بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ٱقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِى غَفْلَةٍۢ مُّعْرِضُونَ
[The time of] their account has approached for the people, while they are in heedlessness turning away.
لوگوں کا حساب (اعمال کا وقت) نزدیک آپہنچا ہے اور وہ غفلت میں (پڑے اس سے) منہ پھیر رہے ہیں
حساب مردم به آنان نزدیک شده، در حالی که در غفلتند و روی گردانند!
Tafsir Ibn Kathir
The Virtues of Surat Al-Anbiya'
Al-Bukhari recorded that 'Abdur-Rahman bin Yazid said that 'Abdullah said, "Banu Isra'il, Al-Kahf, Maryam, Ta Ha and Al-Anbiya' - they are among the earliest and most beautiful Surahs and they are my treasure."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ - مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ - لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ ۗ وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا هَلْ هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۖ أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ - قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ - بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ - مَا آمَنَتْ قَبْلَهُم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ
(1. Draws near for mankind their reckoning, while they turn away in heedlessness.)(2. Comes not unto them an admonition from their Lord as a recent revelation but they listen to it while they play.)(3. With their hearts occupied. Those who do wrong, conceal their private counsels, (saying): "Is this more than a human being like you? Will you submit to magic while you see it?")(4. He said: "My Lord knows what is said in the heavens and on earth. And He is the All-Hearer, the All-Knower.")(5. Nay, they say: "These are mixed up false dreams! Nay, he has invented it! – Nay, he is a poet! Let him then bring us an Ayah like the ones that were sent before!")(6. Not one of the towns of those which We destroyed, believed before them; will they then believe.)
The Hour is at hand but People are heedless
This is a warning from Allah of the approach of the Hour, and that people are heedless of it, i.e., they are not working for it or preparing for it. An-Nasa'i recorded that Abu Sa'id reported from the Prophet ﷺ:
فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ
(while they turn away in heedlessness), he ﷺ said,
فِي الدُّنْيَا
(in this world.) Allah says:
أَتَىٰ أَمْرُ اللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ
(The Event ordained by Allah will come to pass, so seek not to hasten it)
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ - وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder. And if they see a sign, they turn away.)[54:1-2]. Then Allah states that they do not listen to the revelation (Wahy) that He sends down to His Messenger ﷺ, which is addressed to the Quraysh and all disbelievers like them.
مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ
(Comes not unto them an admonition from their Lord as a recent revelation) meaning, newly-revealed,
إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ
(but they listen to it while they play.) This is like what Ibn 'Abbas said, "Why do you ask the People of the Book about what they have, which has been altered and distorted, and they have added things and taken things away, when your Book is the most recently revealed from Allah, and you read it pure and unadulterated?" Al-Bukhari recorded something similar to this.
وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا
(Those who do wrong, conceal their private counsels) meaning, what they say to one another in secret.
هَلْ هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ
(Is this more than a human being like you?) meaning, the Messenger of Allah ﷺ. They did not believe that he could be a Prophet because he was a human being like them, so how could he have been singled out to receive revelation, and not them? They said:
أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ
(Will you submit to magic while you see it?) meaning, will you follow him and be like one who submits to magic when he knows that it is magic? Allah said in response to their fabrications and lies:
قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
(He said: "My Lord knows what is said in the heavens and on earth...") Nothing at all is hidden from the One Who knows that, and He is the One Who reveals this Qur'an which contains news of the earliest and last generations. No one can produce the like of this except the One Who knows all the secrets of the heavens and the earth.
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And He is the All-Hearer, the All-Knower.) means, He hears all that they say and He knows all their circumstances. This is a warning and a threat to them.
The Disbelievers' Ideas about the Qur'an and the Messenger (ﷺ); their demand for a Sign and the Refutation of that
بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاهُ
(Nay, they say: "These are mixed up false dreams! Nay, he has invented it!...") Here Allah tells us of the stubbornness and heresy of the disblievers, and the various things they said about the Qur'an, and how they were confused and misguided about it. Sometimes they described it as magic, and sometimes they described it as poetry, or mixed up false dreams, or a fabrication. As Allah says:
انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا
(See what examples they have put forward for you. So they have gone astray, and never can they find a way)(17:48)
فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ
(Let him then bring us an Ayah like the ones that were sent before!) They were referring to the she-camel of Salih, and the signs of Musa and 'Isa. And Allah says,
وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ
(And nothing stops Us from sending the Ayat but that the people of old denied them.)[17:59]. So Allah said here:
مَا آمَنَتْ قَبْلَهُم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ
(Not one of the towns of those which We destroyed, believed before them; will they then believe?)
None of the peoples to whom Messengers were sent were given a sign at the hands of their Prophet and believed. On the contrary, they disbelieved and We destroyed them as a result. Would these people believe in a sign if they saw it? Not at all! In fact,
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ
(Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them, until they see the painful torment.)(10:96-97). Indeed, they witnessed clear signs and definitive proof at the hands of the Messenger of Allah ﷺ, signs which were far clearer and more overwhelming than any that had been witnessed in the case of any other Prophet, may the blessings and peace of Allah be upon them all.
Tafsir Ibn Kathir
قیامت سے غافل انسان اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لئے کوئی تیاری کررہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہوگئے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ) امر ربی آگیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو ؟ دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا الخ۔ ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے۔ شعر (الناس فی غفلاتہم ورحی المنیتہ تطحن)" موت کی چکی زور زور سے چل رہی ہے اور لوگ غفلتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ حضرت عامر بن ربیعہ ؓ کے ہاں ایک صاحب مہمان بن کر آئے۔ انہوں نے بڑے اکرام اور احترام سے انہیں اپنے ہاں اتارا اور ان کے بارے میں رسول ﷺ سے بھی سفارش کی۔ ایک دن یہ بزرگ مہمان ان کے پاس آئے اور کہنے لگے رسول اللہ ﷺ نے مجھے فلاں وادی عطا فرما دی ہے میں میں چاہتا ہوں کہ اس بہترین زمین کا ایک ٹکڑا میں آپ کے نام کردوں کہ آپ کو بھی فارغ البالی رہے اور آپ کے بعد آپ کے بال بچے بھی آسودگی سے گزر کریں۔ حضرت عامر ؓ نے جواب دیا کہ بھائی مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں آج ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے کہ ہمیں تو دنیا کڑوی معلوم ہونے لگی ہے۔ پھر آپ نے یہی اقترب للناس کی تلاوت فرمائی۔ اس کے بعد کفار قریش اور انہی جیسے اور کافروں کی بابت فرماتا ہے کہ یہ لوگ کلام اللہ اور وحی الٰہی کی طرف کان ہی نہیں لگاتے۔ یہ تازہ اور نیا آیا ہوا ذکر دل لگا کر سنتے ہی نہیں۔ اس کان سنتے ہیں اس کان اڑا دیتے ہیں۔ دل ہنسی کھیل میں مشغول ہیں۔ بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں تمہیں اہل کتاب کی کتابوں کی باتوں کے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے ؟ انہوں نے تو کتاب اللہ میں بہت کچھ ردوبدل کرلیا تحریف اور تبدیلی کرلی، کمی زیادتی کرلی اور تمہارے پاس تو اللہ کی اتاری ہوئی خالص کتاب موجود ہے جس میں ملاوٹ نہیں ہونے پائی۔ یہ لوگ کتاب اللہ سے بےپرواہی کررہے ہیں اپنے دلوں کو اس کے اثر سے خالی رکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یہ ظالم اوروں کو بھی بہکاتے ہیں کہتے ہیں کہ اپنے جیسے ایک انسان کی ماتحتی تو ہم نہیں کرسکتے۔ تم کیسے لوگ ہو کہ دیکھتے بھالتے جادو کو مان رہے ہو ؟ یہ ناممکن ہے کہ ہم جیسے آدمی کو اللہ تعالیٰ رسالت اور وحی کے ساتھ مختص کردے، پھر تعجب ہے کہ لوگ باجود علم کے اس کے جادو میں آجاتے ہیں ؟ ان بد کرداروں کے جواب میں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ یہ جو بہتان باندھتے ہیں ان سے کہئے کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تمام باتیں جانتا ہے جس پر کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں۔ اس نے اس پاک کلام قرآن کریم کو نازل فرمایا اس میں اگلی پچھلی تمام خبروں کا موجود ہونا ہی دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا اتارنے والا عالم الغیب ہے۔ وہ تمہاری سب باتوں کا سننے والا اور تمہارے تمام حالات کا علم رکھنے والا ہے۔ پس تمہیں اس کا ڈر رکھنا چاہیے۔ پھر کفار کی ضد، ناسمجھی اور کٹ حجتی بیان فرما رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خود حیران ہیں کسی بات پر جم نہیں سکتے۔ کبھی کلام اللہ کو جادو کہتے ہیں تو کبھی شاعری کہتے ہیں کبھی پراگندہ اور بےمعنی باتیں کہتے ہیں اور کبھی آنحضرت ﷺ کا ازخود گھڑلیا ہوا بتاتے ہیں۔ خیال کرو کہ اپنے کسی قول پر بھروسہ نہ رکھنے والا جو زبان پر چڑھے بک دینے و الا بھی مستقل مزاج کہلانے کا مستحق ہے ؟ کبھی کہتے تھے اچھا اگر یہ سچا نبی ہے تو حضرت صالح ؑ کی طرح کوئی اونٹنی لے آتا یا حضرت موسیٰ ؑ کی طرح کا کوئی معجزہ دکھاتا یا حضرت عیسیٰ ؑ کا کوئی معجزہ ظاہر کرتا۔ بیشک اللہ ان چیزوں پر قادر تو ضرور ہے لیکن اگر ظاہر ہوئیں اور پھر بھی یہ اپنے کفر سے نہ ہٹے تو عادت الٰہی کی طرح عذاب الٰہی میں پکڑ لئے جائیں گے اور پیس دئیے جائیں گے۔ عموما اگلے لوگوں نے یہی کہا اور ایمان نصیب نہ ہوا اور غارت کرلئے گئے۔ اسی طرح یہ بھی ایسے معجزے طلب کررہے ہیں اگر ظاہر ہوئے تو ایمان نہ لائیں گے اور تباہ ہوجائینگے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۙ) 10۔ یونس :96) جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ گو تمام تر معجزے دیکھ لیں، ایمان قبول نہ کریں گے۔ ہاں عذاب الیم کے معائنہ کے بعد تو فورا تسلیم کرلیں گے لیکن وہ محض بےسود ہے بات بھی یہی ہے کہ انہیں ایمان لانا ہی نہ تھ اور نہ حضور ﷺ کے بیشمار معجزات روز مرہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔ بلکہ آپ کے یہ معجزے دیگر انبیاء ؑ سے بہت زیادہ ظاہر اور کھلے ہوئے تھے۔ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب روایت میں صحابہ کرام ؓ کا ایک مجمع مسجد میں تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ تلاوت قرآن کررہے تھے اتنے میں عبداللہ بن سلول منافق آیا اپنی گدی بچھا کر اپنا تکیہ لگا کر وجاہت سے بیٹھ گیا۔ تھا بھی گورا چٹا بڑھ بڑھ کر فصاحت کے ساتھ باتیں بنانے والا کہنے لگا ابوبکر تم حضور ﷺ سے کہو کہ آپ کوئی نشان ہمیں دکھائیں جیسے کہ آپ سے پہلے کے انبیاء نشانات لائے تھے مثلا موسیٰ ؑ تختیاں لائے، داؤد ؑ اونٹنی لائے، عیسیٰ ؑ انجیل لائے اور آسمانی دسترخوان۔ حضرت صدیق ؓ یہ سن کر رونے لگے۔ اتنے میں حضور ﷺ گھر سے نکلے تو آپ نے دوسرے صحابہ سے فرمایا کہ حضور ﷺ کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوجاؤ۔ اور اس منافق کی فریاد دربار رسالت میں پہنچاؤ۔ آپ نے ارشاد فرمایا سنو میرے لئے کھڑے نہ ہوا کرو۔ صرف اللہ ہی کے لئے کھڑے ہوا کرو۔ صحابہ نے کہا حضور ﷺ ہمیں اس منافق سے بڑی ایذاء پہنچی ہے۔ آپ نے فرمایا ابھی ابھی جبرائیل ؑ میرے پاس آئے تھے اور مجھ سے فرمایا کہ باہر جاؤ اور لوگوں کے سامنے اپنے فضائل ظاہر کرو اور ان نعمتوں کا بیان کرو جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہیں میں ساری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جنات کو بھی پیغام الٰہی پہنچادوں۔ مجھے میرے رب نے اپنی پاک کتاب عنایت فرمائی ہے حالانکہ محض بےپڑھا ہوں۔ میرے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرمادئیے ہیں۔ میرا نام اذان میں رکھا ہے میری مدد فرشتوں سے کرائی ہے۔ مجھے اپنی امدادونصرت عطاء فرمائی ہے۔ رعب میرا میرے آگے آگے کردیا ہے۔ مجھے حوض کوثر عطا فرمایا ہے جو قیامت کے دن تمام اور حوضوں سے بڑا ہوگا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے مقام محمود کا وعدہ دیا ہے اس وقت جب کہ سب لوگ حیران و پریشان سرجھکائے ہوئے ہوں گے مجھے اللہ نے اس پہلے گروہ میں چنا ہے جو لوگوں سے نکلے گا۔ میری شفاعت سے میری امت کے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ مجھے غلبہ اور سلطنت عطا فرمائی ہے مجھے جنت نعیم کا وہ بلند وبالا اعلیٰ بالاخانہ ملے گا کہ اس سے اعلیٰ منزل کسی کی نہ ہوگی۔ میرے اوپر صرف وہ فرشتے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ میرے اور میری امت کے لئے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لئے حلال نہ تھے۔
Tafsir Ibn Kathir
سُورَةُ الْأَنْبِيَاءِ
وَهِيَ مَكِّيَّةٌ.
قَالَ الْبُخَارِيُّ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَر، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ: سَمِعْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ [[في أ: "زيد".]] ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: بَنُو إِسْرَائِيلَ، وَالْكَهْفُ، وَمَرْيَمُ، وَطه، وَالْأَنْبِيَاءُ، هُنَّ مِنَ الْعِتَاقِ الْأُوَلِ، وَهُنَّ مِنْ تِلَادِي [[صحيح البخاري برقم (٤٧٣٩) .]] .
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
هَذَا تَنْبِيهٌ مِنَ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، عَلَى اقْتِرَابِ السَّاعَةِ وَدُنُوِّهَا، وَأَنَّ النَّاسَ فِي غَفْلَةٍ عَنْهَا، أَيْ: لَا يَعْمَلُونَ لَهَا، وَلَا يَسْتَعِدُّونَ مِنْ أَجْلِهَا.
وَقَالَ النَّسَائِيُّ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ﴿فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ﴾ قَالَ: "فِي الدُّنْيَا" [[سنن النسائي الكبرى برقم (١١٣٣٢) .]] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلا تَسْتَعْجِلُوهُ﴾ [النَّحْلِ: ١] ، وَقَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من ف، أ.]] : ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ * وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ﴾ [الْقَمَرِ: ١، ٢]
وَقَدْ رَوَى الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ الْحَسَنِ بْنِ هَانِئٍ أَبِي نُوَاس الشَّاعِرِ أَنَّهُ قَالَ: أَشْعَرُ النَّاسِ الشَّيْخُ الطَّاهِرُ أَبُو الْعَتَاهِيَةِ حَيْثُ يَقُولُ:
النَّاس فِي غَفَلاتِهِمْ ... وَرَحا المِنيَّة تَطْحَنُ ...
فَقِيلَ لَهُ: مِنْ أَيْنَ أَخَذَ [[في ف، أ: "أخذت".]] هَذَا؟ قَالَ [[في ف، أ: "فقال".]] : مِنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ﴾ [[تاريخ دمشق (٤/٦١١ "المخطوط") .]] .
[وَرَوَى فِي تَرْجَمَةِ "عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ"، مِنْ طَرِيقِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ الْآمِدِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ أَبِيهِ، عن عامر ابن رَبِيعَةَ: أَنَّهُ نَزَلَ بِهِ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ، فَأَكْرَمَ عَامِرٌ مَثْوَاهُ، وَكَلَّمَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَجَاءَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ: إِنِّي اسْتَقْطَعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَادِيًا فِي الْعَرَبِ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أقطعَ لَكَ مِنْهُ قِطْعَةً تَكُونُ لَكَ وَلِعَقِبِكَ مِنْ بَعْدِكَ. فَقَالَ عَامِرٌ: لَا حَاجَةَ لِي فِي قَطِيعَتِكَ، نَزَلَتِ الْيَوْمَ سُورَةٌ أَذْهَلَتْنَا عَنِ الدُّنْيَا: ﴿اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ﴾ ] [[زيادة من ف، أ.]] [[تاريخ دمشق (٨/٦٨٠ "المخطوط") .]] .
ثُمَّ أَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُمْ لَا يُصغون إِلَى الْوَحْيِ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ، وَالْخِطَابُ مَعَ قُرَيْشٍ وَمَنْ شَابَهَهُمْ مِنَ الْكُفَّارِ، فَقَالَ: ﴿مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ﴾ أَيْ: جَدِيدٌ إِنْزَالُهُ ﴿إِلا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ﴾ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا لَكُمْ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَمَّا بِأَيْدِيهِمْ وَقَدْ حَرفوه وَبَدَّلُوهُ وَزَادُوا فِيهِ وَنَقَصُوا مِنْهُ، وَكِتَابُكُمْ أَحْدَثُ الْكُتُبِ بِاللَّهِ تَقْرَءُونَهُ مَحْضًا لَمْ يُشَبْ. وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ بِنَحْوِهِ [[صحيح البخاري برقم (٧٥٢٢) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا﴾ أَيْ: قَائِلِينَ فِيمَا بَيْنَهُمْ خفْيَةً ﴿هَلْ هَذَا إِلا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ﴾ يعنونَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، يَسْتَبْعِدُونَ كَوْنَهُ نَبِيًّا؛ لِأَنَّهُ بَشَرٌ مِثْلُهُمْ، فَكَيْفَ اخْتُصَّ بِالْوَحْيِ دُونَهُمْ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ﴾ ؟ أَيْ: أَفَتَتْبَعُونَهُ فَتَكُونُونَ كَمَنْ أَتَى [[في أ: "يأتي".]] السِّحْرَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ سِحْرٌ. فَقَالَ تَعَالَى مُجِيبًا لَهُمْ عَمَّا افْتَرَوْهُ وَاخْتَلَقُوهُ مِنَ الْكَذِبِ.
﴿قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالأرْضِ﴾ أَيِ: الَّذِي يَعْلَمُ ذَلِكَ، لَا يَخْفَى عَلَيْهِ خَافِيَةٌ، وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ هَذَا الْقُرْآنَ الْمُشْتَمِلَ عَلَى خَبَرِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ، الَّذِي لَا يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ أَنْ يَأْتِيَ بمثله، إلا الذي يعلم السر في السموات وَالْأَرْضِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [أَيِ: السَّمِيعُ] [[زيادة من ف، أ.]] لِأَقْوَالِكُمْ، ﴿الْعَلِيم﴾ بِأَحْوَالِكُمْ. وَفِي هَذَا تَهْدِيدٌ لَهُمْ وَوَعِيدٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلامٍ بَلِ افْتَرَاهُ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنْ تَعَنُّتِ الْكُفَّارِ وَإِلْحَادِهِمْ، وَاخْتِلَافِهِمْ فِيمَا يَصِفُونَ بِهِ [[في ف، أ: " فيه".]] الْقُرْآنَ، وَحَيْرَتِهِمْ فِيهِ، وَضَلَالِهِمْ عَنْهُ. فَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ سِحْرًا، وَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ شِعْرًا، وَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ أَضْغَاثَ أَحْلَامٍ، وَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ مُفْتَرًى، كَمَا قَالَ: ﴿انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الأمْثَالَ فَضَلُّوا فَلا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٤٨، وَالْفُرْقَانِ: ٩] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الأوَّلُونَ﴾ : يَعْنُونَ نَاقَةَ صَالِحٍ، وَآيَاتِ مُوسَى وَعِيسَى. وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالآيَاتِ إِلا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الأوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا﴾ [الْآيَةَ] [[زيادة من ف.]] [الْإِسْرَاءِ: ٥٩] ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿مَا آمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ﴾ أَيْ: مَا آتَيْنَا قَرْيَةً مِنَ الْقُرَى الَّذِينَ بُعِثَ فِيهِمْ الرُّسُلُ آيَةً عَلَى يَدَيْ نَبِيِّهَا فَآمَنُوا بِهَا، بَلْ كَذَّبُوا، فأهلكناهم بِذَلِكَ، أَفَهَؤُلَاءِ يُؤْمِنُونَ بِالْآيَاتِ لَوْ [[في ف: "ولو".]] رَأَوْها دُونَ أُولَئِكَ؟ كَلَّا بَلْ ﴿إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الألِيمَ﴾ [يُونُسَ: ٩٦، ٩٧] .
هَذَا كُلُّهُ، وَقَدْ شَاهَدُوا مِنَ الْآيَاتِ الْبَاهِرَاتِ، وَالْحُجَجِ الْقَاطِعَاتِ، وَالدَّلَائِلِ الْبَيِّنَاتِ، عَلَى يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مَا هُوَ أَظْهَرُ وَأَجْلَى، وَأَبْهَرُ وَأَقْطَعُ وَأَقْهَرُ، مِمَّا شُوهِدَ مَعَ غَيْرِهِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: ذُكِرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ زَيْدٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ، حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، يَقُولُ: كُنَّا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَنَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يُقْرِئُ بَعْضُنَا بَعْضًا الْقُرْآنَ، فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بن أبي بن سَلُولَ، وَمَعَهُ نُمْرُقة وزِرْبِيّة، فَوَضَعَ وَاتَّكَأَ، وَكَانَ صَبِيحًا فَصِيحًا جَدِلًا فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، قُلْ لِمُحَمَّدٍ يَأْتِينَا بِآيَةٍ كَمَا جَاءَ الْأَوَّلُونَ؟ جَاءَ مُوسَى بِالْأَلْوَاحِ، وَجَاءَ دَاوُدُ بِالزَّبُورِ، وَجَاءَ صَالِحٌ بِالنَّاقَةِ، وَجَاءَ عِيسَى بِالْإِنْجِيلِ وَبِالْمَائِدَةِ. فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: قُومُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ [[في ف: "إلى رسوله".]] ﷺ نَسْتَغِيثُ بِهِ مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّهُ لَا يُقَامُ لِي، إِنَّمَا يُقَامُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ". فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَقِينَا مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ:"إِنَّ [[في ف: "أتى".]] جِبْرِيلَ قَالَ [[في ف: "فقال".]] لِي: اخْرُجْ فَأَخْبِرْ بِنِعَمِ اللَّهِ الَّتِي أَنْعَمَ بِهَا عَلَيْكَ، وَفَضِيلَتِهِ الَّتِي فُضِّلت بِهَا، فَبَشَّرَنِي أَنِّي بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُنْذِرَ الْجِنَّ، وَآتَانِي كِتَابَهُ وَأَنَا أُمِّيٌّ، وَغَفَرَ ذَنْبِي مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَأَخَّرَ، وَذَكَرَ اسْمِي فِي الْأَذَانِ وَأَيَّدَنِي [[في أ: "وأمرني".]] بِالْمَلَائِكَةِ، وَآتَانِي النَّصْرَ، وَجَعَلَ الرُّعْبَ أَمَامِي، وَآتَانِي الْكَوْثَرَ، وَجَعَلَ حَوْضِي مِنْ أَعْظَمِ الْحِيَاضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَوَعَدَنِي الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ وَالنَّاسُ مُهْطِعُونَ مُقْنِعُو [[في ف: "مقنعي".]] رُءُوسِهِمْ، وَجَعَلَنِي فِي أَوَّلِ زُمْرَةٍ تَخْرُجُ مِنَ النَّاسِ، وَأَدْخَلَ فِي شَفَاعَتِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَآتَانِي السُّلْطَانَ وَالْمُلْكَ، وَجَعَلَنِي فِي أَعْلَى غُرْفَةٍ فِي الْجَنَّةِ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ [[في ف، أ: "عدن".]] ، فَلَيْسَ فَوْقِي أَحَدٌ إِلَّا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ، وَأَحَلَّ لِيَ [[في ف، أ: "لي ولأمتي".]] الْغَنَائِمَ [[في أ: "المغانم".]] ، وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلَنَا". وَهَذَا الْحَدِيثُ غَرِيبٌ جِدًّا.
مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍۢ مِّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ إِلَّا ٱسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ
No mention comes to them anew from their Lord except that they listen to it while they are at play
ان کے پاس کوئی نئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے نہیں آتی مگر وہ اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں
هیچ یادآوری تازهای از طرف پروردگارشان برای آنها نمیآید، مگر آنکه با بازی (و شوخی) به آن گوش میدهند!
Tafsir Ibn Kathir
The Virtues of Surat Al-Anbiya'
Al-Bukhari recorded that 'Abdur-Rahman bin Yazid said that 'Abdullah said, "Banu Isra'il, Al-Kahf, Maryam, Ta Ha and Al-Anbiya' - they are among the earliest and most beautiful Surahs and they are my treasure."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ - مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ - لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ ۗ وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا هَلْ هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۖ أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ - قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ - بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ - مَا آمَنَتْ قَبْلَهُم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ
(1. Draws near for mankind their reckoning, while they turn away in heedlessness.)(2. Comes not unto them an admonition from their Lord as a recent revelation but they listen to it while they play.)(3. With their hearts occupied. Those who do wrong, conceal their private counsels, (saying): "Is this more than a human being like you? Will you submit to magic while you see it?")(4. He said: "My Lord knows what is said in the heavens and on earth. And He is the All-Hearer, the All-Knower.")(5. Nay, they say: "These are mixed up false dreams! Nay, he has invented it! – Nay, he is a poet! Let him then bring us an Ayah like the ones that were sent before!")(6. Not one of the towns of those which We destroyed, believed before them; will they then believe.)
The Hour is at hand but People are heedless
This is a warning from Allah of the approach of the Hour, and that people are heedless of it, i.e., they are not working for it or preparing for it. An-Nasa'i recorded that Abu Sa'id reported from the Prophet ﷺ:
فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ
(while they turn away in heedlessness), he ﷺ said,
فِي الدُّنْيَا
(in this world.) Allah says:
أَتَىٰ أَمْرُ اللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ
(The Event ordained by Allah will come to pass, so seek not to hasten it)
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ - وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder. And if they see a sign, they turn away.)[54:1-2]. Then Allah states that they do not listen to the revelation (Wahy) that He sends down to His Messenger ﷺ, which is addressed to the Quraysh and all disbelievers like them.
مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ
(Comes not unto them an admonition from their Lord as a recent revelation) meaning, newly-revealed,
إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ
(but they listen to it while they play.) This is like what Ibn 'Abbas said, "Why do you ask the People of the Book about what they have, which has been altered and distorted, and they have added things and taken things away, when your Book is the most recently revealed from Allah, and you read it pure and unadulterated?" Al-Bukhari recorded something similar to this.
وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا
(Those who do wrong, conceal their private counsels) meaning, what they say to one another in secret.
هَلْ هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ
(Is this more than a human being like you?) meaning, the Messenger of Allah ﷺ. They did not believe that he could be a Prophet because he was a human being like them, so how could he have been singled out to receive revelation, and not them? They said:
أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ
(Will you submit to magic while you see it?) meaning, will you follow him and be like one who submits to magic when he knows that it is magic? Allah said in response to their fabrications and lies:
قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
(He said: "My Lord knows what is said in the heavens and on earth...") Nothing at all is hidden from the One Who knows that, and He is the One Who reveals this Qur'an which contains news of the earliest and last generations. No one can produce the like of this except the One Who knows all the secrets of the heavens and the earth.
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And He is the All-Hearer, the All-Knower.) means, He hears all that they say and He knows all their circumstances. This is a warning and a threat to them.
The Disbelievers' Ideas about the Qur'an and the Messenger (ﷺ); their demand for a Sign and the Refutation of that
بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاهُ
(Nay, they say: "These are mixed up false dreams! Nay, he has invented it!...") Here Allah tells us of the stubbornness and heresy of the disblievers, and the various things they said about the Qur'an, and how they were confused and misguided about it. Sometimes they described it as magic, and sometimes they described it as poetry, or mixed up false dreams, or a fabrication. As Allah says:
انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا
(See what examples they have put forward for you. So they have gone astray, and never can they find a way)(17:48)
فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ
(Let him then bring us an Ayah like the ones that were sent before!) They were referring to the she-camel of Salih, and the signs of Musa and 'Isa. And Allah says,
وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ
(And nothing stops Us from sending the Ayat but that the people of old denied them.)[17:59]. So Allah said here:
مَا آمَنَتْ قَبْلَهُم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ
(Not one of the towns of those which We destroyed, believed before them; will they then believe?)
None of the peoples to whom Messengers were sent were given a sign at the hands of their Prophet and believed. On the contrary, they disbelieved and We destroyed them as a result. Would these people believe in a sign if they saw it? Not at all! In fact,
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ
(Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them, until they see the painful torment.)(10:96-97). Indeed, they witnessed clear signs and definitive proof at the hands of the Messenger of Allah ﷺ, signs which were far clearer and more overwhelming than any that had been witnessed in the case of any other Prophet, may the blessings and peace of Allah be upon them all.
Tafsir Ibn Kathir
قیامت سے غافل انسان اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لئے کوئی تیاری کررہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہوگئے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ) امر ربی آگیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو ؟ دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا الخ۔ ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے۔ شعر (الناس فی غفلاتہم ورحی المنیتہ تطحن)" موت کی چکی زور زور سے چل رہی ہے اور لوگ غفلتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ حضرت عامر بن ربیعہ ؓ کے ہاں ایک صاحب مہمان بن کر آئے۔ انہوں نے بڑے اکرام اور احترام سے انہیں اپنے ہاں اتارا اور ان کے بارے میں رسول ﷺ سے بھی سفارش کی۔ ایک دن یہ بزرگ مہمان ان کے پاس آئے اور کہنے لگے رسول اللہ ﷺ نے مجھے فلاں وادی عطا فرما دی ہے میں میں چاہتا ہوں کہ اس بہترین زمین کا ایک ٹکڑا میں آپ کے نام کردوں کہ آپ کو بھی فارغ البالی رہے اور آپ کے بعد آپ کے بال بچے بھی آسودگی سے گزر کریں۔ حضرت عامر ؓ نے جواب دیا کہ بھائی مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں آج ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے کہ ہمیں تو دنیا کڑوی معلوم ہونے لگی ہے۔ پھر آپ نے یہی اقترب للناس کی تلاوت فرمائی۔ اس کے بعد کفار قریش اور انہی جیسے اور کافروں کی بابت فرماتا ہے کہ یہ لوگ کلام اللہ اور وحی الٰہی کی طرف کان ہی نہیں لگاتے۔ یہ تازہ اور نیا آیا ہوا ذکر دل لگا کر سنتے ہی نہیں۔ اس کان سنتے ہیں اس کان اڑا دیتے ہیں۔ دل ہنسی کھیل میں مشغول ہیں۔ بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں تمہیں اہل کتاب کی کتابوں کی باتوں کے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے ؟ انہوں نے تو کتاب اللہ میں بہت کچھ ردوبدل کرلیا تحریف اور تبدیلی کرلی، کمی زیادتی کرلی اور تمہارے پاس تو اللہ کی اتاری ہوئی خالص کتاب موجود ہے جس میں ملاوٹ نہیں ہونے پائی۔ یہ لوگ کتاب اللہ سے بےپرواہی کررہے ہیں اپنے دلوں کو اس کے اثر سے خالی رکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یہ ظالم اوروں کو بھی بہکاتے ہیں کہتے ہیں کہ اپنے جیسے ایک انسان کی ماتحتی تو ہم نہیں کرسکتے۔ تم کیسے لوگ ہو کہ دیکھتے بھالتے جادو کو مان رہے ہو ؟ یہ ناممکن ہے کہ ہم جیسے آدمی کو اللہ تعالیٰ رسالت اور وحی کے ساتھ مختص کردے، پھر تعجب ہے کہ لوگ باجود علم کے اس کے جادو میں آجاتے ہیں ؟ ان بد کرداروں کے جواب میں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ یہ جو بہتان باندھتے ہیں ان سے کہئے کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تمام باتیں جانتا ہے جس پر کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں۔ اس نے اس پاک کلام قرآن کریم کو نازل فرمایا اس میں اگلی پچھلی تمام خبروں کا موجود ہونا ہی دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا اتارنے والا عالم الغیب ہے۔ وہ تمہاری سب باتوں کا سننے والا اور تمہارے تمام حالات کا علم رکھنے والا ہے۔ پس تمہیں اس کا ڈر رکھنا چاہیے۔ پھر کفار کی ضد، ناسمجھی اور کٹ حجتی بیان فرما رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خود حیران ہیں کسی بات پر جم نہیں سکتے۔ کبھی کلام اللہ کو جادو کہتے ہیں تو کبھی شاعری کہتے ہیں کبھی پراگندہ اور بےمعنی باتیں کہتے ہیں اور کبھی آنحضرت ﷺ کا ازخود گھڑلیا ہوا بتاتے ہیں۔ خیال کرو کہ اپنے کسی قول پر بھروسہ نہ رکھنے والا جو زبان پر چڑھے بک دینے و الا بھی مستقل مزاج کہلانے کا مستحق ہے ؟ کبھی کہتے تھے اچھا اگر یہ سچا نبی ہے تو حضرت صالح ؑ کی طرح کوئی اونٹنی لے آتا یا حضرت موسیٰ ؑ کی طرح کا کوئی معجزہ دکھاتا یا حضرت عیسیٰ ؑ کا کوئی معجزہ ظاہر کرتا۔ بیشک اللہ ان چیزوں پر قادر تو ضرور ہے لیکن اگر ظاہر ہوئیں اور پھر بھی یہ اپنے کفر سے نہ ہٹے تو عادت الٰہی کی طرح عذاب الٰہی میں پکڑ لئے جائیں گے اور پیس دئیے جائیں گے۔ عموما اگلے لوگوں نے یہی کہا اور ایمان نصیب نہ ہوا اور غارت کرلئے گئے۔ اسی طرح یہ بھی ایسے معجزے طلب کررہے ہیں اگر ظاہر ہوئے تو ایمان نہ لائیں گے اور تباہ ہوجائینگے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۙ) 10۔ یونس :96) جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ گو تمام تر معجزے دیکھ لیں، ایمان قبول نہ کریں گے۔ ہاں عذاب الیم کے معائنہ کے بعد تو فورا تسلیم کرلیں گے لیکن وہ محض بےسود ہے بات بھی یہی ہے کہ انہیں ایمان لانا ہی نہ تھ اور نہ حضور ﷺ کے بیشمار معجزات روز مرہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔ بلکہ آپ کے یہ معجزے دیگر انبیاء ؑ سے بہت زیادہ ظاہر اور کھلے ہوئے تھے۔ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب روایت میں صحابہ کرام ؓ کا ایک مجمع مسجد میں تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ تلاوت قرآن کررہے تھے اتنے میں عبداللہ بن سلول منافق آیا اپنی گدی بچھا کر اپنا تکیہ لگا کر وجاہت سے بیٹھ گیا۔ تھا بھی گورا چٹا بڑھ بڑھ کر فصاحت کے ساتھ باتیں بنانے والا کہنے لگا ابوبکر تم حضور ﷺ سے کہو کہ آپ کوئی نشان ہمیں دکھائیں جیسے کہ آپ سے پہلے کے انبیاء نشانات لائے تھے مثلا موسیٰ ؑ تختیاں لائے، داؤد ؑ اونٹنی لائے، عیسیٰ ؑ انجیل لائے اور آسمانی دسترخوان۔ حضرت صدیق ؓ یہ سن کر رونے لگے۔ اتنے میں حضور ﷺ گھر سے نکلے تو آپ نے دوسرے صحابہ سے فرمایا کہ حضور ﷺ کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوجاؤ۔ اور اس منافق کی فریاد دربار رسالت میں پہنچاؤ۔ آپ نے ارشاد فرمایا سنو میرے لئے کھڑے نہ ہوا کرو۔ صرف اللہ ہی کے لئے کھڑے ہوا کرو۔ صحابہ نے کہا حضور ﷺ ہمیں اس منافق سے بڑی ایذاء پہنچی ہے۔ آپ نے فرمایا ابھی ابھی جبرائیل ؑ میرے پاس آئے تھے اور مجھ سے فرمایا کہ باہر جاؤ اور لوگوں کے سامنے اپنے فضائل ظاہر کرو اور ان نعمتوں کا بیان کرو جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہیں میں ساری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جنات کو بھی پیغام الٰہی پہنچادوں۔ مجھے میرے رب نے اپنی پاک کتاب عنایت فرمائی ہے حالانکہ محض بےپڑھا ہوں۔ میرے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرمادئیے ہیں۔ میرا نام اذان میں رکھا ہے میری مدد فرشتوں سے کرائی ہے۔ مجھے اپنی امدادونصرت عطاء فرمائی ہے۔ رعب میرا میرے آگے آگے کردیا ہے۔ مجھے حوض کوثر عطا فرمایا ہے جو قیامت کے دن تمام اور حوضوں سے بڑا ہوگا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے مقام محمود کا وعدہ دیا ہے اس وقت جب کہ سب لوگ حیران و پریشان سرجھکائے ہوئے ہوں گے مجھے اللہ نے اس پہلے گروہ میں چنا ہے جو لوگوں سے نکلے گا۔ میری شفاعت سے میری امت کے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ مجھے غلبہ اور سلطنت عطا فرمائی ہے مجھے جنت نعیم کا وہ بلند وبالا اعلیٰ بالاخانہ ملے گا کہ اس سے اعلیٰ منزل کسی کی نہ ہوگی۔ میرے اوپر صرف وہ فرشتے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ میرے اور میری امت کے لئے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لئے حلال نہ تھے۔
Tafsir Ibn Kathir
سُورَةُ الْأَنْبِيَاءِ
وَهِيَ مَكِّيَّةٌ.
قَالَ الْبُخَارِيُّ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَر، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ: سَمِعْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ [[في أ: "زيد".]] ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: بَنُو إِسْرَائِيلَ، وَالْكَهْفُ، وَمَرْيَمُ، وَطه، وَالْأَنْبِيَاءُ، هُنَّ مِنَ الْعِتَاقِ الْأُوَلِ، وَهُنَّ مِنْ تِلَادِي [[صحيح البخاري برقم (٤٧٣٩) .]] .
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
هَذَا تَنْبِيهٌ مِنَ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، عَلَى اقْتِرَابِ السَّاعَةِ وَدُنُوِّهَا، وَأَنَّ النَّاسَ فِي غَفْلَةٍ عَنْهَا، أَيْ: لَا يَعْمَلُونَ لَهَا، وَلَا يَسْتَعِدُّونَ مِنْ أَجْلِهَا.
وَقَالَ النَّسَائِيُّ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ﴿فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ﴾ قَالَ: "فِي الدُّنْيَا" [[سنن النسائي الكبرى برقم (١١٣٣٢) .]] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلا تَسْتَعْجِلُوهُ﴾ [النَّحْلِ: ١] ، وَقَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من ف، أ.]] : ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ * وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ﴾ [الْقَمَرِ: ١، ٢]
وَقَدْ رَوَى الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ الْحَسَنِ بْنِ هَانِئٍ أَبِي نُوَاس الشَّاعِرِ أَنَّهُ قَالَ: أَشْعَرُ النَّاسِ الشَّيْخُ الطَّاهِرُ أَبُو الْعَتَاهِيَةِ حَيْثُ يَقُولُ:
النَّاس فِي غَفَلاتِهِمْ ... وَرَحا المِنيَّة تَطْحَنُ ...
فَقِيلَ لَهُ: مِنْ أَيْنَ أَخَذَ [[في ف، أ: "أخذت".]] هَذَا؟ قَالَ [[في ف، أ: "فقال".]] : مِنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ﴾ [[تاريخ دمشق (٤/٦١١ "المخطوط") .]] .
[وَرَوَى فِي تَرْجَمَةِ "عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ"، مِنْ طَرِيقِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ الْآمِدِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ أَبِيهِ، عن عامر ابن رَبِيعَةَ: أَنَّهُ نَزَلَ بِهِ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ، فَأَكْرَمَ عَامِرٌ مَثْوَاهُ، وَكَلَّمَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَجَاءَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ: إِنِّي اسْتَقْطَعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَادِيًا فِي الْعَرَبِ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أقطعَ لَكَ مِنْهُ قِطْعَةً تَكُونُ لَكَ وَلِعَقِبِكَ مِنْ بَعْدِكَ. فَقَالَ عَامِرٌ: لَا حَاجَةَ لِي فِي قَطِيعَتِكَ، نَزَلَتِ الْيَوْمَ سُورَةٌ أَذْهَلَتْنَا عَنِ الدُّنْيَا: ﴿اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ﴾ ] [[زيادة من ف، أ.]] [[تاريخ دمشق (٨/٦٨٠ "المخطوط") .]] .
ثُمَّ أَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُمْ لَا يُصغون إِلَى الْوَحْيِ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ، وَالْخِطَابُ مَعَ قُرَيْشٍ وَمَنْ شَابَهَهُمْ مِنَ الْكُفَّارِ، فَقَالَ: ﴿مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ﴾ أَيْ: جَدِيدٌ إِنْزَالُهُ ﴿إِلا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ﴾ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا لَكُمْ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَمَّا بِأَيْدِيهِمْ وَقَدْ حَرفوه وَبَدَّلُوهُ وَزَادُوا فِيهِ وَنَقَصُوا مِنْهُ، وَكِتَابُكُمْ أَحْدَثُ الْكُتُبِ بِاللَّهِ تَقْرَءُونَهُ مَحْضًا لَمْ يُشَبْ. وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ بِنَحْوِهِ [[صحيح البخاري برقم (٧٥٢٢) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا﴾ أَيْ: قَائِلِينَ فِيمَا بَيْنَهُمْ خفْيَةً ﴿هَلْ هَذَا إِلا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ﴾ يعنونَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، يَسْتَبْعِدُونَ كَوْنَهُ نَبِيًّا؛ لِأَنَّهُ بَشَرٌ مِثْلُهُمْ، فَكَيْفَ اخْتُصَّ بِالْوَحْيِ دُونَهُمْ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ﴾ ؟ أَيْ: أَفَتَتْبَعُونَهُ فَتَكُونُونَ كَمَنْ أَتَى [[في أ: "يأتي".]] السِّحْرَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ سِحْرٌ. فَقَالَ تَعَالَى مُجِيبًا لَهُمْ عَمَّا افْتَرَوْهُ وَاخْتَلَقُوهُ مِنَ الْكَذِبِ.
﴿قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالأرْضِ﴾ أَيِ: الَّذِي يَعْلَمُ ذَلِكَ، لَا يَخْفَى عَلَيْهِ خَافِيَةٌ، وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ هَذَا الْقُرْآنَ الْمُشْتَمِلَ عَلَى خَبَرِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ، الَّذِي لَا يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ أَنْ يَأْتِيَ بمثله، إلا الذي يعلم السر في السموات وَالْأَرْضِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [أَيِ: السَّمِيعُ] [[زيادة من ف، أ.]] لِأَقْوَالِكُمْ، ﴿الْعَلِيم﴾ بِأَحْوَالِكُمْ. وَفِي هَذَا تَهْدِيدٌ لَهُمْ وَوَعِيدٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلامٍ بَلِ افْتَرَاهُ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنْ تَعَنُّتِ الْكُفَّارِ وَإِلْحَادِهِمْ، وَاخْتِلَافِهِمْ فِيمَا يَصِفُونَ بِهِ [[في ف، أ: " فيه".]] الْقُرْآنَ، وَحَيْرَتِهِمْ فِيهِ، وَضَلَالِهِمْ عَنْهُ. فَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ سِحْرًا، وَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ شِعْرًا، وَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ أَضْغَاثَ أَحْلَامٍ، وَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ مُفْتَرًى، كَمَا قَالَ: ﴿انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الأمْثَالَ فَضَلُّوا فَلا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٤٨، وَالْفُرْقَانِ: ٩] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الأوَّلُونَ﴾ : يَعْنُونَ نَاقَةَ صَالِحٍ، وَآيَاتِ مُوسَى وَعِيسَى. وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالآيَاتِ إِلا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الأوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا﴾ [الْآيَةَ] [[زيادة من ف.]] [الْإِسْرَاءِ: ٥٩] ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿مَا آمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ﴾ أَيْ: مَا آتَيْنَا قَرْيَةً مِنَ الْقُرَى الَّذِينَ بُعِثَ فِيهِمْ الرُّسُلُ آيَةً عَلَى يَدَيْ نَبِيِّهَا فَآمَنُوا بِهَا، بَلْ كَذَّبُوا، فأهلكناهم بِذَلِكَ، أَفَهَؤُلَاءِ يُؤْمِنُونَ بِالْآيَاتِ لَوْ [[في ف: "ولو".]] رَأَوْها دُونَ أُولَئِكَ؟ كَلَّا بَلْ ﴿إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الألِيمَ﴾ [يُونُسَ: ٩٦، ٩٧] .
هَذَا كُلُّهُ، وَقَدْ شَاهَدُوا مِنَ الْآيَاتِ الْبَاهِرَاتِ، وَالْحُجَجِ الْقَاطِعَاتِ، وَالدَّلَائِلِ الْبَيِّنَاتِ، عَلَى يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مَا هُوَ أَظْهَرُ وَأَجْلَى، وَأَبْهَرُ وَأَقْطَعُ وَأَقْهَرُ، مِمَّا شُوهِدَ مَعَ غَيْرِهِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: ذُكِرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ زَيْدٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ، حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، يَقُولُ: كُنَّا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَنَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يُقْرِئُ بَعْضُنَا بَعْضًا الْقُرْآنَ، فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بن أبي بن سَلُولَ، وَمَعَهُ نُمْرُقة وزِرْبِيّة، فَوَضَعَ وَاتَّكَأَ، وَكَانَ صَبِيحًا فَصِيحًا جَدِلًا فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، قُلْ لِمُحَمَّدٍ يَأْتِينَا بِآيَةٍ كَمَا جَاءَ الْأَوَّلُونَ؟ جَاءَ مُوسَى بِالْأَلْوَاحِ، وَجَاءَ دَاوُدُ بِالزَّبُورِ، وَجَاءَ صَالِحٌ بِالنَّاقَةِ، وَجَاءَ عِيسَى بِالْإِنْجِيلِ وَبِالْمَائِدَةِ. فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: قُومُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ [[في ف: "إلى رسوله".]] ﷺ نَسْتَغِيثُ بِهِ مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّهُ لَا يُقَامُ لِي، إِنَّمَا يُقَامُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ". فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَقِينَا مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ:"إِنَّ [[في ف: "أتى".]] جِبْرِيلَ قَالَ [[في ف: "فقال".]] لِي: اخْرُجْ فَأَخْبِرْ بِنِعَمِ اللَّهِ الَّتِي أَنْعَمَ بِهَا عَلَيْكَ، وَفَضِيلَتِهِ الَّتِي فُضِّلت بِهَا، فَبَشَّرَنِي أَنِّي بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُنْذِرَ الْجِنَّ، وَآتَانِي كِتَابَهُ وَأَنَا أُمِّيٌّ، وَغَفَرَ ذَنْبِي مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَأَخَّرَ، وَذَكَرَ اسْمِي فِي الْأَذَانِ وَأَيَّدَنِي [[في أ: "وأمرني".]] بِالْمَلَائِكَةِ، وَآتَانِي النَّصْرَ، وَجَعَلَ الرُّعْبَ أَمَامِي، وَآتَانِي الْكَوْثَرَ، وَجَعَلَ حَوْضِي مِنْ أَعْظَمِ الْحِيَاضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَوَعَدَنِي الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ وَالنَّاسُ مُهْطِعُونَ مُقْنِعُو [[في ف: "مقنعي".]] رُءُوسِهِمْ، وَجَعَلَنِي فِي أَوَّلِ زُمْرَةٍ تَخْرُجُ مِنَ النَّاسِ، وَأَدْخَلَ فِي شَفَاعَتِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَآتَانِي السُّلْطَانَ وَالْمُلْكَ، وَجَعَلَنِي فِي أَعْلَى غُرْفَةٍ فِي الْجَنَّةِ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ [[في ف، أ: "عدن".]] ، فَلَيْسَ فَوْقِي أَحَدٌ إِلَّا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ، وَأَحَلَّ لِيَ [[في ف، أ: "لي ولأمتي".]] الْغَنَائِمَ [[في أ: "المغانم".]] ، وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلَنَا". وَهَذَا الْحَدِيثُ غَرِيبٌ جِدًّا.
لَاهِيَةًۭ قُلُوبُهُمْ ۗ وَأَسَرُّوا۟ ٱلنَّجْوَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ هَلْ هَٰذَآ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُكُمْ ۖ أَفَتَأْتُونَ ٱلسِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ
With their hearts distracted. And those who do wrong conceal their private conversation, [saying], "Is this [Prophet] except a human being like you? So would you approach magic while you are aware [of it]?"
ان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالم لوگ (آپس میں) چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں کہ یہ (شخص کچھ بھی) نہیں مگر تمہارے جیسا آدمی ہے۔ تو تم آنکھوں دیکھتے جادو (کی لپیٹ) میں کیوں آتے ہو
این در حالی است که دلهایشان در لهو و بیخبری فرو رفته است! و ستمگران پنهانی نجوا کردند (و گفتند): «آیا جز این است که او بشری همانند شماست؟! آیا به سراغ سحر میروید، با اینکه (چشم دارید و) میبینید؟!
Tafsir Ibn Kathir
The Virtues of Surat Al-Anbiya'
Al-Bukhari recorded that 'Abdur-Rahman bin Yazid said that 'Abdullah said, "Banu Isra'il, Al-Kahf, Maryam, Ta Ha and Al-Anbiya' - they are among the earliest and most beautiful Surahs and they are my treasure."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ - مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ - لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ ۗ وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا هَلْ هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۖ أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ - قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ - بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ - مَا آمَنَتْ قَبْلَهُم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ
(1. Draws near for mankind their reckoning, while they turn away in heedlessness.)(2. Comes not unto them an admonition from their Lord as a recent revelation but they listen to it while they play.)(3. With their hearts occupied. Those who do wrong, conceal their private counsels, (saying): "Is this more than a human being like you? Will you submit to magic while you see it?")(4. He said: "My Lord knows what is said in the heavens and on earth. And He is the All-Hearer, the All-Knower.")(5. Nay, they say: "These are mixed up false dreams! Nay, he has invented it! – Nay, he is a poet! Let him then bring us an Ayah like the ones that were sent before!")(6. Not one of the towns of those which We destroyed, believed before them; will they then believe.)
The Hour is at hand but People are heedless
This is a warning from Allah of the approach of the Hour, and that people are heedless of it, i.e., they are not working for it or preparing for it. An-Nasa'i recorded that Abu Sa'id reported from the Prophet ﷺ:
فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ
(while they turn away in heedlessness), he ﷺ said,
فِي الدُّنْيَا
(in this world.) Allah says:
أَتَىٰ أَمْرُ اللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ
(The Event ordained by Allah will come to pass, so seek not to hasten it)
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ - وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder. And if they see a sign, they turn away.)[54:1-2]. Then Allah states that they do not listen to the revelation (Wahy) that He sends down to His Messenger ﷺ, which is addressed to the Quraysh and all disbelievers like them.
مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ
(Comes not unto them an admonition from their Lord as a recent revelation) meaning, newly-revealed,
إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ
(but they listen to it while they play.) This is like what Ibn 'Abbas said, "Why do you ask the People of the Book about what they have, which has been altered and distorted, and they have added things and taken things away, when your Book is the most recently revealed from Allah, and you read it pure and unadulterated?" Al-Bukhari recorded something similar to this.
وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا
(Those who do wrong, conceal their private counsels) meaning, what they say to one another in secret.
هَلْ هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ
(Is this more than a human being like you?) meaning, the Messenger of Allah ﷺ. They did not believe that he could be a Prophet because he was a human being like them, so how could he have been singled out to receive revelation, and not them? They said:
أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ
(Will you submit to magic while you see it?) meaning, will you follow him and be like one who submits to magic when he knows that it is magic? Allah said in response to their fabrications and lies:
قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
(He said: "My Lord knows what is said in the heavens and on earth...") Nothing at all is hidden from the One Who knows that, and He is the One Who reveals this Qur'an which contains news of the earliest and last generations. No one can produce the like of this except the One Who knows all the secrets of the heavens and the earth.
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And He is the All-Hearer, the All-Knower.) means, He hears all that they say and He knows all their circumstances. This is a warning and a threat to them.
The Disbelievers' Ideas about the Qur'an and the Messenger (ﷺ); their demand for a Sign and the Refutation of that
بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاهُ
(Nay, they say: "These are mixed up false dreams! Nay, he has invented it!...") Here Allah tells us of the stubbornness and heresy of the disblievers, and the various things they said about the Qur'an, and how they were confused and misguided about it. Sometimes they described it as magic, and sometimes they described it as poetry, or mixed up false dreams, or a fabrication. As Allah says:
انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا
(See what examples they have put forward for you. So they have gone astray, and never can they find a way)(17:48)
فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ
(Let him then bring us an Ayah like the ones that were sent before!) They were referring to the she-camel of Salih, and the signs of Musa and 'Isa. And Allah says,
وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ
(And nothing stops Us from sending the Ayat but that the people of old denied them.)[17:59]. So Allah said here:
مَا آمَنَتْ قَبْلَهُم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ
(Not one of the towns of those which We destroyed, believed before them; will they then believe?)
None of the peoples to whom Messengers were sent were given a sign at the hands of their Prophet and believed. On the contrary, they disbelieved and We destroyed them as a result. Would these people believe in a sign if they saw it? Not at all! In fact,
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ
(Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them, until they see the painful torment.)(10:96-97). Indeed, they witnessed clear signs and definitive proof at the hands of the Messenger of Allah ﷺ, signs which were far clearer and more overwhelming than any that had been witnessed in the case of any other Prophet, may the blessings and peace of Allah be upon them all.
Tafsir Ibn Kathir
قیامت سے غافل انسان اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لئے کوئی تیاری کررہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہوگئے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ) امر ربی آگیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو ؟ دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا الخ۔ ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے۔ شعر (الناس فی غفلاتہم ورحی المنیتہ تطحن)" موت کی چکی زور زور سے چل رہی ہے اور لوگ غفلتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ حضرت عامر بن ربیعہ ؓ کے ہاں ایک صاحب مہمان بن کر آئے۔ انہوں نے بڑے اکرام اور احترام سے انہیں اپنے ہاں اتارا اور ان کے بارے میں رسول ﷺ سے بھی سفارش کی۔ ایک دن یہ بزرگ مہمان ان کے پاس آئے اور کہنے لگے رسول اللہ ﷺ نے مجھے فلاں وادی عطا فرما دی ہے میں میں چاہتا ہوں کہ اس بہترین زمین کا ایک ٹکڑا میں آپ کے نام کردوں کہ آپ کو بھی فارغ البالی رہے اور آپ کے بعد آپ کے بال بچے بھی آسودگی سے گزر کریں۔ حضرت عامر ؓ نے جواب دیا کہ بھائی مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں آج ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے کہ ہمیں تو دنیا کڑوی معلوم ہونے لگی ہے۔ پھر آپ نے یہی اقترب للناس کی تلاوت فرمائی۔ اس کے بعد کفار قریش اور انہی جیسے اور کافروں کی بابت فرماتا ہے کہ یہ لوگ کلام اللہ اور وحی الٰہی کی طرف کان ہی نہیں لگاتے۔ یہ تازہ اور نیا آیا ہوا ذکر دل لگا کر سنتے ہی نہیں۔ اس کان سنتے ہیں اس کان اڑا دیتے ہیں۔ دل ہنسی کھیل میں مشغول ہیں۔ بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں تمہیں اہل کتاب کی کتابوں کی باتوں کے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے ؟ انہوں نے تو کتاب اللہ میں بہت کچھ ردوبدل کرلیا تحریف اور تبدیلی کرلی، کمی زیادتی کرلی اور تمہارے پاس تو اللہ کی اتاری ہوئی خالص کتاب موجود ہے جس میں ملاوٹ نہیں ہونے پائی۔ یہ لوگ کتاب اللہ سے بےپرواہی کررہے ہیں اپنے دلوں کو اس کے اثر سے خالی رکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یہ ظالم اوروں کو بھی بہکاتے ہیں کہتے ہیں کہ اپنے جیسے ایک انسان کی ماتحتی تو ہم نہیں کرسکتے۔ تم کیسے لوگ ہو کہ دیکھتے بھالتے جادو کو مان رہے ہو ؟ یہ ناممکن ہے کہ ہم جیسے آدمی کو اللہ تعالیٰ رسالت اور وحی کے ساتھ مختص کردے، پھر تعجب ہے کہ لوگ باجود علم کے اس کے جادو میں آجاتے ہیں ؟ ان بد کرداروں کے جواب میں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ یہ جو بہتان باندھتے ہیں ان سے کہئے کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تمام باتیں جانتا ہے جس پر کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں۔ اس نے اس پاک کلام قرآن کریم کو نازل فرمایا اس میں اگلی پچھلی تمام خبروں کا موجود ہونا ہی دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا اتارنے والا عالم الغیب ہے۔ وہ تمہاری سب باتوں کا سننے والا اور تمہارے تمام حالات کا علم رکھنے والا ہے۔ پس تمہیں اس کا ڈر رکھنا چاہیے۔ پھر کفار کی ضد، ناسمجھی اور کٹ حجتی بیان فرما رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خود حیران ہیں کسی بات پر جم نہیں سکتے۔ کبھی کلام اللہ کو جادو کہتے ہیں تو کبھی شاعری کہتے ہیں کبھی پراگندہ اور بےمعنی باتیں کہتے ہیں اور کبھی آنحضرت ﷺ کا ازخود گھڑلیا ہوا بتاتے ہیں۔ خیال کرو کہ اپنے کسی قول پر بھروسہ نہ رکھنے والا جو زبان پر چڑھے بک دینے و الا بھی مستقل مزاج کہلانے کا مستحق ہے ؟ کبھی کہتے تھے اچھا اگر یہ سچا نبی ہے تو حضرت صالح ؑ کی طرح کوئی اونٹنی لے آتا یا حضرت موسیٰ ؑ کی طرح کا کوئی معجزہ دکھاتا یا حضرت عیسیٰ ؑ کا کوئی معجزہ ظاہر کرتا۔ بیشک اللہ ان چیزوں پر قادر تو ضرور ہے لیکن اگر ظاہر ہوئیں اور پھر بھی یہ اپنے کفر سے نہ ہٹے تو عادت الٰہی کی طرح عذاب الٰہی میں پکڑ لئے جائیں گے اور پیس دئیے جائیں گے۔ عموما اگلے لوگوں نے یہی کہا اور ایمان نصیب نہ ہوا اور غارت کرلئے گئے۔ اسی طرح یہ بھی ایسے معجزے طلب کررہے ہیں اگر ظاہر ہوئے تو ایمان نہ لائیں گے اور تباہ ہوجائینگے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۙ) 10۔ یونس :96) جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ گو تمام تر معجزے دیکھ لیں، ایمان قبول نہ کریں گے۔ ہاں عذاب الیم کے معائنہ کے بعد تو فورا تسلیم کرلیں گے لیکن وہ محض بےسود ہے بات بھی یہی ہے کہ انہیں ایمان لانا ہی نہ تھ اور نہ حضور ﷺ کے بیشمار معجزات روز مرہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔ بلکہ آپ کے یہ معجزے دیگر انبیاء ؑ سے بہت زیادہ ظاہر اور کھلے ہوئے تھے۔ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب روایت میں صحابہ کرام ؓ کا ایک مجمع مسجد میں تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ تلاوت قرآن کررہے تھے اتنے میں عبداللہ بن سلول منافق آیا اپنی گدی بچھا کر اپنا تکیہ لگا کر وجاہت سے بیٹھ گیا۔ تھا بھی گورا چٹا بڑھ بڑھ کر فصاحت کے ساتھ باتیں بنانے والا کہنے لگا ابوبکر تم حضور ﷺ سے کہو کہ آپ کوئی نشان ہمیں دکھائیں جیسے کہ آپ سے پہلے کے انبیاء نشانات لائے تھے مثلا موسیٰ ؑ تختیاں لائے، داؤد ؑ اونٹنی لائے، عیسیٰ ؑ انجیل لائے اور آسمانی دسترخوان۔ حضرت صدیق ؓ یہ سن کر رونے لگے۔ اتنے میں حضور ﷺ گھر سے نکلے تو آپ نے دوسرے صحابہ سے فرمایا کہ حضور ﷺ کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوجاؤ۔ اور اس منافق کی فریاد دربار رسالت میں پہنچاؤ۔ آپ نے ارشاد فرمایا سنو میرے لئے کھڑے نہ ہوا کرو۔ صرف اللہ ہی کے لئے کھڑے ہوا کرو۔ صحابہ نے کہا حضور ﷺ ہمیں اس منافق سے بڑی ایذاء پہنچی ہے۔ آپ نے فرمایا ابھی ابھی جبرائیل ؑ میرے پاس آئے تھے اور مجھ سے فرمایا کہ باہر جاؤ اور لوگوں کے سامنے اپنے فضائل ظاہر کرو اور ان نعمتوں کا بیان کرو جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہیں میں ساری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جنات کو بھی پیغام الٰہی پہنچادوں۔ مجھے میرے رب نے اپنی پاک کتاب عنایت فرمائی ہے حالانکہ محض بےپڑھا ہوں۔ میرے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرمادئیے ہیں۔ میرا نام اذان میں رکھا ہے میری مدد فرشتوں سے کرائی ہے۔ مجھے اپنی امدادونصرت عطاء فرمائی ہے۔ رعب میرا میرے آگے آگے کردیا ہے۔ مجھے حوض کوثر عطا فرمایا ہے جو قیامت کے دن تمام اور حوضوں سے بڑا ہوگا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے مقام محمود کا وعدہ دیا ہے اس وقت جب کہ سب لوگ حیران و پریشان سرجھکائے ہوئے ہوں گے مجھے اللہ نے اس پہلے گروہ میں چنا ہے جو لوگوں سے نکلے گا۔ میری شفاعت سے میری امت کے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ مجھے غلبہ اور سلطنت عطا فرمائی ہے مجھے جنت نعیم کا وہ بلند وبالا اعلیٰ بالاخانہ ملے گا کہ اس سے اعلیٰ منزل کسی کی نہ ہوگی۔ میرے اوپر صرف وہ فرشتے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ میرے اور میری امت کے لئے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لئے حلال نہ تھے۔
Tafsir Ibn Kathir
سُورَةُ الْأَنْبِيَاءِ
وَهِيَ مَكِّيَّةٌ.
قَالَ الْبُخَارِيُّ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَر، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ: سَمِعْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ [[في أ: "زيد".]] ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: بَنُو إِسْرَائِيلَ، وَالْكَهْفُ، وَمَرْيَمُ، وَطه، وَالْأَنْبِيَاءُ، هُنَّ مِنَ الْعِتَاقِ الْأُوَلِ، وَهُنَّ مِنْ تِلَادِي [[صحيح البخاري برقم (٤٧٣٩) .]] .
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
هَذَا تَنْبِيهٌ مِنَ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، عَلَى اقْتِرَابِ السَّاعَةِ وَدُنُوِّهَا، وَأَنَّ النَّاسَ فِي غَفْلَةٍ عَنْهَا، أَيْ: لَا يَعْمَلُونَ لَهَا، وَلَا يَسْتَعِدُّونَ مِنْ أَجْلِهَا.
وَقَالَ النَّسَائِيُّ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ﴿فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ﴾ قَالَ: "فِي الدُّنْيَا" [[سنن النسائي الكبرى برقم (١١٣٣٢) .]] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلا تَسْتَعْجِلُوهُ﴾ [النَّحْلِ: ١] ، وَقَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من ف، أ.]] : ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ * وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ﴾ [الْقَمَرِ: ١، ٢]
وَقَدْ رَوَى الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ الْحَسَنِ بْنِ هَانِئٍ أَبِي نُوَاس الشَّاعِرِ أَنَّهُ قَالَ: أَشْعَرُ النَّاسِ الشَّيْخُ الطَّاهِرُ أَبُو الْعَتَاهِيَةِ حَيْثُ يَقُولُ:
النَّاس فِي غَفَلاتِهِمْ ... وَرَحا المِنيَّة تَطْحَنُ ...
فَقِيلَ لَهُ: مِنْ أَيْنَ أَخَذَ [[في ف، أ: "أخذت".]] هَذَا؟ قَالَ [[في ف، أ: "فقال".]] : مِنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ﴾ [[تاريخ دمشق (٤/٦١١ "المخطوط") .]] .
[وَرَوَى فِي تَرْجَمَةِ "عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ"، مِنْ طَرِيقِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ الْآمِدِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ أَبِيهِ، عن عامر ابن رَبِيعَةَ: أَنَّهُ نَزَلَ بِهِ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ، فَأَكْرَمَ عَامِرٌ مَثْوَاهُ، وَكَلَّمَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَجَاءَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ: إِنِّي اسْتَقْطَعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَادِيًا فِي الْعَرَبِ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أقطعَ لَكَ مِنْهُ قِطْعَةً تَكُونُ لَكَ وَلِعَقِبِكَ مِنْ بَعْدِكَ. فَقَالَ عَامِرٌ: لَا حَاجَةَ لِي فِي قَطِيعَتِكَ، نَزَلَتِ الْيَوْمَ سُورَةٌ أَذْهَلَتْنَا عَنِ الدُّنْيَا: ﴿اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ﴾ ] [[زيادة من ف، أ.]] [[تاريخ دمشق (٨/٦٨٠ "المخطوط") .]] .
ثُمَّ أَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُمْ لَا يُصغون إِلَى الْوَحْيِ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ، وَالْخِطَابُ مَعَ قُرَيْشٍ وَمَنْ شَابَهَهُمْ مِنَ الْكُفَّارِ، فَقَالَ: ﴿مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ﴾ أَيْ: جَدِيدٌ إِنْزَالُهُ ﴿إِلا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ﴾ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا لَكُمْ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَمَّا بِأَيْدِيهِمْ وَقَدْ حَرفوه وَبَدَّلُوهُ وَزَادُوا فِيهِ وَنَقَصُوا مِنْهُ، وَكِتَابُكُمْ أَحْدَثُ الْكُتُبِ بِاللَّهِ تَقْرَءُونَهُ مَحْضًا لَمْ يُشَبْ. وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ بِنَحْوِهِ [[صحيح البخاري برقم (٧٥٢٢) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا﴾ أَيْ: قَائِلِينَ فِيمَا بَيْنَهُمْ خفْيَةً ﴿هَلْ هَذَا إِلا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ﴾ يعنونَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، يَسْتَبْعِدُونَ كَوْنَهُ نَبِيًّا؛ لِأَنَّهُ بَشَرٌ مِثْلُهُمْ، فَكَيْفَ اخْتُصَّ بِالْوَحْيِ دُونَهُمْ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ﴾ ؟ أَيْ: أَفَتَتْبَعُونَهُ فَتَكُونُونَ كَمَنْ أَتَى [[في أ: "يأتي".]] السِّحْرَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ سِحْرٌ. فَقَالَ تَعَالَى مُجِيبًا لَهُمْ عَمَّا افْتَرَوْهُ وَاخْتَلَقُوهُ مِنَ الْكَذِبِ.
﴿قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالأرْضِ﴾ أَيِ: الَّذِي يَعْلَمُ ذَلِكَ، لَا يَخْفَى عَلَيْهِ خَافِيَةٌ، وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ هَذَا الْقُرْآنَ الْمُشْتَمِلَ عَلَى خَبَرِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ، الَّذِي لَا يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ أَنْ يَأْتِيَ بمثله، إلا الذي يعلم السر في السموات وَالْأَرْضِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [أَيِ: السَّمِيعُ] [[زيادة من ف، أ.]] لِأَقْوَالِكُمْ، ﴿الْعَلِيم﴾ بِأَحْوَالِكُمْ. وَفِي هَذَا تَهْدِيدٌ لَهُمْ وَوَعِيدٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلامٍ بَلِ افْتَرَاهُ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنْ تَعَنُّتِ الْكُفَّارِ وَإِلْحَادِهِمْ، وَاخْتِلَافِهِمْ فِيمَا يَصِفُونَ بِهِ [[في ف، أ: " فيه".]] الْقُرْآنَ، وَحَيْرَتِهِمْ فِيهِ، وَضَلَالِهِمْ عَنْهُ. فَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ سِحْرًا، وَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ شِعْرًا، وَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ أَضْغَاثَ أَحْلَامٍ، وَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ مُفْتَرًى، كَمَا قَالَ: ﴿انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الأمْثَالَ فَضَلُّوا فَلا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٤٨، وَالْفُرْقَانِ: ٩] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الأوَّلُونَ﴾ : يَعْنُونَ نَاقَةَ صَالِحٍ، وَآيَاتِ مُوسَى وَعِيسَى. وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالآيَاتِ إِلا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الأوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا﴾ [الْآيَةَ] [[زيادة من ف.]] [الْإِسْرَاءِ: ٥٩] ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿مَا آمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ﴾ أَيْ: مَا آتَيْنَا قَرْيَةً مِنَ الْقُرَى الَّذِينَ بُعِثَ فِيهِمْ الرُّسُلُ آيَةً عَلَى يَدَيْ نَبِيِّهَا فَآمَنُوا بِهَا، بَلْ كَذَّبُوا، فأهلكناهم بِذَلِكَ، أَفَهَؤُلَاءِ يُؤْمِنُونَ بِالْآيَاتِ لَوْ [[في ف: "ولو".]] رَأَوْها دُونَ أُولَئِكَ؟ كَلَّا بَلْ ﴿إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الألِيمَ﴾ [يُونُسَ: ٩٦، ٩٧] .
هَذَا كُلُّهُ، وَقَدْ شَاهَدُوا مِنَ الْآيَاتِ الْبَاهِرَاتِ، وَالْحُجَجِ الْقَاطِعَاتِ، وَالدَّلَائِلِ الْبَيِّنَاتِ، عَلَى يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مَا هُوَ أَظْهَرُ وَأَجْلَى، وَأَبْهَرُ وَأَقْطَعُ وَأَقْهَرُ، مِمَّا شُوهِدَ مَعَ غَيْرِهِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: ذُكِرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ زَيْدٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ، حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، يَقُولُ: كُنَّا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَنَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يُقْرِئُ بَعْضُنَا بَعْضًا الْقُرْآنَ، فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بن أبي بن سَلُولَ، وَمَعَهُ نُمْرُقة وزِرْبِيّة، فَوَضَعَ وَاتَّكَأَ، وَكَانَ صَبِيحًا فَصِيحًا جَدِلًا فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، قُلْ لِمُحَمَّدٍ يَأْتِينَا بِآيَةٍ كَمَا جَاءَ الْأَوَّلُونَ؟ جَاءَ مُوسَى بِالْأَلْوَاحِ، وَجَاءَ دَاوُدُ بِالزَّبُورِ، وَجَاءَ صَالِحٌ بِالنَّاقَةِ، وَجَاءَ عِيسَى بِالْإِنْجِيلِ وَبِالْمَائِدَةِ. فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: قُومُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ [[في ف: "إلى رسوله".]] ﷺ نَسْتَغِيثُ بِهِ مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّهُ لَا يُقَامُ لِي، إِنَّمَا يُقَامُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ". فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَقِينَا مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ:"إِنَّ [[في ف: "أتى".]] جِبْرِيلَ قَالَ [[في ف: "فقال".]] لِي: اخْرُجْ فَأَخْبِرْ بِنِعَمِ اللَّهِ الَّتِي أَنْعَمَ بِهَا عَلَيْكَ، وَفَضِيلَتِهِ الَّتِي فُضِّلت بِهَا، فَبَشَّرَنِي أَنِّي بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُنْذِرَ الْجِنَّ، وَآتَانِي كِتَابَهُ وَأَنَا أُمِّيٌّ، وَغَفَرَ ذَنْبِي مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَأَخَّرَ، وَذَكَرَ اسْمِي فِي الْأَذَانِ وَأَيَّدَنِي [[في أ: "وأمرني".]] بِالْمَلَائِكَةِ، وَآتَانِي النَّصْرَ، وَجَعَلَ الرُّعْبَ أَمَامِي، وَآتَانِي الْكَوْثَرَ، وَجَعَلَ حَوْضِي مِنْ أَعْظَمِ الْحِيَاضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَوَعَدَنِي الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ وَالنَّاسُ مُهْطِعُونَ مُقْنِعُو [[في ف: "مقنعي".]] رُءُوسِهِمْ، وَجَعَلَنِي فِي أَوَّلِ زُمْرَةٍ تَخْرُجُ مِنَ النَّاسِ، وَأَدْخَلَ فِي شَفَاعَتِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَآتَانِي السُّلْطَانَ وَالْمُلْكَ، وَجَعَلَنِي فِي أَعْلَى غُرْفَةٍ فِي الْجَنَّةِ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ [[في ف، أ: "عدن".]] ، فَلَيْسَ فَوْقِي أَحَدٌ إِلَّا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ، وَأَحَلَّ لِيَ [[في ف، أ: "لي ولأمتي".]] الْغَنَائِمَ [[في أ: "المغانم".]] ، وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلَنَا". وَهَذَا الْحَدِيثُ غَرِيبٌ جِدًّا.
قَالَ رَبِّى يَعْلَمُ ٱلْقَوْلَ فِى ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
The Prophet said, "My Lord knows whatever is said throughout the heaven and earth, and He is the Hearing, the Knowing."
(پیغمبر نے) کہا کہ جو بات آسمان اور زمین میں (کہی جاتی) ہے میرا پروردگار اسے جانتا ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے
(پیامبر) گفت: «پروردگارم همه سخنان را، چه در آسمان باشد و چه در زمین، میداند؛ و او شنوا و داناست!»
Tafsir Ibn Kathir
The Virtues of Surat Al-Anbiya'
Al-Bukhari recorded that 'Abdur-Rahman bin Yazid said that 'Abdullah said, "Banu Isra'il, Al-Kahf, Maryam, Ta Ha and Al-Anbiya' - they are among the earliest and most beautiful Surahs and they are my treasure."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ - مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ - لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ ۗ وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا هَلْ هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۖ أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ - قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ - بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ - مَا آمَنَتْ قَبْلَهُم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ
(1. Draws near for mankind their reckoning, while they turn away in heedlessness.)(2. Comes not unto them an admonition from their Lord as a recent revelation but they listen to it while they play.)(3. With their hearts occupied. Those who do wrong, conceal their private counsels, (saying): "Is this more than a human being like you? Will you submit to magic while you see it?")(4. He said: "My Lord knows what is said in the heavens and on earth. And He is the All-Hearer, the All-Knower.")(5. Nay, they say: "These are mixed up false dreams! Nay, he has invented it! – Nay, he is a poet! Let him then bring us an Ayah like the ones that were sent before!")(6. Not one of the towns of those which We destroyed, believed before them; will they then believe.)
The Hour is at hand but People are heedless
This is a warning from Allah of the approach of the Hour, and that people are heedless of it, i.e., they are not working for it or preparing for it. An-Nasa'i recorded that Abu Sa'id reported from the Prophet ﷺ:
فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ
(while they turn away in heedlessness), he ﷺ said,
فِي الدُّنْيَا
(in this world.) Allah says:
أَتَىٰ أَمْرُ اللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ
(The Event ordained by Allah will come to pass, so seek not to hasten it)
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ - وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder. And if they see a sign, they turn away.)[54:1-2]. Then Allah states that they do not listen to the revelation (Wahy) that He sends down to His Messenger ﷺ, which is addressed to the Quraysh and all disbelievers like them.
مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ
(Comes not unto them an admonition from their Lord as a recent revelation) meaning, newly-revealed,
إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ
(but they listen to it while they play.) This is like what Ibn 'Abbas said, "Why do you ask the People of the Book about what they have, which has been altered and distorted, and they have added things and taken things away, when your Book is the most recently revealed from Allah, and you read it pure and unadulterated?" Al-Bukhari recorded something similar to this.
وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا
(Those who do wrong, conceal their private counsels) meaning, what they say to one another in secret.
هَلْ هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ
(Is this more than a human being like you?) meaning, the Messenger of Allah ﷺ. They did not believe that he could be a Prophet because he was a human being like them, so how could he have been singled out to receive revelation, and not them? They said:
أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ
(Will you submit to magic while you see it?) meaning, will you follow him and be like one who submits to magic when he knows that it is magic? Allah said in response to their fabrications and lies:
قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
(He said: "My Lord knows what is said in the heavens and on earth...") Nothing at all is hidden from the One Who knows that, and He is the One Who reveals this Qur'an which contains news of the earliest and last generations. No one can produce the like of this except the One Who knows all the secrets of the heavens and the earth.
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And He is the All-Hearer, the All-Knower.) means, He hears all that they say and He knows all their circumstances. This is a warning and a threat to them.
The Disbelievers' Ideas about the Qur'an and the Messenger (ﷺ); their demand for a Sign and the Refutation of that
بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاهُ
(Nay, they say: "These are mixed up false dreams! Nay, he has invented it!...") Here Allah tells us of the stubbornness and heresy of the disblievers, and the various things they said about the Qur'an, and how they were confused and misguided about it. Sometimes they described it as magic, and sometimes they described it as poetry, or mixed up false dreams, or a fabrication. As Allah says:
انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا
(See what examples they have put forward for you. So they have gone astray, and never can they find a way)(17:48)
فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ
(Let him then bring us an Ayah like the ones that were sent before!) They were referring to the she-camel of Salih, and the signs of Musa and 'Isa. And Allah says,
وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ
(And nothing stops Us from sending the Ayat but that the people of old denied them.)[17:59]. So Allah said here:
مَا آمَنَتْ قَبْلَهُم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ
(Not one of the towns of those which We destroyed, believed before them; will they then believe?)
None of the peoples to whom Messengers were sent were given a sign at the hands of their Prophet and believed. On the contrary, they disbelieved and We destroyed them as a result. Would these people believe in a sign if they saw it? Not at all! In fact,
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ
(Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them, until they see the painful torment.)(10:96-97). Indeed, they witnessed clear signs and definitive proof at the hands of the Messenger of Allah ﷺ, signs which were far clearer and more overwhelming than any that had been witnessed in the case of any other Prophet, may the blessings and peace of Allah be upon them all.
Tafsir Ibn Kathir
قیامت سے غافل انسان اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لئے کوئی تیاری کررہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہوگئے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ) امر ربی آگیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو ؟ دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا الخ۔ ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے۔ شعر (الناس فی غفلاتہم ورحی المنیتہ تطحن)" موت کی چکی زور زور سے چل رہی ہے اور لوگ غفلتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ حضرت عامر بن ربیعہ ؓ کے ہاں ایک صاحب مہمان بن کر آئے۔ انہوں نے بڑے اکرام اور احترام سے انہیں اپنے ہاں اتارا اور ان کے بارے میں رسول ﷺ سے بھی سفارش کی۔ ایک دن یہ بزرگ مہمان ان کے پاس آئے اور کہنے لگے رسول اللہ ﷺ نے مجھے فلاں وادی عطا فرما دی ہے میں میں چاہتا ہوں کہ اس بہترین زمین کا ایک ٹکڑا میں آپ کے نام کردوں کہ آپ کو بھی فارغ البالی رہے اور آپ کے بعد آپ کے بال بچے بھی آسودگی سے گزر کریں۔ حضرت عامر ؓ نے جواب دیا کہ بھائی مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں آج ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے کہ ہمیں تو دنیا کڑوی معلوم ہونے لگی ہے۔ پھر آپ نے یہی اقترب للناس کی تلاوت فرمائی۔ اس کے بعد کفار قریش اور انہی جیسے اور کافروں کی بابت فرماتا ہے کہ یہ لوگ کلام اللہ اور وحی الٰہی کی طرف کان ہی نہیں لگاتے۔ یہ تازہ اور نیا آیا ہوا ذکر دل لگا کر سنتے ہی نہیں۔ اس کان سنتے ہیں اس کان اڑا دیتے ہیں۔ دل ہنسی کھیل میں مشغول ہیں۔ بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں تمہیں اہل کتاب کی کتابوں کی باتوں کے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے ؟ انہوں نے تو کتاب اللہ میں بہت کچھ ردوبدل کرلیا تحریف اور تبدیلی کرلی، کمی زیادتی کرلی اور تمہارے پاس تو اللہ کی اتاری ہوئی خالص کتاب موجود ہے جس میں ملاوٹ نہیں ہونے پائی۔ یہ لوگ کتاب اللہ سے بےپرواہی کررہے ہیں اپنے دلوں کو اس کے اثر سے خالی رکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یہ ظالم اوروں کو بھی بہکاتے ہیں کہتے ہیں کہ اپنے جیسے ایک انسان کی ماتحتی تو ہم نہیں کرسکتے۔ تم کیسے لوگ ہو کہ دیکھتے بھالتے جادو کو مان رہے ہو ؟ یہ ناممکن ہے کہ ہم جیسے آدمی کو اللہ تعالیٰ رسالت اور وحی کے ساتھ مختص کردے، پھر تعجب ہے کہ لوگ باجود علم کے اس کے جادو میں آجاتے ہیں ؟ ان بد کرداروں کے جواب میں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ یہ جو بہتان باندھتے ہیں ان سے کہئے کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تمام باتیں جانتا ہے جس پر کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں۔ اس نے اس پاک کلام قرآن کریم کو نازل فرمایا اس میں اگلی پچھلی تمام خبروں کا موجود ہونا ہی دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا اتارنے والا عالم الغیب ہے۔ وہ تمہاری سب باتوں کا سننے والا اور تمہارے تمام حالات کا علم رکھنے والا ہے۔ پس تمہیں اس کا ڈر رکھنا چاہیے۔ پھر کفار کی ضد، ناسمجھی اور کٹ حجتی بیان فرما رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خود حیران ہیں کسی بات پر جم نہیں سکتے۔ کبھی کلام اللہ کو جادو کہتے ہیں تو کبھی شاعری کہتے ہیں کبھی پراگندہ اور بےمعنی باتیں کہتے ہیں اور کبھی آنحضرت ﷺ کا ازخود گھڑلیا ہوا بتاتے ہیں۔ خیال کرو کہ اپنے کسی قول پر بھروسہ نہ رکھنے والا جو زبان پر چڑھے بک دینے و الا بھی مستقل مزاج کہلانے کا مستحق ہے ؟ کبھی کہتے تھے اچھا اگر یہ سچا نبی ہے تو حضرت صالح ؑ کی طرح کوئی اونٹنی لے آتا یا حضرت موسیٰ ؑ کی طرح کا کوئی معجزہ دکھاتا یا حضرت عیسیٰ ؑ کا کوئی معجزہ ظاہر کرتا۔ بیشک اللہ ان چیزوں پر قادر تو ضرور ہے لیکن اگر ظاہر ہوئیں اور پھر بھی یہ اپنے کفر سے نہ ہٹے تو عادت الٰہی کی طرح عذاب الٰہی میں پکڑ لئے جائیں گے اور پیس دئیے جائیں گے۔ عموما اگلے لوگوں نے یہی کہا اور ایمان نصیب نہ ہوا اور غارت کرلئے گئے۔ اسی طرح یہ بھی ایسے معجزے طلب کررہے ہیں اگر ظاہر ہوئے تو ایمان نہ لائیں گے اور تباہ ہوجائینگے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۙ) 10۔ یونس :96) جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ گو تمام تر معجزے دیکھ لیں، ایمان قبول نہ کریں گے۔ ہاں عذاب الیم کے معائنہ کے بعد تو فورا تسلیم کرلیں گے لیکن وہ محض بےسود ہے بات بھی یہی ہے کہ انہیں ایمان لانا ہی نہ تھ اور نہ حضور ﷺ کے بیشمار معجزات روز مرہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔ بلکہ آپ کے یہ معجزے دیگر انبیاء ؑ سے بہت زیادہ ظاہر اور کھلے ہوئے تھے۔ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب روایت میں صحابہ کرام ؓ کا ایک مجمع مسجد میں تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ تلاوت قرآن کررہے تھے اتنے میں عبداللہ بن سلول منافق آیا اپنی گدی بچھا کر اپنا تکیہ لگا کر وجاہت سے بیٹھ گیا۔ تھا بھی گورا چٹا بڑھ بڑھ کر فصاحت کے ساتھ باتیں بنانے والا کہنے لگا ابوبکر تم حضور ﷺ سے کہو کہ آپ کوئی نشان ہمیں دکھائیں جیسے کہ آپ سے پہلے کے انبیاء نشانات لائے تھے مثلا موسیٰ ؑ تختیاں لائے، داؤد ؑ اونٹنی لائے، عیسیٰ ؑ انجیل لائے اور آسمانی دسترخوان۔ حضرت صدیق ؓ یہ سن کر رونے لگے۔ اتنے میں حضور ﷺ گھر سے نکلے تو آپ نے دوسرے صحابہ سے فرمایا کہ حضور ﷺ کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوجاؤ۔ اور اس منافق کی فریاد دربار رسالت میں پہنچاؤ۔ آپ نے ارشاد فرمایا سنو میرے لئے کھڑے نہ ہوا کرو۔ صرف اللہ ہی کے لئے کھڑے ہوا کرو۔ صحابہ نے کہا حضور ﷺ ہمیں اس منافق سے بڑی ایذاء پہنچی ہے۔ آپ نے فرمایا ابھی ابھی جبرائیل ؑ میرے پاس آئے تھے اور مجھ سے فرمایا کہ باہر جاؤ اور لوگوں کے سامنے اپنے فضائل ظاہر کرو اور ان نعمتوں کا بیان کرو جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہیں میں ساری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جنات کو بھی پیغام الٰہی پہنچادوں۔ مجھے میرے رب نے اپنی پاک کتاب عنایت فرمائی ہے حالانکہ محض بےپڑھا ہوں۔ میرے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرمادئیے ہیں۔ میرا نام اذان میں رکھا ہے میری مدد فرشتوں سے کرائی ہے۔ مجھے اپنی امدادونصرت عطاء فرمائی ہے۔ رعب میرا میرے آگے آگے کردیا ہے۔ مجھے حوض کوثر عطا فرمایا ہے جو قیامت کے دن تمام اور حوضوں سے بڑا ہوگا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے مقام محمود کا وعدہ دیا ہے اس وقت جب کہ سب لوگ حیران و پریشان سرجھکائے ہوئے ہوں گے مجھے اللہ نے اس پہلے گروہ میں چنا ہے جو لوگوں سے نکلے گا۔ میری شفاعت سے میری امت کے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ مجھے غلبہ اور سلطنت عطا فرمائی ہے مجھے جنت نعیم کا وہ بلند وبالا اعلیٰ بالاخانہ ملے گا کہ اس سے اعلیٰ منزل کسی کی نہ ہوگی۔ میرے اوپر صرف وہ فرشتے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ میرے اور میری امت کے لئے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لئے حلال نہ تھے۔
Tafsir Ibn Kathir
سُورَةُ الْأَنْبِيَاءِ
وَهِيَ مَكِّيَّةٌ.
قَالَ الْبُخَارِيُّ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَر، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ: سَمِعْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ [[في أ: "زيد".]] ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: بَنُو إِسْرَائِيلَ، وَالْكَهْفُ، وَمَرْيَمُ، وَطه، وَالْأَنْبِيَاءُ، هُنَّ مِنَ الْعِتَاقِ الْأُوَلِ، وَهُنَّ مِنْ تِلَادِي [[صحيح البخاري برقم (٤٧٣٩) .]] .
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
هَذَا تَنْبِيهٌ مِنَ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، عَلَى اقْتِرَابِ السَّاعَةِ وَدُنُوِّهَا، وَأَنَّ النَّاسَ فِي غَفْلَةٍ عَنْهَا، أَيْ: لَا يَعْمَلُونَ لَهَا، وَلَا يَسْتَعِدُّونَ مِنْ أَجْلِهَا.
وَقَالَ النَّسَائِيُّ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ﴿فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ﴾ قَالَ: "فِي الدُّنْيَا" [[سنن النسائي الكبرى برقم (١١٣٣٢) .]] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلا تَسْتَعْجِلُوهُ﴾ [النَّحْلِ: ١] ، وَقَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من ف، أ.]] : ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ * وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ﴾ [الْقَمَرِ: ١، ٢]
وَقَدْ رَوَى الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ الْحَسَنِ بْنِ هَانِئٍ أَبِي نُوَاس الشَّاعِرِ أَنَّهُ قَالَ: أَشْعَرُ النَّاسِ الشَّيْخُ الطَّاهِرُ أَبُو الْعَتَاهِيَةِ حَيْثُ يَقُولُ:
النَّاس فِي غَفَلاتِهِمْ ... وَرَحا المِنيَّة تَطْحَنُ ...
فَقِيلَ لَهُ: مِنْ أَيْنَ أَخَذَ [[في ف، أ: "أخذت".]] هَذَا؟ قَالَ [[في ف، أ: "فقال".]] : مِنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ﴾ [[تاريخ دمشق (٤/٦١١ "المخطوط") .]] .
[وَرَوَى فِي تَرْجَمَةِ "عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ"، مِنْ طَرِيقِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ الْآمِدِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ أَبِيهِ، عن عامر ابن رَبِيعَةَ: أَنَّهُ نَزَلَ بِهِ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ، فَأَكْرَمَ عَامِرٌ مَثْوَاهُ، وَكَلَّمَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَجَاءَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ: إِنِّي اسْتَقْطَعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَادِيًا فِي الْعَرَبِ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أقطعَ لَكَ مِنْهُ قِطْعَةً تَكُونُ لَكَ وَلِعَقِبِكَ مِنْ بَعْدِكَ. فَقَالَ عَامِرٌ: لَا حَاجَةَ لِي فِي قَطِيعَتِكَ، نَزَلَتِ الْيَوْمَ سُورَةٌ أَذْهَلَتْنَا عَنِ الدُّنْيَا: ﴿اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ﴾ ] [[زيادة من ف، أ.]] [[تاريخ دمشق (٨/٦٨٠ "المخطوط") .]] .
ثُمَّ أَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُمْ لَا يُصغون إِلَى الْوَحْيِ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ، وَالْخِطَابُ مَعَ قُرَيْشٍ وَمَنْ شَابَهَهُمْ مِنَ الْكُفَّارِ، فَقَالَ: ﴿مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ﴾ أَيْ: جَدِيدٌ إِنْزَالُهُ ﴿إِلا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ﴾ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا لَكُمْ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَمَّا بِأَيْدِيهِمْ وَقَدْ حَرفوه وَبَدَّلُوهُ وَزَادُوا فِيهِ وَنَقَصُوا مِنْهُ، وَكِتَابُكُمْ أَحْدَثُ الْكُتُبِ بِاللَّهِ تَقْرَءُونَهُ مَحْضًا لَمْ يُشَبْ. وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ بِنَحْوِهِ [[صحيح البخاري برقم (٧٥٢٢) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا﴾ أَيْ: قَائِلِينَ فِيمَا بَيْنَهُمْ خفْيَةً ﴿هَلْ هَذَا إِلا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ﴾ يعنونَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، يَسْتَبْعِدُونَ كَوْنَهُ نَبِيًّا؛ لِأَنَّهُ بَشَرٌ مِثْلُهُمْ، فَكَيْفَ اخْتُصَّ بِالْوَحْيِ دُونَهُمْ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ﴾ ؟ أَيْ: أَفَتَتْبَعُونَهُ فَتَكُونُونَ كَمَنْ أَتَى [[في أ: "يأتي".]] السِّحْرَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ سِحْرٌ. فَقَالَ تَعَالَى مُجِيبًا لَهُمْ عَمَّا افْتَرَوْهُ وَاخْتَلَقُوهُ مِنَ الْكَذِبِ.
﴿قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالأرْضِ﴾ أَيِ: الَّذِي يَعْلَمُ ذَلِكَ، لَا يَخْفَى عَلَيْهِ خَافِيَةٌ، وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ هَذَا الْقُرْآنَ الْمُشْتَمِلَ عَلَى خَبَرِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ، الَّذِي لَا يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ أَنْ يَأْتِيَ بمثله، إلا الذي يعلم السر في السموات وَالْأَرْضِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [أَيِ: السَّمِيعُ] [[زيادة من ف، أ.]] لِأَقْوَالِكُمْ، ﴿الْعَلِيم﴾ بِأَحْوَالِكُمْ. وَفِي هَذَا تَهْدِيدٌ لَهُمْ وَوَعِيدٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلامٍ بَلِ افْتَرَاهُ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنْ تَعَنُّتِ الْكُفَّارِ وَإِلْحَادِهِمْ، وَاخْتِلَافِهِمْ فِيمَا يَصِفُونَ بِهِ [[في ف، أ: " فيه".]] الْقُرْآنَ، وَحَيْرَتِهِمْ فِيهِ، وَضَلَالِهِمْ عَنْهُ. فَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ سِحْرًا، وَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ شِعْرًا، وَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ أَضْغَاثَ أَحْلَامٍ، وَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ مُفْتَرًى، كَمَا قَالَ: ﴿انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الأمْثَالَ فَضَلُّوا فَلا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٤٨، وَالْفُرْقَانِ: ٩] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الأوَّلُونَ﴾ : يَعْنُونَ نَاقَةَ صَالِحٍ، وَآيَاتِ مُوسَى وَعِيسَى. وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالآيَاتِ إِلا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الأوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا﴾ [الْآيَةَ] [[زيادة من ف.]] [الْإِسْرَاءِ: ٥٩] ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿مَا آمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ﴾ أَيْ: مَا آتَيْنَا قَرْيَةً مِنَ الْقُرَى الَّذِينَ بُعِثَ فِيهِمْ الرُّسُلُ آيَةً عَلَى يَدَيْ نَبِيِّهَا فَآمَنُوا بِهَا، بَلْ كَذَّبُوا، فأهلكناهم بِذَلِكَ، أَفَهَؤُلَاءِ يُؤْمِنُونَ بِالْآيَاتِ لَوْ [[في ف: "ولو".]] رَأَوْها دُونَ أُولَئِكَ؟ كَلَّا بَلْ ﴿إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الألِيمَ﴾ [يُونُسَ: ٩٦، ٩٧] .
هَذَا كُلُّهُ، وَقَدْ شَاهَدُوا مِنَ الْآيَاتِ الْبَاهِرَاتِ، وَالْحُجَجِ الْقَاطِعَاتِ، وَالدَّلَائِلِ الْبَيِّنَاتِ، عَلَى يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مَا هُوَ أَظْهَرُ وَأَجْلَى، وَأَبْهَرُ وَأَقْطَعُ وَأَقْهَرُ، مِمَّا شُوهِدَ مَعَ غَيْرِهِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: ذُكِرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ زَيْدٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ، حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، يَقُولُ: كُنَّا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَنَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يُقْرِئُ بَعْضُنَا بَعْضًا الْقُرْآنَ، فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بن أبي بن سَلُولَ، وَمَعَهُ نُمْرُقة وزِرْبِيّة، فَوَضَعَ وَاتَّكَأَ، وَكَانَ صَبِيحًا فَصِيحًا جَدِلًا فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، قُلْ لِمُحَمَّدٍ يَأْتِينَا بِآيَةٍ كَمَا جَاءَ الْأَوَّلُونَ؟ جَاءَ مُوسَى بِالْأَلْوَاحِ، وَجَاءَ دَاوُدُ بِالزَّبُورِ، وَجَاءَ صَالِحٌ بِالنَّاقَةِ، وَجَاءَ عِيسَى بِالْإِنْجِيلِ وَبِالْمَائِدَةِ. فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: قُومُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ [[في ف: "إلى رسوله".]] ﷺ نَسْتَغِيثُ بِهِ مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّهُ لَا يُقَامُ لِي، إِنَّمَا يُقَامُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ". فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَقِينَا مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ:"إِنَّ [[في ف: "أتى".]] جِبْرِيلَ قَالَ [[في ف: "فقال".]] لِي: اخْرُجْ فَأَخْبِرْ بِنِعَمِ اللَّهِ الَّتِي أَنْعَمَ بِهَا عَلَيْكَ، وَفَضِيلَتِهِ الَّتِي فُضِّلت بِهَا، فَبَشَّرَنِي أَنِّي بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُنْذِرَ الْجِنَّ، وَآتَانِي كِتَابَهُ وَأَنَا أُمِّيٌّ، وَغَفَرَ ذَنْبِي مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَأَخَّرَ، وَذَكَرَ اسْمِي فِي الْأَذَانِ وَأَيَّدَنِي [[في أ: "وأمرني".]] بِالْمَلَائِكَةِ، وَآتَانِي النَّصْرَ، وَجَعَلَ الرُّعْبَ أَمَامِي، وَآتَانِي الْكَوْثَرَ، وَجَعَلَ حَوْضِي مِنْ أَعْظَمِ الْحِيَاضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَوَعَدَنِي الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ وَالنَّاسُ مُهْطِعُونَ مُقْنِعُو [[في ف: "مقنعي".]] رُءُوسِهِمْ، وَجَعَلَنِي فِي أَوَّلِ زُمْرَةٍ تَخْرُجُ مِنَ النَّاسِ، وَأَدْخَلَ فِي شَفَاعَتِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَآتَانِي السُّلْطَانَ وَالْمُلْكَ، وَجَعَلَنِي فِي أَعْلَى غُرْفَةٍ فِي الْجَنَّةِ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ [[في ف، أ: "عدن".]] ، فَلَيْسَ فَوْقِي أَحَدٌ إِلَّا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ، وَأَحَلَّ لِيَ [[في ف، أ: "لي ولأمتي".]] الْغَنَائِمَ [[في أ: "المغانم".]] ، وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلَنَا". وَهَذَا الْحَدِيثُ غَرِيبٌ جِدًّا.
بَلْ قَالُوٓا۟ أَضْغَٰثُ أَحْلَٰمٍۭ بَلِ ٱفْتَرَىٰهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌۭ فَلْيَأْتِنَا بِـَٔايَةٍۢ كَمَآ أُرْسِلَ ٱلْأَوَّلُونَ
But they say, "[The revelation is but] a mixture of false dreams; rather, he has invented it; rather, he is a poet. So let him bring us a sign just as the previous [messengers] were sent [with miracles]."
بلکہ (ظالم) کہنے لگے کہ (یہ قرآن) پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں۔ (نہیں) بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ (یہ شعر ہے جو اس) شاعر (کا نتیجہٴ طبع) ہے۔ تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے (اسی طرح) یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے
آنها گفتند: «(آنچه محمّد (ص) آورده وحی نیست؛) بلکه خوابهایی آشفته است! اصلاً آن را بدروغ به خدا بسته؛ نه، بلکه او یک شاعر است! (اگر راست میگوید) باید معجزهای برای ما بیاورد؛ همان گونه که پیامبران پیشین (با معجزات) فرستاده شدند!»
Tafsir Ibn Kathir
The Virtues of Surat Al-Anbiya'
Al-Bukhari recorded that 'Abdur-Rahman bin Yazid said that 'Abdullah said, "Banu Isra'il, Al-Kahf, Maryam, Ta Ha and Al-Anbiya' - they are among the earliest and most beautiful Surahs and they are my treasure."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ - مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ - لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ ۗ وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا هَلْ هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۖ أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ - قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ - بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ - مَا آمَنَتْ قَبْلَهُم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ
(1. Draws near for mankind their reckoning, while they turn away in heedlessness.)(2. Comes not unto them an admonition from their Lord as a recent revelation but they listen to it while they play.)(3. With their hearts occupied. Those who do wrong, conceal their private counsels, (saying): "Is this more than a human being like you? Will you submit to magic while you see it?")(4. He said: "My Lord knows what is said in the heavens and on earth. And He is the All-Hearer, the All-Knower.")(5. Nay, they say: "These are mixed up false dreams! Nay, he has invented it! – Nay, he is a poet! Let him then bring us an Ayah like the ones that were sent before!")(6. Not one of the towns of those which We destroyed, believed before them; will they then believe.)
The Hour is at hand but People are heedless
This is a warning from Allah of the approach of the Hour, and that people are heedless of it, i.e., they are not working for it or preparing for it. An-Nasa'i recorded that Abu Sa'id reported from the Prophet ﷺ:
فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ
(while they turn away in heedlessness), he ﷺ said,
فِي الدُّنْيَا
(in this world.) Allah says:
أَتَىٰ أَمْرُ اللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ
(The Event ordained by Allah will come to pass, so seek not to hasten it)
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ - وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder. And if they see a sign, they turn away.)[54:1-2]. Then Allah states that they do not listen to the revelation (Wahy) that He sends down to His Messenger ﷺ, which is addressed to the Quraysh and all disbelievers like them.
مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ
(Comes not unto them an admonition from their Lord as a recent revelation) meaning, newly-revealed,
إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ
(but they listen to it while they play.) This is like what Ibn 'Abbas said, "Why do you ask the People of the Book about what they have, which has been altered and distorted, and they have added things and taken things away, when your Book is the most recently revealed from Allah, and you read it pure and unadulterated?" Al-Bukhari recorded something similar to this.
وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا
(Those who do wrong, conceal their private counsels) meaning, what they say to one another in secret.
هَلْ هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ
(Is this more than a human being like you?) meaning, the Messenger of Allah ﷺ. They did not believe that he could be a Prophet because he was a human being like them, so how could he have been singled out to receive revelation, and not them? They said:
أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ
(Will you submit to magic while you see it?) meaning, will you follow him and be like one who submits to magic when he knows that it is magic? Allah said in response to their fabrications and lies:
قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
(He said: "My Lord knows what is said in the heavens and on earth...") Nothing at all is hidden from the One Who knows that, and He is the One Who reveals this Qur'an which contains news of the earliest and last generations. No one can produce the like of this except the One Who knows all the secrets of the heavens and the earth.
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And He is the All-Hearer, the All-Knower.) means, He hears all that they say and He knows all their circumstances. This is a warning and a threat to them.
The Disbelievers' Ideas about the Qur'an and the Messenger (ﷺ); their demand for a Sign and the Refutation of that
بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاهُ
(Nay, they say: "These are mixed up false dreams! Nay, he has invented it!...") Here Allah tells us of the stubbornness and heresy of the disblievers, and the various things they said about the Qur'an, and how they were confused and misguided about it. Sometimes they described it as magic, and sometimes they described it as poetry, or mixed up false dreams, or a fabrication. As Allah says:
انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا
(See what examples they have put forward for you. So they have gone astray, and never can they find a way)(17:48)
فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ
(Let him then bring us an Ayah like the ones that were sent before!) They were referring to the she-camel of Salih, and the signs of Musa and 'Isa. And Allah says,
وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ
(And nothing stops Us from sending the Ayat but that the people of old denied them.)[17:59]. So Allah said here:
مَا آمَنَتْ قَبْلَهُم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ
(Not one of the towns of those which We destroyed, believed before them; will they then believe?)
None of the peoples to whom Messengers were sent were given a sign at the hands of their Prophet and believed. On the contrary, they disbelieved and We destroyed them as a result. Would these people believe in a sign if they saw it? Not at all! In fact,
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ
(Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them, until they see the painful torment.)(10:96-97). Indeed, they witnessed clear signs and definitive proof at the hands of the Messenger of Allah ﷺ, signs which were far clearer and more overwhelming than any that had been witnessed in the case of any other Prophet, may the blessings and peace of Allah be upon them all.
Tafsir Ibn Kathir
قیامت سے غافل انسان اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لئے کوئی تیاری کررہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہوگئے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ) امر ربی آگیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو ؟ دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا الخ۔ ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے۔ شعر (الناس فی غفلاتہم ورحی المنیتہ تطحن)" موت کی چکی زور زور سے چل رہی ہے اور لوگ غفلتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ حضرت عامر بن ربیعہ ؓ کے ہاں ایک صاحب مہمان بن کر آئے۔ انہوں نے بڑے اکرام اور احترام سے انہیں اپنے ہاں اتارا اور ان کے بارے میں رسول ﷺ سے بھی سفارش کی۔ ایک دن یہ بزرگ مہمان ان کے پاس آئے اور کہنے لگے رسول اللہ ﷺ نے مجھے فلاں وادی عطا فرما دی ہے میں میں چاہتا ہوں کہ اس بہترین زمین کا ایک ٹکڑا میں آپ کے نام کردوں کہ آپ کو بھی فارغ البالی رہے اور آپ کے بعد آپ کے بال بچے بھی آسودگی سے گزر کریں۔ حضرت عامر ؓ نے جواب دیا کہ بھائی مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں آج ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے کہ ہمیں تو دنیا کڑوی معلوم ہونے لگی ہے۔ پھر آپ نے یہی اقترب للناس کی تلاوت فرمائی۔ اس کے بعد کفار قریش اور انہی جیسے اور کافروں کی بابت فرماتا ہے کہ یہ لوگ کلام اللہ اور وحی الٰہی کی طرف کان ہی نہیں لگاتے۔ یہ تازہ اور نیا آیا ہوا ذکر دل لگا کر سنتے ہی نہیں۔ اس کان سنتے ہیں اس کان اڑا دیتے ہیں۔ دل ہنسی کھیل میں مشغول ہیں۔ بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں تمہیں اہل کتاب کی کتابوں کی باتوں کے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے ؟ انہوں نے تو کتاب اللہ میں بہت کچھ ردوبدل کرلیا تحریف اور تبدیلی کرلی، کمی زیادتی کرلی اور تمہارے پاس تو اللہ کی اتاری ہوئی خالص کتاب موجود ہے جس میں ملاوٹ نہیں ہونے پائی۔ یہ لوگ کتاب اللہ سے بےپرواہی کررہے ہیں اپنے دلوں کو اس کے اثر سے خالی رکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یہ ظالم اوروں کو بھی بہکاتے ہیں کہتے ہیں کہ اپنے جیسے ایک انسان کی ماتحتی تو ہم نہیں کرسکتے۔ تم کیسے لوگ ہو کہ دیکھتے بھالتے جادو کو مان رہے ہو ؟ یہ ناممکن ہے کہ ہم جیسے آدمی کو اللہ تعالیٰ رسالت اور وحی کے ساتھ مختص کردے، پھر تعجب ہے کہ لوگ باجود علم کے اس کے جادو میں آجاتے ہیں ؟ ان بد کرداروں کے جواب میں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ یہ جو بہتان باندھتے ہیں ان سے کہئے کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تمام باتیں جانتا ہے جس پر کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں۔ اس نے اس پاک کلام قرآن کریم کو نازل فرمایا اس میں اگلی پچھلی تمام خبروں کا موجود ہونا ہی دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا اتارنے والا عالم الغیب ہے۔ وہ تمہاری سب باتوں کا سننے والا اور تمہارے تمام حالات کا علم رکھنے والا ہے۔ پس تمہیں اس کا ڈر رکھنا چاہیے۔ پھر کفار کی ضد، ناسمجھی اور کٹ حجتی بیان فرما رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خود حیران ہیں کسی بات پر جم نہیں سکتے۔ کبھی کلام اللہ کو جادو کہتے ہیں تو کبھی شاعری کہتے ہیں کبھی پراگندہ اور بےمعنی باتیں کہتے ہیں اور کبھی آنحضرت ﷺ کا ازخود گھڑلیا ہوا بتاتے ہیں۔ خیال کرو کہ اپنے کسی قول پر بھروسہ نہ رکھنے والا جو زبان پر چڑھے بک دینے و الا بھی مستقل مزاج کہلانے کا مستحق ہے ؟ کبھی کہتے تھے اچھا اگر یہ سچا نبی ہے تو حضرت صالح ؑ کی طرح کوئی اونٹنی لے آتا یا حضرت موسیٰ ؑ کی طرح کا کوئی معجزہ دکھاتا یا حضرت عیسیٰ ؑ کا کوئی معجزہ ظاہر کرتا۔ بیشک اللہ ان چیزوں پر قادر تو ضرور ہے لیکن اگر ظاہر ہوئیں اور پھر بھی یہ اپنے کفر سے نہ ہٹے تو عادت الٰہی کی طرح عذاب الٰہی میں پکڑ لئے جائیں گے اور پیس دئیے جائیں گے۔ عموما اگلے لوگوں نے یہی کہا اور ایمان نصیب نہ ہوا اور غارت کرلئے گئے۔ اسی طرح یہ بھی ایسے معجزے طلب کررہے ہیں اگر ظاہر ہوئے تو ایمان نہ لائیں گے اور تباہ ہوجائینگے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۙ) 10۔ یونس :96) جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ گو تمام تر معجزے دیکھ لیں، ایمان قبول نہ کریں گے۔ ہاں عذاب الیم کے معائنہ کے بعد تو فورا تسلیم کرلیں گے لیکن وہ محض بےسود ہے بات بھی یہی ہے کہ انہیں ایمان لانا ہی نہ تھ اور نہ حضور ﷺ کے بیشمار معجزات روز مرہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔ بلکہ آپ کے یہ معجزے دیگر انبیاء ؑ سے بہت زیادہ ظاہر اور کھلے ہوئے تھے۔ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب روایت میں صحابہ کرام ؓ کا ایک مجمع مسجد میں تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ تلاوت قرآن کررہے تھے اتنے میں عبداللہ بن سلول منافق آیا اپنی گدی بچھا کر اپنا تکیہ لگا کر وجاہت سے بیٹھ گیا۔ تھا بھی گورا چٹا بڑھ بڑھ کر فصاحت کے ساتھ باتیں بنانے والا کہنے لگا ابوبکر تم حضور ﷺ سے کہو کہ آپ کوئی نشان ہمیں دکھائیں جیسے کہ آپ سے پہلے کے انبیاء نشانات لائے تھے مثلا موسیٰ ؑ تختیاں لائے، داؤد ؑ اونٹنی لائے، عیسیٰ ؑ انجیل لائے اور آسمانی دسترخوان۔ حضرت صدیق ؓ یہ سن کر رونے لگے۔ اتنے میں حضور ﷺ گھر سے نکلے تو آپ نے دوسرے صحابہ سے فرمایا کہ حضور ﷺ کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوجاؤ۔ اور اس منافق کی فریاد دربار رسالت میں پہنچاؤ۔ آپ نے ارشاد فرمایا سنو میرے لئے کھڑے نہ ہوا کرو۔ صرف اللہ ہی کے لئے کھڑے ہوا کرو۔ صحابہ نے کہا حضور ﷺ ہمیں اس منافق سے بڑی ایذاء پہنچی ہے۔ آپ نے فرمایا ابھی ابھی جبرائیل ؑ میرے پاس آئے تھے اور مجھ سے فرمایا کہ باہر جاؤ اور لوگوں کے سامنے اپنے فضائل ظاہر کرو اور ان نعمتوں کا بیان کرو جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہیں میں ساری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جنات کو بھی پیغام الٰہی پہنچادوں۔ مجھے میرے رب نے اپنی پاک کتاب عنایت فرمائی ہے حالانکہ محض بےپڑھا ہوں۔ میرے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرمادئیے ہیں۔ میرا نام اذان میں رکھا ہے میری مدد فرشتوں سے کرائی ہے۔ مجھے اپنی امدادونصرت عطاء فرمائی ہے۔ رعب میرا میرے آگے آگے کردیا ہے۔ مجھے حوض کوثر عطا فرمایا ہے جو قیامت کے دن تمام اور حوضوں سے بڑا ہوگا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے مقام محمود کا وعدہ دیا ہے اس وقت جب کہ سب لوگ حیران و پریشان سرجھکائے ہوئے ہوں گے مجھے اللہ نے اس پہلے گروہ میں چنا ہے جو لوگوں سے نکلے گا۔ میری شفاعت سے میری امت کے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ مجھے غلبہ اور سلطنت عطا فرمائی ہے مجھے جنت نعیم کا وہ بلند وبالا اعلیٰ بالاخانہ ملے گا کہ اس سے اعلیٰ منزل کسی کی نہ ہوگی۔ میرے اوپر صرف وہ فرشتے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ میرے اور میری امت کے لئے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لئے حلال نہ تھے۔
Tafsir Ibn Kathir
سُورَةُ الْأَنْبِيَاءِ
وَهِيَ مَكِّيَّةٌ.
قَالَ الْبُخَارِيُّ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَر، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ: سَمِعْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ [[في أ: "زيد".]] ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: بَنُو إِسْرَائِيلَ، وَالْكَهْفُ، وَمَرْيَمُ، وَطه، وَالْأَنْبِيَاءُ، هُنَّ مِنَ الْعِتَاقِ الْأُوَلِ، وَهُنَّ مِنْ تِلَادِي [[صحيح البخاري برقم (٤٧٣٩) .]] .
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
هَذَا تَنْبِيهٌ مِنَ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، عَلَى اقْتِرَابِ السَّاعَةِ وَدُنُوِّهَا، وَأَنَّ النَّاسَ فِي غَفْلَةٍ عَنْهَا، أَيْ: لَا يَعْمَلُونَ لَهَا، وَلَا يَسْتَعِدُّونَ مِنْ أَجْلِهَا.
وَقَالَ النَّسَائِيُّ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ﴿فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ﴾ قَالَ: "فِي الدُّنْيَا" [[سنن النسائي الكبرى برقم (١١٣٣٢) .]] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلا تَسْتَعْجِلُوهُ﴾ [النَّحْلِ: ١] ، وَقَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من ف، أ.]] : ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ * وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ﴾ [الْقَمَرِ: ١، ٢]
وَقَدْ رَوَى الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ الْحَسَنِ بْنِ هَانِئٍ أَبِي نُوَاس الشَّاعِرِ أَنَّهُ قَالَ: أَشْعَرُ النَّاسِ الشَّيْخُ الطَّاهِرُ أَبُو الْعَتَاهِيَةِ حَيْثُ يَقُولُ:
النَّاس فِي غَفَلاتِهِمْ ... وَرَحا المِنيَّة تَطْحَنُ ...
فَقِيلَ لَهُ: مِنْ أَيْنَ أَخَذَ [[في ف، أ: "أخذت".]] هَذَا؟ قَالَ [[في ف، أ: "فقال".]] : مِنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ﴾ [[تاريخ دمشق (٤/٦١١ "المخطوط") .]] .
[وَرَوَى فِي تَرْجَمَةِ "عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ"، مِنْ طَرِيقِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ الْآمِدِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ أَبِيهِ، عن عامر ابن رَبِيعَةَ: أَنَّهُ نَزَلَ بِهِ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ، فَأَكْرَمَ عَامِرٌ مَثْوَاهُ، وَكَلَّمَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَجَاءَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ: إِنِّي اسْتَقْطَعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَادِيًا فِي الْعَرَبِ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أقطعَ لَكَ مِنْهُ قِطْعَةً تَكُونُ لَكَ وَلِعَقِبِكَ مِنْ بَعْدِكَ. فَقَالَ عَامِرٌ: لَا حَاجَةَ لِي فِي قَطِيعَتِكَ، نَزَلَتِ الْيَوْمَ سُورَةٌ أَذْهَلَتْنَا عَنِ الدُّنْيَا: ﴿اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ﴾ ] [[زيادة من ف، أ.]] [[تاريخ دمشق (٨/٦٨٠ "المخطوط") .]] .
ثُمَّ أَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُمْ لَا يُصغون إِلَى الْوَحْيِ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ، وَالْخِطَابُ مَعَ قُرَيْشٍ وَمَنْ شَابَهَهُمْ مِنَ الْكُفَّارِ، فَقَالَ: ﴿مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ﴾ أَيْ: جَدِيدٌ إِنْزَالُهُ ﴿إِلا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ﴾ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا لَكُمْ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَمَّا بِأَيْدِيهِمْ وَقَدْ حَرفوه وَبَدَّلُوهُ وَزَادُوا فِيهِ وَنَقَصُوا مِنْهُ، وَكِتَابُكُمْ أَحْدَثُ الْكُتُبِ بِاللَّهِ تَقْرَءُونَهُ مَحْضًا لَمْ يُشَبْ. وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ بِنَحْوِهِ [[صحيح البخاري برقم (٧٥٢٢) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا﴾ أَيْ: قَائِلِينَ فِيمَا بَيْنَهُمْ خفْيَةً ﴿هَلْ هَذَا إِلا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ﴾ يعنونَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، يَسْتَبْعِدُونَ كَوْنَهُ نَبِيًّا؛ لِأَنَّهُ بَشَرٌ مِثْلُهُمْ، فَكَيْفَ اخْتُصَّ بِالْوَحْيِ دُونَهُمْ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ﴾ ؟ أَيْ: أَفَتَتْبَعُونَهُ فَتَكُونُونَ كَمَنْ أَتَى [[في أ: "يأتي".]] السِّحْرَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ سِحْرٌ. فَقَالَ تَعَالَى مُجِيبًا لَهُمْ عَمَّا افْتَرَوْهُ وَاخْتَلَقُوهُ مِنَ الْكَذِبِ.
﴿قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالأرْضِ﴾ أَيِ: الَّذِي يَعْلَمُ ذَلِكَ، لَا يَخْفَى عَلَيْهِ خَافِيَةٌ، وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ هَذَا الْقُرْآنَ الْمُشْتَمِلَ عَلَى خَبَرِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ، الَّذِي لَا يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ أَنْ يَأْتِيَ بمثله، إلا الذي يعلم السر في السموات وَالْأَرْضِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [أَيِ: السَّمِيعُ] [[زيادة من ف، أ.]] لِأَقْوَالِكُمْ، ﴿الْعَلِيم﴾ بِأَحْوَالِكُمْ. وَفِي هَذَا تَهْدِيدٌ لَهُمْ وَوَعِيدٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلامٍ بَلِ افْتَرَاهُ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنْ تَعَنُّتِ الْكُفَّارِ وَإِلْحَادِهِمْ، وَاخْتِلَافِهِمْ فِيمَا يَصِفُونَ بِهِ [[في ف، أ: " فيه".]] الْقُرْآنَ، وَحَيْرَتِهِمْ فِيهِ، وَضَلَالِهِمْ عَنْهُ. فَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ سِحْرًا، وَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ شِعْرًا، وَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ أَضْغَاثَ أَحْلَامٍ، وَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ مُفْتَرًى، كَمَا قَالَ: ﴿انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الأمْثَالَ فَضَلُّوا فَلا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٤٨، وَالْفُرْقَانِ: ٩] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الأوَّلُونَ﴾ : يَعْنُونَ نَاقَةَ صَالِحٍ، وَآيَاتِ مُوسَى وَعِيسَى. وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالآيَاتِ إِلا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الأوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا﴾ [الْآيَةَ] [[زيادة من ف.]] [الْإِسْرَاءِ: ٥٩] ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿مَا آمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ﴾ أَيْ: مَا آتَيْنَا قَرْيَةً مِنَ الْقُرَى الَّذِينَ بُعِثَ فِيهِمْ الرُّسُلُ آيَةً عَلَى يَدَيْ نَبِيِّهَا فَآمَنُوا بِهَا، بَلْ كَذَّبُوا، فأهلكناهم بِذَلِكَ، أَفَهَؤُلَاءِ يُؤْمِنُونَ بِالْآيَاتِ لَوْ [[في ف: "ولو".]] رَأَوْها دُونَ أُولَئِكَ؟ كَلَّا بَلْ ﴿إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الألِيمَ﴾ [يُونُسَ: ٩٦، ٩٧] .
هَذَا كُلُّهُ، وَقَدْ شَاهَدُوا مِنَ الْآيَاتِ الْبَاهِرَاتِ، وَالْحُجَجِ الْقَاطِعَاتِ، وَالدَّلَائِلِ الْبَيِّنَاتِ، عَلَى يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مَا هُوَ أَظْهَرُ وَأَجْلَى، وَأَبْهَرُ وَأَقْطَعُ وَأَقْهَرُ، مِمَّا شُوهِدَ مَعَ غَيْرِهِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: ذُكِرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ زَيْدٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ، حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، يَقُولُ: كُنَّا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَنَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يُقْرِئُ بَعْضُنَا بَعْضًا الْقُرْآنَ، فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بن أبي بن سَلُولَ، وَمَعَهُ نُمْرُقة وزِرْبِيّة، فَوَضَعَ وَاتَّكَأَ، وَكَانَ صَبِيحًا فَصِيحًا جَدِلًا فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، قُلْ لِمُحَمَّدٍ يَأْتِينَا بِآيَةٍ كَمَا جَاءَ الْأَوَّلُونَ؟ جَاءَ مُوسَى بِالْأَلْوَاحِ، وَجَاءَ دَاوُدُ بِالزَّبُورِ، وَجَاءَ صَالِحٌ بِالنَّاقَةِ، وَجَاءَ عِيسَى بِالْإِنْجِيلِ وَبِالْمَائِدَةِ. فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: قُومُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ [[في ف: "إلى رسوله".]] ﷺ نَسْتَغِيثُ بِهِ مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّهُ لَا يُقَامُ لِي، إِنَّمَا يُقَامُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ". فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَقِينَا مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ:"إِنَّ [[في ف: "أتى".]] جِبْرِيلَ قَالَ [[في ف: "فقال".]] لِي: اخْرُجْ فَأَخْبِرْ بِنِعَمِ اللَّهِ الَّتِي أَنْعَمَ بِهَا عَلَيْكَ، وَفَضِيلَتِهِ الَّتِي فُضِّلت بِهَا، فَبَشَّرَنِي أَنِّي بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُنْذِرَ الْجِنَّ، وَآتَانِي كِتَابَهُ وَأَنَا أُمِّيٌّ، وَغَفَرَ ذَنْبِي مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَأَخَّرَ، وَذَكَرَ اسْمِي فِي الْأَذَانِ وَأَيَّدَنِي [[في أ: "وأمرني".]] بِالْمَلَائِكَةِ، وَآتَانِي النَّصْرَ، وَجَعَلَ الرُّعْبَ أَمَامِي، وَآتَانِي الْكَوْثَرَ، وَجَعَلَ حَوْضِي مِنْ أَعْظَمِ الْحِيَاضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَوَعَدَنِي الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ وَالنَّاسُ مُهْطِعُونَ مُقْنِعُو [[في ف: "مقنعي".]] رُءُوسِهِمْ، وَجَعَلَنِي فِي أَوَّلِ زُمْرَةٍ تَخْرُجُ مِنَ النَّاسِ، وَأَدْخَلَ فِي شَفَاعَتِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَآتَانِي السُّلْطَانَ وَالْمُلْكَ، وَجَعَلَنِي فِي أَعْلَى غُرْفَةٍ فِي الْجَنَّةِ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ [[في ف، أ: "عدن".]] ، فَلَيْسَ فَوْقِي أَحَدٌ إِلَّا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ، وَأَحَلَّ لِيَ [[في ف، أ: "لي ولأمتي".]] الْغَنَائِمَ [[في أ: "المغانم".]] ، وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلَنَا". وَهَذَا الْحَدِيثُ غَرِيبٌ جِدًّا.
مَآ ءَامَنَتْ قَبْلَهُم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَٰهَآ ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ
Not a [single] city which We destroyed believed before them, so will they believe?
ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا وہ ایمان نہیں لاتی تھیں۔ تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے
تمام آبادیهایی که پیش از اینها هلاک کردیم (تقاضای معجزات گوناگون کردند، و خواسته آنان عملی شد، ولی) هرگز ایمان نیاوردند؛ آیا اینها ایمان میآورند؟!
Tafsir Ibn Kathir
The Virtues of Surat Al-Anbiya'
Al-Bukhari recorded that 'Abdur-Rahman bin Yazid said that 'Abdullah said, "Banu Isra'il, Al-Kahf, Maryam, Ta Ha and Al-Anbiya' - they are among the earliest and most beautiful Surahs and they are my treasure."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ - مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ - لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ ۗ وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا هَلْ هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۖ أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ - قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ - بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ - مَا آمَنَتْ قَبْلَهُم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ
(1. Draws near for mankind their reckoning, while they turn away in heedlessness.)(2. Comes not unto them an admonition from their Lord as a recent revelation but they listen to it while they play.)(3. With their hearts occupied. Those who do wrong, conceal their private counsels, (saying): "Is this more than a human being like you? Will you submit to magic while you see it?")(4. He said: "My Lord knows what is said in the heavens and on earth. And He is the All-Hearer, the All-Knower.")(5. Nay, they say: "These are mixed up false dreams! Nay, he has invented it! – Nay, he is a poet! Let him then bring us an Ayah like the ones that were sent before!")(6. Not one of the towns of those which We destroyed, believed before them; will they then believe.)
The Hour is at hand but People are heedless
This is a warning from Allah of the approach of the Hour, and that people are heedless of it, i.e., they are not working for it or preparing for it. An-Nasa'i recorded that Abu Sa'id reported from the Prophet ﷺ:
فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ
(while they turn away in heedlessness), he ﷺ said,
فِي الدُّنْيَا
(in this world.) Allah says:
أَتَىٰ أَمْرُ اللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ
(The Event ordained by Allah will come to pass, so seek not to hasten it)
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ - وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder. And if they see a sign, they turn away.)[54:1-2]. Then Allah states that they do not listen to the revelation (Wahy) that He sends down to His Messenger ﷺ, which is addressed to the Quraysh and all disbelievers like them.
مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ
(Comes not unto them an admonition from their Lord as a recent revelation) meaning, newly-revealed,
إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ
(but they listen to it while they play.) This is like what Ibn 'Abbas said, "Why do you ask the People of the Book about what they have, which has been altered and distorted, and they have added things and taken things away, when your Book is the most recently revealed from Allah, and you read it pure and unadulterated?" Al-Bukhari recorded something similar to this.
وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا
(Those who do wrong, conceal their private counsels) meaning, what they say to one another in secret.
هَلْ هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ
(Is this more than a human being like you?) meaning, the Messenger of Allah ﷺ. They did not believe that he could be a Prophet because he was a human being like them, so how could he have been singled out to receive revelation, and not them? They said:
أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ
(Will you submit to magic while you see it?) meaning, will you follow him and be like one who submits to magic when he knows that it is magic? Allah said in response to their fabrications and lies:
قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
(He said: "My Lord knows what is said in the heavens and on earth...") Nothing at all is hidden from the One Who knows that, and He is the One Who reveals this Qur'an which contains news of the earliest and last generations. No one can produce the like of this except the One Who knows all the secrets of the heavens and the earth.
وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(And He is the All-Hearer, the All-Knower.) means, He hears all that they say and He knows all their circumstances. This is a warning and a threat to them.
The Disbelievers' Ideas about the Qur'an and the Messenger (ﷺ); their demand for a Sign and the Refutation of that
بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاهُ
(Nay, they say: "These are mixed up false dreams! Nay, he has invented it!...") Here Allah tells us of the stubbornness and heresy of the disblievers, and the various things they said about the Qur'an, and how they were confused and misguided about it. Sometimes they described it as magic, and sometimes they described it as poetry, or mixed up false dreams, or a fabrication. As Allah says:
انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا
(See what examples they have put forward for you. So they have gone astray, and never can they find a way)(17:48)
فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ
(Let him then bring us an Ayah like the ones that were sent before!) They were referring to the she-camel of Salih, and the signs of Musa and 'Isa. And Allah says,
وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ
(And nothing stops Us from sending the Ayat but that the people of old denied them.)[17:59]. So Allah said here:
مَا آمَنَتْ قَبْلَهُم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ
(Not one of the towns of those which We destroyed, believed before them; will they then believe?)
None of the peoples to whom Messengers were sent were given a sign at the hands of their Prophet and believed. On the contrary, they disbelieved and We destroyed them as a result. Would these people believe in a sign if they saw it? Not at all! In fact,
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ
(Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them, until they see the painful torment.)(10:96-97). Indeed, they witnessed clear signs and definitive proof at the hands of the Messenger of Allah ﷺ, signs which were far clearer and more overwhelming than any that had been witnessed in the case of any other Prophet, may the blessings and peace of Allah be upon them all.
Tafsir Ibn Kathir
قیامت سے غافل انسان اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لئے کوئی تیاری کررہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہوگئے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ) امر ربی آگیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو ؟ دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا الخ۔ ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے۔ شعر (الناس فی غفلاتہم ورحی المنیتہ تطحن)" موت کی چکی زور زور سے چل رہی ہے اور لوگ غفلتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ حضرت عامر بن ربیعہ ؓ کے ہاں ایک صاحب مہمان بن کر آئے۔ انہوں نے بڑے اکرام اور احترام سے انہیں اپنے ہاں اتارا اور ان کے بارے میں رسول ﷺ سے بھی سفارش کی۔ ایک دن یہ بزرگ مہمان ان کے پاس آئے اور کہنے لگے رسول اللہ ﷺ نے مجھے فلاں وادی عطا فرما دی ہے میں میں چاہتا ہوں کہ اس بہترین زمین کا ایک ٹکڑا میں آپ کے نام کردوں کہ آپ کو بھی فارغ البالی رہے اور آپ کے بعد آپ کے بال بچے بھی آسودگی سے گزر کریں۔ حضرت عامر ؓ نے جواب دیا کہ بھائی مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں آج ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے کہ ہمیں تو دنیا کڑوی معلوم ہونے لگی ہے۔ پھر آپ نے یہی اقترب للناس کی تلاوت فرمائی۔ اس کے بعد کفار قریش اور انہی جیسے اور کافروں کی بابت فرماتا ہے کہ یہ لوگ کلام اللہ اور وحی الٰہی کی طرف کان ہی نہیں لگاتے۔ یہ تازہ اور نیا آیا ہوا ذکر دل لگا کر سنتے ہی نہیں۔ اس کان سنتے ہیں اس کان اڑا دیتے ہیں۔ دل ہنسی کھیل میں مشغول ہیں۔ بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں تمہیں اہل کتاب کی کتابوں کی باتوں کے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے ؟ انہوں نے تو کتاب اللہ میں بہت کچھ ردوبدل کرلیا تحریف اور تبدیلی کرلی، کمی زیادتی کرلی اور تمہارے پاس تو اللہ کی اتاری ہوئی خالص کتاب موجود ہے جس میں ملاوٹ نہیں ہونے پائی۔ یہ لوگ کتاب اللہ سے بےپرواہی کررہے ہیں اپنے دلوں کو اس کے اثر سے خالی رکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یہ ظالم اوروں کو بھی بہکاتے ہیں کہتے ہیں کہ اپنے جیسے ایک انسان کی ماتحتی تو ہم نہیں کرسکتے۔ تم کیسے لوگ ہو کہ دیکھتے بھالتے جادو کو مان رہے ہو ؟ یہ ناممکن ہے کہ ہم جیسے آدمی کو اللہ تعالیٰ رسالت اور وحی کے ساتھ مختص کردے، پھر تعجب ہے کہ لوگ باجود علم کے اس کے جادو میں آجاتے ہیں ؟ ان بد کرداروں کے جواب میں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ یہ جو بہتان باندھتے ہیں ان سے کہئے کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تمام باتیں جانتا ہے جس پر کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں۔ اس نے اس پاک کلام قرآن کریم کو نازل فرمایا اس میں اگلی پچھلی تمام خبروں کا موجود ہونا ہی دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا اتارنے والا عالم الغیب ہے۔ وہ تمہاری سب باتوں کا سننے والا اور تمہارے تمام حالات کا علم رکھنے والا ہے۔ پس تمہیں اس کا ڈر رکھنا چاہیے۔ پھر کفار کی ضد، ناسمجھی اور کٹ حجتی بیان فرما رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خود حیران ہیں کسی بات پر جم نہیں سکتے۔ کبھی کلام اللہ کو جادو کہتے ہیں تو کبھی شاعری کہتے ہیں کبھی پراگندہ اور بےمعنی باتیں کہتے ہیں اور کبھی آنحضرت ﷺ کا ازخود گھڑلیا ہوا بتاتے ہیں۔ خیال کرو کہ اپنے کسی قول پر بھروسہ نہ رکھنے والا جو زبان پر چڑھے بک دینے و الا بھی مستقل مزاج کہلانے کا مستحق ہے ؟ کبھی کہتے تھے اچھا اگر یہ سچا نبی ہے تو حضرت صالح ؑ کی طرح کوئی اونٹنی لے آتا یا حضرت موسیٰ ؑ کی طرح کا کوئی معجزہ دکھاتا یا حضرت عیسیٰ ؑ کا کوئی معجزہ ظاہر کرتا۔ بیشک اللہ ان چیزوں پر قادر تو ضرور ہے لیکن اگر ظاہر ہوئیں اور پھر بھی یہ اپنے کفر سے نہ ہٹے تو عادت الٰہی کی طرح عذاب الٰہی میں پکڑ لئے جائیں گے اور پیس دئیے جائیں گے۔ عموما اگلے لوگوں نے یہی کہا اور ایمان نصیب نہ ہوا اور غارت کرلئے گئے۔ اسی طرح یہ بھی ایسے معجزے طلب کررہے ہیں اگر ظاہر ہوئے تو ایمان نہ لائیں گے اور تباہ ہوجائینگے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۙ) 10۔ یونس :96) جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ گو تمام تر معجزے دیکھ لیں، ایمان قبول نہ کریں گے۔ ہاں عذاب الیم کے معائنہ کے بعد تو فورا تسلیم کرلیں گے لیکن وہ محض بےسود ہے بات بھی یہی ہے کہ انہیں ایمان لانا ہی نہ تھ اور نہ حضور ﷺ کے بیشمار معجزات روز مرہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔ بلکہ آپ کے یہ معجزے دیگر انبیاء ؑ سے بہت زیادہ ظاہر اور کھلے ہوئے تھے۔ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب روایت میں صحابہ کرام ؓ کا ایک مجمع مسجد میں تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ تلاوت قرآن کررہے تھے اتنے میں عبداللہ بن سلول منافق آیا اپنی گدی بچھا کر اپنا تکیہ لگا کر وجاہت سے بیٹھ گیا۔ تھا بھی گورا چٹا بڑھ بڑھ کر فصاحت کے ساتھ باتیں بنانے والا کہنے لگا ابوبکر تم حضور ﷺ سے کہو کہ آپ کوئی نشان ہمیں دکھائیں جیسے کہ آپ سے پہلے کے انبیاء نشانات لائے تھے مثلا موسیٰ ؑ تختیاں لائے، داؤد ؑ اونٹنی لائے، عیسیٰ ؑ انجیل لائے اور آسمانی دسترخوان۔ حضرت صدیق ؓ یہ سن کر رونے لگے۔ اتنے میں حضور ﷺ گھر سے نکلے تو آپ نے دوسرے صحابہ سے فرمایا کہ حضور ﷺ کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوجاؤ۔ اور اس منافق کی فریاد دربار رسالت میں پہنچاؤ۔ آپ نے ارشاد فرمایا سنو میرے لئے کھڑے نہ ہوا کرو۔ صرف اللہ ہی کے لئے کھڑے ہوا کرو۔ صحابہ نے کہا حضور ﷺ ہمیں اس منافق سے بڑی ایذاء پہنچی ہے۔ آپ نے فرمایا ابھی ابھی جبرائیل ؑ میرے پاس آئے تھے اور مجھ سے فرمایا کہ باہر جاؤ اور لوگوں کے سامنے اپنے فضائل ظاہر کرو اور ان نعمتوں کا بیان کرو جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہیں میں ساری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جنات کو بھی پیغام الٰہی پہنچادوں۔ مجھے میرے رب نے اپنی پاک کتاب عنایت فرمائی ہے حالانکہ محض بےپڑھا ہوں۔ میرے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرمادئیے ہیں۔ میرا نام اذان میں رکھا ہے میری مدد فرشتوں سے کرائی ہے۔ مجھے اپنی امدادونصرت عطاء فرمائی ہے۔ رعب میرا میرے آگے آگے کردیا ہے۔ مجھے حوض کوثر عطا فرمایا ہے جو قیامت کے دن تمام اور حوضوں سے بڑا ہوگا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے مقام محمود کا وعدہ دیا ہے اس وقت جب کہ سب لوگ حیران و پریشان سرجھکائے ہوئے ہوں گے مجھے اللہ نے اس پہلے گروہ میں چنا ہے جو لوگوں سے نکلے گا۔ میری شفاعت سے میری امت کے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ مجھے غلبہ اور سلطنت عطا فرمائی ہے مجھے جنت نعیم کا وہ بلند وبالا اعلیٰ بالاخانہ ملے گا کہ اس سے اعلیٰ منزل کسی کی نہ ہوگی۔ میرے اوپر صرف وہ فرشتے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ میرے اور میری امت کے لئے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لئے حلال نہ تھے۔
Tafsir Ibn Kathir
سُورَةُ الْأَنْبِيَاءِ
وَهِيَ مَكِّيَّةٌ.
قَالَ الْبُخَارِيُّ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَر، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ: سَمِعْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ [[في أ: "زيد".]] ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: بَنُو إِسْرَائِيلَ، وَالْكَهْفُ، وَمَرْيَمُ، وَطه، وَالْأَنْبِيَاءُ، هُنَّ مِنَ الْعِتَاقِ الْأُوَلِ، وَهُنَّ مِنْ تِلَادِي [[صحيح البخاري برقم (٤٧٣٩) .]] .
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
هَذَا تَنْبِيهٌ مِنَ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، عَلَى اقْتِرَابِ السَّاعَةِ وَدُنُوِّهَا، وَأَنَّ النَّاسَ فِي غَفْلَةٍ عَنْهَا، أَيْ: لَا يَعْمَلُونَ لَهَا، وَلَا يَسْتَعِدُّونَ مِنْ أَجْلِهَا.
وَقَالَ النَّسَائِيُّ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ﴿فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ﴾ قَالَ: "فِي الدُّنْيَا" [[سنن النسائي الكبرى برقم (١١٣٣٢) .]] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلا تَسْتَعْجِلُوهُ﴾ [النَّحْلِ: ١] ، وَقَالَ [تَعَالَى] [[زيادة من ف، أ.]] : ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ * وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ﴾ [الْقَمَرِ: ١، ٢]
وَقَدْ رَوَى الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ الْحَسَنِ بْنِ هَانِئٍ أَبِي نُوَاس الشَّاعِرِ أَنَّهُ قَالَ: أَشْعَرُ النَّاسِ الشَّيْخُ الطَّاهِرُ أَبُو الْعَتَاهِيَةِ حَيْثُ يَقُولُ:
النَّاس فِي غَفَلاتِهِمْ ... وَرَحا المِنيَّة تَطْحَنُ ...
فَقِيلَ لَهُ: مِنْ أَيْنَ أَخَذَ [[في ف، أ: "أخذت".]] هَذَا؟ قَالَ [[في ف، أ: "فقال".]] : مِنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ﴾ [[تاريخ دمشق (٤/٦١١ "المخطوط") .]] .
[وَرَوَى فِي تَرْجَمَةِ "عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ"، مِنْ طَرِيقِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ الْآمِدِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ أَبِيهِ، عن عامر ابن رَبِيعَةَ: أَنَّهُ نَزَلَ بِهِ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ، فَأَكْرَمَ عَامِرٌ مَثْوَاهُ، وَكَلَّمَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَجَاءَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ: إِنِّي اسْتَقْطَعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَادِيًا فِي الْعَرَبِ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أقطعَ لَكَ مِنْهُ قِطْعَةً تَكُونُ لَكَ وَلِعَقِبِكَ مِنْ بَعْدِكَ. فَقَالَ عَامِرٌ: لَا حَاجَةَ لِي فِي قَطِيعَتِكَ، نَزَلَتِ الْيَوْمَ سُورَةٌ أَذْهَلَتْنَا عَنِ الدُّنْيَا: ﴿اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ﴾ ] [[زيادة من ف، أ.]] [[تاريخ دمشق (٨/٦٨٠ "المخطوط") .]] .
ثُمَّ أَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُمْ لَا يُصغون إِلَى الْوَحْيِ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ، وَالْخِطَابُ مَعَ قُرَيْشٍ وَمَنْ شَابَهَهُمْ مِنَ الْكُفَّارِ، فَقَالَ: ﴿مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ﴾ أَيْ: جَدِيدٌ إِنْزَالُهُ ﴿إِلا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ﴾ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا لَكُمْ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَمَّا بِأَيْدِيهِمْ وَقَدْ حَرفوه وَبَدَّلُوهُ وَزَادُوا فِيهِ وَنَقَصُوا مِنْهُ، وَكِتَابُكُمْ أَحْدَثُ الْكُتُبِ بِاللَّهِ تَقْرَءُونَهُ مَحْضًا لَمْ يُشَبْ. وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ بِنَحْوِهِ [[صحيح البخاري برقم (٧٥٢٢) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا﴾ أَيْ: قَائِلِينَ فِيمَا بَيْنَهُمْ خفْيَةً ﴿هَلْ هَذَا إِلا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ﴾ يعنونَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، يَسْتَبْعِدُونَ كَوْنَهُ نَبِيًّا؛ لِأَنَّهُ بَشَرٌ مِثْلُهُمْ، فَكَيْفَ اخْتُصَّ بِالْوَحْيِ دُونَهُمْ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ﴾ ؟ أَيْ: أَفَتَتْبَعُونَهُ فَتَكُونُونَ كَمَنْ أَتَى [[في أ: "يأتي".]] السِّحْرَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ سِحْرٌ. فَقَالَ تَعَالَى مُجِيبًا لَهُمْ عَمَّا افْتَرَوْهُ وَاخْتَلَقُوهُ مِنَ الْكَذِبِ.
﴿قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالأرْضِ﴾ أَيِ: الَّذِي يَعْلَمُ ذَلِكَ، لَا يَخْفَى عَلَيْهِ خَافِيَةٌ، وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ هَذَا الْقُرْآنَ الْمُشْتَمِلَ عَلَى خَبَرِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ، الَّذِي لَا يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ أَنْ يَأْتِيَ بمثله، إلا الذي يعلم السر في السموات وَالْأَرْضِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [أَيِ: السَّمِيعُ] [[زيادة من ف، أ.]] لِأَقْوَالِكُمْ، ﴿الْعَلِيم﴾ بِأَحْوَالِكُمْ. وَفِي هَذَا تَهْدِيدٌ لَهُمْ وَوَعِيدٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلامٍ بَلِ افْتَرَاهُ﴾ هَذَا إِخْبَارٌ عَنْ تَعَنُّتِ الْكُفَّارِ وَإِلْحَادِهِمْ، وَاخْتِلَافِهِمْ فِيمَا يَصِفُونَ بِهِ [[في ف، أ: " فيه".]] الْقُرْآنَ، وَحَيْرَتِهِمْ فِيهِ، وَضَلَالِهِمْ عَنْهُ. فَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ سِحْرًا، وَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ شِعْرًا، وَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ أَضْغَاثَ أَحْلَامٍ، وَتَارَةً يَجْعَلُونَهُ مُفْتَرًى، كَمَا قَالَ: ﴿انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الأمْثَالَ فَضَلُّوا فَلا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٤٨، وَالْفُرْقَانِ: ٩] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الأوَّلُونَ﴾ : يَعْنُونَ نَاقَةَ صَالِحٍ، وَآيَاتِ مُوسَى وَعِيسَى. وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالآيَاتِ إِلا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الأوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا﴾ [الْآيَةَ] [[زيادة من ف.]] [الْإِسْرَاءِ: ٥٩] ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿مَا آمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ﴾ أَيْ: مَا آتَيْنَا قَرْيَةً مِنَ الْقُرَى الَّذِينَ بُعِثَ فِيهِمْ الرُّسُلُ آيَةً عَلَى يَدَيْ نَبِيِّهَا فَآمَنُوا بِهَا، بَلْ كَذَّبُوا، فأهلكناهم بِذَلِكَ، أَفَهَؤُلَاءِ يُؤْمِنُونَ بِالْآيَاتِ لَوْ [[في ف: "ولو".]] رَأَوْها دُونَ أُولَئِكَ؟ كَلَّا بَلْ ﴿إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الألِيمَ﴾ [يُونُسَ: ٩٦، ٩٧] .
هَذَا كُلُّهُ، وَقَدْ شَاهَدُوا مِنَ الْآيَاتِ الْبَاهِرَاتِ، وَالْحُجَجِ الْقَاطِعَاتِ، وَالدَّلَائِلِ الْبَيِّنَاتِ، عَلَى يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مَا هُوَ أَظْهَرُ وَأَجْلَى، وَأَبْهَرُ وَأَقْطَعُ وَأَقْهَرُ، مِمَّا شُوهِدَ مَعَ غَيْرِهِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: ذُكِرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ زَيْدٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ، حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، يَقُولُ: كُنَّا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَنَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يُقْرِئُ بَعْضُنَا بَعْضًا الْقُرْآنَ، فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بن أبي بن سَلُولَ، وَمَعَهُ نُمْرُقة وزِرْبِيّة، فَوَضَعَ وَاتَّكَأَ، وَكَانَ صَبِيحًا فَصِيحًا جَدِلًا فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، قُلْ لِمُحَمَّدٍ يَأْتِينَا بِآيَةٍ كَمَا جَاءَ الْأَوَّلُونَ؟ جَاءَ مُوسَى بِالْأَلْوَاحِ، وَجَاءَ دَاوُدُ بِالزَّبُورِ، وَجَاءَ صَالِحٌ بِالنَّاقَةِ، وَجَاءَ عِيسَى بِالْإِنْجِيلِ وَبِالْمَائِدَةِ. فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: قُومُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ [[في ف: "إلى رسوله".]] ﷺ نَسْتَغِيثُ بِهِ مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّهُ لَا يُقَامُ لِي، إِنَّمَا يُقَامُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ". فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَقِينَا مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ:"إِنَّ [[في ف: "أتى".]] جِبْرِيلَ قَالَ [[في ف: "فقال".]] لِي: اخْرُجْ فَأَخْبِرْ بِنِعَمِ اللَّهِ الَّتِي أَنْعَمَ بِهَا عَلَيْكَ، وَفَضِيلَتِهِ الَّتِي فُضِّلت بِهَا، فَبَشَّرَنِي أَنِّي بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُنْذِرَ الْجِنَّ، وَآتَانِي كِتَابَهُ وَأَنَا أُمِّيٌّ، وَغَفَرَ ذَنْبِي مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَأَخَّرَ، وَذَكَرَ اسْمِي فِي الْأَذَانِ وَأَيَّدَنِي [[في أ: "وأمرني".]] بِالْمَلَائِكَةِ، وَآتَانِي النَّصْرَ، وَجَعَلَ الرُّعْبَ أَمَامِي، وَآتَانِي الْكَوْثَرَ، وَجَعَلَ حَوْضِي مِنْ أَعْظَمِ الْحِيَاضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَوَعَدَنِي الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ وَالنَّاسُ مُهْطِعُونَ مُقْنِعُو [[في ف: "مقنعي".]] رُءُوسِهِمْ، وَجَعَلَنِي فِي أَوَّلِ زُمْرَةٍ تَخْرُجُ مِنَ النَّاسِ، وَأَدْخَلَ فِي شَفَاعَتِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَآتَانِي السُّلْطَانَ وَالْمُلْكَ، وَجَعَلَنِي فِي أَعْلَى غُرْفَةٍ فِي الْجَنَّةِ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ [[في ف، أ: "عدن".]] ، فَلَيْسَ فَوْقِي أَحَدٌ إِلَّا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ، وَأَحَلَّ لِيَ [[في ف، أ: "لي ولأمتي".]] الْغَنَائِمَ [[في أ: "المغانم".]] ، وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلَنَا". وَهَذَا الْحَدِيثُ غَرِيبٌ جِدًّا.
وَمَآ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًۭا نُّوحِىٓ إِلَيْهِمْ ۖ فَسْـَٔلُوٓا۟ أَهْلَ ٱلذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
And We sent not before you, [O Muhammad], except men to whom We revealed [the message], so ask the people of the message if you do not know.
اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی (پیغمبر بنا کر) بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں ان سے پوچھ لو
ما پیش از تو، جز مردانی که به آنان وحی میکردیم، نفرستادیم! (همه انسان بودند، و از جنس بشر!) اگر نمیدانید، از آگاهان بپرسید.
Tafsir Ibn Kathir
And We sent not before you but men to whom We revealed. So ask the people of the Reminder if you do not know (7)And We did not place them in bodies that did not eat food, nor were they immortals (8)Then We fulfilled to them the promise. So We saved them and those whom We willed, but We destroyed Al-Musrifin (9)
The Messengers are no more than Human Beings
Here Allah refutes those who denied that human Messengers could be sent:
وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِمْ
(And We sent not before you but men to whom We revealed.) meaning, all the Messengers who came before you were men, human beings. There were no angels among them. This is like the Ayat:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ
(And We sent not before you any but men unto whom We revealed, from among the people of townships)(12:109)
قُلْ مَا كُنتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ
(Say: "I am not a new thing among the Messengers...)(46:9) Allah tells us that the previous nations denied that and said:
أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا
("Shall mere men guide us?")(64:6). So Allah says here:
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
(So ask the people of the Reminder if you do not know.) meaning, ask the people of knowledge among the nations such as the Jews and Christians and other groups: 'were the Messengers who came to you human beings or angels?' Indeed they were human beings. This is a part of the perfect blessing of Allah towards His creation: He sent to them Messengers from among themselves so that they could receive the Message from them and learn from them.
وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ
(And We did not place them in bodies that did not eat food...) meaning, rather they had bodies that ate food, as Allah says:
وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ
(And We never sent before you any of the Messengers but verily, they ate food and walked in the markets)[25:20] meaning, they were human beings who ate and drank like all other people, and they went to the marketplaces to earn a living and engage in business; that did not affect them adversely or reduce their status in any way, as the idolators imagined.
مَالِ هَٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ۙ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا - أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا
(And they say: "Why does this Messenger eat food, and walk about in the markets. Why is not an angel sent down to him to be a warner with him? Or (why) has not a treasure been granted to him, or why has he not a garden whereof he may eat?")(25:7-8)
وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ
(nor were they immortals) meaning, in this world; on the contrary, they lived, then they died.
وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِكَ الْخُلْدَ
(And We granted not to any human being immortality before you)(21:34) But what distinguished them from others was that they received revelation from Allah, and the angels brought down to them from Allah His rulings concerning His creation, what He commanded and what He prohibited.
ثُمَّ صَدَقْنَاهُمُ الْوَعْدَ
Then We fulfilled to them the promise. the promise that their Lord made to destroy the evildoers. Allah fulfilled His promise and did that. He says:
فَأَنجَيْنَاهُمْ وَمَن نَّشَاءُ
(So We saved them and those whom We willed,) meaning, their followers among the believers,
وَأَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِينَ
(but We destroyed Al-Musrifin.) meaning, those who disbelieved the Message brought by the Messengers.
Tafsir Ibn Kathir
مشرکین مکہ رسول اللہ ﷺ کی بشریت کے منکر تھے چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول اللہ ﷺ ہو، اس لئے اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدے کی تردید کرتا ہے فرماتا ہے تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب انسان ہی تھے ایک بھی فرشتہ نہ تھا جیسے دوسری آیت میں ہے (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 21۔ الأنبیاء :7) یعنی تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے اور ان کی طرف وحی نازل فرمائی سب شہروں کے رہنے والے انسان ہی تھے۔ اور آیت میں ہے (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی کہہ دے کہ میں کوئی نیا اور انوکھا اور سب سے پہلا رسول تو ہوں ہی نہیں۔ ان کافروں سے پہلے کے کفار نے بھی نبیوں کے نہ ماننے کا یہی حیلہ اٹھایا تھا جسے قرآن نے بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا تھا آیت (البشریہدوننا) کیا ایک انسان ہمارا رہبر ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ اچھا تم اہل علم سے یعنی یہودیوں اور نصرانیوں سے اور دوسرے گروہ سے پوچھ لو کہ ان کے پاس انسان ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یا فرشتے ؟ یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ انسانوں کے پاس انہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کے پاس بیٹھ اٹھ سکیں، ان کی تعلیم حاصل کرسکیں اور ان کی باتیں سن سمجھ سکیں۔ کیا وہ اگلے پیغمبر سب کے سب ایسے جسم کے نہ تھے جو کھانے پینے کی حاجت نہ رکھتے ہوں۔ بلکہ وہ کھانے پینے کے محتاج تھے جیسے فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً ۭ اَتَصْبِرُوْنَ ۚ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا 20) 25۔ الفرقان :20) یعنی تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں آمد ورفت بھی کرتے تھے یعنی وہ سب انسان تھے انسانوں کی طرح کھاتے پیتے تھے اور کام کاج بیوپار تجارت کے لئے بازاروں میں بھی آنا جانا رکھتے تھے۔ پس یہ بات ان کی پیغمبری کے منافی نہیں۔ جیسے مشرکین کا قول تھا آیت (وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرًا) 25۔ الفرقان :7) ، یعنی یہ رسول کیسا ہے ؟ جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا کہ وہ بھی اس کے ساتھ اس کے دین کی تبلیغ کرتا اچھا یہ نہیں تو اسے کسی خزانے کا مالک کیوں نہیں کردیا جاتا یا اسے کوئی باغ ہی دے دیا جاتا جس سے یہ با فراغت کھاپی لیتا۔ الخ۔ اسی طرح اگلے پیغمبر بھی دنیا میں نہ رہے آئے اور گئے جیسے فرمان ہے آیت (وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ 34) 21۔ الأنبیاء :34) یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کو دوام نہیں بخشا۔ ان کے پاس البتہ وحی الٰہی آتی رہی فرشتہ اللہ کے حکم احکام پہنچا دیا کرتے تھا۔ پھر رب کا جو وعدہ ان سے تھا وہ سچا ہو کر رہا یعنی ان کے مخالفین بوجہ اپنے ظلم کے تباہ ہوگئے اور وہ نجات پاگئے۔ ان کے تابعدار بھی کامیاب ہوئے اور حد سے گزر جانے والوں کو یعنی نبیوں کے جھٹلانے والوں کو اللہ نے ہلاک کردیا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى رادِّا عَلَى مَنْ أَنْكَرَ بِعْثَةَ الرُّسُلِ مِنَ الْبَشَرِ: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلا رِجَالا يُوحَى [[في ف، أ: "نوحي".]] إِلَيْهِمْ﴾
أَيْ: جَمِيعُ الرُّسُلِ الَّذِينَ تَقَدَّمُوا كَانُوا رِجَالًا مِنَ الْبَشَرِ، لَمْ يَكُنْ فِيهِمْ أَحَدٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، كَمَا قَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلا رِجَالا يُوحَى [[في ف، أ: "نوحي".]] إِلَيْهِمْ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى﴾ [يُوسُفَ: ١٠٩] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ﴾ [الْأَحْقَافِ:٩] ، وَقَالَ تَعَالَى حِكَايَةً عَمَّنْ تَقَدَّمَ مِنَ الْأُمَمِ أَنَّهُمْ أَنْكَرُوا ذَلِكَ فَقَالُوا: ﴿أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا﴾ [التَّغَابُنِ:٦] ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ أَيِ:اسْأَلُوا أَهْلَ الْعِلْمِ مِنَ الْأُمَمِ كَالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَسَائِرِ الطَّوَائِفِ: هَلْ كَانَ الرُّسُلُ الَّذِينَ أَتَوْهُمْ بَشَرًا أَوْ مَلَائِكَةً؟ إِنَّمَا كَانُوا بَشَرًا، وَذَلِكَ مِنْ تَمَامِ نِعمَ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ؛ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رُسُلًا [[في ف، أ: "رسولا"، وهو خطأ.]] مِنْهُمْ يَتَمَكَّنُونَ مِنْ تَنَاوُلِ الْبَلَاغِ مِنْهُمْ وَالْأَخْذِ عَنْهُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ﴾ أَيْ: بَلْ قَدْ كَانُوا أَجْسَادًا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الأسْوَاقِ﴾ [الْفُرْقَانِ:٢٠] أَيْ: قَدْ كَانُوا بَشَرًا مِنَ الْبَشَرِ، يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ مِثْلَ النَّاسِ، وَيَدْخُلُونَ الْأَسْوَاقَ لِلتَّكَسُّبِ وَالتِّجَارَةِ، وَلَيْسَ ذَلِكَ بِضَارٍّ لَهُمْ وَلَا نَاقِصٍ مِنْهُمْ شَيْئًا، كَمَا تَوَهَّمَهُ الْمُشْرِكُونَ فِي قَوْلِهِمْ: ﴿مَالِ هَذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الأسْوَاقِ لَوْلا أُنزلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَى إِلَيْهِ كَنز أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلا رَجُلا مَسْحُورًا﴾ [الْفُرْقَانِ: ٧، ٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ﴾ أَيْ: فِي الدُّنْيَا، بَلْ كَانُوا يَعِيشُونَ ثُمَّ يَمُوتُونَ، ﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٣٤] ، وَخَاصَّتُهُمْ أَنَّهُمْ يُوحَى إِلَيْهِمْ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، تَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ عَنِ اللَّهِ بِمَا يَحْكُمُ [[في ف: "يحكمه".]] فِي خَلْقِهِ مِمَّا يَأْمُرُ بِهِ وَيَنْهَى عَنْهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿ثُمَّ صَدَقْنَاهُمُ الْوَعْدَ﴾ أَيِ: الَّذِي وَعَدَهُمْ رَبُّهُمْ: "لَيُهْلِكَنَّ الظَّالِمِينَ"، صَدَقَهُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ فَفَعَلَ ذَلِكَ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَأَنْجَيْنَاهُمْ وَمَنْ نَشَاءُ﴾ أَيْ: أَتْبَاعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، ﴿وَأَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِينَ﴾ أَيِ: الْمُكَذِّبِينَ بِمَا جَاءَتِ الرُّسُلُ بِهِ.
وَمَا جَعَلْنَٰهُمْ جَسَدًۭا لَّا يَأْكُلُونَ ٱلطَّعَامَ وَمَا كَانُوا۟ خَٰلِدِينَ
And We did not make the prophets forms not eating food, nor were they immortal [on earth].
اور ہم نے ان کے لئے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے
آنان را پیکرهایی که غذا نخورند قرار ندادیم! عمر جاویدان هم نداشتند!
Tafsir Ibn Kathir
And We sent not before you but men to whom We revealed. So ask the people of the Reminder if you do not know (7)And We did not place them in bodies that did not eat food, nor were they immortals (8)Then We fulfilled to them the promise. So We saved them and those whom We willed, but We destroyed Al-Musrifin (9)
The Messengers are no more than Human Beings
Here Allah refutes those who denied that human Messengers could be sent:
وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِمْ
(And We sent not before you but men to whom We revealed.) meaning, all the Messengers who came before you were men, human beings. There were no angels among them. This is like the Ayat:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ
(And We sent not before you any but men unto whom We revealed, from among the people of townships)(12:109)
قُلْ مَا كُنتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ
(Say: "I am not a new thing among the Messengers...)(46:9) Allah tells us that the previous nations denied that and said:
أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا
("Shall mere men guide us?")(64:6). So Allah says here:
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
(So ask the people of the Reminder if you do not know.) meaning, ask the people of knowledge among the nations such as the Jews and Christians and other groups: 'were the Messengers who came to you human beings or angels?' Indeed they were human beings. This is a part of the perfect blessing of Allah towards His creation: He sent to them Messengers from among themselves so that they could receive the Message from them and learn from them.
وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ
(And We did not place them in bodies that did not eat food...) meaning, rather they had bodies that ate food, as Allah says:
وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ
(And We never sent before you any of the Messengers but verily, they ate food and walked in the markets)[25:20] meaning, they were human beings who ate and drank like all other people, and they went to the marketplaces to earn a living and engage in business; that did not affect them adversely or reduce their status in any way, as the idolators imagined.
مَالِ هَٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ۙ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا - أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا
(And they say: "Why does this Messenger eat food, and walk about in the markets. Why is not an angel sent down to him to be a warner with him? Or (why) has not a treasure been granted to him, or why has he not a garden whereof he may eat?")(25:7-8)
وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ
(nor were they immortals) meaning, in this world; on the contrary, they lived, then they died.
وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِكَ الْخُلْدَ
(And We granted not to any human being immortality before you)(21:34) But what distinguished them from others was that they received revelation from Allah, and the angels brought down to them from Allah His rulings concerning His creation, what He commanded and what He prohibited.
ثُمَّ صَدَقْنَاهُمُ الْوَعْدَ
Then We fulfilled to them the promise. the promise that their Lord made to destroy the evildoers. Allah fulfilled His promise and did that. He says:
فَأَنجَيْنَاهُمْ وَمَن نَّشَاءُ
(So We saved them and those whom We willed,) meaning, their followers among the believers,
وَأَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِينَ
(but We destroyed Al-Musrifin.) meaning, those who disbelieved the Message brought by the Messengers.
Tafsir Ibn Kathir
مشرکین مکہ رسول اللہ ﷺ کی بشریت کے منکر تھے چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول اللہ ﷺ ہو، اس لئے اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدے کی تردید کرتا ہے فرماتا ہے تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب انسان ہی تھے ایک بھی فرشتہ نہ تھا جیسے دوسری آیت میں ہے (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 21۔ الأنبیاء :7) یعنی تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے اور ان کی طرف وحی نازل فرمائی سب شہروں کے رہنے والے انسان ہی تھے۔ اور آیت میں ہے (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی کہہ دے کہ میں کوئی نیا اور انوکھا اور سب سے پہلا رسول تو ہوں ہی نہیں۔ ان کافروں سے پہلے کے کفار نے بھی نبیوں کے نہ ماننے کا یہی حیلہ اٹھایا تھا جسے قرآن نے بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا تھا آیت (البشریہدوننا) کیا ایک انسان ہمارا رہبر ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ اچھا تم اہل علم سے یعنی یہودیوں اور نصرانیوں سے اور دوسرے گروہ سے پوچھ لو کہ ان کے پاس انسان ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یا فرشتے ؟ یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ انسانوں کے پاس انہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کے پاس بیٹھ اٹھ سکیں، ان کی تعلیم حاصل کرسکیں اور ان کی باتیں سن سمجھ سکیں۔ کیا وہ اگلے پیغمبر سب کے سب ایسے جسم کے نہ تھے جو کھانے پینے کی حاجت نہ رکھتے ہوں۔ بلکہ وہ کھانے پینے کے محتاج تھے جیسے فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً ۭ اَتَصْبِرُوْنَ ۚ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا 20) 25۔ الفرقان :20) یعنی تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں آمد ورفت بھی کرتے تھے یعنی وہ سب انسان تھے انسانوں کی طرح کھاتے پیتے تھے اور کام کاج بیوپار تجارت کے لئے بازاروں میں بھی آنا جانا رکھتے تھے۔ پس یہ بات ان کی پیغمبری کے منافی نہیں۔ جیسے مشرکین کا قول تھا آیت (وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرًا) 25۔ الفرقان :7) ، یعنی یہ رسول کیسا ہے ؟ جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا کہ وہ بھی اس کے ساتھ اس کے دین کی تبلیغ کرتا اچھا یہ نہیں تو اسے کسی خزانے کا مالک کیوں نہیں کردیا جاتا یا اسے کوئی باغ ہی دے دیا جاتا جس سے یہ با فراغت کھاپی لیتا۔ الخ۔ اسی طرح اگلے پیغمبر بھی دنیا میں نہ رہے آئے اور گئے جیسے فرمان ہے آیت (وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ 34) 21۔ الأنبیاء :34) یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کو دوام نہیں بخشا۔ ان کے پاس البتہ وحی الٰہی آتی رہی فرشتہ اللہ کے حکم احکام پہنچا دیا کرتے تھا۔ پھر رب کا جو وعدہ ان سے تھا وہ سچا ہو کر رہا یعنی ان کے مخالفین بوجہ اپنے ظلم کے تباہ ہوگئے اور وہ نجات پاگئے۔ ان کے تابعدار بھی کامیاب ہوئے اور حد سے گزر جانے والوں کو یعنی نبیوں کے جھٹلانے والوں کو اللہ نے ہلاک کردیا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى رادِّا عَلَى مَنْ أَنْكَرَ بِعْثَةَ الرُّسُلِ مِنَ الْبَشَرِ: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلا رِجَالا يُوحَى [[في ف، أ: "نوحي".]] إِلَيْهِمْ﴾
أَيْ: جَمِيعُ الرُّسُلِ الَّذِينَ تَقَدَّمُوا كَانُوا رِجَالًا مِنَ الْبَشَرِ، لَمْ يَكُنْ فِيهِمْ أَحَدٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، كَمَا قَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلا رِجَالا يُوحَى [[في ف، أ: "نوحي".]] إِلَيْهِمْ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى﴾ [يُوسُفَ: ١٠٩] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ﴾ [الْأَحْقَافِ:٩] ، وَقَالَ تَعَالَى حِكَايَةً عَمَّنْ تَقَدَّمَ مِنَ الْأُمَمِ أَنَّهُمْ أَنْكَرُوا ذَلِكَ فَقَالُوا: ﴿أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا﴾ [التَّغَابُنِ:٦] ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ أَيِ:اسْأَلُوا أَهْلَ الْعِلْمِ مِنَ الْأُمَمِ كَالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَسَائِرِ الطَّوَائِفِ: هَلْ كَانَ الرُّسُلُ الَّذِينَ أَتَوْهُمْ بَشَرًا أَوْ مَلَائِكَةً؟ إِنَّمَا كَانُوا بَشَرًا، وَذَلِكَ مِنْ تَمَامِ نِعمَ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ؛ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رُسُلًا [[في ف، أ: "رسولا"، وهو خطأ.]] مِنْهُمْ يَتَمَكَّنُونَ مِنْ تَنَاوُلِ الْبَلَاغِ مِنْهُمْ وَالْأَخْذِ عَنْهُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ﴾ أَيْ: بَلْ قَدْ كَانُوا أَجْسَادًا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الأسْوَاقِ﴾ [الْفُرْقَانِ:٢٠] أَيْ: قَدْ كَانُوا بَشَرًا مِنَ الْبَشَرِ، يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ مِثْلَ النَّاسِ، وَيَدْخُلُونَ الْأَسْوَاقَ لِلتَّكَسُّبِ وَالتِّجَارَةِ، وَلَيْسَ ذَلِكَ بِضَارٍّ لَهُمْ وَلَا نَاقِصٍ مِنْهُمْ شَيْئًا، كَمَا تَوَهَّمَهُ الْمُشْرِكُونَ فِي قَوْلِهِمْ: ﴿مَالِ هَذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الأسْوَاقِ لَوْلا أُنزلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَى إِلَيْهِ كَنز أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلا رَجُلا مَسْحُورًا﴾ [الْفُرْقَانِ: ٧، ٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ﴾ أَيْ: فِي الدُّنْيَا، بَلْ كَانُوا يَعِيشُونَ ثُمَّ يَمُوتُونَ، ﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٣٤] ، وَخَاصَّتُهُمْ أَنَّهُمْ يُوحَى إِلَيْهِمْ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، تَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ عَنِ اللَّهِ بِمَا يَحْكُمُ [[في ف: "يحكمه".]] فِي خَلْقِهِ مِمَّا يَأْمُرُ بِهِ وَيَنْهَى عَنْهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿ثُمَّ صَدَقْنَاهُمُ الْوَعْدَ﴾ أَيِ: الَّذِي وَعَدَهُمْ رَبُّهُمْ: "لَيُهْلِكَنَّ الظَّالِمِينَ"، صَدَقَهُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ فَفَعَلَ ذَلِكَ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَأَنْجَيْنَاهُمْ وَمَنْ نَشَاءُ﴾ أَيْ: أَتْبَاعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، ﴿وَأَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِينَ﴾ أَيِ: الْمُكَذِّبِينَ بِمَا جَاءَتِ الرُّسُلُ بِهِ.
ثُمَّ صَدَقْنَٰهُمُ ٱلْوَعْدَ فَأَنجَيْنَٰهُمْ وَمَن نَّشَآءُ وَأَهْلَكْنَا ٱلْمُسْرِفِينَ
Then We fulfilled for them the promise, and We saved them and whom We willed and destroyed the transgressors.
پھر ہم نے ان کے بارے میں (اپنا) وعدہ سچا کردیا تو ان کو اور جس کو چاہا نجات دی اور حد سے نکل جانے والوں کو ہلاک کردیا
سپس وعدهای را که به آنان داده بودیم، وفا کردیم! آنها و هر کس را که میخواستیم (از چنگ دشمنانشان) نجات دادیم؛ و مسرفان را هلاک نمودیم!
Tafsir Ibn Kathir
And We sent not before you but men to whom We revealed. So ask the people of the Reminder if you do not know (7)And We did not place them in bodies that did not eat food, nor were they immortals (8)Then We fulfilled to them the promise. So We saved them and those whom We willed, but We destroyed Al-Musrifin (9)
The Messengers are no more than Human Beings
Here Allah refutes those who denied that human Messengers could be sent:
وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِمْ
(And We sent not before you but men to whom We revealed.) meaning, all the Messengers who came before you were men, human beings. There were no angels among them. This is like the Ayat:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ
(And We sent not before you any but men unto whom We revealed, from among the people of townships)(12:109)
قُلْ مَا كُنتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ
(Say: "I am not a new thing among the Messengers...)(46:9) Allah tells us that the previous nations denied that and said:
أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا
("Shall mere men guide us?")(64:6). So Allah says here:
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
(So ask the people of the Reminder if you do not know.) meaning, ask the people of knowledge among the nations such as the Jews and Christians and other groups: 'were the Messengers who came to you human beings or angels?' Indeed they were human beings. This is a part of the perfect blessing of Allah towards His creation: He sent to them Messengers from among themselves so that they could receive the Message from them and learn from them.
وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ
(And We did not place them in bodies that did not eat food...) meaning, rather they had bodies that ate food, as Allah says:
وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ
(And We never sent before you any of the Messengers but verily, they ate food and walked in the markets)[25:20] meaning, they were human beings who ate and drank like all other people, and they went to the marketplaces to earn a living and engage in business; that did not affect them adversely or reduce their status in any way, as the idolators imagined.
مَالِ هَٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ۙ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا - أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا
(And they say: "Why does this Messenger eat food, and walk about in the markets. Why is not an angel sent down to him to be a warner with him? Or (why) has not a treasure been granted to him, or why has he not a garden whereof he may eat?")(25:7-8)
وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ
(nor were they immortals) meaning, in this world; on the contrary, they lived, then they died.
وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِكَ الْخُلْدَ
(And We granted not to any human being immortality before you)(21:34) But what distinguished them from others was that they received revelation from Allah, and the angels brought down to them from Allah His rulings concerning His creation, what He commanded and what He prohibited.
ثُمَّ صَدَقْنَاهُمُ الْوَعْدَ
Then We fulfilled to them the promise. the promise that their Lord made to destroy the evildoers. Allah fulfilled His promise and did that. He says:
فَأَنجَيْنَاهُمْ وَمَن نَّشَاءُ
(So We saved them and those whom We willed,) meaning, their followers among the believers,
وَأَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِينَ
(but We destroyed Al-Musrifin.) meaning, those who disbelieved the Message brought by the Messengers.
Tafsir Ibn Kathir
مشرکین مکہ رسول اللہ ﷺ کی بشریت کے منکر تھے چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول اللہ ﷺ ہو، اس لئے اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدے کی تردید کرتا ہے فرماتا ہے تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب انسان ہی تھے ایک بھی فرشتہ نہ تھا جیسے دوسری آیت میں ہے (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 21۔ الأنبیاء :7) یعنی تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے اور ان کی طرف وحی نازل فرمائی سب شہروں کے رہنے والے انسان ہی تھے۔ اور آیت میں ہے (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی کہہ دے کہ میں کوئی نیا اور انوکھا اور سب سے پہلا رسول تو ہوں ہی نہیں۔ ان کافروں سے پہلے کے کفار نے بھی نبیوں کے نہ ماننے کا یہی حیلہ اٹھایا تھا جسے قرآن نے بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا تھا آیت (البشریہدوننا) کیا ایک انسان ہمارا رہبر ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ اچھا تم اہل علم سے یعنی یہودیوں اور نصرانیوں سے اور دوسرے گروہ سے پوچھ لو کہ ان کے پاس انسان ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یا فرشتے ؟ یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ انسانوں کے پاس انہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کے پاس بیٹھ اٹھ سکیں، ان کی تعلیم حاصل کرسکیں اور ان کی باتیں سن سمجھ سکیں۔ کیا وہ اگلے پیغمبر سب کے سب ایسے جسم کے نہ تھے جو کھانے پینے کی حاجت نہ رکھتے ہوں۔ بلکہ وہ کھانے پینے کے محتاج تھے جیسے فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً ۭ اَتَصْبِرُوْنَ ۚ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا 20) 25۔ الفرقان :20) یعنی تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں آمد ورفت بھی کرتے تھے یعنی وہ سب انسان تھے انسانوں کی طرح کھاتے پیتے تھے اور کام کاج بیوپار تجارت کے لئے بازاروں میں بھی آنا جانا رکھتے تھے۔ پس یہ بات ان کی پیغمبری کے منافی نہیں۔ جیسے مشرکین کا قول تھا آیت (وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرًا) 25۔ الفرقان :7) ، یعنی یہ رسول کیسا ہے ؟ جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا کہ وہ بھی اس کے ساتھ اس کے دین کی تبلیغ کرتا اچھا یہ نہیں تو اسے کسی خزانے کا مالک کیوں نہیں کردیا جاتا یا اسے کوئی باغ ہی دے دیا جاتا جس سے یہ با فراغت کھاپی لیتا۔ الخ۔ اسی طرح اگلے پیغمبر بھی دنیا میں نہ رہے آئے اور گئے جیسے فرمان ہے آیت (وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ 34) 21۔ الأنبیاء :34) یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کو دوام نہیں بخشا۔ ان کے پاس البتہ وحی الٰہی آتی رہی فرشتہ اللہ کے حکم احکام پہنچا دیا کرتے تھا۔ پھر رب کا جو وعدہ ان سے تھا وہ سچا ہو کر رہا یعنی ان کے مخالفین بوجہ اپنے ظلم کے تباہ ہوگئے اور وہ نجات پاگئے۔ ان کے تابعدار بھی کامیاب ہوئے اور حد سے گزر جانے والوں کو یعنی نبیوں کے جھٹلانے والوں کو اللہ نے ہلاک کردیا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى رادِّا عَلَى مَنْ أَنْكَرَ بِعْثَةَ الرُّسُلِ مِنَ الْبَشَرِ: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلا رِجَالا يُوحَى [[في ف، أ: "نوحي".]] إِلَيْهِمْ﴾
أَيْ: جَمِيعُ الرُّسُلِ الَّذِينَ تَقَدَّمُوا كَانُوا رِجَالًا مِنَ الْبَشَرِ، لَمْ يَكُنْ فِيهِمْ أَحَدٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، كَمَا قَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلا رِجَالا يُوحَى [[في ف، أ: "نوحي".]] إِلَيْهِمْ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى﴾ [يُوسُفَ: ١٠٩] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ﴾ [الْأَحْقَافِ:٩] ، وَقَالَ تَعَالَى حِكَايَةً عَمَّنْ تَقَدَّمَ مِنَ الْأُمَمِ أَنَّهُمْ أَنْكَرُوا ذَلِكَ فَقَالُوا: ﴿أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا﴾ [التَّغَابُنِ:٦] ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ أَيِ:اسْأَلُوا أَهْلَ الْعِلْمِ مِنَ الْأُمَمِ كَالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَسَائِرِ الطَّوَائِفِ: هَلْ كَانَ الرُّسُلُ الَّذِينَ أَتَوْهُمْ بَشَرًا أَوْ مَلَائِكَةً؟ إِنَّمَا كَانُوا بَشَرًا، وَذَلِكَ مِنْ تَمَامِ نِعمَ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ؛ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رُسُلًا [[في ف، أ: "رسولا"، وهو خطأ.]] مِنْهُمْ يَتَمَكَّنُونَ مِنْ تَنَاوُلِ الْبَلَاغِ مِنْهُمْ وَالْأَخْذِ عَنْهُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ﴾ أَيْ: بَلْ قَدْ كَانُوا أَجْسَادًا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الأسْوَاقِ﴾ [الْفُرْقَانِ:٢٠] أَيْ: قَدْ كَانُوا بَشَرًا مِنَ الْبَشَرِ، يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ مِثْلَ النَّاسِ، وَيَدْخُلُونَ الْأَسْوَاقَ لِلتَّكَسُّبِ وَالتِّجَارَةِ، وَلَيْسَ ذَلِكَ بِضَارٍّ لَهُمْ وَلَا نَاقِصٍ مِنْهُمْ شَيْئًا، كَمَا تَوَهَّمَهُ الْمُشْرِكُونَ فِي قَوْلِهِمْ: ﴿مَالِ هَذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الأسْوَاقِ لَوْلا أُنزلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَى إِلَيْهِ كَنز أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلا رَجُلا مَسْحُورًا﴾ [الْفُرْقَانِ: ٧، ٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ﴾ أَيْ: فِي الدُّنْيَا، بَلْ كَانُوا يَعِيشُونَ ثُمَّ يَمُوتُونَ، ﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٣٤] ، وَخَاصَّتُهُمْ أَنَّهُمْ يُوحَى إِلَيْهِمْ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، تَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ عَنِ اللَّهِ بِمَا يَحْكُمُ [[في ف: "يحكمه".]] فِي خَلْقِهِ مِمَّا يَأْمُرُ بِهِ وَيَنْهَى عَنْهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿ثُمَّ صَدَقْنَاهُمُ الْوَعْدَ﴾ أَيِ: الَّذِي وَعَدَهُمْ رَبُّهُمْ: "لَيُهْلِكَنَّ الظَّالِمِينَ"، صَدَقَهُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ فَفَعَلَ ذَلِكَ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَأَنْجَيْنَاهُمْ وَمَنْ نَشَاءُ﴾ أَيْ: أَتْبَاعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، ﴿وَأَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِينَ﴾ أَيِ: الْمُكَذِّبِينَ بِمَا جَاءَتِ الرُّسُلُ بِهِ.
لَقَدْ أَنزَلْنَآ إِلَيْكُمْ كِتَٰبًۭا فِيهِ ذِكْرُكُمْ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
We have certainly sent down to you a Book in which is your mention. Then will you not reason?
ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے۔ کیا تم نہیں سمجھتے
ما بر شما کتابی نازل کردیم که وسیله تذکّر (و بیداری) شما در آن است! آیا نمیفهمید؟!
Tafsir Ibn Kathir
Indeed, We have sent down for you a Book in which there is Dhikrukum. Will you not then understand (10)How many a town given to wrongdoing, have We destroyed, and raised up after them another people (11)Then, when they sensed Our torment, behold, they (tried to) flee from it (12)Flee not, but return to that wherein you lived a luxurious life, and to your homes, in order that you may be questioned (13)They cried: "Woe to us! Certainly we have been wrongdoers. (14)And that cry of theirs ceased not, till We made them as a field that is reaped, extinct (15)
The Virtue of the Qur'an
Here Allah points out the noble status of the Qur'an and urges them to recognize its worth:
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ
(Indeed, We have sent down for you a Book in which there is Dhikrukum). Ibn 'Abbas said: "Honor for you."
أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(Will you not then understand?) means, will you not understand this blessing, and accept it? This is like the Ayah:
وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۖ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ
(And verily, this is indeed a Reminder for you and your people, and you will be questioned.)(43:44)
How the Evildoers were destroyed
وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً
(How many a town given to wrongdoing, have We destroyed,) meaning, they were very many. This is like the Ayah:
وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ
(And how many generations have We destroyed after Nuh!)(17:17)
فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا
(And many a township did We destroy while they were given to wrongdoing, so that it lie in ruins)(22:45).
وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ
(and raised up after them another people!) means, another nation which came after them.
فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا
(Then, when they sensed Our torment,) when they realized that the torment would undoubtedly come upon them, just as their Prophet had warned them,
إِذَا هُم مِّنْهَا يَرْكُضُونَ
(behold, they (tried to) flee from it.) they tried to run away.
لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَىٰ مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ
(Flee not, but return to that wherein you lived a luxurious life, and to your homes,) This is a way of ridiculing them. It will be said to them by way of ridicule: "Do not run away from the coming torment; go back to the delights and luxuries and fine homes in which you were living." Qatadah said, "Mocking them."
لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ
(in order that you may be questioned) about whether you gave thanks for what you had.
قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
(They cried: "Woe to us! Certainly we have been wrongdoers.") They will confess their sins when it will be of no benefit to them.
فَمَا زَالَت تِّلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّىٰ جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ
(And that cry of theirs ceased not, till We made them as a field that is reaped, extinct.) meaning, "they will keep on saying that, admitting their wrongdoing, until We harvest them as it were, and their movements and voices come to a stop."
Tafsir Ibn Kathir
قدر ناشناس لوگ اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر ومنزلت پر رغبت دلانے کے لئے فرماتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے ؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو ؟ جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۚ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ 44) 43۔ الزخرف :44) تیرے لئے اور تیری قوم کے لئے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی ابھی سوال کئے جاؤگے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے۔ اور آیت میں ہے ہم نے نوح ؑ کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کردیں۔ اور آیت میں ہے کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کردیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی۔ ان کے ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنادیا ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا یقین ہوگیا کہ اللہ کے نبی ؑ کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے۔ تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے۔ لگے ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے۔ اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش و عشرت کے سامانوں میں پھر آجاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہوجائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں ؟ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے صاف کہیں گے کہ بیشک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بےنفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہوجائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا آنا جانا بولنا چالنا سب ایک قلم بند ہوجائے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُنَبِّهًا عَلَى شَرَفِ الْقُرْآنِ، وَمُحَرِّضًا لَهُمْ عَلَى مَعْرِفَةِ قَدْرِهِ: ﴿لَقَدْ أَنزلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: شَرَفُكم.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: حَدِيثُكُمْ. وَقَالَ الْحَسَنُ: دِينُكُمْ.
﴿وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٤٤] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَكَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً﴾ هَذِهِ صِيغَةُ تَكْثِيرٍ، كَمَا قَالَ ﴿وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِنْ بَعْدِ نُوحٍ﴾ [الْإِسْرَاءِ: ١٧] .
وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَكَأَيِّنْ [[في ف: "وكأين".]] مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَشِيدٍ﴾ [الْحَجِّ:٤٥] . وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَنْشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ﴾ أَيْ: أُمَّةً أُخْرَى بَعْدَهُمْ.
﴿فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا﴾ أَيْ: تَيَقَّنُوا أَنَّ الْعَذَابَ وَاقِعٌ [[في ف: "تيقنوا العذاب أنه واقع".]] بِهِمْ، كَمَا وَعَدَهُمْ نَبِيُّهُمْ، ﴿إِذَا هُمْ مِنْهَا يَرْكُضُونَ﴾ أَيْ: يَفِرُّونَ هَارِبِينَ.
﴿لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَى مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ﴾ هَذَا تَهَكُّمٌ بِهِمْ قَدَرًا أَيْ: قِيلَ لَهُمْ قَدَرًا: لَا تَرْكُضُوا هَارِبِينَ مِنْ نُزُولِ الْعَذَابِ، وَارْجِعُوا إِلَى مَا كُنْتُمْ فِيهِ مِنَ النِّعْمَةِ وَالسُّرُورِ، وَالْمَعِيشَةِ وَالْمَسَاكِنِ الطَّيِّبَةِ.
قَالَ قَتَادَةُ: اسْتِهْزَاءٌ بِهِمْ.
﴿لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ﴾ أَيْ: عَمَّا كُنْتُمْ فِيهِ مِنْ أَدَاءِ شُكْرِ النِّعْمَةِ.
﴿قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ حِينَ لَا يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ، ﴿فَمَا زَالَتْ تِلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّى جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ﴾ أَيْ: مَا [[في ف: "فما".]] زَالَتْ تِلْكَ الْمَقَالَةُ، وَهِيَ الِاعْتِرَافُ بِالظُّلْمِ، هِجيراهم حَتَّى حَصَدْنَاهُمْ حَصْدًا [[في ف، أ: "جعلناهم حصيدا خامدين".]] وَخَمَدَتْ حَرَكَاتُهُمْ وَأَصْوَاتُهُمْ خُمُودًا.
وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍۢ كَانَتْ ظَالِمَةًۭ وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا ءَاخَرِينَ
And how many a city which was unjust have We shattered and produced after it another people.
اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ستمگار تھیں ہلاک کر مارا اور ان کے بعد اور لوگ پیدا کردیئے
چه بسیار آبادیهای ستمگری را در هم شکستیم؛ و بعد از آنها، قوم دیگری روی کار آوردیم!
Tafsir Ibn Kathir
Indeed, We have sent down for you a Book in which there is Dhikrukum. Will you not then understand (10)How many a town given to wrongdoing, have We destroyed, and raised up after them another people (11)Then, when they sensed Our torment, behold, they (tried to) flee from it (12)Flee not, but return to that wherein you lived a luxurious life, and to your homes, in order that you may be questioned (13)They cried: "Woe to us! Certainly we have been wrongdoers. (14)And that cry of theirs ceased not, till We made them as a field that is reaped, extinct (15)
The Virtue of the Qur'an
Here Allah points out the noble status of the Qur'an and urges them to recognize its worth:
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ
(Indeed, We have sent down for you a Book in which there is Dhikrukum). Ibn 'Abbas said: "Honor for you."
أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(Will you not then understand?) means, will you not understand this blessing, and accept it? This is like the Ayah:
وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۖ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ
(And verily, this is indeed a Reminder for you and your people, and you will be questioned.)(43:44)
How the Evildoers were destroyed
وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً
(How many a town given to wrongdoing, have We destroyed,) meaning, they were very many. This is like the Ayah:
وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ
(And how many generations have We destroyed after Nuh!)(17:17)
فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا
(And many a township did We destroy while they were given to wrongdoing, so that it lie in ruins)(22:45).
وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ
(and raised up after them another people!) means, another nation which came after them.
فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا
(Then, when they sensed Our torment,) when they realized that the torment would undoubtedly come upon them, just as their Prophet had warned them,
إِذَا هُم مِّنْهَا يَرْكُضُونَ
(behold, they (tried to) flee from it.) they tried to run away.
لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَىٰ مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ
(Flee not, but return to that wherein you lived a luxurious life, and to your homes,) This is a way of ridiculing them. It will be said to them by way of ridicule: "Do not run away from the coming torment; go back to the delights and luxuries and fine homes in which you were living." Qatadah said, "Mocking them."
لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ
(in order that you may be questioned) about whether you gave thanks for what you had.
قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
(They cried: "Woe to us! Certainly we have been wrongdoers.") They will confess their sins when it will be of no benefit to them.
فَمَا زَالَت تِّلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّىٰ جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ
(And that cry of theirs ceased not, till We made them as a field that is reaped, extinct.) meaning, "they will keep on saying that, admitting their wrongdoing, until We harvest them as it were, and their movements and voices come to a stop."
Tafsir Ibn Kathir
قدر ناشناس لوگ اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر ومنزلت پر رغبت دلانے کے لئے فرماتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے ؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو ؟ جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۚ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ 44) 43۔ الزخرف :44) تیرے لئے اور تیری قوم کے لئے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی ابھی سوال کئے جاؤگے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے۔ اور آیت میں ہے ہم نے نوح ؑ کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کردیں۔ اور آیت میں ہے کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کردیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی۔ ان کے ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنادیا ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا یقین ہوگیا کہ اللہ کے نبی ؑ کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے۔ تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے۔ لگے ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے۔ اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش و عشرت کے سامانوں میں پھر آجاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہوجائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں ؟ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے صاف کہیں گے کہ بیشک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بےنفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہوجائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا آنا جانا بولنا چالنا سب ایک قلم بند ہوجائے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُنَبِّهًا عَلَى شَرَفِ الْقُرْآنِ، وَمُحَرِّضًا لَهُمْ عَلَى مَعْرِفَةِ قَدْرِهِ: ﴿لَقَدْ أَنزلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: شَرَفُكم.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: حَدِيثُكُمْ. وَقَالَ الْحَسَنُ: دِينُكُمْ.
﴿وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٤٤] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَكَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً﴾ هَذِهِ صِيغَةُ تَكْثِيرٍ، كَمَا قَالَ ﴿وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِنْ بَعْدِ نُوحٍ﴾ [الْإِسْرَاءِ: ١٧] .
وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَكَأَيِّنْ [[في ف: "وكأين".]] مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَشِيدٍ﴾ [الْحَجِّ:٤٥] . وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَنْشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ﴾ أَيْ: أُمَّةً أُخْرَى بَعْدَهُمْ.
﴿فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا﴾ أَيْ: تَيَقَّنُوا أَنَّ الْعَذَابَ وَاقِعٌ [[في ف: "تيقنوا العذاب أنه واقع".]] بِهِمْ، كَمَا وَعَدَهُمْ نَبِيُّهُمْ، ﴿إِذَا هُمْ مِنْهَا يَرْكُضُونَ﴾ أَيْ: يَفِرُّونَ هَارِبِينَ.
﴿لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَى مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ﴾ هَذَا تَهَكُّمٌ بِهِمْ قَدَرًا أَيْ: قِيلَ لَهُمْ قَدَرًا: لَا تَرْكُضُوا هَارِبِينَ مِنْ نُزُولِ الْعَذَابِ، وَارْجِعُوا إِلَى مَا كُنْتُمْ فِيهِ مِنَ النِّعْمَةِ وَالسُّرُورِ، وَالْمَعِيشَةِ وَالْمَسَاكِنِ الطَّيِّبَةِ.
قَالَ قَتَادَةُ: اسْتِهْزَاءٌ بِهِمْ.
﴿لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ﴾ أَيْ: عَمَّا كُنْتُمْ فِيهِ مِنْ أَدَاءِ شُكْرِ النِّعْمَةِ.
﴿قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ حِينَ لَا يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ، ﴿فَمَا زَالَتْ تِلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّى جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ﴾ أَيْ: مَا [[في ف: "فما".]] زَالَتْ تِلْكَ الْمَقَالَةُ، وَهِيَ الِاعْتِرَافُ بِالظُّلْمِ، هِجيراهم حَتَّى حَصَدْنَاهُمْ حَصْدًا [[في ف، أ: "جعلناهم حصيدا خامدين".]] وَخَمَدَتْ حَرَكَاتُهُمْ وَأَصْوَاتُهُمْ خُمُودًا.
فَلَمَّآ أَحَسُّوا۟ بَأْسَنَآ إِذَا هُم مِّنْهَا يَرْكُضُونَ
And when its inhabitants perceived Our punishment, at once they fled from it.
جب انہوں نے ہمارے (مقدمہ) عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے
هنگامی که عذاب ما را احساس کردند، ناگهان پا به فرار گذاشتند!
Tafsir Ibn Kathir
Indeed, We have sent down for you a Book in which there is Dhikrukum. Will you not then understand (10)How many a town given to wrongdoing, have We destroyed, and raised up after them another people (11)Then, when they sensed Our torment, behold, they (tried to) flee from it (12)Flee not, but return to that wherein you lived a luxurious life, and to your homes, in order that you may be questioned (13)They cried: "Woe to us! Certainly we have been wrongdoers. (14)And that cry of theirs ceased not, till We made them as a field that is reaped, extinct (15)
The Virtue of the Qur'an
Here Allah points out the noble status of the Qur'an and urges them to recognize its worth:
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ
(Indeed, We have sent down for you a Book in which there is Dhikrukum). Ibn 'Abbas said: "Honor for you."
أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(Will you not then understand?) means, will you not understand this blessing, and accept it? This is like the Ayah:
وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۖ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ
(And verily, this is indeed a Reminder for you and your people, and you will be questioned.)(43:44)
How the Evildoers were destroyed
وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً
(How many a town given to wrongdoing, have We destroyed,) meaning, they were very many. This is like the Ayah:
وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ
(And how many generations have We destroyed after Nuh!)(17:17)
فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا
(And many a township did We destroy while they were given to wrongdoing, so that it lie in ruins)(22:45).
وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ
(and raised up after them another people!) means, another nation which came after them.
فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا
(Then, when they sensed Our torment,) when they realized that the torment would undoubtedly come upon them, just as their Prophet had warned them,
إِذَا هُم مِّنْهَا يَرْكُضُونَ
(behold, they (tried to) flee from it.) they tried to run away.
لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَىٰ مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ
(Flee not, but return to that wherein you lived a luxurious life, and to your homes,) This is a way of ridiculing them. It will be said to them by way of ridicule: "Do not run away from the coming torment; go back to the delights and luxuries and fine homes in which you were living." Qatadah said, "Mocking them."
لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ
(in order that you may be questioned) about whether you gave thanks for what you had.
قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
(They cried: "Woe to us! Certainly we have been wrongdoers.") They will confess their sins when it will be of no benefit to them.
فَمَا زَالَت تِّلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّىٰ جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ
(And that cry of theirs ceased not, till We made them as a field that is reaped, extinct.) meaning, "they will keep on saying that, admitting their wrongdoing, until We harvest them as it were, and their movements and voices come to a stop."
Tafsir Ibn Kathir
قدر ناشناس لوگ اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر ومنزلت پر رغبت دلانے کے لئے فرماتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے ؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو ؟ جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۚ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ 44) 43۔ الزخرف :44) تیرے لئے اور تیری قوم کے لئے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی ابھی سوال کئے جاؤگے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے۔ اور آیت میں ہے ہم نے نوح ؑ کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کردیں۔ اور آیت میں ہے کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کردیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی۔ ان کے ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنادیا ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا یقین ہوگیا کہ اللہ کے نبی ؑ کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے۔ تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے۔ لگے ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے۔ اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش و عشرت کے سامانوں میں پھر آجاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہوجائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں ؟ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے صاف کہیں گے کہ بیشک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بےنفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہوجائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا آنا جانا بولنا چالنا سب ایک قلم بند ہوجائے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُنَبِّهًا عَلَى شَرَفِ الْقُرْآنِ، وَمُحَرِّضًا لَهُمْ عَلَى مَعْرِفَةِ قَدْرِهِ: ﴿لَقَدْ أَنزلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: شَرَفُكم.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: حَدِيثُكُمْ. وَقَالَ الْحَسَنُ: دِينُكُمْ.
﴿وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٤٤] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَكَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً﴾ هَذِهِ صِيغَةُ تَكْثِيرٍ، كَمَا قَالَ ﴿وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِنْ بَعْدِ نُوحٍ﴾ [الْإِسْرَاءِ: ١٧] .
وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَكَأَيِّنْ [[في ف: "وكأين".]] مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَشِيدٍ﴾ [الْحَجِّ:٤٥] . وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَنْشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ﴾ أَيْ: أُمَّةً أُخْرَى بَعْدَهُمْ.
﴿فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا﴾ أَيْ: تَيَقَّنُوا أَنَّ الْعَذَابَ وَاقِعٌ [[في ف: "تيقنوا العذاب أنه واقع".]] بِهِمْ، كَمَا وَعَدَهُمْ نَبِيُّهُمْ، ﴿إِذَا هُمْ مِنْهَا يَرْكُضُونَ﴾ أَيْ: يَفِرُّونَ هَارِبِينَ.
﴿لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَى مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ﴾ هَذَا تَهَكُّمٌ بِهِمْ قَدَرًا أَيْ: قِيلَ لَهُمْ قَدَرًا: لَا تَرْكُضُوا هَارِبِينَ مِنْ نُزُولِ الْعَذَابِ، وَارْجِعُوا إِلَى مَا كُنْتُمْ فِيهِ مِنَ النِّعْمَةِ وَالسُّرُورِ، وَالْمَعِيشَةِ وَالْمَسَاكِنِ الطَّيِّبَةِ.
قَالَ قَتَادَةُ: اسْتِهْزَاءٌ بِهِمْ.
﴿لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ﴾ أَيْ: عَمَّا كُنْتُمْ فِيهِ مِنْ أَدَاءِ شُكْرِ النِّعْمَةِ.
﴿قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ حِينَ لَا يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ، ﴿فَمَا زَالَتْ تِلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّى جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ﴾ أَيْ: مَا [[في ف: "فما".]] زَالَتْ تِلْكَ الْمَقَالَةُ، وَهِيَ الِاعْتِرَافُ بِالظُّلْمِ، هِجيراهم حَتَّى حَصَدْنَاهُمْ حَصْدًا [[في ف، أ: "جعلناهم حصيدا خامدين".]] وَخَمَدَتْ حَرَكَاتُهُمْ وَأَصْوَاتُهُمْ خُمُودًا.
لَا تَرْكُضُوا۟ وَٱرْجِعُوٓا۟ إِلَىٰ مَآ أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْـَٔلُونَ
[Some angels said], "Do not flee but return to where you were given luxury and to your homes - perhaps you will be questioned."
مت بھاگو اور جن (نعمتوں) میں تم عیش وآسائش کرتے تھے ان کی اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے (اس بارے میں) دریافت کیا جائے
(گفتیم:) فرار نکنید؛ و به زندگی پر ناز و نعمت، و به مسکنهای پر زرق و برقتان بازگردید! شاید (سائلان بیایند و) از شما تقاضا کنند (شما هم آنان را محروم بازگردانید)!
Tafsir Ibn Kathir
Indeed, We have sent down for you a Book in which there is Dhikrukum. Will you not then understand (10)How many a town given to wrongdoing, have We destroyed, and raised up after them another people (11)Then, when they sensed Our torment, behold, they (tried to) flee from it (12)Flee not, but return to that wherein you lived a luxurious life, and to your homes, in order that you may be questioned (13)They cried: "Woe to us! Certainly we have been wrongdoers. (14)And that cry of theirs ceased not, till We made them as a field that is reaped, extinct (15)
The Virtue of the Qur'an
Here Allah points out the noble status of the Qur'an and urges them to recognize its worth:
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ
(Indeed, We have sent down for you a Book in which there is Dhikrukum). Ibn 'Abbas said: "Honor for you."
أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(Will you not then understand?) means, will you not understand this blessing, and accept it? This is like the Ayah:
وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۖ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ
(And verily, this is indeed a Reminder for you and your people, and you will be questioned.)(43:44)
How the Evildoers were destroyed
وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً
(How many a town given to wrongdoing, have We destroyed,) meaning, they were very many. This is like the Ayah:
وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ
(And how many generations have We destroyed after Nuh!)(17:17)
فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا
(And many a township did We destroy while they were given to wrongdoing, so that it lie in ruins)(22:45).
وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ
(and raised up after them another people!) means, another nation which came after them.
فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا
(Then, when they sensed Our torment,) when they realized that the torment would undoubtedly come upon them, just as their Prophet had warned them,
إِذَا هُم مِّنْهَا يَرْكُضُونَ
(behold, they (tried to) flee from it.) they tried to run away.
لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَىٰ مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ
(Flee not, but return to that wherein you lived a luxurious life, and to your homes,) This is a way of ridiculing them. It will be said to them by way of ridicule: "Do not run away from the coming torment; go back to the delights and luxuries and fine homes in which you were living." Qatadah said, "Mocking them."
لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ
(in order that you may be questioned) about whether you gave thanks for what you had.
قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
(They cried: "Woe to us! Certainly we have been wrongdoers.") They will confess their sins when it will be of no benefit to them.
فَمَا زَالَت تِّلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّىٰ جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ
(And that cry of theirs ceased not, till We made them as a field that is reaped, extinct.) meaning, "they will keep on saying that, admitting their wrongdoing, until We harvest them as it were, and their movements and voices come to a stop."
Tafsir Ibn Kathir
قدر ناشناس لوگ اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر ومنزلت پر رغبت دلانے کے لئے فرماتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے ؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو ؟ جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۚ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ 44) 43۔ الزخرف :44) تیرے لئے اور تیری قوم کے لئے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی ابھی سوال کئے جاؤگے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے۔ اور آیت میں ہے ہم نے نوح ؑ کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کردیں۔ اور آیت میں ہے کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کردیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی۔ ان کے ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنادیا ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا یقین ہوگیا کہ اللہ کے نبی ؑ کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے۔ تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے۔ لگے ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے۔ اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش و عشرت کے سامانوں میں پھر آجاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہوجائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں ؟ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے صاف کہیں گے کہ بیشک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بےنفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہوجائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا آنا جانا بولنا چالنا سب ایک قلم بند ہوجائے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُنَبِّهًا عَلَى شَرَفِ الْقُرْآنِ، وَمُحَرِّضًا لَهُمْ عَلَى مَعْرِفَةِ قَدْرِهِ: ﴿لَقَدْ أَنزلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: شَرَفُكم.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: حَدِيثُكُمْ. وَقَالَ الْحَسَنُ: دِينُكُمْ.
﴿وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٤٤] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَكَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً﴾ هَذِهِ صِيغَةُ تَكْثِيرٍ، كَمَا قَالَ ﴿وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِنْ بَعْدِ نُوحٍ﴾ [الْإِسْرَاءِ: ١٧] .
وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَكَأَيِّنْ [[في ف: "وكأين".]] مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَشِيدٍ﴾ [الْحَجِّ:٤٥] . وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَنْشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ﴾ أَيْ: أُمَّةً أُخْرَى بَعْدَهُمْ.
﴿فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا﴾ أَيْ: تَيَقَّنُوا أَنَّ الْعَذَابَ وَاقِعٌ [[في ف: "تيقنوا العذاب أنه واقع".]] بِهِمْ، كَمَا وَعَدَهُمْ نَبِيُّهُمْ، ﴿إِذَا هُمْ مِنْهَا يَرْكُضُونَ﴾ أَيْ: يَفِرُّونَ هَارِبِينَ.
﴿لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَى مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ﴾ هَذَا تَهَكُّمٌ بِهِمْ قَدَرًا أَيْ: قِيلَ لَهُمْ قَدَرًا: لَا تَرْكُضُوا هَارِبِينَ مِنْ نُزُولِ الْعَذَابِ، وَارْجِعُوا إِلَى مَا كُنْتُمْ فِيهِ مِنَ النِّعْمَةِ وَالسُّرُورِ، وَالْمَعِيشَةِ وَالْمَسَاكِنِ الطَّيِّبَةِ.
قَالَ قَتَادَةُ: اسْتِهْزَاءٌ بِهِمْ.
﴿لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ﴾ أَيْ: عَمَّا كُنْتُمْ فِيهِ مِنْ أَدَاءِ شُكْرِ النِّعْمَةِ.
﴿قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ حِينَ لَا يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ، ﴿فَمَا زَالَتْ تِلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّى جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ﴾ أَيْ: مَا [[في ف: "فما".]] زَالَتْ تِلْكَ الْمَقَالَةُ، وَهِيَ الِاعْتِرَافُ بِالظُّلْمِ، هِجيراهم حَتَّى حَصَدْنَاهُمْ حَصْدًا [[في ف، أ: "جعلناهم حصيدا خامدين".]] وَخَمَدَتْ حَرَكَاتُهُمْ وَأَصْوَاتُهُمْ خُمُودًا.
قَالُوا۟ يَٰوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ
They said, "O woe to us! Indeed, we were wrongdoers."
کہنے لگے ہائے شامت بےشک ہم ظالم تھے
گفتند: «ای وای بر ما! به یقین ما ستمگر بودیم!»
Tafsir Ibn Kathir
Indeed, We have sent down for you a Book in which there is Dhikrukum. Will you not then understand (10)How many a town given to wrongdoing, have We destroyed, and raised up after them another people (11)Then, when they sensed Our torment, behold, they (tried to) flee from it (12)Flee not, but return to that wherein you lived a luxurious life, and to your homes, in order that you may be questioned (13)They cried: "Woe to us! Certainly we have been wrongdoers. (14)And that cry of theirs ceased not, till We made them as a field that is reaped, extinct (15)
The Virtue of the Qur'an
Here Allah points out the noble status of the Qur'an and urges them to recognize its worth:
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ
(Indeed, We have sent down for you a Book in which there is Dhikrukum). Ibn 'Abbas said: "Honor for you."
أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(Will you not then understand?) means, will you not understand this blessing, and accept it? This is like the Ayah:
وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۖ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ
(And verily, this is indeed a Reminder for you and your people, and you will be questioned.)(43:44)
How the Evildoers were destroyed
وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً
(How many a town given to wrongdoing, have We destroyed,) meaning, they were very many. This is like the Ayah:
وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ
(And how many generations have We destroyed after Nuh!)(17:17)
فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا
(And many a township did We destroy while they were given to wrongdoing, so that it lie in ruins)(22:45).
وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ
(and raised up after them another people!) means, another nation which came after them.
فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا
(Then, when they sensed Our torment,) when they realized that the torment would undoubtedly come upon them, just as their Prophet had warned them,
إِذَا هُم مِّنْهَا يَرْكُضُونَ
(behold, they (tried to) flee from it.) they tried to run away.
لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَىٰ مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ
(Flee not, but return to that wherein you lived a luxurious life, and to your homes,) This is a way of ridiculing them. It will be said to them by way of ridicule: "Do not run away from the coming torment; go back to the delights and luxuries and fine homes in which you were living." Qatadah said, "Mocking them."
لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ
(in order that you may be questioned) about whether you gave thanks for what you had.
قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
(They cried: "Woe to us! Certainly we have been wrongdoers.") They will confess their sins when it will be of no benefit to them.
فَمَا زَالَت تِّلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّىٰ جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ
(And that cry of theirs ceased not, till We made them as a field that is reaped, extinct.) meaning, "they will keep on saying that, admitting their wrongdoing, until We harvest them as it were, and their movements and voices come to a stop."
Tafsir Ibn Kathir
قدر ناشناس لوگ اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر ومنزلت پر رغبت دلانے کے لئے فرماتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے ؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو ؟ جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۚ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ 44) 43۔ الزخرف :44) تیرے لئے اور تیری قوم کے لئے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی ابھی سوال کئے جاؤگے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے۔ اور آیت میں ہے ہم نے نوح ؑ کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کردیں۔ اور آیت میں ہے کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کردیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی۔ ان کے ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنادیا ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا یقین ہوگیا کہ اللہ کے نبی ؑ کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے۔ تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے۔ لگے ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے۔ اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش و عشرت کے سامانوں میں پھر آجاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہوجائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں ؟ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے صاف کہیں گے کہ بیشک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بےنفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہوجائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا آنا جانا بولنا چالنا سب ایک قلم بند ہوجائے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُنَبِّهًا عَلَى شَرَفِ الْقُرْآنِ، وَمُحَرِّضًا لَهُمْ عَلَى مَعْرِفَةِ قَدْرِهِ: ﴿لَقَدْ أَنزلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: شَرَفُكم.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: حَدِيثُكُمْ. وَقَالَ الْحَسَنُ: دِينُكُمْ.
﴿وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٤٤] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَكَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً﴾ هَذِهِ صِيغَةُ تَكْثِيرٍ، كَمَا قَالَ ﴿وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِنْ بَعْدِ نُوحٍ﴾ [الْإِسْرَاءِ: ١٧] .
وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَكَأَيِّنْ [[في ف: "وكأين".]] مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَشِيدٍ﴾ [الْحَجِّ:٤٥] . وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَنْشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ﴾ أَيْ: أُمَّةً أُخْرَى بَعْدَهُمْ.
﴿فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا﴾ أَيْ: تَيَقَّنُوا أَنَّ الْعَذَابَ وَاقِعٌ [[في ف: "تيقنوا العذاب أنه واقع".]] بِهِمْ، كَمَا وَعَدَهُمْ نَبِيُّهُمْ، ﴿إِذَا هُمْ مِنْهَا يَرْكُضُونَ﴾ أَيْ: يَفِرُّونَ هَارِبِينَ.
﴿لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَى مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ﴾ هَذَا تَهَكُّمٌ بِهِمْ قَدَرًا أَيْ: قِيلَ لَهُمْ قَدَرًا: لَا تَرْكُضُوا هَارِبِينَ مِنْ نُزُولِ الْعَذَابِ، وَارْجِعُوا إِلَى مَا كُنْتُمْ فِيهِ مِنَ النِّعْمَةِ وَالسُّرُورِ، وَالْمَعِيشَةِ وَالْمَسَاكِنِ الطَّيِّبَةِ.
قَالَ قَتَادَةُ: اسْتِهْزَاءٌ بِهِمْ.
﴿لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ﴾ أَيْ: عَمَّا كُنْتُمْ فِيهِ مِنْ أَدَاءِ شُكْرِ النِّعْمَةِ.
﴿قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ حِينَ لَا يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ، ﴿فَمَا زَالَتْ تِلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّى جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ﴾ أَيْ: مَا [[في ف: "فما".]] زَالَتْ تِلْكَ الْمَقَالَةُ، وَهِيَ الِاعْتِرَافُ بِالظُّلْمِ، هِجيراهم حَتَّى حَصَدْنَاهُمْ حَصْدًا [[في ف، أ: "جعلناهم حصيدا خامدين".]] وَخَمَدَتْ حَرَكَاتُهُمْ وَأَصْوَاتُهُمْ خُمُودًا.
فَمَا زَالَت تِّلْكَ دَعْوَىٰهُمْ حَتَّىٰ جَعَلْنَٰهُمْ حَصِيدًا خَٰمِدِينَ
And that declaration of theirs did not cease until We made them [as] a harvest [mowed down], extinguished [like a fire].
تو وہ ہمیشہ اسی طرح پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو (کھیتی کی طرح) کاٹ کر (اور آگ کی طرح) بجھا کر ڈھیر کردیا
و همچنان این سخن را تکرار میکردند، تا آنها را درو کرده و خاموش ساختیم!
Tafsir Ibn Kathir
Indeed, We have sent down for you a Book in which there is Dhikrukum. Will you not then understand (10)How many a town given to wrongdoing, have We destroyed, and raised up after them another people (11)Then, when they sensed Our torment, behold, they (tried to) flee from it (12)Flee not, but return to that wherein you lived a luxurious life, and to your homes, in order that you may be questioned (13)They cried: "Woe to us! Certainly we have been wrongdoers. (14)And that cry of theirs ceased not, till We made them as a field that is reaped, extinct (15)
The Virtue of the Qur'an
Here Allah points out the noble status of the Qur'an and urges them to recognize its worth:
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ
(Indeed, We have sent down for you a Book in which there is Dhikrukum). Ibn 'Abbas said: "Honor for you."
أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(Will you not then understand?) means, will you not understand this blessing, and accept it? This is like the Ayah:
وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۖ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ
(And verily, this is indeed a Reminder for you and your people, and you will be questioned.)(43:44)
How the Evildoers were destroyed
وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً
(How many a town given to wrongdoing, have We destroyed,) meaning, they were very many. This is like the Ayah:
وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ
(And how many generations have We destroyed after Nuh!)(17:17)
فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا
(And many a township did We destroy while they were given to wrongdoing, so that it lie in ruins)(22:45).
وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ
(and raised up after them another people!) means, another nation which came after them.
فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا
(Then, when they sensed Our torment,) when they realized that the torment would undoubtedly come upon them, just as their Prophet had warned them,
إِذَا هُم مِّنْهَا يَرْكُضُونَ
(behold, they (tried to) flee from it.) they tried to run away.
لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَىٰ مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ
(Flee not, but return to that wherein you lived a luxurious life, and to your homes,) This is a way of ridiculing them. It will be said to them by way of ridicule: "Do not run away from the coming torment; go back to the delights and luxuries and fine homes in which you were living." Qatadah said, "Mocking them."
لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ
(in order that you may be questioned) about whether you gave thanks for what you had.
قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
(They cried: "Woe to us! Certainly we have been wrongdoers.") They will confess their sins when it will be of no benefit to them.
فَمَا زَالَت تِّلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّىٰ جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ
(And that cry of theirs ceased not, till We made them as a field that is reaped, extinct.) meaning, "they will keep on saying that, admitting their wrongdoing, until We harvest them as it were, and their movements and voices come to a stop."
Tafsir Ibn Kathir
قدر ناشناس لوگ اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر ومنزلت پر رغبت دلانے کے لئے فرماتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے ؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو ؟ جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۚ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ 44) 43۔ الزخرف :44) تیرے لئے اور تیری قوم کے لئے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی ابھی سوال کئے جاؤگے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے۔ اور آیت میں ہے ہم نے نوح ؑ کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کردیں۔ اور آیت میں ہے کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کردیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی۔ ان کے ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنادیا ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا یقین ہوگیا کہ اللہ کے نبی ؑ کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے۔ تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے۔ لگے ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے۔ اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش و عشرت کے سامانوں میں پھر آجاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہوجائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں ؟ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے صاف کہیں گے کہ بیشک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بےنفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہوجائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا آنا جانا بولنا چالنا سب ایک قلم بند ہوجائے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُنَبِّهًا عَلَى شَرَفِ الْقُرْآنِ، وَمُحَرِّضًا لَهُمْ عَلَى مَعْرِفَةِ قَدْرِهِ: ﴿لَقَدْ أَنزلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: شَرَفُكم.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: حَدِيثُكُمْ. وَقَالَ الْحَسَنُ: دِينُكُمْ.
﴿وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٤٤] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَكَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً﴾ هَذِهِ صِيغَةُ تَكْثِيرٍ، كَمَا قَالَ ﴿وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِنْ بَعْدِ نُوحٍ﴾ [الْإِسْرَاءِ: ١٧] .
وَقَالَ تَعَالَى: ﴿فَكَأَيِّنْ [[في ف: "وكأين".]] مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَشِيدٍ﴾ [الْحَجِّ:٤٥] . وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَنْشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ﴾ أَيْ: أُمَّةً أُخْرَى بَعْدَهُمْ.
﴿فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا﴾ أَيْ: تَيَقَّنُوا أَنَّ الْعَذَابَ وَاقِعٌ [[في ف: "تيقنوا العذاب أنه واقع".]] بِهِمْ، كَمَا وَعَدَهُمْ نَبِيُّهُمْ، ﴿إِذَا هُمْ مِنْهَا يَرْكُضُونَ﴾ أَيْ: يَفِرُّونَ هَارِبِينَ.
﴿لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَى مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ﴾ هَذَا تَهَكُّمٌ بِهِمْ قَدَرًا أَيْ: قِيلَ لَهُمْ قَدَرًا: لَا تَرْكُضُوا هَارِبِينَ مِنْ نُزُولِ الْعَذَابِ، وَارْجِعُوا إِلَى مَا كُنْتُمْ فِيهِ مِنَ النِّعْمَةِ وَالسُّرُورِ، وَالْمَعِيشَةِ وَالْمَسَاكِنِ الطَّيِّبَةِ.
قَالَ قَتَادَةُ: اسْتِهْزَاءٌ بِهِمْ.
﴿لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ﴾ أَيْ: عَمَّا كُنْتُمْ فِيهِ مِنْ أَدَاءِ شُكْرِ النِّعْمَةِ.
﴿قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ حِينَ لَا يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ، ﴿فَمَا زَالَتْ تِلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّى جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ﴾ أَيْ: مَا [[في ف: "فما".]] زَالَتْ تِلْكَ الْمَقَالَةُ، وَهِيَ الِاعْتِرَافُ بِالظُّلْمِ، هِجيراهم حَتَّى حَصَدْنَاهُمْ حَصْدًا [[في ف، أ: "جعلناهم حصيدا خامدين".]] وَخَمَدَتْ حَرَكَاتُهُمْ وَأَصْوَاتُهُمْ خُمُودًا.
وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَٰعِبِينَ
And We did not create the heaven and earth and that between them in play.
اور ہم نے آسمان اور زمین کو جو اور (مخلوقات) ان دونوں کے درمیان ہے اس کو لہوولعب کے لئے پیدا نہیں کیا
ما آسمان و زمین، و آنچه را در میان آنهاست از روی بازی نیافریدیم!
Tafsir Ibn Kathir
We created not the heavens and the earth and all that is between them for play (16)Had We intended to take a pastime, We could surely have taken it from Us, if We were going to do (that)(17)Nay, We fling the truth against the falsehood, so it destroys it, and behold, it disappears. And woe to you for that which you ascribe (18)To Him belongs whosoever is in the heavens and on earth. And those who are near Him are not too proud to worship Him, nor are they weary (19)They glorify His praises night and day, they never slacken (20)
Creation was made with Justice and Wisdom
Allah tells us that He created the heavens and the earth in truth, i.e. with justice.
لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى
(that He may requite those who do evil with that which they have done, and reward those who do good, with what is best.)(53:31). He did not create all that in vain or for (mere) play:
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ
(And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve! Then woe to those who disbelieve from the Fire!)(38:27)
لَوْ أَرَدْنَا أَن نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنَاهُ مِن لَّدُنَّا إِن كُنَّا فَاعِلِينَ
(Had We intended to take a pastime, We could surely have taken it from Us, if We were going to do (that).) Ibn Abi Najih said, narrating from Mujahid:
لَوْ أَرَدْنَا أَن نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنَاهُ مِن لَّدُنَّا
(Had We intended to take a pastime, We could surely have taken it from Us,) "Meaning, 'From Ourself,' He is saying, 'We would not have created Paradise or Hell or death or the resurrection or the Reckoning.'"
إِن كُنَّا فَاعِلِينَ
(if We were going to do (that).) Qatadah, As-Suddi, Ibrahim An-Nakha'i and Mughirah bin Miqsam said: "This means, 'We will not do that.'" Mujahid said, every time the word
إِن
(if) is used in the Qur'an, it is a negation.
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ
(Nay, We fling the truth against the falsehood,) means, 'We explain the truth and thus defeat falsehood.' Allah says:
فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ
(so it destroys it, and behold, it disappears.) it is fading and vanishing.
وَلَكُمُ الْوَيْلُ
(And woe to you) O you who say that Allah has offspring.
مِمَّا تَصِفُونَ
(for that which you ascribe.) that which you say and fabricate. Then Allah informs of the servitude of the angels, and how they persevere in worship night and day:
Everything belongs to Allah and serves Him
وَلَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَنْ عِندَهُ
(To Him belongs whosoever is in the heavens and on earth. And those who are near Him) i.e., the angels,
لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ
(are not too proud to worship Him,) they do not feel proud and do not refuse to worship Him. This is like the Ayah:
لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ ۚ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا
(Al-Masih will never be proud to reject being a servant of Allah, nor the angels who are the near. And whosoever rejects His worship and is proud, then He will gather them all together unto Himself.)(4:172)
وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ
(nor are they weary.) means, they do not get tired or feel bored.
يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ
(They glorify His praises night and day, they never slacken.) They persist in their worship night and day, obeying Allah to the utmost, and they are able to do this, as Allah says:
لَّا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ
(who do not disobey Allah in what He commands them, but do what they are commanded)(66:6)
Tafsir Ibn Kathir
آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے۔ اس نے انہیں بیکار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لئے جہنم کی آگ تیار ہے۔ دوسری آیت کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اگر ہم کھیل تماشہ ہی چاہتے تو اسے بنالیتے۔ ایک معنی یہ ہیں کہ اگر ہم عورت کرنا چاہتے۔ لہو کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ یعنی یہ دونوں معنے ہے اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے کسی کو بنا لیتے۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اگر ہم اولاد چاہتے۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر :4) ، یعنی اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو مخلوق میں کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ ان عیسائیوں یہودیوں اور کفار مکہ کی لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔ آیت (ان کنا فاعلین) میں ان کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے۔ بلکہ مجاہد ؒ کا قول ہے کہ قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لئے ہی ہے۔ فرشتوں کا تذکرہ ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہوجاتا ہے اور فورا ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لئے جو لوگ اولادیں ٹھیرا رہے ہیں ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لئے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں نہ حضرت مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آرہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہوگا اور اپنا کیا بھرے گا۔ یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں اس کی عبادت میں اس کی تسبیح واطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کے مجمع میں تھے کہ فرمایا لوگو ! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو ؟ سب نے جواب دیا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ نے فرمایا میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہے اس لئے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو۔ عبداللہ حارث بن نوفل فرماتے ہیں میں حضرت کعب احبار ؒ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا اللہ کا پیغام لے کر جانا عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا ؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہو کر آپ نے فرمایا یہ بچہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب سے ہے آپ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لئے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لئے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يخبر تعالى أنه خلق السموات وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ، أَيْ: بِالْعَدْلِ وَالْقِسْطِ، ﴿لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى﴾ [النَّجْمِ:٣١] ، وَأَنَّهُ لَمْ يَخْلُقْ ذَلِكَ عَبَثًا وَلَا لَعِبًا، كَمَا قَالَ: ﴿وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ [[في ف، أ: "السماوات".]] وَالأرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ﴾ [ص:٢٧]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا لاتَّخَذْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا إِنْ كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا لاتَّخَذْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا﴾ يَعْنِي: مِنْ عِنْدِنَا، يَقُولُ: وَمَا خَلَقْنَا جَنَّةً وَلَا نَارًا، وَلَا مَوْتًا، وَلَا بَعْثًا، وَلَا حِسَابًا.
وَقَالَ الْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، وَغَيْرُهُمَا: ﴿لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا﴾ اللهو: المرأة بلسان أهل اليمن.
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخعِي: ﴿لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا لاتَّخَذْنَاهُ﴾ مِنْ الْحُورِ الْعِينِ.
وَقَالَ عِكْرِمَةُ وَالسُّدِّيُّ: الْمُرَادُ بِاللَّهْوِ هَاهُنَا: الْوَلَدُ.
وَهَذَا وَالَّذِي قَبْلَهُ مُتَلَازِمَانِ، وَهُوَ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَوْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا لاصْطَفَى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحَانَهُ﴾ [الزُّمَرِ:٤] ، فَنَزَّهَ نَفْسَهُ عَنِ اتِّخَاذِ الْوَلَدِ مُطْلَقًا، لَا سِيَّمَا عَمَّا يَقُولُونَ مِنَ الْإِفْكِ وَالْبَاطِلِ، مِنَ اتِّخَاذِ عِيسَى، أَوِ الْعُزَيْرِ [[في ف: "أو عزيز".]] أَوْ الْمَلَائِكَةِ، ﴿سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا﴾ [الْإِسْرَاءِ:٤٣] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنْ كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ قَالَ قَتَادَةُ، وَالسُّدِّيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، وَمُغِيرَةُ بْنُ مِقْسَم، أَيْ: مَا كُنَّا فَاعِلِينَ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: كُلُّ شَيْءٍ فِي الْقُرْآنِ "إِنْ" فَهُوَ إِنْكَارٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ﴾ أَيْ: نُبَيِّنُ الْحَقَّ فَيَدْحَضُ الْبَاطِلَ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ﴾ أَيْ: ذَاهِبٌ مُضْمَحِلٌّ، ﴿وَلَكُمُ الْوَيْلُ﴾ أي: أيها القاتلون: لِلَّهِ وَلَدٌ، ﴿مِمَّا تَصِفُونَ﴾ أَيْ: تَقُولُونَ وَتَفْتَرُونَ.
ثُمَّ أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْ عُبُودِيَّةِ الْمَلَائِكَةِ لَهُ، وَدَأْبِهِمْ فِي طَاعَتِهِ لَيْلًا وَنَهَارًا، فَقَالَ: ﴿وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَمَنْ عِنْدَهُ﴾ يَعْنِي: الْمَلَائِكَةَ، ﴿لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ﴾ أَيْ: لَا يَسْتَنْكِفُونَ عَنْهَا، كَمَا قَالَ: ﴿لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا لِلَّهِ وَلا الْمَلائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَنْ يَسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا﴾ [النِّسَاءِ:١٧٢] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلا يَسْتَحْسِرُونَ﴾ أَيْ: لَا يَتْعَبُونَ وَلَا يَملُّون.
﴿يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ﴾ فَهُمْ دَائِبُونَ فِي الْعَمَلِ لَيْلًا وَنَهَارًا، مُطِيعُونَ قَصْدًا وَعَمَلًا قَادِرُونَ عَلَيْهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ﴾ [التَّحْرِيمِ:٦] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي دُلامة الْبَغْدَادِيِّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفْوَانِ بْنِ مُحرِز، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَام قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَيْنَ أَصْحَابِهِ، إِذْ قَالَ لَهُمْ: "هَلْ تَسْمَعُونَ مَا أَسْمَعُ؟ " قَالُوا: مَا نَسْمَعُ مِنْ شَيْءٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنِّي لَأَسْمَعُ أَطِيطَ السَّمَاءِ، وَمَا تُلَامُ أَنْ تَئِطَّ، وَمَا فِيهَا مَوْضِعِ شِبْر إِلَّا وَعَلَيْهِ مَلَكٌ سَاجِدٌ أَوْ قَائِمٌ". غَرِيبٌ وَلَمْ يُخْرِجُوهُ [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (٣/٢٠١) والطحاوي في مشكل الآثار برقم (١١٣٤) من طريق عبد الوهاب بن عطاء به، وله شاهد من حديث أبي ذر الغفاري أخرجه الترمذي في السنن برقم (٢٣١٢) وقال: "هذا حديث حسن غريب".]] .
ثُمَّ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ طَرِيقِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْع، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ مُرْسَلًا.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ [[في هـ، ف، أ: "محمد بن إسحاق" والمثبت من الطبري ١٧/٧٠.]] ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ مُخَارِقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى كَعْبِ الْأَحْبَارِ وَأَنَا غُلَامٌ، فَقُلْتُ لَهُ: أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ [لِلْمَلَائِكَةِ] [[زيادة من ف، أ.]] ﴿يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ﴾
أَمَا يَشْغَلُهُمْ عَنِ التَّسْبِيحِ الْكَلَامُ وَالرِّسَالَةُ وَالْعَمَلُ؟. فَقَالَ: فَمَنْ هَذَا الْغُلَامُ؟ فَقَالُوا: مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: فَقَبَّلَ رَأْسِي، ثُمَّ قَالَ لِي: يَا بُنَيَّ، إِنَّهُ جَعَلَ لَهُمُ التَّسْبِيحَ، كَمَا جَعَلَ لَكُمُ النَّفَسَ، أَلَيْسَ تَتَكَلَّمُ وَأَنْتَ تَتَنَفَّسُ [[في ف: "وأنت تمشي".]] وَتَمْشِي وَأَنْتَ تَتَنَفَّسُ؟.
لَوْ أَرَدْنَآ أَن نَّتَّخِذَ لَهْوًۭا لَّٱتَّخَذْنَٰهُ مِن لَّدُنَّآ إِن كُنَّا فَٰعِلِينَ
Had We intended to take a diversion, We could have taken it from [what is] with Us - if [indeed] We were to do so.
اگر ہم چاہتے کہ کھیل (کی چیزیں یعنی زن وفرزند) بنائیں تو اگر ہم کو کرنا ہوتا تو ہم اپنے پاس سے بنالیتے
(بفرض محال) اگر میخواستیم سرگرمی انتخاب کنیم، چیزی متناسب خود انتخاب میکردیم!
Tafsir Ibn Kathir
We created not the heavens and the earth and all that is between them for play (16)Had We intended to take a pastime, We could surely have taken it from Us, if We were going to do (that)(17)Nay, We fling the truth against the falsehood, so it destroys it, and behold, it disappears. And woe to you for that which you ascribe (18)To Him belongs whosoever is in the heavens and on earth. And those who are near Him are not too proud to worship Him, nor are they weary (19)They glorify His praises night and day, they never slacken (20)
Creation was made with Justice and Wisdom
Allah tells us that He created the heavens and the earth in truth, i.e. with justice.
لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى
(that He may requite those who do evil with that which they have done, and reward those who do good, with what is best.)(53:31). He did not create all that in vain or for (mere) play:
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ
(And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve! Then woe to those who disbelieve from the Fire!)(38:27)
لَوْ أَرَدْنَا أَن نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنَاهُ مِن لَّدُنَّا إِن كُنَّا فَاعِلِينَ
(Had We intended to take a pastime, We could surely have taken it from Us, if We were going to do (that).) Ibn Abi Najih said, narrating from Mujahid:
لَوْ أَرَدْنَا أَن نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنَاهُ مِن لَّدُنَّا
(Had We intended to take a pastime, We could surely have taken it from Us,) "Meaning, 'From Ourself,' He is saying, 'We would not have created Paradise or Hell or death or the resurrection or the Reckoning.'"
إِن كُنَّا فَاعِلِينَ
(if We were going to do (that).) Qatadah, As-Suddi, Ibrahim An-Nakha'i and Mughirah bin Miqsam said: "This means, 'We will not do that.'" Mujahid said, every time the word
إِن
(if) is used in the Qur'an, it is a negation.
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ
(Nay, We fling the truth against the falsehood,) means, 'We explain the truth and thus defeat falsehood.' Allah says:
فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ
(so it destroys it, and behold, it disappears.) it is fading and vanishing.
وَلَكُمُ الْوَيْلُ
(And woe to you) O you who say that Allah has offspring.
مِمَّا تَصِفُونَ
(for that which you ascribe.) that which you say and fabricate. Then Allah informs of the servitude of the angels, and how they persevere in worship night and day:
Everything belongs to Allah and serves Him
وَلَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَنْ عِندَهُ
(To Him belongs whosoever is in the heavens and on earth. And those who are near Him) i.e., the angels,
لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ
(are not too proud to worship Him,) they do not feel proud and do not refuse to worship Him. This is like the Ayah:
لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ ۚ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا
(Al-Masih will never be proud to reject being a servant of Allah, nor the angels who are the near. And whosoever rejects His worship and is proud, then He will gather them all together unto Himself.)(4:172)
وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ
(nor are they weary.) means, they do not get tired or feel bored.
يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ
(They glorify His praises night and day, they never slacken.) They persist in their worship night and day, obeying Allah to the utmost, and they are able to do this, as Allah says:
لَّا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ
(who do not disobey Allah in what He commands them, but do what they are commanded)(66:6)
Tafsir Ibn Kathir
آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے۔ اس نے انہیں بیکار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لئے جہنم کی آگ تیار ہے۔ دوسری آیت کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اگر ہم کھیل تماشہ ہی چاہتے تو اسے بنالیتے۔ ایک معنی یہ ہیں کہ اگر ہم عورت کرنا چاہتے۔ لہو کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ یعنی یہ دونوں معنے ہے اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے کسی کو بنا لیتے۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اگر ہم اولاد چاہتے۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر :4) ، یعنی اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو مخلوق میں کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ ان عیسائیوں یہودیوں اور کفار مکہ کی لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔ آیت (ان کنا فاعلین) میں ان کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے۔ بلکہ مجاہد ؒ کا قول ہے کہ قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لئے ہی ہے۔ فرشتوں کا تذکرہ ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہوجاتا ہے اور فورا ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لئے جو لوگ اولادیں ٹھیرا رہے ہیں ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لئے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں نہ حضرت مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آرہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہوگا اور اپنا کیا بھرے گا۔ یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں اس کی عبادت میں اس کی تسبیح واطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کے مجمع میں تھے کہ فرمایا لوگو ! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو ؟ سب نے جواب دیا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ نے فرمایا میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہے اس لئے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو۔ عبداللہ حارث بن نوفل فرماتے ہیں میں حضرت کعب احبار ؒ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا اللہ کا پیغام لے کر جانا عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا ؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہو کر آپ نے فرمایا یہ بچہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب سے ہے آپ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لئے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لئے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يخبر تعالى أنه خلق السموات وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ، أَيْ: بِالْعَدْلِ وَالْقِسْطِ، ﴿لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى﴾ [النَّجْمِ:٣١] ، وَأَنَّهُ لَمْ يَخْلُقْ ذَلِكَ عَبَثًا وَلَا لَعِبًا، كَمَا قَالَ: ﴿وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ [[في ف، أ: "السماوات".]] وَالأرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ﴾ [ص:٢٧]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا لاتَّخَذْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا إِنْ كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا لاتَّخَذْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا﴾ يَعْنِي: مِنْ عِنْدِنَا، يَقُولُ: وَمَا خَلَقْنَا جَنَّةً وَلَا نَارًا، وَلَا مَوْتًا، وَلَا بَعْثًا، وَلَا حِسَابًا.
وَقَالَ الْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، وَغَيْرُهُمَا: ﴿لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا﴾ اللهو: المرأة بلسان أهل اليمن.
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخعِي: ﴿لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا لاتَّخَذْنَاهُ﴾ مِنْ الْحُورِ الْعِينِ.
وَقَالَ عِكْرِمَةُ وَالسُّدِّيُّ: الْمُرَادُ بِاللَّهْوِ هَاهُنَا: الْوَلَدُ.
وَهَذَا وَالَّذِي قَبْلَهُ مُتَلَازِمَانِ، وَهُوَ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَوْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا لاصْطَفَى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحَانَهُ﴾ [الزُّمَرِ:٤] ، فَنَزَّهَ نَفْسَهُ عَنِ اتِّخَاذِ الْوَلَدِ مُطْلَقًا، لَا سِيَّمَا عَمَّا يَقُولُونَ مِنَ الْإِفْكِ وَالْبَاطِلِ، مِنَ اتِّخَاذِ عِيسَى، أَوِ الْعُزَيْرِ [[في ف: "أو عزيز".]] أَوْ الْمَلَائِكَةِ، ﴿سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا﴾ [الْإِسْرَاءِ:٤٣] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنْ كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ قَالَ قَتَادَةُ، وَالسُّدِّيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، وَمُغِيرَةُ بْنُ مِقْسَم، أَيْ: مَا كُنَّا فَاعِلِينَ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: كُلُّ شَيْءٍ فِي الْقُرْآنِ "إِنْ" فَهُوَ إِنْكَارٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ﴾ أَيْ: نُبَيِّنُ الْحَقَّ فَيَدْحَضُ الْبَاطِلَ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ﴾ أَيْ: ذَاهِبٌ مُضْمَحِلٌّ، ﴿وَلَكُمُ الْوَيْلُ﴾ أي: أيها القاتلون: لِلَّهِ وَلَدٌ، ﴿مِمَّا تَصِفُونَ﴾ أَيْ: تَقُولُونَ وَتَفْتَرُونَ.
ثُمَّ أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْ عُبُودِيَّةِ الْمَلَائِكَةِ لَهُ، وَدَأْبِهِمْ فِي طَاعَتِهِ لَيْلًا وَنَهَارًا، فَقَالَ: ﴿وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَمَنْ عِنْدَهُ﴾ يَعْنِي: الْمَلَائِكَةَ، ﴿لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ﴾ أَيْ: لَا يَسْتَنْكِفُونَ عَنْهَا، كَمَا قَالَ: ﴿لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا لِلَّهِ وَلا الْمَلائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَنْ يَسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا﴾ [النِّسَاءِ:١٧٢] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلا يَسْتَحْسِرُونَ﴾ أَيْ: لَا يَتْعَبُونَ وَلَا يَملُّون.
﴿يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ﴾ فَهُمْ دَائِبُونَ فِي الْعَمَلِ لَيْلًا وَنَهَارًا، مُطِيعُونَ قَصْدًا وَعَمَلًا قَادِرُونَ عَلَيْهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ﴾ [التَّحْرِيمِ:٦] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي دُلامة الْبَغْدَادِيِّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفْوَانِ بْنِ مُحرِز، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَام قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَيْنَ أَصْحَابِهِ، إِذْ قَالَ لَهُمْ: "هَلْ تَسْمَعُونَ مَا أَسْمَعُ؟ " قَالُوا: مَا نَسْمَعُ مِنْ شَيْءٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنِّي لَأَسْمَعُ أَطِيطَ السَّمَاءِ، وَمَا تُلَامُ أَنْ تَئِطَّ، وَمَا فِيهَا مَوْضِعِ شِبْر إِلَّا وَعَلَيْهِ مَلَكٌ سَاجِدٌ أَوْ قَائِمٌ". غَرِيبٌ وَلَمْ يُخْرِجُوهُ [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (٣/٢٠١) والطحاوي في مشكل الآثار برقم (١١٣٤) من طريق عبد الوهاب بن عطاء به، وله شاهد من حديث أبي ذر الغفاري أخرجه الترمذي في السنن برقم (٢٣١٢) وقال: "هذا حديث حسن غريب".]] .
ثُمَّ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ طَرِيقِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْع، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ مُرْسَلًا.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ [[في هـ، ف، أ: "محمد بن إسحاق" والمثبت من الطبري ١٧/٧٠.]] ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ مُخَارِقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى كَعْبِ الْأَحْبَارِ وَأَنَا غُلَامٌ، فَقُلْتُ لَهُ: أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ [لِلْمَلَائِكَةِ] [[زيادة من ف، أ.]] ﴿يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ﴾
أَمَا يَشْغَلُهُمْ عَنِ التَّسْبِيحِ الْكَلَامُ وَالرِّسَالَةُ وَالْعَمَلُ؟. فَقَالَ: فَمَنْ هَذَا الْغُلَامُ؟ فَقَالُوا: مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: فَقَبَّلَ رَأْسِي، ثُمَّ قَالَ لِي: يَا بُنَيَّ، إِنَّهُ جَعَلَ لَهُمُ التَّسْبِيحَ، كَمَا جَعَلَ لَكُمُ النَّفَسَ، أَلَيْسَ تَتَكَلَّمُ وَأَنْتَ تَتَنَفَّسُ [[في ف: "وأنت تمشي".]] وَتَمْشِي وَأَنْتَ تَتَنَفَّسُ؟.
بَلْ نَقْذِفُ بِٱلْحَقِّ عَلَى ٱلْبَٰطِلِ فَيَدْمَغُهُۥ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌۭ ۚ وَلَكُمُ ٱلْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ
Rather, We dash the truth upon falsehood, and it destroys it, and thereupon it departs. And for you is destruction from that which you describe.
بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے اور جھوٹ اسی وقت نابود ہوجاتا ہے۔ اور جو باتیں تم بناتے ہو ان سے تمہاری ہی خرابی ہے
بلکه ما حق را بر سر باطل میکوبیم تا آن را هلاک سازد؛ و این گونه، باطل محو و نابود میشود! امّا وای بر شما از توصیفی که (درباره خدا و هدف آفرینش) میکنید!
Tafsir Ibn Kathir
We created not the heavens and the earth and all that is between them for play (16)Had We intended to take a pastime, We could surely have taken it from Us, if We were going to do (that)(17)Nay, We fling the truth against the falsehood, so it destroys it, and behold, it disappears. And woe to you for that which you ascribe (18)To Him belongs whosoever is in the heavens and on earth. And those who are near Him are not too proud to worship Him, nor are they weary (19)They glorify His praises night and day, they never slacken (20)
Creation was made with Justice and Wisdom
Allah tells us that He created the heavens and the earth in truth, i.e. with justice.
لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى
(that He may requite those who do evil with that which they have done, and reward those who do good, with what is best.)(53:31). He did not create all that in vain or for (mere) play:
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ
(And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve! Then woe to those who disbelieve from the Fire!)(38:27)
لَوْ أَرَدْنَا أَن نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنَاهُ مِن لَّدُنَّا إِن كُنَّا فَاعِلِينَ
(Had We intended to take a pastime, We could surely have taken it from Us, if We were going to do (that).) Ibn Abi Najih said, narrating from Mujahid:
لَوْ أَرَدْنَا أَن نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنَاهُ مِن لَّدُنَّا
(Had We intended to take a pastime, We could surely have taken it from Us,) "Meaning, 'From Ourself,' He is saying, 'We would not have created Paradise or Hell or death or the resurrection or the Reckoning.'"
إِن كُنَّا فَاعِلِينَ
(if We were going to do (that).) Qatadah, As-Suddi, Ibrahim An-Nakha'i and Mughirah bin Miqsam said: "This means, 'We will not do that.'" Mujahid said, every time the word
إِن
(if) is used in the Qur'an, it is a negation.
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ
(Nay, We fling the truth against the falsehood,) means, 'We explain the truth and thus defeat falsehood.' Allah says:
فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ
(so it destroys it, and behold, it disappears.) it is fading and vanishing.
وَلَكُمُ الْوَيْلُ
(And woe to you) O you who say that Allah has offspring.
مِمَّا تَصِفُونَ
(for that which you ascribe.) that which you say and fabricate. Then Allah informs of the servitude of the angels, and how they persevere in worship night and day:
Everything belongs to Allah and serves Him
وَلَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَنْ عِندَهُ
(To Him belongs whosoever is in the heavens and on earth. And those who are near Him) i.e., the angels,
لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ
(are not too proud to worship Him,) they do not feel proud and do not refuse to worship Him. This is like the Ayah:
لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ ۚ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا
(Al-Masih will never be proud to reject being a servant of Allah, nor the angels who are the near. And whosoever rejects His worship and is proud, then He will gather them all together unto Himself.)(4:172)
وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ
(nor are they weary.) means, they do not get tired or feel bored.
يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ
(They glorify His praises night and day, they never slacken.) They persist in their worship night and day, obeying Allah to the utmost, and they are able to do this, as Allah says:
لَّا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ
(who do not disobey Allah in what He commands them, but do what they are commanded)(66:6)
Tafsir Ibn Kathir
آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے۔ اس نے انہیں بیکار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لئے جہنم کی آگ تیار ہے۔ دوسری آیت کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اگر ہم کھیل تماشہ ہی چاہتے تو اسے بنالیتے۔ ایک معنی یہ ہیں کہ اگر ہم عورت کرنا چاہتے۔ لہو کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ یعنی یہ دونوں معنے ہے اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے کسی کو بنا لیتے۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اگر ہم اولاد چاہتے۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر :4) ، یعنی اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو مخلوق میں کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ ان عیسائیوں یہودیوں اور کفار مکہ کی لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔ آیت (ان کنا فاعلین) میں ان کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے۔ بلکہ مجاہد ؒ کا قول ہے کہ قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لئے ہی ہے۔ فرشتوں کا تذکرہ ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہوجاتا ہے اور فورا ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لئے جو لوگ اولادیں ٹھیرا رہے ہیں ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لئے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں نہ حضرت مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آرہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہوگا اور اپنا کیا بھرے گا۔ یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں اس کی عبادت میں اس کی تسبیح واطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کے مجمع میں تھے کہ فرمایا لوگو ! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو ؟ سب نے جواب دیا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ نے فرمایا میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہے اس لئے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو۔ عبداللہ حارث بن نوفل فرماتے ہیں میں حضرت کعب احبار ؒ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا اللہ کا پیغام لے کر جانا عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا ؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہو کر آپ نے فرمایا یہ بچہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب سے ہے آپ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لئے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لئے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يخبر تعالى أنه خلق السموات وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ، أَيْ: بِالْعَدْلِ وَالْقِسْطِ، ﴿لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى﴾ [النَّجْمِ:٣١] ، وَأَنَّهُ لَمْ يَخْلُقْ ذَلِكَ عَبَثًا وَلَا لَعِبًا، كَمَا قَالَ: ﴿وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ [[في ف، أ: "السماوات".]] وَالأرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ﴾ [ص:٢٧]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا لاتَّخَذْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا إِنْ كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا لاتَّخَذْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا﴾ يَعْنِي: مِنْ عِنْدِنَا، يَقُولُ: وَمَا خَلَقْنَا جَنَّةً وَلَا نَارًا، وَلَا مَوْتًا، وَلَا بَعْثًا، وَلَا حِسَابًا.
وَقَالَ الْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، وَغَيْرُهُمَا: ﴿لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا﴾ اللهو: المرأة بلسان أهل اليمن.
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخعِي: ﴿لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا لاتَّخَذْنَاهُ﴾ مِنْ الْحُورِ الْعِينِ.
وَقَالَ عِكْرِمَةُ وَالسُّدِّيُّ: الْمُرَادُ بِاللَّهْوِ هَاهُنَا: الْوَلَدُ.
وَهَذَا وَالَّذِي قَبْلَهُ مُتَلَازِمَانِ، وَهُوَ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَوْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا لاصْطَفَى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحَانَهُ﴾ [الزُّمَرِ:٤] ، فَنَزَّهَ نَفْسَهُ عَنِ اتِّخَاذِ الْوَلَدِ مُطْلَقًا، لَا سِيَّمَا عَمَّا يَقُولُونَ مِنَ الْإِفْكِ وَالْبَاطِلِ، مِنَ اتِّخَاذِ عِيسَى، أَوِ الْعُزَيْرِ [[في ف: "أو عزيز".]] أَوْ الْمَلَائِكَةِ، ﴿سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا﴾ [الْإِسْرَاءِ:٤٣] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنْ كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ قَالَ قَتَادَةُ، وَالسُّدِّيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، وَمُغِيرَةُ بْنُ مِقْسَم، أَيْ: مَا كُنَّا فَاعِلِينَ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: كُلُّ شَيْءٍ فِي الْقُرْآنِ "إِنْ" فَهُوَ إِنْكَارٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ﴾ أَيْ: نُبَيِّنُ الْحَقَّ فَيَدْحَضُ الْبَاطِلَ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ﴾ أَيْ: ذَاهِبٌ مُضْمَحِلٌّ، ﴿وَلَكُمُ الْوَيْلُ﴾ أي: أيها القاتلون: لِلَّهِ وَلَدٌ، ﴿مِمَّا تَصِفُونَ﴾ أَيْ: تَقُولُونَ وَتَفْتَرُونَ.
ثُمَّ أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْ عُبُودِيَّةِ الْمَلَائِكَةِ لَهُ، وَدَأْبِهِمْ فِي طَاعَتِهِ لَيْلًا وَنَهَارًا، فَقَالَ: ﴿وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَمَنْ عِنْدَهُ﴾ يَعْنِي: الْمَلَائِكَةَ، ﴿لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ﴾ أَيْ: لَا يَسْتَنْكِفُونَ عَنْهَا، كَمَا قَالَ: ﴿لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا لِلَّهِ وَلا الْمَلائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَنْ يَسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا﴾ [النِّسَاءِ:١٧٢] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلا يَسْتَحْسِرُونَ﴾ أَيْ: لَا يَتْعَبُونَ وَلَا يَملُّون.
﴿يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ﴾ فَهُمْ دَائِبُونَ فِي الْعَمَلِ لَيْلًا وَنَهَارًا، مُطِيعُونَ قَصْدًا وَعَمَلًا قَادِرُونَ عَلَيْهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ﴾ [التَّحْرِيمِ:٦] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي دُلامة الْبَغْدَادِيِّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفْوَانِ بْنِ مُحرِز، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَام قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَيْنَ أَصْحَابِهِ، إِذْ قَالَ لَهُمْ: "هَلْ تَسْمَعُونَ مَا أَسْمَعُ؟ " قَالُوا: مَا نَسْمَعُ مِنْ شَيْءٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنِّي لَأَسْمَعُ أَطِيطَ السَّمَاءِ، وَمَا تُلَامُ أَنْ تَئِطَّ، وَمَا فِيهَا مَوْضِعِ شِبْر إِلَّا وَعَلَيْهِ مَلَكٌ سَاجِدٌ أَوْ قَائِمٌ". غَرِيبٌ وَلَمْ يُخْرِجُوهُ [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (٣/٢٠١) والطحاوي في مشكل الآثار برقم (١١٣٤) من طريق عبد الوهاب بن عطاء به، وله شاهد من حديث أبي ذر الغفاري أخرجه الترمذي في السنن برقم (٢٣١٢) وقال: "هذا حديث حسن غريب".]] .
