ ۚ
(and if victory comes from your Lord, they will say: "Verily, we were with you.") meaning, "if victory comes from your Lord, O Muhammad, and there are spoils of war, these people will say to you, 'We were with you,' i.e., we are your brothers in faith." This is like the Ayat:
الَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِنَ اللَّهِ قَالُوا أَلَمْ نَكُنْ مَعَكُمْ وَإِنْ كَانَ لِلْكَافِرِينَ نَصِيبٌ قَالُوا أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ۚ
(Those who wait and watch about you; if you gain a victory from Allah, they say: "Were we not with you?" But if the disbelievers gain a success, they say (to them): "Did we not gain mastery over you and did we not protect you from the believers?")(4:141).
فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِنْ عِنْدِهِ فَيُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا أَسَرُّوا فِي أَنْفُسِهِمْ نَادِمِينَ
(Perhaps Allah may bring a victory or a decision according to His will. Then they will become regretful for what they have been keeping as a secret in themselves)(5:52). And Allah tells us about them here:
وَلَئِنْ جَاءَ نَصْرٌ مِنْ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ ۚ
(and if victory comes from your Lord, they will say: "Verily, we were with you.") Then Allah says:
أَوَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِي صُدُورِ الْعَالَمِينَ
(Is not Allah Best Aware of what is in the breasts of the creatures?) meaning, 'does Allah not know best what is in their hearts and what they store secretly within themselves, even though outwardly they may appear to be in agreement with you?'
وَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنَافِقِينَ
(And indeed Allah knows those who believe, and verily He knows the hypocrites.) Allah will test the people with calamities and with times of ease, so that He may distinguish the believers from the hypocrites, to see who will obey Allah both in times of hardship and of ease, and who will obey Him only when things are going in accordance with their desires. As Allah says:
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّىٰ نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَكُمْ
(And surely, We shall try you till We test those who strive hard and the patient, and We shall test your facts.)(47:31) After the battle of Uhud, with its trials and tribulations for the Muslims, Allah said:
مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ۗ
(Allah will not leave the believers in the state in which you are now, until He distinguishes the wicked from the good...)(3:179)
Tafsir Ibn Kathir
مرتد ہونے والے ان منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے جو زبانی ایمان کا دعویٰ کرلیتے ہیں لیکن جہاں مخالفین کی طرف سے کوئی دکھ پہنچا کہ یہ اسے اللہ کا عذاب سمجھ کر مرتد ہوجاتے ہیں۔ یہی معنی حضرت ابن عباس وغیرہ نے کئے ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ 11) 22۔ الحج :11) یعنی بعض لوگ ایک کنارے کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اگر راحت ملی تو مطمئن ہوگئے اور اگر مصیبت پہنچی تو منہ پھیرلیا یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اگر حضور کو کوئی غنیمت ملی کوئی فتح ملی تو اپنا دیندار ہونا ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (الَّذِيْنَ يَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْٓا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ڮ وَاِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِيْنَ نَصِيْبٌ01401ۧ) 4۔ النسآء :141) وہ تمہیں دیکھتے رہتے ہیں اگر فتح و نصرت ہوئی تو ہانک لگانے لگتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں ہیں ؟ اور اگر کافروں کی بن آئی تو ان سے اپنی ساز جتانے لگتے ہیں کہ دیکھو ہم نے تمہارا ساتھ دیا ور تمہیں بچالیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا بہت ممکن ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو بالکل ہی غالب کر دے پھر تو یہ اپنی اس چھپی ہوئی حرکت پر صاف نادم ہوجائیں۔ یہاں فرمایا کہ یہ کیا بات ہے کیا انہیں اتنا بھی نہیں معلوم کہ اللہ عالم الغیب ہے۔ وہ جہاں زبانی بات جانتا ہے وہاں قلبی بات بھی اسے معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ بھلائیاں برائیاں پہنچا کر نیک و بد کو مومن و منافق کو الگ الگ کردے گا۔ نفس کے پرستار نفع کے خواہاں یکسو ہوجائیں گے اور نفع نقصان میں ایمان کو نہ چھوڑنے والے ظاہر ہوجائیں گے۔ جیسے فرمایا (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ ۙ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ 31) 47۔ محمد :31) ہم تمہیں آزماتے رہا کریں گے یہاں تک کہ تم میں سے مجاہدین کو اور صابرین کو ہم دنیا کے سامنے ظاہر کردیں اور تمہاری خبریں دیکھ بھال لیں۔ احد کے امتحان کا ذکر کرکے فرمایا کہ اللہ مومنوں کو جس حالت پر وہ تھے رکھنے والا نہ تھا جب کہ خبیث وطیب کی تمیز نہ کریں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ صِفَاتِ قَوْمٍ مِنَ [الْمُكَذِّبِينَ] [[زيادة من ف، أ.]] الَّذِينَ يَدَّعُونَ الْإِيمَانَ بِأَلْسِنَتِهِمْ، وَلَمْ يَثْبُتِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِهِمْ، بِأَنَّهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ فِتْنَةٌ وَمِحْنَةٌ فِي الدُّنْيَا، اعْتَقَدُوا أَنَّ هَذَا مِنْ نِقْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى بِهِمْ، فَارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ فَإِذَا أُوذِيَ فِي اللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللَّهِ﴾ .
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَعْنِي فِتْنَتَهُ أَنْ يَرْتَدَّ عَنْ دِينِهِ إِذَا أُوذِيَ فِي اللَّهِ. وَكَذَا قَالَ غَيْرُهُ مِنْ عُلَمَاءِ السَّلَفِ. وَهَذِهِ الْآيَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انْقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةَ ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ﴾ [الْحَجِّ: ١١] .
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَلَئِنْ جَاءَ نَصْرٌ مِنْ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ﴾ أَيْ: وَلَئِنْ جَاءَ نَصْرٌ قَرِيبٌ مِنْ رَبِّكَ -يَا مُحَمَّدُ -وَفَتْحٌ وَمَغَانِمُ، لَيَقُولُنَّ هَؤُلَاءِ لَكُمْ: إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ، أَيْ [كُنَّا] [[زيادة من ف.]] إخوانكم في الدين، كما قَالَ تَعَالَى: ﴿الَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِنَ اللَّهِ قَالُوا أَلَمْ نَكُنْ مَعَكُمْ وَإِنْ كَانَ لِلْكَافِرِينَ نَصِيبٌ قَالُوا أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [النِّسَاءِ: ١٤١] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِنْ عِنْدِهِ فَيُصْبِحُوا عَلَى مَا أَسَرُّوا فِي أَنْفُسِهِمْ نَادِمِينَ﴾ [الْمَائِدَةِ: ٥٢] .
وَقَالَ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْهُمْ هَاهُنَا: ﴿وَلَئِنْ جَاءَ نَصْرٌ مِنْ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ﴾ ، ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿أَوَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِي صُدُورِ الْعَالَمِينَ﴾ أَيْ: أَوَلَيِسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِي قُلُوبِهِمْ، وَمَا تكنُّه ضَمَائِرُهُمْ، وَإِنْ أَظْهَرُوا لَكُمُ الْمُوَافَقَةَ؟
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنَافِقِينَ﴾ أَيْ: وليختبرَنّ اللَّهُ النَّاسَ بِالضَّرَّاءِ وَالسَّرَّاءِ، لِيَتَمَيَّزَ هَؤُلَاءِ مِنْ هَؤُلَاءِ، وَمَنْ يُطِيعُ اللَّهَ فِي الضَّرَّاءِ وَالسَّرَّاءِ، إِنَّمَا يُطِيعُهُ فِي حَظِّ نَفْسِهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَكُمْ﴾ [مُحَمَّدٍ: ٣١] ، وَقَالَ تَعَالَى بَعْدَ وَقْعَةِ أُحُدٍ، الَّتِي كَانَ فِيهَا مَا كَانَ مِنَ الِاخْتِبَارِ وَالِامْتِحَانِ: ﴿مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ﴾ الْآيَةَ [آلِ عِمْرَانَ: ١٧٩] ، [وَاللَّهُ أَعْلَمُ] [[زيادة من ف.]] .
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّبِعُوا۟ سَبِيلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطَٰيَٰكُمْ وَمَا هُم بِحَٰمِلِينَ مِنْ خَطَٰيَٰهُم مِّن شَىْءٍ ۖ إِنَّهُمْ لَكَٰذِبُونَ
And those who disbelieve say to those who believe, "Follow our way, and we will carry your sins." But they will not carry anything of their sins. Indeed, they are liars.
اور جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے طریق کی پیروی کرو ہم تمہارے گناہ اُٹھالیں گے۔ حالانکہ وہ اُن کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ اُٹھانے والے نہیں۔ کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں
و کافران به مؤمنان گفتند: «شما از راه ما پیروی کنید، (و اگر گناهی دارد) ما گناهانتان را بر عهده خواهیم گرفت!» آنان هرگز چیزی از گناهان اینها را بر دوش نخواهند گرفت؛ آنان به یقین دروغگو هستند!
Tafsir Ibn Kathir
And those who disbelieve say to those who believe: "Follow our way and let us bear your sins." Never will they bear anything of their sins. Surely, they are liars (12)And verily, they shall bear their own loads, and other loads besides their own; and verily, they shall be questioned on the Day of Resurrection about that which they used to fabricate (13)
The Arrogant Claim of the Disbelievers that They would carry the Sins of Others if They would return to Disbelief
Allah tells us that the disbelievers of Quraysh said to those who believed and followed the truth: leave your religion, come back to our religion, and follow our way;
وَلْنَحْمِلْ خَطَايَاكُمْ
(and let us bear your sins.) meaning, 'if there is any sin on you, we will bear it and it will be our responsibility'. It is like a person saying: "Do this, and your sin will be on my shoulders." Allah says, proving this to be a lie:
وَمَا هُمْ بِحَامِلِينَ مِنْ خَطَايَاهُمْ مِنْ شَيْءٍ ۖ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
(Never will they bear anything of their sins. Surely, they are liars.) in their claim that they will bear the sins of others, for no person will bear the sins of another. Allah says:
وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۗ
(and if one heavily laden calls another to (bear) his load, nothing of it will be lifted even though he be near of kin)(35:18).
وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا - يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ
(And no friend will ask a friend (about his condition), though they shall be made to see one another)(70:10-11).
وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ ۖ
(And verily, they shall bear their own loads, and other loads besides their own.) Here Allah tells us that those who call others to disbelief and misguidance will, on the Day of Resurrection, bear their own sins and the sins of others, because of the people they misguided. Yet that will not detract from the burden of those other people in the slightest, as Allah says:
لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۙ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ
(That they may bear their own burdens in full on the Day of Resurrection, and also of the burdens of those whom they misled without knowledge)(16:25). In the Sahih, it says:
مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنِ اتَّبَعَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا
(Whoever calls others to true guidance, will have a reward like that of those who follow him until the Day of Resurrection, without it detracting from their reward in the slightest. Whoever calls others to misguidance, will have a burden of sin like that of those who follow him until the Day of Resurrection, without it detracting from their burden in the slightest.) In the Sahih, it also says:
مَا قُتِلَتْ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا، لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ
(No person is killed unlawfully, but a share of the guilt will be upon the first son of Adam, because he was the first one to initiate the idea of killing another.)
وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ
(and verily, they shall be questioned on the Day of Resurrection about that which they used to fabricate.) means, the lies they used to tell and the falsehood they used to fabricate. Ibn Abi Hatim recorded that Abu Umamah, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ conveyed the Message with which he was sent, then he said:
إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ اللهَ يَعْزِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا يَجوزُنِي الْيَوْمَ ظُلْمٌ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ فَيَقُولُ: أَيْنَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ؟ فَيَأْتِي يَتْبَعُهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ أَمْثَالَ الْجِبَالِ، فَيَشْخَصُ النَّاسُ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ، حَتَّى يَقُومَ بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمٰنِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يَأْمُرُ الْمُنَادِيَ فَيُنَادِي: مَنْ كَانَتْ لَهُ تِبَاعَةٌ أَوْ ظَلَامَةٌ عِنْدَ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ فَهَلُمَّ، فَيُقْبِلُونَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا قِيَامًا بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمٰنِ، فَيَقُولُ الرَّحْمٰنُ: اقْضُوا عَنْ عَبْدِي، فَيَقُولُونَ: كَيْفَ نَقْضِي عَنْهُ؟ فَيَقُولُ: خُذُوا لَهُمْ مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَلَا يَزَالُونَ يَأْخُذُونَ مِنْهَا حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْهَا حَسَنَةٌ، وَقَدْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ الظَّلَامَاتِ، فَيَقُولُ: اقْضُوا عَنْ عَبْدِي، فَيَقُولُونَ: لَمْ يَبْقَ لَهُ حَسَنَةٌ، فَيَقُولُ: خُذُوا مِنْ سَيِّئَاتِهِمْ فَاحْمِلُوهَا عَلَيْهِ
(Beware of injustice, for Allah will swear an oath of the Day of Resurrection and will say: "By My glory and majesty, no injustice will be overlooked today." Then a voice will call out, "Where is so-and-so the son of so-and-so?" He will be brought forth, followed by his good deeds which appear like mountains while the people are gazing at them in wonder, until he is standing before the Most Merciful. Then the caller will be commanded to say: "Whoever is owed anything by so-and-so the son of so-and-so, or has been wronged by him, let him come forth." So they will come forth and gather before the Most Merciful, then the Most Merciful will say: "Settle the matter for My servant." They will say, "How can we settle the matter?" He will say, "Take from his good deeds and give it to them." They will keep taking from his good deeds until there is nothing left, and there will still people with scores to be settled. Allah will say, "Settle the matter for My servant." They will say, "He does not have even one good deed left." Allah will say, "Take from their evil deeds and give them to him.")
Then the Prophet ﷺ quoted this Ayah:
وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ ۖ وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ
(And verily, they shall bear their own loads, and other loads besides their own; and verily, they shall be questioned on the Day of Resurrection about that which they used to fabricate.) There is a corroborating report in the Sahih with a different chain of narration:
إِنَّ الرَّجُلَ لَيَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ الْجِبَالِ وَقَدْ ظَلَمَ هَذَا، وَأَخَذَ مَالَ هَذَا، وَأَخَذَ مِنْ عِرْضِ هَذَا، فَيَأْخُذُ هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِذَا لَمْ تَبْقَ لَهُ حَسَنَةٌ، أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِهِمْ فَطُرِحَ عَلَيْهِ
(A man will come on the Day of Resurrection with good deeds like mountains, but he had wronged this one, taken the wealth of that one and slandered the honor of another. So each of them will take from his good deeds. And if there is nothing left of his good deeds, it will be taken from their evil and placed on him.)
Tafsir Ibn Kathir
گناہ کسی کا اور سزا دوسرے کو کفار قریش مسلمانوں کو بہکانے کے لئے ان سے یہ بھی کہتے تھے کہ تم ہمارے مذہب پر عمل کرو اگر اس میں کوئی گناہ ہو تو وہ ہم پر۔ حالانکہ یہ اصولا غلط ہے کہ کسی کا بوجھ کوئی اٹھائے۔ یہ بالکل دروغ گو ہیں۔ کوئی اپنے قرابتداروں کے گناہ بھی اپنے اوپر نہیں لے سکتا۔ دوست دوست کو اس دن نہ پوچھے گا۔ ہاں یہ لوگ اپنے گناہوں کے بوجھ اٹھائیں گے اور جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے ان کے بوجھ بھی ان پر لادے جائیں گے مگر وہ گمراہ ہلکے نہ ہوں گے۔ ان کا بوجھ ان پر ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ 25) 16۔ النحل :25) یعنی یہ اپنے کامل بوجھ اٹھائیں گے اور جنہیں بہکایا تھا ان کے بہکانے کا گناہ بھی ان پر ہوگا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ جو ہدایت کی طرف لوگوں کو دعوت دے۔ قیامت تک جو لوگ اس ہدایت پر چلیں گے ان سب کو جتنا ثواب ہوگا اتنا ہی اس ایک کو ہوگا لیکن ان کے ثوابوں میں سے گھٹ کر نہیں۔ اسی طرح جس نے برائی پھیلائی اس پر جو بھی عمل پیراہوں ان سب کو جتنا گناہ ہوگا اتناہی اس ایک کو ہوگا لیکن ان گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ حضرت ابو امامہ ؓ سے فرمایا حضور ﷺ نے اللہ کی تمام رسالت پہنچا دی آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ظلم سے بچو کیونکہ قیامت والے دن اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا مجھے اپنی عزت کی اور اپنے جلال کی قسم آج ایک ظالم کو بھی میں نہ چھوڑونگا۔ پھر ایک منادیٰ ندا کرے گا کہ فلاں فلاں کہاں ہے ؟ وہ آئے گا اور پہاڑ کے پہاڑ نیکیوں کے اس کے ساتھ ہونگے یہاں تک کہ اہل محشر کی نگاہیں اس کی طرف اٹھنے لگیں گی۔ وہ اللہ کے سامنے آکر کھڑا ہوجائے گا پھر منادیٰ ندا کرے گا کہ اس طرف سے کسی کا کوئی حق ہو اس نے کسی پر ظلم کیا ہو وہ آجائے اور اپنا بدلہ لے لے۔ اب تو ادھر ادھر سے لوگ اٹھ کھڑے ہونگے اور اسے گھیر کر اللہ کے سامنے کھڑے ہوجائیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے ان بندوں کو ان کے حق دلواؤ۔ فرشتے کہیں گے اے اللہ کیسے دلوائیں ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس کی نیکیاں لو اور انہیں دو چناچہ یوں ہی کیا جائے گا یہاں تک کہ ایک نیکی باقی نہیں رہے گی اور ابھی تک بعض مظلوم اور حقدار باقی رہ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا انہیں بھی بدلہ دو فرشتے کہیں گے اب تو اس کے پاس ایک نیکی بھی نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ حکم دے گا ان کے گناہ اس پر لادو۔ پھر حضور ﷺ نے گھبرا کر اس آیت کی تلاوت فرمائی (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ 13ۧ) 29۔ العنکبوت :13) ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا اے معاذ ! (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) قیامت کے دن مومن کی تمام کوششوں سے سوال کیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کے سرمے اور اس کے مٹی کے گوندھے سے بھی۔ دیکھ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن کوئی اور تیری نیکیاں لے جائے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ كُفَّارِ قُرَيْشٍ: أَنَّهُمْ قَالُوا لِمَنْ آمَنَ مِنْهُمْ وَاتَّبَعَ الْهُدَى: ارْجِعُوا عَنْ دِينِكُمْ إِلَى دِينِنَا، وَاتَّبَعُوا سَبِيلَنَا، ﴿وَلْنَحْمِلْ خَطَايَاكُمْ﴾ أَيْ: وَآثَامَكُمْ -إِنْ كَانَتْ لَكُمْ آثَامٌ فِي ذَلِكَ -عَلَيْنَا وَفِي رِقَابِنَا، كَمَا يَقُولُ الْقَائِلُ: "افْعَلْ هَذَا وَخَطِيئَتُكَ فِي رَقَبَتِي". قَالَ اللَّهُ تَكْذِيبًا لَهُمْ: ﴿وَمَا هُمْ بِحَامِلِينَ مِنْ خَطَايَاهُمْ مِنْ شَيْءٍ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ﴾ أَيْ: فِيمَا قَالُوهُ: إِنَّهُمْ يَحْمِلُونَ عَنْ أُولَئِكَ خَطَايَاهُمْ، فَإِنَّهُ لَا يَحْمِلُ أَحَدٌ وِزْرَ أَحَدٍ، ﴿وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى﴾ [فَاطِرَ: ١٨] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَلا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا. يُبَصَّرُونَهُمْ﴾ [الْمَعَارِجِ: ١٠، ١١] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالا مَعَ أَثْقَالِهِمْ﴾ : إِخْبَارٌ عَنِ الدُّعَاةِ إِلَى الْكُفْرِ وَالضَّلَالَةِ، أَنَّهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَ أَنْفُسِهِمْ، وَأَوْزَارًا أخَر بِسَبَبِ مَنْ أَضَلُّوا مِنَ النَّاسِ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْقَصَ مِنْ أَوْزَارِ أُولَئِكَ شَيْئًا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَلا سَاءَ مَا يَزِرُونَ﴾ [النَّحْلِ: ٢٥] .
وَفِي الصَّحِيحِ: "مَنْ دَعَا إِلَى هَدْيٍ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنِ اتَّبَعَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا" [[تقدم تخريج الحديث عند الآية: ٢ من سورة المائدة.]] وَفِي الصَّحِيحِ: "مَا قُتِلَتْ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا؛ لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنّ الْقَتْلَ" [[تقدم تخريج الحديث عند الآية: ٣٠ من سورة المائدة.]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ﴾ أَيْ: يَكْذِبُونَ وَيَخْتَلِقُونَ مِنَ الْبُهْتَانِ.
وَقَدْ ذَكَرَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ هَاهُنَا حَدِيثًا فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَفْصِ بْنِ أَبِي الْعَالِيَةِ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيُّ [[في أ: "البخاري".]] عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِهِ، ثُمَّ قَالَ: "إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ اللَّهَ يَعْزِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ: وَعِزَّتِي لَا يَجُوزُنِي الْيَوْمَ ظُلْمٌ! ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ فَيَقُولُ: أَيْنَ فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ؟ فَيَأْتِي يَتْبَعُهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ أَمْثَالُ الْجِبَالِ، فَيُشْخِصُ النَّاسُ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ حَتَّى يَقُومَ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَأْمُرُ الْمُنَادِي فَيُنَادِي [[في ت، ف: "أن ينادي".]] مَنْ كَانَتْ لَهُ تِبَاعة -أَوْ: ظُلامة -عِنْدَ فُلَانِ ابْنِ فُلَانٍ، فَهَلُمَّ. فَيُقْبِلُونَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا قِيَامًا بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمَنِ، فَيَقُولُ الرَّحْمَنُ: اقْضُوا عَنْ عَبْدِي. فَيَقُولُونَ: كَيْفَ نَقْضِي عَنْهُ؟ فَيَقُولُ لَهُمْ: خُذُوا لَهُمْ مِنْ حَسَنَاتِهِ. فَلَا يَزَالُونَ يَأْخُذُونَ مِنْهَا حَتَّى لَا يَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ، وَقَدْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ الظُّلَامَاتِ، فَيَقُولُ: اقْضُوا عَنْ عَبْدِي. فَيَقُولُونَ: لَمْ يَبْقَ لَهُ حَسَنَةٌ. فَيَقُولُ: خُذُوا مِنْ سَيِّئَاتِهِمْ فَاحْمِلُوهَا عَلَيْهِ". ثُمَّ نَزَعَ النَّبِيُّ ﷺ بِهَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ: ﴿وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالا مَعَ أَثْقَالِهِمْ وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ﴾ .
وَهَذَا الْحَدِيثُ لَهُ شَاهِدٌ [[في ف، أ: "شواهد".]] فِي الصَّحِيحِ [[بعدها في ت، أ: "إن الرجل ليأتي يوم القيامة بحسنات أمثال الجبال وقد ظلم هذا، وأخذ مال هذا، وأخذ من عرض هذا، فيأخذ هذا من حسناته، وهذا من حسناته، فإذا لم يبق له حسنة، أخذ من سيئاتهم، فطرح عليه".]] مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحِوَارِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ [[في أ: "عن أبي النسائي".]] الثُّمَالِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "يَا مُعَاذُ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُسْأَلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ جَمِيعِ سَعْيِهِ، حَتَّى عَنْ كُحْل عَيْنَيْهِ، وَعَنْ فُتَاتِ الطِّينَةِ بِأُصْبُعَيْهِ [[في أ: "بإصبعه".]] ، فَلَا ألْفَيَنَّكَ تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَحَدٌ أَسْعَدُ بِمَا آتَاكَ [[في ت، ف: "أتاه".]] اللَّهُ مِنْكَ" [[ورواه أبو نعيم في الحلية (١٠/٣١) من طريق إسحاق بن أبي حسان عن أحمد بن أبي الحواري به.]] .
وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًۭا مَّعَ أَثْقَالِهِمْ ۖ وَلَيُسْـَٔلُنَّ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ عَمَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ
But they will surely carry their [own] burdens and [other] burdens along with their burdens, and they will surely be questioned on the Day of Resurrection about what they used to invent.
اور یہ اپنے بوجھ بھی اُٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (لوگوں کے) بوجھ بھی۔ اور جو بہتان یہ باندھتے رہے قیامت کے دن اُن کی اُن سے ضرور پرسش ہوگی
آنها بار سنگین (گناهان) خویش را بر دوش میکشند، و (همچنین) بارهای سنگین دیگری را اضافه بر بارهای سنگین خود؛ و روز قیامت به یقین از تهمتهائی که میبستند سؤال خواهند شد!
Tafsir Ibn Kathir
And those who disbelieve say to those who believe: "Follow our way and let us bear your sins." Never will they bear anything of their sins. Surely, they are liars (12)And verily, they shall bear their own loads, and other loads besides their own; and verily, they shall be questioned on the Day of Resurrection about that which they used to fabricate (13)
The Arrogant Claim of the Disbelievers that They would carry the Sins of Others if They would return to Disbelief
Allah tells us that the disbelievers of Quraysh said to those who believed and followed the truth: leave your religion, come back to our religion, and follow our way;
وَلْنَحْمِلْ خَطَايَاكُمْ
(and let us bear your sins.) meaning, 'if there is any sin on you, we will bear it and it will be our responsibility'. It is like a person saying: "Do this, and your sin will be on my shoulders." Allah says, proving this to be a lie:
وَمَا هُمْ بِحَامِلِينَ مِنْ خَطَايَاهُمْ مِنْ شَيْءٍ ۖ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
(Never will they bear anything of their sins. Surely, they are liars.) in their claim that they will bear the sins of others, for no person will bear the sins of another. Allah says:
وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۗ
(and if one heavily laden calls another to (bear) his load, nothing of it will be lifted even though he be near of kin)(35:18).
وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا - يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ
(And no friend will ask a friend (about his condition), though they shall be made to see one another)(70:10-11).
وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ ۖ
(And verily, they shall bear their own loads, and other loads besides their own.) Here Allah tells us that those who call others to disbelief and misguidance will, on the Day of Resurrection, bear their own sins and the sins of others, because of the people they misguided. Yet that will not detract from the burden of those other people in the slightest, as Allah says:
لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۙ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ
(That they may bear their own burdens in full on the Day of Resurrection, and also of the burdens of those whom they misled without knowledge)(16:25). In the Sahih, it says:
مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنِ اتَّبَعَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا
(Whoever calls others to true guidance, will have a reward like that of those who follow him until the Day of Resurrection, without it detracting from their reward in the slightest. Whoever calls others to misguidance, will have a burden of sin like that of those who follow him until the Day of Resurrection, without it detracting from their burden in the slightest.) In the Sahih, it also says:
مَا قُتِلَتْ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا، لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ
(No person is killed unlawfully, but a share of the guilt will be upon the first son of Adam, because he was the first one to initiate the idea of killing another.)
وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ
(and verily, they shall be questioned on the Day of Resurrection about that which they used to fabricate.) means, the lies they used to tell and the falsehood they used to fabricate. Ibn Abi Hatim recorded that Abu Umamah, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ conveyed the Message with which he was sent, then he said:
إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ اللهَ يَعْزِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا يَجوزُنِي الْيَوْمَ ظُلْمٌ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ فَيَقُولُ: أَيْنَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ؟ فَيَأْتِي يَتْبَعُهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ أَمْثَالَ الْجِبَالِ، فَيَشْخَصُ النَّاسُ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ، حَتَّى يَقُومَ بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمٰنِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يَأْمُرُ الْمُنَادِيَ فَيُنَادِي: مَنْ كَانَتْ لَهُ تِبَاعَةٌ أَوْ ظَلَامَةٌ عِنْدَ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ فَهَلُمَّ، فَيُقْبِلُونَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا قِيَامًا بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمٰنِ، فَيَقُولُ الرَّحْمٰنُ: اقْضُوا عَنْ عَبْدِي، فَيَقُولُونَ: كَيْفَ نَقْضِي عَنْهُ؟ فَيَقُولُ: خُذُوا لَهُمْ مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَلَا يَزَالُونَ يَأْخُذُونَ مِنْهَا حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْهَا حَسَنَةٌ، وَقَدْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ الظَّلَامَاتِ، فَيَقُولُ: اقْضُوا عَنْ عَبْدِي، فَيَقُولُونَ: لَمْ يَبْقَ لَهُ حَسَنَةٌ، فَيَقُولُ: خُذُوا مِنْ سَيِّئَاتِهِمْ فَاحْمِلُوهَا عَلَيْهِ
(Beware of injustice, for Allah will swear an oath of the Day of Resurrection and will say: "By My glory and majesty, no injustice will be overlooked today." Then a voice will call out, "Where is so-and-so the son of so-and-so?" He will be brought forth, followed by his good deeds which appear like mountains while the people are gazing at them in wonder, until he is standing before the Most Merciful. Then the caller will be commanded to say: "Whoever is owed anything by so-and-so the son of so-and-so, or has been wronged by him, let him come forth." So they will come forth and gather before the Most Merciful, then the Most Merciful will say: "Settle the matter for My servant." They will say, "How can we settle the matter?" He will say, "Take from his good deeds and give it to them." They will keep taking from his good deeds until there is nothing left, and there will still people with scores to be settled. Allah will say, "Settle the matter for My servant." They will say, "He does not have even one good deed left." Allah will say, "Take from their evil deeds and give them to him.")
Then the Prophet ﷺ quoted this Ayah:
وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ ۖ وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ
(And verily, they shall bear their own loads, and other loads besides their own; and verily, they shall be questioned on the Day of Resurrection about that which they used to fabricate.) There is a corroborating report in the Sahih with a different chain of narration:
إِنَّ الرَّجُلَ لَيَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ الْجِبَالِ وَقَدْ ظَلَمَ هَذَا، وَأَخَذَ مَالَ هَذَا، وَأَخَذَ مِنْ عِرْضِ هَذَا، فَيَأْخُذُ هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِذَا لَمْ تَبْقَ لَهُ حَسَنَةٌ، أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِهِمْ فَطُرِحَ عَلَيْهِ
(A man will come on the Day of Resurrection with good deeds like mountains, but he had wronged this one, taken the wealth of that one and slandered the honor of another. So each of them will take from his good deeds. And if there is nothing left of his good deeds, it will be taken from their evil and placed on him.)
Tafsir Ibn Kathir
گناہ کسی کا اور سزا دوسرے کو کفار قریش مسلمانوں کو بہکانے کے لئے ان سے یہ بھی کہتے تھے کہ تم ہمارے مذہب پر عمل کرو اگر اس میں کوئی گناہ ہو تو وہ ہم پر۔ حالانکہ یہ اصولا غلط ہے کہ کسی کا بوجھ کوئی اٹھائے۔ یہ بالکل دروغ گو ہیں۔ کوئی اپنے قرابتداروں کے گناہ بھی اپنے اوپر نہیں لے سکتا۔ دوست دوست کو اس دن نہ پوچھے گا۔ ہاں یہ لوگ اپنے گناہوں کے بوجھ اٹھائیں گے اور جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے ان کے بوجھ بھی ان پر لادے جائیں گے مگر وہ گمراہ ہلکے نہ ہوں گے۔ ان کا بوجھ ان پر ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ 25) 16۔ النحل :25) یعنی یہ اپنے کامل بوجھ اٹھائیں گے اور جنہیں بہکایا تھا ان کے بہکانے کا گناہ بھی ان پر ہوگا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ جو ہدایت کی طرف لوگوں کو دعوت دے۔ قیامت تک جو لوگ اس ہدایت پر چلیں گے ان سب کو جتنا ثواب ہوگا اتنا ہی اس ایک کو ہوگا لیکن ان کے ثوابوں میں سے گھٹ کر نہیں۔ اسی طرح جس نے برائی پھیلائی اس پر جو بھی عمل پیراہوں ان سب کو جتنا گناہ ہوگا اتناہی اس ایک کو ہوگا لیکن ان گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ حضرت ابو امامہ ؓ سے فرمایا حضور ﷺ نے اللہ کی تمام رسالت پہنچا دی آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ظلم سے بچو کیونکہ قیامت والے دن اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا مجھے اپنی عزت کی اور اپنے جلال کی قسم آج ایک ظالم کو بھی میں نہ چھوڑونگا۔ پھر ایک منادیٰ ندا کرے گا کہ فلاں فلاں کہاں ہے ؟ وہ آئے گا اور پہاڑ کے پہاڑ نیکیوں کے اس کے ساتھ ہونگے یہاں تک کہ اہل محشر کی نگاہیں اس کی طرف اٹھنے لگیں گی۔ وہ اللہ کے سامنے آکر کھڑا ہوجائے گا پھر منادیٰ ندا کرے گا کہ اس طرف سے کسی کا کوئی حق ہو اس نے کسی پر ظلم کیا ہو وہ آجائے اور اپنا بدلہ لے لے۔ اب تو ادھر ادھر سے لوگ اٹھ کھڑے ہونگے اور اسے گھیر کر اللہ کے سامنے کھڑے ہوجائیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے ان بندوں کو ان کے حق دلواؤ۔ فرشتے کہیں گے اے اللہ کیسے دلوائیں ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس کی نیکیاں لو اور انہیں دو چناچہ یوں ہی کیا جائے گا یہاں تک کہ ایک نیکی باقی نہیں رہے گی اور ابھی تک بعض مظلوم اور حقدار باقی رہ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا انہیں بھی بدلہ دو فرشتے کہیں گے اب تو اس کے پاس ایک نیکی بھی نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ حکم دے گا ان کے گناہ اس پر لادو۔ پھر حضور ﷺ نے گھبرا کر اس آیت کی تلاوت فرمائی (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ 13ۧ) 29۔ العنکبوت :13) ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا اے معاذ ! (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) قیامت کے دن مومن کی تمام کوششوں سے سوال کیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کے سرمے اور اس کے مٹی کے گوندھے سے بھی۔ دیکھ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن کوئی اور تیری نیکیاں لے جائے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ كُفَّارِ قُرَيْشٍ: أَنَّهُمْ قَالُوا لِمَنْ آمَنَ مِنْهُمْ وَاتَّبَعَ الْهُدَى: ارْجِعُوا عَنْ دِينِكُمْ إِلَى دِينِنَا، وَاتَّبَعُوا سَبِيلَنَا، ﴿وَلْنَحْمِلْ خَطَايَاكُمْ﴾ أَيْ: وَآثَامَكُمْ -إِنْ كَانَتْ لَكُمْ آثَامٌ فِي ذَلِكَ -عَلَيْنَا وَفِي رِقَابِنَا، كَمَا يَقُولُ الْقَائِلُ: "افْعَلْ هَذَا وَخَطِيئَتُكَ فِي رَقَبَتِي". قَالَ اللَّهُ تَكْذِيبًا لَهُمْ: ﴿وَمَا هُمْ بِحَامِلِينَ مِنْ خَطَايَاهُمْ مِنْ شَيْءٍ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ﴾ أَيْ: فِيمَا قَالُوهُ: إِنَّهُمْ يَحْمِلُونَ عَنْ أُولَئِكَ خَطَايَاهُمْ، فَإِنَّهُ لَا يَحْمِلُ أَحَدٌ وِزْرَ أَحَدٍ، ﴿وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى﴾ [فَاطِرَ: ١٨] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَلا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا. يُبَصَّرُونَهُمْ﴾ [الْمَعَارِجِ: ١٠، ١١] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالا مَعَ أَثْقَالِهِمْ﴾ : إِخْبَارٌ عَنِ الدُّعَاةِ إِلَى الْكُفْرِ وَالضَّلَالَةِ، أَنَّهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَ أَنْفُسِهِمْ، وَأَوْزَارًا أخَر بِسَبَبِ مَنْ أَضَلُّوا مِنَ النَّاسِ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْقَصَ مِنْ أَوْزَارِ أُولَئِكَ شَيْئًا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَلا سَاءَ مَا يَزِرُونَ﴾ [النَّحْلِ: ٢٥] .
وَفِي الصَّحِيحِ: "مَنْ دَعَا إِلَى هَدْيٍ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنِ اتَّبَعَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا" [[تقدم تخريج الحديث عند الآية: ٢ من سورة المائدة.]] وَفِي الصَّحِيحِ: "مَا قُتِلَتْ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا؛ لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنّ الْقَتْلَ" [[تقدم تخريج الحديث عند الآية: ٣٠ من سورة المائدة.]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ﴾ أَيْ: يَكْذِبُونَ وَيَخْتَلِقُونَ مِنَ الْبُهْتَانِ.
وَقَدْ ذَكَرَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ هَاهُنَا حَدِيثًا فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَفْصِ بْنِ أَبِي الْعَالِيَةِ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيُّ [[في أ: "البخاري".]] عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِهِ، ثُمَّ قَالَ: "إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ اللَّهَ يَعْزِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ: وَعِزَّتِي لَا يَجُوزُنِي الْيَوْمَ ظُلْمٌ! ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ فَيَقُولُ: أَيْنَ فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ؟ فَيَأْتِي يَتْبَعُهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ أَمْثَالُ الْجِبَالِ، فَيُشْخِصُ النَّاسُ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ حَتَّى يَقُومَ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَأْمُرُ الْمُنَادِي فَيُنَادِي [[في ت، ف: "أن ينادي".]] مَنْ كَانَتْ لَهُ تِبَاعة -أَوْ: ظُلامة -عِنْدَ فُلَانِ ابْنِ فُلَانٍ، فَهَلُمَّ. فَيُقْبِلُونَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا قِيَامًا بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمَنِ، فَيَقُولُ الرَّحْمَنُ: اقْضُوا عَنْ عَبْدِي. فَيَقُولُونَ: كَيْفَ نَقْضِي عَنْهُ؟ فَيَقُولُ لَهُمْ: خُذُوا لَهُمْ مِنْ حَسَنَاتِهِ. فَلَا يَزَالُونَ يَأْخُذُونَ مِنْهَا حَتَّى لَا يَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ، وَقَدْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ الظُّلَامَاتِ، فَيَقُولُ: اقْضُوا عَنْ عَبْدِي. فَيَقُولُونَ: لَمْ يَبْقَ لَهُ حَسَنَةٌ. فَيَقُولُ: خُذُوا مِنْ سَيِّئَاتِهِمْ فَاحْمِلُوهَا عَلَيْهِ". ثُمَّ نَزَعَ النَّبِيُّ ﷺ بِهَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ: ﴿وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالا مَعَ أَثْقَالِهِمْ وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ﴾ .
وَهَذَا الْحَدِيثُ لَهُ شَاهِدٌ [[في ف، أ: "شواهد".]] فِي الصَّحِيحِ [[بعدها في ت، أ: "إن الرجل ليأتي يوم القيامة بحسنات أمثال الجبال وقد ظلم هذا، وأخذ مال هذا، وأخذ من عرض هذا، فيأخذ هذا من حسناته، وهذا من حسناته، فإذا لم يبق له حسنة، أخذ من سيئاتهم، فطرح عليه".]] مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحِوَارِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ [[في أ: "عن أبي النسائي".]] الثُّمَالِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "يَا مُعَاذُ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُسْأَلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ جَمِيعِ سَعْيِهِ، حَتَّى عَنْ كُحْل عَيْنَيْهِ، وَعَنْ فُتَاتِ الطِّينَةِ بِأُصْبُعَيْهِ [[في أ: "بإصبعه".]] ، فَلَا ألْفَيَنَّكَ تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَحَدٌ أَسْعَدُ بِمَا آتَاكَ [[في ت، ف: "أتاه".]] اللَّهُ مِنْكَ" [[ورواه أبو نعيم في الحلية (١٠/٣١) من طريق إسحاق بن أبي حسان عن أحمد بن أبي الحواري به.]] .
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًۭا فَأَخَذَهُمُ ٱلطُّوفَانُ وَهُمْ ظَٰلِمُونَ
And We certainly sent Noah to his people, and he remained among them a thousand years minus fifty years, and the flood seized them while they were wrongdoers.
اور ہم نے نوحؑ کو اُن کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ہزار برس رہے پھر اُن کو طوفان (کے عذاب) نے آپکڑا۔ اور وہ ظالم تھے
و ما نوح را بسوی قومش فرستادیم؛ و او را در میان آنان هزار سال مگر پنجاه سال، درنگ کرد؛ اما سرانجام طوفان و سیلاب آنان را فراگرفت در حالی که ظالم بودند.
Tafsir Ibn Kathir
And indeed We sent Nuh to his people, and he stayed among them a thousand years less fifty years; so the Deluge overtook them while they were wrongdoers (14)Then We saved him and the Companions of the Boat, and made it an Ayah for all people (15)
Nuh and His People
Here Allah consoles His servant and Messenger Muhammad ﷺ by telling him that Nuh, peace be upon him, stayed among his people for this long period of time, calling them night and day, in secret and openly, but in spite of all that they still persisted in their aversion to the truth, turning away from it and disbelieving in him. Only a few of them believed with him. Allah says:
فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا فَأَخَذَهُمُ الطُّوفَانُ وَهُمْ ظَالِمُونَ
(and he stayed among them a thousand years less fifty years; and the Deluge overtook them while they were wrongdoers.) meaning, 'after this long period of time, when the Message and the warning had been of no avail, so, O Muhammad, do not feel sorry because of those among your people who disbelieve in you, and do not grieve for them, for Allah guides whomsoever He wills and leaves astray whomsoever He wills. The matter rests with Him and all things will return to Him.'
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ
(Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them)(10:96-97). Know that Allah will help you and support you and cause you to prevail, and He will defeat and humiliate your enemies, and make them the lowest of the low.
It was recorded that Ibn 'Abbas said: "Nuh received his mission when he was forty years old, and he stayed among his people for a thousand years less fifty; after the Flood he lived for sixty years until people had increased and spread."
فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ
(Then We saved him and the Companions of the Boat,) means, those who believed in Nuh, peace be upon him. We have already discussed this in detail in Surah Hud, and there is no need to repeat it here.
وَجَعَلْنَاهَا آيَةً لِلْعَالَمِينَ
(and made it (the ship) an Ayah for all people.) means, 'We caused that ship to remain,' whether in itself, as Qatadah said, that it remained until the beginning of Islam, on Mount Judi, or whether the concept of sailing in ships was left as a reminder to mankind of how Allah had saved them from the Flood. This is like the Ayat:
وَآيَةٌ لَهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِنْ مِثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ
(And an Ayah for them is that We bore their offspring in the laden ship. And We have created for them of the like thereunto, on which they ride) until:
وَمَتَاعًا إِلَىٰ حِينٍ
(and as an enjoyment for a while)(36:41-42-44).
إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ - لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ
(Verily, when the water rose beyond its limits, We carried you in the ship. That We might make it an admonition for you and that it might be retained by the retaining ears.)(69:11-12) And Allah says here:
فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ وَجَعَلْنَاهَا آيَةً لِلْعَالَمِينَ
(Then We saved him and the Companions of the Boat, and made it an Ayah for all people.) This is a shift from referring to one specific ship to speaking about ships in general. A similar shift from specific to general is to be seen in the Ayat:
وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ ۖ
(And indeed We have adorned the nearest heaven with lamps, and We have made such lamps missiles to drive away the Shayatin (devils))(67:5). meaning, 'We have made these lamps missiles, but the lamps which are used as missiles are not the same lamps as are used to adorn the heaven.' And Allah says:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ - ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ
(And indeed We created man out of an extract of clay. Thereafter We made him a Nutfah in a safe lodging.)(23:12-13). There are many other similar examples.
Tafsir Ibn Kathir
نبی اکرم ﷺ کی حوصلہ افزائی اس میں آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے۔ آپ کو خبر دی جاتی ہے کہ نوح ؑ اتنی لمبی مدت تک اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ دن رات پوشیدہ اور ظاہر ہر طرح آپ نے انہیں اللہ کی دین کی طرف دعوت دی۔ لیکن وہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے گئے۔ بہت ہی کم لوگ آپ پر ایمان لائے آخرکار اللہ کا غضب ان پر بصورت طوفان آیا اور انہیں تہس نہس کردیا تو اے پیغمبر آخرالزمان آپ اپنی قوم کی اس تکذیب کو نیا خیال نہ کریں۔ آپ اپنے دل کو رنجیدہ نہ کریں ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جن لوگوں کا جہنم میں جانا طے ہوچکا ہے انہیں تو کوئی بھی ہدایت نہیں دے سکتا۔ تمام نشانیاں گو دیکھ لیں لیکن انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا بالآخر جیسے نوح ؑ کو نجات ملی اور قوم ڈوب گئی اسی طرح آخر میں غلبہ آپ کا ہے اور آپ کے مخالفین پست ہوں گے۔ ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ چالیس سال کی عمر میں نوح ؑ کو نبوت ملی اور نبوت کے بعد ساڑھے نو سو سال تک آپ نے اپنی قوم کو تبلیغ کی۔ طوفان کی عالمگیر ہلاکت کے بعد بھی نوح ؑ ساٹھ سال تک زندہ رہے یہاں تک کہ بنو آدم کی نسل پھیل گئی اور دنیا میں یہ بہ بکثرت نظر آنے لگے۔ قتادہ فرماتے ہیں نوح ؑ کی عمر کل ساڑھے نو سو سال کی تھی تین سو سال تو آپ کے بےدعوت ان میں گذرے تین سو سال تک اللہ کی طرف اپنی قوم کو بلایا اور ساڑے تین سو سال بعد طوفان کے زندہ رہے لیکن یہ قول غریب ہے اور آیت کے ظاہر الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو اللہ کی وحدانیت کی طرف بلاتے رہے۔ عون بن ابی شداد کہتے ہیں کہ جب آپ کی عمر ساڑھے تین سو سال کی تھی اس وقت اللہ کی وحی آپ کو آئی اس کے بعد ساڑھے نو سو سال تک آپ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے رہے اس کے بعد پھر ساڑھے تین سو سال کی عمر اور پائی۔ لیکن یہ بھی غریب قول ہے۔ زیادہ درست قول ابن عباس کا قول نظر آتا ہے واللہ اعلم۔ ابن عمر نے مجاہد سے پوچھا کہ نوح ؑ اپنی قوم میں کتنی مدت تک رہے ؟ انہوں نے کہا ساڑھے نو سو سال۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے بعد سے لوگوں کے اخلاق ان کی عمریں اور عقلیں آج تک گھٹتی ہی چلی آئیں۔ جب قوم نوح پر اللہ کا غضب نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے اپنے نبی کو اور ایمان والوں کو جو آپ کے حکم سے طوفان سے پہلے کشتی میں سوار ہوچکے تھے بچالیا۔ سورة ہود میں اس کی تفصیل گزرچکی ہے اس لئے یہاں دوبارہ وارد نہیں کرتے۔ ہم نے اس کشتی کو دنیا کے لئے نشان بنادیا یا تو خود اس کشتی کو جیسے حضرت قتادۃ کا قول ہے کہ اول اسلام تک وہ جودی پہاڑ پر تھی۔ یا یہ کہ کشتی کو دیکھ کر پھر پانی کے سفر کے لئے جو کشتیاں لوگوں نے بنائیں ان کو انہیں دیکھ کر اللہ کا وہ بچانا یاد آجاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ 41ۙ) 36۔ يس :41) ہماری قدرت کی نشانی ان کے لئے یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں بٹھا دیا۔ اور ہم نے ان کے لئے اور اسی جیسی سواریاں بنادیں۔ سورة الحاقہ میں فرمایا جب پانی کا طوفان آیا تو ہم نے تمہیں کشتی میں بٹھالیا۔ اور ان کا ذکر تمہارے لئے یادگار بنادیا تاکہ جن کانوں کو اللہ نے یاد کی طاقت دی ہے وہ یاد رکھ لیں۔ یہاں شخص سے جنس کی طرف چڑھاؤ کیا ہے۔ جیسے آیت (وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَاب السَّعِيْرِ) 67۔ الملک :5) والی آیت میں ہے کہ آسمان دنیا کے ستاروں دنیا کے ستاروں کا باعث زینت آسمان ہونا بیان فرما کر ان کی وضاحت میں شہاب کا شیطانوں کے لئے رجم ہونا بیان فرمایا ہے۔ اور آیت میں انسان کے مٹی سے پیدا ہونے کا ذکر کرکے فرمایا ہے پھر ہم نے اسے نطفے کی شکل میں قرار گاہ میں کردیا۔ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں ھا کی ضمیر کا مرجع عقوبت اور سزا کو کیا جائے واللہ اعلم (یہاں یہ خیال رہے کہ تفسیر ابن کثیر کے بعض نسخوں میں شروع تفسیر میں کچھ عبارت زیادہ ہے جو بعض نسخوں میں نہیں ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کا ساڑھے نو سو سال تک آزمایا جانا بیان کیا اور ان کے قول کو ان کی اطاعت کے ساتھ آزمانا بتلایا کہ ان کی تکذیب کی وجہ سے اللہ نے انہیں غرق کردیا۔ پھر اس کے بعد جلادیا۔ پھر قوم ابراہیم ؑ کی آزمائش کا ذکر کیا کہ انہوں نے بھی اطاعت و متابعت نہ کی پھر لوط ؑ کی آزمائش کا ذکر کیا اور ان کی قوم کا حشر بیان فرمایا۔ پھر حضرت شعیب ؑ کی قوم کے واقعات سامنے رکھے پھر عادیوں، ثمودیوں، قارونیوں، فرعونیوں، ہامانیوں وغیرہ کا ذکر کیا کہ اللہ پر ایمان لانے اور اس کی توحید کو نہ ماننے کی وجہ سے انہیں بھی طرح طرح کی سزائیں دی گئیں۔ پھر اپنے پیغمبر اعظم المرسلین ﷺ مشرکین اور منافقین سے تکالیف سہنے کا ذکر کیا اور آپ کو حکم دیا کہ اہل کتاب سے بہترین طریق پر مناظرہ کریں)
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ تَسْلِيَةٌ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى لِعَبْدِهِ وَرَسُولِهِ مُحَمَّدٍ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، يُخْبِرُهُ عَنْ نُوحٍ [[في ت: "قوم نوح".]] عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَنَّهُ مَكَثَ [[في أ: "لبث".]] فِي قَوْمِهِ هَذِهِ الْمُدَّةَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ لَيْلًا وَنَهَارًا، وَسِرًّا، وجهارًا، وَمَعَ هَذَا مَا زَادَهُمْ ذَلِكَ إِلَّا فِرَارًا عَنِ الْحَقِّ، وَإِعْرَاضًا عَنْهُ وَتَكْذِيبًا لَهُ، وَمَا آمَنُ مَعَهُ مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلا خَمْسِينَ عَامًا فَأَخَذَهُمُ الطُّوفَانُ وَهُمْ ظَالِمُونَ﴾ أَيْ: بَعْدَ هَذِهِ الْمُدَّةِ الطَّوِيلَةِ مَا نَجَعَ فِيهِمُ الْبَلَاغُ وَالْإِنْذَارُ، فَأَنْتَ -يَا مُحَمَّدُ -لَا تَأْسَفْ عَلَى مَنْ كَفَرَ بِكَ مِنْ قَوْمِكَ، وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ؛ فَإِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَيَضِلُّ مَنْ يَشَاءُ، وَبِيَدِهِ الْأَمْرُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُ [[في ف: "يرجع".]] الْأُمُورُ، ﴿إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ. وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الألِيمَ﴾ [يُونُسَ: ٩٦،٩٧] ، وَاعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ سَيُظْهِرُكَ وَيَنْصُرُكَ وَيُؤَيِّدُكَ، وَيُذِلُّ عَدُوَّكَ، وَيَكْبِتُهُمْ وَيَجْعَلُهُمْ أَسْفَلَ السَّافِلِينَ.
قَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ ماهَك [[في أ: "وائل".]] ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بُعِثَ نُوحٌ وَهُوَ لِأَرْبَعِينَ سَنَةٍ، وَلَبِثَ فِي قَوْمِهِ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا، وَعَاشَ بَعْدَ الطُّوفَانِ سِتِّينَ عَامًا، حَتَّى كَثُرَ النَّاسُ وَفَشَوْا.
وَقَالَ قَتَادَةُ: يُقَالُ إِنَّ عُمُرَهُ كُلَّهُ [كَانَ] [[زيادة من ت، ف، أ.]] أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا، لَبِثَ فِيهِمْ قَبْلَ أَنْ يَدْعُوَهُمْ ثَلَثَمِائَةِ سَنَةٍ، وَدَعَاهُمْ ثَلَثَمِائَةٍ وَلَبِثَ بَعْدَ الطُّوفَانِ ثَلَثَمِائَةٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً.
وَهَذَا قَوْلٌ غَرِيبٌ، وَظَاهِرُ السِّيَاقِ مِنَ الْآيَةِ أَنَّهُ مَكَثَ فِي قَوْمِهِ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا.
وَقَالَ عَوْنُ بْنُ أَبِي شَدَّادٍ: إِنَّ اللَّهَ أَرْسَلَ نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسِينَ وَثَلَثَمِائَةِ سَنَةٍ، فَدَعَاهُمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا، ثُمَّ عَاشَ بَعْدَ ذَلِكَ ثَلَثَمِائَةٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً.
وَهَذَا أَيْضًا غَرِيبٌ، رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَابْنُ جَرِيرٍ، وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَقْرَبُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْل، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قَالَ لِيَ ابْنُ عُمَرَ: كَمْ لَبِثَ نُوحٌ فِي قَوْمِهِ؟ قَالَ: قُلْتُ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا. قَالَ: فَإِنَّ النَّاسَ لَمْ يَزَالُوا فِي نُقْصَانٍ مِنْ أَعْمَارِهِمْ وَأَحْلَامِهِمْ وَأَخْلَاقِهِمْ إِلَى يَوْمِكَ هَذَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ﴾ أَيِ: الَّذِينَ آمَنُوا بِنُوحٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ. وَقَدْ تقدَّم ذِكْرُ ذَلِكَ مُفَصَّلًا فِي سُورَةِ "هُودٍ"، وتقدَّم تَفْسِيرُهُ بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَاهَا آيَةً لِلْعَالَمِينَ﴾ أَيْ: وَجَعَلْنَا تِلْكَ السَّفِينَةَ بَاقِيَةً، إِمَّا عَيْنُهَا كَمَا قَالَ قَتَادَةُ: إِنَّهَا بَقِيَتْ إِلَى أَوَّلِ الْإِسْلَامِ عَلَى جَبَلِ الْجُودِيِّ، أَوْ نَوْعُهَا جَعَلَهُ لِلنَّاسِ تَذْكِرَةً لِنِعَمِهِ عَلَى الْخَلْقِ، كَيْفَ نَجَّاهُمْ مِنَ الطُّوفَانِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَآيَةٌ لَهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ. وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِنْ مِثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ. وَإِنْ نَشَأْ نُغْرِقْهُمْ فَلا صَرِيخَ لَهُمْ وَلا هُمْ يُنْقَذُونَ. إِلا رَحْمَةً مِنَّا وَمَتَاعًا إِلَى حِينٍ﴾ [يس: ٤١-٤٤] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ. لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ﴾ [الْحَاقَّةِ: ١١، ١٢] ، وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ وَجَعَلْنَاهَا آيَةً لِلْعَالَمِينَ﴾ ، وَهَذَا مِنْ بَابِ التَّدْرِيجِ مِنَ الشَّخْصِ إِلَى الْجِنْسِ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ﴾ [الْمُلْكِ: ٥] أَيْ: وَجَعَلَنَا نَوْعَهَا، فَإِنَّ الَّتِي يُرْمَى [[في ف: "ترمى"]] بِهَا لَيْسَتْ هِيَ الَّتِي زِينَةٌ لِلسَّمَاءِ [[في أ: "السماء".]] . وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإنْسَانَ مِنْ سُلالَةٍ مِنْ طِينٍ. ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ﴾ [الْمُؤْمِنُونَ: ١٢، ١٣] ، وَلِهَذَا نَظَائِرُ كَثِيرَةٌ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: لَوْ قِيلَ: إِنَّ الضَّمِيرَ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَجَعَلْنَاهَا﴾ [[في ت: "وجعلناها آية للعالمين".]] ، عَائِدٌ إِلَى الْعُقُوبَةِ، لَكَانَ وَجْهًا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
فَأَنجَيْنَٰهُ وَأَصْحَٰبَ ٱلسَّفِينَةِ وَجَعَلْنَٰهَآ ءَايَةًۭ لِّلْعَٰلَمِينَ
But We saved him and the companions of the ship, and We made it a sign for the worlds.
پھر ہم نے نوحؑ کو اور کشتی والوں کو نجات دی اور کشتی کو اہل عالم کے لئے نشانی بنا دیا
ما او و سرنشینان کشتی را رهایی بخشیدیم، و آن را آیتی برای جهانیان قرار دادیم!
Tafsir Ibn Kathir
And indeed We sent Nuh to his people, and he stayed among them a thousand years less fifty years; so the Deluge overtook them while they were wrongdoers (14)Then We saved him and the Companions of the Boat, and made it an Ayah for all people (15)
Nuh and His People
Here Allah consoles His servant and Messenger Muhammad ﷺ by telling him that Nuh, peace be upon him, stayed among his people for this long period of time, calling them night and day, in secret and openly, but in spite of all that they still persisted in their aversion to the truth, turning away from it and disbelieving in him. Only a few of them believed with him. Allah says:
فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا فَأَخَذَهُمُ الطُّوفَانُ وَهُمْ ظَالِمُونَ
(and he stayed among them a thousand years less fifty years; and the Deluge overtook them while they were wrongdoers.) meaning, 'after this long period of time, when the Message and the warning had been of no avail, so, O Muhammad, do not feel sorry because of those among your people who disbelieve in you, and do not grieve for them, for Allah guides whomsoever He wills and leaves astray whomsoever He wills. The matter rests with Him and all things will return to Him.'
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ
(Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them)(10:96-97). Know that Allah will help you and support you and cause you to prevail, and He will defeat and humiliate your enemies, and make them the lowest of the low.
It was recorded that Ibn 'Abbas said: "Nuh received his mission when he was forty years old, and he stayed among his people for a thousand years less fifty; after the Flood he lived for sixty years until people had increased and spread."
فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ
(Then We saved him and the Companions of the Boat,) means, those who believed in Nuh, peace be upon him. We have already discussed this in detail in Surah Hud, and there is no need to repeat it here.
وَجَعَلْنَاهَا آيَةً لِلْعَالَمِينَ
(and made it (the ship) an Ayah for all people.) means, 'We caused that ship to remain,' whether in itself, as Qatadah said, that it remained until the beginning of Islam, on Mount Judi, or whether the concept of sailing in ships was left as a reminder to mankind of how Allah had saved them from the Flood. This is like the Ayat:
وَآيَةٌ لَهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِنْ مِثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ
(And an Ayah for them is that We bore their offspring in the laden ship. And We have created for them of the like thereunto, on which they ride) until:
وَمَتَاعًا إِلَىٰ حِينٍ
(and as an enjoyment for a while)(36:41-42-44).
إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ - لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ
(Verily, when the water rose beyond its limits, We carried you in the ship. That We might make it an admonition for you and that it might be retained by the retaining ears.)(69:11-12) And Allah says here:
فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ وَجَعَلْنَاهَا آيَةً لِلْعَالَمِينَ
(Then We saved him and the Companions of the Boat, and made it an Ayah for all people.) This is a shift from referring to one specific ship to speaking about ships in general. A similar shift from specific to general is to be seen in the Ayat:
وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ ۖ
(And indeed We have adorned the nearest heaven with lamps, and We have made such lamps missiles to drive away the Shayatin (devils))(67:5). meaning, 'We have made these lamps missiles, but the lamps which are used as missiles are not the same lamps as are used to adorn the heaven.' And Allah says:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ - ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ
(And indeed We created man out of an extract of clay. Thereafter We made him a Nutfah in a safe lodging.)(23:12-13). There are many other similar examples.
Tafsir Ibn Kathir
نبی اکرم ﷺ کی حوصلہ افزائی اس میں آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے۔ آپ کو خبر دی جاتی ہے کہ نوح ؑ اتنی لمبی مدت تک اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ دن رات پوشیدہ اور ظاہر ہر طرح آپ نے انہیں اللہ کی دین کی طرف دعوت دی۔ لیکن وہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے گئے۔ بہت ہی کم لوگ آپ پر ایمان لائے آخرکار اللہ کا غضب ان پر بصورت طوفان آیا اور انہیں تہس نہس کردیا تو اے پیغمبر آخرالزمان آپ اپنی قوم کی اس تکذیب کو نیا خیال نہ کریں۔ آپ اپنے دل کو رنجیدہ نہ کریں ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جن لوگوں کا جہنم میں جانا طے ہوچکا ہے انہیں تو کوئی بھی ہدایت نہیں دے سکتا۔ تمام نشانیاں گو دیکھ لیں لیکن انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا بالآخر جیسے نوح ؑ کو نجات ملی اور قوم ڈوب گئی اسی طرح آخر میں غلبہ آپ کا ہے اور آپ کے مخالفین پست ہوں گے۔ ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ چالیس سال کی عمر میں نوح ؑ کو نبوت ملی اور نبوت کے بعد ساڑھے نو سو سال تک آپ نے اپنی قوم کو تبلیغ کی۔ طوفان کی عالمگیر ہلاکت کے بعد بھی نوح ؑ ساٹھ سال تک زندہ رہے یہاں تک کہ بنو آدم کی نسل پھیل گئی اور دنیا میں یہ بہ بکثرت نظر آنے لگے۔ قتادہ فرماتے ہیں نوح ؑ کی عمر کل ساڑھے نو سو سال کی تھی تین سو سال تو آپ کے بےدعوت ان میں گذرے تین سو سال تک اللہ کی طرف اپنی قوم کو بلایا اور ساڑے تین سو سال بعد طوفان کے زندہ رہے لیکن یہ قول غریب ہے اور آیت کے ظاہر الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو اللہ کی وحدانیت کی طرف بلاتے رہے۔ عون بن ابی شداد کہتے ہیں کہ جب آپ کی عمر ساڑھے تین سو سال کی تھی اس وقت اللہ کی وحی آپ کو آئی اس کے بعد ساڑھے نو سو سال تک آپ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے رہے اس کے بعد پھر ساڑھے تین سو سال کی عمر اور پائی۔ لیکن یہ بھی غریب قول ہے۔ زیادہ درست قول ابن عباس کا قول نظر آتا ہے واللہ اعلم۔ ابن عمر نے مجاہد سے پوچھا کہ نوح ؑ اپنی قوم میں کتنی مدت تک رہے ؟ انہوں نے کہا ساڑھے نو سو سال۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے بعد سے لوگوں کے اخلاق ان کی عمریں اور عقلیں آج تک گھٹتی ہی چلی آئیں۔ جب قوم نوح پر اللہ کا غضب نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے اپنے نبی کو اور ایمان والوں کو جو آپ کے حکم سے طوفان سے پہلے کشتی میں سوار ہوچکے تھے بچالیا۔ سورة ہود میں اس کی تفصیل گزرچکی ہے اس لئے یہاں دوبارہ وارد نہیں کرتے۔ ہم نے اس کشتی کو دنیا کے لئے نشان بنادیا یا تو خود اس کشتی کو جیسے حضرت قتادۃ کا قول ہے کہ اول اسلام تک وہ جودی پہاڑ پر تھی۔ یا یہ کہ کشتی کو دیکھ کر پھر پانی کے سفر کے لئے جو کشتیاں لوگوں نے بنائیں ان کو انہیں دیکھ کر اللہ کا وہ بچانا یاد آجاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ 41ۙ) 36۔ يس :41) ہماری قدرت کی نشانی ان کے لئے یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں بٹھا دیا۔ اور ہم نے ان کے لئے اور اسی جیسی سواریاں بنادیں۔ سورة الحاقہ میں فرمایا جب پانی کا طوفان آیا تو ہم نے تمہیں کشتی میں بٹھالیا۔ اور ان کا ذکر تمہارے لئے یادگار بنادیا تاکہ جن کانوں کو اللہ نے یاد کی طاقت دی ہے وہ یاد رکھ لیں۔ یہاں شخص سے جنس کی طرف چڑھاؤ کیا ہے۔ جیسے آیت (وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَاب السَّعِيْرِ) 67۔ الملک :5) والی آیت میں ہے کہ آسمان دنیا کے ستاروں دنیا کے ستاروں کا باعث زینت آسمان ہونا بیان فرما کر ان کی وضاحت میں شہاب کا شیطانوں کے لئے رجم ہونا بیان فرمایا ہے۔ اور آیت میں انسان کے مٹی سے پیدا ہونے کا ذکر کرکے فرمایا ہے پھر ہم نے اسے نطفے کی شکل میں قرار گاہ میں کردیا۔ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں ھا کی ضمیر کا مرجع عقوبت اور سزا کو کیا جائے واللہ اعلم (یہاں یہ خیال رہے کہ تفسیر ابن کثیر کے بعض نسخوں میں شروع تفسیر میں کچھ عبارت زیادہ ہے جو بعض نسخوں میں نہیں ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کا ساڑھے نو سو سال تک آزمایا جانا بیان کیا اور ان کے قول کو ان کی اطاعت کے ساتھ آزمانا بتلایا کہ ان کی تکذیب کی وجہ سے اللہ نے انہیں غرق کردیا۔ پھر اس کے بعد جلادیا۔ پھر قوم ابراہیم ؑ کی آزمائش کا ذکر کیا کہ انہوں نے بھی اطاعت و متابعت نہ کی پھر لوط ؑ کی آزمائش کا ذکر کیا اور ان کی قوم کا حشر بیان فرمایا۔ پھر حضرت شعیب ؑ کی قوم کے واقعات سامنے رکھے پھر عادیوں، ثمودیوں، قارونیوں، فرعونیوں، ہامانیوں وغیرہ کا ذکر کیا کہ اللہ پر ایمان لانے اور اس کی توحید کو نہ ماننے کی وجہ سے انہیں بھی طرح طرح کی سزائیں دی گئیں۔ پھر اپنے پیغمبر اعظم المرسلین ﷺ مشرکین اور منافقین سے تکالیف سہنے کا ذکر کیا اور آپ کو حکم دیا کہ اہل کتاب سے بہترین طریق پر مناظرہ کریں)
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ تَسْلِيَةٌ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى لِعَبْدِهِ وَرَسُولِهِ مُحَمَّدٍ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، يُخْبِرُهُ عَنْ نُوحٍ [[في ت: "قوم نوح".]] عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَنَّهُ مَكَثَ [[في أ: "لبث".]] فِي قَوْمِهِ هَذِهِ الْمُدَّةَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ لَيْلًا وَنَهَارًا، وَسِرًّا، وجهارًا، وَمَعَ هَذَا مَا زَادَهُمْ ذَلِكَ إِلَّا فِرَارًا عَنِ الْحَقِّ، وَإِعْرَاضًا عَنْهُ وَتَكْذِيبًا لَهُ، وَمَا آمَنُ مَعَهُ مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلا خَمْسِينَ عَامًا فَأَخَذَهُمُ الطُّوفَانُ وَهُمْ ظَالِمُونَ﴾ أَيْ: بَعْدَ هَذِهِ الْمُدَّةِ الطَّوِيلَةِ مَا نَجَعَ فِيهِمُ الْبَلَاغُ وَالْإِنْذَارُ، فَأَنْتَ -يَا مُحَمَّدُ -لَا تَأْسَفْ عَلَى مَنْ كَفَرَ بِكَ مِنْ قَوْمِكَ، وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ؛ فَإِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَيَضِلُّ مَنْ يَشَاءُ، وَبِيَدِهِ الْأَمْرُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُ [[في ف: "يرجع".]] الْأُمُورُ، ﴿إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ. وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الألِيمَ﴾ [يُونُسَ: ٩٦،٩٧] ، وَاعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ سَيُظْهِرُكَ وَيَنْصُرُكَ وَيُؤَيِّدُكَ، وَيُذِلُّ عَدُوَّكَ، وَيَكْبِتُهُمْ وَيَجْعَلُهُمْ أَسْفَلَ السَّافِلِينَ.
قَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ ماهَك [[في أ: "وائل".]] ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بُعِثَ نُوحٌ وَهُوَ لِأَرْبَعِينَ سَنَةٍ، وَلَبِثَ فِي قَوْمِهِ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا، وَعَاشَ بَعْدَ الطُّوفَانِ سِتِّينَ عَامًا، حَتَّى كَثُرَ النَّاسُ وَفَشَوْا.
وَقَالَ قَتَادَةُ: يُقَالُ إِنَّ عُمُرَهُ كُلَّهُ [كَانَ] [[زيادة من ت، ف، أ.]] أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا، لَبِثَ فِيهِمْ قَبْلَ أَنْ يَدْعُوَهُمْ ثَلَثَمِائَةِ سَنَةٍ، وَدَعَاهُمْ ثَلَثَمِائَةٍ وَلَبِثَ بَعْدَ الطُّوفَانِ ثَلَثَمِائَةٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً.
وَهَذَا قَوْلٌ غَرِيبٌ، وَظَاهِرُ السِّيَاقِ مِنَ الْآيَةِ أَنَّهُ مَكَثَ فِي قَوْمِهِ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا.
وَقَالَ عَوْنُ بْنُ أَبِي شَدَّادٍ: إِنَّ اللَّهَ أَرْسَلَ نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسِينَ وَثَلَثَمِائَةِ سَنَةٍ، فَدَعَاهُمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا، ثُمَّ عَاشَ بَعْدَ ذَلِكَ ثَلَثَمِائَةٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً.
وَهَذَا أَيْضًا غَرِيبٌ، رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَابْنُ جَرِيرٍ، وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَقْرَبُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْل، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قَالَ لِيَ ابْنُ عُمَرَ: كَمْ لَبِثَ نُوحٌ فِي قَوْمِهِ؟ قَالَ: قُلْتُ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا. قَالَ: فَإِنَّ النَّاسَ لَمْ يَزَالُوا فِي نُقْصَانٍ مِنْ أَعْمَارِهِمْ وَأَحْلَامِهِمْ وَأَخْلَاقِهِمْ إِلَى يَوْمِكَ هَذَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ﴾ أَيِ: الَّذِينَ آمَنُوا بِنُوحٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ. وَقَدْ تقدَّم ذِكْرُ ذَلِكَ مُفَصَّلًا فِي سُورَةِ "هُودٍ"، وتقدَّم تَفْسِيرُهُ بِمَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَاهَا آيَةً لِلْعَالَمِينَ﴾ أَيْ: وَجَعَلْنَا تِلْكَ السَّفِينَةَ بَاقِيَةً، إِمَّا عَيْنُهَا كَمَا قَالَ قَتَادَةُ: إِنَّهَا بَقِيَتْ إِلَى أَوَّلِ الْإِسْلَامِ عَلَى جَبَلِ الْجُودِيِّ، أَوْ نَوْعُهَا جَعَلَهُ لِلنَّاسِ تَذْكِرَةً لِنِعَمِهِ عَلَى الْخَلْقِ، كَيْفَ نَجَّاهُمْ مِنَ الطُّوفَانِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَآيَةٌ لَهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ. وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِنْ مِثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ. وَإِنْ نَشَأْ نُغْرِقْهُمْ فَلا صَرِيخَ لَهُمْ وَلا هُمْ يُنْقَذُونَ. إِلا رَحْمَةً مِنَّا وَمَتَاعًا إِلَى حِينٍ﴾ [يس: ٤١-٤٤] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ. لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ﴾ [الْحَاقَّةِ: ١١، ١٢] ، وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ وَجَعَلْنَاهَا آيَةً لِلْعَالَمِينَ﴾ ، وَهَذَا مِنْ بَابِ التَّدْرِيجِ مِنَ الشَّخْصِ إِلَى الْجِنْسِ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ﴾ [الْمُلْكِ: ٥] أَيْ: وَجَعَلَنَا نَوْعَهَا، فَإِنَّ الَّتِي يُرْمَى [[في ف: "ترمى"]] بِهَا لَيْسَتْ هِيَ الَّتِي زِينَةٌ لِلسَّمَاءِ [[في أ: "السماء".]] . وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإنْسَانَ مِنْ سُلالَةٍ مِنْ طِينٍ. ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ﴾ [الْمُؤْمِنُونَ: ١٢، ١٣] ، وَلِهَذَا نَظَائِرُ كَثِيرَةٌ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: لَوْ قِيلَ: إِنَّ الضَّمِيرَ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَجَعَلْنَاهَا﴾ [[في ت: "وجعلناها آية للعالمين".]] ، عَائِدٌ إِلَى الْعُقُوبَةِ، لَكَانَ وَجْهًا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَإِبْرَٰهِيمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَٱتَّقُوهُ ۖ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
And [We sent] Abraham, when he said to his people, "Worship Allah and fear Him. That is best for you, if you should know.
اور ابراہیمؑ کو (یاد کرو) جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے
ما ابراهیم را (نیز) فرستادیم، هنگامی که به قومش گفت: «خدا را پرستش کنید و از (عذاب) او بپرهیزید که این برای شما بهتر است اگر بدانید!
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Ibrahim when he said to his people: "Worship Allah, and have Taqwa of Him, that is better for you if you know. (16)You worship besides Allah only idols, and you only invent falsehood. Verily, those whom you worship besides Allah have no power to give you provision, so seek from Allah your provision, and worship Him, and be grateful to Him. To Him you will be brought back (17)And if you deny, then nations before you have denied. And the duty of the Messenger is only to convey plainly. (18)
Ibrahim's preaching to His People
Allah tells us how His servant, Messenger and close friend Ibrahim, the Imam of the monotheists, called his people to worship Allah alone, with no partner or associate, to fear Him alone, to seek provision from Him alone, with no partner or associate, to give thanks to Him alone, for He is the One to Whom thanks should be given for the blessings which none can bestow but He. Ibrahim said to his people:
اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ
(Worship Allah, and have Taqwa of Him,) meaning worship Him and fear Him Alone, with all sincerity.
ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
(that is better for you if you know.) if you do that you will attain good in this world and the next, and you will prevent evil from yourselves in this world and the Hereafter.
Then Allah states that the idols which they worshipped were not able to do any harm or any good, and tells them, "You made up names for them and called them gods, but they are created beings just like you." This interpretation was reported by Al-'Awfi from Ibn 'Abbas. It was also the view of Mujahid and As-Suddi. Al-Walibi reported from Ibn 'Abbas: "You invent falsehood, means, you carve idols," which do not have the power to provide for you.
فَابْتَغُوا عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ
(so seek from Allah your provision,) This emphasizes the idea of asking Allah Alone. This is like the Ayat:
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
(You (Alone) we worship, and You (Alone) we ask for help.)(1:5) And His saying:
رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ
(My Lord! Build for me, with You, a home in Paradise)(66:11). Allah says here:
فَابْتَغُوا
(so seek) meaning, ask for
عِندَ اللَّهِ الرِّزْقَ
(from Allah your provision,) meaning, do not seek it from anyone or anything other than Him, for no one else possesses the power to do anything.
وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ
(and worship Him, and be grateful to Him.) Eat from what He has provided and worship Him Alone, and give thanks to Him for the blessings He has given you.
إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
(To Him you will be brought back.) means, on the Day of Resurrection, when He will reward or punish each person according to his deeds. His saying:
وَإِنْ تُكَذِّبُوا فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ ۖ
(And if you deny, then nations before you have denied.) means, 'you have heard what happened to them by way of punishment for opposing the Messengers.'
وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
(And the duty of the Messenger is only to convey plainly.) All the Messengers have to do is to convey the Message as Allah has commanded them. Allah guides whoever He wills and leaves astray whoever He wills, so strive to be among the blessed. Qatadah said concerning the Ayah:
وَإِنْ تُكَذِّبُوا فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ ۖ
(And if you deny, then nations before you have denied.) "These are words of consolation to His Prophet, peace be upon him." This suggestion by Qatadah implies that the narrative (about Ibrahim) is interrupted here, and resumes with the words "And nothing was the answer of (Ibrahim's) people..." in Ayah 24. This was also stated by Ibn Jarir. From the context it appears that Ibrahim, peace be upon him, said all of what is in this section. Here he establishes proof against them that the Resurrection will indeed come to pass, because at the end of this passage it says:
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ
("And nothing was the answer of his people...")(29:24) And Allah knows best.
Tafsir Ibn Kathir
ریاکاری سے بچو امام الموحدین ابو المرسلین خلیل اللہ علیہ الصلوات اللہ کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو توحید اللہ کی دعوت دی ریاکاری سے بچنے اور دل میں پرہیزگاری قائم کرنے کا حکم دیا اس کی نعمتوں پر شکرگزاری کرنے کو فرمایا۔ اور اس کا نفع بھی بتایا کہ دنیا اور آخرت کی برائیاں اس سے دور ہوجائیں گی اور دونوں جہان کی نعمتیں اس سے مل جائیں گی۔ ساتھ ہی انہیں بتایا کہ جن بتوں کی تم پرستش کررہے ہو۔ یہ تو بےضرر اور بےنفع ہے تم نے خود ہی ان کے نام اور ان کے اجسام تراش لئے ہیں۔ وہ تو تمہاری طرح مخلوق ہیں بلکہ تم سے بھی کمزور ہیں۔ یہ تمہاری روزیوں کے بھی مختار نہیں۔ اللہ ہی سے روزیاں طلب کرو۔ اسی حصہ کے ساتھ آیت (ایاک نعبد وایاک نستعین) بھی ہے کہ ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔ یہی حضرت آسیہ ؓ کی دعا میں ہے آیت (رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّــنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهٖ وَنَجِّــنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ 11 ۙ) 66۔ التحریم :11) اے اللہ میرے لئے اپنے پاس ہی جنت میں مکان بنا۔ چونکہ اس کے سوا کوئی رزق نہیں دے سکتا اس لئے تم اسی سے روزیاں طلب کرو اور جب اس کی روزیاں کھاؤ تو اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرو۔ اس کی نعمتوں کا شکر بجالاؤ تم میں سے ہر ایک اسی کی طرف لوٹنے والا ہے۔ وہ ہر عامل کو اسکے عمل کا بدلہ دے گا۔ دیکھو مجھے جھوٹا کہہ کر خوش نہ ہو نظریں ڈالو کہ تم سے پہلے جنہوں نے نبیوں کو جھوٹ کی طرف منسوب کیا تھا ان کی کیسی درگت ہوئی ؟ یاد رکھنا نبیوں کا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔ ہدایت عدم ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے۔ اپنے آپ کو سعات مندوں میں بناؤ بدبختوں میں شامل نہ کرو۔ حضرت قتادہ تو فرماتے ہیں اس میں آنحضرت ﷺ کی مزید تشفی کی گئی ہے اس مطلب کا تقاضا تو یہ ہے کہ پہلاکام ختم ہوا۔ اور یہاں سے لے کر آیت (فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖٓ اِلَّا اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 24) 29۔ العنکبوت :24) تک یہ سب عبارت بطور جملہ معترضہ کے ہے۔ ابن جریر نے تو کھلے لفظوں میں یہی کہا ہے۔ لیکن الفاظ قرآن سے تو بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کلام حضرت خلیل اللہ ؑ کا ہے آپ قیامت کے قائم ہونے کی دلیلیں پیش کررہے ہیں کیونکہ اس تمام کلام کے بعد آپ کی قوم کا جواب ذکر ہوا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ عَبْدِهِ وَرَسُولِهِ وَخَلِيلِهِ إِبْرَاهِيمَ إِمَامِ الْحُنَفَاءِ: أَنَّهُ دَعَا قَوْمَهُ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَالْإِخْلَاصِ لَهُ فِي التَّقْوَى، وَطَلَبِ الرِّزْقِ مِنْهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَتَوْحِيدِهِ فِي الشكر [[في أ: "الشرك".]] ، فإنه المشكور على النعم، لا مُسْدٍ لَهَا غَيْرُهُ، فَقَالَ لِقَوْمِهِ: ﴿اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ﴾ أَيْ: أَخْلِصُوا لَهُ الْعِبَادَةَ وَالْخَوْفَ، ﴿ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: إِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ حَصَلَ لَكُمُ الْخَيْرُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَانْدَفَعَ عَنْكُمُ الشَّرُّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.
ثُمَّ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْأَصْنَامَ الَّتِي يَعْبُدُونَهَا وَالْأَوْثَانَ، لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَإِنَّمَا اخْتَلَقْتُمْ أَنْتُمْ لَهَا أَسْمَاءً، سَمَّيْتُمُوهَا [[في ف: "فسميتموها".]] آلِهَةً، وَإِنَّمَا هِيَ مَخْلُوقَةٌ مِثْلُكُمْ. هَكَذَا رَوَى الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَبِهِ قَالَ مُجَاهِدٌ، وَالسُّدِّيُّ.
وَرَوَى الْوَالِبِيُّ [[في أ: "البخاري".]] ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: وَتَصْنَعُونَ إِفْكًا، أَيْ: تَنْحِتُونَهَا أَصْنَامًا. وَبِهِ قَالَ مُجَاهِدٌ -فِي رِوَايَةٍ -وَعِكْرِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وقَتَادَةُ وَغَيْرُهُمْ، وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ.
وَهِيَ لَا تَمْلِكُ لَكُمْ رِزْقًا، ﴿فَابْتَغُوا عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ﴾ وَهَذَا أَبْلَغُ فِي الْحَصْرِ، كَقَوْلِهِ: ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ [الْفَاتِحَةِ: ٥] ، ﴿رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ﴾ [التَّحْرِيمِ: ١١] ، وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَابْتَغُوا﴾ أَيْ: فَاطْلُبُوا ﴿عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ﴾ أَيْ: لَا عِنْدَ غَيْرِهِ، فَإِنَّ غَيْرَهُ لَا يَمْلِكُ شَيْئًا، ﴿وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ﴾ أَيْ: كُلُوا مِنْ رِزْقِهِ وَاعْبُدُوهُ وَحْدَهُ [[في ف، أ:"وحده لا شريك له".]] ، وَاشْكُرُوا لَهُ عَلَى مَا أَنْعَمَ بِهِ عَلَيْكُمْ، ﴿إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴾ أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُجَازِي كُلَّ عَامِلٍ بِعَمَلِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ تُكَذِّبُوا فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ﴾ أَيْ: فَبَلَّغَكُمْ مَا حَلَّ بِهِمْ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ فِي مُخَالَفَةِ الرُّسُلِ، ﴿وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلا الْبَلاغُ الْمُبِينُ﴾ يَعْنِي: إِنَّمَا عَلَى الرَّسُولِ أَنْ يبلغكم ما أمره الله تعالى بِهِ مِنَ الرِّسَالَةِ، وَاللَّهُ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ، فَاحْرِصُوا [[في ت: "فأخلصوا".]] لِأَنْفُسِكُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ السُّعَدَاءِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَإِنْ تُكَذِّبُوا فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ﴾ قَالَ: يُعزي نَبِيَّهُ ﷺ. وَهَذَا مِنْ قَتَادَةَ يَقْتَضِي أَنَّهُ قَدِ انْقَطَعَ الْكَلَامُ الْأَوَّلُ، وَاعْتَرَضَ بِهَذَا إِلَى قَوْلِهِ: ﴿فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ﴾ . وَهَكَذَا نَصَّ عَلَى ذَلِكَ ابْنُ جَرِيرٍ أَيْضًا [[تفسير الطبري (٢٠/٨٩) .]] .
وَالظَّاهِرُ مِنَ السِّيَاقِ أَنَّ كُلَّ هَذَا مِنْ كَلَامِ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ [لِقَوْمِهِ] [[زيادة من أ.]] يَحْتَجُّ عَلَيْهِمْ لِإِثْبَاتِ الْمَعَادِ، لِقَوْلِهِ بَعْدَ هَذَا كُلِّهِ: ﴿فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ﴾ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
إِنَّمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوْثَٰنًۭا وَتَخْلُقُونَ إِفْكًا ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ لَكُمْ رِزْقًۭا فَٱبْتَغُوا۟ عِندَ ٱللَّهِ ٱلرِّزْقَ وَٱعْبُدُوهُ وَٱشْكُرُوا۟ لَهُۥٓ ۖ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
You only worship, besides Allah, idols, and you produce a falsehood. Indeed, those you worship besides Allah do not possess for you [the power of] provision. So seek from Allah provision and worship Him and be grateful to Him. To Him you will be returned."
تو تم خدا کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے اور طوفان باندھتے ہو تو جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو وہ تم کو رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے پس خدا ہی کے ہاں سے رزق طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر کرو اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے
شما غیر از خدا فقط بتهایی (از سنگ و چوب) را میپرستید و دروغی به هم میبافید؛ آنهایی را که غیر از خدا پرستش میکنید، مالک هیچ رزقی برای شما نیستند؛ روزی را تنها نزد خدا بطلبید و او را پرستش کنید و شکر او را بجا آورید که بسوی او بازگشت داده میشوید!
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Ibrahim when he said to his people: "Worship Allah, and have Taqwa of Him, that is better for you if you know. (16)You worship besides Allah only idols, and you only invent falsehood. Verily, those whom you worship besides Allah have no power to give you provision, so seek from Allah your provision, and worship Him, and be grateful to Him. To Him you will be brought back (17)And if you deny, then nations before you have denied. And the duty of the Messenger is only to convey plainly. (18)
Ibrahim's preaching to His People
Allah tells us how His servant, Messenger and close friend Ibrahim, the Imam of the monotheists, called his people to worship Allah alone, with no partner or associate, to fear Him alone, to seek provision from Him alone, with no partner or associate, to give thanks to Him alone, for He is the One to Whom thanks should be given for the blessings which none can bestow but He. Ibrahim said to his people:
اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ
(Worship Allah, and have Taqwa of Him,) meaning worship Him and fear Him Alone, with all sincerity.
ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
(that is better for you if you know.) if you do that you will attain good in this world and the next, and you will prevent evil from yourselves in this world and the Hereafter.
Then Allah states that the idols which they worshipped were not able to do any harm or any good, and tells them, "You made up names for them and called them gods, but they are created beings just like you." This interpretation was reported by Al-'Awfi from Ibn 'Abbas. It was also the view of Mujahid and As-Suddi. Al-Walibi reported from Ibn 'Abbas: "You invent falsehood, means, you carve idols," which do not have the power to provide for you.
فَابْتَغُوا عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ
(so seek from Allah your provision,) This emphasizes the idea of asking Allah Alone. This is like the Ayat:
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
(You (Alone) we worship, and You (Alone) we ask for help.)(1:5) And His saying:
رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ
(My Lord! Build for me, with You, a home in Paradise)(66:11). Allah says here:
فَابْتَغُوا
(so seek) meaning, ask for
عِندَ اللَّهِ الرِّزْقَ
(from Allah your provision,) meaning, do not seek it from anyone or anything other than Him, for no one else possesses the power to do anything.
وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ
(and worship Him, and be grateful to Him.) Eat from what He has provided and worship Him Alone, and give thanks to Him for the blessings He has given you.
إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
(To Him you will be brought back.) means, on the Day of Resurrection, when He will reward or punish each person according to his deeds. His saying:
وَإِنْ تُكَذِّبُوا فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ ۖ
(And if you deny, then nations before you have denied.) means, 'you have heard what happened to them by way of punishment for opposing the Messengers.'
وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
(And the duty of the Messenger is only to convey plainly.) All the Messengers have to do is to convey the Message as Allah has commanded them. Allah guides whoever He wills and leaves astray whoever He wills, so strive to be among the blessed. Qatadah said concerning the Ayah:
وَإِنْ تُكَذِّبُوا فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ ۖ
(And if you deny, then nations before you have denied.) "These are words of consolation to His Prophet, peace be upon him." This suggestion by Qatadah implies that the narrative (about Ibrahim) is interrupted here, and resumes with the words "And nothing was the answer of (Ibrahim's) people..." in Ayah 24. This was also stated by Ibn Jarir. From the context it appears that Ibrahim, peace be upon him, said all of what is in this section. Here he establishes proof against them that the Resurrection will indeed come to pass, because at the end of this passage it says:
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ
("And nothing was the answer of his people...")(29:24) And Allah knows best.
Tafsir Ibn Kathir
ریاکاری سے بچو امام الموحدین ابو المرسلین خلیل اللہ علیہ الصلوات اللہ کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو توحید اللہ کی دعوت دی ریاکاری سے بچنے اور دل میں پرہیزگاری قائم کرنے کا حکم دیا اس کی نعمتوں پر شکرگزاری کرنے کو فرمایا۔ اور اس کا نفع بھی بتایا کہ دنیا اور آخرت کی برائیاں اس سے دور ہوجائیں گی اور دونوں جہان کی نعمتیں اس سے مل جائیں گی۔ ساتھ ہی انہیں بتایا کہ جن بتوں کی تم پرستش کررہے ہو۔ یہ تو بےضرر اور بےنفع ہے تم نے خود ہی ان کے نام اور ان کے اجسام تراش لئے ہیں۔ وہ تو تمہاری طرح مخلوق ہیں بلکہ تم سے بھی کمزور ہیں۔ یہ تمہاری روزیوں کے بھی مختار نہیں۔ اللہ ہی سے روزیاں طلب کرو۔ اسی حصہ کے ساتھ آیت (ایاک نعبد وایاک نستعین) بھی ہے کہ ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔ یہی حضرت آسیہ ؓ کی دعا میں ہے آیت (رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّــنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهٖ وَنَجِّــنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ 11 ۙ) 66۔ التحریم :11) اے اللہ میرے لئے اپنے پاس ہی جنت میں مکان بنا۔ چونکہ اس کے سوا کوئی رزق نہیں دے سکتا اس لئے تم اسی سے روزیاں طلب کرو اور جب اس کی روزیاں کھاؤ تو اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرو۔ اس کی نعمتوں کا شکر بجالاؤ تم میں سے ہر ایک اسی کی طرف لوٹنے والا ہے۔ وہ ہر عامل کو اسکے عمل کا بدلہ دے گا۔ دیکھو مجھے جھوٹا کہہ کر خوش نہ ہو نظریں ڈالو کہ تم سے پہلے جنہوں نے نبیوں کو جھوٹ کی طرف منسوب کیا تھا ان کی کیسی درگت ہوئی ؟ یاد رکھنا نبیوں کا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔ ہدایت عدم ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے۔ اپنے آپ کو سعات مندوں میں بناؤ بدبختوں میں شامل نہ کرو۔ حضرت قتادہ تو فرماتے ہیں اس میں آنحضرت ﷺ کی مزید تشفی کی گئی ہے اس مطلب کا تقاضا تو یہ ہے کہ پہلاکام ختم ہوا۔ اور یہاں سے لے کر آیت (فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖٓ اِلَّا اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 24) 29۔ العنکبوت :24) تک یہ سب عبارت بطور جملہ معترضہ کے ہے۔ ابن جریر نے تو کھلے لفظوں میں یہی کہا ہے۔ لیکن الفاظ قرآن سے تو بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کلام حضرت خلیل اللہ ؑ کا ہے آپ قیامت کے قائم ہونے کی دلیلیں پیش کررہے ہیں کیونکہ اس تمام کلام کے بعد آپ کی قوم کا جواب ذکر ہوا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ عَبْدِهِ وَرَسُولِهِ وَخَلِيلِهِ إِبْرَاهِيمَ إِمَامِ الْحُنَفَاءِ: أَنَّهُ دَعَا قَوْمَهُ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَالْإِخْلَاصِ لَهُ فِي التَّقْوَى، وَطَلَبِ الرِّزْقِ مِنْهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَتَوْحِيدِهِ فِي الشكر [[في أ: "الشرك".]] ، فإنه المشكور على النعم، لا مُسْدٍ لَهَا غَيْرُهُ، فَقَالَ لِقَوْمِهِ: ﴿اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ﴾ أَيْ: أَخْلِصُوا لَهُ الْعِبَادَةَ وَالْخَوْفَ، ﴿ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: إِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ حَصَلَ لَكُمُ الْخَيْرُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَانْدَفَعَ عَنْكُمُ الشَّرُّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.
ثُمَّ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْأَصْنَامَ الَّتِي يَعْبُدُونَهَا وَالْأَوْثَانَ، لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَإِنَّمَا اخْتَلَقْتُمْ أَنْتُمْ لَهَا أَسْمَاءً، سَمَّيْتُمُوهَا [[في ف: "فسميتموها".]] آلِهَةً، وَإِنَّمَا هِيَ مَخْلُوقَةٌ مِثْلُكُمْ. هَكَذَا رَوَى الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَبِهِ قَالَ مُجَاهِدٌ، وَالسُّدِّيُّ.
وَرَوَى الْوَالِبِيُّ [[في أ: "البخاري".]] ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: وَتَصْنَعُونَ إِفْكًا، أَيْ: تَنْحِتُونَهَا أَصْنَامًا. وَبِهِ قَالَ مُجَاهِدٌ -فِي رِوَايَةٍ -وَعِكْرِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وقَتَادَةُ وَغَيْرُهُمْ، وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ.
وَهِيَ لَا تَمْلِكُ لَكُمْ رِزْقًا، ﴿فَابْتَغُوا عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ﴾ وَهَذَا أَبْلَغُ فِي الْحَصْرِ، كَقَوْلِهِ: ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ [الْفَاتِحَةِ: ٥] ، ﴿رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ﴾ [التَّحْرِيمِ: ١١] ، وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَابْتَغُوا﴾ أَيْ: فَاطْلُبُوا ﴿عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ﴾ أَيْ: لَا عِنْدَ غَيْرِهِ، فَإِنَّ غَيْرَهُ لَا يَمْلِكُ شَيْئًا، ﴿وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ﴾ أَيْ: كُلُوا مِنْ رِزْقِهِ وَاعْبُدُوهُ وَحْدَهُ [[في ف، أ:"وحده لا شريك له".]] ، وَاشْكُرُوا لَهُ عَلَى مَا أَنْعَمَ بِهِ عَلَيْكُمْ، ﴿إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴾ أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُجَازِي كُلَّ عَامِلٍ بِعَمَلِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ تُكَذِّبُوا فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ﴾ أَيْ: فَبَلَّغَكُمْ مَا حَلَّ بِهِمْ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ فِي مُخَالَفَةِ الرُّسُلِ، ﴿وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلا الْبَلاغُ الْمُبِينُ﴾ يَعْنِي: إِنَّمَا عَلَى الرَّسُولِ أَنْ يبلغكم ما أمره الله تعالى بِهِ مِنَ الرِّسَالَةِ، وَاللَّهُ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ، فَاحْرِصُوا [[في ت: "فأخلصوا".]] لِأَنْفُسِكُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ السُّعَدَاءِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَإِنْ تُكَذِّبُوا فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ﴾ قَالَ: يُعزي نَبِيَّهُ ﷺ. وَهَذَا مِنْ قَتَادَةَ يَقْتَضِي أَنَّهُ قَدِ انْقَطَعَ الْكَلَامُ الْأَوَّلُ، وَاعْتَرَضَ بِهَذَا إِلَى قَوْلِهِ: ﴿فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ﴾ . وَهَكَذَا نَصَّ عَلَى ذَلِكَ ابْنُ جَرِيرٍ أَيْضًا [[تفسير الطبري (٢٠/٨٩) .]] .
وَالظَّاهِرُ مِنَ السِّيَاقِ أَنَّ كُلَّ هَذَا مِنْ كَلَامِ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ [لِقَوْمِهِ] [[زيادة من أ.]] يَحْتَجُّ عَلَيْهِمْ لِإِثْبَاتِ الْمَعَادِ، لِقَوْلِهِ بَعْدَ هَذَا كُلِّهِ: ﴿فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ﴾ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَإِن تُكَذِّبُوا۟ فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌۭ مِّن قَبْلِكُمْ ۖ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ
And if you [people] deny [the message] - already nations before you have denied. And there is not upon the Messenger except [the duty of] clear notification.
اور اگر تم (میری) تکذیب کرو تو تم سے پہلے بھی اُمتیں (اپنے پیغمبروں کی) تکذیب کرچکی ہیں۔ اور پیغمبر کے ذمے کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں
اگر شما (مرا) تکذیب کنید (جای تعجب نیست)، امتهایی پیش از شما نیز (پیامبرانشان را) تکذیب کردند؛ وظیفه فرستاده (خدا) جز ابلاغ آشکار نیست».
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Ibrahim when he said to his people: "Worship Allah, and have Taqwa of Him, that is better for you if you know. (16)You worship besides Allah only idols, and you only invent falsehood. Verily, those whom you worship besides Allah have no power to give you provision, so seek from Allah your provision, and worship Him, and be grateful to Him. To Him you will be brought back (17)And if you deny, then nations before you have denied. And the duty of the Messenger is only to convey plainly. (18)
Ibrahim's preaching to His People
Allah tells us how His servant, Messenger and close friend Ibrahim, the Imam of the monotheists, called his people to worship Allah alone, with no partner or associate, to fear Him alone, to seek provision from Him alone, with no partner or associate, to give thanks to Him alone, for He is the One to Whom thanks should be given for the blessings which none can bestow but He. Ibrahim said to his people:
اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ
(Worship Allah, and have Taqwa of Him,) meaning worship Him and fear Him Alone, with all sincerity.
ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
(that is better for you if you know.) if you do that you will attain good in this world and the next, and you will prevent evil from yourselves in this world and the Hereafter.
Then Allah states that the idols which they worshipped were not able to do any harm or any good, and tells them, "You made up names for them and called them gods, but they are created beings just like you." This interpretation was reported by Al-'Awfi from Ibn 'Abbas. It was also the view of Mujahid and As-Suddi. Al-Walibi reported from Ibn 'Abbas: "You invent falsehood, means, you carve idols," which do not have the power to provide for you.
فَابْتَغُوا عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ
(so seek from Allah your provision,) This emphasizes the idea of asking Allah Alone. This is like the Ayat:
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
(You (Alone) we worship, and You (Alone) we ask for help.)(1:5) And His saying:
رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ
(My Lord! Build for me, with You, a home in Paradise)(66:11). Allah says here:
فَابْتَغُوا
(so seek) meaning, ask for
عِندَ اللَّهِ الرِّزْقَ
(from Allah your provision,) meaning, do not seek it from anyone or anything other than Him, for no one else possesses the power to do anything.
وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ
(and worship Him, and be grateful to Him.) Eat from what He has provided and worship Him Alone, and give thanks to Him for the blessings He has given you.
إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
(To Him you will be brought back.) means, on the Day of Resurrection, when He will reward or punish each person according to his deeds. His saying:
وَإِنْ تُكَذِّبُوا فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ ۖ
(And if you deny, then nations before you have denied.) means, 'you have heard what happened to them by way of punishment for opposing the Messengers.'
وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
(And the duty of the Messenger is only to convey plainly.) All the Messengers have to do is to convey the Message as Allah has commanded them. Allah guides whoever He wills and leaves astray whoever He wills, so strive to be among the blessed. Qatadah said concerning the Ayah:
وَإِنْ تُكَذِّبُوا فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ ۖ
(And if you deny, then nations before you have denied.) "These are words of consolation to His Prophet, peace be upon him." This suggestion by Qatadah implies that the narrative (about Ibrahim) is interrupted here, and resumes with the words "And nothing was the answer of (Ibrahim's) people..." in Ayah 24. This was also stated by Ibn Jarir. From the context it appears that Ibrahim, peace be upon him, said all of what is in this section. Here he establishes proof against them that the Resurrection will indeed come to pass, because at the end of this passage it says:
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ
("And nothing was the answer of his people...")(29:24) And Allah knows best.