ثُمَّ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ طَرِيقِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْع، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ مُرْسَلًا.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ [[في هـ، ف، أ: "محمد بن إسحاق" والمثبت من الطبري ١٧/٧٠.]] ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ مُخَارِقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى كَعْبِ الْأَحْبَارِ وَأَنَا غُلَامٌ، فَقُلْتُ لَهُ: أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ [لِلْمَلَائِكَةِ] [[زيادة من ف، أ.]] ﴿يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ﴾
أَمَا يَشْغَلُهُمْ عَنِ التَّسْبِيحِ الْكَلَامُ وَالرِّسَالَةُ وَالْعَمَلُ؟. فَقَالَ: فَمَنْ هَذَا الْغُلَامُ؟ فَقَالُوا: مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: فَقَبَّلَ رَأْسِي، ثُمَّ قَالَ لِي: يَا بُنَيَّ، إِنَّهُ جَعَلَ لَهُمُ التَّسْبِيحَ، كَمَا جَعَلَ لَكُمُ النَّفَسَ، أَلَيْسَ تَتَكَلَّمُ وَأَنْتَ تَتَنَفَّسُ [[في ف: "وأنت تمشي".]] وَتَمْشِي وَأَنْتَ تَتَنَفَّسُ؟.
وَلَهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَمَنْ عِندَهُۥ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِۦ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ
To Him belongs whoever is in the heavens and the earth. And those near Him are not prevented by arrogance from His worship, nor do they tire.
اور جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہیں سب اسی کے (مملوک اور اُسی کا مال) ہیں۔ اور جو (فرشتے) اُس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ کنیاتے ہیں اور نہ اکتاتے ہیں
از آن اوست آنان که در آسمانها و زمینند! و آنها که نزد اویند [= فرشتگان] هیچ گاه از عبادتش استکبار نمیورزند، و هرگز خسته نمیشوند.
Tafsir Ibn Kathir
We created not the heavens and the earth and all that is between them for play (16)Had We intended to take a pastime, We could surely have taken it from Us, if We were going to do (that)(17)Nay, We fling the truth against the falsehood, so it destroys it, and behold, it disappears. And woe to you for that which you ascribe (18)To Him belongs whosoever is in the heavens and on earth. And those who are near Him are not too proud to worship Him, nor are they weary (19)They glorify His praises night and day, they never slacken (20)
Creation was made with Justice and Wisdom
Allah tells us that He created the heavens and the earth in truth, i.e. with justice.
لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى
(that He may requite those who do evil with that which they have done, and reward those who do good, with what is best.)(53:31). He did not create all that in vain or for (mere) play:
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ
(And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve! Then woe to those who disbelieve from the Fire!)(38:27)
لَوْ أَرَدْنَا أَن نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنَاهُ مِن لَّدُنَّا إِن كُنَّا فَاعِلِينَ
(Had We intended to take a pastime, We could surely have taken it from Us, if We were going to do (that).) Ibn Abi Najih said, narrating from Mujahid:
لَوْ أَرَدْنَا أَن نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنَاهُ مِن لَّدُنَّا
(Had We intended to take a pastime, We could surely have taken it from Us,) "Meaning, 'From Ourself,' He is saying, 'We would not have created Paradise or Hell or death or the resurrection or the Reckoning.'"
إِن كُنَّا فَاعِلِينَ
(if We were going to do (that).) Qatadah, As-Suddi, Ibrahim An-Nakha'i and Mughirah bin Miqsam said: "This means, 'We will not do that.'" Mujahid said, every time the word
إِن
(if) is used in the Qur'an, it is a negation.
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ
(Nay, We fling the truth against the falsehood,) means, 'We explain the truth and thus defeat falsehood.' Allah says:
فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ
(so it destroys it, and behold, it disappears.) it is fading and vanishing.
وَلَكُمُ الْوَيْلُ
(And woe to you) O you who say that Allah has offspring.
مِمَّا تَصِفُونَ
(for that which you ascribe.) that which you say and fabricate. Then Allah informs of the servitude of the angels, and how they persevere in worship night and day:
Everything belongs to Allah and serves Him
وَلَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَنْ عِندَهُ
(To Him belongs whosoever is in the heavens and on earth. And those who are near Him) i.e., the angels,
لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ
(are not too proud to worship Him,) they do not feel proud and do not refuse to worship Him. This is like the Ayah:
لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ ۚ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا
(Al-Masih will never be proud to reject being a servant of Allah, nor the angels who are the near. And whosoever rejects His worship and is proud, then He will gather them all together unto Himself.)(4:172)
وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ
(nor are they weary.) means, they do not get tired or feel bored.
يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ
(They glorify His praises night and day, they never slacken.) They persist in their worship night and day, obeying Allah to the utmost, and they are able to do this, as Allah says:
لَّا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ
(who do not disobey Allah in what He commands them, but do what they are commanded)(66:6)
Tafsir Ibn Kathir
آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے۔ اس نے انہیں بیکار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لئے جہنم کی آگ تیار ہے۔ دوسری آیت کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اگر ہم کھیل تماشہ ہی چاہتے تو اسے بنالیتے۔ ایک معنی یہ ہیں کہ اگر ہم عورت کرنا چاہتے۔ لہو کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ یعنی یہ دونوں معنے ہے اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے کسی کو بنا لیتے۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اگر ہم اولاد چاہتے۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر :4) ، یعنی اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو مخلوق میں کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ ان عیسائیوں یہودیوں اور کفار مکہ کی لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔ آیت (ان کنا فاعلین) میں ان کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے۔ بلکہ مجاہد ؒ کا قول ہے کہ قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لئے ہی ہے۔ فرشتوں کا تذکرہ ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہوجاتا ہے اور فورا ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لئے جو لوگ اولادیں ٹھیرا رہے ہیں ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لئے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں نہ حضرت مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آرہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہوگا اور اپنا کیا بھرے گا۔ یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں اس کی عبادت میں اس کی تسبیح واطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کے مجمع میں تھے کہ فرمایا لوگو ! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو ؟ سب نے جواب دیا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ نے فرمایا میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہے اس لئے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو۔ عبداللہ حارث بن نوفل فرماتے ہیں میں حضرت کعب احبار ؒ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا اللہ کا پیغام لے کر جانا عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا ؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہو کر آپ نے فرمایا یہ بچہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب سے ہے آپ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لئے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لئے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يخبر تعالى أنه خلق السموات وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ، أَيْ: بِالْعَدْلِ وَالْقِسْطِ، ﴿لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى﴾ [النَّجْمِ:٣١] ، وَأَنَّهُ لَمْ يَخْلُقْ ذَلِكَ عَبَثًا وَلَا لَعِبًا، كَمَا قَالَ: ﴿وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ [[في ف، أ: "السماوات".]] وَالأرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ﴾ [ص:٢٧]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا لاتَّخَذْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا إِنْ كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا لاتَّخَذْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا﴾ يَعْنِي: مِنْ عِنْدِنَا، يَقُولُ: وَمَا خَلَقْنَا جَنَّةً وَلَا نَارًا، وَلَا مَوْتًا، وَلَا بَعْثًا، وَلَا حِسَابًا.
وَقَالَ الْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، وَغَيْرُهُمَا: ﴿لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا﴾ اللهو: المرأة بلسان أهل اليمن.
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخعِي: ﴿لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا لاتَّخَذْنَاهُ﴾ مِنْ الْحُورِ الْعِينِ.
وَقَالَ عِكْرِمَةُ وَالسُّدِّيُّ: الْمُرَادُ بِاللَّهْوِ هَاهُنَا: الْوَلَدُ.
وَهَذَا وَالَّذِي قَبْلَهُ مُتَلَازِمَانِ، وَهُوَ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَوْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا لاصْطَفَى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحَانَهُ﴾ [الزُّمَرِ:٤] ، فَنَزَّهَ نَفْسَهُ عَنِ اتِّخَاذِ الْوَلَدِ مُطْلَقًا، لَا سِيَّمَا عَمَّا يَقُولُونَ مِنَ الْإِفْكِ وَالْبَاطِلِ، مِنَ اتِّخَاذِ عِيسَى، أَوِ الْعُزَيْرِ [[في ف: "أو عزيز".]] أَوْ الْمَلَائِكَةِ، ﴿سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا﴾ [الْإِسْرَاءِ:٤٣] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنْ كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ قَالَ قَتَادَةُ، وَالسُّدِّيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، وَمُغِيرَةُ بْنُ مِقْسَم، أَيْ: مَا كُنَّا فَاعِلِينَ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: كُلُّ شَيْءٍ فِي الْقُرْآنِ "إِنْ" فَهُوَ إِنْكَارٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ﴾ أَيْ: نُبَيِّنُ الْحَقَّ فَيَدْحَضُ الْبَاطِلَ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ﴾ أَيْ: ذَاهِبٌ مُضْمَحِلٌّ، ﴿وَلَكُمُ الْوَيْلُ﴾ أي: أيها القاتلون: لِلَّهِ وَلَدٌ، ﴿مِمَّا تَصِفُونَ﴾ أَيْ: تَقُولُونَ وَتَفْتَرُونَ.
ثُمَّ أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْ عُبُودِيَّةِ الْمَلَائِكَةِ لَهُ، وَدَأْبِهِمْ فِي طَاعَتِهِ لَيْلًا وَنَهَارًا، فَقَالَ: ﴿وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَمَنْ عِنْدَهُ﴾ يَعْنِي: الْمَلَائِكَةَ، ﴿لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ﴾ أَيْ: لَا يَسْتَنْكِفُونَ عَنْهَا، كَمَا قَالَ: ﴿لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا لِلَّهِ وَلا الْمَلائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَنْ يَسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا﴾ [النِّسَاءِ:١٧٢] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلا يَسْتَحْسِرُونَ﴾ أَيْ: لَا يَتْعَبُونَ وَلَا يَملُّون.
﴿يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ﴾ فَهُمْ دَائِبُونَ فِي الْعَمَلِ لَيْلًا وَنَهَارًا، مُطِيعُونَ قَصْدًا وَعَمَلًا قَادِرُونَ عَلَيْهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ﴾ [التَّحْرِيمِ:٦] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي دُلامة الْبَغْدَادِيِّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفْوَانِ بْنِ مُحرِز، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَام قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَيْنَ أَصْحَابِهِ، إِذْ قَالَ لَهُمْ: "هَلْ تَسْمَعُونَ مَا أَسْمَعُ؟ " قَالُوا: مَا نَسْمَعُ مِنْ شَيْءٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنِّي لَأَسْمَعُ أَطِيطَ السَّمَاءِ، وَمَا تُلَامُ أَنْ تَئِطَّ، وَمَا فِيهَا مَوْضِعِ شِبْر إِلَّا وَعَلَيْهِ مَلَكٌ سَاجِدٌ أَوْ قَائِمٌ". غَرِيبٌ وَلَمْ يُخْرِجُوهُ [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (٣/٢٠١) والطحاوي في مشكل الآثار برقم (١١٣٤) من طريق عبد الوهاب بن عطاء به، وله شاهد من حديث أبي ذر الغفاري أخرجه الترمذي في السنن برقم (٢٣١٢) وقال: "هذا حديث حسن غريب".]] .
ثُمَّ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ طَرِيقِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْع، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ مُرْسَلًا.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ [[في هـ، ف، أ: "محمد بن إسحاق" والمثبت من الطبري ١٧/٧٠.]] ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ مُخَارِقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى كَعْبِ الْأَحْبَارِ وَأَنَا غُلَامٌ، فَقُلْتُ لَهُ: أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ [لِلْمَلَائِكَةِ] [[زيادة من ف، أ.]] ﴿يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ﴾
أَمَا يَشْغَلُهُمْ عَنِ التَّسْبِيحِ الْكَلَامُ وَالرِّسَالَةُ وَالْعَمَلُ؟. فَقَالَ: فَمَنْ هَذَا الْغُلَامُ؟ فَقَالُوا: مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: فَقَبَّلَ رَأْسِي، ثُمَّ قَالَ لِي: يَا بُنَيَّ، إِنَّهُ جَعَلَ لَهُمُ التَّسْبِيحَ، كَمَا جَعَلَ لَكُمُ النَّفَسَ، أَلَيْسَ تَتَكَلَّمُ وَأَنْتَ تَتَنَفَّسُ [[في ف: "وأنت تمشي".]] وَتَمْشِي وَأَنْتَ تَتَنَفَّسُ؟.
يُسَبِّحُونَ ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ
They exalt [Him] night and day [and] do not slacken.
رات دن (اُس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں (نہ تھکتے ہیں) نہ اکتاتے ہیں
(تمام) شب و روز را تسبیح میگویند؛ و سست نمیگردند.
Tafsir Ibn Kathir
We created not the heavens and the earth and all that is between them for play (16)Had We intended to take a pastime, We could surely have taken it from Us, if We were going to do (that)(17)Nay, We fling the truth against the falsehood, so it destroys it, and behold, it disappears. And woe to you for that which you ascribe (18)To Him belongs whosoever is in the heavens and on earth. And those who are near Him are not too proud to worship Him, nor are they weary (19)They glorify His praises night and day, they never slacken (20)
Creation was made with Justice and Wisdom
Allah tells us that He created the heavens and the earth in truth, i.e. with justice.
لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى
(that He may requite those who do evil with that which they have done, and reward those who do good, with what is best.)(53:31). He did not create all that in vain or for (mere) play:
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ
(And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve! Then woe to those who disbelieve from the Fire!)(38:27)
لَوْ أَرَدْنَا أَن نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنَاهُ مِن لَّدُنَّا إِن كُنَّا فَاعِلِينَ
(Had We intended to take a pastime, We could surely have taken it from Us, if We were going to do (that).) Ibn Abi Najih said, narrating from Mujahid:
لَوْ أَرَدْنَا أَن نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنَاهُ مِن لَّدُنَّا
(Had We intended to take a pastime, We could surely have taken it from Us,) "Meaning, 'From Ourself,' He is saying, 'We would not have created Paradise or Hell or death or the resurrection or the Reckoning.'"
إِن كُنَّا فَاعِلِينَ
(if We were going to do (that).) Qatadah, As-Suddi, Ibrahim An-Nakha'i and Mughirah bin Miqsam said: "This means, 'We will not do that.'" Mujahid said, every time the word
إِن
(if) is used in the Qur'an, it is a negation.
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ
(Nay, We fling the truth against the falsehood,) means, 'We explain the truth and thus defeat falsehood.' Allah says:
فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ
(so it destroys it, and behold, it disappears.) it is fading and vanishing.
وَلَكُمُ الْوَيْلُ
(And woe to you) O you who say that Allah has offspring.
مِمَّا تَصِفُونَ
(for that which you ascribe.) that which you say and fabricate. Then Allah informs of the servitude of the angels, and how they persevere in worship night and day:
Everything belongs to Allah and serves Him
وَلَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَنْ عِندَهُ
(To Him belongs whosoever is in the heavens and on earth. And those who are near Him) i.e., the angels,
لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ
(are not too proud to worship Him,) they do not feel proud and do not refuse to worship Him. This is like the Ayah:
لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ ۚ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا
(Al-Masih will never be proud to reject being a servant of Allah, nor the angels who are the near. And whosoever rejects His worship and is proud, then He will gather them all together unto Himself.)(4:172)
وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ
(nor are they weary.) means, they do not get tired or feel bored.
يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ
(They glorify His praises night and day, they never slacken.) They persist in their worship night and day, obeying Allah to the utmost, and they are able to do this, as Allah says:
لَّا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ
(who do not disobey Allah in what He commands them, but do what they are commanded)(66:6)
Tafsir Ibn Kathir
آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے۔ اس نے انہیں بیکار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لئے جہنم کی آگ تیار ہے۔ دوسری آیت کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اگر ہم کھیل تماشہ ہی چاہتے تو اسے بنالیتے۔ ایک معنی یہ ہیں کہ اگر ہم عورت کرنا چاہتے۔ لہو کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ یعنی یہ دونوں معنے ہے اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے کسی کو بنا لیتے۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اگر ہم اولاد چاہتے۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر :4) ، یعنی اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو مخلوق میں کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ ان عیسائیوں یہودیوں اور کفار مکہ کی لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔ آیت (ان کنا فاعلین) میں ان کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے۔ بلکہ مجاہد ؒ کا قول ہے کہ قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لئے ہی ہے۔ فرشتوں کا تذکرہ ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہوجاتا ہے اور فورا ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لئے جو لوگ اولادیں ٹھیرا رہے ہیں ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لئے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں نہ حضرت مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آرہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہوگا اور اپنا کیا بھرے گا۔ یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں اس کی عبادت میں اس کی تسبیح واطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کے مجمع میں تھے کہ فرمایا لوگو ! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو ؟ سب نے جواب دیا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ نے فرمایا میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہے اس لئے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو۔ عبداللہ حارث بن نوفل فرماتے ہیں میں حضرت کعب احبار ؒ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا اللہ کا پیغام لے کر جانا عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا ؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہو کر آپ نے فرمایا یہ بچہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب سے ہے آپ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لئے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لئے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يخبر تعالى أنه خلق السموات وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ، أَيْ: بِالْعَدْلِ وَالْقِسْطِ، ﴿لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى﴾ [النَّجْمِ:٣١] ، وَأَنَّهُ لَمْ يَخْلُقْ ذَلِكَ عَبَثًا وَلَا لَعِبًا، كَمَا قَالَ: ﴿وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ [[في ف، أ: "السماوات".]] وَالأرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ﴾ [ص:٢٧]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا لاتَّخَذْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا إِنْ كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا لاتَّخَذْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا﴾ يَعْنِي: مِنْ عِنْدِنَا، يَقُولُ: وَمَا خَلَقْنَا جَنَّةً وَلَا نَارًا، وَلَا مَوْتًا، وَلَا بَعْثًا، وَلَا حِسَابًا.
وَقَالَ الْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، وَغَيْرُهُمَا: ﴿لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا﴾ اللهو: المرأة بلسان أهل اليمن.
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخعِي: ﴿لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا لاتَّخَذْنَاهُ﴾ مِنْ الْحُورِ الْعِينِ.
وَقَالَ عِكْرِمَةُ وَالسُّدِّيُّ: الْمُرَادُ بِاللَّهْوِ هَاهُنَا: الْوَلَدُ.
وَهَذَا وَالَّذِي قَبْلَهُ مُتَلَازِمَانِ، وَهُوَ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَوْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا لاصْطَفَى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحَانَهُ﴾ [الزُّمَرِ:٤] ، فَنَزَّهَ نَفْسَهُ عَنِ اتِّخَاذِ الْوَلَدِ مُطْلَقًا، لَا سِيَّمَا عَمَّا يَقُولُونَ مِنَ الْإِفْكِ وَالْبَاطِلِ، مِنَ اتِّخَاذِ عِيسَى، أَوِ الْعُزَيْرِ [[في ف: "أو عزيز".]] أَوْ الْمَلَائِكَةِ، ﴿سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا﴾ [الْإِسْرَاءِ:٤٣] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنْ كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ قَالَ قَتَادَةُ، وَالسُّدِّيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، وَمُغِيرَةُ بْنُ مِقْسَم، أَيْ: مَا كُنَّا فَاعِلِينَ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: كُلُّ شَيْءٍ فِي الْقُرْآنِ "إِنْ" فَهُوَ إِنْكَارٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ﴾ أَيْ: نُبَيِّنُ الْحَقَّ فَيَدْحَضُ الْبَاطِلَ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ﴾ أَيْ: ذَاهِبٌ مُضْمَحِلٌّ، ﴿وَلَكُمُ الْوَيْلُ﴾ أي: أيها القاتلون: لِلَّهِ وَلَدٌ، ﴿مِمَّا تَصِفُونَ﴾ أَيْ: تَقُولُونَ وَتَفْتَرُونَ.
ثُمَّ أَخْبَرَ تَعَالَى عَنْ عُبُودِيَّةِ الْمَلَائِكَةِ لَهُ، وَدَأْبِهِمْ فِي طَاعَتِهِ لَيْلًا وَنَهَارًا، فَقَالَ: ﴿وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَمَنْ عِنْدَهُ﴾ يَعْنِي: الْمَلَائِكَةَ، ﴿لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ﴾ أَيْ: لَا يَسْتَنْكِفُونَ عَنْهَا، كَمَا قَالَ: ﴿لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا لِلَّهِ وَلا الْمَلائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَنْ يَسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا﴾ [النِّسَاءِ:١٧٢] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلا يَسْتَحْسِرُونَ﴾ أَيْ: لَا يَتْعَبُونَ وَلَا يَملُّون.
﴿يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ﴾ فَهُمْ دَائِبُونَ فِي الْعَمَلِ لَيْلًا وَنَهَارًا، مُطِيعُونَ قَصْدًا وَعَمَلًا قَادِرُونَ عَلَيْهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ﴾ [التَّحْرِيمِ:٦] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي دُلامة الْبَغْدَادِيِّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفْوَانِ بْنِ مُحرِز، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَام قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَيْنَ أَصْحَابِهِ، إِذْ قَالَ لَهُمْ: "هَلْ تَسْمَعُونَ مَا أَسْمَعُ؟ " قَالُوا: مَا نَسْمَعُ مِنْ شَيْءٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنِّي لَأَسْمَعُ أَطِيطَ السَّمَاءِ، وَمَا تُلَامُ أَنْ تَئِطَّ، وَمَا فِيهَا مَوْضِعِ شِبْر إِلَّا وَعَلَيْهِ مَلَكٌ سَاجِدٌ أَوْ قَائِمٌ". غَرِيبٌ وَلَمْ يُخْرِجُوهُ [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (٣/٢٠١) والطحاوي في مشكل الآثار برقم (١١٣٤) من طريق عبد الوهاب بن عطاء به، وله شاهد من حديث أبي ذر الغفاري أخرجه الترمذي في السنن برقم (٢٣١٢) وقال: "هذا حديث حسن غريب".]] .
ثُمَّ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ طَرِيقِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْع، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ مُرْسَلًا.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ [[في هـ، ف، أ: "محمد بن إسحاق" والمثبت من الطبري ١٧/٧٠.]] ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ مُخَارِقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى كَعْبِ الْأَحْبَارِ وَأَنَا غُلَامٌ، فَقُلْتُ لَهُ: أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ [لِلْمَلَائِكَةِ] [[زيادة من ف، أ.]] ﴿يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ﴾
أَمَا يَشْغَلُهُمْ عَنِ التَّسْبِيحِ الْكَلَامُ وَالرِّسَالَةُ وَالْعَمَلُ؟. فَقَالَ: فَمَنْ هَذَا الْغُلَامُ؟ فَقَالُوا: مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: فَقَبَّلَ رَأْسِي، ثُمَّ قَالَ لِي: يَا بُنَيَّ، إِنَّهُ جَعَلَ لَهُمُ التَّسْبِيحَ، كَمَا جَعَلَ لَكُمُ النَّفَسَ، أَلَيْسَ تَتَكَلَّمُ وَأَنْتَ تَتَنَفَّسُ [[في ف: "وأنت تمشي".]] وَتَمْشِي وَأَنْتَ تَتَنَفَّسُ؟.
أَمِ ٱتَّخَذُوٓا۟ ءَالِهَةًۭ مِّنَ ٱلْأَرْضِ هُمْ يُنشِرُونَ
Or have men taken for themselves gods from the earth who resurrect [the dead]?
بھلا لوگوں نے جو زمین کی چیزوں سے (بعض کو) معبود بنا لیا ہے (تو کیا) وہ ان کو (مرنے کے بعد) اُٹھا کھڑا کریں گے؟
آیا آنها خدایانی از زمین برگزیدند که (خلق میکنند و) منتشر میسازند؟!
Tafsir Ibn Kathir
Or have they taken (for worship) gods from the earth who raise the dead (21)Had there been therein (in the heavens and the earth) gods besides Allah, then verily, both would have been ruined. Glorified be Allah, the Lord of the Throne, (High is He) above all that (evil) they associate with Him (22)He cannot be questioned as to what He does, while they will be questioned (23)
Refutation of false gods
Allah denounces those who take other gods instead of Him:
أَمِ اتَّخَذُوا آلِهَةً مِّنَ الْأَرْضِ هُمْ يُنشِرُونَ
(Or have they taken gods from the earth who raise the dead?) meaning, can they bring the dead back to life and bring them forth from the earth They cannot do any of that, so how can they make them rivals to Allah and worship them alongside Him?
Then Allah tells us that if there were another god besides Him, the heavens and the earth would be ruined:
لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ
(Had there been therein gods) means, in the heavens and the earth,
لَفَسَدَتَا
(then verily, both would have been ruined.) This is like the Ayah:
مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَٰهٍ ۚ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ
(No son did Allah beget, nor is there any god along with Him. Then each god would have taken away what he had created, and some would have tried to overcome others! Glorified be Allah above all that they attribute to Him!)[23:91]. And Allah says here:
فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ
(Glorified be Allah, the Lord of the Throne, above all that they associate with Him!) meaning, glorified be He above what they say about Him having offspring or partners; glorified and exalted and sanctified be He far above all the lies that they fabricate.
لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ
(He cannot be questioned about what He does, while they will be questioned.) He is the Ruler Whose rule cannot be overturned and none can object to it, because of His might, majesty, pride, knowledge, wisdom, justice and subtlety.
وَهُمْ يُسْأَلُونَ
(while they will be questioned.) means, He is the One Who will ask His creation about what they did. This is like the Ayah:
فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ - عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(So, by your Lord, We shall certainly call all of them to account. For all that they used to do.)(15:92-93)
وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ
(And He protects (all), while against Whom there is no protector)(23:88)
Tafsir Ibn Kathir
سب تہمتوں سے بلند اللہ جل شانہ شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ جن جن کو تم اللہ کے سوا پوج رہے ہو ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو مردوں کو جلا سکے۔ کسی میں یا سب میں مل کر بھی یہ قدرت نہیں پھر انہیں اس قدرت والے کے برابر ماننا یا ان کی بھی عبادت کرنا کس قدر ناانصافی ہے ؟ پھر فرماتا ہے سنو اگر مان لیا جائے کہ فی الواقع بہت سے الہٰ ہیں تولازم آئے گا کہ زمین و آسمان تباہ و برباد ہوجائیں جیسے فرمان ہے آیت (مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ 91ۙ) 23۔ المؤمنون :91) اللہ کی اولاد نہیں، نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لئے پھرتا اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ اوصاف سے مبرا اور منزہ ہے۔ یہاں فرمایا اللہ تعالیٰ مالک عرش ان کے کہے ہوئے ردی اوصاف سے یعنی لڑکے لڑکیوں سے پاک ہے۔ اسی طرح شریک اور ساجھی سے، مثل اور ساتھی سے بھی بلند وبالا ہے۔ ان کی یہ سب تہمتیں ہیں جن سے اللہ کی ذات برتر ہے۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ علی الاطلاق شہنشاہ حقیقی ہے، اس پر کوئی حاکم نہیں۔ سب اس کے غلبے اور قہر تلے ہیں۔ نہ تو اس کے حکم کا کوئی تعاقب کرسکے نہ اس کے فرمان کو کوئی ٹال سکے۔ اس کی کبریائی اور عظمت جلال اور حکومت علم اور حکمت لطف اور رحمت بےپایاں ہے۔ کسی کو اس کے آگے دم مارنے کی مجال نہیں۔ سب پست اور عاجز ہیں لاچار اور بےبس ہیں۔ کوئی نہیں جو چوں کرے کوئی نہیں جو اس کے سامنے بول سکے کوئی نہیں جسے چوں چرا کا اختیار ہو جو اس کا پوچھ سکے کہ یہ کام کیوں کیا ایسا کیوں ہوا ؟ وہ چونکہ تمام مخلوق کا خالق ہے سب کا مالک ہے اسے اختیار ہے جس سے جو چاہے سوال کرے کہ ہر ایک کے اعمال کی وہ باز پرس کرے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ 92 ۙ) 15۔ الحجر :92) ، تیرے رب کی قسم ہم ان سب سے سوال کریں گے ہر اس فعل سے جو انہوں نے کیا۔ وہی ہے کہ جو اس کی پناہ میں آگیا سب شر سے بچ گیا اور کوئی نہیں جو اس کے مجرم کو پناہ دے سکے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُنْكِرُ [[في ف: "فينكر".]] تَعَالَى عَلَى مَنِ اتَّخَذَ مِنْ دُونِهِ آلِهَةً، فَقَالَ: بَلِ ﴿اتَّخَذُوا آلِهَةً مِنَ الأرْضِ هُمْ يُنْشِرُونَ﴾ أَيْ: أَهُمْ يُحْيُونَ الْمَوْتَى وَيَنْشُرُونَهُمْ مِنَ الْأَرْضِ؟ أَيْ: لَا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ. فَكَيْفَ جَعَلُوهَا لِلَّهِ نِدًّا وَعَبَدُوهَا مَعَهُ.
ثُمَّ أَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُ لَوْ كَانَ فِي الْوُجُودِ آلِهَةٌ غَيْرُهُ لَفَسَدَتِ السموات الْأَرْضُ، فَقَالَ ﴿لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ﴾ أَيْ: فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، ﴿لَفَسَدَتَا﴾ ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَهٍ إِذًا لَذَهَبَ كُلُّ إِلَهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلا بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ﴾ [الْمُؤْمِنُونَ:٩١] ، وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ﴾ أَيْ: عَمَّا يَقُولُونَ إِنَّ لَهُ وَلَدًا أَوْ شَرِيكًا، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى وَتَقَدَّسَ وَتَنَزَّهَ عَنِ الَّذِي يَفْتَرُونَ وَيَأْفِكُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ﴾ أَيْ: هُوَ الْحَاكِمُ الَّذِي لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ، وَلَا يَعْتَرِضُ عَلَيْهِ أَحَدٌ، لِعَظَمَتِهِ وَجَلَالِهِ وَكِبْرِيَائِهِ، وَعُلُوِّهِ وَحِكْمَتِهِ وَعَدْلِهِ وَلُطْفِهِ، ﴿وَهُمْ يُسْأَلُونَ﴾ أَيْ: وَهُوَ سَائِلٌ خَلْقَهُ عَمَّا يَعْمَلُونَ، كَقَوْلِهِ: ﴿فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [الْحِجْرِ:٩٢، ٩٣] وَهَذَا كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَهُوَ يُجِيرُ وَلا يُجَارُ عَلَيْهِ﴾ [الْمُؤْمِنُونَ:٨٨] .
لَوْ كَانَ فِيهِمَآ ءَالِهَةٌ إِلَّا ٱللَّهُ لَفَسَدَتَا ۚ فَسُبْحَٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ
Had there been within the heavens and earth gods besides Allah, they both would have been ruined. So exalted is Allah, Lord of the Throne, above what they describe.
اگر آسمان اور زمین میں خدا کے سوا اور معبود ہوتے تو زمین وآسمان درہم برہم ہوجاتے۔ جو باتیں یہ لوگ بتاتے ہیں خدائے مالک عرش ان سے پاک ہے
اگر در آسمان و زمین، جز «اللّه» خدایان دیگری بود، فاسد میشدند (و نظام جهان به هم میخورد)! منزه است خداوند پروردگار عرش، از توصیفی که آنها میکنند!
Tafsir Ibn Kathir
Or have they taken (for worship) gods from the earth who raise the dead (21)Had there been therein (in the heavens and the earth) gods besides Allah, then verily, both would have been ruined. Glorified be Allah, the Lord of the Throne, (High is He) above all that (evil) they associate with Him (22)He cannot be questioned as to what He does, while they will be questioned (23)
Refutation of false gods
Allah denounces those who take other gods instead of Him:
أَمِ اتَّخَذُوا آلِهَةً مِّنَ الْأَرْضِ هُمْ يُنشِرُونَ
(Or have they taken gods from the earth who raise the dead?) meaning, can they bring the dead back to life and bring them forth from the earth They cannot do any of that, so how can they make them rivals to Allah and worship them alongside Him?
Then Allah tells us that if there were another god besides Him, the heavens and the earth would be ruined:
لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ
(Had there been therein gods) means, in the heavens and the earth,
لَفَسَدَتَا
(then verily, both would have been ruined.) This is like the Ayah:
مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَٰهٍ ۚ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ
(No son did Allah beget, nor is there any god along with Him. Then each god would have taken away what he had created, and some would have tried to overcome others! Glorified be Allah above all that they attribute to Him!)[23:91]. And Allah says here:
فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ
(Glorified be Allah, the Lord of the Throne, above all that they associate with Him!) meaning, glorified be He above what they say about Him having offspring or partners; glorified and exalted and sanctified be He far above all the lies that they fabricate.
لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ
(He cannot be questioned about what He does, while they will be questioned.) He is the Ruler Whose rule cannot be overturned and none can object to it, because of His might, majesty, pride, knowledge, wisdom, justice and subtlety.
وَهُمْ يُسْأَلُونَ
(while they will be questioned.) means, He is the One Who will ask His creation about what they did. This is like the Ayah:
فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ - عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(So, by your Lord, We shall certainly call all of them to account. For all that they used to do.)(15:92-93)
وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ
(And He protects (all), while against Whom there is no protector)(23:88)
Tafsir Ibn Kathir
سب تہمتوں سے بلند اللہ جل شانہ شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ جن جن کو تم اللہ کے سوا پوج رہے ہو ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو مردوں کو جلا سکے۔ کسی میں یا سب میں مل کر بھی یہ قدرت نہیں پھر انہیں اس قدرت والے کے برابر ماننا یا ان کی بھی عبادت کرنا کس قدر ناانصافی ہے ؟ پھر فرماتا ہے سنو اگر مان لیا جائے کہ فی الواقع بہت سے الہٰ ہیں تولازم آئے گا کہ زمین و آسمان تباہ و برباد ہوجائیں جیسے فرمان ہے آیت (مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ 91ۙ) 23۔ المؤمنون :91) اللہ کی اولاد نہیں، نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لئے پھرتا اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ اوصاف سے مبرا اور منزہ ہے۔ یہاں فرمایا اللہ تعالیٰ مالک عرش ان کے کہے ہوئے ردی اوصاف سے یعنی لڑکے لڑکیوں سے پاک ہے۔ اسی طرح شریک اور ساجھی سے، مثل اور ساتھی سے بھی بلند وبالا ہے۔ ان کی یہ سب تہمتیں ہیں جن سے اللہ کی ذات برتر ہے۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ علی الاطلاق شہنشاہ حقیقی ہے، اس پر کوئی حاکم نہیں۔ سب اس کے غلبے اور قہر تلے ہیں۔ نہ تو اس کے حکم کا کوئی تعاقب کرسکے نہ اس کے فرمان کو کوئی ٹال سکے۔ اس کی کبریائی اور عظمت جلال اور حکومت علم اور حکمت لطف اور رحمت بےپایاں ہے۔ کسی کو اس کے آگے دم مارنے کی مجال نہیں۔ سب پست اور عاجز ہیں لاچار اور بےبس ہیں۔ کوئی نہیں جو چوں کرے کوئی نہیں جو اس کے سامنے بول سکے کوئی نہیں جسے چوں چرا کا اختیار ہو جو اس کا پوچھ سکے کہ یہ کام کیوں کیا ایسا کیوں ہوا ؟ وہ چونکہ تمام مخلوق کا خالق ہے سب کا مالک ہے اسے اختیار ہے جس سے جو چاہے سوال کرے کہ ہر ایک کے اعمال کی وہ باز پرس کرے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ 92 ۙ) 15۔ الحجر :92) ، تیرے رب کی قسم ہم ان سب سے سوال کریں گے ہر اس فعل سے جو انہوں نے کیا۔ وہی ہے کہ جو اس کی پناہ میں آگیا سب شر سے بچ گیا اور کوئی نہیں جو اس کے مجرم کو پناہ دے سکے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُنْكِرُ [[في ف: "فينكر".]] تَعَالَى عَلَى مَنِ اتَّخَذَ مِنْ دُونِهِ آلِهَةً، فَقَالَ: بَلِ ﴿اتَّخَذُوا آلِهَةً مِنَ الأرْضِ هُمْ يُنْشِرُونَ﴾ أَيْ: أَهُمْ يُحْيُونَ الْمَوْتَى وَيَنْشُرُونَهُمْ مِنَ الْأَرْضِ؟ أَيْ: لَا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ. فَكَيْفَ جَعَلُوهَا لِلَّهِ نِدًّا وَعَبَدُوهَا مَعَهُ.
ثُمَّ أَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُ لَوْ كَانَ فِي الْوُجُودِ آلِهَةٌ غَيْرُهُ لَفَسَدَتِ السموات الْأَرْضُ، فَقَالَ ﴿لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ﴾ أَيْ: فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، ﴿لَفَسَدَتَا﴾ ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَهٍ إِذًا لَذَهَبَ كُلُّ إِلَهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلا بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ﴾ [الْمُؤْمِنُونَ:٩١] ، وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ﴾ أَيْ: عَمَّا يَقُولُونَ إِنَّ لَهُ وَلَدًا أَوْ شَرِيكًا، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى وَتَقَدَّسَ وَتَنَزَّهَ عَنِ الَّذِي يَفْتَرُونَ وَيَأْفِكُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ﴾ أَيْ: هُوَ الْحَاكِمُ الَّذِي لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ، وَلَا يَعْتَرِضُ عَلَيْهِ أَحَدٌ، لِعَظَمَتِهِ وَجَلَالِهِ وَكِبْرِيَائِهِ، وَعُلُوِّهِ وَحِكْمَتِهِ وَعَدْلِهِ وَلُطْفِهِ، ﴿وَهُمْ يُسْأَلُونَ﴾ أَيْ: وَهُوَ سَائِلٌ خَلْقَهُ عَمَّا يَعْمَلُونَ، كَقَوْلِهِ: ﴿فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [الْحِجْرِ:٩٢، ٩٣] وَهَذَا كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَهُوَ يُجِيرُ وَلا يُجَارُ عَلَيْهِ﴾ [الْمُؤْمِنُونَ:٨٨] .
لَا يُسْـَٔلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْـَٔلُونَ
He is not questioned about what He does, but they will be questioned.
وہ جو کام کرتا ہے اس کی پرستش نہیں ہوگی اور (جو کام یہ لوگ کرتے ہیں اس کی) ان سے پرستش ہوگی
هیچ کس نمیتواند بر کار او خرده بگیرد؛ ولی در کارهای آنها، جای سؤال و ایراد است!
Tafsir Ibn Kathir
Or have they taken (for worship) gods from the earth who raise the dead (21)Had there been therein (in the heavens and the earth) gods besides Allah, then verily, both would have been ruined. Glorified be Allah, the Lord of the Throne, (High is He) above all that (evil) they associate with Him (22)He cannot be questioned as to what He does, while they will be questioned (23)
Refutation of false gods
Allah denounces those who take other gods instead of Him:
أَمِ اتَّخَذُوا آلِهَةً مِّنَ الْأَرْضِ هُمْ يُنشِرُونَ
(Or have they taken gods from the earth who raise the dead?) meaning, can they bring the dead back to life and bring them forth from the earth They cannot do any of that, so how can they make them rivals to Allah and worship them alongside Him?
Then Allah tells us that if there were another god besides Him, the heavens and the earth would be ruined:
لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ
(Had there been therein gods) means, in the heavens and the earth,
لَفَسَدَتَا
(then verily, both would have been ruined.) This is like the Ayah:
مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَٰهٍ ۚ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ
(No son did Allah beget, nor is there any god along with Him. Then each god would have taken away what he had created, and some would have tried to overcome others! Glorified be Allah above all that they attribute to Him!)[23:91]. And Allah says here:
فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ
(Glorified be Allah, the Lord of the Throne, above all that they associate with Him!) meaning, glorified be He above what they say about Him having offspring or partners; glorified and exalted and sanctified be He far above all the lies that they fabricate.
لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ
(He cannot be questioned about what He does, while they will be questioned.) He is the Ruler Whose rule cannot be overturned and none can object to it, because of His might, majesty, pride, knowledge, wisdom, justice and subtlety.
وَهُمْ يُسْأَلُونَ
(while they will be questioned.) means, He is the One Who will ask His creation about what they did. This is like the Ayah:
فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ - عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(So, by your Lord, We shall certainly call all of them to account. For all that they used to do.)(15:92-93)
وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ
(And He protects (all), while against Whom there is no protector)(23:88)
Tafsir Ibn Kathir
سب تہمتوں سے بلند اللہ جل شانہ شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ جن جن کو تم اللہ کے سوا پوج رہے ہو ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو مردوں کو جلا سکے۔ کسی میں یا سب میں مل کر بھی یہ قدرت نہیں پھر انہیں اس قدرت والے کے برابر ماننا یا ان کی بھی عبادت کرنا کس قدر ناانصافی ہے ؟ پھر فرماتا ہے سنو اگر مان لیا جائے کہ فی الواقع بہت سے الہٰ ہیں تولازم آئے گا کہ زمین و آسمان تباہ و برباد ہوجائیں جیسے فرمان ہے آیت (مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ 91ۙ) 23۔ المؤمنون :91) اللہ کی اولاد نہیں، نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لئے پھرتا اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ اوصاف سے مبرا اور منزہ ہے۔ یہاں فرمایا اللہ تعالیٰ مالک عرش ان کے کہے ہوئے ردی اوصاف سے یعنی لڑکے لڑکیوں سے پاک ہے۔ اسی طرح شریک اور ساجھی سے، مثل اور ساتھی سے بھی بلند وبالا ہے۔ ان کی یہ سب تہمتیں ہیں جن سے اللہ کی ذات برتر ہے۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ علی الاطلاق شہنشاہ حقیقی ہے، اس پر کوئی حاکم نہیں۔ سب اس کے غلبے اور قہر تلے ہیں۔ نہ تو اس کے حکم کا کوئی تعاقب کرسکے نہ اس کے فرمان کو کوئی ٹال سکے۔ اس کی کبریائی اور عظمت جلال اور حکومت علم اور حکمت لطف اور رحمت بےپایاں ہے۔ کسی کو اس کے آگے دم مارنے کی مجال نہیں۔ سب پست اور عاجز ہیں لاچار اور بےبس ہیں۔ کوئی نہیں جو چوں کرے کوئی نہیں جو اس کے سامنے بول سکے کوئی نہیں جسے چوں چرا کا اختیار ہو جو اس کا پوچھ سکے کہ یہ کام کیوں کیا ایسا کیوں ہوا ؟ وہ چونکہ تمام مخلوق کا خالق ہے سب کا مالک ہے اسے اختیار ہے جس سے جو چاہے سوال کرے کہ ہر ایک کے اعمال کی وہ باز پرس کرے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ 92 ۙ) 15۔ الحجر :92) ، تیرے رب کی قسم ہم ان سب سے سوال کریں گے ہر اس فعل سے جو انہوں نے کیا۔ وہی ہے کہ جو اس کی پناہ میں آگیا سب شر سے بچ گیا اور کوئی نہیں جو اس کے مجرم کو پناہ دے سکے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُنْكِرُ [[في ف: "فينكر".]] تَعَالَى عَلَى مَنِ اتَّخَذَ مِنْ دُونِهِ آلِهَةً، فَقَالَ: بَلِ ﴿اتَّخَذُوا آلِهَةً مِنَ الأرْضِ هُمْ يُنْشِرُونَ﴾ أَيْ: أَهُمْ يُحْيُونَ الْمَوْتَى وَيَنْشُرُونَهُمْ مِنَ الْأَرْضِ؟ أَيْ: لَا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ. فَكَيْفَ جَعَلُوهَا لِلَّهِ نِدًّا وَعَبَدُوهَا مَعَهُ.
ثُمَّ أَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّهُ لَوْ كَانَ فِي الْوُجُودِ آلِهَةٌ غَيْرُهُ لَفَسَدَتِ السموات الْأَرْضُ، فَقَالَ ﴿لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ﴾ أَيْ: فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، ﴿لَفَسَدَتَا﴾ ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَهٍ إِذًا لَذَهَبَ كُلُّ إِلَهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلا بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ﴾ [الْمُؤْمِنُونَ:٩١] ، وَقَالَ هَاهُنَا: ﴿فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ﴾ أَيْ: عَمَّا يَقُولُونَ إِنَّ لَهُ وَلَدًا أَوْ شَرِيكًا، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى وَتَقَدَّسَ وَتَنَزَّهَ عَنِ الَّذِي يَفْتَرُونَ وَيَأْفِكُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ﴾ أَيْ: هُوَ الْحَاكِمُ الَّذِي لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ، وَلَا يَعْتَرِضُ عَلَيْهِ أَحَدٌ، لِعَظَمَتِهِ وَجَلَالِهِ وَكِبْرِيَائِهِ، وَعُلُوِّهِ وَحِكْمَتِهِ وَعَدْلِهِ وَلُطْفِهِ، ﴿وَهُمْ يُسْأَلُونَ﴾ أَيْ: وَهُوَ سَائِلٌ خَلْقَهُ عَمَّا يَعْمَلُونَ، كَقَوْلِهِ: ﴿فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [الْحِجْرِ:٩٢، ٩٣] وَهَذَا كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَهُوَ يُجِيرُ وَلا يُجَارُ عَلَيْهِ﴾ [الْمُؤْمِنُونَ:٨٨] .
أَمِ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةًۭ ۖ قُلْ هَاتُوا۟ بُرْهَٰنَكُمْ ۖ هَٰذَا ذِكْرُ مَن مَّعِىَ وَذِكْرُ مَن قَبْلِى ۗ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ٱلْحَقَّ ۖ فَهُم مُّعْرِضُونَ
Or have they taken gods besides Him? Say, [O Muhammad], "Produce your proof. This [Qur'an] is the message for those with me and the message of those before me." But most of them do not know the truth, so they are turning away.
کیا لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر اور معبود بنالئے ہیں۔ کہہ دو کہ (اس بات پر) اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ (میری اور) میرے ساتھ والوں کی کتاب بھی ہے اور جو مجھ سے پہلے (پیغمبر) ہوئے ہیں۔ ان کی کتابیں بھی ہیں۔ بلکہ (بات یہ ہے کہ) ان اکثر حق بات کو نہیں جانتے اور اس لئے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں
آیا آنها معبودانی جز خدا برگزیدند؟! بگو: «دلیلتان را بیاورید! این سخن کسانی است که با من هستند، و سخن کسانی [= پیامبرانی] است که پیش از من بودند!» امّا بیشتر آنها حق را نمیدانند؛ و به همین دلیل (از آن) روی گردانند.
Tafsir Ibn Kathir
Or have they taken for worship gods besides Him Say: "Bring your proof. This is the Reminder for those with me and the Reminder for those before me." But most of them know not the Truth, so they are averse (24)And We did not send any Messenger before you but We revealed to him (saying): "There is no God but I, so worship Me. (25)
أَمِ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ آلِهَةً ۖ قُلْ
(Or have they taken for worship gods besides Him? Say:) – O Muhammad –
هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ
(Bring your proof.) your evidence for what you are saying.
هَٰذَا ذِكْرُ مَن مَّعِيَ
(This is the Reminder for those with me) means, the Qur'an.
وَذِكْرُ مَن قَبْلِي
(and the Reminder for those before me) means, the previous Books, unlike what you claim. Each Book was revealed to each Prophet who was sent with the message that there is no god except Allah, but you idolators do not recognize the truth, so you turn away from it. Allah says:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ
(And We did not send any Messenger before you but We revealed to him (saying): "There is no god but I...") This is like the Ayat:
وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَٰنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ
(And ask those of Our Messengers whom We sent before you: "Did We ever appoint gods to be worshipped besides the Most Gracious?")(43:45)
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ
(And verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah, and avoid Taghut (all false deities).")(16:36)
Every Prophet who was sent by Allah called people to worship Allah Alone, with no partner or associate. The natural inclination of man (Al-Fitrah) also bears witness to that. The idolators have no proof and their dispute is of no use before their Lord; on them is wrath, and for them will be a severe torment.
Tafsir Ibn Kathir
حق سے غافل مشرک ان لوگوں نے اللہ کے سوا جن جن کو معبود بنا رکھا ہے ان کی عبادت پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ہم جس اللہ کی عبادت کررہے ہیں اس میں سچے ہیں ہمارے ہاتھوں میں اعلیٰ تر دلیل کلام اللہ موجود ہے اور اس سے پہلے کی تمام الہامی کتابیں اسی کی دلیل میں باآواز بلند شہادت دیتی ہیں جو توحید کی موافقت میں اور کافروں کی خود پرستی کے خلاف میں ہیں۔ جو کتاب جس پیغمبر پر اتری اس میں یہ بیان موجود رہا کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں لیکن اکثر مشرک حق سے غافل ہیں اور اللہ کی باتوں سے منکر ہیں۔ تمام رسولوں کو توحید الٰہی کی ہی تلقین ہوتی رہی۔ فرمان ہے آیت (وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ 45) 43۔ الزخرف :45) تجھ سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں تو خود پوچھ لے کہ ہم نے ان کے لئے اپنے سوا اور کوئی معبود مقرر کیا تھا کہ وہ اس کی عبادت کرتے ہوں ؟ اور آیت میں ہے (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ 36) 16۔ النحل :36) ہم نے ہر امت میں اپنا پیغمبر بھیجا جس نے لوگوں میں اعلان کیا کہ تم سب ایک اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو۔ پس انبیاء کی شہادت بھی یہی ہے اور خود فطرت اللہ بھی اسی کی شاہد ہے۔ اور مشرکین کی کوئی دلیل نہیں۔ ان کی ساری حجتیں بیکار ہیں اور ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: بَلِ ﴿اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً قُلْ﴾ يَا مُحَمَّدُ: ﴿هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ﴾ أَيْ: دَلِيلَكُمْ عَلَى مَا تَقُولُونَ، ﴿هَذَا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ﴾ يَعْنِي: الْقُرْآنَ، ﴿وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِي﴾ يَعْنِي: الْكُتُبَ الْمُتَقَدِّمَةَ عَلَى خِلَافِ مَا تَقُولُونَ وَتَزْعُمُونَ، فَكُلُّ كِتَابٍ أُنْزِلَ عَلَى كُلِّ نَبِيٍّ أُرْسِلَ، نَاطِقٌ بِأَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَلَكِنْ أَنْتُمْ أَيْهَا الْمُشْرِكُونَ لَا تَعْلَمُونَ الْحَقَّ، فَأَنْتُمْ مُعْرِضُونَ عَنْهُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلا يُوحَى [[في ف، أ: "نوحي".]] إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾ ، كَمَا قَالَ: ﴿وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٤٥] ، وَقَالَ: ﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولا أَنِ اُعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾ [النَّحْلِ:٣٦] ، فَكُلُّ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ يَدْعُو إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَالْفِطْرَةُ شَاهِدَةٌ بِذَلِكَ أَيْضًا، وَالْمُشْرِكُونَ لَا بُرْهَانَ لَهُمْ، وَحُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ، وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ، وَلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ.
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِىٓ إِلَيْهِ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعْبُدُونِ
And We sent not before you any messenger except that We revealed to him that, "There is no deity except Me, so worship Me."
اور جو پیغمبر ہم نےتم سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو
ما پیش از تو هیچ پیامبری را نفرستادیم مگر اینکه به او وحی کردیم که: «معبودی جز من نیست؛ پس تنها مرا پرستش کنید.»
Tafsir Ibn Kathir
Or have they taken for worship gods besides Him Say: "Bring your proof. This is the Reminder for those with me and the Reminder for those before me." But most of them know not the Truth, so they are averse (24)And We did not send any Messenger before you but We revealed to him (saying): "There is no God but I, so worship Me. (25)
أَمِ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ آلِهَةً ۖ قُلْ
(Or have they taken for worship gods besides Him? Say:) – O Muhammad –
هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ
(Bring your proof.) your evidence for what you are saying.
هَٰذَا ذِكْرُ مَن مَّعِيَ
(This is the Reminder for those with me) means, the Qur'an.
وَذِكْرُ مَن قَبْلِي
(and the Reminder for those before me) means, the previous Books, unlike what you claim. Each Book was revealed to each Prophet who was sent with the message that there is no god except Allah, but you idolators do not recognize the truth, so you turn away from it. Allah says:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ
(And We did not send any Messenger before you but We revealed to him (saying): "There is no god but I...") This is like the Ayat:
وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَٰنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ
(And ask those of Our Messengers whom We sent before you: "Did We ever appoint gods to be worshipped besides the Most Gracious?")(43:45)
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ
(And verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah, and avoid Taghut (all false deities).")(16:36)
Every Prophet who was sent by Allah called people to worship Allah Alone, with no partner or associate. The natural inclination of man (Al-Fitrah) also bears witness to that. The idolators have no proof and their dispute is of no use before their Lord; on them is wrath, and for them will be a severe torment.
Tafsir Ibn Kathir
حق سے غافل مشرک ان لوگوں نے اللہ کے سوا جن جن کو معبود بنا رکھا ہے ان کی عبادت پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ہم جس اللہ کی عبادت کررہے ہیں اس میں سچے ہیں ہمارے ہاتھوں میں اعلیٰ تر دلیل کلام اللہ موجود ہے اور اس سے پہلے کی تمام الہامی کتابیں اسی کی دلیل میں باآواز بلند شہادت دیتی ہیں جو توحید کی موافقت میں اور کافروں کی خود پرستی کے خلاف میں ہیں۔ جو کتاب جس پیغمبر پر اتری اس میں یہ بیان موجود رہا کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں لیکن اکثر مشرک حق سے غافل ہیں اور اللہ کی باتوں سے منکر ہیں۔ تمام رسولوں کو توحید الٰہی کی ہی تلقین ہوتی رہی۔ فرمان ہے آیت (وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ 45) 43۔ الزخرف :45) تجھ سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں تو خود پوچھ لے کہ ہم نے ان کے لئے اپنے سوا اور کوئی معبود مقرر کیا تھا کہ وہ اس کی عبادت کرتے ہوں ؟ اور آیت میں ہے (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ 36) 16۔ النحل :36) ہم نے ہر امت میں اپنا پیغمبر بھیجا جس نے لوگوں میں اعلان کیا کہ تم سب ایک اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو۔ پس انبیاء کی شہادت بھی یہی ہے اور خود فطرت اللہ بھی اسی کی شاہد ہے۔ اور مشرکین کی کوئی دلیل نہیں۔ ان کی ساری حجتیں بیکار ہیں اور ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: بَلِ ﴿اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً قُلْ﴾ يَا مُحَمَّدُ: ﴿هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ﴾ أَيْ: دَلِيلَكُمْ عَلَى مَا تَقُولُونَ، ﴿هَذَا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ﴾ يَعْنِي: الْقُرْآنَ، ﴿وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِي﴾ يَعْنِي: الْكُتُبَ الْمُتَقَدِّمَةَ عَلَى خِلَافِ مَا تَقُولُونَ وَتَزْعُمُونَ، فَكُلُّ كِتَابٍ أُنْزِلَ عَلَى كُلِّ نَبِيٍّ أُرْسِلَ، نَاطِقٌ بِأَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَلَكِنْ أَنْتُمْ أَيْهَا الْمُشْرِكُونَ لَا تَعْلَمُونَ الْحَقَّ، فَأَنْتُمْ مُعْرِضُونَ عَنْهُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلا يُوحَى [[في ف، أ: "نوحي".]] إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾ ، كَمَا قَالَ: ﴿وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٤٥] ، وَقَالَ: ﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولا أَنِ اُعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾ [النَّحْلِ:٣٦] ، فَكُلُّ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ يَدْعُو إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَالْفِطْرَةُ شَاهِدَةٌ بِذَلِكَ أَيْضًا، وَالْمُشْرِكُونَ لَا بُرْهَانَ لَهُمْ، وَحُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ، وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ، وَلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ.
وَقَالُوا۟ ٱتَّخَذَ ٱلرَّحْمَٰنُ وَلَدًۭا ۗ سُبْحَٰنَهُۥ ۚ بَلْ عِبَادٌۭ مُّكْرَمُونَ
And they say, "The Most Merciful has taken a son." Exalted is He! Rather, they are [but] honored servants.
اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے۔ وہ پاک ہے (اس کے نہ بیٹا ہے نہ بیٹی) بلکہ (جن کو یہ لوگ اس کے بیٹے بیٹیاں سمجھتے ہیں) وہ اس کے عزت والے بندے ہیں
آنها گفتند: «خداوند رحمان فرزندی برای خود انتخاب کرده است»! او منزه است (از این عیب و نقص)؛ آنها [= فرشتگان] بندگان شایسته اویند.
Tafsir Ibn Kathir
And they say: "The Most Gracious has begotten children." Glory to Him! They are but honored servants (26)They speak not until He has spoken, and they act on His command (27)He knows what is before them, and what is behind them, and they cannot intercede except for him with whom He is pleased. And they stand in awe for fear of Him (28)And if any of them should say: "Verily, I am a god besides Him," such We should recompense with Hell. Thus We recompense the wrongdoers (29)
The Refutation of Those Who claim that the Angels are the Daughters of Allah;discription of their Deeds and Status
Here Allah refutes those who claim that He has offspring among the angels – exalted and sanctified be He. Some of the Arabs believed that the angels were the daughters of Allah, but Allah says:
سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ
(Glory to Him! They are but honored servants.) meaning, the angels are servants of Allah who are honored by Him and who hold high positions of noble status. They obey Him to the utmost in all their words and deeds.
لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ
(They speak not until He has spoken, and they act on His command.) meaning, they do not initiate any matter before Him or go against His commands; on the contrary, they hasten to do as He commands, and He encompasses them with His knowledge so that nothing whatsoever is hidden from Him.
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ
(He knows what is before them, and what is behind them,)
وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ
(and they cannot intercede except for him with whom He is pleased.) This is like the Ayat:
مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ
(Who is he that can intercede with Him except with His permission?)(2:255)
وَلَا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ
(Intercession with Him profits not except for him whom He permits)(34:23). There are many Ayat which say similar things.
وَهُم مِّنْ خَشْيَتِهِ
(And they for fear of Him) means, because they fear Him.
مُشْفِقُونَ - وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَٰهٌ مِّن دُونِهِ
(And they stand in awe. And if any of them should say: "Verily, I am a god besides Him,") meaning, whoever claims to be a god instead of Allah, i.e., alongside Allah,
فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
(such We should recompense with Hell. Thus We recompense the wrongdoers.) meaning, everyone who says this. This is a conditional sentence, and the condition stated does not necessarily have to take place. This is like the Ayat:
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ
(Say: "If the Most Gracious had a son, then I am the first of worshippers.")(43:81)
لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
(If you join others in worship with Allah, (then) surely, (all) your deeds will be in vain, and you will certainly be among the losers.)(39:65)
Tafsir Ibn Kathir
خشیت الٰہی۔ کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ یہ بالکل غلط ہے، فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑے بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں قولاً اور فعلاً ہر وقت اطاعت الہٰی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر کوئی بات پوشیدہ نہیں آکے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے لئے لب ہلا سکیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ02505) 2۔ البقرة :255) وہ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش اس کے پاس لے جاسکے ؟ اور آیت میں ہے (وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ 23) 34۔ سبأ :23)۔ یعنی اس کے پاس کسی کی شفاعت اس کی اپنی اجازت کے بغیر چل نہیں سکتی۔ اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ فرشتے اور اللہ کے مقرب بندے کل کے کل خشیت الہٰی سے، ہیبت رب سے لرزاں وترساں رہا کرتے ہیں۔ ان میں سے جو بھی خدائی کا دعوی کرے ہم اسے جہنم واصل کردیں ظالموں سے ہم ضرور انتقام لے لیا کرتے ہیں۔ یہ بات بطور شرط ہے اور شرط کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس کا وقوع بھی ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ خاص بندگان اللہ میں سے کوئی ایسا ناپاک دعویٰ کرے اور ایسی سخت سزا بھگتے۔ اسی طرح کی آیت (قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ 81) 43۔ الزخرف :81) اور (لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 65) 39۔ الزمر :65) ہے۔ پس نہ تو رحمن کی اولاد نہ نبی کریم ﷺ سے شرک ممکن۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى رَدًّا عَلَى مَنْ زَعَمَ أَنَّ لَهُ -تَعَالَى وَتَقَدَّسَ-وَلَدًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ، كَمَنْ قَالَ ذَلِكَ مِنَ الْعَرَبِ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ بَنَاتُ اللَّهِ، فَقَالَ: ﴿سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ﴾ أَيِ: الْمَلَائِكَةُ عِبَادُ اللَّهِ مُكْرَمُونَ عِنْدَهُ، فِي مَنَازِلَ عَالِيَةٍ وَمَقَامَاتٍ سَامِيَةٍ، وَهُمْ لَهُ فِي غَايَةِ الطَّاعَةِ قَوْلًا وَفِعْلًا.
﴿لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ﴾ أَيْ: لَا يَتَقَدَّمُونَ بَيْنَ يَدَيْهِ بِأَمْرٍ، وَلَا يُخَالِفُونَهُ فِيمَا أَمَرَ [[في ف، أ: "أمرهم".]] بِهِ بَلْ يُبَادِرُونَ إِلَى فِعْلِهِ، وَهُوَ تَعَالَى عِلْمه مُحِيطٌ بِهِمْ، فَلَا يَخْفَى عَلَيْهِ مِنْهُمْ خَافِيَةٌ، ﴿يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلا يَشْفَعُونَ إِلا لِمَنِ ارْتَضَى﴾ كَقَوْلِهِ: ﴿مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلا بِإِذْنِهِ﴾ [الْبَقَرَةِ: ٢٥٥] ، وَقَوْلُهُ: ﴿وَلا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ﴾ [سَبَأٍ:٢٣] ، فِي آيَاتٍ كَثِيرَةٍ فِي مَعْنَى ذَلِكَ.
﴿وَهُمْ مِنْ خَشْيَتِهِ﴾ أَيْ: مِنْ خَوْفِهِ وَرَهْبَتِهِ ﴿مُشْفِقُونَ وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ﴾ أَيْ: مَنِ ادَّعَى مِنْهُمْ أَنَّهُ إِلَهٌ مَنْ دُونِ اللَّهِ، أَيْ: مَعَ اللَّهِ، ﴿فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: كُلُّ مَنْ قَالَ ذَلِكَ، وَهَذَا شَرْطٌ، وَالشَّرْطُ لَا يَلْزَمُ وُقُوعُهُ، كَقَوْلِهِ: ﴿قُلْ إِنْ كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٨١] ، وَقَوْلُهُ ﴿لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ﴾ [الزُّمَرِ:٦٥] .
لَا يَسْبِقُونَهُۥ بِٱلْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِۦ يَعْمَلُونَ
They cannot precede Him in word, and they act by His command.
اس کے آگے بڑھ کر بول نہیں سکتے۔ اور اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں
هرگز در سخن بر او پیشی نمیگیرند؛ و (پیوسته) به فرمان او عمل میکنند.
Tafsir Ibn Kathir
And they say: "The Most Gracious has begotten children." Glory to Him! They are but honored servants (26)They speak not until He has spoken, and they act on His command (27)He knows what is before them, and what is behind them, and they cannot intercede except for him with whom He is pleased. And they stand in awe for fear of Him (28)And if any of them should say: "Verily, I am a god besides Him," such We should recompense with Hell. Thus We recompense the wrongdoers (29)
The Refutation of Those Who claim that the Angels are the Daughters of Allah;discription of their Deeds and Status
Here Allah refutes those who claim that He has offspring among the angels – exalted and sanctified be He. Some of the Arabs believed that the angels were the daughters of Allah, but Allah says:
سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ
(Glory to Him! They are but honored servants.) meaning, the angels are servants of Allah who are honored by Him and who hold high positions of noble status. They obey Him to the utmost in all their words and deeds.
لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ
(They speak not until He has spoken, and they act on His command.) meaning, they do not initiate any matter before Him or go against His commands; on the contrary, they hasten to do as He commands, and He encompasses them with His knowledge so that nothing whatsoever is hidden from Him.
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ
(He knows what is before them, and what is behind them,)
وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ
(and they cannot intercede except for him with whom He is pleased.) This is like the Ayat:
مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ
(Who is he that can intercede with Him except with His permission?)(2:255)
وَلَا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ
(Intercession with Him profits not except for him whom He permits)(34:23). There are many Ayat which say similar things.
وَهُم مِّنْ خَشْيَتِهِ
(And they for fear of Him) means, because they fear Him.
مُشْفِقُونَ - وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَٰهٌ مِّن دُونِهِ
(And they stand in awe. And if any of them should say: "Verily, I am a god besides Him,") meaning, whoever claims to be a god instead of Allah, i.e., alongside Allah,
فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
(such We should recompense with Hell. Thus We recompense the wrongdoers.) meaning, everyone who says this. This is a conditional sentence, and the condition stated does not necessarily have to take place. This is like the Ayat:
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ
(Say: "If the Most Gracious had a son, then I am the first of worshippers.")(43:81)
لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
(If you join others in worship with Allah, (then) surely, (all) your deeds will be in vain, and you will certainly be among the losers.)(39:65)
Tafsir Ibn Kathir
خشیت الٰہی۔ کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ یہ بالکل غلط ہے، فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑے بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں قولاً اور فعلاً ہر وقت اطاعت الہٰی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر کوئی بات پوشیدہ نہیں آکے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے لئے لب ہلا سکیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ02505) 2۔ البقرة :255) وہ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش اس کے پاس لے جاسکے ؟ اور آیت میں ہے (وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ 23) 34۔ سبأ :23)۔ یعنی اس کے پاس کسی کی شفاعت اس کی اپنی اجازت کے بغیر چل نہیں سکتی۔ اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ فرشتے اور اللہ کے مقرب بندے کل کے کل خشیت الہٰی سے، ہیبت رب سے لرزاں وترساں رہا کرتے ہیں۔ ان میں سے جو بھی خدائی کا دعوی کرے ہم اسے جہنم واصل کردیں ظالموں سے ہم ضرور انتقام لے لیا کرتے ہیں۔ یہ بات بطور شرط ہے اور شرط کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس کا وقوع بھی ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ خاص بندگان اللہ میں سے کوئی ایسا ناپاک دعویٰ کرے اور ایسی سخت سزا بھگتے۔ اسی طرح کی آیت (قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ 81) 43۔ الزخرف :81) اور (لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 65) 39۔ الزمر :65) ہے۔ پس نہ تو رحمن کی اولاد نہ نبی کریم ﷺ سے شرک ممکن۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى رَدًّا عَلَى مَنْ زَعَمَ أَنَّ لَهُ -تَعَالَى وَتَقَدَّسَ-وَلَدًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ، كَمَنْ قَالَ ذَلِكَ مِنَ الْعَرَبِ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ بَنَاتُ اللَّهِ، فَقَالَ: ﴿سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ﴾ أَيِ: الْمَلَائِكَةُ عِبَادُ اللَّهِ مُكْرَمُونَ عِنْدَهُ، فِي مَنَازِلَ عَالِيَةٍ وَمَقَامَاتٍ سَامِيَةٍ، وَهُمْ لَهُ فِي غَايَةِ الطَّاعَةِ قَوْلًا وَفِعْلًا.
﴿لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ﴾ أَيْ: لَا يَتَقَدَّمُونَ بَيْنَ يَدَيْهِ بِأَمْرٍ، وَلَا يُخَالِفُونَهُ فِيمَا أَمَرَ [[في ف، أ: "أمرهم".]] بِهِ بَلْ يُبَادِرُونَ إِلَى فِعْلِهِ، وَهُوَ تَعَالَى عِلْمه مُحِيطٌ بِهِمْ، فَلَا يَخْفَى عَلَيْهِ مِنْهُمْ خَافِيَةٌ، ﴿يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلا يَشْفَعُونَ إِلا لِمَنِ ارْتَضَى﴾ كَقَوْلِهِ: ﴿مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلا بِإِذْنِهِ﴾ [الْبَقَرَةِ: ٢٥٥] ، وَقَوْلُهُ: ﴿وَلا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ﴾ [سَبَأٍ:٢٣] ، فِي آيَاتٍ كَثِيرَةٍ فِي مَعْنَى ذَلِكَ.
﴿وَهُمْ مِنْ خَشْيَتِهِ﴾ أَيْ: مِنْ خَوْفِهِ وَرَهْبَتِهِ ﴿مُشْفِقُونَ وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ﴾ أَيْ: مَنِ ادَّعَى مِنْهُمْ أَنَّهُ إِلَهٌ مَنْ دُونِ اللَّهِ، أَيْ: مَعَ اللَّهِ، ﴿فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: كُلُّ مَنْ قَالَ ذَلِكَ، وَهَذَا شَرْطٌ، وَالشَّرْطُ لَا يَلْزَمُ وُقُوعُهُ، كَقَوْلِهِ: ﴿قُلْ إِنْ كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٨١] ، وَقَوْلُهُ ﴿لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ﴾ [الزُّمَرِ:٦٥] .
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ٱرْتَضَىٰ وَهُم مِّنْ خَشْيَتِهِۦ مُشْفِقُونَ
He knows what is [presently] before them and what will be after them, and they cannot intercede except on behalf of one whom He approves. And they, from fear of Him, are apprehensive.
جو کچھ ان کے آگے ہوچکا ہے اور پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ (اس کے پاس کسی کی) سفارش نہیں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے خدا خوش ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں
او اعمال امروز و آینده و اعمال گذشته آنها را میداند؛ و آنها جز برای کسی که خدا راضی (به شفاعت برای او) است شفاعت نمیکنند؛ و از ترس او بیمناکند.
Tafsir Ibn Kathir
And they say: "The Most Gracious has begotten children." Glory to Him! They are but honored servants (26)They speak not until He has spoken, and they act on His command (27)He knows what is before them, and what is behind them, and they cannot intercede except for him with whom He is pleased. And they stand in awe for fear of Him (28)And if any of them should say: "Verily, I am a god besides Him," such We should recompense with Hell. Thus We recompense the wrongdoers (29)
The Refutation of Those Who claim that the Angels are the Daughters of Allah;discription of their Deeds and Status
Here Allah refutes those who claim that He has offspring among the angels – exalted and sanctified be He. Some of the Arabs believed that the angels were the daughters of Allah, but Allah says:
سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ
(Glory to Him! They are but honored servants.) meaning, the angels are servants of Allah who are honored by Him and who hold high positions of noble status. They obey Him to the utmost in all their words and deeds.
لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ
(They speak not until He has spoken, and they act on His command.) meaning, they do not initiate any matter before Him or go against His commands; on the contrary, they hasten to do as He commands, and He encompasses them with His knowledge so that nothing whatsoever is hidden from Him.
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ
(He knows what is before them, and what is behind them,)
وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ
(and they cannot intercede except for him with whom He is pleased.) This is like the Ayat:
مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ
(Who is he that can intercede with Him except with His permission?)(2:255)
وَلَا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ
(Intercession with Him profits not except for him whom He permits)(34:23). There are many Ayat which say similar things.
وَهُم مِّنْ خَشْيَتِهِ
(And they for fear of Him) means, because they fear Him.
مُشْفِقُونَ - وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَٰهٌ مِّن دُونِهِ
(And they stand in awe. And if any of them should say: "Verily, I am a god besides Him,") meaning, whoever claims to be a god instead of Allah, i.e., alongside Allah,
فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
(such We should recompense with Hell. Thus We recompense the wrongdoers.) meaning, everyone who says this. This is a conditional sentence, and the condition stated does not necessarily have to take place. This is like the Ayat:
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ
(Say: "If the Most Gracious had a son, then I am the first of worshippers.")(43:81)
لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
(If you join others in worship with Allah, (then) surely, (all) your deeds will be in vain, and you will certainly be among the losers.)(39:65)
Tafsir Ibn Kathir
خشیت الٰہی۔ کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ یہ بالکل غلط ہے، فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑے بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں قولاً اور فعلاً ہر وقت اطاعت الہٰی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر کوئی بات پوشیدہ نہیں آکے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے لئے لب ہلا سکیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ02505) 2۔ البقرة :255) وہ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش اس کے پاس لے جاسکے ؟ اور آیت میں ہے (وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ 23) 34۔ سبأ :23)۔ یعنی اس کے پاس کسی کی شفاعت اس کی اپنی اجازت کے بغیر چل نہیں سکتی۔ اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ فرشتے اور اللہ کے مقرب بندے کل کے کل خشیت الہٰی سے، ہیبت رب سے لرزاں وترساں رہا کرتے ہیں۔ ان میں سے جو بھی خدائی کا دعوی کرے ہم اسے جہنم واصل کردیں ظالموں سے ہم ضرور انتقام لے لیا کرتے ہیں۔ یہ بات بطور شرط ہے اور شرط کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس کا وقوع بھی ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ خاص بندگان اللہ میں سے کوئی ایسا ناپاک دعویٰ کرے اور ایسی سخت سزا بھگتے۔ اسی طرح کی آیت (قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ 81) 43۔ الزخرف :81) اور (لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 65) 39۔ الزمر :65) ہے۔ پس نہ تو رحمن کی اولاد نہ نبی کریم ﷺ سے شرک ممکن۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى رَدًّا عَلَى مَنْ زَعَمَ أَنَّ لَهُ -تَعَالَى وَتَقَدَّسَ-وَلَدًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ، كَمَنْ قَالَ ذَلِكَ مِنَ الْعَرَبِ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ بَنَاتُ اللَّهِ، فَقَالَ: ﴿سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ﴾ أَيِ: الْمَلَائِكَةُ عِبَادُ اللَّهِ مُكْرَمُونَ عِنْدَهُ، فِي مَنَازِلَ عَالِيَةٍ وَمَقَامَاتٍ سَامِيَةٍ، وَهُمْ لَهُ فِي غَايَةِ الطَّاعَةِ قَوْلًا وَفِعْلًا.
﴿لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ﴾ أَيْ: لَا يَتَقَدَّمُونَ بَيْنَ يَدَيْهِ بِأَمْرٍ، وَلَا يُخَالِفُونَهُ فِيمَا أَمَرَ [[في ف، أ: "أمرهم".]] بِهِ بَلْ يُبَادِرُونَ إِلَى فِعْلِهِ، وَهُوَ تَعَالَى عِلْمه مُحِيطٌ بِهِمْ، فَلَا يَخْفَى عَلَيْهِ مِنْهُمْ خَافِيَةٌ، ﴿يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلا يَشْفَعُونَ إِلا لِمَنِ ارْتَضَى﴾ كَقَوْلِهِ: ﴿مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلا بِإِذْنِهِ﴾ [الْبَقَرَةِ: ٢٥٥] ، وَقَوْلُهُ: ﴿وَلا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ﴾ [سَبَأٍ:٢٣] ، فِي آيَاتٍ كَثِيرَةٍ فِي مَعْنَى ذَلِكَ.
﴿وَهُمْ مِنْ خَشْيَتِهِ﴾ أَيْ: مِنْ خَوْفِهِ وَرَهْبَتِهِ ﴿مُشْفِقُونَ وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ﴾ أَيْ: مَنِ ادَّعَى مِنْهُمْ أَنَّهُ إِلَهٌ مَنْ دُونِ اللَّهِ، أَيْ: مَعَ اللَّهِ، ﴿فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: كُلُّ مَنْ قَالَ ذَلِكَ، وَهَذَا شَرْطٌ، وَالشَّرْطُ لَا يَلْزَمُ وُقُوعُهُ، كَقَوْلِهِ: ﴿قُلْ إِنْ كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٨١] ، وَقَوْلُهُ ﴿لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ﴾ [الزُّمَرِ:٦٥] .
۞ وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّىٓ إِلَٰهٌۭ مِّن دُونِهِۦ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّٰلِمِينَ
And whoever of them should say, "Indeed, I am a god besides Him"- that one We would recompense with Hell. Thus do We recompense the wrongdoers.
اور جو شخص ان میں سے یہ کہے کہ خدا کے سوا میں معبود ہوں تو اسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
و هر کس از آنها بگوید: «من جز خدا، معبودی دیگرم»، کیفر او را جهنم میدهیم! و ستمگران را این گونه کیفر خواهیم داد.
Tafsir Ibn Kathir
And they say: "The Most Gracious has begotten children." Glory to Him! They are but honored servants (26)They speak not until He has spoken, and they act on His command (27)He knows what is before them, and what is behind them, and they cannot intercede except for him with whom He is pleased. And they stand in awe for fear of Him (28)And if any of them should say: "Verily, I am a god besides Him," such We should recompense with Hell. Thus We recompense the wrongdoers (29)
The Refutation of Those Who claim that the Angels are the Daughters of Allah;discription of their Deeds and Status
Here Allah refutes those who claim that He has offspring among the angels – exalted and sanctified be He. Some of the Arabs believed that the angels were the daughters of Allah, but Allah says:
سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ
(Glory to Him! They are but honored servants.) meaning, the angels are servants of Allah who are honored by Him and who hold high positions of noble status. They obey Him to the utmost in all their words and deeds.
لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ
(They speak not until He has spoken, and they act on His command.) meaning, they do not initiate any matter before Him or go against His commands; on the contrary, they hasten to do as He commands, and He encompasses them with His knowledge so that nothing whatsoever is hidden from Him.
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ
(He knows what is before them, and what is behind them,)
وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ
(and they cannot intercede except for him with whom He is pleased.) This is like the Ayat:
مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ
(Who is he that can intercede with Him except with His permission?)(2:255)
وَلَا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ
(Intercession with Him profits not except for him whom He permits)(34:23). There are many Ayat which say similar things.
وَهُم مِّنْ خَشْيَتِهِ
(And they for fear of Him) means, because they fear Him.
مُشْفِقُونَ - وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَٰهٌ مِّن دُونِهِ
(And they stand in awe. And if any of them should say: "Verily, I am a god besides Him,") meaning, whoever claims to be a god instead of Allah, i.e., alongside Allah,
فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
(such We should recompense with Hell. Thus We recompense the wrongdoers.) meaning, everyone who says this. This is a conditional sentence, and the condition stated does not necessarily have to take place. This is like the Ayat:
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ
(Say: "If the Most Gracious had a son, then I am the first of worshippers.")(43:81)
لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
(If you join others in worship with Allah, (then) surely, (all) your deeds will be in vain, and you will certainly be among the losers.)(39:65)
Tafsir Ibn Kathir
خشیت الٰہی۔ کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ یہ بالکل غلط ہے، فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑے بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں قولاً اور فعلاً ہر وقت اطاعت الہٰی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر کوئی بات پوشیدہ نہیں آکے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے لئے لب ہلا سکیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ02505) 2۔ البقرة :255) وہ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش اس کے پاس لے جاسکے ؟ اور آیت میں ہے (وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ 23) 34۔ سبأ :23)۔ یعنی اس کے پاس کسی کی شفاعت اس کی اپنی اجازت کے بغیر چل نہیں سکتی۔ اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ فرشتے اور اللہ کے مقرب بندے کل کے کل خشیت الہٰی سے، ہیبت رب سے لرزاں وترساں رہا کرتے ہیں۔ ان میں سے جو بھی خدائی کا دعوی کرے ہم اسے جہنم واصل کردیں ظالموں سے ہم ضرور انتقام لے لیا کرتے ہیں۔ یہ بات بطور شرط ہے اور شرط کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس کا وقوع بھی ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ خاص بندگان اللہ میں سے کوئی ایسا ناپاک دعویٰ کرے اور ایسی سخت سزا بھگتے۔ اسی طرح کی آیت (قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ 81) 43۔ الزخرف :81) اور (لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 65) 39۔ الزمر :65) ہے۔ پس نہ تو رحمن کی اولاد نہ نبی کریم ﷺ سے شرک ممکن۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى رَدًّا عَلَى مَنْ زَعَمَ أَنَّ لَهُ -تَعَالَى وَتَقَدَّسَ-وَلَدًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ، كَمَنْ قَالَ ذَلِكَ مِنَ الْعَرَبِ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ بَنَاتُ اللَّهِ، فَقَالَ: ﴿سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ﴾ أَيِ: الْمَلَائِكَةُ عِبَادُ اللَّهِ مُكْرَمُونَ عِنْدَهُ، فِي مَنَازِلَ عَالِيَةٍ وَمَقَامَاتٍ سَامِيَةٍ، وَهُمْ لَهُ فِي غَايَةِ الطَّاعَةِ قَوْلًا وَفِعْلًا.
﴿لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ﴾ أَيْ: لَا يَتَقَدَّمُونَ بَيْنَ يَدَيْهِ بِأَمْرٍ، وَلَا يُخَالِفُونَهُ فِيمَا أَمَرَ [[في ف، أ: "أمرهم".]] بِهِ بَلْ يُبَادِرُونَ إِلَى فِعْلِهِ، وَهُوَ تَعَالَى عِلْمه مُحِيطٌ بِهِمْ، فَلَا يَخْفَى عَلَيْهِ مِنْهُمْ خَافِيَةٌ، ﴿يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلا يَشْفَعُونَ إِلا لِمَنِ ارْتَضَى﴾ كَقَوْلِهِ: ﴿مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلا بِإِذْنِهِ﴾ [الْبَقَرَةِ: ٢٥٥] ، وَقَوْلُهُ: ﴿وَلا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ﴾ [سَبَأٍ:٢٣] ، فِي آيَاتٍ كَثِيرَةٍ فِي مَعْنَى ذَلِكَ.
﴿وَهُمْ مِنْ خَشْيَتِهِ﴾ أَيْ: مِنْ خَوْفِهِ وَرَهْبَتِهِ ﴿مُشْفِقُونَ وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ﴾ أَيْ: مَنِ ادَّعَى مِنْهُمْ أَنَّهُ إِلَهٌ مَنْ دُونِ اللَّهِ، أَيْ: مَعَ اللَّهِ، ﴿فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: كُلُّ مَنْ قَالَ ذَلِكَ، وَهَذَا شَرْطٌ، وَالشَّرْطُ لَا يَلْزَمُ وُقُوعُهُ، كَقَوْلِهِ: ﴿قُلْ إِنْ كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ﴾ [الزُّخْرُفِ: ٨١] ، وَقَوْلُهُ ﴿لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ﴾ [الزُّمَرِ:٦٥] .
أَوَلَمْ يَرَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَنَّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًۭا فَفَتَقْنَٰهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ ٱلْمَآءِ كُلَّ شَىْءٍ حَىٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ
Have those who disbelieved not considered that the heavens and the earth were a joined entity, and We separated them and made from water every living thing? Then will they not believe?
کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟
آیا کافران ندیدند که آسمانها و زمین به هم پیوسته بودند، و ما آنها را از یکدیگر باز کردیم؛ و هر چیز زندهای را از آب قرار دادیم؟! آیا ایمان نمیآورند؟!
Tafsir Ibn Kathir
Have not those who disbelieve known that the heavens and the earth were joined together as one united piece, then We parted them? And We have made from water every living thing. Will they not then believe (30)And We have placed on the earth firm mountains, lest it should shake with them, and We placed therein broad highways for them to pass through, that they may be guided (31)And We have made the heaven a roof, safe and well-guarded. Yet they turn away from its signs (32)And He it is Who has created the night and the day, and the sun and the moon, each in an orbit floating (33)
The Signs of Allah in the Heavens and the Earth and in the Night and the Day
Here Allah tells of His perfect might and power in His creation and subjugation of all things.
أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا
(Have not those who disbelieve known) means, those who deny His Divine nature and worship others instead of Him, do they not realize that Allah is the One Who is Independent in His powers of creation and is running the affairs of all things with absolute power? So how can it be appropriate to worship anything else beside Him or to associate others in worship with Him? Do they not see that the heavens and the earth were joined together, i.e. in the beginning they were all one piece, attached to one another and piled up on top of one another, then He separated them from one another, and made the heavens seven and the earth seven, placing the air between the earth and the lowest heaven. Then He caused rain to fall from the sky and vegetation to grow from the earth. He says:
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ
(And We have made from water every living thing. Will they not then believe?) meaning, they see with their own eyes how creation develops step by step. All of that is proof of the existence of the Creator Who is in control of all things and is able to do whatever He wills.
In everything there is a Sign of Him, showing that He is One
Sufyan Ath-Thawri narrated from his father from 'Ikrimah that Ibn 'Abbas was asked; "Did the night come first or the day?" He said, "Do you think that when the heavens and the earth were joined together, there was anything between them except darkness? Thus you may know that the night came before the day.
Ibn Abi Hatim recorded that Ibn 'Umar said that a man came to him and questioned him about when the heavens and earth were joined together then they were parted. He said, "Go to that old man (Shaykh) and ask him, then come and tell me what he says to you." So he went to Ibn 'Abbas and asked him. Ibn 'Abbas said: "Yes, the heavens were joined together and it did not rain, and the earth was joined together and nothing grew. When living beings were created to populate the earth, rain came forth from the heavens and vegetation came forth from the earth." The man went back to Ibn 'Umar and told him what had been said. Ibn 'Umar said, "Now I know that Ibn 'Abbas has been given knowledge of the Qur'an. He has spoken the truth, and this is how it was." Ibn 'Umar said: "I did not like the daring attitude of Ibn 'Abbas in his Tafsir of the Qur'an, but now I know that he has been given knowledge of the Qur'an."
Sa'id bin Jubayr said: "The heavens and the earth were attached to one another, then when the heavens were raised up, the earth became separate from them, and this is their parting which was mentioned by Allah in His Book." Al-Hasan and Qatadah said, "They were joined together, then they were separated by this air."
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ
(And We have made from water every living thing.) meaning, the origin of every living thing is in water.
Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, "I said: O Messenger of Allah, when I see you I feel happy and content, tell me about everything." He ﷺ said,
كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ
(Everything was created from water.) "I said, tell me about something which, if I do it, I will enter Paradise." He ﷺ said:
أَفْشِ السَّلَامَ، وَأَطْعِمِ الطَّعَامَ، وَصِلِ الْأَرْحَامَ، وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، ثُمَّ ادْخُلِ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ
(Spread (the greeting of) Salam, feed others, uphold the ties of kinship, and stand in prayer at night when people are sleeping. Then you will enter Paradise in peace.)
This chain of narration fulfills the conditions of the Two Sahihs, apart from Abu Maymunah, who is one of the men of the Sunans, his first name was Salim; and At-Tirmidhi classed him as Sahih.
وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ
(And We have placed on the earth firm mountains,) means, mountains which stabilize the earth and keep it steady and lend it weight, lest it should shake with the people, i.e., move and tremble so that they would not be able to stand firm on it – because it is covered with water, apart from one-quarter of its surface. So the land is exposed to the air and sun, so that its people may see the sky with its dazzling signs and evidence. So Allah says,
أَن تَمِيدَ بِهِمْ
(lest it should shake with them,) meaning, so that it will not shake with them.
وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا
(and We placed therein broad highways for them to pass through,) means, mountain passes through which they may travel from region to region, country to country. As we can see, the mountains form barriers between one land and another, so Allah created gaps – passes – in the mountains so that people may travel from here to there. So He says:
لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ
(that they may be guided.)
وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا
(And We have made the heaven a roof, safe and well-guarded.) means, covering the earth like a dome above it. This is like the Ayah,
وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ
(With Hands We constructed the heaven. Verily, We are able to extend the vastness of space thereof.)(51:47)
وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا
(By the heaven and Him Who built it.)(91:5)
أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ
(Have they not looked at the heaven above them, how We have made it and adorned it, and there are no rifts in it?)(50:6). The building and making described here refers to the raising of the dome, as when the Messenger of Allah ﷺ said,
بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ
(Islam is built on five.) i.e., five pillars, which can only refer to a tent as familiar among the Arabs.
مَحْفُوظًا
(safe and well-guarded.) means, high and protected from anything reaching it. Mujahid said, "Raised up."
وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ
(Yet they turn away from its signs.) This is like the Ayah:
وَكَأَيِّنْ مِنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ
(And how many a sign in the heavens and the earth they pass by, while they are averse therefrom)(12:105).
They do not think about how Allah has created it, so vast and high, and adorned it with heavenly bodies both stationary and moving by night and day, such as the sun which completes its circuit in one day and night, until it completes its allotted time, which no one knows except Allah, Who created it and subjugated it and directed its course. Then Allah says, drawing attention to some of His signs,
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ
(And He it is Who has created the night and the day,) meaning, the one with its darkness and stillness, and the other with its light and human interaction; sometimes the one is longer while the other is shorter, then they switch.
وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ
(and the sun and the moon,) the sun with its own light and its own path and orbit and allotted time, and the moon which shines with a different light and travels on a different path and has its own allotted time.
كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ
(each in an orbit floating.) means, revolving. Ibn 'Abbas said, "They revolve like a spinning wheel, in a circle." This is like the Ayah:
فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
((He is the) Cleaver of the daybreak. He has appointed the night for resting, and the sun and the moon for reckoning. Such is the measuring of the All-Mighty, the All-Knowing.)(6:96)
Tafsir Ibn Kathir
زبردست غالب اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ اس کی قدرت پوری ہے اور اس کا غلبہ زبردست ہے۔ فرماتا ہے کہ جو کافر اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور سب چیز کا نگہبان بھی وہی ہے پھر اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت تم کیوں کرتے ہو ؟ ابتدا میں زمین و آسمان ملے جلے ایک دوسرے سے پیوست تہ بہ تہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا زمینیں پیدا کیں اور سات ہی آسمان بنائے۔ زمین اور پہلے آسمان کے درمیان جوف اور خلا رکھا۔ آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے پیداوار اگائی۔ ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی۔ کیا یہ تمام چیزیں جن میں سے ہر ایک صانع کی خود مختاری، قدرت اور وحدت پر دلالت کرتی ہے اپنے سامنے موجود پاتے ہوئے بھی یہ لوگ اللہ کی عظمت کے قائل ہو کر شرک کو نہیں چھوڑتے ؟ ففی کل شئلہ ایتہ تدل علی انہ واحد یعنی ہر چیز میں اللہ کی حکمرانی اور اس کی وحدانیت کا نشان موجود ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے سوال ہوا کہ پہلے رات تھی یا دن ؟ تو آپ نے فرمایا کہ پہلے زمین و آسمان ملے جلے تہ بہ تہ تھے تو ظاہر ہے کہ ان میں اندھیرا ہوگا اور اندھیرے کا نام ہی رات ہے تو ثابت ہوا کہ رات پہلے تھی۔ ابن عمر ؓ سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا تم حضرت ابن عباس ؓ سے سوال کرو اور جو وہ جواب دیں مجھ سے بھی کہو، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا زمین و آسمان سب ایک ساتھ تھے، نہ بارش برستی تھی، نہ پیداوار اگتی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ذی روح مخلوق پیدا کی تو آسمان کو پھاڑ کر اس سے پانی برسایا اور زمین کو چیر کر اس میں پیداوار اگائی۔ جب سائل نے حضرت ابن عمر ؓ سے یہ جواب بیان کیا تو آپ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے آج مجھے اور بھی یقین ہوگیا کہ قرآن کے علم میں حضرت عبداللہ ؓ بہت ہی بڑھے ہوئے ہیں۔ میرے جی میں کبھی خیال آتا تھا کہ ایسا تو نہیں ابن عباس ؓ کی جرات بڑھ گئی ہو ؟ لیکن آج وہ وسوسہ دل سے جاتا رہا۔ آسمان کو پھاڑ کر سات آسمان بنائے۔ زمین کے مجموعے کو چیر کر سات زمینیں بنائیں۔ مجاہد ؒ کی تفسیر میں یہ بھی ہے کہ یہ ملے ہوئے تھے یعنی پہلے ساتوں آسمان ایک ساتھ تھے اور اسی طرح ساتوں زمینیں بھی ملی ہوئی تھیں پھر جدا جدا کردی گئیں۔ حضرت سعید ؒ کی تفسیر ہے کہ یہ دونوں پہلے ایک ہی تھے پھر الگ الگ کردیئے گئے۔ زمین و آسمان کے درمیان خلا رکھ دی گئی پانی کو تمام جانداروں کی اصل بنادیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ سے کہا حضور ﷺ جب میں آپ کو دیکھتا ہوں میرا جی خوش ہوجاتا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں آپ ہمیں تمام چیزوں کی اصلیت سے خبردار کردیں۔ آپ نے فرمایا ابوہریرہ تمام چیزیں پانی سے پیدا کی گئی ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ پھر میں نے کہا یارسول اللہ ﷺ مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جس سے میں جنت میں داخل ہوجاؤں ؟ آپ نے فرمایا لوگوں کو سلام کیا کرو اور کھانا کھلایا کرو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور رات کو جب لوگ سوتے ہوئے ہوں تو تم تہجد کی نماز پڑھا کرو تاکہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ زمین کو جناب باری عزوجل نے پہاڑوں کی میخوں سے مضبوط کردیا تاکہ وہ ہل جل کر لوگوں کو پریشان نہ کرے مخلوق کو زلزلے میں نہ ڈالے۔ زمین کی تین چوتھائیاں تو پانی میں ہیں اور صرف چوتھائی حصہ سورج اور ہوا کے لئے کھلا ہوا ہے۔ تاکہ آسمان کو اور اس کے عجائبات کو بچشم خود ملاحظہ کرسکیں۔ پھر زمین میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ سے راہیں بنادیں کہ لوگ باآسانی اپنے سفر طے کرسکیں اور دور دراز ملکوں میں بھی پہنچ سکیں۔ شان الٰہی دیکھئے اس حصے اور اس کے ٹکڑے کے درمیان بلند پہاڑی حائل ہے یہاں سے وہاں پہنچنا بظاہر سخت دشوار معلوم ہوتا ہے لیکن قدرت الہٰی خود اس پہاڑ میں راستہ بنادیتی ہے کہ یہاں کے لوگ وہاں اور وہاں کے یہاں پہنچ جائیں اور اپنے کام کاج پورے کرلیں۔ آسمان کو زمین پر مثل قبے کے بنادیا جیسے فرمان ہے کہ ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم وسعت اور کشادگی والے ہیں فرماتا ہے قسم آسمان کی اور اس کی بناوٹ کی۔ ارشاد ہے کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے سروں پر آسمان کو کس کیفیت کا بنایا ہے اور کس طرح زینت دے رکھی ہے اور لطف یہ ہے کہ اتنے بڑے آسمان میں کوئی سوارخ تک نہیں۔ بنا کہتے ہیں قبے یا خیمے کے کھڑا کرنے کو جیسے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اسلام کی بنائیں پانچ ہیں جیسے پانچ ستون پر کوئی قبہ یا خیمہ کھڑا ہوا ہو۔ پھر آسمان جو مثل چھت کے ہے۔ یہ ہے بھی محفوظ بلند پہرے چوکی والا کہ کہیں سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ بلندوبالا اونچا اور صاف ہے جیسے حدیث میں ہے کہ کسی شخص نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ یہ آسمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا رکی ہوئی موج ہے۔ یہ روایت سنداً غریب ہے لیکن لوگ اللہ کی ان زبردست نشانیوں سے بھی بےپرواہ ہیں۔ جیسے فرمان ہے آسمان و زمین کی بہت سی نشانیاں ہیں جو لوگوں کی نگاہوں تلے ہیں لیکن پھر بھی وہ ان سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ کوئی غور و فکر ہی نہیں کرتے کبھی نہیں سوچتے کہ کتنا پھیلا ہوا کتنا بلند کس قدر عظیم الشان یہ آسمان ہمارے سروں پر بغیر ستون کے اللہ تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے۔ پھر اس میں کس خوبصورتی سے ستاروں کا جڑاؤ ہو رہا ہے۔ ان میں بھی کوئی ٹھیرا ہوا ہے کوئی چلتا پھرتا ہے۔ پھر سورج کی چال مقرر ہے۔ اس کی موجودگی دن ہے اس کا نظر نہ آنا رات ہے۔ پورے آسمان کا چکر صرف ایک دن رات میں سورج پورا کرلیتا ہے۔ اس کی چال کو اس کی تیزی کو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ یوں قیاس آرائیاں اور اندازے کرنا اور بات ہے۔ بنی اسرائیل کے عابدوں میں سے ایک نے اپنی تیس سال کی مدت عبادت پوری کرلی مگر جس طرح اور عابدوں پر تیس سال کی عبادت کے بعد ابر کا سایہ ہوجایا کرتا تھا اس پر نہ ہوا تو اس نے اپنی والدہ سے یہ حال بیان کیا۔ اس نے کہا بیٹے تم نے اپنی اس عبادت کے زمانے میں کوئی گناہ کرلیا ہوگا ؟ اس نے کہا اماں ایک بھی نہیں۔ کہا پھر تم نے کسی گناہ کا پورا قصد کیا ہوگا جواب دیا کہ ایسا بھی مطلقا نہیں ہوا۔ ماں نے کہا بہت ممکن ہے کہ تم نے آسمان کی طرف نظر کی ہو اور غور وتدبر کے بغیر ہی ہٹالی ہو۔ عابد نے جواب دیا ایسا تو برابر ہوتا رہا فرمایا بس یہی سبب ہے۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کی بعض نشانیاں بیان فرماتا ہے کہ رات اور اس کے اندھیرے کو دیکھو، دن اور اس کی روشنی پر نظر ڈالو، پھر ایک کے بعد دوسرے کا بڑھنا دیکھو، سورج چاند کو دیکھو۔ سورج کا نور ایک مخصوص نور ہے اور اس کا آسمان اس کا زمانہ اس کی حرکت اس کی چال علیحدہ ہے۔ چاند کا نور الگ ہے، فلک الگ ہے، چال الگ ہے، انداز اور ہے۔ ہر ایک اپنے اپنے فلک میں گویا تیرتا پھرتا ہے اور حکم الٰہی کی بجا آوری میں مشغول ہے۔ جیسے فرمان ہے وہی صبح کا روشن کرنے والا ہے وہی رات کو پرسکون بنانے والا ہے۔ وہی سورج چاند کا انداز مقرر کرنے والا ہے۔ وہی ذی عزت غلبے والا اور ذی علم علم والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُنَبِّهًا عَلَى قُدْرَتِهِ التَّامَّةِ، وَسُلْطَانِهِ الْعَظِيمِ فِي خَلْقِهِ الْأَشْيَاءَ، وَقَهْرِهِ لِجَمِيعِ الْمَخْلُوقَاتِ، فَقَالَ: ﴿أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ أَيِ: الْجَاحِدُونَ لِإِلَهِيَّتِهِ العابدون [[في أ: "العابدين".]] معه غيره، ألم يعلموا أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسْتَقِلُّ بِالْخَلْقِ، الْمُسْتَبِدُّ بِالتَّدْبِيرِ، فَكَيْفَ يَلِيقُ أَنْ يُعْبَدَ غَيْرُهُ أَوْ يُشْرَكَ بِهِ مَا سِوَاهُ، أَلَمْ [[في أ: "أولم"."]] يَرَوْا ﴿أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ كَانَتَا رَتْقًا﴾ أَيْ: كَانَ الْجَمِيعُ مُتَّصِلًا بَعْضُهُ بِبَعْضٍ مُتَلَاصِقٌ مُتَرَاكِمٌ، بَعْضُهُ فَوْقَ بَعْضٍ فِي ابْتِدَاءِ الْأَمْرِ، فَفَتَقَ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ. فجعل السموات سَبْعًا، وَالْأَرْضَ [[في ف، أ: "والأرضين".]] سَبْعًا، وَفَصَلَ بَيْنَ سَمَاءِ الدُّنْيَا وَالْأَرْضِ بِالْهَوَاءِ، فَأَمْطَرَتِ السَّمَاءُ وَأَنْبَتَتِ الْأَرْضُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلا يُؤْمِنُونَ﴾ أَيْ: وَهُمْ يُشَاهِدُونَ الْمَخْلُوقَاتِ تَحْدُثُ شَيْئًا فَشَيْئًا عِيَانًا، وَذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى وُجُودِ الصَّانِعِ الْفَاعِلِ الْمُخْتَارِ الْقَادِرِ عَلَى مَا يَشَاءُ: فَفِي كُلّ شَيْءٍ لَهُ آيَة ... تَدُلّ علَى أنَّه وَاحد ...
قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اللَّيْلُ كان قبل أو النهار؟ فقال: أرأيتم السموات وَالْأَرْضَ حِينَ كَانَتَا رَتْقًا، هَلْ كَانَ بَيْنَهُمَا إِلَّا ظُلْمَةٌ؟ ذَلِكَ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّيْلَ قَبْلَ النَّهَارِ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّ رجلا أتاه يسأله عن السموات وَالْأَرْضِ ﴿كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا﴾ ؟. قَالَ: اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الشَّيْخِ فَاسْأَلْهُ، ثُمَّ تَعَالَ فَأَخْبِرْنِي بِمَا قَالَ لَكَ. قَالَ: فَذَهَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فسأله. فقال ابن عباس: نعم، كانت السموات رَتْقًا لَا تُمْطِرُ، وَكَانَتْ الْأَرْضُ رَتْقًا لَا تُنْبِتُ.
فَلَمَّا خَلَقَ لِلْأَرْضِ أَهْلًا فَتَقَ هَذِهِ بِالْمَطَرِ، وَفَتْقَ هَذِهِ بِالنَّبَاتِ. فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: الْآنَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَدْ أُوتِيَ فِي الْقُرْآنِ عِلْمًا، صَدَقَ -هَكَذَا كَانَتْ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَدْ كُنْتُ أَقُولُ: مَا يُعْجِبُنِي جَرَاءَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ، فَالْآنَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ قَدْ أُوتِيَ فِي الْقُرْآنِ عِلْمًا.
وَقَالَ عَطِيَّةُ العَوْفي: كَانَتْ هَذِهِ رَتْقًا لَا تُمْطِرُ، فَأَمْطَرَتْ. وَكَانَتْ هَذِهِ رَتْقًا لَا تُنْبِتُ، فَأَنْبَتَتْ.
وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ: سَأَلْتُ أَبَا صَالِحٍ الحنَفِي عَنْ قَوْلِهِ: ﴿أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا﴾ ، قَالَ: كَانَتِ السَّمَاءُ وَاحِدَةً، فَفَتَقَ مِنْهَا سَبْعَ سَمَاوَاتٍ، وَكَانَتْ الْأَرْضُ وَاحِدَةً فَفَتَقَ مِنْهَا سَبْعَ أَرْضِينَ.
وَهَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَزَادَ: وَلَمْ تَكُنِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ مُتَمَاسَّتَيْنِ.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: بَلْ كَانَتِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ مُلْتَزِقَتَيْنِ، فَلَمَّا رَفَعَ السَّمَاءَ وَأَبْرَزَ مِنْهَا الْأَرْضَ، كَانَ ذَلِكَ فَتْقَهُمَا الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ. وَقَالَ الْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، كَانَتَا جَمِيعًا، فَفَصَلَ بَيْنَهُمَا بِهَذَا الْهَوَاءِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ﴾ أَيْ: أَصْلُ كل الأحياء منه.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَمَاهِرِ [[في ف، أ: "الجماهير".]] ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ أَبِي مَيْمُونَةَ [[في ف، أ: "أبي ميمون".]] ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِذَا رَأَيْتُكَ قَرَّتْ عَيْنِي، وَطَابَتْ نَفْسِي، فَأَخْبِرْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ، قَالَ: "كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ".
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي، وَقَرَّتْ عَيْنِي، فَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ. قَالَ: "كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ" قَالَ: قُلْتُ: أَنْبِئْنِي عَنِ أَمْرٍ إِذَا عملتُ بِهِ دَخَلَتُ الْجَنَّةَ. قَالَ: "أفْش السَّلَامَ، وَأَطْعِمِ الطَّعَامَ، وصِل الْأَرْحَامَ، وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، ثُمَّ ادْخُلِ الجنَّة بِسَلَامٍ" [[المسند (٢/٢٩٥) ورواه الحاكم في المستدرك (٤/١٢٩) من طريق يزيد بن هارون وصححه. ورواه ابن حبان في صحيحه برقم (٦٤٢) "موارد" من طريق أبي عامر العقدي عن همام به.]] .
وَرَوَاهُ أَيْضًا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ وبَهْز، عَنْ هَمَّامٍ [[المسند (٢/٣٢٣-٤٩٣) من طريق عبد الصمد، (٢/٣٢٣) من طريق عفان، (٢/٣٢٤) من طريق بهز. وقال الهيثمي في المجمع (٥/١٦) : "رجاله رجال الصحيح، خلا أبي ميمونة وهو ثقة".]] . تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ، وَهَذَا إِسْنَادٌ عَلَى شَرْطِ الصَّحِيحَيْنِ، إِلَّا أَنَّ أَبَا مَيْمُونَةَ مِنْ رِجَالِ السُّنَنِ، وَاسْمُهُ سُلَيْمٌ، وَالتِّرْمِذِيُّ يُصَحِّحُ لَهُ. وَقَدْ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبة، عَنْ قَتَادَةَ مُرْسَلًا وَاللَّهُ [[في ف: "فالله".]] أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَا فِي الأرْضِ رَوَاسِيَ﴾ أَيْ: جِبَالًا أَرْسَى الْأَرْضَ بِهَا وَقَرَّرَهَا وَثَقَّلَهَا؛ لِئَلَّا تَمِيدَ بِالنَّاسِ، أَيْ: تَضْطَرِبَ وَتَتَحَرَّكَ، فَلَا يَحْصُلُ لَهُمْ عَلَيْهَا قَرَارٌ [[في ف: "قرار عليها".]] لِأَنَّهَا غَامِرَةٌ فِي الْمَاءِ إِلَّا مِقْدَارَ الرُّبْعِ، فَإِنَّهُ بَادٍ لِلْهَوَاءِ وَالشَّمْسِ، لِيُشَاهِدَ أَهْلُهَا السَّمَاءَ وَمَا فِيهَا مِنَ الْآيَاتِ الْبَاهِرَاتِ، وَالْحِكَمِ وَالدَّلَالَاتِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَنْ تَمِيدَ بِهِمْ﴾ أَيْ: لِئَلَّا تَمِيدَ بِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلا﴾ أَيْ: ثَغْرًا فِي الْجِبَالِ، يَسْلُكُونَ فِيهَا طُرُقًا مِنْ قُطْرٍ إِلَى قُطْرٍ، وَإِقْلِيمٍ إِلَى إِقْلِيمٍ، كَمَا هُوَ الْمُشَاهَدُ فِي الْأَرْضِ، يَكُونُ الْجَبَلُ حَائِلًا بَيْنَ هَذِهِ الْبِلَادِ وَهَذِهِ الْبِلَادِ، فَيَجْعَلُ اللَّهُ فِيهِ فَجْوَةً -ثَغْرَةً-لِيَسْلُكَ النَّاسُ فِيهَا مِنْ هَاهُنَا إِلَى هَاهُنَا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا﴾ أَيْ: عَلَى الْأَرْضِ وَهِيَ كَالْقُبَّةِ عَلَيْهَا، كَمَا قَالَ: ﴿وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ﴾ [الذَّارِيَاتِ: ٤٧] ، وَقَالَ: ﴿وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا﴾ [الشَّمْسِ:٥] ، ﴿أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ﴾ [ق:٦] ، وَالْبِنَاءُ هُوَ نَصْبُ الْقُبَّةِ، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "بُنِي الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ" أَيْ: خَمْسُ [[في ف: "خمسة".]] دَعَائِمَ، وَهَذَا لَا يَكُونُ إِلَّا فِي الْخِيَامِ، عَلَى مَا [[في ف:" كما".]] تَعْهَدُهُ الْعَرَبُ.
﴿مَّحْفُوظًا﴾ أَيْ: عَالِيًا مَحْرُوسًا أَنْ يُنال. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: مَرْفُوعًا.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّشْتَكي، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ أَبِيهِ، عَنِ أَشْعَثَ -يَعْنِي ابْنَ إسحاق القُمِّي-عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذِهِ السَّمَاءُ، قَالَ: "مَوْجٌ مَكْفُوفٌ عَنْكُمْ" [[ورواه أبو الشيخ في العظمة برقم (٥٣٩) من طريق أحمد بن القاسم عن أحمد بن عبد الرحمن الدشتكي به.]] إِسْنَادٌ غَرِيبٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ﴾ ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَكَأَيِّنْ مِنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ﴾ [يُوسُفَ:١٠٥] أَيْ: لَا يَتَفَكَّرُونَ فِيمَا خَلَقَ اللَّهُ فِيهَا مِنَ الِاتِّسَاعِ الْعَظِيمِ، وَالِارْتِفَاعِ الْبَاهِرِ، وَمَا زُيِّنَتْ بِهِ مِنَ الْكَوَاكِبِ الثَّوَابِتِ وَالسَّيَّارَاتِ فِي لَيْلِهَا، وَفِي نَهَارِهَا [[في ف، أ: "النهار".]] مِنْ هَذِهِ الشَّمْسِ الَّتِي تَقْطَعُ الْفَلَكَ بِكَمَالِهِ، فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَتَسِيرُ غَايَةً لَا يَعْلَمُ قَدْرَهَا إِلَّا الَّذِي [[في ف، أ: "الله".]] قَدَّرَهَا وَسَخَّرَهَا وَسَيَّرَهَا.
وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، رَحِمَهُ اللَّهُ، فِي كِتَابِهِ "التَّفَكُّرُ وَالِاعْتِبَارُ": أَنَّ بَعْضَ عُبَّادِ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَعَبَّدَ ثَلَاثِينَ سَنَةً، وَكَانَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ إِذَا تَعَبَّدَ ثَلَاثِينَ سَنَةً أَظَلَّتْهُ غَمَامَةٌ، فَلَمْ يَرَ ذَلِكَ الرَّجُلُ شَيْئًا مِمَّا كَانَ يَرَى لِغَيْرِهِ، فَشَكَى ذَلِكَ إِلَى أُمِّهِ، فَقَالَتْ لَهُ: يَا بُنَيَّ، فَلَعَلَّكَ أَذْنَبْتَ فِي مُدَّةِ عِبَادَتِكَ هَذِهِ، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ، قَالَتْ: فَلَعَلَّكَ هَمَمْتَ؟ قَالَ: لَا [[في ف، أ: "بل والله".]] وَلَا هَمَمْتُ. قَالَتْ: فَلَعَلَّكَ رَفَعْتَ بَصَرَكَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ رَدَدْتَهُ بِغَيْرِ فِكْرٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، كَثِيرًا. قَالَتْ: فَمِنْ هَاهُنَا أُتِيتَ.
ثُمَّ قَالَ مُنَبِّهًا عَلَى بَعْضِ آيَاتِهِ: ﴿وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ﴾ أَيْ: هَذَا فِي ظَلَامِهِ وَسُكُونِهِ، وَهَذَا بِضِيَائِهِ وَأُنْسِهِ، يَطُولُ هَذَا تَارَةً ثُمَّ يَقْصُرُ أُخْرَى، وَعَكْسُهُ الْآخَرُ. ﴿وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ﴾ هَذِهِ لَهَا نُورٌ يَخُصُّهَا، وَفَلَكٌ بِذَاتِهِ، وَزَمَانٌ عَلَى حِدَةٍ، وَحَرَكَةٍ وَسَيْرٍ خَاصٍّ، وَهَذَا بِنُورٍ خَاصٍّ آخَرَ، وَفَلَكٍ آخَرَ، وَسَيْرٍ آخَرَ، وَتَقْدِيرٍ آخَرَ، ﴿وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ﴾ [يس:٤٠] ، أَيْ: يَدُورُونَ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَدُورُونَ كَمَا يَدُورُ الْمِغْزَلُ فِي الْفَلْكَةِ. وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ: فَلَا يَدُورُ الْمِغْزَلُ إِلَّا بِالْفَلْكَةِ، وَلَا الْفَلْكَةُ إِلَّا بِالْمِغْزَلِ، كَذَلِكَ النُّجُومُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ، لَا يَدُورُونَ إِلَّا بِهِ، وَلَا يَدُورُ إِلَّا بِهِنَّ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَالِقُ الإصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ﴾ [الْأَنْعَامِ:٩٦] .
وَجَعَلْنَا فِى ٱلْأَرْضِ رَوَٰسِىَ أَن تَمِيدَ بِهِمْ وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًۭا سُبُلًۭا لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ
And We placed within the earth firmly set mountains, lest it should shift with them, and We made therein [mountain] passes [as] roads that they might be guided.
اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ لوگوں (کے بوجھ) سے ہلنے (اور جھکنے) نہ لگے اور اس میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ ان پر چلیں
و در زمین، کوههای ثابت و پابرجایی قرار دادیم، مبادا آنها را بلرزاند! و در آن، درّهها و راههایی قرار دادیم تا هدایت شوند!
Tafsir Ibn Kathir
Have not those who disbelieve known that the heavens and the earth were joined together as one united piece, then We parted them? And We have made from water every living thing. Will they not then believe (30)And We have placed on the earth firm mountains, lest it should shake with them, and We placed therein broad highways for them to pass through, that they may be guided (31)And We have made the heaven a roof, safe and well-guarded. Yet they turn away from its signs (32)And He it is Who has created the night and the day, and the sun and the moon, each in an orbit floating (33)
The Signs of Allah in the Heavens and the Earth and in the Night and the Day
Here Allah tells of His perfect might and power in His creation and subjugation of all things.
أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا
(Have not those who disbelieve known) means, those who deny His Divine nature and worship others instead of Him, do they not realize that Allah is the One Who is Independent in His powers of creation and is running the affairs of all things with absolute power? So how can it be appropriate to worship anything else beside Him or to associate others in worship with Him? Do they not see that the heavens and the earth were joined together, i.e. in the beginning they were all one piece, attached to one another and piled up on top of one another, then He separated them from one another, and made the heavens seven and the earth seven, placing the air between the earth and the lowest heaven. Then He caused rain to fall from the sky and vegetation to grow from the earth. He says:
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ
(And We have made from water every living thing. Will they not then believe?) meaning, they see with their own eyes how creation develops step by step. All of that is proof of the existence of the Creator Who is in control of all things and is able to do whatever He wills.
In everything there is a Sign of Him, showing that He is One
Sufyan Ath-Thawri narrated from his father from 'Ikrimah that Ibn 'Abbas was asked; "Did the night come first or the day?" He said, "Do you think that when the heavens and the earth were joined together, there was anything between them except darkness? Thus you may know that the night came before the day.
Ibn Abi Hatim recorded that Ibn 'Umar said that a man came to him and questioned him about when the heavens and earth were joined together then they were parted. He said, "Go to that old man (Shaykh) and ask him, then come and tell me what he says to you." So he went to Ibn 'Abbas and asked him. Ibn 'Abbas said: "Yes, the heavens were joined together and it did not rain, and the earth was joined together and nothing grew. When living beings were created to populate the earth, rain came forth from the heavens and vegetation came forth from the earth." The man went back to Ibn 'Umar and told him what had been said. Ibn 'Umar said, "Now I know that Ibn 'Abbas has been given knowledge of the Qur'an. He has spoken the truth, and this is how it was." Ibn 'Umar said: "I did not like the daring attitude of Ibn 'Abbas in his Tafsir of the Qur'an, but now I know that he has been given knowledge of the Qur'an."
Sa'id bin Jubayr said: "The heavens and the earth were attached to one another, then when the heavens were raised up, the earth became separate from them, and this is their parting which was mentioned by Allah in His Book." Al-Hasan and Qatadah said, "They were joined together, then they were separated by this air."
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ
(And We have made from water every living thing.) meaning, the origin of every living thing is in water.
Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, "I said: O Messenger of Allah, when I see you I feel happy and content, tell me about everything." He ﷺ said,
كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ
(Everything was created from water.) "I said, tell me about something which, if I do it, I will enter Paradise." He ﷺ said:
أَفْشِ السَّلَامَ، وَأَطْعِمِ الطَّعَامَ، وَصِلِ الْأَرْحَامَ، وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، ثُمَّ ادْخُلِ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ
(Spread (the greeting of) Salam, feed others, uphold the ties of kinship, and stand in prayer at night when people are sleeping. Then you will enter Paradise in peace.)
This chain of narration fulfills the conditions of the Two Sahihs, apart from Abu Maymunah, who is one of the men of the Sunans, his first name was Salim; and At-Tirmidhi classed him as Sahih.
وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ
(And We have placed on the earth firm mountains,) means, mountains which stabilize the earth and keep it steady and lend it weight, lest it should shake with the people, i.e., move and tremble so that they would not be able to stand firm on it – because it is covered with water, apart from one-quarter of its surface. So the land is exposed to the air and sun, so that its people may see the sky with its dazzling signs and evidence. So Allah says,
أَن تَمِيدَ بِهِمْ
(lest it should shake with them,) meaning, so that it will not shake with them.
وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا
(and We placed therein broad highways for them to pass through,) means, mountain passes through which they may travel from region to region, country to country. As we can see, the mountains form barriers between one land and another, so Allah created gaps – passes – in the mountains so that people may travel from here to there. So He says:
لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ
(that they may be guided.)
وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا
(And We have made the heaven a roof, safe and well-guarded.) means, covering the earth like a dome above it. This is like the Ayah,
وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ
(With Hands We constructed the heaven. Verily, We are able to extend the vastness of space thereof.)(51:47)
وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا
(By the heaven and Him Who built it.)(91:5)
أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ
(Have they not looked at the heaven above them, how We have made it and adorned it, and there are no rifts in it?)(50:6). The building and making described here refers to the raising of the dome, as when the Messenger of Allah ﷺ said,
بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ
(Islam is built on five.) i.e., five pillars, which can only refer to a tent as familiar among the Arabs.
مَحْفُوظًا
(safe and well-guarded.) means, high and protected from anything reaching it. Mujahid said, "Raised up."
وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ
(Yet they turn away from its signs.) This is like the Ayah:
وَكَأَيِّنْ مِنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ
(And how many a sign in the heavens and the earth they pass by, while they are averse therefrom)(12:105).
They do not think about how Allah has created it, so vast and high, and adorned it with heavenly bodies both stationary and moving by night and day, such as the sun which completes its circuit in one day and night, until it completes its allotted time, which no one knows except Allah, Who created it and subjugated it and directed its course. Then Allah says, drawing attention to some of His signs,
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ
(And He it is Who has created the night and the day,) meaning, the one with its darkness and stillness, and the other with its light and human interaction; sometimes the one is longer while the other is shorter, then they switch.
وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ
(and the sun and the moon,) the sun with its own light and its own path and orbit and allotted time, and the moon which shines with a different light and travels on a different path and has its own allotted time.
كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ
(each in an orbit floating.) means, revolving. Ibn 'Abbas said, "They revolve like a spinning wheel, in a circle." This is like the Ayah:
فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
((He is the) Cleaver of the daybreak. He has appointed the night for resting, and the sun and the moon for reckoning. Such is the measuring of the All-Mighty, the All-Knowing.)(6:96)
Tafsir Ibn Kathir
زبردست غالب اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ اس کی قدرت پوری ہے اور اس کا غلبہ زبردست ہے۔ فرماتا ہے کہ جو کافر اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور سب چیز کا نگہبان بھی وہی ہے پھر اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت تم کیوں کرتے ہو ؟ ابتدا میں زمین و آسمان ملے جلے ایک دوسرے سے پیوست تہ بہ تہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا زمینیں پیدا کیں اور سات ہی آسمان بنائے۔ زمین اور پہلے آسمان کے درمیان جوف اور خلا رکھا۔ آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے پیداوار اگائی۔ ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی۔ کیا یہ تمام چیزیں جن میں سے ہر ایک صانع کی خود مختاری، قدرت اور وحدت پر دلالت کرتی ہے اپنے سامنے موجود پاتے ہوئے بھی یہ لوگ اللہ کی عظمت کے قائل ہو کر شرک کو نہیں چھوڑتے ؟ ففی کل شئلہ ایتہ تدل علی انہ واحد یعنی ہر چیز میں اللہ کی حکمرانی اور اس کی وحدانیت کا نشان موجود ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے سوال ہوا کہ پہلے رات تھی یا دن ؟ تو آپ نے فرمایا کہ پہلے زمین و آسمان ملے جلے تہ بہ تہ تھے تو ظاہر ہے کہ ان میں اندھیرا ہوگا اور اندھیرے کا نام ہی رات ہے تو ثابت ہوا کہ رات پہلے تھی۔ ابن عمر ؓ سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا تم حضرت ابن عباس ؓ سے سوال کرو اور جو وہ جواب دیں مجھ سے بھی کہو، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا زمین و آسمان سب ایک ساتھ تھے، نہ بارش برستی تھی، نہ پیداوار اگتی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ذی روح مخلوق پیدا کی تو آسمان کو پھاڑ کر اس سے پانی برسایا اور زمین کو چیر کر اس میں پیداوار اگائی۔ جب سائل نے حضرت ابن عمر ؓ سے یہ جواب بیان کیا تو آپ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے آج مجھے اور بھی یقین ہوگیا کہ قرآن کے علم میں حضرت عبداللہ ؓ بہت ہی بڑھے ہوئے ہیں۔ میرے جی میں کبھی خیال آتا تھا کہ ایسا تو نہیں ابن عباس ؓ کی جرات بڑھ گئی ہو ؟ لیکن آج وہ وسوسہ دل سے جاتا رہا۔ آسمان کو پھاڑ کر سات آسمان بنائے۔ زمین کے مجموعے کو چیر کر سات زمینیں بنائیں۔ مجاہد ؒ کی تفسیر میں یہ بھی ہے کہ یہ ملے ہوئے تھے یعنی پہلے ساتوں آسمان ایک ساتھ تھے اور اسی طرح ساتوں زمینیں بھی ملی ہوئی تھیں پھر جدا جدا کردی گئیں۔ حضرت سعید ؒ کی تفسیر ہے کہ یہ دونوں پہلے ایک ہی تھے پھر الگ الگ کردیئے گئے۔ زمین و آسمان کے درمیان خلا رکھ دی گئی پانی کو تمام جانداروں کی اصل بنادیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ سے کہا حضور ﷺ جب میں آپ کو دیکھتا ہوں میرا جی خوش ہوجاتا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں آپ ہمیں تمام چیزوں کی اصلیت سے خبردار کردیں۔ آپ نے فرمایا ابوہریرہ تمام چیزیں پانی سے پیدا کی گئی ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ پھر میں نے کہا یارسول اللہ ﷺ مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جس سے میں جنت میں داخل ہوجاؤں ؟ آپ نے فرمایا لوگوں کو سلام کیا کرو اور کھانا کھلایا کرو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور رات کو جب لوگ سوتے ہوئے ہوں تو تم تہجد کی نماز پڑھا کرو تاکہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ زمین کو جناب باری عزوجل نے پہاڑوں کی میخوں سے مضبوط کردیا تاکہ وہ ہل جل کر لوگوں کو پریشان نہ کرے مخلوق کو زلزلے میں نہ ڈالے۔ زمین کی تین چوتھائیاں تو پانی میں ہیں اور صرف چوتھائی حصہ سورج اور ہوا کے لئے کھلا ہوا ہے۔ تاکہ آسمان کو اور اس کے عجائبات کو بچشم خود ملاحظہ کرسکیں۔ پھر زمین میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ سے راہیں بنادیں کہ لوگ باآسانی اپنے سفر طے کرسکیں اور دور دراز ملکوں میں بھی پہنچ سکیں۔ شان الٰہی دیکھئے اس حصے اور اس کے ٹکڑے کے درمیان بلند پہاڑی حائل ہے یہاں سے وہاں پہنچنا بظاہر سخت دشوار معلوم ہوتا ہے لیکن قدرت الہٰی خود اس پہاڑ میں راستہ بنادیتی ہے کہ یہاں کے لوگ وہاں اور وہاں کے یہاں پہنچ جائیں اور اپنے کام کاج پورے کرلیں۔ آسمان کو زمین پر مثل قبے کے بنادیا جیسے فرمان ہے کہ ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم وسعت اور کشادگی والے ہیں فرماتا ہے قسم آسمان کی اور اس کی بناوٹ کی۔ ارشاد ہے کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے سروں پر آسمان کو کس کیفیت کا بنایا ہے اور کس طرح زینت دے رکھی ہے اور لطف یہ ہے کہ اتنے بڑے آسمان میں کوئی سوارخ تک نہیں۔ بنا کہتے ہیں قبے یا خیمے کے کھڑا کرنے کو جیسے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اسلام کی بنائیں پانچ ہیں جیسے پانچ ستون پر کوئی قبہ یا خیمہ کھڑا ہوا ہو۔ پھر آسمان جو مثل چھت کے ہے۔ یہ ہے بھی محفوظ بلند پہرے چوکی والا کہ کہیں سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ بلندوبالا اونچا اور صاف ہے جیسے حدیث میں ہے کہ کسی شخص نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ یہ آسمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا رکی ہوئی موج ہے۔ یہ روایت سنداً غریب ہے لیکن لوگ اللہ کی ان زبردست نشانیوں سے بھی بےپرواہ ہیں۔ جیسے فرمان ہے آسمان و زمین کی بہت سی نشانیاں ہیں جو لوگوں کی نگاہوں تلے ہیں لیکن پھر بھی وہ ان سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ کوئی غور و فکر ہی نہیں کرتے کبھی نہیں سوچتے کہ کتنا پھیلا ہوا کتنا بلند کس قدر عظیم الشان یہ آسمان ہمارے سروں پر بغیر ستون کے اللہ تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے۔ پھر اس میں کس خوبصورتی سے ستاروں کا جڑاؤ ہو رہا ہے۔ ان میں بھی کوئی ٹھیرا ہوا ہے کوئی چلتا پھرتا ہے۔ پھر سورج کی چال مقرر ہے۔ اس کی موجودگی دن ہے اس کا نظر نہ آنا رات ہے۔ پورے آسمان کا چکر صرف ایک دن رات میں سورج پورا کرلیتا ہے۔ اس کی چال کو اس کی تیزی کو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ یوں قیاس آرائیاں اور اندازے کرنا اور بات ہے۔ بنی اسرائیل کے عابدوں میں سے ایک نے اپنی تیس سال کی مدت عبادت پوری کرلی مگر جس طرح اور عابدوں پر تیس سال کی عبادت کے بعد ابر کا سایہ ہوجایا کرتا تھا اس پر نہ ہوا تو اس نے اپنی والدہ سے یہ حال بیان کیا۔ اس نے کہا بیٹے تم نے اپنی اس عبادت کے زمانے میں کوئی گناہ کرلیا ہوگا ؟ اس نے کہا اماں ایک بھی نہیں۔ کہا پھر تم نے کسی گناہ کا پورا قصد کیا ہوگا جواب دیا کہ ایسا بھی مطلقا نہیں ہوا۔ ماں نے کہا بہت ممکن ہے کہ تم نے آسمان کی طرف نظر کی ہو اور غور وتدبر کے بغیر ہی ہٹالی ہو۔ عابد نے جواب دیا ایسا تو برابر ہوتا رہا فرمایا بس یہی سبب ہے۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کی بعض نشانیاں بیان فرماتا ہے کہ رات اور اس کے اندھیرے کو دیکھو، دن اور اس کی روشنی پر نظر ڈالو، پھر ایک کے بعد دوسرے کا بڑھنا دیکھو، سورج چاند کو دیکھو۔ سورج کا نور ایک مخصوص نور ہے اور اس کا آسمان اس کا زمانہ اس کی حرکت اس کی چال علیحدہ ہے۔ چاند کا نور الگ ہے، فلک الگ ہے، چال الگ ہے، انداز اور ہے۔ ہر ایک اپنے اپنے فلک میں گویا تیرتا پھرتا ہے اور حکم الٰہی کی بجا آوری میں مشغول ہے۔ جیسے فرمان ہے وہی صبح کا روشن کرنے والا ہے وہی رات کو پرسکون بنانے والا ہے۔ وہی سورج چاند کا انداز مقرر کرنے والا ہے۔ وہی ذی عزت غلبے والا اور ذی علم علم والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُنَبِّهًا عَلَى قُدْرَتِهِ التَّامَّةِ، وَسُلْطَانِهِ الْعَظِيمِ فِي خَلْقِهِ الْأَشْيَاءَ، وَقَهْرِهِ لِجَمِيعِ الْمَخْلُوقَاتِ، فَقَالَ: ﴿أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ أَيِ: الْجَاحِدُونَ لِإِلَهِيَّتِهِ العابدون [[في أ: "العابدين".]] معه غيره، ألم يعلموا أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسْتَقِلُّ بِالْخَلْقِ، الْمُسْتَبِدُّ بِالتَّدْبِيرِ، فَكَيْفَ يَلِيقُ أَنْ يُعْبَدَ غَيْرُهُ أَوْ يُشْرَكَ بِهِ مَا سِوَاهُ، أَلَمْ [[في أ: "أولم"."]] يَرَوْا ﴿أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ كَانَتَا رَتْقًا﴾ أَيْ: كَانَ الْجَمِيعُ مُتَّصِلًا بَعْضُهُ بِبَعْضٍ مُتَلَاصِقٌ مُتَرَاكِمٌ، بَعْضُهُ فَوْقَ بَعْضٍ فِي ابْتِدَاءِ الْأَمْرِ، فَفَتَقَ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ. فجعل السموات سَبْعًا، وَالْأَرْضَ [[في ف، أ: "والأرضين".]] سَبْعًا، وَفَصَلَ بَيْنَ سَمَاءِ الدُّنْيَا وَالْأَرْضِ بِالْهَوَاءِ، فَأَمْطَرَتِ السَّمَاءُ وَأَنْبَتَتِ الْأَرْضُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلا يُؤْمِنُونَ﴾ أَيْ: وَهُمْ يُشَاهِدُونَ الْمَخْلُوقَاتِ تَحْدُثُ شَيْئًا فَشَيْئًا عِيَانًا، وَذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى وُجُودِ الصَّانِعِ الْفَاعِلِ الْمُخْتَارِ الْقَادِرِ عَلَى مَا يَشَاءُ: فَفِي كُلّ شَيْءٍ لَهُ آيَة ... تَدُلّ علَى أنَّه وَاحد ...
قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اللَّيْلُ كان قبل أو النهار؟ فقال: أرأيتم السموات وَالْأَرْضَ حِينَ كَانَتَا رَتْقًا، هَلْ كَانَ بَيْنَهُمَا إِلَّا ظُلْمَةٌ؟ ذَلِكَ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّيْلَ قَبْلَ النَّهَارِ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّ رجلا أتاه يسأله عن السموات وَالْأَرْضِ ﴿كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا﴾ ؟. قَالَ: اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الشَّيْخِ فَاسْأَلْهُ، ثُمَّ تَعَالَ فَأَخْبِرْنِي بِمَا قَالَ لَكَ. قَالَ: فَذَهَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فسأله. فقال ابن عباس: نعم، كانت السموات رَتْقًا لَا تُمْطِرُ، وَكَانَتْ الْأَرْضُ رَتْقًا لَا تُنْبِتُ.
فَلَمَّا خَلَقَ لِلْأَرْضِ أَهْلًا فَتَقَ هَذِهِ بِالْمَطَرِ، وَفَتْقَ هَذِهِ بِالنَّبَاتِ. فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: الْآنَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَدْ أُوتِيَ فِي الْقُرْآنِ عِلْمًا، صَدَقَ -هَكَذَا كَانَتْ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَدْ كُنْتُ أَقُولُ: مَا يُعْجِبُنِي جَرَاءَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ، فَالْآنَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ قَدْ أُوتِيَ فِي الْقُرْآنِ عِلْمًا.
وَقَالَ عَطِيَّةُ العَوْفي: كَانَتْ هَذِهِ رَتْقًا لَا تُمْطِرُ، فَأَمْطَرَتْ. وَكَانَتْ هَذِهِ رَتْقًا لَا تُنْبِتُ، فَأَنْبَتَتْ.
وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ: سَأَلْتُ أَبَا صَالِحٍ الحنَفِي عَنْ قَوْلِهِ: ﴿أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا﴾ ، قَالَ: كَانَتِ السَّمَاءُ وَاحِدَةً، فَفَتَقَ مِنْهَا سَبْعَ سَمَاوَاتٍ، وَكَانَتْ الْأَرْضُ وَاحِدَةً فَفَتَقَ مِنْهَا سَبْعَ أَرْضِينَ.
وَهَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَزَادَ: وَلَمْ تَكُنِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ مُتَمَاسَّتَيْنِ.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: بَلْ كَانَتِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ مُلْتَزِقَتَيْنِ، فَلَمَّا رَفَعَ السَّمَاءَ وَأَبْرَزَ مِنْهَا الْأَرْضَ، كَانَ ذَلِكَ فَتْقَهُمَا الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ. وَقَالَ الْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، كَانَتَا جَمِيعًا، فَفَصَلَ بَيْنَهُمَا بِهَذَا الْهَوَاءِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ﴾ أَيْ: أَصْلُ كل الأحياء منه.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَمَاهِرِ [[في ف، أ: "الجماهير".]] ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ أَبِي مَيْمُونَةَ [[في ف، أ: "أبي ميمون".]] ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِذَا رَأَيْتُكَ قَرَّتْ عَيْنِي، وَطَابَتْ نَفْسِي، فَأَخْبِرْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ، قَالَ: "كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ".
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي، وَقَرَّتْ عَيْنِي، فَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ. قَالَ: "كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ" قَالَ: قُلْتُ: أَنْبِئْنِي عَنِ أَمْرٍ إِذَا عملتُ بِهِ دَخَلَتُ الْجَنَّةَ. قَالَ: "أفْش السَّلَامَ، وَأَطْعِمِ الطَّعَامَ، وصِل الْأَرْحَامَ، وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، ثُمَّ ادْخُلِ الجنَّة بِسَلَامٍ" [[المسند (٢/٢٩٥) ورواه الحاكم في المستدرك (٤/١٢٩) من طريق يزيد بن هارون وصححه. ورواه ابن حبان في صحيحه برقم (٦٤٢) "موارد" من طريق أبي عامر العقدي عن همام به.]] .
وَرَوَاهُ أَيْضًا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ وبَهْز، عَنْ هَمَّامٍ [[المسند (٢/٣٢٣-٤٩٣) من طريق عبد الصمد، (٢/٣٢٣) من طريق عفان، (٢/٣٢٤) من طريق بهز. وقال الهيثمي في المجمع (٥/١٦) : "رجاله رجال الصحيح، خلا أبي ميمونة وهو ثقة".]] . تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ، وَهَذَا إِسْنَادٌ عَلَى شَرْطِ الصَّحِيحَيْنِ، إِلَّا أَنَّ أَبَا مَيْمُونَةَ مِنْ رِجَالِ السُّنَنِ، وَاسْمُهُ سُلَيْمٌ، وَالتِّرْمِذِيُّ يُصَحِّحُ لَهُ. وَقَدْ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبة، عَنْ قَتَادَةَ مُرْسَلًا وَاللَّهُ [[في ف: "فالله".]] أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَا فِي الأرْضِ رَوَاسِيَ﴾ أَيْ: جِبَالًا أَرْسَى الْأَرْضَ بِهَا وَقَرَّرَهَا وَثَقَّلَهَا؛ لِئَلَّا تَمِيدَ بِالنَّاسِ، أَيْ: تَضْطَرِبَ وَتَتَحَرَّكَ، فَلَا يَحْصُلُ لَهُمْ عَلَيْهَا قَرَارٌ [[في ف: "قرار عليها".]] لِأَنَّهَا غَامِرَةٌ فِي الْمَاءِ إِلَّا مِقْدَارَ الرُّبْعِ، فَإِنَّهُ بَادٍ لِلْهَوَاءِ وَالشَّمْسِ، لِيُشَاهِدَ أَهْلُهَا السَّمَاءَ وَمَا فِيهَا مِنَ الْآيَاتِ الْبَاهِرَاتِ، وَالْحِكَمِ وَالدَّلَالَاتِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَنْ تَمِيدَ بِهِمْ﴾ أَيْ: لِئَلَّا تَمِيدَ بِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلا﴾ أَيْ: ثَغْرًا فِي الْجِبَالِ، يَسْلُكُونَ فِيهَا طُرُقًا مِنْ قُطْرٍ إِلَى قُطْرٍ، وَإِقْلِيمٍ إِلَى إِقْلِيمٍ، كَمَا هُوَ الْمُشَاهَدُ فِي الْأَرْضِ، يَكُونُ الْجَبَلُ حَائِلًا بَيْنَ هَذِهِ الْبِلَادِ وَهَذِهِ الْبِلَادِ، فَيَجْعَلُ اللَّهُ فِيهِ فَجْوَةً -ثَغْرَةً-لِيَسْلُكَ النَّاسُ فِيهَا مِنْ هَاهُنَا إِلَى هَاهُنَا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا﴾ أَيْ: عَلَى الْأَرْضِ وَهِيَ كَالْقُبَّةِ عَلَيْهَا، كَمَا قَالَ: ﴿وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ﴾ [الذَّارِيَاتِ: ٤٧] ، وَقَالَ: ﴿وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا﴾ [الشَّمْسِ:٥] ، ﴿أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ﴾ [ق:٦] ، وَالْبِنَاءُ هُوَ نَصْبُ الْقُبَّةِ، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "بُنِي الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ" أَيْ: خَمْسُ [[في ف: "خمسة".]] دَعَائِمَ، وَهَذَا لَا يَكُونُ إِلَّا فِي الْخِيَامِ، عَلَى مَا [[في ف:" كما".]] تَعْهَدُهُ الْعَرَبُ.
﴿مَّحْفُوظًا﴾ أَيْ: عَالِيًا مَحْرُوسًا أَنْ يُنال. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: مَرْفُوعًا.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّشْتَكي، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ أَبِيهِ، عَنِ أَشْعَثَ -يَعْنِي ابْنَ إسحاق القُمِّي-عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذِهِ السَّمَاءُ، قَالَ: "مَوْجٌ مَكْفُوفٌ عَنْكُمْ" [[ورواه أبو الشيخ في العظمة برقم (٥٣٩) من طريق أحمد بن القاسم عن أحمد بن عبد الرحمن الدشتكي به.]] إِسْنَادٌ غَرِيبٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ﴾ ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَكَأَيِّنْ مِنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ﴾ [يُوسُفَ:١٠٥] أَيْ: لَا يَتَفَكَّرُونَ فِيمَا خَلَقَ اللَّهُ فِيهَا مِنَ الِاتِّسَاعِ الْعَظِيمِ، وَالِارْتِفَاعِ الْبَاهِرِ، وَمَا زُيِّنَتْ بِهِ مِنَ الْكَوَاكِبِ الثَّوَابِتِ وَالسَّيَّارَاتِ فِي لَيْلِهَا، وَفِي نَهَارِهَا [[في ف، أ: "النهار".]] مِنْ هَذِهِ الشَّمْسِ الَّتِي تَقْطَعُ الْفَلَكَ بِكَمَالِهِ، فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَتَسِيرُ غَايَةً لَا يَعْلَمُ قَدْرَهَا إِلَّا الَّذِي [[في ف، أ: "الله".]] قَدَّرَهَا وَسَخَّرَهَا وَسَيَّرَهَا.
وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، رَحِمَهُ اللَّهُ، فِي كِتَابِهِ "التَّفَكُّرُ وَالِاعْتِبَارُ": أَنَّ بَعْضَ عُبَّادِ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَعَبَّدَ ثَلَاثِينَ سَنَةً، وَكَانَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ إِذَا تَعَبَّدَ ثَلَاثِينَ سَنَةً أَظَلَّتْهُ غَمَامَةٌ، فَلَمْ يَرَ ذَلِكَ الرَّجُلُ شَيْئًا مِمَّا كَانَ يَرَى لِغَيْرِهِ، فَشَكَى ذَلِكَ إِلَى أُمِّهِ، فَقَالَتْ لَهُ: يَا بُنَيَّ، فَلَعَلَّكَ أَذْنَبْتَ فِي مُدَّةِ عِبَادَتِكَ هَذِهِ، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ، قَالَتْ: فَلَعَلَّكَ هَمَمْتَ؟ قَالَ: لَا [[في ف، أ: "بل والله".]] وَلَا هَمَمْتُ. قَالَتْ: فَلَعَلَّكَ رَفَعْتَ بَصَرَكَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ رَدَدْتَهُ بِغَيْرِ فِكْرٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، كَثِيرًا. قَالَتْ: فَمِنْ هَاهُنَا أُتِيتَ.
ثُمَّ قَالَ مُنَبِّهًا عَلَى بَعْضِ آيَاتِهِ: ﴿وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ﴾ أَيْ: هَذَا فِي ظَلَامِهِ وَسُكُونِهِ، وَهَذَا بِضِيَائِهِ وَأُنْسِهِ، يَطُولُ هَذَا تَارَةً ثُمَّ يَقْصُرُ أُخْرَى، وَعَكْسُهُ الْآخَرُ. ﴿وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ﴾ هَذِهِ لَهَا نُورٌ يَخُصُّهَا، وَفَلَكٌ بِذَاتِهِ، وَزَمَانٌ عَلَى حِدَةٍ، وَحَرَكَةٍ وَسَيْرٍ خَاصٍّ، وَهَذَا بِنُورٍ خَاصٍّ آخَرَ، وَفَلَكٍ آخَرَ، وَسَيْرٍ آخَرَ، وَتَقْدِيرٍ آخَرَ، ﴿وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ﴾ [يس:٤٠] ، أَيْ: يَدُورُونَ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَدُورُونَ كَمَا يَدُورُ الْمِغْزَلُ فِي الْفَلْكَةِ. وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ: فَلَا يَدُورُ الْمِغْزَلُ إِلَّا بِالْفَلْكَةِ، وَلَا الْفَلْكَةُ إِلَّا بِالْمِغْزَلِ، كَذَلِكَ النُّجُومُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ، لَا يَدُورُونَ إِلَّا بِهِ، وَلَا يَدُورُ إِلَّا بِهِنَّ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَالِقُ الإصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ﴾ [الْأَنْعَامِ:٩٦] .
وَجَعَلْنَا ٱلسَّمَآءَ سَقْفًۭا مَّحْفُوظًۭا ۖ وَهُمْ عَنْ ءَايَٰتِهَا مُعْرِضُونَ
And We made the sky a protected ceiling, but they, from its signs, are turning away.
اور آسمان کو محفوظ چھت بنایا۔ اس پر بھی وہ ہماری نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں
و آسمان را سقف محفوظی قرار دادیم؛ ولی آنها از آیات آن رویگردانند.
Tafsir Ibn Kathir
Have not those who disbelieve known that the heavens and the earth were joined together as one united piece, then We parted them? And We have made from water every living thing. Will they not then believe (30)And We have placed on the earth firm mountains, lest it should shake with them, and We placed therein broad highways for them to pass through, that they may be guided (31)And We have made the heaven a roof, safe and well-guarded. Yet they turn away from its signs (32)And He it is Who has created the night and the day, and the sun and the moon, each in an orbit floating (33)
The Signs of Allah in the Heavens and the Earth and in the Night and the Day
Here Allah tells of His perfect might and power in His creation and subjugation of all things.
أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا
(Have not those who disbelieve known) means, those who deny His Divine nature and worship others instead of Him, do they not realize that Allah is the One Who is Independent in His powers of creation and is running the affairs of all things with absolute power? So how can it be appropriate to worship anything else beside Him or to associate others in worship with Him? Do they not see that the heavens and the earth were joined together, i.e. in the beginning they were all one piece, attached to one another and piled up on top of one another, then He separated them from one another, and made the heavens seven and the earth seven, placing the air between the earth and the lowest heaven. Then He caused rain to fall from the sky and vegetation to grow from the earth. He says:
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ
(And We have made from water every living thing. Will they not then believe?) meaning, they see with their own eyes how creation develops step by step. All of that is proof of the existence of the Creator Who is in control of all things and is able to do whatever He wills.
In everything there is a Sign of Him, showing that He is One
Sufyan Ath-Thawri narrated from his father from 'Ikrimah that Ibn 'Abbas was asked; "Did the night come first or the day?" He said, "Do you think that when the heavens and the earth were joined together, there was anything between them except darkness? Thus you may know that the night came before the day.
Ibn Abi Hatim recorded that Ibn 'Umar said that a man came to him and questioned him about when the heavens and earth were joined together then they were parted. He said, "Go to that old man (Shaykh) and ask him, then come and tell me what he says to you." So he went to Ibn 'Abbas and asked him. Ibn 'Abbas said: "Yes, the heavens were joined together and it did not rain, and the earth was joined together and nothing grew. When living beings were created to populate the earth, rain came forth from the heavens and vegetation came forth from the earth." The man went back to Ibn 'Umar and told him what had been said. Ibn 'Umar said, "Now I know that Ibn 'Abbas has been given knowledge of the Qur'an. He has spoken the truth, and this is how it was." Ibn 'Umar said: "I did not like the daring attitude of Ibn 'Abbas in his Tafsir of the Qur'an, but now I know that he has been given knowledge of the Qur'an."
Sa'id bin Jubayr said: "The heavens and the earth were attached to one another, then when the heavens were raised up, the earth became separate from them, and this is their parting which was mentioned by Allah in His Book." Al-Hasan and Qatadah said, "They were joined together, then they were separated by this air."
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ
(And We have made from water every living thing.) meaning, the origin of every living thing is in water.
Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, "I said: O Messenger of Allah, when I see you I feel happy and content, tell me about everything." He ﷺ said,
كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ
(Everything was created from water.) "I said, tell me about something which, if I do it, I will enter Paradise." He ﷺ said:
أَفْشِ السَّلَامَ، وَأَطْعِمِ الطَّعَامَ، وَصِلِ الْأَرْحَامَ، وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، ثُمَّ ادْخُلِ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ
(Spread (the greeting of) Salam, feed others, uphold the ties of kinship, and stand in prayer at night when people are sleeping. Then you will enter Paradise in peace.)
This chain of narration fulfills the conditions of the Two Sahihs, apart from Abu Maymunah, who is one of the men of the Sunans, his first name was Salim; and At-Tirmidhi classed him as Sahih.
وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ
(And We have placed on the earth firm mountains,) means, mountains which stabilize the earth and keep it steady and lend it weight, lest it should shake with the people, i.e., move and tremble so that they would not be able to stand firm on it – because it is covered with water, apart from one-quarter of its surface. So the land is exposed to the air and sun, so that its people may see the sky with its dazzling signs and evidence. So Allah says,
أَن تَمِيدَ بِهِمْ
(lest it should shake with them,) meaning, so that it will not shake with them.
وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا
(and We placed therein broad highways for them to pass through,) means, mountain passes through which they may travel from region to region, country to country. As we can see, the mountains form barriers between one land and another, so Allah created gaps – passes – in the mountains so that people may travel from here to there. So He says:
لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ
(that they may be guided.)
وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا
(And We have made the heaven a roof, safe and well-guarded.) means, covering the earth like a dome above it. This is like the Ayah,
وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ
(With Hands We constructed the heaven. Verily, We are able to extend the vastness of space thereof.)(51:47)
وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا
(By the heaven and Him Who built it.)(91:5)
أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ
(Have they not looked at the heaven above them, how We have made it and adorned it, and there are no rifts in it?)(50:6). The building and making described here refers to the raising of the dome, as when the Messenger of Allah ﷺ said,
بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ
(Islam is built on five.) i.e., five pillars, which can only refer to a tent as familiar among the Arabs.
مَحْفُوظًا
(safe and well-guarded.) means, high and protected from anything reaching it. Mujahid said, "Raised up."
وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ
(Yet they turn away from its signs.) This is like the Ayah:
وَكَأَيِّنْ مِنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ
(And how many a sign in the heavens and the earth they pass by, while they are averse therefrom)(12:105).
They do not think about how Allah has created it, so vast and high, and adorned it with heavenly bodies both stationary and moving by night and day, such as the sun which completes its circuit in one day and night, until it completes its allotted time, which no one knows except Allah, Who created it and subjugated it and directed its course. Then Allah says, drawing attention to some of His signs,
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ
(And He it is Who has created the night and the day,) meaning, the one with its darkness and stillness, and the other with its light and human interaction; sometimes the one is longer while the other is shorter, then they switch.
وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ
(and the sun and the moon,) the sun with its own light and its own path and orbit and allotted time, and the moon which shines with a different light and travels on a different path and has its own allotted time.
كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ
(each in an orbit floating.) means, revolving. Ibn 'Abbas said, "They revolve like a spinning wheel, in a circle." This is like the Ayah:
فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
((He is the) Cleaver of the daybreak. He has appointed the night for resting, and the sun and the moon for reckoning. Such is the measuring of the All-Mighty, the All-Knowing.)(6:96)
Tafsir Ibn Kathir
زبردست غالب اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ اس کی قدرت پوری ہے اور اس کا غلبہ زبردست ہے۔ فرماتا ہے کہ جو کافر اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور سب چیز کا نگہبان بھی وہی ہے پھر اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت تم کیوں کرتے ہو ؟ ابتدا میں زمین و آسمان ملے جلے ایک دوسرے سے پیوست تہ بہ تہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا زمینیں پیدا کیں اور سات ہی آسمان بنائے۔ زمین اور پہلے آسمان کے درمیان جوف اور خلا رکھا۔ آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے پیداوار اگائی۔ ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی۔ کیا یہ تمام چیزیں جن میں سے ہر ایک صانع کی خود مختاری، قدرت اور وحدت پر دلالت کرتی ہے اپنے سامنے موجود پاتے ہوئے بھی یہ لوگ اللہ کی عظمت کے قائل ہو کر شرک کو نہیں چھوڑتے ؟ ففی کل شئلہ ایتہ تدل علی انہ واحد یعنی ہر چیز میں اللہ کی حکمرانی اور اس کی وحدانیت کا نشان موجود ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے سوال ہوا کہ پہلے رات تھی یا دن ؟ تو آپ نے فرمایا کہ پہلے زمین و آسمان ملے جلے تہ بہ تہ تھے تو ظاہر ہے کہ ان میں اندھیرا ہوگا اور اندھیرے کا نام ہی رات ہے تو ثابت ہوا کہ رات پہلے تھی۔ ابن عمر ؓ سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا تم حضرت ابن عباس ؓ سے سوال کرو اور جو وہ جواب دیں مجھ سے بھی کہو، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا زمین و آسمان سب ایک ساتھ تھے، نہ بارش برستی تھی، نہ پیداوار اگتی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ذی روح مخلوق پیدا کی تو آسمان کو پھاڑ کر اس سے پانی برسایا اور زمین کو چیر کر اس میں پیداوار اگائی۔ جب سائل نے حضرت ابن عمر ؓ سے یہ جواب بیان کیا تو آپ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے آج مجھے اور بھی یقین ہوگیا کہ قرآن کے علم میں حضرت عبداللہ ؓ بہت ہی بڑھے ہوئے ہیں۔ میرے جی میں کبھی خیال آتا تھا کہ ایسا تو نہیں ابن عباس ؓ کی جرات بڑھ گئی ہو ؟ لیکن آج وہ وسوسہ دل سے جاتا رہا۔ آسمان کو پھاڑ کر سات آسمان بنائے۔ زمین کے مجموعے کو چیر کر سات زمینیں بنائیں۔ مجاہد ؒ کی تفسیر میں یہ بھی ہے کہ یہ ملے ہوئے تھے یعنی پہلے ساتوں آسمان ایک ساتھ تھے اور اسی طرح ساتوں زمینیں بھی ملی ہوئی تھیں پھر جدا جدا کردی گئیں۔ حضرت سعید ؒ کی تفسیر ہے کہ یہ دونوں پہلے ایک ہی تھے پھر الگ الگ کردیئے گئے۔ زمین و آسمان کے درمیان خلا رکھ دی گئی پانی کو تمام جانداروں کی اصل بنادیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ سے کہا حضور ﷺ جب میں آپ کو دیکھتا ہوں میرا جی خوش ہوجاتا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں آپ ہمیں تمام چیزوں کی اصلیت سے خبردار کردیں۔ آپ نے فرمایا ابوہریرہ تمام چیزیں پانی سے پیدا کی گئی ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ پھر میں نے کہا یارسول اللہ ﷺ مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جس سے میں جنت میں داخل ہوجاؤں ؟ آپ نے فرمایا لوگوں کو سلام کیا کرو اور کھانا کھلایا کرو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور رات کو جب لوگ سوتے ہوئے ہوں تو تم تہجد کی نماز پڑھا کرو تاکہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ زمین کو جناب باری عزوجل نے پہاڑوں کی میخوں سے مضبوط کردیا تاکہ وہ ہل جل کر لوگوں کو پریشان نہ کرے مخلوق کو زلزلے میں نہ ڈالے۔ زمین کی تین چوتھائیاں تو پانی میں ہیں اور صرف چوتھائی حصہ سورج اور ہوا کے لئے کھلا ہوا ہے۔ تاکہ آسمان کو اور اس کے عجائبات کو بچشم خود ملاحظہ کرسکیں۔ پھر زمین میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ سے راہیں بنادیں کہ لوگ باآسانی اپنے سفر طے کرسکیں اور دور دراز ملکوں میں بھی پہنچ سکیں۔ شان الٰہی دیکھئے اس حصے اور اس کے ٹکڑے کے درمیان بلند پہاڑی حائل ہے یہاں سے وہاں پہنچنا بظاہر سخت دشوار معلوم ہوتا ہے لیکن قدرت الہٰی خود اس پہاڑ میں راستہ بنادیتی ہے کہ یہاں کے لوگ وہاں اور وہاں کے یہاں پہنچ جائیں اور اپنے کام کاج پورے کرلیں۔ آسمان کو زمین پر مثل قبے کے بنادیا جیسے فرمان ہے کہ ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم وسعت اور کشادگی والے ہیں فرماتا ہے قسم آسمان کی اور اس کی بناوٹ کی۔ ارشاد ہے کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے سروں پر آسمان کو کس کیفیت کا بنایا ہے اور کس طرح زینت دے رکھی ہے اور لطف یہ ہے کہ اتنے بڑے آسمان میں کوئی سوارخ تک نہیں۔ بنا کہتے ہیں قبے یا خیمے کے کھڑا کرنے کو جیسے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اسلام کی بنائیں پانچ ہیں جیسے پانچ ستون پر کوئی قبہ یا خیمہ کھڑا ہوا ہو۔ پھر آسمان جو مثل چھت کے ہے۔ یہ ہے بھی محفوظ بلند پہرے چوکی والا کہ کہیں سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ بلندوبالا اونچا اور صاف ہے جیسے حدیث میں ہے کہ کسی شخص نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ یہ آسمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا رکی ہوئی موج ہے۔ یہ روایت سنداً غریب ہے لیکن لوگ اللہ کی ان زبردست نشانیوں سے بھی بےپرواہ ہیں۔ جیسے فرمان ہے آسمان و زمین کی بہت سی نشانیاں ہیں جو لوگوں کی نگاہوں تلے ہیں لیکن پھر بھی وہ ان سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ کوئی غور و فکر ہی نہیں کرتے کبھی نہیں سوچتے کہ کتنا پھیلا ہوا کتنا بلند کس قدر عظیم الشان یہ آسمان ہمارے سروں پر بغیر ستون کے اللہ تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے۔ پھر اس میں کس خوبصورتی سے ستاروں کا جڑاؤ ہو رہا ہے۔ ان میں بھی کوئی ٹھیرا ہوا ہے کوئی چلتا پھرتا ہے۔ پھر سورج کی چال مقرر ہے۔ اس کی موجودگی دن ہے اس کا نظر نہ آنا رات ہے۔ پورے آسمان کا چکر صرف ایک دن رات میں سورج پورا کرلیتا ہے۔ اس کی چال کو اس کی تیزی کو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ یوں قیاس آرائیاں اور اندازے کرنا اور بات ہے۔ بنی اسرائیل کے عابدوں میں سے ایک نے اپنی تیس سال کی مدت عبادت پوری کرلی مگر جس طرح اور عابدوں پر تیس سال کی عبادت کے بعد ابر کا سایہ ہوجایا کرتا تھا اس پر نہ ہوا تو اس نے اپنی والدہ سے یہ حال بیان کیا۔ اس نے کہا بیٹے تم نے اپنی اس عبادت کے زمانے میں کوئی گناہ کرلیا ہوگا ؟ اس نے کہا اماں ایک بھی نہیں۔ کہا پھر تم نے کسی گناہ کا پورا قصد کیا ہوگا جواب دیا کہ ایسا بھی مطلقا نہیں ہوا۔ ماں نے کہا بہت ممکن ہے کہ تم نے آسمان کی طرف نظر کی ہو اور غور وتدبر کے بغیر ہی ہٹالی ہو۔ عابد نے جواب دیا ایسا تو برابر ہوتا رہا فرمایا بس یہی سبب ہے۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کی بعض نشانیاں بیان فرماتا ہے کہ رات اور اس کے اندھیرے کو دیکھو، دن اور اس کی روشنی پر نظر ڈالو، پھر ایک کے بعد دوسرے کا بڑھنا دیکھو، سورج چاند کو دیکھو۔ سورج کا نور ایک مخصوص نور ہے اور اس کا آسمان اس کا زمانہ اس کی حرکت اس کی چال علیحدہ ہے۔ چاند کا نور الگ ہے، فلک الگ ہے، چال الگ ہے، انداز اور ہے۔ ہر ایک اپنے اپنے فلک میں گویا تیرتا پھرتا ہے اور حکم الٰہی کی بجا آوری میں مشغول ہے۔ جیسے فرمان ہے وہی صبح کا روشن کرنے والا ہے وہی رات کو پرسکون بنانے والا ہے۔ وہی سورج چاند کا انداز مقرر کرنے والا ہے۔ وہی ذی عزت غلبے والا اور ذی علم علم والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُنَبِّهًا عَلَى قُدْرَتِهِ التَّامَّةِ، وَسُلْطَانِهِ الْعَظِيمِ فِي خَلْقِهِ الْأَشْيَاءَ، وَقَهْرِهِ لِجَمِيعِ الْمَخْلُوقَاتِ، فَقَالَ: ﴿أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ أَيِ: الْجَاحِدُونَ لِإِلَهِيَّتِهِ العابدون [[في أ: "العابدين".]] معه غيره، ألم يعلموا أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسْتَقِلُّ بِالْخَلْقِ، الْمُسْتَبِدُّ بِالتَّدْبِيرِ، فَكَيْفَ يَلِيقُ أَنْ يُعْبَدَ غَيْرُهُ أَوْ يُشْرَكَ بِهِ مَا سِوَاهُ، أَلَمْ [[في أ: "أولم"."]] يَرَوْا ﴿أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ كَانَتَا رَتْقًا﴾ أَيْ: كَانَ الْجَمِيعُ مُتَّصِلًا بَعْضُهُ بِبَعْضٍ مُتَلَاصِقٌ مُتَرَاكِمٌ، بَعْضُهُ فَوْقَ بَعْضٍ فِي ابْتِدَاءِ الْأَمْرِ، فَفَتَقَ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ. فجعل السموات سَبْعًا، وَالْأَرْضَ [[في ف، أ: "والأرضين".]] سَبْعًا، وَفَصَلَ بَيْنَ سَمَاءِ الدُّنْيَا وَالْأَرْضِ بِالْهَوَاءِ، فَأَمْطَرَتِ السَّمَاءُ وَأَنْبَتَتِ الْأَرْضُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلا يُؤْمِنُونَ﴾ أَيْ: وَهُمْ يُشَاهِدُونَ الْمَخْلُوقَاتِ تَحْدُثُ شَيْئًا فَشَيْئًا عِيَانًا، وَذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى وُجُودِ الصَّانِعِ الْفَاعِلِ الْمُخْتَارِ الْقَادِرِ عَلَى مَا يَشَاءُ: فَفِي كُلّ شَيْءٍ لَهُ آيَة ... تَدُلّ علَى أنَّه وَاحد ...
قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اللَّيْلُ كان قبل أو النهار؟ فقال: أرأيتم السموات وَالْأَرْضَ حِينَ كَانَتَا رَتْقًا، هَلْ كَانَ بَيْنَهُمَا إِلَّا ظُلْمَةٌ؟ ذَلِكَ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّيْلَ قَبْلَ النَّهَارِ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّ رجلا أتاه يسأله عن السموات وَالْأَرْضِ ﴿كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا﴾ ؟. قَالَ: اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الشَّيْخِ فَاسْأَلْهُ، ثُمَّ تَعَالَ فَأَخْبِرْنِي بِمَا قَالَ لَكَ. قَالَ: فَذَهَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فسأله. فقال ابن عباس: نعم، كانت السموات رَتْقًا لَا تُمْطِرُ، وَكَانَتْ الْأَرْضُ رَتْقًا لَا تُنْبِتُ.
فَلَمَّا خَلَقَ لِلْأَرْضِ أَهْلًا فَتَقَ هَذِهِ بِالْمَطَرِ، وَفَتْقَ هَذِهِ بِالنَّبَاتِ. فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: الْآنَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَدْ أُوتِيَ فِي الْقُرْآنِ عِلْمًا، صَدَقَ -هَكَذَا كَانَتْ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَدْ كُنْتُ أَقُولُ: مَا يُعْجِبُنِي جَرَاءَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ، فَالْآنَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ قَدْ أُوتِيَ فِي الْقُرْآنِ عِلْمًا.
وَقَالَ عَطِيَّةُ العَوْفي: كَانَتْ هَذِهِ رَتْقًا لَا تُمْطِرُ، فَأَمْطَرَتْ. وَكَانَتْ هَذِهِ رَتْقًا لَا تُنْبِتُ، فَأَنْبَتَتْ.
وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ: سَأَلْتُ أَبَا صَالِحٍ الحنَفِي عَنْ قَوْلِهِ: ﴿أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا﴾ ، قَالَ: كَانَتِ السَّمَاءُ وَاحِدَةً، فَفَتَقَ مِنْهَا سَبْعَ سَمَاوَاتٍ، وَكَانَتْ الْأَرْضُ وَاحِدَةً فَفَتَقَ مِنْهَا سَبْعَ أَرْضِينَ.
وَهَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَزَادَ: وَلَمْ تَكُنِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ مُتَمَاسَّتَيْنِ.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: بَلْ كَانَتِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ مُلْتَزِقَتَيْنِ، فَلَمَّا رَفَعَ السَّمَاءَ وَأَبْرَزَ مِنْهَا الْأَرْضَ، كَانَ ذَلِكَ فَتْقَهُمَا الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ. وَقَالَ الْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، كَانَتَا جَمِيعًا، فَفَصَلَ بَيْنَهُمَا بِهَذَا الْهَوَاءِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ﴾ أَيْ: أَصْلُ كل الأحياء منه.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَمَاهِرِ [[في ف، أ: "الجماهير".]] ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ أَبِي مَيْمُونَةَ [[في ف، أ: "أبي ميمون".]] ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِذَا رَأَيْتُكَ قَرَّتْ عَيْنِي، وَطَابَتْ نَفْسِي، فَأَخْبِرْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ، قَالَ: "كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ".
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي، وَقَرَّتْ عَيْنِي، فَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ. قَالَ: "كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ" قَالَ: قُلْتُ: أَنْبِئْنِي عَنِ أَمْرٍ إِذَا عملتُ بِهِ دَخَلَتُ الْجَنَّةَ. قَالَ: "أفْش السَّلَامَ، وَأَطْعِمِ الطَّعَامَ، وصِل الْأَرْحَامَ، وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، ثُمَّ ادْخُلِ الجنَّة بِسَلَامٍ" [[المسند (٢/٢٩٥) ورواه الحاكم في المستدرك (٤/١٢٩) من طريق يزيد بن هارون وصححه. ورواه ابن حبان في صحيحه برقم (٦٤٢) "موارد" من طريق أبي عامر العقدي عن همام به.]] .
وَرَوَاهُ أَيْضًا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ وبَهْز، عَنْ هَمَّامٍ [[المسند (٢/٣٢٣-٤٩٣) من طريق عبد الصمد، (٢/٣٢٣) من طريق عفان، (٢/٣٢٤) من طريق بهز. وقال الهيثمي في المجمع (٥/١٦) : "رجاله رجال الصحيح، خلا أبي ميمونة وهو ثقة".]] . تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ، وَهَذَا إِسْنَادٌ عَلَى شَرْطِ الصَّحِيحَيْنِ، إِلَّا أَنَّ أَبَا مَيْمُونَةَ مِنْ رِجَالِ السُّنَنِ، وَاسْمُهُ سُلَيْمٌ، وَالتِّرْمِذِيُّ يُصَحِّحُ لَهُ. وَقَدْ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبة، عَنْ قَتَادَةَ مُرْسَلًا وَاللَّهُ [[في ف: "فالله".]] أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَا فِي الأرْضِ رَوَاسِيَ﴾ أَيْ: جِبَالًا أَرْسَى الْأَرْضَ بِهَا وَقَرَّرَهَا وَثَقَّلَهَا؛ لِئَلَّا تَمِيدَ بِالنَّاسِ، أَيْ: تَضْطَرِبَ وَتَتَحَرَّكَ، فَلَا يَحْصُلُ لَهُمْ عَلَيْهَا قَرَارٌ [[في ف: "قرار عليها".]] لِأَنَّهَا غَامِرَةٌ فِي الْمَاءِ إِلَّا مِقْدَارَ الرُّبْعِ، فَإِنَّهُ بَادٍ لِلْهَوَاءِ وَالشَّمْسِ، لِيُشَاهِدَ أَهْلُهَا السَّمَاءَ وَمَا فِيهَا مِنَ الْآيَاتِ الْبَاهِرَاتِ، وَالْحِكَمِ وَالدَّلَالَاتِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَنْ تَمِيدَ بِهِمْ﴾ أَيْ: لِئَلَّا تَمِيدَ بِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلا﴾ أَيْ: ثَغْرًا فِي الْجِبَالِ، يَسْلُكُونَ فِيهَا طُرُقًا مِنْ قُطْرٍ إِلَى قُطْرٍ، وَإِقْلِيمٍ إِلَى إِقْلِيمٍ، كَمَا هُوَ الْمُشَاهَدُ فِي الْأَرْضِ، يَكُونُ الْجَبَلُ حَائِلًا بَيْنَ هَذِهِ الْبِلَادِ وَهَذِهِ الْبِلَادِ، فَيَجْعَلُ اللَّهُ فِيهِ فَجْوَةً -ثَغْرَةً-لِيَسْلُكَ النَّاسُ فِيهَا مِنْ هَاهُنَا إِلَى هَاهُنَا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا﴾ أَيْ: عَلَى الْأَرْضِ وَهِيَ كَالْقُبَّةِ عَلَيْهَا، كَمَا قَالَ: ﴿وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ﴾ [الذَّارِيَاتِ: ٤٧] ، وَقَالَ: ﴿وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا﴾ [الشَّمْسِ:٥] ، ﴿أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ﴾ [ق:٦] ، وَالْبِنَاءُ هُوَ نَصْبُ الْقُبَّةِ، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "بُنِي الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ" أَيْ: خَمْسُ [[في ف: "خمسة".]] دَعَائِمَ، وَهَذَا لَا يَكُونُ إِلَّا فِي الْخِيَامِ، عَلَى مَا [[في ف:" كما".]] تَعْهَدُهُ الْعَرَبُ.
﴿مَّحْفُوظًا﴾ أَيْ: عَالِيًا مَحْرُوسًا أَنْ يُنال. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: مَرْفُوعًا.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّشْتَكي، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ أَبِيهِ، عَنِ أَشْعَثَ -يَعْنِي ابْنَ إسحاق القُمِّي-عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذِهِ السَّمَاءُ، قَالَ: "مَوْجٌ مَكْفُوفٌ عَنْكُمْ" [[ورواه أبو الشيخ في العظمة برقم (٥٣٩) من طريق أحمد بن القاسم عن أحمد بن عبد الرحمن الدشتكي به.]] إِسْنَادٌ غَرِيبٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ﴾ ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَكَأَيِّنْ مِنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ﴾ [يُوسُفَ:١٠٥] أَيْ: لَا يَتَفَكَّرُونَ فِيمَا خَلَقَ اللَّهُ فِيهَا مِنَ الِاتِّسَاعِ الْعَظِيمِ، وَالِارْتِفَاعِ الْبَاهِرِ، وَمَا زُيِّنَتْ بِهِ مِنَ الْكَوَاكِبِ الثَّوَابِتِ وَالسَّيَّارَاتِ فِي لَيْلِهَا، وَفِي نَهَارِهَا [[في ف، أ: "النهار".]] مِنْ هَذِهِ الشَّمْسِ الَّتِي تَقْطَعُ الْفَلَكَ بِكَمَالِهِ، فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَتَسِيرُ غَايَةً لَا يَعْلَمُ قَدْرَهَا إِلَّا الَّذِي [[في ف، أ: "الله".]] قَدَّرَهَا وَسَخَّرَهَا وَسَيَّرَهَا.
وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، رَحِمَهُ اللَّهُ، فِي كِتَابِهِ "التَّفَكُّرُ وَالِاعْتِبَارُ": أَنَّ بَعْضَ عُبَّادِ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَعَبَّدَ ثَلَاثِينَ سَنَةً، وَكَانَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ إِذَا تَعَبَّدَ ثَلَاثِينَ سَنَةً أَظَلَّتْهُ غَمَامَةٌ، فَلَمْ يَرَ ذَلِكَ الرَّجُلُ شَيْئًا مِمَّا كَانَ يَرَى لِغَيْرِهِ، فَشَكَى ذَلِكَ إِلَى أُمِّهِ، فَقَالَتْ لَهُ: يَا بُنَيَّ، فَلَعَلَّكَ أَذْنَبْتَ فِي مُدَّةِ عِبَادَتِكَ هَذِهِ، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ، قَالَتْ: فَلَعَلَّكَ هَمَمْتَ؟ قَالَ: لَا [[في ف، أ: "بل والله".]] وَلَا هَمَمْتُ. قَالَتْ: فَلَعَلَّكَ رَفَعْتَ بَصَرَكَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ رَدَدْتَهُ بِغَيْرِ فِكْرٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، كَثِيرًا. قَالَتْ: فَمِنْ هَاهُنَا أُتِيتَ.
ثُمَّ قَالَ مُنَبِّهًا عَلَى بَعْضِ آيَاتِهِ: ﴿وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ﴾ أَيْ: هَذَا فِي ظَلَامِهِ وَسُكُونِهِ، وَهَذَا بِضِيَائِهِ وَأُنْسِهِ، يَطُولُ هَذَا تَارَةً ثُمَّ يَقْصُرُ أُخْرَى، وَعَكْسُهُ الْآخَرُ. ﴿وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ﴾ هَذِهِ لَهَا نُورٌ يَخُصُّهَا، وَفَلَكٌ بِذَاتِهِ، وَزَمَانٌ عَلَى حِدَةٍ، وَحَرَكَةٍ وَسَيْرٍ خَاصٍّ، وَهَذَا بِنُورٍ خَاصٍّ آخَرَ، وَفَلَكٍ آخَرَ، وَسَيْرٍ آخَرَ، وَتَقْدِيرٍ آخَرَ، ﴿وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ﴾ [يس:٤٠] ، أَيْ: يَدُورُونَ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَدُورُونَ كَمَا يَدُورُ الْمِغْزَلُ فِي الْفَلْكَةِ. وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ: فَلَا يَدُورُ الْمِغْزَلُ إِلَّا بِالْفَلْكَةِ، وَلَا الْفَلْكَةُ إِلَّا بِالْمِغْزَلِ، كَذَلِكَ النُّجُومُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ، لَا يَدُورُونَ إِلَّا بِهِ، وَلَا يَدُورُ إِلَّا بِهِنَّ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَالِقُ الإصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ﴾ [الْأَنْعَامِ:٩٦] .
وَهُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ ۖ كُلٌّۭ فِى فَلَكٍۢ يَسْبَحُونَ
And it is He who created the night and the day and the sun and the moon; all [heavenly bodies] in an orbit are swimming.
اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو بنایا۔ (یہ) سب (یعنی سورج اور چاند اور ستارے) آسمان میں (اس طرح چلتے ہیں گویا) تیر رہے ہیں
او کسی است که شب و روز و خورشید و ماه را آفرید؛ هر یک در مداری در حرکتند!
Tafsir Ibn Kathir
Have not those who disbelieve known that the heavens and the earth were joined together as one united piece, then We parted them? And We have made from water every living thing. Will they not then believe (30)And We have placed on the earth firm mountains, lest it should shake with them, and We placed therein broad highways for them to pass through, that they may be guided (31)And We have made the heaven a roof, safe and well-guarded. Yet they turn away from its signs (32)And He it is Who has created the night and the day, and the sun and the moon, each in an orbit floating (33)
The Signs of Allah in the Heavens and the Earth and in the Night and the Day
Here Allah tells of His perfect might and power in His creation and subjugation of all things.
أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا
(Have not those who disbelieve known) means, those who deny His Divine nature and worship others instead of Him, do they not realize that Allah is the One Who is Independent in His powers of creation and is running the affairs of all things with absolute power? So how can it be appropriate to worship anything else beside Him or to associate others in worship with Him? Do they not see that the heavens and the earth were joined together, i.e. in the beginning they were all one piece, attached to one another and piled up on top of one another, then He separated them from one another, and made the heavens seven and the earth seven, placing the air between the earth and the lowest heaven. Then He caused rain to fall from the sky and vegetation to grow from the earth. He says:
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ
(And We have made from water every living thing. Will they not then believe?) meaning, they see with their own eyes how creation develops step by step. All of that is proof of the existence of the Creator Who is in control of all things and is able to do whatever He wills.
In everything there is a Sign of Him, showing that He is One
Sufyan Ath-Thawri narrated from his father from 'Ikrimah that Ibn 'Abbas was asked; "Did the night come first or the day?" He said, "Do you think that when the heavens and the earth were joined together, there was anything between them except darkness? Thus you may know that the night came before the day.
Ibn Abi Hatim recorded that Ibn 'Umar said that a man came to him and questioned him about when the heavens and earth were joined together then they were parted. He said, "Go to that old man (Shaykh) and ask him, then come and tell me what he says to you." So he went to Ibn 'Abbas and asked him. Ibn 'Abbas said: "Yes, the heavens were joined together and it did not rain, and the earth was joined together and nothing grew. When living beings were created to populate the earth, rain came forth from the heavens and vegetation came forth from the earth." The man went back to Ibn 'Umar and told him what had been said. Ibn 'Umar said, "Now I know that Ibn 'Abbas has been given knowledge of the Qur'an. He has spoken the truth, and this is how it was." Ibn 'Umar said: "I did not like the daring attitude of Ibn 'Abbas in his Tafsir of the Qur'an, but now I know that he has been given knowledge of the Qur'an."
Sa'id bin Jubayr said: "The heavens and the earth were attached to one another, then when the heavens were raised up, the earth became separate from them, and this is their parting which was mentioned by Allah in His Book." Al-Hasan and Qatadah said, "They were joined together, then they were separated by this air."
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ
(And We have made from water every living thing.) meaning, the origin of every living thing is in water.
Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, "I said: O Messenger of Allah, when I see you I feel happy and content, tell me about everything." He ﷺ said,
كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ
(Everything was created from water.) "I said, tell me about something which, if I do it, I will enter Paradise." He ﷺ said:
أَفْشِ السَّلَامَ، وَأَطْعِمِ الطَّعَامَ، وَصِلِ الْأَرْحَامَ، وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، ثُمَّ ادْخُلِ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ
(Spread (the greeting of) Salam, feed others, uphold the ties of kinship, and stand in prayer at night when people are sleeping. Then you will enter Paradise in peace.)
This chain of narration fulfills the conditions of the Two Sahihs, apart from Abu Maymunah, who is one of the men of the Sunans, his first name was Salim; and At-Tirmidhi classed him as Sahih.
وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ
(And We have placed on the earth firm mountains,) means, mountains which stabilize the earth and keep it steady and lend it weight, lest it should shake with the people, i.e., move and tremble so that they would not be able to stand firm on it – because it is covered with water, apart from one-quarter of its surface. So the land is exposed to the air and sun, so that its people may see the sky with its dazzling signs and evidence. So Allah says,
أَن تَمِيدَ بِهِمْ
(lest it should shake with them,) meaning, so that it will not shake with them.
وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا
(and We placed therein broad highways for them to pass through,) means, mountain passes through which they may travel from region to region, country to country. As we can see, the mountains form barriers between one land and another, so Allah created gaps – passes – in the mountains so that people may travel from here to there. So He says:
لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ
(that they may be guided.)
وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا
(And We have made the heaven a roof, safe and well-guarded.) means, covering the earth like a dome above it. This is like the Ayah,
وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ
(With Hands We constructed the heaven. Verily, We are able to extend the vastness of space thereof.)(51:47)
وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا
(By the heaven and Him Who built it.)(91:5)
أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ
(Have they not looked at the heaven above them, how We have made it and adorned it, and there are no rifts in it?)(50:6). The building and making described here refers to the raising of the dome, as when the Messenger of Allah ﷺ said,
بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ
(Islam is built on five.) i.e., five pillars, which can only refer to a tent as familiar among the Arabs.
مَحْفُوظًا
(safe and well-guarded.) means, high and protected from anything reaching it. Mujahid said, "Raised up."
وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ
(Yet they turn away from its signs.) This is like the Ayah:
وَكَأَيِّنْ مِنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ
(And how many a sign in the heavens and the earth they pass by, while they are averse therefrom)(12:105).
They do not think about how Allah has created it, so vast and high, and adorned it with heavenly bodies both stationary and moving by night and day, such as the sun which completes its circuit in one day and night, until it completes its allotted time, which no one knows except Allah, Who created it and subjugated it and directed its course. Then Allah says, drawing attention to some of His signs,
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ
(And He it is Who has created the night and the day,) meaning, the one with its darkness and stillness, and the other with its light and human interaction; sometimes the one is longer while the other is shorter, then they switch.
وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ
(and the sun and the moon,) the sun with its own light and its own path and orbit and allotted time, and the moon which shines with a different light and travels on a different path and has its own allotted time.
كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ
(each in an orbit floating.) means, revolving. Ibn 'Abbas said, "They revolve like a spinning wheel, in a circle." This is like the Ayah:
فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
((He is the) Cleaver of the daybreak. He has appointed the night for resting, and the sun and the moon for reckoning. Such is the measuring of the All-Mighty, the All-Knowing.)(6:96)
Tafsir Ibn Kathir
زبردست غالب اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ اس کی قدرت پوری ہے اور اس کا غلبہ زبردست ہے۔ فرماتا ہے کہ جو کافر اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور سب چیز کا نگہبان بھی وہی ہے پھر اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت تم کیوں کرتے ہو ؟ ابتدا میں زمین و آسمان ملے جلے ایک دوسرے سے پیوست تہ بہ تہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا زمینیں پیدا کیں اور سات ہی آسمان بنائے۔ زمین اور پہلے آسمان کے درمیان جوف اور خلا رکھا۔ آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے پیداوار اگائی۔ ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی۔ کیا یہ تمام چیزیں جن میں سے ہر ایک صانع کی خود مختاری، قدرت اور وحدت پر دلالت کرتی ہے اپنے سامنے موجود پاتے ہوئے بھی یہ لوگ اللہ کی عظمت کے قائل ہو کر شرک کو نہیں چھوڑتے ؟ ففی کل شئلہ ایتہ تدل علی انہ واحد یعنی ہر چیز میں اللہ کی حکمرانی اور اس کی وحدانیت کا نشان موجود ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے سوال ہوا کہ پہلے رات تھی یا دن ؟ تو آپ نے فرمایا کہ پہلے زمین و آسمان ملے جلے تہ بہ تہ تھے تو ظاہر ہے کہ ان میں اندھیرا ہوگا اور اندھیرے کا نام ہی رات ہے تو ثابت ہوا کہ رات پہلے تھی۔ ابن عمر ؓ سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا تم حضرت ابن عباس ؓ سے سوال کرو اور جو وہ جواب دیں مجھ سے بھی کہو، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا زمین و آسمان سب ایک ساتھ تھے، نہ بارش برستی تھی، نہ پیداوار اگتی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ذی روح مخلوق پیدا کی تو آسمان کو پھاڑ کر اس سے پانی برسایا اور زمین کو چیر کر اس میں پیداوار اگائی۔ جب سائل نے حضرت ابن عمر ؓ سے یہ جواب بیان کیا تو آپ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے آج مجھے اور بھی یقین ہوگیا کہ قرآن کے علم میں حضرت عبداللہ ؓ بہت ہی بڑھے ہوئے ہیں۔ میرے جی میں کبھی خیال آتا تھا کہ ایسا تو نہیں ابن عباس ؓ کی جرات بڑھ گئی ہو ؟ لیکن آج وہ وسوسہ دل سے جاتا رہا۔ آسمان کو پھاڑ کر سات آسمان بنائے۔ زمین کے مجموعے کو چیر کر سات زمینیں بنائیں۔ مجاہد ؒ کی تفسیر میں یہ بھی ہے کہ یہ ملے ہوئے تھے یعنی پہلے ساتوں آسمان ایک ساتھ تھے اور اسی طرح ساتوں زمینیں بھی ملی ہوئی تھیں پھر جدا جدا کردی گئیں۔ حضرت سعید ؒ کی تفسیر ہے کہ یہ دونوں پہلے ایک ہی تھے پھر الگ الگ کردیئے گئے۔ زمین و آسمان کے درمیان خلا رکھ دی گئی پانی کو تمام جانداروں کی اصل بنادیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ سے کہا حضور ﷺ جب میں آپ کو دیکھتا ہوں میرا جی خوش ہوجاتا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں آپ ہمیں تمام چیزوں کی اصلیت سے خبردار کردیں۔ آپ نے فرمایا ابوہریرہ تمام چیزیں پانی سے پیدا کی گئی ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ پھر میں نے کہا یارسول اللہ ﷺ مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جس سے میں جنت میں داخل ہوجاؤں ؟ آپ نے فرمایا لوگوں کو سلام کیا کرو اور کھانا کھلایا کرو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور رات کو جب لوگ سوتے ہوئے ہوں تو تم تہجد کی نماز پڑھا کرو تاکہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ زمین کو جناب باری عزوجل نے پہاڑوں کی میخوں سے مضبوط کردیا تاکہ وہ ہل جل کر لوگوں کو پریشان نہ کرے مخلوق کو زلزلے میں نہ ڈالے۔ زمین کی تین چوتھائیاں تو پانی میں ہیں اور صرف چوتھائی حصہ سورج اور ہوا کے لئے کھلا ہوا ہے۔ تاکہ آسمان کو اور اس کے عجائبات کو بچشم خود ملاحظہ کرسکیں۔ پھر زمین میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ سے راہیں بنادیں کہ لوگ باآسانی اپنے سفر طے کرسکیں اور دور دراز ملکوں میں بھی پہنچ سکیں۔ شان الٰہی دیکھئے اس حصے اور اس کے ٹکڑے کے درمیان بلند پہاڑی حائل ہے یہاں سے وہاں پہنچنا بظاہر سخت دشوار معلوم ہوتا ہے لیکن قدرت الہٰی خود اس پہاڑ میں راستہ بنادیتی ہے کہ یہاں کے لوگ وہاں اور وہاں کے یہاں پہنچ جائیں اور اپنے کام کاج پورے کرلیں۔ آسمان کو زمین پر مثل قبے کے بنادیا جیسے فرمان ہے کہ ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم وسعت اور کشادگی والے ہیں فرماتا ہے قسم آسمان کی اور اس کی بناوٹ کی۔ ارشاد ہے کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے سروں پر آسمان کو کس کیفیت کا بنایا ہے اور کس طرح زینت دے رکھی ہے اور لطف یہ ہے کہ اتنے بڑے آسمان میں کوئی سوارخ تک نہیں۔ بنا کہتے ہیں قبے یا خیمے کے کھڑا کرنے کو جیسے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اسلام کی بنائیں پانچ ہیں جیسے پانچ ستون پر کوئی قبہ یا خیمہ کھڑا ہوا ہو۔ پھر آسمان جو مثل چھت کے ہے۔ یہ ہے بھی محفوظ بلند پہرے چوکی والا کہ کہیں سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ بلندوبالا اونچا اور صاف ہے جیسے حدیث میں ہے کہ کسی شخص نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ یہ آسمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا رکی ہوئی موج ہے۔ یہ روایت سنداً غریب ہے لیکن لوگ اللہ کی ان زبردست نشانیوں سے بھی بےپرواہ ہیں۔ جیسے فرمان ہے آسمان و زمین کی بہت سی نشانیاں ہیں جو لوگوں کی نگاہوں تلے ہیں لیکن پھر بھی وہ ان سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ کوئی غور و فکر ہی نہیں کرتے کبھی نہیں سوچتے کہ کتنا پھیلا ہوا کتنا بلند کس قدر عظیم الشان یہ آسمان ہمارے سروں پر بغیر ستون کے اللہ تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے۔ پھر اس میں کس خوبصورتی سے ستاروں کا جڑاؤ ہو رہا ہے۔ ان میں بھی کوئی ٹھیرا ہوا ہے کوئی چلتا پھرتا ہے۔ پھر سورج کی چال مقرر ہے۔ اس کی موجودگی دن ہے اس کا نظر نہ آنا رات ہے۔ پورے آسمان کا چکر صرف ایک دن رات میں سورج پورا کرلیتا ہے۔ اس کی چال کو اس کی تیزی کو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ یوں قیاس آرائیاں اور اندازے کرنا اور بات ہے۔ بنی اسرائیل کے عابدوں میں سے ایک نے اپنی تیس سال کی مدت عبادت پوری کرلی مگر جس طرح اور عابدوں پر تیس سال کی عبادت کے بعد ابر کا سایہ ہوجایا کرتا تھا اس پر نہ ہوا تو اس نے اپنی والدہ سے یہ حال بیان کیا۔ اس نے کہا بیٹے تم نے اپنی اس عبادت کے زمانے میں کوئی گناہ کرلیا ہوگا ؟ اس نے کہا اماں ایک بھی نہیں۔ کہا پھر تم نے کسی گناہ کا پورا قصد کیا ہوگا جواب دیا کہ ایسا بھی مطلقا نہیں ہوا۔ ماں نے کہا بہت ممکن ہے کہ تم نے آسمان کی طرف نظر کی ہو اور غور وتدبر کے بغیر ہی ہٹالی ہو۔ عابد نے جواب دیا ایسا تو برابر ہوتا رہا فرمایا بس یہی سبب ہے۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کی بعض نشانیاں بیان فرماتا ہے کہ رات اور اس کے اندھیرے کو دیکھو، دن اور اس کی روشنی پر نظر ڈالو، پھر ایک کے بعد دوسرے کا بڑھنا دیکھو، سورج چاند کو دیکھو۔ سورج کا نور ایک مخصوص نور ہے اور اس کا آسمان اس کا زمانہ اس کی حرکت اس کی چال علیحدہ ہے۔ چاند کا نور الگ ہے، فلک الگ ہے، چال الگ ہے، انداز اور ہے۔ ہر ایک اپنے اپنے فلک میں گویا تیرتا پھرتا ہے اور حکم الٰہی کی بجا آوری میں مشغول ہے۔ جیسے فرمان ہے وہی صبح کا روشن کرنے والا ہے وہی رات کو پرسکون بنانے والا ہے۔ وہی سورج چاند کا انداز مقرر کرنے والا ہے۔ وہی ذی عزت غلبے والا اور ذی علم علم والا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُنَبِّهًا عَلَى قُدْرَتِهِ التَّامَّةِ، وَسُلْطَانِهِ الْعَظِيمِ فِي خَلْقِهِ الْأَشْيَاءَ، وَقَهْرِهِ لِجَمِيعِ الْمَخْلُوقَاتِ، فَقَالَ: ﴿أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ أَيِ: الْجَاحِدُونَ لِإِلَهِيَّتِهِ العابدون [[في أ: "العابدين".]] معه غيره، ألم يعلموا أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسْتَقِلُّ بِالْخَلْقِ، الْمُسْتَبِدُّ بِالتَّدْبِيرِ، فَكَيْفَ يَلِيقُ أَنْ يُعْبَدَ غَيْرُهُ أَوْ يُشْرَكَ بِهِ مَا سِوَاهُ، أَلَمْ [[في أ: "أولم"."]] يَرَوْا ﴿أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ كَانَتَا رَتْقًا﴾ أَيْ: كَانَ الْجَمِيعُ مُتَّصِلًا بَعْضُهُ بِبَعْضٍ مُتَلَاصِقٌ مُتَرَاكِمٌ، بَعْضُهُ فَوْقَ بَعْضٍ فِي ابْتِدَاءِ الْأَمْرِ، فَفَتَقَ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ. فجعل السموات سَبْعًا، وَالْأَرْضَ [[في ف، أ: "والأرضين".]] سَبْعًا، وَفَصَلَ بَيْنَ سَمَاءِ الدُّنْيَا وَالْأَرْضِ بِالْهَوَاءِ، فَأَمْطَرَتِ السَّمَاءُ وَأَنْبَتَتِ الْأَرْضُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلا يُؤْمِنُونَ﴾ أَيْ: وَهُمْ يُشَاهِدُونَ الْمَخْلُوقَاتِ تَحْدُثُ شَيْئًا فَشَيْئًا عِيَانًا، وَذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى وُجُودِ الصَّانِعِ الْفَاعِلِ الْمُخْتَارِ الْقَادِرِ عَلَى مَا يَشَاءُ: فَفِي كُلّ شَيْءٍ لَهُ آيَة ... تَدُلّ علَى أنَّه وَاحد ...
قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اللَّيْلُ كان قبل أو النهار؟ فقال: أرأيتم السموات وَالْأَرْضَ حِينَ كَانَتَا رَتْقًا، هَلْ كَانَ بَيْنَهُمَا إِلَّا ظُلْمَةٌ؟ ذَلِكَ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّيْلَ قَبْلَ النَّهَارِ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّ رجلا أتاه يسأله عن السموات وَالْأَرْضِ ﴿كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا﴾ ؟. قَالَ: اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الشَّيْخِ فَاسْأَلْهُ، ثُمَّ تَعَالَ فَأَخْبِرْنِي بِمَا قَالَ لَكَ. قَالَ: فَذَهَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فسأله. فقال ابن عباس: نعم، كانت السموات رَتْقًا لَا تُمْطِرُ، وَكَانَتْ الْأَرْضُ رَتْقًا لَا تُنْبِتُ.
فَلَمَّا خَلَقَ لِلْأَرْضِ أَهْلًا فَتَقَ هَذِهِ بِالْمَطَرِ، وَفَتْقَ هَذِهِ بِالنَّبَاتِ. فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: الْآنَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَدْ أُوتِيَ فِي الْقُرْآنِ عِلْمًا، صَدَقَ -هَكَذَا كَانَتْ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَدْ كُنْتُ أَقُولُ: مَا يُعْجِبُنِي جَرَاءَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ، فَالْآنَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ قَدْ أُوتِيَ فِي الْقُرْآنِ عِلْمًا.
وَقَالَ عَطِيَّةُ العَوْفي: كَانَتْ هَذِهِ رَتْقًا لَا تُمْطِرُ، فَأَمْطَرَتْ. وَكَانَتْ هَذِهِ رَتْقًا لَا تُنْبِتُ، فَأَنْبَتَتْ.
وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ: سَأَلْتُ أَبَا صَالِحٍ الحنَفِي عَنْ قَوْلِهِ: ﴿أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا﴾ ، قَالَ: كَانَتِ السَّمَاءُ وَاحِدَةً، فَفَتَقَ مِنْهَا سَبْعَ سَمَاوَاتٍ، وَكَانَتْ الْأَرْضُ وَاحِدَةً فَفَتَقَ مِنْهَا سَبْعَ أَرْضِينَ.
وَهَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَزَادَ: وَلَمْ تَكُنِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ مُتَمَاسَّتَيْنِ.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: بَلْ كَانَتِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ مُلْتَزِقَتَيْنِ، فَلَمَّا رَفَعَ السَّمَاءَ وَأَبْرَزَ مِنْهَا الْأَرْضَ، كَانَ ذَلِكَ فَتْقَهُمَا الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ. وَقَالَ الْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، كَانَتَا جَمِيعًا، فَفَصَلَ بَيْنَهُمَا بِهَذَا الْهَوَاءِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ﴾ أَيْ: أَصْلُ كل الأحياء منه.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَمَاهِرِ [[في ف، أ: "الجماهير".]] ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ أَبِي مَيْمُونَةَ [[في ف، أ: "أبي ميمون".]] ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِذَا رَأَيْتُكَ قَرَّتْ عَيْنِي، وَطَابَتْ نَفْسِي، فَأَخْبِرْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ، قَالَ: "كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ".
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي، وَقَرَّتْ عَيْنِي، فَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ. قَالَ: "كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ" قَالَ: قُلْتُ: أَنْبِئْنِي عَنِ أَمْرٍ إِذَا عملتُ بِهِ دَخَلَتُ الْجَنَّةَ. قَالَ: "أفْش السَّلَامَ، وَأَطْعِمِ الطَّعَامَ، وصِل الْأَرْحَامَ، وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، ثُمَّ ادْخُلِ الجنَّة بِسَلَامٍ" [[المسند (٢/٢٩٥) ورواه الحاكم في المستدرك (٤/١٢٩) من طريق يزيد بن هارون وصححه. ورواه ابن حبان في صحيحه برقم (٦٤٢) "موارد" من طريق أبي عامر العقدي عن همام به.]] .
وَرَوَاهُ أَيْضًا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ وبَهْز، عَنْ هَمَّامٍ [[المسند (٢/٣٢٣-٤٩٣) من طريق عبد الصمد، (٢/٣٢٣) من طريق عفان، (٢/٣٢٤) من طريق بهز. وقال الهيثمي في المجمع (٥/١٦) : "رجاله رجال الصحيح، خلا أبي ميمونة وهو ثقة".]] . تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ، وَهَذَا إِسْنَادٌ عَلَى شَرْطِ الصَّحِيحَيْنِ، إِلَّا أَنَّ أَبَا مَيْمُونَةَ مِنْ رِجَالِ السُّنَنِ، وَاسْمُهُ سُلَيْمٌ، وَالتِّرْمِذِيُّ يُصَحِّحُ لَهُ. وَقَدْ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبة، عَنْ قَتَادَةَ مُرْسَلًا وَاللَّهُ [[في ف: "فالله".]] أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَا فِي الأرْضِ رَوَاسِيَ﴾ أَيْ: جِبَالًا أَرْسَى الْأَرْضَ بِهَا وَقَرَّرَهَا وَثَقَّلَهَا؛ لِئَلَّا تَمِيدَ بِالنَّاسِ، أَيْ: تَضْطَرِبَ وَتَتَحَرَّكَ، فَلَا يَحْصُلُ لَهُمْ عَلَيْهَا قَرَارٌ [[في ف: "قرار عليها".]] لِأَنَّهَا غَامِرَةٌ فِي الْمَاءِ إِلَّا مِقْدَارَ الرُّبْعِ، فَإِنَّهُ بَادٍ لِلْهَوَاءِ وَالشَّمْسِ، لِيُشَاهِدَ أَهْلُهَا السَّمَاءَ وَمَا فِيهَا مِنَ الْآيَاتِ الْبَاهِرَاتِ، وَالْحِكَمِ وَالدَّلَالَاتِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَنْ تَمِيدَ بِهِمْ﴾ أَيْ: لِئَلَّا تَمِيدَ بِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلا﴾ أَيْ: ثَغْرًا فِي الْجِبَالِ، يَسْلُكُونَ فِيهَا طُرُقًا مِنْ قُطْرٍ إِلَى قُطْرٍ، وَإِقْلِيمٍ إِلَى إِقْلِيمٍ، كَمَا هُوَ الْمُشَاهَدُ فِي الْأَرْضِ، يَكُونُ الْجَبَلُ حَائِلًا بَيْنَ هَذِهِ الْبِلَادِ وَهَذِهِ الْبِلَادِ، فَيَجْعَلُ اللَّهُ فِيهِ فَجْوَةً -ثَغْرَةً-لِيَسْلُكَ النَّاسُ فِيهَا مِنْ هَاهُنَا إِلَى هَاهُنَا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا﴾ أَيْ: عَلَى الْأَرْضِ وَهِيَ كَالْقُبَّةِ عَلَيْهَا، كَمَا قَالَ: ﴿وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ﴾ [الذَّارِيَاتِ: ٤٧] ، وَقَالَ: ﴿وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا﴾ [الشَّمْسِ:٥] ، ﴿أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ﴾ [ق:٦] ، وَالْبِنَاءُ هُوَ نَصْبُ الْقُبَّةِ، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "بُنِي الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ" أَيْ: خَمْسُ [[في ف: "خمسة".]] دَعَائِمَ، وَهَذَا لَا يَكُونُ إِلَّا فِي الْخِيَامِ، عَلَى مَا [[في ف:" كما".]] تَعْهَدُهُ الْعَرَبُ.
﴿مَّحْفُوظًا﴾ أَيْ: عَالِيًا مَحْرُوسًا أَنْ يُنال. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: مَرْفُوعًا.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّشْتَكي، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ أَبِيهِ، عَنِ أَشْعَثَ -يَعْنِي ابْنَ إسحاق القُمِّي-عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذِهِ السَّمَاءُ، قَالَ: "مَوْجٌ مَكْفُوفٌ عَنْكُمْ" [[ورواه أبو الشيخ في العظمة برقم (٥٣٩) من طريق أحمد بن القاسم عن أحمد بن عبد الرحمن الدشتكي به.]] إِسْنَادٌ غَرِيبٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ﴾ ، كَقَوْلِهِ: ﴿وَكَأَيِّنْ مِنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ﴾ [يُوسُفَ:١٠٥] أَيْ: لَا يَتَفَكَّرُونَ فِيمَا خَلَقَ اللَّهُ فِيهَا مِنَ الِاتِّسَاعِ الْعَظِيمِ، وَالِارْتِفَاعِ الْبَاهِرِ، وَمَا زُيِّنَتْ بِهِ مِنَ الْكَوَاكِبِ الثَّوَابِتِ وَالسَّيَّارَاتِ فِي لَيْلِهَا، وَفِي نَهَارِهَا [[في ف، أ: "النهار".]] مِنْ هَذِهِ الشَّمْسِ الَّتِي تَقْطَعُ الْفَلَكَ بِكَمَالِهِ، فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَتَسِيرُ غَايَةً لَا يَعْلَمُ قَدْرَهَا إِلَّا الَّذِي [[في ف، أ: "الله".]] قَدَّرَهَا وَسَخَّرَهَا وَسَيَّرَهَا.
وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، رَحِمَهُ اللَّهُ، فِي كِتَابِهِ "التَّفَكُّرُ وَالِاعْتِبَارُ": أَنَّ بَعْضَ عُبَّادِ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَعَبَّدَ ثَلَاثِينَ سَنَةً، وَكَانَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ إِذَا تَعَبَّدَ ثَلَاثِينَ سَنَةً أَظَلَّتْهُ غَمَامَةٌ، فَلَمْ يَرَ ذَلِكَ الرَّجُلُ شَيْئًا مِمَّا كَانَ يَرَى لِغَيْرِهِ، فَشَكَى ذَلِكَ إِلَى أُمِّهِ، فَقَالَتْ لَهُ: يَا بُنَيَّ، فَلَعَلَّكَ أَذْنَبْتَ فِي مُدَّةِ عِبَادَتِكَ هَذِهِ، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ، قَالَتْ: فَلَعَلَّكَ هَمَمْتَ؟ قَالَ: لَا [[في ف، أ: "بل والله".]] وَلَا هَمَمْتُ. قَالَتْ: فَلَعَلَّكَ رَفَعْتَ بَصَرَكَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ رَدَدْتَهُ بِغَيْرِ فِكْرٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، كَثِيرًا. قَالَتْ: فَمِنْ هَاهُنَا أُتِيتَ.
ثُمَّ قَالَ مُنَبِّهًا عَلَى بَعْضِ آيَاتِهِ: ﴿وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ﴾ أَيْ: هَذَا فِي ظَلَامِهِ وَسُكُونِهِ، وَهَذَا بِضِيَائِهِ وَأُنْسِهِ، يَطُولُ هَذَا تَارَةً ثُمَّ يَقْصُرُ أُخْرَى، وَعَكْسُهُ الْآخَرُ. ﴿وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ﴾ هَذِهِ لَهَا نُورٌ يَخُصُّهَا، وَفَلَكٌ بِذَاتِهِ، وَزَمَانٌ عَلَى حِدَةٍ، وَحَرَكَةٍ وَسَيْرٍ خَاصٍّ، وَهَذَا بِنُورٍ خَاصٍّ آخَرَ، وَفَلَكٍ آخَرَ، وَسَيْرٍ آخَرَ، وَتَقْدِيرٍ آخَرَ، ﴿وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ﴾ [يس:٤٠] ، أَيْ: يَدُورُونَ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَدُورُونَ كَمَا يَدُورُ الْمِغْزَلُ فِي الْفَلْكَةِ. وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ: فَلَا يَدُورُ الْمِغْزَلُ إِلَّا بِالْفَلْكَةِ، وَلَا الْفَلْكَةُ إِلَّا بِالْمِغْزَلِ، كَذَلِكَ النُّجُومُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ، لَا يَدُورُونَ إِلَّا بِهِ، وَلَا يَدُورُ إِلَّا بِهِنَّ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَالِقُ الإصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ﴾ [الْأَنْعَامِ:٩٦] .
وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍۢ مِّن قَبْلِكَ ٱلْخُلْدَ ۖ أَفَإِي۟ن مِّتَّ فَهُمُ ٱلْخَٰلِدُونَ
And We did not grant to any man before you eternity [on earth]; so if you die - would they be eternal?
اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کو بقائے دوام نہیں بخشا۔ بھلا اگر تم مرجاؤ تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے
پیش از تو (نیز) برای هیچ انسانی جاودانگی قرار ندادیم؛ (وانگهی آنها که انتظار مرگ تو را میکشند،) آیا اگر تو بمیری، آنان جاوید خواهند بود؟!
Tafsir Ibn Kathir
And We granted not to any human being immortality before you; then if you die, would they live forever (34)Everyone is going to taste death, and We shall test you with evil and with good by way of trial. And to Us you will be returned (35)
No One has been granted Immortality in this World
وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِكَ
(And We granted not to any human being immortality before you;) means, O Muhammad.
الْخُلْدَ
(immortality) means, in this world. On the contrary,
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ - وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
(Whatsoever is on it (the earth) will perish. And the Face of your Lord full of majesty and honor will remain forever.)(55:26-27).
أَفَإِن مِّتَّ
(then if you die) means, O Muhammad,
فَهُمُ الْخَالِدُونَ
(would they live forever?) means, they hope that they will live forever after you, but that will not happen; everything will pass away. So Allah says:
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ
(Everyone is going to taste death,)
وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً
(and We shall test you with evil and with good by way of trial.) Meaning, "We shall test you, sometimes with difficulties and sometimes with ease, to see who will give thanks and who will be ungrateful, who will have patience and who will despair." 'Ali bin Abi Talhah reported from Ibn 'Abbas:
وَنَبْلُوكُم
(and We shall test you) means, We will test you,
بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً
(with evil and with good by way of trial.) means, with difficulties and with times of prosperity, with health and sickness, with richness and poverty, with lawful and unlawful, obedience and sin, with guidance and misguidance.
وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
(And to Us you will be returned.) means, and We will requite you according to your deeds.
Tafsir Ibn Kathir
خضر ؑ مرچکے ہیں جتنے لوگ ہوئے سب کو ہی موت ایک روز ختم کرنے والی ہے۔ تمام روئے زمین کے لوگ موت سے ملنے والے ہیں۔ ہاں رب کی جلال و اکرام والی ذات ہی ہمیشہ اور لازوال ہے۔ اسی آیت سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ حضرت خضر ؑ مرگئے۔ یہ غلط ہے کہ وہ اب تک زندہ ہوں کیونکہ وہ بھی انسان ہی تھے ولی ہوں یا نبی ہوں یا رسول ہوں تھے تو انسان ہی۔ ان کفار کی یہ آرزو کتنی ناپاک ہے کہ تم مرجاؤ ؟ تو کیا یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ؟ ایسا تو محض ناممکن دنیا میں تو چل چلاؤ لگ رہا ہے۔ کسی کو بجز ذات باری کے دوام نہیں۔ کوئی آگے ہے کوئی پیچھے۔ پھر فرمایا موت کا ذائقہ ہر ایک کو چکھنا پڑے گا۔ حضرت امام شافعی ؒ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ میری موت کے آرزو مند ہیں تو کیا اس کے بارے میں میں ہی اکیلا ہوں ؟ یہ وہ ذائقہ نہیں جو کسی کو چھوڑ دے۔ پھر فرماتا ہے بھلائی برائی سے، سکھ دکھ سے، مٹھاس کڑواہٹ سے، کشادگی تنگی سے۔ ہم اپنے بندوں کو آزمالیتے ہیں تاکہ شکر گزار اور ناشکرا صابر اور ناامید کھل جائے۔ صحت و بیماری، تونگری، فقیری، سختی، نرمی، حلال، حرام، ہدایت، گمراہی، اطاعت، معصیت یہ سب آزمائشیں ہیں، اس میں بھلے برے کھل جاتے ہیں۔ تمہارا سب کا لوٹنا ہماری ہی طرف ہے اس وقت جو جیسا تھا کھل جائے گا۔ بروں کو سزا نیکوں کو جزا ملے گی۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ﴾ أَيْ: يَا مُحَمَّدُ، ﴿الْخُلْدَ﴾ أَيْ: فِي الدُّنْيَا بَلْ ﴿كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلالِ وَالإكْرَامِ﴾ [الرَّحْمَنِ:٢٦، ٢٧] .
وَقَدِ اسْتَدَلَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ مَنْ ذَهَبَ مِنَ الْعُلَمَاءِ إِلَى أَنَّ الْخَضِرَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مَاتَ وَلَيْسَ بِحَيٍّ إِلَى الْآنِ؛ لِأَنَّهُ بَشَرٌ، سَوَاءٌ كَانَ وَلِيًّا أَوْ نِبِيًّا أَوْ رَسُولًا وَقَدْ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَفَإِنْ مِتَّ﴾ أَيْ: يَا مُحَمَّدُ، ﴿فَهُمُ الْخَالِدُونَ﴾ ؟! أَيْ: يُؤَمِّلُونَ أَنْ يَعِيشُوا بَعْدَكَ، لَا يَكُونُ هَذَا، بَلْ كُلٌّ إِلَى فَنَاءٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الشَّافِعِيِّ، رَحِمَهُ اللَّهُ، أَنَّهُ أَنْشَدَ وَاسْتَشْهَدَ بِهَذَيْنَ الْبَيْتَيْنِ: تَمَنَّى رِجَالٌ أَنْ أَمُوتَ وَإِنْ أَمُتْ فَتلْكَ سَبيل لَسْت فيهَا بأوْحد
فقُلْ للَّذي يَبْغي خِلَافَ الَّذِي مَضَى: تَهَيَّأ لأخْرى مثْلها فكَأن قَدِ [[البيتان ذكرهما البيهقي في مناقب الشافعي (٢/٦٢) والرازي في مناقب الشافعي (ص١١٩) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً﴾ أَيْ: نَخْتَبِرُكُمْ بِالْمَصَائِبِ تَارَةً، وَبِالنِّعَمِ أُخْرَى، لِنَنْظُرَ مَنْ يَشْكُرُ وَمَنْ يَكْفُرُ، وَمَنْ يَصْبِرُ وَمَنْ يَقْنَطُ، كَمَا قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَنَبْلُوكُمْ﴾ ، يَقُولُ: نَبْتَلِيكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً، بِالشِّدَّةِ وَالرَّخَاءِ، وَالصِّحَّةِ وَالسَّقَمِ، وَالْغِنَى وَالْفَقْرِ، وَالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ، وَالطَّاعَةِ وَالْمَعْصِيَةِ وَالْهُدَى وَالضَّلَالِ..
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ﴾ أَيْ: فَنُجَازِيكُمْ بِأَعْمَالِكُمْ.
كُلُّ نَفْسٍۢ ذَآئِقَةُ ٱلْمَوْتِ ۗ وَنَبْلُوكُم بِٱلشَّرِّ وَٱلْخَيْرِ فِتْنَةًۭ ۖ وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
Every soul will taste death. And We test you with evil and with good as trial; and to Us you will be returned.
ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے۔ اور ہم تو لوگوں کو سختی اور آسودگی میں آزمائش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں۔ اور تم ہماری طرف ہی لوٹ کر آؤ گے
هر انسانی طعم مرگ را میچشد! و شما را با بدیها و خوبیها آزمایش میکنیم؛ و سرانجام بسوی ما بازگردانده میشوید!
Tafsir Ibn Kathir
And We granted not to any human being immortality before you; then if you die, would they live forever (34)Everyone is going to taste death, and We shall test you with evil and with good by way of trial. And to Us you will be returned (35)
No One has been granted Immortality in this World
وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِكَ
(And We granted not to any human being immortality before you;) means, O Muhammad.
الْخُلْدَ
(immortality) means, in this world. On the contrary,
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ - وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
(Whatsoever is on it (the earth) will perish. And the Face of your Lord full of majesty and honor will remain forever.)(55:26-27).
أَفَإِن مِّتَّ
(then if you die) means, O Muhammad,
فَهُمُ الْخَالِدُونَ
(would they live forever?) means, they hope that they will live forever after you, but that will not happen; everything will pass away. So Allah says:
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ
(Everyone is going to taste death,)
وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً
(and We shall test you with evil and with good by way of trial.) Meaning, "We shall test you, sometimes with difficulties and sometimes with ease, to see who will give thanks and who will be ungrateful, who will have patience and who will despair." 'Ali bin Abi Talhah reported from Ibn 'Abbas:
وَنَبْلُوكُم
(and We shall test you) means, We will test you,
بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً
(with evil and with good by way of trial.) means, with difficulties and with times of prosperity, with health and sickness, with richness and poverty, with lawful and unlawful, obedience and sin, with guidance and misguidance.
وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
(And to Us you will be returned.) means, and We will requite you according to your deeds.
Tafsir Ibn Kathir
خضر ؑ مرچکے ہیں جتنے لوگ ہوئے سب کو ہی موت ایک روز ختم کرنے والی ہے۔ تمام روئے زمین کے لوگ موت سے ملنے والے ہیں۔ ہاں رب کی جلال و اکرام والی ذات ہی ہمیشہ اور لازوال ہے۔ اسی آیت سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ حضرت خضر ؑ مرگئے۔ یہ غلط ہے کہ وہ اب تک زندہ ہوں کیونکہ وہ بھی انسان ہی تھے ولی ہوں یا نبی ہوں یا رسول ہوں تھے تو انسان ہی۔ ان کفار کی یہ آرزو کتنی ناپاک ہے کہ تم مرجاؤ ؟ تو کیا یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ؟ ایسا تو محض ناممکن دنیا میں تو چل چلاؤ لگ رہا ہے۔ کسی کو بجز ذات باری کے دوام نہیں۔ کوئی آگے ہے کوئی پیچھے۔ پھر فرمایا موت کا ذائقہ ہر ایک کو چکھنا پڑے گا۔ حضرت امام شافعی ؒ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ میری موت کے آرزو مند ہیں تو کیا اس کے بارے میں میں ہی اکیلا ہوں ؟ یہ وہ ذائقہ نہیں جو کسی کو چھوڑ دے۔ پھر فرماتا ہے بھلائی برائی سے، سکھ دکھ سے، مٹھاس کڑواہٹ سے، کشادگی تنگی سے۔ ہم اپنے بندوں کو آزمالیتے ہیں تاکہ شکر گزار اور ناشکرا صابر اور ناامید کھل جائے۔ صحت و بیماری، تونگری، فقیری، سختی، نرمی، حلال، حرام، ہدایت، گمراہی، اطاعت، معصیت یہ سب آزمائشیں ہیں، اس میں بھلے برے کھل جاتے ہیں۔ تمہارا سب کا لوٹنا ہماری ہی طرف ہے اس وقت جو جیسا تھا کھل جائے گا۔ بروں کو سزا نیکوں کو جزا ملے گی۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ﴾ أَيْ: يَا مُحَمَّدُ، ﴿الْخُلْدَ﴾ أَيْ: فِي الدُّنْيَا بَلْ ﴿كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلالِ وَالإكْرَامِ﴾ [الرَّحْمَنِ:٢٦، ٢٧] .
وَقَدِ اسْتَدَلَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ مَنْ ذَهَبَ مِنَ الْعُلَمَاءِ إِلَى أَنَّ الْخَضِرَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مَاتَ وَلَيْسَ بِحَيٍّ إِلَى الْآنِ؛ لِأَنَّهُ بَشَرٌ، سَوَاءٌ كَانَ وَلِيًّا أَوْ نِبِيًّا أَوْ رَسُولًا وَقَدْ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَفَإِنْ مِتَّ﴾ أَيْ: يَا مُحَمَّدُ، ﴿فَهُمُ الْخَالِدُونَ﴾ ؟! أَيْ: يُؤَمِّلُونَ أَنْ يَعِيشُوا بَعْدَكَ، لَا يَكُونُ هَذَا، بَلْ كُلٌّ إِلَى فَنَاءٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الشَّافِعِيِّ، رَحِمَهُ اللَّهُ، أَنَّهُ أَنْشَدَ وَاسْتَشْهَدَ بِهَذَيْنَ الْبَيْتَيْنِ: تَمَنَّى رِجَالٌ أَنْ أَمُوتَ وَإِنْ أَمُتْ فَتلْكَ سَبيل لَسْت فيهَا بأوْحد
فقُلْ للَّذي يَبْغي خِلَافَ الَّذِي مَضَى: تَهَيَّأ لأخْرى مثْلها فكَأن قَدِ [[البيتان ذكرهما البيهقي في مناقب الشافعي (٢/٦٢) والرازي في مناقب الشافعي (ص١١٩) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً﴾ أَيْ: نَخْتَبِرُكُمْ بِالْمَصَائِبِ تَارَةً، وَبِالنِّعَمِ أُخْرَى، لِنَنْظُرَ مَنْ يَشْكُرُ وَمَنْ يَكْفُرُ، وَمَنْ يَصْبِرُ وَمَنْ يَقْنَطُ، كَمَا قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَنَبْلُوكُمْ﴾ ، يَقُولُ: نَبْتَلِيكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً، بِالشِّدَّةِ وَالرَّخَاءِ، وَالصِّحَّةِ وَالسَّقَمِ، وَالْغِنَى وَالْفَقْرِ، وَالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ، وَالطَّاعَةِ وَالْمَعْصِيَةِ وَالْهُدَى وَالضَّلَالِ..
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ﴾ أَيْ: فَنُجَازِيكُمْ بِأَعْمَالِكُمْ.
وَإِذَا رَءَاكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَٰذَا ٱلَّذِى يَذْكُرُ ءَالِهَتَكُمْ وَهُم بِذِكْرِ ٱلرَّحْمَٰنِ هُمْ كَٰفِرُونَ
And when those who disbelieve see you, [O Muhammad], they take you not except in ridicule, [saying], "Is this the one who insults your gods?" And they are, at the mention of the Most Merciful, disbelievers.
اور جب کافر تم کو دیکھتے ہیں تو تم سے استہزاء کرتے ہیں کہ کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے حالانکہ وہ خود رحمٰن کے نام سے منکر ہیں
هنگامی که کافران تو را میبینند، کاری جز استهزا کردن تو ندارند؛ (و میگویند:) آیا این همان کسی است که سخن از خدایان شما میگوید؟! در حالی که خودشان ذکر خداوند رحمان را انکار میکنند.
Tafsir Ibn Kathir
And when those who disbelieved see you, they take you not except for mockery (saying): "Is this the one who talks about your gods?" While they disbelieve at the mention of the Most Gracious (36)Man is created of haste. I will show you My Ayat. So ask Me not to hasten (them)(37)
How the Idolators mocked the Prophet (ﷺ)
Allah tells His Prophet ﷺ:
وَإِذَا رَآكَ الَّذِينَ كَفَرُوا
(And when those who disbelieved see you,) meaning, the disbelievers of the Quraysh, such as Abu Jahl and his like.
إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا
(they take you not except for mockery) means, they make fun of you and insult you, saying,
أَهَٰذَا الَّذِي يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ
("Is this the one who talks about your gods?") meaning, is this the one who insults your gods and ridicules your intelligence? Allah says:
وَهُم بِذِكْرِ الرَّحْمَٰنِ هُمْ كَافِرُونَ
(While they disbelieve at the mention of the Most Gracious.) meaning, they disbelieve in Allah and yet they mock the Messenger of Allah ﷺ. As Allah says:
وَإِذَا رَأَوْكَ إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ رَسُولًا - إِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلَا أَنْ صَبَرْنَا عَلَيْهَا ۚ وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا
(And when they see you, they treat you only in mockery (saying): "Is this the one whom Allah has sent as a Messenger? He would have nearly misled us from our gods, had it not been that we were patient and constant in their worship!" And they will know, when they see the torment, who it is that is most astray from the path!)(25:41-42)
خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ
(Man is created of haste.) This is like the Ayah:
وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا
(and man is ever hasty)(17:11), in all matters. The reason why the haste of man is mentioned here is that when mention is made of those who mock the Messenger ﷺ, (the believers) will want to avenge them swiftly, and that so should happen sooner. Allah says,
خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ
(Man is created of haste.) because He delays (the punishment) until a time when, once He seizes him, He will never let him go. He delays it, then He hastens it; He waits, then He does not delay any longer. So He says:
سَأُرِيكُمْ آيَاتِي
(I will show you My Ayat) meaning, My vengeance, ruling and power over those who disobey Me.
فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ
(So ask Me not to hasten (them).)
Tafsir Ibn Kathir
جلدباز انسان ابوجہل وغیرہ کفار قریش آنحضرت ﷺ کو دیکھتے ہی ہنسی مذاق شروع کردیتے اور آپ کی شان میں بےادبی کرنے لگتے۔ کہنے لگتے کہ لو میاں دیکھ لو، یہی ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں۔ اللہ کے منکر، رسول اللہ کے منکر اور آیت میں ان کے اسی کفر کا بیان کرکے فرمایا گیا ہے آیت (ان کاد لیضلناعن الہتنا)۔ یعنی وہ تو کہیے ہم جمے رہے ورنہ اس نے تو ہمیں ہمارے پرانے معبودوں سے برگشتہ کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ خیر انہیں عذاب کے معائنہ سے معلوم ہوجائے گا کہ گمراہ کون تھا ؟ انسان بڑا جلدباز ہے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کی پیدائش کے بعد حضرت آدم ؑ کو پیدا کرنا شروع کیا شام کے قریب جب ان میں روح پھونکی گئی سر آنکھ اور زبان میں جب روح آگئی تو کہنے لگے الٰہی مغرب سے پہلے ہی میری پیدائش مکمل ہوجائے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں تمام دنوں میں بہتر وافضل دن جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم ؑ پیدا کئے گئے اسی میں جنت میں داخل ہوئے اسی میں وہاں سے اتارے گئے اسی میں قیامت قائم ہوگی اسی دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت جو بندہ نماز میں ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو کچھ طلب کرے اللہ اسے عطا فرماتا ہے آپ نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کرکے بتلایا کہ وہ ساعت بہت تھوڑی سی ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ فرماتے ہیں مجھے معلوم ہے کہ وہ ساعت کون سی ہے وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے اسی وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ پہلی آیت میں کافروں کی بدبختی کا ذکر کرکے اس کے بعد ہی انسانی عجلت کا ذکر اس حکمت سے ہے کہ گویا کافروں کی سرکشی سنتے ہی مسلمان کا انتقامی جذبہ بھرک اٹھتا ہے اور وہ جلد بدلہ لینا چاہتا ہے اس لئے کہ انسانی جبلت میں جلدبازی ہے۔ لیکن عادت الٰہی یہ ہے کہ وہ ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھانے والا ہوں کہ عاصیوں پر کس طرح سختی ہوتی ہے۔ میرے نبی کو مذاق میں اڑنے والوں کی کس طرح کھال ادھڑتی ہے تم ابھی دیکھ لوگے۔ جلدی نہ مچاؤ دیر ہے اندھیر نہیں مہلت ہے بھول نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، ﴿وَإِذَا رَآكَ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ يَعْنِي: كُفَّارَ قُرَيْشٍ كَأَبِي جَهْلٍ وَأَشْبَاهِهِ ﴿إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلا هُزُوًا﴾ أَيْ: يَسْتَهْزِئُونَ بِكَ وَيَنْتَقِصُونَكَ، يَقُولُونَ: ﴿أَهَذَا الَّذِي يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ﴾ يَعْنُونُ: أَهَذَا الَّذِي يَسُبُّ آلِهَتَكُمْ وَيُسَفِّهُ أَحْلَامَكُمْ، قَالَ تَعَالَى: ﴿وَهُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمَنِ هُمْ كَافِرُونَ﴾ أَيْ: وَهُمْ كَافِرُونَ بِاللَّهِ، وَمَعَ هَذَا يَسْتَهْزِئُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ، كَمَا قَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿وَإِذَا رَأَوْكَ إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلا هُزُوًا أَهَذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ رَسُولا. إِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلا أَنْ صَبَرْنَا عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلا﴾ [الْفُرْقَانِ:٤١، ٤٢] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿خُلِقَ الإنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ﴾ ، كَمَا قَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿وَكَانَ [[في ف: "وخلق".]] الإنْسَانُ عَجُولا﴾ [الْإِسْرَاءِ:١١] أَيْ: فِي الْأُمُورِ.
قَالَ مُجَاهِدٌ: خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ بَعْدَ كَلِّ شَيْءٍ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ، مِنْ يَوْمِ خَلَقَ الْخَلَائِقَ فَلَمَّا أَحْيَا الرُّوحُ عَيْنَيْهِ وَلِسَانَهُ وَرَأْسَهُ، وَلَمْ يَبْلُغْ [[في ف: "تبلغ".]] أَسْفَلَهُ قَالَ: يَا رَبِّ، اسْتَعْجِلْ بِخَلْقِي قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَان، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "خَيْرُ يَوْمٍ طلعت فيه الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُهْبِطَ مِنْهَا، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا مُؤْمِنٌ يُصَلِّي -وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ قَلَّلَها [[في أ: "يقللها"]] -فَسَأَلَ اللَّهَ خَيْرًا، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ". قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: قَدْ عَرَفْتُ تِلْكَ السَّاعَةَ، وَهِيَ آخِرُ سَاعَاتِ النَّهَارِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَهِيَ الَّتِي خَلَقَ اللَّهُ فِيهَا آدَمَ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿خُلِقَ الإنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ سَأُرِيكُمْ آيَاتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ﴾ [[أخرج مالك في الموطأ (١/١٠٨) من طريق يزيد بن الهاد عن محمد بن إبراهيم عن أبي سلمة عن أبي هريرة نحوه دون ذكر الآية وأخرج الشيخان أوله والله أعلم.]] .
وَالْحِكْمَةُ فِي ذِكْرِ عِجَلَةِ الْإِنْسَانِ هَاهُنَا أَنَّهُ لَمَّا ذَكَرَ الْمُسْتَهْزِئِينَ بِالرَّسُولِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ [وَسَلَامُهُ] [[زيادة من ف، أ.]] عَلَيْهِ، وَقَعَ فِي النُّفُوسِ سُرْعَةُ الِانْتِقَامِ مِنْهُمْ وَاسْتَعْجَلَتْ [[في ف، أ: "واستعجلت ذلك".]] ، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿خُلِقَ الإنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ﴾ ؛ لِأَنَّهُ تَعَالَى يُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ، يُؤَجِّلُ ثُمَّ يُعَجِّلُ، وَيُنْظِرُ ثُمَّ لَا يُؤَخِّرُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿سَأُوْرِيكُمْ آيَاتِي﴾ أَيْ: نَقْمِي وَحُكْمِي وَاقْتِدَارِي عَلَى مَنْ عَصَانِي، ﴿فَلا تَسْتَعْجِلُونِ﴾ .
خُلِقَ ٱلْإِنسَٰنُ مِنْ عَجَلٍۢ ۚ سَأُو۟رِيكُمْ ءَايَٰتِى فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ
Man was created of haste. I will show you My signs, so do not impatiently urge Me.
انسان (کچھ ایسا جلد باز ہے کہ گویا) جلد بازی ہی سے بنایا گیا ہے۔ میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھاؤں گا تو تم جلدی نہ کرو
(آری،) انسان از عجله آفریده شده؛ ولی عجله نکنید؛ بزودی آیاتم را به شما نشان خواهم داد!
Tafsir Ibn Kathir
And when those who disbelieved see you, they take you not except for mockery (saying): "Is this the one who talks about your gods?" While they disbelieve at the mention of the Most Gracious (36)Man is created of haste. I will show you My Ayat. So ask Me not to hasten (them)(37)
How the Idolators mocked the Prophet (ﷺ)
Allah tells His Prophet ﷺ:
وَإِذَا رَآكَ الَّذِينَ كَفَرُوا
(And when those who disbelieved see you,) meaning, the disbelievers of the Quraysh, such as Abu Jahl and his like.
إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا
(they take you not except for mockery) means, they make fun of you and insult you, saying,
أَهَٰذَا الَّذِي يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ
("Is this the one who talks about your gods?") meaning, is this the one who insults your gods and ridicules your intelligence? Allah says:
وَهُم بِذِكْرِ الرَّحْمَٰنِ هُمْ كَافِرُونَ
(While they disbelieve at the mention of the Most Gracious.) meaning, they disbelieve in Allah and yet they mock the Messenger of Allah ﷺ. As Allah says:
وَإِذَا رَأَوْكَ إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ رَسُولًا - إِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلَا أَنْ صَبَرْنَا عَلَيْهَا ۚ وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا
(And when they see you, they treat you only in mockery (saying): "Is this the one whom Allah has sent as a Messenger? He would have nearly misled us from our gods, had it not been that we were patient and constant in their worship!" And they will know, when they see the torment, who it is that is most astray from the path!)(25:41-42)
خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ
(Man is created of haste.) This is like the Ayah:
وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا
(and man is ever hasty)(17:11), in all matters. The reason why the haste of man is mentioned here is that when mention is made of those who mock the Messenger ﷺ, (the believers) will want to avenge them swiftly, and that so should happen sooner. Allah says,
خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ
(Man is created of haste.) because He delays (the punishment) until a time when, once He seizes him, He will never let him go. He delays it, then He hastens it; He waits, then He does not delay any longer. So He says:
سَأُرِيكُمْ آيَاتِي
(I will show you My Ayat) meaning, My vengeance, ruling and power over those who disobey Me.
فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ
(So ask Me not to hasten (them).)
Tafsir Ibn Kathir
جلدباز انسان ابوجہل وغیرہ کفار قریش آنحضرت ﷺ کو دیکھتے ہی ہنسی مذاق شروع کردیتے اور آپ کی شان میں بےادبی کرنے لگتے۔ کہنے لگتے کہ لو میاں دیکھ لو، یہی ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں۔ اللہ کے منکر، رسول اللہ کے منکر اور آیت میں ان کے اسی کفر کا بیان کرکے فرمایا گیا ہے آیت (اِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْلَآ اَنْ صَبَرْنَا عَلَيْهَا ۭ وَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ حِيْنَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِيْلًا 42) 25۔ الفرقان :42) یعنی وہ تو کہیے ہم جمے رہے ورنہ اس نے تو ہمیں ہمارے پرانے معبودوں سے برگشتہ کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ خیر انہیں عذاب کے معائنہ سے معلوم ہوجائے گا کہ گمراہ کون تھا ؟ انسان بڑا جلدباز ہے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کی پیدائش کے بعد حضرت آدم ؑ کو پیدا کرنا شروع کیا شام کے قریب جب ان میں روح پھونکی گئی سر آنکھ اور زبان میں جب روح آگئی تو کہنے لگے الٰہی مغرب سے پہلے ہی میری پیدائش مکمل ہوجائے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں تمام دنوں میں بہتر وافضل دن جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم ؑ پیدا کئے گئے اسی میں جنت میں داخل ہوئے اسی میں وہاں سے اتارے گئے اسی میں قیامت قائم ہوگی اسی دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت جو بندہ نماز میں ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو کچھ طلب کرے اللہ اسے عطا فرماتا ہے آپ نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کرکے بتلایا کہ وہ ساعت بہت تھوڑی سی ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ فرماتے ہیں مجھے معلوم ہے کہ وہ ساعت کون سی ہے وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے اسی وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ پہلی آیت میں کافروں کی بدبختی کا ذکر کرکے اس کے بعد ہی انسانی عجلت کا ذکر اس حکمت سے ہے کہ گویا کافروں کی سرکشی سنتے ہی مسلمان کا انتقامی جذبہ بھرک اٹھتا ہے اور وہ جلد بدلہ لینا چاہتا ہے اس لئے کہ انسانی جبلت میں جلدبازی ہے۔ لیکن عادت الٰہی یہ ہے کہ وہ ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھانے والا ہوں کہ عاصیوں پر کس طرح سختی ہوتی ہے۔ میرے نبی کو مذاق میں اڑنے والوں کی کس طرح کھال ادھڑتی ہے تم ابھی دیکھ لوگے۔ جلدی نہ مچاؤ دیر ہے اندھیر نہیں مہلت ہے بھول نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، ﴿وَإِذَا رَآكَ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ يَعْنِي: كُفَّارَ قُرَيْشٍ كَأَبِي جَهْلٍ وَأَشْبَاهِهِ ﴿إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلا هُزُوًا﴾ أَيْ: يَسْتَهْزِئُونَ بِكَ وَيَنْتَقِصُونَكَ، يَقُولُونَ: ﴿أَهَذَا الَّذِي يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ﴾ يَعْنُونُ: أَهَذَا الَّذِي يَسُبُّ آلِهَتَكُمْ وَيُسَفِّهُ أَحْلَامَكُمْ، قَالَ تَعَالَى: ﴿وَهُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمَنِ هُمْ كَافِرُونَ﴾ أَيْ: وَهُمْ كَافِرُونَ بِاللَّهِ، وَمَعَ هَذَا يَسْتَهْزِئُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ، كَمَا قَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿وَإِذَا رَأَوْكَ إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلا هُزُوًا أَهَذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ رَسُولا. إِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلا أَنْ صَبَرْنَا عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلا﴾ [الْفُرْقَانِ:٤١، ٤٢] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿خُلِقَ الإنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ﴾ ، كَمَا قَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿وَكَانَ [[في ف: "وخلق".]] الإنْسَانُ عَجُولا﴾ [الْإِسْرَاءِ:١١] أَيْ: فِي الْأُمُورِ.
قَالَ مُجَاهِدٌ: خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ بَعْدَ كَلِّ شَيْءٍ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ، مِنْ يَوْمِ خَلَقَ الْخَلَائِقَ فَلَمَّا أَحْيَا الرُّوحُ عَيْنَيْهِ وَلِسَانَهُ وَرَأْسَهُ، وَلَمْ يَبْلُغْ [[في ف: "تبلغ".]] أَسْفَلَهُ قَالَ: يَا رَبِّ، اسْتَعْجِلْ بِخَلْقِي قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَان، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "خَيْرُ يَوْمٍ طلعت فيه الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُهْبِطَ مِنْهَا، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا مُؤْمِنٌ يُصَلِّي -وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ قَلَّلَها [[في أ: "يقللها"]] -فَسَأَلَ اللَّهَ خَيْرًا، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ". قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: قَدْ عَرَفْتُ تِلْكَ السَّاعَةَ، وَهِيَ آخِرُ سَاعَاتِ النَّهَارِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَهِيَ الَّتِي خَلَقَ اللَّهُ فِيهَا آدَمَ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿خُلِقَ الإنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ سَأُرِيكُمْ آيَاتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ﴾ [[أخرج مالك في الموطأ (١/١٠٨) من طريق يزيد بن الهاد عن محمد بن إبراهيم عن أبي سلمة عن أبي هريرة نحوه دون ذكر الآية وأخرج الشيخان أوله والله أعلم.]] .
وَالْحِكْمَةُ فِي ذِكْرِ عِجَلَةِ الْإِنْسَانِ هَاهُنَا أَنَّهُ لَمَّا ذَكَرَ الْمُسْتَهْزِئِينَ بِالرَّسُولِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ [وَسَلَامُهُ] [[زيادة من ف، أ.]] عَلَيْهِ، وَقَعَ فِي النُّفُوسِ سُرْعَةُ الِانْتِقَامِ مِنْهُمْ وَاسْتَعْجَلَتْ [[في ف، أ: "واستعجلت ذلك".]] ، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿خُلِقَ الإنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ﴾ ؛ لِأَنَّهُ تَعَالَى يُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ، يُؤَجِّلُ ثُمَّ يُعَجِّلُ، وَيُنْظِرُ ثُمَّ لَا يُؤَخِّرُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿سَأُوْرِيكُمْ آيَاتِي﴾ أَيْ: نَقْمِي وَحُكْمِي وَاقْتِدَارِي عَلَى مَنْ عَصَانِي، ﴿فَلا تَسْتَعْجِلُونِ﴾ .
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ
And they say, "When is this promise, if you should be truthful?"
اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعید (ہے وہ) کب (آئے گا)؟
آنها میگویند: «اگر راست میگویید، این وعده (قیامت) کی فرا میرسد؟!»
Tafsir Ibn Kathir
And they say: "When will this promise (come to pass), if you are truthful. (38)If only those who disbelieved knew (the time) when they will not be able to ward off the Fire from their faces, nor from their backs, and they will not be helped (39)Nay, it will come upon them all of a sudden and will perplex them, and they will have no power to avert it nor will they get respite (40)
The Idolators seek to hasten on the Punishment
Allah also tells us how the idolators seek to hasten punishment upon themselves, out of denial, rejection, disbelief, stubbornness and a belief that it will never happen. He says:
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
(And they say: "When will this promise (come to pass), if you are truthful".) And Allah says:
لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمْ
(If only those who disbelieved knew (the time) when they will not be able to ward off the Fire from their faces, nor from their backs,) meaning, if only they knew for certain that it will inevitably come to pass, they would not seek to hasten it. If only they knew how the torment will overwhelm them from above them and from beneath their feet.
لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ
(They shall have coverings of Fire, above them and coverings (of Fire) beneath them)[39:16]
لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ
(Theirs will be a bed of Hell (Fire), and over them coverings (of Hellfire))(7:41). And in this Ayah Allah says:
حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمْ
(when they will not be able to ward off the Fire from their faces, nor from their backs,) And Allah says:
سَرَابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ النَّارُ
(Their garments will be of tar, and fire will cover their faces)(14:50). The torment will surround them on all sides,
وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ
(and they will not be helped.) means, and they will have no helper. This is like the Ayah:
وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّهِ مِن وَاقٍ
(And they have no guardian against Allah)(13:34).
بَلْ تَأْتِيهِم بَغْتَةً
(Nay, it will come upon them all of a sudden) means, the Fire will come upon them suddenly, i.e., it will take them by surprise.
فَتَبْهَتُهُمْ
(and will perplex them,) means, it will scare them, and they will succumb to it in confusion, not knowing what they are doing.
فَلَا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا
(and they will have no power to avert it) means, they will have no means of doing so.
وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ
(nor will they get respite.) means, it will not be delayed for them even for an instant.
Tafsir Ibn Kathir
خود عذاب کے طالب لوگ عذاب الٰہی کو، قیامت کے آنے کو یہ لوگ چونکہ محال جانتے تھے اس لئے جرات سے کہتے تھے کہ بتاؤ تو سہی تمہارے یہ ڈراوے کب پورے ہوں گے ؟ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ تم اگر سمجھ دار ہوتے اور اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ ہوتے تو جلدی نہ مچاتے اس وقت عذاب الٰہی اوپر تلے سے اوڑھنا بچھونا بنے ہوئے ہونگے، طاقت نہ ہوگی کہ آگے پیچھے سے اللہ کا عذاب ہٹاسکو۔ گندھک کا لباس ہوگا جس میں آگ لگی ہوئی ہوگی اور کھڑے جل رہے ہوں گے، ہر طرف سے جہنم گھیرے ہوئے ہوگی۔ کوئی نہ ہوگا جو مدد کو اٹھے جہنم اچانک دبوچ لے گی اس وقت حیران وششدر رہ جاؤ گے مبہوت اور بیہوش ہوجاؤ گے، کوئی حیلہ نہ ملے گا کہ اسے دفعہ کرو، اس سے بچ جاؤ اور نہ ایک ساعت کی ڈھیل اور مہلت ملے گی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنِ الْمُشْرِكِينَ أَنَّهُمْ يَسْتَعْجِلُونَ أَيْضًا بِوُقُوعِ الْعَذَابِ بِهِمْ، تَكْذِيبًا وَجُحُودًا وَكُفْرًا وَعِنَادًا وَاسْتِبْعَادًا، فَقَالَ: ﴿وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾
قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَنْ وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلا عَنْ ظُهُورِهِمْ﴾ أَيْ: لَوْ تَيَقَّنُوا أَنَّهَا وَاقِعَةٌ بِهِمْ لَا مَحَالَةَ لَمَا اسْتَعْجَلُوا، بِهِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ حِينَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ، ﴿لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ﴾ [الزُّمَرِ:١٦] ، ﴿لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ﴾ [الْأَعْرَافِ:٤١] ، وَقَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَنْ وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلا عَنْ ظُهُورِهِمْ﴾ وَقَالَ: ﴿سَرَابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرَانٍ وَتَغْشَى وُجُوهَهُمُ النَّارُ﴾ [إِبْرَاهِيمَ:٥٠] ، فَالْعَذَابُ مُحِيطٌ بِهِمْ مِنْ جَمِيعِ جِهَاتِهِمْ، ﴿وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ﴾ أَيْ: لَا نَاصِرَ لَهُمْ كَمَا قَالَ: ﴿وَمَا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَاقٍ﴾ [الرَّعْدِ:٣٤] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿بَلْ تَأْتِيهِمْ بَغْتَةً﴾ [[في ف: "بغته فتبهتهم"]] أَيْ: "تَأْتِيهِمُ النَّارُ بَغْتَةً"، أَيْ: فَجْأَةً ﴿فَتَبْهَتُهُمْ﴾ أَيْ: تَذْعَرُهُمْ [[في ف، أ: "تدعوهم".]] فَيَسْتَسْلِمُونَ لَهَا حَائِرِينَ، لَا [[في ف: "حائرون ولا".]] يَدْرُونَ مَا يَصْنَعُونَ، ﴿فَلا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا﴾ أَيْ: لَيْسَ لَهُمْ حِيلَةٌ فِي ذَلِكَ، ﴿وَلا هُمْ يُنْظَرُونَ﴾ أَيْ: وَلَا يُؤَخَّرُ عَنْهُمْ ذَلِكَ ساعة واحدة.
لَوْ يَعْلَمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ ٱلنَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمْ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ
If those who disbelieved but knew the time when they will not avert the Fire from their faces or from their backs and they will not be aided...
اے کاش کافر اس وقت کو جانیں جب وہ اپنے مونہوں پر سے (دوزخ کی) آگ کو روک نہ سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں پر سے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا
ولی اگر کافران میدانستند زمانی که (فرا میرسد) نمیتوانند شعلههای آتش را از صورت و از پشتهای خود دور کنند، و هیچ کس آنان را یاری نمیکند (این قدر درباره قیامت شتاب نمیکردند)!
Tafsir Ibn Kathir
And they say: "When will this promise (come to pass), if you are truthful. (38)If only those who disbelieved knew (the time) when they will not be able to ward off the Fire from their faces, nor from their backs, and they will not be helped (39)Nay, it will come upon them all of a sudden and will perplex them, and they will have no power to avert it nor will they get respite (40)
The Idolators seek to hasten on the Punishment
Allah also tells us how the idolators seek to hasten punishment upon themselves, out of denial, rejection, disbelief, stubbornness and a belief that it will never happen. He says:
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
(And they say: "When will this promise (come to pass), if you are truthful".) And Allah says:
لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمْ
(If only those who disbelieved knew (the time) when they will not be able to ward off the Fire from their faces, nor from their backs,) meaning, if only they knew for certain that it will inevitably come to pass, they would not seek to hasten it. If only they knew how the torment will overwhelm them from above them and from beneath their feet.
لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ
(They shall have coverings of Fire, above them and coverings (of Fire) beneath them)[39:16]
لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ
(Theirs will be a bed of Hell (Fire), and over them coverings (of Hellfire))(7:41). And in this Ayah Allah says:
حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمْ
(when they will not be able to ward off the Fire from their faces, nor from their backs,) And Allah says:
سَرَابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ النَّارُ
(Their garments will be of tar, and fire will cover their faces)(14:50). The torment will surround them on all sides,
وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ
(and they will not be helped.) means, and they will have no helper. This is like the Ayah:
وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّهِ مِن وَاقٍ
(And they have no guardian against Allah)(13:34).
بَلْ تَأْتِيهِم بَغْتَةً
(Nay, it will come upon them all of a sudden) means, the Fire will come upon them suddenly, i.e., it will take them by surprise.
فَتَبْهَتُهُمْ
(and will perplex them,) means, it will scare them, and they will succumb to it in confusion, not knowing what they are doing.
فَلَا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا
(and they will have no power to avert it) means, they will have no means of doing so.
وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ
(nor will they get respite.) means, it will not be delayed for them even for an instant.
Tafsir Ibn Kathir
خود عذاب کے طالب لوگ عذاب الٰہی کو، قیامت کے آنے کو یہ لوگ چونکہ محال جانتے تھے اس لئے جرات سے کہتے تھے کہ بتاؤ تو سہی تمہارے یہ ڈراوے کب پورے ہوں گے ؟ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ تم اگر سمجھ دار ہوتے اور اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ ہوتے تو جلدی نہ مچاتے اس وقت عذاب الٰہی اوپر تلے سے اوڑھنا بچھونا بنے ہوئے ہونگے، طاقت نہ ہوگی کہ آگے پیچھے سے اللہ کا عذاب ہٹاسکو۔ گندھک کا لباس ہوگا جس میں آگ لگی ہوئی ہوگی اور کھڑے جل رہے ہوں گے، ہر طرف سے جہنم گھیرے ہوئے ہوگی۔ کوئی نہ ہوگا جو مدد کو اٹھے جہنم اچانک دبوچ لے گی اس وقت حیران وششدر رہ جاؤ گے مبہوت اور بیہوش ہوجاؤ گے، کوئی حیلہ نہ ملے گا کہ اسے دفعہ کرو، اس سے بچ جاؤ اور نہ ایک ساعت کی ڈھیل اور مہلت ملے گی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنِ الْمُشْرِكِينَ أَنَّهُمْ يَسْتَعْجِلُونَ أَيْضًا بِوُقُوعِ الْعَذَابِ بِهِمْ، تَكْذِيبًا وَجُحُودًا وَكُفْرًا وَعِنَادًا وَاسْتِبْعَادًا، فَقَالَ: ﴿وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾
قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَنْ وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلا عَنْ ظُهُورِهِمْ﴾ أَيْ: لَوْ تَيَقَّنُوا أَنَّهَا وَاقِعَةٌ بِهِمْ لَا مَحَالَةَ لَمَا اسْتَعْجَلُوا، بِهِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ حِينَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ، ﴿لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ﴾ [الزُّمَرِ:١٦] ، ﴿لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ﴾ [الْأَعْرَافِ:٤١] ، وَقَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَنْ وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلا عَنْ ظُهُورِهِمْ﴾ وَقَالَ: ﴿سَرَابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرَانٍ وَتَغْشَى وُجُوهَهُمُ النَّارُ﴾ [إِبْرَاهِيمَ:٥٠] ، فَالْعَذَابُ مُحِيطٌ بِهِمْ مِنْ جَمِيعِ جِهَاتِهِمْ، ﴿وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ﴾ أَيْ: لَا نَاصِرَ لَهُمْ كَمَا قَالَ: ﴿وَمَا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَاقٍ﴾ [الرَّعْدِ:٣٤] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿بَلْ تَأْتِيهِمْ بَغْتَةً﴾ [[في ف: "بغته فتبهتهم"]] أَيْ: "تَأْتِيهِمُ النَّارُ بَغْتَةً"، أَيْ: فَجْأَةً ﴿فَتَبْهَتُهُمْ﴾ أَيْ: تَذْعَرُهُمْ [[في ف، أ: "تدعوهم".]] فَيَسْتَسْلِمُونَ لَهَا حَائِرِينَ، لَا [[في ف: "حائرون ولا".]] يَدْرُونَ مَا يَصْنَعُونَ، ﴿فَلا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا﴾ أَيْ: لَيْسَ لَهُمْ حِيلَةٌ فِي ذَلِكَ، ﴿وَلا هُمْ يُنْظَرُونَ﴾ أَيْ: وَلَا يُؤَخَّرُ عَنْهُمْ ذَلِكَ ساعة واحدة.
بَلْ تَأْتِيهِم بَغْتَةًۭ فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ
Rather, it will come to them unexpectedly and bewilder them, and they will not be able to repel it, nor will they be reprieved.
بلکہ قیامت ان پر ناگہاں آ واقع ہوگی۔ اور ان کے ہوش کھو دے گی۔ پھر نہ تو وہ اس کو ہٹا سکیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی
(آری، این مجازات الهی) بطور ناگهانی به سراغشان میآید و مبهوتشان میکند؛ آنچنان که توانایی دفع آن را ندارند، و به آنها مهلت داده نمیشود!
Tafsir Ibn Kathir
And they say: "When will this promise (come to pass), if you are truthful. (38)If only those who disbelieved knew (the time) when they will not be able to ward off the Fire from their faces, nor from their backs, and they will not be helped (39)Nay, it will come upon them all of a sudden and will perplex them, and they will have no power to avert it nor will they get respite (40)
The Idolators seek to hasten on the Punishment
Allah also tells us how the idolators seek to hasten punishment upon themselves, out of denial, rejection, disbelief, stubbornness and a belief that it will never happen. He says:
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
(And they say: "When will this promise (come to pass), if you are truthful".) And Allah says:
لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمْ
(If only those who disbelieved knew (the time) when they will not be able to ward off the Fire from their faces, nor from their backs,) meaning, if only they knew for certain that it will inevitably come to pass, they would not seek to hasten it. If only they knew how the torment will overwhelm them from above them and from beneath their feet.
لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ
(They shall have coverings of Fire, above them and coverings (of Fire) beneath them)[39:16]
لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ
(Theirs will be a bed of Hell (Fire), and over them coverings (of Hellfire))(7:41). And in this Ayah Allah says:
حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمْ
(when they will not be able to ward off the Fire from their faces, nor from their backs,) And Allah says:
سَرَابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ النَّارُ
(Their garments will be of tar, and fire will cover their faces)(14:50). The torment will surround them on all sides,
وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ
(and they will not be helped.) means, and they will have no helper. This is like the Ayah:
وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّهِ مِن وَاقٍ
(And they have no guardian against Allah)(13:34).
بَلْ تَأْتِيهِم بَغْتَةً
(Nay, it will come upon them all of a sudden) means, the Fire will come upon them suddenly, i.e., it will take them by surprise.
فَتَبْهَتُهُمْ
(and will perplex them,) means, it will scare them, and they will succumb to it in confusion, not knowing what they are doing.
فَلَا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا
(and they will have no power to avert it) means, they will have no means of doing so.
وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ
(nor will they get respite.) means, it will not be delayed for them even for an instant.
Tafsir Ibn Kathir
خود عذاب کے طالب لوگ عذاب الٰہی کو، قیامت کے آنے کو یہ لوگ چونکہ محال جانتے تھے اس لئے جرات سے کہتے تھے کہ بتاؤ تو سہی تمہارے یہ ڈراوے کب پورے ہوں گے ؟ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ تم اگر سمجھ دار ہوتے اور اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ ہوتے تو جلدی نہ مچاتے اس وقت عذاب الٰہی اوپر تلے سے اوڑھنا بچھونا بنے ہوئے ہونگے، طاقت نہ ہوگی کہ آگے پیچھے سے اللہ کا عذاب ہٹاسکو۔ گندھک کا لباس ہوگا جس میں آگ لگی ہوئی ہوگی اور کھڑے جل رہے ہوں گے، ہر طرف سے جہنم گھیرے ہوئے ہوگی۔ کوئی نہ ہوگا جو مدد کو اٹھے جہنم اچانک دبوچ لے گی اس وقت حیران وششدر رہ جاؤ گے مبہوت اور بیہوش ہوجاؤ گے، کوئی حیلہ نہ ملے گا کہ اسے دفعہ کرو، اس سے بچ جاؤ اور نہ ایک ساعت کی ڈھیل اور مہلت ملے گی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنِ الْمُشْرِكِينَ أَنَّهُمْ يَسْتَعْجِلُونَ أَيْضًا بِوُقُوعِ الْعَذَابِ بِهِمْ، تَكْذِيبًا وَجُحُودًا وَكُفْرًا وَعِنَادًا وَاسْتِبْعَادًا، فَقَالَ: ﴿وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾
قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَنْ وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلا عَنْ ظُهُورِهِمْ﴾ أَيْ: لَوْ تَيَقَّنُوا أَنَّهَا وَاقِعَةٌ بِهِمْ لَا مَحَالَةَ لَمَا اسْتَعْجَلُوا، بِهِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ حِينَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ، ﴿لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ﴾ [الزُّمَرِ:١٦] ، ﴿لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ﴾ [الْأَعْرَافِ:٤١] ، وَقَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَنْ وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلا عَنْ ظُهُورِهِمْ﴾ وَقَالَ: ﴿سَرَابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرَانٍ وَتَغْشَى وُجُوهَهُمُ النَّارُ﴾ [إِبْرَاهِيمَ:٥٠] ، فَالْعَذَابُ مُحِيطٌ بِهِمْ مِنْ جَمِيعِ جِهَاتِهِمْ، ﴿وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ﴾ أَيْ: لَا نَاصِرَ لَهُمْ كَمَا قَالَ: ﴿وَمَا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَاقٍ﴾ [الرَّعْدِ:٣٤] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿بَلْ تَأْتِيهِمْ بَغْتَةً﴾ [[في ف: "بغته فتبهتهم"]] أَيْ: "تَأْتِيهِمُ النَّارُ بَغْتَةً"، أَيْ: فَجْأَةً ﴿فَتَبْهَتُهُمْ﴾ أَيْ: تَذْعَرُهُمْ [[في ف، أ: "تدعوهم".]] فَيَسْتَسْلِمُونَ لَهَا حَائِرِينَ، لَا [[في ف: "حائرون ولا".]] يَدْرُونَ مَا يَصْنَعُونَ، ﴿فَلا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا﴾ أَيْ: لَيْسَ لَهُمْ حِيلَةٌ فِي ذَلِكَ، ﴿وَلا هُمْ يُنْظَرُونَ﴾ أَيْ: وَلَا يُؤَخَّرُ عَنْهُمْ ذَلِكَ ساعة واحدة.
وَلَقَدِ ٱسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍۢ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِٱلَّذِينَ سَخِرُوا۟ مِنْهُم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ
And already were messengers ridiculed before you, but those who mocked them were enveloped by what they used to ridicule.
اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ استہزاء ہوتا رہا ہے تو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو اسی (عذاب) نے جس کی ہنسی اُڑاتے تھے آگھیرا
(اگر تو را استهزا کنند نگران نباش،) پیامبران پیش از تو را (نیز) استهزا کردند؛ امّا سرانجام، آنچه را استهزا میکردند دامان مسخرهکنندگان را گرفت (و مجازات الهی آنها را در هم کوبید)!
Tafsir Ibn Kathir
Indeed (many) Messengers were mocked before you, but the scoffers were surrounded by what they used to mock (41)Say: "Who can guard and protect you in the night or in the day from the Most Gracious?" Nay, but they turn away from the remembrance of their Lord (42)Or have they gods who can guard them from Us? They have no power to help themselves, nor can they be protected from Us (43)
The Lessons to be learned from Those Who mocked the Messengers in the Past
Allah says consoling His Messenger ﷺ for the pain and insult caused by the mockery and disbelief of the idolators,
وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
(Indeed (many) Messengers were mocked before you, but the scoffers were surrounded by what they used to mock.) meaning, the punishment which they thought would never come to pass. This is like the Ayah:
وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَىٰ مَا كُذِّبُوا وَأُوذُوا حَتَّىٰ أَتَاهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ۚ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِن نَّبَإِ الْمُرْسَلِينَ
(Verily, Messengers were denied before you, but with patience they bore the denial, and they were hurt; till Our help reached them, and none can alter the Words of Allah. Surely, there has reached you the information (news) about the Messengers (before you))(6:34).
Then Allah menitons His favor for His creatures; He protects them by night and by day, taking care of them and watching over them with His Eye that never sleeps.
قُلْ مَن يَكْلَؤُكُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمَٰنِ
(Say: "Who can guard and protect you in the night or in the day from the Most Gracious?") means, other than the Most Gracious Himself?
بَلْ هُمْ عَن ذِكْرِ رَبِّهِم مُّعْرِضُونَ
(Nay, but they turn away from the remembrance of their Lord.) means, they do not recognize the blessings and favor of Allah towards them; they turn away from His signs and blessings.
أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُم مِّن دُونِنَا
(Or have they gods who can guard them from Us?) This is a rhetorical question aimed at denouncing and rebuking. The meaning is, do they have any gods who can protect them and take care of them other than Us? It is not as they imagine or as they claim. Allah says:
لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنفُسِهِمْ
(They have no power to help themselves,) these gods on whom they rely instead of Allah cannot even help themselves.
وَلَا هُم مِّنَّا يُصْحَبُونَ
(nor can they be protected from Us.) Al-'Awfi reported from Ibn 'Abbas,"Nor can they be guarded from Us."
Tafsir Ibn Kathir
انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تمہیں جو ستایا جارہا ہے، مذاق میں اڑایا جاتا ہے اور جھوٹا کہا جاتا ہے اس پر پریشان نہ ہونا، کافروں کی یہ پرانی عادت ہے۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی انہوں یہی کیا جس کی وجہ سے آخرش عذابوں میں پھنس گئے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ 34) 6۔ الانعام :34) ، تجھ سے پہلے کے انبیاء بھی جھٹلائے گئے اور انہوں نے اپنے جھٹلائے جانے پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ اللہ کی باتوں کا بدلنے والا کوئی نہیں تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آچکی ہیں۔ پھر اپنی نعمت بیان فرماتا ہے کہ وہ تم سب کی حفاظت دن رات اپنی ان آنکھوں سے کررہا ہے جو نہ کبھی تھکیں نہ سوئیں۔ من الرحمان کا معنی رحمان کے بدلے یعنی رحمان کے سوا ہیں عربی شعروں میں بھی من بدل کے معنی میں ہے۔ اسی ایک احسان پر کیا موقوف ہے یہ کفار تو اللہ کے ہر ایک احسان کی ناشکری کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کے منکر اور ان سے منہ پھیرنے والے ہیں ؟ یعنی وہ ایسا نہیں کرسکتے ان کا گمان یہ محض غلط ہے، بلکہ ان کے معبودان باطل خود اپنی حفاظت کے بھی مالک نہیں۔ بلکہ وہ ہم سے بچ بھی نہیں سکتے۔ ہماری جانب سے کوئی خبر ان کے ہاتھوں میں نہیں۔ ایک معنی اس جملے کے یہ بھی ہیں کہ نہ تو وہ کسی کو بچا سکیں نہ خود بچ سکیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُسَلِّيًا لِرَسُولِهِ [صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ] [[زيادة من ف، أ.]] عَمَّا آذَاهُ بِهِ الْمُشْرِكُونَ مِنَ الِاسْتِهْزَاءِ وَالتَّكْذِيبِ: ﴿وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ﴾ يَعْنِي: مِنَ الْعَذَابِ الَّذِي كَانُوا يَسْتَبْعِدُونَ وُقُوعَهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَى مَا كُذِّبُوا وَأُوذُوا حَتَّى أَتَاهُمْ نَصْرُنَا وَلا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَبَإِ الْمُرْسَلِينَ﴾ [الْأَنْعَامِ:٣٤] .
ثُمَّ ذَكَرَ تَعَالَى نِعْمَتَهُ عَلَى عَبِيدِهِ فِي حِفْظِهِ لَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَكِلَاءَتِهِ وَحِرَاسَتِهِ لَهُمْ بِعَيْنِهِ الَّتِي لَا تَنَامُ، فَقَالَ: ﴿قُلْ مَنْ يَكْلَؤُكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمَنِ﴾ ؟ أَيْ: بَدَلَ الرَّحْمَنِ بِمَعْنَى غَيْرِهِ كَمَا قَالَ الشَّاعِرُ [[هو أبو نخيلة يعمر بن حزن، والبيت في اللسان مادة (فسق) وصدره: دسته لم تأكل المرققا
وقد حمل صاحب اللسان قوله بأنه ظن الفستق من البقول.]]
جَارية لَمْ تَلْبَس المُرقَّقا ... وَلَم تَذق منَ البُقول الفُسْتُقا ...
أَيْ: لَمْ تَذُقْ بَدَلَ الْبُقُولِ الْفُسْتُقَ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُعْرِضُونَ﴾ أَيْ: لَا يَعْتَرِفُونَ [[في ف، أ: "لا يعرفون".]] بِنِعَمِهِ عَلَيْهِمْ وَإِحْسَانِهِ إِلَيْهِمْ، بَلْ يُعْرِضُونَ عَنِ آيَاتِهِ وَآلَائِهِ، ثُمَّ قَالَ ﴿أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا﴾ اسْتِفْهَامُ إِنْكَارٍ وَتَقْرِيعٍ وَتَوْبِيخٍ، أَيْ: أَلَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ وَتَكْلَؤُهُمْ غَيْرُنَا؟ لَيْسَ الْأَمْرُ كَمَا تَوَهَّمُوا وَلَا كَمَا [[في ف، أ: "ولا قد كما".]] زَعَمُوا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ﴾ أَيْ: هَذِهِ [الْآلِهَةُ] [[زيادة من ف، أ.]] الَّتِي اسْتَنَدُوا إِلَيْهَا غَيْرَ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلا هُمْ مِنَّا يُصْحَبُونَ﴾ قَالَ الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَلا هُمْ مِنَّا يُصْحَبُونَ﴾ أَيْ: يُجَارُونَ [[في ف، أ: "يجازون".]] وَقَالَ قَتَادَةُ لَا يُصْحَبُونَ [مِنَ اللَّهِ] [[زيادة من ف.]] بِخَيْرٍ وَقَالَ غَيْرُهُ: ﴿وَلا هُمْ مِنَّا يُصْحَبُونَ﴾ يمنعون.
قُلْ مَن يَكْلَؤُكُم بِٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ مِنَ ٱلرَّحْمَٰنِ ۗ بَلْ هُمْ عَن ذِكْرِ رَبِّهِم مُّعْرِضُونَ
Say, "Who can protect you at night or by day from the Most Merciful?" But they are, from the remembrance of their Lord, turning away.
کہو کہ رات اور دن میں خدا سے تمہاری کون حفاظت کرسکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرے ہوئے ہیں
بگو: «چه کسی شما را در شب و روز از (مجازات) خداوند بخشنده نگاه میدارد؟!» ولی آنان از یاد پروردگارشان رویگردانند!
Tafsir Ibn Kathir
Indeed (many) Messengers were mocked before you, but the scoffers were surrounded by what they used to mock (41)Say: "Who can guard and protect you in the night or in the day from the Most Gracious?" Nay, but they turn away from the remembrance of their Lord (42)Or have they gods who can guard them from Us? They have no power to help themselves, nor can they be protected from Us (43)
The Lessons to be learned from Those Who mocked the Messengers in the Past
Allah says consoling His Messenger ﷺ for the pain and insult caused by the mockery and disbelief of the idolators,
وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
(Indeed (many) Messengers were mocked before you, but the scoffers were surrounded by what they used to mock.) meaning, the punishment which they thought would never come to pass. This is like the Ayah:
وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَىٰ مَا كُذِّبُوا وَأُوذُوا حَتَّىٰ أَتَاهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ۚ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِن نَّبَإِ الْمُرْسَلِينَ
(Verily, Messengers were denied before you, but with patience they bore the denial, and they were hurt; till Our help reached them, and none can alter the Words of Allah. Surely, there has reached you the information (news) about the Messengers (before you))(6:34).
Then Allah menitons His favor for His creatures; He protects them by night and by day, taking care of them and watching over them with His Eye that never sleeps.
قُلْ مَن يَكْلَؤُكُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمَٰنِ
(Say: "Who can guard and protect you in the night or in the day from the Most Gracious?") means, other than the Most Gracious Himself?
بَلْ هُمْ عَن ذِكْرِ رَبِّهِم مُّعْرِضُونَ
(Nay, but they turn away from the remembrance of their Lord.) means, they do not recognize the blessings and favor of Allah towards them; they turn away from His signs and blessings.
أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُم مِّن دُونِنَا
(Or have they gods who can guard them from Us?) This is a rhetorical question aimed at denouncing and rebuking. The meaning is, do they have any gods who can protect them and take care of them other than Us? It is not as they imagine or as they claim. Allah says:
لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنفُسِهِمْ
(They have no power to help themselves,) these gods on whom they rely instead of Allah cannot even help themselves.
وَلَا هُم مِّنَّا يُصْحَبُونَ
(nor can they be protected from Us.) Al-'Awfi reported from Ibn 'Abbas,"Nor can they be guarded from Us."
Tafsir Ibn Kathir
انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تمہیں جو ستایا جارہا ہے، مذاق میں اڑایا جاتا ہے اور جھوٹا کہا جاتا ہے اس پر پریشان نہ ہونا، کافروں کی یہ پرانی عادت ہے۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی انہوں یہی کیا جس کی وجہ سے آخرش عذابوں میں پھنس گئے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ 34) 6۔ الانعام :34) ، تجھ سے پہلے کے انبیاء بھی جھٹلائے گئے اور انہوں نے اپنے جھٹلائے جانے پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ اللہ کی باتوں کا بدلنے والا کوئی نہیں تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آچکی ہیں۔ پھر اپنی نعمت بیان فرماتا ہے کہ وہ تم سب کی حفاظت دن رات اپنی ان آنکھوں سے کررہا ہے جو نہ کبھی تھکیں نہ سوئیں۔ من الرحمان کا معنی رحمان کے بدلے یعنی رحمان کے سوا ہیں عربی شعروں میں بھی من بدل کے معنی میں ہے۔ اسی ایک احسان پر کیا موقوف ہے یہ کفار تو اللہ کے ہر ایک احسان کی ناشکری کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کے منکر اور ان سے منہ پھیرنے والے ہیں ؟ یعنی وہ ایسا نہیں کرسکتے ان کا گمان یہ محض غلط ہے، بلکہ ان کے معبودان باطل خود اپنی حفاظت کے بھی مالک نہیں۔ بلکہ وہ ہم سے بچ بھی نہیں سکتے۔ ہماری جانب سے کوئی خبر ان کے ہاتھوں میں نہیں۔ ایک معنی اس جملے کے یہ بھی ہیں کہ نہ تو وہ کسی کو بچا سکیں نہ خود بچ سکیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُسَلِّيًا لِرَسُولِهِ [صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ] [[زيادة من ف، أ.]] عَمَّا آذَاهُ بِهِ الْمُشْرِكُونَ مِنَ الِاسْتِهْزَاءِ وَالتَّكْذِيبِ: ﴿وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ﴾ يَعْنِي: مِنَ الْعَذَابِ الَّذِي كَانُوا يَسْتَبْعِدُونَ وُقُوعَهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَى مَا كُذِّبُوا وَأُوذُوا حَتَّى أَتَاهُمْ نَصْرُنَا وَلا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَبَإِ الْمُرْسَلِينَ﴾ [الْأَنْعَامِ:٣٤] .
ثُمَّ ذَكَرَ تَعَالَى نِعْمَتَهُ عَلَى عَبِيدِهِ فِي حِفْظِهِ لَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَكِلَاءَتِهِ وَحِرَاسَتِهِ لَهُمْ بِعَيْنِهِ الَّتِي لَا تَنَامُ، فَقَالَ: ﴿قُلْ مَنْ يَكْلَؤُكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمَنِ﴾ ؟ أَيْ: بَدَلَ الرَّحْمَنِ بِمَعْنَى غَيْرِهِ كَمَا قَالَ الشَّاعِرُ [[هو أبو نخيلة يعمر بن حزن، والبيت في اللسان مادة (فسق) وصدره: دسته لم تأكل المرققا
وقد حمل صاحب اللسان قوله بأنه ظن الفستق من البقول.]]
جَارية لَمْ تَلْبَس المُرقَّقا ... وَلَم تَذق منَ البُقول الفُسْتُقا ...
أَيْ: لَمْ تَذُقْ بَدَلَ الْبُقُولِ الْفُسْتُقَ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُعْرِضُونَ﴾ أَيْ: لَا يَعْتَرِفُونَ [[في ف، أ: "لا يعرفون".]] بِنِعَمِهِ عَلَيْهِمْ وَإِحْسَانِهِ إِلَيْهِمْ، بَلْ يُعْرِضُونَ عَنِ آيَاتِهِ وَآلَائِهِ، ثُمَّ قَالَ ﴿أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا﴾ اسْتِفْهَامُ إِنْكَارٍ وَتَقْرِيعٍ وَتَوْبِيخٍ، أَيْ: أَلَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ وَتَكْلَؤُهُمْ غَيْرُنَا؟ لَيْسَ الْأَمْرُ كَمَا تَوَهَّمُوا وَلَا كَمَا [[في ف، أ: "ولا قد كما".]] زَعَمُوا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ﴾ أَيْ: هَذِهِ [الْآلِهَةُ] [[زيادة من ف، أ.]] الَّتِي اسْتَنَدُوا إِلَيْهَا غَيْرَ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلا هُمْ مِنَّا يُصْحَبُونَ﴾ قَالَ الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَلا هُمْ مِنَّا يُصْحَبُونَ﴾ أَيْ: يُجَارُونَ [[في ف، أ: "يجازون".]] وَقَالَ قَتَادَةُ لَا يُصْحَبُونَ [مِنَ اللَّهِ] [[زيادة من ف.]] بِخَيْرٍ وَقَالَ غَيْرُهُ: ﴿وَلا هُمْ مِنَّا يُصْحَبُونَ﴾ يمنعون.
أَمْ لَهُمْ ءَالِهَةٌۭ تَمْنَعُهُم مِّن دُونِنَا ۚ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنفُسِهِمْ وَلَا هُم مِّنَّا يُصْحَبُونَ
Or do they have gods to defend them other than Us? They are unable [even] to help themselves, nor can they be protected from Us.
کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو (مصائب سے) بچاسکیں۔ وہ آپ اپنی مدد تو کر ہی نہیں سکتے اور نہ ہم سے پناہ ہی دیئے جائیں گے
آیا آنها خدایانی دارند که میتوانند در برابر ما از آنان دفاع کنند؟! (این خدایان ساختگی، حتّی) نمیتوانند خودشان را یاری دهند (تا چه رسد به دیگران)؛ و نه از ناحیه ما با نیرویی یاری میشوند!
Tafsir Ibn Kathir
Indeed (many) Messengers were mocked before you, but the scoffers were surrounded by what they used to mock (41)Say: "Who can guard and protect you in the night or in the day from the Most Gracious?" Nay, but they turn away from the remembrance of their Lord (42)Or have they gods who can guard them from Us? They have no power to help themselves, nor can they be protected from Us (43)
The Lessons to be learned from Those Who mocked the Messengers in the Past
Allah says consoling His Messenger ﷺ for the pain and insult caused by the mockery and disbelief of the idolators,
وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
(Indeed (many) Messengers were mocked before you, but the scoffers were surrounded by what they used to mock.) meaning, the punishment which they thought would never come to pass. This is like the Ayah:
وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَىٰ مَا كُذِّبُوا وَأُوذُوا حَتَّىٰ أَتَاهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ۚ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِن نَّبَإِ الْمُرْسَلِينَ
(Verily, Messengers were denied before you, but with patience they bore the denial, and they were hurt; till Our help reached them, and none can alter the Words of Allah. Surely, there has reached you the information (news) about the Messengers (before you))(6:34).
Then Allah menitons His favor for His creatures; He protects them by night and by day, taking care of them and watching over them with His Eye that never sleeps.
قُلْ مَن يَكْلَؤُكُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمَٰنِ
(Say: "Who can guard and protect you in the night or in the day from the Most Gracious?") means, other than the Most Gracious Himself?
بَلْ هُمْ عَن ذِكْرِ رَبِّهِم مُّعْرِضُونَ
(Nay, but they turn away from the remembrance of their Lord.) means, they do not recognize the blessings and favor of Allah towards them; they turn away from His signs and blessings.
أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُم مِّن دُونِنَا
(Or have they gods who can guard them from Us?) This is a rhetorical question aimed at denouncing and rebuking. The meaning is, do they have any gods who can protect them and take care of them other than Us? It is not as they imagine or as they claim. Allah says:
لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنفُسِهِمْ
(They have no power to help themselves,) these gods on whom they rely instead of Allah cannot even help themselves.
وَلَا هُم مِّنَّا يُصْحَبُونَ
(nor can they be protected from Us.) Al-'Awfi reported from Ibn 'Abbas,"Nor can they be guarded from Us."
Tafsir Ibn Kathir
انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تمہیں جو ستایا جارہا ہے، مذاق میں اڑایا جاتا ہے اور جھوٹا کہا جاتا ہے اس پر پریشان نہ ہونا، کافروں کی یہ پرانی عادت ہے۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی انہوں یہی کیا جس کی وجہ سے آخرش عذابوں میں پھنس گئے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ 34) 6۔ الانعام :34) ، تجھ سے پہلے کے انبیاء بھی جھٹلائے گئے اور انہوں نے اپنے جھٹلائے جانے پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ اللہ کی باتوں کا بدلنے والا کوئی نہیں تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آچکی ہیں۔ پھر اپنی نعمت بیان فرماتا ہے کہ وہ تم سب کی حفاظت دن رات اپنی ان آنکھوں سے کررہا ہے جو نہ کبھی تھکیں نہ سوئیں۔ من الرحمان کا معنی رحمان کے بدلے یعنی رحمان کے سوا ہیں عربی شعروں میں بھی من بدل کے معنی میں ہے۔ اسی ایک احسان پر کیا موقوف ہے یہ کفار تو اللہ کے ہر ایک احسان کی ناشکری کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کے منکر اور ان سے منہ پھیرنے والے ہیں ؟ یعنی وہ ایسا نہیں کرسکتے ان کا گمان یہ محض غلط ہے، بلکہ ان کے معبودان باطل خود اپنی حفاظت کے بھی مالک نہیں۔ بلکہ وہ ہم سے بچ بھی نہیں سکتے۔ ہماری جانب سے کوئی خبر ان کے ہاتھوں میں نہیں۔ ایک معنی اس جملے کے یہ بھی ہیں کہ نہ تو وہ کسی کو بچا سکیں نہ خود بچ سکیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُسَلِّيًا لِرَسُولِهِ [صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ] [[زيادة من ف، أ.]] عَمَّا آذَاهُ بِهِ الْمُشْرِكُونَ مِنَ الِاسْتِهْزَاءِ وَالتَّكْذِيبِ: ﴿وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ﴾ يَعْنِي: مِنَ الْعَذَابِ الَّذِي كَانُوا يَسْتَبْعِدُونَ وُقُوعَهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَى مَا كُذِّبُوا وَأُوذُوا حَتَّى أَتَاهُمْ نَصْرُنَا وَلا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَبَإِ الْمُرْسَلِينَ﴾ [الْأَنْعَامِ:٣٤] .
ثُمَّ ذَكَرَ تَعَالَى نِعْمَتَهُ عَلَى عَبِيدِهِ فِي حِفْظِهِ لَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَكِلَاءَتِهِ وَحِرَاسَتِهِ لَهُمْ بِعَيْنِهِ الَّتِي لَا تَنَامُ، فَقَالَ: ﴿قُلْ مَنْ يَكْلَؤُكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمَنِ﴾ ؟ أَيْ: بَدَلَ الرَّحْمَنِ بِمَعْنَى غَيْرِهِ كَمَا قَالَ الشَّاعِرُ [[هو أبو نخيلة يعمر بن حزن، والبيت في اللسان مادة (فسق) وصدره: دسته لم تأكل المرققا
وقد حمل صاحب اللسان قوله بأنه ظن الفستق من البقول.]]
جَارية لَمْ تَلْبَس المُرقَّقا ... وَلَم تَذق منَ البُقول الفُسْتُقا ...
أَيْ: لَمْ تَذُقْ بَدَلَ الْبُقُولِ الْفُسْتُقَ.
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُعْرِضُونَ﴾ أَيْ: لَا يَعْتَرِفُونَ [[في ف، أ: "لا يعرفون".]] بِنِعَمِهِ عَلَيْهِمْ وَإِحْسَانِهِ إِلَيْهِمْ، بَلْ يُعْرِضُونَ عَنِ آيَاتِهِ وَآلَائِهِ، ثُمَّ قَالَ ﴿أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا﴾ اسْتِفْهَامُ إِنْكَارٍ وَتَقْرِيعٍ وَتَوْبِيخٍ، أَيْ: أَلَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ وَتَكْلَؤُهُمْ غَيْرُنَا؟ لَيْسَ الْأَمْرُ كَمَا تَوَهَّمُوا وَلَا كَمَا [[في ف، أ: "ولا قد كما".]] زَعَمُوا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ﴾ أَيْ: هَذِهِ [الْآلِهَةُ] [[زيادة من ف، أ.]] الَّتِي اسْتَنَدُوا إِلَيْهَا غَيْرَ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلا هُمْ مِنَّا يُصْحَبُونَ﴾ قَالَ الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَلا هُمْ مِنَّا يُصْحَبُونَ﴾ أَيْ: يُجَارُونَ [[في ف، أ: "يجازون".]] وَقَالَ قَتَادَةُ لَا يُصْحَبُونَ [مِنَ اللَّهِ] [[زيادة من ف.]] بِخَيْرٍ وَقَالَ غَيْرُهُ: ﴿وَلا هُمْ مِنَّا يُصْحَبُونَ﴾ يمنعون.
بَلْ مَتَّعْنَا هَٰٓؤُلَآءِ وَءَابَآءَهُمْ حَتَّىٰ طَالَ عَلَيْهِمُ ٱلْعُمُرُ ۗ أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِى ٱلْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَآ ۚ أَفَهُمُ ٱلْغَٰلِبُونَ
But, [on the contrary], We have provided good things for these [disbelievers] and their fathers until life was prolonged for them. Then do they not see that We set upon the land, reducing it from its borders? So it is they who will overcome?
بلکہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتے رہے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان کی عمریں بسر ہوگئیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ تو کیا یہ لوگ غلبہ پانے والے ہیں؟
ما آنها و پدرانشان را (از نعمتها) بهرهمند ساختیم، تا آنجا که عمر طولانی پیدا کردند (و مایه غرور و طغیانشان شد)؛ آیا نمیبینند که ما پیوسته به سراغ زمین آمده، و از آن (و اهلش) میکاهیم؟! آیا آنها غالبند (یا ما)؟!
Tafsir Ibn Kathir
Nay, We gave the luxuries of this life to these men and their fathers until the period grew long for them. See they not that We gradually reduce the land from its outlying borders Is it then they who will overcome (44)Say: "I warn you only by the revelation. "But the deaf will not hear the call, (even) when they are warned (45)And if a breath of the torment of your Lord touches them, they will surely cry: "Woe unto us! Indeed we have been wrongdoers. (46)And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything. And if there be the weight of a mustard seed, We will bring it. And sufficient are We to take account (47)
How the Idolators are deceived by their long and luxurious Lives in this World,and the Explanation of the Truth
Allah explains that they have been deceived and misled by the luxuries that they enjoy in this world and the long life that they have been given, so they believe that they are following something good. Then Allah warns them:
أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا
(See they not that We gradually reduce the land (in their control) from its outlying borders?) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ الْقُرَىٰ وَصَرَّفْنَا الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(And indeed We have destroyed towns round about you, and We have shown the Ayat in various ways that they might return.)(46:27) Al-Hasan Al-Basri said: "This means the victory of Islam over disbelief." The meaning is: Do they not learn a lesson from the fact that Allah supported those (believers) against their enemies, He destroyed the disbelieving nations and the evil-doing townships, and He saved His believing servants? So Allah says:
أَفَهُمُ الْغَالِبُونَ
(Is it then they who will overcome?) meaning, on the contrary, they are the ones who will be overcomed, who will be defeated, humiliated and brought low.
قُلْ إِنَّمَا أُنذِرُكُم بِالْوَحْيِ
(Say: "I warn you only by the revelation.") meaning, 'I only convey to you the warning of Allah's punishment and vengeance, and this is no more than that which Allah reveals to me.' But this is of no benefit to the one whom Allah has made blind and has put a seal over his hearing and his heart. He says:
وَلَا يَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَاءَ إِذَا مَا يُنذَرُونَ
(But the deaf will not hear the call, (even) when they are warned.)
وَلَئِن مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
(And if a breath of the torment of your Lord touches them, they will surely, cry: "Woe unto us! Indeed we have been wrongdoers!") If these disbelievers were affected by the slightest touch of Allah's punishment, they would confess their sins and admit that they had wronged themselves in this world.
وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا
(And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything.) meaning, "We shall set up the Balances of justice on the Day of Resurrection." The majority of scholars state that it is one Balance, and the plural form is used here to reflect the large number of deeds which will be weighed therein.
فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ
(then none will be dealt with unjustly in anything. And if there be the weight of a mustard seed, We will bring it. And sufficient are We to take account.) This is like the Ayat:
وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا
(and your Lord treats no one with injustice)(18:49)
إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا
(Surely, Allah wrongs not even of the weight of speck of dust, but if there is any good, He doubles it, and gives from Him a great reward.)(4:40)
يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ
("O my son! If it be equal to the weight of a grain of mustard seed, and though it be in a rock, or in the heavens or in the earth, Allah will bring it forth. Verily, Allah is Subtle, Well-Aware.")(31:16) In the Two Sahihs it was recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said:
كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ
(Two words which are light on the tongue, heavy in the Balance and beloved to Ar-Rahman: "Subhan Allahi wa bi hamdihi, Subhan Allahil 'Azim (Glory and praise be to Allah, Glory be to Allah the Almighty).")
Imam Ahmad also recorded that 'A'ishah said that one of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ sat down before him and said, "O Messenger of Allah, I have two slaves who lie to me, betray me and disobey me, and I hit them and insult them. How do I stand with regard to them?" The Messenger of Allah ﷺ said:
يُحْسَبُ مَا خَانُوكَ وَعَصَوْكَ وَكَذَّبُوكَ وَعِقَابُكَ إِيَّاهُمْ، فَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ، كَانَ كَفَافًا لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ دُونَ ذُنُوبِهِمْ، كَانَ فَضْلًا لَكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمْ، اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ الَّذِي بَقِيَ قَبْلَكَ
(The extent to which they betrayed you, disobeyed you and lied to you will be measured against the punishment you meted out to them. If your punishment was commensurate with their misconduct, then you will be equal and you will not have anything counted for you or against you. If your punishment of them was less than that what they deserved for their misconduct, then this will count in your favor. If your punishment of them was more than what they deserved for their misconduct, then Allah will take what is due to them from you.)
Then the man started to weep before the Messenger of Allah ﷺ, and the Messenger of Allah ﷺ asked,
مَالَهُ لَا يَقْرَأُ كِتَابَ اللهِ
وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ
(What is the matter with him? Has he not read the words of Allah, (And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything. And if there be the weight of a mustard seed, We will bring it. And sufficient are We to take account.)?)
The man said, "O Messenger of Allah, I think there is nothing better than keeping away from these people – meaning his slaves – I call upon you to bear witness that they are all free."
Tafsir Ibn Kathir
ذلت و رسوائی کے مارے لوگ کافروں کے کینہ کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتارہا، لمبی لمبی عمریں ملیں۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے کرتوت اللہ کو پسند ہیں، اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ان کے کفر کے ملیامیٹ کردیں ؟ اس جملے کے اور بھی بہت سے معنی کئے گئے ہیں جو سورة رعد میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ لیکن زیادہ ٹھیک معنی یہی ہیں۔ جیسے فرمایا آیت (وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ 27) 46۔ الأحقاف :27) ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں ہلاک کیں اور اپنی نشانیاں ہیر پھیر کر کے تمہیں دکھا دیں تاکہ لوگ اپنی برائیوں سے باز آجائیں۔ حسن بصری ؒ نے اس کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے ہیں کہ ہم کفر پر اسلام کو غالب کرتے چلے ہیں کیا تم اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو اپنے دشمنوں پر غالب کردیا اور کس طرح جھٹلانے والی اگلی امتوں کو اس نے ملیامیٹ کردیا اور اپنے مومنوں کو نجات دے دی کیا اب بھی یہ لوگ اپنے آپ کو غالب ہی سمجھ رہے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ یہ مغلوب ہیں، ذلیل ہیں، رذلیل ہیں، نقصان میں ہیں، بربادی کے ماتحت ہیں۔ میں تو اللہ کی طرف سے مبلغ ہوں، جن جن عذابوں سے تمہیں خبردار کر رہا ہوں یہ اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ کا کہا ہوا ہے۔ ہاں جن کی آنکھیں اللہ نے اندھی کردی ہیں، جن کے دل ودماغ بند کردیئے ہیں انہیں اللہ کی یہ باتیں سود مند نہیں پڑتیں۔ بہروں کو آگاہ کرنا بیکار ہے کیونکہ وہ تو سنتے ہی نہیں۔ ان گنہگاروں پر اک ادنیٰ سا بھی عذاب آجائے تو واویلا کرنے لگتے ہیں اور اسی وقت بےساختہ اپنے قصور کا اقرار کرلیتے ہیں۔ قیامت کے دن عدل کی ترازو قائم کی جائے گی۔ یہ ترازو ایک ہی ہوگی لیکن چونکہ جو اعمال اس میں تولے جائیں گے وہ بہت سے ہوں گے، اس اعتبار سے لفظ جمع لائے۔ اس دن کسی پر کسی طرح کا ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا۔ اس لئے کہ حساب لینے والا خود اللہ ہے جو اکیلا ہی تمام مخلوق کے حساب کے لئے کافی ہے ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی وہاں موجود ہوجائے گا۔ اور آیت میں فرمایا تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ 40) 4۔ النسآء :40) ، اللہ تعالیٰ ایک رائی کے دانے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، نیکی کو بڑھاتا ہے اور اس کا اجر اپنے پاس سے بہت بڑا عنایت فرماتا ہے۔ حضرت لقمان ؒ نے اپنی وصیتوں میں اپنے بیٹے سے فرمایا تھا ایک رائی کے دانے برابر بھی جو عمل ہو خواہ وہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں وہ اللہ اسے لائے گا وہ بڑا ہی باریک بین اور باخبر ہے۔ بخاری وسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دو کلمے ہیں زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں وزن دار ہیں اور اللہ کو بہت پیارے ہیں سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم مسند احمد ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اہل محشر کے سامنے اپنے پاس بلائے گا اور اس کے گناہوں کے ایک کم ایک سو دفتر اس کے سامنے کھولے جائیں گے جہاں تک نگاہ کام کرے وہاں تک کا ایک ایک دفتر ہوگا پھر اس سے جناب باری تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ کیا تجھے اپنے کئے ہوئے ان گناہوں میں سے کسی کا انکار ہے ؟ میری طرف سے جو محافظ فرشتے تیرے اعمال لکھنے پر مقرر تھے انہوں نے تجھ پر کوئی ظلم تو نہیں کیا ؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ نہ انکار کی گنجائش ہے نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا تیرا کوئی عذر ہے یا کوئی نیکی ہے ؟ وہ گھبرایا ہوا کہے گا اے اللہ کوئی نہیں۔ پروردگار عالم فرمائے گا کیوں نہیں ؟ بیشک تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا اب ایک چھوٹا سا پرچہ نکالا جائے گا جس میں (اشہد ان لا الہ اللہ وان محمد الرسول اللہ) لکھا ہوا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اسے پیش کرو۔ وہ کہے گا اے اللہ یہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا کرے گا ؟ جناب باری فرمائے گا تجھ پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ اب تمام کے تمام دفتر ترازو کے ایک پلے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو اس پرچے کا وزن ان تمام دفتروں سے بڑھ جائے گا۔ یہ جھک جائے گا اور اونچے ہوجائیں گے اور اللہ رحمان ورحیم کے نام سے کوئی چیز وزنی نہ ہوگی۔ ابن ماجہ اور ترمذی میں روایت ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن جب ترازوئیں رکھی جائیں گی پس ایک شخص کو لایا جائے اور ایک پلڑے میں رکھا جائے گا اور جو کچھ اس پر شمار کیا گیا ہے وہ بھی رکھا جائے گا تو وہ پلڑا جھک جائے گا اور اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ ابھی اس نے پیٹھ پھیری ہی ہوگی کہ اللہ کی طرف سے ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا اور کہے گا جلدی نہ کرو ایک چیز اس کی ابھی باقی گئی ہے پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس میں لا الہ الا اللہ ہوگا وہ اس شخص کے ساتھ ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے گا اور یہ پلڑا نیکی کا جھک جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک صحابی رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ میرے غلام ہیں جو مجھے جھٹلاتے بھی ہیں، میری خیانت بھی کرتے ہیں، میری نافرمانی بھی کرتے ہیں اور میں بھی انہیں مارتا پیٹتا ہوں اور برا بھلا بھی کہتا ہوں۔ اگر تیری سزا ان کی خطاؤں کے برابر ہوئی تو تو چھوٹ گیا۔ نہ عذاب نہ ثواب ہاں اگر تیری سزا کم رہی تو تجھے اللہ کا فضل وکرم ملے گا اور اگر تیری سزا ان کے کرتوتوں سے بڑھ گئی تو تجھ سے اس بڑھی ہوئی سزا کا انتقام لیا جائے گا۔ یہ سن کر وہ صحابی رونے لگے اور چیخنا شروع کردیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا اسے کیا ہوگیا ؟ کیا اس نے قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھا آیت (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا 47) 21۔ الأنبیاء :47) یہ سن کر اس صحابی ؓ نے کہا یارسول اللہ ﷺ ان معاملات کو سن کر تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے ان تمام غلاموں کو آزاد کردوں۔ آپ گواہ رہئے یہ سب اللہ کی راہ میں آزاد ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْمُشْرِكِينَ: إِنَّمَا غَرَّهُمْ وَحَمَلَهُمْ عَلَى مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الضَّلَالِ، أَنَّهُمْ مُتّعوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَنُعِّمُوا وَطَالَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ فِيمَا هُمْ فِيهِ، فَاعْتَقَدُوا أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ.
ثُمَّ قَالَ وَاعِظًا لَهُمْ: ﴿أَفَلا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الأرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا﴾ اخْتَلَفَ الْمُفَسِّرُونَ فِي مَعْنَاهُ، وَقَدْ أَسْلَفْنَاهُ فِي سُورَةِ "الرَّعْدِ"، وَأَحْسَنُ مَا فُسِّرَ بِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِنَ الْقُرَى وَصَرَّفْنَا الآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ [الْأَحْقَافِ:٢٧] .
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: يَعْنِي بِذَلِكَ ظُهُورَ الْإِسْلَامِ عَلَى الْكُفْرِ.
وَالْمَعْنَى: أَفَلَا يَعْتَبِرُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ لِأَوْلِيَائِهِ عَلَى أَعْدَائِهِ، وَإِهْلَاكِهِ الْأُمَمَ الْمُكَذِّبَةَ وَالْقُرَى الظَّالِمَةَ، وَإِنْجَائِهِ لِعِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَفَهُمُ الْغَالِبُونَ﴾ يَعْنِي: بَلْ هُمْ الْمَغْلُوبُونَ الْأَسْفَلُونَ الْأَخْسَرُونَ الْأَرْذَلُونَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قُلْ إِنَّمَا أُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْيِ﴾ أَيْ: إِنَّمَا أَنَا مُبَلِّغٌ [[في ف، أ: "مبلغكم".]] عَنِ اللَّهِ مَا أُنْذِرُكُمْ [[في ف، أ: "أنذرتكم".]] بِهِ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ، لَيْسَ ذَلِكَ إِلَّا عَمَّا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ، وَلَكِنْ لَا يُجْدِي هَذَا عَمَّنْ أَعْمَى اللَّهُ بَصِيرَتَهُ، وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَلا يَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَاءَ إِذَا مَا يُنْذَرُونَ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَئِنْ مَسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ أَيْ: وَلَئِنْ مَسَّ هَؤُلَاءِ الْمُكَذِّبِينَ أَدْنَى شَيْءٍ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، لَيَعْتَرِفُنَّ بِذُنُوبِهِمْ، وَأَنَّهُمْ كَانُوا ظَالِمِينَ أَنْفُسَهُمْ فِي الدُّنْيَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا﴾ أَيْ: وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْعَدْلَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ. الْأَكْثَرُ عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا هُوَ مِيزَانٌ وَاحِدٌ، وَإِنَّمَا جُمِعَ بِاعْتِبَارِ تَعَدُّدِ الْأَعْمَالِ الْمَوْزُونَةِ فِيهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ﴾ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا﴾ [الْكَهْفِ:٤٩] ، وَقَالَ: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [النِّسَاءِ:٤٠] ، وَقَالَ لُقْمَانُ: ﴿يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الأرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ﴾ [لُقْمَانَ:١٦] .
وَفِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -ﷺ: "كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ" [[صحيح البخاري برقم (٧٥٦٣) وصحيح مسلم برقم (٢٦٩٤) .]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالَقَاني، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَحْيَى، عَنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إن الله عَزَّ وَجَلَّ يَسْتَخْلِصُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلًّا كُلُّ سِجِلٍّ مَدُّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يقول أتنكر من هذا شيئًا؟ أَظْلَمَتْكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ؟ قَالَ: لَا يَا رَبِّ، قَالَ: أَفَلَكَ عُذْرٌ، أَوْ حَسَنَةٌ؟ " قَالَ: فَيُبْهَتُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ. فَيَقُولُ: بَلَى، إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً وَاحِدَةً، لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ. فَيُخْرِجُ لَهُ بِطَاقَةً فِيهَا: "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ [[في ف: "وأشهد أن".]] مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" فَيَقُولُ: أَحْضِرُوهُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ؟ فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ، قَالَ: "فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كِفَّةٍ [وَالْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةٍ] " [[زيادة من ف، والمسند.]] ، قَالَ: "فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ" قَالَ: "وَلَا يَثْقُلُ شَيْءٌ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ" [[المسند (٢/٢١٣) .]] .
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، بِهِ، [[سنن الترمذي برقم (٢٦٣٩) وسنن ابن ماجه برقم (٤٣٠٠) .]] وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ غَرِيبٌ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "تُوضَعُ الْمَوَازِينُ [[في ف: "يوضع الميزان".]] يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ، فَيُوضَعُ في كفة، فيوضع [[في ف: "ويوضع".]] ما أحصى عليه، فتايل [[في ف: "فيمايل".]] بِهِ الْمِيزَانُ" قَالَ: "فَيُبْعَثُ بِهِ إِلَى النَّارِ" قَالَ: فَإِذَا أَدْبَرَ بِهِ إِذَا [[في ف: "فإذا"]] صَائِحٌ مِنْ عِنْدِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: [لَا تَعْجَلُوا] [[زيادة من ف، والمسند.]] ، فَإِنَّهُ قَدْ بَقِيَ لَهُ، فَيُؤْتَى بِبِطَاقَةٍ فِيهَا "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَتُوضَعُ مَعَ الرَّجُلِ فِي كِفَّةٍ [[في ف: "كفته".]] حَتَّى يَمِيلَ بِهِ الْمِيزَانُ" [[المسند (٢/٢٢١) .]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ [[في ف، أ: "مرارا".]] أَنْبَأَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ؛ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَمْلُوكِينَ، يَكْذِبُونَنِي، وَيَخُونُونَنِي، وَيَعْصُونَنِي، وَأَضْرِبُهُمْ وَأَشْتُمُهُمْ، فَكَيْفَ أَنَا مِنْهُمْ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "يُحْسَبُ مَا خَانُوكَ وَعَصَوْكَ وَكَذَّبُوكَ وَعِقَابُكَ إِيَّاهُمْ، إِنْ [[في ف: "فإن".]] كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ دُونَ ذُنُوبِهِمْ، كَانَ فَضْلًا لَكَ [عَلَيْهِمْ] [[زيادة من ف، والمسند.]] وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ، كَانَ كَفَافًا لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمْ، اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ الَّذِي يَبْقَى [[في ف: "بقي".]] قِبَلَكَ". فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَبْكِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: وَيَهْتِفُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "ما لَهُ أَمَا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ؟: ﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ﴾ فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَجِدُ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ فِرَاقِ هَؤُلَاءِ -يَعْنِي عَبِيدَهُ-إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّهُمْ أحرار كلهم [[المسند (٦/٢٨٠) .]] .
قُلْ إِنَّمَآ أُنذِرُكُم بِٱلْوَحْىِ ۚ وَلَا يَسْمَعُ ٱلصُّمُّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا مَا يُنذَرُونَ
Say, "I only warn you by revelation." But the deaf do not hear the call when they are warned.
کہہ دو کہ میں تم کو حکم خدا کے مطابق نصیحت کرتا ہوں۔ اور بہروں کوجب نصیحت کی جائے تو وہ پکار کر سنتے ہی نہیں
بگو: «من تنها بوسیله وحی شما را انذار میکنم!» ولی آنها که گوشهایشان کر است، هنگامی که انذار میشوند، سخنان را نمیشنوند!
Tafsir Ibn Kathir
Nay, We gave the luxuries of this life to these men and their fathers until the period grew long for them. See they not that We gradually reduce the land from its outlying borders Is it then they who will overcome (44)Say: "I warn you only by the revelation. "But the deaf will not hear the call, (even) when they are warned (45)And if a breath of the torment of your Lord touches them, they will surely cry: "Woe unto us! Indeed we have been wrongdoers. (46)And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything. And if there be the weight of a mustard seed, We will bring it. And sufficient are We to take account (47)
How the Idolators are deceived by their long and luxurious Lives in this World,and the Explanation of the Truth
Allah explains that they have been deceived and misled by the luxuries that they enjoy in this world and the long life that they have been given, so they believe that they are following something good. Then Allah warns them:
أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا
(See they not that We gradually reduce the land (in their control) from its outlying borders?) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ الْقُرَىٰ وَصَرَّفْنَا الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(And indeed We have destroyed towns round about you, and We have shown the Ayat in various ways that they might return.)(46:27) Al-Hasan Al-Basri said: "This means the victory of Islam over disbelief." The meaning is: Do they not learn a lesson from the fact that Allah supported those (believers) against their enemies, He destroyed the disbelieving nations and the evil-doing townships, and He saved His believing servants? So Allah says:
أَفَهُمُ الْغَالِبُونَ
(Is it then they who will overcome?) meaning, on the contrary, they are the ones who will be overcomed, who will be defeated, humiliated and brought low.
قُلْ إِنَّمَا أُنذِرُكُم بِالْوَحْيِ
(Say: "I warn you only by the revelation.") meaning, 'I only convey to you the warning of Allah's punishment and vengeance, and this is no more than that which Allah reveals to me.' But this is of no benefit to the one whom Allah has made blind and has put a seal over his hearing and his heart. He says:
وَلَا يَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَاءَ إِذَا مَا يُنذَرُونَ
(But the deaf will not hear the call, (even) when they are warned.)
وَلَئِن مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
(And if a breath of the torment of your Lord touches them, they will surely, cry: "Woe unto us! Indeed we have been wrongdoers!") If these disbelievers were affected by the slightest touch of Allah's punishment, they would confess their sins and admit that they had wronged themselves in this world.
وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا
(And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything.) meaning, "We shall set up the Balances of justice on the Day of Resurrection." The majority of scholars state that it is one Balance, and the plural form is used here to reflect the large number of deeds which will be weighed therein.
فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ
(then none will be dealt with unjustly in anything. And if there be the weight of a mustard seed, We will bring it. And sufficient are We to take account.) This is like the Ayat:
وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا
(and your Lord treats no one with injustice)(18:49)
إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا
(Surely, Allah wrongs not even of the weight of speck of dust, but if there is any good, He doubles it, and gives from Him a great reward.)(4:40)
يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ
("O my son! If it be equal to the weight of a grain of mustard seed, and though it be in a rock, or in the heavens or in the earth, Allah will bring it forth. Verily, Allah is Subtle, Well-Aware.")(31:16) In the Two Sahihs it was recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said:
كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ
(Two words which are light on the tongue, heavy in the Balance and beloved to Ar-Rahman: "Subhan Allahi wa bi hamdihi, Subhan Allahil 'Azim (Glory and praise be to Allah, Glory be to Allah the Almighty).")
Imam Ahmad also recorded that 'A'ishah said that one of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ sat down before him and said, "O Messenger of Allah, I have two slaves who lie to me, betray me and disobey me, and I hit them and insult them. How do I stand with regard to them?" The Messenger of Allah ﷺ said:
يُحْسَبُ مَا خَانُوكَ وَعَصَوْكَ وَكَذَّبُوكَ وَعِقَابُكَ إِيَّاهُمْ، فَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ، كَانَ كَفَافًا لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ دُونَ ذُنُوبِهِمْ، كَانَ فَضْلًا لَكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمْ، اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ الَّذِي بَقِيَ قَبْلَكَ
(The extent to which they betrayed you, disobeyed you and lied to you will be measured against the punishment you meted out to them. If your punishment was commensurate with their misconduct, then you will be equal and you will not have anything counted for you or against you. If your punishment of them was less than that what they deserved for their misconduct, then this will count in your favor. If your punishment of them was more than what they deserved for their misconduct, then Allah will take what is due to them from you.)
Then the man started to weep before the Messenger of Allah ﷺ, and the Messenger of Allah ﷺ asked,
مَالَهُ لَا يَقْرَأُ كِتَابَ اللهِ
وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ
(What is the matter with him? Has he not read the words of Allah, (And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything. And if there be the weight of a mustard seed, We will bring it. And sufficient are We to take account.)?)
The man said, "O Messenger of Allah, I think there is nothing better than keeping away from these people – meaning his slaves – I call upon you to bear witness that they are all free."
Tafsir Ibn Kathir
ذلت و رسوائی کے مارے لوگ کافروں کے کینہ کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتارہا، لمبی لمبی عمریں ملیں۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے کرتوت اللہ کو پسند ہیں، اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ان کے کفر کے ملیامیٹ کردیں ؟ اس جملے کے اور بھی بہت سے معنی کئے گئے ہیں جو سورة رعد میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ لیکن زیادہ ٹھیک معنی یہی ہیں۔ جیسے فرمایا آیت (وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ 27) 46۔ الأحقاف :27) ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں ہلاک کیں اور اپنی نشانیاں ہیر پھیر کر کے تمہیں دکھا دیں تاکہ لوگ اپنی برائیوں سے باز آجائیں۔ حسن بصری ؒ نے اس کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے ہیں کہ ہم کفر پر اسلام کو غالب کرتے چلے ہیں کیا تم اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو اپنے دشمنوں پر غالب کردیا اور کس طرح جھٹلانے والی اگلی امتوں کو اس نے ملیامیٹ کردیا اور اپنے مومنوں کو نجات دے دی کیا اب بھی یہ لوگ اپنے آپ کو غالب ہی سمجھ رہے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ یہ مغلوب ہیں، ذلیل ہیں، رذلیل ہیں، نقصان میں ہیں، بربادی کے ماتحت ہیں۔ میں تو اللہ کی طرف سے مبلغ ہوں، جن جن عذابوں سے تمہیں خبردار کر رہا ہوں یہ اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ کا کہا ہوا ہے۔ ہاں جن کی آنکھیں اللہ نے اندھی کردی ہیں، جن کے دل ودماغ بند کردیئے ہیں انہیں اللہ کی یہ باتیں سود مند نہیں پڑتیں۔ بہروں کو آگاہ کرنا بیکار ہے کیونکہ وہ تو سنتے ہی نہیں۔ ان گنہگاروں پر اک ادنیٰ سا بھی عذاب آجائے تو واویلا کرنے لگتے ہیں اور اسی وقت بےساختہ اپنے قصور کا اقرار کرلیتے ہیں۔ قیامت کے دن عدل کی ترازو قائم کی جائے گی۔ یہ ترازو ایک ہی ہوگی لیکن چونکہ جو اعمال اس میں تولے جائیں گے وہ بہت سے ہوں گے، اس اعتبار سے لفظ جمع لائے۔ اس دن کسی پر کسی طرح کا ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا۔ اس لئے کہ حساب لینے والا خود اللہ ہے جو اکیلا ہی تمام مخلوق کے حساب کے لئے کافی ہے ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی وہاں موجود ہوجائے گا۔ اور آیت میں فرمایا تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ 40) 4۔ النسآء :40) ، اللہ تعالیٰ ایک رائی کے دانے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، نیکی کو بڑھاتا ہے اور اس کا اجر اپنے پاس سے بہت بڑا عنایت فرماتا ہے۔ حضرت لقمان ؒ نے اپنی وصیتوں میں اپنے بیٹے سے فرمایا تھا ایک رائی کے دانے برابر بھی جو عمل ہو خواہ وہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں وہ اللہ اسے لائے گا وہ بڑا ہی باریک بین اور باخبر ہے۔ بخاری وسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دو کلمے ہیں زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں وزن دار ہیں اور اللہ کو بہت پیارے ہیں سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم مسند احمد ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اہل محشر کے سامنے اپنے پاس بلائے گا اور اس کے گناہوں کے ایک کم ایک سو دفتر اس کے سامنے کھولے جائیں گے جہاں تک نگاہ کام کرے وہاں تک کا ایک ایک دفتر ہوگا پھر اس سے جناب باری تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ کیا تجھے اپنے کئے ہوئے ان گناہوں میں سے کسی کا انکار ہے ؟ میری طرف سے جو محافظ فرشتے تیرے اعمال لکھنے پر مقرر تھے انہوں نے تجھ پر کوئی ظلم تو نہیں کیا ؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ نہ انکار کی گنجائش ہے نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا تیرا کوئی عذر ہے یا کوئی نیکی ہے ؟ وہ گھبرایا ہوا کہے گا اے اللہ کوئی نہیں۔ پروردگار عالم فرمائے گا کیوں نہیں ؟ بیشک تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا اب ایک چھوٹا سا پرچہ نکالا جائے گا جس میں (اشہد ان لا الہ اللہ وان محمد الرسول اللہ) لکھا ہوا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اسے پیش کرو۔ وہ کہے گا اے اللہ یہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا کرے گا ؟ جناب باری فرمائے گا تجھ پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ اب تمام کے تمام دفتر ترازو کے ایک پلے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو اس پرچے کا وزن ان تمام دفتروں سے بڑھ جائے گا۔ یہ جھک جائے گا اور اونچے ہوجائیں گے اور اللہ رحمان ورحیم کے نام سے کوئی چیز وزنی نہ ہوگی۔ ابن ماجہ اور ترمذی میں روایت ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن جب ترازوئیں رکھی جائیں گی پس ایک شخص کو لایا جائے اور ایک پلڑے میں رکھا جائے گا اور جو کچھ اس پر شمار کیا گیا ہے وہ بھی رکھا جائے گا تو وہ پلڑا جھک جائے گا اور اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ ابھی اس نے پیٹھ پھیری ہی ہوگی کہ اللہ کی طرف سے ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا اور کہے گا جلدی نہ کرو ایک چیز اس کی ابھی باقی گئی ہے پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس میں لا الہ الا اللہ ہوگا وہ اس شخص کے ساتھ ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے گا اور یہ پلڑا نیکی کا جھک جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک صحابی رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ میرے غلام ہیں جو مجھے جھٹلاتے بھی ہیں، میری خیانت بھی کرتے ہیں، میری نافرمانی بھی کرتے ہیں اور میں بھی انہیں مارتا پیٹتا ہوں اور برا بھلا بھی کہتا ہوں۔ اگر تیری سزا ان کی خطاؤں کے برابر ہوئی تو تو چھوٹ گیا۔ نہ عذاب نہ ثواب ہاں اگر تیری سزا کم رہی تو تجھے اللہ کا فضل وکرم ملے گا اور اگر تیری سزا ان کے کرتوتوں سے بڑھ گئی تو تجھ سے اس بڑھی ہوئی سزا کا انتقام لیا جائے گا۔ یہ سن کر وہ صحابی رونے لگے اور چیخنا شروع کردیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا اسے کیا ہوگیا ؟ کیا اس نے قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھا آیت (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا 47) 21۔ الأنبیاء :47) یہ سن کر اس صحابی ؓ نے کہا یارسول اللہ ﷺ ان معاملات کو سن کر تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے ان تمام غلاموں کو آزاد کردوں۔ آپ گواہ رہئے یہ سب اللہ کی راہ میں آزاد ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْمُشْرِكِينَ: إِنَّمَا غَرَّهُمْ وَحَمَلَهُمْ عَلَى مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الضَّلَالِ، أَنَّهُمْ مُتّعوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَنُعِّمُوا وَطَالَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ فِيمَا هُمْ فِيهِ، فَاعْتَقَدُوا أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ.
ثُمَّ قَالَ وَاعِظًا لَهُمْ: ﴿أَفَلا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الأرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا﴾ اخْتَلَفَ الْمُفَسِّرُونَ فِي مَعْنَاهُ، وَقَدْ أَسْلَفْنَاهُ فِي سُورَةِ "الرَّعْدِ"، وَأَحْسَنُ مَا فُسِّرَ بِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِنَ الْقُرَى وَصَرَّفْنَا الآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ [الْأَحْقَافِ:٢٧] .
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: يَعْنِي بِذَلِكَ ظُهُورَ الْإِسْلَامِ عَلَى الْكُفْرِ.
وَالْمَعْنَى: أَفَلَا يَعْتَبِرُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ لِأَوْلِيَائِهِ عَلَى أَعْدَائِهِ، وَإِهْلَاكِهِ الْأُمَمَ الْمُكَذِّبَةَ وَالْقُرَى الظَّالِمَةَ، وَإِنْجَائِهِ لِعِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَفَهُمُ الْغَالِبُونَ﴾ يَعْنِي: بَلْ هُمْ الْمَغْلُوبُونَ الْأَسْفَلُونَ الْأَخْسَرُونَ الْأَرْذَلُونَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قُلْ إِنَّمَا أُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْيِ﴾ أَيْ: إِنَّمَا أَنَا مُبَلِّغٌ [[في ف، أ: "مبلغكم".]] عَنِ اللَّهِ مَا أُنْذِرُكُمْ [[في ف، أ: "أنذرتكم".]] بِهِ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ، لَيْسَ ذَلِكَ إِلَّا عَمَّا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ، وَلَكِنْ لَا يُجْدِي هَذَا عَمَّنْ أَعْمَى اللَّهُ بَصِيرَتَهُ، وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَلا يَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَاءَ إِذَا مَا يُنْذَرُونَ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَئِنْ مَسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ أَيْ: وَلَئِنْ مَسَّ هَؤُلَاءِ الْمُكَذِّبِينَ أَدْنَى شَيْءٍ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، لَيَعْتَرِفُنَّ بِذُنُوبِهِمْ، وَأَنَّهُمْ كَانُوا ظَالِمِينَ أَنْفُسَهُمْ فِي الدُّنْيَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا﴾ أَيْ: وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْعَدْلَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ. الْأَكْثَرُ عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا هُوَ مِيزَانٌ وَاحِدٌ، وَإِنَّمَا جُمِعَ بِاعْتِبَارِ تَعَدُّدِ الْأَعْمَالِ الْمَوْزُونَةِ فِيهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ﴾ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا﴾ [الْكَهْفِ:٤٩] ، وَقَالَ: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [النِّسَاءِ:٤٠] ، وَقَالَ لُقْمَانُ: ﴿يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الأرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ﴾ [لُقْمَانَ:١٦] .
وَفِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -ﷺ: "كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ" [[صحيح البخاري برقم (٧٥٦٣) وصحيح مسلم برقم (٢٦٩٤) .]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالَقَاني، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَحْيَى، عَنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إن الله عَزَّ وَجَلَّ يَسْتَخْلِصُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلًّا كُلُّ سِجِلٍّ مَدُّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يقول أتنكر من هذا شيئًا؟ أَظْلَمَتْكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ؟ قَالَ: لَا يَا رَبِّ، قَالَ: أَفَلَكَ عُذْرٌ، أَوْ حَسَنَةٌ؟ " قَالَ: فَيُبْهَتُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ. فَيَقُولُ: بَلَى، إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً وَاحِدَةً، لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ. فَيُخْرِجُ لَهُ بِطَاقَةً فِيهَا: "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ [[في ف: "وأشهد أن".]] مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" فَيَقُولُ: أَحْضِرُوهُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ؟ فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ، قَالَ: "فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كِفَّةٍ [وَالْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةٍ] " [[زيادة من ف، والمسند.]] ، قَالَ: "فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ" قَالَ: "وَلَا يَثْقُلُ شَيْءٌ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ" [[المسند (٢/٢١٣) .]] .
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، بِهِ، [[سنن الترمذي برقم (٢٦٣٩) وسنن ابن ماجه برقم (٤٣٠٠) .]] وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ غَرِيبٌ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "تُوضَعُ الْمَوَازِينُ [[في ف: "يوضع الميزان".]] يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ، فَيُوضَعُ في كفة، فيوضع [[في ف: "ويوضع".]] ما أحصى عليه، فتايل [[في ف: "فيمايل".]] بِهِ الْمِيزَانُ" قَالَ: "فَيُبْعَثُ بِهِ إِلَى النَّارِ" قَالَ: فَإِذَا أَدْبَرَ بِهِ إِذَا [[في ف: "فإذا"]] صَائِحٌ مِنْ عِنْدِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: [لَا تَعْجَلُوا] [[زيادة من ف، والمسند.]] ، فَإِنَّهُ قَدْ بَقِيَ لَهُ، فَيُؤْتَى بِبِطَاقَةٍ فِيهَا "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَتُوضَعُ مَعَ الرَّجُلِ فِي كِفَّةٍ [[في ف: "كفته".]] حَتَّى يَمِيلَ بِهِ الْمِيزَانُ" [[المسند (٢/٢٢١) .]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ [[في ف، أ: "مرارا".]] أَنْبَأَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ؛ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَمْلُوكِينَ، يَكْذِبُونَنِي، وَيَخُونُونَنِي، وَيَعْصُونَنِي، وَأَضْرِبُهُمْ وَأَشْتُمُهُمْ، فَكَيْفَ أَنَا مِنْهُمْ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "يُحْسَبُ مَا خَانُوكَ وَعَصَوْكَ وَكَذَّبُوكَ وَعِقَابُكَ إِيَّاهُمْ، إِنْ [[في ف: "فإن".]] كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ دُونَ ذُنُوبِهِمْ، كَانَ فَضْلًا لَكَ [عَلَيْهِمْ] [[زيادة من ف، والمسند.]] وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ، كَانَ كَفَافًا لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمْ، اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ الَّذِي يَبْقَى [[في ف: "بقي".]] قِبَلَكَ". فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَبْكِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: وَيَهْتِفُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "ما لَهُ أَمَا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ؟: ﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ﴾ فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَجِدُ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ فِرَاقِ هَؤُلَاءِ -يَعْنِي عَبِيدَهُ-إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّهُمْ أحرار كلهم [[المسند (٦/٢٨٠) .]] .
وَلَئِن مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌۭ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَٰوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ
And if [as much as] a whiff of the punishment of your Lord should touch them, they would surely say, "O woe to us! Indeed, we have been wrongdoers."
اور اگر ان کو تمہارے پروردگار کا تھوڑا سا عذاب بھی پہنچے تو کہنے لگیں کہ ہائے کم بختی ہم بےشک ستمگار تھے
اگر کمترین عذاب پروردگارت به آنان برسد، فریادشان بلند میشود که: «ای وای بر ما! ما همگی ستمگر بودیم!»
Tafsir Ibn Kathir
Nay, We gave the luxuries of this life to these men and their fathers until the period grew long for them. See they not that We gradually reduce the land from its outlying borders Is it then they who will overcome (44)Say: "I warn you only by the revelation. "But the deaf will not hear the call, (even) when they are warned (45)And if a breath of the torment of your Lord touches them, they will surely cry: "Woe unto us! Indeed we have been wrongdoers. (46)And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything. And if there be the weight of a mustard seed, We will bring it. And sufficient are We to take account (47)
How the Idolators are deceived by their long and luxurious Lives in this World,and the Explanation of the Truth
Allah explains that they have been deceived and misled by the luxuries that they enjoy in this world and the long life that they have been given, so they believe that they are following something good. Then Allah warns them:
أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا
(See they not that We gradually reduce the land (in their control) from its outlying borders?) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ الْقُرَىٰ وَصَرَّفْنَا الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(And indeed We have destroyed towns round about you, and We have shown the Ayat in various ways that they might return.)(46:27) Al-Hasan Al-Basri said: "This means the victory of Islam over disbelief." The meaning is: Do they not learn a lesson from the fact that Allah supported those (believers) against their enemies, He destroyed the disbelieving nations and the evil-doing townships, and He saved His believing servants? So Allah says:
أَفَهُمُ الْغَالِبُونَ
(Is it then they who will overcome?) meaning, on the contrary, they are the ones who will be overcomed, who will be defeated, humiliated and brought low.
قُلْ إِنَّمَا أُنذِرُكُم بِالْوَحْيِ
(Say: "I warn you only by the revelation.") meaning, 'I only convey to you the warning of Allah's punishment and vengeance, and this is no more than that which Allah reveals to me.' But this is of no benefit to the one whom Allah has made blind and has put a seal over his hearing and his heart. He says:
وَلَا يَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَاءَ إِذَا مَا يُنذَرُونَ
(But the deaf will not hear the call, (even) when they are warned.)
وَلَئِن مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
(And if a breath of the torment of your Lord touches them, they will surely, cry: "Woe unto us! Indeed we have been wrongdoers!") If these disbelievers were affected by the slightest touch of Allah's punishment, they would confess their sins and admit that they had wronged themselves in this world.
وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا
(And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything.) meaning, "We shall set up the Balances of justice on the Day of Resurrection." The majority of scholars state that it is one Balance, and the plural form is used here to reflect the large number of deeds which will be weighed therein.
فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ
(then none will be dealt with unjustly in anything. And if there be the weight of a mustard seed, We will bring it. And sufficient are We to take account.) This is like the Ayat:
وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا
(and your Lord treats no one with injustice)(18:49)
إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا
(Surely, Allah wrongs not even of the weight of speck of dust, but if there is any good, He doubles it, and gives from Him a great reward.)(4:40)
يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ
("O my son! If it be equal to the weight of a grain of mustard seed, and though it be in a rock, or in the heavens or in the earth, Allah will bring it forth. Verily, Allah is Subtle, Well-Aware.")(31:16) In the Two Sahihs it was recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said:
كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ
(Two words which are light on the tongue, heavy in the Balance and beloved to Ar-Rahman: "Subhan Allahi wa bi hamdihi, Subhan Allahil 'Azim (Glory and praise be to Allah, Glory be to Allah the Almighty).")
Imam Ahmad also recorded that 'A'ishah said that one of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ sat down before him and said, "O Messenger of Allah, I have two slaves who lie to me, betray me and disobey me, and I hit them and insult them. How do I stand with regard to them?" The Messenger of Allah ﷺ said:
يُحْسَبُ مَا خَانُوكَ وَعَصَوْكَ وَكَذَّبُوكَ وَعِقَابُكَ إِيَّاهُمْ، فَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ، كَانَ كَفَافًا لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ دُونَ ذُنُوبِهِمْ، كَانَ فَضْلًا لَكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمْ، اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ الَّذِي بَقِيَ قَبْلَكَ
(The extent to which they betrayed you, disobeyed you and lied to you will be measured against the punishment you meted out to them. If your punishment was commensurate with their misconduct, then you will be equal and you will not have anything counted for you or against you. If your punishment of them was less than that what they deserved for their misconduct, then this will count in your favor. If your punishment of them was more than what they deserved for their misconduct, then Allah will take what is due to them from you.)
Then the man started to weep before the Messenger of Allah ﷺ, and the Messenger of Allah ﷺ asked,
مَالَهُ لَا يَقْرَأُ كِتَابَ اللهِ
وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ
(What is the matter with him? Has he not read the words of Allah, (And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything. And if there be the weight of a mustard seed, We will bring it. And sufficient are We to take account.)?)
The man said, "O Messenger of Allah, I think there is nothing better than keeping away from these people – meaning his slaves – I call upon you to bear witness that they are all free."
Tafsir Ibn Kathir
ذلت و رسوائی کے مارے لوگ کافروں کے کینہ کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتارہا، لمبی لمبی عمریں ملیں۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے کرتوت اللہ کو پسند ہیں، اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ان کے کفر کے ملیامیٹ کردیں ؟ اس جملے کے اور بھی بہت سے معنی کئے گئے ہیں جو سورة رعد میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ لیکن زیادہ ٹھیک معنی یہی ہیں۔ جیسے فرمایا آیت (وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ 27) 46۔ الأحقاف :27) ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں ہلاک کیں اور اپنی نشانیاں ہیر پھیر کر کے تمہیں دکھا دیں تاکہ لوگ اپنی برائیوں سے باز آجائیں۔ حسن بصری ؒ نے اس کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے ہیں کہ ہم کفر پر اسلام کو غالب کرتے چلے ہیں کیا تم اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو اپنے دشمنوں پر غالب کردیا اور کس طرح جھٹلانے والی اگلی امتوں کو اس نے ملیامیٹ کردیا اور اپنے مومنوں کو نجات دے دی کیا اب بھی یہ لوگ اپنے آپ کو غالب ہی سمجھ رہے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ یہ مغلوب ہیں، ذلیل ہیں، رذلیل ہیں، نقصان میں ہیں، بربادی کے ماتحت ہیں۔ میں تو اللہ کی طرف سے مبلغ ہوں، جن جن عذابوں سے تمہیں خبردار کر رہا ہوں یہ اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ کا کہا ہوا ہے۔ ہاں جن کی آنکھیں اللہ نے اندھی کردی ہیں، جن کے دل ودماغ بند کردیئے ہیں انہیں اللہ کی یہ باتیں سود مند نہیں پڑتیں۔ بہروں کو آگاہ کرنا بیکار ہے کیونکہ وہ تو سنتے ہی نہیں۔ ان گنہگاروں پر اک ادنیٰ سا بھی عذاب آجائے تو واویلا کرنے لگتے ہیں اور اسی وقت بےساختہ اپنے قصور کا اقرار کرلیتے ہیں۔ قیامت کے دن عدل کی ترازو قائم کی جائے گی۔ یہ ترازو ایک ہی ہوگی لیکن چونکہ جو اعمال اس میں تولے جائیں گے وہ بہت سے ہوں گے، اس اعتبار سے لفظ جمع لائے۔ اس دن کسی پر کسی طرح کا ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا۔ اس لئے کہ حساب لینے والا خود اللہ ہے جو اکیلا ہی تمام مخلوق کے حساب کے لئے کافی ہے ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی وہاں موجود ہوجائے گا۔ اور آیت میں فرمایا تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ 40) 4۔ النسآء :40) ، اللہ تعالیٰ ایک رائی کے دانے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، نیکی کو بڑھاتا ہے اور اس کا اجر اپنے پاس سے بہت بڑا عنایت فرماتا ہے۔ حضرت لقمان ؒ نے اپنی وصیتوں میں اپنے بیٹے سے فرمایا تھا ایک رائی کے دانے برابر بھی جو عمل ہو خواہ وہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں وہ اللہ اسے لائے گا وہ بڑا ہی باریک بین اور باخبر ہے۔ بخاری وسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دو کلمے ہیں زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں وزن دار ہیں اور اللہ کو بہت پیارے ہیں سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم مسند احمد ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اہل محشر کے سامنے اپنے پاس بلائے گا اور اس کے گناہوں کے ایک کم ایک سو دفتر اس کے سامنے کھولے جائیں گے جہاں تک نگاہ کام کرے وہاں تک کا ایک ایک دفتر ہوگا پھر اس سے جناب باری تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ کیا تجھے اپنے کئے ہوئے ان گناہوں میں سے کسی کا انکار ہے ؟ میری طرف سے جو محافظ فرشتے تیرے اعمال لکھنے پر مقرر تھے انہوں نے تجھ پر کوئی ظلم تو نہیں کیا ؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ نہ انکار کی گنجائش ہے نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا تیرا کوئی عذر ہے یا کوئی نیکی ہے ؟ وہ گھبرایا ہوا کہے گا اے اللہ کوئی نہیں۔ پروردگار عالم فرمائے گا کیوں نہیں ؟ بیشک تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا اب ایک چھوٹا سا پرچہ نکالا جائے گا جس میں (اشہد ان لا الہ اللہ وان محمد الرسول اللہ) لکھا ہوا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اسے پیش کرو۔ وہ کہے گا اے اللہ یہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا کرے گا ؟ جناب باری فرمائے گا تجھ پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ اب تمام کے تمام دفتر ترازو کے ایک پلے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو اس پرچے کا وزن ان تمام دفتروں سے بڑھ جائے گا۔ یہ جھک جائے گا اور اونچے ہوجائیں گے اور اللہ رحمان ورحیم کے نام سے کوئی چیز وزنی نہ ہوگی۔ ابن ماجہ اور ترمذی میں روایت ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن جب ترازوئیں رکھی جائیں گی پس ایک شخص کو لایا جائے اور ایک پلڑے میں رکھا جائے گا اور جو کچھ اس پر شمار کیا گیا ہے وہ بھی رکھا جائے گا تو وہ پلڑا جھک جائے گا اور اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ ابھی اس نے پیٹھ پھیری ہی ہوگی کہ اللہ کی طرف سے ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا اور کہے گا جلدی نہ کرو ایک چیز اس کی ابھی باقی گئی ہے پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس میں لا الہ الا اللہ ہوگا وہ اس شخص کے ساتھ ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے گا اور یہ پلڑا نیکی کا جھک جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک صحابی رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ میرے غلام ہیں جو مجھے جھٹلاتے بھی ہیں، میری خیانت بھی کرتے ہیں، میری نافرمانی بھی کرتے ہیں اور میں بھی انہیں مارتا پیٹتا ہوں اور برا بھلا بھی کہتا ہوں۔ اگر تیری سزا ان کی خطاؤں کے برابر ہوئی تو تو چھوٹ گیا۔ نہ عذاب نہ ثواب ہاں اگر تیری سزا کم رہی تو تجھے اللہ کا فضل وکرم ملے گا اور اگر تیری سزا ان کے کرتوتوں سے بڑھ گئی تو تجھ سے اس بڑھی ہوئی سزا کا انتقام لیا جائے گا۔ یہ سن کر وہ صحابی رونے لگے اور چیخنا شروع کردیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا اسے کیا ہوگیا ؟ کیا اس نے قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھا آیت (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا 47) 21۔ الأنبیاء :47) یہ سن کر اس صحابی ؓ نے کہا یارسول اللہ ﷺ ان معاملات کو سن کر تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے ان تمام غلاموں کو آزاد کردوں۔ آپ گواہ رہئے یہ سب اللہ کی راہ میں آزاد ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْمُشْرِكِينَ: إِنَّمَا غَرَّهُمْ وَحَمَلَهُمْ عَلَى مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الضَّلَالِ، أَنَّهُمْ مُتّعوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَنُعِّمُوا وَطَالَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ فِيمَا هُمْ فِيهِ، فَاعْتَقَدُوا أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ.
ثُمَّ قَالَ وَاعِظًا لَهُمْ: ﴿أَفَلا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الأرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا﴾ اخْتَلَفَ الْمُفَسِّرُونَ فِي مَعْنَاهُ، وَقَدْ أَسْلَفْنَاهُ فِي سُورَةِ "الرَّعْدِ"، وَأَحْسَنُ مَا فُسِّرَ بِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِنَ الْقُرَى وَصَرَّفْنَا الآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ [الْأَحْقَافِ:٢٧] .
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: يَعْنِي بِذَلِكَ ظُهُورَ الْإِسْلَامِ عَلَى الْكُفْرِ.
وَالْمَعْنَى: أَفَلَا يَعْتَبِرُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ لِأَوْلِيَائِهِ عَلَى أَعْدَائِهِ، وَإِهْلَاكِهِ الْأُمَمَ الْمُكَذِّبَةَ وَالْقُرَى الظَّالِمَةَ، وَإِنْجَائِهِ لِعِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَفَهُمُ الْغَالِبُونَ﴾ يَعْنِي: بَلْ هُمْ الْمَغْلُوبُونَ الْأَسْفَلُونَ الْأَخْسَرُونَ الْأَرْذَلُونَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قُلْ إِنَّمَا أُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْيِ﴾ أَيْ: إِنَّمَا أَنَا مُبَلِّغٌ [[في ف، أ: "مبلغكم".]] عَنِ اللَّهِ مَا أُنْذِرُكُمْ [[في ف، أ: "أنذرتكم".]] بِهِ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ، لَيْسَ ذَلِكَ إِلَّا عَمَّا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ، وَلَكِنْ لَا يُجْدِي هَذَا عَمَّنْ أَعْمَى اللَّهُ بَصِيرَتَهُ، وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَلا يَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَاءَ إِذَا مَا يُنْذَرُونَ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَئِنْ مَسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ أَيْ: وَلَئِنْ مَسَّ هَؤُلَاءِ الْمُكَذِّبِينَ أَدْنَى شَيْءٍ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، لَيَعْتَرِفُنَّ بِذُنُوبِهِمْ، وَأَنَّهُمْ كَانُوا ظَالِمِينَ أَنْفُسَهُمْ فِي الدُّنْيَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا﴾ أَيْ: وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْعَدْلَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ. الْأَكْثَرُ عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا هُوَ مِيزَانٌ وَاحِدٌ، وَإِنَّمَا جُمِعَ بِاعْتِبَارِ تَعَدُّدِ الْأَعْمَالِ الْمَوْزُونَةِ فِيهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ﴾ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا﴾ [الْكَهْفِ:٤٩] ، وَقَالَ: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [النِّسَاءِ:٤٠] ، وَقَالَ لُقْمَانُ: ﴿يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الأرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ﴾ [لُقْمَانَ:١٦] .
وَفِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -ﷺ: "كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ" [[صحيح البخاري برقم (٧٥٦٣) وصحيح مسلم برقم (٢٦٩٤) .]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالَقَاني، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَحْيَى، عَنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إن الله عَزَّ وَجَلَّ يَسْتَخْلِصُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلًّا كُلُّ سِجِلٍّ مَدُّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يقول أتنكر من هذا شيئًا؟ أَظْلَمَتْكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ؟ قَالَ: لَا يَا رَبِّ، قَالَ: أَفَلَكَ عُذْرٌ، أَوْ حَسَنَةٌ؟ " قَالَ: فَيُبْهَتُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ. فَيَقُولُ: بَلَى، إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً وَاحِدَةً، لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ. فَيُخْرِجُ لَهُ بِطَاقَةً فِيهَا: "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ [[في ف: "وأشهد أن".]] مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" فَيَقُولُ: أَحْضِرُوهُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ؟ فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ، قَالَ: "فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كِفَّةٍ [وَالْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةٍ] " [[زيادة من ف، والمسند.]] ، قَالَ: "فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ" قَالَ: "وَلَا يَثْقُلُ شَيْءٌ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ" [[المسند (٢/٢١٣) .]] .
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، بِهِ، [[سنن الترمذي برقم (٢٦٣٩) وسنن ابن ماجه برقم (٤٣٠٠) .]] وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ غَرِيبٌ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "تُوضَعُ الْمَوَازِينُ [[في ف: "يوضع الميزان".]] يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ، فَيُوضَعُ في كفة، فيوضع [[في ف: "ويوضع".]] ما أحصى عليه، فتايل [[في ف: "فيمايل".]] بِهِ الْمِيزَانُ" قَالَ: "فَيُبْعَثُ بِهِ إِلَى النَّارِ" قَالَ: فَإِذَا أَدْبَرَ بِهِ إِذَا [[في ف: "فإذا"]] صَائِحٌ مِنْ عِنْدِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: [لَا تَعْجَلُوا] [[زيادة من ف، والمسند.]] ، فَإِنَّهُ قَدْ بَقِيَ لَهُ، فَيُؤْتَى بِبِطَاقَةٍ فِيهَا "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَتُوضَعُ مَعَ الرَّجُلِ فِي كِفَّةٍ [[في ف: "كفته".]] حَتَّى يَمِيلَ بِهِ الْمِيزَانُ" [[المسند (٢/٢٢١) .]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ [[في ف، أ: "مرارا".]] أَنْبَأَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ؛ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَمْلُوكِينَ، يَكْذِبُونَنِي، وَيَخُونُونَنِي، وَيَعْصُونَنِي، وَأَضْرِبُهُمْ وَأَشْتُمُهُمْ، فَكَيْفَ أَنَا مِنْهُمْ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "يُحْسَبُ مَا خَانُوكَ وَعَصَوْكَ وَكَذَّبُوكَ وَعِقَابُكَ إِيَّاهُمْ، إِنْ [[في ف: "فإن".]] كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ دُونَ ذُنُوبِهِمْ، كَانَ فَضْلًا لَكَ [عَلَيْهِمْ] [[زيادة من ف، والمسند.]] وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ، كَانَ كَفَافًا لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمْ، اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ الَّذِي يَبْقَى [[في ف: "بقي".]] قِبَلَكَ". فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَبْكِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: وَيَهْتِفُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "ما لَهُ أَمَا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ؟: ﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ﴾ فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَجِدُ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ فِرَاقِ هَؤُلَاءِ -يَعْنِي عَبِيدَهُ-إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّهُمْ أحرار كلهم [[المسند (٦/٢٨٠) .]] .
وَنَضَعُ ٱلْمَوَٰزِينَ ٱلْقِسْطَ لِيَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌۭ شَيْـًۭٔا ۖ وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍۢ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَٰسِبِينَ
And We place the scales of justice for the Day of Resurrection, so no soul will be treated unjustly at all. And if there is [even] the weight of a mustard seed, We will bring it forth. And sufficient are We as accountant.
اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو کھڑی کریں گے تو کسی شخص کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔ اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اس کو لاحاضر کریں گے۔ اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں
ما ترازوهای عدل را در روز قیامت برپا میکنیم؛ پس به هیچ کس کمترین ستمی نمیشود؛ و اگر بمقدار سنگینی یک دانه خردل (کار نیک و بدی) باشد، ما آن را حاضر میکنیم؛ و کافی است که ما حسابکننده باشیم!
Tafsir Ibn Kathir
Nay, We gave the luxuries of this life to these men and their fathers until the period grew long for them. See they not that We gradually reduce the land from its outlying borders Is it then they who will overcome (44)Say: "I warn you only by the revelation. "But the deaf will not hear the call, (even) when they are warned (45)And if a breath of the torment of your Lord touches them, they will surely cry: "Woe unto us! Indeed we have been wrongdoers. (46)And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything. And if there be the weight of a mustard seed, We will bring it. And sufficient are We to take account (47)
How the Idolators are deceived by their long and luxurious Lives in this World,and the Explanation of the Truth
Allah explains that they have been deceived and misled by the luxuries that they enjoy in this world and the long life that they have been given, so they believe that they are following something good. Then Allah warns them:
أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا
(See they not that We gradually reduce the land (in their control) from its outlying borders?) This is like the Ayah:
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ الْقُرَىٰ وَصَرَّفْنَا الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(And indeed We have destroyed towns round about you, and We have shown the Ayat in various ways that they might return.)(46:27) Al-Hasan Al-Basri said: "This means the victory of Islam over disbelief." The meaning is: Do they not learn a lesson from the fact that Allah supported those (believers) against their enemies, He destroyed the disbelieving nations and the evil-doing townships, and He saved His believing servants? So Allah says:
أَفَهُمُ الْغَالِبُونَ
(Is it then they who will overcome?) meaning, on the contrary, they are the ones who will be overcomed, who will be defeated, humiliated and brought low.
قُلْ إِنَّمَا أُنذِرُكُم بِالْوَحْيِ
(Say: "I warn you only by the revelation.") meaning, 'I only convey to you the warning of Allah's punishment and vengeance, and this is no more than that which Allah reveals to me.' But this is of no benefit to the one whom Allah has made blind and has put a seal over his hearing and his heart. He says:
وَلَا يَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَاءَ إِذَا مَا يُنذَرُونَ
(But the deaf will not hear the call, (even) when they are warned.)
وَلَئِن مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
(And if a breath of the torment of your Lord touches them, they will surely, cry: "Woe unto us! Indeed we have been wrongdoers!") If these disbelievers were affected by the slightest touch of Allah's punishment, they would confess their sins and admit that they had wronged themselves in this world.
وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا
(And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything.) meaning, "We shall set up the Balances of justice on the Day of Resurrection." The majority of scholars state that it is one Balance, and the plural form is used here to reflect the large number of deeds which will be weighed therein.
فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ
(then none will be dealt with unjustly in anything. And if there be the weight of a mustard seed, We will bring it. And sufficient are We to take account.) This is like the Ayat:
وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا
(and your Lord treats no one with injustice)(18:49)
إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا
(Surely, Allah wrongs not even of the weight of speck of dust, but if there is any good, He doubles it, and gives from Him a great reward.)(4:40)
يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ
("O my son! If it be equal to the weight of a grain of mustard seed, and though it be in a rock, or in the heavens or in the earth, Allah will bring it forth. Verily, Allah is Subtle, Well-Aware.")(31:16) In the Two Sahihs it was recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said:
كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ
(Two words which are light on the tongue, heavy in the Balance and beloved to Ar-Rahman: "Subhan Allahi wa bi hamdihi, Subhan Allahil 'Azim (Glory and praise be to Allah, Glory be to Allah the Almighty).")
Imam Ahmad also recorded that 'A'ishah said that one of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ sat down before him and said, "O Messenger of Allah, I have two slaves who lie to me, betray me and disobey me, and I hit them and insult them. How do I stand with regard to them?" The Messenger of Allah ﷺ said:
يُحْسَبُ مَا خَانُوكَ وَعَصَوْكَ وَكَذَّبُوكَ وَعِقَابُكَ إِيَّاهُمْ، فَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ، كَانَ كَفَافًا لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ دُونَ ذُنُوبِهِمْ، كَانَ فَضْلًا لَكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمْ، اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ الَّذِي بَقِيَ قَبْلَكَ
(The extent to which they betrayed you, disobeyed you and lied to you will be measured against the punishment you meted out to them. If your punishment was commensurate with their misconduct, then you will be equal and you will not have anything counted for you or against you. If your punishment of them was less than that what they deserved for their misconduct, then this will count in your favor. If your punishment of them was more than what they deserved for their misconduct, then Allah will take what is due to them from you.)
Then the man started to weep before the Messenger of Allah ﷺ, and the Messenger of Allah ﷺ asked,
مَالَهُ لَا يَقْرَأُ كِتَابَ اللهِ
وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ
(What is the matter with him? Has he not read the words of Allah, (And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything. And if there be the weight of a mustard seed, We will bring it. And sufficient are We to take account.)?)
The man said, "O Messenger of Allah, I think there is nothing better than keeping away from these people – meaning his slaves – I call upon you to bear witness that they are all free."
Tafsir Ibn Kathir
ذلت و رسوائی کے مارے لوگ کافروں کے کینہ کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتارہا، لمبی لمبی عمریں ملیں۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے کرتوت اللہ کو پسند ہیں، اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ان کے کفر کے ملیامیٹ کردیں ؟ اس جملے کے اور بھی بہت سے معنی کئے گئے ہیں جو سورة رعد میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ لیکن زیادہ ٹھیک معنی یہی ہیں۔ جیسے فرمایا آیت (وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ 27) 46۔ الأحقاف :27) ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں ہلاک کیں اور اپنی نشانیاں ہیر پھیر کر کے تمہیں دکھا دیں تاکہ لوگ اپنی برائیوں سے باز آجائیں۔ حسن بصری ؒ نے اس کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے ہیں کہ ہم کفر پر اسلام کو غالب کرتے چلے ہیں کیا تم اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو اپنے دشمنوں پر غالب کردیا اور کس طرح جھٹلانے والی اگلی امتوں کو اس نے ملیامیٹ کردیا اور اپنے مومنوں کو نجات دے دی کیا اب بھی یہ لوگ اپنے آپ کو غالب ہی سمجھ رہے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ یہ مغلوب ہیں، ذلیل ہیں، رذلیل ہیں، نقصان میں ہیں، بربادی کے ماتحت ہیں۔ میں تو اللہ کی طرف سے مبلغ ہوں، جن جن عذابوں سے تمہیں خبردار کر رہا ہوں یہ اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ کا کہا ہوا ہے۔ ہاں جن کی آنکھیں اللہ نے اندھی کردی ہیں، جن کے دل ودماغ بند کردیئے ہیں انہیں اللہ کی یہ باتیں سود مند نہیں پڑتیں۔ بہروں کو آگاہ کرنا بیکار ہے کیونکہ وہ تو سنتے ہی نہیں۔ ان گنہگاروں پر اک ادنیٰ سا بھی عذاب آجائے تو واویلا کرنے لگتے ہیں اور اسی وقت بےساختہ اپنے قصور کا اقرار کرلیتے ہیں۔ قیامت کے دن عدل کی ترازو قائم کی جائے گی۔ یہ ترازو ایک ہی ہوگی لیکن چونکہ جو اعمال اس میں تولے جائیں گے وہ بہت سے ہوں گے، اس اعتبار سے لفظ جمع لائے۔ اس دن کسی پر کسی طرح کا ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا۔ اس لئے کہ حساب لینے والا خود اللہ ہے جو اکیلا ہی تمام مخلوق کے حساب کے لئے کافی ہے ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی وہاں موجود ہوجائے گا۔ اور آیت میں فرمایا تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ 40) 4۔ النسآء :40) ، اللہ تعالیٰ ایک رائی کے دانے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، نیکی کو بڑھاتا ہے اور اس کا اجر اپنے پاس سے بہت بڑا عنایت فرماتا ہے۔ حضرت لقمان ؒ نے اپنی وصیتوں میں اپنے بیٹے سے فرمایا تھا ایک رائی کے دانے برابر بھی جو عمل ہو خواہ وہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں وہ اللہ اسے لائے گا وہ بڑا ہی باریک بین اور باخبر ہے۔ بخاری وسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دو کلمے ہیں زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں وزن دار ہیں اور اللہ کو بہت پیارے ہیں سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم مسند احمد ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اہل محشر کے سامنے اپنے پاس بلائے گا اور اس کے گناہوں کے ایک کم ایک سو دفتر اس کے سامنے کھولے جائیں گے جہاں تک نگاہ کام کرے وہاں تک کا ایک ایک دفتر ہوگا پھر اس سے جناب باری تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ کیا تجھے اپنے کئے ہوئے ان گناہوں میں سے کسی کا انکار ہے ؟ میری طرف سے جو محافظ فرشتے تیرے اعمال لکھنے پر مقرر تھے انہوں نے تجھ پر کوئی ظلم تو نہیں کیا ؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ نہ انکار کی گنجائش ہے نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا تیرا کوئی عذر ہے یا کوئی نیکی ہے ؟ وہ گھبرایا ہوا کہے گا اے اللہ کوئی نہیں۔ پروردگار عالم فرمائے گا کیوں نہیں ؟ بیشک تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا اب ایک چھوٹا سا پرچہ نکالا جائے گا جس میں (اشہد ان لا الہ اللہ وان محمد الرسول اللہ) لکھا ہوا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اسے پیش کرو۔ وہ کہے گا اے اللہ یہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا کرے گا ؟ جناب باری فرمائے گا تجھ پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ اب تمام کے تمام دفتر ترازو کے ایک پلے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو اس پرچے کا وزن ان تمام دفتروں سے بڑھ جائے گا۔ یہ جھک جائے گا اور اونچے ہوجائیں گے اور اللہ رحمان ورحیم کے نام سے کوئی چیز وزنی نہ ہوگی۔ ابن ماجہ اور ترمذی میں روایت ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن جب ترازوئیں رکھی جائیں گی پس ایک شخص کو لایا جائے اور ایک پلڑے میں رکھا جائے گا اور جو کچھ اس پر شمار کیا گیا ہے وہ بھی رکھا جائے گا تو وہ پلڑا جھک جائے گا اور اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ ابھی اس نے پیٹھ پھیری ہی ہوگی کہ اللہ کی طرف سے ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا اور کہے گا جلدی نہ کرو ایک چیز اس کی ابھی باقی گئی ہے پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس میں لا الہ الا اللہ ہوگا وہ اس شخص کے ساتھ ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے گا اور یہ پلڑا نیکی کا جھک جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک صحابی رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ میرے غلام ہیں جو مجھے جھٹلاتے بھی ہیں، میری خیانت بھی کرتے ہیں، میری نافرمانی بھی کرتے ہیں اور میں بھی انہیں مارتا پیٹتا ہوں اور برا بھلا بھی کہتا ہوں۔ اگر تیری سزا ان کی خطاؤں کے برابر ہوئی تو تو چھوٹ گیا۔ نہ عذاب نہ ثواب ہاں اگر تیری سزا کم رہی تو تجھے اللہ کا فضل وکرم ملے گا اور اگر تیری سزا ان کے کرتوتوں سے بڑھ گئی تو تجھ سے اس بڑھی ہوئی سزا کا انتقام لیا جائے گا۔ یہ سن کر وہ صحابی رونے لگے اور چیخنا شروع کردیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا اسے کیا ہوگیا ؟ کیا اس نے قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھا آیت (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا 47) 21۔ الأنبیاء :47) یہ سن کر اس صحابی ؓ نے کہا یارسول اللہ ﷺ ان معاملات کو سن کر تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے ان تمام غلاموں کو آزاد کردوں۔ آپ گواہ رہئے یہ سب اللہ کی راہ میں آزاد ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الْمُشْرِكِينَ: إِنَّمَا غَرَّهُمْ وَحَمَلَهُمْ عَلَى مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الضَّلَالِ، أَنَّهُمْ مُتّعوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَنُعِّمُوا وَطَالَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ فِيمَا هُمْ فِيهِ، فَاعْتَقَدُوا أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ.
ثُمَّ قَالَ وَاعِظًا لَهُمْ: ﴿أَفَلا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الأرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا﴾ اخْتَلَفَ الْمُفَسِّرُونَ فِي مَعْنَاهُ، وَقَدْ أَسْلَفْنَاهُ فِي سُورَةِ "الرَّعْدِ"، وَأَحْسَنُ مَا فُسِّرَ بِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِنَ الْقُرَى وَصَرَّفْنَا الآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ [الْأَحْقَافِ:٢٧] .
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: يَعْنِي بِذَلِكَ ظُهُورَ الْإِسْلَامِ عَلَى الْكُفْرِ.
وَالْمَعْنَى: أَفَلَا يَعْتَبِرُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ لِأَوْلِيَائِهِ عَلَى أَعْدَائِهِ، وَإِهْلَاكِهِ الْأُمَمَ الْمُكَذِّبَةَ وَالْقُرَى الظَّالِمَةَ، وَإِنْجَائِهِ لِعِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿أَفَهُمُ الْغَالِبُونَ﴾ يَعْنِي: بَلْ هُمْ الْمَغْلُوبُونَ الْأَسْفَلُونَ الْأَخْسَرُونَ الْأَرْذَلُونَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قُلْ إِنَّمَا أُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْيِ﴾ أَيْ: إِنَّمَا أَنَا مُبَلِّغٌ [[في ف، أ: "مبلغكم".]] عَنِ اللَّهِ مَا أُنْذِرُكُمْ [[في ف، أ: "أنذرتكم".]] بِهِ مِنَ الْعَذَابِ وَالنَّكَالِ، لَيْسَ ذَلِكَ إِلَّا عَمَّا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ، وَلَكِنْ لَا يُجْدِي هَذَا عَمَّنْ أَعْمَى اللَّهُ بَصِيرَتَهُ، وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَلا يَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَاءَ إِذَا مَا يُنْذَرُونَ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَئِنْ مَسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ أَيْ: وَلَئِنْ مَسَّ هَؤُلَاءِ الْمُكَذِّبِينَ أَدْنَى شَيْءٍ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، لَيَعْتَرِفُنَّ بِذُنُوبِهِمْ، وَأَنَّهُمْ كَانُوا ظَالِمِينَ أَنْفُسَهُمْ فِي الدُّنْيَا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا﴾ أَيْ: وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْعَدْلَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ. الْأَكْثَرُ عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا هُوَ مِيزَانٌ وَاحِدٌ، وَإِنَّمَا جُمِعَ بِاعْتِبَارِ تَعَدُّدِ الْأَعْمَالِ الْمَوْزُونَةِ فِيهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ﴾ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا﴾ [الْكَهْفِ:٤٩] ، وَقَالَ: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [النِّسَاءِ:٤٠] ، وَقَالَ لُقْمَانُ: ﴿يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الأرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ﴾ [لُقْمَانَ:١٦] .
وَفِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -ﷺ: "كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ" [[صحيح البخاري برقم (٧٥٦٣) وصحيح مسلم برقم (٢٦٩٤) .]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالَقَاني، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَحْيَى، عَنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إن الله عَزَّ وَجَلَّ يَسْتَخْلِصُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلًّا كُلُّ سِجِلٍّ مَدُّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يقول أتنكر من هذا شيئًا؟ أَظْلَمَتْكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ؟ قَالَ: لَا يَا رَبِّ، قَالَ: أَفَلَكَ عُذْرٌ، أَوْ حَسَنَةٌ؟ " قَالَ: فَيُبْهَتُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ. فَيَقُولُ: بَلَى، إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً وَاحِدَةً، لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ. فَيُخْرِجُ لَهُ بِطَاقَةً فِيهَا: "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ [[في ف: "وأشهد أن".]] مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" فَيَقُولُ: أَحْضِرُوهُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ؟ فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ، قَالَ: "فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كِفَّةٍ [وَالْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةٍ] " [[زيادة من ف، والمسند.]] ، قَالَ: "فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ" قَالَ: "وَلَا يَثْقُلُ شَيْءٌ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ" [[المسند (٢/٢١٣) .]] .
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، بِهِ، [[سنن الترمذي برقم (٢٦٣٩) وسنن ابن ماجه برقم (٤٣٠٠) .]] وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ غَرِيبٌ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "تُوضَعُ الْمَوَازِينُ [[في ف: "يوضع الميزان".]] يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ، فَيُوضَعُ في كفة، فيوضع [[في ف: "ويوضع".]] ما أحصى عليه، فتايل [[في ف: "فيمايل".]] بِهِ الْمِيزَانُ" قَالَ: "فَيُبْعَثُ بِهِ إِلَى النَّارِ" قَالَ: فَإِذَا أَدْبَرَ بِهِ إِذَا [[في ف: "فإذا"]] صَائِحٌ مِنْ عِنْدِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: [لَا تَعْجَلُوا] [[زيادة من ف، والمسند.]] ، فَإِنَّهُ قَدْ بَقِيَ لَهُ، فَيُؤْتَى بِبِطَاقَةٍ فِيهَا "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَتُوضَعُ مَعَ الرَّجُلِ فِي كِفَّةٍ [[في ف: "كفته".]] حَتَّى يَمِيلَ بِهِ الْمِيزَانُ" [[المسند (٢/٢٢١) .]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ [[في ف، أ: "مرارا".]] أَنْبَأَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ؛ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَمْلُوكِينَ، يَكْذِبُونَنِي، وَيَخُونُونَنِي، وَيَعْصُونَنِي، وَأَضْرِبُهُمْ وَأَشْتُمُهُمْ، فَكَيْفَ أَنَا مِنْهُمْ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "يُحْسَبُ مَا خَانُوكَ وَعَصَوْكَ وَكَذَّبُوكَ وَعِقَابُكَ إِيَّاهُمْ، إِنْ [[في ف: "فإن".]] كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ دُونَ ذُنُوبِهِمْ، كَانَ فَضْلًا لَكَ [عَلَيْهِمْ] [[زيادة من ف، والمسند.]] وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ، كَانَ كَفَافًا لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمْ، اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ الَّذِي يَبْقَى [[في ف: "بقي".]] قِبَلَكَ". فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَبْكِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: وَيَهْتِفُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "ما لَهُ أَمَا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ؟: ﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ﴾ فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَجِدُ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ فِرَاقِ هَؤُلَاءِ -يَعْنِي عَبِيدَهُ-إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّهُمْ أحرار كلهم [[المسند (٦/٢٨٠) .]] .
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ ٱلْفُرْقَانَ وَضِيَآءًۭ وَذِكْرًۭا لِّلْمُتَّقِينَ
And We had already given Moses and Aaron the criterion and a light and a reminder for the righteous
اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو (ہدایت اور گمراہی میں) فرق کر دینے والی اور (سرتاپا) روشنی اور نصیحت (کی کتاب) عطا کی (یعنی) پرہیز گاروں کے لئے
ما به موسی و هارون، «فرقان» [= وسیله جدا کردن حق از باطل] و نور، و آنچه مایه یادآوری برای پرهیزگاران است، دادیم.
Tafsir Ibn Kathir
And indeed We granted to Musa and Harun the criterion, and a shining light and a Reminder for those who have Taqwa (48)Those who fear their Lord in the unseen, and they are afraid of the Hour (49)And this is a blessed Reminder which We have sent down; will you then deny it (50)
The Revelation of the Tawrah and the Qur'an
We have already noted that Allah often mentions Musa and Muhammad together – may the peace and blessings of Allah be upon them both – and He often mentions their Books together as well. He says:
وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ وَهَارُونَ الْفُرْقَانَ
(And indeed We granted to Musa and Harun the criterion) Mujahid said, "This means the Scripture." Abu Salih said: "The Tawrah." Qatadah said: "The Tawrah, what it permits and it forbids, and how Allah differentiated between truth and falsehood." In conclusion, we may say that the heavenly Books included the distinction between truth and falsehood, guidance and misguidance, transgression and the right way, lawful and unlawful, and that which will fill the heart with light, guidance, fear of Allah and repentance. So Allah says:
الْفُرْقَانَ وَضِيَاءً وَذِكْرًا لِّلْمُتَّقِينَ
(the criterion, and a shining light and a Reminder for those who have Taqwa.) meaning, a reminder and exhortation for them. Then He describes them as:
الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ
(Those who fear their Lord in the unseen.) This is like the Ayah:
مَّنْ خَشِيَ الرَّحْمَٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِيبٍ
(Who feared the Most Gracious in the unseen and came with a repenting heart.)(50:33)
إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ
(Verily, those who fear their Lord unseen, theirs will be forgiveness and a great reward.)(67:12)
وَهُم مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُونَ
(and they are afraid of the Hour.) means, they fear it. Then Allah says:
وَهَٰذَا ذِكْرٌ مُّبَارَكٌ أَنزَلْنَاهُ
(And this is a blessed Reminder which We have sent down;) means, the Magnificent Qur'an, which falsehood cannot approach, from before it or behind it, revealed by the All-Wise, Worthy of all praise.
أَفَأَنتُمْ لَهُ مُنكِرُونَ
(will you then deny it?) means, will you deny it when it is the utmost in clarity and truth?
Tafsir Ibn Kathir
کتاب النور ہم پہلے بھی اس بات کو جتا چکے کہ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت محمد ﷺ کا ذکر اکثر ملاجلا آتا ہے اور اسی طرح توراۃ اور قرآن کا ذکر بھی عموماً ایک ساتھ ہی ہوتا ہے۔ فرقان سے مراد کتاب یعنی تورات ہے جو حق وباطل حرام حلال میں فرق کرنے والی تھی۔ اسی سے جناب موسیٰ ؑ کو مدد ملی۔ کل کو کل آسمانی کتابیں حق وباطل ہدایت و گمراہی بھلائی برائی حلال وحرام میں جدائی کرنے والی ہوتی ہیں۔ ان سے دلوں میں نورانیت، اعمال میں حقانیت، اللہ کا خوف وخشیت ڈر اور اللہ کی طرف رجوع حاصل ہوتا ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے یہ کتاب نصیحت وپند اور نور و روشنی ہے۔ پھر ان متقیوں کا وصف بیان فرمایا کہ وہ اپنے اللہ سے غائبانہ ڈرتے ہیں رہتے ہیں۔ جیسے جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا آیت (مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بالْغَيْبِ وَجَاۗءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبِۨ 33ۙ) 50۔ ق :33) جو رحمن سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور جھکنے والا دل رکھتے ہیں۔ اور آیت میں ہے جو لوگ اپنے رب کا غائبانہ ڈر رکھتے ہیں۔ ان کے لئے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر ہے۔ ان متقیوں کا دوسرا وصف یہ ہے کہ قیامت کا کھٹکا رکھتے ہیں۔ اس کی ہولناکیوں سے لرزاں وترساں رہتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ اس قرآن عظیم کو بھی ہم نے ہی نازل فرمایا ہے جس کے آس پاس بھی باطل نہیں آسکتا۔ جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اترا ہے۔ افسوس کیا اس قدر وضاحت و حقانیت صداقت ونورانیت والا قرآن بھی اس قابل ہے کہ تم اس کے منکر بنے رہو ؟۔
Tafsir Ibn Kathir
قَدْ تَقَدَّمَ التَّنْبِيهُ عَلَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَثِيرًا مَا يَقْرِنُ بَيْنَ ذِكْرِ مُوسَى وَمُحَمَّدٍ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا، وَبَيْنَ كِتَابَيْهِمَا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى وَهَارُونَ الْفُرْقَانَ﴾ . قَالَ مُجَاهِدٌ: يَعْنِي: الْكِتَابَ. وَقَالَ أَبُو صَالِحٍ: التَّوْرَاةُ، وَقَالَ قَتَادَةُ: التَّوْرَاةُ، حَلَالُهَا وَحَرَامُهَا، وَمَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ. وَقَالَ ابْنُ زَيْدٍ: يَعْنِي: النَّصْرَ.
وَجَامِعُ الْقَوْلِ فِي ذَلِكَ: أَنَّ الْكُتُبَ السَّمَاوِيَّةَ تَشْتَمِلُ عَلَى التَّفْرِقَةِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، وَالْهُدَى وَالضَّلَالِ، وَالْغَيِّ وَالرَّشَادِ، وَالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ، وَعَلَى مَا يُحَصِّلُ نُورًا فِي الْقُلُوبِ، وَهِدَايَةً وَخَوْفًا وَإِنَابَةً وَخَشْيَةً؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿الْفُرْقَانَ وَضِيَاءً وَذِكْرًا لِلْمُتَّقِينَ﴾ أَيْ: [تَذْكِيرًا] [[زيادة من ف.]] لَهُمْ وَعِظَةً.
ثُمَّ وَصَفَهُمْ فَقَالَ: ﴿الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ﴾ كَقَوْلِهِ ﴿مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُنِيبٍ﴾ [ق:٣٣] ، وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ﴾ [الْمُلْكِ:١٢] ، ﴿وَهُمْ مِنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُونَ﴾ أَيْ: خَائِفُونَ وَجِلُونَ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَهَذَا ذِكْرٌ مُبَارَكٌ أَنزلْنَاهُ﴾ يَعْنِي: الْقُرْآنُ الْعَظِيمُ، الذِي لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ، ﴿أَفَأَنْتُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ﴾ أَيْ: أَفَتُنْكِرُونَهُ وَهُوَ فِي غَايَةِ [الْجَلَاءِ] [[زيادة من ف.]] وَالظُّهُورِ؟.
ٱلَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِٱلْغَيْبِ وَهُم مِّنَ ٱلسَّاعَةِ مُشْفِقُونَ
Who fear their Lord unseen, while they are of the Hour apprehensive.
جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور قیامت کا بھی خوف رکھتے ہیں
همانان که از پروردگارشان در نهان میترسند، و از قیامت بیم دارند!
Tafsir Ibn Kathir
And indeed We granted to Musa and Harun the criterion, and a shining light and a Reminder for those who have Taqwa (48)Those who fear their Lord in the unseen, and they are afraid of the Hour (49)And this is a blessed Reminder which We have sent down; will you then deny it (50)
The Revelation of the Tawrah and the Qur'an
We have already noted that Allah often mentions Musa and Muhammad together – may the peace and blessings of Allah be upon them both – and He often mentions their Books together as well. He says:
وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ وَهَارُونَ الْفُرْقَانَ
(And indeed We granted to Musa and Harun the criterion) Mujahid said, "This means the Scripture." Abu Salih said: "The Tawrah." Qatadah said: "The Tawrah, what it permits and it forbids, and how Allah differentiated between truth and falsehood." In conclusion, we may say that the heavenly Books included the distinction between truth and falsehood, guidance and misguidance, transgression and the right way, lawful and unlawful, and that which will fill the heart with light, guidance, fear of Allah and repentance. So Allah says:
الْفُرْقَانَ وَضِيَاءً وَذِكْرًا لِّلْمُتَّقِينَ
(the criterion, and a shining light and a Reminder for those who have Taqwa.) meaning, a reminder and exhortation for them. Then He describes them as:
الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ
(Those who fear their Lord in the unseen.) This is like the Ayah:
مَّنْ خَشِيَ الرَّحْمَٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِيبٍ
(Who feared the Most Gracious in the unseen and came with a repenting heart.)(50:33)
إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ
(Verily, those who fear their Lord unseen, theirs will be forgiveness and a great reward.)(67:12)
وَهُم مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُونَ
(and they are afraid of the Hour.) means, they fear it. Then Allah says:
وَهَٰذَا ذِكْرٌ مُّبَارَكٌ أَنزَلْنَاهُ
(And this is a blessed Reminder which We have sent down;) means, the Magnificent Qur'an, which falsehood cannot approach, from before it or behind it, revealed by the All-Wise, Worthy of all praise.
أَفَأَنتُمْ لَهُ مُنكِرُونَ
(will you then deny it?) means, will you deny it when it is the utmost in clarity and truth?
Tafsir Ibn Kathir
کتاب النور ہم پہلے بھی اس بات کو جتا چکے کہ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت محمد ﷺ کا ذکر اکثر ملاجلا آتا ہے اور اسی طرح توراۃ اور قرآن کا ذکر بھی عموماً ایک ساتھ ہی ہوتا ہے۔ فرقان سے مراد کتاب یعنی تورات ہے جو حق وباطل حرام حلال میں فرق کرنے والی تھی۔ اسی سے جناب موسیٰ ؑ کو مدد ملی۔ کل کو کل آسمانی کتابیں حق وباطل ہدایت و گمراہی بھلائی برائی حلال وحرام میں جدائی کرنے والی ہوتی ہیں۔ ان سے دلوں میں نورانیت، اعمال میں حقانیت، اللہ کا خوف وخشیت ڈر اور اللہ کی طرف رجوع حاصل ہوتا ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے یہ کتاب نصیحت وپند اور نور و روشنی ہے۔ پھر ان متقیوں کا وصف بیان فرمایا کہ وہ اپنے اللہ سے غائبانہ ڈرتے ہیں رہتے ہیں۔ جیسے جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا آیت (مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بالْغَيْبِ وَجَاۗءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبِۨ 33ۙ) 50۔ ق :33) جو رحمن سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور جھکنے والا دل رکھتے ہیں۔ اور آیت میں ہے جو لوگ اپنے رب کا غائبانہ ڈر رکھتے ہیں۔ ان کے لئے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر ہے۔ ان متقیوں کا دوسرا وصف یہ ہے کہ قیامت کا کھٹکا رکھتے ہیں۔ اس کی ہولناکیوں سے لرزاں وترساں رہتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ اس قرآن عظیم کو بھی ہم نے ہی نازل فرمایا ہے جس کے آس پاس بھی باطل نہیں آسکتا۔ جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اترا ہے۔ افسوس کیا اس قدر وضاحت و حقانیت صداقت ونورانیت والا قرآن بھی اس قابل ہے کہ تم اس کے منکر بنے رہو ؟۔
Tafsir Ibn Kathir
قَدْ تَقَدَّمَ التَّنْبِيهُ عَلَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَثِيرًا مَا يَقْرِنُ بَيْنَ ذِكْرِ مُوسَى وَمُحَمَّدٍ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا، وَبَيْنَ كِتَابَيْهِمَا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى وَهَارُونَ الْفُرْقَانَ﴾ . قَالَ مُجَاهِدٌ: يَعْنِي: الْكِتَابَ. وَقَالَ أَبُو صَالِحٍ: التَّوْرَاةُ، وَقَالَ قَتَادَةُ: التَّوْرَاةُ، حَلَالُهَا وَحَرَامُهَا، وَمَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ. وَقَالَ ابْنُ زَيْدٍ: يَعْنِي: النَّصْرَ.
وَجَامِعُ الْقَوْلِ فِي ذَلِكَ: أَنَّ الْكُتُبَ السَّمَاوِيَّةَ تَشْتَمِلُ عَلَى التَّفْرِقَةِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، وَالْهُدَى وَالضَّلَالِ، وَالْغَيِّ وَالرَّشَادِ، وَالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ، وَعَلَى مَا يُحَصِّلُ نُورًا فِي الْقُلُوبِ، وَهِدَايَةً وَخَوْفًا وَإِنَابَةً وَخَشْيَةً؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿الْفُرْقَانَ وَضِيَاءً وَذِكْرًا لِلْمُتَّقِينَ﴾ أَيْ: [تَذْكِيرًا] [[زيادة من ف.]] لَهُمْ وَعِظَةً.
ثُمَّ وَصَفَهُمْ فَقَالَ: ﴿الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ﴾ كَقَوْلِهِ ﴿مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُنِيبٍ﴾ [ق:٣٣] ، وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ﴾ [الْمُلْكِ:١٢] ، ﴿وَهُمْ مِنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُونَ﴾ أَيْ: خَائِفُونَ وَجِلُونَ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَهَذَا ذِكْرٌ مُبَارَكٌ أَنزلْنَاهُ﴾ يَعْنِي: الْقُرْآنُ الْعَظِيمُ، الذِي لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ، ﴿أَفَأَنْتُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ﴾ أَيْ: أَفَتُنْكِرُونَهُ وَهُوَ فِي غَايَةِ [الْجَلَاءِ] [[زيادة من ف.]] وَالظُّهُورِ؟.
وَهَٰذَا ذِكْرٌۭ مُّبَارَكٌ أَنزَلْنَٰهُ ۚ أَفَأَنتُمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ
And this [Qur'an] is a blessed message which We have sent down. Then are you with it unacquainted?
یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے تو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو؟
و این (قرآن) ذکر مبارکی است که (بر شما) نازل کردیم؛ آیا شما آن را انکار میکنید؟!
Tafsir Ibn Kathir
And indeed We granted to Musa and Harun the criterion, and a shining light and a Reminder for those who have Taqwa (48)Those who fear their Lord in the unseen, and they are afraid of the Hour (49)And this is a blessed Reminder which We have sent down; will you then deny it (50)
The Revelation of the Tawrah and the Qur'an
We have already noted that Allah often mentions Musa and Muhammad together – may the peace and blessings of Allah be upon them both – and He often mentions their Books together as well. He says:
وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ وَهَارُونَ الْفُرْقَانَ
(And indeed We granted to Musa and Harun the criterion) Mujahid said, "This means the Scripture." Abu Salih said: "The Tawrah." Qatadah said: "The Tawrah, what it permits and it forbids, and how Allah differentiated between truth and falsehood." In conclusion, we may say that the heavenly Books included the distinction between truth and falsehood, guidance and misguidance, transgression and the right way, lawful and unlawful, and that which will fill the heart with light, guidance, fear of Allah and repentance. So Allah says:
الْفُرْقَانَ وَضِيَاءً وَذِكْرًا لِّلْمُتَّقِينَ
(the criterion, and a shining light and a Reminder for those who have Taqwa.) meaning, a reminder and exhortation for them. Then He describes them as:
الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ
(Those who fear their Lord in the unseen.) This is like the Ayah:
مَّنْ خَشِيَ الرَّحْمَٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِيبٍ
(Who feared the Most Gracious in the unseen and came with a repenting heart.)(50:33)
إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ
(Verily, those who fear their Lord unseen, theirs will be forgiveness and a great reward.)(67:12)
وَهُم مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُونَ
(and they are afraid of the Hour.) means, they fear it. Then Allah says:
وَهَٰذَا ذِكْرٌ مُّبَارَكٌ أَنزَلْنَاهُ
(And this is a blessed Reminder which We have sent down;) means, the Magnificent Qur'an, which falsehood cannot approach, from before it or behind it, revealed by the All-Wise, Worthy of all praise.
أَفَأَنتُمْ لَهُ مُنكِرُونَ
(will you then deny it?) means, will you deny it when it is the utmost in clarity and truth?
Tafsir Ibn Kathir
کتاب النور ہم پہلے بھی اس بات کو جتا چکے کہ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت محمد ﷺ کا ذکر اکثر ملاجلا آتا ہے اور اسی طرح توراۃ اور قرآن کا ذکر بھی عموماً ایک ساتھ ہی ہوتا ہے۔ فرقان سے مراد کتاب یعنی تورات ہے جو حق وباطل حرام حلال میں فرق کرنے والی تھی۔ اسی سے جناب موسیٰ ؑ کو مدد ملی۔ کل کو کل آسمانی کتابیں حق وباطل ہدایت و گمراہی بھلائی برائی حلال وحرام میں جدائی کرنے والی ہوتی ہیں۔ ان سے دلوں میں نورانیت، اعمال میں حقانیت، اللہ کا خوف وخشیت ڈر اور اللہ کی طرف رجوع حاصل ہوتا ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے یہ کتاب نصیحت وپند اور نور و روشنی ہے۔ پھر ان متقیوں کا وصف بیان فرمایا کہ وہ اپنے اللہ سے غائبانہ ڈرتے ہیں رہتے ہیں۔ جیسے جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا آیت (مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بالْغَيْبِ وَجَاۗءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبِۨ 33ۙ) 50۔ ق :33) جو رحمن سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور جھکنے والا دل رکھتے ہیں۔ اور آیت میں ہے جو لوگ اپنے رب کا غائبانہ ڈر رکھتے ہیں۔ ان کے لئے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر ہے۔ ان متقیوں کا دوسرا وصف یہ ہے کہ قیامت کا کھٹکا رکھتے ہیں۔ اس کی ہولناکیوں سے لرزاں وترساں رہتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ اس قرآن عظیم کو بھی ہم نے ہی نازل فرمایا ہے جس کے آس پاس بھی باطل نہیں آسکتا۔ جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اترا ہے۔ افسوس کیا اس قدر وضاحت و حقانیت صداقت ونورانیت والا قرآن بھی اس قابل ہے کہ تم اس کے منکر بنے رہو ؟۔
Tafsir Ibn Kathir
قَدْ تَقَدَّمَ التَّنْبِيهُ عَلَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَثِيرًا مَا يَقْرِنُ بَيْنَ ذِكْرِ مُوسَى وَمُحَمَّدٍ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا، وَبَيْنَ كِتَابَيْهِمَا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى وَهَارُونَ الْفُرْقَانَ﴾ . قَالَ مُجَاهِدٌ: يَعْنِي: الْكِتَابَ. وَقَالَ أَبُو صَالِحٍ: التَّوْرَاةُ، وَقَالَ قَتَادَةُ: التَّوْرَاةُ، حَلَالُهَا وَحَرَامُهَا، وَمَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ. وَقَالَ ابْنُ زَيْدٍ: يَعْنِي: النَّصْرَ.
وَجَامِعُ الْقَوْلِ فِي ذَلِكَ: أَنَّ الْكُتُبَ السَّمَاوِيَّةَ تَشْتَمِلُ عَلَى التَّفْرِقَةِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، وَالْهُدَى وَالضَّلَالِ، وَالْغَيِّ وَالرَّشَادِ، وَالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ، وَعَلَى مَا يُحَصِّلُ نُورًا فِي الْقُلُوبِ، وَهِدَايَةً وَخَوْفًا وَإِنَابَةً وَخَشْيَةً؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿الْفُرْقَانَ وَضِيَاءً وَذِكْرًا لِلْمُتَّقِينَ﴾ أَيْ: [تَذْكِيرًا] [[زيادة من ف.]] لَهُمْ وَعِظَةً.
ثُمَّ وَصَفَهُمْ فَقَالَ: ﴿الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ﴾ كَقَوْلِهِ ﴿مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُنِيبٍ﴾ [ق:٣٣] ، وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ﴾ [الْمُلْكِ:١٢] ، ﴿وَهُمْ مِنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُونَ﴾ أَيْ: خَائِفُونَ وَجِلُونَ.
ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: ﴿وَهَذَا ذِكْرٌ مُبَارَكٌ أَنزلْنَاهُ﴾ يَعْنِي: الْقُرْآنُ الْعَظِيمُ، الذِي لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ، ﴿أَفَأَنْتُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ﴾ أَيْ: أَفَتُنْكِرُونَهُ وَهُوَ فِي غَايَةِ [الْجَلَاءِ] [[زيادة من ف.]] وَالظُّهُورِ؟.
۞ وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَٰهِيمَ رُشْدَهُۥ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِۦ عَٰلِمِينَ
And We had certainly given Abraham his sound judgement before, and We were of him well-Knowing
اور ہم نے ابراہیمؑ کو پہلے ہی سے ہدایت دی تھی اور ہم ان کے حال سے واقف تھے
ما وسیله رشد ابراهیم را از قبل به او دادیم؛ و از (شایستگی) او آگاه بودیم...
Tafsir Ibn Kathir
And indeed We bestowed aforetime on Ibrahim his guidance, and We were Well-Acquainted with him (51)When he said to his father and his people: "What are these images to which you are devoted? (52)They said: "We found our fathers worshipping them. (53)He said: "Indeed you and your fathers have been in manifest error. (54)They said: "Have you brought us the Truth, or are you one of those who play about?? (55)He said: "Nay, your Lord is the Lord of the heavens and the earth, Who created them and to that I am one of the witnesses. (56)
The Story of Ibrahim and his People
Allah tells us about His close Friend Ibrahim, peace be upon him, and how He bestowed upon him guidance aforetime, i.e., from an early age He inspired him with truth and evidence against his people, as Allah says elsewhere:
وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ
(And that was Our proof which We gave Ibrahim against his people)[6:83]. The point here is that Allah is telling us that He gave guidance to Ibrahim aforetime, i.e., He had already guided him at an early age.
وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ
(and We were Well-Acquainted with him.) means, and he was worthy of that. Then Allah says:
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ
(When he said to his father and his people: "What are these images, to which you are devoted?") This is the guidance which he had been given during his youth: his denunciation of his people's worship of idols instead of Allah. Ibrahim said:
مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ
("What are these images, to which you are devoted?") meaning, which you worship with such devotion.
قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ
(They said: "We found our fathers worshipping them.") means, they had no other evidence apart from the misguided actions of their forefathers. Ibrahim said:
لَقَدْ كُنتُمْ أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(Indeed you and your fathers have been in manifest error.) meaning, Speaking to your fathers whose actions you cite as evidence would be the same as speaking to you. Both you and they are misguided and are not following any straight path.' When he called their intelligence into question, and said that their fathers were misguided and belittled their gods,
قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنتَ مِنَ اللَّاعِبِينَ
(They said: "Have you brought us the Truth, or are you one of those who play about?") They said: 'These words that you are saying, are you speaking in jest or are you telling the truth? For we have never heard such a thing before.'
قَالَ بَل رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ
(He said: "Nay, your Lord is the Lord of the heavens and the earth, Who created them...") meaning, your Lord, beside Whom there is no other god, is the One Who created the heavens and the earth and all that they contain; He is the One Who initiated their creation; He is the Creator of all things.
وَأَنَا عَلَىٰ ذَٰلِكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ
(and to that I am one of the witnesses.) means, and I bear witness that there is no God other than Him and no Lord except Him.
Tafsir Ibn Kathir
یہودی روایتوں سے بچو فرمان ہے کہ خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی جیسے آیت میں ہے وتلک حجتنا اتیناہا ابراہیم علی قومہ۔ یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم ؑ کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کرسکیں۔ یہ جو قصے مشہور ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے مطابق ہو جو حق ہمارے ہاتھوں میں ہے یعنی کتاب وسنت وہ تو سچا ہے اور قابل قبول ہے اس لئے کہ وہ صحت کے مطابق ہے اور جو خلاف ہو وہ مردود ہے۔ اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، موافقت و مخالفت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے لیکن نہ تو ہم اسے سچا کرسکتے ہیں نہ غلط۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ وہ واقعات ہمارے لئے کچھ سند نہیں، نہ ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہماری جامع نافع کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی۔ ہمارا اپنا مسلک تو اس تفسیر میں یہ رہا ہے کہ ہم ایسی بنی اسرائیلی روایتوں کو وارد نہیں کرتے کیونکہ اس میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کہ کوئی نفع نہیں ہاں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ بنی اسرائیل میں روایت کی جانچ پڑتال کا مادہ ہی نہ تھا وہ سچ جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہی نہ تھے ان میں جھوٹ سرایت کر گیا تھا جیسے کہ ہمارے حفاظ ائمہ نے تشریح کی ہے۔ غرض یہ ہے کہ آیت میں اس امر کا بیان ہے کہ ہم نے اس سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ کو ہدایت بخشی تھی اور ہم جانتے تھے کہ وہ اس کے لائق ہے بچپنے میں ہی آپ نے اپنی قوم کی غیر اللہ پرستی کو ناپسند فرمایا۔ اور نہایت جرات سے اس کا سخت انکار کیا اور قوم سے برملا کہا کہ ان بتوں کے اردگرد مجمع لگا کر کیا بیٹھے ہو ؟ حضرت اصبح بن بناتہ راہ سے گزر رہے تھے جو دیکھا کہ شطرنج باز لوگ بازی کھیل رہے ہیں۔ آپ نے یہی تلاوت فرما کر فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں جلتا ہوا انگارا لے لے یہ اس شطرنج کے مہروں کے لینے سے اچھا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی اس کھلی دلیل کا جواب ان کے پاس کیا تھا جو دیتے ؟ کہنے لگے کہ یہ تو پرانی روش ہے، باپ دادوں سے چلی آتی ہے۔ آپ نے فرمایا واہ یہ بھی کوئی دلیل ہوئی ؟ ہمارا اعتراض جو تم پر ہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے ایک گمراہی میں تمہارے بڑے مبتلا ہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہوجاؤ تو وہ بھلائی بننے سے رہی ؟ میں کہتا ہوں تم اور تمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہوگئے ہو اور کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو۔ اب تو ان کے کان کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے عقل مندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ دادوں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے۔ اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی تو گھبراگئے اور کہنے لگے ابراہیم کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو یا مذاق کررہے ؟ ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔ آپ کو تبلیغ کا موقعہ ملا اور صاف اعلان کیا کہ رب تو صرف خالق آسمان و زمین ہی ہے۔ تمام چیزوں کا خالق مالک وہی ہے، تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی خالق ہیں نہ مالک۔ پھر معبود مسجود کیسے ہوگئے ؟ میری گواہی ہے کہ خالق ومالک اللہ ہی لائق عبادت ہے نہ اسکے سوا کوئی رب نہ معبود۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ خَلِيلِهِ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهُ آتَاهُ رُشْدَهُ مِنْ قَبْلُ، أَيْ: مِنْ صِغَرِهِ أَلْهَمَهُ الْحَقَّ وَالْحُجَّةَ عَلَى قَوْمِهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ﴾ [الْأَنْعَامِ:٨٣] ، وَمَا يُذْكَرُ مِنَ الْأَخْبَارِ عَنْهُ [[في ف: "عنه من الأخبار".]] فِي إِدْخَالِ أَبِيهِ لَهُ فِي السِّرْبِ، وَهُوَ رَضِيعٌ، وَأَنَّهُ خَرَجَ بِهِ بَعْدَ أَيْامٍ، فَنَظَرَ إِلَى الْكَوْكَبِ وَالْمَخْلُوقَاتِ، فَتَبَصَّرَ فِيهَا وَمَا قَصَّهُ كَثِيرٌ مِنَ الْمُفَسِّرِينَ وَغَيْرِهِمْ -فَعَامَّتُهَا أَحَادِيثُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَمَا وَافَقَ مِنْهَا الْحَقَّ مِمَّا بِأَيْدِينَا عَنِ الْمَعْصُومِ قَبِلْنَاهُ لِمُوَافَقَتِهِ الصَّحِيحَ، وَمَا خَالَفَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ رَدَدْنَاهُ، وَمَا لَيْسَ فِيهِ مُوَافَقَةٌ وَلَا مُخَالَفَةٌ لَا نصدقه ولا نكذبه، بل نجعله وفقًا، وَمَا كَانَ مِنْ هَذَا الضَّرْبِ مِنْهَا فَقَدْ تَرَخَّصَ كَثِيرٌ مِنَ السَّلَفِ فِي رِوَايَتِهَا، وَكَثِيرٌ مِنْ ذَلِكَ مَا لَا فَائِدَةَ فِيهِ، وَلَا حاصل له مِمَّا يُنْتَفَعُ بِهِ فِي الدِّينِ. وَلَوْ كَانَتْ فِيهِ فَائِدَةٌ تَعُودُ عَلَى الْمُكَلَّفِينَ فِي دِينِهِمْ لَبَيَّنَتْهُ هَذِهِ الشَّرِيعَةُ الْكَامِلَةُ الشَّامِلَةُ. وَالَّذِي نَسْلُكُهُ [[في هـ: "يذكر" والمثبت من ف.]] فِي هَذَا التَّفْسِيرِ الْإِعْرَاضُ عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْأَحَادِيثِ الْإِسْرَائِيلِيَّةِ، لِمَا فِيهَا مِنْ تَضْيِيعِ الزَّمَانِ، وَلِمَا اشْتَمَلَ عَلَيْهِ كَثِيرٌ مِنْهَا مِنَ الْكَذِبِ الْمُرَوَّجِ عَلَيْهِمْ، فَإِنَّهُمْ لَا تَفْرِقَةَ [[في ف: "لا معرفة".]] عِنْدَهُمْ بَيْنَ صَحِيحِهَا وَسَقِيمِهَا كَمَا حَرَّرَهُ الْأَئِمَّةُ الْحُفَّاظُ الْمُتْقِنُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ.
وَالْمَقْصُودُ هَاهُنَا: أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَخْبَرَ أَنَّهُ قَدْ آتَى إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ، مِنْ قَبْلُ، أَيْ: مِنْ قَبْلِ ذَلِكَ، وَقَوْلُهُ: ﴿وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ﴾ أَيْ: وَكَانَ أَهْلًا لِذَلِكَ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿إِذْ قَالَ لأبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ﴾ هَذَا هُوَ الرُّشْدُ الَّذِي أُوتِيهِ مِنْ صِغَرِهِ، الْإِنْكَارُ عَلَى قَوْمِهِ فِي عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ مِنْ دُونِ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: ﴿مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ﴾ أَيْ: مُعْتَكِفُونَ عَلَى عِبَادَتِهَا.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحُ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ، عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ، قَالَ: مَرَّ عَلِيٌّ، عَلَى قَوْمٍ يَلْعَبُونَ بِالشِّطْرَنْجِ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ؟ لَأَنْ يَمَسَّ أَحَدُكُمْ جَمْرًا حَتَّى يُطْفَأَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمَسَّهَا.
﴿قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ﴾ : لَمْ يَكُنْ لَهُمْ حُجَّةٌ سِوَى صَنِيعِ آبَائِهِمُ الضُّلَّالِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلالٍ مُبِينٍ﴾ أَيِ: الْكَلَامُ مَعَ آبَائِكُمُ الَّذِينَ احْتَجَجْتُمْ بِصَنِيعِهِمْ كَالْكَلَامِ مَعَكُمْ، فَأَنْتُمْ وَهُمْ فِي ضَلَالٍ عَلَى غَيْرِ الطَّرِيقِ الْمُسْتَقِيمِ.
فَلَمَّا سَفَّهَ أَحْلَامَهُمْ، وَضَلَّلَ آبَاءَهُمْ، وَاحْتَقَرَ آلِهَتَهُمْ ﴿قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنْتَ مِنَ اللاعِبِينَ﴾ يَقُولُونَ [[في ف: "يقول".]] : هَذَا الْكَلَامُ الصَّادِرُ عَنْكَ تَقُولُهُ لَاعِبًا أَوْ مُحِقًّا فِيهِ؟ فَإِنَّا لَمْ نَسْمَعْ بِهِ قَبْلَكَ.
﴿قَالَ بَل رَبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ﴾ أَيْ: رَبُّكُمْ الَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، هُوَ الَّذِي خَلَقَ السموات [وَالْأَرْضَ] [[زيادة من ف.]] وَمَا حَوَتْ مِنَ الْمَخْلُوقَاتِ الَّذِي ابْتَدَأَ خَلْقَهُنَّ، وَهُوَ الْخَالِقُ لِجَمِيعِ الْأَشْيَاءِ ﴿وَأَنَا عَلَى ذَلِكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ﴾ أَيْ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، وَلَا رَبَّ سِوَاهُ.
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِۦ مَا هَٰذِهِ ٱلتَّمَاثِيلُ ٱلَّتِىٓ أَنتُمْ لَهَا عَٰكِفُونَ
When he said to his father and his people, "What are these statues to which you are devoted?"
جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا یہ کیا مورتیں ہیں جن (کی پرستش) پر تم معتکف (وقائم) ہو؟
آن هنگام که به پدرش (آزر) و قوم او گفت: «این مجسمههای بیروح چیست که شما همواره آنها را پرستش میکنید؟!»
Tafsir Ibn Kathir
And indeed We bestowed aforetime on Ibrahim his guidance, and We were Well-Acquainted with him (51)When he said to his father and his people: "What are these images to which you are devoted? (52)They said: "We found our fathers worshipping them. (53)He said: "Indeed you and your fathers have been in manifest error. (54)They said: "Have you brought us the Truth, or are you one of those who play about?? (55)He said: "Nay, your Lord is the Lord of the heavens and the earth, Who created them and to that I am one of the witnesses. (56)
The Story of Ibrahim and his People
Allah tells us about His close Friend Ibrahim, peace be upon him, and how He bestowed upon him guidance aforetime, i.e., from an early age He inspired him with truth and evidence against his people, as Allah says elsewhere:
وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ
(And that was Our proof which We gave Ibrahim against his people)[6:83]. The point here is that Allah is telling us that He gave guidance to Ibrahim aforetime, i.e., He had already guided him at an early age.
وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ
(and We were Well-Acquainted with him.) means, and he was worthy of that. Then Allah says:
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ
(When he said to his father and his people: "What are these images, to which you are devoted?") This is the guidance which he had been given during his youth: his denunciation of his people's worship of idols instead of Allah. Ibrahim said:
مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ
("What are these images, to which you are devoted?") meaning, which you worship with such devotion.
قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ
(They said: "We found our fathers worshipping them.") means, they had no other evidence apart from the misguided actions of their forefathers. Ibrahim said:
لَقَدْ كُنتُمْ أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(Indeed you and your fathers have been in manifest error.) meaning, Speaking to your fathers whose actions you cite as evidence would be the same as speaking to you. Both you and they are misguided and are not following any straight path.' When he called their intelligence into question, and said that their fathers were misguided and belittled their gods,
قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنتَ مِنَ اللَّاعِبِينَ
(They said: "Have you brought us the Truth, or are you one of those who play about?") They said: 'These words that you are saying, are you speaking in jest or are you telling the truth? For we have never heard such a thing before.'
قَالَ بَل رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ
(He said: "Nay, your Lord is the Lord of the heavens and the earth, Who created them...") meaning, your Lord, beside Whom there is no other god, is the One Who created the heavens and the earth and all that they contain; He is the One Who initiated their creation; He is the Creator of all things.
وَأَنَا عَلَىٰ ذَٰلِكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ
(and to that I am one of the witnesses.) means, and I bear witness that there is no God other than Him and no Lord except Him.
Tafsir Ibn Kathir
یہودی روایتوں سے بچو فرمان ہے کہ خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی جیسے آیت میں ہے وتلک حجتنا اتیناہا ابراہیم علی قومہ۔ یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم ؑ کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کرسکیں۔ یہ جو قصے مشہور ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے مطابق ہو جو حق ہمارے ہاتھوں میں ہے یعنی کتاب وسنت وہ تو سچا ہے اور قابل قبول ہے اس لئے کہ وہ صحت کے مطابق ہے اور جو خلاف ہو وہ مردود ہے۔ اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، موافقت و مخالفت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے لیکن نہ تو ہم اسے سچا کرسکتے ہیں نہ غلط۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ وہ واقعات ہمارے لئے کچھ سند نہیں، نہ ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہماری جامع نافع کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی۔ ہمارا اپنا مسلک تو اس تفسیر میں یہ رہا ہے کہ ہم ایسی بنی اسرائیلی روایتوں کو وارد نہیں کرتے کیونکہ اس میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کہ کوئی نفع نہیں ہاں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ بنی اسرائیل میں روایت کی جانچ پڑتال کا مادہ ہی نہ تھا وہ سچ جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہی نہ تھے ان میں جھوٹ سرایت کر گیا تھا جیسے کہ ہمارے حفاظ ائمہ نے تشریح کی ہے۔ غرض یہ ہے کہ آیت میں اس امر کا بیان ہے کہ ہم نے اس سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ کو ہدایت بخشی تھی اور ہم جانتے تھے کہ وہ اس کے لائق ہے بچپنے میں ہی آپ نے اپنی قوم کی غیر اللہ پرستی کو ناپسند فرمایا۔ اور نہایت جرات سے اس کا سخت انکار کیا اور قوم سے برملا کہا کہ ان بتوں کے اردگرد مجمع لگا کر کیا بیٹھے ہو ؟ حضرت اصبح بن بناتہ راہ سے گزر رہے تھے جو دیکھا کہ شطرنج باز لوگ بازی کھیل رہے ہیں۔ آپ نے یہی تلاوت فرما کر فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں جلتا ہوا انگارا لے لے یہ اس شطرنج کے مہروں کے لینے سے اچھا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی اس کھلی دلیل کا جواب ان کے پاس کیا تھا جو دیتے ؟ کہنے لگے کہ یہ تو پرانی روش ہے، باپ دادوں سے چلی آتی ہے۔ آپ نے فرمایا واہ یہ بھی کوئی دلیل ہوئی ؟ ہمارا اعتراض جو تم پر ہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے ایک گمراہی میں تمہارے بڑے مبتلا ہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہوجاؤ تو وہ بھلائی بننے سے رہی ؟ میں کہتا ہوں تم اور تمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہوگئے ہو اور کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو۔ اب تو ان کے کان کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے عقل مندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ دادوں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے۔ اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی تو گھبراگئے اور کہنے لگے ابراہیم کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو یا مذاق کررہے ؟ ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔ آپ کو تبلیغ کا موقعہ ملا اور صاف اعلان کیا کہ رب تو صرف خالق آسمان و زمین ہی ہے۔ تمام چیزوں کا خالق مالک وہی ہے، تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی خالق ہیں نہ مالک۔ پھر معبود مسجود کیسے ہوگئے ؟ میری گواہی ہے کہ خالق ومالک اللہ ہی لائق عبادت ہے نہ اسکے سوا کوئی رب نہ معبود۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ خَلِيلِهِ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهُ آتَاهُ رُشْدَهُ مِنْ قَبْلُ، أَيْ: مِنْ صِغَرِهِ أَلْهَمَهُ الْحَقَّ وَالْحُجَّةَ عَلَى قَوْمِهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ﴾ [الْأَنْعَامِ:٨٣] ، وَمَا يُذْكَرُ مِنَ الْأَخْبَارِ عَنْهُ [[في ف: "عنه من الأخبار".]] فِي إِدْخَالِ أَبِيهِ لَهُ فِي السِّرْبِ، وَهُوَ رَضِيعٌ، وَأَنَّهُ خَرَجَ بِهِ بَعْدَ أَيْامٍ، فَنَظَرَ إِلَى الْكَوْكَبِ وَالْمَخْلُوقَاتِ، فَتَبَصَّرَ فِيهَا وَمَا قَصَّهُ كَثِيرٌ مِنَ الْمُفَسِّرِينَ وَغَيْرِهِمْ -فَعَامَّتُهَا أَحَادِيثُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَمَا وَافَقَ مِنْهَا الْحَقَّ مِمَّا بِأَيْدِينَا عَنِ الْمَعْصُومِ قَبِلْنَاهُ لِمُوَافَقَتِهِ الصَّحِيحَ، وَمَا خَالَفَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ رَدَدْنَاهُ، وَمَا لَيْسَ فِيهِ مُوَافَقَةٌ وَلَا مُخَالَفَةٌ لَا نصدقه ولا نكذبه، بل نجعله وفقًا، وَمَا كَانَ مِنْ هَذَا الضَّرْبِ مِنْهَا فَقَدْ تَرَخَّصَ كَثِيرٌ مِنَ السَّلَفِ فِي رِوَايَتِهَا، وَكَثِيرٌ مِنْ ذَلِكَ مَا لَا فَائِدَةَ فِيهِ، وَلَا حاصل له مِمَّا يُنْتَفَعُ بِهِ فِي الدِّينِ. وَلَوْ كَانَتْ فِيهِ فَائِدَةٌ تَعُودُ عَلَى الْمُكَلَّفِينَ فِي دِينِهِمْ لَبَيَّنَتْهُ هَذِهِ الشَّرِيعَةُ الْكَامِلَةُ الشَّامِلَةُ. وَالَّذِي نَسْلُكُهُ [[في هـ: "يذكر" والمثبت من ف.]] فِي هَذَا التَّفْسِيرِ الْإِعْرَاضُ عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْأَحَادِيثِ الْإِسْرَائِيلِيَّةِ، لِمَا فِيهَا مِنْ تَضْيِيعِ الزَّمَانِ، وَلِمَا اشْتَمَلَ عَلَيْهِ كَثِيرٌ مِنْهَا مِنَ الْكَذِبِ الْمُرَوَّجِ عَلَيْهِمْ، فَإِنَّهُمْ لَا تَفْرِقَةَ [[في ف: "لا معرفة".]] عِنْدَهُمْ بَيْنَ صَحِيحِهَا وَسَقِيمِهَا كَمَا حَرَّرَهُ الْأَئِمَّةُ الْحُفَّاظُ الْمُتْقِنُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ.
وَالْمَقْصُودُ هَاهُنَا: أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَخْبَرَ أَنَّهُ قَدْ آتَى إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ، مِنْ قَبْلُ، أَيْ: مِنْ قَبْلِ ذَلِكَ، وَقَوْلُهُ: ﴿وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ﴾ أَيْ: وَكَانَ أَهْلًا لِذَلِكَ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿إِذْ قَالَ لأبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ﴾ هَذَا هُوَ الرُّشْدُ الَّذِي أُوتِيهِ مِنْ صِغَرِهِ، الْإِنْكَارُ عَلَى قَوْمِهِ فِي عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ مِنْ دُونِ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: ﴿مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ﴾ أَيْ: مُعْتَكِفُونَ عَلَى عِبَادَتِهَا.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحُ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ، عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ، قَالَ: مَرَّ عَلِيٌّ، عَلَى قَوْمٍ يَلْعَبُونَ بِالشِّطْرَنْجِ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ؟ لَأَنْ يَمَسَّ أَحَدُكُمْ جَمْرًا حَتَّى يُطْفَأَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمَسَّهَا.
﴿قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ﴾ : لَمْ يَكُنْ لَهُمْ حُجَّةٌ سِوَى صَنِيعِ آبَائِهِمُ الضُّلَّالِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلالٍ مُبِينٍ﴾ أَيِ: الْكَلَامُ مَعَ آبَائِكُمُ الَّذِينَ احْتَجَجْتُمْ بِصَنِيعِهِمْ كَالْكَلَامِ مَعَكُمْ، فَأَنْتُمْ وَهُمْ فِي ضَلَالٍ عَلَى غَيْرِ الطَّرِيقِ الْمُسْتَقِيمِ.
فَلَمَّا سَفَّهَ أَحْلَامَهُمْ، وَضَلَّلَ آبَاءَهُمْ، وَاحْتَقَرَ آلِهَتَهُمْ ﴿قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنْتَ مِنَ اللاعِبِينَ﴾ يَقُولُونَ [[في ف: "يقول".]] : هَذَا الْكَلَامُ الصَّادِرُ عَنْكَ تَقُولُهُ لَاعِبًا أَوْ مُحِقًّا فِيهِ؟ فَإِنَّا لَمْ نَسْمَعْ بِهِ قَبْلَكَ.
﴿قَالَ بَل رَبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ﴾ أَيْ: رَبُّكُمْ الَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، هُوَ الَّذِي خَلَقَ السموات [وَالْأَرْضَ] [[زيادة من ف.]] وَمَا حَوَتْ مِنَ الْمَخْلُوقَاتِ الَّذِي ابْتَدَأَ خَلْقَهُنَّ، وَهُوَ الْخَالِقُ لِجَمِيعِ الْأَشْيَاءِ ﴿وَأَنَا عَلَى ذَلِكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ﴾ أَيْ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، وَلَا رَبَّ سِوَاهُ.
قَالُوا۟ وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا لَهَا عَٰبِدِينَ
They said, "We found our fathers worshippers of them."
وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے
گفتند: «ما پدران خود را دیدیم که آنها را عبادت میکنند.»
Tafsir Ibn Kathir
And indeed We bestowed aforetime on Ibrahim his guidance, and We were Well-Acquainted with him (51)When he said to his father and his people: "What are these images to which you are devoted? (52)They said: "We found our fathers worshipping them. (53)He said: "Indeed you and your fathers have been in manifest error. (54)They said: "Have you brought us the Truth, or are you one of those who play about?? (55)He said: "Nay, your Lord is the Lord of the heavens and the earth, Who created them and to that I am one of the witnesses. (56)
The Story of Ibrahim and his People
Allah tells us about His close Friend Ibrahim, peace be upon him, and how He bestowed upon him guidance aforetime, i.e., from an early age He inspired him with truth and evidence against his people, as Allah says elsewhere:
وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ
(And that was Our proof which We gave Ibrahim against his people)[6:83]. The point here is that Allah is telling us that He gave guidance to Ibrahim aforetime, i.e., He had already guided him at an early age.
وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ
(and We were Well-Acquainted with him.) means, and he was worthy of that. Then Allah says:
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ
(When he said to his father and his people: "What are these images, to which you are devoted?") This is the guidance which he had been given during his youth: his denunciation of his people's worship of idols instead of Allah. Ibrahim said:
مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ
("What are these images, to which you are devoted?") meaning, which you worship with such devotion.
قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ
(They said: "We found our fathers worshipping them.") means, they had no other evidence apart from the misguided actions of their forefathers. Ibrahim said:
لَقَدْ كُنتُمْ أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(Indeed you and your fathers have been in manifest error.) meaning, Speaking to your fathers whose actions you cite as evidence would be the same as speaking to you. Both you and they are misguided and are not following any straight path.' When he called their intelligence into question, and said that their fathers were misguided and belittled their gods,
قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنتَ مِنَ اللَّاعِبِينَ
(They said: "Have you brought us the Truth, or are you one of those who play about?") They said: 'These words that you are saying, are you speaking in jest or are you telling the truth? For we have never heard such a thing before.'
قَالَ بَل رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ
(He said: "Nay, your Lord is the Lord of the heavens and the earth, Who created them...") meaning, your Lord, beside Whom there is no other god, is the One Who created the heavens and the earth and all that they contain; He is the One Who initiated their creation; He is the Creator of all things.
وَأَنَا عَلَىٰ ذَٰلِكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ
(and to that I am one of the witnesses.) means, and I bear witness that there is no God other than Him and no Lord except Him.
Tafsir Ibn Kathir
یہودی روایتوں سے بچو فرمان ہے کہ خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی جیسے آیت میں ہے وتلک حجتنا اتیناہا ابراہیم علی قومہ۔ یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم ؑ کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کرسکیں۔ یہ جو قصے مشہور ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے مطابق ہو جو حق ہمارے ہاتھوں میں ہے یعنی کتاب وسنت وہ تو سچا ہے اور قابل قبول ہے اس لئے کہ وہ صحت کے مطابق ہے اور جو خلاف ہو وہ مردود ہے۔ اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، موافقت و مخالفت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے لیکن نہ تو ہم اسے سچا کرسکتے ہیں نہ غلط۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ وہ واقعات ہمارے لئے کچھ سند نہیں، نہ ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہماری جامع نافع کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی۔ ہمارا اپنا مسلک تو اس تفسیر میں یہ رہا ہے کہ ہم ایسی بنی اسرائیلی روایتوں کو وارد نہیں کرتے کیونکہ اس میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کہ کوئی نفع نہیں ہاں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ بنی اسرائیل میں روایت کی جانچ پڑتال کا مادہ ہی نہ تھا وہ سچ جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہی نہ تھے ان میں جھوٹ سرایت کر گیا تھا جیسے کہ ہمارے حفاظ ائمہ نے تشریح کی ہے۔ غرض یہ ہے کہ آیت میں اس امر کا بیان ہے کہ ہم نے اس سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ کو ہدایت بخشی تھی اور ہم جانتے تھے کہ وہ اس کے لائق ہے بچپنے میں ہی آپ نے اپنی قوم کی غیر اللہ پرستی کو ناپسند فرمایا۔ اور نہایت جرات سے اس کا سخت انکار کیا اور قوم سے برملا کہا کہ ان بتوں کے اردگرد مجمع لگا کر کیا بیٹھے ہو ؟ حضرت اصبح بن بناتہ راہ سے گزر رہے تھے جو دیکھا کہ شطرنج باز لوگ بازی کھیل رہے ہیں۔ آپ نے یہی تلاوت فرما کر فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں جلتا ہوا انگارا لے لے یہ اس شطرنج کے مہروں کے لینے سے اچھا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی اس کھلی دلیل کا جواب ان کے پاس کیا تھا جو دیتے ؟ کہنے لگے کہ یہ تو پرانی روش ہے، باپ دادوں سے چلی آتی ہے۔ آپ نے فرمایا واہ یہ بھی کوئی دلیل ہوئی ؟ ہمارا اعتراض جو تم پر ہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے ایک گمراہی میں تمہارے بڑے مبتلا ہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہوجاؤ تو وہ بھلائی بننے سے رہی ؟ میں کہتا ہوں تم اور تمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہوگئے ہو اور کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو۔ اب تو ان کے کان کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے عقل مندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ دادوں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے۔ اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی تو گھبراگئے اور کہنے لگے ابراہیم کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو یا مذاق کررہے ؟ ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔ آپ کو تبلیغ کا موقعہ ملا اور صاف اعلان کیا کہ رب تو صرف خالق آسمان و زمین ہی ہے۔ تمام چیزوں کا خالق مالک وہی ہے، تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی خالق ہیں نہ مالک۔ پھر معبود مسجود کیسے ہوگئے ؟ میری گواہی ہے کہ خالق ومالک اللہ ہی لائق عبادت ہے نہ اسکے سوا کوئی رب نہ معبود۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ خَلِيلِهِ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهُ آتَاهُ رُشْدَهُ مِنْ قَبْلُ، أَيْ: مِنْ صِغَرِهِ أَلْهَمَهُ الْحَقَّ وَالْحُجَّةَ عَلَى قَوْمِهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ﴾ [الْأَنْعَامِ:٨٣] ، وَمَا يُذْكَرُ مِنَ الْأَخْبَارِ عَنْهُ [[في ف: "عنه من الأخبار".]] فِي إِدْخَالِ أَبِيهِ لَهُ فِي السِّرْبِ، وَهُوَ رَضِيعٌ، وَأَنَّهُ خَرَجَ بِهِ بَعْدَ أَيْامٍ، فَنَظَرَ إِلَى الْكَوْكَبِ وَالْمَخْلُوقَاتِ، فَتَبَصَّرَ فِيهَا وَمَا قَصَّهُ كَثِيرٌ مِنَ الْمُفَسِّرِينَ وَغَيْرِهِمْ -فَعَامَّتُهَا أَحَادِيثُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَمَا وَافَقَ مِنْهَا الْحَقَّ مِمَّا بِأَيْدِينَا عَنِ الْمَعْصُومِ قَبِلْنَاهُ لِمُوَافَقَتِهِ الصَّحِيحَ، وَمَا خَالَفَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ رَدَدْنَاهُ، وَمَا لَيْسَ فِيهِ مُوَافَقَةٌ وَلَا مُخَالَفَةٌ لَا نصدقه ولا نكذبه، بل نجعله وفقًا، وَمَا كَانَ مِنْ هَذَا الضَّرْبِ مِنْهَا فَقَدْ تَرَخَّصَ كَثِيرٌ مِنَ السَّلَفِ فِي رِوَايَتِهَا، وَكَثِيرٌ مِنْ ذَلِكَ مَا لَا فَائِدَةَ فِيهِ، وَلَا حاصل له مِمَّا يُنْتَفَعُ بِهِ فِي الدِّينِ. وَلَوْ كَانَتْ فِيهِ فَائِدَةٌ تَعُودُ عَلَى الْمُكَلَّفِينَ فِي دِينِهِمْ لَبَيَّنَتْهُ هَذِهِ الشَّرِيعَةُ الْكَامِلَةُ الشَّامِلَةُ. وَالَّذِي نَسْلُكُهُ [[في هـ: "يذكر" والمثبت من ف.]] فِي هَذَا التَّفْسِيرِ الْإِعْرَاضُ عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْأَحَادِيثِ الْإِسْرَائِيلِيَّةِ، لِمَا فِيهَا مِنْ تَضْيِيعِ الزَّمَانِ، وَلِمَا اشْتَمَلَ عَلَيْهِ كَثِيرٌ مِنْهَا مِنَ الْكَذِبِ الْمُرَوَّجِ عَلَيْهِمْ، فَإِنَّهُمْ لَا تَفْرِقَةَ [[في ف: "لا معرفة".]] عِنْدَهُمْ بَيْنَ صَحِيحِهَا وَسَقِيمِهَا كَمَا حَرَّرَهُ الْأَئِمَّةُ الْحُفَّاظُ الْمُتْقِنُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ.
وَالْمَقْصُودُ هَاهُنَا: أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَخْبَرَ أَنَّهُ قَدْ آتَى إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ، مِنْ قَبْلُ، أَيْ: مِنْ قَبْلِ ذَلِكَ، وَقَوْلُهُ: ﴿وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ﴾ أَيْ: وَكَانَ أَهْلًا لِذَلِكَ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿إِذْ قَالَ لأبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ﴾ هَذَا هُوَ الرُّشْدُ الَّذِي أُوتِيهِ مِنْ صِغَرِهِ، الْإِنْكَارُ عَلَى قَوْمِهِ فِي عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ مِنْ دُونِ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: ﴿مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ﴾ أَيْ: مُعْتَكِفُونَ عَلَى عِبَادَتِهَا.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحُ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ، عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ، قَالَ: مَرَّ عَلِيٌّ، عَلَى قَوْمٍ يَلْعَبُونَ بِالشِّطْرَنْجِ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ؟ لَأَنْ يَمَسَّ أَحَدُكُمْ جَمْرًا حَتَّى يُطْفَأَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمَسَّهَا.
﴿قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ﴾ : لَمْ يَكُنْ لَهُمْ حُجَّةٌ سِوَى صَنِيعِ آبَائِهِمُ الضُّلَّالِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلالٍ مُبِينٍ﴾ أَيِ: الْكَلَامُ مَعَ آبَائِكُمُ الَّذِينَ احْتَجَجْتُمْ بِصَنِيعِهِمْ كَالْكَلَامِ مَعَكُمْ، فَأَنْتُمْ وَهُمْ فِي ضَلَالٍ عَلَى غَيْرِ الطَّرِيقِ الْمُسْتَقِيمِ.
فَلَمَّا سَفَّهَ أَحْلَامَهُمْ، وَضَلَّلَ آبَاءَهُمْ، وَاحْتَقَرَ آلِهَتَهُمْ ﴿قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنْتَ مِنَ اللاعِبِينَ﴾ يَقُولُونَ [[في ف: "يقول".]] : هَذَا الْكَلَامُ الصَّادِرُ عَنْكَ تَقُولُهُ لَاعِبًا أَوْ مُحِقًّا فِيهِ؟ فَإِنَّا لَمْ نَسْمَعْ بِهِ قَبْلَكَ.
﴿قَالَ بَل رَبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ﴾ أَيْ: رَبُّكُمْ الَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، هُوَ الَّذِي خَلَقَ السموات [وَالْأَرْضَ] [[زيادة من ف.]] وَمَا حَوَتْ مِنَ الْمَخْلُوقَاتِ الَّذِي ابْتَدَأَ خَلْقَهُنَّ، وَهُوَ الْخَالِقُ لِجَمِيعِ الْأَشْيَاءِ ﴿وَأَنَا عَلَى ذَلِكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ﴾ أَيْ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، وَلَا رَبَّ سِوَاهُ.
قَالَ لَقَدْ كُنتُمْ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُمْ فِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍۢ
He said, "You were certainly, you and your fathers, in manifest error."
(ابراہیم نے) کہا کہ تم بھی (گمراہ ہو) اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے رہے
گفت: «مسلّماً هم شما و هم پدرانتان، در گمراهی آشکاری بودهاید!»
Tafsir Ibn Kathir
And indeed We bestowed aforetime on Ibrahim his guidance, and We were Well-Acquainted with him (51)When he said to his father and his people: "What are these images to which you are devoted? (52)They said: "We found our fathers worshipping them. (53)He said: "Indeed you and your fathers have been in manifest error. (54)They said: "Have you brought us the Truth, or are you one of those who play about?? (55)He said: "Nay, your Lord is the Lord of the heavens and the earth, Who created them and to that I am one of the witnesses. (56)
The Story of Ibrahim and his People
Allah tells us about His close Friend Ibrahim, peace be upon him, and how He bestowed upon him guidance aforetime, i.e., from an early age He inspired him with truth and evidence against his people, as Allah says elsewhere:
وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ
(And that was Our proof which We gave Ibrahim against his people)[6:83]. The point here is that Allah is telling us that He gave guidance to Ibrahim aforetime, i.e., He had already guided him at an early age.
وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ
(and We were Well-Acquainted with him.) means, and he was worthy of that. Then Allah says:
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ
(When he said to his father and his people: "What are these images, to which you are devoted?") This is the guidance which he had been given during his youth: his denunciation of his people's worship of idols instead of Allah. Ibrahim said:
مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ
("What are these images, to which you are devoted?") meaning, which you worship with such devotion.
قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ
(They said: "We found our fathers worshipping them.") means, they had no other evidence apart from the misguided actions of their forefathers. Ibrahim said:
لَقَدْ كُنتُمْ أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(Indeed you and your fathers have been in manifest error.) meaning, Speaking to your fathers whose actions you cite as evidence would be the same as speaking to you. Both you and they are misguided and are not following any straight path.' When he called their intelligence into question, and said that their fathers were misguided and belittled their gods,
قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنتَ مِنَ اللَّاعِبِينَ
(They said: "Have you brought us the Truth, or are you one of those who play about?") They said: 'These words that you are saying, are you speaking in jest or are you telling the truth? For we have never heard such a thing before.'
قَالَ بَل رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ
(He said: "Nay, your Lord is the Lord of the heavens and the earth, Who created them...") meaning, your Lord, beside Whom there is no other god, is the One Who created the heavens and the earth and all that they contain; He is the One Who initiated their creation; He is the Creator of all things.
وَأَنَا عَلَىٰ ذَٰلِكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ
(and to that I am one of the witnesses.) means, and I bear witness that there is no God other than Him and no Lord except Him.
Tafsir Ibn Kathir
یہودی روایتوں سے بچو فرمان ہے کہ خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی جیسے آیت میں ہے وتلک حجتنا اتیناہا ابراہیم علی قومہ۔ یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم ؑ کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کرسکیں۔ یہ جو قصے مشہور ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے مطابق ہو جو حق ہمارے ہاتھوں میں ہے یعنی کتاب وسنت وہ تو سچا ہے اور قابل قبول ہے اس لئے کہ وہ صحت کے مطابق ہے اور جو خلاف ہو وہ مردود ہے۔ اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، موافقت و مخالفت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے لیکن نہ تو ہم اسے سچا کرسکتے ہیں نہ غلط۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ وہ واقعات ہمارے لئے کچھ سند نہیں، نہ ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہماری جامع نافع کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی۔ ہمارا اپنا مسلک تو اس تفسیر میں یہ رہا ہے کہ ہم ایسی بنی اسرائیلی روایتوں کو وارد نہیں کرتے کیونکہ اس میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کہ کوئی نفع نہیں ہاں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ بنی اسرائیل میں روایت کی جانچ پڑتال کا مادہ ہی نہ تھا وہ سچ جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہی نہ تھے ان میں جھوٹ سرایت کر گیا تھا جیسے کہ ہمارے حفاظ ائمہ نے تشریح کی ہے۔ غرض یہ ہے کہ آیت میں اس امر کا بیان ہے کہ ہم نے اس سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ کو ہدایت بخشی تھی اور ہم جانتے تھے کہ وہ اس کے لائق ہے بچپنے میں ہی آپ نے اپنی قوم کی غیر اللہ پرستی کو ناپسند فرمایا۔ اور نہایت جرات سے اس کا سخت انکار کیا اور قوم سے برملا کہا کہ ان بتوں کے اردگرد مجمع لگا کر کیا بیٹھے ہو ؟ حضرت اصبح بن بناتہ راہ سے گزر رہے تھے جو دیکھا کہ شطرنج باز لوگ بازی کھیل رہے ہیں۔ آپ نے یہی تلاوت فرما کر فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں جلتا ہوا انگارا لے لے یہ اس شطرنج کے مہروں کے لینے سے اچھا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی اس کھلی دلیل کا جواب ان کے پاس کیا تھا جو دیتے ؟ کہنے لگے کہ یہ تو پرانی روش ہے، باپ دادوں سے چلی آتی ہے۔ آپ نے فرمایا واہ یہ بھی کوئی دلیل ہوئی ؟ ہمارا اعتراض جو تم پر ہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے ایک گمراہی میں تمہارے بڑے مبتلا ہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہوجاؤ تو وہ بھلائی بننے سے رہی ؟ میں کہتا ہوں تم اور تمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہوگئے ہو اور کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو۔ اب تو ان کے کان کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے عقل مندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ دادوں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے۔ اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی تو گھبراگئے اور کہنے لگے ابراہیم کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو یا مذاق کررہے ؟ ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔ آپ کو تبلیغ کا موقعہ ملا اور صاف اعلان کیا کہ رب تو صرف خالق آسمان و زمین ہی ہے۔ تمام چیزوں کا خالق مالک وہی ہے، تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی خالق ہیں نہ مالک۔ پھر معبود مسجود کیسے ہوگئے ؟ میری گواہی ہے کہ خالق ومالک اللہ ہی لائق عبادت ہے نہ اسکے سوا کوئی رب نہ معبود۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ خَلِيلِهِ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهُ آتَاهُ رُشْدَهُ مِنْ قَبْلُ، أَيْ: مِنْ صِغَرِهِ أَلْهَمَهُ الْحَقَّ وَالْحُجَّةَ عَلَى قَوْمِهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ﴾ [الْأَنْعَامِ:٨٣] ، وَمَا يُذْكَرُ مِنَ الْأَخْبَارِ عَنْهُ [[في ف: "عنه من الأخبار".]] فِي إِدْخَالِ أَبِيهِ لَهُ فِي السِّرْبِ، وَهُوَ رَضِيعٌ، وَأَنَّهُ خَرَجَ بِهِ بَعْدَ أَيْامٍ، فَنَظَرَ إِلَى الْكَوْكَبِ وَالْمَخْلُوقَاتِ، فَتَبَصَّرَ فِيهَا وَمَا قَصَّهُ كَثِيرٌ مِنَ الْمُفَسِّرِينَ وَغَيْرِهِمْ -فَعَامَّتُهَا أَحَادِيثُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَمَا وَافَقَ مِنْهَا الْحَقَّ مِمَّا بِأَيْدِينَا عَنِ الْمَعْصُومِ قَبِلْنَاهُ لِمُوَافَقَتِهِ الصَّحِيحَ، وَمَا خَالَفَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ رَدَدْنَاهُ، وَمَا لَيْسَ فِيهِ مُوَافَقَةٌ وَلَا مُخَالَفَةٌ لَا نصدقه ولا نكذبه، بل نجعله وفقًا، وَمَا كَانَ مِنْ هَذَا الضَّرْبِ مِنْهَا فَقَدْ تَرَخَّصَ كَثِيرٌ مِنَ السَّلَفِ فِي رِوَايَتِهَا، وَكَثِيرٌ مِنْ ذَلِكَ مَا لَا فَائِدَةَ فِيهِ، وَلَا حاصل له مِمَّا يُنْتَفَعُ بِهِ فِي الدِّينِ. وَلَوْ كَانَتْ فِيهِ فَائِدَةٌ تَعُودُ عَلَى الْمُكَلَّفِينَ فِي دِينِهِمْ لَبَيَّنَتْهُ هَذِهِ الشَّرِيعَةُ الْكَامِلَةُ الشَّامِلَةُ. وَالَّذِي نَسْلُكُهُ [[في هـ: "يذكر" والمثبت من ف.]] فِي هَذَا التَّفْسِيرِ الْإِعْرَاضُ عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْأَحَادِيثِ الْإِسْرَائِيلِيَّةِ، لِمَا فِيهَا مِنْ تَضْيِيعِ الزَّمَانِ، وَلِمَا اشْتَمَلَ عَلَيْهِ كَثِيرٌ مِنْهَا مِنَ الْكَذِبِ الْمُرَوَّجِ عَلَيْهِمْ، فَإِنَّهُمْ لَا تَفْرِقَةَ [[في ف: "لا معرفة".]] عِنْدَهُمْ بَيْنَ صَحِيحِهَا وَسَقِيمِهَا كَمَا حَرَّرَهُ الْأَئِمَّةُ الْحُفَّاظُ الْمُتْقِنُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ.
وَالْمَقْصُودُ هَاهُنَا: أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَخْبَرَ أَنَّهُ قَدْ آتَى إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ، مِنْ قَبْلُ، أَيْ: مِنْ قَبْلِ ذَلِكَ، وَقَوْلُهُ: ﴿وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ﴾ أَيْ: وَكَانَ أَهْلًا لِذَلِكَ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿إِذْ قَالَ لأبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ﴾ هَذَا هُوَ الرُّشْدُ الَّذِي أُوتِيهِ مِنْ صِغَرِهِ، الْإِنْكَارُ عَلَى قَوْمِهِ فِي عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ مِنْ دُونِ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: ﴿مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ﴾ أَيْ: مُعْتَكِفُونَ عَلَى عِبَادَتِهَا.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحُ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ، عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ، قَالَ: مَرَّ عَلِيٌّ، عَلَى قَوْمٍ يَلْعَبُونَ بِالشِّطْرَنْجِ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ؟ لَأَنْ يَمَسَّ أَحَدُكُمْ جَمْرًا حَتَّى يُطْفَأَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمَسَّهَا.
﴿قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ﴾ : لَمْ يَكُنْ لَهُمْ حُجَّةٌ سِوَى صَنِيعِ آبَائِهِمُ الضُّلَّالِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلالٍ مُبِينٍ﴾ أَيِ: الْكَلَامُ مَعَ آبَائِكُمُ الَّذِينَ احْتَجَجْتُمْ بِصَنِيعِهِمْ كَالْكَلَامِ مَعَكُمْ، فَأَنْتُمْ وَهُمْ فِي ضَلَالٍ عَلَى غَيْرِ الطَّرِيقِ الْمُسْتَقِيمِ.
فَلَمَّا سَفَّهَ أَحْلَامَهُمْ، وَضَلَّلَ آبَاءَهُمْ، وَاحْتَقَرَ آلِهَتَهُمْ ﴿قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنْتَ مِنَ اللاعِبِينَ﴾ يَقُولُونَ [[في ف: "يقول".]] : هَذَا الْكَلَامُ الصَّادِرُ عَنْكَ تَقُولُهُ لَاعِبًا أَوْ مُحِقًّا فِيهِ؟ فَإِنَّا لَمْ نَسْمَعْ بِهِ قَبْلَكَ.
﴿قَالَ بَل رَبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ﴾ أَيْ: رَبُّكُمْ الَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، هُوَ الَّذِي خَلَقَ السموات [وَالْأَرْضَ] [[زيادة من ف.]] وَمَا حَوَتْ مِنَ الْمَخْلُوقَاتِ الَّذِي ابْتَدَأَ خَلْقَهُنَّ، وَهُوَ الْخَالِقُ لِجَمِيعِ الْأَشْيَاءِ ﴿وَأَنَا عَلَى ذَلِكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ﴾ أَيْ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، وَلَا رَبَّ سِوَاهُ.
قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا بِٱلْحَقِّ أَمْ أَنتَ مِنَ ٱللَّٰعِبِينَ
They said, "Have you come to us with truth, or are you of those who jest?"
وہ بولے کیا تم ہمارے پاس (واقعی) حق لائے ہو یا (ہم سے) کھیل (کی باتیں) کرتے ہو؟
گفتند: «آیا مطلب حقّی برای ما آوردهای، یا شوخی میکنی؟!»
Tafsir Ibn Kathir
And indeed We bestowed aforetime on Ibrahim his guidance, and We were Well-Acquainted with him (51)When he said to his father and his people: "What are these images to which you are devoted? (52)They said: "We found our fathers worshipping them. (53)He said: "Indeed you and your fathers have been in manifest error. (54)They said: "Have you brought us the Truth, or are you one of those who play about?? (55)He said: "Nay, your Lord is the Lord of the heavens and the earth, Who created them and to that I am one of the witnesses. (56)
The Story of Ibrahim and his People
Allah tells us about His close Friend Ibrahim, peace be upon him, and how He bestowed upon him guidance aforetime, i.e., from an early age He inspired him with truth and evidence against his people, as Allah says elsewhere:
وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ
(And that was Our proof which We gave Ibrahim against his people)[6:83]. The point here is that Allah is telling us that He gave guidance to Ibrahim aforetime, i.e., He had already guided him at an early age.
وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ
(and We were Well-Acquainted with him.) means, and he was worthy of that. Then Allah says:
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ
(When he said to his father and his people: "What are these images, to which you are devoted?") This is the guidance which he had been given during his youth: his denunciation of his people's worship of idols instead of Allah. Ibrahim said:
مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ
("What are these images, to which you are devoted?") meaning, which you worship with such devotion.
قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ
(They said: "We found our fathers worshipping them.") means, they had no other evidence apart from the misguided actions of their forefathers. Ibrahim said:
لَقَدْ كُنتُمْ أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(Indeed you and your fathers have been in manifest error.) meaning, Speaking to your fathers whose actions you cite as evidence would be the same as speaking to you. Both you and they are misguided and are not following any straight path.' When he called their intelligence into question, and said that their fathers were misguided and belittled their gods,
قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنتَ مِنَ اللَّاعِبِينَ
(They said: "Have you brought us the Truth, or are you one of those who play about?") They said: 'These words that you are saying, are you speaking in jest or are you telling the truth? For we have never heard such a thing before.'
قَالَ بَل رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ
(He said: "Nay, your Lord is the Lord of the heavens and the earth, Who created them...") meaning, your Lord, beside Whom there is no other god, is the One Who created the heavens and the earth and all that they contain; He is the One Who initiated their creation; He is the Creator of all things.
وَأَنَا عَلَىٰ ذَٰلِكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ
(and to that I am one of the witnesses.) means, and I bear witness that there is no God other than Him and no Lord except Him.
Tafsir Ibn Kathir
یہودی روایتوں سے بچو فرمان ہے کہ خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی جیسے آیت میں ہے وتلک حجتنا اتیناہا ابراہیم علی قومہ۔ یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم ؑ کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کرسکیں۔ یہ جو قصے مشہور ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے مطابق ہو جو حق ہمارے ہاتھوں میں ہے یعنی کتاب وسنت وہ تو سچا ہے اور قابل قبول ہے اس لئے کہ وہ صحت کے مطابق ہے اور جو خلاف ہو وہ مردود ہے۔ اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، موافقت و مخالفت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے لیکن نہ تو ہم اسے سچا کرسکتے ہیں نہ غلط۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ وہ واقعات ہمارے لئے کچھ سند نہیں، نہ ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہماری جامع نافع کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی۔ ہمارا اپنا مسلک تو اس تفسیر میں یہ رہا ہے کہ ہم ایسی بنی اسرائیلی روایتوں کو وارد نہیں کرتے کیونکہ اس میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کہ کوئی نفع نہیں ہاں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ بنی اسرائیل میں روایت کی جانچ پڑتال کا مادہ ہی نہ تھا وہ سچ جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہی نہ تھے ان میں جھوٹ سرایت کر گیا تھا جیسے کہ ہمارے حفاظ ائمہ نے تشریح کی ہے۔ غرض یہ ہے کہ آیت میں اس امر کا بیان ہے کہ ہم نے اس سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ کو ہدایت بخشی تھی اور ہم جانتے تھے کہ وہ اس کے لائق ہے بچپنے میں ہی آپ نے اپنی قوم کی غیر اللہ پرستی کو ناپسند فرمایا۔ اور نہایت جرات سے اس کا سخت انکار کیا اور قوم سے برملا کہا کہ ان بتوں کے اردگرد مجمع لگا کر کیا بیٹھے ہو ؟ حضرت اصبح بن بناتہ راہ سے گزر رہے تھے جو دیکھا کہ شطرنج باز لوگ بازی کھیل رہے ہیں۔ آپ نے یہی تلاوت فرما کر فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں جلتا ہوا انگارا لے لے یہ اس شطرنج کے مہروں کے لینے سے اچھا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی اس کھلی دلیل کا جواب ان کے پاس کیا تھا جو دیتے ؟ کہنے لگے کہ یہ تو پرانی روش ہے، باپ دادوں سے چلی آتی ہے۔ آپ نے فرمایا واہ یہ بھی کوئی دلیل ہوئی ؟ ہمارا اعتراض جو تم پر ہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے ایک گمراہی میں تمہارے بڑے مبتلا ہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہوجاؤ تو وہ بھلائی بننے سے رہی ؟ میں کہتا ہوں تم اور تمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہوگئے ہو اور کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو۔ اب تو ان کے کان کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے عقل مندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ دادوں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے۔ اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی تو گھبراگئے اور کہنے لگے ابراہیم کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو یا مذاق کررہے ؟ ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔ آپ کو تبلیغ کا موقعہ ملا اور صاف اعلان کیا کہ رب تو صرف خالق آسمان و زمین ہی ہے۔ تمام چیزوں کا خالق مالک وہی ہے، تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی خالق ہیں نہ مالک۔ پھر معبود مسجود کیسے ہوگئے ؟ میری گواہی ہے کہ خالق ومالک اللہ ہی لائق عبادت ہے نہ اسکے سوا کوئی رب نہ معبود۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ خَلِيلِهِ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهُ آتَاهُ رُشْدَهُ مِنْ قَبْلُ، أَيْ: مِنْ صِغَرِهِ أَلْهَمَهُ الْحَقَّ وَالْحُجَّةَ عَلَى قَوْمِهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ﴾ [الْأَنْعَامِ:٨٣] ، وَمَا يُذْكَرُ مِنَ الْأَخْبَارِ عَنْهُ [[في ف: "عنه من الأخبار".]] فِي إِدْخَالِ أَبِيهِ لَهُ فِي السِّرْبِ، وَهُوَ رَضِيعٌ، وَأَنَّهُ خَرَجَ بِهِ بَعْدَ أَيْامٍ، فَنَظَرَ إِلَى الْكَوْكَبِ وَالْمَخْلُوقَاتِ، فَتَبَصَّرَ فِيهَا وَمَا قَصَّهُ كَثِيرٌ مِنَ الْمُفَسِّرِينَ وَغَيْرِهِمْ -فَعَامَّتُهَا أَحَادِيثُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَمَا وَافَقَ مِنْهَا الْحَقَّ مِمَّا بِأَيْدِينَا عَنِ الْمَعْصُومِ قَبِلْنَاهُ لِمُوَافَقَتِهِ الصَّحِيحَ، وَمَا خَالَفَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ رَدَدْنَاهُ، وَمَا لَيْسَ فِيهِ مُوَافَقَةٌ وَلَا مُخَالَفَةٌ لَا نصدقه ولا نكذبه، بل نجعله وفقًا، وَمَا كَانَ مِنْ هَذَا الضَّرْبِ مِنْهَا فَقَدْ تَرَخَّصَ كَثِيرٌ مِنَ السَّلَفِ فِي رِوَايَتِهَا، وَكَثِيرٌ مِنْ ذَلِكَ مَا لَا فَائِدَةَ فِيهِ، وَلَا حاصل له مِمَّا يُنْتَفَعُ بِهِ فِي الدِّينِ. وَلَوْ كَانَتْ فِيهِ فَائِدَةٌ تَعُودُ عَلَى الْمُكَلَّفِينَ فِي دِينِهِمْ لَبَيَّنَتْهُ هَذِهِ الشَّرِيعَةُ الْكَامِلَةُ الشَّامِلَةُ. وَالَّذِي نَسْلُكُهُ [[في هـ: "يذكر" والمثبت من ف.]] فِي هَذَا التَّفْسِيرِ الْإِعْرَاضُ عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْأَحَادِيثِ الْإِسْرَائِيلِيَّةِ، لِمَا فِيهَا مِنْ تَضْيِيعِ الزَّمَانِ، وَلِمَا اشْتَمَلَ عَلَيْهِ كَثِيرٌ مِنْهَا مِنَ الْكَذِبِ الْمُرَوَّجِ عَلَيْهِمْ، فَإِنَّهُمْ لَا تَفْرِقَةَ [[في ف: "لا معرفة".]] عِنْدَهُمْ بَيْنَ صَحِيحِهَا وَسَقِيمِهَا كَمَا حَرَّرَهُ الْأَئِمَّةُ الْحُفَّاظُ الْمُتْقِنُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ.
وَالْمَقْصُودُ هَاهُنَا: أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَخْبَرَ أَنَّهُ قَدْ آتَى إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ، مِنْ قَبْلُ، أَيْ: مِنْ قَبْلِ ذَلِكَ، وَقَوْلُهُ: ﴿وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ﴾ أَيْ: وَكَانَ أَهْلًا لِذَلِكَ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿إِذْ قَالَ لأبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ﴾ هَذَا هُوَ الرُّشْدُ الَّذِي أُوتِيهِ مِنْ صِغَرِهِ، الْإِنْكَارُ عَلَى قَوْمِهِ فِي عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ مِنْ دُونِ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: ﴿مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ﴾ أَيْ: مُعْتَكِفُونَ عَلَى عِبَادَتِهَا.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحُ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ، عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ، قَالَ: مَرَّ عَلِيٌّ، عَلَى قَوْمٍ يَلْعَبُونَ بِالشِّطْرَنْجِ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ؟ لَأَنْ يَمَسَّ أَحَدُكُمْ جَمْرًا حَتَّى يُطْفَأَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمَسَّهَا.
﴿قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ﴾ : لَمْ يَكُنْ لَهُمْ حُجَّةٌ سِوَى صَنِيعِ آبَائِهِمُ الضُّلَّالِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلالٍ مُبِينٍ﴾ أَيِ: الْكَلَامُ مَعَ آبَائِكُمُ الَّذِينَ احْتَجَجْتُمْ بِصَنِيعِهِمْ كَالْكَلَامِ مَعَكُمْ، فَأَنْتُمْ وَهُمْ فِي ضَلَالٍ عَلَى غَيْرِ الطَّرِيقِ الْمُسْتَقِيمِ.
فَلَمَّا سَفَّهَ أَحْلَامَهُمْ، وَضَلَّلَ آبَاءَهُمْ، وَاحْتَقَرَ آلِهَتَهُمْ ﴿قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنْتَ مِنَ اللاعِبِينَ﴾ يَقُولُونَ [[في ف: "يقول".]] : هَذَا الْكَلَامُ الصَّادِرُ عَنْكَ تَقُولُهُ لَاعِبًا أَوْ مُحِقًّا فِيهِ؟ فَإِنَّا لَمْ نَسْمَعْ بِهِ قَبْلَكَ.
﴿قَالَ بَل رَبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ﴾ أَيْ: رَبُّكُمْ الَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، هُوَ الَّذِي خَلَقَ السموات [وَالْأَرْضَ] [[زيادة من ف.]] وَمَا حَوَتْ مِنَ الْمَخْلُوقَاتِ الَّذِي ابْتَدَأَ خَلْقَهُنَّ، وَهُوَ الْخَالِقُ لِجَمِيعِ الْأَشْيَاءِ ﴿وَأَنَا عَلَى ذَلِكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ﴾ أَيْ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، وَلَا رَبَّ سِوَاهُ.
قَالَ بَل رَّبُّكُمْ رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ٱلَّذِى فَطَرَهُنَّ وَأَنَا۠ عَلَىٰ ذَٰلِكُم مِّنَ ٱلشَّٰهِدِينَ
He said, "[No], rather, your Lord is the Lord of the heavens and the earth who created them, and I, to that, am of those who testify.
(ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ تمہارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے۔ اور میں اس (بات) کا گواہ (اور اسی کا قائل) ہوں
گفت: «(کاملاً حقّ آوردهام) پروردگار شما همان پروردگار آسمانها و زمین است که آنها را ایجاد کرده؛ و من بر این امر، از گواهانم!
Tafsir Ibn Kathir
And indeed We bestowed aforetime on Ibrahim his guidance, and We were Well-Acquainted with him (51)When he said to his father and his people: "What are these images to which you are devoted? (52)They said: "We found our fathers worshipping them. (53)He said: "Indeed you and your fathers have been in manifest error. (54)They said: "Have you brought us the Truth, or are you one of those who play about?? (55)He said: "Nay, your Lord is the Lord of the heavens and the earth, Who created them and to that I am one of the witnesses. (56)
The Story of Ibrahim and his People
Allah tells us about His close Friend Ibrahim, peace be upon him, and how He bestowed upon him guidance aforetime, i.e., from an early age He inspired him with truth and evidence against his people, as Allah says elsewhere:
وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ
(And that was Our proof which We gave Ibrahim against his people)[6:83]. The point here is that Allah is telling us that He gave guidance to Ibrahim aforetime, i.e., He had already guided him at an early age.
وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ
(and We were Well-Acquainted with him.) means, and he was worthy of that. Then Allah says:
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ
(When he said to his father and his people: "What are these images, to which you are devoted?") This is the guidance which he had been given during his youth: his denunciation of his people's worship of idols instead of Allah. Ibrahim said:
مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ
("What are these images, to which you are devoted?") meaning, which you worship with such devotion.
قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ
(They said: "We found our fathers worshipping them.") means, they had no other evidence apart from the misguided actions of their forefathers. Ibrahim said:
لَقَدْ كُنتُمْ أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(Indeed you and your fathers have been in manifest error.) meaning, Speaking to your fathers whose actions you cite as evidence would be the same as speaking to you. Both you and they are misguided and are not following any straight path.' When he called their intelligence into question, and said that their fathers were misguided and belittled their gods,
قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنتَ مِنَ اللَّاعِبِينَ
(They said: "Have you brought us the Truth, or are you one of those who play about?") They said: 'These words that you are saying, are you speaking in jest or are you telling the truth? For we have never heard such a thing before.'
قَالَ بَل رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ
(He said: "Nay, your Lord is the Lord of the heavens and the earth, Who created them...") meaning, your Lord, beside Whom there is no other god, is the One Who created the heavens and the earth and all that they contain; He is the One Who initiated their creation; He is the Creator of all things.
وَأَنَا عَلَىٰ ذَٰلِكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ
(and to that I am one of the witnesses.) means, and I bear witness that there is no God other than Him and no Lord except Him.
Tafsir Ibn Kathir
یہودی روایتوں سے بچو فرمان ہے کہ خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی جیسے آیت میں ہے وتلک حجتنا اتیناہا ابراہیم علی قومہ۔ یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم ؑ کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کرسکیں۔ یہ جو قصے مشہور ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے مطابق ہو جو حق ہمارے ہاتھوں میں ہے یعنی کتاب وسنت وہ تو سچا ہے اور قابل قبول ہے اس لئے کہ وہ صحت کے مطابق ہے اور جو خلاف ہو وہ مردود ہے۔ اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، موافقت و مخالفت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے لیکن نہ تو ہم اسے سچا کرسکتے ہیں نہ غلط۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ وہ واقعات ہمارے لئے کچھ سند نہیں، نہ ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہماری جامع نافع کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی۔ ہمارا اپنا مسلک تو اس تفسیر میں یہ رہا ہے کہ ہم ایسی بنی اسرائیلی روایتوں کو وارد نہیں کرتے کیونکہ اس میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کہ کوئی نفع نہیں ہاں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ بنی اسرائیل میں روایت کی جانچ پڑتال کا مادہ ہی نہ تھا وہ سچ جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہی نہ تھے ان میں جھوٹ سرایت کر گیا تھا جیسے کہ ہمارے حفاظ ائمہ نے تشریح کی ہے۔ غرض یہ ہے کہ آیت میں اس امر کا بیان ہے کہ ہم نے اس سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ کو ہدایت بخشی تھی اور ہم جانتے تھے کہ وہ اس کے لائق ہے بچپنے میں ہی آپ نے اپنی قوم کی غیر اللہ پرستی کو ناپسند فرمایا۔ اور نہایت جرات سے اس کا سخت انکار کیا اور قوم سے برملا کہا کہ ان بتوں کے اردگرد مجمع لگا کر کیا بیٹھے ہو ؟ حضرت اصبح بن بناتہ راہ سے گزر رہے تھے جو دیکھا کہ شطرنج باز لوگ بازی کھیل رہے ہیں۔ آپ نے یہی تلاوت فرما کر فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں جلتا ہوا انگارا لے لے یہ اس شطرنج کے مہروں کے لینے سے اچھا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی اس کھلی دلیل کا جواب ان کے پاس کیا تھا جو دیتے ؟ کہنے لگے کہ یہ تو پرانی روش ہے، باپ دادوں سے چلی آتی ہے۔ آپ نے فرمایا واہ یہ بھی کوئی دلیل ہوئی ؟ ہمارا اعتراض جو تم پر ہے وہی تمہارے اگلوں پر ہے ایک گمراہی میں تمہارے بڑے مبتلا ہوں اور تم بھی اس میں مبتلا ہوجاؤ تو وہ بھلائی بننے سے رہی ؟ میں کہتا ہوں تم اور تمہارے باپ دادا سبھی راہ حق سے برگشتہ ہوگئے ہو اور کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو۔ اب تو ان کے کان کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے عقل مندوں کی توہین دیکھی، اپنے باپ دادوں کی نسبت نہ سننے والے کلمات سنے۔ اپنے معبودوں کی حقارت ہوتی ہوئی دیکھی تو گھبراگئے اور کہنے لگے ابراہیم کیا واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو یا مذاق کررہے ؟ ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔ آپ کو تبلیغ کا موقعہ ملا اور صاف اعلان کیا کہ رب تو صرف خالق آسمان و زمین ہی ہے۔ تمام چیزوں کا خالق مالک وہی ہے، تمہارے یہ معبود کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی خالق ہیں نہ مالک۔ پھر معبود مسجود کیسے ہوگئے ؟ میری گواہی ہے کہ خالق ومالک اللہ ہی لائق عبادت ہے نہ اسکے سوا کوئی رب نہ معبود۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ خَلِيلِهِ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهُ آتَاهُ رُشْدَهُ مِنْ قَبْلُ، أَيْ: مِنْ صِغَرِهِ أَلْهَمَهُ الْحَقَّ وَالْحُجَّةَ عَلَى قَوْمِهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ﴾ [الْأَنْعَامِ:٨٣] ، وَمَا يُذْكَرُ مِنَ الْأَخْبَارِ عَنْهُ [[في ف: "عنه من الأخبار".]] فِي إِدْخَالِ أَبِيهِ لَهُ فِي السِّرْبِ، وَهُوَ رَضِيعٌ، وَأَنَّهُ خَرَجَ بِهِ بَعْدَ أَيْامٍ، فَنَظَرَ إِلَى الْكَوْكَبِ وَالْمَخْلُوقَاتِ، فَتَبَصَّرَ فِيهَا وَمَا قَصَّهُ كَثِيرٌ مِنَ الْمُفَسِّرِينَ وَغَيْرِهِمْ -فَعَامَّتُهَا أَحَادِيثُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَمَا وَافَقَ مِنْهَا الْحَقَّ مِمَّا بِأَيْدِينَا عَنِ الْمَعْصُومِ قَبِلْنَاهُ لِمُوَافَقَتِهِ الصَّحِيحَ، وَمَا خَالَفَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ رَدَدْنَاهُ، وَمَا لَيْسَ فِيهِ مُوَافَقَةٌ وَلَا مُخَالَفَةٌ لَا نصدقه ولا نكذبه، بل نجعله وفقًا، وَمَا كَانَ مِنْ هَذَا الضَّرْبِ مِنْهَا فَقَدْ تَرَخَّصَ كَثِيرٌ مِنَ السَّلَفِ فِي رِوَايَتِهَا، وَكَثِيرٌ مِنْ ذَلِكَ مَا لَا فَائِدَةَ فِيهِ، وَلَا حاصل له مِمَّا يُنْتَفَعُ بِهِ فِي الدِّينِ. وَلَوْ كَانَتْ فِيهِ فَائِدَةٌ تَعُودُ عَلَى الْمُكَلَّفِينَ فِي دِينِهِمْ لَبَيَّنَتْهُ هَذِهِ الشَّرِيعَةُ الْكَامِلَةُ الشَّامِلَةُ. وَالَّذِي نَسْلُكُهُ [[في هـ: "يذكر" والمثبت من ف.]] فِي هَذَا التَّفْسِيرِ الْإِعْرَاضُ عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْأَحَادِيثِ الْإِسْرَائِيلِيَّةِ، لِمَا فِيهَا مِنْ تَضْيِيعِ الزَّمَانِ، وَلِمَا اشْتَمَلَ عَلَيْهِ كَثِيرٌ مِنْهَا مِنَ الْكَذِبِ الْمُرَوَّجِ عَلَيْهِمْ، فَإِنَّهُمْ لَا تَفْرِقَةَ [[في ف: "لا معرفة".]] عِنْدَهُمْ بَيْنَ صَحِيحِهَا وَسَقِيمِهَا كَمَا حَرَّرَهُ الْأَئِمَّةُ الْحُفَّاظُ الْمُتْقِنُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ.
وَالْمَقْصُودُ هَاهُنَا: أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَخْبَرَ أَنَّهُ قَدْ آتَى إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ، مِنْ قَبْلُ، أَيْ: مِنْ قَبْلِ ذَلِكَ، وَقَوْلُهُ: ﴿وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ﴾ أَيْ: وَكَانَ أَهْلًا لِذَلِكَ.
ثُمَّ قَالَ: ﴿إِذْ قَالَ لأبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ﴾ هَذَا هُوَ الرُّشْدُ الَّذِي أُوتِيهِ مِنْ صِغَرِهِ، الْإِنْكَارُ عَلَى قَوْمِهِ فِي عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ مِنْ دُونِ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: ﴿مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ﴾ أَيْ: مُعْتَكِفُونَ عَلَى عِبَادَتِهَا.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحُ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ، عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ، قَالَ: مَرَّ عَلِيٌّ، عَلَى قَوْمٍ يَلْعَبُونَ بِالشِّطْرَنْجِ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ؟ لَأَنْ يَمَسَّ أَحَدُكُمْ جَمْرًا حَتَّى يُطْفَأَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمَسَّهَا.
﴿قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ﴾ : لَمْ يَكُنْ لَهُمْ حُجَّةٌ سِوَى صَنِيعِ آبَائِهِمُ الضُّلَّالِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلالٍ مُبِينٍ﴾ أَيِ: الْكَلَامُ مَعَ آبَائِكُمُ الَّذِينَ احْتَجَجْتُمْ بِصَنِيعِهِمْ كَالْكَلَامِ مَعَكُمْ، فَأَنْتُمْ وَهُمْ فِي ضَلَالٍ عَلَى غَيْرِ الطَّرِيقِ الْمُسْتَقِيمِ.
فَلَمَّا سَفَّهَ أَحْلَامَهُمْ، وَضَلَّلَ آبَاءَهُمْ، وَاحْتَقَرَ آلِهَتَهُمْ ﴿قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنْتَ مِنَ اللاعِبِينَ﴾ يَقُولُونَ [[في ف: "يقول".]] : هَذَا الْكَلَامُ الصَّادِرُ عَنْكَ تَقُولُهُ لَاعِبًا أَوْ مُحِقًّا فِيهِ؟ فَإِنَّا لَمْ نَسْمَعْ بِهِ قَبْلَكَ.
﴿قَالَ بَل رَبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ﴾ أَيْ: رَبُّكُمْ الَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، هُوَ الَّذِي خَلَقَ السموات [وَالْأَرْضَ] [[زيادة من ف.]] وَمَا حَوَتْ مِنَ الْمَخْلُوقَاتِ الَّذِي ابْتَدَأَ خَلْقَهُنَّ، وَهُوَ الْخَالِقُ لِجَمِيعِ الْأَشْيَاءِ ﴿وَأَنَا عَلَى ذَلِكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ﴾ أَيْ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، وَلَا رَبَّ سِوَاهُ.
وَتَٱللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَٰمَكُم بَعْدَ أَن تُوَلُّوا۟ مُدْبِرِينَ
And [I swear] by Allah, I will surely plan against your idols after you have turned and gone away."
اور خدا کی قسم جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمہارے بتوں سے ایک چال چلوں گا
و به خدا سوگند، در غیاب شما، نقشهای برای نابودی بتهایتان میکشم!»
Tafsir Ibn Kathir
"And by Allah, I shall plot a plan for your idols after you have gone away and turned your backs. (57)So he broke them to pieces, except the biggest of them, that they might turn to it (58)They said: "Who has done this to our gods He must indeed be one of the wrongdoers. (59)They said: "We heard a young man talking against them, who is called Ibrahim. (60)They said: "Then bring him before the eyes of the people, that they may testify. (61)They said: "Are you the one who has done this to our gods, O Ibrahim? (62)He said: "Nay, this one, the biggest of them did it. Ask them, if they can speak! (63)
How Ibrahim broke the Idols
Then Ibrahim swore an oath, which some of his people heard, to plot against their idols, i.e., to break them and destroy them after they had gone away and turned their backs, when they went out to their festival. They had a festival which they would go out to celebrate. Abu Ishaq reported from Abu Al-Ahwas from 'Abdullah Ibn Mas'ud, "When the people of Ibrahim went out to celebrate their festival, they passed by him and said, 'O Ibrahim, are you not coming out with us' He said, 'I am sick.'" It was only the day before that he had said,
وَتَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُم بَعْدَ أَن تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ
(And by Allah, I shall plot a plan for your idols after you have gone away and turned your backs.) and some of the people had heard him.
فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا
(So he broke them to pieces,) means, he smashed them all, except for the biggest idol. This is like the Ayah,
فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ
(Then he turned upon them, striking (them) with (his) right hand)(37:93).
لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ
(that they might turn to it.) It was said that he put a hammer in the hands of the biggest idol so that the people would think that it had become jealous on its own account and objected to these smaller idols being worshipped alongside it, so it had broken them.
قَالُوا مَن فَعَلَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ
(They said: "Who has done this to our gods? He must indeed be one of the wrongdoers.") When they came back and saw what Ibrahim had done to their idols, humiliating them and lowering their status, proving that they were not divine and that those who worshipped them were fools,
قَالُوا مَن فَعَلَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ
(They said: "Who has done this to our gods? He must indeed be one of the wrongdoers.") because of this action of his.
قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ
(They said: "We heard a young man talking against them, who is called Ibrahim.") Those who had heard him swearing to plot against them said, we heard a young man talking about them, and they said that he was called Ibrahim.
قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَىٰ أَعْيُنِ النَّاسِ
(They said: "Then bring him before the eyes of the people...") meaning, in front of a large audience so that all the people could be present. This was Ibrahim's ultimate purpose, so that he could tell this great gathering about the extent of their ignorance and how foolish they were to worship idols which could not defend themselves from harm or help themselves, so how could they ask them for help?
قَالُوا أَأَنتَ فَعَلْتَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ - قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا
(They said: "Are you the one who has done this to our gods, O Ibrahim?" He said: "Nay, this one, the biggest of them did it...") referring to the one he had left alone and had not broken.
فَاسْأَلُوهُمْ إِن كَانُوا يَنطِقُونَ
(Ask them, if they can speak!) He was hoping that they would admit of their own volition that these idols could not speak and that this idol would not say anything because it was inanimate. In the Two Sahihs it was recorded from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said:
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمْ يَكْذِبْ غَيْرَ ثَلَاثٍ: ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللهِ قَوْلُهُ:
(Ibrahim, upon him be peace, did not tell lies except on three occasions, two for the sake of Allah – when he said:
بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا
(Nay, this one, the biggest of them did it.) and when he said:
إِنِّي سَقِيمٌ
(Verily, I am sick)(37:89).
قَالَ: وَبَيْنَا هُوَ يَسِيرُ فِي أَرْضِ جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ وَمَعَهُ سَارَّةُ، إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَأَتَى الْجَبَّارَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَزَل هَهُنَا رَجُلٌ بِأَرْضِكَ مَعَهُ امْرَأَةٌ أَحْسَنُ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجَاءَ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْمَرْأَةُ مِنْكَ؟ قَالَ: هِيَ أُخْتِي. قَالَ: فَاذْهَبْ فَأَرْسِلْ بِهَا إِلَيَّ، فَانْطَلَقَ إِلَى سَارَّةَ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ قَدْ سَأَلَنِي عَنْكِ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي، فَلَا تُكَذِّبِينِي عِنْدَهُ، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللهِ، وَإِنَّهُ لَيْسَ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَانْطَلَقَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَلَمَّا أَنْ دَخَلَتْ عَلَيْهِ فَرَآهَا أَهْوَى إِلَيْهَا فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ أَخْذًا شَدِيدًا، فَقَالَ: ادْعِي اللهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَدَعَتْ لَهُ، فَأُرْسِلَ فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ بِمِثْلِهَا أَوْ أَشَدَّ، فَفَعَلَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ، فَأُخِذَ فَذَكَرَ مِثْلَ الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، فَقَالَ: ادْعِي اللهَ فَلَا أُضُرَّكِ، فَدَعَتْ لَهُ فَأُرْسِلَ، ثُمَّ دَعَا أَدْنَى حُجَّابِهِ فَقَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، وَلَكِنَّكَ أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، أَخْرِجْهَا وَأَعْطِهَا هَاجَرَ.
فَأُخْرِجَتْ وَأُعْطِيَتْ هَاجَرَ، فَأَقْبَلَتْ، فَلَمَّا أَحَسَّ إِبْرَاهِيمُ بِمَجِيئِهَا، انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ، وَقَالَ: مَهْيَمْ. قَالَتْ: كَفَى اللهُ كَيْدَ الْكَافِرِ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَنِي هَاجَرَ
(and when he was traveling in the land of one of the tyrants, and Sarah was with him; when he made camp, a man came to the tyrant and said, "A man has made camp in your land and with him is a woman who is the most beautiful of people." The tyrant sent for Ibrahim, and asked him, "What is the relationship of this woman to you?" He said, "She is my sister." The tyrant said, "Go and send her to me." So Ibrahim went to Sarah and said, "This tyrant asked me about you, and I told him that you are my sister, so do not let him think that I am lying. For you are indeed my sister according to the Book of Allah, and there are no Muslims on the earth apart from you and I." So Ibrahim brought her to him, then he stood and prayed. When she entered upon the tyrant, he reached for her desirously once he saw her. But he suffered a severe seizure. So he said, "Pray to Allah for me and I will not harm you." So she prayed for him and it released him. Then he reached for her desirously, but he was stricken similarly before or worse. This continued three times, and each time he said the same as he had said the first time. Then he called the closest of his guards and said, "You have not brought me a human being, you have brought me a devil! Take her out and give her Hajar. So she was taken out and given Hajar, and she went back. When Ibrahim realized that she had come back, he finished his prayer and turned around. He said, "What happened?" She said, "Allah took care of the evil disbeliever's plot, and he gave me Hajar as a servant.")
Muhammad bin Sirin said, "When Abu Hurayrah narrated this Hadith, he said, 'This is your mother, O sons of the water of the heaven.'"
Tafsir Ibn Kathir
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا۔ اور جذبہ توحید میں آکر آپ نے قسم کھالی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔ ان کی عید کا دن جو مقرر تھا حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لئے باہر جاؤ گے میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کردوں گا۔ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ کے والد نے آپ سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہوجائے۔ چناچہ یہ آپ کو لے چلا۔ کچھ دور جانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم گرپڑے اور فرمانے لگے ابا میں بیمار ہوگیا۔ باپ آپ کو چھوڑ کر مراسم کفر بجا لانے کے لئے بڑھ گئے اور جو لوگ راستے سے گزرتے آپ سے پوچھتے کیا بات ہے راستے پر کیسے بیٹھے ہو ؟ جواب دیتے کہ میں بیمار ہوں۔ جب عام لوگ نکل گئے اور بڈھے بڑے لوگ رہ گئے تو آپ نے فرمایا تم سب کے چلے جانے کے بعد آج میں تمہارے معبودوں کی مرمت کردوں گا۔ آپ نے جو فرمایا کہ میں بیمار ہوں تو واقعی آپ اس دن کے اگلے دن قدرے علیل بھی تھے۔ جب کہ وہ لوگ چلے گئے تو میدان خالی پا کر آپ نے اپنا ارادہ پورا کیا اور بڑے بت کو چھوڑ کر تمام بتوں کا چورا کردیا۔ جیسے اور آیتوں میں اس کا تفصیلی بیان موجود ہے کہ اپنے ہاتھ سے ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ اس بڑے بت کے باقی رکھنے میں حکمت و مصلحت یہ تھی کہ اولاً ان لوگوں کے ذہن میں خیال آئے کہ شاید اس بڑے بت نے ان چھوٹے بتوں کو غارت کردیا ہوگا ؟ کیونکہ اسے غیرت معلوم ہوئی ہوگی کہ مجھ بڑے کے ہوتے ہوئے یہ چھوٹے خدائی کے لائق کیسے ہوگئے۔ چناچہ اس خیال کی پختگی ان کے ذہنوں میں قائم کرنے کے لئے آپ نے کلہاڑا بھی اس کی گردن پر رکھ دیا تھا۔ جیسے مروی ہے۔ جب یہ مشرکین اپنے میلے سے واپس آئے تو دیکھا کہ ان کے سارے معبود منہ کے بل اوندھے گرے ہوئے ہیں۔ اور اپنی حالت سے وہ بتا رہے ہیں کہ وہ محض بےجان بےنفع و نقصان ذلیل وحقیر چیز ہیں۔ اور گویا اپنی اس حالت سے اپنے پجاریوں کی بےوقوفی پر مہرلگا رہے تھے۔ لیکن ان بیوقوفوں پر الٹا اثر ہوا کہنے لگے یہ کون ظالم شخص تھا جس نے ہمارے معبودوں کی ایسی اہانت کی ؟ اس وقت جن لوگوں نے حضرت ابراہیم ؑ کا وہ کلام سنا تھا، انہیں خیال آگیا اور کہنے لگے وہ نوجوان جس کا نام ابراہیم ہے اسے ہم نے اپنے معبودوں کی مذمت کرتے ہوئے سنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اس آیت کو پڑھتے اور فرماتے جو نبی آیا جوان۔ جو عالم بنا جوان۔ شان الٰہی دیکھئے جو مقصد حضرت خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کا تھا وہ اب پورا ہورہا ہے۔ قوم کے یہ لوگ مشورہ کرتے ہیں کہ آؤ سب کو جمع کرو اور اسے بلاؤ اور پھر اس کو سزا دو۔ حضرت خلیل اللہ یہی چاہتے تھے کہ کوئی ایسا مجمع ہو اور میں اس میں ان کی غلطیاں ان پر واضع کروں اور ان میں توحید کی تبلیغ کرو۔ اور انہیں بتلاؤں کہ یہ کیسے ظالم وجاہل ہیں ؟ کہ ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو نفع نقصان کے مالک نہیں بلکہ اپنی جان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ چناچہ مجمع ہوا۔ سب چھوٹے بڑے آگئے، حضرت ابراہیم ؑ بھی ملزم کی حیثیت سے موجود ہوئے اور آپ سے سوال ہوا کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ لغو حرکت تم نے کی ہے ؟ اس پر آپ نے انہیں قائل معقول کرنے کے لئے فرمایا کہ یہ کام تو ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے۔ اور اس کی طرف اشارہ کیا جسے آپ نے توڑا نہ تھا پھر فرمایا کہ مجھ سے کیا پوچھتے ہو ؟ اپنے ان معبودوں سے ہی کیوں دریافت نہیں کرتے کہ تمہارے ٹکڑے اڑانے والا کون ہے ؟ اس سے مقصود خلیل اللہ ؑ کا یہ تھا کہ یہ لوگ خودبخود ہی سمجھ لیں کہ یہ پتھر کیا بولیں گے ؟ اور جب وہ اتنے عاجز ہیں تو یہ لائق عبادت کیسے ٹھیر سکتے ہیں ؟ چناچہ یہ مقصد بھی آپ کا بفضل الٰہی پورا ہوا اور یہ دوسری ضرب بھی کاری لگی۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ خلیل اللہ نے تین جھوٹ بولے ہیں دو تو راہ اللہ میں۔ ایک تو انکا یہ فرمانا کہ ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے۔ دوسرا یہ فرمانا کہ میں بیمار ہوں۔ اور ایک مرتبہ حضرت سارہ کے ساتھ سفر میں تھے۔ اتفاق سے ایک ظالم کی حدود سے آپ گزر رہے تھے آپ نے وہاں منزل کی تھی۔ کسی نے بادشاہ کو خبر کردی کہ ایک مسافر کے ساتھ بہترین عورت ہے اور وہ اس وقت ہماری سلطنت میں ہے۔ بادشاہ نے جھٹ سپاہی بھیجا کہ وہ حضرت سارہ کو لے آئے۔ اس نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے ؟ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا میری بہن ہے اس نے کہا اسے بادشاہ کے دربار میں بھیجو۔ آپ حضرت سارہ کے پاس گئے اور فرمایا سنواس ظالم نے تمہیں طلب کیا ہے اور میں تمہیں اپنی بہن بتاچکا ہوں اگر تم سے بھی پوچھا جائے تو یہی کہنا اس لئے کہ دین کے اعتبار سے تم میری بہن ہو، روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مسلمان نہیں۔ یہ کہہ کر آپ چلے آئے حضرت سارہ وہاں سے چلیں آپ نماز میں کھڑے ہوگئے۔ جب حضرت سارہ کو اس ظالم نے دیکھا اور ان کی طرف لپکا اسی وقت اللہ کے عذاب نے اسے پکڑلیا ہاتھ پاؤں اینٹھ گئے۔ گھبرا کر عاجزی سے کہنے لگا اے نیک عورت اللہ سے دعا کر کہ وہ مجھے چھوڑ دے میں وعدہ کرتا ہوں کہ تجھے ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔ آپ نے دعا کی اسی وقت وہ اچھا ہوگیا لیکن اچھا ہوتے ہی اس نے پھر قصد کیا اور آپ کو پکڑنا چاہا وہی پھر عذاب الٰہی آپہنچا اور یہ پہلی دفعہ سے زیادہ سخت پکڑ لیا گیا پھر عاجزی کرنے لگا غرض تین دفعہ پے درپے یہی ہوا۔ تیسری دفعہ چھوٹتے ہی اس نے اپنے قریب کے ملازم کو آواز دی اور کہا تو میرے پاس کسی انسان عورت کو نہیں لایا بلکہ شیطانہ کو لایا ہے جا اسے نکال اور ہاجرہ کو اس کے ساتھ کردے۔ اسی وقت آپ وہاں سے نکال دی گئیں اور حضرت ہاجرہ آپ کے حوالے کی گئیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کی آہٹ پاتے ہی نماز سے فراغت حاصل کی اور دریافت فرمایا کہ کہو کیا گزری ؟ آپ نے فرمایا اللہ نے اس کافر کے مکر کو اسی پر لوٹا دیا اور حاجرہ میری خدمت کے لئے آگئیں حضرت ابوہریرہ ؓ اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ یہ ہیں تمہاری اماں اے آسمانی پانی کے لڑکو۔
Tafsir Ibn Kathir
ثُمَّ أَقْسَمَ الْخَلِيلُ قَسَمًا أَسْمَعَهُ بَعْضَ قَوْمِهِ لَيَكِيدَنَّ أَصْنَامَهُمْ، أَيْ: لَيَحْرِصَنَّ عَلَى أَذَاهُمْ وَتَكْسِيرِهِمْ بَعْدَ أَنْ يُوَلُّوا [[في ف: "تولو".]] مُدْبِرِينَ أَيْ: إِلَى عِيدِهِمْ. وَكَانَ لَهُمْ عيد يخرجون إليه.
قَالَ السُّدِّيُّ: لَمَّا اقْتَرَبَ [[في ف: "قرب".]] وَقْتُ ذَلِكَ الْعِيدِ قَالَ أَبُوهُ: يَا بُنَيَّ، لَوْ خَرَجْتَ مَعَنَا إِلَى عِيدِنَا لَأَعْجَبَكَ دِينُنَا! فَخَرَجَ مَعَهُمْ، فَلَمَّا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أَلْقَى نَفْسَهُ إِلَى الْأَرْضِ. وَقَالَ: إِنِّي سَقِيمٌ، فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ عَلَيْهِ وَهُوَ صَرِيعٌ، فَيَقُولُونَ: مَهْ! فَيَقُولُ: إِنِّي سَقِيمٌ، فَلَمَّا جَازَ عَامَّتُهُمْ وَبَقِيَ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ: ﴿تَاللَّهِ لأكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ﴾ فَسَمِعَهُ أُولَئِكَ.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: لَمَّا خَرَجَ قَوْمُ إِبْرَاهِيمَ، إِلَى عِيدِهِمْ مَرُّوا عَلَيْهِ فَقَالُوا: يَا إِبْرَاهِيمُ أَلَا تَخْرُجُ مَعَنَا؟ قَالَ: إِنِّي سَقِيمٌ. وَقَدْ كَانَ بِالْأَمْسِ قَالَ: ﴿تَاللَّهِ لأكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ بَعْدَ أَنْ تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ﴾ فَسَمِعَهُ نَاسٌ مِنْهُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا﴾ أَيْ: حُطَامًا كَسَّرَهَا كُلَّهَا ﴿إِلا كَبِيرًا لَهُمْ﴾ يَعْنِي: إِلَّا الصَّنَمَ الْكَبِيرَ عِنْدَهُمْ كَمَا قَالَ: ﴿فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٣] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ﴾ ذَكَرُوا أَنَّهُ وَضَعَ الْقَدُومَ فِي يَدِ كَبِيرِهِمْ، لَعَلَّهُمْ يَعْتَقِدُونَ أَنَّهُ هُوَ الَّذِي غَارَ لِنَفْسِهِ، وَأَنِفَ أَنْ تُعْبَدَ مَعَهُ هَذِهِ الْأَصْنَامُ الصِّغَارُ، فَكَسَّرَهَا.
﴿قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: حِينَ رَجَعُوا وَشَاهَدُوا مَا فَعَلَهُ الْخَلِيلُ بِأَصْنَامِهِمْ مِنَ الْإِهَانَةِ وَالْإِذْلَالِ الدَّالِّ عَلَى عَدَمِ إِلَهِيَّتِهَا، وَعَلَى سَخَافَةِ عُقُولِ عَابِدِيهَا ﴿قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: فِي صَنِيعِهِ هَذَا.
﴿قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾ أَيْ: قَالَ مَنْ سَمِعَهُ يَحْلِفُ أَنَّهُ لَيَكِيدَنَّهُمْ: ﴿سَمِعْنَا فَتًى﴾ أَيْ: شَابًّا ﴿يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ قَابُوسٍ [عَنْ أَبِيهِ] [[زيادة من ف.]] ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا شَابًّا، وَلَا أُوتِيَ الْعَلَمَ عَالِمٌ إِلَّا وَهُوَ شَابٌّ، وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ﴾ أَيْ: عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ فِي الْمَلَإِ الْأَكْبَرِ بِحَضْرَةِ النَّاسِ كُلِّهِمْ، وَكَانَ هَذَا هُوَ الْمَقْصُودَ الْأَكْبَرَ لِإِبْرَاهِيمَ أَنْ يَتَبَيَّنَ [[في ف، أ: "يبين".]] فِي هَذَا الْمَحْفِلِ الْعَظِيمِ كَثْرَةُ جَهْلِهِمْ وَقِلَّةُ عَقْلِهِمْ [[في ف: "عقولهم".]] فِي عِبَادَةِ هَذِهِ الْأَصْنَامِ الَّتِي لَا تَدْفَعُ عَنْ نَفْسِهَا ضَرًّا، وَلَا تَمْلِكُ [[في ف: "ولا تستطيع".]] لَهَا نَصْرًا، فَكَيْفَ يُطْلَبُ مِنْهَا شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ؟.
﴿قَالُوا أَأَنْتَ فَعَلْتَ هَذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ يَعْنِي: الَّذِي تَرَكَهُ لَمْ يَكْسِرْهُ ﴿فَاسْأَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ﴾ وَإِنَّمَا أَرَادَ بِهَذَا أَنْ يُبَادِرُوا مِنْ تِلْقَاءِ أَنْفُسِهِمْ، فَيَعْتَرِفُوا أَنَّهُمْ لَا يَنْطِقُونَ، فَإِنَّ هَذَا لَا يَصْدُرُ عَنْ هَذَا الصَّنَمِ، لِأَنَّهُ جَمَادٌ.
وَفِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "إِنَّ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمْ يَكْذِبْ غَيْرَ ثَلَاثٍ: ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللَّهِ [[في ف، أ: "كتاب".]] ، قَوْلُهُ: ﴿بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ وَقَوْلُهُ ﴿إِنِّي سَقِيمٌ﴾ قَالَ: "وَبَيْنَا هُوَ يَسِيرُ فِي أرض جبار من الجبابرة ومعه سَارَةُ، إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَأَتَى الْجَبَّارَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَزَلَ بِأَرْضِكَ رَجُلٌ مَعَهُ امْرَأَةٌ أَحْسَنُ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجَاءَ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْمَرْأَةُ مِنْكَ؟ قَالَ: هِيَ أُخْتِي. قَالَ: فَاذْهَبْ فَأَرْسِلْ بِهَا إِلَيَّ، فَانْطَلَقَ إِلَى سَارَةَ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ [[في ف: "الجبار قد سألني".]] سَأَلَنِي عَنْكِ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي فَلَا تُكَذِّبِينِي عِنْدَهُ، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَأَنَّهُ لَيْسَ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَانْطَلَقَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي. فَلَمَّا أَنْ دَخَلَتْ عَلَيْهِ فَرَآهَا أَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا، فَأُخِذَ أَخْذًا شَدِيدًا، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَدَعَتْ لَهُ فَأُرْسِلَ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ بِمِثْلِهَا أَوْ أَشَدَّ. فَفَعَلَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ فَأُخِذَ، [فَذَكَرَ] [[زيادة من ف، والسنن.]] مِثْلَ الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ [[في ف، أ: "الأولتين".]] فَقَالَ ادْعِي اللَّهَ فَلَا أَضُرُّكِ. فَدَعَتْ، لَهُ فَأُرْسِلَ، ثُمَّ دَعَا أَدْنَى حُجَّابِهِ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، وَإِنَّمَا [[في ف: "ولكنك".]] أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، أَخْرِجْهَا وَأَعْطِهَا هَاجَرَ، فَأُخْرِجَتْ وَأُعْطِيَتْ هَاجَرَ، فَأَقْبَلَتْ، فَلَمَّا أَحَسَّ إِبْرَاهِيمُ بِمَجِيئِهَا انْفَتَلَ مِنْ صِلَاتِهِ، قَالَ [[في ف: "وقال".]] : مَهْيَم؟ قَالَتْ: كَفَى اللَّهُ كَيْدَ الْكَافِرِ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَنِي هَاجَرَ" قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ [[في ف، أ: "إدريس".]] وَكَانَ [[في ف: "فكان".]] : أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ [[لم أجده في الصحيحين من طريق هشام بن حسان وإنما هو في السنن: فرواه أبو داود في السنن برقم (٢٢١٢) من طريق عبد الوهاب الثقفي عن هشام بن حسان. ورواه النسائي في السنن الكبرى برقم (٨٣٧٤) من طريق أبي أسامة عن هشام بن حسان. وهو في الصحيحين من طريق أيوب عن محمد بن سيرين؛ صحيح البخاري برقم (٥٠٨٤) ، وصحيح مسلم برقم (٢٣٧١) .]]
فَجَعَلَهُمْ جُذَٰذًا إِلَّا كَبِيرًۭا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ
So he made them into fragments, except a large one among them, that they might return to it [and question].
پھر ان کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا مگر ایک بڑے (بت) کو (نہ توڑا) تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں
سرانجام (با استفاده از یک فرصت مناسب)، همه آنها -جز بت بزرگشان- را قطعه قطعه کرد؛ شاید سراغ او بیایند (و او حقایق را بازگو کند)!
Tafsir Ibn Kathir
"And by Allah, I shall plot a plan for your idols after you have gone away and turned your backs. (57)So he broke them to pieces, except the biggest of them, that they might turn to it (58)They said: "Who has done this to our gods He must indeed be one of the wrongdoers. (59)They said: "We heard a young man talking against them, who is called Ibrahim. (60)They said: "Then bring him before the eyes of the people, that they may testify. (61)They said: "Are you the one who has done this to our gods, O Ibrahim? (62)He said: "Nay, this one, the biggest of them did it. Ask them, if they can speak! (63)
How Ibrahim broke the Idols
Then Ibrahim swore an oath, which some of his people heard, to plot against their idols, i.e., to break them and destroy them after they had gone away and turned their backs, when they went out to their festival. They had a festival which they would go out to celebrate. Abu Ishaq reported from Abu Al-Ahwas from 'Abdullah Ibn Mas'ud, "When the people of Ibrahim went out to celebrate their festival, they passed by him and said, 'O Ibrahim, are you not coming out with us' He said, 'I am sick.'" It was only the day before that he had said,
وَتَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُم بَعْدَ أَن تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ
(And by Allah, I shall plot a plan for your idols after you have gone away and turned your backs.) and some of the people had heard him.
فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا
(So he broke them to pieces,) means, he smashed them all, except for the biggest idol. This is like the Ayah,
فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ
(Then he turned upon them, striking (them) with (his) right hand)(37:93).
لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ
(that they might turn to it.) It was said that he put a hammer in the hands of the biggest idol so that the people would think that it had become jealous on its own account and objected to these smaller idols being worshipped alongside it, so it had broken them.
قَالُوا مَن فَعَلَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ
(They said: "Who has done this to our gods? He must indeed be one of the wrongdoers.") When they came back and saw what Ibrahim had done to their idols, humiliating them and lowering their status, proving that they were not divine and that those who worshipped them were fools,
قَالُوا مَن فَعَلَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ
(They said: "Who has done this to our gods? He must indeed be one of the wrongdoers.") because of this action of his.
قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ
(They said: "We heard a young man talking against them, who is called Ibrahim.") Those who had heard him swearing to plot against them said, we heard a young man talking about them, and they said that he was called Ibrahim.
قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَىٰ أَعْيُنِ النَّاسِ
(They said: "Then bring him before the eyes of the people...") meaning, in front of a large audience so that all the people could be present. This was Ibrahim's ultimate purpose, so that he could tell this great gathering about the extent of their ignorance and how foolish they were to worship idols which could not defend themselves from harm or help themselves, so how could they ask them for help?
قَالُوا أَأَنتَ فَعَلْتَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ - قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا
(They said: "Are you the one who has done this to our gods, O Ibrahim?" He said: "Nay, this one, the biggest of them did it...") referring to the one he had left alone and had not broken.
فَاسْأَلُوهُمْ إِن كَانُوا يَنطِقُونَ
(Ask them, if they can speak!) He was hoping that they would admit of their own volition that these idols could not speak and that this idol would not say anything because it was inanimate. In the Two Sahihs it was recorded from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said:
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمْ يَكْذِبْ غَيْرَ ثَلَاثٍ: ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللهِ قَوْلُهُ:
(Ibrahim, upon him be peace, did not tell lies except on three occasions, two for the sake of Allah – when he said:
بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا
(Nay, this one, the biggest of them did it.) and when he said:
إِنِّي سَقِيمٌ
(Verily, I am sick)(37:89).
قَالَ: وَبَيْنَا هُوَ يَسِيرُ فِي أَرْضِ جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ وَمَعَهُ سَارَّةُ، إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَأَتَى الْجَبَّارَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَزَل هَهُنَا رَجُلٌ بِأَرْضِكَ مَعَهُ امْرَأَةٌ أَحْسَنُ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجَاءَ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْمَرْأَةُ مِنْكَ؟ قَالَ: هِيَ أُخْتِي. قَالَ: فَاذْهَبْ فَأَرْسِلْ بِهَا إِلَيَّ، فَانْطَلَقَ إِلَى سَارَّةَ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ قَدْ سَأَلَنِي عَنْكِ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي، فَلَا تُكَذِّبِينِي عِنْدَهُ، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللهِ، وَإِنَّهُ لَيْسَ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَانْطَلَقَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَلَمَّا أَنْ دَخَلَتْ عَلَيْهِ فَرَآهَا أَهْوَى إِلَيْهَا فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ أَخْذًا شَدِيدًا، فَقَالَ: ادْعِي اللهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَدَعَتْ لَهُ، فَأُرْسِلَ فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ بِمِثْلِهَا أَوْ أَشَدَّ، فَفَعَلَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ، فَأُخِذَ فَذَكَرَ مِثْلَ الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، فَقَالَ: ادْعِي اللهَ فَلَا أُضُرَّكِ، فَدَعَتْ لَهُ فَأُرْسِلَ، ثُمَّ دَعَا أَدْنَى حُجَّابِهِ فَقَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، وَلَكِنَّكَ أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، أَخْرِجْهَا وَأَعْطِهَا هَاجَرَ.
فَأُخْرِجَتْ وَأُعْطِيَتْ هَاجَرَ، فَأَقْبَلَتْ، فَلَمَّا أَحَسَّ إِبْرَاهِيمُ بِمَجِيئِهَا، انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ، وَقَالَ: مَهْيَمْ. قَالَتْ: كَفَى اللهُ كَيْدَ الْكَافِرِ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَنِي هَاجَرَ
(and when he was traveling in the land of one of the tyrants, and Sarah was with him; when he made camp, a man came to the tyrant and said, "A man has made camp in your land and with him is a woman who is the most beautiful of people." The tyrant sent for Ibrahim, and asked him, "What is the relationship of this woman to you?" He said, "She is my sister." The tyrant said, "Go and send her to me." So Ibrahim went to Sarah and said, "This tyrant asked me about you, and I told him that you are my sister, so do not let him think that I am lying. For you are indeed my sister according to the Book of Allah, and there are no Muslims on the earth apart from you and I." So Ibrahim brought her to him, then he stood and prayed. When she entered upon the tyrant, he reached for her desirously once he saw her. But he suffered a severe seizure. So he said, "Pray to Allah for me and I will not harm you." So she prayed for him and it released him. Then he reached for her desirously, but he was stricken similarly before or worse. This continued three times, and each time he said the same as he had said the first time. Then he called the closest of his guards and said, "You have not brought me a human being, you have brought me a devil! Take her out and give her Hajar. So she was taken out and given Hajar, and she went back. When Ibrahim realized that she had come back, he finished his prayer and turned around. He said, "What happened?" She said, "Allah took care of the evil disbeliever's plot, and he gave me Hajar as a servant.")
Muhammad bin Sirin said, "When Abu Hurayrah narrated this Hadith, he said, 'This is your mother, O sons of the water of the heaven.'"
Tafsir Ibn Kathir
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا۔ اور جذبہ توحید میں آکر آپ نے قسم کھالی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔ ان کی عید کا دن جو مقرر تھا حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لئے باہر جاؤ گے میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کردوں گا۔ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ کے والد نے آپ سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہوجائے۔ چناچہ یہ آپ کو لے چلا۔ کچھ دور جانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم گرپڑے اور فرمانے لگے ابا میں بیمار ہوگیا۔ باپ آپ کو چھوڑ کر مراسم کفر بجا لانے کے لئے بڑھ گئے اور جو لوگ راستے سے گزرتے آپ سے پوچھتے کیا بات ہے راستے پر کیسے بیٹھے ہو ؟ جواب دیتے کہ میں بیمار ہوں۔ جب عام لوگ نکل گئے اور بڈھے بڑے لوگ رہ گئے تو آپ نے فرمایا تم سب کے چلے جانے کے بعد آج میں تمہارے معبودوں کی مرمت کردوں گا۔ آپ نے جو فرمایا کہ میں بیمار ہوں تو واقعی آپ اس دن کے اگلے دن قدرے علیل بھی تھے۔ جب کہ وہ لوگ چلے گئے تو میدان خالی پا کر آپ نے اپنا ارادہ پورا کیا اور بڑے بت کو چھوڑ کر تمام بتوں کا چورا کردیا۔ جیسے اور آیتوں میں اس کا تفصیلی بیان موجود ہے کہ اپنے ہاتھ سے ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ اس بڑے بت کے باقی رکھنے میں حکمت و مصلحت یہ تھی کہ اولاً ان لوگوں کے ذہن میں خیال آئے کہ شاید اس بڑے بت نے ان چھوٹے بتوں کو غارت کردیا ہوگا ؟ کیونکہ اسے غیرت معلوم ہوئی ہوگی کہ مجھ بڑے کے ہوتے ہوئے یہ چھوٹے خدائی کے لائق کیسے ہوگئے۔ چناچہ اس خیال کی پختگی ان کے ذہنوں میں قائم کرنے کے لئے آپ نے کلہاڑا بھی اس کی گردن پر رکھ دیا تھا۔ جیسے مروی ہے۔ جب یہ مشرکین اپنے میلے سے واپس آئے تو دیکھا کہ ان کے سارے معبود منہ کے بل اوندھے گرے ہوئے ہیں۔ اور اپنی حالت سے وہ بتا رہے ہیں کہ وہ محض بےجان بےنفع و نقصان ذلیل وحقیر چیز ہیں۔ اور گویا اپنی اس حالت سے اپنے پجاریوں کی بےوقوفی پر مہرلگا رہے تھے۔ لیکن ان بیوقوفوں پر الٹا اثر ہوا کہنے لگے یہ کون ظالم شخص تھا جس نے ہمارے معبودوں کی ایسی اہانت کی ؟ اس وقت جن لوگوں نے حضرت ابراہیم ؑ کا وہ کلام سنا تھا، انہیں خیال آگیا اور کہنے لگے وہ نوجوان جس کا نام ابراہیم ہے اسے ہم نے اپنے معبودوں کی مذمت کرتے ہوئے سنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اس آیت کو پڑھتے اور فرماتے جو نبی آیا جوان۔ جو عالم بنا جوان۔ شان الٰہی دیکھئے جو مقصد حضرت خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کا تھا وہ اب پورا ہورہا ہے۔ قوم کے یہ لوگ مشورہ کرتے ہیں کہ آؤ سب کو جمع کرو اور اسے بلاؤ اور پھر اس کو سزا دو۔ حضرت خلیل اللہ یہی چاہتے تھے کہ کوئی ایسا مجمع ہو اور میں اس میں ان کی غلطیاں ان پر واضع کروں اور ان میں توحید کی تبلیغ کرو۔ اور انہیں بتلاؤں کہ یہ کیسے ظالم وجاہل ہیں ؟ کہ ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو نفع نقصان کے مالک نہیں بلکہ اپنی جان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ چناچہ مجمع ہوا۔ سب چھوٹے بڑے آگئے، حضرت ابراہیم ؑ بھی ملزم کی حیثیت سے موجود ہوئے اور آپ سے سوال ہوا کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ لغو حرکت تم نے کی ہے ؟ اس پر آپ نے انہیں قائل معقول کرنے کے لئے فرمایا کہ یہ کام تو ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے۔ اور اس کی طرف اشارہ کیا جسے آپ نے توڑا نہ تھا پھر فرمایا کہ مجھ سے کیا پوچھتے ہو ؟ اپنے ان معبودوں سے ہی کیوں دریافت نہیں کرتے کہ تمہارے ٹکڑے اڑانے والا کون ہے ؟ اس سے مقصود خلیل اللہ ؑ کا یہ تھا کہ یہ لوگ خودبخود ہی سمجھ لیں کہ یہ پتھر کیا بولیں گے ؟ اور جب وہ اتنے عاجز ہیں تو یہ لائق عبادت کیسے ٹھیر سکتے ہیں ؟ چناچہ یہ مقصد بھی آپ کا بفضل الٰہی پورا ہوا اور یہ دوسری ضرب بھی کاری لگی۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ خلیل اللہ نے تین جھوٹ بولے ہیں دو تو راہ اللہ میں۔ ایک تو انکا یہ فرمانا کہ ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے۔ دوسرا یہ فرمانا کہ میں بیمار ہوں۔ اور ایک مرتبہ حضرت سارہ کے ساتھ سفر میں تھے۔ اتفاق سے ایک ظالم کی حدود سے آپ گزر رہے تھے آپ نے وہاں منزل کی تھی۔ کسی نے بادشاہ کو خبر کردی کہ ایک مسافر کے ساتھ بہترین عورت ہے اور وہ اس وقت ہماری سلطنت میں ہے۔ بادشاہ نے جھٹ سپاہی بھیجا کہ وہ حضرت سارہ کو لے آئے۔ اس نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے ؟ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا میری بہن ہے اس نے کہا اسے بادشاہ کے دربار میں بھیجو۔ آپ حضرت سارہ کے پاس گئے اور فرمایا سنواس ظالم نے تمہیں طلب کیا ہے اور میں تمہیں اپنی بہن بتاچکا ہوں اگر تم سے بھی پوچھا جائے تو یہی کہنا اس لئے کہ دین کے اعتبار سے تم میری بہن ہو، روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مسلمان نہیں۔ یہ کہہ کر آپ چلے آئے حضرت سارہ وہاں سے چلیں آپ نماز میں کھڑے ہوگئے۔ جب حضرت سارہ کو اس ظالم نے دیکھا اور ان کی طرف لپکا اسی وقت اللہ کے عذاب نے اسے پکڑلیا ہاتھ پاؤں اینٹھ گئے۔ گھبرا کر عاجزی سے کہنے لگا اے نیک عورت اللہ سے دعا کر کہ وہ مجھے چھوڑ دے میں وعدہ کرتا ہوں کہ تجھے ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔ آپ نے دعا کی اسی وقت وہ اچھا ہوگیا لیکن اچھا ہوتے ہی اس نے پھر قصد کیا اور آپ کو پکڑنا چاہا وہی پھر عذاب الٰہی آپہنچا اور یہ پہلی دفعہ سے زیادہ سخت پکڑ لیا گیا پھر عاجزی کرنے لگا غرض تین دفعہ پے درپے یہی ہوا۔ تیسری دفعہ چھوٹتے ہی اس نے اپنے قریب کے ملازم کو آواز دی اور کہا تو میرے پاس کسی انسان عورت کو نہیں لایا بلکہ شیطانہ کو لایا ہے جا اسے نکال اور ہاجرہ کو اس کے ساتھ کردے۔ اسی وقت آپ وہاں سے نکال دی گئیں اور حضرت ہاجرہ آپ کے حوالے کی گئیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کی آہٹ پاتے ہی نماز سے فراغت حاصل کی اور دریافت فرمایا کہ کہو کیا گزری ؟ آپ نے فرمایا اللہ نے اس کافر کے مکر کو اسی پر لوٹا دیا اور حاجرہ میری خدمت کے لئے آگئیں حضرت ابوہریرہ ؓ اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ یہ ہیں تمہاری اماں اے آسمانی پانی کے لڑکو۔
Tafsir Ibn Kathir
ثُمَّ أَقْسَمَ الْخَلِيلُ قَسَمًا أَسْمَعَهُ بَعْضَ قَوْمِهِ لَيَكِيدَنَّ أَصْنَامَهُمْ، أَيْ: لَيَحْرِصَنَّ عَلَى أَذَاهُمْ وَتَكْسِيرِهِمْ بَعْدَ أَنْ يُوَلُّوا [[في ف: "تولو".]] مُدْبِرِينَ أَيْ: إِلَى عِيدِهِمْ. وَكَانَ لَهُمْ عيد يخرجون إليه.
قَالَ السُّدِّيُّ: لَمَّا اقْتَرَبَ [[في ف: "قرب".]] وَقْتُ ذَلِكَ الْعِيدِ قَالَ أَبُوهُ: يَا بُنَيَّ، لَوْ خَرَجْتَ مَعَنَا إِلَى عِيدِنَا لَأَعْجَبَكَ دِينُنَا! فَخَرَجَ مَعَهُمْ، فَلَمَّا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أَلْقَى نَفْسَهُ إِلَى الْأَرْضِ. وَقَالَ: إِنِّي سَقِيمٌ، فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ عَلَيْهِ وَهُوَ صَرِيعٌ، فَيَقُولُونَ: مَهْ! فَيَقُولُ: إِنِّي سَقِيمٌ، فَلَمَّا جَازَ عَامَّتُهُمْ وَبَقِيَ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ: ﴿تَاللَّهِ لأكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ﴾ فَسَمِعَهُ أُولَئِكَ.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: لَمَّا خَرَجَ قَوْمُ إِبْرَاهِيمَ، إِلَى عِيدِهِمْ مَرُّوا عَلَيْهِ فَقَالُوا: يَا إِبْرَاهِيمُ أَلَا تَخْرُجُ مَعَنَا؟ قَالَ: إِنِّي سَقِيمٌ. وَقَدْ كَانَ بِالْأَمْسِ قَالَ: ﴿تَاللَّهِ لأكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ بَعْدَ أَنْ تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ﴾ فَسَمِعَهُ نَاسٌ مِنْهُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا﴾ أَيْ: حُطَامًا كَسَّرَهَا كُلَّهَا ﴿إِلا كَبِيرًا لَهُمْ﴾ يَعْنِي: إِلَّا الصَّنَمَ الْكَبِيرَ عِنْدَهُمْ كَمَا قَالَ: ﴿فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٣] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ﴾ ذَكَرُوا أَنَّهُ وَضَعَ الْقَدُومَ فِي يَدِ كَبِيرِهِمْ، لَعَلَّهُمْ يَعْتَقِدُونَ أَنَّهُ هُوَ الَّذِي غَارَ لِنَفْسِهِ، وَأَنِفَ أَنْ تُعْبَدَ مَعَهُ هَذِهِ الْأَصْنَامُ الصِّغَارُ، فَكَسَّرَهَا.
﴿قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: حِينَ رَجَعُوا وَشَاهَدُوا مَا فَعَلَهُ الْخَلِيلُ بِأَصْنَامِهِمْ مِنَ الْإِهَانَةِ وَالْإِذْلَالِ الدَّالِّ عَلَى عَدَمِ إِلَهِيَّتِهَا، وَعَلَى سَخَافَةِ عُقُولِ عَابِدِيهَا ﴿قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: فِي صَنِيعِهِ هَذَا.
﴿قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾ أَيْ: قَالَ مَنْ سَمِعَهُ يَحْلِفُ أَنَّهُ لَيَكِيدَنَّهُمْ: ﴿سَمِعْنَا فَتًى﴾ أَيْ: شَابًّا ﴿يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ قَابُوسٍ [عَنْ أَبِيهِ] [[زيادة من ف.]] ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا شَابًّا، وَلَا أُوتِيَ الْعَلَمَ عَالِمٌ إِلَّا وَهُوَ شَابٌّ، وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ﴾ أَيْ: عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ فِي الْمَلَإِ الْأَكْبَرِ بِحَضْرَةِ النَّاسِ كُلِّهِمْ، وَكَانَ هَذَا هُوَ الْمَقْصُودَ الْأَكْبَرَ لِإِبْرَاهِيمَ أَنْ يَتَبَيَّنَ [[في ف، أ: "يبين".]] فِي هَذَا الْمَحْفِلِ الْعَظِيمِ كَثْرَةُ جَهْلِهِمْ وَقِلَّةُ عَقْلِهِمْ [[في ف: "عقولهم".]] فِي عِبَادَةِ هَذِهِ الْأَصْنَامِ الَّتِي لَا تَدْفَعُ عَنْ نَفْسِهَا ضَرًّا، وَلَا تَمْلِكُ [[في ف: "ولا تستطيع".]] لَهَا نَصْرًا، فَكَيْفَ يُطْلَبُ مِنْهَا شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ؟.
﴿قَالُوا أَأَنْتَ فَعَلْتَ هَذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ يَعْنِي: الَّذِي تَرَكَهُ لَمْ يَكْسِرْهُ ﴿فَاسْأَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ﴾ وَإِنَّمَا أَرَادَ بِهَذَا أَنْ يُبَادِرُوا مِنْ تِلْقَاءِ أَنْفُسِهِمْ، فَيَعْتَرِفُوا أَنَّهُمْ لَا يَنْطِقُونَ، فَإِنَّ هَذَا لَا يَصْدُرُ عَنْ هَذَا الصَّنَمِ، لِأَنَّهُ جَمَادٌ.
وَفِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "إِنَّ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمْ يَكْذِبْ غَيْرَ ثَلَاثٍ: ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللَّهِ [[في ف، أ: "كتاب".]] ، قَوْلُهُ: ﴿بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ وَقَوْلُهُ ﴿إِنِّي سَقِيمٌ﴾ قَالَ: "وَبَيْنَا هُوَ يَسِيرُ فِي أرض جبار من الجبابرة ومعه سَارَةُ، إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَأَتَى الْجَبَّارَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَزَلَ بِأَرْضِكَ رَجُلٌ مَعَهُ امْرَأَةٌ أَحْسَنُ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجَاءَ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْمَرْأَةُ مِنْكَ؟ قَالَ: هِيَ أُخْتِي. قَالَ: فَاذْهَبْ فَأَرْسِلْ بِهَا إِلَيَّ، فَانْطَلَقَ إِلَى سَارَةَ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ [[في ف: "الجبار قد سألني".]] سَأَلَنِي عَنْكِ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي فَلَا تُكَذِّبِينِي عِنْدَهُ، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَأَنَّهُ لَيْسَ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَانْطَلَقَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي. فَلَمَّا أَنْ دَخَلَتْ عَلَيْهِ فَرَآهَا أَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا، فَأُخِذَ أَخْذًا شَدِيدًا، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَدَعَتْ لَهُ فَأُرْسِلَ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ بِمِثْلِهَا أَوْ أَشَدَّ. فَفَعَلَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ فَأُخِذَ، [فَذَكَرَ] [[زيادة من ف، والسنن.]] مِثْلَ الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ [[في ف، أ: "الأولتين".]] فَقَالَ ادْعِي اللَّهَ فَلَا أَضُرُّكِ. فَدَعَتْ، لَهُ فَأُرْسِلَ، ثُمَّ دَعَا أَدْنَى حُجَّابِهِ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، وَإِنَّمَا [[في ف: "ولكنك".]] أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، أَخْرِجْهَا وَأَعْطِهَا هَاجَرَ، فَأُخْرِجَتْ وَأُعْطِيَتْ هَاجَرَ، فَأَقْبَلَتْ، فَلَمَّا أَحَسَّ إِبْرَاهِيمُ بِمَجِيئِهَا انْفَتَلَ مِنْ صِلَاتِهِ، قَالَ [[في ف: "وقال".]] : مَهْيَم؟ قَالَتْ: كَفَى اللَّهُ كَيْدَ الْكَافِرِ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَنِي هَاجَرَ" قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ [[في ف، أ: "إدريس".]] وَكَانَ [[في ف: "فكان".]] : أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ [[لم أجده في الصحيحين من طريق هشام بن حسان وإنما هو في السنن: فرواه أبو داود في السنن برقم (٢٢١٢) من طريق عبد الوهاب الثقفي عن هشام بن حسان. ورواه النسائي في السنن الكبرى برقم (٨٣٧٤) من طريق أبي أسامة عن هشام بن حسان. وهو في الصحيحين من طريق أيوب عن محمد بن سيرين؛ صحيح البخاري برقم (٥٠٨٤) ، وصحيح مسلم برقم (٢٣٧١) .]]
قَالُوا۟ مَن فَعَلَ هَٰذَا بِـَٔالِهَتِنَآ إِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ
They said, "Who has done this to our gods? Indeed, he is of the wrongdoers."
کہنے لگے کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا؟ وہ تو کوئی ظالم ہے
(هنگامی که منظره بتها را دیدند،) گفتند: «هر کس با خدایان ما چنین کرده، قطعاً از ستمگران است (و باید کیفر سخت ببیند)!»
Tafsir Ibn Kathir
"And by Allah, I shall plot a plan for your idols after you have gone away and turned your backs. (57)So he broke them to pieces, except the biggest of them, that they might turn to it (58)They said: "Who has done this to our gods He must indeed be one of the wrongdoers. (59)They said: "We heard a young man talking against them, who is called Ibrahim. (60)They said: "Then bring him before the eyes of the people, that they may testify. (61)They said: "Are you the one who has done this to our gods, O Ibrahim? (62)He said: "Nay, this one, the biggest of them did it. Ask them, if they can speak! (63)
How Ibrahim broke the Idols
Then Ibrahim swore an oath, which some of his people heard, to plot against their idols, i.e., to break them and destroy them after they had gone away and turned their backs, when they went out to their festival. They had a festival which they would go out to celebrate. Abu Ishaq reported from Abu Al-Ahwas from 'Abdullah Ibn Mas'ud, "When the people of Ibrahim went out to celebrate their festival, they passed by him and said, 'O Ibrahim, are you not coming out with us' He said, 'I am sick.'" It was only the day before that he had said,
وَتَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُم بَعْدَ أَن تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ
(And by Allah, I shall plot a plan for your idols after you have gone away and turned your backs.) and some of the people had heard him.
فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا
(So he broke them to pieces,) means, he smashed them all, except for the biggest idol. This is like the Ayah,
فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ
(Then he turned upon them, striking (them) with (his) right hand)(37:93).
لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ
(that they might turn to it.) It was said that he put a hammer in the hands of the biggest idol so that the people would think that it had become jealous on its own account and objected to these smaller idols being worshipped alongside it, so it had broken them.
قَالُوا مَن فَعَلَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ
(They said: "Who has done this to our gods? He must indeed be one of the wrongdoers.") When they came back and saw what Ibrahim had done to their idols, humiliating them and lowering their status, proving that they were not divine and that those who worshipped them were fools,
قَالُوا مَن فَعَلَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ
(They said: "Who has done this to our gods? He must indeed be one of the wrongdoers.") because of this action of his.
قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ
(They said: "We heard a young man talking against them, who is called Ibrahim.") Those who had heard him swearing to plot against them said, we heard a young man talking about them, and they said that he was called Ibrahim.
قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَىٰ أَعْيُنِ النَّاسِ
(They said: "Then bring him before the eyes of the people...") meaning, in front of a large audience so that all the people could be present. This was Ibrahim's ultimate purpose, so that he could tell this great gathering about the extent of their ignorance and how foolish they were to worship idols which could not defend themselves from harm or help themselves, so how could they ask them for help?
قَالُوا أَأَنتَ فَعَلْتَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ - قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا
(They said: "Are you the one who has done this to our gods, O Ibrahim?" He said: "Nay, this one, the biggest of them did it...") referring to the one he had left alone and had not broken.
فَاسْأَلُوهُمْ إِن كَانُوا يَنطِقُونَ
(Ask them, if they can speak!) He was hoping that they would admit of their own volition that these idols could not speak and that this idol would not say anything because it was inanimate. In the Two Sahihs it was recorded from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said:
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمْ يَكْذِبْ غَيْرَ ثَلَاثٍ: ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللهِ قَوْلُهُ:
(Ibrahim, upon him be peace, did not tell lies except on three occasions, two for the sake of Allah – when he said:
بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا
(Nay, this one, the biggest of them did it.) and when he said:
إِنِّي سَقِيمٌ
(Verily, I am sick)(37:89).
قَالَ: وَبَيْنَا هُوَ يَسِيرُ فِي أَرْضِ جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ وَمَعَهُ سَارَّةُ، إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَأَتَى الْجَبَّارَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَزَل هَهُنَا رَجُلٌ بِأَرْضِكَ مَعَهُ امْرَأَةٌ أَحْسَنُ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجَاءَ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْمَرْأَةُ مِنْكَ؟ قَالَ: هِيَ أُخْتِي. قَالَ: فَاذْهَبْ فَأَرْسِلْ بِهَا إِلَيَّ، فَانْطَلَقَ إِلَى سَارَّةَ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ قَدْ سَأَلَنِي عَنْكِ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي، فَلَا تُكَذِّبِينِي عِنْدَهُ، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللهِ، وَإِنَّهُ لَيْسَ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَانْطَلَقَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَلَمَّا أَنْ دَخَلَتْ عَلَيْهِ فَرَآهَا أَهْوَى إِلَيْهَا فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ أَخْذًا شَدِيدًا، فَقَالَ: ادْعِي اللهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَدَعَتْ لَهُ، فَأُرْسِلَ فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ بِمِثْلِهَا أَوْ أَشَدَّ، فَفَعَلَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ، فَأُخِذَ فَذَكَرَ مِثْلَ الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، فَقَالَ: ادْعِي اللهَ فَلَا أُضُرَّكِ، فَدَعَتْ لَهُ فَأُرْسِلَ، ثُمَّ دَعَا أَدْنَى حُجَّابِهِ فَقَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، وَلَكِنَّكَ أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، أَخْرِجْهَا وَأَعْطِهَا هَاجَرَ.
فَأُخْرِجَتْ وَأُعْطِيَتْ هَاجَرَ، فَأَقْبَلَتْ، فَلَمَّا أَحَسَّ إِبْرَاهِيمُ بِمَجِيئِهَا، انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ، وَقَالَ: مَهْيَمْ. قَالَتْ: كَفَى اللهُ كَيْدَ الْكَافِرِ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَنِي هَاجَرَ
(and when he was traveling in the land of one of the tyrants, and Sarah was with him; when he made camp, a man came to the tyrant and said, "A man has made camp in your land and with him is a woman who is the most beautiful of people." The tyrant sent for Ibrahim, and asked him, "What is the relationship of this woman to you?" He said, "She is my sister." The tyrant said, "Go and send her to me." So Ibrahim went to Sarah and said, "This tyrant asked me about you, and I told him that you are my sister, so do not let him think that I am lying. For you are indeed my sister according to the Book of Allah, and there are no Muslims on the earth apart from you and I." So Ibrahim brought her to him, then he stood and prayed. When she entered upon the tyrant, he reached for her desirously once he saw her. But he suffered a severe seizure. So he said, "Pray to Allah for me and I will not harm you." So she prayed for him and it released him. Then he reached for her desirously, but he was stricken similarly before or worse. This continued three times, and each time he said the same as he had said the first time. Then he called the closest of his guards and said, "You have not brought me a human being, you have brought me a devil! Take her out and give her Hajar. So she was taken out and given Hajar, and she went back. When Ibrahim realized that she had come back, he finished his prayer and turned around. He said, "What happened?" She said, "Allah took care of the evil disbeliever's plot, and he gave me Hajar as a servant.")