Tafsir Ibn Kathir
ریاکاری سے بچو امام الموحدین ابو المرسلین خلیل اللہ علیہ الصلوات اللہ کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو توحید اللہ کی دعوت دی ریاکاری سے بچنے اور دل میں پرہیزگاری قائم کرنے کا حکم دیا اس کی نعمتوں پر شکرگزاری کرنے کو فرمایا۔ اور اس کا نفع بھی بتایا کہ دنیا اور آخرت کی برائیاں اس سے دور ہوجائیں گی اور دونوں جہان کی نعمتیں اس سے مل جائیں گی۔ ساتھ ہی انہیں بتایا کہ جن بتوں کی تم پرستش کررہے ہو۔ یہ تو بےضرر اور بےنفع ہے تم نے خود ہی ان کے نام اور ان کے اجسام تراش لئے ہیں۔ وہ تو تمہاری طرح مخلوق ہیں بلکہ تم سے بھی کمزور ہیں۔ یہ تمہاری روزیوں کے بھی مختار نہیں۔ اللہ ہی سے روزیاں طلب کرو۔ اسی حصہ کے ساتھ آیت (ایاک نعبد وایاک نستعین) بھی ہے کہ ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔ یہی حضرت آسیہ ؓ کی دعا میں ہے آیت (رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّــنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهٖ وَنَجِّــنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ 11 ۙ) 66۔ التحریم :11) اے اللہ میرے لئے اپنے پاس ہی جنت میں مکان بنا۔ چونکہ اس کے سوا کوئی رزق نہیں دے سکتا اس لئے تم اسی سے روزیاں طلب کرو اور جب اس کی روزیاں کھاؤ تو اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرو۔ اس کی نعمتوں کا شکر بجالاؤ تم میں سے ہر ایک اسی کی طرف لوٹنے والا ہے۔ وہ ہر عامل کو اسکے عمل کا بدلہ دے گا۔ دیکھو مجھے جھوٹا کہہ کر خوش نہ ہو نظریں ڈالو کہ تم سے پہلے جنہوں نے نبیوں کو جھوٹ کی طرف منسوب کیا تھا ان کی کیسی درگت ہوئی ؟ یاد رکھنا نبیوں کا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔ ہدایت عدم ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے۔ اپنے آپ کو سعات مندوں میں بناؤ بدبختوں میں شامل نہ کرو۔ حضرت قتادہ تو فرماتے ہیں اس میں آنحضرت ﷺ کی مزید تشفی کی گئی ہے اس مطلب کا تقاضا تو یہ ہے کہ پہلاکام ختم ہوا۔ اور یہاں سے لے کر آیت (فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖٓ اِلَّا اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 24) 29۔ العنکبوت :24) تک یہ سب عبارت بطور جملہ معترضہ کے ہے۔ ابن جریر نے تو کھلے لفظوں میں یہی کہا ہے۔ لیکن الفاظ قرآن سے تو بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کلام حضرت خلیل اللہ ؑ کا ہے آپ قیامت کے قائم ہونے کی دلیلیں پیش کررہے ہیں کیونکہ اس تمام کلام کے بعد آپ کی قوم کا جواب ذکر ہوا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ عَبْدِهِ وَرَسُولِهِ وَخَلِيلِهِ إِبْرَاهِيمَ إِمَامِ الْحُنَفَاءِ: أَنَّهُ دَعَا قَوْمَهُ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَالْإِخْلَاصِ لَهُ فِي التَّقْوَى، وَطَلَبِ الرِّزْقِ مِنْهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَتَوْحِيدِهِ فِي الشكر [[في أ: "الشرك".]] ، فإنه المشكور على النعم، لا مُسْدٍ لَهَا غَيْرُهُ، فَقَالَ لِقَوْمِهِ: ﴿اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ﴾ أَيْ: أَخْلِصُوا لَهُ الْعِبَادَةَ وَالْخَوْفَ، ﴿ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: إِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ حَصَلَ لَكُمُ الْخَيْرُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَانْدَفَعَ عَنْكُمُ الشَّرُّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.
ثُمَّ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْأَصْنَامَ الَّتِي يَعْبُدُونَهَا وَالْأَوْثَانَ، لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَإِنَّمَا اخْتَلَقْتُمْ أَنْتُمْ لَهَا أَسْمَاءً، سَمَّيْتُمُوهَا [[في ف: "فسميتموها".]] آلِهَةً، وَإِنَّمَا هِيَ مَخْلُوقَةٌ مِثْلُكُمْ. هَكَذَا رَوَى الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَبِهِ قَالَ مُجَاهِدٌ، وَالسُّدِّيُّ.
وَرَوَى الْوَالِبِيُّ [[في أ: "البخاري".]] ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: وَتَصْنَعُونَ إِفْكًا، أَيْ: تَنْحِتُونَهَا أَصْنَامًا. وَبِهِ قَالَ مُجَاهِدٌ -فِي رِوَايَةٍ -وَعِكْرِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وقَتَادَةُ وَغَيْرُهُمْ، وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ.
وَهِيَ لَا تَمْلِكُ لَكُمْ رِزْقًا، ﴿فَابْتَغُوا عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ﴾ وَهَذَا أَبْلَغُ فِي الْحَصْرِ، كَقَوْلِهِ: ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ [الْفَاتِحَةِ: ٥] ، ﴿رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ﴾ [التَّحْرِيمِ: ١١] ، وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَابْتَغُوا﴾ أَيْ: فَاطْلُبُوا ﴿عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ﴾ أَيْ: لَا عِنْدَ غَيْرِهِ، فَإِنَّ غَيْرَهُ لَا يَمْلِكُ شَيْئًا، ﴿وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ﴾ أَيْ: كُلُوا مِنْ رِزْقِهِ وَاعْبُدُوهُ وَحْدَهُ [[في ف، أ:"وحده لا شريك له".]] ، وَاشْكُرُوا لَهُ عَلَى مَا أَنْعَمَ بِهِ عَلَيْكُمْ، ﴿إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴾ أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُجَازِي كُلَّ عَامِلٍ بِعَمَلِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ تُكَذِّبُوا فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ﴾ أَيْ: فَبَلَّغَكُمْ مَا حَلَّ بِهِمْ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ فِي مُخَالَفَةِ الرُّسُلِ، ﴿وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلا الْبَلاغُ الْمُبِينُ﴾ يَعْنِي: إِنَّمَا عَلَى الرَّسُولِ أَنْ يبلغكم ما أمره الله تعالى بِهِ مِنَ الرِّسَالَةِ، وَاللَّهُ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ، فَاحْرِصُوا [[في ت: "فأخلصوا".]] لِأَنْفُسِكُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ السُّعَدَاءِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَإِنْ تُكَذِّبُوا فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ﴾ قَالَ: يُعزي نَبِيَّهُ ﷺ. وَهَذَا مِنْ قَتَادَةَ يَقْتَضِي أَنَّهُ قَدِ انْقَطَعَ الْكَلَامُ الْأَوَّلُ، وَاعْتَرَضَ بِهَذَا إِلَى قَوْلِهِ: ﴿فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ﴾ . وَهَكَذَا نَصَّ عَلَى ذَلِكَ ابْنُ جَرِيرٍ أَيْضًا [[تفسير الطبري (٢٠/٨٩) .]] .
وَالظَّاهِرُ مِنَ السِّيَاقِ أَنَّ كُلَّ هَذَا مِنْ كَلَامِ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ [لِقَوْمِهِ] [[زيادة من أ.]] يَحْتَجُّ عَلَيْهِمْ لِإِثْبَاتِ الْمَعَادِ، لِقَوْلِهِ بَعْدَ هَذَا كُلِّهِ: ﴿فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ﴾ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ كَيْفَ يُبْدِئُ ٱللَّهُ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥٓ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٌۭ
Have they not considered how Allah begins creation and then repeats it? Indeed that, for Allah, is easy.
کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کس طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر (کس طرح) اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے۔ یہ خدا کو آسان ہے
آیا آنان ندیدند چگونه خداوند آفرینش را آغاز میکند، سپس بازمیگرداند؟! این کار برای خدا آسان است!
Tafsir Ibn Kathir
See they not how Allah originates the creation, then repeats it. Verily, that is easy for Allah (19)Say: "Travel in the land and see how He originated the creation, and then Allah will bring forth the creation of the Hereafter. Verily, Allah is able to do all things. (20)He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills; and to Him you will be returned (21)And you cannot escape in the earth or in the heaven. And besides Allah you have neither any protector nor any helper (22)And those who disbelieve in the Ayat of Allah and meeting with Him, such have no hope of My mercy: and for such there is a painful torment (23)
The Evidence for Life after Death
Allah tells us that Ibrahim, peace be upon him, showed them the proof of life after death, which they denied, in their souls. For Allah created them after they had been nothing at all, then they came into existence and became people who could hear and see. The One Who originated this is able to repeat it, it is very easy for Him. Then he taught them to contemplate the visible signs on the horizons and the things that Allah has created: the heavens with their stars and planets, moving and stationary, the earth with its plains and mountains, its valleys, deserts and wildernesses, trees and rivers, fruits and oceans. All of that indicates that these are themselves created things, and that there must be a Creator Who does as He chooses, Who merely says to a thing "Be!" and it is. Allah says:
أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(See they not how Allah originates the creation, then repeats it. Verily, that is easy for Allah.) This is like the Ayah:
وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ۚ
(And He it is Who originates the creation, then He will repeat it; and this is easier for Him)(30:27). Then Allah says:
قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ۚ ثُمَّ اللَّهُ يُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ ۚ
(Say: "Travel in the land and see how He originated the creation, and then Allah will bring forth the creation of the Hereafter.") meaning, the Day of Resurrection.
إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(Verily, Allah is able to do all things.)
يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ ۖ
(He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills;) He is the Ruler Who is in control, Who does as He wishes and judges as He wants, and there is none who can put back His judgement. None can question Him about what He does; rather it is they who will be questioned, for His is the power to create and to command, and whatever He decides is fair and just, for He is the sovereign who cannot be unjust in the slightest. According to a Hadith recorded by the Sunan compilers:
إِنَّ اللهَ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ
(If Allah willed to punish the dwellers of His heavens and His earth, He would do so, while He would not be unjust to them.) Allah says:
يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ ۖ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ
(He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills; and to Him you will be returned.) You will return to Him on the Day of Resurrection.
وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ ۖ
(And you cannot escape on the earth or in the heaven.) No one in heaven or on earth can flee from Him, for He is the Subduer Who is above His servants, and everything fears Him and is in need of Him, while He is the One Who is Independent of all else.
وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ - وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَلِقَائِهِ
(And besides Allah you have neither any protector nor any helper. And those who disbelieve in the Ayat of Allah and the meeting with Him,) Those who disbelieved in the signs of Allah and denied the Resurrection,
أُولَٰئِكَ يَئِسُوا مِنْ رَحْمَتِي
(such have no hope of My mercy) they will have no share in it,
وَأُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(and for such there is a painful torment.) meaning, extremely painful, in this world and the next.
Tafsir Ibn Kathir
تمام نشانیاں دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کردیا تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءاً پیدا کرسکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو ستاروں کو زمینوں کو پہاڑوں کو درختوں کو جنگلوں کو نہروں کو دریاؤں کو سمندروں کو پھلوں کو کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کردیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں ؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کرسکتا ؟ وہ تو صرف ہوجا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ خود مختار ہے اسے اسباب اور سامان کی ضرورت نہیں۔ اسی مضمون کو اور جگہ فرمایا کہ وہی نئی پیدائش میں پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت آسان ہے۔ پھر فرمایا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے ابتدائی پیدائش کس طرح کی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ قیامت کے دن کی دوسری پیدائش کی کیا کیفیت ہوگی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے جیسے فرمایا ہم انہیں دنیا کے ہر حصے میں اور خود ان کی اپنی جانوں میں اپنی نشانیاں اس قدر دکھائیں گے کہ ان پر حق ظاہر ہوجائے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ 35ۭ) 52۔ الطور :35) کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے یا وہی اپنے خالق ہیں ؟ یا وہ آسمان و زمین کے خالق ہیں ؟ کچھ نہیں بےیقین لوگ ہیں۔ یہ اللہ کی شان ہے کہ جسے چاہے عذاب کرے جس پر چاہے رحم کرے وہ حاکم ہے قبضے والا ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے جاری کردیتا ہے۔ کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا کوئی اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتا۔ کوئی اس سے چوں چرا نہیں کرسکتا کوئی اس سے سوال نہیں کرسکتا اور وہ سب پر غالب ہے۔ جس سے چاہے پوچھ بیٹھے سب اس کے قبضے میں اس کی ماتحتی میں ہیں۔ خلق کا خالق امر کا مالک وہی ہے۔ اس نے جو کچھ کیا سراسر عدل ہے اس لیے کہ وہی مالک ہے وہ ظلم سے پاک ہے۔ حدیث شریف میں ہے اگر اللہ تعالیٰ ساتوں آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب کرے تب بھی وہ ظالم نہیں۔ عذاب رحم سب اس کی چیزیں ہیں۔ سب کے سب قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اسی کے سامنے حاضر ہو کر پیش ہونگے۔ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی اسے ہرا نہیں سکتا۔ بلکہ سب پر وہی غالب ہے۔ ہر ایک اس سے کانپ رہا ہے سب اس کے درد کے فقیر ہیں اور سب سے غنی ہے۔ تمہارا کوئی ولی اور مددگار اس کے سوا نہیں۔ اللہ کی آیتوں سے کفر کرنے والے اس کی ملاقات کو نہ ماننے والے اللہ کی رحمت سے محروم ہیں اور ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک الم افزا عذاب ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْخَلِيلِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهُ أَرْشَدَهُمْ إِلَى إِثْبَاتِ الْمَعَادِ الَّذِي يُنْكِرُونَهُ، بِمَا يُشَاهِدُونَهُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ إِيَّاهُمْ، بَعْدَ أَنْ لَمْ يَكُونُوا شَيْئًا مَذْكُورًا، ثُمَّ وُجِدُوا وَصَارُوا أُنَاسًا سَامِعِينَ مُبْصِرِينَ، فَالَّذِي بَدَأَ هَذَا قَادِرٌ عَلَى إِعَادَتِهِ؛ فَإِنَّهُ سَهْلٌ عَلَيْهِ يَسِيرٌ لَدَيْهِ.
ثُمَّ أَرْشَدَهُمْ إِلَى الِاعْتِبَارِ بِمَا فِي الْآفَاقِ مِنَ الْآيَاتِ الْمُشَاهَدَةِ [[في أ: "الباهرة".]] مِنْ خَلْقِ اللَّهِ الْأَشْيَاءَ: السَّمَوَاتِ وَمَا فِيهَا مِنَ الْكَوَاكِبِ النَّيِّرَةِ: الثَّوَابِتِ، وَالسَّيَّارَاتِ، وَالْأَرَضِينَ وَمَا فِيهَا مِنْ مِهَادٍ وَجِبَالٍ، وَأَوْدِيَةٍ وبرارٍ وَقِفَارٍ، وَأَشْجَارٍ وَأَنْهَارٍ، وَثِمَارٍ وَبِحَارٍ، كُلُّ ذَلِكَ دَالٌّ عَلَى حُدُوثِهَا فِي أَنْفُسِهَا، وَعَلَى وُجُودِ صَانِعِهَا الْفَاعِلِ الْمُخْتَارِ، الَّذِي يَقُولُ لِلشَّيْءِ: كُنْ، فَيَكُونُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ﴾ ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ﴾ [الرُّومِ: ٢٧] .
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿قُلْ سِيرُوا فِي الأرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنْشِئُ النَّشْأَةَ الآخِرَةَ﴾ أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ﴿إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ . وَهَذَا الْمَقَامُ شَبِيهٌ بِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ﴾ [فُصِّلَتْ: ٥٣] ، وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأرْضَ بَل لَا يُوقِنُونَ﴾ [الطُّورِ: ٣٥، ٣٦] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ﴾ أَيْ: هُوَ الْحَاكِمُ الْمُتَصَرِّفُ، الَّذِي يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ، وَيَحْكُمُ مَا يُرِيدُ، لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ، وَلَا يُسأل عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ، فَلَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ، مَهْمَا فَعَلَ فَعَدْلٌ؛ لأنه الْمَالِكُ الَّذِي لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ، كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الَّذِي رَوَاهُ أَهْلُ السُّنَنِ: "إِنَّ اللَّهَ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ، لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ" [[رواه أبو داود في السنن برقم (٤٦٩٩) وابن ماجه في السنن برقم (٧٧) من حديث أبي بن كعب وزيد بن ثابت رضي الله عنهما.]] . وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ﴾ أَيْ: تَرْجِعُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الأرْضِ وَلا فِي السَّمَاءِ﴾ أَيْ: لَا يُعْجِزُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ سَمَاوَاتِهِ وَأَرْضِهِ، بَلْ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ، وَكُلُّ شَيْءٍ خَائِفٌ مِنْهُ، فَقِيرٌ إِلَيْهِ، وَهُوَ الْغَنِيُّ عَمَّا سِوَاهُ.
﴿وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ. وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَلِقَائِهِ﴾ أَيْ: جَحَدُوهَا [[في ت، ف، أ: "جحدوا بها".]] وَكَفَرُوا بِالْمَعَادِ، ﴿أُولَئِكَ يَئِسُوا مِنْ رَحْمَتِي﴾ أَيْ: لَا نَصِيبَ لَهُمْ فِيهَا، ﴿وَأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ أي: موجع في الدنيا والآخرة.
قُلْ سِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ بَدَأَ ٱلْخَلْقَ ۚ ثُمَّ ٱللَّهُ يُنشِئُ ٱلنَّشْأَةَ ٱلْءَاخِرَةَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ
Say, [O Muhammad], "Travel through the land and observe how He began creation. Then Allah will produce the final creation. Indeed Allah, over all things, is competent."
کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی دفعہ پیدا کیا ہے پھر خدا ہی پچھلی پیدائش پیدا کرے گا۔ بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
بگو: «در زمین بگردید و بنگرید خداوند چگونه آفرینش را آغاز کرده است؟ سپس خداوند (به همینگونه) جهان آخرت را ایجاد میکند؛ یقیناً خدا بر هر چیز توانا است!
Tafsir Ibn Kathir
See they not how Allah originates the creation, then repeats it. Verily, that is easy for Allah (19)Say: "Travel in the land and see how He originated the creation, and then Allah will bring forth the creation of the Hereafter. Verily, Allah is able to do all things. (20)He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills; and to Him you will be returned (21)And you cannot escape in the earth or in the heaven. And besides Allah you have neither any protector nor any helper (22)And those who disbelieve in the Ayat of Allah and meeting with Him, such have no hope of My mercy: and for such there is a painful torment (23)
The Evidence for Life after Death
Allah tells us that Ibrahim, peace be upon him, showed them the proof of life after death, which they denied, in their souls. For Allah created them after they had been nothing at all, then they came into existence and became people who could hear and see. The One Who originated this is able to repeat it, it is very easy for Him. Then he taught them to contemplate the visible signs on the horizons and the things that Allah has created: the heavens with their stars and planets, moving and stationary, the earth with its plains and mountains, its valleys, deserts and wildernesses, trees and rivers, fruits and oceans. All of that indicates that these are themselves created things, and that there must be a Creator Who does as He chooses, Who merely says to a thing "Be!" and it is. Allah says:
أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(See they not how Allah originates the creation, then repeats it. Verily, that is easy for Allah.) This is like the Ayah:
وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ۚ
(And He it is Who originates the creation, then He will repeat it; and this is easier for Him)(30:27). Then Allah says:
قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ۚ ثُمَّ اللَّهُ يُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ ۚ
(Say: "Travel in the land and see how He originated the creation, and then Allah will bring forth the creation of the Hereafter.") meaning, the Day of Resurrection.
إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(Verily, Allah is able to do all things.)
يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ ۖ
(He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills;) He is the Ruler Who is in control, Who does as He wishes and judges as He wants, and there is none who can put back His judgement. None can question Him about what He does; rather it is they who will be questioned, for His is the power to create and to command, and whatever He decides is fair and just, for He is the sovereign who cannot be unjust in the slightest. According to a Hadith recorded by the Sunan compilers:
إِنَّ اللهَ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ
(If Allah willed to punish the dwellers of His heavens and His earth, He would do so, while He would not be unjust to them.) Allah says:
يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ ۖ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ
(He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills; and to Him you will be returned.) You will return to Him on the Day of Resurrection.
وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ ۖ
(And you cannot escape on the earth or in the heaven.) No one in heaven or on earth can flee from Him, for He is the Subduer Who is above His servants, and everything fears Him and is in need of Him, while He is the One Who is Independent of all else.
وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ - وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَلِقَائِهِ
(And besides Allah you have neither any protector nor any helper. And those who disbelieve in the Ayat of Allah and the meeting with Him,) Those who disbelieved in the signs of Allah and denied the Resurrection,
أُولَٰئِكَ يَئِسُوا مِنْ رَحْمَتِي
(such have no hope of My mercy) they will have no share in it,
وَأُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(and for such there is a painful torment.) meaning, extremely painful, in this world and the next.
Tafsir Ibn Kathir
تمام نشانیاں دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کردیا تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءاً پیدا کرسکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو ستاروں کو زمینوں کو پہاڑوں کو درختوں کو جنگلوں کو نہروں کو دریاؤں کو سمندروں کو پھلوں کو کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کردیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں ؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کرسکتا ؟ وہ تو صرف ہوجا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ خود مختار ہے اسے اسباب اور سامان کی ضرورت نہیں۔ اسی مضمون کو اور جگہ فرمایا کہ وہی نئی پیدائش میں پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت آسان ہے۔ پھر فرمایا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے ابتدائی پیدائش کس طرح کی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ قیامت کے دن کی دوسری پیدائش کی کیا کیفیت ہوگی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے جیسے فرمایا ہم انہیں دنیا کے ہر حصے میں اور خود ان کی اپنی جانوں میں اپنی نشانیاں اس قدر دکھائیں گے کہ ان پر حق ظاہر ہوجائے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ 35ۭ) 52۔ الطور :35) کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے یا وہی اپنے خالق ہیں ؟ یا وہ آسمان و زمین کے خالق ہیں ؟ کچھ نہیں بےیقین لوگ ہیں۔ یہ اللہ کی شان ہے کہ جسے چاہے عذاب کرے جس پر چاہے رحم کرے وہ حاکم ہے قبضے والا ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے جاری کردیتا ہے۔ کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا کوئی اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتا۔ کوئی اس سے چوں چرا نہیں کرسکتا کوئی اس سے سوال نہیں کرسکتا اور وہ سب پر غالب ہے۔ جس سے چاہے پوچھ بیٹھے سب اس کے قبضے میں اس کی ماتحتی میں ہیں۔ خلق کا خالق امر کا مالک وہی ہے۔ اس نے جو کچھ کیا سراسر عدل ہے اس لیے کہ وہی مالک ہے وہ ظلم سے پاک ہے۔ حدیث شریف میں ہے اگر اللہ تعالیٰ ساتوں آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب کرے تب بھی وہ ظالم نہیں۔ عذاب رحم سب اس کی چیزیں ہیں۔ سب کے سب قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اسی کے سامنے حاضر ہو کر پیش ہونگے۔ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی اسے ہرا نہیں سکتا۔ بلکہ سب پر وہی غالب ہے۔ ہر ایک اس سے کانپ رہا ہے سب اس کے درد کے فقیر ہیں اور سب سے غنی ہے۔ تمہارا کوئی ولی اور مددگار اس کے سوا نہیں۔ اللہ کی آیتوں سے کفر کرنے والے اس کی ملاقات کو نہ ماننے والے اللہ کی رحمت سے محروم ہیں اور ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک الم افزا عذاب ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْخَلِيلِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهُ أَرْشَدَهُمْ إِلَى إِثْبَاتِ الْمَعَادِ الَّذِي يُنْكِرُونَهُ، بِمَا يُشَاهِدُونَهُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ إِيَّاهُمْ، بَعْدَ أَنْ لَمْ يَكُونُوا شَيْئًا مَذْكُورًا، ثُمَّ وُجِدُوا وَصَارُوا أُنَاسًا سَامِعِينَ مُبْصِرِينَ، فَالَّذِي بَدَأَ هَذَا قَادِرٌ عَلَى إِعَادَتِهِ؛ فَإِنَّهُ سَهْلٌ عَلَيْهِ يَسِيرٌ لَدَيْهِ.
ثُمَّ أَرْشَدَهُمْ إِلَى الِاعْتِبَارِ بِمَا فِي الْآفَاقِ مِنَ الْآيَاتِ الْمُشَاهَدَةِ [[في أ: "الباهرة".]] مِنْ خَلْقِ اللَّهِ الْأَشْيَاءَ: السَّمَوَاتِ وَمَا فِيهَا مِنَ الْكَوَاكِبِ النَّيِّرَةِ: الثَّوَابِتِ، وَالسَّيَّارَاتِ، وَالْأَرَضِينَ وَمَا فِيهَا مِنْ مِهَادٍ وَجِبَالٍ، وَأَوْدِيَةٍ وبرارٍ وَقِفَارٍ، وَأَشْجَارٍ وَأَنْهَارٍ، وَثِمَارٍ وَبِحَارٍ، كُلُّ ذَلِكَ دَالٌّ عَلَى حُدُوثِهَا فِي أَنْفُسِهَا، وَعَلَى وُجُودِ صَانِعِهَا الْفَاعِلِ الْمُخْتَارِ، الَّذِي يَقُولُ لِلشَّيْءِ: كُنْ، فَيَكُونُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ﴾ ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ﴾ [الرُّومِ: ٢٧] .
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿قُلْ سِيرُوا فِي الأرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنْشِئُ النَّشْأَةَ الآخِرَةَ﴾ أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ﴿إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ . وَهَذَا الْمَقَامُ شَبِيهٌ بِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ﴾ [فُصِّلَتْ: ٥٣] ، وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأرْضَ بَل لَا يُوقِنُونَ﴾ [الطُّورِ: ٣٥، ٣٦] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ﴾ أَيْ: هُوَ الْحَاكِمُ الْمُتَصَرِّفُ، الَّذِي يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ، وَيَحْكُمُ مَا يُرِيدُ، لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ، وَلَا يُسأل عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ، فَلَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ، مَهْمَا فَعَلَ فَعَدْلٌ؛ لأنه الْمَالِكُ الَّذِي لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ، كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الَّذِي رَوَاهُ أَهْلُ السُّنَنِ: "إِنَّ اللَّهَ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ، لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ" [[رواه أبو داود في السنن برقم (٤٦٩٩) وابن ماجه في السنن برقم (٧٧) من حديث أبي بن كعب وزيد بن ثابت رضي الله عنهما.]] . وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ﴾ أَيْ: تَرْجِعُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الأرْضِ وَلا فِي السَّمَاءِ﴾ أَيْ: لَا يُعْجِزُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ سَمَاوَاتِهِ وَأَرْضِهِ، بَلْ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ، وَكُلُّ شَيْءٍ خَائِفٌ مِنْهُ، فَقِيرٌ إِلَيْهِ، وَهُوَ الْغَنِيُّ عَمَّا سِوَاهُ.
﴿وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ. وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَلِقَائِهِ﴾ أَيْ: جَحَدُوهَا [[في ت، ف، أ: "جحدوا بها".]] وَكَفَرُوا بِالْمَعَادِ، ﴿أُولَئِكَ يَئِسُوا مِنْ رَحْمَتِي﴾ أَيْ: لَا نَصِيبَ لَهُمْ فِيهَا، ﴿وَأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ أي: موجع في الدنيا والآخرة.
يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَرْحَمُ مَن يَشَآءُ ۖ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ
He punishes whom He wills and has mercy upon whom He wills, and to Him you will be returned.
وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے۔ اور اُسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے
هر کس را بخواهد (و مستحق بداند) مجازات میکند، و هر کس را بخواهد مورد رحمت قرارمیدهد؛ و شما را به سوی او بازمیگردانند.
Tafsir Ibn Kathir
See they not how Allah originates the creation, then repeats it. Verily, that is easy for Allah (19)Say: "Travel in the land and see how He originated the creation, and then Allah will bring forth the creation of the Hereafter. Verily, Allah is able to do all things. (20)He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills; and to Him you will be returned (21)And you cannot escape in the earth or in the heaven. And besides Allah you have neither any protector nor any helper (22)And those who disbelieve in the Ayat of Allah and meeting with Him, such have no hope of My mercy: and for such there is a painful torment (23)
The Evidence for Life after Death
Allah tells us that Ibrahim, peace be upon him, showed them the proof of life after death, which they denied, in their souls. For Allah created them after they had been nothing at all, then they came into existence and became people who could hear and see. The One Who originated this is able to repeat it, it is very easy for Him. Then he taught them to contemplate the visible signs on the horizons and the things that Allah has created: the heavens with their stars and planets, moving and stationary, the earth with its plains and mountains, its valleys, deserts and wildernesses, trees and rivers, fruits and oceans. All of that indicates that these are themselves created things, and that there must be a Creator Who does as He chooses, Who merely says to a thing "Be!" and it is. Allah says:
أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(See they not how Allah originates the creation, then repeats it. Verily, that is easy for Allah.) This is like the Ayah:
وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ۚ
(And He it is Who originates the creation, then He will repeat it; and this is easier for Him)(30:27). Then Allah says:
قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ۚ ثُمَّ اللَّهُ يُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ ۚ
(Say: "Travel in the land and see how He originated the creation, and then Allah will bring forth the creation of the Hereafter.") meaning, the Day of Resurrection.
إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(Verily, Allah is able to do all things.)
يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ ۖ
(He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills;) He is the Ruler Who is in control, Who does as He wishes and judges as He wants, and there is none who can put back His judgement. None can question Him about what He does; rather it is they who will be questioned, for His is the power to create and to command, and whatever He decides is fair and just, for He is the sovereign who cannot be unjust in the slightest. According to a Hadith recorded by the Sunan compilers:
إِنَّ اللهَ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ
(If Allah willed to punish the dwellers of His heavens and His earth, He would do so, while He would not be unjust to them.) Allah says:
يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ ۖ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ
(He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills; and to Him you will be returned.) You will return to Him on the Day of Resurrection.
وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ ۖ
(And you cannot escape on the earth or in the heaven.) No one in heaven or on earth can flee from Him, for He is the Subduer Who is above His servants, and everything fears Him and is in need of Him, while He is the One Who is Independent of all else.
وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ - وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَلِقَائِهِ
(And besides Allah you have neither any protector nor any helper. And those who disbelieve in the Ayat of Allah and the meeting with Him,) Those who disbelieved in the signs of Allah and denied the Resurrection,
أُولَٰئِكَ يَئِسُوا مِنْ رَحْمَتِي
(such have no hope of My mercy) they will have no share in it,
وَأُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(and for such there is a painful torment.) meaning, extremely painful, in this world and the next.
Tafsir Ibn Kathir
تمام نشانیاں دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کردیا تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءاً پیدا کرسکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو ستاروں کو زمینوں کو پہاڑوں کو درختوں کو جنگلوں کو نہروں کو دریاؤں کو سمندروں کو پھلوں کو کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کردیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں ؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کرسکتا ؟ وہ تو صرف ہوجا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ خود مختار ہے اسے اسباب اور سامان کی ضرورت نہیں۔ اسی مضمون کو اور جگہ فرمایا کہ وہی نئی پیدائش میں پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت آسان ہے۔ پھر فرمایا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے ابتدائی پیدائش کس طرح کی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ قیامت کے دن کی دوسری پیدائش کی کیا کیفیت ہوگی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے جیسے فرمایا ہم انہیں دنیا کے ہر حصے میں اور خود ان کی اپنی جانوں میں اپنی نشانیاں اس قدر دکھائیں گے کہ ان پر حق ظاہر ہوجائے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ 35ۭ) 52۔ الطور :35) کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے یا وہی اپنے خالق ہیں ؟ یا وہ آسمان و زمین کے خالق ہیں ؟ کچھ نہیں بےیقین لوگ ہیں۔ یہ اللہ کی شان ہے کہ جسے چاہے عذاب کرے جس پر چاہے رحم کرے وہ حاکم ہے قبضے والا ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے جاری کردیتا ہے۔ کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا کوئی اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتا۔ کوئی اس سے چوں چرا نہیں کرسکتا کوئی اس سے سوال نہیں کرسکتا اور وہ سب پر غالب ہے۔ جس سے چاہے پوچھ بیٹھے سب اس کے قبضے میں اس کی ماتحتی میں ہیں۔ خلق کا خالق امر کا مالک وہی ہے۔ اس نے جو کچھ کیا سراسر عدل ہے اس لیے کہ وہی مالک ہے وہ ظلم سے پاک ہے۔ حدیث شریف میں ہے اگر اللہ تعالیٰ ساتوں آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب کرے تب بھی وہ ظالم نہیں۔ عذاب رحم سب اس کی چیزیں ہیں۔ سب کے سب قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اسی کے سامنے حاضر ہو کر پیش ہونگے۔ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی اسے ہرا نہیں سکتا۔ بلکہ سب پر وہی غالب ہے۔ ہر ایک اس سے کانپ رہا ہے سب اس کے درد کے فقیر ہیں اور سب سے غنی ہے۔ تمہارا کوئی ولی اور مددگار اس کے سوا نہیں۔ اللہ کی آیتوں سے کفر کرنے والے اس کی ملاقات کو نہ ماننے والے اللہ کی رحمت سے محروم ہیں اور ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک الم افزا عذاب ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْخَلِيلِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهُ أَرْشَدَهُمْ إِلَى إِثْبَاتِ الْمَعَادِ الَّذِي يُنْكِرُونَهُ، بِمَا يُشَاهِدُونَهُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ إِيَّاهُمْ، بَعْدَ أَنْ لَمْ يَكُونُوا شَيْئًا مَذْكُورًا، ثُمَّ وُجِدُوا وَصَارُوا أُنَاسًا سَامِعِينَ مُبْصِرِينَ، فَالَّذِي بَدَأَ هَذَا قَادِرٌ عَلَى إِعَادَتِهِ؛ فَإِنَّهُ سَهْلٌ عَلَيْهِ يَسِيرٌ لَدَيْهِ.
ثُمَّ أَرْشَدَهُمْ إِلَى الِاعْتِبَارِ بِمَا فِي الْآفَاقِ مِنَ الْآيَاتِ الْمُشَاهَدَةِ [[في أ: "الباهرة".]] مِنْ خَلْقِ اللَّهِ الْأَشْيَاءَ: السَّمَوَاتِ وَمَا فِيهَا مِنَ الْكَوَاكِبِ النَّيِّرَةِ: الثَّوَابِتِ، وَالسَّيَّارَاتِ، وَالْأَرَضِينَ وَمَا فِيهَا مِنْ مِهَادٍ وَجِبَالٍ، وَأَوْدِيَةٍ وبرارٍ وَقِفَارٍ، وَأَشْجَارٍ وَأَنْهَارٍ، وَثِمَارٍ وَبِحَارٍ، كُلُّ ذَلِكَ دَالٌّ عَلَى حُدُوثِهَا فِي أَنْفُسِهَا، وَعَلَى وُجُودِ صَانِعِهَا الْفَاعِلِ الْمُخْتَارِ، الَّذِي يَقُولُ لِلشَّيْءِ: كُنْ، فَيَكُونُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ﴾ ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ﴾ [الرُّومِ: ٢٧] .
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿قُلْ سِيرُوا فِي الأرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنْشِئُ النَّشْأَةَ الآخِرَةَ﴾ أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ﴿إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ . وَهَذَا الْمَقَامُ شَبِيهٌ بِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ﴾ [فُصِّلَتْ: ٥٣] ، وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأرْضَ بَل لَا يُوقِنُونَ﴾ [الطُّورِ: ٣٥، ٣٦] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ﴾ أَيْ: هُوَ الْحَاكِمُ الْمُتَصَرِّفُ، الَّذِي يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ، وَيَحْكُمُ مَا يُرِيدُ، لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ، وَلَا يُسأل عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ، فَلَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ، مَهْمَا فَعَلَ فَعَدْلٌ؛ لأنه الْمَالِكُ الَّذِي لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ، كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الَّذِي رَوَاهُ أَهْلُ السُّنَنِ: "إِنَّ اللَّهَ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ، لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ" [[رواه أبو داود في السنن برقم (٤٦٩٩) وابن ماجه في السنن برقم (٧٧) من حديث أبي بن كعب وزيد بن ثابت رضي الله عنهما.]] . وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ﴾ أَيْ: تَرْجِعُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الأرْضِ وَلا فِي السَّمَاءِ﴾ أَيْ: لَا يُعْجِزُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ سَمَاوَاتِهِ وَأَرْضِهِ، بَلْ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ، وَكُلُّ شَيْءٍ خَائِفٌ مِنْهُ، فَقِيرٌ إِلَيْهِ، وَهُوَ الْغَنِيُّ عَمَّا سِوَاهُ.
﴿وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ. وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَلِقَائِهِ﴾ أَيْ: جَحَدُوهَا [[في ت، ف، أ: "جحدوا بها".]] وَكَفَرُوا بِالْمَعَادِ، ﴿أُولَئِكَ يَئِسُوا مِنْ رَحْمَتِي﴾ أَيْ: لَا نَصِيبَ لَهُمْ فِيهَا، ﴿وَأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ أي: موجع في الدنيا والآخرة.
وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فِى ٱلسَّمَآءِ ۖ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا نَصِيرٍۢ
And you will not cause failure [to Allah] upon the earth or in the heaven. And you have not other than Allah any protector or any helper.
اور تم (اُس کو) نہ زمین میں عاجز کرسکتے ہو نہ آسمان میں اور نہ خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار
شما هرگز نمیتوانید بر اراده خدا چیره شوید و از حوزه قدرت او در زمین و آسمان بگریزید؛ و برای شما جز خدا، ولی و یاوری نیست!»
Tafsir Ibn Kathir
See they not how Allah originates the creation, then repeats it. Verily, that is easy for Allah (19)Say: "Travel in the land and see how He originated the creation, and then Allah will bring forth the creation of the Hereafter. Verily, Allah is able to do all things. (20)He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills; and to Him you will be returned (21)And you cannot escape in the earth or in the heaven. And besides Allah you have neither any protector nor any helper (22)And those who disbelieve in the Ayat of Allah and meeting with Him, such have no hope of My mercy: and for such there is a painful torment (23)
The Evidence for Life after Death
Allah tells us that Ibrahim, peace be upon him, showed them the proof of life after death, which they denied, in their souls. For Allah created them after they had been nothing at all, then they came into existence and became people who could hear and see. The One Who originated this is able to repeat it, it is very easy for Him. Then he taught them to contemplate the visible signs on the horizons and the things that Allah has created: the heavens with their stars and planets, moving and stationary, the earth with its plains and mountains, its valleys, deserts and wildernesses, trees and rivers, fruits and oceans. All of that indicates that these are themselves created things, and that there must be a Creator Who does as He chooses, Who merely says to a thing "Be!" and it is. Allah says:
أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(See they not how Allah originates the creation, then repeats it. Verily, that is easy for Allah.) This is like the Ayah:
وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ۚ
(And He it is Who originates the creation, then He will repeat it; and this is easier for Him)(30:27). Then Allah says:
قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ۚ ثُمَّ اللَّهُ يُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ ۚ
(Say: "Travel in the land and see how He originated the creation, and then Allah will bring forth the creation of the Hereafter.") meaning, the Day of Resurrection.
إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(Verily, Allah is able to do all things.)
يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ ۖ
(He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills;) He is the Ruler Who is in control, Who does as He wishes and judges as He wants, and there is none who can put back His judgement. None can question Him about what He does; rather it is they who will be questioned, for His is the power to create and to command, and whatever He decides is fair and just, for He is the sovereign who cannot be unjust in the slightest. According to a Hadith recorded by the Sunan compilers:
إِنَّ اللهَ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ
(If Allah willed to punish the dwellers of His heavens and His earth, He would do so, while He would not be unjust to them.) Allah says:
يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ ۖ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ
(He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills; and to Him you will be returned.) You will return to Him on the Day of Resurrection.
وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ ۖ
(And you cannot escape on the earth or in the heaven.) No one in heaven or on earth can flee from Him, for He is the Subduer Who is above His servants, and everything fears Him and is in need of Him, while He is the One Who is Independent of all else.
وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ - وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَلِقَائِهِ
(And besides Allah you have neither any protector nor any helper. And those who disbelieve in the Ayat of Allah and the meeting with Him,) Those who disbelieved in the signs of Allah and denied the Resurrection,
أُولَٰئِكَ يَئِسُوا مِنْ رَحْمَتِي
(such have no hope of My mercy) they will have no share in it,
وَأُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(and for such there is a painful torment.) meaning, extremely painful, in this world and the next.
Tafsir Ibn Kathir
تمام نشانیاں دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کردیا تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءاً پیدا کرسکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو ستاروں کو زمینوں کو پہاڑوں کو درختوں کو جنگلوں کو نہروں کو دریاؤں کو سمندروں کو پھلوں کو کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کردیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں ؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کرسکتا ؟ وہ تو صرف ہوجا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ خود مختار ہے اسے اسباب اور سامان کی ضرورت نہیں۔ اسی مضمون کو اور جگہ فرمایا کہ وہی نئی پیدائش میں پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت آسان ہے۔ پھر فرمایا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے ابتدائی پیدائش کس طرح کی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ قیامت کے دن کی دوسری پیدائش کی کیا کیفیت ہوگی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے جیسے فرمایا ہم انہیں دنیا کے ہر حصے میں اور خود ان کی اپنی جانوں میں اپنی نشانیاں اس قدر دکھائیں گے کہ ان پر حق ظاہر ہوجائے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ 35ۭ) 52۔ الطور :35) کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے یا وہی اپنے خالق ہیں ؟ یا وہ آسمان و زمین کے خالق ہیں ؟ کچھ نہیں بےیقین لوگ ہیں۔ یہ اللہ کی شان ہے کہ جسے چاہے عذاب کرے جس پر چاہے رحم کرے وہ حاکم ہے قبضے والا ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے جاری کردیتا ہے۔ کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا کوئی اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتا۔ کوئی اس سے چوں چرا نہیں کرسکتا کوئی اس سے سوال نہیں کرسکتا اور وہ سب پر غالب ہے۔ جس سے چاہے پوچھ بیٹھے سب اس کے قبضے میں اس کی ماتحتی میں ہیں۔ خلق کا خالق امر کا مالک وہی ہے۔ اس نے جو کچھ کیا سراسر عدل ہے اس لیے کہ وہی مالک ہے وہ ظلم سے پاک ہے۔ حدیث شریف میں ہے اگر اللہ تعالیٰ ساتوں آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب کرے تب بھی وہ ظالم نہیں۔ عذاب رحم سب اس کی چیزیں ہیں۔ سب کے سب قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اسی کے سامنے حاضر ہو کر پیش ہونگے۔ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی اسے ہرا نہیں سکتا۔ بلکہ سب پر وہی غالب ہے۔ ہر ایک اس سے کانپ رہا ہے سب اس کے درد کے فقیر ہیں اور سب سے غنی ہے۔ تمہارا کوئی ولی اور مددگار اس کے سوا نہیں۔ اللہ کی آیتوں سے کفر کرنے والے اس کی ملاقات کو نہ ماننے والے اللہ کی رحمت سے محروم ہیں اور ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک الم افزا عذاب ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْخَلِيلِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهُ أَرْشَدَهُمْ إِلَى إِثْبَاتِ الْمَعَادِ الَّذِي يُنْكِرُونَهُ، بِمَا يُشَاهِدُونَهُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ إِيَّاهُمْ، بَعْدَ أَنْ لَمْ يَكُونُوا شَيْئًا مَذْكُورًا، ثُمَّ وُجِدُوا وَصَارُوا أُنَاسًا سَامِعِينَ مُبْصِرِينَ، فَالَّذِي بَدَأَ هَذَا قَادِرٌ عَلَى إِعَادَتِهِ؛ فَإِنَّهُ سَهْلٌ عَلَيْهِ يَسِيرٌ لَدَيْهِ.
ثُمَّ أَرْشَدَهُمْ إِلَى الِاعْتِبَارِ بِمَا فِي الْآفَاقِ مِنَ الْآيَاتِ الْمُشَاهَدَةِ [[في أ: "الباهرة".]] مِنْ خَلْقِ اللَّهِ الْأَشْيَاءَ: السَّمَوَاتِ وَمَا فِيهَا مِنَ الْكَوَاكِبِ النَّيِّرَةِ: الثَّوَابِتِ، وَالسَّيَّارَاتِ، وَالْأَرَضِينَ وَمَا فِيهَا مِنْ مِهَادٍ وَجِبَالٍ، وَأَوْدِيَةٍ وبرارٍ وَقِفَارٍ، وَأَشْجَارٍ وَأَنْهَارٍ، وَثِمَارٍ وَبِحَارٍ، كُلُّ ذَلِكَ دَالٌّ عَلَى حُدُوثِهَا فِي أَنْفُسِهَا، وَعَلَى وُجُودِ صَانِعِهَا الْفَاعِلِ الْمُخْتَارِ، الَّذِي يَقُولُ لِلشَّيْءِ: كُنْ، فَيَكُونُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ﴾ ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ﴾ [الرُّومِ: ٢٧] .
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿قُلْ سِيرُوا فِي الأرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنْشِئُ النَّشْأَةَ الآخِرَةَ﴾ أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ﴿إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ . وَهَذَا الْمَقَامُ شَبِيهٌ بِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ﴾ [فُصِّلَتْ: ٥٣] ، وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأرْضَ بَل لَا يُوقِنُونَ﴾ [الطُّورِ: ٣٥، ٣٦] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ﴾ أَيْ: هُوَ الْحَاكِمُ الْمُتَصَرِّفُ، الَّذِي يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ، وَيَحْكُمُ مَا يُرِيدُ، لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ، وَلَا يُسأل عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ، فَلَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ، مَهْمَا فَعَلَ فَعَدْلٌ؛ لأنه الْمَالِكُ الَّذِي لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ، كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الَّذِي رَوَاهُ أَهْلُ السُّنَنِ: "إِنَّ اللَّهَ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ، لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ" [[رواه أبو داود في السنن برقم (٤٦٩٩) وابن ماجه في السنن برقم (٧٧) من حديث أبي بن كعب وزيد بن ثابت رضي الله عنهما.]] . وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ﴾ أَيْ: تَرْجِعُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الأرْضِ وَلا فِي السَّمَاءِ﴾ أَيْ: لَا يُعْجِزُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ سَمَاوَاتِهِ وَأَرْضِهِ، بَلْ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ، وَكُلُّ شَيْءٍ خَائِفٌ مِنْهُ، فَقِيرٌ إِلَيْهِ، وَهُوَ الْغَنِيُّ عَمَّا سِوَاهُ.
﴿وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ. وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَلِقَائِهِ﴾ أَيْ: جَحَدُوهَا [[في ت، ف، أ: "جحدوا بها".]] وَكَفَرُوا بِالْمَعَادِ، ﴿أُولَئِكَ يَئِسُوا مِنْ رَحْمَتِي﴾ أَيْ: لَا نَصِيبَ لَهُمْ فِيهَا، ﴿وَأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ أي: موجع في الدنيا والآخرة.
وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَلِقَآئِهِۦٓ أُو۟لَٰٓئِكَ يَئِسُوا۟ مِن رَّحْمَتِى وَأُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ
And the ones who disbelieve in the signs of Allah and the meeting with Him - those have despaired of My mercy, and they will have a painful punishment.
اور جن لوگوں نے خدا کی آیتوں سے اور اس کے ملنے سے انکار کیا وہ میری رحمت سے نااُمید ہوگئے ہیں اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا
کسانی که به آیات خدا و دیدار او کافر شدند، از رحمت من مأیوسند؛ و برای آنها عذاب دردناکی است!
Tafsir Ibn Kathir
See they not how Allah originates the creation, then repeats it. Verily, that is easy for Allah (19)Say: "Travel in the land and see how He originated the creation, and then Allah will bring forth the creation of the Hereafter. Verily, Allah is able to do all things. (20)He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills; and to Him you will be returned (21)And you cannot escape in the earth or in the heaven. And besides Allah you have neither any protector nor any helper (22)And those who disbelieve in the Ayat of Allah and meeting with Him, such have no hope of My mercy: and for such there is a painful torment (23)
The Evidence for Life after Death
Allah tells us that Ibrahim, peace be upon him, showed them the proof of life after death, which they denied, in their souls. For Allah created them after they had been nothing at all, then they came into existence and became people who could hear and see. The One Who originated this is able to repeat it, it is very easy for Him. Then he taught them to contemplate the visible signs on the horizons and the things that Allah has created: the heavens with their stars and planets, moving and stationary, the earth with its plains and mountains, its valleys, deserts and wildernesses, trees and rivers, fruits and oceans. All of that indicates that these are themselves created things, and that there must be a Creator Who does as He chooses, Who merely says to a thing "Be!" and it is. Allah says:
أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(See they not how Allah originates the creation, then repeats it. Verily, that is easy for Allah.) This is like the Ayah:
وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ۚ
(And He it is Who originates the creation, then He will repeat it; and this is easier for Him)(30:27). Then Allah says:
قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ۚ ثُمَّ اللَّهُ يُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ ۚ
(Say: "Travel in the land and see how He originated the creation, and then Allah will bring forth the creation of the Hereafter.") meaning, the Day of Resurrection.
إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(Verily, Allah is able to do all things.)
يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ ۖ
(He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills;) He is the Ruler Who is in control, Who does as He wishes and judges as He wants, and there is none who can put back His judgement. None can question Him about what He does; rather it is they who will be questioned, for His is the power to create and to command, and whatever He decides is fair and just, for He is the sovereign who cannot be unjust in the slightest. According to a Hadith recorded by the Sunan compilers:
إِنَّ اللهَ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ
(If Allah willed to punish the dwellers of His heavens and His earth, He would do so, while He would not be unjust to them.) Allah says:
يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ ۖ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ
(He punishes whom He wills, and shows mercy to whom He wills; and to Him you will be returned.) You will return to Him on the Day of Resurrection.
وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ ۖ
(And you cannot escape on the earth or in the heaven.) No one in heaven or on earth can flee from Him, for He is the Subduer Who is above His servants, and everything fears Him and is in need of Him, while He is the One Who is Independent of all else.
وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ - وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَلِقَائِهِ
(And besides Allah you have neither any protector nor any helper. And those who disbelieve in the Ayat of Allah and the meeting with Him,) Those who disbelieved in the signs of Allah and denied the Resurrection,
أُولَٰئِكَ يَئِسُوا مِنْ رَحْمَتِي
(such have no hope of My mercy) they will have no share in it,
وَأُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(and for such there is a painful torment.) meaning, extremely painful, in this world and the next.
Tafsir Ibn Kathir
تمام نشانیاں دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کردیا تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءاً پیدا کرسکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو ستاروں کو زمینوں کو پہاڑوں کو درختوں کو جنگلوں کو نہروں کو دریاؤں کو سمندروں کو پھلوں کو کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کردیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں ؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کرسکتا ؟ وہ تو صرف ہوجا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ خود مختار ہے اسے اسباب اور سامان کی ضرورت نہیں۔ اسی مضمون کو اور جگہ فرمایا کہ وہی نئی پیدائش میں پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت آسان ہے۔ پھر فرمایا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے ابتدائی پیدائش کس طرح کی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ قیامت کے دن کی دوسری پیدائش کی کیا کیفیت ہوگی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے جیسے فرمایا ہم انہیں دنیا کے ہر حصے میں اور خود ان کی اپنی جانوں میں اپنی نشانیاں اس قدر دکھائیں گے کہ ان پر حق ظاہر ہوجائے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ 35ۭ) 52۔ الطور :35) کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے یا وہی اپنے خالق ہیں ؟ یا وہ آسمان و زمین کے خالق ہیں ؟ کچھ نہیں بےیقین لوگ ہیں۔ یہ اللہ کی شان ہے کہ جسے چاہے عذاب کرے جس پر چاہے رحم کرے وہ حاکم ہے قبضے والا ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے جاری کردیتا ہے۔ کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا کوئی اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتا۔ کوئی اس سے چوں چرا نہیں کرسکتا کوئی اس سے سوال نہیں کرسکتا اور وہ سب پر غالب ہے۔ جس سے چاہے پوچھ بیٹھے سب اس کے قبضے میں اس کی ماتحتی میں ہیں۔ خلق کا خالق امر کا مالک وہی ہے۔ اس نے جو کچھ کیا سراسر عدل ہے اس لیے کہ وہی مالک ہے وہ ظلم سے پاک ہے۔ حدیث شریف میں ہے اگر اللہ تعالیٰ ساتوں آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب کرے تب بھی وہ ظالم نہیں۔ عذاب رحم سب اس کی چیزیں ہیں۔ سب کے سب قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اسی کے سامنے حاضر ہو کر پیش ہونگے۔ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی اسے ہرا نہیں سکتا۔ بلکہ سب پر وہی غالب ہے۔ ہر ایک اس سے کانپ رہا ہے سب اس کے درد کے فقیر ہیں اور سب سے غنی ہے۔ تمہارا کوئی ولی اور مددگار اس کے سوا نہیں۔ اللہ کی آیتوں سے کفر کرنے والے اس کی ملاقات کو نہ ماننے والے اللہ کی رحمت سے محروم ہیں اور ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک الم افزا عذاب ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْخَلِيلِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهُ أَرْشَدَهُمْ إِلَى إِثْبَاتِ الْمَعَادِ الَّذِي يُنْكِرُونَهُ، بِمَا يُشَاهِدُونَهُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ إِيَّاهُمْ، بَعْدَ أَنْ لَمْ يَكُونُوا شَيْئًا مَذْكُورًا، ثُمَّ وُجِدُوا وَصَارُوا أُنَاسًا سَامِعِينَ مُبْصِرِينَ، فَالَّذِي بَدَأَ هَذَا قَادِرٌ عَلَى إِعَادَتِهِ؛ فَإِنَّهُ سَهْلٌ عَلَيْهِ يَسِيرٌ لَدَيْهِ.
ثُمَّ أَرْشَدَهُمْ إِلَى الِاعْتِبَارِ بِمَا فِي الْآفَاقِ مِنَ الْآيَاتِ الْمُشَاهَدَةِ [[في أ: "الباهرة".]] مِنْ خَلْقِ اللَّهِ الْأَشْيَاءَ: السَّمَوَاتِ وَمَا فِيهَا مِنَ الْكَوَاكِبِ النَّيِّرَةِ: الثَّوَابِتِ، وَالسَّيَّارَاتِ، وَالْأَرَضِينَ وَمَا فِيهَا مِنْ مِهَادٍ وَجِبَالٍ، وَأَوْدِيَةٍ وبرارٍ وَقِفَارٍ، وَأَشْجَارٍ وَأَنْهَارٍ، وَثِمَارٍ وَبِحَارٍ، كُلُّ ذَلِكَ دَالٌّ عَلَى حُدُوثِهَا فِي أَنْفُسِهَا، وَعَلَى وُجُودِ صَانِعِهَا الْفَاعِلِ الْمُخْتَارِ، الَّذِي يَقُولُ لِلشَّيْءِ: كُنْ، فَيَكُونُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ﴾ ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ﴾ [الرُّومِ: ٢٧] .
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿قُلْ سِيرُوا فِي الأرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنْشِئُ النَّشْأَةَ الآخِرَةَ﴾ أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ﴿إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ . وَهَذَا الْمَقَامُ شَبِيهٌ بِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ﴾ [فُصِّلَتْ: ٥٣] ، وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأرْضَ بَل لَا يُوقِنُونَ﴾ [الطُّورِ: ٣٥، ٣٦] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ﴾ أَيْ: هُوَ الْحَاكِمُ الْمُتَصَرِّفُ، الَّذِي يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ، وَيَحْكُمُ مَا يُرِيدُ، لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ، وَلَا يُسأل عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ، فَلَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ، مَهْمَا فَعَلَ فَعَدْلٌ؛ لأنه الْمَالِكُ الَّذِي لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ، كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الَّذِي رَوَاهُ أَهْلُ السُّنَنِ: "إِنَّ اللَّهَ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ، لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ" [[رواه أبو داود في السنن برقم (٤٦٩٩) وابن ماجه في السنن برقم (٧٧) من حديث أبي بن كعب وزيد بن ثابت رضي الله عنهما.]] . وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ﴾ أَيْ: تَرْجِعُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الأرْضِ وَلا فِي السَّمَاءِ﴾ أَيْ: لَا يُعْجِزُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ سَمَاوَاتِهِ وَأَرْضِهِ، بَلْ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ، وَكُلُّ شَيْءٍ خَائِفٌ مِنْهُ، فَقِيرٌ إِلَيْهِ، وَهُوَ الْغَنِيُّ عَمَّا سِوَاهُ.
﴿وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ. وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَلِقَائِهِ﴾ أَيْ: جَحَدُوهَا [[في ت، ف، أ: "جحدوا بها".]] وَكَفَرُوا بِالْمَعَادِ، ﴿أُولَئِكَ يَئِسُوا مِنْ رَحْمَتِي﴾ أَيْ: لَا نَصِيبَ لَهُمْ فِيهَا، ﴿وَأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ أي: موجع في الدنيا والآخرة.
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ ٱقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ فَأَنجَىٰهُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلنَّارِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ
And the answer of Abraham's people was not but that they said, "Kill him or burn him," but Allah saved him from the fire. Indeed in that are signs for a people who believe.
تو اُن کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اُسے مار ڈالو یا جلا دو۔ مگر خدا نے اُن کو آگ (کی سوزش) سے بچالیا۔ جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اُن کے لئے اس میں نشانیاں ہیں
اما جواب قوم او [= ابراهیم] جز این نبود که گفتند: «او را بکشید یا بسوزانید!» ولی خداوند او را از آتش رهایی بخشید؛ در این ماجرا نشانههایی است برای کسانی که ایمان میآورند.
Tafsir Ibn Kathir
So nothing was the answer of people except that they said: "Kill him or burn him." Then Allah saved him from the fire. Verily, in this are indeed signs for a people who believe (24)And (Ibrahim) said: "You have taken idols instead of Allah. The love between you is only in the life of this world, but on the Day of Resurrection, you shall deny each other, and curse each other, and your abode will be the Fire, and you shall have no helper. (25)
The Response of Ibrahim's People – and how Allah controlled the Fire
Allah tells us how Ibrahim's people stubbornly and arrogantly disbelieved, and how they resisted the truth with falsehood. After Ibrahim addressed them with his words of clear guidance,
إِلَّا أَنْ قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ
(except that they said: "Kill him or burn him.") This was because proof had clearly been established against them, so they resorted to using their power and strength.
قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ - فَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَسْفَلِينَ
(They said: "Build for him a building and throw him into the blazing fire!" So they plotted a plot against him, but We made them the lowest.)(37:97-98). They spent a long time gathering a huge amount of firewood, they built a fence around it, then they set it ablaze until its flames reached up to the sky. No greater fire had ever been lit. Then they went to Ibrahim, seized him and put him into a catapult, then they threw him into the fire. But Allah made it cool and safe for him, and after spending several days in it, he emerged unscathed. For this reason and others, Allah made him an Imam for mankind, for he offered himself to the Most Merciful, he offered his body to the flames, he offered his son as a sacrifice, and he gave his wealth to care for his guests. For all of these reasons he is beloved by the followers of all religions.
فَأَنْجَاهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ
(Then Allah saved him from the fire.) means, He rescued him from it by making it cool and safe for him.
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(Verily, in this are indeed signs for a people who believe.) Ibrahim, peace be upon him, explains to his people that idols are incapable of doing anything,
وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا مَوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ
(And (Ibrahim) said: "You have taken idols instead of Allah. The love between you is only in the life of this world,) Here Ibrahim was rebuking his people for their evil deed of worshipping idols, and telling them: 'You have taken these as gods and you come together to worship them so that there is friendship and love among you in this world,'
ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
(but on the Day of Resurrection,) the situation will be the opposite, and this love and friendship will turn into hatred and enmity. Then
يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ
(you shall deny each other,) meaning, 'you will denounce one another and deny whatever was between you,'
وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا
(and curse each other,) means, the followers will curse their leaders and the leaders will curse their followers.
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ
(Every time a new nation enters (the Fire), it curses its sister nation (that went before))(7:37).
الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ
(Friends on that Day will be foes one to another except those who have Taqwa.)(43:67) And Allah says here:
ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ
(but on the Day of Resurrection, you shall deny each other, and curse each other, and your abode will be the Fire,) meaning, 'your ultimate destiny after all accounts have been settled, will be the fire of Hell, and you will have no one to help you or save you from the punishment of Allah.' This will be the state of the disbelievers. As for the believers, it will be an entirely different matter.
Tafsir Ibn Kathir
عقلی اور نقلی دلائل حضرت ابراہیم کا یہ عقلی اور نقلی دلائل کا وعظ بھی ان لوگوں کے دلوں پر اثر نہ کرسکا اور انہوں نے یہاں بھی اپنی اس شقاوت کا مظاہرہ کیا جواب تو دلیلوں کا دے نہیں سکتے تھے لہذا اپنی قوت سے حق کو دبانے لگے اور اپنی طاقت سے سچ کو روکنے لگے کہنے لگے ایک گڑھا کھودو اس میں آگ بھڑکاؤ اور اس آگ میں اسے ڈال دو کہ جل جائے۔ لیکن اللہ نے ان کے اس مکر کو انہی پر لوٹا دیا مدتوں تک لکڑیاں جمع کرتے رہیں اور ایک گڑھا کھود کر اس کے اردگرد احاطے کی دیواریں کھڑی کرکے لکڑیوں میں آگ لگادی جب اس کے شعلے آسمان تک پہنچنے لگے اور اتنی زور کی آگ روشن ہوئی کہ زمین پر کہیں اتنی آگ نہیں دیکھی گئی تو حضرت ابراہیم ؑ کو پکڑ کر باندھ کر منجنیق میں ڈال کر جھلاکر اس آگ میں ڈال دیا لیکن اللہ نے اسے اپنے خلیل ؑ پر باغ وبہار بنادیا آپ کئی دن کے بعد صحیح سلامت اس میں سے نکل آئے۔ یہ اور اس جیسی قربانیاں تھیں جن کے باعث آپ کو امامت کا منصب عطا ہوا۔ اپنا نفس آپ نے رحمان کے لئے اپنا جسم آپ نے میزان کے لئے اپنی اولاد آپ نے قربان کے لئے اپنا مال آپ نے فیضان کے لئے کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کل ادیان والے آپ سے محبت رکھتے ہیں۔ اللہ نے آگ کو آپ کے لئے باغ بنادیا اس واقعہ میں ایمانداروں کے لئے قدرت الٰہی کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ جن بتوں کو تم نے معبود بنا رکھا ہے یہ تمہارا ایکا اور اتفاق دنیا تک ہی ہے۔ مودۃ زبر کے ساتھ مفعول لہ ہے۔ ایک قرأت میں پیش کے ساتھ بھی ہے یعنی تمہاری یہ بت پرستی تمہاری لئے گو دنیا کی محبت حاصل کرادے۔ لیکن قیامت کے دن معاملہ برعکس ہوجائے گا مودۃ کی جگہ نفرت اور اتفاق کے بدلے اختلاف ہوجائے گا۔ ایک دوسرے سے جھگڑوگے ایک دوسرے پر الزام رکھوگے ایک دوسرے پر لعنتیں بھیجوگے۔ ہر گروہ دوسرے گروپ پر پھٹکار برسائے گا۔ سب دوست دشمن بن جائیں گے ہاں پرہیزگار نیک کار آج بھی ایک دوسرے کے خیر خواہ اور دوست رہیں گے۔ کفار سب کے سب میدان قیامت کی ٹھوکریں کھا کھا کر بالآخر جہنم میں جائیں گے۔ گو اتنا بھی نہ ہوگا کہ ان کی کسی طرح مدد کرسکے۔ حدیث میں ہے تمام اگلے پچھلوں کو اللہ تعالیٰ ایک میدان میں جمع کرے گا۔ کون جان سکتا ہے کہ دونوں سمت میں کس طرف ؟ حضرت ام ہانی ؓ جو حضرت علی ؓ کی ہمشیرہ ہیں جواب دیا کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی زیادہ علم والا ہے۔ پھر ایک منادی عرش تلے سے آواز دے گا کہ اے موحدو ! بت توحید والے اپنا سر اٹھائیں گے پھر یہی آواز لگائے گا پھر سہ بارہ یہی پکارے گا اور کہے اللہ تعالیٰ نے تمہاری تمام لغزشوں سے درگزر فرمالیا۔ اب لوگ کھڑے ہونگے اور آپ کی ناچاقیوں اور لین دین کا مطالبہ کرنے لگیں گے تو اللہ وحدہ لاشریک لہ کی طرف سے آواز دی جائے گی کہ اے اہل توحید تم تو آپس میں ایک دوسرے کو معاف کردو تمہیں اللہ بدل دے گا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ قَوْمِ إِبْرَاهِيمَ فِي كُفْرِهِمْ وَعِنَادِهِمْ وَمُكَابَرَتِهِمْ، وَدَفْعِهِمُ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ: إِنَّهُ مَا كَانَ لَهُمْ جَوَابٌ بَعْدَ مَقَالَةِ إِبْرَاهِيمَ هَذِهِ الْمُشْتَمِلَةِ عَلَى الْهُدَى وَالْبَيَانِ، ﴿إِلا أَنْ قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ﴾ ، وَذَلِكَ لِأَنَّهُمْ قَامَ عَلَيْهِمُ الْبُرْهَانُ، وَتَوَجَّهَتْ عَلَيْهِمُ الْحُجَّةُ، فَعَدَلُوا إِلَى اسْتِعْمَالِ جَاهِهِمْ وَقُوَّةِ مُلْكِهِمْ، ﴿قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ. فَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الأسْفَلِينَ﴾ [الصَّافَّاتِ: ٩٧، ٩٨] ، وَذَلِكَ أَنَّهُمْ حَشَدوا فِي جَمْعِ أَحِطَابٍ عَظِيمَةٍ مُدَّةً طَوِيلَةً، وحَوّطوا حَوْلَهَا، ثُمَّ أَضْرَمُوا فِيهَا النَّارَ، فَارْتَفَعَ لَهَا لَهَبٌ إِلَى عَنَان السَّمَاءِ: وَلَمْ تُوقَدْ [[فِي ت: "توجد".]] نَارٌ قَطُّ أَعْظَمُ مِنْهَا، ثُمَّ عَمَدُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ فَكَتَّفُوهُ وَأَلْقَوْهُ فِي كفَّة الْمَنْجَنِيقِ، ثُمَّ قَذَفُوا بِهِ فِيهَا، فَجَعَلَهَا اللَّهُ عَلَيْهِ بَرْدًا وَسَلَامًا، وَخَرَجَ مِنْهَا سَالِمًا بَعْدَ مَا مَكَثَ فِيهَا أَيَّامًا. وَلِهَذَا وَأَمْثَالِهِ جَعَلَهُ اللَّهُ لِلنَّاسِ إِمَامًا. فَإِنَّهُ بَذَلَ نَفْسَهُ لِلرَّحْمَنِ، وَجَسَدَهُ لِلنِّيرَانِ، وَسَخَا بِوَلَدِهِ لِلْقُرْبَانِ، وَجَعَلَ مَالَهُ لَلضِّيفَانِ، وَلِهَذَا اجْتَمَعَ عَلَى مَحَبَّتِهِ جَمِيعُ أَهْلِ الْأَدْيَانِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَأَنْجَاهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ﴾ أَيْ: سَلَّمه [اللَّهُ] [[زيادة من ت، ف.]] مِنْهَا، بِأَنْ جَعَلَهَا عَلَيْهِ بَرْدًا وَسَلَامًا، ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ. وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا مَوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ يَقُولُ لِقَوْمِهِ مقرِّعا لَهُمْ وَمُوَبَّخًا عَلَى سُوءِ صَنِيعِهِمْ، فِي عِبَادَتِهِمُ الْأَوْثَانَ: إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ هَذِهِ لِتَجْتَمِعُوا عَلَى عِبَادَتِهَا فِي الدُّنْيَا، صَدَاقَةً وَأُلْفَةً مِنْكُمْ، بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا. وَهَذَا عَلَى قِرَاءَةِ مَنْ نَصَبَ ﴿مَوَدَّةَ بَيْنِكُمْ﴾ ، عَلَى أَنَّهُ مَفْعُولٌ لَهُ، وَأَمَّا عَلَى قِرَاءَةِ الرَّفْعِ فَمَعْنَاهُ: إِنَّمَا اتِّخَاذُكُمْ [[في ف، أ: "إنما اتخذتم".]] هَذَا يُحَصّل لَكُمُ الْمَوَدَّةَ فِي الدُّنْيَا فَقَطْ ﴿ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ يَنْعَكِسُ هَذَا الْحَالُ، فَتَبْقَى هَذِهِ الصَّدَاقَةُ وَالْمَوَدَّةُ بَغْضَة وَشَنَآنًا، فَـ ﴿يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ﴾ أَيْ: تَتَجَاحَدُونَ مَا كَانَ بَيْنَكُمْ، ﴿وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾ أَيْ: يَلْعَنُ الْأَتْبَاعُ الْمَتْبُوعِينَ، وَالْمَتْبُوعُونَ [[في ت، ف: "المتبوعين" وهو خطأ.]] الْأَتْبَاعَ، ﴿كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿الأخِلاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلا الْمُتَّقِينَ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٦٧] ، وَقَالَ هَاهُنَا ﴿ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ نَاصِرِينَ﴾ أَيْ: وَمَصِيرُكُمْ وَمَرْجِعُكُمْ بَعْدَ عَرَصَاتِ الْقِيَامَةِ إِلَى النَّارِ، وَمَا لَكَمَ مِنْ نَاصِرٍ يَنْصُرُكُمْ، وَلَا مُنْقِذٍ يُنْقِذُكُمْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ. وَهَذَا حَالُ الْكَافِرِينَ، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُونَ فَبِخِلَافِ ذَلِكَ.
قَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأحْمَسي [[في أ: "الأحمصي".]] حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الثَّقَفِيُّ [حَدَّثَنَا] [[زيادة من ف، أ.]] الرَّبِيعُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرة الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ أُمِّ هَانِئٍ -أُخْتِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ -قَالَتْ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ ﷺ: "أخبرِك أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَجْمَعُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، فَمَنْ يَدْرِي أَيْنَ الطَّرَفَانِ " [[في ت، ف: "الطرفين".]] ، فَقَالَتِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. "ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ: يَا أَهْلَ التَّوْحِيدِ، فَيَشْرَئِبُّونَ" قال أبو عاصم: يرفعون رؤوسهم. "ثُمَّ يُنَادِي: يَا أَهْلَ التَّوْحِيدِ، ثُمَّ يُنَادِي الثَّالِثَةَ: يَا أَهْلَ التَّوْحِيدِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ عَفَا عَنْكُمْ" قَالَ: "فَيَقُولُ النَّاسُ قَدْ تَعَلَّقَ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ فِي ظُلامات الدُّنْيَا -يَعْنِي: الْمَظَالِمَ -ثُمَّ يُنَادِي: يَا أَهْلَ التَّوْحِيدِ، لِيَعْفُ بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ، وَعَلَى اللَّهِ الثَّوَابُ" [[ورواه الطبراني في المعجم الأوسط برقم (٤٨٠٣) من طريق محمد بن إسماعيل الأحمسي به، وقال: "لا يروى عن أم هانئ إلا بهذا الإسناد، تفرد به أبو عاصم". وقال الهيثمي في المجمع (١٠/٣٥٥) : "فيه أبو عاصم - الربيع بن إسماعيل - منكر الحديث، قاله أبو حاتم".]] .
وَقَالَ إِنَّمَا ٱتَّخَذْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ أَوْثَٰنًۭا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ ثُمَّ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍۢ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًۭا وَمَأْوَىٰكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّٰصِرِينَ
And [Abraham] said, "You have only taken, other than Allah, idols as [a bond of] affection among you in worldly life. Then on the Day of Resurrection you will deny one another and curse one another, and your refuge will be the Fire, and you will not have any helpers."
اور ابراہیم نے کہا کہ تم جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو لے بیٹھے ہو تو دنیا کی زندگی میں باہم دوستی کے لئے (مگر) پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے (کی دوستی) سے انکار کر دو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا
(ابراهیم) گفت: «شما غیر از خدا بتهایی برای خود انتخاب کردهاید که مایه دوستی و محبت میان شما در زندگی دنیا باشد؛ سپس روز قیامت از یکدیگر بیزاری میجویید و یکدیگر را لعن میکنید؛ و جایگاه (همه) شما آتش است و هیچ یار و یاوری برای شما نخواهد بود!»
Tafsir Ibn Kathir
So nothing was the answer of people except that they said: "Kill him or burn him." Then Allah saved him from the fire. Verily, in this are indeed signs for a people who believe (24)And (Ibrahim) said: "You have taken idols instead of Allah. The love between you is only in the life of this world, but on the Day of Resurrection, you shall deny each other, and curse each other, and your abode will be the Fire, and you shall have no helper. (25)
The Response of Ibrahim's People – and how Allah controlled the Fire
Allah tells us how Ibrahim's people stubbornly and arrogantly disbelieved, and how they resisted the truth with falsehood. After Ibrahim addressed them with his words of clear guidance,
إِلَّا أَنْ قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ
(except that they said: "Kill him or burn him.") This was because proof had clearly been established against them, so they resorted to using their power and strength.
قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ - فَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَسْفَلِينَ
(They said: "Build for him a building and throw him into the blazing fire!" So they plotted a plot against him, but We made them the lowest.)(37:97-98). They spent a long time gathering a huge amount of firewood, they built a fence around it, then they set it ablaze until its flames reached up to the sky. No greater fire had ever been lit. Then they went to Ibrahim, seized him and put him into a catapult, then they threw him into the fire. But Allah made it cool and safe for him, and after spending several days in it, he emerged unscathed. For this reason and others, Allah made him an Imam for mankind, for he offered himself to the Most Merciful, he offered his body to the flames, he offered his son as a sacrifice, and he gave his wealth to care for his guests. For all of these reasons he is beloved by the followers of all religions.
فَأَنْجَاهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ
(Then Allah saved him from the fire.) means, He rescued him from it by making it cool and safe for him.
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(Verily, in this are indeed signs for a people who believe.) Ibrahim, peace be upon him, explains to his people that idols are incapable of doing anything,
وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا مَوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ
(And (Ibrahim) said: "You have taken idols instead of Allah. The love between you is only in the life of this world,) Here Ibrahim was rebuking his people for their evil deed of worshipping idols, and telling them: 'You have taken these as gods and you come together to worship them so that there is friendship and love among you in this world,'
ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
(but on the Day of Resurrection,) the situation will be the opposite, and this love and friendship will turn into hatred and enmity. Then
يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ
(you shall deny each other,) meaning, 'you will denounce one another and deny whatever was between you,'
وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا
(and curse each other,) means, the followers will curse their leaders and the leaders will curse their followers.
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ
(Every time a new nation enters (the Fire), it curses its sister nation (that went before))(7:37).
الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ
(Friends on that Day will be foes one to another except those who have Taqwa.)(43:67) And Allah says here:
ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ
(but on the Day of Resurrection, you shall deny each other, and curse each other, and your abode will be the Fire,) meaning, 'your ultimate destiny after all accounts have been settled, will be the fire of Hell, and you will have no one to help you or save you from the punishment of Allah.' This will be the state of the disbelievers. As for the believers, it will be an entirely different matter.
Tafsir Ibn Kathir
عقلی اور نقلی دلائل حضرت ابراہیم کا یہ عقلی اور نقلی دلائل کا وعظ بھی ان لوگوں کے دلوں پر اثر نہ کرسکا اور انہوں نے یہاں بھی اپنی اس شقاوت کا مظاہرہ کیا جواب تو دلیلوں کا دے نہیں سکتے تھے لہذا اپنی قوت سے حق کو دبانے لگے اور اپنی طاقت سے سچ کو روکنے لگے کہنے لگے ایک گڑھا کھودو اس میں آگ بھڑکاؤ اور اس آگ میں اسے ڈال دو کہ جل جائے۔ لیکن اللہ نے ان کے اس مکر کو انہی پر لوٹا دیا مدتوں تک لکڑیاں جمع کرتے رہیں اور ایک گڑھا کھود کر اس کے اردگرد احاطے کی دیواریں کھڑی کرکے لکڑیوں میں آگ لگادی جب اس کے شعلے آسمان تک پہنچنے لگے اور اتنی زور کی آگ روشن ہوئی کہ زمین پر کہیں اتنی آگ نہیں دیکھی گئی تو حضرت ابراہیم ؑ کو پکڑ کر باندھ کر منجنیق میں ڈال کر جھلاکر اس آگ میں ڈال دیا لیکن اللہ نے اسے اپنے خلیل ؑ پر باغ وبہار بنادیا آپ کئی دن کے بعد صحیح سلامت اس میں سے نکل آئے۔ یہ اور اس جیسی قربانیاں تھیں جن کے باعث آپ کو امامت کا منصب عطا ہوا۔ اپنا نفس آپ نے رحمان کے لئے اپنا جسم آپ نے میزان کے لئے اپنی اولاد آپ نے قربان کے لئے اپنا مال آپ نے فیضان کے لئے کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کل ادیان والے آپ سے محبت رکھتے ہیں۔ اللہ نے آگ کو آپ کے لئے باغ بنادیا اس واقعہ میں ایمانداروں کے لئے قدرت الٰہی کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ جن بتوں کو تم نے معبود بنا رکھا ہے یہ تمہارا ایکا اور اتفاق دنیا تک ہی ہے۔ مودۃ زبر کے ساتھ مفعول لہ ہے۔ ایک قرأت میں پیش کے ساتھ بھی ہے یعنی تمہاری یہ بت پرستی تمہاری لئے گو دنیا کی محبت حاصل کرادے۔ لیکن قیامت کے دن معاملہ برعکس ہوجائے گا مودۃ کی جگہ نفرت اور اتفاق کے بدلے اختلاف ہوجائے گا۔ ایک دوسرے سے جھگڑوگے ایک دوسرے پر الزام رکھوگے ایک دوسرے پر لعنتیں بھیجوگے۔ ہر گروہ دوسرے گروپ پر پھٹکار برسائے گا۔ سب دوست دشمن بن جائیں گے ہاں پرہیزگار نیک کار آج بھی ایک دوسرے کے خیر خواہ اور دوست رہیں گے۔ کفار سب کے سب میدان قیامت کی ٹھوکریں کھا کھا کر بالآخر جہنم میں جائیں گے۔ گو اتنا بھی نہ ہوگا کہ ان کی کسی طرح مدد کرسکے۔ حدیث میں ہے تمام اگلے پچھلوں کو اللہ تعالیٰ ایک میدان میں جمع کرے گا۔ کون جان سکتا ہے کہ دونوں سمت میں کس طرف ؟ حضرت ام ہانی ؓ جو حضرت علی ؓ کی ہمشیرہ ہیں جواب دیا کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی زیادہ علم والا ہے۔ پھر ایک منادی عرش تلے سے آواز دے گا کہ اے موحدو ! بت توحید والے اپنا سر اٹھائیں گے پھر یہی آواز لگائے گا پھر سہ بارہ یہی پکارے گا اور کہے اللہ تعالیٰ نے تمہاری تمام لغزشوں سے درگزر فرمالیا۔ اب لوگ کھڑے ہونگے اور آپ کی ناچاقیوں اور لین دین کا مطالبہ کرنے لگیں گے تو اللہ وحدہ لاشریک لہ کی طرف سے آواز دی جائے گی کہ اے اہل توحید تم تو آپس میں ایک دوسرے کو معاف کردو تمہیں اللہ بدل دے گا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ قَوْمِ إِبْرَاهِيمَ فِي كُفْرِهِمْ وَعِنَادِهِمْ وَمُكَابَرَتِهِمْ، وَدَفْعِهِمُ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ: إِنَّهُ مَا كَانَ لَهُمْ جَوَابٌ بَعْدَ مَقَالَةِ إِبْرَاهِيمَ هَذِهِ الْمُشْتَمِلَةِ عَلَى الْهُدَى وَالْبَيَانِ، ﴿إِلا أَنْ قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ﴾ ، وَذَلِكَ لِأَنَّهُمْ قَامَ عَلَيْهِمُ الْبُرْهَانُ، وَتَوَجَّهَتْ عَلَيْهِمُ الْحُجَّةُ، فَعَدَلُوا إِلَى اسْتِعْمَالِ جَاهِهِمْ وَقُوَّةِ مُلْكِهِمْ، ﴿قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ. فَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الأسْفَلِينَ﴾ [الصَّافَّاتِ: ٩٧، ٩٨] ، وَذَلِكَ أَنَّهُمْ حَشَدوا فِي جَمْعِ أَحِطَابٍ عَظِيمَةٍ مُدَّةً طَوِيلَةً، وحَوّطوا حَوْلَهَا، ثُمَّ أَضْرَمُوا فِيهَا النَّارَ، فَارْتَفَعَ لَهَا لَهَبٌ إِلَى عَنَان السَّمَاءِ: وَلَمْ تُوقَدْ [[فِي ت: "توجد".]] نَارٌ قَطُّ أَعْظَمُ مِنْهَا، ثُمَّ عَمَدُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ فَكَتَّفُوهُ وَأَلْقَوْهُ فِي كفَّة الْمَنْجَنِيقِ، ثُمَّ قَذَفُوا بِهِ فِيهَا، فَجَعَلَهَا اللَّهُ عَلَيْهِ بَرْدًا وَسَلَامًا، وَخَرَجَ مِنْهَا سَالِمًا بَعْدَ مَا مَكَثَ فِيهَا أَيَّامًا. وَلِهَذَا وَأَمْثَالِهِ جَعَلَهُ اللَّهُ لِلنَّاسِ إِمَامًا. فَإِنَّهُ بَذَلَ نَفْسَهُ لِلرَّحْمَنِ، وَجَسَدَهُ لِلنِّيرَانِ، وَسَخَا بِوَلَدِهِ لِلْقُرْبَانِ، وَجَعَلَ مَالَهُ لَلضِّيفَانِ، وَلِهَذَا اجْتَمَعَ عَلَى مَحَبَّتِهِ جَمِيعُ أَهْلِ الْأَدْيَانِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَأَنْجَاهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ﴾ أَيْ: سَلَّمه [اللَّهُ] [[زيادة من ت، ف.]] مِنْهَا، بِأَنْ جَعَلَهَا عَلَيْهِ بَرْدًا وَسَلَامًا، ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ. وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا مَوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ يَقُولُ لِقَوْمِهِ مقرِّعا لَهُمْ وَمُوَبَّخًا عَلَى سُوءِ صَنِيعِهِمْ، فِي عِبَادَتِهِمُ الْأَوْثَانَ: إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ هَذِهِ لِتَجْتَمِعُوا عَلَى عِبَادَتِهَا فِي الدُّنْيَا، صَدَاقَةً وَأُلْفَةً مِنْكُمْ، بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا. وَهَذَا عَلَى قِرَاءَةِ مَنْ نَصَبَ ﴿مَوَدَّةَ بَيْنِكُمْ﴾ ، عَلَى أَنَّهُ مَفْعُولٌ لَهُ، وَأَمَّا عَلَى قِرَاءَةِ الرَّفْعِ فَمَعْنَاهُ: إِنَّمَا اتِّخَاذُكُمْ [[في ف، أ: "إنما اتخذتم".]] هَذَا يُحَصّل لَكُمُ الْمَوَدَّةَ فِي الدُّنْيَا فَقَطْ ﴿ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ يَنْعَكِسُ هَذَا الْحَالُ، فَتَبْقَى هَذِهِ الصَّدَاقَةُ وَالْمَوَدَّةُ بَغْضَة وَشَنَآنًا، فَـ ﴿يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ﴾ أَيْ: تَتَجَاحَدُونَ مَا كَانَ بَيْنَكُمْ، ﴿وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾ أَيْ: يَلْعَنُ الْأَتْبَاعُ الْمَتْبُوعِينَ، وَالْمَتْبُوعُونَ [[في ت، ف: "المتبوعين" وهو خطأ.]] الْأَتْبَاعَ، ﴿كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا﴾ [الْأَعْرَافِ: ٣٨] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿الأخِلاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلا الْمُتَّقِينَ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٦٧] ، وَقَالَ هَاهُنَا ﴿ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ نَاصِرِينَ﴾ أَيْ: وَمَصِيرُكُمْ وَمَرْجِعُكُمْ بَعْدَ عَرَصَاتِ الْقِيَامَةِ إِلَى النَّارِ، وَمَا لَكَمَ مِنْ نَاصِرٍ يَنْصُرُكُمْ، وَلَا مُنْقِذٍ يُنْقِذُكُمْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ. وَهَذَا حَالُ الْكَافِرِينَ، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُونَ فَبِخِلَافِ ذَلِكَ.
قَالَ [[في ت: "روى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأحْمَسي [[في أ: "الأحمصي".]] حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الثَّقَفِيُّ [حَدَّثَنَا] [[زيادة من ف، أ.]] الرَّبِيعُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرة الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ [[في ت: "بإسناده".]] عَنْ أُمِّ هَانِئٍ -أُخْتِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ -قَالَتْ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ ﷺ: "أخبرِك أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَجْمَعُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، فَمَنْ يَدْرِي أَيْنَ الطَّرَفَانِ " [[في ت، ف: "الطرفين".]] ، فَقَالَتِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. "ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ: يَا أَهْلَ التَّوْحِيدِ، فَيَشْرَئِبُّونَ" قال أبو عاصم: يرفعون رؤوسهم. "ثُمَّ يُنَادِي: يَا أَهْلَ التَّوْحِيدِ، ثُمَّ يُنَادِي الثَّالِثَةَ: يَا أَهْلَ التَّوْحِيدِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ عَفَا عَنْكُمْ" قَالَ: "فَيَقُولُ النَّاسُ قَدْ تَعَلَّقَ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ فِي ظُلامات الدُّنْيَا -يَعْنِي: الْمَظَالِمَ -ثُمَّ يُنَادِي: يَا أَهْلَ التَّوْحِيدِ، لِيَعْفُ بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ، وَعَلَى اللَّهِ الثَّوَابُ" [[ورواه الطبراني في المعجم الأوسط برقم (٤٨٠٣) من طريق محمد بن إسماعيل الأحمسي به، وقال: "لا يروى عن أم هانئ إلا بهذا الإسناد، تفرد به أبو عاصم". وقال الهيثمي في المجمع (١٠/٣٥٥) : "فيه أبو عاصم - الربيع بن إسماعيل - منكر الحديث، قاله أبو حاتم".]] .
۞ فَـَٔامَنَ لَهُۥ لُوطٌۭ ۘ وَقَالَ إِنِّى مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّىٓ ۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ
And Lot believed him. [Abraham] said, "Indeed, I will emigrate to [the service of] my Lord. Indeed, He is the Exalted in Might, the Wise."
پس اُن پر (ایک) لوط ایمان لائے اور (ابراہیم) کہنے لگے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ بیشک وہ غالب حکمت والا ہے
و لوط به او [= ابراهیم] ایمان آورد، و (ابراهیم) گفت: «من بسوی پروردگارم هجرت میکنم که او صاحب قدرت و حکیم است!»
Tafsir Ibn Kathir
So, Lut believed in him. He said: "I will emigrate for the sake of my Lord. Verily, He is the All-Mighty, the All-Wise. (26)And We bestowed on him, Ishaq and Ya'qub, and We ordained among his offspring prophethood and the Book, and We granted him his reward in this world; and verily, in the Hereafter he is indeed among the righteous (27)
The Faith of Lut and His Emigration with Ibrahim
Allah tells us that Lut believed in Ibrahim. It was said that he was the son of Ibrahim's brother, and that his name was Lut bin Haran bin Azar. None of Ibrahim's people believed in Ibrahim besides Lut and Sarah the wife of Ibrahim. But if it is asked how we may reconcile this Ayah with the Hadith narrated in the Sahih which says that when Ibrahim passed by that tyrant and he asked about Sarah and what her relationship was to him, Ibrahim said, "My sister." Then he went to her and said, "I told him that you are my sister, so do not let him think I am lying, for there are no believers on earth except for you and I, and you are my sister in faith." It seems – and Allah knows best – that the meaning here is, there is no other Muslim couple on earth apart from you and I. Among his people, only Lut believed in him and migrated with him to Syria, then during Ibrahim's lifetime he was sent as a Messenger to the people of Sadum (Sodom) where he settled. We have already discussed their story and more is to come.
وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي
(He (Ibrahim) said: "I will emigrate for the sake of my Lord.") It may be that the pronoun in the verb "he said" refers to Lut, because he was the last person mentioned before this phrase; or it may refer to Ibrahim. Ibn 'Abbas and Ad-Dahhak said that Ibrahim is the one who is referred in the phrase.
فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ
(So, Lut believed in him.) i.e., out of all his people. Then Allah tells us that he chose to leave them so that he might be able to follow his religion openly. So he said:
إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(Verily, He is the All-Mighty, the All-Wise.) Power belongs to Him and to His Messenger and to those who believe in him, and He is Wise in all that He says and does, and in all His rulings and decrees, both universal and legislative.
Qatadah said, "They migrated together from Kutha, which is on the outskirts of Kufa, and went to Syria."
Allah gave Ibrahim, Ishaq and Ya'qub, and ordained Prophethood in His Offspring
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ
(And We bestowed on him, Ishaq and Ya'qub,) This is like the Ayah,
فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ ۖ وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا
(So, when he had turned away from them and from those whom they worshipped besides Allah, We gave him Ishaq and Ya'qub, and each one of them We made a Prophet.)(19:49)
That is, when he left his people, Allah gave him joy in a righteous son who was also a Prophet, to whom in turn was born, in his grandfather's lifetime, a righteous son who was also a Prophet. Allah also says:
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً ۖ
(And We bestowed upon him Ishaq, and Ya'qub in addition)(21:72) meaning, as an additional gift. This is like the Ayah,
فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ
(But We gave her glad tidings of Ishaq, and after Ishaq, of Ya'qub.)(11:71) meaning, to this son would be born a son during their lives, who would be a delight to them.
وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ
(and We ordained among his offspring prophethood and the Book,) This is a tremendous blessing. Not only did Allah take him as a close friend and make him an Imam for mankind, but He also ordained prophethood and the Book among his offspring. After the time of Ibrahim there was no Prophet who was not from among his descendants. All of the Prophets of the Children of Israel were from among his descendants, from Ya'qub bin Ishaq bin Ibrahim to the last of them, 'Isa bin Maryam, who stood in the midst of his people and announced the good news of the Hashimi Qurashi Arab Prophet, the last of all the Messengers, the leader of the sons of Adam in this world and the next, whom Allah chose from the heart of the Arab nation, from the descendants of Isma'il bin Ibrahim, may peace be upon them. There is no Prophet from the line of Isma'il besides him, may the best of blessings and peace be upon him.
وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
(and We granted him his reward in this world; and verily, in the Hereafter he is indeed among the righteous.) Allah granted him happiness in this world that was connected to happiness in the Hereafter, for in this world he had plentiful provision, a splendid home, a beautiful and righteous wife, and he was and still is spoken of highly, for everyone loves him and regards him as a friend. Ibn 'Abbas, Mujahid, Qatadah and others said: "He obeyed Allah in all ways." This is like the Ayah,
وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ
(And of Ibrahim who fulfilled all.)(53:37) He did all that he was commanded to do and obeyed his Lord to the utmost. Allah says:
وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
(and We granted him his reward in this world; and verily, in the Hereafter he is indeed among the righteous.) And He says:
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Verily, Ibrahim was an Ummah, Qanit to Allah, a Hanif, and he was not one of the idolators) until:
وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
(and in the Hereafter he shall be of the righteous)(16:120-122).
Tafsir Ibn Kathir
حضرت لوط ؑ اور حضرت سارہ ؓ کہا جاتا ہے کہ حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے۔ لوط بن ہارون بن آزر۔ آپ کی ساری قوم میں سے ایک تو حضرت لوط ایمان لائے تھے اور ایک حضرت سارہ جو آپ کی بیوی تھی ایک روایت میں ہے کہ جب آپ کی بیوی صاحبہ کو اس ظالم بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کے ذریعہ اپنے پاس بلوایا تو حضرت ابراہیم نے کہا تھا کہ دیکھو میں نے اپنا رشتہ تم سے بھائی بہن کا بنایا ہے تم بھی یہی کہنا کیونکہ اس وقت دنیا پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے تو ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ کوئی میاں بیوی ہمارے سوا ایماندار نہیں۔ حضرت لوط آپ پر ایمان تو لائے مگر اسی وقت ہجرت کرکے شام چلے گئے تھے پھر اہل سدوم کی طرف نبی بناکر بھیج دئے گئے تھے جیسا کہ بیان گذرا اور آئے گا۔ ہجرت کا ارادہ یا تو حضرت لوط ؑ نے ظاہر فرمایا کیونکہ ضمیر کا مرجع اقرب تو یہی ہے۔ یا حضرت ابراہیم نے جیسا کہ ابن عباس ؓ ما اور ضحاک ؓ کا بیان ہے۔ تو گویا حضرت لوط ؑ کے ایمان لانے کے بعد آپ نے اپنی قوم سے دست برداری کرلی اور اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ اور کسی جگہ جاؤں شاید وہاں والے اللہ والے بن جائیں۔ عزت اللہ کی اس کے رسول کی اور مومنوں کی ہے۔ حکمت والے اقوال، افعال، تقدیر، شریعت اللہ کی ہے۔ قتادۃ فرماتے ہیں کہ آپ کوفے سے ہجرت کرکے شام کے ملک کی طرف گئے۔ حدیث میں ہے کہ ہجرت کے بعد کی ہجرت حضرت ابراہیم ؑ کی ہجرت گاہ کی طرف ہوگی۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں زمین تھوک دے گی اور اللہ ان سے نفرت کرے گا انہیں آگ سورؤں اور بندروں کے ساتھ ہنکاتی پھرے گی۔ راتوں کو دنوں کو انہی کیساتھ رہے گی۔ اور ان کی جھڑن کھاتی رہے گی۔ اور روایت میں ہے جو ان میں سے پیچھے رہ جائے گا اسے یہ آگ کھاجائے گی اور مشرق کی طرف سے کچھ لوگ میری امت میں ایسے نکلیں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا ان کے خاتمے کے بعد دوسرا گروہ کھڑا ہوگا۔ یہاں تک کہ آپ نے بیس سے بھی زیادہ بار اسے دہرایا۔ یہاں تک کہ انہی کے آخری گروہ میں سے دجال نکلے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو کا بیان ہے کہ ایک زمانہ تو ہم پر وہ تھا کہ ہم ایک مسلمان بھائی کے لئے درہم و دینار کو کوئی چیز نہیں سمجھتے تھے اپنی دولت اپنے بھائی کی ہی سمجھتے تھے پھر وہ زمانہ آیا کہ دولت ہمیں اپنے مسلم بھائی سے زیادہ عزیز معلوم ہونے لگی۔ میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ اگر تم بیلوں کی دموں کے پیچھے لگ جاؤگے اور تجارت میں مشغول ہوجاؤگے اور اللہ کی راہ کا جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری گردنوں میں ذلت کے پٹے ڈال دے گا جو اس وقت تک تم سے الگ نہ ہونگے جب تک کہ تم پھر سے وہیں نہ آجاؤ جہاں تھے اور تم توبہ نہ کرلو۔ پھر وہی حدیث بیان کی جو اوپر گزری اور فرمایا کہ میری امت میں ایسے لوگ ہونگے جو قرآں پڑھیں گے اور بدعملیاں کریں گے قرآن ان کے حلقوم سے نیچے نہیں اترے گا۔ ان کے علم کو دیکھ کر تم اپنے علموں کو حقیر سمجھنے لگوگے۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے پس جب یہ لوگ ظاہر ہوں تو انہیں قتل کردینا پھر نکلیں پھر مار ڈالنا پھر ظاہر ہوں پھر قتل کردینا۔ وہ بھی خوش نصیب ہے جو ان کے ہاتھوں قتل کیا جائے اور وہ بھی خوش نصیب ہے جو انکو قتل کریں۔ جب ان کے گروہ نکلیں گے اللہ انہیں برباد کردے گا پھر نکلیں گے پھر برباد ہوجائیں گے اسی طرح حضور ﷺ نے کوئی بیس مرتبہ بلکہ اس سے بھی زیادہ بار یہی فرمایا۔ ہم نے ابراہیم ؑ کو اسحاق ؑ نامی بیٹا دیا اور اسحاق ؑ کو یعقوب ؑ نامی۔ جیسے فرمان ہے کہ جب خلیل اللہ نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیا تو اللہ نے آپ کو اسحاق اور یعقوب دیا اور ہر ایک کو نبی بنایا۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ پوتا بھی آپ کی موجودگی میں ہوجائے گا اسحاق ؑ بیٹے تھے اور یعقوب ؑ پوتے تھے۔ اور آیت میں ہے کہ ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کی بیوی صاحبہ کو اسحاق کی اور اسحاق ؑ کے پیچھے یعقوب ؑ کی بشارت دی۔ اور فرمایا کہ قوم کو چھوڑنے کے بدلے اللہ تمہارے گھر کی بستی یہ دے گا۔ جس سے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ پس ثابت ہوا کی حضرت یعقوب ؑ حضرت اسحاق ؑ کے فرزند تھے۔ یہی سنت سے بھی ثابت ہے قرآن کی اور آیت میں ہے کہ تم اس وقت موجود تھے جب حضرت یعقوب ؑ موت کا وقت آیا تو وہ اپنے لڑکوں سے کہنے لگے تم میرے بعد کس کی عبادت کروگے ؟ انہوں نے کہا آپ کی اور آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام، اسماعیل ؑ ، اسحاق ؑ کے والد کی جو یکتا ہے اور واحد لاشریک ہے بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب ؑ اسحاق ؑ بن ابراہیم ہیں۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ ابن عباس ؓ ما سے جو مروی ہے کہ اسحاق و یعقوب حضرت ابراہیم کے فرزند تھے اس سے مراد فرزند کے فرزند کو فرزند کہہ دینا۔ یہ نہیں کہ صلبی فرزند دونوں تھے ابن عباس ؓ ما تو کہا ہے کہ ادنی آدمی بھی ایسی ٹھوکر نہیں کھاسکتا۔ ہم نے انہی کی اولاد میں کتاب ونبوۃ رکھ دی۔ خلیل کا خطاب انہیں کو ملا انہیں کہا گیا پھر ان کے بعد انہی کی نسل میں نبوت وحکمت رہی بنی اسرائیل کے تمام انبیاء حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ؑ کی نسل سے ہیں۔ حضرت عیسیٰ تک تو یہ سلسلہ یونوی چلا۔ بنواسرائیل کے اس آخری پیغمبر نے اپنی امت کو صاف کہہ دیا کہ میں نے تمہیں نبی عربی قریشی ہاشمی خاتم الرسل سید اولاد آدم کی بشارت دیتا ہوں۔ جنہیں اللہ نے چن لیا ہے آپ حضرت اسماعیل کی نسل میں سے تھے۔ حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے آپ کے سوائے اور نبی نہیں ہوا۔ علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم۔ ہم نے انہیں دنیا کے ثواب بھی دئیے اور آخرت کی نیکیاں بھی عطا فرمائیں۔ دنیا میں رزق وسیع، جگہ پاک، بیوی نیک، سیرت جمیل اور ذکر حسن دیا ساری دنیا کے دلوں میں آپ کی محبت ڈال دی۔ باوجودیکہ اپنی اطاعت کی توفیق روز بروز اور زیادہ دی۔ کامل اطاعت گزاری کی توفیق کے ساتھ دنیا کی بھلائیاں بھی عطا فرمائیں۔ اور آخرت میں بھی صالحین میں رکھا۔ جیسے فرمان ہے ابراہیم مکمل فرماں بردار تھے موحد تھے مشرکوں میں سے نہ تھے آخرت میں بھلے لوگوں کا ساتھی ہوا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ: أَنَّهُ آمَنُ لَهُ لُوطٌ، يُقَالُ: إِنَّهُ ابْنُ أَخِي إِبْرَاهِيمَ، يَقُولُونَ هُوَ: لُوطُ بْنُ هَارَانَ بْنِ آزَرَ، يَعْنِي: وَلَمْ يُؤْمِنْ بِهِ مِنْ قَوْمِهِ سِوَاهُ، وَسَارَّةُ امْرَأَةُ [إِبْرَاهِيمَ] [[زيادة من ف، أ.]] الْخَلِيلِ. لَكِنْ يُقَالُ: كَيْفَ الْجَمْعُ بَيْنَ هَذِهِ الْآيَةِ، وَبَيْنَ الْحَدِيثِ الْوَارِدِ فِي الصَّحِيحِ [[صحيح مسلم برقم (٢٣٧١) .]] : أَنَّ إِبْرَاهِيمَ حِينَ مَرّ عَلَى ذَلِكَ الْجَبَّارِ، فَسَأَلَ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَارَّةَ: مَا هِيَ مِنْهُ؟ فَقَالَ: [هِيَ] [[زيادة من ت.]] أُخْتِي، ثُمَّ جَاءَ إِلَيْهَا فَقَالَ لَهَا: إِنِّي قَدْ قُلْتُ لَهُ: "إِنَّكِ: أُخْتِي"، فَلَا تُكَذِّبِينِي، فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ [أَحَدٌ] [[زيادة من ت، أ.]] مُؤْمِنٌ غَيْرُكِ وَغَيْرِي [[في ت: "غيري وغيرك".]] ، فَأَنْتِ أُخْتِي فِي الدِّينِ. وَكَأَنَّ الْمُرَادَ مِنْ هَذَا -والله أعلم -أنه ليس على وجه الْأَرْضِ زَوْجَانِ عَلَى الْإِسْلَامِ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَإِنَّ لُوطًا عَلَيْهِ السَّلَامُ، آمَنَ بِهِ مِنْ قَوْمِهِ، وَهَاجَرَ مَعَهُ إِلَى بِلَادِ الشَّامِ، ثُمَّ أرسِل فِي حَيَاةِ الْخَلِيلِ إِلَى أَهْلِ "سَدوم" وَإِقْلِيمِهَا، وَكَانَ مِنْ أَمْرِهِمْ [[في ت: "إبراهيم".]] مَا تَقَدَّمَ وَمَا سَيَأْتِي.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَى رَبِّي﴾ يَحْتَمِلُ عَوْدَ الضَّمِيرِ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَقَالَ﴾ ، عَلَى لُوطٍ، لِأَنَّهُ [[في ت، ف: "الذي هو".]] أَقْرَبُ الْمَذْكُورَيْنِ، وَيَحْتَمِلُ عُودَهُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ -قَالَ [[في أ: "قاله".]] ابْنُ عَبَّاسٍ، وَالضَّحَاكُ: وَهُوَ الْمُكَنَّى عَنْهُ بِقَوْلِهِ: ﴿فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ﴾ أَيْ: مِنْ قَوْمِهِ.
ثُمَّ أَخْبَرَ عَنْهُ بِأَنَّهُ اخْتَارَ الْمُهَاجَرَةَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمُ، ابْتِغَاءَ إِظْهَارِ الدِّينِ وَالتَّمَكُّنِ مِنْ ذَلِكَ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ﴾ أَيْ: لَهُ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ بِهِ، ﴿الْحَكِيمُ﴾ فِي أَقْوَالِهِ وَأَفْعَالِهِ وَأَحْكَامِهِ الْقَدَرِيَّةِ وَالشَّرْعِيَّةِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: هَاجَرَا جَمِيعًا مِنْ "كَوْثَى"، وَهِيَ مِنْ سَوَادِ [[في ف، أ: "من أرض سواد".]] الْكُوفَةِ إِلَى الشَّامِ. قَالَ: وذُكر لَنَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "إِنَّهَا سَتَكُونُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ، يَنْحَازُ أَهْلُ الْأَرْضِ إِلَى مُهَاجَر إِبْرَاهِيمَ، وَيَبْقَى فِي الْأَرْضِ شرار أهلها، حتى تلفظهم أرضهم وتقذرُهم رُوحُ اللَّهِ، وَتَحْشُرهُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، تَبِيتُ مَعَهُمْ إِذَا بَاتُوا، وتَقِيل مَعَهُمْ إِذَا قَالُوا، وَتَأْكُلُ مَا سَقَطَ مِنْهُمْ".
وَقَدْ أَسْنَدَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ هَذَا الْحَدِيثَ، فَرَوَاهُ مُطَوَّلًا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ [[في أ: "فقال".]] : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَر، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْر بْنِ حَوْشَب قَالَ: لَمَّا جَاءَتْنَا بَيْعَةُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَدِمْتُ الشَّامَ فَأُخْبِرْتُ بِمَقَامٍ يَقُومُهُ نَوْفٌ البِكَالي، فَجِئْتُهُ؛ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فانتبذَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ خَمِيصة، وَإِذَا [[في ف: "فإذا".]] هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ. فَلَمَّا رَآهُ نَوْفٌ أَمْسَكَ عَنِ الْحَدِيثِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّهَا سَتَكُونُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ، فَيَنْحَازُ النَّاسُ إِلَى مُهَاجرَ إِبْرَاهِيمَ، لَا يَبْقَى فِي الْأَرْضِ إِلَّا شَرَارُ أَهْلِهَا، فَتَلْفِظُهُمْ [[في ف: "تلفظهم".]] أَرَضُوهُمْ، تقْذَرهم نفسُ الرَّحْمَنِ، تَحْشُرُهُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ فَتَبِيتُ مَعَهُمْ إِذَا بَاتُوا، وتَقِيل مَعَهُمْ إِذَا قَالُوا، وَتَأْكُلُ مِنْهُمْ مَنْ تَخَلَّف". قَالَ: وَسَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "سَيَخْرُجُ أُنَاسٌ [[في ت: "ناس".]] مِنْ أُمَّتِي من قبل المشرق، يقرؤون الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيهم، كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطع، كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ" حَتَّى عَدّها زِيَادَةً عَلَى عِشْرِينَ مَرَّةً "كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ، حَتَّى يَخْرُجَ الدَّجَّالُ فِي بَقِيَّتِهِمْ" [[المسند (٢/١٩٨) .]] .
وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ أَبِي دَاوُدَ، وَعَبْدِ الصَّمَدِ، كِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوائي، عَنْ قَتَادَةَ، بِهِ [[المسند (٢/٢٠٩) .]]
وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي سُنَنِهِ، فَقَالَ فِي كِتَابِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي سُكْنَى الشَّامِ:
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي [أَبِي] [[زيادة من سنن أبي داود.]] ، عَنْ قتادة، عن شهر بن حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يَقُولُ: "سَتَكُونُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ، فَخِيَارُ أَهْلِ الْأَرْضِ أَلْزَمُهُمْ مُهاجَر إِبْرَاهِيمَ، وَيَبْقَى فِي الْأَرْضِ شِرَارُ أَهْلِهَا تَلْفِظُهُمْ أَرْضُهُمْ وتَقْذرهم نَفْسُ الرَّحْمَنِ، وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ" [[سنن أبي داود برقم (٢٤٨٢) .]] .
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَنَاب يَحْيَى بْنُ أَبِي حيَّة، عَنْ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ [[في ت: "عن".]] عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَر يَقُولُ [[في أ: "سمعت عبد الله بن عمرو قال".]] لَقَدْ رأيتُنا وَمَا صَاحِبُ الدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ بِأَحَقِّ مِنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، ثُمَّ لَقَدْ رَأَيْتُنَا بآخِرَة الْآنَ، وَالدِّينَارُ وَالدِّرْهَمُ أَحَبُّ إِلَى أَحَدِنَا مِنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "لَئِنْ أَنْتُمُ اتَّبَعْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَتَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ، وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، لَيُلْزِمَنَّكُمُ اللَّهُ مذلَّة فِي أَعْنَاقِكُمْ، ثُمَّ لَا تُنْزَعُ مِنْكُمْ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى مَا كُنْتُمْ عَلَيْهِ، وَتَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ". وَسَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "لَتَكُونَنَّ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ إِلَى مُهاجر أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ حَتَّى لَا يَبْقَى فِي الْأَرَضِينَ [[في ت، ف: "الأرض".]] إِلَّا شِرَارُ أَهْلِهَا وَتَلْفِظُهُمْ أَرَضُوهُمْ، وتقذرهم روح الرحمن، وتحشرهم النار مع القردة وَالْخَنَازِيرِ، تَقِيلُ حَيْثُ يَقِيلُونَ [[في، هـ، ت، ف، أ: "تقيل معهم حيث قالوا" والمثبت من المسند.]] ، وَتَبِيتُ حَيْثُ يَبِيتُونَ، وَمَا سَقَطَ مِنْهُمْ فَلَهَا". وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "يَخْرُجُ من أمتي قوم يسيئون الأعمال، يقرؤون الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ -قَالَ يَزِيدُ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ -يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ عِلْمَهُ مَعَ عِلْمِهِمْ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ، فَإِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ، فَطُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ، وَطُوبَى لِمَنْ قَتَلُوهُ. كُلَّمَا طَلَعَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قَطعَه اللَّهُ". فَرَدَّدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عِشْرِينَ مَرَّةً، أَوْ أَكْثَرَ، وَأَنَا أَسْمَعُ [[المسند (٢/٨٤) وقال الهيثمي في المجمع (٥/٢٥١) "فيه أبو جناب الكلبي وهو ضعيف" وقال الحافظ ابن حجر في الفتح (١١/٣٨٠) "سنده لا بأس به".]] .
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ الْبَيْهَقِيُّ: أَخْبَرَنَا أَبُو الحُسَيْن بْنُ الْفَضْلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ الدِّمَشْقِيَّانِ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ نَافِعٍ -وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ، عَمَّنْ حدَّثه، عَنْ نَافِعٍ -عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: "سَيُهَاجِرُ أَهْلُ الْأَرْضِ هِجْرَةً بَعْدَ هِجْرَةٍ، إِلَى مهاجَر إِبْرَاهِيمَ، حَتَّى لَا يَبْقَى إِلَّا شَرَارُ أَهْلِهَا، تَلْفِظُهُمُ الْأَرَضُونَ [[في ف: "الأرض.]] وَتَقْذَرُهُمْ رُوحُ الرَّحْمَنِ، وتحشرهم النار مع القردة والخنازير، تبيت معهم حَيْثُ بَاتُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا، لَهَا مَا سَقَطَ مِنْهُمْ".
غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ نَافِعٍ. وَالظَّاهِرُ أَنَّ الْأَوْزَاعِيَّ قَدْ رَوَاهُ عَنْ شَيْخٍ لَهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَرِوَايَتُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَقْرَبُ إِلَى الْحِفْظِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ﴾ ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلا جَعَلْنَا نَبِيًّا﴾ [مَرْيَمَ: ٤٩] أَيْ: إِنَّهُ لَمَّا فَارَقَ قومَه أَقَرَّ اللَّهُ عَيْنَهُ بِوُجُودِ وَلَدٍ صَالِحٍ نَبِيٍّ [وَوُلِدَ لَهُ وَلَدٌ صَالِحٌ] [[زيادة من ت، ف.]] فِي حَيَاةِ جَدِّهِ. وَكَذَلِكَ [[في ف: "ولذلك".]] قَالَ اللَّهُ: ﴿وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً﴾ [الأنبياء: ٧٢] أَيْ: زِيَادَةً، كَمَا قَالَ: ﴿فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ﴾ أَيْ: ويولَد لِهَذَا الْوَلَدِ وَلَدٌ فِي حَيَاتِكُمَا، تَقَرُّ بِهِ أَعْيُنُكُمَا. وَكَوْنُ يَعْقُوبَ وَلَدٌ لِإِسْحَاقَ نَصَّ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، وَثَبَتَتْ بِهِ السُّنَّةُ النَّبَوِيَّةُ، قَالَ اللَّهُ: ﴿أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ﴾ [الْبَقَرَةِ: ١٣٣] ، وَفِي الصَّحِيحَيْنِ: "إِنَّ الْكَرِيمَ ابنَ الْكَرِيمِ ابنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يوسفُ بنَ يعقوبَ بْنِ إسحاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ" [[صحيح البخاري برقم (٤٦٨٨) من حديث ابن عمر، ولم أجده عند مسلم.]] .
فَأَمَّا مَا رَوَاهُ الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ [نَافِلَةً] ﴾ [[زيادة من ف، أ.]] ، قَالَ: "هُمَا وَلَدَا إِبْرَاهِيمَ". فَمَعْنَاهُ: أَنَّ وَلَدَ الْوَلَدِ بِمَنْزِلَةِ الْوَلَدِ؛ فَإِنَّ هَذَا أَمْرٌ لَا يَكَادُ يَخْفَى عَلَى مَنْ هُوَ دُونَ ابْنِ عَبَّاسٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ﴾ ، هَذِهِ خِلْعَة [[في أ: "خلقة".]] سَنية عَظِيمَةٌ، مَعَ اتِّخَاذِ اللَّهِ إِيَّاهُ خَلِيلًا وَجَعْلِهِ لِلنَّاسِ إِمَامًا، أَنْ جَعَلَ فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ، فَلَمْ يُوجَدْ نَبِيٌّ بَعْدَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِلَّا وَهُوَ مِنْ سُلَالَتِهِ، فَجَمِيعُ أَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ سُلالة يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَتَّى كَانَ آخِرُهُمْ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَقَامَ فِي مَلَئِهِمْ مُبَشِّرًا بِالنَّبِيِّ الْعَرَبِيِّ الْقُرَشِيِّ الْهَاشِمِيِّ، خَاتَمِ الرُّسُلِ عَلَى الْإِطْلَاقِ، وَسَيِّدِ وَلَدِ آدَمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ مِنْ صَمِيمِ الْعَرَبِ العَرْباء، مِنْ سُلَالَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ: وَلَمْ يُوجَدْ نَبِيٌّ مِنْ سُلَالَةِ إِسْمَاعِيلَ سِوَاهُ، عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ وَالسَّلَامِ [مِنَ اللَّهِ تَعَالَى] [[زيادة من ت، وفي أ: "من الله".]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ﴾ أَيْ: جَمَعَ اللَّهُ لَهُ بَيْنَ سَعَادَةِ الدُّنْيَا الْمَوْصُولَةِ بِسَعَادَةِ الْآخِرَةِ، فَكَانَ لَهُ فِي الدُّنْيَا الرِّزْقُ الْوَاسِعُ الهنيَّ وَالْمَنْزِلُ الرَّحْب، وَالْمَوْرِدُ الْعَذْبُ، وَالزَّوْجَةُ الْحَسَنَةُ الصَّالِحَةُ، وَالثَّنَاءُ الْجَمِيلُ، وَالذِّكْرُ الْحَسَنُ، فَكُلُّ أَحَدٍ يُحِبُّهُ وَيَتَوَلَّاهُ، كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُجَاهِدٌ وقَتَادَةُ وَغَيْرُهُمْ، مَعَ الْقِيَامِ بِطَاعَةِ اللَّهِ مِنْ جَمِيعِ الْوُجُوهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى﴾ [النَّجْمِ: ٣٧] ، أَيْ: قَامَ بِجَمِيعِ مَا أُمِرَ بِهِ، وَكَمَّلَ طَاعَةَ رَبِّهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ﴾ ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ. شَاكِرًا لأنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ. وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ﴾ [النحل: ١٢٠-١٢١] .
وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِ ٱلنُّبُوَّةَ وَٱلْكِتَٰبَ وَءَاتَيْنَٰهُ أَجْرَهُۥ فِى ٱلدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُۥ فِى ٱلْءَاخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ
And We gave to Him Isaac and Jacob and placed in his descendants prophethood and scripture. And We gave him his reward in this world, and indeed, he is in the Hereafter among the righteous.
اور ہم نے اُن کو اسحٰق اور یعقوب بخشے اور اُن کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (مقرر) کر دی اور ان کو دنیا میں بھی اُن کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے
و (در اواخر عمر،) اسحاق و یعقوب را به او بخشیدیم و نبوت و کتاب آسمانی را در دودمانش قرار دادیم و پاداش او را در دنیا دادیم و او در آخرت از صالحان است!
Tafsir Ibn Kathir
So, Lut believed in him. He said: "I will emigrate for the sake of my Lord. Verily, He is the All-Mighty, the All-Wise. (26)And We bestowed on him, Ishaq and Ya'qub, and We ordained among his offspring prophethood and the Book, and We granted him his reward in this world; and verily, in the Hereafter he is indeed among the righteous (27)
The Faith of Lut and His Emigration with Ibrahim
Allah tells us that Lut believed in Ibrahim. It was said that he was the son of Ibrahim's brother, and that his name was Lut bin Haran bin Azar. None of Ibrahim's people believed in Ibrahim besides Lut and Sarah the wife of Ibrahim. But if it is asked how we may reconcile this Ayah with the Hadith narrated in the Sahih which says that when Ibrahim passed by that tyrant and he asked about Sarah and what her relationship was to him, Ibrahim said, "My sister." Then he went to her and said, "I told him that you are my sister, so do not let him think I am lying, for there are no believers on earth except for you and I, and you are my sister in faith." It seems – and Allah knows best – that the meaning here is, there is no other Muslim couple on earth apart from you and I. Among his people, only Lut believed in him and migrated with him to Syria, then during Ibrahim's lifetime he was sent as a Messenger to the people of Sadum (Sodom) where he settled. We have already discussed their story and more is to come.
وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي
(He (Ibrahim) said: "I will emigrate for the sake of my Lord.") It may be that the pronoun in the verb "he said" refers to Lut, because he was the last person mentioned before this phrase; or it may refer to Ibrahim. Ibn 'Abbas and Ad-Dahhak said that Ibrahim is the one who is referred in the phrase.
فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ
(So, Lut believed in him.) i.e., out of all his people. Then Allah tells us that he chose to leave them so that he might be able to follow his religion openly. So he said:
إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(Verily, He is the All-Mighty, the All-Wise.) Power belongs to Him and to His Messenger and to those who believe in him, and He is Wise in all that He says and does, and in all His rulings and decrees, both universal and legislative.
Qatadah said, "They migrated together from Kutha, which is on the outskirts of Kufa, and went to Syria."
Allah gave Ibrahim, Ishaq and Ya'qub, and ordained Prophethood in His Offspring
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ
(And We bestowed on him, Ishaq and Ya'qub,) This is like the Ayah,
فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ ۖ وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا
(So, when he had turned away from them and from those whom they worshipped besides Allah, We gave him Ishaq and Ya'qub, and each one of them We made a Prophet.)(19:49)
That is, when he left his people, Allah gave him joy in a righteous son who was also a Prophet, to whom in turn was born, in his grandfather's lifetime, a righteous son who was also a Prophet. Allah also says:
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً ۖ
(And We bestowed upon him Ishaq, and Ya'qub in addition)(21:72) meaning, as an additional gift. This is like the Ayah,
فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ
(But We gave her glad tidings of Ishaq, and after Ishaq, of Ya'qub.)(11:71) meaning, to this son would be born a son during their lives, who would be a delight to them.
وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ
(and We ordained among his offspring prophethood and the Book,) This is a tremendous blessing. Not only did Allah take him as a close friend and make him an Imam for mankind, but He also ordained prophethood and the Book among his offspring. After the time of Ibrahim there was no Prophet who was not from among his descendants. All of the Prophets of the Children of Israel were from among his descendants, from Ya'qub bin Ishaq bin Ibrahim to the last of them, 'Isa bin Maryam, who stood in the midst of his people and announced the good news of the Hashimi Qurashi Arab Prophet, the last of all the Messengers, the leader of the sons of Adam in this world and the next, whom Allah chose from the heart of the Arab nation, from the descendants of Isma'il bin Ibrahim, may peace be upon them. There is no Prophet from the line of Isma'il besides him, may the best of blessings and peace be upon him.
وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
(and We granted him his reward in this world; and verily, in the Hereafter he is indeed among the righteous.) Allah granted him happiness in this world that was connected to happiness in the Hereafter, for in this world he had plentiful provision, a splendid home, a beautiful and righteous wife, and he was and still is spoken of highly, for everyone loves him and regards him as a friend. Ibn 'Abbas, Mujahid, Qatadah and others said: "He obeyed Allah in all ways." This is like the Ayah,
وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ
(And of Ibrahim who fulfilled all.)(53:37) He did all that he was commanded to do and obeyed his Lord to the utmost. Allah says:
وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
(and We granted him his reward in this world; and verily, in the Hereafter he is indeed among the righteous.) And He says:
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Verily, Ibrahim was an Ummah, Qanit to Allah, a Hanif, and he was not one of the idolators) until:
وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
(and in the Hereafter he shall be of the righteous)(16:120-122).
Tafsir Ibn Kathir
حضرت لوط ؑ اور حضرت سارہ ؓ کہا جاتا ہے کہ حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے۔ لوط بن ہارون بن آزر۔ آپ کی ساری قوم میں سے ایک تو حضرت لوط ایمان لائے تھے اور ایک حضرت سارہ جو آپ کی بیوی تھی ایک روایت میں ہے کہ جب آپ کی بیوی صاحبہ کو اس ظالم بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کے ذریعہ اپنے پاس بلوایا تو حضرت ابراہیم نے کہا تھا کہ دیکھو میں نے اپنا رشتہ تم سے بھائی بہن کا بنایا ہے تم بھی یہی کہنا کیونکہ اس وقت دنیا پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے تو ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ کوئی میاں بیوی ہمارے سوا ایماندار نہیں۔ حضرت لوط آپ پر ایمان تو لائے مگر اسی وقت ہجرت کرکے شام چلے گئے تھے پھر اہل سدوم کی طرف نبی بناکر بھیج دئے گئے تھے جیسا کہ بیان گذرا اور آئے گا۔ ہجرت کا ارادہ یا تو حضرت لوط ؑ نے ظاہر فرمایا کیونکہ ضمیر کا مرجع اقرب تو یہی ہے۔ یا حضرت ابراہیم نے جیسا کہ ابن عباس ؓ ما اور ضحاک ؓ کا بیان ہے۔ تو گویا حضرت لوط ؑ کے ایمان لانے کے بعد آپ نے اپنی قوم سے دست برداری کرلی اور اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ اور کسی جگہ جاؤں شاید وہاں والے اللہ والے بن جائیں۔ عزت اللہ کی اس کے رسول کی اور مومنوں کی ہے۔ حکمت والے اقوال، افعال، تقدیر، شریعت اللہ کی ہے۔ قتادۃ فرماتے ہیں کہ آپ کوفے سے ہجرت کرکے شام کے ملک کی طرف گئے۔ حدیث میں ہے کہ ہجرت کے بعد کی ہجرت حضرت ابراہیم ؑ کی ہجرت گاہ کی طرف ہوگی۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں زمین تھوک دے گی اور اللہ ان سے نفرت کرے گا انہیں آگ سورؤں اور بندروں کے ساتھ ہنکاتی پھرے گی۔ راتوں کو دنوں کو انہی کیساتھ رہے گی۔ اور ان کی جھڑن کھاتی رہے گی۔ اور روایت میں ہے جو ان میں سے پیچھے رہ جائے گا اسے یہ آگ کھاجائے گی اور مشرق کی طرف سے کچھ لوگ میری امت میں ایسے نکلیں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا ان کے خاتمے کے بعد دوسرا گروہ کھڑا ہوگا۔ یہاں تک کہ آپ نے بیس سے بھی زیادہ بار اسے دہرایا۔ یہاں تک کہ انہی کے آخری گروہ میں سے دجال نکلے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو کا بیان ہے کہ ایک زمانہ تو ہم پر وہ تھا کہ ہم ایک مسلمان بھائی کے لئے درہم و دینار کو کوئی چیز نہیں سمجھتے تھے اپنی دولت اپنے بھائی کی ہی سمجھتے تھے پھر وہ زمانہ آیا کہ دولت ہمیں اپنے مسلم بھائی سے زیادہ عزیز معلوم ہونے لگی۔ میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ اگر تم بیلوں کی دموں کے پیچھے لگ جاؤگے اور تجارت میں مشغول ہوجاؤگے اور اللہ کی راہ کا جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری گردنوں میں ذلت کے پٹے ڈال دے گا جو اس وقت تک تم سے الگ نہ ہونگے جب تک کہ تم پھر سے وہیں نہ آجاؤ جہاں تھے اور تم توبہ نہ کرلو۔ پھر وہی حدیث بیان کی جو اوپر گزری اور فرمایا کہ میری امت میں ایسے لوگ ہونگے جو قرآں پڑھیں گے اور بدعملیاں کریں گے قرآن ان کے حلقوم سے نیچے نہیں اترے گا۔ ان کے علم کو دیکھ کر تم اپنے علموں کو حقیر سمجھنے لگوگے۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے پس جب یہ لوگ ظاہر ہوں تو انہیں قتل کردینا پھر نکلیں پھر مار ڈالنا پھر ظاہر ہوں پھر قتل کردینا۔ وہ بھی خوش نصیب ہے جو ان کے ہاتھوں قتل کیا جائے اور وہ بھی خوش نصیب ہے جو انکو قتل کریں۔ جب ان کے گروہ نکلیں گے اللہ انہیں برباد کردے گا پھر نکلیں گے پھر برباد ہوجائیں گے اسی طرح حضور ﷺ نے کوئی بیس مرتبہ بلکہ اس سے بھی زیادہ بار یہی فرمایا۔ ہم نے ابراہیم ؑ کو اسحاق ؑ نامی بیٹا دیا اور اسحاق ؑ کو یعقوب ؑ نامی۔ جیسے فرمان ہے کہ جب خلیل اللہ نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیا تو اللہ نے آپ کو اسحاق اور یعقوب دیا اور ہر ایک کو نبی بنایا۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ پوتا بھی آپ کی موجودگی میں ہوجائے گا اسحاق ؑ بیٹے تھے اور یعقوب ؑ پوتے تھے۔ اور آیت میں ہے کہ ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کی بیوی صاحبہ کو اسحاق کی اور اسحاق ؑ کے پیچھے یعقوب ؑ کی بشارت دی۔ اور فرمایا کہ قوم کو چھوڑنے کے بدلے اللہ تمہارے گھر کی بستی یہ دے گا۔ جس سے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ پس ثابت ہوا کی حضرت یعقوب ؑ حضرت اسحاق ؑ کے فرزند تھے۔ یہی سنت سے بھی ثابت ہے قرآن کی اور آیت میں ہے کہ تم اس وقت موجود تھے جب حضرت یعقوب ؑ موت کا وقت آیا تو وہ اپنے لڑکوں سے کہنے لگے تم میرے بعد کس کی عبادت کروگے ؟ انہوں نے کہا آپ کی اور آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام، اسماعیل ؑ ، اسحاق ؑ کے والد کی جو یکتا ہے اور واحد لاشریک ہے بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب ؑ اسحاق ؑ بن ابراہیم ہیں۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ ابن عباس ؓ ما سے جو مروی ہے کہ اسحاق و یعقوب حضرت ابراہیم کے فرزند تھے اس سے مراد فرزند کے فرزند کو فرزند کہہ دینا۔ یہ نہیں کہ صلبی فرزند دونوں تھے ابن عباس ؓ ما تو کہا ہے کہ ادنی آدمی بھی ایسی ٹھوکر نہیں کھاسکتا۔ ہم نے انہی کی اولاد میں کتاب ونبوۃ رکھ دی۔ خلیل کا خطاب انہیں کو ملا انہیں کہا گیا پھر ان کے بعد انہی کی نسل میں نبوت وحکمت رہی بنی اسرائیل کے تمام انبیاء حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ؑ کی نسل سے ہیں۔ حضرت عیسیٰ تک تو یہ سلسلہ یونوی چلا۔ بنواسرائیل کے اس آخری پیغمبر نے اپنی امت کو صاف کہہ دیا کہ میں نے تمہیں نبی عربی قریشی ہاشمی خاتم الرسل سید اولاد آدم کی بشارت دیتا ہوں۔ جنہیں اللہ نے چن لیا ہے آپ حضرت اسماعیل کی نسل میں سے تھے۔ حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے آپ کے سوائے اور نبی نہیں ہوا۔ علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم۔ ہم نے انہیں دنیا کے ثواب بھی دئیے اور آخرت کی نیکیاں بھی عطا فرمائیں۔ دنیا میں رزق وسیع، جگہ پاک، بیوی نیک، سیرت جمیل اور ذکر حسن دیا ساری دنیا کے دلوں میں آپ کی محبت ڈال دی۔ باوجودیکہ اپنی اطاعت کی توفیق روز بروز اور زیادہ دی۔ کامل اطاعت گزاری کی توفیق کے ساتھ دنیا کی بھلائیاں بھی عطا فرمائیں۔ اور آخرت میں بھی صالحین میں رکھا۔ جیسے فرمان ہے ابراہیم مکمل فرماں بردار تھے موحد تھے مشرکوں میں سے نہ تھے آخرت میں بھلے لوگوں کا ساتھی ہوا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ: أَنَّهُ آمَنُ لَهُ لُوطٌ، يُقَالُ: إِنَّهُ ابْنُ أَخِي إِبْرَاهِيمَ، يَقُولُونَ هُوَ: لُوطُ بْنُ هَارَانَ بْنِ آزَرَ، يَعْنِي: وَلَمْ يُؤْمِنْ بِهِ مِنْ قَوْمِهِ سِوَاهُ، وَسَارَّةُ امْرَأَةُ [إِبْرَاهِيمَ] [[زيادة من ف، أ.]] الْخَلِيلِ. لَكِنْ يُقَالُ: كَيْفَ الْجَمْعُ بَيْنَ هَذِهِ الْآيَةِ، وَبَيْنَ الْحَدِيثِ الْوَارِدِ فِي الصَّحِيحِ [[صحيح مسلم برقم (٢٣٧١) .]] : أَنَّ إِبْرَاهِيمَ حِينَ مَرّ عَلَى ذَلِكَ الْجَبَّارِ، فَسَأَلَ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَارَّةَ: مَا هِيَ مِنْهُ؟ فَقَالَ: [هِيَ] [[زيادة من ت.]] أُخْتِي، ثُمَّ جَاءَ إِلَيْهَا فَقَالَ لَهَا: إِنِّي قَدْ قُلْتُ لَهُ: "إِنَّكِ: أُخْتِي"، فَلَا تُكَذِّبِينِي، فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ [أَحَدٌ] [[زيادة من ت، أ.]] مُؤْمِنٌ غَيْرُكِ وَغَيْرِي [[في ت: "غيري وغيرك".]] ، فَأَنْتِ أُخْتِي فِي الدِّينِ. وَكَأَنَّ الْمُرَادَ مِنْ هَذَا -والله أعلم -أنه ليس على وجه الْأَرْضِ زَوْجَانِ عَلَى الْإِسْلَامِ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَإِنَّ لُوطًا عَلَيْهِ السَّلَامُ، آمَنَ بِهِ مِنْ قَوْمِهِ، وَهَاجَرَ مَعَهُ إِلَى بِلَادِ الشَّامِ، ثُمَّ أرسِل فِي حَيَاةِ الْخَلِيلِ إِلَى أَهْلِ "سَدوم" وَإِقْلِيمِهَا، وَكَانَ مِنْ أَمْرِهِمْ [[في ت: "إبراهيم".]] مَا تَقَدَّمَ وَمَا سَيَأْتِي.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَى رَبِّي﴾ يَحْتَمِلُ عَوْدَ الضَّمِيرِ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَقَالَ﴾ ، عَلَى لُوطٍ، لِأَنَّهُ [[في ت، ف: "الذي هو".]] أَقْرَبُ الْمَذْكُورَيْنِ، وَيَحْتَمِلُ عُودَهُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ -قَالَ [[في أ: "قاله".]] ابْنُ عَبَّاسٍ، وَالضَّحَاكُ: وَهُوَ الْمُكَنَّى عَنْهُ بِقَوْلِهِ: ﴿فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ﴾ أَيْ: مِنْ قَوْمِهِ.
ثُمَّ أَخْبَرَ عَنْهُ بِأَنَّهُ اخْتَارَ الْمُهَاجَرَةَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمُ، ابْتِغَاءَ إِظْهَارِ الدِّينِ وَالتَّمَكُّنِ مِنْ ذَلِكَ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ﴾ أَيْ: لَهُ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ بِهِ، ﴿الْحَكِيمُ﴾ فِي أَقْوَالِهِ وَأَفْعَالِهِ وَأَحْكَامِهِ الْقَدَرِيَّةِ وَالشَّرْعِيَّةِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: هَاجَرَا جَمِيعًا مِنْ "كَوْثَى"، وَهِيَ مِنْ سَوَادِ [[في ف، أ: "من أرض سواد".]] الْكُوفَةِ إِلَى الشَّامِ. قَالَ: وذُكر لَنَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "إِنَّهَا سَتَكُونُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ، يَنْحَازُ أَهْلُ الْأَرْضِ إِلَى مُهَاجَر إِبْرَاهِيمَ، وَيَبْقَى فِي الْأَرْضِ شرار أهلها، حتى تلفظهم أرضهم وتقذرُهم رُوحُ اللَّهِ، وَتَحْشُرهُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، تَبِيتُ مَعَهُمْ إِذَا بَاتُوا، وتَقِيل مَعَهُمْ إِذَا قَالُوا، وَتَأْكُلُ مَا سَقَطَ مِنْهُمْ".
وَقَدْ أَسْنَدَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ هَذَا الْحَدِيثَ، فَرَوَاهُ مُطَوَّلًا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ [[في أ: "فقال".]] : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَر، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْر بْنِ حَوْشَب قَالَ: لَمَّا جَاءَتْنَا بَيْعَةُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَدِمْتُ الشَّامَ فَأُخْبِرْتُ بِمَقَامٍ يَقُومُهُ نَوْفٌ البِكَالي، فَجِئْتُهُ؛ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فانتبذَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ خَمِيصة، وَإِذَا [[في ف: "فإذا".]] هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ. فَلَمَّا رَآهُ نَوْفٌ أَمْسَكَ عَنِ الْحَدِيثِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّهَا سَتَكُونُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ، فَيَنْحَازُ النَّاسُ إِلَى مُهَاجرَ إِبْرَاهِيمَ، لَا يَبْقَى فِي الْأَرْضِ إِلَّا شَرَارُ أَهْلِهَا، فَتَلْفِظُهُمْ [[في ف: "تلفظهم".]] أَرَضُوهُمْ، تقْذَرهم نفسُ الرَّحْمَنِ، تَحْشُرُهُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ فَتَبِيتُ مَعَهُمْ إِذَا بَاتُوا، وتَقِيل مَعَهُمْ إِذَا قَالُوا، وَتَأْكُلُ مِنْهُمْ مَنْ تَخَلَّف". قَالَ: وَسَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "سَيَخْرُجُ أُنَاسٌ [[في ت: "ناس".]] مِنْ أُمَّتِي من قبل المشرق، يقرؤون الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيهم، كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطع، كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ" حَتَّى عَدّها زِيَادَةً عَلَى عِشْرِينَ مَرَّةً "كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ، حَتَّى يَخْرُجَ الدَّجَّالُ فِي بَقِيَّتِهِمْ" [[المسند (٢/١٩٨) .]] .
وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ أَبِي دَاوُدَ، وَعَبْدِ الصَّمَدِ، كِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوائي، عَنْ قَتَادَةَ، بِهِ [[المسند (٢/٢٠٩) .]]
وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي سُنَنِهِ، فَقَالَ فِي كِتَابِ الْجِهَادِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي سُكْنَى الشَّامِ:
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي [أَبِي] [[زيادة من سنن أبي داود.]] ، عَنْ قتادة، عن شهر بن حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يَقُولُ: "سَتَكُونُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ، فَخِيَارُ أَهْلِ الْأَرْضِ أَلْزَمُهُمْ مُهاجَر إِبْرَاهِيمَ، وَيَبْقَى فِي الْأَرْضِ شِرَارُ أَهْلِهَا تَلْفِظُهُمْ أَرْضُهُمْ وتَقْذرهم نَفْسُ الرَّحْمَنِ، وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ" [[سنن أبي داود برقم (٢٤٨٢) .]] .
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَنَاب يَحْيَى بْنُ أَبِي حيَّة، عَنْ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ [[في ت: "عن".]] عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَر يَقُولُ [[في أ: "سمعت عبد الله بن عمرو قال".]] لَقَدْ رأيتُنا وَمَا صَاحِبُ الدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ بِأَحَقِّ مِنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، ثُمَّ لَقَدْ رَأَيْتُنَا بآخِرَة الْآنَ، وَالدِّينَارُ وَالدِّرْهَمُ أَحَبُّ إِلَى أَحَدِنَا مِنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "لَئِنْ أَنْتُمُ اتَّبَعْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَتَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ، وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، لَيُلْزِمَنَّكُمُ اللَّهُ مذلَّة فِي أَعْنَاقِكُمْ، ثُمَّ لَا تُنْزَعُ مِنْكُمْ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى مَا كُنْتُمْ عَلَيْهِ، وَتَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ". وَسَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "لَتَكُونَنَّ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ إِلَى مُهاجر أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ حَتَّى لَا يَبْقَى فِي الْأَرَضِينَ [[في ت، ف: "الأرض".]] إِلَّا شِرَارُ أَهْلِهَا وَتَلْفِظُهُمْ أَرَضُوهُمْ، وتقذرهم روح الرحمن، وتحشرهم النار مع القردة وَالْخَنَازِيرِ، تَقِيلُ حَيْثُ يَقِيلُونَ [[في، هـ، ت، ف، أ: "تقيل معهم حيث قالوا" والمثبت من المسند.]] ، وَتَبِيتُ حَيْثُ يَبِيتُونَ، وَمَا سَقَطَ مِنْهُمْ فَلَهَا". وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "يَخْرُجُ من أمتي قوم يسيئون الأعمال، يقرؤون الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ -قَالَ يَزِيدُ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ -يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ عِلْمَهُ مَعَ عِلْمِهِمْ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ، فَإِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ، فَطُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ، وَطُوبَى لِمَنْ قَتَلُوهُ. كُلَّمَا طَلَعَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قَطعَه اللَّهُ". فَرَدَّدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عِشْرِينَ مَرَّةً، أَوْ أَكْثَرَ، وَأَنَا أَسْمَعُ [[المسند (٢/٨٤) وقال الهيثمي في المجمع (٥/٢٥١) "فيه أبو جناب الكلبي وهو ضعيف" وقال الحافظ ابن حجر في الفتح (١١/٣٨٠) "سنده لا بأس به".]] .
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ الْبَيْهَقِيُّ: أَخْبَرَنَا أَبُو الحُسَيْن بْنُ الْفَضْلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ الدِّمَشْقِيَّانِ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ نَافِعٍ -وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ، عَمَّنْ حدَّثه، عَنْ نَافِعٍ -عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: "سَيُهَاجِرُ أَهْلُ الْأَرْضِ هِجْرَةً بَعْدَ هِجْرَةٍ، إِلَى مهاجَر إِبْرَاهِيمَ، حَتَّى لَا يَبْقَى إِلَّا شَرَارُ أَهْلِهَا، تَلْفِظُهُمُ الْأَرَضُونَ [[في ف: "الأرض.]] وَتَقْذَرُهُمْ رُوحُ الرَّحْمَنِ، وتحشرهم النار مع القردة والخنازير، تبيت معهم حَيْثُ بَاتُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا، لَهَا مَا سَقَطَ مِنْهُمْ".
غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ نَافِعٍ. وَالظَّاهِرُ أَنَّ الْأَوْزَاعِيَّ قَدْ رَوَاهُ عَنْ شَيْخٍ لَهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَرِوَايَتُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَقْرَبُ إِلَى الْحِفْظِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ﴾ ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلا جَعَلْنَا نَبِيًّا﴾ [مَرْيَمَ: ٤٩] أَيْ: إِنَّهُ لَمَّا فَارَقَ قومَه أَقَرَّ اللَّهُ عَيْنَهُ بِوُجُودِ وَلَدٍ صَالِحٍ نَبِيٍّ [وَوُلِدَ لَهُ وَلَدٌ صَالِحٌ] [[زيادة من ت، ف.]] فِي حَيَاةِ جَدِّهِ. وَكَذَلِكَ [[في ف: "ولذلك".]] قَالَ اللَّهُ: ﴿وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً﴾ [الأنبياء: ٧٢] أَيْ: زِيَادَةً، كَمَا قَالَ: ﴿فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ﴾ أَيْ: ويولَد لِهَذَا الْوَلَدِ وَلَدٌ فِي حَيَاتِكُمَا، تَقَرُّ بِهِ أَعْيُنُكُمَا. وَكَوْنُ يَعْقُوبَ وَلَدٌ لِإِسْحَاقَ نَصَّ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، وَثَبَتَتْ بِهِ السُّنَّةُ النَّبَوِيَّةُ، قَالَ اللَّهُ: ﴿أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ﴾ [الْبَقَرَةِ: ١٣٣] ، وَفِي الصَّحِيحَيْنِ: "إِنَّ الْكَرِيمَ ابنَ الْكَرِيمِ ابنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يوسفُ بنَ يعقوبَ بْنِ إسحاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ" [[صحيح البخاري برقم (٤٦٨٨) من حديث ابن عمر، ولم أجده عند مسلم.]] .
فَأَمَّا مَا رَوَاهُ الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ [نَافِلَةً] ﴾ [[زيادة من ف، أ.]] ، قَالَ: "هُمَا وَلَدَا إِبْرَاهِيمَ". فَمَعْنَاهُ: أَنَّ وَلَدَ الْوَلَدِ بِمَنْزِلَةِ الْوَلَدِ؛ فَإِنَّ هَذَا أَمْرٌ لَا يَكَادُ يَخْفَى عَلَى مَنْ هُوَ دُونَ ابْنِ عَبَّاسٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ﴾ ، هَذِهِ خِلْعَة [[في أ: "خلقة".]] سَنية عَظِيمَةٌ، مَعَ اتِّخَاذِ اللَّهِ إِيَّاهُ خَلِيلًا وَجَعْلِهِ لِلنَّاسِ إِمَامًا، أَنْ جَعَلَ فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ، فَلَمْ يُوجَدْ نَبِيٌّ بَعْدَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِلَّا وَهُوَ مِنْ سُلَالَتِهِ، فَجَمِيعُ أَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ سُلالة يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَتَّى كَانَ آخِرُهُمْ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَقَامَ فِي مَلَئِهِمْ مُبَشِّرًا بِالنَّبِيِّ الْعَرَبِيِّ الْقُرَشِيِّ الْهَاشِمِيِّ، خَاتَمِ الرُّسُلِ عَلَى الْإِطْلَاقِ، وَسَيِّدِ وَلَدِ آدَمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ مِنْ صَمِيمِ الْعَرَبِ العَرْباء، مِنْ سُلَالَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ: وَلَمْ يُوجَدْ نَبِيٌّ مِنْ سُلَالَةِ إِسْمَاعِيلَ سِوَاهُ، عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ وَالسَّلَامِ [مِنَ اللَّهِ تَعَالَى] [[زيادة من ت، وفي أ: "من الله".]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ﴾ أَيْ: جَمَعَ اللَّهُ لَهُ بَيْنَ سَعَادَةِ الدُّنْيَا الْمَوْصُولَةِ بِسَعَادَةِ الْآخِرَةِ، فَكَانَ لَهُ فِي الدُّنْيَا الرِّزْقُ الْوَاسِعُ الهنيَّ وَالْمَنْزِلُ الرَّحْب، وَالْمَوْرِدُ الْعَذْبُ، وَالزَّوْجَةُ الْحَسَنَةُ الصَّالِحَةُ، وَالثَّنَاءُ الْجَمِيلُ، وَالذِّكْرُ الْحَسَنُ، فَكُلُّ أَحَدٍ يُحِبُّهُ وَيَتَوَلَّاهُ، كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُجَاهِدٌ وقَتَادَةُ وَغَيْرُهُمْ، مَعَ الْقِيَامِ بِطَاعَةِ اللَّهِ مِنْ جَمِيعِ الْوُجُوهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى﴾ [النَّجْمِ: ٣٧] ، أَيْ: قَامَ بِجَمِيعِ مَا أُمِرَ بِهِ، وَكَمَّلَ طَاعَةَ رَبِّهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ﴾ ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ. شَاكِرًا لأنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ. وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ﴾ [النحل: ١٢٠-١٢١] .
وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلْفَٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍۢ مِّنَ ٱلْعَٰلَمِينَ
And [mention] Lot, when he said to his people, "Indeed, you commit such immorality as no one has preceded you with from among the worlds.
اور لوط (کو یاد کرو) جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم (عجب) بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو۔ تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا
و لوط را فرستادیم هنگامی که به قوم خود گفت: «شما عمل بسیار زشتی انجام میدهید که هیچ یک از مردم جهان پیش از شما آن را انجام نداده است!
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Lut, when he said to his people: "You commit immoral sins which none has preceded you in (committing) it in all creatures. (28)"Verily, you practice sodomy with men, and rob the wayfarer! And practice Al-Munkar in your meetings." But his people gave no answer except that they said: "Bring Allah's torment upon us if you are one of the truthful. (29)He said: "My Lord! Give me victory over the people who are corrupt. (30)
The preaching of Lut and what happened between Him and His People
Allah tells us that His Prophet Lut, peace be upon him, denounced his people for their evil deed and their immoral actions in having intercourse with males, a deed which none of the sons of Adam had ever committed before them. As well as doing this, they also disbelieved in Allah and rejected and opposed His Messenger, they robbed wayfarers, they would lie in wait on the road, kill people and loot their possessions.
وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ
(And practice Al-Munkar in your meetings.) This means, 'in your gatherings you do and say things that are not befitting, and you do not denounce one another for doing such things.'
Some said that they used to have intercourse with one another in public; this was the view of Mujahid. Some said that they used to compete in passing gas and laughing. This was the view of 'A'ishah, may Allah be pleased with her, and Al-Qasim. Some of them said that they used to make rams fight one another, or organize cockfights. They used to do all of these things, and they were even eviler than that.
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
(But his people gave no answer except that they said: "Bring Allah's torment upon us if you are one of the truthful.") This is indicative of their disbelief, scornful attitude and stubbornness. So Allah's Prophet asked for help against them, and said:
رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ
(My Lord! Give me victory over the people who are corrupt.)
Tafsir Ibn Kathir
سب سے خراب عادت لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے حضرت لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی۔ دوسری بد خلصت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے قتل و فساد کرتے تھے مال لوٹ لیتے تھے مجلسوں میں علی الاعلان بری باتیں اور لغو حرکتیں کرتے تھے۔ کوئی کسی کو نہیں روکتا تھا یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ وہ لواطت بھی علی الاعلان کرتے تھے گویا سوسائٹی کا ایک مشغلہ یہ بھی تھا ہوائیں نکال کر ہنستے تھے مینڈھے لڑواتے اور بدترین برائیاں کرتے تھے اور علی الاعلان مزے لے لے کر گناہ کرتے تھے۔ حدیث میں ہے رہ چلتوں پر آوازہ کشی کرتے تھے۔ اور کنکر پتھر پھینکتے رہتے تھے۔ سیٹیاں بجاتے تھے کبوتربازی کرتے تھے ننگے ہوجاتے تھے۔ کفر عناد سرکشی ضد اور ہٹ دھرمی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ نبی کے سمجھانے پر کہنے لگے جاجا پس نصیحت چھوڑ جن عذابوں سے ڈرارہا ہے انہیں تو لے آ۔ ہم بھی تیری سچائی دیکھیں۔ عاجز آکر حضرت لوط ؑ نے بھی اللہ کے آگے ہاتھ پھیلادئیے کہ اے اللہ ! ان مفسدوں پر مجھے غلبہ دے میری مدد کر۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ نَبِيِّهِ لُوطٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِنَّهُ أَنْكَرَ عَلَى قَوْمِهِ سُوء صَنِيعِهِمْ، وَمَا كَانُوا يَفْعَلُونَهُ مِنْ قَبِيحِ الْأَعْمَالِ، فِي إِتْيَانِهِمُ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَالَمِينَ، وَلَمْ يَسْبِقْهُمْ إِلَى هَذِهِ الْفِعْلَةِ أَحَدٌ مِنْ بَنِي آدَمَ قَبْلَهُمْ. وَكَانُوا مَعَ هَذَا يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ، وَيُكَذِّبُونَ رَسُولَهُ وَيُخَالِفُونَهُ وَيَقْطَعُونَ السَّبِيلَ، أَيْ: يَقِفُونَ فِي طَرِيقِ النَّاسِ يَقْتُلُونَهُمْ وَيَأْخُذُونَ أَمْوَالَهُمْ، ﴿وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ﴾ أَيْ: يَفْعَلُونَ مَا لَا يَلِيقُ مِنَ الْأَقْوَالِ وَالْأَفْعَالِ فِي مَجَالِسِهِمُ الَّتِي يَجْتَمِعُونَ فِيهَا، لَا يُنْكِرُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَمِنْ قَائِلٍ: كَانُوا يَأْتُونَ بَعْضَهُمْ بَعْضًا فِي الْمَلَأِ قَالَهُ مُجَاهِدٌ. وَمِنْ قَائِلٍ: كَانُوا يَتَضَارَطُونَ وَيَتَضَاحَكُونَ؛ قَالَتْهُ عَائِشَةُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَالْقَاسِمُ. وَمِنْ قَائِلٍ: كَانُوا يُنَاطِحُونَ بَيْنَ الْكِبَاشِ، وَيُنَاقِرُونَ بَيْنَ الدُّيُوكِ، وَكُلُّ ذَلِكَ كَانَ يَصْدُرُ عَنْهُمْ، وَكَانُوا شَرًّا مِنْ ذَلِكَ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، أَخْبَرَنِي حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، حَدَّثَنَا سِمَاك بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ -مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ -عَنْ أُمِّ هَانِئٍ [[في ت: "وروى الإمام أحمد بإسناده عن أم هانئ".]] قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ﴾ ، قَالَ: "يَحْذِفُونَ أَهْلَ الطَّرِيقِ، وَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ، وَذَلِكَ الْمُنْكَرُ الَّذِي كَانُوا يَأْتُونَهُ".
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ جَرِيرٍ، وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ حَمَّادِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِي يُونُسَ القُشَيري، حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرة [[في أ: "حيوة".]] بِهِ [[المسند (٦/٣٤١) وسنن الترمذي برقم (٣١٩٠) .]] . ثُمَّ قَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ [[في أ: "حيوة".]] عَنْ سِمَاك.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْحَكَمِ [[في ت: "بإسناده".]] ، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ﴾ قَالَ: الصَّفِيرُ، وَلَعِبُ الْحَمَّامِ [[في أ: "الحمار".]] والجُلاهق، وَالسُّؤَالُ فِي الْمَجْلِسِ، وَحَلُّ أَزْرَارِ الْقِبَاءِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلا أَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ ، وَهَذَا مِنْ كُفْرِهِمْ وَاسْتِهْزَائِهِمْ وَعِنَادِهِمْ؛ وَلِهَذَا اسْتَنْصَرَ عَلَيْهِمْ نَبِيُّ اللَّهِ فَقَالَ: ﴿رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ﴾ [[في أ: "الفاسقين" وهو خطأ.]] .
أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلرِّجَالَ وَتَقْطَعُونَ ٱلسَّبِيلَ وَتَأْتُونَ فِى نَادِيكُمُ ٱلْمُنكَرَ ۖ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ ٱئْتِنَا بِعَذَابِ ٱللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ
Indeed, you approach men and obstruct the road and commit in your meetings [every] evil." And the answer of his people was not but they said, "Bring us the punishment of Allah, if you should be of the truthful."
تم کیوں (لذت کے ارادے سے) لونڈوں کی طرف مائل ہوتے اور (مسافروں کی) رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو۔ تو اُن کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ
آیا شما به سراغ مردان میروید و راه (تداوم نسل انسان) را قطع میکنید و در مجلستان اعمال ناپسند انجام میدهید؟! «اما پاسخ قومش جز این نبود که گفتند:» اگر راست میگویی عذاب الهی را برای ما بیاور!
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Lut, when he said to his people: "You commit immoral sins which none has preceded you in (committing) it in all creatures. (28)"Verily, you practice sodomy with men, and rob the wayfarer! And practice Al-Munkar in your meetings." But his people gave no answer except that they said: "Bring Allah's torment upon us if you are one of the truthful. (29)He said: "My Lord! Give me victory over the people who are corrupt. (30)
The preaching of Lut and what happened between Him and His People
Allah tells us that His Prophet Lut, peace be upon him, denounced his people for their evil deed and their immoral actions in having intercourse with males, a deed which none of the sons of Adam had ever committed before them. As well as doing this, they also disbelieved in Allah and rejected and opposed His Messenger, they robbed wayfarers, they would lie in wait on the road, kill people and loot their possessions.
وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ
(And practice Al-Munkar in your meetings.) This means, 'in your gatherings you do and say things that are not befitting, and you do not denounce one another for doing such things.'
Some said that they used to have intercourse with one another in public; this was the view of Mujahid. Some said that they used to compete in passing gas and laughing. This was the view of 'A'ishah, may Allah be pleased with her, and Al-Qasim. Some of them said that they used to make rams fight one another, or organize cockfights. They used to do all of these things, and they were even eviler than that.
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
(But his people gave no answer except that they said: "Bring Allah's torment upon us if you are one of the truthful.") This is indicative of their disbelief, scornful attitude and stubbornness. So Allah's Prophet asked for help against them, and said:
رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ
(My Lord! Give me victory over the people who are corrupt.)
Tafsir Ibn Kathir
سب سے خراب عادت لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے حضرت لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی۔ دوسری بد خلصت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے قتل و فساد کرتے تھے مال لوٹ لیتے تھے مجلسوں میں علی الاعلان بری باتیں اور لغو حرکتیں کرتے تھے۔ کوئی کسی کو نہیں روکتا تھا یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ وہ لواطت بھی علی الاعلان کرتے تھے گویا سوسائٹی کا ایک مشغلہ یہ بھی تھا ہوائیں نکال کر ہنستے تھے مینڈھے لڑواتے اور بدترین برائیاں کرتے تھے اور علی الاعلان مزے لے لے کر گناہ کرتے تھے۔ حدیث میں ہے رہ چلتوں پر آوازہ کشی کرتے تھے۔ اور کنکر پتھر پھینکتے رہتے تھے۔ سیٹیاں بجاتے تھے کبوتربازی کرتے تھے ننگے ہوجاتے تھے۔ کفر عناد سرکشی ضد اور ہٹ دھرمی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ نبی کے سمجھانے پر کہنے لگے جاجا پس نصیحت چھوڑ جن عذابوں سے ڈرارہا ہے انہیں تو لے آ۔ ہم بھی تیری سچائی دیکھیں۔ عاجز آکر حضرت لوط ؑ نے بھی اللہ کے آگے ہاتھ پھیلادئیے کہ اے اللہ ! ان مفسدوں پر مجھے غلبہ دے میری مدد کر۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ نَبِيِّهِ لُوطٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِنَّهُ أَنْكَرَ عَلَى قَوْمِهِ سُوء صَنِيعِهِمْ، وَمَا كَانُوا يَفْعَلُونَهُ مِنْ قَبِيحِ الْأَعْمَالِ، فِي إِتْيَانِهِمُ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَالَمِينَ، وَلَمْ يَسْبِقْهُمْ إِلَى هَذِهِ الْفِعْلَةِ أَحَدٌ مِنْ بَنِي آدَمَ قَبْلَهُمْ. وَكَانُوا مَعَ هَذَا يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ، وَيُكَذِّبُونَ رَسُولَهُ وَيُخَالِفُونَهُ وَيَقْطَعُونَ السَّبِيلَ، أَيْ: يَقِفُونَ فِي طَرِيقِ النَّاسِ يَقْتُلُونَهُمْ وَيَأْخُذُونَ أَمْوَالَهُمْ، ﴿وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ﴾ أَيْ: يَفْعَلُونَ مَا لَا يَلِيقُ مِنَ الْأَقْوَالِ وَالْأَفْعَالِ فِي مَجَالِسِهِمُ الَّتِي يَجْتَمِعُونَ فِيهَا، لَا يُنْكِرُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَمِنْ قَائِلٍ: كَانُوا يَأْتُونَ بَعْضَهُمْ بَعْضًا فِي الْمَلَأِ قَالَهُ مُجَاهِدٌ. وَمِنْ قَائِلٍ: كَانُوا يَتَضَارَطُونَ وَيَتَضَاحَكُونَ؛ قَالَتْهُ عَائِشَةُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَالْقَاسِمُ. وَمِنْ قَائِلٍ: كَانُوا يُنَاطِحُونَ بَيْنَ الْكِبَاشِ، وَيُنَاقِرُونَ بَيْنَ الدُّيُوكِ، وَكُلُّ ذَلِكَ كَانَ يَصْدُرُ عَنْهُمْ، وَكَانُوا شَرًّا مِنْ ذَلِكَ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، أَخْبَرَنِي حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، حَدَّثَنَا سِمَاك بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ -مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ -عَنْ أُمِّ هَانِئٍ [[في ت: "وروى الإمام أحمد بإسناده عن أم هانئ".]] قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ﴾ ، قَالَ: "يَحْذِفُونَ أَهْلَ الطَّرِيقِ، وَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ، وَذَلِكَ الْمُنْكَرُ الَّذِي كَانُوا يَأْتُونَهُ".
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ جَرِيرٍ، وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ حَمَّادِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِي يُونُسَ القُشَيري، حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرة [[في أ: "حيوة".]] بِهِ [[المسند (٦/٣٤١) وسنن الترمذي برقم (٣١٩٠) .]] . ثُمَّ قَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ [[في أ: "حيوة".]] عَنْ سِمَاك.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْحَكَمِ [[في ت: "بإسناده".]] ، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ﴾ قَالَ: الصَّفِيرُ، وَلَعِبُ الْحَمَّامِ [[في أ: "الحمار".]] والجُلاهق، وَالسُّؤَالُ فِي الْمَجْلِسِ، وَحَلُّ أَزْرَارِ الْقِبَاءِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلا أَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ ، وَهَذَا مِنْ كُفْرِهِمْ وَاسْتِهْزَائِهِمْ وَعِنَادِهِمْ؛ وَلِهَذَا اسْتَنْصَرَ عَلَيْهِمْ نَبِيُّ اللَّهِ فَقَالَ: ﴿رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ﴾ [[في أ: "الفاسقين" وهو خطأ.]] .
قَالَ رَبِّ ٱنصُرْنِى عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْمُفْسِدِينَ
He said, "My Lord, support me against the corrupting people."
لوط نے کہا کہ اے میرے پروردگار ان مفسد لوگوں کے مقابلے میں مجھے نصرت عنایت فرما
(لوط) عرض کرد: «پروردگارا! مرا در برابر این قوم تبهکار یاری فرما!»
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Lut, when he said to his people: "You commit immoral sins which none has preceded you in (committing) it in all creatures. (28)"Verily, you practice sodomy with men, and rob the wayfarer! And practice Al-Munkar in your meetings." But his people gave no answer except that they said: "Bring Allah's torment upon us if you are one of the truthful. (29)He said: "My Lord! Give me victory over the people who are corrupt. (30)
The preaching of Lut and what happened between Him and His People
Allah tells us that His Prophet Lut, peace be upon him, denounced his people for their evil deed and their immoral actions in having intercourse with males, a deed which none of the sons of Adam had ever committed before them. As well as doing this, they also disbelieved in Allah and rejected and opposed His Messenger, they robbed wayfarers, they would lie in wait on the road, kill people and loot their possessions.
وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ
(And practice Al-Munkar in your meetings.) This means, 'in your gatherings you do and say things that are not befitting, and you do not denounce one another for doing such things.'
Some said that they used to have intercourse with one another in public; this was the view of Mujahid. Some said that they used to compete in passing gas and laughing. This was the view of 'A'ishah, may Allah be pleased with her, and Al-Qasim. Some of them said that they used to make rams fight one another, or organize cockfights. They used to do all of these things, and they were even eviler than that.
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
(But his people gave no answer except that they said: "Bring Allah's torment upon us if you are one of the truthful.") This is indicative of their disbelief, scornful attitude and stubbornness. So Allah's Prophet asked for help against them, and said:
رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ
(My Lord! Give me victory over the people who are corrupt.)
Tafsir Ibn Kathir
سب سے خراب عادت لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے حضرت لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی۔ دوسری بد خلصت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے قتل و فساد کرتے تھے مال لوٹ لیتے تھے مجلسوں میں علی الاعلان بری باتیں اور لغو حرکتیں کرتے تھے۔ کوئی کسی کو نہیں روکتا تھا یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ وہ لواطت بھی علی الاعلان کرتے تھے گویا سوسائٹی کا ایک مشغلہ یہ بھی تھا ہوائیں نکال کر ہنستے تھے مینڈھے لڑواتے اور بدترین برائیاں کرتے تھے اور علی الاعلان مزے لے لے کر گناہ کرتے تھے۔ حدیث میں ہے رہ چلتوں پر آوازہ کشی کرتے تھے۔ اور کنکر پتھر پھینکتے رہتے تھے۔ سیٹیاں بجاتے تھے کبوتربازی کرتے تھے ننگے ہوجاتے تھے۔ کفر عناد سرکشی ضد اور ہٹ دھرمی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ نبی کے سمجھانے پر کہنے لگے جاجا پس نصیحت چھوڑ جن عذابوں سے ڈرارہا ہے انہیں تو لے آ۔ ہم بھی تیری سچائی دیکھیں۔ عاجز آکر حضرت لوط ؑ نے بھی اللہ کے آگے ہاتھ پھیلادئیے کہ اے اللہ ! ان مفسدوں پر مجھے غلبہ دے میری مدد کر۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ نَبِيِّهِ لُوطٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِنَّهُ أَنْكَرَ عَلَى قَوْمِهِ سُوء صَنِيعِهِمْ، وَمَا كَانُوا يَفْعَلُونَهُ مِنْ قَبِيحِ الْأَعْمَالِ، فِي إِتْيَانِهِمُ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَالَمِينَ، وَلَمْ يَسْبِقْهُمْ إِلَى هَذِهِ الْفِعْلَةِ أَحَدٌ مِنْ بَنِي آدَمَ قَبْلَهُمْ. وَكَانُوا مَعَ هَذَا يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ، وَيُكَذِّبُونَ رَسُولَهُ وَيُخَالِفُونَهُ وَيَقْطَعُونَ السَّبِيلَ، أَيْ: يَقِفُونَ فِي طَرِيقِ النَّاسِ يَقْتُلُونَهُمْ وَيَأْخُذُونَ أَمْوَالَهُمْ، ﴿وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ﴾ أَيْ: يَفْعَلُونَ مَا لَا يَلِيقُ مِنَ الْأَقْوَالِ وَالْأَفْعَالِ فِي مَجَالِسِهِمُ الَّتِي يَجْتَمِعُونَ فِيهَا، لَا يُنْكِرُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَمِنْ قَائِلٍ: كَانُوا يَأْتُونَ بَعْضَهُمْ بَعْضًا فِي الْمَلَأِ قَالَهُ مُجَاهِدٌ. وَمِنْ قَائِلٍ: كَانُوا يَتَضَارَطُونَ وَيَتَضَاحَكُونَ؛ قَالَتْهُ عَائِشَةُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَالْقَاسِمُ. وَمِنْ قَائِلٍ: كَانُوا يُنَاطِحُونَ بَيْنَ الْكِبَاشِ، وَيُنَاقِرُونَ بَيْنَ الدُّيُوكِ، وَكُلُّ ذَلِكَ كَانَ يَصْدُرُ عَنْهُمْ، وَكَانُوا شَرًّا مِنْ ذَلِكَ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، أَخْبَرَنِي حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، حَدَّثَنَا سِمَاك بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ -مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ -عَنْ أُمِّ هَانِئٍ [[في ت: "وروى الإمام أحمد بإسناده عن أم هانئ".]] قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ﴾ ، قَالَ: "يَحْذِفُونَ أَهْلَ الطَّرِيقِ، وَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ، وَذَلِكَ الْمُنْكَرُ الَّذِي كَانُوا يَأْتُونَهُ".
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ جَرِيرٍ، وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ حَمَّادِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِي يُونُسَ القُشَيري، حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرة [[في أ: "حيوة".]] بِهِ [[المسند (٦/٣٤١) وسنن الترمذي برقم (٣١٩٠) .]] . ثُمَّ قَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ [[في أ: "حيوة".]] عَنْ سِمَاك.
وَقَالَ [[في ت: "وروى".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْحَكَمِ [[في ت: "بإسناده".]] ، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ﴾ قَالَ: الصَّفِيرُ، وَلَعِبُ الْحَمَّامِ [[في أ: "الحمار".]] والجُلاهق، وَالسُّؤَالُ فِي الْمَجْلِسِ، وَحَلُّ أَزْرَارِ الْقِبَاءِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلا أَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ ، وَهَذَا مِنْ كُفْرِهِمْ وَاسْتِهْزَائِهِمْ وَعِنَادِهِمْ؛ وَلِهَذَا اسْتَنْصَرَ عَلَيْهِمْ نَبِيُّ اللَّهِ فَقَالَ: ﴿رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ﴾ [[في أ: "الفاسقين" وهو خطأ.]] .
وَلَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَآ إِبْرَٰهِيمَ بِٱلْبُشْرَىٰ قَالُوٓا۟ إِنَّا مُهْلِكُوٓا۟ أَهْلِ هَٰذِهِ ٱلْقَرْيَةِ ۖ إِنَّ أَهْلَهَا كَانُوا۟ ظَٰلِمِينَ
And when Our messengers came to Abraham with the good tidings, they said, "Indeed, we will destroy the people of that Lot's city. Indeed, its people have been wrongdoers."
اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشی کی خبر لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کر دینے والے ہیں کہ یہاں کے رہنے والے نافرمان ہیں
و هنگامی که فرستادگان ما (از فرشتگان) بشارت (تولد فرزند) برای ابراهیم آوردند، گفتند: «ما اهل این شهر و آبادی را [و به شهرهای قوم لوط اشاره کردند] هلاک خواهیم کرد، چرا که اهل آن ستمگرند!»
Tafsir Ibn Kathir
And when Our messengers came to Ibrahim with the glad tidings they said: "Verily, we are going to destroy the people of this town; truly, its people have been wrongdoers. (31)Ibrahim said: "But there is Lut in it." They said: "We know better who is there. We will verily, save him and his family – except his wife, she will be of those who remain behind. (32)And when Our messengers came to Lut, he was grieved because of them, and felt straitened on their account. They said: "Have no fear, and do not grieve! Truly, we shall save you and your family except your wife: she will be of those who remain behind. (33)"Verily, we are about to bring down on the people of this town a great torment from the sky, because they have been rebellious. (34)And indeed We have left thereof an evident Ayah for a folk who understand (35)
The Angels went to Ibrahim and then to Lut, may peace be upon them both
When Lut, peace be upon him, asked Allah to help him against them, Allah sent angels to help him. They first came to Ibrahim in the form of guests, so he offered them hospitality in the appropriate manner. When he saw that they had no interest in the food, he felt some mistrust of them and was fearful of them. They started to calm him down and gave him the news of a righteous son born by his wife Sarah, who was present, and she was astonished by this, as we have already explained in our Tafsir of Surat Hud and Surat Al-Hijr. When they brought this news to Ibrahim and told him that they were sent to destroy the people of Lut, he began to speak up for them, hoping to win more time for them so that they might be guided by Allah. When they said, "We have come to destroy the people of this township,"
قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا ۚ قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَنْ فِيهَا ۖ لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ
((Ibrahim) said: "But there is Lut in it." They said: "We know better who is there. We will verily, save him and his family except his wife, she will be of those who remain behind.") meaning, one of those who will be destroyed, because she used to support them in their disbelief and wrongdoing. Then the angels left him and visited Lut in the form of handsome young men. When he saw them like that,
سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا
(he was grieved because of them, and felt straitened on their account.) means, he was worried since if he had them as guests then he was afraid for them and what his people might do to them, but if he did not host them, he was still afraid of what might happen to them. At that point he did not know who they were.
وَقَالُوا لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ ۖ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلَّا امْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ - إِنَّا مُنْزِلُونَ عَلَىٰ أَهْلِ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
(They said: "Have no fear, and do not grieve! Truly, we shall save you and your family except your wife: she will be of those who remain behind. Verily, we are about to bring down on the people of this town a great torment from the sky, because they have been rebellious.") Jibril, peace be upon him, uprooted their town from the depths of the earth, lifted it up to the sky, then threw it upside down upon them. Allah rained upon them:
حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ - مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ ۖ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ
(stones of Sijjil, in a well-arranged manner one after another. Marked from your Lord; and they are not ever far from the evil doers.)[11:82-83] Allah turned the place where they had lived into a putrid, stinking lake, which will remain as a lesson to mankind until the Day of Resurrection, and they will be among those who are most severely punished on the Day of Resurrection. Allah says:
وَلَقَدْ تَرَكْنَا مِنْهَا آيَةً بَيِّنَةً
(And indeed We have left thereof an evident Ayah) i. e., a clear sign,
لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
(for a folk who understand.) This is like the Ayah,
وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُصْبِحِينَ - وَبِاللَّيْلِ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(Verily, you pass by them in the morning And at night; will you not then reflect?)(37:137-138)
Tafsir Ibn Kathir
فرشتوں کی آمد حضرت لوط ؑ کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم ؑ کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آجائیں۔ اس لئے آپ فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی ؑ ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہوگی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورتوں میں یہ حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط شش وپنج میں پڑگئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آجائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لئے ناخوش اور سنجیدہ ہوگئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کردی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لئے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا جائے گا۔ پھر حضرت جبرائیل ؑ نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کرکے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
Tafsir Ibn Kathir
لِمَا اسْتَنْصَرَ لُوطٌ عَلَيْهِ السَّلَامُ، اللَّهَ عَلَيْهِمْ، بَعَثَ اللَّهُ لِنُصْرَتِهِ مَلَائِكَةً فَمَرُّوا عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي هَيْئَةِ أَضْيَافٍ، فَجَاءَهُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ، فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُ لَا همَّة لَهُمْ إِلَى الطَّعَامِ نَكِرَهم، وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً، فَشَرَعُوا يُؤَانِسُونَهُ وَيُبَشِّرُونَهُ بِوُجُودِ وَلَدٍ صَالِحٍ مِنَ امْرَأَتِهِ سَارَّةَ -وَكَانَتْ حَاضِرَةً -فَتَعَجَّبَتْ مِنْ ذَلِكَ، كَمَا تَقَدَّمَ بَيَانُهُ فِي سُورَةِ "هُودٍ" وَ"الْحِجْرِ". فَلَمَّا جَاءَتْ إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَى، وَأَخْبَرُوهُ بِأَنَّهُمْ أُرْسِلُوا لِهَلَاكِ قَوْمِ لُوطٍ، أَخَذَ يُدَافِعُ لَعَلَّهُمْ يُنظَرون، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَهُمْ، وَلَمَّا قَالُوا: ﴿إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ﴾ ، ﴿قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَنْ فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ﴾ أَيْ: مِنَ الْهَالِكِينَ؛ لِأَنَّهَا كَانَتْ تُمَالِئُهُمْ عَلَى كُفْرِهِمْ وَبَغْيِهِمْ وَدُبُرِهِمْ. ثُمَّ سَارُوا مِنْ عِنْدِهِ فَدَخَلُوا عَلَى لُوطٍ فِي صُورَةِ شَبَابٍ حِسَانٍ، فَلَمَّا رَآهُمْ كَذَلِكَ، ﴿سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا﴾ أَيْ: اهتمَّ [[في ف، أ: "اغتم".]] بِأَمْرِهِمْ، إِنْ هُوَ أَضَافَهُمْ خَافَ [[في أ: "خوفا".]] عَلَيْهِمْ مِنْ قَوْمِهِ، وَإِنْ لَمْ يُضِفْهُمْ خَشِيَ عَلَيْهِمْ مِنْهُمْ، وَلَمْ يَعْلَمْ بِأَمْرِهِمْ فِي السَّاعَةِ الرَّاهِنَةِ. ﴿قَالُوا لَا تَخَفْ وَلا تَحْزَنْ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلا امْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ. إِنَّا مُنزلُونَ عَلَى أَهْلِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ﴾ ، وَذَلِكَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ اقْتَلَعَ قُرَاهُمْ مِنْ قَرَارِ الْأَرْضِ، ثُمَّ رَفَعَهَا إِلَى عَنَان السَّمَاءِ، ثُمَّ قَلَبَهَا عَلَيْهِمْ. وَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ، مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ، وَجَعَلَ [اللَّهُ] [[زيادة من ت، ف، أ.]] مَكَانَهَا بُحَيْرَةً خَبِيثَةً مُنْتِنَةً، وَجَعَلَهُمْ عِبْرَةً إِلَى يَوْمِ التَّنَادِ [[في ت: "القيامة".]] ، وَهُمْ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْمَعَادِ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ تَرَكْنَا مِنْهَا آيَةً بَيِّنَةً﴾ أَيْ: وَاضِحَةً، ﴿لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ﴾ ، كَمَا قَالَ ﴿وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُصْبِحِينَ * وَبِاللَّيْلِ أَفَلا تَعْقِلُونَ﴾ [الصَّافَّاتِ: ١٣٧، ١٣٨] .
قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًۭا ۚ قَالُوا۟ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا ۖ لَنُنَجِّيَنَّهُۥ وَأَهْلَهُۥٓ إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَٰبِرِينَ
[Abraham] said, "Indeed, within it is Lot." They said, "We are more knowing of who is within it. We will surely save him and his family, except his wife. She is to be of those who remain behind."
ابراہیم نے کہا کہ اس میں تو لوط بھی ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ جو لوگ یہاں (رہتے) ہیں ہمیں سب معلوم ہیں۔ ہم اُن کو اور اُن کے گھر والوں کو بچالیں گے بجز اُن کی بیوی کے وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی
(ابراهیم) گفت: «در این آبادی لوط است!» گفتند: «ما به کسانی که در آن هستند آگاهتریم! او و خانوادهاش را نجات میدهیم؛ جز همسرش که در میان قوم (گنهکار) باقی خواهد ماند.»
Tafsir Ibn Kathir
And when Our messengers came to Ibrahim with the glad tidings they said: "Verily, we are going to destroy the people of this town; truly, its people have been wrongdoers. (31)Ibrahim said: "But there is Lut in it." They said: "We know better who is there. We will verily, save him and his family – except his wife, she will be of those who remain behind. (32)And when Our messengers came to Lut, he was grieved because of them, and felt straitened on their account. They said: "Have no fear, and do not grieve! Truly, we shall save you and your family except your wife: she will be of those who remain behind. (33)"Verily, we are about to bring down on the people of this town a great torment from the sky, because they have been rebellious. (34)And indeed We have left thereof an evident Ayah for a folk who understand (35)
The Angels went to Ibrahim and then to Lut, may peace be upon them both
When Lut, peace be upon him, asked Allah to help him against them, Allah sent angels to help him. They first came to Ibrahim in the form of guests, so he offered them hospitality in the appropriate manner. When he saw that they had no interest in the food, he felt some mistrust of them and was fearful of them. They started to calm him down and gave him the news of a righteous son born by his wife Sarah, who was present, and she was astonished by this, as we have already explained in our Tafsir of Surat Hud and Surat Al-Hijr. When they brought this news to Ibrahim and told him that they were sent to destroy the people of Lut, he began to speak up for them, hoping to win more time for them so that they might be guided by Allah. When they said, "We have come to destroy the people of this township,"
قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا ۚ قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَنْ فِيهَا ۖ لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ
((Ibrahim) said: "But there is Lut in it." They said: "We know better who is there. We will verily, save him and his family except his wife, she will be of those who remain behind.") meaning, one of those who will be destroyed, because she used to support them in their disbelief and wrongdoing. Then the angels left him and visited Lut in the form of handsome young men. When he saw them like that,
سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا
(he was grieved because of them, and felt straitened on their account.) means, he was worried since if he had them as guests then he was afraid for them and what his people might do to them, but if he did not host them, he was still afraid of what might happen to them. At that point he did not know who they were.
وَقَالُوا لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ ۖ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلَّا امْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ - إِنَّا مُنْزِلُونَ عَلَىٰ أَهْلِ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
(They said: "Have no fear, and do not grieve! Truly, we shall save you and your family except your wife: she will be of those who remain behind. Verily, we are about to bring down on the people of this town a great torment from the sky, because they have been rebellious.") Jibril, peace be upon him, uprooted their town from the depths of the earth, lifted it up to the sky, then threw it upside down upon them. Allah rained upon them:
حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ - مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ ۖ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ
(stones of Sijjil, in a well-arranged manner one after another. Marked from your Lord; and they are not ever far from the evil doers.)[11:82-83] Allah turned the place where they had lived into a putrid, stinking lake, which will remain as a lesson to mankind until the Day of Resurrection, and they will be among those who are most severely punished on the Day of Resurrection. Allah says:
وَلَقَدْ تَرَكْنَا مِنْهَا آيَةً بَيِّنَةً
(And indeed We have left thereof an evident Ayah) i. e., a clear sign,
لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
(for a folk who understand.) This is like the Ayah,
وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُصْبِحِينَ - وَبِاللَّيْلِ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(Verily, you pass by them in the morning And at night; will you not then reflect?)(37:137-138)
Tafsir Ibn Kathir
فرشتوں کی آمد حضرت لوط ؑ کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم ؑ کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آجائیں۔ اس لئے آپ فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی ؑ ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہوگی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورتوں میں یہ حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط شش وپنج میں پڑگئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آجائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لئے ناخوش اور سنجیدہ ہوگئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کردی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لئے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا جائے گا۔ پھر حضرت جبرائیل ؑ نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کرکے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
Tafsir Ibn Kathir
لِمَا اسْتَنْصَرَ لُوطٌ عَلَيْهِ السَّلَامُ، اللَّهَ عَلَيْهِمْ، بَعَثَ اللَّهُ لِنُصْرَتِهِ مَلَائِكَةً فَمَرُّوا عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي هَيْئَةِ أَضْيَافٍ، فَجَاءَهُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ، فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُ لَا همَّة لَهُمْ إِلَى الطَّعَامِ نَكِرَهم، وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً، فَشَرَعُوا يُؤَانِسُونَهُ وَيُبَشِّرُونَهُ بِوُجُودِ وَلَدٍ صَالِحٍ مِنَ امْرَأَتِهِ سَارَّةَ -وَكَانَتْ حَاضِرَةً -فَتَعَجَّبَتْ مِنْ ذَلِكَ، كَمَا تَقَدَّمَ بَيَانُهُ فِي سُورَةِ "هُودٍ" وَ"الْحِجْرِ". فَلَمَّا جَاءَتْ إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَى، وَأَخْبَرُوهُ بِأَنَّهُمْ أُرْسِلُوا لِهَلَاكِ قَوْمِ لُوطٍ، أَخَذَ يُدَافِعُ لَعَلَّهُمْ يُنظَرون، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَهُمْ، وَلَمَّا قَالُوا: ﴿إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ﴾ ، ﴿قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَنْ فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ﴾ أَيْ: مِنَ الْهَالِكِينَ؛ لِأَنَّهَا كَانَتْ تُمَالِئُهُمْ عَلَى كُفْرِهِمْ وَبَغْيِهِمْ وَدُبُرِهِمْ. ثُمَّ سَارُوا مِنْ عِنْدِهِ فَدَخَلُوا عَلَى لُوطٍ فِي صُورَةِ شَبَابٍ حِسَانٍ، فَلَمَّا رَآهُمْ كَذَلِكَ، ﴿سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا﴾ أَيْ: اهتمَّ [[في ف، أ: "اغتم".]] بِأَمْرِهِمْ، إِنْ هُوَ أَضَافَهُمْ خَافَ [[في أ: "خوفا".]] عَلَيْهِمْ مِنْ قَوْمِهِ، وَإِنْ لَمْ يُضِفْهُمْ خَشِيَ عَلَيْهِمْ مِنْهُمْ، وَلَمْ يَعْلَمْ بِأَمْرِهِمْ فِي السَّاعَةِ الرَّاهِنَةِ. ﴿قَالُوا لَا تَخَفْ وَلا تَحْزَنْ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلا امْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ. إِنَّا مُنزلُونَ عَلَى أَهْلِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ﴾ ، وَذَلِكَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ اقْتَلَعَ قُرَاهُمْ مِنْ قَرَارِ الْأَرْضِ، ثُمَّ رَفَعَهَا إِلَى عَنَان السَّمَاءِ، ثُمَّ قَلَبَهَا عَلَيْهِمْ. وَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ، مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ، وَجَعَلَ [اللَّهُ] [[زيادة من ت، ف، أ.]] مَكَانَهَا بُحَيْرَةً خَبِيثَةً مُنْتِنَةً، وَجَعَلَهُمْ عِبْرَةً إِلَى يَوْمِ التَّنَادِ [[في ت: "القيامة".]] ، وَهُمْ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْمَعَادِ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ تَرَكْنَا مِنْهَا آيَةً بَيِّنَةً﴾ أَيْ: وَاضِحَةً، ﴿لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ﴾ ، كَمَا قَالَ ﴿وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُصْبِحِينَ * وَبِاللَّيْلِ أَفَلا تَعْقِلُونَ﴾ [الصَّافَّاتِ: ١٣٧، ١٣٨] .
وَلَمَّآ أَن جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطًۭا سِىٓءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًۭا وَقَالُوا۟ لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ ۖ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلَّا ٱمْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَٰبِرِينَ
And when Our messengers came to Lot, he was distressed for them and felt for them great discomfort. They said, "Fear not, nor grieve. Indeed, we will save you and your family, except your wife; she is to be of those who remain behind.
اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ اُن (کی وجہ) سے ناخوش اور تنگ دل ہوئے۔ فرشتوں نے کہا کچھ خوف نہ کیجئے۔ اور نہ رنج کیجئے ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچالیں گے مگر آپ کی بیوی کہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی
هنگامی که فرستادگان ما نزد لوط آمدند، از دیدن آنها بدحال و دلتنگ شد؛ گفتند: «نترس و غمگین مباش، ما تو و خانوادهات را نجات خواهیم داد، جز همسرت که در میان قوم باقی میماند.
Tafsir Ibn Kathir
And when Our messengers came to Ibrahim with the glad tidings they said: "Verily, we are going to destroy the people of this town; truly, its people have been wrongdoers. (31)Ibrahim said: "But there is Lut in it." They said: "We know better who is there. We will verily, save him and his family – except his wife, she will be of those who remain behind. (32)And when Our messengers came to Lut, he was grieved because of them, and felt straitened on their account. They said: "Have no fear, and do not grieve! Truly, we shall save you and your family except your wife: she will be of those who remain behind. (33)"Verily, we are about to bring down on the people of this town a great torment from the sky, because they have been rebellious. (34)And indeed We have left thereof an evident Ayah for a folk who understand (35)
The Angels went to Ibrahim and then to Lut, may peace be upon them both
When Lut, peace be upon him, asked Allah to help him against them, Allah sent angels to help him. They first came to Ibrahim in the form of guests, so he offered them hospitality in the appropriate manner. When he saw that they had no interest in the food, he felt some mistrust of them and was fearful of them. They started to calm him down and gave him the news of a righteous son born by his wife Sarah, who was present, and she was astonished by this, as we have already explained in our Tafsir of Surat Hud and Surat Al-Hijr. When they brought this news to Ibrahim and told him that they were sent to destroy the people of Lut, he began to speak up for them, hoping to win more time for them so that they might be guided by Allah. When they said, "We have come to destroy the people of this township,"
قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا ۚ قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَنْ فِيهَا ۖ لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ
((Ibrahim) said: "But there is Lut in it." They said: "We know better who is there. We will verily, save him and his family except his wife, she will be of those who remain behind.") meaning, one of those who will be destroyed, because she used to support them in their disbelief and wrongdoing. Then the angels left him and visited Lut in the form of handsome young men. When he saw them like that,
سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا
(he was grieved because of them, and felt straitened on their account.) means, he was worried since if he had them as guests then he was afraid for them and what his people might do to them, but if he did not host them, he was still afraid of what might happen to them. At that point he did not know who they were.
وَقَالُوا لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ ۖ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلَّا امْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ - إِنَّا مُنْزِلُونَ عَلَىٰ أَهْلِ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
(They said: "Have no fear, and do not grieve! Truly, we shall save you and your family except your wife: she will be of those who remain behind. Verily, we are about to bring down on the people of this town a great torment from the sky, because they have been rebellious.") Jibril, peace be upon him, uprooted their town from the depths of the earth, lifted it up to the sky, then threw it upside down upon them. Allah rained upon them:
حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ - مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ ۖ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ
(stones of Sijjil, in a well-arranged manner one after another. Marked from your Lord; and they are not ever far from the evil doers.)[11:82-83] Allah turned the place where they had lived into a putrid, stinking lake, which will remain as a lesson to mankind until the Day of Resurrection, and they will be among those who are most severely punished on the Day of Resurrection. Allah says:
وَلَقَدْ تَرَكْنَا مِنْهَا آيَةً بَيِّنَةً
(And indeed We have left thereof an evident Ayah) i. e., a clear sign,
لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
(for a folk who understand.) This is like the Ayah,
وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُصْبِحِينَ - وَبِاللَّيْلِ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(Verily, you pass by them in the morning And at night; will you not then reflect?)(37:137-138)
Tafsir Ibn Kathir
فرشتوں کی آمد حضرت لوط ؑ کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم ؑ کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آجائیں۔ اس لئے آپ فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی ؑ ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہوگی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورتوں میں یہ حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط شش وپنج میں پڑگئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آجائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لئے ناخوش اور سنجیدہ ہوگئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کردی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لئے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا جائے گا۔ پھر حضرت جبرائیل ؑ نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کرکے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
Tafsir Ibn Kathir
لِمَا اسْتَنْصَرَ لُوطٌ عَلَيْهِ السَّلَامُ، اللَّهَ عَلَيْهِمْ، بَعَثَ اللَّهُ لِنُصْرَتِهِ مَلَائِكَةً فَمَرُّوا عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي هَيْئَةِ أَضْيَافٍ، فَجَاءَهُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ، فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُ لَا همَّة لَهُمْ إِلَى الطَّعَامِ نَكِرَهم، وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً، فَشَرَعُوا يُؤَانِسُونَهُ وَيُبَشِّرُونَهُ بِوُجُودِ وَلَدٍ صَالِحٍ مِنَ امْرَأَتِهِ سَارَّةَ -وَكَانَتْ حَاضِرَةً -فَتَعَجَّبَتْ مِنْ ذَلِكَ، كَمَا تَقَدَّمَ بَيَانُهُ فِي سُورَةِ "هُودٍ" وَ"الْحِجْرِ". فَلَمَّا جَاءَتْ إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَى، وَأَخْبَرُوهُ بِأَنَّهُمْ أُرْسِلُوا لِهَلَاكِ قَوْمِ لُوطٍ، أَخَذَ يُدَافِعُ لَعَلَّهُمْ يُنظَرون، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَهُمْ، وَلَمَّا قَالُوا: ﴿إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ﴾ ، ﴿قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَنْ فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ﴾ أَيْ: مِنَ الْهَالِكِينَ؛ لِأَنَّهَا كَانَتْ تُمَالِئُهُمْ عَلَى كُفْرِهِمْ وَبَغْيِهِمْ وَدُبُرِهِمْ. ثُمَّ سَارُوا مِنْ عِنْدِهِ فَدَخَلُوا عَلَى لُوطٍ فِي صُورَةِ شَبَابٍ حِسَانٍ، فَلَمَّا رَآهُمْ كَذَلِكَ، ﴿سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا﴾ أَيْ: اهتمَّ [[في ف، أ: "اغتم".]] بِأَمْرِهِمْ، إِنْ هُوَ أَضَافَهُمْ خَافَ [[في أ: "خوفا".]] عَلَيْهِمْ مِنْ قَوْمِهِ، وَإِنْ لَمْ يُضِفْهُمْ خَشِيَ عَلَيْهِمْ مِنْهُمْ، وَلَمْ يَعْلَمْ بِأَمْرِهِمْ فِي السَّاعَةِ الرَّاهِنَةِ. ﴿قَالُوا لَا تَخَفْ وَلا تَحْزَنْ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلا امْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ. إِنَّا مُنزلُونَ عَلَى أَهْلِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ﴾ ، وَذَلِكَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ اقْتَلَعَ قُرَاهُمْ مِنْ قَرَارِ الْأَرْضِ، ثُمَّ رَفَعَهَا إِلَى عَنَان السَّمَاءِ، ثُمَّ قَلَبَهَا عَلَيْهِمْ. وَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ، مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ، وَجَعَلَ [اللَّهُ] [[زيادة من ت، ف، أ.]] مَكَانَهَا بُحَيْرَةً خَبِيثَةً مُنْتِنَةً، وَجَعَلَهُمْ عِبْرَةً إِلَى يَوْمِ التَّنَادِ [[في ت: "القيامة".]] ، وَهُمْ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْمَعَادِ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ تَرَكْنَا مِنْهَا آيَةً بَيِّنَةً﴾ أَيْ: وَاضِحَةً، ﴿لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ﴾ ، كَمَا قَالَ ﴿وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُصْبِحِينَ * وَبِاللَّيْلِ أَفَلا تَعْقِلُونَ﴾ [الصَّافَّاتِ: ١٣٧، ١٣٨] .
إِنَّا مُنزِلُونَ عَلَىٰٓ أَهْلِ هَٰذِهِ ٱلْقَرْيَةِ رِجْزًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ
Indeed, we will bring down on the people of this city punishment from the sky because they have been defiantly disobedient."
ہم اس بستی کے رہنے والوں پر اس سبب سے کہ یہ بدکرداری کرتے رہے ہیں آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں
ما بر اهل این شهر و آبادی به خاطر گناهانشان، عذابی از آسمان فرو خواهیم ریخت!»
Tafsir Ibn Kathir
And when Our messengers came to Ibrahim with the glad tidings they said: "Verily, we are going to destroy the people of this town; truly, its people have been wrongdoers. (31)Ibrahim said: "But there is Lut in it." They said: "We know better who is there. We will verily, save him and his family – except his wife, she will be of those who remain behind. (32)And when Our messengers came to Lut, he was grieved because of them, and felt straitened on their account. They said: "Have no fear, and do not grieve! Truly, we shall save you and your family except your wife: she will be of those who remain behind. (33)"Verily, we are about to bring down on the people of this town a great torment from the sky, because they have been rebellious. (34)And indeed We have left thereof an evident Ayah for a folk who understand (35)
The Angels went to Ibrahim and then to Lut, may peace be upon them both
When Lut, peace be upon him, asked Allah to help him against them, Allah sent angels to help him. They first came to Ibrahim in the form of guests, so he offered them hospitality in the appropriate manner. When he saw that they had no interest in the food, he felt some mistrust of them and was fearful of them. They started to calm him down and gave him the news of a righteous son born by his wife Sarah, who was present, and she was astonished by this, as we have already explained in our Tafsir of Surat Hud and Surat Al-Hijr. When they brought this news to Ibrahim and told him that they were sent to destroy the people of Lut, he began to speak up for them, hoping to win more time for them so that they might be guided by Allah. When they said, "We have come to destroy the people of this township,"
قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا ۚ قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَنْ فِيهَا ۖ لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ
((Ibrahim) said: "But there is Lut in it." They said: "We know better who is there. We will verily, save him and his family except his wife, she will be of those who remain behind.") meaning, one of those who will be destroyed, because she used to support them in their disbelief and wrongdoing. Then the angels left him and visited Lut in the form of handsome young men. When he saw them like that,
سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا
(he was grieved because of them, and felt straitened on their account.) means, he was worried since if he had them as guests then he was afraid for them and what his people might do to them, but if he did not host them, he was still afraid of what might happen to them. At that point he did not know who they were.
وَقَالُوا لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ ۖ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلَّا امْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ - إِنَّا مُنْزِلُونَ عَلَىٰ أَهْلِ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
(They said: "Have no fear, and do not grieve! Truly, we shall save you and your family except your wife: she will be of those who remain behind. Verily, we are about to bring down on the people of this town a great torment from the sky, because they have been rebellious.") Jibril, peace be upon him, uprooted their town from the depths of the earth, lifted it up to the sky, then threw it upside down upon them. Allah rained upon them:
حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ - مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ ۖ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ
(stones of Sijjil, in a well-arranged manner one after another. Marked from your Lord; and they are not ever far from the evil doers.)[11:82-83] Allah turned the place where they had lived into a putrid, stinking lake, which will remain as a lesson to mankind until the Day of Resurrection, and they will be among those who are most severely punished on the Day of Resurrection. Allah says:
وَلَقَدْ تَرَكْنَا مِنْهَا آيَةً بَيِّنَةً
(And indeed We have left thereof an evident Ayah) i. e., a clear sign,
لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
(for a folk who understand.) This is like the Ayah,
وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُصْبِحِينَ - وَبِاللَّيْلِ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(Verily, you pass by them in the morning And at night; will you not then reflect?)(37:137-138)
Tafsir Ibn Kathir
فرشتوں کی آمد حضرت لوط ؑ کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم ؑ کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آجائیں۔ اس لئے آپ فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی ؑ ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہوگی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورتوں میں یہ حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط شش وپنج میں پڑگئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آجائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لئے ناخوش اور سنجیدہ ہوگئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کردی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لئے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا جائے گا۔ پھر حضرت جبرائیل ؑ نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کرکے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
Tafsir Ibn Kathir
لِمَا اسْتَنْصَرَ لُوطٌ عَلَيْهِ السَّلَامُ، اللَّهَ عَلَيْهِمْ، بَعَثَ اللَّهُ لِنُصْرَتِهِ مَلَائِكَةً فَمَرُّوا عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي هَيْئَةِ أَضْيَافٍ، فَجَاءَهُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ، فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُ لَا همَّة لَهُمْ إِلَى الطَّعَامِ نَكِرَهم، وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً، فَشَرَعُوا يُؤَانِسُونَهُ وَيُبَشِّرُونَهُ بِوُجُودِ وَلَدٍ صَالِحٍ مِنَ امْرَأَتِهِ سَارَّةَ -وَكَانَتْ حَاضِرَةً -فَتَعَجَّبَتْ مِنْ ذَلِكَ، كَمَا تَقَدَّمَ بَيَانُهُ فِي سُورَةِ "هُودٍ" وَ"الْحِجْرِ". فَلَمَّا جَاءَتْ إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَى، وَأَخْبَرُوهُ بِأَنَّهُمْ أُرْسِلُوا لِهَلَاكِ قَوْمِ لُوطٍ، أَخَذَ يُدَافِعُ لَعَلَّهُمْ يُنظَرون، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَهُمْ، وَلَمَّا قَالُوا: ﴿إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ﴾ ، ﴿قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَنْ فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ﴾ أَيْ: مِنَ الْهَالِكِينَ؛ لِأَنَّهَا كَانَتْ تُمَالِئُهُمْ عَلَى كُفْرِهِمْ وَبَغْيِهِمْ وَدُبُرِهِمْ. ثُمَّ سَارُوا مِنْ عِنْدِهِ فَدَخَلُوا عَلَى لُوطٍ فِي صُورَةِ شَبَابٍ حِسَانٍ، فَلَمَّا رَآهُمْ كَذَلِكَ، ﴿سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا﴾ أَيْ: اهتمَّ [[في ف، أ: "اغتم".]] بِأَمْرِهِمْ، إِنْ هُوَ أَضَافَهُمْ خَافَ [[في أ: "خوفا".]] عَلَيْهِمْ مِنْ قَوْمِهِ، وَإِنْ لَمْ يُضِفْهُمْ خَشِيَ عَلَيْهِمْ مِنْهُمْ، وَلَمْ يَعْلَمْ بِأَمْرِهِمْ فِي السَّاعَةِ الرَّاهِنَةِ. ﴿قَالُوا لَا تَخَفْ وَلا تَحْزَنْ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلا امْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ. إِنَّا مُنزلُونَ عَلَى أَهْلِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ﴾ ، وَذَلِكَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ اقْتَلَعَ قُرَاهُمْ مِنْ قَرَارِ الْأَرْضِ، ثُمَّ رَفَعَهَا إِلَى عَنَان السَّمَاءِ، ثُمَّ قَلَبَهَا عَلَيْهِمْ. وَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ، مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ، وَجَعَلَ [اللَّهُ] [[زيادة من ت، ف، أ.]] مَكَانَهَا بُحَيْرَةً خَبِيثَةً مُنْتِنَةً، وَجَعَلَهُمْ عِبْرَةً إِلَى يَوْمِ التَّنَادِ [[في ت: "القيامة".]] ، وَهُمْ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْمَعَادِ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ تَرَكْنَا مِنْهَا آيَةً بَيِّنَةً﴾ أَيْ: وَاضِحَةً، ﴿لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ﴾ ، كَمَا قَالَ ﴿وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُصْبِحِينَ * وَبِاللَّيْلِ أَفَلا تَعْقِلُونَ﴾ [الصَّافَّاتِ: ١٣٧، ١٣٨] .
وَلَقَد تَّرَكْنَا مِنْهَآ ءَايَةًۢ بَيِّنَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يَعْقِلُونَ
And We have certainly left of it a sign as clear evidence for a people who use reason.
اور ہم نے سمجھنے والے لوگوں کے لئے اس بستی سے ایک کھلی نشانی چھوڑ دی
و از این آبادی نشانه روشنی (و درس عبرتی) برای کسانی که میاندیشند باقی گذاردیم!
Tafsir Ibn Kathir
And when Our messengers came to Ibrahim with the glad tidings they said: "Verily, we are going to destroy the people of this town; truly, its people have been wrongdoers. (31)Ibrahim said: "But there is Lut in it." They said: "We know better who is there. We will verily, save him and his family – except his wife, she will be of those who remain behind. (32)And when Our messengers came to Lut, he was grieved because of them, and felt straitened on their account. They said: "Have no fear, and do not grieve! Truly, we shall save you and your family except your wife: she will be of those who remain behind. (33)"Verily, we are about to bring down on the people of this town a great torment from the sky, because they have been rebellious. (34)And indeed We have left thereof an evident Ayah for a folk who understand (35)
The Angels went to Ibrahim and then to Lut, may peace be upon them both
When Lut, peace be upon him, asked Allah to help him against them, Allah sent angels to help him. They first came to Ibrahim in the form of guests, so he offered them hospitality in the appropriate manner. When he saw that they had no interest in the food, he felt some mistrust of them and was fearful of them. They started to calm him down and gave him the news of a righteous son born by his wife Sarah, who was present, and she was astonished by this, as we have already explained in our Tafsir of Surat Hud and Surat Al-Hijr. When they brought this news to Ibrahim and told him that they were sent to destroy the people of Lut, he began to speak up for them, hoping to win more time for them so that they might be guided by Allah. When they said, "We have come to destroy the people of this township,"
قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا ۚ قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَنْ فِيهَا ۖ لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ
((Ibrahim) said: "But there is Lut in it." They said: "We know better who is there. We will verily, save him and his family except his wife, she will be of those who remain behind.") meaning, one of those who will be destroyed, because she used to support them in their disbelief and wrongdoing. Then the angels left him and visited Lut in the form of handsome young men. When he saw them like that,
سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا
(he was grieved because of them, and felt straitened on their account.) means, he was worried since if he had them as guests then he was afraid for them and what his people might do to them, but if he did not host them, he was still afraid of what might happen to them. At that point he did not know who they were.
وَقَالُوا لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ ۖ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلَّا امْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ - إِنَّا مُنْزِلُونَ عَلَىٰ أَهْلِ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
(They said: "Have no fear, and do not grieve! Truly, we shall save you and your family except your wife: she will be of those who remain behind. Verily, we are about to bring down on the people of this town a great torment from the sky, because they have been rebellious.") Jibril, peace be upon him, uprooted their town from the depths of the earth, lifted it up to the sky, then threw it upside down upon them. Allah rained upon them:
حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ - مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ ۖ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ
(stones of Sijjil, in a well-arranged manner one after another. Marked from your Lord; and they are not ever far from the evil doers.)[11:82-83] Allah turned the place where they had lived into a putrid, stinking lake, which will remain as a lesson to mankind until the Day of Resurrection, and they will be among those who are most severely punished on the Day of Resurrection. Allah says:
وَلَقَدْ تَرَكْنَا مِنْهَا آيَةً بَيِّنَةً
(And indeed We have left thereof an evident Ayah) i. e., a clear sign,
لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
(for a folk who understand.) This is like the Ayah,
وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُصْبِحِينَ - وَبِاللَّيْلِ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(Verily, you pass by them in the morning And at night; will you not then reflect?)(37:137-138)
Tafsir Ibn Kathir
فرشتوں کی آمد حضرت لوط ؑ کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم ؑ کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے جائیں تو کیا عجب کہ راہ راست پر آجائیں۔ اس لئے آپ فرمانے لگے کہ وہاں تو لوط نبی ؑ ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا ہم ان سے غافل نہیں۔ ہمیں حکم ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو بچالیں۔ ہاں ان کی بیوی تو بیشک ہلاک ہوگی۔ کیونکہ وہ اپنی قوم کے کفر میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ یہاں سے رخصت ہو کر خوبصورت قریب البلوغ بچوں کی صورتوں میں یہ حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے۔ انہیں دیکھتے ہی لوط شش وپنج میں پڑگئے کہ اگر انہیں ٹھہراتے ہیں تو ان کی خبر پاتے ہی کفار بھڑ بھڑا کر آجائیں گے اور مجھے تنگ کریں گے اور انہیں بھی پریشان کریں گے۔ اگر نہیں ٹھہراتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑجائیں گے قوم کی خصلت سے واقف تھے اس لئے ناخوش اور سنجیدہ ہوگئے۔ لیکن فرشتوں نے ان کی یہ گھبراہٹ دور کردی کہ آپ گھبرائیے نہیں رنجیدہ نہ ہوں ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کے لئے آئیں ہیں۔ آپ اور آپ کا خاندان سوائے آپ کی اہلیہ کے بچ جائے گا۔ باقی ان سب پر آسمانی عذاب آئے گا اور انہیں ان کی بدکاری کا نتیجہ دکھایا جائے گا۔ پھر حضرت جبرائیل ؑ نے ان بستیوں کو زمین سے اٹھایا اور آسمان تک لے گئے اور وہاں سے الٹ دیں پھر ان پر ان کے نام کے نشاندار پتھر برسائے گئے اور جس عذاب الٰہی کو وہ دورسجمھ رہے تھے وہ قریب ہی نکل آیا۔ ان کی بستیوں کی جگہ ایک کڑوے گندے اور بدبودار پانی کی جھیل رہ گئی۔ جو لوگوں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ اور عقلمند لوگ اس ظاہری نشان کو دیکھ کر ان کی بری طرح ہلاکت کو یاد کرکے اللہ کی نافرمانیوں پر دلیری نہ کریں۔ عرب کے سفر میں رات دن یہ منظر ان کے پیش نظر تھا۔
Tafsir Ibn Kathir
لِمَا اسْتَنْصَرَ لُوطٌ عَلَيْهِ السَّلَامُ، اللَّهَ عَلَيْهِمْ، بَعَثَ اللَّهُ لِنُصْرَتِهِ مَلَائِكَةً فَمَرُّوا عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي هَيْئَةِ أَضْيَافٍ، فَجَاءَهُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ، فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُ لَا همَّة لَهُمْ إِلَى الطَّعَامِ نَكِرَهم، وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً، فَشَرَعُوا يُؤَانِسُونَهُ وَيُبَشِّرُونَهُ بِوُجُودِ وَلَدٍ صَالِحٍ مِنَ امْرَأَتِهِ سَارَّةَ -وَكَانَتْ حَاضِرَةً -فَتَعَجَّبَتْ مِنْ ذَلِكَ، كَمَا تَقَدَّمَ بَيَانُهُ فِي سُورَةِ "هُودٍ" وَ"الْحِجْرِ". فَلَمَّا جَاءَتْ إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَى، وَأَخْبَرُوهُ بِأَنَّهُمْ أُرْسِلُوا لِهَلَاكِ قَوْمِ لُوطٍ، أَخَذَ يُدَافِعُ لَعَلَّهُمْ يُنظَرون، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَهُمْ، وَلَمَّا قَالُوا: ﴿إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ﴾ ، ﴿قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَنْ فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ﴾ أَيْ: مِنَ الْهَالِكِينَ؛ لِأَنَّهَا كَانَتْ تُمَالِئُهُمْ عَلَى كُفْرِهِمْ وَبَغْيِهِمْ وَدُبُرِهِمْ. ثُمَّ سَارُوا مِنْ عِنْدِهِ فَدَخَلُوا عَلَى لُوطٍ فِي صُورَةِ شَبَابٍ حِسَانٍ، فَلَمَّا رَآهُمْ كَذَلِكَ، ﴿سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا﴾ أَيْ: اهتمَّ [[في ف، أ: "اغتم".]] بِأَمْرِهِمْ، إِنْ هُوَ أَضَافَهُمْ خَافَ [[في أ: "خوفا".]] عَلَيْهِمْ مِنْ قَوْمِهِ، وَإِنْ لَمْ يُضِفْهُمْ خَشِيَ عَلَيْهِمْ مِنْهُمْ، وَلَمْ يَعْلَمْ بِأَمْرِهِمْ فِي السَّاعَةِ الرَّاهِنَةِ. ﴿قَالُوا لَا تَخَفْ وَلا تَحْزَنْ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلا امْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ. إِنَّا مُنزلُونَ عَلَى أَهْلِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ﴾ ، وَذَلِكَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ اقْتَلَعَ قُرَاهُمْ مِنْ قَرَارِ الْأَرْضِ، ثُمَّ رَفَعَهَا إِلَى عَنَان السَّمَاءِ، ثُمَّ قَلَبَهَا عَلَيْهِمْ. وَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ، مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ، وَجَعَلَ [اللَّهُ] [[زيادة من ت، ف، أ.]] مَكَانَهَا بُحَيْرَةً خَبِيثَةً مُنْتِنَةً، وَجَعَلَهُمْ عِبْرَةً إِلَى يَوْمِ التَّنَادِ [[في ت: "القيامة".]] ، وَهُمْ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْمَعَادِ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ تَرَكْنَا مِنْهَا آيَةً بَيِّنَةً﴾ أَيْ: وَاضِحَةً، ﴿لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ﴾ ، كَمَا قَالَ ﴿وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُصْبِحِينَ * وَبِاللَّيْلِ أَفَلا تَعْقِلُونَ﴾ [الصَّافَّاتِ: ١٣٧، ١٣٨] .
وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًۭا فَقَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَٱرْجُوا۟ ٱلْيَوْمَ ٱلْءَاخِرَ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
And to Madyan [We sent] their brother Shu'ayb, and he said, "O my people, worship Allah and expect the Last Day and do not commit abuse on the earth, spreading corruption."
اور مدین کی طرف اُن کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اُنہوں نے کہا (اے قوم) خدا کی عبادت کرو اور پچھلے دن کے آنے کی اُمید رکھو اور ملک میں فساد نہ مچاؤ
و ما بسوی «مدین»، برادرشان «شعیب» را فرستادیم؛ گفت: «ای قوم من! خدا را بپرستید، و به روز بازپسین امیدوار باشید، و در زمین فساد نکنید!»
Tafsir Ibn Kathir
And to Madyan, We sent their brother Shu'ayb. He said: "O my people! Worship Allah and hope for the last Day, and commit no mischief on the earth as mischief-makers. (36)And they denied him; so the earthquake seized them, and they lay, prostrate in their dwellings (37)
Shu'ayb and His People
Allah tells us that His servant and Messenger Shu'ayb, peace be upon him, warned his people, the people of Madyan, and commanded them to worship Allah Alone with no partner or associate, and to fear the wrath and punishment of Allah on the Day of Resurrection. He said:
يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَارْجُوا الْيَوْمَ الْآخِرَ
(O my people! Worship Allah and hope for the last Day,) Ibn Jarir said: "Some of them said that this meant: Fear the Last Day." This is like the Ayah,
لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ
(for those who look forward to (meeting with) Allah and the Last Day)(60:6).
وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
(and commit no mischief on the earth as mischief-makers.) This is forbidding them to make mischief on earth by spreading corruption, which means going around doing evil to people. They used to cheat in weights and measures, and ambush people on the road; this is in addition to their disbelief in Allah and His Messenger. So Allah destroyed them with a mighty earthquake that convulsed their land, and the Sayhah (shout) which tore their hearts from their bodies, and the torment of the Day of Shade, when their souls were taken. This was the torment of a great day. We have already examined their story in detail in Surat Al-A'raf, Surat Hud and Surat Ash-Shu'ara'.
فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
(and they lay, prostrate in their dwellings.) Qatadah said, "They were dead." Others said that they were thrown on top of one another.
Tafsir Ibn Kathir
فساد نہ کرو اللہ کے بندے اور اس کے سچے رسول حضرت شعیب ؑ نے مدین میں اپنی قوم کو وعظ کیا۔ انہیں اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کا حکم دیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے اور اس کی سزاؤں سے ڈرایا انہیں قیامت کے ہونے کا یقین دلاکر فرمایا کہ اس دن کے لئے کچھ تیاریاں کرلو اس دن کا خیال رکھو لوگوں پر ظلم و زیادتی نہ کرو اللہ کی زمین میں فساد نہ کرو برائیوں سے الگ رہو۔ ان میں ایک عیب یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے لوگوں کے حق مارتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے راستے بند کرتے تھے ساتھ ہی اللہ اور اس کے رسول سے کفر کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر کی نصیحتوں پر کان تک نہ دھرا بلکہ انہیں جھوٹا کہا اس بنا پر ان پر عذاب الٰہی برس پڑا سخت بھونچال آیا اور ساتھ ہی اتنی تیز وتند آواز آئی کہ دل اڑ گئے اور روحیں پرواز کر گئیں اور گھڑی کی گھڑی میں سب کا سب ڈھیر ہوگیا۔ ان کا پورا قصہ سورة اعراف سورة ہود اور سورة شعراء میں گزرچکا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ عَبْدِهِ وَرَسُولِهِ شُعَيْبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهُ أَنْذَرَ قَوْمَهُ أَهْلَ مَدين، فَأَمَرَهُمْ بِعِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنْ يَخَافُوا بَأْسَ اللَّهِ وَنِقْمَتَهُ وَسَطْوَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقَالَ: ﴿يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَارْجُوا الْيَوْمَ الآخِرَ﴾ .
. قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: قَالَ بَعْضُهُمْ: مَعْنَاهُ: وَاخْشَوُا الْيَوْمَ الْآخِرَ، وَهَذَا كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ﴾ [الْمُمْتَحَنَةِ: ٦] .
ثُمَّ نَهَاهُمْ عَنِ الْعَيْثِ فِي الْأَرْضِ بِالْفَسَادِ، وَهُوَ السَّعْيُ فِيهَا وَالْبَغْيُ عَلَى أَهْلِهَا، وَذَلِكَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُنْقِصُونَ الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ، وَيَقْطَعُونَ الطَّرِيقَ عَلَى النَّاسِ، هَذَا مَعَ كَفْرِهِمْ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَأَهْلَكَهُمُ اللَّهُ بِرَجْفَةٍ عَظِيمَةٍ زَلْزَلَتْ عَلَيْهِمْ بِلَادَهُمْ، وَصَيْحَةٍ أَخْرَجَتِ الْقُلُوبَ مِنْ حَنَاجِرِهَا [[في ت: "حناجرهم".]] . وَعَذَابِ يَوْمِ الظُّلَّةِ الَّذِي أَزْهَقَ الْأَرْوَاحَ مِنْ مُسْتَقَرِّهَا، إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ قِصَّتُهُمْ مَبْسُوطَةً فِي سُورَةِ "الْأَعْرَافِ، وَهُودٍ، وَالشُّعَرَاءِ".
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ﴾ ، قَالَ قَتَادَةُ: مَيِّتِينَ. وَقَالَ غَيْرُهُ: قَدْ أُلْقِيَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ.
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دَارِهِمْ جَٰثِمِينَ
But they denied him, so the earthquake seized them, and they became within their home [corpses] fallen prone.
مگر اُنہوں نے اُن کو جھوٹا سمجھا سو اُن کو زلزلے (کے عذاب) نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے
(ولی) آنها او را تکذیب کردند، و به این سبب زلزله آنان را فراگرفت، و بامدادان در خانههای خود به رو در افتاده و مرده بودند!
Tafsir Ibn Kathir
And to Madyan, We sent their brother Shu'ayb. He said: "O my people! Worship Allah and hope for the last Day, and commit no mischief on the earth as mischief-makers. (36)And they denied him; so the earthquake seized them, and they lay, prostrate in their dwellings (37)
Shu'ayb and His People
Allah tells us that His servant and Messenger Shu'ayb, peace be upon him, warned his people, the people of Madyan, and commanded them to worship Allah Alone with no partner or associate, and to fear the wrath and punishment of Allah on the Day of Resurrection. He said:
يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَارْجُوا الْيَوْمَ الْآخِرَ
(O my people! Worship Allah and hope for the last Day,) Ibn Jarir said: "Some of them said that this meant: Fear the Last Day." This is like the Ayah,
لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ
(for those who look forward to (meeting with) Allah and the Last Day)(60:6).
وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
(and commit no mischief on the earth as mischief-makers.) This is forbidding them to make mischief on earth by spreading corruption, which means going around doing evil to people. They used to cheat in weights and measures, and ambush people on the road; this is in addition to their disbelief in Allah and His Messenger. So Allah destroyed them with a mighty earthquake that convulsed their land, and the Sayhah (shout) which tore their hearts from their bodies, and the torment of the Day of Shade, when their souls were taken. This was the torment of a great day. We have already examined their story in detail in Surat Al-A'raf, Surat Hud and Surat Ash-Shu'ara'.
فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
(and they lay, prostrate in their dwellings.) Qatadah said, "They were dead." Others said that they were thrown on top of one another.
Tafsir Ibn Kathir
فساد نہ کرو اللہ کے بندے اور اس کے سچے رسول حضرت شعیب ؑ نے مدین میں اپنی قوم کو وعظ کیا۔ انہیں اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کا حکم دیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے اور اس کی سزاؤں سے ڈرایا انہیں قیامت کے ہونے کا یقین دلاکر فرمایا کہ اس دن کے لئے کچھ تیاریاں کرلو اس دن کا خیال رکھو لوگوں پر ظلم و زیادتی نہ کرو اللہ کی زمین میں فساد نہ کرو برائیوں سے الگ رہو۔ ان میں ایک عیب یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے لوگوں کے حق مارتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے راستے بند کرتے تھے ساتھ ہی اللہ اور اس کے رسول سے کفر کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر کی نصیحتوں پر کان تک نہ دھرا بلکہ انہیں جھوٹا کہا اس بنا پر ان پر عذاب الٰہی برس پڑا سخت بھونچال آیا اور ساتھ ہی اتنی تیز وتند آواز آئی کہ دل اڑ گئے اور روحیں پرواز کر گئیں اور گھڑی کی گھڑی میں سب کا سب ڈھیر ہوگیا۔ ان کا پورا قصہ سورة اعراف سورة ہود اور سورة شعراء میں گزرچکا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ عَبْدِهِ وَرَسُولِهِ شُعَيْبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهُ أَنْذَرَ قَوْمَهُ أَهْلَ مَدين، فَأَمَرَهُمْ بِعِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنْ يَخَافُوا بَأْسَ اللَّهِ وَنِقْمَتَهُ وَسَطْوَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقَالَ: ﴿يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَارْجُوا الْيَوْمَ الآخِرَ﴾ .
. قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: قَالَ بَعْضُهُمْ: مَعْنَاهُ: وَاخْشَوُا الْيَوْمَ الْآخِرَ، وَهَذَا كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ﴾ [الْمُمْتَحَنَةِ: ٦] .
ثُمَّ نَهَاهُمْ عَنِ الْعَيْثِ فِي الْأَرْضِ بِالْفَسَادِ، وَهُوَ السَّعْيُ فِيهَا وَالْبَغْيُ عَلَى أَهْلِهَا، وَذَلِكَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُنْقِصُونَ الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ، وَيَقْطَعُونَ الطَّرِيقَ عَلَى النَّاسِ، هَذَا مَعَ كَفْرِهِمْ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَأَهْلَكَهُمُ اللَّهُ بِرَجْفَةٍ عَظِيمَةٍ زَلْزَلَتْ عَلَيْهِمْ بِلَادَهُمْ، وَصَيْحَةٍ أَخْرَجَتِ الْقُلُوبَ مِنْ حَنَاجِرِهَا [[في ت: "حناجرهم".]] . وَعَذَابِ يَوْمِ الظُّلَّةِ الَّذِي أَزْهَقَ الْأَرْوَاحَ مِنْ مُسْتَقَرِّهَا، إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ قِصَّتُهُمْ مَبْسُوطَةً فِي سُورَةِ "الْأَعْرَافِ، وَهُودٍ، وَالشُّعَرَاءِ".
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ﴾ ، قَالَ قَتَادَةُ: مَيِّتِينَ. وَقَالَ غَيْرُهُ: قَدْ أُلْقِيَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ.
وَعَادًۭا وَثَمُودَا۟ وَقَد تَّبَيَّنَ لَكُم مِّن مَّسَٰكِنِهِمْ ۖ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَعْمَٰلَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ ٱلسَّبِيلِ وَكَانُوا۟ مُسْتَبْصِرِينَ
And [We destroyed] 'Aad and Thamud, and it has become clear to you from their [ruined] dwellings. And Satan had made pleasing to them their deeds and averted them from the path, and they were endowed with perception.
اور عاد اور ثمود کو بھی (ہم نے ہلاک کر دیا) چنانچہ اُن کے (ویران گھر) تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں اور شیطان نے اُن کے اعمال ان کو آراستہ کر دکھائے اور ان کو (سیدھے) رستے سے روک دیا۔ حالانکہ وہ دیکھنے والے (لوگ) تھے
ما طایفه «عاد» و «ثمود» را نیز (هلاک کردیم)، و مساکن (ویران شده) آنان برای شما آشکار است؛ شیطان اعمالشان را برای آنان آراسته بود، از این رو آنان را از راه (خدا) بازداشت در حالی که بینا بودند.
Tafsir Ibn Kathir
And 'Ad and Thamud! And indeed (their destruction) is clearly apparent to you from their (ruined) dwellings. Shaytan made their deeds fair seeming to them, and turned them away from the path, though they were intelligent (38)And Qarun, Fir'awn, and Haman. And indeed Musa came to them with clear Ayat, but they were arrogant in the land, yet they could not outstrip Us (39)So, We punished each for his sins, of them were some on whom We sent a Hasib, and of them were some who were overtaken by As-Sayhah, and of them were some whom We caused the earth to swallow, and of them were some whom We drowned. It was not Allah Who wronged them, but they wronged themselves (40)
The Destruction of Nations Who rejected Their Messengers
Allah tells us about these nations who disbelieved in their Messengers, and how He destroyed them and sent various kinds of punishments and vengeance upon them. 'Ad, the people of Hud, peace be upon him, used to live in the Ahqaf (curved sand-hills), near Hadramawt, in the Yemen. Thamud, the people of Salih, lived in Al-Hijr, near Wadi Al-Qura. The Arabs used to know their dwelling place very well, and they often used to pass by it. Qarun was the owner of great wealth and had the keys to immense treasures. Fir'awn, the king of Egypt at the time of Musa, and his minister Haman were two Coptics who disbelieved in Allah and His Messenger, peace be upon him.
فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنْبِهِ ۖ
(So, We punished each for his sins,) their punishments fit their crimes.
فَمِنْهُمْ مَنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا
(of them were some on whom We sent a Hasib,) This was the case with 'Ad, and this happened because they said: "Who is stronger than us?" So, there came upon them a violent, intensely cold wind, which was very strong and carried pebbles which it threw upon them. It carried them through the air, lifting a man up to the sky and then hurling him headlong to the ground, so that his head split and he was left as a body without a head, like uprooted stems of date palms.
وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ
(and of them were some who were overtaken by As-Sayhah,) This is what happened to Thamud, against whom evidence was established because of the she-camel who came forth when the rock was split, exactly as they had asked for. Yet despite that they did not believe, rather they persisted in their evil behavior and disbelief, and threatening to expel Allah's Prophet Salih and the believers with him, or to stone them. So the Sayhah struck them, taking away their powers of speech and movement.
وَمِنْهُمْ مَنْ خَسَفْنَا بِهِ الْأَرْضَ
(and of them were some whom We caused the earth to swallow,) This refers to Qarun who transgressed, he was evil and arrogant. He disobeyed his Lord, the Most High, and paraded through the land in a boastful manner, filled with self-admiration, thinking that he was better than others. He showed off as he walked, so Allah caused the earth to swallow him and his house, and he will continue sinking into it until the Day of Resurrection.
وَمِنْهُمْ مَنْ أَغْرَقْنَا
(and of them were some whom We drowned.) This refers to Fir'awn, his minister Haman and their troops, all of whom were drowned in a single morning, not one of them escaped.
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ
(It was not Allah Who wronged them,) in what He did to them,
وَلَٰكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
(but they wronged themselves.) that happened to them as a punishment for what they did with their own hands.
Tafsir Ibn Kathir
احقاف کے لوگ عادی حضرت ہود ؑ کی قوم تھے۔ احقاف میں رہتے تھے جو یمن کے شہروں میں حضرموت کے قریب ہے۔ ثمودی حضرت صالح ؑ کی قوم کے لوگ تھے۔ یہ حجر میں بستے تھے جو وادی القریٰ کے قریب ہے۔ عرب کے راستے میں ان کی بستی آتی تھی جسے یہ بخوبی جانتے تھے۔ قارون ایک دولت مند شخص تھا جس کے بھرپور خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت کی جماعت اٹھاتی تھی۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور ہامان اسکا وزیر اعظم تھا۔ اسی کے زمانے میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ ؑ نبی ہو کر اس کی طرف بھیجے گئے۔ یہ دونوں قبطی کافر تھے جب ان کی سرکشی حد سے گذر گئی اللہ کی توحید کے منکر ہوگئے رسولوں کو ایذائیں دیں اور ان کی نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا۔ عادیوں پر ہوائیں بھیجیں۔ انہیں اپنی قوت وطاقت کا بڑا گھمنڈ تھا کسی کو اپنے مقابلے کا نہ جانتے تھے۔ ان پر ہوا بھیجی جو بڑی تیز وتند تھی جو ان پر زمین کے پتھر اڑا اڑا کر برسانے لگی۔ بالآخر زور پکڑتے پکڑتے یہاں تک بڑھ گئی کہ انہیں اچک لے جاتی اور آسمان کے قریب لے جاکر پھر گرا دیتی۔ سر کے بل گرتے اور سر الگ ہوجاتا دھڑ الگ ہوجاتا اور ایسے ہوجاتے جیسے کجھور کے درخت جس کے تنے الگ ہوں اور شاخیں جدا ہوں۔ ثمودیوں پر حجت الٰہی پوری ہوئی دلائل دے دئیے گئے ان کی طلب کے موافق پتھر میں سے ان کے دیکھتے ہوئے اونٹنی نکلی لیکن تاہم انہیں ایمان نصیب نہ ہوا بلکہ طغیانی میں بڑھتے رہے۔ اللہ کے نبی کو دھمکانے اور ڈرانے لگے اور ایمانداروں سے بھی کہنے لگے کہ ہمارے شہر چھوڑ دو ورنہ ہم تمہیں سنگسار کردیں گے۔ انہیں ایک چیخ سے پارہ پارہ کردیا۔ دل ہل گئے کلیجے اڑگئے اور سب کی روحیں نکل گئیں۔ قارون نے سرکشی اور تکبر کیا۔ طغیانی اور بڑائی کی رب الاعلیٰ کی نافرمانی کی زمین میں فساد مچا دیا۔ اکڑ اکڑ کر چلنے لگا اپنے ڈنٹر بل دیکھنے لگا اترانے لگا اور پھولنے لگا۔ پس اللہ نے اسے مع اس کے محلات کے زمین دوز کردیا جو آج تک دھنستا چلا جارہا ہے۔ فرعون ہامان اور ان کے لشکروں کو صبح ہی صبح ایک ساتھ ایک ہی ساعت میں دریا برد کردیا۔ ان میں سے ایک بھی نہ بچا جو ان کا نام تو کبھی لیتا۔ اللہ نے یہ جو کچھ کیا کچھ ان پر ظلم نہ تھا بلکہ ان کے ظلم کا بدلہ تھا۔ ان کے کرتوت کا پھل تھا ان کی کرنی کی بھرنی تھی۔ یہ بیان یہاں بطور لف ونشر کے ہے۔ اولا جھٹلانے والی امتوں کا ذکر ہوا ہے پھر ان میں سے ہر ایک کو عذابوں سے ہلاک کرنیکا۔ کسی نے کہا کہ سب سے پہلے جن پر پتھروں کا مینہ برسانے کا ذکر ہے ان سے مراد لوطی ہیں اور غرق کی جانے والی قوم قوم نوح ہے لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ ابن عباس سے یہ مروی تو ہے لیکن سند میں انقطاع ہے۔ ان دونوں قوموں کی حالت کا ذکر اسی صورت میں بہ تفصیل بیان ہوچکا ہے۔ پھر بہت سے فاصلے کے بعد یہ بیان ہوا ہے۔ قتادۃ سے یہ بھی مروی ہے کہ پتھروں کا مینہ جن پر برسایا گیا ان سے مراد لوطی ہیں اور جنہیں چیخ سے ہلاک کیا گیا ان سے مراد قوم شعیب ہے لیکن یہ قول بھی ان آیتوں سے دور دراز ہے واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ هَؤُلَاءِ الْأُمَمِ الْمُكَذِّبَةِ لِلرُّسُلِ كَيْفَ أَبَادَهُمْ وَتَنَوَّعَ فِي عَذَابِهِمْ، فَأَخَذَهُمْ [[في ت، ف: "وأخذهم".]] بِالِانْتِقَامِ مِنْهُمْ، فَعَادٌ قَوْمُ هُودٍ، وَكَانُوا يَسْكُنُونَ الْأَحْقَافَ وَهِيَ قَرِيبَةٌ [[في أ: "قرية".]] مِنْ حَضْرَمَوْتَ بِلَادِ الْيَمَنِ، وَثَمُودُ قَوْمُ صَالِحٍ، وَكَانُوا يَسْكُنُونَ الْحِجْرَ قَرِيبًا مِنْ وَادِي الْقُرَى. وَكَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ مَسَاكِنَهُمَا [[في ت: "مساكنهم".]] جَيِّدًا، وَتَمُرُّ عَلَيْهَا كَثِيرًا. وَقَارُونُ صَاحِبُ الْأَمْوَالِ الْجَزِيلَةِ وَمَفَاتِيحِ الْكُنُوزِ الثَّقِيلَةِ. وَفِرْعَوْنُ مَلِكُ مِصْرَ فِي زَمَانِ مُوسَى وَوَزِيرُهُ هَامَانَ الْقِبْطِيَّانِ الْكَافِرَانِ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ.
﴿فَكُلا أَخَذْنَا بِذَنْبِهِ﴾ أَيْ: كَانَتْ عُقُوبَتُهُ بِمَا يُنَاسِبُهُ، ﴿فَمِنْهُمْ مَنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا﴾ ، وَهُمْ عَادٌ، وَذَلِكَ أَنَّهُمْ قَالُوا: مَنْ أشدُّ مِنَّا قُوَّةً؟ فَجَاءَتْهُمْ رِيحٌ صَرْصَرٌ بَارِدَةٌ شَدِيدَةُ الْبَرْدِ، عَاتِيَةٌ شَدِيدَةُ الْهُبُوبِ جِدًّا، تَحْمِلُ عَلَيْهِمْ حَصْبَاءَ الْأَرْضِ فَتَقْلِبُهَا عَلَيْهِمْ، وَتَقْتَلِعُهُمْ مِنَ الْأَرْضِ فَتَرْفَعُ الرَّجُلَ مِنْهُمْ إِلَى عَنَان السَّمَاءِ، ثُمَّ تُنَكِّسُهُ عَلَى أُمِّ رَأْسِهِ فَتَشْدَخُهُ فَيَبْقَى بَدَنًا بِلَا رَأْسٍ، كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ [[في ف، أ: "خاوية".]] . ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ﴾ ، وَهُمْ ثَمُودُ، قَامَتْ عَلَيْهِمُ الْحُجَّةُ وَظَهَرَتْ لَهُمُ [[في ف، أ: "عليهم".]] الدَّلَالَةُ، مِنْ تِلْكَ النَّاقَةِ الَّتِي انْفَلَقَتْ عَنْهَا الصَّخْرَةُ، مِثْلَ مَا سَأَلُوا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَمَعَ هَذَا مَا آمَنُوا بَلِ اسْتَمَرُّوا عَلَى طُغْيَانِهِمْ وَكُفْرِهِمْ، وَتَهَدَّدُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَالِحًا ومَنْ آمَنَ مَعَهُ، وتوعَّدوهُم بِأَنْ يُخْرِجُوهُمْ وَيَرْجُمُوهُمْ، فَجَاءَتْهُمْ صَيْحَةٌ أَخَمَدَتِ الْأَصْوَاتَ مِنْهُمْ وَالْحَرَكَاتِ. ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ خَسَفْنَا بِهِ الأرْضَ﴾ ، وَهُوَ قَارُونُ الَّذِي طَغَى وَبَغَى وَعَتَا، وَعَصَى الرَّبَّ الْأَعْلَى، وَمَشَى فِي الْأَرْضِ مَرَحًا، وَفَرِحَ وَمَرِحَ وَتَاهَ بِنَفْسِهِ، وَاعْتَقَدَ أَنَّهُ أَفْضَلُ مِنْ غَيْرِهِ، وَاخْتَالَ فِي مِشْيَتِهِ، فَخَسَفَ اللَّهُ بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ أَغْرَقْنَا﴾ ، وَهُمْ [[في ف، أ: "وهو".]] فِرْعَوْنُ وَوَزِيرُهُ هَامَانُ، وَجُنُودُهُ عَنْ آخِرِهِمْ، أُغْرِقُوا فِي صَبِيحَةٍ وَاحِدَةٍ، فَلَمْ يَنْجُ مِنْهُمْ مُخْبِرٌ، ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ﴾ أَيْ: فِيمَا فَعَلَ بِهِمْ، ﴿وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ﴾ أي: إنما فعل ذلك بِهِمْ جَزَاءً وِفَاقًا بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيهِمْ.
وَهَذَا الَّذِي ذَكَرْنَاهُ ظَاهِرُ سِيَاقِ الْآيَةِ، وَهُوَ مِنْ بَابِ اللَّفِّ وَالنَّشْرِ، وَهُوَ أَنَّهُ ذَكَرَ الْأُمَمَ الْمُكَذِّبَةَ، ثُمَّ قَالَ: ﴿فَكُلا [[في ت: "فمنهم" وهو خطأ.]] أَخَذْنَا بِذَنْبِهِ﴾ [الْآيَةَ] [[زيادة من أ.]] ، أَيْ: مِنْ هَؤُلَاءِ الْمَذْكُورِينَ، وَإِنَّمَا نبهتُ عَلَى هَذَا لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ [[في ت: "عن".]] ابْنُ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَمِنْهُمْ مَنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا﴾ ، قَالَ: قَوْمُ لُوطٍ. ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ أَغْرَقْنَا﴾ ، قَالَ: قَوْمُ نُوحٍ.
وَهَذَا [[في ت: "وهو".]] مُنْقَطِعٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ فَإِنَّ ابْنَ جُرْيَج لَمْ يُدْرِكْهُ. ثُمَّ قَدْ ذُكِرَ فِي هَذِهِ السُّورَةِ إِهْلَاكُ قَوْمِ نُوحٍ بِالطُّوفَانِ، وَقَوْمِ لُوطٍ بِإِنْزَالِ الرِّجْزِ مِنَ السَّمَاءِ، وَطَالَ السياقُ والفصلُ بَيْنَ ذَلِكَ وَبَيْنَ هَذَا السِّيَاقِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: ﴿فَمِنْهُمْ مَنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا﴾ قَالَ: قَوْمُ لُوطٍ، ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ﴾ ، قَوْمُ شُعَيْبٍ. وَهَذَا بَعِيدٌ أَيْضًا لِمَا تَقَدَّمَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَٰرُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَٰمَٰنَ ۖ وَلَقَدْ جَآءَهُم مُّوسَىٰ بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَٱسْتَكْبَرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كَانُوا۟ سَٰبِقِينَ
And [We destroyed] Qarun and Pharaoh and Haman. And Moses had already come to them with clear evidences, and they were arrogant in the land, but they were not outrunners [of Our punishment].
اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی (ہلاک کر دیا) اور اُن کے پاس موسٰی کھلی نشانی لےکر آئے تو وہ ملک میں مغرور ہوگئے اور ہمارے قابو سے نکل جانے والے نہ تھے
و «قارون» و «فرعون» و «هامان» را نیز هلاک کردیم؛ موسی با دلایل روشن به سراغشان آمد، امّا آنان در زمین برتری جویی کردند، ولی نتوانستند بر خدا پیشی گیرند!
Tafsir Ibn Kathir
And 'Ad and Thamud! And indeed (their destruction) is clearly apparent to you from their (ruined) dwellings. Shaytan made their deeds fair seeming to them, and turned them away from the path, though they were intelligent (38)And Qarun, Fir'awn, and Haman. And indeed Musa came to them with clear Ayat, but they were arrogant in the land, yet they could not outstrip Us (39)So, We punished each for his sins, of them were some on whom We sent a Hasib, and of them were some who were overtaken by As-Sayhah, and of them were some whom We caused the earth to swallow, and of them were some whom We drowned. It was not Allah Who wronged them, but they wronged themselves (40)
The Destruction of Nations Who rejected Their Messengers
Allah tells us about these nations who disbelieved in their Messengers, and how He destroyed them and sent various kinds of punishments and vengeance upon them. 'Ad, the people of Hud, peace be upon him, used to live in the Ahqaf (curved sand-hills), near Hadramawt, in the Yemen. Thamud, the people of Salih, lived in Al-Hijr, near Wadi Al-Qura. The Arabs used to know their dwelling place very well, and they often used to pass by it. Qarun was the owner of great wealth and had the keys to immense treasures. Fir'awn, the king of Egypt at the time of Musa, and his minister Haman were two Coptics who disbelieved in Allah and His Messenger, peace be upon him.
فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنْبِهِ ۖ
(So, We punished each for his sins,) their punishments fit their crimes.
فَمِنْهُمْ مَنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا
(of them were some on whom We sent a Hasib,) This was the case with 'Ad, and this happened because they said: "Who is stronger than us?" So, there came upon them a violent, intensely cold wind, which was very strong and carried pebbles which it threw upon them. It carried them through the air, lifting a man up to the sky and then hurling him headlong to the ground, so that his head split and he was left as a body without a head, like uprooted stems of date palms.
وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ
(and of them were some who were overtaken by As-Sayhah,) This is what happened to Thamud, against whom evidence was established because of the she-camel who came forth when the rock was split, exactly as they had asked for. Yet despite that they did not believe, rather they persisted in their evil behavior and disbelief, and threatening to expel Allah's Prophet Salih and the believers with him, or to stone them. So the Sayhah struck them, taking away their powers of speech and movement.
وَمِنْهُمْ مَنْ خَسَفْنَا بِهِ الْأَرْضَ
(and of them were some whom We caused the earth to swallow,) This refers to Qarun who transgressed, he was evil and arrogant. He disobeyed his Lord, the Most High, and paraded through the land in a boastful manner, filled with self-admiration, thinking that he was better than others. He showed off as he walked, so Allah caused the earth to swallow him and his house, and he will continue sinking into it until the Day of Resurrection.
وَمِنْهُمْ مَنْ أَغْرَقْنَا
(and of them were some whom We drowned.) This refers to Fir'awn, his minister Haman and their troops, all of whom were drowned in a single morning, not one of them escaped.
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ
(It was not Allah Who wronged them,) in what He did to them,
وَلَٰكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
(but they wronged themselves.) that happened to them as a punishment for what they did with their own hands.
Tafsir Ibn Kathir
احقاف کے لوگ عادی حضرت ہود ؑ کی قوم تھے۔ احقاف میں رہتے تھے جو یمن کے شہروں میں حضرموت کے قریب ہے۔ ثمودی حضرت صالح ؑ کی قوم کے لوگ تھے۔ یہ حجر میں بستے تھے جو وادی القریٰ کے قریب ہے۔ عرب کے راستے میں ان کی بستی آتی تھی جسے یہ بخوبی جانتے تھے۔ قارون ایک دولت مند شخص تھا جس کے بھرپور خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت کی جماعت اٹھاتی تھی۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور ہامان اسکا وزیر اعظم تھا۔ اسی کے زمانے میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ ؑ نبی ہو کر اس کی طرف بھیجے گئے۔ یہ دونوں قبطی کافر تھے جب ان کی سرکشی حد سے گذر گئی اللہ کی توحید کے منکر ہوگئے رسولوں کو ایذائیں دیں اور ان کی نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا۔ عادیوں پر ہوائیں بھیجیں۔ انہیں اپنی قوت وطاقت کا بڑا گھمنڈ تھا کسی کو اپنے مقابلے کا نہ جانتے تھے۔ ان پر ہوا بھیجی جو بڑی تیز وتند تھی جو ان پر زمین کے پتھر اڑا اڑا کر برسانے لگی۔ بالآخر زور پکڑتے پکڑتے یہاں تک بڑھ گئی کہ انہیں اچک لے جاتی اور آسمان کے قریب لے جاکر پھر گرا دیتی۔ سر کے بل گرتے اور سر الگ ہوجاتا دھڑ الگ ہوجاتا اور ایسے ہوجاتے جیسے کجھور کے درخت جس کے تنے الگ ہوں اور شاخیں جدا ہوں۔ ثمودیوں پر حجت الٰہی پوری ہوئی دلائل دے دئیے گئے ان کی طلب کے موافق پتھر میں سے ان کے دیکھتے ہوئے اونٹنی نکلی لیکن تاہم انہیں ایمان نصیب نہ ہوا بلکہ طغیانی میں بڑھتے رہے۔ اللہ کے نبی کو دھمکانے اور ڈرانے لگے اور ایمانداروں سے بھی کہنے لگے کہ ہمارے شہر چھوڑ دو ورنہ ہم تمہیں سنگسار کردیں گے۔ انہیں ایک چیخ سے پارہ پارہ کردیا۔ دل ہل گئے کلیجے اڑگئے اور سب کی روحیں نکل گئیں۔ قارون نے سرکشی اور تکبر کیا۔ طغیانی اور بڑائی کی رب الاعلیٰ کی نافرمانی کی زمین میں فساد مچا دیا۔ اکڑ اکڑ کر چلنے لگا اپنے ڈنٹر بل دیکھنے لگا اترانے لگا اور پھولنے لگا۔ پس اللہ نے اسے مع اس کے محلات کے زمین دوز کردیا جو آج تک دھنستا چلا جارہا ہے۔ فرعون ہامان اور ان کے لشکروں کو صبح ہی صبح ایک ساتھ ایک ہی ساعت میں دریا برد کردیا۔ ان میں سے ایک بھی نہ بچا جو ان کا نام تو کبھی لیتا۔ اللہ نے یہ جو کچھ کیا کچھ ان پر ظلم نہ تھا بلکہ ان کے ظلم کا بدلہ تھا۔ ان کے کرتوت کا پھل تھا ان کی کرنی کی بھرنی تھی۔ یہ بیان یہاں بطور لف ونشر کے ہے۔ اولا جھٹلانے والی امتوں کا ذکر ہوا ہے پھر ان میں سے ہر ایک کو عذابوں سے ہلاک کرنیکا۔ کسی نے کہا کہ سب سے پہلے جن پر پتھروں کا مینہ برسانے کا ذکر ہے ان سے مراد لوطی ہیں اور غرق کی جانے والی قوم قوم نوح ہے لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ ابن عباس سے یہ مروی تو ہے لیکن سند میں انقطاع ہے۔ ان دونوں قوموں کی حالت کا ذکر اسی صورت میں بہ تفصیل بیان ہوچکا ہے۔ پھر بہت سے فاصلے کے بعد یہ بیان ہوا ہے۔ قتادۃ سے یہ بھی مروی ہے کہ پتھروں کا مینہ جن پر برسایا گیا ان سے مراد لوطی ہیں اور جنہیں چیخ سے ہلاک کیا گیا ان سے مراد قوم شعیب ہے لیکن یہ قول بھی ان آیتوں سے دور دراز ہے واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ هَؤُلَاءِ الْأُمَمِ الْمُكَذِّبَةِ لِلرُّسُلِ كَيْفَ أَبَادَهُمْ وَتَنَوَّعَ فِي عَذَابِهِمْ، فَأَخَذَهُمْ [[في ت، ف: "وأخذهم".]] بِالِانْتِقَامِ مِنْهُمْ، فَعَادٌ قَوْمُ هُودٍ، وَكَانُوا يَسْكُنُونَ الْأَحْقَافَ وَهِيَ قَرِيبَةٌ [[في أ: "قرية".]] مِنْ حَضْرَمَوْتَ بِلَادِ الْيَمَنِ، وَثَمُودُ قَوْمُ صَالِحٍ، وَكَانُوا يَسْكُنُونَ الْحِجْرَ قَرِيبًا مِنْ وَادِي الْقُرَى. وَكَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ مَسَاكِنَهُمَا [[في ت: "مساكنهم".]] جَيِّدًا، وَتَمُرُّ عَلَيْهَا كَثِيرًا. وَقَارُونُ صَاحِبُ الْأَمْوَالِ الْجَزِيلَةِ وَمَفَاتِيحِ الْكُنُوزِ الثَّقِيلَةِ. وَفِرْعَوْنُ مَلِكُ مِصْرَ فِي زَمَانِ مُوسَى وَوَزِيرُهُ هَامَانَ الْقِبْطِيَّانِ الْكَافِرَانِ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ.
﴿فَكُلا أَخَذْنَا بِذَنْبِهِ﴾ أَيْ: كَانَتْ عُقُوبَتُهُ بِمَا يُنَاسِبُهُ، ﴿فَمِنْهُمْ مَنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا﴾ ، وَهُمْ عَادٌ، وَذَلِكَ أَنَّهُمْ قَالُوا: مَنْ أشدُّ مِنَّا قُوَّةً؟ فَجَاءَتْهُمْ رِيحٌ صَرْصَرٌ بَارِدَةٌ شَدِيدَةُ الْبَرْدِ، عَاتِيَةٌ شَدِيدَةُ الْهُبُوبِ جِدًّا، تَحْمِلُ عَلَيْهِمْ حَصْبَاءَ الْأَرْضِ فَتَقْلِبُهَا عَلَيْهِمْ، وَتَقْتَلِعُهُمْ مِنَ الْأَرْضِ فَتَرْفَعُ الرَّجُلَ مِنْهُمْ إِلَى عَنَان السَّمَاءِ، ثُمَّ تُنَكِّسُهُ عَلَى أُمِّ رَأْسِهِ فَتَشْدَخُهُ فَيَبْقَى بَدَنًا بِلَا رَأْسٍ، كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ [[في ف، أ: "خاوية".]] . ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ﴾ ، وَهُمْ ثَمُودُ، قَامَتْ عَلَيْهِمُ الْحُجَّةُ وَظَهَرَتْ لَهُمُ [[في ف، أ: "عليهم".]] الدَّلَالَةُ، مِنْ تِلْكَ النَّاقَةِ الَّتِي انْفَلَقَتْ عَنْهَا الصَّخْرَةُ، مِثْلَ مَا سَأَلُوا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَمَعَ هَذَا مَا آمَنُوا بَلِ اسْتَمَرُّوا عَلَى طُغْيَانِهِمْ وَكُفْرِهِمْ، وَتَهَدَّدُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَالِحًا ومَنْ آمَنَ مَعَهُ، وتوعَّدوهُم بِأَنْ يُخْرِجُوهُمْ وَيَرْجُمُوهُمْ، فَجَاءَتْهُمْ صَيْحَةٌ أَخَمَدَتِ الْأَصْوَاتَ مِنْهُمْ وَالْحَرَكَاتِ. ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ خَسَفْنَا بِهِ الأرْضَ﴾ ، وَهُوَ قَارُونُ الَّذِي طَغَى وَبَغَى وَعَتَا، وَعَصَى الرَّبَّ الْأَعْلَى، وَمَشَى فِي الْأَرْضِ مَرَحًا، وَفَرِحَ وَمَرِحَ وَتَاهَ بِنَفْسِهِ، وَاعْتَقَدَ أَنَّهُ أَفْضَلُ مِنْ غَيْرِهِ، وَاخْتَالَ فِي مِشْيَتِهِ، فَخَسَفَ اللَّهُ بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ أَغْرَقْنَا﴾ ، وَهُمْ [[في ف، أ: "وهو".]] فِرْعَوْنُ وَوَزِيرُهُ هَامَانُ، وَجُنُودُهُ عَنْ آخِرِهِمْ، أُغْرِقُوا فِي صَبِيحَةٍ وَاحِدَةٍ، فَلَمْ يَنْجُ مِنْهُمْ مُخْبِرٌ، ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ﴾ أَيْ: فِيمَا فَعَلَ بِهِمْ، ﴿وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ﴾ أي: إنما فعل ذلك بِهِمْ جَزَاءً وِفَاقًا بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيهِمْ.
وَهَذَا الَّذِي ذَكَرْنَاهُ ظَاهِرُ سِيَاقِ الْآيَةِ، وَهُوَ مِنْ بَابِ اللَّفِّ وَالنَّشْرِ، وَهُوَ أَنَّهُ ذَكَرَ الْأُمَمَ الْمُكَذِّبَةَ، ثُمَّ قَالَ: ﴿فَكُلا [[في ت: "فمنهم" وهو خطأ.]] أَخَذْنَا بِذَنْبِهِ﴾ [الْآيَةَ] [[زيادة من أ.]] ، أَيْ: مِنْ هَؤُلَاءِ الْمَذْكُورِينَ، وَإِنَّمَا نبهتُ عَلَى هَذَا لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ [[في ت: "عن".]] ابْنُ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَمِنْهُمْ مَنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا﴾ ، قَالَ: قَوْمُ لُوطٍ. ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ أَغْرَقْنَا﴾ ، قَالَ: قَوْمُ نُوحٍ.
وَهَذَا [[في ت: "وهو".]] مُنْقَطِعٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ فَإِنَّ ابْنَ جُرْيَج لَمْ يُدْرِكْهُ. ثُمَّ قَدْ ذُكِرَ فِي هَذِهِ السُّورَةِ إِهْلَاكُ قَوْمِ نُوحٍ بِالطُّوفَانِ، وَقَوْمِ لُوطٍ بِإِنْزَالِ الرِّجْزِ مِنَ السَّمَاءِ، وَطَالَ السياقُ والفصلُ بَيْنَ ذَلِكَ وَبَيْنَ هَذَا السِّيَاقِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: ﴿فَمِنْهُمْ مَنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا﴾ قَالَ: قَوْمُ لُوطٍ، ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ﴾ ، قَوْمُ شُعَيْبٍ. وَهَذَا بَعِيدٌ أَيْضًا لِمَا تَقَدَّمَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنۢبِهِۦ ۖ فَمِنْهُم مَّنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًۭا وَمِنْهُم مَّنْ أَخَذَتْهُ ٱلصَّيْحَةُ وَمِنْهُم مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ ٱلْأَرْضَ وَمِنْهُم مَّنْ أَغْرَقْنَا ۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
So each We seized for his sin; and among them were those upon whom We sent a storm of stones, and among them were those who were seized by the blast [from the sky], and among them were those whom We caused the earth to swallow, and among them were those whom We drowned. And Allah would not have wronged them, but it was they who were wronging themselves.
تو ہم نے سب کو اُن کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ سو ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینھہ برسایا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو غرق کر دیا اور خدا ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
ما هر یک از آنان را به گناهانشان گرفتیم، بر بعضی از آنها طوفانی از سنگریزه فرستادیم، و بعضی از آنان را صیحه آسمانی فروگرفت، و بعضی دیگر را در زمین فرو بردیم، و بعضی را غرق کردیم؛ خداوند هرگز به آنها ستم نکرد، ولی آنها خودشان بر خود ستم میکردند!
Tafsir Ibn Kathir
And 'Ad and Thamud! And indeed (their destruction) is clearly apparent to you from their (ruined) dwellings. Shaytan made their deeds fair seeming to them, and turned them away from the path, though they were intelligent (38)And Qarun, Fir'awn, and Haman. And indeed Musa came to them with clear Ayat, but they were arrogant in the land, yet they could not outstrip Us (39)So, We punished each for his sins, of them were some on whom We sent a Hasib, and of them were some who were overtaken by As-Sayhah, and of them were some whom We caused the earth to swallow, and of them were some whom We drowned. It was not Allah Who wronged them, but they wronged themselves (40)
The Destruction of Nations Who rejected Their Messengers
Allah tells us about these nations who disbelieved in their Messengers, and how He destroyed them and sent various kinds of punishments and vengeance upon them. 'Ad, the people of Hud, peace be upon him, used to live in the Ahqaf (curved sand-hills), near Hadramawt, in the Yemen. Thamud, the people of Salih, lived in Al-Hijr, near Wadi Al-Qura. The Arabs used to know their dwelling place very well, and they often used to pass by it. Qarun was the owner of great wealth and had the keys to immense treasures. Fir'awn, the king of Egypt at the time of Musa, and his minister Haman were two Coptics who disbelieved in Allah and His Messenger, peace be upon him.
فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنْبِهِ ۖ
(So, We punished each for his sins,) their punishments fit their crimes.
فَمِنْهُمْ مَنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا
(of them were some on whom We sent a Hasib,) This was the case with 'Ad, and this happened because they said: "Who is stronger than us?" So, there came upon them a violent, intensely cold wind, which was very strong and carried pebbles which it threw upon them. It carried them through the air, lifting a man up to the sky and then hurling him headlong to the ground, so that his head split and he was left as a body without a head, like uprooted stems of date palms.
وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ
(and of them were some who were overtaken by As-Sayhah,) This is what happened to Thamud, against whom evidence was established because of the she-camel who came forth when the rock was split, exactly as they had asked for. Yet despite that they did not believe, rather they persisted in their evil behavior and disbelief, and threatening to expel Allah's Prophet Salih and the believers with him, or to stone them. So the Sayhah struck them, taking away their powers of speech and movement.
وَمِنْهُمْ مَنْ خَسَفْنَا بِهِ الْأَرْضَ
(and of them were some whom We caused the earth to swallow,) This refers to Qarun who transgressed, he was evil and arrogant. He disobeyed his Lord, the Most High, and paraded through the land in a boastful manner, filled with self-admiration, thinking that he was better than others. He showed off as he walked, so Allah caused the earth to swallow him and his house, and he will continue sinking into it until the Day of Resurrection.
وَمِنْهُمْ مَنْ أَغْرَقْنَا
(and of them were some whom We drowned.) This refers to Fir'awn, his minister Haman and their troops, all of whom were drowned in a single morning, not one of them escaped.
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ
(It was not Allah Who wronged them,) in what He did to them,
وَلَٰكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
(but they wronged themselves.) that happened to them as a punishment for what they did with their own hands.
Tafsir Ibn Kathir
احقاف کے لوگ عادی حضرت ہود ؑ کی قوم تھے۔ احقاف میں رہتے تھے جو یمن کے شہروں میں حضرموت کے قریب ہے۔ ثمودی حضرت صالح ؑ کی قوم کے لوگ تھے۔ یہ حجر میں بستے تھے جو وادی القریٰ کے قریب ہے۔ عرب کے راستے میں ان کی بستی آتی تھی جسے یہ بخوبی جانتے تھے۔ قارون ایک دولت مند شخص تھا جس کے بھرپور خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت کی جماعت اٹھاتی تھی۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور ہامان اسکا وزیر اعظم تھا۔ اسی کے زمانے میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ ؑ نبی ہو کر اس کی طرف بھیجے گئے۔ یہ دونوں قبطی کافر تھے جب ان کی سرکشی حد سے گذر گئی اللہ کی توحید کے منکر ہوگئے رسولوں کو ایذائیں دیں اور ان کی نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا۔ عادیوں پر ہوائیں بھیجیں۔ انہیں اپنی قوت وطاقت کا بڑا گھمنڈ تھا کسی کو اپنے مقابلے کا نہ جانتے تھے۔ ان پر ہوا بھیجی جو بڑی تیز وتند تھی جو ان پر زمین کے پتھر اڑا اڑا کر برسانے لگی۔ بالآخر زور پکڑتے پکڑتے یہاں تک بڑھ گئی کہ انہیں اچک لے جاتی اور آسمان کے قریب لے جاکر پھر گرا دیتی۔ سر کے بل گرتے اور سر الگ ہوجاتا دھڑ الگ ہوجاتا اور ایسے ہوجاتے جیسے کجھور کے درخت جس کے تنے الگ ہوں اور شاخیں جدا ہوں۔ ثمودیوں پر حجت الٰہی پوری ہوئی دلائل دے دئیے گئے ان کی طلب کے موافق پتھر میں سے ان کے دیکھتے ہوئے اونٹنی نکلی لیکن تاہم انہیں ایمان نصیب نہ ہوا بلکہ طغیانی میں بڑھتے رہے۔ اللہ کے نبی کو دھمکانے اور ڈرانے لگے اور ایمانداروں سے بھی کہنے لگے کہ ہمارے شہر چھوڑ دو ورنہ ہم تمہیں سنگسار کردیں گے۔ انہیں ایک چیخ سے پارہ پارہ کردیا۔ دل ہل گئے کلیجے اڑگئے اور سب کی روحیں نکل گئیں۔ قارون نے سرکشی اور تکبر کیا۔ طغیانی اور بڑائی کی رب الاعلیٰ کی نافرمانی کی زمین میں فساد مچا دیا۔ اکڑ اکڑ کر چلنے لگا اپنے ڈنٹر بل دیکھنے لگا اترانے لگا اور پھولنے لگا۔ پس اللہ نے اسے مع اس کے محلات کے زمین دوز کردیا جو آج تک دھنستا چلا جارہا ہے۔ فرعون ہامان اور ان کے لشکروں کو صبح ہی صبح ایک ساتھ ایک ہی ساعت میں دریا برد کردیا۔ ان میں سے ایک بھی نہ بچا جو ان کا نام تو کبھی لیتا۔ اللہ نے یہ جو کچھ کیا کچھ ان پر ظلم نہ تھا بلکہ ان کے ظلم کا بدلہ تھا۔ ان کے کرتوت کا پھل تھا ان کی کرنی کی بھرنی تھی۔ یہ بیان یہاں بطور لف ونشر کے ہے۔ اولا جھٹلانے والی امتوں کا ذکر ہوا ہے پھر ان میں سے ہر ایک کو عذابوں سے ہلاک کرنیکا۔ کسی نے کہا کہ سب سے پہلے جن پر پتھروں کا مینہ برسانے کا ذکر ہے ان سے مراد لوطی ہیں اور غرق کی جانے والی قوم قوم نوح ہے لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ ابن عباس سے یہ مروی تو ہے لیکن سند میں انقطاع ہے۔ ان دونوں قوموں کی حالت کا ذکر اسی صورت میں بہ تفصیل بیان ہوچکا ہے۔ پھر بہت سے فاصلے کے بعد یہ بیان ہوا ہے۔ قتادۃ سے یہ بھی مروی ہے کہ پتھروں کا مینہ جن پر برسایا گیا ان سے مراد لوطی ہیں اور جنہیں چیخ سے ہلاک کیا گیا ان سے مراد قوم شعیب ہے لیکن یہ قول بھی ان آیتوں سے دور دراز ہے واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ هَؤُلَاءِ الْأُمَمِ الْمُكَذِّبَةِ لِلرُّسُلِ كَيْفَ أَبَادَهُمْ وَتَنَوَّعَ فِي عَذَابِهِمْ، فَأَخَذَهُمْ [[في ت، ف: "وأخذهم".]] بِالِانْتِقَامِ مِنْهُمْ، فَعَادٌ قَوْمُ هُودٍ، وَكَانُوا يَسْكُنُونَ الْأَحْقَافَ وَهِيَ قَرِيبَةٌ [[في أ: "قرية".]] مِنْ حَضْرَمَوْتَ بِلَادِ الْيَمَنِ، وَثَمُودُ قَوْمُ صَالِحٍ، وَكَانُوا يَسْكُنُونَ الْحِجْرَ قَرِيبًا مِنْ وَادِي الْقُرَى. وَكَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ مَسَاكِنَهُمَا [[في ت: "مساكنهم".]] جَيِّدًا، وَتَمُرُّ عَلَيْهَا كَثِيرًا. وَقَارُونُ صَاحِبُ الْأَمْوَالِ الْجَزِيلَةِ وَمَفَاتِيحِ الْكُنُوزِ الثَّقِيلَةِ. وَفِرْعَوْنُ مَلِكُ مِصْرَ فِي زَمَانِ مُوسَى وَوَزِيرُهُ هَامَانَ الْقِبْطِيَّانِ الْكَافِرَانِ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ.
﴿فَكُلا أَخَذْنَا بِذَنْبِهِ﴾ أَيْ: كَانَتْ عُقُوبَتُهُ بِمَا يُنَاسِبُهُ، ﴿فَمِنْهُمْ مَنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا﴾ ، وَهُمْ عَادٌ، وَذَلِكَ أَنَّهُمْ قَالُوا: مَنْ أشدُّ مِنَّا قُوَّةً؟ فَجَاءَتْهُمْ رِيحٌ صَرْصَرٌ بَارِدَةٌ شَدِيدَةُ الْبَرْدِ، عَاتِيَةٌ شَدِيدَةُ الْهُبُوبِ جِدًّا، تَحْمِلُ عَلَيْهِمْ حَصْبَاءَ الْأَرْضِ فَتَقْلِبُهَا عَلَيْهِمْ، وَتَقْتَلِعُهُمْ مِنَ الْأَرْضِ فَتَرْفَعُ الرَّجُلَ مِنْهُمْ إِلَى عَنَان السَّمَاءِ، ثُمَّ تُنَكِّسُهُ عَلَى أُمِّ رَأْسِهِ فَتَشْدَخُهُ فَيَبْقَى بَدَنًا بِلَا رَأْسٍ، كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ [[في ف، أ: "خاوية".]] . ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ﴾ ، وَهُمْ ثَمُودُ، قَامَتْ عَلَيْهِمُ الْحُجَّةُ وَظَهَرَتْ لَهُمُ [[في ف، أ: "عليهم".]] الدَّلَالَةُ، مِنْ تِلْكَ النَّاقَةِ الَّتِي انْفَلَقَتْ عَنْهَا الصَّخْرَةُ، مِثْلَ مَا سَأَلُوا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَمَعَ هَذَا مَا آمَنُوا بَلِ اسْتَمَرُّوا عَلَى طُغْيَانِهِمْ وَكُفْرِهِمْ، وَتَهَدَّدُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَالِحًا ومَنْ آمَنَ مَعَهُ، وتوعَّدوهُم بِأَنْ يُخْرِجُوهُمْ وَيَرْجُمُوهُمْ، فَجَاءَتْهُمْ صَيْحَةٌ أَخَمَدَتِ الْأَصْوَاتَ مِنْهُمْ وَالْحَرَكَاتِ. ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ خَسَفْنَا بِهِ الأرْضَ﴾ ، وَهُوَ قَارُونُ الَّذِي طَغَى وَبَغَى وَعَتَا، وَعَصَى الرَّبَّ الْأَعْلَى، وَمَشَى فِي الْأَرْضِ مَرَحًا، وَفَرِحَ وَمَرِحَ وَتَاهَ بِنَفْسِهِ، وَاعْتَقَدَ أَنَّهُ أَفْضَلُ مِنْ غَيْرِهِ، وَاخْتَالَ فِي مِشْيَتِهِ، فَخَسَفَ اللَّهُ بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ أَغْرَقْنَا﴾ ، وَهُمْ [[في ف، أ: "وهو".]] فِرْعَوْنُ وَوَزِيرُهُ هَامَانُ، وَجُنُودُهُ عَنْ آخِرِهِمْ، أُغْرِقُوا فِي صَبِيحَةٍ وَاحِدَةٍ، فَلَمْ يَنْجُ مِنْهُمْ مُخْبِرٌ، ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ﴾ أَيْ: فِيمَا فَعَلَ بِهِمْ، ﴿وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ﴾ أي: إنما فعل ذلك بِهِمْ جَزَاءً وِفَاقًا بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيهِمْ.
وَهَذَا الَّذِي ذَكَرْنَاهُ ظَاهِرُ سِيَاقِ الْآيَةِ، وَهُوَ مِنْ بَابِ اللَّفِّ وَالنَّشْرِ، وَهُوَ أَنَّهُ ذَكَرَ الْأُمَمَ الْمُكَذِّبَةَ، ثُمَّ قَالَ: ﴿فَكُلا [[في ت: "فمنهم" وهو خطأ.]] أَخَذْنَا بِذَنْبِهِ﴾ [الْآيَةَ] [[زيادة من أ.]] ، أَيْ: مِنْ هَؤُلَاءِ الْمَذْكُورِينَ، وَإِنَّمَا نبهتُ عَلَى هَذَا لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ [[في ت: "عن".]] ابْنُ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَمِنْهُمْ مَنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا﴾ ، قَالَ: قَوْمُ لُوطٍ. ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ أَغْرَقْنَا﴾ ، قَالَ: قَوْمُ نُوحٍ.
وَهَذَا [[في ت: "وهو".]] مُنْقَطِعٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ فَإِنَّ ابْنَ جُرْيَج لَمْ يُدْرِكْهُ. ثُمَّ قَدْ ذُكِرَ فِي هَذِهِ السُّورَةِ إِهْلَاكُ قَوْمِ نُوحٍ بِالطُّوفَانِ، وَقَوْمِ لُوطٍ بِإِنْزَالِ الرِّجْزِ مِنَ السَّمَاءِ، وَطَالَ السياقُ والفصلُ بَيْنَ ذَلِكَ وَبَيْنَ هَذَا السِّيَاقِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: ﴿فَمِنْهُمْ مَنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا﴾ قَالَ: قَوْمُ لُوطٍ، ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ﴾ ، قَوْمُ شُعَيْبٍ. وَهَذَا بَعِيدٌ أَيْضًا لِمَا تَقَدَّمَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
مَثَلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوْلِيَآءَ كَمَثَلِ ٱلْعَنكَبُوتِ ٱتَّخَذَتْ بَيْتًۭا ۖ وَإِنَّ أَوْهَنَ ٱلْبُيُوتِ لَبَيْتُ ٱلْعَنكَبُوتِ ۖ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ
The example of those who take allies other than Allah is like that of the spider who takes a home. And indeed, the weakest of homes is the home of the spider, if they only knew.
جن لوگوں نے خدا کے سوا (اوروں کو) کارساز بنا رکھا ہے اُن کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک (طرح کا) گھر بناتی ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تمام گھروں سے کمزور مکڑی کا گھر ہے کاش یہ (اس بات کو) جانتے
مثَل کسانی که غیر از خدا را اولیای خود برگزیدند، مثَل عنکبوت است که خانهای برای خود انتخاب کرده؛ در حالی که سستترین خانههای خانه عنکبوت است اگر میدانستند!
Tafsir Ibn Kathir
The parable of those who seek protectors from other than Allah is that of a spider who builds a house; but indeed, the weakest of houses is the spider's house – if they but knew (41)Verily, Allah knows what things they invoke instead of Him. He is the All-Mighty, the All-Wise (42)And these are the examples We give for mankind; but none will understand them except those who have knowledge (of Allah)(43)
Likening the gods of the Idolators to the House of a Spider
This is how Allah described the idolators in their reverence of gods besides Him, hoping that they would help them and provide for them, and turning to them in times of difficulties. In this regard, they were like the house of a spider, which is so weak and frail, because by clinging to these gods they were like a person who holds on to a spider's web, who does not gain any benefit from that. If they knew this, they would not take any protectors besides Allah. This is unlike the Muslim believer, whose heart is devoted to Allah, yet he still does righteous deeds and follows the Laws of Allah, for he has grasped the most trustworthy handle that will never break because it is so strong and firm.
Then Allah warns those who worship others besides Him and associate others with Him that He knows what they do and the rivals they associate with Him. He will punish them for their attribution, for He is All-Wise and All-Knowing. Then He says:
وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ ۖ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ
(And these are the examples We give for mankind; but none will understand them except those who have knowledge.) meaning, no one understands them or ponders them except those who are possessed of deep knowledge. Ibn Abi Hatim recorded that 'Amr bin Murrah said, "I never came across an Ayah of the Book of Allah that I did not know, but it grieved me, because I heard that Allah says:
وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ ۖ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ
(And these are the examples We give for mankind; but none will understand them except those who have knowledge.)"
Tafsir Ibn Kathir
مکڑی کا جالا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کی پرستش اور پوجاپاٹ کرتے ہیں ان کی کمزوری اور بےعلمی کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ ان سے مدد روزی اور سختی میں کام آنے کے امیدوار رہتے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مکڑی کے جالے میں بارش اور دھوپ اور سردی سے پناہ چاہے۔ اگر ان میں علم ہوتا تو یہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے امیدیں وابستہ نہ کرتے۔ پس ان کا حال ایمانداروں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ایک مضبوط کڑے کو تھامے ہوئے ہیں اور یہ مکڑی کے جالے میں اپنا سرچھپائے ہوئے ہیں۔ اس کا دل اللہ کی طرف ہے اس کا جسم اعمال صالحہ کی طرف مشغول ہے اور اس کا دل مخلوق کی طرف اور جسم اس کی پرستش کی طرف جھکا ہوا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کو ڈرا رہا ہے کہ وہ ان سے ان کے شرک سے اور ان کے جھوٹے معبودوں سے خوب آگاہ ہے۔ انہیں ان کی شرارت کا ایسا مزہ چھکائے گا کہ یہ یاد کریں۔ انہیں ڈھیل دینے میں بھی اس کی مصلحت وحکمت ہے۔ نہ یہ کہ وہ علیم اللہ ان سے بیخبر ہو۔ ہم نے تو مثالوں سے بھی مسائل سمجھا دئے۔ لیکن اس کے سوچنے سمجھنے کا مادہ ان میں غور و فکر کرنے کی توفیق صرف باعمل علماء کو ہوتی ہے۔ جو اپنے علم میں پورے ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ کی بیان کردہ مثالوں کو سمجھ لینا سچے علم کی دلیل ہے۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں میں نے ایک ہزار مثالیں رسول اللہ ﷺ سے سیکھی ہیں (مسند احمد) اس سے آپ کی فضیلت اور آپ کی علمیت ظاہر ہے۔ حضرت عمرو بن مروۃ فرماتے ہیں کہ کلام اللہ شریف کی جو آیت میری تلاوت میں آئے اور اس کا تفصیلی معنوں کا مطلب میری سمجھ میں نہ آئے تو میرا دل دکھتا ہے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے اور میں ڈرنے لگتا ہوں کہ کہیں اللہ کے نزدیک میری گنتی جاہلوں میں تو نہیں ہوگئی کیونکہ فرمان اللہ یہی ہے کہ ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں لیکن سوائے عالموں کے انہیں دوسرے سمجھ نہیں سکتے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا مَثَلٌ ضَرَبَهُ اللَّهُ تَعَالَى لِلْمُشْرِكِينَ فِي اتِّخَاذِهِمْ آلِهَةً مِنْ دُونِ اللَّهِ، يَرْجُونَ نَصْرَهُمْ وَرِزْقَهُمْ، وَيَتَمَسَّكُونَ بِهِمْ فِي الشَّدَائِدِ، فَهُمْ فِي ذَلِكَ كَبَيْتِ الْعَنْكَبُوتِ فِي ضَعْفِهِ وَوَهَنِهِ [[في ت: "وذهابه".]] فَلَيْسَ فِي أَيْدِي هَؤُلَاءِ مِنْ آلِهَتِهِمْ إِلَّا كمَنْ يَتَمَسَّكُ بِبَيْتِ الْعَنْكَبُوتِ، فَإِنَّهُ لَا يُجْدِي عَنْهُ شَيْئًا، فَلَوْ عَلموا هَذَا الْحَالَ لَمَا اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْلِيَاءَ، وَهَذَا بِخِلَافِ الْمُسْلِمِ الْمُؤْمِنِ قَلْبُهُ لِلَّهِ، وَهُوَ مَعَ ذَلِكَ يُحْسِنُ الْعَمَلَ فِي اتِّبَاعِ الشَّرْعِ فَإِنَّهُ مُسْتَمْسِكٌ [[في ف: "متمسك".]] بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا، لِقُوَّتِهَا وَثَبَاتِهَا.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى مُتَوَعِّدًا لِمَنْ عَبَدَ غَيْرَهُ وَأَشْرَكَ بِهِ: إِنَّهُ تَعَالَى يَعْلَمُ مَا هُمْ عَلَيْهِ مِنَ الْأَعْمَالِ، وَيَعْلَمُ مَا يُشْرِكُونَ بِهِ مِنَ الْأَنْدَادِ، وَسَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ إِنَّهُ حَكِيمٌ عَلِيمٌ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَتِلْكَ الأمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلا الْعَالِمُونَ﴾ أَيْ: وَمَا يَفْهَمُهَا وَيَتَدَبَّرُهَا إِلَّا الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ الْمُتَضَلِّعُونَ مِنْهُ.
قَالَ [[في ت: "روى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعة، عَنْ أَبِي قَبِيل [[في ت: "بإسناده".]] ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: عَقَلْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَلْفَ مَثَلٍ [[المسند (٤/٢٠٣) وقال الهيثمي في المجمع (٨/٢٦٤) "إسناده حسن".]] .
وَهَذِهِ مَنْقَبَةٌ عَظِيمَةٌ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ -رَضِيَ اللَّهُ عنه -حيث يقول [الله] [[زيادة من ت، وفي ف: "تبارك و".]] تعالى: ﴿وَتِلْكَ الأمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلا الْعَالِمُونَ﴾ .
وَقَالَ [[في ت: "رواه".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ سِنَانٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: مَا مَرَرْتُ بِآيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَا أَعْرِفُهَا إِلَّا أَحْزَنَنِي، لِأَنِّي سَمِعْتُ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: ﴿وَتِلْكَ الأمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلا الْعَالِمُونَ﴾ .
إِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ مِن شَىْءٍۢ ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ
Indeed, Allah knows whatever thing they call upon other than Him. And He is the Exalted in Might, the Wise.
یہ جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں (خواہ) وہ کچھ ہی ہو خدا اُسے جانتا ہے۔ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے
خداوند آنچه را غیر از او میخوانند میداند، و او شکستناپذیر و حکیم است.
Tafsir Ibn Kathir
The parable of those who seek protectors from other than Allah is that of a spider who builds a house; but indeed, the weakest of houses is the spider's house – if they but knew (41)Verily, Allah knows what things they invoke instead of Him. He is the All-Mighty, the All-Wise (42)And these are the examples We give for mankind; but none will understand them except those who have knowledge (of Allah)(43)
Likening the gods of the Idolators to the House of a Spider
This is how Allah described the idolators in their reverence of gods besides Him, hoping that they would help them and provide for them, and turning to them in times of difficulties. In this regard, they were like the house of a spider, which is so weak and frail, because by clinging to these gods they were like a person who holds on to a spider's web, who does not gain any benefit from that. If they knew this, they would not take any protectors besides Allah. This is unlike the Muslim believer, whose heart is devoted to Allah, yet he still does righteous deeds and follows the Laws of Allah, for he has grasped the most trustworthy handle that will never break because it is so strong and firm.
Then Allah warns those who worship others besides Him and associate others with Him that He knows what they do and the rivals they associate with Him. He will punish them for their attribution, for He is All-Wise and All-Knowing. Then He says:
وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ ۖ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ
(And these are the examples We give for mankind; but none will understand them except those who have knowledge.) meaning, no one understands them or ponders them except those who are possessed of deep knowledge. Ibn Abi Hatim recorded that 'Amr bin Murrah said, "I never came across an Ayah of the Book of Allah that I did not know, but it grieved me, because I heard that Allah says:
وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ ۖ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ
(And these are the examples We give for mankind; but none will understand them except those who have knowledge.)"
Tafsir Ibn Kathir
مکڑی کا جالا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کی پرستش اور پوجاپاٹ کرتے ہیں ان کی کمزوری اور بےعلمی کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ ان سے مدد روزی اور سختی میں کام آنے کے امیدوار رہتے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مکڑی کے جالے میں بارش اور دھوپ اور سردی سے پناہ چاہے۔ اگر ان میں علم ہوتا تو یہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے امیدیں وابستہ نہ کرتے۔ پس ان کا حال ایمانداروں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ایک مضبوط کڑے کو تھامے ہوئے ہیں اور یہ مکڑی کے جالے میں اپنا سرچھپائے ہوئے ہیں۔ اس کا دل اللہ کی طرف ہے اس کا جسم اعمال صالحہ کی طرف مشغول ہے اور اس کا دل مخلوق کی طرف اور جسم اس کی پرستش کی طرف جھکا ہوا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کو ڈرا رہا ہے کہ وہ ان سے ان کے شرک سے اور ان کے جھوٹے معبودوں سے خوب آگاہ ہے۔ انہیں ان کی شرارت کا ایسا مزہ چھکائے گا کہ یہ یاد کریں۔ انہیں ڈھیل دینے میں بھی اس کی مصلحت وحکمت ہے۔ نہ یہ کہ وہ علیم اللہ ان سے بیخبر ہو۔ ہم نے تو مثالوں سے بھی مسائل سمجھا دئے۔ لیکن اس کے سوچنے سمجھنے کا مادہ ان میں غور و فکر کرنے کی توفیق صرف باعمل علماء کو ہوتی ہے۔ جو اپنے علم میں پورے ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ کی بیان کردہ مثالوں کو سمجھ لینا سچے علم کی دلیل ہے۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں میں نے ایک ہزار مثالیں رسول اللہ ﷺ سے سیکھی ہیں (مسند احمد) اس سے آپ کی فضیلت اور آپ کی علمیت ظاہر ہے۔ حضرت عمرو بن مروۃ فرماتے ہیں کہ کلام اللہ شریف کی جو آیت میری تلاوت میں آئے اور اس کا تفصیلی معنوں کا مطلب میری سمجھ میں نہ آئے تو میرا دل دکھتا ہے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے اور میں ڈرنے لگتا ہوں کہ کہیں اللہ کے نزدیک میری گنتی جاہلوں میں تو نہیں ہوگئی کیونکہ فرمان اللہ یہی ہے کہ ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں لیکن سوائے عالموں کے انہیں دوسرے سمجھ نہیں سکتے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا مَثَلٌ ضَرَبَهُ اللَّهُ تَعَالَى لِلْمُشْرِكِينَ فِي اتِّخَاذِهِمْ آلِهَةً مِنْ دُونِ اللَّهِ، يَرْجُونَ نَصْرَهُمْ وَرِزْقَهُمْ، وَيَتَمَسَّكُونَ بِهِمْ فِي الشَّدَائِدِ، فَهُمْ فِي ذَلِكَ كَبَيْتِ الْعَنْكَبُوتِ فِي ضَعْفِهِ وَوَهَنِهِ [[في ت: "وذهابه".]] فَلَيْسَ فِي أَيْدِي هَؤُلَاءِ مِنْ آلِهَتِهِمْ إِلَّا كمَنْ يَتَمَسَّكُ بِبَيْتِ الْعَنْكَبُوتِ، فَإِنَّهُ لَا يُجْدِي عَنْهُ شَيْئًا، فَلَوْ عَلموا هَذَا الْحَالَ لَمَا اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْلِيَاءَ، وَهَذَا بِخِلَافِ الْمُسْلِمِ الْمُؤْمِنِ قَلْبُهُ لِلَّهِ، وَهُوَ مَعَ ذَلِكَ يُحْسِنُ الْعَمَلَ فِي اتِّبَاعِ الشَّرْعِ فَإِنَّهُ مُسْتَمْسِكٌ [[في ف: "متمسك".]] بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا، لِقُوَّتِهَا وَثَبَاتِهَا.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى مُتَوَعِّدًا لِمَنْ عَبَدَ غَيْرَهُ وَأَشْرَكَ بِهِ: إِنَّهُ تَعَالَى يَعْلَمُ مَا هُمْ عَلَيْهِ مِنَ الْأَعْمَالِ، وَيَعْلَمُ مَا يُشْرِكُونَ بِهِ مِنَ الْأَنْدَادِ، وَسَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ إِنَّهُ حَكِيمٌ عَلِيمٌ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَتِلْكَ الأمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلا الْعَالِمُونَ﴾ أَيْ: وَمَا يَفْهَمُهَا وَيَتَدَبَّرُهَا إِلَّا الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ الْمُتَضَلِّعُونَ مِنْهُ.
قَالَ [[في ت: "روى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعة، عَنْ أَبِي قَبِيل [[في ت: "بإسناده".]] ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: عَقَلْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَلْفَ مَثَلٍ [[المسند (٤/٢٠٣) وقال الهيثمي في المجمع (٨/٢٦٤) "إسناده حسن".]] .
وَهَذِهِ مَنْقَبَةٌ عَظِيمَةٌ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ -رَضِيَ اللَّهُ عنه -حيث يقول [الله] [[زيادة من ت، وفي ف: "تبارك و".]] تعالى: ﴿وَتِلْكَ الأمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلا الْعَالِمُونَ﴾ .
وَقَالَ [[في ت: "رواه".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ سِنَانٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: مَا مَرَرْتُ بِآيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَا أَعْرِفُهَا إِلَّا أَحْزَنَنِي، لِأَنِّي سَمِعْتُ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: ﴿وَتِلْكَ الأمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلا الْعَالِمُونَ﴾ .
وَتِلْكَ ٱلْأَمْثَٰلُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ ۖ وَمَا يَعْقِلُهَآ إِلَّا ٱلْعَٰلِمُونَ
And these examples We present to the people, but none will understand them except those of knowledge.
اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے بیان کرتے ہیں اور اُسے تو اہلِ دانش ہی سمجھتے ہیں
اینها مثالهایی است که ما برای مردم میزنیم، و جز دانایان آن را درک نمیکنند.
Tafsir Ibn Kathir
The parable of those who seek protectors from other than Allah is that of a spider who builds a house; but indeed, the weakest of houses is the spider's house – if they but knew (41)Verily, Allah knows what things they invoke instead of Him. He is the All-Mighty, the All-Wise (42)And these are the examples We give for mankind; but none will understand them except those who have knowledge (of Allah)(43)
Likening the gods of the Idolators to the House of a Spider
This is how Allah described the idolators in their reverence of gods besides Him, hoping that they would help them and provide for them, and turning to them in times of difficulties. In this regard, they were like the house of a spider, which is so weak and frail, because by clinging to these gods they were like a person who holds on to a spider's web, who does not gain any benefit from that. If they knew this, they would not take any protectors besides Allah. This is unlike the Muslim believer, whose heart is devoted to Allah, yet he still does righteous deeds and follows the Laws of Allah, for he has grasped the most trustworthy handle that will never break because it is so strong and firm.
Then Allah warns those who worship others besides Him and associate others with Him that He knows what they do and the rivals they associate with Him. He will punish them for their attribution, for He is All-Wise and All-Knowing. Then He says:
وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ ۖ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ
(And these are the examples We give for mankind; but none will understand them except those who have knowledge.) meaning, no one understands them or ponders them except those who are possessed of deep knowledge. Ibn Abi Hatim recorded that 'Amr bin Murrah said, "I never came across an Ayah of the Book of Allah that I did not know, but it grieved me, because I heard that Allah says:
وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ ۖ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ
(And these are the examples We give for mankind; but none will understand them except those who have knowledge.)"
Tafsir Ibn Kathir
مکڑی کا جالا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کی پرستش اور پوجاپاٹ کرتے ہیں ان کی کمزوری اور بےعلمی کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ ان سے مدد روزی اور سختی میں کام آنے کے امیدوار رہتے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مکڑی کے جالے میں بارش اور دھوپ اور سردی سے پناہ چاہے۔ اگر ان میں علم ہوتا تو یہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے امیدیں وابستہ نہ کرتے۔ پس ان کا حال ایمانداروں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ایک مضبوط کڑے کو تھامے ہوئے ہیں اور یہ مکڑی کے جالے میں اپنا سرچھپائے ہوئے ہیں۔ اس کا دل اللہ کی طرف ہے اس کا جسم اعمال صالحہ کی طرف مشغول ہے اور اس کا دل مخلوق کی طرف اور جسم اس کی پرستش کی طرف جھکا ہوا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کو ڈرا رہا ہے کہ وہ ان سے ان کے شرک سے اور ان کے جھوٹے معبودوں سے خوب آگاہ ہے۔ انہیں ان کی شرارت کا ایسا مزہ چھکائے گا کہ یہ یاد کریں۔ انہیں ڈھیل دینے میں بھی اس کی مصلحت وحکمت ہے۔ نہ یہ کہ وہ علیم اللہ ان سے بیخبر ہو۔ ہم نے تو مثالوں سے بھی مسائل سمجھا دئے۔ لیکن اس کے سوچنے سمجھنے کا مادہ ان میں غور و فکر کرنے کی توفیق صرف باعمل علماء کو ہوتی ہے۔ جو اپنے علم میں پورے ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ کی بیان کردہ مثالوں کو سمجھ لینا سچے علم کی دلیل ہے۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں میں نے ایک ہزار مثالیں رسول اللہ ﷺ سے سیکھی ہیں (مسند احمد) اس سے آپ کی فضیلت اور آپ کی علمیت ظاہر ہے۔ حضرت عمرو بن مروۃ فرماتے ہیں کہ کلام اللہ شریف کی جو آیت میری تلاوت میں آئے اور اس کا تفصیلی معنوں کا مطلب میری سمجھ میں نہ آئے تو میرا دل دکھتا ہے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے اور میں ڈرنے لگتا ہوں کہ کہیں اللہ کے نزدیک میری گنتی جاہلوں میں تو نہیں ہوگئی کیونکہ فرمان اللہ یہی ہے کہ ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں لیکن سوائے عالموں کے انہیں دوسرے سمجھ نہیں سکتے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا مَثَلٌ ضَرَبَهُ اللَّهُ تَعَالَى لِلْمُشْرِكِينَ فِي اتِّخَاذِهِمْ آلِهَةً مِنْ دُونِ اللَّهِ، يَرْجُونَ نَصْرَهُمْ وَرِزْقَهُمْ، وَيَتَمَسَّكُونَ بِهِمْ فِي الشَّدَائِدِ، فَهُمْ فِي ذَلِكَ كَبَيْتِ الْعَنْكَبُوتِ فِي ضَعْفِهِ وَوَهَنِهِ [[في ت: "وذهابه".]] فَلَيْسَ فِي أَيْدِي هَؤُلَاءِ مِنْ آلِهَتِهِمْ إِلَّا كمَنْ يَتَمَسَّكُ بِبَيْتِ الْعَنْكَبُوتِ، فَإِنَّهُ لَا يُجْدِي عَنْهُ شَيْئًا، فَلَوْ عَلموا هَذَا الْحَالَ لَمَا اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْلِيَاءَ، وَهَذَا بِخِلَافِ الْمُسْلِمِ الْمُؤْمِنِ قَلْبُهُ لِلَّهِ، وَهُوَ مَعَ ذَلِكَ يُحْسِنُ الْعَمَلَ فِي اتِّبَاعِ الشَّرْعِ فَإِنَّهُ مُسْتَمْسِكٌ [[في ف: "متمسك".]] بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا، لِقُوَّتِهَا وَثَبَاتِهَا.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى مُتَوَعِّدًا لِمَنْ عَبَدَ غَيْرَهُ وَأَشْرَكَ بِهِ: إِنَّهُ تَعَالَى يَعْلَمُ مَا هُمْ عَلَيْهِ مِنَ الْأَعْمَالِ، وَيَعْلَمُ مَا يُشْرِكُونَ بِهِ مِنَ الْأَنْدَادِ، وَسَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ إِنَّهُ حَكِيمٌ عَلِيمٌ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَتِلْكَ الأمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلا الْعَالِمُونَ﴾ أَيْ: وَمَا يَفْهَمُهَا وَيَتَدَبَّرُهَا إِلَّا الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ الْمُتَضَلِّعُونَ مِنْهُ.
قَالَ [[في ت: "روى".]] الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعة، عَنْ أَبِي قَبِيل [[في ت: "بإسناده".]] ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: عَقَلْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَلْفَ مَثَلٍ [[المسند (٤/٢٠٣) وقال الهيثمي في المجمع (٨/٢٦٤) "إسناده حسن".]] .
وَهَذِهِ مَنْقَبَةٌ عَظِيمَةٌ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ -رَضِيَ اللَّهُ عنه -حيث يقول [الله] [[زيادة من ت، وفي ف: "تبارك و".]] تعالى: ﴿وَتِلْكَ الأمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلا الْعَالِمُونَ﴾ .
وَقَالَ [[في ت: "رواه".]] ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ سِنَانٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: مَا مَرَرْتُ بِآيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَا أَعْرِفُهَا إِلَّا أَحْزَنَنِي، لِأَنِّي سَمِعْتُ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: ﴿وَتِلْكَ الأمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلا الْعَالِمُونَ﴾ .
خَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِٱلْحَقِّ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لِّلْمُؤْمِنِينَ
Allah created the heavens and the earth in truth. Indeed in that is a sign for the believers.
خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ ایمان والوں کے لئے اس میں نشانی ہے
خداوند، آسمانها و زمین را بحق آفرید؛ و در این آیتی است برای مؤمنان.
Tafsir Ibn Kathir
Allah created the heavens and the earth with truth. Verily, therein is surely a sign for those who believe (44)Recite what has been revealed to you of the Book, and perform the Salah. Verily, the Salah prevents from Al-Fahsha' (immoral sins) and Al-Munkar (evil deeds) and the remembering (praising) of Allah is greater indeed. And Allah knows what you do.) Allah tells us of His immense power, that He created the heavens and the earth with truth, meaning for a higher purpose than mere pla (45)
لِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَىٰ
(that every person may be rewarded for that which he strives)(20:15).
لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى
(that He may requite those who do evil with that which they have done, and reward those who do good, with what is best)(53:31).
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ
(Verily, therein is surely a sign for those who believe.) meaning, there is clear evidence that Allah is alone in creating, controlling, and in His divinity.
The Command to convey the Message, to recite the Qur'an and to pray
Then Allah commands His Messenger ﷺ and the believers to recite the Qur'an, which means both reciting it and conveying it to people.
وَأَقِمِ الصَّلَاةَ ۖ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ۗ
(and perform the Salah. Verily, the Salah prevents from Al-Fahsha' and Al-Munkar and the remembrance of Allah is greater indeed.) Prayer includes two things: the first of which is giving up immoral behavior and evil deeds, i.e., praying regularly enables a person to give up these things.
Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said: "A man came to the Prophet ﷺ and said, 'So-and-so prays at night, but when morning comes, he steals.' The Prophet ﷺ said:
إِنَّهُ سَيَنْهَاهُ مَا تَقُولُ
(What you are saying (i.e., the Salah) will stop him from doing that.)" Prayer also includes the remembering of Allah, which is the higher objective, Allah says:
وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ
(and the remembrance of Allah is greater indeed.) more important than the former.
وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ
(And Allah knows what you do.) means, He knows all that you do and say. Abu Al-'Aliyah commented on the Ayah:
إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ۗ
(Verily, the Salah prevents from immoral sins and evil wicked deeds) "Prayer has three attributes, and any prayer that contains none of these attributes is not truly prayer: Being done purely and sincerely for Allah alone (Ikhlas), fear of Allah, and remembrance of Allah. Ikhlas makes a person do good deeds, fear prevents him from doing evil deeds, and the remembrance of Allah is the Qur'an which contains commands and prohibitions." Ibn 'Awn Al-Ansari said: "When you are praying, you are doing good, it is keeping you away from immoral sins and evil wicked deeds and what you are doing is part of the remembrance of Allah which is greater."
Tafsir Ibn Kathir
مقصد کائنات اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی قدرت کا بیان ہو رہا ہے کہ وہی آسمانوں کا اور زمینوں کا خالق ہے اس نے انہیں کھیل تماشے کے طور پر یا لغو و بیکار نہیں بنایا بلکہ اس لئے کہ یہاں لوگوں کو بسائے۔ پھر ان کی نیکیاں بدیاں دیکھے۔ اور قیامت کے دن ان کے اعمال کے مطابق انہیں جزا سزادے۔ بروں کو ان کی بداعمالیوں پر سزا اور نیکوں کو ان کی نیکیوں پر بہترین بدلہ۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى [مُخْبِرًا] [[زيادة من ف، أ.]] عَنْ قُدْرَتِهِ الْعَظِيمَةِ: أَنَّهُ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ، يَعْنِي: لَا عَلَى وَجْهِ الْعَبَثِ وَاللَّعِبِ، ﴿لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى﴾ [طَهَ: ١٥] ، ﴿لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى﴾ [النَّجْمِ: ٣١] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ﴾ أَيْ: لَدَلَالَةً وَاضِحَةً عَلَى أَنَّهُ تَعَالَى الْمُتَفَرِّدُ بِالْخَلْقِ وَالتَّدْبِيرِ وَالْإِلَهِيَّةِ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى آمِرًا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ، وَهُوَ قِرَاءَتُهُ وَإِبْلَاغُهُ لِلنَّاسِ: ﴿وَأَقِمِ الصَّلاةَ إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ﴾ يَعْنِي: أَنَّ الصَّلَاةَ تَشْتَمِلُ عَلَى شَيْئَيْنِ: عَلَى تَرْكِ الْفَوَاحِشِ وَالْمُنْكَرَاتِ، أَيْ: إِنَّ مُوَاظَبَتَهَا تَحْمِلُ عَلَى تَرْكِ ذَلِكَ. وَقَدْ جَاءَ فِي الْحَدِيثِ مِنْ رِوَايَةِ عِمْرَانَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا: "مَنْ لَمْ تَنْهَهُ صَلَاتُهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ، لَمْ تَزِدْهُ مِنَ اللَّهِ إِلَّا بُعْدًا" [[أما حديث عمران بن حصين، فقد أخرجه ابن أبي حاتم - كما سيأتي - من طريق عمر بن أبي عثمان عن الحسن عن عمران به، والحسن لم يسمع من عمران بن حصين. وأما حديث ابن عباس، فقد رواه الطبراني في المعجم الكبير (١١/٥٤) من طريق ليث عن طاوس عن ابن عباس به.]] .
[ذِكْرُ الْآثَارِ الْوَارِدَةِ فِي ذَلِكَ] [[زيادة من ف، أ.]] :
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْمُخَرِّمِيُّ الْفَلَّاسُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَافِعٍ أَبُو زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سُئِل النَّبِيُّ ﷺ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ: ﴿إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ﴾ قَالَ: "مَنْ لَمْ تَنْهَهُ صَلَاتُهُ عَنِ الفحشاء والمنكر، فلا صلاة له" [[وهذا الحديث فيه علتان ذكرهما الشيخ ناصر الدين الألباني في الضعيفة وهما:
١- الانقطاع بين الحسن - وهو البصري - وعمران بن حصين، فإنهم اختلفوا في سماعه منه فإنه ثبت، فعلته عنعنته الحسن فإنه مدلس معروف بذلك.
٢- جهالة عمر بن أبي عثمان، ذكره ابن أبي حاتم في الجرح والتعديل (٣/١/١٢٣) وقال: "سمع طاوسا قوله، روى عنه يحيى بن سعيد".]] .
وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَرْبُوعِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "مَنْ لَمْ تَنْهَهُ صَلَاتُهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ، لَمْ يَزْدَدْ بِهَا مِنَ اللَّهِ إِلَّا بُعْدًا". وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ [[المعجم الكبير (١١/٥٤) وقال الحافظ العراقي في تخريج الإحياء: "إسناده لين".]] .
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَمَّنْ ذَكَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ﴾ قَالَ: فَمَنْ لَمْ تَأْمُرْهُ صَلَاتُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَهُ عَنِ الْمُنْكَرِ، لَمْ يَزْدَدْ بِصَلَاتِهِ مِنَ اللَّهِ إِلَّا بُعْدًا. فَهَذَا مَوْقُوفٌ [[تفسير الطبري (٢٠/٩٩) .]]
. قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَحَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ [[في ف: "عن".]] الْبَرِيدِ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَاكِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يُطِعِ الصَّلَاةَ، وَطَاعَةُ الصَّلَاةِ أَنْ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ". قَالَ: وَقَالَ سُفْيَانُ: ﴿قَالُوا يَا شُعَيْبُ أَصَلاتُكَ تَأْمُرُكَ﴾ [هُودٍ: ٨٧] قَالَ: فَقَالَ سُفْيَانُ: أَيْ وَاللَّهِ، تَأْمُرُهُ وَتَنْهَاهُ. [[تفسير الطبري (٢٠/٩٩) وفيه جويبر وهو متروك.]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأشَجّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ -وَقَالَ أَبُو خَالِدٍ مَرَّة: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ -: "لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يُطِعِ الصَّلَاةَ، وَطَاعَةُ الصَّلَاةِ تَنْهَاهُ [[في ف: "تنهى".]] عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ" [[ذكره السيوطي في الدر المنثور (٦/٤٦٥) مرفوعا، وقال: "أخرج عبد بن حميد وابن جرير، وابن مردويه بسند ضعيف" فذكر الرواية التي قبلها.]] .
وَالْمَوْقُوفُ أَصَحُّ، كَمَا رَوَاهُ الْأَعْمَشُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ: إِنَّ فُلَانًا يُطِيلُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: إِنَّ الصَّلَاةَ لَا تَنْفَعُ إِلَّا مَنْ أَطَاعَهَا [[ورواه ابن أبي شيبة في المصنف (١٣/٢٩٨) من طريق زائدة عن عَاصِمٌ عَنْ شَقِيقٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: "لا تنفع الصلاة إلا من أطاعها ثم قرأ عبد اللَّهِ: (إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ... ) الآية".]] .
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: قَالَ عَلِيٌّ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ [[في هـ، ت، ف، أ: "وقال ابن جرير: حدثنا علي بن إسماعيل بن مسلم" والمثبت من الطبري.]] ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ تَنْهَهُ عَنِ الفحشاء والمنكر، لم يزدد بها من الله إِلَّا بُعْدا" [[تفسير الطبري (٢٠/٩٩) وهو من مراسيل الحسن.]] .
وَالْأَصَحُّ فِي هَذَا كُلِّهِ الْمَوْقُوفَاتُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَالْحَسَنِ وقَتَادَةَ، وَالْأَعْمَشِ وَغَيْرِهِمْ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ الْبَزَّارُ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ -عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ: أُرَاهُ عَنْ جَابِرٍ -شَكَّ الْأَعْمَشُ -قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ ﷺ: إِنَّ فُلَانًا يُصَلِّي فَإِذَا أصبح سرق، قال: "سينهاه [[في ف: "ستنهاه".]] ما يقول" [[مسند البزار برقم (٧٢١) "كشف الأستار" وقال الهيثمي في المجمع (٢/٢٥٨) "رجاله ثقات".]] .
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الحَرشي [[في ف، أ: "الجرشي".]] حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِنَحْوِهِ -وَلَمْ يَشُكَّ [[مسند البزار برقم (٧٢٢) "كشف الأستار".]] -ثُمَّ قَالَ: وَهَذَا الْحَدِيثُ قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ وَاخْتَلَفُوا فِي إِسْنَادِهِ، فَرَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ غَيْرِهِ، وَقَالَ قَيْسٌ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، وَقَالَ جَرِيرٌ وَزِيَادٌ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ جَابِرٍ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا وَكِيع، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو صَالِحٍ [[في هـ، ت، ف: "أبو صالح أخبرنا" والمثبت من المسند.]] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يُصَلِّي بِاللَّيْلِ فَإِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ؟ فَقَالَ: "إِنَّهُ سَيَنْهَاهُ مَا يَقُولُ [[في ف: "ستنهاه ما تقول"]] [[المسند (٢/٤٤٧) ورواه البزار في مسنده برقم (٧٢٠) "كشف الأستار". من طريق الأعمش به، وقال الهيثمي في المجمع (٢/٢٥٨) "رجاله رجال الصحيح".]] ".
وَتَشْتَمِلُ الصَّلَاةُ أَيْضًا عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى، وَهُوَ الْمَطْلُوبُ الْأَكْبَرُ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ﴾ أَيْ: أَعْظَمُ مِنَ الْأَوَّلِ، ﴿وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ﴾ أَيْ: يَعْلَمُ جَمِيعَ أَقْوَالِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ.
وَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ﴾ ، قَالَ: إِنَّ الصَّلَاةَ فِيهَا ثَلَاثُ خِصَالٍ [[في أ: "خلال".]] فَكُلُّ صَلَاةٍ لَا يَكُونُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ هَذِهِ الْخِلَالِ فَلَيْسَتْ بِصَلَاةٍ: الْإِخْلَاصُ، وَالْخَشْيَةُ، وَذِكْرُ اللَّهِ. فَالْإِخْلَاصُ يَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالْخَشْيَةُ تَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَذِكْرُ الْقُرْآنِ يَأْمُرُهُ وَيَنْهَاهُ.
وَقَالَ ابْنُ عَوْن الْأَنْصَارِيُّ: إِذَا كُنْتَ فِي صَلَاةٍ فَأَنْتَ فِي مَعْرُوفٍ، وَقَدْ حَجَزَتْكَ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ، وَالَّذِي أَنْتَ فِيهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ أَكْبَرُ.
وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ: ﴿إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ﴾ يَعْنِي: مَا دُمْتَ فِيهَا.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ﴾ ، يَقُولُ: وَلَذِكْرُ اللَّهِ لِعِبَادِهِ أَكْبَرُ، إِذَا ذَكَرُوهُ مِنْ ذِكْرِهُمْ إِيَّاهُ.
وَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَبِهِ قَالَ مُجَاهِدٌ، وَغَيْرُهُ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ﴾ قَالَ: ذِكْرُ اللَّهِ عِنْدَ طَعَامِكَ وَعِنْدَ مَنَامِكَ. قُلْتُ: فَإِنَّ صَاحِبًا لِي فِي الْمَنْزِلِ يَقُولُ غَيْرَ الَّذِي تَقُولُ: قَالَ: وَأَيَّ شَيْءٍ يَقُولُ؟ قُلْتُ: قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ: ﴿فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ﴾ [الْبَقَرَةِ: ١٥٢] ، فَلَذِكْرُ اللَّهِ إِيَّانَا أَكْبَرُ مِنْ ذِكْرِنَا إِيَّاهُ. قَالَ: صَدَقَ.
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ﴾ قَالَ: لَهَا وَجْهَانِ، قَالَ: ذِكْرُ اللَّهِ عِنْدَمَا حَرَّمَهُ، قَالَ: وَذِكْرُ اللَّهِ إِيَّاكُمْ أَعْظَمُ مِنْ ذِكْرِكُمْ إِيَّاهُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حدَّثنا هُشَيْم، أَخْبَرَنَا عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: هَلْ تَدْرِي مَا قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ﴾ ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَمَا هُوَ؟ قُلْتُ: التَّسْبِيحُ وَالتَّحْمِيدُ وَالتَّكْبِيرُ فِي الصَّلَاةِ، وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ، وَنَحْوُ ذَلِكَ. قَالَ: لَقَدْ قُلْتَ قَوْلًا عَجَبًا، وَمَا هُوَ كَذَلِكَ، وَلَكِنَّهُ إِنَّمَا يَقُولُ: ذِكْرُ اللَّهِ إِيَّاكُمْ عِنْدَمَا أَمَرَ بِهِ أَوْ نَهَى عَنْهُ إِذَا ذَكَرْتُمُوهُ، أَكْبَرُ مِنْ ذِكْرِكُمْ إِيَّاهُ [[تفسير الطبري (٢٠/٩٩) .]]
. وَقَدْ رُوِيَ هَذَا مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَرُوِيَ أَيْضًا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَسَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، وغيرهم. واختاره ابن جرير.
ٱتْلُ مَآ أُوحِىَ إِلَيْكَ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ ۖ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ تَنْهَىٰ عَنِ ٱلْفَحْشَآءِ وَٱلْمُنكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ ٱللَّهِ أَكْبَرُ ۗ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ
Recite, [O Muhammad], what has been revealed to you of the Book and establish prayer. Indeed, prayer prohibits immorality and wrongdoing, and the remembrance of Allah is greater. And Allah knows that which you do.
(اے محمدﷺ! یہ) کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کرو اور نماز کے پابند رہو۔ کچھ شک نہیں کہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔ اور خدا کا ذکر بڑا (اچھا کام) ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اُسے جانتا ہے
آنچه را از کتاب (آسمانی) به تو وحی شده تلاوت کن، و نماز را برپا دار، که نماز (انسان را) از زشتیها و گناه بازمیدارد، و یاد خدا بزرگتر است؛ و خداوند میداند شما چه کارهایی انجام میدهید!
Tafsir Ibn Kathir
Allah created the heavens and the earth with truth. Verily, therein is surely a sign for those who believe (44)Recite what has been revealed to you of the Book, and perform the Salah. Verily, the Salah prevents from Al-Fahsha' (immoral sins) and Al-Munkar (evil deeds) and the remembering (praising) of Allah is greater indeed. And Allah knows what you do.) Allah tells us of His immense power, that He created the heavens and the earth with truth, meaning for a higher purpose than mere pla (45)
لِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَىٰ
(that every person may be rewarded for that which he strives)(20:15).
لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى
(that He may requite those who do evil with that which they have done, and reward those who do good, with what is best)(53:31).
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ
(Verily, therein is surely a sign for those who believe.) meaning, there is clear evidence that Allah is alone in creating, controlling, and in His divinity.
The Command to convey the Message, to recite the Qur'an and to pray
Then Allah commands His Messenger ﷺ and the believers to recite the Qur'an, which means both reciting it and conveying it to people.
وَأَقِمِ الصَّلَاةَ ۖ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ۗ
(and perform the Salah. Verily, the Salah prevents from Al-Fahsha' and Al-Munkar and the remembrance of Allah is greater indeed.) Prayer includes two things: the first of which is giving up immoral behavior and evil deeds, i.e., praying regularly enables a person to give up these things.
Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said: "A man came to the Prophet ﷺ and said, 'So-and-so prays at night, but when morning comes, he steals.' The Prophet ﷺ said:
إِنَّهُ سَيَنْهَاهُ مَا تَقُولُ
(What you are saying (i.e., the Salah) will stop him from doing that.)" Prayer also includes the remembering of Allah, which is the higher objective, Allah says:
وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ
(and the remembrance of Allah is greater indeed.) more important than the former.
وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ
(And Allah knows what you do.) means, He knows all that you do and say. Abu Al-'Aliyah commented on the Ayah:
إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ۗ
(Verily, the Salah prevents from immoral sins and evil wicked deeds) "Prayer has three attributes, and any prayer that contains none of these attributes is not truly prayer: Being done purely and sincerely for Allah alone (Ikhlas), fear of Allah, and remembrance of Allah. Ikhlas makes a person do good deeds, fear prevents him from doing evil deeds, and the remembrance of Allah is the Qur'an which contains commands and prohibitions." Ibn 'Awn Al-Ansari said: "When you are praying, you are doing good, it is keeping you away from immoral sins and evil wicked deeds and what you are doing is part of the remembrance of Allah which is greater."