Muhammad bin Sirin said, "When Abu Hurayrah narrated this Hadith, he said, 'This is your mother, O sons of the water of the heaven.'"
Tafsir Ibn Kathir
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا۔ اور جذبہ توحید میں آکر آپ نے قسم کھالی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔ ان کی عید کا دن جو مقرر تھا حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لئے باہر جاؤ گے میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کردوں گا۔ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ کے والد نے آپ سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہوجائے۔ چناچہ یہ آپ کو لے چلا۔ کچھ دور جانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم گرپڑے اور فرمانے لگے ابا میں بیمار ہوگیا۔ باپ آپ کو چھوڑ کر مراسم کفر بجا لانے کے لئے بڑھ گئے اور جو لوگ راستے سے گزرتے آپ سے پوچھتے کیا بات ہے راستے پر کیسے بیٹھے ہو ؟ جواب دیتے کہ میں بیمار ہوں۔ جب عام لوگ نکل گئے اور بڈھے بڑے لوگ رہ گئے تو آپ نے فرمایا تم سب کے چلے جانے کے بعد آج میں تمہارے معبودوں کی مرمت کردوں گا۔ آپ نے جو فرمایا کہ میں بیمار ہوں تو واقعی آپ اس دن کے اگلے دن قدرے علیل بھی تھے۔ جب کہ وہ لوگ چلے گئے تو میدان خالی پا کر آپ نے اپنا ارادہ پورا کیا اور بڑے بت کو چھوڑ کر تمام بتوں کا چورا کردیا۔ جیسے اور آیتوں میں اس کا تفصیلی بیان موجود ہے کہ اپنے ہاتھ سے ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ اس بڑے بت کے باقی رکھنے میں حکمت و مصلحت یہ تھی کہ اولاً ان لوگوں کے ذہن میں خیال آئے کہ شاید اس بڑے بت نے ان چھوٹے بتوں کو غارت کردیا ہوگا ؟ کیونکہ اسے غیرت معلوم ہوئی ہوگی کہ مجھ بڑے کے ہوتے ہوئے یہ چھوٹے خدائی کے لائق کیسے ہوگئے۔ چناچہ اس خیال کی پختگی ان کے ذہنوں میں قائم کرنے کے لئے آپ نے کلہاڑا بھی اس کی گردن پر رکھ دیا تھا۔ جیسے مروی ہے۔ جب یہ مشرکین اپنے میلے سے واپس آئے تو دیکھا کہ ان کے سارے معبود منہ کے بل اوندھے گرے ہوئے ہیں۔ اور اپنی حالت سے وہ بتا رہے ہیں کہ وہ محض بےجان بےنفع و نقصان ذلیل وحقیر چیز ہیں۔ اور گویا اپنی اس حالت سے اپنے پجاریوں کی بےوقوفی پر مہرلگا رہے تھے۔ لیکن ان بیوقوفوں پر الٹا اثر ہوا کہنے لگے یہ کون ظالم شخص تھا جس نے ہمارے معبودوں کی ایسی اہانت کی ؟ اس وقت جن لوگوں نے حضرت ابراہیم ؑ کا وہ کلام سنا تھا، انہیں خیال آگیا اور کہنے لگے وہ نوجوان جس کا نام ابراہیم ہے اسے ہم نے اپنے معبودوں کی مذمت کرتے ہوئے سنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اس آیت کو پڑھتے اور فرماتے جو نبی آیا جوان۔ جو عالم بنا جوان۔ شان الٰہی دیکھئے جو مقصد حضرت خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کا تھا وہ اب پورا ہورہا ہے۔ قوم کے یہ لوگ مشورہ کرتے ہیں کہ آؤ سب کو جمع کرو اور اسے بلاؤ اور پھر اس کو سزا دو۔ حضرت خلیل اللہ یہی چاہتے تھے کہ کوئی ایسا مجمع ہو اور میں اس میں ان کی غلطیاں ان پر واضع کروں اور ان میں توحید کی تبلیغ کرو۔ اور انہیں بتلاؤں کہ یہ کیسے ظالم وجاہل ہیں ؟ کہ ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو نفع نقصان کے مالک نہیں بلکہ اپنی جان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ چناچہ مجمع ہوا۔ سب چھوٹے بڑے آگئے، حضرت ابراہیم ؑ بھی ملزم کی حیثیت سے موجود ہوئے اور آپ سے سوال ہوا کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ لغو حرکت تم نے کی ہے ؟ اس پر آپ نے انہیں قائل معقول کرنے کے لئے فرمایا کہ یہ کام تو ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے۔ اور اس کی طرف اشارہ کیا جسے آپ نے توڑا نہ تھا پھر فرمایا کہ مجھ سے کیا پوچھتے ہو ؟ اپنے ان معبودوں سے ہی کیوں دریافت نہیں کرتے کہ تمہارے ٹکڑے اڑانے والا کون ہے ؟ اس سے مقصود خلیل اللہ ؑ کا یہ تھا کہ یہ لوگ خودبخود ہی سمجھ لیں کہ یہ پتھر کیا بولیں گے ؟ اور جب وہ اتنے عاجز ہیں تو یہ لائق عبادت کیسے ٹھیر سکتے ہیں ؟ چناچہ یہ مقصد بھی آپ کا بفضل الٰہی پورا ہوا اور یہ دوسری ضرب بھی کاری لگی۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ خلیل اللہ نے تین جھوٹ بولے ہیں دو تو راہ اللہ میں۔ ایک تو انکا یہ فرمانا کہ ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے۔ دوسرا یہ فرمانا کہ میں بیمار ہوں۔ اور ایک مرتبہ حضرت سارہ کے ساتھ سفر میں تھے۔ اتفاق سے ایک ظالم کی حدود سے آپ گزر رہے تھے آپ نے وہاں منزل کی تھی۔ کسی نے بادشاہ کو خبر کردی کہ ایک مسافر کے ساتھ بہترین عورت ہے اور وہ اس وقت ہماری سلطنت میں ہے۔ بادشاہ نے جھٹ سپاہی بھیجا کہ وہ حضرت سارہ کو لے آئے۔ اس نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے ؟ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا میری بہن ہے اس نے کہا اسے بادشاہ کے دربار میں بھیجو۔ آپ حضرت سارہ کے پاس گئے اور فرمایا سنواس ظالم نے تمہیں طلب کیا ہے اور میں تمہیں اپنی بہن بتاچکا ہوں اگر تم سے بھی پوچھا جائے تو یہی کہنا اس لئے کہ دین کے اعتبار سے تم میری بہن ہو، روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مسلمان نہیں۔ یہ کہہ کر آپ چلے آئے حضرت سارہ وہاں سے چلیں آپ نماز میں کھڑے ہوگئے۔ جب حضرت سارہ کو اس ظالم نے دیکھا اور ان کی طرف لپکا اسی وقت اللہ کے عذاب نے اسے پکڑلیا ہاتھ پاؤں اینٹھ گئے۔ گھبرا کر عاجزی سے کہنے لگا اے نیک عورت اللہ سے دعا کر کہ وہ مجھے چھوڑ دے میں وعدہ کرتا ہوں کہ تجھے ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔ آپ نے دعا کی اسی وقت وہ اچھا ہوگیا لیکن اچھا ہوتے ہی اس نے پھر قصد کیا اور آپ کو پکڑنا چاہا وہی پھر عذاب الٰہی آپہنچا اور یہ پہلی دفعہ سے زیادہ سخت پکڑ لیا گیا پھر عاجزی کرنے لگا غرض تین دفعہ پے درپے یہی ہوا۔ تیسری دفعہ چھوٹتے ہی اس نے اپنے قریب کے ملازم کو آواز دی اور کہا تو میرے پاس کسی انسان عورت کو نہیں لایا بلکہ شیطانہ کو لایا ہے جا اسے نکال اور ہاجرہ کو اس کے ساتھ کردے۔ اسی وقت آپ وہاں سے نکال دی گئیں اور حضرت ہاجرہ آپ کے حوالے کی گئیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کی آہٹ پاتے ہی نماز سے فراغت حاصل کی اور دریافت فرمایا کہ کہو کیا گزری ؟ آپ نے فرمایا اللہ نے اس کافر کے مکر کو اسی پر لوٹا دیا اور حاجرہ میری خدمت کے لئے آگئیں حضرت ابوہریرہ ؓ اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ یہ ہیں تمہاری اماں اے آسمانی پانی کے لڑکو۔
Tafsir Ibn Kathir
ثُمَّ أَقْسَمَ الْخَلِيلُ قَسَمًا أَسْمَعَهُ بَعْضَ قَوْمِهِ لَيَكِيدَنَّ أَصْنَامَهُمْ، أَيْ: لَيَحْرِصَنَّ عَلَى أَذَاهُمْ وَتَكْسِيرِهِمْ بَعْدَ أَنْ يُوَلُّوا [[في ف: "تولو".]] مُدْبِرِينَ أَيْ: إِلَى عِيدِهِمْ. وَكَانَ لَهُمْ عيد يخرجون إليه.
قَالَ السُّدِّيُّ: لَمَّا اقْتَرَبَ [[في ف: "قرب".]] وَقْتُ ذَلِكَ الْعِيدِ قَالَ أَبُوهُ: يَا بُنَيَّ، لَوْ خَرَجْتَ مَعَنَا إِلَى عِيدِنَا لَأَعْجَبَكَ دِينُنَا! فَخَرَجَ مَعَهُمْ، فَلَمَّا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أَلْقَى نَفْسَهُ إِلَى الْأَرْضِ. وَقَالَ: إِنِّي سَقِيمٌ، فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ عَلَيْهِ وَهُوَ صَرِيعٌ، فَيَقُولُونَ: مَهْ! فَيَقُولُ: إِنِّي سَقِيمٌ، فَلَمَّا جَازَ عَامَّتُهُمْ وَبَقِيَ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ: ﴿تَاللَّهِ لأكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ﴾ فَسَمِعَهُ أُولَئِكَ.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: لَمَّا خَرَجَ قَوْمُ إِبْرَاهِيمَ، إِلَى عِيدِهِمْ مَرُّوا عَلَيْهِ فَقَالُوا: يَا إِبْرَاهِيمُ أَلَا تَخْرُجُ مَعَنَا؟ قَالَ: إِنِّي سَقِيمٌ. وَقَدْ كَانَ بِالْأَمْسِ قَالَ: ﴿تَاللَّهِ لأكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ بَعْدَ أَنْ تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ﴾ فَسَمِعَهُ نَاسٌ مِنْهُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا﴾ أَيْ: حُطَامًا كَسَّرَهَا كُلَّهَا ﴿إِلا كَبِيرًا لَهُمْ﴾ يَعْنِي: إِلَّا الصَّنَمَ الْكَبِيرَ عِنْدَهُمْ كَمَا قَالَ: ﴿فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٣] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ﴾ ذَكَرُوا أَنَّهُ وَضَعَ الْقَدُومَ فِي يَدِ كَبِيرِهِمْ، لَعَلَّهُمْ يَعْتَقِدُونَ أَنَّهُ هُوَ الَّذِي غَارَ لِنَفْسِهِ، وَأَنِفَ أَنْ تُعْبَدَ مَعَهُ هَذِهِ الْأَصْنَامُ الصِّغَارُ، فَكَسَّرَهَا.
﴿قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: حِينَ رَجَعُوا وَشَاهَدُوا مَا فَعَلَهُ الْخَلِيلُ بِأَصْنَامِهِمْ مِنَ الْإِهَانَةِ وَالْإِذْلَالِ الدَّالِّ عَلَى عَدَمِ إِلَهِيَّتِهَا، وَعَلَى سَخَافَةِ عُقُولِ عَابِدِيهَا ﴿قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: فِي صَنِيعِهِ هَذَا.
﴿قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾ أَيْ: قَالَ مَنْ سَمِعَهُ يَحْلِفُ أَنَّهُ لَيَكِيدَنَّهُمْ: ﴿سَمِعْنَا فَتًى﴾ أَيْ: شَابًّا ﴿يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ قَابُوسٍ [عَنْ أَبِيهِ] [[زيادة من ف.]] ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا شَابًّا، وَلَا أُوتِيَ الْعَلَمَ عَالِمٌ إِلَّا وَهُوَ شَابٌّ، وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ﴾ أَيْ: عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ فِي الْمَلَإِ الْأَكْبَرِ بِحَضْرَةِ النَّاسِ كُلِّهِمْ، وَكَانَ هَذَا هُوَ الْمَقْصُودَ الْأَكْبَرَ لِإِبْرَاهِيمَ أَنْ يَتَبَيَّنَ [[في ف، أ: "يبين".]] فِي هَذَا الْمَحْفِلِ الْعَظِيمِ كَثْرَةُ جَهْلِهِمْ وَقِلَّةُ عَقْلِهِمْ [[في ف: "عقولهم".]] فِي عِبَادَةِ هَذِهِ الْأَصْنَامِ الَّتِي لَا تَدْفَعُ عَنْ نَفْسِهَا ضَرًّا، وَلَا تَمْلِكُ [[في ف: "ولا تستطيع".]] لَهَا نَصْرًا، فَكَيْفَ يُطْلَبُ مِنْهَا شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ؟.
﴿قَالُوا أَأَنْتَ فَعَلْتَ هَذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ يَعْنِي: الَّذِي تَرَكَهُ لَمْ يَكْسِرْهُ ﴿فَاسْأَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ﴾ وَإِنَّمَا أَرَادَ بِهَذَا أَنْ يُبَادِرُوا مِنْ تِلْقَاءِ أَنْفُسِهِمْ، فَيَعْتَرِفُوا أَنَّهُمْ لَا يَنْطِقُونَ، فَإِنَّ هَذَا لَا يَصْدُرُ عَنْ هَذَا الصَّنَمِ، لِأَنَّهُ جَمَادٌ.
وَفِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "إِنَّ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمْ يَكْذِبْ غَيْرَ ثَلَاثٍ: ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللَّهِ [[في ف، أ: "كتاب".]] ، قَوْلُهُ: ﴿بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ وَقَوْلُهُ ﴿إِنِّي سَقِيمٌ﴾ قَالَ: "وَبَيْنَا هُوَ يَسِيرُ فِي أرض جبار من الجبابرة ومعه سَارَةُ، إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَأَتَى الْجَبَّارَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَزَلَ بِأَرْضِكَ رَجُلٌ مَعَهُ امْرَأَةٌ أَحْسَنُ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجَاءَ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْمَرْأَةُ مِنْكَ؟ قَالَ: هِيَ أُخْتِي. قَالَ: فَاذْهَبْ فَأَرْسِلْ بِهَا إِلَيَّ، فَانْطَلَقَ إِلَى سَارَةَ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ [[في ف: "الجبار قد سألني".]] سَأَلَنِي عَنْكِ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي فَلَا تُكَذِّبِينِي عِنْدَهُ، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَأَنَّهُ لَيْسَ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَانْطَلَقَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي. فَلَمَّا أَنْ دَخَلَتْ عَلَيْهِ فَرَآهَا أَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا، فَأُخِذَ أَخْذًا شَدِيدًا، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَدَعَتْ لَهُ فَأُرْسِلَ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ بِمِثْلِهَا أَوْ أَشَدَّ. فَفَعَلَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ فَأُخِذَ، [فَذَكَرَ] [[زيادة من ف، والسنن.]] مِثْلَ الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ [[في ف، أ: "الأولتين".]] فَقَالَ ادْعِي اللَّهَ فَلَا أَضُرُّكِ. فَدَعَتْ، لَهُ فَأُرْسِلَ، ثُمَّ دَعَا أَدْنَى حُجَّابِهِ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، وَإِنَّمَا [[في ف: "ولكنك".]] أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، أَخْرِجْهَا وَأَعْطِهَا هَاجَرَ، فَأُخْرِجَتْ وَأُعْطِيَتْ هَاجَرَ، فَأَقْبَلَتْ، فَلَمَّا أَحَسَّ إِبْرَاهِيمُ بِمَجِيئِهَا انْفَتَلَ مِنْ صِلَاتِهِ، قَالَ [[في ف: "وقال".]] : مَهْيَم؟ قَالَتْ: كَفَى اللَّهُ كَيْدَ الْكَافِرِ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَنِي هَاجَرَ" قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ [[في ف، أ: "إدريس".]] وَكَانَ [[في ف: "فكان".]] : أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ [[لم أجده في الصحيحين من طريق هشام بن حسان وإنما هو في السنن: فرواه أبو داود في السنن برقم (٢٢١٢) من طريق عبد الوهاب الثقفي عن هشام بن حسان. ورواه النسائي في السنن الكبرى برقم (٨٣٧٤) من طريق أبي أسامة عن هشام بن حسان. وهو في الصحيحين من طريق أيوب عن محمد بن سيرين؛ صحيح البخاري برقم (٥٠٨٤) ، وصحيح مسلم برقم (٢٣٧١) .]]
قَالُوا۟ سَمِعْنَا فَتًۭى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُۥٓ إِبْرَٰهِيمُ
They said, "We heard a young man mention them who is called Abraham."
لوگوں نے کہا کہ ہم نے ایک جوان کو ان کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے اس کو ابراہیم کہتے ہیں
(گروهی) گفتند: «شنیدیم نوجوانی از (مخالفت با) بتها سخن میگفت که او را ابراهیم میگویند.»
Tafsir Ibn Kathir
"And by Allah, I shall plot a plan for your idols after you have gone away and turned your backs. (57)So he broke them to pieces, except the biggest of them, that they might turn to it (58)They said: "Who has done this to our gods He must indeed be one of the wrongdoers. (59)They said: "We heard a young man talking against them, who is called Ibrahim. (60)They said: "Then bring him before the eyes of the people, that they may testify. (61)They said: "Are you the one who has done this to our gods, O Ibrahim? (62)He said: "Nay, this one, the biggest of them did it. Ask them, if they can speak! (63)
How Ibrahim broke the Idols
Then Ibrahim swore an oath, which some of his people heard, to plot against their idols, i.e., to break them and destroy them after they had gone away and turned their backs, when they went out to their festival. They had a festival which they would go out to celebrate. Abu Ishaq reported from Abu Al-Ahwas from 'Abdullah Ibn Mas'ud, "When the people of Ibrahim went out to celebrate their festival, they passed by him and said, 'O Ibrahim, are you not coming out with us' He said, 'I am sick.'" It was only the day before that he had said,
وَتَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُم بَعْدَ أَن تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ
(And by Allah, I shall plot a plan for your idols after you have gone away and turned your backs.) and some of the people had heard him.
فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا
(So he broke them to pieces,) means, he smashed them all, except for the biggest idol. This is like the Ayah,
فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ
(Then he turned upon them, striking (them) with (his) right hand)(37:93).
لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ
(that they might turn to it.) It was said that he put a hammer in the hands of the biggest idol so that the people would think that it had become jealous on its own account and objected to these smaller idols being worshipped alongside it, so it had broken them.
قَالُوا مَن فَعَلَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ
(They said: "Who has done this to our gods? He must indeed be one of the wrongdoers.") When they came back and saw what Ibrahim had done to their idols, humiliating them and lowering their status, proving that they were not divine and that those who worshipped them were fools,
قَالُوا مَن فَعَلَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ
(They said: "Who has done this to our gods? He must indeed be one of the wrongdoers.") because of this action of his.
قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ
(They said: "We heard a young man talking against them, who is called Ibrahim.") Those who had heard him swearing to plot against them said, we heard a young man talking about them, and they said that he was called Ibrahim.
قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَىٰ أَعْيُنِ النَّاسِ
(They said: "Then bring him before the eyes of the people...") meaning, in front of a large audience so that all the people could be present. This was Ibrahim's ultimate purpose, so that he could tell this great gathering about the extent of their ignorance and how foolish they were to worship idols which could not defend themselves from harm or help themselves, so how could they ask them for help?
قَالُوا أَأَنتَ فَعَلْتَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ - قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا
(They said: "Are you the one who has done this to our gods, O Ibrahim?" He said: "Nay, this one, the biggest of them did it...") referring to the one he had left alone and had not broken.
فَاسْأَلُوهُمْ إِن كَانُوا يَنطِقُونَ
(Ask them, if they can speak!) He was hoping that they would admit of their own volition that these idols could not speak and that this idol would not say anything because it was inanimate. In the Two Sahihs it was recorded from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said:
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمْ يَكْذِبْ غَيْرَ ثَلَاثٍ: ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللهِ قَوْلُهُ:
(Ibrahim, upon him be peace, did not tell lies except on three occasions, two for the sake of Allah – when he said:
بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا
(Nay, this one, the biggest of them did it.) and when he said:
إِنِّي سَقِيمٌ
(Verily, I am sick)(37:89).
قَالَ: وَبَيْنَا هُوَ يَسِيرُ فِي أَرْضِ جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ وَمَعَهُ سَارَّةُ، إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَأَتَى الْجَبَّارَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَزَل هَهُنَا رَجُلٌ بِأَرْضِكَ مَعَهُ امْرَأَةٌ أَحْسَنُ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجَاءَ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْمَرْأَةُ مِنْكَ؟ قَالَ: هِيَ أُخْتِي. قَالَ: فَاذْهَبْ فَأَرْسِلْ بِهَا إِلَيَّ، فَانْطَلَقَ إِلَى سَارَّةَ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ قَدْ سَأَلَنِي عَنْكِ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي، فَلَا تُكَذِّبِينِي عِنْدَهُ، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللهِ، وَإِنَّهُ لَيْسَ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَانْطَلَقَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَلَمَّا أَنْ دَخَلَتْ عَلَيْهِ فَرَآهَا أَهْوَى إِلَيْهَا فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ أَخْذًا شَدِيدًا، فَقَالَ: ادْعِي اللهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَدَعَتْ لَهُ، فَأُرْسِلَ فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ بِمِثْلِهَا أَوْ أَشَدَّ، فَفَعَلَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ، فَأُخِذَ فَذَكَرَ مِثْلَ الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، فَقَالَ: ادْعِي اللهَ فَلَا أُضُرَّكِ، فَدَعَتْ لَهُ فَأُرْسِلَ، ثُمَّ دَعَا أَدْنَى حُجَّابِهِ فَقَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، وَلَكِنَّكَ أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، أَخْرِجْهَا وَأَعْطِهَا هَاجَرَ.
فَأُخْرِجَتْ وَأُعْطِيَتْ هَاجَرَ، فَأَقْبَلَتْ، فَلَمَّا أَحَسَّ إِبْرَاهِيمُ بِمَجِيئِهَا، انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ، وَقَالَ: مَهْيَمْ. قَالَتْ: كَفَى اللهُ كَيْدَ الْكَافِرِ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَنِي هَاجَرَ
(and when he was traveling in the land of one of the tyrants, and Sarah was with him; when he made camp, a man came to the tyrant and said, "A man has made camp in your land and with him is a woman who is the most beautiful of people." The tyrant sent for Ibrahim, and asked him, "What is the relationship of this woman to you?" He said, "She is my sister." The tyrant said, "Go and send her to me." So Ibrahim went to Sarah and said, "This tyrant asked me about you, and I told him that you are my sister, so do not let him think that I am lying. For you are indeed my sister according to the Book of Allah, and there are no Muslims on the earth apart from you and I." So Ibrahim brought her to him, then he stood and prayed. When she entered upon the tyrant, he reached for her desirously once he saw her. But he suffered a severe seizure. So he said, "Pray to Allah for me and I will not harm you." So she prayed for him and it released him. Then he reached for her desirously, but he was stricken similarly before or worse. This continued three times, and each time he said the same as he had said the first time. Then he called the closest of his guards and said, "You have not brought me a human being, you have brought me a devil! Take her out and give her Hajar. So she was taken out and given Hajar, and she went back. When Ibrahim realized that she had come back, he finished his prayer and turned around. He said, "What happened?" She said, "Allah took care of the evil disbeliever's plot, and he gave me Hajar as a servant.")
Muhammad bin Sirin said, "When Abu Hurayrah narrated this Hadith, he said, 'This is your mother, O sons of the water of the heaven.'"
Tafsir Ibn Kathir
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا۔ اور جذبہ توحید میں آکر آپ نے قسم کھالی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔ ان کی عید کا دن جو مقرر تھا حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لئے باہر جاؤ گے میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کردوں گا۔ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ کے والد نے آپ سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہوجائے۔ چناچہ یہ آپ کو لے چلا۔ کچھ دور جانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم گرپڑے اور فرمانے لگے ابا میں بیمار ہوگیا۔ باپ آپ کو چھوڑ کر مراسم کفر بجا لانے کے لئے بڑھ گئے اور جو لوگ راستے سے گزرتے آپ سے پوچھتے کیا بات ہے راستے پر کیسے بیٹھے ہو ؟ جواب دیتے کہ میں بیمار ہوں۔ جب عام لوگ نکل گئے اور بڈھے بڑے لوگ رہ گئے تو آپ نے فرمایا تم سب کے چلے جانے کے بعد آج میں تمہارے معبودوں کی مرمت کردوں گا۔ آپ نے جو فرمایا کہ میں بیمار ہوں تو واقعی آپ اس دن کے اگلے دن قدرے علیل بھی تھے۔ جب کہ وہ لوگ چلے گئے تو میدان خالی پا کر آپ نے اپنا ارادہ پورا کیا اور بڑے بت کو چھوڑ کر تمام بتوں کا چورا کردیا۔ جیسے اور آیتوں میں اس کا تفصیلی بیان موجود ہے کہ اپنے ہاتھ سے ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ اس بڑے بت کے باقی رکھنے میں حکمت و مصلحت یہ تھی کہ اولاً ان لوگوں کے ذہن میں خیال آئے کہ شاید اس بڑے بت نے ان چھوٹے بتوں کو غارت کردیا ہوگا ؟ کیونکہ اسے غیرت معلوم ہوئی ہوگی کہ مجھ بڑے کے ہوتے ہوئے یہ چھوٹے خدائی کے لائق کیسے ہوگئے۔ چناچہ اس خیال کی پختگی ان کے ذہنوں میں قائم کرنے کے لئے آپ نے کلہاڑا بھی اس کی گردن پر رکھ دیا تھا۔ جیسے مروی ہے۔ جب یہ مشرکین اپنے میلے سے واپس آئے تو دیکھا کہ ان کے سارے معبود منہ کے بل اوندھے گرے ہوئے ہیں۔ اور اپنی حالت سے وہ بتا رہے ہیں کہ وہ محض بےجان بےنفع و نقصان ذلیل وحقیر چیز ہیں۔ اور گویا اپنی اس حالت سے اپنے پجاریوں کی بےوقوفی پر مہرلگا رہے تھے۔ لیکن ان بیوقوفوں پر الٹا اثر ہوا کہنے لگے یہ کون ظالم شخص تھا جس نے ہمارے معبودوں کی ایسی اہانت کی ؟ اس وقت جن لوگوں نے حضرت ابراہیم ؑ کا وہ کلام سنا تھا، انہیں خیال آگیا اور کہنے لگے وہ نوجوان جس کا نام ابراہیم ہے اسے ہم نے اپنے معبودوں کی مذمت کرتے ہوئے سنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اس آیت کو پڑھتے اور فرماتے جو نبی آیا جوان۔ جو عالم بنا جوان۔ شان الٰہی دیکھئے جو مقصد حضرت خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کا تھا وہ اب پورا ہورہا ہے۔ قوم کے یہ لوگ مشورہ کرتے ہیں کہ آؤ سب کو جمع کرو اور اسے بلاؤ اور پھر اس کو سزا دو۔ حضرت خلیل اللہ یہی چاہتے تھے کہ کوئی ایسا مجمع ہو اور میں اس میں ان کی غلطیاں ان پر واضع کروں اور ان میں توحید کی تبلیغ کرو۔ اور انہیں بتلاؤں کہ یہ کیسے ظالم وجاہل ہیں ؟ کہ ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو نفع نقصان کے مالک نہیں بلکہ اپنی جان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ چناچہ مجمع ہوا۔ سب چھوٹے بڑے آگئے، حضرت ابراہیم ؑ بھی ملزم کی حیثیت سے موجود ہوئے اور آپ سے سوال ہوا کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ لغو حرکت تم نے کی ہے ؟ اس پر آپ نے انہیں قائل معقول کرنے کے لئے فرمایا کہ یہ کام تو ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے۔ اور اس کی طرف اشارہ کیا جسے آپ نے توڑا نہ تھا پھر فرمایا کہ مجھ سے کیا پوچھتے ہو ؟ اپنے ان معبودوں سے ہی کیوں دریافت نہیں کرتے کہ تمہارے ٹکڑے اڑانے والا کون ہے ؟ اس سے مقصود خلیل اللہ ؑ کا یہ تھا کہ یہ لوگ خودبخود ہی سمجھ لیں کہ یہ پتھر کیا بولیں گے ؟ اور جب وہ اتنے عاجز ہیں تو یہ لائق عبادت کیسے ٹھیر سکتے ہیں ؟ چناچہ یہ مقصد بھی آپ کا بفضل الٰہی پورا ہوا اور یہ دوسری ضرب بھی کاری لگی۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ خلیل اللہ نے تین جھوٹ بولے ہیں دو تو راہ اللہ میں۔ ایک تو انکا یہ فرمانا کہ ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے۔ دوسرا یہ فرمانا کہ میں بیمار ہوں۔ اور ایک مرتبہ حضرت سارہ کے ساتھ سفر میں تھے۔ اتفاق سے ایک ظالم کی حدود سے آپ گزر رہے تھے آپ نے وہاں منزل کی تھی۔ کسی نے بادشاہ کو خبر کردی کہ ایک مسافر کے ساتھ بہترین عورت ہے اور وہ اس وقت ہماری سلطنت میں ہے۔ بادشاہ نے جھٹ سپاہی بھیجا کہ وہ حضرت سارہ کو لے آئے۔ اس نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے ؟ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا میری بہن ہے اس نے کہا اسے بادشاہ کے دربار میں بھیجو۔ آپ حضرت سارہ کے پاس گئے اور فرمایا سنواس ظالم نے تمہیں طلب کیا ہے اور میں تمہیں اپنی بہن بتاچکا ہوں اگر تم سے بھی پوچھا جائے تو یہی کہنا اس لئے کہ دین کے اعتبار سے تم میری بہن ہو، روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مسلمان نہیں۔ یہ کہہ کر آپ چلے آئے حضرت سارہ وہاں سے چلیں آپ نماز میں کھڑے ہوگئے۔ جب حضرت سارہ کو اس ظالم نے دیکھا اور ان کی طرف لپکا اسی وقت اللہ کے عذاب نے اسے پکڑلیا ہاتھ پاؤں اینٹھ گئے۔ گھبرا کر عاجزی سے کہنے لگا اے نیک عورت اللہ سے دعا کر کہ وہ مجھے چھوڑ دے میں وعدہ کرتا ہوں کہ تجھے ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔ آپ نے دعا کی اسی وقت وہ اچھا ہوگیا لیکن اچھا ہوتے ہی اس نے پھر قصد کیا اور آپ کو پکڑنا چاہا وہی پھر عذاب الٰہی آپہنچا اور یہ پہلی دفعہ سے زیادہ سخت پکڑ لیا گیا پھر عاجزی کرنے لگا غرض تین دفعہ پے درپے یہی ہوا۔ تیسری دفعہ چھوٹتے ہی اس نے اپنے قریب کے ملازم کو آواز دی اور کہا تو میرے پاس کسی انسان عورت کو نہیں لایا بلکہ شیطانہ کو لایا ہے جا اسے نکال اور ہاجرہ کو اس کے ساتھ کردے۔ اسی وقت آپ وہاں سے نکال دی گئیں اور حضرت ہاجرہ آپ کے حوالے کی گئیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کی آہٹ پاتے ہی نماز سے فراغت حاصل کی اور دریافت فرمایا کہ کہو کیا گزری ؟ آپ نے فرمایا اللہ نے اس کافر کے مکر کو اسی پر لوٹا دیا اور حاجرہ میری خدمت کے لئے آگئیں حضرت ابوہریرہ ؓ اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ یہ ہیں تمہاری اماں اے آسمانی پانی کے لڑکو۔
Tafsir Ibn Kathir
ثُمَّ أَقْسَمَ الْخَلِيلُ قَسَمًا أَسْمَعَهُ بَعْضَ قَوْمِهِ لَيَكِيدَنَّ أَصْنَامَهُمْ، أَيْ: لَيَحْرِصَنَّ عَلَى أَذَاهُمْ وَتَكْسِيرِهِمْ بَعْدَ أَنْ يُوَلُّوا [[في ف: "تولو".]] مُدْبِرِينَ أَيْ: إِلَى عِيدِهِمْ. وَكَانَ لَهُمْ عيد يخرجون إليه.
قَالَ السُّدِّيُّ: لَمَّا اقْتَرَبَ [[في ف: "قرب".]] وَقْتُ ذَلِكَ الْعِيدِ قَالَ أَبُوهُ: يَا بُنَيَّ، لَوْ خَرَجْتَ مَعَنَا إِلَى عِيدِنَا لَأَعْجَبَكَ دِينُنَا! فَخَرَجَ مَعَهُمْ، فَلَمَّا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أَلْقَى نَفْسَهُ إِلَى الْأَرْضِ. وَقَالَ: إِنِّي سَقِيمٌ، فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ عَلَيْهِ وَهُوَ صَرِيعٌ، فَيَقُولُونَ: مَهْ! فَيَقُولُ: إِنِّي سَقِيمٌ، فَلَمَّا جَازَ عَامَّتُهُمْ وَبَقِيَ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ: ﴿تَاللَّهِ لأكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ﴾ فَسَمِعَهُ أُولَئِكَ.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: لَمَّا خَرَجَ قَوْمُ إِبْرَاهِيمَ، إِلَى عِيدِهِمْ مَرُّوا عَلَيْهِ فَقَالُوا: يَا إِبْرَاهِيمُ أَلَا تَخْرُجُ مَعَنَا؟ قَالَ: إِنِّي سَقِيمٌ. وَقَدْ كَانَ بِالْأَمْسِ قَالَ: ﴿تَاللَّهِ لأكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ بَعْدَ أَنْ تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ﴾ فَسَمِعَهُ نَاسٌ مِنْهُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا﴾ أَيْ: حُطَامًا كَسَّرَهَا كُلَّهَا ﴿إِلا كَبِيرًا لَهُمْ﴾ يَعْنِي: إِلَّا الصَّنَمَ الْكَبِيرَ عِنْدَهُمْ كَمَا قَالَ: ﴿فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٣] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ﴾ ذَكَرُوا أَنَّهُ وَضَعَ الْقَدُومَ فِي يَدِ كَبِيرِهِمْ، لَعَلَّهُمْ يَعْتَقِدُونَ أَنَّهُ هُوَ الَّذِي غَارَ لِنَفْسِهِ، وَأَنِفَ أَنْ تُعْبَدَ مَعَهُ هَذِهِ الْأَصْنَامُ الصِّغَارُ، فَكَسَّرَهَا.
﴿قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: حِينَ رَجَعُوا وَشَاهَدُوا مَا فَعَلَهُ الْخَلِيلُ بِأَصْنَامِهِمْ مِنَ الْإِهَانَةِ وَالْإِذْلَالِ الدَّالِّ عَلَى عَدَمِ إِلَهِيَّتِهَا، وَعَلَى سَخَافَةِ عُقُولِ عَابِدِيهَا ﴿قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: فِي صَنِيعِهِ هَذَا.
﴿قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾ أَيْ: قَالَ مَنْ سَمِعَهُ يَحْلِفُ أَنَّهُ لَيَكِيدَنَّهُمْ: ﴿سَمِعْنَا فَتًى﴾ أَيْ: شَابًّا ﴿يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ قَابُوسٍ [عَنْ أَبِيهِ] [[زيادة من ف.]] ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا شَابًّا، وَلَا أُوتِيَ الْعَلَمَ عَالِمٌ إِلَّا وَهُوَ شَابٌّ، وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ﴾ أَيْ: عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ فِي الْمَلَإِ الْأَكْبَرِ بِحَضْرَةِ النَّاسِ كُلِّهِمْ، وَكَانَ هَذَا هُوَ الْمَقْصُودَ الْأَكْبَرَ لِإِبْرَاهِيمَ أَنْ يَتَبَيَّنَ [[في ف، أ: "يبين".]] فِي هَذَا الْمَحْفِلِ الْعَظِيمِ كَثْرَةُ جَهْلِهِمْ وَقِلَّةُ عَقْلِهِمْ [[في ف: "عقولهم".]] فِي عِبَادَةِ هَذِهِ الْأَصْنَامِ الَّتِي لَا تَدْفَعُ عَنْ نَفْسِهَا ضَرًّا، وَلَا تَمْلِكُ [[في ف: "ولا تستطيع".]] لَهَا نَصْرًا، فَكَيْفَ يُطْلَبُ مِنْهَا شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ؟.
﴿قَالُوا أَأَنْتَ فَعَلْتَ هَذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ يَعْنِي: الَّذِي تَرَكَهُ لَمْ يَكْسِرْهُ ﴿فَاسْأَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ﴾ وَإِنَّمَا أَرَادَ بِهَذَا أَنْ يُبَادِرُوا مِنْ تِلْقَاءِ أَنْفُسِهِمْ، فَيَعْتَرِفُوا أَنَّهُمْ لَا يَنْطِقُونَ، فَإِنَّ هَذَا لَا يَصْدُرُ عَنْ هَذَا الصَّنَمِ، لِأَنَّهُ جَمَادٌ.
وَفِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "إِنَّ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمْ يَكْذِبْ غَيْرَ ثَلَاثٍ: ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللَّهِ [[في ف، أ: "كتاب".]] ، قَوْلُهُ: ﴿بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ وَقَوْلُهُ ﴿إِنِّي سَقِيمٌ﴾ قَالَ: "وَبَيْنَا هُوَ يَسِيرُ فِي أرض جبار من الجبابرة ومعه سَارَةُ، إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَأَتَى الْجَبَّارَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَزَلَ بِأَرْضِكَ رَجُلٌ مَعَهُ امْرَأَةٌ أَحْسَنُ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجَاءَ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْمَرْأَةُ مِنْكَ؟ قَالَ: هِيَ أُخْتِي. قَالَ: فَاذْهَبْ فَأَرْسِلْ بِهَا إِلَيَّ، فَانْطَلَقَ إِلَى سَارَةَ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ [[في ف: "الجبار قد سألني".]] سَأَلَنِي عَنْكِ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي فَلَا تُكَذِّبِينِي عِنْدَهُ، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَأَنَّهُ لَيْسَ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَانْطَلَقَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي. فَلَمَّا أَنْ دَخَلَتْ عَلَيْهِ فَرَآهَا أَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا، فَأُخِذَ أَخْذًا شَدِيدًا، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَدَعَتْ لَهُ فَأُرْسِلَ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ بِمِثْلِهَا أَوْ أَشَدَّ. فَفَعَلَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ فَأُخِذَ، [فَذَكَرَ] [[زيادة من ف، والسنن.]] مِثْلَ الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ [[في ف، أ: "الأولتين".]] فَقَالَ ادْعِي اللَّهَ فَلَا أَضُرُّكِ. فَدَعَتْ، لَهُ فَأُرْسِلَ، ثُمَّ دَعَا أَدْنَى حُجَّابِهِ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، وَإِنَّمَا [[في ف: "ولكنك".]] أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، أَخْرِجْهَا وَأَعْطِهَا هَاجَرَ، فَأُخْرِجَتْ وَأُعْطِيَتْ هَاجَرَ، فَأَقْبَلَتْ، فَلَمَّا أَحَسَّ إِبْرَاهِيمُ بِمَجِيئِهَا انْفَتَلَ مِنْ صِلَاتِهِ، قَالَ [[في ف: "وقال".]] : مَهْيَم؟ قَالَتْ: كَفَى اللَّهُ كَيْدَ الْكَافِرِ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَنِي هَاجَرَ" قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ [[في ف، أ: "إدريس".]] وَكَانَ [[في ف: "فكان".]] : أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ [[لم أجده في الصحيحين من طريق هشام بن حسان وإنما هو في السنن: فرواه أبو داود في السنن برقم (٢٢١٢) من طريق عبد الوهاب الثقفي عن هشام بن حسان. ورواه النسائي في السنن الكبرى برقم (٨٣٧٤) من طريق أبي أسامة عن هشام بن حسان. وهو في الصحيحين من طريق أيوب عن محمد بن سيرين؛ صحيح البخاري برقم (٥٠٨٤) ، وصحيح مسلم برقم (٢٣٧١) .]]
قَالُوا۟ فَأْتُوا۟ بِهِۦ عَلَىٰٓ أَعْيُنِ ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَشْهَدُونَ
They said, "Then bring him before the eyes of the people that they may testify."
وہ بولے کہ اسے لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ گواہ رہیں
(جمعیّت) گفتند: «او را در برابر دیدگان مردم بیاورید، تا گواهی دهند!»
Tafsir Ibn Kathir
"And by Allah, I shall plot a plan for your idols after you have gone away and turned your backs. (57)So he broke them to pieces, except the biggest of them, that they might turn to it (58)They said: "Who has done this to our gods He must indeed be one of the wrongdoers. (59)They said: "We heard a young man talking against them, who is called Ibrahim. (60)They said: "Then bring him before the eyes of the people, that they may testify. (61)They said: "Are you the one who has done this to our gods, O Ibrahim? (62)He said: "Nay, this one, the biggest of them did it. Ask them, if they can speak! (63)
How Ibrahim broke the Idols
Then Ibrahim swore an oath, which some of his people heard, to plot against their idols, i.e., to break them and destroy them after they had gone away and turned their backs, when they went out to their festival. They had a festival which they would go out to celebrate. Abu Ishaq reported from Abu Al-Ahwas from 'Abdullah Ibn Mas'ud, "When the people of Ibrahim went out to celebrate their festival, they passed by him and said, 'O Ibrahim, are you not coming out with us' He said, 'I am sick.'" It was only the day before that he had said,
وَتَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُم بَعْدَ أَن تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ
(And by Allah, I shall plot a plan for your idols after you have gone away and turned your backs.) and some of the people had heard him.
فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا
(So he broke them to pieces,) means, he smashed them all, except for the biggest idol. This is like the Ayah,
فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ
(Then he turned upon them, striking (them) with (his) right hand)(37:93).
لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ
(that they might turn to it.) It was said that he put a hammer in the hands of the biggest idol so that the people would think that it had become jealous on its own account and objected to these smaller idols being worshipped alongside it, so it had broken them.
قَالُوا مَن فَعَلَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ
(They said: "Who has done this to our gods? He must indeed be one of the wrongdoers.") When they came back and saw what Ibrahim had done to their idols, humiliating them and lowering their status, proving that they were not divine and that those who worshipped them were fools,
قَالُوا مَن فَعَلَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ
(They said: "Who has done this to our gods? He must indeed be one of the wrongdoers.") because of this action of his.
قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ
(They said: "We heard a young man talking against them, who is called Ibrahim.") Those who had heard him swearing to plot against them said, we heard a young man talking about them, and they said that he was called Ibrahim.
قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَىٰ أَعْيُنِ النَّاسِ
(They said: "Then bring him before the eyes of the people...") meaning, in front of a large audience so that all the people could be present. This was Ibrahim's ultimate purpose, so that he could tell this great gathering about the extent of their ignorance and how foolish they were to worship idols which could not defend themselves from harm or help themselves, so how could they ask them for help?
قَالُوا أَأَنتَ فَعَلْتَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ - قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا
(They said: "Are you the one who has done this to our gods, O Ibrahim?" He said: "Nay, this one, the biggest of them did it...") referring to the one he had left alone and had not broken.
فَاسْأَلُوهُمْ إِن كَانُوا يَنطِقُونَ
(Ask them, if they can speak!) He was hoping that they would admit of their own volition that these idols could not speak and that this idol would not say anything because it was inanimate. In the Two Sahihs it was recorded from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said:
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمْ يَكْذِبْ غَيْرَ ثَلَاثٍ: ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللهِ قَوْلُهُ:
(Ibrahim, upon him be peace, did not tell lies except on three occasions, two for the sake of Allah – when he said:
بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا
(Nay, this one, the biggest of them did it.) and when he said:
إِنِّي سَقِيمٌ
(Verily, I am sick)(37:89).
قَالَ: وَبَيْنَا هُوَ يَسِيرُ فِي أَرْضِ جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ وَمَعَهُ سَارَّةُ، إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَأَتَى الْجَبَّارَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَزَل هَهُنَا رَجُلٌ بِأَرْضِكَ مَعَهُ امْرَأَةٌ أَحْسَنُ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجَاءَ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْمَرْأَةُ مِنْكَ؟ قَالَ: هِيَ أُخْتِي. قَالَ: فَاذْهَبْ فَأَرْسِلْ بِهَا إِلَيَّ، فَانْطَلَقَ إِلَى سَارَّةَ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ قَدْ سَأَلَنِي عَنْكِ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي، فَلَا تُكَذِّبِينِي عِنْدَهُ، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللهِ، وَإِنَّهُ لَيْسَ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَانْطَلَقَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَلَمَّا أَنْ دَخَلَتْ عَلَيْهِ فَرَآهَا أَهْوَى إِلَيْهَا فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ أَخْذًا شَدِيدًا، فَقَالَ: ادْعِي اللهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَدَعَتْ لَهُ، فَأُرْسِلَ فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ بِمِثْلِهَا أَوْ أَشَدَّ، فَفَعَلَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ، فَأُخِذَ فَذَكَرَ مِثْلَ الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، فَقَالَ: ادْعِي اللهَ فَلَا أُضُرَّكِ، فَدَعَتْ لَهُ فَأُرْسِلَ، ثُمَّ دَعَا أَدْنَى حُجَّابِهِ فَقَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، وَلَكِنَّكَ أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، أَخْرِجْهَا وَأَعْطِهَا هَاجَرَ.
فَأُخْرِجَتْ وَأُعْطِيَتْ هَاجَرَ، فَأَقْبَلَتْ، فَلَمَّا أَحَسَّ إِبْرَاهِيمُ بِمَجِيئِهَا، انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ، وَقَالَ: مَهْيَمْ. قَالَتْ: كَفَى اللهُ كَيْدَ الْكَافِرِ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَنِي هَاجَرَ
(and when he was traveling in the land of one of the tyrants, and Sarah was with him; when he made camp, a man came to the tyrant and said, "A man has made camp in your land and with him is a woman who is the most beautiful of people." The tyrant sent for Ibrahim, and asked him, "What is the relationship of this woman to you?" He said, "She is my sister." The tyrant said, "Go and send her to me." So Ibrahim went to Sarah and said, "This tyrant asked me about you, and I told him that you are my sister, so do not let him think that I am lying. For you are indeed my sister according to the Book of Allah, and there are no Muslims on the earth apart from you and I." So Ibrahim brought her to him, then he stood and prayed. When she entered upon the tyrant, he reached for her desirously once he saw her. But he suffered a severe seizure. So he said, "Pray to Allah for me and I will not harm you." So she prayed for him and it released him. Then he reached for her desirously, but he was stricken similarly before or worse. This continued three times, and each time he said the same as he had said the first time. Then he called the closest of his guards and said, "You have not brought me a human being, you have brought me a devil! Take her out and give her Hajar. So she was taken out and given Hajar, and she went back. When Ibrahim realized that she had come back, he finished his prayer and turned around. He said, "What happened?" She said, "Allah took care of the evil disbeliever's plot, and he gave me Hajar as a servant.")
Muhammad bin Sirin said, "When Abu Hurayrah narrated this Hadith, he said, 'This is your mother, O sons of the water of the heaven.'"
Tafsir Ibn Kathir
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا۔ اور جذبہ توحید میں آکر آپ نے قسم کھالی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔ ان کی عید کا دن جو مقرر تھا حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لئے باہر جاؤ گے میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کردوں گا۔ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ کے والد نے آپ سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہوجائے۔ چناچہ یہ آپ کو لے چلا۔ کچھ دور جانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم گرپڑے اور فرمانے لگے ابا میں بیمار ہوگیا۔ باپ آپ کو چھوڑ کر مراسم کفر بجا لانے کے لئے بڑھ گئے اور جو لوگ راستے سے گزرتے آپ سے پوچھتے کیا بات ہے راستے پر کیسے بیٹھے ہو ؟ جواب دیتے کہ میں بیمار ہوں۔ جب عام لوگ نکل گئے اور بڈھے بڑے لوگ رہ گئے تو آپ نے فرمایا تم سب کے چلے جانے کے بعد آج میں تمہارے معبودوں کی مرمت کردوں گا۔ آپ نے جو فرمایا کہ میں بیمار ہوں تو واقعی آپ اس دن کے اگلے دن قدرے علیل بھی تھے۔ جب کہ وہ لوگ چلے گئے تو میدان خالی پا کر آپ نے اپنا ارادہ پورا کیا اور بڑے بت کو چھوڑ کر تمام بتوں کا چورا کردیا۔ جیسے اور آیتوں میں اس کا تفصیلی بیان موجود ہے کہ اپنے ہاتھ سے ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ اس بڑے بت کے باقی رکھنے میں حکمت و مصلحت یہ تھی کہ اولاً ان لوگوں کے ذہن میں خیال آئے کہ شاید اس بڑے بت نے ان چھوٹے بتوں کو غارت کردیا ہوگا ؟ کیونکہ اسے غیرت معلوم ہوئی ہوگی کہ مجھ بڑے کے ہوتے ہوئے یہ چھوٹے خدائی کے لائق کیسے ہوگئے۔ چناچہ اس خیال کی پختگی ان کے ذہنوں میں قائم کرنے کے لئے آپ نے کلہاڑا بھی اس کی گردن پر رکھ دیا تھا۔ جیسے مروی ہے۔ جب یہ مشرکین اپنے میلے سے واپس آئے تو دیکھا کہ ان کے سارے معبود منہ کے بل اوندھے گرے ہوئے ہیں۔ اور اپنی حالت سے وہ بتا رہے ہیں کہ وہ محض بےجان بےنفع و نقصان ذلیل وحقیر چیز ہیں۔ اور گویا اپنی اس حالت سے اپنے پجاریوں کی بےوقوفی پر مہرلگا رہے تھے۔ لیکن ان بیوقوفوں پر الٹا اثر ہوا کہنے لگے یہ کون ظالم شخص تھا جس نے ہمارے معبودوں کی ایسی اہانت کی ؟ اس وقت جن لوگوں نے حضرت ابراہیم ؑ کا وہ کلام سنا تھا، انہیں خیال آگیا اور کہنے لگے وہ نوجوان جس کا نام ابراہیم ہے اسے ہم نے اپنے معبودوں کی مذمت کرتے ہوئے سنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اس آیت کو پڑھتے اور فرماتے جو نبی آیا جوان۔ جو عالم بنا جوان۔ شان الٰہی دیکھئے جو مقصد حضرت خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کا تھا وہ اب پورا ہورہا ہے۔ قوم کے یہ لوگ مشورہ کرتے ہیں کہ آؤ سب کو جمع کرو اور اسے بلاؤ اور پھر اس کو سزا دو۔ حضرت خلیل اللہ یہی چاہتے تھے کہ کوئی ایسا مجمع ہو اور میں اس میں ان کی غلطیاں ان پر واضع کروں اور ان میں توحید کی تبلیغ کرو۔ اور انہیں بتلاؤں کہ یہ کیسے ظالم وجاہل ہیں ؟ کہ ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو نفع نقصان کے مالک نہیں بلکہ اپنی جان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ چناچہ مجمع ہوا۔ سب چھوٹے بڑے آگئے، حضرت ابراہیم ؑ بھی ملزم کی حیثیت سے موجود ہوئے اور آپ سے سوال ہوا کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ لغو حرکت تم نے کی ہے ؟ اس پر آپ نے انہیں قائل معقول کرنے کے لئے فرمایا کہ یہ کام تو ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے۔ اور اس کی طرف اشارہ کیا جسے آپ نے توڑا نہ تھا پھر فرمایا کہ مجھ سے کیا پوچھتے ہو ؟ اپنے ان معبودوں سے ہی کیوں دریافت نہیں کرتے کہ تمہارے ٹکڑے اڑانے والا کون ہے ؟ اس سے مقصود خلیل اللہ ؑ کا یہ تھا کہ یہ لوگ خودبخود ہی سمجھ لیں کہ یہ پتھر کیا بولیں گے ؟ اور جب وہ اتنے عاجز ہیں تو یہ لائق عبادت کیسے ٹھیر سکتے ہیں ؟ چناچہ یہ مقصد بھی آپ کا بفضل الٰہی پورا ہوا اور یہ دوسری ضرب بھی کاری لگی۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ خلیل اللہ نے تین جھوٹ بولے ہیں دو تو راہ اللہ میں۔ ایک تو انکا یہ فرمانا کہ ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے۔ دوسرا یہ فرمانا کہ میں بیمار ہوں۔ اور ایک مرتبہ حضرت سارہ کے ساتھ سفر میں تھے۔ اتفاق سے ایک ظالم کی حدود سے آپ گزر رہے تھے آپ نے وہاں منزل کی تھی۔ کسی نے بادشاہ کو خبر کردی کہ ایک مسافر کے ساتھ بہترین عورت ہے اور وہ اس وقت ہماری سلطنت میں ہے۔ بادشاہ نے جھٹ سپاہی بھیجا کہ وہ حضرت سارہ کو لے آئے۔ اس نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے ؟ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا میری بہن ہے اس نے کہا اسے بادشاہ کے دربار میں بھیجو۔ آپ حضرت سارہ کے پاس گئے اور فرمایا سنواس ظالم نے تمہیں طلب کیا ہے اور میں تمہیں اپنی بہن بتاچکا ہوں اگر تم سے بھی پوچھا جائے تو یہی کہنا اس لئے کہ دین کے اعتبار سے تم میری بہن ہو، روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مسلمان نہیں۔ یہ کہہ کر آپ چلے آئے حضرت سارہ وہاں سے چلیں آپ نماز میں کھڑے ہوگئے۔ جب حضرت سارہ کو اس ظالم نے دیکھا اور ان کی طرف لپکا اسی وقت اللہ کے عذاب نے اسے پکڑلیا ہاتھ پاؤں اینٹھ گئے۔ گھبرا کر عاجزی سے کہنے لگا اے نیک عورت اللہ سے دعا کر کہ وہ مجھے چھوڑ دے میں وعدہ کرتا ہوں کہ تجھے ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔ آپ نے دعا کی اسی وقت وہ اچھا ہوگیا لیکن اچھا ہوتے ہی اس نے پھر قصد کیا اور آپ کو پکڑنا چاہا وہی پھر عذاب الٰہی آپہنچا اور یہ پہلی دفعہ سے زیادہ سخت پکڑ لیا گیا پھر عاجزی کرنے لگا غرض تین دفعہ پے درپے یہی ہوا۔ تیسری دفعہ چھوٹتے ہی اس نے اپنے قریب کے ملازم کو آواز دی اور کہا تو میرے پاس کسی انسان عورت کو نہیں لایا بلکہ شیطانہ کو لایا ہے جا اسے نکال اور ہاجرہ کو اس کے ساتھ کردے۔ اسی وقت آپ وہاں سے نکال دی گئیں اور حضرت ہاجرہ آپ کے حوالے کی گئیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کی آہٹ پاتے ہی نماز سے فراغت حاصل کی اور دریافت فرمایا کہ کہو کیا گزری ؟ آپ نے فرمایا اللہ نے اس کافر کے مکر کو اسی پر لوٹا دیا اور حاجرہ میری خدمت کے لئے آگئیں حضرت ابوہریرہ ؓ اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ یہ ہیں تمہاری اماں اے آسمانی پانی کے لڑکو۔
Tafsir Ibn Kathir
ثُمَّ أَقْسَمَ الْخَلِيلُ قَسَمًا أَسْمَعَهُ بَعْضَ قَوْمِهِ لَيَكِيدَنَّ أَصْنَامَهُمْ، أَيْ: لَيَحْرِصَنَّ عَلَى أَذَاهُمْ وَتَكْسِيرِهِمْ بَعْدَ أَنْ يُوَلُّوا [[في ف: "تولو".]] مُدْبِرِينَ أَيْ: إِلَى عِيدِهِمْ. وَكَانَ لَهُمْ عيد يخرجون إليه.
قَالَ السُّدِّيُّ: لَمَّا اقْتَرَبَ [[في ف: "قرب".]] وَقْتُ ذَلِكَ الْعِيدِ قَالَ أَبُوهُ: يَا بُنَيَّ، لَوْ خَرَجْتَ مَعَنَا إِلَى عِيدِنَا لَأَعْجَبَكَ دِينُنَا! فَخَرَجَ مَعَهُمْ، فَلَمَّا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أَلْقَى نَفْسَهُ إِلَى الْأَرْضِ. وَقَالَ: إِنِّي سَقِيمٌ، فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ عَلَيْهِ وَهُوَ صَرِيعٌ، فَيَقُولُونَ: مَهْ! فَيَقُولُ: إِنِّي سَقِيمٌ، فَلَمَّا جَازَ عَامَّتُهُمْ وَبَقِيَ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ: ﴿تَاللَّهِ لأكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ﴾ فَسَمِعَهُ أُولَئِكَ.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: لَمَّا خَرَجَ قَوْمُ إِبْرَاهِيمَ، إِلَى عِيدِهِمْ مَرُّوا عَلَيْهِ فَقَالُوا: يَا إِبْرَاهِيمُ أَلَا تَخْرُجُ مَعَنَا؟ قَالَ: إِنِّي سَقِيمٌ. وَقَدْ كَانَ بِالْأَمْسِ قَالَ: ﴿تَاللَّهِ لأكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ بَعْدَ أَنْ تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ﴾ فَسَمِعَهُ نَاسٌ مِنْهُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا﴾ أَيْ: حُطَامًا كَسَّرَهَا كُلَّهَا ﴿إِلا كَبِيرًا لَهُمْ﴾ يَعْنِي: إِلَّا الصَّنَمَ الْكَبِيرَ عِنْدَهُمْ كَمَا قَالَ: ﴿فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٣] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ﴾ ذَكَرُوا أَنَّهُ وَضَعَ الْقَدُومَ فِي يَدِ كَبِيرِهِمْ، لَعَلَّهُمْ يَعْتَقِدُونَ أَنَّهُ هُوَ الَّذِي غَارَ لِنَفْسِهِ، وَأَنِفَ أَنْ تُعْبَدَ مَعَهُ هَذِهِ الْأَصْنَامُ الصِّغَارُ، فَكَسَّرَهَا.
﴿قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: حِينَ رَجَعُوا وَشَاهَدُوا مَا فَعَلَهُ الْخَلِيلُ بِأَصْنَامِهِمْ مِنَ الْإِهَانَةِ وَالْإِذْلَالِ الدَّالِّ عَلَى عَدَمِ إِلَهِيَّتِهَا، وَعَلَى سَخَافَةِ عُقُولِ عَابِدِيهَا ﴿قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: فِي صَنِيعِهِ هَذَا.
﴿قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾ أَيْ: قَالَ مَنْ سَمِعَهُ يَحْلِفُ أَنَّهُ لَيَكِيدَنَّهُمْ: ﴿سَمِعْنَا فَتًى﴾ أَيْ: شَابًّا ﴿يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ قَابُوسٍ [عَنْ أَبِيهِ] [[زيادة من ف.]] ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا شَابًّا، وَلَا أُوتِيَ الْعَلَمَ عَالِمٌ إِلَّا وَهُوَ شَابٌّ، وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ﴾ أَيْ: عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ فِي الْمَلَإِ الْأَكْبَرِ بِحَضْرَةِ النَّاسِ كُلِّهِمْ، وَكَانَ هَذَا هُوَ الْمَقْصُودَ الْأَكْبَرَ لِإِبْرَاهِيمَ أَنْ يَتَبَيَّنَ [[في ف، أ: "يبين".]] فِي هَذَا الْمَحْفِلِ الْعَظِيمِ كَثْرَةُ جَهْلِهِمْ وَقِلَّةُ عَقْلِهِمْ [[في ف: "عقولهم".]] فِي عِبَادَةِ هَذِهِ الْأَصْنَامِ الَّتِي لَا تَدْفَعُ عَنْ نَفْسِهَا ضَرًّا، وَلَا تَمْلِكُ [[في ف: "ولا تستطيع".]] لَهَا نَصْرًا، فَكَيْفَ يُطْلَبُ مِنْهَا شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ؟.
﴿قَالُوا أَأَنْتَ فَعَلْتَ هَذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ يَعْنِي: الَّذِي تَرَكَهُ لَمْ يَكْسِرْهُ ﴿فَاسْأَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ﴾ وَإِنَّمَا أَرَادَ بِهَذَا أَنْ يُبَادِرُوا مِنْ تِلْقَاءِ أَنْفُسِهِمْ، فَيَعْتَرِفُوا أَنَّهُمْ لَا يَنْطِقُونَ، فَإِنَّ هَذَا لَا يَصْدُرُ عَنْ هَذَا الصَّنَمِ، لِأَنَّهُ جَمَادٌ.
وَفِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "إِنَّ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمْ يَكْذِبْ غَيْرَ ثَلَاثٍ: ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللَّهِ [[في ف، أ: "كتاب".]] ، قَوْلُهُ: ﴿بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ وَقَوْلُهُ ﴿إِنِّي سَقِيمٌ﴾ قَالَ: "وَبَيْنَا هُوَ يَسِيرُ فِي أرض جبار من الجبابرة ومعه سَارَةُ، إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَأَتَى الْجَبَّارَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَزَلَ بِأَرْضِكَ رَجُلٌ مَعَهُ امْرَأَةٌ أَحْسَنُ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجَاءَ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْمَرْأَةُ مِنْكَ؟ قَالَ: هِيَ أُخْتِي. قَالَ: فَاذْهَبْ فَأَرْسِلْ بِهَا إِلَيَّ، فَانْطَلَقَ إِلَى سَارَةَ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ [[في ف: "الجبار قد سألني".]] سَأَلَنِي عَنْكِ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي فَلَا تُكَذِّبِينِي عِنْدَهُ، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَأَنَّهُ لَيْسَ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَانْطَلَقَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي. فَلَمَّا أَنْ دَخَلَتْ عَلَيْهِ فَرَآهَا أَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا، فَأُخِذَ أَخْذًا شَدِيدًا، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَدَعَتْ لَهُ فَأُرْسِلَ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ بِمِثْلِهَا أَوْ أَشَدَّ. فَفَعَلَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ فَأُخِذَ، [فَذَكَرَ] [[زيادة من ف، والسنن.]] مِثْلَ الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ [[في ف، أ: "الأولتين".]] فَقَالَ ادْعِي اللَّهَ فَلَا أَضُرُّكِ. فَدَعَتْ، لَهُ فَأُرْسِلَ، ثُمَّ دَعَا أَدْنَى حُجَّابِهِ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، وَإِنَّمَا [[في ف: "ولكنك".]] أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، أَخْرِجْهَا وَأَعْطِهَا هَاجَرَ، فَأُخْرِجَتْ وَأُعْطِيَتْ هَاجَرَ، فَأَقْبَلَتْ، فَلَمَّا أَحَسَّ إِبْرَاهِيمُ بِمَجِيئِهَا انْفَتَلَ مِنْ صِلَاتِهِ، قَالَ [[في ف: "وقال".]] : مَهْيَم؟ قَالَتْ: كَفَى اللَّهُ كَيْدَ الْكَافِرِ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَنِي هَاجَرَ" قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ [[في ف، أ: "إدريس".]] وَكَانَ [[في ف: "فكان".]] : أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ [[لم أجده في الصحيحين من طريق هشام بن حسان وإنما هو في السنن: فرواه أبو داود في السنن برقم (٢٢١٢) من طريق عبد الوهاب الثقفي عن هشام بن حسان. ورواه النسائي في السنن الكبرى برقم (٨٣٧٤) من طريق أبي أسامة عن هشام بن حسان. وهو في الصحيحين من طريق أيوب عن محمد بن سيرين؛ صحيح البخاري برقم (٥٠٨٤) ، وصحيح مسلم برقم (٢٣٧١) .]]
قَالُوٓا۟ ءَأَنتَ فَعَلْتَ هَٰذَا بِـَٔالِهَتِنَا يَٰٓإِبْرَٰهِيمُ
They said, "Have you done this to our gods, O Abraham?"
(جب ابراہیم آئے تو) بت پرستوں نے کہا کہ ابراہیم بھلا یہ کام ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے کیا ہے؟
(هنگامی که ابراهیم را حاضر کردند،) گفتند: «تو این کار را با خدایان ما کردهای، ای ابراهیم؟!»
Tafsir Ibn Kathir
"And by Allah, I shall plot a plan for your idols after you have gone away and turned your backs. (57)So he broke them to pieces, except the biggest of them, that they might turn to it (58)They said: "Who has done this to our gods He must indeed be one of the wrongdoers. (59)They said: "We heard a young man talking against them, who is called Ibrahim. (60)They said: "Then bring him before the eyes of the people, that they may testify. (61)They said: "Are you the one who has done this to our gods, O Ibrahim? (62)He said: "Nay, this one, the biggest of them did it. Ask them, if they can speak! (63)
How Ibrahim broke the Idols
Then Ibrahim swore an oath, which some of his people heard, to plot against their idols, i.e., to break them and destroy them after they had gone away and turned their backs, when they went out to their festival. They had a festival which they would go out to celebrate. Abu Ishaq reported from Abu Al-Ahwas from 'Abdullah Ibn Mas'ud, "When the people of Ibrahim went out to celebrate their festival, they passed by him and said, 'O Ibrahim, are you not coming out with us' He said, 'I am sick.'" It was only the day before that he had said,
وَتَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُم بَعْدَ أَن تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ
(And by Allah, I shall plot a plan for your idols after you have gone away and turned your backs.) and some of the people had heard him.
فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا
(So he broke them to pieces,) means, he smashed them all, except for the biggest idol. This is like the Ayah,
فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ
(Then he turned upon them, striking (them) with (his) right hand)(37:93).
لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ
(that they might turn to it.) It was said that he put a hammer in the hands of the biggest idol so that the people would think that it had become jealous on its own account and objected to these smaller idols being worshipped alongside it, so it had broken them.
قَالُوا مَن فَعَلَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ
(They said: "Who has done this to our gods? He must indeed be one of the wrongdoers.") When they came back and saw what Ibrahim had done to their idols, humiliating them and lowering their status, proving that they were not divine and that those who worshipped them were fools,
قَالُوا مَن فَعَلَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ
(They said: "Who has done this to our gods? He must indeed be one of the wrongdoers.") because of this action of his.
قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ
(They said: "We heard a young man talking against them, who is called Ibrahim.") Those who had heard him swearing to plot against them said, we heard a young man talking about them, and they said that he was called Ibrahim.
قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَىٰ أَعْيُنِ النَّاسِ
(They said: "Then bring him before the eyes of the people...") meaning, in front of a large audience so that all the people could be present. This was Ibrahim's ultimate purpose, so that he could tell this great gathering about the extent of their ignorance and how foolish they were to worship idols which could not defend themselves from harm or help themselves, so how could they ask them for help?
قَالُوا أَأَنتَ فَعَلْتَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ - قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا
(They said: "Are you the one who has done this to our gods, O Ibrahim?" He said: "Nay, this one, the biggest of them did it...") referring to the one he had left alone and had not broken.
فَاسْأَلُوهُمْ إِن كَانُوا يَنطِقُونَ
(Ask them, if they can speak!) He was hoping that they would admit of their own volition that these idols could not speak and that this idol would not say anything because it was inanimate. In the Two Sahihs it was recorded from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said:
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمْ يَكْذِبْ غَيْرَ ثَلَاثٍ: ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللهِ قَوْلُهُ:
(Ibrahim, upon him be peace, did not tell lies except on three occasions, two for the sake of Allah – when he said:
بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا
(Nay, this one, the biggest of them did it.) and when he said:
إِنِّي سَقِيمٌ
(Verily, I am sick)(37:89).
قَالَ: وَبَيْنَا هُوَ يَسِيرُ فِي أَرْضِ جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ وَمَعَهُ سَارَّةُ، إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَأَتَى الْجَبَّارَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَزَل هَهُنَا رَجُلٌ بِأَرْضِكَ مَعَهُ امْرَأَةٌ أَحْسَنُ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجَاءَ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْمَرْأَةُ مِنْكَ؟ قَالَ: هِيَ أُخْتِي. قَالَ: فَاذْهَبْ فَأَرْسِلْ بِهَا إِلَيَّ، فَانْطَلَقَ إِلَى سَارَّةَ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ قَدْ سَأَلَنِي عَنْكِ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي، فَلَا تُكَذِّبِينِي عِنْدَهُ، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللهِ، وَإِنَّهُ لَيْسَ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَانْطَلَقَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَلَمَّا أَنْ دَخَلَتْ عَلَيْهِ فَرَآهَا أَهْوَى إِلَيْهَا فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ أَخْذًا شَدِيدًا، فَقَالَ: ادْعِي اللهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَدَعَتْ لَهُ، فَأُرْسِلَ فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ بِمِثْلِهَا أَوْ أَشَدَّ، فَفَعَلَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ، فَأُخِذَ فَذَكَرَ مِثْلَ الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، فَقَالَ: ادْعِي اللهَ فَلَا أُضُرَّكِ، فَدَعَتْ لَهُ فَأُرْسِلَ، ثُمَّ دَعَا أَدْنَى حُجَّابِهِ فَقَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، وَلَكِنَّكَ أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، أَخْرِجْهَا وَأَعْطِهَا هَاجَرَ.
فَأُخْرِجَتْ وَأُعْطِيَتْ هَاجَرَ، فَأَقْبَلَتْ، فَلَمَّا أَحَسَّ إِبْرَاهِيمُ بِمَجِيئِهَا، انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ، وَقَالَ: مَهْيَمْ. قَالَتْ: كَفَى اللهُ كَيْدَ الْكَافِرِ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَنِي هَاجَرَ
(and when he was traveling in the land of one of the tyrants, and Sarah was with him; when he made camp, a man came to the tyrant and said, "A man has made camp in your land and with him is a woman who is the most beautiful of people." The tyrant sent for Ibrahim, and asked him, "What is the relationship of this woman to you?" He said, "She is my sister." The tyrant said, "Go and send her to me." So Ibrahim went to Sarah and said, "This tyrant asked me about you, and I told him that you are my sister, so do not let him think that I am lying. For you are indeed my sister according to the Book of Allah, and there are no Muslims on the earth apart from you and I." So Ibrahim brought her to him, then he stood and prayed. When she entered upon the tyrant, he reached for her desirously once he saw her. But he suffered a severe seizure. So he said, "Pray to Allah for me and I will not harm you." So she prayed for him and it released him. Then he reached for her desirously, but he was stricken similarly before or worse. This continued three times, and each time he said the same as he had said the first time. Then he called the closest of his guards and said, "You have not brought me a human being, you have brought me a devil! Take her out and give her Hajar. So she was taken out and given Hajar, and she went back. When Ibrahim realized that she had come back, he finished his prayer and turned around. He said, "What happened?" She said, "Allah took care of the evil disbeliever's plot, and he gave me Hajar as a servant.")
Muhammad bin Sirin said, "When Abu Hurayrah narrated this Hadith, he said, 'This is your mother, O sons of the water of the heaven.'"
Tafsir Ibn Kathir
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا۔ اور جذبہ توحید میں آکر آپ نے قسم کھالی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔ ان کی عید کا دن جو مقرر تھا حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لئے باہر جاؤ گے میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کردوں گا۔ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ کے والد نے آپ سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہوجائے۔ چناچہ یہ آپ کو لے چلا۔ کچھ دور جانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم گرپڑے اور فرمانے لگے ابا میں بیمار ہوگیا۔ باپ آپ کو چھوڑ کر مراسم کفر بجا لانے کے لئے بڑھ گئے اور جو لوگ راستے سے گزرتے آپ سے پوچھتے کیا بات ہے راستے پر کیسے بیٹھے ہو ؟ جواب دیتے کہ میں بیمار ہوں۔ جب عام لوگ نکل گئے اور بڈھے بڑے لوگ رہ گئے تو آپ نے فرمایا تم سب کے چلے جانے کے بعد آج میں تمہارے معبودوں کی مرمت کردوں گا۔ آپ نے جو فرمایا کہ میں بیمار ہوں تو واقعی آپ اس دن کے اگلے دن قدرے علیل بھی تھے۔ جب کہ وہ لوگ چلے گئے تو میدان خالی پا کر آپ نے اپنا ارادہ پورا کیا اور بڑے بت کو چھوڑ کر تمام بتوں کا چورا کردیا۔ جیسے اور آیتوں میں اس کا تفصیلی بیان موجود ہے کہ اپنے ہاتھ سے ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ اس بڑے بت کے باقی رکھنے میں حکمت و مصلحت یہ تھی کہ اولاً ان لوگوں کے ذہن میں خیال آئے کہ شاید اس بڑے بت نے ان چھوٹے بتوں کو غارت کردیا ہوگا ؟ کیونکہ اسے غیرت معلوم ہوئی ہوگی کہ مجھ بڑے کے ہوتے ہوئے یہ چھوٹے خدائی کے لائق کیسے ہوگئے۔ چناچہ اس خیال کی پختگی ان کے ذہنوں میں قائم کرنے کے لئے آپ نے کلہاڑا بھی اس کی گردن پر رکھ دیا تھا۔ جیسے مروی ہے۔ جب یہ مشرکین اپنے میلے سے واپس آئے تو دیکھا کہ ان کے سارے معبود منہ کے بل اوندھے گرے ہوئے ہیں۔ اور اپنی حالت سے وہ بتا رہے ہیں کہ وہ محض بےجان بےنفع و نقصان ذلیل وحقیر چیز ہیں۔ اور گویا اپنی اس حالت سے اپنے پجاریوں کی بےوقوفی پر مہرلگا رہے تھے۔ لیکن ان بیوقوفوں پر الٹا اثر ہوا کہنے لگے یہ کون ظالم شخص تھا جس نے ہمارے معبودوں کی ایسی اہانت کی ؟ اس وقت جن لوگوں نے حضرت ابراہیم ؑ کا وہ کلام سنا تھا، انہیں خیال آگیا اور کہنے لگے وہ نوجوان جس کا نام ابراہیم ہے اسے ہم نے اپنے معبودوں کی مذمت کرتے ہوئے سنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اس آیت کو پڑھتے اور فرماتے جو نبی آیا جوان۔ جو عالم بنا جوان۔ شان الٰہی دیکھئے جو مقصد حضرت خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کا تھا وہ اب پورا ہورہا ہے۔ قوم کے یہ لوگ مشورہ کرتے ہیں کہ آؤ سب کو جمع کرو اور اسے بلاؤ اور پھر اس کو سزا دو۔ حضرت خلیل اللہ یہی چاہتے تھے کہ کوئی ایسا مجمع ہو اور میں اس میں ان کی غلطیاں ان پر واضع کروں اور ان میں توحید کی تبلیغ کرو۔ اور انہیں بتلاؤں کہ یہ کیسے ظالم وجاہل ہیں ؟ کہ ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو نفع نقصان کے مالک نہیں بلکہ اپنی جان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ چناچہ مجمع ہوا۔ سب چھوٹے بڑے آگئے، حضرت ابراہیم ؑ بھی ملزم کی حیثیت سے موجود ہوئے اور آپ سے سوال ہوا کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ لغو حرکت تم نے کی ہے ؟ اس پر آپ نے انہیں قائل معقول کرنے کے لئے فرمایا کہ یہ کام تو ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے۔ اور اس کی طرف اشارہ کیا جسے آپ نے توڑا نہ تھا پھر فرمایا کہ مجھ سے کیا پوچھتے ہو ؟ اپنے ان معبودوں سے ہی کیوں دریافت نہیں کرتے کہ تمہارے ٹکڑے اڑانے والا کون ہے ؟ اس سے مقصود خلیل اللہ ؑ کا یہ تھا کہ یہ لوگ خودبخود ہی سمجھ لیں کہ یہ پتھر کیا بولیں گے ؟ اور جب وہ اتنے عاجز ہیں تو یہ لائق عبادت کیسے ٹھیر سکتے ہیں ؟ چناچہ یہ مقصد بھی آپ کا بفضل الٰہی پورا ہوا اور یہ دوسری ضرب بھی کاری لگی۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ خلیل اللہ نے تین جھوٹ بولے ہیں دو تو راہ اللہ میں۔ ایک تو انکا یہ فرمانا کہ ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے۔ دوسرا یہ فرمانا کہ میں بیمار ہوں۔ اور ایک مرتبہ حضرت سارہ کے ساتھ سفر میں تھے۔ اتفاق سے ایک ظالم کی حدود سے آپ گزر رہے تھے آپ نے وہاں منزل کی تھی۔ کسی نے بادشاہ کو خبر کردی کہ ایک مسافر کے ساتھ بہترین عورت ہے اور وہ اس وقت ہماری سلطنت میں ہے۔ بادشاہ نے جھٹ سپاہی بھیجا کہ وہ حضرت سارہ کو لے آئے۔ اس نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے ؟ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا میری بہن ہے اس نے کہا اسے بادشاہ کے دربار میں بھیجو۔ آپ حضرت سارہ کے پاس گئے اور فرمایا سنواس ظالم نے تمہیں طلب کیا ہے اور میں تمہیں اپنی بہن بتاچکا ہوں اگر تم سے بھی پوچھا جائے تو یہی کہنا اس لئے کہ دین کے اعتبار سے تم میری بہن ہو، روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مسلمان نہیں۔ یہ کہہ کر آپ چلے آئے حضرت سارہ وہاں سے چلیں آپ نماز میں کھڑے ہوگئے۔ جب حضرت سارہ کو اس ظالم نے دیکھا اور ان کی طرف لپکا اسی وقت اللہ کے عذاب نے اسے پکڑلیا ہاتھ پاؤں اینٹھ گئے۔ گھبرا کر عاجزی سے کہنے لگا اے نیک عورت اللہ سے دعا کر کہ وہ مجھے چھوڑ دے میں وعدہ کرتا ہوں کہ تجھے ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔ آپ نے دعا کی اسی وقت وہ اچھا ہوگیا لیکن اچھا ہوتے ہی اس نے پھر قصد کیا اور آپ کو پکڑنا چاہا وہی پھر عذاب الٰہی آپہنچا اور یہ پہلی دفعہ سے زیادہ سخت پکڑ لیا گیا پھر عاجزی کرنے لگا غرض تین دفعہ پے درپے یہی ہوا۔ تیسری دفعہ چھوٹتے ہی اس نے اپنے قریب کے ملازم کو آواز دی اور کہا تو میرے پاس کسی انسان عورت کو نہیں لایا بلکہ شیطانہ کو لایا ہے جا اسے نکال اور ہاجرہ کو اس کے ساتھ کردے۔ اسی وقت آپ وہاں سے نکال دی گئیں اور حضرت ہاجرہ آپ کے حوالے کی گئیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کی آہٹ پاتے ہی نماز سے فراغت حاصل کی اور دریافت فرمایا کہ کہو کیا گزری ؟ آپ نے فرمایا اللہ نے اس کافر کے مکر کو اسی پر لوٹا دیا اور حاجرہ میری خدمت کے لئے آگئیں حضرت ابوہریرہ ؓ اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ یہ ہیں تمہاری اماں اے آسمانی پانی کے لڑکو۔
Tafsir Ibn Kathir
ثُمَّ أَقْسَمَ الْخَلِيلُ قَسَمًا أَسْمَعَهُ بَعْضَ قَوْمِهِ لَيَكِيدَنَّ أَصْنَامَهُمْ، أَيْ: لَيَحْرِصَنَّ عَلَى أَذَاهُمْ وَتَكْسِيرِهِمْ بَعْدَ أَنْ يُوَلُّوا [[في ف: "تولو".]] مُدْبِرِينَ أَيْ: إِلَى عِيدِهِمْ. وَكَانَ لَهُمْ عيد يخرجون إليه.
قَالَ السُّدِّيُّ: لَمَّا اقْتَرَبَ [[في ف: "قرب".]] وَقْتُ ذَلِكَ الْعِيدِ قَالَ أَبُوهُ: يَا بُنَيَّ، لَوْ خَرَجْتَ مَعَنَا إِلَى عِيدِنَا لَأَعْجَبَكَ دِينُنَا! فَخَرَجَ مَعَهُمْ، فَلَمَّا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أَلْقَى نَفْسَهُ إِلَى الْأَرْضِ. وَقَالَ: إِنِّي سَقِيمٌ، فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ عَلَيْهِ وَهُوَ صَرِيعٌ، فَيَقُولُونَ: مَهْ! فَيَقُولُ: إِنِّي سَقِيمٌ، فَلَمَّا جَازَ عَامَّتُهُمْ وَبَقِيَ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ: ﴿تَاللَّهِ لأكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ﴾ فَسَمِعَهُ أُولَئِكَ.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: لَمَّا خَرَجَ قَوْمُ إِبْرَاهِيمَ، إِلَى عِيدِهِمْ مَرُّوا عَلَيْهِ فَقَالُوا: يَا إِبْرَاهِيمُ أَلَا تَخْرُجُ مَعَنَا؟ قَالَ: إِنِّي سَقِيمٌ. وَقَدْ كَانَ بِالْأَمْسِ قَالَ: ﴿تَاللَّهِ لأكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ بَعْدَ أَنْ تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ﴾ فَسَمِعَهُ نَاسٌ مِنْهُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا﴾ أَيْ: حُطَامًا كَسَّرَهَا كُلَّهَا ﴿إِلا كَبِيرًا لَهُمْ﴾ يَعْنِي: إِلَّا الصَّنَمَ الْكَبِيرَ عِنْدَهُمْ كَمَا قَالَ: ﴿فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٣] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ﴾ ذَكَرُوا أَنَّهُ وَضَعَ الْقَدُومَ فِي يَدِ كَبِيرِهِمْ، لَعَلَّهُمْ يَعْتَقِدُونَ أَنَّهُ هُوَ الَّذِي غَارَ لِنَفْسِهِ، وَأَنِفَ أَنْ تُعْبَدَ مَعَهُ هَذِهِ الْأَصْنَامُ الصِّغَارُ، فَكَسَّرَهَا.
﴿قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: حِينَ رَجَعُوا وَشَاهَدُوا مَا فَعَلَهُ الْخَلِيلُ بِأَصْنَامِهِمْ مِنَ الْإِهَانَةِ وَالْإِذْلَالِ الدَّالِّ عَلَى عَدَمِ إِلَهِيَّتِهَا، وَعَلَى سَخَافَةِ عُقُولِ عَابِدِيهَا ﴿قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: فِي صَنِيعِهِ هَذَا.
﴿قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾ أَيْ: قَالَ مَنْ سَمِعَهُ يَحْلِفُ أَنَّهُ لَيَكِيدَنَّهُمْ: ﴿سَمِعْنَا فَتًى﴾ أَيْ: شَابًّا ﴿يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ قَابُوسٍ [عَنْ أَبِيهِ] [[زيادة من ف.]] ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا شَابًّا، وَلَا أُوتِيَ الْعَلَمَ عَالِمٌ إِلَّا وَهُوَ شَابٌّ، وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ﴾ أَيْ: عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ فِي الْمَلَإِ الْأَكْبَرِ بِحَضْرَةِ النَّاسِ كُلِّهِمْ، وَكَانَ هَذَا هُوَ الْمَقْصُودَ الْأَكْبَرَ لِإِبْرَاهِيمَ أَنْ يَتَبَيَّنَ [[في ف، أ: "يبين".]] فِي هَذَا الْمَحْفِلِ الْعَظِيمِ كَثْرَةُ جَهْلِهِمْ وَقِلَّةُ عَقْلِهِمْ [[في ف: "عقولهم".]] فِي عِبَادَةِ هَذِهِ الْأَصْنَامِ الَّتِي لَا تَدْفَعُ عَنْ نَفْسِهَا ضَرًّا، وَلَا تَمْلِكُ [[في ف: "ولا تستطيع".]] لَهَا نَصْرًا، فَكَيْفَ يُطْلَبُ مِنْهَا شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ؟.
﴿قَالُوا أَأَنْتَ فَعَلْتَ هَذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ يَعْنِي: الَّذِي تَرَكَهُ لَمْ يَكْسِرْهُ ﴿فَاسْأَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ﴾ وَإِنَّمَا أَرَادَ بِهَذَا أَنْ يُبَادِرُوا مِنْ تِلْقَاءِ أَنْفُسِهِمْ، فَيَعْتَرِفُوا أَنَّهُمْ لَا يَنْطِقُونَ، فَإِنَّ هَذَا لَا يَصْدُرُ عَنْ هَذَا الصَّنَمِ، لِأَنَّهُ جَمَادٌ.
وَفِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "إِنَّ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمْ يَكْذِبْ غَيْرَ ثَلَاثٍ: ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللَّهِ [[في ف، أ: "كتاب".]] ، قَوْلُهُ: ﴿بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ وَقَوْلُهُ ﴿إِنِّي سَقِيمٌ﴾ قَالَ: "وَبَيْنَا هُوَ يَسِيرُ فِي أرض جبار من الجبابرة ومعه سَارَةُ، إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَأَتَى الْجَبَّارَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَزَلَ بِأَرْضِكَ رَجُلٌ مَعَهُ امْرَأَةٌ أَحْسَنُ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجَاءَ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْمَرْأَةُ مِنْكَ؟ قَالَ: هِيَ أُخْتِي. قَالَ: فَاذْهَبْ فَأَرْسِلْ بِهَا إِلَيَّ، فَانْطَلَقَ إِلَى سَارَةَ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ [[في ف: "الجبار قد سألني".]] سَأَلَنِي عَنْكِ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي فَلَا تُكَذِّبِينِي عِنْدَهُ، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَأَنَّهُ لَيْسَ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَانْطَلَقَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي. فَلَمَّا أَنْ دَخَلَتْ عَلَيْهِ فَرَآهَا أَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا، فَأُخِذَ أَخْذًا شَدِيدًا، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَدَعَتْ لَهُ فَأُرْسِلَ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ بِمِثْلِهَا أَوْ أَشَدَّ. فَفَعَلَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ فَأُخِذَ، [فَذَكَرَ] [[زيادة من ف، والسنن.]] مِثْلَ الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ [[في ف، أ: "الأولتين".]] فَقَالَ ادْعِي اللَّهَ فَلَا أَضُرُّكِ. فَدَعَتْ، لَهُ فَأُرْسِلَ، ثُمَّ دَعَا أَدْنَى حُجَّابِهِ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، وَإِنَّمَا [[في ف: "ولكنك".]] أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، أَخْرِجْهَا وَأَعْطِهَا هَاجَرَ، فَأُخْرِجَتْ وَأُعْطِيَتْ هَاجَرَ، فَأَقْبَلَتْ، فَلَمَّا أَحَسَّ إِبْرَاهِيمُ بِمَجِيئِهَا انْفَتَلَ مِنْ صِلَاتِهِ، قَالَ [[في ف: "وقال".]] : مَهْيَم؟ قَالَتْ: كَفَى اللَّهُ كَيْدَ الْكَافِرِ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَنِي هَاجَرَ" قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ [[في ف، أ: "إدريس".]] وَكَانَ [[في ف: "فكان".]] : أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ [[لم أجده في الصحيحين من طريق هشام بن حسان وإنما هو في السنن: فرواه أبو داود في السنن برقم (٢٢١٢) من طريق عبد الوهاب الثقفي عن هشام بن حسان. ورواه النسائي في السنن الكبرى برقم (٨٣٧٤) من طريق أبي أسامة عن هشام بن حسان. وهو في الصحيحين من طريق أيوب عن محمد بن سيرين؛ صحيح البخاري برقم (٥٠٨٤) ، وصحيح مسلم برقم (٢٣٧١) .]]
قَالَ بَلْ فَعَلَهُۥ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا فَسْـَٔلُوهُمْ إِن كَانُوا۟ يَنطِقُونَ
He said, "Rather, this - the largest of them - did it, so ask them, if they should [be able to] speak."
(ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ یہ ان کے اس بڑے (بت) نے کیا (ہوگا) ۔ اگر یہ بولتے ہیں تو ان سے پوچھ لو
گفت: «بلکه این کار را بزرگشان کرده است! از آنها بپرسید اگر سخن میگویند!»
Tafsir Ibn Kathir
"And by Allah, I shall plot a plan for your idols after you have gone away and turned your backs. (57)So he broke them to pieces, except the biggest of them, that they might turn to it (58)They said: "Who has done this to our gods He must indeed be one of the wrongdoers. (59)They said: "We heard a young man talking against them, who is called Ibrahim. (60)They said: "Then bring him before the eyes of the people, that they may testify. (61)They said: "Are you the one who has done this to our gods, O Ibrahim? (62)He said: "Nay, this one, the biggest of them did it. Ask them, if they can speak! (63)
How Ibrahim broke the Idols
Then Ibrahim swore an oath, which some of his people heard, to plot against their idols, i.e., to break them and destroy them after they had gone away and turned their backs, when they went out to their festival. They had a festival which they would go out to celebrate. Abu Ishaq reported from Abu Al-Ahwas from 'Abdullah Ibn Mas'ud, "When the people of Ibrahim went out to celebrate their festival, they passed by him and said, 'O Ibrahim, are you not coming out with us' He said, 'I am sick.'" It was only the day before that he had said,
وَتَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُم بَعْدَ أَن تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ
(And by Allah, I shall plot a plan for your idols after you have gone away and turned your backs.) and some of the people had heard him.
فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا
(So he broke them to pieces,) means, he smashed them all, except for the biggest idol. This is like the Ayah,
فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ
(Then he turned upon them, striking (them) with (his) right hand)(37:93).
لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ
(that they might turn to it.) It was said that he put a hammer in the hands of the biggest idol so that the people would think that it had become jealous on its own account and objected to these smaller idols being worshipped alongside it, so it had broken them.
قَالُوا مَن فَعَلَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ
(They said: "Who has done this to our gods? He must indeed be one of the wrongdoers.") When they came back and saw what Ibrahim had done to their idols, humiliating them and lowering their status, proving that they were not divine and that those who worshipped them were fools,
قَالُوا مَن فَعَلَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ
(They said: "Who has done this to our gods? He must indeed be one of the wrongdoers.") because of this action of his.
قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ
(They said: "We heard a young man talking against them, who is called Ibrahim.") Those who had heard him swearing to plot against them said, we heard a young man talking about them, and they said that he was called Ibrahim.
قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَىٰ أَعْيُنِ النَّاسِ
(They said: "Then bring him before the eyes of the people...") meaning, in front of a large audience so that all the people could be present. This was Ibrahim's ultimate purpose, so that he could tell this great gathering about the extent of their ignorance and how foolish they were to worship idols which could not defend themselves from harm or help themselves, so how could they ask them for help?
قَالُوا أَأَنتَ فَعَلْتَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ - قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا
(They said: "Are you the one who has done this to our gods, O Ibrahim?" He said: "Nay, this one, the biggest of them did it...") referring to the one he had left alone and had not broken.
فَاسْأَلُوهُمْ إِن كَانُوا يَنطِقُونَ
(Ask them, if they can speak!) He was hoping that they would admit of their own volition that these idols could not speak and that this idol would not say anything because it was inanimate. In the Two Sahihs it was recorded from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said:
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمْ يَكْذِبْ غَيْرَ ثَلَاثٍ: ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللهِ قَوْلُهُ:
(Ibrahim, upon him be peace, did not tell lies except on three occasions, two for the sake of Allah – when he said:
بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا
(Nay, this one, the biggest of them did it.) and when he said:
إِنِّي سَقِيمٌ
(Verily, I am sick)(37:89).
قَالَ: وَبَيْنَا هُوَ يَسِيرُ فِي أَرْضِ جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ وَمَعَهُ سَارَّةُ، إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَأَتَى الْجَبَّارَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَزَل هَهُنَا رَجُلٌ بِأَرْضِكَ مَعَهُ امْرَأَةٌ أَحْسَنُ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجَاءَ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْمَرْأَةُ مِنْكَ؟ قَالَ: هِيَ أُخْتِي. قَالَ: فَاذْهَبْ فَأَرْسِلْ بِهَا إِلَيَّ، فَانْطَلَقَ إِلَى سَارَّةَ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ قَدْ سَأَلَنِي عَنْكِ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي، فَلَا تُكَذِّبِينِي عِنْدَهُ، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللهِ، وَإِنَّهُ لَيْسَ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَانْطَلَقَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَلَمَّا أَنْ دَخَلَتْ عَلَيْهِ فَرَآهَا أَهْوَى إِلَيْهَا فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ أَخْذًا شَدِيدًا، فَقَالَ: ادْعِي اللهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَدَعَتْ لَهُ، فَأُرْسِلَ فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ بِمِثْلِهَا أَوْ أَشَدَّ، فَفَعَلَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ، فَأُخِذَ فَذَكَرَ مِثْلَ الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، فَقَالَ: ادْعِي اللهَ فَلَا أُضُرَّكِ، فَدَعَتْ لَهُ فَأُرْسِلَ، ثُمَّ دَعَا أَدْنَى حُجَّابِهِ فَقَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، وَلَكِنَّكَ أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، أَخْرِجْهَا وَأَعْطِهَا هَاجَرَ.
فَأُخْرِجَتْ وَأُعْطِيَتْ هَاجَرَ، فَأَقْبَلَتْ، فَلَمَّا أَحَسَّ إِبْرَاهِيمُ بِمَجِيئِهَا، انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ، وَقَالَ: مَهْيَمْ. قَالَتْ: كَفَى اللهُ كَيْدَ الْكَافِرِ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَنِي هَاجَرَ
(and when he was traveling in the land of one of the tyrants, and Sarah was with him; when he made camp, a man came to the tyrant and said, "A man has made camp in your land and with him is a woman who is the most beautiful of people." The tyrant sent for Ibrahim, and asked him, "What is the relationship of this woman to you?" He said, "She is my sister." The tyrant said, "Go and send her to me." So Ibrahim went to Sarah and said, "This tyrant asked me about you, and I told him that you are my sister, so do not let him think that I am lying. For you are indeed my sister according to the Book of Allah, and there are no Muslims on the earth apart from you and I." So Ibrahim brought her to him, then he stood and prayed. When she entered upon the tyrant, he reached for her desirously once he saw her. But he suffered a severe seizure. So he said, "Pray to Allah for me and I will not harm you." So she prayed for him and it released him. Then he reached for her desirously, but he was stricken similarly before or worse. This continued three times, and each time he said the same as he had said the first time. Then he called the closest of his guards and said, "You have not brought me a human being, you have brought me a devil! Take her out and give her Hajar. So she was taken out and given Hajar, and she went back. When Ibrahim realized that she had come back, he finished his prayer and turned around. He said, "What happened?" She said, "Allah took care of the evil disbeliever's plot, and he gave me Hajar as a servant.")
Muhammad bin Sirin said, "When Abu Hurayrah narrated this Hadith, he said, 'This is your mother, O sons of the water of the heaven.'"
Tafsir Ibn Kathir
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ ؑ نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا۔ اور جذبہ توحید میں آکر آپ نے قسم کھالی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔ ان کی عید کا دن جو مقرر تھا حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا کہ جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لئے باہر جاؤ گے میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کردوں گا۔ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ کے والد نے آپ سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہوجائے۔ چناچہ یہ آپ کو لے چلا۔ کچھ دور جانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم گرپڑے اور فرمانے لگے ابا میں بیمار ہوگیا۔ باپ آپ کو چھوڑ کر مراسم کفر بجا لانے کے لئے بڑھ گئے اور جو لوگ راستے سے گزرتے آپ سے پوچھتے کیا بات ہے راستے پر کیسے بیٹھے ہو ؟ جواب دیتے کہ میں بیمار ہوں۔ جب عام لوگ نکل گئے اور بڈھے بڑے لوگ رہ گئے تو آپ نے فرمایا تم سب کے چلے جانے کے بعد آج میں تمہارے معبودوں کی مرمت کردوں گا۔ آپ نے جو فرمایا کہ میں بیمار ہوں تو واقعی آپ اس دن کے اگلے دن قدرے علیل بھی تھے۔ جب کہ وہ لوگ چلے گئے تو میدان خالی پا کر آپ نے اپنا ارادہ پورا کیا اور بڑے بت کو چھوڑ کر تمام بتوں کا چورا کردیا۔ جیسے اور آیتوں میں اس کا تفصیلی بیان موجود ہے کہ اپنے ہاتھ سے ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ اس بڑے بت کے باقی رکھنے میں حکمت و مصلحت یہ تھی کہ اولاً ان لوگوں کے ذہن میں خیال آئے کہ شاید اس بڑے بت نے ان چھوٹے بتوں کو غارت کردیا ہوگا ؟ کیونکہ اسے غیرت معلوم ہوئی ہوگی کہ مجھ بڑے کے ہوتے ہوئے یہ چھوٹے خدائی کے لائق کیسے ہوگئے۔ چناچہ اس خیال کی پختگی ان کے ذہنوں میں قائم کرنے کے لئے آپ نے کلہاڑا بھی اس کی گردن پر رکھ دیا تھا۔ جیسے مروی ہے۔ جب یہ مشرکین اپنے میلے سے واپس آئے تو دیکھا کہ ان کے سارے معبود منہ کے بل اوندھے گرے ہوئے ہیں۔ اور اپنی حالت سے وہ بتا رہے ہیں کہ وہ محض بےجان بےنفع و نقصان ذلیل وحقیر چیز ہیں۔ اور گویا اپنی اس حالت سے اپنے پجاریوں کی بےوقوفی پر مہرلگا رہے تھے۔ لیکن ان بیوقوفوں پر الٹا اثر ہوا کہنے لگے یہ کون ظالم شخص تھا جس نے ہمارے معبودوں کی ایسی اہانت کی ؟ اس وقت جن لوگوں نے حضرت ابراہیم ؑ کا وہ کلام سنا تھا، انہیں خیال آگیا اور کہنے لگے وہ نوجوان جس کا نام ابراہیم ہے اسے ہم نے اپنے معبودوں کی مذمت کرتے ہوئے سنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اس آیت کو پڑھتے اور فرماتے جو نبی آیا جوان۔ جو عالم بنا جوان۔ شان الٰہی دیکھئے جو مقصد حضرت خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کا تھا وہ اب پورا ہورہا ہے۔ قوم کے یہ لوگ مشورہ کرتے ہیں کہ آؤ سب کو جمع کرو اور اسے بلاؤ اور پھر اس کو سزا دو۔ حضرت خلیل اللہ یہی چاہتے تھے کہ کوئی ایسا مجمع ہو اور میں اس میں ان کی غلطیاں ان پر واضع کروں اور ان میں توحید کی تبلیغ کرو۔ اور انہیں بتلاؤں کہ یہ کیسے ظالم وجاہل ہیں ؟ کہ ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو نفع نقصان کے مالک نہیں بلکہ اپنی جان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ چناچہ مجمع ہوا۔ سب چھوٹے بڑے آگئے، حضرت ابراہیم ؑ بھی ملزم کی حیثیت سے موجود ہوئے اور آپ سے سوال ہوا کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ لغو حرکت تم نے کی ہے ؟ اس پر آپ نے انہیں قائل معقول کرنے کے لئے فرمایا کہ یہ کام تو ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے۔ اور اس کی طرف اشارہ کیا جسے آپ نے توڑا نہ تھا پھر فرمایا کہ مجھ سے کیا پوچھتے ہو ؟ اپنے ان معبودوں سے ہی کیوں دریافت نہیں کرتے کہ تمہارے ٹکڑے اڑانے والا کون ہے ؟ اس سے مقصود خلیل اللہ ؑ کا یہ تھا کہ یہ لوگ خودبخود ہی سمجھ لیں کہ یہ پتھر کیا بولیں گے ؟ اور جب وہ اتنے عاجز ہیں تو یہ لائق عبادت کیسے ٹھیر سکتے ہیں ؟ چناچہ یہ مقصد بھی آپ کا بفضل الٰہی پورا ہوا اور یہ دوسری ضرب بھی کاری لگی۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ خلیل اللہ نے تین جھوٹ بولے ہیں دو تو راہ اللہ میں۔ ایک تو انکا یہ فرمانا کہ ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے۔ دوسرا یہ فرمانا کہ میں بیمار ہوں۔ اور ایک مرتبہ حضرت سارہ کے ساتھ سفر میں تھے۔ اتفاق سے ایک ظالم کی حدود سے آپ گزر رہے تھے آپ نے وہاں منزل کی تھی۔ کسی نے بادشاہ کو خبر کردی کہ ایک مسافر کے ساتھ بہترین عورت ہے اور وہ اس وقت ہماری سلطنت میں ہے۔ بادشاہ نے جھٹ سپاہی بھیجا کہ وہ حضرت سارہ کو لے آئے۔ اس نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے ؟ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا میری بہن ہے اس نے کہا اسے بادشاہ کے دربار میں بھیجو۔ آپ حضرت سارہ کے پاس گئے اور فرمایا سنواس ظالم نے تمہیں طلب کیا ہے اور میں تمہیں اپنی بہن بتاچکا ہوں اگر تم سے بھی پوچھا جائے تو یہی کہنا اس لئے کہ دین کے اعتبار سے تم میری بہن ہو، روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مسلمان نہیں۔ یہ کہہ کر آپ چلے آئے حضرت سارہ وہاں سے چلیں آپ نماز میں کھڑے ہوگئے۔ جب حضرت سارہ کو اس ظالم نے دیکھا اور ان کی طرف لپکا اسی وقت اللہ کے عذاب نے اسے پکڑلیا ہاتھ پاؤں اینٹھ گئے۔ گھبرا کر عاجزی سے کہنے لگا اے نیک عورت اللہ سے دعا کر کہ وہ مجھے چھوڑ دے میں وعدہ کرتا ہوں کہ تجھے ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔ آپ نے دعا کی اسی وقت وہ اچھا ہوگیا لیکن اچھا ہوتے ہی اس نے پھر قصد کیا اور آپ کو پکڑنا چاہا وہی پھر عذاب الٰہی آپہنچا اور یہ پہلی دفعہ سے زیادہ سخت پکڑ لیا گیا پھر عاجزی کرنے لگا غرض تین دفعہ پے درپے یہی ہوا۔ تیسری دفعہ چھوٹتے ہی اس نے اپنے قریب کے ملازم کو آواز دی اور کہا تو میرے پاس کسی انسان عورت کو نہیں لایا بلکہ شیطانہ کو لایا ہے جا اسے نکال اور ہاجرہ کو اس کے ساتھ کردے۔ اسی وقت آپ وہاں سے نکال دی گئیں اور حضرت ہاجرہ آپ کے حوالے کی گئیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کی آہٹ پاتے ہی نماز سے فراغت حاصل کی اور دریافت فرمایا کہ کہو کیا گزری ؟ آپ نے فرمایا اللہ نے اس کافر کے مکر کو اسی پر لوٹا دیا اور حاجرہ میری خدمت کے لئے آگئیں حضرت ابوہریرہ ؓ اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ یہ ہیں تمہاری اماں اے آسمانی پانی کے لڑکو۔
Tafsir Ibn Kathir
ثُمَّ أَقْسَمَ الْخَلِيلُ قَسَمًا أَسْمَعَهُ بَعْضَ قَوْمِهِ لَيَكِيدَنَّ أَصْنَامَهُمْ، أَيْ: لَيَحْرِصَنَّ عَلَى أَذَاهُمْ وَتَكْسِيرِهِمْ بَعْدَ أَنْ يُوَلُّوا [[في ف: "تولو".]] مُدْبِرِينَ أَيْ: إِلَى عِيدِهِمْ. وَكَانَ لَهُمْ عيد يخرجون إليه.
قَالَ السُّدِّيُّ: لَمَّا اقْتَرَبَ [[في ف: "قرب".]] وَقْتُ ذَلِكَ الْعِيدِ قَالَ أَبُوهُ: يَا بُنَيَّ، لَوْ خَرَجْتَ مَعَنَا إِلَى عِيدِنَا لَأَعْجَبَكَ دِينُنَا! فَخَرَجَ مَعَهُمْ، فَلَمَّا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أَلْقَى نَفْسَهُ إِلَى الْأَرْضِ. وَقَالَ: إِنِّي سَقِيمٌ، فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ عَلَيْهِ وَهُوَ صَرِيعٌ، فَيَقُولُونَ: مَهْ! فَيَقُولُ: إِنِّي سَقِيمٌ، فَلَمَّا جَازَ عَامَّتُهُمْ وَبَقِيَ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ: ﴿تَاللَّهِ لأكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ﴾ فَسَمِعَهُ أُولَئِكَ.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: لَمَّا خَرَجَ قَوْمُ إِبْرَاهِيمَ، إِلَى عِيدِهِمْ مَرُّوا عَلَيْهِ فَقَالُوا: يَا إِبْرَاهِيمُ أَلَا تَخْرُجُ مَعَنَا؟ قَالَ: إِنِّي سَقِيمٌ. وَقَدْ كَانَ بِالْأَمْسِ قَالَ: ﴿تَاللَّهِ لأكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ بَعْدَ أَنْ تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ﴾ فَسَمِعَهُ نَاسٌ مِنْهُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا﴾ أَيْ: حُطَامًا كَسَّرَهَا كُلَّهَا ﴿إِلا كَبِيرًا لَهُمْ﴾ يَعْنِي: إِلَّا الصَّنَمَ الْكَبِيرَ عِنْدَهُمْ كَمَا قَالَ: ﴿فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ﴾ [الصَّافَّاتِ:٩٣] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ﴾ ذَكَرُوا أَنَّهُ وَضَعَ الْقَدُومَ فِي يَدِ كَبِيرِهِمْ، لَعَلَّهُمْ يَعْتَقِدُونَ أَنَّهُ هُوَ الَّذِي غَارَ لِنَفْسِهِ، وَأَنِفَ أَنْ تُعْبَدَ مَعَهُ هَذِهِ الْأَصْنَامُ الصِّغَارُ، فَكَسَّرَهَا.
﴿قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: حِينَ رَجَعُوا وَشَاهَدُوا مَا فَعَلَهُ الْخَلِيلُ بِأَصْنَامِهِمْ مِنَ الْإِهَانَةِ وَالْإِذْلَالِ الدَّالِّ عَلَى عَدَمِ إِلَهِيَّتِهَا، وَعَلَى سَخَافَةِ عُقُولِ عَابِدِيهَا ﴿قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ﴾ أَيْ: فِي صَنِيعِهِ هَذَا.
﴿قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾ أَيْ: قَالَ مَنْ سَمِعَهُ يَحْلِفُ أَنَّهُ لَيَكِيدَنَّهُمْ: ﴿سَمِعْنَا فَتًى﴾ أَيْ: شَابًّا ﴿يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ قَابُوسٍ [عَنْ أَبِيهِ] [[زيادة من ف.]] ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا شَابًّا، وَلَا أُوتِيَ الْعَلَمَ عَالِمٌ إِلَّا وَهُوَ شَابٌّ، وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ﴾ أَيْ: عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ فِي الْمَلَإِ الْأَكْبَرِ بِحَضْرَةِ النَّاسِ كُلِّهِمْ، وَكَانَ هَذَا هُوَ الْمَقْصُودَ الْأَكْبَرَ لِإِبْرَاهِيمَ أَنْ يَتَبَيَّنَ [[في ف، أ: "يبين".]] فِي هَذَا الْمَحْفِلِ الْعَظِيمِ كَثْرَةُ جَهْلِهِمْ وَقِلَّةُ عَقْلِهِمْ [[في ف: "عقولهم".]] فِي عِبَادَةِ هَذِهِ الْأَصْنَامِ الَّتِي لَا تَدْفَعُ عَنْ نَفْسِهَا ضَرًّا، وَلَا تَمْلِكُ [[في ف: "ولا تستطيع".]] لَهَا نَصْرًا، فَكَيْفَ يُطْلَبُ مِنْهَا شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ؟.
﴿قَالُوا أَأَنْتَ فَعَلْتَ هَذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ يَعْنِي: الَّذِي تَرَكَهُ لَمْ يَكْسِرْهُ ﴿فَاسْأَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ﴾ وَإِنَّمَا أَرَادَ بِهَذَا أَنْ يُبَادِرُوا مِنْ تِلْقَاءِ أَنْفُسِهِمْ، فَيَعْتَرِفُوا أَنَّهُمْ لَا يَنْطِقُونَ، فَإِنَّ هَذَا لَا يَصْدُرُ عَنْ هَذَا الصَّنَمِ، لِأَنَّهُ جَمَادٌ.
وَفِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "إِنَّ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمْ يَكْذِبْ غَيْرَ ثَلَاثٍ: ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللَّهِ [[في ف، أ: "كتاب".]] ، قَوْلُهُ: ﴿بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ وَقَوْلُهُ ﴿إِنِّي سَقِيمٌ﴾ قَالَ: "وَبَيْنَا هُوَ يَسِيرُ فِي أرض جبار من الجبابرة ومعه سَارَةُ، إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَأَتَى الْجَبَّارَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَزَلَ بِأَرْضِكَ رَجُلٌ مَعَهُ امْرَأَةٌ أَحْسَنُ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجَاءَ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْمَرْأَةُ مِنْكَ؟ قَالَ: هِيَ أُخْتِي. قَالَ: فَاذْهَبْ فَأَرْسِلْ بِهَا إِلَيَّ، فَانْطَلَقَ إِلَى سَارَةَ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ [[في ف: "الجبار قد سألني".]] سَأَلَنِي عَنْكِ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي فَلَا تُكَذِّبِينِي عِنْدَهُ، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَأَنَّهُ لَيْسَ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَانْطَلَقَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي. فَلَمَّا أَنْ دَخَلَتْ عَلَيْهِ فَرَآهَا أَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا، فَأُخِذَ أَخْذًا شَدِيدًا، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَدَعَتْ لَهُ فَأُرْسِلَ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَتَنَاوَلَهَا فَأُخِذَ بِمِثْلِهَا أَوْ أَشَدَّ. فَفَعَلَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ فَأُخِذَ، [فَذَكَرَ] [[زيادة من ف، والسنن.]] مِثْلَ الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ [[في ف، أ: "الأولتين".]] فَقَالَ ادْعِي اللَّهَ فَلَا أَضُرُّكِ. فَدَعَتْ، لَهُ فَأُرْسِلَ، ثُمَّ دَعَا أَدْنَى حُجَّابِهِ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، وَإِنَّمَا [[في ف: "ولكنك".]] أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، أَخْرِجْهَا وَأَعْطِهَا هَاجَرَ، فَأُخْرِجَتْ وَأُعْطِيَتْ هَاجَرَ، فَأَقْبَلَتْ، فَلَمَّا أَحَسَّ إِبْرَاهِيمُ بِمَجِيئِهَا انْفَتَلَ مِنْ صِلَاتِهِ، قَالَ [[في ف: "وقال".]] : مَهْيَم؟ قَالَتْ: كَفَى اللَّهُ كَيْدَ الْكَافِرِ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَنِي هَاجَرَ" قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ [[في ف، أ: "إدريس".]] وَكَانَ [[في ف: "فكان".]] : أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ [[لم أجده في الصحيحين من طريق هشام بن حسان وإنما هو في السنن: فرواه أبو داود في السنن برقم (٢٢١٢) من طريق عبد الوهاب الثقفي عن هشام بن حسان. ورواه النسائي في السنن الكبرى برقم (٨٣٧٤) من طريق أبي أسامة عن هشام بن حسان. وهو في الصحيحين من طريق أيوب عن محمد بن سيرين؛ صحيح البخاري برقم (٥٠٨٤) ، وصحيح مسلم برقم (٢٣٧١) .]]
فَرَجَعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ فَقَالُوٓا۟ إِنَّكُمْ أَنتُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ
So they returned to [blaming] themselves and said [to each other], "Indeed, you are the wrongdoers."
انہوں نے اپنے دل غور کیا تو آپس میں کہنے لگے بےشک تم ہی بےانصاف ہو
آنها به وجدان خویش بازگشتند؛ و (به خود) گفتند: «حقّا که شما ستمگرید!»
Tafsir Ibn Kathir
So they turned to themselves and said: "Verily, you are the wrongdoers. (64)Then they turned to themselves: "Indeed you know well that these speak not! (65)He said: "Do you then worship besides Allah, things that can neither profit you nor harm you? (66)"Fie upon you, and upon that which you worship besides Allah! Have you then no sense? (67)
The People's admission of their gods' incapability, and Ibrahim's preaching
Allah tells us that when Ibrahim said what he said, his people
فَرَجَعُوا إِلَىٰ أَنفُسِهِمْ
(turned to themselves) meaning, they blamed themselves for not taking precautions and protecting their gods. They said:
إِنَّكُمْ أَنتُمُ الظَّالِمُونَ
(Verily, you are the wrongdoers) i.e., because you neglected them and did not guard them.
ثُمَّ نُكِسُوا عَلَىٰ رُءُوسِهِمْ
(Then they turned to themselves) means, they looked at the ground, and said:
لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَٰؤُلَاءِ يَنطِقُونَ
(Indeed you (Ibrahim) know well that these speak not!) Qatadah said: "The people admitted their guilt and confusion, and said,
لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَٰؤُلَاءِ يَنطِقُونَ
("Indeed you know well that these speak not!") 'So how can you tell us to ask them, if they cannot speak and you know that they cannot speak?' At this point, when they admitted that, Ibrahim said to them:
أَفَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّكُمْ
(Do you then worship besides Allah, things that can neither profit you nor harm you?) meaning, if they cannot speak and they can neither benefit you nor harm you, then why do you worship them instead of Allah?
أُفٍّ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(Fie upon you, and upon that which you worship besides Allah! Have you then no sense?) 'Do you not realize the extent of the misguidance and extreme disbelief which you are following, which no one could accept but one who is an ignorant and evil wrongdoer?' He defeated them in argument and left them with no way out. Allah said:
وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ
(And that was Our proof which We gave Ibrahim against his people)(6:83)
Tafsir Ibn Kathir
اپنی حماقت سے پریشان کافر بیان ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ ؑ کی باتیں سن کر انہیں خیال تو پیدا ہوگیا۔ اپنے آپ کو اپنی بیوقوفی پر ملامت کرنے لگے۔ سخت ندامت اٹھائی اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے بڑی غلطی کی، اپنے معبودوں کے پاس کسی کو حفاظت کیلئے نہ چھوڑا اور چل دئیے۔ پھر غور وفکر کرکے بات بنائی کہ آپ جو کچھ ہم سے کہتے ہیں کہ ان سے ہم پوچھ لیں کہ تمہیں کس نے توڑا ہے تو کیا آپ کو علم نہیں کہ یہ بت بےزبان ہیں ؟ عاجزی حیرت اور انتہائی لاجوابی کی حالت میں انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا اب حضرت خلیل اللہ ؑ کو خاصا موقعہ مل گیا اور آپ فوراً فرمانے لگے کہ بےزبان بےنفع وضرر چیز کی عبادت کیسی ؟ تم کیوں اس قدر بےسمجھ رہے ہو ؟ تف ہے تم پر اور تمہارے ان جھوٹے خداؤں پر آہ کس قدر ظلم وجہل ہے کہ ایسی چیزوں کی پرستش کی جائے اور اللہ واحد کو چھوڑ دیا جائے ؟ یہی تھی وہ دلیلیں جن کا ذکر پہلے ہوا تھا کہ ہم نے ابراہیم کو دلیلیں سکھا دیں جن سے قوم حقیقت تک پہنچ جائے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا [[في ف، أ: "يخبر تعالى".]] عَنْ قَوْمِ إِبْرَاهِيمَ حِينَ قَالَ لَهُمْ مَا قَالَ: ﴿فَرَجَعُوا إِلَى أَنْفُسِهِمْ﴾ أَيْ: بِالْمَلَامَةِ فِي عَدَمِ احْتِرَازِهِمْ وَحِرَاسَتِهِمْ لِآلِهَتِهِمْ، فَقَالُوا: ﴿إِنَّكُمْ أَنْتُمُ الظَّالِمُونَ﴾ أَيْ: فِي تَرْكِكِمْ لَهَا مُهْمَلَةً لَا حَافِظَ عِنْدَهَا، ﴿ثُمَّ نُكِسُوا عَلَى رُءُوسِهِمْ﴾ أَيْ: ثُمَّ أَطْرَقُوا فِي الْأَرْضِ فَقَالُوا: ﴿لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلاءِ يَنْطِقُونَ﴾ قَالَ قَتَادَةُ: أَدْرَكَتِ الْقَوْمَ حَيْرَةُ سُوءٍ فَقَالُوا: ﴿لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلاءِ يَنْطِقُونَ﴾ .
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ﴿ثُمَّ نُكِسُوا عَلَى رُءُوسِهِمْ﴾ أَيْ: فِي الْفِتْنَةِ.
وَقَالَ ابْنُ زَيْدٍ: أَيْ فِي الرَّأْيِ.
وَقَوْلُ قَتَادَةَ أَظْهَرُ فِي الْمَعْنَى؛ لِأَنَّهُمْ إِنَّمَا فَعَلُوا ذَلِكَ حَيْرَةً وَعَجْزًا؛ وَلِهَذَا قَالُوا لَهُ: ﴿لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلاءِ يَنْطِقُونَ﴾ ، فَكَيْفَ تَقُولُ لَنَا: سَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ، وَأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهَا لَا تَنْطِقُ فَعِنْدَهَا قَالَ لَهُمْ إِبْرَاهِيمُ لَمَّا اعْتَرَفُوا بِذَلِكَ: ﴿أَفَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكُمْ شَيْئًا وَلا يَضُرُّكُمْ﴾ أَيْ: إِذَا كَانَتْ لَا تَنْطِقُ [[في أ: "كان لا ينطق".]] ، وَهِيَ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، فَلِمَ تَعْبُدُونَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ.
﴿أُفٍّ لَكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَفَلا تَعْقِلُونَ﴾
أَيْ: أَفَلَا تَتَدَبَّرُونَ مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الضَّلَالِ وَالْكُفْرِ الْغَلِيظِ، الَّذِي لَا يُرَوَّجُ إِلَّا عَلَى جَاهِلٍ ظَالِمٍ فَاجِرٍ؟ فَأَقَامَ عَلَيْهِمُ الْحُجَّةَ، وَأَلْزَمَهُمْ بِهَا؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ﴾ الْآيَةَ [الْأَنْعَامِ:٨٣] .
ثُمَّ نُكِسُوا۟ عَلَىٰ رُءُوسِهِمْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَٰٓؤُلَآءِ يَنطِقُونَ
Then they reversed themselves, [saying], "You have already known that these do not speak!"
پھر (شرمندہ ہو کر) سر نیچا کرلیا (اس پر بھی ابراہیم سے کہنے لگے کہ) تم جانتے ہو یہ بولتے نہیں
سپس بر سرهایشان واژگونه شدند؛ (و حکم وجدان را بکلّی فراموش کردند و گفتند:) تو میدانی که اینها سخن نمیگویند!
Tafsir Ibn Kathir
So they turned to themselves and said: "Verily, you are the wrongdoers. (64)Then they turned to themselves: "Indeed you know well that these speak not! (65)He said: "Do you then worship besides Allah, things that can neither profit you nor harm you? (66)"Fie upon you, and upon that which you worship besides Allah! Have you then no sense? (67)
The People's admission of their gods' incapability, and Ibrahim's preaching
Allah tells us that when Ibrahim said what he said, his people
فَرَجَعُوا إِلَىٰ أَنفُسِهِمْ
(turned to themselves) meaning, they blamed themselves for not taking precautions and protecting their gods. They said:
إِنَّكُمْ أَنتُمُ الظَّالِمُونَ
(Verily, you are the wrongdoers) i.e., because you neglected them and did not guard them.
ثُمَّ نُكِسُوا عَلَىٰ رُءُوسِهِمْ
(Then they turned to themselves) means, they looked at the ground, and said:
لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَٰؤُلَاءِ يَنطِقُونَ
(Indeed you (Ibrahim) know well that these speak not!) Qatadah said: "The people admitted their guilt and confusion, and said,
لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَٰؤُلَاءِ يَنطِقُونَ
("Indeed you know well that these speak not!") 'So how can you tell us to ask them, if they cannot speak and you know that they cannot speak?' At this point, when they admitted that, Ibrahim said to them:
أَفَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّكُمْ
(Do you then worship besides Allah, things that can neither profit you nor harm you?) meaning, if they cannot speak and they can neither benefit you nor harm you, then why do you worship them instead of Allah?
أُفٍّ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(Fie upon you, and upon that which you worship besides Allah! Have you then no sense?) 'Do you not realize the extent of the misguidance and extreme disbelief which you are following, which no one could accept but one who is an ignorant and evil wrongdoer?' He defeated them in argument and left them with no way out. Allah said:
وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ
(And that was Our proof which We gave Ibrahim against his people)(6:83)
Tafsir Ibn Kathir
اپنی حماقت سے پریشان کافر بیان ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ ؑ کی باتیں سن کر انہیں خیال تو پیدا ہوگیا۔ اپنے آپ کو اپنی بیوقوفی پر ملامت کرنے لگے۔ سخت ندامت اٹھائی اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے بڑی غلطی کی، اپنے معبودوں کے پاس کسی کو حفاظت کیلئے نہ چھوڑا اور چل دئیے۔ پھر غور وفکر کرکے بات بنائی کہ آپ جو کچھ ہم سے کہتے ہیں کہ ان سے ہم پوچھ لیں کہ تمہیں کس نے توڑا ہے تو کیا آپ کو علم نہیں کہ یہ بت بےزبان ہیں ؟ عاجزی حیرت اور انتہائی لاجوابی کی حالت میں انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا اب حضرت خلیل اللہ ؑ کو خاصا موقعہ مل گیا اور آپ فوراً فرمانے لگے کہ بےزبان بےنفع وضرر چیز کی عبادت کیسی ؟ تم کیوں اس قدر بےسمجھ رہے ہو ؟ تف ہے تم پر اور تمہارے ان جھوٹے خداؤں پر آہ کس قدر ظلم وجہل ہے کہ ایسی چیزوں کی پرستش کی جائے اور اللہ واحد کو چھوڑ دیا جائے ؟ یہی تھی وہ دلیلیں جن کا ذکر پہلے ہوا تھا کہ ہم نے ابراہیم کو دلیلیں سکھا دیں جن سے قوم حقیقت تک پہنچ جائے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا [[في ف، أ: "يخبر تعالى".]] عَنْ قَوْمِ إِبْرَاهِيمَ حِينَ قَالَ لَهُمْ مَا قَالَ: ﴿فَرَجَعُوا إِلَى أَنْفُسِهِمْ﴾ أَيْ: بِالْمَلَامَةِ فِي عَدَمِ احْتِرَازِهِمْ وَحِرَاسَتِهِمْ لِآلِهَتِهِمْ، فَقَالُوا: ﴿إِنَّكُمْ أَنْتُمُ الظَّالِمُونَ﴾ أَيْ: فِي تَرْكِكِمْ لَهَا مُهْمَلَةً لَا حَافِظَ عِنْدَهَا، ﴿ثُمَّ نُكِسُوا عَلَى رُءُوسِهِمْ﴾ أَيْ: ثُمَّ أَطْرَقُوا فِي الْأَرْضِ فَقَالُوا: ﴿لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلاءِ يَنْطِقُونَ﴾ قَالَ قَتَادَةُ: أَدْرَكَتِ الْقَوْمَ حَيْرَةُ سُوءٍ فَقَالُوا: ﴿لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلاءِ يَنْطِقُونَ﴾ .
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ﴿ثُمَّ نُكِسُوا عَلَى رُءُوسِهِمْ﴾ أَيْ: فِي الْفِتْنَةِ.
وَقَالَ ابْنُ زَيْدٍ: أَيْ فِي الرَّأْيِ.
وَقَوْلُ قَتَادَةَ أَظْهَرُ فِي الْمَعْنَى؛ لِأَنَّهُمْ إِنَّمَا فَعَلُوا ذَلِكَ حَيْرَةً وَعَجْزًا؛ وَلِهَذَا قَالُوا لَهُ: ﴿لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلاءِ يَنْطِقُونَ﴾ ، فَكَيْفَ تَقُولُ لَنَا: سَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ، وَأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهَا لَا تَنْطِقُ فَعِنْدَهَا قَالَ لَهُمْ إِبْرَاهِيمُ لَمَّا اعْتَرَفُوا بِذَلِكَ: ﴿أَفَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكُمْ شَيْئًا وَلا يَضُرُّكُمْ﴾ أَيْ: إِذَا كَانَتْ لَا تَنْطِقُ [[في أ: "كان لا ينطق".]] ، وَهِيَ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، فَلِمَ تَعْبُدُونَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ.
﴿أُفٍّ لَكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَفَلا تَعْقِلُونَ﴾
أَيْ: أَفَلَا تَتَدَبَّرُونَ مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الضَّلَالِ وَالْكُفْرِ الْغَلِيظِ، الَّذِي لَا يُرَوَّجُ إِلَّا عَلَى جَاهِلٍ ظَالِمٍ فَاجِرٍ؟ فَأَقَامَ عَلَيْهِمُ الْحُجَّةَ، وَأَلْزَمَهُمْ بِهَا؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ﴾ الْآيَةَ [الْأَنْعَامِ:٨٣] .
قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكُمْ شَيْـًۭٔا وَلَا يَضُرُّكُمْ
He said, "Then do you worship instead of Allah that which does not benefit you at all or harm you?
(ابراہیم نے) کہا پھر تم خدا کو چھوڑ کر کیوں ایسی چیزوں کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں کچھ فائدہ دے سکیں اور نقصان پہنچا سکیں؟
(ابراهیم) گفت: «آیا جز خدا چیزی را میپرستید که نه کمترین سودی برای شما دارد، و نه زیانی به شما میرساند! (نه امیدی به سودشان دارید، و نه ترسی از زیانشان!)
Tafsir Ibn Kathir
So they turned to themselves and said: "Verily, you are the wrongdoers. (64)Then they turned to themselves: "Indeed you know well that these speak not! (65)He said: "Do you then worship besides Allah, things that can neither profit you nor harm you? (66)"Fie upon you, and upon that which you worship besides Allah! Have you then no sense? (67)
The People's admission of their gods' incapability, and Ibrahim's preaching
Allah tells us that when Ibrahim said what he said, his people
فَرَجَعُوا إِلَىٰ أَنفُسِهِمْ
(turned to themselves) meaning, they blamed themselves for not taking precautions and protecting their gods. They said:
إِنَّكُمْ أَنتُمُ الظَّالِمُونَ
(Verily, you are the wrongdoers) i.e., because you neglected them and did not guard them.
ثُمَّ نُكِسُوا عَلَىٰ رُءُوسِهِمْ
(Then they turned to themselves) means, they looked at the ground, and said:
لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَٰؤُلَاءِ يَنطِقُونَ
(Indeed you (Ibrahim) know well that these speak not!) Qatadah said: "The people admitted their guilt and confusion, and said,
لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَٰؤُلَاءِ يَنطِقُونَ
("Indeed you know well that these speak not!") 'So how can you tell us to ask them, if they cannot speak and you know that they cannot speak?' At this point, when they admitted that, Ibrahim said to them:
أَفَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّكُمْ
(Do you then worship besides Allah, things that can neither profit you nor harm you?) meaning, if they cannot speak and they can neither benefit you nor harm you, then why do you worship them instead of Allah?
أُفٍّ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(Fie upon you, and upon that which you worship besides Allah! Have you then no sense?) 'Do you not realize the extent of the misguidance and extreme disbelief which you are following, which no one could accept but one who is an ignorant and evil wrongdoer?' He defeated them in argument and left them with no way out. Allah said:
وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ
(And that was Our proof which We gave Ibrahim against his people)(6:83)
Tafsir Ibn Kathir
اپنی حماقت سے پریشان کافر بیان ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ ؑ کی باتیں سن کر انہیں خیال تو پیدا ہوگیا۔ اپنے آپ کو اپنی بیوقوفی پر ملامت کرنے لگے۔ سخت ندامت اٹھائی اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے بڑی غلطی کی، اپنے معبودوں کے پاس کسی کو حفاظت کیلئے نہ چھوڑا اور چل دئیے۔ پھر غور وفکر کرکے بات بنائی کہ آپ جو کچھ ہم سے کہتے ہیں کہ ان سے ہم پوچھ لیں کہ تمہیں کس نے توڑا ہے تو کیا آپ کو علم نہیں کہ یہ بت بےزبان ہیں ؟ عاجزی حیرت اور انتہائی لاجوابی کی حالت میں انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا اب حضرت خلیل اللہ ؑ کو خاصا موقعہ مل گیا اور آپ فوراً فرمانے لگے کہ بےزبان بےنفع وضرر چیز کی عبادت کیسی ؟ تم کیوں اس قدر بےسمجھ رہے ہو ؟ تف ہے تم پر اور تمہارے ان جھوٹے خداؤں پر آہ کس قدر ظلم وجہل ہے کہ ایسی چیزوں کی پرستش کی جائے اور اللہ واحد کو چھوڑ دیا جائے ؟ یہی تھی وہ دلیلیں جن کا ذکر پہلے ہوا تھا کہ ہم نے ابراہیم کو دلیلیں سکھا دیں جن سے قوم حقیقت تک پہنچ جائے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا [[في ف، أ: "يخبر تعالى".]] عَنْ قَوْمِ إِبْرَاهِيمَ حِينَ قَالَ لَهُمْ مَا قَالَ: ﴿فَرَجَعُوا إِلَى أَنْفُسِهِمْ﴾ أَيْ: بِالْمَلَامَةِ فِي عَدَمِ احْتِرَازِهِمْ وَحِرَاسَتِهِمْ لِآلِهَتِهِمْ، فَقَالُوا: ﴿إِنَّكُمْ أَنْتُمُ الظَّالِمُونَ﴾ أَيْ: فِي تَرْكِكِمْ لَهَا مُهْمَلَةً لَا حَافِظَ عِنْدَهَا، ﴿ثُمَّ نُكِسُوا عَلَى رُءُوسِهِمْ﴾ أَيْ: ثُمَّ أَطْرَقُوا فِي الْأَرْضِ فَقَالُوا: ﴿لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلاءِ يَنْطِقُونَ﴾ قَالَ قَتَادَةُ: أَدْرَكَتِ الْقَوْمَ حَيْرَةُ سُوءٍ فَقَالُوا: ﴿لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلاءِ يَنْطِقُونَ﴾ .
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ﴿ثُمَّ نُكِسُوا عَلَى رُءُوسِهِمْ﴾ أَيْ: فِي الْفِتْنَةِ.
وَقَالَ ابْنُ زَيْدٍ: أَيْ فِي الرَّأْيِ.
وَقَوْلُ قَتَادَةَ أَظْهَرُ فِي الْمَعْنَى؛ لِأَنَّهُمْ إِنَّمَا فَعَلُوا ذَلِكَ حَيْرَةً وَعَجْزًا؛ وَلِهَذَا قَالُوا لَهُ: ﴿لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلاءِ يَنْطِقُونَ﴾ ، فَكَيْفَ تَقُولُ لَنَا: سَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ، وَأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهَا لَا تَنْطِقُ فَعِنْدَهَا قَالَ لَهُمْ إِبْرَاهِيمُ لَمَّا اعْتَرَفُوا بِذَلِكَ: ﴿أَفَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكُمْ شَيْئًا وَلا يَضُرُّكُمْ﴾ أَيْ: إِذَا كَانَتْ لَا تَنْطِقُ [[في أ: "كان لا ينطق".]] ، وَهِيَ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، فَلِمَ تَعْبُدُونَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ.
﴿أُفٍّ لَكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَفَلا تَعْقِلُونَ﴾
أَيْ: أَفَلَا تَتَدَبَّرُونَ مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الضَّلَالِ وَالْكُفْرِ الْغَلِيظِ، الَّذِي لَا يُرَوَّجُ إِلَّا عَلَى جَاهِلٍ ظَالِمٍ فَاجِرٍ؟ فَأَقَامَ عَلَيْهِمُ الْحُجَّةَ، وَأَلْزَمَهُمْ بِهَا؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ﴾ الْآيَةَ [الْأَنْعَامِ:٨٣] .
أُفٍّۢ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
Uff to you and to what you worship instead of Allah. Then will you not use reason?"
تف ہے تم پر اور جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو ان پر بھی کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
اف بر شما و بر آنچه جز خدا میپرستید! آیا اندیشه نمیکنید (و عقل ندارید)؟!
Tafsir Ibn Kathir
So they turned to themselves and said: "Verily, you are the wrongdoers. (64)Then they turned to themselves: "Indeed you know well that these speak not! (65)He said: "Do you then worship besides Allah, things that can neither profit you nor harm you? (66)"Fie upon you, and upon that which you worship besides Allah! Have you then no sense? (67)
The People's admission of their gods' incapability, and Ibrahim's preaching
Allah tells us that when Ibrahim said what he said, his people
فَرَجَعُوا إِلَىٰ أَنفُسِهِمْ
(turned to themselves) meaning, they blamed themselves for not taking precautions and protecting their gods. They said:
إِنَّكُمْ أَنتُمُ الظَّالِمُونَ
(Verily, you are the wrongdoers) i.e., because you neglected them and did not guard them.
ثُمَّ نُكِسُوا عَلَىٰ رُءُوسِهِمْ
(Then they turned to themselves) means, they looked at the ground, and said:
لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَٰؤُلَاءِ يَنطِقُونَ
(Indeed you (Ibrahim) know well that these speak not!) Qatadah said: "The people admitted their guilt and confusion, and said,
لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَٰؤُلَاءِ يَنطِقُونَ
("Indeed you know well that these speak not!") 'So how can you tell us to ask them, if they cannot speak and you know that they cannot speak?' At this point, when they admitted that, Ibrahim said to them:
أَفَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّكُمْ
(Do you then worship besides Allah, things that can neither profit you nor harm you?) meaning, if they cannot speak and they can neither benefit you nor harm you, then why do you worship them instead of Allah?
أُفٍّ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(Fie upon you, and upon that which you worship besides Allah! Have you then no sense?) 'Do you not realize the extent of the misguidance and extreme disbelief which you are following, which no one could accept but one who is an ignorant and evil wrongdoer?' He defeated them in argument and left them with no way out. Allah said:
وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ
(And that was Our proof which We gave Ibrahim against his people)(6:83)
Tafsir Ibn Kathir
اپنی حماقت سے پریشان کافر بیان ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ ؑ کی باتیں سن کر انہیں خیال تو پیدا ہوگیا۔ اپنے آپ کو اپنی بیوقوفی پر ملامت کرنے لگے۔ سخت ندامت اٹھائی اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے بڑی غلطی کی، اپنے معبودوں کے پاس کسی کو حفاظت کیلئے نہ چھوڑا اور چل دئیے۔ پھر غور وفکر کرکے بات بنائی کہ آپ جو کچھ ہم سے کہتے ہیں کہ ان سے ہم پوچھ لیں کہ تمہیں کس نے توڑا ہے تو کیا آپ کو علم نہیں کہ یہ بت بےزبان ہیں ؟ عاجزی حیرت اور انتہائی لاجوابی کی حالت میں انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا اب حضرت خلیل اللہ ؑ کو خاصا موقعہ مل گیا اور آپ فوراً فرمانے لگے کہ بےزبان بےنفع وضرر چیز کی عبادت کیسی ؟ تم کیوں اس قدر بےسمجھ رہے ہو ؟ تف ہے تم پر اور تمہارے ان جھوٹے خداؤں پر آہ کس قدر ظلم وجہل ہے کہ ایسی چیزوں کی پرستش کی جائے اور اللہ واحد کو چھوڑ دیا جائے ؟ یہی تھی وہ دلیلیں جن کا ذکر پہلے ہوا تھا کہ ہم نے ابراہیم کو دلیلیں سکھا دیں جن سے قوم حقیقت تک پہنچ جائے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا [[في ف، أ: "يخبر تعالى".]] عَنْ قَوْمِ إِبْرَاهِيمَ حِينَ قَالَ لَهُمْ مَا قَالَ: ﴿فَرَجَعُوا إِلَى أَنْفُسِهِمْ﴾ أَيْ: بِالْمَلَامَةِ فِي عَدَمِ احْتِرَازِهِمْ وَحِرَاسَتِهِمْ لِآلِهَتِهِمْ، فَقَالُوا: ﴿إِنَّكُمْ أَنْتُمُ الظَّالِمُونَ﴾ أَيْ: فِي تَرْكِكِمْ لَهَا مُهْمَلَةً لَا حَافِظَ عِنْدَهَا، ﴿ثُمَّ نُكِسُوا عَلَى رُءُوسِهِمْ﴾ أَيْ: ثُمَّ أَطْرَقُوا فِي الْأَرْضِ فَقَالُوا: ﴿لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلاءِ يَنْطِقُونَ﴾ قَالَ قَتَادَةُ: أَدْرَكَتِ الْقَوْمَ حَيْرَةُ سُوءٍ فَقَالُوا: ﴿لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلاءِ يَنْطِقُونَ﴾ .
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ﴿ثُمَّ نُكِسُوا عَلَى رُءُوسِهِمْ﴾ أَيْ: فِي الْفِتْنَةِ.
وَقَالَ ابْنُ زَيْدٍ: أَيْ فِي الرَّأْيِ.
وَقَوْلُ قَتَادَةَ أَظْهَرُ فِي الْمَعْنَى؛ لِأَنَّهُمْ إِنَّمَا فَعَلُوا ذَلِكَ حَيْرَةً وَعَجْزًا؛ وَلِهَذَا قَالُوا لَهُ: ﴿لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلاءِ يَنْطِقُونَ﴾ ، فَكَيْفَ تَقُولُ لَنَا: سَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ، وَأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهَا لَا تَنْطِقُ فَعِنْدَهَا قَالَ لَهُمْ إِبْرَاهِيمُ لَمَّا اعْتَرَفُوا بِذَلِكَ: ﴿أَفَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكُمْ شَيْئًا وَلا يَضُرُّكُمْ﴾ أَيْ: إِذَا كَانَتْ لَا تَنْطِقُ [[في أ: "كان لا ينطق".]] ، وَهِيَ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، فَلِمَ تَعْبُدُونَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ.
﴿أُفٍّ لَكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَفَلا تَعْقِلُونَ﴾
أَيْ: أَفَلَا تَتَدَبَّرُونَ مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الضَّلَالِ وَالْكُفْرِ الْغَلِيظِ، الَّذِي لَا يُرَوَّجُ إِلَّا عَلَى جَاهِلٍ ظَالِمٍ فَاجِرٍ؟ فَأَقَامَ عَلَيْهِمُ الْحُجَّةَ، وَأَلْزَمَهُمْ بِهَا؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ﴾ الْآيَةَ [الْأَنْعَامِ:٨٣] .
قَالُوا۟ حَرِّقُوهُ وَٱنصُرُوٓا۟ ءَالِهَتَكُمْ إِن كُنتُمْ فَٰعِلِينَ
They said, "Burn him and support your gods - if you are to act."
(تب وہ) کہنے لگے کہ اگر تمہیں (اس سے اپنے معبود کا انتقام لینا اور) کچھ کرنا ہے تو اس کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو
گفتند: «او را بسوزانید و خدایان خود را یاری کنید، اگر کاری از شما ساخته است!»
Tafsir Ibn Kathir
They said: "Burn him and help your gods, if you will be doing. (68)We said: "O fire! Be you cool and safety for Ibrahim! (69)And they wanted to harm him, but We made them the worst losers (70)
How Ibrahim was thrown into the Fire and how Allah controlled it
When their arguments were refuted and their incapability became clear, when truth was made manifest and falsehood was defeated, they resorted to using their power and strength, and said:
حَرِّقُوهُ وَانصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ
("Burn him and help your gods, if you will be doing.") So they gathered together a huge amount of wood.
As-Suddi said, "I if a woman was sick, she would make a vow that if she recovered she would bring wood to burn Ibrahim. Then they made a hole in the ground and set it aflame, and it burned with huge sparks and immense flames. There had never been a fire like it. They put Ibrahim, peace be upon him, into a catapult, at the suggestion of a nomadic Kurdish man from Persia." Shu'ayb Al-Jaba'i said, "His name was Hayzan, and Allah caused the earth to swallow him up, and he will remain sinking into it until the Day of Resurrection. When they threw him he said, 'Sufficient for me is Allah, and He is the best disposer of affairs.'" This is similar to what Al-Bukhari recorded from Ibn 'Abbas that Ibrahim said, "Sufficient for me is Allah, and He is the best disposer of affairs," when he was thrown into the fire, and Muhammad ﷺ said it when they said:
إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
(Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them. But it increased them in faith, and they said: "Allah is sufficient for us, and He is the best disposer of affairs.")(3:173).
Sa'id bin Jubayr reported that Ibn 'Abbas said: "When Ibrahim was thrown into the fire, the keeper (angel) of the rain said: 'When will I be commanded to send rain?' But the command of Allah was more swift. Allah said:
يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ
(O fire! Be you cool and safety for Ibrahim!), and there was no fire left on earth that was not extinguished." Ibn 'Abbas and Abu Al-'Aliyah said: "Were it not for the fact that Allah said,
وَسَلَامًا
(and safety), Ibrahim would have been harmed by its coldness." Qatadah said: "On that day there was no creature that did not try to extinguish the fire for Ibrahim, except for the gecko." Az-Zuhri said: "The Prophet ﷺ commanded that it should be killed, and called it a harmful vermin."
وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَخْسَرِينَ
(And they wanted to harm him, but We made them the worst losers.) they were defeated and humiliated, because they wanted to plot against the Prophet of Allah, but Allah planned against them and saved him from the fire, and thus they were defeated.
Tafsir Ibn Kathir
آگ گلستان بن گئی یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہوجاتا ہے تو یا نیکی اسے گھسیٹ لیتی ہے یا بدی غالب آجاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کی بدبختی نے گھیرلیا اور دلیل سے عاجز آکر قائل معقول ہو کر لگے اپنے دباؤ کا مظاہرہ کرنے آپس میں مشورہ کیا کہ ابراہیم ؑ کو آگ میں ڈال کر اس کی جان لے لو تاکہ ہمارے ان معبودوں کی عزت رہے۔ اس بات پر سب نے اتفاق کرلیا اور لکڑیاں جمع کرنی شروع کردیں یہاں تک کہ بیمار عورتیں بھی نذر مانتی تھیں تو یہی کہ اگر انہیں شفا ہوجائے تو ابراہیم ؑ کے جلانے کو لکڑیاں لائیں گی۔ زمین میں ایک بہت بڑا اور بہت گہرا گڑھا کھودا لکڑیوں سے پر کیا اور انبار کھڑا کرکے اس میں آگ لگائی روئے زمین پر کبھی اتنی بڑی آگ دیکھی نہیں گئی۔ جب أگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے اس کے پاس جانا محال ہوگیا اب گھبرائے کہ خلیل اللہ ؑ کو آگ میں ڈالیں کیسے ؟ آخر ایک کردی فارسی اعرابی کے مشورے سے جس کا نام ہیزن تھا ایک منجنیق تیار کرائی گئی کہ اس میں بیٹھا کر جھولا کر پھنک دو۔ مروی ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت زمین میں دھنسا دیا اور قیامت تک وہ اندر اترتا جاتا ہے۔ جب آپکوآگ میں ڈالا گیا آپ نے فرمایا حسبی اللہ ونعم الوکیل، آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کے پاس بھی جب یہ خبر پہنچی کہ تمام عرب لشکر جرار لے کر آپ کے مقابلے کے لئے آرہے ہیں تو آپ نے بھی یہی پڑھا تھا۔ یہ بھی مروی ہے کہ جب آپ کو آگ میں ڈالنے لگے تو آپ نے فرمایا الٰہی تو آسمانوں میں اکیلا معبود ہے اور توحید کے ساتھ تیرا عابد زمین پر صرف میں ہی ہوں۔ مروی ہے کہ جب کافر آپ کو باندھنے لگے تو آپ نے فرمایا الٰہی تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں تیری ذات پاک ہے تمام حمدوثنا تیرے ہی لئے سزاوار ہے۔ سارے ملک کا تو اکیلا ہی مالک ہے کوئی بھی تیرا شریک و ساجھی نہیں۔ حضرت شعیب جبائی فرماتے ہیں کہ اس وقت آپ کی عمر صرف سولہ سال کی تھی۔ واللہ اعلم۔ بعض سلف سے منقول ہے کہ اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ آپ کے سامنے آسمان و زمین کے درمیان ظاہر ہوئے اور فرمایا کیا آپ کو کوئی حاجت ہے ؟ آپ نے جواب دیا تم سے تو کوئی حاجت نہیں البتہ اللہ تعالیٰ سے حاجت ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بارش کا داروغہ فرشتہ کان لگائے ہوئے تیار تھا کہ کب اللہ کا حکم ہو اور میں اس آگ پر بارش برسا کر اسے ٹھنڈی کردوں لیکن براہ راست حکم الٰہی آگ کو ہی پہنچا کہ میرے خلیل پر سلامتی اور ٹھنڈک بن جا۔ فرماتے ہیں کہ اس حکم کے ساتھ ہی روئے زمین کی آگ ٹھنڈی ہوگئی۔ حضرت کعب احبار ؒ فرماتے ہیں اس دن دنیا بھر میں آگ سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا۔ اور حضرت ابراہیم ؑ کی جوتیاں تو آگ نے جلا دیں لیکن آپ کے ایک رونگٹے کو بھی آگ نہ لگی۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ اگر آگ کو صرف ٹھنڈا ہونے کا ہی حکم ہوتا تو پھر ٹھنڈک بھی آپ کو ضرر پہنچاتی اس لئے ساتھ ہی فرمادیا گیا کہ ٹھنڈک کے ساتھ ہی سلامتی بن جا۔ ضحاک ؒ فرماتے ہیں کہ بہت بڑا گڑھا بہت ہی گہرا کھودا تھا اور اسے آگ سے پر کیا تھا ہر طرف آگ کے شعلے نکل رہے تھے اس میں خلیل اللہ کو ڈال دیا لیکن آگ نے آپ کو چھوا تک نہیں یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے اسے بالکل ٹھنڈا کردیا۔ مذکور ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل ؑ آپ کے ساتھ تھے آپ کے منہ پر سے پسینہ پونچھ رہے تھے بس اس کے سوا آپ کو آگ نے کوئی تکلیف نہیں دی۔ سدی فرماتے ہیں سایہ یا فرشتہ اس وقت آپ کے ساتھ تھا۔ مروی ہے کہ آپ اس میں چالیس یا پچاس دن رہے فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اس زمانے میں جو راحت وسرور حاصل تھا ویسا اس سے نکلنے کے بعد حاصل نہیں ہوا کیا اچھا ہوتا کہ میری ساری زندگی اسی میں گزرتی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کے والد نے سب سے اچھا کلمہ جو کہا ہے وہ یہ ہے کہ جب ابراہیم ؑ آگ سے زندہ صحیح سالم نکلے اس وقت آپ کو پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے دیکھ کر آپ کے والد نے کہا ابراہیم تیرا رب بہت ہی بزرگ اور بڑا ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں اس دن جو جانور نکلا وہ آپ کی آگ کو بجھانے کی کوشش کرتا رہا سوائے گرگٹ کے۔ حضرت زہری ؒ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے گرگٹ کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے اور فاسق کہا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے گھر میں ایک نیزہ دیکھ کر ایک عورت نے سوال کیا کہ یہ کیوں رکھ چھوڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا گرگٹوں کو مار ڈالنے کے لئے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جس وقت حضرت ابراہیم ؑ آگ میں ڈالے گئے اس وقت تمام جانور اس آگ کو بجھا رہے تھے سوائے گرگٹ کے۔ یہ پھونک رہا تھا پس آپ نے اس کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ان کا مکر ہم نے ان پر الٹ دیا۔ کافروں نے اللہ کے نبی ؑ کو نیچا کرنا چاہا اللہ نے انہیں نیچا دکھایا۔ حضرت عطیہ عوفی کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کا آگ میں جلائے جانے کا تماشا دیکھنے کے لئے ان کافروں کا بادشاہ بھی آیا تھا۔ ادھر خلیل اللہ کو آگ میں ڈالا جاتا ہے ادھر آگ میں سے ایک چنگاری اڑتی ہے اور اس کافر بادشاہ کے انگوٹھے پر آپڑتی ہے اور وہیں کھڑے کھڑے سب کے سامنے اس طرح اسے جلا دیتی ہے جسے روئی جل جائے۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا دَحَضت حُجَّتُهُمْ، وَبَانَ عَجْزُهُمْ، وَظَهَرَ الْحَقُّ، وَانْدَفَعَ الْبَاطِلُ، عَدَلُوا إِلَى اسْتِعْمَالِ جَاهِ مُلْكِهِمْ، فَقَالُوا: ﴿حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ﴾ فَجَمَعُوا حَطَبًا كَثِيرًا جِدًّا -قَالَ السُّدِّيُّ: حَتَّى إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَمْرَضُ، فَتَنْذُرُ إِنْ عُوفِيَتْ أَنْ تَحْمِلَ حَطَبًا لِحَرِيقِ إِبْرَاهِيمَ-ثُمَّ جَعَلُوهُ فِي جَوْبة مِنَ الْأَرْضِ، وَأَضْرَمُوهَا نَارًا، فَكَانَ لَهَا شَرَرٌ عَظِيمٌ وَلَهَبٌ مُرْتَفِعٌ، لَمْ تُوقَدْ قَطُّ نَارٌ [[في ف، "نار قط".]] مِثْلُهَا، وَجَعَلُوا إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي كِفَّةِ الْمَنْجَنِيقِ بِإِشَارَةِ رَجُلٍ مِنْ أَعْرَابِ فَارِسَ مِنَ الْأَكْرَادِ -قَالَ شُعَيب الْجِبَائِيُّ: اسْمُهُ هِيزُنُ-فَخَسَفَ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلَمَّا أَلْقَوْهُ قَالَ: "حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ"، كَمَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: "حَسْبِي [[في ف: "حسبنا".]] اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" قَالَهَا إِبْرَاهِيمُ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَقَالَهَا [[في ف: "وقال".]] مُحَمَّدٌ حِينَ قَالُوا: ﴿إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾ [آلِ عِمْرَانَ: ١٧٣] [[صحيح البخاري برقم (٤٥٦٣)]] .
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى: حَدَّثَنَا ابْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ [[في ف، أ: "أبو إسحاق".]] بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم "لما أُلْقِيَ إِبْرَاهِيمُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي النَّارِ قَالَ: اللَّهُمَّ، إِنَّكَ فِي السَّمَاءِ وَاحِدٌ، وَأَنَا فِي الْأَرْضِ وَاحِدٌ أَعْبُدُكَ" [[ورواه البزار في مسنده برقم (٢٣٤٩) "كشف الأستار" وأبو نعيم في الحلية (١٩١١) والخطيب في تاريخ بغداد (١٠/٣٤٦) من طريق أبي هشام الرفاعي به. وقال البزار: "لا نعلم رواه عن عاصم إلا أبا جعفر، ولا عنه إلا إسحاق، ولم نسمعه إلا من أبي هشام" قلت: عاصم بن عمر بن حفص متكلم فيه.]] .
وَيُرْوَى أَنَّهُ لَمَّا جَعَلُوا يُوثِقُونَهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ لَكَ الْحَمْدُ، وَلَكَ الْمُلْكُ، لَا شَرِيكَ لَكَ [[رواه الطبري في تفسيره كما في الدار المنثور (٥/٦٤٢) عن أرقم.]] .
وَقَالَ شُعَيْبٌ الْجِبَائِيُّ: كَانَ عُمْرُهُ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً. فَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَذَكَرَ بَعْضُ السَّلَفِ أَنَّهُ عَرَضَ لَهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ فِي الْهَوَاءِ، فَقَالَ: أَلِكَ حَاجَةٌ؟ فَقَالَ: أَمَّا إِلَيْكَ فَلَا [وَأَمَّا من الله فبلى] [[زيادة من ف.]] .
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ -وَيُرْوَى [[في ف، أ: "وروي".]] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا-قَالَ: لَمَّا أُلقيَ إِبْرَاهِيمُ جَعَلَ خَازِنُ الْمَطَرِ يَقُولُ: مَتَى أُومَرُ بِالْمَطَرِ فَأَرْسِلُهُ؟ قَالَ: فَكَانَ [[في ف: "وكان".]] أَمْرُ اللَّهِ أَسْرَعَ مِنْ أَمْرِهِ، قَالَ اللَّهُ: [عَزَّ وَجَلَّ] [[زيادة من ف.]] ﴿يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ﴾ قَالَ: لَمْ [[في ف، أ: "فلم".]] يَبْقَ نَارٌ فِي الْأَرْضِ إِلَّا طُفِئَتْ.
وَقَالَ كَعْبُ الْأَحْبَارِ: لَمْ يَنْتَفِعْ [أَحَدٌ] [[زيادة من ف.]] يَوْمَئِذٍ بِنَارٍ، وَلَمْ تُحْرِقِ النَّارُ مِنْ إِبْرَاهِيمَ سِوَى وِثَاقِهِ.
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَيْخٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: ﴿قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ﴾ [قَالَ: بَرَدَتْ عَلَيْهِ حَتَّى كَادَتْ تَقْتُلُهُ، حَتَّى قِيلَ: ﴿وَسَلامًا﴾ ] [[زيادة من ف.]] ، قَالَ: لَا تضرِّيه.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو الْعَالِيَةِ: لَوْلَا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: ﴿وَسَلامًا﴾ لَآذَى إِبْرَاهِيمَ بَرْدُها.
وَقَالَ جُوَيبر، عَنِ الضَّحَّاكِ: ﴿كُونِي بَرْدًا وَسَلامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ﴾ قَالَ: صَنَعُوا لَهُ حَظِيرَةً مِنْ حَطَب جَزْل، وَأَشْعَلُوا فِيهِ النَّارَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ، فَأَصْبَحَ وَلَمْ يصِبه مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى أَخْمَدَهَا اللَّهُ -قَالَ: وَيَذْكُرُونَ أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ مَعَهُ يَمْسَحُ وَجْهَهُ مِنَ الْعَرَقِ، فَلَمْ يُصِبْه مِنْهَا شَيْءٌ غيرُ ذَلِكَ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: كَانَ مَعَهُ فِيهَا مَلَكُ الظِّلِّ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مِهْران، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ المِنْهَال بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَخُبِرْتُ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ، فَقَالَ: كَانَ [[في ف: "فكان".]] فِيهَا إِمَّا خَمْسِينَ وَإِمَّا أَرْبَعِينَ، قَالَ: مَا كُنْتُ أَيْامًا وَلَيَالِيَ قَطُّ أَطْيَبَ عَيْشًا إِذْ كُنْتُ فِيهَا، وَدِدْتُ أَنَّ عَيْشِي وَحَيَاتِي كُلَّهَا مِثْلُ عَيْشِي إِذْ كُنْتُ فِيهَا.
وَقَالَ أَبُو زُرْعَة بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ أَحْسَنَ [شَيْءٍ] [[زيادة من ف.]] قَالَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ -لَمَّا رُفِعَ عنه الطبق وهو في النار، وجده يرش جَبِينُهُ-قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: نعْمَ الرَّبُّ رَبُّكَ يَا إِبْرَاهِيمُ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: لَمْ يَأْتِ يَوْمَئِذٍ دَابَّةٌ إِلَّا أَطْفَأَتْ عَنْهُ النَّارَ، إِلَّا الوَزَغ -وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: أَمَرَ النَّبِيُّ ﷺ: بِقَتْلِهِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا [[جاء من حديث أم شريك: رواه البخاري برقم (٣٣٠٧) ومسلم في صحيحه برقم (٢٢٣٧) .]] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنُ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَوْلَاةُ [[في ف، أ: "حدثني مولاه".]] الْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيِّ قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَرَأَيْتُ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا. فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، مَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا الرُّمْحِ؟ فَقَالَتْ: نَقْتُلُ بِهِ هَذِهِ الْأَوْزَاغَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ، لَمْ يَكُنْ [[في ف: "تكن"]] فِي الْأَرْضِ دَابَّةٌ إِلَّا تُطْفِئُ النَّارَ، غَيْرَ الوَزَغ، فَإِنَّهُ كَانَ يَنْفُخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ"، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِقَتْلِهِ [[ورواه أحمد في المسند (٦/٨٣، ١٠٩) وابن ماجه في السنن برقم (٣٢٣١) من طريق نافع عن سائبة مولاة الفاكه به.]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الأخْسَرِينَ﴾ أَيِ: الْمَغْلُوبِينَ الْأَسْفَلِينَ؛ لِأَنَّهُمْ أَرَادُوا بِنَبِيِّ اللَّهِ كَيْدًا، فَكَادَهُمُ اللَّهُ وَنَجَّاهُ مِنَ النَّارِ، فَغُلِبُوا هُنَالِكَ.
وَقَالَ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ: لَمَّا ألقِيَ إِبْرَاهِيمُ فِي النَّارِ، جَاءَ مَلِكُهُمْ لِيَنْظُرَ إِلَيْهِ فَطَارَتْ شَرَارَةٌ فَوَقَعَتْ عَلَى إِبْهَامِهِ، فَأَحْرَقَتْهُ مِثْلَ الصُّوفَةِ.
قُلْنَا يَٰنَارُ كُونِى بَرْدًۭا وَسَلَٰمًا عَلَىٰٓ إِبْرَٰهِيمَ
Allah said, "O fire, be coolness and safety upon Abraham."
ہم نے حکم دیا اے آگ سرد ہوجا اور ابراہیم پر (موجب) سلامتی (بن جا)
(سرانجام او را به آتش افکندند؛ ولی ما) گفتیم: «ای آتش! بر ابراهیم سرد و سالم باش!»
Tafsir Ibn Kathir
They said: "Burn him and help your gods, if you will be doing. (68)We said: "O fire! Be you cool and safety for Ibrahim! (69)And they wanted to harm him, but We made them the worst losers (70)
How Ibrahim was thrown into the Fire and how Allah controlled it
When their arguments were refuted and their incapability became clear, when truth was made manifest and falsehood was defeated, they resorted to using their power and strength, and said:
حَرِّقُوهُ وَانصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ
("Burn him and help your gods, if you will be doing.") So they gathered together a huge amount of wood.
As-Suddi said, "I if a woman was sick, she would make a vow that if she recovered she would bring wood to burn Ibrahim. Then they made a hole in the ground and set it aflame, and it burned with huge sparks and immense flames. There had never been a fire like it. They put Ibrahim, peace be upon him, into a catapult, at the suggestion of a nomadic Kurdish man from Persia." Shu'ayb Al-Jaba'i said, "His name was Hayzan, and Allah caused the earth to swallow him up, and he will remain sinking into it until the Day of Resurrection. When they threw him he said, 'Sufficient for me is Allah, and He is the best disposer of affairs.'" This is similar to what Al-Bukhari recorded from Ibn 'Abbas that Ibrahim said, "Sufficient for me is Allah, and He is the best disposer of affairs," when he was thrown into the fire, and Muhammad ﷺ said it when they said:
إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
(Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them. But it increased them in faith, and they said: "Allah is sufficient for us, and He is the best disposer of affairs.")(3:173).
Sa'id bin Jubayr reported that Ibn 'Abbas said: "When Ibrahim was thrown into the fire, the keeper (angel) of the rain said: 'When will I be commanded to send rain?' But the command of Allah was more swift. Allah said:
يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ
(O fire! Be you cool and safety for Ibrahim!), and there was no fire left on earth that was not extinguished." Ibn 'Abbas and Abu Al-'Aliyah said: "Were it not for the fact that Allah said,
وَسَلَامًا
(and safety), Ibrahim would have been harmed by its coldness." Qatadah said: "On that day there was no creature that did not try to extinguish the fire for Ibrahim, except for the gecko." Az-Zuhri said: "The Prophet ﷺ commanded that it should be killed, and called it a harmful vermin."
وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَخْسَرِينَ
(And they wanted to harm him, but We made them the worst losers.) they were defeated and humiliated, because they wanted to plot against the Prophet of Allah, but Allah planned against them and saved him from the fire, and thus they were defeated.
Tafsir Ibn Kathir
آگ گلستان بن گئی یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہوجاتا ہے تو یا نیکی اسے گھسیٹ لیتی ہے یا بدی غالب آجاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کی بدبختی نے گھیرلیا اور دلیل سے عاجز آکر قائل معقول ہو کر لگے اپنے دباؤ کا مظاہرہ کرنے آپس میں مشورہ کیا کہ ابراہیم ؑ کو آگ میں ڈال کر اس کی جان لے لو تاکہ ہمارے ان معبودوں کی عزت رہے۔ اس بات پر سب نے اتفاق کرلیا اور لکڑیاں جمع کرنی شروع کردیں یہاں تک کہ بیمار عورتیں بھی نذر مانتی تھیں تو یہی کہ اگر انہیں شفا ہوجائے تو ابراہیم ؑ کے جلانے کو لکڑیاں لائیں گی۔ زمین میں ایک بہت بڑا اور بہت گہرا گڑھا کھودا لکڑیوں سے پر کیا اور انبار کھڑا کرکے اس میں آگ لگائی روئے زمین پر کبھی اتنی بڑی آگ دیکھی نہیں گئی۔ جب أگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے اس کے پاس جانا محال ہوگیا اب گھبرائے کہ خلیل اللہ ؑ کو آگ میں ڈالیں کیسے ؟ آخر ایک کردی فارسی اعرابی کے مشورے سے جس کا نام ہیزن تھا ایک منجنیق تیار کرائی گئی کہ اس میں بیٹھا کر جھولا کر پھنک دو۔ مروی ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت زمین میں دھنسا دیا اور قیامت تک وہ اندر اترتا جاتا ہے۔ جب آپکوآگ میں ڈالا گیا آپ نے فرمایا حسبی اللہ ونعم الوکیل، آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کے پاس بھی جب یہ خبر پہنچی کہ تمام عرب لشکر جرار لے کر آپ کے مقابلے کے لئے آرہے ہیں تو آپ نے بھی یہی پڑھا تھا۔ یہ بھی مروی ہے کہ جب آپ کو آگ میں ڈالنے لگے تو آپ نے فرمایا الٰہی تو آسمانوں میں اکیلا معبود ہے اور توحید کے ساتھ تیرا عابد زمین پر صرف میں ہی ہوں۔ مروی ہے کہ جب کافر آپ کو باندھنے لگے تو آپ نے فرمایا الٰہی تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں تیری ذات پاک ہے تمام حمدوثنا تیرے ہی لئے سزاوار ہے۔ سارے ملک کا تو اکیلا ہی مالک ہے کوئی بھی تیرا شریک و ساجھی نہیں۔ حضرت شعیب جبائی فرماتے ہیں کہ اس وقت آپ کی عمر صرف سولہ سال کی تھی۔ واللہ اعلم۔ بعض سلف سے منقول ہے کہ اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ آپ کے سامنے آسمان و زمین کے درمیان ظاہر ہوئے اور فرمایا کیا آپ کو کوئی حاجت ہے ؟ آپ نے جواب دیا تم سے تو کوئی حاجت نہیں البتہ اللہ تعالیٰ سے حاجت ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بارش کا داروغہ فرشتہ کان لگائے ہوئے تیار تھا کہ کب اللہ کا حکم ہو اور میں اس آگ پر بارش برسا کر اسے ٹھنڈی کردوں لیکن براہ راست حکم الٰہی آگ کو ہی پہنچا کہ میرے خلیل پر سلامتی اور ٹھنڈک بن جا۔ فرماتے ہیں کہ اس حکم کے ساتھ ہی روئے زمین کی آگ ٹھنڈی ہوگئی۔ حضرت کعب احبار ؒ فرماتے ہیں اس دن دنیا بھر میں آگ سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا۔ اور حضرت ابراہیم ؑ کی جوتیاں تو آگ نے جلا دیں لیکن آپ کے ایک رونگٹے کو بھی آگ نہ لگی۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ اگر آگ کو صرف ٹھنڈا ہونے کا ہی حکم ہوتا تو پھر ٹھنڈک بھی آپ کو ضرر پہنچاتی اس لئے ساتھ ہی فرمادیا گیا کہ ٹھنڈک کے ساتھ ہی سلامتی بن جا۔ ضحاک ؒ فرماتے ہیں کہ بہت بڑا گڑھا بہت ہی گہرا کھودا تھا اور اسے آگ سے پر کیا تھا ہر طرف آگ کے شعلے نکل رہے تھے اس میں خلیل اللہ کو ڈال دیا لیکن آگ نے آپ کو چھوا تک نہیں یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے اسے بالکل ٹھنڈا کردیا۔ مذکور ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل ؑ آپ کے ساتھ تھے آپ کے منہ پر سے پسینہ پونچھ رہے تھے بس اس کے سوا آپ کو آگ نے کوئی تکلیف نہیں دی۔ سدی فرماتے ہیں سایہ یا فرشتہ اس وقت آپ کے ساتھ تھا۔ مروی ہے کہ آپ اس میں چالیس یا پچاس دن رہے فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اس زمانے میں جو راحت وسرور حاصل تھا ویسا اس سے نکلنے کے بعد حاصل نہیں ہوا کیا اچھا ہوتا کہ میری ساری زندگی اسی میں گزرتی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کے والد نے سب سے اچھا کلمہ جو کہا ہے وہ یہ ہے کہ جب ابراہیم ؑ آگ سے زندہ صحیح سالم نکلے اس وقت آپ کو پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے دیکھ کر آپ کے والد نے کہا ابراہیم تیرا رب بہت ہی بزرگ اور بڑا ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں اس دن جو جانور نکلا وہ آپ کی آگ کو بجھانے کی کوشش کرتا رہا سوائے گرگٹ کے۔ حضرت زہری ؒ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے گرگٹ کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے اور فاسق کہا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے گھر میں ایک نیزہ دیکھ کر ایک عورت نے سوال کیا کہ یہ کیوں رکھ چھوڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا گرگٹوں کو مار ڈالنے کے لئے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جس وقت حضرت ابراہیم ؑ آگ میں ڈالے گئے اس وقت تمام جانور اس آگ کو بجھا رہے تھے سوائے گرگٹ کے۔ یہ پھونک رہا تھا پس آپ نے اس کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ان کا مکر ہم نے ان پر الٹ دیا۔ کافروں نے اللہ کے نبی ؑ کو نیچا کرنا چاہا اللہ نے انہیں نیچا دکھایا۔ حضرت عطیہ عوفی کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کا آگ میں جلائے جانے کا تماشا دیکھنے کے لئے ان کافروں کا بادشاہ بھی آیا تھا۔ ادھر خلیل اللہ کو آگ میں ڈالا جاتا ہے ادھر آگ میں سے ایک چنگاری اڑتی ہے اور اس کافر بادشاہ کے انگوٹھے پر آپڑتی ہے اور وہیں کھڑے کھڑے سب کے سامنے اس طرح اسے جلا دیتی ہے جسے روئی جل جائے۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا دَحَضت حُجَّتُهُمْ، وَبَانَ عَجْزُهُمْ، وَظَهَرَ الْحَقُّ، وَانْدَفَعَ الْبَاطِلُ، عَدَلُوا إِلَى اسْتِعْمَالِ جَاهِ مُلْكِهِمْ، فَقَالُوا: ﴿حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ﴾ فَجَمَعُوا حَطَبًا كَثِيرًا جِدًّا -قَالَ السُّدِّيُّ: حَتَّى إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَمْرَضُ، فَتَنْذُرُ إِنْ عُوفِيَتْ أَنْ تَحْمِلَ حَطَبًا لِحَرِيقِ إِبْرَاهِيمَ-ثُمَّ جَعَلُوهُ فِي جَوْبة مِنَ الْأَرْضِ، وَأَضْرَمُوهَا نَارًا، فَكَانَ لَهَا شَرَرٌ عَظِيمٌ وَلَهَبٌ مُرْتَفِعٌ، لَمْ تُوقَدْ قَطُّ نَارٌ [[في ف، "نار قط".]] مِثْلُهَا، وَجَعَلُوا إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي كِفَّةِ الْمَنْجَنِيقِ بِإِشَارَةِ رَجُلٍ مِنْ أَعْرَابِ فَارِسَ مِنَ الْأَكْرَادِ -قَالَ شُعَيب الْجِبَائِيُّ: اسْمُهُ هِيزُنُ-فَخَسَفَ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلَمَّا أَلْقَوْهُ قَالَ: "حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ"، كَمَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: "حَسْبِي [[في ف: "حسبنا".]] اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" قَالَهَا إِبْرَاهِيمُ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَقَالَهَا [[في ف: "وقال".]] مُحَمَّدٌ حِينَ قَالُوا: ﴿إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾ [آلِ عِمْرَانَ: ١٧٣] [[صحيح البخاري برقم (٤٥٦٣)]] .
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى: حَدَّثَنَا ابْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ [[في ف، أ: "أبو إسحاق".]] بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم "لما أُلْقِيَ إِبْرَاهِيمُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي النَّارِ قَالَ: اللَّهُمَّ، إِنَّكَ فِي السَّمَاءِ وَاحِدٌ، وَأَنَا فِي الْأَرْضِ وَاحِدٌ أَعْبُدُكَ" [[ورواه البزار في مسنده برقم (٢٣٤٩) "كشف الأستار" وأبو نعيم في الحلية (١٩١١) والخطيب في تاريخ بغداد (١٠/٣٤٦) من طريق أبي هشام الرفاعي به. وقال البزار: "لا نعلم رواه عن عاصم إلا أبا جعفر، ولا عنه إلا إسحاق، ولم نسمعه إلا من أبي هشام" قلت: عاصم بن عمر بن حفص متكلم فيه.]] .
وَيُرْوَى أَنَّهُ لَمَّا جَعَلُوا يُوثِقُونَهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ لَكَ الْحَمْدُ، وَلَكَ الْمُلْكُ، لَا شَرِيكَ لَكَ [[رواه الطبري في تفسيره كما في الدار المنثور (٥/٦٤٢) عن أرقم.]] .
وَقَالَ شُعَيْبٌ الْجِبَائِيُّ: كَانَ عُمْرُهُ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً. فَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَذَكَرَ بَعْضُ السَّلَفِ أَنَّهُ عَرَضَ لَهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ فِي الْهَوَاءِ، فَقَالَ: أَلِكَ حَاجَةٌ؟ فَقَالَ: أَمَّا إِلَيْكَ فَلَا [وَأَمَّا من الله فبلى] [[زيادة من ف.]] .
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ -وَيُرْوَى [[في ف، أ: "وروي".]] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا-قَالَ: لَمَّا أُلقيَ إِبْرَاهِيمُ جَعَلَ خَازِنُ الْمَطَرِ يَقُولُ: مَتَى أُومَرُ بِالْمَطَرِ فَأَرْسِلُهُ؟ قَالَ: فَكَانَ [[في ف: "وكان".]] أَمْرُ اللَّهِ أَسْرَعَ مِنْ أَمْرِهِ، قَالَ اللَّهُ: [عَزَّ وَجَلَّ] [[زيادة من ف.]] ﴿يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ﴾ قَالَ: لَمْ [[في ف، أ: "فلم".]] يَبْقَ نَارٌ فِي الْأَرْضِ إِلَّا طُفِئَتْ.
وَقَالَ كَعْبُ الْأَحْبَارِ: لَمْ يَنْتَفِعْ [أَحَدٌ] [[زيادة من ف.]] يَوْمَئِذٍ بِنَارٍ، وَلَمْ تُحْرِقِ النَّارُ مِنْ إِبْرَاهِيمَ سِوَى وِثَاقِهِ.
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَيْخٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: ﴿قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ﴾ [قَالَ: بَرَدَتْ عَلَيْهِ حَتَّى كَادَتْ تَقْتُلُهُ، حَتَّى قِيلَ: ﴿وَسَلامًا﴾ ] [[زيادة من ف.]] ، قَالَ: لَا تضرِّيه.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو الْعَالِيَةِ: لَوْلَا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: ﴿وَسَلامًا﴾ لَآذَى إِبْرَاهِيمَ بَرْدُها.
وَقَالَ جُوَيبر، عَنِ الضَّحَّاكِ: ﴿كُونِي بَرْدًا وَسَلامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ﴾ قَالَ: صَنَعُوا لَهُ حَظِيرَةً مِنْ حَطَب جَزْل، وَأَشْعَلُوا فِيهِ النَّارَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ، فَأَصْبَحَ وَلَمْ يصِبه مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى أَخْمَدَهَا اللَّهُ -قَالَ: وَيَذْكُرُونَ أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ مَعَهُ يَمْسَحُ وَجْهَهُ مِنَ الْعَرَقِ، فَلَمْ يُصِبْه مِنْهَا شَيْءٌ غيرُ ذَلِكَ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: كَانَ مَعَهُ فِيهَا مَلَكُ الظِّلِّ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مِهْران، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ المِنْهَال بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَخُبِرْتُ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ، فَقَالَ: كَانَ [[في ف: "فكان".]] فِيهَا إِمَّا خَمْسِينَ وَإِمَّا أَرْبَعِينَ، قَالَ: مَا كُنْتُ أَيْامًا وَلَيَالِيَ قَطُّ أَطْيَبَ عَيْشًا إِذْ كُنْتُ فِيهَا، وَدِدْتُ أَنَّ عَيْشِي وَحَيَاتِي كُلَّهَا مِثْلُ عَيْشِي إِذْ كُنْتُ فِيهَا.
وَقَالَ أَبُو زُرْعَة بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ أَحْسَنَ [شَيْءٍ] [[زيادة من ف.]] قَالَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ -لَمَّا رُفِعَ عنه الطبق وهو في النار، وجده يرش جَبِينُهُ-قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: نعْمَ الرَّبُّ رَبُّكَ يَا إِبْرَاهِيمُ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: لَمْ يَأْتِ يَوْمَئِذٍ دَابَّةٌ إِلَّا أَطْفَأَتْ عَنْهُ النَّارَ، إِلَّا الوَزَغ -وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: أَمَرَ النَّبِيُّ ﷺ: بِقَتْلِهِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا [[جاء من حديث أم شريك: رواه البخاري برقم (٣٣٠٧) ومسلم في صحيحه برقم (٢٢٣٧) .]] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنُ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَوْلَاةُ [[في ف، أ: "حدثني مولاه".]] الْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيِّ قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَرَأَيْتُ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا. فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، مَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا الرُّمْحِ؟ فَقَالَتْ: نَقْتُلُ بِهِ هَذِهِ الْأَوْزَاغَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ، لَمْ يَكُنْ [[في ف: "تكن"]] فِي الْأَرْضِ دَابَّةٌ إِلَّا تُطْفِئُ النَّارَ، غَيْرَ الوَزَغ، فَإِنَّهُ كَانَ يَنْفُخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ"، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِقَتْلِهِ [[ورواه أحمد في المسند (٦/٨٣، ١٠٩) وابن ماجه في السنن برقم (٣٢٣١) من طريق نافع عن سائبة مولاة الفاكه به.]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الأخْسَرِينَ﴾ أَيِ: الْمَغْلُوبِينَ الْأَسْفَلِينَ؛ لِأَنَّهُمْ أَرَادُوا بِنَبِيِّ اللَّهِ كَيْدًا، فَكَادَهُمُ اللَّهُ وَنَجَّاهُ مِنَ النَّارِ، فَغُلِبُوا هُنَالِكَ.
وَقَالَ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ: لَمَّا ألقِيَ إِبْرَاهِيمُ فِي النَّارِ، جَاءَ مَلِكُهُمْ لِيَنْظُرَ إِلَيْهِ فَطَارَتْ شَرَارَةٌ فَوَقَعَتْ عَلَى إِبْهَامِهِ، فَأَحْرَقَتْهُ مِثْلَ الصُّوفَةِ.
وَأَرَادُوا۟ بِهِۦ كَيْدًۭا فَجَعَلْنَٰهُمُ ٱلْأَخْسَرِينَ
And they intended for him harm, but We made them the greatest losers.
اور ان لوگوں نے برا تو ان کا چاہا تھا مگر ہم نے ان ہی کو نقصان میں ڈال دیا
آنها میخواستند ابراهیم را با این نقشه نابود کنند؛ ولی ما آنها را زیانکارترین مردم قرار دادیم!
Tafsir Ibn Kathir
They said: "Burn him and help your gods, if you will be doing. (68)We said: "O fire! Be you cool and safety for Ibrahim! (69)And they wanted to harm him, but We made them the worst losers (70)
How Ibrahim was thrown into the Fire and how Allah controlled it
When their arguments were refuted and their incapability became clear, when truth was made manifest and falsehood was defeated, they resorted to using their power and strength, and said:
حَرِّقُوهُ وَانصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ
("Burn him and help your gods, if you will be doing.") So they gathered together a huge amount of wood.
As-Suddi said, "I if a woman was sick, she would make a vow that if she recovered she would bring wood to burn Ibrahim. Then they made a hole in the ground and set it aflame, and it burned with huge sparks and immense flames. There had never been a fire like it. They put Ibrahim, peace be upon him, into a catapult, at the suggestion of a nomadic Kurdish man from Persia." Shu'ayb Al-Jaba'i said, "His name was Hayzan, and Allah caused the earth to swallow him up, and he will remain sinking into it until the Day of Resurrection. When they threw him he said, 'Sufficient for me is Allah, and He is the best disposer of affairs.'" This is similar to what Al-Bukhari recorded from Ibn 'Abbas that Ibrahim said, "Sufficient for me is Allah, and He is the best disposer of affairs," when he was thrown into the fire, and Muhammad ﷺ said it when they said:
إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
(Verily, the people have gathered against you, therefore, fear them. But it increased them in faith, and they said: "Allah is sufficient for us, and He is the best disposer of affairs.")(3:173).
Sa'id bin Jubayr reported that Ibn 'Abbas said: "When Ibrahim was thrown into the fire, the keeper (angel) of the rain said: 'When will I be commanded to send rain?' But the command of Allah was more swift. Allah said:
يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ
(O fire! Be you cool and safety for Ibrahim!), and there was no fire left on earth that was not extinguished." Ibn 'Abbas and Abu Al-'Aliyah said: "Were it not for the fact that Allah said,
وَسَلَامًا
(and safety), Ibrahim would have been harmed by its coldness." Qatadah said: "On that day there was no creature that did not try to extinguish the fire for Ibrahim, except for the gecko." Az-Zuhri said: "The Prophet ﷺ commanded that it should be killed, and called it a harmful vermin."
وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَخْسَرِينَ
(And they wanted to harm him, but We made them the worst losers.) they were defeated and humiliated, because they wanted to plot against the Prophet of Allah, but Allah planned against them and saved him from the fire, and thus they were defeated.
Tafsir Ibn Kathir
آگ گلستان بن گئی یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہوجاتا ہے تو یا نیکی اسے گھسیٹ لیتی ہے یا بدی غالب آجاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کی بدبختی نے گھیرلیا اور دلیل سے عاجز آکر قائل معقول ہو کر لگے اپنے دباؤ کا مظاہرہ کرنے آپس میں مشورہ کیا کہ ابراہیم ؑ کو آگ میں ڈال کر اس کی جان لے لو تاکہ ہمارے ان معبودوں کی عزت رہے۔ اس بات پر سب نے اتفاق کرلیا اور لکڑیاں جمع کرنی شروع کردیں یہاں تک کہ بیمار عورتیں بھی نذر مانتی تھیں تو یہی کہ اگر انہیں شفا ہوجائے تو ابراہیم ؑ کے جلانے کو لکڑیاں لائیں گی۔ زمین میں ایک بہت بڑا اور بہت گہرا گڑھا کھودا لکڑیوں سے پر کیا اور انبار کھڑا کرکے اس میں آگ لگائی روئے زمین پر کبھی اتنی بڑی آگ دیکھی نہیں گئی۔ جب أگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے اس کے پاس جانا محال ہوگیا اب گھبرائے کہ خلیل اللہ ؑ کو آگ میں ڈالیں کیسے ؟ آخر ایک کردی فارسی اعرابی کے مشورے سے جس کا نام ہیزن تھا ایک منجنیق تیار کرائی گئی کہ اس میں بیٹھا کر جھولا کر پھنک دو۔ مروی ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت زمین میں دھنسا دیا اور قیامت تک وہ اندر اترتا جاتا ہے۔ جب آپکوآگ میں ڈالا گیا آپ نے فرمایا حسبی اللہ ونعم الوکیل، آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کے پاس بھی جب یہ خبر پہنچی کہ تمام عرب لشکر جرار لے کر آپ کے مقابلے کے لئے آرہے ہیں تو آپ نے بھی یہی پڑھا تھا۔ یہ بھی مروی ہے کہ جب آپ کو آگ میں ڈالنے لگے تو آپ نے فرمایا الٰہی تو آسمانوں میں اکیلا معبود ہے اور توحید کے ساتھ تیرا عابد زمین پر صرف میں ہی ہوں۔ مروی ہے کہ جب کافر آپ کو باندھنے لگے تو آپ نے فرمایا الٰہی تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں تیری ذات پاک ہے تمام حمدوثنا تیرے ہی لئے سزاوار ہے۔ سارے ملک کا تو اکیلا ہی مالک ہے کوئی بھی تیرا شریک و ساجھی نہیں۔ حضرت شعیب جبائی فرماتے ہیں کہ اس وقت آپ کی عمر صرف سولہ سال کی تھی۔ واللہ اعلم۔ بعض سلف سے منقول ہے کہ اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ آپ کے سامنے آسمان و زمین کے درمیان ظاہر ہوئے اور فرمایا کیا آپ کو کوئی حاجت ہے ؟ آپ نے جواب دیا تم سے تو کوئی حاجت نہیں البتہ اللہ تعالیٰ سے حاجت ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بارش کا داروغہ فرشتہ کان لگائے ہوئے تیار تھا کہ کب اللہ کا حکم ہو اور میں اس آگ پر بارش برسا کر اسے ٹھنڈی کردوں لیکن براہ راست حکم الٰہی آگ کو ہی پہنچا کہ میرے خلیل پر سلامتی اور ٹھنڈک بن جا۔ فرماتے ہیں کہ اس حکم کے ساتھ ہی روئے زمین کی آگ ٹھنڈی ہوگئی۔ حضرت کعب احبار ؒ فرماتے ہیں اس دن دنیا بھر میں آگ سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا۔ اور حضرت ابراہیم ؑ کی جوتیاں تو آگ نے جلا دیں لیکن آپ کے ایک رونگٹے کو بھی آگ نہ لگی۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ اگر آگ کو صرف ٹھنڈا ہونے کا ہی حکم ہوتا تو پھر ٹھنڈک بھی آپ کو ضرر پہنچاتی اس لئے ساتھ ہی فرمادیا گیا کہ ٹھنڈک کے ساتھ ہی سلامتی بن جا۔ ضحاک ؒ فرماتے ہیں کہ بہت بڑا گڑھا بہت ہی گہرا کھودا تھا اور اسے آگ سے پر کیا تھا ہر طرف آگ کے شعلے نکل رہے تھے اس میں خلیل اللہ کو ڈال دیا لیکن آگ نے آپ کو چھوا تک نہیں یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے اسے بالکل ٹھنڈا کردیا۔ مذکور ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل ؑ آپ کے ساتھ تھے آپ کے منہ پر سے پسینہ پونچھ رہے تھے بس اس کے سوا آپ کو آگ نے کوئی تکلیف نہیں دی۔ سدی فرماتے ہیں سایہ یا فرشتہ اس وقت آپ کے ساتھ تھا۔ مروی ہے کہ آپ اس میں چالیس یا پچاس دن رہے فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اس زمانے میں جو راحت وسرور حاصل تھا ویسا اس سے نکلنے کے بعد حاصل نہیں ہوا کیا اچھا ہوتا کہ میری ساری زندگی اسی میں گزرتی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کے والد نے سب سے اچھا کلمہ جو کہا ہے وہ یہ ہے کہ جب ابراہیم ؑ آگ سے زندہ صحیح سالم نکلے اس وقت آپ کو پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے دیکھ کر آپ کے والد نے کہا ابراہیم تیرا رب بہت ہی بزرگ اور بڑا ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں اس دن جو جانور نکلا وہ آپ کی آگ کو بجھانے کی کوشش کرتا رہا سوائے گرگٹ کے۔ حضرت زہری ؒ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے گرگٹ کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے اور فاسق کہا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے گھر میں ایک نیزہ دیکھ کر ایک عورت نے سوال کیا کہ یہ کیوں رکھ چھوڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا گرگٹوں کو مار ڈالنے کے لئے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جس وقت حضرت ابراہیم ؑ آگ میں ڈالے گئے اس وقت تمام جانور اس آگ کو بجھا رہے تھے سوائے گرگٹ کے۔ یہ پھونک رہا تھا پس آپ نے اس کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ان کا مکر ہم نے ان پر الٹ دیا۔ کافروں نے اللہ کے نبی ؑ کو نیچا کرنا چاہا اللہ نے انہیں نیچا دکھایا۔ حضرت عطیہ عوفی کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کا آگ میں جلائے جانے کا تماشا دیکھنے کے لئے ان کافروں کا بادشاہ بھی آیا تھا۔ ادھر خلیل اللہ کو آگ میں ڈالا جاتا ہے ادھر آگ میں سے ایک چنگاری اڑتی ہے اور اس کافر بادشاہ کے انگوٹھے پر آپڑتی ہے اور وہیں کھڑے کھڑے سب کے سامنے اس طرح اسے جلا دیتی ہے جسے روئی جل جائے۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا دَحَضت حُجَّتُهُمْ، وَبَانَ عَجْزُهُمْ، وَظَهَرَ الْحَقُّ، وَانْدَفَعَ الْبَاطِلُ، عَدَلُوا إِلَى اسْتِعْمَالِ جَاهِ مُلْكِهِمْ، فَقَالُوا: ﴿حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ﴾ فَجَمَعُوا حَطَبًا كَثِيرًا جِدًّا -قَالَ السُّدِّيُّ: حَتَّى إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَمْرَضُ، فَتَنْذُرُ إِنْ عُوفِيَتْ أَنْ تَحْمِلَ حَطَبًا لِحَرِيقِ إِبْرَاهِيمَ-ثُمَّ جَعَلُوهُ فِي جَوْبة مِنَ الْأَرْضِ، وَأَضْرَمُوهَا نَارًا، فَكَانَ لَهَا شَرَرٌ عَظِيمٌ وَلَهَبٌ مُرْتَفِعٌ، لَمْ تُوقَدْ قَطُّ نَارٌ [[في ف، "نار قط".]] مِثْلُهَا، وَجَعَلُوا إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي كِفَّةِ الْمَنْجَنِيقِ بِإِشَارَةِ رَجُلٍ مِنْ أَعْرَابِ فَارِسَ مِنَ الْأَكْرَادِ -قَالَ شُعَيب الْجِبَائِيُّ: اسْمُهُ هِيزُنُ-فَخَسَفَ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلَمَّا أَلْقَوْهُ قَالَ: "حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ"، كَمَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: "حَسْبِي [[في ف: "حسبنا".]] اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" قَالَهَا إِبْرَاهِيمُ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَقَالَهَا [[في ف: "وقال".]] مُحَمَّدٌ حِينَ قَالُوا: ﴿إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾ [آلِ عِمْرَانَ: ١٧٣] [[صحيح البخاري برقم (٤٥٦٣)]] .
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى: حَدَّثَنَا ابْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ [[في ف، أ: "أبو إسحاق".]] بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم "لما أُلْقِيَ إِبْرَاهِيمُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي النَّارِ قَالَ: اللَّهُمَّ، إِنَّكَ فِي السَّمَاءِ وَاحِدٌ، وَأَنَا فِي الْأَرْضِ وَاحِدٌ أَعْبُدُكَ" [[ورواه البزار في مسنده برقم (٢٣٤٩) "كشف الأستار" وأبو نعيم في الحلية (١٩١١) والخطيب في تاريخ بغداد (١٠/٣٤٦) من طريق أبي هشام الرفاعي به. وقال البزار: "لا نعلم رواه عن عاصم إلا أبا جعفر، ولا عنه إلا إسحاق، ولم نسمعه إلا من أبي هشام" قلت: عاصم بن عمر بن حفص متكلم فيه.]] .
وَيُرْوَى أَنَّهُ لَمَّا جَعَلُوا يُوثِقُونَهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ لَكَ الْحَمْدُ، وَلَكَ الْمُلْكُ، لَا شَرِيكَ لَكَ [[رواه الطبري في تفسيره كما في الدار المنثور (٥/٦٤٢) عن أرقم.]] .
وَقَالَ شُعَيْبٌ الْجِبَائِيُّ: كَانَ عُمْرُهُ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً. فَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَذَكَرَ بَعْضُ السَّلَفِ أَنَّهُ عَرَضَ لَهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ فِي الْهَوَاءِ، فَقَالَ: أَلِكَ حَاجَةٌ؟ فَقَالَ: أَمَّا إِلَيْكَ فَلَا [وَأَمَّا من الله فبلى] [[زيادة من ف.]] .
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ -وَيُرْوَى [[في ف، أ: "وروي".]] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا-قَالَ: لَمَّا أُلقيَ إِبْرَاهِيمُ جَعَلَ خَازِنُ الْمَطَرِ يَقُولُ: مَتَى أُومَرُ بِالْمَطَرِ فَأَرْسِلُهُ؟ قَالَ: فَكَانَ [[في ف: "وكان".]] أَمْرُ اللَّهِ أَسْرَعَ مِنْ أَمْرِهِ، قَالَ اللَّهُ: [عَزَّ وَجَلَّ] [[زيادة من ف.]] ﴿يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ﴾ قَالَ: لَمْ [[في ف، أ: "فلم".]] يَبْقَ نَارٌ فِي الْأَرْضِ إِلَّا طُفِئَتْ.
وَقَالَ كَعْبُ الْأَحْبَارِ: لَمْ يَنْتَفِعْ [أَحَدٌ] [[زيادة من ف.]] يَوْمَئِذٍ بِنَارٍ، وَلَمْ تُحْرِقِ النَّارُ مِنْ إِبْرَاهِيمَ سِوَى وِثَاقِهِ.
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَيْخٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: ﴿قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ﴾ [قَالَ: بَرَدَتْ عَلَيْهِ حَتَّى كَادَتْ تَقْتُلُهُ، حَتَّى قِيلَ: ﴿وَسَلامًا﴾ ] [[زيادة من ف.]] ، قَالَ: لَا تضرِّيه.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو الْعَالِيَةِ: لَوْلَا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: ﴿وَسَلامًا﴾ لَآذَى إِبْرَاهِيمَ بَرْدُها.
وَقَالَ جُوَيبر، عَنِ الضَّحَّاكِ: ﴿كُونِي بَرْدًا وَسَلامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ﴾ قَالَ: صَنَعُوا لَهُ حَظِيرَةً مِنْ حَطَب جَزْل، وَأَشْعَلُوا فِيهِ النَّارَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ، فَأَصْبَحَ وَلَمْ يصِبه مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى أَخْمَدَهَا اللَّهُ -قَالَ: وَيَذْكُرُونَ أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ مَعَهُ يَمْسَحُ وَجْهَهُ مِنَ الْعَرَقِ، فَلَمْ يُصِبْه مِنْهَا شَيْءٌ غيرُ ذَلِكَ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: كَانَ مَعَهُ فِيهَا مَلَكُ الظِّلِّ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مِهْران، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ المِنْهَال بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَخُبِرْتُ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ، فَقَالَ: كَانَ [[في ف: "فكان".]] فِيهَا إِمَّا خَمْسِينَ وَإِمَّا أَرْبَعِينَ، قَالَ: مَا كُنْتُ أَيْامًا وَلَيَالِيَ قَطُّ أَطْيَبَ عَيْشًا إِذْ كُنْتُ فِيهَا، وَدِدْتُ أَنَّ عَيْشِي وَحَيَاتِي كُلَّهَا مِثْلُ عَيْشِي إِذْ كُنْتُ فِيهَا.
وَقَالَ أَبُو زُرْعَة بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ أَحْسَنَ [شَيْءٍ] [[زيادة من ف.]] قَالَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ -لَمَّا رُفِعَ عنه الطبق وهو في النار، وجده يرش جَبِينُهُ-قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: نعْمَ الرَّبُّ رَبُّكَ يَا إِبْرَاهِيمُ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: لَمْ يَأْتِ يَوْمَئِذٍ دَابَّةٌ إِلَّا أَطْفَأَتْ عَنْهُ النَّارَ، إِلَّا الوَزَغ -وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: أَمَرَ النَّبِيُّ ﷺ: بِقَتْلِهِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا [[جاء من حديث أم شريك: رواه البخاري برقم (٣٣٠٧) ومسلم في صحيحه برقم (٢٢٣٧) .]] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنُ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَوْلَاةُ [[في ف، أ: "حدثني مولاه".]] الْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيِّ قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَرَأَيْتُ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا. فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، مَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا الرُّمْحِ؟ فَقَالَتْ: نَقْتُلُ بِهِ هَذِهِ الْأَوْزَاغَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ، لَمْ يَكُنْ [[في ف: "تكن"]] فِي الْأَرْضِ دَابَّةٌ إِلَّا تُطْفِئُ النَّارَ، غَيْرَ الوَزَغ، فَإِنَّهُ كَانَ يَنْفُخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ"، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِقَتْلِهِ [[ورواه أحمد في المسند (٦/٨٣، ١٠٩) وابن ماجه في السنن برقم (٣٢٣١) من طريق نافع عن سائبة مولاة الفاكه به.]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الأخْسَرِينَ﴾ أَيِ: الْمَغْلُوبِينَ الْأَسْفَلِينَ؛ لِأَنَّهُمْ أَرَادُوا بِنَبِيِّ اللَّهِ كَيْدًا، فَكَادَهُمُ اللَّهُ وَنَجَّاهُ مِنَ النَّارِ، فَغُلِبُوا هُنَالِكَ.
وَقَالَ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ: لَمَّا ألقِيَ إِبْرَاهِيمُ فِي النَّارِ، جَاءَ مَلِكُهُمْ لِيَنْظُرَ إِلَيْهِ فَطَارَتْ شَرَارَةٌ فَوَقَعَتْ عَلَى إِبْهَامِهِ، فَأَحْرَقَتْهُ مِثْلَ الصُّوفَةِ.
وَنَجَّيْنَٰهُ وَلُوطًا إِلَى ٱلْأَرْضِ ٱلَّتِى بَٰرَكْنَا فِيهَا لِلْعَٰلَمِينَ
And We delivered him and Lot to the land which We had blessed for the worlds.
اور ابراہیم اور لوط کو اس سرزمین کی طرف بچا نکالا جس میں ہم نے اہل عالم کے لئے برکت رکھی تھی
و او و لوط را به سرزمین (شام) -که آن را برای همه جهانیان پربرکت ساختیم- نجات دادیم!
Tafsir Ibn Kathir
And We rescued him and Lut to the land which We have blessed for the nations (71)And We bestowed upon him Ishaq, and Ya'qub Nafilatan. Each one We made righteous (72)And We made them leaders, guiding by Our command, and We revealed to them the doing of good deeds, performing Salah, and the giving of Zakah, and of Us (Alone) they were the worshippers (73)And (remember) Lut, We gave him wisdom and knowledge, and We saved him from the town who practised Al-Khaba'ith. Verily, they were a people given to evil, and were rebellious (74)And We admitted him to Our mercy; truly, he was of the righteous (75)
The Migration of Ibrahim to Ash-Sham (Greater Syria), accompanied by Lut
Allah tells us that He saved Ibrahim from the fire lit by his people, and brought him out from among them, migrating to the land of Ash-Sham, to the sacred regions thereof.
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً
(And We bestowed upon him Ishaq, and Ya'qub Nafilatan.) 'Ata' and Mujahid said, "Nafilatan means as a gift." Ibn 'Abbas, Qatadah and Al-Hakam bin 'Uyaynah said, "The gift of a son who has a son," meaning that Ya'qub was the son of Ishaq, as Allah says:
فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ
(But We gave her glad tidings of Ishaq, and after Ishaq, of Ya'qub)[11:71]. 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "He asked for one [son], and said,
رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ
("My Lord! Grant me from the righteous.")[37:100] So Allah gave him Ishaq, and gave him Ya'qub in addition.
وَكُلًّا جَعَلْنَا صَالِحِينَ
(Each one We made righteous.) means, both of them were good and righteous people.
وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً
(And We made them leaders,) means, examples to be followed.
يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا
(guiding by Our command,) inviting to Him by His leave. Allah says:
وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ
(and We revealed to them the doing of good deeds, performing Salah, and the giving of Zakah,) Here the general is followed by the specific.
وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ
(and of Us (Alone) they were the worshippers.) means, they did what they enjoined others to do.
The Prophet Lut
Then Allah mentions Lut, whose full name was Lut bin Haran bin Azar. He believed in Ibrahim and followed him, and migrated with him, as Allah says:
فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي
(So Lut believed in him. He (Ibrahim) said: "I will emigrate for the sake of my Lord")(29:26).
Allah gave him wisdom and knowledge; He sent Revelation to him, made him a Prophet and appointed him to Sadum (Sodom) and its vicinity, but they rejected him and resisted him, so Allah utterly destroyed them, as He tells us in several places in His Book. Allah says;
وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَت تَّعْمَلُ الْخَبَائِثَ ۗ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَاسِقِينَ - وَأَدْخَلْنَاهُ فِي رَحْمَتِنَا ۖ إِنَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ
(and We saved him from the town who practised Al-Khaba'ith. Verily, they were a people given to evil, and were rebellious. And We admitted him to Our mercy; truly, he was of the righteous.)
Tafsir Ibn Kathir
ہجرت خلیل ؑ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں آپ کو عراق کی سرزمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔ شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سرزمین ہے۔ یہیں حضرت عیسیٰ ؑ اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب آپ حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ نے ان سے اس قرار پر نکاح کرلیا کہ وہ آپ کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے انہی کا نام حضرت سارہ ہے ؓ۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ حضرت سارہ آپ کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ کے ساتھ ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکہ شریف میں ختم ہوئی مکہ ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت و ہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آجانے والا امن و سلامتی میں آجاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت (فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ ۙ وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) چونکہ خلیل اللہ ؑ کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت (رب ہب لی من الصالحین) اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکو کاربنایا۔ ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنادیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیاں فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے۔ پھر حضرت لوط ؑ کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ حضرت ابراہیم ؑ پر ایمان لائے تھے اور آپ کی تابعداری میں آپ ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت (فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ 26) 29۔ العنکبوت :26) حضرت لوط ؑ آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں، پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فناکردئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں یہاں فرمایا کہ ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَلَّمَهُ اللَّهُ مِنْ نَارِ قَوْمِهِ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ مُهَاجِرًا إِلَى بِلَادِ الشَّامِ، إِلَى الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ مِنْهَا، كَمَا قَالَ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أبي بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِلَى الأرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ﴾ قَالَ: الشَّامُ، وَمَا مِنْ مَاءٍ عَذْبٍ إِلَّا يَخْرُجُ مِنْ تَحْتِ الصَّخْرَةِ.
وَكَذَا قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ أَيْضًا.
وَقَالَ قَتَادَةُ: كَانَ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ، فَأَنْجَاهُ اللَّهُ إِلَى الشَّامِ، [وَكَانَ يُقَالُ لِلشَّامِ: عِمَادُ دَارِ الْهِجْرَةِ، وَمَا نَقَصَ مِنَ الْأَرْضِ زِيدَ فِي الشَّامِ] [[زيادة من ف.]] وَمَا نَقَصَ مِنَ الشَّامِ زِيدَ فِي فِلَسْطِينَ. وَكَانَ يُقَالُ: هِيَ أَرْضُ الْمَحْشَرِ وَالْمَنْشَرِ، وَبِهَا يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَبِهَا يَهْلِكُ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ.
وَقَالَ كَعْبُ الْأَحْبَارِ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِلَى الأرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ﴾ إِلَى حَرَّانَ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: انْطَلَقَ إِبْرَاهِيمُ وَلُوطٌ قِبَل الشَّامِ، فَلَقِيَ إِبْرَاهِيمُ سَارَةَ، وَهِيَ ابْنَةُ مَلِكِ حَرَّانَ، وَقَدْ طَعَنَتْ عَلَى قَوْمِهَا فِي دِينِهِمْ، فَتَزَوَّجَهَا عَلَى أَلَّا يُغَيِّرَهَا.
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، وَهُوَ غَرِيبٌ [وَالْمَشْهُورُ أَنَّهَا ابْنَةُ عَمِّهِ، وَأَنَّهُ خَرَجَ بِهَا مُهَاجِرًا مِنْ بِلَادِهِ] [[زيادة من ف.]] .
وَقَالَ العَوفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: إِلَى مَكَّةَ؛ أَلَا تَسْمَعُ قَوْلَهُ: ﴿إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ﴾ [آلِ عِمْرَانَ:٩٦] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً﴾ قَالَ عَطَاءٌ، وَمُجَاهِدٌ: عَطِيَّةً.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَقَتَادَةُ، وَالْحَكَمُ بْنُ عُيينة: النَّافِلَةُ وَلَدُ الْوَلَدِ، يَعْنِي: أَنَّ يَعْقُوبَ وَلَدَ إِسْحَاقَ، كَمَا قَالَ: ﴿فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ﴾ [هُودٍ:٧١] .
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: سَأَلَ وَاحِدًا فَقَالَ: ﴿رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ [الصَّافَّاتِ:١٠٠] ، فَأَعْطَاهُ اللَّهُ إِسْحَاقَ وَزَادَهُ يَعْقُوبَ نَافِلَةً.
﴿وَكُلا جَعَلْنَا صَالِحِينَ﴾ أَيِ: الْجَمِيعُ أَهْلُ خَيْرٍ وَصَلَاحٍ، ﴿وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً﴾ أَيْ: يُقْتَدَى بِهِمْ، ﴿يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا﴾ أَيْ: يَدْعُونَ إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ﴾ مِنْ بَابِ عَطْفِ الْخَاصِّ عَلَى الْعَامِّ، ﴿وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ﴾ أَيْ: فَاعِلِينَ لِمَا يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِهِ.
ثُمَّ عَطَفَ بِذِكْرِ لُوطٍ -وَهُوَ لُوطُ بْنُ هَارَانَ بْنِ آزَرَ-كَانَ قَدْ آمَنَ بِإِبْرَاهِيمَ، وَاتَّبَعَهُ، وَهَاجَرَ مَعَهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَى رَبِّي﴾ [الْعَنْكَبُوتِ:٢٦] ، فَآتَاهُ اللَّهُ حُكْمًا وَعِلْمًا، وَأَوْحَى إِلَيْهِ، وَجَعَلَهُ نَبِيًّا، وَبَعَثَهُ إِلَى سَدُومَ وَأَعْمَالِهَا، فَخَالَفُوهُ وَكَذَّبُوهُ، فَأَهْلَكَهُمُ اللَّهُ ودَمَّر عَلَيْهِمْ، كَمَا قَصَّ خَبَرَهُمْ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كِتَابِهِ الْعَزِيزِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ تَعْمَلُ الْخَبَائِثَ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَاسِقِينَ * وَأَدْخَلْنَاهُ فِي رَحْمَتِنَا إِنَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ .
وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةًۭ ۖ وَكُلًّۭا جَعَلْنَا صَٰلِحِينَ
And We gave him Isaac and Jacob in addition, and all [of them] We made righteous.
اور ہم نے ابراہیم کو اسحق عطا کئے۔ اور مستزاد برآں یعقوب۔ اور سب کو نیک بخت کیا
و اسحاق، و علاوه بر او، یعقوب را به وی بخشیدیم؛ و همه آنان را مردانی صالح قرار دادیم!
Tafsir Ibn Kathir
And We rescued him and Lut to the land which We have blessed for the nations (71)And We bestowed upon him Ishaq, and Ya'qub Nafilatan. Each one We made righteous (72)And We made them leaders, guiding by Our command, and We revealed to them the doing of good deeds, performing Salah, and the giving of Zakah, and of Us (Alone) they were the worshippers (73)And (remember) Lut, We gave him wisdom and knowledge, and We saved him from the town who practised Al-Khaba'ith. Verily, they were a people given to evil, and were rebellious (74)And We admitted him to Our mercy; truly, he was of the righteous (75)
The Migration of Ibrahim to Ash-Sham (Greater Syria), accompanied by Lut
Allah tells us that He saved Ibrahim from the fire lit by his people, and brought him out from among them, migrating to the land of Ash-Sham, to the sacred regions thereof.
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً
(And We bestowed upon him Ishaq, and Ya'qub Nafilatan.) 'Ata' and Mujahid said, "Nafilatan means as a gift." Ibn 'Abbas, Qatadah and Al-Hakam bin 'Uyaynah said, "The gift of a son who has a son," meaning that Ya'qub was the son of Ishaq, as Allah says:
فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ
(But We gave her glad tidings of Ishaq, and after Ishaq, of Ya'qub)[11:71]. 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "He asked for one [son], and said,
رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ
("My Lord! Grant me from the righteous.")[37:100] So Allah gave him Ishaq, and gave him Ya'qub in addition.
وَكُلًّا جَعَلْنَا صَالِحِينَ
(Each one We made righteous.) means, both of them were good and righteous people.
وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً
(And We made them leaders,) means, examples to be followed.
يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا
(guiding by Our command,) inviting to Him by His leave. Allah says:
وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ
(and We revealed to them the doing of good deeds, performing Salah, and the giving of Zakah,) Here the general is followed by the specific.
وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ
(and of Us (Alone) they were the worshippers.) means, they did what they enjoined others to do.
The Prophet Lut
Then Allah mentions Lut, whose full name was Lut bin Haran bin Azar. He believed in Ibrahim and followed him, and migrated with him, as Allah says:
فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي
(So Lut believed in him. He (Ibrahim) said: "I will emigrate for the sake of my Lord")(29:26).
Allah gave him wisdom and knowledge; He sent Revelation to him, made him a Prophet and appointed him to Sadum (Sodom) and its vicinity, but they rejected him and resisted him, so Allah utterly destroyed them, as He tells us in several places in His Book. Allah says;
وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَت تَّعْمَلُ الْخَبَائِثَ ۗ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَاسِقِينَ - وَأَدْخَلْنَاهُ فِي رَحْمَتِنَا ۖ إِنَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ
(and We saved him from the town who practised Al-Khaba'ith. Verily, they were a people given to evil, and were rebellious. And We admitted him to Our mercy; truly, he was of the righteous.)
Tafsir Ibn Kathir
ہجرت خلیل ؑ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں آپ کو عراق کی سرزمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔ شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سرزمین ہے۔ یہیں حضرت عیسیٰ ؑ اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب آپ حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ نے ان سے اس قرار پر نکاح کرلیا کہ وہ آپ کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے انہی کا نام حضرت سارہ ہے ؓ۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ حضرت سارہ آپ کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ کے ساتھ ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکہ شریف میں ختم ہوئی مکہ ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت و ہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آجانے والا امن و سلامتی میں آجاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت (فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ ۙ وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) چونکہ خلیل اللہ ؑ کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت (رب ہب لی من الصالحین) اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکو کاربنایا۔ ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنادیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیاں فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے۔ پھر حضرت لوط ؑ کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ حضرت ابراہیم ؑ پر ایمان لائے تھے اور آپ کی تابعداری میں آپ ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت (فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ 26) 29۔ العنکبوت :26) حضرت لوط ؑ آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں، پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فناکردئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں یہاں فرمایا کہ ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَلَّمَهُ اللَّهُ مِنْ نَارِ قَوْمِهِ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ مُهَاجِرًا إِلَى بِلَادِ الشَّامِ، إِلَى الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ مِنْهَا، كَمَا قَالَ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أبي بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِلَى الأرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ﴾ قَالَ: الشَّامُ، وَمَا مِنْ مَاءٍ عَذْبٍ إِلَّا يَخْرُجُ مِنْ تَحْتِ الصَّخْرَةِ.
وَكَذَا قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ أَيْضًا.
وَقَالَ قَتَادَةُ: كَانَ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ، فَأَنْجَاهُ اللَّهُ إِلَى الشَّامِ، [وَكَانَ يُقَالُ لِلشَّامِ: عِمَادُ دَارِ الْهِجْرَةِ، وَمَا نَقَصَ مِنَ الْأَرْضِ زِيدَ فِي الشَّامِ] [[زيادة من ف.]] وَمَا نَقَصَ مِنَ الشَّامِ زِيدَ فِي فِلَسْطِينَ. وَكَانَ يُقَالُ: هِيَ أَرْضُ الْمَحْشَرِ وَالْمَنْشَرِ، وَبِهَا يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَبِهَا يَهْلِكُ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ.
وَقَالَ كَعْبُ الْأَحْبَارِ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِلَى الأرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ﴾ إِلَى حَرَّانَ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: انْطَلَقَ إِبْرَاهِيمُ وَلُوطٌ قِبَل الشَّامِ، فَلَقِيَ إِبْرَاهِيمُ سَارَةَ، وَهِيَ ابْنَةُ مَلِكِ حَرَّانَ، وَقَدْ طَعَنَتْ عَلَى قَوْمِهَا فِي دِينِهِمْ، فَتَزَوَّجَهَا عَلَى أَلَّا يُغَيِّرَهَا.
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، وَهُوَ غَرِيبٌ [وَالْمَشْهُورُ أَنَّهَا ابْنَةُ عَمِّهِ، وَأَنَّهُ خَرَجَ بِهَا مُهَاجِرًا مِنْ بِلَادِهِ] [[زيادة من ف.]] .
وَقَالَ العَوفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: إِلَى مَكَّةَ؛ أَلَا تَسْمَعُ قَوْلَهُ: ﴿إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ﴾ [آلِ عِمْرَانَ:٩٦] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً﴾ قَالَ عَطَاءٌ، وَمُجَاهِدٌ: عَطِيَّةً.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَقَتَادَةُ، وَالْحَكَمُ بْنُ عُيينة: النَّافِلَةُ وَلَدُ الْوَلَدِ، يَعْنِي: أَنَّ يَعْقُوبَ وَلَدَ إِسْحَاقَ، كَمَا قَالَ: ﴿فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ﴾ [هُودٍ:٧١] .
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: سَأَلَ وَاحِدًا فَقَالَ: ﴿رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ [الصَّافَّاتِ:١٠٠] ، فَأَعْطَاهُ اللَّهُ إِسْحَاقَ وَزَادَهُ يَعْقُوبَ نَافِلَةً.
﴿وَكُلا جَعَلْنَا صَالِحِينَ﴾ أَيِ: الْجَمِيعُ أَهْلُ خَيْرٍ وَصَلَاحٍ، ﴿وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً﴾ أَيْ: يُقْتَدَى بِهِمْ، ﴿يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا﴾ أَيْ: يَدْعُونَ إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ﴾ مِنْ بَابِ عَطْفِ الْخَاصِّ عَلَى الْعَامِّ، ﴿وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ﴾ أَيْ: فَاعِلِينَ لِمَا يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِهِ.
ثُمَّ عَطَفَ بِذِكْرِ لُوطٍ -وَهُوَ لُوطُ بْنُ هَارَانَ بْنِ آزَرَ-كَانَ قَدْ آمَنَ بِإِبْرَاهِيمَ، وَاتَّبَعَهُ، وَهَاجَرَ مَعَهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَى رَبِّي﴾ [الْعَنْكَبُوتِ:٢٦] ، فَآتَاهُ اللَّهُ حُكْمًا وَعِلْمًا، وَأَوْحَى إِلَيْهِ، وَجَعَلَهُ نَبِيًّا، وَبَعَثَهُ إِلَى سَدُومَ وَأَعْمَالِهَا، فَخَالَفُوهُ وَكَذَّبُوهُ، فَأَهْلَكَهُمُ اللَّهُ ودَمَّر عَلَيْهِمْ، كَمَا قَصَّ خَبَرَهُمْ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كِتَابِهِ الْعَزِيزِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ تَعْمَلُ الْخَبَائِثَ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَاسِقِينَ * وَأَدْخَلْنَاهُ فِي رَحْمَتِنَا إِنَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ .
وَجَعَلْنَٰهُمْ أَئِمَّةًۭ يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِمْ فِعْلَ ٱلْخَيْرَٰتِ وَإِقَامَ ٱلصَّلَوٰةِ وَإِيتَآءَ ٱلزَّكَوٰةِ ۖ وَكَانُوا۟ لَنَا عَٰبِدِينَ
And We made them leaders guiding by Our command. And We inspired to them the doing of good deeds, establishment of prayer, and giving of zakah; and they were worshippers of Us.
اور ان کو پیشوا بنایا کہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ان کو نیک کام کرنے اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے کا حکم بھیجا۔ اور وہ ہماری عبادت کیا کرتے تھے
و آنان را پیشوایانی قرار دادیم که به فرمان ما، (مردم را) هدایت میکردند؛ و انجام کارهای نیک و برپاداشتن نماز و ادای زکات را به آنها وحی کردیم؛ و تنها ما را عبادت میکردند.
Tafsir Ibn Kathir
And We rescued him and Lut to the land which We have blessed for the nations (71)And We bestowed upon him Ishaq, and Ya'qub Nafilatan. Each one We made righteous (72)And We made them leaders, guiding by Our command, and We revealed to them the doing of good deeds, performing Salah, and the giving of Zakah, and of Us (Alone) they were the worshippers (73)And (remember) Lut, We gave him wisdom and knowledge, and We saved him from the town who practised Al-Khaba'ith. Verily, they were a people given to evil, and were rebellious (74)And We admitted him to Our mercy; truly, he was of the righteous (75)
The Migration of Ibrahim to Ash-Sham (Greater Syria), accompanied by Lut
Allah tells us that He saved Ibrahim from the fire lit by his people, and brought him out from among them, migrating to the land of Ash-Sham, to the sacred regions thereof.
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً
(And We bestowed upon him Ishaq, and Ya'qub Nafilatan.) 'Ata' and Mujahid said, "Nafilatan means as a gift." Ibn 'Abbas, Qatadah and Al-Hakam bin 'Uyaynah said, "The gift of a son who has a son," meaning that Ya'qub was the son of Ishaq, as Allah says:
فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ
(But We gave her glad tidings of Ishaq, and after Ishaq, of Ya'qub)[11:71]. 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "He asked for one [son], and said,
رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ
("My Lord! Grant me from the righteous.")[37:100] So Allah gave him Ishaq, and gave him Ya'qub in addition.
وَكُلًّا جَعَلْنَا صَالِحِينَ
(Each one We made righteous.) means, both of them were good and righteous people.
وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً
(And We made them leaders,) means, examples to be followed.
يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا
(guiding by Our command,) inviting to Him by His leave. Allah says:
وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ
(and We revealed to them the doing of good deeds, performing Salah, and the giving of Zakah,) Here the general is followed by the specific.
وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ
(and of Us (Alone) they were the worshippers.) means, they did what they enjoined others to do.
The Prophet Lut
Then Allah mentions Lut, whose full name was Lut bin Haran bin Azar. He believed in Ibrahim and followed him, and migrated with him, as Allah says:
فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي
(So Lut believed in him. He (Ibrahim) said: "I will emigrate for the sake of my Lord")(29:26).
Allah gave him wisdom and knowledge; He sent Revelation to him, made him a Prophet and appointed him to Sadum (Sodom) and its vicinity, but they rejected him and resisted him, so Allah utterly destroyed them, as He tells us in several places in His Book. Allah says;
وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَت تَّعْمَلُ الْخَبَائِثَ ۗ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَاسِقِينَ - وَأَدْخَلْنَاهُ فِي رَحْمَتِنَا ۖ إِنَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ
(and We saved him from the town who practised Al-Khaba'ith. Verily, they were a people given to evil, and were rebellious. And We admitted him to Our mercy; truly, he was of the righteous.)
Tafsir Ibn Kathir
ہجرت خلیل ؑ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں آپ کو عراق کی سرزمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔ شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سرزمین ہے۔ یہیں حضرت عیسیٰ ؑ اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب آپ حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ نے ان سے اس قرار پر نکاح کرلیا کہ وہ آپ کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے انہی کا نام حضرت سارہ ہے ؓ۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ حضرت سارہ آپ کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ کے ساتھ ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکہ شریف میں ختم ہوئی مکہ ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت و ہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آجانے والا امن و سلامتی میں آجاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت (فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ ۙ وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) چونکہ خلیل اللہ ؑ کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت (رب ہب لی من الصالحین) اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکو کاربنایا۔ ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنادیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیاں فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے۔ پھر حضرت لوط ؑ کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ حضرت ابراہیم ؑ پر ایمان لائے تھے اور آپ کی تابعداری میں آپ ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت (فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ 26) 29۔ العنکبوت :26) حضرت لوط ؑ آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں، پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فناکردئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں یہاں فرمایا کہ ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَلَّمَهُ اللَّهُ مِنْ نَارِ قَوْمِهِ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ مُهَاجِرًا إِلَى بِلَادِ الشَّامِ، إِلَى الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ مِنْهَا، كَمَا قَالَ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أبي بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِلَى الأرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ﴾ قَالَ: الشَّامُ، وَمَا مِنْ مَاءٍ عَذْبٍ إِلَّا يَخْرُجُ مِنْ تَحْتِ الصَّخْرَةِ.
وَكَذَا قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ أَيْضًا.
وَقَالَ قَتَادَةُ: كَانَ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ، فَأَنْجَاهُ اللَّهُ إِلَى الشَّامِ، [وَكَانَ يُقَالُ لِلشَّامِ: عِمَادُ دَارِ الْهِجْرَةِ، وَمَا نَقَصَ مِنَ الْأَرْضِ زِيدَ فِي الشَّامِ] [[زيادة من ف.]] وَمَا نَقَصَ مِنَ الشَّامِ زِيدَ فِي فِلَسْطِينَ. وَكَانَ يُقَالُ: هِيَ أَرْضُ الْمَحْشَرِ وَالْمَنْشَرِ، وَبِهَا يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَبِهَا يَهْلِكُ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ.
وَقَالَ كَعْبُ الْأَحْبَارِ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِلَى الأرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ﴾ إِلَى حَرَّانَ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: انْطَلَقَ إِبْرَاهِيمُ وَلُوطٌ قِبَل الشَّامِ، فَلَقِيَ إِبْرَاهِيمُ سَارَةَ، وَهِيَ ابْنَةُ مَلِكِ حَرَّانَ، وَقَدْ طَعَنَتْ عَلَى قَوْمِهَا فِي دِينِهِمْ، فَتَزَوَّجَهَا عَلَى أَلَّا يُغَيِّرَهَا.
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، وَهُوَ غَرِيبٌ [وَالْمَشْهُورُ أَنَّهَا ابْنَةُ عَمِّهِ، وَأَنَّهُ خَرَجَ بِهَا مُهَاجِرًا مِنْ بِلَادِهِ] [[زيادة من ف.]] .
وَقَالَ العَوفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: إِلَى مَكَّةَ؛ أَلَا تَسْمَعُ قَوْلَهُ: ﴿إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ﴾ [آلِ عِمْرَانَ:٩٦] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً﴾ قَالَ عَطَاءٌ، وَمُجَاهِدٌ: عَطِيَّةً.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَقَتَادَةُ، وَالْحَكَمُ بْنُ عُيينة: النَّافِلَةُ وَلَدُ الْوَلَدِ، يَعْنِي: أَنَّ يَعْقُوبَ وَلَدَ إِسْحَاقَ، كَمَا قَالَ: ﴿فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ﴾ [هُودٍ:٧١] .
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: سَأَلَ وَاحِدًا فَقَالَ: ﴿رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ [الصَّافَّاتِ:١٠٠] ، فَأَعْطَاهُ اللَّهُ إِسْحَاقَ وَزَادَهُ يَعْقُوبَ نَافِلَةً.
﴿وَكُلا جَعَلْنَا صَالِحِينَ﴾ أَيِ: الْجَمِيعُ أَهْلُ خَيْرٍ وَصَلَاحٍ، ﴿وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً﴾ أَيْ: يُقْتَدَى بِهِمْ، ﴿يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا﴾ أَيْ: يَدْعُونَ إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ﴾ مِنْ بَابِ عَطْفِ الْخَاصِّ عَلَى الْعَامِّ، ﴿وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ﴾ أَيْ: فَاعِلِينَ لِمَا يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِهِ.
ثُمَّ عَطَفَ بِذِكْرِ لُوطٍ -وَهُوَ لُوطُ بْنُ هَارَانَ بْنِ آزَرَ-كَانَ قَدْ آمَنَ بِإِبْرَاهِيمَ، وَاتَّبَعَهُ، وَهَاجَرَ مَعَهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَى رَبِّي﴾ [الْعَنْكَبُوتِ:٢٦] ، فَآتَاهُ اللَّهُ حُكْمًا وَعِلْمًا، وَأَوْحَى إِلَيْهِ، وَجَعَلَهُ نَبِيًّا، وَبَعَثَهُ إِلَى سَدُومَ وَأَعْمَالِهَا، فَخَالَفُوهُ وَكَذَّبُوهُ، فَأَهْلَكَهُمُ اللَّهُ ودَمَّر عَلَيْهِمْ، كَمَا قَصَّ خَبَرَهُمْ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كِتَابِهِ الْعَزِيزِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ تَعْمَلُ الْخَبَائِثَ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَاسِقِينَ * وَأَدْخَلْنَاهُ فِي رَحْمَتِنَا إِنَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ .
وَلُوطًا ءَاتَيْنَٰهُ حُكْمًۭا وَعِلْمًۭا وَنَجَّيْنَٰهُ مِنَ ٱلْقَرْيَةِ ٱلَّتِى كَانَت تَّعْمَلُ ٱلْخَبَٰٓئِثَ ۗ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمَ سَوْءٍۢ فَٰسِقِينَ
And to Lot We gave judgement and knowledge, and We saved him from the city that was committing wicked deeds. Indeed, they were a people of evil, defiantly disobedient.
اور لوط (کا قصہ یاد کرو) جب ان کو ہم نے حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا اور اس بستی سے جہاں کے لوگ گندے کام کیا کرتے تھے۔ بچا نکالا۔ بےشک وہ برے اور بدکردار لوگ تھے
و لوط را (به یاد آور) که به او حکومت و علم دادیم؛ و از شهری که اعمال زشت و کثیف انجام میدادند، رهایی بخشیدیم؛ چرا که آنها مردم بد و فاسقی بودند!
Tafsir Ibn Kathir
And We rescued him and Lut to the land which We have blessed for the nations (71)And We bestowed upon him Ishaq, and Ya'qub Nafilatan. Each one We made righteous (72)And We made them leaders, guiding by Our command, and We revealed to them the doing of good deeds, performing Salah, and the giving of Zakah, and of Us (Alone) they were the worshippers (73)And (remember) Lut, We gave him wisdom and knowledge, and We saved him from the town who practised Al-Khaba'ith. Verily, they were a people given to evil, and were rebellious (74)And We admitted him to Our mercy; truly, he was of the righteous (75)
The Migration of Ibrahim to Ash-Sham (Greater Syria), accompanied by Lut
Allah tells us that He saved Ibrahim from the fire lit by his people, and brought him out from among them, migrating to the land of Ash-Sham, to the sacred regions thereof.
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً
(And We bestowed upon him Ishaq, and Ya'qub Nafilatan.) 'Ata' and Mujahid said, "Nafilatan means as a gift." Ibn 'Abbas, Qatadah and Al-Hakam bin 'Uyaynah said, "The gift of a son who has a son," meaning that Ya'qub was the son of Ishaq, as Allah says:
فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ
(But We gave her glad tidings of Ishaq, and after Ishaq, of Ya'qub)[11:71]. 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "He asked for one [son], and said,
رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ
("My Lord! Grant me from the righteous.")[37:100] So Allah gave him Ishaq, and gave him Ya'qub in addition.
وَكُلًّا جَعَلْنَا صَالِحِينَ
(Each one We made righteous.) means, both of them were good and righteous people.
وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً
(And We made them leaders,) means, examples to be followed.
يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا
(guiding by Our command,) inviting to Him by His leave. Allah says:
وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ
(and We revealed to them the doing of good deeds, performing Salah, and the giving of Zakah,) Here the general is followed by the specific.
وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ
(and of Us (Alone) they were the worshippers.) means, they did what they enjoined others to do.
The Prophet Lut
Then Allah mentions Lut, whose full name was Lut bin Haran bin Azar. He believed in Ibrahim and followed him, and migrated with him, as Allah says:
فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي
(So Lut believed in him. He (Ibrahim) said: "I will emigrate for the sake of my Lord")(29:26).
Allah gave him wisdom and knowledge; He sent Revelation to him, made him a Prophet and appointed him to Sadum (Sodom) and its vicinity, but they rejected him and resisted him, so Allah utterly destroyed them, as He tells us in several places in His Book. Allah says;
وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَت تَّعْمَلُ الْخَبَائِثَ ۗ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَاسِقِينَ - وَأَدْخَلْنَاهُ فِي رَحْمَتِنَا ۖ إِنَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ
(and We saved him from the town who practised Al-Khaba'ith. Verily, they were a people given to evil, and were rebellious. And We admitted him to Our mercy; truly, he was of the righteous.)
Tafsir Ibn Kathir
ہجرت خلیل ؑ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں آپ کو عراق کی سرزمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔ شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سرزمین ہے۔ یہیں حضرت عیسیٰ ؑ اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب آپ حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ نے ان سے اس قرار پر نکاح کرلیا کہ وہ آپ کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے انہی کا نام حضرت سارہ ہے ؓ۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ حضرت سارہ آپ کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ کے ساتھ ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکہ شریف میں ختم ہوئی مکہ ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت و ہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آجانے والا امن و سلامتی میں آجاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت (فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ ۙ وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) چونکہ خلیل اللہ ؑ کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت (رب ہب لی من الصالحین) اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکو کاربنایا۔ ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنادیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیاں فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے۔ پھر حضرت لوط ؑ کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ حضرت ابراہیم ؑ پر ایمان لائے تھے اور آپ کی تابعداری میں آپ ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت (فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ 26) 29۔ العنکبوت :26) حضرت لوط ؑ آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں، پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فناکردئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں یہاں فرمایا کہ ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَلَّمَهُ اللَّهُ مِنْ نَارِ قَوْمِهِ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ مُهَاجِرًا إِلَى بِلَادِ الشَّامِ، إِلَى الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ مِنْهَا، كَمَا قَالَ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أبي بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِلَى الأرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ﴾ قَالَ: الشَّامُ، وَمَا مِنْ مَاءٍ عَذْبٍ إِلَّا يَخْرُجُ مِنْ تَحْتِ الصَّخْرَةِ.
وَكَذَا قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ أَيْضًا.
وَقَالَ قَتَادَةُ: كَانَ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ، فَأَنْجَاهُ اللَّهُ إِلَى الشَّامِ، [وَكَانَ يُقَالُ لِلشَّامِ: عِمَادُ دَارِ الْهِجْرَةِ، وَمَا نَقَصَ مِنَ الْأَرْضِ زِيدَ فِي الشَّامِ] [[زيادة من ف.]] وَمَا نَقَصَ مِنَ الشَّامِ زِيدَ فِي فِلَسْطِينَ. وَكَانَ يُقَالُ: هِيَ أَرْضُ الْمَحْشَرِ وَالْمَنْشَرِ، وَبِهَا يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَبِهَا يَهْلِكُ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ.
وَقَالَ كَعْبُ الْأَحْبَارِ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِلَى الأرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ﴾ إِلَى حَرَّانَ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: انْطَلَقَ إِبْرَاهِيمُ وَلُوطٌ قِبَل الشَّامِ، فَلَقِيَ إِبْرَاهِيمُ سَارَةَ، وَهِيَ ابْنَةُ مَلِكِ حَرَّانَ، وَقَدْ طَعَنَتْ عَلَى قَوْمِهَا فِي دِينِهِمْ، فَتَزَوَّجَهَا عَلَى أَلَّا يُغَيِّرَهَا.
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، وَهُوَ غَرِيبٌ [وَالْمَشْهُورُ أَنَّهَا ابْنَةُ عَمِّهِ، وَأَنَّهُ خَرَجَ بِهَا مُهَاجِرًا مِنْ بِلَادِهِ] [[زيادة من ف.]] .
وَقَالَ العَوفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: إِلَى مَكَّةَ؛ أَلَا تَسْمَعُ قَوْلَهُ: ﴿إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ﴾ [آلِ عِمْرَانَ:٩٦] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً﴾ قَالَ عَطَاءٌ، وَمُجَاهِدٌ: عَطِيَّةً.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَقَتَادَةُ، وَالْحَكَمُ بْنُ عُيينة: النَّافِلَةُ وَلَدُ الْوَلَدِ، يَعْنِي: أَنَّ يَعْقُوبَ وَلَدَ إِسْحَاقَ، كَمَا قَالَ: ﴿فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ﴾ [هُودٍ:٧١] .
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: سَأَلَ وَاحِدًا فَقَالَ: ﴿رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ [الصَّافَّاتِ:١٠٠] ، فَأَعْطَاهُ اللَّهُ إِسْحَاقَ وَزَادَهُ يَعْقُوبَ نَافِلَةً.
﴿وَكُلا جَعَلْنَا صَالِحِينَ﴾ أَيِ: الْجَمِيعُ أَهْلُ خَيْرٍ وَصَلَاحٍ، ﴿وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً﴾ أَيْ: يُقْتَدَى بِهِمْ، ﴿يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا﴾ أَيْ: يَدْعُونَ إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ﴾ مِنْ بَابِ عَطْفِ الْخَاصِّ عَلَى الْعَامِّ، ﴿وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ﴾ أَيْ: فَاعِلِينَ لِمَا يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِهِ.
ثُمَّ عَطَفَ بِذِكْرِ لُوطٍ -وَهُوَ لُوطُ بْنُ هَارَانَ بْنِ آزَرَ-كَانَ قَدْ آمَنَ بِإِبْرَاهِيمَ، وَاتَّبَعَهُ، وَهَاجَرَ مَعَهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَى رَبِّي﴾ [الْعَنْكَبُوتِ:٢٦] ، فَآتَاهُ اللَّهُ حُكْمًا وَعِلْمًا، وَأَوْحَى إِلَيْهِ، وَجَعَلَهُ نَبِيًّا، وَبَعَثَهُ إِلَى سَدُومَ وَأَعْمَالِهَا، فَخَالَفُوهُ وَكَذَّبُوهُ، فَأَهْلَكَهُمُ اللَّهُ ودَمَّر عَلَيْهِمْ، كَمَا قَصَّ خَبَرَهُمْ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كِتَابِهِ الْعَزِيزِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ تَعْمَلُ الْخَبَائِثَ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَاسِقِينَ * وَأَدْخَلْنَاهُ فِي رَحْمَتِنَا إِنَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ .
وَأَدْخَلْنَٰهُ فِى رَحْمَتِنَآ ۖ إِنَّهُۥ مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ
And We admitted him into Our mercy. Indeed, he was of the righteous.
اور انہیں اپنی رحمت کے (محل میں) داخل کیا۔ کچھ شک نہیں کہ وہ نیک بختوں میں تھے
و او را در رحمت خود داخل کردیم؛ و او از صالحان بود.
Tafsir Ibn Kathir
And We rescued him and Lut to the land which We have blessed for the nations (71)And We bestowed upon him Ishaq, and Ya'qub Nafilatan. Each one We made righteous (72)And We made them leaders, guiding by Our command, and We revealed to them the doing of good deeds, performing Salah, and the giving of Zakah, and of Us (Alone) they were the worshippers (73)And (remember) Lut, We gave him wisdom and knowledge, and We saved him from the town who practised Al-Khaba'ith. Verily, they were a people given to evil, and were rebellious (74)And We admitted him to Our mercy; truly, he was of the righteous (75)
The Migration of Ibrahim to Ash-Sham (Greater Syria), accompanied by Lut
Allah tells us that He saved Ibrahim from the fire lit by his people, and brought him out from among them, migrating to the land of Ash-Sham, to the sacred regions thereof.
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً
(And We bestowed upon him Ishaq, and Ya'qub Nafilatan.) 'Ata' and Mujahid said, "Nafilatan means as a gift." Ibn 'Abbas, Qatadah and Al-Hakam bin 'Uyaynah said, "The gift of a son who has a son," meaning that Ya'qub was the son of Ishaq, as Allah says:
فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ
(But We gave her glad tidings of Ishaq, and after Ishaq, of Ya'qub)[11:71]. 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "He asked for one [son], and said,
رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ
("My Lord! Grant me from the righteous.")[37:100] So Allah gave him Ishaq, and gave him Ya'qub in addition.
وَكُلًّا جَعَلْنَا صَالِحِينَ
(Each one We made righteous.) means, both of them were good and righteous people.
وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً
(And We made them leaders,) means, examples to be followed.
يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا
(guiding by Our command,) inviting to Him by His leave. Allah says:
وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ
(and We revealed to them the doing of good deeds, performing Salah, and the giving of Zakah,) Here the general is followed by the specific.
وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ
(and of Us (Alone) they were the worshippers.) means, they did what they enjoined others to do.
The Prophet Lut
Then Allah mentions Lut, whose full name was Lut bin Haran bin Azar. He believed in Ibrahim and followed him, and migrated with him, as Allah says:
فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي
(So Lut believed in him. He (Ibrahim) said: "I will emigrate for the sake of my Lord")(29:26).
Allah gave him wisdom and knowledge; He sent Revelation to him, made him a Prophet and appointed him to Sadum (Sodom) and its vicinity, but they rejected him and resisted him, so Allah utterly destroyed them, as He tells us in several places in His Book. Allah says;
وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَت تَّعْمَلُ الْخَبَائِثَ ۗ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَاسِقِينَ - وَأَدْخَلْنَاهُ فِي رَحْمَتِنَا ۖ إِنَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ
(and We saved him from the town who practised Al-Khaba'ith. Verily, they were a people given to evil, and were rebellious. And We admitted him to Our mercy; truly, he was of the righteous.)
Tafsir Ibn Kathir
ہجرت خلیل ؑ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں آپ کو عراق کی سرزمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔ شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سرزمین ہے۔ یہیں حضرت عیسیٰ ؑ اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب آپ حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ نے ان سے اس قرار پر نکاح کرلیا کہ وہ آپ کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے انہی کا نام حضرت سارہ ہے ؓ۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ حضرت سارہ آپ کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ کے ساتھ ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکہ شریف میں ختم ہوئی مکہ ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت و ہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آجانے والا امن و سلامتی میں آجاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت (فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ ۙ وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) چونکہ خلیل اللہ ؑ کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت (رب ہب لی من الصالحین) اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکو کاربنایا۔ ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنادیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیاں فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے۔ پھر حضرت لوط ؑ کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ حضرت ابراہیم ؑ پر ایمان لائے تھے اور آپ کی تابعداری میں آپ ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت (فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ 26) 29۔ العنکبوت :26) حضرت لوط ؑ آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں، پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فناکردئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں یہاں فرمایا کہ ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَلَّمَهُ اللَّهُ مِنْ نَارِ قَوْمِهِ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ مُهَاجِرًا إِلَى بِلَادِ الشَّامِ، إِلَى الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ مِنْهَا، كَمَا قَالَ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أبي بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِلَى الأرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ﴾ قَالَ: الشَّامُ، وَمَا مِنْ مَاءٍ عَذْبٍ إِلَّا يَخْرُجُ مِنْ تَحْتِ الصَّخْرَةِ.
وَكَذَا قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ أَيْضًا.
وَقَالَ قَتَادَةُ: كَانَ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ، فَأَنْجَاهُ اللَّهُ إِلَى الشَّامِ، [وَكَانَ يُقَالُ لِلشَّامِ: عِمَادُ دَارِ الْهِجْرَةِ، وَمَا نَقَصَ مِنَ الْأَرْضِ زِيدَ فِي الشَّامِ] [[زيادة من ف.]] وَمَا نَقَصَ مِنَ الشَّامِ زِيدَ فِي فِلَسْطِينَ. وَكَانَ يُقَالُ: هِيَ أَرْضُ الْمَحْشَرِ وَالْمَنْشَرِ، وَبِهَا يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَبِهَا يَهْلِكُ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ.
وَقَالَ كَعْبُ الْأَحْبَارِ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِلَى الأرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ﴾ إِلَى حَرَّانَ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: انْطَلَقَ إِبْرَاهِيمُ وَلُوطٌ قِبَل الشَّامِ، فَلَقِيَ إِبْرَاهِيمُ سَارَةَ، وَهِيَ ابْنَةُ مَلِكِ حَرَّانَ، وَقَدْ طَعَنَتْ عَلَى قَوْمِهَا فِي دِينِهِمْ، فَتَزَوَّجَهَا عَلَى أَلَّا يُغَيِّرَهَا.
رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، وَهُوَ غَرِيبٌ [وَالْمَشْهُورُ أَنَّهَا ابْنَةُ عَمِّهِ، وَأَنَّهُ خَرَجَ بِهَا مُهَاجِرًا مِنْ بِلَادِهِ] [[زيادة من ف.]] .
وَقَالَ العَوفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: إِلَى مَكَّةَ؛ أَلَا تَسْمَعُ قَوْلَهُ: ﴿إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ﴾ [آلِ عِمْرَانَ:٩٦] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً﴾ قَالَ عَطَاءٌ، وَمُجَاهِدٌ: عَطِيَّةً.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَقَتَادَةُ، وَالْحَكَمُ بْنُ عُيينة: النَّافِلَةُ وَلَدُ الْوَلَدِ، يَعْنِي: أَنَّ يَعْقُوبَ وَلَدَ إِسْحَاقَ، كَمَا قَالَ: ﴿فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ﴾ [هُودٍ:٧١] .
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: سَأَلَ وَاحِدًا فَقَالَ: ﴿رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ [الصَّافَّاتِ:١٠٠] ، فَأَعْطَاهُ اللَّهُ إِسْحَاقَ وَزَادَهُ يَعْقُوبَ نَافِلَةً.
﴿وَكُلا جَعَلْنَا صَالِحِينَ﴾ أَيِ: الْجَمِيعُ أَهْلُ خَيْرٍ وَصَلَاحٍ، ﴿وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً﴾ أَيْ: يُقْتَدَى بِهِمْ، ﴿يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا﴾ أَيْ: يَدْعُونَ إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ﴾ مِنْ بَابِ عَطْفِ الْخَاصِّ عَلَى الْعَامِّ، ﴿وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ﴾ أَيْ: فَاعِلِينَ لِمَا يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِهِ.
ثُمَّ عَطَفَ بِذِكْرِ لُوطٍ -وَهُوَ لُوطُ بْنُ هَارَانَ بْنِ آزَرَ-كَانَ قَدْ آمَنَ بِإِبْرَاهِيمَ، وَاتَّبَعَهُ، وَهَاجَرَ مَعَهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَى رَبِّي﴾ [الْعَنْكَبُوتِ:٢٦] ، فَآتَاهُ اللَّهُ حُكْمًا وَعِلْمًا، وَأَوْحَى إِلَيْهِ، وَجَعَلَهُ نَبِيًّا، وَبَعَثَهُ إِلَى سَدُومَ وَأَعْمَالِهَا، فَخَالَفُوهُ وَكَذَّبُوهُ، فَأَهْلَكَهُمُ اللَّهُ ودَمَّر عَلَيْهِمْ، كَمَا قَصَّ خَبَرَهُمْ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كِتَابِهِ الْعَزِيزِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ تَعْمَلُ الْخَبَائِثَ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَاسِقِينَ * وَأَدْخَلْنَاهُ فِي رَحْمَتِنَا إِنَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ .
وَنُوحًا إِذْ نَادَىٰ مِن قَبْلُ فَٱسْتَجَبْنَا لَهُۥ فَنَجَّيْنَٰهُ وَأَهْلَهُۥ مِنَ ٱلْكَرْبِ ٱلْعَظِيمِ
And [mention] Noah, when he called [to Allah] before [that time], so We responded to him and saved him and his family from the great flood.
اور نوح (کا قصہ بھی یاد کرو) جب (اس سے) پیشتر انہوں نے ہم کو پکارا تو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بڑی گھبراہٹ سے نجات دی
و نوح را (به یاد آور) هنگامی که پیش از آن (زمان، پروردگار خود را) خواند! ما دعای او را مستجاب کردیم؛ و او و خاندانش را از اندوه بزرگ نجات دادیم؛
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Nuh, when he cried (to Us) aforetime. We answered to his invocation and saved him and his family from the great distress (76)We helped him against the people who denied Our Ayat. Verily, they were a people given to evil. So We drowned them all (77)
Nuh and His People
Allah tells us how He responded to His servant and Messenger Nuh, peace be upon him, when he prayed to Him against his people for their disbelief in him:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ
(Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!")(54:10)
وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا - إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا
(And Nuh said: "My Lord! Leave not any inhabitant of the disbelievers on the earth! If You leave them, they will mislead Your servants, and they will beget none but wicked disbelievers)(71:26-27). So Allah says here,
إِذْ نَادَىٰ مِن قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ
(And (remember) Nuh, when he cried (to Us) aforetime. We answered to his invocation and saved him and his family) meaning, those who believed with him, as Allah says elsewhere:
وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ ۚ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ
(...and your family – except him against whom the Word has already gone forth – and those who believe. And none believed with him, except a few)[11: 40].
مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ
(from the great distress.) meaning, from difficulty, rejection and harm. For he remained among them for one thousand years less fifty, calling them to Allah, and no one had believed in him except for a few. His people were plotting against him and advising one another century after century, generation after generation, to oppose him.
وَنَصَرْنَاهُ مِنَ الْقَوْمِ
(We helped him against the people) means, 'We saved him and helped him against the people,'
الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَأَغْرَقْنَاهُمْ أَجْمَعِينَ
(who denied Our Ayat. Verily, they were a people given to evil. So We drowned them all.) meaning, Allah drowned them all, and not one of them was left on the face of the earth, as their Prophet had prayed would happen to them.
Tafsir Ibn Kathir
نوح ؑ کی دعا نوح نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کو ان کی قوم نے ستایا تکلیفیں دیں تو آپ نے اللہ کو پکارا کہ باری تعالیٰ میں عاجز آگیا ہوں تو میری مدد فرما۔ زمین پر ان کافروں میں کسی ایک کو بھی باقی نہ رکھ ورنہ یہ تیرے بندوں کو بہکائیں گے۔ اور ان کی اولادیں بھی ایسی ہی فاجر کافر ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی دعا قبول فرمائی اور آپ کو اور مومنوں کو نجات دی اور آپ کے اہل کو بھی سوائے ان کے جن کے نام برباد ہونے والوں میں آگئے تھے۔ آپ پر ایمان لانے والوں کی بہت ہی کم مقدار تھی۔ قوم کی سختی، ایذاء دہی، اور تکلیف سے اللہ عالم نے اپنے نبی کو بچالیا۔ ساڑھے نوسو سال تک آپ ان میں رہے اور انہیں دین اسلام کی طرف بلاتے رہے مگر سوائے چند لوگوں کے اور سب اپنے شرک وکفر سے باز نہ آئے بلکہ آپ کو سخت ایذائیں دیں اور ایک دوسرے کو اذیت دینے کے لیے بھڑکاتے رہے۔ ہم نے ان کی مدد فرمائی اور عزت آبرو کے ساتھ کفار کی ایذاء رسانیوں سے چھٹکارا دیا اور ان برے لوگوں کو ٹھکانے لگادیا۔ اور نوح ؑ کی دعا کے مطابق روئے زمین پر ایک بھی کافر نہ بچا سب ڈبودئے گئے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنِ اسْتِجَابَتِهِ لِعَبْدِهِ وَرَسُولِهِ نُوحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، حِينَ دَعَا عَلَى قَوْمِهِ لَمَّا كَذَّبُوهُ: ﴿فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ﴾ [القمر:١٠] ، ﴿وَقَالَ نُوحٌ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الأرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا. إِنَّكَ إِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلا يَلِدُوا إِلا فَاجِرًا كَفَّارًا﴾ [نُوحٍ:٢٦، ٢٧] ، وَلِهَذَا قَالَ هَاهُنَا: ﴿إِذْ نَادَى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَنَجَّيْنَاهُ [[في ف، أ: "ونجيناه".]] وَأَهْلَهُ﴾ أَيِ: الَّذِينَ آمَنُوا بِهِ كَمَا قَالَ: ﴿وَأَهْلَكَ إِلا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلا قَلِيلٌ﴾ [هُودٍ:٤٠] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ﴾ أَيْ: مِنَ الشِّدَّةِ وَالتَّكْذِيبِ وَالْأَذَى، فَإِنَّهُ لَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَمْ يُؤْمِنْ بِهِ مِنْهُمْ إِلَّا الْقَلِيلُ، وَكَانُوا يَقْصِدُونَ لِأَذَاهُ [[في ف: أذاه".]] وَيَتَوَاصَوْنَ قَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ، وَجِيلًا بَعْدَ جِيلٍ عَلَى خِلَافِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَنَصَرْنَاهُ مِنَ الْقَوْمِ﴾ أَيْ: وَنَجَّيْنَاهُ وَخَلَّصْنَاهُ مُنْتَصِرًا مِنَ الْقَوْمِ ﴿الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَأَغْرَقْنَاهُمْ أَجْمَعِينَ﴾ أَيْ: أَهْلَكَهُمُ اللَّهُ بِعَامَّةٍ، وَلَمْ يُبْقِ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ منهم أحدًا؛ إذ [[في ف: "كما".]] دعا عليهم نبيهم.
وَنَصَرْنَٰهُ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمَ سَوْءٍۢ فَأَغْرَقْنَٰهُمْ أَجْمَعِينَ
And We saved him from the people who denied Our signs. Indeed, they were a people of evil, so We drowned them, all together.
اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے ان پر نصرت بخشی۔ وہ بےشک برے لوگ تھے سو ہم نے ان سب کو غرق کردیا
و او را در برابر جمعیّتی که آیات ما را تکذیب کرده بودند یاری دادیم؛ چرا که قوم بدی بودند؛ از این رو همه آنها را غرق کردیم!
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Nuh, when he cried (to Us) aforetime. We answered to his invocation and saved him and his family from the great distress (76)We helped him against the people who denied Our Ayat. Verily, they were a people given to evil. So We drowned them all (77)
Nuh and His People
Allah tells us how He responded to His servant and Messenger Nuh, peace be upon him, when he prayed to Him against his people for their disbelief in him:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ
(Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!")(54:10)
وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا - إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا
(And Nuh said: "My Lord! Leave not any inhabitant of the disbelievers on the earth! If You leave them, they will mislead Your servants, and they will beget none but wicked disbelievers)(71:26-27). So Allah says here,
إِذْ نَادَىٰ مِن قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ
(And (remember) Nuh, when he cried (to Us) aforetime. We answered to his invocation and saved him and his family) meaning, those who believed with him, as Allah says elsewhere:
وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ ۚ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ
(...and your family – except him against whom the Word has already gone forth – and those who believe. And none believed with him, except a few)[11: 40].
مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ
(from the great distress.) meaning, from difficulty, rejection and harm. For he remained among them for one thousand years less fifty, calling them to Allah, and no one had believed in him except for a few. His people were plotting against him and advising one another century after century, generation after generation, to oppose him.