Tafsir Ibn Kathir
اخلاص خوف اور اللہ کا ذکر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو اور ایمان داروں کو حکم دے رہا ہے کہ وہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہیں اور اسے اوروں کو بھی سنائیں اور نمازوں کی نگہبانی کریں اور پابندی سے پڑھتے رہا کریں۔ نماز انسان کو ناشائستہ کاموں اور نالائق حرکتوں سے باز رکھتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ جس نمازی کی نماز نے اسے گناہوں سے اور سیاہ کاریوں سے باز نہ رکھا وہ اللہ سے بہت دور ہوجاتا ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی گئی تو آپ نے فرمایا جسے اس کی نماز بےجا اور فحش کاموں سے نہ روکے تو سمجھ لو کہ اس کی نماز اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوئی۔ اور روایت میں ہے کہ وہ اللہ سے دور ہی ہوتاچلا جائے گا۔ ایک موقوف روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ جو نمازی بھلے کاموں میں مشغول اور برے کاموں سے بچنے والا نہ ہو سمجھ لو کہ اس کی نماز اسے اللہ سے اور دور کرتی جارہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو نماز کی بات نہ مانے اس کی نماز نہیں، نماز بےحیائی سے اور بد فعلیوں سے روکتی ہے اس کی اطاعت یہ ہے کہ ان بےہودہ کاموں سے نمازی رک جائے۔ حضرت شعیب سے جب ان کی قوم نے کہا کہ شعیب کیا تمہیں تمہاری نماز حکم کرتی ہے تو حضرت سفیان نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ ہاں اللہ کی قسم نماز حکم بھی کرتی ہے اور منع بھی کرتی ہے۔ حضرت عبداللہ سے کسی نے کہا فلاں شخص بڑی لمبی نماز پڑھتا ہے آپ نے فرمایا نماز اسے نفع دیتی ہے جو اس کا کہا مانے۔ میری تحقیق میں اوپر جو مرفوع روایت بیان ہوئی ہے اس کا بھی موقوف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ بزار میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے کسی نے کہا حضور ﷺ فلاں شخص نماز پڑھتا ہے لیکن چوری نہیں چھوڑتا تو آپ ﷺ نے فرمایا عنقریب اس کی نماز اس کی یہ برائی چھڑادے گی۔ چونکہ نماز ذکر اللہ کا نام ہے اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا اللہ کی یاد بڑی چیز ہے اللہ تعالیٰ تمہاری تمام باتوں سے اور تمہارے کل کاموں سے باخبر ہے۔ حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں نماز تین چیزیں ہیں اگر یہ نہ ہوں تو نماز نماز نہیں اخلاص وخلوص خوف اللہ اور ذکر اللہ۔ اخلاص سے تو انسان نیک ہوجاتا ہے اور خوف اللہ سے انسان گناہوں کو چھوڑ دیتا ہے اور ذکر اللہ یعنی قرآن اسے بھلائی و برائی بتادیتا ہے وہ حکم بھی کرتا ہے اور منع بھی کرتا ہے۔ ابن عون انصاری فرماتے ہیں جب تو نماز میں ہو تو نیکی میں ہے اور نماز تجھے فحش اور منکر سے بچائے ہوئے ہے۔ اور اس میں جو کچھ تو ذکر اللہ کرہا ہے وہ تیرے لئے بڑے ہی فائدے کی چیز ہے۔ حماد کا قول ہے کہ کم سے کم حالت نماز میں تو برائیوں سے بچا رہے گا۔ ایک راوی سے ابن عباس کا یہ قول مروی ہے کہ جو بندہ یاد اللہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اسے یاد کرتا ہے۔ اس نے کہا ہمارے ہاں جو صاحب ہیں وہ تو کہتے ہیں کہ مطلب اس کا یہ ہے کہ جب تم اللہ کا ذکر کروگے تو وہ تمہاری یاد کرے گا اور یہ بہت بڑی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت (فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوْا لِيْ وَلَا تَكْفُرُوْنِ01502ۧ) 2۔ البقرة :152) کہ تم میری یاد کرو میں تمہاری یاد کرونگا۔ اسے سن کر آپ نے فرمایا اس نے سچ کہا یعنی دونوں مطلب درست ہیں۔ یہ بھی اور وہ بھی اور خود حضرت ابن عباس سے یہ بھی تفسیر مروی ہے۔ حضرت عبداللہ بن ربیعہ سے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عباس نے دریافت فرمایا کہ اس جملے کا مطلب جانتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں اس سے مراد نماز میں سبحان للہ، الحمدللہ، اللہ اکبر وغیرہ کہنا ہے۔ آپ نے فرمایا تو نے عجیب بات کہی یہ یوں نہیں ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ حکم کے اور منع کے وقت اللہ کا تمہیں یاد کرنا تمہارے ذکر اللہ سے بہت بڑا اور بہت اہم ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت ابو درداء حضرت سلمان فارسی وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اور اسی کو امام ابن جریر پسند فرماتے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى [مُخْبِرًا] [[زيادة من ف، أ.]] عَنْ قُدْرَتِهِ الْعَظِيمَةِ: أَنَّهُ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ، يَعْنِي: لَا عَلَى وَجْهِ الْعَبَثِ وَاللَّعِبِ، ﴿لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى﴾ [طَهَ: ١٥] ، ﴿لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى﴾ [النَّجْمِ: ٣١] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ﴾ أَيْ: لَدَلَالَةً وَاضِحَةً عَلَى أَنَّهُ تَعَالَى الْمُتَفَرِّدُ بِالْخَلْقِ وَالتَّدْبِيرِ وَالْإِلَهِيَّةِ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى آمِرًا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ، وَهُوَ قِرَاءَتُهُ وَإِبْلَاغُهُ لِلنَّاسِ: ﴿وَأَقِمِ الصَّلاةَ إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ﴾ يَعْنِي: أَنَّ الصَّلَاةَ تَشْتَمِلُ عَلَى شَيْئَيْنِ: عَلَى تَرْكِ الْفَوَاحِشِ وَالْمُنْكَرَاتِ، أَيْ: إِنَّ مُوَاظَبَتَهَا تَحْمِلُ عَلَى تَرْكِ ذَلِكَ. وَقَدْ جَاءَ فِي الْحَدِيثِ مِنْ رِوَايَةِ عِمْرَانَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا: "مَنْ لَمْ تَنْهَهُ صَلَاتُهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ، لَمْ تَزِدْهُ مِنَ اللَّهِ إِلَّا بُعْدًا" [[أما حديث عمران بن حصين، فقد أخرجه ابن أبي حاتم - كما سيأتي - من طريق عمر بن أبي عثمان عن الحسن عن عمران به، والحسن لم يسمع من عمران بن حصين. وأما حديث ابن عباس، فقد رواه الطبراني في المعجم الكبير (١١/٥٤) من طريق ليث عن طاوس عن ابن عباس به.]] .
[ذِكْرُ الْآثَارِ الْوَارِدَةِ فِي ذَلِكَ] [[زيادة من ف، أ.]] :
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْمُخَرِّمِيُّ الْفَلَّاسُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَافِعٍ أَبُو زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سُئِل النَّبِيُّ ﷺ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ: ﴿إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ﴾ قَالَ: "مَنْ لَمْ تَنْهَهُ صَلَاتُهُ عَنِ الفحشاء والمنكر، فلا صلاة له" [[وهذا الحديث فيه علتان ذكرهما الشيخ ناصر الدين الألباني في الضعيفة وهما:
١- الانقطاع بين الحسن - وهو البصري - وعمران بن حصين، فإنهم اختلفوا في سماعه منه فإنه ثبت، فعلته عنعنته الحسن فإنه مدلس معروف بذلك.
٢- جهالة عمر بن أبي عثمان، ذكره ابن أبي حاتم في الجرح والتعديل (٣/١/١٢٣) وقال: "سمع طاوسا قوله، روى عنه يحيى بن سعيد".]] .
وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَرْبُوعِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "مَنْ لَمْ تَنْهَهُ صَلَاتُهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ، لَمْ يَزْدَدْ بِهَا مِنَ اللَّهِ إِلَّا بُعْدًا". وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ [[المعجم الكبير (١١/٥٤) وقال الحافظ العراقي في تخريج الإحياء: "إسناده لين".]] .
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَمَّنْ ذَكَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ﴾ قَالَ: فَمَنْ لَمْ تَأْمُرْهُ صَلَاتُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَهُ عَنِ الْمُنْكَرِ، لَمْ يَزْدَدْ بِصَلَاتِهِ مِنَ اللَّهِ إِلَّا بُعْدًا. فَهَذَا مَوْقُوفٌ [[تفسير الطبري (٢٠/٩٩) .]]
. قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَحَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ [[في ف: "عن".]] الْبَرِيدِ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَاكِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يُطِعِ الصَّلَاةَ، وَطَاعَةُ الصَّلَاةِ أَنْ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ". قَالَ: وَقَالَ سُفْيَانُ: ﴿قَالُوا يَا شُعَيْبُ أَصَلاتُكَ تَأْمُرُكَ﴾ [هُودٍ: ٨٧] قَالَ: فَقَالَ سُفْيَانُ: أَيْ وَاللَّهِ، تَأْمُرُهُ وَتَنْهَاهُ. [[تفسير الطبري (٢٠/٩٩) وفيه جويبر وهو متروك.]]
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأشَجّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ -وَقَالَ أَبُو خَالِدٍ مَرَّة: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ -: "لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يُطِعِ الصَّلَاةَ، وَطَاعَةُ الصَّلَاةِ تَنْهَاهُ [[في ف: "تنهى".]] عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ" [[ذكره السيوطي في الدر المنثور (٦/٤٦٥) مرفوعا، وقال: "أخرج عبد بن حميد وابن جرير، وابن مردويه بسند ضعيف" فذكر الرواية التي قبلها.]] .
وَالْمَوْقُوفُ أَصَحُّ، كَمَا رَوَاهُ الْأَعْمَشُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ: إِنَّ فُلَانًا يُطِيلُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: إِنَّ الصَّلَاةَ لَا تَنْفَعُ إِلَّا مَنْ أَطَاعَهَا [[ورواه ابن أبي شيبة في المصنف (١٣/٢٩٨) من طريق زائدة عن عَاصِمٌ عَنْ شَقِيقٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: "لا تنفع الصلاة إلا من أطاعها ثم قرأ عبد اللَّهِ: (إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ... ) الآية".]] .
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: قَالَ عَلِيٌّ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ [[في هـ، ت، ف، أ: "وقال ابن جرير: حدثنا علي بن إسماعيل بن مسلم" والمثبت من الطبري.]] ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ تَنْهَهُ عَنِ الفحشاء والمنكر، لم يزدد بها من الله إِلَّا بُعْدا" [[تفسير الطبري (٢٠/٩٩) وهو من مراسيل الحسن.]] .
وَالْأَصَحُّ فِي هَذَا كُلِّهِ الْمَوْقُوفَاتُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَالْحَسَنِ وقَتَادَةَ، وَالْأَعْمَشِ وَغَيْرِهِمْ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ الْبَزَّارُ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ -عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ: أُرَاهُ عَنْ جَابِرٍ -شَكَّ الْأَعْمَشُ -قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ ﷺ: إِنَّ فُلَانًا يُصَلِّي فَإِذَا أصبح سرق، قال: "سينهاه [[في ف: "ستنهاه".]] ما يقول" [[مسند البزار برقم (٧٢١) "كشف الأستار" وقال الهيثمي في المجمع (٢/٢٥٨) "رجاله ثقات".]] .
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الحَرشي [[في ف، أ: "الجرشي".]] حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِنَحْوِهِ -وَلَمْ يَشُكَّ [[مسند البزار برقم (٧٢٢) "كشف الأستار".]] -ثُمَّ قَالَ: وَهَذَا الْحَدِيثُ قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ وَاخْتَلَفُوا فِي إِسْنَادِهِ، فَرَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ غَيْرِهِ، وَقَالَ قَيْسٌ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، وَقَالَ جَرِيرٌ وَزِيَادٌ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ جَابِرٍ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا وَكِيع، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو صَالِحٍ [[في هـ، ت، ف: "أبو صالح أخبرنا" والمثبت من المسند.]] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يُصَلِّي بِاللَّيْلِ فَإِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ؟ فَقَالَ: "إِنَّهُ سَيَنْهَاهُ مَا يَقُولُ [[في ف: "ستنهاه ما تقول"]] [[المسند (٢/٤٤٧) ورواه البزار في مسنده برقم (٧٢٠) "كشف الأستار". من طريق الأعمش به، وقال الهيثمي في المجمع (٢/٢٥٨) "رجاله رجال الصحيح".]] ".
وَتَشْتَمِلُ الصَّلَاةُ أَيْضًا عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى، وَهُوَ الْمَطْلُوبُ الْأَكْبَرُ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ﴾ أَيْ: أَعْظَمُ مِنَ الْأَوَّلِ، ﴿وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ﴾ أَيْ: يَعْلَمُ جَمِيعَ أَقْوَالِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ.
وَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ﴾ ، قَالَ: إِنَّ الصَّلَاةَ فِيهَا ثَلَاثُ خِصَالٍ [[في أ: "خلال".]] فَكُلُّ صَلَاةٍ لَا يَكُونُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ هَذِهِ الْخِلَالِ فَلَيْسَتْ بِصَلَاةٍ: الْإِخْلَاصُ، وَالْخَشْيَةُ، وَذِكْرُ اللَّهِ. فَالْإِخْلَاصُ يَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالْخَشْيَةُ تَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَذِكْرُ الْقُرْآنِ يَأْمُرُهُ وَيَنْهَاهُ.
وَقَالَ ابْنُ عَوْن الْأَنْصَارِيُّ: إِذَا كُنْتَ فِي صَلَاةٍ فَأَنْتَ فِي مَعْرُوفٍ، وَقَدْ حَجَزَتْكَ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ، وَالَّذِي أَنْتَ فِيهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ أَكْبَرُ.
وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ: ﴿إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ﴾ يَعْنِي: مَا دُمْتَ فِيهَا.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ﴾ ، يَقُولُ: وَلَذِكْرُ اللَّهِ لِعِبَادِهِ أَكْبَرُ، إِذَا ذَكَرُوهُ مِنْ ذِكْرِهُمْ إِيَّاهُ.
وَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَبِهِ قَالَ مُجَاهِدٌ، وَغَيْرُهُ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ﴾ قَالَ: ذِكْرُ اللَّهِ عِنْدَ طَعَامِكَ وَعِنْدَ مَنَامِكَ. قُلْتُ: فَإِنَّ صَاحِبًا لِي فِي الْمَنْزِلِ يَقُولُ غَيْرَ الَّذِي تَقُولُ: قَالَ: وَأَيَّ شَيْءٍ يَقُولُ؟ قُلْتُ: قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ: ﴿فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ﴾ [الْبَقَرَةِ: ١٥٢] ، فَلَذِكْرُ اللَّهِ إِيَّانَا أَكْبَرُ مِنْ ذِكْرِنَا إِيَّاهُ. قَالَ: صَدَقَ.
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ﴾ قَالَ: لَهَا وَجْهَانِ، قَالَ: ذِكْرُ اللَّهِ عِنْدَمَا حَرَّمَهُ، قَالَ: وَذِكْرُ اللَّهِ إِيَّاكُمْ أَعْظَمُ مِنْ ذِكْرِكُمْ إِيَّاهُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حدَّثنا هُشَيْم، أَخْبَرَنَا عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: هَلْ تَدْرِي مَا قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ﴾ ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَمَا هُوَ؟ قُلْتُ: التَّسْبِيحُ وَالتَّحْمِيدُ وَالتَّكْبِيرُ فِي الصَّلَاةِ، وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ، وَنَحْوُ ذَلِكَ. قَالَ: لَقَدْ قُلْتَ قَوْلًا عَجَبًا، وَمَا هُوَ كَذَلِكَ، وَلَكِنَّهُ إِنَّمَا يَقُولُ: ذِكْرُ اللَّهِ إِيَّاكُمْ عِنْدَمَا أَمَرَ بِهِ أَوْ نَهَى عَنْهُ إِذَا ذَكَرْتُمُوهُ، أَكْبَرُ مِنْ ذِكْرِكُمْ إِيَّاهُ [[تفسير الطبري (٢٠/٩٩) .]]
. وَقَدْ رُوِيَ هَذَا مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَرُوِيَ أَيْضًا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَسَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، وغيرهم. واختاره ابن جرير.
۞ وَلَا تُجَٰدِلُوٓا۟ أَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ إِلَّا بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ إِلَّا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْهُمْ ۖ وَقُولُوٓا۟ ءَامَنَّا بِٱلَّذِىٓ أُنزِلَ إِلَيْنَا وَأُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلَٰهُنَا وَإِلَٰهُكُمْ وَٰحِدٌۭ وَنَحْنُ لَهُۥ مُسْلِمُونَ
And do not argue with the People of the Scripture except in a way that is best, except for those who commit injustice among them, and say, "We believe in that which has been revealed to us and revealed to you. And our God and your God is one; and we are Muslims [in submission] to Him."
اور اہلِ کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریق سے کہ نہایت اچھا ہو۔ ہاں جو اُن میں سے بےانصافی کریں (اُن کے ساتھ اسی طرح مجادلہ کرو) اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اُتری اور جو (کتابیں) تم پر اُتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں
با اهل کتاب جز به روشی که از همه نیکوتر است مجادله نکنید، مگر کسانی از آنان که ستم کردند؛ و (به آنها) بگویید: «ما به تمام آنچه از سوی خدا بر ما و شما نازل شده ایمان آوردهایم، و معبود ما و شما یکی است، و ما در برابر او تسلیم هستیم!»
Tafsir Ibn Kathir
And argue not with the People of the Scripture, except with that which is better – except with such of them as do wrong; and say (to them): "We believe in that which has been revealed to us and revealed to you; our God and your God is One, and to Him we have submitted. (46)
Arguing with the People of the Book
What is meant here is that anyone who wants to find out about religion from them should argue with them in a manner that is better, as this will be more effective. Allah says:
ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ
(Invite to the way of your Lord with wisdom and fair preaching...)(16:125) And Allah said to Musa and Harun when he sent them to Fir'awn:
فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ
(And speak to him mildly, perhaps he may accept admonition or fear.)(20:44) Allah says here:
إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ
(except with such of them as do wrong;) meaning, those who turn away from the truth, turning a blind eye to clear evidence, being stubborn and arrogant. In this case you should progress from debate to combat, fighting them in such a way as to deter them from committing aggression against you. Allah says:
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ
(Indeed We have sent Our Messengers with clear proofs, and revealed with them the Scripture and the Balance that mankind may keep up justice. And We brought forth iron wherein is mighty power) until:
إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ
(Verily, Allah is All-Strong, All-Mighty)(57:25). Jabir said: "We were commanded to strike with the sword whoever opposes the Book of Allah." And His saying:
وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ
(and say (to them): "We believe in that which has been revealed to us and revealed to you;) means, 'if they tell you something which you do not know to be true or false, say to them: We do not hasten to say it is a lie, because it may be true, and we do not hasten to say it is true because it may be false. We believe in it in general, under the condition that it has been revealed and has not been altered or deliberately misinterpreted.'
Imam Al-Bukhari, may Allah have mercy on him, recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The People of the Book used to read the Tawrah in Hebrew and explain it in Arabic to the Muslims. The Messenger of Allah ﷺ said:
لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا: آمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ، وَإِلَهُنَا وَإِلَهُكُمْ وَاحِدٌ، وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
(Do not believe the People of the Book and do not deny them. Say: "We believe in Allah and what has been revealed to us and what has been revealed to you. Our God and your God is One, and to Him we have submitted.")" This Hadith was narrated only by Al-Bukhari.
Al-Bukhari recorded that Ibn 'Abbas said: "How can you ask the People of the Book about anything, when your Book that was revealed to the Messenger of Allah ﷺ is more recent, you read it pure and uncontaminated, it tells you that the People of the Book altered and changed the Book, that they write the Book with their own hands and then say, 'This is from Allah,' to purchace with it a small price? Should not the knowledge that you have, prevent you from asking them? No, by Allah, we have never seen any of them asking you about what was sent down to you."
Al-Bukhari recorded that Humayd bin 'Abdur-Rahman heard Mu'awiyah talking to a group of Quraysh in Al-Madinah. He mentioned Ka'b Al-Ahbar, and said: "He was one of the most truthful of those who narrated from the People of the Book, even though we found that some of what he said might be lies."
I say, this means that some of what he said could be classified linguistically as lies, but he did not intend to lie, because he was narrating from manuscripts which he thought were good, but they contained fabricated material, because they did not have people who were so conscientious in memorizing the Scriptures by heart as the people of this great Ummah.
Tafsir Ibn Kathir
غیر مسلموں کو دلائل سے قائل کرو حضرت قتادۃ وغیرہ تو فرماتے ہیں کہ یہ آیت تو جہاد کے حکم کے ساتھ منسوخ ہے اب تو یہی ہے کہ یا تو اسلام قبول کرو یا جزیہ ادا کرو یا لڑائی لڑیں۔ لیکن اور بزرگ مفسرین کا قول ہے کہ یہ حکم باقی ہے جو یہودی یا نصرانی دینی امور کو سجھنا چاہے اور اسے مہذب طریقے پر سلجھے ہوئے پیرائے سے سمجھا دینا چاہئے۔ کیا عجیب ہے کہ وہ راہ راست اختیار کرے۔ جیسے اور آیت میں عام حکم موجود ہے آیت (اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ01205) 16۔ النحل :125) اپنے رب کی راہ کی دعوت حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ لوگوں کو دو۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو جب فرعون کے طرف بھیجا جاتا ہے تو فرمان ہوتا ہے کہ آیت (فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى 44) 20۔ طه :44) یعنی اس سے نرمی سے گفتگو کرنا کیا عجب کہ وہ نصیحت قبول کرلے اور اس کا دل پگھل جائے۔ یہی قول حضرت امام ابن جریر کا پسندیدہ ہے۔ اور حضرت ابن زید سے یہی مروی ہے۔ ہاں ان میں سے جو ظلم پر اڑ جائیں اور ضد اور تعصب برتیں حق کو قبول کرنے سے انکار کردیں پھر مناظرے مباحثے بےسود ہیں پھر تو جدال و قتال کا حکم ہے۔ جیسے جناب باری عز اسمہ کا ارشاد ہے آیت (لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ 25ۧ) 57۔ الحدید :25) ہم نے رسولوں کو واضح دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ہمراہ کتاب و میزان نازل فرمائی تاکہ لوگوں میں عدل و انصاف کا قیام ہوسکے۔ اور ہم نے لوہا بھی نازل فرمایا جس میں سخت لڑائی ہے۔ پس حکم اللہ یہ ہے کہ بھلائی سے اور نرمی سے جو نہ مانے اس پر پھر سختی کی جائے۔ جو لڑے اسی سے لڑا جائے ہاں یہ اور بات ہے کہ ماتحتی میں رہ کر جزیہ ادا کرے۔ پھر تصدیق کردیا کرو ممکن ہے کسی امر حق کو تم جھٹلادو اور ممکن ہے کسی باطل کی تم تصدیق کر بیٹھو۔ پس شرط یہ ہے کہ تصدیق کرو یعنی کہہ دو کہ ہمارا اللہ کی ہر بات پر ایمان ہے اگر تمہاری پیش کردہ چیز اللہ کی نازل کردہ ہے تو ہم اسے تسلیم کرتے ہیں اور اگر تم نے تبدیل و تحریف کردی ہے تو ہم اسے نہیں مانتے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ اہل کتاب توراۃ کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور ہمارے سامنے عربی میں اس کا ترجمہ کرتے اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا نہ تم انہیں سچا کہو نہ جھوٹا بلکہ تم آیت (امنا بالذی) سے آخر آیت تک پڑھ دیاکرو۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ کے پاس ایک یہودی آیا اور کہنے لگا کیا یہ جنازے بولتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ ہی کو علم ہے۔ اس نے کہا میں جانتا ہوں یہ یقینا بولتے ہیں اس پر حضور ﷺ نے فرمایا یہ اہل کتاب جب تم سے کوئی بات بیان کریں تو تم نہ ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب بلکہ کہہ دو ہمارا اللہ پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ہے۔ یہ اس لئے کہ کہیں ایسا نہ ہو تم کسی جھوٹ کو سچا کہہ دو یا کسی سچ کو جھوٹ بتادو۔ یہاں یہ بھی خیال رہے کہ ان اہل کتاب کی اکثروبیشتر باتیں تو غلط اور جھوٹ ہی ہوتی ہیں عموما بہتان و افتراء ہوتا ہے۔ ان میں تحریف و تبدل تغیر و تاویل رواج پاچکی ہے اور صداقت ایسی رہ گئی ہے کہ گویا کچھ بھی نہیں۔ پھر ایک بات اور بھی ہے کہ بالفرض سچ بھی ہو تو ہمیں کیا فائدہ ؟ ہمارے پاس تو اللہ کی تازہ اور کامل کتاب موجود ہے۔ چناچہ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں اہل کتاب سے تم کچھ بھی نہ پوچھو۔ وہ خود جبکہ گمراہ ہیں تو تمہاری تصحیح کیا کریں گے ؟ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ ان کی کسی سچ بات کو تم جھوٹا کہہ دو۔ یا ان کی کسی جھوٹی بات کو تم سچ کہہ دو۔ یاد رکھو ہر اہل کتاب کے دل میں اپنے دین کا ایک تعصب ہے۔ جیسے کہ مال کی خواہش ہے (ابن جریر) صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں تم اہل کتاب سے سوالات کیوں کرتے ہو ؟ تم پر تو اللہ کی طرف سے ابھی ابھی کتاب نازل ہوئی ہے جو بالکل خالص ہے جس میں باطل نہ ملا نہ مل جل سکے۔ تم سے تو خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کے دین کو بدل ڈالا۔ اللہ کی کتاب میں تغیر کردیا اور اپنے ہاتھوں کی لکھی ہوئی کتابوں کو اللہ کی کتاب کہنے لگے اور دنیوی نفع حاصل کرنے لگے۔ کیوں بھلا تمہارے پاس جو علم اللہ ہے کیا وہ تمہیں کافی نہیں ؟ کہ تم ان سے دریافت کرو۔ دیکھو تو کس قدر ستم ہے کہ ان میں سے تو ایک بھی تم سے کبھی کچھ نہ پوچھے اور تم ان سے دریافت کرتے پھرو ؟ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ ؓ نے مدینے میں قریش کی ایک جماعت کے سامنے فرمایا کہ دیکھو ان تمام اہل کتاب میں اور ان کی باتیں بیان کرنے والوں میں سب سے اچھے حضرت کعب بن احبار ؓ ہے لیکن باوجود اس کے بھی ان کی باتوں میں بھی ہم کبھی کھبی جھوٹ پاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عمدا جھوٹ بولتے ہیں بلکہ جن کتابوں پر انہیں اعتماد ہے وہ خود گیلی سوکھی سب جمع کرلیتے ہیں ان میں خود سچ جھوت صحیح غلط بھرا پڑا ہے۔ ان میں مضبوط ذی علم حافظوں کی جماعت تھی ہی نہیں۔ یہ تو اسی امت مرحومہ پر اللہ کا فضل ہے کہ اس میں بہترین دل ودماغ والے اور اعلیٰ فہم وذکا والے اور عمدہ حفظ و اتقان والے لوگ اللہ نے پیدا کردیئے ہیں لیکن پھر بھی آپ دیکھئے کہ کس قدر موضوعات کا ذخیرہ جمع ہوگیا ہے ؟ اور کس طرح لوگوں نے باتیں گھڑلی ہیں۔ محدثین نے اس باطل کو حق سے بالکل جدا کردیا فالحمدللہ۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ قَتَادَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ: هَذِهِ الْآيَةُ مَنْسُوخَةٌ بِآيَةِ السَّيْفِ، وَلَمْ يَبْقَ مَعَهُمْ مُجَادَلَةٌ، وَإِنَّمَا هُوَ الْإِسْلَامُ أَوِ الْجِزْيَةُ أَوِ السَّيْفُ.
وَقَالَ آخَرُونَ: بَلْ هِيَ بَاقِيَةٌ أَوْ مُحْكَمَةٌ لِمَنْ أَرَادَ الِاسْتِبْصَارَ مِنْهُمْ فِي الدِّينِ، فَيُجَادِلُ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ، لِيَكُونَ أَنْجَعَ فِيهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ﴾ [النَّحْلِ: ١٢٥] ، وَقَالَ تَعَالَى لِمُوسَى وَهَارُونَ حِينَ بَعَثَهُمَا إِلَى فِرْعَوْنَ: ﴿فَقُولا لَهُ قَوْلا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى﴾ [طَهَ: ٤٤] . وَهَذَا الْقَوْلُ اخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ [[تفسير الطبري (٢١/٢) .]] ، وَحَكَاهُ عَنِ ابْنِ زَيْدٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِلا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ﴾ أَيْ: حَادُوا عَنْ وَجْهِ الْحَقِّ [[في ف، أ: "الحجة".]] ، وعَمُوا عَنْ وَاضِحِ الْمَحَجَّةِ، وَعَانَدُوا وَكَابَرُوا، فَحِينَئِذٍ يُنْتَقَلُ مِنَ الْجِدَالِ إِلَى الْجِلَادِ، وَيُقَاتَلُونَ بِمَا يَرْدَعُهُمْ وَيَمْنَعُهُمْ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنزلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾ [الْحَدِيدِ: ٢٥] .
قَالَ جَابِرٌ: أمرْنَا مَنْ خَالَفَ كِتَابَ اللَّهِ أَنْ نَضْرِبَهُ بِالسَّيْفِ.
قَالَ مُجَاهِدٌ: ﴿إِلا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ﴾ يَعْنِي: أَهْلَ الْحَرْبِ، وَمَنِ امْتَنَعَ مِنْهُمْ عَنْ أَدَاءِ الْجِزْيَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنزلَ إِلَيْنَا وَأُنزلَ إِلَيْكُمْ﴾ ، يَعْنِي: إِذَا أَخْبَرُوا بِمَا لَا يُعْلَمُ صِدْقُهُ وَلَا كَذِبُهُ، فَهَذَا لَا نُقدم عَلَى تَكْذِيبِهِ لِأَنَّهُ قَدْ يَكُونُ حَقًّا، وَلَا عَلَى تَصْدِيقِهِ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يكون باطلا وَلَكِنْ نُؤْمِنُ بِهِ إِيمَانًا مُجْمَلًا مُعَلَّقًا عَلَى شَرْطٍ وَهُوَ أَنْ يَكُونَ مُنْزَلًا لَا مُبَدَّلًا وَلَا مُؤَوَّلًا.
وَقَالَ الْبُخَارِيُّ، رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَر، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ [[في ت: "روى البخاري بإسناده عن أبي هريرة".]] ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ أَهْلُ الكتاب [[في هـ، ت، ف: "كان أهل التوراة" والمثبت من البخاري.]] يقرؤون التَّوْرَاةَ بِالْعِبْرَانِيَّةِ، وَيُفَسِّرُونَهَا بِالْعَرَبِيَّةِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا: آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ، وَإِلَهُنَا وَإِلَهُكُمْ وَاحِدٌ، وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ". وَهَذَا الْحَدِيثُ تفرَّد [[في ت: "انفرد".]] بِهِ الْبُخَارِيُّ [[صحيح البخاري برقم (٤٤٨٥، ٧٣٦٢) .]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَر، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي نَمْلَةَ [[في ت: "روى الإمام أحمد بإسناده".]] أَنَّ أَبَا نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، جَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ تَتَكَلَّمُ هَذِهِ الْجِنَازَةُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "اللَّهُ أَعْلَمُ". قَالَ الْيَهُودِيُّ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهَا تَتَكَلَّمُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِذَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا: آمَنَّا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَكُتُبِهِ، فَإِنْ كَانَ حَقًّا لَمْ [[في ت: "فلا".]] تُكَذِّبُوهُمْ، وَإِنْ كَانَ بَاطِلًا لَمْ [[في ت: "فلا".]] تُصَدِّقُوهُمْ" [[المسند (٤/١٣٦) .]]
قَلَّتْ: وَأَبُو نَمْلَةَ هَذَا هُوَ: عُمَارة. وَقِيلَ: عَمَّارٌ. وَقِيلَ: عَمْرُو بْنُ مُعَاذِ بْنِ زُرَارة الْأَنْصَارِيُّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ثُمَّ لِيُعْلَمَ أَنَّ أَكْثَرَ مَا يُحدّثون بِهِ غالبُه كَذِبٌ وَبُهْتَانٌ؛ لِأَنَّهُ قَدْ دَخَلَهُ تَحْرِيفٌ وَتَبْدِيلٌ وَتَغْيِيرٌ وَتَأْوِيلٌ، وَمَا أَقَلَّ الصِّدْقَ فِيهِ، ثُمَّ مَا أَقَلَّ فَائِدَةَ كَثِيرٍ مِنْهُ لَوْ كَانَ صَحِيحًا.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ حُرَيْث [[في أ: "حرب".]] بْنِ ظُهَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ -هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ -قَالَ: لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوكُمْ وَقَدْ ضَلُّوا، إِمَّا أَنْ تُكَذِّبُوا بِحَقٍّ أَوْ تُصَدِّقُوا بِبَاطِلٍ، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا وَفِي قَلْبِهِ تَالِيَةٌ، تَدْعُوهُ إِلَى دِينِهِ كَتَالِيَةِ الْمَالِ [[تفسير الطبري (٢١/٤) .]] .
وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ [[في أ: "سليمان".]] حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ [[في ت: "روى البخاري بإسناده".]] ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ، وَكِتَابُكُمُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم أحدث [[في ت: "أحدث الكتب".]] تقرؤونه مَحْضًا لَمْ يُشَب، وَقَدْ حدَثَكم أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ بدَّلوا كِتَابَ اللَّهِ، وَغَيَّرُوهُ وَكَتَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الْكِتَابَ، وَقَالُوا: هُوَ [[في ف، أ: "وقالوا: هذا هو".]] مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا؟ أَلَا يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ [[في ف: "من".]] مَسْأَلَتِهِمْ؟ لَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِنْهُمْ رَجُلًا يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِي أُنْزِلَ عليكم [[صحيح البخاري برقم (٧٣٦٣) .]] .
وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ أَبُو الْيَمَانِ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حُمَيد بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يُحَدِّثُ رَهْطًا مِنْ قُرَيْشٍ بِالْمَدِينَةِ -وذكرَ كعبَ الْأَحْبَارِ -فَقَالَ: إِنْ كَانَ مِنْ أَصْدَقِ هَؤُلَاءِ الْمُحَدِّثِينَ الَّذِينَ يُحَدِّثُونَ عَنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَإِنْ كُنَّا مَعَ ذَلِكَ لَنَبْلُو عَلَيْهِ الْكَذِبَ [[صحيح البخاري برقم (٧٣٦١) .]] .
قُلْتُ: مَعْنَاهُ أَنَّهُ يَقَعُ مِنْهُ الْكَذِبُ لُغَةً مِنْ غَيْرِ قَصْدٍ؛ لِأَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنْ صُحُفٍ هُوَ يُحْسِنُ بِهَا الظَّنَّ، وَفِيهَا أَشْيَاءُ مَوْضُوعَةٌ وَمَكْذُوبَةٌ؛ لِأَنَّهُمْ لَمْ يَكُنْ فِي مِلَّتِهِمْ حُفَّاظٌ مُتْقِنُونَ كَهَذِهِ الْأُمَّةِ الْعَظِيمَةِ، وَمَعَ ذَلِكَ وَقُرْبَ الْعَهْدِ وُضِعَتْ [[في ت: "وضعفت".]] أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ، لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ وَمَنْ مَنَحَهُ اللَّهُ عِلْمًا بِذَلِكَ، كُلٌّ بِحَسْبِهِ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ.
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ ۚ فَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۖ وَمِنْ هَٰٓؤُلَآءِ مَن يُؤْمِنُ بِهِۦ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا ٱلْكَٰفِرُونَ
And thus We have sent down to you the Qur'an. And those to whom We [previously] gave the Scripture believe in it. And among these [people of Makkah] are those who believe in it. And none reject Our verses except the disbelievers.
اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف کتاب اُتاری ہے۔ تو جن لوگوں کو ہم نے کتابیں دی تھیں وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اور بعض ان (مشرک) لوگوں میں سے بھی اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اور ہماری آیتوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو کافر (ازلی) ہیں
و این گونه، کتاب [= قرآن] را بر تو نازل کردیم، کسانی که کتاب (آسمانی) به آنها دادهایم به این کتاب ایمان میآورند؛ و بعضی از این گروه [= مشرکان] نیز به آن مؤمن میشوند؛ و آیات ما را جز کافران انکار نمیکنند.
Tafsir Ibn Kathir
And thus We have sent down the Book to you, and those whom We gave the Scripture believe therein as also do some of these and none but the disbelievers reject Our Ayat (47)Neither did you read any book before it nor did you write any book with your right hand. In that case, indeed, the followers of falsehood might have doubted (48)Nay, but it is clear Ayat, (preserved) in the breasts of those who have been given knowledge. And none but the wrongdoers deny Our Ayat (49)
Evidence for the Fact that the Qur'an was revealed from Allah
Ibn Jarir said: "Allah says, 'just as We revealed the Books to the Messengers who came before you, O Muhammad, so We have also revealed this Book to you.'" What he said is good and fits the context. Allah's saying:
فَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ
(and those whom We gave the Scripture believe therein) means, those knowledgable rabbis and scholars among them who learned it and recited it properly, such as 'Abdullah bin Salam, Salman Al-Farisi and others like them.
وَمِنْ هَٰؤُلَاءِ مَنْ يُؤْمِنُ بِهِ ۚ
(as also believe therein some of these) meaning, the Quraysh Arabs and others.
وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا الْكَافِرُونَ
(and none but the disbelievers reject Our Ayat.) No one disbelieves and rejects them except those who conceal the truth with falsehood, and those who try to hide the rays and light of the sun by their covering an eye. Then Allah says:
وَمَا كُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ ۖ
(Neither did you read any book before it (this Qur'an) nor did you write any book with your right hand.) meaning, 'you lived among your people for a long time before you brought this Qur'an. During this time you never read any book or wrote anything. Your people, as well as others all know that you are an unlettered man who does not read or write.' This is how he was also described in the previous Scriptures, as Allah says:
الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ
(Those who follow the Messenger, the Prophet, the unlettered about whom they find written with them in the Tawrah and the Injil, – he commands them with good; and forbids them from evil.)(7:157) This is how the Messenger of Allah ﷺ will remain until the Day of Resurrection, unable to write even one line or one letter. He used to have scribes who would write down the revelation for him, or would write letters from him to be sent to different places. Allah's saying:
إِذًا لَارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ
(In that case, indeed, the followers of falsehood might have doubted.) means, 'if you had been literate, some ignorant people would have doubted you. They would have said that you learned this from Books inherited from the Prophets which came before.' Indeed, they did say that, even though they knew that he was unlettered and could not read or write.
وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَىٰ عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا
(And they say: "Tales of the ancients, which he has written down, and they are dictated to him morning and afternoon.")(25:5) Allah says:
قُلْ أَنْزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ
(Say: "It has been sent down by Him Who knows the secret of the heavens and the earth)(25:6). And Allah says here:
بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ ۚ
(Nay, but it is (Quran), the clear Ayat, (preserved) in the breasts of those who have been given knowledge.) meaning, this Qur'an is clear Ayat which indicate the truth, commands, prohibitions and stories. It is memorized by the scholars for whom Allah makes it easy to memorize, recite and interpret. This is like the Ayah,
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ
(And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any one who will remember)(54:17). The Messenger of Allah ﷺ said:
مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ مَا آمَنَ عَلَى مِثْلِهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا
(There has never been any Prophet who was not given that which would make people believe in him. What I have been given is revelation which Allah reveals to me, and I hope that I will have the most followers among them.) According to the Hadith of 'Iyad bin Himar, recorded in Sahih Muslim, Allah says:
إِنِّي مُبْتَلِيكَ وَمُبْتَلٍ بِكَ، وَمُنْزِلٌ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ، تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانًا
("I am testing you and testing others through you, revealing to you a Book which cannot be washed away by water, which you recite while you are asleep and while you are awake.") This means, if the manuscript where it is written were to be washed with water, there is no need for that manuscript. This is because it is preserved in the hearts and is easy on the tongue (i.e., is easy to recite), and is controlling people's hearts and minds. It is miraculous in its wording and in its meanings. In the previous Scriptures this Ummah was described as carrying their holy Books in their hearts.
وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا الظَّالِمُونَ
(And none but the wrongdoers deny Our Ayat) Nobody denies it or tries to undermine its status or rejects it except the wrongdoers, i.e., the arrogant transgressors who know the truth but turn away from it, as Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ
(Truly, those, against whom the Word (wrath) of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them, until they see the painful torment.)(10:96-97)
Tafsir Ibn Kathir
حق تلاوت فرمان ہے کہ جیسے ہم نے اگلے انبیاء پر اپنی کتابیں نازل فرمائی تھیں اسی طرح یہ کتاب یعنی قرآن شریف ہم نے اے ہمارے آخری رسول ﷺ تم پر نازل فرمایا ہے۔ پس اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ہماری کتاب کی قدر کی اور اس کی تلاوت کا حق ادا کیا وہ جہاں اپنی کتابوں پر ایمان لائے اس پاک کتاب کو بھی مانتے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ، اور جیسے حضرت سلمان فارسی ؓ وغیرہ۔ اور ان لوگوں یعنی قریش وغیرہ میں سے بھی بعض لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں ہاں جو لوگ باطل سے حق کو چھپانے والے اور سورج کی روشنی سے آنکھیں بند کرنے والے ہیں وہ تو اسکے بھی منکر ہیں۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ تم ان میں مدت العمرتک رہ چکے ہو اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ ان میں گزار چکے ہو انہیں خوب معلوم ہے کہ آپ پڑھے لکھے نہیں، ساری قوم اور سارا ملک بخوبی علم رکھتا ہے کہ آپ محض امی ہیں نہ لکھناجانتے ہیں نہ پڑھنا۔ پھر آج جو آپ کو انوکھی فصیح وبلیغ اور پر از حکمت کتاب پڑھتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ آپ اس حالت میں ایک حرف پڑھے ہوئے نہیں خود تصنیف و تالیف کر نہیں سکتے حضور ﷺ کی یہ صفت اگلی کتابوں میں تھی جیسے قرآن ناقل ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ01507) 7۔ الاعراف :157) یعنی جو لوگ پیروی کرتے ہیں اس رسول و نبی امی کی جس کی صفات وہ اپنی کتاب توراۃ اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہیں جو انہیں نیکیوں کا حکم کرتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے۔ لطف یہ ہے کہ اللہ کے معصوم نبی ﷺ ہمشہ لکھنے سے دور ہی رکھے گئے۔ ایک سطر کے معنی، ایک حرف بھی لکھنا آپ کو نہ آتا تھا۔ آپ نے کاتب مقرر کرلئے تھے جو وحی اللہ کو لکھ لیتے تھے اور ضروت کے وقت شاہان دنیا سے خط و کتابت بھی وہی کرتے تھے پچھلے فقہاء میں قاضی ابو الولید باجی وغیرہ نے کہا کہ حدیبیہ والے دن خود رسول کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے یہ جملہ صلح نامے میں لکھا تھا کہ ھذا ماقاضی علیہ محمدا بن عبداللہ یعنی یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمد بن عبداللہ ﷺ نے فیصلہ کیا۔ لیکن یہ قول درست نہیں یہ وہم قاضی صاحب کو بخاری شریف کی اس روایت سے ہوا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ ثم اخذ فکتب یعنی پھر حضور ﷺ نے آپ لیکر لکھا۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے لکھنے کا حکم دیا۔ جیسے دوسری روایت میں صاف موجود ہے کہ ثم امر فکتب یعنی آپ نے پھر حکم دیا اور لکھا گیا۔ مشرق ومغرب کے تمام علماء کا یہی مذہب ہے بلکہ باجی وغیرہ پر انہوں نے اس قول کا بہت سخت رد کیا ہے اور اس سے بیزاری ظاہر کی ہے۔ اور اس قول کی تردید اپنے اشعار اور خطبوں میں بھی کی ہے۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ قاضی صاحب وغیرہ کا یہ خیال ہرگز نہیں کہ آپ اچھی طرح لکھنا جانتے تھے بلکہ وہ یہ کہتے تھے کہ آپ کا یہ جملہ صلح نامے پر لکھا جانا معجزہ تھا۔ جیسا کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا اور ایک روایت میں ہے کہ کر لکھا ہوا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا اگرچہ ان پڑھ ہو تب بھی اسے پڑھ لے گا۔ یہ مومن کی ایک کرامت ہوگی اسی طرح یہ فقرہ لکھ لینا اللہ کے نبی ﷺ کا ایک معجزہ تھا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ لکھنا جانتے تھے۔ یا آپ نے سیکھا تھا۔ بعض لوگ ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں ہے کہ آنحضور ﷺ کا انتقال نہ ہوا جب تک کہ آپ نے لکھنا نہ سیکھ لیا۔ یہ روایت بالکل ضعیف ہے بلکہ محض بےاصل ہے قرآن کریم کی اس آیت کو دیکھئے کس قدر تاکید کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے پڑھا ہونے کا انکار کرتی ہے اور کتنی سختی کے ساتھ پرزور الفاظ میں اس کا بھی انکار کرتی ہے کہ آپ لکھناجانتے ہوں۔ یہ جو فرمایا کہ داہنے ہاتھ سے یہ باعتبار غالب کے کہہ دیا ہے ورنہ لکھا تو دائیں ہاتھ سے ہی جاتا ہے اسی کی طرح آیت (وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ 38) 6۔ الانعام :38) میں ہے کیونکہ ہر پرند اپنے پروں سے ہی اڑتا ہے۔ پس حضور ﷺ کا ان پڑھ ہونا بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو یہ باطل پرست آپ کی نسبت شکر کرنے کی گنجائش پاتے کہ سابقہ انبیاء کی کتابوں سے پڑھ لکھ کر نقل کرلیتا ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں۔ تعجب ہے کہ باوجود ایسانہ ہونے کے پھر بھی یہ لوگ ہمارے رسول ﷺ پر یہ الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ گزرے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنہیں اس نے لکھ لیا ہے۔ وہی اس کے سامنے صبح شام پڑھی جاتی ہیں۔ باوجودیکہ خود جانتے ہیں کہ ہمارے رسول ﷺ پڑھے لکھے نہیں۔ ان کے اس قول کے جواب میں جناب باری عز اسمہ نے فرمایا انہیں جواب دو کہ اسے اس اللہ نے نازل فرمایا ہے جو زمین و آسمان کی پوشیدگیوں کو جانتا ہے۔ یہاں فرمایا بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔ خود آیات واضح صاف اور سلجھے ہوئے الفاظ میں ہیں۔ پھر علماء پر ان کا سمجھنا یاد کرنا پہنچانا سب آسان ہے جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 17) 54۔ القمر :17) یعنی ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے بالکل آسان کردیا ہے پس کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نبی کو ایسی چیز دی گئی جس کے باعث لوگ ان پر ایمان لائے مجھے ایسی چیز وحی اللہ دی گئی ہے جو اللہ نے میری طرف نازل فرمائی ہے تو مجھے ذات اللہ سے امید ہے کہ تمام نبیوں کے تابعداروں سے زیادہ میرے تابعدار ہونگے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ اے نبی ! میں تمہیں آزماؤنگا اور تمہاری وجہ سے لوگوں کی بھی آزمائش کرلونگا۔ میں تم پر ایسی کتاب نازل فرماؤنگا جسے پانی دھو نہ سکے۔ تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے حروف پانی سے دھوئے جائیں لیکن وہ ضائع ہونے سے محفوظ ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے اگر قرآن کسی چمڑے میں ہو تو اسے آگ نہیں جلائے گی۔ اس لئے کہ وہ سینوں میں محفوظ ہے، زبانوں پر آسان ہے اور دلوں میں موجود ہے۔ اور اپنے لفظ اور معنی کے اعتبار سے ایک جیتا جاگتا معجزہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ کتابوں میں اس امت کی ایک صفت یہ بھی مروی ہے کہ اناجیلھم فی صدورھم ان کی کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ امام ابن جریر اسے پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں بلکہ اس کا علم کہ تو اس کتاب سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتا تھا یہ آیات بینات اہل کتاب کے ذی علم لوگوں کے سینوں میں موجود ہیں۔ قتادۃ اور ابن جریج سے بھی یہی منقول ہے اور پہلا قول حسن بصری کا ہے اور یہی بہ روایت عوفی، ابن عباس سے منقول ہے اور یہ ضحاک نے کہا ہے اور یہی زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ہماری آیتوں کا جھٹلانا قبول نہ کرنا یہ حد سے گذرجانے والوں اور ضدی لوگوں کا ہی کام ہے جو حق ناحق کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے اگرچہ ان کے پاس نشانیاں آجائیں۔ یہاں تک کہ وہ المناک عذاب کا مشاہدہ کرلیں۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: كَمَا أَنْزَلْنَا الكُتُب [[في أ: "الكتاب".]] عَلَى مَنْ قَبْلَكَ -يَا مُحَمَّدُ -مِنَ الرُّسُلِ، كَذَلِكَ أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْكِتَابَ.
وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ حَسَنٌ وَمُنَاسَبَةٌ وَارْتِبَاطٌ [[في ف: "ومناسبته وارتباطه".]] جَيِّدٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يُؤْمِنُونَ بِهِ﴾ أَيِ: الَّذِينَ أَخَذُوهُ فتلَوْه حَقَّ تِلَاوَتِهِ مِنْ أَحْبَارِهِمُ الْعُلَمَاءِ الْأَذْكِيَاءِ، كَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، وَسَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، وَأَشْبَاهِهِمَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمِنْ هَؤُلاءِ مَنْ يُؤْمِنُ بِهِ﴾ ، يَعْنِي الْعَرَبَ مِنْ قُرَيْشٍ وَغَيْرِهِمْ، ﴿وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلا الْكَافِرُونَ﴾ ، أَيْ: مَا يُكَذِّبُ بِهَا وَيَجْحَدُ حَقَّهَا إِلَّا مَنْ يَسْتُرُ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ، وَيُغَطِّي ضَوْءَ الشَّمْسِ بِالْوَصَائِلِ، وَهَيْهَاتَ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا كُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَابٍ وَلا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ﴾ ، أَيْ: قَدْ لَبِثْتَ فِي قَوْمِكَ -يَا مُحَمَّدُ -وَمِنْ قَبْلِ أَنْ تَأْتِيَ بِهَذَا الْقُرْآنِ عُمرا لَا تَقْرَأُ كِتَابًا وَلَا تُحْسِنُ الْكِتَابَةَ، بَلْ كُلُّ أَحَدٍ مِنْ قَوْمِكَ وَغَيْرِهِمْ يَعْرِفُ أَنَّكَ رَجُلٌ أُمِّيٌّ لَا تَقْرَأُ وَلَا تَكْتُبُ [[في ف: "لا يقرأ ولا يكتب".]] . وَهَكَذَا صِفَتُهُ فِي الْكُتُبِ الْمُتَقَدِّمَةِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الأمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالإنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ﴾ الْآيَةَ [الْأَعْرَافِ: ١٥٧] . وَهَكَذَا كَانَ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ [دَائِمًا أَبَدًا] [[زيادة من ف، وفي أ: "دائما".]] إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ [[في ف، أ: "الدين".]] ، لَا يُحْسِنُ الْكِتَابَةَ وَلَا يَخُطُّ سَطْرًا وَلَا حَرْفًا بِيَدِهِ، بَلْ كَانَ لَهُ كُتَّابٌ يَكْتُبُونَ بَيْنَ يَدَيْهِ الْوَحْيَ وَالرَّسَائِلَ إِلَى الْأَقَالِيمِ. وَمَنْ زَعَمَ مِنْ مُتَأَخَّرِي الْفُقَهَاءِ، كَالْقَاضِي أَبِي الْوَلِيدِ الْبَاجِيِّ وَمَنْ تَابَعَهُ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ [[في ف، أ: "صلى الله عليه وسلم".]] ، كَتَبَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ: "هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ" فَإِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ رِوَايَةٌ فِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ: "ثُمَّ أَخَذَ فَكَتَبَ": وَهَذِهِ مَحْمُولَةٌ عَلَى الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى: "ثُمَّ أَمَرَ فَكَتَبَ". وَلِهَذَا اشْتَدَّ النَّكِيرُ بَيْنَ فُقَهَاءِ الْمَغْرِبِ وَالْمَشْرِقِ على من قال بقول الباجي، وتبرؤوا مِنْهُ، وَأَنْشَدُوا فِي ذَلِكَ أَقْوَالًا وَخَطَبُوا بِهِ فِي مَحَافِلِهِمْ: وَإِنَّمَا أَرَادَ الرَّجُلُ -أَعْنِي الْبَاجِيَّ، فِيمَا يَظْهَرُ عَنْهُ -أَنَّهُ كَتَبَ ذَلِكَ عَلَى وَجْهِ الْمُعْجِزَةِ، لَا أَنَّهُ كَانَ يُحْسِنُ الْكِتَابَةَ، كَمَا قَالَ، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ [[في ف، أ: "صلى الله عليه وسلم".]] إِخْبَارًا عَنِ الدَّجَّالِ: "مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ" وَفِي رِوَايَةٍ: "ك ف ر، يَقْرَؤُهَا كُلُّ مُؤْمِنٍ" [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٧١٣١) من حديث أنس رضي الله عنه.]] ، وَمَا أَوْرَدَهُ بَعْضُهُمْ مِنَ الْحَدِيثِ أَنَّهُ لَمْ يَمُتْ، عَلَيْهِ السَّلَامُ [[في أ: "صلى الله عليه وسلم".]] حَتَّى تَعَلَّمَ الْكِتَابَةَ، فَضَعِيفٌ لَا أَصْلَ لَهُ؛ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَمَا كُنْتَ تَتْلُو﴾ أَيْ: تَقْرَأُ ﴿مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَابٍ﴾ لِتَأْكِيدِ النَّفْيِ، ﴿وَلا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ﴾ تَأْكِيدٌ أَيْضًا، وَخَرَجَ مَخْرَجَ الْغَالِبِ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ﴾ [الْأَنْعَامِ: ٣٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِذًا لارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ﴾ أَيْ: لَوْ كُنْتَ تُحْسِنُهَا [[في ت: "تحسن الكتابة".]] لَارْتَابَ بَعْضُ الْجَهَلَةِ مِنَ النَّاسِ فَيَقُولُ: إِنَّمَا تَعَلَّمَ هَذَا مِنْ كُتب قَبْلَهُ مَأْثُورَةٍ عَنِ الْأَنْبِيَاءِ، مَعَ أَنَّهُمْ قَالُوا ذَلِكَ مَعَ عِلْمِهِمْ بِأَنَّهُ أُمِّيٌّ لَا يُحْسِنُ الْكِتَابَةَ: ﴿وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الأوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلا﴾ [الْفُرْقَانِ: ٥] ،قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿قُلْ أَنزلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ [الْفُرْقَانِ: ٦] ، وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ﴾ أَيْ: [هَذَا] [[زيادة من ت، ف، أ.]] الْقُرْآنُ آيَاتٌ بَيِّنَةٌ وَاضِحَةٌ فِي الدَّلَالَةِ عَلَى الْحَقِّ، أَمْرًا وَنَهْيًا وَخَبَرًا، يَحْفَظُهُ الْعُلَمَاءُ، يَسَّره اللَّهُ عَلَيْهِمْ حِفْظًا وَتِلَاوَةً وَتَفْسِيرًا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾ [الْقَمَرِ: ١٧] ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ مَا آمَنَ عَلَى مِثْلِهِ الْبَشَرُ وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إليَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا" [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٧٢٧٤) من حديث أبي هريرة رضي الله عنه، وسيأتي إن شاء الله.]] .
وَفِي حَدِيثِ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ [[في أ: "حماد".]] ، فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ: "يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنِّي مُبْتَلِيكَ وَمُبْتَلٍ بِكَ، وَمُنْزِلٌ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ، تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ" [[صحيح مسلم برقم (٢٨٦٥) .]] . أَيْ: لَوْ غَسَلَ الْمَاءُ المحلَّ الْمَكْتُوبَ فِيهِ لَمَا احْتِيجَ إِلَى ذَلِكَ الْمَحَلِّ، كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الْآخَرِ: "لَوْ كَانَ الْقُرْآنُ فِي إِهَابٍ، مَا أَحْرَقَتْهُ النَّارُ" [[رواه أحمد في مسنده (٤/١٥١) من حديث عقبة بن عامر. وتقدم الكلام عليه في فضائل القرآن.]] ، لِأَنَّهُ مَحْفُوظٌ فِي الصُّدُورِ، مُيَسَّرٌ [[في ت: "وميسر".]] عَلَى الْأَلْسِنَةِ، مُهَيْمِنٌ عَلَى الْقُلُوبِ، مُعْجِزٌ لَفْظًا وَمَعْنَى؛ وَلِهَذَا جَاءَ فِي الْكُتُبِ الْمُتَقَدِّمَةِ، فِي صِفَةِ هَذِهِ الْأُمَّةِ: "أَنَاجِيلُهُمْ فِي صدورهم".
وَاخْتَارَ ابْنُ جَرِيرٍ أَنَّ الْمَعْنَى فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ﴾ ، بَلِ الْعِلْمُ بِأَنَّكَ مَا كُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِ هَذَا الْكِتَابِ كِتَابًا وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ، آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعَلَمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ [[تفسير الطبري (٢١/٥) .]] . وَنَقَلَهُ عَنْ قَتَادَةَ، وَابْنِ جُرَيْجٍ. وَحَكَى الْأَوَّلَ عَنِ الْحَسَنِ [الْبَصْرِيِّ] [[زيادة من ف، أ.]] فَقَطْ.
قُلْتُ: وَهُوَ الَّذِي رَوَاهُ الْعَوْفِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَقَالَهُ الضَّحَّاكُ، وَهُوَ الْأَظْهَرُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلا الظَّالِمُونَ﴾ أَيْ: مَا يُكَذِّبُ بِهَا وَيَبْخَسُ حَقَّهَا وَيَرُدُّهَا إِلَّا الظَّالِمُونَ، أَيِ: الْمُعْتَدُونَ الْمُكَابِرُونَ، الَّذِينَ يَعْلَمُونَ الْحَقَّ وَيَحِيدُونَ عَنْهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ. وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الألِيمَ﴾ [يُونُسَ: ٩٦، ٩٧] .
وَمَا كُنتَ تَتْلُوا۟ مِن قَبْلِهِۦ مِن كِتَٰبٍۢ وَلَا تَخُطُّهُۥ بِيَمِينِكَ ۖ إِذًۭا لَّٱرْتَابَ ٱلْمُبْطِلُونَ
And you did not recite before it any scripture, nor did you inscribe one with your right hand. Otherwise the falsifiers would have had [cause for] doubt.
اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اُسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہلِ باطل ضرور شک کرتے
تو هرگز پیش از این کتابی نمیخواندی، و با دست خود چیزی نمینوشتی، مبادا کسانی که در صدد (تکذیب و) ابطال سخنان تو هستند، شک و تردید کنند!
Tafsir Ibn Kathir
And thus We have sent down the Book to you, and those whom We gave the Scripture believe therein as also do some of these and none but the disbelievers reject Our Ayat (47)Neither did you read any book before it nor did you write any book with your right hand. In that case, indeed, the followers of falsehood might have doubted (48)Nay, but it is clear Ayat, (preserved) in the breasts of those who have been given knowledge. And none but the wrongdoers deny Our Ayat (49)
Evidence for the Fact that the Qur'an was revealed from Allah
Ibn Jarir said: "Allah says, 'just as We revealed the Books to the Messengers who came before you, O Muhammad, so We have also revealed this Book to you.'" What he said is good and fits the context. Allah's saying:
فَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ
(and those whom We gave the Scripture believe therein) means, those knowledgable rabbis and scholars among them who learned it and recited it properly, such as 'Abdullah bin Salam, Salman Al-Farisi and others like them.
وَمِنْ هَٰؤُلَاءِ مَنْ يُؤْمِنُ بِهِ ۚ
(as also believe therein some of these) meaning, the Quraysh Arabs and others.
وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا الْكَافِرُونَ
(and none but the disbelievers reject Our Ayat.) No one disbelieves and rejects them except those who conceal the truth with falsehood, and those who try to hide the rays and light of the sun by their covering an eye. Then Allah says:
وَمَا كُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ ۖ
(Neither did you read any book before it (this Qur'an) nor did you write any book with your right hand.) meaning, 'you lived among your people for a long time before you brought this Qur'an. During this time you never read any book or wrote anything. Your people, as well as others all know that you are an unlettered man who does not read or write.' This is how he was also described in the previous Scriptures, as Allah says:
الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ
(Those who follow the Messenger, the Prophet, the unlettered about whom they find written with them in the Tawrah and the Injil, – he commands them with good; and forbids them from evil.)(7:157) This is how the Messenger of Allah ﷺ will remain until the Day of Resurrection, unable to write even one line or one letter. He used to have scribes who would write down the revelation for him, or would write letters from him to be sent to different places. Allah's saying:
إِذًا لَارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ
(In that case, indeed, the followers of falsehood might have doubted.) means, 'if you had been literate, some ignorant people would have doubted you. They would have said that you learned this from Books inherited from the Prophets which came before.' Indeed, they did say that, even though they knew that he was unlettered and could not read or write.
وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَىٰ عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا
(And they say: "Tales of the ancients, which he has written down, and they are dictated to him morning and afternoon.")(25:5) Allah says:
قُلْ أَنْزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ
(Say: "It has been sent down by Him Who knows the secret of the heavens and the earth)(25:6). And Allah says here:
بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ ۚ
(Nay, but it is (Quran), the clear Ayat, (preserved) in the breasts of those who have been given knowledge.) meaning, this Qur'an is clear Ayat which indicate the truth, commands, prohibitions and stories. It is memorized by the scholars for whom Allah makes it easy to memorize, recite and interpret. This is like the Ayah,
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ
(And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any one who will remember)(54:17). The Messenger of Allah ﷺ said:
مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ مَا آمَنَ عَلَى مِثْلِهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا
(There has never been any Prophet who was not given that which would make people believe in him. What I have been given is revelation which Allah reveals to me, and I hope that I will have the most followers among them.) According to the Hadith of 'Iyad bin Himar, recorded in Sahih Muslim, Allah says:
إِنِّي مُبْتَلِيكَ وَمُبْتَلٍ بِكَ، وَمُنْزِلٌ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ، تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانًا
("I am testing you and testing others through you, revealing to you a Book which cannot be washed away by water, which you recite while you are asleep and while you are awake.") This means, if the manuscript where it is written were to be washed with water, there is no need for that manuscript. This is because it is preserved in the hearts and is easy on the tongue (i.e., is easy to recite), and is controlling people's hearts and minds. It is miraculous in its wording and in its meanings. In the previous Scriptures this Ummah was described as carrying their holy Books in their hearts.
وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا الظَّالِمُونَ
(And none but the wrongdoers deny Our Ayat) Nobody denies it or tries to undermine its status or rejects it except the wrongdoers, i.e., the arrogant transgressors who know the truth but turn away from it, as Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ
(Truly, those, against whom the Word (wrath) of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them, until they see the painful torment.)(10:96-97)
Tafsir Ibn Kathir
حق تلاوت فرمان ہے کہ جیسے ہم نے اگلے انبیاء پر اپنی کتابیں نازل فرمائی تھیں اسی طرح یہ کتاب یعنی قرآن شریف ہم نے اے ہمارے آخری رسول ﷺ تم پر نازل فرمایا ہے۔ پس اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ہماری کتاب کی قدر کی اور اس کی تلاوت کا حق ادا کیا وہ جہاں اپنی کتابوں پر ایمان لائے اس پاک کتاب کو بھی مانتے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ، اور جیسے حضرت سلمان فارسی ؓ وغیرہ۔ اور ان لوگوں یعنی قریش وغیرہ میں سے بھی بعض لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں ہاں جو لوگ باطل سے حق کو چھپانے والے اور سورج کی روشنی سے آنکھیں بند کرنے والے ہیں وہ تو اسکے بھی منکر ہیں۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ تم ان میں مدت العمرتک رہ چکے ہو اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ ان میں گزار چکے ہو انہیں خوب معلوم ہے کہ آپ پڑھے لکھے نہیں، ساری قوم اور سارا ملک بخوبی علم رکھتا ہے کہ آپ محض امی ہیں نہ لکھناجانتے ہیں نہ پڑھنا۔ پھر آج جو آپ کو انوکھی فصیح وبلیغ اور پر از حکمت کتاب پڑھتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ آپ اس حالت میں ایک حرف پڑھے ہوئے نہیں خود تصنیف و تالیف کر نہیں سکتے حضور ﷺ کی یہ صفت اگلی کتابوں میں تھی جیسے قرآن ناقل ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ01507) 7۔ الاعراف :157) یعنی جو لوگ پیروی کرتے ہیں اس رسول و نبی امی کی جس کی صفات وہ اپنی کتاب توراۃ اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہیں جو انہیں نیکیوں کا حکم کرتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے۔ لطف یہ ہے کہ اللہ کے معصوم نبی ﷺ ہمشہ لکھنے سے دور ہی رکھے گئے۔ ایک سطر کے معنی، ایک حرف بھی لکھنا آپ کو نہ آتا تھا۔ آپ نے کاتب مقرر کرلئے تھے جو وحی اللہ کو لکھ لیتے تھے اور ضروت کے وقت شاہان دنیا سے خط و کتابت بھی وہی کرتے تھے پچھلے فقہاء میں قاضی ابو الولید باجی وغیرہ نے کہا کہ حدیبیہ والے دن خود رسول کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے یہ جملہ صلح نامے میں لکھا تھا کہ ھذا ماقاضی علیہ محمدا بن عبداللہ یعنی یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمد بن عبداللہ ﷺ نے فیصلہ کیا۔ لیکن یہ قول درست نہیں یہ وہم قاضی صاحب کو بخاری شریف کی اس روایت سے ہوا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ ثم اخذ فکتب یعنی پھر حضور ﷺ نے آپ لیکر لکھا۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے لکھنے کا حکم دیا۔ جیسے دوسری روایت میں صاف موجود ہے کہ ثم امر فکتب یعنی آپ نے پھر حکم دیا اور لکھا گیا۔ مشرق ومغرب کے تمام علماء کا یہی مذہب ہے بلکہ باجی وغیرہ پر انہوں نے اس قول کا بہت سخت رد کیا ہے اور اس سے بیزاری ظاہر کی ہے۔ اور اس قول کی تردید اپنے اشعار اور خطبوں میں بھی کی ہے۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ قاضی صاحب وغیرہ کا یہ خیال ہرگز نہیں کہ آپ اچھی طرح لکھنا جانتے تھے بلکہ وہ یہ کہتے تھے کہ آپ کا یہ جملہ صلح نامے پر لکھا جانا معجزہ تھا۔ جیسا کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا اور ایک روایت میں ہے کہ کر لکھا ہوا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا اگرچہ ان پڑھ ہو تب بھی اسے پڑھ لے گا۔ یہ مومن کی ایک کرامت ہوگی اسی طرح یہ فقرہ لکھ لینا اللہ کے نبی ﷺ کا ایک معجزہ تھا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ لکھنا جانتے تھے۔ یا آپ نے سیکھا تھا۔ بعض لوگ ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں ہے کہ آنحضور ﷺ کا انتقال نہ ہوا جب تک کہ آپ نے لکھنا نہ سیکھ لیا۔ یہ روایت بالکل ضعیف ہے بلکہ محض بےاصل ہے قرآن کریم کی اس آیت کو دیکھئے کس قدر تاکید کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے پڑھا ہونے کا انکار کرتی ہے اور کتنی سختی کے ساتھ پرزور الفاظ میں اس کا بھی انکار کرتی ہے کہ آپ لکھناجانتے ہوں۔ یہ جو فرمایا کہ داہنے ہاتھ سے یہ باعتبار غالب کے کہہ دیا ہے ورنہ لکھا تو دائیں ہاتھ سے ہی جاتا ہے اسی کی طرح آیت (وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ 38) 6۔ الانعام :38) میں ہے کیونکہ ہر پرند اپنے پروں سے ہی اڑتا ہے۔ پس حضور ﷺ کا ان پڑھ ہونا بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو یہ باطل پرست آپ کی نسبت شکر کرنے کی گنجائش پاتے کہ سابقہ انبیاء کی کتابوں سے پڑھ لکھ کر نقل کرلیتا ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں۔ تعجب ہے کہ باوجود ایسانہ ہونے کے پھر بھی یہ لوگ ہمارے رسول ﷺ پر یہ الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ گزرے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنہیں اس نے لکھ لیا ہے۔ وہی اس کے سامنے صبح شام پڑھی جاتی ہیں۔ باوجودیکہ خود جانتے ہیں کہ ہمارے رسول ﷺ پڑھے لکھے نہیں۔ ان کے اس قول کے جواب میں جناب باری عز اسمہ نے فرمایا انہیں جواب دو کہ اسے اس اللہ نے نازل فرمایا ہے جو زمین و آسمان کی پوشیدگیوں کو جانتا ہے۔ یہاں فرمایا بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔ خود آیات واضح صاف اور سلجھے ہوئے الفاظ میں ہیں۔ پھر علماء پر ان کا سمجھنا یاد کرنا پہنچانا سب آسان ہے جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 17) 54۔ القمر :17) یعنی ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے بالکل آسان کردیا ہے پس کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نبی کو ایسی چیز دی گئی جس کے باعث لوگ ان پر ایمان لائے مجھے ایسی چیز وحی اللہ دی گئی ہے جو اللہ نے میری طرف نازل فرمائی ہے تو مجھے ذات اللہ سے امید ہے کہ تمام نبیوں کے تابعداروں سے زیادہ میرے تابعدار ہونگے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ اے نبی ! میں تمہیں آزماؤنگا اور تمہاری وجہ سے لوگوں کی بھی آزمائش کرلونگا۔ میں تم پر ایسی کتاب نازل فرماؤنگا جسے پانی دھو نہ سکے۔ تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے حروف پانی سے دھوئے جائیں لیکن وہ ضائع ہونے سے محفوظ ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے اگر قرآن کسی چمڑے میں ہو تو اسے آگ نہیں جلائے گی۔ اس لئے کہ وہ سینوں میں محفوظ ہے، زبانوں پر آسان ہے اور دلوں میں موجود ہے۔ اور اپنے لفظ اور معنی کے اعتبار سے ایک جیتا جاگتا معجزہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ کتابوں میں اس امت کی ایک صفت یہ بھی مروی ہے کہ اناجیلھم فی صدورھم ان کی کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ امام ابن جریر اسے پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں بلکہ اس کا علم کہ تو اس کتاب سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتا تھا یہ آیات بینات اہل کتاب کے ذی علم لوگوں کے سینوں میں موجود ہیں۔ قتادۃ اور ابن جریج سے بھی یہی منقول ہے اور پہلا قول حسن بصری کا ہے اور یہی بہ روایت عوفی، ابن عباس سے منقول ہے اور یہ ضحاک نے کہا ہے اور یہی زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ہماری آیتوں کا جھٹلانا قبول نہ کرنا یہ حد سے گذرجانے والوں اور ضدی لوگوں کا ہی کام ہے جو حق ناحق کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے اگرچہ ان کے پاس نشانیاں آجائیں۔ یہاں تک کہ وہ المناک عذاب کا مشاہدہ کرلیں۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: كَمَا أَنْزَلْنَا الكُتُب [[في أ: "الكتاب".]] عَلَى مَنْ قَبْلَكَ -يَا مُحَمَّدُ -مِنَ الرُّسُلِ، كَذَلِكَ أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْكِتَابَ.
وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ حَسَنٌ وَمُنَاسَبَةٌ وَارْتِبَاطٌ [[في ف: "ومناسبته وارتباطه".]] جَيِّدٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يُؤْمِنُونَ بِهِ﴾ أَيِ: الَّذِينَ أَخَذُوهُ فتلَوْه حَقَّ تِلَاوَتِهِ مِنْ أَحْبَارِهِمُ الْعُلَمَاءِ الْأَذْكِيَاءِ، كَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، وَسَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، وَأَشْبَاهِهِمَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمِنْ هَؤُلاءِ مَنْ يُؤْمِنُ بِهِ﴾ ، يَعْنِي الْعَرَبَ مِنْ قُرَيْشٍ وَغَيْرِهِمْ، ﴿وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلا الْكَافِرُونَ﴾ ، أَيْ: مَا يُكَذِّبُ بِهَا وَيَجْحَدُ حَقَّهَا إِلَّا مَنْ يَسْتُرُ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ، وَيُغَطِّي ضَوْءَ الشَّمْسِ بِالْوَصَائِلِ، وَهَيْهَاتَ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا كُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَابٍ وَلا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ﴾ ، أَيْ: قَدْ لَبِثْتَ فِي قَوْمِكَ -يَا مُحَمَّدُ -وَمِنْ قَبْلِ أَنْ تَأْتِيَ بِهَذَا الْقُرْآنِ عُمرا لَا تَقْرَأُ كِتَابًا وَلَا تُحْسِنُ الْكِتَابَةَ، بَلْ كُلُّ أَحَدٍ مِنْ قَوْمِكَ وَغَيْرِهِمْ يَعْرِفُ أَنَّكَ رَجُلٌ أُمِّيٌّ لَا تَقْرَأُ وَلَا تَكْتُبُ [[في ف: "لا يقرأ ولا يكتب".]] . وَهَكَذَا صِفَتُهُ فِي الْكُتُبِ الْمُتَقَدِّمَةِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الأمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالإنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ﴾ الْآيَةَ [الْأَعْرَافِ: ١٥٧] . وَهَكَذَا كَانَ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ [دَائِمًا أَبَدًا] [[زيادة من ف، وفي أ: "دائما".]] إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ [[في ف، أ: "الدين".]] ، لَا يُحْسِنُ الْكِتَابَةَ وَلَا يَخُطُّ سَطْرًا وَلَا حَرْفًا بِيَدِهِ، بَلْ كَانَ لَهُ كُتَّابٌ يَكْتُبُونَ بَيْنَ يَدَيْهِ الْوَحْيَ وَالرَّسَائِلَ إِلَى الْأَقَالِيمِ. وَمَنْ زَعَمَ مِنْ مُتَأَخَّرِي الْفُقَهَاءِ، كَالْقَاضِي أَبِي الْوَلِيدِ الْبَاجِيِّ وَمَنْ تَابَعَهُ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ [[في ف، أ: "صلى الله عليه وسلم".]] ، كَتَبَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ: "هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ" فَإِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ رِوَايَةٌ فِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ: "ثُمَّ أَخَذَ فَكَتَبَ": وَهَذِهِ مَحْمُولَةٌ عَلَى الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى: "ثُمَّ أَمَرَ فَكَتَبَ". وَلِهَذَا اشْتَدَّ النَّكِيرُ بَيْنَ فُقَهَاءِ الْمَغْرِبِ وَالْمَشْرِقِ على من قال بقول الباجي، وتبرؤوا مِنْهُ، وَأَنْشَدُوا فِي ذَلِكَ أَقْوَالًا وَخَطَبُوا بِهِ فِي مَحَافِلِهِمْ: وَإِنَّمَا أَرَادَ الرَّجُلُ -أَعْنِي الْبَاجِيَّ، فِيمَا يَظْهَرُ عَنْهُ -أَنَّهُ كَتَبَ ذَلِكَ عَلَى وَجْهِ الْمُعْجِزَةِ، لَا أَنَّهُ كَانَ يُحْسِنُ الْكِتَابَةَ، كَمَا قَالَ، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ [[في ف، أ: "صلى الله عليه وسلم".]] إِخْبَارًا عَنِ الدَّجَّالِ: "مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ" وَفِي رِوَايَةٍ: "ك ف ر، يَقْرَؤُهَا كُلُّ مُؤْمِنٍ" [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٧١٣١) من حديث أنس رضي الله عنه.]] ، وَمَا أَوْرَدَهُ بَعْضُهُمْ مِنَ الْحَدِيثِ أَنَّهُ لَمْ يَمُتْ، عَلَيْهِ السَّلَامُ [[في أ: "صلى الله عليه وسلم".]] حَتَّى تَعَلَّمَ الْكِتَابَةَ، فَضَعِيفٌ لَا أَصْلَ لَهُ؛ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَمَا كُنْتَ تَتْلُو﴾ أَيْ: تَقْرَأُ ﴿مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَابٍ﴾ لِتَأْكِيدِ النَّفْيِ، ﴿وَلا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ﴾ تَأْكِيدٌ أَيْضًا، وَخَرَجَ مَخْرَجَ الْغَالِبِ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ﴾ [الْأَنْعَامِ: ٣٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِذًا لارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ﴾ أَيْ: لَوْ كُنْتَ تُحْسِنُهَا [[في ت: "تحسن الكتابة".]] لَارْتَابَ بَعْضُ الْجَهَلَةِ مِنَ النَّاسِ فَيَقُولُ: إِنَّمَا تَعَلَّمَ هَذَا مِنْ كُتب قَبْلَهُ مَأْثُورَةٍ عَنِ الْأَنْبِيَاءِ، مَعَ أَنَّهُمْ قَالُوا ذَلِكَ مَعَ عِلْمِهِمْ بِأَنَّهُ أُمِّيٌّ لَا يُحْسِنُ الْكِتَابَةَ: ﴿وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الأوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلا﴾ [الْفُرْقَانِ: ٥] ،قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿قُلْ أَنزلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ [الْفُرْقَانِ: ٦] ، وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ﴾ أَيْ: [هَذَا] [[زيادة من ت، ف، أ.]] الْقُرْآنُ آيَاتٌ بَيِّنَةٌ وَاضِحَةٌ فِي الدَّلَالَةِ عَلَى الْحَقِّ، أَمْرًا وَنَهْيًا وَخَبَرًا، يَحْفَظُهُ الْعُلَمَاءُ، يَسَّره اللَّهُ عَلَيْهِمْ حِفْظًا وَتِلَاوَةً وَتَفْسِيرًا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾ [الْقَمَرِ: ١٧] ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ مَا آمَنَ عَلَى مِثْلِهِ الْبَشَرُ وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إليَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا" [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٧٢٧٤) من حديث أبي هريرة رضي الله عنه، وسيأتي إن شاء الله.]] .
وَفِي حَدِيثِ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ [[في أ: "حماد".]] ، فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ: "يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنِّي مُبْتَلِيكَ وَمُبْتَلٍ بِكَ، وَمُنْزِلٌ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ، تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ" [[صحيح مسلم برقم (٢٨٦٥) .]] . أَيْ: لَوْ غَسَلَ الْمَاءُ المحلَّ الْمَكْتُوبَ فِيهِ لَمَا احْتِيجَ إِلَى ذَلِكَ الْمَحَلِّ، كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الْآخَرِ: "لَوْ كَانَ الْقُرْآنُ فِي إِهَابٍ، مَا أَحْرَقَتْهُ النَّارُ" [[رواه أحمد في مسنده (٤/١٥١) من حديث عقبة بن عامر. وتقدم الكلام عليه في فضائل القرآن.]] ، لِأَنَّهُ مَحْفُوظٌ فِي الصُّدُورِ، مُيَسَّرٌ [[في ت: "وميسر".]] عَلَى الْأَلْسِنَةِ، مُهَيْمِنٌ عَلَى الْقُلُوبِ، مُعْجِزٌ لَفْظًا وَمَعْنَى؛ وَلِهَذَا جَاءَ فِي الْكُتُبِ الْمُتَقَدِّمَةِ، فِي صِفَةِ هَذِهِ الْأُمَّةِ: "أَنَاجِيلُهُمْ فِي صدورهم".
وَاخْتَارَ ابْنُ جَرِيرٍ أَنَّ الْمَعْنَى فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ﴾ ، بَلِ الْعِلْمُ بِأَنَّكَ مَا كُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِ هَذَا الْكِتَابِ كِتَابًا وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ، آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعَلَمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ [[تفسير الطبري (٢١/٥) .]] . وَنَقَلَهُ عَنْ قَتَادَةَ، وَابْنِ جُرَيْجٍ. وَحَكَى الْأَوَّلَ عَنِ الْحَسَنِ [الْبَصْرِيِّ] [[زيادة من ف، أ.]] فَقَطْ.
قُلْتُ: وَهُوَ الَّذِي رَوَاهُ الْعَوْفِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَقَالَهُ الضَّحَّاكُ، وَهُوَ الْأَظْهَرُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلا الظَّالِمُونَ﴾ أَيْ: مَا يُكَذِّبُ بِهَا وَيَبْخَسُ حَقَّهَا وَيَرُدُّهَا إِلَّا الظَّالِمُونَ، أَيِ: الْمُعْتَدُونَ الْمُكَابِرُونَ، الَّذِينَ يَعْلَمُونَ الْحَقَّ وَيَحِيدُونَ عَنْهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ. وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الألِيمَ﴾ [يُونُسَ: ٩٦، ٩٧] .
بَلْ هُوَ ءَايَٰتٌۢ بَيِّنَٰتٌۭ فِى صُدُورِ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا ٱلظَّٰلِمُونَ
Rather, the Qur'an is distinct verses [preserved] within the breasts of those who have been given knowledge. And none reject Our verses except the wrongdoers.
بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں۔ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے اُن کے سینوں میں (محفوظ) اور ہماری آیتوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بےانصاف ہیں
ولی این آیات روشنی است که در سینه دانشوران جای دارد؛ و آیات ما را جز ستمگران انکار نمیکنند!
Tafsir Ibn Kathir
And thus We have sent down the Book to you, and those whom We gave the Scripture believe therein as also do some of these and none but the disbelievers reject Our Ayat (47)Neither did you read any book before it nor did you write any book with your right hand. In that case, indeed, the followers of falsehood might have doubted (48)Nay, but it is clear Ayat, (preserved) in the breasts of those who have been given knowledge. And none but the wrongdoers deny Our Ayat (49)
Evidence for the Fact that the Qur'an was revealed from Allah
Ibn Jarir said: "Allah says, 'just as We revealed the Books to the Messengers who came before you, O Muhammad, so We have also revealed this Book to you.'" What he said is good and fits the context. Allah's saying:
فَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ
(and those whom We gave the Scripture believe therein) means, those knowledgable rabbis and scholars among them who learned it and recited it properly, such as 'Abdullah bin Salam, Salman Al-Farisi and others like them.
وَمِنْ هَٰؤُلَاءِ مَنْ يُؤْمِنُ بِهِ ۚ
(as also believe therein some of these) meaning, the Quraysh Arabs and others.
وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا الْكَافِرُونَ
(and none but the disbelievers reject Our Ayat.) No one disbelieves and rejects them except those who conceal the truth with falsehood, and those who try to hide the rays and light of the sun by their covering an eye. Then Allah says:
وَمَا كُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ ۖ
(Neither did you read any book before it (this Qur'an) nor did you write any book with your right hand.) meaning, 'you lived among your people for a long time before you brought this Qur'an. During this time you never read any book or wrote anything. Your people, as well as others all know that you are an unlettered man who does not read or write.' This is how he was also described in the previous Scriptures, as Allah says:
الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ
(Those who follow the Messenger, the Prophet, the unlettered about whom they find written with them in the Tawrah and the Injil, – he commands them with good; and forbids them from evil.)(7:157) This is how the Messenger of Allah ﷺ will remain until the Day of Resurrection, unable to write even one line or one letter. He used to have scribes who would write down the revelation for him, or would write letters from him to be sent to different places. Allah's saying:
إِذًا لَارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ
(In that case, indeed, the followers of falsehood might have doubted.) means, 'if you had been literate, some ignorant people would have doubted you. They would have said that you learned this from Books inherited from the Prophets which came before.' Indeed, they did say that, even though they knew that he was unlettered and could not read or write.
وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَىٰ عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا
(And they say: "Tales of the ancients, which he has written down, and they are dictated to him morning and afternoon.")(25:5) Allah says:
قُلْ أَنْزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ
(Say: "It has been sent down by Him Who knows the secret of the heavens and the earth)(25:6). And Allah says here:
بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ ۚ
(Nay, but it is (Quran), the clear Ayat, (preserved) in the breasts of those who have been given knowledge.) meaning, this Qur'an is clear Ayat which indicate the truth, commands, prohibitions and stories. It is memorized by the scholars for whom Allah makes it easy to memorize, recite and interpret. This is like the Ayah,
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ
(And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any one who will remember)(54:17). The Messenger of Allah ﷺ said:
مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ مَا آمَنَ عَلَى مِثْلِهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا
(There has never been any Prophet who was not given that which would make people believe in him. What I have been given is revelation which Allah reveals to me, and I hope that I will have the most followers among them.) According to the Hadith of 'Iyad bin Himar, recorded in Sahih Muslim, Allah says:
إِنِّي مُبْتَلِيكَ وَمُبْتَلٍ بِكَ، وَمُنْزِلٌ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ، تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانًا
("I am testing you and testing others through you, revealing to you a Book which cannot be washed away by water, which you recite while you are asleep and while you are awake.") This means, if the manuscript where it is written were to be washed with water, there is no need for that manuscript. This is because it is preserved in the hearts and is easy on the tongue (i.e., is easy to recite), and is controlling people's hearts and minds. It is miraculous in its wording and in its meanings. In the previous Scriptures this Ummah was described as carrying their holy Books in their hearts.
وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا الظَّالِمُونَ
(And none but the wrongdoers deny Our Ayat) Nobody denies it or tries to undermine its status or rejects it except the wrongdoers, i.e., the arrogant transgressors who know the truth but turn away from it, as Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ
(Truly, those, against whom the Word (wrath) of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them, until they see the painful torment.)(10:96-97)
Tafsir Ibn Kathir
حق تلاوت فرمان ہے کہ جیسے ہم نے اگلے انبیاء پر اپنی کتابیں نازل فرمائی تھیں اسی طرح یہ کتاب یعنی قرآن شریف ہم نے اے ہمارے آخری رسول ﷺ تم پر نازل فرمایا ہے۔ پس اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ہماری کتاب کی قدر کی اور اس کی تلاوت کا حق ادا کیا وہ جہاں اپنی کتابوں پر ایمان لائے اس پاک کتاب کو بھی مانتے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ، اور جیسے حضرت سلمان فارسی ؓ وغیرہ۔ اور ان لوگوں یعنی قریش وغیرہ میں سے بھی بعض لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں ہاں جو لوگ باطل سے حق کو چھپانے والے اور سورج کی روشنی سے آنکھیں بند کرنے والے ہیں وہ تو اسکے بھی منکر ہیں۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ تم ان میں مدت العمرتک رہ چکے ہو اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ ان میں گزار چکے ہو انہیں خوب معلوم ہے کہ آپ پڑھے لکھے نہیں، ساری قوم اور سارا ملک بخوبی علم رکھتا ہے کہ آپ محض امی ہیں نہ لکھناجانتے ہیں نہ پڑھنا۔ پھر آج جو آپ کو انوکھی فصیح وبلیغ اور پر از حکمت کتاب پڑھتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ آپ اس حالت میں ایک حرف پڑھے ہوئے نہیں خود تصنیف و تالیف کر نہیں سکتے حضور ﷺ کی یہ صفت اگلی کتابوں میں تھی جیسے قرآن ناقل ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ01507) 7۔ الاعراف :157) یعنی جو لوگ پیروی کرتے ہیں اس رسول و نبی امی کی جس کی صفات وہ اپنی کتاب توراۃ اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہیں جو انہیں نیکیوں کا حکم کرتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے۔ لطف یہ ہے کہ اللہ کے معصوم نبی ﷺ ہمشہ لکھنے سے دور ہی رکھے گئے۔ ایک سطر کے معنی، ایک حرف بھی لکھنا آپ کو نہ آتا تھا۔ آپ نے کاتب مقرر کرلئے تھے جو وحی اللہ کو لکھ لیتے تھے اور ضروت کے وقت شاہان دنیا سے خط و کتابت بھی وہی کرتے تھے پچھلے فقہاء میں قاضی ابو الولید باجی وغیرہ نے کہا کہ حدیبیہ والے دن خود رسول کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے یہ جملہ صلح نامے میں لکھا تھا کہ ھذا ماقاضی علیہ محمدا بن عبداللہ یعنی یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمد بن عبداللہ ﷺ نے فیصلہ کیا۔ لیکن یہ قول درست نہیں یہ وہم قاضی صاحب کو بخاری شریف کی اس روایت سے ہوا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ ثم اخذ فکتب یعنی پھر حضور ﷺ نے آپ لیکر لکھا۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے لکھنے کا حکم دیا۔ جیسے دوسری روایت میں صاف موجود ہے کہ ثم امر فکتب یعنی آپ نے پھر حکم دیا اور لکھا گیا۔ مشرق ومغرب کے تمام علماء کا یہی مذہب ہے بلکہ باجی وغیرہ پر انہوں نے اس قول کا بہت سخت رد کیا ہے اور اس سے بیزاری ظاہر کی ہے۔ اور اس قول کی تردید اپنے اشعار اور خطبوں میں بھی کی ہے۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ قاضی صاحب وغیرہ کا یہ خیال ہرگز نہیں کہ آپ اچھی طرح لکھنا جانتے تھے بلکہ وہ یہ کہتے تھے کہ آپ کا یہ جملہ صلح نامے پر لکھا جانا معجزہ تھا۔ جیسا کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا اور ایک روایت میں ہے کہ کر لکھا ہوا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا اگرچہ ان پڑھ ہو تب بھی اسے پڑھ لے گا۔ یہ مومن کی ایک کرامت ہوگی اسی طرح یہ فقرہ لکھ لینا اللہ کے نبی ﷺ کا ایک معجزہ تھا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ لکھنا جانتے تھے۔ یا آپ نے سیکھا تھا۔ بعض لوگ ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں ہے کہ آنحضور ﷺ کا انتقال نہ ہوا جب تک کہ آپ نے لکھنا نہ سیکھ لیا۔ یہ روایت بالکل ضعیف ہے بلکہ محض بےاصل ہے قرآن کریم کی اس آیت کو دیکھئے کس قدر تاکید کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے پڑھا ہونے کا انکار کرتی ہے اور کتنی سختی کے ساتھ پرزور الفاظ میں اس کا بھی انکار کرتی ہے کہ آپ لکھناجانتے ہوں۔ یہ جو فرمایا کہ داہنے ہاتھ سے یہ باعتبار غالب کے کہہ دیا ہے ورنہ لکھا تو دائیں ہاتھ سے ہی جاتا ہے اسی کی طرح آیت (وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ 38) 6۔ الانعام :38) میں ہے کیونکہ ہر پرند اپنے پروں سے ہی اڑتا ہے۔ پس حضور ﷺ کا ان پڑھ ہونا بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو یہ باطل پرست آپ کی نسبت شکر کرنے کی گنجائش پاتے کہ سابقہ انبیاء کی کتابوں سے پڑھ لکھ کر نقل کرلیتا ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں۔ تعجب ہے کہ باوجود ایسانہ ہونے کے پھر بھی یہ لوگ ہمارے رسول ﷺ پر یہ الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ گزرے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنہیں اس نے لکھ لیا ہے۔ وہی اس کے سامنے صبح شام پڑھی جاتی ہیں۔ باوجودیکہ خود جانتے ہیں کہ ہمارے رسول ﷺ پڑھے لکھے نہیں۔ ان کے اس قول کے جواب میں جناب باری عز اسمہ نے فرمایا انہیں جواب دو کہ اسے اس اللہ نے نازل فرمایا ہے جو زمین و آسمان کی پوشیدگیوں کو جانتا ہے۔ یہاں فرمایا بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔ خود آیات واضح صاف اور سلجھے ہوئے الفاظ میں ہیں۔ پھر علماء پر ان کا سمجھنا یاد کرنا پہنچانا سب آسان ہے جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 17) 54۔ القمر :17) یعنی ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے بالکل آسان کردیا ہے پس کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نبی کو ایسی چیز دی گئی جس کے باعث لوگ ان پر ایمان لائے مجھے ایسی چیز وحی اللہ دی گئی ہے جو اللہ نے میری طرف نازل فرمائی ہے تو مجھے ذات اللہ سے امید ہے کہ تمام نبیوں کے تابعداروں سے زیادہ میرے تابعدار ہونگے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ اے نبی ! میں تمہیں آزماؤنگا اور تمہاری وجہ سے لوگوں کی بھی آزمائش کرلونگا۔ میں تم پر ایسی کتاب نازل فرماؤنگا جسے پانی دھو نہ سکے۔ تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے حروف پانی سے دھوئے جائیں لیکن وہ ضائع ہونے سے محفوظ ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے اگر قرآن کسی چمڑے میں ہو تو اسے آگ نہیں جلائے گی۔ اس لئے کہ وہ سینوں میں محفوظ ہے، زبانوں پر آسان ہے اور دلوں میں موجود ہے۔ اور اپنے لفظ اور معنی کے اعتبار سے ایک جیتا جاگتا معجزہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ کتابوں میں اس امت کی ایک صفت یہ بھی مروی ہے کہ اناجیلھم فی صدورھم ان کی کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ امام ابن جریر اسے پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں بلکہ اس کا علم کہ تو اس کتاب سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتا تھا یہ آیات بینات اہل کتاب کے ذی علم لوگوں کے سینوں میں موجود ہیں۔ قتادۃ اور ابن جریج سے بھی یہی منقول ہے اور پہلا قول حسن بصری کا ہے اور یہی بہ روایت عوفی، ابن عباس سے منقول ہے اور یہ ضحاک نے کہا ہے اور یہی زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ہماری آیتوں کا جھٹلانا قبول نہ کرنا یہ حد سے گذرجانے والوں اور ضدی لوگوں کا ہی کام ہے جو حق ناحق کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے اگرچہ ان کے پاس نشانیاں آجائیں۔ یہاں تک کہ وہ المناک عذاب کا مشاہدہ کرلیں۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: كَمَا أَنْزَلْنَا الكُتُب [[في أ: "الكتاب".]] عَلَى مَنْ قَبْلَكَ -يَا مُحَمَّدُ -مِنَ الرُّسُلِ، كَذَلِكَ أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْكِتَابَ.
وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ حَسَنٌ وَمُنَاسَبَةٌ وَارْتِبَاطٌ [[في ف: "ومناسبته وارتباطه".]] جَيِّدٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يُؤْمِنُونَ بِهِ﴾ أَيِ: الَّذِينَ أَخَذُوهُ فتلَوْه حَقَّ تِلَاوَتِهِ مِنْ أَحْبَارِهِمُ الْعُلَمَاءِ الْأَذْكِيَاءِ، كَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، وَسَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، وَأَشْبَاهِهِمَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمِنْ هَؤُلاءِ مَنْ يُؤْمِنُ بِهِ﴾ ، يَعْنِي الْعَرَبَ مِنْ قُرَيْشٍ وَغَيْرِهِمْ، ﴿وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلا الْكَافِرُونَ﴾ ، أَيْ: مَا يُكَذِّبُ بِهَا وَيَجْحَدُ حَقَّهَا إِلَّا مَنْ يَسْتُرُ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ، وَيُغَطِّي ضَوْءَ الشَّمْسِ بِالْوَصَائِلِ، وَهَيْهَاتَ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا كُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَابٍ وَلا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ﴾ ، أَيْ: قَدْ لَبِثْتَ فِي قَوْمِكَ -يَا مُحَمَّدُ -وَمِنْ قَبْلِ أَنْ تَأْتِيَ بِهَذَا الْقُرْآنِ عُمرا لَا تَقْرَأُ كِتَابًا وَلَا تُحْسِنُ الْكِتَابَةَ، بَلْ كُلُّ أَحَدٍ مِنْ قَوْمِكَ وَغَيْرِهِمْ يَعْرِفُ أَنَّكَ رَجُلٌ أُمِّيٌّ لَا تَقْرَأُ وَلَا تَكْتُبُ [[في ف: "لا يقرأ ولا يكتب".]] . وَهَكَذَا صِفَتُهُ فِي الْكُتُبِ الْمُتَقَدِّمَةِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الأمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالإنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ﴾ الْآيَةَ [الْأَعْرَافِ: ١٥٧] . وَهَكَذَا كَانَ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ [دَائِمًا أَبَدًا] [[زيادة من ف، وفي أ: "دائما".]] إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ [[في ف، أ: "الدين".]] ، لَا يُحْسِنُ الْكِتَابَةَ وَلَا يَخُطُّ سَطْرًا وَلَا حَرْفًا بِيَدِهِ، بَلْ كَانَ لَهُ كُتَّابٌ يَكْتُبُونَ بَيْنَ يَدَيْهِ الْوَحْيَ وَالرَّسَائِلَ إِلَى الْأَقَالِيمِ. وَمَنْ زَعَمَ مِنْ مُتَأَخَّرِي الْفُقَهَاءِ، كَالْقَاضِي أَبِي الْوَلِيدِ الْبَاجِيِّ وَمَنْ تَابَعَهُ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ [[في ف، أ: "صلى الله عليه وسلم".]] ، كَتَبَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ: "هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ" فَإِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ رِوَايَةٌ فِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ: "ثُمَّ أَخَذَ فَكَتَبَ": وَهَذِهِ مَحْمُولَةٌ عَلَى الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى: "ثُمَّ أَمَرَ فَكَتَبَ". وَلِهَذَا اشْتَدَّ النَّكِيرُ بَيْنَ فُقَهَاءِ الْمَغْرِبِ وَالْمَشْرِقِ على من قال بقول الباجي، وتبرؤوا مِنْهُ، وَأَنْشَدُوا فِي ذَلِكَ أَقْوَالًا وَخَطَبُوا بِهِ فِي مَحَافِلِهِمْ: وَإِنَّمَا أَرَادَ الرَّجُلُ -أَعْنِي الْبَاجِيَّ، فِيمَا يَظْهَرُ عَنْهُ -أَنَّهُ كَتَبَ ذَلِكَ عَلَى وَجْهِ الْمُعْجِزَةِ، لَا أَنَّهُ كَانَ يُحْسِنُ الْكِتَابَةَ، كَمَا قَالَ، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ [[في ف، أ: "صلى الله عليه وسلم".]] إِخْبَارًا عَنِ الدَّجَّالِ: "مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ" وَفِي رِوَايَةٍ: "ك ف ر، يَقْرَؤُهَا كُلُّ مُؤْمِنٍ" [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٧١٣١) من حديث أنس رضي الله عنه.]] ، وَمَا أَوْرَدَهُ بَعْضُهُمْ مِنَ الْحَدِيثِ أَنَّهُ لَمْ يَمُتْ، عَلَيْهِ السَّلَامُ [[في أ: "صلى الله عليه وسلم".]] حَتَّى تَعَلَّمَ الْكِتَابَةَ، فَضَعِيفٌ لَا أَصْلَ لَهُ؛ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَمَا كُنْتَ تَتْلُو﴾ أَيْ: تَقْرَأُ ﴿مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَابٍ﴾ لِتَأْكِيدِ النَّفْيِ، ﴿وَلا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ﴾ تَأْكِيدٌ أَيْضًا، وَخَرَجَ مَخْرَجَ الْغَالِبِ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ﴾ [الْأَنْعَامِ: ٣٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِذًا لارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ﴾ أَيْ: لَوْ كُنْتَ تُحْسِنُهَا [[في ت: "تحسن الكتابة".]] لَارْتَابَ بَعْضُ الْجَهَلَةِ مِنَ النَّاسِ فَيَقُولُ: إِنَّمَا تَعَلَّمَ هَذَا مِنْ كُتب قَبْلَهُ مَأْثُورَةٍ عَنِ الْأَنْبِيَاءِ، مَعَ أَنَّهُمْ قَالُوا ذَلِكَ مَعَ عِلْمِهِمْ بِأَنَّهُ أُمِّيٌّ لَا يُحْسِنُ الْكِتَابَةَ: ﴿وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الأوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلا﴾ [الْفُرْقَانِ: ٥] ،قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿قُلْ أَنزلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ [الْفُرْقَانِ: ٦] ، وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ﴾ أَيْ: [هَذَا] [[زيادة من ت، ف، أ.]] الْقُرْآنُ آيَاتٌ بَيِّنَةٌ وَاضِحَةٌ فِي الدَّلَالَةِ عَلَى الْحَقِّ، أَمْرًا وَنَهْيًا وَخَبَرًا، يَحْفَظُهُ الْعُلَمَاءُ، يَسَّره اللَّهُ عَلَيْهِمْ حِفْظًا وَتِلَاوَةً وَتَفْسِيرًا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾ [الْقَمَرِ: ١٧] ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ مَا آمَنَ عَلَى مِثْلِهِ الْبَشَرُ وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إليَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا" [[رواه البخاري في صحيحه برقم (٧٢٧٤) من حديث أبي هريرة رضي الله عنه، وسيأتي إن شاء الله.]] .
وَفِي حَدِيثِ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ [[في أ: "حماد".]] ، فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ: "يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنِّي مُبْتَلِيكَ وَمُبْتَلٍ بِكَ، وَمُنْزِلٌ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ، تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ" [[صحيح مسلم برقم (٢٨٦٥) .]] . أَيْ: لَوْ غَسَلَ الْمَاءُ المحلَّ الْمَكْتُوبَ فِيهِ لَمَا احْتِيجَ إِلَى ذَلِكَ الْمَحَلِّ، كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ الْآخَرِ: "لَوْ كَانَ الْقُرْآنُ فِي إِهَابٍ، مَا أَحْرَقَتْهُ النَّارُ" [[رواه أحمد في مسنده (٤/١٥١) من حديث عقبة بن عامر. وتقدم الكلام عليه في فضائل القرآن.]] ، لِأَنَّهُ مَحْفُوظٌ فِي الصُّدُورِ، مُيَسَّرٌ [[في ت: "وميسر".]] عَلَى الْأَلْسِنَةِ، مُهَيْمِنٌ عَلَى الْقُلُوبِ، مُعْجِزٌ لَفْظًا وَمَعْنَى؛ وَلِهَذَا جَاءَ فِي الْكُتُبِ الْمُتَقَدِّمَةِ، فِي صِفَةِ هَذِهِ الْأُمَّةِ: "أَنَاجِيلُهُمْ فِي صدورهم".