وَنَصَرْنَاهُ مِنَ الْقَوْمِ
(We helped him against the people) means, 'We saved him and helped him against the people,'
الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَأَغْرَقْنَاهُمْ أَجْمَعِينَ
(who denied Our Ayat. Verily, they were a people given to evil. So We drowned them all.) meaning, Allah drowned them all, and not one of them was left on the face of the earth, as their Prophet had prayed would happen to them.
Tafsir Ibn Kathir
نوح ؑ کی دعا نوح نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کو ان کی قوم نے ستایا تکلیفیں دیں تو آپ نے اللہ کو پکارا کہ باری تعالیٰ میں عاجز آگیا ہوں تو میری مدد فرما۔ زمین پر ان کافروں میں کسی ایک کو بھی باقی نہ رکھ ورنہ یہ تیرے بندوں کو بہکائیں گے۔ اور ان کی اولادیں بھی ایسی ہی فاجر کافر ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی دعا قبول فرمائی اور آپ کو اور مومنوں کو نجات دی اور آپ کے اہل کو بھی سوائے ان کے جن کے نام برباد ہونے والوں میں آگئے تھے۔ آپ پر ایمان لانے والوں کی بہت ہی کم مقدار تھی۔ قوم کی سختی، ایذاء دہی، اور تکلیف سے اللہ عالم نے اپنے نبی کو بچالیا۔ ساڑھے نوسو سال تک آپ ان میں رہے اور انہیں دین اسلام کی طرف بلاتے رہے مگر سوائے چند لوگوں کے اور سب اپنے شرک وکفر سے باز نہ آئے بلکہ آپ کو سخت ایذائیں دیں اور ایک دوسرے کو اذیت دینے کے لیے بھڑکاتے رہے۔ ہم نے ان کی مدد فرمائی اور عزت آبرو کے ساتھ کفار کی ایذاء رسانیوں سے چھٹکارا دیا اور ان برے لوگوں کو ٹھکانے لگادیا۔ اور نوح ؑ کی دعا کے مطابق روئے زمین پر ایک بھی کافر نہ بچا سب ڈبودئے گئے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنِ اسْتِجَابَتِهِ لِعَبْدِهِ وَرَسُولِهِ نُوحٍ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، حِينَ دَعَا عَلَى قَوْمِهِ لَمَّا كَذَّبُوهُ: ﴿فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ﴾ [القمر:١٠] ، ﴿وَقَالَ نُوحٌ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الأرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا. إِنَّكَ إِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلا يَلِدُوا إِلا فَاجِرًا كَفَّارًا﴾ [نُوحٍ:٢٦، ٢٧] ، وَلِهَذَا قَالَ هَاهُنَا: ﴿إِذْ نَادَى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَنَجَّيْنَاهُ [[في ف، أ: "ونجيناه".]] وَأَهْلَهُ﴾ أَيِ: الَّذِينَ آمَنُوا بِهِ كَمَا قَالَ: ﴿وَأَهْلَكَ إِلا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلا قَلِيلٌ﴾ [هُودٍ:٤٠] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ﴾ أَيْ: مِنَ الشِّدَّةِ وَالتَّكْذِيبِ وَالْأَذَى، فَإِنَّهُ لَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَمْ يُؤْمِنْ بِهِ مِنْهُمْ إِلَّا الْقَلِيلُ، وَكَانُوا يَقْصِدُونَ لِأَذَاهُ [[في ف: أذاه".]] وَيَتَوَاصَوْنَ قَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ، وَجِيلًا بَعْدَ جِيلٍ عَلَى خِلَافِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَنَصَرْنَاهُ مِنَ الْقَوْمِ﴾ أَيْ: وَنَجَّيْنَاهُ وَخَلَّصْنَاهُ مُنْتَصِرًا مِنَ الْقَوْمِ ﴿الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَأَغْرَقْنَاهُمْ أَجْمَعِينَ﴾ أَيْ: أَهْلَكَهُمُ اللَّهُ بِعَامَّةٍ، وَلَمْ يُبْقِ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ منهم أحدًا؛ إذ [[في ف: "كما".]] دعا عليهم نبيهم.
وَدَاوُۥدَ وَسُلَيْمَٰنَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِى ٱلْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ ٱلْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَٰهِدِينَ
And [mention] David and Solomon, when they judged concerning the field - when the sheep of a people overran it [at night], and We were witness to their judgement.
اور داؤد اور سلیمان (کا حال بھی سن لو کہ) جب وہ ایک کھیتی کا مقدمہ فیصلہ کرنے لگے جس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو چر گئی (اور اسے روند گئی) تھیں اور ہم ان کے فیصلے کے وقت موجود تھے
و داوود و سلیمان را (به خاطر بیاور) هنگامی که درباره کشتزاری که گوسفندان بی شبان قوم، شبانگاه در آن چریده (و آن را تباه کرده) بودند، داوری میکردند؛ و ما بر حکم آنان شاهد بودیم.
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Dawud and Sulayman, when they gave judgement in the case of the field in which the sheep of certain people had Nafashat; and We were witness to their judgement (78)And We made Sulayman to understand (the case); and to each of them We gave wisdom (Hukm) and knowledge. And We subjected the mountains and the birds to glorify Our praises along with Dawud. And it was We Who were the doer (of all these things)(79)And We taught him the making of metal coats of mail (for battles), to protect you in your fighting. Are you then grateful (80)And to Sulayman (We subjected) the wind strongly raging, running by his command towards the land which We had blessed. And of everything We are the All-Knower (81)And of the Shayatin were some who dived for him, and did other work besides that; and it was We Who guarded them (82)
Dawud and Sulayman and the Signs which They were given; the Story of the People whose Sheep pastured at Night in the Field
(Abu) Ishaq narrated from Murrah from Ibn Mas'ud: "That crop was grapes, bunches of which were dangling." This was also the view of Shurayh. Ibn 'Abbas said: "Nafash means grazing." Shurayh, Az-Zuhri and Qatadah said: "Nafash only happens at night." Qatadah added, "[and] Al-Haml is grazing during the day."
وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ
(And (remember) Dawud and Sulayman, when they gave judgement in the case of the field in which the sheep of certain people had pastured at night;)
Ibn Jarir recorded that Ibn Mas'ud said: "Grapes which had grown and their bunches were spoiled by the sheep. Dawud (David) ruled that the owner of the grapes should keep the sheep. Sulayman (Solomon) said, 'Not like this, O Prophet of Allah!' [Dawud] said, 'How then' [Sulayman] said: 'Give the grapes to the owner of the sheep and let him tend them until they grow back as they were, and give the sheep to the owner of the grapes and let him benefit from them until the grapes have grown back as they were. Then the grapes should be given back to their owner, and the sheep should be given back to their owner.' This is what Allah said:
فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ
(And We made Sulayman to understand (the case).)" This was also reported by Al-'Awfi from Ibn 'Abbas.
فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ ۚ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا
(And We made Sulayman to understand (the case); and to each of them We gave wisdom and knowledge.)
Ibn Abi Hatim recorded that when Iyas bin Mu'awiyah was appointed as a judge, Al-Hasan came to him and found Iyas weeping. [Al-Hasan] said, "Why are you weeping?" [Iyas] said, "O Abu Sa'id, What I heard about judges among them a judge is he, who studies a case and his judgment is wrong, so he will go to Hell; another judge is he who is biased because of his own whims and desires, so he will go to Hell; and the other judge he who studies a case and gives the right judgement, so he will go to Paradise." Al-Hasan Al-Basari said: "But what Allah tells us about Dawud and Sulayman (peace be upon them both) and the Prophets and whatever judgements they made proves that what these people said is wrong. Allah says:
وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ
(And (remember) Dawud and Sulayman, when they gave judgement in the case of the field in which the sheep of certain people had pastured at night; and We were witness to their judgement.) Allah praised Sulayman but He did not condemn Dawud." Then he – Al-Hasan – said, "Allah enjoins three things upon the judges: not to sell thereby for some miserable price; not to follow their own whims and desires; and not to fear anyone concerning their judgements. " Then he recited:
يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(O Dawud! Verily, We have placed you as a successor on the earth; so judge you between men in truth and follow not your desire – for it will mislead you from the path of Allah.)[38:26]
فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ
(Therefore fear not men but fear Me)(5:44)
وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا
(and sell not My Ayat for a miserable price.)[5:44] I say: with regard to the Prophets (peace be upon them all), all of them were infallible and supported by Allah. With regard to others, it is recorded in Sahih Al-Bukhari from 'Amir bin Al-'As that the Messenger of Allah ﷺ said:
إِذَا اجْتَهَدَ الْحَاكِمُ فَأَصَابَ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ، فَلَهُ أَجْرٌ
(If the judge does his best, studies the case and reaches the right conclusion, he will have two rewards. If he does his best, studies the case and reaches the wrong conclusion, he will have one reward.)
This Hadith refutes the idea of Iyas, who thought that if he did his best, studied the case and reached the wrong conclusion, he would go to Hell. And Allah knows best.
Similar to story in the Qur'an is the report recorded by Imam Ahmad in his Musnad from Abu Hurayrah, who said that the Messenger of Allah ﷺ said:
بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَانِ لَهُمَا، إِذْ جَاءَ الذِّئْبُ فَأَخَذَ أَحَدَ الْابْنَيْنِ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا فَدَعَاهُمَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ: هَاتُوا السِّكِّينَ أَشُقُّهُ بَيْنَكُمَا: فَقَالَتِ الصُّغْرَى: يَرْحَمُكَ اللهُ هُوَ ابْنُهَا لَا تَشُقَّهُ، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى
(There were two women who each had a son. The wolf came and took one of the children, and they referred their dispute to Dawud. He ruled that the (remaining) child belonged to the older woman. They left, then Sulayman called them and said, "Give me a sword and I will divide him between the two of you." The younger woman said, "May Allah have mercy on you! He is her child, do not cut him up!" So he ruled that the child belonged to the younger woman).
This was also recorded by Al-Bukhari and Muslim in their Sahihs. An-Nasa'i also devoted a chapter to this in the Book of Judgements.
وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُودَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ
(And We subjected the mountains and the birds to glorify Our praises along with Dawud.)
This refers to the beauty of his voice when he recited his Book, Az-Zabur. When he recited it in a beautiful manner, the birds would stop and hover in the air, and would repeat after him, and the mountains would respond and echo his words. The Prophet ﷺ passed by Abu Musa Al-Ash'ari while he was reciting Qur'an at night, and he had a very beautiful voice, he stopped and listened to his recitation, and said:
لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
(This man has been given one of the wind instruments (nice voices) of the family of Dawud.) He said: "O Messenger of Allah, if I had known that you were listening, I would have done my best for you."
وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُم مِّن بَأْسِكُمْ
(And We taught him the making of metal coats of mail, to protect you in your fighting.) meaning, the manufacture of chain-armor. Qatadah said that before that, they used to wear plated armor; he was the first one to make rings of chain-armor. This is like the Ayah:
وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ - أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ
(And We made the iron soft for him. Saying: "Make you perfect coats of mail, and balance well the rings of chain armor.")(34:10-11), meaning, do not make the pegs so loose that the rings (of chain mail) will shake, or make it so tight that they will not be able to move at all. Allah says:
لِتُحْصِنَكُم مِّن بَأْسِكُمْ
(to protect you in your fighting.) meaning, in your battles.
فَهَلْ أَنتُمْ شَاكِرُونَ
(Are you then grateful?) means, 'Allah blessed you when He inspired His servant Dawud and taught him that for your sake.'
The Power of Sulayman is unparalleled
وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً
(And to Sulayman (We subjected) the wind strongly raging,) means, 'We subjugated the strong wind to Sulayman.'
تَجْرِي بِأَمْرِهِ إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا
(running by his command towards the land which We had blessed.) meaning, the land of Ash-Sham (Greater Syria).
وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عَالِمِينَ
(And of everything We are the All-Knower.) He had a mat made of wood on which he would place all the equipment of his kingship; horses, camels, tents and troops, then he would command the wind to carry it, and he would go underneath it and it would carry him aloft, shading him and protecting him from the heat, until it reached wherever he wanted to go in the land. Then it would come down and deposit his equipment and entourage. Allah says:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ
(So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order whithersoever he willed.)(38:36)
غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ
(its morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's)(34:12)
وَمِنَ الشَّيَاطِينِ مَن يَغُوصُونَ لَهُ
(And of the Shayatin were some who dived for him,) means, they dived into the water to retrieve pearls, jewels, etc., for him.
وَيَعْمَلُونَ عَمَلًا دُونَ ذَٰلِكَ
(and did other work besides that;) This is like the Ayah:
وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ - وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also the Shayatin, every kind of builder and diver. And also others bound in fetters.)(38:37-38).
وَكُنَّا لَهُمْ حَافِظِينَ
(and it was We Who guarded them.) means, Allah protected him lest any of these Shayatin did him any harm. All of them were subject to his control and domination, and none of them would have dared to approach him. He was in charge of them and if he wanted, he could set free or detain whomever among them he wished. Allah says:
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also others bound in fetters.)(38:38)
Tafsir Ibn Kathir
ایک ہی مقدمہ میں داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کے مختلف فیصلے۔ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں یہ کھیتی انگور کی تھی جس کے خوشے لٹک رہے تھے نفشت کے معنی ہیں رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے۔ اور دن کے وقت چرنے کو عربی میں ہمل کہتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اس باغ کو بکریوں نے بگاڑ دیا، حضرت داؤد ؑ نے یہ فیصلہ کیا کہ باغ کے نقصان کے بدلے یہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں۔ حضرت سلیمان ؑ نے یہ فیصلہ سن کر عرض کی کہ اے اللہ کے نبی ؑ اس کے سوا بھی فیصلے کی کوئی صورت ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ کیا ؟ جواب دیا کہ بکریاں باغ والے کے حوالے کردی جائیں وہ ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور باغ بکری والے کو دے دیا جائے یہ اس میں انگور کی بیلوں کی خدمت کرے یہاں تک کہ بیلیں ٹھیک ٹھاک ہوجائیں انگور لگیں اور پھر اسی حالت پر آجائیں جس پر تھے تو باغ والے کو اس کا باغ سونپ دے اور باغ والا اسے اس کی بکریاں سونپ دے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ ہم نے اس جھگڑے کا صحیح فیصلہ حضرت سلیمان ؑ کو سمجھا دیا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں حضرت داؤد ؑ کا یہ فیصلہ سن کر بکریوں والے اپنا سا منہ لے کر صرف کتوں کو اپنے ساتھ لئے ہوئے واپس جا رہے تھے حضرت سلیمان ؑ نے انہیں دیکھ کر دریافت کیا کہ تمہارا فیصلہ کیا ہوا ؟ انہوں نے خبردی تو آپ نے فرمایا اگر میں اس جگہ ہوتا تو یہ فیصلہ نہ دیتا بلکہ کچھ اور فیصلہ کرتا حضرت داؤد ؑ کو جب یہ بات پہنچی تو آپ نے انہیں بلوایا اور پوچھا کہ بیٹے تم کیا فیصلہ کرتے ؟ آپ نے وہی اوپر والا فیصلہ سنایا۔ حضرت مسروق ؒ فرماتے ہیں ان بکریوں نے خوشے اور پتے سب کھالئے تھے۔ تو حضرت داؤد ؑ کے فیصلے کے خلاف حضرت سلیمان ؑ نے فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کی بکریاں باغ والوں کو دے دی جائیں اور یہ باغ انہیں سونپا جائے جب تک باغ اپنی اصلی حالت پر آئے تب تک بکریوں کے بچے اور ان کا دودھ اور ان کا کل نفع باغ والوں کا۔ پھر ہر ایک کو ان کی چیز سونپ دی جائے۔ قاضی شریح ؒ کے پاس بھی ایک ایسا ہی جھگڑا آیا تو آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر دن کو بکریوں نے نقصان پہنچایا ہے تب تو کوئی معاوضہ نہیں۔ اور اگر رات کو نقصان پہنچایا ہے تو بکریوں والے ضامن ہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضرت برا بن عازب ؓ کی اونٹنی کسی باغ میں چلی گئی اور وہاں باغ کا بڑا نقصان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ باغ والوں پر دن کے وقت باغ کی حفاظت ہے اور جو نقصان جانوروں سے رات کو ہو اس کا جرمانہ جانور والوں پر ہے اس حدیث میں علتیں نکالی گئی ہیں اور ہم نے کتاب الاحکام میں اللہ کے فضل سے اس کی پوری تفصیل بیان کردی ہے۔ مروی ہے کہ حضرت ایاس بن معاویہ ؒ سے جب کہ قاضی بننے کی درخواست کی گئی تو وہ حسن ؒ کے پاس آئے اور روئے۔ پوچھا گیا کہ ابو سعید آپ کیوں روتے ہیں ؟ فرمایا مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ اگر قاضی نے اجتہاد کیا پھر غلطی کی وہ جہنمی ہے اور جو خواہش نفس کی طرف جھک گیا وہ بھی جہنمی ہے ہاں جس نے اجتہاد کیا اور صحت پر پہنچ گیا وہ جنت میں پہنچا۔ حضرت حسن یہ سن کر فرمانے لگے سنو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ اور حضرت سلیمان ؑ کی قضاۃ کا ذکر فرمایا ہے ظاہر ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اعلیٰ منصب پر ہوتے ہیں، ان کے قول سے ان لوگوں کی باتیں رد ہوسکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کی تعریف تو بیان فرمائی ہے لیکن حضرت داؤد ؑ کی مذمت بیان نہیں فرمائی۔ پھر فرمانے لگے سنو تین باتوں کا عہد اللہ تعالیٰ نے قاضیوں سے لیا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ منصفین شرع دینوی نفع کی وجہ سے بدل نہ دیں، دوسرے یہ کہ اپنے دلی ارادوں اور خواہشوں کے پیچھے نہ پڑجائیں، تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاس بالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ 26) 38۔ ص :26) یعنی اے داؤد ہم نے تجھے زمین کا خلیفہ بنایا ہے تو لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلے کرتا رہ خواہش کے پیچے نہ پڑ کہ اللہ کی راہ سے بہک جائے۔ اور ارشاد ہے آیت (فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ 44) 5۔ المآئدہ :44) لوگوں سے نہ ڈرو مجھی سے ڈرتے رہا کرو اور فرمان ہے آیت (وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا وَاِيَّاىَ فَاتَّقُوْنِ 41) 2۔ البقرة :41) میری آیتوں کو معمولی نفع کی خاطر بیچ نہ دیا کرو۔ میں کہتا ہوں انبیاء (علیہم السلام) کی معصومیت میں اور ان کی منجانب اللہ ہر وقت تائید ہوتے رہنے میں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ رہے اور لوگ تو صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب حاکم اجتہاد اور کوشش کرے پھر صحت تک بھی پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور جب پوری کوشش کے بعد بھی غلطی کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے۔ یہ حدیث صاف بتلا رہی ہے کہ حضرت ایاس ؒ کو جو وہم تھا کہ باوجود پوری جدوجہد کے بھی خطا کرجائے تو دوزخی ہے یہ غلط ہے، واللہ اعلم۔ سنن کی اور حدیث میں ہے قاضی تین قسم کے ہیں ایک جنتی دو جہنمی اور جس نے حق کو معلوم کرلیا اور اسی سے فیصلہ کیا وہ جنتی۔ اور جس نے جہالت کے ساتھ فیصلہ کیا وہ جہنمی اور جسنے حق کو جانتے ہوئے اس کے خلاف فیصلہ دیا وہ بھی جہنمی۔ قرآن کریم کے بیان کردہ اس واقعے کے قریب ہی وہ قصہ ہے جو مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دو عورتیں تھیں جن کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے بھیڑیا آکر ایک بچے کو اٹھا لے گیا اب ہر ایک دوسری سے کہنے لگی کہ تیرا بچہ گیا اور جو ہے وہ میرا بچہ ہے۔ آخر یہ قصہ حضرت داؤد ؑ کے سامنے پیش ہوا۔ آپ نے بڑی عورت کو ڈگری دے دی کہ یہ بچہ تیرا ہے یہ یہاں سے نکلیں راستے میں حضرت سلیمان ؑ تھے آپ نے دونوں کو بلایا اور فرمایا چھری لاؤ میں اس لڑکے کے دو ٹکڑے کرکے آدھا آدھا دونوں کو دے دیتا ہوں اس پر بڑی تو خاموش ہوگئی لیکن چھوٹی نے ہائے واویلا شروع کردیا کہ اللہ آپ پر رحم کرے آپ ایسا نہ کیجئے یہ لڑکا اسی بڑی کا ہے اسی کو دے دیجئے۔ حضرت سلیمان ؑ معاملے کو سمجھ گئے اور لڑکا چھوٹی عورت کو دلادیا۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے امام نسائی ؒ نے اس پر باب باندھا ہے کہ حاکم کو جائز ہے کہ اپنا فیصلہ اپنے دل میں رکھ کر حقیقت کو معلوم کرنے کے لئے اس کے خلاف کچھ کہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ابن عساکر میں ہے کہ ایک خوبصورت عورت سے ایک رئیس نے ملنا چاہا لیکن عورت نے نہ مانا اسی طرح تین اور شخصوں نے بھی اس سے بدکاری کا ارادہ کیا لیکن وہ باز رہی۔ اس پر وہ رؤسا خار کھا گئے اور آپس میں اتفاق کرکے حضرت داؤد ؑ کی عدالت میں جاکر سب نے گواہی دی کہ وہ عورت اپنے کتے سے ایسا کام کرتی ہے چاروں کے متفقہ بیان پر حکم ہوگیا کہ اسے رجم کردیا جائے۔ اسی شام کو حضرت سلیمان ؑ اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر خود حاکم بنے اور چار لڑکے ان لوگوں کی طرح آپ کے پاس اس مقدمے کو لائے اور ایک عورت کی نسبت یہی کہا۔ حضرت سلیمان ؑ نے حکم دیا ان چاروں کو الگ الگ کردو۔ پھر ایک کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا کہ اس کتے کا رنگ کیسا تھا ؟ اس نے کہا سیاہ۔ پھر دوسرے کو تنہا بلایا اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سرخ۔ تیسرے نے کہا خاکی۔ چوتھے نے کہا سفید آپ نے اسی وقت فیصلہ دیا کہ عورت پر یہ نری تہمت ہے اور ان چاروں کو قتل کردیا جائے۔ حضرت داؤد ؑ کے پاس بھی یہ واقعہ بیان کیا گیا۔ آپ نے اسی وقت فی الفور ان چاروں امیروں کو بلایا اور اسی طرح الگ الگ ان سے اس کتے کا رنگ کی بابت سوال کیا۔ یہ گڑبڑا گئے کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ کہا۔ آپ کو ان کا جھوٹ معلوم ہوگیا اور حکم فرمایا کہ انہیں قتل کردیا جائے۔ پھر بیان ہو رہا ہے کہ حضرت داؤد ؑ کو وہ نورانی گلا عطا فرمایا گیا تھا اور آپ ایسی خوش آوازی اور خلوص کے ساتھ زبور پڑھتے تھے کہ پرند بھی اپنی پرواز چھوڑ کر تھم جاتے تھے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے لگتے تھے اسی طرح پہاڑ بھی۔ ایک روایت میں ہے کہ رات کے وقت حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ تلاوت قرآن کریم کررہے تھے رسول اللہ ﷺ ان کی میٹھی رسیلی اور خلوص بھری آواز سن کر ٹھہر گئے اور دیر تک سنتے رہے پھر فرمانے لگے یہ تو آل داؤد کی آوازوں کی شیرینی دیئے گئے ہیں۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کو جب معلوم ہوا تو فرمانے لگے کہ یارسول اللہ ﷺ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ حضور ﷺ میری قرأت سن رہے ہیں تو میں اور بھی اچھی طرح پڑھتا۔ حضرت ابو عثمان نہدی ؓ فرماتے ہیں میں نے تو کسی بہتر سے بہتر باجے کی آواز میں بھی وہ مزہ نہیں پایا جو حضرت موسیٰ اشعری ؓ کی آواز میں تھا۔ پس اتنی خوش آوازی کو حضور ﷺ نے حضرت داؤد ؑ کی خوش آوازی کا ایک حصہ قرار دیا۔ اب سمجھ لیجئے کہ خود داؤد ؑ کی آواز کیسی ہوگی ؟ پھر اپنا ایک اور احسان بتاتا ہے کہ حضرت داؤد ؑ کو زرہیں بنانی ہم نے سکھا دی تھیں۔ آپ کے زمانے سے پہلے بغیر کنڈلوں اور بغیر حلقوں کی زرہ بنتی تھیں۔ کنڈلوں دار اور حلقوں والی زرہیں آپ نے ہی بنائیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ہم نے حضرت داؤد ؑ کے لئے لوہے کو نرم کردیا تھا کہ وہ بہترین زرہ تیار کریں اور ٹھیک انداز سے ان میں حلقے بنائیں۔ یہ زرہیں میدان جنگ میں کام آتی تھیں۔ پس یہ نعمت وہ تھی جس پر لوگوں کو اللہ کی شکرگزاری کرنی چاہے۔ ہم نے زورآور ہوا کو حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا تھا جو انہیں ان کے فرمان کے مطابق برکت والی زمین یعنی ملک شام میں پہنچا دیتی تھی۔ ہمیں ہر چیز کا علم ہے۔ آپ اپنے تخت پر مع اپنے لاؤ لشکر اور سامان اسباب کے بیٹھ جاتے تھے۔ پھر جہان جانا چاہتے ہوا آپ کو آپ کے فرمان کے مطابق گھڑی بھر میں وہاں پہنچا دیتی۔ تخت کے اوپر سے پرند پر کھولے آپ پر سایہ ڈالتے جیسے فرمان ہے آیت (فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيْحَ تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖ رُخَاۗءً حَيْثُ اَصَابَ 36ۙ) 38۔ ص :36) یعنی ہم نے ہوا کو ان کا تابع کردیا کہ جہان پہنچنا چاہتے ان کے حکم کے مطابق اسی طرف نرمی سے لے چلتی۔ صبح شام مہینہ مہینہ بھر کی راہ کو طے کرلیتی۔ حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں کہ چھ ہزار کرسی لگائی جاتی۔ آپ کے قریب مومن انسان بیٹھتے ان کے پیچھے مومن جن ہوتے۔ پھر آپ کے حکم سے سب پر پرند سایہ کرتے پھر حکم کرتے تو ہوا آپ کو لے چلتی۔ عبداللہ بن عبید بن عمیر ؒ فرماتے ہیں حضرت سلیمان ؑ کو حکم دیتے وہ مثل بڑے تودے کے جمع ہوجاتی گویا پہاڑ ہے پھر اس کے سب سے بلند مکان پر فرش افروز ہونے کا حکم دیتے پھر پہردار گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے فرش پر چڑھ جاتے پھر ہوا کو حکم دیتے وہ آپ کو بلندی پر لے جاتی آپ اس وقت سرنیچا کرلیتے دائیں بائیں بالکل نہ دیکھتے اس میں آپ کی تواضع اور اللہ کی شکر گزاری مقصود ہوتی تھی۔ کیونکہ آپ کو اپنی فروتنی کا علم تھا۔ پھر جہاں آپ حکم دیتے وہیں ہوا آپ کو اتار دیتی۔ اسی طرح سرکش جنات بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کے قبضے میں کردیئے تھے جو سمندروں میں غوطے لگا کرموتی اور جواہر وغیرہ نکال لایا کرتے تھے اور بھی بہت سے کام کاج کرتے تھے جیسے فرمان ہے آیت (وَالشَّيٰطِيْنَ كُلَّ بَنَّاۗءٍ وَّغَوَّاصٍ 37ۙ) 38۔ ص :37) ہم نے سرکش جنوں کو ان کا ماتحت کردیا تھا جو معمار تھے اور غوطہ خور۔ اور ان کے علاوہ اور شیاطین بھی ان کے ماتحت تھے جو زنجیروں میں بندھے رہتے تھے اور ہم ہی سلیمان کے حافظ ونگہبان تھے کوئی شیطان انہیں برائی نہ پہنچا سکتا تھا بلکہ سب کے سب ان کے ماتحت فرماں بردار اور تابع تھے کوئی ان کے قریب بھی نہ پھٹک سکتا تھا کی آپ کی حکمرانی ان پر چلتی تھی جسے چاہتے قید کرلیتے جسے چاہتے آزاد کردیتے اسی کو فرمایا کہ اور جنات تھے جو جکڑے رہا کرتے تھے۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُرّة، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: كَانَ ذَلِكَ الْحَرْثُ كَرْمًا قَدْ نَبَتَتْ عَنَاقِيدُهُ. وَكَذَا قَالَ شُرَيْح.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: النَّفْشُ: الرَّعْيُ.
وَقَالَ شُرَيح، وَالزُّهْرِيُّ، وَقَتَادَةُ: النَّفْشُ بِاللَّيْلِ. زَادَ قَتَادَةُ: والهَمْلُ بِالنَّهَارِ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب وَهَارُونُ بْنُ إدريسَ الْأَصَمُّ قَالَا حدثنا المحاربي، عن أشعت، عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُرّة، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ قَالَ: كَرْمٌ قَدْ أَنْبَتَتْ عَنَاقِيدُهُ، فَأَفْسَدَتْهُ. قَالَ: فَقَضَى دَاوُدُ بالغَنَم لِصَاحِبِ الكَرْم، فَقَالَ سُلَيْمَانُ: غيرُ هَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ! قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: تَدْفَعُ الْكَرْمَ إِلَى صَاحِبِ الْغَنَمِ، فَيَقُومُ عَلَيْهِ حَتَّى يَعُودَ كَمَا كَانَ، وَتَدْفَعُ الْغَنَمَ إِلَى صَاحِبِ الْكَرْمِ فيُصيب مِنْهَا حَتَّى إِذَا كَانَ الْكَرْمُ كَمَا كَانَ دَفَعْتَ الْكَرْمَ إِلَى صَاحِبِهِ، وَدَفَعْتَ الْغَنَمَ إِلَى صَاحِبِهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ﴾ .
وَهَكَذَا رَوَى العَوْفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا [[في ف: "حدثني".]] خَلِيفَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَحَكَمَ [[في ف، أ: "قضى".]] دَاوُدُ بِالْغَنَمِ لِأَصْحَابِ الْحَرْثِ، فَخَرَجَ الرِّعاء مَعَهُمُ الْكِلَابُ، فَقَالَ لَهُمْ سُلَيْمَانُ: كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمْ؟
فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: لَوْ وَلَيْتُ أَمْرَكُمْ لقضيتُ بِغَيْرِ هَذَا! فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ دَاوُدُ، فَدَعَاهُ فَقَالَ: كَيْفَ تَقْضِي بَيْنَهُمْ؟ قَالَ [[في ف: "فقال".]] أَدْفَعُ الْغَنَمَ إِلَى صَاحِبِ الْحَرْثِ، فَيَكُونُ لَهُ أَوْلَادُهَا وَأَلْبَانُهَا وَسِلَاؤُهَا وَمَنَافِعُهَا ويبذُر أَصْحَابُ الْغَنَمِ لِأَهْلِ الْحَرْثِ مثلَ حَرْثِهِمْ، فَإِذَا بَلَغَ الْحَرْثُ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ أَخَذَ أَصْحَابُ الْحَرْثِ الحرثَ وَرَدُّوا الْغَنَمَ إِلَى أَصْحَابِهَا.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا خُدَيْج، عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُرَّة، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: الْحَرْثُ الَّذِي نَفَشَتْ فِيهِ الْغَنَمُ إِنَّمَا كَانَ كَرْمًا نَفَشَتْ فِيهِ الْغَنَمُ، فَلَمْ تَدَع فِيهِ وَرَقَةً وَلَا عُنْقُودًا مِنْ عِنَبٍ إِلَّا أَكَلَتْهُ، فَأَتَوْا دَاوُدَ، فَأَعْطَاهُمْ رِقَابَهَا، فَقَالَ سُلَيْمَانُ: لَا بَلْ تُؤْخَذُ الْغَنَمُ فَيُعْطَاهَا [[في ف: "فتعطى".]] أهلُ الْكَرْمِ، فَيَكُونُ لَهُمْ لَبَنُهَا وَنَفْعُهَا، وَيُعْطَى أَهْلُ الْغَنَمِ الْكَرْمَ فَيُصْلِحُوهُ وَيُعَمِّرُوهُ [[في ف: "فيعمره ويصلحوه".]] حَتَّى يَعُودَ كَالَّذِي كَانَ لَيْلَةَ نَفَشت فِيهِ الْغَنَمُ، ثُمَّ يُعطَى أهل الغنم غنمهم، وأهل الكرم كرمهم.
وَهَكَذَا قَالَ شُرَيح، ومُرَّة، وَمُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ، وَابْنُ زَيْدٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلَانِ إِلَى شُرَيح، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: إِنَّ شَاةَ هَذَا قَطَعَتْ غَزَلًا لِي، فَقَالَ شُرَيْحٌ: نَهَارًا أَمْ لَيْلًا؟ فَإِنْ كَانَ نَهَارًا فَقَدْ بَرِئَ صَاحِبُ الشَّاةِ، وَإِنْ كَانَ لَيْلًا ضَمِن، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ﴾ الْآيَةَ.
وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ شُرَيح شَبِيهٌ بِمَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ، مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرام بْنِ مُحَيْصة [[في ف: "عن حرام عن الزهري بن محيصة".]] ؛ أَنَّ نَاقَةَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطًا، فَأَفْسَدَتْ فِيهِ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَمَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلَى أَهْلِهَا [[المسند (٥/٤٣٥) وسنن أبي داود برقم (٣٥٧٠) وسنن ابن ماجه برقم (٢٣٣٢) .
تنبيه: هذا الطريق إنما هو طريق ابن ماجه، أما أحمد فرواه عن مالك وسفيان ومعمر عن الزهري، وأما أبو داود فرواه عن معمر والأوزعي عن الزهري.]] . وَقَدْ عُلِّل هَذَا الْحَدِيثُ، وَقَدْ بَسَطْنَا الْكَلَامَ عَلَيْهِ فِي كِتَابِ "الْأَحْكَامِ" وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا﴾ قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ؛ أَنَّ إِيَاسَ بْنَ مُعَاوِيَةَ لَمَّا اسْتَقْضَى أَتَاهُ الْحَسَنُ فَبَكَى، قَالَ [[في ف، أ: "فقال".]] مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ [[في ف، أ: "فقال"]] يَا أَبَا سَعِيدٍ، بَلَغَنِي أَنَّ الْقُضَاةَ: رَجُلٌ اجْتَهَدَ فَأَخَطَأَ، فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ مَالَ بِهِ الْهَوَى فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ اجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ. فَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: إِنَّ فِيمَا قَصَّ اللَّهُ مَنْ نَبَأِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، وَالْأَنْبِيَاءِ حُكْمًا يَرُدُّ قَوْلَ هَؤُلَاءِ النَّاسِ عَنْ قَوْلِهِمْ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ﴾ فَأَثْنَى اللَّهُ عَلَى سُلَيْمَانَ وَلَمْ يَذُمَّ دَاوُدَ. ثُمَّ قَالَ -يَعْنِي: الْحَسَنَ-: إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ عَلَى الْحُكَمَاءِ ثَلَاثًا: لَا يَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا وَلَا يَتَّبِعُونَ فِيهِ الْهَوَى، وَلَا يَخْشَوْنَ فِيهِ أَحَدًا، ثُمَّ تَلَا ﴿يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الأرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [[زيادة من ف، أ.]] ] ﴾ [ص:٢٦] وَقَالَ: ﴿فَلا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ﴾ [الْمَائِدَةِ:٤٤] ، وَقَالَ ﴿وَلا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلا﴾ [الْمَائِدَةِ:٤٤] .
قُلْتُ: أَمَّا الْأَنْبِيَاءُ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، فَكُلُّهُمْ مَعْصُومُونَ مُؤيَّدون مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَهَذَا مِمَّا لَا خِلَافَ [[في ف: "ما لا اختلاف فيه".]] فِيهِ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ الْمُحَقِّقِينَ مِنَ السَّلَفِ وَالْخَلَفِ، وَأَمَّا مَنْ سِوَاهُمْ فَقَدْ ثَبَتَ فِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِذَا اجْتَهَدَ الْحَاكِمُ فَأَصَابَ فَلَهُ أجران، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ [[في ف: "وأخطأ".]] فَلَهُ أَجْرٌ" [[صحيح البخاري برقم (٧٣٥٢) .]] فَهَذَا الْحَدِيثُ يَرُدُّ نَصًّا مَا تَوَهَّمَهُ "إِيَاسٌ" مِنْ أَنَّ الْقَاضِيَ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَخَطَأَ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَفِي السُّنَنِ: "الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: قَاضٍ فِي الْجَنَّةِ، وَقَاضِيَانِ فِي النَّارِ: رَجُلٌ عَلِمَ الْحَقَّ وَقَضَى بِهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ، وَرَجُلٌ حَكَمَ بَيْنَ النَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ عَلِمَ الْحَقَّ وَقَضَى بِخِلَافِهِ، فَهُوَ فِي النَّارِ [[سنن أبي داود برقم (٣٥٧٣) وسنن النسائي الكبرى برقم (٥٩٢٢) وسنن ابن ماجه برقم (٢٣١٥)]] .
وَقَرِيبٌ مِنْ هَذِهِ الْقِصَّةِ الْمَذْكُورَةِ فِي الْقُرْآنِ مَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ، حَيْثُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْص، أَخْبَرَنَا وَرْقاء عَنْ أَبِي الزِّنَاد، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَانِ لَهُمَا، جَاءَ [[في ف: "إذ جاء".]] الذِّئْبُ فَأَخَذَ أَحَدَ الِابْنَيْنِ، فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا. فَدَعَاهُمَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ: هَاتُوا السِّكِّينَ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا، لَا تَشُقه، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى" [[المسند (٢/٣٢٢)]] .
وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ في صحيحهما [[في ف: "صحيحيهما".]] وَبَوَّبَ عَلَيْهِ النَّسَائِيُّ فِي كِتَابِ الْقَضَاءِ: (بَابُ الْحَاكِمُ يُوهِمُ خِلَافَ الْحُكْمِ لِيَسْتَعْلِمَ الْحَقَّ) [[صحيح البخاري برقم (٦٧٦٩) وصحيح مسلم برقم (١٧٢٠) وسنن النسائي الكبرى برقم (٥٩٥٨) والباب فيه "التوسعة للحاكم في أن يقول للشيء الذي لا يفعله أفعل ليستبين له الحق".]] .
وَهَكَذَا القصة التي أوردها الْحَافِظُ أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ "سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ" مِنْ تَارِيخِهِ، مِنْ طَرِيقِ الْحَسَنِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ -فَذَكَرَ قِصَّةً مُطَوَّلَةً [[في ف: "طويلة".]] مُلَخَّصُهَا-: أَنَّ امْرَأَةً حَسْنَاءَ فِي زَمَانِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، رَاوَدَهَا عَنْ نَفْسِهَا أَرْبَعَةٌ مِنْ رُؤَسَائِهِمْ، فَامْتَنَعَتْ عَلَى [[في أ: "عن".]] كُلٍّ مِنْهُمْ، فَاتَّفَقُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ عَلَيْهَا، فَشَهِدُوا عَلَيْهَا عِنْدَ دَاوُدَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهَا مَكَّنت مِنْ نَفْسِهَا كَلْبًا لَهَا، قَدْ عَوَّدَتْهُ ذَلِكَ مِنْهَا، فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا. فَلَمَّا كَانَ عَشِيَّةَ ذَلِكَ الْيَوْمِ، جَلَسَ سُلَيْمَانُ، وَاجْتَمَعَ مَعَهُ وِلْدانٌ، مِثْلُهُ، فَانْتَصَبَ حَاكِمًا وَتَزَيَّا أَرْبَعَةٌ مِنْهُمْ بِزِيِّ أُولَئِكَ، وَآخَرُ بِزِيِّ الْمَرْأَةِ، وَشَهِدُوا عَلَيْهَا بِأَنَّهَا مكَنت مِنْ نَفْسِهَا كَلْبًا، فَقَالَ سُلَيْمَانُ: فَرِّقُوا بَيْنَهُمْ. فَقَالَ لِأَوَّلِهِمْ: مَا كَانَ لَوْنُ الْكَلْبِ؟ فَقَالَ: أَسْوَدُ. فَعَزَلَهُ، وَاسْتَدْعَى الْآخَرَ فَسَأَلَهُ عَنْ لَوْنِهِ، فَقَالَ: أَحْمَرُ. وَقَالَ الْآخَرُ: أَغْبَشُ. وَقَالَ الْآخَرُ: أَبْيَضُ. فَأَمَرَ بِقَتْلِهِمْ، فَحُكِيَ ذَلِكَ لِدَاوُدَ، فَاسْتَدْعَى مِنْ فَوْرِهِ بِأُولَئِكَ الْأَرْبَعَةِ، فَسَأَلَهُمْ مُتَفَرِّقِينَ عَنْ لَوْنِ ذَلِكَ الْكَلْبِ، فَاخْتَلَفُوا عَلَيْهِ، فأمر بقتلهم [[تاريخ دمشق (٧/٥٦٥ "المخطوط")]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ وَكُنَّا فَاعِلِينَ﴾ : وَذَلِكَ لِطِيبِ صَوْتِهِ بِتِلَاوَةِ كِتَابِهِ الزَّبُورِ، وَكَانَ إِذَا تَرَنَّم بِهِ تَقِفُ الطَّيْرُ فِي الْهَوَاءِ، فَتُجَاوِبُهُ، وتَرد عَلَيْهِ الْجِبَالُ تَأْوِيبًا؛ وَلِهَذَا لمَّا مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، وَهُوَ يَتْلُو الْقُرْآنَ مِنَ اللَّيْلِ، وَكَانَ لَهُ صَوْتٌ طَيِّبٌ [جَدًا] [[زيادة من ف، أ.]] . فَوَقَفَ وَاسْتَمَعَ لِقِرَاءَتِهِ، وَقَالَ: "لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مَزَامِيرَ آلِ دَاوُدَ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَسْمَعُ [[في ف: "تستمع".]] لِحَبَّرْتُهُ لَكَ تَحْبِيرًا [[سبق الحديث في فضائل القرآن.]] .
وَقَالَ أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ: مَا سَمِعْتُ صَوْتَ صَنْج وَلَا بَرَبْطَ وَلَا مِزْمَارٍ مِثْلَ صَوْتِ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَمَعَ هَذَا قَالَ: لَقَدْ أُوتِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَكُمْ لِيُحْصِنَكُمْ [[في ف، أ: "لتحصنكم".]] مِنْ بَأْسِكُمْ﴾ يَعْنِي صَنْعَةَ الدُّرُوعِ.
قَالَ قَتَادَةُ: إِنَّمَا كَانَتِ الدُّرُوعُ قَبْلَهُ صَفَائِحَ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ سَرَدَهَا حلَقًا. كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ. أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ﴾ [سَبَأٍ:١٠، ١١] أَيْ: لَا تُوَسِّعِ الْحَلْقَةَ فَتُقْلِقَ [[في ف: "فتفلق".]] الْمِسْمَارَ، وَلَا تُغْلِظِ الْمِسْمَارَ فتَقَدّ الحَلْقة؛ وَلِهَذَا قال: ﴿لِيُحْصِنَكُمْ [[في ف، أ: "لتحصنكم".]] مِنْ بَأْسِكُمْ﴾ يَعْنِي: فِي الْقِتَالِ، ﴿فَهَلْ أَنْتُمْ شَاكِرُونَ﴾ أَيْ: نِعَمَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ، لِمَا أَلْهَمَ بِهِ عَبْدَهُ دَاوُدَ، فَعَلَّمَهُ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِكُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً﴾ أَيْ: وَسَخَّرْنَا لِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ الْعَاصِفَةَ، ﴿تَجْرِي بِأَمْرِهِ إِلَى الأرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا﴾ يَعْنِي أَرْضَ الشَّامِ، ﴿وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عَالِمِينَ﴾ وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ بِسَاطٌ مِنْ خَشَبٍ، يُوضَعُ عَلَيْهِ كُلُّ مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ مِنْ أُمُورِ الْمَمْلَكَةِ، وَالْخَيْلِ وَالْجِمَالِ وَالْخِيَامِ وَالْجُنْدِ، ثُمَّ يَأْمُرُ الرِّيحَ أَنْ تَحْمِلَهُ فَتَدْخُلَ تَحْتَهُ، ثُمَّ تَحْمِلَهُ فَتَرْفَعَهُ وَتَسِيرَ بِهِ، وَتُظِلُّهُ الطَّيْرُ مِنَ الْحَرِّ، إِلَى حَيْثُ يَشَاءُ مِنَ الْأَرْضِ، فَيَنْزِلُ وَتُوضَعُ آلَاتُهُ وَخُشُبُهُ [[في أ: "وحشمه"]] ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ﴾ [ص:٣٦] ، وَقَالَ ﴿غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ﴾ [سَبَأٍ:١٢] .
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: ذُكِرَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ أَبِي سِنَان، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كَانَ يُوضَع لِسُلَيْمَانَ سِتُّمِائَةِ أَلْفِ كُرْسِيٍّ، فَيَجْلِسُ مِمَّا يَلِيهِ مُؤْمِنُو الْإِنْسِ، ثُمَّ يَجْلِسُ مِنْ وَرَائِهِمْ مُؤْمِنُو الْجِنِّ، ثُمَّ يَأْمُرُ الطَّيْرَ فَتُظِلُّهُمْ، ثُمَّ يَأْمُرُ الرِّيحَ فَتَحْمِلُهُ ﷺ [[في أ: "فتحملهم عليه السلام".]] .
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْد بْنِ عُمَيْرٍ: كَانَ سُلَيْمَانُ يَأْمُرُ الرِّيحَ، فتجتَمع كالطَّود الْعَظِيمِ، كَالْجَبَلِ، ثُمَّ يَأْمُرُ بِفِرَاشِهِ فَيُوضَعُ عَلَى أَعْلَى مَكَانٍ مِنْهَا، ثُمَّ يَدْعُو بفَرَس مِنْ ذَوَاتِ الْأَجْنِحَةِ، فَتَرْتَفِعُ [[في ف، أ: "فيرتفع".]] حَتَّى تَصْعَدَ [[في ف، أ: "يصعد".]] عَلَى فِرَاشِهِ، ثُمَّ يَأْمُرُ الرِّيحَ فَتَرْتَفِعُ بِهِ كُل شَرَف دُونَ السَّمَاءِ، وَهُوَ مُطَأْطِئٌ رَأْسَهُ، مَا يَلْتَفِتُ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا تَعْظِيمًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَشُكْرًا لِمَا يَعْلَمُ مِنْ صِغَرِ مَا هُوَ فِيهِ فِي ملك الله تَعَالَى [[في ف، أ: "عز وجل".]] حَتَّى تَضَعَهُ [[في ف: "يضعه".]] . الرِّيحُ حَيْثُ شَاءَ أَنْ تَضَعَهُ [[في ف، أ: "حيث يشاء أن يضعه".]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمِنَ الشَّيَاطِينِ مَنْ يَغُوصُونَ لَهُ﴾ أَيْ: فِي الْمَاءِ يَسْتَخْرِجُونَ اللَّآلِئَ [وَغَيْرَ ذَلِكَ. ﴿وَيَعْمَلُونَ عَمَلا دُونَ ذَلِكَ﴾ أَيْ: غَيْرَ ذَلِكَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ *] [[زيادة من ف، أ.]] وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الأصْفَادِ﴾ . [ص: ٣٧، ٣٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَكُنَّا لَهُمْ حَافِظِينَ﴾ [[في ف: "له".]] أَيْ: يَحْرُسُهُ اللَّهُ أَنْ يَنَالَهُ أَحَدٌ مِنَ الشَّيَاطِينِ بِسُوءٍ، بَلْ كُلٌّ فِي قَبْضَتِهِ وَتَحْتَ قَهْرِهِ لَا يَتَجَاسَرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى الدُّنُوِّ إِلَيْهِ وَالْقُرْبِ مِنْهُ، بَلْ هُوَ مُحَكَّم [[في ف، أ: "يحكم".]] فِيهِمْ، إِنْ شَاءَ أَطْلَقَ، وَإِنْ شَاءَ حَبَسَ مِنْهُمْ مَنْ يَشَاءُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الأصْفَادِ﴾
فَفَهَّمْنَٰهَا سُلَيْمَٰنَ ۚ وَكُلًّا ءَاتَيْنَا حُكْمًۭا وَعِلْمًۭا ۚ وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُۥدَ ٱلْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَٱلطَّيْرَ ۚ وَكُنَّا فَٰعِلِينَ
And We gave understanding of the case to Solomon, and to each [of them] We gave judgement and knowledge. And We subjected the mountains to exalt [Us], along with David and [also] the birds. And We were doing [that].
تو ہم نے فیصلہ (کرنے کا طریق) سلیمان کو سمجھا دیا۔ اور ہم نے دونوں کو حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا تھا۔ اور ہم نے پہاڑوں کو داؤد کا مسخر کردیا تھا کہ ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور جانوروں کو بھی (مسخر کردیا تھا اور ہم ہی ایسا) کرنے والے تھے
ما (حکم واقعی) آن را به سلیمان فهماندیم؛ و به هر یک از آنان (شایستگی) داوری، و علم فراوانی دادیم؛ و کوهها و پرندگان را با داوود مسخّر ساختیم، که (همراه او) تسبیح (خدا) میگفتند؛ و ما این کار را انجام دادیم!
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Dawud and Sulayman, when they gave judgement in the case of the field in which the sheep of certain people had Nafashat; and We were witness to their judgement (78)And We made Sulayman to understand (the case); and to each of them We gave wisdom (Hukm) and knowledge. And We subjected the mountains and the birds to glorify Our praises along with Dawud. And it was We Who were the doer (of all these things)(79)And We taught him the making of metal coats of mail (for battles), to protect you in your fighting. Are you then grateful (80)And to Sulayman (We subjected) the wind strongly raging, running by his command towards the land which We had blessed. And of everything We are the All-Knower (81)And of the Shayatin were some who dived for him, and did other work besides that; and it was We Who guarded them (82)
Dawud and Sulayman and the Signs which They were given; the Story of the People whose Sheep pastured at Night in the Field
(Abu) Ishaq narrated from Murrah from Ibn Mas'ud: "That crop was grapes, bunches of which were dangling." This was also the view of Shurayh. Ibn 'Abbas said: "Nafash means grazing." Shurayh, Az-Zuhri and Qatadah said: "Nafash only happens at night." Qatadah added, "[and] Al-Haml is grazing during the day."
وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ
(And (remember) Dawud and Sulayman, when they gave judgement in the case of the field in which the sheep of certain people had pastured at night;)
Ibn Jarir recorded that Ibn Mas'ud said: "Grapes which had grown and their bunches were spoiled by the sheep. Dawud (David) ruled that the owner of the grapes should keep the sheep. Sulayman (Solomon) said, 'Not like this, O Prophet of Allah!' [Dawud] said, 'How then' [Sulayman] said: 'Give the grapes to the owner of the sheep and let him tend them until they grow back as they were, and give the sheep to the owner of the grapes and let him benefit from them until the grapes have grown back as they were. Then the grapes should be given back to their owner, and the sheep should be given back to their owner.' This is what Allah said:
فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ
(And We made Sulayman to understand (the case).)" This was also reported by Al-'Awfi from Ibn 'Abbas.
فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ ۚ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا
(And We made Sulayman to understand (the case); and to each of them We gave wisdom and knowledge.)
Ibn Abi Hatim recorded that when Iyas bin Mu'awiyah was appointed as a judge, Al-Hasan came to him and found Iyas weeping. [Al-Hasan] said, "Why are you weeping?" [Iyas] said, "O Abu Sa'id, What I heard about judges among them a judge is he, who studies a case and his judgment is wrong, so he will go to Hell; another judge is he who is biased because of his own whims and desires, so he will go to Hell; and the other judge he who studies a case and gives the right judgement, so he will go to Paradise." Al-Hasan Al-Basari said: "But what Allah tells us about Dawud and Sulayman (peace be upon them both) and the Prophets and whatever judgements they made proves that what these people said is wrong. Allah says:
وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ
(And (remember) Dawud and Sulayman, when they gave judgement in the case of the field in which the sheep of certain people had pastured at night; and We were witness to their judgement.) Allah praised Sulayman but He did not condemn Dawud." Then he – Al-Hasan – said, "Allah enjoins three things upon the judges: not to sell thereby for some miserable price; not to follow their own whims and desires; and not to fear anyone concerning their judgements. " Then he recited:
يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(O Dawud! Verily, We have placed you as a successor on the earth; so judge you between men in truth and follow not your desire – for it will mislead you from the path of Allah.)[38:26]
فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ
(Therefore fear not men but fear Me)(5:44)
وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا
(and sell not My Ayat for a miserable price.)[5:44] I say: with regard to the Prophets (peace be upon them all), all of them were infallible and supported by Allah. With regard to others, it is recorded in Sahih Al-Bukhari from 'Amir bin Al-'As that the Messenger of Allah ﷺ said:
إِذَا اجْتَهَدَ الْحَاكِمُ فَأَصَابَ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ، فَلَهُ أَجْرٌ
(If the judge does his best, studies the case and reaches the right conclusion, he will have two rewards. If he does his best, studies the case and reaches the wrong conclusion, he will have one reward.)
This Hadith refutes the idea of Iyas, who thought that if he did his best, studied the case and reached the wrong conclusion, he would go to Hell. And Allah knows best.
Similar to story in the Qur'an is the report recorded by Imam Ahmad in his Musnad from Abu Hurayrah, who said that the Messenger of Allah ﷺ said:
بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَانِ لَهُمَا، إِذْ جَاءَ الذِّئْبُ فَأَخَذَ أَحَدَ الْابْنَيْنِ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا فَدَعَاهُمَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ: هَاتُوا السِّكِّينَ أَشُقُّهُ بَيْنَكُمَا: فَقَالَتِ الصُّغْرَى: يَرْحَمُكَ اللهُ هُوَ ابْنُهَا لَا تَشُقَّهُ، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى
(There were two women who each had a son. The wolf came and took one of the children, and they referred their dispute to Dawud. He ruled that the (remaining) child belonged to the older woman. They left, then Sulayman called them and said, "Give me a sword and I will divide him between the two of you." The younger woman said, "May Allah have mercy on you! He is her child, do not cut him up!" So he ruled that the child belonged to the younger woman).
This was also recorded by Al-Bukhari and Muslim in their Sahihs. An-Nasa'i also devoted a chapter to this in the Book of Judgements.
وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُودَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ
(And We subjected the mountains and the birds to glorify Our praises along with Dawud.)
This refers to the beauty of his voice when he recited his Book, Az-Zabur. When he recited it in a beautiful manner, the birds would stop and hover in the air, and would repeat after him, and the mountains would respond and echo his words. The Prophet ﷺ passed by Abu Musa Al-Ash'ari while he was reciting Qur'an at night, and he had a very beautiful voice, he stopped and listened to his recitation, and said:
لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
(This man has been given one of the wind instruments (nice voices) of the family of Dawud.) He said: "O Messenger of Allah, if I had known that you were listening, I would have done my best for you."
وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُم مِّن بَأْسِكُمْ
(And We taught him the making of metal coats of mail, to protect you in your fighting.) meaning, the manufacture of chain-armor. Qatadah said that before that, they used to wear plated armor; he was the first one to make rings of chain-armor. This is like the Ayah:
وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ - أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ
(And We made the iron soft for him. Saying: "Make you perfect coats of mail, and balance well the rings of chain armor.")(34:10-11), meaning, do not make the pegs so loose that the rings (of chain mail) will shake, or make it so tight that they will not be able to move at all. Allah says:
لِتُحْصِنَكُم مِّن بَأْسِكُمْ
(to protect you in your fighting.) meaning, in your battles.
فَهَلْ أَنتُمْ شَاكِرُونَ
(Are you then grateful?) means, 'Allah blessed you when He inspired His servant Dawud and taught him that for your sake.'
The Power of Sulayman is unparalleled
وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً
(And to Sulayman (We subjected) the wind strongly raging,) means, 'We subjugated the strong wind to Sulayman.'
تَجْرِي بِأَمْرِهِ إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا
(running by his command towards the land which We had blessed.) meaning, the land of Ash-Sham (Greater Syria).
وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عَالِمِينَ
(And of everything We are the All-Knower.) He had a mat made of wood on which he would place all the equipment of his kingship; horses, camels, tents and troops, then he would command the wind to carry it, and he would go underneath it and it would carry him aloft, shading him and protecting him from the heat, until it reached wherever he wanted to go in the land. Then it would come down and deposit his equipment and entourage. Allah says:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ
(So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order whithersoever he willed.)(38:36)
غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ
(its morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's)(34:12)
وَمِنَ الشَّيَاطِينِ مَن يَغُوصُونَ لَهُ
(And of the Shayatin were some who dived for him,) means, they dived into the water to retrieve pearls, jewels, etc., for him.
وَيَعْمَلُونَ عَمَلًا دُونَ ذَٰلِكَ
(and did other work besides that;) This is like the Ayah:
وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ - وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also the Shayatin, every kind of builder and diver. And also others bound in fetters.)(38:37-38).
وَكُنَّا لَهُمْ حَافِظِينَ
(and it was We Who guarded them.) means, Allah protected him lest any of these Shayatin did him any harm. All of them were subject to his control and domination, and none of them would have dared to approach him. He was in charge of them and if he wanted, he could set free or detain whomever among them he wished. Allah says:
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also others bound in fetters.)(38:38)
Tafsir Ibn Kathir
ایک ہی مقدمہ میں داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کے مختلف فیصلے۔ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں یہ کھیتی انگور کی تھی جس کے خوشے لٹک رہے تھے نفشت کے معنی ہیں رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے۔ اور دن کے وقت چرنے کو عربی میں ہمل کہتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اس باغ کو بکریوں نے بگاڑ دیا، حضرت داؤد ؑ نے یہ فیصلہ کیا کہ باغ کے نقصان کے بدلے یہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں۔ حضرت سلیمان ؑ نے یہ فیصلہ سن کر عرض کی کہ اے اللہ کے نبی ؑ اس کے سوا بھی فیصلے کی کوئی صورت ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ کیا ؟ جواب دیا کہ بکریاں باغ والے کے حوالے کردی جائیں وہ ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور باغ بکری والے کو دے دیا جائے یہ اس میں انگور کی بیلوں کی خدمت کرے یہاں تک کہ بیلیں ٹھیک ٹھاک ہوجائیں انگور لگیں اور پھر اسی حالت پر آجائیں جس پر تھے تو باغ والے کو اس کا باغ سونپ دے اور باغ والا اسے اس کی بکریاں سونپ دے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ ہم نے اس جھگڑے کا صحیح فیصلہ حضرت سلیمان ؑ کو سمجھا دیا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں حضرت داؤد ؑ کا یہ فیصلہ سن کر بکریوں والے اپنا سا منہ لے کر صرف کتوں کو اپنے ساتھ لئے ہوئے واپس جا رہے تھے حضرت سلیمان ؑ نے انہیں دیکھ کر دریافت کیا کہ تمہارا فیصلہ کیا ہوا ؟ انہوں نے خبردی تو آپ نے فرمایا اگر میں اس جگہ ہوتا تو یہ فیصلہ نہ دیتا بلکہ کچھ اور فیصلہ کرتا حضرت داؤد ؑ کو جب یہ بات پہنچی تو آپ نے انہیں بلوایا اور پوچھا کہ بیٹے تم کیا فیصلہ کرتے ؟ آپ نے وہی اوپر والا فیصلہ سنایا۔ حضرت مسروق ؒ فرماتے ہیں ان بکریوں نے خوشے اور پتے سب کھالئے تھے۔ تو حضرت داؤد ؑ کے فیصلے کے خلاف حضرت سلیمان ؑ نے فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کی بکریاں باغ والوں کو دے دی جائیں اور یہ باغ انہیں سونپا جائے جب تک باغ اپنی اصلی حالت پر آئے تب تک بکریوں کے بچے اور ان کا دودھ اور ان کا کل نفع باغ والوں کا۔ پھر ہر ایک کو ان کی چیز سونپ دی جائے۔ قاضی شریح ؒ کے پاس بھی ایک ایسا ہی جھگڑا آیا تو آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر دن کو بکریوں نے نقصان پہنچایا ہے تب تو کوئی معاوضہ نہیں۔ اور اگر رات کو نقصان پہنچایا ہے تو بکریوں والے ضامن ہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضرت برا بن عازب ؓ کی اونٹنی کسی باغ میں چلی گئی اور وہاں باغ کا بڑا نقصان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ باغ والوں پر دن کے وقت باغ کی حفاظت ہے اور جو نقصان جانوروں سے رات کو ہو اس کا جرمانہ جانور والوں پر ہے اس حدیث میں علتیں نکالی گئی ہیں اور ہم نے کتاب الاحکام میں اللہ کے فضل سے اس کی پوری تفصیل بیان کردی ہے۔ مروی ہے کہ حضرت ایاس بن معاویہ ؒ سے جب کہ قاضی بننے کی درخواست کی گئی تو وہ حسن ؒ کے پاس آئے اور روئے۔ پوچھا گیا کہ ابو سعید آپ کیوں روتے ہیں ؟ فرمایا مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ اگر قاضی نے اجتہاد کیا پھر غلطی کی وہ جہنمی ہے اور جو خواہش نفس کی طرف جھک گیا وہ بھی جہنمی ہے ہاں جس نے اجتہاد کیا اور صحت پر پہنچ گیا وہ جنت میں پہنچا۔ حضرت حسن یہ سن کر فرمانے لگے سنو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ اور حضرت سلیمان ؑ کی قضاۃ کا ذکر فرمایا ہے ظاہر ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اعلیٰ منصب پر ہوتے ہیں، ان کے قول سے ان لوگوں کی باتیں رد ہوسکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کی تعریف تو بیان فرمائی ہے لیکن حضرت داؤد ؑ کی مذمت بیان نہیں فرمائی۔ پھر فرمانے لگے سنو تین باتوں کا عہد اللہ تعالیٰ نے قاضیوں سے لیا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ منصفین شرع دینوی نفع کی وجہ سے بدل نہ دیں، دوسرے یہ کہ اپنے دلی ارادوں اور خواہشوں کے پیچھے نہ پڑجائیں، تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاس بالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ 26) 38۔ ص :26) یعنی اے داؤد ہم نے تجھے زمین کا خلیفہ بنایا ہے تو لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلے کرتا رہ خواہش کے پیچے نہ پڑ کہ اللہ کی راہ سے بہک جائے۔ اور ارشاد ہے آیت (فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ 44) 5۔ المآئدہ :44) لوگوں سے نہ ڈرو مجھی سے ڈرتے رہا کرو اور فرمان ہے آیت (وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا وَاِيَّاىَ فَاتَّقُوْنِ 41) 2۔ البقرة :41) میری آیتوں کو معمولی نفع کی خاطر بیچ نہ دیا کرو۔ میں کہتا ہوں انبیاء (علیہم السلام) کی معصومیت میں اور ان کی منجانب اللہ ہر وقت تائید ہوتے رہنے میں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ رہے اور لوگ تو صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب حاکم اجتہاد اور کوشش کرے پھر صحت تک بھی پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور جب پوری کوشش کے بعد بھی غلطی کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے۔ یہ حدیث صاف بتلا رہی ہے کہ حضرت ایاس ؒ کو جو وہم تھا کہ باوجود پوری جدوجہد کے بھی خطا کرجائے تو دوزخی ہے یہ غلط ہے، واللہ اعلم۔ سنن کی اور حدیث میں ہے قاضی تین قسم کے ہیں ایک جنتی دو جہنمی اور جس نے حق کو معلوم کرلیا اور اسی سے فیصلہ کیا وہ جنتی۔ اور جس نے جہالت کے ساتھ فیصلہ کیا وہ جہنمی اور جسنے حق کو جانتے ہوئے اس کے خلاف فیصلہ دیا وہ بھی جہنمی۔ قرآن کریم کے بیان کردہ اس واقعے کے قریب ہی وہ قصہ ہے جو مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دو عورتیں تھیں جن کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے بھیڑیا آکر ایک بچے کو اٹھا لے گیا اب ہر ایک دوسری سے کہنے لگی کہ تیرا بچہ گیا اور جو ہے وہ میرا بچہ ہے۔ آخر یہ قصہ حضرت داؤد ؑ کے سامنے پیش ہوا۔ آپ نے بڑی عورت کو ڈگری دے دی کہ یہ بچہ تیرا ہے یہ یہاں سے نکلیں راستے میں حضرت سلیمان ؑ تھے آپ نے دونوں کو بلایا اور فرمایا چھری لاؤ میں اس لڑکے کے دو ٹکڑے کرکے آدھا آدھا دونوں کو دے دیتا ہوں اس پر بڑی تو خاموش ہوگئی لیکن چھوٹی نے ہائے واویلا شروع کردیا کہ اللہ آپ پر رحم کرے آپ ایسا نہ کیجئے یہ لڑکا اسی بڑی کا ہے اسی کو دے دیجئے۔ حضرت سلیمان ؑ معاملے کو سمجھ گئے اور لڑکا چھوٹی عورت کو دلادیا۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے امام نسائی ؒ نے اس پر باب باندھا ہے کہ حاکم کو جائز ہے کہ اپنا فیصلہ اپنے دل میں رکھ کر حقیقت کو معلوم کرنے کے لئے اس کے خلاف کچھ کہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ابن عساکر میں ہے کہ ایک خوبصورت عورت سے ایک رئیس نے ملنا چاہا لیکن عورت نے نہ مانا اسی طرح تین اور شخصوں نے بھی اس سے بدکاری کا ارادہ کیا لیکن وہ باز رہی۔ اس پر وہ رؤسا خار کھا گئے اور آپس میں اتفاق کرکے حضرت داؤد ؑ کی عدالت میں جاکر سب نے گواہی دی کہ وہ عورت اپنے کتے سے ایسا کام کرتی ہے چاروں کے متفقہ بیان پر حکم ہوگیا کہ اسے رجم کردیا جائے۔ اسی شام کو حضرت سلیمان ؑ اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر خود حاکم بنے اور چار لڑکے ان لوگوں کی طرح آپ کے پاس اس مقدمے کو لائے اور ایک عورت کی نسبت یہی کہا۔ حضرت سلیمان ؑ نے حکم دیا ان چاروں کو الگ الگ کردو۔ پھر ایک کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا کہ اس کتے کا رنگ کیسا تھا ؟ اس نے کہا سیاہ۔ پھر دوسرے کو تنہا بلایا اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سرخ۔ تیسرے نے کہا خاکی۔ چوتھے نے کہا سفید آپ نے اسی وقت فیصلہ دیا کہ عورت پر یہ نری تہمت ہے اور ان چاروں کو قتل کردیا جائے۔ حضرت داؤد ؑ کے پاس بھی یہ واقعہ بیان کیا گیا۔ آپ نے اسی وقت فی الفور ان چاروں امیروں کو بلایا اور اسی طرح الگ الگ ان سے اس کتے کا رنگ کی بابت سوال کیا۔ یہ گڑبڑا گئے کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ کہا۔ آپ کو ان کا جھوٹ معلوم ہوگیا اور حکم فرمایا کہ انہیں قتل کردیا جائے۔ پھر بیان ہو رہا ہے کہ حضرت داؤد ؑ کو وہ نورانی گلا عطا فرمایا گیا تھا اور آپ ایسی خوش آوازی اور خلوص کے ساتھ زبور پڑھتے تھے کہ پرند بھی اپنی پرواز چھوڑ کر تھم جاتے تھے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے لگتے تھے اسی طرح پہاڑ بھی۔ ایک روایت میں ہے کہ رات کے وقت حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ تلاوت قرآن کریم کررہے تھے رسول اللہ ﷺ ان کی میٹھی رسیلی اور خلوص بھری آواز سن کر ٹھہر گئے اور دیر تک سنتے رہے پھر فرمانے لگے یہ تو آل داؤد کی آوازوں کی شیرینی دیئے گئے ہیں۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کو جب معلوم ہوا تو فرمانے لگے کہ یارسول اللہ ﷺ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ حضور ﷺ میری قرأت سن رہے ہیں تو میں اور بھی اچھی طرح پڑھتا۔ حضرت ابو عثمان نہدی ؓ فرماتے ہیں میں نے تو کسی بہتر سے بہتر باجے کی آواز میں بھی وہ مزہ نہیں پایا جو حضرت موسیٰ اشعری ؓ کی آواز میں تھا۔ پس اتنی خوش آوازی کو حضور ﷺ نے حضرت داؤد ؑ کی خوش آوازی کا ایک حصہ قرار دیا۔ اب سمجھ لیجئے کہ خود داؤد ؑ کی آواز کیسی ہوگی ؟ پھر اپنا ایک اور احسان بتاتا ہے کہ حضرت داؤد ؑ کو زرہیں بنانی ہم نے سکھا دی تھیں۔ آپ کے زمانے سے پہلے بغیر کنڈلوں اور بغیر حلقوں کی زرہ بنتی تھیں۔ کنڈلوں دار اور حلقوں والی زرہیں آپ نے ہی بنائیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ہم نے حضرت داؤد ؑ کے لئے لوہے کو نرم کردیا تھا کہ وہ بہترین زرہ تیار کریں اور ٹھیک انداز سے ان میں حلقے بنائیں۔ یہ زرہیں میدان جنگ میں کام آتی تھیں۔ پس یہ نعمت وہ تھی جس پر لوگوں کو اللہ کی شکرگزاری کرنی چاہے۔ ہم نے زورآور ہوا کو حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا تھا جو انہیں ان کے فرمان کے مطابق برکت والی زمین یعنی ملک شام میں پہنچا دیتی تھی۔ ہمیں ہر چیز کا علم ہے۔ آپ اپنے تخت پر مع اپنے لاؤ لشکر اور سامان اسباب کے بیٹھ جاتے تھے۔ پھر جہان جانا چاہتے ہوا آپ کو آپ کے فرمان کے مطابق گھڑی بھر میں وہاں پہنچا دیتی۔ تخت کے اوپر سے پرند پر کھولے آپ پر سایہ ڈالتے جیسے فرمان ہے آیت (فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيْحَ تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖ رُخَاۗءً حَيْثُ اَصَابَ 36ۙ) 38۔ ص :36) یعنی ہم نے ہوا کو ان کا تابع کردیا کہ جہان پہنچنا چاہتے ان کے حکم کے مطابق اسی طرف نرمی سے لے چلتی۔ صبح شام مہینہ مہینہ بھر کی راہ کو طے کرلیتی۔ حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں کہ چھ ہزار کرسی لگائی جاتی۔ آپ کے قریب مومن انسان بیٹھتے ان کے پیچھے مومن جن ہوتے۔ پھر آپ کے حکم سے سب پر پرند سایہ کرتے پھر حکم کرتے تو ہوا آپ کو لے چلتی۔ عبداللہ بن عبید بن عمیر ؒ فرماتے ہیں حضرت سلیمان ؑ کو حکم دیتے وہ مثل بڑے تودے کے جمع ہوجاتی گویا پہاڑ ہے پھر اس کے سب سے بلند مکان پر فرش افروز ہونے کا حکم دیتے پھر پہردار گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے فرش پر چڑھ جاتے پھر ہوا کو حکم دیتے وہ آپ کو بلندی پر لے جاتی آپ اس وقت سرنیچا کرلیتے دائیں بائیں بالکل نہ دیکھتے اس میں آپ کی تواضع اور اللہ کی شکر گزاری مقصود ہوتی تھی۔ کیونکہ آپ کو اپنی فروتنی کا علم تھا۔ پھر جہاں آپ حکم دیتے وہیں ہوا آپ کو اتار دیتی۔ اسی طرح سرکش جنات بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کے قبضے میں کردیئے تھے جو سمندروں میں غوطے لگا کرموتی اور جواہر وغیرہ نکال لایا کرتے تھے اور بھی بہت سے کام کاج کرتے تھے جیسے فرمان ہے آیت (وَالشَّيٰطِيْنَ كُلَّ بَنَّاۗءٍ وَّغَوَّاصٍ 37ۙ) 38۔ ص :37) ہم نے سرکش جنوں کو ان کا ماتحت کردیا تھا جو معمار تھے اور غوطہ خور۔ اور ان کے علاوہ اور شیاطین بھی ان کے ماتحت تھے جو زنجیروں میں بندھے رہتے تھے اور ہم ہی سلیمان کے حافظ ونگہبان تھے کوئی شیطان انہیں برائی نہ پہنچا سکتا تھا بلکہ سب کے سب ان کے ماتحت فرماں بردار اور تابع تھے کوئی ان کے قریب بھی نہ پھٹک سکتا تھا کی آپ کی حکمرانی ان پر چلتی تھی جسے چاہتے قید کرلیتے جسے چاہتے آزاد کردیتے اسی کو فرمایا کہ اور جنات تھے جو جکڑے رہا کرتے تھے۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُرّة، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: كَانَ ذَلِكَ الْحَرْثُ كَرْمًا قَدْ نَبَتَتْ عَنَاقِيدُهُ. وَكَذَا قَالَ شُرَيْح.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: النَّفْشُ: الرَّعْيُ.
وَقَالَ شُرَيح، وَالزُّهْرِيُّ، وَقَتَادَةُ: النَّفْشُ بِاللَّيْلِ. زَادَ قَتَادَةُ: والهَمْلُ بِالنَّهَارِ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب وَهَارُونُ بْنُ إدريسَ الْأَصَمُّ قَالَا حدثنا المحاربي، عن أشعت، عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُرّة، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ قَالَ: كَرْمٌ قَدْ أَنْبَتَتْ عَنَاقِيدُهُ، فَأَفْسَدَتْهُ. قَالَ: فَقَضَى دَاوُدُ بالغَنَم لِصَاحِبِ الكَرْم، فَقَالَ سُلَيْمَانُ: غيرُ هَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ! قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: تَدْفَعُ الْكَرْمَ إِلَى صَاحِبِ الْغَنَمِ، فَيَقُومُ عَلَيْهِ حَتَّى يَعُودَ كَمَا كَانَ، وَتَدْفَعُ الْغَنَمَ إِلَى صَاحِبِ الْكَرْمِ فيُصيب مِنْهَا حَتَّى إِذَا كَانَ الْكَرْمُ كَمَا كَانَ دَفَعْتَ الْكَرْمَ إِلَى صَاحِبِهِ، وَدَفَعْتَ الْغَنَمَ إِلَى صَاحِبِهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ﴾ .
وَهَكَذَا رَوَى العَوْفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا [[في ف: "حدثني".]] خَلِيفَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَحَكَمَ [[في ف، أ: "قضى".]] دَاوُدُ بِالْغَنَمِ لِأَصْحَابِ الْحَرْثِ، فَخَرَجَ الرِّعاء مَعَهُمُ الْكِلَابُ، فَقَالَ لَهُمْ سُلَيْمَانُ: كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمْ؟
فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: لَوْ وَلَيْتُ أَمْرَكُمْ لقضيتُ بِغَيْرِ هَذَا! فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ دَاوُدُ، فَدَعَاهُ فَقَالَ: كَيْفَ تَقْضِي بَيْنَهُمْ؟ قَالَ [[في ف: "فقال".]] أَدْفَعُ الْغَنَمَ إِلَى صَاحِبِ الْحَرْثِ، فَيَكُونُ لَهُ أَوْلَادُهَا وَأَلْبَانُهَا وَسِلَاؤُهَا وَمَنَافِعُهَا ويبذُر أَصْحَابُ الْغَنَمِ لِأَهْلِ الْحَرْثِ مثلَ حَرْثِهِمْ، فَإِذَا بَلَغَ الْحَرْثُ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ أَخَذَ أَصْحَابُ الْحَرْثِ الحرثَ وَرَدُّوا الْغَنَمَ إِلَى أَصْحَابِهَا.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا خُدَيْج، عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُرَّة، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: الْحَرْثُ الَّذِي نَفَشَتْ فِيهِ الْغَنَمُ إِنَّمَا كَانَ كَرْمًا نَفَشَتْ فِيهِ الْغَنَمُ، فَلَمْ تَدَع فِيهِ وَرَقَةً وَلَا عُنْقُودًا مِنْ عِنَبٍ إِلَّا أَكَلَتْهُ، فَأَتَوْا دَاوُدَ، فَأَعْطَاهُمْ رِقَابَهَا، فَقَالَ سُلَيْمَانُ: لَا بَلْ تُؤْخَذُ الْغَنَمُ فَيُعْطَاهَا [[في ف: "فتعطى".]] أهلُ الْكَرْمِ، فَيَكُونُ لَهُمْ لَبَنُهَا وَنَفْعُهَا، وَيُعْطَى أَهْلُ الْغَنَمِ الْكَرْمَ فَيُصْلِحُوهُ وَيُعَمِّرُوهُ [[في ف: "فيعمره ويصلحوه".]] حَتَّى يَعُودَ كَالَّذِي كَانَ لَيْلَةَ نَفَشت فِيهِ الْغَنَمُ، ثُمَّ يُعطَى أهل الغنم غنمهم، وأهل الكرم كرمهم.
وَهَكَذَا قَالَ شُرَيح، ومُرَّة، وَمُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ، وَابْنُ زَيْدٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلَانِ إِلَى شُرَيح، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: إِنَّ شَاةَ هَذَا قَطَعَتْ غَزَلًا لِي، فَقَالَ شُرَيْحٌ: نَهَارًا أَمْ لَيْلًا؟ فَإِنْ كَانَ نَهَارًا فَقَدْ بَرِئَ صَاحِبُ الشَّاةِ، وَإِنْ كَانَ لَيْلًا ضَمِن، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ﴾ الْآيَةَ.
وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ شُرَيح شَبِيهٌ بِمَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ، مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرام بْنِ مُحَيْصة [[في ف: "عن حرام عن الزهري بن محيصة".]] ؛ أَنَّ نَاقَةَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطًا، فَأَفْسَدَتْ فِيهِ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَمَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلَى أَهْلِهَا [[المسند (٥/٤٣٥) وسنن أبي داود برقم (٣٥٧٠) وسنن ابن ماجه برقم (٢٣٣٢) .
تنبيه: هذا الطريق إنما هو طريق ابن ماجه، أما أحمد فرواه عن مالك وسفيان ومعمر عن الزهري، وأما أبو داود فرواه عن معمر والأوزعي عن الزهري.]] . وَقَدْ عُلِّل هَذَا الْحَدِيثُ، وَقَدْ بَسَطْنَا الْكَلَامَ عَلَيْهِ فِي كِتَابِ "الْأَحْكَامِ" وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا﴾ قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ؛ أَنَّ إِيَاسَ بْنَ مُعَاوِيَةَ لَمَّا اسْتَقْضَى أَتَاهُ الْحَسَنُ فَبَكَى، قَالَ [[في ف، أ: "فقال".]] مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ [[في ف، أ: "فقال"]] يَا أَبَا سَعِيدٍ، بَلَغَنِي أَنَّ الْقُضَاةَ: رَجُلٌ اجْتَهَدَ فَأَخَطَأَ، فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ مَالَ بِهِ الْهَوَى فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ اجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ. فَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: إِنَّ فِيمَا قَصَّ اللَّهُ مَنْ نَبَأِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، وَالْأَنْبِيَاءِ حُكْمًا يَرُدُّ قَوْلَ هَؤُلَاءِ النَّاسِ عَنْ قَوْلِهِمْ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ﴾ فَأَثْنَى اللَّهُ عَلَى سُلَيْمَانَ وَلَمْ يَذُمَّ دَاوُدَ. ثُمَّ قَالَ -يَعْنِي: الْحَسَنَ-: إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ عَلَى الْحُكَمَاءِ ثَلَاثًا: لَا يَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا وَلَا يَتَّبِعُونَ فِيهِ الْهَوَى، وَلَا يَخْشَوْنَ فِيهِ أَحَدًا، ثُمَّ تَلَا ﴿يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الأرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [[زيادة من ف، أ.]] ] ﴾ [ص:٢٦] وَقَالَ: ﴿فَلا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ﴾ [الْمَائِدَةِ:٤٤] ، وَقَالَ ﴿وَلا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلا﴾ [الْمَائِدَةِ:٤٤] .
قُلْتُ: أَمَّا الْأَنْبِيَاءُ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، فَكُلُّهُمْ مَعْصُومُونَ مُؤيَّدون مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَهَذَا مِمَّا لَا خِلَافَ [[في ف: "ما لا اختلاف فيه".]] فِيهِ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ الْمُحَقِّقِينَ مِنَ السَّلَفِ وَالْخَلَفِ، وَأَمَّا مَنْ سِوَاهُمْ فَقَدْ ثَبَتَ فِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِذَا اجْتَهَدَ الْحَاكِمُ فَأَصَابَ فَلَهُ أجران، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ [[في ف: "وأخطأ".]] فَلَهُ أَجْرٌ" [[صحيح البخاري برقم (٧٣٥٢) .]] فَهَذَا الْحَدِيثُ يَرُدُّ نَصًّا مَا تَوَهَّمَهُ "إِيَاسٌ" مِنْ أَنَّ الْقَاضِيَ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَخَطَأَ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَفِي السُّنَنِ: "الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: قَاضٍ فِي الْجَنَّةِ، وَقَاضِيَانِ فِي النَّارِ: رَجُلٌ عَلِمَ الْحَقَّ وَقَضَى بِهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ، وَرَجُلٌ حَكَمَ بَيْنَ النَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ عَلِمَ الْحَقَّ وَقَضَى بِخِلَافِهِ، فَهُوَ فِي النَّارِ [[سنن أبي داود برقم (٣٥٧٣) وسنن النسائي الكبرى برقم (٥٩٢٢) وسنن ابن ماجه برقم (٢٣١٥)]] .
وَقَرِيبٌ مِنْ هَذِهِ الْقِصَّةِ الْمَذْكُورَةِ فِي الْقُرْآنِ مَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ، حَيْثُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْص، أَخْبَرَنَا وَرْقاء عَنْ أَبِي الزِّنَاد، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَانِ لَهُمَا، جَاءَ [[في ف: "إذ جاء".]] الذِّئْبُ فَأَخَذَ أَحَدَ الِابْنَيْنِ، فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا. فَدَعَاهُمَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ: هَاتُوا السِّكِّينَ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا، لَا تَشُقه، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى" [[المسند (٢/٣٢٢)]] .
وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ في صحيحهما [[في ف: "صحيحيهما".]] وَبَوَّبَ عَلَيْهِ النَّسَائِيُّ فِي كِتَابِ الْقَضَاءِ: (بَابُ الْحَاكِمُ يُوهِمُ خِلَافَ الْحُكْمِ لِيَسْتَعْلِمَ الْحَقَّ) [[صحيح البخاري برقم (٦٧٦٩) وصحيح مسلم برقم (١٧٢٠) وسنن النسائي الكبرى برقم (٥٩٥٨) والباب فيه "التوسعة للحاكم في أن يقول للشيء الذي لا يفعله أفعل ليستبين له الحق".]] .
وَهَكَذَا القصة التي أوردها الْحَافِظُ أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ "سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ" مِنْ تَارِيخِهِ، مِنْ طَرِيقِ الْحَسَنِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ -فَذَكَرَ قِصَّةً مُطَوَّلَةً [[في ف: "طويلة".]] مُلَخَّصُهَا-: أَنَّ امْرَأَةً حَسْنَاءَ فِي زَمَانِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، رَاوَدَهَا عَنْ نَفْسِهَا أَرْبَعَةٌ مِنْ رُؤَسَائِهِمْ، فَامْتَنَعَتْ عَلَى [[في أ: "عن".]] كُلٍّ مِنْهُمْ، فَاتَّفَقُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ عَلَيْهَا، فَشَهِدُوا عَلَيْهَا عِنْدَ دَاوُدَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهَا مَكَّنت مِنْ نَفْسِهَا كَلْبًا لَهَا، قَدْ عَوَّدَتْهُ ذَلِكَ مِنْهَا، فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا. فَلَمَّا كَانَ عَشِيَّةَ ذَلِكَ الْيَوْمِ، جَلَسَ سُلَيْمَانُ، وَاجْتَمَعَ مَعَهُ وِلْدانٌ، مِثْلُهُ، فَانْتَصَبَ حَاكِمًا وَتَزَيَّا أَرْبَعَةٌ مِنْهُمْ بِزِيِّ أُولَئِكَ، وَآخَرُ بِزِيِّ الْمَرْأَةِ، وَشَهِدُوا عَلَيْهَا بِأَنَّهَا مكَنت مِنْ نَفْسِهَا كَلْبًا، فَقَالَ سُلَيْمَانُ: فَرِّقُوا بَيْنَهُمْ. فَقَالَ لِأَوَّلِهِمْ: مَا كَانَ لَوْنُ الْكَلْبِ؟ فَقَالَ: أَسْوَدُ. فَعَزَلَهُ، وَاسْتَدْعَى الْآخَرَ فَسَأَلَهُ عَنْ لَوْنِهِ، فَقَالَ: أَحْمَرُ. وَقَالَ الْآخَرُ: أَغْبَشُ. وَقَالَ الْآخَرُ: أَبْيَضُ. فَأَمَرَ بِقَتْلِهِمْ، فَحُكِيَ ذَلِكَ لِدَاوُدَ، فَاسْتَدْعَى مِنْ فَوْرِهِ بِأُولَئِكَ الْأَرْبَعَةِ، فَسَأَلَهُمْ مُتَفَرِّقِينَ عَنْ لَوْنِ ذَلِكَ الْكَلْبِ، فَاخْتَلَفُوا عَلَيْهِ، فأمر بقتلهم [[تاريخ دمشق (٧/٥٦٥ "المخطوط")]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ وَكُنَّا فَاعِلِينَ﴾ : وَذَلِكَ لِطِيبِ صَوْتِهِ بِتِلَاوَةِ كِتَابِهِ الزَّبُورِ، وَكَانَ إِذَا تَرَنَّم بِهِ تَقِفُ الطَّيْرُ فِي الْهَوَاءِ، فَتُجَاوِبُهُ، وتَرد عَلَيْهِ الْجِبَالُ تَأْوِيبًا؛ وَلِهَذَا لمَّا مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، وَهُوَ يَتْلُو الْقُرْآنَ مِنَ اللَّيْلِ، وَكَانَ لَهُ صَوْتٌ طَيِّبٌ [جَدًا] [[زيادة من ف، أ.]] . فَوَقَفَ وَاسْتَمَعَ لِقِرَاءَتِهِ، وَقَالَ: "لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مَزَامِيرَ آلِ دَاوُدَ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَسْمَعُ [[في ف: "تستمع".]] لِحَبَّرْتُهُ لَكَ تَحْبِيرًا [[سبق الحديث في فضائل القرآن.]] .
وَقَالَ أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ: مَا سَمِعْتُ صَوْتَ صَنْج وَلَا بَرَبْطَ وَلَا مِزْمَارٍ مِثْلَ صَوْتِ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَمَعَ هَذَا قَالَ: لَقَدْ أُوتِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَكُمْ لِيُحْصِنَكُمْ [[في ف، أ: "لتحصنكم".]] مِنْ بَأْسِكُمْ﴾ يَعْنِي صَنْعَةَ الدُّرُوعِ.
قَالَ قَتَادَةُ: إِنَّمَا كَانَتِ الدُّرُوعُ قَبْلَهُ صَفَائِحَ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ سَرَدَهَا حلَقًا. كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ. أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ﴾ [سَبَأٍ:١٠، ١١] أَيْ: لَا تُوَسِّعِ الْحَلْقَةَ فَتُقْلِقَ [[في ف: "فتفلق".]] الْمِسْمَارَ، وَلَا تُغْلِظِ الْمِسْمَارَ فتَقَدّ الحَلْقة؛ وَلِهَذَا قال: ﴿لِيُحْصِنَكُمْ [[في ف، أ: "لتحصنكم".]] مِنْ بَأْسِكُمْ﴾ يَعْنِي: فِي الْقِتَالِ، ﴿فَهَلْ أَنْتُمْ شَاكِرُونَ﴾ أَيْ: نِعَمَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ، لِمَا أَلْهَمَ بِهِ عَبْدَهُ دَاوُدَ، فَعَلَّمَهُ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِكُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً﴾ أَيْ: وَسَخَّرْنَا لِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ الْعَاصِفَةَ، ﴿تَجْرِي بِأَمْرِهِ إِلَى الأرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا﴾ يَعْنِي أَرْضَ الشَّامِ، ﴿وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عَالِمِينَ﴾ وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ بِسَاطٌ مِنْ خَشَبٍ، يُوضَعُ عَلَيْهِ كُلُّ مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ مِنْ أُمُورِ الْمَمْلَكَةِ، وَالْخَيْلِ وَالْجِمَالِ وَالْخِيَامِ وَالْجُنْدِ، ثُمَّ يَأْمُرُ الرِّيحَ أَنْ تَحْمِلَهُ فَتَدْخُلَ تَحْتَهُ، ثُمَّ تَحْمِلَهُ فَتَرْفَعَهُ وَتَسِيرَ بِهِ، وَتُظِلُّهُ الطَّيْرُ مِنَ الْحَرِّ، إِلَى حَيْثُ يَشَاءُ مِنَ الْأَرْضِ، فَيَنْزِلُ وَتُوضَعُ آلَاتُهُ وَخُشُبُهُ [[في أ: "وحشمه"]] ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ﴾ [ص:٣٦] ، وَقَالَ ﴿غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ﴾ [سَبَأٍ:١٢] .
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: ذُكِرَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ أَبِي سِنَان، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كَانَ يُوضَع لِسُلَيْمَانَ سِتُّمِائَةِ أَلْفِ كُرْسِيٍّ، فَيَجْلِسُ مِمَّا يَلِيهِ مُؤْمِنُو الْإِنْسِ، ثُمَّ يَجْلِسُ مِنْ وَرَائِهِمْ مُؤْمِنُو الْجِنِّ، ثُمَّ يَأْمُرُ الطَّيْرَ فَتُظِلُّهُمْ، ثُمَّ يَأْمُرُ الرِّيحَ فَتَحْمِلُهُ ﷺ [[في أ: "فتحملهم عليه السلام".]] .
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْد بْنِ عُمَيْرٍ: كَانَ سُلَيْمَانُ يَأْمُرُ الرِّيحَ، فتجتَمع كالطَّود الْعَظِيمِ، كَالْجَبَلِ، ثُمَّ يَأْمُرُ بِفِرَاشِهِ فَيُوضَعُ عَلَى أَعْلَى مَكَانٍ مِنْهَا، ثُمَّ يَدْعُو بفَرَس مِنْ ذَوَاتِ الْأَجْنِحَةِ، فَتَرْتَفِعُ [[في ف، أ: "فيرتفع".]] حَتَّى تَصْعَدَ [[في ف، أ: "يصعد".]] عَلَى فِرَاشِهِ، ثُمَّ يَأْمُرُ الرِّيحَ فَتَرْتَفِعُ بِهِ كُل شَرَف دُونَ السَّمَاءِ، وَهُوَ مُطَأْطِئٌ رَأْسَهُ، مَا يَلْتَفِتُ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا تَعْظِيمًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَشُكْرًا لِمَا يَعْلَمُ مِنْ صِغَرِ مَا هُوَ فِيهِ فِي ملك الله تَعَالَى [[في ف، أ: "عز وجل".]] حَتَّى تَضَعَهُ [[في ف: "يضعه".]] . الرِّيحُ حَيْثُ شَاءَ أَنْ تَضَعَهُ [[في ف، أ: "حيث يشاء أن يضعه".]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمِنَ الشَّيَاطِينِ مَنْ يَغُوصُونَ لَهُ﴾ أَيْ: فِي الْمَاءِ يَسْتَخْرِجُونَ اللَّآلِئَ [وَغَيْرَ ذَلِكَ. ﴿وَيَعْمَلُونَ عَمَلا دُونَ ذَلِكَ﴾ أَيْ: غَيْرَ ذَلِكَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ *] [[زيادة من ف، أ.]] وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الأصْفَادِ﴾ . [ص: ٣٧، ٣٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَكُنَّا لَهُمْ حَافِظِينَ﴾ [[في ف: "له".]] أَيْ: يَحْرُسُهُ اللَّهُ أَنْ يَنَالَهُ أَحَدٌ مِنَ الشَّيَاطِينِ بِسُوءٍ، بَلْ كُلٌّ فِي قَبْضَتِهِ وَتَحْتَ قَهْرِهِ لَا يَتَجَاسَرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى الدُّنُوِّ إِلَيْهِ وَالْقُرْبِ مِنْهُ، بَلْ هُوَ مُحَكَّم [[في ف، أ: "يحكم".]] فِيهِمْ، إِنْ شَاءَ أَطْلَقَ، وَإِنْ شَاءَ حَبَسَ مِنْهُمْ مَنْ يَشَاءُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الأصْفَادِ﴾
وَعَلَّمْنَٰهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍۢ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُم مِّنۢ بَأْسِكُمْ ۖ فَهَلْ أَنتُمْ شَٰكِرُونَ
And We taught him the fashioning of coats of armor to protect you from your [enemy in] battle. So will you then be grateful?
اور ہم نے تمہارے لئے ان کو ایک (طرح) کا لباس بنانا بھی سکھا دیا تاکہ تم کو لڑائی (کے ضرر) سے بچائے۔ پس تم کو شکرگزار ہونا چاہیئے
و ساختن زره را بخاطر شما به او تعلیم دادیم، تا شما را در جنگهایتان حفظ کند؛ آیا شکرگزار (این نعمتهای خدا) هستید؟
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Dawud and Sulayman, when they gave judgement in the case of the field in which the sheep of certain people had Nafashat; and We were witness to their judgement (78)And We made Sulayman to understand (the case); and to each of them We gave wisdom (Hukm) and knowledge. And We subjected the mountains and the birds to glorify Our praises along with Dawud. And it was We Who were the doer (of all these things)(79)And We taught him the making of metal coats of mail (for battles), to protect you in your fighting. Are you then grateful (80)And to Sulayman (We subjected) the wind strongly raging, running by his command towards the land which We had blessed. And of everything We are the All-Knower (81)And of the Shayatin were some who dived for him, and did other work besides that; and it was We Who guarded them (82)
Dawud and Sulayman and the Signs which They were given; the Story of the People whose Sheep pastured at Night in the Field
(Abu) Ishaq narrated from Murrah from Ibn Mas'ud: "That crop was grapes, bunches of which were dangling." This was also the view of Shurayh. Ibn 'Abbas said: "Nafash means grazing." Shurayh, Az-Zuhri and Qatadah said: "Nafash only happens at night." Qatadah added, "[and] Al-Haml is grazing during the day."
وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ
(And (remember) Dawud and Sulayman, when they gave judgement in the case of the field in which the sheep of certain people had pastured at night;)
Ibn Jarir recorded that Ibn Mas'ud said: "Grapes which had grown and their bunches were spoiled by the sheep. Dawud (David) ruled that the owner of the grapes should keep the sheep. Sulayman (Solomon) said, 'Not like this, O Prophet of Allah!' [Dawud] said, 'How then' [Sulayman] said: 'Give the grapes to the owner of the sheep and let him tend them until they grow back as they were, and give the sheep to the owner of the grapes and let him benefit from them until the grapes have grown back as they were. Then the grapes should be given back to their owner, and the sheep should be given back to their owner.' This is what Allah said:
فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ
(And We made Sulayman to understand (the case).)" This was also reported by Al-'Awfi from Ibn 'Abbas.
فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ ۚ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا
(And We made Sulayman to understand (the case); and to each of them We gave wisdom and knowledge.)
Ibn Abi Hatim recorded that when Iyas bin Mu'awiyah was appointed as a judge, Al-Hasan came to him and found Iyas weeping. [Al-Hasan] said, "Why are you weeping?" [Iyas] said, "O Abu Sa'id, What I heard about judges among them a judge is he, who studies a case and his judgment is wrong, so he will go to Hell; another judge is he who is biased because of his own whims and desires, so he will go to Hell; and the other judge he who studies a case and gives the right judgement, so he will go to Paradise." Al-Hasan Al-Basari said: "But what Allah tells us about Dawud and Sulayman (peace be upon them both) and the Prophets and whatever judgements they made proves that what these people said is wrong. Allah says:
وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ
(And (remember) Dawud and Sulayman, when they gave judgement in the case of the field in which the sheep of certain people had pastured at night; and We were witness to their judgement.) Allah praised Sulayman but He did not condemn Dawud." Then he – Al-Hasan – said, "Allah enjoins three things upon the judges: not to sell thereby for some miserable price; not to follow their own whims and desires; and not to fear anyone concerning their judgements. " Then he recited:
يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(O Dawud! Verily, We have placed you as a successor on the earth; so judge you between men in truth and follow not your desire – for it will mislead you from the path of Allah.)[38:26]
فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ
(Therefore fear not men but fear Me)(5:44)
وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا
(and sell not My Ayat for a miserable price.)[5:44] I say: with regard to the Prophets (peace be upon them all), all of them were infallible and supported by Allah. With regard to others, it is recorded in Sahih Al-Bukhari from 'Amir bin Al-'As that the Messenger of Allah ﷺ said:
إِذَا اجْتَهَدَ الْحَاكِمُ فَأَصَابَ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ، فَلَهُ أَجْرٌ
(If the judge does his best, studies the case and reaches the right conclusion, he will have two rewards. If he does his best, studies the case and reaches the wrong conclusion, he will have one reward.)
This Hadith refutes the idea of Iyas, who thought that if he did his best, studied the case and reached the wrong conclusion, he would go to Hell. And Allah knows best.
Similar to story in the Qur'an is the report recorded by Imam Ahmad in his Musnad from Abu Hurayrah, who said that the Messenger of Allah ﷺ said:
بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَانِ لَهُمَا، إِذْ جَاءَ الذِّئْبُ فَأَخَذَ أَحَدَ الْابْنَيْنِ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا فَدَعَاهُمَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ: هَاتُوا السِّكِّينَ أَشُقُّهُ بَيْنَكُمَا: فَقَالَتِ الصُّغْرَى: يَرْحَمُكَ اللهُ هُوَ ابْنُهَا لَا تَشُقَّهُ، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى
(There were two women who each had a son. The wolf came and took one of the children, and they referred their dispute to Dawud. He ruled that the (remaining) child belonged to the older woman. They left, then Sulayman called them and said, "Give me a sword and I will divide him between the two of you." The younger woman said, "May Allah have mercy on you! He is her child, do not cut him up!" So he ruled that the child belonged to the younger woman).
This was also recorded by Al-Bukhari and Muslim in their Sahihs. An-Nasa'i also devoted a chapter to this in the Book of Judgements.
وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُودَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ
(And We subjected the mountains and the birds to glorify Our praises along with Dawud.)
This refers to the beauty of his voice when he recited his Book, Az-Zabur. When he recited it in a beautiful manner, the birds would stop and hover in the air, and would repeat after him, and the mountains would respond and echo his words. The Prophet ﷺ passed by Abu Musa Al-Ash'ari while he was reciting Qur'an at night, and he had a very beautiful voice, he stopped and listened to his recitation, and said:
لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
(This man has been given one of the wind instruments (nice voices) of the family of Dawud.) He said: "O Messenger of Allah, if I had known that you were listening, I would have done my best for you."
وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُم مِّن بَأْسِكُمْ
(And We taught him the making of metal coats of mail, to protect you in your fighting.) meaning, the manufacture of chain-armor. Qatadah said that before that, they used to wear plated armor; he was the first one to make rings of chain-armor. This is like the Ayah:
وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ - أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ
(And We made the iron soft for him. Saying: "Make you perfect coats of mail, and balance well the rings of chain armor.")(34:10-11), meaning, do not make the pegs so loose that the rings (of chain mail) will shake, or make it so tight that they will not be able to move at all. Allah says:
لِتُحْصِنَكُم مِّن بَأْسِكُمْ
(to protect you in your fighting.) meaning, in your battles.
فَهَلْ أَنتُمْ شَاكِرُونَ
(Are you then grateful?) means, 'Allah blessed you when He inspired His servant Dawud and taught him that for your sake.'
The Power of Sulayman is unparalleled
وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً
(And to Sulayman (We subjected) the wind strongly raging,) means, 'We subjugated the strong wind to Sulayman.'
تَجْرِي بِأَمْرِهِ إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا
(running by his command towards the land which We had blessed.) meaning, the land of Ash-Sham (Greater Syria).
وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عَالِمِينَ
(And of everything We are the All-Knower.) He had a mat made of wood on which he would place all the equipment of his kingship; horses, camels, tents and troops, then he would command the wind to carry it, and he would go underneath it and it would carry him aloft, shading him and protecting him from the heat, until it reached wherever he wanted to go in the land. Then it would come down and deposit his equipment and entourage. Allah says:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ
(So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order whithersoever he willed.)(38:36)
غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ
(its morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's)(34:12)
وَمِنَ الشَّيَاطِينِ مَن يَغُوصُونَ لَهُ
(And of the Shayatin were some who dived for him,) means, they dived into the water to retrieve pearls, jewels, etc., for him.
وَيَعْمَلُونَ عَمَلًا دُونَ ذَٰلِكَ
(and did other work besides that;) This is like the Ayah:
وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ - وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also the Shayatin, every kind of builder and diver. And also others bound in fetters.)(38:37-38).
وَكُنَّا لَهُمْ حَافِظِينَ
(and it was We Who guarded them.) means, Allah protected him lest any of these Shayatin did him any harm. All of them were subject to his control and domination, and none of them would have dared to approach him. He was in charge of them and if he wanted, he could set free or detain whomever among them he wished. Allah says:
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also others bound in fetters.)(38:38)
Tafsir Ibn Kathir
ایک ہی مقدمہ میں داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کے مختلف فیصلے۔ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں یہ کھیتی انگور کی تھی جس کے خوشے لٹک رہے تھے نفشت کے معنی ہیں رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے۔ اور دن کے وقت چرنے کو عربی میں ہمل کہتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اس باغ کو بکریوں نے بگاڑ دیا، حضرت داؤد ؑ نے یہ فیصلہ کیا کہ باغ کے نقصان کے بدلے یہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں۔ حضرت سلیمان ؑ نے یہ فیصلہ سن کر عرض کی کہ اے اللہ کے نبی ؑ اس کے سوا بھی فیصلے کی کوئی صورت ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ کیا ؟ جواب دیا کہ بکریاں باغ والے کے حوالے کردی جائیں وہ ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور باغ بکری والے کو دے دیا جائے یہ اس میں انگور کی بیلوں کی خدمت کرے یہاں تک کہ بیلیں ٹھیک ٹھاک ہوجائیں انگور لگیں اور پھر اسی حالت پر آجائیں جس پر تھے تو باغ والے کو اس کا باغ سونپ دے اور باغ والا اسے اس کی بکریاں سونپ دے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ ہم نے اس جھگڑے کا صحیح فیصلہ حضرت سلیمان ؑ کو سمجھا دیا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں حضرت داؤد ؑ کا یہ فیصلہ سن کر بکریوں والے اپنا سا منہ لے کر صرف کتوں کو اپنے ساتھ لئے ہوئے واپس جا رہے تھے حضرت سلیمان ؑ نے انہیں دیکھ کر دریافت کیا کہ تمہارا فیصلہ کیا ہوا ؟ انہوں نے خبردی تو آپ نے فرمایا اگر میں اس جگہ ہوتا تو یہ فیصلہ نہ دیتا بلکہ کچھ اور فیصلہ کرتا حضرت داؤد ؑ کو جب یہ بات پہنچی تو آپ نے انہیں بلوایا اور پوچھا کہ بیٹے تم کیا فیصلہ کرتے ؟ آپ نے وہی اوپر والا فیصلہ سنایا۔ حضرت مسروق ؒ فرماتے ہیں ان بکریوں نے خوشے اور پتے سب کھالئے تھے۔ تو حضرت داؤد ؑ کے فیصلے کے خلاف حضرت سلیمان ؑ نے فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کی بکریاں باغ والوں کو دے دی جائیں اور یہ باغ انہیں سونپا جائے جب تک باغ اپنی اصلی حالت پر آئے تب تک بکریوں کے بچے اور ان کا دودھ اور ان کا کل نفع باغ والوں کا۔ پھر ہر ایک کو ان کی چیز سونپ دی جائے۔ قاضی شریح ؒ کے پاس بھی ایک ایسا ہی جھگڑا آیا تو آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر دن کو بکریوں نے نقصان پہنچایا ہے تب تو کوئی معاوضہ نہیں۔ اور اگر رات کو نقصان پہنچایا ہے تو بکریوں والے ضامن ہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضرت برا بن عازب ؓ کی اونٹنی کسی باغ میں چلی گئی اور وہاں باغ کا بڑا نقصان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ باغ والوں پر دن کے وقت باغ کی حفاظت ہے اور جو نقصان جانوروں سے رات کو ہو اس کا جرمانہ جانور والوں پر ہے اس حدیث میں علتیں نکالی گئی ہیں اور ہم نے کتاب الاحکام میں اللہ کے فضل سے اس کی پوری تفصیل بیان کردی ہے۔ مروی ہے کہ حضرت ایاس بن معاویہ ؒ سے جب کہ قاضی بننے کی درخواست کی گئی تو وہ حسن ؒ کے پاس آئے اور روئے۔ پوچھا گیا کہ ابو سعید آپ کیوں روتے ہیں ؟ فرمایا مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ اگر قاضی نے اجتہاد کیا پھر غلطی کی وہ جہنمی ہے اور جو خواہش نفس کی طرف جھک گیا وہ بھی جہنمی ہے ہاں جس نے اجتہاد کیا اور صحت پر پہنچ گیا وہ جنت میں پہنچا۔ حضرت حسن یہ سن کر فرمانے لگے سنو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ اور حضرت سلیمان ؑ کی قضاۃ کا ذکر فرمایا ہے ظاہر ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اعلیٰ منصب پر ہوتے ہیں، ان کے قول سے ان لوگوں کی باتیں رد ہوسکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کی تعریف تو بیان فرمائی ہے لیکن حضرت داؤد ؑ کی مذمت بیان نہیں فرمائی۔ پھر فرمانے لگے سنو تین باتوں کا عہد اللہ تعالیٰ نے قاضیوں سے لیا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ منصفین شرع دینوی نفع کی وجہ سے بدل نہ دیں، دوسرے یہ کہ اپنے دلی ارادوں اور خواہشوں کے پیچھے نہ پڑجائیں، تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاس بالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ 26) 38۔ ص :26) یعنی اے داؤد ہم نے تجھے زمین کا خلیفہ بنایا ہے تو لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلے کرتا رہ خواہش کے پیچے نہ پڑ کہ اللہ کی راہ سے بہک جائے۔ اور ارشاد ہے آیت (فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ 44) 5۔ المآئدہ :44) لوگوں سے نہ ڈرو مجھی سے ڈرتے رہا کرو اور فرمان ہے آیت (وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا وَاِيَّاىَ فَاتَّقُوْنِ 41) 2۔ البقرة :41) میری آیتوں کو معمولی نفع کی خاطر بیچ نہ دیا کرو۔ میں کہتا ہوں انبیاء (علیہم السلام) کی معصومیت میں اور ان کی منجانب اللہ ہر وقت تائید ہوتے رہنے میں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ رہے اور لوگ تو صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب حاکم اجتہاد اور کوشش کرے پھر صحت تک بھی پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور جب پوری کوشش کے بعد بھی غلطی کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے۔ یہ حدیث صاف بتلا رہی ہے کہ حضرت ایاس ؒ کو جو وہم تھا کہ باوجود پوری جدوجہد کے بھی خطا کرجائے تو دوزخی ہے یہ غلط ہے، واللہ اعلم۔ سنن کی اور حدیث میں ہے قاضی تین قسم کے ہیں ایک جنتی دو جہنمی اور جس نے حق کو معلوم کرلیا اور اسی سے فیصلہ کیا وہ جنتی۔ اور جس نے جہالت کے ساتھ فیصلہ کیا وہ جہنمی اور جسنے حق کو جانتے ہوئے اس کے خلاف فیصلہ دیا وہ بھی جہنمی۔ قرآن کریم کے بیان کردہ اس واقعے کے قریب ہی وہ قصہ ہے جو مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دو عورتیں تھیں جن کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے بھیڑیا آکر ایک بچے کو اٹھا لے گیا اب ہر ایک دوسری سے کہنے لگی کہ تیرا بچہ گیا اور جو ہے وہ میرا بچہ ہے۔ آخر یہ قصہ حضرت داؤد ؑ کے سامنے پیش ہوا۔ آپ نے بڑی عورت کو ڈگری دے دی کہ یہ بچہ تیرا ہے یہ یہاں سے نکلیں راستے میں حضرت سلیمان ؑ تھے آپ نے دونوں کو بلایا اور فرمایا چھری لاؤ میں اس لڑکے کے دو ٹکڑے کرکے آدھا آدھا دونوں کو دے دیتا ہوں اس پر بڑی تو خاموش ہوگئی لیکن چھوٹی نے ہائے واویلا شروع کردیا کہ اللہ آپ پر رحم کرے آپ ایسا نہ کیجئے یہ لڑکا اسی بڑی کا ہے اسی کو دے دیجئے۔ حضرت سلیمان ؑ معاملے کو سمجھ گئے اور لڑکا چھوٹی عورت کو دلادیا۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے امام نسائی ؒ نے اس پر باب باندھا ہے کہ حاکم کو جائز ہے کہ اپنا فیصلہ اپنے دل میں رکھ کر حقیقت کو معلوم کرنے کے لئے اس کے خلاف کچھ کہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ابن عساکر میں ہے کہ ایک خوبصورت عورت سے ایک رئیس نے ملنا چاہا لیکن عورت نے نہ مانا اسی طرح تین اور شخصوں نے بھی اس سے بدکاری کا ارادہ کیا لیکن وہ باز رہی۔ اس پر وہ رؤسا خار کھا گئے اور آپس میں اتفاق کرکے حضرت داؤد ؑ کی عدالت میں جاکر سب نے گواہی دی کہ وہ عورت اپنے کتے سے ایسا کام کرتی ہے چاروں کے متفقہ بیان پر حکم ہوگیا کہ اسے رجم کردیا جائے۔ اسی شام کو حضرت سلیمان ؑ اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر خود حاکم بنے اور چار لڑکے ان لوگوں کی طرح آپ کے پاس اس مقدمے کو لائے اور ایک عورت کی نسبت یہی کہا۔ حضرت سلیمان ؑ نے حکم دیا ان چاروں کو الگ الگ کردو۔ پھر ایک کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا کہ اس کتے کا رنگ کیسا تھا ؟ اس نے کہا سیاہ۔ پھر دوسرے کو تنہا بلایا اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سرخ۔ تیسرے نے کہا خاکی۔ چوتھے نے کہا سفید آپ نے اسی وقت فیصلہ دیا کہ عورت پر یہ نری تہمت ہے اور ان چاروں کو قتل کردیا جائے۔ حضرت داؤد ؑ کے پاس بھی یہ واقعہ بیان کیا گیا۔ آپ نے اسی وقت فی الفور ان چاروں امیروں کو بلایا اور اسی طرح الگ الگ ان سے اس کتے کا رنگ کی بابت سوال کیا۔ یہ گڑبڑا گئے کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ کہا۔ آپ کو ان کا جھوٹ معلوم ہوگیا اور حکم فرمایا کہ انہیں قتل کردیا جائے۔ پھر بیان ہو رہا ہے کہ حضرت داؤد ؑ کو وہ نورانی گلا عطا فرمایا گیا تھا اور آپ ایسی خوش آوازی اور خلوص کے ساتھ زبور پڑھتے تھے کہ پرند بھی اپنی پرواز چھوڑ کر تھم جاتے تھے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے لگتے تھے اسی طرح پہاڑ بھی۔ ایک روایت میں ہے کہ رات کے وقت حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ تلاوت قرآن کریم کررہے تھے رسول اللہ ﷺ ان کی میٹھی رسیلی اور خلوص بھری آواز سن کر ٹھہر گئے اور دیر تک سنتے رہے پھر فرمانے لگے یہ تو آل داؤد کی آوازوں کی شیرینی دیئے گئے ہیں۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کو جب معلوم ہوا تو فرمانے لگے کہ یارسول اللہ ﷺ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ حضور ﷺ میری قرأت سن رہے ہیں تو میں اور بھی اچھی طرح پڑھتا۔ حضرت ابو عثمان نہدی ؓ فرماتے ہیں میں نے تو کسی بہتر سے بہتر باجے کی آواز میں بھی وہ مزہ نہیں پایا جو حضرت موسیٰ اشعری ؓ کی آواز میں تھا۔ پس اتنی خوش آوازی کو حضور ﷺ نے حضرت داؤد ؑ کی خوش آوازی کا ایک حصہ قرار دیا۔ اب سمجھ لیجئے کہ خود داؤد ؑ کی آواز کیسی ہوگی ؟ پھر اپنا ایک اور احسان بتاتا ہے کہ حضرت داؤد ؑ کو زرہیں بنانی ہم نے سکھا دی تھیں۔ آپ کے زمانے سے پہلے بغیر کنڈلوں اور بغیر حلقوں کی زرہ بنتی تھیں۔ کنڈلوں دار اور حلقوں والی زرہیں آپ نے ہی بنائیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ہم نے حضرت داؤد ؑ کے لئے لوہے کو نرم کردیا تھا کہ وہ بہترین زرہ تیار کریں اور ٹھیک انداز سے ان میں حلقے بنائیں۔ یہ زرہیں میدان جنگ میں کام آتی تھیں۔ پس یہ نعمت وہ تھی جس پر لوگوں کو اللہ کی شکرگزاری کرنی چاہے۔ ہم نے زورآور ہوا کو حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا تھا جو انہیں ان کے فرمان کے مطابق برکت والی زمین یعنی ملک شام میں پہنچا دیتی تھی۔ ہمیں ہر چیز کا علم ہے۔ آپ اپنے تخت پر مع اپنے لاؤ لشکر اور سامان اسباب کے بیٹھ جاتے تھے۔ پھر جہان جانا چاہتے ہوا آپ کو آپ کے فرمان کے مطابق گھڑی بھر میں وہاں پہنچا دیتی۔ تخت کے اوپر سے پرند پر کھولے آپ پر سایہ ڈالتے جیسے فرمان ہے آیت (فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيْحَ تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖ رُخَاۗءً حَيْثُ اَصَابَ 36ۙ) 38۔ ص :36) یعنی ہم نے ہوا کو ان کا تابع کردیا کہ جہان پہنچنا چاہتے ان کے حکم کے مطابق اسی طرف نرمی سے لے چلتی۔ صبح شام مہینہ مہینہ بھر کی راہ کو طے کرلیتی۔ حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں کہ چھ ہزار کرسی لگائی جاتی۔ آپ کے قریب مومن انسان بیٹھتے ان کے پیچھے مومن جن ہوتے۔ پھر آپ کے حکم سے سب پر پرند سایہ کرتے پھر حکم کرتے تو ہوا آپ کو لے چلتی۔ عبداللہ بن عبید بن عمیر ؒ فرماتے ہیں حضرت سلیمان ؑ کو حکم دیتے وہ مثل بڑے تودے کے جمع ہوجاتی گویا پہاڑ ہے پھر اس کے سب سے بلند مکان پر فرش افروز ہونے کا حکم دیتے پھر پہردار گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے فرش پر چڑھ جاتے پھر ہوا کو حکم دیتے وہ آپ کو بلندی پر لے جاتی آپ اس وقت سرنیچا کرلیتے دائیں بائیں بالکل نہ دیکھتے اس میں آپ کی تواضع اور اللہ کی شکر گزاری مقصود ہوتی تھی۔ کیونکہ آپ کو اپنی فروتنی کا علم تھا۔ پھر جہاں آپ حکم دیتے وہیں ہوا آپ کو اتار دیتی۔ اسی طرح سرکش جنات بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کے قبضے میں کردیئے تھے جو سمندروں میں غوطے لگا کرموتی اور جواہر وغیرہ نکال لایا کرتے تھے اور بھی بہت سے کام کاج کرتے تھے جیسے فرمان ہے آیت (وَالشَّيٰطِيْنَ كُلَّ بَنَّاۗءٍ وَّغَوَّاصٍ 37ۙ) 38۔ ص :37) ہم نے سرکش جنوں کو ان کا ماتحت کردیا تھا جو معمار تھے اور غوطہ خور۔ اور ان کے علاوہ اور شیاطین بھی ان کے ماتحت تھے جو زنجیروں میں بندھے رہتے تھے اور ہم ہی سلیمان کے حافظ ونگہبان تھے کوئی شیطان انہیں برائی نہ پہنچا سکتا تھا بلکہ سب کے سب ان کے ماتحت فرماں بردار اور تابع تھے کوئی ان کے قریب بھی نہ پھٹک سکتا تھا کی آپ کی حکمرانی ان پر چلتی تھی جسے چاہتے قید کرلیتے جسے چاہتے آزاد کردیتے اسی کو فرمایا کہ اور جنات تھے جو جکڑے رہا کرتے تھے۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُرّة، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: كَانَ ذَلِكَ الْحَرْثُ كَرْمًا قَدْ نَبَتَتْ عَنَاقِيدُهُ. وَكَذَا قَالَ شُرَيْح.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: النَّفْشُ: الرَّعْيُ.
وَقَالَ شُرَيح، وَالزُّهْرِيُّ، وَقَتَادَةُ: النَّفْشُ بِاللَّيْلِ. زَادَ قَتَادَةُ: والهَمْلُ بِالنَّهَارِ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب وَهَارُونُ بْنُ إدريسَ الْأَصَمُّ قَالَا حدثنا المحاربي، عن أشعت، عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُرّة، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ قَالَ: كَرْمٌ قَدْ أَنْبَتَتْ عَنَاقِيدُهُ، فَأَفْسَدَتْهُ. قَالَ: فَقَضَى دَاوُدُ بالغَنَم لِصَاحِبِ الكَرْم، فَقَالَ سُلَيْمَانُ: غيرُ هَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ! قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: تَدْفَعُ الْكَرْمَ إِلَى صَاحِبِ الْغَنَمِ، فَيَقُومُ عَلَيْهِ حَتَّى يَعُودَ كَمَا كَانَ، وَتَدْفَعُ الْغَنَمَ إِلَى صَاحِبِ الْكَرْمِ فيُصيب مِنْهَا حَتَّى إِذَا كَانَ الْكَرْمُ كَمَا كَانَ دَفَعْتَ الْكَرْمَ إِلَى صَاحِبِهِ، وَدَفَعْتَ الْغَنَمَ إِلَى صَاحِبِهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ﴾ .
وَهَكَذَا رَوَى العَوْفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا [[في ف: "حدثني".]] خَلِيفَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَحَكَمَ [[في ف، أ: "قضى".]] دَاوُدُ بِالْغَنَمِ لِأَصْحَابِ الْحَرْثِ، فَخَرَجَ الرِّعاء مَعَهُمُ الْكِلَابُ، فَقَالَ لَهُمْ سُلَيْمَانُ: كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمْ؟
فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: لَوْ وَلَيْتُ أَمْرَكُمْ لقضيتُ بِغَيْرِ هَذَا! فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ دَاوُدُ، فَدَعَاهُ فَقَالَ: كَيْفَ تَقْضِي بَيْنَهُمْ؟ قَالَ [[في ف: "فقال".]] أَدْفَعُ الْغَنَمَ إِلَى صَاحِبِ الْحَرْثِ، فَيَكُونُ لَهُ أَوْلَادُهَا وَأَلْبَانُهَا وَسِلَاؤُهَا وَمَنَافِعُهَا ويبذُر أَصْحَابُ الْغَنَمِ لِأَهْلِ الْحَرْثِ مثلَ حَرْثِهِمْ، فَإِذَا بَلَغَ الْحَرْثُ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ أَخَذَ أَصْحَابُ الْحَرْثِ الحرثَ وَرَدُّوا الْغَنَمَ إِلَى أَصْحَابِهَا.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا خُدَيْج، عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُرَّة، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: الْحَرْثُ الَّذِي نَفَشَتْ فِيهِ الْغَنَمُ إِنَّمَا كَانَ كَرْمًا نَفَشَتْ فِيهِ الْغَنَمُ، فَلَمْ تَدَع فِيهِ وَرَقَةً وَلَا عُنْقُودًا مِنْ عِنَبٍ إِلَّا أَكَلَتْهُ، فَأَتَوْا دَاوُدَ، فَأَعْطَاهُمْ رِقَابَهَا، فَقَالَ سُلَيْمَانُ: لَا بَلْ تُؤْخَذُ الْغَنَمُ فَيُعْطَاهَا [[في ف: "فتعطى".]] أهلُ الْكَرْمِ، فَيَكُونُ لَهُمْ لَبَنُهَا وَنَفْعُهَا، وَيُعْطَى أَهْلُ الْغَنَمِ الْكَرْمَ فَيُصْلِحُوهُ وَيُعَمِّرُوهُ [[في ف: "فيعمره ويصلحوه".]] حَتَّى يَعُودَ كَالَّذِي كَانَ لَيْلَةَ نَفَشت فِيهِ الْغَنَمُ، ثُمَّ يُعطَى أهل الغنم غنمهم، وأهل الكرم كرمهم.
وَهَكَذَا قَالَ شُرَيح، ومُرَّة، وَمُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ، وَابْنُ زَيْدٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلَانِ إِلَى شُرَيح، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: إِنَّ شَاةَ هَذَا قَطَعَتْ غَزَلًا لِي، فَقَالَ شُرَيْحٌ: نَهَارًا أَمْ لَيْلًا؟ فَإِنْ كَانَ نَهَارًا فَقَدْ بَرِئَ صَاحِبُ الشَّاةِ، وَإِنْ كَانَ لَيْلًا ضَمِن، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ﴾ الْآيَةَ.
وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ شُرَيح شَبِيهٌ بِمَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ، مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرام بْنِ مُحَيْصة [[في ف: "عن حرام عن الزهري بن محيصة".]] ؛ أَنَّ نَاقَةَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطًا، فَأَفْسَدَتْ فِيهِ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَمَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلَى أَهْلِهَا [[المسند (٥/٤٣٥) وسنن أبي داود برقم (٣٥٧٠) وسنن ابن ماجه برقم (٢٣٣٢) .
تنبيه: هذا الطريق إنما هو طريق ابن ماجه، أما أحمد فرواه عن مالك وسفيان ومعمر عن الزهري، وأما أبو داود فرواه عن معمر والأوزعي عن الزهري.]] . وَقَدْ عُلِّل هَذَا الْحَدِيثُ، وَقَدْ بَسَطْنَا الْكَلَامَ عَلَيْهِ فِي كِتَابِ "الْأَحْكَامِ" وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا﴾ قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ؛ أَنَّ إِيَاسَ بْنَ مُعَاوِيَةَ لَمَّا اسْتَقْضَى أَتَاهُ الْحَسَنُ فَبَكَى، قَالَ [[في ف، أ: "فقال".]] مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ [[في ف، أ: "فقال"]] يَا أَبَا سَعِيدٍ، بَلَغَنِي أَنَّ الْقُضَاةَ: رَجُلٌ اجْتَهَدَ فَأَخَطَأَ، فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ مَالَ بِهِ الْهَوَى فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ اجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ. فَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: إِنَّ فِيمَا قَصَّ اللَّهُ مَنْ نَبَأِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، وَالْأَنْبِيَاءِ حُكْمًا يَرُدُّ قَوْلَ هَؤُلَاءِ النَّاسِ عَنْ قَوْلِهِمْ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ﴾ فَأَثْنَى اللَّهُ عَلَى سُلَيْمَانَ وَلَمْ يَذُمَّ دَاوُدَ. ثُمَّ قَالَ -يَعْنِي: الْحَسَنَ-: إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ عَلَى الْحُكَمَاءِ ثَلَاثًا: لَا يَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا وَلَا يَتَّبِعُونَ فِيهِ الْهَوَى، وَلَا يَخْشَوْنَ فِيهِ أَحَدًا، ثُمَّ تَلَا ﴿يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الأرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [[زيادة من ف، أ.]] ] ﴾ [ص:٢٦] وَقَالَ: ﴿فَلا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ﴾ [الْمَائِدَةِ:٤٤] ، وَقَالَ ﴿وَلا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلا﴾ [الْمَائِدَةِ:٤٤] .
قُلْتُ: أَمَّا الْأَنْبِيَاءُ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، فَكُلُّهُمْ مَعْصُومُونَ مُؤيَّدون مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَهَذَا مِمَّا لَا خِلَافَ [[في ف: "ما لا اختلاف فيه".]] فِيهِ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ الْمُحَقِّقِينَ مِنَ السَّلَفِ وَالْخَلَفِ، وَأَمَّا مَنْ سِوَاهُمْ فَقَدْ ثَبَتَ فِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِذَا اجْتَهَدَ الْحَاكِمُ فَأَصَابَ فَلَهُ أجران، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ [[في ف: "وأخطأ".]] فَلَهُ أَجْرٌ" [[صحيح البخاري برقم (٧٣٥٢) .]] فَهَذَا الْحَدِيثُ يَرُدُّ نَصًّا مَا تَوَهَّمَهُ "إِيَاسٌ" مِنْ أَنَّ الْقَاضِيَ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَخَطَأَ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَفِي السُّنَنِ: "الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: قَاضٍ فِي الْجَنَّةِ، وَقَاضِيَانِ فِي النَّارِ: رَجُلٌ عَلِمَ الْحَقَّ وَقَضَى بِهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ، وَرَجُلٌ حَكَمَ بَيْنَ النَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ عَلِمَ الْحَقَّ وَقَضَى بِخِلَافِهِ، فَهُوَ فِي النَّارِ [[سنن أبي داود برقم (٣٥٧٣) وسنن النسائي الكبرى برقم (٥٩٢٢) وسنن ابن ماجه برقم (٢٣١٥)]] .
وَقَرِيبٌ مِنْ هَذِهِ الْقِصَّةِ الْمَذْكُورَةِ فِي الْقُرْآنِ مَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ، حَيْثُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْص، أَخْبَرَنَا وَرْقاء عَنْ أَبِي الزِّنَاد، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَانِ لَهُمَا، جَاءَ [[في ف: "إذ جاء".]] الذِّئْبُ فَأَخَذَ أَحَدَ الِابْنَيْنِ، فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا. فَدَعَاهُمَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ: هَاتُوا السِّكِّينَ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا، لَا تَشُقه، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى" [[المسند (٢/٣٢٢)]] .
وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ في صحيحهما [[في ف: "صحيحيهما".]] وَبَوَّبَ عَلَيْهِ النَّسَائِيُّ فِي كِتَابِ الْقَضَاءِ: (بَابُ الْحَاكِمُ يُوهِمُ خِلَافَ الْحُكْمِ لِيَسْتَعْلِمَ الْحَقَّ) [[صحيح البخاري برقم (٦٧٦٩) وصحيح مسلم برقم (١٧٢٠) وسنن النسائي الكبرى برقم (٥٩٥٨) والباب فيه "التوسعة للحاكم في أن يقول للشيء الذي لا يفعله أفعل ليستبين له الحق".]] .
وَهَكَذَا القصة التي أوردها الْحَافِظُ أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ "سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ" مِنْ تَارِيخِهِ، مِنْ طَرِيقِ الْحَسَنِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ -فَذَكَرَ قِصَّةً مُطَوَّلَةً [[في ف: "طويلة".]] مُلَخَّصُهَا-: أَنَّ امْرَأَةً حَسْنَاءَ فِي زَمَانِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، رَاوَدَهَا عَنْ نَفْسِهَا أَرْبَعَةٌ مِنْ رُؤَسَائِهِمْ، فَامْتَنَعَتْ عَلَى [[في أ: "عن".]] كُلٍّ مِنْهُمْ، فَاتَّفَقُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ عَلَيْهَا، فَشَهِدُوا عَلَيْهَا عِنْدَ دَاوُدَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهَا مَكَّنت مِنْ نَفْسِهَا كَلْبًا لَهَا، قَدْ عَوَّدَتْهُ ذَلِكَ مِنْهَا، فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا. فَلَمَّا كَانَ عَشِيَّةَ ذَلِكَ الْيَوْمِ، جَلَسَ سُلَيْمَانُ، وَاجْتَمَعَ مَعَهُ وِلْدانٌ، مِثْلُهُ، فَانْتَصَبَ حَاكِمًا وَتَزَيَّا أَرْبَعَةٌ مِنْهُمْ بِزِيِّ أُولَئِكَ، وَآخَرُ بِزِيِّ الْمَرْأَةِ، وَشَهِدُوا عَلَيْهَا بِأَنَّهَا مكَنت مِنْ نَفْسِهَا كَلْبًا، فَقَالَ سُلَيْمَانُ: فَرِّقُوا بَيْنَهُمْ. فَقَالَ لِأَوَّلِهِمْ: مَا كَانَ لَوْنُ الْكَلْبِ؟ فَقَالَ: أَسْوَدُ. فَعَزَلَهُ، وَاسْتَدْعَى الْآخَرَ فَسَأَلَهُ عَنْ لَوْنِهِ، فَقَالَ: أَحْمَرُ. وَقَالَ الْآخَرُ: أَغْبَشُ. وَقَالَ الْآخَرُ: أَبْيَضُ. فَأَمَرَ بِقَتْلِهِمْ، فَحُكِيَ ذَلِكَ لِدَاوُدَ، فَاسْتَدْعَى مِنْ فَوْرِهِ بِأُولَئِكَ الْأَرْبَعَةِ، فَسَأَلَهُمْ مُتَفَرِّقِينَ عَنْ لَوْنِ ذَلِكَ الْكَلْبِ، فَاخْتَلَفُوا عَلَيْهِ، فأمر بقتلهم [[تاريخ دمشق (٧/٥٦٥ "المخطوط")]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ وَكُنَّا فَاعِلِينَ﴾ : وَذَلِكَ لِطِيبِ صَوْتِهِ بِتِلَاوَةِ كِتَابِهِ الزَّبُورِ، وَكَانَ إِذَا تَرَنَّم بِهِ تَقِفُ الطَّيْرُ فِي الْهَوَاءِ، فَتُجَاوِبُهُ، وتَرد عَلَيْهِ الْجِبَالُ تَأْوِيبًا؛ وَلِهَذَا لمَّا مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، وَهُوَ يَتْلُو الْقُرْآنَ مِنَ اللَّيْلِ، وَكَانَ لَهُ صَوْتٌ طَيِّبٌ [جَدًا] [[زيادة من ف، أ.]] . فَوَقَفَ وَاسْتَمَعَ لِقِرَاءَتِهِ، وَقَالَ: "لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مَزَامِيرَ آلِ دَاوُدَ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَسْمَعُ [[في ف: "تستمع".]] لِحَبَّرْتُهُ لَكَ تَحْبِيرًا [[سبق الحديث في فضائل القرآن.]] .
وَقَالَ أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ: مَا سَمِعْتُ صَوْتَ صَنْج وَلَا بَرَبْطَ وَلَا مِزْمَارٍ مِثْلَ صَوْتِ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَمَعَ هَذَا قَالَ: لَقَدْ أُوتِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَكُمْ لِيُحْصِنَكُمْ [[في ف، أ: "لتحصنكم".]] مِنْ بَأْسِكُمْ﴾ يَعْنِي صَنْعَةَ الدُّرُوعِ.
قَالَ قَتَادَةُ: إِنَّمَا كَانَتِ الدُّرُوعُ قَبْلَهُ صَفَائِحَ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ سَرَدَهَا حلَقًا. كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ. أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ﴾ [سَبَأٍ:١٠، ١١] أَيْ: لَا تُوَسِّعِ الْحَلْقَةَ فَتُقْلِقَ [[في ف: "فتفلق".]] الْمِسْمَارَ، وَلَا تُغْلِظِ الْمِسْمَارَ فتَقَدّ الحَلْقة؛ وَلِهَذَا قال: ﴿لِيُحْصِنَكُمْ [[في ف، أ: "لتحصنكم".]] مِنْ بَأْسِكُمْ﴾ يَعْنِي: فِي الْقِتَالِ، ﴿فَهَلْ أَنْتُمْ شَاكِرُونَ﴾ أَيْ: نِعَمَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ، لِمَا أَلْهَمَ بِهِ عَبْدَهُ دَاوُدَ، فَعَلَّمَهُ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِكُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً﴾ أَيْ: وَسَخَّرْنَا لِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ الْعَاصِفَةَ، ﴿تَجْرِي بِأَمْرِهِ إِلَى الأرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا﴾ يَعْنِي أَرْضَ الشَّامِ، ﴿وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عَالِمِينَ﴾ وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ بِسَاطٌ مِنْ خَشَبٍ، يُوضَعُ عَلَيْهِ كُلُّ مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ مِنْ أُمُورِ الْمَمْلَكَةِ، وَالْخَيْلِ وَالْجِمَالِ وَالْخِيَامِ وَالْجُنْدِ، ثُمَّ يَأْمُرُ الرِّيحَ أَنْ تَحْمِلَهُ فَتَدْخُلَ تَحْتَهُ، ثُمَّ تَحْمِلَهُ فَتَرْفَعَهُ وَتَسِيرَ بِهِ، وَتُظِلُّهُ الطَّيْرُ مِنَ الْحَرِّ، إِلَى حَيْثُ يَشَاءُ مِنَ الْأَرْضِ، فَيَنْزِلُ وَتُوضَعُ آلَاتُهُ وَخُشُبُهُ [[في أ: "وحشمه"]] ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ﴾ [ص:٣٦] ، وَقَالَ ﴿غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ﴾ [سَبَأٍ:١٢] .
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: ذُكِرَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ أَبِي سِنَان، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كَانَ يُوضَع لِسُلَيْمَانَ سِتُّمِائَةِ أَلْفِ كُرْسِيٍّ، فَيَجْلِسُ مِمَّا يَلِيهِ مُؤْمِنُو الْإِنْسِ، ثُمَّ يَجْلِسُ مِنْ وَرَائِهِمْ مُؤْمِنُو الْجِنِّ، ثُمَّ يَأْمُرُ الطَّيْرَ فَتُظِلُّهُمْ، ثُمَّ يَأْمُرُ الرِّيحَ فَتَحْمِلُهُ ﷺ [[في أ: "فتحملهم عليه السلام".]] .
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْد بْنِ عُمَيْرٍ: كَانَ سُلَيْمَانُ يَأْمُرُ الرِّيحَ، فتجتَمع كالطَّود الْعَظِيمِ، كَالْجَبَلِ، ثُمَّ يَأْمُرُ بِفِرَاشِهِ فَيُوضَعُ عَلَى أَعْلَى مَكَانٍ مِنْهَا، ثُمَّ يَدْعُو بفَرَس مِنْ ذَوَاتِ الْأَجْنِحَةِ، فَتَرْتَفِعُ [[في ف، أ: "فيرتفع".]] حَتَّى تَصْعَدَ [[في ف، أ: "يصعد".]] عَلَى فِرَاشِهِ، ثُمَّ يَأْمُرُ الرِّيحَ فَتَرْتَفِعُ بِهِ كُل شَرَف دُونَ السَّمَاءِ، وَهُوَ مُطَأْطِئٌ رَأْسَهُ، مَا يَلْتَفِتُ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا تَعْظِيمًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَشُكْرًا لِمَا يَعْلَمُ مِنْ صِغَرِ مَا هُوَ فِيهِ فِي ملك الله تَعَالَى [[في ف، أ: "عز وجل".]] حَتَّى تَضَعَهُ [[في ف: "يضعه".]] . الرِّيحُ حَيْثُ شَاءَ أَنْ تَضَعَهُ [[في ف، أ: "حيث يشاء أن يضعه".]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمِنَ الشَّيَاطِينِ مَنْ يَغُوصُونَ لَهُ﴾ أَيْ: فِي الْمَاءِ يَسْتَخْرِجُونَ اللَّآلِئَ [وَغَيْرَ ذَلِكَ. ﴿وَيَعْمَلُونَ عَمَلا دُونَ ذَلِكَ﴾ أَيْ: غَيْرَ ذَلِكَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ *] [[زيادة من ف، أ.]] وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الأصْفَادِ﴾ . [ص: ٣٧، ٣٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَكُنَّا لَهُمْ حَافِظِينَ﴾ [[في ف: "له".]] أَيْ: يَحْرُسُهُ اللَّهُ أَنْ يَنَالَهُ أَحَدٌ مِنَ الشَّيَاطِينِ بِسُوءٍ، بَلْ كُلٌّ فِي قَبْضَتِهِ وَتَحْتَ قَهْرِهِ لَا يَتَجَاسَرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى الدُّنُوِّ إِلَيْهِ وَالْقُرْبِ مِنْهُ، بَلْ هُوَ مُحَكَّم [[في ف، أ: "يحكم".]] فِيهِمْ، إِنْ شَاءَ أَطْلَقَ، وَإِنْ شَاءَ حَبَسَ مِنْهُمْ مَنْ يَشَاءُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الأصْفَادِ﴾
وَلِسُلَيْمَٰنَ ٱلرِّيحَ عَاصِفَةًۭ تَجْرِى بِأَمْرِهِۦٓ إِلَى ٱلْأَرْضِ ٱلَّتِى بَٰرَكْنَا فِيهَا ۚ وَكُنَّا بِكُلِّ شَىْءٍ عَٰلِمِينَ
And to Solomon [We subjected] the wind, blowing forcefully, proceeding by his command toward the land which We had blessed. And We are ever, of all things, Knowing.
اور ہم نے تیز ہوا سلیمان کے تابع (فرمان) کردی تھی جو ان کے حکم سے اس ملک میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی تھی (یعنی شام) اور ہم ہر چیز سے خبردار ہیں
و تندباد را مسخّر سلیمان ساختیم، که بفرمان او بسوی سرزمینی که آن را پربرکت کرده بودیم جریان مییافت؛ و ما از همه چیز آگاه بودهایم.
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Dawud and Sulayman, when they gave judgement in the case of the field in which the sheep of certain people had Nafashat; and We were witness to their judgement (78)And We made Sulayman to understand (the case); and to each of them We gave wisdom (Hukm) and knowledge. And We subjected the mountains and the birds to glorify Our praises along with Dawud. And it was We Who were the doer (of all these things)(79)And We taught him the making of metal coats of mail (for battles), to protect you in your fighting. Are you then grateful (80)And to Sulayman (We subjected) the wind strongly raging, running by his command towards the land which We had blessed. And of everything We are the All-Knower (81)And of the Shayatin were some who dived for him, and did other work besides that; and it was We Who guarded them (82)
Dawud and Sulayman and the Signs which They were given; the Story of the People whose Sheep pastured at Night in the Field
(Abu) Ishaq narrated from Murrah from Ibn Mas'ud: "That crop was grapes, bunches of which were dangling." This was also the view of Shurayh. Ibn 'Abbas said: "Nafash means grazing." Shurayh, Az-Zuhri and Qatadah said: "Nafash only happens at night." Qatadah added, "[and] Al-Haml is grazing during the day."
وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ
(And (remember) Dawud and Sulayman, when they gave judgement in the case of the field in which the sheep of certain people had pastured at night;)
Ibn Jarir recorded that Ibn Mas'ud said: "Grapes which had grown and their bunches were spoiled by the sheep. Dawud (David) ruled that the owner of the grapes should keep the sheep. Sulayman (Solomon) said, 'Not like this, O Prophet of Allah!' [Dawud] said, 'How then' [Sulayman] said: 'Give the grapes to the owner of the sheep and let him tend them until they grow back as they were, and give the sheep to the owner of the grapes and let him benefit from them until the grapes have grown back as they were. Then the grapes should be given back to their owner, and the sheep should be given back to their owner.' This is what Allah said:
فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ
(And We made Sulayman to understand (the case).)" This was also reported by Al-'Awfi from Ibn 'Abbas.
فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ ۚ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا
(And We made Sulayman to understand (the case); and to each of them We gave wisdom and knowledge.)
Ibn Abi Hatim recorded that when Iyas bin Mu'awiyah was appointed as a judge, Al-Hasan came to him and found Iyas weeping. [Al-Hasan] said, "Why are you weeping?" [Iyas] said, "O Abu Sa'id, What I heard about judges among them a judge is he, who studies a case and his judgment is wrong, so he will go to Hell; another judge is he who is biased because of his own whims and desires, so he will go to Hell; and the other judge he who studies a case and gives the right judgement, so he will go to Paradise." Al-Hasan Al-Basari said: "But what Allah tells us about Dawud and Sulayman (peace be upon them both) and the Prophets and whatever judgements they made proves that what these people said is wrong. Allah says:
وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ
(And (remember) Dawud and Sulayman, when they gave judgement in the case of the field in which the sheep of certain people had pastured at night; and We were witness to their judgement.) Allah praised Sulayman but He did not condemn Dawud." Then he – Al-Hasan – said, "Allah enjoins three things upon the judges: not to sell thereby for some miserable price; not to follow their own whims and desires; and not to fear anyone concerning their judgements. " Then he recited:
يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(O Dawud! Verily, We have placed you as a successor on the earth; so judge you between men in truth and follow not your desire – for it will mislead you from the path of Allah.)[38:26]
فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ
(Therefore fear not men but fear Me)(5:44)
وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا
(and sell not My Ayat for a miserable price.)[5:44] I say: with regard to the Prophets (peace be upon them all), all of them were infallible and supported by Allah. With regard to others, it is recorded in Sahih Al-Bukhari from 'Amir bin Al-'As that the Messenger of Allah ﷺ said:
إِذَا اجْتَهَدَ الْحَاكِمُ فَأَصَابَ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ، فَلَهُ أَجْرٌ
(If the judge does his best, studies the case and reaches the right conclusion, he will have two rewards. If he does his best, studies the case and reaches the wrong conclusion, he will have one reward.)
This Hadith refutes the idea of Iyas, who thought that if he did his best, studied the case and reached the wrong conclusion, he would go to Hell. And Allah knows best.
Similar to story in the Qur'an is the report recorded by Imam Ahmad in his Musnad from Abu Hurayrah, who said that the Messenger of Allah ﷺ said:
بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَانِ لَهُمَا، إِذْ جَاءَ الذِّئْبُ فَأَخَذَ أَحَدَ الْابْنَيْنِ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا فَدَعَاهُمَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ: هَاتُوا السِّكِّينَ أَشُقُّهُ بَيْنَكُمَا: فَقَالَتِ الصُّغْرَى: يَرْحَمُكَ اللهُ هُوَ ابْنُهَا لَا تَشُقَّهُ، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى
(There were two women who each had a son. The wolf came and took one of the children, and they referred their dispute to Dawud. He ruled that the (remaining) child belonged to the older woman. They left, then Sulayman called them and said, "Give me a sword and I will divide him between the two of you." The younger woman said, "May Allah have mercy on you! He is her child, do not cut him up!" So he ruled that the child belonged to the younger woman).
This was also recorded by Al-Bukhari and Muslim in their Sahihs. An-Nasa'i also devoted a chapter to this in the Book of Judgements.
وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُودَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ
(And We subjected the mountains and the birds to glorify Our praises along with Dawud.)
This refers to the beauty of his voice when he recited his Book, Az-Zabur. When he recited it in a beautiful manner, the birds would stop and hover in the air, and would repeat after him, and the mountains would respond and echo his words. The Prophet ﷺ passed by Abu Musa Al-Ash'ari while he was reciting Qur'an at night, and he had a very beautiful voice, he stopped and listened to his recitation, and said:
لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
(This man has been given one of the wind instruments (nice voices) of the family of Dawud.) He said: "O Messenger of Allah, if I had known that you were listening, I would have done my best for you."
وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُم مِّن بَأْسِكُمْ
(And We taught him the making of metal coats of mail, to protect you in your fighting.) meaning, the manufacture of chain-armor. Qatadah said that before that, they used to wear plated armor; he was the first one to make rings of chain-armor. This is like the Ayah:
وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ - أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ
(And We made the iron soft for him. Saying: "Make you perfect coats of mail, and balance well the rings of chain armor.")(34:10-11), meaning, do not make the pegs so loose that the rings (of chain mail) will shake, or make it so tight that they will not be able to move at all. Allah says:
لِتُحْصِنَكُم مِّن بَأْسِكُمْ
(to protect you in your fighting.) meaning, in your battles.
فَهَلْ أَنتُمْ شَاكِرُونَ
(Are you then grateful?) means, 'Allah blessed you when He inspired His servant Dawud and taught him that for your sake.'
The Power of Sulayman is unparalleled
وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً
(And to Sulayman (We subjected) the wind strongly raging,) means, 'We subjugated the strong wind to Sulayman.'
تَجْرِي بِأَمْرِهِ إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا
(running by his command towards the land which We had blessed.) meaning, the land of Ash-Sham (Greater Syria).
وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عَالِمِينَ
(And of everything We are the All-Knower.) He had a mat made of wood on which he would place all the equipment of his kingship; horses, camels, tents and troops, then he would command the wind to carry it, and he would go underneath it and it would carry him aloft, shading him and protecting him from the heat, until it reached wherever he wanted to go in the land. Then it would come down and deposit his equipment and entourage. Allah says:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ
(So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order whithersoever he willed.)(38:36)
غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ
(its morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's)(34:12)
وَمِنَ الشَّيَاطِينِ مَن يَغُوصُونَ لَهُ
(And of the Shayatin were some who dived for him,) means, they dived into the water to retrieve pearls, jewels, etc., for him.
وَيَعْمَلُونَ عَمَلًا دُونَ ذَٰلِكَ
(and did other work besides that;) This is like the Ayah:
وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ - وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also the Shayatin, every kind of builder and diver. And also others bound in fetters.)(38:37-38).
وَكُنَّا لَهُمْ حَافِظِينَ
(and it was We Who guarded them.) means, Allah protected him lest any of these Shayatin did him any harm. All of them were subject to his control and domination, and none of them would have dared to approach him. He was in charge of them and if he wanted, he could set free or detain whomever among them he wished. Allah says:
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also others bound in fetters.)(38:38)
Tafsir Ibn Kathir
ایک ہی مقدمہ میں داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کے مختلف فیصلے۔ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں یہ کھیتی انگور کی تھی جس کے خوشے لٹک رہے تھے نفشت کے معنی ہیں رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے۔ اور دن کے وقت چرنے کو عربی میں ہمل کہتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اس باغ کو بکریوں نے بگاڑ دیا، حضرت داؤد ؑ نے یہ فیصلہ کیا کہ باغ کے نقصان کے بدلے یہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں۔ حضرت سلیمان ؑ نے یہ فیصلہ سن کر عرض کی کہ اے اللہ کے نبی ؑ اس کے سوا بھی فیصلے کی کوئی صورت ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ کیا ؟ جواب دیا کہ بکریاں باغ والے کے حوالے کردی جائیں وہ ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور باغ بکری والے کو دے دیا جائے یہ اس میں انگور کی بیلوں کی خدمت کرے یہاں تک کہ بیلیں ٹھیک ٹھاک ہوجائیں انگور لگیں اور پھر اسی حالت پر آجائیں جس پر تھے تو باغ والے کو اس کا باغ سونپ دے اور باغ والا اسے اس کی بکریاں سونپ دے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ ہم نے اس جھگڑے کا صحیح فیصلہ حضرت سلیمان ؑ کو سمجھا دیا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں حضرت داؤد ؑ کا یہ فیصلہ سن کر بکریوں والے اپنا سا منہ لے کر صرف کتوں کو اپنے ساتھ لئے ہوئے واپس جا رہے تھے حضرت سلیمان ؑ نے انہیں دیکھ کر دریافت کیا کہ تمہارا فیصلہ کیا ہوا ؟ انہوں نے خبردی تو آپ نے فرمایا اگر میں اس جگہ ہوتا تو یہ فیصلہ نہ دیتا بلکہ کچھ اور فیصلہ کرتا حضرت داؤد ؑ کو جب یہ بات پہنچی تو آپ نے انہیں بلوایا اور پوچھا کہ بیٹے تم کیا فیصلہ کرتے ؟ آپ نے وہی اوپر والا فیصلہ سنایا۔ حضرت مسروق ؒ فرماتے ہیں ان بکریوں نے خوشے اور پتے سب کھالئے تھے۔ تو حضرت داؤد ؑ کے فیصلے کے خلاف حضرت سلیمان ؑ نے فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کی بکریاں باغ والوں کو دے دی جائیں اور یہ باغ انہیں سونپا جائے جب تک باغ اپنی اصلی حالت پر آئے تب تک بکریوں کے بچے اور ان کا دودھ اور ان کا کل نفع باغ والوں کا۔ پھر ہر ایک کو ان کی چیز سونپ دی جائے۔ قاضی شریح ؒ کے پاس بھی ایک ایسا ہی جھگڑا آیا تو آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر دن کو بکریوں نے نقصان پہنچایا ہے تب تو کوئی معاوضہ نہیں۔ اور اگر رات کو نقصان پہنچایا ہے تو بکریوں والے ضامن ہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضرت برا بن عازب ؓ کی اونٹنی کسی باغ میں چلی گئی اور وہاں باغ کا بڑا نقصان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ باغ والوں پر دن کے وقت باغ کی حفاظت ہے اور جو نقصان جانوروں سے رات کو ہو اس کا جرمانہ جانور والوں پر ہے اس حدیث میں علتیں نکالی گئی ہیں اور ہم نے کتاب الاحکام میں اللہ کے فضل سے اس کی پوری تفصیل بیان کردی ہے۔ مروی ہے کہ حضرت ایاس بن معاویہ ؒ سے جب کہ قاضی بننے کی درخواست کی گئی تو وہ حسن ؒ کے پاس آئے اور روئے۔ پوچھا گیا کہ ابو سعید آپ کیوں روتے ہیں ؟ فرمایا مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ اگر قاضی نے اجتہاد کیا پھر غلطی کی وہ جہنمی ہے اور جو خواہش نفس کی طرف جھک گیا وہ بھی جہنمی ہے ہاں جس نے اجتہاد کیا اور صحت پر پہنچ گیا وہ جنت میں پہنچا۔ حضرت حسن یہ سن کر فرمانے لگے سنو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ اور حضرت سلیمان ؑ کی قضاۃ کا ذکر فرمایا ہے ظاہر ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اعلیٰ منصب پر ہوتے ہیں، ان کے قول سے ان لوگوں کی باتیں رد ہوسکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کی تعریف تو بیان فرمائی ہے لیکن حضرت داؤد ؑ کی مذمت بیان نہیں فرمائی۔ پھر فرمانے لگے سنو تین باتوں کا عہد اللہ تعالیٰ نے قاضیوں سے لیا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ منصفین شرع دینوی نفع کی وجہ سے بدل نہ دیں، دوسرے یہ کہ اپنے دلی ارادوں اور خواہشوں کے پیچھے نہ پڑجائیں، تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاس بالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ 26) 38۔ ص :26) یعنی اے داؤد ہم نے تجھے زمین کا خلیفہ بنایا ہے تو لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلے کرتا رہ خواہش کے پیچے نہ پڑ کہ اللہ کی راہ سے بہک جائے۔ اور ارشاد ہے آیت (فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ 44) 5۔ المآئدہ :44) لوگوں سے نہ ڈرو مجھی سے ڈرتے رہا کرو اور فرمان ہے آیت (وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا وَاِيَّاىَ فَاتَّقُوْنِ 41) 2۔ البقرة :41) میری آیتوں کو معمولی نفع کی خاطر بیچ نہ دیا کرو۔ میں کہتا ہوں انبیاء (علیہم السلام) کی معصومیت میں اور ان کی منجانب اللہ ہر وقت تائید ہوتے رہنے میں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ رہے اور لوگ تو صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب حاکم اجتہاد اور کوشش کرے پھر صحت تک بھی پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور جب پوری کوشش کے بعد بھی غلطی کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے۔ یہ حدیث صاف بتلا رہی ہے کہ حضرت ایاس ؒ کو جو وہم تھا کہ باوجود پوری جدوجہد کے بھی خطا کرجائے تو دوزخی ہے یہ غلط ہے، واللہ اعلم۔ سنن کی اور حدیث میں ہے قاضی تین قسم کے ہیں ایک جنتی دو جہنمی اور جس نے حق کو معلوم کرلیا اور اسی سے فیصلہ کیا وہ جنتی۔ اور جس نے جہالت کے ساتھ فیصلہ کیا وہ جہنمی اور جسنے حق کو جانتے ہوئے اس کے خلاف فیصلہ دیا وہ بھی جہنمی۔ قرآن کریم کے بیان کردہ اس واقعے کے قریب ہی وہ قصہ ہے جو مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دو عورتیں تھیں جن کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے بھیڑیا آکر ایک بچے کو اٹھا لے گیا اب ہر ایک دوسری سے کہنے لگی کہ تیرا بچہ گیا اور جو ہے وہ میرا بچہ ہے۔ آخر یہ قصہ حضرت داؤد ؑ کے سامنے پیش ہوا۔ آپ نے بڑی عورت کو ڈگری دے دی کہ یہ بچہ تیرا ہے یہ یہاں سے نکلیں راستے میں حضرت سلیمان ؑ تھے آپ نے دونوں کو بلایا اور فرمایا چھری لاؤ میں اس لڑکے کے دو ٹکڑے کرکے آدھا آدھا دونوں کو دے دیتا ہوں اس پر بڑی تو خاموش ہوگئی لیکن چھوٹی نے ہائے واویلا شروع کردیا کہ اللہ آپ پر رحم کرے آپ ایسا نہ کیجئے یہ لڑکا اسی بڑی کا ہے اسی کو دے دیجئے۔ حضرت سلیمان ؑ معاملے کو سمجھ گئے اور لڑکا چھوٹی عورت کو دلادیا۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے امام نسائی ؒ نے اس پر باب باندھا ہے کہ حاکم کو جائز ہے کہ اپنا فیصلہ اپنے دل میں رکھ کر حقیقت کو معلوم کرنے کے لئے اس کے خلاف کچھ کہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ابن عساکر میں ہے کہ ایک خوبصورت عورت سے ایک رئیس نے ملنا چاہا لیکن عورت نے نہ مانا اسی طرح تین اور شخصوں نے بھی اس سے بدکاری کا ارادہ کیا لیکن وہ باز رہی۔ اس پر وہ رؤسا خار کھا گئے اور آپس میں اتفاق کرکے حضرت داؤد ؑ کی عدالت میں جاکر سب نے گواہی دی کہ وہ عورت اپنے کتے سے ایسا کام کرتی ہے چاروں کے متفقہ بیان پر حکم ہوگیا کہ اسے رجم کردیا جائے۔ اسی شام کو حضرت سلیمان ؑ اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر خود حاکم بنے اور چار لڑکے ان لوگوں کی طرح آپ کے پاس اس مقدمے کو لائے اور ایک عورت کی نسبت یہی کہا۔ حضرت سلیمان ؑ نے حکم دیا ان چاروں کو الگ الگ کردو۔ پھر ایک کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا کہ اس کتے کا رنگ کیسا تھا ؟ اس نے کہا سیاہ۔ پھر دوسرے کو تنہا بلایا اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سرخ۔ تیسرے نے کہا خاکی۔ چوتھے نے کہا سفید آپ نے اسی وقت فیصلہ دیا کہ عورت پر یہ نری تہمت ہے اور ان چاروں کو قتل کردیا جائے۔ حضرت داؤد ؑ کے پاس بھی یہ واقعہ بیان کیا گیا۔ آپ نے اسی وقت فی الفور ان چاروں امیروں کو بلایا اور اسی طرح الگ الگ ان سے اس کتے کا رنگ کی بابت سوال کیا۔ یہ گڑبڑا گئے کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ کہا۔ آپ کو ان کا جھوٹ معلوم ہوگیا اور حکم فرمایا کہ انہیں قتل کردیا جائے۔ پھر بیان ہو رہا ہے کہ حضرت داؤد ؑ کو وہ نورانی گلا عطا فرمایا گیا تھا اور آپ ایسی خوش آوازی اور خلوص کے ساتھ زبور پڑھتے تھے کہ پرند بھی اپنی پرواز چھوڑ کر تھم جاتے تھے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے لگتے تھے اسی طرح پہاڑ بھی۔ ایک روایت میں ہے کہ رات کے وقت حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ تلاوت قرآن کریم کررہے تھے رسول اللہ ﷺ ان کی میٹھی رسیلی اور خلوص بھری آواز سن کر ٹھہر گئے اور دیر تک سنتے رہے پھر فرمانے لگے یہ تو آل داؤد کی آوازوں کی شیرینی دیئے گئے ہیں۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کو جب معلوم ہوا تو فرمانے لگے کہ یارسول اللہ ﷺ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ حضور ﷺ میری قرأت سن رہے ہیں تو میں اور بھی اچھی طرح پڑھتا۔ حضرت ابو عثمان نہدی ؓ فرماتے ہیں میں نے تو کسی بہتر سے بہتر باجے کی آواز میں بھی وہ مزہ نہیں پایا جو حضرت موسیٰ اشعری ؓ کی آواز میں تھا۔ پس اتنی خوش آوازی کو حضور ﷺ نے حضرت داؤد ؑ کی خوش آوازی کا ایک حصہ قرار دیا۔ اب سمجھ لیجئے کہ خود داؤد ؑ کی آواز کیسی ہوگی ؟ پھر اپنا ایک اور احسان بتاتا ہے کہ حضرت داؤد ؑ کو زرہیں بنانی ہم نے سکھا دی تھیں۔ آپ کے زمانے سے پہلے بغیر کنڈلوں اور بغیر حلقوں کی زرہ بنتی تھیں۔ کنڈلوں دار اور حلقوں والی زرہیں آپ نے ہی بنائیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ہم نے حضرت داؤد ؑ کے لئے لوہے کو نرم کردیا تھا کہ وہ بہترین زرہ تیار کریں اور ٹھیک انداز سے ان میں حلقے بنائیں۔ یہ زرہیں میدان جنگ میں کام آتی تھیں۔ پس یہ نعمت وہ تھی جس پر لوگوں کو اللہ کی شکرگزاری کرنی چاہے۔ ہم نے زورآور ہوا کو حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا تھا جو انہیں ان کے فرمان کے مطابق برکت والی زمین یعنی ملک شام میں پہنچا دیتی تھی۔ ہمیں ہر چیز کا علم ہے۔ آپ اپنے تخت پر مع اپنے لاؤ لشکر اور سامان اسباب کے بیٹھ جاتے تھے۔ پھر جہان جانا چاہتے ہوا آپ کو آپ کے فرمان کے مطابق گھڑی بھر میں وہاں پہنچا دیتی۔ تخت کے اوپر سے پرند پر کھولے آپ پر سایہ ڈالتے جیسے فرمان ہے آیت (فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيْحَ تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖ رُخَاۗءً حَيْثُ اَصَابَ 36ۙ) 38۔ ص :36) یعنی ہم نے ہوا کو ان کا تابع کردیا کہ جہان پہنچنا چاہتے ان کے حکم کے مطابق اسی طرف نرمی سے لے چلتی۔ صبح شام مہینہ مہینہ بھر کی راہ کو طے کرلیتی۔ حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں کہ چھ ہزار کرسی لگائی جاتی۔ آپ کے قریب مومن انسان بیٹھتے ان کے پیچھے مومن جن ہوتے۔ پھر آپ کے حکم سے سب پر پرند سایہ کرتے پھر حکم کرتے تو ہوا آپ کو لے چلتی۔ عبداللہ بن عبید بن عمیر ؒ فرماتے ہیں حضرت سلیمان ؑ کو حکم دیتے وہ مثل بڑے تودے کے جمع ہوجاتی گویا پہاڑ ہے پھر اس کے سب سے بلند مکان پر فرش افروز ہونے کا حکم دیتے پھر پہردار گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے فرش پر چڑھ جاتے پھر ہوا کو حکم دیتے وہ آپ کو بلندی پر لے جاتی آپ اس وقت سرنیچا کرلیتے دائیں بائیں بالکل نہ دیکھتے اس میں آپ کی تواضع اور اللہ کی شکر گزاری مقصود ہوتی تھی۔ کیونکہ آپ کو اپنی فروتنی کا علم تھا۔ پھر جہاں آپ حکم دیتے وہیں ہوا آپ کو اتار دیتی۔ اسی طرح سرکش جنات بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کے قبضے میں کردیئے تھے جو سمندروں میں غوطے لگا کرموتی اور جواہر وغیرہ نکال لایا کرتے تھے اور بھی بہت سے کام کاج کرتے تھے جیسے فرمان ہے آیت (وَالشَّيٰطِيْنَ كُلَّ بَنَّاۗءٍ وَّغَوَّاصٍ 37ۙ) 38۔ ص :37) ہم نے سرکش جنوں کو ان کا ماتحت کردیا تھا جو معمار تھے اور غوطہ خور۔ اور ان کے علاوہ اور شیاطین بھی ان کے ماتحت تھے جو زنجیروں میں بندھے رہتے تھے اور ہم ہی سلیمان کے حافظ ونگہبان تھے کوئی شیطان انہیں برائی نہ پہنچا سکتا تھا بلکہ سب کے سب ان کے ماتحت فرماں بردار اور تابع تھے کوئی ان کے قریب بھی نہ پھٹک سکتا تھا کی آپ کی حکمرانی ان پر چلتی تھی جسے چاہتے قید کرلیتے جسے چاہتے آزاد کردیتے اسی کو فرمایا کہ اور جنات تھے جو جکڑے رہا کرتے تھے۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُرّة، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: كَانَ ذَلِكَ الْحَرْثُ كَرْمًا قَدْ نَبَتَتْ عَنَاقِيدُهُ. وَكَذَا قَالَ شُرَيْح.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: النَّفْشُ: الرَّعْيُ.
وَقَالَ شُرَيح، وَالزُّهْرِيُّ، وَقَتَادَةُ: النَّفْشُ بِاللَّيْلِ. زَادَ قَتَادَةُ: والهَمْلُ بِالنَّهَارِ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب وَهَارُونُ بْنُ إدريسَ الْأَصَمُّ قَالَا حدثنا المحاربي، عن أشعت، عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُرّة، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ قَالَ: كَرْمٌ قَدْ أَنْبَتَتْ عَنَاقِيدُهُ، فَأَفْسَدَتْهُ. قَالَ: فَقَضَى دَاوُدُ بالغَنَم لِصَاحِبِ الكَرْم، فَقَالَ سُلَيْمَانُ: غيرُ هَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ! قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: تَدْفَعُ الْكَرْمَ إِلَى صَاحِبِ الْغَنَمِ، فَيَقُومُ عَلَيْهِ حَتَّى يَعُودَ كَمَا كَانَ، وَتَدْفَعُ الْغَنَمَ إِلَى صَاحِبِ الْكَرْمِ فيُصيب مِنْهَا حَتَّى إِذَا كَانَ الْكَرْمُ كَمَا كَانَ دَفَعْتَ الْكَرْمَ إِلَى صَاحِبِهِ، وَدَفَعْتَ الْغَنَمَ إِلَى صَاحِبِهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ﴾ .
وَهَكَذَا رَوَى العَوْفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا [[في ف: "حدثني".]] خَلِيفَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَحَكَمَ [[في ف، أ: "قضى".]] دَاوُدُ بِالْغَنَمِ لِأَصْحَابِ الْحَرْثِ، فَخَرَجَ الرِّعاء مَعَهُمُ الْكِلَابُ، فَقَالَ لَهُمْ سُلَيْمَانُ: كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمْ؟
فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: لَوْ وَلَيْتُ أَمْرَكُمْ لقضيتُ بِغَيْرِ هَذَا! فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ دَاوُدُ، فَدَعَاهُ فَقَالَ: كَيْفَ تَقْضِي بَيْنَهُمْ؟ قَالَ [[في ف: "فقال".]] أَدْفَعُ الْغَنَمَ إِلَى صَاحِبِ الْحَرْثِ، فَيَكُونُ لَهُ أَوْلَادُهَا وَأَلْبَانُهَا وَسِلَاؤُهَا وَمَنَافِعُهَا ويبذُر أَصْحَابُ الْغَنَمِ لِأَهْلِ الْحَرْثِ مثلَ حَرْثِهِمْ، فَإِذَا بَلَغَ الْحَرْثُ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ أَخَذَ أَصْحَابُ الْحَرْثِ الحرثَ وَرَدُّوا الْغَنَمَ إِلَى أَصْحَابِهَا.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا خُدَيْج، عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُرَّة، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: الْحَرْثُ الَّذِي نَفَشَتْ فِيهِ الْغَنَمُ إِنَّمَا كَانَ كَرْمًا نَفَشَتْ فِيهِ الْغَنَمُ، فَلَمْ تَدَع فِيهِ وَرَقَةً وَلَا عُنْقُودًا مِنْ عِنَبٍ إِلَّا أَكَلَتْهُ، فَأَتَوْا دَاوُدَ، فَأَعْطَاهُمْ رِقَابَهَا، فَقَالَ سُلَيْمَانُ: لَا بَلْ تُؤْخَذُ الْغَنَمُ فَيُعْطَاهَا [[في ف: "فتعطى".]] أهلُ الْكَرْمِ، فَيَكُونُ لَهُمْ لَبَنُهَا وَنَفْعُهَا، وَيُعْطَى أَهْلُ الْغَنَمِ الْكَرْمَ فَيُصْلِحُوهُ وَيُعَمِّرُوهُ [[في ف: "فيعمره ويصلحوه".]] حَتَّى يَعُودَ كَالَّذِي كَانَ لَيْلَةَ نَفَشت فِيهِ الْغَنَمُ، ثُمَّ يُعطَى أهل الغنم غنمهم، وأهل الكرم كرمهم.
وَهَكَذَا قَالَ شُرَيح، ومُرَّة، وَمُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ، وَابْنُ زَيْدٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلَانِ إِلَى شُرَيح، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: إِنَّ شَاةَ هَذَا قَطَعَتْ غَزَلًا لِي، فَقَالَ شُرَيْحٌ: نَهَارًا أَمْ لَيْلًا؟ فَإِنْ كَانَ نَهَارًا فَقَدْ بَرِئَ صَاحِبُ الشَّاةِ، وَإِنْ كَانَ لَيْلًا ضَمِن، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ﴾ الْآيَةَ.
وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ شُرَيح شَبِيهٌ بِمَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ، مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرام بْنِ مُحَيْصة [[في ف: "عن حرام عن الزهري بن محيصة".]] ؛ أَنَّ نَاقَةَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطًا، فَأَفْسَدَتْ فِيهِ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَمَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلَى أَهْلِهَا [[المسند (٥/٤٣٥) وسنن أبي داود برقم (٣٥٧٠) وسنن ابن ماجه برقم (٢٣٣٢) .
تنبيه: هذا الطريق إنما هو طريق ابن ماجه، أما أحمد فرواه عن مالك وسفيان ومعمر عن الزهري، وأما أبو داود فرواه عن معمر والأوزعي عن الزهري.]] . وَقَدْ عُلِّل هَذَا الْحَدِيثُ، وَقَدْ بَسَطْنَا الْكَلَامَ عَلَيْهِ فِي كِتَابِ "الْأَحْكَامِ" وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا﴾ قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ؛ أَنَّ إِيَاسَ بْنَ مُعَاوِيَةَ لَمَّا اسْتَقْضَى أَتَاهُ الْحَسَنُ فَبَكَى، قَالَ [[في ف، أ: "فقال".]] مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ [[في ف، أ: "فقال"]] يَا أَبَا سَعِيدٍ، بَلَغَنِي أَنَّ الْقُضَاةَ: رَجُلٌ اجْتَهَدَ فَأَخَطَأَ، فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ مَالَ بِهِ الْهَوَى فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ اجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ. فَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: إِنَّ فِيمَا قَصَّ اللَّهُ مَنْ نَبَأِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، وَالْأَنْبِيَاءِ حُكْمًا يَرُدُّ قَوْلَ هَؤُلَاءِ النَّاسِ عَنْ قَوْلِهِمْ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ﴾ فَأَثْنَى اللَّهُ عَلَى سُلَيْمَانَ وَلَمْ يَذُمَّ دَاوُدَ. ثُمَّ قَالَ -يَعْنِي: الْحَسَنَ-: إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ عَلَى الْحُكَمَاءِ ثَلَاثًا: لَا يَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا وَلَا يَتَّبِعُونَ فِيهِ الْهَوَى، وَلَا يَخْشَوْنَ فِيهِ أَحَدًا، ثُمَّ تَلَا ﴿يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الأرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [[زيادة من ف، أ.]] ] ﴾ [ص:٢٦] وَقَالَ: ﴿فَلا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ﴾ [الْمَائِدَةِ:٤٤] ، وَقَالَ ﴿وَلا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلا﴾ [الْمَائِدَةِ:٤٤] .
قُلْتُ: أَمَّا الْأَنْبِيَاءُ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، فَكُلُّهُمْ مَعْصُومُونَ مُؤيَّدون مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَهَذَا مِمَّا لَا خِلَافَ [[في ف: "ما لا اختلاف فيه".]] فِيهِ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ الْمُحَقِّقِينَ مِنَ السَّلَفِ وَالْخَلَفِ، وَأَمَّا مَنْ سِوَاهُمْ فَقَدْ ثَبَتَ فِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِذَا اجْتَهَدَ الْحَاكِمُ فَأَصَابَ فَلَهُ أجران، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ [[في ف: "وأخطأ".]] فَلَهُ أَجْرٌ" [[صحيح البخاري برقم (٧٣٥٢) .]] فَهَذَا الْحَدِيثُ يَرُدُّ نَصًّا مَا تَوَهَّمَهُ "إِيَاسٌ" مِنْ أَنَّ الْقَاضِيَ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَخَطَأَ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَفِي السُّنَنِ: "الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: قَاضٍ فِي الْجَنَّةِ، وَقَاضِيَانِ فِي النَّارِ: رَجُلٌ عَلِمَ الْحَقَّ وَقَضَى بِهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ، وَرَجُلٌ حَكَمَ بَيْنَ النَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ عَلِمَ الْحَقَّ وَقَضَى بِخِلَافِهِ، فَهُوَ فِي النَّارِ [[سنن أبي داود برقم (٣٥٧٣) وسنن النسائي الكبرى برقم (٥٩٢٢) وسنن ابن ماجه برقم (٢٣١٥)]] .
وَقَرِيبٌ مِنْ هَذِهِ الْقِصَّةِ الْمَذْكُورَةِ فِي الْقُرْآنِ مَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ، حَيْثُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْص، أَخْبَرَنَا وَرْقاء عَنْ أَبِي الزِّنَاد، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَانِ لَهُمَا، جَاءَ [[في ف: "إذ جاء".]] الذِّئْبُ فَأَخَذَ أَحَدَ الِابْنَيْنِ، فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا. فَدَعَاهُمَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ: هَاتُوا السِّكِّينَ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا، لَا تَشُقه، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى" [[المسند (٢/٣٢٢)]] .
وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ في صحيحهما [[في ف: "صحيحيهما".]] وَبَوَّبَ عَلَيْهِ النَّسَائِيُّ فِي كِتَابِ الْقَضَاءِ: (بَابُ الْحَاكِمُ يُوهِمُ خِلَافَ الْحُكْمِ لِيَسْتَعْلِمَ الْحَقَّ) [[صحيح البخاري برقم (٦٧٦٩) وصحيح مسلم برقم (١٧٢٠) وسنن النسائي الكبرى برقم (٥٩٥٨) والباب فيه "التوسعة للحاكم في أن يقول للشيء الذي لا يفعله أفعل ليستبين له الحق".]] .
وَهَكَذَا القصة التي أوردها الْحَافِظُ أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ "سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ" مِنْ تَارِيخِهِ، مِنْ طَرِيقِ الْحَسَنِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ -فَذَكَرَ قِصَّةً مُطَوَّلَةً [[في ف: "طويلة".]] مُلَخَّصُهَا-: أَنَّ امْرَأَةً حَسْنَاءَ فِي زَمَانِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، رَاوَدَهَا عَنْ نَفْسِهَا أَرْبَعَةٌ مِنْ رُؤَسَائِهِمْ، فَامْتَنَعَتْ عَلَى [[في أ: "عن".]] كُلٍّ مِنْهُمْ، فَاتَّفَقُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ عَلَيْهَا، فَشَهِدُوا عَلَيْهَا عِنْدَ دَاوُدَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهَا مَكَّنت مِنْ نَفْسِهَا كَلْبًا لَهَا، قَدْ عَوَّدَتْهُ ذَلِكَ مِنْهَا، فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا. فَلَمَّا كَانَ عَشِيَّةَ ذَلِكَ الْيَوْمِ، جَلَسَ سُلَيْمَانُ، وَاجْتَمَعَ مَعَهُ وِلْدانٌ، مِثْلُهُ، فَانْتَصَبَ حَاكِمًا وَتَزَيَّا أَرْبَعَةٌ مِنْهُمْ بِزِيِّ أُولَئِكَ، وَآخَرُ بِزِيِّ الْمَرْأَةِ، وَشَهِدُوا عَلَيْهَا بِأَنَّهَا مكَنت مِنْ نَفْسِهَا كَلْبًا، فَقَالَ سُلَيْمَانُ: فَرِّقُوا بَيْنَهُمْ. فَقَالَ لِأَوَّلِهِمْ: مَا كَانَ لَوْنُ الْكَلْبِ؟ فَقَالَ: أَسْوَدُ. فَعَزَلَهُ، وَاسْتَدْعَى الْآخَرَ فَسَأَلَهُ عَنْ لَوْنِهِ، فَقَالَ: أَحْمَرُ. وَقَالَ الْآخَرُ: أَغْبَشُ. وَقَالَ الْآخَرُ: أَبْيَضُ. فَأَمَرَ بِقَتْلِهِمْ، فَحُكِيَ ذَلِكَ لِدَاوُدَ، فَاسْتَدْعَى مِنْ فَوْرِهِ بِأُولَئِكَ الْأَرْبَعَةِ، فَسَأَلَهُمْ مُتَفَرِّقِينَ عَنْ لَوْنِ ذَلِكَ الْكَلْبِ، فَاخْتَلَفُوا عَلَيْهِ، فأمر بقتلهم [[تاريخ دمشق (٧/٥٦٥ "المخطوط")]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ وَكُنَّا فَاعِلِينَ﴾ : وَذَلِكَ لِطِيبِ صَوْتِهِ بِتِلَاوَةِ كِتَابِهِ الزَّبُورِ، وَكَانَ إِذَا تَرَنَّم بِهِ تَقِفُ الطَّيْرُ فِي الْهَوَاءِ، فَتُجَاوِبُهُ، وتَرد عَلَيْهِ الْجِبَالُ تَأْوِيبًا؛ وَلِهَذَا لمَّا مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، وَهُوَ يَتْلُو الْقُرْآنَ مِنَ اللَّيْلِ، وَكَانَ لَهُ صَوْتٌ طَيِّبٌ [جَدًا] [[زيادة من ف، أ.]] . فَوَقَفَ وَاسْتَمَعَ لِقِرَاءَتِهِ، وَقَالَ: "لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مَزَامِيرَ آلِ دَاوُدَ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَسْمَعُ [[في ف: "تستمع".]] لِحَبَّرْتُهُ لَكَ تَحْبِيرًا [[سبق الحديث في فضائل القرآن.]] .
وَقَالَ أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ: مَا سَمِعْتُ صَوْتَ صَنْج وَلَا بَرَبْطَ وَلَا مِزْمَارٍ مِثْلَ صَوْتِ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَمَعَ هَذَا قَالَ: لَقَدْ أُوتِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَكُمْ لِيُحْصِنَكُمْ [[في ف، أ: "لتحصنكم".]] مِنْ بَأْسِكُمْ﴾ يَعْنِي صَنْعَةَ الدُّرُوعِ.
قَالَ قَتَادَةُ: إِنَّمَا كَانَتِ الدُّرُوعُ قَبْلَهُ صَفَائِحَ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ سَرَدَهَا حلَقًا. كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ. أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ﴾ [سَبَأٍ:١٠، ١١] أَيْ: لَا تُوَسِّعِ الْحَلْقَةَ فَتُقْلِقَ [[في ف: "فتفلق".]] الْمِسْمَارَ، وَلَا تُغْلِظِ الْمِسْمَارَ فتَقَدّ الحَلْقة؛ وَلِهَذَا قال: ﴿لِيُحْصِنَكُمْ [[في ف، أ: "لتحصنكم".]] مِنْ بَأْسِكُمْ﴾ يَعْنِي: فِي الْقِتَالِ، ﴿فَهَلْ أَنْتُمْ شَاكِرُونَ﴾ أَيْ: نِعَمَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ، لِمَا أَلْهَمَ بِهِ عَبْدَهُ دَاوُدَ، فَعَلَّمَهُ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِكُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً﴾ أَيْ: وَسَخَّرْنَا لِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ الْعَاصِفَةَ، ﴿تَجْرِي بِأَمْرِهِ إِلَى الأرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا﴾ يَعْنِي أَرْضَ الشَّامِ، ﴿وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عَالِمِينَ﴾ وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ بِسَاطٌ مِنْ خَشَبٍ، يُوضَعُ عَلَيْهِ كُلُّ مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ مِنْ أُمُورِ الْمَمْلَكَةِ، وَالْخَيْلِ وَالْجِمَالِ وَالْخِيَامِ وَالْجُنْدِ، ثُمَّ يَأْمُرُ الرِّيحَ أَنْ تَحْمِلَهُ فَتَدْخُلَ تَحْتَهُ، ثُمَّ تَحْمِلَهُ فَتَرْفَعَهُ وَتَسِيرَ بِهِ، وَتُظِلُّهُ الطَّيْرُ مِنَ الْحَرِّ، إِلَى حَيْثُ يَشَاءُ مِنَ الْأَرْضِ، فَيَنْزِلُ وَتُوضَعُ آلَاتُهُ وَخُشُبُهُ [[في أ: "وحشمه"]] ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ﴾ [ص:٣٦] ، وَقَالَ ﴿غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ﴾ [سَبَأٍ:١٢] .
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: ذُكِرَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ أَبِي سِنَان، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كَانَ يُوضَع لِسُلَيْمَانَ سِتُّمِائَةِ أَلْفِ كُرْسِيٍّ، فَيَجْلِسُ مِمَّا يَلِيهِ مُؤْمِنُو الْإِنْسِ، ثُمَّ يَجْلِسُ مِنْ وَرَائِهِمْ مُؤْمِنُو الْجِنِّ، ثُمَّ يَأْمُرُ الطَّيْرَ فَتُظِلُّهُمْ، ثُمَّ يَأْمُرُ الرِّيحَ فَتَحْمِلُهُ ﷺ [[في أ: "فتحملهم عليه السلام".]] .
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْد بْنِ عُمَيْرٍ: كَانَ سُلَيْمَانُ يَأْمُرُ الرِّيحَ، فتجتَمع كالطَّود الْعَظِيمِ، كَالْجَبَلِ، ثُمَّ يَأْمُرُ بِفِرَاشِهِ فَيُوضَعُ عَلَى أَعْلَى مَكَانٍ مِنْهَا، ثُمَّ يَدْعُو بفَرَس مِنْ ذَوَاتِ الْأَجْنِحَةِ، فَتَرْتَفِعُ [[في ف، أ: "فيرتفع".]] حَتَّى تَصْعَدَ [[في ف، أ: "يصعد".]] عَلَى فِرَاشِهِ، ثُمَّ يَأْمُرُ الرِّيحَ فَتَرْتَفِعُ بِهِ كُل شَرَف دُونَ السَّمَاءِ، وَهُوَ مُطَأْطِئٌ رَأْسَهُ، مَا يَلْتَفِتُ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا تَعْظِيمًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَشُكْرًا لِمَا يَعْلَمُ مِنْ صِغَرِ مَا هُوَ فِيهِ فِي ملك الله تَعَالَى [[في ف، أ: "عز وجل".]] حَتَّى تَضَعَهُ [[في ف: "يضعه".]] . الرِّيحُ حَيْثُ شَاءَ أَنْ تَضَعَهُ [[في ف، أ: "حيث يشاء أن يضعه".]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمِنَ الشَّيَاطِينِ مَنْ يَغُوصُونَ لَهُ﴾ أَيْ: فِي الْمَاءِ يَسْتَخْرِجُونَ اللَّآلِئَ [وَغَيْرَ ذَلِكَ. ﴿وَيَعْمَلُونَ عَمَلا دُونَ ذَلِكَ﴾ أَيْ: غَيْرَ ذَلِكَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ *] [[زيادة من ف، أ.]] وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الأصْفَادِ﴾ . [ص: ٣٧، ٣٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَكُنَّا لَهُمْ حَافِظِينَ﴾ [[في ف: "له".]] أَيْ: يَحْرُسُهُ اللَّهُ أَنْ يَنَالَهُ أَحَدٌ مِنَ الشَّيَاطِينِ بِسُوءٍ، بَلْ كُلٌّ فِي قَبْضَتِهِ وَتَحْتَ قَهْرِهِ لَا يَتَجَاسَرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى الدُّنُوِّ إِلَيْهِ وَالْقُرْبِ مِنْهُ، بَلْ هُوَ مُحَكَّم [[في ف، أ: "يحكم".]] فِيهِمْ، إِنْ شَاءَ أَطْلَقَ، وَإِنْ شَاءَ حَبَسَ مِنْهُمْ مَنْ يَشَاءُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الأصْفَادِ﴾
وَمِنَ ٱلشَّيَٰطِينِ مَن يَغُوصُونَ لَهُۥ وَيَعْمَلُونَ عَمَلًۭا دُونَ ذَٰلِكَ ۖ وَكُنَّا لَهُمْ حَٰفِظِينَ
And of the devils were those who dived for him and did work other than that. And We were of them a guardian.
اور دیوؤں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کے لئے غوطے مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے
و گروهی از شیاطین (را نیز مسخّر او قرار دادیم، که در دریا) برایش غوّاصی میکردند؛ و کارهایی غیر از این (نیز) برای او انجام میدادند؛ و ما آنها را (از سرکشی) حفظ میکردیم!
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Dawud and Sulayman, when they gave judgement in the case of the field in which the sheep of certain people had Nafashat; and We were witness to their judgement (78)And We made Sulayman to understand (the case); and to each of them We gave wisdom (Hukm) and knowledge. And We subjected the mountains and the birds to glorify Our praises along with Dawud. And it was We Who were the doer (of all these things)(79)And We taught him the making of metal coats of mail (for battles), to protect you in your fighting. Are you then grateful (80)And to Sulayman (We subjected) the wind strongly raging, running by his command towards the land which We had blessed. And of everything We are the All-Knower (81)And of the Shayatin were some who dived for him, and did other work besides that; and it was We Who guarded them (82)
Dawud and Sulayman and the Signs which They were given; the Story of the People whose Sheep pastured at Night in the Field
(Abu) Ishaq narrated from Murrah from Ibn Mas'ud: "That crop was grapes, bunches of which were dangling." This was also the view of Shurayh. Ibn 'Abbas said: "Nafash means grazing." Shurayh, Az-Zuhri and Qatadah said: "Nafash only happens at night." Qatadah added, "[and] Al-Haml is grazing during the day."
وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ
(And (remember) Dawud and Sulayman, when they gave judgement in the case of the field in which the sheep of certain people had pastured at night;)
Ibn Jarir recorded that Ibn Mas'ud said: "Grapes which had grown and their bunches were spoiled by the sheep. Dawud (David) ruled that the owner of the grapes should keep the sheep. Sulayman (Solomon) said, 'Not like this, O Prophet of Allah!' [Dawud] said, 'How then' [Sulayman] said: 'Give the grapes to the owner of the sheep and let him tend them until they grow back as they were, and give the sheep to the owner of the grapes and let him benefit from them until the grapes have grown back as they were. Then the grapes should be given back to their owner, and the sheep should be given back to their owner.' This is what Allah said:
فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ
(And We made Sulayman to understand (the case).)" This was also reported by Al-'Awfi from Ibn 'Abbas.
فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ ۚ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا
(And We made Sulayman to understand (the case); and to each of them We gave wisdom and knowledge.)
Ibn Abi Hatim recorded that when Iyas bin Mu'awiyah was appointed as a judge, Al-Hasan came to him and found Iyas weeping. [Al-Hasan] said, "Why are you weeping?" [Iyas] said, "O Abu Sa'id, What I heard about judges among them a judge is he, who studies a case and his judgment is wrong, so he will go to Hell; another judge is he who is biased because of his own whims and desires, so he will go to Hell; and the other judge he who studies a case and gives the right judgement, so he will go to Paradise." Al-Hasan Al-Basari said: "But what Allah tells us about Dawud and Sulayman (peace be upon them both) and the Prophets and whatever judgements they made proves that what these people said is wrong. Allah says:
وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ
(And (remember) Dawud and Sulayman, when they gave judgement in the case of the field in which the sheep of certain people had pastured at night; and We were witness to their judgement.) Allah praised Sulayman but He did not condemn Dawud." Then he – Al-Hasan – said, "Allah enjoins three things upon the judges: not to sell thereby for some miserable price; not to follow their own whims and desires; and not to fear anyone concerning their judgements. " Then he recited:
يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(O Dawud! Verily, We have placed you as a successor on the earth; so judge you between men in truth and follow not your desire – for it will mislead you from the path of Allah.)[38:26]
فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ
(Therefore fear not men but fear Me)(5:44)
وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا
(and sell not My Ayat for a miserable price.)[5:44] I say: with regard to the Prophets (peace be upon them all), all of them were infallible and supported by Allah. With regard to others, it is recorded in Sahih Al-Bukhari from 'Amir bin Al-'As that the Messenger of Allah ﷺ said:
إِذَا اجْتَهَدَ الْحَاكِمُ فَأَصَابَ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ، فَلَهُ أَجْرٌ
(If the judge does his best, studies the case and reaches the right conclusion, he will have two rewards. If he does his best, studies the case and reaches the wrong conclusion, he will have one reward.)
This Hadith refutes the idea of Iyas, who thought that if he did his best, studied the case and reached the wrong conclusion, he would go to Hell. And Allah knows best.
Similar to story in the Qur'an is the report recorded by Imam Ahmad in his Musnad from Abu Hurayrah, who said that the Messenger of Allah ﷺ said:
بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَانِ لَهُمَا، إِذْ جَاءَ الذِّئْبُ فَأَخَذَ أَحَدَ الْابْنَيْنِ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا فَدَعَاهُمَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ: هَاتُوا السِّكِّينَ أَشُقُّهُ بَيْنَكُمَا: فَقَالَتِ الصُّغْرَى: يَرْحَمُكَ اللهُ هُوَ ابْنُهَا لَا تَشُقَّهُ، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى
(There were two women who each had a son. The wolf came and took one of the children, and they referred their dispute to Dawud. He ruled that the (remaining) child belonged to the older woman. They left, then Sulayman called them and said, "Give me a sword and I will divide him between the two of you." The younger woman said, "May Allah have mercy on you! He is her child, do not cut him up!" So he ruled that the child belonged to the younger woman).
This was also recorded by Al-Bukhari and Muslim in their Sahihs. An-Nasa'i also devoted a chapter to this in the Book of Judgements.
وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُودَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ
(And We subjected the mountains and the birds to glorify Our praises along with Dawud.)
This refers to the beauty of his voice when he recited his Book, Az-Zabur. When he recited it in a beautiful manner, the birds would stop and hover in the air, and would repeat after him, and the mountains would respond and echo his words. The Prophet ﷺ passed by Abu Musa Al-Ash'ari while he was reciting Qur'an at night, and he had a very beautiful voice, he stopped and listened to his recitation, and said:
لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
(This man has been given one of the wind instruments (nice voices) of the family of Dawud.) He said: "O Messenger of Allah, if I had known that you were listening, I would have done my best for you."
وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُم مِّن بَأْسِكُمْ
(And We taught him the making of metal coats of mail, to protect you in your fighting.) meaning, the manufacture of chain-armor. Qatadah said that before that, they used to wear plated armor; he was the first one to make rings of chain-armor. This is like the Ayah:
وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ - أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ
(And We made the iron soft for him. Saying: "Make you perfect coats of mail, and balance well the rings of chain armor.")(34:10-11), meaning, do not make the pegs so loose that the rings (of chain mail) will shake, or make it so tight that they will not be able to move at all. Allah says:
لِتُحْصِنَكُم مِّن بَأْسِكُمْ
(to protect you in your fighting.) meaning, in your battles.
فَهَلْ أَنتُمْ شَاكِرُونَ
(Are you then grateful?) means, 'Allah blessed you when He inspired His servant Dawud and taught him that for your sake.'
The Power of Sulayman is unparalleled
وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً
(And to Sulayman (We subjected) the wind strongly raging,) means, 'We subjugated the strong wind to Sulayman.'
تَجْرِي بِأَمْرِهِ إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا
(running by his command towards the land which We had blessed.) meaning, the land of Ash-Sham (Greater Syria).
وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عَالِمِينَ
(And of everything We are the All-Knower.) He had a mat made of wood on which he would place all the equipment of his kingship; horses, camels, tents and troops, then he would command the wind to carry it, and he would go underneath it and it would carry him aloft, shading him and protecting him from the heat, until it reached wherever he wanted to go in the land. Then it would come down and deposit his equipment and entourage. Allah says:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ
(So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order whithersoever he willed.)(38:36)
غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ
(its morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's)(34:12)
وَمِنَ الشَّيَاطِينِ مَن يَغُوصُونَ لَهُ
(And of the Shayatin were some who dived for him,) means, they dived into the water to retrieve pearls, jewels, etc., for him.
وَيَعْمَلُونَ عَمَلًا دُونَ ذَٰلِكَ
(and did other work besides that;) This is like the Ayah:
وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ - وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also the Shayatin, every kind of builder and diver. And also others bound in fetters.)(38:37-38).
وَكُنَّا لَهُمْ حَافِظِينَ
(and it was We Who guarded them.) means, Allah protected him lest any of these Shayatin did him any harm. All of them were subject to his control and domination, and none of them would have dared to approach him. He was in charge of them and if he wanted, he could set free or detain whomever among them he wished. Allah says:
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also others bound in fetters.)(38:38)
Tafsir Ibn Kathir
ایک ہی مقدمہ میں داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کے مختلف فیصلے۔ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں یہ کھیتی انگور کی تھی جس کے خوشے لٹک رہے تھے نفشت کے معنی ہیں رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے۔ اور دن کے وقت چرنے کو عربی میں ہمل کہتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اس باغ کو بکریوں نے بگاڑ دیا، حضرت داؤد ؑ نے یہ فیصلہ کیا کہ باغ کے نقصان کے بدلے یہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں۔ حضرت سلیمان ؑ نے یہ فیصلہ سن کر عرض کی کہ اے اللہ کے نبی ؑ اس کے سوا بھی فیصلے کی کوئی صورت ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ کیا ؟ جواب دیا کہ بکریاں باغ والے کے حوالے کردی جائیں وہ ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور باغ بکری والے کو دے دیا جائے یہ اس میں انگور کی بیلوں کی خدمت کرے یہاں تک کہ بیلیں ٹھیک ٹھاک ہوجائیں انگور لگیں اور پھر اسی حالت پر آجائیں جس پر تھے تو باغ والے کو اس کا باغ سونپ دے اور باغ والا اسے اس کی بکریاں سونپ دے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ ہم نے اس جھگڑے کا صحیح فیصلہ حضرت سلیمان ؑ کو سمجھا دیا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں حضرت داؤد ؑ کا یہ فیصلہ سن کر بکریوں والے اپنا سا منہ لے کر صرف کتوں کو اپنے ساتھ لئے ہوئے واپس جا رہے تھے حضرت سلیمان ؑ نے انہیں دیکھ کر دریافت کیا کہ تمہارا فیصلہ کیا ہوا ؟ انہوں نے خبردی تو آپ نے فرمایا اگر میں اس جگہ ہوتا تو یہ فیصلہ نہ دیتا بلکہ کچھ اور فیصلہ کرتا حضرت داؤد ؑ کو جب یہ بات پہنچی تو آپ نے انہیں بلوایا اور پوچھا کہ بیٹے تم کیا فیصلہ کرتے ؟ آپ نے وہی اوپر والا فیصلہ سنایا۔ حضرت مسروق ؒ فرماتے ہیں ان بکریوں نے خوشے اور پتے سب کھالئے تھے۔ تو حضرت داؤد ؑ کے فیصلے کے خلاف حضرت سلیمان ؑ نے فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کی بکریاں باغ والوں کو دے دی جائیں اور یہ باغ انہیں سونپا جائے جب تک باغ اپنی اصلی حالت پر آئے تب تک بکریوں کے بچے اور ان کا دودھ اور ان کا کل نفع باغ والوں کا۔ پھر ہر ایک کو ان کی چیز سونپ دی جائے۔ قاضی شریح ؒ کے پاس بھی ایک ایسا ہی جھگڑا آیا تو آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر دن کو بکریوں نے نقصان پہنچایا ہے تب تو کوئی معاوضہ نہیں۔ اور اگر رات کو نقصان پہنچایا ہے تو بکریوں والے ضامن ہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضرت برا بن عازب ؓ کی اونٹنی کسی باغ میں چلی گئی اور وہاں باغ کا بڑا نقصان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ باغ والوں پر دن کے وقت باغ کی حفاظت ہے اور جو نقصان جانوروں سے رات کو ہو اس کا جرمانہ جانور والوں پر ہے اس حدیث میں علتیں نکالی گئی ہیں اور ہم نے کتاب الاحکام میں اللہ کے فضل سے اس کی پوری تفصیل بیان کردی ہے۔ مروی ہے کہ حضرت ایاس بن معاویہ ؒ سے جب کہ قاضی بننے کی درخواست کی گئی تو وہ حسن ؒ کے پاس آئے اور روئے۔ پوچھا گیا کہ ابو سعید آپ کیوں روتے ہیں ؟ فرمایا مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ اگر قاضی نے اجتہاد کیا پھر غلطی کی وہ جہنمی ہے اور جو خواہش نفس کی طرف جھک گیا وہ بھی جہنمی ہے ہاں جس نے اجتہاد کیا اور صحت پر پہنچ گیا وہ جنت میں پہنچا۔ حضرت حسن یہ سن کر فرمانے لگے سنو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ اور حضرت سلیمان ؑ کی قضاۃ کا ذکر فرمایا ہے ظاہر ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اعلیٰ منصب پر ہوتے ہیں، ان کے قول سے ان لوگوں کی باتیں رد ہوسکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کی تعریف تو بیان فرمائی ہے لیکن حضرت داؤد ؑ کی مذمت بیان نہیں فرمائی۔ پھر فرمانے لگے سنو تین باتوں کا عہد اللہ تعالیٰ نے قاضیوں سے لیا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ منصفین شرع دینوی نفع کی وجہ سے بدل نہ دیں، دوسرے یہ کہ اپنے دلی ارادوں اور خواہشوں کے پیچھے نہ پڑجائیں، تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاس بالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ 26) 38۔ ص :26) یعنی اے داؤد ہم نے تجھے زمین کا خلیفہ بنایا ہے تو لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلے کرتا رہ خواہش کے پیچے نہ پڑ کہ اللہ کی راہ سے بہک جائے۔ اور ارشاد ہے آیت (فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ 44) 5۔ المآئدہ :44) لوگوں سے نہ ڈرو مجھی سے ڈرتے رہا کرو اور فرمان ہے آیت (وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا وَاِيَّاىَ فَاتَّقُوْنِ 41) 2۔ البقرة :41) میری آیتوں کو معمولی نفع کی خاطر بیچ نہ دیا کرو۔ میں کہتا ہوں انبیاء (علیہم السلام) کی معصومیت میں اور ان کی منجانب اللہ ہر وقت تائید ہوتے رہنے میں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ رہے اور لوگ تو صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب حاکم اجتہاد اور کوشش کرے پھر صحت تک بھی پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور جب پوری کوشش کے بعد بھی غلطی کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے۔ یہ حدیث صاف بتلا رہی ہے کہ حضرت ایاس ؒ کو جو وہم تھا کہ باوجود پوری جدوجہد کے بھی خطا کرجائے تو دوزخی ہے یہ غلط ہے، واللہ اعلم۔ سنن کی اور حدیث میں ہے قاضی تین قسم کے ہیں ایک جنتی دو جہنمی اور جس نے حق کو معلوم کرلیا اور اسی سے فیصلہ کیا وہ جنتی۔ اور جس نے جہالت کے ساتھ فیصلہ کیا وہ جہنمی اور جسنے حق کو جانتے ہوئے اس کے خلاف فیصلہ دیا وہ بھی جہنمی۔ قرآن کریم کے بیان کردہ اس واقعے کے قریب ہی وہ قصہ ہے جو مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دو عورتیں تھیں جن کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے بھیڑیا آکر ایک بچے کو اٹھا لے گیا اب ہر ایک دوسری سے کہنے لگی کہ تیرا بچہ گیا اور جو ہے وہ میرا بچہ ہے۔ آخر یہ قصہ حضرت داؤد ؑ کے سامنے پیش ہوا۔ آپ نے بڑی عورت کو ڈگری دے دی کہ یہ بچہ تیرا ہے یہ یہاں سے نکلیں راستے میں حضرت سلیمان ؑ تھے آپ نے دونوں کو بلایا اور فرمایا چھری لاؤ میں اس لڑکے کے دو ٹکڑے کرکے آدھا آدھا دونوں کو دے دیتا ہوں اس پر بڑی تو خاموش ہوگئی لیکن چھوٹی نے ہائے واویلا شروع کردیا کہ اللہ آپ پر رحم کرے آپ ایسا نہ کیجئے یہ لڑکا اسی بڑی کا ہے اسی کو دے دیجئے۔ حضرت سلیمان ؑ معاملے کو سمجھ گئے اور لڑکا چھوٹی عورت کو دلادیا۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے امام نسائی ؒ نے اس پر باب باندھا ہے کہ حاکم کو جائز ہے کہ اپنا فیصلہ اپنے دل میں رکھ کر حقیقت کو معلوم کرنے کے لئے اس کے خلاف کچھ کہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ابن عساکر میں ہے کہ ایک خوبصورت عورت سے ایک رئیس نے ملنا چاہا لیکن عورت نے نہ مانا اسی طرح تین اور شخصوں نے بھی اس سے بدکاری کا ارادہ کیا لیکن وہ باز رہی۔ اس پر وہ رؤسا خار کھا گئے اور آپس میں اتفاق کرکے حضرت داؤد ؑ کی عدالت میں جاکر سب نے گواہی دی کہ وہ عورت اپنے کتے سے ایسا کام کرتی ہے چاروں کے متفقہ بیان پر حکم ہوگیا کہ اسے رجم کردیا جائے۔ اسی شام کو حضرت سلیمان ؑ اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر خود حاکم بنے اور چار لڑکے ان لوگوں کی طرح آپ کے پاس اس مقدمے کو لائے اور ایک عورت کی نسبت یہی کہا۔ حضرت سلیمان ؑ نے حکم دیا ان چاروں کو الگ الگ کردو۔ پھر ایک کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا کہ اس کتے کا رنگ کیسا تھا ؟ اس نے کہا سیاہ۔ پھر دوسرے کو تنہا بلایا اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سرخ۔ تیسرے نے کہا خاکی۔ چوتھے نے کہا سفید آپ نے اسی وقت فیصلہ دیا کہ عورت پر یہ نری تہمت ہے اور ان چاروں کو قتل کردیا جائے۔ حضرت داؤد ؑ کے پاس بھی یہ واقعہ بیان کیا گیا۔ آپ نے اسی وقت فی الفور ان چاروں امیروں کو بلایا اور اسی طرح الگ الگ ان سے اس کتے کا رنگ کی بابت سوال کیا۔ یہ گڑبڑا گئے کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ کہا۔ آپ کو ان کا جھوٹ معلوم ہوگیا اور حکم فرمایا کہ انہیں قتل کردیا جائے۔ پھر بیان ہو رہا ہے کہ حضرت داؤد ؑ کو وہ نورانی گلا عطا فرمایا گیا تھا اور آپ ایسی خوش آوازی اور خلوص کے ساتھ زبور پڑھتے تھے کہ پرند بھی اپنی پرواز چھوڑ کر تھم جاتے تھے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے لگتے تھے اسی طرح پہاڑ بھی۔ ایک روایت میں ہے کہ رات کے وقت حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ تلاوت قرآن کریم کررہے تھے رسول اللہ ﷺ ان کی میٹھی رسیلی اور خلوص بھری آواز سن کر ٹھہر گئے اور دیر تک سنتے رہے پھر فرمانے لگے یہ تو آل داؤد کی آوازوں کی شیرینی دیئے گئے ہیں۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کو جب معلوم ہوا تو فرمانے لگے کہ یارسول اللہ ﷺ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ حضور ﷺ میری قرأت سن رہے ہیں تو میں اور بھی اچھی طرح پڑھتا۔ حضرت ابو عثمان نہدی ؓ فرماتے ہیں میں نے تو کسی بہتر سے بہتر باجے کی آواز میں بھی وہ مزہ نہیں پایا جو حضرت موسیٰ اشعری ؓ کی آواز میں تھا۔ پس اتنی خوش آوازی کو حضور ﷺ نے حضرت داؤد ؑ کی خوش آوازی کا ایک حصہ قرار دیا۔ اب سمجھ لیجئے کہ خود داؤد ؑ کی آواز کیسی ہوگی ؟ پھر اپنا ایک اور احسان بتاتا ہے کہ حضرت داؤد ؑ کو زرہیں بنانی ہم نے سکھا دی تھیں۔ آپ کے زمانے سے پہلے بغیر کنڈلوں اور بغیر حلقوں کی زرہ بنتی تھیں۔ کنڈلوں دار اور حلقوں والی زرہیں آپ نے ہی بنائیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ہم نے حضرت داؤد ؑ کے لئے لوہے کو نرم کردیا تھا کہ وہ بہترین زرہ تیار کریں اور ٹھیک انداز سے ان میں حلقے بنائیں۔ یہ زرہیں میدان جنگ میں کام آتی تھیں۔ پس یہ نعمت وہ تھی جس پر لوگوں کو اللہ کی شکرگزاری کرنی چاہے۔ ہم نے زورآور ہوا کو حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا تھا جو انہیں ان کے فرمان کے مطابق برکت والی زمین یعنی ملک شام میں پہنچا دیتی تھی۔ ہمیں ہر چیز کا علم ہے۔ آپ اپنے تخت پر مع اپنے لاؤ لشکر اور سامان اسباب کے بیٹھ جاتے تھے۔ پھر جہان جانا چاہتے ہوا آپ کو آپ کے فرمان کے مطابق گھڑی بھر میں وہاں پہنچا دیتی۔ تخت کے اوپر سے پرند پر کھولے آپ پر سایہ ڈالتے جیسے فرمان ہے آیت (فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيْحَ تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖ رُخَاۗءً حَيْثُ اَصَابَ 36ۙ) 38۔ ص :36) یعنی ہم نے ہوا کو ان کا تابع کردیا کہ جہان پہنچنا چاہتے ان کے حکم کے مطابق اسی طرف نرمی سے لے چلتی۔ صبح شام مہینہ مہینہ بھر کی راہ کو طے کرلیتی۔ حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں کہ چھ ہزار کرسی لگائی جاتی۔ آپ کے قریب مومن انسان بیٹھتے ان کے پیچھے مومن جن ہوتے۔ پھر آپ کے حکم سے سب پر پرند سایہ کرتے پھر حکم کرتے تو ہوا آپ کو لے چلتی۔ عبداللہ بن عبید بن عمیر ؒ فرماتے ہیں حضرت سلیمان ؑ کو حکم دیتے وہ مثل بڑے تودے کے جمع ہوجاتی گویا پہاڑ ہے پھر اس کے سب سے بلند مکان پر فرش افروز ہونے کا حکم دیتے پھر پہردار گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے فرش پر چڑھ جاتے پھر ہوا کو حکم دیتے وہ آپ کو بلندی پر لے جاتی آپ اس وقت سرنیچا کرلیتے دائیں بائیں بالکل نہ دیکھتے اس میں آپ کی تواضع اور اللہ کی شکر گزاری مقصود ہوتی تھی۔ کیونکہ آپ کو اپنی فروتنی کا علم تھا۔ پھر جہاں آپ حکم دیتے وہیں ہوا آپ کو اتار دیتی۔ اسی طرح سرکش جنات بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کے قبضے میں کردیئے تھے جو سمندروں میں غوطے لگا کرموتی اور جواہر وغیرہ نکال لایا کرتے تھے اور بھی بہت سے کام کاج کرتے تھے جیسے فرمان ہے آیت (وَالشَّيٰطِيْنَ كُلَّ بَنَّاۗءٍ وَّغَوَّاصٍ 37ۙ) 38۔ ص :37) ہم نے سرکش جنوں کو ان کا ماتحت کردیا تھا جو معمار تھے اور غوطہ خور۔ اور ان کے علاوہ اور شیاطین بھی ان کے ماتحت تھے جو زنجیروں میں بندھے رہتے تھے اور ہم ہی سلیمان کے حافظ ونگہبان تھے کوئی شیطان انہیں برائی نہ پہنچا سکتا تھا بلکہ سب کے سب ان کے ماتحت فرماں بردار اور تابع تھے کوئی ان کے قریب بھی نہ پھٹک سکتا تھا کی آپ کی حکمرانی ان پر چلتی تھی جسے چاہتے قید کرلیتے جسے چاہتے آزاد کردیتے اسی کو فرمایا کہ اور جنات تھے جو جکڑے رہا کرتے تھے۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُرّة، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: كَانَ ذَلِكَ الْحَرْثُ كَرْمًا قَدْ نَبَتَتْ عَنَاقِيدُهُ. وَكَذَا قَالَ شُرَيْح.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: النَّفْشُ: الرَّعْيُ.
وَقَالَ شُرَيح، وَالزُّهْرِيُّ، وَقَتَادَةُ: النَّفْشُ بِاللَّيْلِ. زَادَ قَتَادَةُ: والهَمْلُ بِالنَّهَارِ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب وَهَارُونُ بْنُ إدريسَ الْأَصَمُّ قَالَا حدثنا المحاربي، عن أشعت، عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُرّة، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ قَالَ: كَرْمٌ قَدْ أَنْبَتَتْ عَنَاقِيدُهُ، فَأَفْسَدَتْهُ. قَالَ: فَقَضَى دَاوُدُ بالغَنَم لِصَاحِبِ الكَرْم، فَقَالَ سُلَيْمَانُ: غيرُ هَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ! قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: تَدْفَعُ الْكَرْمَ إِلَى صَاحِبِ الْغَنَمِ، فَيَقُومُ عَلَيْهِ حَتَّى يَعُودَ كَمَا كَانَ، وَتَدْفَعُ الْغَنَمَ إِلَى صَاحِبِ الْكَرْمِ فيُصيب مِنْهَا حَتَّى إِذَا كَانَ الْكَرْمُ كَمَا كَانَ دَفَعْتَ الْكَرْمَ إِلَى صَاحِبِهِ، وَدَفَعْتَ الْغَنَمَ إِلَى صَاحِبِهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ﴾ .
وَهَكَذَا رَوَى العَوْفي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا [[في ف: "حدثني".]] خَلِيفَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَحَكَمَ [[في ف، أ: "قضى".]] دَاوُدُ بِالْغَنَمِ لِأَصْحَابِ الْحَرْثِ، فَخَرَجَ الرِّعاء مَعَهُمُ الْكِلَابُ، فَقَالَ لَهُمْ سُلَيْمَانُ: كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمْ؟
فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: لَوْ وَلَيْتُ أَمْرَكُمْ لقضيتُ بِغَيْرِ هَذَا! فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ دَاوُدُ، فَدَعَاهُ فَقَالَ: كَيْفَ تَقْضِي بَيْنَهُمْ؟ قَالَ [[في ف: "فقال".]] أَدْفَعُ الْغَنَمَ إِلَى صَاحِبِ الْحَرْثِ، فَيَكُونُ لَهُ أَوْلَادُهَا وَأَلْبَانُهَا وَسِلَاؤُهَا وَمَنَافِعُهَا ويبذُر أَصْحَابُ الْغَنَمِ لِأَهْلِ الْحَرْثِ مثلَ حَرْثِهِمْ، فَإِذَا بَلَغَ الْحَرْثُ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ أَخَذَ أَصْحَابُ الْحَرْثِ الحرثَ وَرَدُّوا الْغَنَمَ إِلَى أَصْحَابِهَا.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا خُدَيْج، عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُرَّة، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: الْحَرْثُ الَّذِي نَفَشَتْ فِيهِ الْغَنَمُ إِنَّمَا كَانَ كَرْمًا نَفَشَتْ فِيهِ الْغَنَمُ، فَلَمْ تَدَع فِيهِ وَرَقَةً وَلَا عُنْقُودًا مِنْ عِنَبٍ إِلَّا أَكَلَتْهُ، فَأَتَوْا دَاوُدَ، فَأَعْطَاهُمْ رِقَابَهَا، فَقَالَ سُلَيْمَانُ: لَا بَلْ تُؤْخَذُ الْغَنَمُ فَيُعْطَاهَا [[في ف: "فتعطى".]] أهلُ الْكَرْمِ، فَيَكُونُ لَهُمْ لَبَنُهَا وَنَفْعُهَا، وَيُعْطَى أَهْلُ الْغَنَمِ الْكَرْمَ فَيُصْلِحُوهُ وَيُعَمِّرُوهُ [[في ف: "فيعمره ويصلحوه".]] حَتَّى يَعُودَ كَالَّذِي كَانَ لَيْلَةَ نَفَشت فِيهِ الْغَنَمُ، ثُمَّ يُعطَى أهل الغنم غنمهم، وأهل الكرم كرمهم.
وَهَكَذَا قَالَ شُرَيح، ومُرَّة، وَمُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ، وَابْنُ زَيْدٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلَانِ إِلَى شُرَيح، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: إِنَّ شَاةَ هَذَا قَطَعَتْ غَزَلًا لِي، فَقَالَ شُرَيْحٌ: نَهَارًا أَمْ لَيْلًا؟ فَإِنْ كَانَ نَهَارًا فَقَدْ بَرِئَ صَاحِبُ الشَّاةِ، وَإِنْ كَانَ لَيْلًا ضَمِن، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ﴾ الْآيَةَ.
وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ شُرَيح شَبِيهٌ بِمَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ، مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرام بْنِ مُحَيْصة [[في ف: "عن حرام عن الزهري بن محيصة".]] ؛ أَنَّ نَاقَةَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطًا، فَأَفْسَدَتْ فِيهِ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَمَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلَى أَهْلِهَا [[المسند (٥/٤٣٥) وسنن أبي داود برقم (٣٥٧٠) وسنن ابن ماجه برقم (٢٣٣٢) .
تنبيه: هذا الطريق إنما هو طريق ابن ماجه، أما أحمد فرواه عن مالك وسفيان ومعمر عن الزهري، وأما أبو داود فرواه عن معمر والأوزعي عن الزهري.]] . وَقَدْ عُلِّل هَذَا الْحَدِيثُ، وَقَدْ بَسَطْنَا الْكَلَامَ عَلَيْهِ فِي كِتَابِ "الْأَحْكَامِ" وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا﴾ قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ:
حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ؛ أَنَّ إِيَاسَ بْنَ مُعَاوِيَةَ لَمَّا اسْتَقْضَى أَتَاهُ الْحَسَنُ فَبَكَى، قَالَ [[في ف، أ: "فقال".]] مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ [[في ف، أ: "فقال"]] يَا أَبَا سَعِيدٍ، بَلَغَنِي أَنَّ الْقُضَاةَ: رَجُلٌ اجْتَهَدَ فَأَخَطَأَ، فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ مَالَ بِهِ الْهَوَى فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ اجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ. فَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: إِنَّ فِيمَا قَصَّ اللَّهُ مَنْ نَبَأِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، وَالْأَنْبِيَاءِ حُكْمًا يَرُدُّ قَوْلَ هَؤُلَاءِ النَّاسِ عَنْ قَوْلِهِمْ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ﴾ فَأَثْنَى اللَّهُ عَلَى سُلَيْمَانَ وَلَمْ يَذُمَّ دَاوُدَ. ثُمَّ قَالَ -يَعْنِي: الْحَسَنَ-: إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ عَلَى الْحُكَمَاءِ ثَلَاثًا: لَا يَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا وَلَا يَتَّبِعُونَ فِيهِ الْهَوَى، وَلَا يَخْشَوْنَ فِيهِ أَحَدًا، ثُمَّ تَلَا ﴿يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الأرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [[زيادة من ف، أ.]] ] ﴾ [ص:٢٦] وَقَالَ: ﴿فَلا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ﴾ [الْمَائِدَةِ:٤٤] ، وَقَالَ ﴿وَلا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلا﴾ [الْمَائِدَةِ:٤٤] .
قُلْتُ: أَمَّا الْأَنْبِيَاءُ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، فَكُلُّهُمْ مَعْصُومُونَ مُؤيَّدون مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَهَذَا مِمَّا لَا خِلَافَ [[في ف: "ما لا اختلاف فيه".]] فِيهِ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ الْمُحَقِّقِينَ مِنَ السَّلَفِ وَالْخَلَفِ، وَأَمَّا مَنْ سِوَاهُمْ فَقَدْ ثَبَتَ فِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِذَا اجْتَهَدَ الْحَاكِمُ فَأَصَابَ فَلَهُ أجران، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ [[في ف: "وأخطأ".]] فَلَهُ أَجْرٌ" [[صحيح البخاري برقم (٧٣٥٢) .]] فَهَذَا الْحَدِيثُ يَرُدُّ نَصًّا مَا تَوَهَّمَهُ "إِيَاسٌ" مِنْ أَنَّ الْقَاضِيَ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَخَطَأَ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَفِي السُّنَنِ: "الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: قَاضٍ فِي الْجَنَّةِ، وَقَاضِيَانِ فِي النَّارِ: رَجُلٌ عَلِمَ الْحَقَّ وَقَضَى بِهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ، وَرَجُلٌ حَكَمَ بَيْنَ النَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ عَلِمَ الْحَقَّ وَقَضَى بِخِلَافِهِ، فَهُوَ فِي النَّارِ [[سنن أبي داود برقم (٣٥٧٣) وسنن النسائي الكبرى برقم (٥٩٢٢) وسنن ابن ماجه برقم (٢٣١٥)]] .
وَقَرِيبٌ مِنْ هَذِهِ الْقِصَّةِ الْمَذْكُورَةِ فِي الْقُرْآنِ مَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ، حَيْثُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْص، أَخْبَرَنَا وَرْقاء عَنْ أَبِي الزِّنَاد، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَانِ لَهُمَا، جَاءَ [[في ف: "إذ جاء".]] الذِّئْبُ فَأَخَذَ أَحَدَ الِابْنَيْنِ، فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا. فَدَعَاهُمَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ: هَاتُوا السِّكِّينَ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا، لَا تَشُقه، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى" [[المسند (٢/٣٢٢)]] .
وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ في صحيحهما [[في ف: "صحيحيهما".]] وَبَوَّبَ عَلَيْهِ النَّسَائِيُّ فِي كِتَابِ الْقَضَاءِ: (بَابُ الْحَاكِمُ يُوهِمُ خِلَافَ الْحُكْمِ لِيَسْتَعْلِمَ الْحَقَّ) [[صحيح البخاري برقم (٦٧٦٩) وصحيح مسلم برقم (١٧٢٠) وسنن النسائي الكبرى برقم (٥٩٥٨) والباب فيه "التوسعة للحاكم في أن يقول للشيء الذي لا يفعله أفعل ليستبين له الحق".]] .
وَهَكَذَا القصة التي أوردها الْحَافِظُ أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ عَسَاكِرَ فِي تَرْجَمَةِ "سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ" مِنْ تَارِيخِهِ، مِنْ طَرِيقِ الْحَسَنِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ -فَذَكَرَ قِصَّةً مُطَوَّلَةً [[في ف: "طويلة".]] مُلَخَّصُهَا-: أَنَّ امْرَأَةً حَسْنَاءَ فِي زَمَانِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، رَاوَدَهَا عَنْ نَفْسِهَا أَرْبَعَةٌ مِنْ رُؤَسَائِهِمْ، فَامْتَنَعَتْ عَلَى [[في أ: "عن".]] كُلٍّ مِنْهُمْ، فَاتَّفَقُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ عَلَيْهَا، فَشَهِدُوا عَلَيْهَا عِنْدَ دَاوُدَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهَا مَكَّنت مِنْ نَفْسِهَا كَلْبًا لَهَا، قَدْ عَوَّدَتْهُ ذَلِكَ مِنْهَا، فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا. فَلَمَّا كَانَ عَشِيَّةَ ذَلِكَ الْيَوْمِ، جَلَسَ سُلَيْمَانُ، وَاجْتَمَعَ مَعَهُ وِلْدانٌ، مِثْلُهُ، فَانْتَصَبَ حَاكِمًا وَتَزَيَّا أَرْبَعَةٌ مِنْهُمْ بِزِيِّ أُولَئِكَ، وَآخَرُ بِزِيِّ الْمَرْأَةِ، وَشَهِدُوا عَلَيْهَا بِأَنَّهَا مكَنت مِنْ نَفْسِهَا كَلْبًا، فَقَالَ سُلَيْمَانُ: فَرِّقُوا بَيْنَهُمْ. فَقَالَ لِأَوَّلِهِمْ: مَا كَانَ لَوْنُ الْكَلْبِ؟ فَقَالَ: أَسْوَدُ. فَعَزَلَهُ، وَاسْتَدْعَى الْآخَرَ فَسَأَلَهُ عَنْ لَوْنِهِ، فَقَالَ: أَحْمَرُ. وَقَالَ الْآخَرُ: أَغْبَشُ. وَقَالَ الْآخَرُ: أَبْيَضُ. فَأَمَرَ بِقَتْلِهِمْ، فَحُكِيَ ذَلِكَ لِدَاوُدَ، فَاسْتَدْعَى مِنْ فَوْرِهِ بِأُولَئِكَ الْأَرْبَعَةِ، فَسَأَلَهُمْ مُتَفَرِّقِينَ عَنْ لَوْنِ ذَلِكَ الْكَلْبِ، فَاخْتَلَفُوا عَلَيْهِ، فأمر بقتلهم [[تاريخ دمشق (٧/٥٦٥ "المخطوط")]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ وَكُنَّا فَاعِلِينَ﴾ : وَذَلِكَ لِطِيبِ صَوْتِهِ بِتِلَاوَةِ كِتَابِهِ الزَّبُورِ، وَكَانَ إِذَا تَرَنَّم بِهِ تَقِفُ الطَّيْرُ فِي الْهَوَاءِ، فَتُجَاوِبُهُ، وتَرد عَلَيْهِ الْجِبَالُ تَأْوِيبًا؛ وَلِهَذَا لمَّا مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، وَهُوَ يَتْلُو الْقُرْآنَ مِنَ اللَّيْلِ، وَكَانَ لَهُ صَوْتٌ طَيِّبٌ [جَدًا] [[زيادة من ف، أ.]] . فَوَقَفَ وَاسْتَمَعَ لِقِرَاءَتِهِ، وَقَالَ: "لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مَزَامِيرَ آلِ دَاوُدَ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَسْمَعُ [[في ف: "تستمع".]] لِحَبَّرْتُهُ لَكَ تَحْبِيرًا [[سبق الحديث في فضائل القرآن.]] .
وَقَالَ أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ: مَا سَمِعْتُ صَوْتَ صَنْج وَلَا بَرَبْطَ وَلَا مِزْمَارٍ مِثْلَ صَوْتِ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَمَعَ هَذَا قَالَ: لَقَدْ أُوتِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَكُمْ لِيُحْصِنَكُمْ [[في ف، أ: "لتحصنكم".]] مِنْ بَأْسِكُمْ﴾ يَعْنِي صَنْعَةَ الدُّرُوعِ.
قَالَ قَتَادَةُ: إِنَّمَا كَانَتِ الدُّرُوعُ قَبْلَهُ صَفَائِحَ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ سَرَدَهَا حلَقًا. كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ. أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ﴾ [سَبَأٍ:١٠، ١١] أَيْ: لَا تُوَسِّعِ الْحَلْقَةَ فَتُقْلِقَ [[في ف: "فتفلق".]] الْمِسْمَارَ، وَلَا تُغْلِظِ الْمِسْمَارَ فتَقَدّ الحَلْقة؛ وَلِهَذَا قال: ﴿لِيُحْصِنَكُمْ [[في ف، أ: "لتحصنكم".]] مِنْ بَأْسِكُمْ﴾ يَعْنِي: فِي الْقِتَالِ، ﴿فَهَلْ أَنْتُمْ شَاكِرُونَ﴾ أَيْ: نِعَمَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ، لِمَا أَلْهَمَ بِهِ عَبْدَهُ دَاوُدَ، فَعَلَّمَهُ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِكُمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً﴾ أَيْ: وَسَخَّرْنَا لِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ الْعَاصِفَةَ، ﴿تَجْرِي بِأَمْرِهِ إِلَى الأرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا﴾ يَعْنِي أَرْضَ الشَّامِ، ﴿وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عَالِمِينَ﴾ وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ بِسَاطٌ مِنْ خَشَبٍ، يُوضَعُ عَلَيْهِ كُلُّ مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ مِنْ أُمُورِ الْمَمْلَكَةِ، وَالْخَيْلِ وَالْجِمَالِ وَالْخِيَامِ وَالْجُنْدِ، ثُمَّ يَأْمُرُ الرِّيحَ أَنْ تَحْمِلَهُ فَتَدْخُلَ تَحْتَهُ، ثُمَّ تَحْمِلَهُ فَتَرْفَعَهُ وَتَسِيرَ بِهِ، وَتُظِلُّهُ الطَّيْرُ مِنَ الْحَرِّ، إِلَى حَيْثُ يَشَاءُ مِنَ الْأَرْضِ، فَيَنْزِلُ وَتُوضَعُ آلَاتُهُ وَخُشُبُهُ [[في أ: "وحشمه"]] ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ﴾ [ص:٣٦] ، وَقَالَ ﴿غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ﴾ [سَبَأٍ:١٢] .
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: ذُكِرَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ أَبِي سِنَان، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كَانَ يُوضَع لِسُلَيْمَانَ سِتُّمِائَةِ أَلْفِ كُرْسِيٍّ، فَيَجْلِسُ مِمَّا يَلِيهِ مُؤْمِنُو الْإِنْسِ، ثُمَّ يَجْلِسُ مِنْ وَرَائِهِمْ مُؤْمِنُو الْجِنِّ، ثُمَّ يَأْمُرُ الطَّيْرَ فَتُظِلُّهُمْ، ثُمَّ يَأْمُرُ الرِّيحَ فَتَحْمِلُهُ ﷺ [[في أ: "فتحملهم عليه السلام".]] .
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْد بْنِ عُمَيْرٍ: كَانَ سُلَيْمَانُ يَأْمُرُ الرِّيحَ، فتجتَمع كالطَّود الْعَظِيمِ، كَالْجَبَلِ، ثُمَّ يَأْمُرُ بِفِرَاشِهِ فَيُوضَعُ عَلَى أَعْلَى مَكَانٍ مِنْهَا، ثُمَّ يَدْعُو بفَرَس مِنْ ذَوَاتِ الْأَجْنِحَةِ، فَتَرْتَفِعُ [[في ف، أ: "فيرتفع".]] حَتَّى تَصْعَدَ [[في ف، أ: "يصعد".]] عَلَى فِرَاشِهِ، ثُمَّ يَأْمُرُ الرِّيحَ فَتَرْتَفِعُ بِهِ كُل شَرَف دُونَ السَّمَاءِ، وَهُوَ مُطَأْطِئٌ رَأْسَهُ، مَا يَلْتَفِتُ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا تَعْظِيمًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَشُكْرًا لِمَا يَعْلَمُ مِنْ صِغَرِ مَا هُوَ فِيهِ فِي ملك الله تَعَالَى [[في ف، أ: "عز وجل".]] حَتَّى تَضَعَهُ [[في ف: "يضعه".]] . الرِّيحُ حَيْثُ شَاءَ أَنْ تَضَعَهُ [[في ف، أ: "حيث يشاء أن يضعه".]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمِنَ الشَّيَاطِينِ مَنْ يَغُوصُونَ لَهُ﴾ أَيْ: فِي الْمَاءِ يَسْتَخْرِجُونَ اللَّآلِئَ [وَغَيْرَ ذَلِكَ. ﴿وَيَعْمَلُونَ عَمَلا دُونَ ذَلِكَ﴾ أَيْ: غَيْرَ ذَلِكَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ *] [[زيادة من ف، أ.]] وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الأصْفَادِ﴾ . [ص: ٣٧، ٣٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَكُنَّا لَهُمْ حَافِظِينَ﴾ [[في ف: "له".]] أَيْ: يَحْرُسُهُ اللَّهُ أَنْ يَنَالَهُ أَحَدٌ مِنَ الشَّيَاطِينِ بِسُوءٍ، بَلْ كُلٌّ فِي قَبْضَتِهِ وَتَحْتَ قَهْرِهِ لَا يَتَجَاسَرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى الدُّنُوِّ إِلَيْهِ وَالْقُرْبِ مِنْهُ، بَلْ هُوَ مُحَكَّم [[في ف، أ: "يحكم".]] فِيهِمْ، إِنْ شَاءَ أَطْلَقَ، وَإِنْ شَاءَ حَبَسَ مِنْهُمْ مَنْ يَشَاءُ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الأصْفَادِ﴾
۞ وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُۥٓ أَنِّى مَسَّنِىَ ٱلضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ
And [mention] Job, when he called to his Lord, "Indeed, adversity has touched me, and you are the Most Merciful of the merciful."
اور ایوب کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
و ایّوب را (به یاد آور) هنگامی که پروردگارش را خواند (و عرضه داشت): «بدحالی و مشکلات به من روی آورده؛ و تو مهربانترین مهربانانی!»
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Ayyub, when he cried to his Lord: "Verily, distress has seized me, and You are the Most Merciful of all those who show mercy. (83)So We answered his call, and We removed the distress that was on him, and We restored his family to him, and the like thereof along with them as a mercy from Ourselves and a Reminder for all those who worship Us (84)
The Prophet Ayyub
Allah tells us about Ayyub (Job), and the trials that struck him , affecting his wealth,children and physical health. He had plenty of livestock, cattle and crops, many children and beautiful houses, and he was tested in these things, losing everything he had. Then he was tested with regard to his body, and he was left alone with on the edge of the city and there was no one who treated him with compassion apart from his wife, who took care of him. It was said that it reached the stage where she was in need, so she started to serve people (to earn money) for his sake. The Prophet ﷺ said:
أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الصَّالِحُونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ
(The people who are tested the most severely are the Prophets, then the righteous, then the next best and the next best). According to another Hadith:
يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى قَدْرِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ فِي بَلَائِهِ
(A man will be tested according to his level of religious commitment; the stronger his religious commitment, the more severe will be his test.)
The Prophet of Allah, Ayyub, upon him be peace, had the utmost patience, and he is the best example of that. Yazid bin Maysarah said: "When Allah tested Ayyub, upon him be peace, with the loss of his family, wealth and children, and he had nothing left, he started to focus upon the remembrance of Allah, and he said: 'I praise You, the Lord of lords, Who bestowed His kindness upon me and gave me wealth and children, and there was no corner of my heart that was not filled with attachment to these worldly things, then You took all of that away from me and You emptied my heart, and there is nothing to stand between me and You. If my enemy Iblis knew of this, he would be jealous of me. ' When Iblis heard of this, he became upset. And Ayyub, upon him be peace, said: 'O Lord, You gave me wealth and children, and there was no one standing at my door complaining of some wrong I had done to him. You know that. I used to have a bed prepared for me, but I forsook it and said to myself: You were not created to lie on a comfortable bed. I only forsook that for Your sake.'" This was recorded by Ibn Abi Hatim.
Ibn Abi Hatim recorded from Abu Hurayrah that the Prophet ﷺ said:
لَمَّا عَافَى اللهُ أَيُّوبَ أَمْطَرَ عَلَيْهِ جَرَادًا مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَأْخُذُ مِنْهُ بِيَدِهِ وَيَجْعَلُهُ فِي ثَوْبِهِ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: يَا أَيُّوبُ أَمَا تَشْبَعُ؟ قَالَ: يَا رَبِّ وَمَنْ يَشْبَعُ مِنْ رَحْمَتِكَ
(When Allah healed Ayyub, He sent upon him a shower of golden locusts, and he started to pick them up and gather them in his garment. It was said to him, "O Ayyub, have you not had enough?" He said, "O Lord, who can ever have enough of Your mercy?) The basis of this Hadith is recorded in the Two Sahihs, as we shall see below.
وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ
(and We restored his family to him (that he had lost) and the like thereof along with them)
It was reported that Ibn 'Abbas said: "They themselves were restored to him." This was also narrated by Al-'Awfi from Ibn 'Abbas. Something similar was also narrated from Ibn Mas'ud and Mujahid, and this was the view of Al-Hasan and Qatadah. Mujahid said: "It was said to him, 'O Ayyub, your family will be with you in Paradise; if you want, We will bring them back to you, or if you want, We will leave them for you in Paradise and will compensate you with others like them.' He said, 'No, leave them for me in Paradise.' So they were left for him in Paradise, and he was compensated with others like them in this world."
رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا
(as a mercy from Ourselves) means, 'We did that to him as a mercy from Allah towards him.'
وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ
(and a Reminder for all those who worship Us.) means, 'We made him an example lest those who are beset by trials think that We do that to them because We do not care for them, so that they may take him as an example of patience in accepting the decrees of Allah and bearing the trials with which He tests His servants as He wills.' And Allah has the utmost wisdom with regard to that.
Tafsir Ibn Kathir
آزمائش اور مصائب ایوب ؑ حضرت ایوب ؑ کی تکلیفوں کا بیان ہو رہا ہے جو مالی جسمانی اور اولاد پر مشتمل تھیں ان کے پاس بہت سے قسم قسم کے جانور تھے کھیتیاں باغات وغیرہ تھے اولاد بیویاں لونڈیاں غلام جائیداد اور مال و متاع سبھی کچھ اللہ کا دیا موجود تھا۔ اب جو رب کی طرف سے ان پر آزمائش آئی تو ایک سرے سے سب کچھ فنا ہوتا گیا یہاں تک کہ جسم میں جذام پھوٹ پڑا۔ دل و زبان کے سوا سارے جسم کا کوئی حصہ اس مرض سے محفوظ نہ رہا۔ یہاں تک کہ آس پاس والے کراہت کرنے لگے۔ شہر کے ایک ویران کونے میں آپ کو سکونت اختیار کرنی پڑی۔ سوائے آپ کی ایک بیوی صاحبہ ؓ کے اور کوئی آپ کے پاس نہ رہا، اس مصیبت کے وقت سب نے کنارہ کرلیا۔ یہی ایک تھیں جو ان کی خدمت کرتی تھیں ساتھ ہی محنت مزدوری کرکے پیٹ پالنے کو بھی لایا کرتی تھیں۔ آنحضرت ﷺ نے سچ فرمایا کہ سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے، پھر صالح لوگوں کا پھر ان سے نیچے کے درجے والوں کا پھر ان سے کم درجے والوں کا۔ اور روایت میں ہے کہ ہر شخص کا امتحان اس کے دین کے انداز سے ہوتا ہے اگر وہ دین میں مضبوط ہے امتحان بھی سخت تر ہوتا ہے حضرت ایوب ؑ بڑے ہی صابر تھے یہاں تک کہ صبر ایوب زبان زد عام ہے۔ یزید بن میسرہ ؒ فرماتے ہیں جب آپ کی آزمائش شروع ہوئی اہل و عیال مرگئے مال فناہو گیا کوئی چیز ہاتھ تلے نہ رہی آپ اللہ کے ذکر میں اور بڑھ گئے کہنے لگے اے تمام پالنے والوں کے پالنے والے تو نے مجھ پر بڑے احسان کئے مال دیا اولاد دی اس وقت میرا دل بہت ہی مشغول تھا اب تو نے سب کچھ لے کر میرے دل کو ان فکروں سے پاک کردیا اب میرے دل میں اور تجھ میں کوئی حائل نہ رہا اگر میرا دشمن ابلیس تیری اس مہربانی کو جان لیتا تو وہ مجھ پر بہت ہی حسد کرتا ابلیس لعین اس قول سے اور اس وقت کی اس حمد سے جل بھن کر رہ گیا۔ آپ کی دعاؤں میں یہ بھی دعا تھی اے اللہ تو نے جب مجھے توانگر اور اولاد اور اہل و عیال والا بنا رکھا تھا تو خوب جانتا ہے کہ اس وقت میں نے نہ کبھی غرور وتکبر کیا نہ کبھی کسی پر ظلم ستم کیا۔ میرے پروردگار تجھ پر روشن ہے کہ میرا نرم و گرم بستر تیار ہوتا اور میں راتوں کو تیری عبادتوں میں گزارتا اور اپنے نفس کو اس طرح ڈانٹ دیتا کہ تو اس لئے پیدا نہیں کیا گیا تیری رضامندی کی طلب میں میں اپنی راحت وآرام کو ترک کردیا کرتا۔ (ابن ابی حاتم) اس آیت کی تفسیر میں ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ایک بہت لمبا قصہ ہے جسے بہت سے پچھلے مفسیرین نے بھی ذکر کیا ہے۔ لیکن اس میں غرابت ہے اور اس کے طول کی وجہ سے ہم نے اسے چھوڑ دیا ہے۔ مدتوں تک آپ ان بلاؤں میں مبتلا رہے۔ حضرت حسن اور قتادہ ؒ فرماتے ہیں سات سال اور کئی ماہ آپ بیماری میں مبتلا رہے بنو اسرائیل کے کوڑے پھینکنے کی جگہ آپ کو ڈال رکھا تھا۔ بدن میں کیڑے پڑگئے تھے پھر اللہ نے آپ پر رحم وکرم کیا تمام بلاؤں سے نجات دی اجردیا اور تعریفیں کیں۔ وہب بن منبہ کا بیان ہے کہ پورے تین سال آپ اس تکلیف میں رہے۔ سارا گوشت جھڑ گیا تھا۔ صرف ہڈیاں اور چمڑہ رہ گیا آپ دکھ میں پڑے رہتے تھے صرف ایک بیوی صاحبہ تھیں جو آپ کے پاس تھیں جب زیادہ زمانہ گزر گیا تو ایک روز عرض کرنے لگیں کہ اے نبی اللہ ؑ آپ اللہ سے دعا کیوں نہیں کرتے کہ وہ اس مصیبت کو ہم پر سے ٹال دے۔ آپ فرمانے لگے سنو ستر برس تک اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت و عافیت میں رکھا تو اگر ستر سال تک میں اس حالت میں رہوں اور صبر کروں تو یہ بھی بہت کم ہے اس پر بیوی صاحبہ کانپ اٹھیں آپ شہر میں جاتیں، لوگوں کا کام کاج کرتیں اور جو ملتا وہ لے آتیں اور آپ کو کھلاتیں پلاتیں۔ آپ کے دو دوست اور دلی خیرخواہ دوست تھے انہیں فلسطین میں جا کر شیطان نے خبردی کہ تمہارا دوست سخت مصیبت میں مبتلا ہے تم جاؤ ان کی خبرگیری کرو اور اپنے ہاں کی کچھ شراب اپنے ساتھ لے جاؤ وہ پلادینا اس سے انہیں شفا ہوجائے گی چناچہ یہ دونوں آئے حضرت ایوب ؑ کی حالت دیکھتے ہی ان کے آنسو نکل آئے بلبلا کر رونے لگے آپ نے پوچھا تم کون ہو ؟ انہوں نے یاد دلایا تو آپ خوش ہوئے انہیں مرحبا کہا وہ کہنے لگے اے جناب آپ شاید کچھ چھپاتے ہوں گے اور ظاہر اس کے خلاف کرتے ہوں گے ؟ آپ نے نگاہیں آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا اللہ خوب جانتا ہے کہ میں کیا چھپاتا تھا اور کیا ظاہر کرتا تھا میرے رب نے مجھے اس میں مبتلا کیا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ میں صبر کرتا ہوں یا بےصبری ؟ وہ کہنے لگے اچھا ہم آپ کے واسطے دوا لائے ہیں آپ اسے پی لیجئے شفا ہوجائے گی یہ شراب ہے۔ ہم اپنے ہاں سے لائے ہیں۔ یہ سنتے ہی آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمانے لگے تمہیں شیطان خبیث لایا ہے تم سے کلام کرنا تمہارا کھانا پینا مجھ پر حرام ہے۔ یہ دونوں آپ کے پاس سے چلے گئے۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ آپ کی بیوی صاحبہ نے ایک گھر والوں کی روٹیاں پکائیں ان کا ایک بچہ سویا ہوا تھا تو انہوں نے اس بچے کے حصے کی ٹکیا انہیں دے دی یہ لے کر حضرت ایوب ؑ کے پاس آئیں آپ نے کہا یہ آج کہاں سے لائیں ؟ انہوں نے ساراواقعہ بیان کردیا۔ آپ نے فرمایا ابھی ابھی واپس جاؤ ممکن ہے بچہ جاگ گیا ہو اور اسی ٹکیا کی ضد کرتا ہو اور رو رو کر سارے گھر والوں کو پریشان کرتا ہو۔ آپ روٹی واپس لے کرچلیں ان کی ڈیوڑھی میں بکری بندھی ہوئی تھی اس نے زور سے آپ کو ٹکر ماری آپ کی زبان سے نکل گیا دیکھو ایوب کیسے غلط خیال والے ہیں۔ پھر اوپر گئیں تو دیکھا واقعی بچہ جاگا ہوا ہے اور ٹکیا کے لئے مچل رہا ہے اور گھر بھر کا ناک میں دم کر رکھا ہے یہ دیکھ کر بےساختہ زبان سے نکلا کہ اللہ ایوب پر رحم کرے، اچھے موقعہ پر پہنچی۔ ٹکیا دے دی اور واپس لوٹیں راستے میں شیطان بہ صورت طبیب ملا اور کہنے لگا کہ تیرے خاوند سخت تکلیف میں ہیں مرض پر مدتیں گزر گئیں تم انہیں سمجھاؤ فلاں قبیلے کے بت کے نام پر ایک مکھی مار دیں شفاء ہوجائے گی پھر توبہ کرلیں۔ جب آپ حضرت ایوب ؑ کے پاس پہنچیں تو ان سے یہ کہا آپ نے فرمایا شیطان خبیث کا جادو تجھ پر چل گیا۔ میں تندرست ہوگیا تو تجھے سو کوڑے لگاؤں گا۔ ایک دن آپ حسب معمول تلاش معاش میں نکلیں گھر گھر پھر آئیں کہیں کام نہ لگا مایوس ہوگئیں شام کو پلٹنے وقت حضرت ایوب ؑ کی بھوک کا خیال آیا تو آپ نے اپنے بالوں کی ایک لٹ کاٹ کر ایک امیر لڑکی کے ہاتھ فروخت کردی اس نے آپ کو بہت کچھ کھانے پینے کا اسباب دیا۔ جسے لے کر آپ آئیں حضرت ایوب ؑ نے پوچھا یہ آج اتنا سارہ اور اتنا اچھا کھانا کیسے مل گیا ؟ فرمایا میں نے ایک امیر گھر کا کام کردیا تھا۔ آپ نے کھالیا دوسرے روز بھی اتفاق سے ایسا ہی ہوا اور آپ نے اپنے بالوں کی دوسری لٹ کاٹ کر فروخت کردی اور کھانا لے آئیں آج بھی یہی کھانا دیکھ کر آپ نے فرمایا واللہ میں ہرگز نہ کھاؤں گا جب تک تو مجھے یہ نہ بتادے کہ کیسے لائی ؟ اب آپ نے اپنا دوپٹہ سر سے اتار دیا دیکھا کہ سر کے بال سب کٹ چکے ہیں اس وقت سخت گھبراہٹ اور بےچینی ہوئی اور اللہ سے دعا کی کہ مجھے ضرر پہنچا اور تو سب سے زیادہ رحیم ہے۔ حضرت نوف کہتے ہیں کہ جو شیطان حضرت ایوب ؑ کے پیچھے پڑا تھا اس کا نام مسبوط تھا۔ حضرت ایوب ؑ کی بیوی صاحبہ عموما آپ سے عرض کیا کرتی تھیں کہ اللہ سے دعا کرو۔ لیکن آپ نہ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک دن بنو اسرائیل کے کچھ لوگ آپ کے پاس سے نکلے اور آپ کو دیکھ کر کہنے لگے اس شخص کو یہ تکلیف ضرور کسی نہ کسی گناہ کی وجہ سے ہے اس وقت بےساختہ آپ کی زبان سے یہ دعا نکل گئی۔ حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت ایوب ؑ کہ دو بھائی تھے ایک دن وہ ملنے کے لئے آئے۔ لیکن جسم کی بدبو کی وجہ سے قریب نہ آسکے دور ہی سے کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اگر اس شخص میں بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے اس مصیبت میں نہ ڈالتا اس بات نے حضرت ایوب ؑ کو وہ صدمہ پہنچایا جو آج تک آپ کو کسی چیز سے نہ ہوا تھا اس وقت کہنے لگے اللہ کوئی رات مجھ پر ایسی نہیں گزری کہ کوئی بھوکا شخص میرے علم میں ہو اور میں نے پیٹ بھرلیا ہو پروردگار اگر میں اپنی اس بات میں تیرے نزدیک سچا ہوں تو میری تصدیق فرما۔ اسی وقت آسمان سے آپ کی تصدیق کی گئی تھی اور وہ دونوں سن رہے تھے۔ پھر فرمایا کہ پروردگار کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میرے پاس ایک سے زائد کپڑے ہوں اور میں نے کسی ننگے کو نہ دیے ہوں اگر میں اس میں سچا ہوں تو میری تصدیق آسمان سے کر۔ اس پر بھی آپ کی تصدیق ان کے سنتے ہوئے کی گئی۔ پھر یہ دعا کرتے ہوئے سجدے میں گرپڑے کہ اے اللہ میں تو اب سجدے سے سر نہ اٹھاؤں گا جب تک کہ تو مجھ سے ان تمام مصیبتوں کو دور نہ کردے جو مجھ پر نازل ہوئی ہیں۔ چناچہ یہ دعاقبول ہوئی۔ اور اس سے پہلے کہ آپ سر اٹھائیں تمام تکلیفیں اور بیماریاں دور ہوگئیں جو آپ پر اتری تھیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ حضرت ایوب ؑ اٹھارہ برس تک بلاؤں میں گھرے رہے پھر ان کے دو دوستوں کے آنے اور بدگمانی کرنے کا ذکر ہے جس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میری تو یہ حالت تھی کہ راستہ چلتے دو شخصوں کو جھگڑتا دیکھتا اور ان میں سے کسی کو قسم کھاتے سن لیتا تو گھر آکر اس کی طرف سے کفارہ ادا کردیتا کہ ایسا نہ ہو کہ اس نے نام ناحق لیا ہو۔ آپ اپنی اس بیماری میں اس قدر نڈھال ہوگئے تھے کہ آپ کی بیوی صاحبہ ہاتھ تھام کر پاخانہ پیشاب کے لئے لے جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ آپ کو حاجت تھی آپ نے آواز دی لیکن انہیں آنے میں دیر لگی آپ کو سخت تکلیف ہوئی اسی وقت آسمان سے ندا آئی کہ اے ایوب اپنی ایڑی زمین پر مارو اسی پانی کو پی بھی لو اور اسی سے نہا بھی لو اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل غریب ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے جنت کا حلہ نازل فرمادیا جسے پہن کر آپ یکسو ہو کر بیٹھ گئے۔ جب آپ کی بیوی آئیں اور آپ کو نہ پہچان سکیں تو آپ سے پوچھنے لگیں اے اللہ کے بندے یہاں ایک بیمار بیکس بےبس تھے تمہیں معلوم ہے کہ وہ کیا ہوئے ؟ کہیں انہیں بھیڑئیے نہ کھا گئے ہوں یا کتے نہ لے گئے ہوں ؟ تب آپ نے فرمایا نہیں نہیں وہ بیمار ایوب میں ہی ہوں۔ بیوی صاحبہ کہنے لگی اے شخص تو مجھ دکھیا عورت سے ہنسی کر رہا ہے اور مجھے بنا رہا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں مجھے اللہ نے شفادے دی اور یہ رنگ روپ بھی۔ آپ کا مال آپ کو واپس دیا گیا آپ کی اولاد وہی آپ کو واپس ملی اور ان کے ساتھ ہی ویسی ہی اور بھی وحی میں یہ خوشخبری بھی سنادی گئی تھی اور فرمایا گیا تھا کہ قربانی کرو اور استغفار کرو، تیرے اپنوں نے تیرے بارے میں میری نافرمانی کرلی تھی۔ اور روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب ؑ کو عافیت عطا فرمائی آسمان سے سونے کی ٹڈیاں ان پر برسائیں جنہیں لے کر آپ نے اپنے کپڑے میں جمع کرنی شروع کردیں تو آواز دی گئی کہ اے ایوب کیا تو اب تک آسودہ نہیں ہوا ؟ آپ نے جواب دیا کہ اے میرے پروردگار تیری رحمت سے آسودہ کون ہوسکتا ہے ؟ پھر فرماتا ہے ہم نے اسے اس کے اہل عطا فرمائے۔ ابن عباس ؓ تو فرماتے ہیں وہی لوگ واپس کئے گئے۔ آپ کی بیوی کا نام رحمت تھا۔ یہ قول اگر آیت سے سمجھا گیا ہے تو یہ بھی دور از کار امر ہے اور اگر اہل کتاب سے لیا گیا ہے تو وہ تصدیق تکذیب کے قابل ہے چیز نہیں۔ ابن عساکر نے ان کا نام اپنی تاریخ میں " لیا " بتایا ہے۔ یہ منشا بن یوسف بن اسحاق بن ابراہیم ؑ کی بیٹی ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت " لیا " حضرت یعقوب ؑ کی بیٹی حضرت ایوب ؑ کی بیوی ہیں جو شفیعہ کی زمین میں آپ کے ساتھ تھیں۔ مروی ہے کہ آپ سے فرمایا گیا کہ تیری اہل سب جنت میں ہیں تم کہو تو میں ان سب کو یہاں دنیا میں لادوں اور کہے تو وہیں رہنے دوں اور دنیا میں ان کا عوض دوں آپ نے دوسری بات پسند فرمائی۔ پس آخرت کا اجر اور دنیا کا بدلہ دونوں آپ کو ملا۔ یہ سب کچھ ہماری رحمت کا ظہور تھا۔ اور ہمارے سچے عابدوں کے لئے نصیحت وعبرت تھی، آپ اہل بلا کے پیشوا تھے۔ یہ سب اس لئے ہوا کہ مصیبتوں میں پھنسے ہوئے لوگ اپنے لئے آپ کی ذات میں عبرت دیکھیں، بےصبری سے ناشکری نہ کرنے لگیں اور لوگ انہیں اللہ کے برے بندے نہ سمجھیں۔ حضرت ایوب ؑ صبر کا پہاڑ ثابت قدمی کا نمونہ تھے اللہ کے لکھے پر، اس کے امتحان پر انسان کو صبر و برداشت کرنی چاہیے نہ جانیں قدرت درپردہ اپنی کیا کیا حکمتیں دکھا رہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَذْكُرُ تَعَالَى عَنْ أَيُّوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مَا كَانَ أَصَابَهُ مِنَ الْبَلَاءِ، فِي مَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَسَدِهِ [[في ف: "وجسده وولده".]] ، وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ شَيْءٌ كَثِيرٌ، وَأَوْلَادٌ كَثِيرَةٌ، وَمَنَازِلُ مَرْضِيَّةٌ. فَابْتُلِيَ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ، وَذَهَبَ عَنِ آخِرِهِ، ثُمَّ ابْتُلِيَ فِي جَسَدِهِ -يُقَالُ: بِالْجُذَامِ فِي سَائِرِ بَدَنِهِ، وَلَمْ يَبْقَ مِنْهُ سَلِيمٌ سِوَى قَلْبِهِ وَلِسَانِهِ، يَذْكُرُ بِهِمَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، حَتَّى عَافَهُ الْجَلِيسُ، وأفردَ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَلَدِ، وَلَمْ يَبْقَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ [[في ف: "أحد من الناس".]] يَحْنُو عَلَيْهِ سِوَى زَوْجَتِهِ، كَانَتْ تَقُومُ بِأَمْرِهِ [[في ف: "بأوده".]] ، وَيُقَالُ: إِنَّهَا احْتَاجَتْ فَصَارَتْ تَخْدِمُ النَّاسَ مِنْ أَجْلِهِ، وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: "أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الصَّالِحُونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ" [[رواه أحمد في المسند (١/١٧٢) والترمذي في السنن برقم (٢٣٩٨) وابن ماجه في السنن برقم (٤٠٢٣) من حديث سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. وقال الترمذي: "هذا حديث حسن صحيح".]] وَفِي الْحَدِيثِ الْآخَرِ: "يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى قَدْرِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ فِي بَلَائِهِ" [[هو جزء من الحديث المتقدم، والله أعلم.]] .
وَقَدْ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ أَيُّوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، غَايَةً فِي الصَّبْرِ، وَبِهِ يُضْرَبُ الْمَثَلُ فِي ذَلِكَ.
وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ مَيْسَرَةَ: لَمَّا ابْتَلَى اللَّهُ أَيُّوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِذَهَابِ الْأَهْلِ وَالْمَالِ وَالْوَلَدِ، ولم له يبق شَيْءٌ، أَحْسَنَ الذَّكَرَ، ثُمَّ قَالَ: أَحْمَدُكَ رَبَّ الْأَرْبَابِ، الَّذِي أَحْسَنْتَ إِلَيَّ، أَعْطَيْتَنِي الْمَالَ وَالْوَلَدَ، فَلَمْ يَبْقَ مِنْ قَلْبِي شُعْبَةٌ، إِلَّا قَدْ دَخَلَهُ ذَلِكَ، فَأَخَذْتُ ذَلِكَ كُلَّهُ مِنِّي، وفرَّغت قَلْبِي، لَيْسَ يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ شَيْءٌ، لَوْ يَعْلَمُ عَدُوِّي إِبْلِيسُ بِالَّذِي صَنَعْتُ، حَسَدَنِي. قَالَ: فَلَقِيَ إِبْلِيسُ مِنْ ذَلِكَ مُنْكَرًا.
قَالَ: وَقَالَ أَيُّوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا رَبِّ، إِنَّكَ أَعْطَيْتَنِي الْمَالَ وَالْوَلَدَ، فَلَمْ يَقُمْ عَلَى بَابِي أَحَدٌ يَشْكُونِي لِظُلْمٍ ظَلَمْتُهُ، وَأَنْتَ تَعْلَمُ ذَلِكَ. وَأَنَّهُ كَانَ يُوطَأُ لِيَ الْفِرَاشُ فَأَتْرُكُهَا وَأَقُولُ لِنَفْسِي: يَا نَفْسُ، إِنَّكِ لَمْ تُخْلَقِي لِوَطْءِ الْفُرُشِ [[في ف: "الفراش".]] ، مَا تَرَكْتُ ذَلِكَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَدْ ذُكِرَ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ فِي خَبَرِهِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ، سَاقَهَا ابْنُ جَرِيرٍ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ بِالسَّنَدِ عَنْهُ، وَذَكَرَهَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ مُتَأَخِّرِي الْمُفَسِّرِينَ، وَفِيهَا غَرَابَةٌ تَرَكْنَاهَا لِحَالِ الطُّولِ [[تفسير الطبري (١/٤٢) .]] .
وَقَدْ رُوِيَ أَنَّهُ مَكَثَ فِي الْبَلَاءِ مُدَّةً طَوِيلَةً، ثُمَّ اخْتَلَفُوا فِي السَّبَبِ الْمُهَيِّجِ لَهُ عَلَى هَذَا الدُّعَاءِ، فَقَالَ الْحَسَنُ وَقَتَادَةُ، ابْتُلِيَ أَيُّوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، سَبْعَ سِنِينَ وَأَشْهُرًا، مُلْقًى عَلَى كُنَاسَة بَنِي إِسْرَائِيلَ، تَخْتَلِفُ الدَّوَابُّ فِي جَسَدِهِ فَفَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ، وعَظَمَّ لَهُ الْأَجْرَ، وَأَحْسَنَ عَلَيْهِ الثَّنَاءَ.
وَقَالَ وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ: مَكَثَ فِي الْبَلَاءِ ثَلَاثَ سِنِينَ، لَا يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: تَسَاقَطَ لَحْمُ أَيُّوبَ حَتَّى لَمْ يَبْقَ إِلَّا الْعَصَبُ وَالْعِظَامُ، فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ تَقُومُ عَلَيْهِ وَتَأْتِيهِ بِالزَّادِ يَكُونُ فِيهِ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ لَمَّا طَالَ وَجَعُهُ: يَا أَيُّوبُ، لَوْ دَعَوْتَ رَبَّكَ [[في ف، أ: "الله".]] يُفَرِّجُ عَنْكَ؟ فَقَالَ: قَدْ عِشْتُ سَبْعِينَ سَنَةً صَحِيحًا، فَهَلْ [[في أ: "فهو".]] قَلِيلٌ لِلَّهِ أَنْ أَصْبِرَ لَهُ سَبْعِينَ سَنَةً؟ فجَزَعت مِنْ ذَلِكَ فَخَرَجَتْ، فَكَانَتْ تَعْمَلُ لِلنَّاسِ بِأَجْرٍ وَتَأْتِيهِ بِمَا تُصِيبُ فَتُطْعِمُهُ، وَإِنَّ إِبْلِيسَ انْطَلَقَ إِلَى رَجُلَيْنِ مِنْ فِلَسْطِينَ كَانَا صَدِيقَيْنِ لَهُ وَأَخَوَيْنِ، فَأَتَاهُمَا فَقَالَ: أَخُوكُمَا أَيُّوبُ أَصَابَهُ مِنَ الْبَلَاءِ كَذَا وَكَذَا، فَأْتِيَاهُ وَزُورَاهُ وَاحْمِلَا مَعَكُمَا مِنْ خَمْرِ أَرْضِكُمَا، فَإِنَّهُ إِنْ شَرِبَ مِنْهُ بَرَأ. فَأَتَيَاهُ، فَلَمَّا نَظَرَا إِلَيْهِ بَكَيَا، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمَا؟ فَقَالَا [[في ف، أ: "قالا".]] : نَحْنُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ! فرحَّب بِهِمَا وَقَالَ: مَرْحَبًا بِمَنْ لَا يَجْفُونِي عِنْدَ الْبَلَاءِ، فَقَالَا يَا أَيُّوبُ، لَعَلَّكَ كُنْتَ تُسر شَيْئًا وَتُظْهِرُ غَيْرَهُ، فَلِذَلِكَ ابْتَلَاكَ اللَّهُ؟ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ: هُوَ يَعْلَمُ، مَا أَسْرَرْتُ شَيْئًا أَظْهَرْتُ غَيْرَهُ. وَلَكِنَّ رَبِّي ابْتَلَانِي لِيَنْظُرَ أَأَصْبِرُ أَمْ أَجْزَعُ، فَقَالَا لَهُ: يَا أَيُّوبُ، اشْرَبْ مِنْ خَمْرِنَا فَإِنَّكَ إِنْ شَرِبْتَ مِنْهُ بَرَأت. قَالَ: فَغَضِبَ وَقَالَ جَاءَكُمَا الْخَبِيثُ فَأَمَرَكُمَا بِهَذَا؟ كَلَامُكُمَا وَطَعَامُكُمَا وَشَرَابُكُمَا عَلَيَّ حَرَامٌ. فَقَامَا مِنْ عِنْدِهِ، وَخَرَجَتِ امْرَأَتُهُ تَعْمَلُ لِلنَّاسِ فَخَبَزَتْ لِأَهْلِ بَيْتٍ لَهُمْ صَبِيٌّ، فَجَعَلَتْ لَهُمْ قُرْصًا [[في ف، أ: "قرصة".]] ، وَكَانَ ابْنُهُمْ نَائِمًا، فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوهُ، فَوَهَبُوهُ لَهَا.
فَأَتَتْ بِهِ إِلَى أَيُّوبَ، فَأَنْكَرَهُ وَقَالَ: مَا كُنْتِ تَأْتِينِي بِهَذَا، فَمَا بَالُكِ الْيَوْمَ؟ فَأَخْبَرَتْهُ الْخَبَرَ. قَالَ: فَلَعَلَّ الصَّبِيَّ قَدِ اسْتَيْقَظَ، فَطَلَبَ الْقَرْصَ فَلَمْ يَجِدْهُ فَهُوَ يَبْكِي عَلَى أَهْلِهِ. [فَانْطَلِقِي بِهِ إِلَيْهِ. فَأَقْبَلَتْ حَتَّى بَلَغَتْ دَرَجَةَ الْقَوْمِ، فَنَطَحَتْهَا شَاةٌ لَهُمْ، فَقَالَتْ: تَعِسَ أَيُّوبُ الْخَطَّاءُ! فَلَمَّا صَعِدَتْ وَجَدَتِ الصَّبِيَّ قَدِ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَطْلُبُ الْقُرْصَ، وَيَبْكِي عَلَى أَهْلِهِ] [[زيادة من ف، أ.]] ، لَا يَقْبَلُ مِنْهُمْ شَيْئًا غَيْرَهُ، فَقَالَتْ: رَحِمَ اللَّهُ أَيُّوبَ فَدَفَعَتِ الْقُرْصَ إِلَيْهِ وَرَجَعَتْ. ثُمَّ إِنَّ إِبْلِيسَ أَتَاهَا فِي صُورَةِ طَبِيبٍ، فَقَالَ لَهَا: إِنَّ زَوْجَكِ قَدْ طَالَ سُقمه، فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يَبْرَأَ فَلْيَأْخُذْ ذُبَابًا فَلْيَذْبَحْهُ بِاسْمِ صَنَمِ بَنِي فَلَانٍ فَإِنَّهُ يَبْرَأُ وَيَتُوبُ بَعْدَ ذَلِكَ. فَقَالَتْ ذَلِكَ لِأَيُّوبَ، فَقَالَ: قَدْ أَتَاكِ الْخَبِيثُ. لِلَّهِ عَلَيَّ إِنْ بَرَأْتُ أَنْ أَجْلِدَكِ مِائَةَ جَلْدَةٍ. فَخَرَجَتْ تَسْعَى عَلَيْهِ، فَحُظِرَ عَنْهَا الرِّزْقُ، فَجَعَلَتْ لَا تَأْتِي أَهْلَ بَيْتٍ فَيُرِيدُونَهَا، فَلَمَّا اشتد عليها ذلك وخافت على أيوب الْجُوعَ حَلَقَتْ مِنْ شَعْرِهَا قَرْنًا فَبَاعَتْهُ مِنْ صَبِيَّةٍ مِنْ بَنَاتِ الْأَشْرَافِ، فَأَعْطَوْهَا طَعَامًا طَيِّبًا كَثِيرًا فَأَتَتْ بِهِ أَيُّوبَ، فَلَمَّا رَآهُ أَنْكَرَهُ وَقَالَ: مِنْ أَيْنَ لَكِ هَذَا؟ قَالَتْ: عَمِلْتُ لِأُنَاسٍ فَأَطْعَمُونِي. فَأَكَلَ مِنْهُ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ خَرَجَتْ فَطَلَبَتْ أَنْ تَعْمَلَ فَلَمْ تَجِدْ فَحَلَقَتْ أَيْضًا قَرْنًا فَبَاعَتْهُ مِنْ تِلْكَ الْجَارِيَةِ، فَأَعْطَوْهَا مِنْ ذَلِكَ الطَّعَامِ، فَأَتَتْ بِهِ أَيُّوبَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ حَتَّى أَعْلَمَ مِنْ أَيْنَ هُوَ؟ فَوَضَعَتْ خِمَارَهَا، فَلَمَّا رَأَى رَأْسَهَا مَحْلُوقًا جَزِعَ جَزَعًا شَدِيدًا، فَعِنْدَ ذَلِكَ دَعَا رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنَيُّ، عَنْ نَوْف البِكَالي؛ أَنَّ الشَّيْطَانَ الَّذِي عَرَّجَ فِي أَيُّوبَ كَانَ يُقَالُ لَهُ: "سَوْطٌ" [[في ف، أ: "مبسوط".]] ، قَالَ: وَكَانَتِ امْرَأَةُ أَيُّوبَ تَقُولُ: "ادْعُ اللَّهَ فَيَشْفِيَكَ"، فَجَعَلَ لَا يَدْعُو، حَتَّى مَرَّ بِهِ نَفَرٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: مَا أَصَابَهُ مَا أَصَابَهُ إِلَّا بِذَنْبٍ عَظِيمٍ أَصَابَهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالَ: "رَبِّ إِنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ".
وَحَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: كَانَ لِأَيُّوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَخَوَانِ فَجَاءَا يَوْمًا، فَلَمْ يَسْتَطِيعَا أَنْ يَدْنُوَا مِنْهُ، مِنْ رِيحِهِ، فَقَامَا مِنْ بَعِيدٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: لَوْ كَانَ اللَّهُ عَلِمَ مِنْ أَيُّوبَ خَيْرًا مَا ابْتَلَاهُ بِهَذَا؟ فَجَزِعَ أَيُّوبُ مِنْ قَوْلِهِمَا جَزعا لَمْ يَجْزَعْ مِنْ شَيْءٍ قَطُّ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ، إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَبِتْ لَيْلَةً قَطُّ شَبْعَانَ [[في ف: "شبعانا".]] وَأَنَا أَعْلَمُ مَكَانَ جَائِعٍ، فَصَدِّقْنِي. فَصُدِّقَ مِنَ السَّمَاءِ وَهُمَا يَسْمَعَانِ. ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ، إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ يَكُنْ لِي قَمِيصَانِ قَطُّ، وَأَنَا أَعْلَمُ مَكَانَ عَارٍ، فَصَدقني فَصُدِّقَ مِنَ السَّمَاءِ وَهُمَا يَسْمَعَانِ. اللَّهُمَّ [[في ف، أ: "ثم قال: اتللهم".]] بِعِزَّتِكَ ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ قَالَ [[في ف: "فقال".]] اللَّهُمَّ بِعِزَّتِكَ لَا أَرْفَعُ رَأْسِي أَبَدًا حَتَّى تَكْشِفَ عَنِّي. فَمَا رَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى كُشِفَ عَنْهُ.
وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَرْفُوعًا بِنَحْوِ هَذَا فَقَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عُقَيل، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّوبَ لَبِثَ بِهِ بَلَاؤُهُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ، إِلَّا رَجُلَيْنِ مِنْ إِخْوَانِهِ، كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ، كَانَا [[في ف، أ: "له".]] يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: تَعَلَّم -وَاللَّهِ-لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذَنَبَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ. فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مُنْذُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللَّهُ فَيَكْشِفَ [[في ف: "فكشف".]] مَا بِهِ. فَلَمَّا رَاحَا إِلَيْهِ لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ أَيُّوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: مَا أَدْرِي مَا تَقُولُ، غَيْرَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى الرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيَذْكُرَانِ اللَّهَ، فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا، كَرَاهَةَ أَنْ يَذْكُرَا اللَّهَ إِلَّا فِي حَقٍّ. قَالَ: وَكَانَ يَخْرُجُ فِي حَاجَتِهِ [[في ف: "حاجة".]] ، فَإِذَا قَضَاهَا أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ حَتَّى يَبْلُغَ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَتْ عَلَيْهِ، فَأُوحِيَ إِلَى أَيُّوبَ فِي مَكَانِهِ: أَنِ ارْكُضْ بِرِجْلِكَ، هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ" [[ورواه ابن حبان في صحيحه برقم (٢٠٩١) "موارد" من طريق حرملة بن يحيى عن ابن وهب بنحوه.]] .
رَفْعُ هَذَا الْحَدِيثِ غَرِيبٌ جِدًّا.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ، أَخْبَرَنَا عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْران، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَأَلْبَسَهُ اللَّهُ حُلَّةً مِنَ الْجَنَّةِ، فَتَنَحَّى أَيُّوبُ فَجَلَسَ فِي نَاحِيَةٍ، وَجَاءَتِ امْرَأَتُهُ، فَلَمْ تَعْرِفْهُ، فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، أَيْنَ ذَهَبَ الْمُبْتَلَى الَّذِي كَانَ هَاهُنَا؟ لَعَلَّ الْكِلَابَ ذَهَبَتْ بِهِ أَوِ الذِّئَابَ، فَجَعَلَتْ تَكَلُّمَهُ سَاعَةً، فَقَالَ: وَيْحَكِ! أَنَا أَيُّوبُ! قَالَتْ: أَتَسْخَرُ مِنِّي يَا عَبْدَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: وَيْحَكِ! أَنَا أَيُّوبُ، قَدْ رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ جَسَدِي.
وَبِهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَرَدَّ عَلَيْهِ مَالَهُ وَوَلَدَهُ عِيَانًا، وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ.
وَقَالَ وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ: أَوْحَى اللَّهُ إِلَى أَيُّوبَ: قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ أَهْلَكَ وَمَالَكَ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ، فَاغْتَسِلْ بِهَذَا الْمَاءِ، فَإِنَّ فِيهِ شِفَاءَكَ، وَقَرِّبْ عَنْ صَاحِبَتِكَ [[في ف: "صحابتك".]] قُرْبَانًا، وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ، فَإِنَّهُمْ قَدْ عَصَوْنِي فِيكَ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
[وَقَالَ] [[زيادة من أ.]] أَيْضًا: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَة، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا همام، عن قتادة، عن النضر ابن أَنَسٍ، عَنْ بَشير [[في ف: "بشر".]] بْنِ نَهِيك، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "لَمَّا عَافَى اللَّهُ أَيُّوبَ، أَمْطَرَ عَلَيْهِ جَرَادًا مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَأْخُذُ بِيَدِهِ وَيَجْعَلُهُ فِي ثَوْبِهِ". قَالَ: "فَقِيلَ لَهُ: يَا أَيُّوبُ، أَمَا تَشْبَعُ؟ قَالَ: يَا رَبِّ، وَمَنْ يَشْبَعُ مِنْ رَحْمَتِكَ".
أَصْلُهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ [[ورواه الحاكم في المستدرك (٢/٥٨٢) من طرق عن عمرو بن مرزوق به، وسيأتي أصل الحديث في صحيح البخاري عند تفسير الآية: ٤٢ من سورة ص.]] ، وَسَيَأْتِي فِي مَوْضِعٍ آخَرَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ﴾ قَدْ تَقَدَّمَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: رُدُّوا عَلَيْهِ بِأَعْيَانِهِمْ. وَكَذَا رَوَاهُ الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا. وَرُوِيَ مِثْلُهُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَمُجَاهِدٍ، وَبِهِ قَالَ الْحَسَنُ وَقَتَادَةُ.
وَقَدْ زَعَمَ بَعْضُهُمْ أَنَّ اسْمَ زَوْجَتِهِ رَحْمَةُ، فَإِنْ كَانَ أَخَذَ ذَلِكَ مِنْ سِيَاقِ الْآيَةِ فَقَدْ أَبْعَدَ النَّجْعَة، وَإِنْ كَانَ أَخَذَهُ مِنْ نَقْلِ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَصَحَّ ذَلِكَ عَنْهُمْ، فَهُوَ مِمَّا لَا يُصَدَّقُ وَلَا يُكَذَّبُ. وَقَدْ سَمَّاهَا ابْنُ عَسَاكِرَ فِي تَارِيخِهِ -رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى-قَالَ: وَيُقَالُ: اسْمُهَا لَيَا ابْنَةُ مِنَشَّا بْنِ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: وَيُقَالُ: لَيَا بِنْتُ يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، زَوْجَةُ أَيُّوبَ كَانَتْ مَعَهُ بِأَرْضِ البَثَنيَّة.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: قِيلَ لَهُ: يَا أَيُّوبُ، إِنْ أَهْلَكَ لَكَ فِي الْجَنَّةِ، فَإِنْ شِئْتَ أَتَيْنَاكَ بِهِمْ، وَإِنْ شئت تَرَكْنَاهُمْ لَكَ فِي الْجَنَّةِ، وَعَوَّضْنَاكَ مِثْلَهُمْ. قَالَ: لَا بَلِ اتْرُكْهُمْ لِي فِي الْجَنَّةِ. فتُركوا لَهُ فِي الْجَنَّةِ وَعُوِّضَ مِثْلَهُمْ فِي الدُّنْيَا.
وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الجَوْني، عَنْ نَوف البِكَالي قَالَ: أُوتِيَ أَجْرَهُمْ فِي الْآخِرَةِ، وَأُعْطِيَ مِثْلَهُمْ فِي الدُّنْيَا. قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ مُطَرَّفا، فَقَالَ: مَا عَرَفْتُ وَجْهَهَا قَبْلَ الْيَوْمِ.
وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ قَتَادَةَ، وَالسُّدِّيِّ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنَ السَّلَفِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا﴾ أَيْ: فَعَلْنَا بِهِ ذَلِكَ رَحْمَةً مِنَ اللَّهِ بِهِ، ﴿وَذِكْرَى لِلْعَابِدِينَ﴾ أَيْ: وَجَعَلْنَاهُ فِي ذَلِكَ قُدْوَةً، لِئَلَّا يَظُنَّ أَهْلُ الْبَلَاءِ أَنَّمَا فَعَلْنَا بِهِمْ ذَلِكَ [[في ف: "إنما فعل ذلك بهم".]] لِهَوَانِهِمْ عَلَيْنَا، وَلِيَتَأَسَّوْا بِهِ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَقْدُورَاتِ اللَّهِ وَابْتِلَائِهِ لِعِبَادِهِ بِمَا [[في ف: "فيما".]] يَشَاءُ، وَلَهُ الْحِكْمَةُ الْبَالِغَةُ فِي ذَلِكَ.
فَٱسْتَجَبْنَا لَهُۥ فَكَشَفْنَا مَا بِهِۦ مِن ضُرٍّۢ ۖ وَءَاتَيْنَٰهُ أَهْلَهُۥ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةًۭ مِّنْ عِندِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَٰبِدِينَ
So We responded to him and removed what afflicted him of adversity. And We gave him [back] his family and the like thereof with them as mercy from Us and a reminder for the worshippers [of Allah].
تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے بھی عطا فرمائے اور اپنی مہربانی کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے (یہ) نصیحت ہے
ما دعای او را مستجاب کردیم؛ و ناراحتیهایی را که داشت برطرف ساختیم؛ و خاندانش را به او بازگرداندیم؛ و همانندشان را بر آنها افزودیم؛ تا رحمتی از سوی ما و تذکّری برای عبادتکنندگان باشد.
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Ayyub, when he cried to his Lord: "Verily, distress has seized me, and You are the Most Merciful of all those who show mercy. (83)So We answered his call, and We removed the distress that was on him, and We restored his family to him, and the like thereof along with them as a mercy from Ourselves and a Reminder for all those who worship Us (84)
The Prophet Ayyub
Allah tells us about Ayyub (Job), and the trials that struck him , affecting his wealth,children and physical health. He had plenty of livestock, cattle and crops, many children and beautiful houses, and he was tested in these things, losing everything he had. Then he was tested with regard to his body, and he was left alone with on the edge of the city and there was no one who treated him with compassion apart from his wife, who took care of him. It was said that it reached the stage where she was in need, so she started to serve people (to earn money) for his sake. The Prophet ﷺ said:
أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الصَّالِحُونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ
(The people who are tested the most severely are the Prophets, then the righteous, then the next best and the next best). According to another Hadith:
يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى قَدْرِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ فِي بَلَائِهِ
(A man will be tested according to his level of religious commitment; the stronger his religious commitment, the more severe will be his test.)
The Prophet of Allah, Ayyub, upon him be peace, had the utmost patience, and he is the best example of that. Yazid bin Maysarah said: "When Allah tested Ayyub, upon him be peace, with the loss of his family, wealth and children, and he had nothing left, he started to focus upon the remembrance of Allah, and he said: 'I praise You, the Lord of lords, Who bestowed His kindness upon me and gave me wealth and children, and there was no corner of my heart that was not filled with attachment to these worldly things, then You took all of that away from me and You emptied my heart, and there is nothing to stand between me and You. If my enemy Iblis knew of this, he would be jealous of me. ' When Iblis heard of this, he became upset. And Ayyub, upon him be peace, said: 'O Lord, You gave me wealth and children, and there was no one standing at my door complaining of some wrong I had done to him. You know that. I used to have a bed prepared for me, but I forsook it and said to myself: You were not created to lie on a comfortable bed. I only forsook that for Your sake.'" This was recorded by Ibn Abi Hatim.
Ibn Abi Hatim recorded from Abu Hurayrah that the Prophet ﷺ said:
لَمَّا عَافَى اللهُ أَيُّوبَ أَمْطَرَ عَلَيْهِ جَرَادًا مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَأْخُذُ مِنْهُ بِيَدِهِ وَيَجْعَلُهُ فِي ثَوْبِهِ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: يَا أَيُّوبُ أَمَا تَشْبَعُ؟ قَالَ: يَا رَبِّ وَمَنْ يَشْبَعُ مِنْ رَحْمَتِكَ
(When Allah healed Ayyub, He sent upon him a shower of golden locusts, and he started to pick them up and gather them in his garment. It was said to him, "O Ayyub, have you not had enough?" He said, "O Lord, who can ever have enough of Your mercy?) The basis of this Hadith is recorded in the Two Sahihs, as we shall see below.
وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ
(and We restored his family to him (that he had lost) and the like thereof along with them)
It was reported that Ibn 'Abbas said: "They themselves were restored to him." This was also narrated by Al-'Awfi from Ibn 'Abbas. Something similar was also narrated from Ibn Mas'ud and Mujahid, and this was the view of Al-Hasan and Qatadah. Mujahid said: "It was said to him, 'O Ayyub, your family will be with you in Paradise; if you want, We will bring them back to you, or if you want, We will leave them for you in Paradise and will compensate you with others like them.' He said, 'No, leave them for me in Paradise.' So they were left for him in Paradise, and he was compensated with others like them in this world."
رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا
(as a mercy from Ourselves) means, 'We did that to him as a mercy from Allah towards him.'
وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ
(and a Reminder for all those who worship Us.) means, 'We made him an example lest those who are beset by trials think that We do that to them because We do not care for them, so that they may take him as an example of patience in accepting the decrees of Allah and bearing the trials with which He tests His servants as He wills.' And Allah has the utmost wisdom with regard to that.
Tafsir Ibn Kathir
آزمائش اور مصائب ایوب ؑ حضرت ایوب ؑ کی تکلیفوں کا بیان ہو رہا ہے جو مالی جسمانی اور اولاد پر مشتمل تھیں ان کے پاس بہت سے قسم قسم کے جانور تھے کھیتیاں باغات وغیرہ تھے اولاد بیویاں لونڈیاں غلام جائیداد اور مال و متاع سبھی کچھ اللہ کا دیا موجود تھا۔ اب جو رب کی طرف سے ان پر آزمائش آئی تو ایک سرے سے سب کچھ فنا ہوتا گیا یہاں تک کہ جسم میں جذام پھوٹ پڑا۔ دل و زبان کے سوا سارے جسم کا کوئی حصہ اس مرض سے محفوظ نہ رہا۔ یہاں تک کہ آس پاس والے کراہت کرنے لگے۔ شہر کے ایک ویران کونے میں آپ کو سکونت اختیار کرنی پڑی۔ سوائے آپ کی ایک بیوی صاحبہ ؓ کے اور کوئی آپ کے پاس نہ رہا، اس مصیبت کے وقت سب نے کنارہ کرلیا۔ یہی ایک تھیں جو ان کی خدمت کرتی تھیں ساتھ ہی محنت مزدوری کرکے پیٹ پالنے کو بھی لایا کرتی تھیں۔ آنحضرت ﷺ نے سچ فرمایا کہ سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے، پھر صالح لوگوں کا پھر ان سے نیچے کے درجے والوں کا پھر ان سے کم درجے والوں کا۔ اور روایت میں ہے کہ ہر شخص کا امتحان اس کے دین کے انداز سے ہوتا ہے اگر وہ دین میں مضبوط ہے امتحان بھی سخت تر ہوتا ہے حضرت ایوب ؑ بڑے ہی صابر تھے یہاں تک کہ صبر ایوب زبان زد عام ہے۔ یزید بن میسرہ ؒ فرماتے ہیں جب آپ کی آزمائش شروع ہوئی اہل و عیال مرگئے مال فناہو گیا کوئی چیز ہاتھ تلے نہ رہی آپ اللہ کے ذکر میں اور بڑھ گئے کہنے لگے اے تمام پالنے والوں کے پالنے والے تو نے مجھ پر بڑے احسان کئے مال دیا اولاد دی اس وقت میرا دل بہت ہی مشغول تھا اب تو نے سب کچھ لے کر میرے دل کو ان فکروں سے پاک کردیا اب میرے دل میں اور تجھ میں کوئی حائل نہ رہا اگر میرا دشمن ابلیس تیری اس مہربانی کو جان لیتا تو وہ مجھ پر بہت ہی حسد کرتا ابلیس لعین اس قول سے اور اس وقت کی اس حمد سے جل بھن کر رہ گیا۔ آپ کی دعاؤں میں یہ بھی دعا تھی اے اللہ تو نے جب مجھے توانگر اور اولاد اور اہل و عیال والا بنا رکھا تھا تو خوب جانتا ہے کہ اس وقت میں نے نہ کبھی غرور وتکبر کیا نہ کبھی کسی پر ظلم ستم کیا۔ میرے پروردگار تجھ پر روشن ہے کہ میرا نرم و گرم بستر تیار ہوتا اور میں راتوں کو تیری عبادتوں میں گزارتا اور اپنے نفس کو اس طرح ڈانٹ دیتا کہ تو اس لئے پیدا نہیں کیا گیا تیری رضامندی کی طلب میں میں اپنی راحت وآرام کو ترک کردیا کرتا۔ (ابن ابی حاتم) اس آیت کی تفسیر میں ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ایک بہت لمبا قصہ ہے جسے بہت سے پچھلے مفسیرین نے بھی ذکر کیا ہے۔ لیکن اس میں غرابت ہے اور اس کے طول کی وجہ سے ہم نے اسے چھوڑ دیا ہے۔ مدتوں تک آپ ان بلاؤں میں مبتلا رہے۔ حضرت حسن اور قتادہ ؒ فرماتے ہیں سات سال اور کئی ماہ آپ بیماری میں مبتلا رہے بنو اسرائیل کے کوڑے پھینکنے کی جگہ آپ کو ڈال رکھا تھا۔ بدن میں کیڑے پڑگئے تھے پھر اللہ نے آپ پر رحم وکرم کیا تمام بلاؤں سے نجات دی اجردیا اور تعریفیں کیں۔ وہب بن منبہ کا بیان ہے کہ پورے تین سال آپ اس تکلیف میں رہے۔ سارا گوشت جھڑ گیا تھا۔ صرف ہڈیاں اور چمڑہ رہ گیا آپ دکھ میں پڑے رہتے تھے صرف ایک بیوی صاحبہ تھیں جو آپ کے پاس تھیں جب زیادہ زمانہ گزر گیا تو ایک روز عرض کرنے لگیں کہ اے نبی اللہ ؑ آپ اللہ سے دعا کیوں نہیں کرتے کہ وہ اس مصیبت کو ہم پر سے ٹال دے۔ آپ فرمانے لگے سنو ستر برس تک اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت و عافیت میں رکھا تو اگر ستر سال تک میں اس حالت میں رہوں اور صبر کروں تو یہ بھی بہت کم ہے اس پر بیوی صاحبہ کانپ اٹھیں آپ شہر میں جاتیں، لوگوں کا کام کاج کرتیں اور جو ملتا وہ لے آتیں اور آپ کو کھلاتیں پلاتیں۔ آپ کے دو دوست اور دلی خیرخواہ دوست تھے انہیں فلسطین میں جا کر شیطان نے خبردی کہ تمہارا دوست سخت مصیبت میں مبتلا ہے تم جاؤ ان کی خبرگیری کرو اور اپنے ہاں کی کچھ شراب اپنے ساتھ لے جاؤ وہ پلادینا اس سے انہیں شفا ہوجائے گی چناچہ یہ دونوں آئے حضرت ایوب ؑ کی حالت دیکھتے ہی ان کے آنسو نکل آئے بلبلا کر رونے لگے آپ نے پوچھا تم کون ہو ؟ انہوں نے یاد دلایا تو آپ خوش ہوئے انہیں مرحبا کہا وہ کہنے لگے اے جناب آپ شاید کچھ چھپاتے ہوں گے اور ظاہر اس کے خلاف کرتے ہوں گے ؟ آپ نے نگاہیں آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا اللہ خوب جانتا ہے کہ میں کیا چھپاتا تھا اور کیا ظاہر کرتا تھا میرے رب نے مجھے اس میں مبتلا کیا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ میں صبر کرتا ہوں یا بےصبری ؟ وہ کہنے لگے اچھا ہم آپ کے واسطے دوا لائے ہیں آپ اسے پی لیجئے شفا ہوجائے گی یہ شراب ہے۔ ہم اپنے ہاں سے لائے ہیں۔ یہ سنتے ہی آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمانے لگے تمہیں شیطان خبیث لایا ہے تم سے کلام کرنا تمہارا کھانا پینا مجھ پر حرام ہے۔ یہ دونوں آپ کے پاس سے چلے گئے۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ آپ کی بیوی صاحبہ نے ایک گھر والوں کی روٹیاں پکائیں ان کا ایک بچہ سویا ہوا تھا تو انہوں نے اس بچے کے حصے کی ٹکیا انہیں دے دی یہ لے کر حضرت ایوب ؑ کے پاس آئیں آپ نے کہا یہ آج کہاں سے لائیں ؟ انہوں نے ساراواقعہ بیان کردیا۔ آپ نے فرمایا ابھی ابھی واپس جاؤ ممکن ہے بچہ جاگ گیا ہو اور اسی ٹکیا کی ضد کرتا ہو اور رو رو کر سارے گھر والوں کو پریشان کرتا ہو۔ آپ روٹی واپس لے کرچلیں ان کی ڈیوڑھی میں بکری بندھی ہوئی تھی اس نے زور سے آپ کو ٹکر ماری آپ کی زبان سے نکل گیا دیکھو ایوب کیسے غلط خیال والے ہیں۔ پھر اوپر گئیں تو دیکھا واقعی بچہ جاگا ہوا ہے اور ٹکیا کے لئے مچل رہا ہے اور گھر بھر کا ناک میں دم کر رکھا ہے یہ دیکھ کر بےساختہ زبان سے نکلا کہ اللہ ایوب پر رحم کرے، اچھے موقعہ پر پہنچی۔ ٹکیا دے دی اور واپس لوٹیں راستے میں شیطان بہ صورت طبیب ملا اور کہنے لگا کہ تیرے خاوند سخت تکلیف میں ہیں مرض پر مدتیں گزر گئیں تم انہیں سمجھاؤ فلاں قبیلے کے بت کے نام پر ایک مکھی مار دیں شفاء ہوجائے گی پھر توبہ کرلیں۔ جب آپ حضرت ایوب ؑ کے پاس پہنچیں تو ان سے یہ کہا آپ نے فرمایا شیطان خبیث کا جادو تجھ پر چل گیا۔ میں تندرست ہوگیا تو تجھے سو کوڑے لگاؤں گا۔ ایک دن آپ حسب معمول تلاش معاش میں نکلیں گھر گھر پھر آئیں کہیں کام نہ لگا مایوس ہوگئیں شام کو پلٹنے وقت حضرت ایوب ؑ کی بھوک کا خیال آیا تو آپ نے اپنے بالوں کی ایک لٹ کاٹ کر ایک امیر لڑکی کے ہاتھ فروخت کردی اس نے آپ کو بہت کچھ کھانے پینے کا اسباب دیا۔ جسے لے کر آپ آئیں حضرت ایوب ؑ نے پوچھا یہ آج اتنا سارہ اور اتنا اچھا کھانا کیسے مل گیا ؟ فرمایا میں نے ایک امیر گھر کا کام کردیا تھا۔ آپ نے کھالیا دوسرے روز بھی اتفاق سے ایسا ہی ہوا اور آپ نے اپنے بالوں کی دوسری لٹ کاٹ کر فروخت کردی اور کھانا لے آئیں آج بھی یہی کھانا دیکھ کر آپ نے فرمایا واللہ میں ہرگز نہ کھاؤں گا جب تک تو مجھے یہ نہ بتادے کہ کیسے لائی ؟ اب آپ نے اپنا دوپٹہ سر سے اتار دیا دیکھا کہ سر کے بال سب کٹ چکے ہیں اس وقت سخت گھبراہٹ اور بےچینی ہوئی اور اللہ سے دعا کی کہ مجھے ضرر پہنچا اور تو سب سے زیادہ رحیم ہے۔ حضرت نوف کہتے ہیں کہ جو شیطان حضرت ایوب ؑ کے پیچھے پڑا تھا اس کا نام مسبوط تھا۔ حضرت ایوب ؑ کی بیوی صاحبہ عموما آپ سے عرض کیا کرتی تھیں کہ اللہ سے دعا کرو۔ لیکن آپ نہ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک دن بنو اسرائیل کے کچھ لوگ آپ کے پاس سے نکلے اور آپ کو دیکھ کر کہنے لگے اس شخص کو یہ تکلیف ضرور کسی نہ کسی گناہ کی وجہ سے ہے اس وقت بےساختہ آپ کی زبان سے یہ دعا نکل گئی۔ حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت ایوب ؑ کہ دو بھائی تھے ایک دن وہ ملنے کے لئے آئے۔ لیکن جسم کی بدبو کی وجہ سے قریب نہ آسکے دور ہی سے کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اگر اس شخص میں بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے اس مصیبت میں نہ ڈالتا اس بات نے حضرت ایوب ؑ کو وہ صدمہ پہنچایا جو آج تک آپ کو کسی چیز سے نہ ہوا تھا اس وقت کہنے لگے اللہ کوئی رات مجھ پر ایسی نہیں گزری کہ کوئی بھوکا شخص میرے علم میں ہو اور میں نے پیٹ بھرلیا ہو پروردگار اگر میں اپنی اس بات میں تیرے نزدیک سچا ہوں تو میری تصدیق فرما۔ اسی وقت آسمان سے آپ کی تصدیق کی گئی تھی اور وہ دونوں سن رہے تھے۔ پھر فرمایا کہ پروردگار کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میرے پاس ایک سے زائد کپڑے ہوں اور میں نے کسی ننگے کو نہ دیے ہوں اگر میں اس میں سچا ہوں تو میری تصدیق آسمان سے کر۔ اس پر بھی آپ کی تصدیق ان کے سنتے ہوئے کی گئی۔ پھر یہ دعا کرتے ہوئے سجدے میں گرپڑے کہ اے اللہ میں تو اب سجدے سے سر نہ اٹھاؤں گا جب تک کہ تو مجھ سے ان تمام مصیبتوں کو دور نہ کردے جو مجھ پر نازل ہوئی ہیں۔ چناچہ یہ دعاقبول ہوئی۔ اور اس سے پہلے کہ آپ سر اٹھائیں تمام تکلیفیں اور بیماریاں دور ہوگئیں جو آپ پر اتری تھیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ حضرت ایوب ؑ اٹھارہ برس تک بلاؤں میں گھرے رہے پھر ان کے دو دوستوں کے آنے اور بدگمانی کرنے کا ذکر ہے جس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میری تو یہ حالت تھی کہ راستہ چلتے دو شخصوں کو جھگڑتا دیکھتا اور ان میں سے کسی کو قسم کھاتے سن لیتا تو گھر آکر اس کی طرف سے کفارہ ادا کردیتا کہ ایسا نہ ہو کہ اس نے نام ناحق لیا ہو۔ آپ اپنی اس بیماری میں اس قدر نڈھال ہوگئے تھے کہ آپ کی بیوی صاحبہ ہاتھ تھام کر پاخانہ پیشاب کے لئے لے جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ آپ کو حاجت تھی آپ نے آواز دی لیکن انہیں آنے میں دیر لگی آپ کو سخت تکلیف ہوئی اسی وقت آسمان سے ندا آئی کہ اے ایوب اپنی ایڑی زمین پر مارو اسی پانی کو پی بھی لو اور اسی سے نہا بھی لو اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل غریب ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے جنت کا حلہ نازل فرمادیا جسے پہن کر آپ یکسو ہو کر بیٹھ گئے۔ جب آپ کی بیوی آئیں اور آپ کو نہ پہچان سکیں تو آپ سے پوچھنے لگیں اے اللہ کے بندے یہاں ایک بیمار بیکس بےبس تھے تمہیں معلوم ہے کہ وہ کیا ہوئے ؟ کہیں انہیں بھیڑئیے نہ کھا گئے ہوں یا کتے نہ لے گئے ہوں ؟ تب آپ نے فرمایا نہیں نہیں وہ بیمار ایوب میں ہی ہوں۔ بیوی صاحبہ کہنے لگی اے شخص تو مجھ دکھیا عورت سے ہنسی کر رہا ہے اور مجھے بنا رہا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں مجھے اللہ نے شفادے دی اور یہ رنگ روپ بھی۔ آپ کا مال آپ کو واپس دیا گیا آپ کی اولاد وہی آپ کو واپس ملی اور ان کے ساتھ ہی ویسی ہی اور بھی وحی میں یہ خوشخبری بھی سنادی گئی تھی اور فرمایا گیا تھا کہ قربانی کرو اور استغفار کرو، تیرے اپنوں نے تیرے بارے میں میری نافرمانی کرلی تھی۔ اور روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب ؑ کو عافیت عطا فرمائی آسمان سے سونے کی ٹڈیاں ان پر برسائیں جنہیں لے کر آپ نے اپنے کپڑے میں جمع کرنی شروع کردیں تو آواز دی گئی کہ اے ایوب کیا تو اب تک آسودہ نہیں ہوا ؟ آپ نے جواب دیا کہ اے میرے پروردگار تیری رحمت سے آسودہ کون ہوسکتا ہے ؟ پھر فرماتا ہے ہم نے اسے اس کے اہل عطا فرمائے۔ ابن عباس ؓ تو فرماتے ہیں وہی لوگ واپس کئے گئے۔ آپ کی بیوی کا نام رحمت تھا۔ یہ قول اگر آیت سے سمجھا گیا ہے تو یہ بھی دور از کار امر ہے اور اگر اہل کتاب سے لیا گیا ہے تو وہ تصدیق تکذیب کے قابل ہے چیز نہیں۔ ابن عساکر نے ان کا نام اپنی تاریخ میں " لیا " بتایا ہے۔ یہ منشا بن یوسف بن اسحاق بن ابراہیم ؑ کی بیٹی ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت " لیا " حضرت یعقوب ؑ کی بیٹی حضرت ایوب ؑ کی بیوی ہیں جو شفیعہ کی زمین میں آپ کے ساتھ تھیں۔ مروی ہے کہ آپ سے فرمایا گیا کہ تیری اہل سب جنت میں ہیں تم کہو تو میں ان سب کو یہاں دنیا میں لادوں اور کہے تو وہیں رہنے دوں اور دنیا میں ان کا عوض دوں آپ نے دوسری بات پسند فرمائی۔ پس آخرت کا اجر اور دنیا کا بدلہ دونوں آپ کو ملا۔ یہ سب کچھ ہماری رحمت کا ظہور تھا۔ اور ہمارے سچے عابدوں کے لئے نصیحت وعبرت تھی، آپ اہل بلا کے پیشوا تھے۔ یہ سب اس لئے ہوا کہ مصیبتوں میں پھنسے ہوئے لوگ اپنے لئے آپ کی ذات میں عبرت دیکھیں، بےصبری سے ناشکری نہ کرنے لگیں اور لوگ انہیں اللہ کے برے بندے نہ سمجھیں۔ حضرت ایوب ؑ صبر کا پہاڑ ثابت قدمی کا نمونہ تھے اللہ کے لکھے پر، اس کے امتحان پر انسان کو صبر و برداشت کرنی چاہیے نہ جانیں قدرت درپردہ اپنی کیا کیا حکمتیں دکھا رہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَذْكُرُ تَعَالَى عَنْ أَيُّوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مَا كَانَ أَصَابَهُ مِنَ الْبَلَاءِ، فِي مَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَسَدِهِ [[في ف: "وجسده وولده".]] ، وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ شَيْءٌ كَثِيرٌ، وَأَوْلَادٌ كَثِيرَةٌ، وَمَنَازِلُ مَرْضِيَّةٌ. فَابْتُلِيَ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ، وَذَهَبَ عَنِ آخِرِهِ، ثُمَّ ابْتُلِيَ فِي جَسَدِهِ -يُقَالُ: بِالْجُذَامِ فِي سَائِرِ بَدَنِهِ، وَلَمْ يَبْقَ مِنْهُ سَلِيمٌ سِوَى قَلْبِهِ وَلِسَانِهِ، يَذْكُرُ بِهِمَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، حَتَّى عَافَهُ الْجَلِيسُ، وأفردَ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَلَدِ، وَلَمْ يَبْقَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ [[في ف: "أحد من الناس".]] يَحْنُو عَلَيْهِ سِوَى زَوْجَتِهِ، كَانَتْ تَقُومُ بِأَمْرِهِ [[في ف: "بأوده".]] ، وَيُقَالُ: إِنَّهَا احْتَاجَتْ فَصَارَتْ تَخْدِمُ النَّاسَ مِنْ أَجْلِهِ، وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: "أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الصَّالِحُونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ" [[رواه أحمد في المسند (١/١٧٢) والترمذي في السنن برقم (٢٣٩٨) وابن ماجه في السنن برقم (٤٠٢٣) من حديث سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. وقال الترمذي: "هذا حديث حسن صحيح".]] وَفِي الْحَدِيثِ الْآخَرِ: "يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى قَدْرِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ فِي بَلَائِهِ" [[هو جزء من الحديث المتقدم، والله أعلم.]] .
وَقَدْ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ أَيُّوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، غَايَةً فِي الصَّبْرِ، وَبِهِ يُضْرَبُ الْمَثَلُ فِي ذَلِكَ.
وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ مَيْسَرَةَ: لَمَّا ابْتَلَى اللَّهُ أَيُّوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِذَهَابِ الْأَهْلِ وَالْمَالِ وَالْوَلَدِ، ولم له يبق شَيْءٌ، أَحْسَنَ الذَّكَرَ، ثُمَّ قَالَ: أَحْمَدُكَ رَبَّ الْأَرْبَابِ، الَّذِي أَحْسَنْتَ إِلَيَّ، أَعْطَيْتَنِي الْمَالَ وَالْوَلَدَ، فَلَمْ يَبْقَ مِنْ قَلْبِي شُعْبَةٌ، إِلَّا قَدْ دَخَلَهُ ذَلِكَ، فَأَخَذْتُ ذَلِكَ كُلَّهُ مِنِّي، وفرَّغت قَلْبِي، لَيْسَ يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ شَيْءٌ، لَوْ يَعْلَمُ عَدُوِّي إِبْلِيسُ بِالَّذِي صَنَعْتُ، حَسَدَنِي. قَالَ: فَلَقِيَ إِبْلِيسُ مِنْ ذَلِكَ مُنْكَرًا.
قَالَ: وَقَالَ أَيُّوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا رَبِّ، إِنَّكَ أَعْطَيْتَنِي الْمَالَ وَالْوَلَدَ، فَلَمْ يَقُمْ عَلَى بَابِي أَحَدٌ يَشْكُونِي لِظُلْمٍ ظَلَمْتُهُ، وَأَنْتَ تَعْلَمُ ذَلِكَ. وَأَنَّهُ كَانَ يُوطَأُ لِيَ الْفِرَاشُ فَأَتْرُكُهَا وَأَقُولُ لِنَفْسِي: يَا نَفْسُ، إِنَّكِ لَمْ تُخْلَقِي لِوَطْءِ الْفُرُشِ [[في ف: "الفراش".]] ، مَا تَرَكْتُ ذَلِكَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَقَدْ ذُكِرَ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ فِي خَبَرِهِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ، سَاقَهَا ابْنُ جَرِيرٍ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ بِالسَّنَدِ عَنْهُ، وَذَكَرَهَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ مُتَأَخِّرِي الْمُفَسِّرِينَ، وَفِيهَا غَرَابَةٌ تَرَكْنَاهَا لِحَالِ الطُّولِ [[تفسير الطبري (١/٤٢) .]] .
وَقَدْ رُوِيَ أَنَّهُ مَكَثَ فِي الْبَلَاءِ مُدَّةً طَوِيلَةً، ثُمَّ اخْتَلَفُوا فِي السَّبَبِ الْمُهَيِّجِ لَهُ عَلَى هَذَا الدُّعَاءِ، فَقَالَ الْحَسَنُ وَقَتَادَةُ، ابْتُلِيَ أَيُّوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، سَبْعَ سِنِينَ وَأَشْهُرًا، مُلْقًى عَلَى كُنَاسَة بَنِي إِسْرَائِيلَ، تَخْتَلِفُ الدَّوَابُّ فِي جَسَدِهِ فَفَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ، وعَظَمَّ لَهُ الْأَجْرَ، وَأَحْسَنَ عَلَيْهِ الثَّنَاءَ.
وَقَالَ وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ: مَكَثَ فِي الْبَلَاءِ ثَلَاثَ سِنِينَ، لَا يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: تَسَاقَطَ لَحْمُ أَيُّوبَ حَتَّى لَمْ يَبْقَ إِلَّا الْعَصَبُ وَالْعِظَامُ، فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ تَقُومُ عَلَيْهِ وَتَأْتِيهِ بِالزَّادِ يَكُونُ فِيهِ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ لَمَّا طَالَ وَجَعُهُ: يَا أَيُّوبُ، لَوْ دَعَوْتَ رَبَّكَ [[في ف، أ: "الله".]] يُفَرِّجُ عَنْكَ؟ فَقَالَ: قَدْ عِشْتُ سَبْعِينَ سَنَةً صَحِيحًا، فَهَلْ [[في أ: "فهو".]] قَلِيلٌ لِلَّهِ أَنْ أَصْبِرَ لَهُ سَبْعِينَ سَنَةً؟ فجَزَعت مِنْ ذَلِكَ فَخَرَجَتْ، فَكَانَتْ تَعْمَلُ لِلنَّاسِ بِأَجْرٍ وَتَأْتِيهِ بِمَا تُصِيبُ فَتُطْعِمُهُ، وَإِنَّ إِبْلِيسَ انْطَلَقَ إِلَى رَجُلَيْنِ مِنْ فِلَسْطِينَ كَانَا صَدِيقَيْنِ لَهُ وَأَخَوَيْنِ، فَأَتَاهُمَا فَقَالَ: أَخُوكُمَا أَيُّوبُ أَصَابَهُ مِنَ الْبَلَاءِ كَذَا وَكَذَا، فَأْتِيَاهُ وَزُورَاهُ وَاحْمِلَا مَعَكُمَا مِنْ خَمْرِ أَرْضِكُمَا، فَإِنَّهُ إِنْ شَرِبَ مِنْهُ بَرَأ. فَأَتَيَاهُ، فَلَمَّا نَظَرَا إِلَيْهِ بَكَيَا، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمَا؟ فَقَالَا [[في ف، أ: "قالا".]] : نَحْنُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ! فرحَّب بِهِمَا وَقَالَ: مَرْحَبًا بِمَنْ لَا يَجْفُونِي عِنْدَ الْبَلَاءِ، فَقَالَا يَا أَيُّوبُ، لَعَلَّكَ كُنْتَ تُسر شَيْئًا وَتُظْهِرُ غَيْرَهُ، فَلِذَلِكَ ابْتَلَاكَ اللَّهُ؟ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ: هُوَ يَعْلَمُ، مَا أَسْرَرْتُ شَيْئًا أَظْهَرْتُ غَيْرَهُ. وَلَكِنَّ رَبِّي ابْتَلَانِي لِيَنْظُرَ أَأَصْبِرُ أَمْ أَجْزَعُ، فَقَالَا لَهُ: يَا أَيُّوبُ، اشْرَبْ مِنْ خَمْرِنَا فَإِنَّكَ إِنْ شَرِبْتَ مِنْهُ بَرَأت. قَالَ: فَغَضِبَ وَقَالَ جَاءَكُمَا الْخَبِيثُ فَأَمَرَكُمَا بِهَذَا؟ كَلَامُكُمَا وَطَعَامُكُمَا وَشَرَابُكُمَا عَلَيَّ حَرَامٌ. فَقَامَا مِنْ عِنْدِهِ، وَخَرَجَتِ امْرَأَتُهُ تَعْمَلُ لِلنَّاسِ فَخَبَزَتْ لِأَهْلِ بَيْتٍ لَهُمْ صَبِيٌّ، فَجَعَلَتْ لَهُمْ قُرْصًا [[في ف، أ: "قرصة".]] ، وَكَانَ ابْنُهُمْ نَائِمًا، فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوهُ، فَوَهَبُوهُ لَهَا.
فَأَتَتْ بِهِ إِلَى أَيُّوبَ، فَأَنْكَرَهُ وَقَالَ: مَا كُنْتِ تَأْتِينِي بِهَذَا، فَمَا بَالُكِ الْيَوْمَ؟ فَأَخْبَرَتْهُ الْخَبَرَ. قَالَ: فَلَعَلَّ الصَّبِيَّ قَدِ اسْتَيْقَظَ، فَطَلَبَ الْقَرْصَ فَلَمْ يَجِدْهُ فَهُوَ يَبْكِي عَلَى أَهْلِهِ. [فَانْطَلِقِي بِهِ إِلَيْهِ. فَأَقْبَلَتْ حَتَّى بَلَغَتْ دَرَجَةَ الْقَوْمِ، فَنَطَحَتْهَا شَاةٌ لَهُمْ، فَقَالَتْ: تَعِسَ أَيُّوبُ الْخَطَّاءُ! فَلَمَّا صَعِدَتْ وَجَدَتِ الصَّبِيَّ قَدِ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَطْلُبُ الْقُرْصَ، وَيَبْكِي عَلَى أَهْلِهِ] [[زيادة من ف، أ.]] ، لَا يَقْبَلُ مِنْهُمْ شَيْئًا غَيْرَهُ، فَقَالَتْ: رَحِمَ اللَّهُ أَيُّوبَ فَدَفَعَتِ الْقُرْصَ إِلَيْهِ وَرَجَعَتْ. ثُمَّ إِنَّ إِبْلِيسَ أَتَاهَا فِي صُورَةِ طَبِيبٍ، فَقَالَ لَهَا: إِنَّ زَوْجَكِ قَدْ طَالَ سُقمه، فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يَبْرَأَ فَلْيَأْخُذْ ذُبَابًا فَلْيَذْبَحْهُ بِاسْمِ صَنَمِ بَنِي فَلَانٍ فَإِنَّهُ يَبْرَأُ وَيَتُوبُ بَعْدَ ذَلِكَ. فَقَالَتْ ذَلِكَ لِأَيُّوبَ، فَقَالَ: قَدْ أَتَاكِ الْخَبِيثُ. لِلَّهِ عَلَيَّ إِنْ بَرَأْتُ أَنْ أَجْلِدَكِ مِائَةَ جَلْدَةٍ. فَخَرَجَتْ تَسْعَى عَلَيْهِ، فَحُظِرَ عَنْهَا الرِّزْقُ، فَجَعَلَتْ لَا تَأْتِي أَهْلَ بَيْتٍ فَيُرِيدُونَهَا، فَلَمَّا اشتد عليها ذلك وخافت على أيوب الْجُوعَ حَلَقَتْ مِنْ شَعْرِهَا قَرْنًا فَبَاعَتْهُ مِنْ صَبِيَّةٍ مِنْ بَنَاتِ الْأَشْرَافِ، فَأَعْطَوْهَا طَعَامًا طَيِّبًا كَثِيرًا فَأَتَتْ بِهِ أَيُّوبَ، فَلَمَّا رَآهُ أَنْكَرَهُ وَقَالَ: مِنْ أَيْنَ لَكِ هَذَا؟ قَالَتْ: عَمِلْتُ لِأُنَاسٍ فَأَطْعَمُونِي. فَأَكَلَ مِنْهُ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ خَرَجَتْ فَطَلَبَتْ أَنْ تَعْمَلَ فَلَمْ تَجِدْ فَحَلَقَتْ أَيْضًا قَرْنًا فَبَاعَتْهُ مِنْ تِلْكَ الْجَارِيَةِ، فَأَعْطَوْهَا مِنْ ذَلِكَ الطَّعَامِ، فَأَتَتْ بِهِ أَيُّوبَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ حَتَّى أَعْلَمَ مِنْ أَيْنَ هُوَ؟ فَوَضَعَتْ خِمَارَهَا، فَلَمَّا رَأَى رَأْسَهَا مَحْلُوقًا جَزِعَ جَزَعًا شَدِيدًا، فَعِنْدَ ذَلِكَ دَعَا رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنَيُّ، عَنْ نَوْف البِكَالي؛ أَنَّ الشَّيْطَانَ الَّذِي عَرَّجَ فِي أَيُّوبَ كَانَ يُقَالُ لَهُ: "سَوْطٌ" [[في ف، أ: "مبسوط".]] ، قَالَ: وَكَانَتِ امْرَأَةُ أَيُّوبَ تَقُولُ: "ادْعُ اللَّهَ فَيَشْفِيَكَ"، فَجَعَلَ لَا يَدْعُو، حَتَّى مَرَّ بِهِ نَفَرٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: مَا أَصَابَهُ مَا أَصَابَهُ إِلَّا بِذَنْبٍ عَظِيمٍ أَصَابَهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالَ: "رَبِّ إِنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ".
وَحَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: كَانَ لِأَيُّوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَخَوَانِ فَجَاءَا يَوْمًا، فَلَمْ يَسْتَطِيعَا أَنْ يَدْنُوَا مِنْهُ، مِنْ رِيحِهِ، فَقَامَا مِنْ بَعِيدٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: لَوْ كَانَ اللَّهُ عَلِمَ مِنْ أَيُّوبَ خَيْرًا مَا ابْتَلَاهُ بِهَذَا؟ فَجَزِعَ أَيُّوبُ مِنْ قَوْلِهِمَا جَزعا لَمْ يَجْزَعْ مِنْ شَيْءٍ قَطُّ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ، إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَبِتْ لَيْلَةً قَطُّ شَبْعَانَ [[في ف: "شبعانا".]] وَأَنَا أَعْلَمُ مَكَانَ جَائِعٍ، فَصَدِّقْنِي. فَصُدِّقَ مِنَ السَّمَاءِ وَهُمَا يَسْمَعَانِ. ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ، إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ يَكُنْ لِي قَمِيصَانِ قَطُّ، وَأَنَا أَعْلَمُ مَكَانَ عَارٍ، فَصَدقني فَصُدِّقَ مِنَ السَّمَاءِ وَهُمَا يَسْمَعَانِ. اللَّهُمَّ [[في ف، أ: "ثم قال: اتللهم".]] بِعِزَّتِكَ ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ قَالَ [[في ف: "فقال".]] اللَّهُمَّ بِعِزَّتِكَ لَا أَرْفَعُ رَأْسِي أَبَدًا حَتَّى تَكْشِفَ عَنِّي. فَمَا رَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى كُشِفَ عَنْهُ.
وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَرْفُوعًا بِنَحْوِ هَذَا فَقَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عُقَيل، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّوبَ لَبِثَ بِهِ بَلَاؤُهُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ، إِلَّا رَجُلَيْنِ مِنْ إِخْوَانِهِ، كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ، كَانَا [[في ف، أ: "له".]] يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: تَعَلَّم -وَاللَّهِ-لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذَنَبَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ. فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مُنْذُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللَّهُ فَيَكْشِفَ [[في ف: "فكشف".]] مَا بِهِ. فَلَمَّا رَاحَا إِلَيْهِ لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ أَيُّوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: مَا أَدْرِي مَا تَقُولُ، غَيْرَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى الرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيَذْكُرَانِ اللَّهَ، فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا، كَرَاهَةَ أَنْ يَذْكُرَا اللَّهَ إِلَّا فِي حَقٍّ. قَالَ: وَكَانَ يَخْرُجُ فِي حَاجَتِهِ [[في ف: "حاجة".]] ، فَإِذَا قَضَاهَا أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ حَتَّى يَبْلُغَ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَتْ عَلَيْهِ، فَأُوحِيَ إِلَى أَيُّوبَ فِي مَكَانِهِ: أَنِ ارْكُضْ بِرِجْلِكَ، هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ" [[ورواه ابن حبان في صحيحه برقم (٢٠٩١) "موارد" من طريق حرملة بن يحيى عن ابن وهب بنحوه.]] .
رَفْعُ هَذَا الْحَدِيثِ غَرِيبٌ جِدًّا.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ، أَخْبَرَنَا عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْران، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَأَلْبَسَهُ اللَّهُ حُلَّةً مِنَ الْجَنَّةِ، فَتَنَحَّى أَيُّوبُ فَجَلَسَ فِي نَاحِيَةٍ، وَجَاءَتِ امْرَأَتُهُ، فَلَمْ تَعْرِفْهُ، فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، أَيْنَ ذَهَبَ الْمُبْتَلَى الَّذِي كَانَ هَاهُنَا؟ لَعَلَّ الْكِلَابَ ذَهَبَتْ بِهِ أَوِ الذِّئَابَ، فَجَعَلَتْ تَكَلُّمَهُ سَاعَةً، فَقَالَ: وَيْحَكِ! أَنَا أَيُّوبُ! قَالَتْ: أَتَسْخَرُ مِنِّي يَا عَبْدَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: وَيْحَكِ! أَنَا أَيُّوبُ، قَدْ رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ جَسَدِي.
وَبِهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَرَدَّ عَلَيْهِ مَالَهُ وَوَلَدَهُ عِيَانًا، وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ.
وَقَالَ وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ: أَوْحَى اللَّهُ إِلَى أَيُّوبَ: قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ أَهْلَكَ وَمَالَكَ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ، فَاغْتَسِلْ بِهَذَا الْمَاءِ، فَإِنَّ فِيهِ شِفَاءَكَ، وَقَرِّبْ عَنْ صَاحِبَتِكَ [[في ف: "صحابتك".]] قُرْبَانًا، وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ، فَإِنَّهُمْ قَدْ عَصَوْنِي فِيكَ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
[وَقَالَ] [[زيادة من أ.]] أَيْضًا: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَة، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا همام، عن قتادة، عن النضر ابن أَنَسٍ، عَنْ بَشير [[في ف: "بشر".]] بْنِ نَهِيك، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "لَمَّا عَافَى اللَّهُ أَيُّوبَ، أَمْطَرَ عَلَيْهِ جَرَادًا مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَأْخُذُ بِيَدِهِ وَيَجْعَلُهُ فِي ثَوْبِهِ". قَالَ: "فَقِيلَ لَهُ: يَا أَيُّوبُ، أَمَا تَشْبَعُ؟ قَالَ: يَا رَبِّ، وَمَنْ يَشْبَعُ مِنْ رَحْمَتِكَ".
أَصْلُهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ [[ورواه الحاكم في المستدرك (٢/٥٨٢) من طرق عن عمرو بن مرزوق به، وسيأتي أصل الحديث في صحيح البخاري عند تفسير الآية: ٤٢ من سورة ص.]] ، وَسَيَأْتِي فِي مَوْضِعٍ آخَرَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ﴾ قَدْ تَقَدَّمَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: رُدُّوا عَلَيْهِ بِأَعْيَانِهِمْ. وَكَذَا رَوَاهُ الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا. وَرُوِيَ مِثْلُهُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَمُجَاهِدٍ، وَبِهِ قَالَ الْحَسَنُ وَقَتَادَةُ.
وَقَدْ زَعَمَ بَعْضُهُمْ أَنَّ اسْمَ زَوْجَتِهِ رَحْمَةُ، فَإِنْ كَانَ أَخَذَ ذَلِكَ مِنْ سِيَاقِ الْآيَةِ فَقَدْ أَبْعَدَ النَّجْعَة، وَإِنْ كَانَ أَخَذَهُ مِنْ نَقْلِ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَصَحَّ ذَلِكَ عَنْهُمْ، فَهُوَ مِمَّا لَا يُصَدَّقُ وَلَا يُكَذَّبُ. وَقَدْ سَمَّاهَا ابْنُ عَسَاكِرَ فِي تَارِيخِهِ -رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى-قَالَ: وَيُقَالُ: اسْمُهَا لَيَا ابْنَةُ مِنَشَّا بْنِ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: وَيُقَالُ: لَيَا بِنْتُ يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، زَوْجَةُ أَيُّوبَ كَانَتْ مَعَهُ بِأَرْضِ البَثَنيَّة.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: قِيلَ لَهُ: يَا أَيُّوبُ، إِنْ أَهْلَكَ لَكَ فِي الْجَنَّةِ، فَإِنْ شِئْتَ أَتَيْنَاكَ بِهِمْ، وَإِنْ شئت تَرَكْنَاهُمْ لَكَ فِي الْجَنَّةِ، وَعَوَّضْنَاكَ مِثْلَهُمْ. قَالَ: لَا بَلِ اتْرُكْهُمْ لِي فِي الْجَنَّةِ. فتُركوا لَهُ فِي الْجَنَّةِ وَعُوِّضَ مِثْلَهُمْ فِي الدُّنْيَا.
وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الجَوْني، عَنْ نَوف البِكَالي قَالَ: أُوتِيَ أَجْرَهُمْ فِي الْآخِرَةِ، وَأُعْطِيَ مِثْلَهُمْ فِي الدُّنْيَا. قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ مُطَرَّفا، فَقَالَ: مَا عَرَفْتُ وَجْهَهَا قَبْلَ الْيَوْمِ.
وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ قَتَادَةَ، وَالسُّدِّيِّ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنَ السَّلَفِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا﴾ أَيْ: فَعَلْنَا بِهِ ذَلِكَ رَحْمَةً مِنَ اللَّهِ بِهِ، ﴿وَذِكْرَى لِلْعَابِدِينَ﴾ أَيْ: وَجَعَلْنَاهُ فِي ذَلِكَ قُدْوَةً، لِئَلَّا يَظُنَّ أَهْلُ الْبَلَاءِ أَنَّمَا فَعَلْنَا بِهِمْ ذَلِكَ [[في ف: "إنما فعل ذلك بهم".]] لِهَوَانِهِمْ عَلَيْنَا، وَلِيَتَأَسَّوْا بِهِ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَقْدُورَاتِ اللَّهِ وَابْتِلَائِهِ لِعِبَادِهِ بِمَا [[في ف: "فيما".]] يَشَاءُ، وَلَهُ الْحِكْمَةُ الْبَالِغَةُ فِي ذَلِكَ.
وَإِسْمَٰعِيلَ وَإِدْرِيسَ وَذَا ٱلْكِفْلِ ۖ كُلٌّۭ مِّنَ ٱلصَّٰبِرِينَ
And [mention] Ishmael and Idrees and Dhul-Kifl; all were of the patient.
اور اسمٰعیل اور ادریس اور ذوالکفل (کو بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے
و اسماعیل و ادریس و ذاالکفل را (به یاد آور) که همه از صابران بودند.
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Isma'il, Idris and Dhul-Kifl: All were from among the patient (85)And We admitted them to Our mercy. Verily, they were of the righteous (86)
Isma'il, Idris and Dhul-Kifl
Isma'il was the son of Ibrahim Al-Khalil, peace be upon them both. He has already been mentioned in Surah Maryam, where mention was also made of Idris. From the context and the fact that Dhul-Kifl is mentioned alongside Prophets, it appears that he was also a Prophet. Others say that he was a righteous man, a just king and a fair judge. Ibn Jarir refrained from making any decisive comment. And Allah knows best.
Tafsir Ibn Kathir
ذوالکفل نبی نہیں بزرگ تھے حضرت اسماعیل حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ کے فرزند تھے۔ سورة مریم میں ان کا واقعہ بیان ہوچکا ہے۔ حضرت ادریس ؑ کا بھی ذکر گزر چکا ہے۔ ذوالکفل بہ ظاہر تو نبی ہی معلوم ہوتے ہیں کیونکہ نبیوں کے ذکر میں ان کا نام آیا ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ نبی نہ تھے بلکہ ایک صالح شخص تھے اپنے زمانہ کے بادشاہ تھے بڑے ہی عادل اور بامروت، امام ابن جریر ؒ اس میں توقف کرتے ہیں فاللہ اعلم۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں یہ ایک نیک بزرگ تھے جنہوں نے اپنے زمانے کے نبی سے عہد و پیمان کئے اور ان پر قائم رہے۔ قوم میں عدل وانصاف کیا کرتے تھے۔ مروی ہے کہ جب حضرت یسع ؑ بہت بوڑھے ہوگئے تو ارادہ کیا کہ میں اپنی زندگی میں ہی ان کا خلیفہ مقرر کردوں اور دیکھ لوں کہ وہ کیسے عمل کرتا ہے۔ لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ تین باتیں جو شخص منظور کرے میں اسے خلافت سونپتا ہوں۔ دن بھر روزے سے رہے رات بھر قیام کرے اور کبھی بھی غصے نہ ہو۔ کوئی اور تو کھڑا نہ ہوا ایک شخص جسے لوگ بہت ہلکے درجے کا سمجھتے تھے کھڑا ہوا اور کہنے لگا میں اس شرط کو پوری کردوں گا۔ آپ نے پوچھا یعنی تو دنوں میں روزے سے رہے گا اور راتوں کو تہجد پڑھتا رہے گا اور غصہ نہ کرے گا ؟ اس نے کہا ہاں۔ یسع ؑ نے فرمایا اچھا اب کل سہی۔ دوسرے روز بھی آپ نے اسی طرح مجلس میں عام سوال کیا لیکن اس شخص کے سوا کوئی اور کھڑا نہ ہوا۔ چناچہ انہی کو خلیفہ بنادیا گیا۔ اب شیطان نے چھوٹے چھوٹے شیاطین کو اس بزرگ کے بہکانے کے لئے بھیجنا شروع کیا۔ مگر کسی کی کچھ نہ چلی۔ ابلیس خود چلا دوپہر کو قیلولے کے لئے آپ لیٹے ہی تھے جو خبیث نے کنڈیاں پیٹنی شروع کردیں آپ نے دریافت فرمایا کہ تو کون ہے ؟ اس نے کہنا شروع کیا کہ میں ایک مظلوم ہوں فریادی ہوں میری قوم مجھے ستارہی ہے۔ میرے ساتھ انہوں نے یہ کیا یہ کیا اب لمبا قصہ سنانا شروع کیا تو کسی طرح ختم ہی نہیں کرتا نیند کا سارا وقت اسی میں چلا گیا اور حضرت ذوالکفل دن رات بس صرف اسی وقت ذرا سی دیر کے لئے سوتے تھے۔ آپ نے فرمایا اچھا شام کو آنا میں تمہارا انصاف کردوں گا اب شام کو آپ جب فیصلے کرنے لگے ہر طرف اسے دیکھتے ہیں لیکن اس کا کہیں پتہ نہیں یہاں تک کہ خود جا کر ادھر ادھر بھی تلاش کیا مگر اسے نہ پایا۔ دوسری صبح کو بھی وہ نہ آیا پھر جہاں آپ دوپہر کو دو گھڑی آرام کرنے کے ارادے سے لیٹے جو یہ خبیث آگیا اور دروازہ ٹھونکنے لگا آپ نے کھول دیا اور فرمانے لگے میں نے تو تم سے شام کو آنے کو کہا تھا، منتظر رہا لیکن تم نہ آئے۔ وہ کہنے لگا حضرت کیا بتاؤں جب میں نے آپ کی طرف آنے کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگے تم نہ جاؤ ہم تمہارا حق ادا کردیتے ہیں میں رک گیا پھر انہوں نے اب انکار کردیا اور بھی کچھ لمبے چوڑے واقعات بیان کرنے شروع کردئے اور آج کی نیند بھی کھوئی اب شام کو پھر انتظار کیا لیکن نہ اسے آنا تھا نہ آیا۔ تیسرے دن آپ نے آدمی مقرر کیا کہ دیکھو کوئی دروازے پر نہ آنے پائے مارے نیند کے میری حالت غیر ہو رہی ہے آپ ابھی لیٹے ہی تھے جو وہ مردود پھر آگیا چوکیدار نے اسے روکا یہ ایک طاق میں سے اندر گھس گیا اور اندر سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا آپ نے اٹھ کر پہرے دار سے کہا کہ دیکھو میں نے تمہیں ہدایت کردی تھی پھر بھی آپنے دروازے کے اندر کسی کو آنے دیا اس نے کہا نہیں میری طرف سے کوئی نہیں آیا۔ اب جو غور سے آپ نے دیکھا تو دروازے کو بند پایا۔ اور اس شخص کو اندر موجود پایا۔ آپ پہچان گئے کہ یہ شیطان ہے اس وقت شیطان نے کہا اے ولی اللہ میں تجھ سے ہارا نہ تو نے رات کا قیام ترک کیا نہ تو اس نوکر پر ایسے موقعہ پر غصے ہوا پس اللہ نے ان کا نام ذوالکفل رکھا۔ اس لئے کہ جن باتوں کی انہوں نے کفالت لی تھیں انہیں پورا کر دکھایا۔ (ابن ابی حاتم) ابن عباس ؓ سے بھی کچھ تفسیر کے ساتھ یہ قصہ مروی ہے اس میں ہے کہ بنواسرائیل کے ایک قاضی نے بوقت مرگ کہا تھا کہ میرے بعد میرا عہدہ کون سنبھالتا ہے ؟ اس نے کہا میں چناچہ ان کا نام ذوالکفل ہوا اس میں ہے کہ شیطان جب ان کے آرام کے وقت آیا پہرے والوں نے روکا اس نے اس قدر غل مچایا کہ آپ جاگ گئے دوسرے دن بھی یہی کیا تیسرے دن بھی یہی کیا اب آپ اس کے ساتھ چلنے کے لئے آمادہ ہوئے کہ میں تیرے ساتھ چل کر تیرا حق دلواتا ہوں لیکن راستے میں سے وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت اشعری نے منبر پر فرمایا کہ ذوالکفل نبی نہ تھا بنواسرائیل کا ایک صالح شخص تھا جو ہر روز سو نمازیں پڑھتا تھا اس کے بعد انہوں نے اس قسم کی عبادتوں کا ذمہ اٹھایا۔ اس لئے انہیں ذوالکفل کہا گیا۔ ایک منقطع روایت میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے یہ منقول ہے۔ ایک غریب حدیث مسندامام بن حنبل میں ہے اس میں کفل کا ایک واقعہ بیان ہے ذوالکفل نہیں کہا گیا۔ بہت ممکن ہے یہ کوئی اور صاحب ہوں۔ واقعہ اس حدیث میں یہ ہے کہ کفل نامی ایک شخص تھا جو کسی گناہ سے بچتا نہ تھا۔ ایک مرتبہ اس نے ایک عورت کو ساٹھ دینار دے کر بدکاری کے لئے آمادہ کیا جب اپنا ارادہ پورا کرنے کے لئے تیار ہوا تو وہ عورت رونے اور کانپنے لگی۔ اس نے کہا میں نے تجھ سے کوئی زبردستی تو کی نہیں پھر رونے اور کانپنے کی وجہ کیا ہے ؟ اس نے کہا میں نے ایسی کوئی نافرمانی آج تک اللہ تعالیٰ کی نہیں کی۔ اس وقت میری محتاجی نے مجھے یہ برا دن دکھایا ہے۔ کفل نے کہا تو ایک گناہ پر اس قدر پریشان ہے ؟ حالانکہ اس سے پہلے تو نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ اسی وقت اسے چھوڑ کر اس سے الگ ہوگیا اور کہنے لگا جا یہ دینار میں نے تجھے بخشے۔ قسم اللہ کی آج سے میں کسی قسم کی اللہ کی نافرمانی نہ کروں گا۔ اللہ کی شان اسی رات اس کا انتقال ہوتا ہے۔ صبح لوگ دیکھتے ہیں کہ اس کے دروازے پر قدرتی حروف سے لکھا ہوا تھا کہ اللہ نے کفل کو بخش دیا۔
Tafsir Ibn Kathir
أَمَّا إِسْمَاعِيلُ فَالْمُرَادُ بِهِ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، وَقَدْ تَقَدَّمَ ذِكْرُهُ فِي سُورَةِ مَرْيَمَ، وَكَذَلِكَ إِدْرِيسُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ [[انظر: تفسير الآيات: ٥٤-٥٧.]] وَأَمَّا ذُو الْكِفْلِ فَالظَّاهِرُ مِنَ السِّيَاقِ أَنَّهُ مَا قُرِنَ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ إِلَّا وَهُوَ نَبِيٌّ. وَقَالَ آخَرُونَ: إِنَّمَا كَانَ رَجُلًا صَالِحًا، وَكَانَ مَلِكًا عَادِلًا وَحَكَمًا مُقْسِطًا، وَتَوَقَّفَ ابْنُ جَرِيرٍ فِي ذَلِكَ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ ابْنُ جُرَيج، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَذَا الْكِفْلِ﴾ قَالَ: رَجُلٌ صَالِحٌ غَيْرُ نَبِيٍّ، تَكَفَّلَ لِنَبِيِّ قَوْمِهِ أَنْ يَكْفِيَهُ أَمْرَ قَوْمِهِ وَيُقِيمَهُمْ لَهُ وَيَقْضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْعَدْلِ، فَفَعَلَ ذَلِكَ، فَسُمي: ذَا الْكِفْلِ. وَكَذَا روَى ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ أَيْضًا.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيب، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: لَمَّا كَبُرَ الْيَسَعُ قَالَ: لَوْ أَنِّي اسْتَخْلَفْتُ رَجُلًا عَلَى النَّاسِ يَعْمَلُ عَلَيْهِمْ فِي حَيَاتِي، حَتَّى أَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلُ؟ فَجَمَعَ النَّاسَ، فَقَالَ: مَنْ يَتَقَبَّلُ مِنِّي بِثَلَاثٍ: أَسْتَخْلِفُهُ يَصُومُ النَّهَارَ، وَيَقُومُ اللَّيْلَ، وَلَا يَغْضَبُ. قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ تَزْدَرِيهِ الْعَيْنُ، فَقَالَ: أَنَا. فَقَالَ: أَنْتَ تَصُومُ النَّهَارَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ، وَلَا تَغْضَبُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَرَدَّهُمْ [[في ف، أ: "فيردهم".]] ذَلِكَ الْيَوْمَ، وَقَالَ مِثْلَهَا فِي الْيَوْمِ الْآخِرِ، فَسَكَتَ النَّاسُ، وَقَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ وَقَالَ [[في ف: "فقال"]] أَنَا. فَاسْتَخْلَفَهُ، قَالَ: وَجَعَلَ إِبْلِيسُ يَقُولُ لِلشَّيَاطِينِ: عَلَيْكُمْ بِفُلَانٍ. فَأَعْيَاهُمْ ذَلِكَ [[في ف، أ: "ذلك الرجل".]] ، قَالَ: دَعُونِي [[في أ: "دعوني أنا وإياه".]] وَإِيَّاهُ، فَأَتَاهُ فِي صُورَةِ شَيْخٍ كَبِيرٍ فَقِيرٍ، فَأَتَاهُ حِينَ أَخَذَ مَضْجَعَهُ لِلْقَائِلَةِ -وَكَانَ لَا يَنَامُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ إِلَّا تِلْكَ النَّوْمَةَ-فَدَقَّ الْبَابَ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: شَيْخٌ كَبِيرٌ مَظْلُومٌ. قَالَ: فَقَامَ فَفَتَحَ الْبَابَ، فَجَعَلَ يَقُصُّ عَلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ قَوْمِي خُصُومَةً، وَإِنَّهُمْ ظَلَمُونِي، وَفَعَلُوا بِي وَفَعَلُوا. وَجَعَلَ يُطَول عَلَيْهِ حَتَّى حَضَرَ الرَّوَاحُ وَذَهَبَتِ الْقَائِلَةُ، فَقَالَ [[في ف: "وقال".]] : إِذَا رُحْتُ فَأْتِنِي آخُذُ لَكَ بِحَقِّكَ. فَانْطَلَقَ، وَرَاحَ. فَكَانَ فِي مَجْلِسِهِ، فَجَعَلَ يَنْظُرُ هَلْ يَرَى الشَّيْخَ؟ فَلَمْ يَرَهُ، فَقَامَ يَتْبَعُهُ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ جَعَلَ يَقْضِي بَيْنَ النَّاسِ، وَيَنْتَظِرُهُ وَلَا [[في ف، أ: "فلا".]] يَرَاهُ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى الْقَائِلَةِ فَأَخَذَ مَضْجَعَهُ، أَتَاهُ فَدَقَّ الْبَابَ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ [[في ف: "فقال".]] الشَّيْخُ الْكَبِيرُ الْمَظْلُومُ. فَفَتَحَ لَهُ [[في ف: "ففتح الباب".]] فَقَالَ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِذَا قَعَدْتُ فَأْتِنِي؟ قَالَ: إِنَّهُمْ أَخْبَثُ قَوْمٍ، إِذَا عَرَفُوا [[في ف، أ: "اعترفوا".]] أَنَّكَ قَاعِدٌ قَالُوا: نَحْنُ نُعْطِيكَ حَقَّكَ. وَإِذَا قُمْتَ جَحَدُونِي. قَالَ: فَانْطَلِقْ، فَإِذَا رُحْتُ فَأْتِنِي. قَالَ: فَفَاتَتْهُ الْقَائِلَةُ، فَرَاحَ فَجَعَلَ يَنْتَظِرُهُ [[في ف: "ينتظر".]] وَلَا يَرَاهُ، وَشَقَّ عَلَيْهِ النُّعَاسُ، فَقَالَ لِبَعْضِ أَهْلِهِ: لَا تَدَعَنَّ أَحَدًا يَقرب هَذَا الْبَابَ حَتَّى أَنَامَ، فَإِنِّي قَدْ شَقَّ عَلَيَّ النَّوْمُ. فَلَمَّا كَانَ تِلْكَ السَّاعَةَ أَتَاهُ [[في ف: "جاءه".]] فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: وَرَاءَكَ وَرَاءَكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي قَدْ أَتَيْتُهُ أَمْسِ، فَذَكَرْتُ لَهُ أَمْرِي، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ لَقَدْ أَمَرَنَا أَلَّا نَدَعَ أَحَدًا يَقْرَبُهُ. فَلَمَّا أَعْيَاهُ نَظَرَ فَرَأَى كُوَّة فِي الْبَيْتِ، فَتَسَوَّرَ مِنْهَا، فَإِذَا هُوَ فِي الْبَيْتِ، وَإِذَا هُوَ يَدُقُّ الْبَابَ مِنْ دَاخِلٍ، قَالَ: فَاسْتَيْقَظَ الرَّجُلُ فَقَالَ: يَا فُلَانُ، أَلَمْ آمُرْكَ؟ فَقَالَ [[في ت: "قال".]] أَمَّا مِنْ قِبَلِي وَاللَّهِ فَلَمْ تؤتَ، فَانْظُرْ مِنْ أَيْنَ أُتِيتَ؟ قَالَ: فَقَامَ إِلَى الْبَابِ فَإِذَا هُوَ مُغْلَقٌ كَمَا أَغْلَقَهُ، وَإِذَا الرَّجُلُ مَعَهُ فِي الْبَيْتِ، فَعَرَفَهُ، فَقَالَ: أَعْدُوُّ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَعْيَيْتَنِي فِي كُلِّ شَيْءٍ، فَفَعَلْتُ مَا تَرَى لِأُغْضِبَكَ. فَسَمَّاهُ اللَّهُ ذَا الْكِفْلِ؛ لِأَنَّهُ تَكَفَّلَ بأمر فوفى به [[تفسير الطبري (١٧/٥٩) .]] .
وهكذا رواه بن أَبِي حَاتِمٍ، مِنْ حَدِيثِ زُهَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، بِمِثْلِهِ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَ قَاضٍ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَحَضَرَهُ الْمَوْتُ، فَقَالَ: مَنْ يَقُومُ مَقَامِي عَلَى أَلَّا يَغْضَبَ؟ قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا. فَسُمِّيَ ذَا الْكِفْلِ. قَالَ: فَكَانَ [[في ف: "فقال".]] لَيْلَهُ جَمِيعًا يُصَلِّي، ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا فَيَقْضِي بَيْنَ النَّاسِ -قَالَ: وَلَهُ [[في ف: "فله".]] سَاعَةٌ يَقِيلُهَا-قَالَ: فَكَانَ كَذَلِكَ، فَأَتَاهُ الشَّيْطَانُ عِنْدَ نَوْمَتِهِ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: مَا لَكَ؟ قَالَ: إِنْسَانٌ مِسْكِينٌ، لَهُ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ، وَقَدْ غَلَبَنِي عَلَيْهِ. قَالُوا: كَمَا أَنْتَ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ -قَالَ: وَهُوَ فَوْقَ نَائِمٌ-قَالَ: فَجَعَلَ يَصِيحُ عَمْدًا حَتَّى يُوقِظَهُ [[في ف: "يغضبه".]] ، قَالَ: فَسَمِعَ، فَقَالَ: مَا لَكَ؟ قَالَ: إِنْسَانٌ مِسْكِينٌ، لَهُ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ. قَالَ: اذْهَبْ فَقُلْ لَهُ يُعْطِيكَ. قَالَ: قَدْ أَبَى. قَالَ: اذْهَبْ أَنْتَ إِلَيْهِ. قَالَ: فَذَهَبَ، ثُمَّ جَاءَ مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ: مَا لَكَ؟ قَالَ: ذَهَبْتُ إِلَيْهِ فَلَمْ يَرْفَعْ بِكَلَامِكَ رَأْسًا. قَالَ: اذْهَبْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ يُعْطِيكَ حَقَّكَ، قَالَ: فَذَهَبَ، ثُمَّ جَاءَ مِنَ الْغَدِ حِينَ قَالَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: اخْرُجْ، فَعَلَ اللَّهُ بِكَ، تَجِيءُ كُلَّ يَوْمٍ حِينَ ينام، لا تَدَعُهُ يَنَامُ؟. فَجَعَلَ [[في ف، أ: "قال: فجعل".]] يَصِيحُ: مِنْ أَجْلِ أَنِّي إِنْسَانٌ مِسْكِينٌ، لَوْ كُنْتُ غَنِيًّا؟ قَالَ: فَسَمِعَ أَيْضًا، فَقَالَ: مَا لَكَ؟ قَالَ: ذَهَبْتُ إِلَيْهِ فَضَرَبَنِي. قَالَ: امْشِ حَتَّى أَجِيءَ مَعَكَ. قَالَ: فَهُوَ مُمْسِكٌ بِيَدِهِ، فَلَمَّا رَآهُ ذَهَبَ مَعَهُ نَثَر يَدَهُ مِنْهُ [[في أ: "منه فذهب".]] فَفَر.
وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، وَابْنِ حُجَيرة الْأَكْبَرِ، وَغَيْرِهِمْ مِنَ السَّلَفِ، نَحْوٌ مِنْ هَذِهِ الْقِصَّةِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَمَاهِرِ [[في ف، أ: "أبو الجماهير".]] ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ أَبِي كِنَانَةَ بْنِ الْأَخْنَسِ قَالَ: سَمِعْتُ الْأَشْعَرِيَّ وَهُوَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ: مَا كَانَ ذُو الْكِفْلِ بِنَبِيٍّ، وَلَكِنْ كَانَ -يَعْنِي: فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ-رَجُلٌ صَالِحٌ يُصَلِّي كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ صَلَاةٍ، فَتَكَفَّلَ لَهُ ذُو الْكِفْلِ مِنْ بَعْدِهِ، فَكَانَ يُصَلِّي كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ صَلَاةٍ، فَسُمِّيَ ذَا الْكِفْلِ.
وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَر، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: "قَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ... " فَذَكَرَهُ مُنْقَطِعًا [[تفسير الطبري (١٧/٦٠) .]] ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَدْ رَوَى الْإِمَامُ أَحْمَدُ حَدِيثًا غَرِيبًا فَقَالَ:
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعْدٍ [[في ف، أ: "سعيد".]] مَوْلَى طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَدِيثًا لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ -حَتَّى عَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ-وَلَكِنْ قَدْ سَمِعْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: "كَانَ الْكِفْلُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، لَا يَتَوَرَّعُ مِنْ ذَنْبٍ عَمِلَهُ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَأَعْطَاهَا سِتِّينَ دِينَارًا، عَلَى أَنْ يَطَأها، فَلَمَّا قَعَدَ مِنْهَا [[في أ: "معها".]] مَقعدَ الرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ، أرعِدَت [[في أ: "ارتعدت".]] وَبَكَتْ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟ أكْرَهْتُك؟ قَالَتْ: لَا وَلَكِنَّ هَذَا عَمَلٌ لَمْ أَعْمَلْهُ قَطُّ، وَإِنَّمَا حَمَلني عَلَيْهِ الْحَاجَةُ. قَالَ: فَتَفْعَلِينَ هَذَا وَلَمْ تَفْعَلِيهِ قَطُّ؟ فَنزل [[في ف: "ثم نزل".]] فَقَالَ: اذْهَبِي فَالدَّنَانِيرُ لَكِ. ثُمَّ قَالَ: "وَاللَّهِ لَا يَعصي اللَّهَ الْكِفْلُ أَبَدًا. فَمَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ فَأَصْبَحَ مَكْتُوبًا عَلَى بَابِهِ: قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لِلْكِفْلِ" [[المسند (٢/٢٣) .]] .
هَكَذَا وَقَعَ فِي هَذِهِ الرِوَايَةِ "الْكِفْلُ"، مِنْ غَيْرِ إِضَافَةٍ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَهَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يُخَرِّجْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ الْكُتُبِ السِّتَّةِ [[قلت: بل أخرجه الترمذي في السنن برقم (٢٤٩٦) من طريق عبيد بن أسباط عن أبيه به، وقال: "هذا حديث حسن قد رواه شيبان وغير واحد عن الأعمش نحو هذا ورفعوه وروى بعضهم عن الأعمش فلم يرفعه".]] ، وَإِسْنَادُهُ غَرِيبٌ، وَعَلَى كُلِّ تَقْدِيرٍ فَلَفْظُ الْحَدِيثِ إِنْ كَانَ "الْكِفْلَ"، وَلَمْ يَقُلْ: "ذُو الْكِفْلِ"، فَلَعَلَّهُ رَجُلٌ آخَرُ، وَاللَّهُ أعلم.
وَأَدْخَلْنَٰهُمْ فِى رَحْمَتِنَآ ۖ إِنَّهُم مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ
And We admitted them into Our mercy. Indeed, they were of the righteous.
اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا۔ بلاشبہ وہ نیکوکار تھے
و ما آنان را در رحمت خود وارد ساختیم؛ چرا که آنها از صالحان بودند.
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Isma'il, Idris and Dhul-Kifl: All were from among the patient (85)And We admitted them to Our mercy. Verily, they were of the righteous (86)
Isma'il, Idris and Dhul-Kifl
Isma'il was the son of Ibrahim Al-Khalil, peace be upon them both. He has already been mentioned in Surah Maryam, where mention was also made of Idris. From the context and the fact that Dhul-Kifl is mentioned alongside Prophets, it appears that he was also a Prophet. Others say that he was a righteous man, a just king and a fair judge. Ibn Jarir refrained from making any decisive comment. And Allah knows best.
Tafsir Ibn Kathir
ذوالکفل نبی نہیں بزرگ تھے حضرت اسماعیل حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ کے فرزند تھے۔ سورة مریم میں ان کا واقعہ بیان ہوچکا ہے۔ حضرت ادریس ؑ کا بھی ذکر گزر چکا ہے۔ ذوالکفل بہ ظاہر تو نبی ہی معلوم ہوتے ہیں کیونکہ نبیوں کے ذکر میں ان کا نام آیا ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ نبی نہ تھے بلکہ ایک صالح شخص تھے اپنے زمانہ کے بادشاہ تھے بڑے ہی عادل اور بامروت، امام ابن جریر ؒ اس میں توقف کرتے ہیں فاللہ اعلم۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں یہ ایک نیک بزرگ تھے جنہوں نے اپنے زمانے کے نبی سے عہد و پیمان کئے اور ان پر قائم رہے۔ قوم میں عدل وانصاف کیا کرتے تھے۔ مروی ہے کہ جب حضرت یسع ؑ بہت بوڑھے ہوگئے تو ارادہ کیا کہ میں اپنی زندگی میں ہی ان کا خلیفہ مقرر کردوں اور دیکھ لوں کہ وہ کیسے عمل کرتا ہے۔ لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ تین باتیں جو شخص منظور کرے میں اسے خلافت سونپتا ہوں۔ دن بھر روزے سے رہے رات بھر قیام کرے اور کبھی بھی غصے نہ ہو۔ کوئی اور تو کھڑا نہ ہوا ایک شخص جسے لوگ بہت ہلکے درجے کا سمجھتے تھے کھڑا ہوا اور کہنے لگا میں اس شرط کو پوری کردوں گا۔ آپ نے پوچھا یعنی تو دنوں میں روزے سے رہے گا اور راتوں کو تہجد پڑھتا رہے گا اور غصہ نہ کرے گا ؟ اس نے کہا ہاں۔ یسع ؑ نے فرمایا اچھا اب کل سہی۔ دوسرے روز بھی آپ نے اسی طرح مجلس میں عام سوال کیا لیکن اس شخص کے سوا کوئی اور کھڑا نہ ہوا۔ چناچہ انہی کو خلیفہ بنادیا گیا۔ اب شیطان نے چھوٹے چھوٹے شیاطین کو اس بزرگ کے بہکانے کے لئے بھیجنا شروع کیا۔ مگر کسی کی کچھ نہ چلی۔ ابلیس خود چلا دوپہر کو قیلولے کے لئے آپ لیٹے ہی تھے جو خبیث نے کنڈیاں پیٹنی شروع کردیں آپ نے دریافت فرمایا کہ تو کون ہے ؟ اس نے کہنا شروع کیا کہ میں ایک مظلوم ہوں فریادی ہوں میری قوم مجھے ستارہی ہے۔ میرے ساتھ انہوں نے یہ کیا یہ کیا اب لمبا قصہ سنانا شروع کیا تو کسی طرح ختم ہی نہیں کرتا نیند کا سارا وقت اسی میں چلا گیا اور حضرت ذوالکفل دن رات بس صرف اسی وقت ذرا سی دیر کے لئے سوتے تھے۔ آپ نے فرمایا اچھا شام کو آنا میں تمہارا انصاف کردوں گا اب شام کو آپ جب فیصلے کرنے لگے ہر طرف اسے دیکھتے ہیں لیکن اس کا کہیں پتہ نہیں یہاں تک کہ خود جا کر ادھر ادھر بھی تلاش کیا مگر اسے نہ پایا۔ دوسری صبح کو بھی وہ نہ آیا پھر جہاں آپ دوپہر کو دو گھڑی آرام کرنے کے ارادے سے لیٹے جو یہ خبیث آگیا اور دروازہ ٹھونکنے لگا آپ نے کھول دیا اور فرمانے لگے میں نے تو تم سے شام کو آنے کو کہا تھا، منتظر رہا لیکن تم نہ آئے۔ وہ کہنے لگا حضرت کیا بتاؤں جب میں نے آپ کی طرف آنے کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگے تم نہ جاؤ ہم تمہارا حق ادا کردیتے ہیں میں رک گیا پھر انہوں نے اب انکار کردیا اور بھی کچھ لمبے چوڑے واقعات بیان کرنے شروع کردئے اور آج کی نیند بھی کھوئی اب شام کو پھر انتظار کیا لیکن نہ اسے آنا تھا نہ آیا۔ تیسرے دن آپ نے آدمی مقرر کیا کہ دیکھو کوئی دروازے پر نہ آنے پائے مارے نیند کے میری حالت غیر ہو رہی ہے آپ ابھی لیٹے ہی تھے جو وہ مردود پھر آگیا چوکیدار نے اسے روکا یہ ایک طاق میں سے اندر گھس گیا اور اندر سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا آپ نے اٹھ کر پہرے دار سے کہا کہ دیکھو میں نے تمہیں ہدایت کردی تھی پھر بھی آپنے دروازے کے اندر کسی کو آنے دیا اس نے کہا نہیں میری طرف سے کوئی نہیں آیا۔ اب جو غور سے آپ نے دیکھا تو دروازے کو بند پایا۔ اور اس شخص کو اندر موجود پایا۔ آپ پہچان گئے کہ یہ شیطان ہے اس وقت شیطان نے کہا اے ولی اللہ میں تجھ سے ہارا نہ تو نے رات کا قیام ترک کیا نہ تو اس نوکر پر ایسے موقعہ پر غصے ہوا پس اللہ نے ان کا نام ذوالکفل رکھا۔ اس لئے کہ جن باتوں کی انہوں نے کفالت لی تھیں انہیں پورا کر دکھایا۔ (ابن ابی حاتم) ابن عباس ؓ سے بھی کچھ تفسیر کے ساتھ یہ قصہ مروی ہے اس میں ہے کہ بنواسرائیل کے ایک قاضی نے بوقت مرگ کہا تھا کہ میرے بعد میرا عہدہ کون سنبھالتا ہے ؟ اس نے کہا میں چناچہ ان کا نام ذوالکفل ہوا اس میں ہے کہ شیطان جب ان کے آرام کے وقت آیا پہرے والوں نے روکا اس نے اس قدر غل مچایا کہ آپ جاگ گئے دوسرے دن بھی یہی کیا تیسرے دن بھی یہی کیا اب آپ اس کے ساتھ چلنے کے لئے آمادہ ہوئے کہ میں تیرے ساتھ چل کر تیرا حق دلواتا ہوں لیکن راستے میں سے وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت اشعری نے منبر پر فرمایا کہ ذوالکفل نبی نہ تھا بنواسرائیل کا ایک صالح شخص تھا جو ہر روز سو نمازیں پڑھتا تھا اس کے بعد انہوں نے اس قسم کی عبادتوں کا ذمہ اٹھایا۔ اس لئے انہیں ذوالکفل کہا گیا۔ ایک منقطع روایت میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے یہ منقول ہے۔ ایک غریب حدیث مسندامام بن حنبل میں ہے اس میں کفل کا ایک واقعہ بیان ہے ذوالکفل نہیں کہا گیا۔ بہت ممکن ہے یہ کوئی اور صاحب ہوں۔ واقعہ اس حدیث میں یہ ہے کہ کفل نامی ایک شخص تھا جو کسی گناہ سے بچتا نہ تھا۔ ایک مرتبہ اس نے ایک عورت کو ساٹھ دینار دے کر بدکاری کے لئے آمادہ کیا جب اپنا ارادہ پورا کرنے کے لئے تیار ہوا تو وہ عورت رونے اور کانپنے لگی۔ اس نے کہا میں نے تجھ سے کوئی زبردستی تو کی نہیں پھر رونے اور کانپنے کی وجہ کیا ہے ؟ اس نے کہا میں نے ایسی کوئی نافرمانی آج تک اللہ تعالیٰ کی نہیں کی۔ اس وقت میری محتاجی نے مجھے یہ برا دن دکھایا ہے۔ کفل نے کہا تو ایک گناہ پر اس قدر پریشان ہے ؟ حالانکہ اس سے پہلے تو نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ اسی وقت اسے چھوڑ کر اس سے الگ ہوگیا اور کہنے لگا جا یہ دینار میں نے تجھے بخشے۔ قسم اللہ کی آج سے میں کسی قسم کی اللہ کی نافرمانی نہ کروں گا۔ اللہ کی شان اسی رات اس کا انتقال ہوتا ہے۔ صبح لوگ دیکھتے ہیں کہ اس کے دروازے پر قدرتی حروف سے لکھا ہوا تھا کہ اللہ نے کفل کو بخش دیا۔
Tafsir Ibn Kathir
أَمَّا إِسْمَاعِيلُ فَالْمُرَادُ بِهِ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، وَقَدْ تَقَدَّمَ ذِكْرُهُ فِي سُورَةِ مَرْيَمَ، وَكَذَلِكَ إِدْرِيسُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ [[انظر: تفسير الآيات: ٥٤-٥٧.]] وَأَمَّا ذُو الْكِفْلِ فَالظَّاهِرُ مِنَ السِّيَاقِ أَنَّهُ مَا قُرِنَ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ إِلَّا وَهُوَ نَبِيٌّ. وَقَالَ آخَرُونَ: إِنَّمَا كَانَ رَجُلًا صَالِحًا، وَكَانَ مَلِكًا عَادِلًا وَحَكَمًا مُقْسِطًا، وَتَوَقَّفَ ابْنُ جَرِيرٍ فِي ذَلِكَ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ ابْنُ جُرَيج، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَذَا الْكِفْلِ﴾ قَالَ: رَجُلٌ صَالِحٌ غَيْرُ نَبِيٍّ، تَكَفَّلَ لِنَبِيِّ قَوْمِهِ أَنْ يَكْفِيَهُ أَمْرَ قَوْمِهِ وَيُقِيمَهُمْ لَهُ وَيَقْضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْعَدْلِ، فَفَعَلَ ذَلِكَ، فَسُمي: ذَا الْكِفْلِ. وَكَذَا روَى ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ أَيْضًا.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيب، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: لَمَّا كَبُرَ الْيَسَعُ قَالَ: لَوْ أَنِّي اسْتَخْلَفْتُ رَجُلًا عَلَى النَّاسِ يَعْمَلُ عَلَيْهِمْ فِي حَيَاتِي، حَتَّى أَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلُ؟ فَجَمَعَ النَّاسَ، فَقَالَ: مَنْ يَتَقَبَّلُ مِنِّي بِثَلَاثٍ: أَسْتَخْلِفُهُ يَصُومُ النَّهَارَ، وَيَقُومُ اللَّيْلَ، وَلَا يَغْضَبُ. قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ تَزْدَرِيهِ الْعَيْنُ، فَقَالَ: أَنَا. فَقَالَ: أَنْتَ تَصُومُ النَّهَارَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ، وَلَا تَغْضَبُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَرَدَّهُمْ [[في ف، أ: "فيردهم".]] ذَلِكَ الْيَوْمَ، وَقَالَ مِثْلَهَا فِي الْيَوْمِ الْآخِرِ، فَسَكَتَ النَّاسُ، وَقَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ وَقَالَ [[في ف: "فقال"]] أَنَا. فَاسْتَخْلَفَهُ، قَالَ: وَجَعَلَ إِبْلِيسُ يَقُولُ لِلشَّيَاطِينِ: عَلَيْكُمْ بِفُلَانٍ. فَأَعْيَاهُمْ ذَلِكَ [[في ف، أ: "ذلك الرجل".]] ، قَالَ: دَعُونِي [[في أ: "دعوني أنا وإياه".]] وَإِيَّاهُ، فَأَتَاهُ فِي صُورَةِ شَيْخٍ كَبِيرٍ فَقِيرٍ، فَأَتَاهُ حِينَ أَخَذَ مَضْجَعَهُ لِلْقَائِلَةِ -وَكَانَ لَا يَنَامُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ إِلَّا تِلْكَ النَّوْمَةَ-فَدَقَّ الْبَابَ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: شَيْخٌ كَبِيرٌ مَظْلُومٌ. قَالَ: فَقَامَ فَفَتَحَ الْبَابَ، فَجَعَلَ يَقُصُّ عَلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ قَوْمِي خُصُومَةً، وَإِنَّهُمْ ظَلَمُونِي، وَفَعَلُوا بِي وَفَعَلُوا. وَجَعَلَ يُطَول عَلَيْهِ حَتَّى حَضَرَ الرَّوَاحُ وَذَهَبَتِ الْقَائِلَةُ، فَقَالَ [[في ف: "وقال".]] : إِذَا رُحْتُ فَأْتِنِي آخُذُ لَكَ بِحَقِّكَ. فَانْطَلَقَ، وَرَاحَ. فَكَانَ فِي مَجْلِسِهِ، فَجَعَلَ يَنْظُرُ هَلْ يَرَى الشَّيْخَ؟ فَلَمْ يَرَهُ، فَقَامَ يَتْبَعُهُ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ جَعَلَ يَقْضِي بَيْنَ النَّاسِ، وَيَنْتَظِرُهُ وَلَا [[في ف، أ: "فلا".]] يَرَاهُ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى الْقَائِلَةِ فَأَخَذَ مَضْجَعَهُ، أَتَاهُ فَدَقَّ الْبَابَ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ [[في ف: "فقال".]] الشَّيْخُ الْكَبِيرُ الْمَظْلُومُ. فَفَتَحَ لَهُ [[في ف: "ففتح الباب".]] فَقَالَ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِذَا قَعَدْتُ فَأْتِنِي؟ قَالَ: إِنَّهُمْ أَخْبَثُ قَوْمٍ، إِذَا عَرَفُوا [[في ف، أ: "اعترفوا".]] أَنَّكَ قَاعِدٌ قَالُوا: نَحْنُ نُعْطِيكَ حَقَّكَ. وَإِذَا قُمْتَ جَحَدُونِي. قَالَ: فَانْطَلِقْ، فَإِذَا رُحْتُ فَأْتِنِي. قَالَ: فَفَاتَتْهُ الْقَائِلَةُ، فَرَاحَ فَجَعَلَ يَنْتَظِرُهُ [[في ف: "ينتظر".]] وَلَا يَرَاهُ، وَشَقَّ عَلَيْهِ النُّعَاسُ، فَقَالَ لِبَعْضِ أَهْلِهِ: لَا تَدَعَنَّ أَحَدًا يَقرب هَذَا الْبَابَ حَتَّى أَنَامَ، فَإِنِّي قَدْ شَقَّ عَلَيَّ النَّوْمُ. فَلَمَّا كَانَ تِلْكَ السَّاعَةَ أَتَاهُ [[في ف: "جاءه".]] فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: وَرَاءَكَ وَرَاءَكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي قَدْ أَتَيْتُهُ أَمْسِ، فَذَكَرْتُ لَهُ أَمْرِي، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ لَقَدْ أَمَرَنَا أَلَّا نَدَعَ أَحَدًا يَقْرَبُهُ. فَلَمَّا أَعْيَاهُ نَظَرَ فَرَأَى كُوَّة فِي الْبَيْتِ، فَتَسَوَّرَ مِنْهَا، فَإِذَا هُوَ فِي الْبَيْتِ، وَإِذَا هُوَ يَدُقُّ الْبَابَ مِنْ دَاخِلٍ، قَالَ: فَاسْتَيْقَظَ الرَّجُلُ فَقَالَ: يَا فُلَانُ، أَلَمْ آمُرْكَ؟ فَقَالَ [[في ت: "قال".]] أَمَّا مِنْ قِبَلِي وَاللَّهِ فَلَمْ تؤتَ، فَانْظُرْ مِنْ أَيْنَ أُتِيتَ؟ قَالَ: فَقَامَ إِلَى الْبَابِ فَإِذَا هُوَ مُغْلَقٌ كَمَا أَغْلَقَهُ، وَإِذَا الرَّجُلُ مَعَهُ فِي الْبَيْتِ، فَعَرَفَهُ، فَقَالَ: أَعْدُوُّ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَعْيَيْتَنِي فِي كُلِّ شَيْءٍ، فَفَعَلْتُ مَا تَرَى لِأُغْضِبَكَ. فَسَمَّاهُ اللَّهُ ذَا الْكِفْلِ؛ لِأَنَّهُ تَكَفَّلَ بأمر فوفى به [[تفسير الطبري (١٧/٥٩) .]] .
وهكذا رواه بن أَبِي حَاتِمٍ، مِنْ حَدِيثِ زُهَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، بِمِثْلِهِ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَ قَاضٍ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَحَضَرَهُ الْمَوْتُ، فَقَالَ: مَنْ يَقُومُ مَقَامِي عَلَى أَلَّا يَغْضَبَ؟ قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا. فَسُمِّيَ ذَا الْكِفْلِ. قَالَ: فَكَانَ [[في ف: "فقال".]] لَيْلَهُ جَمِيعًا يُصَلِّي، ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا فَيَقْضِي بَيْنَ النَّاسِ -قَالَ: وَلَهُ [[في ف: "فله".]] سَاعَةٌ يَقِيلُهَا-قَالَ: فَكَانَ كَذَلِكَ، فَأَتَاهُ الشَّيْطَانُ عِنْدَ نَوْمَتِهِ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: مَا لَكَ؟ قَالَ: إِنْسَانٌ مِسْكِينٌ، لَهُ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ، وَقَدْ غَلَبَنِي عَلَيْهِ. قَالُوا: كَمَا أَنْتَ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ -قَالَ: وَهُوَ فَوْقَ نَائِمٌ-قَالَ: فَجَعَلَ يَصِيحُ عَمْدًا حَتَّى يُوقِظَهُ [[في ف: "يغضبه".]] ، قَالَ: فَسَمِعَ، فَقَالَ: مَا لَكَ؟ قَالَ: إِنْسَانٌ مِسْكِينٌ، لَهُ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ. قَالَ: اذْهَبْ فَقُلْ لَهُ يُعْطِيكَ. قَالَ: قَدْ أَبَى. قَالَ: اذْهَبْ أَنْتَ إِلَيْهِ. قَالَ: فَذَهَبَ، ثُمَّ جَاءَ مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ: مَا لَكَ؟ قَالَ: ذَهَبْتُ إِلَيْهِ فَلَمْ يَرْفَعْ بِكَلَامِكَ رَأْسًا. قَالَ: اذْهَبْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ يُعْطِيكَ حَقَّكَ، قَالَ: فَذَهَبَ، ثُمَّ جَاءَ مِنَ الْغَدِ حِينَ قَالَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: اخْرُجْ، فَعَلَ اللَّهُ بِكَ، تَجِيءُ كُلَّ يَوْمٍ حِينَ ينام، لا تَدَعُهُ يَنَامُ؟. فَجَعَلَ [[في ف، أ: "قال: فجعل".]] يَصِيحُ: مِنْ أَجْلِ أَنِّي إِنْسَانٌ مِسْكِينٌ، لَوْ كُنْتُ غَنِيًّا؟ قَالَ: فَسَمِعَ أَيْضًا، فَقَالَ: مَا لَكَ؟ قَالَ: ذَهَبْتُ إِلَيْهِ فَضَرَبَنِي. قَالَ: امْشِ حَتَّى أَجِيءَ مَعَكَ. قَالَ: فَهُوَ مُمْسِكٌ بِيَدِهِ، فَلَمَّا رَآهُ ذَهَبَ مَعَهُ نَثَر يَدَهُ مِنْهُ [[في أ: "منه فذهب".]] فَفَر.
وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، وَابْنِ حُجَيرة الْأَكْبَرِ، وَغَيْرِهِمْ مِنَ السَّلَفِ، نَحْوٌ مِنْ هَذِهِ الْقِصَّةِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَمَاهِرِ [[في ف، أ: "أبو الجماهير".]] ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ أَبِي كِنَانَةَ بْنِ الْأَخْنَسِ قَالَ: سَمِعْتُ الْأَشْعَرِيَّ وَهُوَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ: مَا كَانَ ذُو الْكِفْلِ بِنَبِيٍّ، وَلَكِنْ كَانَ -يَعْنِي: فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ-رَجُلٌ صَالِحٌ يُصَلِّي كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ صَلَاةٍ، فَتَكَفَّلَ لَهُ ذُو الْكِفْلِ مِنْ بَعْدِهِ، فَكَانَ يُصَلِّي كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ صَلَاةٍ، فَسُمِّيَ ذَا الْكِفْلِ.
وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَر، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: "قَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ... " فَذَكَرَهُ مُنْقَطِعًا [[تفسير الطبري (١٧/٦٠) .]] ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَدْ رَوَى الْإِمَامُ أَحْمَدُ حَدِيثًا غَرِيبًا فَقَالَ:
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعْدٍ [[في ف، أ: "سعيد".]] مَوْلَى طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَدِيثًا لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ -حَتَّى عَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ-وَلَكِنْ قَدْ سَمِعْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: "كَانَ الْكِفْلُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، لَا يَتَوَرَّعُ مِنْ ذَنْبٍ عَمِلَهُ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَأَعْطَاهَا سِتِّينَ دِينَارًا، عَلَى أَنْ يَطَأها، فَلَمَّا قَعَدَ مِنْهَا [[في أ: "معها".]] مَقعدَ الرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ، أرعِدَت [[في أ: "ارتعدت".]] وَبَكَتْ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟ أكْرَهْتُك؟ قَالَتْ: لَا وَلَكِنَّ هَذَا عَمَلٌ لَمْ أَعْمَلْهُ قَطُّ، وَإِنَّمَا حَمَلني عَلَيْهِ الْحَاجَةُ. قَالَ: فَتَفْعَلِينَ هَذَا وَلَمْ تَفْعَلِيهِ قَطُّ؟ فَنزل [[في ف: "ثم نزل".]] فَقَالَ: اذْهَبِي فَالدَّنَانِيرُ لَكِ. ثُمَّ قَالَ: "وَاللَّهِ لَا يَعصي اللَّهَ الْكِفْلُ أَبَدًا. فَمَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ فَأَصْبَحَ مَكْتُوبًا عَلَى بَابِهِ: قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لِلْكِفْلِ" [[المسند (٢/٢٣) .]] .
هَكَذَا وَقَعَ فِي هَذِهِ الرِوَايَةِ "الْكِفْلُ"، مِنْ غَيْرِ إِضَافَةٍ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَهَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يُخَرِّجْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ الْكُتُبِ السِّتَّةِ [[قلت: بل أخرجه الترمذي في السنن برقم (٢٤٩٦) من طريق عبيد بن أسباط عن أبيه به، وقال: "هذا حديث حسن قد رواه شيبان وغير واحد عن الأعمش نحو هذا ورفعوه وروى بعضهم عن الأعمش فلم يرفعه".]] ، وَإِسْنَادُهُ غَرِيبٌ، وَعَلَى كُلِّ تَقْدِيرٍ فَلَفْظُ الْحَدِيثِ إِنْ كَانَ "الْكِفْلَ"، وَلَمْ يَقُلْ: "ذُو الْكِفْلِ"، فَلَعَلَّهُ رَجُلٌ آخَرُ، وَاللَّهُ أعلم.
وَذَا ٱلنُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَٰضِبًۭا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَىٰ فِى ٱلظُّلُمَٰتِ أَن لَّآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبْحَٰنَكَ إِنِّى كُنتُ مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ
And [mention] the man of the fish, when he went off in anger and thought that We would not decree [anything] upon him. And he called out within the darknesses, "There is no deity except You; exalted are You. Indeed, I have been of the wrongdoers."
اور ذوالنون (کو یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دیئے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے۔ آخر اندھیرے میں (خدا کو) پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو پاک ہے (اور) بےشک میں قصوروار ہوں
و ذاالنون [= یونس] را (به یاد آور) در آن هنگام که خشمگین (از میان قوم خود) رفت؛ و چنین میپنداشت که ما بر او تنگ نخواهیم گرفت؛ (امّا موقعی که در کام نهنگ فرو رفت،) در آن ظلمتها (ی متراکم) صدا زد: «(خداوندا!) جز تو معبودی نیست! منزّهی تو! من از ستمکاران بودم!»
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Dhun-Nun, when he went off in anger, and imagined that We shall not punish him! But he cried through the darknesses (Zulumat)(saying): "There is no God but You, Glorified be You! Truly, I have been of the Zalimin wrongdoers. (87)So We answered his call, and delivered him from the distress. And thus We do deliver the believers (88)
Yunus
This story is mentioned here, and in Surat As-Saffat and Surah Nun. Yunus bin Matta, upon him be peace, was sent by Allah to the people of Nineveh, which was a town in the area of Mawsil [in northern Iraq]. He called them to Allah, but they rejected him and persisted in their disbelief. So he left them in anger, threatening them with punishment after three [days]. When they realized that he was telling the truth and that a Prophet never lies, they went out to the desert with their children and cattle and flocks. They separated the mothers from their children, then they beseeched Allah and pleaded to Him, with the camels and their young groaning, the cows and their calves mooing, and the sheep and their lambs bleating, so Allah spared them from the punishment. Allah says:
فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ
(Was there any town that believed (after seeing the punishment), and its faith saved it? Except the people of Yunus; when they believed, We removed from them the torment of disgrace in the life of the world, and permitted them to enjoy for a while)(10:98).
Yunus, meanwhile, went and traveled with some people on a ship, which was tossed about on the sea. The people were afraid that they would drown, so they cast lots to choose a man whom they would throw overboard. The lot fell to Yunus, but they refused to throw him overboard. This happened a second and a third time. Allah says:
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ
(Then he (agreed to) cast lots, and he was among the losers.)[37:141] meaning, the draw went against him, so Yunus stood up, removed his garment and cast himself into the sea. Then Allah sent from the Green Sea – according to what Ibn Mas'ud said – a large fish which cleaved the oceans until it came and swallowed Yunus when he threw himself into the sea. Allah inspired that large fish not to devour his flesh or break his bones, (as if He said) Yunus is not food for you, rather your belly is a prison for him.
وَذَا النُّونِ
(And (remember) Dhun-Nun,) Here Nun refers to the fish; it is correct for it to be attributed to him here.
إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا
(when he went off in anger,) Ad-Dahhak said: "Anger towards his people."
فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ
(and imagined that We shall not punish him!) meaning, constrict him in the belly of the fish. Something similar to this was reported from Ibn 'Abbas, Mujahid, Ad-Dahhak and others. This was the view favored by Ibn Jarir, and he quoted as evidence for that the Ayah:
وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ ۚ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا ۚ سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا
(and the man whose resources are restricted, let him spend according to what Allah has given him. Allah puts no burden on any person beyond what He has given him. Allah will grant after hardship, ease)(65:7).
فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
(But he cried through the depths of darkness (saying): "There is no God but You, Glorified be You! Truly, I have been of the wrongdoers.")
Ibn Mas'ud said regarding the 'depths of darkness': "The darkness of the belly of the fish, the darkness of the sea and the darkness of the night." This was also narrated from Ibn 'Abbas, 'Amr bin Maymun, Sa'id bin Jubayr, Muhammad bin Ka'b, Ad-Dahhak, Al-Hasan and Qatadah. Salim bin Abu Al-Ja'd said: "The darkness of the fish in the belly of another fish in the darkness of the sea." Ibn Mas'ud, Ibn 'Abbas and others said: "This was because the fish took him through the sea, cleaving it until it reached the bottom of the sea. Yunus heard the rocks at the bottom of the sea uttering glorification of Allah, at which point he said:
لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
(There is no God but You, Glorified be You! Truly, I have been of the wrongdoers)"
Awf Al-A'rabi said: "When Yunus found himself in the belly of the fish, he thought that he had died. Then he moved his legs. When he moved his legs, he prostrated where he was, then he called out: 'O Lord, I have taken a place of worship to You in a place which no other person has reached.'"
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ
(So 'We answered his call, and delivered him from the distress.) means, 'We brought him forth from the belly of the fish and from that darkness.'
وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ
(And thus We do deliver the believers.) means, when they are in difficulty and they call upon Us and repent to Us, especially if they call upon Us with these words at the time of distress.
The leader of the Prophets ﷺ encouraged us to call upon Allah with these words. Imam Ahmad recorded that Sa'd bin Abi Waqqas, may Allah be pleased with him, said: "I passed by 'Uthman bin 'Affan, may Allah be pleased with him, in the Masjid, and greeted him. He stared at me but did not return my Salam. I went to 'Umar bin Al-Khattab and said: 'O Commander of the faithful, has something happened in Islam?' I said that twice. He said, 'No, why do you ask?' I said, 'I passed by 'Uthman a short while ago in the Masjid and greeted him, and he stared at me but he did not return my Salam.' 'Umar sent for 'Uthman and asked him, 'Why did you not return your brother's Salam?' He said, 'That is not true.' Sa'd said, 'Yes it is.' It reached the point where they both swore oaths. Then 'Uthman remembered and said, 'Yes, you are right, I seek the forgiveness of Allah and I repent to Him. You passed by me a short while ago but I was preoccupied with thoughts of something I had heard from the Messenger of Allah ﷺ, which I never think of but a veil comes down over my eyes and my heart.' Sa'd said: 'And I will tell you what it was. The Messenger of Allah ﷺ told us the first part of the supplication then a bedouin came and kept him busy, then the Messenger of Allah ﷺ got up and I followed him. When I felt worried that he would enter his house, I stamped my feet. I turned to the Messenger of Allah ﷺ, who said,
مَنْ هَذَا، أَبُو إِسْحَاقَ؟
(Who is this? Abu Ishaq?) I said, "Yes, O Messenger of Allah." He said,
فَمَه
(What is the matter?) I said, "Nothing, by Allah, except that you told us the first part of the supplication, then this bedouin came and kept you busy." He said,
نَعَمْ دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ هُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ
(Yes, the supplicaiton of Dhun-Nun when he was in the belly of the fish:
لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
(There is no God but You, Glorified be You! Truly, I have been of the wrongdoers.)
فَإِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا مُسْلِمٌ رَبَّهُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ لَهُ
No Muslim ever prays to his Lord with these words for anything, but He will answer his prayer.)" It was also recorded by At-Tirmidhi, and by An-Nasa'i in Al-Yawm wal-Laylah. Ibn Abi Hatim recorded that Sa'd said that the Messenger of Allah ﷺ said:
مَنْ دَعَا بِدُعَاءِ يُونُسَ اسْتُجِيبَ لَهُ
(Whoever offers supplication in the words of the supplication of Yunus, will be answered.) Abu Sa'id said: "He was referring to:
وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ
(And thus We do deliver the believers.)"
Tafsir Ibn Kathir
یونس ؑ اور ان کی امت یہ واقعہ یہاں بھی مذکور ہے اور سورة صافات میں بھی ہے اور سورة نون میں بھی ہے۔ یہ پیغمبر حضرت یونس بن متی ؑ تھے۔ انہیں موصل کے علاقے کی بستی نینوا کی طرف نبی بنا کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا۔ آپ نے اللہ کی راہ کی دعوت دی لیکن قوم ایمان نہ لائی۔ آپ وہاں سے ناراض ہو کر چل دئے اور ان لوگوں سے کہنے لگے کہ تین دن میں تم پر عذاب الٰہی آجائے گا جب انہیں اس بات کی تحقیق ہوگئی اور انہوں نے جان لیا کہ انبیاء (علیہم السلام) جھوٹے نہیں ہوتے تو یہ سب کے سب چھوٹے بڑے مع اپنے جانوروں اور مویشوں کے جنگل میں نکل کھڑے ہوئے بچوں کو ماؤں سے جدا کردیا اور بلک بلک کر نہایت گریہ وزاری سے جناب باری تعالیٰ میں فریاد شروع کردی۔ ادھر ان کی آہ وبکاء ادھر جانوروں کی بھیانک صدا غرض اللہ کی رحمت متوجہ ہوگئی عذاب اٹھالیا گیا۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيْمَانُهَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ 98) 10۔ یونس :98) یعنی عذابوں کی تحقیق کے بعد کے ایمان نے کسی کو نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے کہ ان کے ایمان کی وجہ سے ہم نے ان پر سے عذاب ہٹالیے اور دنیا کی رسوائی سے انہیں بچا لیا اور موت تک کی مہلت دے دی۔ حضرت یونس ؑ یہاں سے چل کر ایک کشتی میں سوار ہوئے آگے جاکر طوفان کے آثار نمودار ہوئے۔ قریب تھا کہ کشتی ڈوب جائے مشورہ یہ ہوا کہ کسی آدمی کو دریا میں ڈال دینا چاہے کہ وزن کم ہوجائے۔ قرعہ حضرت یونس ؑ کا نکلا لیکن کسی نے آپ کو دریا میں ڈالنا پسند نہ کیا۔ دوبارہ قرعہ اندازی ہوئی آپ ہی کا نام نکلا تیسری مرتبہ پھر قرعہ ڈالا اب کی مرتبہ بھی آپ ہی کا نام نکلا۔ چناچہ خود قرآن میں ہے آیت (فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ01401ۚ) 37۔ الصافات :141) اب کہ حضرت یونس ؑ خود کھڑے ہوگئے کپڑے اتار کر دریا میں کود پڑے۔ بحر اخضر سے بحکم الٰہی ایک مچھلی پانی کاٹتی ہوئی آئی اور آپ کو لقمہ کرگئی۔ لیکن بحکم اللہ نے آپ کی ہڈی توڑی نہ جسم کو کچھ نقصان پہچایا۔ آپ اس کے لئے غذا نہ تھے بلکہ اس کا پیٹ آپ کے لئے قید خانہ تھا۔ اسی وجہ سے آپ کی نسبت مچھلی کی طرف کی گئی عربی میں مچھلی کو نون کہتے ہیں۔ آپ کا غضب وغصہ آپ کی قوم پر تھا۔ خیال یہ تھا کہ اللہ آپ کو تنگ نہ پکڑے گا پس یہاں نقدر کے یہی معنی حضرت ابن عباس مجاہد ضحاک وغیرہ نے کئے ہیں امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اس کی تائید آیت (وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهٗ فَلْيُنْفِقْ مِمَّآ اٰتٰىهُ اللّٰهُ ۧ) 65۔ الطلاق :7) سے بھی ہوتی ہے۔ حضرت عطیہ عوفی ؒ نے یہ معنی کئے ہیں کہ ہم اس پر مقدر نہ کریں گے قدر اور قدر دونوں لفظ ایک معنی میں بولے جاتے ہیں اس کی سند میں عربی کے شعر کے علاوہ آیت (فَالْتَقَى الْمَاۗءُ عَلٰٓي اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ 12ۚ) 54۔ القمر :12) بھی پیش کی جاسکتی ہے۔ ان اندھیریوں میں پھنس کر اب حضرت یونس ؑ نے اپنے رب کو پکارا۔ سمندر کے نیچے کا اندھیرا پھر مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا پھر رات کا اندھیرا یہ اندھیرے سب جمع تھے۔ آپ نے سمندر کی تہہ کی کنکریوں کی تسبیح سنی اور خود بھی تسبیح کرنی شروع کی۔ آپ مچھلی کے پیٹ میں جاکر پہلے تو سمجھے کہ میں مرگیا پھر پیر کو ہلایا تو یقین ہوا کہ میں زندہ ہوں۔ وہیں سجدے میں گرپڑے اور کہنے لگے بارالٰہی میں نے تیرے لئے اس جگہ کو مسجد بنایا جسے اس سے پہلے کسی نے جائے سجود نہ بنایا ہوگا۔ حسن بصری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں چالیس دن آپ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ ابن جریر میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس ؑ کے قید کا ارادہ کیا تو مچھلی کو حکم دیا کہ آپ کو نگل لے لیکن اس طرح کے نہ ہڈی ٹوٹے نہ جسم پر خراش آئے جب آپ سمندر کی تہہ میں پہنچے تو وہاں تسبیح سن کر حیران رہ گئے وحی آئی کہ یہ سمندر کے جانوروں کی تسبیح ہے۔ چناچہ آپ نے بھی اللہ کی تسبیح شروع کردی اسے سن کر فرشتوں نے کہا بار الٰہا ! یہ آواز تو بہت دور کی اور بہت کمزور ہے کس کی ہے ؟ ہم تو نہیں پہچان سکے۔ جواب ملا کہ یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے اس نے میری نافرمانی کی میں نے اسے مچھلی کے پیٹ کے قید خانے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا پروردگار ان کے نیک اعمال تو دن رات کے ہر وقت چڑھتے ہی رہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی سفارش قبول فرمائی اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ کو کنارے پر اگل دے۔ تفسیر ابن کثیر کے ایک نسخے میں یہ روایت بھی ہے کہحضور ﷺ نے فرمایا کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے تئیں یونس بن متع سے افضل کہے۔ اللہ کے اس بندے نے اندھیریوں میں اپنے رب کی تسبیح بیان کی ہے۔ اوپر جو روایت گزری اسکی وہی ایک سند ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضور اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب حضرت یونس ؑ نے یہ دعا کی تو یہ کلمات عرش کے اردگرد گومنے لگے فرشتے کہنے لگے بہت دور دراز کی یہ آواز ہے لیکن کان اس سے پہلے آشنا ضرور ہیں آواز بہت ضعیف ہے۔ جناب باری نے فرمایا کیا تم نے پہچانا نہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے۔ فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے پاک عمل قبول شدہ ہر روز تیری طرف چڑھتے تھے اور جن کی دعائیں تیرے پاس مقبول تھیں اے اللہ جیسے وہ آرام کے وقت نیکیاں کرتا تھا تو اس مصیبت کے وقت اس پر رحم کر۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ کو بغیر کسی تکلیف کے کنارے پر اگل دے۔ استغفار موجب نجات ہے پھر فرماتا ہے کہ ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور غم سے نجات دے دی ان اندھیروں سے نکال دیا۔ اسی طرح ہم ایمان داروں کو نجات دیا کرتے ہیں۔ وہ مصیبتوں میں گھر کر ہمیں پکارتے ہیں اور ہم ان کی دستگیری فرما کر تمام مشکلیں آسان کردیتے ہیں۔ خصوصا جو لوگ اس دعائے یونسی کو پڑھیں سیدالانبیاء رسول ﷺ فرماتے ہیں مسند احمد ترمذی وغیرہ میں ہے حضرت سعد بن ابو وقاص ؓ فرماتے ہیں میں مسجد میں گیا حضرت عثمان ؓ وہاں تھے۔ میں نے سلام کیا آپ نے مجھے بغور دیکھا اور میرے سلام کا جواب نہ دیا میں نے امیرالمومنین حضرت عمربن خطاب ؓ سے آکر شکایت کی آپ نے حضرت عثمان ؓ کو بلوایا ان سے کہا کہ آپ نے ایک مسلمان بھائی کے سلام کا جواب کیوں نہ دیا ؟ آپ نے فرمایا نہ یہ آئے نہ انہوں نے سلام کیا نہ یہ کہ میں نے انہیں جواب نہ دیا ہو۔ اس پر میں قسم کھائی تو آپ نے بھی میرے مقابلے میں قسم کھالی پھر کچھ خیال کرکے حضرت عثمان ؓ نے توبہ استغفار کیا اور فرمایا ٹھیک ہے۔ آپ نکلے تھے لیکن میں اس وقت اپنے دل سے وہ بات کہہ رہا تھا جو میں نے رسول اللہ ﷺ نے سے سنی تھی۔ واللہ مجھے جب وہ یاد آتی ہے میری آنکھوں پر ہی نہیں بلکہ میرے دل پر بھی پردہ پڑجاتا ہے حضرت سعد ؓ نے فرمایا میں آپ کو اس کی خبردیتا ہوں رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے اول دعا کا ذکر کیا ہی تھا جو ایک اعرابی آگیا اور آپ کو اپنی باتوں میں مشغول کرلیا بہ وقت گزرتا گیا اب حضور ﷺ وہاں سے اٹھے اور مکان کی طرف تشریف لے چلے میں بھی آپ کے پیچے ہولیا جب آپ گھر کے قریب پہنچ گئے مجھے ڈر لگا کہ کہیں آپ اندر نہ چلے جائیں اور میں رہ جاؤں تو میں نے زور زور سے پاؤں مارمار کر چلنا شروع کیا میری جوتیوں کی آہٹ سن کر آپ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا کون ابو اسحاق ؟ میں نے کہا جی ہاں یارسول میں ہی ہوں۔ آپ نے فرمایا ہاں ہاں وہ دعا حضرت ذوالنون ؑ کی تھی جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی تھی یعنی (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) سنو جو بھی مسلمان جس کسی معاملے میں جب کبھی اپنے رب سے یہ دعا کرے اللہ تعالیٰ اسے ضرور قبول فرماتا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے جو بھی حضرت یونس ؑ اس دعا کے ساتھ دعا کرے اس کی دعا ضرور قبول کی جائے۔ ابو سعید فرماتے ہیں اسی آیت میں اس کے بعد ہی فرمان ہے ہم اسی طرح مؤمنوں کو نجات دیتے ہیں۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ کا وہ نام جس سے وہ پکارا جائے تو قبول فرمالے اور جو مانگا جائے وہ عطا فرمائے وہ حضرت یونس بن متع کی دعا میں ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں میں نے کہا یارسول اللہ وہ حضرت یونس کے لئے ہی خاص تھی یا تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے فرمایا ان کے لئے خاص اور تمام مسلمانوں کے لئے عام جو بھی یہ دعا کرے۔ کیا تو نے قرآن میں نہیں پڑھا کہ ہم نے اس کی دعا قبول فرمائی اسے غم سے چھڑایا اور اسی طرح ہم مومنوں کو چھڑاتے ہیں۔ پس جو بھی اس دعا کو کرے اس سے اللہ کا قبولیت کا وعدہ ہوچکا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کثیر بن سعید فرماتے ہیں میں نے امام حسن بصری ؒ سے پوچھا کہ ابو سعید اللہ کا وہ اسم اعظم کہ جب اس کے ساتھ اس سے دعا کی جائے اللہ تعالیٰ قبول فرمالے اور جب اس کے ساتھ اس سے سوال کیا جائے تو وہ عطا فرمائے کیا ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ برادرزادے کیا تم نے قرآن کریم میں اللہ کا یہ فرمان نہیں پڑھا ؟ پھر آپ نے یہی دو آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا بھتیجے یہی اللہ کا وہ اسم اعظم ہے کہ جب اس کے ساتھ دعا کی جائے وہ قبول فرماتا ہے اور جب اس کے ساتھ اس سے مانگا جائے وہ عطا فرماتا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الْقِصَّةُ مَذْكُورَةٌ هَاهُنَا وَفِي سُورَةِ "الصَّافَّاتِ" وَفِي سُورَةِ "ن" [[سورة الصافات الآيات: (١٣٩-١٤٨) ، وسورة نون (القلم) الآيات: (٤٨-٥٠) .]] وَذَلِكَ أَنَّ يُونُسَ بْنَ مَتَّى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ قَرْيَةِ "نِينَوَى"، وَهِيَ قَرْيَةٌ مِنْ أَرْضِ الْمَوْصِلِ، فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ، فَأَبَوْا عَلَيْهِ وَتَمَادَوْا عَلَى كُفْرِهِمْ، فَخَرَجَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ مُغَاضِبًا لَهُمْ، وَوَعَدَهُمْ بِالْعَذَابِ بَعْدَ ثَلَاثٍ. فَلَمَّا تَحَقَّقُوا مِنْهُ ذَلِكَ، وَعَلِمُوا أَنَّ النَّبِيَّ لَا يَكْذِبُ، خَرَجُوا إِلَى الصَّحْرَاءِ بِأَطْفَالِهِمْ وَأَنْعَامِهِمْ وَمَوَاشِيهِمْ، وَفَرَّقُوا بَيْنَ الْأُمَّهَاتِ وَأَوْلَادِهَا، ثُمَّ تَضَرَّعُوا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَجَأَرُوا [[في ت: "ولجؤوا".]] إِلَيْهِ، وَرَغَتِ الإبل وفُضْلانها، وَخَارَتِ الْبَقَرُ وَأَوْلَادُهَا، وَثَغَتِ الْغَنَمُ وحُمْلانها، فَرَفَعَ اللَّهُ عَنْهُمُ الْعَذَابَ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَلَوْلا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ [[في ت: "العذاب".]] الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ﴾ [يُونُسَ:٩٨] .
وَأَمَّا يُونُسُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّهُ ذَهَبَ فَرَكِبَ مَعَ قَوْمٍ فِي سَفِينَةٍ فَلَجَّجت بِهِمْ، وَخَافُوا أَنْ يَغْرَقُوا [[في ت، ف: "تغرق بهم".]] . فَاقْتَرَعُوا عَلَى رَجُلٍ يُلْقُونَهُ مِنْ بَيْنِهِمْ يَتَخَفَّفُونَ مِنْهُ، فَوَقَعَتِ الْقُرْعَةُ عَلَى يُونُسَ، فَأَبَوْا [[في ت: "فأتوا".]] أَنْ يُلْقُوهُ، ثُمَّ أَعَادُوا الْقُرْعَةَ فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ أَيْضًا، فَأَبَوْا، ثُمَّ أَعَادُوهَا فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ أَيْضًا، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ﴾ [الصَّافَّاتِ:١٤١] ، أَيْ: وَقَعَتْ عَلَيْهِ الْقُرْعَةُ [[في ف: "فوقعت القرعة عليه".]] ، فَقَامَ يُونُسُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَتَجَرَّدَ مِنْ ثِيَابِهِ، ثُمَّ أَلْقَى نَفْسَهُ فِي الْبَحْرِ، وَقَدْ أَرْسَلَ اللَّهُ، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى، مِنَ الْبَحْرِ الْأَخْضَرِ -فِيمَا قَالَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ-حُوتًا يَشُقُّ الْبِحَارَ، حَتَّى جَاءَ فَالْتَقَمَ يُونُسَ حِينَ أَلْقَى نَفْسَهُ مِنَ السَّفِينَةِ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى ذَلِكَ الْحُوتِ أَلَّا تَأْكُلَ لَهُ لَحْمًا، وَلَا تُهَشِّمَ لَهُ عَظْمًا؛ فَإِنَّ يُونُسَ لَيْسَ لَكَ رِزْقًا، وَإِنَّمَا بَطْنُكَ لَهُ يَكُونُ سِجْنًا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَذَا النُّونِ﴾ يَعْنِي: الْحُوتَ، صَحَّتِ الْإِضَافَةُ إِلَيْهِ بِهَذِهِ النِّسْبَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا﴾ : قَالَ الضَّحَّاكُ: لِقَوْمِهِ، ﴿فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ﴾ [أَيْ: نُضَيِّقَ عَلَيْهِ فِي بَطْنِ الْحُوتِ. يُروَى نَحْوُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَالضَّحَّاكِ، وَغَيْرِهِمْ، وَاخْتَارَهُ [[في ت: "واختارهم".]] ابْنُ جَرِيرٍ، وَاسْتَشْهَدَ عَلَيْهِ بِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا مَا آتَاهَا سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا﴾ [الطَّلَاقِ:٧] .
وَقَالَ عَطِيَّةُ العَوفي: ﴿فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ﴾ [[زيادة من ت، ف، أ.]] ، أَيْ: نَقْضِيَ عَلَيْهِ، كَأَنَّهُ جَعَلَ ذَلِكَ بِمَعْنَى التَّقْدِيرِ، فَإِنَّ الْعَرَبَ تَقُولُ: قدَر وقَدّر بِمَعْنَى وَاحِدٍ، وَقَالَ الشاعر: فَلا عَائد ذَاكَ الزّمَانُ الَّذِي مَضَى ... تَبَارَكْتَ مَا تَقْدرْ يَكُنْ، فَلَكَ الأمْرُ ...
وَمِنْهُ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ﴾ [الْقَمَرِ: ١٢] ، أَيْ: قُدِّرَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: ظُلْمَةُ بَطْنِ الْحُوتِ، وَظُلْمَةُ الْبَحْرِ، وَظُلْمَةُ اللَّيْلِ. وَكَذَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[في ف: "ابن مسعود".]] ، وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَير، وَمُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، وَالضَّحَّاكِ، وَالْحَسَنِ، وَقَتَادَةَ.
وَقَالَ سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ: ظلمةُ حُوت فِي بَطْنِ حُوتٍ [[في ف، أ: "حوت آخر".]] ، فِي ظُلْمَةِ الْبَحْرِ.
قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ، وابنُ عَبَّاسٍ وَغَيْرُهُمَا: وَذَلِكَ أَنَّهُ ذَهَبَ بِهِ الحوتُ فِي الْبِحَارِ يَشُقُّها، حَتَّى انْتَهَى بِهِ إِلَى قَرَارِ الْبَحْرِ، فَسَمِعَ [[في ت، أ: "حتى يسمع"، وفي ف: "حتى سمع".]] يونسُ تَسْبِيحَ الْحَصَى فِي قَرَارِهِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ وهنالكَ قَالَ: ﴿لَا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ﴾
وَقَالَ عَوْفٌ: لَمَّا صَارَ يُونُسُ فِي بَطْنِ الْحُوتِ، ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، ثُمَّ حَرَّكَ رِجْلَيْهِ فَلَمَّا تَحَرَّكَتْ سَجَدَ مَكَانَهُ، ثُمَّ نَادَى: يَا رَبِّ [[في ت: "رب الحوت".]] ، اتَّخَذْتُ لَكَ مَسْجِدًا [[في ت: "مسجد".]] فِي مَوْضِعٍ مَا اتَّخَذَهُ [[في ف، أ: "ما أخده".]] أَحَدٌ.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ الْبَصْرِيُّ: مَكَثَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا. رَوَاهُمَا [[في ت: "رواها".]] ابْنُ جُبَيْرٍ.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بن إسحاق بن يَسَار، عمن حدثه، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ -مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ-سمعتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لَمَّا أَرَادَ اللَّهُ حَبْسَ يُونُسَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ، أَوْحَى اللَّهُ إِلَى الْحُوتِ أَنْ خُذْهُ، وَلَا تَخْدِشْ لَحْمًا وَلَا تَكْسِرْ عَظْمًا، فَلَمَّا انْتَهَى بِهِ إِلَى أَسْفَلِ الْبَحْرِ، سَمِعَ يُونُسُ حِسًّا، فَقَالَ فِي نَفْسِهِ: مَا هَذَا؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ، وَهُوَ فِي بَطْنِ [[في ف: "وهو ببطن".]] الْحُوتِ: إِنَّ هَذَا تَسْبِيحُ دَوَابِّ الْبَحْرِ. قَالَ: فَسَبَّح وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ، فَسَمِعَ [[في ف، أ: "فسمعت".]] الْمَلَائِكَةُ تَسْبِيحَهُ فَقَالُوا: يَا رَبَّنَا، إِنَّا نَسْمَعُ صَوْتًا ضَعِيفًا [بِأَرْضٍ غَرِيبَةٍ] [[زيادة من ف، أ.]] قَالَ: ذَلِكَ عَبْدِي يُونُسُ، عَصَانِي فَحَبَسْتُهُ فِي بَطْنِ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ. قَالُوا: الْعَبْدُ الصَّالِحُ الَّذِي كَانَ يَصْعَدُ إِلَيْكَ مِنْهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ عملٌ صَالِحٌ؟. قَالَ: نَعَمْ". قَالَ: "فَشَفَعُوا لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ، فَأَمَرَ الْحُوتَ فَقَذَفَهُ فِي السَّاحِلِ، كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: [[في ت: "الله تعالى".]] ﴿وَهُوَ سَقِيمٌ﴾ [الصَّافَّاتِ: ١٤٥] .
وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ [[تفسير الطبري (١٧/٦٥) .]] ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ فِي مُسْنَدِهِ، مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، ثُمَّ قَالَ: لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ ﷺ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ [[مسند البزار برقم (٢٢٥٤) "كشف الأستار".]] ، وَرَوَى ابْنُ عَبْدِ الْحَقِّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلمَة [[في ت، ف: "مسلم".]] ، عَنْ عَلِيٍّ مَرْفُوعًا: لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ: " أَنَا [[في ف: "أنا عند الله خير".]] خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى"؛ سَبَّحَ لِلَّهِ فِي الظُّلُمَاتِ [[كذا (ابن عبد الحق) ، وأظنه تحريف عن عبد بن حميد، إلا أني لا أجزم بذلك، وقد ذكره الهندي في كنز العمال (١٢/٤٧٦) وعزاه لابن أبي شيبة وعبد بن حميد وابن مردويه وابن عساكر في تاريخه.]] .
وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ بِدُونِ هَذِهِ الزِّيَادَةِ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَسَيَأْتِي أَسَانِيدُهَا فِي سُورَةِ "ن" [[كذا قال الحافظ ابن كثير، وإنما ذكره هناك من حديث ابن مسعود وأبي هريرة رضي الله عنهما.
فأما حديث ابن عباس: فرواه البخاري في صحيحه برقم (٣٣٩٥) ومسلم في صحيحه برقم (٢٣٧٧) .
وأما حديث عبد الله بن جعفر: فرواه أبو داود في السنن برقم (٤٦٧٠) .]] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بن عبد الرحمن بن أَخِي ابْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي: حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ: أَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيَّ حَدَّثَهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ -وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّ أَنْسًا يَرْفَعُ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ-أَنَّ يُونُسَ النَّبِيَّ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، حِينَ بَدَا لَهُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَذِهِ الْكَلَمَّاتِ وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ، قَالَ: "اللَّهُمَّ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ، إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ". فَأَقْبَلَتْ هَذِهِ الدَّعْوَةُ تَحُفُّ بِالْعَرْشِ [[في ت: "نحو العرش" وفي ف: "تحت العرش".]] ، فَقَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبِّ، صَوْتٌ ضَعِيفٌ مَعْرُوفٌ مِنْ بِلَادٍ غَرِيبَةٍ؟ فَقَالَ: أَمَا تَعْرِفُونَ ذَاكَ [[في ف: "ذلك".]] ؟ قَالُوا: لَا يَا رَبِّ [[في ت، ف: "يا ربنا".]] ، وَمَنْ هُوَ؟ قَالَ: عَبْدِي يُونُسُ. قَالُوا: عَبْدُكَ يُونُسُ الَّذِي لَمْ يَزَلْ يُرفَع لَهُ عَمَلٌ مُتَقَبَّلٌ [[في ت، ف: "متقبلا".]] ، وَدَعْوَةٌ مُجَابَةٌ؟. [قَالَ: نَعَمْ] [[زيادة من ف، أ.]] . قَالُوا: يَا رَبِّ، أَوَلا [[في ت، ف، أ: "أفلا".]] تَرْحَمُ مَا كَانَ يَصْنَعُ [[في ت، ف: "يصنعه".]] فِي الرَّخَاءِ فتنجيَه مِنَ الْبَلَاءِ؟ قَالَ: بَلَى. فَأَمَرَ الْحُوتَ فَطَرَحَهُ فِي الْعَرَاءِ [[ورواه ابن أبي الدنيات في الفرج بعد الشدة برقم (٣٢) من طريق أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وهب به.]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ﴾ أَيْ: أَخْرَجْنَاهُ مِنْ بَطْنِ الْحُوتِ، وَتِلْكَ الظُّلُمَاتِ، ﴿وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ﴾ أَيْ: إِذَا كَانُوا فِي الشَّدَائِدِ ودَعَونا مُنِيبِينَ إِلَيْنَا، وَلَا سِيَّمَا إِذَا دَعَوْا بِهَذَا الدُّعَاءِ فِي حَالِ الْبَلَاءِ، فَقَدْ جَاءَ التَّرْغِيبُ فِي الدُّعَاءِ بِهَا عَنْ سَيِّدِ الْأَنْبِيَاءِ، قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ:
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَر، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، حدثنا إبراهيم بن محمد [[في ت: "محمد بن إبراهيم".]] ابن سَعْدٍ، حَدَّثَنِي وَالِدِي مُحَمَّدٌ عَنِ أَبِيهِ سَعْدٍ، -وَهُوَ ابْنُ أَبِي وَقَّاصٍ -قَالَ: مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي الْمَسْجِدِ، فسلمت عليه، فملأ عينيه مني ثم لم يَردُدْ عَلَيَّ السَّلَامَ، فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، هَلْ حَدَثَ فِي الْإِسْلَامِ شَيْءٌ؟ مَرَّتَيْنِ، قَالَ: لَا وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: لَا إِلَّا أَنِّي مررتُ بِعُثْمَانَ [[في ف، أ: "بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ".]] آنِفًا فِي الْمَسْجِدِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَمَلَأَ عَيْنَيْهِ مِنِّي، ثُمَّ لَمْ يَرْدُد [[فِي ت: "يرد".]] عَلَيَّ السَّلَامَ. قَالَ: فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى عُثْمَانَ فَدَعَاهُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ ألا تكون رَدَدت على أخيك السَّلَامَ؟ قَالَ: مَا فعلتُ. قَالَ سَعْدٌ: قلتُ: بَلَى [[في ف: "ويلي".]] حَتَّى حلفَ وَحَلَفْتُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ ذكرَ فَقَالَ: بَلَى، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، إِنَّكَ مَرَرْتَ بِي آنِفًا وَأَنَا أُحَدِّثُ نَفْسِي بِكَلِمَةٍ سمعتُها مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ لَا وَاللَّهِ مَا ذَكَرْتُهَا قَطُّ إِلَّا تَغْشَى بَصَرِي وَقَلْبِي غشَاوة. قَالَ سَعْدٌ: فَأَنَا أُنَبِّئُكَ بِهَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ ذَكَرَ لَنَا [أَوَّلَ دَعْوَةٍ] [[زيادة من ف، أ، والمسند.]] ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَشَغَلَهُ، حَتَّى قَام رسولُ اللَّهِ ﷺ فَاتَّبَعْتُهُ، فَلَمَّا أَشْفَقْتُ أَنْ يَسْبِقَنِي إِلَى مَنْزِلِهِ ضَرَبْتُ بِقَدَمِي الْأَرْضَ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ رسولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: "مَنْ هَذَا؟ أَبُو إِسْحَاقَ؟ " قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "فَمَهْ؟ " قُلْتُ: لَا وَاللَّهِ، إِلَّا إِنَّكَ ذكرتَ لَنَا أَوَّلَ دَعْوَةٍ، ثُمَّ جَاءَ هَذَا الْأَعْرَابِيُّ فَشَغَلَكَ. قَالَ: "نَعَمْ، دعوةُ ذِي النُّونِ، إِذْ هُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ: ﴿لَا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا مُسْلِمٌ رَبَّهُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ لَهُ".
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ فِي "الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ"، مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ [[في ت: "ابن سعيد".]] ، بِهِ [[المسند (١/١٧٠) وسنن الترمذي برقم (٣٥٠٥) وسنن النسائي الكبرى برقم (١٠٤٩٢) .]] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ كَثِير بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ -قَالَ أَبُو خَالِدٍ: أَحْسَبُهُ عَنْ مُصْعَبٍ، يَعْنِي: ابْنَ سَعْدٍ -عَنْ سَعْدٍ [[في ت: "عن سعيد".]] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "من دَعَا بِدُعَاءِ يُونُسَ، استُجِيب [[في ت: "استجبت".]] لَهُ". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: يُرِيدُ بِهِ ﴿وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ﴾ [[ورواه الحاكم في المستدرك (٢/٥٨٤) من طريق يحيى بن عبد الحميد، وابن عدي في الكامل (٦/٦٨) من طريق أبي هشام الرفاعي كلاهما عن أبي خالد الأحمر به.]] .
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ بَكَّار الكَلاعي، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي بِشْر بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي وَقَّاصٍ-يَقُولُ: سَمِعْتُ رسولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "اسْمُ اللَّهِ الَّذِي إِذَا دُعي بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِل بِهِ أَعْطَى، دعوةُ يُونُسَ بْنِ مَتَّى". قَالَ: قُلْتُ [[في ت، ف: "فقلت".]] : يَا رَسُولَ اللَّهِ، هِيَ لِيُونُسَ خَاصَّةً أَمْ لِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: هِيَ لِيُونُسَ بْنِ مَتَّى خَاصَّةً وَلِلْمُؤْمِنِينَ عَامَّةً، إِذَا دَعَوْا بِهَا، أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿: فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ. فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ﴾ . فَهُوَ شَرْطٌ مِنَ اللَّهِ لِمَنْ دَعَاهُ بِهِ" [[تفسير الطبري (١٧/٦٥) .]] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيج، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ المُحَبَّر بْنِ قَحْذَم الْمَقْدِسِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ، قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى؟ قَالَ: ابنَ أَخِي، أَمَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَوْلَ اللَّهِ: ﴿وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا﴾
إِلَى قَوْلِهِ: ﴿الْمُؤْمِنِينَ﴾ ، ابْنَ أَخِي، هَذَا اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ، الَّذِي إِذَا دُعي بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى.
فَٱسْتَجَبْنَا لَهُۥ وَنَجَّيْنَٰهُ مِنَ ٱلْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُۨجِى ٱلْمُؤْمِنِينَ
So We responded to him and saved him from the distress. And thus do We save the believers.
تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم سے نجات بخشی۔ اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں
ما دعای او را به اجابت رساندیم؛ و از آن اندوه نجاتش بخشیدیم؛ و این گونه مؤمنان را نجات میدهیم!
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Dhun-Nun, when he went off in anger, and imagined that We shall not punish him! But he cried through the darknesses (Zulumat)(saying): "There is no God but You, Glorified be You! Truly, I have been of the Zalimin wrongdoers. (87)So We answered his call, and delivered him from the distress. And thus We do deliver the believers (88)
Yunus
This story is mentioned here, and in Surat As-Saffat and Surah Nun. Yunus bin Matta, upon him be peace, was sent by Allah to the people of Nineveh, which was a town in the area of Mawsil [in northern Iraq]. He called them to Allah, but they rejected him and persisted in their disbelief. So he left them in anger, threatening them with punishment after three [days]. When they realized that he was telling the truth and that a Prophet never lies, they went out to the desert with their children and cattle and flocks. They separated the mothers from their children, then they beseeched Allah and pleaded to Him, with the camels and their young groaning, the cows and their calves mooing, and the sheep and their lambs bleating, so Allah spared them from the punishment. Allah says:
فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ
(Was there any town that believed (after seeing the punishment), and its faith saved it? Except the people of Yunus; when they believed, We removed from them the torment of disgrace in the life of the world, and permitted them to enjoy for a while)(10:98).
Yunus, meanwhile, went and traveled with some people on a ship, which was tossed about on the sea. The people were afraid that they would drown, so they cast lots to choose a man whom they would throw overboard. The lot fell to Yunus, but they refused to throw him overboard. This happened a second and a third time. Allah says:
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ
(Then he (agreed to) cast lots, and he was among the losers.)[37:141] meaning, the draw went against him, so Yunus stood up, removed his garment and cast himself into the sea. Then Allah sent from the Green Sea – according to what Ibn Mas'ud said – a large fish which cleaved the oceans until it came and swallowed Yunus when he threw himself into the sea. Allah inspired that large fish not to devour his flesh or break his bones, (as if He said) Yunus is not food for you, rather your belly is a prison for him.
وَذَا النُّونِ
(And (remember) Dhun-Nun,) Here Nun refers to the fish; it is correct for it to be attributed to him here.
إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا
(when he went off in anger,) Ad-Dahhak said: "Anger towards his people."
فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ
(and imagined that We shall not punish him!) meaning, constrict him in the belly of the fish. Something similar to this was reported from Ibn 'Abbas, Mujahid, Ad-Dahhak and others. This was the view favored by Ibn Jarir, and he quoted as evidence for that the Ayah:
وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ ۚ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا ۚ سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا
(and the man whose resources are restricted, let him spend according to what Allah has given him. Allah puts no burden on any person beyond what He has given him. Allah will grant after hardship, ease)(65:7).
فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
(But he cried through the depths of darkness (saying): "There is no God but You, Glorified be You! Truly, I have been of the wrongdoers.")
Ibn Mas'ud said regarding the 'depths of darkness': "The darkness of the belly of the fish, the darkness of the sea and the darkness of the night." This was also narrated from Ibn 'Abbas, 'Amr bin Maymun, Sa'id bin Jubayr, Muhammad bin Ka'b, Ad-Dahhak, Al-Hasan and Qatadah. Salim bin Abu Al-Ja'd said: "The darkness of the fish in the belly of another fish in the darkness of the sea." Ibn Mas'ud, Ibn 'Abbas and others said: "This was because the fish took him through the sea, cleaving it until it reached the bottom of the sea. Yunus heard the rocks at the bottom of the sea uttering glorification of Allah, at which point he said:
لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
(There is no God but You, Glorified be You! Truly, I have been of the wrongdoers)"
Awf Al-A'rabi said: "When Yunus found himself in the belly of the fish, he thought that he had died. Then he moved his legs. When he moved his legs, he prostrated where he was, then he called out: 'O Lord, I have taken a place of worship to You in a place which no other person has reached.'"
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ
(So 'We answered his call, and delivered him from the distress.) means, 'We brought him forth from the belly of the fish and from that darkness.'
وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ
(And thus We do deliver the believers.) means, when they are in difficulty and they call upon Us and repent to Us, especially if they call upon Us with these words at the time of distress.
The leader of the Prophets ﷺ encouraged us to call upon Allah with these words. Imam Ahmad recorded that Sa'd bin Abi Waqqas, may Allah be pleased with him, said: "I passed by 'Uthman bin 'Affan, may Allah be pleased with him, in the Masjid, and greeted him. He stared at me but did not return my Salam. I went to 'Umar bin Al-Khattab and said: 'O Commander of the faithful, has something happened in Islam?' I said that twice. He said, 'No, why do you ask?' I said, 'I passed by 'Uthman a short while ago in the Masjid and greeted him, and he stared at me but he did not return my Salam.' 'Umar sent for 'Uthman and asked him, 'Why did you not return your brother's Salam?' He said, 'That is not true.' Sa'd said, 'Yes it is.' It reached the point where they both swore oaths. Then 'Uthman remembered and said, 'Yes, you are right, I seek the forgiveness of Allah and I repent to Him. You passed by me a short while ago but I was preoccupied with thoughts of something I had heard from the Messenger of Allah ﷺ, which I never think of but a veil comes down over my eyes and my heart.' Sa'd said: 'And I will tell you what it was. The Messenger of Allah ﷺ told us the first part of the supplication then a bedouin came and kept him busy, then the Messenger of Allah ﷺ got up and I followed him. When I felt worried that he would enter his house, I stamped my feet. I turned to the Messenger of Allah ﷺ, who said,
مَنْ هَذَا، أَبُو إِسْحَاقَ؟
(Who is this? Abu Ishaq?) I said, "Yes, O Messenger of Allah." He said,
فَمَه
(What is the matter?) I said, "Nothing, by Allah, except that you told us the first part of the supplication, then this bedouin came and kept you busy." He said,
نَعَمْ دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ هُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ
(Yes, the supplicaiton of Dhun-Nun when he was in the belly of the fish:
لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
(There is no God but You, Glorified be You! Truly, I have been of the wrongdoers.)
فَإِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا مُسْلِمٌ رَبَّهُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ لَهُ
No Muslim ever prays to his Lord with these words for anything, but He will answer his prayer.)" It was also recorded by At-Tirmidhi, and by An-Nasa'i in Al-Yawm wal-Laylah. Ibn Abi Hatim recorded that Sa'd said that the Messenger of Allah ﷺ said:
مَنْ دَعَا بِدُعَاءِ يُونُسَ اسْتُجِيبَ لَهُ
(Whoever offers supplication in the words of the supplication of Yunus, will be answered.) Abu Sa'id said: "He was referring to:
وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ
(And thus We do deliver the believers.)"
Tafsir Ibn Kathir
یونس ؑ اور ان کی امت یہ واقعہ یہاں بھی مذکور ہے اور سورة صافات میں بھی ہے اور سورة نون میں بھی ہے۔ یہ پیغمبر حضرت یونس بن متی ؑ تھے۔ انہیں موصل کے علاقے کی بستی نینوا کی طرف نبی بنا کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا۔ آپ نے اللہ کی راہ کی دعوت دی لیکن قوم ایمان نہ لائی۔ آپ وہاں سے ناراض ہو کر چل دئے اور ان لوگوں سے کہنے لگے کہ تین دن میں تم پر عذاب الٰہی آجائے گا جب انہیں اس بات کی تحقیق ہوگئی اور انہوں نے جان لیا کہ انبیاء (علیہم السلام) جھوٹے نہیں ہوتے تو یہ سب کے سب چھوٹے بڑے مع اپنے جانوروں اور مویشوں کے جنگل میں نکل کھڑے ہوئے بچوں کو ماؤں سے جدا کردیا اور بلک بلک کر نہایت گریہ وزاری سے جناب باری تعالیٰ میں فریاد شروع کردی۔ ادھر ان کی آہ وبکاء ادھر جانوروں کی بھیانک صدا غرض اللہ کی رحمت متوجہ ہوگئی عذاب اٹھالیا گیا۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيْمَانُهَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ 98) 10۔ یونس :98) یعنی عذابوں کی تحقیق کے بعد کے ایمان نے کسی کو نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے کہ ان کے ایمان کی وجہ سے ہم نے ان پر سے عذاب ہٹالیے اور دنیا کی رسوائی سے انہیں بچا لیا اور موت تک کی مہلت دے دی۔ حضرت یونس ؑ یہاں سے چل کر ایک کشتی میں سوار ہوئے آگے جاکر طوفان کے آثار نمودار ہوئے۔ قریب تھا کہ کشتی ڈوب جائے مشورہ یہ ہوا کہ کسی آدمی کو دریا میں ڈال دینا چاہے کہ وزن کم ہوجائے۔ قرعہ حضرت یونس ؑ کا نکلا لیکن کسی نے آپ کو دریا میں ڈالنا پسند نہ کیا۔ دوبارہ قرعہ اندازی ہوئی آپ ہی کا نام نکلا تیسری مرتبہ پھر قرعہ ڈالا اب کی مرتبہ بھی آپ ہی کا نام نکلا۔ چناچہ خود قرآن میں ہے آیت (فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ01401ۚ) 37۔ الصافات :141) اب کہ حضرت یونس ؑ خود کھڑے ہوگئے کپڑے اتار کر دریا میں کود پڑے۔ بحر اخضر سے بحکم الٰہی ایک مچھلی پانی کاٹتی ہوئی آئی اور آپ کو لقمہ کرگئی۔ لیکن بحکم اللہ نے آپ کی ہڈی توڑی نہ جسم کو کچھ نقصان پہچایا۔ آپ اس کے لئے غذا نہ تھے بلکہ اس کا پیٹ آپ کے لئے قید خانہ تھا۔ اسی وجہ سے آپ کی نسبت مچھلی کی طرف کی گئی عربی میں مچھلی کو نون کہتے ہیں۔ آپ کا غضب وغصہ آپ کی قوم پر تھا۔ خیال یہ تھا کہ اللہ آپ کو تنگ نہ پکڑے گا پس یہاں نقدر کے یہی معنی حضرت ابن عباس مجاہد ضحاک وغیرہ نے کئے ہیں امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اس کی تائید آیت (وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهٗ فَلْيُنْفِقْ مِمَّآ اٰتٰىهُ اللّٰهُ ۧ) 65۔ الطلاق :7) سے بھی ہوتی ہے۔ حضرت عطیہ عوفی ؒ نے یہ معنی کئے ہیں کہ ہم اس پر مقدر نہ کریں گے قدر اور قدر دونوں لفظ ایک معنی میں بولے جاتے ہیں اس کی سند میں عربی کے شعر کے علاوہ آیت (فَالْتَقَى الْمَاۗءُ عَلٰٓي اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ 12ۚ) 54۔ القمر :12) بھی پیش کی جاسکتی ہے۔ ان اندھیریوں میں پھنس کر اب حضرت یونس ؑ نے اپنے رب کو پکارا۔ سمندر کے نیچے کا اندھیرا پھر مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا پھر رات کا اندھیرا یہ اندھیرے سب جمع تھے۔ آپ نے سمندر کی تہہ کی کنکریوں کی تسبیح سنی اور خود بھی تسبیح کرنی شروع کی۔ آپ مچھلی کے پیٹ میں جاکر پہلے تو سمجھے کہ میں مرگیا پھر پیر کو ہلایا تو یقین ہوا کہ میں زندہ ہوں۔ وہیں سجدے میں گرپڑے اور کہنے لگے بارالٰہی میں نے تیرے لئے اس جگہ کو مسجد بنایا جسے اس سے پہلے کسی نے جائے سجود نہ بنایا ہوگا۔ حسن بصری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں چالیس دن آپ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ ابن جریر میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس ؑ کے قید کا ارادہ کیا تو مچھلی کو حکم دیا کہ آپ کو نگل لے لیکن اس طرح کے نہ ہڈی ٹوٹے نہ جسم پر خراش آئے جب آپ سمندر کی تہہ میں پہنچے تو وہاں تسبیح سن کر حیران رہ گئے وحی آئی کہ یہ سمندر کے جانوروں کی تسبیح ہے۔ چناچہ آپ نے بھی اللہ کی تسبیح شروع کردی اسے سن کر فرشتوں نے کہا بار الٰہا ! یہ آواز تو بہت دور کی اور بہت کمزور ہے کس کی ہے ؟ ہم تو نہیں پہچان سکے۔ جواب ملا کہ یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے اس نے میری نافرمانی کی میں نے اسے مچھلی کے پیٹ کے قید خانے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا پروردگار ان کے نیک اعمال تو دن رات کے ہر وقت چڑھتے ہی رہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی سفارش قبول فرمائی اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ کو کنارے پر اگل دے۔ تفسیر ابن کثیر کے ایک نسخے میں یہ روایت بھی ہے کہحضور ﷺ نے فرمایا کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے تئیں یونس بن متع سے افضل کہے۔ اللہ کے اس بندے نے اندھیریوں میں اپنے رب کی تسبیح بیان کی ہے۔ اوپر جو روایت گزری اسکی وہی ایک سند ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضور اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب حضرت یونس ؑ نے یہ دعا کی تو یہ کلمات عرش کے اردگرد گومنے لگے فرشتے کہنے لگے بہت دور دراز کی یہ آواز ہے لیکن کان اس سے پہلے آشنا ضرور ہیں آواز بہت ضعیف ہے۔ جناب باری نے فرمایا کیا تم نے پہچانا نہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے۔ فرشتوں نے کہا وہی یونس جس کے پاک عمل قبول شدہ ہر روز تیری طرف چڑھتے تھے اور جن کی دعائیں تیرے پاس مقبول تھیں اے اللہ جیسے وہ آرام کے وقت نیکیاں کرتا تھا تو اس مصیبت کے وقت اس پر رحم کر۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ کو بغیر کسی تکلیف کے کنارے پر اگل دے۔ استغفار موجب نجات ہے پھر فرماتا ہے کہ ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور غم سے نجات دے دی ان اندھیروں سے نکال دیا۔ اسی طرح ہم ایمان داروں کو نجات دیا کرتے ہیں۔ وہ مصیبتوں میں گھر کر ہمیں پکارتے ہیں اور ہم ان کی دستگیری فرما کر تمام مشکلیں آسان کردیتے ہیں۔ خصوصا جو لوگ اس دعائے یونسی کو پڑھیں سیدالانبیاء رسول ﷺ فرماتے ہیں مسند احمد ترمذی وغیرہ میں ہے حضرت سعد بن ابو وقاص ؓ فرماتے ہیں میں مسجد میں گیا حضرت عثمان ؓ وہاں تھے۔ میں نے سلام کیا آپ نے مجھے بغور دیکھا اور میرے سلام کا جواب نہ دیا میں نے امیرالمومنین حضرت عمربن خطاب ؓ سے آکر شکایت کی آپ نے حضرت عثمان ؓ کو بلوایا ان سے کہا کہ آپ نے ایک مسلمان بھائی کے سلام کا جواب کیوں نہ دیا ؟ آپ نے فرمایا نہ یہ آئے نہ انہوں نے سلام کیا نہ یہ کہ میں نے انہیں جواب نہ دیا ہو۔ اس پر میں قسم کھائی تو آپ نے بھی میرے مقابلے میں قسم کھالی پھر کچھ خیال کرکے حضرت عثمان ؓ نے توبہ استغفار کیا اور فرمایا ٹھیک ہے۔ آپ نکلے تھے لیکن میں اس وقت اپنے دل سے وہ بات کہہ رہا تھا جو میں نے رسول اللہ ﷺ نے سے سنی تھی۔ واللہ مجھے جب وہ یاد آتی ہے میری آنکھوں پر ہی نہیں بلکہ میرے دل پر بھی پردہ پڑجاتا ہے حضرت سعد ؓ نے فرمایا میں آپ کو اس کی خبردیتا ہوں رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے اول دعا کا ذکر کیا ہی تھا جو ایک اعرابی آگیا اور آپ کو اپنی باتوں میں مشغول کرلیا بہ وقت گزرتا گیا اب حضور ﷺ وہاں سے اٹھے اور مکان کی طرف تشریف لے چلے میں بھی آپ کے پیچے ہولیا جب آپ گھر کے قریب پہنچ گئے مجھے ڈر لگا کہ کہیں آپ اندر نہ چلے جائیں اور میں رہ جاؤں تو میں نے زور زور سے پاؤں مارمار کر چلنا شروع کیا میری جوتیوں کی آہٹ سن کر آپ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا کون ابو اسحاق ؟ میں نے کہا جی ہاں یارسول میں ہی ہوں۔ آپ نے فرمایا ہاں ہاں وہ دعا حضرت ذوالنون ؑ کی تھی جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی تھی یعنی (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) سنو جو بھی مسلمان جس کسی معاملے میں جب کبھی اپنے رب سے یہ دعا کرے اللہ تعالیٰ اسے ضرور قبول فرماتا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے جو بھی حضرت یونس ؑ اس دعا کے ساتھ دعا کرے اس کی دعا ضرور قبول کی جائے۔ ابو سعید فرماتے ہیں اسی آیت میں اس کے بعد ہی فرمان ہے ہم اسی طرح مؤمنوں کو نجات دیتے ہیں۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ کا وہ نام جس سے وہ پکارا جائے تو قبول فرمالے اور جو مانگا جائے وہ عطا فرمائے وہ حضرت یونس بن متع کی دعا میں ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں میں نے کہا یارسول اللہ وہ حضرت یونس کے لئے ہی خاص تھی یا تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے فرمایا ان کے لئے خاص اور تمام مسلمانوں کے لئے عام جو بھی یہ دعا کرے۔ کیا تو نے قرآن میں نہیں پڑھا کہ ہم نے اس کی دعا قبول فرمائی اسے غم سے چھڑایا اور اسی طرح ہم مومنوں کو چھڑاتے ہیں۔ پس جو بھی اس دعا کو کرے اس سے اللہ کا قبولیت کا وعدہ ہوچکا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کثیر بن سعید فرماتے ہیں میں نے امام حسن بصری ؒ سے پوچھا کہ ابو سعید اللہ کا وہ اسم اعظم کہ جب اس کے ساتھ اس سے دعا کی جائے اللہ تعالیٰ قبول فرمالے اور جب اس کے ساتھ اس سے سوال کیا جائے تو وہ عطا فرمائے کیا ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ برادرزادے کیا تم نے قرآن کریم میں اللہ کا یہ فرمان نہیں پڑھا ؟ پھر آپ نے یہی دو آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا بھتیجے یہی اللہ کا وہ اسم اعظم ہے کہ جب اس کے ساتھ دعا کی جائے وہ قبول فرماتا ہے اور جب اس کے ساتھ اس سے مانگا جائے وہ عطا فرماتا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الْقِصَّةُ مَذْكُورَةٌ هَاهُنَا وَفِي سُورَةِ "الصَّافَّاتِ" وَفِي سُورَةِ "ن" [[سورة الصافات الآيات: (١٣٩-١٤٨) ، وسورة نون (القلم) الآيات: (٤٨-٥٠) .]] وَذَلِكَ أَنَّ يُونُسَ بْنَ مَتَّى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ قَرْيَةِ "نِينَوَى"، وَهِيَ قَرْيَةٌ مِنْ أَرْضِ الْمَوْصِلِ، فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ، فَأَبَوْا عَلَيْهِ وَتَمَادَوْا عَلَى كُفْرِهِمْ، فَخَرَجَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ مُغَاضِبًا لَهُمْ، وَوَعَدَهُمْ بِالْعَذَابِ بَعْدَ ثَلَاثٍ. فَلَمَّا تَحَقَّقُوا مِنْهُ ذَلِكَ، وَعَلِمُوا أَنَّ النَّبِيَّ لَا يَكْذِبُ، خَرَجُوا إِلَى الصَّحْرَاءِ بِأَطْفَالِهِمْ وَأَنْعَامِهِمْ وَمَوَاشِيهِمْ، وَفَرَّقُوا بَيْنَ الْأُمَّهَاتِ وَأَوْلَادِهَا، ثُمَّ تَضَرَّعُوا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَجَأَرُوا [[في ت: "ولجؤوا".]] إِلَيْهِ، وَرَغَتِ الإبل وفُضْلانها، وَخَارَتِ الْبَقَرُ وَأَوْلَادُهَا، وَثَغَتِ الْغَنَمُ وحُمْلانها، فَرَفَعَ اللَّهُ عَنْهُمُ الْعَذَابَ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَلَوْلا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ [[في ت: "العذاب".]] الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ﴾ [يُونُسَ:٩٨] .
وَأَمَّا يُونُسُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّهُ ذَهَبَ فَرَكِبَ مَعَ قَوْمٍ فِي سَفِينَةٍ فَلَجَّجت بِهِمْ، وَخَافُوا أَنْ يَغْرَقُوا [[في ت، ف: "تغرق بهم".]] . فَاقْتَرَعُوا عَلَى رَجُلٍ يُلْقُونَهُ مِنْ بَيْنِهِمْ يَتَخَفَّفُونَ مِنْهُ، فَوَقَعَتِ الْقُرْعَةُ عَلَى يُونُسَ، فَأَبَوْا [[في ت: "فأتوا".]] أَنْ يُلْقُوهُ، ثُمَّ أَعَادُوا الْقُرْعَةَ فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ أَيْضًا، فَأَبَوْا، ثُمَّ أَعَادُوهَا فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ أَيْضًا، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ﴾ [الصَّافَّاتِ:١٤١] ، أَيْ: وَقَعَتْ عَلَيْهِ الْقُرْعَةُ [[في ف: "فوقعت القرعة عليه".]] ، فَقَامَ يُونُسُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَتَجَرَّدَ مِنْ ثِيَابِهِ، ثُمَّ أَلْقَى نَفْسَهُ فِي الْبَحْرِ، وَقَدْ أَرْسَلَ اللَّهُ، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى، مِنَ الْبَحْرِ الْأَخْضَرِ -فِيمَا قَالَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ-حُوتًا يَشُقُّ الْبِحَارَ، حَتَّى جَاءَ فَالْتَقَمَ يُونُسَ حِينَ أَلْقَى نَفْسَهُ مِنَ السَّفِينَةِ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى ذَلِكَ الْحُوتِ أَلَّا تَأْكُلَ لَهُ لَحْمًا، وَلَا تُهَشِّمَ لَهُ عَظْمًا؛ فَإِنَّ يُونُسَ لَيْسَ لَكَ رِزْقًا، وَإِنَّمَا بَطْنُكَ لَهُ يَكُونُ سِجْنًا.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَذَا النُّونِ﴾ يَعْنِي: الْحُوتَ، صَحَّتِ الْإِضَافَةُ إِلَيْهِ بِهَذِهِ النِّسْبَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا﴾ : قَالَ الضَّحَّاكُ: لِقَوْمِهِ، ﴿فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ﴾ [أَيْ: نُضَيِّقَ عَلَيْهِ فِي بَطْنِ الْحُوتِ. يُروَى نَحْوُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَالضَّحَّاكِ، وَغَيْرِهِمْ، وَاخْتَارَهُ [[في ت: "واختارهم".]] ابْنُ جَرِيرٍ، وَاسْتَشْهَدَ عَلَيْهِ بِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا مَا آتَاهَا سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا﴾ [الطَّلَاقِ:٧] .
وَقَالَ عَطِيَّةُ العَوفي: ﴿فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ﴾ [[زيادة من ت، ف، أ.]] ، أَيْ: نَقْضِيَ عَلَيْهِ، كَأَنَّهُ جَعَلَ ذَلِكَ بِمَعْنَى التَّقْدِيرِ، فَإِنَّ الْعَرَبَ تَقُولُ: قدَر وقَدّر بِمَعْنَى وَاحِدٍ، وَقَالَ الشاعر: فَلا عَائد ذَاكَ الزّمَانُ الَّذِي مَضَى ... تَبَارَكْتَ مَا تَقْدرْ يَكُنْ، فَلَكَ الأمْرُ ...
وَمِنْهُ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ﴾ [الْقَمَرِ: ١٢] ، أَيْ: قُدِّرَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: ظُلْمَةُ بَطْنِ الْحُوتِ، وَظُلْمَةُ الْبَحْرِ، وَظُلْمَةُ اللَّيْلِ. وَكَذَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[في ف: "ابن مسعود".]] ، وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَير، وَمُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، وَالضَّحَّاكِ، وَالْحَسَنِ، وَقَتَادَةَ.
وَقَالَ سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ: ظلمةُ حُوت فِي بَطْنِ حُوتٍ [[في ف، أ: "حوت آخر".]] ، فِي ظُلْمَةِ الْبَحْرِ.
قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ، وابنُ عَبَّاسٍ وَغَيْرُهُمَا: وَذَلِكَ أَنَّهُ ذَهَبَ بِهِ الحوتُ فِي الْبِحَارِ يَشُقُّها، حَتَّى انْتَهَى بِهِ إِلَى قَرَارِ الْبَحْرِ، فَسَمِعَ [[في ت، أ: "حتى يسمع"، وفي ف: "حتى سمع".]] يونسُ تَسْبِيحَ الْحَصَى فِي قَرَارِهِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ وهنالكَ قَالَ: ﴿لَا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ﴾
وَقَالَ عَوْفٌ: لَمَّا صَارَ يُونُسُ فِي بَطْنِ الْحُوتِ، ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، ثُمَّ حَرَّكَ رِجْلَيْهِ فَلَمَّا تَحَرَّكَتْ سَجَدَ مَكَانَهُ، ثُمَّ نَادَى: يَا رَبِّ [[في ت: "رب الحوت".]] ، اتَّخَذْتُ لَكَ مَسْجِدًا [[في ت: "مسجد".]] فِي مَوْضِعٍ مَا اتَّخَذَهُ [[في ف، أ: "ما أخده".]] أَحَدٌ.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ الْبَصْرِيُّ: مَكَثَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا. رَوَاهُمَا [[في ت: "رواها".]] ابْنُ جُبَيْرٍ.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بن إسحاق بن يَسَار، عمن حدثه، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ -مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ-سمعتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لَمَّا أَرَادَ اللَّهُ حَبْسَ يُونُسَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ، أَوْحَى اللَّهُ إِلَى الْحُوتِ أَنْ خُذْهُ، وَلَا تَخْدِشْ لَحْمًا وَلَا تَكْسِرْ عَظْمًا، فَلَمَّا انْتَهَى بِهِ إِلَى أَسْفَلِ الْبَحْرِ، سَمِعَ يُونُسُ حِسًّا، فَقَالَ فِي نَفْسِهِ: مَا هَذَا؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ، وَهُوَ فِي بَطْنِ [[في ف: "وهو ببطن".]] الْحُوتِ: إِنَّ هَذَا تَسْبِيحُ دَوَابِّ الْبَحْرِ. قَالَ: فَسَبَّح وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ، فَسَمِعَ [[في ف، أ: "فسمعت".]] الْمَلَائِكَةُ تَسْبِيحَهُ فَقَالُوا: يَا رَبَّنَا، إِنَّا نَسْمَعُ صَوْتًا ضَعِيفًا [بِأَرْضٍ غَرِيبَةٍ] [[زيادة من ف، أ.]] قَالَ: ذَلِكَ عَبْدِي يُونُسُ، عَصَانِي فَحَبَسْتُهُ فِي بَطْنِ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ. قَالُوا: الْعَبْدُ الصَّالِحُ الَّذِي كَانَ يَصْعَدُ إِلَيْكَ مِنْهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ عملٌ صَالِحٌ؟. قَالَ: نَعَمْ". قَالَ: "فَشَفَعُوا لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ، فَأَمَرَ الْحُوتَ فَقَذَفَهُ فِي السَّاحِلِ، كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: [[في ت: "الله تعالى".]] ﴿وَهُوَ سَقِيمٌ﴾ [الصَّافَّاتِ: ١٤٥] .
وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ [[تفسير الطبري (١٧/٦٥) .]] ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ فِي مُسْنَدِهِ، مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، ثُمَّ قَالَ: لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ ﷺ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ [[مسند البزار برقم (٢٢٥٤) "كشف الأستار".]] ، وَرَوَى ابْنُ عَبْدِ الْحَقِّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلمَة [[في ت، ف: "مسلم".]] ، عَنْ عَلِيٍّ مَرْفُوعًا: لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ: " أَنَا [[في ف: "أنا عند الله خير".]] خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى"؛ سَبَّحَ لِلَّهِ فِي الظُّلُمَاتِ [[كذا (ابن عبد الحق) ، وأظنه تحريف عن عبد بن حميد، إلا أني لا أجزم بذلك، وقد ذكره الهندي في كنز العمال (١٢/٤٧٦) وعزاه لابن أبي شيبة وعبد بن حميد وابن مردويه وابن عساكر في تاريخه.]] .
وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ بِدُونِ هَذِهِ الزِّيَادَةِ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَسَيَأْتِي أَسَانِيدُهَا فِي سُورَةِ "ن" [[كذا قال الحافظ ابن كثير، وإنما ذكره هناك من حديث ابن مسعود وأبي هريرة رضي الله عنهما.
فأما حديث ابن عباس: فرواه البخاري في صحيحه برقم (٣٣٩٥) ومسلم في صحيحه برقم (٢٣٧٧) .
وأما حديث عبد الله بن جعفر: فرواه أبو داود في السنن برقم (٤٦٧٠) .]] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بن عبد الرحمن بن أَخِي ابْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي: حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ: أَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيَّ حَدَّثَهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ -وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّ أَنْسًا يَرْفَعُ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ-أَنَّ يُونُسَ النَّبِيَّ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، حِينَ بَدَا لَهُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَذِهِ الْكَلَمَّاتِ وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ، قَالَ: "اللَّهُمَّ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ، إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ". فَأَقْبَلَتْ هَذِهِ الدَّعْوَةُ تَحُفُّ بِالْعَرْشِ [[في ت: "نحو العرش" وفي ف: "تحت العرش".]] ، فَقَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبِّ، صَوْتٌ ضَعِيفٌ مَعْرُوفٌ مِنْ بِلَادٍ غَرِيبَةٍ؟ فَقَالَ: أَمَا تَعْرِفُونَ ذَاكَ [[في ف: "ذلك".]] ؟ قَالُوا: لَا يَا رَبِّ [[في ت، ف: "يا ربنا".]] ، وَمَنْ هُوَ؟ قَالَ: عَبْدِي يُونُسُ. قَالُوا: عَبْدُكَ يُونُسُ الَّذِي لَمْ يَزَلْ يُرفَع لَهُ عَمَلٌ مُتَقَبَّلٌ [[في ت، ف: "متقبلا".]] ، وَدَعْوَةٌ مُجَابَةٌ؟. [قَالَ: نَعَمْ] [[زيادة من ف، أ.]] . قَالُوا: يَا رَبِّ، أَوَلا [[في ت، ف، أ: "أفلا".]] تَرْحَمُ مَا كَانَ يَصْنَعُ [[في ت، ف: "يصنعه".]] فِي الرَّخَاءِ فتنجيَه مِنَ الْبَلَاءِ؟ قَالَ: بَلَى. فَأَمَرَ الْحُوتَ فَطَرَحَهُ فِي الْعَرَاءِ [[ورواه ابن أبي الدنيات في الفرج بعد الشدة برقم (٣٢) من طريق أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وهب به.]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ﴾ أَيْ: أَخْرَجْنَاهُ مِنْ بَطْنِ الْحُوتِ، وَتِلْكَ الظُّلُمَاتِ، ﴿وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ﴾ أَيْ: إِذَا كَانُوا فِي الشَّدَائِدِ ودَعَونا مُنِيبِينَ إِلَيْنَا، وَلَا سِيَّمَا إِذَا دَعَوْا بِهَذَا الدُّعَاءِ فِي حَالِ الْبَلَاءِ، فَقَدْ جَاءَ التَّرْغِيبُ فِي الدُّعَاءِ بِهَا عَنْ سَيِّدِ الْأَنْبِيَاءِ، قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ:
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَر، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، حدثنا إبراهيم بن محمد [[في ت: "محمد بن إبراهيم".]] ابن سَعْدٍ، حَدَّثَنِي وَالِدِي مُحَمَّدٌ عَنِ أَبِيهِ سَعْدٍ، -وَهُوَ ابْنُ أَبِي وَقَّاصٍ -قَالَ: مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي الْمَسْجِدِ، فسلمت عليه، فملأ عينيه مني ثم لم يَردُدْ عَلَيَّ السَّلَامَ، فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، هَلْ حَدَثَ فِي الْإِسْلَامِ شَيْءٌ؟ مَرَّتَيْنِ، قَالَ: لَا وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: لَا إِلَّا أَنِّي مررتُ بِعُثْمَانَ [[في ف، أ: "بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ".]] آنِفًا فِي الْمَسْجِدِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَمَلَأَ عَيْنَيْهِ مِنِّي، ثُمَّ لَمْ يَرْدُد [[فِي ت: "يرد".]] عَلَيَّ السَّلَامَ. قَالَ: فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى عُثْمَانَ فَدَعَاهُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ ألا تكون رَدَدت على أخيك السَّلَامَ؟ قَالَ: مَا فعلتُ. قَالَ سَعْدٌ: قلتُ: بَلَى [[في ف: "ويلي".]] حَتَّى حلفَ وَحَلَفْتُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ ذكرَ فَقَالَ: بَلَى، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، إِنَّكَ مَرَرْتَ بِي آنِفًا وَأَنَا أُحَدِّثُ نَفْسِي بِكَلِمَةٍ سمعتُها مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ لَا وَاللَّهِ مَا ذَكَرْتُهَا قَطُّ إِلَّا تَغْشَى بَصَرِي وَقَلْبِي غشَاوة. قَالَ سَعْدٌ: فَأَنَا أُنَبِّئُكَ بِهَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ ذَكَرَ لَنَا [أَوَّلَ دَعْوَةٍ] [[زيادة من ف، أ، والمسند.]] ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَشَغَلَهُ، حَتَّى قَام رسولُ اللَّهِ ﷺ فَاتَّبَعْتُهُ، فَلَمَّا أَشْفَقْتُ أَنْ يَسْبِقَنِي إِلَى مَنْزِلِهِ ضَرَبْتُ بِقَدَمِي الْأَرْضَ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ رسولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: "مَنْ هَذَا؟ أَبُو إِسْحَاقَ؟ " قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "فَمَهْ؟ " قُلْتُ: لَا وَاللَّهِ، إِلَّا إِنَّكَ ذكرتَ لَنَا أَوَّلَ دَعْوَةٍ، ثُمَّ جَاءَ هَذَا الْأَعْرَابِيُّ فَشَغَلَكَ. قَالَ: "نَعَمْ، دعوةُ ذِي النُّونِ، إِذْ هُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ: ﴿لَا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا مُسْلِمٌ رَبَّهُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ لَهُ".
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ فِي "الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ"، مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ [[في ت: "ابن سعيد".]] ، بِهِ [[المسند (١/١٧٠) وسنن الترمذي برقم (٣٥٠٥) وسنن النسائي الكبرى برقم (١٠٤٩٢) .]] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ كَثِير بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ -قَالَ أَبُو خَالِدٍ: أَحْسَبُهُ عَنْ مُصْعَبٍ، يَعْنِي: ابْنَ سَعْدٍ -عَنْ سَعْدٍ [[في ت: "عن سعيد".]] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "من دَعَا بِدُعَاءِ يُونُسَ، استُجِيب [[في ت: "استجبت".]] لَهُ". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: يُرِيدُ بِهِ ﴿وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ﴾ [[ورواه الحاكم في المستدرك (٢/٥٨٤) من طريق يحيى بن عبد الحميد، وابن عدي في الكامل (٦/٦٨) من طريق أبي هشام الرفاعي كلاهما عن أبي خالد الأحمر به.]] .
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ بَكَّار الكَلاعي، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي بِشْر بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي وَقَّاصٍ-يَقُولُ: سَمِعْتُ رسولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "اسْمُ اللَّهِ الَّذِي إِذَا دُعي بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِل بِهِ أَعْطَى، دعوةُ يُونُسَ بْنِ مَتَّى". قَالَ: قُلْتُ [[في ت، ف: "فقلت".]] : يَا رَسُولَ اللَّهِ، هِيَ لِيُونُسَ خَاصَّةً أَمْ لِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: هِيَ لِيُونُسَ بْنِ مَتَّى خَاصَّةً وَلِلْمُؤْمِنِينَ عَامَّةً، إِذَا دَعَوْا بِهَا، أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿: فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ. فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ﴾ . فَهُوَ شَرْطٌ مِنَ اللَّهِ لِمَنْ دَعَاهُ بِهِ" [[تفسير الطبري (١٧/٦٥) .]] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيج، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ المُحَبَّر بْنِ قَحْذَم الْمَقْدِسِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ، قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى؟ قَالَ: ابنَ أَخِي، أَمَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَوْلَ اللَّهِ: ﴿وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا﴾
إِلَى قَوْلِهِ: ﴿الْمُؤْمِنِينَ﴾ ، ابْنَ أَخِي، هَذَا اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ، الَّذِي إِذَا دُعي بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى.
وَزَكَرِيَّآ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُۥ رَبِّ لَا تَذَرْنِى فَرْدًۭا وَأَنتَ خَيْرُ ٱلْوَٰرِثِينَ
And [mention] Zechariah, when he called to his Lord, "My Lord, do not leave me alone [with no heir], while you are the best of inheritors."
اور زکریا (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے
و زکریا را (به یاد آور) در آن هنگام که پروردگارش را خواند (و عرض کرد): «پروردگار من! مرا تنها مگذار (و فرزند برومندی به من عطا کن)؛ و تو بهترین وارثانی!»
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Zakariyya, when he cried to his Lord: "O My Lord! Leave me not single (childless), though You are the Best of the inheritors. (89)So We answered his call, and We bestowed upon him Yahya, and cured his wife for him. Verily, they used to hasten on to do good deeds, and they used to call on Us with hope and fear, and they were Khashi'in before Us (90)
Zakariyya and Yahya
Allah tells us of His servant Zakariyya, who asked Allah to grant him a son who would be a Prophet after him. The story has already been given in detail at the beginning of Surah Maryam and also in Surah 'Imran. Here an abbreviated version is given.
إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ
(when he cried to his Lord) means, in secret, hiding it from his people.
رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا
(O My Lord! Leave me not single,) means, with no child and no heir to stand among the people after me.
وَأَنتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ
(though You are the Best of the inheritors.) This is a supplication and form of praise befitting the topic. Allah says:
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ يَحْيَىٰ وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ
(So We answered his call, and We bestowed upon him Yahya, and cured his wife for him.) Ibn 'Abbas, Mujahid and Sa'id bin Jubayr said: "She was barren and never had a child, then she gave birth."
إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ
(Verily, they used to hasten on to do good deeds,) means, acts of worship and acts of obedience towards Allah.
وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا
(and they used to call on Us with hope and fear,) Ath-Thawri said, "Hoping for that (reward) which is with Us and fearing that (punishment) which is with Us."
وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ
(and they were Khashi'in before Us.) 'Ali bin Abi Talhah reported from Ibn 'Abbas that this means, sincerely believing in that which was revealed by Allah. Mujahid said: "Truly believing." Abu Al-'Aliyah said: "Fearing." Abu Sinan said: "Khushu' means the fear which should never leave our hearts." It was also reported from Mujahid that the Khashi'in are those who are humble." Al-Hasan, Qatadah and Ad-Dahhak said, "The Khashi'in are those who humble themselves before Allah." All of these suggestions are close in meaning.
Tafsir Ibn Kathir
دعا اور بڑھاپے میں اولاد اللہ تعالیٰ حضرت زکریا ؑ کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ انہوں نے دعا کی کہ مجھے اولاد ہو جو میرے بعد نبی بنے۔ سورة مریم میں اور سورة آلٰ عمران میں یہ واقعہ تفصیل سے ہے آپ نے یہ دعا چھپا کر کی تھی۔ مجھے تنہانہ چھوڑ یعنی بےاولاد۔ دعا کے بعد اللہ تعالیٰ کی ثنا کی جیسے کہ اس دعا کے لائق تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی۔ اور آپ کی بیوی صاحبہ کو جنہیں بڑھاپے تک کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اولاد کے قابل بنادیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں ان کی طول زبانیں بند کردی۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کے اخلاق کی کمی پوری کردی۔ لیکن الفاظ قرآن کے قریب پہلا معنی ہی ہے۔ یہ سب بزرگ نیکیوں کی طرف اللہ کی فرمانبرداری کی طرف بھاگ دوڑ کرنے والے تھے۔ اور لالچ اور ڈر سے اللہ سے دعائیں کرنے والے تھے اور سچے مومن رب کی باتیں ماننے والے اللہ کا خوف رکھنے والے تواضع انکساری اور عاجزی کرنے والے اللہ کے سامنے اپنی فروتنی ظاہر کرنے والے تھے۔ مروی ہے کہ حضرت صدیق ؓ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی اور اس کی پوری ثنا وصفت بیان کرتے رہنے کی اور لالچ اور خوف سے دعائیں مانگنے کی اور دعاؤں میں خشوع وخضوع کرنے کی وصیت کرتا ہوں دیکھو اللہ عزوجل نے حضرت زکریا ؑ کے گھرانے کی یہی فضیلت بیان فرمائی ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ عَبْدِهِ زَكَرِيَّا، حِينَ طَلَبَ أَنْ يَهبَه اللَّهُ وَلَدًا، يَكُونُ مِنْ بَعْدِهِ نَبِيًّا. وَقَدْ تَقَدَّمَتِ الْقِصَّةُ مَبْسُوطَةً فِي أَوَّلِ سُورَةِ "مَرْيَمَ" وَفِي سُورَةِ "آلِ عِمْرَانَ" أَيْضًا، وَهَاهُنَا أَخْصَرُ مِنْهُمَا؛ ﴿إِذْ نَادَى رَبَّهُ﴾ أَيْ: خُفْيَةً عَنْ قَوْمِهِ: ﴿رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا﴾ أَيْ: لَا ولدَ لِي وَلَا وارثَ يَقُومُ بَعْدِي فِي النَّاسِ، ﴿وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ﴾ دُعَاءٌ وَثَنَاءٌ مُنَاسِبٌ لِلْمَسْأَلَةِ.
قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ يَحْيَى وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ﴾ أَيِ: امْرَأَتَهُ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: كَانَتْ عَاقِرًا لَا تَلِدُ، فَوَلَدَتْ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ [[في ت: "ابن منبه".]] ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ: كَانَ فِي لِسَانِهَا طُولٌ فَأَصْلَحَهَا اللَّهُ. وَفِي رِوَايَةٍ: كَانَ فِي خَلْقها شَيْءٌ فَأَصْلَحَهَا اللَّهُ. وَهَكَذَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ، وَالسُّدِّيُّ. وَالْأَظْهَرُ مِنَ السِّيَاقِ الْأَوَّلُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ﴾ أَيْ: فِي عَمَلِ القُرُبات وَفِعْلِ الطَّاعَاتِ، ﴿وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا﴾ قَالَ الثَّوْرِيُّ: ﴿رَغَبًا﴾ فِيمَا عِنْدَنَا، ﴿وَرَهَبًا﴾ مِمَّا عِنْدَنَا، ﴿وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ﴾ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَيْ مُصَدِّقِينَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: مُؤْمِنِينَ حَقًّا. وَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ: خَائِفِينَ. وَقَالَ أَبُو سِنَان: الْخُشُوعُ هُوَ الْخَوْفُ اللَّازِمُ لِلْقَلْبِ، لَا يُفَارِقُهُ أَبَدًا. وَعَنْ مُجَاهِدٍ أَيْضًا ﴿خَاشِعِينَ﴾ أَيْ: مُتَوَاضِعِينَ. وَقَالَ الْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، وَالضَّحَّاكُ: ﴿خَاشِعِينَ﴾ أَيْ: مُتَذَلِّلِينَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَكُلُّ هَذِهِ الْأَقْوَالِ مُتَقَارِبَةٌ. وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسيّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ [[في ت، ف: "عن".]] عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ: خَطَبَنَا أَبُو بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وتُثنُوا عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ، وَتَخْلِطُوا الرَّغْبَةَ بِالرَّهْبَةِ، وَتَجْمَعُوا الْإِلْحَافَ بِالْمَسْأَلَةِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَثْنَى عَلَى زَكَرِيَّا وَأَهْلِ بَيْتِهِ، فَقَالَ: ﴿إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ﴾ .
فَٱسْتَجَبْنَا لَهُۥ وَوَهَبْنَا لَهُۥ يَحْيَىٰ وَأَصْلَحْنَا لَهُۥ زَوْجَهُۥٓ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ يُسَٰرِعُونَ فِى ٱلْخَيْرَٰتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًۭا وَرَهَبًۭا ۖ وَكَانُوا۟ لَنَا خَٰشِعِينَ
So We responded to him, and We gave to him John, and amended for him his wife. Indeed, they used to hasten to good deeds and supplicate Us in hope and fear, and they were to Us humbly submissive.
تو ہم نے ان کی پکار سن لی۔ اور ان کو یحییٰ بخشے اور ان کی بیوی کو اُن کے (حسن معاشرت کے) قابل بنادیا۔ یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے اور ہمیں امید سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے
ما هم دعای او را پذیرفتیم، و یحیی را به او بخشیدیم؛ و همسرش را (که نازا بود) برایش آماده (بارداری) کردیم؛ چرا که آنان (خاندانی بودند که) همواره در کارهای خیر بسرعت اقدام میکردند؛ و در حال بیم و امید ما را میخواندند؛ و پیوسته برای ما (خاضع و) خاشع بودند.
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) Zakariyya, when he cried to his Lord: "O My Lord! Leave me not single (childless), though You are the Best of the inheritors. (89)So We answered his call, and We bestowed upon him Yahya, and cured his wife for him. Verily, they used to hasten on to do good deeds, and they used to call on Us with hope and fear, and they were Khashi'in before Us (90)
Zakariyya and Yahya
Allah tells us of His servant Zakariyya, who asked Allah to grant him a son who would be a Prophet after him. The story has already been given in detail at the beginning of Surah Maryam and also in Surah 'Imran. Here an abbreviated version is given.
إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ
(when he cried to his Lord) means, in secret, hiding it from his people.
رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا
(O My Lord! Leave me not single,) means, with no child and no heir to stand among the people after me.
وَأَنتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ
(though You are the Best of the inheritors.) This is a supplication and form of praise befitting the topic. Allah says:
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ يَحْيَىٰ وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ
(So We answered his call, and We bestowed upon him Yahya, and cured his wife for him.) Ibn 'Abbas, Mujahid and Sa'id bin Jubayr said: "She was barren and never had a child, then she gave birth."
إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ
(Verily, they used to hasten on to do good deeds,) means, acts of worship and acts of obedience towards Allah.
وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا
(and they used to call on Us with hope and fear,) Ath-Thawri said, "Hoping for that (reward) which is with Us and fearing that (punishment) which is with Us."
وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ
(and they were Khashi'in before Us.) 'Ali bin Abi Talhah reported from Ibn 'Abbas that this means, sincerely believing in that which was revealed by Allah. Mujahid said: "Truly believing." Abu Al-'Aliyah said: "Fearing." Abu Sinan said: "Khushu' means the fear which should never leave our hearts." It was also reported from Mujahid that the Khashi'in are those who are humble." Al-Hasan, Qatadah and Ad-Dahhak said, "The Khashi'in are those who humble themselves before Allah." All of these suggestions are close in meaning.
Tafsir Ibn Kathir
دعا اور بڑھاپے میں اولاد اللہ تعالیٰ حضرت زکریا ؑ کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ انہوں نے دعا کی کہ مجھے اولاد ہو جو میرے بعد نبی بنے۔ سورة مریم میں اور سورة آلٰ عمران میں یہ واقعہ تفصیل سے ہے آپ نے یہ دعا چھپا کر کی تھی۔ مجھے تنہانہ چھوڑ یعنی بےاولاد۔ دعا کے بعد اللہ تعالیٰ کی ثنا کی جیسے کہ اس دعا کے لائق تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی۔ اور آپ کی بیوی صاحبہ کو جنہیں بڑھاپے تک کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اولاد کے قابل بنادیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں ان کی طول زبانیں بند کردی۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کے اخلاق کی کمی پوری کردی۔ لیکن الفاظ قرآن کے قریب پہلا معنی ہی ہے۔ یہ سب بزرگ نیکیوں کی طرف اللہ کی فرمانبرداری کی طرف بھاگ دوڑ کرنے والے تھے۔ اور لالچ اور ڈر سے اللہ سے دعائیں کرنے والے تھے اور سچے مومن رب کی باتیں ماننے والے اللہ کا خوف رکھنے والے تواضع انکساری اور عاجزی کرنے والے اللہ کے سامنے اپنی فروتنی ظاہر کرنے والے تھے۔ مروی ہے کہ حضرت صدیق ؓ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی اور اس کی پوری ثنا وصفت بیان کرتے رہنے کی اور لالچ اور خوف سے دعائیں مانگنے کی اور دعاؤں میں خشوع وخضوع کرنے کی وصیت کرتا ہوں دیکھو اللہ عزوجل نے حضرت زکریا ؑ کے گھرانے کی یہی فضیلت بیان فرمائی ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ عَبْدِهِ زَكَرِيَّا، حِينَ طَلَبَ أَنْ يَهبَه اللَّهُ وَلَدًا، يَكُونُ مِنْ بَعْدِهِ نَبِيًّا. وَقَدْ تَقَدَّمَتِ الْقِصَّةُ مَبْسُوطَةً فِي أَوَّلِ سُورَةِ "مَرْيَمَ" وَفِي سُورَةِ "آلِ عِمْرَانَ" أَيْضًا، وَهَاهُنَا أَخْصَرُ مِنْهُمَا؛ ﴿إِذْ نَادَى رَبَّهُ﴾ أَيْ: خُفْيَةً عَنْ قَوْمِهِ: ﴿رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا﴾ أَيْ: لَا ولدَ لِي وَلَا وارثَ يَقُومُ بَعْدِي فِي النَّاسِ، ﴿وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ﴾ دُعَاءٌ وَثَنَاءٌ مُنَاسِبٌ لِلْمَسْأَلَةِ.
قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ يَحْيَى وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ﴾ أَيِ: امْرَأَتَهُ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: كَانَتْ عَاقِرًا لَا تَلِدُ، فَوَلَدَتْ.
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ [[في ت: "ابن منبه".]] ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ: كَانَ فِي لِسَانِهَا طُولٌ فَأَصْلَحَهَا اللَّهُ. وَفِي رِوَايَةٍ: كَانَ فِي خَلْقها شَيْءٌ فَأَصْلَحَهَا اللَّهُ. وَهَكَذَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ، وَالسُّدِّيُّ. وَالْأَظْهَرُ مِنَ السِّيَاقِ الْأَوَّلُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ﴾ أَيْ: فِي عَمَلِ القُرُبات وَفِعْلِ الطَّاعَاتِ، ﴿وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا﴾ قَالَ الثَّوْرِيُّ: ﴿رَغَبًا﴾ فِيمَا عِنْدَنَا، ﴿وَرَهَبًا﴾ مِمَّا عِنْدَنَا، ﴿وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ﴾ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَيْ مُصَدِّقِينَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: مُؤْمِنِينَ حَقًّا. وَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ: خَائِفِينَ. وَقَالَ أَبُو سِنَان: الْخُشُوعُ هُوَ الْخَوْفُ اللَّازِمُ لِلْقَلْبِ، لَا يُفَارِقُهُ أَبَدًا. وَعَنْ مُجَاهِدٍ أَيْضًا ﴿خَاشِعِينَ﴾ أَيْ: مُتَوَاضِعِينَ. وَقَالَ الْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، وَالضَّحَّاكُ: ﴿خَاشِعِينَ﴾ أَيْ: مُتَذَلِّلِينَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَكُلُّ هَذِهِ الْأَقْوَالِ مُتَقَارِبَةٌ. وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسيّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ [[في ت، ف: "عن".]] عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ: خَطَبَنَا أَبُو بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وتُثنُوا عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ، وَتَخْلِطُوا الرَّغْبَةَ بِالرَّهْبَةِ، وَتَجْمَعُوا الْإِلْحَافَ بِالْمَسْأَلَةِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَثْنَى عَلَى زَكَرِيَّا وَأَهْلِ بَيْتِهِ، فَقَالَ: ﴿إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ﴾ .
وَٱلَّتِىٓ أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلْنَٰهَا وَٱبْنَهَآ ءَايَةًۭ لِّلْعَٰلَمِينَ
And [mention] the one who guarded her chastity, so We blew into her [garment] through Our angel [Gabriel], and We made her and her son a sign for the worlds.
اور ان (مریم) کو (بھی یاد کرو) جنہوں نے اپنی عفّت کو محفوظ رکھا۔ تو ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ان کے بیٹے کو اہل عالم کے لئے نشانی بنا دیا
و به یاد آور زنی را که دامان خود را پاک نگه داشت؛ و ما از روح خود در او دمیدیم؛ و او و فرزندش [= مسیح] را نشانه بزرگی برای جهانیان قرار دادیم!
Tafsir Ibn Kathir
And she who guarded her chastity, We breathed into her through Our Ruh, and We made her and her son a sign for nations (91)
Isa and Maryam the True Believer
Here Allah mentions the story of Maryam and her son 'Isa, just after mentioning Zakariyya and his son Yahya, may peace be upon them all. He mentions the story of Zakariyya first, followed by the story of Maryam because the one is connected to the other. The former is the story of a child being born to an old man of advanced years, from an old woman who had been barren and had never given birth when she was younger. Then Allah mentions the story of Maryam which is even more wondrous, for in this case a child was born from a female without (the involvement of) a male. These stories also appear in Surah Āl-'Imrān and in Surah Maryam. Here Allah mentions the story of Zakariyya and follows it with the story of Maryam, where He says:
وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا
(And she who guarded her chastity,) means, Maryam (peace be upon her). This is like the Ayah in Surah At-Tahrim:
وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا
(And Maryam, the daughter of 'Imran who guarded her chastity. And We breathed into it [her garment] through Our Ruh)(66:12).
وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَا آيَةً لِّلْعَالَمِينَ
(and We made her and her son a sign for the nations.) means, evidence that Allah is able to do all things and that He creates whatever He wills; verily, His command, when He intends a thing, is only that He says to it, "Be" – and it is! This is like the Ayah:
وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِّلنَّاسِ
(And (We wish) to appoint him as a sign to mankind)(19:21)
Tafsir Ibn Kathir
بلا شوہر اولاد حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے۔ قرآن میں کریم میں عموما حضرت زکریا ؑ اور حضرت یحییٰ ؑ کے قصے کے ساتھ ہی ان کا قصہ بیان ہوتا رہا ہے۔ اس لئے کہ ان لوگوں میں پورا رابط ہے۔ حضرت زکریا ؑ پورے بڑھاپے کے عالم میں آپ کی بیوی صاحبہ جوانی سے گزری ہوئی اور پوری عمر کی بےاولاد ان کے ہاں اولاد عطا فرمائی۔ اس قدرت کو دکھا کر پھر محض عورت بغیر شوہر کے اولاد کا عطا فرمانا یہ اور قدرت کا کمال ظاہر کرتا ہے۔ سورة آل عمران اور سورة مریم میں بھی یہی ترتیب ہے مراد عصمت والی عورت سے حضرت مریم ہیں جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِيْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهٖ وَكَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِيْنَ 12ۧ) 66۔ التحریم :12) یعنی عمران کی لڑکی مریم جو پاک دامن تھیں انہیں اور ان کے لڑکے اور حضرت عیسیٰ ؑ کو اپنی بےنظیر قدرت کا نشان بنایا کہ مخلوق کو اللہ کی ہر طرح کی قدرت اور اس کے پیدائش وسیع اختیارات اور صرف اپنا ارادے سے چیزوں کا بنانا معلوم ہوجائے۔ عیسیٰ ؑ اللہ کی قدرت کی ایک علامت تھے جنات کے لئے بھی اور انسانوں کے لئے بھی
Tafsir Ibn Kathir
هَكَذَا قَرَن تَعَالَى [[في ت: "يقرن الله تعالى" وفي ف، أ: "يقرن تعالى".]] قِصَّةَ مَرْيَمَ وَابْنِهَا عِيسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِقِصَّةِ زَكَرِيَّا وَابْنِهِ يَحْيَى، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، فَيَذْكُرُ أَوَّلًا قِصَّةَ زَكَرِيَّا، ثُمَّ يُتْبِعُهَا بِقِصَّةِ مَرْيَمَ؛ لِأَنَّ تِلْكَ مُوَطّئة لِهَذِهِ، فَإِنَّهَا إِيجَادُ وَلَدٍ مِنْ شَيْخٍ كَبِيرٍ قَدْ طَعَن فِي السِّنِّ، وَمِنَ امْرَأَةٍ عَجُوزٍ عَاقِرٍ لَمْ تَكُنْ تَلِدُ فِي حَالِ شَبَابِهَا، ثُمَّ يَذْكُرُ قِصَّةَ مَرْيَمَ وَهِيَ أَعْجَبُ، فَإِنَّهَا إِيجَادُ وَلَدٍ مِنْ أُنْثَى بِلَا ذَكَرٍ. هَكَذَا وَقَعَ فِي سُورَةِ "آلِ عِمْرَانَ"، وَفِي سُورَةِ "مَرْيَمَ"، وَهَاهُنَا ذَكَرَ قِصَّةَ زَكَرِيَّا، ثُمَّ أَتْبَعَهَا بِقِصَّةِ مَرْيَمَ، فَقَوْلُهُ: ﴿وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا﴾ يَعْنِي: مَرْيَمَ، عَلَيْهَا السَّلَامُ، كَمَا قَالَ فِي سُورَةِ التَّحْرِيمِ: ﴿وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ رُوحِنَا﴾ [التَّحْرِيمِ:١٢] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَا آيَةً لِلْعَالَمِينَ﴾ أَيْ: دَلَالَةً عَلَى أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ، وَ ﴿إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ﴾ [يس:٨٢] . وَهَذَا كَقَوْلِهِ: ﴿وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ﴾ [مَرْيَمَ:٢١] .
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَمْرو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مُخَلَّد [[في ف: "عن مجلز".]] عَنْ شَبِيب [[في ت، ف، أ: "شعيب".]] -يَعْنِي ابْنَ بِشْرٍ [[في ف: "بشير".]] -عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: ﴿لِلْعَالَمِينَ﴾ قَالَ: الْعَالَمِينَ: الْجِنُّ وَالْأَنْسُ.
إِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمْ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ وَأَنَا۠ رَبُّكُمْ فَٱعْبُدُونِ
Indeed this, your religion, is one religion, and I am your Lord, so worship Me.
یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو
این (پیامبران بزرگ و پیروانشان) همه امّت واحدی بودند (و پیرو یک هدف)؛ و من پروردگار شما هستم؛ پس مرا پرستش کنید!
Tafsir Ibn Kathir
Truly, this, your Ummah is one, and I am your Lord, therefore worship Me (92)But they have broken up and differed in their religion among themselves. (And) they all shall return to Us (93)So whoever does righteous good deeds while he is a believer, his efforts will not be rejected. Verily, We record it for him (in his Book of deeds)(94)
Mankind is One Ummah
إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً
(Truly, this, your Ummah is one,) Ibn 'Abbas, Mujahid, Sa'id bin Jubayr, Qatadah and 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "Your religion is one religion." Al-Hasan Al-Basri said: "In this Ayah, Allah explains to them what they should avoid and what they should do." Then He said:
إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً
(Truly, this, your Ummah is one religion,) "Meaning, your path is one path. Certainly this is your Shari'ah (Divine Law) which I have clearly explained you." So Allah says:
وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ
(and I am your Lord, therefore worship Me.) This is like the Ayah:
يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا
(O (you) Messengers! Eat of the Tayyibat (good things) and do righteous deeds.) Until His saying,
وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ
(And I am your Lord, so have Taqwa of Me.)(23:51-52) The Messenger of Allah ﷺ said:
نَحْنُ مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ دِينُنَا وَاحِدٌ
(We Prophets are brothers from different mothers and our religion is one.) What is meant here is that they all worshipped Allah Alone with no partner or associate, although the Laws of each Messenger may have differed, as Allah says:
لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا
(To each among you, We have prescribed a Law and a clear way)(5:48)
وَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ
(But they have broken up and differed in their religion among themselves.) meaning, the nations were divided over their Messengers; some of them believed in them and some rejected them. Allah says:
كُلٌّ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ
((And) they all shall return to Us.) meaning, 'on the Day of Resurrection, when We will requite each person according to his deeds. If they are good, then he will be rewarded and if they are evil then he will be punished.' Allah says:
فَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ
(So whoever does righteous good deeds while he is a believer,) meaning, his heart believes and his deeds are righteous.
فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْيِهِ
(his efforts will not be rejected.) This is like the Ayah:
إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلًا
(certainly We shall not make the reward of anyone who does his deeds in the most perfect manner to be lost.)(18:30) which means, his efforts will not be wasted; they will be appreciated and not even a speck of dust's weight of injustice will be done. Allah says:
وَإِنَّا لَهُ كَاتِبُونَ
(Verily, We record it for him.) means, all his deeds are recorded and nothing of them at all is lost.
Tafsir Ibn Kathir
تمام شریعتوں کی روح توحید فرمان ہے کہ تم سب کا دین ایک ہی ہے۔ اوامر ونواہی کے احکام تم سب میں یکساں ہیں۔ ہذہ اسم ہے ان کا اور امتکم خبر ہے اور امتہ واحدۃ حال ہے۔ یعنی یہ شریعت جو بیان ہوئی تم سب کی متفق علیہ شریعت ہے۔ جس کا اصلی مقصود توحید الٰہی ہے جیسے آیت (يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ۭ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ 51ۭ) 23۔ المؤمنون :51) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہم انبیاء کی جماعت اگرچہ احکامات شرع مختلف ہیں جیسے فرمان قرآن ہے آیت (لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا 48ۙ) 5۔ المآئدہ :48) ہر ایک کی راہ اور طریقہ ہے۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا بعض اپنوں نبیوں پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے۔ قیامت کے دن سب کا لوٹنا ہماری طرف ہے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا نیکوں کو نیک بدلہ اور بروں کو بری سزا۔ جس کے دل میں ایمان ہو اور جس کے اعمال نیک ہوں اس کے اعمال اکارت نہ ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا 30ۚ) 18۔ الكهف :30) نیک کام کرنے والوں کا اجر ہم ضا ئع نہیں کرتے۔ ایسے اعمال کی قدردانی کرتے ہیں ایک ذرے کے برابر ہم ظلم روا نہیں رکھتے تمام اعمال لکھ لیتے ہیں کوئی چیز چھوڑتے نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْر، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ [[في ت، ف: "وإن".]] هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً﴾ يَقُولُ: دِينُكُمْ دِينٌ وَاحِدٌ.
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ؛ فِي [[في ت: "من".]] هَذِهِ الْآيَةِ: بَيَّنَ لَهُمْ مَا يَتَّقُونَ وَمَا يَأْتُونَ ثُمَّ قَالَ: ﴿إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً﴾ أَيْ: سُنَّتُكُمْ سُنَّةٌ وَاحِدَةٌ. فَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ هَذِهِ﴾ إِنَّ وَاسْمُهَا، وَ ﴿أُمَّتُكُمْ﴾ خَبَرُ إِنَّ، أَيْ: هَذِهِ شَرِيعَتُكُمُ الَّتِي بَيَّنْتُ لَكُمْ وَوَضَّحْتُ لَكُمْ، وَقَوْلُهُ: ﴿أُمَّةً وَاحِدَةً﴾ نُصِبَ [[في ت: "نصيب".]] عَلَى الْحَالِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ﴾ ، كَمَا قَالَ: ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ * وَإِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ﴾ [الْمُؤْمِنُونَ:٥١، ٥٢] ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "نَحْنُ مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ أَوْلَادُ عَلات دِينُنَا وَاحِدٌ"، يَعْنِي: أَنَّ الْمَقْصُودَ هُوَ عِبَادَةُ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ بِشَرَائِعَ مُتَنَوِّعَةٍ لِرُسُلِهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا﴾ [الْمَائِدَةِ:٤٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ﴾ أَيِ: اخْتَلَفَتِ الْأُمَمُ عَلَى رُسُلِهَا، فَمِنْ بَيْنِ مُصَدق لَهُمْ وَمُكَذِّبٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿كُلٌّ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ﴾ أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فيجازَى كُلٌّ بِحَسَبِ عَمَلِهِ، إِنْ خَيْرًا فَخَيْرٌ، وَإِنْ شَرًّا فَشَرٌّ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ﴾ أَيْ: قَلْبُهُ مُصَدِّقٌ، وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا، ﴿فَلا كُفْرَانَ لِسَعْيِهِ﴾ ، كَقَوْلِهِ: ﴿إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلا﴾ [الْكَهْفِ:٣٠] أَيْ: لَا يُكْفَر سعيُه، وَهُوَ عَمَلُهُ، بَلْ يُشْكَر، فَلَا يُظْلَمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَإِنَّا لَهُ كَاتِبُونَ﴾ أَيْ: يُكتب جميعُ عَمَلِهِ، فَلَا يَضيع عَلَيْهِ مِنْهُ شَيْءٌ.
وَتَقَطَّعُوٓا۟ أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ ۖ كُلٌّ إِلَيْنَا رَٰجِعُونَ
And [yet] they divided their affair among themselves, [but] all to Us will return.
اور یہ لوگ اپنے معاملے میں باہم متفرق ہوگئے۔ (مگر) سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں
(گروهی از پیروان ناآگاه آنها) کار خود را به تفرقه در میان خود کشاندند؛ (ولی سرانجام) همگی بسوی ما بازمیگردند!
Tafsir Ibn Kathir
Truly, this, your Ummah is one, and I am your Lord, therefore worship Me (92)But they have broken up and differed in their religion among themselves. (And) they all shall return to Us (93)So whoever does righteous good deeds while he is a believer, his efforts will not be rejected. Verily, We record it for him (in his Book of deeds)(94)
Mankind is One Ummah
إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً
(Truly, this, your Ummah is one,) Ibn 'Abbas, Mujahid, Sa'id bin Jubayr, Qatadah and 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "Your religion is one religion." Al-Hasan Al-Basri said: "In this Ayah, Allah explains to them what they should avoid and what they should do." Then He said:
إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً
(Truly, this, your Ummah is one religion,) "Meaning, your path is one path. Certainly this is your Shari'ah (Divine Law) which I have clearly explained you." So Allah says:
وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ
(and I am your Lord, therefore worship Me.) This is like the Ayah:
يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا
(O (you) Messengers! Eat of the Tayyibat (good things) and do righteous deeds.) Until His saying,
وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ
(And I am your Lord, so have Taqwa of Me.)(23:51-52) The Messenger of Allah ﷺ said:
نَحْنُ مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ دِينُنَا وَاحِدٌ
(We Prophets are brothers from different mothers and our religion is one.) What is meant here is that they all worshipped Allah Alone with no partner or associate, although the Laws of each Messenger may have differed, as Allah says:
لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا
(To each among you, We have prescribed a Law and a clear way)(5:48)
وَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ
(But they have broken up and differed in their religion among themselves.) meaning, the nations were divided over their Messengers; some of them believed in them and some rejected them. Allah says:
كُلٌّ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ
((And) they all shall return to Us.) meaning, 'on the Day of Resurrection, when We will requite each person according to his deeds. If they are good, then he will be rewarded and if they are evil then he will be punished.' Allah says:
فَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ
(So whoever does righteous good deeds while he is a believer,) meaning, his heart believes and his deeds are righteous.
فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْيِهِ
(his efforts will not be rejected.) This is like the Ayah:
إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلًا
(certainly We shall not make the reward of anyone who does his deeds in the most perfect manner to be lost.)(18:30) which means, his efforts will not be wasted; they will be appreciated and not even a speck of dust's weight of injustice will be done. Allah says:
وَإِنَّا لَهُ كَاتِبُونَ
(Verily, We record it for him.) means, all his deeds are recorded and nothing of them at all is lost.
Tafsir Ibn Kathir
تمام شریعتوں کی روح توحید فرمان ہے کہ تم سب کا دین ایک ہی ہے۔ اوامر ونواہی کے احکام تم سب میں یکساں ہیں۔ ہذہ اسم ہے ان کا اور امتکم خبر ہے اور امتہ واحدۃ حال ہے۔ یعنی یہ شریعت جو بیان ہوئی تم سب کی متفق علیہ شریعت ہے۔ جس کا اصلی مقصود توحید الٰہی ہے جیسے آیت (يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ۭ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ 51ۭ) 23۔ المؤمنون :51) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہم انبیاء کی جماعت اگرچہ احکامات شرع مختلف ہیں جیسے فرمان قرآن ہے آیت (لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا 48ۙ) 5۔ المآئدہ :48) ہر ایک کی راہ اور طریقہ ہے۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا بعض اپنوں نبیوں پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے۔ قیامت کے دن سب کا لوٹنا ہماری طرف ہے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا نیکوں کو نیک بدلہ اور بروں کو بری سزا۔ جس کے دل میں ایمان ہو اور جس کے اعمال نیک ہوں اس کے اعمال اکارت نہ ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا 30ۚ) 18۔ الكهف :30) نیک کام کرنے والوں کا اجر ہم ضا ئع نہیں کرتے۔ ایسے اعمال کی قدردانی کرتے ہیں ایک ذرے کے برابر ہم ظلم روا نہیں رکھتے تمام اعمال لکھ لیتے ہیں کوئی چیز چھوڑتے نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْر، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ [[في ت، ف: "وإن".]] هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً﴾ يَقُولُ: دِينُكُمْ دِينٌ وَاحِدٌ.
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ؛ فِي [[في ت: "من".]] هَذِهِ الْآيَةِ: بَيَّنَ لَهُمْ مَا يَتَّقُونَ وَمَا يَأْتُونَ ثُمَّ قَالَ: ﴿إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً﴾ أَيْ: سُنَّتُكُمْ سُنَّةٌ وَاحِدَةٌ. فَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ هَذِهِ﴾ إِنَّ وَاسْمُهَا، وَ ﴿أُمَّتُكُمْ﴾ خَبَرُ إِنَّ، أَيْ: هَذِهِ شَرِيعَتُكُمُ الَّتِي بَيَّنْتُ لَكُمْ وَوَضَّحْتُ لَكُمْ، وَقَوْلُهُ: ﴿أُمَّةً وَاحِدَةً﴾ نُصِبَ [[في ت: "نصيب".]] عَلَى الْحَالِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ﴾ ، كَمَا قَالَ: ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ * وَإِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ﴾ [الْمُؤْمِنُونَ:٥١، ٥٢] ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "نَحْنُ مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ أَوْلَادُ عَلات دِينُنَا وَاحِدٌ"، يَعْنِي: أَنَّ الْمَقْصُودَ هُوَ عِبَادَةُ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ بِشَرَائِعَ مُتَنَوِّعَةٍ لِرُسُلِهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا﴾ [الْمَائِدَةِ:٤٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ﴾ أَيِ: اخْتَلَفَتِ الْأُمَمُ عَلَى رُسُلِهَا، فَمِنْ بَيْنِ مُصَدق لَهُمْ وَمُكَذِّبٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿كُلٌّ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ﴾ أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فيجازَى كُلٌّ بِحَسَبِ عَمَلِهِ، إِنْ خَيْرًا فَخَيْرٌ، وَإِنْ شَرًّا فَشَرٌّ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ﴾ أَيْ: قَلْبُهُ مُصَدِّقٌ، وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا، ﴿فَلا كُفْرَانَ لِسَعْيِهِ﴾ ، كَقَوْلِهِ: ﴿إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلا﴾ [الْكَهْفِ:٣٠] أَيْ: لَا يُكْفَر سعيُه، وَهُوَ عَمَلُهُ، بَلْ يُشْكَر، فَلَا يُظْلَمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَإِنَّا لَهُ كَاتِبُونَ﴾ أَيْ: يُكتب جميعُ عَمَلِهِ، فَلَا يَضيع عَلَيْهِ مِنْهُ شَيْءٌ.
فَمَن يَعْمَلْ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْيِهِۦ وَإِنَّا لَهُۥ كَٰتِبُونَ
So whoever does righteous deeds while he is a believer - no denial will there be for his effort, and indeed We, of it, are recorders.
جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کی کوشش رائیگاں نہ جائے گی۔ اور ہم اس کے لئے (ثواب اعمال) لکھ رہے ہیں
و هر کس چیزی از اعمال شایسته بجا آورد، در حالی که ایمان داشته باشد، کوشش او ناسپاسی نخواهد شد؛ و ما تمام اعمال او را (برای پاداش) مینویسیم.
Tafsir Ibn Kathir
Truly, this, your Ummah is one, and I am your Lord, therefore worship Me (92)But they have broken up and differed in their religion among themselves. (And) they all shall return to Us (93)So whoever does righteous good deeds while he is a believer, his efforts will not be rejected. Verily, We record it for him (in his Book of deeds)(94)
Mankind is One Ummah
إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً
(Truly, this, your Ummah is one,) Ibn 'Abbas, Mujahid, Sa'id bin Jubayr, Qatadah and 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "Your religion is one religion." Al-Hasan Al-Basri said: "In this Ayah, Allah explains to them what they should avoid and what they should do." Then He said:
إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً
(Truly, this, your Ummah is one religion,) "Meaning, your path is one path. Certainly this is your Shari'ah (Divine Law) which I have clearly explained you." So Allah says:
وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ
(and I am your Lord, therefore worship Me.) This is like the Ayah:
يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا
(O (you) Messengers! Eat of the Tayyibat (good things) and do righteous deeds.) Until His saying,
وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ
(And I am your Lord, so have Taqwa of Me.)(23:51-52) The Messenger of Allah ﷺ said:
نَحْنُ مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ دِينُنَا وَاحِدٌ
(We Prophets are brothers from different mothers and our religion is one.) What is meant here is that they all worshipped Allah Alone with no partner or associate, although the Laws of each Messenger may have differed, as Allah says:
لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا
(To each among you, We have prescribed a Law and a clear way)(5:48)
وَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ
(But they have broken up and differed in their religion among themselves.) meaning, the nations were divided over their Messengers; some of them believed in them and some rejected them. Allah says:
كُلٌّ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ
((And) they all shall return to Us.) meaning, 'on the Day of Resurrection, when We will requite each person according to his deeds. If they are good, then he will be rewarded and if they are evil then he will be punished.' Allah says:
فَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ
(So whoever does righteous good deeds while he is a believer,) meaning, his heart believes and his deeds are righteous.
فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْيِهِ
(his efforts will not be rejected.) This is like the Ayah:
إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلًا
(certainly We shall not make the reward of anyone who does his deeds in the most perfect manner to be lost.)(18:30) which means, his efforts will not be wasted; they will be appreciated and not even a speck of dust's weight of injustice will be done. Allah says:
وَإِنَّا لَهُ كَاتِبُونَ
(Verily, We record it for him.) means, all his deeds are recorded and nothing of them at all is lost.
Tafsir Ibn Kathir
تمام شریعتوں کی روح توحید فرمان ہے کہ تم سب کا دین ایک ہی ہے۔ اوامر ونواہی کے احکام تم سب میں یکساں ہیں۔ ہذہ اسم ہے ان کا اور امتکم خبر ہے اور امتہ واحدۃ حال ہے۔ یعنی یہ شریعت جو بیان ہوئی تم سب کی متفق علیہ شریعت ہے۔ جس کا اصلی مقصود توحید الٰہی ہے جیسے آیت (يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ۭ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ 51ۭ) 23۔ المؤمنون :51) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہم انبیاء کی جماعت اگرچہ احکامات شرع مختلف ہیں جیسے فرمان قرآن ہے آیت (لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا 48ۙ) 5۔ المآئدہ :48) ہر ایک کی راہ اور طریقہ ہے۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا بعض اپنوں نبیوں پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے۔ قیامت کے دن سب کا لوٹنا ہماری طرف ہے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا نیکوں کو نیک بدلہ اور بروں کو بری سزا۔ جس کے دل میں ایمان ہو اور جس کے اعمال نیک ہوں اس کے اعمال اکارت نہ ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا 30ۚ) 18۔ الكهف :30) نیک کام کرنے والوں کا اجر ہم ضا ئع نہیں کرتے۔ ایسے اعمال کی قدردانی کرتے ہیں ایک ذرے کے برابر ہم ظلم روا نہیں رکھتے تمام اعمال لکھ لیتے ہیں کوئی چیز چھوڑتے نہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْر، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ [[في ت، ف: "وإن".]] هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً﴾ يَقُولُ: دِينُكُمْ دِينٌ وَاحِدٌ.
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ؛ فِي [[في ت: "من".]] هَذِهِ الْآيَةِ: بَيَّنَ لَهُمْ مَا يَتَّقُونَ وَمَا يَأْتُونَ ثُمَّ قَالَ: ﴿إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً﴾ أَيْ: سُنَّتُكُمْ سُنَّةٌ وَاحِدَةٌ. فَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ هَذِهِ﴾ إِنَّ وَاسْمُهَا، وَ ﴿أُمَّتُكُمْ﴾ خَبَرُ إِنَّ، أَيْ: هَذِهِ شَرِيعَتُكُمُ الَّتِي بَيَّنْتُ لَكُمْ وَوَضَّحْتُ لَكُمْ، وَقَوْلُهُ: ﴿أُمَّةً وَاحِدَةً﴾ نُصِبَ [[في ت: "نصيب".]] عَلَى الْحَالِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ﴾ ، كَمَا قَالَ: ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ * وَإِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ﴾ [الْمُؤْمِنُونَ:٥١، ٥٢] ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "نَحْنُ مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ أَوْلَادُ عَلات دِينُنَا وَاحِدٌ"، يَعْنِي: أَنَّ الْمَقْصُودَ هُوَ عِبَادَةُ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ بِشَرَائِعَ مُتَنَوِّعَةٍ لِرُسُلِهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا﴾ [الْمَائِدَةِ:٤٨] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ﴾ أَيِ: اخْتَلَفَتِ الْأُمَمُ عَلَى رُسُلِهَا، فَمِنْ بَيْنِ مُصَدق لَهُمْ وَمُكَذِّبٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿كُلٌّ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ﴾ أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فيجازَى كُلٌّ بِحَسَبِ عَمَلِهِ، إِنْ خَيْرًا فَخَيْرٌ، وَإِنْ شَرًّا فَشَرٌّ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ﴾ أَيْ: قَلْبُهُ مُصَدِّقٌ، وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا، ﴿فَلا كُفْرَانَ لِسَعْيِهِ﴾ ، كَقَوْلِهِ: ﴿إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلا﴾ [الْكَهْفِ:٣٠] أَيْ: لَا يُكْفَر سعيُه، وَهُوَ عَمَلُهُ، بَلْ يُشْكَر، فَلَا يُظْلَمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَإِنَّا لَهُ كَاتِبُونَ﴾ أَيْ: يُكتب جميعُ عَمَلِهِ، فَلَا يَضيع عَلَيْهِ مِنْهُ شَيْءٌ.
وَحَرَٰمٌ عَلَىٰ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَٰهَآ أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ
And there is prohibition upon [the people of] a city which We have destroyed that they will [ever] return
اور جس بستی (والوں) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ (وہ دنیا کی طرف رجوع کریں) وہ رجوع نہیں کریں گے
و حرام است بر شهرها و آبادیهایی که (بر اثر گناه) نابودشان کردیم (که به دنیا بازگردند؛) آنها هرگز باز نخواهند گشت!
Tafsir Ibn Kathir
And a ban is laid on every town which We have destroyed that they shall not return (95)Until, when Ya'juj and Ma'juj (Gog and Magog people) are let loose, and they swoop down from every Hadab (96)And the true promise shall draw near. Then, you shall see the eyes of the disbelievers fixedly staring in horror. (They will say:) "Woe to us! We were indeed heedless of this – nay, but we were wrongdoers. (97)
Those who have been destroyed, will never return to this World.
وَحَرَامٌ عَلَىٰ قَرْيَةٍ
(And a ban is laid on every town) Ibn 'Abbas said, "it is enforced", i.e., it has been decreed that the people of each township that has been destroyed will never return to this world before the Day of Resurrection, as is reported clearly [through other narrations] from Ibn 'Abbas, Abu Ja'far Al-Baqir, Qatadah and others.
Ya'juj and Ma'juj
حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ
(Until, when Ya'juj and Ma'juj are let loose,) We have already mentioned that they are from the progeny of Adam, upon him be peace; they are also descents of Nuh through his son Yafith (Japheth), who was the father of the Turks, Turk referring to the group of them who were left behind the barrier which was built by Dhul-Qarnayn. Allah says:
هَٰذَا رَحْمَةٌ مِّن رَّبِّي ۖ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ ۖ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا - وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ
(This is a mercy from my Lord, but when the promise of my Lord comes, He shall level it down to the ground. And the promise of my Lord is ever true. And on that Day, We shall leave them to surge like waves on one another...)(18:98-99). And in this Ayah, Allah says:
حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ
(Until, when Ya'juj and Ma'juj are let loose, and they swoop down from every Hadab.) meaning, they will come forth quickly to spread corruption. A Hadab is a raised portion of land. This was the view of Ibn 'Abbas, 'Ikrimah, Abu Salih, Ath-Thawri and others. This is how their emergence is described, as if the listener can see it.
وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ
(And none can inform you like Him Who is the All-Knower.)[35:14].
This is information given by the One Who knows what has happened and what is yet to come, the One Who knows the unseen in the heavens and on earth. There is no god except Him.
Ibn Jarir narrated that 'Ubaydullah bin Abi Yazid said, "Ibn 'Abbas saw some young boys playing and pouncing on one another, and said, this is how Ya'juj and Ma'juj will emerge." Their emergence has been described in numerous Hadiths of the Prophet ﷺ.
The First Hadith
Imam Ahmad recorded that Abu Sa'id Al-Khudri said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say:
تُفْتَحُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، فَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ، كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ:
وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ
فَيَغْشَوْنَ النَّاسَ وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ عَنْهُمْ إِلَى مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ، وَيَضُمُّونَ إِلَيْهِمْ مَوَاشِيَهُمْ، وَيَشْرَبُونَ مِيَاهَ الْأَرْضِ، حَتَّى إِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَمُرُّ بِالنَّهَرِ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهِ حَتَّى يَتْرُكُوهُ يَابِسًا، حَتَّى إِنَّ مَنْ بَعْدَهُمْ لَيَمُرُّ بِذَلِكَ النَّهَرِ فَيَقُولُ: قَدْ كَانَ هَهُنَا مَاءٌ مَرَّةً، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ إِلَّا أَحَدٌ فِي حِصْنٍ أَوْ مَدِينَةٍ، قَالَ قَائِلُهُمْ: هَؤُلَاءِ أَهْلُ الْأَرْضِ قَدْ فَرَغْنَا مِنْهُمْ بَقِيَ أَهْلُ السَّمَاءِ، قَالَ: ثُمَّ يَهُزُّ أَحَدُهُمْ حَرْبَتَهُ، ثُمَّ يَرْمِي بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَتَرْجِعُ إِلَيْهِ مُخضَّبَةً دَمًا لِلْبَلَاءِ وَالْفِتْنَةِ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ، بَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ دُودًا فِي أَعْنَاقِهِمْ كَنَغَفِ الْجَرَادِ الَّذِي يَخْرُجُ فِي أَعْنَاقِهِ، فَيُصْبِحُونَ مَوْتَى لَا يُسْمَعُ لَهُمْ حِسٌّ، فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ: أَلَا رَجُلٌ يَشْرِي لَنَا نَفْسَهُ فَيَنْظُرَ مَا فَعَلَ هَذَا الْعَدُوُّ؟ قَالَ: فَيَتَجَرَّدُ رَجُلٌ مِنْهُمْ مُحْتَسِبًا نَفْسَهُ، قَدْ أَوْطَنَهَا عَلَى أَنَّهُ مَقْتُولٌ، فَيَنْزِلُ فَيَجِدُهُمْ مَوْتَى، بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَيُنَادِي: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، أَلَا أَبْشِرُوا إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَفَاكُمْ عَدُوَّكُمْ، فَيَخْرُجُونَ مِنْ مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ، وَيُسَرِّحُونَ مَوَاشِيَهُمْ، فَمَا يَكُونُ لَهُمْ رَعْيٌ إِلَّا لُحُومُهُمْ، فَتَشْكَرُ عَنْهُمْ كَأَحْسَنِ مَا شَكِرَتْ عَنْ شَيْءٍ مِنَ النَّبَاتِ أَصَاَبَتْهُ قَطُّ
(Ya'juj and Ma'juj will be let loose and will emerge upon mankind, as Allah says: (and they swoop down from every Hadab.)
They will overwhelm the people, and the Muslims will retreat to their cities and strongholds, bringing their flocks with them. They [Ya'juj and Ma'juj] will drink all the water of the land until some of them will pass a river and drink it dry, then those who come after them will pass by that place and will say, "There used to be water here once." Then there will be no one left except those who are in their strongholds and cities. Then one of them will say, "We have defeated the people of the earth; now the people of heaven are left." One of them will shake his spear and hurl it into the sky, and it will come back stained with blood, as a test and a trial for them. While this is happening, Allah will send a worm in their necks, like the worm that is found in date-stones or in the nostrils of sheep, and they will die and their clamor will cease. Then the Muslims will say, "Who will volunteer to find out what the enemy is doing?" One of them will step forward and volunteer, knowing that he will likely be killed. He will go down and will find them dead, lying on top of one another. Then he will call out, "O Muslims! Rejoice that Allah has sufficed you against your enemy!" Then they will come out of their cities and strongholds, and will let their flocks out to graze, but they will have nothing to graze upon except the flesh of these people (Ya'juj and Ma'juj), but it will fill them better than any vegetation they have ever eaten before.) It was also recorded by Ibn Majah.
The Second Hadith
Imam Ahmad also recorded from An-Nawwas bin Sam'an Al-Kilabi that the Messenger of Allah ﷺ mentioned the Dajjal one morning. "Sometimes he described him as insignificant and sometimes he described him as so significant that we felt as if he were in the cluster of palm trees. He said:
غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَيْكُمْ. فَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ، فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ، فَكُلُّ امْرِىءٍ حَجيجُ نَفْسِهِ، وَاللهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، وَإِنَّهُ شَابٌّ جَعْدٌ قَطَطٌ، عَيْنُهُ طَافِيَةٌ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ خَلَّةً بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَشِمَالًا، يَا عِبَادَ اللهِ اثْبُتُوا
(There are other things that I fear for you more than the Dajjal. If he emerges while I am among you, I will deal with him for you. If he emerges when I am not among you, then each man will have to deal with him for himself, and Allah will take care of each Muslim on my behalf. He (the Dajjal) will be a young man with short, curly hair and a floating eye. He will emerge in a place between Syria and Iraq and will spread mischief right and left. O servants of Allah, be steadfast!)
We said, 'O Messenger of Allah, how long will he remain on earth?' He said,
أَرْبَعُونَ يَوْمًا، يَوْمٌ كَسَنَةٍ، وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ، يَوْمٌ كَجُمُعَةٍ، وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُم
(Forty days: one day like a year, one day like a month, one day like a week, and the rest of the days like your days.) We said, 'O Messenger of Allah, on that day which will be like a year, will the prayers of one day and one night be sufficient?' He said,
لَا، اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ
(No, but you will have to compute it according to its due proportion (and pray accordingly).) We said, 'O Messenger of Allah, how fast will he move across the land?' He said,
كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ
(Like a cloud driven by the wind.) He said,
فَيَمُرُّ بِالْحَيِّ فَيَدْعُوهُمْ فَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ، فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ، وَالْأَرْضَ فَتُنْبِتُ، وَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ، وَهِيَ أَطْوَلُ مَا كَانَتْ ذُرًى، وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ، وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا، وَيَمُرُّ بِالْحَيِّ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ، فَتَتْبَعُهُ أَمْوَالُهُمْ فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ، لَيْسَ لَهُمْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ شَيْءٌ، وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا: أَخْرِجِي كُنُوزَكِ، فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ - قَالَ: - وَيَأْمُرُ بِرَجُلٍ فَيُقْتَلُ، فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جَزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ، ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ إِلَيْهِ، يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ، إِذْ بَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ، فَيَتْبَعُهُ فَيُدْرِكُهُ فَيَقْتُلُهُ عِنْدَ بَابِ لُدٍّ الشَّرْقِيِّ - قَالَ: - فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ أَوْحَى اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا مِنْ عِبَادِي، لَا يَدَانِ لَكَ بِقِتَالِهِمْ، فَحَرِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ، فَيَبْعَثُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى:
وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ
(He will come to a people and call them [to his way] and they will respond to him. He will issue a command to the sky and it will rain, and to the earth and it will bring forth vegetation, then their livestock will come to them in the evening with their humps very high and their udders full of milk and their flanks wide and fat. Then he will come to another people and call them [to his way] and they will refuse, and their wealth will leave with him, and they will be faced with drought, with none of their wealth left. Then he will walk through the wasteland and will say to it, "Bring forth your treasure," and its treasure will come forth like a swarm of bees. Then he will issue commands that a man be killed, and he will strike him with a sword and cut him into two pieces, and (put these pieces as far apart) as the distance between an archer and his target. Then he will call him, and the man will come to him with his face shining. At that point Allah will send the Messiah 'Isa bin Maryam, who will come down to the white minaret in the eastern side of Damascus, wearing two garments lightly dyed with saffron and with his hands resting on the wings of two angels. He will search for him (the Dajjal) until he catches up with him at the eastern gate of Ludd, where he will kill him. Then Allah will reveal to 'Isa ibn Maryam the words: "I have brought forth from amongst My creatures people against whom none will be able to fight. Take My servants safely to the Mount (Tur)." Then Allah will send Ya'juj and Ma'juj, as Allah says: (and they swoop down from every Hadab.))
فَيَرْغَبُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُرْسِلُ اللهُ عَلَيْهِمْ نَغَفًا فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ، فَيَهْبِطُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ فَلَا يَجِدُونَ فِي الْأَرْضِ بَيْتًا إِلَّا قَدْ مَلَأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتَنُهُمْ، فَيَرْغَبُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُرْسِلُ اللهُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ، فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللهُ
('Isa and his companions will beseech Allah, and Allah will send against them insects which will attack their necks, and in the morning they will all perish as one. Then 'Isa and his companions will come down and they will not find a single spot on earth that is free from their putrefaction and stench. Then 'Isa and his companions will again beseech Allah, and He will send birds with necks like those of Bactrian camels, and they will carry them and throw them wherever Allah wills.)
Ibn Jabir said: "'Ata' bin Yazid As-Saksaki told me, from Ka'b or someone else: 'They will throw them into Al-Mahbal.' Ibn Jabir said: "I said, 'O Abu Yazid, and where is Al-Mahbal?" He said, "In the east (where the sun rises)." He said:
وَيُرْسِلُ اللهُ مَطَرًا لَا يَكُنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كَالزَّلَفَةِ، وَيُقَالُ لِلْأَرْضِ: أَنْبِتِي ثَمَرَكِ وَرُدِّي بَرَكَتَكِ، قَالَ: فَيَوْمَئِذٍ يَأْكُلُ النَّفَرُ مِنَ الرُّمَّانَةِ فَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا، وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ حَتَّى إِنَّ اللِّقْحَةَ مِنَ الْإِبِلِ لَتَكْفِي الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ، وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ تَكْفِي الْفَخِذَ، وَالشَّاةَ مِنَ الْغَنَمِ تَكْفِي أَهْلَ الْبَيْتِ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ، إِذْ بَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ رِيحًا طَيِّبَةً، فَتَأْخُذُهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُسْلِمٍ - أَوْ قَالَ: كُلِّ مُؤْمِنٍ - وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ، يَتَهَارَجُونَ تَهَارُجَ الْحُمُرِ، وَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ
(Then Allah will send rain which no house of clay or (tent of) camel's hair will be able to keep out, for forty days, and the earth will be washed until it looks like a mirror. Then it will be said to the earth: bring forth your fruit and restore your blessing. On that day a group of people will be able to eat from one pomegranate and seek shade under its skin, and everything will be blessed. A milch-camel will give so much milk that it will be sufficient for a whole group of people, and a milch-cow will give so much milk that it will be sufficient for a whole clan, and a sheep will be sufficient for an entire household. At that time Allah will send a pleasant wind which will reach beneath their armpits and will take the soul of every Muslim – or every believer – and there will be left only the most evil of people who will commit fornication like mules, and then the Hour will come upon them.)"
This was also recorded by Muslim but not by Al-Bukhari. It was also recorded by the Sunan compilers, with different chains of narrators. At-Tirmidhi said, "It is Hasan Sahih."
The Third Hadith
Imam Ahmad recorded from Ibn Harmalah, from his maternal aunt who said: "The Messenger of Allah ﷺ gave a Khutbah, and he had a bandage on his finger where he had been stung by a scorpion. He said:
إِنَّكُمْ تَقُولُونَ: لَا عَدُوَّ لَكُمْ، وَإِنَّكُمْ لَا تَزَالُونَ تُقَاتِلُونَ عَدُوًّا، حَتَّى يَأْتِيَ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ: عِرَاضَ الْوُجُوهِ، صِغَارَ الْعُيُونِ، صُهْبَ الشِّعَافِ، مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ
(You say that you have no enemy, but you will keep fighting your enemies until Ya'juj and Ma'juj come, with their wide faces, small eyes and reddish hair, pouring down from every mound with their faces looking like burnished shields.)"
Ibn Abi Hatim recorded a Hadith of Muhammad bin 'Amr from Khalid bin 'Abdullah bin Harmalah Al-Mudlaji, from his paternal aunt, from the Prophet ﷺ, and he mentioned something similar.
It was confimred by Hadiths that 'Isa bin Maryam will perform Hajj to the Al-Bayt Al-'Atiq (i.e., the Ka'bah). Imam Ahmad recorded that Abu Sa'id said: "The Messenger of Allah ﷺ said:
لَيُحَجَّنَّ هَذَا الْبَيْتُ وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ
(He will certainly come to this House and perform Hajj and 'Umrah, after the emergence of Ya'juj and Ma'juj.) This was recorded by Al-Bukhari.
وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ
(And the true promise (Day of Resurrection) shall draw near.) the Day of Resurrection, when these terrors and earthquakes and this chaos will come to pass. The Hour has drawn nigh and when it comes to pass, the disbelievers will say: "This is a difficult Day." Allah says:
فَإِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ أَبْصَارُ الَّذِينَ كَفَرُوا
(Then, you shall see the eyes of the disbelievers fixedly staring in horror.) because of the horror of the tremendous events that they are witnessing.
يَا وَيْلَنَا
(Woe to us!) means, they will say, 'Woe to us!'
قَدْ كُنَّا فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَٰذَا
(We were indeed heedless of this) means, in the world.
بَلْ كُنَّا ظَالِمِينَ
(nay, but we were wrongdoers.) they will admit their wrongdoing at the time when that will not help them at all.