وَاخْتَارَ ابْنُ جَرِيرٍ أَنَّ الْمَعْنَى فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ﴾ ، بَلِ الْعِلْمُ بِأَنَّكَ مَا كُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِ هَذَا الْكِتَابِ كِتَابًا وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ، آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعَلَمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ [[تفسير الطبري (٢١/٥) .]] . وَنَقَلَهُ عَنْ قَتَادَةَ، وَابْنِ جُرَيْجٍ. وَحَكَى الْأَوَّلَ عَنِ الْحَسَنِ [الْبَصْرِيِّ] [[زيادة من ف، أ.]] فَقَطْ.
قُلْتُ: وَهُوَ الَّذِي رَوَاهُ الْعَوْفِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَقَالَهُ الضَّحَّاكُ، وَهُوَ الْأَظْهَرُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلا الظَّالِمُونَ﴾ أَيْ: مَا يُكَذِّبُ بِهَا وَيَبْخَسُ حَقَّهَا وَيَرُدُّهَا إِلَّا الظَّالِمُونَ، أَيِ: الْمُعْتَدُونَ الْمُكَابِرُونَ، الَّذِينَ يَعْلَمُونَ الْحَقَّ وَيَحِيدُونَ عَنْهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ. وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الألِيمَ﴾ [يُونُسَ: ٩٦، ٩٧] .
وَقَالُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَٰتٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۖ قُلْ إِنَّمَا ٱلْءَايَٰتُ عِندَ ٱللَّهِ وَإِنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٌۭ مُّبِينٌ
But they say, "Why are not signs sent down to him from his Lord?" Say, "The signs are only with Allah, and I am only a clear warner."
اور (کافر) کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے نشانیاں کیوں نازل نہیں ہوئیں کہہ دو کہ نشانیاں تو خدا ہی کے پاس ہیں۔ اور میں تو کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں
گفتند: «چرا معجزاتی از سوی پروردگارش بر او نازل نشده؟!» بگو: «معجزات همه نزد خداست (و به فرمان او نازل میشود، نه به میل من و شما)؛ من تنها بیم دهندهای آشکارم!
Tafsir Ibn Kathir
And they say: "Why are not signs sent down to him from his Lord?" Say: "The signs are only with Allah, and I am only a plain warner. (50)Is it not sufficient for them that We have sent down to you the Book which is recited to them? Verily, herein is mercy and a reminder for a people who believe (51)Say: "Sufficient is Allah for a witness between me and you. He knows what is in the heavens and on the earth." And those who believe in falsehood, and disbelieve in Allah, it is they who are the losers (52)
The Idolators' demand for Signs, and the Response
Allah tells us how the idolators stubbornly demanded signs, meaning that they wanted signs to show them that Muhammad ﷺ was indeed the Messenger of Allah, just as Salih was given the sign of the she-camel. Allah says:
قُلْ
(Say) – 'O Muhammad' –
إِنَّمَا الْآيَاتُ عِنْدَ اللَّهِ
(The signs are only with Allah) meaning, 'the matter rests with Allah, and if He knew that you would be guided, He would respond to your request, because it is very easy for Him to do that. Yet He knows that you are merely being stubborn and putting me to the test, so He will not respond to you.' This is like the Ayah,
وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ ۚ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا ۚ
(And nothing stops Us from sending the Ayat but that the people of old denied them. And We sent the she-camel to Thamud as a clear sign, but they did her wrong)(17:59).
وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ
(and I am only a plain warner) means, 'I have been sent to you only as a warner to bring a clear warning; all I have to do is convey the Message of Allah to you. '
مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۖ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا
(He whom Allah guides, he is the rightly-guided; but he whom He sends astray, for him you will find no guide to lead him.)(18:17)
لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۗ
(Not upon you is their guidance, but Allah guides whom He wills)(2:272). Then Allah shows us how ignorant and foolish they were when they demanded a sign to prove to them that what Muhammad ﷺ had brought to them was true. He brought them a great Book which falsehood cannot reach, neither from before it or behind it, it was greater than all other miracles, for the most eloquent of men could not match it or produce ten Surahs, or even one Surah like it.
أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ۚ
(Is it not sufficient for them that We have sent down to you the Book which is recited to them?) means, 'is it not sufficient as a sign for them that We have sent down to you this great Book which tells them about what happened before their time, what will happen after they are gone, and passes judgement between them. Even though you are an unlettered man who can neither read nor write, and you have not mixed with any of the People of the Book. Yet you brought them news of what was said in the first Scriptures showing what is right in the matters that they dispute over, and bringing clear and obvious truth.' As Allah says:
أَوَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ آيَةً أَنْ يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ
(Is it not a sign to them that the learned scholars of the Children of Israel knew it (to be true)?)(26:197)
وَقَالُوا لَوْلَا يَأْتِينَا بِآيَةٍ مِنْ رَبِّهِ ۚ أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ
(They say: "Why does he not bring us a sign from his Lord?" Has there not come to them the proof of that which is in the former Scriptures?)(20:133)
Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
(There is no Prophet who was not given some miracles that would make the people believe in him. What I have been given is revelation which Allah reveals to me, and I hope that I will have the greatest number of followers on the Day of Resurrection.)" It was also recorded by Al-Bukhari and Muslim.
Indeed Allah has said:
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(Verily, herein is mercy and a reminder for a people who believe.) In this Qur'an there is mercy, that is, explanation of the truth and removal of falsehood, and a reminder to the believers of the punishment that is to come to the disbelievers and sinners. Then Allah says:
قُلْ كَفَىٰ بِاللَّهِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ شَهِيدًا ۖ
(Say: "Sufficient is Allah for a witness between me and you...") 'He knows best the words of denial that you utter, and he knows what I am telling you about Him and that He has sent me. If I were telling lies about Him, He would have executed His vengeance upon me,' as Allah says elsewhere:
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ - لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ - ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ - فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ
(And if he had forged a false saying concerning Us, We surely would have seized him by his right hand, and then We certainly would have cut off his aorta, and none of you could have withheld Us from (punishing) him.)(69:44-47). 'But I am telling the truth in what I say to you about Him, so He has supported me with clear miracles and definitive evidence.'
يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ
(He knows what is in the heavens and the earth.) means, nothing is hidden from Him at all.
وَالَّذِينَ آمَنُوا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوا بِاللَّهِ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
(And those who believe in falsehood, and disbelieve in Allah, it is they who are the losers.) means, on the Day of Resurrection, they will be punished for what they did, and will get what they justly deserve for rejecting the truth and following falsehood, for disbelieving in the Messengers of Allah even when there was proof that they were telling the truth, and for worshipping false gods with no evidence. Allah will punish them for all that, for He is All-Wise and All-Knowing.
Tafsir Ibn Kathir
محاسن کلام کا بےمثال جمال قرآن حکیم کافروں کی ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے ایسی ہی نشانی طلب کی جیسی کہ حضرت صالح سے ان کی قوم نے مانگی تھی۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے انہیں جواب دیجئے کہ آیتیں معجزے اور نشانات دکھانا میرے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اگر اس نے تمہاری نیک نیتیں معلوم کرلیں تو وہ معجزہ دکھائے گا اور اگر تم اپنی ضد اور انکار سے بڑھ بڑھ کر باتیں ہی بنا رہے ہو تو وہ اللہ تم سے دبا ہوا نہیں کہ اس کی چاہت تمہاری چاہت کے تابع ہوجائے تم جو مانگو وہ کر ہی دکھائے گا۔ جیسے ایک اور روایت میں ہے کہ آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس کے کہ گذشتہ لوگ بھی برابر انکار ہی کرتے رہے۔ قوم ثمود کو دیکھو ہماری نشانی اونٹنی جو ان کے پاس آئی انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ کہہ دو کہ میں تو صرف ایک مبلغ ہوں پیغمبر ہوں قاصد ہوں میرا کام تمہارے کانوں تک آواز اللہ کو پہنچا دینا ہے میں نے تو تمہیں تمہارا برا بھلا سمجھا دیا نیک بد سمجھا دیا اب تم جانو تمہارا کام جانے۔ ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے وہ اگر کسی کو گمراہ کردے تو اس کی رہبری کوئی نہیں کرسکتا۔ چناچہ ایک اور جگہ ہے تجھ پر ان کی ہدایت کا ذمہ نہیں یہ اللہ کا کام ہے اور اس کی چاہت پر موقوف ہے۔ بھلا اس فضول گوئی کو تو دیکھو کہ کتاب عزیز ان کے پاس آچکی جس کے پاس کسی طرف سے باطل پھٹک نہیں سکتا اور انہیں اب تک نشانی کی طلب ہے۔ حالانکہ یہ تو تمام معجزات سے بڑھ کر معجزہ ہے۔ تمام دنیا کے فصیح وبلیغ اس کے معارضہ سے اور اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آگئے۔ پورے قرآن کا تو معارضہ کیا کرتے ؟ دس سورتوں کا بلکہ ایک سورت کا معارضہ بھی چیلنج کے باوجود نہ کرسکے۔ تو کیا اتنا بڑا اور اتنا بھاری معجزہ انہیں کافی نہیں ؟ جو اور معجزے طلب کرنے بیٹھے ہیں۔ یہ تو وہ پاک کتاب ہے جس میں گذشتہ باتوں کی خبر ہے اور ہونے والی باتوں کی پیش گوئی ہے اور جھگڑوں کا فیصلہ ہے اور یہ اس کی زبان سے پڑھی جاتی ہے جو محض امی ہے جس نے کسی سے الف با بھی نہیں پڑھا جو ایک حرف لکھنا نہیں جانتا بلکہ اہل علم کی صحبت میں بھی کبھی نہیں بیٹھا۔ اور وہ کتاب پڑھتا ہے جس سے گزشتہ کتابوں کی بھی صحت وعدم صحت معلوم ہوتی ہے جس کے الفاظ میں حلاوت جس کی نظم میں ملاحت جس کے انداز میں فصاحت جس کے بیان میں بلاغت جس کا طرز دلربا جس کا سیاق دلچسپ جس میں دنیا بھر کی خوبیاں موجود۔ خود بنی اسرائیل کے علماء بھی اس کی تصدیق پر مجبور۔ اگلی کتابیں جس پر شاہد۔ بھلے لوگ جس کے مداح اور قائل وعامل۔ اس اتنے بڑے معجزے کی موجودگی میں کسی اور معجزہ کی طلب محض بدنیتی اور گریز ہے۔ پھر فرماتا ہے اس میں ایمان والوں کے لئے رحمت و نصیحت ہے۔ یہ قرآن حق کا ظاہر کرنے والا باطل کو برباد کرنے والا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے واقعات تمہارے سامنے رکھ کر تمہیں نصیحت وعبرت کا موقعہ دیتا ہے گنہگاروں کا انجام دکھاکر تمہیں گناہوں سے روکتا ہے۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمہاری تکذیب و سرکشی کو اور میری سچائی وخیر خواہی کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر میں اس پر جھوٹ باندھتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا وہ ایسے لوگوں کو بغیر انتقام نہیں چھوڑتا۔ جیسے خود اس کا فرمان ہے کہ اگر یہ رسول مجھ پر ایک بات بھی گھڑ لیتا تو میں اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتا اور کوئی نہ ہوتا جو اسے میرے ہاتھ سے چھڑاسکے۔ چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے اور میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی تم سے کہتا ہوں اس لئے وہ میری تائید کرتا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتا جاتا ہے اور مجھ سے معجزات پر معجزات ظاہر کراتا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے غیب کا جاننے والا ہے اس پر ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں باطل کا ماننے والے اور اللہ کو نہ ماننے والے ہی نقصان یافتہ اور ذلیل ہیں قیامت کے دن انہیں ان کی بد اعمالی کا نتیجہ بھگتنا پڑھے گا اور جو سرکشیاں دنیا میں کی ہیں سب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ بھلا اللہ کو نہ ماننا اور بتوں کو ماننا اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہوگا ؟ وہ علیم وحکیم اللہ اس کا بدلہ دیئے بغیر ہرگز نہیں رہے گا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْمُشْرِكِينَ فِي تَعَنُّتِهِمْ وَطَلَبِهِمْ آيَاتٍ -يَعْنُونَ -تُرْشِدُهُمْ إِلَى أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ كَمَا جَاءَ صَالِحٌ بِنَاقَتِهِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿قُلْ﴾ يَا مُحَمَّدُ: ﴿إِنَّمَا الآيَاتُ عِنْدَ اللَّهِ﴾ أَيْ: إِنَّمَا أَمْرُ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ، فَإِنَّهُ لَوْ عَلِمَ أَنَّكُمْ تَهْتَدُونَ لَأَجَابَكُمْ إِلَى سُؤَالِكُمْ؛ لَأَنَّ ذَلِكَ سَهْلٌ عَلَيْهِ، يَسِيرٌ لَدَيْهِ، وَلَكِنَّهُ يَعْلَمُ مِنْكُمْ أَنَّمَا قَصْدُكُمُ التَّعَنُّتُ وَالِامْتِحَانُ، فَلَا يُجِيبُكُمْ إِلَى ذَلِكَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالآيَاتِ إِلا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الأوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٥٩] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ﴾ أَيْ: إِنَّمَا بُعِثْتُ نَذِيرًا لَكُمْ بَيِّنَ النِّذَارَةِ فَعَليَّ أَنْ أُبَلِّغَكُمْ رِسَالَةَ اللَّهِ وَ ﴿مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا﴾ [الْكَهْفِ: ١٧] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ﴾ [الْبَقَرَةِ: ٢٧٢] .
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى مُبَيِّنًا كَثْرَةَ جَهْلِهِمْ، وَسَخَافَةَ عَقْلِهِمْ، حَيْثُ طَلَبُوا آيَاتٍ تَدُلُّهُمْ عَلَى صِدْقِ مُحَمَّدٍ فِيمَا جَاءَهُمْ [بِهِ] [[زيادة من ف.]] -وَقَدْ جَاءَهُمْ بِالْكِتَابِ الْعَزِيزِ الَّذِي لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ، الَّذِي هُوَ أَعْظَمُ مِنْ كُلِّ مُعْجِزَةٍ، إِذْ عَجَزَتِ الْفُصَحَاءُ وَالْبُلَغَاءُ عَنْ مُعَارَضَتِهِ، بَلْ عَنْ مُعَارَضَةِ عَشْرِ سُورٍ مِنْ مَثَلِهِ، بَلْ عَنْ مُعَارَضَةِ سُورَةٍ مِنْهُ -فَقَالَ تَعَالَى: ﴿أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنزلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ﴾ أَيْ: أَوْلَمَ يَكْفِهِمْ آيَةً أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ هَذَا الْكِتَابَ الْعَظِيمَ، الَّذِي فِيهِ خَبَرُ مَا قَبْلَهُمْ، وَنَبَأُ مَا بَعْدَهُمْ، وَحُكْمُ مَا بَيْنَهُمْ، وَأَنْتَ رَجُلٌ أُمِّيٌّ لَا تَقْرَأُ وَلَا تَكْتُبُ، وَلَمْ تُخَالِطْ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَجِئْتَهُمْ بِأَخْبَارِ مَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَى، بِبَيَانِ الصَّوَابِ مِمَّا اخْتَلَفُوا فِيهِ، وَبِالْحَقِّ الْوَاضِحِ الْبَيِّنِ الْجَلِيِّ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَوَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ آيَةً أَنْ يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ [الشُّعَرَاءِ: ١٩٧] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَقَالُوا لَوْلا يَأْتِينَا بِآيَةٍ [[في جميع النسخ: (لولا أنزل عليه آية) والصواب ما أثبتناه.]] مِنْ رَبِّهِ أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الأولَى﴾ [طَهَ: ١٣٣] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بن أبي سعيد، عَنْ أَبِيهِ [[في ت: "وروى الإمام أحمد بإسناده".]] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم: "ما من الْأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ". أَخْرَجَاهُ [[في ت: "أخرجه البخاري ومسلم".]] مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ [[المسند (٢/٣٤١) وصحيح البخاري برقم (٤٩٨١) وصحيح مسلم برقم (١٥٢) .]] .
وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴾ أَيْ: إِنَّ فِي هَذَا الْقُرْآنِ: ﴿لَرَحْمَةً﴾ أَيْ: بَيَانًا لِلْحَقِّ، وَإِزَاحَةً لِلْبَاطِلِ وَ ﴿ذِكْرَى﴾ بِمَا فِيهِ حُلُولُ النِّقَمَاتِ وَنُزُولُ الْعِقَابِ بِالْمُكَذِّبِينَ وَالْعَاصِينَ، ﴿لَرَحْمَةً وَذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴾ .
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: قُلْ: ﴿كَفَى بِاللَّهِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ شَهِيدًا﴾ [[في أ: "كفى بالله شهيدا بيني وبينكم" وهو خطأ.]] أَيْ: هُوَ أَعْلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِ مِنَ التَّكْذِيبِ، وَيَعْلَمُ مَا أَقُولُ لَكُمْ مِنْ إِخْبَارِي عَنْهُ، بِأَنَّهُ أَرْسَلَنِي، فَلَوْ كُنْتُ كَاذِبًا عَلَيْهِ لَانْتَقَمَ مِنِّي، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الأقَاوِيلِ. لأخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ. ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ. فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ﴾ [الْحَاقَّةِ: ٤٤-٤٧] ، وَإِنَّمَا أَنَا صَادِقٌ عَلَيْهِ فِيمَا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ، وَلِهَذَا أَيَّدَنِي بِالْمُعْجِزَاتِ الْوَاضِحَاتِ، وَالدَّلَائِلِ الْقَاطِعَاتِ.
﴿يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ﴾ [أَيْ] [[زيادة من ت، أ.]] : لَا تَخْفَى عَلَيْهِ خَافِيَةٌ.
﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوا بِاللَّهِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴾ أَيْ: يَوْمَ مَعَادِهِمْ سَيَجْزِيهِمْ عَلَى مَا فَعَلُوا، وَيُقَابِلُهُمْ عَلَى مَا صَنَعُوا، مِنْ تَكْذِيبِهِمْ بِالْحَقِّ وَاتِّبَاعِهِمُ الْبَاطِلَ، كَذَّبُوا بِرُسُلِ اللَّهِ مَعَ قِيَامِ الْأَدِلَّةِ عَلَى صِدْقِهِمْ، وَآمَنُوا بِالطَّوَاغِيتِ وَالْأَوْثَانِ بِلَا دَلِيلٍ، سَيُجَازِيهِمْ على ذلك، إنه حكيم عليم.
أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَرَحْمَةًۭ وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ
And is it not sufficient for them that We revealed to you the Book which is recited to them? Indeed in that is a mercy and reminder for a people who believe.
کیا اُن لوگوں کے لئے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو اُن کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔ کچھ شک نہیں کہ مومن لوگوں کے لیے اس میں رحمت اور نصیحت ہے
آیا برای آنان کافی نیست که این کتاب را بر تو نازل کردیم که پیوسته بر آنها تلاوت میشود؟! در این، رحمت و تذکّری است برای کسانی که ایمان میآورند (و این معجزه بسیار واضحی است).
Tafsir Ibn Kathir
And they say: "Why are not signs sent down to him from his Lord?" Say: "The signs are only with Allah, and I am only a plain warner. (50)Is it not sufficient for them that We have sent down to you the Book which is recited to them? Verily, herein is mercy and a reminder for a people who believe (51)Say: "Sufficient is Allah for a witness between me and you. He knows what is in the heavens and on the earth." And those who believe in falsehood, and disbelieve in Allah, it is they who are the losers (52)
The Idolators' demand for Signs, and the Response
Allah tells us how the idolators stubbornly demanded signs, meaning that they wanted signs to show them that Muhammad ﷺ was indeed the Messenger of Allah, just as Salih was given the sign of the she-camel. Allah says:
قُلْ
(Say) – 'O Muhammad' –
إِنَّمَا الْآيَاتُ عِنْدَ اللَّهِ
(The signs are only with Allah) meaning, 'the matter rests with Allah, and if He knew that you would be guided, He would respond to your request, because it is very easy for Him to do that. Yet He knows that you are merely being stubborn and putting me to the test, so He will not respond to you.' This is like the Ayah,
وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ ۚ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا ۚ
(And nothing stops Us from sending the Ayat but that the people of old denied them. And We sent the she-camel to Thamud as a clear sign, but they did her wrong)(17:59).
وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ
(and I am only a plain warner) means, 'I have been sent to you only as a warner to bring a clear warning; all I have to do is convey the Message of Allah to you. '
مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۖ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا
(He whom Allah guides, he is the rightly-guided; but he whom He sends astray, for him you will find no guide to lead him.)(18:17)
لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۗ
(Not upon you is their guidance, but Allah guides whom He wills)(2:272). Then Allah shows us how ignorant and foolish they were when they demanded a sign to prove to them that what Muhammad ﷺ had brought to them was true. He brought them a great Book which falsehood cannot reach, neither from before it or behind it, it was greater than all other miracles, for the most eloquent of men could not match it or produce ten Surahs, or even one Surah like it.
أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ۚ
(Is it not sufficient for them that We have sent down to you the Book which is recited to them?) means, 'is it not sufficient as a sign for them that We have sent down to you this great Book which tells them about what happened before their time, what will happen after they are gone, and passes judgement between them. Even though you are an unlettered man who can neither read nor write, and you have not mixed with any of the People of the Book. Yet you brought them news of what was said in the first Scriptures showing what is right in the matters that they dispute over, and bringing clear and obvious truth.' As Allah says:
أَوَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ آيَةً أَنْ يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ
(Is it not a sign to them that the learned scholars of the Children of Israel knew it (to be true)?)(26:197)
وَقَالُوا لَوْلَا يَأْتِينَا بِآيَةٍ مِنْ رَبِّهِ ۚ أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ
(They say: "Why does he not bring us a sign from his Lord?" Has there not come to them the proof of that which is in the former Scriptures?)(20:133)
Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
(There is no Prophet who was not given some miracles that would make the people believe in him. What I have been given is revelation which Allah reveals to me, and I hope that I will have the greatest number of followers on the Day of Resurrection.)" It was also recorded by Al-Bukhari and Muslim.
Indeed Allah has said:
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(Verily, herein is mercy and a reminder for a people who believe.) In this Qur'an there is mercy, that is, explanation of the truth and removal of falsehood, and a reminder to the believers of the punishment that is to come to the disbelievers and sinners. Then Allah says:
قُلْ كَفَىٰ بِاللَّهِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ شَهِيدًا ۖ
(Say: "Sufficient is Allah for a witness between me and you...") 'He knows best the words of denial that you utter, and he knows what I am telling you about Him and that He has sent me. If I were telling lies about Him, He would have executed His vengeance upon me,' as Allah says elsewhere:
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ - لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ - ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ - فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ
(And if he had forged a false saying concerning Us, We surely would have seized him by his right hand, and then We certainly would have cut off his aorta, and none of you could have withheld Us from (punishing) him.)(69:44-47). 'But I am telling the truth in what I say to you about Him, so He has supported me with clear miracles and definitive evidence.'
يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ
(He knows what is in the heavens and the earth.) means, nothing is hidden from Him at all.
وَالَّذِينَ آمَنُوا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوا بِاللَّهِ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
(And those who believe in falsehood, and disbelieve in Allah, it is they who are the losers.) means, on the Day of Resurrection, they will be punished for what they did, and will get what they justly deserve for rejecting the truth and following falsehood, for disbelieving in the Messengers of Allah even when there was proof that they were telling the truth, and for worshipping false gods with no evidence. Allah will punish them for all that, for He is All-Wise and All-Knowing.
Tafsir Ibn Kathir
محاسن کلام کا بےمثال جمال قرآن حکیم کافروں کی ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے ایسی ہی نشانی طلب کی جیسی کہ حضرت صالح سے ان کی قوم نے مانگی تھی۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے انہیں جواب دیجئے کہ آیتیں معجزے اور نشانات دکھانا میرے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اگر اس نے تمہاری نیک نیتیں معلوم کرلیں تو وہ معجزہ دکھائے گا اور اگر تم اپنی ضد اور انکار سے بڑھ بڑھ کر باتیں ہی بنا رہے ہو تو وہ اللہ تم سے دبا ہوا نہیں کہ اس کی چاہت تمہاری چاہت کے تابع ہوجائے تم جو مانگو وہ کر ہی دکھائے گا۔ جیسے ایک اور روایت میں ہے کہ آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس کے کہ گذشتہ لوگ بھی برابر انکار ہی کرتے رہے۔ قوم ثمود کو دیکھو ہماری نشانی اونٹنی جو ان کے پاس آئی انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ کہہ دو کہ میں تو صرف ایک مبلغ ہوں پیغمبر ہوں قاصد ہوں میرا کام تمہارے کانوں تک آواز اللہ کو پہنچا دینا ہے میں نے تو تمہیں تمہارا برا بھلا سمجھا دیا نیک بد سمجھا دیا اب تم جانو تمہارا کام جانے۔ ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے وہ اگر کسی کو گمراہ کردے تو اس کی رہبری کوئی نہیں کرسکتا۔ چناچہ ایک اور جگہ ہے تجھ پر ان کی ہدایت کا ذمہ نہیں یہ اللہ کا کام ہے اور اس کی چاہت پر موقوف ہے۔ بھلا اس فضول گوئی کو تو دیکھو کہ کتاب عزیز ان کے پاس آچکی جس کے پاس کسی طرف سے باطل پھٹک نہیں سکتا اور انہیں اب تک نشانی کی طلب ہے۔ حالانکہ یہ تو تمام معجزات سے بڑھ کر معجزہ ہے۔ تمام دنیا کے فصیح وبلیغ اس کے معارضہ سے اور اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آگئے۔ پورے قرآن کا تو معارضہ کیا کرتے ؟ دس سورتوں کا بلکہ ایک سورت کا معارضہ بھی چیلنج کے باوجود نہ کرسکے۔ تو کیا اتنا بڑا اور اتنا بھاری معجزہ انہیں کافی نہیں ؟ جو اور معجزے طلب کرنے بیٹھے ہیں۔ یہ تو وہ پاک کتاب ہے جس میں گذشتہ باتوں کی خبر ہے اور ہونے والی باتوں کی پیش گوئی ہے اور جھگڑوں کا فیصلہ ہے اور یہ اس کی زبان سے پڑھی جاتی ہے جو محض امی ہے جس نے کسی سے الف با بھی نہیں پڑھا جو ایک حرف لکھنا نہیں جانتا بلکہ اہل علم کی صحبت میں بھی کبھی نہیں بیٹھا۔ اور وہ کتاب پڑھتا ہے جس سے گزشتہ کتابوں کی بھی صحت وعدم صحت معلوم ہوتی ہے جس کے الفاظ میں حلاوت جس کی نظم میں ملاحت جس کے انداز میں فصاحت جس کے بیان میں بلاغت جس کا طرز دلربا جس کا سیاق دلچسپ جس میں دنیا بھر کی خوبیاں موجود۔ خود بنی اسرائیل کے علماء بھی اس کی تصدیق پر مجبور۔ اگلی کتابیں جس پر شاہد۔ بھلے لوگ جس کے مداح اور قائل وعامل۔ اس اتنے بڑے معجزے کی موجودگی میں کسی اور معجزہ کی طلب محض بدنیتی اور گریز ہے۔ پھر فرماتا ہے اس میں ایمان والوں کے لئے رحمت و نصیحت ہے۔ یہ قرآن حق کا ظاہر کرنے والا باطل کو برباد کرنے والا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے واقعات تمہارے سامنے رکھ کر تمہیں نصیحت وعبرت کا موقعہ دیتا ہے گنہگاروں کا انجام دکھاکر تمہیں گناہوں سے روکتا ہے۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمہاری تکذیب و سرکشی کو اور میری سچائی وخیر خواہی کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر میں اس پر جھوٹ باندھتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا وہ ایسے لوگوں کو بغیر انتقام نہیں چھوڑتا۔ جیسے خود اس کا فرمان ہے کہ اگر یہ رسول مجھ پر ایک بات بھی گھڑ لیتا تو میں اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتا اور کوئی نہ ہوتا جو اسے میرے ہاتھ سے چھڑاسکے۔ چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے اور میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی تم سے کہتا ہوں اس لئے وہ میری تائید کرتا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتا جاتا ہے اور مجھ سے معجزات پر معجزات ظاہر کراتا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے غیب کا جاننے والا ہے اس پر ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں باطل کا ماننے والے اور اللہ کو نہ ماننے والے ہی نقصان یافتہ اور ذلیل ہیں قیامت کے دن انہیں ان کی بد اعمالی کا نتیجہ بھگتنا پڑھے گا اور جو سرکشیاں دنیا میں کی ہیں سب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ بھلا اللہ کو نہ ماننا اور بتوں کو ماننا اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہوگا ؟ وہ علیم وحکیم اللہ اس کا بدلہ دیئے بغیر ہرگز نہیں رہے گا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْمُشْرِكِينَ فِي تَعَنُّتِهِمْ وَطَلَبِهِمْ آيَاتٍ -يَعْنُونَ -تُرْشِدُهُمْ إِلَى أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ كَمَا جَاءَ صَالِحٌ بِنَاقَتِهِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿قُلْ﴾ يَا مُحَمَّدُ: ﴿إِنَّمَا الآيَاتُ عِنْدَ اللَّهِ﴾ أَيْ: إِنَّمَا أَمْرُ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ، فَإِنَّهُ لَوْ عَلِمَ أَنَّكُمْ تَهْتَدُونَ لَأَجَابَكُمْ إِلَى سُؤَالِكُمْ؛ لَأَنَّ ذَلِكَ سَهْلٌ عَلَيْهِ، يَسِيرٌ لَدَيْهِ، وَلَكِنَّهُ يَعْلَمُ مِنْكُمْ أَنَّمَا قَصْدُكُمُ التَّعَنُّتُ وَالِامْتِحَانُ، فَلَا يُجِيبُكُمْ إِلَى ذَلِكَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالآيَاتِ إِلا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الأوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٥٩] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ﴾ أَيْ: إِنَّمَا بُعِثْتُ نَذِيرًا لَكُمْ بَيِّنَ النِّذَارَةِ فَعَليَّ أَنْ أُبَلِّغَكُمْ رِسَالَةَ اللَّهِ وَ ﴿مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا﴾ [الْكَهْفِ: ١٧] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ﴾ [الْبَقَرَةِ: ٢٧٢] .
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى مُبَيِّنًا كَثْرَةَ جَهْلِهِمْ، وَسَخَافَةَ عَقْلِهِمْ، حَيْثُ طَلَبُوا آيَاتٍ تَدُلُّهُمْ عَلَى صِدْقِ مُحَمَّدٍ فِيمَا جَاءَهُمْ [بِهِ] [[زيادة من ف.]] -وَقَدْ جَاءَهُمْ بِالْكِتَابِ الْعَزِيزِ الَّذِي لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ، الَّذِي هُوَ أَعْظَمُ مِنْ كُلِّ مُعْجِزَةٍ، إِذْ عَجَزَتِ الْفُصَحَاءُ وَالْبُلَغَاءُ عَنْ مُعَارَضَتِهِ، بَلْ عَنْ مُعَارَضَةِ عَشْرِ سُورٍ مِنْ مَثَلِهِ، بَلْ عَنْ مُعَارَضَةِ سُورَةٍ مِنْهُ -فَقَالَ تَعَالَى: ﴿أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنزلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ﴾ أَيْ: أَوْلَمَ يَكْفِهِمْ آيَةً أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ هَذَا الْكِتَابَ الْعَظِيمَ، الَّذِي فِيهِ خَبَرُ مَا قَبْلَهُمْ، وَنَبَأُ مَا بَعْدَهُمْ، وَحُكْمُ مَا بَيْنَهُمْ، وَأَنْتَ رَجُلٌ أُمِّيٌّ لَا تَقْرَأُ وَلَا تَكْتُبُ، وَلَمْ تُخَالِطْ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَجِئْتَهُمْ بِأَخْبَارِ مَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَى، بِبَيَانِ الصَّوَابِ مِمَّا اخْتَلَفُوا فِيهِ، وَبِالْحَقِّ الْوَاضِحِ الْبَيِّنِ الْجَلِيِّ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَوَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ آيَةً أَنْ يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ [الشُّعَرَاءِ: ١٩٧] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَقَالُوا لَوْلا يَأْتِينَا بِآيَةٍ [[في جميع النسخ: (لولا أنزل عليه آية) والصواب ما أثبتناه.]] مِنْ رَبِّهِ أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الأولَى﴾ [طَهَ: ١٣٣] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بن أبي سعيد، عَنْ أَبِيهِ [[في ت: "وروى الإمام أحمد بإسناده".]] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم: "ما من الْأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ". أَخْرَجَاهُ [[في ت: "أخرجه البخاري ومسلم".]] مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ [[المسند (٢/٣٤١) وصحيح البخاري برقم (٤٩٨١) وصحيح مسلم برقم (١٥٢) .]] .
وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴾ أَيْ: إِنَّ فِي هَذَا الْقُرْآنِ: ﴿لَرَحْمَةً﴾ أَيْ: بَيَانًا لِلْحَقِّ، وَإِزَاحَةً لِلْبَاطِلِ وَ ﴿ذِكْرَى﴾ بِمَا فِيهِ حُلُولُ النِّقَمَاتِ وَنُزُولُ الْعِقَابِ بِالْمُكَذِّبِينَ وَالْعَاصِينَ، ﴿لَرَحْمَةً وَذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴾ .
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: قُلْ: ﴿كَفَى بِاللَّهِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ شَهِيدًا﴾ [[في أ: "كفى بالله شهيدا بيني وبينكم" وهو خطأ.]] أَيْ: هُوَ أَعْلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِ مِنَ التَّكْذِيبِ، وَيَعْلَمُ مَا أَقُولُ لَكُمْ مِنْ إِخْبَارِي عَنْهُ، بِأَنَّهُ أَرْسَلَنِي، فَلَوْ كُنْتُ كَاذِبًا عَلَيْهِ لَانْتَقَمَ مِنِّي، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الأقَاوِيلِ. لأخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ. ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ. فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ﴾ [الْحَاقَّةِ: ٤٤-٤٧] ، وَإِنَّمَا أَنَا صَادِقٌ عَلَيْهِ فِيمَا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ، وَلِهَذَا أَيَّدَنِي بِالْمُعْجِزَاتِ الْوَاضِحَاتِ، وَالدَّلَائِلِ الْقَاطِعَاتِ.
﴿يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ﴾ [أَيْ] [[زيادة من ت، أ.]] : لَا تَخْفَى عَلَيْهِ خَافِيَةٌ.
﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوا بِاللَّهِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴾ أَيْ: يَوْمَ مَعَادِهِمْ سَيَجْزِيهِمْ عَلَى مَا فَعَلُوا، وَيُقَابِلُهُمْ عَلَى مَا صَنَعُوا، مِنْ تَكْذِيبِهِمْ بِالْحَقِّ وَاتِّبَاعِهِمُ الْبَاطِلَ، كَذَّبُوا بِرُسُلِ اللَّهِ مَعَ قِيَامِ الْأَدِلَّةِ عَلَى صِدْقِهِمْ، وَآمَنُوا بِالطَّوَاغِيتِ وَالْأَوْثَانِ بِلَا دَلِيلٍ، سَيُجَازِيهِمْ على ذلك، إنه حكيم عليم.
قُلْ كَفَىٰ بِٱللَّهِ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ شَهِيدًۭا ۖ يَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱلْبَٰطِلِ وَكَفَرُوا۟ بِٱللَّهِ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ
Say, "Sufficient is Allah between me and you as Witness. He knows what is in the heavens and earth. And they who have believed in falsehood and disbelieved in Allah - it is those who are the losers."
کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے جو چیز آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب کو جانتا ہے۔ اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور خدا سے انکار کیا وہی نقصان اُٹھانے والے ہیں
بگو: «همین بس که خدا میان من و شما گواه است؛ آنچه را در آسمانها و زمین است میداند؛ و کسانی که به باطل ایمان آوردند و به خدا کافر شدند زیانکاران واقعی هستند!
Tafsir Ibn Kathir
And they say: "Why are not signs sent down to him from his Lord?" Say: "The signs are only with Allah, and I am only a plain warner. (50)Is it not sufficient for them that We have sent down to you the Book which is recited to them? Verily, herein is mercy and a reminder for a people who believe (51)Say: "Sufficient is Allah for a witness between me and you. He knows what is in the heavens and on the earth." And those who believe in falsehood, and disbelieve in Allah, it is they who are the losers (52)
The Idolators' demand for Signs, and the Response
Allah tells us how the idolators stubbornly demanded signs, meaning that they wanted signs to show them that Muhammad ﷺ was indeed the Messenger of Allah, just as Salih was given the sign of the she-camel. Allah says:
قُلْ
(Say) – 'O Muhammad' –
إِنَّمَا الْآيَاتُ عِنْدَ اللَّهِ
(The signs are only with Allah) meaning, 'the matter rests with Allah, and if He knew that you would be guided, He would respond to your request, because it is very easy for Him to do that. Yet He knows that you are merely being stubborn and putting me to the test, so He will not respond to you.' This is like the Ayah,
وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ ۚ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا ۚ
(And nothing stops Us from sending the Ayat but that the people of old denied them. And We sent the she-camel to Thamud as a clear sign, but they did her wrong)(17:59).
وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ
(and I am only a plain warner) means, 'I have been sent to you only as a warner to bring a clear warning; all I have to do is convey the Message of Allah to you. '
مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۖ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا
(He whom Allah guides, he is the rightly-guided; but he whom He sends astray, for him you will find no guide to lead him.)(18:17)
لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۗ
(Not upon you is their guidance, but Allah guides whom He wills)(2:272). Then Allah shows us how ignorant and foolish they were when they demanded a sign to prove to them that what Muhammad ﷺ had brought to them was true. He brought them a great Book which falsehood cannot reach, neither from before it or behind it, it was greater than all other miracles, for the most eloquent of men could not match it or produce ten Surahs, or even one Surah like it.
أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ۚ
(Is it not sufficient for them that We have sent down to you the Book which is recited to them?) means, 'is it not sufficient as a sign for them that We have sent down to you this great Book which tells them about what happened before their time, what will happen after they are gone, and passes judgement between them. Even though you are an unlettered man who can neither read nor write, and you have not mixed with any of the People of the Book. Yet you brought them news of what was said in the first Scriptures showing what is right in the matters that they dispute over, and bringing clear and obvious truth.' As Allah says:
أَوَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ آيَةً أَنْ يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ
(Is it not a sign to them that the learned scholars of the Children of Israel knew it (to be true)?)(26:197)
وَقَالُوا لَوْلَا يَأْتِينَا بِآيَةٍ مِنْ رَبِّهِ ۚ أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ
(They say: "Why does he not bring us a sign from his Lord?" Has there not come to them the proof of that which is in the former Scriptures?)(20:133)
Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
(There is no Prophet who was not given some miracles that would make the people believe in him. What I have been given is revelation which Allah reveals to me, and I hope that I will have the greatest number of followers on the Day of Resurrection.)" It was also recorded by Al-Bukhari and Muslim.
Indeed Allah has said:
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(Verily, herein is mercy and a reminder for a people who believe.) In this Qur'an there is mercy, that is, explanation of the truth and removal of falsehood, and a reminder to the believers of the punishment that is to come to the disbelievers and sinners. Then Allah says:
قُلْ كَفَىٰ بِاللَّهِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ شَهِيدًا ۖ
(Say: "Sufficient is Allah for a witness between me and you...") 'He knows best the words of denial that you utter, and he knows what I am telling you about Him and that He has sent me. If I were telling lies about Him, He would have executed His vengeance upon me,' as Allah says elsewhere:
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ - لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ - ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ - فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ
(And if he had forged a false saying concerning Us, We surely would have seized him by his right hand, and then We certainly would have cut off his aorta, and none of you could have withheld Us from (punishing) him.)(69:44-47). 'But I am telling the truth in what I say to you about Him, so He has supported me with clear miracles and definitive evidence.'
يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ
(He knows what is in the heavens and the earth.) means, nothing is hidden from Him at all.
وَالَّذِينَ آمَنُوا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوا بِاللَّهِ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
(And those who believe in falsehood, and disbelieve in Allah, it is they who are the losers.) means, on the Day of Resurrection, they will be punished for what they did, and will get what they justly deserve for rejecting the truth and following falsehood, for disbelieving in the Messengers of Allah even when there was proof that they were telling the truth, and for worshipping false gods with no evidence. Allah will punish them for all that, for He is All-Wise and All-Knowing.
Tafsir Ibn Kathir
محاسن کلام کا بےمثال جمال قرآن حکیم کافروں کی ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے ایسی ہی نشانی طلب کی جیسی کہ حضرت صالح سے ان کی قوم نے مانگی تھی۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے انہیں جواب دیجئے کہ آیتیں معجزے اور نشانات دکھانا میرے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اگر اس نے تمہاری نیک نیتیں معلوم کرلیں تو وہ معجزہ دکھائے گا اور اگر تم اپنی ضد اور انکار سے بڑھ بڑھ کر باتیں ہی بنا رہے ہو تو وہ اللہ تم سے دبا ہوا نہیں کہ اس کی چاہت تمہاری چاہت کے تابع ہوجائے تم جو مانگو وہ کر ہی دکھائے گا۔ جیسے ایک اور روایت میں ہے کہ آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس کے کہ گذشتہ لوگ بھی برابر انکار ہی کرتے رہے۔ قوم ثمود کو دیکھو ہماری نشانی اونٹنی جو ان کے پاس آئی انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ کہہ دو کہ میں تو صرف ایک مبلغ ہوں پیغمبر ہوں قاصد ہوں میرا کام تمہارے کانوں تک آواز اللہ کو پہنچا دینا ہے میں نے تو تمہیں تمہارا برا بھلا سمجھا دیا نیک بد سمجھا دیا اب تم جانو تمہارا کام جانے۔ ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے وہ اگر کسی کو گمراہ کردے تو اس کی رہبری کوئی نہیں کرسکتا۔ چناچہ ایک اور جگہ ہے تجھ پر ان کی ہدایت کا ذمہ نہیں یہ اللہ کا کام ہے اور اس کی چاہت پر موقوف ہے۔ بھلا اس فضول گوئی کو تو دیکھو کہ کتاب عزیز ان کے پاس آچکی جس کے پاس کسی طرف سے باطل پھٹک نہیں سکتا اور انہیں اب تک نشانی کی طلب ہے۔ حالانکہ یہ تو تمام معجزات سے بڑھ کر معجزہ ہے۔ تمام دنیا کے فصیح وبلیغ اس کے معارضہ سے اور اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آگئے۔ پورے قرآن کا تو معارضہ کیا کرتے ؟ دس سورتوں کا بلکہ ایک سورت کا معارضہ بھی چیلنج کے باوجود نہ کرسکے۔ تو کیا اتنا بڑا اور اتنا بھاری معجزہ انہیں کافی نہیں ؟ جو اور معجزے طلب کرنے بیٹھے ہیں۔ یہ تو وہ پاک کتاب ہے جس میں گذشتہ باتوں کی خبر ہے اور ہونے والی باتوں کی پیش گوئی ہے اور جھگڑوں کا فیصلہ ہے اور یہ اس کی زبان سے پڑھی جاتی ہے جو محض امی ہے جس نے کسی سے الف با بھی نہیں پڑھا جو ایک حرف لکھنا نہیں جانتا بلکہ اہل علم کی صحبت میں بھی کبھی نہیں بیٹھا۔ اور وہ کتاب پڑھتا ہے جس سے گزشتہ کتابوں کی بھی صحت وعدم صحت معلوم ہوتی ہے جس کے الفاظ میں حلاوت جس کی نظم میں ملاحت جس کے انداز میں فصاحت جس کے بیان میں بلاغت جس کا طرز دلربا جس کا سیاق دلچسپ جس میں دنیا بھر کی خوبیاں موجود۔ خود بنی اسرائیل کے علماء بھی اس کی تصدیق پر مجبور۔ اگلی کتابیں جس پر شاہد۔ بھلے لوگ جس کے مداح اور قائل وعامل۔ اس اتنے بڑے معجزے کی موجودگی میں کسی اور معجزہ کی طلب محض بدنیتی اور گریز ہے۔ پھر فرماتا ہے اس میں ایمان والوں کے لئے رحمت و نصیحت ہے۔ یہ قرآن حق کا ظاہر کرنے والا باطل کو برباد کرنے والا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے واقعات تمہارے سامنے رکھ کر تمہیں نصیحت وعبرت کا موقعہ دیتا ہے گنہگاروں کا انجام دکھاکر تمہیں گناہوں سے روکتا ہے۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمہاری تکذیب و سرکشی کو اور میری سچائی وخیر خواہی کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر میں اس پر جھوٹ باندھتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا وہ ایسے لوگوں کو بغیر انتقام نہیں چھوڑتا۔ جیسے خود اس کا فرمان ہے کہ اگر یہ رسول مجھ پر ایک بات بھی گھڑ لیتا تو میں اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتا اور کوئی نہ ہوتا جو اسے میرے ہاتھ سے چھڑاسکے۔ چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے اور میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی تم سے کہتا ہوں اس لئے وہ میری تائید کرتا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتا جاتا ہے اور مجھ سے معجزات پر معجزات ظاہر کراتا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے غیب کا جاننے والا ہے اس پر ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں باطل کا ماننے والے اور اللہ کو نہ ماننے والے ہی نقصان یافتہ اور ذلیل ہیں قیامت کے دن انہیں ان کی بد اعمالی کا نتیجہ بھگتنا پڑھے گا اور جو سرکشیاں دنیا میں کی ہیں سب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ بھلا اللہ کو نہ ماننا اور بتوں کو ماننا اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہوگا ؟ وہ علیم وحکیم اللہ اس کا بدلہ دیئے بغیر ہرگز نہیں رہے گا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْمُشْرِكِينَ فِي تَعَنُّتِهِمْ وَطَلَبِهِمْ آيَاتٍ -يَعْنُونَ -تُرْشِدُهُمْ إِلَى أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ كَمَا جَاءَ صَالِحٌ بِنَاقَتِهِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿قُلْ﴾ يَا مُحَمَّدُ: ﴿إِنَّمَا الآيَاتُ عِنْدَ اللَّهِ﴾ أَيْ: إِنَّمَا أَمْرُ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ، فَإِنَّهُ لَوْ عَلِمَ أَنَّكُمْ تَهْتَدُونَ لَأَجَابَكُمْ إِلَى سُؤَالِكُمْ؛ لَأَنَّ ذَلِكَ سَهْلٌ عَلَيْهِ، يَسِيرٌ لَدَيْهِ، وَلَكِنَّهُ يَعْلَمُ مِنْكُمْ أَنَّمَا قَصْدُكُمُ التَّعَنُّتُ وَالِامْتِحَانُ، فَلَا يُجِيبُكُمْ إِلَى ذَلِكَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالآيَاتِ إِلا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الأوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٥٩] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ﴾ أَيْ: إِنَّمَا بُعِثْتُ نَذِيرًا لَكُمْ بَيِّنَ النِّذَارَةِ فَعَليَّ أَنْ أُبَلِّغَكُمْ رِسَالَةَ اللَّهِ وَ ﴿مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا﴾ [الْكَهْفِ: ١٧] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ﴾ [الْبَقَرَةِ: ٢٧٢] .
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى مُبَيِّنًا كَثْرَةَ جَهْلِهِمْ، وَسَخَافَةَ عَقْلِهِمْ، حَيْثُ طَلَبُوا آيَاتٍ تَدُلُّهُمْ عَلَى صِدْقِ مُحَمَّدٍ فِيمَا جَاءَهُمْ [بِهِ] [[زيادة من ف.]] -وَقَدْ جَاءَهُمْ بِالْكِتَابِ الْعَزِيزِ الَّذِي لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ، الَّذِي هُوَ أَعْظَمُ مِنْ كُلِّ مُعْجِزَةٍ، إِذْ عَجَزَتِ الْفُصَحَاءُ وَالْبُلَغَاءُ عَنْ مُعَارَضَتِهِ، بَلْ عَنْ مُعَارَضَةِ عَشْرِ سُورٍ مِنْ مَثَلِهِ، بَلْ عَنْ مُعَارَضَةِ سُورَةٍ مِنْهُ -فَقَالَ تَعَالَى: ﴿أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنزلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ﴾ أَيْ: أَوْلَمَ يَكْفِهِمْ آيَةً أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ هَذَا الْكِتَابَ الْعَظِيمَ، الَّذِي فِيهِ خَبَرُ مَا قَبْلَهُمْ، وَنَبَأُ مَا بَعْدَهُمْ، وَحُكْمُ مَا بَيْنَهُمْ، وَأَنْتَ رَجُلٌ أُمِّيٌّ لَا تَقْرَأُ وَلَا تَكْتُبُ، وَلَمْ تُخَالِطْ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَجِئْتَهُمْ بِأَخْبَارِ مَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَى، بِبَيَانِ الصَّوَابِ مِمَّا اخْتَلَفُوا فِيهِ، وَبِالْحَقِّ الْوَاضِحِ الْبَيِّنِ الْجَلِيِّ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَوَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ آيَةً أَنْ يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ [الشُّعَرَاءِ: ١٩٧] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَقَالُوا لَوْلا يَأْتِينَا بِآيَةٍ [[في جميع النسخ: (لولا أنزل عليه آية) والصواب ما أثبتناه.]] مِنْ رَبِّهِ أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الأولَى﴾ [طَهَ: ١٣٣] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بن أبي سعيد، عَنْ أَبِيهِ [[في ت: "وروى الإمام أحمد بإسناده".]] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم: "ما من الْأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ". أَخْرَجَاهُ [[في ت: "أخرجه البخاري ومسلم".]] مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ [[المسند (٢/٣٤١) وصحيح البخاري برقم (٤٩٨١) وصحيح مسلم برقم (١٥٢) .]] .
وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴾ أَيْ: إِنَّ فِي هَذَا الْقُرْآنِ: ﴿لَرَحْمَةً﴾ أَيْ: بَيَانًا لِلْحَقِّ، وَإِزَاحَةً لِلْبَاطِلِ وَ ﴿ذِكْرَى﴾ بِمَا فِيهِ حُلُولُ النِّقَمَاتِ وَنُزُولُ الْعِقَابِ بِالْمُكَذِّبِينَ وَالْعَاصِينَ، ﴿لَرَحْمَةً وَذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴾ .
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: قُلْ: ﴿كَفَى بِاللَّهِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ شَهِيدًا﴾ [[في أ: "كفى بالله شهيدا بيني وبينكم" وهو خطأ.]] أَيْ: هُوَ أَعْلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِ مِنَ التَّكْذِيبِ، وَيَعْلَمُ مَا أَقُولُ لَكُمْ مِنْ إِخْبَارِي عَنْهُ، بِأَنَّهُ أَرْسَلَنِي، فَلَوْ كُنْتُ كَاذِبًا عَلَيْهِ لَانْتَقَمَ مِنِّي، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الأقَاوِيلِ. لأخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ. ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ. فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ﴾ [الْحَاقَّةِ: ٤٤-٤٧] ، وَإِنَّمَا أَنَا صَادِقٌ عَلَيْهِ فِيمَا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ، وَلِهَذَا أَيَّدَنِي بِالْمُعْجِزَاتِ الْوَاضِحَاتِ، وَالدَّلَائِلِ الْقَاطِعَاتِ.
﴿يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ﴾ [أَيْ] [[زيادة من ت، أ.]] : لَا تَخْفَى عَلَيْهِ خَافِيَةٌ.
﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوا بِاللَّهِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴾ أَيْ: يَوْمَ مَعَادِهِمْ سَيَجْزِيهِمْ عَلَى مَا فَعَلُوا، وَيُقَابِلُهُمْ عَلَى مَا صَنَعُوا، مِنْ تَكْذِيبِهِمْ بِالْحَقِّ وَاتِّبَاعِهِمُ الْبَاطِلَ، كَذَّبُوا بِرُسُلِ اللَّهِ مَعَ قِيَامِ الْأَدِلَّةِ عَلَى صِدْقِهِمْ، وَآمَنُوا بِالطَّوَاغِيتِ وَالْأَوْثَانِ بِلَا دَلِيلٍ، سَيُجَازِيهِمْ على ذلك، إنه حكيم عليم.
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِٱلْعَذَابِ ۚ وَلَوْلَآ أَجَلٌۭ مُّسَمًّۭى لَّجَآءَهُمُ ٱلْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُم بَغْتَةًۭ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
And they urge you to hasten the punishment. And if not for [the decree of] a specified term, punishment would have reached them. But it will surely come to them suddenly while they perceive not.
اور یہ لوگ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں۔ اگر ایک وقت مقرر نہ (ہو چکا) ہوتا تو اُن پر عذاب آبھی گیا ہوتا۔ اور وہ (کسی وقت میں) اُن پر ضرور ناگہاں آکر رہے گا اور اُن کو معلوم بھی نہ ہوگا
آنان با شتاب از تو عذاب را میطلبند؛ و اگر موعد مقرّری تعیین نشده بود، عذاب (الهی) به سراغ آنان میآمد؛ و سرانجام این عذاب بطور ناگهانی بر آنها نازل میشود در حالی که نمیدانند (و غافلند).
Tafsir Ibn Kathir
And they ask you to hasten on the torment, and had it not been for a term appointed, the torment would certainly have come to them. And surely, it will come upon them suddenly while they perceive not (53)They ask you to hasten on the torment. And verily, Hell, of a surety, will encompass the disbelievers (54)On the Day when the torment shall cover them from above them and from beneath their feet, and it will be said: "Taste what you used to do. (55)
How the Idolators asked for the Torment to be hastened on
Allah tells us of the ignorance of the idolators and how they asked for the punishment of Allah to be hastened so that it would befall them quickly. This is like the Ayah,
وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(And when they said: "O Allah! If this is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment.")(8:32). And Allah says here:
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ ۚ وَلَوْلَا أَجَلٌ مُسَمًّى لَجَاءَهُمُ الْعَذَابُ
(And they ask you to hasten on the torment, and had it not been for a term appointed, the torment would certainly have come to them.) Were it not for the fact that Allah has decreed that the punishment should be delayed until the Day of Resurrection, the torment would have come upon them quickly as they demanded. Then Allah says:
وَلَيَأْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ - يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ
(And surely, it will come upon them suddenly while they perceive not! They ask you to hasten on the torment. And verily, Hell, of a surety, will encompass the disbelievers.) means, 'they ask you to hasten on the punishment, but it will undoubtedly befall them.'
يَوْمَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ
(On the Day when the torment (Hellfire) shall cover them from above them and from beneath their feet,) This is like the Ayah,
لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ۚ
(Theirs will be a bed of Hell, and over them coverings (of Hell-fire))(7:41).
لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ ۚ
(They shall have coverings of Fire, above them and coverings (of Fire) beneath them)(39:16).
لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَنْ وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُورِهِمْ
(If only those who disbelieved knew (the time) when they will not be able to ward off the Fire from their faces, nor from their backs)(21:39). The Fire will cover them from all sides, which is more effective as a physical punishment.
وَيَقُولُ ذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
(and it will be said: "Taste what you used to do.") This is a threat and a rebuke, which is a form of psychological punishment, as in the Ayah,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire (it will be said to them): "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with a measurement.)(54:48-49)
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُونَ - أَفَسِحْرٌ هَٰذَا أَمْ أَنْتُمْ لَا تُبْصِرُونَ - اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ ۖ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny. Is this magic or do you not see? Enter you therein (taste you therein its heat) and whether you are patient of it or impatient of it, it is all the same. You are only being requited for what you used to do.)(52:13-16)
Tafsir Ibn Kathir
موت کے بعد کفار کو عذاب اور مومنوں کو جنت مشرکوں کا اپنی جہالت سے عذاب الٰہی طلب کرنا بیان ہو رہا ہے یہ اللہ کے نبی سے بھی یہی کہتے تھے اور خود اللہ تعالیٰ سے بھی یہی دعائیں کرتے تھے کی جناب باری اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمیں اور کوئی دردناک عذاب کر۔ یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ رب العلمین یہ بات مقرر کرچکا ہے کہ ان کفار کو قیامت کے دن عذاب ہونگے اگر یہ نہ ہوتا تو انکے مانگتے ہی عذاب کے مہیب بادل ان پر برس پڑتے۔ اب بھی یہ یقین مانیں کہ یہ عذاب آئیں گے اور ضرورآئیں گے بلکہ انکی بیخبر ی میں اچانک اور یک بیک آپڑیں گے۔ یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور جہنم بھی انہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں یعنی یقینا انہیں عذاب ہوگا۔ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ وہ جہنم یہی بحر اخضر ہے ستارے اسی میں جھڑیں گے اور سورج چاند اس میں بےنور کرکے ڈال دئیے جائیں گے اور یہ بھڑک اٹھے گا اور جہنہم بن جائے گا۔ مسند احمد میں مرفوع حدیث ہے کہ سمندر ہی جہنم ہے راوی حدیث حضرت یعلی سے لوگوں نے کہا کہ کیا آپ لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت (نَارًا ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۭ 29) 18۔ الكهف :29) یعنی وہ آگ جسے قناتیں گھیرے ہوئے ہیں تو فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں یعلی کی جان ہے کہ میں اس میں ہرگز داخل نہ ہونگا جب تک اللہ کے سامنے پیش نہ کیا جاؤنگا اور مجھے اس کا ایک قطرہ بھی نہ پہنچے گا یہاں تک کہ میں اللہ کے سامنے پیش کیا جاؤں۔ یہ تفسیر بھی بہت غریب ہے اور یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ اس دن انہیں نیچے سے آگ ڈھانک لے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے (لھم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش) ان کے لئے جہنم میں اوڑھنا بچھونا ہے اور آیت میں ہے (لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَــلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَــلٌ ۭ ذٰلِكَ يُخَــوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ ۭ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ 16) 39۔ الزمر :16) یعنی ان کے اوپر نیچے سے آگ ہی کا فرش و سائبان ہوگا۔ اور مقام پر ارشاد ہے (لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حِيْنَ لَا يَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَلَا هُمْ يُنْــصَرُوْنَ 39) 21۔ الأنبیاء :39) یعنی کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیں جبکہ نہ یہ اپنے آگے سے آگ کو ہٹاسکیں گے نہ پیچھے سے ان آیتوں سے معلوم ہوگیا کہ ہر طرف سے ان کفار کو آگ کھا رہی ہوگی آگے سے پیچھے سے اوپر سے نیچے سے دائیں سے بائیں سے۔ اس پر اللہ عالم کی ڈانٹ ڈپٹ اور مصیبت ہوگی۔ ادھر ہر وقت کہا جائے گا لواب عذاب کے مزے چکھو پس ایک تو وہ ظاہری جسمانی عذاب دوسرا یہ باطنی روحانی عذاب۔ اسی کا ذکر آیت (يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ۭ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ 48) 54۔ القمر :48) یعنی جبکہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ لواب آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔ جس دن انہیں دھکے دے دے کر جہنم میں ڈالا جائے گا اور کہا جائے گا یہ وہ جہنم ہے جسے تم جھٹلاتے رہے اب بتاؤ ! یہ جادو ہے ؟ یا تم اندھے ہو ؟ جاؤ اب جہنم میں چلے جاؤ اب تمہارا صبر کرنا یا نہ کرنا یکساں ہے۔ تمہیں اپنے اعمال کا بدلہ ضرور بھگتنا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ جَهْلِ الْمُشْرِكِينَ فِي اسْتِعْجَالِهِمْ عَذَابَ اللَّهِ أَنْ يَقَعَ بِهِمْ، وَبَأْسَ اللَّهِ أَنْ يَحِلَّ عَلَيْهِمْ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ [الْأَنْفَالِ: ٣٢] ، وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَوْلا أَجَلٌ مُسَمًّى لَجَاءَهُمُ الْعَذَابُ﴾ أَيْ: لَوْلَا مَا حَتَّم اللَّهُ مِنْ تَأْخِيرِ الْعَذَابِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَجَاءَهُمُ الْعَذَابُ قَرِيبًا سَرِيعًا كَمَا اسْتَعْجَلُوهُ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَلَيَأْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً﴾ أَيْ: فَجْأَةً، ﴿وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ. يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ﴾ أَيْ: يَسْتَعْجِلُونَ بِالْعَذَابِ، وَهُوَ وَاقِعٌ بِهِمْ لَا مَحَالَةَ.
قَالَ شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاك، عَنْ عِكْرِمة قَالَ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ﴾ ، قَالَ: الْبَحْرُ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ. حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ؛ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: ﴿وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ﴾ : وَجَهَنَّمُ هُوَ هَذَا الْبَحْرُ الْأَخْضَرُ، تُنْتَثَرُ الْكَوَاكِبُ فِيهِ، وتُكور فِيهِ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ، ثُمَّ يُسْتَوْقَدُ فَيَكُونُ هُوَ جَهَنَّمَ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حُيَي، حَدَّثَنَا [[في ت: "وروى الإمام أحمد بسنده عن".]] صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: "الْبَحْرُ هُوَ جَهَنَّمُ". قَالُوا: لِيَعْلَى، فَقَالَ: أَلَا تَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: ﴿نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا﴾ [الْكَهْفِ: ٢٩] ، قَالَ: لَا وَالَّذِي نَفْسُ يَعْلَى بِيَدِهِ لَا أَدْخُلُهَا أَبَدًا حَتَّى أُعْرَضَ عَلَى اللَّهِ، وَلَا يُصِيبُنِي مِنْهَا قَطْرَةٌ حَتَّى أُعْرَضَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ [[المسند (٤/٢٣٣) وقال الهيثمي في المجمع (١٠/٣٨٦) "رجاله ثقات".]] .
هَذَا تَفْسِيرٌ غَرِيبٌ، وَحَدِيثٌ غَرِيبٌ جِدًّا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿يَوْمَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ﴾ ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٤١] ، وَقَالَ: ﴿لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ﴾ [الزُّمَرِ: ١٦] ، وَقَالَ: ﴿لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَنْ وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلا عَنْ ظُهُورِهِمْ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ: ٣٩] ، فَالنَّارُ تَغْشَاهُمْ مِنْ سَائِرِ جِهَاتِهِمْ، وَهَذَا أَبْلَغُ فِي الْعَذَابِ الْحِسِّيِّ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَقُولُ ذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ ، تَهْدِيدٌ وَتَقْرِيعٌ وَتَوْبِيخٌ، وَهَذَا عَذَابٌ مَعْنَوِيٌّ عَلَى النُّفُوسِ، كَقَوْلِهِ: ﴿يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ. إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ﴾ [الْقَمَرِ: ٤٨، ٤٩] ، وَقَالَ ﴿يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا. هَذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُونَ. أَفَسِحْرٌ هَذَا أَمْ أَنْتُمْ لَا تُبْصِرُونَ. اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ [الطور: ١٣-١٦] .
يَسْتَعْجِلُونَكَ بِٱلْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌۢ بِٱلْكَٰفِرِينَ
They urge you to hasten the punishment. And indeed, Hell will be encompassing of the disbelievers
یہ تم سے عذاب کے لئے جلدی کررہے ہیں۔ اور دوزخ تو کافروں کو گھیر لینے والی ہے
آنان با عجله از تو عذاب میطلبند، در حالی که جهنم به کافران احاطه دارد!
Tafsir Ibn Kathir
And they ask you to hasten on the torment, and had it not been for a term appointed, the torment would certainly have come to them. And surely, it will come upon them suddenly while they perceive not (53)They ask you to hasten on the torment. And verily, Hell, of a surety, will encompass the disbelievers (54)On the Day when the torment shall cover them from above them and from beneath their feet, and it will be said: "Taste what you used to do. (55)
How the Idolators asked for the Torment to be hastened on
Allah tells us of the ignorance of the idolators and how they asked for the punishment of Allah to be hastened so that it would befall them quickly. This is like the Ayah,
وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(And when they said: "O Allah! If this is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment.")(8:32). And Allah says here:
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ ۚ وَلَوْلَا أَجَلٌ مُسَمًّى لَجَاءَهُمُ الْعَذَابُ
(And they ask you to hasten on the torment, and had it not been for a term appointed, the torment would certainly have come to them.) Were it not for the fact that Allah has decreed that the punishment should be delayed until the Day of Resurrection, the torment would have come upon them quickly as they demanded. Then Allah says:
وَلَيَأْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ - يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ
(And surely, it will come upon them suddenly while they perceive not! They ask you to hasten on the torment. And verily, Hell, of a surety, will encompass the disbelievers.) means, 'they ask you to hasten on the punishment, but it will undoubtedly befall them.'
يَوْمَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ
(On the Day when the torment (Hellfire) shall cover them from above them and from beneath their feet,) This is like the Ayah,
لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ۚ
(Theirs will be a bed of Hell, and over them coverings (of Hell-fire))(7:41).
لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ ۚ
(They shall have coverings of Fire, above them and coverings (of Fire) beneath them)(39:16).
لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَنْ وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُورِهِمْ
(If only those who disbelieved knew (the time) when they will not be able to ward off the Fire from their faces, nor from their backs)(21:39). The Fire will cover them from all sides, which is more effective as a physical punishment.
وَيَقُولُ ذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
(and it will be said: "Taste what you used to do.") This is a threat and a rebuke, which is a form of psychological punishment, as in the Ayah,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire (it will be said to them): "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with a measurement.)(54:48-49)
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُونَ - أَفَسِحْرٌ هَٰذَا أَمْ أَنْتُمْ لَا تُبْصِرُونَ - اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ ۖ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny. Is this magic or do you not see? Enter you therein (taste you therein its heat) and whether you are patient of it or impatient of it, it is all the same. You are only being requited for what you used to do.)(52:13-16)
Tafsir Ibn Kathir
موت کے بعد کفار کو عذاب اور مومنوں کو جنت مشرکوں کا اپنی جہالت سے عذاب الٰہی طلب کرنا بیان ہو رہا ہے یہ اللہ کے نبی سے بھی یہی کہتے تھے اور خود اللہ تعالیٰ سے بھی یہی دعائیں کرتے تھے کی جناب باری اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمیں اور کوئی دردناک عذاب کر۔ یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ رب العلمین یہ بات مقرر کرچکا ہے کہ ان کفار کو قیامت کے دن عذاب ہونگے اگر یہ نہ ہوتا تو انکے مانگتے ہی عذاب کے مہیب بادل ان پر برس پڑتے۔ اب بھی یہ یقین مانیں کہ یہ عذاب آئیں گے اور ضرورآئیں گے بلکہ انکی بیخبر ی میں اچانک اور یک بیک آپڑیں گے۔ یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور جہنم بھی انہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں یعنی یقینا انہیں عذاب ہوگا۔ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ وہ جہنم یہی بحر اخضر ہے ستارے اسی میں جھڑیں گے اور سورج چاند اس میں بےنور کرکے ڈال دئیے جائیں گے اور یہ بھڑک اٹھے گا اور جہنہم بن جائے گا۔ مسند احمد میں مرفوع حدیث ہے کہ سمندر ہی جہنم ہے راوی حدیث حضرت یعلی سے لوگوں نے کہا کہ کیا آپ لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت (نَارًا ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۭ 29) 18۔ الكهف :29) یعنی وہ آگ جسے قناتیں گھیرے ہوئے ہیں تو فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں یعلی کی جان ہے کہ میں اس میں ہرگز داخل نہ ہونگا جب تک اللہ کے سامنے پیش نہ کیا جاؤنگا اور مجھے اس کا ایک قطرہ بھی نہ پہنچے گا یہاں تک کہ میں اللہ کے سامنے پیش کیا جاؤں۔ یہ تفسیر بھی بہت غریب ہے اور یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ اس دن انہیں نیچے سے آگ ڈھانک لے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے (لھم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش) ان کے لئے جہنم میں اوڑھنا بچھونا ہے اور آیت میں ہے (لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَــلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَــلٌ ۭ ذٰلِكَ يُخَــوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ ۭ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ 16) 39۔ الزمر :16) یعنی ان کے اوپر نیچے سے آگ ہی کا فرش و سائبان ہوگا۔ اور مقام پر ارشاد ہے (لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حِيْنَ لَا يَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَلَا هُمْ يُنْــصَرُوْنَ 39) 21۔ الأنبیاء :39) یعنی کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیں جبکہ نہ یہ اپنے آگے سے آگ کو ہٹاسکیں گے نہ پیچھے سے ان آیتوں سے معلوم ہوگیا کہ ہر طرف سے ان کفار کو آگ کھا رہی ہوگی آگے سے پیچھے سے اوپر سے نیچے سے دائیں سے بائیں سے۔ اس پر اللہ عالم کی ڈانٹ ڈپٹ اور مصیبت ہوگی۔ ادھر ہر وقت کہا جائے گا لواب عذاب کے مزے چکھو پس ایک تو وہ ظاہری جسمانی عذاب دوسرا یہ باطنی روحانی عذاب۔ اسی کا ذکر آیت (يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ۭ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ 48) 54۔ القمر :48) یعنی جبکہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ لواب آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔ جس دن انہیں دھکے دے دے کر جہنم میں ڈالا جائے گا اور کہا جائے گا یہ وہ جہنم ہے جسے تم جھٹلاتے رہے اب بتاؤ ! یہ جادو ہے ؟ یا تم اندھے ہو ؟ جاؤ اب جہنم میں چلے جاؤ اب تمہارا صبر کرنا یا نہ کرنا یکساں ہے۔ تمہیں اپنے اعمال کا بدلہ ضرور بھگتنا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ جَهْلِ الْمُشْرِكِينَ فِي اسْتِعْجَالِهِمْ عَذَابَ اللَّهِ أَنْ يَقَعَ بِهِمْ، وَبَأْسَ اللَّهِ أَنْ يَحِلَّ عَلَيْهِمْ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ [الْأَنْفَالِ: ٣٢] ، وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَوْلا أَجَلٌ مُسَمًّى لَجَاءَهُمُ الْعَذَابُ﴾ أَيْ: لَوْلَا مَا حَتَّم اللَّهُ مِنْ تَأْخِيرِ الْعَذَابِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَجَاءَهُمُ الْعَذَابُ قَرِيبًا سَرِيعًا كَمَا اسْتَعْجَلُوهُ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَلَيَأْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً﴾ أَيْ: فَجْأَةً، ﴿وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ. يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ﴾ أَيْ: يَسْتَعْجِلُونَ بِالْعَذَابِ، وَهُوَ وَاقِعٌ بِهِمْ لَا مَحَالَةَ.
قَالَ شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاك، عَنْ عِكْرِمة قَالَ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ﴾ ، قَالَ: الْبَحْرُ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ. حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ؛ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: ﴿وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ﴾ : وَجَهَنَّمُ هُوَ هَذَا الْبَحْرُ الْأَخْضَرُ، تُنْتَثَرُ الْكَوَاكِبُ فِيهِ، وتُكور فِيهِ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ، ثُمَّ يُسْتَوْقَدُ فَيَكُونُ هُوَ جَهَنَّمَ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حُيَي، حَدَّثَنَا [[في ت: "وروى الإمام أحمد بسنده عن".]] صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: "الْبَحْرُ هُوَ جَهَنَّمُ". قَالُوا: لِيَعْلَى، فَقَالَ: أَلَا تَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: ﴿نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا﴾ [الْكَهْفِ: ٢٩] ، قَالَ: لَا وَالَّذِي نَفْسُ يَعْلَى بِيَدِهِ لَا أَدْخُلُهَا أَبَدًا حَتَّى أُعْرَضَ عَلَى اللَّهِ، وَلَا يُصِيبُنِي مِنْهَا قَطْرَةٌ حَتَّى أُعْرَضَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ [[المسند (٤/٢٣٣) وقال الهيثمي في المجمع (١٠/٣٨٦) "رجاله ثقات".]] .
هَذَا تَفْسِيرٌ غَرِيبٌ، وَحَدِيثٌ غَرِيبٌ جِدًّا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿يَوْمَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ﴾ ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٤١] ، وَقَالَ: ﴿لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ﴾ [الزُّمَرِ: ١٦] ، وَقَالَ: ﴿لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَنْ وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلا عَنْ ظُهُورِهِمْ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ: ٣٩] ، فَالنَّارُ تَغْشَاهُمْ مِنْ سَائِرِ جِهَاتِهِمْ، وَهَذَا أَبْلَغُ فِي الْعَذَابِ الْحِسِّيِّ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَقُولُ ذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ ، تَهْدِيدٌ وَتَقْرِيعٌ وَتَوْبِيخٌ، وَهَذَا عَذَابٌ مَعْنَوِيٌّ عَلَى النُّفُوسِ، كَقَوْلِهِ: ﴿يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ. إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ﴾ [الْقَمَرِ: ٤٨، ٤٩] ، وَقَالَ ﴿يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا. هَذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُونَ. أَفَسِحْرٌ هَذَا أَمْ أَنْتُمْ لَا تُبْصِرُونَ. اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ [الطور: ١٣-١٦] .
يَوْمَ يَغْشَىٰهُمُ ٱلْعَذَابُ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ وَيَقُولُ ذُوقُوا۟ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
On the Day the punishment will cover them from above them and from below their feet and it is said, "Taste [the result of] what you used to do."
جس دن عذاب اُن کو اُن کے اُوپر سے اور نیچے سے ڈھانک لے گا اور (خدا) فرمائے گا کہ جو کام تم کیا کرتے تھے (اب) اُن کا مزہ چکھو
آن روز که عذاب (الهی) آنها را از بالای سر و پایین پایشان فرامیگیرد و به آنها میگوید: «بچشید آنچه را عمل میکردید» (روز سخت و دردناکی برای آنهاست!)
Tafsir Ibn Kathir
And they ask you to hasten on the torment, and had it not been for a term appointed, the torment would certainly have come to them. And surely, it will come upon them suddenly while they perceive not (53)They ask you to hasten on the torment. And verily, Hell, of a surety, will encompass the disbelievers (54)On the Day when the torment shall cover them from above them and from beneath their feet, and it will be said: "Taste what you used to do. (55)
How the Idolators asked for the Torment to be hastened on
Allah tells us of the ignorance of the idolators and how they asked for the punishment of Allah to be hastened so that it would befall them quickly. This is like the Ayah,
وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(And when they said: "O Allah! If this is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment.")(8:32). And Allah says here:
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ ۚ وَلَوْلَا أَجَلٌ مُسَمًّى لَجَاءَهُمُ الْعَذَابُ
(And they ask you to hasten on the torment, and had it not been for a term appointed, the torment would certainly have come to them.) Were it not for the fact that Allah has decreed that the punishment should be delayed until the Day of Resurrection, the torment would have come upon them quickly as they demanded. Then Allah says:
وَلَيَأْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ - يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ
(And surely, it will come upon them suddenly while they perceive not! They ask you to hasten on the torment. And verily, Hell, of a surety, will encompass the disbelievers.) means, 'they ask you to hasten on the punishment, but it will undoubtedly befall them.'
يَوْمَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ
(On the Day when the torment (Hellfire) shall cover them from above them and from beneath their feet,) This is like the Ayah,
لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ۚ
(Theirs will be a bed of Hell, and over them coverings (of Hell-fire))(7:41).
لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ ۚ
(They shall have coverings of Fire, above them and coverings (of Fire) beneath them)(39:16).
لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَنْ وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُورِهِمْ
(If only those who disbelieved knew (the time) when they will not be able to ward off the Fire from their faces, nor from their backs)(21:39). The Fire will cover them from all sides, which is more effective as a physical punishment.
وَيَقُولُ ذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
(and it will be said: "Taste what you used to do.") This is a threat and a rebuke, which is a form of psychological punishment, as in the Ayah,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire (it will be said to them): "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with a measurement.)(54:48-49)
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا - هَٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُونَ - أَفَسِحْرٌ هَٰذَا أَمْ أَنْتُمْ لَا تُبْصِرُونَ - اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ ۖ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
(The Day when they will be pushed down by force to the fire of Hell, with a horrible, forceful pushing. This is the Fire which you used to deny. Is this magic or do you not see? Enter you therein (taste you therein its heat) and whether you are patient of it or impatient of it, it is all the same. You are only being requited for what you used to do.)(52:13-16)
Tafsir Ibn Kathir
موت کے بعد کفار کو عذاب اور مومنوں کو جنت مشرکوں کا اپنی جہالت سے عذاب الٰہی طلب کرنا بیان ہو رہا ہے یہ اللہ کے نبی سے بھی یہی کہتے تھے اور خود اللہ تعالیٰ سے بھی یہی دعائیں کرتے تھے کی جناب باری اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمیں اور کوئی دردناک عذاب کر۔ یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ رب العلمین یہ بات مقرر کرچکا ہے کہ ان کفار کو قیامت کے دن عذاب ہونگے اگر یہ نہ ہوتا تو انکے مانگتے ہی عذاب کے مہیب بادل ان پر برس پڑتے۔ اب بھی یہ یقین مانیں کہ یہ عذاب آئیں گے اور ضرورآئیں گے بلکہ انکی بیخبر ی میں اچانک اور یک بیک آپڑیں گے۔ یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور جہنم بھی انہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں یعنی یقینا انہیں عذاب ہوگا۔ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ وہ جہنم یہی بحر اخضر ہے ستارے اسی میں جھڑیں گے اور سورج چاند اس میں بےنور کرکے ڈال دئیے جائیں گے اور یہ بھڑک اٹھے گا اور جہنہم بن جائے گا۔ مسند احمد میں مرفوع حدیث ہے کہ سمندر ہی جہنم ہے راوی حدیث حضرت یعلی سے لوگوں نے کہا کہ کیا آپ لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت (نَارًا ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۭ 29) 18۔ الكهف :29) یعنی وہ آگ جسے قناتیں گھیرے ہوئے ہیں تو فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں یعلی کی جان ہے کہ میں اس میں ہرگز داخل نہ ہونگا جب تک اللہ کے سامنے پیش نہ کیا جاؤنگا اور مجھے اس کا ایک قطرہ بھی نہ پہنچے گا یہاں تک کہ میں اللہ کے سامنے پیش کیا جاؤں۔ یہ تفسیر بھی بہت غریب ہے اور یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ اس دن انہیں نیچے سے آگ ڈھانک لے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے (لھم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش) ان کے لئے جہنم میں اوڑھنا بچھونا ہے اور آیت میں ہے (لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَــلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَــلٌ ۭ ذٰلِكَ يُخَــوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ ۭ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ 16) 39۔ الزمر :16) یعنی ان کے اوپر نیچے سے آگ ہی کا فرش و سائبان ہوگا۔ اور مقام پر ارشاد ہے (لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حِيْنَ لَا يَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَلَا هُمْ يُنْــصَرُوْنَ 39) 21۔ الأنبیاء :39) یعنی کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیں جبکہ نہ یہ اپنے آگے سے آگ کو ہٹاسکیں گے نہ پیچھے سے ان آیتوں سے معلوم ہوگیا کہ ہر طرف سے ان کفار کو آگ کھا رہی ہوگی آگے سے پیچھے سے اوپر سے نیچے سے دائیں سے بائیں سے۔ اس پر اللہ عالم کی ڈانٹ ڈپٹ اور مصیبت ہوگی۔ ادھر ہر وقت کہا جائے گا لواب عذاب کے مزے چکھو پس ایک تو وہ ظاہری جسمانی عذاب دوسرا یہ باطنی روحانی عذاب۔ اسی کا ذکر آیت (يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ۭ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ 48) 54۔ القمر :48) یعنی جبکہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ لواب آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔ جس دن انہیں دھکے دے دے کر جہنم میں ڈالا جائے گا اور کہا جائے گا یہ وہ جہنم ہے جسے تم جھٹلاتے رہے اب بتاؤ ! یہ جادو ہے ؟ یا تم اندھے ہو ؟ جاؤ اب جہنم میں چلے جاؤ اب تمہارا صبر کرنا یا نہ کرنا یکساں ہے۔ تمہیں اپنے اعمال کا بدلہ ضرور بھگتنا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ جَهْلِ الْمُشْرِكِينَ فِي اسْتِعْجَالِهِمْ عَذَابَ اللَّهِ أَنْ يَقَعَ بِهِمْ، وَبَأْسَ اللَّهِ أَنْ يَحِلَّ عَلَيْهِمْ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ [الْأَنْفَالِ: ٣٢] ، وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَوْلا أَجَلٌ مُسَمًّى لَجَاءَهُمُ الْعَذَابُ﴾ أَيْ: لَوْلَا مَا حَتَّم اللَّهُ مِنْ تَأْخِيرِ الْعَذَابِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَجَاءَهُمُ الْعَذَابُ قَرِيبًا سَرِيعًا كَمَا اسْتَعْجَلُوهُ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿وَلَيَأْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً﴾ أَيْ: فَجْأَةً، ﴿وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ. يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ﴾ أَيْ: يَسْتَعْجِلُونَ بِالْعَذَابِ، وَهُوَ وَاقِعٌ بِهِمْ لَا مَحَالَةَ.
قَالَ شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاك، عَنْ عِكْرِمة قَالَ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ﴾ ، قَالَ: الْبَحْرُ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ. حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ؛ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: ﴿وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ﴾ : وَجَهَنَّمُ هُوَ هَذَا الْبَحْرُ الْأَخْضَرُ، تُنْتَثَرُ الْكَوَاكِبُ فِيهِ، وتُكور فِيهِ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ، ثُمَّ يُسْتَوْقَدُ فَيَكُونُ هُوَ جَهَنَّمَ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حُيَي، حَدَّثَنَا [[في ت: "وروى الإمام أحمد بسنده عن".]] صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: "الْبَحْرُ هُوَ جَهَنَّمُ". قَالُوا: لِيَعْلَى، فَقَالَ: أَلَا تَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: ﴿نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا﴾ [الْكَهْفِ: ٢٩] ، قَالَ: لَا وَالَّذِي نَفْسُ يَعْلَى بِيَدِهِ لَا أَدْخُلُهَا أَبَدًا حَتَّى أُعْرَضَ عَلَى اللَّهِ، وَلَا يُصِيبُنِي مِنْهَا قَطْرَةٌ حَتَّى أُعْرَضَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ [[المسند (٤/٢٣٣) وقال الهيثمي في المجمع (١٠/٣٨٦) "رجاله ثقات".]] .
هَذَا تَفْسِيرٌ غَرِيبٌ، وَحَدِيثٌ غَرِيبٌ جِدًّا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿يَوْمَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ﴾ ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٤١] ، وَقَالَ: ﴿لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ﴾ [الزُّمَرِ: ١٦] ، وَقَالَ: ﴿لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَنْ وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلا عَنْ ظُهُورِهِمْ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ: ٣٩] ، فَالنَّارُ تَغْشَاهُمْ مِنْ سَائِرِ جِهَاتِهِمْ، وَهَذَا أَبْلَغُ فِي الْعَذَابِ الْحِسِّيِّ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَيَقُولُ ذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ ، تَهْدِيدٌ وَتَقْرِيعٌ وَتَوْبِيخٌ، وَهَذَا عَذَابٌ مَعْنَوِيٌّ عَلَى النُّفُوسِ، كَقَوْلِهِ: ﴿يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ. إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ﴾ [الْقَمَرِ: ٤٨، ٤٩] ، وَقَالَ ﴿يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا. هَذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُونَ. أَفَسِحْرٌ هَذَا أَمْ أَنْتُمْ لَا تُبْصِرُونَ. اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ [الطور: ١٣-١٦] .
يَٰعِبَادِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّ أَرْضِى وَٰسِعَةٌۭ فَإِيَّٰىَ فَٱعْبُدُونِ
O My servants who have believed, indeed My earth is spacious, so worship only Me.
اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو میری زمین فراخ ہے تو میری ہی عبادت کرو
ای بندگان من که ایمان آوردهاید! زمین من وسیع است، پس تنها مرا بپرستید (و در برابر فشارهای دشمنان تسلیم نشوید)!
Tafsir Ibn Kathir
O My servants who believe! Certainly, spacious is My earth. Therefore worship Me (56)Everyone shall taste death. Then unto Us you shall be returned (57)And those who believe and do righteous good deeds, to them We shall surely give lofty dwellings in Paradise, beneath which rivers flow, to live therein forever. Excellent is the reward for the workers (58)Those who are patient, and put their trust in their Lord (59)And so many a moving creature carries not its own provision! Allah provides for it and for you. And He is the All-Hearer, the All-Knower (60)
Advice to migrate and the Promise of Provision and a Goodly Reward
Allah commands His believing servants to migrate from a land in which they are not able to establish Islam, to the spacious earth of Allah where they can do so, by declaring Allah to be One and worshipping Him as He has commanded. Allah says:
يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ
(O My servants who believe! Certainly, spacious is My earth. Therefore worship Me.) When things became too difficult for the believers in Makkah who were in a weak position and were oppressed, they left and migrated to Ethiopia, where they were able to practice their religion. The Muslims found Ethiopia the best place for guest; where Ashamah, the Negus or king, may Allah have mercy on him, gave them refuge, helped them, supported them, and honored them in his land. Later, the Messenger of Allah ﷺ and his remaining Companions migrated to Al-Madinah, formerly known as Yathrib, may Allah protect it. Then Allah says:
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
(Everyone shall taste death. Then unto Us you shall be returned.) meaning, 'wherever you are, death with catch up with you, so always obey Allah and be where Allah commands you to be, for this is better for you. Death is inevitable and there is no escape from it, and then you will return to Allah, and whoever was obedient to Him will have the best reward.' Allah says:
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ
(And those who believe and do righteous good deeds, to them We shall surely give lofty dwellings in Paradise, underneath which rivers flow,) meaning, 'We shall cause them to dwell in lofty homes in Paradise under which various kinds of rivers flow – water, wine, honey and milk – which they can direct and cause to flow wherever they wish.'
خَالِدِينَ فِيهَا
(to live therein forever.) means, they will remain there forever, never wanting to leave.
نِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ
(Excellent is the reward for the workers.) these rooms will be a blessed reward for the good deeds of the believers,
الَّذِينَ صَبَرُوا
(Those who are patient,) in adhering to their religion, who migrated for the sake of Allah and fought the enemy, leaving behind their families and relatives to seek Allah's Face, and hoping for that which is with Him, believing His promise.
Ibn Abi Hatim, may Allah have mercy on him, recorded from Abu Mu'aniq Al-Ash'ari that Abu Malik Al-Ash'ari told him that the Messenger of Allah ﷺ told him:
إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللهُ تَعَالَى لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَطَابَ الْكَلَامَ، وَتَابَعَ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ، وَقَامَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ
(In Paradise there are rooms whose outside can be seen from the inside, and their inside can be seen from the outside; Allah has prepared them for those who feed others, who speak well, who pray and fast continually, and who stand in prayer at night while people are asleep.)
وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(and put their trust in their Lord.) in all their affairs, spiritual and worldly alike. Then Allah tells us that provision is not limited only to one place, but it is given to all His creatures no matter where they are. Indeed, when the Muhajirin migrated, their provision was greater and better than before, because after a short time they became rulers in the land, in all regions. Allah says:
وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا
(And so many a moving creature carries not its own provision!) meaning, it does not have the ability to gather its provision and save it for tomorrow.
اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ
(Allah provides for it and for you.) means, Allah allots its provision to it even though it is weak, and makes it easy for it. He sends provision to every creature in the appropriate manner, even the ants in the depths of the earth, the birds in the air and the fish in the sea. Allah says:
وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
(And no moving creature is there on earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit. All is in a Clear Book.)(11:6)
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And He is the All-Hearer, the All-Knower.) means, He hears all that His servants say and He knows their every movements.
Tafsir Ibn Kathir
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی نے ان کی پوری تائید ونصرت کی اور وہاں وہ بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ نے اور خود حضور ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو موت کے نیچے سے نجات نہیں پاسکتے پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جاکر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایماندار نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلندی وبالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی کہیں شراب طہور کی کہیں شہد کی کہیں دودھ کی۔ یہ چشمیں خود بخود جہاں چاہیں بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں رہیں گے نہ وہاں سے نکالیں جائیں نہ ہٹائے جائیں گے نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالا خانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی۔ اس کے دشمنوں کو ترک کیا اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات ماردی۔ ابن ابی حاتم میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں خوش کلام نرم گو ہوں۔ روزے نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوتے ہوئے ہوں۔ یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہوں یا دنیوی اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقیسم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو اسے وہ وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہوگئے اور بادشاہ بن گئے فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے وہ کسی بھی صورت اپنی مخلوق کو نہیں بھولتا۔ چینٹیوں کو ان کے سوراخوں میں پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) یعنی کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں میں رسول ﷺ کے ساتھ چلا آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کرکے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا حضور ﷺ مجھ سے تو یہ ردی کجھوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کھانا ملا ہی نہیں۔ سنو اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر وکسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر تیرا کیا حال ہوگا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہوگا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کرلیاکریں گے۔ اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودا ہوجائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے جو آیت (وکاین الخ) ، نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار ودرہم جمع کروں نہ کل کے لئے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابو العطوف جزی ضعیف ہے۔ یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر وبال سفید ہوتے ہیں یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کرکے بھاگ جاتا ہے کچھ دنوں کے بعد ان پروں کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو نفع اٹھاؤ گے روزے رکھو تندرست رہو گے جہاد کرو غنیمت ملے گی۔ ایک اور روایت میں ہے جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا أَمْرٌ مِنَ اللَّهِ لِعِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ بِالْهِجْرَةِ مِنَ الْبَلَدِ الَّذِي لَا يَقْدِرُونَ فِيهِ عَلَى إِقَامَةِ الدِّينِ، إِلَى أَرْضِ اللَّهِ الْوَاسِعَةِ، حَيْثُ يُمْكِنُ إِقَامَةُ الدِّينِ، بِأَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ وَيَعْبُدُوهُ كَمَا أمرهم؛ ولهذا قال: ﴿يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ﴾ .
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي جُبَيْر بْنُ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى [[في ت: "روى الإمام أحمد بإسناده عن".]] الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "الْبِلَادُ بِلَادُ اللَّهِ، وَالْعِبَادُ عِبَادُ اللَّهِ، فَحَيْثُمَا أصبتَ خَيْرًا فَأَقِمْ" [[المسند (١/١٦٦) وقال الهيثمي في المجمع (٤/٧٢) "فيه جماعة لم أعرفهم".]] .
وَلِهَذَا لَمَّا ضَاقَ عَلَى الْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ مُقَامَهُمْ بِهَا، خَرَجُوا مُهَاجِرِينَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، لِيَأْمَنُوا، عَلَى دِينِهِمْ هُنَاكَ، فَوَجَدُوا هُنَاكَ خَيْرَ الْمَنْزِلَيْنِ، أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيَّ مَلِكَ الْحَبَشَةِ، رَحِمَهُ اللَّهُ، آوَاهُمْ وَأَيَّدَهُمْ بِنَصْرِهِ، وَجَعَلَهُمْ شُيُوما بِبِلَادِهِ. ثُمَّ بَعْدَ ذَلِكَ هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَصْحَابُهُ الْبَاقُونَ إِلَى المدينة النبوية يثرب المطهرة [[بعدها في ت- وأظنها من الناسخ - ما يلي: "أما قصة هجرة الحبشة، فقال ابن إسحاق: حدثني الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الحارث بن هشام، عن أمه أم سلمة بنت أبي أمية بن المغيرة زَوْجَ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ: لما نزلنا بأرض الحبشة جاورنا خير جار النجاشي، آمنا على ديننا، وعبدنا الله لا نؤذى، ولا نسمع شيئا نكرهه فلما بلغ ذلك قريشا ائتمروا بينهم، أن يبعثوا إلينا رجلين جلدين، وأن يهدوا إلى النجاشي هدايا مما يُستطرف من متاع مكة، وكان أعجب ما يأتيه منها الأدم، فجمعوا له أدما كثيرا، ولم يتركوا من بطارقته بطريقا إلا أهدوا له هدية وقالوا لهما: ادفعوا إلى كل بطريق هديته قبل أن تكلموا النجاشي، ثم قدموا إلى النجاشي هداياه، ثم سلوه أن يسلمهم إليكما قبل أن يكلمهم.
قالت: فخرجنا حتى قدمنا عليه، ونحن عنده بخير دار، عند خير جار فلم يبق بطريق من بطارقته إلا دفعوا إليه هديته قبل أن يكلما النجاشي، ثم قالا لكل بطريق: إنه قد ضوى إلى بلدك منا غلمان سفهاء فارقوا دين قومهم، ولم يدخلوا في دينكم، وجاءوا بدين مبتدع لا نعرفه نحن ولا أنتم، وقد بعثنا إلى الملك فيهم أشراف قومهم ليردوهم إليهم، فإذا كلمنا الملك فيهم فأشيروا عليه أن يسلمهم إلينا، ولا يكلمهم فإن قومهم أعلى بهم دينا وأعلم بما عابوا عليهم؛ فقالوا لهما: نعم، ثم أنهما قدما هداياهما إلى النجاشي فقبلها منهما ثم كلماه فقالا: أيها الملك إنه قد ضوى إلى بلدك منا غلمان سفهاء فارقوا دين قومهم، ولم يدخلوا في دينك، جاءوا بدين مبتدع لا نعرفه نحن ولا أنت، وقد بعثنا إليك فيهم أشراف قومهم وآباءهم وأعمامهم وعشائرهم لتردهم إليهم فهم أعلى بهم عينا، وأعلم بما عابوا عليهم وعاتبوهم فيه.
قالت: ولم يكن شيء أبغض إلى عبد الله بن أبي ربيعة وعمرو بن العاص من أن يسمع كلامهم النجاشي، فقالت بطارقته حوله: صدقوا أيها الملك قومهم أعلى بهم عينا وأعلم بما عابوا عليهم فأسلمهم إليهم ليردوهم إلى بلادهم وقومهم، فغضب النجاشي وقال: لاها الله لا أسلمهم إليهم أبدا ولا أكاد، قوم جاوروني، ونزلوا بلادي، واختاروني على مَنْ سواي، حتى أدعوهم فأسألهم عما يقول هذان الرجلان. فإن كانوا كما يقولون أسلمتهم إليهما ورددتهم إلى بلادهم، وإن كانوا على غير ذلك منعتهم وأحسنت جوارهم ما جاوروني ونزلوا بلادي.
قالت: ثم أرسل إلى أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فدعاهم فلما جاءهم رسوله اجتمعوا، ثم قال بعضهم لبعض: ما تقولون لهذا الرجل إذا جئتموه؟ قالوا: نقول: والله ما علمنا وما أمرنا به نبينا صلى الله عليه وسلم، كائنا في ذلك ما هو كائن، قال: فلما جاءوه وقد دعا النجاشي أساقفته فنشروا مصاحفهم حوله، فلما دخلوا عليه سألهم، فقال: ما هذا الذي فارقتم فيه قومكم ولم تدخلوا في ديني ولا دين أحد من هذه الملل.
قالت: فكان الذي كلمه جعفر بن أبي طالب. فقال: أيها الملك كنا قومًا أهل جاهلية نعبد الأصنام، ونأكل الميتة، ونأتي الفواحش، ونقطع الأرحام، ونسيء الجوار، ويأكل القوي منا الضعيف فكنا على ذلك، حتى بعث الله إلينا رسولا نعرف نسبه وصدقه وأمانته وعفافه، فدعانا إلى الله لنوحده، ونخلع ما كنا نعبد وآباؤنا من دونه، الحجارة والأوثان، وأمرنا بصدق الحديث، وأداء الأمانة، وصلة الرحم، وحسن الجوار، والكف عن المحارم والدماء، ونهانا عن الفواحش، وقول الزور، وأكل مال اليتيم وقذف المحصنة، وأمرنا أن نعبد الله ولا نشرك به شيئا، وأمرنا بالصلاة والزكاة والصيام. قالت: فعد عليه أمور الإسلام. فصدقناه وآمنا به، واتبعناه على ما جاء به من الله عز جل، فعبدنا الله لا نشرك به شيئا، وحرمنا ما حرم علينا، وأحللنا ما أحل لنا، فعدا علينا قومنا، فعذبونا، وفتنونا عن ديننا؛ ليردونا إلى عبادة الأوثان من عبادة الله، وأن نستحل كما كنا نستحل من الخبائث، فلما قهرونا وظلمونا وضيقوا علينا، وحالوا بيننا وبين ديننا، خرجنا إلى بلدك، واخترناك على مَنْ سواك، ورغبنا في جوارك، ورجونا أن لا نظلم عندك أيها الملك. قالت: فقال له النجاشي: وهل عندك مما جاء به من عند الله شيء؟ قالت: فقال له جعفر: نعم. فقال له النجاشي: فاقرأه علي، فقرأ عليه صدرا من (كهيعص) .
قالت: فبكى النجاشي حتى اخضلت لحيته، وبكى أساقفته حتى أخضلوا مصاحفهم، حين سمعوا ما يتلى عليهم. وقال النجاشي: إن هذا والذي جاء به موسى ليخرج من مشكاة واحدة. انطلقا. لا والله لا أسلمهم إليكما ولا أكاد. قالت: فلما خرجا من عنده. قال عمرو بن العاص: والله لآتينه غدا بما أستأصل به خضراءهم.
قالت: فقال له عبد الله بن أبي ربيعة - وكان أتقى الرجلين فينا -: لا تفعل فإن لهم أرحاما، وإن كانوا قد خالفونا. قال: والله لأخبرنه أنهم يقولون في عيسى قولا عظيما. فأرسل إليهم فسألهم عما يقولون فيه. قالت: فأرسل إليهم ليسألهم عنه. قالت: ولم ينزل بنا مثلها، فاجتمع القوم. فقال بعضهم لبعض: ما تقولون في عيسى إن سألكم عنه. قالوا: نقول فيه ما قال الله عز وجل، وما جاء به نبينا، كائنا في ذلك ما هو كائن. قالت: فلما دخلوا عليه. قال لهم: ما تقولون في عيسى ابن مريم، قالت: فقال جعفر بن أبي طالب: نقول فيه الذي جاء به نبينا صلى الله عليه وسلم. يقول فيه: هو عبد الله ورسوله وروحه وكلمته ألقاها إلى مريم العذراء البتول. قالت: فضرب النجاشي يده إلى الأرض، فأخذ منها عودا، ثم قال له: ما عدا عيسى ابن مريم ما قلت هذا العود.
قالت: فتناخرت بطارقته حوله حين قال ما قال. فقال: وإن تناخرتم اذهبوا فأنتم شيوم بأرضي. والشيوم: الآمنون. مَنْ سَبَّكُم غُرَّم، مَنْ سَبَّكُم غُرَّم، ما أحب أن لي دبرا من ذهب، وأني آذيت رجلا منكم. والدبر: بلسان الحبشة الجبل. وردوا عليهما هداياهما، فلا حاجة لي بها، فوالله ما أخذ الله مني الرشوة حين ردَّ علي ملكي، فآخذ الرشوة فيه، وما أطاع الناس فيّ، فأطيعهم فيه. قالت: فخرجا من عنده مقبوحين مردودا عليهما. قالت أم سلمة: فكنت أتعرض لهم ليسبوني فأغرمهم، وأقمنا عنده بخير دار مع خير جار.
قالت: فوالله ما أغلا لعلى ذلك، إذ انبرى له رجل من الحبشة ينازعه ملكه. قالت: فوالله، ما أعلمنا حزنا قط كان أشد من حزن حزناه، عند ذلك تخوفا من أن يظهر ذلك الرجل على النجاشي. فيأتي رجلا لا يعرف من حقنا ما كان النجاشي يعرف منه. قالت: وسار إليه النجاشي وبينهما عرض النيل. قالت: فقال أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: مَنْ رجل يخرج حتى يشهد وقعة القوم ثم يأتينا بخبر القوم؟ قالت: فقال الزبير بن العوام: أنا، قالت: وكان من أحدث القوم سنا. قالت: فنفخوا له قربة فجعلوها في صدره، ثم سبح حتى خرج إلى النيل التي بها ملتقى القوم، ثم انطلق حتى حضرهم. قالت: ودعونا الله عز وجل للنجاشي بالظهور على عدوه، والتمكين له من بلاده.
قالت: فوالله إنا لعلى ذلك الحال متوقعين لما هو كائن، إذا طلع الزبير يسعى، ويليح بثوبه، ألا أبشروا، قد ظهر النجاشي، وقد أهلك الله عدوه، فوالله ما أعلمنا فرحنا فرحة قط مثلها. قالت: ورجع النجاشي وأهلك الله عدوه، ومكن له فى بلاده، واستوسق عليه أمر الحبشة، فكنا عنده فى خير منزل، حتى قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بمكة.
وروي عن الزبير قال: لما نزل بالنجاشي عدوه من أهل أرضه، جاءه المهاجرون فقالوا: إنا نحب أن نخرج إليهم فنقاتل معك، وترى جراءتنا، ونجزيك بما صنعت بنا فقال: ذو ينصره الله خير من الذي ينصره الناس، فأنى ذلك عليهم"]] ثُمَّ قَالَ: ﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ﴾ أَيْ: أَيْنَمَا كُنْتُمْ يُدْرِكْكُمُ الْمَوْتُ، فَكُونُوا فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَحَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ، فَإِنَّ الْمَوْتَ لَا بُدَّ مِنْهُ، وَلَا مَحِيدَ عَنْهُ، ثُمَّ إِلَى اللَّهِ الْمَرْجِعُ [وَالْمَآبُ] [[زيادة من أ.]] ، فَمَنْ كَانَ مُطِيعًا لَهُ جَازَاهُ أَفْضَلَ الْجَزَاءِ، وَوَافَاهُ أتمَّ [[في ت: "ووفاه تمام".]] الثَّوَابِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ﴾ أَيْ: لَنُسْكِنَنَّهُمْ مَنَازِلَ عَالِيَةً فِي الْجَنَّةِ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ، عَلَى اخْتِلَافِ أَصْنَافِهَا، مِنْ مَاءٍ وَخَمْرٍ، وعسل ولبن، يصرفونها ويجرونها حيث شاؤوا، ﴿خَالِدِينَ فِيهَا﴾ أَيْ: مَاكِثِينَ فِيهَا أَبَدًا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا ﴿نِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ﴾ : نِعْمَتْ هَذِهِ الغرفُ أَجْرًا عَلَى أَعْمَالِ الْمُؤْمِنِينَ.