Tafsir Ibn Kathir
یافت کی اولاد ہلاک شدہ لوگوں کا دنیا کی طرف پھر پلٹنا محال ہے۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ان کی توبہ مقبول نہیں۔ لیکن پہلا قول اولیٰ ہے۔ یاجوج ماجوج نسل آدم سے ہیں۔ بلکہ وہ حضرت نوح ؑ کے لڑکے یافت کی اولاد میں سے ہیں جن کی نسل ترک ہیں یہ بھی انہی کا ایک گروہ ہے یہ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی دیوار سے باہر ہی چھوڑ دیے گئے تھے۔ آپ نے دیوار بنا کر فرمایا تھا کہ یہ میرے رب کی رحمت ہے۔ اللہ کے وعدے کے وقت اس کا چورا چورا ہوجائے گا میرے رب کا وعدہ حق ہے الخ۔ یاجوج ماجوج قرب قیامت کے وقت وہاں سے نکل آئیں گے اور زمین میں فساد مچا دیں گے۔ ہر اونچی جگہ کو عربی میں حدب کہتے ہیں۔ ان کے نکلنے کے وقت ان کی یہی حالت ہوگی تو اس خبر کو اس طرح بیان کیا جیسے سننے والا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور واقع میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچی خبر کس کی ہوگی ؟ جو غیب اور حاضر کا جاننے والا ہے۔ ہوچکی ہوئی اور ہونے والی باتوں سے آگاہ ہے۔ ابن عباس ؓ نے لڑکوں کو اچھلتے کودتے کھیلتے دوڑتے ایک دوسروں کی چٹکیاں بھرتے ہوئے دیکھ کر فرما اسی طرح یاجوج ماجوج آئیں گے۔ بہت سی احادیث میں ان کے نکلنے کا ذکر ہے۔ 001 مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں یاجوج ماجوج کھولے جائیں گے اور وہ لوگوں کے پاس پہنچیں گے جیسے اللہ عزوجل کا فرمان ہے آیت (وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ 96) 21۔ الأنبیاء :96) وہ چھاجائیں گے اور مسلمان اپنے شہروں اور قلعوں میں سمٹ آئیں گے اپنے جانوروں کو بھی وہی لے لیں گے اور اپنا پانی انہیں پلاتے رہیں گے یاجوج ماجوج جس نہر سے گزریں گے اس کا پانی صفاچٹ کر جائیں گے یہاں تک کہ اس میں خاک اڑنے لگے گی ان کی دوسری جماعت جب وہاں پہنچے گی تو وہ کہے گی شاید اس میں کسی زمانے میں پانی ہوگا۔ جب یہ دیکھیں گے کہ اب زمین پر کوئی نہ رہا اور واقع میں سوائے ان مسلمانوں کے جو اپنے شہروں اور قلعوں میں پناہ گزیں ہوں گے کوئی اور وہاں ہوگا بھی نہیں تو یہ کہیں گے کہ اب زمین والوں سے تم ہم فارغ ہوگئے آؤ آسمان والوں کی خبرلیں۔ چناچہ ان میں سے ایک شریر اپنا نیزہ گھما کر آسمان کی طرف پھینکے گا قدرت الٰہی سے وہ خون آلود ہو کر ان کے پاس گرے گا یہ بھی ایک قدرتی آزمائش ہوگی اب ان کی گردنوں میں گٹھلی ہو جائے گی اور اسی وبا میں یہ سارے کے سارے ایک ساتھ ایک دم مرجائیں گے ایک بھی باقی نہ رہے گا سارا شور وغل ختم ہوجائے گا مسلمان کہیں گے کوئی ہے جو اپنی جان ہم مسلمانوں کے لئے ہتھیلی پر رکھ کر شہر کے باہر جائے اور ان دشمنوں کو دیکھے کہ کس حال میں ہیں ؟ چناچہ ایک صاحب اس کے لئے تیار ہوجائیں گے اور اپنے آپ کو قتل شدہ سمجھ کر اللہ کی راہ میں مسلمانوں کی خدمت کے لئے نکل کھڑے ہوں گے دیکھیں گے کہ سب کا ڈھیرلگ رہا ہے سارے ہلاک شدہ پڑے ہوئے ہیں یہ اسی وقت ندا کرے گا کہ مسلمانو ! خوش ہوجاؤ اللہ نے خود تمہارے دشمنوں کو غارت کردیا یہ ڈھیر پڑا ہوا ہے اب مسلمان باہر آئیں گے اور اپنے مویشیوں کو بھی لائیں گے ان کے لئے چارہ بجز ان کے گوشت کے اور کچھ نہ ہوگا یہ ان کا گوشت کھا کھا کر خوب موٹے تازے ہوجائیں گے۔ 002 مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے ایک دن صبح ہی صبح دجال کا ذکر کیا اس طرح کہ ہم سمجھے شاید وہ ان درختوں کی آڑ میں ہے اور اب نکلا ہی چاہتا ہے آپ فرمانے لگے مجھے دجال سے زیادہ خوف تم پر اور چیز کا ہے۔ اگر دجال میری موجودگی میں نکلا تو میں خود نمٹ لونگا تم میں سے ہر شخص اسے بچے۔ میں تمہیں اللہ کی ایمان میں دے رہا ہوں۔ وہ جواں عمر الجھے ہوئے بالوں والا کانا اور ابھری ہوئی آنکھ والا ہے۔ وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں گھومے گا۔ ایک بندگاں الٰہی تم ثابت قدم رہنا۔ ہم نے دریافت کیا کہ یارسول اللہ ﷺ وہ کتنا ٹھیرے گا ؟ آپ نے فرمایا چالیس دن۔ ایک دن مثل ایک برس کے ایک دن مثل ایک مہینہ کے ایک دن مثل ایک جمعہ کے اور باقی دن معمولی دنوں جیسے۔ ہم نے پوچھا یارسول ﷺ جو دن سال بھر کے برابر ہوگا اس میں ہمیں یہی پانچ نمازیں کافی ہوں گی آپ نے فرمایا نہیں تم اپنے اندازے سے وقت پر نماز پڑھتے رہا کرنا۔ ہم نے دریافت کیا کہ حضور ﷺ اس کی رفتار کیسی ہوگی ؟ فرمایا جیسے بادل کہ ہوا انہیں ادھر سے ادھربھگائے لئے جاتی ہو۔ ایک قبیلے کے پاس جائے گا انہیں اپنی طرف بلائے گا وہ اس کی مان لیں گے۔ آسمان کو حکم دے گا کہ ان پر بارش برسائے زمین سے کہے گا کہ ان کے لئے پیداوار اگائے ان کے جانور ان کے پاس موٹے تازے بھرے پیٹ لوٹیں گے۔ ایک قبیلے کے پاس اپنے تائیں منوانا چاہے گا وہ انکار کردیں گے یہ وہاں سے نکلے گا تو ان کے تمام مال اس کے پیچھے لگ جائیں گے وہ بالکل خالی ہاتھ رہ جائیں گے وہ غیرآباد جنگلوں میں جائے گا اور زمین سے کہے گا اپنے خزانے اگل دے وہ اگل دے گی اور سارے خزانے اس کے پیچھے ایسے چلیں گے جیسے شہد کی مکھیاں اپنے سردار کے پیچھے۔ یہ بھی دکھائے گا کہ ایک شخص کو تلوار سے ٹھیک دو ٹکرے کرادے گا اور ادھرادھر دور دراز پھنکوا دے گا پھر اس کا نام لے کر آواز دے گا تو وہ زندہ چلتا پھرتا اس کے پاس آجائے گا یہ اسی حال میں ہوگا جو اللہ عزوجل حضرت مسیح ابن مریم کو اتارے گا آپ دمشق کی مشرقی طرف سفید منارے کے پاس اتریں گے اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے ہوں گے آپ اس کا پیچھا کریں گے اور مشرقی باب کے لد کے پاس اسے پا کر قتل کردیں گے پھر حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کی طرف اللہ کی وحی آئے گی میں اپنے ایسے بندوں کو بھیجتا ہوں جن سے لڑنے کی تم میں تاب وطاقت نہیں میرے بندوں کو طور کی طرف سمیٹ لے جا۔ پھر جناب باری یاجوج ماجوج کو بھیجے گا جیسے فرمایا آیت (وہم من کل حدب ینسلون) ان سے تنگ آکر حضرت عیسیٰ ؑ اور آپ کے ساتھی جناب باری میں دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر گٹھلی کی بیماری بھیجے گا جو ان کی گردن میں نکلے گی سارے کے سارے اوپر تلے ایک ساتھ ہی مرجائیں گے تب حضرت عیسیٰ ؑ مع مؤمنوں کے آئیں گے۔ دیکھیں گے کہ تمام زمین ان کی لاشوں سے پٹی پڑی ہے اور ان کی بدبو سے کھڑا نہیں ہوا جاتا۔ آپ پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند بھیجے گا جو انہیں اللہ جانے کہاں پھینک آئیں گے ؟ کعب ؒ کہتے ہی مہیل میں یعنی سورج کے طلوع ہونے کی جگہ میں انہیں پھینک آئیں گے۔ پھر چالیس دن تک تمام زمین میں مسلسل بارش برسے گی، زمین دھل دھلا کر ہتھیلی کی طرح صاف ہوجائے گی پھر بحکم الٰہی اپنی برکتیں اگادے گی۔ اس دن ایک جماعت کی جماعت ایک انار سے سیر ہوجائے گی اور اس کے چھلکے تلے سایہ حاصل کرلے گی ایک اونٹنی کا دودھ لوگوں کی ایک جماعت کو اور ایک گائے کا دودھ ایک قبیلے کو اور ایک بکری کا دودھ ایک گھرانے کو کافی ہوگا۔ پھر ایک پاکیزہ ہوا چلے گی جو مسلمانوں کی بغلوں تلے سے نکل جائے گی اور ان کی روح قبض ہوجائے گی پھر روئے زمین پر بدترین شریر لوگ باقی رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح کودتے ہوں گے انہی پر قیامت قائم ہوگی۔ امام ترمذی ؒ اسے حسن کہتے ہیں۔ 003 مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ کو ایک بچھو نے کاٹ کھایا تھا تو آپ اپنی انگلی پر پٹی باندھے ہوئے خطبے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا تم کہتے ہو اب دشمن نہیں ہیں لیکن تم تو دشمنوں سے جہاد کرتے ہی رہوگے یہاں تک کہ یاجوج ماجوج آئیں وہ چوڑے چہرے والے چھوٹی آنکھوں والے ان کے چہرے تہہ بہ تہہ ڈھالوں جیسے ہوں گے۔ 004 یہ روایت سورة اعراف کی تفسیر کے آخر میں بیان کردی گی ہے مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ معراج والی رات میں ابراہیم موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے روز قیامت کا مذکراہ شروع ہوا حضرت ابراہیم ؑ نے اس کے علم سے انکار کردیا اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ نے بھی ہاں حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا اس کے واقع ہونے کے وقت تو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا ہاں مجھ سے میرے اللہ نے یہ تو فرمایا ہے کہ دجال نکلنے والا ہے۔ اس کے ساتھ دو ٹہنیاں ہوں گی۔ وہ مجھے دیکھتے ہی سیسے کی طرح پگلنے لگے گا یہاں تک کہ اللہ اسے ہلاک کردے جب کہ وہ مجھے دیکھے یہاں تک کہ پتھر اور درخت بھی پکار اٹھیں گے کہ اے مسلم یہ ہے میرے سایہ تلے کافر۔ آ اور اسے قتل کر پس اللہ انہیں ہلاک کرے گا اور لوگ اپنے شہروں اور وطنوں کی طرف لوٹ جائیں گے۔ اس وقت یاجوج ماجوج نکلیں گے جو ہر اونچائی سے پھدکتے آئیں گے جو پائیں گے تباہ کردیں گے پانی جتنا پائیں گے پی جائیں گے لوگ پھر تنگ آکر اپنوں وطنوں میں محصور ہو کر بیٹھ جائیں گے شکایت کریں گے تو میں پھر اللہ سے دعا کرونگا اللہ انہیں غارت کردے ساری زمین پر ان کی بدبو پھیل جائے گی پھر بارش برسے گی اور پانی کا بہاؤ ان کے سڑے ہوئے جسموں کو گھسیٹ کر دریا برد کردے گا۔ میرے رب نے مجھ سے فرما دیا ہے کہ جب یہ سب کچھ ظہور میں آجائے گا پھر تو قیامت کا ہونا ایسا ہی ہے جیسے پورے دنوں میں حمل والی عورت کا وضع ہونا کہ گھر والوں کو فکر ہوتی ہے کہ صبح بچہ ہوا یا شام ہوا دن کو ہوا یا رات کو ہوا۔ (ابن ماجہ) اس کی تصدیق کلام اللہ شریف کی آیت میں موجود ہے اس بارے میں حدیثیں بکثرت ہیں اور آثار سلف بھی بہت ہیں کعب ؒ کا قول ہے کہ یاجوج ماجوج کے نکلنے کے وقت وہ دیوار کو کھودیں گے یہاں تک کہ ان کی کدلوں کی آواز پاس والے بھی سنیں گے رات ہوجائے گی ان میں سے ایک کہے گا کہ اب صبح آتے ہی اسے توڑ ڈالیں گے اور نکل کھڑے ہوں گے صبح یہ آئیں گے توجیسی کل تھی ویسی ہی آج بھی پائیں گے الغرض یونہی ہوتا رہے گا یہاں تک کہ ان کا نکالنا جب منظور ہوگا تو ایک شخص کی زبان سے نکلے گا کہ ہم کل انشاء اللہ ایسے توڑ دیں گے اب جو آئیں گے تو جیسی چھوڑ گئے تھے ویسی ہی پائیں گے تو کھود کر توڑیں گے اور باہر نکل آئیں گے ان کا پہلا گروہ بحیرہ کے پاس سے نکلے گا سارا پانی پی جائے گا دوسرا آئے گا کیچڑ بھی چاٹ جائے گا تیسرا آئے گا تو کہے گا شاید یہاں کبھی پانی ہوگا ؟ لوگ ان سے بھاگ بھاگ کر ادھر ادھر چھپ جائیں گے جب انہیں کوئی بھی نظر نہ پڑے گا تو یہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے وہاں سے وہ خون آلود واپس آئیں گے تو یہ فخر کریں گے کہ ہم زمین والوں پر اور آسمان والوں پر غالب آگئے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ ان کے لئے بدعا کریں گے کہ اللہ ہم میں ان کے مقابلے کی طاقت نہیں اور زمین پر ہمارا چلنا پھرنا بھی ضروری ہے تو ہمیں جس طریقے سے چاہے ان سے نجات دے تو اللہ ان کو طاعون میں مبتلا کرے گا گلٹیاں نکل آئیں گی اور سارے کہ سارے مرجائیں گے پھر ایک قسم کے پرند آئیں گے جو اپنی چونچ میں انہیں لے کر سمندر میں پھینک آئیں گے پھر اللہ تعالیٰ نہرحیات جاری کردے گا جو زمین کو دھوکر پاک صاف کردے گی اور زمین اپنی برکتیں نکال دے گی ایک انار ایک گھرانے کو کافی ہوگا اچانک ایک شخص آئے گا اور ندا کرے گا کہ ذوالسویقتین نکل آیا ہے حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ سات آٹھ سولشکریوں کا طلایہ بھیجیں گے یہ ابھی راستے میں ہی ہوں گے کہ یمنی پاک ہوا نہایت لطافت سے چلے گی جو تمام مؤمنوں کی روح قبض کرجائے گی پھر تو روئے زمین پر ردی کھدی لوگ رہ جائے گے جو چوپایوں جیسے ہوں گے ان پر قیامت قائم ہوگی اس وقت قیامت اس قدر قریب ہوگی جیسے پوری دنوں کی گھوڑی جو جننے کے قریب ہو اور گھوڑی والا اس کے آس پاس گھوم رہا ہو کہ کب بچہ ہو حضرت کعب رحمتہ اللہ یہ بیان فرما کر فرمانے لگے اب جو شخص میرے اس قول اور اس علم کے بعد بھی کچھ کہے اس نے تکلف کیا۔ کعب رحمتہ اللہ کا یہ واقعہ بیان کرنا بہترین واقعہ ہے کیونکہ اس کی شہادت صحیح حدیث میں بھی پائی جاتی ہے۔ احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ اس زمانے میں بیت اللہ شریف کا حج بھی کریں گے چناچہ مسند امام احمد میں یہ حدیث مرفوعا مروی ہے کہ آپ یاجوج ماجوج کے خروج کے بعد یقینا بیت اللہ کا حج کریں گے۔ یہ حدیث بخاری میں بھی ہے۔ جب یہ ہولناکیاں، جب یہ زلزلے، جب یہ بلائیں اور آفات آجائیں گی تو اس وقت قیامت بالکل قریب آجائے گی اسے دیکھ کر کافر کہنے لگیں گے یہ نہایت سخت دن ہے ان کی آنکھیں پھٹ جائیں گی اور کہنے لگیں گے ہائے ہم تو غفلت میں ہی رہے۔ ہائے ہم نے اپنا آپ بگاڑا۔ گناہوں کا اقرار اور اس پر شرمسار ہوں گا لیکن اب بےسود ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَحَرَامٌ عَلَى قَرْيَةٍ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَجَبَ، يَعْنِي: قَدَرًا مُقَدرًا [[في ت، ف: "مقدورا".]] أَنَّ أَهْلَ كُلِّ [[في ت، ف: "إن كل أهل".]] قَرْيَةٍ [[في ت: "القرية".]] أُهْلِكُوا أَنَّهُمْ لَا يُرْجَعُونَ إِلَى الدُّنْيَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ. هَكَذَا صَرَّحَ بِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الْبَاقِرُ، وَقَتَادَةُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ﴾ أَيْ: لَا يَتُوبُونَ.
وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَظْهَرُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ﴾ : قَدْ قَدَّمْنَا أَنَّهُمْ مِنْ سُلَالَةِ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بَلْ هُمْ مِنْ نَسْلِ نُوحٍ أَيْضًا [[في ف، أ: "عليه السلام".]] مِنْ أَوْلَادِ يَافِثَ أَبِي التُّرْكِ، وَالتُّرْكُ شِرْذِمَةٌ مِنْهُمْ، تُرِكُوا مِنْ وَرَاءِ السَّدِّ الَّذِي بَنَاهُ ذُو الْقَرْنَيْنِ.
وَقَالَ: ﴿هَذَا رَحْمَةٌ مِنْ رَبِّي فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا. وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَاهُمْ جَمْعًا﴾ [الْكَهْفِ:٩٨، ٩٩] ، وَقَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ أَيْ: يُسْرِعُونَ فِي الْمَشْيِ إِلَى الْفَسَادِ.
والحَدَب: هُوَ الْمُرْتَفِعُ مِنَ الْأَرْضِ، قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَعِكْرِمَةُ، وَأَبُو صَالِحٍ، وَالثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُمْ، وَهَذِهِ صِفَتُهُمْ فِي حَالِ خُرُوجِهِمْ، كَأَنَّ السَّامِعَ مُشَاهِدٌ لِذَلِكَ، ﴿وَلا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ﴾ [فَاطِرٍ:١٤] : هَذَا إِخْبَارُ عَالِمٍ مَا كَانَ وَمَا يَكُونُ، الَّذِي يَعْلَمُ غَيْبَ السموات وَالْأَرْضِ، لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيد اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: رَأَى ابُن عَبَّاسٍ صِبْيَانًا يَنْزُو بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، يَلْعَبُونَ، فَقَالَ ابن عباس: هكذا يَخْرُجُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ [[تفسير الطبري (١٧/٧٠) .]] .
وَقَدْ وَرَدَ ذِكْرُ خُرُوجِهِمْ فِي أَحَادِيثَ مُتَعَدِّدَةٍ مِنَ السُّنَّةِ النَّبَوِيَّةِ:
فَالْحَدِيثُ الْأَوَّلُ: قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَر بْنِ قَتَادَةَ، عن محمود بن لَبيد، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "يُفتَح يأجوجُ ومأجوجُ، فَيَخْرُجُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ": ﴿ [وَهُمْ] [[زيادة من أ.]] مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ ، فيغشونَ النَّاسَ، وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ عَنْهُمْ إِلَى مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ [[في ت: "وحضرتهم".]] ، وَيَضُمُّونَ إِلَيْهِمْ مواشيَهم، وَيَشْرَبُونَ مِيَاهَ الْأَرْضِ، حَتَّى أَنَّ بعضَهم لَيَمُرُّ بِالنَّهْرِ، فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهِ حَتَّى يَتْرُكُوهُ يَبَسا، حَتَّى أَنَّ مَنْ بَعْدَهُمْ لَيَمُرُّ بِذَلِكَ النَّهْرِ فَيَقُولُ [[في ت: "فيقولون".]] : قَدْ كَانَ هَاهُنَا مَاءٌ مَرَّةً حَتَّى إِذَا لَمْ يبقَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ إِلَّا أحدٌ فِي حِصْنٍ أَوْ مَدِينَةٍ قَالَ قَائِلُهُمْ: هَؤُلَاءِ أهلُ الْأَرْضِ، قَدْ فَرَغْنَا مِنْهُمْ، بَقِيَ أهلُ السَّمَاءِ. قَالَ: "ثُمَّ يَهُزُّ أَحَدُهُمْ حَرْبَتَهُ، ثُمَّ يَرْمِي بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَتَرْجِعُ إِلَيْهِ مُخْتَضبَةً دَمًا؛ لِلْبَلَاءِ وَالْفِتْنَةِ. فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ دُودًا فِي أَعْنَاقِهِمْ كنَغَف الْجَرَادِ الَّذِي يَخْرُجُ فِي أَعْنَاقِهِ، فَيُصْبِحُونَ [[في ت: "فيحصون".]] مَوْتًى لَا يُسمَع لَهُمْ حِسٌّ، فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ: أَلَا رَجُلٌ يَشْري لَنَا نَفْسَهُ، فَيَنْظُرُ مَا فَعَلَ هَذَا الْعَدُوُّ؟ " قَالَ: "فَيَتَجَرَّدُ رَجُلٌ مِنْهُمْ مُحْتَسِبًا نَفْسَهُ، قَدْ أَوْطَنَهَا عَلَى أَنَّهُ مَقْتُولٌ، فَيَنْزِلُ فَيَجِدُهُمْ مَوْتًى، بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَيُنَادِي: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، أَلَا أَبْشِرُوا، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَفَاكُمْ عَدُوَّكُمْ، فَيَخْرُجُونَ مِنْ مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ ويُسَرِّحون مَوَاشِيَهُمْ، فَمَا يَكُونُ لَهَا رَعْيٌ إِلَّا لُحُومَهُمْ، فَتَشْكر عَنْهُ كَأَحْسَنِ مَا شَكرَت عَنْ شَيْءٍ مِنَ النَّبَاتِ أَصَابَتْهُ قَطُّ.
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ بُكَيْر، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِهِ [[المسند (٣/٧٧) وسنن ابن ماجه برقم (٤٠٧٩) ، وقال البوصيري في الزوائد (٣/٢٦٠) : "هذا إسناد صحيح رجاله ثقات".]] .
الْحَدِيثُ الثَّانِي: قَالَ [الْإِمَامُ] [[زيادة من ت، ف، أ.]] أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الْعَبَّاسِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ -قَاضِي حِمْصَ-حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَير بْنِ نُفَير الْحَضْرَمِيُّ، عَنِ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّوّاس بْنَ سمْعانَ الْكِلَابِيَّ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الدَّجَّالَ ذَاتَ غَداة، فخَفَض فِيهِ ورَفَع، حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ، [فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ عَرَفَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِنَا، فَسَأَلْنَاهُ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ الْغَدَاةَ، فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ] [[زيادة من ت، ف، أ، والمسند.]] . فَقَالَ: "غَيْرُ الدَّجَّالِ أخْوَفُني عَلَيْكُمْ، فَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُه دُونَكُمْ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ، وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ: إنه شاب جَعْدُ قَطَط عينه طَافِيَةٌ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ خَلَةَ بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ، فَعَاثَ يَمِينًا وَشِمَالًا يَا عِبَادَ اللَّهِ اثْبُتُوا".
قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لُبْثُهُ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: "أَرْبَعِينَ يَوْمًا، يَوْمٌ كَسَنَةٍ، وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ، وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ، وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ".
قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَاكَ الْيَوْمُ الَّذِي هُوَ كَسَنَةٍ، أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ؟ قَالَ: "لَا اقْدِرُوا لَهُ قَدْرَهُ".
قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: "كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ". قَالَ: "فَيَمُرُّ بِالْحَيِّ فَيَدْعُوهُمْ فَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ، فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ، وَالْأَرْضَ فَتُنْبِتُ، وَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ وَهِيَ أَطْوَلُ مَا كَانَتْ ذُرَى، وَأَمَدُّهُ خَوَاصِرَ، وَأَسْبَغُهُ ضُرُوعًا. وَيَمُرُّ بِالْحَيِّ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قولَه، فَتَتْبَعُهُ أَمْوَالُهُمْ، فَيُصْبِحُونَ مُمْحلين، لَيْسَ لَهُمْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ. وَيَمُرُّ بالخَربة فَيَقُولُ لَهَا: أَخْرِجِي كُنُوزَكِ، فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ". قَالَ: "وَيَأْمُرُ بِرَجُلٍ فيُقتَل، فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جَزْلتين رَمْيَةَ الغَرَض، ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ إِلَيْهِ [يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ] [[زيادة من ف، أ، والمسند.]] .
فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ، إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ، فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ [[في ت: "المنازل".]] الْبَيْضَاءِ، شَرْقِيَّ دِمَشْقَ، بَيْنَ مَهْرُودَتَين وَاضِعًا يَدَه عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكين، فَيَتْبَعُهُ فَيُدْرِكُهُ، فَيَقْتُلُهُ عِنْدَ بَابِ لُدّ الشَّرْقِيِّ".
قَالَ: "فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ: أَنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا مِنْ عِبَادِي لَا يَدَانِ لَكَ بِقِتَالِهِمْ، فَحَوّز عِبَادِي إِلَى الطُّورِ، فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَهُمْ كَمَا قَالَ اللَّهُ: ﴿مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ فَيَرْغَبُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نَغَفًا فِي رِقَابِهِمْ، فَيُصْبِحُونَ فَرْسى، كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ.
فَيَهْبِطُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ، فَلَا يَجِدُونَ فِي الْأَرْضِ بَيْتًا إِلَّا قَدْ مَلَأَهُ زَهَمُهم ونَتْنهُم، فَيَرْغَبُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ، فَيُرْسِلُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ البُخْت، فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ".
قَالَ ابْنُ جَابِرٍ [[في ت: "جرير".]] فَحَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ السَّكْسَكيّ [[في ت: "السلسلي".]] ، عَنْ كَعْبٍ -أَوْ غَيْرِهِ-قَالَ: فَتَطْرَحُهُمْ بالمَهْبِل. [قَالَ ابْنُ جَابِرٍ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا يَزِيدَ، وَأَيْنَ المَهْبِل؟] [[زيادة من ف، أ، والمسند.]] ، قَالَ: مَطْلَعُ الشَّمْسِ.
قَالَ: "وَيُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا لَا يَكُنَّ [[في ت: "يكون".]] مِنْهُ بَيْتُ مَدَر وَلَا وَبَر أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كالزّلَقَةِ، وَيُقَالُ لِلْأَرْضِ: أَنْبِتِي ثَمَرَتَكِ، ورُدي بَرَكَتَكِ". قَالَ: "فَيَوْمَئِذٍ يَأْكُلُ النَّفَرُ مِنَ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّونَ بقحْفها، ويُبَارك فِي الرَسْل، حَتَّى إِنَّ اللَّقْحَةَ مِنَ الْإِبِلِ لَتَكْفِي الفِئَامَ مِنَ النَّاسِ، وَاللَّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ تَكْفِي الْفَخِذَ، وَالشَّاةَ مِنَ الْغَنَمِ تَكْفِي أَهْلَ الْبَيْتِ".
قَالَ: "فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ [[في ف: "هم كذلك".]] ، إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رِيحًا طَيِّبَةً تَحْتَ آبَاطِهِمْ، فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُسْلِمٍ -أَوْ قَالَ: كُلِّ مُؤْمِنٍ-وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ تَهَارُجَ الْحَمِيرِ، وَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ".
انْفَرَدَ [[في ت: "وانفرد".]] بِإِخْرَاجِهِ مُسْلِمٌ دُونَ الْبُخَارِيِّ، فَرَوَاهُ مَعَ بَقِيَّةِ أَهْلِ السُّنَنِ مِنْ طُرُقٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، بِهِ [[المسند (٤/١٨١) وصحيح مسلم برقم (٢١٣٧) وسنن أبي داود برقم (٤٣٢١) وسنن الترمذي برقم (٢٢٤٠) وسنن النسائي الكبرى برقم (١٠٧٨٣) وسنن ابن ماجه برقم (٤٠٧٥) .]] وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ صَحِيحٌ.
الْحَدِيثُ الثَّالِثُ: قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ حَرْمَلَة، عَنْ خَالَتِهِ قَالَتْ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ عَاصِبٌ أصبعُه مِنْ لَدْغَةِ عَقْرب، فَقَالَ: "إِنَّكُمْ تَقُولُونَ: "لَا عَدُوَّ [[في ت، ف، أ: "لا عدو لكم".]] ، وَإِنَّكُمْ لَا تَزَالُونَ تُقَاتِلُونَ عَدُوًّا، حَتَّى يَأْتِيَ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ عِرَاضُ الْوُجُوهِ، صِغَارُ الْعُيُونِ، صُهْبَ الشِّعَافِ، مِنْ كُلِّ حَدَب يَنْسِلُونَ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ المَجَانّ المُطرَقة" [[المسند (٥/٢١٧) .]] .
وَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلة الْمُدْلِجِيِّ، عَنْ خَالَةٍ لَهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ [[في ت، أ: "مثله سواء".]] .
الْحَدِيثُ الرَّابِعُ: قَدْ تَقَدَّمَ فِي تَفْسِيرِ آخِرِ سُورَةِ الْأَعْرَافِ مِنْ رِوَايَةِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ، عَنْ هُشَيْم، عَنِ العَوَّام، عَنْ جَبَلَة بْنِ سُحَيْم، عَنْ مُؤثر بْنِ عَفَازَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: لَقِيتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، قَالَ: فَتَذَاكَرُوا أَمْرَ السَّاعَةِ، فَرَدُّوا أَمْرَهُمْ إِلَى إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهَا [[في ت: "فيها".]] . فَرَدُّوا أَمْرَهُمْ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهَا [[في ت: "فيها".]] . فَرَدُّوا أَمْرَهُمْ إِلَى عِيسَى، فَقَالَ: أَمَّا وَجْبَتها فلا يعلم بها أحد إلا الله، وَفِيهَا عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّيَ أَنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ".
قَالَ: "وَمَعِي قَضِيبَانِ، فَإِذَا رَآنِي ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرَّصَاصُ" قَالَ: "فَيُهْلِكُهُ اللَّهُ إِذَا رَآنِي، حَتَّى إِنَّ الْحَجَرَ وَالشَّجَرَ يَقُولُ: يَا مُسْلِمُ إِنَّ تَحْتِي كَافِرًا، فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ". قَالَ: "فَيُهْلِكُهُمُ اللَّهُ، ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلَى بِلَادِهِمْ وَأَوْطَانِهِمْ". قَالَ: "فَعِنْدَ ذَلِكَ يَخْرُجُ يأجوج ومأجوج وهم مِنْ كُلِّ حَدَب يَنسلون، فَيَطَؤُونَ بِلَادَهُمْ، لَا [[في ت، ف: "ولا".]] يَأْتُونَ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا أَهْلَكُوهُ، وَلَا يَمُرُّونَ عَلَى مَاءٍ إِلَّا شَرِبُوهُ". قَالَ: "ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلَيَّ يَشْكُونَهُمْ، فَأَدْعُو اللَّهَ عَلَيْهِمْ، فَيُهْلِكُهُمْ وَيُمِيتُهُمْ، حَتَّى تَجوى الْأَرْضُ مِنْ نَتْن رِيحِهِمْ، وَيُنْزِلُ اللَّهُ الْمَطَرَ فَيَجْتَرِفُ أَجْسَادَهُمْ، حَتَّى يَقْذِفَهُمْ فِي الْبَحْرِ. فَفِيمَا عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّي أَنَّ ذَلِكَ إِذَا كَانَ كَذَلِكَ، أَنَّ السَّاعَةَ كَالْحَامِلِ المُتِمّ، لَا يَدْرِي أَهْلُهَا مَتَى تَفْجُؤهم بِوِلَادِهَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا".
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنِ العَوَّام بْنِ حَوْشَب، به [[المسند (١/٣٧٥) وسنن ابن ماجه برقم (٤٠٨١) وسبق عند تفسير الآية: ١٨٧ من سورة الأعراف.]] ، نَحْوَهُ وَزَادَ: "قَالَ العَوَّام، وَوُجِدَ تَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ .
وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ هَاهُنَا مِنْ حَدِيثِ جَبَلَةَ، بِهِ [[تفسير الطبري (١٧/٧٢) .]] .
وَالْأَحَادِيثُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ جِدًّا، وَالْآثَارُ عَنِ السَّلَفِ كَذَلِكَ.
وَقَدْ رَوَى ابُن جَرِيرٍ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، مِنْ حَدِيثِ مَعْمَر، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ بْنِ هِلَالٍ، عَنِ أَبِي الصَّيف قَالَ: قَالَ كَعْبٌ: إِذَا كَانَ عِنْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، حَفَرُوا حَتَّى يَسْمَعَ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَرْعَ فُؤُوسِهِمْ، فَإِذَا كَانَ اللَّيْلُ قَالُوا: نَجِيءُ غَدًا فَنَخْرُجُ، فَيُعِيدُهُ اللَّهُ كَمَا كَانَ. فَيَجِيئُونَ مِنَ الْغَدِ فَيَجِدُونَهُ قَدْ أَعَادَهُ اللَّهُ كَمَا كَانَ، فَيَحْفِرُونَهُ حَتَّى يَسْمَعَ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَرْعَ فُؤُوسِهِمْ، فَإِذَا كَانَ اللَّيْلُ أَلْقَى اللَّهُ عَلَى لِسَانِ رَجُلٍ مِنْهُمْ يَقُولُ: نَجِيءُ غَدًا فَنَخْرُجُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. فَيَجِيئُونَ مِنَ الْغَدِ فَيَجِدُونَهُ كَمَا تَرَكُوهُ، فَيَحْفِرُونَ حَتَّى يَخْرُجُوا. فَتَمُرُّ الزُّمْرَةُ الْأُولَى بِالْبُحَيْرَةِ، فَيَشْرَبُونَ مَاءَهَا، ثُمَّ تَمُرُّ الزُّمْرَةُ الثَّانِيَةُ فَيَلْحَسُونَ طِينَهَا، ثُمَّ تَمُرُّ الزُّمْرَةُ الثَّالِثَةُ فَيَقُولُونَ [[في ت: "فيقول".]] : قَدْ كَانَ هَاهُنَا مَرَّةً مَاءٌ، وَيَفِرُّ النَّاسُ مِنْهُمْ، فَلَا يَقُومُ لَهُمْ شَيْءٌ. ثُمَّ يَرْمُونَ بِسِهَامِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ فَتَرْجِعُ إِلَيْهِمْ مُخَضَّبة بِالدِّمَاءِ فَيَقُولُونَ: غَلَبْنَا أَهْلَ الْأَرْضِ وَأَهْلَ السَّمَاءِ. فَيَدْعُو عَلَيْهِمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَيَقُولُ: "اللَّهُمَّ، لَا طَاقَةَ وَلَا يَدَين لَنَا بِهِمْ، فَاكْفِنَاهُمْ بِمَا شِئْتَ"، فَيُسَلِّطُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ دُودًا يُقَالُ لَهُ: النَّغْفُ، فَيَفْرِسُ [[في ت: "فيفرش".]] رِقَابَهُمْ، وَيَبْعَثُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا تَأْخُذُهُمْ بِمَنَاقِيرِهَا فَتُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ، وَيَبْعَثُ اللَّهُ عَيْنًا يُقَالُ لَهَا: "الْحَيَاةُ" يُطَهِّرُ اللَّهُ الْأَرْضَ وَيُنْبِتُهَا، حَتَّى إِنَّ الرُّمَّانَةَ لَيَشْبَعُ مِنْهَا السَّكْن". قِيلَ: وَمَا السَّكن يَا كَعْبُ؟ قَالَ: أَهْلُ الْبَيْتِ -قَالَ: "فَبَيْنَمَا النَّاسُ كَذَلِكَ إِذْ أَتَاهُمُ الصَّريخ أَنَّ ذَا السُّويقَتَين يُرِيدُهُ. قَالَ: فَيَبْعَثُ [[في ت: "فيبعث الله عيسى".]] عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ طَلِيعَةً سَبْعَمِائَةٍ، أَوْ بَيْنَ السَّبْعِمِائَةِ وَالثَّمَانِمِائَةِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا يَمَانِيَّةً طَيِّبَةً، فَيَقْبِضُ فِيهَا رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ، ثُمَّ يَبْقَى عَجَاج [[في ت، ف: "عجاج من".]] النَّاسِ، فَيَتَسَافَدُونَ كَمَا تَسَافَدُ الْبَهَائِمُ، فَمَثل السَّاعَةِ كَمَثَلِ رَجُلٍ يَطِيفُ حَوْلَ فَرَسِهِ يَنْتَظِرُهَا مَتَى تَضَعُ؟ قَالَ كَعْبٌ: فَمَنْ تَكَلَّفَ بَعْدَ قَوْلِي هَذَا شَيْئًا -أَوْ بَعْدَ عِلْمِي هَذَا شَيْئًا-فَهُوَ الْمُتَكَلِّفُ [[تفسير الطبري (١٧/٧١) .]] .
هَذَا مِنْ أَحْسَنِ سِيَاقَاتِ كَعْبِ الْأَحْبَارِ، لِمَا شَهِدَ لَهُ مِنْ صَحِيحِ الْأَخْبَارِ.
وَقَدْ ثَبَتَ فِي الْحَدِيثِ أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ يَحُجُّ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ، وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتبَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "ليُحَجَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ، وليُعْتَمَرنّ بَعْدَ خروج يأجوج ومأجوج". انفرد بإخراجه البخاري [[المسند (٣/٢٧) وصحيح البخاري برقم (١٥٩٣) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ﴾ يَعْنِي: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِذَا وُجدت هَذِهِ الْأَهْوَالُ وَالزَّلَازِلُ وَالْبَلَابِلُ، أَزِفَتِ السَّاعَةُ وَاقْتَرَبَتْ، فَإِذَا كَانَتْ وَوَقَعَتْ قَالَ الْكَافِرُونَ: ﴿هَذَا يَوْمٌ عَسِرٌ﴾ [الْقَمَرِ:٨] . وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَإِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ أَبْصَارُ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ أَيْ: مِنْ شِدَّةِ مَا يُشَاهِدُونَهُ مِنَ الْأُمُورِ الْعِظَامِ: ﴿يَا وَيْلَنَا﴾ أَيْ: يَقُولُونَ: ﴿يَا وَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِي غَفْلَةٍ مِنْ هَذَا﴾ أَيْ: فِي الدُّنْيَا، ﴿بَلْ كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ ، يَعْتَرِفُونَ بِظُلْمِهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ، حَيْثُ لَا يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ.
حَتَّىٰٓ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍۢ يَنسِلُونَ
Until when [the dam of] Gog and Magog has been opened and they, from every elevation, descend
یہاں تک کہ یاجوج ماجوج کھول دیئے جائیں اور وہ ہر بلندی سے دوڑ رہے ہوں
تا آن زمان که «یأجوج» و «مأجوج» گشوده شوند؛ و آنها از هر محلّ مرتفعی بسرعت عبور میکنند.
Tafsir Ibn Kathir
And a ban is laid on every town which We have destroyed that they shall not return (95)Until, when Ya'juj and Ma'juj (Gog and Magog people) are let loose, and they swoop down from every Hadab (96)And the true promise shall draw near. Then, you shall see the eyes of the disbelievers fixedly staring in horror. (They will say:) "Woe to us! We were indeed heedless of this – nay, but we were wrongdoers. (97)
Those who have been destroyed, will never return to this World.
وَحَرَامٌ عَلَىٰ قَرْيَةٍ
(And a ban is laid on every town) Ibn 'Abbas said, "it is enforced", i.e., it has been decreed that the people of each township that has been destroyed will never return to this world before the Day of Resurrection, as is reported clearly [through other narrations] from Ibn 'Abbas, Abu Ja'far Al-Baqir, Qatadah and others.
Ya'juj and Ma'juj
حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ
(Until, when Ya'juj and Ma'juj are let loose,) We have already mentioned that they are from the progeny of Adam, upon him be peace; they are also descents of Nuh through his son Yafith (Japheth), who was the father of the Turks, Turk referring to the group of them who were left behind the barrier which was built by Dhul-Qarnayn. Allah says:
هَٰذَا رَحْمَةٌ مِّن رَّبِّي ۖ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ ۖ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا - وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ
(This is a mercy from my Lord, but when the promise of my Lord comes, He shall level it down to the ground. And the promise of my Lord is ever true. And on that Day, We shall leave them to surge like waves on one another...)(18:98-99). And in this Ayah, Allah says:
حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ
(Until, when Ya'juj and Ma'juj are let loose, and they swoop down from every Hadab.) meaning, they will come forth quickly to spread corruption. A Hadab is a raised portion of land. This was the view of Ibn 'Abbas, 'Ikrimah, Abu Salih, Ath-Thawri and others. This is how their emergence is described, as if the listener can see it.
وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ
(And none can inform you like Him Who is the All-Knower.)[35:14].
This is information given by the One Who knows what has happened and what is yet to come, the One Who knows the unseen in the heavens and on earth. There is no god except Him.
Ibn Jarir narrated that 'Ubaydullah bin Abi Yazid said, "Ibn 'Abbas saw some young boys playing and pouncing on one another, and said, this is how Ya'juj and Ma'juj will emerge." Their emergence has been described in numerous Hadiths of the Prophet ﷺ.
The First Hadith
Imam Ahmad recorded that Abu Sa'id Al-Khudri said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say:
تُفْتَحُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، فَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ، كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ:
وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ
فَيَغْشَوْنَ النَّاسَ وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ عَنْهُمْ إِلَى مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ، وَيَضُمُّونَ إِلَيْهِمْ مَوَاشِيَهُمْ، وَيَشْرَبُونَ مِيَاهَ الْأَرْضِ، حَتَّى إِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَمُرُّ بِالنَّهَرِ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهِ حَتَّى يَتْرُكُوهُ يَابِسًا، حَتَّى إِنَّ مَنْ بَعْدَهُمْ لَيَمُرُّ بِذَلِكَ النَّهَرِ فَيَقُولُ: قَدْ كَانَ هَهُنَا مَاءٌ مَرَّةً، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ إِلَّا أَحَدٌ فِي حِصْنٍ أَوْ مَدِينَةٍ، قَالَ قَائِلُهُمْ: هَؤُلَاءِ أَهْلُ الْأَرْضِ قَدْ فَرَغْنَا مِنْهُمْ بَقِيَ أَهْلُ السَّمَاءِ، قَالَ: ثُمَّ يَهُزُّ أَحَدُهُمْ حَرْبَتَهُ، ثُمَّ يَرْمِي بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَتَرْجِعُ إِلَيْهِ مُخضَّبَةً دَمًا لِلْبَلَاءِ وَالْفِتْنَةِ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ، بَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ دُودًا فِي أَعْنَاقِهِمْ كَنَغَفِ الْجَرَادِ الَّذِي يَخْرُجُ فِي أَعْنَاقِهِ، فَيُصْبِحُونَ مَوْتَى لَا يُسْمَعُ لَهُمْ حِسٌّ، فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ: أَلَا رَجُلٌ يَشْرِي لَنَا نَفْسَهُ فَيَنْظُرَ مَا فَعَلَ هَذَا الْعَدُوُّ؟ قَالَ: فَيَتَجَرَّدُ رَجُلٌ مِنْهُمْ مُحْتَسِبًا نَفْسَهُ، قَدْ أَوْطَنَهَا عَلَى أَنَّهُ مَقْتُولٌ، فَيَنْزِلُ فَيَجِدُهُمْ مَوْتَى، بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَيُنَادِي: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، أَلَا أَبْشِرُوا إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَفَاكُمْ عَدُوَّكُمْ، فَيَخْرُجُونَ مِنْ مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ، وَيُسَرِّحُونَ مَوَاشِيَهُمْ، فَمَا يَكُونُ لَهُمْ رَعْيٌ إِلَّا لُحُومُهُمْ، فَتَشْكَرُ عَنْهُمْ كَأَحْسَنِ مَا شَكِرَتْ عَنْ شَيْءٍ مِنَ النَّبَاتِ أَصَاَبَتْهُ قَطُّ
(Ya'juj and Ma'juj will be let loose and will emerge upon mankind, as Allah says: (and they swoop down from every Hadab.)
They will overwhelm the people, and the Muslims will retreat to their cities and strongholds, bringing their flocks with them. They [Ya'juj and Ma'juj] will drink all the water of the land until some of them will pass a river and drink it dry, then those who come after them will pass by that place and will say, "There used to be water here once." Then there will be no one left except those who are in their strongholds and cities. Then one of them will say, "We have defeated the people of the earth; now the people of heaven are left." One of them will shake his spear and hurl it into the sky, and it will come back stained with blood, as a test and a trial for them. While this is happening, Allah will send a worm in their necks, like the worm that is found in date-stones or in the nostrils of sheep, and they will die and their clamor will cease. Then the Muslims will say, "Who will volunteer to find out what the enemy is doing?" One of them will step forward and volunteer, knowing that he will likely be killed. He will go down and will find them dead, lying on top of one another. Then he will call out, "O Muslims! Rejoice that Allah has sufficed you against your enemy!" Then they will come out of their cities and strongholds, and will let their flocks out to graze, but they will have nothing to graze upon except the flesh of these people (Ya'juj and Ma'juj), but it will fill them better than any vegetation they have ever eaten before.) It was also recorded by Ibn Majah.
The Second Hadith
Imam Ahmad also recorded from An-Nawwas bin Sam'an Al-Kilabi that the Messenger of Allah ﷺ mentioned the Dajjal one morning. "Sometimes he described him as insignificant and sometimes he described him as so significant that we felt as if he were in the cluster of palm trees. He said:
غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَيْكُمْ. فَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ، فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ، فَكُلُّ امْرِىءٍ حَجيجُ نَفْسِهِ، وَاللهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، وَإِنَّهُ شَابٌّ جَعْدٌ قَطَطٌ، عَيْنُهُ طَافِيَةٌ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ خَلَّةً بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَشِمَالًا، يَا عِبَادَ اللهِ اثْبُتُوا
(There are other things that I fear for you more than the Dajjal. If he emerges while I am among you, I will deal with him for you. If he emerges when I am not among you, then each man will have to deal with him for himself, and Allah will take care of each Muslim on my behalf. He (the Dajjal) will be a young man with short, curly hair and a floating eye. He will emerge in a place between Syria and Iraq and will spread mischief right and left. O servants of Allah, be steadfast!)
We said, 'O Messenger of Allah, how long will he remain on earth?' He said,
أَرْبَعُونَ يَوْمًا، يَوْمٌ كَسَنَةٍ، وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ، يَوْمٌ كَجُمُعَةٍ، وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُم
(Forty days: one day like a year, one day like a month, one day like a week, and the rest of the days like your days.) We said, 'O Messenger of Allah, on that day which will be like a year, will the prayers of one day and one night be sufficient?' He said,
لَا، اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ
(No, but you will have to compute it according to its due proportion (and pray accordingly).) We said, 'O Messenger of Allah, how fast will he move across the land?' He said,
كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ
(Like a cloud driven by the wind.) He said,
فَيَمُرُّ بِالْحَيِّ فَيَدْعُوهُمْ فَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ، فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ، وَالْأَرْضَ فَتُنْبِتُ، وَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ، وَهِيَ أَطْوَلُ مَا كَانَتْ ذُرًى، وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ، وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا، وَيَمُرُّ بِالْحَيِّ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ، فَتَتْبَعُهُ أَمْوَالُهُمْ فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ، لَيْسَ لَهُمْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ شَيْءٌ، وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا: أَخْرِجِي كُنُوزَكِ، فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ - قَالَ: - وَيَأْمُرُ بِرَجُلٍ فَيُقْتَلُ، فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جَزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ، ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ إِلَيْهِ، يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ، إِذْ بَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ، فَيَتْبَعُهُ فَيُدْرِكُهُ فَيَقْتُلُهُ عِنْدَ بَابِ لُدٍّ الشَّرْقِيِّ - قَالَ: - فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ أَوْحَى اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا مِنْ عِبَادِي، لَا يَدَانِ لَكَ بِقِتَالِهِمْ، فَحَرِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ، فَيَبْعَثُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى:
وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ
(He will come to a people and call them [to his way] and they will respond to him. He will issue a command to the sky and it will rain, and to the earth and it will bring forth vegetation, then their livestock will come to them in the evening with their humps very high and their udders full of milk and their flanks wide and fat. Then he will come to another people and call them [to his way] and they will refuse, and their wealth will leave with him, and they will be faced with drought, with none of their wealth left. Then he will walk through the wasteland and will say to it, "Bring forth your treasure," and its treasure will come forth like a swarm of bees. Then he will issue commands that a man be killed, and he will strike him with a sword and cut him into two pieces, and (put these pieces as far apart) as the distance between an archer and his target. Then he will call him, and the man will come to him with his face shining. At that point Allah will send the Messiah 'Isa bin Maryam, who will come down to the white minaret in the eastern side of Damascus, wearing two garments lightly dyed with saffron and with his hands resting on the wings of two angels. He will search for him (the Dajjal) until he catches up with him at the eastern gate of Ludd, where he will kill him. Then Allah will reveal to 'Isa ibn Maryam the words: "I have brought forth from amongst My creatures people against whom none will be able to fight. Take My servants safely to the Mount (Tur)." Then Allah will send Ya'juj and Ma'juj, as Allah says: (and they swoop down from every Hadab.))
فَيَرْغَبُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُرْسِلُ اللهُ عَلَيْهِمْ نَغَفًا فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ، فَيَهْبِطُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ فَلَا يَجِدُونَ فِي الْأَرْضِ بَيْتًا إِلَّا قَدْ مَلَأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتَنُهُمْ، فَيَرْغَبُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُرْسِلُ اللهُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ، فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللهُ
('Isa and his companions will beseech Allah, and Allah will send against them insects which will attack their necks, and in the morning they will all perish as one. Then 'Isa and his companions will come down and they will not find a single spot on earth that is free from their putrefaction and stench. Then 'Isa and his companions will again beseech Allah, and He will send birds with necks like those of Bactrian camels, and they will carry them and throw them wherever Allah wills.)
Ibn Jabir said: "'Ata' bin Yazid As-Saksaki told me, from Ka'b or someone else: 'They will throw them into Al-Mahbal.' Ibn Jabir said: "I said, 'O Abu Yazid, and where is Al-Mahbal?" He said, "In the east (where the sun rises)." He said:
وَيُرْسِلُ اللهُ مَطَرًا لَا يَكُنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كَالزَّلَفَةِ، وَيُقَالُ لِلْأَرْضِ: أَنْبِتِي ثَمَرَكِ وَرُدِّي بَرَكَتَكِ، قَالَ: فَيَوْمَئِذٍ يَأْكُلُ النَّفَرُ مِنَ الرُّمَّانَةِ فَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا، وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ حَتَّى إِنَّ اللِّقْحَةَ مِنَ الْإِبِلِ لَتَكْفِي الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ، وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ تَكْفِي الْفَخِذَ، وَالشَّاةَ مِنَ الْغَنَمِ تَكْفِي أَهْلَ الْبَيْتِ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ، إِذْ بَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ رِيحًا طَيِّبَةً، فَتَأْخُذُهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُسْلِمٍ - أَوْ قَالَ: كُلِّ مُؤْمِنٍ - وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ، يَتَهَارَجُونَ تَهَارُجَ الْحُمُرِ، وَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ
(Then Allah will send rain which no house of clay or (tent of) camel's hair will be able to keep out, for forty days, and the earth will be washed until it looks like a mirror. Then it will be said to the earth: bring forth your fruit and restore your blessing. On that day a group of people will be able to eat from one pomegranate and seek shade under its skin, and everything will be blessed. A milch-camel will give so much milk that it will be sufficient for a whole group of people, and a milch-cow will give so much milk that it will be sufficient for a whole clan, and a sheep will be sufficient for an entire household. At that time Allah will send a pleasant wind which will reach beneath their armpits and will take the soul of every Muslim – or every believer – and there will be left only the most evil of people who will commit fornication like mules, and then the Hour will come upon them.)"
This was also recorded by Muslim but not by Al-Bukhari. It was also recorded by the Sunan compilers, with different chains of narrators. At-Tirmidhi said, "It is Hasan Sahih."
The Third Hadith
Imam Ahmad recorded from Ibn Harmalah, from his maternal aunt who said: "The Messenger of Allah ﷺ gave a Khutbah, and he had a bandage on his finger where he had been stung by a scorpion. He said:
إِنَّكُمْ تَقُولُونَ: لَا عَدُوَّ لَكُمْ، وَإِنَّكُمْ لَا تَزَالُونَ تُقَاتِلُونَ عَدُوًّا، حَتَّى يَأْتِيَ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ: عِرَاضَ الْوُجُوهِ، صِغَارَ الْعُيُونِ، صُهْبَ الشِّعَافِ، مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ
(You say that you have no enemy, but you will keep fighting your enemies until Ya'juj and Ma'juj come, with their wide faces, small eyes and reddish hair, pouring down from every mound with their faces looking like burnished shields.)"
Ibn Abi Hatim recorded a Hadith of Muhammad bin 'Amr from Khalid bin 'Abdullah bin Harmalah Al-Mudlaji, from his paternal aunt, from the Prophet ﷺ, and he mentioned something similar.
It was confimred by Hadiths that 'Isa bin Maryam will perform Hajj to the Al-Bayt Al-'Atiq (i.e., the Ka'bah). Imam Ahmad recorded that Abu Sa'id said: "The Messenger of Allah ﷺ said:
لَيُحَجَّنَّ هَذَا الْبَيْتُ وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ
(He will certainly come to this House and perform Hajj and 'Umrah, after the emergence of Ya'juj and Ma'juj.) This was recorded by Al-Bukhari.
وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ
(And the true promise (Day of Resurrection) shall draw near.) the Day of Resurrection, when these terrors and earthquakes and this chaos will come to pass. The Hour has drawn nigh and when it comes to pass, the disbelievers will say: "This is a difficult Day." Allah says:
فَإِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ أَبْصَارُ الَّذِينَ كَفَرُوا
(Then, you shall see the eyes of the disbelievers fixedly staring in horror.) because of the horror of the tremendous events that they are witnessing.
يَا وَيْلَنَا
(Woe to us!) means, they will say, 'Woe to us!'
قَدْ كُنَّا فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَٰذَا
(We were indeed heedless of this) means, in the world.
بَلْ كُنَّا ظَالِمِينَ
(nay, but we were wrongdoers.) they will admit their wrongdoing at the time when that will not help them at all.
Tafsir Ibn Kathir
یافت کی اولاد ہلاک شدہ لوگوں کا دنیا کی طرف پھر پلٹنا محال ہے۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ان کی توبہ مقبول نہیں۔ لیکن پہلا قول اولیٰ ہے۔ یاجوج ماجوج نسل آدم سے ہیں۔ بلکہ وہ حضرت نوح ؑ کے لڑکے یافت کی اولاد میں سے ہیں جن کی نسل ترک ہیں یہ بھی انہی کا ایک گروہ ہے یہ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی دیوار سے باہر ہی چھوڑ دیے گئے تھے۔ آپ نے دیوار بنا کر فرمایا تھا کہ یہ میرے رب کی رحمت ہے۔ اللہ کے وعدے کے وقت اس کا چورا چورا ہوجائے گا میرے رب کا وعدہ حق ہے الخ۔ یاجوج ماجوج قرب قیامت کے وقت وہاں سے نکل آئیں گے اور زمین میں فساد مچا دیں گے۔ ہر اونچی جگہ کو عربی میں حدب کہتے ہیں۔ ان کے نکلنے کے وقت ان کی یہی حالت ہوگی تو اس خبر کو اس طرح بیان کیا جیسے سننے والا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور واقع میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچی خبر کس کی ہوگی ؟ جو غیب اور حاضر کا جاننے والا ہے۔ ہوچکی ہوئی اور ہونے والی باتوں سے آگاہ ہے۔ ابن عباس ؓ نے لڑکوں کو اچھلتے کودتے کھیلتے دوڑتے ایک دوسروں کی چٹکیاں بھرتے ہوئے دیکھ کر فرما اسی طرح یاجوج ماجوج آئیں گے۔ بہت سی احادیث میں ان کے نکلنے کا ذکر ہے۔ 001 مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں یاجوج ماجوج کھولے جائیں گے اور وہ لوگوں کے پاس پہنچیں گے جیسے اللہ عزوجل کا فرمان ہے آیت (وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ 96) 21۔ الأنبیاء :96) وہ چھاجائیں گے اور مسلمان اپنے شہروں اور قلعوں میں سمٹ آئیں گے اپنے جانوروں کو بھی وہی لے لیں گے اور اپنا پانی انہیں پلاتے رہیں گے یاجوج ماجوج جس نہر سے گزریں گے اس کا پانی صفاچٹ کر جائیں گے یہاں تک کہ اس میں خاک اڑنے لگے گی ان کی دوسری جماعت جب وہاں پہنچے گی تو وہ کہے گی شاید اس میں کسی زمانے میں پانی ہوگا۔ جب یہ دیکھیں گے کہ اب زمین پر کوئی نہ رہا اور واقع میں سوائے ان مسلمانوں کے جو اپنے شہروں اور قلعوں میں پناہ گزیں ہوں گے کوئی اور وہاں ہوگا بھی نہیں تو یہ کہیں گے کہ اب زمین والوں سے تم ہم فارغ ہوگئے آؤ آسمان والوں کی خبرلیں۔ چناچہ ان میں سے ایک شریر اپنا نیزہ گھما کر آسمان کی طرف پھینکے گا قدرت الٰہی سے وہ خون آلود ہو کر ان کے پاس گرے گا یہ بھی ایک قدرتی آزمائش ہوگی اب ان کی گردنوں میں گٹھلی ہو جائے گی اور اسی وبا میں یہ سارے کے سارے ایک ساتھ ایک دم مرجائیں گے ایک بھی باقی نہ رہے گا سارا شور وغل ختم ہوجائے گا مسلمان کہیں گے کوئی ہے جو اپنی جان ہم مسلمانوں کے لئے ہتھیلی پر رکھ کر شہر کے باہر جائے اور ان دشمنوں کو دیکھے کہ کس حال میں ہیں ؟ چناچہ ایک صاحب اس کے لئے تیار ہوجائیں گے اور اپنے آپ کو قتل شدہ سمجھ کر اللہ کی راہ میں مسلمانوں کی خدمت کے لئے نکل کھڑے ہوں گے دیکھیں گے کہ سب کا ڈھیرلگ رہا ہے سارے ہلاک شدہ پڑے ہوئے ہیں یہ اسی وقت ندا کرے گا کہ مسلمانو ! خوش ہوجاؤ اللہ نے خود تمہارے دشمنوں کو غارت کردیا یہ ڈھیر پڑا ہوا ہے اب مسلمان باہر آئیں گے اور اپنے مویشیوں کو بھی لائیں گے ان کے لئے چارہ بجز ان کے گوشت کے اور کچھ نہ ہوگا یہ ان کا گوشت کھا کھا کر خوب موٹے تازے ہوجائیں گے۔ 002 مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے ایک دن صبح ہی صبح دجال کا ذکر کیا اس طرح کہ ہم سمجھے شاید وہ ان درختوں کی آڑ میں ہے اور اب نکلا ہی چاہتا ہے آپ فرمانے لگے مجھے دجال سے زیادہ خوف تم پر اور چیز کا ہے۔ اگر دجال میری موجودگی میں نکلا تو میں خود نمٹ لونگا تم میں سے ہر شخص اسے بچے۔ میں تمہیں اللہ کی ایمان میں دے رہا ہوں۔ وہ جواں عمر الجھے ہوئے بالوں والا کانا اور ابھری ہوئی آنکھ والا ہے۔ وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں گھومے گا۔ ایک بندگاں الٰہی تم ثابت قدم رہنا۔ ہم نے دریافت کیا کہ یارسول اللہ ﷺ وہ کتنا ٹھیرے گا ؟ آپ نے فرمایا چالیس دن۔ ایک دن مثل ایک برس کے ایک دن مثل ایک مہینہ کے ایک دن مثل ایک جمعہ کے اور باقی دن معمولی دنوں جیسے۔ ہم نے پوچھا یارسول ﷺ جو دن سال بھر کے برابر ہوگا اس میں ہمیں یہی پانچ نمازیں کافی ہوں گی آپ نے فرمایا نہیں تم اپنے اندازے سے وقت پر نماز پڑھتے رہا کرنا۔ ہم نے دریافت کیا کہ حضور ﷺ اس کی رفتار کیسی ہوگی ؟ فرمایا جیسے بادل کہ ہوا انہیں ادھر سے ادھربھگائے لئے جاتی ہو۔ ایک قبیلے کے پاس جائے گا انہیں اپنی طرف بلائے گا وہ اس کی مان لیں گے۔ آسمان کو حکم دے گا کہ ان پر بارش برسائے زمین سے کہے گا کہ ان کے لئے پیداوار اگائے ان کے جانور ان کے پاس موٹے تازے بھرے پیٹ لوٹیں گے۔ ایک قبیلے کے پاس اپنے تائیں منوانا چاہے گا وہ انکار کردیں گے یہ وہاں سے نکلے گا تو ان کے تمام مال اس کے پیچھے لگ جائیں گے وہ بالکل خالی ہاتھ رہ جائیں گے وہ غیرآباد جنگلوں میں جائے گا اور زمین سے کہے گا اپنے خزانے اگل دے وہ اگل دے گی اور سارے خزانے اس کے پیچھے ایسے چلیں گے جیسے شہد کی مکھیاں اپنے سردار کے پیچھے۔ یہ بھی دکھائے گا کہ ایک شخص کو تلوار سے ٹھیک دو ٹکرے کرادے گا اور ادھرادھر دور دراز پھنکوا دے گا پھر اس کا نام لے کر آواز دے گا تو وہ زندہ چلتا پھرتا اس کے پاس آجائے گا یہ اسی حال میں ہوگا جو اللہ عزوجل حضرت مسیح ابن مریم کو اتارے گا آپ دمشق کی مشرقی طرف سفید منارے کے پاس اتریں گے اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے ہوں گے آپ اس کا پیچھا کریں گے اور مشرقی باب کے لد کے پاس اسے پا کر قتل کردیں گے پھر حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کی طرف اللہ کی وحی آئے گی میں اپنے ایسے بندوں کو بھیجتا ہوں جن سے لڑنے کی تم میں تاب وطاقت نہیں میرے بندوں کو طور کی طرف سمیٹ لے جا۔ پھر جناب باری یاجوج ماجوج کو بھیجے گا جیسے فرمایا آیت (وہم من کل حدب ینسلون) ان سے تنگ آکر حضرت عیسیٰ ؑ اور آپ کے ساتھی جناب باری میں دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر گٹھلی کی بیماری بھیجے گا جو ان کی گردن میں نکلے گی سارے کے سارے اوپر تلے ایک ساتھ ہی مرجائیں گے تب حضرت عیسیٰ ؑ مع مؤمنوں کے آئیں گے۔ دیکھیں گے کہ تمام زمین ان کی لاشوں سے پٹی پڑی ہے اور ان کی بدبو سے کھڑا نہیں ہوا جاتا۔ آپ پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند بھیجے گا جو انہیں اللہ جانے کہاں پھینک آئیں گے ؟ کعب ؒ کہتے ہی مہیل میں یعنی سورج کے طلوع ہونے کی جگہ میں انہیں پھینک آئیں گے۔ پھر چالیس دن تک تمام زمین میں مسلسل بارش برسے گی، زمین دھل دھلا کر ہتھیلی کی طرح صاف ہوجائے گی پھر بحکم الٰہی اپنی برکتیں اگادے گی۔ اس دن ایک جماعت کی جماعت ایک انار سے سیر ہوجائے گی اور اس کے چھلکے تلے سایہ حاصل کرلے گی ایک اونٹنی کا دودھ لوگوں کی ایک جماعت کو اور ایک گائے کا دودھ ایک قبیلے کو اور ایک بکری کا دودھ ایک گھرانے کو کافی ہوگا۔ پھر ایک پاکیزہ ہوا چلے گی جو مسلمانوں کی بغلوں تلے سے نکل جائے گی اور ان کی روح قبض ہوجائے گی پھر روئے زمین پر بدترین شریر لوگ باقی رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح کودتے ہوں گے انہی پر قیامت قائم ہوگی۔ امام ترمذی ؒ اسے حسن کہتے ہیں۔ 003 مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ کو ایک بچھو نے کاٹ کھایا تھا تو آپ اپنی انگلی پر پٹی باندھے ہوئے خطبے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا تم کہتے ہو اب دشمن نہیں ہیں لیکن تم تو دشمنوں سے جہاد کرتے ہی رہوگے یہاں تک کہ یاجوج ماجوج آئیں وہ چوڑے چہرے والے چھوٹی آنکھوں والے ان کے چہرے تہہ بہ تہہ ڈھالوں جیسے ہوں گے۔ 004 یہ روایت سورة اعراف کی تفسیر کے آخر میں بیان کردی گی ہے مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ معراج والی رات میں ابراہیم موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے روز قیامت کا مذکراہ شروع ہوا حضرت ابراہیم ؑ نے اس کے علم سے انکار کردیا اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ نے بھی ہاں حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا اس کے واقع ہونے کے وقت تو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا ہاں مجھ سے میرے اللہ نے یہ تو فرمایا ہے کہ دجال نکلنے والا ہے۔ اس کے ساتھ دو ٹہنیاں ہوں گی۔ وہ مجھے دیکھتے ہی سیسے کی طرح پگلنے لگے گا یہاں تک کہ اللہ اسے ہلاک کردے جب کہ وہ مجھے دیکھے یہاں تک کہ پتھر اور درخت بھی پکار اٹھیں گے کہ اے مسلم یہ ہے میرے سایہ تلے کافر۔ آ اور اسے قتل کر پس اللہ انہیں ہلاک کرے گا اور لوگ اپنے شہروں اور وطنوں کی طرف لوٹ جائیں گے۔ اس وقت یاجوج ماجوج نکلیں گے جو ہر اونچائی سے پھدکتے آئیں گے جو پائیں گے تباہ کردیں گے پانی جتنا پائیں گے پی جائیں گے لوگ پھر تنگ آکر اپنوں وطنوں میں محصور ہو کر بیٹھ جائیں گے شکایت کریں گے تو میں پھر اللہ سے دعا کرونگا اللہ انہیں غارت کردے ساری زمین پر ان کی بدبو پھیل جائے گی پھر بارش برسے گی اور پانی کا بہاؤ ان کے سڑے ہوئے جسموں کو گھسیٹ کر دریا برد کردے گا۔ میرے رب نے مجھ سے فرما دیا ہے کہ جب یہ سب کچھ ظہور میں آجائے گا پھر تو قیامت کا ہونا ایسا ہی ہے جیسے پورے دنوں میں حمل والی عورت کا وضع ہونا کہ گھر والوں کو فکر ہوتی ہے کہ صبح بچہ ہوا یا شام ہوا دن کو ہوا یا رات کو ہوا۔ (ابن ماجہ) اس کی تصدیق کلام اللہ شریف کی آیت میں موجود ہے اس بارے میں حدیثیں بکثرت ہیں اور آثار سلف بھی بہت ہیں کعب ؒ کا قول ہے کہ یاجوج ماجوج کے نکلنے کے وقت وہ دیوار کو کھودیں گے یہاں تک کہ ان کی کدلوں کی آواز پاس والے بھی سنیں گے رات ہوجائے گی ان میں سے ایک کہے گا کہ اب صبح آتے ہی اسے توڑ ڈالیں گے اور نکل کھڑے ہوں گے صبح یہ آئیں گے توجیسی کل تھی ویسی ہی آج بھی پائیں گے الغرض یونہی ہوتا رہے گا یہاں تک کہ ان کا نکالنا جب منظور ہوگا تو ایک شخص کی زبان سے نکلے گا کہ ہم کل انشاء اللہ ایسے توڑ دیں گے اب جو آئیں گے تو جیسی چھوڑ گئے تھے ویسی ہی پائیں گے تو کھود کر توڑیں گے اور باہر نکل آئیں گے ان کا پہلا گروہ بحیرہ کے پاس سے نکلے گا سارا پانی پی جائے گا دوسرا آئے گا کیچڑ بھی چاٹ جائے گا تیسرا آئے گا تو کہے گا شاید یہاں کبھی پانی ہوگا ؟ لوگ ان سے بھاگ بھاگ کر ادھر ادھر چھپ جائیں گے جب انہیں کوئی بھی نظر نہ پڑے گا تو یہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے وہاں سے وہ خون آلود واپس آئیں گے تو یہ فخر کریں گے کہ ہم زمین والوں پر اور آسمان والوں پر غالب آگئے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ ان کے لئے بدعا کریں گے کہ اللہ ہم میں ان کے مقابلے کی طاقت نہیں اور زمین پر ہمارا چلنا پھرنا بھی ضروری ہے تو ہمیں جس طریقے سے چاہے ان سے نجات دے تو اللہ ان کو طاعون میں مبتلا کرے گا گلٹیاں نکل آئیں گی اور سارے کہ سارے مرجائیں گے پھر ایک قسم کے پرند آئیں گے جو اپنی چونچ میں انہیں لے کر سمندر میں پھینک آئیں گے پھر اللہ تعالیٰ نہرحیات جاری کردے گا جو زمین کو دھوکر پاک صاف کردے گی اور زمین اپنی برکتیں نکال دے گی ایک انار ایک گھرانے کو کافی ہوگا اچانک ایک شخص آئے گا اور ندا کرے گا کہ ذوالسویقتین نکل آیا ہے حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ سات آٹھ سولشکریوں کا طلایہ بھیجیں گے یہ ابھی راستے میں ہی ہوں گے کہ یمنی پاک ہوا نہایت لطافت سے چلے گی جو تمام مؤمنوں کی روح قبض کرجائے گی پھر تو روئے زمین پر ردی کھدی لوگ رہ جائے گے جو چوپایوں جیسے ہوں گے ان پر قیامت قائم ہوگی اس وقت قیامت اس قدر قریب ہوگی جیسے پوری دنوں کی گھوڑی جو جننے کے قریب ہو اور گھوڑی والا اس کے آس پاس گھوم رہا ہو کہ کب بچہ ہو حضرت کعب رحمتہ اللہ یہ بیان فرما کر فرمانے لگے اب جو شخص میرے اس قول اور اس علم کے بعد بھی کچھ کہے اس نے تکلف کیا۔ کعب رحمتہ اللہ کا یہ واقعہ بیان کرنا بہترین واقعہ ہے کیونکہ اس کی شہادت صحیح حدیث میں بھی پائی جاتی ہے۔ احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ اس زمانے میں بیت اللہ شریف کا حج بھی کریں گے چناچہ مسند امام احمد میں یہ حدیث مرفوعا مروی ہے کہ آپ یاجوج ماجوج کے خروج کے بعد یقینا بیت اللہ کا حج کریں گے۔ یہ حدیث بخاری میں بھی ہے۔ جب یہ ہولناکیاں، جب یہ زلزلے، جب یہ بلائیں اور آفات آجائیں گی تو اس وقت قیامت بالکل قریب آجائے گی اسے دیکھ کر کافر کہنے لگیں گے یہ نہایت سخت دن ہے ان کی آنکھیں پھٹ جائیں گی اور کہنے لگیں گے ہائے ہم تو غفلت میں ہی رہے۔ ہائے ہم نے اپنا آپ بگاڑا۔ گناہوں کا اقرار اور اس پر شرمسار ہوں گا لیکن اب بےسود ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَحَرَامٌ عَلَى قَرْيَةٍ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَجَبَ، يَعْنِي: قَدَرًا مُقَدرًا [[في ت، ف: "مقدورا".]] أَنَّ أَهْلَ كُلِّ [[في ت، ف: "إن كل أهل".]] قَرْيَةٍ [[في ت: "القرية".]] أُهْلِكُوا أَنَّهُمْ لَا يُرْجَعُونَ إِلَى الدُّنْيَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ. هَكَذَا صَرَّحَ بِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الْبَاقِرُ، وَقَتَادَةُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ﴾ أَيْ: لَا يَتُوبُونَ.
وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَظْهَرُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ﴾ : قَدْ قَدَّمْنَا أَنَّهُمْ مِنْ سُلَالَةِ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بَلْ هُمْ مِنْ نَسْلِ نُوحٍ أَيْضًا [[في ف، أ: "عليه السلام".]] مِنْ أَوْلَادِ يَافِثَ أَبِي التُّرْكِ، وَالتُّرْكُ شِرْذِمَةٌ مِنْهُمْ، تُرِكُوا مِنْ وَرَاءِ السَّدِّ الَّذِي بَنَاهُ ذُو الْقَرْنَيْنِ.
وَقَالَ: ﴿هَذَا رَحْمَةٌ مِنْ رَبِّي فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا. وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَاهُمْ جَمْعًا﴾ [الْكَهْفِ:٩٨، ٩٩] ، وَقَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ أَيْ: يُسْرِعُونَ فِي الْمَشْيِ إِلَى الْفَسَادِ.
والحَدَب: هُوَ الْمُرْتَفِعُ مِنَ الْأَرْضِ، قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَعِكْرِمَةُ، وَأَبُو صَالِحٍ، وَالثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُمْ، وَهَذِهِ صِفَتُهُمْ فِي حَالِ خُرُوجِهِمْ، كَأَنَّ السَّامِعَ مُشَاهِدٌ لِذَلِكَ، ﴿وَلا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ﴾ [فَاطِرٍ:١٤] : هَذَا إِخْبَارُ عَالِمٍ مَا كَانَ وَمَا يَكُونُ، الَّذِي يَعْلَمُ غَيْبَ السموات وَالْأَرْضِ، لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيد اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: رَأَى ابُن عَبَّاسٍ صِبْيَانًا يَنْزُو بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، يَلْعَبُونَ، فَقَالَ ابن عباس: هكذا يَخْرُجُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ [[تفسير الطبري (١٧/٧٠) .]] .
وَقَدْ وَرَدَ ذِكْرُ خُرُوجِهِمْ فِي أَحَادِيثَ مُتَعَدِّدَةٍ مِنَ السُّنَّةِ النَّبَوِيَّةِ:
فَالْحَدِيثُ الْأَوَّلُ: قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَر بْنِ قَتَادَةَ، عن محمود بن لَبيد، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "يُفتَح يأجوجُ ومأجوجُ، فَيَخْرُجُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ": ﴿ [وَهُمْ] [[زيادة من أ.]] مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ ، فيغشونَ النَّاسَ، وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ عَنْهُمْ إِلَى مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ [[في ت: "وحضرتهم".]] ، وَيَضُمُّونَ إِلَيْهِمْ مواشيَهم، وَيَشْرَبُونَ مِيَاهَ الْأَرْضِ، حَتَّى أَنَّ بعضَهم لَيَمُرُّ بِالنَّهْرِ، فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهِ حَتَّى يَتْرُكُوهُ يَبَسا، حَتَّى أَنَّ مَنْ بَعْدَهُمْ لَيَمُرُّ بِذَلِكَ النَّهْرِ فَيَقُولُ [[في ت: "فيقولون".]] : قَدْ كَانَ هَاهُنَا مَاءٌ مَرَّةً حَتَّى إِذَا لَمْ يبقَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ إِلَّا أحدٌ فِي حِصْنٍ أَوْ مَدِينَةٍ قَالَ قَائِلُهُمْ: هَؤُلَاءِ أهلُ الْأَرْضِ، قَدْ فَرَغْنَا مِنْهُمْ، بَقِيَ أهلُ السَّمَاءِ. قَالَ: "ثُمَّ يَهُزُّ أَحَدُهُمْ حَرْبَتَهُ، ثُمَّ يَرْمِي بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَتَرْجِعُ إِلَيْهِ مُخْتَضبَةً دَمًا؛ لِلْبَلَاءِ وَالْفِتْنَةِ. فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ دُودًا فِي أَعْنَاقِهِمْ كنَغَف الْجَرَادِ الَّذِي يَخْرُجُ فِي أَعْنَاقِهِ، فَيُصْبِحُونَ [[في ت: "فيحصون".]] مَوْتًى لَا يُسمَع لَهُمْ حِسٌّ، فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ: أَلَا رَجُلٌ يَشْري لَنَا نَفْسَهُ، فَيَنْظُرُ مَا فَعَلَ هَذَا الْعَدُوُّ؟ " قَالَ: "فَيَتَجَرَّدُ رَجُلٌ مِنْهُمْ مُحْتَسِبًا نَفْسَهُ، قَدْ أَوْطَنَهَا عَلَى أَنَّهُ مَقْتُولٌ، فَيَنْزِلُ فَيَجِدُهُمْ مَوْتًى، بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَيُنَادِي: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، أَلَا أَبْشِرُوا، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَفَاكُمْ عَدُوَّكُمْ، فَيَخْرُجُونَ مِنْ مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ ويُسَرِّحون مَوَاشِيَهُمْ، فَمَا يَكُونُ لَهَا رَعْيٌ إِلَّا لُحُومَهُمْ، فَتَشْكر عَنْهُ كَأَحْسَنِ مَا شَكرَت عَنْ شَيْءٍ مِنَ النَّبَاتِ أَصَابَتْهُ قَطُّ.
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ بُكَيْر، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِهِ [[المسند (٣/٧٧) وسنن ابن ماجه برقم (٤٠٧٩) ، وقال البوصيري في الزوائد (٣/٢٦٠) : "هذا إسناد صحيح رجاله ثقات".]] .
الْحَدِيثُ الثَّانِي: قَالَ [الْإِمَامُ] [[زيادة من ت، ف، أ.]] أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الْعَبَّاسِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ -قَاضِي حِمْصَ-حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَير بْنِ نُفَير الْحَضْرَمِيُّ، عَنِ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّوّاس بْنَ سمْعانَ الْكِلَابِيَّ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الدَّجَّالَ ذَاتَ غَداة، فخَفَض فِيهِ ورَفَع، حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ، [فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ عَرَفَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِنَا، فَسَأَلْنَاهُ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ الْغَدَاةَ، فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ] [[زيادة من ت، ف، أ، والمسند.]] . فَقَالَ: "غَيْرُ الدَّجَّالِ أخْوَفُني عَلَيْكُمْ، فَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُه دُونَكُمْ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ، وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ: إنه شاب جَعْدُ قَطَط عينه طَافِيَةٌ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ خَلَةَ بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ، فَعَاثَ يَمِينًا وَشِمَالًا يَا عِبَادَ اللَّهِ اثْبُتُوا".
قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لُبْثُهُ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: "أَرْبَعِينَ يَوْمًا، يَوْمٌ كَسَنَةٍ، وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ، وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ، وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ".
قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَاكَ الْيَوْمُ الَّذِي هُوَ كَسَنَةٍ، أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ؟ قَالَ: "لَا اقْدِرُوا لَهُ قَدْرَهُ".
قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: "كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ". قَالَ: "فَيَمُرُّ بِالْحَيِّ فَيَدْعُوهُمْ فَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ، فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ، وَالْأَرْضَ فَتُنْبِتُ، وَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ وَهِيَ أَطْوَلُ مَا كَانَتْ ذُرَى، وَأَمَدُّهُ خَوَاصِرَ، وَأَسْبَغُهُ ضُرُوعًا. وَيَمُرُّ بِالْحَيِّ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قولَه، فَتَتْبَعُهُ أَمْوَالُهُمْ، فَيُصْبِحُونَ مُمْحلين، لَيْسَ لَهُمْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ. وَيَمُرُّ بالخَربة فَيَقُولُ لَهَا: أَخْرِجِي كُنُوزَكِ، فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ". قَالَ: "وَيَأْمُرُ بِرَجُلٍ فيُقتَل، فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جَزْلتين رَمْيَةَ الغَرَض، ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ إِلَيْهِ [يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ] [[زيادة من ف، أ، والمسند.]] .
فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ، إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ، فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ [[في ت: "المنازل".]] الْبَيْضَاءِ، شَرْقِيَّ دِمَشْقَ، بَيْنَ مَهْرُودَتَين وَاضِعًا يَدَه عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكين، فَيَتْبَعُهُ فَيُدْرِكُهُ، فَيَقْتُلُهُ عِنْدَ بَابِ لُدّ الشَّرْقِيِّ".
قَالَ: "فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ: أَنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا مِنْ عِبَادِي لَا يَدَانِ لَكَ بِقِتَالِهِمْ، فَحَوّز عِبَادِي إِلَى الطُّورِ، فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَهُمْ كَمَا قَالَ اللَّهُ: ﴿مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ فَيَرْغَبُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نَغَفًا فِي رِقَابِهِمْ، فَيُصْبِحُونَ فَرْسى، كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ.
فَيَهْبِطُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ، فَلَا يَجِدُونَ فِي الْأَرْضِ بَيْتًا إِلَّا قَدْ مَلَأَهُ زَهَمُهم ونَتْنهُم، فَيَرْغَبُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ، فَيُرْسِلُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ البُخْت، فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ".
قَالَ ابْنُ جَابِرٍ [[في ت: "جرير".]] فَحَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ السَّكْسَكيّ [[في ت: "السلسلي".]] ، عَنْ كَعْبٍ -أَوْ غَيْرِهِ-قَالَ: فَتَطْرَحُهُمْ بالمَهْبِل. [قَالَ ابْنُ جَابِرٍ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا يَزِيدَ، وَأَيْنَ المَهْبِل؟] [[زيادة من ف، أ، والمسند.]] ، قَالَ: مَطْلَعُ الشَّمْسِ.
قَالَ: "وَيُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا لَا يَكُنَّ [[في ت: "يكون".]] مِنْهُ بَيْتُ مَدَر وَلَا وَبَر أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كالزّلَقَةِ، وَيُقَالُ لِلْأَرْضِ: أَنْبِتِي ثَمَرَتَكِ، ورُدي بَرَكَتَكِ". قَالَ: "فَيَوْمَئِذٍ يَأْكُلُ النَّفَرُ مِنَ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّونَ بقحْفها، ويُبَارك فِي الرَسْل، حَتَّى إِنَّ اللَّقْحَةَ مِنَ الْإِبِلِ لَتَكْفِي الفِئَامَ مِنَ النَّاسِ، وَاللَّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ تَكْفِي الْفَخِذَ، وَالشَّاةَ مِنَ الْغَنَمِ تَكْفِي أَهْلَ الْبَيْتِ".
قَالَ: "فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ [[في ف: "هم كذلك".]] ، إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رِيحًا طَيِّبَةً تَحْتَ آبَاطِهِمْ، فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُسْلِمٍ -أَوْ قَالَ: كُلِّ مُؤْمِنٍ-وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ تَهَارُجَ الْحَمِيرِ، وَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ".
انْفَرَدَ [[في ت: "وانفرد".]] بِإِخْرَاجِهِ مُسْلِمٌ دُونَ الْبُخَارِيِّ، فَرَوَاهُ مَعَ بَقِيَّةِ أَهْلِ السُّنَنِ مِنْ طُرُقٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، بِهِ [[المسند (٤/١٨١) وصحيح مسلم برقم (٢١٣٧) وسنن أبي داود برقم (٤٣٢١) وسنن الترمذي برقم (٢٢٤٠) وسنن النسائي الكبرى برقم (١٠٧٨٣) وسنن ابن ماجه برقم (٤٠٧٥) .]] وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ صَحِيحٌ.
الْحَدِيثُ الثَّالِثُ: قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ حَرْمَلَة، عَنْ خَالَتِهِ قَالَتْ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ عَاصِبٌ أصبعُه مِنْ لَدْغَةِ عَقْرب، فَقَالَ: "إِنَّكُمْ تَقُولُونَ: "لَا عَدُوَّ [[في ت، ف، أ: "لا عدو لكم".]] ، وَإِنَّكُمْ لَا تَزَالُونَ تُقَاتِلُونَ عَدُوًّا، حَتَّى يَأْتِيَ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ عِرَاضُ الْوُجُوهِ، صِغَارُ الْعُيُونِ، صُهْبَ الشِّعَافِ، مِنْ كُلِّ حَدَب يَنْسِلُونَ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ المَجَانّ المُطرَقة" [[المسند (٥/٢١٧) .]] .
وَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلة الْمُدْلِجِيِّ، عَنْ خَالَةٍ لَهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ [[في ت، أ: "مثله سواء".]] .
الْحَدِيثُ الرَّابِعُ: قَدْ تَقَدَّمَ فِي تَفْسِيرِ آخِرِ سُورَةِ الْأَعْرَافِ مِنْ رِوَايَةِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ، عَنْ هُشَيْم، عَنِ العَوَّام، عَنْ جَبَلَة بْنِ سُحَيْم، عَنْ مُؤثر بْنِ عَفَازَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: لَقِيتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، قَالَ: فَتَذَاكَرُوا أَمْرَ السَّاعَةِ، فَرَدُّوا أَمْرَهُمْ إِلَى إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهَا [[في ت: "فيها".]] . فَرَدُّوا أَمْرَهُمْ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهَا [[في ت: "فيها".]] . فَرَدُّوا أَمْرَهُمْ إِلَى عِيسَى، فَقَالَ: أَمَّا وَجْبَتها فلا يعلم بها أحد إلا الله، وَفِيهَا عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّيَ أَنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ".
قَالَ: "وَمَعِي قَضِيبَانِ، فَإِذَا رَآنِي ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرَّصَاصُ" قَالَ: "فَيُهْلِكُهُ اللَّهُ إِذَا رَآنِي، حَتَّى إِنَّ الْحَجَرَ وَالشَّجَرَ يَقُولُ: يَا مُسْلِمُ إِنَّ تَحْتِي كَافِرًا، فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ". قَالَ: "فَيُهْلِكُهُمُ اللَّهُ، ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلَى بِلَادِهِمْ وَأَوْطَانِهِمْ". قَالَ: "فَعِنْدَ ذَلِكَ يَخْرُجُ يأجوج ومأجوج وهم مِنْ كُلِّ حَدَب يَنسلون، فَيَطَؤُونَ بِلَادَهُمْ، لَا [[في ت، ف: "ولا".]] يَأْتُونَ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا أَهْلَكُوهُ، وَلَا يَمُرُّونَ عَلَى مَاءٍ إِلَّا شَرِبُوهُ". قَالَ: "ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلَيَّ يَشْكُونَهُمْ، فَأَدْعُو اللَّهَ عَلَيْهِمْ، فَيُهْلِكُهُمْ وَيُمِيتُهُمْ، حَتَّى تَجوى الْأَرْضُ مِنْ نَتْن رِيحِهِمْ، وَيُنْزِلُ اللَّهُ الْمَطَرَ فَيَجْتَرِفُ أَجْسَادَهُمْ، حَتَّى يَقْذِفَهُمْ فِي الْبَحْرِ. فَفِيمَا عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّي أَنَّ ذَلِكَ إِذَا كَانَ كَذَلِكَ، أَنَّ السَّاعَةَ كَالْحَامِلِ المُتِمّ، لَا يَدْرِي أَهْلُهَا مَتَى تَفْجُؤهم بِوِلَادِهَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا".
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنِ العَوَّام بْنِ حَوْشَب، به [[المسند (١/٣٧٥) وسنن ابن ماجه برقم (٤٠٨١) وسبق عند تفسير الآية: ١٨٧ من سورة الأعراف.]] ، نَحْوَهُ وَزَادَ: "قَالَ العَوَّام، وَوُجِدَ تَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ .
وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ هَاهُنَا مِنْ حَدِيثِ جَبَلَةَ، بِهِ [[تفسير الطبري (١٧/٧٢) .]] .
وَالْأَحَادِيثُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ جِدًّا، وَالْآثَارُ عَنِ السَّلَفِ كَذَلِكَ.
وَقَدْ رَوَى ابُن جَرِيرٍ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، مِنْ حَدِيثِ مَعْمَر، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ بْنِ هِلَالٍ، عَنِ أَبِي الصَّيف قَالَ: قَالَ كَعْبٌ: إِذَا كَانَ عِنْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، حَفَرُوا حَتَّى يَسْمَعَ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَرْعَ فُؤُوسِهِمْ، فَإِذَا كَانَ اللَّيْلُ قَالُوا: نَجِيءُ غَدًا فَنَخْرُجُ، فَيُعِيدُهُ اللَّهُ كَمَا كَانَ. فَيَجِيئُونَ مِنَ الْغَدِ فَيَجِدُونَهُ قَدْ أَعَادَهُ اللَّهُ كَمَا كَانَ، فَيَحْفِرُونَهُ حَتَّى يَسْمَعَ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَرْعَ فُؤُوسِهِمْ، فَإِذَا كَانَ اللَّيْلُ أَلْقَى اللَّهُ عَلَى لِسَانِ رَجُلٍ مِنْهُمْ يَقُولُ: نَجِيءُ غَدًا فَنَخْرُجُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. فَيَجِيئُونَ مِنَ الْغَدِ فَيَجِدُونَهُ كَمَا تَرَكُوهُ، فَيَحْفِرُونَ حَتَّى يَخْرُجُوا. فَتَمُرُّ الزُّمْرَةُ الْأُولَى بِالْبُحَيْرَةِ، فَيَشْرَبُونَ مَاءَهَا، ثُمَّ تَمُرُّ الزُّمْرَةُ الثَّانِيَةُ فَيَلْحَسُونَ طِينَهَا، ثُمَّ تَمُرُّ الزُّمْرَةُ الثَّالِثَةُ فَيَقُولُونَ [[في ت: "فيقول".]] : قَدْ كَانَ هَاهُنَا مَرَّةً مَاءٌ، وَيَفِرُّ النَّاسُ مِنْهُمْ، فَلَا يَقُومُ لَهُمْ شَيْءٌ. ثُمَّ يَرْمُونَ بِسِهَامِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ فَتَرْجِعُ إِلَيْهِمْ مُخَضَّبة بِالدِّمَاءِ فَيَقُولُونَ: غَلَبْنَا أَهْلَ الْأَرْضِ وَأَهْلَ السَّمَاءِ. فَيَدْعُو عَلَيْهِمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَيَقُولُ: "اللَّهُمَّ، لَا طَاقَةَ وَلَا يَدَين لَنَا بِهِمْ، فَاكْفِنَاهُمْ بِمَا شِئْتَ"، فَيُسَلِّطُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ دُودًا يُقَالُ لَهُ: النَّغْفُ، فَيَفْرِسُ [[في ت: "فيفرش".]] رِقَابَهُمْ، وَيَبْعَثُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا تَأْخُذُهُمْ بِمَنَاقِيرِهَا فَتُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ، وَيَبْعَثُ اللَّهُ عَيْنًا يُقَالُ لَهَا: "الْحَيَاةُ" يُطَهِّرُ اللَّهُ الْأَرْضَ وَيُنْبِتُهَا، حَتَّى إِنَّ الرُّمَّانَةَ لَيَشْبَعُ مِنْهَا السَّكْن". قِيلَ: وَمَا السَّكن يَا كَعْبُ؟ قَالَ: أَهْلُ الْبَيْتِ -قَالَ: "فَبَيْنَمَا النَّاسُ كَذَلِكَ إِذْ أَتَاهُمُ الصَّريخ أَنَّ ذَا السُّويقَتَين يُرِيدُهُ. قَالَ: فَيَبْعَثُ [[في ت: "فيبعث الله عيسى".]] عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ طَلِيعَةً سَبْعَمِائَةٍ، أَوْ بَيْنَ السَّبْعِمِائَةِ وَالثَّمَانِمِائَةِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا يَمَانِيَّةً طَيِّبَةً، فَيَقْبِضُ فِيهَا رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ، ثُمَّ يَبْقَى عَجَاج [[في ت، ف: "عجاج من".]] النَّاسِ، فَيَتَسَافَدُونَ كَمَا تَسَافَدُ الْبَهَائِمُ، فَمَثل السَّاعَةِ كَمَثَلِ رَجُلٍ يَطِيفُ حَوْلَ فَرَسِهِ يَنْتَظِرُهَا مَتَى تَضَعُ؟ قَالَ كَعْبٌ: فَمَنْ تَكَلَّفَ بَعْدَ قَوْلِي هَذَا شَيْئًا -أَوْ بَعْدَ عِلْمِي هَذَا شَيْئًا-فَهُوَ الْمُتَكَلِّفُ [[تفسير الطبري (١٧/٧١) .]] .
هَذَا مِنْ أَحْسَنِ سِيَاقَاتِ كَعْبِ الْأَحْبَارِ، لِمَا شَهِدَ لَهُ مِنْ صَحِيحِ الْأَخْبَارِ.
وَقَدْ ثَبَتَ فِي الْحَدِيثِ أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ يَحُجُّ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ، وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتبَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "ليُحَجَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ، وليُعْتَمَرنّ بَعْدَ خروج يأجوج ومأجوج". انفرد بإخراجه البخاري [[المسند (٣/٢٧) وصحيح البخاري برقم (١٥٩٣) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ﴾ يَعْنِي: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِذَا وُجدت هَذِهِ الْأَهْوَالُ وَالزَّلَازِلُ وَالْبَلَابِلُ، أَزِفَتِ السَّاعَةُ وَاقْتَرَبَتْ، فَإِذَا كَانَتْ وَوَقَعَتْ قَالَ الْكَافِرُونَ: ﴿هَذَا يَوْمٌ عَسِرٌ﴾ [الْقَمَرِ:٨] . وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَإِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ أَبْصَارُ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ أَيْ: مِنْ شِدَّةِ مَا يُشَاهِدُونَهُ مِنَ الْأُمُورِ الْعِظَامِ: ﴿يَا وَيْلَنَا﴾ أَيْ: يَقُولُونَ: ﴿يَا وَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِي غَفْلَةٍ مِنْ هَذَا﴾ أَيْ: فِي الدُّنْيَا، ﴿بَلْ كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ ، يَعْتَرِفُونَ بِظُلْمِهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ، حَيْثُ لَا يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ.
وَٱقْتَرَبَ ٱلْوَعْدُ ٱلْحَقُّ فَإِذَا هِىَ شَٰخِصَةٌ أَبْصَٰرُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يَٰوَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِى غَفْلَةٍۢ مِّنْ هَٰذَا بَلْ كُنَّا ظَٰلِمِينَ
And [when] the true promise has approached; then suddenly the eyes of those who disbelieved will be staring [in horror, while they say], "O woe to us; we had been unmindful of this; rather, we were wrongdoers."
اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب آجائے تو ناگاہ کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں (اور کہنے لگیں کہ) ہائے شامت ہم اس (حال) سے غفلت میں رہے بلکہ (اپنے حق میں) ظالم تھے
و وعده حقّ [= قیامت] نزدیک میشود؛ در آن هنگام چشمهای کافران از وحشت از حرکت بازمیماند؛ (میگویند:) ای وای بر ما که از این (جریان) در غفلت بودیم؛ بلکه ما ستمکار بودیم!
Tafsir Ibn Kathir
And a ban is laid on every town which We have destroyed that they shall not return (95)Until, when Ya'juj and Ma'juj (Gog and Magog people) are let loose, and they swoop down from every Hadab (96)And the true promise shall draw near. Then, you shall see the eyes of the disbelievers fixedly staring in horror. (They will say:) "Woe to us! We were indeed heedless of this – nay, but we were wrongdoers. (97)
Those who have been destroyed, will never return to this World.
وَحَرَامٌ عَلَىٰ قَرْيَةٍ
(And a ban is laid on every town) Ibn 'Abbas said, "it is enforced", i.e., it has been decreed that the people of each township that has been destroyed will never return to this world before the Day of Resurrection, as is reported clearly [through other narrations] from Ibn 'Abbas, Abu Ja'far Al-Baqir, Qatadah and others.
Ya'juj and Ma'juj
حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ
(Until, when Ya'juj and Ma'juj are let loose,) We have already mentioned that they are from the progeny of Adam, upon him be peace; they are also descents of Nuh through his son Yafith (Japheth), who was the father of the Turks, Turk referring to the group of them who were left behind the barrier which was built by Dhul-Qarnayn. Allah says:
هَٰذَا رَحْمَةٌ مِّن رَّبِّي ۖ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ ۖ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا - وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ
(This is a mercy from my Lord, but when the promise of my Lord comes, He shall level it down to the ground. And the promise of my Lord is ever true. And on that Day, We shall leave them to surge like waves on one another...)(18:98-99). And in this Ayah, Allah says:
حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ
(Until, when Ya'juj and Ma'juj are let loose, and they swoop down from every Hadab.) meaning, they will come forth quickly to spread corruption. A Hadab is a raised portion of land. This was the view of Ibn 'Abbas, 'Ikrimah, Abu Salih, Ath-Thawri and others. This is how their emergence is described, as if the listener can see it.
وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ
(And none can inform you like Him Who is the All-Knower.)[35:14].
This is information given by the One Who knows what has happened and what is yet to come, the One Who knows the unseen in the heavens and on earth. There is no god except Him.
Ibn Jarir narrated that 'Ubaydullah bin Abi Yazid said, "Ibn 'Abbas saw some young boys playing and pouncing on one another, and said, this is how Ya'juj and Ma'juj will emerge." Their emergence has been described in numerous Hadiths of the Prophet ﷺ.
The First Hadith
Imam Ahmad recorded that Abu Sa'id Al-Khudri said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say:
تُفْتَحُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، فَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ، كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ:
وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ
فَيَغْشَوْنَ النَّاسَ وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ عَنْهُمْ إِلَى مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ، وَيَضُمُّونَ إِلَيْهِمْ مَوَاشِيَهُمْ، وَيَشْرَبُونَ مِيَاهَ الْأَرْضِ، حَتَّى إِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَمُرُّ بِالنَّهَرِ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهِ حَتَّى يَتْرُكُوهُ يَابِسًا، حَتَّى إِنَّ مَنْ بَعْدَهُمْ لَيَمُرُّ بِذَلِكَ النَّهَرِ فَيَقُولُ: قَدْ كَانَ هَهُنَا مَاءٌ مَرَّةً، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ إِلَّا أَحَدٌ فِي حِصْنٍ أَوْ مَدِينَةٍ، قَالَ قَائِلُهُمْ: هَؤُلَاءِ أَهْلُ الْأَرْضِ قَدْ فَرَغْنَا مِنْهُمْ بَقِيَ أَهْلُ السَّمَاءِ، قَالَ: ثُمَّ يَهُزُّ أَحَدُهُمْ حَرْبَتَهُ، ثُمَّ يَرْمِي بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَتَرْجِعُ إِلَيْهِ مُخضَّبَةً دَمًا لِلْبَلَاءِ وَالْفِتْنَةِ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ، بَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ دُودًا فِي أَعْنَاقِهِمْ كَنَغَفِ الْجَرَادِ الَّذِي يَخْرُجُ فِي أَعْنَاقِهِ، فَيُصْبِحُونَ مَوْتَى لَا يُسْمَعُ لَهُمْ حِسٌّ، فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ: أَلَا رَجُلٌ يَشْرِي لَنَا نَفْسَهُ فَيَنْظُرَ مَا فَعَلَ هَذَا الْعَدُوُّ؟ قَالَ: فَيَتَجَرَّدُ رَجُلٌ مِنْهُمْ مُحْتَسِبًا نَفْسَهُ، قَدْ أَوْطَنَهَا عَلَى أَنَّهُ مَقْتُولٌ، فَيَنْزِلُ فَيَجِدُهُمْ مَوْتَى، بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَيُنَادِي: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، أَلَا أَبْشِرُوا إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَفَاكُمْ عَدُوَّكُمْ، فَيَخْرُجُونَ مِنْ مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ، وَيُسَرِّحُونَ مَوَاشِيَهُمْ، فَمَا يَكُونُ لَهُمْ رَعْيٌ إِلَّا لُحُومُهُمْ، فَتَشْكَرُ عَنْهُمْ كَأَحْسَنِ مَا شَكِرَتْ عَنْ شَيْءٍ مِنَ النَّبَاتِ أَصَاَبَتْهُ قَطُّ
(Ya'juj and Ma'juj will be let loose and will emerge upon mankind, as Allah says: (and they swoop down from every Hadab.)
They will overwhelm the people, and the Muslims will retreat to their cities and strongholds, bringing their flocks with them. They [Ya'juj and Ma'juj] will drink all the water of the land until some of them will pass a river and drink it dry, then those who come after them will pass by that place and will say, "There used to be water here once." Then there will be no one left except those who are in their strongholds and cities. Then one of them will say, "We have defeated the people of the earth; now the people of heaven are left." One of them will shake his spear and hurl it into the sky, and it will come back stained with blood, as a test and a trial for them. While this is happening, Allah will send a worm in their necks, like the worm that is found in date-stones or in the nostrils of sheep, and they will die and their clamor will cease. Then the Muslims will say, "Who will volunteer to find out what the enemy is doing?" One of them will step forward and volunteer, knowing that he will likely be killed. He will go down and will find them dead, lying on top of one another. Then he will call out, "O Muslims! Rejoice that Allah has sufficed you against your enemy!" Then they will come out of their cities and strongholds, and will let their flocks out to graze, but they will have nothing to graze upon except the flesh of these people (Ya'juj and Ma'juj), but it will fill them better than any vegetation they have ever eaten before.) It was also recorded by Ibn Majah.
The Second Hadith
Imam Ahmad also recorded from An-Nawwas bin Sam'an Al-Kilabi that the Messenger of Allah ﷺ mentioned the Dajjal one morning. "Sometimes he described him as insignificant and sometimes he described him as so significant that we felt as if he were in the cluster of palm trees. He said:
غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَيْكُمْ. فَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ، فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ، فَكُلُّ امْرِىءٍ حَجيجُ نَفْسِهِ، وَاللهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، وَإِنَّهُ شَابٌّ جَعْدٌ قَطَطٌ، عَيْنُهُ طَافِيَةٌ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ خَلَّةً بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَشِمَالًا، يَا عِبَادَ اللهِ اثْبُتُوا
(There are other things that I fear for you more than the Dajjal. If he emerges while I am among you, I will deal with him for you. If he emerges when I am not among you, then each man will have to deal with him for himself, and Allah will take care of each Muslim on my behalf. He (the Dajjal) will be a young man with short, curly hair and a floating eye. He will emerge in a place between Syria and Iraq and will spread mischief right and left. O servants of Allah, be steadfast!)
We said, 'O Messenger of Allah, how long will he remain on earth?' He said,
أَرْبَعُونَ يَوْمًا، يَوْمٌ كَسَنَةٍ، وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ، يَوْمٌ كَجُمُعَةٍ، وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُم
(Forty days: one day like a year, one day like a month, one day like a week, and the rest of the days like your days.) We said, 'O Messenger of Allah, on that day which will be like a year, will the prayers of one day and one night be sufficient?' He said,
لَا، اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ
(No, but you will have to compute it according to its due proportion (and pray accordingly).) We said, 'O Messenger of Allah, how fast will he move across the land?' He said,
كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ
(Like a cloud driven by the wind.) He said,
فَيَمُرُّ بِالْحَيِّ فَيَدْعُوهُمْ فَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ، فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ، وَالْأَرْضَ فَتُنْبِتُ، وَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ، وَهِيَ أَطْوَلُ مَا كَانَتْ ذُرًى، وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ، وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا، وَيَمُرُّ بِالْحَيِّ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ، فَتَتْبَعُهُ أَمْوَالُهُمْ فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ، لَيْسَ لَهُمْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ شَيْءٌ، وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا: أَخْرِجِي كُنُوزَكِ، فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ - قَالَ: - وَيَأْمُرُ بِرَجُلٍ فَيُقْتَلُ، فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جَزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ، ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ إِلَيْهِ، يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ، إِذْ بَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ، فَيَتْبَعُهُ فَيُدْرِكُهُ فَيَقْتُلُهُ عِنْدَ بَابِ لُدٍّ الشَّرْقِيِّ - قَالَ: - فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ أَوْحَى اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا مِنْ عِبَادِي، لَا يَدَانِ لَكَ بِقِتَالِهِمْ، فَحَرِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ، فَيَبْعَثُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى:
وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ
(He will come to a people and call them [to his way] and they will respond to him. He will issue a command to the sky and it will rain, and to the earth and it will bring forth vegetation, then their livestock will come to them in the evening with their humps very high and their udders full of milk and their flanks wide and fat. Then he will come to another people and call them [to his way] and they will refuse, and their wealth will leave with him, and they will be faced with drought, with none of their wealth left. Then he will walk through the wasteland and will say to it, "Bring forth your treasure," and its treasure will come forth like a swarm of bees. Then he will issue commands that a man be killed, and he will strike him with a sword and cut him into two pieces, and (put these pieces as far apart) as the distance between an archer and his target. Then he will call him, and the man will come to him with his face shining. At that point Allah will send the Messiah 'Isa bin Maryam, who will come down to the white minaret in the eastern side of Damascus, wearing two garments lightly dyed with saffron and with his hands resting on the wings of two angels. He will search for him (the Dajjal) until he catches up with him at the eastern gate of Ludd, where he will kill him. Then Allah will reveal to 'Isa ibn Maryam the words: "I have brought forth from amongst My creatures people against whom none will be able to fight. Take My servants safely to the Mount (Tur)." Then Allah will send Ya'juj and Ma'juj, as Allah says: (and they swoop down from every Hadab.))
فَيَرْغَبُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُرْسِلُ اللهُ عَلَيْهِمْ نَغَفًا فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ، فَيَهْبِطُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ فَلَا يَجِدُونَ فِي الْأَرْضِ بَيْتًا إِلَّا قَدْ مَلَأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتَنُهُمْ، فَيَرْغَبُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُرْسِلُ اللهُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ، فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللهُ
('Isa and his companions will beseech Allah, and Allah will send against them insects which will attack their necks, and in the morning they will all perish as one. Then 'Isa and his companions will come down and they will not find a single spot on earth that is free from their putrefaction and stench. Then 'Isa and his companions will again beseech Allah, and He will send birds with necks like those of Bactrian camels, and they will carry them and throw them wherever Allah wills.)
Ibn Jabir said: "'Ata' bin Yazid As-Saksaki told me, from Ka'b or someone else: 'They will throw them into Al-Mahbal.' Ibn Jabir said: "I said, 'O Abu Yazid, and where is Al-Mahbal?" He said, "In the east (where the sun rises)." He said:
وَيُرْسِلُ اللهُ مَطَرًا لَا يَكُنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كَالزَّلَفَةِ، وَيُقَالُ لِلْأَرْضِ: أَنْبِتِي ثَمَرَكِ وَرُدِّي بَرَكَتَكِ، قَالَ: فَيَوْمَئِذٍ يَأْكُلُ النَّفَرُ مِنَ الرُّمَّانَةِ فَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا، وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ حَتَّى إِنَّ اللِّقْحَةَ مِنَ الْإِبِلِ لَتَكْفِي الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ، وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ تَكْفِي الْفَخِذَ، وَالشَّاةَ مِنَ الْغَنَمِ تَكْفِي أَهْلَ الْبَيْتِ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ، إِذْ بَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ رِيحًا طَيِّبَةً، فَتَأْخُذُهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُسْلِمٍ - أَوْ قَالَ: كُلِّ مُؤْمِنٍ - وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ، يَتَهَارَجُونَ تَهَارُجَ الْحُمُرِ، وَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ
(Then Allah will send rain which no house of clay or (tent of) camel's hair will be able to keep out, for forty days, and the earth will be washed until it looks like a mirror. Then it will be said to the earth: bring forth your fruit and restore your blessing. On that day a group of people will be able to eat from one pomegranate and seek shade under its skin, and everything will be blessed. A milch-camel will give so much milk that it will be sufficient for a whole group of people, and a milch-cow will give so much milk that it will be sufficient for a whole clan, and a sheep will be sufficient for an entire household. At that time Allah will send a pleasant wind which will reach beneath their armpits and will take the soul of every Muslim – or every believer – and there will be left only the most evil of people who will commit fornication like mules, and then the Hour will come upon them.)"
This was also recorded by Muslim but not by Al-Bukhari. It was also recorded by the Sunan compilers, with different chains of narrators. At-Tirmidhi said, "It is Hasan Sahih."
The Third Hadith
Imam Ahmad recorded from Ibn Harmalah, from his maternal aunt who said: "The Messenger of Allah ﷺ gave a Khutbah, and he had a bandage on his finger where he had been stung by a scorpion. He said:
إِنَّكُمْ تَقُولُونَ: لَا عَدُوَّ لَكُمْ، وَإِنَّكُمْ لَا تَزَالُونَ تُقَاتِلُونَ عَدُوًّا، حَتَّى يَأْتِيَ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ: عِرَاضَ الْوُجُوهِ، صِغَارَ الْعُيُونِ، صُهْبَ الشِّعَافِ، مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ
(You say that you have no enemy, but you will keep fighting your enemies until Ya'juj and Ma'juj come, with their wide faces, small eyes and reddish hair, pouring down from every mound with their faces looking like burnished shields.)"
Ibn Abi Hatim recorded a Hadith of Muhammad bin 'Amr from Khalid bin 'Abdullah bin Harmalah Al-Mudlaji, from his paternal aunt, from the Prophet ﷺ, and he mentioned something similar.
It was confimred by Hadiths that 'Isa bin Maryam will perform Hajj to the Al-Bayt Al-'Atiq (i.e., the Ka'bah). Imam Ahmad recorded that Abu Sa'id said: "The Messenger of Allah ﷺ said:
لَيُحَجَّنَّ هَذَا الْبَيْتُ وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ
(He will certainly come to this House and perform Hajj and 'Umrah, after the emergence of Ya'juj and Ma'juj.) This was recorded by Al-Bukhari.
وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ
(And the true promise (Day of Resurrection) shall draw near.) the Day of Resurrection, when these terrors and earthquakes and this chaos will come to pass. The Hour has drawn nigh and when it comes to pass, the disbelievers will say: "This is a difficult Day." Allah says:
فَإِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ أَبْصَارُ الَّذِينَ كَفَرُوا
(Then, you shall see the eyes of the disbelievers fixedly staring in horror.) because of the horror of the tremendous events that they are witnessing.
يَا وَيْلَنَا
(Woe to us!) means, they will say, 'Woe to us!'
قَدْ كُنَّا فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَٰذَا
(We were indeed heedless of this) means, in the world.
بَلْ كُنَّا ظَالِمِينَ
(nay, but we were wrongdoers.) they will admit their wrongdoing at the time when that will not help them at all.
Tafsir Ibn Kathir
یافت کی اولاد ہلاک شدہ لوگوں کا دنیا کی طرف پھر پلٹنا محال ہے۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ان کی توبہ مقبول نہیں۔ لیکن پہلا قول اولیٰ ہے۔ یاجوج ماجوج نسل آدم سے ہیں۔ بلکہ وہ حضرت نوح ؑ کے لڑکے یافت کی اولاد میں سے ہیں جن کی نسل ترک ہیں یہ بھی انہی کا ایک گروہ ہے یہ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی دیوار سے باہر ہی چھوڑ دیے گئے تھے۔ آپ نے دیوار بنا کر فرمایا تھا کہ یہ میرے رب کی رحمت ہے۔ اللہ کے وعدے کے وقت اس کا چورا چورا ہوجائے گا میرے رب کا وعدہ حق ہے الخ۔ یاجوج ماجوج قرب قیامت کے وقت وہاں سے نکل آئیں گے اور زمین میں فساد مچا دیں گے۔ ہر اونچی جگہ کو عربی میں حدب کہتے ہیں۔ ان کے نکلنے کے وقت ان کی یہی حالت ہوگی تو اس خبر کو اس طرح بیان کیا جیسے سننے والا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور واقع میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچی خبر کس کی ہوگی ؟ جو غیب اور حاضر کا جاننے والا ہے۔ ہوچکی ہوئی اور ہونے والی باتوں سے آگاہ ہے۔ ابن عباس ؓ نے لڑکوں کو اچھلتے کودتے کھیلتے دوڑتے ایک دوسروں کی چٹکیاں بھرتے ہوئے دیکھ کر فرما اسی طرح یاجوج ماجوج آئیں گے۔ بہت سی احادیث میں ان کے نکلنے کا ذکر ہے۔ 001 مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں یاجوج ماجوج کھولے جائیں گے اور وہ لوگوں کے پاس پہنچیں گے جیسے اللہ عزوجل کا فرمان ہے آیت (وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ 96) 21۔ الأنبیاء :96) وہ چھاجائیں گے اور مسلمان اپنے شہروں اور قلعوں میں سمٹ آئیں گے اپنے جانوروں کو بھی وہی لے لیں گے اور اپنا پانی انہیں پلاتے رہیں گے یاجوج ماجوج جس نہر سے گزریں گے اس کا پانی صفاچٹ کر جائیں گے یہاں تک کہ اس میں خاک اڑنے لگے گی ان کی دوسری جماعت جب وہاں پہنچے گی تو وہ کہے گی شاید اس میں کسی زمانے میں پانی ہوگا۔ جب یہ دیکھیں گے کہ اب زمین پر کوئی نہ رہا اور واقع میں سوائے ان مسلمانوں کے جو اپنے شہروں اور قلعوں میں پناہ گزیں ہوں گے کوئی اور وہاں ہوگا بھی نہیں تو یہ کہیں گے کہ اب زمین والوں سے تم ہم فارغ ہوگئے آؤ آسمان والوں کی خبرلیں۔ چناچہ ان میں سے ایک شریر اپنا نیزہ گھما کر آسمان کی طرف پھینکے گا قدرت الٰہی سے وہ خون آلود ہو کر ان کے پاس گرے گا یہ بھی ایک قدرتی آزمائش ہوگی اب ان کی گردنوں میں گٹھلی ہو جائے گی اور اسی وبا میں یہ سارے کے سارے ایک ساتھ ایک دم مرجائیں گے ایک بھی باقی نہ رہے گا سارا شور وغل ختم ہوجائے گا مسلمان کہیں گے کوئی ہے جو اپنی جان ہم مسلمانوں کے لئے ہتھیلی پر رکھ کر شہر کے باہر جائے اور ان دشمنوں کو دیکھے کہ کس حال میں ہیں ؟ چناچہ ایک صاحب اس کے لئے تیار ہوجائیں گے اور اپنے آپ کو قتل شدہ سمجھ کر اللہ کی راہ میں مسلمانوں کی خدمت کے لئے نکل کھڑے ہوں گے دیکھیں گے کہ سب کا ڈھیرلگ رہا ہے سارے ہلاک شدہ پڑے ہوئے ہیں یہ اسی وقت ندا کرے گا کہ مسلمانو ! خوش ہوجاؤ اللہ نے خود تمہارے دشمنوں کو غارت کردیا یہ ڈھیر پڑا ہوا ہے اب مسلمان باہر آئیں گے اور اپنے مویشیوں کو بھی لائیں گے ان کے لئے چارہ بجز ان کے گوشت کے اور کچھ نہ ہوگا یہ ان کا گوشت کھا کھا کر خوب موٹے تازے ہوجائیں گے۔ 002 مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے ایک دن صبح ہی صبح دجال کا ذکر کیا اس طرح کہ ہم سمجھے شاید وہ ان درختوں کی آڑ میں ہے اور اب نکلا ہی چاہتا ہے آپ فرمانے لگے مجھے دجال سے زیادہ خوف تم پر اور چیز کا ہے۔ اگر دجال میری موجودگی میں نکلا تو میں خود نمٹ لونگا تم میں سے ہر شخص اسے بچے۔ میں تمہیں اللہ کی ایمان میں دے رہا ہوں۔ وہ جواں عمر الجھے ہوئے بالوں والا کانا اور ابھری ہوئی آنکھ والا ہے۔ وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں گھومے گا۔ ایک بندگاں الٰہی تم ثابت قدم رہنا۔ ہم نے دریافت کیا کہ یارسول اللہ ﷺ وہ کتنا ٹھیرے گا ؟ آپ نے فرمایا چالیس دن۔ ایک دن مثل ایک برس کے ایک دن مثل ایک مہینہ کے ایک دن مثل ایک جمعہ کے اور باقی دن معمولی دنوں جیسے۔ ہم نے پوچھا یارسول ﷺ جو دن سال بھر کے برابر ہوگا اس میں ہمیں یہی پانچ نمازیں کافی ہوں گی آپ نے فرمایا نہیں تم اپنے اندازے سے وقت پر نماز پڑھتے رہا کرنا۔ ہم نے دریافت کیا کہ حضور ﷺ اس کی رفتار کیسی ہوگی ؟ فرمایا جیسے بادل کہ ہوا انہیں ادھر سے ادھربھگائے لئے جاتی ہو۔ ایک قبیلے کے پاس جائے گا انہیں اپنی طرف بلائے گا وہ اس کی مان لیں گے۔ آسمان کو حکم دے گا کہ ان پر بارش برسائے زمین سے کہے گا کہ ان کے لئے پیداوار اگائے ان کے جانور ان کے پاس موٹے تازے بھرے پیٹ لوٹیں گے۔ ایک قبیلے کے پاس اپنے تائیں منوانا چاہے گا وہ انکار کردیں گے یہ وہاں سے نکلے گا تو ان کے تمام مال اس کے پیچھے لگ جائیں گے وہ بالکل خالی ہاتھ رہ جائیں گے وہ غیرآباد جنگلوں میں جائے گا اور زمین سے کہے گا اپنے خزانے اگل دے وہ اگل دے گی اور سارے خزانے اس کے پیچھے ایسے چلیں گے جیسے شہد کی مکھیاں اپنے سردار کے پیچھے۔ یہ بھی دکھائے گا کہ ایک شخص کو تلوار سے ٹھیک دو ٹکرے کرادے گا اور ادھرادھر دور دراز پھنکوا دے گا پھر اس کا نام لے کر آواز دے گا تو وہ زندہ چلتا پھرتا اس کے پاس آجائے گا یہ اسی حال میں ہوگا جو اللہ عزوجل حضرت مسیح ابن مریم کو اتارے گا آپ دمشق کی مشرقی طرف سفید منارے کے پاس اتریں گے اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے ہوں گے آپ اس کا پیچھا کریں گے اور مشرقی باب کے لد کے پاس اسے پا کر قتل کردیں گے پھر حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کی طرف اللہ کی وحی آئے گی میں اپنے ایسے بندوں کو بھیجتا ہوں جن سے لڑنے کی تم میں تاب وطاقت نہیں میرے بندوں کو طور کی طرف سمیٹ لے جا۔ پھر جناب باری یاجوج ماجوج کو بھیجے گا جیسے فرمایا آیت (وہم من کل حدب ینسلون) ان سے تنگ آکر حضرت عیسیٰ ؑ اور آپ کے ساتھی جناب باری میں دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر گٹھلی کی بیماری بھیجے گا جو ان کی گردن میں نکلے گی سارے کے سارے اوپر تلے ایک ساتھ ہی مرجائیں گے تب حضرت عیسیٰ ؑ مع مؤمنوں کے آئیں گے۔ دیکھیں گے کہ تمام زمین ان کی لاشوں سے پٹی پڑی ہے اور ان کی بدبو سے کھڑا نہیں ہوا جاتا۔ آپ پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند بھیجے گا جو انہیں اللہ جانے کہاں پھینک آئیں گے ؟ کعب ؒ کہتے ہی مہیل میں یعنی سورج کے طلوع ہونے کی جگہ میں انہیں پھینک آئیں گے۔ پھر چالیس دن تک تمام زمین میں مسلسل بارش برسے گی، زمین دھل دھلا کر ہتھیلی کی طرح صاف ہوجائے گی پھر بحکم الٰہی اپنی برکتیں اگادے گی۔ اس دن ایک جماعت کی جماعت ایک انار سے سیر ہوجائے گی اور اس کے چھلکے تلے سایہ حاصل کرلے گی ایک اونٹنی کا دودھ لوگوں کی ایک جماعت کو اور ایک گائے کا دودھ ایک قبیلے کو اور ایک بکری کا دودھ ایک گھرانے کو کافی ہوگا۔ پھر ایک پاکیزہ ہوا چلے گی جو مسلمانوں کی بغلوں تلے سے نکل جائے گی اور ان کی روح قبض ہوجائے گی پھر روئے زمین پر بدترین شریر لوگ باقی رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح کودتے ہوں گے انہی پر قیامت قائم ہوگی۔ امام ترمذی ؒ اسے حسن کہتے ہیں۔ 003 مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ کو ایک بچھو نے کاٹ کھایا تھا تو آپ اپنی انگلی پر پٹی باندھے ہوئے خطبے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا تم کہتے ہو اب دشمن نہیں ہیں لیکن تم تو دشمنوں سے جہاد کرتے ہی رہوگے یہاں تک کہ یاجوج ماجوج آئیں وہ چوڑے چہرے والے چھوٹی آنکھوں والے ان کے چہرے تہہ بہ تہہ ڈھالوں جیسے ہوں گے۔ 004 یہ روایت سورة اعراف کی تفسیر کے آخر میں بیان کردی گی ہے مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ معراج والی رات میں ابراہیم موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے روز قیامت کا مذکراہ شروع ہوا حضرت ابراہیم ؑ نے اس کے علم سے انکار کردیا اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ نے بھی ہاں حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا اس کے واقع ہونے کے وقت تو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا ہاں مجھ سے میرے اللہ نے یہ تو فرمایا ہے کہ دجال نکلنے والا ہے۔ اس کے ساتھ دو ٹہنیاں ہوں گی۔ وہ مجھے دیکھتے ہی سیسے کی طرح پگلنے لگے گا یہاں تک کہ اللہ اسے ہلاک کردے جب کہ وہ مجھے دیکھے یہاں تک کہ پتھر اور درخت بھی پکار اٹھیں گے کہ اے مسلم یہ ہے میرے سایہ تلے کافر۔ آ اور اسے قتل کر پس اللہ انہیں ہلاک کرے گا اور لوگ اپنے شہروں اور وطنوں کی طرف لوٹ جائیں گے۔ اس وقت یاجوج ماجوج نکلیں گے جو ہر اونچائی سے پھدکتے آئیں گے جو پائیں گے تباہ کردیں گے پانی جتنا پائیں گے پی جائیں گے لوگ پھر تنگ آکر اپنوں وطنوں میں محصور ہو کر بیٹھ جائیں گے شکایت کریں گے تو میں پھر اللہ سے دعا کرونگا اللہ انہیں غارت کردے ساری زمین پر ان کی بدبو پھیل جائے گی پھر بارش برسے گی اور پانی کا بہاؤ ان کے سڑے ہوئے جسموں کو گھسیٹ کر دریا برد کردے گا۔ میرے رب نے مجھ سے فرما دیا ہے کہ جب یہ سب کچھ ظہور میں آجائے گا پھر تو قیامت کا ہونا ایسا ہی ہے جیسے پورے دنوں میں حمل والی عورت کا وضع ہونا کہ گھر والوں کو فکر ہوتی ہے کہ صبح بچہ ہوا یا شام ہوا دن کو ہوا یا رات کو ہوا۔ (ابن ماجہ) اس کی تصدیق کلام اللہ شریف کی آیت میں موجود ہے اس بارے میں حدیثیں بکثرت ہیں اور آثار سلف بھی بہت ہیں کعب ؒ کا قول ہے کہ یاجوج ماجوج کے نکلنے کے وقت وہ دیوار کو کھودیں گے یہاں تک کہ ان کی کدلوں کی آواز پاس والے بھی سنیں گے رات ہوجائے گی ان میں سے ایک کہے گا کہ اب صبح آتے ہی اسے توڑ ڈالیں گے اور نکل کھڑے ہوں گے صبح یہ آئیں گے توجیسی کل تھی ویسی ہی آج بھی پائیں گے الغرض یونہی ہوتا رہے گا یہاں تک کہ ان کا نکالنا جب منظور ہوگا تو ایک شخص کی زبان سے نکلے گا کہ ہم کل انشاء اللہ ایسے توڑ دیں گے اب جو آئیں گے تو جیسی چھوڑ گئے تھے ویسی ہی پائیں گے تو کھود کر توڑیں گے اور باہر نکل آئیں گے ان کا پہلا گروہ بحیرہ کے پاس سے نکلے گا سارا پانی پی جائے گا دوسرا آئے گا کیچڑ بھی چاٹ جائے گا تیسرا آئے گا تو کہے گا شاید یہاں کبھی پانی ہوگا ؟ لوگ ان سے بھاگ بھاگ کر ادھر ادھر چھپ جائیں گے جب انہیں کوئی بھی نظر نہ پڑے گا تو یہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے وہاں سے وہ خون آلود واپس آئیں گے تو یہ فخر کریں گے کہ ہم زمین والوں پر اور آسمان والوں پر غالب آگئے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ ان کے لئے بدعا کریں گے کہ اللہ ہم میں ان کے مقابلے کی طاقت نہیں اور زمین پر ہمارا چلنا پھرنا بھی ضروری ہے تو ہمیں جس طریقے سے چاہے ان سے نجات دے تو اللہ ان کو طاعون میں مبتلا کرے گا گلٹیاں نکل آئیں گی اور سارے کہ سارے مرجائیں گے پھر ایک قسم کے پرند آئیں گے جو اپنی چونچ میں انہیں لے کر سمندر میں پھینک آئیں گے پھر اللہ تعالیٰ نہرحیات جاری کردے گا جو زمین کو دھوکر پاک صاف کردے گی اور زمین اپنی برکتیں نکال دے گی ایک انار ایک گھرانے کو کافی ہوگا اچانک ایک شخص آئے گا اور ندا کرے گا کہ ذوالسویقتین نکل آیا ہے حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ سات آٹھ سولشکریوں کا طلایہ بھیجیں گے یہ ابھی راستے میں ہی ہوں گے کہ یمنی پاک ہوا نہایت لطافت سے چلے گی جو تمام مؤمنوں کی روح قبض کرجائے گی پھر تو روئے زمین پر ردی کھدی لوگ رہ جائے گے جو چوپایوں جیسے ہوں گے ان پر قیامت قائم ہوگی اس وقت قیامت اس قدر قریب ہوگی جیسے پوری دنوں کی گھوڑی جو جننے کے قریب ہو اور گھوڑی والا اس کے آس پاس گھوم رہا ہو کہ کب بچہ ہو حضرت کعب رحمتہ اللہ یہ بیان فرما کر فرمانے لگے اب جو شخص میرے اس قول اور اس علم کے بعد بھی کچھ کہے اس نے تکلف کیا۔ کعب رحمتہ اللہ کا یہ واقعہ بیان کرنا بہترین واقعہ ہے کیونکہ اس کی شہادت صحیح حدیث میں بھی پائی جاتی ہے۔ احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ اس زمانے میں بیت اللہ شریف کا حج بھی کریں گے چناچہ مسند امام احمد میں یہ حدیث مرفوعا مروی ہے کہ آپ یاجوج ماجوج کے خروج کے بعد یقینا بیت اللہ کا حج کریں گے۔ یہ حدیث بخاری میں بھی ہے۔ جب یہ ہولناکیاں، جب یہ زلزلے، جب یہ بلائیں اور آفات آجائیں گی تو اس وقت قیامت بالکل قریب آجائے گی اسے دیکھ کر کافر کہنے لگیں گے یہ نہایت سخت دن ہے ان کی آنکھیں پھٹ جائیں گی اور کہنے لگیں گے ہائے ہم تو غفلت میں ہی رہے۔ ہائے ہم نے اپنا آپ بگاڑا۔ گناہوں کا اقرار اور اس پر شرمسار ہوں گا لیکن اب بےسود ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَحَرَامٌ عَلَى قَرْيَةٍ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَجَبَ، يَعْنِي: قَدَرًا مُقَدرًا [[في ت، ف: "مقدورا".]] أَنَّ أَهْلَ كُلِّ [[في ت، ف: "إن كل أهل".]] قَرْيَةٍ [[في ت: "القرية".]] أُهْلِكُوا أَنَّهُمْ لَا يُرْجَعُونَ إِلَى الدُّنْيَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ. هَكَذَا صَرَّحَ بِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الْبَاقِرُ، وَقَتَادَةُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ﴾ أَيْ: لَا يَتُوبُونَ.
وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَظْهَرُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ﴾ : قَدْ قَدَّمْنَا أَنَّهُمْ مِنْ سُلَالَةِ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بَلْ هُمْ مِنْ نَسْلِ نُوحٍ أَيْضًا [[في ف، أ: "عليه السلام".]] مِنْ أَوْلَادِ يَافِثَ أَبِي التُّرْكِ، وَالتُّرْكُ شِرْذِمَةٌ مِنْهُمْ، تُرِكُوا مِنْ وَرَاءِ السَّدِّ الَّذِي بَنَاهُ ذُو الْقَرْنَيْنِ.
وَقَالَ: ﴿هَذَا رَحْمَةٌ مِنْ رَبِّي فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا. وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَاهُمْ جَمْعًا﴾ [الْكَهْفِ:٩٨، ٩٩] ، وَقَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ أَيْ: يُسْرِعُونَ فِي الْمَشْيِ إِلَى الْفَسَادِ.
والحَدَب: هُوَ الْمُرْتَفِعُ مِنَ الْأَرْضِ، قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَعِكْرِمَةُ، وَأَبُو صَالِحٍ، وَالثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُمْ، وَهَذِهِ صِفَتُهُمْ فِي حَالِ خُرُوجِهِمْ، كَأَنَّ السَّامِعَ مُشَاهِدٌ لِذَلِكَ، ﴿وَلا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ﴾ [فَاطِرٍ:١٤] : هَذَا إِخْبَارُ عَالِمٍ مَا كَانَ وَمَا يَكُونُ، الَّذِي يَعْلَمُ غَيْبَ السموات وَالْأَرْضِ، لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيد اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: رَأَى ابُن عَبَّاسٍ صِبْيَانًا يَنْزُو بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، يَلْعَبُونَ، فَقَالَ ابن عباس: هكذا يَخْرُجُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ [[تفسير الطبري (١٧/٧٠) .]] .
وَقَدْ وَرَدَ ذِكْرُ خُرُوجِهِمْ فِي أَحَادِيثَ مُتَعَدِّدَةٍ مِنَ السُّنَّةِ النَّبَوِيَّةِ:
فَالْحَدِيثُ الْأَوَّلُ: قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَر بْنِ قَتَادَةَ، عن محمود بن لَبيد، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "يُفتَح يأجوجُ ومأجوجُ، فَيَخْرُجُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ": ﴿ [وَهُمْ] [[زيادة من أ.]] مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ ، فيغشونَ النَّاسَ، وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ عَنْهُمْ إِلَى مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ [[في ت: "وحضرتهم".]] ، وَيَضُمُّونَ إِلَيْهِمْ مواشيَهم، وَيَشْرَبُونَ مِيَاهَ الْأَرْضِ، حَتَّى أَنَّ بعضَهم لَيَمُرُّ بِالنَّهْرِ، فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهِ حَتَّى يَتْرُكُوهُ يَبَسا، حَتَّى أَنَّ مَنْ بَعْدَهُمْ لَيَمُرُّ بِذَلِكَ النَّهْرِ فَيَقُولُ [[في ت: "فيقولون".]] : قَدْ كَانَ هَاهُنَا مَاءٌ مَرَّةً حَتَّى إِذَا لَمْ يبقَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ إِلَّا أحدٌ فِي حِصْنٍ أَوْ مَدِينَةٍ قَالَ قَائِلُهُمْ: هَؤُلَاءِ أهلُ الْأَرْضِ، قَدْ فَرَغْنَا مِنْهُمْ، بَقِيَ أهلُ السَّمَاءِ. قَالَ: "ثُمَّ يَهُزُّ أَحَدُهُمْ حَرْبَتَهُ، ثُمَّ يَرْمِي بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَتَرْجِعُ إِلَيْهِ مُخْتَضبَةً دَمًا؛ لِلْبَلَاءِ وَالْفِتْنَةِ. فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ دُودًا فِي أَعْنَاقِهِمْ كنَغَف الْجَرَادِ الَّذِي يَخْرُجُ فِي أَعْنَاقِهِ، فَيُصْبِحُونَ [[في ت: "فيحصون".]] مَوْتًى لَا يُسمَع لَهُمْ حِسٌّ، فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ: أَلَا رَجُلٌ يَشْري لَنَا نَفْسَهُ، فَيَنْظُرُ مَا فَعَلَ هَذَا الْعَدُوُّ؟ " قَالَ: "فَيَتَجَرَّدُ رَجُلٌ مِنْهُمْ مُحْتَسِبًا نَفْسَهُ، قَدْ أَوْطَنَهَا عَلَى أَنَّهُ مَقْتُولٌ، فَيَنْزِلُ فَيَجِدُهُمْ مَوْتًى، بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَيُنَادِي: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، أَلَا أَبْشِرُوا، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَفَاكُمْ عَدُوَّكُمْ، فَيَخْرُجُونَ مِنْ مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ ويُسَرِّحون مَوَاشِيَهُمْ، فَمَا يَكُونُ لَهَا رَعْيٌ إِلَّا لُحُومَهُمْ، فَتَشْكر عَنْهُ كَأَحْسَنِ مَا شَكرَت عَنْ شَيْءٍ مِنَ النَّبَاتِ أَصَابَتْهُ قَطُّ.
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ بُكَيْر، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِهِ [[المسند (٣/٧٧) وسنن ابن ماجه برقم (٤٠٧٩) ، وقال البوصيري في الزوائد (٣/٢٦٠) : "هذا إسناد صحيح رجاله ثقات".]] .
الْحَدِيثُ الثَّانِي: قَالَ [الْإِمَامُ] [[زيادة من ت، ف، أ.]] أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الْعَبَّاسِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ -قَاضِي حِمْصَ-حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَير بْنِ نُفَير الْحَضْرَمِيُّ، عَنِ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّوّاس بْنَ سمْعانَ الْكِلَابِيَّ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الدَّجَّالَ ذَاتَ غَداة، فخَفَض فِيهِ ورَفَع، حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ، [فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ عَرَفَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِنَا، فَسَأَلْنَاهُ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ الْغَدَاةَ، فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ] [[زيادة من ت، ف، أ، والمسند.]] . فَقَالَ: "غَيْرُ الدَّجَّالِ أخْوَفُني عَلَيْكُمْ، فَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُه دُونَكُمْ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ، وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ: إنه شاب جَعْدُ قَطَط عينه طَافِيَةٌ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ خَلَةَ بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ، فَعَاثَ يَمِينًا وَشِمَالًا يَا عِبَادَ اللَّهِ اثْبُتُوا".
قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لُبْثُهُ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: "أَرْبَعِينَ يَوْمًا، يَوْمٌ كَسَنَةٍ، وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ، وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ، وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ".
قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَاكَ الْيَوْمُ الَّذِي هُوَ كَسَنَةٍ، أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ؟ قَالَ: "لَا اقْدِرُوا لَهُ قَدْرَهُ".
قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: "كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ". قَالَ: "فَيَمُرُّ بِالْحَيِّ فَيَدْعُوهُمْ فَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ، فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ، وَالْأَرْضَ فَتُنْبِتُ، وَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ وَهِيَ أَطْوَلُ مَا كَانَتْ ذُرَى، وَأَمَدُّهُ خَوَاصِرَ، وَأَسْبَغُهُ ضُرُوعًا. وَيَمُرُّ بِالْحَيِّ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قولَه، فَتَتْبَعُهُ أَمْوَالُهُمْ، فَيُصْبِحُونَ مُمْحلين، لَيْسَ لَهُمْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ. وَيَمُرُّ بالخَربة فَيَقُولُ لَهَا: أَخْرِجِي كُنُوزَكِ، فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ". قَالَ: "وَيَأْمُرُ بِرَجُلٍ فيُقتَل، فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جَزْلتين رَمْيَةَ الغَرَض، ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ إِلَيْهِ [يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ] [[زيادة من ف، أ، والمسند.]] .
فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ، إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ، فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ [[في ت: "المنازل".]] الْبَيْضَاءِ، شَرْقِيَّ دِمَشْقَ، بَيْنَ مَهْرُودَتَين وَاضِعًا يَدَه عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكين، فَيَتْبَعُهُ فَيُدْرِكُهُ، فَيَقْتُلُهُ عِنْدَ بَابِ لُدّ الشَّرْقِيِّ".
قَالَ: "فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ: أَنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا مِنْ عِبَادِي لَا يَدَانِ لَكَ بِقِتَالِهِمْ، فَحَوّز عِبَادِي إِلَى الطُّورِ، فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَهُمْ كَمَا قَالَ اللَّهُ: ﴿مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ فَيَرْغَبُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نَغَفًا فِي رِقَابِهِمْ، فَيُصْبِحُونَ فَرْسى، كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ.
فَيَهْبِطُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ، فَلَا يَجِدُونَ فِي الْأَرْضِ بَيْتًا إِلَّا قَدْ مَلَأَهُ زَهَمُهم ونَتْنهُم، فَيَرْغَبُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ، فَيُرْسِلُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ البُخْت، فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ".
قَالَ ابْنُ جَابِرٍ [[في ت: "جرير".]] فَحَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ السَّكْسَكيّ [[في ت: "السلسلي".]] ، عَنْ كَعْبٍ -أَوْ غَيْرِهِ-قَالَ: فَتَطْرَحُهُمْ بالمَهْبِل. [قَالَ ابْنُ جَابِرٍ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا يَزِيدَ، وَأَيْنَ المَهْبِل؟] [[زيادة من ف، أ، والمسند.]] ، قَالَ: مَطْلَعُ الشَّمْسِ.
قَالَ: "وَيُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا لَا يَكُنَّ [[في ت: "يكون".]] مِنْهُ بَيْتُ مَدَر وَلَا وَبَر أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كالزّلَقَةِ، وَيُقَالُ لِلْأَرْضِ: أَنْبِتِي ثَمَرَتَكِ، ورُدي بَرَكَتَكِ". قَالَ: "فَيَوْمَئِذٍ يَأْكُلُ النَّفَرُ مِنَ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّونَ بقحْفها، ويُبَارك فِي الرَسْل، حَتَّى إِنَّ اللَّقْحَةَ مِنَ الْإِبِلِ لَتَكْفِي الفِئَامَ مِنَ النَّاسِ، وَاللَّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ تَكْفِي الْفَخِذَ، وَالشَّاةَ مِنَ الْغَنَمِ تَكْفِي أَهْلَ الْبَيْتِ".
قَالَ: "فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ [[في ف: "هم كذلك".]] ، إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رِيحًا طَيِّبَةً تَحْتَ آبَاطِهِمْ، فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُسْلِمٍ -أَوْ قَالَ: كُلِّ مُؤْمِنٍ-وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ تَهَارُجَ الْحَمِيرِ، وَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ".
انْفَرَدَ [[في ت: "وانفرد".]] بِإِخْرَاجِهِ مُسْلِمٌ دُونَ الْبُخَارِيِّ، فَرَوَاهُ مَعَ بَقِيَّةِ أَهْلِ السُّنَنِ مِنْ طُرُقٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، بِهِ [[المسند (٤/١٨١) وصحيح مسلم برقم (٢١٣٧) وسنن أبي داود برقم (٤٣٢١) وسنن الترمذي برقم (٢٢٤٠) وسنن النسائي الكبرى برقم (١٠٧٨٣) وسنن ابن ماجه برقم (٤٠٧٥) .]] وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ صَحِيحٌ.
الْحَدِيثُ الثَّالِثُ: قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ حَرْمَلَة، عَنْ خَالَتِهِ قَالَتْ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ عَاصِبٌ أصبعُه مِنْ لَدْغَةِ عَقْرب، فَقَالَ: "إِنَّكُمْ تَقُولُونَ: "لَا عَدُوَّ [[في ت، ف، أ: "لا عدو لكم".]] ، وَإِنَّكُمْ لَا تَزَالُونَ تُقَاتِلُونَ عَدُوًّا، حَتَّى يَأْتِيَ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ عِرَاضُ الْوُجُوهِ، صِغَارُ الْعُيُونِ، صُهْبَ الشِّعَافِ، مِنْ كُلِّ حَدَب يَنْسِلُونَ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ المَجَانّ المُطرَقة" [[المسند (٥/٢١٧) .]] .
وَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلة الْمُدْلِجِيِّ، عَنْ خَالَةٍ لَهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ [[في ت، أ: "مثله سواء".]] .
الْحَدِيثُ الرَّابِعُ: قَدْ تَقَدَّمَ فِي تَفْسِيرِ آخِرِ سُورَةِ الْأَعْرَافِ مِنْ رِوَايَةِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ، عَنْ هُشَيْم، عَنِ العَوَّام، عَنْ جَبَلَة بْنِ سُحَيْم، عَنْ مُؤثر بْنِ عَفَازَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: لَقِيتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، قَالَ: فَتَذَاكَرُوا أَمْرَ السَّاعَةِ، فَرَدُّوا أَمْرَهُمْ إِلَى إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهَا [[في ت: "فيها".]] . فَرَدُّوا أَمْرَهُمْ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهَا [[في ت: "فيها".]] . فَرَدُّوا أَمْرَهُمْ إِلَى عِيسَى، فَقَالَ: أَمَّا وَجْبَتها فلا يعلم بها أحد إلا الله، وَفِيهَا عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّيَ أَنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ".
قَالَ: "وَمَعِي قَضِيبَانِ، فَإِذَا رَآنِي ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرَّصَاصُ" قَالَ: "فَيُهْلِكُهُ اللَّهُ إِذَا رَآنِي، حَتَّى إِنَّ الْحَجَرَ وَالشَّجَرَ يَقُولُ: يَا مُسْلِمُ إِنَّ تَحْتِي كَافِرًا، فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ". قَالَ: "فَيُهْلِكُهُمُ اللَّهُ، ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلَى بِلَادِهِمْ وَأَوْطَانِهِمْ". قَالَ: "فَعِنْدَ ذَلِكَ يَخْرُجُ يأجوج ومأجوج وهم مِنْ كُلِّ حَدَب يَنسلون، فَيَطَؤُونَ بِلَادَهُمْ، لَا [[في ت، ف: "ولا".]] يَأْتُونَ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا أَهْلَكُوهُ، وَلَا يَمُرُّونَ عَلَى مَاءٍ إِلَّا شَرِبُوهُ". قَالَ: "ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلَيَّ يَشْكُونَهُمْ، فَأَدْعُو اللَّهَ عَلَيْهِمْ، فَيُهْلِكُهُمْ وَيُمِيتُهُمْ، حَتَّى تَجوى الْأَرْضُ مِنْ نَتْن رِيحِهِمْ، وَيُنْزِلُ اللَّهُ الْمَطَرَ فَيَجْتَرِفُ أَجْسَادَهُمْ، حَتَّى يَقْذِفَهُمْ فِي الْبَحْرِ. فَفِيمَا عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّي أَنَّ ذَلِكَ إِذَا كَانَ كَذَلِكَ، أَنَّ السَّاعَةَ كَالْحَامِلِ المُتِمّ، لَا يَدْرِي أَهْلُهَا مَتَى تَفْجُؤهم بِوِلَادِهَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا".
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنِ العَوَّام بْنِ حَوْشَب، به [[المسند (١/٣٧٥) وسنن ابن ماجه برقم (٤٠٨١) وسبق عند تفسير الآية: ١٨٧ من سورة الأعراف.]] ، نَحْوَهُ وَزَادَ: "قَالَ العَوَّام، وَوُجِدَ تَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ .
وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ هَاهُنَا مِنْ حَدِيثِ جَبَلَةَ، بِهِ [[تفسير الطبري (١٧/٧٢) .]] .
وَالْأَحَادِيثُ فِي هَذَا كَثِيرَةٌ جِدًّا، وَالْآثَارُ عَنِ السَّلَفِ كَذَلِكَ.
وَقَدْ رَوَى ابُن جَرِيرٍ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، مِنْ حَدِيثِ مَعْمَر، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ بْنِ هِلَالٍ، عَنِ أَبِي الصَّيف قَالَ: قَالَ كَعْبٌ: إِذَا كَانَ عِنْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، حَفَرُوا حَتَّى يَسْمَعَ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَرْعَ فُؤُوسِهِمْ، فَإِذَا كَانَ اللَّيْلُ قَالُوا: نَجِيءُ غَدًا فَنَخْرُجُ، فَيُعِيدُهُ اللَّهُ كَمَا كَانَ. فَيَجِيئُونَ مِنَ الْغَدِ فَيَجِدُونَهُ قَدْ أَعَادَهُ اللَّهُ كَمَا كَانَ، فَيَحْفِرُونَهُ حَتَّى يَسْمَعَ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَرْعَ فُؤُوسِهِمْ، فَإِذَا كَانَ اللَّيْلُ أَلْقَى اللَّهُ عَلَى لِسَانِ رَجُلٍ مِنْهُمْ يَقُولُ: نَجِيءُ غَدًا فَنَخْرُجُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. فَيَجِيئُونَ مِنَ الْغَدِ فَيَجِدُونَهُ كَمَا تَرَكُوهُ، فَيَحْفِرُونَ حَتَّى يَخْرُجُوا. فَتَمُرُّ الزُّمْرَةُ الْأُولَى بِالْبُحَيْرَةِ، فَيَشْرَبُونَ مَاءَهَا، ثُمَّ تَمُرُّ الزُّمْرَةُ الثَّانِيَةُ فَيَلْحَسُونَ طِينَهَا، ثُمَّ تَمُرُّ الزُّمْرَةُ الثَّالِثَةُ فَيَقُولُونَ [[في ت: "فيقول".]] : قَدْ كَانَ هَاهُنَا مَرَّةً مَاءٌ، وَيَفِرُّ النَّاسُ مِنْهُمْ، فَلَا يَقُومُ لَهُمْ شَيْءٌ. ثُمَّ يَرْمُونَ بِسِهَامِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ فَتَرْجِعُ إِلَيْهِمْ مُخَضَّبة بِالدِّمَاءِ فَيَقُولُونَ: غَلَبْنَا أَهْلَ الْأَرْضِ وَأَهْلَ السَّمَاءِ. فَيَدْعُو عَلَيْهِمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَيَقُولُ: "اللَّهُمَّ، لَا طَاقَةَ وَلَا يَدَين لَنَا بِهِمْ، فَاكْفِنَاهُمْ بِمَا شِئْتَ"، فَيُسَلِّطُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ دُودًا يُقَالُ لَهُ: النَّغْفُ، فَيَفْرِسُ [[في ت: "فيفرش".]] رِقَابَهُمْ، وَيَبْعَثُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا تَأْخُذُهُمْ بِمَنَاقِيرِهَا فَتُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ، وَيَبْعَثُ اللَّهُ عَيْنًا يُقَالُ لَهَا: "الْحَيَاةُ" يُطَهِّرُ اللَّهُ الْأَرْضَ وَيُنْبِتُهَا، حَتَّى إِنَّ الرُّمَّانَةَ لَيَشْبَعُ مِنْهَا السَّكْن". قِيلَ: وَمَا السَّكن يَا كَعْبُ؟ قَالَ: أَهْلُ الْبَيْتِ -قَالَ: "فَبَيْنَمَا النَّاسُ كَذَلِكَ إِذْ أَتَاهُمُ الصَّريخ أَنَّ ذَا السُّويقَتَين يُرِيدُهُ. قَالَ: فَيَبْعَثُ [[في ت: "فيبعث الله عيسى".]] عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ طَلِيعَةً سَبْعَمِائَةٍ، أَوْ بَيْنَ السَّبْعِمِائَةِ وَالثَّمَانِمِائَةِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا يَمَانِيَّةً طَيِّبَةً، فَيَقْبِضُ فِيهَا رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ، ثُمَّ يَبْقَى عَجَاج [[في ت، ف: "عجاج من".]] النَّاسِ، فَيَتَسَافَدُونَ كَمَا تَسَافَدُ الْبَهَائِمُ، فَمَثل السَّاعَةِ كَمَثَلِ رَجُلٍ يَطِيفُ حَوْلَ فَرَسِهِ يَنْتَظِرُهَا مَتَى تَضَعُ؟ قَالَ كَعْبٌ: فَمَنْ تَكَلَّفَ بَعْدَ قَوْلِي هَذَا شَيْئًا -أَوْ بَعْدَ عِلْمِي هَذَا شَيْئًا-فَهُوَ الْمُتَكَلِّفُ [[تفسير الطبري (١٧/٧١) .]] .
هَذَا مِنْ أَحْسَنِ سِيَاقَاتِ كَعْبِ الْأَحْبَارِ، لِمَا شَهِدَ لَهُ مِنْ صَحِيحِ الْأَخْبَارِ.
وَقَدْ ثَبَتَ فِي الْحَدِيثِ أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ يَحُجُّ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ، وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتبَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "ليُحَجَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ، وليُعْتَمَرنّ بَعْدَ خروج يأجوج ومأجوج". انفرد بإخراجه البخاري [[المسند (٣/٢٧) وصحيح البخاري برقم (١٥٩٣) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ﴾ يَعْنِي: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِذَا وُجدت هَذِهِ الْأَهْوَالُ وَالزَّلَازِلُ وَالْبَلَابِلُ، أَزِفَتِ السَّاعَةُ وَاقْتَرَبَتْ، فَإِذَا كَانَتْ وَوَقَعَتْ قَالَ الْكَافِرُونَ: ﴿هَذَا يَوْمٌ عَسِرٌ﴾ [الْقَمَرِ:٨] . وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَإِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ أَبْصَارُ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ أَيْ: مِنْ شِدَّةِ مَا يُشَاهِدُونَهُ مِنَ الْأُمُورِ الْعِظَامِ: ﴿يَا وَيْلَنَا﴾ أَيْ: يَقُولُونَ: ﴿يَا وَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِي غَفْلَةٍ مِنْ هَذَا﴾ أَيْ: فِي الدُّنْيَا، ﴿بَلْ كُنَّا ظَالِمِينَ﴾ ، يَعْتَرِفُونَ بِظُلْمِهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ، حَيْثُ لَا يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ.
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَٰرِدُونَ
Indeed, you [disbelievers] and what you worship other than Allah are the firewood of Hell. You will be coming to [enter] it.
(کافرو اس روز) تم اور جن کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہوں گے۔ اور تم سب اس میں داخل ہو کر رہو گے
شما و آنچه غیر خدا میپرستید، هیزم جهنّم خواهید بود؛ و همگی در آن وارد میشوید.
Tafsir Ibn Kathir
Certainly you and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) fuel (Hasab) for Hell! (Surely) you will enter it (98)Had these been gods, they would not have entered there (Hell), and all of them will abide therein forever (99)Therein they will be breathing out with deep sighs and roaring and therein they will hear not (100)Verily, those for whom the good has preceded from Us, they will be removed far therefrom (Hell)(101)They shall not hear the slightest sound of it (Hell), while they abide in that which their own selves desire (102)The greatest terror will not grieve them, and the angels will meet them, (with the greeting:) "This is your Day which you were promised. (103)
The Idolators and their gods are Fuel for Hell
Allah says to the people of Makkah, the idolators of the Quraysh and those who followed their religion of idol worship:
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ
(Certainly you and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell!). Ibn 'Abbas said: "Kindling." This is like the Ayah:
وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ
(whose fuel is men and stones)(66:6). According to another report, Ibn 'Abbas said:
حَصَبُ جَهَنَّمَ
(Hasab for Hell) means firewood in (the dialect of the people of) Zanjiyyah. Mujahid, 'Ikrimah and Qatadah said: "Its fuel." Ad-Dahhak said: "The fuel of Hell means that which is thrown into it." This was also the view of others.
أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ
((Surely) you will enter it.) means, you will go into it.
لَوْ كَانَ هَٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا
(Had these been gods, they would not have entered there,) means, if these idols and false gods which you worshipped instead of Allah, had really been gods, they would not have entered the Hellfire.
وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ
(and all of them will abide therein forever.) means, the worshippers and the objects of their worship will all abide therein forever.
لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ
(Therein they will be breathing out with deep sighs and roaring) This is like the Ayah:
لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ
(they will have (in the Fire), Zafir and Shahiq)(11:106). Zafir refers to their exhalation, and Shahiq refers to their inhalation.
وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ
(and therein they will hear not.)
The State of the Blessed
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ
(Verily, those for whom the good has preceded from Us,) 'Ikrimah said, "Mercy." Others said it means being blessed.
أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ
(they will be removed far therefrom.) When Allah mentions the people of Hell and their punishment for their associating others in worship with Allah, He follows that with a description of the blessed who believed in Allah and His Messengers. These are the ones for whom the blessing has preceded from Allah, and they did righteous deeds in the world, as Allah says:
لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ
(For those who have done good is the best reward and even more)(10:26)
هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ
(Is there any reward for good other than good?)(55:60) Just as they did good in this world, Allah will make their final destiny and their reward good; He will save them from punishment and give them a great reward.
أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ - لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا
(they will be removed far therefrom. They shall not hear the slightest sound of it,) means, they will not feel its heat in their bodies.
وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنفُسُهُمْ خَالِدُونَ
(while they abide in that which their own selves desire.) means, they will be safe from that which they fear, and they will have all that they love and desire. It was said that this was revealed to point out an exception in the case of those who are worshipped instead of Allah, and to exclude 'Uzayr and the Messiah from their number. Hajjaj bin Muhammad Al-A'war reported from Ibn Jurayj, and 'Uthman bin 'Ata' reported from Ibn 'Abbas:
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ
(Certainly you (disbelievers) and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell! (Surely) you will enter it.) Then He made an exception and said:
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ
(Verily, those for whom the good has preceded from Us.)
It was said that this referred to the angels and 'Isa, and others who are worshipped instead of Allah. This was the view of 'Ikrimah, Al-Hasan and Ibn Jurayj. Muhammad bin Ishaq bin Yasar said in his book of Sirah:
According to what I have heard, the Messenger of Allah ﷺ sat down one day with Al-Walid bin Al-Mughirah in the Masjid, and An-Nadr bin Al-Harith came and sat down with them. There were also other men of Quraysh in the Masjid. The Messenger of Allah ﷺ spoke, then An-Nadr bin Al-Harith came up to him and the Messenger of Allah spoke ﷺ to him until he defeated him in argument. Then he recited to him and to them,
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ
(Certainly you and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell! (Surely) you will enter it.) Until His Statement,
وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ
(and therein they will hear not.) Then the Messenger of Allah ﷺ got up and went to sit with 'Abdullah bin Al-Zab'ari As-Sahmi. Al-Walid bin Al-Mughirah said to 'Abdullah bin Al-Zab'ari, "By Allah, An-Nadr bin Al-Harith could not match the son of 'Abd Al-Muttalib in argument. Muhammad claims that we and these gods that we worship are fuel for Hell." 'Abdullah bin Az-Zab'ari said: "By Allah, if I meet with him I will defeat him in argument. Ask Muhammad whether everyone that is worshipped instead of Allah will be in Hell with those who worshipped him, for we worship the angels, and the Jews worship 'Uzayr, and the Christians worship Al-Masih, 'Isa bin Maryam." Al-Walid and those who were sitting with him were amazed at what 'Abdullah bin Az-Zab'ari said, and they thought that he had come up with a good point. He said this to the Messenger of Allah ﷺ, who said:
كُلُّ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُعْبَدَ مِنْ دُونِ اللهِ، فَهُوَ مَعَ مَنْ عَبَدَهُ، إِنَّهُمْ إِنَّمَا يَعْبُدُونَ الشَّيْطَانَ وَمَنْ أَمَرَهُمْ بِعِبَادَتِهِ
(Everyone who likes to be worshipped instead of Allah will be with the ones who worshipped him, for indeed they are worshipping the Shaytan and whoever told them to worship him.) Then Allah revealed the words:
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ - لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا ۖ وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنفُسُهُمْ خَالِدُونَ
(Verily, those for whom the good has preceded from Us, they will be removed far therefrom (Hell). They shall not hear the slightest sound of it (Hell), while they abide in that which their own selves desire.)
It was revealed about the mention of 'Isa, 'Uzayr and rabbis and monks who were also worshipped, who had spent their lives in devotion towards Allah, but the misguided people who came after them took them as lords instead of Allah. Concerning the notion of worshipping the angels as daughters of Allah, the following words were revealed:
وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَٰنُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ
(And they say: "The Most Gracious has begotten children. " Glory to Him! They are but honored slaves). Until His saying,
وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
(And if any of them should say: "Verily, I am a god besides Him," such a one We should recompense with Hell. Thus We recompense the wrongdoers.)[21:26-29].
Concerning 'Isa bin Maryam, the fact that he is worshipped alongside Allah, and the amazement of Al-Walid and the others who were present at the argument [of 'Abdullah bin Az-Zab'ari], the following words were revealed:
وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ - وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ ۚ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ - إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ - وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ - وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا
(And when the son of Maryam is quoted as an example, behold, your people cry aloud (laugh out at the example). And say: "Are our gods better or is he?" They quoted not the above example except for argument. Nay! But they are a quarrelsome people. He was not more than a slave. We granted Our favor to him, and We made him an example for the Children of Israel. And if it were Our will, We would have made angels to replace you on the earth. And he shall be a known sign for the Hour. Therefore have no doubt concerning it.)[43:57-61] meaning, the miracles and signs that happened at his hands, such as raising the dead and healing the sick, are sufficient as signs of the approach of the Hour,
فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ ۚ هَٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ
(Therefore have no doubt concerning it. And follow Me (Allah)! This is the straight path)(43:61)."
What Ibn Az-Zab'ari said was a serious mistake, because the Ayah was addressed to the people of Makkah concerning their worship of idols which were inanimate and could not think. It was a rebuke for their worship of them, so Allah said:
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ
(Certainly you (disbelievers) and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell!) How could this be applied to Al-Masih, 'Uzayr and others who did righteous deeds and did not accept the worship of those who worshipped them?
لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ
(The greatest terror will not grieve them,) It was said that this means death, as was narrated by 'Abdur-Razzaq from Yahya bin Rabi'ah from 'Ata.' Or it was said that the greatest terror refers to the blast of the Trumpet, as Al-'Awfi said narrating from Ibn 'Abbas and Abu Sinan, Sa'id bin Sinan Ash-Shaybani. This was the view favored by Ibn Jarir in his Tafsir.
وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ هَٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ
(and the angels will meet them, (with the greeting:) "This is your Day which you were promised".) meaning, the angels will greet them on the Day of Resurrection when they emerge from their graves with the words:
هَٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ
("This is your Day which you were promised".) meaning, hope for the best.
Tafsir Ibn Kathir
جہنم کی ہولناکیاں بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے جیسے فرمان ہے آیت (وقودہا الناس والحجارۃ) اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر حبشی زبان میں حطب کو حصب کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے حصب کے حطب ہے۔ تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لئے۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے ؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پر دوزخی ہوگئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے جیسے فرمان ہے آیت (فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ01006ۙ) 11۔ ھود :106) ، وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے اور چیخوں کے سوا ان کے کان میں اور کوئی آواز نہ پڑے گی حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جب صرف مشرک جہنم میں رہ جائیں گے انہیں آگ کے صندوقوں میں قید کردیا جائے گا جن میں آگ کے سریے ہوں گے ان میں سے ہر ایک کو یہی گمان ہوگا کہ جہنم میں اس کے سوا اور کوئی نہیں پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی (ابن جریر) حسنیٰ سے مراد رحمت وسعادت ہیں۔ دوزخیوں کا اور ان کے عذابوں کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں اور ان کی جزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے یہ لوگ باایمان تھے ان کے نیک اعمال کی وجہ سے سعادت انکے استقبال کو تیار تھی جیسے فرمان ہے آیت (لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ ۭ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ 26) 10۔ یونس :26) نیکوں کے لئے نیک اجر ہے اور زیادتی اجر بھی۔ فرمان ہے آیت (هَلْ جَزَاۗءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ 60ۚ) 55۔ الرحمن :60) نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے۔ ان کے دنیا کے اعمال نیک تھے تو آخرت میں ثواب اور نیک بدلہ ملا، عذاب سے بچے اور رحمت رب سے سرفراز ہوئے۔ یہ جہنم سے دور کردئیے گئے کہ اس کی آہٹ تک نہیں سنتے نہ دوزخیوں کا جلنا وہ سنتے ہیں۔ پل صراط پر دوزخیوں کو زہریلے ناگ ڈستے ہیں اور یہ وہاں ہائے ہائے کرتے ہیں جنتی لوگوں کے کان بھی اس درد ناک آواز سے ناآشنا رہیں گے۔ اتنا ہی نہیں کہ خوف ڈر سے یہ الگ ہوگئے بلکہ ساتھ ہی راحت وآرام بھی حاصل کرلیا۔ من مانی چیزیں موجود۔ دوامی کی راحت بھی حاضر۔ حضرت علی ؓ نے ایک رات اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا میں اور عمر عثمان اور زبیر اور طلحہ اور عبدالرحمن انہی لوگوں میں سے ہیں یا حضرت سعد کا نام لیا ؓ۔ اتنے میں نماز کی تکبیر ہوئی تو آپ چادر گھیسٹتے آیت (وہم لایسمعون حسیسہا)۔ پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوگئے اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا حضرت عثمان ؓ اور ان کے ساتھی ایسے ہی ہیں ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہی لوگ اولیاء اللہ ہیں بجلی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پل صراط سے پار ہوجائیں گے اور کافر وہیں گھٹنوں کے بل گرپڑیں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ بزرگان دین ہیں جو اللہ والے تھے شرکت سے بیزار تھے لیکن ان کے بعد لوگوں نے ان کی مرضی کے خلاف ان کی پوجا پاٹ شروع کردی تھی، حضرت عزیر، حضرت مسیح، فرشتے، سورج، چاند، حضرت مریم، وغیرہ۔ عبداللہ بن زبعری آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا تیرا خیال ہے کہ اللہ نے آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21۔ الأنبیاء :98) اتاری ہے ؟ اگر یہ سچ ہے تو کیا سورج چاند، فرشتے عزیر، عیسیٰ ، سب کہ سب ہمارے بتوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے ؟ اس کے جواب میں آیت (وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ 57) 43۔ الزخرف :57) اور آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ01001ۙ) 21۔ الأنبیاء :101) نازل ہوئی۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے حضور ﷺ ایک دن ولید بن مغیرہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نضر بن حارث آیا اس وقت مسجد میں اور قریشی بھی بہت سارے تھے نضر بن حارث رسول اللہ ﷺ سے باتیں کر رہا تھا لیکن وہ لاجوب ہوگیا آپ نے آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21۔ الأنبیاء :98) تلاوت فرمائی۔ جب آپ اس مجلس سے چلے گئے تو عبد اللہ بن زبعری آیا لوگوں نے اس سے کہا آج نضر بن حارث نے باتیں کیں لیکن بری طرح چت ہوئے اور حضرت یہ فرماتے ہوئے چلے گے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو انہیں جواب دیتا کہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر کو نصرانی مسیح کو تو کیا یہ سب بھی جہنم میں جلیں گے ؟ سب کو یہ جواب بہت پسند آیا جب حضور ﷺ سے اس کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا جس نے اپنی عبادت کرائی وہ عابدوں کے ساتھ جہنم میں ہے یہ بزرگ اپنی عبادتیں نہیں کراتے تھے بلکہ یہ لوگ تو انہیں نہیں شیطان کو پوج رہے ہیں اسی نے انہیں ان کی عبادت کی راہ بتائی ہے۔ آپ کے جواب کے ساتھ ہی قرآنی جواب اس کے بعد ہی آیت (ان الذین سبقت) میں اترا تو جن نیک لوگوں کی جاہلوں نے پرستش کی تھی وہ اس سے مستثنیٰ ہوگئے۔ چناچہ قرآن میں ہے آیت (ومن یقل منہم انی الہ من دونہ فذالک نجزیہ جہنم۔ الخ) یعنی ان میں سے جو اپنی معبودیت اوروں سے منوانی چاہے اس کا بدلہ جہنم ہے ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں اور آیت (وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ 57) 43۔ الزخرف :57) اتری کہ اس بات کہ سنتے ہی وہ لوگ متعجب ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے معبود اچھے یا وہ یہ تو صرف دھینگا مشتی ہے اور یہ لوگ جھگڑالو ہی ہیں وہ ہمارا انعام یافتہ بندہ تھا اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لئے نمونہ بنایا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین فرشتوں کو کردیتے حضرت عیسیٰ نشان قیامت ہیں ان کے ہاتھ سے جو معجزات صادر ہوئے وہ شبہ والی چیزیں نہیں وہ قیامت کی دلیل ہیں تجھے اس میں کچھ شک نہ کرنا چاہے۔ میری مانتا چلاجا یہی صراط مستقیم ہے ابن زبعری کی جرات دیکھئے خطاب اہل مکہ سے ہے اور ان کی ان تصویروں اور پتھروں کے لئے کہا گیا ہے جنہیں وہ سوائے اللہ کے پوجا کرتے تھے نہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ وغیرہ پاک نفس کے لئے جو غیر اللہ کی عبادت سے روکتے تھے۔ امام ابن جریر ؒ فرماتے ہیں لفظ ما جو یہاں ہے وہ عرب میں ان کے لئے آتا ہے جو بےجان اور بےعقل ہوں۔ یہ ابن زبعری اس کے بعد مسلمان ہوگئے تھے ؓ یہ بڑے مشہور شاعر تھے۔ پہلے انہوں نے مسلمانوں کی دل کھول کر دھول اڑائی تھی لیکن مسلمان ہونے کے بعد معذرت کی۔ موت کی گھبراہٹ، اس گھڑی کی گھبراہٹ جبکہ جہنم پر ڈھکن ڈھک دیا جائے گا جب کہ موت کو دوزخ جنت کے درمیان ذبح کردیا جائے گا۔ غرض کسی اندیشے کا نزول ان پر نہ ہوگا وہ ہر غم وہراس سے دور ہوں گے، پورے مسرور ہوں گے، خوش ہوں گے اور ناخوشی سے کوسوں الگ ہوں گے۔ فرشتوں کے پرے کے پرے ان سے ملاقاتیں کررہے ہوں گے اور انہیں ڈھارس دیتے ہوئے کہتے ہوں گے کہ اسی دن کا وعدہ تم سے کیا گیا تھا، اس وقت تم قبروں سے اٹھنے کے دن کے منتظر رہو۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخَاطِبًا لِأَهْلِ مَكَّةَ مِنْ مُشْرِكِي قُرَيْشٍ، وَمَنْ دَانَ بِدِينِهِمْ مِنْ عَبَدَةِ الْأَصْنَامِ وَالْأَوْثَانِ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَيْ وَقُودُهَا، يَعْنِي كَقَوْلِهِ: ﴿وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ﴾ [التَّحْرِيمِ:٦] .
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَيْضًا: ﴿حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ بِمَعْنَى: شَجَرِ جَهَنَّمَ. وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: ﴿حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ يَعْنِي: حَطَبَ جَهَنَّمَ، بِالزِّنْجِيَّةِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ، وَعِكْرِمَةُ، وَقَتَادَةُ: حَطَبُهَا. وَهِيَ كَذَلِكَ فِي قِرَاءَةِ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: ﴿حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ أَيْ: مَا يُرْمَى بِهِ فِيهَا.
وَكَذَا قَالَ غَيْرُهُ. وَالْجَمِيعُ قَرِيبٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ أَيْ: دَاخِلُونَ.
﴿لَوْ كَانَ هَؤُلاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا﴾ يَعْنِي: لَوْ كَانَتْ هَذِهِ الْأَصْنَامُ وَالْأَنْدَادُ الَّتِي اتَّخَذْتُمُوهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ آلِهَةً صَحِيحَةً لَمَا وَرَدُوا النَّارَ، وَلَمَا دَخَلُوهَا، ﴿وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ أَيِ: الْعَابِدُونَ وَمَعْبُودَاتُهُمْ، كُلُّهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ، ﴿لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ﴾ ، كَمَا قَالَ: ﴿لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ﴾ [هُودٍ: ١٠٦] ، وَالزَّفِيرُ: خُرُوجُ أَنْفَاسِهِمْ، وَالشَّهِيقُ: وُلُوجُ أَنْفَاسِهِمْ، ﴿وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ﴾ .
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسيّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْل، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي: الْمَسْعُودِيَّ-عَنِ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِذَا بَقِيَ مَنْ يَخْلُدُ فِي النَّارِ، جُعلوا فِي تَوَابِيتَ مِنْ نَارٍ، فِيهَا مَسَامِيرُ مِنْ نَارٍ، فَلَا يَرَى أَحَدٌ مِنْهُمْ أَنَّهُ يُعَذَّبُ فِي النَّارِ غَيْرُهُ، ثُمَّ تَلَا عَبْدُ اللَّهِ: ﴿لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ﴾ .
وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، مِنْ حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبّاب [[في ت: "ابن حبان".]] ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَذَكَرَهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ : قَالَ عِكْرِمَةُ: الرَّحْمَةُ. وَقَالَ غَيْرُهُ: السَّعَادَةُ، ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى أَهْلَ النَّارِ وَعَذَابَهُمْ بِسَبَبِ شِرْكِهِمْ بِاللَّهِ، عَطَفَ بِذِكْرِ السُّعَدَاءِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بِاللَّهِ ورسُله [[في ت: "ورسوله".]] ، وَهُمُ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ السَّعَادَةُ، وَأَسْلَفُوا الْأَعْمَالَ الصَّالِحَةَ فِي الدُّنْيَا، كَمَا قَالَ: ﴿لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ﴾ [يُونُسَ: ٢٦] : وَقَالَ ﴿هَلْ جَزَاءُ الإحْسَانِ إِلا الإحْسَانُ﴾ [الرَّحْمَنِ:٦٠] ، فَكَمَا أَحْسَنُوا الْعَمَلَ فِي الدُّنْيَا، أَحْسَنَ اللَّهُ مَآلَهُمْ وَثَوَابَهُمْ، فَنَجَّاهُمْ مِنَ الْعَذَابِ، وحَصَل [[في ت: "وجعل".]] لَهُمْ جَزِيلُ الثَّوَابِ، فَقَالَ: ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ. لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا﴾ أَيْ: حَرِيقَهَا فِي الْأَجْسَادِ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ [[في ت، ف، أ: "عن أبي عثمان الجريري".]] ، عَنِ أَبِي عُثْمَانَ: ﴿لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا﴾ ، قَالَ: حَيَّاتٌ عَلَى الصِّرَاطِ [[في ت: "على الصراط المستقيم".]] تَلْسَعُهُمْ، فَإِذَا لَسَعَتْهُمْ قَالَ: حَسَ حَسَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَالِدُونَ﴾ فَسَلَّمَهُمْ مِنَ الْمَحْذُورِ وَالْمَرْهُوبِ، وَحَصَلَ لَهُمُ الْمَطْلُوبُ وَالْمَحْبُوبُ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيج، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ عَمِّ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ -وسَمَرَ مَعَ عَلِيٍّ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَرَأَ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ قَالَ: أَنَا مِنْهُمْ، وَعُمَرُ مِنْهُمْ، وَعُثْمَانُ مِنْهُمْ، وَالزُّبَيْرُ مِنْهُمْ، وَطَلْحَةُ مِنْهُمْ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ مِنْهُمْ -أَوْ قَالَ: سَعْدٌ مِنْهُمْ-قَالَ: وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ، وَأَظُنُّهُ يَجُرُّ ثَوْبَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: ﴿لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا﴾ .
وَقَالَ شُعْبَةُ، عَنِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ الْمَكِّيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ [[في ت: "خاطب".]] قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ قَالَ: عُثْمَانُ وَأَصْحَابُهُ.
وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ أَيْضًا، وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ مِنْ حَدِيثِ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ -وَلَيْسَ بِابْنِ مَاهَكَ-عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ وَلَفْظُهُ: عُثْمَانُ مِنْهُمْ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ : فَأُولَئِكَ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ يَمُرُّونَ عَلَى الصِّرَاطِ مَرًّا هُوَ أَسْرَعُ مِنَ الْبَرْقِ، وَيَبْقَى الْكُفَّارُ فِيهَا جِثيًا.
فَهَذَا مُطَابِقٌ لِمَا ذَكَرْنَاهُ، وَقَالَ آخَرُونَ: بَلْ نَزَلَتِ اسْتِثْنَاءً مِنَ الْمَعْبُودِينَ، وَخَرَجَ مِنْهُمْ عُزَيْرٌ وَالْمَسِيحُ، كَمَا قَالَ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَعُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ ، ثُمَّ اسْتَثْنَى فَقَالَ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ فَيُقَالُ [[في ف: "فقال".]] : هُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَعِيسَى، وَنَحْوُ ذَلِكَ مِمَّا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَكَذَا قَالَ عِكْرِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ [[في ت: "وابن ماجه وابن جريج".]] .
وَقَالَ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ قَالَ: نَزَلَتْ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وعُزَير، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى بْنِ مَيْسَرَة، حَدَّثَنَا أَبُو زُهَير، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَرِيف، عَنِ الْأَصْبَغِ، عَنْ عَليّ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِي النَّارِ إِلَّا الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ. إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ ، قَالَ: عِيسَى، وعُزَيْر، وَالْمَلَائِكَةُ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: عِيسَى، وَمَرْيَمُ، وَالْمَلَائِكَةُ، وَالشَّمْسُ، وَالْقَمَرُ. وَكَذَا رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر، وَأَبِي صَالِحٍ وَغَيْرِ وَاحِدٍ.
وَقَدْ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ فِي ذَلِكَ حَدِيثًا غَرِيبًا جِدًّا، فَقَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَّاني، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُغيث، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ قَالَ: عِيسَى، وعُزَير، وَالْمَلَائِكَةُ [[وفي إسناده سعيد بن مسلمة وشيخه ليث بن أبي سليم وهما ضعيفان.]] .
وَذَكَرَ بَعْضُهُمْ قِصَّةَ ابْنِ الزِّبَعْرَى ومناظرةَ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ مَرْدُويه:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَنٍ الْأَنْمَاطِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ -يَعْنِي: ابْنَ أَبَانٍ-عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزِّبَعْرَى إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَنَزَلَ عَلَيْكَ هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ ، فَقَالَ ابْنُ الزِّبَعْرَى: قَدْ عُبدت الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالْمَلَائِكَةُ، وعُزَير وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، كُلُّ هَؤُلَاءِ فِي النَّارِ مَعَ آلِهَتِنَا؟ فَنَزَلَتْ: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ. وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلا جَدَلا [[في ت: "مثلا".]] بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ ، ثُمَّ نَزَلَتْ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ . رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ فِي كِتَابِهِ "الْأَحَادِيثِ الْمُخْتَارَةِ".
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا قَبِيصة بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ -يَعْنِي: الثَّوْرِيَّ-عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ أَصْحَابِهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ قال المشركون: فالملائكة [[في ت: "والملائكة".]] ،عُزَير، وَعِيسَى يُعْبَدون مِنْ دُونِ اللَّهِ؟ فَنَزَلَتْ: ﴿لَوْ كَانَ هَؤُلاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا﴾ ، الْآلِهَةُ الَّتِي يُعْبَدُونَ، ﴿وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ .
وَرُوِيَ عَنِ أَبِي كُدَيْنَة، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَير، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلُ ذَلِكَ، وَقَالَ فَنَزَلَتْ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ .
وَقَالَ [الْإِمَامُ] [[زيادة من ف، أ.]] مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ [[في ت: "ابن بشار".]] ، رَحِمَهُ اللَّهُ، فِي كِتَابِ "السِّيرَةِ": وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ -فِيمَا بَلَغَنِي-يَوْمًا مَعَ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فِي الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ حَتَّى جَلَسَ مَعَهُمْ، وَفِي الْمَسْجِدِ [[في ف: "المجلس".]] غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ رِجَالِ قُرَيْشٍ، فَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَعَرَضَ لَهُ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ، فَكَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حَتَّى أَفْحَمَهُ، وَتَلَا عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ﴾ [[في ت، ف: "أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ. لَوْ كَانَ هَؤُلَاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ. لَهُمْ فِيهَا زفير وهم فيها لا يسمعون".]] ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَأَقْبَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزبَعْرَى السَّهْمِيُّ حَتَّى جَلَسَ، فَقَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبَعْرَى: وَاللَّهِ مَا قَامَ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ لِابْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ آنِفًا وَلَا قَعَدَ، وَقَدْ زَعَمَ مُحَمَّدٌ أنَّا وَمَا نَعْبُدُ [[في ت: "تعبدون".]] مِنْ آلِهَتِنَا هَذِهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزِّبَعْرَى: أَمَا وَاللَّهِ لَوْ وَجَدْتُهُ لَخَصمته، فَسَلُوا مُحَمَّدًا: كُلُّ مَا يُعْبَد [[في ت: "يعبدون".]] مِنْ دُونِ اللَّهِ فِي جَهَنَّمَ مَعَ مَنْ عَبَده، فَنَحْنُ نَعْبُدُ الْمَلَائِكَةَ، وَالْيَهُودُ تَعْبُدُ عُزَيْرًا، وَالنَّصَارَى تَعْبُدُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ؟ فَعَجِبَ الْوَلِيدُ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ فِي الْمَجْلِسِ، مِنْ قَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبَعْرَى، وَرَأَوْا أَنَّهُ قَدْ احْتَجَّ وَخَاصَمَ.
فَذُكر ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: "كُلُّ مَنْ أحَبَّ أَنْ يُعْبَدَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَهُوَ مَعَ مَنْ عَبَدَهُ، إِنَّهُمْ إِنَّمَا يَعْبُدُونَ الشَّيَاطِينَ [[في ت، ف: "الشيطان".]] وَمَنْ أمَرَتْهُم [[في ف: "أمرهم".]] بِعِبَادَتِهِ. وَأَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ. لا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَالِدُونَ﴾ أَيْ: عِيسَى وَعُزَيْرٌ وَمَنْ عُبدوا مِنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ، الَّذِينَ مَضَوْا عَلَى طَاعَةِ اللَّهِ، فَاتَّخَذَهُمْ مَنْ يَعْبُدُهُمْ مِنْ أَهْلِ الضَّلَالَةِ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ. وَنَزَلَ فِيمَا يَذْكُرُونَ، أَنَّهُمْ يَعْبُدُونَ الْمَلَائِكَةَ، وَأَنَّهُمْ بَنَاتُ اللَّهِ: ﴿وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ. لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٢٦ -٢٩] ، وَنَزَلَ فِيمَا ذُكر مَنْ أَمْرِ عِيسَى، وَأَنَّهُ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ، وعَجَب الْوَلِيدِ وَمَنْ حَضَره مِنْ حُجَّته وَخُصُومَتِهِ: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ. وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلا جَدَلا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ. إِنْ هُوَ إِلا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ. وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَلائِكَةً فِي الأرْضِ يَخْلُفُونَ. وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلا تَمْتَرُنَّ بِهَا﴾ [الزخرف:٥٧ -٦١] أَيْ: مَا وَضَعْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْآيَاتِ مِنْ إِحْيَاءِ الْمَوْتَى وَإِبْرَاءِ الْأَسْقَامِ، فكَفى بِهِ دَلِيلًا عَلَى عِلْمِ السَّاعَةِ، يَقُولُ: ﴿فَلا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ﴾ [الزُّخْرُفِ:٦١] [[السيرة النبوية لابن هشام (١/٣٥٨) ، ورواه الطبري في تفسيره (١٧/٧٦) .]] .
وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ ابْنُ الزِّبَعْرَى خَطَأٌ كَبِيرٌ؛ لِأَنَّ الْآيَةَ إِنَّمَا نَزَلَتْ خِطَابًا لِأَهْلِ مَكَّةَ فِي عِبَادَتِهِمُ الْأَصْنَامَ الَّتِي هِيَ جَمَادٌ لَا تَعْقِلُ، لِيَكُونَ ذَلِكَ تَقْرِيعًا وَتَوْبِيخًا لِعَابِدِيهَا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ فَكَيْفَ يُورِدُ عَلَى هَذَا الْمَسِيحَ وَالْعُزَيْرَ [[في ف: "وعزير".]] وَنَحْوَهُمَا، مِمَّنْ [[في ت: "وممن".]] لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ، وَلَمْ يَرْضَ بِعِبَادَةِ مَنْ عَبَدَهُ. وعَوّل ابْنُ جَرِيرٍ فِي تَفْسِيرِهِ فِي الْجَوَابِ عَلَى أَنَّ "مَا" لِمَا لَا يَعْقِلُ عِنْدَ الْعَرَبِ.
وَقَدْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزِّبَعْرَى بَعْدَ ذَلِكَ، وَكَانَ مِنَ الشُّعَرَاءِ الْمَشْهُورِينَ. وَكَانَ يُهَاجِي الْمُسْلِمِينَ أَوَّلًا ثُمَّ قَالَ مُعْتَذِرًا:
يَا رَسُولَ الْمَلِيكِ، إِنَّ لِسَانِي ... رَاتقٌ مَا فتَقْتُ إذْ أنَا بُورُ ...
إذْ أجَاري الشَّيطَانَ فِي سَنَن الغَي ... وَمَنْ مَالَ مَيْلَه مَثْبُور [[البيتين في السيرة النبوية لابن هشام (٢/٤١٩) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الأكْبَرُ﴾ قِيلَ الْمُرَادُ بِذَلِكَ الْمَوْتُ. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَطَاءٍ.
وَقِيلَ: الْمُرَادُ بِالْفَزَعِ الْأَكْبَرِ: النَّفْخَةُ فِي الصُّورِ. قَالَهُ العَوْفي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبُو سِنَان سَعِيدُ [[في ت، ف، أ: "سعد".]] ابن سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ، وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ فِي تَفْسِيرِهِ.
وَقِيلَ: حِينَ يُؤْمَر بِالْعَبْدِ إِلَى النَّارِ. قَالَهُ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ.
وَقِيلَ: حِينَ تُطبق النَّارُ عَلَى أَهْلِهَا. قَالَهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْر، وَابْنُ جُرَيج.
وَقِيلَ: حِينَ يُذبَح الْمَوْتُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ. قَالَهُ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ [[في ف، أ: "الهمداني".]] ، فِيمَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، عَنْهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ هَذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ﴾ ، يَعْنِي: تَقُولُ لَهُمُ الْمَلَائِكَةُ، تُبَشِّرُهُمْ يَوْمَ مَعَادِهِمْ إِذَا خَرَجُوا مِنْ قُبُورِهِمْ: ﴿هَذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ﴾ أَيْ: قابلوا [[في ت: "فأملوا".]] ما يسركم.
لَوْ كَانَ هَٰٓؤُلَآءِ ءَالِهَةًۭ مَّا وَرَدُوهَا ۖ وَكُلٌّۭ فِيهَا خَٰلِدُونَ
Had these [false deities] been [actual] gods, they would not have come to it, but all are eternal therein.
اگر یہ لوگ (درحقیقت) معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے۔ سب اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے
اگر اینها خدایانی بودند، هرگز وارد آن نمیشدند! در حالی که همگی در آن جاودانه خواهند بود.
Tafsir Ibn Kathir
Certainly you and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) fuel (Hasab) for Hell! (Surely) you will enter it (98)Had these been gods, they would not have entered there (Hell), and all of them will abide therein forever (99)Therein they will be breathing out with deep sighs and roaring and therein they will hear not (100)Verily, those for whom the good has preceded from Us, they will be removed far therefrom (Hell)(101)They shall not hear the slightest sound of it (Hell), while they abide in that which their own selves desire (102)The greatest terror will not grieve them, and the angels will meet them, (with the greeting:) "This is your Day which you were promised. (103)
The Idolators and their gods are Fuel for Hell
Allah says to the people of Makkah, the idolators of the Quraysh and those who followed their religion of idol worship:
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ
(Certainly you and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell!). Ibn 'Abbas said: "Kindling." This is like the Ayah:
وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ
(whose fuel is men and stones)(66:6). According to another report, Ibn 'Abbas said:
حَصَبُ جَهَنَّمَ
(Hasab for Hell) means firewood in (the dialect of the people of) Zanjiyyah. Mujahid, 'Ikrimah and Qatadah said: "Its fuel." Ad-Dahhak said: "The fuel of Hell means that which is thrown into it." This was also the view of others.
أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ
((Surely) you will enter it.) means, you will go into it.
لَوْ كَانَ هَٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا
(Had these been gods, they would not have entered there,) means, if these idols and false gods which you worshipped instead of Allah, had really been gods, they would not have entered the Hellfire.
وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ
(and all of them will abide therein forever.) means, the worshippers and the objects of their worship will all abide therein forever.
لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ
(Therein they will be breathing out with deep sighs and roaring) This is like the Ayah:
لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ
(they will have (in the Fire), Zafir and Shahiq)(11:106). Zafir refers to their exhalation, and Shahiq refers to their inhalation.
وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ
(and therein they will hear not.)
The State of the Blessed
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ
(Verily, those for whom the good has preceded from Us,) 'Ikrimah said, "Mercy." Others said it means being blessed.
أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ
(they will be removed far therefrom.) When Allah mentions the people of Hell and their punishment for their associating others in worship with Allah, He follows that with a description of the blessed who believed in Allah and His Messengers. These are the ones for whom the blessing has preceded from Allah, and they did righteous deeds in the world, as Allah says:
لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ
(For those who have done good is the best reward and even more)(10:26)
هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ
(Is there any reward for good other than good?)(55:60) Just as they did good in this world, Allah will make their final destiny and their reward good; He will save them from punishment and give them a great reward.
أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ - لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا
(they will be removed far therefrom. They shall not hear the slightest sound of it,) means, they will not feel its heat in their bodies.
وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنفُسُهُمْ خَالِدُونَ
(while they abide in that which their own selves desire.) means, they will be safe from that which they fear, and they will have all that they love and desire. It was said that this was revealed to point out an exception in the case of those who are worshipped instead of Allah, and to exclude 'Uzayr and the Messiah from their number. Hajjaj bin Muhammad Al-A'war reported from Ibn Jurayj, and 'Uthman bin 'Ata' reported from Ibn 'Abbas:
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ
(Certainly you (disbelievers) and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell! (Surely) you will enter it.) Then He made an exception and said:
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ
(Verily, those for whom the good has preceded from Us.)
It was said that this referred to the angels and 'Isa, and others who are worshipped instead of Allah. This was the view of 'Ikrimah, Al-Hasan and Ibn Jurayj. Muhammad bin Ishaq bin Yasar said in his book of Sirah:
According to what I have heard, the Messenger of Allah ﷺ sat down one day with Al-Walid bin Al-Mughirah in the Masjid, and An-Nadr bin Al-Harith came and sat down with them. There were also other men of Quraysh in the Masjid. The Messenger of Allah ﷺ spoke, then An-Nadr bin Al-Harith came up to him and the Messenger of Allah spoke ﷺ to him until he defeated him in argument. Then he recited to him and to them,
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ
(Certainly you and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell! (Surely) you will enter it.) Until His Statement,
وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ
(and therein they will hear not.) Then the Messenger of Allah ﷺ got up and went to sit with 'Abdullah bin Al-Zab'ari As-Sahmi. Al-Walid bin Al-Mughirah said to 'Abdullah bin Al-Zab'ari, "By Allah, An-Nadr bin Al-Harith could not match the son of 'Abd Al-Muttalib in argument. Muhammad claims that we and these gods that we worship are fuel for Hell." 'Abdullah bin Az-Zab'ari said: "By Allah, if I meet with him I will defeat him in argument. Ask Muhammad whether everyone that is worshipped instead of Allah will be in Hell with those who worshipped him, for we worship the angels, and the Jews worship 'Uzayr, and the Christians worship Al-Masih, 'Isa bin Maryam." Al-Walid and those who were sitting with him were amazed at what 'Abdullah bin Az-Zab'ari said, and they thought that he had come up with a good point. He said this to the Messenger of Allah ﷺ, who said:
كُلُّ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُعْبَدَ مِنْ دُونِ اللهِ، فَهُوَ مَعَ مَنْ عَبَدَهُ، إِنَّهُمْ إِنَّمَا يَعْبُدُونَ الشَّيْطَانَ وَمَنْ أَمَرَهُمْ بِعِبَادَتِهِ
(Everyone who likes to be worshipped instead of Allah will be with the ones who worshipped him, for indeed they are worshipping the Shaytan and whoever told them to worship him.) Then Allah revealed the words:
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ - لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا ۖ وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنفُسُهُمْ خَالِدُونَ
(Verily, those for whom the good has preceded from Us, they will be removed far therefrom (Hell). They shall not hear the slightest sound of it (Hell), while they abide in that which their own selves desire.)
It was revealed about the mention of 'Isa, 'Uzayr and rabbis and monks who were also worshipped, who had spent their lives in devotion towards Allah, but the misguided people who came after them took them as lords instead of Allah. Concerning the notion of worshipping the angels as daughters of Allah, the following words were revealed:
وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَٰنُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ
(And they say: "The Most Gracious has begotten children. " Glory to Him! They are but honored slaves). Until His saying,
وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
(And if any of them should say: "Verily, I am a god besides Him," such a one We should recompense with Hell. Thus We recompense the wrongdoers.)[21:26-29].
Concerning 'Isa bin Maryam, the fact that he is worshipped alongside Allah, and the amazement of Al-Walid and the others who were present at the argument [of 'Abdullah bin Az-Zab'ari], the following words were revealed:
وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ - وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ ۚ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ - إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ - وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ - وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا
(And when the son of Maryam is quoted as an example, behold, your people cry aloud (laugh out at the example). And say: "Are our gods better or is he?" They quoted not the above example except for argument. Nay! But they are a quarrelsome people. He was not more than a slave. We granted Our favor to him, and We made him an example for the Children of Israel. And if it were Our will, We would have made angels to replace you on the earth. And he shall be a known sign for the Hour. Therefore have no doubt concerning it.)[43:57-61] meaning, the miracles and signs that happened at his hands, such as raising the dead and healing the sick, are sufficient as signs of the approach of the Hour,
فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ ۚ هَٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ
(Therefore have no doubt concerning it. And follow Me (Allah)! This is the straight path)(43:61)."
What Ibn Az-Zab'ari said was a serious mistake, because the Ayah was addressed to the people of Makkah concerning their worship of idols which were inanimate and could not think. It was a rebuke for their worship of them, so Allah said:
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ
(Certainly you (disbelievers) and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell!) How could this be applied to Al-Masih, 'Uzayr and others who did righteous deeds and did not accept the worship of those who worshipped them?
لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ
(The greatest terror will not grieve them,) It was said that this means death, as was narrated by 'Abdur-Razzaq from Yahya bin Rabi'ah from 'Ata.' Or it was said that the greatest terror refers to the blast of the Trumpet, as Al-'Awfi said narrating from Ibn 'Abbas and Abu Sinan, Sa'id bin Sinan Ash-Shaybani. This was the view favored by Ibn Jarir in his Tafsir.
وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ هَٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ
(and the angels will meet them, (with the greeting:) "This is your Day which you were promised".) meaning, the angels will greet them on the Day of Resurrection when they emerge from their graves with the words:
هَٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ
("This is your Day which you were promised".) meaning, hope for the best.
Tafsir Ibn Kathir
جہنم کی ہولناکیاں بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے جیسے فرمان ہے آیت (وقودہا الناس والحجارۃ) اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر حبشی زبان میں حطب کو حصب کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے حصب کے حطب ہے۔ تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لئے۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے ؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پر دوزخی ہوگئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے جیسے فرمان ہے آیت (فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ01006ۙ) 11۔ ھود :106) ، وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے اور چیخوں کے سوا ان کے کان میں اور کوئی آواز نہ پڑے گی حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جب صرف مشرک جہنم میں رہ جائیں گے انہیں آگ کے صندوقوں میں قید کردیا جائے گا جن میں آگ کے سریے ہوں گے ان میں سے ہر ایک کو یہی گمان ہوگا کہ جہنم میں اس کے سوا اور کوئی نہیں پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی (ابن جریر) حسنیٰ سے مراد رحمت وسعادت ہیں۔ دوزخیوں کا اور ان کے عذابوں کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں اور ان کی جزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے یہ لوگ باایمان تھے ان کے نیک اعمال کی وجہ سے سعادت انکے استقبال کو تیار تھی جیسے فرمان ہے آیت (لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ ۭ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ 26) 10۔ یونس :26) نیکوں کے لئے نیک اجر ہے اور زیادتی اجر بھی۔ فرمان ہے آیت (هَلْ جَزَاۗءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ 60ۚ) 55۔ الرحمن :60) نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے۔ ان کے دنیا کے اعمال نیک تھے تو آخرت میں ثواب اور نیک بدلہ ملا، عذاب سے بچے اور رحمت رب سے سرفراز ہوئے۔ یہ جہنم سے دور کردئیے گئے کہ اس کی آہٹ تک نہیں سنتے نہ دوزخیوں کا جلنا وہ سنتے ہیں۔ پل صراط پر دوزخیوں کو زہریلے ناگ ڈستے ہیں اور یہ وہاں ہائے ہائے کرتے ہیں جنتی لوگوں کے کان بھی اس درد ناک آواز سے ناآشنا رہیں گے۔ اتنا ہی نہیں کہ خوف ڈر سے یہ الگ ہوگئے بلکہ ساتھ ہی راحت وآرام بھی حاصل کرلیا۔ من مانی چیزیں موجود۔ دوامی کی راحت بھی حاضر۔ حضرت علی ؓ نے ایک رات اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا میں اور عمر عثمان اور زبیر اور طلحہ اور عبدالرحمن انہی لوگوں میں سے ہیں یا حضرت سعد کا نام لیا ؓ۔ اتنے میں نماز کی تکبیر ہوئی تو آپ چادر گھیسٹتے آیت (وہم لایسمعون حسیسہا)۔ پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوگئے اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا حضرت عثمان ؓ اور ان کے ساتھی ایسے ہی ہیں ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہی لوگ اولیاء اللہ ہیں بجلی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پل صراط سے پار ہوجائیں گے اور کافر وہیں گھٹنوں کے بل گرپڑیں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ بزرگان دین ہیں جو اللہ والے تھے شرکت سے بیزار تھے لیکن ان کے بعد لوگوں نے ان کی مرضی کے خلاف ان کی پوجا پاٹ شروع کردی تھی، حضرت عزیر، حضرت مسیح، فرشتے، سورج، چاند، حضرت مریم، وغیرہ۔ عبداللہ بن زبعری آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا تیرا خیال ہے کہ اللہ نے آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21۔ الأنبیاء :98) اتاری ہے ؟ اگر یہ سچ ہے تو کیا سورج چاند، فرشتے عزیر، عیسیٰ ، سب کہ سب ہمارے بتوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے ؟ اس کے جواب میں آیت (وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ 57) 43۔ الزخرف :57) اور آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ01001ۙ) 21۔ الأنبیاء :101) نازل ہوئی۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے حضور ﷺ ایک دن ولید بن مغیرہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نضر بن حارث آیا اس وقت مسجد میں اور قریشی بھی بہت سارے تھے نضر بن حارث رسول اللہ ﷺ سے باتیں کر رہا تھا لیکن وہ لاجوب ہوگیا آپ نے آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21۔ الأنبیاء :98) تلاوت فرمائی۔ جب آپ اس مجلس سے چلے گئے تو عبد اللہ بن زبعری آیا لوگوں نے اس سے کہا آج نضر بن حارث نے باتیں کیں لیکن بری طرح چت ہوئے اور حضرت یہ فرماتے ہوئے چلے گے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو انہیں جواب دیتا کہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر کو نصرانی مسیح کو تو کیا یہ سب بھی جہنم میں جلیں گے ؟ سب کو یہ جواب بہت پسند آیا جب حضور ﷺ سے اس کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا جس نے اپنی عبادت کرائی وہ عابدوں کے ساتھ جہنم میں ہے یہ بزرگ اپنی عبادتیں نہیں کراتے تھے بلکہ یہ لوگ تو انہیں نہیں شیطان کو پوج رہے ہیں اسی نے انہیں ان کی عبادت کی راہ بتائی ہے۔ آپ کے جواب کے ساتھ ہی قرآنی جواب اس کے بعد ہی آیت (ان الذین سبقت) میں اترا تو جن نیک لوگوں کی جاہلوں نے پرستش کی تھی وہ اس سے مستثنیٰ ہوگئے۔ چناچہ قرآن میں ہے آیت (ومن یقل منہم انی الہ من دونہ فذالک نجزیہ جہنم۔ الخ) یعنی ان میں سے جو اپنی معبودیت اوروں سے منوانی چاہے اس کا بدلہ جہنم ہے ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں اور آیت (وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ 57) 43۔ الزخرف :57) اتری کہ اس بات کہ سنتے ہی وہ لوگ متعجب ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے معبود اچھے یا وہ یہ تو صرف دھینگا مشتی ہے اور یہ لوگ جھگڑالو ہی ہیں وہ ہمارا انعام یافتہ بندہ تھا اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لئے نمونہ بنایا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین فرشتوں کو کردیتے حضرت عیسیٰ نشان قیامت ہیں ان کے ہاتھ سے جو معجزات صادر ہوئے وہ شبہ والی چیزیں نہیں وہ قیامت کی دلیل ہیں تجھے اس میں کچھ شک نہ کرنا چاہے۔ میری مانتا چلاجا یہی صراط مستقیم ہے ابن زبعری کی جرات دیکھئے خطاب اہل مکہ سے ہے اور ان کی ان تصویروں اور پتھروں کے لئے کہا گیا ہے جنہیں وہ سوائے اللہ کے پوجا کرتے تھے نہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ وغیرہ پاک نفس کے لئے جو غیر اللہ کی عبادت سے روکتے تھے۔ امام ابن جریر ؒ فرماتے ہیں لفظ ما جو یہاں ہے وہ عرب میں ان کے لئے آتا ہے جو بےجان اور بےعقل ہوں۔ یہ ابن زبعری اس کے بعد مسلمان ہوگئے تھے ؓ یہ بڑے مشہور شاعر تھے۔ پہلے انہوں نے مسلمانوں کی دل کھول کر دھول اڑائی تھی لیکن مسلمان ہونے کے بعد معذرت کی۔ موت کی گھبراہٹ، اس گھڑی کی گھبراہٹ جبکہ جہنم پر ڈھکن ڈھک دیا جائے گا جب کہ موت کو دوزخ جنت کے درمیان ذبح کردیا جائے گا۔ غرض کسی اندیشے کا نزول ان پر نہ ہوگا وہ ہر غم وہراس سے دور ہوں گے، پورے مسرور ہوں گے، خوش ہوں گے اور ناخوشی سے کوسوں الگ ہوں گے۔ فرشتوں کے پرے کے پرے ان سے ملاقاتیں کررہے ہوں گے اور انہیں ڈھارس دیتے ہوئے کہتے ہوں گے کہ اسی دن کا وعدہ تم سے کیا گیا تھا، اس وقت تم قبروں سے اٹھنے کے دن کے منتظر رہو۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخَاطِبًا لِأَهْلِ مَكَّةَ مِنْ مُشْرِكِي قُرَيْشٍ، وَمَنْ دَانَ بِدِينِهِمْ مِنْ عَبَدَةِ الْأَصْنَامِ وَالْأَوْثَانِ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَيْ وَقُودُهَا، يَعْنِي كَقَوْلِهِ: ﴿وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ﴾ [التَّحْرِيمِ:٦] .
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَيْضًا: ﴿حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ بِمَعْنَى: شَجَرِ جَهَنَّمَ. وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: ﴿حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ يَعْنِي: حَطَبَ جَهَنَّمَ، بِالزِّنْجِيَّةِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ، وَعِكْرِمَةُ، وَقَتَادَةُ: حَطَبُهَا. وَهِيَ كَذَلِكَ فِي قِرَاءَةِ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: ﴿حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ أَيْ: مَا يُرْمَى بِهِ فِيهَا.
وَكَذَا قَالَ غَيْرُهُ. وَالْجَمِيعُ قَرِيبٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ أَيْ: دَاخِلُونَ.
﴿لَوْ كَانَ هَؤُلاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا﴾ يَعْنِي: لَوْ كَانَتْ هَذِهِ الْأَصْنَامُ وَالْأَنْدَادُ الَّتِي اتَّخَذْتُمُوهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ آلِهَةً صَحِيحَةً لَمَا وَرَدُوا النَّارَ، وَلَمَا دَخَلُوهَا، ﴿وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ أَيِ: الْعَابِدُونَ وَمَعْبُودَاتُهُمْ، كُلُّهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ، ﴿لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ﴾ ، كَمَا قَالَ: ﴿لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ﴾ [هُودٍ: ١٠٦] ، وَالزَّفِيرُ: خُرُوجُ أَنْفَاسِهِمْ، وَالشَّهِيقُ: وُلُوجُ أَنْفَاسِهِمْ، ﴿وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ﴾ .
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسيّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْل، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي: الْمَسْعُودِيَّ-عَنِ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِذَا بَقِيَ مَنْ يَخْلُدُ فِي النَّارِ، جُعلوا فِي تَوَابِيتَ مِنْ نَارٍ، فِيهَا مَسَامِيرُ مِنْ نَارٍ، فَلَا يَرَى أَحَدٌ مِنْهُمْ أَنَّهُ يُعَذَّبُ فِي النَّارِ غَيْرُهُ، ثُمَّ تَلَا عَبْدُ اللَّهِ: ﴿لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ﴾ .
وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، مِنْ حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبّاب [[في ت: "ابن حبان".]] ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَذَكَرَهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ : قَالَ عِكْرِمَةُ: الرَّحْمَةُ. وَقَالَ غَيْرُهُ: السَّعَادَةُ، ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى أَهْلَ النَّارِ وَعَذَابَهُمْ بِسَبَبِ شِرْكِهِمْ بِاللَّهِ، عَطَفَ بِذِكْرِ السُّعَدَاءِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بِاللَّهِ ورسُله [[في ت: "ورسوله".]] ، وَهُمُ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ السَّعَادَةُ، وَأَسْلَفُوا الْأَعْمَالَ الصَّالِحَةَ فِي الدُّنْيَا، كَمَا قَالَ: ﴿لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ﴾ [يُونُسَ: ٢٦] : وَقَالَ ﴿هَلْ جَزَاءُ الإحْسَانِ إِلا الإحْسَانُ﴾ [الرَّحْمَنِ:٦٠] ، فَكَمَا أَحْسَنُوا الْعَمَلَ فِي الدُّنْيَا، أَحْسَنَ اللَّهُ مَآلَهُمْ وَثَوَابَهُمْ، فَنَجَّاهُمْ مِنَ الْعَذَابِ، وحَصَل [[في ت: "وجعل".]] لَهُمْ جَزِيلُ الثَّوَابِ، فَقَالَ: ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ. لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا﴾ أَيْ: حَرِيقَهَا فِي الْأَجْسَادِ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ [[في ت، ف، أ: "عن أبي عثمان الجريري".]] ، عَنِ أَبِي عُثْمَانَ: ﴿لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا﴾ ، قَالَ: حَيَّاتٌ عَلَى الصِّرَاطِ [[في ت: "على الصراط المستقيم".]] تَلْسَعُهُمْ، فَإِذَا لَسَعَتْهُمْ قَالَ: حَسَ حَسَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَالِدُونَ﴾ فَسَلَّمَهُمْ مِنَ الْمَحْذُورِ وَالْمَرْهُوبِ، وَحَصَلَ لَهُمُ الْمَطْلُوبُ وَالْمَحْبُوبُ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيج، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ عَمِّ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ -وسَمَرَ مَعَ عَلِيٍّ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَرَأَ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ قَالَ: أَنَا مِنْهُمْ، وَعُمَرُ مِنْهُمْ، وَعُثْمَانُ مِنْهُمْ، وَالزُّبَيْرُ مِنْهُمْ، وَطَلْحَةُ مِنْهُمْ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ مِنْهُمْ -أَوْ قَالَ: سَعْدٌ مِنْهُمْ-قَالَ: وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ، وَأَظُنُّهُ يَجُرُّ ثَوْبَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: ﴿لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا﴾ .
وَقَالَ شُعْبَةُ، عَنِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ الْمَكِّيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ [[في ت: "خاطب".]] قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ قَالَ: عُثْمَانُ وَأَصْحَابُهُ.
وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ أَيْضًا، وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ مِنْ حَدِيثِ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ -وَلَيْسَ بِابْنِ مَاهَكَ-عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ وَلَفْظُهُ: عُثْمَانُ مِنْهُمْ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ : فَأُولَئِكَ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ يَمُرُّونَ عَلَى الصِّرَاطِ مَرًّا هُوَ أَسْرَعُ مِنَ الْبَرْقِ، وَيَبْقَى الْكُفَّارُ فِيهَا جِثيًا.
فَهَذَا مُطَابِقٌ لِمَا ذَكَرْنَاهُ، وَقَالَ آخَرُونَ: بَلْ نَزَلَتِ اسْتِثْنَاءً مِنَ الْمَعْبُودِينَ، وَخَرَجَ مِنْهُمْ عُزَيْرٌ وَالْمَسِيحُ، كَمَا قَالَ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَعُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ ، ثُمَّ اسْتَثْنَى فَقَالَ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ فَيُقَالُ [[في ف: "فقال".]] : هُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَعِيسَى، وَنَحْوُ ذَلِكَ مِمَّا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَكَذَا قَالَ عِكْرِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ [[في ت: "وابن ماجه وابن جريج".]] .
وَقَالَ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ قَالَ: نَزَلَتْ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وعُزَير، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى بْنِ مَيْسَرَة، حَدَّثَنَا أَبُو زُهَير، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَرِيف، عَنِ الْأَصْبَغِ، عَنْ عَليّ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِي النَّارِ إِلَّا الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ. إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ ، قَالَ: عِيسَى، وعُزَيْر، وَالْمَلَائِكَةُ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: عِيسَى، وَمَرْيَمُ، وَالْمَلَائِكَةُ، وَالشَّمْسُ، وَالْقَمَرُ. وَكَذَا رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر، وَأَبِي صَالِحٍ وَغَيْرِ وَاحِدٍ.
وَقَدْ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ فِي ذَلِكَ حَدِيثًا غَرِيبًا جِدًّا، فَقَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَّاني، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُغيث، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ قَالَ: عِيسَى، وعُزَير، وَالْمَلَائِكَةُ [[وفي إسناده سعيد بن مسلمة وشيخه ليث بن أبي سليم وهما ضعيفان.]] .
وَذَكَرَ بَعْضُهُمْ قِصَّةَ ابْنِ الزِّبَعْرَى ومناظرةَ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ مَرْدُويه:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَنٍ الْأَنْمَاطِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ -يَعْنِي: ابْنَ أَبَانٍ-عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزِّبَعْرَى إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَنَزَلَ عَلَيْكَ هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ ، فَقَالَ ابْنُ الزِّبَعْرَى: قَدْ عُبدت الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالْمَلَائِكَةُ، وعُزَير وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، كُلُّ هَؤُلَاءِ فِي النَّارِ مَعَ آلِهَتِنَا؟ فَنَزَلَتْ: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ. وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلا جَدَلا [[في ت: "مثلا".]] بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ ، ثُمَّ نَزَلَتْ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ . رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ فِي كِتَابِهِ "الْأَحَادِيثِ الْمُخْتَارَةِ".
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا قَبِيصة بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ -يَعْنِي: الثَّوْرِيَّ-عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ أَصْحَابِهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ قال المشركون: فالملائكة [[في ت: "والملائكة".]] ،عُزَير، وَعِيسَى يُعْبَدون مِنْ دُونِ اللَّهِ؟ فَنَزَلَتْ: ﴿لَوْ كَانَ هَؤُلاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا﴾ ، الْآلِهَةُ الَّتِي يُعْبَدُونَ، ﴿وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ .
وَرُوِيَ عَنِ أَبِي كُدَيْنَة، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَير، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلُ ذَلِكَ، وَقَالَ فَنَزَلَتْ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ .
وَقَالَ [الْإِمَامُ] [[زيادة من ف، أ.]] مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ [[في ت: "ابن بشار".]] ، رَحِمَهُ اللَّهُ، فِي كِتَابِ "السِّيرَةِ": وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ -فِيمَا بَلَغَنِي-يَوْمًا مَعَ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فِي الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ حَتَّى جَلَسَ مَعَهُمْ، وَفِي الْمَسْجِدِ [[في ف: "المجلس".]] غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ رِجَالِ قُرَيْشٍ، فَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَعَرَضَ لَهُ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ، فَكَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حَتَّى أَفْحَمَهُ، وَتَلَا عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ﴾ [[في ت، ف: "أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ. لَوْ كَانَ هَؤُلَاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ. لَهُمْ فِيهَا زفير وهم فيها لا يسمعون".]] ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَأَقْبَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزبَعْرَى السَّهْمِيُّ حَتَّى جَلَسَ، فَقَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبَعْرَى: وَاللَّهِ مَا قَامَ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ لِابْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ آنِفًا وَلَا قَعَدَ، وَقَدْ زَعَمَ مُحَمَّدٌ أنَّا وَمَا نَعْبُدُ [[في ت: "تعبدون".]] مِنْ آلِهَتِنَا هَذِهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزِّبَعْرَى: أَمَا وَاللَّهِ لَوْ وَجَدْتُهُ لَخَصمته، فَسَلُوا مُحَمَّدًا: كُلُّ مَا يُعْبَد [[في ت: "يعبدون".]] مِنْ دُونِ اللَّهِ فِي جَهَنَّمَ مَعَ مَنْ عَبَده، فَنَحْنُ نَعْبُدُ الْمَلَائِكَةَ، وَالْيَهُودُ تَعْبُدُ عُزَيْرًا، وَالنَّصَارَى تَعْبُدُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ؟ فَعَجِبَ الْوَلِيدُ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ فِي الْمَجْلِسِ، مِنْ قَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبَعْرَى، وَرَأَوْا أَنَّهُ قَدْ احْتَجَّ وَخَاصَمَ.
فَذُكر ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: "كُلُّ مَنْ أحَبَّ أَنْ يُعْبَدَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَهُوَ مَعَ مَنْ عَبَدَهُ، إِنَّهُمْ إِنَّمَا يَعْبُدُونَ الشَّيَاطِينَ [[في ت، ف: "الشيطان".]] وَمَنْ أمَرَتْهُم [[في ف: "أمرهم".]] بِعِبَادَتِهِ. وَأَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ. لا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَالِدُونَ﴾ أَيْ: عِيسَى وَعُزَيْرٌ وَمَنْ عُبدوا مِنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ، الَّذِينَ مَضَوْا عَلَى طَاعَةِ اللَّهِ، فَاتَّخَذَهُمْ مَنْ يَعْبُدُهُمْ مِنْ أَهْلِ الضَّلَالَةِ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ. وَنَزَلَ فِيمَا يَذْكُرُونَ، أَنَّهُمْ يَعْبُدُونَ الْمَلَائِكَةَ، وَأَنَّهُمْ بَنَاتُ اللَّهِ: ﴿وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ. لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٢٦ -٢٩] ، وَنَزَلَ فِيمَا ذُكر مَنْ أَمْرِ عِيسَى، وَأَنَّهُ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ، وعَجَب الْوَلِيدِ وَمَنْ حَضَره مِنْ حُجَّته وَخُصُومَتِهِ: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ. وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلا جَدَلا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ. إِنْ هُوَ إِلا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ. وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَلائِكَةً فِي الأرْضِ يَخْلُفُونَ. وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلا تَمْتَرُنَّ بِهَا﴾ [الزخرف:٥٧ -٦١] أَيْ: مَا وَضَعْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْآيَاتِ مِنْ إِحْيَاءِ الْمَوْتَى وَإِبْرَاءِ الْأَسْقَامِ، فكَفى بِهِ دَلِيلًا عَلَى عِلْمِ السَّاعَةِ، يَقُولُ: ﴿فَلا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ﴾ [الزُّخْرُفِ:٦١] [[السيرة النبوية لابن هشام (١/٣٥٨) ، ورواه الطبري في تفسيره (١٧/٧٦) .]] .
وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ ابْنُ الزِّبَعْرَى خَطَأٌ كَبِيرٌ؛ لِأَنَّ الْآيَةَ إِنَّمَا نَزَلَتْ خِطَابًا لِأَهْلِ مَكَّةَ فِي عِبَادَتِهِمُ الْأَصْنَامَ الَّتِي هِيَ جَمَادٌ لَا تَعْقِلُ، لِيَكُونَ ذَلِكَ تَقْرِيعًا وَتَوْبِيخًا لِعَابِدِيهَا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ فَكَيْفَ يُورِدُ عَلَى هَذَا الْمَسِيحَ وَالْعُزَيْرَ [[في ف: "وعزير".]] وَنَحْوَهُمَا، مِمَّنْ [[في ت: "وممن".]] لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ، وَلَمْ يَرْضَ بِعِبَادَةِ مَنْ عَبَدَهُ. وعَوّل ابْنُ جَرِيرٍ فِي تَفْسِيرِهِ فِي الْجَوَابِ عَلَى أَنَّ "مَا" لِمَا لَا يَعْقِلُ عِنْدَ الْعَرَبِ.
وَقَدْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزِّبَعْرَى بَعْدَ ذَلِكَ، وَكَانَ مِنَ الشُّعَرَاءِ الْمَشْهُورِينَ. وَكَانَ يُهَاجِي الْمُسْلِمِينَ أَوَّلًا ثُمَّ قَالَ مُعْتَذِرًا:
يَا رَسُولَ الْمَلِيكِ، إِنَّ لِسَانِي ... رَاتقٌ مَا فتَقْتُ إذْ أنَا بُورُ ...
إذْ أجَاري الشَّيطَانَ فِي سَنَن الغَي ... وَمَنْ مَالَ مَيْلَه مَثْبُور [[البيتين في السيرة النبوية لابن هشام (٢/٤١٩) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الأكْبَرُ﴾ قِيلَ الْمُرَادُ بِذَلِكَ الْمَوْتُ. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَطَاءٍ.
وَقِيلَ: الْمُرَادُ بِالْفَزَعِ الْأَكْبَرِ: النَّفْخَةُ فِي الصُّورِ. قَالَهُ العَوْفي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبُو سِنَان سَعِيدُ [[في ت، ف، أ: "سعد".]] ابن سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ، وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ فِي تَفْسِيرِهِ.
وَقِيلَ: حِينَ يُؤْمَر بِالْعَبْدِ إِلَى النَّارِ. قَالَهُ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ.
وَقِيلَ: حِينَ تُطبق النَّارُ عَلَى أَهْلِهَا. قَالَهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْر، وَابْنُ جُرَيج.
وَقِيلَ: حِينَ يُذبَح الْمَوْتُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ. قَالَهُ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ [[في ف، أ: "الهمداني".]] ، فِيمَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، عَنْهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ هَذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ﴾ ، يَعْنِي: تَقُولُ لَهُمُ الْمَلَائِكَةُ، تُبَشِّرُهُمْ يَوْمَ مَعَادِهِمْ إِذَا خَرَجُوا مِنْ قُبُورِهِمْ: ﴿هَذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ﴾ أَيْ: قابلوا [[في ت: "فأملوا".]] ما يسركم.
لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌۭ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ
For them therein is heavy sighing, and they therein will not hear.
وہاں ان کو چلاّنا ہوگا اور اس میں (کچھ) نہ سن سکیں گے
برای آنان در آن [= دوزخ] نالههای دردناکی است و چیزی نمیشنوند.
Tafsir Ibn Kathir
Certainly you and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) fuel (Hasab) for Hell! (Surely) you will enter it (98)Had these been gods, they would not have entered there (Hell), and all of them will abide therein forever (99)Therein they will be breathing out with deep sighs and roaring and therein they will hear not (100)Verily, those for whom the good has preceded from Us, they will be removed far therefrom (Hell)(101)They shall not hear the slightest sound of it (Hell), while they abide in that which their own selves desire (102)The greatest terror will not grieve them, and the angels will meet them, (with the greeting:) "This is your Day which you were promised. (103)
The Idolators and their gods are Fuel for Hell
Allah says to the people of Makkah, the idolators of the Quraysh and those who followed their religion of idol worship:
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ
(Certainly you and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell!). Ibn 'Abbas said: "Kindling." This is like the Ayah:
وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ
(whose fuel is men and stones)(66:6). According to another report, Ibn 'Abbas said:
حَصَبُ جَهَنَّمَ
(Hasab for Hell) means firewood in (the dialect of the people of) Zanjiyyah. Mujahid, 'Ikrimah and Qatadah said: "Its fuel." Ad-Dahhak said: "The fuel of Hell means that which is thrown into it." This was also the view of others.
أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ
((Surely) you will enter it.) means, you will go into it.
لَوْ كَانَ هَٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا
(Had these been gods, they would not have entered there,) means, if these idols and false gods which you worshipped instead of Allah, had really been gods, they would not have entered the Hellfire.
وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ
(and all of them will abide therein forever.) means, the worshippers and the objects of their worship will all abide therein forever.
لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ
(Therein they will be breathing out with deep sighs and roaring) This is like the Ayah:
لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ
(they will have (in the Fire), Zafir and Shahiq)(11:106). Zafir refers to their exhalation, and Shahiq refers to their inhalation.
وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ
(and therein they will hear not.)
The State of the Blessed
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ
(Verily, those for whom the good has preceded from Us,) 'Ikrimah said, "Mercy." Others said it means being blessed.
أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ
(they will be removed far therefrom.) When Allah mentions the people of Hell and their punishment for their associating others in worship with Allah, He follows that with a description of the blessed who believed in Allah and His Messengers. These are the ones for whom the blessing has preceded from Allah, and they did righteous deeds in the world, as Allah says:
لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ
(For those who have done good is the best reward and even more)(10:26)
هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ
(Is there any reward for good other than good?)(55:60) Just as they did good in this world, Allah will make their final destiny and their reward good; He will save them from punishment and give them a great reward.
أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ - لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا
(they will be removed far therefrom. They shall not hear the slightest sound of it,) means, they will not feel its heat in their bodies.
وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنفُسُهُمْ خَالِدُونَ
(while they abide in that which their own selves desire.) means, they will be safe from that which they fear, and they will have all that they love and desire. It was said that this was revealed to point out an exception in the case of those who are worshipped instead of Allah, and to exclude 'Uzayr and the Messiah from their number. Hajjaj bin Muhammad Al-A'war reported from Ibn Jurayj, and 'Uthman bin 'Ata' reported from Ibn 'Abbas:
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ
(Certainly you (disbelievers) and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell! (Surely) you will enter it.) Then He made an exception and said:
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ
(Verily, those for whom the good has preceded from Us.)
It was said that this referred to the angels and 'Isa, and others who are worshipped instead of Allah. This was the view of 'Ikrimah, Al-Hasan and Ibn Jurayj. Muhammad bin Ishaq bin Yasar said in his book of Sirah:
According to what I have heard, the Messenger of Allah ﷺ sat down one day with Al-Walid bin Al-Mughirah in the Masjid, and An-Nadr bin Al-Harith came and sat down with them. There were also other men of Quraysh in the Masjid. The Messenger of Allah ﷺ spoke, then An-Nadr bin Al-Harith came up to him and the Messenger of Allah spoke ﷺ to him until he defeated him in argument. Then he recited to him and to them,
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ
(Certainly you and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell! (Surely) you will enter it.) Until His Statement,
وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ
(and therein they will hear not.) Then the Messenger of Allah ﷺ got up and went to sit with 'Abdullah bin Al-Zab'ari As-Sahmi. Al-Walid bin Al-Mughirah said to 'Abdullah bin Al-Zab'ari, "By Allah, An-Nadr bin Al-Harith could not match the son of 'Abd Al-Muttalib in argument. Muhammad claims that we and these gods that we worship are fuel for Hell." 'Abdullah bin Az-Zab'ari said: "By Allah, if I meet with him I will defeat him in argument. Ask Muhammad whether everyone that is worshipped instead of Allah will be in Hell with those who worshipped him, for we worship the angels, and the Jews worship 'Uzayr, and the Christians worship Al-Masih, 'Isa bin Maryam." Al-Walid and those who were sitting with him were amazed at what 'Abdullah bin Az-Zab'ari said, and they thought that he had come up with a good point. He said this to the Messenger of Allah ﷺ, who said:
كُلُّ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُعْبَدَ مِنْ دُونِ اللهِ، فَهُوَ مَعَ مَنْ عَبَدَهُ، إِنَّهُمْ إِنَّمَا يَعْبُدُونَ الشَّيْطَانَ وَمَنْ أَمَرَهُمْ بِعِبَادَتِهِ
(Everyone who likes to be worshipped instead of Allah will be with the ones who worshipped him, for indeed they are worshipping the Shaytan and whoever told them to worship him.) Then Allah revealed the words:
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ - لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا ۖ وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنفُسُهُمْ خَالِدُونَ
(Verily, those for whom the good has preceded from Us, they will be removed far therefrom (Hell). They shall not hear the slightest sound of it (Hell), while they abide in that which their own selves desire.)
It was revealed about the mention of 'Isa, 'Uzayr and rabbis and monks who were also worshipped, who had spent their lives in devotion towards Allah, but the misguided people who came after them took them as lords instead of Allah. Concerning the notion of worshipping the angels as daughters of Allah, the following words were revealed:
وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَٰنُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ
(And they say: "The Most Gracious has begotten children. " Glory to Him! They are but honored slaves). Until His saying,
وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
(And if any of them should say: "Verily, I am a god besides Him," such a one We should recompense with Hell. Thus We recompense the wrongdoers.)[21:26-29].
Concerning 'Isa bin Maryam, the fact that he is worshipped alongside Allah, and the amazement of Al-Walid and the others who were present at the argument [of 'Abdullah bin Az-Zab'ari], the following words were revealed:
وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ - وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ ۚ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ - إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ - وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ - وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا
(And when the son of Maryam is quoted as an example, behold, your people cry aloud (laugh out at the example). And say: "Are our gods better or is he?" They quoted not the above example except for argument. Nay! But they are a quarrelsome people. He was not more than a slave. We granted Our favor to him, and We made him an example for the Children of Israel. And if it were Our will, We would have made angels to replace you on the earth. And he shall be a known sign for the Hour. Therefore have no doubt concerning it.)[43:57-61] meaning, the miracles and signs that happened at his hands, such as raising the dead and healing the sick, are sufficient as signs of the approach of the Hour,
فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ ۚ هَٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ
(Therefore have no doubt concerning it. And follow Me (Allah)! This is the straight path)(43:61)."
What Ibn Az-Zab'ari said was a serious mistake, because the Ayah was addressed to the people of Makkah concerning their worship of idols which were inanimate and could not think. It was a rebuke for their worship of them, so Allah said:
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ
(Certainly you (disbelievers) and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell!) How could this be applied to Al-Masih, 'Uzayr and others who did righteous deeds and did not accept the worship of those who worshipped them?
لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ
(The greatest terror will not grieve them,) It was said that this means death, as was narrated by 'Abdur-Razzaq from Yahya bin Rabi'ah from 'Ata.' Or it was said that the greatest terror refers to the blast of the Trumpet, as Al-'Awfi said narrating from Ibn 'Abbas and Abu Sinan, Sa'id bin Sinan Ash-Shaybani. This was the view favored by Ibn Jarir in his Tafsir.
وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ هَٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ
(and the angels will meet them, (with the greeting:) "This is your Day which you were promised".) meaning, the angels will greet them on the Day of Resurrection when they emerge from their graves with the words:
هَٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ
("This is your Day which you were promised".) meaning, hope for the best.
Tafsir Ibn Kathir
جہنم کی ہولناکیاں بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے جیسے فرمان ہے آیت (وقودہا الناس والحجارۃ) اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر حبشی زبان میں حطب کو حصب کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے حصب کے حطب ہے۔ تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لئے۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے ؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پر دوزخی ہوگئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے جیسے فرمان ہے آیت (فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ01006ۙ) 11۔ ھود :106) ، وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے اور چیخوں کے سوا ان کے کان میں اور کوئی آواز نہ پڑے گی حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جب صرف مشرک جہنم میں رہ جائیں گے انہیں آگ کے صندوقوں میں قید کردیا جائے گا جن میں آگ کے سریے ہوں گے ان میں سے ہر ایک کو یہی گمان ہوگا کہ جہنم میں اس کے سوا اور کوئی نہیں پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی (ابن جریر) حسنیٰ سے مراد رحمت وسعادت ہیں۔ دوزخیوں کا اور ان کے عذابوں کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں اور ان کی جزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے یہ لوگ باایمان تھے ان کے نیک اعمال کی وجہ سے سعادت انکے استقبال کو تیار تھی جیسے فرمان ہے آیت (لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ ۭ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ 26) 10۔ یونس :26) نیکوں کے لئے نیک اجر ہے اور زیادتی اجر بھی۔ فرمان ہے آیت (هَلْ جَزَاۗءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ 60ۚ) 55۔ الرحمن :60) نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے۔ ان کے دنیا کے اعمال نیک تھے تو آخرت میں ثواب اور نیک بدلہ ملا، عذاب سے بچے اور رحمت رب سے سرفراز ہوئے۔ یہ جہنم سے دور کردئیے گئے کہ اس کی آہٹ تک نہیں سنتے نہ دوزخیوں کا جلنا وہ سنتے ہیں۔ پل صراط پر دوزخیوں کو زہریلے ناگ ڈستے ہیں اور یہ وہاں ہائے ہائے کرتے ہیں جنتی لوگوں کے کان بھی اس درد ناک آواز سے ناآشنا رہیں گے۔ اتنا ہی نہیں کہ خوف ڈر سے یہ الگ ہوگئے بلکہ ساتھ ہی راحت وآرام بھی حاصل کرلیا۔ من مانی چیزیں موجود۔ دوامی کی راحت بھی حاضر۔ حضرت علی ؓ نے ایک رات اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا میں اور عمر عثمان اور زبیر اور طلحہ اور عبدالرحمن انہی لوگوں میں سے ہیں یا حضرت سعد کا نام لیا ؓ۔ اتنے میں نماز کی تکبیر ہوئی تو آپ چادر گھیسٹتے آیت (وہم لایسمعون حسیسہا)۔ پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوگئے اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا حضرت عثمان ؓ اور ان کے ساتھی ایسے ہی ہیں ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہی لوگ اولیاء اللہ ہیں بجلی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پل صراط سے پار ہوجائیں گے اور کافر وہیں گھٹنوں کے بل گرپڑیں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ بزرگان دین ہیں جو اللہ والے تھے شرکت سے بیزار تھے لیکن ان کے بعد لوگوں نے ان کی مرضی کے خلاف ان کی پوجا پاٹ شروع کردی تھی، حضرت عزیر، حضرت مسیح، فرشتے، سورج، چاند، حضرت مریم، وغیرہ۔ عبداللہ بن زبعری آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا تیرا خیال ہے کہ اللہ نے آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21۔ الأنبیاء :98) اتاری ہے ؟ اگر یہ سچ ہے تو کیا سورج چاند، فرشتے عزیر، عیسیٰ ، سب کہ سب ہمارے بتوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے ؟ اس کے جواب میں آیت (وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ 57) 43۔ الزخرف :57) اور آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ01001ۙ) 21۔ الأنبیاء :101) نازل ہوئی۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے حضور ﷺ ایک دن ولید بن مغیرہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نضر بن حارث آیا اس وقت مسجد میں اور قریشی بھی بہت سارے تھے نضر بن حارث رسول اللہ ﷺ سے باتیں کر رہا تھا لیکن وہ لاجوب ہوگیا آپ نے آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21۔ الأنبیاء :98) تلاوت فرمائی۔ جب آپ اس مجلس سے چلے گئے تو عبد اللہ بن زبعری آیا لوگوں نے اس سے کہا آج نضر بن حارث نے باتیں کیں لیکن بری طرح چت ہوئے اور حضرت یہ فرماتے ہوئے چلے گے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو انہیں جواب دیتا کہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر کو نصرانی مسیح کو تو کیا یہ سب بھی جہنم میں جلیں گے ؟ سب کو یہ جواب بہت پسند آیا جب حضور ﷺ سے اس کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا جس نے اپنی عبادت کرائی وہ عابدوں کے ساتھ جہنم میں ہے یہ بزرگ اپنی عبادتیں نہیں کراتے تھے بلکہ یہ لوگ تو انہیں نہیں شیطان کو پوج رہے ہیں اسی نے انہیں ان کی عبادت کی راہ بتائی ہے۔ آپ کے جواب کے ساتھ ہی قرآنی جواب اس کے بعد ہی آیت (ان الذین سبقت) میں اترا تو جن نیک لوگوں کی جاہلوں نے پرستش کی تھی وہ اس سے مستثنیٰ ہوگئے۔ چناچہ قرآن میں ہے آیت (ومن یقل منہم انی الہ من دونہ فذالک نجزیہ جہنم۔ الخ) یعنی ان میں سے جو اپنی معبودیت اوروں سے منوانی چاہے اس کا بدلہ جہنم ہے ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں اور آیت (وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ 57) 43۔ الزخرف :57) اتری کہ اس بات کہ سنتے ہی وہ لوگ متعجب ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے معبود اچھے یا وہ یہ تو صرف دھینگا مشتی ہے اور یہ لوگ جھگڑالو ہی ہیں وہ ہمارا انعام یافتہ بندہ تھا اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لئے نمونہ بنایا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین فرشتوں کو کردیتے حضرت عیسیٰ نشان قیامت ہیں ان کے ہاتھ سے جو معجزات صادر ہوئے وہ شبہ والی چیزیں نہیں وہ قیامت کی دلیل ہیں تجھے اس میں کچھ شک نہ کرنا چاہے۔ میری مانتا چلاجا یہی صراط مستقیم ہے ابن زبعری کی جرات دیکھئے خطاب اہل مکہ سے ہے اور ان کی ان تصویروں اور پتھروں کے لئے کہا گیا ہے جنہیں وہ سوائے اللہ کے پوجا کرتے تھے نہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ وغیرہ پاک نفس کے لئے جو غیر اللہ کی عبادت سے روکتے تھے۔ امام ابن جریر ؒ فرماتے ہیں لفظ ما جو یہاں ہے وہ عرب میں ان کے لئے آتا ہے جو بےجان اور بےعقل ہوں۔ یہ ابن زبعری اس کے بعد مسلمان ہوگئے تھے ؓ یہ بڑے مشہور شاعر تھے۔ پہلے انہوں نے مسلمانوں کی دل کھول کر دھول اڑائی تھی لیکن مسلمان ہونے کے بعد معذرت کی۔ موت کی گھبراہٹ، اس گھڑی کی گھبراہٹ جبکہ جہنم پر ڈھکن ڈھک دیا جائے گا جب کہ موت کو دوزخ جنت کے درمیان ذبح کردیا جائے گا۔ غرض کسی اندیشے کا نزول ان پر نہ ہوگا وہ ہر غم وہراس سے دور ہوں گے، پورے مسرور ہوں گے، خوش ہوں گے اور ناخوشی سے کوسوں الگ ہوں گے۔ فرشتوں کے پرے کے پرے ان سے ملاقاتیں کررہے ہوں گے اور انہیں ڈھارس دیتے ہوئے کہتے ہوں گے کہ اسی دن کا وعدہ تم سے کیا گیا تھا، اس وقت تم قبروں سے اٹھنے کے دن کے منتظر رہو۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخَاطِبًا لِأَهْلِ مَكَّةَ مِنْ مُشْرِكِي قُرَيْشٍ، وَمَنْ دَانَ بِدِينِهِمْ مِنْ عَبَدَةِ الْأَصْنَامِ وَالْأَوْثَانِ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَيْ وَقُودُهَا، يَعْنِي كَقَوْلِهِ: ﴿وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ﴾ [التَّحْرِيمِ:٦] .
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَيْضًا: ﴿حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ بِمَعْنَى: شَجَرِ جَهَنَّمَ. وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: ﴿حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ يَعْنِي: حَطَبَ جَهَنَّمَ، بِالزِّنْجِيَّةِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ، وَعِكْرِمَةُ، وَقَتَادَةُ: حَطَبُهَا. وَهِيَ كَذَلِكَ فِي قِرَاءَةِ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: ﴿حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ أَيْ: مَا يُرْمَى بِهِ فِيهَا.
وَكَذَا قَالَ غَيْرُهُ. وَالْجَمِيعُ قَرِيبٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ أَيْ: دَاخِلُونَ.
﴿لَوْ كَانَ هَؤُلاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا﴾ يَعْنِي: لَوْ كَانَتْ هَذِهِ الْأَصْنَامُ وَالْأَنْدَادُ الَّتِي اتَّخَذْتُمُوهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ آلِهَةً صَحِيحَةً لَمَا وَرَدُوا النَّارَ، وَلَمَا دَخَلُوهَا، ﴿وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ أَيِ: الْعَابِدُونَ وَمَعْبُودَاتُهُمْ، كُلُّهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ، ﴿لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ﴾ ، كَمَا قَالَ: ﴿لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ﴾ [هُودٍ: ١٠٦] ، وَالزَّفِيرُ: خُرُوجُ أَنْفَاسِهِمْ، وَالشَّهِيقُ: وُلُوجُ أَنْفَاسِهِمْ، ﴿وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ﴾ .
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسيّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْل، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي: الْمَسْعُودِيَّ-عَنِ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِذَا بَقِيَ مَنْ يَخْلُدُ فِي النَّارِ، جُعلوا فِي تَوَابِيتَ مِنْ نَارٍ، فِيهَا مَسَامِيرُ مِنْ نَارٍ، فَلَا يَرَى أَحَدٌ مِنْهُمْ أَنَّهُ يُعَذَّبُ فِي النَّارِ غَيْرُهُ، ثُمَّ تَلَا عَبْدُ اللَّهِ: ﴿لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ﴾ .
وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، مِنْ حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبّاب [[في ت: "ابن حبان".]] ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَذَكَرَهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ : قَالَ عِكْرِمَةُ: الرَّحْمَةُ. وَقَالَ غَيْرُهُ: السَّعَادَةُ، ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى أَهْلَ النَّارِ وَعَذَابَهُمْ بِسَبَبِ شِرْكِهِمْ بِاللَّهِ، عَطَفَ بِذِكْرِ السُّعَدَاءِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بِاللَّهِ ورسُله [[في ت: "ورسوله".]] ، وَهُمُ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ السَّعَادَةُ، وَأَسْلَفُوا الْأَعْمَالَ الصَّالِحَةَ فِي الدُّنْيَا، كَمَا قَالَ: ﴿لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ﴾ [يُونُسَ: ٢٦] : وَقَالَ ﴿هَلْ جَزَاءُ الإحْسَانِ إِلا الإحْسَانُ﴾ [الرَّحْمَنِ:٦٠] ، فَكَمَا أَحْسَنُوا الْعَمَلَ فِي الدُّنْيَا، أَحْسَنَ اللَّهُ مَآلَهُمْ وَثَوَابَهُمْ، فَنَجَّاهُمْ مِنَ الْعَذَابِ، وحَصَل [[في ت: "وجعل".]] لَهُمْ جَزِيلُ الثَّوَابِ، فَقَالَ: ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ. لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا﴾ أَيْ: حَرِيقَهَا فِي الْأَجْسَادِ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ [[في ت، ف، أ: "عن أبي عثمان الجريري".]] ، عَنِ أَبِي عُثْمَانَ: ﴿لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا﴾ ، قَالَ: حَيَّاتٌ عَلَى الصِّرَاطِ [[في ت: "على الصراط المستقيم".]] تَلْسَعُهُمْ، فَإِذَا لَسَعَتْهُمْ قَالَ: حَسَ حَسَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَالِدُونَ﴾ فَسَلَّمَهُمْ مِنَ الْمَحْذُورِ وَالْمَرْهُوبِ، وَحَصَلَ لَهُمُ الْمَطْلُوبُ وَالْمَحْبُوبُ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيج، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ عَمِّ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ -وسَمَرَ مَعَ عَلِيٍّ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَرَأَ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ قَالَ: أَنَا مِنْهُمْ، وَعُمَرُ مِنْهُمْ، وَعُثْمَانُ مِنْهُمْ، وَالزُّبَيْرُ مِنْهُمْ، وَطَلْحَةُ مِنْهُمْ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ مِنْهُمْ -أَوْ قَالَ: سَعْدٌ مِنْهُمْ-قَالَ: وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ، وَأَظُنُّهُ يَجُرُّ ثَوْبَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: ﴿لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا﴾ .
وَقَالَ شُعْبَةُ، عَنِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ الْمَكِّيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ [[في ت: "خاطب".]] قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ قَالَ: عُثْمَانُ وَأَصْحَابُهُ.
وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ أَيْضًا، وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ مِنْ حَدِيثِ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ -وَلَيْسَ بِابْنِ مَاهَكَ-عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ وَلَفْظُهُ: عُثْمَانُ مِنْهُمْ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ : فَأُولَئِكَ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ يَمُرُّونَ عَلَى الصِّرَاطِ مَرًّا هُوَ أَسْرَعُ مِنَ الْبَرْقِ، وَيَبْقَى الْكُفَّارُ فِيهَا جِثيًا.
فَهَذَا مُطَابِقٌ لِمَا ذَكَرْنَاهُ، وَقَالَ آخَرُونَ: بَلْ نَزَلَتِ اسْتِثْنَاءً مِنَ الْمَعْبُودِينَ، وَخَرَجَ مِنْهُمْ عُزَيْرٌ وَالْمَسِيحُ، كَمَا قَالَ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَعُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ ، ثُمَّ اسْتَثْنَى فَقَالَ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ فَيُقَالُ [[في ف: "فقال".]] : هُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَعِيسَى، وَنَحْوُ ذَلِكَ مِمَّا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَكَذَا قَالَ عِكْرِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ [[في ت: "وابن ماجه وابن جريج".]] .
وَقَالَ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ قَالَ: نَزَلَتْ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وعُزَير، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى بْنِ مَيْسَرَة، حَدَّثَنَا أَبُو زُهَير، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَرِيف، عَنِ الْأَصْبَغِ، عَنْ عَليّ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِي النَّارِ إِلَّا الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ. إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ ، قَالَ: عِيسَى، وعُزَيْر، وَالْمَلَائِكَةُ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: عِيسَى، وَمَرْيَمُ، وَالْمَلَائِكَةُ، وَالشَّمْسُ، وَالْقَمَرُ. وَكَذَا رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر، وَأَبِي صَالِحٍ وَغَيْرِ وَاحِدٍ.
وَقَدْ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ فِي ذَلِكَ حَدِيثًا غَرِيبًا جِدًّا، فَقَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَّاني، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُغيث، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ قَالَ: عِيسَى، وعُزَير، وَالْمَلَائِكَةُ [[وفي إسناده سعيد بن مسلمة وشيخه ليث بن أبي سليم وهما ضعيفان.]] .
وَذَكَرَ بَعْضُهُمْ قِصَّةَ ابْنِ الزِّبَعْرَى ومناظرةَ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ مَرْدُويه:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَنٍ الْأَنْمَاطِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ -يَعْنِي: ابْنَ أَبَانٍ-عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزِّبَعْرَى إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَنَزَلَ عَلَيْكَ هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ ، فَقَالَ ابْنُ الزِّبَعْرَى: قَدْ عُبدت الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالْمَلَائِكَةُ، وعُزَير وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، كُلُّ هَؤُلَاءِ فِي النَّارِ مَعَ آلِهَتِنَا؟ فَنَزَلَتْ: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ. وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلا جَدَلا [[في ت: "مثلا".]] بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ ، ثُمَّ نَزَلَتْ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ . رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ فِي كِتَابِهِ "الْأَحَادِيثِ الْمُخْتَارَةِ".
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا قَبِيصة بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ -يَعْنِي: الثَّوْرِيَّ-عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ أَصْحَابِهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ قال المشركون: فالملائكة [[في ت: "والملائكة".]] ،عُزَير، وَعِيسَى يُعْبَدون مِنْ دُونِ اللَّهِ؟ فَنَزَلَتْ: ﴿لَوْ كَانَ هَؤُلاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا﴾ ، الْآلِهَةُ الَّتِي يُعْبَدُونَ، ﴿وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ .
وَرُوِيَ عَنِ أَبِي كُدَيْنَة، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَير، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلُ ذَلِكَ، وَقَالَ فَنَزَلَتْ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ .
وَقَالَ [الْإِمَامُ] [[زيادة من ف، أ.]] مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ [[في ت: "ابن بشار".]] ، رَحِمَهُ اللَّهُ، فِي كِتَابِ "السِّيرَةِ": وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ -فِيمَا بَلَغَنِي-يَوْمًا مَعَ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فِي الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ حَتَّى جَلَسَ مَعَهُمْ، وَفِي الْمَسْجِدِ [[في ف: "المجلس".]] غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ رِجَالِ قُرَيْشٍ، فَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَعَرَضَ لَهُ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ، فَكَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حَتَّى أَفْحَمَهُ، وَتَلَا عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ﴾ [[في ت، ف: "أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ. لَوْ كَانَ هَؤُلَاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ. لَهُمْ فِيهَا زفير وهم فيها لا يسمعون".]] ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَأَقْبَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزبَعْرَى السَّهْمِيُّ حَتَّى جَلَسَ، فَقَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبَعْرَى: وَاللَّهِ مَا قَامَ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ لِابْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ آنِفًا وَلَا قَعَدَ، وَقَدْ زَعَمَ مُحَمَّدٌ أنَّا وَمَا نَعْبُدُ [[في ت: "تعبدون".]] مِنْ آلِهَتِنَا هَذِهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزِّبَعْرَى: أَمَا وَاللَّهِ لَوْ وَجَدْتُهُ لَخَصمته، فَسَلُوا مُحَمَّدًا: كُلُّ مَا يُعْبَد [[في ت: "يعبدون".]] مِنْ دُونِ اللَّهِ فِي جَهَنَّمَ مَعَ مَنْ عَبَده، فَنَحْنُ نَعْبُدُ الْمَلَائِكَةَ، وَالْيَهُودُ تَعْبُدُ عُزَيْرًا، وَالنَّصَارَى تَعْبُدُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ؟ فَعَجِبَ الْوَلِيدُ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ فِي الْمَجْلِسِ، مِنْ قَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبَعْرَى، وَرَأَوْا أَنَّهُ قَدْ احْتَجَّ وَخَاصَمَ.
فَذُكر ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: "كُلُّ مَنْ أحَبَّ أَنْ يُعْبَدَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَهُوَ مَعَ مَنْ عَبَدَهُ، إِنَّهُمْ إِنَّمَا يَعْبُدُونَ الشَّيَاطِينَ [[في ت، ف: "الشيطان".]] وَمَنْ أمَرَتْهُم [[في ف: "أمرهم".]] بِعِبَادَتِهِ. وَأَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ. لا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَالِدُونَ﴾ أَيْ: عِيسَى وَعُزَيْرٌ وَمَنْ عُبدوا مِنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ، الَّذِينَ مَضَوْا عَلَى طَاعَةِ اللَّهِ، فَاتَّخَذَهُمْ مَنْ يَعْبُدُهُمْ مِنْ أَهْلِ الضَّلَالَةِ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ. وَنَزَلَ فِيمَا يَذْكُرُونَ، أَنَّهُمْ يَعْبُدُونَ الْمَلَائِكَةَ، وَأَنَّهُمْ بَنَاتُ اللَّهِ: ﴿وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ. لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٢٦ -٢٩] ، وَنَزَلَ فِيمَا ذُكر مَنْ أَمْرِ عِيسَى، وَأَنَّهُ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ، وعَجَب الْوَلِيدِ وَمَنْ حَضَره مِنْ حُجَّته وَخُصُومَتِهِ: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ. وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلا جَدَلا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ. إِنْ هُوَ إِلا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ. وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَلائِكَةً فِي الأرْضِ يَخْلُفُونَ. وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلا تَمْتَرُنَّ بِهَا﴾ [الزخرف:٥٧ -٦١] أَيْ: مَا وَضَعْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْآيَاتِ مِنْ إِحْيَاءِ الْمَوْتَى وَإِبْرَاءِ الْأَسْقَامِ، فكَفى بِهِ دَلِيلًا عَلَى عِلْمِ السَّاعَةِ، يَقُولُ: ﴿فَلا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ﴾ [الزُّخْرُفِ:٦١] [[السيرة النبوية لابن هشام (١/٣٥٨) ، ورواه الطبري في تفسيره (١٧/٧٦) .]] .
وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ ابْنُ الزِّبَعْرَى خَطَأٌ كَبِيرٌ؛ لِأَنَّ الْآيَةَ إِنَّمَا نَزَلَتْ خِطَابًا لِأَهْلِ مَكَّةَ فِي عِبَادَتِهِمُ الْأَصْنَامَ الَّتِي هِيَ جَمَادٌ لَا تَعْقِلُ، لِيَكُونَ ذَلِكَ تَقْرِيعًا وَتَوْبِيخًا لِعَابِدِيهَا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ فَكَيْفَ يُورِدُ عَلَى هَذَا الْمَسِيحَ وَالْعُزَيْرَ [[في ف: "وعزير".]] وَنَحْوَهُمَا، مِمَّنْ [[في ت: "وممن".]] لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ، وَلَمْ يَرْضَ بِعِبَادَةِ مَنْ عَبَدَهُ. وعَوّل ابْنُ جَرِيرٍ فِي تَفْسِيرِهِ فِي الْجَوَابِ عَلَى أَنَّ "مَا" لِمَا لَا يَعْقِلُ عِنْدَ الْعَرَبِ.
وَقَدْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزِّبَعْرَى بَعْدَ ذَلِكَ، وَكَانَ مِنَ الشُّعَرَاءِ الْمَشْهُورِينَ. وَكَانَ يُهَاجِي الْمُسْلِمِينَ أَوَّلًا ثُمَّ قَالَ مُعْتَذِرًا:
يَا رَسُولَ الْمَلِيكِ، إِنَّ لِسَانِي ... رَاتقٌ مَا فتَقْتُ إذْ أنَا بُورُ ...
إذْ أجَاري الشَّيطَانَ فِي سَنَن الغَي ... وَمَنْ مَالَ مَيْلَه مَثْبُور [[البيتين في السيرة النبوية لابن هشام (٢/٤١٩) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الأكْبَرُ﴾ قِيلَ الْمُرَادُ بِذَلِكَ الْمَوْتُ. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَطَاءٍ.
وَقِيلَ: الْمُرَادُ بِالْفَزَعِ الْأَكْبَرِ: النَّفْخَةُ فِي الصُّورِ. قَالَهُ العَوْفي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبُو سِنَان سَعِيدُ [[في ت، ف، أ: "سعد".]] ابن سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ، وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ فِي تَفْسِيرِهِ.
وَقِيلَ: حِينَ يُؤْمَر بِالْعَبْدِ إِلَى النَّارِ. قَالَهُ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ.
وَقِيلَ: حِينَ تُطبق النَّارُ عَلَى أَهْلِهَا. قَالَهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْر، وَابْنُ جُرَيج.