﴿الَّذِينَ صَبَرُوا﴾ أَيْ: عَلَى دِينِهِمْ، وَهَاجَرُوا إِلَى اللَّهِ، وَنَابَذُوا الْأَعْدَاءَ، وَفَارَقُوا الْأَهْلَ وَالْأَقْرِبَاءَ، ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، وَرَجَاءَ مَا عِنْدَهُ وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِهِ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ المؤذِنَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنِي أَبُو معَاتق [[في هـ، ت: "أبو معاوية" والصواب ما أثبتناه من ف، أ، والمسند (٥/٣٤٣) .]] الْأَشْعَرِيُّ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ [[في ت: "روى ابن أبي حاتم بإسناده عن أبي مالك الأشعري".]] رَسُولَ اللَّهِ ﷺ حَدَّثَهُ: أَنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفا يُرى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أعدَّها اللَّهُ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَطَابَ الْكَلَامَ، وَأَبَاحَ الصِّيَامَ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ [[في أ: "وتابع الصلاة والصيام وقام بالليل".]] وَالنَّاسُ نِيَامٌ [[ورواه الإمام أحمد في مسنده (٥/٣٤٣) من طريق أبي معانق عن أبي مالك به، وسيأتي عند الآية: ٢٠ من سورة الزمر.]] .
[وَقَوْلُهُ] : [[زيادة من ت.]] ﴿وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ﴾ ، فِي أَحْوَالِهِمْ كُلِّهَا، فِي دِينِهِمْ وَدُنْيَاهُمْ.
ثُمَّ أَخْبَرَهُمْ تَعَالَى أَنَّ الرِّزْقَ لَا يُخْتَصُّ بِبُقْعَةٍ، بَلْ رِزْقُهُ تَعَالَى عَامٌّ لِخَلْقِهِ حَيْثُ كَانُوا وَأَيْنَ كَانُوا، بَلْ كَانَتْ أَرْزَاقُ الْمُهَاجِرِينَ حَيْثُ هَاجَرُوا أَكْثَرَ وَأَوْسَعَ وَأَطْيَبَ، فَإِنَّهُمْ [[في ف: "فهم".]] بَعْدَ قَلِيلٍ صَارُوا حُكَّامَ الْبِلَادِ فِي سَائِرِ الْأَقْطَارِ وَالْأَمْصَارِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا﴾ أَيْ: لَا تُطِيقُ جَمْعَهُ وَتَحْصِيلَهُ وَلَا تُؤَخِّرُ [[في أ: "ولا يدخر".]] شَيْئًا لِغَدٍ، ﴿اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ﴾ أَيِ: اللَّهُ يُقَيِّضُ لَهَا رِزْقَهَا عَلَى ضَعْفِهَا، وَيُيَسِّرُهُ عَلَيْهَا، فَيَبْعَثُ إِلَى كُلِّ مَخْلُوقٍ مِنَ الرِّزْقِ مَا يُصْلِحُهُ، حَتَّى الذَّرِّ فِي قَرَارِ الْأَرْضِ، وَالطَّيْرِ فِي الْهَوَاءِ وَالْحِيتَانِ فِي الْمَاءِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الأرْضِ إِلا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ﴾ [هُودٍ: ٦] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَرَوِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ -حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مِنْهَال الْجَزَرِيُّ -هُوَ أَبُو الْعَطُوفِ -عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ [[في ت: "وروى ابن أبي حاتم بإسناده".]] ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَتَّى دَخَلَ بَعْضَ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَجَعَلَ يَلْتَقِطُ مِنَ التَّمْرِ ويأكل، فقال لي: "يا بن عُمَرَ، مَا لَكَ لَا تَأْكُلُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: لَا أَشْتَهِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "لَكِنِّي أشتهيه، وَهَذِهِ صُبْحُ رَابِعَةٍ مُنْذُ لَمْ أَذُقْ طَعَامًا وَلَمْ أَجِدْهُ، وَلَوْ شِئْتُ لَدَعَوْتُ رَبِّي فَأَعْطَانِي مِثْلَ مُلْكِ قَيْصَرَ وَكِسْرَى فَكَيْفَ بِكَ يَا بن عُمَرَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُخَبِّئُونَ رِزْقَ سَنَتِهِمْ بِضَعْفِ الْيَقِينِ؟ ". قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا بَرِحْنَا وَلَا رِمْنا حَتَّى نَزَلَتْ: ﴿وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنِي بِكَنْزِ الدُّنْيَا، وَلَا بِاتِّبَاعِ الشَّهَوَاتِ، فَمَنْ كَنَزَ دُنْيَاهُ يُرِيدُ بِهَا حَيَاةً بَاقِيَةً فَإِنَّ الْحَيَاةَ بِيَدِ اللَّهِ، أَلَا وَإِنِّي لَا أَكْنِزُ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا أُخَبِّئُ رِزْقًا لِغَدٍ [[في ت: "إلى غد".]] " [[ورواه البغوي في تفسيره (٦/٢٥٣) من طريق إسماعيل بن زرارة عن الجراح بن المنهال به - وقال الشوكاني في فتح القدير (٤/٢١٣) : "وهذا الحديث فيه نكارة شديدة لمخالفته لما كان عليه النبي صلى الله عليه وسلم فقد كان يعطي نساءه قوت العام كما ثبت ذلك في كتب الحديث المعتبرة، وفي إسناده أبو العطوف الجزري وهو ضعيف". أهـ مستفادا من حاشية تفسير البغوي.]] .
وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو الْعَطُوفِ الْجَزَرِيُّ ضَعِيفٌ.
وَقَدْ ذَكَرُوا أَنَّ الْغُرَابَ إِذَا فَقسَ عَنْ فِرَاخِهِ البَيض، خَرَجُوا وَهُمْ بيضٌ فَإِذَا رَآهُمْ أَبَوَاهُمْ كَذَلِكَ، نَفَرَا عَنْهُمْ أَيَّامًا حَتَّى يَسْوَدَّ الرِّيشُ، فَيَظَلُّ الْفَرْخُ فَاتِحًا فَاهُ يَتَفَقَّدُ أَبَوَيْهِ، فَيُقَيِّضُ اللَّهُ لَهُ طَيْرًا [[في ت: "طيورا".]] صِغَارًا كالبَرغَش فَيَغْشَاهُ فَيَتَقَوَّتُ مِنْهُ تِلْكَ الْأَيَّامَ حَتَّى يَسْوَدَّ رِيشُهُ، وَالْأَبَوَانِ يَتَفَقَّدَانِهِ كُلَّ وَقْتٍ، فَكُلَّمَا رَأَوْهُ أَبْيَضَ الرِّيشِ نَفَرَا عَنْهُ، فَإِذَا رَأَوْهُ قَدِ اسْوَدَّ رِيشُهُ عَطَفَا عَلَيْهِ بِالْحَضَانَةِ وَالرِّزْقِ، وَلِهَذَا قَالَ الشَّاعِرُ:
يَا رَازِقَ النعَّاب [[في ت: "البغاب" وفي أ: "النعام".]] في عُشه ... وجَابر العَظْم الكَسِير الْمَهِيضِ ...
وَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي جُمْلَةِ كَلَامٍ لَهُ فِي الْأَوَامِرِ، كَقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ "سَافِرُوا تَصِحُّوا وَتُرْزَقُوا".
قَالَ الْبَيْهَقِيُّ أَخْبَرَنَا إِمْلَاءً أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدَانَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِنان، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَدّاد -شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ -حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ [[في ت: "وروى البيهقي بسنده"]] عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "سَافِرُوا تَصِحُّوا وَتَغْنَمُوا". قَالَ: وَرُوِّينَاهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[السنن الكبرى (٧/١٠٢) ورواه ابن عدي في الكامل (٦/١٩٠) من طريق محمد بن عبد الرحمن بن رواد به، وقال: "لا أعلم يرويه غير الرواد هذا، وعامة ما يرويه غير محفوظ" وقال ابن أبي حاتم في العلل (٢/٣٠٦) : "سألت أبي عن هذا الحديث فقال: هذا حديث منكر".]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، عَنْ دَرّاج، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُجَيرة، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "سَافِرُوا تَرْبَحُوا، وَصُومُوا تَصِحُّوا، وَاغْزُوا تَغْنَمُوا" [[المسند (٢/٣٨٠) وفيه ابن لهيعة ودراج ضعيفان.]] .
وَقَدْ وَرَدَ مِثْلُ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا، وَعَنْ مُعَاذِ بن جبل موقوفا [[أما حديث ابن عباس، فرواه البيهقي في السنن الكبرى (٧/١٠٢) من طريق بسطام بن حبيب عن القاسم عن أبي حازم عن ابن عباس مرفوعا، ورواه ابن عدي في الكامل (٧/٥٧) من طريق نهشل، عن الضحاك، عن ابن عباس، مرفوعا. وقال: "هذه الأحاديث كلها عن الضحاك غير محفوظة". ولم أجده عن معاذ موقوفا، وسيأتي مرفوعا، وجاء من حديث أبي سعيد الخدري مرفوعا. ورواه ابن عدي في الكامل (٣/٤٥٤) عن سوار بن مصعب، عن عطية، عن أبي سعيد، مرفوعا وقال: "سوار هذا عامة ما يرويه غير محفوظ".]] . وفي لَفْظٍ: "سَافِرُوا مَعَ ذَوِي الْجُدُودِ وَالْمَيْسَرَةِ" [[رواه الديلمي في مسند الفردوس برقم (٣٣٨٧) من حديث معاذ بن جبل رضي الله عنه، وذكره السيوطي في الجامع ورمز له بالضعف وأعله المناوي بإسماعيل بن زياد.]]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ أَيِ: السَّمِيعُ لِأَقْوَالِ عِبَادِهِ، الْعَلِيمُ بِحَرَكَاتِهِمْ وَسَكَنَاتِهِمْ.
كُلُّ نَفْسٍۢ ذَآئِقَةُ ٱلْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
Every soul will taste death. Then to Us will you be returned.
ہر متنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ پھر تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے
هر انسانی مرگ را میچشد، سپس شما را بسوی ما بازمیگردانند.
Tafsir Ibn Kathir
O My servants who believe! Certainly, spacious is My earth. Therefore worship Me (56)Everyone shall taste death. Then unto Us you shall be returned (57)And those who believe and do righteous good deeds, to them We shall surely give lofty dwellings in Paradise, beneath which rivers flow, to live therein forever. Excellent is the reward for the workers (58)Those who are patient, and put their trust in their Lord (59)And so many a moving creature carries not its own provision! Allah provides for it and for you. And He is the All-Hearer, the All-Knower (60)
Advice to migrate and the Promise of Provision and a Goodly Reward
Allah commands His believing servants to migrate from a land in which they are not able to establish Islam, to the spacious earth of Allah where they can do so, by declaring Allah to be One and worshipping Him as He has commanded. Allah says:
يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ
(O My servants who believe! Certainly, spacious is My earth. Therefore worship Me.) When things became too difficult for the believers in Makkah who were in a weak position and were oppressed, they left and migrated to Ethiopia, where they were able to practice their religion. The Muslims found Ethiopia the best place for guest; where Ashamah, the Negus or king, may Allah have mercy on him, gave them refuge, helped them, supported them, and honored them in his land. Later, the Messenger of Allah ﷺ and his remaining Companions migrated to Al-Madinah, formerly known as Yathrib, may Allah protect it. Then Allah says:
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
(Everyone shall taste death. Then unto Us you shall be returned.) meaning, 'wherever you are, death with catch up with you, so always obey Allah and be where Allah commands you to be, for this is better for you. Death is inevitable and there is no escape from it, and then you will return to Allah, and whoever was obedient to Him will have the best reward.' Allah says:
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ
(And those who believe and do righteous good deeds, to them We shall surely give lofty dwellings in Paradise, underneath which rivers flow,) meaning, 'We shall cause them to dwell in lofty homes in Paradise under which various kinds of rivers flow – water, wine, honey and milk – which they can direct and cause to flow wherever they wish.'
خَالِدِينَ فِيهَا
(to live therein forever.) means, they will remain there forever, never wanting to leave.
نِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ
(Excellent is the reward for the workers.) these rooms will be a blessed reward for the good deeds of the believers,
الَّذِينَ صَبَرُوا
(Those who are patient,) in adhering to their religion, who migrated for the sake of Allah and fought the enemy, leaving behind their families and relatives to seek Allah's Face, and hoping for that which is with Him, believing His promise.
Ibn Abi Hatim, may Allah have mercy on him, recorded from Abu Mu'aniq Al-Ash'ari that Abu Malik Al-Ash'ari told him that the Messenger of Allah ﷺ told him:
إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللهُ تَعَالَى لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَطَابَ الْكَلَامَ، وَتَابَعَ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ، وَقَامَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ
(In Paradise there are rooms whose outside can be seen from the inside, and their inside can be seen from the outside; Allah has prepared them for those who feed others, who speak well, who pray and fast continually, and who stand in prayer at night while people are asleep.)
وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(and put their trust in their Lord.) in all their affairs, spiritual and worldly alike. Then Allah tells us that provision is not limited only to one place, but it is given to all His creatures no matter where they are. Indeed, when the Muhajirin migrated, their provision was greater and better than before, because after a short time they became rulers in the land, in all regions. Allah says:
وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا
(And so many a moving creature carries not its own provision!) meaning, it does not have the ability to gather its provision and save it for tomorrow.
اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ
(Allah provides for it and for you.) means, Allah allots its provision to it even though it is weak, and makes it easy for it. He sends provision to every creature in the appropriate manner, even the ants in the depths of the earth, the birds in the air and the fish in the sea. Allah says:
وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
(And no moving creature is there on earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit. All is in a Clear Book.)(11:6)
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And He is the All-Hearer, the All-Knower.) means, He hears all that His servants say and He knows their every movements.
Tafsir Ibn Kathir
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی نے ان کی پوری تائید ونصرت کی اور وہاں وہ بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ نے اور خود حضور ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو موت کے نیچے سے نجات نہیں پاسکتے پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جاکر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایماندار نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلندی وبالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی کہیں شراب طہور کی کہیں شہد کی کہیں دودھ کی۔ یہ چشمیں خود بخود جہاں چاہیں بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں رہیں گے نہ وہاں سے نکالیں جائیں نہ ہٹائے جائیں گے نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالا خانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی۔ اس کے دشمنوں کو ترک کیا اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات ماردی۔ ابن ابی حاتم میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں خوش کلام نرم گو ہوں۔ روزے نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوتے ہوئے ہوں۔ یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہوں یا دنیوی اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقیسم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو اسے وہ وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہوگئے اور بادشاہ بن گئے فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے وہ کسی بھی صورت اپنی مخلوق کو نہیں بھولتا۔ چینٹیوں کو ان کے سوراخوں میں پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) یعنی کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں میں رسول ﷺ کے ساتھ چلا آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کرکے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا حضور ﷺ مجھ سے تو یہ ردی کجھوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کھانا ملا ہی نہیں۔ سنو اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر وکسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر تیرا کیا حال ہوگا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہوگا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کرلیاکریں گے۔ اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودا ہوجائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے جو آیت (وکاین الخ) ، نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار ودرہم جمع کروں نہ کل کے لئے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابو العطوف جزی ضعیف ہے۔ یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر وبال سفید ہوتے ہیں یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کرکے بھاگ جاتا ہے کچھ دنوں کے بعد ان پروں کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو نفع اٹھاؤ گے روزے رکھو تندرست رہو گے جہاد کرو غنیمت ملے گی۔ ایک اور روایت میں ہے جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا أَمْرٌ مِنَ اللَّهِ لِعِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ بِالْهِجْرَةِ مِنَ الْبَلَدِ الَّذِي لَا يَقْدِرُونَ فِيهِ عَلَى إِقَامَةِ الدِّينِ، إِلَى أَرْضِ اللَّهِ الْوَاسِعَةِ، حَيْثُ يُمْكِنُ إِقَامَةُ الدِّينِ، بِأَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ وَيَعْبُدُوهُ كَمَا أمرهم؛ ولهذا قال: ﴿يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ﴾ .
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي جُبَيْر بْنُ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى [[في ت: "روى الإمام أحمد بإسناده عن".]] الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "الْبِلَادُ بِلَادُ اللَّهِ، وَالْعِبَادُ عِبَادُ اللَّهِ، فَحَيْثُمَا أصبتَ خَيْرًا فَأَقِمْ" [[المسند (١/١٦٦) وقال الهيثمي في المجمع (٤/٧٢) "فيه جماعة لم أعرفهم".]] .
وَلِهَذَا لَمَّا ضَاقَ عَلَى الْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ مُقَامَهُمْ بِهَا، خَرَجُوا مُهَاجِرِينَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، لِيَأْمَنُوا، عَلَى دِينِهِمْ هُنَاكَ، فَوَجَدُوا هُنَاكَ خَيْرَ الْمَنْزِلَيْنِ، أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيَّ مَلِكَ الْحَبَشَةِ، رَحِمَهُ اللَّهُ، آوَاهُمْ وَأَيَّدَهُمْ بِنَصْرِهِ، وَجَعَلَهُمْ شُيُوما بِبِلَادِهِ. ثُمَّ بَعْدَ ذَلِكَ هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَصْحَابُهُ الْبَاقُونَ إِلَى المدينة النبوية يثرب المطهرة [[بعدها في ت- وأظنها من الناسخ - ما يلي: "أما قصة هجرة الحبشة، فقال ابن إسحاق: حدثني الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الحارث بن هشام، عن أمه أم سلمة بنت أبي أمية بن المغيرة زَوْجَ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ: لما نزلنا بأرض الحبشة جاورنا خير جار النجاشي، آمنا على ديننا، وعبدنا الله لا نؤذى، ولا نسمع شيئا نكرهه فلما بلغ ذلك قريشا ائتمروا بينهم، أن يبعثوا إلينا رجلين جلدين، وأن يهدوا إلى النجاشي هدايا مما يُستطرف من متاع مكة، وكان أعجب ما يأتيه منها الأدم، فجمعوا له أدما كثيرا، ولم يتركوا من بطارقته بطريقا إلا أهدوا له هدية وقالوا لهما: ادفعوا إلى كل بطريق هديته قبل أن تكلموا النجاشي، ثم قدموا إلى النجاشي هداياه، ثم سلوه أن يسلمهم إليكما قبل أن يكلمهم.
قالت: فخرجنا حتى قدمنا عليه، ونحن عنده بخير دار، عند خير جار فلم يبق بطريق من بطارقته إلا دفعوا إليه هديته قبل أن يكلما النجاشي، ثم قالا لكل بطريق: إنه قد ضوى إلى بلدك منا غلمان سفهاء فارقوا دين قومهم، ولم يدخلوا في دينكم، وجاءوا بدين مبتدع لا نعرفه نحن ولا أنتم، وقد بعثنا إلى الملك فيهم أشراف قومهم ليردوهم إليهم، فإذا كلمنا الملك فيهم فأشيروا عليه أن يسلمهم إلينا، ولا يكلمهم فإن قومهم أعلى بهم دينا وأعلم بما عابوا عليهم؛ فقالوا لهما: نعم، ثم أنهما قدما هداياهما إلى النجاشي فقبلها منهما ثم كلماه فقالا: أيها الملك إنه قد ضوى إلى بلدك منا غلمان سفهاء فارقوا دين قومهم، ولم يدخلوا في دينك، جاءوا بدين مبتدع لا نعرفه نحن ولا أنت، وقد بعثنا إليك فيهم أشراف قومهم وآباءهم وأعمامهم وعشائرهم لتردهم إليهم فهم أعلى بهم عينا، وأعلم بما عابوا عليهم وعاتبوهم فيه.
قالت: ولم يكن شيء أبغض إلى عبد الله بن أبي ربيعة وعمرو بن العاص من أن يسمع كلامهم النجاشي، فقالت بطارقته حوله: صدقوا أيها الملك قومهم أعلى بهم عينا وأعلم بما عابوا عليهم فأسلمهم إليهم ليردوهم إلى بلادهم وقومهم، فغضب النجاشي وقال: لاها الله لا أسلمهم إليهم أبدا ولا أكاد، قوم جاوروني، ونزلوا بلادي، واختاروني على مَنْ سواي، حتى أدعوهم فأسألهم عما يقول هذان الرجلان. فإن كانوا كما يقولون أسلمتهم إليهما ورددتهم إلى بلادهم، وإن كانوا على غير ذلك منعتهم وأحسنت جوارهم ما جاوروني ونزلوا بلادي.
قالت: ثم أرسل إلى أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فدعاهم فلما جاءهم رسوله اجتمعوا، ثم قال بعضهم لبعض: ما تقولون لهذا الرجل إذا جئتموه؟ قالوا: نقول: والله ما علمنا وما أمرنا به نبينا صلى الله عليه وسلم، كائنا في ذلك ما هو كائن، قال: فلما جاءوه وقد دعا النجاشي أساقفته فنشروا مصاحفهم حوله، فلما دخلوا عليه سألهم، فقال: ما هذا الذي فارقتم فيه قومكم ولم تدخلوا في ديني ولا دين أحد من هذه الملل.
قالت: فكان الذي كلمه جعفر بن أبي طالب. فقال: أيها الملك كنا قومًا أهل جاهلية نعبد الأصنام، ونأكل الميتة، ونأتي الفواحش، ونقطع الأرحام، ونسيء الجوار، ويأكل القوي منا الضعيف فكنا على ذلك، حتى بعث الله إلينا رسولا نعرف نسبه وصدقه وأمانته وعفافه، فدعانا إلى الله لنوحده، ونخلع ما كنا نعبد وآباؤنا من دونه، الحجارة والأوثان، وأمرنا بصدق الحديث، وأداء الأمانة، وصلة الرحم، وحسن الجوار، والكف عن المحارم والدماء، ونهانا عن الفواحش، وقول الزور، وأكل مال اليتيم وقذف المحصنة، وأمرنا أن نعبد الله ولا نشرك به شيئا، وأمرنا بالصلاة والزكاة والصيام. قالت: فعد عليه أمور الإسلام. فصدقناه وآمنا به، واتبعناه على ما جاء به من الله عز جل، فعبدنا الله لا نشرك به شيئا، وحرمنا ما حرم علينا، وأحللنا ما أحل لنا، فعدا علينا قومنا، فعذبونا، وفتنونا عن ديننا؛ ليردونا إلى عبادة الأوثان من عبادة الله، وأن نستحل كما كنا نستحل من الخبائث، فلما قهرونا وظلمونا وضيقوا علينا، وحالوا بيننا وبين ديننا، خرجنا إلى بلدك، واخترناك على مَنْ سواك، ورغبنا في جوارك، ورجونا أن لا نظلم عندك أيها الملك. قالت: فقال له النجاشي: وهل عندك مما جاء به من عند الله شيء؟ قالت: فقال له جعفر: نعم. فقال له النجاشي: فاقرأه علي، فقرأ عليه صدرا من (كهيعص) .
قالت: فبكى النجاشي حتى اخضلت لحيته، وبكى أساقفته حتى أخضلوا مصاحفهم، حين سمعوا ما يتلى عليهم. وقال النجاشي: إن هذا والذي جاء به موسى ليخرج من مشكاة واحدة. انطلقا. لا والله لا أسلمهم إليكما ولا أكاد. قالت: فلما خرجا من عنده. قال عمرو بن العاص: والله لآتينه غدا بما أستأصل به خضراءهم.
قالت: فقال له عبد الله بن أبي ربيعة - وكان أتقى الرجلين فينا -: لا تفعل فإن لهم أرحاما، وإن كانوا قد خالفونا. قال: والله لأخبرنه أنهم يقولون في عيسى قولا عظيما. فأرسل إليهم فسألهم عما يقولون فيه. قالت: فأرسل إليهم ليسألهم عنه. قالت: ولم ينزل بنا مثلها، فاجتمع القوم. فقال بعضهم لبعض: ما تقولون في عيسى إن سألكم عنه. قالوا: نقول فيه ما قال الله عز وجل، وما جاء به نبينا، كائنا في ذلك ما هو كائن. قالت: فلما دخلوا عليه. قال لهم: ما تقولون في عيسى ابن مريم، قالت: فقال جعفر بن أبي طالب: نقول فيه الذي جاء به نبينا صلى الله عليه وسلم. يقول فيه: هو عبد الله ورسوله وروحه وكلمته ألقاها إلى مريم العذراء البتول. قالت: فضرب النجاشي يده إلى الأرض، فأخذ منها عودا، ثم قال له: ما عدا عيسى ابن مريم ما قلت هذا العود.
قالت: فتناخرت بطارقته حوله حين قال ما قال. فقال: وإن تناخرتم اذهبوا فأنتم شيوم بأرضي. والشيوم: الآمنون. مَنْ سَبَّكُم غُرَّم، مَنْ سَبَّكُم غُرَّم، ما أحب أن لي دبرا من ذهب، وأني آذيت رجلا منكم. والدبر: بلسان الحبشة الجبل. وردوا عليهما هداياهما، فلا حاجة لي بها، فوالله ما أخذ الله مني الرشوة حين ردَّ علي ملكي، فآخذ الرشوة فيه، وما أطاع الناس فيّ، فأطيعهم فيه. قالت: فخرجا من عنده مقبوحين مردودا عليهما. قالت أم سلمة: فكنت أتعرض لهم ليسبوني فأغرمهم، وأقمنا عنده بخير دار مع خير جار.
قالت: فوالله ما أغلا لعلى ذلك، إذ انبرى له رجل من الحبشة ينازعه ملكه. قالت: فوالله، ما أعلمنا حزنا قط كان أشد من حزن حزناه، عند ذلك تخوفا من أن يظهر ذلك الرجل على النجاشي. فيأتي رجلا لا يعرف من حقنا ما كان النجاشي يعرف منه. قالت: وسار إليه النجاشي وبينهما عرض النيل. قالت: فقال أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: مَنْ رجل يخرج حتى يشهد وقعة القوم ثم يأتينا بخبر القوم؟ قالت: فقال الزبير بن العوام: أنا، قالت: وكان من أحدث القوم سنا. قالت: فنفخوا له قربة فجعلوها في صدره، ثم سبح حتى خرج إلى النيل التي بها ملتقى القوم، ثم انطلق حتى حضرهم. قالت: ودعونا الله عز وجل للنجاشي بالظهور على عدوه، والتمكين له من بلاده.
قالت: فوالله إنا لعلى ذلك الحال متوقعين لما هو كائن، إذا طلع الزبير يسعى، ويليح بثوبه، ألا أبشروا، قد ظهر النجاشي، وقد أهلك الله عدوه، فوالله ما أعلمنا فرحنا فرحة قط مثلها. قالت: ورجع النجاشي وأهلك الله عدوه، ومكن له فى بلاده، واستوسق عليه أمر الحبشة، فكنا عنده فى خير منزل، حتى قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بمكة.
وروي عن الزبير قال: لما نزل بالنجاشي عدوه من أهل أرضه، جاءه المهاجرون فقالوا: إنا نحب أن نخرج إليهم فنقاتل معك، وترى جراءتنا، ونجزيك بما صنعت بنا فقال: ذو ينصره الله خير من الذي ينصره الناس، فأنى ذلك عليهم"]] ثُمَّ قَالَ: ﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ﴾ أَيْ: أَيْنَمَا كُنْتُمْ يُدْرِكْكُمُ الْمَوْتُ، فَكُونُوا فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَحَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ، فَإِنَّ الْمَوْتَ لَا بُدَّ مِنْهُ، وَلَا مَحِيدَ عَنْهُ، ثُمَّ إِلَى اللَّهِ الْمَرْجِعُ [وَالْمَآبُ] [[زيادة من أ.]] ، فَمَنْ كَانَ مُطِيعًا لَهُ جَازَاهُ أَفْضَلَ الْجَزَاءِ، وَوَافَاهُ أتمَّ [[في ت: "ووفاه تمام".]] الثَّوَابِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ﴾ أَيْ: لَنُسْكِنَنَّهُمْ مَنَازِلَ عَالِيَةً فِي الْجَنَّةِ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ، عَلَى اخْتِلَافِ أَصْنَافِهَا، مِنْ مَاءٍ وَخَمْرٍ، وعسل ولبن، يصرفونها ويجرونها حيث شاؤوا، ﴿خَالِدِينَ فِيهَا﴾ أَيْ: مَاكِثِينَ فِيهَا أَبَدًا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا ﴿نِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ﴾ : نِعْمَتْ هَذِهِ الغرفُ أَجْرًا عَلَى أَعْمَالِ الْمُؤْمِنِينَ.
﴿الَّذِينَ صَبَرُوا﴾ أَيْ: عَلَى دِينِهِمْ، وَهَاجَرُوا إِلَى اللَّهِ، وَنَابَذُوا الْأَعْدَاءَ، وَفَارَقُوا الْأَهْلَ وَالْأَقْرِبَاءَ، ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، وَرَجَاءَ مَا عِنْدَهُ وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِهِ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ المؤذِنَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنِي أَبُو معَاتق [[في هـ، ت: "أبو معاوية" والصواب ما أثبتناه من ف، أ، والمسند (٥/٣٤٣) .]] الْأَشْعَرِيُّ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ [[في ت: "روى ابن أبي حاتم بإسناده عن أبي مالك الأشعري".]] رَسُولَ اللَّهِ ﷺ حَدَّثَهُ: أَنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفا يُرى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أعدَّها اللَّهُ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَطَابَ الْكَلَامَ، وَأَبَاحَ الصِّيَامَ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ [[في أ: "وتابع الصلاة والصيام وقام بالليل".]] وَالنَّاسُ نِيَامٌ [[ورواه الإمام أحمد في مسنده (٥/٣٤٣) من طريق أبي معانق عن أبي مالك به، وسيأتي عند الآية: ٢٠ من سورة الزمر.]] .
[وَقَوْلُهُ] : [[زيادة من ت.]] ﴿وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ﴾ ، فِي أَحْوَالِهِمْ كُلِّهَا، فِي دِينِهِمْ وَدُنْيَاهُمْ.
ثُمَّ أَخْبَرَهُمْ تَعَالَى أَنَّ الرِّزْقَ لَا يُخْتَصُّ بِبُقْعَةٍ، بَلْ رِزْقُهُ تَعَالَى عَامٌّ لِخَلْقِهِ حَيْثُ كَانُوا وَأَيْنَ كَانُوا، بَلْ كَانَتْ أَرْزَاقُ الْمُهَاجِرِينَ حَيْثُ هَاجَرُوا أَكْثَرَ وَأَوْسَعَ وَأَطْيَبَ، فَإِنَّهُمْ [[في ف: "فهم".]] بَعْدَ قَلِيلٍ صَارُوا حُكَّامَ الْبِلَادِ فِي سَائِرِ الْأَقْطَارِ وَالْأَمْصَارِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا﴾ أَيْ: لَا تُطِيقُ جَمْعَهُ وَتَحْصِيلَهُ وَلَا تُؤَخِّرُ [[في أ: "ولا يدخر".]] شَيْئًا لِغَدٍ، ﴿اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ﴾ أَيِ: اللَّهُ يُقَيِّضُ لَهَا رِزْقَهَا عَلَى ضَعْفِهَا، وَيُيَسِّرُهُ عَلَيْهَا، فَيَبْعَثُ إِلَى كُلِّ مَخْلُوقٍ مِنَ الرِّزْقِ مَا يُصْلِحُهُ، حَتَّى الذَّرِّ فِي قَرَارِ الْأَرْضِ، وَالطَّيْرِ فِي الْهَوَاءِ وَالْحِيتَانِ فِي الْمَاءِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الأرْضِ إِلا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ﴾ [هُودٍ: ٦] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَرَوِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ -حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مِنْهَال الْجَزَرِيُّ -هُوَ أَبُو الْعَطُوفِ -عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ [[في ت: "وروى ابن أبي حاتم بإسناده".]] ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَتَّى دَخَلَ بَعْضَ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَجَعَلَ يَلْتَقِطُ مِنَ التَّمْرِ ويأكل، فقال لي: "يا بن عُمَرَ، مَا لَكَ لَا تَأْكُلُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: لَا أَشْتَهِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "لَكِنِّي أشتهيه، وَهَذِهِ صُبْحُ رَابِعَةٍ مُنْذُ لَمْ أَذُقْ طَعَامًا وَلَمْ أَجِدْهُ، وَلَوْ شِئْتُ لَدَعَوْتُ رَبِّي فَأَعْطَانِي مِثْلَ مُلْكِ قَيْصَرَ وَكِسْرَى فَكَيْفَ بِكَ يَا بن عُمَرَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُخَبِّئُونَ رِزْقَ سَنَتِهِمْ بِضَعْفِ الْيَقِينِ؟ ". قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا بَرِحْنَا وَلَا رِمْنا حَتَّى نَزَلَتْ: ﴿وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنِي بِكَنْزِ الدُّنْيَا، وَلَا بِاتِّبَاعِ الشَّهَوَاتِ، فَمَنْ كَنَزَ دُنْيَاهُ يُرِيدُ بِهَا حَيَاةً بَاقِيَةً فَإِنَّ الْحَيَاةَ بِيَدِ اللَّهِ، أَلَا وَإِنِّي لَا أَكْنِزُ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا أُخَبِّئُ رِزْقًا لِغَدٍ [[في ت: "إلى غد".]] " [[ورواه البغوي في تفسيره (٦/٢٥٣) من طريق إسماعيل بن زرارة عن الجراح بن المنهال به - وقال الشوكاني في فتح القدير (٤/٢١٣) : "وهذا الحديث فيه نكارة شديدة لمخالفته لما كان عليه النبي صلى الله عليه وسلم فقد كان يعطي نساءه قوت العام كما ثبت ذلك في كتب الحديث المعتبرة، وفي إسناده أبو العطوف الجزري وهو ضعيف". أهـ مستفادا من حاشية تفسير البغوي.]] .
وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو الْعَطُوفِ الْجَزَرِيُّ ضَعِيفٌ.
وَقَدْ ذَكَرُوا أَنَّ الْغُرَابَ إِذَا فَقسَ عَنْ فِرَاخِهِ البَيض، خَرَجُوا وَهُمْ بيضٌ فَإِذَا رَآهُمْ أَبَوَاهُمْ كَذَلِكَ، نَفَرَا عَنْهُمْ أَيَّامًا حَتَّى يَسْوَدَّ الرِّيشُ، فَيَظَلُّ الْفَرْخُ فَاتِحًا فَاهُ يَتَفَقَّدُ أَبَوَيْهِ، فَيُقَيِّضُ اللَّهُ لَهُ طَيْرًا [[في ت: "طيورا".]] صِغَارًا كالبَرغَش فَيَغْشَاهُ فَيَتَقَوَّتُ مِنْهُ تِلْكَ الْأَيَّامَ حَتَّى يَسْوَدَّ رِيشُهُ، وَالْأَبَوَانِ يَتَفَقَّدَانِهِ كُلَّ وَقْتٍ، فَكُلَّمَا رَأَوْهُ أَبْيَضَ الرِّيشِ نَفَرَا عَنْهُ، فَإِذَا رَأَوْهُ قَدِ اسْوَدَّ رِيشُهُ عَطَفَا عَلَيْهِ بِالْحَضَانَةِ وَالرِّزْقِ، وَلِهَذَا قَالَ الشَّاعِرُ:
يَا رَازِقَ النعَّاب [[في ت: "البغاب" وفي أ: "النعام".]] في عُشه ... وجَابر العَظْم الكَسِير الْمَهِيضِ ...
وَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي جُمْلَةِ كَلَامٍ لَهُ فِي الْأَوَامِرِ، كَقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ "سَافِرُوا تَصِحُّوا وَتُرْزَقُوا".
قَالَ الْبَيْهَقِيُّ أَخْبَرَنَا إِمْلَاءً أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدَانَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِنان، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَدّاد -شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ -حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ [[في ت: "وروى البيهقي بسنده"]] عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "سَافِرُوا تَصِحُّوا وَتَغْنَمُوا". قَالَ: وَرُوِّينَاهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[السنن الكبرى (٧/١٠٢) ورواه ابن عدي في الكامل (٦/١٩٠) من طريق محمد بن عبد الرحمن بن رواد به، وقال: "لا أعلم يرويه غير الرواد هذا، وعامة ما يرويه غير محفوظ" وقال ابن أبي حاتم في العلل (٢/٣٠٦) : "سألت أبي عن هذا الحديث فقال: هذا حديث منكر".]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، عَنْ دَرّاج، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُجَيرة، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "سَافِرُوا تَرْبَحُوا، وَصُومُوا تَصِحُّوا، وَاغْزُوا تَغْنَمُوا" [[المسند (٢/٣٨٠) وفيه ابن لهيعة ودراج ضعيفان.]] .
وَقَدْ وَرَدَ مِثْلُ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا، وَعَنْ مُعَاذِ بن جبل موقوفا [[أما حديث ابن عباس، فرواه البيهقي في السنن الكبرى (٧/١٠٢) من طريق بسطام بن حبيب عن القاسم عن أبي حازم عن ابن عباس مرفوعا، ورواه ابن عدي في الكامل (٧/٥٧) من طريق نهشل، عن الضحاك، عن ابن عباس، مرفوعا. وقال: "هذه الأحاديث كلها عن الضحاك غير محفوظة". ولم أجده عن معاذ موقوفا، وسيأتي مرفوعا، وجاء من حديث أبي سعيد الخدري مرفوعا. ورواه ابن عدي في الكامل (٣/٤٥٤) عن سوار بن مصعب، عن عطية، عن أبي سعيد، مرفوعا وقال: "سوار هذا عامة ما يرويه غير محفوظ".]] . وفي لَفْظٍ: "سَافِرُوا مَعَ ذَوِي الْجُدُودِ وَالْمَيْسَرَةِ" [[رواه الديلمي في مسند الفردوس برقم (٣٣٨٧) من حديث معاذ بن جبل رضي الله عنه، وذكره السيوطي في الجامع ورمز له بالضعف وأعله المناوي بإسماعيل بن زياد.]]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ أَيِ: السَّمِيعُ لِأَقْوَالِ عِبَادِهِ، الْعَلِيمُ بِحَرَكَاتِهِمْ وَسَكَنَاتِهِمْ.
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُم مِّنَ ٱلْجَنَّةِ غُرَفًۭا تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ نِعْمَ أَجْرُ ٱلْعَٰمِلِينَ
And those who have believed and done righteous deeds - We will surely assign to them of Paradise [elevated] chambers beneath which rivers flow, wherein they abide eternally. Excellent is the reward of the [righteous] workers
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اُن کو ہم بہشت کے اُونچے اُونچے محلوں میں جگہ دیں گے۔ جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ (نیک) عمل کرنے والوں کا (یہ) خوب بدلہ ہے
و کسانی که ایمان آورده و کارهای شایسته انجام دادند، آنان را در غرفههایی از بهشت جای میدهیم که نهرها در زیر آن جاری است؛ جاودانه در آن خواهند ماند؛ چه خوب است پاداش عملکنندگان!
Tafsir Ibn Kathir
O My servants who believe! Certainly, spacious is My earth. Therefore worship Me (56)Everyone shall taste death. Then unto Us you shall be returned (57)And those who believe and do righteous good deeds, to them We shall surely give lofty dwellings in Paradise, beneath which rivers flow, to live therein forever. Excellent is the reward for the workers (58)Those who are patient, and put their trust in their Lord (59)And so many a moving creature carries not its own provision! Allah provides for it and for you. And He is the All-Hearer, the All-Knower (60)
Advice to migrate and the Promise of Provision and a Goodly Reward
Allah commands His believing servants to migrate from a land in which they are not able to establish Islam, to the spacious earth of Allah where they can do so, by declaring Allah to be One and worshipping Him as He has commanded. Allah says:
يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ
(O My servants who believe! Certainly, spacious is My earth. Therefore worship Me.) When things became too difficult for the believers in Makkah who were in a weak position and were oppressed, they left and migrated to Ethiopia, where they were able to practice their religion. The Muslims found Ethiopia the best place for guest; where Ashamah, the Negus or king, may Allah have mercy on him, gave them refuge, helped them, supported them, and honored them in his land. Later, the Messenger of Allah ﷺ and his remaining Companions migrated to Al-Madinah, formerly known as Yathrib, may Allah protect it. Then Allah says:
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
(Everyone shall taste death. Then unto Us you shall be returned.) meaning, 'wherever you are, death with catch up with you, so always obey Allah and be where Allah commands you to be, for this is better for you. Death is inevitable and there is no escape from it, and then you will return to Allah, and whoever was obedient to Him will have the best reward.' Allah says:
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ
(And those who believe and do righteous good deeds, to them We shall surely give lofty dwellings in Paradise, underneath which rivers flow,) meaning, 'We shall cause them to dwell in lofty homes in Paradise under which various kinds of rivers flow – water, wine, honey and milk – which they can direct and cause to flow wherever they wish.'
خَالِدِينَ فِيهَا
(to live therein forever.) means, they will remain there forever, never wanting to leave.
نِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ
(Excellent is the reward for the workers.) these rooms will be a blessed reward for the good deeds of the believers,
الَّذِينَ صَبَرُوا
(Those who are patient,) in adhering to their religion, who migrated for the sake of Allah and fought the enemy, leaving behind their families and relatives to seek Allah's Face, and hoping for that which is with Him, believing His promise.
Ibn Abi Hatim, may Allah have mercy on him, recorded from Abu Mu'aniq Al-Ash'ari that Abu Malik Al-Ash'ari told him that the Messenger of Allah ﷺ told him:
إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللهُ تَعَالَى لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَطَابَ الْكَلَامَ، وَتَابَعَ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ، وَقَامَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ
(In Paradise there are rooms whose outside can be seen from the inside, and their inside can be seen from the outside; Allah has prepared them for those who feed others, who speak well, who pray and fast continually, and who stand in prayer at night while people are asleep.)
وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(and put their trust in their Lord.) in all their affairs, spiritual and worldly alike. Then Allah tells us that provision is not limited only to one place, but it is given to all His creatures no matter where they are. Indeed, when the Muhajirin migrated, their provision was greater and better than before, because after a short time they became rulers in the land, in all regions. Allah says:
وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا
(And so many a moving creature carries not its own provision!) meaning, it does not have the ability to gather its provision and save it for tomorrow.
اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ
(Allah provides for it and for you.) means, Allah allots its provision to it even though it is weak, and makes it easy for it. He sends provision to every creature in the appropriate manner, even the ants in the depths of the earth, the birds in the air and the fish in the sea. Allah says:
وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
(And no moving creature is there on earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit. All is in a Clear Book.)(11:6)
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And He is the All-Hearer, the All-Knower.) means, He hears all that His servants say and He knows their every movements.
Tafsir Ibn Kathir
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی نے ان کی پوری تائید ونصرت کی اور وہاں وہ بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ نے اور خود حضور ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو موت کے نیچے سے نجات نہیں پاسکتے پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جاکر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایماندار نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلندی وبالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی کہیں شراب طہور کی کہیں شہد کی کہیں دودھ کی۔ یہ چشمیں خود بخود جہاں چاہیں بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں رہیں گے نہ وہاں سے نکالیں جائیں نہ ہٹائے جائیں گے نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالا خانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی۔ اس کے دشمنوں کو ترک کیا اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات ماردی۔ ابن ابی حاتم میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں خوش کلام نرم گو ہوں۔ روزے نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوتے ہوئے ہوں۔ یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہوں یا دنیوی اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقیسم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو اسے وہ وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہوگئے اور بادشاہ بن گئے فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے وہ کسی بھی صورت اپنی مخلوق کو نہیں بھولتا۔ چینٹیوں کو ان کے سوراخوں میں پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) یعنی کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں میں رسول ﷺ کے ساتھ چلا آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کرکے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا حضور ﷺ مجھ سے تو یہ ردی کجھوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کھانا ملا ہی نہیں۔ سنو اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر وکسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر تیرا کیا حال ہوگا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہوگا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کرلیاکریں گے۔ اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودا ہوجائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے جو آیت (وکاین الخ) ، نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار ودرہم جمع کروں نہ کل کے لئے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابو العطوف جزی ضعیف ہے۔ یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر وبال سفید ہوتے ہیں یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کرکے بھاگ جاتا ہے کچھ دنوں کے بعد ان پروں کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو نفع اٹھاؤ گے روزے رکھو تندرست رہو گے جہاد کرو غنیمت ملے گی۔ ایک اور روایت میں ہے جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا أَمْرٌ مِنَ اللَّهِ لِعِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ بِالْهِجْرَةِ مِنَ الْبَلَدِ الَّذِي لَا يَقْدِرُونَ فِيهِ عَلَى إِقَامَةِ الدِّينِ، إِلَى أَرْضِ اللَّهِ الْوَاسِعَةِ، حَيْثُ يُمْكِنُ إِقَامَةُ الدِّينِ، بِأَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ وَيَعْبُدُوهُ كَمَا أمرهم؛ ولهذا قال: ﴿يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ﴾ .
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي جُبَيْر بْنُ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى [[في ت: "روى الإمام أحمد بإسناده عن".]] الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "الْبِلَادُ بِلَادُ اللَّهِ، وَالْعِبَادُ عِبَادُ اللَّهِ، فَحَيْثُمَا أصبتَ خَيْرًا فَأَقِمْ" [[المسند (١/١٦٦) وقال الهيثمي في المجمع (٤/٧٢) "فيه جماعة لم أعرفهم".]] .
وَلِهَذَا لَمَّا ضَاقَ عَلَى الْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ مُقَامَهُمْ بِهَا، خَرَجُوا مُهَاجِرِينَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، لِيَأْمَنُوا، عَلَى دِينِهِمْ هُنَاكَ، فَوَجَدُوا هُنَاكَ خَيْرَ الْمَنْزِلَيْنِ، أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيَّ مَلِكَ الْحَبَشَةِ، رَحِمَهُ اللَّهُ، آوَاهُمْ وَأَيَّدَهُمْ بِنَصْرِهِ، وَجَعَلَهُمْ شُيُوما بِبِلَادِهِ. ثُمَّ بَعْدَ ذَلِكَ هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَصْحَابُهُ الْبَاقُونَ إِلَى المدينة النبوية يثرب المطهرة [[بعدها في ت- وأظنها من الناسخ - ما يلي: "أما قصة هجرة الحبشة، فقال ابن إسحاق: حدثني الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الحارث بن هشام، عن أمه أم سلمة بنت أبي أمية بن المغيرة زَوْجَ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ: لما نزلنا بأرض الحبشة جاورنا خير جار النجاشي، آمنا على ديننا، وعبدنا الله لا نؤذى، ولا نسمع شيئا نكرهه فلما بلغ ذلك قريشا ائتمروا بينهم، أن يبعثوا إلينا رجلين جلدين، وأن يهدوا إلى النجاشي هدايا مما يُستطرف من متاع مكة، وكان أعجب ما يأتيه منها الأدم، فجمعوا له أدما كثيرا، ولم يتركوا من بطارقته بطريقا إلا أهدوا له هدية وقالوا لهما: ادفعوا إلى كل بطريق هديته قبل أن تكلموا النجاشي، ثم قدموا إلى النجاشي هداياه، ثم سلوه أن يسلمهم إليكما قبل أن يكلمهم.
قالت: فخرجنا حتى قدمنا عليه، ونحن عنده بخير دار، عند خير جار فلم يبق بطريق من بطارقته إلا دفعوا إليه هديته قبل أن يكلما النجاشي، ثم قالا لكل بطريق: إنه قد ضوى إلى بلدك منا غلمان سفهاء فارقوا دين قومهم، ولم يدخلوا في دينكم، وجاءوا بدين مبتدع لا نعرفه نحن ولا أنتم، وقد بعثنا إلى الملك فيهم أشراف قومهم ليردوهم إليهم، فإذا كلمنا الملك فيهم فأشيروا عليه أن يسلمهم إلينا، ولا يكلمهم فإن قومهم أعلى بهم دينا وأعلم بما عابوا عليهم؛ فقالوا لهما: نعم، ثم أنهما قدما هداياهما إلى النجاشي فقبلها منهما ثم كلماه فقالا: أيها الملك إنه قد ضوى إلى بلدك منا غلمان سفهاء فارقوا دين قومهم، ولم يدخلوا في دينك، جاءوا بدين مبتدع لا نعرفه نحن ولا أنت، وقد بعثنا إليك فيهم أشراف قومهم وآباءهم وأعمامهم وعشائرهم لتردهم إليهم فهم أعلى بهم عينا، وأعلم بما عابوا عليهم وعاتبوهم فيه.
قالت: ولم يكن شيء أبغض إلى عبد الله بن أبي ربيعة وعمرو بن العاص من أن يسمع كلامهم النجاشي، فقالت بطارقته حوله: صدقوا أيها الملك قومهم أعلى بهم عينا وأعلم بما عابوا عليهم فأسلمهم إليهم ليردوهم إلى بلادهم وقومهم، فغضب النجاشي وقال: لاها الله لا أسلمهم إليهم أبدا ولا أكاد، قوم جاوروني، ونزلوا بلادي، واختاروني على مَنْ سواي، حتى أدعوهم فأسألهم عما يقول هذان الرجلان. فإن كانوا كما يقولون أسلمتهم إليهما ورددتهم إلى بلادهم، وإن كانوا على غير ذلك منعتهم وأحسنت جوارهم ما جاوروني ونزلوا بلادي.
قالت: ثم أرسل إلى أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فدعاهم فلما جاءهم رسوله اجتمعوا، ثم قال بعضهم لبعض: ما تقولون لهذا الرجل إذا جئتموه؟ قالوا: نقول: والله ما علمنا وما أمرنا به نبينا صلى الله عليه وسلم، كائنا في ذلك ما هو كائن، قال: فلما جاءوه وقد دعا النجاشي أساقفته فنشروا مصاحفهم حوله، فلما دخلوا عليه سألهم، فقال: ما هذا الذي فارقتم فيه قومكم ولم تدخلوا في ديني ولا دين أحد من هذه الملل.
قالت: فكان الذي كلمه جعفر بن أبي طالب. فقال: أيها الملك كنا قومًا أهل جاهلية نعبد الأصنام، ونأكل الميتة، ونأتي الفواحش، ونقطع الأرحام، ونسيء الجوار، ويأكل القوي منا الضعيف فكنا على ذلك، حتى بعث الله إلينا رسولا نعرف نسبه وصدقه وأمانته وعفافه، فدعانا إلى الله لنوحده، ونخلع ما كنا نعبد وآباؤنا من دونه، الحجارة والأوثان، وأمرنا بصدق الحديث، وأداء الأمانة، وصلة الرحم، وحسن الجوار، والكف عن المحارم والدماء، ونهانا عن الفواحش، وقول الزور، وأكل مال اليتيم وقذف المحصنة، وأمرنا أن نعبد الله ولا نشرك به شيئا، وأمرنا بالصلاة والزكاة والصيام. قالت: فعد عليه أمور الإسلام. فصدقناه وآمنا به، واتبعناه على ما جاء به من الله عز جل، فعبدنا الله لا نشرك به شيئا، وحرمنا ما حرم علينا، وأحللنا ما أحل لنا، فعدا علينا قومنا، فعذبونا، وفتنونا عن ديننا؛ ليردونا إلى عبادة الأوثان من عبادة الله، وأن نستحل كما كنا نستحل من الخبائث، فلما قهرونا وظلمونا وضيقوا علينا، وحالوا بيننا وبين ديننا، خرجنا إلى بلدك، واخترناك على مَنْ سواك، ورغبنا في جوارك، ورجونا أن لا نظلم عندك أيها الملك. قالت: فقال له النجاشي: وهل عندك مما جاء به من عند الله شيء؟ قالت: فقال له جعفر: نعم. فقال له النجاشي: فاقرأه علي، فقرأ عليه صدرا من (كهيعص) .
قالت: فبكى النجاشي حتى اخضلت لحيته، وبكى أساقفته حتى أخضلوا مصاحفهم، حين سمعوا ما يتلى عليهم. وقال النجاشي: إن هذا والذي جاء به موسى ليخرج من مشكاة واحدة. انطلقا. لا والله لا أسلمهم إليكما ولا أكاد. قالت: فلما خرجا من عنده. قال عمرو بن العاص: والله لآتينه غدا بما أستأصل به خضراءهم.
قالت: فقال له عبد الله بن أبي ربيعة - وكان أتقى الرجلين فينا -: لا تفعل فإن لهم أرحاما، وإن كانوا قد خالفونا. قال: والله لأخبرنه أنهم يقولون في عيسى قولا عظيما. فأرسل إليهم فسألهم عما يقولون فيه. قالت: فأرسل إليهم ليسألهم عنه. قالت: ولم ينزل بنا مثلها، فاجتمع القوم. فقال بعضهم لبعض: ما تقولون في عيسى إن سألكم عنه. قالوا: نقول فيه ما قال الله عز وجل، وما جاء به نبينا، كائنا في ذلك ما هو كائن. قالت: فلما دخلوا عليه. قال لهم: ما تقولون في عيسى ابن مريم، قالت: فقال جعفر بن أبي طالب: نقول فيه الذي جاء به نبينا صلى الله عليه وسلم. يقول فيه: هو عبد الله ورسوله وروحه وكلمته ألقاها إلى مريم العذراء البتول. قالت: فضرب النجاشي يده إلى الأرض، فأخذ منها عودا، ثم قال له: ما عدا عيسى ابن مريم ما قلت هذا العود.
قالت: فتناخرت بطارقته حوله حين قال ما قال. فقال: وإن تناخرتم اذهبوا فأنتم شيوم بأرضي. والشيوم: الآمنون. مَنْ سَبَّكُم غُرَّم، مَنْ سَبَّكُم غُرَّم، ما أحب أن لي دبرا من ذهب، وأني آذيت رجلا منكم. والدبر: بلسان الحبشة الجبل. وردوا عليهما هداياهما، فلا حاجة لي بها، فوالله ما أخذ الله مني الرشوة حين ردَّ علي ملكي، فآخذ الرشوة فيه، وما أطاع الناس فيّ، فأطيعهم فيه. قالت: فخرجا من عنده مقبوحين مردودا عليهما. قالت أم سلمة: فكنت أتعرض لهم ليسبوني فأغرمهم، وأقمنا عنده بخير دار مع خير جار.
قالت: فوالله ما أغلا لعلى ذلك، إذ انبرى له رجل من الحبشة ينازعه ملكه. قالت: فوالله، ما أعلمنا حزنا قط كان أشد من حزن حزناه، عند ذلك تخوفا من أن يظهر ذلك الرجل على النجاشي. فيأتي رجلا لا يعرف من حقنا ما كان النجاشي يعرف منه. قالت: وسار إليه النجاشي وبينهما عرض النيل. قالت: فقال أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: مَنْ رجل يخرج حتى يشهد وقعة القوم ثم يأتينا بخبر القوم؟ قالت: فقال الزبير بن العوام: أنا، قالت: وكان من أحدث القوم سنا. قالت: فنفخوا له قربة فجعلوها في صدره، ثم سبح حتى خرج إلى النيل التي بها ملتقى القوم، ثم انطلق حتى حضرهم. قالت: ودعونا الله عز وجل للنجاشي بالظهور على عدوه، والتمكين له من بلاده.
قالت: فوالله إنا لعلى ذلك الحال متوقعين لما هو كائن، إذا طلع الزبير يسعى، ويليح بثوبه، ألا أبشروا، قد ظهر النجاشي، وقد أهلك الله عدوه، فوالله ما أعلمنا فرحنا فرحة قط مثلها. قالت: ورجع النجاشي وأهلك الله عدوه، ومكن له فى بلاده، واستوسق عليه أمر الحبشة، فكنا عنده فى خير منزل، حتى قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بمكة.
وروي عن الزبير قال: لما نزل بالنجاشي عدوه من أهل أرضه، جاءه المهاجرون فقالوا: إنا نحب أن نخرج إليهم فنقاتل معك، وترى جراءتنا، ونجزيك بما صنعت بنا فقال: ذو ينصره الله خير من الذي ينصره الناس، فأنى ذلك عليهم"]] ثُمَّ قَالَ: ﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ﴾ أَيْ: أَيْنَمَا كُنْتُمْ يُدْرِكْكُمُ الْمَوْتُ، فَكُونُوا فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَحَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ، فَإِنَّ الْمَوْتَ لَا بُدَّ مِنْهُ، وَلَا مَحِيدَ عَنْهُ، ثُمَّ إِلَى اللَّهِ الْمَرْجِعُ [وَالْمَآبُ] [[زيادة من أ.]] ، فَمَنْ كَانَ مُطِيعًا لَهُ جَازَاهُ أَفْضَلَ الْجَزَاءِ، وَوَافَاهُ أتمَّ [[في ت: "ووفاه تمام".]] الثَّوَابِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ﴾ أَيْ: لَنُسْكِنَنَّهُمْ مَنَازِلَ عَالِيَةً فِي الْجَنَّةِ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ، عَلَى اخْتِلَافِ أَصْنَافِهَا، مِنْ مَاءٍ وَخَمْرٍ، وعسل ولبن، يصرفونها ويجرونها حيث شاؤوا، ﴿خَالِدِينَ فِيهَا﴾ أَيْ: مَاكِثِينَ فِيهَا أَبَدًا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا ﴿نِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ﴾ : نِعْمَتْ هَذِهِ الغرفُ أَجْرًا عَلَى أَعْمَالِ الْمُؤْمِنِينَ.
﴿الَّذِينَ صَبَرُوا﴾ أَيْ: عَلَى دِينِهِمْ، وَهَاجَرُوا إِلَى اللَّهِ، وَنَابَذُوا الْأَعْدَاءَ، وَفَارَقُوا الْأَهْلَ وَالْأَقْرِبَاءَ، ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، وَرَجَاءَ مَا عِنْدَهُ وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِهِ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ المؤذِنَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنِي أَبُو معَاتق [[في هـ، ت: "أبو معاوية" والصواب ما أثبتناه من ف، أ، والمسند (٥/٣٤٣) .]] الْأَشْعَرِيُّ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ [[في ت: "روى ابن أبي حاتم بإسناده عن أبي مالك الأشعري".]] رَسُولَ اللَّهِ ﷺ حَدَّثَهُ: أَنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفا يُرى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أعدَّها اللَّهُ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَطَابَ الْكَلَامَ، وَأَبَاحَ الصِّيَامَ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ [[في أ: "وتابع الصلاة والصيام وقام بالليل".]] وَالنَّاسُ نِيَامٌ [[ورواه الإمام أحمد في مسنده (٥/٣٤٣) من طريق أبي معانق عن أبي مالك به، وسيأتي عند الآية: ٢٠ من سورة الزمر.]] .
[وَقَوْلُهُ] : [[زيادة من ت.]] ﴿وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ﴾ ، فِي أَحْوَالِهِمْ كُلِّهَا، فِي دِينِهِمْ وَدُنْيَاهُمْ.
ثُمَّ أَخْبَرَهُمْ تَعَالَى أَنَّ الرِّزْقَ لَا يُخْتَصُّ بِبُقْعَةٍ، بَلْ رِزْقُهُ تَعَالَى عَامٌّ لِخَلْقِهِ حَيْثُ كَانُوا وَأَيْنَ كَانُوا، بَلْ كَانَتْ أَرْزَاقُ الْمُهَاجِرِينَ حَيْثُ هَاجَرُوا أَكْثَرَ وَأَوْسَعَ وَأَطْيَبَ، فَإِنَّهُمْ [[في ف: "فهم".]] بَعْدَ قَلِيلٍ صَارُوا حُكَّامَ الْبِلَادِ فِي سَائِرِ الْأَقْطَارِ وَالْأَمْصَارِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا﴾ أَيْ: لَا تُطِيقُ جَمْعَهُ وَتَحْصِيلَهُ وَلَا تُؤَخِّرُ [[في أ: "ولا يدخر".]] شَيْئًا لِغَدٍ، ﴿اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ﴾ أَيِ: اللَّهُ يُقَيِّضُ لَهَا رِزْقَهَا عَلَى ضَعْفِهَا، وَيُيَسِّرُهُ عَلَيْهَا، فَيَبْعَثُ إِلَى كُلِّ مَخْلُوقٍ مِنَ الرِّزْقِ مَا يُصْلِحُهُ، حَتَّى الذَّرِّ فِي قَرَارِ الْأَرْضِ، وَالطَّيْرِ فِي الْهَوَاءِ وَالْحِيتَانِ فِي الْمَاءِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الأرْضِ إِلا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ﴾ [هُودٍ: ٦] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَرَوِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ -حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مِنْهَال الْجَزَرِيُّ -هُوَ أَبُو الْعَطُوفِ -عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ [[في ت: "وروى ابن أبي حاتم بإسناده".]] ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَتَّى دَخَلَ بَعْضَ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَجَعَلَ يَلْتَقِطُ مِنَ التَّمْرِ ويأكل، فقال لي: "يا بن عُمَرَ، مَا لَكَ لَا تَأْكُلُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: لَا أَشْتَهِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "لَكِنِّي أشتهيه، وَهَذِهِ صُبْحُ رَابِعَةٍ مُنْذُ لَمْ أَذُقْ طَعَامًا وَلَمْ أَجِدْهُ، وَلَوْ شِئْتُ لَدَعَوْتُ رَبِّي فَأَعْطَانِي مِثْلَ مُلْكِ قَيْصَرَ وَكِسْرَى فَكَيْفَ بِكَ يَا بن عُمَرَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُخَبِّئُونَ رِزْقَ سَنَتِهِمْ بِضَعْفِ الْيَقِينِ؟ ". قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا بَرِحْنَا وَلَا رِمْنا حَتَّى نَزَلَتْ: ﴿وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنِي بِكَنْزِ الدُّنْيَا، وَلَا بِاتِّبَاعِ الشَّهَوَاتِ، فَمَنْ كَنَزَ دُنْيَاهُ يُرِيدُ بِهَا حَيَاةً بَاقِيَةً فَإِنَّ الْحَيَاةَ بِيَدِ اللَّهِ، أَلَا وَإِنِّي لَا أَكْنِزُ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا أُخَبِّئُ رِزْقًا لِغَدٍ [[في ت: "إلى غد".]] " [[ورواه البغوي في تفسيره (٦/٢٥٣) من طريق إسماعيل بن زرارة عن الجراح بن المنهال به - وقال الشوكاني في فتح القدير (٤/٢١٣) : "وهذا الحديث فيه نكارة شديدة لمخالفته لما كان عليه النبي صلى الله عليه وسلم فقد كان يعطي نساءه قوت العام كما ثبت ذلك في كتب الحديث المعتبرة، وفي إسناده أبو العطوف الجزري وهو ضعيف". أهـ مستفادا من حاشية تفسير البغوي.]] .
وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو الْعَطُوفِ الْجَزَرِيُّ ضَعِيفٌ.
وَقَدْ ذَكَرُوا أَنَّ الْغُرَابَ إِذَا فَقسَ عَنْ فِرَاخِهِ البَيض، خَرَجُوا وَهُمْ بيضٌ فَإِذَا رَآهُمْ أَبَوَاهُمْ كَذَلِكَ، نَفَرَا عَنْهُمْ أَيَّامًا حَتَّى يَسْوَدَّ الرِّيشُ، فَيَظَلُّ الْفَرْخُ فَاتِحًا فَاهُ يَتَفَقَّدُ أَبَوَيْهِ، فَيُقَيِّضُ اللَّهُ لَهُ طَيْرًا [[في ت: "طيورا".]] صِغَارًا كالبَرغَش فَيَغْشَاهُ فَيَتَقَوَّتُ مِنْهُ تِلْكَ الْأَيَّامَ حَتَّى يَسْوَدَّ رِيشُهُ، وَالْأَبَوَانِ يَتَفَقَّدَانِهِ كُلَّ وَقْتٍ، فَكُلَّمَا رَأَوْهُ أَبْيَضَ الرِّيشِ نَفَرَا عَنْهُ، فَإِذَا رَأَوْهُ قَدِ اسْوَدَّ رِيشُهُ عَطَفَا عَلَيْهِ بِالْحَضَانَةِ وَالرِّزْقِ، وَلِهَذَا قَالَ الشَّاعِرُ:
يَا رَازِقَ النعَّاب [[في ت: "البغاب" وفي أ: "النعام".]] في عُشه ... وجَابر العَظْم الكَسِير الْمَهِيضِ ...
وَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي جُمْلَةِ كَلَامٍ لَهُ فِي الْأَوَامِرِ، كَقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ "سَافِرُوا تَصِحُّوا وَتُرْزَقُوا".
قَالَ الْبَيْهَقِيُّ أَخْبَرَنَا إِمْلَاءً أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدَانَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِنان، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَدّاد -شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ -حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ [[في ت: "وروى البيهقي بسنده"]] عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "سَافِرُوا تَصِحُّوا وَتَغْنَمُوا". قَالَ: وَرُوِّينَاهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[السنن الكبرى (٧/١٠٢) ورواه ابن عدي في الكامل (٦/١٩٠) من طريق محمد بن عبد الرحمن بن رواد به، وقال: "لا أعلم يرويه غير الرواد هذا، وعامة ما يرويه غير محفوظ" وقال ابن أبي حاتم في العلل (٢/٣٠٦) : "سألت أبي عن هذا الحديث فقال: هذا حديث منكر".]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، عَنْ دَرّاج، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُجَيرة، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "سَافِرُوا تَرْبَحُوا، وَصُومُوا تَصِحُّوا، وَاغْزُوا تَغْنَمُوا" [[المسند (٢/٣٨٠) وفيه ابن لهيعة ودراج ضعيفان.]] .
وَقَدْ وَرَدَ مِثْلُ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا، وَعَنْ مُعَاذِ بن جبل موقوفا [[أما حديث ابن عباس، فرواه البيهقي في السنن الكبرى (٧/١٠٢) من طريق بسطام بن حبيب عن القاسم عن أبي حازم عن ابن عباس مرفوعا، ورواه ابن عدي في الكامل (٧/٥٧) من طريق نهشل، عن الضحاك، عن ابن عباس، مرفوعا. وقال: "هذه الأحاديث كلها عن الضحاك غير محفوظة". ولم أجده عن معاذ موقوفا، وسيأتي مرفوعا، وجاء من حديث أبي سعيد الخدري مرفوعا. ورواه ابن عدي في الكامل (٣/٤٥٤) عن سوار بن مصعب، عن عطية، عن أبي سعيد، مرفوعا وقال: "سوار هذا عامة ما يرويه غير محفوظ".]] . وفي لَفْظٍ: "سَافِرُوا مَعَ ذَوِي الْجُدُودِ وَالْمَيْسَرَةِ" [[رواه الديلمي في مسند الفردوس برقم (٣٣٨٧) من حديث معاذ بن جبل رضي الله عنه، وذكره السيوطي في الجامع ورمز له بالضعف وأعله المناوي بإسماعيل بن زياد.]]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ أَيِ: السَّمِيعُ لِأَقْوَالِ عِبَادِهِ، الْعَلِيمُ بِحَرَكَاتِهِمْ وَسَكَنَاتِهِمْ.
ٱلَّذِينَ صَبَرُوا۟ وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
Who have been patient and upon their Lord rely.
جو صبر کرتے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں
همانها که (در برابر مشکلات) صبر (و استقامت) کردند و بر پروردگارشان توکّل میکنند.
Tafsir Ibn Kathir
O My servants who believe! Certainly, spacious is My earth. Therefore worship Me (56)Everyone shall taste death. Then unto Us you shall be returned (57)And those who believe and do righteous good deeds, to them We shall surely give lofty dwellings in Paradise, beneath which rivers flow, to live therein forever. Excellent is the reward for the workers (58)Those who are patient, and put their trust in their Lord (59)And so many a moving creature carries not its own provision! Allah provides for it and for you. And He is the All-Hearer, the All-Knower (60)
Advice to migrate and the Promise of Provision and a Goodly Reward
Allah commands His believing servants to migrate from a land in which they are not able to establish Islam, to the spacious earth of Allah where they can do so, by declaring Allah to be One and worshipping Him as He has commanded. Allah says:
يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ
(O My servants who believe! Certainly, spacious is My earth. Therefore worship Me.) When things became too difficult for the believers in Makkah who were in a weak position and were oppressed, they left and migrated to Ethiopia, where they were able to practice their religion. The Muslims found Ethiopia the best place for guest; where Ashamah, the Negus or king, may Allah have mercy on him, gave them refuge, helped them, supported them, and honored them in his land. Later, the Messenger of Allah ﷺ and his remaining Companions migrated to Al-Madinah, formerly known as Yathrib, may Allah protect it. Then Allah says:
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
(Everyone shall taste death. Then unto Us you shall be returned.) meaning, 'wherever you are, death with catch up with you, so always obey Allah and be where Allah commands you to be, for this is better for you. Death is inevitable and there is no escape from it, and then you will return to Allah, and whoever was obedient to Him will have the best reward.' Allah says:
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ
(And those who believe and do righteous good deeds, to them We shall surely give lofty dwellings in Paradise, underneath which rivers flow,) meaning, 'We shall cause them to dwell in lofty homes in Paradise under which various kinds of rivers flow – water, wine, honey and milk – which they can direct and cause to flow wherever they wish.'
خَالِدِينَ فِيهَا
(to live therein forever.) means, they will remain there forever, never wanting to leave.
نِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ
(Excellent is the reward for the workers.) these rooms will be a blessed reward for the good deeds of the believers,
الَّذِينَ صَبَرُوا
(Those who are patient,) in adhering to their religion, who migrated for the sake of Allah and fought the enemy, leaving behind their families and relatives to seek Allah's Face, and hoping for that which is with Him, believing His promise.
Ibn Abi Hatim, may Allah have mercy on him, recorded from Abu Mu'aniq Al-Ash'ari that Abu Malik Al-Ash'ari told him that the Messenger of Allah ﷺ told him:
إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللهُ تَعَالَى لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَطَابَ الْكَلَامَ، وَتَابَعَ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ، وَقَامَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ
(In Paradise there are rooms whose outside can be seen from the inside, and their inside can be seen from the outside; Allah has prepared them for those who feed others, who speak well, who pray and fast continually, and who stand in prayer at night while people are asleep.)
وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(and put their trust in their Lord.) in all their affairs, spiritual and worldly alike. Then Allah tells us that provision is not limited only to one place, but it is given to all His creatures no matter where they are. Indeed, when the Muhajirin migrated, their provision was greater and better than before, because after a short time they became rulers in the land, in all regions. Allah says:
وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا
(And so many a moving creature carries not its own provision!) meaning, it does not have the ability to gather its provision and save it for tomorrow.
اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ
(Allah provides for it and for you.) means, Allah allots its provision to it even though it is weak, and makes it easy for it. He sends provision to every creature in the appropriate manner, even the ants in the depths of the earth, the birds in the air and the fish in the sea. Allah says:
وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
(And no moving creature is there on earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit. All is in a Clear Book.)(11:6)
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And He is the All-Hearer, the All-Knower.) means, He hears all that His servants say and He knows their every movements.
Tafsir Ibn Kathir
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی نے ان کی پوری تائید ونصرت کی اور وہاں وہ بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ نے اور خود حضور ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو موت کے نیچے سے نجات نہیں پاسکتے پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جاکر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایماندار نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلندی وبالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی کہیں شراب طہور کی کہیں شہد کی کہیں دودھ کی۔ یہ چشمیں خود بخود جہاں چاہیں بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں رہیں گے نہ وہاں سے نکالیں جائیں نہ ہٹائے جائیں گے نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالا خانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی۔ اس کے دشمنوں کو ترک کیا اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات ماردی۔ ابن ابی حاتم میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں خوش کلام نرم گو ہوں۔ روزے نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوتے ہوئے ہوں۔ یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہوں یا دنیوی اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقیسم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو اسے وہ وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہوگئے اور بادشاہ بن گئے فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے وہ کسی بھی صورت اپنی مخلوق کو نہیں بھولتا۔ چینٹیوں کو ان کے سوراخوں میں پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) یعنی کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں میں رسول ﷺ کے ساتھ چلا آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کرکے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا حضور ﷺ مجھ سے تو یہ ردی کجھوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کھانا ملا ہی نہیں۔ سنو اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر وکسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر تیرا کیا حال ہوگا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہوگا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کرلیاکریں گے۔ اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودا ہوجائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے جو آیت (وکاین الخ) ، نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار ودرہم جمع کروں نہ کل کے لئے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابو العطوف جزی ضعیف ہے۔ یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر وبال سفید ہوتے ہیں یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کرکے بھاگ جاتا ہے کچھ دنوں کے بعد ان پروں کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو نفع اٹھاؤ گے روزے رکھو تندرست رہو گے جہاد کرو غنیمت ملے گی۔ ایک اور روایت میں ہے جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا أَمْرٌ مِنَ اللَّهِ لِعِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ بِالْهِجْرَةِ مِنَ الْبَلَدِ الَّذِي لَا يَقْدِرُونَ فِيهِ عَلَى إِقَامَةِ الدِّينِ، إِلَى أَرْضِ اللَّهِ الْوَاسِعَةِ، حَيْثُ يُمْكِنُ إِقَامَةُ الدِّينِ، بِأَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ وَيَعْبُدُوهُ كَمَا أمرهم؛ ولهذا قال: ﴿يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ﴾ .
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي جُبَيْر بْنُ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى [[في ت: "روى الإمام أحمد بإسناده عن".]] الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "الْبِلَادُ بِلَادُ اللَّهِ، وَالْعِبَادُ عِبَادُ اللَّهِ، فَحَيْثُمَا أصبتَ خَيْرًا فَأَقِمْ" [[المسند (١/١٦٦) وقال الهيثمي في المجمع (٤/٧٢) "فيه جماعة لم أعرفهم".]] .
وَلِهَذَا لَمَّا ضَاقَ عَلَى الْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ مُقَامَهُمْ بِهَا، خَرَجُوا مُهَاجِرِينَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، لِيَأْمَنُوا، عَلَى دِينِهِمْ هُنَاكَ، فَوَجَدُوا هُنَاكَ خَيْرَ الْمَنْزِلَيْنِ، أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيَّ مَلِكَ الْحَبَشَةِ، رَحِمَهُ اللَّهُ، آوَاهُمْ وَأَيَّدَهُمْ بِنَصْرِهِ، وَجَعَلَهُمْ شُيُوما بِبِلَادِهِ. ثُمَّ بَعْدَ ذَلِكَ هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَصْحَابُهُ الْبَاقُونَ إِلَى المدينة النبوية يثرب المطهرة [[بعدها في ت- وأظنها من الناسخ - ما يلي: "أما قصة هجرة الحبشة، فقال ابن إسحاق: حدثني الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الحارث بن هشام، عن أمه أم سلمة بنت أبي أمية بن المغيرة زَوْجَ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ: لما نزلنا بأرض الحبشة جاورنا خير جار النجاشي، آمنا على ديننا، وعبدنا الله لا نؤذى، ولا نسمع شيئا نكرهه فلما بلغ ذلك قريشا ائتمروا بينهم، أن يبعثوا إلينا رجلين جلدين، وأن يهدوا إلى النجاشي هدايا مما يُستطرف من متاع مكة، وكان أعجب ما يأتيه منها الأدم، فجمعوا له أدما كثيرا، ولم يتركوا من بطارقته بطريقا إلا أهدوا له هدية وقالوا لهما: ادفعوا إلى كل بطريق هديته قبل أن تكلموا النجاشي، ثم قدموا إلى النجاشي هداياه، ثم سلوه أن يسلمهم إليكما قبل أن يكلمهم.
قالت: فخرجنا حتى قدمنا عليه، ونحن عنده بخير دار، عند خير جار فلم يبق بطريق من بطارقته إلا دفعوا إليه هديته قبل أن يكلما النجاشي، ثم قالا لكل بطريق: إنه قد ضوى إلى بلدك منا غلمان سفهاء فارقوا دين قومهم، ولم يدخلوا في دينكم، وجاءوا بدين مبتدع لا نعرفه نحن ولا أنتم، وقد بعثنا إلى الملك فيهم أشراف قومهم ليردوهم إليهم، فإذا كلمنا الملك فيهم فأشيروا عليه أن يسلمهم إلينا، ولا يكلمهم فإن قومهم أعلى بهم دينا وأعلم بما عابوا عليهم؛ فقالوا لهما: نعم، ثم أنهما قدما هداياهما إلى النجاشي فقبلها منهما ثم كلماه فقالا: أيها الملك إنه قد ضوى إلى بلدك منا غلمان سفهاء فارقوا دين قومهم، ولم يدخلوا في دينك، جاءوا بدين مبتدع لا نعرفه نحن ولا أنت، وقد بعثنا إليك فيهم أشراف قومهم وآباءهم وأعمامهم وعشائرهم لتردهم إليهم فهم أعلى بهم عينا، وأعلم بما عابوا عليهم وعاتبوهم فيه.
قالت: ولم يكن شيء أبغض إلى عبد الله بن أبي ربيعة وعمرو بن العاص من أن يسمع كلامهم النجاشي، فقالت بطارقته حوله: صدقوا أيها الملك قومهم أعلى بهم عينا وأعلم بما عابوا عليهم فأسلمهم إليهم ليردوهم إلى بلادهم وقومهم، فغضب النجاشي وقال: لاها الله لا أسلمهم إليهم أبدا ولا أكاد، قوم جاوروني، ونزلوا بلادي، واختاروني على مَنْ سواي، حتى أدعوهم فأسألهم عما يقول هذان الرجلان. فإن كانوا كما يقولون أسلمتهم إليهما ورددتهم إلى بلادهم، وإن كانوا على غير ذلك منعتهم وأحسنت جوارهم ما جاوروني ونزلوا بلادي.
قالت: ثم أرسل إلى أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فدعاهم فلما جاءهم رسوله اجتمعوا، ثم قال بعضهم لبعض: ما تقولون لهذا الرجل إذا جئتموه؟ قالوا: نقول: والله ما علمنا وما أمرنا به نبينا صلى الله عليه وسلم، كائنا في ذلك ما هو كائن، قال: فلما جاءوه وقد دعا النجاشي أساقفته فنشروا مصاحفهم حوله، فلما دخلوا عليه سألهم، فقال: ما هذا الذي فارقتم فيه قومكم ولم تدخلوا في ديني ولا دين أحد من هذه الملل.
قالت: فكان الذي كلمه جعفر بن أبي طالب. فقال: أيها الملك كنا قومًا أهل جاهلية نعبد الأصنام، ونأكل الميتة، ونأتي الفواحش، ونقطع الأرحام، ونسيء الجوار، ويأكل القوي منا الضعيف فكنا على ذلك، حتى بعث الله إلينا رسولا نعرف نسبه وصدقه وأمانته وعفافه، فدعانا إلى الله لنوحده، ونخلع ما كنا نعبد وآباؤنا من دونه، الحجارة والأوثان، وأمرنا بصدق الحديث، وأداء الأمانة، وصلة الرحم، وحسن الجوار، والكف عن المحارم والدماء، ونهانا عن الفواحش، وقول الزور، وأكل مال اليتيم وقذف المحصنة، وأمرنا أن نعبد الله ولا نشرك به شيئا، وأمرنا بالصلاة والزكاة والصيام. قالت: فعد عليه أمور الإسلام. فصدقناه وآمنا به، واتبعناه على ما جاء به من الله عز جل، فعبدنا الله لا نشرك به شيئا، وحرمنا ما حرم علينا، وأحللنا ما أحل لنا، فعدا علينا قومنا، فعذبونا، وفتنونا عن ديننا؛ ليردونا إلى عبادة الأوثان من عبادة الله، وأن نستحل كما كنا نستحل من الخبائث، فلما قهرونا وظلمونا وضيقوا علينا، وحالوا بيننا وبين ديننا، خرجنا إلى بلدك، واخترناك على مَنْ سواك، ورغبنا في جوارك، ورجونا أن لا نظلم عندك أيها الملك. قالت: فقال له النجاشي: وهل عندك مما جاء به من عند الله شيء؟ قالت: فقال له جعفر: نعم. فقال له النجاشي: فاقرأه علي، فقرأ عليه صدرا من (كهيعص) .
قالت: فبكى النجاشي حتى اخضلت لحيته، وبكى أساقفته حتى أخضلوا مصاحفهم، حين سمعوا ما يتلى عليهم. وقال النجاشي: إن هذا والذي جاء به موسى ليخرج من مشكاة واحدة. انطلقا. لا والله لا أسلمهم إليكما ولا أكاد. قالت: فلما خرجا من عنده. قال عمرو بن العاص: والله لآتينه غدا بما أستأصل به خضراءهم.
قالت: فقال له عبد الله بن أبي ربيعة - وكان أتقى الرجلين فينا -: لا تفعل فإن لهم أرحاما، وإن كانوا قد خالفونا. قال: والله لأخبرنه أنهم يقولون في عيسى قولا عظيما. فأرسل إليهم فسألهم عما يقولون فيه. قالت: فأرسل إليهم ليسألهم عنه. قالت: ولم ينزل بنا مثلها، فاجتمع القوم. فقال بعضهم لبعض: ما تقولون في عيسى إن سألكم عنه. قالوا: نقول فيه ما قال الله عز وجل، وما جاء به نبينا، كائنا في ذلك ما هو كائن. قالت: فلما دخلوا عليه. قال لهم: ما تقولون في عيسى ابن مريم، قالت: فقال جعفر بن أبي طالب: نقول فيه الذي جاء به نبينا صلى الله عليه وسلم. يقول فيه: هو عبد الله ورسوله وروحه وكلمته ألقاها إلى مريم العذراء البتول. قالت: فضرب النجاشي يده إلى الأرض، فأخذ منها عودا، ثم قال له: ما عدا عيسى ابن مريم ما قلت هذا العود.
قالت: فتناخرت بطارقته حوله حين قال ما قال. فقال: وإن تناخرتم اذهبوا فأنتم شيوم بأرضي. والشيوم: الآمنون. مَنْ سَبَّكُم غُرَّم، مَنْ سَبَّكُم غُرَّم، ما أحب أن لي دبرا من ذهب، وأني آذيت رجلا منكم. والدبر: بلسان الحبشة الجبل. وردوا عليهما هداياهما، فلا حاجة لي بها، فوالله ما أخذ الله مني الرشوة حين ردَّ علي ملكي، فآخذ الرشوة فيه، وما أطاع الناس فيّ، فأطيعهم فيه. قالت: فخرجا من عنده مقبوحين مردودا عليهما. قالت أم سلمة: فكنت أتعرض لهم ليسبوني فأغرمهم، وأقمنا عنده بخير دار مع خير جار.
قالت: فوالله ما أغلا لعلى ذلك، إذ انبرى له رجل من الحبشة ينازعه ملكه. قالت: فوالله، ما أعلمنا حزنا قط كان أشد من حزن حزناه، عند ذلك تخوفا من أن يظهر ذلك الرجل على النجاشي. فيأتي رجلا لا يعرف من حقنا ما كان النجاشي يعرف منه. قالت: وسار إليه النجاشي وبينهما عرض النيل. قالت: فقال أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: مَنْ رجل يخرج حتى يشهد وقعة القوم ثم يأتينا بخبر القوم؟ قالت: فقال الزبير بن العوام: أنا، قالت: وكان من أحدث القوم سنا. قالت: فنفخوا له قربة فجعلوها في صدره، ثم سبح حتى خرج إلى النيل التي بها ملتقى القوم، ثم انطلق حتى حضرهم. قالت: ودعونا الله عز وجل للنجاشي بالظهور على عدوه، والتمكين له من بلاده.
قالت: فوالله إنا لعلى ذلك الحال متوقعين لما هو كائن، إذا طلع الزبير يسعى، ويليح بثوبه، ألا أبشروا، قد ظهر النجاشي، وقد أهلك الله عدوه، فوالله ما أعلمنا فرحنا فرحة قط مثلها. قالت: ورجع النجاشي وأهلك الله عدوه، ومكن له فى بلاده، واستوسق عليه أمر الحبشة، فكنا عنده فى خير منزل، حتى قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بمكة.
وروي عن الزبير قال: لما نزل بالنجاشي عدوه من أهل أرضه، جاءه المهاجرون فقالوا: إنا نحب أن نخرج إليهم فنقاتل معك، وترى جراءتنا، ونجزيك بما صنعت بنا فقال: ذو ينصره الله خير من الذي ينصره الناس، فأنى ذلك عليهم"]] ثُمَّ قَالَ: ﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ﴾ أَيْ: أَيْنَمَا كُنْتُمْ يُدْرِكْكُمُ الْمَوْتُ، فَكُونُوا فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَحَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ، فَإِنَّ الْمَوْتَ لَا بُدَّ مِنْهُ، وَلَا مَحِيدَ عَنْهُ، ثُمَّ إِلَى اللَّهِ الْمَرْجِعُ [وَالْمَآبُ] [[زيادة من أ.]] ، فَمَنْ كَانَ مُطِيعًا لَهُ جَازَاهُ أَفْضَلَ الْجَزَاءِ، وَوَافَاهُ أتمَّ [[في ت: "ووفاه تمام".]] الثَّوَابِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ﴾ أَيْ: لَنُسْكِنَنَّهُمْ مَنَازِلَ عَالِيَةً فِي الْجَنَّةِ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ، عَلَى اخْتِلَافِ أَصْنَافِهَا، مِنْ مَاءٍ وَخَمْرٍ، وعسل ولبن، يصرفونها ويجرونها حيث شاؤوا، ﴿خَالِدِينَ فِيهَا﴾ أَيْ: مَاكِثِينَ فِيهَا أَبَدًا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا ﴿نِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ﴾ : نِعْمَتْ هَذِهِ الغرفُ أَجْرًا عَلَى أَعْمَالِ الْمُؤْمِنِينَ.
﴿الَّذِينَ صَبَرُوا﴾ أَيْ: عَلَى دِينِهِمْ، وَهَاجَرُوا إِلَى اللَّهِ، وَنَابَذُوا الْأَعْدَاءَ، وَفَارَقُوا الْأَهْلَ وَالْأَقْرِبَاءَ، ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، وَرَجَاءَ مَا عِنْدَهُ وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِهِ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ المؤذِنَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنِي أَبُو معَاتق [[في هـ، ت: "أبو معاوية" والصواب ما أثبتناه من ف، أ، والمسند (٥/٣٤٣) .]] الْأَشْعَرِيُّ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ [[في ت: "روى ابن أبي حاتم بإسناده عن أبي مالك الأشعري".]] رَسُولَ اللَّهِ ﷺ حَدَّثَهُ: أَنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفا يُرى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أعدَّها اللَّهُ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَطَابَ الْكَلَامَ، وَأَبَاحَ الصِّيَامَ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ [[في أ: "وتابع الصلاة والصيام وقام بالليل".]] وَالنَّاسُ نِيَامٌ [[ورواه الإمام أحمد في مسنده (٥/٣٤٣) من طريق أبي معانق عن أبي مالك به، وسيأتي عند الآية: ٢٠ من سورة الزمر.]] .
[وَقَوْلُهُ] : [[زيادة من ت.]] ﴿وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ﴾ ، فِي أَحْوَالِهِمْ كُلِّهَا، فِي دِينِهِمْ وَدُنْيَاهُمْ.
ثُمَّ أَخْبَرَهُمْ تَعَالَى أَنَّ الرِّزْقَ لَا يُخْتَصُّ بِبُقْعَةٍ، بَلْ رِزْقُهُ تَعَالَى عَامٌّ لِخَلْقِهِ حَيْثُ كَانُوا وَأَيْنَ كَانُوا، بَلْ كَانَتْ أَرْزَاقُ الْمُهَاجِرِينَ حَيْثُ هَاجَرُوا أَكْثَرَ وَأَوْسَعَ وَأَطْيَبَ، فَإِنَّهُمْ [[في ف: "فهم".]] بَعْدَ قَلِيلٍ صَارُوا حُكَّامَ الْبِلَادِ فِي سَائِرِ الْأَقْطَارِ وَالْأَمْصَارِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا﴾ أَيْ: لَا تُطِيقُ جَمْعَهُ وَتَحْصِيلَهُ وَلَا تُؤَخِّرُ [[في أ: "ولا يدخر".]] شَيْئًا لِغَدٍ، ﴿اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ﴾ أَيِ: اللَّهُ يُقَيِّضُ لَهَا رِزْقَهَا عَلَى ضَعْفِهَا، وَيُيَسِّرُهُ عَلَيْهَا، فَيَبْعَثُ إِلَى كُلِّ مَخْلُوقٍ مِنَ الرِّزْقِ مَا يُصْلِحُهُ، حَتَّى الذَّرِّ فِي قَرَارِ الْأَرْضِ، وَالطَّيْرِ فِي الْهَوَاءِ وَالْحِيتَانِ فِي الْمَاءِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الأرْضِ إِلا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ﴾ [هُودٍ: ٦] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَرَوِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ -حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مِنْهَال الْجَزَرِيُّ -هُوَ أَبُو الْعَطُوفِ -عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ [[في ت: "وروى ابن أبي حاتم بإسناده".]] ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَتَّى دَخَلَ بَعْضَ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَجَعَلَ يَلْتَقِطُ مِنَ التَّمْرِ ويأكل، فقال لي: "يا بن عُمَرَ، مَا لَكَ لَا تَأْكُلُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: لَا أَشْتَهِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "لَكِنِّي أشتهيه، وَهَذِهِ صُبْحُ رَابِعَةٍ مُنْذُ لَمْ أَذُقْ طَعَامًا وَلَمْ أَجِدْهُ، وَلَوْ شِئْتُ لَدَعَوْتُ رَبِّي فَأَعْطَانِي مِثْلَ مُلْكِ قَيْصَرَ وَكِسْرَى فَكَيْفَ بِكَ يَا بن عُمَرَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُخَبِّئُونَ رِزْقَ سَنَتِهِمْ بِضَعْفِ الْيَقِينِ؟ ". قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا بَرِحْنَا وَلَا رِمْنا حَتَّى نَزَلَتْ: ﴿وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنِي بِكَنْزِ الدُّنْيَا، وَلَا بِاتِّبَاعِ الشَّهَوَاتِ، فَمَنْ كَنَزَ دُنْيَاهُ يُرِيدُ بِهَا حَيَاةً بَاقِيَةً فَإِنَّ الْحَيَاةَ بِيَدِ اللَّهِ، أَلَا وَإِنِّي لَا أَكْنِزُ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا أُخَبِّئُ رِزْقًا لِغَدٍ [[في ت: "إلى غد".]] " [[ورواه البغوي في تفسيره (٦/٢٥٣) من طريق إسماعيل بن زرارة عن الجراح بن المنهال به - وقال الشوكاني في فتح القدير (٤/٢١٣) : "وهذا الحديث فيه نكارة شديدة لمخالفته لما كان عليه النبي صلى الله عليه وسلم فقد كان يعطي نساءه قوت العام كما ثبت ذلك في كتب الحديث المعتبرة، وفي إسناده أبو العطوف الجزري وهو ضعيف". أهـ مستفادا من حاشية تفسير البغوي.]] .
وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو الْعَطُوفِ الْجَزَرِيُّ ضَعِيفٌ.
وَقَدْ ذَكَرُوا أَنَّ الْغُرَابَ إِذَا فَقسَ عَنْ فِرَاخِهِ البَيض، خَرَجُوا وَهُمْ بيضٌ فَإِذَا رَآهُمْ أَبَوَاهُمْ كَذَلِكَ، نَفَرَا عَنْهُمْ أَيَّامًا حَتَّى يَسْوَدَّ الرِّيشُ، فَيَظَلُّ الْفَرْخُ فَاتِحًا فَاهُ يَتَفَقَّدُ أَبَوَيْهِ، فَيُقَيِّضُ اللَّهُ لَهُ طَيْرًا [[في ت: "طيورا".]] صِغَارًا كالبَرغَش فَيَغْشَاهُ فَيَتَقَوَّتُ مِنْهُ تِلْكَ الْأَيَّامَ حَتَّى يَسْوَدَّ رِيشُهُ، وَالْأَبَوَانِ يَتَفَقَّدَانِهِ كُلَّ وَقْتٍ، فَكُلَّمَا رَأَوْهُ أَبْيَضَ الرِّيشِ نَفَرَا عَنْهُ، فَإِذَا رَأَوْهُ قَدِ اسْوَدَّ رِيشُهُ عَطَفَا عَلَيْهِ بِالْحَضَانَةِ وَالرِّزْقِ، وَلِهَذَا قَالَ الشَّاعِرُ:
يَا رَازِقَ النعَّاب [[في ت: "البغاب" وفي أ: "النعام".]] في عُشه ... وجَابر العَظْم الكَسِير الْمَهِيضِ ...
وَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي جُمْلَةِ كَلَامٍ لَهُ فِي الْأَوَامِرِ، كَقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ "سَافِرُوا تَصِحُّوا وَتُرْزَقُوا".
قَالَ الْبَيْهَقِيُّ أَخْبَرَنَا إِمْلَاءً أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدَانَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِنان، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَدّاد -شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ -حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ [[في ت: "وروى البيهقي بسنده"]] عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "سَافِرُوا تَصِحُّوا وَتَغْنَمُوا". قَالَ: وَرُوِّينَاهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[السنن الكبرى (٧/١٠٢) ورواه ابن عدي في الكامل (٦/١٩٠) من طريق محمد بن عبد الرحمن بن رواد به، وقال: "لا أعلم يرويه غير الرواد هذا، وعامة ما يرويه غير محفوظ" وقال ابن أبي حاتم في العلل (٢/٣٠٦) : "سألت أبي عن هذا الحديث فقال: هذا حديث منكر".]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، عَنْ دَرّاج، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُجَيرة، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "سَافِرُوا تَرْبَحُوا، وَصُومُوا تَصِحُّوا، وَاغْزُوا تَغْنَمُوا" [[المسند (٢/٣٨٠) وفيه ابن لهيعة ودراج ضعيفان.]] .
وَقَدْ وَرَدَ مِثْلُ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا، وَعَنْ مُعَاذِ بن جبل موقوفا [[أما حديث ابن عباس، فرواه البيهقي في السنن الكبرى (٧/١٠٢) من طريق بسطام بن حبيب عن القاسم عن أبي حازم عن ابن عباس مرفوعا، ورواه ابن عدي في الكامل (٧/٥٧) من طريق نهشل، عن الضحاك، عن ابن عباس، مرفوعا. وقال: "هذه الأحاديث كلها عن الضحاك غير محفوظة". ولم أجده عن معاذ موقوفا، وسيأتي مرفوعا، وجاء من حديث أبي سعيد الخدري مرفوعا. ورواه ابن عدي في الكامل (٣/٤٥٤) عن سوار بن مصعب، عن عطية، عن أبي سعيد، مرفوعا وقال: "سوار هذا عامة ما يرويه غير محفوظ".]] . وفي لَفْظٍ: "سَافِرُوا مَعَ ذَوِي الْجُدُودِ وَالْمَيْسَرَةِ" [[رواه الديلمي في مسند الفردوس برقم (٣٣٨٧) من حديث معاذ بن جبل رضي الله عنه، وذكره السيوطي في الجامع ورمز له بالضعف وأعله المناوي بإسماعيل بن زياد.]]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ أَيِ: السَّمِيعُ لِأَقْوَالِ عِبَادِهِ، الْعَلِيمُ بِحَرَكَاتِهِمْ وَسَكَنَاتِهِمْ.
وَكَأَيِّن مِّن دَآبَّةٍۢ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا ٱللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
And how many a creature carries not its [own] provision. Allah provides for it and for you. And He is the Hearing, the Knowing.
اور بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق اُٹھائے نہیں پھرتے خدا ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی۔ اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے
چه بسا جنبندهای که قدرت حمل روزی خود را ندارد، خداوند او و شما را روزی میدهد؛ و او شنوا و داناست.
Tafsir Ibn Kathir
O My servants who believe! Certainly, spacious is My earth. Therefore worship Me (56)Everyone shall taste death. Then unto Us you shall be returned (57)And those who believe and do righteous good deeds, to them We shall surely give lofty dwellings in Paradise, beneath which rivers flow, to live therein forever. Excellent is the reward for the workers (58)Those who are patient, and put their trust in their Lord (59)And so many a moving creature carries not its own provision! Allah provides for it and for you. And He is the All-Hearer, the All-Knower (60)
Advice to migrate and the Promise of Provision and a Goodly Reward
Allah commands His believing servants to migrate from a land in which they are not able to establish Islam, to the spacious earth of Allah where they can do so, by declaring Allah to be One and worshipping Him as He has commanded. Allah says:
يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ
(O My servants who believe! Certainly, spacious is My earth. Therefore worship Me.) When things became too difficult for the believers in Makkah who were in a weak position and were oppressed, they left and migrated to Ethiopia, where they were able to practice their religion. The Muslims found Ethiopia the best place for guest; where Ashamah, the Negus or king, may Allah have mercy on him, gave them refuge, helped them, supported them, and honored them in his land. Later, the Messenger of Allah ﷺ and his remaining Companions migrated to Al-Madinah, formerly known as Yathrib, may Allah protect it. Then Allah says:
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
(Everyone shall taste death. Then unto Us you shall be returned.) meaning, 'wherever you are, death with catch up with you, so always obey Allah and be where Allah commands you to be, for this is better for you. Death is inevitable and there is no escape from it, and then you will return to Allah, and whoever was obedient to Him will have the best reward.' Allah says:
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ
(And those who believe and do righteous good deeds, to them We shall surely give lofty dwellings in Paradise, underneath which rivers flow,) meaning, 'We shall cause them to dwell in lofty homes in Paradise under which various kinds of rivers flow – water, wine, honey and milk – which they can direct and cause to flow wherever they wish.'
خَالِدِينَ فِيهَا
(to live therein forever.) means, they will remain there forever, never wanting to leave.
نِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ
(Excellent is the reward for the workers.) these rooms will be a blessed reward for the good deeds of the believers,
الَّذِينَ صَبَرُوا
(Those who are patient,) in adhering to their religion, who migrated for the sake of Allah and fought the enemy, leaving behind their families and relatives to seek Allah's Face, and hoping for that which is with Him, believing His promise.
Ibn Abi Hatim, may Allah have mercy on him, recorded from Abu Mu'aniq Al-Ash'ari that Abu Malik Al-Ash'ari told him that the Messenger of Allah ﷺ told him:
إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللهُ تَعَالَى لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَطَابَ الْكَلَامَ، وَتَابَعَ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ، وَقَامَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ
(In Paradise there are rooms whose outside can be seen from the inside, and their inside can be seen from the outside; Allah has prepared them for those who feed others, who speak well, who pray and fast continually, and who stand in prayer at night while people are asleep.)
وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(and put their trust in their Lord.) in all their affairs, spiritual and worldly alike. Then Allah tells us that provision is not limited only to one place, but it is given to all His creatures no matter where they are. Indeed, when the Muhajirin migrated, their provision was greater and better than before, because after a short time they became rulers in the land, in all regions. Allah says:
وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا
(And so many a moving creature carries not its own provision!) meaning, it does not have the ability to gather its provision and save it for tomorrow.
اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ
(Allah provides for it and for you.) means, Allah allots its provision to it even though it is weak, and makes it easy for it. He sends provision to every creature in the appropriate manner, even the ants in the depths of the earth, the birds in the air and the fish in the sea. Allah says:
وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
(And no moving creature is there on earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit. All is in a Clear Book.)(11:6)
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And He is the All-Hearer, the All-Knower.) means, He hears all that His servants say and He knows their every movements.
Tafsir Ibn Kathir
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی اللہ تبارک وتعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجالاسکیں وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں جہاں تو بھلائی پاسکتا ہو وہیں قیام کر چناچہ صحابہ اکرام پر جب مکہ شریف کی رہائش مشکل ہوگئی تو وہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تاکہ امن وامان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کرسکیں وہاں کے سمجھدار دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی نے ان کی پوری تائید ونصرت کی اور وہاں وہ بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ نے اور خود حضور ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو موت کے نیچے سے نجات نہیں پاسکتے پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جاکر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایماندار نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلندی وبالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی کہیں شراب طہور کی کہیں شہد کی کہیں دودھ کی۔ یہ چشمیں خود بخود جہاں چاہیں بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں رہیں گے نہ وہاں سے نکالیں جائیں نہ ہٹائے جائیں گے نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالا خانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی۔ اس کے دشمنوں کو ترک کیا اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات ماردی۔ ابن ابی حاتم میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں خوش کلام نرم گو ہوں۔ روزے نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوتے ہوئے ہوں۔ یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہوں یا دنیوی اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقیسم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو اسے وہ وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہوگئے اور بادشاہ بن گئے فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے وہ کسی بھی صورت اپنی مخلوق کو نہیں بھولتا۔ چینٹیوں کو ان کے سوراخوں میں پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) یعنی کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں میں رسول ﷺ کے ساتھ چلا آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کرکے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا حضور ﷺ مجھ سے تو یہ ردی کجھوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے کھانا ملا ہی نہیں۔ سنو اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر وکسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر تیرا کیا حال ہوگا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہوگا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کرلیاکریں گے۔ اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودا ہوجائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے جو آیت (وکاین الخ) ، نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار ودرہم جمع کروں نہ کل کے لئے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابو العطوف جزی ضعیف ہے۔ یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر وبال سفید ہوتے ہیں یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کرکے بھاگ جاتا ہے کچھ دنوں کے بعد ان پروں کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔ اور حدیث میں ہے کہ سفر کرو نفع اٹھاؤ گے روزے رکھو تندرست رہو گے جہاد کرو غنیمت ملے گی۔ ایک اور روایت میں ہے جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا أَمْرٌ مِنَ اللَّهِ لِعِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ بِالْهِجْرَةِ مِنَ الْبَلَدِ الَّذِي لَا يَقْدِرُونَ فِيهِ عَلَى إِقَامَةِ الدِّينِ، إِلَى أَرْضِ اللَّهِ الْوَاسِعَةِ، حَيْثُ يُمْكِنُ إِقَامَةُ الدِّينِ، بِأَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ وَيَعْبُدُوهُ كَمَا أمرهم؛ ولهذا قال: ﴿يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ﴾ .
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي جُبَيْر بْنُ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى [[في ت: "روى الإمام أحمد بإسناده عن".]] الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "الْبِلَادُ بِلَادُ اللَّهِ، وَالْعِبَادُ عِبَادُ اللَّهِ، فَحَيْثُمَا أصبتَ خَيْرًا فَأَقِمْ" [[المسند (١/١٦٦) وقال الهيثمي في المجمع (٤/٧٢) "فيه جماعة لم أعرفهم".]] .
وَلِهَذَا لَمَّا ضَاقَ عَلَى الْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ مُقَامَهُمْ بِهَا، خَرَجُوا مُهَاجِرِينَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، لِيَأْمَنُوا، عَلَى دِينِهِمْ هُنَاكَ، فَوَجَدُوا هُنَاكَ خَيْرَ الْمَنْزِلَيْنِ، أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيَّ مَلِكَ الْحَبَشَةِ، رَحِمَهُ اللَّهُ، آوَاهُمْ وَأَيَّدَهُمْ بِنَصْرِهِ، وَجَعَلَهُمْ شُيُوما بِبِلَادِهِ. ثُمَّ بَعْدَ ذَلِكَ هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَصْحَابُهُ الْبَاقُونَ إِلَى المدينة النبوية يثرب المطهرة [[بعدها في ت- وأظنها من الناسخ - ما يلي: "أما قصة هجرة الحبشة، فقال ابن إسحاق: حدثني الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الحارث بن هشام، عن أمه أم سلمة بنت أبي أمية بن المغيرة زَوْجَ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ: لما نزلنا بأرض الحبشة جاورنا خير جار النجاشي، آمنا على ديننا، وعبدنا الله لا نؤذى، ولا نسمع شيئا نكرهه فلما بلغ ذلك قريشا ائتمروا بينهم، أن يبعثوا إلينا رجلين جلدين، وأن يهدوا إلى النجاشي هدايا مما يُستطرف من متاع مكة، وكان أعجب ما يأتيه منها الأدم، فجمعوا له أدما كثيرا، ولم يتركوا من بطارقته بطريقا إلا أهدوا له هدية وقالوا لهما: ادفعوا إلى كل بطريق هديته قبل أن تكلموا النجاشي، ثم قدموا إلى النجاشي هداياه، ثم سلوه أن يسلمهم إليكما قبل أن يكلمهم.
قالت: فخرجنا حتى قدمنا عليه، ونحن عنده بخير دار، عند خير جار فلم يبق بطريق من بطارقته إلا دفعوا إليه هديته قبل أن يكلما النجاشي، ثم قالا لكل بطريق: إنه قد ضوى إلى بلدك منا غلمان سفهاء فارقوا دين قومهم، ولم يدخلوا في دينكم، وجاءوا بدين مبتدع لا نعرفه نحن ولا أنتم، وقد بعثنا إلى الملك فيهم أشراف قومهم ليردوهم إليهم، فإذا كلمنا الملك فيهم فأشيروا عليه أن يسلمهم إلينا، ولا يكلمهم فإن قومهم أعلى بهم دينا وأعلم بما عابوا عليهم؛ فقالوا لهما: نعم، ثم أنهما قدما هداياهما إلى النجاشي فقبلها منهما ثم كلماه فقالا: أيها الملك إنه قد ضوى إلى بلدك منا غلمان سفهاء فارقوا دين قومهم، ولم يدخلوا في دينك، جاءوا بدين مبتدع لا نعرفه نحن ولا أنت، وقد بعثنا إليك فيهم أشراف قومهم وآباءهم وأعمامهم وعشائرهم لتردهم إليهم فهم أعلى بهم عينا، وأعلم بما عابوا عليهم وعاتبوهم فيه.
قالت: ولم يكن شيء أبغض إلى عبد الله بن أبي ربيعة وعمرو بن العاص من أن يسمع كلامهم النجاشي، فقالت بطارقته حوله: صدقوا أيها الملك قومهم أعلى بهم عينا وأعلم بما عابوا عليهم فأسلمهم إليهم ليردوهم إلى بلادهم وقومهم، فغضب النجاشي وقال: لاها الله لا أسلمهم إليهم أبدا ولا أكاد، قوم جاوروني، ونزلوا بلادي، واختاروني على مَنْ سواي، حتى أدعوهم فأسألهم عما يقول هذان الرجلان. فإن كانوا كما يقولون أسلمتهم إليهما ورددتهم إلى بلادهم، وإن كانوا على غير ذلك منعتهم وأحسنت جوارهم ما جاوروني ونزلوا بلادي.
قالت: ثم أرسل إلى أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فدعاهم فلما جاءهم رسوله اجتمعوا، ثم قال بعضهم لبعض: ما تقولون لهذا الرجل إذا جئتموه؟ قالوا: نقول: والله ما علمنا وما أمرنا به نبينا صلى الله عليه وسلم، كائنا في ذلك ما هو كائن، قال: فلما جاءوه وقد دعا النجاشي أساقفته فنشروا مصاحفهم حوله، فلما دخلوا عليه سألهم، فقال: ما هذا الذي فارقتم فيه قومكم ولم تدخلوا في ديني ولا دين أحد من هذه الملل.
قالت: فكان الذي كلمه جعفر بن أبي طالب. فقال: أيها الملك كنا قومًا أهل جاهلية نعبد الأصنام، ونأكل الميتة، ونأتي الفواحش، ونقطع الأرحام، ونسيء الجوار، ويأكل القوي منا الضعيف فكنا على ذلك، حتى بعث الله إلينا رسولا نعرف نسبه وصدقه وأمانته وعفافه، فدعانا إلى الله لنوحده، ونخلع ما كنا نعبد وآباؤنا من دونه، الحجارة والأوثان، وأمرنا بصدق الحديث، وأداء الأمانة، وصلة الرحم، وحسن الجوار، والكف عن المحارم والدماء، ونهانا عن الفواحش، وقول الزور، وأكل مال اليتيم وقذف المحصنة، وأمرنا أن نعبد الله ولا نشرك به شيئا، وأمرنا بالصلاة والزكاة والصيام. قالت: فعد عليه أمور الإسلام. فصدقناه وآمنا به، واتبعناه على ما جاء به من الله عز جل، فعبدنا الله لا نشرك به شيئا، وحرمنا ما حرم علينا، وأحللنا ما أحل لنا، فعدا علينا قومنا، فعذبونا، وفتنونا عن ديننا؛ ليردونا إلى عبادة الأوثان من عبادة الله، وأن نستحل كما كنا نستحل من الخبائث، فلما قهرونا وظلمونا وضيقوا علينا، وحالوا بيننا وبين ديننا، خرجنا إلى بلدك، واخترناك على مَنْ سواك، ورغبنا في جوارك، ورجونا أن لا نظلم عندك أيها الملك. قالت: فقال له النجاشي: وهل عندك مما جاء به من عند الله شيء؟ قالت: فقال له جعفر: نعم. فقال له النجاشي: فاقرأه علي، فقرأ عليه صدرا من (كهيعص) .
قالت: فبكى النجاشي حتى اخضلت لحيته، وبكى أساقفته حتى أخضلوا مصاحفهم، حين سمعوا ما يتلى عليهم. وقال النجاشي: إن هذا والذي جاء به موسى ليخرج من مشكاة واحدة. انطلقا. لا والله لا أسلمهم إليكما ولا أكاد. قالت: فلما خرجا من عنده. قال عمرو بن العاص: والله لآتينه غدا بما أستأصل به خضراءهم.
قالت: فقال له عبد الله بن أبي ربيعة - وكان أتقى الرجلين فينا -: لا تفعل فإن لهم أرحاما، وإن كانوا قد خالفونا. قال: والله لأخبرنه أنهم يقولون في عيسى قولا عظيما. فأرسل إليهم فسألهم عما يقولون فيه. قالت: فأرسل إليهم ليسألهم عنه. قالت: ولم ينزل بنا مثلها، فاجتمع القوم. فقال بعضهم لبعض: ما تقولون في عيسى إن سألكم عنه. قالوا: نقول فيه ما قال الله عز وجل، وما جاء به نبينا، كائنا في ذلك ما هو كائن. قالت: فلما دخلوا عليه. قال لهم: ما تقولون في عيسى ابن مريم، قالت: فقال جعفر بن أبي طالب: نقول فيه الذي جاء به نبينا صلى الله عليه وسلم. يقول فيه: هو عبد الله ورسوله وروحه وكلمته ألقاها إلى مريم العذراء البتول. قالت: فضرب النجاشي يده إلى الأرض، فأخذ منها عودا، ثم قال له: ما عدا عيسى ابن مريم ما قلت هذا العود.
قالت: فتناخرت بطارقته حوله حين قال ما قال. فقال: وإن تناخرتم اذهبوا فأنتم شيوم بأرضي. والشيوم: الآمنون. مَنْ سَبَّكُم غُرَّم، مَنْ سَبَّكُم غُرَّم، ما أحب أن لي دبرا من ذهب، وأني آذيت رجلا منكم. والدبر: بلسان الحبشة الجبل. وردوا عليهما هداياهما، فلا حاجة لي بها، فوالله ما أخذ الله مني الرشوة حين ردَّ علي ملكي، فآخذ الرشوة فيه، وما أطاع الناس فيّ، فأطيعهم فيه. قالت: فخرجا من عنده مقبوحين مردودا عليهما. قالت أم سلمة: فكنت أتعرض لهم ليسبوني فأغرمهم، وأقمنا عنده بخير دار مع خير جار.
قالت: فوالله ما أغلا لعلى ذلك، إذ انبرى له رجل من الحبشة ينازعه ملكه. قالت: فوالله، ما أعلمنا حزنا قط كان أشد من حزن حزناه، عند ذلك تخوفا من أن يظهر ذلك الرجل على النجاشي. فيأتي رجلا لا يعرف من حقنا ما كان النجاشي يعرف منه. قالت: وسار إليه النجاشي وبينهما عرض النيل. قالت: فقال أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: مَنْ رجل يخرج حتى يشهد وقعة القوم ثم يأتينا بخبر القوم؟ قالت: فقال الزبير بن العوام: أنا، قالت: وكان من أحدث القوم سنا. قالت: فنفخوا له قربة فجعلوها في صدره، ثم سبح حتى خرج إلى النيل التي بها ملتقى القوم، ثم انطلق حتى حضرهم. قالت: ودعونا الله عز وجل للنجاشي بالظهور على عدوه، والتمكين له من بلاده.
قالت: فوالله إنا لعلى ذلك الحال متوقعين لما هو كائن، إذا طلع الزبير يسعى، ويليح بثوبه، ألا أبشروا، قد ظهر النجاشي، وقد أهلك الله عدوه، فوالله ما أعلمنا فرحنا فرحة قط مثلها. قالت: ورجع النجاشي وأهلك الله عدوه، ومكن له فى بلاده، واستوسق عليه أمر الحبشة، فكنا عنده فى خير منزل، حتى قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بمكة.
وروي عن الزبير قال: لما نزل بالنجاشي عدوه من أهل أرضه، جاءه المهاجرون فقالوا: إنا نحب أن نخرج إليهم فنقاتل معك، وترى جراءتنا، ونجزيك بما صنعت بنا فقال: ذو ينصره الله خير من الذي ينصره الناس، فأنى ذلك عليهم"]] ثُمَّ قَالَ: ﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ﴾ أَيْ: أَيْنَمَا كُنْتُمْ يُدْرِكْكُمُ الْمَوْتُ، فَكُونُوا فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَحَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ، فَإِنَّ الْمَوْتَ لَا بُدَّ مِنْهُ، وَلَا مَحِيدَ عَنْهُ، ثُمَّ إِلَى اللَّهِ الْمَرْجِعُ [وَالْمَآبُ] [[زيادة من أ.]] ، فَمَنْ كَانَ مُطِيعًا لَهُ جَازَاهُ أَفْضَلَ الْجَزَاءِ، وَوَافَاهُ أتمَّ [[في ت: "ووفاه تمام".]] الثَّوَابِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ﴾ أَيْ: لَنُسْكِنَنَّهُمْ مَنَازِلَ عَالِيَةً فِي الْجَنَّةِ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ، عَلَى اخْتِلَافِ أَصْنَافِهَا، مِنْ مَاءٍ وَخَمْرٍ، وعسل ولبن، يصرفونها ويجرونها حيث شاؤوا، ﴿خَالِدِينَ فِيهَا﴾ أَيْ: مَاكِثِينَ فِيهَا أَبَدًا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا ﴿نِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ﴾ : نِعْمَتْ هَذِهِ الغرفُ أَجْرًا عَلَى أَعْمَالِ الْمُؤْمِنِينَ.
﴿الَّذِينَ صَبَرُوا﴾ أَيْ: عَلَى دِينِهِمْ، وَهَاجَرُوا إِلَى اللَّهِ، وَنَابَذُوا الْأَعْدَاءَ، وَفَارَقُوا الْأَهْلَ وَالْأَقْرِبَاءَ، ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، وَرَجَاءَ مَا عِنْدَهُ وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِهِ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ المؤذِنَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنِي أَبُو معَاتق [[في هـ، ت: "أبو معاوية" والصواب ما أثبتناه من ف، أ، والمسند (٥/٣٤٣) .]] الْأَشْعَرِيُّ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ [[في ت: "روى ابن أبي حاتم بإسناده عن أبي مالك الأشعري".]] رَسُولَ اللَّهِ ﷺ حَدَّثَهُ: أَنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفا يُرى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أعدَّها اللَّهُ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَطَابَ الْكَلَامَ، وَأَبَاحَ الصِّيَامَ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ [[في أ: "وتابع الصلاة والصيام وقام بالليل".]] وَالنَّاسُ نِيَامٌ [[ورواه الإمام أحمد في مسنده (٥/٣٤٣) من طريق أبي معانق عن أبي مالك به، وسيأتي عند الآية: ٢٠ من سورة الزمر.]] .
[وَقَوْلُهُ] : [[زيادة من ت.]] ﴿وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ﴾ ، فِي أَحْوَالِهِمْ كُلِّهَا، فِي دِينِهِمْ وَدُنْيَاهُمْ.
ثُمَّ أَخْبَرَهُمْ تَعَالَى أَنَّ الرِّزْقَ لَا يُخْتَصُّ بِبُقْعَةٍ، بَلْ رِزْقُهُ تَعَالَى عَامٌّ لِخَلْقِهِ حَيْثُ كَانُوا وَأَيْنَ كَانُوا، بَلْ كَانَتْ أَرْزَاقُ الْمُهَاجِرِينَ حَيْثُ هَاجَرُوا أَكْثَرَ وَأَوْسَعَ وَأَطْيَبَ، فَإِنَّهُمْ [[في ف: "فهم".]] بَعْدَ قَلِيلٍ صَارُوا حُكَّامَ الْبِلَادِ فِي سَائِرِ الْأَقْطَارِ وَالْأَمْصَارِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا﴾ أَيْ: لَا تُطِيقُ جَمْعَهُ وَتَحْصِيلَهُ وَلَا تُؤَخِّرُ [[في أ: "ولا يدخر".]] شَيْئًا لِغَدٍ، ﴿اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ﴾ أَيِ: اللَّهُ يُقَيِّضُ لَهَا رِزْقَهَا عَلَى ضَعْفِهَا، وَيُيَسِّرُهُ عَلَيْهَا، فَيَبْعَثُ إِلَى كُلِّ مَخْلُوقٍ مِنَ الرِّزْقِ مَا يُصْلِحُهُ، حَتَّى الذَّرِّ فِي قَرَارِ الْأَرْضِ، وَالطَّيْرِ فِي الْهَوَاءِ وَالْحِيتَانِ فِي الْمَاءِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الأرْضِ إِلا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ﴾ [هُودٍ: ٦] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَرَوِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ -حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مِنْهَال الْجَزَرِيُّ -هُوَ أَبُو الْعَطُوفِ -عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ [[في ت: "وروى ابن أبي حاتم بإسناده".]] ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَتَّى دَخَلَ بَعْضَ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَجَعَلَ يَلْتَقِطُ مِنَ التَّمْرِ ويأكل، فقال لي: "يا بن عُمَرَ، مَا لَكَ لَا تَأْكُلُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: لَا أَشْتَهِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "لَكِنِّي أشتهيه، وَهَذِهِ صُبْحُ رَابِعَةٍ مُنْذُ لَمْ أَذُقْ طَعَامًا وَلَمْ أَجِدْهُ، وَلَوْ شِئْتُ لَدَعَوْتُ رَبِّي فَأَعْطَانِي مِثْلَ مُلْكِ قَيْصَرَ وَكِسْرَى فَكَيْفَ بِكَ يَا بن عُمَرَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُخَبِّئُونَ رِزْقَ سَنَتِهِمْ بِضَعْفِ الْيَقِينِ؟ ". قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا بَرِحْنَا وَلَا رِمْنا حَتَّى نَزَلَتْ: ﴿وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنِي بِكَنْزِ الدُّنْيَا، وَلَا بِاتِّبَاعِ الشَّهَوَاتِ، فَمَنْ كَنَزَ دُنْيَاهُ يُرِيدُ بِهَا حَيَاةً بَاقِيَةً فَإِنَّ الْحَيَاةَ بِيَدِ اللَّهِ، أَلَا وَإِنِّي لَا أَكْنِزُ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا أُخَبِّئُ رِزْقًا لِغَدٍ [[في ت: "إلى غد".]] " [[ورواه البغوي في تفسيره (٦/٢٥٣) من طريق إسماعيل بن زرارة عن الجراح بن المنهال به - وقال الشوكاني في فتح القدير (٤/٢١٣) : "وهذا الحديث فيه نكارة شديدة لمخالفته لما كان عليه النبي صلى الله عليه وسلم فقد كان يعطي نساءه قوت العام كما ثبت ذلك في كتب الحديث المعتبرة، وفي إسناده أبو العطوف الجزري وهو ضعيف". أهـ مستفادا من حاشية تفسير البغوي.]] .
وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو الْعَطُوفِ الْجَزَرِيُّ ضَعِيفٌ.
وَقَدْ ذَكَرُوا أَنَّ الْغُرَابَ إِذَا فَقسَ عَنْ فِرَاخِهِ البَيض، خَرَجُوا وَهُمْ بيضٌ فَإِذَا رَآهُمْ أَبَوَاهُمْ كَذَلِكَ، نَفَرَا عَنْهُمْ أَيَّامًا حَتَّى يَسْوَدَّ الرِّيشُ، فَيَظَلُّ الْفَرْخُ فَاتِحًا فَاهُ يَتَفَقَّدُ أَبَوَيْهِ، فَيُقَيِّضُ اللَّهُ لَهُ طَيْرًا [[في ت: "طيورا".]] صِغَارًا كالبَرغَش فَيَغْشَاهُ فَيَتَقَوَّتُ مِنْهُ تِلْكَ الْأَيَّامَ حَتَّى يَسْوَدَّ رِيشُهُ، وَالْأَبَوَانِ يَتَفَقَّدَانِهِ كُلَّ وَقْتٍ، فَكُلَّمَا رَأَوْهُ أَبْيَضَ الرِّيشِ نَفَرَا عَنْهُ، فَإِذَا رَأَوْهُ قَدِ اسْوَدَّ رِيشُهُ عَطَفَا عَلَيْهِ بِالْحَضَانَةِ وَالرِّزْقِ، وَلِهَذَا قَالَ الشَّاعِرُ:
يَا رَازِقَ النعَّاب [[في ت: "البغاب" وفي أ: "النعام".]] في عُشه ... وجَابر العَظْم الكَسِير الْمَهِيضِ ...
وَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي جُمْلَةِ كَلَامٍ لَهُ فِي الْأَوَامِرِ، كَقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ "سَافِرُوا تَصِحُّوا وَتُرْزَقُوا".
قَالَ الْبَيْهَقِيُّ أَخْبَرَنَا إِمْلَاءً أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدَانَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِنان، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَدّاد -شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ -حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ [[في ت: "وروى البيهقي بسنده"]] عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "سَافِرُوا تَصِحُّوا وَتَغْنَمُوا". قَالَ: وَرُوِّينَاهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[السنن الكبرى (٧/١٠٢) ورواه ابن عدي في الكامل (٦/١٩٠) من طريق محمد بن عبد الرحمن بن رواد به، وقال: "لا أعلم يرويه غير الرواد هذا، وعامة ما يرويه غير محفوظ" وقال ابن أبي حاتم في العلل (٢/٣٠٦) : "سألت أبي عن هذا الحديث فقال: هذا حديث منكر".]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، عَنْ دَرّاج، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُجَيرة، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "سَافِرُوا تَرْبَحُوا، وَصُومُوا تَصِحُّوا، وَاغْزُوا تَغْنَمُوا" [[المسند (٢/٣٨٠) وفيه ابن لهيعة ودراج ضعيفان.]] .
وَقَدْ وَرَدَ مِثْلُ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا، وَعَنْ مُعَاذِ بن جبل موقوفا [[أما حديث ابن عباس، فرواه البيهقي في السنن الكبرى (٧/١٠٢) من طريق بسطام بن حبيب عن القاسم عن أبي حازم عن ابن عباس مرفوعا، ورواه ابن عدي في الكامل (٧/٥٧) من طريق نهشل، عن الضحاك، عن ابن عباس، مرفوعا. وقال: "هذه الأحاديث كلها عن الضحاك غير محفوظة". ولم أجده عن معاذ موقوفا، وسيأتي مرفوعا، وجاء من حديث أبي سعيد الخدري مرفوعا. ورواه ابن عدي في الكامل (٣/٤٥٤) عن سوار بن مصعب، عن عطية، عن أبي سعيد، مرفوعا وقال: "سوار هذا عامة ما يرويه غير محفوظ".]] . وفي لَفْظٍ: "سَافِرُوا مَعَ ذَوِي الْجُدُودِ وَالْمَيْسَرَةِ" [[رواه الديلمي في مسند الفردوس برقم (٣٣٨٧) من حديث معاذ بن جبل رضي الله عنه، وذكره السيوطي في الجامع ورمز له بالضعف وأعله المناوي بإسماعيل بن زياد.]]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ أَيِ: السَّمِيعُ لِأَقْوَالِ عِبَادِهِ، الْعَلِيمُ بِحَرَكَاتِهِمْ وَسَكَنَاتِهِمْ.
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَسَخَّرَ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ
If you asked them, "Who created the heavens and earth and subjected the sun and the moon?" they would surely say, "Allah." Then how are they deluded?
اور اگر اُن سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا۔ اور سورج اور چاند کو کس نے (تمہارے) زیر فرمان کیا تو کہہ دیں گے خدا نے۔ تو پھر یہ کہاں اُلٹے جا رہے ہیں
و هر گاه از آنان بپرسی: «چه کسی آسمانها و زمین را آفریده، و خورشید و ماه را مسخّر کرده است؟» میگویند: «اللّه»! پس با این حال چگونه آنان را (از عبادت خدا) منحرف میسازند؟!
Tafsir Ibn Kathir
And if you were to ask them: "Who has created the heavens and the earth and subjected the sun and the moon?" They will surely reply: "Allah." How then are they deviating (61)Allah expands the provision for whom He wills of His servants, and straitens it for whom (He wills). Verily, Allah is the All-Knower of everything (62)And if you were to ask them: "Who sends down water from the sky, and gives life therewith to the earth after its death?" They will surely reply: "Allah." Say: "All the praises and thanks be to Allah!" Nay, most of them have no sense (63)
Evidences of Tawhid
Allah states that there is no God but He. The idolators who worshipped others besides Him recognized that He was the sole creator of the heavens and earth, the sun and the moon, alternating the night and day. They acknowledged that He was the Creator Who provided for His servants and decreed how long they should live. He made them and their provision different, so that some were rich and some were poor, and He knew best what was suitable for each of them, who deserved to be rich and who deserved to be poor. So, Allah stated that He has alone created everything, and that He alone is controlling them – if this is how it is, then why worship anyone else? Why put one's trust in anyone else? Since dominion is His Alone, then let worship be for Him Alone. Allah often establishes His divinity by referring to their acknowledgement of His Unique Lordship, because the idolators used to acknowledge His Lordship, as they said in their Talbiyah (during Hajj and 'Umrah: "At Your service, You have no partner, except the partner that You have, and You possess him and whatever he has."
Tafsir Ibn Kathir
توحید ربویت توحید الوہیت اللہ تعالیٰ ثابت کرتا ہے کہ معبود برحق صرف وہی ہے۔ خود مشرکین بھی اس بات کے قائل ہیں کہ آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا سورج کو مسخر کرنے والا دن رات کو پے درپے لانے والا خالق رازق موت وحیات پر قادر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ غنا کے لائق کون ہے اور فقر کے لائق کون ہے ؟ اپنے بندوں کی مصلحتیں اس کو پوری طرح معلوم ہیں۔ پس جبکہ مشرکین خود مانتے ہیں کہ تمام چیزوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے سب پر قابض صرف وہی ہے پھر اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہیں ؟ اور اس کے سوا دوسروں پر توکل کیوں کرتے ہیں ؟ جبکہ ملک کا مالک وہ تنہا ہے تو عبادتوں کے لائق بھی وہ اکیلا ہے۔ توحید ربوبیت کو مان کر پھر توحید الوہیت سے انحراف عجیب چیز ہے قرآن کریم میں توحید ربوبیت کے ساتھ ہی توحید الوہیت کا ذکر بکثرت سے اس لئے ہے کہ توحید ربویت کے قائل مشرکین مکہ تو تھے ہی انہیں قائل معقول کرکے پھر توحید الوہیت کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ مشرکین حج و عمرے میں لبیک پکارتے ہوئے بھی اللہ کے لاشریک ہونے کا اقرار کرتے تھے لبیک لاشریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ وماملک یعنی یا اللہ ہم حاضر ہوئے تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسے شریک کہ جن کا مالک اور جن کے ملک کا مالک بھی تو ہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُقَرِّرًا [[في ت: "مخبرا".]] أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؛ لِأَنَّ الْمُشْرِكِينَ -الَّذِينَ يَعْبُدُونَ مَعَهُ غَيْرَهُ -مُعْتَرِفُونَ أَنَّهُ [[في ف: "بأنه".]] الْمُسْتَقِلُّ بِخَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، وَتَسْخِيرِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَأَنَّهُ الْخَالِقُ الرَّازِقُ لِعِبَادِهِ، وَمُقَدِّرٌ آجَالَهُمْ، وَاخْتِلَافَهَا وَاخْتِلَافَ أَرْزَاقِهِمْ فَفَاوَتَ بَيْنَهُمْ، فَمِنْهُمُ الْغَنِيُّ وَالْفَقِيرُ، وَهُوَ الْعَلِيمُ بِمَا يُصْلِحُ كُلا مِنْهُمْ، ومَنْ يَسْتَحِقُّ الْغِنَى مِمَّنْ يَسْتَحِقُّ الْفَقْرَ، فَذَكَرَ أَنَّهُ المستبدُّ بِخَلْقِ الْأَشْيَاءِ [[في ت: "الأصنام".]] الْمُتَفَرِّدِ بِتَدْبِيرِهَا، فَإِذَا كَانَ الْأَمْرُ كَذَلِكَ فَلِمَ يُعبد غَيْرُهُ؟ وَلِمَ يُتَوَكَّلُ عَلَى غَيْرِهِ؟ فَكَمَا أَنَّهُ الْوَاحِدُ فِي مُلْكِهِ فَلْيَكُنِ الْوَاحِدَ فِي عِبَادَتِهِ، وَكَثِيرًا مَا يُقَرِّرُ تَعَالَى مَقَامَ الْإِلَهِيَّةِ بِالِاعْتِرَافِ بِتَوْحِيدِ الرُّبُوبِيَّةِ. وَقَدْ كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَعْتَرِفُونَ بِذَلِكَ، كَمَا كَانُوا يَقُولُونَ فِي تَلْبِيَتِهِمْ: "لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ".
ٱللَّهُ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ وَيَقْدِرُ لَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۭ
Allah extends provision for whom He wills of His servants and restricts for him. Indeed Allah is, of all things, Knowing.
خدا ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے
خداوند روزی را برای هر کس از بندگانش بخواهد گسترده میکند، و برای هر کس بخواهد محدود میسازد؛ خداوند به همه چیز داناست!
Tafsir Ibn Kathir
And if you were to ask them: "Who has created the heavens and the earth and subjected the sun and the moon?" They will surely reply: "Allah." How then are they deviating (61)Allah expands the provision for whom He wills of His servants, and straitens it for whom (He wills). Verily, Allah is the All-Knower of everything (62)And if you were to ask them: "Who sends down water from the sky, and gives life therewith to the earth after its death?" They will surely reply: "Allah." Say: "All the praises and thanks be to Allah!" Nay, most of them have no sense (63)
Evidences of Tawhid
Allah states that there is no God but He. The idolators who worshipped others besides Him recognized that He was the sole creator of the heavens and earth, the sun and the moon, alternating the night and day. They acknowledged that He was the Creator Who provided for His servants and decreed how long they should live. He made them and their provision different, so that some were rich and some were poor, and He knew best what was suitable for each of them, who deserved to be rich and who deserved to be poor. So, Allah stated that He has alone created everything, and that He alone is controlling them – if this is how it is, then why worship anyone else? Why put one's trust in anyone else? Since dominion is His Alone, then let worship be for Him Alone. Allah often establishes His divinity by referring to their acknowledgement of His Unique Lordship, because the idolators used to acknowledge His Lordship, as they said in their Talbiyah (during Hajj and 'Umrah: "At Your service, You have no partner, except the partner that You have, and You possess him and whatever he has."
Tafsir Ibn Kathir
توحید ربویت توحید الوہیت اللہ تعالیٰ ثابت کرتا ہے کہ معبود برحق صرف وہی ہے۔ خود مشرکین بھی اس بات کے قائل ہیں کہ آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا سورج کو مسخر کرنے والا دن رات کو پے درپے لانے والا خالق رازق موت وحیات پر قادر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ غنا کے لائق کون ہے اور فقر کے لائق کون ہے ؟ اپنے بندوں کی مصلحتیں اس کو پوری طرح معلوم ہیں۔ پس جبکہ مشرکین خود مانتے ہیں کہ تمام چیزوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے سب پر قابض صرف وہی ہے پھر اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہیں ؟ اور اس کے سوا دوسروں پر توکل کیوں کرتے ہیں ؟ جبکہ ملک کا مالک وہ تنہا ہے تو عبادتوں کے لائق بھی وہ اکیلا ہے۔ توحید ربوبیت کو مان کر پھر توحید الوہیت سے انحراف عجیب چیز ہے قرآن کریم میں توحید ربوبیت کے ساتھ ہی توحید الوہیت کا ذکر بکثرت سے اس لئے ہے کہ توحید ربویت کے قائل مشرکین مکہ تو تھے ہی انہیں قائل معقول کرکے پھر توحید الوہیت کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ مشرکین حج و عمرے میں لبیک پکارتے ہوئے بھی اللہ کے لاشریک ہونے کا اقرار کرتے تھے لبیک لاشریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ وماملک یعنی یا اللہ ہم حاضر ہوئے تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسے شریک کہ جن کا مالک اور جن کے ملک کا مالک بھی تو ہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُقَرِّرًا [[في ت: "مخبرا".]] أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؛ لِأَنَّ الْمُشْرِكِينَ -الَّذِينَ يَعْبُدُونَ مَعَهُ غَيْرَهُ -مُعْتَرِفُونَ أَنَّهُ [[في ف: "بأنه".]] الْمُسْتَقِلُّ بِخَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، وَتَسْخِيرِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَأَنَّهُ الْخَالِقُ الرَّازِقُ لِعِبَادِهِ، وَمُقَدِّرٌ آجَالَهُمْ، وَاخْتِلَافَهَا وَاخْتِلَافَ أَرْزَاقِهِمْ فَفَاوَتَ بَيْنَهُمْ، فَمِنْهُمُ الْغَنِيُّ وَالْفَقِيرُ، وَهُوَ الْعَلِيمُ بِمَا يُصْلِحُ كُلا مِنْهُمْ، ومَنْ يَسْتَحِقُّ الْغِنَى مِمَّنْ يَسْتَحِقُّ الْفَقْرَ، فَذَكَرَ أَنَّهُ المستبدُّ بِخَلْقِ الْأَشْيَاءِ [[في ت: "الأصنام".]] الْمُتَفَرِّدِ بِتَدْبِيرِهَا، فَإِذَا كَانَ الْأَمْرُ كَذَلِكَ فَلِمَ يُعبد غَيْرُهُ؟ وَلِمَ يُتَوَكَّلُ عَلَى غَيْرِهِ؟ فَكَمَا أَنَّهُ الْوَاحِدُ فِي مُلْكِهِ فَلْيَكُنِ الْوَاحِدَ فِي عِبَادَتِهِ، وَكَثِيرًا مَا يُقَرِّرُ تَعَالَى مَقَامَ الْإِلَهِيَّةِ بِالِاعْتِرَافِ بِتَوْحِيدِ الرُّبُوبِيَّةِ. وَقَدْ كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَعْتَرِفُونَ بِذَلِكَ، كَمَا كَانُوا يَقُولُونَ فِي تَلْبِيَتِهِمْ: "لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ".
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّن نَّزَّلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَحْيَا بِهِ ٱلْأَرْضَ مِنۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ ۚ قُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ
And if you asked them, "Who sends down rain from the sky and gives life thereby to the earth after its lifelessness?" they would surely say " Allah." Say, "Praise to Allah "; but most of them do not reason.
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان سے پانی کس نے نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد (کس نے) زندہ کیا تو کہہ دیں گے کہ خدا نے۔ کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے۔ لیکن ان میں اکثر نہیں سمجھتے
و اگر از آنان بپرسی: «چه کسی از آسمان آبی فرستاد و بوسیله آن زمین را پس از مردنش زنده کرد؟ میگویند: «اللّه»! بگو: «حمد و ستایش مخصوص خداست!» امّا بیشتر آنها نمیدانند.
Tafsir Ibn Kathir
And if you were to ask them: "Who has created the heavens and the earth and subjected the sun and the moon?" They will surely reply: "Allah." How then are they deviating (61)Allah expands the provision for whom He wills of His servants, and straitens it for whom (He wills). Verily, Allah is the All-Knower of everything (62)And if you were to ask them: "Who sends down water from the sky, and gives life therewith to the earth after its death?" They will surely reply: "Allah." Say: "All the praises and thanks be to Allah!" Nay, most of them have no sense (63)
Evidences of Tawhid
Allah states that there is no God but He. The idolators who worshipped others besides Him recognized that He was the sole creator of the heavens and earth, the sun and the moon, alternating the night and day. They acknowledged that He was the Creator Who provided for His servants and decreed how long they should live. He made them and their provision different, so that some were rich and some were poor, and He knew best what was suitable for each of them, who deserved to be rich and who deserved to be poor. So, Allah stated that He has alone created everything, and that He alone is controlling them – if this is how it is, then why worship anyone else? Why put one's trust in anyone else? Since dominion is His Alone, then let worship be for Him Alone. Allah often establishes His divinity by referring to their acknowledgement of His Unique Lordship, because the idolators used to acknowledge His Lordship, as they said in their Talbiyah (during Hajj and 'Umrah: "At Your service, You have no partner, except the partner that You have, and You possess him and whatever he has."
Tafsir Ibn Kathir
توحید ربویت توحید الوہیت اللہ تعالیٰ ثابت کرتا ہے کہ معبود برحق صرف وہی ہے۔ خود مشرکین بھی اس بات کے قائل ہیں کہ آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا سورج کو مسخر کرنے والا دن رات کو پے درپے لانے والا خالق رازق موت وحیات پر قادر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ غنا کے لائق کون ہے اور فقر کے لائق کون ہے ؟ اپنے بندوں کی مصلحتیں اس کو پوری طرح معلوم ہیں۔ پس جبکہ مشرکین خود مانتے ہیں کہ تمام چیزوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے سب پر قابض صرف وہی ہے پھر اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہیں ؟ اور اس کے سوا دوسروں پر توکل کیوں کرتے ہیں ؟ جبکہ ملک کا مالک وہ تنہا ہے تو عبادتوں کے لائق بھی وہ اکیلا ہے۔ توحید ربوبیت کو مان کر پھر توحید الوہیت سے انحراف عجیب چیز ہے قرآن کریم میں توحید ربوبیت کے ساتھ ہی توحید الوہیت کا ذکر بکثرت سے اس لئے ہے کہ توحید ربویت کے قائل مشرکین مکہ تو تھے ہی انہیں قائل معقول کرکے پھر توحید الوہیت کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ مشرکین حج و عمرے میں لبیک پکارتے ہوئے بھی اللہ کے لاشریک ہونے کا اقرار کرتے تھے لبیک لاشریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ وماملک یعنی یا اللہ ہم حاضر ہوئے تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسے شریک کہ جن کا مالک اور جن کے ملک کا مالک بھی تو ہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُقَرِّرًا [[في ت: "مخبرا".]] أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؛ لِأَنَّ الْمُشْرِكِينَ -الَّذِينَ يَعْبُدُونَ مَعَهُ غَيْرَهُ -مُعْتَرِفُونَ أَنَّهُ [[في ف: "بأنه".]] الْمُسْتَقِلُّ بِخَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، وَتَسْخِيرِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَأَنَّهُ الْخَالِقُ الرَّازِقُ لِعِبَادِهِ، وَمُقَدِّرٌ آجَالَهُمْ، وَاخْتِلَافَهَا وَاخْتِلَافَ أَرْزَاقِهِمْ فَفَاوَتَ بَيْنَهُمْ، فَمِنْهُمُ الْغَنِيُّ وَالْفَقِيرُ، وَهُوَ الْعَلِيمُ بِمَا يُصْلِحُ كُلا مِنْهُمْ، ومَنْ يَسْتَحِقُّ الْغِنَى مِمَّنْ يَسْتَحِقُّ الْفَقْرَ، فَذَكَرَ أَنَّهُ المستبدُّ بِخَلْقِ الْأَشْيَاءِ [[في ت: "الأصنام".]] الْمُتَفَرِّدِ بِتَدْبِيرِهَا، فَإِذَا كَانَ الْأَمْرُ كَذَلِكَ فَلِمَ يُعبد غَيْرُهُ؟ وَلِمَ يُتَوَكَّلُ عَلَى غَيْرِهِ؟ فَكَمَا أَنَّهُ الْوَاحِدُ فِي مُلْكِهِ فَلْيَكُنِ الْوَاحِدَ فِي عِبَادَتِهِ، وَكَثِيرًا مَا يُقَرِّرُ تَعَالَى مَقَامَ الْإِلَهِيَّةِ بِالِاعْتِرَافِ بِتَوْحِيدِ الرُّبُوبِيَّةِ. وَقَدْ كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَعْتَرِفُونَ بِذَلِكَ، كَمَا كَانُوا يَقُولُونَ فِي تَلْبِيَتِهِمْ: "لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ".
وَمَا هَٰذِهِ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا لَهْوٌۭ وَلَعِبٌۭ ۚ وَإِنَّ ٱلدَّارَ ٱلْءَاخِرَةَ لَهِىَ ٱلْحَيَوَانُ ۚ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ
And this worldly life is not but diversion and amusement. And indeed, the home of the Hereafter - that is the [eternal] life, if only they knew.
اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشہ ہے اور (ہمیشہ کی) زندگی (کا مقام) تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش یہ (لوگ) سمجھتے
این زندگی دنیا چیزی جز سرگرمی و بازی نیست؛ و زندگی واقعی سرای آخرت است، اگر میدانستند!
Tafsir Ibn Kathir
And this life of the world is only an amusement and a play! Verily, the home of the Hereafter – that is the life indeed, if they but knew (64)And when they embark on a ship, they invoke Allah, making their faith pure for Him only, but when He brings them safely to land, behold, they give a share of their worship to others (65)So that they become ingrate for that which We have given them, and that they take their enjoyment, but they will come to know (66)
Allah tells us how insignificant and transient this world is, and how it will soon end. All that it is, is amusement and play:
وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ ۚ
(Verily, the home of the Hereafter – that is the life indeed,) means, the true everlasting life that will never end, but will continue forever and ever.
لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
(if they but knew.) means, they would prefer that which will last over that which will pass away. Then Allah says that at times of calamity, the idolators call upon Him alone, with no partner or associate, so why do they not do that all the time?
فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
(And when they embark on a ship, they invoke Allah, making their faith pure for Him only,) This is like the Ayah,
وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ ۖ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ ۚ
(And when harm touches you upon the sea, those that you call upon vanish from you except Him (Allah Alone). But when He brings you safely to land, you turn away)(17:67). Allah says here:
فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ
(but when He brings them safely to land, behold, they give a share of their worship to others.)
Muhammad bin Ishaq reported from 'Ikrimah bin Abi Jahl that when the Messenger of Allah ﷺ conquered Makkah, he ('Ikrimah) ran away, fleeing from him. When he was on the sea, headed for Ethiopia, the ship started to rock and the crew said: "O people, pray sincerely to your Lord alone, for no one can save us from this except Him." 'Ikrimah said: "By Allah, if there is none who can save us on the sea except Him, then there is none who can save us on land except Him either, O Allah, I vow to You that if I come out of this, I will go and put my hand in the hand of Muhammad and I will find him kind and merciful." And this is what indeed did happen.
لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ وَلِيَتَمَتَّعُوا ۖ
(So that they become ingrate for that which We have given them, and that they take their enjoyment,)
Tafsir Ibn Kathir
جب عکرمہ طوفان میں گھر گئے دنیا کی حقارت وذلت اس کے زوال وفنا کا ذکر ہو رہا ہے کہ اسے کوئی دوام نہیں اس کا کوئی ثبات نہیں یہ تو صرف لہو ولعب ہے۔ البتہ دار آخرت کی زندگی دوام وبقا کی زندگی ہے وہ زوال وفنا سے قلت وذلت سے دور ہے۔ اگر انہیں علم ہوتا تو اس بقا والی چیز پر اس فانی چیز کو ترجیح نہ دیتے۔ پھر فرمایا کہ مشرکین بےکسی اور بےبسی کے وقت تو اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کو ہی پکارنے لگتے ہیں۔ پھر مصیبت کے ہٹ جانے اور مشکل کے ٹل جانے کے بعد اس کے ساتھ دوسروں کا نام کیوں لیتے ہیں ؟ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا 67) 17۔ الإسراء :67) یعنی جب سمندر میں مشکل میں پھنستے ہیں اس وقت اللہ کے سوا سب کو بھول جاتے ہیں اور جب وہاں سے نجات پاکر خشکی میں آجاتے ہیں تو فورا ہی منہ پھیر لیتے ہیں۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو عکرمہ ابن ابی جہل یہاں سے بھاگ نکلا اور حبشہ جانے کے ارادے سے کشتی میں بیٹھ گیا اتفاقا سخت طوفان آیا اور کشتی ادھر ادھر ہونے لگی۔ جتنے مشرکین کشتی میں تھے سب کہنے لگے یہ موقعہ صرف اللہ کو پکارنے کا ہے اٹھو اور خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو اس وقت نجات اسی کے ہاتھ ہے۔ یہ سنتے ہی عکرمہ نے کہا سنو اللہ کی قسم اگر سمندر کی اس بلا سے سوائے اللہ کے کوئی نجات نہیں دے سکتا تو خشکی کی مصیبتوں کا ٹالنے والا بھی وہی ہے۔ اللہ میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر میں یہاں سے بچ گیا تو سیدھا جاکر حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ رکھ دونگا اور آپ کا کلمہ پڑھ لونگا۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ میری خطاؤں سے درگذر فرمالیں گے اور مجھ پر رحم وکرم فرمائیں گے چناچہ یہی ہوا بھی آیت (لیکفروا) اور (لیتمتعوا) میں لام جو ہے اسے لام عافیت کہتے ہیں اس لئے کہ انکا قصد دراصل یہ نہیں ہوتا اور فی الواقع ان کی طرف نظریں ڈالنے سے بات بھی یہی ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کی نسبت سے تو یہ لام تعلیل ہے۔ اس کی پوری تقریر ہم آیت (فَالْتَقَطَهٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا ۭ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـــــِٕيْنَ) 28۔ القصص :8) میں کرچکے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ حَقَارَةِ الدُّنْيَا وَزَوَالِهَا وَانْقِضَائِهَا، وَأَنَّهَا لَا دَوَامَ لَهَا، وَغَايَةُ مَا فِيهَا لَهْوٌ وَلَعِبٌ: ﴿وَإِنَّ الدَّارَ الآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ﴾ أَيْ: الْحَيَاةُ الدَّائِمَةُ الْحَقُّ الَّذِي لَا زَوَالَ لَهَا وَلَا انْقِضَاءَ، بَلْ هِيَ مُسْتَمِرَّةٌ أَبَدَ الْآبَادِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: لَآثَرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى.
ثُمَّ أَخْبَرَ تَعَالَى عَنِ الْمُشْرِكِينَ أَنَّهُمْ عِنْدَ الِاضْطِرَارِ يَدْعُونَهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، فَهَلَّا يَكُونُ هَذَا مِنْهُمْ دَائِمًا، ﴿فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾ كَقَوْلِهِ ﴿وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ [[في ت: "أنجاكم" وهو خطأ.]] إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ﴾ [الْإِسْرَاءِ::٦٧] . وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ﴾ .
وَقَدْ ذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ: أَنَّهُ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَكَّةَ ذَهَبَ فَارًّا مِنْهَا، فَلَمَّا رَكِبَ فِي الْبَحْرِ لِيَذْهَبَ إِلَى الْحَبَشَةِ، اضْطَرَبَتْ بِهِمُ السَّفِينَةُ، فَقَالَ أَهْلُهَا: يَا قَوْمِ، أَخْلِصُوا لِرَبِّكُمُ الدُّعَاءَ، فَإِنَّهُ لَا يُنْجِي هَاهُنَا إِلَّا هُوَ. فَقَالَ عِكْرِمَةُ: وَاللَّهِ إِنْ كَانَ لَا يُنْجِي فِي الْبَحْرِ غَيْرُهُ، فَإِنَّهُ لَا يُنَجّي غَيْرُهُ فِي الْبَرِّ أَيْضًا، اللَّهُمَّ لَكَ عليَّ عَهْدٌ لَئِنْ خرجتُ لَأَذْهَبْنَ فلأضعَنّ يَدِي فِي يَدِ مُحَمَّدٍ فلأجدنه رؤوفًا رَحِيمًا، وَكَانَ [[في ت، ف: "فكان".]] كَذَلِكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ وَلِيَتَمَتَّعُوا﴾ : هَذِهِ اللَّامُ يُسَمِّيهَا كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْعَرَبِيَّةِ وَالتَّفْسِيرِ وَعُلَمَاءِ الْأُصُولِ لَامَ الْعَاقِبَةِ؛ لِأَنَّهُمْ لَا يَقْصِدُونَ ذَلِكَ، وَلَا شَكَّ أَنَّهَا كَذَلِكَ بِالنِّسْبَةِ إِلَيْهِمْ، وَأَمَّا بِالنِّسْبَةِ إِلَى تَقْدِيرِ اللَّهِ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ وَتَقْيِيضِهِ إِيَّاهُمْ لِذَلِكَ فَهِيَ لَامُ التَّعْلِيلِ. وَقَدْ قدَّمْنا تَقْرِيرَ ذَلِكَ فِي قَوْلِهِ: ﴿لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوًّا وَحَزَنًا﴾ [الْقَصَصِ: ٨] .
فَإِذَا رَكِبُوا۟ فِى ٱلْفُلْكِ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمْ إِلَى ٱلْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ
And when they board a ship, they supplicate Allah, sincere to Him in religion. But when He delivers them to the land, at once they associate others with Him
پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خدا کو پکارتے (اور) خالص اُسی کی عبادت کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو جھٹ شرک کرنے لگے جاتے ہیں
هنگامی که بر سوار بر کشتی شوند، خدا را با اخلاص میخوانند (و غیر او را فراموش میکنند)؛ امّا هنگامی که خدا آنان را به خشکی رساند و نجات داد، باز مشرک میشوند!
Tafsir Ibn Kathir
And this life of the world is only an amusement and a play! Verily, the home of the Hereafter – that is the life indeed, if they but knew (64)And when they embark on a ship, they invoke Allah, making their faith pure for Him only, but when He brings them safely to land, behold, they give a share of their worship to others (65)So that they become ingrate for that which We have given them, and that they take their enjoyment, but they will come to know (66)
Allah tells us how insignificant and transient this world is, and how it will soon end. All that it is, is amusement and play:
وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ ۚ
(Verily, the home of the Hereafter – that is the life indeed,) means, the true everlasting life that will never end, but will continue forever and ever.
لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
(if they but knew.) means, they would prefer that which will last over that which will pass away. Then Allah says that at times of calamity, the idolators call upon Him alone, with no partner or associate, so why do they not do that all the time?
فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
(And when they embark on a ship, they invoke Allah, making their faith pure for Him only,) This is like the Ayah,
وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ ۖ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ ۚ
(And when harm touches you upon the sea, those that you call upon vanish from you except Him (Allah Alone). But when He brings you safely to land, you turn away)(17:67). Allah says here:
فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ
(but when He brings them safely to land, behold, they give a share of their worship to others.)
Muhammad bin Ishaq reported from 'Ikrimah bin Abi Jahl that when the Messenger of Allah ﷺ conquered Makkah, he ('Ikrimah) ran away, fleeing from him. When he was on the sea, headed for Ethiopia, the ship started to rock and the crew said: "O people, pray sincerely to your Lord alone, for no one can save us from this except Him." 'Ikrimah said: "By Allah, if there is none who can save us on the sea except Him, then there is none who can save us on land except Him either, O Allah, I vow to You that if I come out of this, I will go and put my hand in the hand of Muhammad and I will find him kind and merciful." And this is what indeed did happen.
لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ وَلِيَتَمَتَّعُوا ۖ
(So that they become ingrate for that which We have given them, and that they take their enjoyment,)
Tafsir Ibn Kathir
جب عکرمہ طوفان میں گھر گئے دنیا کی حقارت وذلت اس کے زوال وفنا کا ذکر ہو رہا ہے کہ اسے کوئی دوام نہیں اس کا کوئی ثبات نہیں یہ تو صرف لہو ولعب ہے۔ البتہ دار آخرت کی زندگی دوام وبقا کی زندگی ہے وہ زوال وفنا سے قلت وذلت سے دور ہے۔ اگر انہیں علم ہوتا تو اس بقا والی چیز پر اس فانی چیز کو ترجیح نہ دیتے۔ پھر فرمایا کہ مشرکین بےکسی اور بےبسی کے وقت تو اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کو ہی پکارنے لگتے ہیں۔ پھر مصیبت کے ہٹ جانے اور مشکل کے ٹل جانے کے بعد اس کے ساتھ دوسروں کا نام کیوں لیتے ہیں ؟ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا 67) 17۔ الإسراء :67) یعنی جب سمندر میں مشکل میں پھنستے ہیں اس وقت اللہ کے سوا سب کو بھول جاتے ہیں اور جب وہاں سے نجات پاکر خشکی میں آجاتے ہیں تو فورا ہی منہ پھیر لیتے ہیں۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو عکرمہ ابن ابی جہل یہاں سے بھاگ نکلا اور حبشہ جانے کے ارادے سے کشتی میں بیٹھ گیا اتفاقا سخت طوفان آیا اور کشتی ادھر ادھر ہونے لگی۔ جتنے مشرکین کشتی میں تھے سب کہنے لگے یہ موقعہ صرف اللہ کو پکارنے کا ہے اٹھو اور خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو اس وقت نجات اسی کے ہاتھ ہے۔ یہ سنتے ہی عکرمہ نے کہا سنو اللہ کی قسم اگر سمندر کی اس بلا سے سوائے اللہ کے کوئی نجات نہیں دے سکتا تو خشکی کی مصیبتوں کا ٹالنے والا بھی وہی ہے۔ اللہ میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر میں یہاں سے بچ گیا تو سیدھا جاکر حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ رکھ دونگا اور آپ کا کلمہ پڑھ لونگا۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ میری خطاؤں سے درگذر فرمالیں گے اور مجھ پر رحم وکرم فرمائیں گے چناچہ یہی ہوا بھی آیت (لیکفروا) اور (لیتمتعوا) میں لام جو ہے اسے لام عافیت کہتے ہیں اس لئے کہ انکا قصد دراصل یہ نہیں ہوتا اور فی الواقع ان کی طرف نظریں ڈالنے سے بات بھی یہی ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کی نسبت سے تو یہ لام تعلیل ہے۔ اس کی پوری تقریر ہم آیت (فَالْتَقَطَهٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا ۭ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـــــِٕيْنَ) 28۔ القصص :8) میں کرچکے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ حَقَارَةِ الدُّنْيَا وَزَوَالِهَا وَانْقِضَائِهَا، وَأَنَّهَا لَا دَوَامَ لَهَا، وَغَايَةُ مَا فِيهَا لَهْوٌ وَلَعِبٌ: ﴿وَإِنَّ الدَّارَ الآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ﴾ أَيْ: الْحَيَاةُ الدَّائِمَةُ الْحَقُّ الَّذِي لَا زَوَالَ لَهَا وَلَا انْقِضَاءَ، بَلْ هِيَ مُسْتَمِرَّةٌ أَبَدَ الْآبَادِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: لَآثَرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى.
ثُمَّ أَخْبَرَ تَعَالَى عَنِ الْمُشْرِكِينَ أَنَّهُمْ عِنْدَ الِاضْطِرَارِ يَدْعُونَهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، فَهَلَّا يَكُونُ هَذَا مِنْهُمْ دَائِمًا، ﴿فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾ كَقَوْلِهِ ﴿وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ [[في ت: "أنجاكم" وهو خطأ.]] إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ﴾ [الْإِسْرَاءِ::٦٧] . وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ﴾ .
وَقَدْ ذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ: أَنَّهُ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَكَّةَ ذَهَبَ فَارًّا مِنْهَا، فَلَمَّا رَكِبَ فِي الْبَحْرِ لِيَذْهَبَ إِلَى الْحَبَشَةِ، اضْطَرَبَتْ بِهِمُ السَّفِينَةُ، فَقَالَ أَهْلُهَا: يَا قَوْمِ، أَخْلِصُوا لِرَبِّكُمُ الدُّعَاءَ، فَإِنَّهُ لَا يُنْجِي هَاهُنَا إِلَّا هُوَ. فَقَالَ عِكْرِمَةُ: وَاللَّهِ إِنْ كَانَ لَا يُنْجِي فِي الْبَحْرِ غَيْرُهُ، فَإِنَّهُ لَا يُنَجّي غَيْرُهُ فِي الْبَرِّ أَيْضًا، اللَّهُمَّ لَكَ عليَّ عَهْدٌ لَئِنْ خرجتُ لَأَذْهَبْنَ فلأضعَنّ يَدِي فِي يَدِ مُحَمَّدٍ فلأجدنه رؤوفًا رَحِيمًا، وَكَانَ [[في ت، ف: "فكان".]] كَذَلِكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ وَلِيَتَمَتَّعُوا﴾ : هَذِهِ اللَّامُ يُسَمِّيهَا كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْعَرَبِيَّةِ وَالتَّفْسِيرِ وَعُلَمَاءِ الْأُصُولِ لَامَ الْعَاقِبَةِ؛ لِأَنَّهُمْ لَا يَقْصِدُونَ ذَلِكَ، وَلَا شَكَّ أَنَّهَا كَذَلِكَ بِالنِّسْبَةِ إِلَيْهِمْ، وَأَمَّا بِالنِّسْبَةِ إِلَى تَقْدِيرِ اللَّهِ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ وَتَقْيِيضِهِ إِيَّاهُمْ لِذَلِكَ فَهِيَ لَامُ التَّعْلِيلِ. وَقَدْ قدَّمْنا تَقْرِيرَ ذَلِكَ فِي قَوْلِهِ: ﴿لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوًّا وَحَزَنًا﴾ [الْقَصَصِ: ٨] .
لِيَكْفُرُوا۟ بِمَآ ءَاتَيْنَٰهُمْ وَلِيَتَمَتَّعُوا۟ ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
So that they will deny what We have granted them, and they will enjoy themselves. But they are going to know.
تاکہ جو ہم نے اُن کو بخشا ہے اُس کی ناشکری کریں اور فائدہ اٹھائیں (سو خیر) عنقریب اُن کو معلوم ہوجائے گا
(بگذار) آنچه را (از آیات) به آنها دادهایم انکار کنند و از لذّات زودگذر زندگی بهره گیرند؛ امّا بزودی خواهند فهمید!
Tafsir Ibn Kathir
And this life of the world is only an amusement and a play! Verily, the home of the Hereafter – that is the life indeed, if they but knew (64)And when they embark on a ship, they invoke Allah, making their faith pure for Him only, but when He brings them safely to land, behold, they give a share of their worship to others (65)So that they become ingrate for that which We have given them, and that they take their enjoyment, but they will come to know (66)
Allah tells us how insignificant and transient this world is, and how it will soon end. All that it is, is amusement and play:
وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ ۚ
(Verily, the home of the Hereafter – that is the life indeed,) means, the true everlasting life that will never end, but will continue forever and ever.
لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
(if they but knew.) means, they would prefer that which will last over that which will pass away. Then Allah says that at times of calamity, the idolators call upon Him alone, with no partner or associate, so why do they not do that all the time?
فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
(And when they embark on a ship, they invoke Allah, making their faith pure for Him only,) This is like the Ayah,
وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ ۖ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ ۚ
(And when harm touches you upon the sea, those that you call upon vanish from you except Him (Allah Alone). But when He brings you safely to land, you turn away)(17:67). Allah says here:
فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ
(but when He brings them safely to land, behold, they give a share of their worship to others.)
Muhammad bin Ishaq reported from 'Ikrimah bin Abi Jahl that when the Messenger of Allah ﷺ conquered Makkah, he ('Ikrimah) ran away, fleeing from him. When he was on the sea, headed for Ethiopia, the ship started to rock and the crew said: "O people, pray sincerely to your Lord alone, for no one can save us from this except Him." 'Ikrimah said: "By Allah, if there is none who can save us on the sea except Him, then there is none who can save us on land except Him either, O Allah, I vow to You that if I come out of this, I will go and put my hand in the hand of Muhammad and I will find him kind and merciful." And this is what indeed did happen.
لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ وَلِيَتَمَتَّعُوا ۖ
(So that they become ingrate for that which We have given them, and that they take their enjoyment,)
Tafsir Ibn Kathir
جب عکرمہ طوفان میں گھر گئے دنیا کی حقارت وذلت اس کے زوال وفنا کا ذکر ہو رہا ہے کہ اسے کوئی دوام نہیں اس کا کوئی ثبات نہیں یہ تو صرف لہو ولعب ہے۔ البتہ دار آخرت کی زندگی دوام وبقا کی زندگی ہے وہ زوال وفنا سے قلت وذلت سے دور ہے۔ اگر انہیں علم ہوتا تو اس بقا والی چیز پر اس فانی چیز کو ترجیح نہ دیتے۔ پھر فرمایا کہ مشرکین بےکسی اور بےبسی کے وقت تو اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کو ہی پکارنے لگتے ہیں۔ پھر مصیبت کے ہٹ جانے اور مشکل کے ٹل جانے کے بعد اس کے ساتھ دوسروں کا نام کیوں لیتے ہیں ؟ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا 67) 17۔ الإسراء :67) یعنی جب سمندر میں مشکل میں پھنستے ہیں اس وقت اللہ کے سوا سب کو بھول جاتے ہیں اور جب وہاں سے نجات پاکر خشکی میں آجاتے ہیں تو فورا ہی منہ پھیر لیتے ہیں۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو عکرمہ ابن ابی جہل یہاں سے بھاگ نکلا اور حبشہ جانے کے ارادے سے کشتی میں بیٹھ گیا اتفاقا سخت طوفان آیا اور کشتی ادھر ادھر ہونے لگی۔ جتنے مشرکین کشتی میں تھے سب کہنے لگے یہ موقعہ صرف اللہ کو پکارنے کا ہے اٹھو اور خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو اس وقت نجات اسی کے ہاتھ ہے۔ یہ سنتے ہی عکرمہ نے کہا سنو اللہ کی قسم اگر سمندر کی اس بلا سے سوائے اللہ کے کوئی نجات نہیں دے سکتا تو خشکی کی مصیبتوں کا ٹالنے والا بھی وہی ہے۔ اللہ میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر میں یہاں سے بچ گیا تو سیدھا جاکر حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ رکھ دونگا اور آپ کا کلمہ پڑھ لونگا۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ میری خطاؤں سے درگذر فرمالیں گے اور مجھ پر رحم وکرم فرمائیں گے چناچہ یہی ہوا بھی آیت (لیکفروا) اور (لیتمتعوا) میں لام جو ہے اسے لام عافیت کہتے ہیں اس لئے کہ انکا قصد دراصل یہ نہیں ہوتا اور فی الواقع ان کی طرف نظریں ڈالنے سے بات بھی یہی ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کی نسبت سے تو یہ لام تعلیل ہے۔ اس کی پوری تقریر ہم آیت (فَالْتَقَطَهٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا ۭ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـــــِٕيْنَ) 28۔ القصص :8) میں کرچکے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ حَقَارَةِ الدُّنْيَا وَزَوَالِهَا وَانْقِضَائِهَا، وَأَنَّهَا لَا دَوَامَ لَهَا، وَغَايَةُ مَا فِيهَا لَهْوٌ وَلَعِبٌ: ﴿وَإِنَّ الدَّارَ الآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ﴾ أَيْ: الْحَيَاةُ الدَّائِمَةُ الْحَقُّ الَّذِي لَا زَوَالَ لَهَا وَلَا انْقِضَاءَ، بَلْ هِيَ مُسْتَمِرَّةٌ أَبَدَ الْآبَادِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: لَآثَرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى.
ثُمَّ أَخْبَرَ تَعَالَى عَنِ الْمُشْرِكِينَ أَنَّهُمْ عِنْدَ الِاضْطِرَارِ يَدْعُونَهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، فَهَلَّا يَكُونُ هَذَا مِنْهُمْ دَائِمًا، ﴿فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾ كَقَوْلِهِ ﴿وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ [[في ت: "أنجاكم" وهو خطأ.]] إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ﴾ [الْإِسْرَاءِ::٦٧] . وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ﴾ .
وَقَدْ ذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ: أَنَّهُ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَكَّةَ ذَهَبَ فَارًّا مِنْهَا، فَلَمَّا رَكِبَ فِي الْبَحْرِ لِيَذْهَبَ إِلَى الْحَبَشَةِ، اضْطَرَبَتْ بِهِمُ السَّفِينَةُ، فَقَالَ أَهْلُهَا: يَا قَوْمِ، أَخْلِصُوا لِرَبِّكُمُ الدُّعَاءَ، فَإِنَّهُ لَا يُنْجِي هَاهُنَا إِلَّا هُوَ. فَقَالَ عِكْرِمَةُ: وَاللَّهِ إِنْ كَانَ لَا يُنْجِي فِي الْبَحْرِ غَيْرُهُ، فَإِنَّهُ لَا يُنَجّي غَيْرُهُ فِي الْبَرِّ أَيْضًا، اللَّهُمَّ لَكَ عليَّ عَهْدٌ لَئِنْ خرجتُ لَأَذْهَبْنَ فلأضعَنّ يَدِي فِي يَدِ مُحَمَّدٍ فلأجدنه رؤوفًا رَحِيمًا، وَكَانَ [[في ت، ف: "فكان".]] كَذَلِكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ وَلِيَتَمَتَّعُوا﴾ : هَذِهِ اللَّامُ يُسَمِّيهَا كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْعَرَبِيَّةِ وَالتَّفْسِيرِ وَعُلَمَاءِ الْأُصُولِ لَامَ الْعَاقِبَةِ؛ لِأَنَّهُمْ لَا يَقْصِدُونَ ذَلِكَ، وَلَا شَكَّ أَنَّهَا كَذَلِكَ بِالنِّسْبَةِ إِلَيْهِمْ، وَأَمَّا بِالنِّسْبَةِ إِلَى تَقْدِيرِ اللَّهِ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ وَتَقْيِيضِهِ إِيَّاهُمْ لِذَلِكَ فَهِيَ لَامُ التَّعْلِيلِ. وَقَدْ قدَّمْنا تَقْرِيرَ ذَلِكَ فِي قَوْلِهِ: ﴿لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوًّا وَحَزَنًا﴾ [الْقَصَصِ: ٨] .
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا ءَامِنًۭا وَيُتَخَطَّفُ ٱلنَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۚ أَفَبِٱلْبَٰطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ ٱللَّهِ يَكْفُرُونَ
Have they not seen that We made [Makkah] a safe sanctuary, while people are being taken away all around them? Then in falsehood do they believe, and in the favor of Allah they disbelieve?
کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے اور لوگ اس کے گرد ونواح سے اُچک لئے جاتے ہیں۔ کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں
آیا ندیدند که ما حرم امنی (برای آنها) قرار دادیم در حالی که مردم را در اطراف آنان (در بیرون این حرم) میربایند؟! آیا به باطل ایمان میآورند و نعمت خدا را کفران میکنند؟!
Tafsir Ibn Kathir
Have they not seen that We have made a secure sanctuary, while men are being snatched away from all around them? Then do they believe in falsehood, and deny the graces of Allah (67)And who does more wrong than he who invents a lie against Allah or denies the truth, when it comes to him? Is there not a dwelling in Hell for the disbelievers (68)As for those who strive hard for Us, We will surely guide them to Our paths. And verily, Allah is with the doers of good (69)
The Blessing of the Sanctuary
Here Allah reminds Quraysh how He blessed them by granting them access to His sanctuary which He has made (open) to (all) men, the dweller in it and the visitor from the country are equal there, and whoever enters it is safe, because he is in a place of great security, although the Arabs of the desert round about used to ambush and raid one another and kill one another. As Allah says:
لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ - إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ - فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَٰذَا الْبَيْتِ - الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ
(For the protection of the Quraysh. The caravans to set forth safe in winter and in summer. So let them worship the Lord of this House. Who has fed them against hunger, and has made them safe from fear.)(106:1-4)
أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ
(Then do they believe in falsehood, and deny the graces of Allah?) means, is the thanks that they give for this immense blessing to associate others with Him and worship others besides Him, idols and rivals?
بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ
(Have you not seen those who have changed the blessings of Allah into disbelief, and caused their people to dwell in the house of destruction?)(14:28) They disbelieved in the Prophet, servant and Messenger of Allah ﷺ, when what they should have done was to worship Allah Alone and not associate anything with Him, and to believe in, honor and respect the Messenger, but they rejected him and fought him, and expelled him from their midst. So, Allah took His blessing away from them, and killed those of them whom He killed at Badr, then His Messenger ﷺ and the believers gained the upper hand, and Allah enabled His Messenger ﷺ to conquer Makkah, and He disgraced them and humiliated them (the disbelievers). Then Allah says:
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُ ۚ
(And who does more wrong than he who invents a lie against Allah or denies the truth, when it comes to him?) There is no one who will be more severely punished than one who tells lies about Allah and says that Allah revealed something to him at the time when Allah did not reveal anything to him, or says, 'I shall reveal something like that which Allah revealed.' And there is no one who will be more severely punished than one who denies the truth when it comes to him, for the former is a fabricator and the latter is a disbeliever. Allah says:
أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْكَافِرِينَ
(Is there not a dwelling in Hell for the disbelievers?) Then Allah says:
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا
(As for those who strive hard for Us,) meaning the Messenger ﷺ and his Companions and those who follow him, until the Day of Resurrection,
لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا
(We will surely guide them to Our paths.) means, 'We will help them to follow Our path in this world and the Hereafter.'
Ibn Abi Hatim narrated that 'Abbas Al-Hamdani Abu Ahmad – one of the people of 'Akka (Palestine) – said, concerning the Ayah:
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ
(As for those who strive hard for Us (in Our cause), We will surely guide them to Our paths. And verily, Allah is with the doers of good.) "Those who act upon what they know, Allah will guide them to that which they do not know." Ahmad bin Abu Al-Hawari said, "I told this to Abu Sulayman Ad-Darani, and he liked it and said: 'No one who is inspired to do something good should do it until he hears a report concerning that; if he hears a report then he should go ahead and do it, and praise Allah because it was in accordance with what he himself felt.'"
وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ
(And verily, Allah is with the doers of good.) Ibn Abi Hatim recorded that Ash-Sha'bi said; "Isa bin Maryam, peace be upon him, said: 'Righteousness means doing good to those who ill-treat you, it does not mean doing good to those who do good to you.'" And Allah knows best.
This is the end of the Tafsir of Surat Al-'Ankabut. All praise and thanks are due to Allah.
Tafsir Ibn Kathir
احسان کے بدلے احسان ؟ اللہ تعالیٰ قریش کو اپنا احسان جتاتا ہے کہ اس نے اپنے حرم میں انہیں جگہ دی۔ جو شخص اس میں آجائے امن میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے آس پاس جدال و قتال لوٹ مار ہوتی رہتی ہے اور یہاں والے امن وامان سے اپنے دن گزارتے ہیں۔ جسے سورة لایلاف قریش الخ میں بیان فرمایا تو کیا اس اتنی بڑی نعمت کا شکریہ یہی ہے کہ یہ اللہ کے ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کریں ؟ بجائے ایمان لانے کے شرک کریں اور خود تباہ ہو کر دوسروں کو بھی اسی ہلاکت والی راہ لے چلیں۔ لیکن انہوں نے اس کے برعکس اللہ کے ساتھ شرک وکفر کرنا اور نبی کو جھٹلانا اور ایذاء پہنچانا شروع کر رکھا ہے۔ اپنی سرکشی میں یہاں تک بڑھ گئے کہ اللہ کے پیغمبر کو مکہ سے نکال دیا۔ بالآخر اللہ کی نعمتیں ان سے چھننی شروع ہوگئیں۔ بدر کے دن ان کے بڑے بری طرح قتل ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے ہاتھوں مکہ کو فتح کیا اور انہیں ذلیل وپست کیا۔ اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ وحی آتی نہ ہو اور کہہ دے کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ظال کوئی نہیں جو اللہ کی سچی وحی کو جھٹلائے اور باوجود حق پہنچنے کے تکذیب پر کمربستہ رہے۔ ایسے مفرتی اور مکذب لوگ کافر ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ راہ اللہ میں مشقت کرنے والے سے مراد رسول اللہ ﷺ ، آپ کے اصحاب اور آپ کے تابع فرمان لوگ ہیں جو قیامت تک ہونگے۔ فرماتا ہے کہ ہم ان کوشش اور جستجو کرنے والوں کی رہنمائی کریں گے دنیا اور دین میں ان کی رہبری کرتے رہیں گے۔ حضرت ابو عباس ہمدانی فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ جو لوگ اپنے علم پر عمل کرتے ہیں اللہ انہیں ان امور میں بھی ہدایت دیتا ہے جو ان کے علم میں نہیں ہوتے ابو سلیمان دارانی سے جب یہ ذکر کیا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں کوئی بات پیدا ہو گو وہ بھلی بات ہو تاہم اسے اس پر عمل نہ کرنا چاہیے جب تک قرآن و حدیث سے وہ ثابت نہ ہو۔ جب ثابت ہو عمل کریں۔ اور اللہ کی حمد کریں کہ جو اس کے جی میں آتا تھا۔ وہی قرآن و حدیث میں بھی نکلا۔ اللہ تعالیٰ محسنین کے ساتھ ہے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم فرماتے ہیں احسان اس کا نام ہے کہ جو تیرے ساتھ بدسلوکی کرے تو اس کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ احسان کرنے والوں سے احسان کرنے کا نام احسان نہیں واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُمْتَنًّا عَلَى قُرَيْشٍ فِيمَا أَحَلَّهُمْ مِنْ حَرَمِهِ، الَّذِي جَعَلَهُ لِلنَّاسِ سَوَاءً الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِي، وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا، فَهُمْ فِي أَمْنٍ عَظِيمٍ، وَالْأَعْرَابُ حَوْلَهُ يَنْهَبُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَيَقْتُلُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لإيلافِ قُرَيْشٍ إِيلافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ. فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ. الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ﴾ [قُرَيْشٍ: ١-٤] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ﴾ أَيْ: أَفَكَانَ شُكْرُهُمْ عَلَى هَذِهِ النِّعْمَةِ الْعَظِيمَةِ أَنْ أَشْرَكُوا بِهِ، وَعَبَدُوا مَعَهُ [غَيْرَهُ مِنَ] [[زيادة من أ.]] الْأَصْنَامِ وَالْأَنْدَادِ، وَ ﴿بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ﴾ [إِبْرَاهِيمَ: ٢٨] ، وَكَفَرُوا بِنَبِيِّ اللَّهِ وَعَبْدِهِ وَرَسُولِهِ، فَكَانَ اللَّائِقُ بِهِمْ إِخْلَاصَ الْعِبَادَةِ لِلَّهِ، وَأَلَّا يُشْرِكُوا بِهِ، وَتَصْدِيقَ الرَّسُولِ وَتَعْظِيمَهُ وَتَوْقِيرَهُ، فَكَذَّبُوهُ وَقَاتَلُوهُ وَأَخْرَجُوهُ مِنْ بَيْنِ ظَهْرِهِمْ؛ وَلِهَذَا سَلَبَهُمُ اللَّهُ مَا كَانَ أَنْعَمَ بِهِ عَلَيْهِمْ، وَقُتِلَ مَنْ قُتِلَ مِنْهُمْ بِبَدْرٍ، وَصَارَتِ الدَّوْلَةُ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مَكَّةَ، وَأَرْغَمَ آنَافَهُمْ وَأَذَلَّ رِقَابَهُمْ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُ﴾ أي: لا أحد أشد عُقُوبَةً مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللَّهِ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيْهِ شَيْءٌ، وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ. وَمَنْ قَالَ: سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ. وَهَكَذَا لَا أَحَدَ أَشَدُّ عُقُوبَةً مِمَّنْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُ، فَالْأَوَّلُ مُفْتَرٍ، وَالثَّانِي مُكَذِّبٌ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْكَافِرِينَ﴾ .
ثُمَّ قَالَ ﴿وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا﴾ يَعْنِي: الرَّسُولَ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، وَأَصْحَابَهُ وَأَتْبَاعَهُ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ ﴿لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾ ، أَيْ: لنُبَصرنهم سُبُلَنَا، أَيْ: طُرُقَنَا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الحَواري، حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْهَمْدَانِيُّ أَبُو أَحْمَدَ -مِنْ أَهْلِ عَكَّا -فِي قَوْلِ اللَّهِ [[في ت، أ: "قوله تعالى".]] : ﴿وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ﴾ قَالَ: الَّذِينَ يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ، يَهْدِيهِمْ لِمَا لَا يَعْلَمُونَ. قَالَ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ: فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا سُلَيْمَانَ الدَّارَانِيَّ فَأَعْجَبَهُ، وَقَالَ: لَيْسَ يَنْبَغِي لِمَنْ أُلْهِمَ شَيْئًا مِنَ الْخَيْرِ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ حَتَّى يَسْمَعَهُ فِي الْأَثَرِ، فَإِذَا سَمِعَهُ فِي الْأَثَرِ عَمِلَ بِهِ، وَحَمِدَ اللَّهَ حِينَ وَافَقَ مَا فِي نَفْسِهِ [[في أ: "قلبه".]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ﴾ ، قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَعْفَرٍ -قَاضِي الرَّيِّ -حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ [[في ت: "وروى ابن أبي حاتم بإسناده إلى".]] الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ عيسى بن مَرْيَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِنَّمَا الْإِحْسَانُ أَنْ تُحْسِنَ إِلَى مَنْ أَسَاءَ إِلَيْكَ، لَيْسَ [[في ت: "وليس".]] الْإِحْسَانُ أَنْ تُحْسِنَ إِلَى مَنْ أَحْسَنَ إِلَيْكَ. [وَفِي حَدِيثِ جِبْرِيلَ لَمَّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْإِحْسَانِ قَالَ: "أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ". قَالَ: "أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ".
[انْتَهَى تفسير سورة العنكبوت، ولله الحمد والمنة [[في هـ: "والله أعلم".]] ] [[زيادة من ت.]]
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِٱلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُۥٓ ۚ أَلَيْسَ فِى جَهَنَّمَ مَثْوًۭى لِّلْكَٰفِرِينَ
And who is more unjust than one who invents a lie about Allah or denies the truth when it has come to him? Is there not in Hell a [sufficient] residence for the disbelievers?
اور اس سے ظالم کون جو خدا پر جھوٹ بہتان باندھے یا جب حق بات اُس کے پاس آئے تو اس کی تکذیب کرے۔ کیا کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہے؟
چه کسی ستمکارتر از آن کس است که بر خدا دروغ بسته یا حق را پس از آنکه به سراغش آمده تکذیب نماید؟! آیا جایگاه کافران در دوزخ نیست؟!
Tafsir Ibn Kathir
Have they not seen that We have made a secure sanctuary, while men are being snatched away from all around them? Then do they believe in falsehood, and deny the graces of Allah (67)And who does more wrong than he who invents a lie against Allah or denies the truth, when it comes to him? Is there not a dwelling in Hell for the disbelievers (68)As for those who strive hard for Us, We will surely guide them to Our paths. And verily, Allah is with the doers of good (69)
The Blessing of the Sanctuary
Here Allah reminds Quraysh how He blessed them by granting them access to His sanctuary which He has made (open) to (all) men, the dweller in it and the visitor from the country are equal there, and whoever enters it is safe, because he is in a place of great security, although the Arabs of the desert round about used to ambush and raid one another and kill one another. As Allah says:
لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ - إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ - فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَٰذَا الْبَيْتِ - الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ
(For the protection of the Quraysh. The caravans to set forth safe in winter and in summer. So let them worship the Lord of this House. Who has fed them against hunger, and has made them safe from fear.)(106:1-4)
أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ
(Then do they believe in falsehood, and deny the graces of Allah?) means, is the thanks that they give for this immense blessing to associate others with Him and worship others besides Him, idols and rivals?
بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ
(Have you not seen those who have changed the blessings of Allah into disbelief, and caused their people to dwell in the house of destruction?)(14:28) They disbelieved in the Prophet, servant and Messenger of Allah ﷺ, when what they should have done was to worship Allah Alone and not associate anything with Him, and to believe in, honor and respect the Messenger, but they rejected him and fought him, and expelled him from their midst. So, Allah took His blessing away from them, and killed those of them whom He killed at Badr, then His Messenger ﷺ and the believers gained the upper hand, and Allah enabled His Messenger ﷺ to conquer Makkah, and He disgraced them and humiliated them (the disbelievers). Then Allah says:
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُ ۚ
(And who does more wrong than he who invents a lie against Allah or denies the truth, when it comes to him?) There is no one who will be more severely punished than one who tells lies about Allah and says that Allah revealed something to him at the time when Allah did not reveal anything to him, or says, 'I shall reveal something like that which Allah revealed.' And there is no one who will be more severely punished than one who denies the truth when it comes to him, for the former is a fabricator and the latter is a disbeliever. Allah says:
أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْكَافِرِينَ
(Is there not a dwelling in Hell for the disbelievers?) Then Allah says:
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا
(As for those who strive hard for Us,) meaning the Messenger ﷺ and his Companions and those who follow him, until the Day of Resurrection,
لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا
(We will surely guide them to Our paths.) means, 'We will help them to follow Our path in this world and the Hereafter.'
Ibn Abi Hatim narrated that 'Abbas Al-Hamdani Abu Ahmad – one of the people of 'Akka (Palestine) – said, concerning the Ayah:
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ
(As for those who strive hard for Us (in Our cause), We will surely guide them to Our paths. And verily, Allah is with the doers of good.) "Those who act upon what they know, Allah will guide them to that which they do not know." Ahmad bin Abu Al-Hawari said, "I told this to Abu Sulayman Ad-Darani, and he liked it and said: 'No one who is inspired to do something good should do it until he hears a report concerning that; if he hears a report then he should go ahead and do it, and praise Allah because it was in accordance with what he himself felt.'"
وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ
(And verily, Allah is with the doers of good.) Ibn Abi Hatim recorded that Ash-Sha'bi said; "Isa bin Maryam, peace be upon him, said: 'Righteousness means doing good to those who ill-treat you, it does not mean doing good to those who do good to you.'" And Allah knows best.
This is the end of the Tafsir of Surat Al-'Ankabut. All praise and thanks are due to Allah.
Tafsir Ibn Kathir
احسان کے بدلے احسان ؟ اللہ تعالیٰ قریش کو اپنا احسان جتاتا ہے کہ اس نے اپنے حرم میں انہیں جگہ دی۔ جو شخص اس میں آجائے امن میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے آس پاس جدال و قتال لوٹ مار ہوتی رہتی ہے اور یہاں والے امن وامان سے اپنے دن گزارتے ہیں۔ جسے سورة لایلاف قریش الخ میں بیان فرمایا تو کیا اس اتنی بڑی نعمت کا شکریہ یہی ہے کہ یہ اللہ کے ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کریں ؟ بجائے ایمان لانے کے شرک کریں اور خود تباہ ہو کر دوسروں کو بھی اسی ہلاکت والی راہ لے چلیں۔ لیکن انہوں نے اس کے برعکس اللہ کے ساتھ شرک وکفر کرنا اور نبی کو جھٹلانا اور ایذاء پہنچانا شروع کر رکھا ہے۔ اپنی سرکشی میں یہاں تک بڑھ گئے کہ اللہ کے پیغمبر کو مکہ سے نکال دیا۔ بالآخر اللہ کی نعمتیں ان سے چھننی شروع ہوگئیں۔ بدر کے دن ان کے بڑے بری طرح قتل ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے ہاتھوں مکہ کو فتح کیا اور انہیں ذلیل وپست کیا۔ اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ وحی آتی نہ ہو اور کہہ دے کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ظال کوئی نہیں جو اللہ کی سچی وحی کو جھٹلائے اور باوجود حق پہنچنے کے تکذیب پر کمربستہ رہے۔ ایسے مفرتی اور مکذب لوگ کافر ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ راہ اللہ میں مشقت کرنے والے سے مراد رسول اللہ ﷺ ، آپ کے اصحاب اور آپ کے تابع فرمان لوگ ہیں جو قیامت تک ہونگے۔ فرماتا ہے کہ ہم ان کوشش اور جستجو کرنے والوں کی رہنمائی کریں گے دنیا اور دین میں ان کی رہبری کرتے رہیں گے۔ حضرت ابو عباس ہمدانی فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ جو لوگ اپنے علم پر عمل کرتے ہیں اللہ انہیں ان امور میں بھی ہدایت دیتا ہے جو ان کے علم میں نہیں ہوتے ابو سلیمان دارانی سے جب یہ ذکر کیا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں کوئی بات پیدا ہو گو وہ بھلی بات ہو تاہم اسے اس پر عمل نہ کرنا چاہیے جب تک قرآن و حدیث سے وہ ثابت نہ ہو۔ جب ثابت ہو عمل کریں۔ اور اللہ کی حمد کریں کہ جو اس کے جی میں آتا تھا۔ وہی قرآن و حدیث میں بھی نکلا۔ اللہ تعالیٰ محسنین کے ساتھ ہے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم فرماتے ہیں احسان اس کا نام ہے کہ جو تیرے ساتھ بدسلوکی کرے تو اس کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ احسان کرنے والوں سے احسان کرنے کا نام احسان نہیں واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُمْتَنًّا عَلَى قُرَيْشٍ فِيمَا أَحَلَّهُمْ مِنْ حَرَمِهِ، الَّذِي جَعَلَهُ لِلنَّاسِ سَوَاءً الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِي، وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا، فَهُمْ فِي أَمْنٍ عَظِيمٍ، وَالْأَعْرَابُ حَوْلَهُ يَنْهَبُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَيَقْتُلُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لإيلافِ قُرَيْشٍ إِيلافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ. فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ. الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ﴾ [قُرَيْشٍ: ١-٤] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ﴾ أَيْ: أَفَكَانَ شُكْرُهُمْ عَلَى هَذِهِ النِّعْمَةِ الْعَظِيمَةِ أَنْ أَشْرَكُوا بِهِ، وَعَبَدُوا مَعَهُ [غَيْرَهُ مِنَ] [[زيادة من أ.]] الْأَصْنَامِ وَالْأَنْدَادِ، وَ ﴿بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ﴾ [إِبْرَاهِيمَ: ٢٨] ، وَكَفَرُوا بِنَبِيِّ اللَّهِ وَعَبْدِهِ وَرَسُولِهِ، فَكَانَ اللَّائِقُ بِهِمْ إِخْلَاصَ الْعِبَادَةِ لِلَّهِ، وَأَلَّا يُشْرِكُوا بِهِ، وَتَصْدِيقَ الرَّسُولِ وَتَعْظِيمَهُ وَتَوْقِيرَهُ، فَكَذَّبُوهُ وَقَاتَلُوهُ وَأَخْرَجُوهُ مِنْ بَيْنِ ظَهْرِهِمْ؛ وَلِهَذَا سَلَبَهُمُ اللَّهُ مَا كَانَ أَنْعَمَ بِهِ عَلَيْهِمْ، وَقُتِلَ مَنْ قُتِلَ مِنْهُمْ بِبَدْرٍ، وَصَارَتِ الدَّوْلَةُ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مَكَّةَ، وَأَرْغَمَ آنَافَهُمْ وَأَذَلَّ رِقَابَهُمْ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُ﴾ أي: لا أحد أشد عُقُوبَةً مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللَّهِ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيْهِ شَيْءٌ، وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ. وَمَنْ قَالَ: سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ. وَهَكَذَا لَا أَحَدَ أَشَدُّ عُقُوبَةً مِمَّنْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُ، فَالْأَوَّلُ مُفْتَرٍ، وَالثَّانِي مُكَذِّبٌ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْكَافِرِينَ﴾ .
ثُمَّ قَالَ ﴿وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا﴾ يَعْنِي: الرَّسُولَ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، وَأَصْحَابَهُ وَأَتْبَاعَهُ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ ﴿لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾ ، أَيْ: لنُبَصرنهم سُبُلَنَا، أَيْ: طُرُقَنَا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الحَواري، حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْهَمْدَانِيُّ أَبُو أَحْمَدَ -مِنْ أَهْلِ عَكَّا -فِي قَوْلِ اللَّهِ [[في ت، أ: "قوله تعالى".]] : ﴿وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ﴾ قَالَ: الَّذِينَ يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ، يَهْدِيهِمْ لِمَا لَا يَعْلَمُونَ. قَالَ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ: فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا سُلَيْمَانَ الدَّارَانِيَّ فَأَعْجَبَهُ، وَقَالَ: لَيْسَ يَنْبَغِي لِمَنْ أُلْهِمَ شَيْئًا مِنَ الْخَيْرِ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ حَتَّى يَسْمَعَهُ فِي الْأَثَرِ، فَإِذَا سَمِعَهُ فِي الْأَثَرِ عَمِلَ بِهِ، وَحَمِدَ اللَّهَ حِينَ وَافَقَ مَا فِي نَفْسِهِ [[في أ: "قلبه".]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ﴾ ، قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَعْفَرٍ -قَاضِي الرَّيِّ -حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ [[في ت: "وروى ابن أبي حاتم بإسناده إلى".]] الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ عيسى بن مَرْيَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِنَّمَا الْإِحْسَانُ أَنْ تُحْسِنَ إِلَى مَنْ أَسَاءَ إِلَيْكَ، لَيْسَ [[في ت: "وليس".]] الْإِحْسَانُ أَنْ تُحْسِنَ إِلَى مَنْ أَحْسَنَ إِلَيْكَ. [وَفِي حَدِيثِ جِبْرِيلَ لَمَّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْإِحْسَانِ قَالَ: "أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ". قَالَ: "أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ".
[انْتَهَى تفسير سورة العنكبوت، ولله الحمد والمنة [[في هـ: "والله أعلم".]] ] [[زيادة من ت.]]
وَٱلَّذِينَ جَٰهَدُوا۟ فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَمَعَ ٱلْمُحْسِنِينَ
And those who strive for Us - We will surely guide them to Our ways. And indeed, Allah is with the doers of good.
اور جن لوگوں نے ہمارے لئے کوشش کی ہم اُن کو ضرور اپنے رستے دکھا دیں گے۔ اور خدا تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے
و آنها که در راه ما (با خلوص نیّت) جهاد کنند، قطعاً به راههای خود، هدایتشان خواهیم کرد؛ و خداوند با نیکوکاران است.
Tafsir Ibn Kathir
Have they not seen that We have made a secure sanctuary, while men are being snatched away from all around them? Then do they believe in falsehood, and deny the graces of Allah (67)And who does more wrong than he who invents a lie against Allah or denies the truth, when it comes to him? Is there not a dwelling in Hell for the disbelievers (68)As for those who strive hard for Us, We will surely guide them to Our paths. And verily, Allah is with the doers of good (69)
The Blessing of the Sanctuary
Here Allah reminds Quraysh how He blessed them by granting them access to His sanctuary which He has made (open) to (all) men, the dweller in it and the visitor from the country are equal there, and whoever enters it is safe, because he is in a place of great security, although the Arabs of the desert round about used to ambush and raid one another and kill one another. As Allah says:
لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ - إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ - فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَٰذَا الْبَيْتِ - الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ
(For the protection of the Quraysh. The caravans to set forth safe in winter and in summer. So let them worship the Lord of this House. Who has fed them against hunger, and has made them safe from fear.)(106:1-4)
أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ
(Then do they believe in falsehood, and deny the graces of Allah?) means, is the thanks that they give for this immense blessing to associate others with Him and worship others besides Him, idols and rivals?
بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ
(Have you not seen those who have changed the blessings of Allah into disbelief, and caused their people to dwell in the house of destruction?)(14:28) They disbelieved in the Prophet, servant and Messenger of Allah ﷺ, when what they should have done was to worship Allah Alone and not associate anything with Him, and to believe in, honor and respect the Messenger, but they rejected him and fought him, and expelled him from their midst. So, Allah took His blessing away from them, and killed those of them whom He killed at Badr, then His Messenger ﷺ and the believers gained the upper hand, and Allah enabled His Messenger ﷺ to conquer Makkah, and He disgraced them and humiliated them (the disbelievers). Then Allah says:
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُ ۚ
(And who does more wrong than he who invents a lie against Allah or denies the truth, when it comes to him?) There is no one who will be more severely punished than one who tells lies about Allah and says that Allah revealed something to him at the time when Allah did not reveal anything to him, or says, 'I shall reveal something like that which Allah revealed.' And there is no one who will be more severely punished than one who denies the truth when it comes to him, for the former is a fabricator and the latter is a disbeliever. Allah says:
أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْكَافِرِينَ
(Is there not a dwelling in Hell for the disbelievers?) Then Allah says:
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا
(As for those who strive hard for Us,) meaning the Messenger ﷺ and his Companions and those who follow him, until the Day of Resurrection,
لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا
(We will surely guide them to Our paths.) means, 'We will help them to follow Our path in this world and the Hereafter.'
Ibn Abi Hatim narrated that 'Abbas Al-Hamdani Abu Ahmad – one of the people of 'Akka (Palestine) – said, concerning the Ayah:
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ
(As for those who strive hard for Us (in Our cause), We will surely guide them to Our paths. And verily, Allah is with the doers of good.) "Those who act upon what they know, Allah will guide them to that which they do not know." Ahmad bin Abu Al-Hawari said, "I told this to Abu Sulayman Ad-Darani, and he liked it and said: 'No one who is inspired to do something good should do it until he hears a report concerning that; if he hears a report then he should go ahead and do it, and praise Allah because it was in accordance with what he himself felt.'"
وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ
(And verily, Allah is with the doers of good.) Ibn Abi Hatim recorded that Ash-Sha'bi said; "Isa bin Maryam, peace be upon him, said: 'Righteousness means doing good to those who ill-treat you, it does not mean doing good to those who do good to you.'" And Allah knows best.
This is the end of the Tafsir of Surat Al-'Ankabut. All praise and thanks are due to Allah.
Tafsir Ibn Kathir
احسان کے بدلے احسان ؟ اللہ تعالیٰ قریش کو اپنا احسان جتاتا ہے کہ اس نے اپنے حرم میں انہیں جگہ دی۔ جو شخص اس میں آجائے امن میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے آس پاس جدال و قتال لوٹ مار ہوتی رہتی ہے اور یہاں والے امن وامان سے اپنے دن گزارتے ہیں۔ جسے سورة لایلاف قریش الخ میں بیان فرمایا تو کیا اس اتنی بڑی نعمت کا شکریہ یہی ہے کہ یہ اللہ کے ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کریں ؟ بجائے ایمان لانے کے شرک کریں اور خود تباہ ہو کر دوسروں کو بھی اسی ہلاکت والی راہ لے چلیں۔ لیکن انہوں نے اس کے برعکس اللہ کے ساتھ شرک وکفر کرنا اور نبی کو جھٹلانا اور ایذاء پہنچانا شروع کر رکھا ہے۔ اپنی سرکشی میں یہاں تک بڑھ گئے کہ اللہ کے پیغمبر کو مکہ سے نکال دیا۔ بالآخر اللہ کی نعمتیں ان سے چھننی شروع ہوگئیں۔ بدر کے دن ان کے بڑے بری طرح قتل ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے ہاتھوں مکہ کو فتح کیا اور انہیں ذلیل وپست کیا۔ اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ وحی آتی نہ ہو اور کہہ دے کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ظال کوئی نہیں جو اللہ کی سچی وحی کو جھٹلائے اور باوجود حق پہنچنے کے تکذیب پر کمربستہ رہے۔ ایسے مفرتی اور مکذب لوگ کافر ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ راہ اللہ میں مشقت کرنے والے سے مراد رسول اللہ ﷺ ، آپ کے اصحاب اور آپ کے تابع فرمان لوگ ہیں جو قیامت تک ہونگے۔ فرماتا ہے کہ ہم ان کوشش اور جستجو کرنے والوں کی رہنمائی کریں گے دنیا اور دین میں ان کی رہبری کرتے رہیں گے۔ حضرت ابو عباس ہمدانی فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ جو لوگ اپنے علم پر عمل کرتے ہیں اللہ انہیں ان امور میں بھی ہدایت دیتا ہے جو ان کے علم میں نہیں ہوتے ابو سلیمان دارانی سے جب یہ ذکر کیا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں کوئی بات پیدا ہو گو وہ بھلی بات ہو تاہم اسے اس پر عمل نہ کرنا چاہیے جب تک قرآن و حدیث سے وہ ثابت نہ ہو۔ جب ثابت ہو عمل کریں۔ اور اللہ کی حمد کریں کہ جو اس کے جی میں آتا تھا۔ وہی قرآن و حدیث میں بھی نکلا۔ اللہ تعالیٰ محسنین کے ساتھ ہے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم فرماتے ہیں احسان اس کا نام ہے کہ جو تیرے ساتھ بدسلوکی کرے تو اس کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ احسان کرنے والوں سے احسان کرنے کا نام احسان نہیں واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُمْتَنًّا عَلَى قُرَيْشٍ فِيمَا أَحَلَّهُمْ مِنْ حَرَمِهِ، الَّذِي جَعَلَهُ لِلنَّاسِ سَوَاءً الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِي، وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا، فَهُمْ فِي أَمْنٍ عَظِيمٍ، وَالْأَعْرَابُ حَوْلَهُ يَنْهَبُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَيَقْتُلُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لإيلافِ قُرَيْشٍ إِيلافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ. فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ. الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ﴾ [قُرَيْشٍ: ١-٤] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ﴾ أَيْ: أَفَكَانَ شُكْرُهُمْ عَلَى هَذِهِ النِّعْمَةِ الْعَظِيمَةِ أَنْ أَشْرَكُوا بِهِ، وَعَبَدُوا مَعَهُ [غَيْرَهُ مِنَ] [[زيادة من أ.]] الْأَصْنَامِ وَالْأَنْدَادِ، وَ ﴿بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ﴾ [إِبْرَاهِيمَ: ٢٨] ، وَكَفَرُوا بِنَبِيِّ اللَّهِ وَعَبْدِهِ وَرَسُولِهِ، فَكَانَ اللَّائِقُ بِهِمْ إِخْلَاصَ الْعِبَادَةِ لِلَّهِ، وَأَلَّا يُشْرِكُوا بِهِ، وَتَصْدِيقَ الرَّسُولِ وَتَعْظِيمَهُ وَتَوْقِيرَهُ، فَكَذَّبُوهُ وَقَاتَلُوهُ وَأَخْرَجُوهُ مِنْ بَيْنِ ظَهْرِهِمْ؛ وَلِهَذَا سَلَبَهُمُ اللَّهُ مَا كَانَ أَنْعَمَ بِهِ عَلَيْهِمْ، وَقُتِلَ مَنْ قُتِلَ مِنْهُمْ بِبَدْرٍ، وَصَارَتِ الدَّوْلَةُ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مَكَّةَ، وَأَرْغَمَ آنَافَهُمْ وَأَذَلَّ رِقَابَهُمْ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُ﴾ أي: لا أحد أشد عُقُوبَةً مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللَّهِ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيْهِ شَيْءٌ، وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ. وَمَنْ قَالَ: سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ. وَهَكَذَا لَا أَحَدَ أَشَدُّ عُقُوبَةً مِمَّنْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُ، فَالْأَوَّلُ مُفْتَرٍ، وَالثَّانِي مُكَذِّبٌ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْكَافِرِينَ﴾ .
ثُمَّ قَالَ ﴿وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا﴾ يَعْنِي: الرَّسُولَ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، وَأَصْحَابَهُ وَأَتْبَاعَهُ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ ﴿لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾ ، أَيْ: لنُبَصرنهم سُبُلَنَا، أَيْ: طُرُقَنَا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الحَواري، حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْهَمْدَانِيُّ أَبُو أَحْمَدَ -مِنْ أَهْلِ عَكَّا -فِي قَوْلِ اللَّهِ [[في ت، أ: "قوله تعالى".]] : ﴿وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ﴾ قَالَ: الَّذِينَ يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ، يَهْدِيهِمْ لِمَا لَا يَعْلَمُونَ. قَالَ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ: فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا سُلَيْمَانَ الدَّارَانِيَّ فَأَعْجَبَهُ، وَقَالَ: لَيْسَ يَنْبَغِي لِمَنْ أُلْهِمَ شَيْئًا مِنَ الْخَيْرِ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ حَتَّى يَسْمَعَهُ فِي الْأَثَرِ، فَإِذَا سَمِعَهُ فِي الْأَثَرِ عَمِلَ بِهِ، وَحَمِدَ اللَّهَ حِينَ وَافَقَ مَا فِي نَفْسِهِ [[في أ: "قلبه".]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ﴾ ، قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَعْفَرٍ -قَاضِي الرَّيِّ -حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ [[في ت: "وروى ابن أبي حاتم بإسناده إلى".]] الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ عيسى بن مَرْيَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِنَّمَا الْإِحْسَانُ أَنْ تُحْسِنَ إِلَى مَنْ أَسَاءَ إِلَيْكَ، لَيْسَ [[في ت: "وليس".]] الْإِحْسَانُ أَنْ تُحْسِنَ إِلَى مَنْ أَحْسَنَ إِلَيْكَ. [وَفِي حَدِيثِ جِبْرِيلَ لَمَّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْإِحْسَانِ قَالَ: "أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ". قَالَ: "أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ".
[انْتَهَى تفسير سورة العنكبوت، ولله الحمد والمنة [[في هـ: "والله أعلم".]] ] [[زيادة من ت.]]