وَقِيلَ: حِينَ يُذبَح الْمَوْتُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ. قَالَهُ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ [[في ف، أ: "الهمداني".]] ، فِيمَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، عَنْهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ هَذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ﴾ ، يَعْنِي: تَقُولُ لَهُمُ الْمَلَائِكَةُ، تُبَشِّرُهُمْ يَوْمَ مَعَادِهِمْ إِذَا خَرَجُوا مِنْ قُبُورِهِمْ: ﴿هَذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ﴾ أَيْ: قابلوا [[في ت: "فأملوا".]] ما يسركم.
إِنَّ ٱلَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا ٱلْحُسْنَىٰٓ أُو۟لَٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ
Indeed, those for whom the best [reward] has preceded from Us - they are from it far removed.
جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے۔ وہ اس سے دور رکھے جائیں گے
(امّا) کسانی که از قبل، وعده نیک از سوی ما به آنها داده شده [= مؤمنان صالح] از آن دور نگاهداشته میشوند.
Tafsir Ibn Kathir
Certainly you and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) fuel (Hasab) for Hell! (Surely) you will enter it (98)Had these been gods, they would not have entered there (Hell), and all of them will abide therein forever (99)Therein they will be breathing out with deep sighs and roaring and therein they will hear not (100)Verily, those for whom the good has preceded from Us, they will be removed far therefrom (Hell)(101)They shall not hear the slightest sound of it (Hell), while they abide in that which their own selves desire (102)The greatest terror will not grieve them, and the angels will meet them, (with the greeting:) "This is your Day which you were promised. (103)
The Idolators and their gods are Fuel for Hell
Allah says to the people of Makkah, the idolators of the Quraysh and those who followed their religion of idol worship:
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ
(Certainly you and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell!). Ibn 'Abbas said: "Kindling." This is like the Ayah:
وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ
(whose fuel is men and stones)(66:6). According to another report, Ibn 'Abbas said:
حَصَبُ جَهَنَّمَ
(Hasab for Hell) means firewood in (the dialect of the people of) Zanjiyyah. Mujahid, 'Ikrimah and Qatadah said: "Its fuel." Ad-Dahhak said: "The fuel of Hell means that which is thrown into it." This was also the view of others.
أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ
((Surely) you will enter it.) means, you will go into it.
لَوْ كَانَ هَٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا
(Had these been gods, they would not have entered there,) means, if these idols and false gods which you worshipped instead of Allah, had really been gods, they would not have entered the Hellfire.
وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ
(and all of them will abide therein forever.) means, the worshippers and the objects of their worship will all abide therein forever.
لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ
(Therein they will be breathing out with deep sighs and roaring) This is like the Ayah:
لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ
(they will have (in the Fire), Zafir and Shahiq)(11:106). Zafir refers to their exhalation, and Shahiq refers to their inhalation.
وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ
(and therein they will hear not.)
The State of the Blessed
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ
(Verily, those for whom the good has preceded from Us,) 'Ikrimah said, "Mercy." Others said it means being blessed.
أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ
(they will be removed far therefrom.) When Allah mentions the people of Hell and their punishment for their associating others in worship with Allah, He follows that with a description of the blessed who believed in Allah and His Messengers. These are the ones for whom the blessing has preceded from Allah, and they did righteous deeds in the world, as Allah says:
لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ
(For those who have done good is the best reward and even more)(10:26)
هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ
(Is there any reward for good other than good?)(55:60) Just as they did good in this world, Allah will make their final destiny and their reward good; He will save them from punishment and give them a great reward.
أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ - لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا
(they will be removed far therefrom. They shall not hear the slightest sound of it,) means, they will not feel its heat in their bodies.
وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنفُسُهُمْ خَالِدُونَ
(while they abide in that which their own selves desire.) means, they will be safe from that which they fear, and they will have all that they love and desire. It was said that this was revealed to point out an exception in the case of those who are worshipped instead of Allah, and to exclude 'Uzayr and the Messiah from their number. Hajjaj bin Muhammad Al-A'war reported from Ibn Jurayj, and 'Uthman bin 'Ata' reported from Ibn 'Abbas:
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ
(Certainly you (disbelievers) and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell! (Surely) you will enter it.) Then He made an exception and said:
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ
(Verily, those for whom the good has preceded from Us.)
It was said that this referred to the angels and 'Isa, and others who are worshipped instead of Allah. This was the view of 'Ikrimah, Al-Hasan and Ibn Jurayj. Muhammad bin Ishaq bin Yasar said in his book of Sirah:
According to what I have heard, the Messenger of Allah ﷺ sat down one day with Al-Walid bin Al-Mughirah in the Masjid, and An-Nadr bin Al-Harith came and sat down with them. There were also other men of Quraysh in the Masjid. The Messenger of Allah ﷺ spoke, then An-Nadr bin Al-Harith came up to him and the Messenger of Allah spoke ﷺ to him until he defeated him in argument. Then he recited to him and to them,
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ
(Certainly you and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell! (Surely) you will enter it.) Until His Statement,
وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ
(and therein they will hear not.) Then the Messenger of Allah ﷺ got up and went to sit with 'Abdullah bin Al-Zab'ari As-Sahmi. Al-Walid bin Al-Mughirah said to 'Abdullah bin Al-Zab'ari, "By Allah, An-Nadr bin Al-Harith could not match the son of 'Abd Al-Muttalib in argument. Muhammad claims that we and these gods that we worship are fuel for Hell." 'Abdullah bin Az-Zab'ari said: "By Allah, if I meet with him I will defeat him in argument. Ask Muhammad whether everyone that is worshipped instead of Allah will be in Hell with those who worshipped him, for we worship the angels, and the Jews worship 'Uzayr, and the Christians worship Al-Masih, 'Isa bin Maryam." Al-Walid and those who were sitting with him were amazed at what 'Abdullah bin Az-Zab'ari said, and they thought that he had come up with a good point. He said this to the Messenger of Allah ﷺ, who said:
كُلُّ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُعْبَدَ مِنْ دُونِ اللهِ، فَهُوَ مَعَ مَنْ عَبَدَهُ، إِنَّهُمْ إِنَّمَا يَعْبُدُونَ الشَّيْطَانَ وَمَنْ أَمَرَهُمْ بِعِبَادَتِهِ
(Everyone who likes to be worshipped instead of Allah will be with the ones who worshipped him, for indeed they are worshipping the Shaytan and whoever told them to worship him.) Then Allah revealed the words:
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ - لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا ۖ وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنفُسُهُمْ خَالِدُونَ
(Verily, those for whom the good has preceded from Us, they will be removed far therefrom (Hell). They shall not hear the slightest sound of it (Hell), while they abide in that which their own selves desire.)
It was revealed about the mention of 'Isa, 'Uzayr and rabbis and monks who were also worshipped, who had spent their lives in devotion towards Allah, but the misguided people who came after them took them as lords instead of Allah. Concerning the notion of worshipping the angels as daughters of Allah, the following words were revealed:
وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَٰنُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ
(And they say: "The Most Gracious has begotten children. " Glory to Him! They are but honored slaves). Until His saying,
وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
(And if any of them should say: "Verily, I am a god besides Him," such a one We should recompense with Hell. Thus We recompense the wrongdoers.)[21:26-29].
Concerning 'Isa bin Maryam, the fact that he is worshipped alongside Allah, and the amazement of Al-Walid and the others who were present at the argument [of 'Abdullah bin Az-Zab'ari], the following words were revealed:
وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ - وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ ۚ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ - إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ - وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ - وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا
(And when the son of Maryam is quoted as an example, behold, your people cry aloud (laugh out at the example). And say: "Are our gods better or is he?" They quoted not the above example except for argument. Nay! But they are a quarrelsome people. He was not more than a slave. We granted Our favor to him, and We made him an example for the Children of Israel. And if it were Our will, We would have made angels to replace you on the earth. And he shall be a known sign for the Hour. Therefore have no doubt concerning it.)[43:57-61] meaning, the miracles and signs that happened at his hands, such as raising the dead and healing the sick, are sufficient as signs of the approach of the Hour,
فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ ۚ هَٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ
(Therefore have no doubt concerning it. And follow Me (Allah)! This is the straight path)(43:61)."
What Ibn Az-Zab'ari said was a serious mistake, because the Ayah was addressed to the people of Makkah concerning their worship of idols which were inanimate and could not think. It was a rebuke for their worship of them, so Allah said:
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ
(Certainly you (disbelievers) and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell!) How could this be applied to Al-Masih, 'Uzayr and others who did righteous deeds and did not accept the worship of those who worshipped them?
لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ
(The greatest terror will not grieve them,) It was said that this means death, as was narrated by 'Abdur-Razzaq from Yahya bin Rabi'ah from 'Ata.' Or it was said that the greatest terror refers to the blast of the Trumpet, as Al-'Awfi said narrating from Ibn 'Abbas and Abu Sinan, Sa'id bin Sinan Ash-Shaybani. This was the view favored by Ibn Jarir in his Tafsir.
وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ هَٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ
(and the angels will meet them, (with the greeting:) "This is your Day which you were promised".) meaning, the angels will greet them on the Day of Resurrection when they emerge from their graves with the words:
هَٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ
("This is your Day which you were promised".) meaning, hope for the best.
Tafsir Ibn Kathir
جہنم کی ہولناکیاں بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے جیسے فرمان ہے آیت (وقودہا الناس والحجارۃ) اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر حبشی زبان میں حطب کو حصب کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے حصب کے حطب ہے۔ تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لئے۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے ؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پر دوزخی ہوگئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے جیسے فرمان ہے آیت (فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ01006ۙ) 11۔ ھود :106) ، وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے اور چیخوں کے سوا ان کے کان میں اور کوئی آواز نہ پڑے گی حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جب صرف مشرک جہنم میں رہ جائیں گے انہیں آگ کے صندوقوں میں قید کردیا جائے گا جن میں آگ کے سریے ہوں گے ان میں سے ہر ایک کو یہی گمان ہوگا کہ جہنم میں اس کے سوا اور کوئی نہیں پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی (ابن جریر) حسنیٰ سے مراد رحمت وسعادت ہیں۔ دوزخیوں کا اور ان کے عذابوں کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں اور ان کی جزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے یہ لوگ باایمان تھے ان کے نیک اعمال کی وجہ سے سعادت انکے استقبال کو تیار تھی جیسے فرمان ہے آیت (لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ ۭ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ 26) 10۔ یونس :26) نیکوں کے لئے نیک اجر ہے اور زیادتی اجر بھی۔ فرمان ہے آیت (هَلْ جَزَاۗءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ 60ۚ) 55۔ الرحمن :60) نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے۔ ان کے دنیا کے اعمال نیک تھے تو آخرت میں ثواب اور نیک بدلہ ملا، عذاب سے بچے اور رحمت رب سے سرفراز ہوئے۔ یہ جہنم سے دور کردئیے گئے کہ اس کی آہٹ تک نہیں سنتے نہ دوزخیوں کا جلنا وہ سنتے ہیں۔ پل صراط پر دوزخیوں کو زہریلے ناگ ڈستے ہیں اور یہ وہاں ہائے ہائے کرتے ہیں جنتی لوگوں کے کان بھی اس درد ناک آواز سے ناآشنا رہیں گے۔ اتنا ہی نہیں کہ خوف ڈر سے یہ الگ ہوگئے بلکہ ساتھ ہی راحت وآرام بھی حاصل کرلیا۔ من مانی چیزیں موجود۔ دوامی کی راحت بھی حاضر۔ حضرت علی ؓ نے ایک رات اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا میں اور عمر عثمان اور زبیر اور طلحہ اور عبدالرحمن انہی لوگوں میں سے ہیں یا حضرت سعد کا نام لیا ؓ۔ اتنے میں نماز کی تکبیر ہوئی تو آپ چادر گھیسٹتے آیت (وہم لایسمعون حسیسہا)۔ پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوگئے اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا حضرت عثمان ؓ اور ان کے ساتھی ایسے ہی ہیں ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہی لوگ اولیاء اللہ ہیں بجلی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پل صراط سے پار ہوجائیں گے اور کافر وہیں گھٹنوں کے بل گرپڑیں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ بزرگان دین ہیں جو اللہ والے تھے شرکت سے بیزار تھے لیکن ان کے بعد لوگوں نے ان کی مرضی کے خلاف ان کی پوجا پاٹ شروع کردی تھی، حضرت عزیر، حضرت مسیح، فرشتے، سورج، چاند، حضرت مریم، وغیرہ۔ عبداللہ بن زبعری آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا تیرا خیال ہے کہ اللہ نے آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21۔ الأنبیاء :98) اتاری ہے ؟ اگر یہ سچ ہے تو کیا سورج چاند، فرشتے عزیر، عیسیٰ ، سب کہ سب ہمارے بتوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے ؟ اس کے جواب میں آیت (وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ 57) 43۔ الزخرف :57) اور آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ01001ۙ) 21۔ الأنبیاء :101) نازل ہوئی۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے حضور ﷺ ایک دن ولید بن مغیرہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نضر بن حارث آیا اس وقت مسجد میں اور قریشی بھی بہت سارے تھے نضر بن حارث رسول اللہ ﷺ سے باتیں کر رہا تھا لیکن وہ لاجوب ہوگیا آپ نے آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21۔ الأنبیاء :98) تلاوت فرمائی۔ جب آپ اس مجلس سے چلے گئے تو عبد اللہ بن زبعری آیا لوگوں نے اس سے کہا آج نضر بن حارث نے باتیں کیں لیکن بری طرح چت ہوئے اور حضرت یہ فرماتے ہوئے چلے گے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو انہیں جواب دیتا کہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر کو نصرانی مسیح کو تو کیا یہ سب بھی جہنم میں جلیں گے ؟ سب کو یہ جواب بہت پسند آیا جب حضور ﷺ سے اس کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا جس نے اپنی عبادت کرائی وہ عابدوں کے ساتھ جہنم میں ہے یہ بزرگ اپنی عبادتیں نہیں کراتے تھے بلکہ یہ لوگ تو انہیں نہیں شیطان کو پوج رہے ہیں اسی نے انہیں ان کی عبادت کی راہ بتائی ہے۔ آپ کے جواب کے ساتھ ہی قرآنی جواب اس کے بعد ہی آیت (ان الذین سبقت) میں اترا تو جن نیک لوگوں کی جاہلوں نے پرستش کی تھی وہ اس سے مستثنیٰ ہوگئے۔ چناچہ قرآن میں ہے آیت (ومن یقل منہم انی الہ من دونہ فذالک نجزیہ جہنم۔ الخ) یعنی ان میں سے جو اپنی معبودیت اوروں سے منوانی چاہے اس کا بدلہ جہنم ہے ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں اور آیت (وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ 57) 43۔ الزخرف :57) اتری کہ اس بات کہ سنتے ہی وہ لوگ متعجب ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے معبود اچھے یا وہ یہ تو صرف دھینگا مشتی ہے اور یہ لوگ جھگڑالو ہی ہیں وہ ہمارا انعام یافتہ بندہ تھا اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لئے نمونہ بنایا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین فرشتوں کو کردیتے حضرت عیسیٰ نشان قیامت ہیں ان کے ہاتھ سے جو معجزات صادر ہوئے وہ شبہ والی چیزیں نہیں وہ قیامت کی دلیل ہیں تجھے اس میں کچھ شک نہ کرنا چاہے۔ میری مانتا چلاجا یہی صراط مستقیم ہے ابن زبعری کی جرات دیکھئے خطاب اہل مکہ سے ہے اور ان کی ان تصویروں اور پتھروں کے لئے کہا گیا ہے جنہیں وہ سوائے اللہ کے پوجا کرتے تھے نہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ وغیرہ پاک نفس کے لئے جو غیر اللہ کی عبادت سے روکتے تھے۔ امام ابن جریر ؒ فرماتے ہیں لفظ ما جو یہاں ہے وہ عرب میں ان کے لئے آتا ہے جو بےجان اور بےعقل ہوں۔ یہ ابن زبعری اس کے بعد مسلمان ہوگئے تھے ؓ یہ بڑے مشہور شاعر تھے۔ پہلے انہوں نے مسلمانوں کی دل کھول کر دھول اڑائی تھی لیکن مسلمان ہونے کے بعد معذرت کی۔ موت کی گھبراہٹ، اس گھڑی کی گھبراہٹ جبکہ جہنم پر ڈھکن ڈھک دیا جائے گا جب کہ موت کو دوزخ جنت کے درمیان ذبح کردیا جائے گا۔ غرض کسی اندیشے کا نزول ان پر نہ ہوگا وہ ہر غم وہراس سے دور ہوں گے، پورے مسرور ہوں گے، خوش ہوں گے اور ناخوشی سے کوسوں الگ ہوں گے۔ فرشتوں کے پرے کے پرے ان سے ملاقاتیں کررہے ہوں گے اور انہیں ڈھارس دیتے ہوئے کہتے ہوں گے کہ اسی دن کا وعدہ تم سے کیا گیا تھا، اس وقت تم قبروں سے اٹھنے کے دن کے منتظر رہو۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخَاطِبًا لِأَهْلِ مَكَّةَ مِنْ مُشْرِكِي قُرَيْشٍ، وَمَنْ دَانَ بِدِينِهِمْ مِنْ عَبَدَةِ الْأَصْنَامِ وَالْأَوْثَانِ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَيْ وَقُودُهَا، يَعْنِي كَقَوْلِهِ: ﴿وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ﴾ [التَّحْرِيمِ:٦] .
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَيْضًا: ﴿حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ بِمَعْنَى: شَجَرِ جَهَنَّمَ. وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: ﴿حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ يَعْنِي: حَطَبَ جَهَنَّمَ، بِالزِّنْجِيَّةِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ، وَعِكْرِمَةُ، وَقَتَادَةُ: حَطَبُهَا. وَهِيَ كَذَلِكَ فِي قِرَاءَةِ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: ﴿حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ أَيْ: مَا يُرْمَى بِهِ فِيهَا.
وَكَذَا قَالَ غَيْرُهُ. وَالْجَمِيعُ قَرِيبٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ أَيْ: دَاخِلُونَ.
﴿لَوْ كَانَ هَؤُلاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا﴾ يَعْنِي: لَوْ كَانَتْ هَذِهِ الْأَصْنَامُ وَالْأَنْدَادُ الَّتِي اتَّخَذْتُمُوهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ آلِهَةً صَحِيحَةً لَمَا وَرَدُوا النَّارَ، وَلَمَا دَخَلُوهَا، ﴿وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ أَيِ: الْعَابِدُونَ وَمَعْبُودَاتُهُمْ، كُلُّهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ، ﴿لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ﴾ ، كَمَا قَالَ: ﴿لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ﴾ [هُودٍ: ١٠٦] ، وَالزَّفِيرُ: خُرُوجُ أَنْفَاسِهِمْ، وَالشَّهِيقُ: وُلُوجُ أَنْفَاسِهِمْ، ﴿وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ﴾ .
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسيّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْل، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي: الْمَسْعُودِيَّ-عَنِ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِذَا بَقِيَ مَنْ يَخْلُدُ فِي النَّارِ، جُعلوا فِي تَوَابِيتَ مِنْ نَارٍ، فِيهَا مَسَامِيرُ مِنْ نَارٍ، فَلَا يَرَى أَحَدٌ مِنْهُمْ أَنَّهُ يُعَذَّبُ فِي النَّارِ غَيْرُهُ، ثُمَّ تَلَا عَبْدُ اللَّهِ: ﴿لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ﴾ .
وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، مِنْ حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبّاب [[في ت: "ابن حبان".]] ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَذَكَرَهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ : قَالَ عِكْرِمَةُ: الرَّحْمَةُ. وَقَالَ غَيْرُهُ: السَّعَادَةُ، ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى أَهْلَ النَّارِ وَعَذَابَهُمْ بِسَبَبِ شِرْكِهِمْ بِاللَّهِ، عَطَفَ بِذِكْرِ السُّعَدَاءِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بِاللَّهِ ورسُله [[في ت: "ورسوله".]] ، وَهُمُ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ السَّعَادَةُ، وَأَسْلَفُوا الْأَعْمَالَ الصَّالِحَةَ فِي الدُّنْيَا، كَمَا قَالَ: ﴿لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ﴾ [يُونُسَ: ٢٦] : وَقَالَ ﴿هَلْ جَزَاءُ الإحْسَانِ إِلا الإحْسَانُ﴾ [الرَّحْمَنِ:٦٠] ، فَكَمَا أَحْسَنُوا الْعَمَلَ فِي الدُّنْيَا، أَحْسَنَ اللَّهُ مَآلَهُمْ وَثَوَابَهُمْ، فَنَجَّاهُمْ مِنَ الْعَذَابِ، وحَصَل [[في ت: "وجعل".]] لَهُمْ جَزِيلُ الثَّوَابِ، فَقَالَ: ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ. لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا﴾ أَيْ: حَرِيقَهَا فِي الْأَجْسَادِ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ [[في ت، ف، أ: "عن أبي عثمان الجريري".]] ، عَنِ أَبِي عُثْمَانَ: ﴿لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا﴾ ، قَالَ: حَيَّاتٌ عَلَى الصِّرَاطِ [[في ت: "على الصراط المستقيم".]] تَلْسَعُهُمْ، فَإِذَا لَسَعَتْهُمْ قَالَ: حَسَ حَسَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَالِدُونَ﴾ فَسَلَّمَهُمْ مِنَ الْمَحْذُورِ وَالْمَرْهُوبِ، وَحَصَلَ لَهُمُ الْمَطْلُوبُ وَالْمَحْبُوبُ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيج، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ عَمِّ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ -وسَمَرَ مَعَ عَلِيٍّ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَرَأَ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ قَالَ: أَنَا مِنْهُمْ، وَعُمَرُ مِنْهُمْ، وَعُثْمَانُ مِنْهُمْ، وَالزُّبَيْرُ مِنْهُمْ، وَطَلْحَةُ مِنْهُمْ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ مِنْهُمْ -أَوْ قَالَ: سَعْدٌ مِنْهُمْ-قَالَ: وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ، وَأَظُنُّهُ يَجُرُّ ثَوْبَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: ﴿لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا﴾ .
وَقَالَ شُعْبَةُ، عَنِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ الْمَكِّيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ [[في ت: "خاطب".]] قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ قَالَ: عُثْمَانُ وَأَصْحَابُهُ.
وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ أَيْضًا، وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ مِنْ حَدِيثِ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ -وَلَيْسَ بِابْنِ مَاهَكَ-عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ وَلَفْظُهُ: عُثْمَانُ مِنْهُمْ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ : فَأُولَئِكَ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ يَمُرُّونَ عَلَى الصِّرَاطِ مَرًّا هُوَ أَسْرَعُ مِنَ الْبَرْقِ، وَيَبْقَى الْكُفَّارُ فِيهَا جِثيًا.
فَهَذَا مُطَابِقٌ لِمَا ذَكَرْنَاهُ، وَقَالَ آخَرُونَ: بَلْ نَزَلَتِ اسْتِثْنَاءً مِنَ الْمَعْبُودِينَ، وَخَرَجَ مِنْهُمْ عُزَيْرٌ وَالْمَسِيحُ، كَمَا قَالَ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَعُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ ، ثُمَّ اسْتَثْنَى فَقَالَ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ فَيُقَالُ [[في ف: "فقال".]] : هُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَعِيسَى، وَنَحْوُ ذَلِكَ مِمَّا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَكَذَا قَالَ عِكْرِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ [[في ت: "وابن ماجه وابن جريج".]] .
وَقَالَ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ قَالَ: نَزَلَتْ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وعُزَير، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى بْنِ مَيْسَرَة، حَدَّثَنَا أَبُو زُهَير، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَرِيف، عَنِ الْأَصْبَغِ، عَنْ عَليّ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِي النَّارِ إِلَّا الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ. إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ ، قَالَ: عِيسَى، وعُزَيْر، وَالْمَلَائِكَةُ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: عِيسَى، وَمَرْيَمُ، وَالْمَلَائِكَةُ، وَالشَّمْسُ، وَالْقَمَرُ. وَكَذَا رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر، وَأَبِي صَالِحٍ وَغَيْرِ وَاحِدٍ.
وَقَدْ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ فِي ذَلِكَ حَدِيثًا غَرِيبًا جِدًّا، فَقَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَّاني، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُغيث، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ قَالَ: عِيسَى، وعُزَير، وَالْمَلَائِكَةُ [[وفي إسناده سعيد بن مسلمة وشيخه ليث بن أبي سليم وهما ضعيفان.]] .
وَذَكَرَ بَعْضُهُمْ قِصَّةَ ابْنِ الزِّبَعْرَى ومناظرةَ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ مَرْدُويه:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَنٍ الْأَنْمَاطِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ -يَعْنِي: ابْنَ أَبَانٍ-عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزِّبَعْرَى إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَنَزَلَ عَلَيْكَ هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ ، فَقَالَ ابْنُ الزِّبَعْرَى: قَدْ عُبدت الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالْمَلَائِكَةُ، وعُزَير وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، كُلُّ هَؤُلَاءِ فِي النَّارِ مَعَ آلِهَتِنَا؟ فَنَزَلَتْ: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ. وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلا جَدَلا [[في ت: "مثلا".]] بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ ، ثُمَّ نَزَلَتْ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ . رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ فِي كِتَابِهِ "الْأَحَادِيثِ الْمُخْتَارَةِ".
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا قَبِيصة بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ -يَعْنِي: الثَّوْرِيَّ-عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ أَصْحَابِهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ قال المشركون: فالملائكة [[في ت: "والملائكة".]] ،عُزَير، وَعِيسَى يُعْبَدون مِنْ دُونِ اللَّهِ؟ فَنَزَلَتْ: ﴿لَوْ كَانَ هَؤُلاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا﴾ ، الْآلِهَةُ الَّتِي يُعْبَدُونَ، ﴿وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ .
وَرُوِيَ عَنِ أَبِي كُدَيْنَة، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَير، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلُ ذَلِكَ، وَقَالَ فَنَزَلَتْ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ .
وَقَالَ [الْإِمَامُ] [[زيادة من ف، أ.]] مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ [[في ت: "ابن بشار".]] ، رَحِمَهُ اللَّهُ، فِي كِتَابِ "السِّيرَةِ": وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ -فِيمَا بَلَغَنِي-يَوْمًا مَعَ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فِي الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ حَتَّى جَلَسَ مَعَهُمْ، وَفِي الْمَسْجِدِ [[في ف: "المجلس".]] غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ رِجَالِ قُرَيْشٍ، فَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَعَرَضَ لَهُ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ، فَكَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حَتَّى أَفْحَمَهُ، وَتَلَا عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ﴾ [[في ت، ف: "أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ. لَوْ كَانَ هَؤُلَاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ. لَهُمْ فِيهَا زفير وهم فيها لا يسمعون".]] ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَأَقْبَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزبَعْرَى السَّهْمِيُّ حَتَّى جَلَسَ، فَقَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبَعْرَى: وَاللَّهِ مَا قَامَ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ لِابْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ آنِفًا وَلَا قَعَدَ، وَقَدْ زَعَمَ مُحَمَّدٌ أنَّا وَمَا نَعْبُدُ [[في ت: "تعبدون".]] مِنْ آلِهَتِنَا هَذِهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزِّبَعْرَى: أَمَا وَاللَّهِ لَوْ وَجَدْتُهُ لَخَصمته، فَسَلُوا مُحَمَّدًا: كُلُّ مَا يُعْبَد [[في ت: "يعبدون".]] مِنْ دُونِ اللَّهِ فِي جَهَنَّمَ مَعَ مَنْ عَبَده، فَنَحْنُ نَعْبُدُ الْمَلَائِكَةَ، وَالْيَهُودُ تَعْبُدُ عُزَيْرًا، وَالنَّصَارَى تَعْبُدُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ؟ فَعَجِبَ الْوَلِيدُ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ فِي الْمَجْلِسِ، مِنْ قَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبَعْرَى، وَرَأَوْا أَنَّهُ قَدْ احْتَجَّ وَخَاصَمَ.
فَذُكر ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: "كُلُّ مَنْ أحَبَّ أَنْ يُعْبَدَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَهُوَ مَعَ مَنْ عَبَدَهُ، إِنَّهُمْ إِنَّمَا يَعْبُدُونَ الشَّيَاطِينَ [[في ت، ف: "الشيطان".]] وَمَنْ أمَرَتْهُم [[في ف: "أمرهم".]] بِعِبَادَتِهِ. وَأَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ. لا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَالِدُونَ﴾ أَيْ: عِيسَى وَعُزَيْرٌ وَمَنْ عُبدوا مِنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ، الَّذِينَ مَضَوْا عَلَى طَاعَةِ اللَّهِ، فَاتَّخَذَهُمْ مَنْ يَعْبُدُهُمْ مِنْ أَهْلِ الضَّلَالَةِ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ. وَنَزَلَ فِيمَا يَذْكُرُونَ، أَنَّهُمْ يَعْبُدُونَ الْمَلَائِكَةَ، وَأَنَّهُمْ بَنَاتُ اللَّهِ: ﴿وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ. لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٢٦ -٢٩] ، وَنَزَلَ فِيمَا ذُكر مَنْ أَمْرِ عِيسَى، وَأَنَّهُ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ، وعَجَب الْوَلِيدِ وَمَنْ حَضَره مِنْ حُجَّته وَخُصُومَتِهِ: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ. وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلا جَدَلا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ. إِنْ هُوَ إِلا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ. وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَلائِكَةً فِي الأرْضِ يَخْلُفُونَ. وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلا تَمْتَرُنَّ بِهَا﴾ [الزخرف:٥٧ -٦١] أَيْ: مَا وَضَعْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْآيَاتِ مِنْ إِحْيَاءِ الْمَوْتَى وَإِبْرَاءِ الْأَسْقَامِ، فكَفى بِهِ دَلِيلًا عَلَى عِلْمِ السَّاعَةِ، يَقُولُ: ﴿فَلا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ﴾ [الزُّخْرُفِ:٦١] [[السيرة النبوية لابن هشام (١/٣٥٨) ، ورواه الطبري في تفسيره (١٧/٧٦) .]] .
وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ ابْنُ الزِّبَعْرَى خَطَأٌ كَبِيرٌ؛ لِأَنَّ الْآيَةَ إِنَّمَا نَزَلَتْ خِطَابًا لِأَهْلِ مَكَّةَ فِي عِبَادَتِهِمُ الْأَصْنَامَ الَّتِي هِيَ جَمَادٌ لَا تَعْقِلُ، لِيَكُونَ ذَلِكَ تَقْرِيعًا وَتَوْبِيخًا لِعَابِدِيهَا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ فَكَيْفَ يُورِدُ عَلَى هَذَا الْمَسِيحَ وَالْعُزَيْرَ [[في ف: "وعزير".]] وَنَحْوَهُمَا، مِمَّنْ [[في ت: "وممن".]] لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ، وَلَمْ يَرْضَ بِعِبَادَةِ مَنْ عَبَدَهُ. وعَوّل ابْنُ جَرِيرٍ فِي تَفْسِيرِهِ فِي الْجَوَابِ عَلَى أَنَّ "مَا" لِمَا لَا يَعْقِلُ عِنْدَ الْعَرَبِ.
وَقَدْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزِّبَعْرَى بَعْدَ ذَلِكَ، وَكَانَ مِنَ الشُّعَرَاءِ الْمَشْهُورِينَ. وَكَانَ يُهَاجِي الْمُسْلِمِينَ أَوَّلًا ثُمَّ قَالَ مُعْتَذِرًا:
يَا رَسُولَ الْمَلِيكِ، إِنَّ لِسَانِي ... رَاتقٌ مَا فتَقْتُ إذْ أنَا بُورُ ...
إذْ أجَاري الشَّيطَانَ فِي سَنَن الغَي ... وَمَنْ مَالَ مَيْلَه مَثْبُور [[البيتين في السيرة النبوية لابن هشام (٢/٤١٩) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الأكْبَرُ﴾ قِيلَ الْمُرَادُ بِذَلِكَ الْمَوْتُ. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَطَاءٍ.
وَقِيلَ: الْمُرَادُ بِالْفَزَعِ الْأَكْبَرِ: النَّفْخَةُ فِي الصُّورِ. قَالَهُ العَوْفي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبُو سِنَان سَعِيدُ [[في ت، ف، أ: "سعد".]] ابن سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ، وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ فِي تَفْسِيرِهِ.
وَقِيلَ: حِينَ يُؤْمَر بِالْعَبْدِ إِلَى النَّارِ. قَالَهُ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ.
وَقِيلَ: حِينَ تُطبق النَّارُ عَلَى أَهْلِهَا. قَالَهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْر، وَابْنُ جُرَيج.
وَقِيلَ: حِينَ يُذبَح الْمَوْتُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ. قَالَهُ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ [[في ف، أ: "الهمداني".]] ، فِيمَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، عَنْهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ هَذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ﴾ ، يَعْنِي: تَقُولُ لَهُمُ الْمَلَائِكَةُ، تُبَشِّرُهُمْ يَوْمَ مَعَادِهِمْ إِذَا خَرَجُوا مِنْ قُبُورِهِمْ: ﴿هَذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ﴾ أَيْ: قابلوا [[في ت: "فأملوا".]] ما يسركم.
لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا ۖ وَهُمْ فِى مَا ٱشْتَهَتْ أَنفُسُهُمْ خَٰلِدُونَ
They will not hear its sound, while they are, in that which their souls desire, abiding eternally.
(یہاں تک کہ) اس کی آواز بھی تو نہیں سنیں گے۔ اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں (یعنی) ہر طرح کے عیش اور لطف میں ہمیشہ رہیں گے
آنها صدای آتش دوزخ را نمیشوند؛ و در آنچه دلشان بخواهد، جاودانه متنعّم هستند.
Tafsir Ibn Kathir
Certainly you and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) fuel (Hasab) for Hell! (Surely) you will enter it (98)Had these been gods, they would not have entered there (Hell), and all of them will abide therein forever (99)Therein they will be breathing out with deep sighs and roaring and therein they will hear not (100)Verily, those for whom the good has preceded from Us, they will be removed far therefrom (Hell)(101)They shall not hear the slightest sound of it (Hell), while they abide in that which their own selves desire (102)The greatest terror will not grieve them, and the angels will meet them, (with the greeting:) "This is your Day which you were promised. (103)
The Idolators and their gods are Fuel for Hell
Allah says to the people of Makkah, the idolators of the Quraysh and those who followed their religion of idol worship:
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ
(Certainly you and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell!). Ibn 'Abbas said: "Kindling." This is like the Ayah:
وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ
(whose fuel is men and stones)(66:6). According to another report, Ibn 'Abbas said:
حَصَبُ جَهَنَّمَ
(Hasab for Hell) means firewood in (the dialect of the people of) Zanjiyyah. Mujahid, 'Ikrimah and Qatadah said: "Its fuel." Ad-Dahhak said: "The fuel of Hell means that which is thrown into it." This was also the view of others.
أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ
((Surely) you will enter it.) means, you will go into it.
لَوْ كَانَ هَٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا
(Had these been gods, they would not have entered there,) means, if these idols and false gods which you worshipped instead of Allah, had really been gods, they would not have entered the Hellfire.
وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ
(and all of them will abide therein forever.) means, the worshippers and the objects of their worship will all abide therein forever.
لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ
(Therein they will be breathing out with deep sighs and roaring) This is like the Ayah:
لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ
(they will have (in the Fire), Zafir and Shahiq)(11:106). Zafir refers to their exhalation, and Shahiq refers to their inhalation.
وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ
(and therein they will hear not.)
The State of the Blessed
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ
(Verily, those for whom the good has preceded from Us,) 'Ikrimah said, "Mercy." Others said it means being blessed.
أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ
(they will be removed far therefrom.) When Allah mentions the people of Hell and their punishment for their associating others in worship with Allah, He follows that with a description of the blessed who believed in Allah and His Messengers. These are the ones for whom the blessing has preceded from Allah, and they did righteous deeds in the world, as Allah says:
لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ
(For those who have done good is the best reward and even more)(10:26)
هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ
(Is there any reward for good other than good?)(55:60) Just as they did good in this world, Allah will make their final destiny and their reward good; He will save them from punishment and give them a great reward.
أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ - لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا
(they will be removed far therefrom. They shall not hear the slightest sound of it,) means, they will not feel its heat in their bodies.
وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنفُسُهُمْ خَالِدُونَ
(while they abide in that which their own selves desire.) means, they will be safe from that which they fear, and they will have all that they love and desire. It was said that this was revealed to point out an exception in the case of those who are worshipped instead of Allah, and to exclude 'Uzayr and the Messiah from their number. Hajjaj bin Muhammad Al-A'war reported from Ibn Jurayj, and 'Uthman bin 'Ata' reported from Ibn 'Abbas:
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ
(Certainly you (disbelievers) and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell! (Surely) you will enter it.) Then He made an exception and said:
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ
(Verily, those for whom the good has preceded from Us.)
It was said that this referred to the angels and 'Isa, and others who are worshipped instead of Allah. This was the view of 'Ikrimah, Al-Hasan and Ibn Jurayj. Muhammad bin Ishaq bin Yasar said in his book of Sirah:
According to what I have heard, the Messenger of Allah ﷺ sat down one day with Al-Walid bin Al-Mughirah in the Masjid, and An-Nadr bin Al-Harith came and sat down with them. There were also other men of Quraysh in the Masjid. The Messenger of Allah ﷺ spoke, then An-Nadr bin Al-Harith came up to him and the Messenger of Allah spoke ﷺ to him until he defeated him in argument. Then he recited to him and to them,
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ
(Certainly you and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell! (Surely) you will enter it.) Until His Statement,
وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ
(and therein they will hear not.) Then the Messenger of Allah ﷺ got up and went to sit with 'Abdullah bin Al-Zab'ari As-Sahmi. Al-Walid bin Al-Mughirah said to 'Abdullah bin Al-Zab'ari, "By Allah, An-Nadr bin Al-Harith could not match the son of 'Abd Al-Muttalib in argument. Muhammad claims that we and these gods that we worship are fuel for Hell." 'Abdullah bin Az-Zab'ari said: "By Allah, if I meet with him I will defeat him in argument. Ask Muhammad whether everyone that is worshipped instead of Allah will be in Hell with those who worshipped him, for we worship the angels, and the Jews worship 'Uzayr, and the Christians worship Al-Masih, 'Isa bin Maryam." Al-Walid and those who were sitting with him were amazed at what 'Abdullah bin Az-Zab'ari said, and they thought that he had come up with a good point. He said this to the Messenger of Allah ﷺ, who said:
كُلُّ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُعْبَدَ مِنْ دُونِ اللهِ، فَهُوَ مَعَ مَنْ عَبَدَهُ، إِنَّهُمْ إِنَّمَا يَعْبُدُونَ الشَّيْطَانَ وَمَنْ أَمَرَهُمْ بِعِبَادَتِهِ
(Everyone who likes to be worshipped instead of Allah will be with the ones who worshipped him, for indeed they are worshipping the Shaytan and whoever told them to worship him.) Then Allah revealed the words:
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ - لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا ۖ وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنفُسُهُمْ خَالِدُونَ
(Verily, those for whom the good has preceded from Us, they will be removed far therefrom (Hell). They shall not hear the slightest sound of it (Hell), while they abide in that which their own selves desire.)
It was revealed about the mention of 'Isa, 'Uzayr and rabbis and monks who were also worshipped, who had spent their lives in devotion towards Allah, but the misguided people who came after them took them as lords instead of Allah. Concerning the notion of worshipping the angels as daughters of Allah, the following words were revealed:
وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَٰنُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ
(And they say: "The Most Gracious has begotten children. " Glory to Him! They are but honored slaves). Until His saying,
وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
(And if any of them should say: "Verily, I am a god besides Him," such a one We should recompense with Hell. Thus We recompense the wrongdoers.)[21:26-29].
Concerning 'Isa bin Maryam, the fact that he is worshipped alongside Allah, and the amazement of Al-Walid and the others who were present at the argument [of 'Abdullah bin Az-Zab'ari], the following words were revealed:
وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ - وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ ۚ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ - إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ - وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ - وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا
(And when the son of Maryam is quoted as an example, behold, your people cry aloud (laugh out at the example). And say: "Are our gods better or is he?" They quoted not the above example except for argument. Nay! But they are a quarrelsome people. He was not more than a slave. We granted Our favor to him, and We made him an example for the Children of Israel. And if it were Our will, We would have made angels to replace you on the earth. And he shall be a known sign for the Hour. Therefore have no doubt concerning it.)[43:57-61] meaning, the miracles and signs that happened at his hands, such as raising the dead and healing the sick, are sufficient as signs of the approach of the Hour,
فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ ۚ هَٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ
(Therefore have no doubt concerning it. And follow Me (Allah)! This is the straight path)(43:61)."
What Ibn Az-Zab'ari said was a serious mistake, because the Ayah was addressed to the people of Makkah concerning their worship of idols which were inanimate and could not think. It was a rebuke for their worship of them, so Allah said:
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ
(Certainly you (disbelievers) and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell!) How could this be applied to Al-Masih, 'Uzayr and others who did righteous deeds and did not accept the worship of those who worshipped them?
لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ
(The greatest terror will not grieve them,) It was said that this means death, as was narrated by 'Abdur-Razzaq from Yahya bin Rabi'ah from 'Ata.' Or it was said that the greatest terror refers to the blast of the Trumpet, as Al-'Awfi said narrating from Ibn 'Abbas and Abu Sinan, Sa'id bin Sinan Ash-Shaybani. This was the view favored by Ibn Jarir in his Tafsir.
وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ هَٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ
(and the angels will meet them, (with the greeting:) "This is your Day which you were promised".) meaning, the angels will greet them on the Day of Resurrection when they emerge from their graves with the words:
هَٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ
("This is your Day which you were promised".) meaning, hope for the best.
Tafsir Ibn Kathir
جہنم کی ہولناکیاں بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے جیسے فرمان ہے آیت (وقودہا الناس والحجارۃ) اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر حبشی زبان میں حطب کو حصب کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے حصب کے حطب ہے۔ تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لئے۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے ؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پر دوزخی ہوگئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے جیسے فرمان ہے آیت (فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ01006ۙ) 11۔ ھود :106) ، وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے اور چیخوں کے سوا ان کے کان میں اور کوئی آواز نہ پڑے گی حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جب صرف مشرک جہنم میں رہ جائیں گے انہیں آگ کے صندوقوں میں قید کردیا جائے گا جن میں آگ کے سریے ہوں گے ان میں سے ہر ایک کو یہی گمان ہوگا کہ جہنم میں اس کے سوا اور کوئی نہیں پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی (ابن جریر) حسنیٰ سے مراد رحمت وسعادت ہیں۔ دوزخیوں کا اور ان کے عذابوں کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں اور ان کی جزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے یہ لوگ باایمان تھے ان کے نیک اعمال کی وجہ سے سعادت انکے استقبال کو تیار تھی جیسے فرمان ہے آیت (لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ ۭ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ 26) 10۔ یونس :26) نیکوں کے لئے نیک اجر ہے اور زیادتی اجر بھی۔ فرمان ہے آیت (هَلْ جَزَاۗءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ 60ۚ) 55۔ الرحمن :60) نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے۔ ان کے دنیا کے اعمال نیک تھے تو آخرت میں ثواب اور نیک بدلہ ملا، عذاب سے بچے اور رحمت رب سے سرفراز ہوئے۔ یہ جہنم سے دور کردئیے گئے کہ اس کی آہٹ تک نہیں سنتے نہ دوزخیوں کا جلنا وہ سنتے ہیں۔ پل صراط پر دوزخیوں کو زہریلے ناگ ڈستے ہیں اور یہ وہاں ہائے ہائے کرتے ہیں جنتی لوگوں کے کان بھی اس درد ناک آواز سے ناآشنا رہیں گے۔ اتنا ہی نہیں کہ خوف ڈر سے یہ الگ ہوگئے بلکہ ساتھ ہی راحت وآرام بھی حاصل کرلیا۔ من مانی چیزیں موجود۔ دوامی کی راحت بھی حاضر۔ حضرت علی ؓ نے ایک رات اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا میں اور عمر عثمان اور زبیر اور طلحہ اور عبدالرحمن انہی لوگوں میں سے ہیں یا حضرت سعد کا نام لیا ؓ۔ اتنے میں نماز کی تکبیر ہوئی تو آپ چادر گھیسٹتے آیت (وہم لایسمعون حسیسہا)۔ پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوگئے اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا حضرت عثمان ؓ اور ان کے ساتھی ایسے ہی ہیں ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہی لوگ اولیاء اللہ ہیں بجلی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پل صراط سے پار ہوجائیں گے اور کافر وہیں گھٹنوں کے بل گرپڑیں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ بزرگان دین ہیں جو اللہ والے تھے شرکت سے بیزار تھے لیکن ان کے بعد لوگوں نے ان کی مرضی کے خلاف ان کی پوجا پاٹ شروع کردی تھی، حضرت عزیر، حضرت مسیح، فرشتے، سورج، چاند، حضرت مریم، وغیرہ۔ عبداللہ بن زبعری آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا تیرا خیال ہے کہ اللہ نے آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21۔ الأنبیاء :98) اتاری ہے ؟ اگر یہ سچ ہے تو کیا سورج چاند، فرشتے عزیر، عیسیٰ ، سب کہ سب ہمارے بتوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے ؟ اس کے جواب میں آیت (وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ 57) 43۔ الزخرف :57) اور آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ01001ۙ) 21۔ الأنبیاء :101) نازل ہوئی۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے حضور ﷺ ایک دن ولید بن مغیرہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نضر بن حارث آیا اس وقت مسجد میں اور قریشی بھی بہت سارے تھے نضر بن حارث رسول اللہ ﷺ سے باتیں کر رہا تھا لیکن وہ لاجوب ہوگیا آپ نے آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21۔ الأنبیاء :98) تلاوت فرمائی۔ جب آپ اس مجلس سے چلے گئے تو عبد اللہ بن زبعری آیا لوگوں نے اس سے کہا آج نضر بن حارث نے باتیں کیں لیکن بری طرح چت ہوئے اور حضرت یہ فرماتے ہوئے چلے گے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو انہیں جواب دیتا کہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر کو نصرانی مسیح کو تو کیا یہ سب بھی جہنم میں جلیں گے ؟ سب کو یہ جواب بہت پسند آیا جب حضور ﷺ سے اس کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا جس نے اپنی عبادت کرائی وہ عابدوں کے ساتھ جہنم میں ہے یہ بزرگ اپنی عبادتیں نہیں کراتے تھے بلکہ یہ لوگ تو انہیں نہیں شیطان کو پوج رہے ہیں اسی نے انہیں ان کی عبادت کی راہ بتائی ہے۔ آپ کے جواب کے ساتھ ہی قرآنی جواب اس کے بعد ہی آیت (ان الذین سبقت) میں اترا تو جن نیک لوگوں کی جاہلوں نے پرستش کی تھی وہ اس سے مستثنیٰ ہوگئے۔ چناچہ قرآن میں ہے آیت (ومن یقل منہم انی الہ من دونہ فذالک نجزیہ جہنم۔ الخ) یعنی ان میں سے جو اپنی معبودیت اوروں سے منوانی چاہے اس کا بدلہ جہنم ہے ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں اور آیت (وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ 57) 43۔ الزخرف :57) اتری کہ اس بات کہ سنتے ہی وہ لوگ متعجب ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے معبود اچھے یا وہ یہ تو صرف دھینگا مشتی ہے اور یہ لوگ جھگڑالو ہی ہیں وہ ہمارا انعام یافتہ بندہ تھا اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لئے نمونہ بنایا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین فرشتوں کو کردیتے حضرت عیسیٰ نشان قیامت ہیں ان کے ہاتھ سے جو معجزات صادر ہوئے وہ شبہ والی چیزیں نہیں وہ قیامت کی دلیل ہیں تجھے اس میں کچھ شک نہ کرنا چاہے۔ میری مانتا چلاجا یہی صراط مستقیم ہے ابن زبعری کی جرات دیکھئے خطاب اہل مکہ سے ہے اور ان کی ان تصویروں اور پتھروں کے لئے کہا گیا ہے جنہیں وہ سوائے اللہ کے پوجا کرتے تھے نہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ وغیرہ پاک نفس کے لئے جو غیر اللہ کی عبادت سے روکتے تھے۔ امام ابن جریر ؒ فرماتے ہیں لفظ ما جو یہاں ہے وہ عرب میں ان کے لئے آتا ہے جو بےجان اور بےعقل ہوں۔ یہ ابن زبعری اس کے بعد مسلمان ہوگئے تھے ؓ یہ بڑے مشہور شاعر تھے۔ پہلے انہوں نے مسلمانوں کی دل کھول کر دھول اڑائی تھی لیکن مسلمان ہونے کے بعد معذرت کی۔ موت کی گھبراہٹ، اس گھڑی کی گھبراہٹ جبکہ جہنم پر ڈھکن ڈھک دیا جائے گا جب کہ موت کو دوزخ جنت کے درمیان ذبح کردیا جائے گا۔ غرض کسی اندیشے کا نزول ان پر نہ ہوگا وہ ہر غم وہراس سے دور ہوں گے، پورے مسرور ہوں گے، خوش ہوں گے اور ناخوشی سے کوسوں الگ ہوں گے۔ فرشتوں کے پرے کے پرے ان سے ملاقاتیں کررہے ہوں گے اور انہیں ڈھارس دیتے ہوئے کہتے ہوں گے کہ اسی دن کا وعدہ تم سے کیا گیا تھا، اس وقت تم قبروں سے اٹھنے کے دن کے منتظر رہو۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخَاطِبًا لِأَهْلِ مَكَّةَ مِنْ مُشْرِكِي قُرَيْشٍ، وَمَنْ دَانَ بِدِينِهِمْ مِنْ عَبَدَةِ الْأَصْنَامِ وَالْأَوْثَانِ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَيْ وَقُودُهَا، يَعْنِي كَقَوْلِهِ: ﴿وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ﴾ [التَّحْرِيمِ:٦] .
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَيْضًا: ﴿حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ بِمَعْنَى: شَجَرِ جَهَنَّمَ. وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: ﴿حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ يَعْنِي: حَطَبَ جَهَنَّمَ، بِالزِّنْجِيَّةِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ، وَعِكْرِمَةُ، وَقَتَادَةُ: حَطَبُهَا. وَهِيَ كَذَلِكَ فِي قِرَاءَةِ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: ﴿حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ أَيْ: مَا يُرْمَى بِهِ فِيهَا.
وَكَذَا قَالَ غَيْرُهُ. وَالْجَمِيعُ قَرِيبٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ أَيْ: دَاخِلُونَ.
﴿لَوْ كَانَ هَؤُلاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا﴾ يَعْنِي: لَوْ كَانَتْ هَذِهِ الْأَصْنَامُ وَالْأَنْدَادُ الَّتِي اتَّخَذْتُمُوهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ آلِهَةً صَحِيحَةً لَمَا وَرَدُوا النَّارَ، وَلَمَا دَخَلُوهَا، ﴿وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ أَيِ: الْعَابِدُونَ وَمَعْبُودَاتُهُمْ، كُلُّهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ، ﴿لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ﴾ ، كَمَا قَالَ: ﴿لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ﴾ [هُودٍ: ١٠٦] ، وَالزَّفِيرُ: خُرُوجُ أَنْفَاسِهِمْ، وَالشَّهِيقُ: وُلُوجُ أَنْفَاسِهِمْ، ﴿وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ﴾ .
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسيّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْل، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي: الْمَسْعُودِيَّ-عَنِ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِذَا بَقِيَ مَنْ يَخْلُدُ فِي النَّارِ، جُعلوا فِي تَوَابِيتَ مِنْ نَارٍ، فِيهَا مَسَامِيرُ مِنْ نَارٍ، فَلَا يَرَى أَحَدٌ مِنْهُمْ أَنَّهُ يُعَذَّبُ فِي النَّارِ غَيْرُهُ، ثُمَّ تَلَا عَبْدُ اللَّهِ: ﴿لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ﴾ .
وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، مِنْ حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبّاب [[في ت: "ابن حبان".]] ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَذَكَرَهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ : قَالَ عِكْرِمَةُ: الرَّحْمَةُ. وَقَالَ غَيْرُهُ: السَّعَادَةُ، ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى أَهْلَ النَّارِ وَعَذَابَهُمْ بِسَبَبِ شِرْكِهِمْ بِاللَّهِ، عَطَفَ بِذِكْرِ السُّعَدَاءِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بِاللَّهِ ورسُله [[في ت: "ورسوله".]] ، وَهُمُ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ السَّعَادَةُ، وَأَسْلَفُوا الْأَعْمَالَ الصَّالِحَةَ فِي الدُّنْيَا، كَمَا قَالَ: ﴿لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ﴾ [يُونُسَ: ٢٦] : وَقَالَ ﴿هَلْ جَزَاءُ الإحْسَانِ إِلا الإحْسَانُ﴾ [الرَّحْمَنِ:٦٠] ، فَكَمَا أَحْسَنُوا الْعَمَلَ فِي الدُّنْيَا، أَحْسَنَ اللَّهُ مَآلَهُمْ وَثَوَابَهُمْ، فَنَجَّاهُمْ مِنَ الْعَذَابِ، وحَصَل [[في ت: "وجعل".]] لَهُمْ جَزِيلُ الثَّوَابِ، فَقَالَ: ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ. لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا﴾ أَيْ: حَرِيقَهَا فِي الْأَجْسَادِ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ [[في ت، ف، أ: "عن أبي عثمان الجريري".]] ، عَنِ أَبِي عُثْمَانَ: ﴿لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا﴾ ، قَالَ: حَيَّاتٌ عَلَى الصِّرَاطِ [[في ت: "على الصراط المستقيم".]] تَلْسَعُهُمْ، فَإِذَا لَسَعَتْهُمْ قَالَ: حَسَ حَسَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَالِدُونَ﴾ فَسَلَّمَهُمْ مِنَ الْمَحْذُورِ وَالْمَرْهُوبِ، وَحَصَلَ لَهُمُ الْمَطْلُوبُ وَالْمَحْبُوبُ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيج، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ عَمِّ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ -وسَمَرَ مَعَ عَلِيٍّ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَرَأَ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ قَالَ: أَنَا مِنْهُمْ، وَعُمَرُ مِنْهُمْ، وَعُثْمَانُ مِنْهُمْ، وَالزُّبَيْرُ مِنْهُمْ، وَطَلْحَةُ مِنْهُمْ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ مِنْهُمْ -أَوْ قَالَ: سَعْدٌ مِنْهُمْ-قَالَ: وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ، وَأَظُنُّهُ يَجُرُّ ثَوْبَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: ﴿لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا﴾ .
وَقَالَ شُعْبَةُ، عَنِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ الْمَكِّيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ [[في ت: "خاطب".]] قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ قَالَ: عُثْمَانُ وَأَصْحَابُهُ.
وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ أَيْضًا، وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ مِنْ حَدِيثِ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ -وَلَيْسَ بِابْنِ مَاهَكَ-عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ وَلَفْظُهُ: عُثْمَانُ مِنْهُمْ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ : فَأُولَئِكَ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ يَمُرُّونَ عَلَى الصِّرَاطِ مَرًّا هُوَ أَسْرَعُ مِنَ الْبَرْقِ، وَيَبْقَى الْكُفَّارُ فِيهَا جِثيًا.
فَهَذَا مُطَابِقٌ لِمَا ذَكَرْنَاهُ، وَقَالَ آخَرُونَ: بَلْ نَزَلَتِ اسْتِثْنَاءً مِنَ الْمَعْبُودِينَ، وَخَرَجَ مِنْهُمْ عُزَيْرٌ وَالْمَسِيحُ، كَمَا قَالَ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَعُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ ، ثُمَّ اسْتَثْنَى فَقَالَ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ فَيُقَالُ [[في ف: "فقال".]] : هُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَعِيسَى، وَنَحْوُ ذَلِكَ مِمَّا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَكَذَا قَالَ عِكْرِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ [[في ت: "وابن ماجه وابن جريج".]] .
وَقَالَ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ قَالَ: نَزَلَتْ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وعُزَير، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى بْنِ مَيْسَرَة، حَدَّثَنَا أَبُو زُهَير، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَرِيف، عَنِ الْأَصْبَغِ، عَنْ عَليّ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِي النَّارِ إِلَّا الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ. إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ ، قَالَ: عِيسَى، وعُزَيْر، وَالْمَلَائِكَةُ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: عِيسَى، وَمَرْيَمُ، وَالْمَلَائِكَةُ، وَالشَّمْسُ، وَالْقَمَرُ. وَكَذَا رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر، وَأَبِي صَالِحٍ وَغَيْرِ وَاحِدٍ.
وَقَدْ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ فِي ذَلِكَ حَدِيثًا غَرِيبًا جِدًّا، فَقَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَّاني، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُغيث، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ قَالَ: عِيسَى، وعُزَير، وَالْمَلَائِكَةُ [[وفي إسناده سعيد بن مسلمة وشيخه ليث بن أبي سليم وهما ضعيفان.]] .
وَذَكَرَ بَعْضُهُمْ قِصَّةَ ابْنِ الزِّبَعْرَى ومناظرةَ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ مَرْدُويه:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَنٍ الْأَنْمَاطِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ -يَعْنِي: ابْنَ أَبَانٍ-عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزِّبَعْرَى إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَنَزَلَ عَلَيْكَ هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ ، فَقَالَ ابْنُ الزِّبَعْرَى: قَدْ عُبدت الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالْمَلَائِكَةُ، وعُزَير وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، كُلُّ هَؤُلَاءِ فِي النَّارِ مَعَ آلِهَتِنَا؟ فَنَزَلَتْ: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ. وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلا جَدَلا [[في ت: "مثلا".]] بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ ، ثُمَّ نَزَلَتْ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ . رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ فِي كِتَابِهِ "الْأَحَادِيثِ الْمُخْتَارَةِ".
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا قَبِيصة بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ -يَعْنِي: الثَّوْرِيَّ-عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ أَصْحَابِهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ قال المشركون: فالملائكة [[في ت: "والملائكة".]] ،عُزَير، وَعِيسَى يُعْبَدون مِنْ دُونِ اللَّهِ؟ فَنَزَلَتْ: ﴿لَوْ كَانَ هَؤُلاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا﴾ ، الْآلِهَةُ الَّتِي يُعْبَدُونَ، ﴿وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ .
وَرُوِيَ عَنِ أَبِي كُدَيْنَة، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَير، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلُ ذَلِكَ، وَقَالَ فَنَزَلَتْ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ .
وَقَالَ [الْإِمَامُ] [[زيادة من ف، أ.]] مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ [[في ت: "ابن بشار".]] ، رَحِمَهُ اللَّهُ، فِي كِتَابِ "السِّيرَةِ": وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ -فِيمَا بَلَغَنِي-يَوْمًا مَعَ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فِي الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ حَتَّى جَلَسَ مَعَهُمْ، وَفِي الْمَسْجِدِ [[في ف: "المجلس".]] غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ رِجَالِ قُرَيْشٍ، فَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَعَرَضَ لَهُ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ، فَكَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حَتَّى أَفْحَمَهُ، وَتَلَا عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ﴾ [[في ت، ف: "أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ. لَوْ كَانَ هَؤُلَاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ. لَهُمْ فِيهَا زفير وهم فيها لا يسمعون".]] ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَأَقْبَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزبَعْرَى السَّهْمِيُّ حَتَّى جَلَسَ، فَقَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبَعْرَى: وَاللَّهِ مَا قَامَ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ لِابْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ آنِفًا وَلَا قَعَدَ، وَقَدْ زَعَمَ مُحَمَّدٌ أنَّا وَمَا نَعْبُدُ [[في ت: "تعبدون".]] مِنْ آلِهَتِنَا هَذِهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزِّبَعْرَى: أَمَا وَاللَّهِ لَوْ وَجَدْتُهُ لَخَصمته، فَسَلُوا مُحَمَّدًا: كُلُّ مَا يُعْبَد [[في ت: "يعبدون".]] مِنْ دُونِ اللَّهِ فِي جَهَنَّمَ مَعَ مَنْ عَبَده، فَنَحْنُ نَعْبُدُ الْمَلَائِكَةَ، وَالْيَهُودُ تَعْبُدُ عُزَيْرًا، وَالنَّصَارَى تَعْبُدُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ؟ فَعَجِبَ الْوَلِيدُ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ فِي الْمَجْلِسِ، مِنْ قَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبَعْرَى، وَرَأَوْا أَنَّهُ قَدْ احْتَجَّ وَخَاصَمَ.
فَذُكر ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: "كُلُّ مَنْ أحَبَّ أَنْ يُعْبَدَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَهُوَ مَعَ مَنْ عَبَدَهُ، إِنَّهُمْ إِنَّمَا يَعْبُدُونَ الشَّيَاطِينَ [[في ت، ف: "الشيطان".]] وَمَنْ أمَرَتْهُم [[في ف: "أمرهم".]] بِعِبَادَتِهِ. وَأَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ. لا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَالِدُونَ﴾ أَيْ: عِيسَى وَعُزَيْرٌ وَمَنْ عُبدوا مِنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ، الَّذِينَ مَضَوْا عَلَى طَاعَةِ اللَّهِ، فَاتَّخَذَهُمْ مَنْ يَعْبُدُهُمْ مِنْ أَهْلِ الضَّلَالَةِ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ. وَنَزَلَ فِيمَا يَذْكُرُونَ، أَنَّهُمْ يَعْبُدُونَ الْمَلَائِكَةَ، وَأَنَّهُمْ بَنَاتُ اللَّهِ: ﴿وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ. لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٢٦ -٢٩] ، وَنَزَلَ فِيمَا ذُكر مَنْ أَمْرِ عِيسَى، وَأَنَّهُ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ، وعَجَب الْوَلِيدِ وَمَنْ حَضَره مِنْ حُجَّته وَخُصُومَتِهِ: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ. وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلا جَدَلا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ. إِنْ هُوَ إِلا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ. وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَلائِكَةً فِي الأرْضِ يَخْلُفُونَ. وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلا تَمْتَرُنَّ بِهَا﴾ [الزخرف:٥٧ -٦١] أَيْ: مَا وَضَعْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْآيَاتِ مِنْ إِحْيَاءِ الْمَوْتَى وَإِبْرَاءِ الْأَسْقَامِ، فكَفى بِهِ دَلِيلًا عَلَى عِلْمِ السَّاعَةِ، يَقُولُ: ﴿فَلا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ﴾ [الزُّخْرُفِ:٦١] [[السيرة النبوية لابن هشام (١/٣٥٨) ، ورواه الطبري في تفسيره (١٧/٧٦) .]] .
وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ ابْنُ الزِّبَعْرَى خَطَأٌ كَبِيرٌ؛ لِأَنَّ الْآيَةَ إِنَّمَا نَزَلَتْ خِطَابًا لِأَهْلِ مَكَّةَ فِي عِبَادَتِهِمُ الْأَصْنَامَ الَّتِي هِيَ جَمَادٌ لَا تَعْقِلُ، لِيَكُونَ ذَلِكَ تَقْرِيعًا وَتَوْبِيخًا لِعَابِدِيهَا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ فَكَيْفَ يُورِدُ عَلَى هَذَا الْمَسِيحَ وَالْعُزَيْرَ [[في ف: "وعزير".]] وَنَحْوَهُمَا، مِمَّنْ [[في ت: "وممن".]] لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ، وَلَمْ يَرْضَ بِعِبَادَةِ مَنْ عَبَدَهُ. وعَوّل ابْنُ جَرِيرٍ فِي تَفْسِيرِهِ فِي الْجَوَابِ عَلَى أَنَّ "مَا" لِمَا لَا يَعْقِلُ عِنْدَ الْعَرَبِ.
وَقَدْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزِّبَعْرَى بَعْدَ ذَلِكَ، وَكَانَ مِنَ الشُّعَرَاءِ الْمَشْهُورِينَ. وَكَانَ يُهَاجِي الْمُسْلِمِينَ أَوَّلًا ثُمَّ قَالَ مُعْتَذِرًا:
يَا رَسُولَ الْمَلِيكِ، إِنَّ لِسَانِي ... رَاتقٌ مَا فتَقْتُ إذْ أنَا بُورُ ...
إذْ أجَاري الشَّيطَانَ فِي سَنَن الغَي ... وَمَنْ مَالَ مَيْلَه مَثْبُور [[البيتين في السيرة النبوية لابن هشام (٢/٤١٩) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الأكْبَرُ﴾ قِيلَ الْمُرَادُ بِذَلِكَ الْمَوْتُ. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَطَاءٍ.
وَقِيلَ: الْمُرَادُ بِالْفَزَعِ الْأَكْبَرِ: النَّفْخَةُ فِي الصُّورِ. قَالَهُ العَوْفي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبُو سِنَان سَعِيدُ [[في ت، ف، أ: "سعد".]] ابن سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ، وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ فِي تَفْسِيرِهِ.
وَقِيلَ: حِينَ يُؤْمَر بِالْعَبْدِ إِلَى النَّارِ. قَالَهُ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ.
وَقِيلَ: حِينَ تُطبق النَّارُ عَلَى أَهْلِهَا. قَالَهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْر، وَابْنُ جُرَيج.
وَقِيلَ: حِينَ يُذبَح الْمَوْتُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ. قَالَهُ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ [[في ف، أ: "الهمداني".]] ، فِيمَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، عَنْهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ هَذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ﴾ ، يَعْنِي: تَقُولُ لَهُمُ الْمَلَائِكَةُ، تُبَشِّرُهُمْ يَوْمَ مَعَادِهِمْ إِذَا خَرَجُوا مِنْ قُبُورِهِمْ: ﴿هَذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ﴾ أَيْ: قابلوا [[في ت: "فأملوا".]] ما يسركم.
لَا يَحْزُنُهُمُ ٱلْفَزَعُ ٱلْأَكْبَرُ وَتَتَلَقَّىٰهُمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ هَٰذَا يَوْمُكُمُ ٱلَّذِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ
They will not be grieved by the greatest terror, and the angels will meet them, [saying], "This is your Day which you have been promised" -
ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔ اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے کہ) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے
وحشت بزرگ، آنها را اندوهگین نمیکند؛ و فرشتگان به استقبالشان میآیند، (و میگویند:) این همان روزی است که به شما وعده داده میشد!
Tafsir Ibn Kathir
Certainly you and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) fuel (Hasab) for Hell! (Surely) you will enter it (98)Had these been gods, they would not have entered there (Hell), and all of them will abide therein forever (99)Therein they will be breathing out with deep sighs and roaring and therein they will hear not (100)Verily, those for whom the good has preceded from Us, they will be removed far therefrom (Hell)(101)They shall not hear the slightest sound of it (Hell), while they abide in that which their own selves desire (102)The greatest terror will not grieve them, and the angels will meet them, (with the greeting:) "This is your Day which you were promised. (103)
The Idolators and their gods are Fuel for Hell
Allah says to the people of Makkah, the idolators of the Quraysh and those who followed their religion of idol worship:
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ
(Certainly you and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell!). Ibn 'Abbas said: "Kindling." This is like the Ayah:
وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ
(whose fuel is men and stones)(66:6). According to another report, Ibn 'Abbas said:
حَصَبُ جَهَنَّمَ
(Hasab for Hell) means firewood in (the dialect of the people of) Zanjiyyah. Mujahid, 'Ikrimah and Qatadah said: "Its fuel." Ad-Dahhak said: "The fuel of Hell means that which is thrown into it." This was also the view of others.
أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ
((Surely) you will enter it.) means, you will go into it.
لَوْ كَانَ هَٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا
(Had these been gods, they would not have entered there,) means, if these idols and false gods which you worshipped instead of Allah, had really been gods, they would not have entered the Hellfire.
وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ
(and all of them will abide therein forever.) means, the worshippers and the objects of their worship will all abide therein forever.
لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ
(Therein they will be breathing out with deep sighs and roaring) This is like the Ayah:
لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ
(they will have (in the Fire), Zafir and Shahiq)(11:106). Zafir refers to their exhalation, and Shahiq refers to their inhalation.
وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ
(and therein they will hear not.)
The State of the Blessed
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ
(Verily, those for whom the good has preceded from Us,) 'Ikrimah said, "Mercy." Others said it means being blessed.
أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ
(they will be removed far therefrom.) When Allah mentions the people of Hell and their punishment for their associating others in worship with Allah, He follows that with a description of the blessed who believed in Allah and His Messengers. These are the ones for whom the blessing has preceded from Allah, and they did righteous deeds in the world, as Allah says:
لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ
(For those who have done good is the best reward and even more)(10:26)
هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ
(Is there any reward for good other than good?)(55:60) Just as they did good in this world, Allah will make their final destiny and their reward good; He will save them from punishment and give them a great reward.
أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ - لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا
(they will be removed far therefrom. They shall not hear the slightest sound of it,) means, they will not feel its heat in their bodies.
وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنفُسُهُمْ خَالِدُونَ
(while they abide in that which their own selves desire.) means, they will be safe from that which they fear, and they will have all that they love and desire. It was said that this was revealed to point out an exception in the case of those who are worshipped instead of Allah, and to exclude 'Uzayr and the Messiah from their number. Hajjaj bin Muhammad Al-A'war reported from Ibn Jurayj, and 'Uthman bin 'Ata' reported from Ibn 'Abbas:
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ
(Certainly you (disbelievers) and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell! (Surely) you will enter it.) Then He made an exception and said:
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ
(Verily, those for whom the good has preceded from Us.)
It was said that this referred to the angels and 'Isa, and others who are worshipped instead of Allah. This was the view of 'Ikrimah, Al-Hasan and Ibn Jurayj. Muhammad bin Ishaq bin Yasar said in his book of Sirah:
According to what I have heard, the Messenger of Allah ﷺ sat down one day with Al-Walid bin Al-Mughirah in the Masjid, and An-Nadr bin Al-Harith came and sat down with them. There were also other men of Quraysh in the Masjid. The Messenger of Allah ﷺ spoke, then An-Nadr bin Al-Harith came up to him and the Messenger of Allah spoke ﷺ to him until he defeated him in argument. Then he recited to him and to them,
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ
(Certainly you and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell! (Surely) you will enter it.) Until His Statement,
وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ
(and therein they will hear not.) Then the Messenger of Allah ﷺ got up and went to sit with 'Abdullah bin Al-Zab'ari As-Sahmi. Al-Walid bin Al-Mughirah said to 'Abdullah bin Al-Zab'ari, "By Allah, An-Nadr bin Al-Harith could not match the son of 'Abd Al-Muttalib in argument. Muhammad claims that we and these gods that we worship are fuel for Hell." 'Abdullah bin Az-Zab'ari said: "By Allah, if I meet with him I will defeat him in argument. Ask Muhammad whether everyone that is worshipped instead of Allah will be in Hell with those who worshipped him, for we worship the angels, and the Jews worship 'Uzayr, and the Christians worship Al-Masih, 'Isa bin Maryam." Al-Walid and those who were sitting with him were amazed at what 'Abdullah bin Az-Zab'ari said, and they thought that he had come up with a good point. He said this to the Messenger of Allah ﷺ, who said:
كُلُّ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُعْبَدَ مِنْ دُونِ اللهِ، فَهُوَ مَعَ مَنْ عَبَدَهُ، إِنَّهُمْ إِنَّمَا يَعْبُدُونَ الشَّيْطَانَ وَمَنْ أَمَرَهُمْ بِعِبَادَتِهِ
(Everyone who likes to be worshipped instead of Allah will be with the ones who worshipped him, for indeed they are worshipping the Shaytan and whoever told them to worship him.) Then Allah revealed the words:
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ - لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا ۖ وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنفُسُهُمْ خَالِدُونَ
(Verily, those for whom the good has preceded from Us, they will be removed far therefrom (Hell). They shall not hear the slightest sound of it (Hell), while they abide in that which their own selves desire.)
It was revealed about the mention of 'Isa, 'Uzayr and rabbis and monks who were also worshipped, who had spent their lives in devotion towards Allah, but the misguided people who came after them took them as lords instead of Allah. Concerning the notion of worshipping the angels as daughters of Allah, the following words were revealed:
وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَٰنُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ
(And they say: "The Most Gracious has begotten children. " Glory to Him! They are but honored slaves). Until His saying,
وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
(And if any of them should say: "Verily, I am a god besides Him," such a one We should recompense with Hell. Thus We recompense the wrongdoers.)[21:26-29].
Concerning 'Isa bin Maryam, the fact that he is worshipped alongside Allah, and the amazement of Al-Walid and the others who were present at the argument [of 'Abdullah bin Az-Zab'ari], the following words were revealed:
وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ - وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ ۚ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ - إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ - وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ - وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا
(And when the son of Maryam is quoted as an example, behold, your people cry aloud (laugh out at the example). And say: "Are our gods better or is he?" They quoted not the above example except for argument. Nay! But they are a quarrelsome people. He was not more than a slave. We granted Our favor to him, and We made him an example for the Children of Israel. And if it were Our will, We would have made angels to replace you on the earth. And he shall be a known sign for the Hour. Therefore have no doubt concerning it.)[43:57-61] meaning, the miracles and signs that happened at his hands, such as raising the dead and healing the sick, are sufficient as signs of the approach of the Hour,
فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ ۚ هَٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ
(Therefore have no doubt concerning it. And follow Me (Allah)! This is the straight path)(43:61)."
What Ibn Az-Zab'ari said was a serious mistake, because the Ayah was addressed to the people of Makkah concerning their worship of idols which were inanimate and could not think. It was a rebuke for their worship of them, so Allah said:
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ
(Certainly you (disbelievers) and that which you are worshipping now besides Allah, are (but) Hasab for Hell!) How could this be applied to Al-Masih, 'Uzayr and others who did righteous deeds and did not accept the worship of those who worshipped them?
لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ
(The greatest terror will not grieve them,) It was said that this means death, as was narrated by 'Abdur-Razzaq from Yahya bin Rabi'ah from 'Ata.' Or it was said that the greatest terror refers to the blast of the Trumpet, as Al-'Awfi said narrating from Ibn 'Abbas and Abu Sinan, Sa'id bin Sinan Ash-Shaybani. This was the view favored by Ibn Jarir in his Tafsir.
وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ هَٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ
(and the angels will meet them, (with the greeting:) "This is your Day which you were promised".) meaning, the angels will greet them on the Day of Resurrection when they emerge from their graves with the words:
هَٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ
("This is your Day which you were promised".) meaning, hope for the best.
Tafsir Ibn Kathir
جہنم کی ہولناکیاں بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے جیسے فرمان ہے آیت (وقودہا الناس والحجارۃ) اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر حبشی زبان میں حطب کو حصب کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے حصب کے حطب ہے۔ تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لئے۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے ؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پر دوزخی ہوگئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے جیسے فرمان ہے آیت (فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ01006ۙ) 11۔ ھود :106) ، وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے اور چیخوں کے سوا ان کے کان میں اور کوئی آواز نہ پڑے گی حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جب صرف مشرک جہنم میں رہ جائیں گے انہیں آگ کے صندوقوں میں قید کردیا جائے گا جن میں آگ کے سریے ہوں گے ان میں سے ہر ایک کو یہی گمان ہوگا کہ جہنم میں اس کے سوا اور کوئی نہیں پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی (ابن جریر) حسنیٰ سے مراد رحمت وسعادت ہیں۔ دوزخیوں کا اور ان کے عذابوں کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں اور ان کی جزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے یہ لوگ باایمان تھے ان کے نیک اعمال کی وجہ سے سعادت انکے استقبال کو تیار تھی جیسے فرمان ہے آیت (لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ ۭ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ 26) 10۔ یونس :26) نیکوں کے لئے نیک اجر ہے اور زیادتی اجر بھی۔ فرمان ہے آیت (هَلْ جَزَاۗءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ 60ۚ) 55۔ الرحمن :60) نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے۔ ان کے دنیا کے اعمال نیک تھے تو آخرت میں ثواب اور نیک بدلہ ملا، عذاب سے بچے اور رحمت رب سے سرفراز ہوئے۔ یہ جہنم سے دور کردئیے گئے کہ اس کی آہٹ تک نہیں سنتے نہ دوزخیوں کا جلنا وہ سنتے ہیں۔ پل صراط پر دوزخیوں کو زہریلے ناگ ڈستے ہیں اور یہ وہاں ہائے ہائے کرتے ہیں جنتی لوگوں کے کان بھی اس درد ناک آواز سے ناآشنا رہیں گے۔ اتنا ہی نہیں کہ خوف ڈر سے یہ الگ ہوگئے بلکہ ساتھ ہی راحت وآرام بھی حاصل کرلیا۔ من مانی چیزیں موجود۔ دوامی کی راحت بھی حاضر۔ حضرت علی ؓ نے ایک رات اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا میں اور عمر عثمان اور زبیر اور طلحہ اور عبدالرحمن انہی لوگوں میں سے ہیں یا حضرت سعد کا نام لیا ؓ۔ اتنے میں نماز کی تکبیر ہوئی تو آپ چادر گھیسٹتے آیت (وہم لایسمعون حسیسہا)۔ پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوگئے اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا حضرت عثمان ؓ اور ان کے ساتھی ایسے ہی ہیں ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہی لوگ اولیاء اللہ ہیں بجلی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پل صراط سے پار ہوجائیں گے اور کافر وہیں گھٹنوں کے بل گرپڑیں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ بزرگان دین ہیں جو اللہ والے تھے شرکت سے بیزار تھے لیکن ان کے بعد لوگوں نے ان کی مرضی کے خلاف ان کی پوجا پاٹ شروع کردی تھی، حضرت عزیر، حضرت مسیح، فرشتے، سورج، چاند، حضرت مریم، وغیرہ۔ عبداللہ بن زبعری آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا تیرا خیال ہے کہ اللہ نے آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21۔ الأنبیاء :98) اتاری ہے ؟ اگر یہ سچ ہے تو کیا سورج چاند، فرشتے عزیر، عیسیٰ ، سب کہ سب ہمارے بتوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے ؟ اس کے جواب میں آیت (وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ 57) 43۔ الزخرف :57) اور آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ01001ۙ) 21۔ الأنبیاء :101) نازل ہوئی۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے حضور ﷺ ایک دن ولید بن مغیرہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نضر بن حارث آیا اس وقت مسجد میں اور قریشی بھی بہت سارے تھے نضر بن حارث رسول اللہ ﷺ سے باتیں کر رہا تھا لیکن وہ لاجوب ہوگیا آپ نے آیت (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21۔ الأنبیاء :98) تلاوت فرمائی۔ جب آپ اس مجلس سے چلے گئے تو عبد اللہ بن زبعری آیا لوگوں نے اس سے کہا آج نضر بن حارث نے باتیں کیں لیکن بری طرح چت ہوئے اور حضرت یہ فرماتے ہوئے چلے گے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو انہیں جواب دیتا کہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر کو نصرانی مسیح کو تو کیا یہ سب بھی جہنم میں جلیں گے ؟ سب کو یہ جواب بہت پسند آیا جب حضور ﷺ سے اس کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا جس نے اپنی عبادت کرائی وہ عابدوں کے ساتھ جہنم میں ہے یہ بزرگ اپنی عبادتیں نہیں کراتے تھے بلکہ یہ لوگ تو انہیں نہیں شیطان کو پوج رہے ہیں اسی نے انہیں ان کی عبادت کی راہ بتائی ہے۔ آپ کے جواب کے ساتھ ہی قرآنی جواب اس کے بعد ہی آیت (ان الذین سبقت) میں اترا تو جن نیک لوگوں کی جاہلوں نے پرستش کی تھی وہ اس سے مستثنیٰ ہوگئے۔ چناچہ قرآن میں ہے آیت (ومن یقل منہم انی الہ من دونہ فذالک نجزیہ جہنم۔ الخ) یعنی ان میں سے جو اپنی معبودیت اوروں سے منوانی چاہے اس کا بدلہ جہنم ہے ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں اور آیت (وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ 57) 43۔ الزخرف :57) اتری کہ اس بات کہ سنتے ہی وہ لوگ متعجب ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے معبود اچھے یا وہ یہ تو صرف دھینگا مشتی ہے اور یہ لوگ جھگڑالو ہی ہیں وہ ہمارا انعام یافتہ بندہ تھا اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لئے نمونہ بنایا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین فرشتوں کو کردیتے حضرت عیسیٰ نشان قیامت ہیں ان کے ہاتھ سے جو معجزات صادر ہوئے وہ شبہ والی چیزیں نہیں وہ قیامت کی دلیل ہیں تجھے اس میں کچھ شک نہ کرنا چاہے۔ میری مانتا چلاجا یہی صراط مستقیم ہے ابن زبعری کی جرات دیکھئے خطاب اہل مکہ سے ہے اور ان کی ان تصویروں اور پتھروں کے لئے کہا گیا ہے جنہیں وہ سوائے اللہ کے پوجا کرتے تھے نہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ وغیرہ پاک نفس کے لئے جو غیر اللہ کی عبادت سے روکتے تھے۔ امام ابن جریر ؒ فرماتے ہیں لفظ ما جو یہاں ہے وہ عرب میں ان کے لئے آتا ہے جو بےجان اور بےعقل ہوں۔ یہ ابن زبعری اس کے بعد مسلمان ہوگئے تھے ؓ یہ بڑے مشہور شاعر تھے۔ پہلے انہوں نے مسلمانوں کی دل کھول کر دھول اڑائی تھی لیکن مسلمان ہونے کے بعد معذرت کی۔ موت کی گھبراہٹ، اس گھڑی کی گھبراہٹ جبکہ جہنم پر ڈھکن ڈھک دیا جائے گا جب کہ موت کو دوزخ جنت کے درمیان ذبح کردیا جائے گا۔ غرض کسی اندیشے کا نزول ان پر نہ ہوگا وہ ہر غم وہراس سے دور ہوں گے، پورے مسرور ہوں گے، خوش ہوں گے اور ناخوشی سے کوسوں الگ ہوں گے۔ فرشتوں کے پرے کے پرے ان سے ملاقاتیں کررہے ہوں گے اور انہیں ڈھارس دیتے ہوئے کہتے ہوں گے کہ اسی دن کا وعدہ تم سے کیا گیا تھا، اس وقت تم قبروں سے اٹھنے کے دن کے منتظر رہو۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخَاطِبًا لِأَهْلِ مَكَّةَ مِنْ مُشْرِكِي قُرَيْشٍ، وَمَنْ دَانَ بِدِينِهِمْ مِنْ عَبَدَةِ الْأَصْنَامِ وَالْأَوْثَانِ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَيْ وَقُودُهَا، يَعْنِي كَقَوْلِهِ: ﴿وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ﴾ [التَّحْرِيمِ:٦] .
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَيْضًا: ﴿حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ بِمَعْنَى: شَجَرِ جَهَنَّمَ. وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: ﴿حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ يَعْنِي: حَطَبَ جَهَنَّمَ، بِالزِّنْجِيَّةِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ، وَعِكْرِمَةُ، وَقَتَادَةُ: حَطَبُهَا. وَهِيَ كَذَلِكَ فِي قِرَاءَةِ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: ﴿حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ أَيْ: مَا يُرْمَى بِهِ فِيهَا.
وَكَذَا قَالَ غَيْرُهُ. وَالْجَمِيعُ قَرِيبٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ أَيْ: دَاخِلُونَ.
﴿لَوْ كَانَ هَؤُلاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا﴾ يَعْنِي: لَوْ كَانَتْ هَذِهِ الْأَصْنَامُ وَالْأَنْدَادُ الَّتِي اتَّخَذْتُمُوهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ آلِهَةً صَحِيحَةً لَمَا وَرَدُوا النَّارَ، وَلَمَا دَخَلُوهَا، ﴿وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ أَيِ: الْعَابِدُونَ وَمَعْبُودَاتُهُمْ، كُلُّهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ، ﴿لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ﴾ ، كَمَا قَالَ: ﴿لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ﴾ [هُودٍ: ١٠٦] ، وَالزَّفِيرُ: خُرُوجُ أَنْفَاسِهِمْ، وَالشَّهِيقُ: وُلُوجُ أَنْفَاسِهِمْ، ﴿وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ﴾ .
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسيّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْل، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي: الْمَسْعُودِيَّ-عَنِ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِذَا بَقِيَ مَنْ يَخْلُدُ فِي النَّارِ، جُعلوا فِي تَوَابِيتَ مِنْ نَارٍ، فِيهَا مَسَامِيرُ مِنْ نَارٍ، فَلَا يَرَى أَحَدٌ مِنْهُمْ أَنَّهُ يُعَذَّبُ فِي النَّارِ غَيْرُهُ، ثُمَّ تَلَا عَبْدُ اللَّهِ: ﴿لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ﴾ .
وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، مِنْ حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبّاب [[في ت: "ابن حبان".]] ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَذَكَرَهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ : قَالَ عِكْرِمَةُ: الرَّحْمَةُ. وَقَالَ غَيْرُهُ: السَّعَادَةُ، ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ لَمَّا ذَكَرَ تَعَالَى أَهْلَ النَّارِ وَعَذَابَهُمْ بِسَبَبِ شِرْكِهِمْ بِاللَّهِ، عَطَفَ بِذِكْرِ السُّعَدَاءِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بِاللَّهِ ورسُله [[في ت: "ورسوله".]] ، وَهُمُ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ السَّعَادَةُ، وَأَسْلَفُوا الْأَعْمَالَ الصَّالِحَةَ فِي الدُّنْيَا، كَمَا قَالَ: ﴿لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ﴾ [يُونُسَ: ٢٦] : وَقَالَ ﴿هَلْ جَزَاءُ الإحْسَانِ إِلا الإحْسَانُ﴾ [الرَّحْمَنِ:٦٠] ، فَكَمَا أَحْسَنُوا الْعَمَلَ فِي الدُّنْيَا، أَحْسَنَ اللَّهُ مَآلَهُمْ وَثَوَابَهُمْ، فَنَجَّاهُمْ مِنَ الْعَذَابِ، وحَصَل [[في ت: "وجعل".]] لَهُمْ جَزِيلُ الثَّوَابِ، فَقَالَ: ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ. لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا﴾ أَيْ: حَرِيقَهَا فِي الْأَجْسَادِ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ [[في ت، ف، أ: "عن أبي عثمان الجريري".]] ، عَنِ أَبِي عُثْمَانَ: ﴿لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا﴾ ، قَالَ: حَيَّاتٌ عَلَى الصِّرَاطِ [[في ت: "على الصراط المستقيم".]] تَلْسَعُهُمْ، فَإِذَا لَسَعَتْهُمْ قَالَ: حَسَ حَسَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَالِدُونَ﴾ فَسَلَّمَهُمْ مِنَ الْمَحْذُورِ وَالْمَرْهُوبِ، وَحَصَلَ لَهُمُ الْمَطْلُوبُ وَالْمَحْبُوبُ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيج، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ عَمِّ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ -وسَمَرَ مَعَ عَلِيٍّ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَرَأَ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ قَالَ: أَنَا مِنْهُمْ، وَعُمَرُ مِنْهُمْ، وَعُثْمَانُ مِنْهُمْ، وَالزُّبَيْرُ مِنْهُمْ، وَطَلْحَةُ مِنْهُمْ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ مِنْهُمْ -أَوْ قَالَ: سَعْدٌ مِنْهُمْ-قَالَ: وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ، وَأَظُنُّهُ يَجُرُّ ثَوْبَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: ﴿لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا﴾ .
وَقَالَ شُعْبَةُ، عَنِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ الْمَكِّيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ [[في ت: "خاطب".]] قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ قَالَ: عُثْمَانُ وَأَصْحَابُهُ.
وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ أَيْضًا، وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ مِنْ حَدِيثِ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ -وَلَيْسَ بِابْنِ مَاهَكَ-عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ وَلَفْظُهُ: عُثْمَانُ مِنْهُمْ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ : فَأُولَئِكَ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ يَمُرُّونَ عَلَى الصِّرَاطِ مَرًّا هُوَ أَسْرَعُ مِنَ الْبَرْقِ، وَيَبْقَى الْكُفَّارُ فِيهَا جِثيًا.
فَهَذَا مُطَابِقٌ لِمَا ذَكَرْنَاهُ، وَقَالَ آخَرُونَ: بَلْ نَزَلَتِ اسْتِثْنَاءً مِنَ الْمَعْبُودِينَ، وَخَرَجَ مِنْهُمْ عُزَيْرٌ وَالْمَسِيحُ، كَمَا قَالَ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَعُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ ، ثُمَّ اسْتَثْنَى فَقَالَ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ فَيُقَالُ [[في ف: "فقال".]] : هُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَعِيسَى، وَنَحْوُ ذَلِكَ مِمَّا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَكَذَا قَالَ عِكْرِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ [[في ت: "وابن ماجه وابن جريج".]] .
وَقَالَ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ قَالَ: نَزَلَتْ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وعُزَير، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى بْنِ مَيْسَرَة، حَدَّثَنَا أَبُو زُهَير، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَرِيف، عَنِ الْأَصْبَغِ، عَنْ عَليّ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى﴾ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِي النَّارِ إِلَّا الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ. إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ: ﴿أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ ، قَالَ: عِيسَى، وعُزَيْر، وَالْمَلَائِكَةُ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: عِيسَى، وَمَرْيَمُ، وَالْمَلَائِكَةُ، وَالشَّمْسُ، وَالْقَمَرُ. وَكَذَا رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر، وَأَبِي صَالِحٍ وَغَيْرِ وَاحِدٍ.
وَقَدْ رَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ فِي ذَلِكَ حَدِيثًا غَرِيبًا جِدًّا، فَقَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَّاني، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُغيث، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ قَالَ: عِيسَى، وعُزَير، وَالْمَلَائِكَةُ [[وفي إسناده سعيد بن مسلمة وشيخه ليث بن أبي سليم وهما ضعيفان.]] .
وَذَكَرَ بَعْضُهُمْ قِصَّةَ ابْنِ الزِّبَعْرَى ومناظرةَ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ مَرْدُويه:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَنٍ الْأَنْمَاطِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ -يَعْنِي: ابْنَ أَبَانٍ-عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزِّبَعْرَى إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَنَزَلَ عَلَيْكَ هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ ، فَقَالَ ابْنُ الزِّبَعْرَى: قَدْ عُبدت الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالْمَلَائِكَةُ، وعُزَير وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، كُلُّ هَؤُلَاءِ فِي النَّارِ مَعَ آلِهَتِنَا؟ فَنَزَلَتْ: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ. وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلا جَدَلا [[في ت: "مثلا".]] بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ ، ثُمَّ نَزَلَتْ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ . رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ فِي كِتَابِهِ "الْأَحَادِيثِ الْمُخْتَارَةِ".
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا قَبِيصة بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ -يَعْنِي: الثَّوْرِيَّ-عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ أَصْحَابِهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ قال المشركون: فالملائكة [[في ت: "والملائكة".]] ،عُزَير، وَعِيسَى يُعْبَدون مِنْ دُونِ اللَّهِ؟ فَنَزَلَتْ: ﴿لَوْ كَانَ هَؤُلاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا﴾ ، الْآلِهَةُ الَّتِي يُعْبَدُونَ، ﴿وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ .
وَرُوِيَ عَنِ أَبِي كُدَيْنَة، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَير، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلُ ذَلِكَ، وَقَالَ فَنَزَلَتْ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ .
وَقَالَ [الْإِمَامُ] [[زيادة من ف، أ.]] مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ [[في ت: "ابن بشار".]] ، رَحِمَهُ اللَّهُ، فِي كِتَابِ "السِّيرَةِ": وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ -فِيمَا بَلَغَنِي-يَوْمًا مَعَ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فِي الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ حَتَّى جَلَسَ مَعَهُمْ، وَفِي الْمَسْجِدِ [[في ف: "المجلس".]] غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ رِجَالِ قُرَيْشٍ، فَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَعَرَضَ لَهُ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ، فَكَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حَتَّى أَفْحَمَهُ، وَتَلَا عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ﴾ [[في ت، ف: "أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ. لَوْ كَانَ هَؤُلَاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ. لَهُمْ فِيهَا زفير وهم فيها لا يسمعون".]] ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَأَقْبَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزبَعْرَى السَّهْمِيُّ حَتَّى جَلَسَ، فَقَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبَعْرَى: وَاللَّهِ مَا قَامَ النَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ لِابْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ آنِفًا وَلَا قَعَدَ، وَقَدْ زَعَمَ مُحَمَّدٌ أنَّا وَمَا نَعْبُدُ [[في ت: "تعبدون".]] مِنْ آلِهَتِنَا هَذِهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزِّبَعْرَى: أَمَا وَاللَّهِ لَوْ وَجَدْتُهُ لَخَصمته، فَسَلُوا مُحَمَّدًا: كُلُّ مَا يُعْبَد [[في ت: "يعبدون".]] مِنْ دُونِ اللَّهِ فِي جَهَنَّمَ مَعَ مَنْ عَبَده، فَنَحْنُ نَعْبُدُ الْمَلَائِكَةَ، وَالْيَهُودُ تَعْبُدُ عُزَيْرًا، وَالنَّصَارَى تَعْبُدُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ؟ فَعَجِبَ الْوَلِيدُ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ فِي الْمَجْلِسِ، مِنْ قَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبَعْرَى، وَرَأَوْا أَنَّهُ قَدْ احْتَجَّ وَخَاصَمَ.
فَذُكر ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: "كُلُّ مَنْ أحَبَّ أَنْ يُعْبَدَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَهُوَ مَعَ مَنْ عَبَدَهُ، إِنَّهُمْ إِنَّمَا يَعْبُدُونَ الشَّيَاطِينَ [[في ت، ف: "الشيطان".]] وَمَنْ أمَرَتْهُم [[في ف: "أمرهم".]] بِعِبَادَتِهِ. وَأَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ. لا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَالِدُونَ﴾ أَيْ: عِيسَى وَعُزَيْرٌ وَمَنْ عُبدوا مِنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ، الَّذِينَ مَضَوْا عَلَى طَاعَةِ اللَّهِ، فَاتَّخَذَهُمْ مَنْ يَعْبُدُهُمْ مِنْ أَهْلِ الضَّلَالَةِ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ. وَنَزَلَ فِيمَا يَذْكُرُونَ، أَنَّهُمْ يَعْبُدُونَ الْمَلَائِكَةَ، وَأَنَّهُمْ بَنَاتُ اللَّهِ: ﴿وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ. لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ:٢٦ -٢٩] ، وَنَزَلَ فِيمَا ذُكر مَنْ أَمْرِ عِيسَى، وَأَنَّهُ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ، وعَجَب الْوَلِيدِ وَمَنْ حَضَره مِنْ حُجَّته وَخُصُومَتِهِ: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ. وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلا جَدَلا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ. إِنْ هُوَ إِلا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ. وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَلائِكَةً فِي الأرْضِ يَخْلُفُونَ. وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلا تَمْتَرُنَّ بِهَا﴾ [الزخرف:٥٧ -٦١] أَيْ: مَا وَضَعْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْآيَاتِ مِنْ إِحْيَاءِ الْمَوْتَى وَإِبْرَاءِ الْأَسْقَامِ، فكَفى بِهِ دَلِيلًا عَلَى عِلْمِ السَّاعَةِ، يَقُولُ: ﴿فَلا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ﴾ [الزُّخْرُفِ:٦١] [[السيرة النبوية لابن هشام (١/٣٥٨) ، ورواه الطبري في تفسيره (١٧/٧٦) .]] .
وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ ابْنُ الزِّبَعْرَى خَطَأٌ كَبِيرٌ؛ لِأَنَّ الْآيَةَ إِنَّمَا نَزَلَتْ خِطَابًا لِأَهْلِ مَكَّةَ فِي عِبَادَتِهِمُ الْأَصْنَامَ الَّتِي هِيَ جَمَادٌ لَا تَعْقِلُ، لِيَكُونَ ذَلِكَ تَقْرِيعًا وَتَوْبِيخًا لِعَابِدِيهَا؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ فَكَيْفَ يُورِدُ عَلَى هَذَا الْمَسِيحَ وَالْعُزَيْرَ [[في ف: "وعزير".]] وَنَحْوَهُمَا، مِمَّنْ [[في ت: "وممن".]] لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ، وَلَمْ يَرْضَ بِعِبَادَةِ مَنْ عَبَدَهُ. وعَوّل ابْنُ جَرِيرٍ فِي تَفْسِيرِهِ فِي الْجَوَابِ عَلَى أَنَّ "مَا" لِمَا لَا يَعْقِلُ عِنْدَ الْعَرَبِ.
وَقَدْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزِّبَعْرَى بَعْدَ ذَلِكَ، وَكَانَ مِنَ الشُّعَرَاءِ الْمَشْهُورِينَ. وَكَانَ يُهَاجِي الْمُسْلِمِينَ أَوَّلًا ثُمَّ قَالَ مُعْتَذِرًا:
يَا رَسُولَ الْمَلِيكِ، إِنَّ لِسَانِي ... رَاتقٌ مَا فتَقْتُ إذْ أنَا بُورُ ...
إذْ أجَاري الشَّيطَانَ فِي سَنَن الغَي ... وَمَنْ مَالَ مَيْلَه مَثْبُور [[البيتين في السيرة النبوية لابن هشام (٢/٤١٩) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الأكْبَرُ﴾ قِيلَ الْمُرَادُ بِذَلِكَ الْمَوْتُ. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَطَاءٍ.
وَقِيلَ: الْمُرَادُ بِالْفَزَعِ الْأَكْبَرِ: النَّفْخَةُ فِي الصُّورِ. قَالَهُ العَوْفي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبُو سِنَان سَعِيدُ [[في ت، ف، أ: "سعد".]] ابن سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ، وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ فِي تَفْسِيرِهِ.
وَقِيلَ: حِينَ يُؤْمَر بِالْعَبْدِ إِلَى النَّارِ. قَالَهُ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ.
وَقِيلَ: حِينَ تُطبق النَّارُ عَلَى أَهْلِهَا. قَالَهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْر، وَابْنُ جُرَيج.
وَقِيلَ: حِينَ يُذبَح الْمَوْتُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ. قَالَهُ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ [[في ف، أ: "الهمداني".]] ، فِيمَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، عَنْهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ هَذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ﴾ ، يَعْنِي: تَقُولُ لَهُمُ الْمَلَائِكَةُ، تُبَشِّرُهُمْ يَوْمَ مَعَادِهِمْ إِذَا خَرَجُوا مِنْ قُبُورِهِمْ: ﴿هَذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ﴾ أَيْ: قابلوا [[في ت: "فأملوا".]] ما يسركم.
يَوْمَ نَطْوِى ٱلسَّمَآءَ كَطَىِّ ٱلسِّجِلِّ لِلْكُتُبِ ۚ كَمَا بَدَأْنَآ أَوَّلَ خَلْقٍۢ نُّعِيدُهُۥ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَآ ۚ إِنَّا كُنَّا فَٰعِلِينَ
The Day when We will fold the heaven like the folding of a [written] sheet for the records. As We began the first creation, We will repeat it. [That is] a promise binding upon Us. Indeed, We will do it.
جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں گے جیسے خطوں کا طومار لپیٹ لیتے ہیں۔ جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلے پیدا کیا اسی طرح دوبارہ پیدا کردیں گے۔ (یہ) وعدہ (جس کا پورا کرنا لازم) ہے۔ ہم (ایسا) ضرور کرنے والے ہیں
در آن روز که آسمان را چون طوماری در هم میپیچیم، (سپس) همان گونه که آفرینش را آغاز کردیم، آن را بازمیگردانیم؛ این وعدهای است بر ما، و قطعاً آن را انجام خواهیم داد.
Tafsir Ibn Kathir
And (remember) the Day when We shall roll up the heaven like a Sijill for books. As We began the first creation, We shall repeat it. (It is) a promise binding upon Us. Truly, We shall do it (104)
The Heavens will be rolled up on the Day of Resurrection
Allah says: this will happen on the Day of Resurrection:
يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ
(And (remember) the Day when We shall roll up the heaven like a Sijill for books.) This is like the Ayah:
وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ
(They made not a just estimate of Allah such as is due to Him. And on the Day of Resurrection the whole of the earth will be grasped by His Hand and the heavens will be rolled up in His Right Hand. Glorified be He, and High be He above all that they associate as partners with Him!)(39:67)
Al-Bukhari recorded that Nafi' reported from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah ﷺ said:
إِنَّ اللهَ يَقْبِضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْأَرَضِينَ وَتَكُونُ السَّمَوَاتُ بِيَمِينِهِ
(On the Day of Resurrection, Allah will seize the earth and the heavens will be in His Right Hand.) This was recorded by Al-Bukhari, may Allah have mercy on him.
كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ
(like a Sijill rolled up for books.) What is meant by Sijill is book. As-Suddi said concerning this Ayah: "As-Sijill is an angel who is entrusted with the records; when a person dies, his Book (of deeds) is taken up to As-Sijill, and he rolls it up and puts it away until the Day of Resurrection." But the correct view as narrated from Ibn 'Abbas is that As-Sijill refers to the record (of deeds). This was also reported from him by 'Ali bin Abi Talhah and Al-'Awfi. This was also stated by Mujahid, Qatadah and others. This was the view favored by Ibn Jarir, because this usage is well-known in the (Arabic) language. Based on the above, the meaning is: the Day when the heaven will be rolled up like a scroll. This is like the Ayah:
فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ
(Then, when they had both submitted themselves (to the will of Allah), and he had laid him prostrate on his forehead.)[37:103] There are many more linguistic examples in this respect. Allah knows best.
كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ
(As We began the first creation, We shall repeat it. (It is) a promise binding upon Us. Truly, We shall do it.) means, this will inevitably come to pass on the Day when Allah creates His creation anew. As He created them in the first place, He is surely able to re-create them. This must inevitably come to pass because it is one of the things that Allah has promised, and He does not break His promise. He is able to do that. Because He says:
إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ
(Truly, We shall do it.) Imam Ahmad recorded that Ibn 'Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ stood among us exhorting us, and said:
إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا، كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا، إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ
(You will be gathered before Allah barefoot, naked and uncircumcised. As We began the first creation, We shall repeat it. (It is) a promise binding upon Us. Truly, We shall do it.) And he mentioned the entire Hadith. It was also recorded in the Two Sahihs, and Al-Bukhari mentioned it in his Tafsir of this Ayah.
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں تمام کائنات یہ قیامت کے دن ہوگا جب ہم آسمان کو لپیٹ لیں گے جیسے فرمایا آیت (وما قدروا اللہ حق قدرہ الخ) ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی تھی، جانا ہی نہیں۔ تمام زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک اور برتر ہے ہر چیز سے جسے لوگ اس کا شریک ٹھیرا رہے ہیں۔ بخاری شریف میں ہے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمینوں کو مٹھی میں لے لے گا اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ساتوں آسمانوں کو اور وہاں کی کل مخلوق کو، ساتوں زمینوں کو اور اس کی کل کائنات کو اللہ تعالیٰ اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا وہ اس کے ہاتھ میں ایسے ہوں گے جیسے رائی کا دانہ سجل سے مراد کتاب ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ مراد یہاں ایک فرشتہ ہے۔ جب کسی کا استغفار چڑھتا ہے تو وہ کہتا ہے اسے نور لکھ لو۔ یہ فرشتہ نامہ اعمال پر مقرر ہے۔ جب انسان مرجاتا ہے تو اس کی کتاب کو اور کتابوں کے ساتھ لپیٹ کر اسے قیامت کے لئے رکھ دیتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ نام ہے اس صحابی کا جو حضور ﷺ کا کاتب وحی تھا۔ لیکن یہ روایت ثابت نہیں اکثر حفاظ حدیث نے ان سب کو موضوع کہا ہے خصوصا ہمارے استاد حافظ کبیر ابو الحجاج مزی رحمتہ اللہ نے۔ میں نے اس حدیث کو ایک الگ کتاب میں لکھا ہے امام جعفر بن جریر ؒ نے بھی اس حدیث پر بہت ہی انکار کیا ہے اور اس کی خوب تردید کی اور فرمایا ہے کہ سجل نام کا کوئی صحابی ہے ہی نہیں۔ حضور ﷺ کے تمام کاتبوں کے نام مشہور و معروف ہیں کسی کا نام سجل نہیں۔ فی الواقع امام صاحب نے صحیح اور درست فرمایا یہ بڑی وجہ ہے اس حدیث کے منکر ہونے کی۔ بلکہ یہ بھی یاد رہے کہ جس نے اس صحابی کا ذکر کیا ہے اس نے اسی حدیث پر اعتماد کرکے ذکر کیا ہے اور لغتا بھی یہی بات ہے پس فرمان ہے جس دن ہم آسمان کو لپیٹ لیں گے اس طرح جیسے لکھی ہوئی کتاب لپیٹی جاتی ہے۔ لام یہاں پر معنی میں علیٰ کے ہے جیسے تلہ للجبین میں لام معنی میں علیٰ ہے۔ لغت میں اس کی اور نظیریں بھی ہیں۔ واللہ اعلم۔ یہ یقینا ہو کر رہے گا۔ اس دن اللہ تعالیٰ نئے سرے سے مخلوق کو پہلے کی طرح پیدا کرے گا۔ جو ابتدا پر قادر تھا وہ اعادہ پر بھی اس سے زیادہ قادر ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اس کے وعدے اٹل ہوتے ہیں، وہ کبھی بدلتے نہیں، نہ ان میں تضاد ہوتا ہے۔ وہ تمام چیزوں پر قادر ہے وہ اسے پورا کرکے ہی رہے گا۔ حضور ﷺ نے کھڑے ہو کر اپنے ایک وعظ میں فرمایا تم لوگ اللہ کے سامنے جمع ہونے والے ہو۔ ننگے پیر ننگے بدن بےختنے جیسے ہم نے پہلی بار پیدا کیا اسی طرح دوبارہ لوٹائینگے یہ ہمارا وعدہ ہے جسے ہم پورا کرکے رہیں گے۔ الخ (بخاری) سب چیزیں نیست ونابود ہوجائیں گی پھر بنائی جائیں گی۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: هَذَا كَائِنٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ﴿يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ﴾ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ [الزُّمَرِ: ٦٧] وَقَدْ قَالَ الْبُخَارِيُّ:
حَدَّثَنَا مُقَدم بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عُبَيد اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ يَقْبِضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الأرضَين، وَتَكُونُ السموات بِيَمِينِهِ" [[صحيح البخاري برقم (٧٤١٢) .]] .
انْفَرَدَ بِهِ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ الْبُخَارِيُّ، رَحِمَهُ اللَّهُ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَجَّاجِ الرَّقِّي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ أَبِي الْوَاصِلِ [[في ت: "المواصل".]] ، عَنِ أَبِي الْمَلِيحِ الْأَزْدِيِّ [[في ت: "الأودي".]] ، عَنِ أَبِي الْجَوْزَاءِ الْأَزْدِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: يَطْوِي الله [[في ت: "إليه".]] السموات السَّبْعَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْخَلِيقَةِ وَالْأَرْضِينَ السَّبْعَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْخَلِيقَةِ، يَطْوِي ذَلِكَ كُلَّهُ [[في ف: "كله ذلك".]] بِيَمِينِهِ، يَكُونُ ذَلِكَ كُلُّهُ فِي يَدِهِ بِمَنْزِلَةِ خَرْدَلَةٍ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ﴾ ، قِيلَ: الْمُرَادُ بِالسِّجِلِّ [الْكِتَابُ. وَقِيلَ: الْمُرَادُ بِالسِّجِلِّ] [[زيادة من ف.]] هَاهُنَا: مَلَك مِنَ الْمَلَائِكَةِ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَفَاءِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنِ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ﴾ ، قَالَ: السِّجِلُّ: مَلَك، فَإِذَا صَعِدَ بِالِاسْتِغْفَارِ قَالَ: اكْتُبْهَا نُورًا.
وَهَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي كُرَيْب، عَنِ ابْنِ يَمَانٍ، بِهِ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: وَرُوِيَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ [[في ت: "أبي حفص".]] مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَنَّ السِّجِلَّ مَلَكٌ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: السِّجِلُّ: مَلَك مُوَكَّلٌ بِالصُّحُفِ، فَإِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ رُفِعَ [[في ت: "دفع".]] كتابُه إِلَى السِّجِلِّ فَطَوَاهُ، وَرَفَعَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
وَقِيلَ: الْمُرَادُ بِهِ اسْمُ رَجُلٍ صِحَابِيٍّ، كَانَ يَكْتُبُ لِلنَّبِيِّ ﷺ الْوَحْيَ: قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعة، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الجَهْضَميّ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابن عباس: [ ﴿يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ﴾ ] [[زيادة من ف.]] ، قَالَ: السجل: هو الرجل.
قَالَ نُوحٌ: وَأَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ كَعْبٍ -هُوَ العَوْذي-عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: السِّجِلُّ كَاتِبٌ [[في ت: "كانت".]] لِلنَّبِيِّ ﷺ.
وَهَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ [[في ت: "سعد".]] ، عَنْ نُوحِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: السِّجِلُّ كَاتِبٌ [[في ت: "كانت".]] لِلنَّبِيِّ ﷺ [[سنن أبي داود برقم (٢٩٣٥) وسنن النسائي الكبرى برقم (١١٣٣٥) .]] .
وَرَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ، كَمَا تَقَدَّمَ. وَرَوَاهُ ابْنُ عَدِيٍّ مِنْ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْريّ عَنِ أَبِيهِ، عَنِ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ [[في ت: "كان لرسول الله".]] ﷺ كَاتِبٌ يُسَمَّى [[في ت: "كانت تسمى".]] السِّجِلَّ وَهُوَ قَوْلُهُ: ﴿يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ﴾ ، قَالَ: كَمَا يَطْوِي السِّجِلُّ الْكِتَابَ، كَذَلِكَ نَطْوِي السَّمَاءَ، ثُمَّ قَالَ: وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ [[الكامل (٧/٢٠٥) .]] .
وَقَالَ الْخَطِيبُ الْبَغْدَادِيُّ فِي تَارِيخِهِ: أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ البَرْقَاني، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحَجَّاجِيُّ، أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْكَرْخِيُّ، أَنَّ حَمْدَانَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: السِّجِلُّ: كَاتِبٌ لِلنَّبِيِّ ﷺ [[تاريخ بغداد (٨/١٧٥) .]] .
وَهَذَا مُنْكَرٌ جِدًّا مِنْ حَدِيثِ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، لَا يَصِحُّ أَصْلًا وَكَذَلِكَ مَا تَقَدَّمَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِنْ رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ وَغَيْرِهِ، لَا يَصِحُّ أَيْضًا. وَقَدْ صَرَّحَ جَمَاعَةٌ مِنَ الْحُفَّاظِ بِوَضْعِهِ -وَإِنْ كَانَ فِي سُنَنِ أَبِي دَاوُدَ-مِنْهُمْ شَيْخُنَا الْحَافِظُ الْكَبِيرُ أَبُو الْحَجَّاجِ المِزِّي، فَسَح اللَّهُ فِي عُمْرِهِ، ونَسَأ فِي أَجَلِهِ، وَخَتَمَ لَهُ بِصَالِحِ عَمَلِهِ، وَقَدْ أَفْرَدَتُ لِهَذَا الْحَدِيثِ جُزْءًا عَلَى حِدَةٍ [[في أ: "حدته".]] ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ. وَقَدْ تَصَدَّى الْإِمَامُ أبو جعفر بن جَرِيرٍ لِلْإِنْكَارِ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ، وَرَدَّهُ أَتَمَّ رَدٍّ، وَقَالَ: لَا يُعَرف فِي الصَّحَابَةِ أَحَدٌ [[في ف: "لا يعرف أحد في الصحابة".]] اسْمُهُ السجِل، وكُتَّاب النَّبِيِّ ﷺ مَعْرُوفُونَ، وَلَيْسَ فِيهِمْ أَحَدٌ اسْمُهُ السِّجِلُّ، وصَدَق رَحِمَهُ اللَّهُ فِي ذَلِكَ، وَهُوَ مِنْ أَقْوَى الْأَدِلَّةِ عَلَى نَكَارة هَذَا الْحَدِيثِ. وَأَمَّا مَنْ ذَكَرَ فِي أَسْمَاءِ الصَّحَابَةِ هَذَا، فَإِنَّمَا اعْتَمَدَ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ، لَا عَلَى غَيْرِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَالصَّحِيحُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ السِّجِلَّ هِيَ الصَّحِيفَةُ، قَالَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ وَالْعَوْفِيُّ، عَنْهُ. وَنَصَّ عَلَى ذَلِكَ مُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ. وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ؛ لِأَنَّهُ الْمَعْرُوفُ فِي اللُّغَةِ، فَعَلَى هَذَا يَكُونُ مَعْنَى الْكَلَامِ: ﴿يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ﴾ أَيْ: عَلَى [هَذَا] [[زيادة من ف، أ.]] الْكِتَابِ، بِمَعْنَى الْمَكْتُوبِ، كَقَوْلِهِ: ﴿فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ﴾ [الصَّافَّاتِ:١٠٣] ، أَيْ: عَلَى الْجَبِينِ، وَلَهُ نَظَائِرُ فِي اللُّغَةِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ يَعْنِي: هَذَا كَائِنٌ لَا مَحَالَةَ، يَوْمَ يُعِيدُ اللَّهُ الْخَلَائِقَ خَلْقًا جَدِيدًا، كَمَا بَدَأَهُمْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى إِعَادَتِهِمْ [[في ت: "إعادته".]] ، وذلك واجب الوقوع، لأنه من جُمْلَةِ وَعْدِ اللَّهِ الَّذِي لَا يُخْلَفُ وَلَا يُبَدَّلُ، وَهُوَ الْقَادِرُ عَلَى ذَلِكَ. وَلِهَذَا قَالَ: ﴿إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا وَكِيع وَابْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْنَى [[في هـ، ت، ف، أ: "وابن جعفر، وعفان المعنى" والمثبت من المسند.]] ، قَالَا [[في ت: "قالوا".]] : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِمَوْعِظَةٍ فَقَالَ: "إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلا كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ، وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ"؛ وَذَكَرَ تَمَامَ الْحَدِيثِ، أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ. وَرَوَاهُ [[في ت: "وذكره"، وفي ف، أ: "ذكره".]] الْبُخَارِيُّ عِنْدَ هَذِهِ الْآيَةِ فِي كِتَابِهِ [[المسند (١/٢٣٥) وصحيح البخاري برقم (٤٦٢٥) ، (٤٧٤٠) وصحيح مسلم برقم (٢٨٦٠) .]] .
وَقَدْ رَوَى لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ [[في ت، ف: "عن رسول الله".]] ﷺ، نَحْوَ ذَلِكَ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ﴾ قَالَ: نُهْلِكُ كُلَّ شَيْءٍ، كَمَا كَانَ أَوَّلَ مَرَّةٍ.
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِى ٱلزَّبُورِ مِنۢ بَعْدِ ٱلذِّكْرِ أَنَّ ٱلْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ ٱلصَّٰلِحُونَ
And We have already written in the book [of Psalms] after the [previous] mention that the land [of Paradise] is inherited by My righteous servants.
اور ہم نے نصیحت (کی کتاب یعنی تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیکوکار بندے ملک کے وارث ہوں گے
در «زبور» بعد از ذکر (تورات) نوشتیم: «بندگان شایستهام وارث (حکومت) زمین خواهند شد!»
Tafsir Ibn Kathir
And indeed We have written in Az-Zabur after Adh-Dhikr that My righteous servants shall inherit the land (105)Verily, in this there is a plain Message for people who worship Allah (106)And We have sent you (O Muhammad ﷺ) not but as a mercy for the 'Alamin (107)
The Earth will be inherited by the Righteous
Allah tells us of His decree for His righteous servants who are the blessed in this world and in the Hereafter, those who will inherit the earth in this world and in the Hereafter. As Allah says:
إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ
(Verily, the earth is Allah's. He gives it as a heritage to whom He wills of His servants; and the (blessed) end is for those who have Taqwa.)(7:128)
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth.)[40:51]
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ
(Allah has promised those among you who believe and do righteous good deeds, that He will certainly grant them succession in the land, as He granted it to those before them, and that He will grant them the authority to practise their religion which He has chosen for them)(24:55). Allah tells us that this is recorded in the Books of Divine Laws and Decrees, and that it will inevitably come to pass. Allah says:
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ
(And indeed We have written in Az-Zabur after Adh-Dhikr)
Al-A'mash said: "I asked Sa'id bin Jubayr about the Ayah:
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ
(And indeed We have written in Az-Zabur after Adh-Dhikr). He said: 'Az-Zabur means the Tawrah, the Injil and the Qur'an.'" Mujahid said, "Az-Zabur means the Book." Ibn 'Abbas, Ash-Sha'bi, Al-Hasan, Qatadah and others said, "Az-Zabur is that which was revealed to Dawud, and Adh-Dhikr is the Tawrah." Mujahid said: "Az-Zabur means the Books which came after Adh-Dhikr, and Adh-Dhikr is the Mother of the Book (Umm Al-Kitab) which is with Allah." This was also the view of Zayd bin Aslam: "It is the First Book." Ath-Thawri said: "It is Al-Lawh Al-Mahfuz."
أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ
(that My righteous servants shall inherit the land.) Mujahid said, narrating from Ibn 'Abbas, "This means, the land of Paradise." This was also the view of Abu 'Aliyah, Mujahid, Sa'id bin Jubayr, Ash-Sha'bi, Qatadah, As-Suddi, Abu Salih, Ar-Rabi' bin Anas and Ath-Thawri (may Allah have mercy on them).
إِنَّ فِي هَٰذَا لَبَلَاغًا لِّقَوْمٍ عَابِدِينَ
(Verily, in this (the Qur'an) there is a plain Message for people who worship Allah.) means, 'in this Qur'an which We have revealed to Our servant Muhammad ﷺ, there is a plain Message which is beneficial and is sufficient for a people who worship Allah.' This refers to those who worship Allah in the manner which He has prescribed and which He loves and is pleased with, and they would rather obey Allah than follow the Shaytan or their own desires.
Muhammad (ﷺ) is a Mercy to the Worlds
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
(And We have sent you not but as a mercy for the 'Alamin.) Here Allah tells us that He has made Muhammad ﷺ a mercy to the 'Alamin, i.e., He sent him as a mercy for all of them [peoples], so whoever accepts this mercy and gives thanks for this blessing, will be happy in this world and in the Hereafter. But whoever rejects it and denies it, will lose out in this world and in the Hereafter, as Allah says:
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ - جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا ۖ وَبِئْسَ الْقَرَارُ
(Have you not seen those who have changed the blessings of Allah into disbelief, and caused their people to dwell in the house of destruction? Hell, in which they will burn, – and what an evil place to settle in!)(14:28-29) And Allah says, describing the Qur'an:
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ ۖ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى ۚ أُولَٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ
(Say: "It is for those who believe, a guide and a healing. And as for those who disbelieve, there is heaviness in their ears, and it is blindness for them. They are those who are called from a place far away.")(41:44)
Muslim reports in his Sahih: Ibn Abi 'Umar told us, Marwan Al-Fazari told us, from Yazid bin Kisan, from Ibn Abi Hazim that Abu Hurayrah said that it was said, "O Messenger of Allah, pray against the idolators." He said:
إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً
(I was not sent as a curse, rather I was sent as a mercy.) This was recorded by Muslim.
Imam Ahmad recorded that 'Amr bin Abi Qurrah Al-Kindi said: "Hudhayfah was in Al-Mada'in and he was mentioning things that the Messenger of Allah ﷺ had said. Hudhayfah came to Salman and Salman said: 'O Hudhayfah, the Messenger of Allah ﷺ [would sometimes be angry and would speak accordingly, and would sometimes be pleased and would speak accordingly. I know that the Messenger of Allah ﷺ] addressed us and said:
أَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي سَبَبْتُهُ (سَبَّةً) فِي غَضَبِي أَوْ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً، فَإِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ آدَمَ أَغْضَبُ كَمَا تَغْضَبُونَ، إِنَّمَا بَعَثَنِي اللهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ فَاجْعَلْهَا صَلَاةً عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
(Any man of my Ummah whom I have insulted or cursed when I was angry – for I am a man from among the sons of Adam, and I get angry just as you do. But Allah has sent me as a Mercy to the Worlds, so I will make that [my anger] into blessings for him on the Day of Resurrection.")
This was also recorded by Abu Dawud from Ahmad bin Yunus from Za'idah.
It may be asked: what kind of mercy do those who disbelieve in him get? The answer is what Abu Ja'far bin Jarir recorded from Ibn 'Abbas concerning the Ayah:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
(And We have sent you not but as a mercy for the 'Alamin.) He said, "Whoever believes in Allah and the Last Day, mercy will be decreed for him in this world and in the Hereafter; whoever does not believe in Allah and His Messenger, will be protected from that which happened to the nations of earthquakes and stoning."
Tafsir Ibn Kathir
سچافیصلہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جس طرح آخرت میں دے گا اسی طرح دنیا میں بھی انہیں ملک ومال دیتا ہے، یہ اللہ کا حتمی وعدہ اور سچا فیصلہ ہے۔ جیسے فرمان آیت (اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ01208) 7۔ الاعراف :128) زمین اللہ کی ہے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کار پرہیزگاروں کا حصہ ہے۔ اور فرمان ہے ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی دنیا میں اور آخرت میں مدد فرماتے ہیں اور فرمان ہے کہ تم میں سے ایمان داروں اور نیک لوگوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں غالب بنائے گا جیسے کہ ان سے اگلوں کو بنایا اور ان کے لئے ان کے دین کو قوی کردے گا جس سے وہ خوش ہے۔ اور فرمایا کہ یہ شرعیہ اور قدریہ کتابوں میں مرقوم ہے، یقینا ہو کر ہی رہے گا۔ زبور سے مراد بقول سعید بن جبیر ؒ تورات انجیل اور قرآن ہے۔ مجاہد کہتے ہیں زبور سے مراد کتاب ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ زبور اس کتاب کا نام ہے جو حضرت داؤد ؑ پر اتری تھی۔ ذکر سے مراد یہاں پر توراۃ ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ذکر سے مراد قرآن ہے سعید فرماتے ہیں ذکر وہ ہے جو آسمانوں میں ہے یعنی اللہ کے پاس کی ام الکتاب جو سب سے پہلی کتاب ہے یعنی لوح محفوظ۔ یہ بھی مروی ہے کہ زبور اور وہ آسمانی کتابیں جو پیغمبروں پر نازل ہوئیں اور ذکر مراد پہلی کتاب یعنی لوح محفوظ۔ فرماتے ہیں توراۃ زبور اور علم الٰہی میں پہلے ہی یہ فیصلہ ہوگیا تھا کہ امت محمد زمین کی بادشاہ بنے گی اور نیک ہو کر جنت میں جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین سے مراد جنت کی زمین۔ ابو درداء فرماتے ہیں صالح لوگ ہم ہی ہیں۔ مراد اس سے باایمان لوگ ہیں اس قرآن میں جو نبی آخرالزماں ﷺ پر اتارا گیا ہے پوری نصیحت و کفایت ہے ان کے لئے جو ہمارے عبادت گزار بندے ہیں۔ جو ہماری مانتے ہیں اپنی خواہش کو ہمارے نام پر قربان کردیتے ہیں پھر فرماتا کہ ہم نے اپنے اس نبی کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے پس اس نعمت کی شکر گزاری کرنے والا دنیاوآخرت میں شادماں ہے اور ناقدری کرنے والا دونوں جہاں میں برباد وناشاد ہے۔ جیسے ارشاد ہے کہ کیا تم نے انہیں دیکھا جنہوں نے نعمت ربانی کی ناشکری کی اور اپنی قوم کو غارت کردیا۔ اس قرآن کی نسبت فرمایا کہ یہ ایمان والوں کے لئے ہدایت وشفا ہے بےایمان بہرے اندھے ہیں صحیح مسلم میں ہے کہ ایک موقع پر اصحاب رسول ﷺ نے عرض کی کہ حضور ﷺ ان کافروں کے لئے بدعا کیجئے آپ نے فرمایا کہ میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اور حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں میں تو صرف رحمت و ہدایت ہوں۔ اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ مجھے ایک قوم کی ترقی اور دوسری کے تنزل کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ طبرانی میں ہے کہ اے قریشیو ! محمد یثرب میں چلا گیا ہے اپنے طلائیے کے لشکر ادھرادھر تمہاری جستجو میں بھیج رہا ہے۔ دیکھو ہوشیار رہنا وہ بھوکے شیر کی طرح تاک میں ہے وہ خار کھائے ہوئے ہے کیونکہ تم نے اسے نکال دیا ہے واللہ اس کے جادوگر بےمثال ہیں میں تو اسے یا اس کے ساتھیوں میں سے جس کسی کو دیکھتا ہوں تو مجھے ان کے ساتھ شیطان نظر آتے ہیں تم جانتے ہو کہ اوس اور خزرج ہمارے دشمن ہیں اس دشمن کو ان دشمنوں نے پناہ دی ہے اس پر مطعم بن عدی کہنے لگے ابو الحکم سنو تمہارے اس بھائی سے جسے تم نے اپنے ملک سے جلاوطن کردیا ہے میں نے کسی کو زیادہ سچا اور زیادہ وعدے کا پورا کرنے والا نہیں پایا اب جب کہ ایسے بھلے آدمی کے ساتھ تم یہ بدسلوکی کرچکے ہو تو اب تو اسے چھوڑو تمہیں چاہئے اس سے بالکل الگ تھلک رہو۔ اس پر ابو سفیان بن حارث کہنے لگا نہیں تمہیں اس پر پوری سختی کرنی چاہئے یاد رکھو اگر اس کے طرفدار تم پر غالب آگئے تو تم کہیں کے نہ رہوگے وہ رشتہ دیکھیں گے نہ کنبہ میری رائے میں تو تمہیں مدینے والوں کو تنگ کردینا چاہئے کہ یا تو وہ محمد کو نکال دیں اور وہ بیک بینی دوگوش تن تنہا رہ جائے یا ان مدینے والوں کا صفایا کردینا چاہیے اگر تم تیار ہوجاؤ تو میں مدینے کہ کونے کونے پر لشکر بٹھادوں گا اور انہیں ناکوں چنے چبوا دونگا۔ جب حضور ﷺ کو یہ باتیں پہنچیں تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم جس کہ ہاتھ میری جان ہے میں ہی انہیں قتل و غارت کروں گا اور قید کر کے پھر احسان کرکے چھوڑوں گا میں رحمت ہوں میرا بھیجنے والا اللہ ہے وہ مجھے اس دنیا سے نہ اٹھائے گا جب تک اپنے دین کو دنیا پر غالب نہ کردے۔ میرے پانچ نام ہیں محمد، احمد، ماحی، یعنی میری وجہ سے اللہ کفر کو مٹادے گا، حاشر اس لئے کہ لوگ میرے قدموں پر جمع کئے جائیں گے اور عاقب۔ مسند احمد میں ہے حضرت حذیفہ ؓ مدائن میں تھے بسا اوقات احادیث رسول کا مذاکرہ رہا کرتا تھا ایک دن حضرت حذیفہ ؓ حضرت سلمان کے پاس آئے تو حضرت سلمان ؓ نے فرمایا اے حذیفہ ایک دن رسول ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ جسے میں نے غصے میں برا بھلا کہہ دیا ہو یا اس پر لعنت کردی ہو تو سمجھ لو کہ میں بھی تم جیسا ایک انسان ہی ہوں تمہاری طرح مجھے بھی غصہ آجاتا ہے۔ ہاں البتہ میں چونکہ رحمتہ اللعالمین ہوں تو میری دعا ہے کہ اللہ میرے ان الفاظ کو بھی ان لوگوں کے لئے موجب رحمت بنادے۔ رہی یہ بات کہ کفار کے لئے آپ رحمت کیسے تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ابن جریر میں حضرت ابن عباس ؓ سے اسی آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ مؤمنوں کے لئے تو آپ دنیا وآخرت میں رحمت تھے اور غیر مؤمنوں کے لئے آپ دنیا میں رحمت تھے کہ وہ زمین میں دھنسائے جانے سے، آسمان سے پتھر برسائے جانے سے بچ گئے۔ جیسے کہ اگلی امتوں کے منکروں پر عذاب آئے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَمَّا حَتَّمَهُ وَقَضَاهُ لِعِبَادِهِ الصَّالِحِينَ، مِنَ السَّعَادَةِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَوِرَاثَةِ الْأَرْضِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِنَّ الأرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ﴾ [الْأَعْرَافِ:١٢٨] . وَقَالَ: ﴿إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الأشْهَادُ﴾ [غَافِرٍ:٥١] . وَقَالَ: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الأرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ [وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا] [[زيادة من ف، أ.]] ﴾ ،الْآيَةَ [النُّورِ:٥٥] .وَأَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّ هَذَا مَكْتُوبٌ مَسْطُورٌ فِي الْكُتُبِ الشَّرْعِيَّةِ وَالْقَدَرِيَّةِ فَهُوَ كَائِنٌ لَا مَحَالَةَ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ﴾ ، قَالَ الْأَعْمَشُ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَير عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ﴾ فَقَالَ الزَّبُورُ: التَّوْرَاةُ، وَالْإِنْجِيلُ، وَالْقُرْآنُ [[في أ: "الفرقان".]] .
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الزَّبُورُ: الْكِتَابُ.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَالشَّعْبِيُّ، وَالْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ: الزَّبُورُ: الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى دَاوُدَ، وَالذِّكْرُ: التَّوْرَاةُ، وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: الزَّبُورُ: الْقُرْآنُ.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَير: الذِّكْرُ: الَّذِي في السماء.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الزَّبُورُ: الكتبُ بَعْدَ الذِّكْرِ، وَالذِّكْرُ: أُمُّ الْكِتَابِ عِنْدَ اللَّهِ.
وَاخْتَارَ ذَلِكَ ابْنُ جَرِيرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ [[تفسير الطبري (١٧/٨١) .]] ، وَكَذَا قَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ: هُوَ الْكِتَابُ الْأَوَّلُ. وَقَالَ الثَّوْرِيُّ: هُوَ اللَّوْحُ الْمَحْفُوظُ. وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: الزَّبُورُ: الْكُتُبُ الَّتِي نَزَلَتْ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ، وَالذِّكْرُ: أُمُّ الْكِتَابِ الَّذِي [[في ت: "أم الكتاب والذي".]] يُكْتَبُ فِيهِ الْأَشْيَاءُ قَبْلَ ذَلِكَ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَخْبَرَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ [[في ف: "الله تعالى".]] فِي التَّوْرَاةِ وَالزَّبُورِ وَسَابِقِ عِلْمِهِ قَبْلَ أَنْ تكون السموات وَالْأَرْضُ، أَنْ يُورثَ أمةَ مُحَمَّدٍ ﷺ الْأَرْضَ وَيُدْخِلَهُمُ الْجَنَّةَ، وَهُمُ الصَّالِحُونَ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿أَنَّ الأرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ﴾ قَالَ: أَرْضُ الْجَنَّةِ. وَكَذَا قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ، وَمُجَاهِدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَير، وَالشَّعْبِيُّ، وَقَتَادَةُ، وَالسُّدِّيُّ، وَأَبُو صَالِحٍ، وَالرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ، وَالثَّوْرِيُّ [رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى] [[زيادة من ف، أ.]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ فِي هَذَا لَبَلاغًا لِقَوْمٍ عَابِدِينَ﴾ أَيْ: إِنَّ فِي هَذَا الْقُرْآنِ الَّذِي أَنْزَلْنَاهُ عَلَى عَبْدِنَا مُحَمَّدٍ ﷺ لبَلاغًا: لمَنْفعةَ وَكِفَايَةً لِقَوْمٍ عَابِدِينَ، وَهُمُ الَّذِينَ عَبَدُوا اللَّهَ بِمَا شَرَعَهُ وَأَحَبَّهُ وَرَضِيَهُ، وَآثَرُوا طَاعَةَ اللَّهِ عَلَى طَاعَةِ الشَّيْطَانِ وَشَهَوَاتِ أَنْفُسِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ [تَعَالَى] [[زيادة من ت، وفي ف، أ: "عز وجل".]] : ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾ : يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّ اللَّهَ جَعَل مُحَمَّدًا ﷺ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، أَيْ: أَرْسَلَهُ رَحْمَةً لَهُمْ كُلِّهِمْ، فَمَنْ قَبِل هَذِهِ الرحمةَ وشكَر هَذِهِ النعمةَ، سَعد فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ رَدّها وَجَحَدَهَا خَسِرَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ [[في ت، ف، أ: "فبئس".]] الْقَرَارُ﴾ [إِبْرَاهِيمَ: ٢٨، ٢٩] ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي صِفَةِ الْقُرْآنِ: ﴿قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَئِكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ﴾ [فُصِّلَتْ: ٤٤] .
وَقَالَ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الفَزَاريّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَان، عَنِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: "إِنِّي لَمْ أبعَثْ لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بُعثْتُ رَحْمَةً". انْفَرَدَ بِإِخْرَاجِهِ مُسْلِمٌ [[صحيح مسلم برقم (٢٥٥٩) .]] .
وَفِي الْحَدِيثِ الْآخَرِ: "إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي عَرَابَةَ، وَغَيْرُهُ، عَنْ وَكِيع، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا [[رواه أبو الحسن السكري في "الفوائد المنتقاة" (١٥٧/٢) . كما في السلسلة الصحيحة (١/٨٠٣) للألباني - حدثنا عبد الله بن محمد ابن أسد، حدثنا حاتم بن منصور الشاشي قال: حدثنا عبد الله بن أبي عرابة الشاشي به. ورواه غيره متصلا: فرواه عبد الله بن نصر الأصم عَنْ وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هريرة مرفوعا. خرجه ابن عدي في الكامل (٤/٢٣١) من طريق عمر بن سنان عن عبد الله بن نصر.
وقال: "هكذا حدثناه عمر بن سنان عن عبد الله بن نصر عن وكيع عن الأعمش، وهذا غير محفوظ عن وكيع عن الأعمش، إنما يرويه مالك بن سعيد عن الأعمش، وعبد الله بن نصر هذا له غير ما ذكرت مما أنكرت عليه".]] . قَالَ إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ: وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ وَكِيعٍ، فَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا هُرَيْرَةَ [[رواه ابن أبي شيبة في المصنف (١١/٥٠٤) عن وكيع مرسلا، ورواه ابن سعد في الطبقات (١/١٨٢) عن وكيع مرسلا، ورواه البيهقي في دلائل النبوة (١/١٥٧) من طريق إبراهيم بن عبد الله عن وكيع مرسلا.]] . وَكَذَا قَالَ الْبُخَارِيُّ، وَقَدْ سُئِلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: كَانَ عِنْدَ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ مُرْسَلًا.
قَالَ الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ: وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ سُعَير بْنِ الْخِمْس، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا [[ورواه البزار في مسنده برقم (٢٣٦٩) "كشف الأستار" والبيهقي في دلائل النبوة (١/١٥٨) من طريق زياد بن يحيى عن مالك بن سعيد به، وقال البزار: "لا نعلم أحدا وصله إلا مالك بن سعيد، وغيره يرسله".]] . ثُمَّ سَاقَهُ مِنْ طَرِيقِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُقْرِئِ وَأَبِي أَحْمَدَ الْحَاكِمِ، كِلَاهُمَا عَنْ بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الصُّوفِيِّ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، عَنِ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ [[في ت، أ: "حسن".]] بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ".
ثُمَّ أَوْرَدَهُ مِنْ طَرِيقِ الصَّلْت بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَر [[في أ: "عن شعبة".]] ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي رَحْمَةً مُهْدَاةً، بُعثْتُ بِرَفْعِ قَوْمٍ وَخَفْضِ آخَرِينَ" [[وذكره السيوطي في الجامع الصغير ورمز له الألباني بالضعف.]] .
قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانُ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: وَجَدْتُ كِتَابًا بِالْمَدِينَةِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، عَنِ ابْنِ [شِهَابٍ] [[زيادة من أ.]] عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَير بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ حِينَ قَدِمَ [مَكَّةَ] [[زيادة من أ.]] مُنْصَرَفَهُ عَنْ حَمْزَة: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، إِنَّ مُحَمَّدًا نَزَلَ يَثْرِبَ وَأَرْسَلَ طَلَائِعَهُ، وَإِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يُصِيبَ مِنْكُمْ شَيْئًا، فَاحْذَرُوا أَنْ تَمُرُّوا طريقَه أَوْ تُقَارِبُوهُ [[في ت: "أو تحاربوه".]] ، فَإِنَّهُ كَالْأَسَدِ الضَّارِي؛ إِنَّهُ حَنِق عَلَيْكُمْ؛ لِأَنَّكُمْ نَفَيْتُمُوهُ نَفْيَ القِرْدَان عَنِ الْمَنَاسِمِ [[في أ: "الناس".]] ، وَاللَّهِ إِنَّ لَهُ لَسحْرَةً، مَا رَأَيْتُهُ قَطُّ وَلَا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَّا رَأَيْتُ مَعَهُمُ الشَّيْطَانَ، وَإِنَّكُمْ قَدْ عَرَفْتُمْ عَدَاوَةَ ابْنَيْ قَيلَةَ -يَعْنِي: الْأَوْسَ وَالْخَزْرَجَ-لَهُوٌ عَدُوٌّ اسْتَعَانَ بِعَدُوٍّ، فَقَالَ لَهُ مُطْعِمُ بْنُ عُدَيٍّ: يَا أَبَا الْحَكَمِ، وَاللَّهِ مَا رأيتُ أَحَدًا أصدقَ لِسَانًا، وَلَا أَصْدَقَ مَوْعِدًا، مِنْ أَخِيكُمُ الَّذِي طَرَدْتُمْ، وَإِذْ فَعَلْتُمُ الَّذِي فَعَلْتُمْ فَكُونُوا أَكَفَّ النَّاسِ عَنْهُ. قَالَ [أَبُو سُفْيَانَ] [[زيادة من أ.]] بْنُ الْحَارِثِ: كُونُوا أَشَدَّ مَا كُنْتُمْ عَلَيْهِ، إِنَّ [[في ت: "فإن".]] ابْنِيْ قيلَةَ إِنْ ظفَرُوا بِكُمْ لَمْ يرْقُبوا فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً، وَإِنْ أَطَعْتُمُونِي أَلْجَأْتُمُوهُمْ خير كنابة، أو تخرجوا محمدًا مِنْ بَيْنِ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَيَكُونُ وَحِيدًا مَطْرُودًا، وَأَمَّا [ابْنَا قَيْلة فَوَاللَّهِ مَا هُمَا] [[زيادة من ت، أ.]] وَأَهْلُ [دَهْلَكٍ] [[زيادة من ت، أ.]] فِي الْمَذَلَّةِ إِلَّا سَوَاءً وَسَأَكْفِيكُمْ حَدَّهُمْ، وَقَالَ:
سَأمْنَحُ جَانبًا مِنِّي غَليظًا ... عَلَى مَا كَانَ مِنْ قُرب وَبُعْد ...
رجَالُ الخَزْرَجيَّة أهْلُ ذُل ... إِذَا مَا كَانَ هَزْل بَعْدَ جَدِّ ...
فَبَلَغَ ذَلِكَ رسولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْتُلَنَّهُمْ ولأصلبَنَّهم وَلَأَهْدِيَنَّهُمْ وَهُمْ كَارِهُونَ، إِنِّي رَحْمَةٌ بَعَثَنِي اللَّهُ، وَلَا يَتَوفَّاني حَتَّى يُظْهِرَ اللَّهُ دِينَهُ، لِي خَمْسَةُ أَسْمَاءٍ: أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحِي اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ" [[المعجم الكبير (٢/١٢٣) .]] .
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: أَرْجُو أَنْ يَكُونَ الْحَدِيثُ صَحِيحًا.
وَقَالَ الإمامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنِي عَمْرو بْنُ قَيس، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرّة الكِنْديّ قَالَ: كَانَ حُذيفةُ بِالْمَدَائِنِ، فَكَانَ يَذْكُرُ أَشْيَاءَ قَالَهَا رسولُ اللَّهِ ﷺ، فَجَاءَ حذيفةُ إِلَى سَلْمان فَقَالَ سَلْمَانُ: يَا حذيفةَ، أن رسولَ الله صلى الله عليه وسلم [كَانَ يَغْضَبُ فَيَقُولُ، وَيَرْضَى فَيَقُولُ: لَقَدْ عَلِمْتُ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم] [[زيادة من ت، أ، والمسند.]] خطَب فَقَالَ: "أَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي سَبَبتُه [سَبَّةً] [[زيادة من ت، أ، والمسند.]] فِي غَضَبي أَوْ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً، فَإِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ آدَمَ، أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُونَ، وَإِنَّمَا بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، فَاجْعَلْهَا صَلَاةً عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ زَائِدَةَ [[المسند (٥/٤٣٧) وسنن أبي داود برقم (٤٦٥٩) .]] .
فَإِنْ قِيلَ: فَأَيُّ رَحْمَةٍ حَصَلَتْ لِمَنْ كَفَر بِهِ؟ فَالْجَوَابُ ما رواه أبو جعفر بن جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: سَعِيدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَير، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾ قَالَ: مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، كُتِبَ لَهُ الرَّحْمَةُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ عُوِفي مِمَّا أَصَابَ الْأُمَمَ مِنَ الْخَسْفِ وَالْقَذْفِ [[تفسير الطبري (١٧/٨٣) .]] .
وَهَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، مِنْ حَدِيثِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنِ أَبِي سَعْدٍ -وَهُوَ سَعِيدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ الْبَقَّالُ-عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو القاسمُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ عَبْدَانَ بْنِ أَحْمَدَ، عَنْ عِيسَى بن يونس الرَمْلِي، عن أيوب ابن سُوَيد، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَير، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾ قَالَ: مَنْ تَبِعَهُ كَانَ لَهُ رَحْمَةً فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ لَمْ يَتْبَعْهُ عُوفِي مِمَّا كَانَ يُبْتَلَى بِهِ سَائِرُ الْأُمَمِ مِنَ الْخَسْفِ وَالْقَذْفِ [[المعجم الكبير (١٢/٢٣) .]] .
إِنَّ فِى هَٰذَا لَبَلَٰغًۭا لِّقَوْمٍ عَٰبِدِينَ
Indeed, in this [Qur'an] is notification for a worshipping people.
عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) تبلیغ ہے
در این، ابلاغ روشنی است برای جمعیّت عبادتکنندگان!
Tafsir Ibn Kathir
And indeed We have written in Az-Zabur after Adh-Dhikr that My righteous servants shall inherit the land (105)Verily, in this there is a plain Message for people who worship Allah (106)And We have sent you (O Muhammad ﷺ) not but as a mercy for the 'Alamin (107)
The Earth will be inherited by the Righteous
Allah tells us of His decree for His righteous servants who are the blessed in this world and in the Hereafter, those who will inherit the earth in this world and in the Hereafter. As Allah says:
إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ
(Verily, the earth is Allah's. He gives it as a heritage to whom He wills of His servants; and the (blessed) end is for those who have Taqwa.)(7:128)
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth.)[40:51]
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ
(Allah has promised those among you who believe and do righteous good deeds, that He will certainly grant them succession in the land, as He granted it to those before them, and that He will grant them the authority to practise their religion which He has chosen for them)(24:55). Allah tells us that this is recorded in the Books of Divine Laws and Decrees, and that it will inevitably come to pass. Allah says:
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ
(And indeed We have written in Az-Zabur after Adh-Dhikr)
Al-A'mash said: "I asked Sa'id bin Jubayr about the Ayah:
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ
(And indeed We have written in Az-Zabur after Adh-Dhikr). He said: 'Az-Zabur means the Tawrah, the Injil and the Qur'an.'" Mujahid said, "Az-Zabur means the Book." Ibn 'Abbas, Ash-Sha'bi, Al-Hasan, Qatadah and others said, "Az-Zabur is that which was revealed to Dawud, and Adh-Dhikr is the Tawrah." Mujahid said: "Az-Zabur means the Books which came after Adh-Dhikr, and Adh-Dhikr is the Mother of the Book (Umm Al-Kitab) which is with Allah." This was also the view of Zayd bin Aslam: "It is the First Book." Ath-Thawri said: "It is Al-Lawh Al-Mahfuz."
أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ
(that My righteous servants shall inherit the land.) Mujahid said, narrating from Ibn 'Abbas, "This means, the land of Paradise." This was also the view of Abu 'Aliyah, Mujahid, Sa'id bin Jubayr, Ash-Sha'bi, Qatadah, As-Suddi, Abu Salih, Ar-Rabi' bin Anas and Ath-Thawri (may Allah have mercy on them).
إِنَّ فِي هَٰذَا لَبَلَاغًا لِّقَوْمٍ عَابِدِينَ
(Verily, in this (the Qur'an) there is a plain Message for people who worship Allah.) means, 'in this Qur'an which We have revealed to Our servant Muhammad ﷺ, there is a plain Message which is beneficial and is sufficient for a people who worship Allah.' This refers to those who worship Allah in the manner which He has prescribed and which He loves and is pleased with, and they would rather obey Allah than follow the Shaytan or their own desires.
Muhammad (ﷺ) is a Mercy to the Worlds
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
(And We have sent you not but as a mercy for the 'Alamin.) Here Allah tells us that He has made Muhammad ﷺ a mercy to the 'Alamin, i.e., He sent him as a mercy for all of them [peoples], so whoever accepts this mercy and gives thanks for this blessing, will be happy in this world and in the Hereafter. But whoever rejects it and denies it, will lose out in this world and in the Hereafter, as Allah says:
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ - جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا ۖ وَبِئْسَ الْقَرَارُ
(Have you not seen those who have changed the blessings of Allah into disbelief, and caused their people to dwell in the house of destruction? Hell, in which they will burn, – and what an evil place to settle in!)(14:28-29) And Allah says, describing the Qur'an:
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ ۖ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى ۚ أُولَٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ
(Say: "It is for those who believe, a guide and a healing. And as for those who disbelieve, there is heaviness in their ears, and it is blindness for them. They are those who are called from a place far away.")(41:44)
Muslim reports in his Sahih: Ibn Abi 'Umar told us, Marwan Al-Fazari told us, from Yazid bin Kisan, from Ibn Abi Hazim that Abu Hurayrah said that it was said, "O Messenger of Allah, pray against the idolators." He said:
إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً
(I was not sent as a curse, rather I was sent as a mercy.) This was recorded by Muslim.
Imam Ahmad recorded that 'Amr bin Abi Qurrah Al-Kindi said: "Hudhayfah was in Al-Mada'in and he was mentioning things that the Messenger of Allah ﷺ had said. Hudhayfah came to Salman and Salman said: 'O Hudhayfah, the Messenger of Allah ﷺ [would sometimes be angry and would speak accordingly, and would sometimes be pleased and would speak accordingly. I know that the Messenger of Allah ﷺ] addressed us and said:
أَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي سَبَبْتُهُ (سَبَّةً) فِي غَضَبِي أَوْ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً، فَإِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ آدَمَ أَغْضَبُ كَمَا تَغْضَبُونَ، إِنَّمَا بَعَثَنِي اللهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ فَاجْعَلْهَا صَلَاةً عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
(Any man of my Ummah whom I have insulted or cursed when I was angry – for I am a man from among the sons of Adam, and I get angry just as you do. But Allah has sent me as a Mercy to the Worlds, so I will make that [my anger] into blessings for him on the Day of Resurrection.")
This was also recorded by Abu Dawud from Ahmad bin Yunus from Za'idah.
It may be asked: what kind of mercy do those who disbelieve in him get? The answer is what Abu Ja'far bin Jarir recorded from Ibn 'Abbas concerning the Ayah:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
(And We have sent you not but as a mercy for the 'Alamin.) He said, "Whoever believes in Allah and the Last Day, mercy will be decreed for him in this world and in the Hereafter; whoever does not believe in Allah and His Messenger, will be protected from that which happened to the nations of earthquakes and stoning."
Tafsir Ibn Kathir
سچافیصلہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جس طرح آخرت میں دے گا اسی طرح دنیا میں بھی انہیں ملک ومال دیتا ہے، یہ اللہ کا حتمی وعدہ اور سچا فیصلہ ہے۔ جیسے فرمان آیت (اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ01208) 7۔ الاعراف :128) زمین اللہ کی ہے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کار پرہیزگاروں کا حصہ ہے۔ اور فرمان ہے ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی دنیا میں اور آخرت میں مدد فرماتے ہیں اور فرمان ہے کہ تم میں سے ایمان داروں اور نیک لوگوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں غالب بنائے گا جیسے کہ ان سے اگلوں کو بنایا اور ان کے لئے ان کے دین کو قوی کردے گا جس سے وہ خوش ہے۔ اور فرمایا کہ یہ شرعیہ اور قدریہ کتابوں میں مرقوم ہے، یقینا ہو کر ہی رہے گا۔ زبور سے مراد بقول سعید بن جبیر ؒ تورات انجیل اور قرآن ہے۔ مجاہد کہتے ہیں زبور سے مراد کتاب ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ زبور اس کتاب کا نام ہے جو حضرت داؤد ؑ پر اتری تھی۔ ذکر سے مراد یہاں پر توراۃ ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ذکر سے مراد قرآن ہے سعید فرماتے ہیں ذکر وہ ہے جو آسمانوں میں ہے یعنی اللہ کے پاس کی ام الکتاب جو سب سے پہلی کتاب ہے یعنی لوح محفوظ۔ یہ بھی مروی ہے کہ زبور اور وہ آسمانی کتابیں جو پیغمبروں پر نازل ہوئیں اور ذکر مراد پہلی کتاب یعنی لوح محفوظ۔ فرماتے ہیں توراۃ زبور اور علم الٰہی میں پہلے ہی یہ فیصلہ ہوگیا تھا کہ امت محمد زمین کی بادشاہ بنے گی اور نیک ہو کر جنت میں جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین سے مراد جنت کی زمین۔ ابو درداء فرماتے ہیں صالح لوگ ہم ہی ہیں۔ مراد اس سے باایمان لوگ ہیں اس قرآن میں جو نبی آخرالزماں ﷺ پر اتارا گیا ہے پوری نصیحت و کفایت ہے ان کے لئے جو ہمارے عبادت گزار بندے ہیں۔ جو ہماری مانتے ہیں اپنی خواہش کو ہمارے نام پر قربان کردیتے ہیں پھر فرماتا کہ ہم نے اپنے اس نبی کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے پس اس نعمت کی شکر گزاری کرنے والا دنیاوآخرت میں شادماں ہے اور ناقدری کرنے والا دونوں جہاں میں برباد وناشاد ہے۔ جیسے ارشاد ہے کہ کیا تم نے انہیں دیکھا جنہوں نے نعمت ربانی کی ناشکری کی اور اپنی قوم کو غارت کردیا۔ اس قرآن کی نسبت فرمایا کہ یہ ایمان والوں کے لئے ہدایت وشفا ہے بےایمان بہرے اندھے ہیں صحیح مسلم میں ہے کہ ایک موقع پر اصحاب رسول ﷺ نے عرض کی کہ حضور ﷺ ان کافروں کے لئے بدعا کیجئے آپ نے فرمایا کہ میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اور حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں میں تو صرف رحمت و ہدایت ہوں۔ اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ مجھے ایک قوم کی ترقی اور دوسری کے تنزل کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ طبرانی میں ہے کہ اے قریشیو ! محمد یثرب میں چلا گیا ہے اپنے طلائیے کے لشکر ادھرادھر تمہاری جستجو میں بھیج رہا ہے۔ دیکھو ہوشیار رہنا وہ بھوکے شیر کی طرح تاک میں ہے وہ خار کھائے ہوئے ہے کیونکہ تم نے اسے نکال دیا ہے واللہ اس کے جادوگر بےمثال ہیں میں تو اسے یا اس کے ساتھیوں میں سے جس کسی کو دیکھتا ہوں تو مجھے ان کے ساتھ شیطان نظر آتے ہیں تم جانتے ہو کہ اوس اور خزرج ہمارے دشمن ہیں اس دشمن کو ان دشمنوں نے پناہ دی ہے اس پر مطعم بن عدی کہنے لگے ابو الحکم سنو تمہارے اس بھائی سے جسے تم نے اپنے ملک سے جلاوطن کردیا ہے میں نے کسی کو زیادہ سچا اور زیادہ وعدے کا پورا کرنے والا نہیں پایا اب جب کہ ایسے بھلے آدمی کے ساتھ تم یہ بدسلوکی کرچکے ہو تو اب تو اسے چھوڑو تمہیں چاہئے اس سے بالکل الگ تھلک رہو۔ اس پر ابو سفیان بن حارث کہنے لگا نہیں تمہیں اس پر پوری سختی کرنی چاہئے یاد رکھو اگر اس کے طرفدار تم پر غالب آگئے تو تم کہیں کے نہ رہوگے وہ رشتہ دیکھیں گے نہ کنبہ میری رائے میں تو تمہیں مدینے والوں کو تنگ کردینا چاہئے کہ یا تو وہ محمد کو نکال دیں اور وہ بیک بینی دوگوش تن تنہا رہ جائے یا ان مدینے والوں کا صفایا کردینا چاہیے اگر تم تیار ہوجاؤ تو میں مدینے کہ کونے کونے پر لشکر بٹھادوں گا اور انہیں ناکوں چنے چبوا دونگا۔ جب حضور ﷺ کو یہ باتیں پہنچیں تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم جس کہ ہاتھ میری جان ہے میں ہی انہیں قتل و غارت کروں گا اور قید کر کے پھر احسان کرکے چھوڑوں گا میں رحمت ہوں میرا بھیجنے والا اللہ ہے وہ مجھے اس دنیا سے نہ اٹھائے گا جب تک اپنے دین کو دنیا پر غالب نہ کردے۔ میرے پانچ نام ہیں محمد، احمد، ماحی، یعنی میری وجہ سے اللہ کفر کو مٹادے گا، حاشر اس لئے کہ لوگ میرے قدموں پر جمع کئے جائیں گے اور عاقب۔ مسند احمد میں ہے حضرت حذیفہ ؓ مدائن میں تھے بسا اوقات احادیث رسول کا مذاکرہ رہا کرتا تھا ایک دن حضرت حذیفہ ؓ حضرت سلمان کے پاس آئے تو حضرت سلمان ؓ نے فرمایا اے حذیفہ ایک دن رسول ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ جسے میں نے غصے میں برا بھلا کہہ دیا ہو یا اس پر لعنت کردی ہو تو سمجھ لو کہ میں بھی تم جیسا ایک انسان ہی ہوں تمہاری طرح مجھے بھی غصہ آجاتا ہے۔ ہاں البتہ میں چونکہ رحمتہ اللعالمین ہوں تو میری دعا ہے کہ اللہ میرے ان الفاظ کو بھی ان لوگوں کے لئے موجب رحمت بنادے۔ رہی یہ بات کہ کفار کے لئے آپ رحمت کیسے تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ابن جریر میں حضرت ابن عباس ؓ سے اسی آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ مؤمنوں کے لئے تو آپ دنیا وآخرت میں رحمت تھے اور غیر مؤمنوں کے لئے آپ دنیا میں رحمت تھے کہ وہ زمین میں دھنسائے جانے سے، آسمان سے پتھر برسائے جانے سے بچ گئے۔ جیسے کہ اگلی امتوں کے منکروں پر عذاب آئے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَمَّا حَتَّمَهُ وَقَضَاهُ لِعِبَادِهِ الصَّالِحِينَ، مِنَ السَّعَادَةِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَوِرَاثَةِ الْأَرْضِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِنَّ الأرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ﴾ [الْأَعْرَافِ:١٢٨] . وَقَالَ: ﴿إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الأشْهَادُ﴾ [غَافِرٍ:٥١] . وَقَالَ: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الأرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ [وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا] [[زيادة من ف، أ.]] ﴾ ،الْآيَةَ [النُّورِ:٥٥] .وَأَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّ هَذَا مَكْتُوبٌ مَسْطُورٌ فِي الْكُتُبِ الشَّرْعِيَّةِ وَالْقَدَرِيَّةِ فَهُوَ كَائِنٌ لَا مَحَالَةَ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ﴾ ، قَالَ الْأَعْمَشُ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَير عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ﴾ فَقَالَ الزَّبُورُ: التَّوْرَاةُ، وَالْإِنْجِيلُ، وَالْقُرْآنُ [[في أ: "الفرقان".]] .
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الزَّبُورُ: الْكِتَابُ.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَالشَّعْبِيُّ، وَالْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ: الزَّبُورُ: الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى دَاوُدَ، وَالذِّكْرُ: التَّوْرَاةُ، وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: الزَّبُورُ: الْقُرْآنُ.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَير: الذِّكْرُ: الَّذِي في السماء.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الزَّبُورُ: الكتبُ بَعْدَ الذِّكْرِ، وَالذِّكْرُ: أُمُّ الْكِتَابِ عِنْدَ اللَّهِ.
وَاخْتَارَ ذَلِكَ ابْنُ جَرِيرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ [[تفسير الطبري (١٧/٨١) .]] ، وَكَذَا قَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ: هُوَ الْكِتَابُ الْأَوَّلُ. وَقَالَ الثَّوْرِيُّ: هُوَ اللَّوْحُ الْمَحْفُوظُ. وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: الزَّبُورُ: الْكُتُبُ الَّتِي نَزَلَتْ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ، وَالذِّكْرُ: أُمُّ الْكِتَابِ الَّذِي [[في ت: "أم الكتاب والذي".]] يُكْتَبُ فِيهِ الْأَشْيَاءُ قَبْلَ ذَلِكَ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَخْبَرَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ [[في ف: "الله تعالى".]] فِي التَّوْرَاةِ وَالزَّبُورِ وَسَابِقِ عِلْمِهِ قَبْلَ أَنْ تكون السموات وَالْأَرْضُ، أَنْ يُورثَ أمةَ مُحَمَّدٍ ﷺ الْأَرْضَ وَيُدْخِلَهُمُ الْجَنَّةَ، وَهُمُ الصَّالِحُونَ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿أَنَّ الأرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ﴾ قَالَ: أَرْضُ الْجَنَّةِ. وَكَذَا قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ، وَمُجَاهِدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَير، وَالشَّعْبِيُّ، وَقَتَادَةُ، وَالسُّدِّيُّ، وَأَبُو صَالِحٍ، وَالرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ، وَالثَّوْرِيُّ [رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى] [[زيادة من ف، أ.]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ فِي هَذَا لَبَلاغًا لِقَوْمٍ عَابِدِينَ﴾ أَيْ: إِنَّ فِي هَذَا الْقُرْآنِ الَّذِي أَنْزَلْنَاهُ عَلَى عَبْدِنَا مُحَمَّدٍ ﷺ لبَلاغًا: لمَنْفعةَ وَكِفَايَةً لِقَوْمٍ عَابِدِينَ، وَهُمُ الَّذِينَ عَبَدُوا اللَّهَ بِمَا شَرَعَهُ وَأَحَبَّهُ وَرَضِيَهُ، وَآثَرُوا طَاعَةَ اللَّهِ عَلَى طَاعَةِ الشَّيْطَانِ وَشَهَوَاتِ أَنْفُسِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ [تَعَالَى] [[زيادة من ت، وفي ف، أ: "عز وجل".]] : ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾ : يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّ اللَّهَ جَعَل مُحَمَّدًا ﷺ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، أَيْ: أَرْسَلَهُ رَحْمَةً لَهُمْ كُلِّهِمْ، فَمَنْ قَبِل هَذِهِ الرحمةَ وشكَر هَذِهِ النعمةَ، سَعد فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ رَدّها وَجَحَدَهَا خَسِرَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ [[في ت، ف، أ: "فبئس".]] الْقَرَارُ﴾ [إِبْرَاهِيمَ: ٢٨، ٢٩] ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي صِفَةِ الْقُرْآنِ: ﴿قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَئِكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ﴾ [فُصِّلَتْ: ٤٤] .
وَقَالَ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الفَزَاريّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَان، عَنِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: "إِنِّي لَمْ أبعَثْ لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بُعثْتُ رَحْمَةً". انْفَرَدَ بِإِخْرَاجِهِ مُسْلِمٌ [[صحيح مسلم برقم (٢٥٥٩) .]] .
وَفِي الْحَدِيثِ الْآخَرِ: "إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي عَرَابَةَ، وَغَيْرُهُ، عَنْ وَكِيع، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا [[رواه أبو الحسن السكري في "الفوائد المنتقاة" (١٥٧/٢) . كما في السلسلة الصحيحة (١/٨٠٣) للألباني - حدثنا عبد الله بن محمد ابن أسد، حدثنا حاتم بن منصور الشاشي قال: حدثنا عبد الله بن أبي عرابة الشاشي به. ورواه غيره متصلا: فرواه عبد الله بن نصر الأصم عَنْ وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هريرة مرفوعا. خرجه ابن عدي في الكامل (٤/٢٣١) من طريق عمر بن سنان عن عبد الله بن نصر.
وقال: "هكذا حدثناه عمر بن سنان عن عبد الله بن نصر عن وكيع عن الأعمش، وهذا غير محفوظ عن وكيع عن الأعمش، إنما يرويه مالك بن سعيد عن الأعمش، وعبد الله بن نصر هذا له غير ما ذكرت مما أنكرت عليه".]] . قَالَ إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ: وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ وَكِيعٍ، فَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا هُرَيْرَةَ [[رواه ابن أبي شيبة في المصنف (١١/٥٠٤) عن وكيع مرسلا، ورواه ابن سعد في الطبقات (١/١٨٢) عن وكيع مرسلا، ورواه البيهقي في دلائل النبوة (١/١٥٧) من طريق إبراهيم بن عبد الله عن وكيع مرسلا.]] . وَكَذَا قَالَ الْبُخَارِيُّ، وَقَدْ سُئِلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: كَانَ عِنْدَ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ مُرْسَلًا.
قَالَ الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ: وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ سُعَير بْنِ الْخِمْس، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا [[ورواه البزار في مسنده برقم (٢٣٦٩) "كشف الأستار" والبيهقي في دلائل النبوة (١/١٥٨) من طريق زياد بن يحيى عن مالك بن سعيد به، وقال البزار: "لا نعلم أحدا وصله إلا مالك بن سعيد، وغيره يرسله".]] . ثُمَّ سَاقَهُ مِنْ طَرِيقِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُقْرِئِ وَأَبِي أَحْمَدَ الْحَاكِمِ، كِلَاهُمَا عَنْ بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الصُّوفِيِّ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، عَنِ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ [[في ت، أ: "حسن".]] بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ".
ثُمَّ أَوْرَدَهُ مِنْ طَرِيقِ الصَّلْت بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَر [[في أ: "عن شعبة".]] ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي رَحْمَةً مُهْدَاةً، بُعثْتُ بِرَفْعِ قَوْمٍ وَخَفْضِ آخَرِينَ" [[وذكره السيوطي في الجامع الصغير ورمز له الألباني بالضعف.]] .
قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانُ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: وَجَدْتُ كِتَابًا بِالْمَدِينَةِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، عَنِ ابْنِ [شِهَابٍ] [[زيادة من أ.]] عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَير بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ حِينَ قَدِمَ [مَكَّةَ] [[زيادة من أ.]] مُنْصَرَفَهُ عَنْ حَمْزَة: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، إِنَّ مُحَمَّدًا نَزَلَ يَثْرِبَ وَأَرْسَلَ طَلَائِعَهُ، وَإِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يُصِيبَ مِنْكُمْ شَيْئًا، فَاحْذَرُوا أَنْ تَمُرُّوا طريقَه أَوْ تُقَارِبُوهُ [[في ت: "أو تحاربوه".]] ، فَإِنَّهُ كَالْأَسَدِ الضَّارِي؛ إِنَّهُ حَنِق عَلَيْكُمْ؛ لِأَنَّكُمْ نَفَيْتُمُوهُ نَفْيَ القِرْدَان عَنِ الْمَنَاسِمِ [[في أ: "الناس".]] ، وَاللَّهِ إِنَّ لَهُ لَسحْرَةً، مَا رَأَيْتُهُ قَطُّ وَلَا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَّا رَأَيْتُ مَعَهُمُ الشَّيْطَانَ، وَإِنَّكُمْ قَدْ عَرَفْتُمْ عَدَاوَةَ ابْنَيْ قَيلَةَ -يَعْنِي: الْأَوْسَ وَالْخَزْرَجَ-لَهُوٌ عَدُوٌّ اسْتَعَانَ بِعَدُوٍّ، فَقَالَ لَهُ مُطْعِمُ بْنُ عُدَيٍّ: يَا أَبَا الْحَكَمِ، وَاللَّهِ مَا رأيتُ أَحَدًا أصدقَ لِسَانًا، وَلَا أَصْدَقَ مَوْعِدًا، مِنْ أَخِيكُمُ الَّذِي طَرَدْتُمْ، وَإِذْ فَعَلْتُمُ الَّذِي فَعَلْتُمْ فَكُونُوا أَكَفَّ النَّاسِ عَنْهُ. قَالَ [أَبُو سُفْيَانَ] [[زيادة من أ.]] بْنُ الْحَارِثِ: كُونُوا أَشَدَّ مَا كُنْتُمْ عَلَيْهِ، إِنَّ [[في ت: "فإن".]] ابْنِيْ قيلَةَ إِنْ ظفَرُوا بِكُمْ لَمْ يرْقُبوا فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً، وَإِنْ أَطَعْتُمُونِي أَلْجَأْتُمُوهُمْ خير كنابة، أو تخرجوا محمدًا مِنْ بَيْنِ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَيَكُونُ وَحِيدًا مَطْرُودًا، وَأَمَّا [ابْنَا قَيْلة فَوَاللَّهِ مَا هُمَا] [[زيادة من ت، أ.]] وَأَهْلُ [دَهْلَكٍ] [[زيادة من ت، أ.]] فِي الْمَذَلَّةِ إِلَّا سَوَاءً وَسَأَكْفِيكُمْ حَدَّهُمْ، وَقَالَ:
سَأمْنَحُ جَانبًا مِنِّي غَليظًا ... عَلَى مَا كَانَ مِنْ قُرب وَبُعْد ...
رجَالُ الخَزْرَجيَّة أهْلُ ذُل ... إِذَا مَا كَانَ هَزْل بَعْدَ جَدِّ ...
فَبَلَغَ ذَلِكَ رسولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْتُلَنَّهُمْ ولأصلبَنَّهم وَلَأَهْدِيَنَّهُمْ وَهُمْ كَارِهُونَ، إِنِّي رَحْمَةٌ بَعَثَنِي اللَّهُ، وَلَا يَتَوفَّاني حَتَّى يُظْهِرَ اللَّهُ دِينَهُ، لِي خَمْسَةُ أَسْمَاءٍ: أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحِي اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ" [[المعجم الكبير (٢/١٢٣) .]] .
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: أَرْجُو أَنْ يَكُونَ الْحَدِيثُ صَحِيحًا.
وَقَالَ الإمامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنِي عَمْرو بْنُ قَيس، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرّة الكِنْديّ قَالَ: كَانَ حُذيفةُ بِالْمَدَائِنِ، فَكَانَ يَذْكُرُ أَشْيَاءَ قَالَهَا رسولُ اللَّهِ ﷺ، فَجَاءَ حذيفةُ إِلَى سَلْمان فَقَالَ سَلْمَانُ: يَا حذيفةَ، أن رسولَ الله صلى الله عليه وسلم [كَانَ يَغْضَبُ فَيَقُولُ، وَيَرْضَى فَيَقُولُ: لَقَدْ عَلِمْتُ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم] [[زيادة من ت، أ، والمسند.]] خطَب فَقَالَ: "أَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي سَبَبتُه [سَبَّةً] [[زيادة من ت، أ، والمسند.]] فِي غَضَبي أَوْ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً، فَإِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ آدَمَ، أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُونَ، وَإِنَّمَا بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، فَاجْعَلْهَا صَلَاةً عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ زَائِدَةَ [[المسند (٥/٤٣٧) وسنن أبي داود برقم (٤٦٥٩) .]] .
فَإِنْ قِيلَ: فَأَيُّ رَحْمَةٍ حَصَلَتْ لِمَنْ كَفَر بِهِ؟ فَالْجَوَابُ ما رواه أبو جعفر بن جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: سَعِيدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَير، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾ قَالَ: مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، كُتِبَ لَهُ الرَّحْمَةُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ عُوِفي مِمَّا أَصَابَ الْأُمَمَ مِنَ الْخَسْفِ وَالْقَذْفِ [[تفسير الطبري (١٧/٨٣) .]] .
وَهَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، مِنْ حَدِيثِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنِ أَبِي سَعْدٍ -وَهُوَ سَعِيدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ الْبَقَّالُ-عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو القاسمُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ عَبْدَانَ بْنِ أَحْمَدَ، عَنْ عِيسَى بن يونس الرَمْلِي، عن أيوب ابن سُوَيد، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَير، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾ قَالَ: مَنْ تَبِعَهُ كَانَ لَهُ رَحْمَةً فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ لَمْ يَتْبَعْهُ عُوفِي مِمَّا كَانَ يُبْتَلَى بِهِ سَائِرُ الْأُمَمِ مِنَ الْخَسْفِ وَالْقَذْفِ [[المعجم الكبير (١٢/٢٣) .]] .
وَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ إِلَّا رَحْمَةًۭ لِّلْعَٰلَمِينَ
And We have not sent you, [O Muhammad], except as a mercy to the worlds.
اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام جہان کے لئے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے
ما تو را جز برای رحمت جهانیان نفرستادیم.
Tafsir Ibn Kathir
And indeed We have written in Az-Zabur after Adh-Dhikr that My righteous servants shall inherit the land (105)Verily, in this there is a plain Message for people who worship Allah (106)And We have sent you (O Muhammad ﷺ) not but as a mercy for the 'Alamin (107)
The Earth will be inherited by the Righteous
Allah tells us of His decree for His righteous servants who are the blessed in this world and in the Hereafter, those who will inherit the earth in this world and in the Hereafter. As Allah says:
إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ
(Verily, the earth is Allah's. He gives it as a heritage to whom He wills of His servants; and the (blessed) end is for those who have Taqwa.)(7:128)
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth.)[40:51]
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ
(Allah has promised those among you who believe and do righteous good deeds, that He will certainly grant them succession in the land, as He granted it to those before them, and that He will grant them the authority to practise their religion which He has chosen for them)(24:55). Allah tells us that this is recorded in the Books of Divine Laws and Decrees, and that it will inevitably come to pass. Allah says:
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ
(And indeed We have written in Az-Zabur after Adh-Dhikr)
Al-A'mash said: "I asked Sa'id bin Jubayr about the Ayah:
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ
(And indeed We have written in Az-Zabur after Adh-Dhikr). He said: 'Az-Zabur means the Tawrah, the Injil and the Qur'an.'" Mujahid said, "Az-Zabur means the Book." Ibn 'Abbas, Ash-Sha'bi, Al-Hasan, Qatadah and others said, "Az-Zabur is that which was revealed to Dawud, and Adh-Dhikr is the Tawrah." Mujahid said: "Az-Zabur means the Books which came after Adh-Dhikr, and Adh-Dhikr is the Mother of the Book (Umm Al-Kitab) which is with Allah." This was also the view of Zayd bin Aslam: "It is the First Book." Ath-Thawri said: "It is Al-Lawh Al-Mahfuz."
أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ
(that My righteous servants shall inherit the land.) Mujahid said, narrating from Ibn 'Abbas, "This means, the land of Paradise." This was also the view of Abu 'Aliyah, Mujahid, Sa'id bin Jubayr, Ash-Sha'bi, Qatadah, As-Suddi, Abu Salih, Ar-Rabi' bin Anas and Ath-Thawri (may Allah have mercy on them).
إِنَّ فِي هَٰذَا لَبَلَاغًا لِّقَوْمٍ عَابِدِينَ
(Verily, in this (the Qur'an) there is a plain Message for people who worship Allah.) means, 'in this Qur'an which We have revealed to Our servant Muhammad ﷺ, there is a plain Message which is beneficial and is sufficient for a people who worship Allah.' This refers to those who worship Allah in the manner which He has prescribed and which He loves and is pleased with, and they would rather obey Allah than follow the Shaytan or their own desires.
Muhammad (ﷺ) is a Mercy to the Worlds
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
(And We have sent you not but as a mercy for the 'Alamin.) Here Allah tells us that He has made Muhammad ﷺ a mercy to the 'Alamin, i.e., He sent him as a mercy for all of them [peoples], so whoever accepts this mercy and gives thanks for this blessing, will be happy in this world and in the Hereafter. But whoever rejects it and denies it, will lose out in this world and in the Hereafter, as Allah says:
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ - جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا ۖ وَبِئْسَ الْقَرَارُ
(Have you not seen those who have changed the blessings of Allah into disbelief, and caused their people to dwell in the house of destruction? Hell, in which they will burn, – and what an evil place to settle in!)(14:28-29) And Allah says, describing the Qur'an:
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ ۖ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى ۚ أُولَٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ
(Say: "It is for those who believe, a guide and a healing. And as for those who disbelieve, there is heaviness in their ears, and it is blindness for them. They are those who are called from a place far away.")(41:44)
Muslim reports in his Sahih: Ibn Abi 'Umar told us, Marwan Al-Fazari told us, from Yazid bin Kisan, from Ibn Abi Hazim that Abu Hurayrah said that it was said, "O Messenger of Allah, pray against the idolators." He said:
إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً
(I was not sent as a curse, rather I was sent as a mercy.) This was recorded by Muslim.
Imam Ahmad recorded that 'Amr bin Abi Qurrah Al-Kindi said: "Hudhayfah was in Al-Mada'in and he was mentioning things that the Messenger of Allah ﷺ had said. Hudhayfah came to Salman and Salman said: 'O Hudhayfah, the Messenger of Allah ﷺ [would sometimes be angry and would speak accordingly, and would sometimes be pleased and would speak accordingly. I know that the Messenger of Allah ﷺ] addressed us and said:
أَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي سَبَبْتُهُ (سَبَّةً) فِي غَضَبِي أَوْ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً، فَإِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ آدَمَ أَغْضَبُ كَمَا تَغْضَبُونَ، إِنَّمَا بَعَثَنِي اللهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ فَاجْعَلْهَا صَلَاةً عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
(Any man of my Ummah whom I have insulted or cursed when I was angry – for I am a man from among the sons of Adam, and I get angry just as you do. But Allah has sent me as a Mercy to the Worlds, so I will make that [my anger] into blessings for him on the Day of Resurrection.")
This was also recorded by Abu Dawud from Ahmad bin Yunus from Za'idah.
It may be asked: what kind of mercy do those who disbelieve in him get? The answer is what Abu Ja'far bin Jarir recorded from Ibn 'Abbas concerning the Ayah:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
(And We have sent you not but as a mercy for the 'Alamin.) He said, "Whoever believes in Allah and the Last Day, mercy will be decreed for him in this world and in the Hereafter; whoever does not believe in Allah and His Messenger, will be protected from that which happened to the nations of earthquakes and stoning."
Tafsir Ibn Kathir
سچافیصلہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جس طرح آخرت میں دے گا اسی طرح دنیا میں بھی انہیں ملک ومال دیتا ہے، یہ اللہ کا حتمی وعدہ اور سچا فیصلہ ہے۔ جیسے فرمان آیت (اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ01208) 7۔ الاعراف :128) زمین اللہ کی ہے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کار پرہیزگاروں کا حصہ ہے۔ اور فرمان ہے ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی دنیا میں اور آخرت میں مدد فرماتے ہیں اور فرمان ہے کہ تم میں سے ایمان داروں اور نیک لوگوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں غالب بنائے گا جیسے کہ ان سے اگلوں کو بنایا اور ان کے لئے ان کے دین کو قوی کردے گا جس سے وہ خوش ہے۔ اور فرمایا کہ یہ شرعیہ اور قدریہ کتابوں میں مرقوم ہے، یقینا ہو کر ہی رہے گا۔ زبور سے مراد بقول سعید بن جبیر ؒ تورات انجیل اور قرآن ہے۔ مجاہد کہتے ہیں زبور سے مراد کتاب ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ زبور اس کتاب کا نام ہے جو حضرت داؤد ؑ پر اتری تھی۔ ذکر سے مراد یہاں پر توراۃ ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ذکر سے مراد قرآن ہے سعید فرماتے ہیں ذکر وہ ہے جو آسمانوں میں ہے یعنی اللہ کے پاس کی ام الکتاب جو سب سے پہلی کتاب ہے یعنی لوح محفوظ۔ یہ بھی مروی ہے کہ زبور اور وہ آسمانی کتابیں جو پیغمبروں پر نازل ہوئیں اور ذکر مراد پہلی کتاب یعنی لوح محفوظ۔ فرماتے ہیں توراۃ زبور اور علم الٰہی میں پہلے ہی یہ فیصلہ ہوگیا تھا کہ امت محمد زمین کی بادشاہ بنے گی اور نیک ہو کر جنت میں جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین سے مراد جنت کی زمین۔ ابو درداء فرماتے ہیں صالح لوگ ہم ہی ہیں۔ مراد اس سے باایمان لوگ ہیں اس قرآن میں جو نبی آخرالزماں ﷺ پر اتارا گیا ہے پوری نصیحت و کفایت ہے ان کے لئے جو ہمارے عبادت گزار بندے ہیں۔ جو ہماری مانتے ہیں اپنی خواہش کو ہمارے نام پر قربان کردیتے ہیں پھر فرماتا کہ ہم نے اپنے اس نبی کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے پس اس نعمت کی شکر گزاری کرنے والا دنیاوآخرت میں شادماں ہے اور ناقدری کرنے والا دونوں جہاں میں برباد وناشاد ہے۔ جیسے ارشاد ہے کہ کیا تم نے انہیں دیکھا جنہوں نے نعمت ربانی کی ناشکری کی اور اپنی قوم کو غارت کردیا۔ اس قرآن کی نسبت فرمایا کہ یہ ایمان والوں کے لئے ہدایت وشفا ہے بےایمان بہرے اندھے ہیں صحیح مسلم میں ہے کہ ایک موقع پر اصحاب رسول ﷺ نے عرض کی کہ حضور ﷺ ان کافروں کے لئے بدعا کیجئے آپ نے فرمایا کہ میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اور حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں میں تو صرف رحمت و ہدایت ہوں۔ اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ مجھے ایک قوم کی ترقی اور دوسری کے تنزل کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ طبرانی میں ہے کہ اے قریشیو ! محمد یثرب میں چلا گیا ہے اپنے طلائیے کے لشکر ادھرادھر تمہاری جستجو میں بھیج رہا ہے۔ دیکھو ہوشیار رہنا وہ بھوکے شیر کی طرح تاک میں ہے وہ خار کھائے ہوئے ہے کیونکہ تم نے اسے نکال دیا ہے واللہ اس کے جادوگر بےمثال ہیں میں تو اسے یا اس کے ساتھیوں میں سے جس کسی کو دیکھتا ہوں تو مجھے ان کے ساتھ شیطان نظر آتے ہیں تم جانتے ہو کہ اوس اور خزرج ہمارے دشمن ہیں اس دشمن کو ان دشمنوں نے پناہ دی ہے اس پر مطعم بن عدی کہنے لگے ابو الحکم سنو تمہارے اس بھائی سے جسے تم نے اپنے ملک سے جلاوطن کردیا ہے میں نے کسی کو زیادہ سچا اور زیادہ وعدے کا پورا کرنے والا نہیں پایا اب جب کہ ایسے بھلے آدمی کے ساتھ تم یہ بدسلوکی کرچکے ہو تو اب تو اسے چھوڑو تمہیں چاہئے اس سے بالکل الگ تھلک رہو۔ اس پر ابو سفیان بن حارث کہنے لگا نہیں تمہیں اس پر پوری سختی کرنی چاہئے یاد رکھو اگر اس کے طرفدار تم پر غالب آگئے تو تم کہیں کے نہ رہوگے وہ رشتہ دیکھیں گے نہ کنبہ میری رائے میں تو تمہیں مدینے والوں کو تنگ کردینا چاہئے کہ یا تو وہ محمد کو نکال دیں اور وہ بیک بینی دوگوش تن تنہا رہ جائے یا ان مدینے والوں کا صفایا کردینا چاہیے اگر تم تیار ہوجاؤ تو میں مدینے کہ کونے کونے پر لشکر بٹھادوں گا اور انہیں ناکوں چنے چبوا دونگا۔ جب حضور ﷺ کو یہ باتیں پہنچیں تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم جس کہ ہاتھ میری جان ہے میں ہی انہیں قتل و غارت کروں گا اور قید کر کے پھر احسان کرکے چھوڑوں گا میں رحمت ہوں میرا بھیجنے والا اللہ ہے وہ مجھے اس دنیا سے نہ اٹھائے گا جب تک اپنے دین کو دنیا پر غالب نہ کردے۔ میرے پانچ نام ہیں محمد، احمد، ماحی، یعنی میری وجہ سے اللہ کفر کو مٹادے گا، حاشر اس لئے کہ لوگ میرے قدموں پر جمع کئے جائیں گے اور عاقب۔ مسند احمد میں ہے حضرت حذیفہ ؓ مدائن میں تھے بسا اوقات احادیث رسول کا مذاکرہ رہا کرتا تھا ایک دن حضرت حذیفہ ؓ حضرت سلمان کے پاس آئے تو حضرت سلمان ؓ نے فرمایا اے حذیفہ ایک دن رسول ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ جسے میں نے غصے میں برا بھلا کہہ دیا ہو یا اس پر لعنت کردی ہو تو سمجھ لو کہ میں بھی تم جیسا ایک انسان ہی ہوں تمہاری طرح مجھے بھی غصہ آجاتا ہے۔ ہاں البتہ میں چونکہ رحمتہ اللعالمین ہوں تو میری دعا ہے کہ اللہ میرے ان الفاظ کو بھی ان لوگوں کے لئے موجب رحمت بنادے۔ رہی یہ بات کہ کفار کے لئے آپ رحمت کیسے تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ابن جریر میں حضرت ابن عباس ؓ سے اسی آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ مؤمنوں کے لئے تو آپ دنیا وآخرت میں رحمت تھے اور غیر مؤمنوں کے لئے آپ دنیا میں رحمت تھے کہ وہ زمین میں دھنسائے جانے سے، آسمان سے پتھر برسائے جانے سے بچ گئے۔ جیسے کہ اگلی امتوں کے منکروں پر عذاب آئے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَمَّا حَتَّمَهُ وَقَضَاهُ لِعِبَادِهِ الصَّالِحِينَ، مِنَ السَّعَادَةِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَوِرَاثَةِ الْأَرْضِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِنَّ الأرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ﴾ [الْأَعْرَافِ:١٢٨] . وَقَالَ: ﴿إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الأشْهَادُ﴾ [غَافِرٍ:٥١] . وَقَالَ: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الأرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ [وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا] [[زيادة من ف، أ.]] ﴾ ،الْآيَةَ [النُّورِ:٥٥] .وَأَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّ هَذَا مَكْتُوبٌ مَسْطُورٌ فِي الْكُتُبِ الشَّرْعِيَّةِ وَالْقَدَرِيَّةِ فَهُوَ كَائِنٌ لَا مَحَالَةَ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ﴾ ، قَالَ الْأَعْمَشُ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَير عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ﴾ فَقَالَ الزَّبُورُ: التَّوْرَاةُ، وَالْإِنْجِيلُ، وَالْقُرْآنُ [[في أ: "الفرقان".]] .
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الزَّبُورُ: الْكِتَابُ.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَالشَّعْبِيُّ، وَالْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ: الزَّبُورُ: الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى دَاوُدَ، وَالذِّكْرُ: التَّوْرَاةُ، وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: الزَّبُورُ: الْقُرْآنُ.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَير: الذِّكْرُ: الَّذِي في السماء.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الزَّبُورُ: الكتبُ بَعْدَ الذِّكْرِ، وَالذِّكْرُ: أُمُّ الْكِتَابِ عِنْدَ اللَّهِ.
وَاخْتَارَ ذَلِكَ ابْنُ جَرِيرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ [[تفسير الطبري (١٧/٨١) .]] ، وَكَذَا قَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ: هُوَ الْكِتَابُ الْأَوَّلُ. وَقَالَ الثَّوْرِيُّ: هُوَ اللَّوْحُ الْمَحْفُوظُ. وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: الزَّبُورُ: الْكُتُبُ الَّتِي نَزَلَتْ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ، وَالذِّكْرُ: أُمُّ الْكِتَابِ الَّذِي [[في ت: "أم الكتاب والذي".]] يُكْتَبُ فِيهِ الْأَشْيَاءُ قَبْلَ ذَلِكَ.
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَخْبَرَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ [[في ف: "الله تعالى".]] فِي التَّوْرَاةِ وَالزَّبُورِ وَسَابِقِ عِلْمِهِ قَبْلَ أَنْ تكون السموات وَالْأَرْضُ، أَنْ يُورثَ أمةَ مُحَمَّدٍ ﷺ الْأَرْضَ وَيُدْخِلَهُمُ الْجَنَّةَ، وَهُمُ الصَّالِحُونَ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿أَنَّ الأرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ﴾ قَالَ: أَرْضُ الْجَنَّةِ. وَكَذَا قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ، وَمُجَاهِدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَير، وَالشَّعْبِيُّ، وَقَتَادَةُ، وَالسُّدِّيُّ، وَأَبُو صَالِحٍ، وَالرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ، وَالثَّوْرِيُّ [رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى] [[زيادة من ف، أ.]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿إِنَّ فِي هَذَا لَبَلاغًا لِقَوْمٍ عَابِدِينَ﴾ أَيْ: إِنَّ فِي هَذَا الْقُرْآنِ الَّذِي أَنْزَلْنَاهُ عَلَى عَبْدِنَا مُحَمَّدٍ ﷺ لبَلاغًا: لمَنْفعةَ وَكِفَايَةً لِقَوْمٍ عَابِدِينَ، وَهُمُ الَّذِينَ عَبَدُوا اللَّهَ بِمَا شَرَعَهُ وَأَحَبَّهُ وَرَضِيَهُ، وَآثَرُوا طَاعَةَ اللَّهِ عَلَى طَاعَةِ الشَّيْطَانِ وَشَهَوَاتِ أَنْفُسِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ [تَعَالَى] [[زيادة من ت، وفي ف، أ: "عز وجل".]] : ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾ : يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّ اللَّهَ جَعَل مُحَمَّدًا ﷺ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، أَيْ: أَرْسَلَهُ رَحْمَةً لَهُمْ كُلِّهِمْ، فَمَنْ قَبِل هَذِهِ الرحمةَ وشكَر هَذِهِ النعمةَ، سَعد فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ رَدّها وَجَحَدَهَا خَسِرَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ [[في ت، ف، أ: "فبئس".]] الْقَرَارُ﴾ [إِبْرَاهِيمَ: ٢٨، ٢٩] ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي صِفَةِ الْقُرْآنِ: ﴿قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَئِكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ﴾ [فُصِّلَتْ: ٤٤] .
وَقَالَ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الفَزَاريّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَان، عَنِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: "إِنِّي لَمْ أبعَثْ لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بُعثْتُ رَحْمَةً". انْفَرَدَ بِإِخْرَاجِهِ مُسْلِمٌ [[صحيح مسلم برقم (٢٥٥٩) .]] .
وَفِي الْحَدِيثِ الْآخَرِ: "إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي عَرَابَةَ، وَغَيْرُهُ، عَنْ وَكِيع، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا [[رواه أبو الحسن السكري في "الفوائد المنتقاة" (١٥٧/٢) . كما في السلسلة الصحيحة (١/٨٠٣) للألباني - حدثنا عبد الله بن محمد ابن أسد، حدثنا حاتم بن منصور الشاشي قال: حدثنا عبد الله بن أبي عرابة الشاشي به. ورواه غيره متصلا: فرواه عبد الله بن نصر الأصم عَنْ وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هريرة مرفوعا. خرجه ابن عدي في الكامل (٤/٢٣١) من طريق عمر بن سنان عن عبد الله بن نصر.
وقال: "هكذا حدثناه عمر بن سنان عن عبد الله بن نصر عن وكيع عن الأعمش، وهذا غير محفوظ عن وكيع عن الأعمش، إنما يرويه مالك بن سعيد عن الأعمش، وعبد الله بن نصر هذا له غير ما ذكرت مما أنكرت عليه".]] . قَالَ إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ: وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ وَكِيعٍ، فَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا هُرَيْرَةَ [[رواه ابن أبي شيبة في المصنف (١١/٥٠٤) عن وكيع مرسلا، ورواه ابن سعد في الطبقات (١/١٨٢) عن وكيع مرسلا، ورواه البيهقي في دلائل النبوة (١/١٥٧) من طريق إبراهيم بن عبد الله عن وكيع مرسلا.]] . وَكَذَا قَالَ الْبُخَارِيُّ، وَقَدْ سُئِلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: كَانَ عِنْدَ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ مُرْسَلًا.
قَالَ الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ: وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ سُعَير بْنِ الْخِمْس، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا [[ورواه البزار في مسنده برقم (٢٣٦٩) "كشف الأستار" والبيهقي في دلائل النبوة (١/١٥٨) من طريق زياد بن يحيى عن مالك بن سعيد به، وقال البزار: "لا نعلم أحدا وصله إلا مالك بن سعيد، وغيره يرسله".]] . ثُمَّ سَاقَهُ مِنْ طَرِيقِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُقْرِئِ وَأَبِي أَحْمَدَ الْحَاكِمِ، كِلَاهُمَا عَنْ بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الصُّوفِيِّ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، عَنِ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ [[في ت، أ: "حسن".]] بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ".
ثُمَّ أَوْرَدَهُ مِنْ طَرِيقِ الصَّلْت بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَر [[في أ: "عن شعبة".]] ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي رَحْمَةً مُهْدَاةً، بُعثْتُ بِرَفْعِ قَوْمٍ وَخَفْضِ آخَرِينَ" [[وذكره السيوطي في الجامع الصغير ورمز له الألباني بالضعف.]] .
قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانُ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: وَجَدْتُ كِتَابًا بِالْمَدِينَةِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، عَنِ ابْنِ [شِهَابٍ] [[زيادة من أ.]] عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَير بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ حِينَ قَدِمَ [مَكَّةَ] [[زيادة من أ.]] مُنْصَرَفَهُ عَنْ حَمْزَة: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، إِنَّ مُحَمَّدًا نَزَلَ يَثْرِبَ وَأَرْسَلَ طَلَائِعَهُ، وَإِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يُصِيبَ مِنْكُمْ شَيْئًا، فَاحْذَرُوا أَنْ تَمُرُّوا طريقَه أَوْ تُقَارِبُوهُ [[في ت: "أو تحاربوه".]] ، فَإِنَّهُ كَالْأَسَدِ الضَّارِي؛ إِنَّهُ حَنِق عَلَيْكُمْ؛ لِأَنَّكُمْ نَفَيْتُمُوهُ نَفْيَ القِرْدَان عَنِ الْمَنَاسِمِ [[في أ: "الناس".]] ، وَاللَّهِ إِنَّ لَهُ لَسحْرَةً، مَا رَأَيْتُهُ قَطُّ وَلَا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَّا رَأَيْتُ مَعَهُمُ الشَّيْطَانَ، وَإِنَّكُمْ قَدْ عَرَفْتُمْ عَدَاوَةَ ابْنَيْ قَيلَةَ -يَعْنِي: الْأَوْسَ وَالْخَزْرَجَ-لَهُوٌ عَدُوٌّ اسْتَعَانَ بِعَدُوٍّ، فَقَالَ لَهُ مُطْعِمُ بْنُ عُدَيٍّ: يَا أَبَا الْحَكَمِ، وَاللَّهِ مَا رأيتُ أَحَدًا أصدقَ لِسَانًا، وَلَا أَصْدَقَ مَوْعِدًا، مِنْ أَخِيكُمُ الَّذِي طَرَدْتُمْ، وَإِذْ فَعَلْتُمُ الَّذِي فَعَلْتُمْ فَكُونُوا أَكَفَّ النَّاسِ عَنْهُ. قَالَ [أَبُو سُفْيَانَ] [[زيادة من أ.]] بْنُ الْحَارِثِ: كُونُوا أَشَدَّ مَا كُنْتُمْ عَلَيْهِ، إِنَّ [[في ت: "فإن".]] ابْنِيْ قيلَةَ إِنْ ظفَرُوا بِكُمْ لَمْ يرْقُبوا فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً، وَإِنْ أَطَعْتُمُونِي أَلْجَأْتُمُوهُمْ خير كنابة، أو تخرجوا محمدًا مِنْ بَيْنِ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَيَكُونُ وَحِيدًا مَطْرُودًا، وَأَمَّا [ابْنَا قَيْلة فَوَاللَّهِ مَا هُمَا] [[زيادة من ت، أ.]] وَأَهْلُ [دَهْلَكٍ] [[زيادة من ت، أ.]] فِي الْمَذَلَّةِ إِلَّا سَوَاءً وَسَأَكْفِيكُمْ حَدَّهُمْ، وَقَالَ:
سَأمْنَحُ جَانبًا مِنِّي غَليظًا ... عَلَى مَا كَانَ مِنْ قُرب وَبُعْد ...
رجَالُ الخَزْرَجيَّة أهْلُ ذُل ... إِذَا مَا كَانَ هَزْل بَعْدَ جَدِّ ...
فَبَلَغَ ذَلِكَ رسولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْتُلَنَّهُمْ ولأصلبَنَّهم وَلَأَهْدِيَنَّهُمْ وَهُمْ كَارِهُونَ، إِنِّي رَحْمَةٌ بَعَثَنِي اللَّهُ، وَلَا يَتَوفَّاني حَتَّى يُظْهِرَ اللَّهُ دِينَهُ، لِي خَمْسَةُ أَسْمَاءٍ: أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحِي اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ" [[المعجم الكبير (٢/١٢٣) .]] .
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: أَرْجُو أَنْ يَكُونَ الْحَدِيثُ صَحِيحًا.
وَقَالَ الإمامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنِي عَمْرو بْنُ قَيس، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرّة الكِنْديّ قَالَ: كَانَ حُذيفةُ بِالْمَدَائِنِ، فَكَانَ يَذْكُرُ أَشْيَاءَ قَالَهَا رسولُ اللَّهِ ﷺ، فَجَاءَ حذيفةُ إِلَى سَلْمان فَقَالَ سَلْمَانُ: يَا حذيفةَ، أن رسولَ الله صلى الله عليه وسلم [كَانَ يَغْضَبُ فَيَقُولُ، وَيَرْضَى فَيَقُولُ: لَقَدْ عَلِمْتُ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم] [[زيادة من ت، أ، والمسند.]] خطَب فَقَالَ: "أَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي سَبَبتُه [سَبَّةً] [[زيادة من ت، أ، والمسند.]] فِي غَضَبي أَوْ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً، فَإِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ آدَمَ، أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُونَ، وَإِنَّمَا بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، فَاجْعَلْهَا صَلَاةً عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ زَائِدَةَ [[المسند (٥/٤٣٧) وسنن أبي داود برقم (٤٦٥٩) .]] .
فَإِنْ قِيلَ: فَأَيُّ رَحْمَةٍ حَصَلَتْ لِمَنْ كَفَر بِهِ؟ فَالْجَوَابُ ما رواه أبو جعفر بن جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: سَعِيدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَير، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾ قَالَ: مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، كُتِبَ لَهُ الرَّحْمَةُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ عُوِفي مِمَّا أَصَابَ الْأُمَمَ مِنَ الْخَسْفِ وَالْقَذْفِ [[تفسير الطبري (١٧/٨٣) .]] .
وَهَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، مِنْ حَدِيثِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنِ أَبِي سَعْدٍ -وَهُوَ سَعِيدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ الْبَقَّالُ-عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو القاسمُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ عَبْدَانَ بْنِ أَحْمَدَ، عَنْ عِيسَى بن يونس الرَمْلِي، عن أيوب ابن سُوَيد، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَير، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾ قَالَ: مَنْ تَبِعَهُ كَانَ لَهُ رَحْمَةً فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ لَمْ يَتْبَعْهُ عُوفِي مِمَّا كَانَ يُبْتَلَى بِهِ سَائِرُ الْأُمَمِ مِنَ الْخَسْفِ وَالْقَذْفِ [[المعجم الكبير (١٢/٢٣) .]] .
قُلْ إِنَّمَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ
Say, "It is only revealed to me that your god is but one God; so will you be Muslims [in submission to Him]?"
کہہ دو کہ مجھ پر (خدا کی طرف سے) یہ وحی آتی ہے کہ تم سب کا معبود خدائے واحد ہے۔ تو تم کو چاہیئے کہ فرمانبردار بن جاؤ
بگو: «تنها چیزی که به من وحی میشود این است که معبود شما خدای یگانه است؛ آیا (با این حال) تسلیم (حقّ) میشوید؟ (و بتها را کنار میگذارید؟)»
Tafsir Ibn Kathir
Say: "It is revealed to me that your God is only one God. Will you then be Muslims? (108)But if they turn away say: "I give you a notice to be known to us all alike. And I know not whether that which you are promised is near or far. (109)"Verily, He knows that which is spoken aloud and He knows that which you conceal. (110)"And I know not, perhaps it may be a trial for you, and an enjoyment for a while. (111)He said:"My Lord! Judge You in truth! Our Lord is the Most Gracious, Whose help is to be sought against that which you attribute! (112)
The main Objective of Revelation is that Allah be worshipped
Allah commands His Messenger ﷺ to say to the idoators:
إِنَّمَا يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ
("It is revealed to me that your God is only one God. Will you then be Muslims?") meaning, will you then follow that and submit to it?
فَإِن تَوَلَّوْا
(But if they turn away) means, if they ignore that to which you call them.
فَقُلْ آذَنتُكُمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ
(say: "I give you a notice to be known to us all alike...") meaning, 'I declare that I am in a state of war with you as you are in a state of war with me. I have nothing to do with you just as you have nothing to do with me.' This is like the Ayah:
وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ
(And if they belie you, say: "For me are my deeds and for you are your deeds! You are innocent of what I do, and I am innocent of what you do!")[10:41]
وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوْمٍ خِيَانَةً فَانبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ
(If you fear treachery from any people, throw back (their covenant) to them (so as to be) on equal terms (that there will be no more covenant between you and them))[8:58] which means: so that both you and they will know that the treaty is null and void. Similarly, Allah says here:
فَإِن تَوَلَّوْا فَقُلْ آذَنتُكُمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ
(But if they turn away say: "I give you a notice to be known to us all alike...") meaning, 'I have already informed you that I have nothing to do with you and you have nothing to do with me.'
No one knows when the Hour will come
وَإِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ أَم بَعِيدٌ مَّا تُوعَدُونَ
(And I know not whether that which you are promised (i.e., the Day of Resurrection) is near or far.) meaning: 'it will inevitably come to pass, but I have no knowledge of whether it is near or far.'
إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْتُمُونَ
(Verily, He (Allah) knows that which is spoken aloud (openly) and He knows that which you conceal.) Allah knows the Unseen in its entirety; He knows what His creatures do openly and what they do secretly. He knows what is visible and what is concealed; He knows what is secret and hidden. He knows what His creatures do openly and in secret, and He will requite them for that, for both minor and major actions.
وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ
(And I know not, perhaps it may be a trial for you, and an enjoyment for a while.) meaning, 'I do not know, perhaps it is a trial for you, and an enjoyment for a while.' Ibn Jarir said: 'perhaps that is being delayed for you as a test for you, and enjoyment for an allotted time.' This was narrated by 'Awn from Ibn 'Abbas. And Allah knows best.
قَالَ رَبِّ احْكُم بِالْحَقِّ
(He said: "My Lord! Judge You in truth!) means, judge between us and our people who disbelieve in the truth. Qatadah said: "The Prophets (peace be upon them) used to say:
رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ
("Our Lord! Judge between us and our people in truth, for You are the Best of those who give judgment.")[7:89], and the Messenger of Allah ﷺ was commanded to say this too."
It was reported from Malik from Zayd bin Aslam that when the Messenger of Allah ﷺ witnessed any fighting, he would say:
رَبِّ احْكُم بِالْحَقِّ
("My Lord! Judge You in truth!")
وَرَبُّنَا الرَّحْمَٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ
(Our Lord is the Most Gracious, Whose help is to be sought against that which you attribute!) means, 'against the various lies and fabrications that you utter, some of which are worse than others; Allah is the One Whose Help we seek against that.'
This is the end of the Tafsir of Surat Al-Anbiya'. To Allah be praise and blessings.
Tafsir Ibn Kathir
جلد یا بدیر حق غالب ہوگا اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ مشرکوں سے فرمادیں کہ میری جانب یہی وحی کی جاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے تم سب بھی اسے تسلیم کرلو۔ اور اگر تم میری بات پہ یقین نہیں کرتے تو ہم تم جدا ہیں تم ہمارے دشمن ہو ہم تمہارے۔ جیسے آیت میں ہے کہ اگر یہ جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرے لئے میرا عمل ہے اور تمہارے لئے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو اور میں تمہارے کرتوتوں سے بیزار ہوں۔ اور آیت میں ہے (وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاۗءٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاۗىِٕنِيْنَ 58) 8۔ الانفال :58) یعنی اگر تجھے کسی قوم سے خیانت و بدعہدی کا اندیشہ ہو تو عہد توڑ دینے کی انہیں فورا خبردے دو۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ اگر تم علیحدگی اختیار کرو تو ہمارے تمہارے تعلقات منقطع ہیں۔ یقین مانو کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ پورا ہونے والا تو ضرور ہے اب خواہ ابھی ہو خواہ دیر سے اس کا خود مجھے علم نہیں۔ ظاہرباطن کا عالم اللہ ہی ہے جو تم ظاہر کرو اور جو چھپاؤ اسے سب کا علم ہے۔ بندوں کے کل اعمال ظاہر اور پوشیدہ اس پر آشکارا ہیں۔ چھوٹا بڑا کھلا عمل چھپا سب کچھ وہ جانتا ہے۔ ممکن ہے اس کی تاخیر بھی تمہاری آزمائش ہو اور تمہیں تمہاری زندگانی تک نفع دینا ہو انبیاء (علیہم السلام) کو جو دعا تعلیم ہوئی تھی کہ اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں تو سچا فیصلہ کر اور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ حضور ﷺ کو بھی اسی قسم کی دعا کا حکم ہوا۔ حضور ﷺ جب کبھی کسی غزوے میں جاتے تو دعا کرتے کہ میرے رب تو سچا فیصلہ فرما۔ ہم اپنے مہربان رب سے ہی مدد طلب کرتے ہیں کہ وہ تمہارے جھوٹ افتراؤں کو ہم سے ٹالے اس میں ہمارا مددگار وہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى آمِرًا رَسُولَهُ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، أَنْ يَقُولَ لِلْمُشْرِكِينَ: ﴿إِنَّمَا يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَهَلْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ أَيْ: مُتَّبِعُونَ عَلَى ذَلِكَ، مُسْتَسْلِمُونَ مُنْقَادُونَ [[في ت: "متقاربين".]] لَهُ.
﴿فَإِنْ تَوَلَّوْا﴾ أَيْ: تَرَكُوا مَا دَعَوْتَهُمْ إِلَيْهِ، ﴿فَقُلْ آذَنْتُكُمْ عَلَى سَوَاءٍ﴾ أَيْ: أَعْلَمْتُكُمْ أَنِّي حَرْب لَكُمْ، كَمَا أَنَّكُمْ حَرْبٌ لِي، بَرِيءٌ مِنْكُمْ كَمَا أَنَّكُمْ بُرآء مِنِّي، كَقَوْلِهِ: ﴿وَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنْتُمْ بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ﴾ [يُونُسَ: ٤١] . وَقَالَ ﴿وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ﴾ [الْأَنْفَالِ: ٥٨] : لِيَكُنْ [[في ت: "لكن".]] عِلْمُكَ وَعِلْمُهُمْ بِنَبْذِ الْعُهُودِ عَلَى السَّوَاءِ، وَهَكَذَا هَاهُنَا، ﴿فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ آذَنْتُكُمْ عَلَى سَوَاءٍ﴾ أَيْ: أَعْلَمْتُكُمْ بِبَرَاءَتِي مِنْكُمْ، وَبَرَاءَتِكُمْ مِنِّي؛ لِعِلْمِي بِذَلِكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ أَمْ بَعِيدٌ مَا تُوعَدُونَ﴾ أَيْ: هُوَ وَاقِعٌ لَا مَحَالَةَ، وَلَكِنْ لَا عِلْمَ لِي بِقُرْبِهِ وَلَا بِبُعْدِهِ، ﴿إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْتُمُونَ﴾ أَيْ: إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ الْغَيْبَ جميعَه، وَيَعْلَمُ مَا يُظْهِرُهُ الْعِبَادُ وَمَا يُسِرُّونَ، يَعْلَمُ الظَّوَاهِرَ وَالضَّمَائِرَ، وَيَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى، وَيَعْلَمُ مَا الْعِبَادُ عَامِلُونَ فِي أَجْهَارِهِمْ وَأَسْرَارِهِمْ، وَسَيَجْزِيهِمْ عَلَى ذَلِكَ، عَلَى الْقَلِيلِ وَالْجَلِيلِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ﴾ أَيْ: وَمَا أَدْرِي لَعَلَّ هَذَا فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: لَعَلَّ تَأْخِيرَ ذَلِكَ [[في أ: "هذا".]] عَنْكُمْ فِتْنَةٌ لَكُمْ، وَمَتَاعٌ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى [[تفسير الطبري (١٧/٨٤) .]] . وَحَكَاهُ عَوْنٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
﴿قَالَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ﴾ أَيِ: افْصِلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا الْمُكَذِّبِينَ بِالْحَقِّ.
قَالَ قَتَادَةُ: كَانَ الْأَنْبِيَاءُ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، يَقُولُونَ: ﴿رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٨٩] ، وَأَمَرَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَقُولَ ذَلِكَ.
وَعَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا شَهِدَ قِتَالًا قَالَ: ﴿رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَرَبُّنَا الرَّحْمَنُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ﴾ أَيْ: عَلَى مَا يَقُولُونَ وَيَفْتَرُونَ مِنَ الْكَذِبِ، وَيَتَنَوَّعُونَ فِي مَقَامَاتِ التَّكْذِيبِ والإفك، والله المستعان عليكم في ذلك [[وقع في ت: "آخر تفسير "سورة الأنبياء" عليهم السلام، ولله الحمد والمنة، عفا الله لمن نظر فيه ولكاتبه وللمسلمين أجمعين".]] .
فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقُلْ ءَاذَنتُكُمْ عَلَىٰ سَوَآءٍۢ ۖ وَإِنْ أَدْرِىٓ أَقَرِيبٌ أَم بَعِيدٌۭ مَّا تُوعَدُونَ
But if they turn away, then say, "I have announced to [all of] you equally. And I know not whether near or far is that which you are promised.
اگر یہ لوگ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ میں نے تم کو سب کو یکساں (احکام الہیٰ سے) آگاہ کردیا ہے۔ اور مجھ کو معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ (عن) قریب (آنے والی) ہے یا (اس کا وقت) دور ہے
اگر باز (روی گردان شوند، بگو: «من به همه شما یکسان اعلام خطر میکنم؛ و نمیدانم آیا وعده (عذاب خدا) که به شما داده میشود نزدیک است یا دور!
Tafsir Ibn Kathir
Say: "It is revealed to me that your God is only one God. Will you then be Muslims? (108)But if they turn away say: "I give you a notice to be known to us all alike. And I know not whether that which you are promised is near or far. (109)"Verily, He knows that which is spoken aloud and He knows that which you conceal. (110)"And I know not, perhaps it may be a trial for you, and an enjoyment for a while. (111)He said:"My Lord! Judge You in truth! Our Lord is the Most Gracious, Whose help is to be sought against that which you attribute! (112)
The main Objective of Revelation is that Allah be worshipped
Allah commands His Messenger ﷺ to say to the idoators:
إِنَّمَا يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ
("It is revealed to me that your God is only one God. Will you then be Muslims?") meaning, will you then follow that and submit to it?
فَإِن تَوَلَّوْا
(But if they turn away) means, if they ignore that to which you call them.
فَقُلْ آذَنتُكُمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ
(say: "I give you a notice to be known to us all alike...") meaning, 'I declare that I am in a state of war with you as you are in a state of war with me. I have nothing to do with you just as you have nothing to do with me.' This is like the Ayah:
وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ
(And if they belie you, say: "For me are my deeds and for you are your deeds! You are innocent of what I do, and I am innocent of what you do!")[10:41]
وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوْمٍ خِيَانَةً فَانبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ
(If you fear treachery from any people, throw back (their covenant) to them (so as to be) on equal terms (that there will be no more covenant between you and them))[8:58] which means: so that both you and they will know that the treaty is null and void. Similarly, Allah says here:
فَإِن تَوَلَّوْا فَقُلْ آذَنتُكُمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ
(But if they turn away say: "I give you a notice to be known to us all alike...") meaning, 'I have already informed you that I have nothing to do with you and you have nothing to do with me.'
No one knows when the Hour will come
وَإِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ أَم بَعِيدٌ مَّا تُوعَدُونَ
(And I know not whether that which you are promised (i.e., the Day of Resurrection) is near or far.) meaning: 'it will inevitably come to pass, but I have no knowledge of whether it is near or far.'
إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْتُمُونَ
(Verily, He (Allah) knows that which is spoken aloud (openly) and He knows that which you conceal.) Allah knows the Unseen in its entirety; He knows what His creatures do openly and what they do secretly. He knows what is visible and what is concealed; He knows what is secret and hidden. He knows what His creatures do openly and in secret, and He will requite them for that, for both minor and major actions.
وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ
(And I know not, perhaps it may be a trial for you, and an enjoyment for a while.) meaning, 'I do not know, perhaps it is a trial for you, and an enjoyment for a while.' Ibn Jarir said: 'perhaps that is being delayed for you as a test for you, and enjoyment for an allotted time.' This was narrated by 'Awn from Ibn 'Abbas. And Allah knows best.
قَالَ رَبِّ احْكُم بِالْحَقِّ
(He said: "My Lord! Judge You in truth!) means, judge between us and our people who disbelieve in the truth. Qatadah said: "The Prophets (peace be upon them) used to say:
رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ
("Our Lord! Judge between us and our people in truth, for You are the Best of those who give judgment.")[7:89], and the Messenger of Allah ﷺ was commanded to say this too."
It was reported from Malik from Zayd bin Aslam that when the Messenger of Allah ﷺ witnessed any fighting, he would say:
رَبِّ احْكُم بِالْحَقِّ
("My Lord! Judge You in truth!")
وَرَبُّنَا الرَّحْمَٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ
(Our Lord is the Most Gracious, Whose help is to be sought against that which you attribute!) means, 'against the various lies and fabrications that you utter, some of which are worse than others; Allah is the One Whose Help we seek against that.'
This is the end of the Tafsir of Surat Al-Anbiya'. To Allah be praise and blessings.
Tafsir Ibn Kathir
جلد یا بدیر حق غالب ہوگا اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ مشرکوں سے فرمادیں کہ میری جانب یہی وحی کی جاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے تم سب بھی اسے تسلیم کرلو۔ اور اگر تم میری بات پہ یقین نہیں کرتے تو ہم تم جدا ہیں تم ہمارے دشمن ہو ہم تمہارے۔ جیسے آیت میں ہے کہ اگر یہ جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرے لئے میرا عمل ہے اور تمہارے لئے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو اور میں تمہارے کرتوتوں سے بیزار ہوں۔ اور آیت میں ہے (وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاۗءٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاۗىِٕنِيْنَ 58) 8۔ الانفال :58) یعنی اگر تجھے کسی قوم سے خیانت و بدعہدی کا اندیشہ ہو تو عہد توڑ دینے کی انہیں فورا خبردے دو۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ اگر تم علیحدگی اختیار کرو تو ہمارے تمہارے تعلقات منقطع ہیں۔ یقین مانو کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ پورا ہونے والا تو ضرور ہے اب خواہ ابھی ہو خواہ دیر سے اس کا خود مجھے علم نہیں۔ ظاہرباطن کا عالم اللہ ہی ہے جو تم ظاہر کرو اور جو چھپاؤ اسے سب کا علم ہے۔ بندوں کے کل اعمال ظاہر اور پوشیدہ اس پر آشکارا ہیں۔ چھوٹا بڑا کھلا عمل چھپا سب کچھ وہ جانتا ہے۔ ممکن ہے اس کی تاخیر بھی تمہاری آزمائش ہو اور تمہیں تمہاری زندگانی تک نفع دینا ہو انبیاء (علیہم السلام) کو جو دعا تعلیم ہوئی تھی کہ اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں تو سچا فیصلہ کر اور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ حضور ﷺ کو بھی اسی قسم کی دعا کا حکم ہوا۔ حضور ﷺ جب کبھی کسی غزوے میں جاتے تو دعا کرتے کہ میرے رب تو سچا فیصلہ فرما۔ ہم اپنے مہربان رب سے ہی مدد طلب کرتے ہیں کہ وہ تمہارے جھوٹ افتراؤں کو ہم سے ٹالے اس میں ہمارا مددگار وہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى آمِرًا رَسُولَهُ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، أَنْ يَقُولَ لِلْمُشْرِكِينَ: ﴿إِنَّمَا يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَهَلْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ أَيْ: مُتَّبِعُونَ عَلَى ذَلِكَ، مُسْتَسْلِمُونَ مُنْقَادُونَ [[في ت: "متقاربين".]] لَهُ.
﴿فَإِنْ تَوَلَّوْا﴾ أَيْ: تَرَكُوا مَا دَعَوْتَهُمْ إِلَيْهِ، ﴿فَقُلْ آذَنْتُكُمْ عَلَى سَوَاءٍ﴾ أَيْ: أَعْلَمْتُكُمْ أَنِّي حَرْب لَكُمْ، كَمَا أَنَّكُمْ حَرْبٌ لِي، بَرِيءٌ مِنْكُمْ كَمَا أَنَّكُمْ بُرآء مِنِّي، كَقَوْلِهِ: ﴿وَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنْتُمْ بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ﴾ [يُونُسَ: ٤١] . وَقَالَ ﴿وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ﴾ [الْأَنْفَالِ: ٥٨] : لِيَكُنْ [[في ت: "لكن".]] عِلْمُكَ وَعِلْمُهُمْ بِنَبْذِ الْعُهُودِ عَلَى السَّوَاءِ، وَهَكَذَا هَاهُنَا، ﴿فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ آذَنْتُكُمْ عَلَى سَوَاءٍ﴾ أَيْ: أَعْلَمْتُكُمْ بِبَرَاءَتِي مِنْكُمْ، وَبَرَاءَتِكُمْ مِنِّي؛ لِعِلْمِي بِذَلِكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ أَمْ بَعِيدٌ مَا تُوعَدُونَ﴾ أَيْ: هُوَ وَاقِعٌ لَا مَحَالَةَ، وَلَكِنْ لَا عِلْمَ لِي بِقُرْبِهِ وَلَا بِبُعْدِهِ، ﴿إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْتُمُونَ﴾ أَيْ: إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ الْغَيْبَ جميعَه، وَيَعْلَمُ مَا يُظْهِرُهُ الْعِبَادُ وَمَا يُسِرُّونَ، يَعْلَمُ الظَّوَاهِرَ وَالضَّمَائِرَ، وَيَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى، وَيَعْلَمُ مَا الْعِبَادُ عَامِلُونَ فِي أَجْهَارِهِمْ وَأَسْرَارِهِمْ، وَسَيَجْزِيهِمْ عَلَى ذَلِكَ، عَلَى الْقَلِيلِ وَالْجَلِيلِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ﴾ أَيْ: وَمَا أَدْرِي لَعَلَّ هَذَا فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: لَعَلَّ تَأْخِيرَ ذَلِكَ [[في أ: "هذا".]] عَنْكُمْ فِتْنَةٌ لَكُمْ، وَمَتَاعٌ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى [[تفسير الطبري (١٧/٨٤) .]] . وَحَكَاهُ عَوْنٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
﴿قَالَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ﴾ أَيِ: افْصِلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا الْمُكَذِّبِينَ بِالْحَقِّ.
قَالَ قَتَادَةُ: كَانَ الْأَنْبِيَاءُ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، يَقُولُونَ: ﴿رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٨٩] ، وَأَمَرَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَقُولَ ذَلِكَ.
وَعَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا شَهِدَ قِتَالًا قَالَ: ﴿رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَرَبُّنَا الرَّحْمَنُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ﴾ أَيْ: عَلَى مَا يَقُولُونَ وَيَفْتَرُونَ مِنَ الْكَذِبِ، وَيَتَنَوَّعُونَ فِي مَقَامَاتِ التَّكْذِيبِ والإفك، والله المستعان عليكم في ذلك [[وقع في ت: "آخر تفسير "سورة الأنبياء" عليهم السلام، ولله الحمد والمنة، عفا الله لمن نظر فيه ولكاتبه وللمسلمين أجمعين".]] .
إِنَّهُۥ يَعْلَمُ ٱلْجَهْرَ مِنَ ٱلْقَوْلِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْتُمُونَ
Indeed, He knows what is declared of speech, and He knows what you conceal.
اور جو بات پکار کی جائے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو تم پوشیدہ کرتے ہو اس سے بھی واقف ہے
او سخنان آشکار را میداند، و آنچه را کتمان میکنید (نیز) میداند (و چیزی بر او پوشیده نیست)!
Tafsir Ibn Kathir
Say: "It is revealed to me that your God is only one God. Will you then be Muslims? (108)But if they turn away say: "I give you a notice to be known to us all alike. And I know not whether that which you are promised is near or far. (109)"Verily, He knows that which is spoken aloud and He knows that which you conceal. (110)"And I know not, perhaps it may be a trial for you, and an enjoyment for a while. (111)He said:"My Lord! Judge You in truth! Our Lord is the Most Gracious, Whose help is to be sought against that which you attribute! (112)
The main Objective of Revelation is that Allah be worshipped
Allah commands His Messenger ﷺ to say to the idoators:
إِنَّمَا يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ
("It is revealed to me that your God is only one God. Will you then be Muslims?") meaning, will you then follow that and submit to it?
فَإِن تَوَلَّوْا
(But if they turn away) means, if they ignore that to which you call them.
فَقُلْ آذَنتُكُمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ
(say: "I give you a notice to be known to us all alike...") meaning, 'I declare that I am in a state of war with you as you are in a state of war with me. I have nothing to do with you just as you have nothing to do with me.' This is like the Ayah:
وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ
(And if they belie you, say: "For me are my deeds and for you are your deeds! You are innocent of what I do, and I am innocent of what you do!")[10:41]
وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوْمٍ خِيَانَةً فَانبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ
(If you fear treachery from any people, throw back (their covenant) to them (so as to be) on equal terms (that there will be no more covenant between you and them))[8:58] which means: so that both you and they will know that the treaty is null and void. Similarly, Allah says here:
فَإِن تَوَلَّوْا فَقُلْ آذَنتُكُمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ
(But if they turn away say: "I give you a notice to be known to us all alike...") meaning, 'I have already informed you that I have nothing to do with you and you have nothing to do with me.'
No one knows when the Hour will come
وَإِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ أَم بَعِيدٌ مَّا تُوعَدُونَ
(And I know not whether that which you are promised (i.e., the Day of Resurrection) is near or far.) meaning: 'it will inevitably come to pass, but I have no knowledge of whether it is near or far.'
إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْتُمُونَ
(Verily, He (Allah) knows that which is spoken aloud (openly) and He knows that which you conceal.) Allah knows the Unseen in its entirety; He knows what His creatures do openly and what they do secretly. He knows what is visible and what is concealed; He knows what is secret and hidden. He knows what His creatures do openly and in secret, and He will requite them for that, for both minor and major actions.
وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ
(And I know not, perhaps it may be a trial for you, and an enjoyment for a while.) meaning, 'I do not know, perhaps it is a trial for you, and an enjoyment for a while.' Ibn Jarir said: 'perhaps that is being delayed for you as a test for you, and enjoyment for an allotted time.' This was narrated by 'Awn from Ibn 'Abbas. And Allah knows best.
قَالَ رَبِّ احْكُم بِالْحَقِّ
(He said: "My Lord! Judge You in truth!) means, judge between us and our people who disbelieve in the truth. Qatadah said: "The Prophets (peace be upon them) used to say:
رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ
("Our Lord! Judge between us and our people in truth, for You are the Best of those who give judgment.")[7:89], and the Messenger of Allah ﷺ was commanded to say this too."
It was reported from Malik from Zayd bin Aslam that when the Messenger of Allah ﷺ witnessed any fighting, he would say:
رَبِّ احْكُم بِالْحَقِّ
("My Lord! Judge You in truth!")
وَرَبُّنَا الرَّحْمَٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ
(Our Lord is the Most Gracious, Whose help is to be sought against that which you attribute!) means, 'against the various lies and fabrications that you utter, some of which are worse than others; Allah is the One Whose Help we seek against that.'
This is the end of the Tafsir of Surat Al-Anbiya'. To Allah be praise and blessings.
Tafsir Ibn Kathir
جلد یا بدیر حق غالب ہوگا اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ مشرکوں سے فرمادیں کہ میری جانب یہی وحی کی جاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے تم سب بھی اسے تسلیم کرلو۔ اور اگر تم میری بات پہ یقین نہیں کرتے تو ہم تم جدا ہیں تم ہمارے دشمن ہو ہم تمہارے۔ جیسے آیت میں ہے کہ اگر یہ جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرے لئے میرا عمل ہے اور تمہارے لئے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو اور میں تمہارے کرتوتوں سے بیزار ہوں۔ اور آیت میں ہے (وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاۗءٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاۗىِٕنِيْنَ 58) 8۔ الانفال :58) یعنی اگر تجھے کسی قوم سے خیانت و بدعہدی کا اندیشہ ہو تو عہد توڑ دینے کی انہیں فورا خبردے دو۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ اگر تم علیحدگی اختیار کرو تو ہمارے تمہارے تعلقات منقطع ہیں۔ یقین مانو کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ پورا ہونے والا تو ضرور ہے اب خواہ ابھی ہو خواہ دیر سے اس کا خود مجھے علم نہیں۔ ظاہرباطن کا عالم اللہ ہی ہے جو تم ظاہر کرو اور جو چھپاؤ اسے سب کا علم ہے۔ بندوں کے کل اعمال ظاہر اور پوشیدہ اس پر آشکارا ہیں۔ چھوٹا بڑا کھلا عمل چھپا سب کچھ وہ جانتا ہے۔ ممکن ہے اس کی تاخیر بھی تمہاری آزمائش ہو اور تمہیں تمہاری زندگانی تک نفع دینا ہو انبیاء (علیہم السلام) کو جو دعا تعلیم ہوئی تھی کہ اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں تو سچا فیصلہ کر اور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ حضور ﷺ کو بھی اسی قسم کی دعا کا حکم ہوا۔ حضور ﷺ جب کبھی کسی غزوے میں جاتے تو دعا کرتے کہ میرے رب تو سچا فیصلہ فرما۔ ہم اپنے مہربان رب سے ہی مدد طلب کرتے ہیں کہ وہ تمہارے جھوٹ افتراؤں کو ہم سے ٹالے اس میں ہمارا مددگار وہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى آمِرًا رَسُولَهُ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، أَنْ يَقُولَ لِلْمُشْرِكِينَ: ﴿إِنَّمَا يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَهَلْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ أَيْ: مُتَّبِعُونَ عَلَى ذَلِكَ، مُسْتَسْلِمُونَ مُنْقَادُونَ [[في ت: "متقاربين".]] لَهُ.
﴿فَإِنْ تَوَلَّوْا﴾ أَيْ: تَرَكُوا مَا دَعَوْتَهُمْ إِلَيْهِ، ﴿فَقُلْ آذَنْتُكُمْ عَلَى سَوَاءٍ﴾ أَيْ: أَعْلَمْتُكُمْ أَنِّي حَرْب لَكُمْ، كَمَا أَنَّكُمْ حَرْبٌ لِي، بَرِيءٌ مِنْكُمْ كَمَا أَنَّكُمْ بُرآء مِنِّي، كَقَوْلِهِ: ﴿وَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنْتُمْ بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ﴾ [يُونُسَ: ٤١] . وَقَالَ ﴿وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ﴾ [الْأَنْفَالِ: ٥٨] : لِيَكُنْ [[في ت: "لكن".]] عِلْمُكَ وَعِلْمُهُمْ بِنَبْذِ الْعُهُودِ عَلَى السَّوَاءِ، وَهَكَذَا هَاهُنَا، ﴿فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ آذَنْتُكُمْ عَلَى سَوَاءٍ﴾ أَيْ: أَعْلَمْتُكُمْ بِبَرَاءَتِي مِنْكُمْ، وَبَرَاءَتِكُمْ مِنِّي؛ لِعِلْمِي بِذَلِكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ أَمْ بَعِيدٌ مَا تُوعَدُونَ﴾ أَيْ: هُوَ وَاقِعٌ لَا مَحَالَةَ، وَلَكِنْ لَا عِلْمَ لِي بِقُرْبِهِ وَلَا بِبُعْدِهِ، ﴿إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْتُمُونَ﴾ أَيْ: إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ الْغَيْبَ جميعَه، وَيَعْلَمُ مَا يُظْهِرُهُ الْعِبَادُ وَمَا يُسِرُّونَ، يَعْلَمُ الظَّوَاهِرَ وَالضَّمَائِرَ، وَيَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى، وَيَعْلَمُ مَا الْعِبَادُ عَامِلُونَ فِي أَجْهَارِهِمْ وَأَسْرَارِهِمْ، وَسَيَجْزِيهِمْ عَلَى ذَلِكَ، عَلَى الْقَلِيلِ وَالْجَلِيلِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ﴾ أَيْ: وَمَا أَدْرِي لَعَلَّ هَذَا فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: لَعَلَّ تَأْخِيرَ ذَلِكَ [[في أ: "هذا".]] عَنْكُمْ فِتْنَةٌ لَكُمْ، وَمَتَاعٌ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى [[تفسير الطبري (١٧/٨٤) .]] . وَحَكَاهُ عَوْنٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
﴿قَالَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ﴾ أَيِ: افْصِلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا الْمُكَذِّبِينَ بِالْحَقِّ.
قَالَ قَتَادَةُ: كَانَ الْأَنْبِيَاءُ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، يَقُولُونَ: ﴿رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٨٩] ، وَأَمَرَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَقُولَ ذَلِكَ.
وَعَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا شَهِدَ قِتَالًا قَالَ: ﴿رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَرَبُّنَا الرَّحْمَنُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ﴾ أَيْ: عَلَى مَا يَقُولُونَ وَيَفْتَرُونَ مِنَ الْكَذِبِ، وَيَتَنَوَّعُونَ فِي مَقَامَاتِ التَّكْذِيبِ والإفك، والله المستعان عليكم في ذلك [[وقع في ت: "آخر تفسير "سورة الأنبياء" عليهم السلام، ولله الحمد والمنة، عفا الله لمن نظر فيه ولكاتبه وللمسلمين أجمعين".]] .
وَإِنْ أَدْرِى لَعَلَّهُۥ فِتْنَةٌۭ لَّكُمْ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينٍۢ
And I know not; perhaps it is a trial for you and enjoyment for a time."
اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایک مدت تک (تم اس سے) فائدہ (اٹھاتے رہو)
و من نمیدانم شاید این آزمایشی برای شماست؛ و مایه بهرهگیری تا مدّتی (معیّن)!
Tafsir Ibn Kathir
Say: "It is revealed to me that your God is only one God. Will you then be Muslims? (108)But if they turn away say: "I give you a notice to be known to us all alike. And I know not whether that which you are promised is near or far. (109)"Verily, He knows that which is spoken aloud and He knows that which you conceal. (110)"And I know not, perhaps it may be a trial for you, and an enjoyment for a while. (111)He said:"My Lord! Judge You in truth! Our Lord is the Most Gracious, Whose help is to be sought against that which you attribute! (112)
The main Objective of Revelation is that Allah be worshipped
Allah commands His Messenger ﷺ to say to the idoators:
إِنَّمَا يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ
("It is revealed to me that your God is only one God. Will you then be Muslims?") meaning, will you then follow that and submit to it?
فَإِن تَوَلَّوْا
(But if they turn away) means, if they ignore that to which you call them.
فَقُلْ آذَنتُكُمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ
(say: "I give you a notice to be known to us all alike...") meaning, 'I declare that I am in a state of war with you as you are in a state of war with me. I have nothing to do with you just as you have nothing to do with me.' This is like the Ayah:
وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ
(And if they belie you, say: "For me are my deeds and for you are your deeds! You are innocent of what I do, and I am innocent of what you do!")[10:41]
وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوْمٍ خِيَانَةً فَانبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ
(If you fear treachery from any people, throw back (their covenant) to them (so as to be) on equal terms (that there will be no more covenant between you and them))[8:58] which means: so that both you and they will know that the treaty is null and void. Similarly, Allah says here:
فَإِن تَوَلَّوْا فَقُلْ آذَنتُكُمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ
(But if they turn away say: "I give you a notice to be known to us all alike...") meaning, 'I have already informed you that I have nothing to do with you and you have nothing to do with me.'
No one knows when the Hour will come
وَإِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ أَم بَعِيدٌ مَّا تُوعَدُونَ
(And I know not whether that which you are promised (i.e., the Day of Resurrection) is near or far.) meaning: 'it will inevitably come to pass, but I have no knowledge of whether it is near or far.'
إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْتُمُونَ
(Verily, He (Allah) knows that which is spoken aloud (openly) and He knows that which you conceal.) Allah knows the Unseen in its entirety; He knows what His creatures do openly and what they do secretly. He knows what is visible and what is concealed; He knows what is secret and hidden. He knows what His creatures do openly and in secret, and He will requite them for that, for both minor and major actions.
وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ
(And I know not, perhaps it may be a trial for you, and an enjoyment for a while.) meaning, 'I do not know, perhaps it is a trial for you, and an enjoyment for a while.' Ibn Jarir said: 'perhaps that is being delayed for you as a test for you, and enjoyment for an allotted time.' This was narrated by 'Awn from Ibn 'Abbas. And Allah knows best.
قَالَ رَبِّ احْكُم بِالْحَقِّ
(He said: "My Lord! Judge You in truth!) means, judge between us and our people who disbelieve in the truth. Qatadah said: "The Prophets (peace be upon them) used to say:
رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ
("Our Lord! Judge between us and our people in truth, for You are the Best of those who give judgment.")[7:89], and the Messenger of Allah ﷺ was commanded to say this too."
It was reported from Malik from Zayd bin Aslam that when the Messenger of Allah ﷺ witnessed any fighting, he would say:
رَبِّ احْكُم بِالْحَقِّ
("My Lord! Judge You in truth!")
وَرَبُّنَا الرَّحْمَٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ
(Our Lord is the Most Gracious, Whose help is to be sought against that which you attribute!) means, 'against the various lies and fabrications that you utter, some of which are worse than others; Allah is the One Whose Help we seek against that.'
This is the end of the Tafsir of Surat Al-Anbiya'. To Allah be praise and blessings.
Tafsir Ibn Kathir
جلد یا بدیر حق غالب ہوگا اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ مشرکوں سے فرمادیں کہ میری جانب یہی وحی کی جاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے تم سب بھی اسے تسلیم کرلو۔ اور اگر تم میری بات پہ یقین نہیں کرتے تو ہم تم جدا ہیں تم ہمارے دشمن ہو ہم تمہارے۔ جیسے آیت میں ہے کہ اگر یہ جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرے لئے میرا عمل ہے اور تمہارے لئے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو اور میں تمہارے کرتوتوں سے بیزار ہوں۔ اور آیت میں ہے (وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاۗءٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاۗىِٕنِيْنَ 58) 8۔ الانفال :58) یعنی اگر تجھے کسی قوم سے خیانت و بدعہدی کا اندیشہ ہو تو عہد توڑ دینے کی انہیں فورا خبردے دو۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ اگر تم علیحدگی اختیار کرو تو ہمارے تمہارے تعلقات منقطع ہیں۔ یقین مانو کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ پورا ہونے والا تو ضرور ہے اب خواہ ابھی ہو خواہ دیر سے اس کا خود مجھے علم نہیں۔ ظاہرباطن کا عالم اللہ ہی ہے جو تم ظاہر کرو اور جو چھپاؤ اسے سب کا علم ہے۔ بندوں کے کل اعمال ظاہر اور پوشیدہ اس پر آشکارا ہیں۔ چھوٹا بڑا کھلا عمل چھپا سب کچھ وہ جانتا ہے۔ ممکن ہے اس کی تاخیر بھی تمہاری آزمائش ہو اور تمہیں تمہاری زندگانی تک نفع دینا ہو انبیاء (علیہم السلام) کو جو دعا تعلیم ہوئی تھی کہ اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں تو سچا فیصلہ کر اور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ حضور ﷺ کو بھی اسی قسم کی دعا کا حکم ہوا۔ حضور ﷺ جب کبھی کسی غزوے میں جاتے تو دعا کرتے کہ میرے رب تو سچا فیصلہ فرما۔ ہم اپنے مہربان رب سے ہی مدد طلب کرتے ہیں کہ وہ تمہارے جھوٹ افتراؤں کو ہم سے ٹالے اس میں ہمارا مددگار وہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى آمِرًا رَسُولَهُ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، أَنْ يَقُولَ لِلْمُشْرِكِينَ: ﴿إِنَّمَا يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَهَلْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ أَيْ: مُتَّبِعُونَ عَلَى ذَلِكَ، مُسْتَسْلِمُونَ مُنْقَادُونَ [[في ت: "متقاربين".]] لَهُ.
﴿فَإِنْ تَوَلَّوْا﴾ أَيْ: تَرَكُوا مَا دَعَوْتَهُمْ إِلَيْهِ، ﴿فَقُلْ آذَنْتُكُمْ عَلَى سَوَاءٍ﴾ أَيْ: أَعْلَمْتُكُمْ أَنِّي حَرْب لَكُمْ، كَمَا أَنَّكُمْ حَرْبٌ لِي، بَرِيءٌ مِنْكُمْ كَمَا أَنَّكُمْ بُرآء مِنِّي، كَقَوْلِهِ: ﴿وَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنْتُمْ بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ﴾ [يُونُسَ: ٤١] . وَقَالَ ﴿وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ﴾ [الْأَنْفَالِ: ٥٨] : لِيَكُنْ [[في ت: "لكن".]] عِلْمُكَ وَعِلْمُهُمْ بِنَبْذِ الْعُهُودِ عَلَى السَّوَاءِ، وَهَكَذَا هَاهُنَا، ﴿فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ آذَنْتُكُمْ عَلَى سَوَاءٍ﴾ أَيْ: أَعْلَمْتُكُمْ بِبَرَاءَتِي مِنْكُمْ، وَبَرَاءَتِكُمْ مِنِّي؛ لِعِلْمِي بِذَلِكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ أَمْ بَعِيدٌ مَا تُوعَدُونَ﴾ أَيْ: هُوَ وَاقِعٌ لَا مَحَالَةَ، وَلَكِنْ لَا عِلْمَ لِي بِقُرْبِهِ وَلَا بِبُعْدِهِ، ﴿إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْتُمُونَ﴾ أَيْ: إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ الْغَيْبَ جميعَه، وَيَعْلَمُ مَا يُظْهِرُهُ الْعِبَادُ وَمَا يُسِرُّونَ، يَعْلَمُ الظَّوَاهِرَ وَالضَّمَائِرَ، وَيَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى، وَيَعْلَمُ مَا الْعِبَادُ عَامِلُونَ فِي أَجْهَارِهِمْ وَأَسْرَارِهِمْ، وَسَيَجْزِيهِمْ عَلَى ذَلِكَ، عَلَى الْقَلِيلِ وَالْجَلِيلِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ﴾ أَيْ: وَمَا أَدْرِي لَعَلَّ هَذَا فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: لَعَلَّ تَأْخِيرَ ذَلِكَ [[في أ: "هذا".]] عَنْكُمْ فِتْنَةٌ لَكُمْ، وَمَتَاعٌ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى [[تفسير الطبري (١٧/٨٤) .]] . وَحَكَاهُ عَوْنٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
﴿قَالَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ﴾ أَيِ: افْصِلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا الْمُكَذِّبِينَ بِالْحَقِّ.
قَالَ قَتَادَةُ: كَانَ الْأَنْبِيَاءُ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، يَقُولُونَ: ﴿رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٨٩] ، وَأَمَرَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَقُولَ ذَلِكَ.
وَعَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا شَهِدَ قِتَالًا قَالَ: ﴿رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَرَبُّنَا الرَّحْمَنُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ﴾ أَيْ: عَلَى مَا يَقُولُونَ وَيَفْتَرُونَ مِنَ الْكَذِبِ، وَيَتَنَوَّعُونَ فِي مَقَامَاتِ التَّكْذِيبِ والإفك، والله المستعان عليكم في ذلك [[وقع في ت: "آخر تفسير "سورة الأنبياء" عليهم السلام، ولله الحمد والمنة، عفا الله لمن نظر فيه ولكاتبه وللمسلمين أجمعين".]] .
قَٰلَ رَبِّ ٱحْكُم بِٱلْحَقِّ ۗ وَرَبُّنَا ٱلرَّحْمَٰنُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ
[The Prophet] has said, "My Lord, judge [between us] in truth. And our Lord is the Most Merciful, the one whose help is sought against that which you describe."
پیغمبر نے کہا کہ اے میرے پروردگار حق کے ساتھ فیصلہ کردے۔ اور ہمارا پروردگار بڑا مہربان ہے اسی سے ان باتوں میں جو تم بیان کرتے ہو مدد مانگی جاتی ہے
(و پیامبر) گفت: «پروردگارا! بحق داوری فرما (و این طغیانگران را کیفر ده)! و پروردگار ما (خداوند) رحمان است که در برابر نسبتهای ناروای شما، از او استمداد میطلبم!»
Tafsir Ibn Kathir
Say: "It is revealed to me that your God is only one God. Will you then be Muslims? (108)But if they turn away say: "I give you a notice to be known to us all alike. And I know not whether that which you are promised is near or far. (109)"Verily, He knows that which is spoken aloud and He knows that which you conceal. (110)"And I know not, perhaps it may be a trial for you, and an enjoyment for a while. (111)He said:"My Lord! Judge You in truth! Our Lord is the Most Gracious, Whose help is to be sought against that which you attribute! (112)
The main Objective of Revelation is that Allah be worshipped
Allah commands His Messenger ﷺ to say to the idoators:
إِنَّمَا يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ
("It is revealed to me that your God is only one God. Will you then be Muslims?") meaning, will you then follow that and submit to it?
فَإِن تَوَلَّوْا
(But if they turn away) means, if they ignore that to which you call them.
فَقُلْ آذَنتُكُمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ
(say: "I give you a notice to be known to us all alike...") meaning, 'I declare that I am in a state of war with you as you are in a state of war with me. I have nothing to do with you just as you have nothing to do with me.' This is like the Ayah:
وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ
(And if they belie you, say: "For me are my deeds and for you are your deeds! You are innocent of what I do, and I am innocent of what you do!")[10:41]
وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوْمٍ خِيَانَةً فَانبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ
(If you fear treachery from any people, throw back (their covenant) to them (so as to be) on equal terms (that there will be no more covenant between you and them))[8:58] which means: so that both you and they will know that the treaty is null and void. Similarly, Allah says here:
فَإِن تَوَلَّوْا فَقُلْ آذَنتُكُمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ
(But if they turn away say: "I give you a notice to be known to us all alike...") meaning, 'I have already informed you that I have nothing to do with you and you have nothing to do with me.'
No one knows when the Hour will come
وَإِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ أَم بَعِيدٌ مَّا تُوعَدُونَ
(And I know not whether that which you are promised (i.e., the Day of Resurrection) is near or far.) meaning: 'it will inevitably come to pass, but I have no knowledge of whether it is near or far.'
إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْتُمُونَ
(Verily, He (Allah) knows that which is spoken aloud (openly) and He knows that which you conceal.) Allah knows the Unseen in its entirety; He knows what His creatures do openly and what they do secretly. He knows what is visible and what is concealed; He knows what is secret and hidden. He knows what His creatures do openly and in secret, and He will requite them for that, for both minor and major actions.
وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ
(And I know not, perhaps it may be a trial for you, and an enjoyment for a while.) meaning, 'I do not know, perhaps it is a trial for you, and an enjoyment for a while.' Ibn Jarir said: 'perhaps that is being delayed for you as a test for you, and enjoyment for an allotted time.' This was narrated by 'Awn from Ibn 'Abbas. And Allah knows best.
قَالَ رَبِّ احْكُم بِالْحَقِّ
(He said: "My Lord! Judge You in truth!) means, judge between us and our people who disbelieve in the truth. Qatadah said: "The Prophets (peace be upon them) used to say:
رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ
("Our Lord! Judge between us and our people in truth, for You are the Best of those who give judgment.")[7:89], and the Messenger of Allah ﷺ was commanded to say this too."
It was reported from Malik from Zayd bin Aslam that when the Messenger of Allah ﷺ witnessed any fighting, he would say:
رَبِّ احْكُم بِالْحَقِّ
("My Lord! Judge You in truth!")
وَرَبُّنَا الرَّحْمَٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ
(Our Lord is the Most Gracious, Whose help is to be sought against that which you attribute!) means, 'against the various lies and fabrications that you utter, some of which are worse than others; Allah is the One Whose Help we seek against that.'
This is the end of the Tafsir of Surat Al-Anbiya'. To Allah be praise and blessings.
Tafsir Ibn Kathir
جلد یا بدیر حق غالب ہوگا اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ مشرکوں سے فرمادیں کہ میری جانب یہی وحی کی جاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے تم سب بھی اسے تسلیم کرلو۔ اور اگر تم میری بات پہ یقین نہیں کرتے تو ہم تم جدا ہیں تم ہمارے دشمن ہو ہم تمہارے۔ جیسے آیت میں ہے کہ اگر یہ جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرے لئے میرا عمل ہے اور تمہارے لئے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو اور میں تمہارے کرتوتوں سے بیزار ہوں۔ اور آیت میں ہے (وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاۗءٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاۗىِٕنِيْنَ 58) 8۔ الانفال :58) یعنی اگر تجھے کسی قوم سے خیانت و بدعہدی کا اندیشہ ہو تو عہد توڑ دینے کی انہیں فورا خبردے دو۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ اگر تم علیحدگی اختیار کرو تو ہمارے تمہارے تعلقات منقطع ہیں۔ یقین مانو کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ پورا ہونے والا تو ضرور ہے اب خواہ ابھی ہو خواہ دیر سے اس کا خود مجھے علم نہیں۔ ظاہرباطن کا عالم اللہ ہی ہے جو تم ظاہر کرو اور جو چھپاؤ اسے سب کا علم ہے۔ بندوں کے کل اعمال ظاہر اور پوشیدہ اس پر آشکارا ہیں۔ چھوٹا بڑا کھلا عمل چھپا سب کچھ وہ جانتا ہے۔ ممکن ہے اس کی تاخیر بھی تمہاری آزمائش ہو اور تمہیں تمہاری زندگانی تک نفع دینا ہو انبیاء (علیہم السلام) کو جو دعا تعلیم ہوئی تھی کہ اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں تو سچا فیصلہ کر اور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ حضور ﷺ کو بھی اسی قسم کی دعا کا حکم ہوا۔ حضور ﷺ جب کبھی کسی غزوے میں جاتے تو دعا کرتے کہ میرے رب تو سچا فیصلہ فرما۔ ہم اپنے مہربان رب سے ہی مدد طلب کرتے ہیں کہ وہ تمہارے جھوٹ افتراؤں کو ہم سے ٹالے اس میں ہمارا مددگار وہی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى آمِرًا رَسُولَهُ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، أَنْ يَقُولَ لِلْمُشْرِكِينَ: ﴿إِنَّمَا يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَهَلْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ أَيْ: مُتَّبِعُونَ عَلَى ذَلِكَ، مُسْتَسْلِمُونَ مُنْقَادُونَ [[في ت: "متقاربين".]] لَهُ.
﴿فَإِنْ تَوَلَّوْا﴾ أَيْ: تَرَكُوا مَا دَعَوْتَهُمْ إِلَيْهِ، ﴿فَقُلْ آذَنْتُكُمْ عَلَى سَوَاءٍ﴾ أَيْ: أَعْلَمْتُكُمْ أَنِّي حَرْب لَكُمْ، كَمَا أَنَّكُمْ حَرْبٌ لِي، بَرِيءٌ مِنْكُمْ كَمَا أَنَّكُمْ بُرآء مِنِّي، كَقَوْلِهِ: ﴿وَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنْتُمْ بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ﴾ [يُونُسَ: ٤١] . وَقَالَ ﴿وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ﴾ [الْأَنْفَالِ: ٥٨] : لِيَكُنْ [[في ت: "لكن".]] عِلْمُكَ وَعِلْمُهُمْ بِنَبْذِ الْعُهُودِ عَلَى السَّوَاءِ، وَهَكَذَا هَاهُنَا، ﴿فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ آذَنْتُكُمْ عَلَى سَوَاءٍ﴾ أَيْ: أَعْلَمْتُكُمْ بِبَرَاءَتِي مِنْكُمْ، وَبَرَاءَتِكُمْ مِنِّي؛ لِعِلْمِي بِذَلِكَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ أَمْ بَعِيدٌ مَا تُوعَدُونَ﴾ أَيْ: هُوَ وَاقِعٌ لَا مَحَالَةَ، وَلَكِنْ لَا عِلْمَ لِي بِقُرْبِهِ وَلَا بِبُعْدِهِ، ﴿إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْتُمُونَ﴾ أَيْ: إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ الْغَيْبَ جميعَه، وَيَعْلَمُ مَا يُظْهِرُهُ الْعِبَادُ وَمَا يُسِرُّونَ، يَعْلَمُ الظَّوَاهِرَ وَالضَّمَائِرَ، وَيَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى، وَيَعْلَمُ مَا الْعِبَادُ عَامِلُونَ فِي أَجْهَارِهِمْ وَأَسْرَارِهِمْ، وَسَيَجْزِيهِمْ عَلَى ذَلِكَ، عَلَى الْقَلِيلِ وَالْجَلِيلِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ﴾ أَيْ: وَمَا أَدْرِي لَعَلَّ هَذَا فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: لَعَلَّ تَأْخِيرَ ذَلِكَ [[في أ: "هذا".]] عَنْكُمْ فِتْنَةٌ لَكُمْ، وَمَتَاعٌ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى [[تفسير الطبري (١٧/٨٤) .]] . وَحَكَاهُ عَوْنٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
﴿قَالَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ﴾ أَيِ: افْصِلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا الْمُكَذِّبِينَ بِالْحَقِّ.
قَالَ قَتَادَةُ: كَانَ الْأَنْبِيَاءُ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، يَقُولُونَ: ﴿رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٨٩] ، وَأَمَرَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَقُولَ ذَلِكَ.
وَعَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا شَهِدَ قِتَالًا قَالَ: ﴿رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ﴾ .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَرَبُّنَا الرَّحْمَنُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ﴾ أَيْ: عَلَى مَا يَقُولُونَ وَيَفْتَرُونَ مِنَ الْكَذِبِ، وَيَتَنَوَّعُونَ فِي مَقَامَاتِ التَّكْذِيبِ والإفك، والله المستعان عليكم في ذلك [[وقع في ت: "آخر تفسير "سورة الأنبياء" عليهم السلام، ولله الحمد والمنة، عفا الله لمن نظر فيه ولكاتبه وللمسلمين أجمعين".]] .